*┄┅═════✺• ﷽ •✺═════┅┄*
📖 *تفسیـــر القــــرآن الکـــریـم*
*┄┅═════✺• ✨ •✺═════┅┄*
*سُـــورَةُ النُوْر آیت نمبـــر 5️⃣3️⃣*
📑 *تفسیر حصہ اول*
*🌷 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ*
*🌸 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۞*
📖 *اَللّٰہُ نُوۡرُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ مَثَلُ نُوۡرِہٖ کَمِشۡکٰوۃٍ فِیۡہَا مِصۡبَاحٌ ؕ اَلۡمِصۡبَاحُ فِیۡ زُجَاجَۃٍ ؕ اَلزُّجَاجَۃُ کَاَنَّہَا کَوۡکَبٌ دُرِّیٌّ یُّوۡقَدُ مِنۡ شَجَرَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ زَیۡتُوۡنَۃٍ لَّا شَرۡقِیَّۃٍ وَّ لَا غَرۡبِیَّۃٍ ۙ یَّکَادُ زَیۡتُہَا یُضِیۡٓءُ وَ لَوۡ لَمۡ تَمۡسَسۡہُ نَارٌ ؕ نُوۡرٌ عَلٰی نُوۡرٍ ؕ یَہۡدِی اللّٰہُ لِنُوۡرِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ یَضۡرِبُ اللّٰہُ الۡاَمۡثَالَ لِلنَّاسِ ؕ وَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿ۙ۳۵﴾*
✨ *ترجمہ :*
اللہ ہی آسمانوں اور زمین کا نور ہے، اس کے نور کی مثال ایک طاق کی سی ہے، جس میں ایک چراغ ہے، وہ چراغ ایک فانوس میں ہے، وہ فانوس گویا چمکتا ہوا تارا ہے، وہ (چراغ) ایک مبارک درخت زیتون سے روشن کیا جاتا ہے، جو نہ شرقی ہے اور نہ غربی۔ اس کا تیل قریب ہے کہ روشن ہو جائے، خواہ اسے آگ نے نہ چھوا ہو۔ نور پر نور ہے، اللہ اپنے نور کی طرف جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
📑 *تفسیر*
➊ *اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:*
🏷️ ’’اللہ ہی آسمانوں اور زمین کا نور ہے‘‘ یعنی آسمان و زمین جو روشن ہیں تو اللہ کے نور ہی سے روشن ہیں۔ وہ نہ ہو توکچھ بھی نہ ہو۔
🔖
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں کھڑے ہو کر پانچ باتیں بیان فرمائیں، آپ نے فرمایا :```
*» [ إِنَّ اللّٰهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنَامُ وَلَا يَنْبَغِيْ لَهُ أَنْ يَّنَامَ، يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَ يَرْفَعُهُ، يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّهَارِ وَ عَمَلُ النَّهَارِ قَبْلَ عَمَلِ اللَّيْلِ، حِجَابُهُ النُّوْرُ، لَوْ كَشَفَهُ لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ مَا انْتَهَی إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِهِ] [مسلم، الإیمان، باب في قولہ علیہ السلام ’’إن اللہ لا ینام‘‘ …:۱۷۹ ]*
🔶 ’’اللہ عزوجل سوتا نہیں اور اس کے لائق ہی نہیں کہ وہ سوئے، وہ ترازو کو نیچا کرتا ہے اور اسے اونچا کرتا ہے، رات کا عمل دن کے عمل سے پہلے اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلے اس کی طرف اوپر لے جایا جاتا ہے اور اس کا حجاب نور ہے، اگر وہ اسے ہٹا دے تو اس کے چہرے کی شعاعیں اس کی مخلوق میں سے ہر اس چیز کو جلا دیں جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی ہے۔‘‘
➋
یعنی کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ نور سے روشن ہے۔ یہ نور حسی بھی ہے اور معنوی بھی۔```
◾ *حسی کی کئی قسمیں ہیں، ایک وہ نور جو خود روشن ہے اور دوسروں کو روشن کرتا ہے، جیسے سورج، چاند، ستارے، بجلی، آگ، ہر قسم کے چراغ، جگنو اور ہر وہ حیوان یا درخت جس سے روشنی نکلتی ہے، یہ سب اللہ کے پیدا کردہ ہیں۔*
🏷️ ایک وہ نور ہے جو اللہ تعالیٰ نے حسن یا توانائی کی کسی نہ کسی شکل میں کائنات کے ہر ذرّے میں ودیعت کر رکھا ہے، مثلاً چہرے کا حسن چہرے کا نور کہلاتا ہے، گھر کے افراد گھر کا نور ہوتے ہیں، گلے کا نور آواز کی صورت میں روشنی بکھیرتا ہے، زبان کا نور بولنے سے ظاہر ہوتا ہے، ہر عضو کی توانائی اس کا نور ہے۔
✨
📖 *تفسیـــر القــــرآن الکـــریـم*
*┄┅═════✺• ✨ •✺═════┅┄*
*سُـــورَةُ النُوْر آیت نمبـــر 5️⃣3️⃣*
📑 *تفسیر حصہ اول*
*🌷 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ*
*🌸 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۞*
📖 *اَللّٰہُ نُوۡرُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ مَثَلُ نُوۡرِہٖ کَمِشۡکٰوۃٍ فِیۡہَا مِصۡبَاحٌ ؕ اَلۡمِصۡبَاحُ فِیۡ زُجَاجَۃٍ ؕ اَلزُّجَاجَۃُ کَاَنَّہَا کَوۡکَبٌ دُرِّیٌّ یُّوۡقَدُ مِنۡ شَجَرَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ زَیۡتُوۡنَۃٍ لَّا شَرۡقِیَّۃٍ وَّ لَا غَرۡبِیَّۃٍ ۙ یَّکَادُ زَیۡتُہَا یُضِیۡٓءُ وَ لَوۡ لَمۡ تَمۡسَسۡہُ نَارٌ ؕ نُوۡرٌ عَلٰی نُوۡرٍ ؕ یَہۡدِی اللّٰہُ لِنُوۡرِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ یَضۡرِبُ اللّٰہُ الۡاَمۡثَالَ لِلنَّاسِ ؕ وَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿ۙ۳۵﴾*
✨ *ترجمہ :*
اللہ ہی آسمانوں اور زمین کا نور ہے، اس کے نور کی مثال ایک طاق کی سی ہے، جس میں ایک چراغ ہے، وہ چراغ ایک فانوس میں ہے، وہ فانوس گویا چمکتا ہوا تارا ہے، وہ (چراغ) ایک مبارک درخت زیتون سے روشن کیا جاتا ہے، جو نہ شرقی ہے اور نہ غربی۔ اس کا تیل قریب ہے کہ روشن ہو جائے، خواہ اسے آگ نے نہ چھوا ہو۔ نور پر نور ہے، اللہ اپنے نور کی طرف جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
