This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
⭕صمود فلوٹیلا پر 9 ویں بار حملہ
کشتیوں پر ساؤنڈ بم، دھماکہ خیز فلیئرز سے حملے کیے گئے، اور مشتبہ کیمیکل اسپرے کیا گیا۔ ریڈیو سگنلز جام کر دیے گئے، مدد کے لیے کی جانے والی کالز کو روکا گیا۔ فوری عالمی توجہ اور تحفظ کی ضرورت ہے
#ProtectGlobalSumudFlotilla
#Ali🇲🇾
https://whatsapp.com/channel/0029Vahuxn3Fy72I4szCBS09
کشتیوں پر ساؤنڈ بم، دھماکہ خیز فلیئرز سے حملے کیے گئے، اور مشتبہ کیمیکل اسپرے کیا گیا۔ ریڈیو سگنلز جام کر دیے گئے، مدد کے لیے کی جانے والی کالز کو روکا گیا۔ فوری عالمی توجہ اور تحفظ کی ضرورت ہے
#ProtectGlobalSumudFlotilla
#Ali🇲🇾
https://whatsapp.com/channel/0029Vahuxn3Fy72I4szCBS09
چند دن قبل ایک بڑے بابا جی کے پاس بیٹھا تھا ، فرمانے لگے، سعودی عرب میں ہم طویل عرصہ رہے۔ وہاں کسی بھی شخص کی وفات کے بعد اسے سپردِ خاک کرنے میں دیر نہیں کی جاتی اور حکم نبوی کے مطابق جلدی اور فوری جنازہ ادا کرکے اگلے سفر پر روانہ کر دیا جاتا ہے۔ اکثر و بیشتر یہ عمل دو سے تین گھنٹے کے اندر اندر ہی ہوتا ہے اور ہمارے ہاں کی طرح کسی کی آمد کا انتظار بھی نہیں ہوتا۔
ان کی یہ بات آج پھر آنکھوں سے دیکھی جب عالم اسلام کے ایک عظیم مفتی جناب فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز آل شیخ کی وفات ہوئی۔
آپ 11 سال کی عمر میں حافظ قرآن بنے۔ 20 سال کی عمر میں دین کے وسیع علوم بھی حاصل کر چکے تھے جب بینائی سے محروم ہوئے لیکن اگلے 62 سال میں سعودی عرب کے مفتی اعظم بھی بنے۔ 35 سال خطیب حج بھی رہے۔ بے شمار تعلیمی اِداروں کے نگران و سربراہ بھی رہے۔ بے شمار فتاویٰ رسائل کتابیں بھی تحریر فرمائیں ، لاکھوں
طلبہ کو جو دنیا بھر سے تعلق رکھتے ، پڑھاتے بھی رہے۔ بے شمار لوگوں کو اسلام میں داخل کیا ، کلمہ پڑھایا ، دنیا بھر میں اشاعتِ اسلام کا کام کیا۔
آج نماز ظہر سے قبل وفات پائی تو نماز عصر پر ہی ان کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی۔ نہ کوئی میڈیا پر تشہیر نہ کئی دن جنازہ کا انتظار نہ کوئی لمبے چوڑے جلوس نہ تابوت نہ کالے کپڑے نہ رنگ برنگے یا سیاہ جھنڈے نہ ماتمی زاری نہ سپیکر نہ بینر نہ سٹیڈیم میں لا کر جنازے اور میت کی نمائش نہ ہیلی کاپٹروں جہازوں سے کوریج کے کھیل تماشے ۔
وفات اور پھر جتنے لوگ موجود یا پہنچ سکتے، انہی کے ساتھ نماز جنازہ اور اللہ کے حضور پیشی ۔۔۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ کو یہی پسند ہے اسی لئے اسی کی تاکید ہے اور اسی ہی کا اہتمام ہونا چاہئے کہ یہ معاملہ نمائش تماشے کا نہیی ہوتا بندے کی آخرت کا ہوتا ہے۔
اللھم ادخلہ الجنۃ الفردوس ۔۔۔۔۔۔۔
ان کی یہ بات آج پھر آنکھوں سے دیکھی جب عالم اسلام کے ایک عظیم مفتی جناب فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز آل شیخ کی وفات ہوئی۔
