🗣 حزب اللہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے خود کش ڈرون سے نہاریہ کے شمال میں واقع علاقے میں تعینات نئے توپ خانے پر حملہ کیا ہے۔
📰 اسرائیلی فوج نے واقعہ کو تسلیم کیا، اور کہا کہ وہ صرف ایک UAV کو مار گرانے میں کامیاب ہوئے۔ دوسرے نے کامیابی سے اپنے ہدف کو متاثر کیا۔
اسی طرح کا ایک ڈرون عراق کی طرف سے بھی لانچ کیا گیا تھا جس کو آئرن ڈوم نے انٹرسیپٹ کیا ہے
📰 اسرائیلی فوج نے واقعہ کو تسلیم کیا، اور کہا کہ وہ صرف ایک UAV کو مار گرانے میں کامیاب ہوئے۔ دوسرے نے کامیابی سے اپنے ہدف کو متاثر کیا۔
اسی طرح کا ایک ڈرون عراق کی طرف سے بھی لانچ کیا گیا تھا جس کو آئرن ڈوم نے انٹرسیپٹ کیا ہے
VID-20240529-WA0002.mp4
867.2 KB
🇮🇪🤝🇵🇸 آئرش پارلیمنٹ میں فلسطینی پرچم لہرایا دیا گیا کیونکہ آئرش جمہوریہ نے فلسطین کو ایک خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کیا تھا۔
سپریم کورٹ اسلام آباد سے تازہ صورت حال
قادیانی مبارک ثانی کو ضمانت دینے اور قادیانیوں کو تحریف شدہ قرآن پاک کی تفسیر شائع کرنے کی اجازت دینے کے فیصلہ پر نظر ثانی کیس سپریم کورٹ آف پاکستان میں سماعت 4گھنٹے جاری رہی۔۔۔۔۔
باقی مختصر احوال سن لیں۔
شاہین ختم نبوت مولانا الله وسایا صاحب۔۔
عالمی مجلس تخفظ ختم نبوت پاکستان
قادیانی مبارک ثانی کو ضمانت دینے اور قادیانیوں کو تحریف شدہ قرآن پاک کی تفسیر شائع کرنے کی اجازت دینے کے فیصلہ پر نظر ثانی کیس سپریم کورٹ آف پاکستان میں سماعت 4گھنٹے جاری رہی۔۔۔۔۔
باقی مختصر احوال سن لیں۔
شاہین ختم نبوت مولانا الله وسایا صاحب۔۔
عالمی مجلس تخفظ ختم نبوت پاکستان
مبارک ثانی قادیانی کیس کی تمام معلومات
📍کیس کے فیصلے کی تمام تر تفصیل.....!
قادیانی شہری کو سپریم کورٹ کی جانب سے ضمانت دینے کا معاملہ !
فیصلے کی تفصیل میں جانے سے پہلے کیس کے مختصر حقائق کچھ یوں ہیں کہ :
مبارک احمد ثانی نامی ایک ملزم کے خلاف ضلع چنیوٹ کے مقامی تھانے میں مجموعہ تعزیرات پاکستان کے دفعہ دو سو پچانوے-بی ، دو سو اٹھانوے-سی اور پنجاب کے اشاعت قرآن ایکٹ کے دفعہ سات اور نو کے تحت چھ دسمبر دو ہزار بائیس کو اس وجہ سے ایف آئی آر درج کرائی جاتی ہے کہ ملزم پر یہ الزام تھا کہ وہ قادیانی مذہب کی مشہور تفسیر " تفسیر صغیر " کی تقسیم میں ملوث ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہوا کہ ملزم پر بنیادی طور پر تین الزامات تھے جو کہ ذیل ہیں :
الف ) پنجاب قرآن ( پرنٹنگ اینڈ ریکارڈنگ ) ایکٹ دو ہزار دس کے دفعہ سات اور نو کے تحت تفسیر صغیر کی تقسیم کا الزام۔
ب ) مجموعہ تعزیرات پاکستان کے دفعہ دو سو پچانوے-بی کے تحت توہین قرآن کا الزام۔
ج ) مجموعہ تعزیرات پاکستان کے دفعہ دو سو اٹھانوے-سی کے تحت قادیانی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کا خود کو مسلمان ظاہر کرنے کا الزام۔
مندرجہ بالا الزامات کے تحت چھ دسمبر دو ہزار بائیس کو ایف آئی آر کے اندراج کے بعد بالآخر ملزم کو سات جنوری دو ہزار تئیس کو گرفتار کر دیا جاتا ہے جس کے بعد بالترتیب دس جون اور ستائیس نومبر کو ایڈیشنل سیشن جج اور لاہور ہائی کورٹ سے ملزم کی ضمانت خارج کردی جاتی ہے جس کے بعد اس کیس کی ابتدا سپریم کورٹ میں ہوتی ہے اور سپریم کورٹ میں یہ کیس چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صاحب اور جسٹس مسرت ہلالی صاحبہ پر مشتمل دو رکنی بینچ کے سامنے مقرر ہوتا ہے جس کی تفصیل کچھ یوں ہے۔