📑 *تفسیر*
➊ *اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:*
🏷️ ’’اللہ ہی آسمانوں اور زمین کا نور ہے‘‘ یعنی آسمان و زمین جو روشن ہیں تو اللہ کے نور ہی سے روشن ہیں۔ وہ نہ ہو توکچھ بھی نہ ہو۔
🔖
📌 *یاد رہے، یہاں اللہ کے آسمان و زمین کا نور ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ذاتی نور آسمان و زمین کا نور ہے اور اسے روشن کرنے والا ہے۔*
📍 اس کی دلیل یہ ہے کہ اس آیت میں مذکور نور کی مثال بیان کی گئی ہے، جب کہ اللہ کی کوئی مثال ہے ہی نہیں، جیسا کہ فرمایا :
*•« لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ » [ الشورٰی : ۱۱ ]*
🔷 ’’اس کی مثل کوئی چیز نہیں۔‘‘ دوسری دلیل یہ کہ اس آیت میں اس نور کا ذکر ہے جس سے آسمان و زمین روشن ہیں، جب کہ اللہ تعالیٰ کا ذاتی نور حجاب کے پیچھے ہے۔
✨
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں کھڑے ہو کر پانچ باتیں بیان فرمائیں، آپ نے فرمایا :```
*» [ إِنَّ اللّٰهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنَامُ وَلَا يَنْبَغِيْ لَهُ أَنْ يَّنَامَ، يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَ يَرْفَعُهُ، يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّهَارِ وَ عَمَلُ النَّهَارِ قَبْلَ عَمَلِ اللَّيْلِ، حِجَابُهُ النُّوْرُ، لَوْ كَشَفَهُ لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ مَا انْتَهَی إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِهِ] [مسلم، الإیمان، باب في قولہ علیہ السلام ’’إن اللہ لا ینام‘‘ …:۱۷۹ ]*
🔶 ’’اللہ عزوجل سوتا نہیں اور اس کے لائق ہی نہیں کہ وہ سوئے، وہ ترازو کو نیچا کرتا ہے اور اسے اونچا کرتا ہے، رات کا عمل دن کے عمل سے پہلے اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلے اس کی طرف اوپر لے جایا جاتا ہے اور اس کا حجاب نور ہے، اگر وہ اسے ہٹا دے تو اس کے چہرے کی شعاعیں اس کی مخلوق میں سے ہر اس چیز کو جلا دیں جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی ہے۔‘‘
➋
◽ بعض مفسرین نے یہی مفہوم ان الفاظ میں ادا فرمایا :
*»’’ اَللّٰهُ نَوَّرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ ‘‘*
🔖 یعنی اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو روشن فرمایا۔ (نقلہ ابن کثیر عن ضحاک) آسمانوں اور زمین سے سارا جہان مراد ہے،
🖇️
یعنی کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ نور سے روشن ہے۔ یہ نور حسی بھی ہے اور معنوی بھی۔```
◾ *حسی کی کئی قسمیں ہیں، ایک وہ نور جو خود روشن ہے اور دوسروں کو روشن کرتا ہے، جیسے سورج، چاند، ستارے، بجلی، آگ، ہر قسم کے چراغ، جگنو اور ہر وہ حیوان یا درخت جس سے روشنی نکلتی ہے، یہ سب اللہ کے پیدا کردہ ہیں۔*
🏷️ ایک وہ نور ہے جو اللہ تعالیٰ نے حسن یا توانائی کی کسی نہ کسی شکل میں کائنات کے ہر ذرّے میں ودیعت کر رکھا ہے، مثلاً چہرے کا حسن چہرے کا نور کہلاتا ہے، گھر کے افراد گھر کا نور ہوتے ہیں، گلے کا نور آواز کی صورت میں روشنی بکھیرتا ہے، زبان کا نور بولنے سے ظاہر ہوتا ہے، ہر عضو کی توانائی اس کا نور ہے۔
✨
سمندر، پہاڑ، درخت، صحرا غرض ہر چیز کا حسن و جمال اور ان کے منافع اللہ کا نور ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے ان میں ودیعت کر رکھا ہے۔
👍1
🔷 *یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کا پیدا کردہ ہے۔ نور کی ایک قسم ہر عضو کی وہ استعداد ہے جس سے حیوان یا انسان کائنات میں پھیلے ہوئے نور کا ادراک کرتا ہے، مثلاً آنکھ میں بینائی کا نور ہے، یہ نہ ہو تو نہ سورج چاند یا کوئی روشنی نظر آئے، نہ اس سے روشن کائنات کے ذرّے ذرّے میں پھیلا ہوا حسن نظر آئے،*
📌 اس لیے نابینے آدمی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کی آنکھوں میں نور نہیں۔ کان کا نور اس کے سننے کی قوت ہے۔ اسی طرح چھونے، چکھنے، سونگھنے کی قوتیں ان اعضا کا نور ہیں جن میں یہ رکھی گئی ہیں۔
🖇️
اے لوگو! بلاشبہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے واضح دلیل آئی ہے اور ہم نے تمھاری طرف ایک واضح نور نازل کیا ہے
📌 اسی طرح ایمان کا نور بھی اسی کا عطا کردہ ہے، اسی نے وحی بھیجی، پیغمبر بھیجے، کتابیں نازل کیں اور دلوں میں انھیں قبول کرنے کا نور رکھا۔
*(جاری ہے۔۔۔)*
*تفسیر القرآن الکریم*
*✒️ حافظ عبدالسلام بھٹوی رحمہ اللّٰــــہ*
*#UnitedTeam*
*#یونائیٹڈ_ٹیم*
📌 اس لیے نابینے آدمی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کی آنکھوں میں نور نہیں۔ کان کا نور اس کے سننے کی قوت ہے۔ اسی طرح چھونے، چکھنے، سونگھنے کی قوتیں ان اعضا کا نور ہیں جن میں یہ رکھی گئی ہیں۔
🖇️
