⁦⁩⁦🇵🇰⁩پاکستان ایک جنون⁦⁩⁦🇵🇰⁩ Pakistan
365 subscribers
3.54K photos
1.28K videos
301 files
718 links
یہ چینل پاکستان کے ان دشمنوں کے خلاف بنایا گیا ہے جو شوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف مہم چلاتے ہیں اس چینل پر آپ کو پس پردہ ایسی تمام سازشوں سے آگاہ رکھنے اور وطن عزیز پاکستان کے مثبت پہلو دکھانے کے ساتھ ساتھ اسلامی مواد اور عالمی خبریں ملیں گی🇵🇰
Download Telegram
: پاکستانی خاتون کوسوشل میڈیا پر بچی کی تصویر لگانا مہنگا پڑ گیا۔ڈارک ویب کی خفیہ ویب سائٹ پر 6ماہ کی بچی کی بولیاں۔۔بچی کی تلاش میں گروہ نکل پڑے ...

#کاپی



ایک خاتون نے اپنی چھے ماہ کی بچی کو نہلاتے ہوئے ویڈیو بنائی اور سوشل میڈیا کی زینت بنا دیا جہاں سے ڈارک ویب کے کسی کارندے نے اس ویڈیو کو اٹھا کر ڈارک ویب پر ڈالا وہاں ایک کمنٹ آیا کہ
“Who Can get me this Thing”

اس کے بعد ڈارک ویب سے پیسا کمانے والے اس بچی کی تلاش میں ۔
بچی اگر ان کے ہاتھ لگی تو اس کو ڈارک ویب پر لائیو لایا جائے گا اور پھر وہاں موجود درندے اس کے ساتھ جو سلوک کرنے کا بولیں گے وہ کیا جائے گا جس کو وہ انجوائے کرنا کہتے ہیں۔ڈارک ویب سے انسانی گوشت آڈر کیا جاتا ہے جو سب کو معلوم ہے اور کسی روک ٹوک کے بنا وہ اگلے دن آپ کے دروازے پر ہوگا ۔۔۔

اللہ سب کی حفاظت فرمائے ۔۔۔

#کاپی
یا رسول اللّٰه ﷺ! آپ مداخلت کیوں نہیں کرتے ؟

ایک تُرک مسلمان مسجد نبوی شریف کے احاطے میں کھڑے ہو کر اپنا آنکھوں دیکھا واقعہ یوں بیان کرتا ہے:
میں مسجد نبوی ﷺ میں کھڑا دیکھ رھا تھا کہ چار پولیس والے کسی کا انتظار کر رہے ہیں، پھر ایک شخص نمودار ھوا تو پولیس والوں نے بھاگ کر اسے قابو کر لیا، اور اسکے ہاتھ جکڑ لیے، نوجوان نے کہا: مجھے دُعا اور توسل کی اجازت دے دو، میری بات سن لو! میں کوئی بھکاری نہیں ہوں ، نہ چور ہوں، پھر وہ جوان چیخنے لگا.
میں نے اسے دیکھا تو ایسے لگا جیسے میں اسے جانتا ہوں، میں بتاتا ہوں کہ میں نے اسے کیسے پہچانا، دراصل میں نے اسے کتنی ہی مرتبہ بارگاہ رسالت ﷺ میں روتے ہوئے دیکھا تھا، یہ ایک البانوی نوجوان تھا، جس کی عمر 35 یا 36 سال کے درمیان تھی اس کے سنہرے بال اور ہلکی سی داڑھی تھی، میں نے پولیس والوں سے کہا:
اس کا کوئی جرم نہیں ہے تو تم اس کے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہو ؟ آخر کیا الزام ہے اس پر ؟
انہوں نے کہا: تو پیچھے ہٹ، اس معاملے میں بولنے کا تجھے کوئی حق نہیں.
لیکن میں نے پھر سے کہا: آخر اس کا تمہارے ساتھ کیا مسئله ہے؟ کیا اس نے کوئی چوری کی ہے؟
انہوں نے کہا: یہ بنده چھ سال سے ادھر مدینے شریف میں رہ رہا ہے، لیکن اس کا یہ قیام غیر قانونی ہے، ہم اسے پکڑ کر واپس اس کے ملک بھیجنا چاہتے ہیں، لیکن وہ ہر بار ایک ہی چال سے بھاگ جاتا ہے، اور جا کر روضه رسول ﷺ میں پناہ لے لیتا ہے، ہم ادب کی وجہ سے اسے اندر جا کر گرفتار نہیں کرنا چاہتے ہیں.
میں نے پوچھا: تو اب اس کے ساتھ کیا کرو گے؟
کہنے لگے: ھم اسے پکڑ کر جہاز پر بٹھائیں گے اور واپس البانیا بھیج دیں گے.
نوجوان مسلسل روئے جا رھا تھا اور کہہ رہا تھا: کیا ہو جائے گا اگر تم مجھے چھوڑ دو گے تو ؟
دیکھو! میں کوئی چور نہیں ہوں، میں کسی سے بھیک نہیں مانگتا، میں تو ادھر بس محبتِ رسول ﷺ میں رہ رہا ہوں. پولیس والوں نے کہا نہیں، ایسا جائز نہیں ہے.
نوجوان نے کہا: اچھا مجھے ذرا آرام سے رسول اللّٰه سے ایک عرض کر لینے دو:
پھر نوجوان نے اپنا منه گنبد خضراء کی طرف کر لیا.
پولیس والوں نے کہا: چل! کہہ جو کہنا ہے
تو نوجوان نے گنبد خضراء کیطرف دیکھا اور جو کچھ عربی میں کہا ، میں نے سمجھ لیا، وہ نوجوان کہہ رہا تھا:

یا رسول اللّٰه ﷺ!
کیا ہمارے درمیان اتفاق نہیں ہوا تھا؟ کیا میں نے اپنے ماں باپ کو نہیں چھوڑا ؟ کیا اپنی دکان بند کر کے اپنا گھر بار نہیں چھوڑا ؟ اور یہ عہد کر کے یہاں نہیں آیا تھا کہ آپ کے جوار رحمت میں رہا کروں گا ؟
حضور! اب دیکھ لیجیئے.
یہ مجھے ایسا کرنے سے منع کر رہے ہیں
یا رسول اللّٰه ﷺ! یا رسول اللّٰه ﷺ!آپ مداخلت کیوں نہیں فرماتے ؟ يارسول اللّٰه ﷺ! آپ مداخلت کیوں نہیں فرماتے ؟
اتنے میں نوجوان بے حال ہونے لگا تو پولیس والوں نے ذرا ڈھیل دی اور نوجوان نیچے گر گیا، ایک پولیس والے نے اسے ٹھڈا مارتے ہوئے کہا: او دھوکے باز! اٹھ.
لیکن نوجوان نے کوئی ردّ عمل ظاہر نہ کیا.
میں نے پولیس والوں سے کہا: یہ نہیں بھاگے گا ، تم حمامات سے پانی لاؤ، اور اس کے چہرے پر ڈالو، لیکن نوجوان کوئی حرکت نہیں کر رھا تھا، ایک پولیس والے نے کہا: اسے دیکھو تو سہی کہیں یہ سچ مچ مر ہی نہ گیا ہو.
دوسرا پولیس والا کہنے لگا: اسے ہم نے کون سی ایسی ضرب لگائی هے ، جس سے یہ مر جائے، پھر انہوں نے ایمبولینس کو بلایا، وه ادھر سامنے والے سات نمبر گیٹ سے ایک ایمبولینس لے آئے، انہوں نے نوجوان کی شہ رگ پر ہاتھ رکھ کر حرکت نوٹ کی، اور نبض چیک کی تو کہنے لگے:
اسے تو مرے ہوئے پندرہ منٹ گزر چکے ہیں.
اب پولیس والے جیسے مجرم ہوں، نیچے بیٹھ گئے اور رونے لگے، وہ منظر بھی دیکھنے والا تھا، ان میں سے ایک تو اپنے دونوں زانؤوں پر ہاتھ مارتے ہوئے کہتا تھا: ہائے! ہمارے ہاتھ کیوں نہ ٹوٹ گئے ... کاش! ہمیں معلوم ہوتا کہ اسے رسول اللّٰه ﷺ سے اتنی شدید محبت ہے، ہائے! ہمارے ہاتھ کیوں نہ ٹوٹ گئے.
اس کے بعد ایمبولینس والوں نے اسے وہاں سے اٹھا لیا، اور جنت البقیع کی طرف تجہیز و تکفین والے حصے میں لے گئے، غسل کے وقت میں بھی وہیں موجود تھا، میں انہیں کہتا تھا، مجھے بھی ہاتھ لگانے دو، مجھے بھی اس کی چارپائی کو اٹھانے دو، جب جنازہ تیار ہو کر نماز کے لیے جانے لگا تو پولیس والوں نے مجھے کہا!
ہم نے جتنا گناہ اٹھایا ہے، بس اتنا کافی ہے، اسے ہمارے سوا اور کوئی نہیں اٹھائے گا، شاید اسی طرح ہمیں آخرت میں کچھ رعایت مل جائے، میرے سامنے ہی وہ نوجوان بار بار کہہ رہا تھا کہ یا رسول اللّٰه ﷺ! آپ مداخلت کیوں نہیں فرما رھے؟ دیکھا! رسول اللّٰه ﷺ نے مداخلت فرما دی اور ملک الموت نے اپنا فریضه ادا کر کے اسے آپ تک ہمیشہ کے لیے پہنچا دیا.
(منقول)