نوٹ :یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے سامنے اس کیس میں دو سوالات تھے جن میں پہلا تو ملزم کی جانب سے ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست تھی اور دوسرا معاملہ ملزم پر جو فرد جرم عائد کیا گیا تھا تو اس فرد جرم سے مختلف جرائم کو حذف کرنے کی درخواست تھی۔
سپریم کورٹ میں اس کیس کی ابتدا ملزم کے وکیل کی جانب سے دلائل پر ہوا جو کہ زیل ہیں:
ملزم کے وکیل نے پہلا نکتہ یہ اٹھایا کہ ملزم کے خلاف چھ دسمبر دو ہزار بائیس کو جو ایف آئی آر کاٹی گئی ہے تو اس کے مطابق ملزم نے پر الزام یہ ہے کہ اس نے دو ہزار انیس میں تفسیر صغیر تقسیم کیا ہے جو کہ پنجاب کے اشاعت قرآن قانون کے تحت جرم ہے لیکن یاد رہے کہ ایسی کوئی تفسیر تقسیم کرنے پر پابندی دو ہزار اکیس میں لگی ہے یعنی اگر دو ہزار اکیس کے بعد اگر کوئ ایسی تفسیر تقسیم کرے گا تو وہ پنجاب اشاعت قرآن قانون کے تحت جرم کے ضمرے میں آئے گا تو یہاں پر دو مسئلے آئے۔ پہلا تو یہ کہ ملزم پر الزام یہ تھا کہ اس نے تفسیر صغیر دو ہزار انیس میں تقسیم کی ہے تو تب یہ پنجاب اشاعت قرآن قانون کے تحت جرم نہیں تھا اور دوسرا یہ کہ فوجداری مقدمات میں مقدمہ بروقت دائر کرنا بہت زیادہ اہمیت کا متقاضی ہوتا ہے لیکن اس کیس میں دو ہزار انیس کے الزام کی بابت ایف آئی آر دو ہزار بائیس کے آخر میں درج کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس حوالے سے آئین پاکستان کا آرٹیکل بارہ نہایت ہی واضح ہے جو کہ صراحت کے ساتھ یہ کہتا ہے کہ کسی کو بھی کسی ایسے جرم کی سزا نہیں دی جا سکتی کے کرتے وقت وہ کام کسی قانون کے تحت جرم کی تعریف میں نہ ہو تو اس لئے چونکہ تفسیر صغیر دو ہزار انیس میں تقسیم کرنا جرم نہیں تھا تو اس لئے پنجاب اشاعت قرآن قانون کے تحت ملزم کے خلاف فرد جرم نہیں عائد کیا جا سکتا تھا۔
تفسیر صغیر کی تقسیم کا معاملہ واضح کرنے کے بعد سپریم کورٹ نے بقیہ دو الزامات یعنی توہین قرآن اور خود کو مسلمان ظاہر کرنا تو اس حوالے سے ملزم کے خلاف نہ تو ایف آئی آر اور نہ ہی پولیس کے چالان میں مندرجہ بالا الزامات کے بابت کوئ بات ہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ ملزم نے ایسا کوئ جرم انجام دیا ہو تو اس وجہ عدالت نے مندرجہ بالا دونوں دفعات فرد جرم سے حذف کرنے کا فیصلہ کیا۔
سپریم کورٹ کے سامنے چونکہ دو سوالات تھے تو پہلا معاملہ واضح کرنے کے بعد فیصلے میں قرآن مجید کے مندرجہ ذیل آیات کا حوالہ دیا گیا ہے:
الف ) سورة البقرة کی آیت نمبر دو سو چھپن۔
ب ) سورة الرعد کی آیت نمبر چالیس۔
ج ) سورة یونس کی آیت نمبر ننانوے۔
قرآن مجید کے مختلف آیات کا حوالہ دینے کے بعد سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں آئین پاکستان میں مذکور آزادی مذہب کا زکر کیا ہے۔
سپریم کورٹ نے اس کے بعد ملزم کی جانب سے ضمانت بعد از گرفتاری والے قضیے کا رخ کیا ہے جس کا آغاز سپریم کورٹ نے کچھ یوں کیا ہے کہ ملزم پر فرد جرم تو فوجداری قانون ترمیمی ایکٹ انیس سو بتیس کے دفعہ پانچ کے تحت تو عائد نہیں کی گئ لیکن ایف آئی آر اور چالان کے مندرجات سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ملزم نے یہ مندرجہ بالا دفعہ کے تحت جرم کیا ہے
📍کیس کے فیصلے کی تمام تر تفصیل.....!
قادیانی شہری کو سپریم کورٹ کی جانب سے ضمانت دینے کا معاملہ !