آپ 11 سال کی عمر میں حافظ قرآن بنے۔ 20 سال کی عمر میں دین کے وسیع علوم بھی حاصل کر چکے تھے جب بینائی سے محروم ہوئے لیکن اگلے 62 سال میں سعودی عرب کے مفتی اعظم بھی بنے۔ 35 سال خطیب حج بھی رہے۔ بے شمار تعلیمی اِداروں کے نگران و سربراہ بھی رہے۔ بے شمار فتاویٰ رسائل کتابیں بھی تحریر فرمائیں ، لاکھوں
طلبہ کو جو دنیا بھر سے تعلق رکھتے ، پڑھاتے بھی رہے۔ بے شمار لوگوں کو اسلام میں داخل کیا ، کلمہ پڑھایا ، دنیا بھر میں اشاعتِ اسلام کا کام کیا۔
آج نماز ظہر سے قبل وفات پائی تو نماز عصر پر ہی ان کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی۔ نہ کوئی میڈیا پر تشہیر نہ کئی دن جنازہ کا انتظار نہ کوئی لمبے چوڑے جلوس نہ تابوت نہ کالے کپڑے نہ رنگ برنگے یا سیاہ جھنڈے نہ ماتمی زاری نہ سپیکر نہ بینر نہ سٹیڈیم میں لا کر جنازے اور میت کی نمائش نہ ہیلی کاپٹروں جہازوں سے کوریج کے کھیل تماشے ۔
وفات اور پھر جتنے لوگ موجود یا پہنچ سکتے، انہی کے ساتھ نماز جنازہ اور اللہ کے حضور پیشی ۔۔۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ کو یہی پسند ہے اسی لئے اسی کی تاکید ہے اور اسی ہی کا اہتمام ہونا چاہئے کہ یہ معاملہ نمائش تماشے کا نہیی ہوتا بندے کی آخرت کا ہوتا ہے۔
اللھم ادخلہ الجنۃ الفردوس ۔۔۔۔۔۔۔
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
⚔️🇵🇰🇸🇦🇶🇦🇯🇴🇪🇬🇮🇩🇹🇷🇦🇪⚔️
مجھے نہیں معلوم اس اجلاس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے ۔۔۔ میں پاکستان کا پرچم دیکھ رہا ہوں ۔۔۔۔۔ فلسطین کے بارے میں ہونے والا اجلاس ۔۔۔اور اس میں پاکستان کا جھنڈا دنیا کے اہم ترین ممالک میں سب سے درمیان میں اور مرکز نگاہ بنا ہے ۔۔۔۔۔
اسی امریکہ نے پاکستان کے بارے میں کہا تھا کہ ہمیں اب اس کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔
اللہ پاکستان کے ذریعے فلسطین کی آزادی کا کام لے ۔۔۔ آمین ۔۔۔
#Ali🇲🇾
https://whatsapp.com/channel/0029Vahuxn3Fy72I4szCBS09
مجھے نہیں معلوم اس اجلاس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے ۔۔۔ میں پاکستان کا پرچم دیکھ رہا ہوں ۔۔۔۔۔ فلسطین کے بارے میں ہونے والا اجلاس ۔۔۔اور اس میں پاکستان کا جھنڈا دنیا کے اہم ترین ممالک میں سب سے درمیان میں اور مرکز نگاہ بنا ہے ۔۔۔۔۔
اسی امریکہ نے پاکستان کے بارے میں کہا تھا کہ ہمیں اب اس کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔
اللہ پاکستان کے ذریعے فلسطین کی آزادی کا کام لے ۔۔۔ آمین ۔۔۔
#Ali🇲🇾
https://whatsapp.com/channel/0029Vahuxn3Fy72I4szCBS09
❤1
خالی پڑے ہوئے ہیں میرے ہاتھ، دیکھ لو
کوئی بھی نہیں ہے میرے ساتھ، دیکھ لو
میں جن کو دستیاب رہا قلب و جاں سے
بدلے ہیں آج اُن کے خیالات، دیکھ لو
جن کے لیے ہنستے ہوئے کانٹے بھی چن لیے
وہ دے گئے ہیں غم کی سوغات، دیکھ لو