🌼 *شاہ عبد القادر رحمہ اللہ نے کیا خوب خلاصہ نکالا ہے جو اوپر گزرا کہ اللہ سے رونق اور بستی ہے زمین و آسمان کی، اس کی مدد نہ ہو تو سب ویران ہو جائیں۔*
🌸 معنوی نور کی بھی کئی قسمیں ہیں، ایک اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے جس سے ضلالت کے اندھیرے ختم ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہدایت کا یہ نور پیغمبروں کے ذریعے سے نازل فرمایا، اللہ نے فرمایا :
*« يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكُمْ نُوْرًا مُّبِيْنًا » [ النساء : ۱۷۴ ]*
📍 ’’
اے لوگو! بلاشبہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے واضح دلیل آئی ہے اور ہم نے تمھاری طرف ایک واضح نور نازل کیا ہے
📌 اور فرمایا : *هُوَ الَّذِيْ يُنَزِّلُ عَلٰى عَبْدِهٖۤ اٰيٰتٍۭ بَيِّنٰتٍ لِّيُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ وَ اِنَّ اللّٰهَ بِكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ [ الحدید : ۹ ]*اللہ ان لوگوں کا دوست ہے جو ایمان لائے، وہ انھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے
🔶 ’’وہی ہے جو اپنے بندے پر واضح آیات اتارتا ہے، تاکہ تمھیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم پر یقینا بے حد نرمی کرنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘
◽ اور فرمایا : *« اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ » [ البقرۃ : ۲۵۷ ]*
✨ ’’
🔖 اور فرمایا : *« قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِيْنٌ » [ المائدۃ : ۱۵ ]*ہدایت کا یہ نور اگر کسی دل میں نہ ہو تو جتنے بھی انبیاء آ جائیں یا جتنی بھی آیات الٰہی نازل ہوں دل کے اندھے کو ان سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا اور اگر یہ نور آنکھوں یا کانوں میں نہ ہو تو تمام معجزے اور ہر وعظ و نصیحت بے کار ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
🔷 ’’بے شک تمھارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشنی اور واضح کتاب آئی ہے۔‘‘
📌 مزید دیکھے سورۂ انعام (۱۲۲) اور سورۂ شوریٰ (۵۲)۔
🖇️ *اس معنوی نور کی دوسری قسم حق کو پہچاننے اور قبول کرنے کی وہ استعداد ہے جو مومن کے دل میں ہوتی ہے، جو شروع ہی سے اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے دل میں رکھ دی ہے، مگر بعض اوقات وہ ماحول کے اثر یا اپنی بدعملی کی وجہ سے اس سے محروم ہو جاتا ہے۔*
✨ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
*»• [ مَا مِنْ مَوْلُوْدٍ إِلَّا يُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيْمَةُ بَهِيْمَةً جَمْعَاءَ هَلْ تُحِسُّوْنَ فِيْهَا مِنْ جَدْعَاءَ ؟ ] [بخاري، تفسیر سورۃ الروم، باب لا تبدیل لخلق اللہ : ۴۷۷۵، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ ]*
🔖 ’’پیدا ہونے والا ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی بنا دیتے ہیں، یا نصرانی بنا دیتے ہیں یا مجوسی بنا دیتے ہیں، جیسے چوپایہ پیدا ہوتا ہے تو پورے اعضا والا ہوتا ہے، کیا تم ان میں سے کوئی کان کٹا یا ناک کٹا دیکھتے ہو (یعنی اس کا کان یا ناک بعد میں لوگ کاٹتے ہیں)۔‘‘
🔶
مطلب ساری آیت کا یہ ہے کہ کائنات کی ساری رونق اور آبادی اللہ تعالیٰ کے فیض سے ہے، وہ نہ ہو تو کچھ بھی نہ رہ جائے، نور کے تمام ذرائع مثلاً سورج چاند وغیرہ، ان سے روشن ہونے والی کائنات اور ان کا ادراک کرنے والا نور اسی کا پیدا کردہ ہے،
*« لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا وَ لَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا » [ الأعراف : ۱۷۹ ]*
◾ ’’ان کے دل ہیں جن کے ساتھ وہ سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں جن کے ساتھ وہ دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں جن کے ساتھ وہ سنتے نہیں۔‘‘
🖇️
`📌 اسی طرح ایمان کا نور بھی اسی کا عطا کردہ ہے، اسی نے وحی بھیجی، پیغمبر بھیجے، کتابیں نازل کیں اور دلوں میں انھیں قبول کرنے کا نور رکھا۔
*(جاری ہے۔۔۔)*
*تفسیر القرآن الکریم*
*✒️ حافظ عبدالسلام بھٹوی رحمہ اللّٰــــہ*
*#UnitedTeam*
*#یونائیٹڈ_ٹیم*
👍1
VID-20240222-WA0000.mp4
13.8 MB
*چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا قادیانیوں سے متعلق کیس کا فیصلہ انتہائی متنازعہ اور لاکھوں فرزندان توحید کے دلوں کو زخمی کرنے والا ہے۔ قادیانیوں سے متعلق آئین واضح ہے کہ انھیں بے لگام مذہبی آزادی حاصل نہیں، قادیانی اپنی نام نہاد تفسیر قرآن کی آڑ میں عقیدہ ختم نبوت پر حملہ کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس اپنے اس متنازع فیصلے پر فوری مستعفی ہوں۔JUI سربراہ مولانا فضل الرحمٰن*
چیف جسٹس پاکستان سے نظرثانی کی اپیل:
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور چوہدری پرویز الٰہی صاحب کی قیادت میں الله تعالی نے مجھے یہ توفیق دی اور ہم نے قرآن مجید کی حرمت کے لیے پنجاب ہولی قرآن ایکٹ پاس کیا تھا۔ جس کا مقصد قرآن مجید کی حرمت و تقدس کا تحفظ اور غلط ترجمہ کرکے لوگوں کو گمراہ کرنے والوں کو قانون کے شکنجے میں لانا تھا۔ الله تعالی کے فضل و کرم سے چناب نگر سے ایک ملعون کو گرفتار کیا گیا تھا جس نے قرآن مجید کے ترجمے میں تحریف و ترمیم کرکے "تفسیر صفیر" کے نام سے تفسیر شائع کی جس کا مقصد لوگوں کو گمراہ کرنا تھا۔ اس ملعون کی گرفتاری کے بعد مقدمہ قائم ہوا اور تمام عدالتوں سے سزا ہوئی۔ لیکن افسوسناک اور حیرت ناک امر یہ ہے کہ 6 فروری کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم بنچ نے پٹیشن نمبر L/1054 اور L/1344 آف 2023 سے باعزت بری کرنے کا حکم دے دیا اور کہا کہ قادیانیوں کو بھی اپنے مذہب کی تبلیغ کا پورا پورا حق حاصل ہے۔
اس فیصلے سے لاکھوں کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ۔ یہ فیصلہ کسی بھی مسلمان اور پاکستانی کے لیے ہرگز ہرگز قابل قبول نہیں ہوسکتا کہ کوئی اپنے مذہب کی تبلیغ کے لیے قرآن کے ترجمے میں من پسند الفاظ لکھ کر کسی جھوٹے مدعی نبوت پر چسپا کردے اور سپریم کورٹ اسے اس کا حق تسلیم کرکے کھلی چھوٹ دے ۔آئین کا جو آرٹیکل بائیس ہر شہری کو مذہبی آزادی دیتا ہے وہی آئین قرآن مجید کے ترجمے میں تبدیلی کرنے والوں کو سزا بھی دیتا ہے۔ اسلام اقلیتوں کو پورے پورے حقوق دیتا ہے لیکن قادیانی پہلے دن سے اپنے آپ کو اقلیت تسلیم کرنے سے انکاری ہیں ۔ میری تمام مسلمانوں سے اپیل ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف آواز بلند کریں کہ جناب چیف جسٹس سپریم کورٹ اس فیصلے پر نظر ثانی کرے ۔مسئلہ ختم نبوت رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کا مسئلہ ہے جس پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو کسی قسم کی تبلیغ کی اجازت دراصل اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں لاکھوں شہیدوں کے خون سے غداری اور ان کی قربانیوں سے روگردانی ہے۔
رہنما تحریک انصاف حافظ عمار یاسر
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور چوہدری پرویز الٰہی صاحب کی قیادت میں الله تعالی نے مجھے یہ توفیق دی اور ہم نے قرآن مجید کی حرمت کے لیے پنجاب ہولی قرآن ایکٹ پاس کیا تھا۔ جس کا مقصد قرآن مجید کی حرمت و تقدس کا تحفظ اور غلط ترجمہ کرکے لوگوں کو گمراہ کرنے والوں کو قانون کے شکنجے میں لانا تھا۔ الله تعالی کے فضل و کرم سے چناب نگر سے ایک ملعون کو گرفتار کیا گیا تھا جس نے قرآن مجید کے ترجمے میں تحریف و ترمیم کرکے "تفسیر صفیر" کے نام سے تفسیر شائع کی جس کا مقصد لوگوں کو گمراہ کرنا تھا۔ اس ملعون کی گرفتاری کے بعد مقدمہ قائم ہوا اور تمام عدالتوں سے سزا ہوئی۔ لیکن افسوسناک اور حیرت ناک امر یہ ہے کہ 6 فروری کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم بنچ نے پٹیشن نمبر L/1054 اور L/1344 آف 2023 سے باعزت بری کرنے کا حکم دے دیا اور کہا کہ قادیانیوں کو بھی اپنے مذہب کی تبلیغ کا پورا پورا حق حاصل ہے۔
اس فیصلے سے لاکھوں کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ۔ یہ فیصلہ کسی بھی مسلمان اور پاکستانی کے لیے ہرگز ہرگز قابل قبول نہیں ہوسکتا کہ کوئی اپنے مذہب کی تبلیغ کے لیے قرآن کے ترجمے میں من پسند الفاظ لکھ کر کسی جھوٹے مدعی نبوت پر چسپا کردے اور سپریم کورٹ اسے اس کا حق تسلیم کرکے کھلی چھوٹ دے ۔آئین کا جو آرٹیکل بائیس ہر شہری کو مذہبی آزادی دیتا ہے وہی آئین قرآن مجید کے ترجمے میں تبدیلی کرنے والوں کو سزا بھی دیتا ہے۔ اسلام اقلیتوں کو پورے پورے حقوق دیتا ہے لیکن قادیانی پہلے دن سے اپنے آپ کو اقلیت تسلیم کرنے سے انکاری ہیں ۔ میری تمام مسلمانوں سے اپیل ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف آواز بلند کریں کہ جناب چیف جسٹس سپریم کورٹ اس فیصلے پر نظر ثانی کرے ۔مسئلہ ختم نبوت رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کا مسئلہ ہے جس پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو کسی قسم کی تبلیغ کی اجازت دراصل اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں لاکھوں شہیدوں کے خون سے غداری اور ان کی قربانیوں سے روگردانی ہے۔
رہنما تحریک انصاف حافظ عمار یاسر
چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کا قادیانیوں کے حوالے سے دیا گیا فیصلہ انتہائی متنازعہ ہے۔ آئین پاکستان میں طے شدہ حقائق کے منافی اس فیصلے سے پاکستان بھر کے عوام کے جزبات مجروح ہوئے ہیں۔ اعلی ترین عدالت کی جانب سے اس مقدمے میں قادیانیوں کے حوالے سے آئین پاکستان میں درج نکات کو سراسر نظر انداز کیا گیا ہے جو کہ انتہائی تشویشناک ہے۔ علماء ومشائخ ونگ پاکستان مرکزی مسلم لیگ قانونی ٹیم کی مشاورت سے اس فیصلے پر جلد تفصیلی ردعمل جاری کرے گی اور دیگر جماعتوں کے عمائدین اور علماء مشائخ سے ملکر نظر ثانی اور دیگر قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے گی.