فیصلے کی تفصیل میں جانے سے پہلے کیس کے مختصر حقائق کچھ یوں ہیں کہ :
مبارک احمد ثانی نامی ایک ملزم کے خلاف ضلع چنیوٹ کے مقامی تھانے میں مجموعہ تعزیرات پاکستان کے دفعہ دو سو پچانوے-بی ، دو سو اٹھانوے-سی اور پنجاب کے اشاعت قرآن ایکٹ کے دفعہ سات اور نو کے تحت چھ دسمبر دو ہزار بائیس کو اس وجہ سے ایف آئی آر درج کرائی جاتی ہے کہ ملزم پر یہ الزام تھا کہ وہ قادیانی مذہب کی مشہور تفسیر " تفسیر صغیر " کی تقسیم میں ملوث ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہوا کہ ملزم پر بنیادی طور پر تین الزامات تھے جو کہ ذیل ہیں :
الف ) پنجاب قرآن ( پرنٹنگ اینڈ ریکارڈنگ ) ایکٹ دو ہزار دس کے دفعہ سات اور نو کے تحت تفسیر صغیر کی تقسیم کا الزام۔
ب ) مجموعہ تعزیرات پاکستان کے دفعہ دو سو پچانوے-بی کے تحت توہین قرآن کا الزام۔
ج ) مجموعہ تعزیرات پاکستان کے دفعہ دو سو اٹھانوے-سی کے تحت قادیانی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کا خود کو مسلمان ظاہر کرنے کا الزام۔
مندرجہ بالا الزامات کے تحت چھ دسمبر دو ہزار بائیس کو ایف آئی آر کے اندراج کے بعد بالآخر ملزم کو سات جنوری دو ہزار تئیس کو گرفتار کر دیا جاتا ہے جس کے بعد بالترتیب دس جون اور ستائیس نومبر کو ایڈیشنل سیشن جج اور لاہور ہائی کورٹ سے ملزم کی ضمانت خارج کردی جاتی ہے جس کے بعد اس کیس کی ابتدا سپریم کورٹ میں ہوتی ہے اور سپریم کورٹ میں یہ کیس چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ صاحب اور جسٹس مسرت ہلالی صاحبہ پر مشتمل دو رکنی بینچ کے سامنے مقرر ہوتا ہے جس کی تفصیل کچھ یوں ہے۔
نوٹ :یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے سامنے اس کیس میں دو سوالات تھے جن میں پہلا تو ملزم کی جانب سے ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست تھی اور دوسرا معاملہ ملزم پر جو فرد جرم عائد کیا گیا تھا تو اس فرد جرم سے مختلف جرائم کو حذف کرنے کی درخواست تھی۔
سپریم کورٹ میں اس کیس کی ابتدا ملزم کے وکیل کی جانب سے دلائل پر ہوا جو کہ زیل ہیں:
ملزم کے وکیل نے پہلا نکتہ یہ اٹھایا کہ ملزم کے خلاف چھ دسمبر دو ہزار بائیس کو جو ایف آئی آر کاٹی گئی ہے تو اس کے مطابق ملزم نے پر الزام یہ ہے کہ اس نے دو ہزار انیس میں تفسیر صغیر تقسیم کیا ہے جو کہ پنجاب کے اشاعت قرآن قانون کے تحت جرم ہے لیکن یاد رہے کہ ایسی کوئی تفسیر تقسیم کرنے پر پابندی دو ہزار اکیس میں لگی ہے یعنی اگر دو ہزار اکیس کے بعد اگر کوئ ایسی تفسیر تقسیم کرے گا تو وہ پنجاب اشاعت قرآن قانون کے تحت جرم کے ضمرے میں آئے گا تو یہاں پر دو مسئلے آئے۔ پہلا تو یہ کہ ملزم پر الزام یہ تھا کہ اس نے تفسیر صغیر دو ہزار انیس میں تقسیم کی ہے تو تب یہ پنجاب اشاعت قرآن قانون کے تحت جرم نہیں تھا اور دوسرا یہ کہ فوجداری مقدمات میں مقدمہ بروقت دائر کرنا بہت زیادہ اہمیت کا متقاضی ہوتا ہے لیکن اس کیس میں دو ہزار انیس کے الزام کی بابت ایف آئی آر دو ہزار بائیس کے آخر میں درج کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس حوالے سے آئین پاکستان کا آرٹیکل بارہ نہایت ہی واضح ہے جو کہ صراحت کے ساتھ یہ کہتا ہے کہ کسی کو بھی کسی ایسے جرم کی سزا نہیں دی جا سکتی کے کرتے وقت وہ کام کسی قانون کے تحت جرم کی تعریف میں نہ ہو تو اس لئے چونکہ تفسیر صغیر دو ہزار انیس میں تقسیم کرنا جرم نہیں تھا تو اس لئے پنجاب اشاعت قرآن قانون کے تحت ملزم کے خلاف فرد جرم نہیں عائد کیا جا سکتا تھا۔
تفسیر صغیر کی تقسیم کا معاملہ واضح کرنے کے بعد سپریم کورٹ نے بقیہ دو الزامات یعنی توہین قرآن اور خود کو مسلمان ظاہر کرنا تو اس حوالے سے ملزم کے خلاف نہ تو ایف آئی آر اور نہ ہی پولیس کے چالان میں مندرجہ بالا الزامات کے بابت کوئ بات ہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ ملزم نے ایسا کوئ جرم انجام دیا ہو تو اس وجہ عدالت نے مندرجہ بالا دونوں دفعات فرد جرم سے حذف کرنے کا فیصلہ کیا۔