اپنوں کی بے رُخی نے یہ عالم بنا دیا
ویران ہو گئے ہیں جذبات، دیکھ لو
جس پر کیا تھا ناز، وہی بے وفا ہوا
ٹوٹے ہوئے ہیں سارے تعلقات، دیکھ لو
ہر شخص اپنے فائدے کی فکر میں رہا
مرتی ہوئی ہیں سب روایات، دیکھ لو
دنیا کے میلے میں رہا تنہا ہی ہر قدم
کیسی ہے میری قسمت و ذات، دیکھ لو
طارق وفا کی راہ میں سب کچھ لٹا کے بھی
دامن میں رہ گئے ہیں صدمات، دیکھ لو۔
کوئی بھی نہیں ہے میرے ساتھ، دیکھ لو
میں جن کو دستیاب رہا قلب و جاں سے
بدلے ہیں آج اُن کے خیالات، دیکھ لو
جن کے لیے ہنستے ہوئے کانٹے بھی چن لیے
وہ دے گئے ہیں غم کی سوغات، دیکھ لو
اپنوں کی بے رُخی نے یہ عالم بنا دیا
ویران ہو گئے ہیں جذبات، دیکھ لو
جس پر کیا تھا ناز، وہی بے وفا ہوا
ٹوٹے ہوئے ہیں سارے تعلقات، دیکھ لو
ہر شخص اپنے فائدے کی فکر میں رہا
مرتی ہوئی ہیں سب روایات، دیکھ لو
دنیا کے میلے میں رہا تنہا ہی ہر قدم
کیسی ہے میری قسمت و ذات، دیکھ لو
طارق وفا کی راہ میں سب کچھ لٹا کے بھی
دامن میں رہ گئے ہیں صدمات، دیکھ لو۔
*ہم ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں لوگ حقیقی مسائل سے کم اور ذہنی تھکن سے زیادہ شکست کھا رہے ہیں مسکراہٹوں کے پیچھے بے شمار خاموش جنگیں لڑی جا رہی ہیں اس لیے لوگوں کے ساتھ نرمی ہمدردی اور اچھا رویہ اختیار کریں کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ کون اپنے اندر کتنے طوفان سمیٹے ہوئے ہے اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو سکون ذہنوں کو اطمینان اور زندگیوں کو آسانی عطا فرمائے آمین*
*زندگی میں آنے والی ہر مشکل یا طوفان آپ کو برباد کرنے کے لیے نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات یہ طوفان آپ کے راستے کی تمام رکاوٹوں اور غلط لوگوں کو دور کر کے ایک نئی اور بہتر شروعات کا موقع فراہم کرتے ہیں اس لیے سخت وقت سے گھبرانے کی بجائے اللہ پاک کی حکمت پر کامل یقین رکھیں اور آگے بڑھتے رہیں*
*اگر آپ نے کسی کا برا نہیں چاہا تو بس سکون سے جئیں دنیا بدل سکتی ہے لیکن سچی نیت کا صلہ کبھی ضائع نہیں ہوتا*
*اگر کھوٹے سکے سے کچھ خریدنا ناممکن ہے تو نیتوں میں کھوٹ رکھ کر فلاح پانا بھی ناممکن ہے*
*یمن: پاکستان کے لیے ایک جنگ یا دو محاذوں کا خطرہ؟-*
یمن بظاہر ایک کمزور ملک ہے، مگر اس کا جغرافیہ اسے انتہائی اہم بناتا ہے۔ بحیرۂ احمر، خلیجِ عدن اور باب المندب کی وجہ سے یمن عالمی تجارت اور مشرقِ وسطیٰ کی طاقتوں کے درمیان ایک تزویراتی دروازہ ہے۔
تاریخ اس کی خطرناکی ثابت کرتی ہے۔ 1962 میں مصر نے یمن میں مداخلت کی اور اس کے فوجیوں کی تعداد تقریباً 70 ہزار تک پہنچ گئی۔ پہاڑی جغرافیے اور گوریلا جنگ نے مصری فوج کو برسوں مصروف رکھا۔ جب 1967 میں اسرائیل سے جنگ ہوئی تو مصری فوج کا بڑا حصہ پہلے ہی یمن میں الجھا ہوا تھا۔
پاکستان کے لیے یہی سب سے بڑا سبق ہے۔