#PMML
Twitter Link : https://x.com/PMMLMedia/status/1760385378836455727?s=20
Facebook Link : https://www.facebook.com/photo/?fbid=370335099278943&set=a.110437678602021
#PMML
Twitter Link : https://x.com/PMMLMedia/status/1760385378836455727?s=20
Facebook Link : https://www.facebook.com/photo/?fbid=370335099278943&set=a.110437678602021
X (formerly Twitter)
PMML (@PMMLMedia) on X
چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کا قادیانیوں کے حوالے سے دیا گیا فیصلہ انتہائی متنازعہ ہے۔ آئین پاکستان میں طے شدہ حقائق کے منافی اس فیصلے سے پاکستان بھر کے عوام کے جزبات مجروح ہوئے ہیں۔ اعلی ترین عدالت کی جانب سے اس مقدمے میں قادیانیوں کے حوالے سے آئین پاکستان…
ایک طرف تاریخ کی مظلوم ترین مسلمان فل سطین۔یوں کا ناحق خون بہایا جا رہا ہے بچوں کو والدین کے سامنے شھید کیا جا رہا ہے اور بچوں کو بھی یتیم عورتوں کو بیوہ کیا جا رہا ہے جو با ضمیر مسلمانوں کے دل خون کے آنسوں رو رہے ہیں مسلمانوں کی نیندیں حرام ہوئی ہیں پوری دنیا میں اس۔را۔ئی۔لیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں اس۔را۔ئی۔لی مصنوعات کا بائیکاٹ عالمی سطح پر پہنچ چکا جبکہ ہمارے کچھ نادان نوجوانوں انہی کی مددگار KFC نے PSL کو سپانسر کرکے اپنی ضمیر بیچ چکے ۔
پی سی بی حکام اس سپانسر شپ کو ختم کرکے قوم سے معافی مانگے ورنہ پوری قوم PSL کے ساتھ PCB کے خلاف مہم چلانا شروع کرکے بائیکاٹ کریں گی
پی سی بی حکام اس سپانسر شپ کو ختم کرکے قوم سے معافی مانگے ورنہ پوری قوم PSL کے ساتھ PCB کے خلاف مہم چلانا شروع کرکے بائیکاٹ کریں گی
*┄┅═════✺• ﷽ •✺═════┅┄*
📖 *تفسیـــر القــــرآن الکـــریـم*
*┄┅═════✺• ✨ •✺═════┅┄*
*سُـــورَةُ النُوْر آیت نمبـــر 8️⃣3️⃣*
📑 *تفسیر*
*🌷 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ*
*🌸 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۞*
📖 *لِیَجۡزِیَہُمُ اللّٰہُ اَحۡسَنَ مَا عَمِلُوۡا وَ یَزِیۡدَہُمۡ مِّنۡ فَضۡلِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ یَرۡزُقُ مَنۡ یَّشَآءُ بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۳۸﴾*
✨ *ترجمہ :*
تاکہ اللہ انھیں اس کا بہترین بدلہ دے جو انھوں نے کیا اور انھیں اپنے فضل سے زیادہ دے اور اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب دیتا ہے۔
📑 *تفسیر*
*»• لِيَجْزِيَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا:*
🏷️ اس کا ترجمہ یہ ہو سکتا ہے :
*»’’ أَيْ ثَوَابَ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا ‘‘*
🔖
دوسرا معنی یہاں زیادہ مناسب ہے، کیونکہ آگے فرمایا :```
*« وَ اللّٰهُ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ »*
✨ ’’اور اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب دیتا ہے۔‘‘
*تفسیر القرآن الکریم*
*✒️ حافظ عبدالسلام بھٹوی رحمہ اللّٰــــہ*
*#UnitedTeam*
*#یونائیٹڈ_ٹیم*
📖 *تفسیـــر القــــرآن الکـــریـم*
*┄┅═════✺• ✨ •✺═════┅┄*
*سُـــورَةُ النُوْر آیت نمبـــر 8️⃣3️⃣*
📑 *تفسیر*
*🌷 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ*
*🌸 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۞*
📖 *لِیَجۡزِیَہُمُ اللّٰہُ اَحۡسَنَ مَا عَمِلُوۡا وَ یَزِیۡدَہُمۡ مِّنۡ فَضۡلِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ یَرۡزُقُ مَنۡ یَّشَآءُ بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۳۸﴾*
✨ *ترجمہ :*
تاکہ اللہ انھیں اس کا بہترین بدلہ دے جو انھوں نے کیا اور انھیں اپنے فضل سے زیادہ دے اور اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب دیتا ہے۔
📑 *تفسیر*
*»• لِيَجْزِيَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا:*
🏷️ اس کا ترجمہ یہ ہو سکتا ہے :
*»’’ أَيْ ثَوَابَ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا ‘‘*
🔖
*»• ’’ أَيْ أَحْسَنَ جَزَاءٍ مَا عَمِلُوْا ‘‘*
📌 کہ اللہ تعالیٰ انھیں ان اعمال کا بہترین بدلا دے جو انھوں نے کیے۔