سپریم کورٹ کے سامنے چونکہ دو سوالات تھے تو پہلا معاملہ واضح کرنے کے بعد فیصلے میں قرآن مجید کے مندرجہ ذیل آیات کا حوالہ دیا گیا ہے:
الف ) سورة البقرة کی آیت نمبر دو سو چھپن۔
ب ) سورة الرعد کی آیت نمبر چالیس۔
ج ) سورة یونس کی آیت نمبر ننانوے۔
قرآن مجید کے مختلف آیات کا حوالہ دینے کے بعد سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں آئین پاکستان میں مذکور آزادی مذہب کا زکر کیا ہے۔
سپریم کورٹ نے اس کے بعد ملزم کی جانب سے ضمانت بعد از گرفتاری والے قضیے کا رخ کیا ہے جس کا آغاز سپریم کورٹ نے کچھ یوں کیا ہے کہ ملزم پر فرد جرم تو فوجداری قانون ترمیمی ایکٹ انیس سو بتیس کے دفعہ پانچ کے تحت تو عائد نہیں کی گئ لیکن ایف آئی آر اور چالان کے مندرجات سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ملزم نے یہ مندرجہ بالا دفعہ کے تحت جرم کیا ہے
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
پروفیسر عبدالرحمن مکی حفظہ اللہ کے بہترین الفاظ ضرور سماعت فرمائیں
اس حقیر دنیا کی زندگی کی حقیقت دل لگی اور کھیل کے سوا اور کچھ نہیں، جس طرح کوئی شخص کچھ وقت کے لیے گا بجا کر اور کھیل کود کر گھر چلا جائے۔ یہاں کوئی بادشاہ ہے یا وزیر، تاجر ہے یا صنعت کار، مالک ہے یا مزدور، اگر کسی بھی ایسے کام میں مصروف ہے جو قیامت کے دن کے لیے کار آمد نہیں تو سمجھ لیجیے وہ محض دل لگی اور کھیل تماشے میں مصروف ہے اور اس کے تمام ساتھی اس کھیل تماشے کا حصہ ہیں۔
اس تماشے میں کوئی بادشاہ ہے، کوئی وزیر ہے اور کوئی کچھ اور۔
انھیں عیش و عشرت کے جتنے سامان میسر ہیں، عورتیں ہوں یا بیٹے، سونے چاندی کے خزانے ہوں یا اعلیٰ نسل کے گھوڑے، ہر قسم کے چوپائے ہوں یا کھیتیاں اور باغات، سب اس کھیل کے کھلونے ہیں۔
پھر ایک وقت آتا ہے جب یہ کھیل ختم ہو جاتا ہے اور کھیل کا ہر کردار اسی بے سروسامانی کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے جس کے ساتھ وہ یہاں آیا تھا۔ ہو سکتا ہے وہ ان کھلونوں کے ساتھ ساٹھ یا ستر یا سو برس دل بہلا لے، آخر کار اسے یہ سب کچھ چھوڑ کر موت کے دروازے سے گزر کر اس جہاں میں پہنچنا ہے جہاں کی زندگی دائمی اور ابدی ہے۔
بڑا ہی بد نصیب ہے وہ شخص جو اس کھیل میں مصروف رہے اور اس دائمی زندگی کی فکر نہ کرے۔ یقینا آخری گھر کی زندگی ہی اصل زندگی ہے، جسے کبھی زوال نہیں، اس لیے آدمی کو چاہیے کہ یہاں کی چند روزہ زندگی سے زیادہ آخری زندگی کی فکر کرے، کیونکہ وہ اصل اور دائمی ہے۔ دنیا کے کھیل تماشے میں غرق ہو کر عاقبت کو بھول نہ بیٹھے، بلکہ یہاں رہ کر وہاں کی تیاری کرے
وَمَا هَذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبٌ وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ
اور دنیا کی یہ زندگی نہیں ہے مگر ایک دل لگی اور کھیل، اور بے شک آخری گھر، یقینا وہی اصل زندگی ہے، اگر وہ جانتے ہوتے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کی قدر و قیمت بیان کرتے ہوئے فرمایا : [ لَوْ كَانَتِ الدُّنْيَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللَّهِ جَنَاحَ بَعُوْضَةٍ مَا سَقٰی كَافِرًا مِنْهَا شَرْبَةَ مَاءٍ ] [ ترمذي ]
’’اگر دنیا اللہ تعالیٰ کے ہاں مچھر کے پر کے برابر ہوتی، تو اللہ تعالیٰ کسی کافر کو اس میں سے پانی کا ایک گھونٹ نہ پلاتا۔‘‘
کامیاب وہ شخص ہے جو باقی زندگی کو فانی پر ترجیح دیتا ہے اور اس کے مطابق عمل کرتا ہے اور ایسے عمل کر جاتا ہے جو مرنے کے بعد بھی اس کے لیے صدقہ جاریہ رہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ ؛ إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ ".(مسلم)
جب آدمی فوت ہو جاتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے:
ایسا صدقہ جو اس کے بعد بھی جاری رہے
یا ایسا علم جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں
یا ایسی صالح اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہے
اللہ تعالیٰ ہمارے والد کی مغفرت فرمائے اور ہمیں ان کے لیے بہترین صدقہ جاریہ بنائے ۔آمین
عمر عبدالسلام بھٹوی
اس تماشے میں کوئی بادشاہ ہے، کوئی وزیر ہے اور کوئی کچھ اور۔
انھیں عیش و عشرت کے جتنے سامان میسر ہیں، عورتیں ہوں یا بیٹے، سونے چاندی کے خزانے ہوں یا اعلیٰ نسل کے گھوڑے، ہر قسم کے چوپائے ہوں یا کھیتیاں اور باغات، سب اس کھیل کے کھلونے ہیں۔
پھر ایک وقت آتا ہے جب یہ کھیل ختم ہو جاتا ہے اور کھیل کا ہر کردار اسی بے سروسامانی کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے جس کے ساتھ وہ یہاں آیا تھا۔ ہو سکتا ہے وہ ان کھلونوں کے ساتھ ساٹھ یا ستر یا سو برس دل بہلا لے، آخر کار اسے یہ سب کچھ چھوڑ کر موت کے دروازے سے گزر کر اس جہاں میں پہنچنا ہے جہاں کی زندگی دائمی اور ابدی ہے۔
بڑا ہی بد نصیب ہے وہ شخص جو اس کھیل میں مصروف رہے اور اس دائمی زندگی کی فکر نہ کرے۔ یقینا آخری گھر کی زندگی ہی اصل زندگی ہے، جسے کبھی زوال نہیں، اس لیے آدمی کو چاہیے کہ یہاں کی چند روزہ زندگی سے زیادہ آخری زندگی کی فکر کرے، کیونکہ وہ اصل اور دائمی ہے۔ دنیا کے کھیل تماشے میں غرق ہو کر عاقبت کو بھول نہ بیٹھے، بلکہ یہاں رہ کر وہاں کی تیاری کرے
وَمَا هَذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَهْوٌ وَلَعِبٌ وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ
اور دنیا کی یہ زندگی نہیں ہے مگر ایک دل لگی اور کھیل، اور بے شک آخری گھر، یقینا وہی اصل زندگی ہے، اگر وہ جانتے ہوتے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کی قدر و قیمت بیان کرتے ہوئے فرمایا : [ لَوْ كَانَتِ الدُّنْيَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللَّهِ جَنَاحَ بَعُوْضَةٍ مَا سَقٰی كَافِرًا مِنْهَا شَرْبَةَ مَاءٍ ] [ ترمذي ]
’’اگر دنیا اللہ تعالیٰ کے ہاں مچھر کے پر کے برابر ہوتی، تو اللہ تعالیٰ کسی کافر کو اس میں سے پانی کا ایک گھونٹ نہ پلاتا۔‘‘
کامیاب وہ شخص ہے جو باقی زندگی کو فانی پر ترجیح دیتا ہے اور اس کے مطابق عمل کرتا ہے اور ایسے عمل کر جاتا ہے جو مرنے کے بعد بھی اس کے لیے صدقہ جاریہ رہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ ؛ إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ ".(مسلم)
جب آدمی فوت ہو جاتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے:
ایسا صدقہ جو اس کے بعد بھی جاری رہے
یا ایسا علم جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں
یا ایسی صالح اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہے
اللہ تعالیٰ ہمارے والد کی مغفرت فرمائے اور ہمیں ان کے لیے بہترین صدقہ جاریہ بنائے ۔آمین
عمر عبدالسلام بھٹوی
Forwarded from United State Of Islam⚔🇵🇰🏹🇮🇳 (Meri jan Pakistan)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
*سُورَةُ البَقَرَةِ آیت نمبر : 32*
*أَعـوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم*
*بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ*
📖 *قَالُوۡا سُبۡحٰنَكَ لَا عِلۡمَ لَنَآ اِلَّا مَا عَلَّمۡتَنَا ؕ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَلِيۡمُ الۡحَكِيۡمُ ۞*
✨
They (angels) said: "Glory is to You, we have no knowledge exceptwhat you have taught us.Verily, You are the Knower, the Wise."
*Surah Al_Baqarah Verse: 32.*
#Calendar #Daily_Recite #UnitedTeam
*🌼 اپنی ہر صبح کا آغاز فجر کی نماز پڑھ کر اور تلاوتِ قرآن پاک سے کیا کریں، اللّٰه پاک دن میں برکت دے گا۔ اِن شاءاللّٰه تعالیٰ ✨*
*أَعـوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم*
*بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ*
📖 *قَالُوۡا سُبۡحٰنَكَ لَا عِلۡمَ لَنَآ اِلَّا مَا عَلَّمۡتَنَا ؕ اِنَّكَ اَنۡتَ الۡعَلِيۡمُ الۡحَكِيۡمُ ۞*
✨
🌸
They (angels) said: "Glory is to You, we have no knowledge exceptwhat you have taught us.Verily, You are the Knower, the Wise."