مکہ دفاعی معاہدہ سعودی عرب پر حملے کی صورت میں پاکستان کے لیے اہم ذمہ داریاں پیدا کر سکتا ہے، لیکن یمن کے اندر ایک طویل زمینی یا فضائی جنگ میں داخل ہونا پاکستان کے لیے انتہائی مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔
سب سے بڑا خدشہ دو محاذوں کا ہے۔
اگر پاکستان اپنی فوجی توجہ، فضائی قوت، بحری وسائل اور انٹیلی جنس کا بڑا حصہ مغربی محاذ اور یمن کی جنگ میں لگا دیتا ہے تو مشرقی سرحد پر بھارت کو strategic opportunity مل سکتی ہے۔ بھارت اور اسرائیل کے گہرے دفاعی تعلقات کے باعث اسرائیل کے مفادات کو بھی اس تناظر میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، خصوصاً جب حوثیوں کی طاقت اسرائیل اور بحیرۂ احمر کے مفادات کو براہِ راست متاثر کر رہی ہو۔
تاہم اسے یہ کہنا درست ہو گا کہ اسرائیل لازماً بھارت کو حملے کا حکم دے گا یہ ایک یقینی پیش گوئی ہے۔
پاکستان کے لیے بہترین حکمتِ عملی شاید یہی ہے:
سعودی عرب کی territorial security اور حرمین شریفین کے دفاع کے عزم پر قائم رہنا، مگر یمن کے اندر ایک غیر معینہ مدت کی زمینی جنگ سے گریز کرنا۔
کیونکہ یمن کی تاریخ کا سبق بہت واضح ہے:
> یمن میں داخل ہونا آسان ہے، مگر وہاں کی جنگ سے اپنی قومی طاقت محفوظ رکھتے ہوئے نکلنا اصل کامیابی ہے۔
پاکستان کو سعودی عرب کا دفاع ضرور کرنا چاہیے، مگر ایسا کرتے ہوئے پاکستان کو اپنے مشرقی محاذ کو غیر محفوظ نہیں ہونے دینا چاہیے۔
یمن بظاہر ایک کمزور ملک ہے، مگر اس کا جغرافیہ اسے انتہائی اہم بناتا ہے۔ بحیرۂ احمر، خلیجِ عدن اور باب المندب کی وجہ سے یمن عالمی تجارت اور مشرقِ وسطیٰ کی طاقتوں کے درمیان ایک تزویراتی دروازہ ہے۔
تاریخ اس کی خطرناکی ثابت کرتی ہے۔ 1962 میں مصر نے یمن میں مداخلت کی اور اس کے فوجیوں کی تعداد تقریباً 70 ہزار تک پہنچ گئی۔ پہاڑی جغرافیے اور گوریلا جنگ نے مصری فوج کو برسوں مصروف رکھا۔ جب 1967 میں اسرائیل سے جنگ ہوئی تو مصری فوج کا بڑا حصہ پہلے ہی یمن میں الجھا ہوا تھا۔
پاکستان کے لیے یہی سب سے بڑا سبق ہے۔
مکہ دفاعی معاہدہ سعودی عرب پر حملے کی صورت میں پاکستان کے لیے اہم ذمہ داریاں پیدا کر سکتا ہے، لیکن یمن کے اندر ایک طویل زمینی یا فضائی جنگ میں داخل ہونا پاکستان کے لیے انتہائی مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔
سب سے بڑا خدشہ دو محاذوں کا ہے۔
اگر پاکستان اپنی فوجی توجہ، فضائی قوت، بحری وسائل اور انٹیلی جنس کا بڑا حصہ مغربی محاذ اور یمن کی جنگ میں لگا دیتا ہے تو مشرقی سرحد پر بھارت کو strategic opportunity مل سکتی ہے۔ بھارت اور اسرائیل کے گہرے دفاعی تعلقات کے باعث اسرائیل کے مفادات کو بھی اس تناظر میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، خصوصاً جب حوثیوں کی طاقت اسرائیل اور بحیرۂ احمر کے مفادات کو براہِ راست متاثر کر رہی ہو۔