اللّٰه سبحانهٗ و تعالٰی ہمیں اپنے حبیب ﷺ کی ویسی ہی محبت عطا فرمائے جيسے اس البانی نوجوان کو عطا فرمائی تھی.
آمین یا ربّ العالمین
2👍1
اللہ تعالیٰ امتحان لیتا ہے، صبر کا، دعاؤں کا، انتظار کا، اور برداشت کا۔ یہ امتحان اکثر مشکل لگتے ہیں۔ کبھی تکلیف برداشت کرنا دشوار ہو جاتا ہے تو کبھی دعاؤں پر یقین ٹوٹنے لگتا ہے۔ طویل انتظار دل کو تھکا دیتا ہے، اور درد ناقابلِ برداشت محسوس ہوتا ہے۔ مگر یاد رکھو، یہ امتحان تمہیں تکلیف دینے کے لیے نہیں ہوتے۔ غور کرو تو سمجھ آتا ہے کہ جب تم اس آزمائش میں نہیں تھے، تب تم اللہ سے اتنے قریب بھی نہیں تھے جتنا یہ امتحان تمہیں لے آیا ہے۔ تمہاری دعاؤں میں خلوص اور یقین بڑھ گیا ہے، تمہارا دل اللہ پر بھروسا کرنے لگا ہے۔ یہ آزمائش تمہارے دل و دماغ پر چھائی دھند کو صاف کرنے کا ذریعہ ہے۔ اور شاید یہی وہ راستہ ہو، جو اللہ نے تمہیں اپنے قریب لانے کے لیے بنایا ہے۔ بس صبر کرو، دعا مانگتے رہو، اور اللہ کے فیصلوں پر بھروسہ رکھو، کیونکہ آزمائش کے بعد ہمیشہ رحمت اور خوشحالی کا وقت ضرور آتا ہے۔ ❤️
2
*فلسطین: محض زمین کا ٹکڑا نہیں، بلکہ عقیدہ اور ایمان کی پہچان ہے*

فلسطین صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں، بلکہ مسلمانوں کے ایمان، تاریخ اور دینی تشخص کا مظہر ہے۔ یہ انبیاء کی سرزمین، مقدس وحی کے نزول کا مرکز اور اسلام کی روحانی عظمت کا مظہر ہے۔ یہی وہ بابرکت مقام ہے جہاں مسجد اقصیٰ واقع ہے، جو مسلمانوں کا پہلا قبلہ، تیسرا حرم اور نبی کریم ﷺ کی معراج کا نقطۂ آغاز ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اس مبارک سرزمین کی فضیلت یوں بیان فرمائی:

"پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ لے گئی، جس کے گرد و نواح کو ہم نے برکت دی" (بنی اسرائیل: 1)

مگر افسوس کہ اس مقدس سرزمین کو صیہونی غاصبوں نے اپنے ظلم و جبر کی آماجگاہ بنا رکھا ہے۔ وہ نہ صرف فلسطینی عوام پر ظلم ڈھا رہے ہیں بلکہ اس کی اسلامی شناخت کو مٹانے کے درپے ہیں۔ صیہونی سازشوں کا ہدف صرف زمین پر قبضہ نہیں، بلکہ امت مسلمہ کے عقیدے اور مقدسات کو پامال کرنا بھی ہے۔ مسجد اقصیٰ پر بار بار دھاوا، تاریخی و دینی مقامات کی بے حرمتی اور آبادیاتی تبدیلیوں کے ذریعے فلسطین کو یہودیانے کی کوششیں، درحقیقت امت مسلمہ کے وقار پر حملہ ہے ۔