`*Surah Al_Baqarah Verse: 32.*
#Calendar #Daily_Recite #UnitedTeam
*🌼 اپنی ہر صبح کا آغاز فجر کی نماز پڑھ کر اور تلاوتِ قرآن پاک سے کیا کریں، اللّٰه پاک دن میں برکت دے گا۔ اِن شاءاللّٰه تعالیٰ ✨*
*سُورَةُ البَقَرَةِ آیت نمبر : 33*
*أَعـوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم*
*بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ*
📖 *قَالَ يٰٓـاٰدَمُ اَنۡۢبِئۡهُمۡ بِاَسۡمَآئِهِمۡۚ فَلَمَّآ اَنۡۢبَاَهُمۡ بِاَسۡمَآئِهِمۡۙ قَالَ اَلَمۡ اَقُل لَّـكُمۡ اِنِّىۡٓ اَعۡلَمُ غَيۡبَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِۙ وَاَعۡلَمُ مَا تُبۡدُوۡنَ وَمَا كُنۡتُمۡ تَكۡتُمُوۡنَ ۞*
✨
He said: "O Adam! Inform them of their names," and when he had informed them of their names,He said: "Did I not tell youthat I know the Ghayb (unseen) in the heavens and the earth,and I know what you revealand what you have been concealing"
*Surah Al_Baqarah Verse: 33*
#Calendar #Daily_Recite #UnitedTeam
*🌼 اپنی ہر صبح کا آغاز فجر کی نماز پڑھ کر اور تلاوتِ قرآن پاک سے کیا کریں، اللّٰه پاک دن میں برکت دے گا۔ اِن شاءاللّٰه تعالیٰ ✨*
*أَعـوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم*
*بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ*
📖 *قَالَ يٰٓـاٰدَمُ اَنۡۢبِئۡهُمۡ بِاَسۡمَآئِهِمۡۚ فَلَمَّآ اَنۡۢبَاَهُمۡ بِاَسۡمَآئِهِمۡۙ قَالَ اَلَمۡ اَقُل لَّـكُمۡ اِنِّىۡٓ اَعۡلَمُ غَيۡبَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِۙ وَاَعۡلَمُ مَا تُبۡدُوۡنَ وَمَا كُنۡتُمۡ تَكۡتُمُوۡنَ ۞*
✨
🌸
He said: "O Adam! Inform them of their names," and when he had informed them of their names,He said: "Did I not tell youthat I know the Ghayb (unseen) in the heavens and the earth,and I know what you revealand what you have been concealing"
`*Surah Al_Baqarah Verse: 33*
#Calendar #Daily_Recite #UnitedTeam
*🌼 اپنی ہر صبح کا آغاز فجر کی نماز پڑھ کر اور تلاوتِ قرآن پاک سے کیا کریں، اللّٰه پاک دن میں برکت دے گا۔ اِن شاءاللّٰه تعالیٰ ✨*
Forwarded from United State Of Islam⚔🇵🇰🏹🇮🇳 (Meri jan Pakistan)
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
Forwarded from United State Of Islam⚔🇵🇰🏹🇮🇳 (Meri jan Pakistan)
*سُورَةُ البَقَرَةِ آیت نمبر : 34*
*أَعـوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم*
*بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ*
📖 *وَاِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓئِكَةِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡٓا اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَؕ اَبٰى وَاسۡتَكۡبَرَ وَكَانَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ۞*
✨
And (remember) when We said to the angels: "Prostrate yourselves before Adam." And they prostrated except Iblis (Shaytan), he refused and was proud and was one of the disbelievers (disobedient to Allah).
*Surah Al_Baqarah Verse: 34*
#Calendar #Daily_Recite #UnitedTeam
*🌼 اپنی ہر صبح کا آغاز فجر کی نماز پڑھ کر اور تلاوتِ قرآن پاک سے کیا کریں، اللّٰه پاک دن میں برکت دے گا۔ اِن شاءاللّٰه تعالیٰ ✨*
*أَعـوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم*
*بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ*
📖 *وَاِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓئِكَةِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡٓا اِلَّاۤ اِبۡلِيۡسَؕ اَبٰى وَاسۡتَكۡبَرَ وَكَانَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ ۞*
✨
🌸
And (remember) when We said to the angels: "Prostrate yourselves before Adam." And they prostrated except Iblis (Shaytan), he refused and was proud and was one of the disbelievers (disobedient to Allah).