تاہم اسے یہ کہنا درست ہو گا کہ اسرائیل لازماً بھارت کو حملے کا حکم دے گا یہ ایک یقینی پیش گوئی ہے۔
پاکستان کے لیے بہترین حکمتِ عملی شاید یہی ہے:
سعودی عرب کی territorial security اور حرمین شریفین کے دفاع کے عزم پر قائم رہنا، مگر یمن کے اندر ایک غیر معینہ مدت کی زمینی جنگ سے گریز کرنا۔
کیونکہ یمن کی تاریخ کا سبق بہت واضح ہے:
> یمن میں داخل ہونا آسان ہے، مگر وہاں کی جنگ سے اپنی قومی طاقت محفوظ رکھتے ہوئے نکلنا اصل کامیابی ہے۔
پاکستان کو سعودی عرب کا دفاع ضرور کرنا چاہیے، مگر ایسا کرتے ہوئے پاکستان کو اپنے مشرقی محاذ کو غیر محفوظ نہیں ہونے دینا چاہیے۔
یمن میں سول وار کی بڑی دلچسپ صورتحال بن گئی ہے۔
ایران نواز یمنی حوثیوں کی پیش قدمی بڑی تیزی سے ہوئی اور متحدہ عرب امارات نواز گروپ اور سعودی اتحادی گروپ، پی ایل سی، نے ہتھیار ڈال دیے۔ پی ایل سی کے ساتھ اماراتی گروپ ایس ٹی کونسل اور سعودی نواز گروپ کے دھڑے شامل تھے۔
ان کے پاس یختل، المخا، وادی الملک، جردان، مقبرہ حسی سالم، وادی عرفان اور موشیج کے علاقے تھے۔ النار کا علاقہ بھی ان کے قبضے میں تھا، جو ایک اہم اسٹریٹجک مقام پر واقع تھا۔ سعودی فضائیہ کا فوکس بھی اسی علاقے پر تھا، جس کے باعث حوثی گروپ آگے نہیں بڑھ سکا۔
یہ حکمتِ عملی کیوں اپنائی گئی؟ اس کی کچھ وجوہات ہیں۔
سعودی نواز گروپ اور متحدہ عرب امارات نواز گروپ کے درمیان جب جھڑپیں ہوئیں تو سعودی عرب کی حکمتِ عملی یہ تھی کہ انہیں علاقوں پر قبضہ کرنے دیا جائے اور خود پیچھے ہٹتے جائیں۔ جب ان کا کنٹرول زیادہ علاقوں تک پھیل گیا اور ان کی فورسز مختلف مقامات پر تقسیم ہوگئیں تو سعودی عرب اور اس کے اتحادی گروپ نے پیش قدمی شروع کی۔
جہاں سے پیش قدمی شروع کی گئی، وہاں پرو اماراتی گروپ کی کمک پہنچنے سے پہلے ہی وہ علاقہ قبضے میں لے لیا جاتا تھا۔ اس طرح جنوبی یمن میں جہاں پہلے سعودی اور امارات نواز گروپ حکومت کر رہے تھے، وہاں صرف سعودی نواز گروپ باقی رہ گئے اور انہوں نے مکمل حکومتی نظام کا کنٹرول سنبھال لیا۔
آج متحدہ عرب امارات نواز گروپ کو سعودی عرب نواز گروپ کی حمایت حاصل نہیں تھی، بلکہ صرف سعودی نواز گروپس کے مقامی اتحادی گروپوں کی حمایت حاصل تھی۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات یمنی حوثیوں کو سعودی عرب کے خلاف سپورٹ فراہم کر رہا تھا اور انہیں فنڈنگ بھی دی گئی۔
صبح چار بجے حوثی گروپ نے پیش قدمی شروع کی۔ سعودی فضائیہ نے النار، الجوف اور مأرب میں 18 فضائی حملے کیے، لیکن ایک بھی حملہ پی ایل سی گروپ کو کور دینے کے لیے نہیں کیا گیا۔
اس گروپ کو سعودی عرب، یمن میں موجود سعودی نواز گروپ اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے کوئی سپورٹ نہیں ملی، تو انہوں نے لڑنے سے پہلے ہی انخلا کر لیا۔