_فلسطین کی نصرت: امتِ مسلمہ کی دینی و اخلاقی ذمہ داری_

فلسطین کی حفاظت اور اس کے مظلوم عوام کی حمایت ہر مسلمان پر فرض ہے، کیونکہ یہ صرف فلسطینیوں کا نہیں، بلکہ پوری امت کا مسئلہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"جو شخص تم میں سے کسی برائی کو دیکھے تو اسے ہاتھ سے روکے، اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو زبان سے، اور اگر یہ بھی نہ کر سکے تو دل سے برا جانے، اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔"

فلسطین میں جو ظلم و بربریت جاری ہے، وہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اپنی بساط کے مطابق اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرے، چاہے وہ مالی امداد ہو، میڈیا کے ذریعے سچائی کو اجاگر کرنا ہو، سیاسی اور سفارتی سطح پر کوشش ہو، یا دعا کے ذریعے اللہ سے مدد مانگنا ہو۔

امت مسلمہ کو چاہیے کہ وہ اتحاد و یگانگت کے ساتھ فلسطین کی حمایت میں کھڑی ہو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

"اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقہ مت ڈالو" (آل عمران: 103)

ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دل و جان سے فلسطین کی حمایت کریں اور اپنے وسائل اور کوششوں کو اس مقدس سرزمین کی آزادی کے لیے وقف کریں، تاکہ ظلم کے اندھیرے چھٹیں اور حق کا سورج طلوع ہو۔


_صیہونی تسلط کے سائے میں فلسطینیوں کی مظلومیت_

صیہونی قبضے نے فلسطین کے مسلمانوں کو ایسی آزمائش میں ڈال دیا ہے جس کی نظیر تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔

🔹 جبری ہجرت اور زمینوں پر ناجائز قبضہ :
صیہونی غاصب طاقتیں فلسطینی عوام کو زبردستی ان کے گھروں سے نکال رہی ہیں، ان کے مکانات منہدم کیے جا رہے ہیں، اور ان کی زمینوں پر ناجائز بستیاں بسائی جا رہی ہیں۔ القدس (بیت المقدس) میں یہ ظالمانہ پالیسی اپنے عروج پر ہے، جہاں مسلمانوں کو اپنی ہی سرزمین میں اجنبی بنا دیا گیا ہے۔

🔹 مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی:
مسجد اقصیٰ پر صیہونی انتہا پسندوں کے منظم حملے جاری ہیں، جنہیں قابض فوج کی پشت پناہی حاصل ہے۔ مسلمانوں کو نماز سے روکا جاتا ہے، مسجد کے احاطے میں صیہونی رسومات ادا کی جا رہی ہیں، اور اس کے نیچے کھدائیاں کر کے اس کی بنیادوں کو کھوکھلا کیا جا رہا ہے۔

🔹 محاصرہ، بھوک اور مظالم
غزہ کی پٹی کو ایک کھلی جیل بنا دیا گیا ہے، جہاں نہ خوراک و ادویات کی آزادی ہے اور نہ ہی بنیادی انسانی حقوق حاصل ہیں۔ صیہونی فوج معصوم بچوں، خواتین اور بزرگوں کو بے دریغ قتل کر رہی ہے، اور عالمی برادری بے حسی کی چادر اوڑھے خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔

🔹 فلسطینی قیدیوں پر ظلم و ستم
ہزاروں بے گناہ فلسطینی مرد، خواتین اور بچے صیہونی جیلوں میں قید ہیں، جہاں انہیں غیر انسانی تشدد، بھوک اور بدترین حالات کا سامنا ہے۔

یہ تمام مظالم چیخ چیخ کر امت مسلمہ سے مدد کی فریاد کر رہے ہیں! کیا امت مسلمہ اس ظلم کے خلاف خاموش رہے گی؟

_صیہونی سازشیں: فلسطین کی شناخت مٹانے کی ناپاک کوشش_

جب سے صیہونیوں نے فلسطین پر غاصبانہ قبضہ کیا ہے، وہ ایک منظم سازش کے تحت اس کی اسلامی شناخت کو مٹانے میں مصروف ہیں۔