`*Surah Al_Baqarah Verse: 34*
#Calendar #Daily_Recite #UnitedTeam
*🌼 اپنی ہر صبح کا آغاز فجر کی نماز پڑھ کر اور تلاوتِ قرآن پاک سے کیا کریں، اللّٰه پاک دن میں برکت دے گا۔ اِن شاءاللّٰه تعالیٰ ✨*
افغانستان میں اہل ایمان سے شکست کھاکر بھاگنے والے امریکہ کے صدر بائیڈن:
"ہم نے ایک مکمل جنگ بندی اور تمام اغوا کاروں کی رہائی کے لیے ایک تجویز پیش کی ہے -
ایک جنگ بندی جس میں غزہ سے اسرائیلی افواج کا انخلاء اور سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کی رہائی شامل ہے۔"
صدر بائیڈن کی طرف سے پیش کردہ تجویز:
- پہلا قدم:
• 6 ہفتوں کے لیے مکمل جنگ بندی۔
• غزہ کی پٹی کے تمام آبادی والے علاقوں سے اسرائیلی فوج کا انخلاء۔
• شمالی غزہ کی پٹی میں غزہ کے لوگوں کی اپنے گھروں کو واپسی۔
• کچھ مغوی اسرائیلیوں کی رہائی۔
• روزانہ 600 ٹرکوں کی امداد میں اضافہ۔
- دوسرا مرحلہ:
• تمام اغوا کاروں بشمول سپاہیوں کو رہا کریں۔
سیکڑوں فلسطینی قیدیوں کو رہا کریں۔
تیسرا مرحلہ:
• مغوی کی تمام لاشیں حوالے کریں۔
تمام فلسطینی لاشیں حوالے کریں۔
• جنگ کا خاتمہ اور غزہ کی پٹی کے تمام حصوں سے اسرائیلی فوج کا مکمل انخلاء۔
"ہم نے ایک مکمل جنگ بندی اور تمام اغوا کاروں کی رہائی کے لیے ایک تجویز پیش کی ہے -
ایک جنگ بندی جس میں غزہ سے اسرائیلی افواج کا انخلاء اور سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کی رہائی شامل ہے۔"
صدر بائیڈن کی طرف سے پیش کردہ تجویز:
- پہلا قدم:
• 6 ہفتوں کے لیے مکمل جنگ بندی۔
• غزہ کی پٹی کے تمام آبادی والے علاقوں سے اسرائیلی فوج کا انخلاء۔
• شمالی غزہ کی پٹی میں غزہ کے لوگوں کی اپنے گھروں کو واپسی۔
• کچھ مغوی اسرائیلیوں کی رہائی۔
• روزانہ 600 ٹرکوں کی امداد میں اضافہ۔
- دوسرا مرحلہ:
• تمام اغوا کاروں بشمول سپاہیوں کو رہا کریں۔
سیکڑوں فلسطینی قیدیوں کو رہا کریں۔
تیسرا مرحلہ:
• مغوی کی تمام لاشیں حوالے کریں۔
تمام فلسطینی لاشیں حوالے کریں۔
• جنگ کا خاتمہ اور غزہ کی پٹی کے تمام حصوں سے اسرائیلی فوج کا مکمل انخلاء۔
یہ اصحاب القبور ہیں۔۔۔ زندہ شہید جو قبروں میں رہتے ہیں۔۔۔ غزہ کے مجاہدین۔۔۔ مہینوں ان گہری سرنگوں کے اندر قبروں میں زندگی گزارتے۔۔۔ مگر ان کے دل اللہ کی یاد سے روشن ۔۔ پوری دنیا کے کفر پر ان کی دہشت اور دھاک ۔۔۔ مسجد اقصی کے محافظین۔۔۔ بیت المقدس شریف کے مرابطین۔۔۔
انہی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا لگی ہوئی ہے ۔۔۔ اپنے دور کے اولیاء اللہ کو دیکھنا ہے تو ان مجاہدین کو دیکھو۔
انہی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا لگی ہوئی ہے ۔۔۔ اپنے دور کے اولیاء اللہ کو دیکھنا ہے تو ان مجاہدین کو دیکھو۔
VID-20240531-WA0012.mp4
2.8 MB
🔞‼️انتہائی گرافک مواد‼️🔞
*کمزور دل افراد مت دیکھیں ❌*
پچھلے ہفتے، 50 سے زیادہ بین الاقوامی حقوق کی تنظیموں نے غزہ میں قحط کے سرکاری اعلان کا مطالبہ کیا، اسرائیل کی جانب سے بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا الزام لگایا، جو کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
یہ اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ غزہ کو امریکی بندرگاہ اور ہوائی جہاز کے ذریعے امداد مل رہی ہے۔
*کمزور دل افراد مت دیکھیں ❌*
پچھلے ہفتے، 50 سے زیادہ بین الاقوامی حقوق کی تنظیموں نے غزہ میں قحط کے سرکاری اعلان کا مطالبہ کیا، اسرائیل کی جانب سے بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا الزام لگایا، جو کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
یہ اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ غزہ کو امریکی بندرگاہ اور ہوائی جہاز کے ذریعے امداد مل رہی ہے۔
This media is not supported in your browser
VIEW IN TELEGRAM
‼️🔞گرافک مواد‼️🔞
وسطی غزہ میں البریج پناہ گزین کیمپ میں السوس خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک گھر پر اسرائیلی حملے میں بچوں اور خواتین سمیت پانچ شہری شہید ہو گئے ہیں۔
وسطی غزہ میں البریج پناہ گزین کیمپ میں السوس خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک گھر پر اسرائیلی حملے میں بچوں اور خواتین سمیت پانچ شہری شہید ہو گئے ہیں۔
سعودی عرب میں ’حجاج کرام‘ کی گرفتاری شروع !!!