جب حوثی موچا پہنچے تو وہاں کوئی موجود نہیں تھا۔ خالد بن ولید کیمپ میں حوثی گروپ کے جنگجو پہنچے تو کیمپ پہلے ہی خالی ہو چکا تھا۔ اس طرح صرف 12 گھنٹوں میں ایران نواز گروپ بحیرۂ احمر تک پہنچ گیا اور جزائر بھی مخالف گروپ نے چھوڑ دیے، جن پر بعد ازاں حوثیوں نے قبضہ کر لیا۔
اس وقت ایران نواز حوثی گروپ اور سعودی نواز گروپ کے درمیان الجوف، مأرب، الوافی، وادی حنا اور شمالی یمن میں پرو اماراتی گروپ، ایس ٹی کونسل اور پی ایل سی کے زیرِ قبضہ باقی پانچ مقامات پر جھڑپیں جاری ہیں۔
مأرب، الجوف اور تعز میں سعودی نواز گروپ آگے بڑھ رہا ہے اور اسے سعودی فضائیہ کا فضائی کور بھی حاصل ہے۔ یہاں ایران نواز گروپ کو پسپائی کا سامنا ہے، کیونکہ زیادہ علاقے اپنے کنٹرول میں لینے کے بعد اس کی فورسز بھی مختلف محاذوں پر تقسیم ہوگئی ہیں۔
یہ صورتحال اس حکمتِ عملی سے ملتی جلتی ہے جس میں سعودی عرب کے ساتھ کشیدگی کے دوران متحدہ عرب امارات نواز گروپ کی فورسز تقسیم ہوگئی تھیں اور کمک پہنچنے سے پہلے ہی ان کے جنگجو ہتھیار ڈال چکے تھے۔
اب حوثیوں کے لیے بڑا امتحان یہ ہے کہ محدود اسلحے، ٹیکنالوجی اور افرادی قوت کے باوجود وہ شمالی اور جنوبی یمن میں بیک وقت جاری جھڑپوں کو کب تک برداشت کرتے ہوئے کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ کیا وہ بالآخر ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوں گے، یا دفاعی پوزیشن سے نکل کر دوبارہ جنوبی یمن کی طرف پیش قدمی کریں گے؟
https://whatsapp.com/channel/0029Vahuxn3Fy72I4szCBS09
یمن کی جنگ اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں صرف حوثیوں اور حکومت کے درمیان جنگ نہیں بلکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مختلف اتحادی دھڑوں کے درمیان طاقت کا توازن بھی اس جنگ کا رخ متعین کر رہا ہے۔
ایران نواز یمنی حوثیوں کی پیش قدمی بڑی تیزی سے ہوئی اور متحدہ عرب امارات نواز گروپ اور سعودی اتحادی گروپ، پی ایل سی، نے ہتھیار ڈال دیے۔ پی ایل سی کے ساتھ اماراتی گروپ ایس ٹی کونسل اور سعودی نواز گروپ کے دھڑے شامل تھے۔
ان کے پاس یختل، المخا، وادی الملک، جردان، مقبرہ حسی سالم، وادی عرفان اور موشیج کے علاقے تھے۔ النار کا علاقہ بھی ان کے قبضے میں تھا، جو ایک اہم اسٹریٹجک مقام پر واقع تھا۔ سعودی فضائیہ کا فوکس بھی اسی علاقے پر تھا، جس کے باعث حوثی گروپ آگے نہیں بڑھ سکا۔
یہ حکمتِ عملی کیوں اپنائی گئی؟ اس کی کچھ وجوہات ہیں۔
سعودی نواز گروپ اور متحدہ عرب امارات نواز گروپ کے درمیان جب جھڑپیں ہوئیں تو سعودی عرب کی حکمتِ عملی یہ تھی کہ انہیں علاقوں پر قبضہ کرنے دیا جائے اور خود پیچھے ہٹتے جائیں۔ جب ان کا کنٹرول زیادہ علاقوں تک پھیل گیا اور ان کی فورسز مختلف مقامات پر تقسیم ہوگئیں تو سعودی عرب اور اس کے اتحادی گروپ نے پیش قدمی شروع کی۔