🔹 الحرم الابراہیمی کی تقسیم
الخلیل میں واقع الحرم الابراہیمی شریف کی بے حرمتی ایک کھلی حقیقت ہے۔ 1994ء میں ایک صیہونی دہشت گرد نے فجر کی نماز کے دوران درجنوں نمازیوں کو شہید کر دیا، جس کے بعد اس مقدس مقام کو یہودیانے کے منصوبے کا آغاز ہوا۔ مسلمانوں کے داخلے پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں، اور اس کے کئی حصے یہودیوں کے حوالے کر دیے گئے۔

🔹 مسجد اقصیٰ پر صیہونی یلغار
مسجد اقصیٰ پر قابض قوتیں مسلسل حملے کر رہی ہیں، اور ان کا مقصد اسے یہودی عبادت گاہ میں تبدیل کرنا ہے۔ اگر امت مسلمہ نے بروقت قدم نہ اٹھایا تو مسجد اقصیٰ کا حشر بھی الحرم الابراہیمی جیسا ہو سکتا ہے۔
🔹 فلسطینی ثقافت اور تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش
فلسطینی علاقوں کے اسلامی اور عربی نام عبرانی ناموں میں بدلے جا رہے ہیں، نصاب میں تاریخ کو مسخ کر کے صیہونی نظریات ٹھونسے جا رہے ہیں، اور فلسطینی بچوں کی نسلوں کو ان کے اصل ورثے سے کاٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یہ سب کچھ امت مسلمہ کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے ۔

_امت مسلمہ کی غیرت و حمیت کا امتحان_

کیا ہم خاموشی سے اپنے قبلۂ اول کی بے حرمتی ہوتے دیکھتے رہیں گے؟ کیا ہم بے گناہ فلسطینیوں کی چیخ و پکار کو نظر انداز کر دیں گے؟

یہ وقت ہے کہ ہم اپنے ایمان کی تجدید کریں، فلسطین کی حمایت میں عملی اقدامات کریں، اور ظالم کے خلاف کھڑے ہو کر حق کا ساتھ دیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

"اور ظالموں کی طرف نہ جھکو، ورنہ تمہیں جہنم کی آگ چھو لے گی" (ہود: 113)

💢 آئیے! ہم فلسطین کے لیے آواز اٹھائیں، اس کے مظلوم عوام کا ساتھ دیں، اور اپنے قبلۂ اول کا دفاع کریں، کیونکہ فلسطین محض ایک زمین نہیں، بلکہ ایمان کا حصہ ہے!
Forwarded from Al Haqq🔻
🌹🇵🇸 Part of Abu Hamza’s last speech, thanking Hezbollah and Shaheed Sayyed Hassan Nasrallah:

“We faced this occupation with a group of believers from Lebanon, Yemen, Iraq, and the Islamic Republic of Iran on behalf of one and half billion Muslims.

We pay tribute to the free people, and to the axis of resistance, starting with our resistant people in Lebanon. And the fighters of Hezbollah, who remained steadfast in the field, and prevented the enemy from achieving its goals. They fought bravely, on every piece of land in the villages and border towns.

And we remember the martyr of the dear nation, the great leader, his eminence, Sayyed Hassan Nasrallah, may God have mercy on him, and his brothers, the martyrs, the leaders and fighters.”


🔴
@haqqintel
https://whatsapp.com/channel/0029Vahuxn3Fy72I4szCBS09
اس چینل پر آپکو موجودہ پاک بھارت کشیدگی کی لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورت حال سے آگاہ رکھا جائے گا
Media is too big
VIEW IN TELEGRAM
🍁میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے اک دن🍁
1
اس بار کے سلاب نے بے شمار قیمتی جانیں نگل لیں۔
کچھ لوگ اپنے قیمتی سامان کی حفاظت کرتے کرتے زندگی ہار گئے،
تو کچھ اپنے گھر اور دیواروں کو بچاتے بچاتے پانی کے رحم و کرم پر چل بسے۔

یہ منظر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جان کی حفاظت سب سے مقدم ہے۔
سامان اور گھر دوبارہ بن سکتے ہیں، لیکن جانے والے کبھی واپس نہیں آتے۔

ہمیں چاہیے کہ آزمائش کے وقت ایک دوسرے کے سہارا بنیں،
اور اپنی توانائیاں قیمتی جانوں کو بچانے پر صرف کریں،
کیونکہ اصل سرمایہ انسان کی زندگی ہیں


#Ali🇲🇾
https://whatsapp.com/channel/0029Vahuxn3Fy72I4szCBS09
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
صمود فلوٹیلا پر 9 ویں بار حملہ