سعودی پولیس کی جانب سے میقات سے حجاج کرام کو گرفتار کیا
حج سے قبل جہاں دنیا بھر کے مسلمان اس اہم فریضے کو ادا کرنے کے لیے مکہ مکرمہ کا رخ کرتے ہیں اس اہم فریضے کے دوران قوانین کی خلاف ورزی بھی مشکل میں ڈال دیتی ہے۔
حج 2024 سے قبل بھی سعودی عرب کی جانب سے کچھ ایسا ہی کیا گیا ہے، جس نے دنیا بھر کے مسلمانوں کی توجہ حاصل کرلی ہے۔
سعودی اتھارٹیز کی جانب سے منگل کے روز 24 ’حجاج کرام‘ کو گرفتار کیا ہے، جبکہ تمام 22 حجاج کرام کو تحویل میں رکھا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق حجاج کرام کی جانب سے مدینہ شہر سے 9 کلومیٹر کے فاصلے پر مسجد ذوالحلیفہ میں میقات میں تھے، کہ اسی دوران سعودی انتظامیہ کی جانب حجاج کرام کو گرفتار کیا گیا ہے۔
سعودی حکام کے مطابق حجاج کرام حج ویزا دستاویزات حکام کو دکھانے میں ناکام رہے، جس کے باعث انہیں گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ ویزا پالیسی کی خلاف ورزی پر کاروائی کا عندیہ بھی دیا جا رہا ہے
دوسری جانب انڈوشنیئن میڈیا کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے، کہ تحویل میں لیے گئے تمام حجاج کرام کا تعلق انڈویشیا سے ہے۔
انڈونیشیا کے ادارے پروسپیکٹو انڈونیشئین حجاج کرام بیر علی سیکٹر کے سربراہ عزیز ہیگیمور کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے، کہ 22 انڈونیشئین حجاج کرام کو تحویل میں لیا گیا ہے۔
واضح رہے ذوالحلیفہ مسجد کو انڈونیشئین حجاج کرام کی بڑی تعداد میں موجودگی کے باعث بھی توجہ ملتی ہے۔
سعودی پولیس کی جانب سے میقات سے حجاج کرام کو گرفتار کیا
حج سے قبل جہاں دنیا بھر کے مسلمان اس اہم فریضے کو ادا کرنے کے لیے مکہ مکرمہ کا رخ کرتے ہیں اس اہم فریضے کے دوران قوانین کی خلاف ورزی بھی مشکل میں ڈال دیتی ہے۔
حج 2024 سے قبل بھی سعودی عرب کی جانب سے کچھ ایسا ہی کیا گیا ہے، جس نے دنیا بھر کے مسلمانوں کی توجہ حاصل کرلی ہے۔
سعودی اتھارٹیز کی جانب سے منگل کے روز 24 ’حجاج کرام‘ کو گرفتار کیا ہے، جبکہ تمام 22 حجاج کرام کو تحویل میں رکھا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق حجاج کرام کی جانب سے مدینہ شہر سے 9 کلومیٹر کے فاصلے پر مسجد ذوالحلیفہ میں میقات میں تھے، کہ اسی دوران سعودی انتظامیہ کی جانب حجاج کرام کو گرفتار کیا گیا ہے۔
سعودی حکام کے مطابق حجاج کرام حج ویزا دستاویزات حکام کو دکھانے میں ناکام رہے، جس کے باعث انہیں گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ ویزا پالیسی کی خلاف ورزی پر کاروائی کا عندیہ بھی دیا جا رہا ہے
دوسری جانب انڈوشنیئن میڈیا کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے، کہ تحویل میں لیے گئے تمام حجاج کرام کا تعلق انڈویشیا سے ہے۔
انڈونیشیا کے ادارے پروسپیکٹو انڈونیشئین حجاج کرام بیر علی سیکٹر کے سربراہ عزیز ہیگیمور کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے، کہ 22 انڈونیشئین حجاج کرام کو تحویل میں لیا گیا ہے۔
واضح رہے ذوالحلیفہ مسجد کو انڈونیشئین حجاج کرام کی بڑی تعداد میں موجودگی کے باعث بھی توجہ ملتی ہے۔
US President Joe Biden said on Friday that Israel has proposed a 'comprehensive new ceasefire proposal' to end war in Gaza, starting with a six-week "full and complete ceasefire".
The deal has been transmitted to Hamas by Qatar. Biden appealed Hamas to accept the deal, and urged Netanyahu to stave off pressure from members of his governing coalition who are opposed to the plan
The deal has been transmitted to Hamas by Qatar. Biden appealed Hamas to accept the deal, and urged Netanyahu to stave off pressure from members of his governing coalition who are opposed to the plan