🔷
دوسرا معنی یہاں زیادہ مناسب ہے، کیونکہ آگے فرمایا :```
*« وَ اللّٰهُ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ »*
✨ ’’اور اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب دیتا ہے۔‘‘
*تفسیر القرآن الکریم*
*✒️ حافظ عبدالسلام بھٹوی رحمہ اللّٰــــہ*
*#UnitedTeam*
*#یونائیٹڈ_ٹیم*
*آئین پاکستان کے مطابق قادیانی کسی قسم کی نشر واشاعت نہیں کرسکتے*
آرڈیننس 20 ایک قانونی آرڈیننس ہے جو سابق پاکستانی صدر جنرل محمد ضیاء الحق کی سربراہی میں حکومتِ پاکستان نے پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیش کیا۔ اس قانون کا مقصد احمدیہ جماعت کے پیروکاروں پر بعض پابندیاں عائد کرنا تھا۔ چنانچہ اس قانون کی رو سے احمدیہ]جماعت کے پیروکاروں کے لیے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنا جرم قرار دیا گیا ہے۔ ان کے لیے اپنے آپ کو مسلمان کہنا، اسلامی طریق پر سلام کرنا، متعدد اسلامی اصطلحات کا استعمال ممنوع قرار پائے ہیں۔
اس قانون کے ذریعہ پاکستان کے ضابطہ فوجداری کی شق 298 میں دو حصوں کا اضافہ کیا گیا ہے۔
298-B
1۔ اس شق کے مطابق "قادیانی گروہ یا لاہوری گروہ کے کسی رکن کو جو اپنے آپ کو 'احمدی' یا کسی اور نام سے پکارے" کے لیے ممنوع قرار دیا گیا ہے کہ وہ (الف) بول، لکھ یا کسی اور طریقہ سے کسی خلیفہ یا آنحضور ﷺ کے کسی صحابی کے علاوہ کسی کو ""امیر المومنین" یا "خلیفہ المومنین" یا "خلیفہ المسلمین" یا "صحابی" یا "رضی اللہ عنہ" کہے۔ (ب) آنحضور ﷺ کی ازواج کے علاوہ کسی کو "ام المومنین" کہے۔ (ج) آنحضور ﷺ کے خاندان کے اہل بیت کے علاوہ کسی کو "اہل بیت" کہے۔ (د) اپنی جائے عبادت کو "مسجد" کہے۔
ان سب امور کے لیے ایسا کرنے والا احمدی تین سال تک قید نیز جرمانہ کی سزا کا حق دار ہو گا۔
2۔ اس شق کے مطابق "قادیانی گروہ یا لاہوری گروہ کے کسی رکن کو جو اپنے آپ کو 'احمدی' یا کسی اور نام سے پکارے" اپنی عبادت کے لیے بلانے کے طریق کو "اذان" کہنے یا مسلمانوں کے طریق پراذان دینے کی صورت میں تین سال تک قید نیز جرمانہ کی سزا کا حق دار ہو گا۔
298-C
ترمیم
اس شق کے تحت احمدی کہلانے والوں کے لیے خواہ وہ قادیانی فریق سے تعلق رکھتے ہوں یا لاہوری فریق سے، قرار دیا گیا ہے کہ اگر وہ اپنے آپ کو "براہ راست یا بالواسطہ" مسلمان کہیں یا اپنی مذہب کو اسلام کہیں یا اپنے مذہب کی اشاعت یا تبلیغ کریں یا کسی بھی طریق پر مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کریں تو ان سب صورتوں میں تین سال تک قید اور جرمانہ کے مستحق ہوں گے۔
آرڈیننس 20 ایک قانونی آرڈیننس ہے جو سابق پاکستانی صدر جنرل محمد ضیاء الحق کی سربراہی میں حکومتِ پاکستان نے پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیش کیا۔ اس قانون کا مقصد احمدیہ جماعت کے پیروکاروں پر بعض پابندیاں عائد کرنا تھا۔ چنانچہ اس قانون کی رو سے احمدیہ]جماعت کے پیروکاروں کے لیے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنا جرم قرار دیا گیا ہے۔ ان کے لیے اپنے آپ کو مسلمان کہنا، اسلامی طریق پر سلام کرنا، متعدد اسلامی اصطلحات کا استعمال ممنوع قرار پائے ہیں۔
اس قانون کے ذریعہ پاکستان کے ضابطہ فوجداری کی شق 298 میں دو حصوں کا اضافہ کیا گیا ہے۔
298-B
1۔ اس شق کے مطابق "قادیانی گروہ یا لاہوری گروہ کے کسی رکن کو جو اپنے آپ کو 'احمدی' یا کسی اور نام سے پکارے" کے لیے ممنوع قرار دیا گیا ہے کہ وہ (الف) بول، لکھ یا کسی اور طریقہ سے کسی خلیفہ یا آنحضور ﷺ کے کسی صحابی کے علاوہ کسی کو ""امیر المومنین" یا "خلیفہ المومنین" یا "خلیفہ المسلمین" یا "صحابی" یا "رضی اللہ عنہ" کہے۔ (ب) آنحضور ﷺ کی ازواج کے علاوہ کسی کو "ام المومنین" کہے۔ (ج) آنحضور ﷺ کے خاندان کے اہل بیت کے علاوہ کسی کو "اہل بیت" کہے۔ (د) اپنی جائے عبادت کو "مسجد" کہے۔
ان سب امور کے لیے ایسا کرنے والا احمدی تین سال تک قید نیز جرمانہ کی سزا کا حق دار ہو گا۔