کشتیوں پر ساؤنڈ بم، دھماکہ خیز فلیئرز سے حملے کیے گئے، اور مشتبہ کیمیکل اسپرے کیا گیا۔ ریڈیو سگنلز جام کر دیے گئے، مدد کے لیے کی جانے والی کالز کو روکا گیا۔ فوری عالمی توجہ اور تحفظ کی ضرورت ہے


#ProtectGlobalSumudFlotilla

#Ali🇲🇾
https://whatsapp.com/channel/0029Vahuxn3Fy72I4szCBS09
چند دن قبل ایک بڑے بابا جی کے پاس بیٹھا تھا ، فرمانے لگے، سعودی عرب میں ہم طویل عرصہ رہے۔ وہاں کسی بھی شخص کی وفات کے بعد اسے سپردِ خاک کرنے میں دیر نہیں کی جاتی اور حکم نبوی کے مطابق جلدی اور فوری جنازہ ادا کرکے اگلے سفر پر روانہ کر دیا جاتا ہے۔ اکثر و بیشتر یہ عمل دو سے تین گھنٹے کے اندر اندر ہی ہوتا ہے اور ہمارے ہاں کی طرح کسی کی آمد کا انتظار بھی نہیں ہوتا۔
ان کی یہ بات آج پھر آنکھوں سے دیکھی جب عالم اسلام کے ایک عظیم مفتی جناب فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز آل شیخ کی وفات ہوئی۔
آپ 11 سال کی عمر میں حافظ قرآن بنے۔ 20 سال کی عمر میں دین کے وسیع علوم بھی حاصل کر چکے تھے جب بینائی سے محروم ہوئے لیکن اگلے 62 سال میں سعودی عرب کے مفتی اعظم بھی بنے۔ 35 سال خطیب حج بھی رہے۔ بے شمار تعلیمی اِداروں کے نگران و سربراہ بھی رہے۔ بے شمار فتاویٰ رسائل کتابیں بھی تحریر فرمائیں ، لاکھوں
طلبہ کو جو دنیا بھر سے تعلق رکھتے ، پڑھاتے بھی رہے۔ بے شمار لوگوں کو اسلام میں داخل کیا ، کلمہ پڑھایا ، دنیا بھر میں اشاعتِ اسلام کا کام کیا۔
آج نماز ظہر سے قبل وفات پائی تو نماز عصر پر ہی ان کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی۔ نہ کوئی میڈیا پر تشہیر نہ کئی دن جنازہ کا انتظار نہ کوئی لمبے چوڑے جلوس نہ تابوت نہ کالے کپڑے نہ رنگ برنگے یا سیاہ جھنڈے نہ ماتمی زاری نہ سپیکر نہ بینر نہ سٹیڈیم میں لا کر جنازے اور میت کی نمائش نہ ہیلی کاپٹروں جہازوں سے کوریج کے کھیل تماشے ۔
وفات اور پھر جتنے لوگ موجود یا پہنچ سکتے، انہی کے ساتھ نماز جنازہ اور اللہ کے حضور پیشی ۔۔۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ کو یہی پسند ہے اسی لئے اسی کی تاکید ہے اور اسی ہی کا اہتمام ہونا چاہئے کہ یہ معاملہ نمائش تماشے کا نہیی ہوتا بندے کی آخرت کا ہوتا ہے۔
اللھم ادخلہ الجنۃ الفردوس ۔۔۔۔۔۔۔
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
⚔️🇵🇰🇸🇦🇶🇦🇯🇴🇪🇬🇮🇩🇹🇷🇦🇪⚔️
مجھے نہیں معلوم اس اجلاس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے ۔۔۔ میں پاکستان کا پرچم دیکھ رہا ہوں ۔۔۔۔۔ فلسطین کے بارے میں ہونے والا اجلاس ۔۔۔اور اس میں پاکستان کا جھنڈا دنیا کے اہم ترین ممالک میں سب سے درمیان میں اور مرکز نگاہ بنا ہے ۔۔۔۔۔
اسی امریکہ نے پاکستان کے بارے میں کہا تھا کہ ہمیں اب اس کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔
اللہ پاکستان کے ذریعے فلسطین کی آزادی کا کام لے ۔۔۔ آمین ۔۔۔


#Ali🇲🇾
https://whatsapp.com/channel/0029Vahuxn3Fy72I4szCBS09
1