جہاں سے پیش قدمی شروع کی گئی، وہاں پرو اماراتی گروپ کی کمک پہنچنے سے پہلے ہی وہ علاقہ قبضے میں لے لیا جاتا تھا۔ اس طرح جنوبی یمن میں جہاں پہلے سعودی اور امارات نواز گروپ حکومت کر رہے تھے، وہاں صرف سعودی نواز گروپ باقی رہ گئے اور انہوں نے مکمل حکومتی نظام کا کنٹرول سنبھال لیا۔
آج متحدہ عرب امارات نواز گروپ کو سعودی عرب نواز گروپ کی حمایت حاصل نہیں تھی، بلکہ صرف سعودی نواز گروپس کے مقامی اتحادی گروپوں کی حمایت حاصل تھی۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات یمنی حوثیوں کو سعودی عرب کے خلاف سپورٹ فراہم کر رہا تھا اور انہیں فنڈنگ بھی دی گئی۔
صبح چار بجے حوثی گروپ نے پیش قدمی شروع کی۔ سعودی فضائیہ نے النار، الجوف اور مأرب میں 18 فضائی حملے کیے، لیکن ایک بھی حملہ پی ایل سی گروپ کو کور دینے کے لیے نہیں کیا گیا۔
اس گروپ کو سعودی عرب، یمن میں موجود سعودی نواز گروپ اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے کوئی سپورٹ نہیں ملی، تو انہوں نے لڑنے سے پہلے ہی انخلا کر لیا۔
جب حوثی موچا پہنچے تو وہاں کوئی موجود نہیں تھا۔ خالد بن ولید کیمپ میں حوثی گروپ کے جنگجو پہنچے تو کیمپ پہلے ہی خالی ہو چکا تھا۔ اس طرح صرف 12 گھنٹوں میں ایران نواز گروپ بحیرۂ احمر تک پہنچ گیا اور جزائر بھی مخالف گروپ نے چھوڑ دیے، جن پر بعد ازاں حوثیوں نے قبضہ کر لیا۔
اس وقت ایران نواز حوثی گروپ اور سعودی نواز گروپ کے درمیان الجوف، مأرب، الوافی، وادی حنا اور شمالی یمن میں پرو اماراتی گروپ، ایس ٹی کونسل اور پی ایل سی کے زیرِ قبضہ باقی پانچ مقامات پر جھڑپیں جاری ہیں۔
مأرب، الجوف اور تعز میں سعودی نواز گروپ آگے بڑھ رہا ہے اور اسے سعودی فضائیہ کا فضائی کور بھی حاصل ہے۔ یہاں ایران نواز گروپ کو پسپائی کا سامنا ہے، کیونکہ زیادہ علاقے اپنے کنٹرول میں لینے کے بعد اس کی فورسز بھی مختلف محاذوں پر تقسیم ہوگئی ہیں۔
یہ صورتحال اس حکمتِ عملی سے ملتی جلتی ہے جس میں سعودی عرب کے ساتھ کشیدگی کے دوران متحدہ عرب امارات نواز گروپ کی فورسز تقسیم ہوگئی تھیں اور کمک پہنچنے سے پہلے ہی ان کے جنگجو ہتھیار ڈال چکے تھے۔
اب حوثیوں کے لیے بڑا امتحان یہ ہے کہ محدود اسلحے، ٹیکنالوجی اور افرادی قوت کے باوجود وہ شمالی اور جنوبی یمن میں بیک وقت جاری جھڑپوں کو کب تک برداشت کرتے ہوئے کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ کیا وہ بالآخر ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوں گے، یا دفاعی پوزیشن سے نکل کر دوبارہ جنوبی یمن کی طرف پیش قدمی کریں گے؟
https://whatsapp.com/channel/0029Vahuxn3Fy72I4szCBS09
یمن کی جنگ اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں صرف حوثیوں اور حکومت کے درمیان جنگ نہیں بلکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مختلف اتحادی دھڑوں کے درمیان طاقت کا توازن بھی اس جنگ کا رخ متعین کر رہا ہے۔