2۔ اس شق کے مطابق "قادیانی گروہ یا لاہوری گروہ کے کسی رکن کو جو اپنے آپ کو 'احمدی' یا کسی اور نام سے پکارے" اپنی عبادت کے لیے بلانے کے طریق کو "اذان" کہنے یا مسلمانوں کے طریق پراذان دینے کی صورت میں تین سال تک قید نیز جرمانہ کی سزا کا حق دار ہو گا۔
298-C
ترمیم
اس شق کے تحت احمدی کہلانے والوں کے لیے خواہ وہ قادیانی فریق سے تعلق رکھتے ہوں یا لاہوری فریق سے، قرار دیا گیا ہے کہ اگر وہ اپنے آپ کو "براہ راست یا بالواسطہ" مسلمان کہیں یا اپنی مذہب کو اسلام کہیں یا اپنے مذہب کی اشاعت یا تبلیغ کریں یا کسی بھی طریق پر مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کریں تو ان سب صورتوں میں تین سال تک قید اور جرمانہ کے مستحق ہوں گے۔
*┄┅═════✺• ﷽ •✺═════┅┄*
📖 *تفسیـــر القــــرآن الکـــریـم*
*┄┅═════✺• ✨ •✺═════┅┄*
*سُـــورَةُ النُوْر آیت نمبـــر 0️⃣4️⃣*
📑 *تفسیر*
*🌷 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ*
*🌸 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۞*
📖 *اَوۡ کَظُلُمٰتٍ فِیۡ بَحۡرٍ لُّجِّیٍّ یَّغۡشٰہُ مَوۡجٌ مِّنۡ فَوۡقِہٖ مَوۡجٌ مِّنۡ فَوۡقِہٖ سَحَابٌ ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعۡضُہَا فَوۡقَ بَعۡضٍ ؕ اِذَاۤ اَخۡرَجَ یَدَہٗ لَمۡ یَکَدۡ یَرٰٮہَا ؕ وَ مَنۡ لَّمۡ یَجۡعَلِ اللّٰہُ لَہٗ نُوۡرًا فَمَا لَہٗ مِنۡ نُّوۡرٍ ﴿٪۴۰﴾*
✨ *ترجمہ :*
یا ان اندھیروں کی طرح جو نہایت گہرے سمندر میں ہوں، جسے ایک موج ڈھانپ رہی ہو، جس کے اوپر ایک اور موج ہو، جس کے اوپر ایک بادل ہو، کئی اندھیرے ہوں، جن میں سے بعض بعض کے اوپر ہوں، جب اپنا ہاتھ نکالے تو قریب نہیں کہ اسے دیکھے اور وہ شخص جس کے لیے اللہ کوئی نور نہ بنائے تو اس کے لیے کوئی بھی نور نہیں۔
📑 *تفسیر*
➊ *اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِيْ بَحْرٍ لُّجِّيٍّ … :*
🏷️ ’’ لُجِّيٍّ ‘‘ میں یاء نسبت کی ہے اور یہ’’لُجٌّ‘‘ کی طرف منسوب ہے، جو ’’لُجَّةٌ‘‘ کی جمع ہے، جس کا معنی ہے بہت بڑا اور گہرا پانی۔ ’’ بَحْرٍ لُّجِّيٍّ ‘‘ کا معنی ہو گا ’’نہایت گہرے پانیوں والا سمندر۔‘‘
📌
طبری نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے معتبر سند کے ساتھ نقل فرمایا ہے کہ انھوں نے فرمایا :```
🔶 *’’کافر پانچ ظلمتوں میں پھرتا رہتا ہے، چنانچہ اس کا کلام ظلمت ہے، اس کا عمل ظلمت ہے، وہ ظلمت میں داخل ہوتا ہے اور ظلمت ہی میں سے نکلتا ہے اور قیامت کے دن آگ کی طرف جاتے ہوئے اس کا لوٹنا بھی ظلمتوں میں ہو گا۔‘‘ (طبری : ۲۶۳۷۱)*
📍 یہ سید القراء کی تفسیر ہے، بعض اہلِ علم نے فرمایا : ’’اللہ تعالیٰ نے تین طرح کی ظلمتیں بیان فرمائی ہیں، سمندر کی ظلمت، امواج کی ظلمت اور بادلوں کی ظلمت۔ اسی طرح کافر بھی تین ظلمتوں میں گرفتار ہے، عقیدے کی ظلمت، قول کی ظلمت اور عمل کی ظلمت۔‘‘
رازی نے اسے حسن کی طرف منسوب کیا ہے۔
🖇️
بعض نے فرمایا، تاریک دل تاریک سینے میں ہے جو تاریک جسم میں ہے۔ ایک وجہ تشبیہ یہ ہے کہ کافر حق بات نہیں جانتا اور اسے یہ علم بھی نہیں ہوتا کہ وہ نہیں جانتا اور وہ سمجھتا یہ ہے کہ وہ جانتا ہے۔
*« وَ مَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ »*
◽ جسے اللہ تعالیٰ (اس کی استعداد کی خرابی کی وجہ سے) نورِ ہدایت نہ دے اسے کہیں سے بھی کوئی نور نہیں مل سکتا۔ یا اللہ! تو اپنے خاص فضل و کرم سے ہمیں اپنا نور ہدایت عطا فرما اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جن کے متعلق تو نے فرمایا ہے :
*« يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ يَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَ بِاَيْمَانِهِمْ » [ الحدید : ۱۲ ]*
📖 *تفسیـــر القــــرآن الکـــریـم*
*┄┅═════✺• ✨ •✺═════┅┄*
*سُـــورَةُ النُوْر آیت نمبـــر 0️⃣4️⃣*
📑 *تفسیر*
*🌷 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ*
*🌸 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۞*
📖 *اَوۡ کَظُلُمٰتٍ فِیۡ بَحۡرٍ لُّجِّیٍّ یَّغۡشٰہُ مَوۡجٌ مِّنۡ فَوۡقِہٖ مَوۡجٌ مِّنۡ فَوۡقِہٖ سَحَابٌ ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعۡضُہَا فَوۡقَ بَعۡضٍ ؕ اِذَاۤ اَخۡرَجَ یَدَہٗ لَمۡ یَکَدۡ یَرٰٮہَا ؕ وَ مَنۡ لَّمۡ یَجۡعَلِ اللّٰہُ لَہٗ نُوۡرًا فَمَا لَہٗ مِنۡ نُّوۡرٍ ﴿٪۴۰﴾*
✨ *ترجمہ :*
یا ان اندھیروں کی طرح جو نہایت گہرے سمندر میں ہوں، جسے ایک موج ڈھانپ رہی ہو، جس کے اوپر ایک اور موج ہو، جس کے اوپر ایک بادل ہو، کئی اندھیرے ہوں، جن میں سے بعض بعض کے اوپر ہوں، جب اپنا ہاتھ نکالے تو قریب نہیں کہ اسے دیکھے اور وہ شخص جس کے لیے اللہ کوئی نور نہ بنائے تو اس کے لیے کوئی بھی نور نہیں۔
📑 *تفسیر*
➊ *اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِيْ بَحْرٍ لُّجِّيٍّ … :*
🏷️ ’’ لُجِّيٍّ ‘‘ میں یاء نسبت کی ہے اور یہ’’لُجٌّ‘‘ کی طرف منسوب ہے، جو ’’لُجَّةٌ‘‘ کی جمع ہے، جس کا معنی ہے بہت بڑا اور گہرا پانی۔ ’’ بَحْرٍ لُّجِّيٍّ ‘‘ کا معنی ہو گا ’’نہایت گہرے پانیوں والا سمندر۔‘‘
📌
🔖 *جدید تحقیقات بھی یہی ہیں کہ سمندر کی گہرائی میں ایک حد کے بعد روشنی کا گزر بالکل نہیں ہوتا، پھر جب اس پر تہ بہ تہ موجیں ہوں تو تاریکی اور بڑھ جاتی ہے اور جب ان موجوں کے اوپر بادل بھی ہوں تو تاریکی اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے، تو جو شخص ایسے سمندر کی گہرائی میں ہو وہ اتنی تہ بہ تہ تاریکیوں میں ہو گا کہ اپنے ہاتھ کو دیکھنا چاہے تو قریب نہیں کہ دیکھ پائے، حالانکہ آدمی اپنے جسم کا جو حصہ آنکھوں کے سب سے زیادہ قریب لے جا کر دیکھ سکتا ہے وہ اس کا ہاتھ ہے۔*
➋ آیت میں کافر کے عمل کی ایسے شخص کے ساتھ تشبیہ کی کیفیت اہلِ علم نے کئی طرح بیان فرمائی ہے،
📜
طبری نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے معتبر سند کے ساتھ نقل فرمایا ہے کہ انھوں نے فرمایا :```
🔶 *’’کافر پانچ ظلمتوں میں پھرتا رہتا ہے، چنانچہ اس کا کلام ظلمت ہے، اس کا عمل ظلمت ہے، وہ ظلمت میں داخل ہوتا ہے اور ظلمت ہی میں سے نکلتا ہے اور قیامت کے دن آگ کی طرف جاتے ہوئے اس کا لوٹنا بھی ظلمتوں میں ہو گا۔‘‘ (طبری : ۲۶۳۷۱)*
📍 یہ سید القراء کی تفسیر ہے، بعض اہلِ علم نے فرمایا : ’’اللہ تعالیٰ نے تین طرح کی ظلمتیں بیان فرمائی ہیں، سمندر کی ظلمت، امواج کی ظلمت اور بادلوں کی ظلمت۔ اسی طرح کافر بھی تین ظلمتوں میں گرفتار ہے، عقیدے کی ظلمت، قول کی ظلمت اور عمل کی ظلمت۔‘‘
رازی نے اسے حسن کی طرف منسوب کیا ہے۔
🖇️
*« خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْ وَ عَلٰۤى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ » [ البقرۃ : ۷ ]*
📜 ’’اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی اور ان کی نگاہوں پر بھاری پردہ ہے۔‘‘
🔷
بعض نے فرمایا، تاریک دل تاریک سینے میں ہے جو تاریک جسم میں ہے۔ ایک وجہ تشبیہ یہ ہے کہ کافر حق بات نہیں جانتا اور اسے یہ علم بھی نہیں ہوتا کہ وہ نہیں جانتا اور وہ سمجھتا یہ ہے کہ وہ جانتا ہے۔
اب کافر کے متعلق فرمایا :
🏷️ یہ تینوں مراتب ان تین ظلمتوں کے مشابہ ہیں۔ (رازی)
ایک وجہ تشبیہ یہ ہے کہ کافر کے اعمال کو اس شخص کی مجموعی حالت کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو سمندر، اس کی امواج اور بادلوں کی تاریکیوں میں گھرا ہوا ہے۔ اسے تشبیہ تمثیل کہتے ہیں اور اس میں مشبّہ کی ایک ایک چیز کی مشبّہ بہ کی ایک ایک چیز کے ساتھ مشابہت تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ توجیہ تکلف سے خالی ہونے کی وجہ سے بہت اچھی ہے۔
➌ *وَ مَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ:*
📌 اس سے پہلے آیت (۳۵) میں مومن کے متعلق فرمایا تھا :
*« يَهْدِي اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ يَّشَآءُ »*
🔖 ’’اللہ اپنے نور کی طرف جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے۔‘‘
◾
` *« وَ مَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ »*
◽ جسے اللہ تعالیٰ (اس کی استعداد کی خرابی کی وجہ سے) نورِ ہدایت نہ دے اسے کہیں سے بھی کوئی نور نہیں مل سکتا۔ یا اللہ! تو اپنے خاص فضل و کرم سے ہمیں اپنا نور ہدایت عطا فرما اور ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جن کے متعلق تو نے فرمایا ہے :
*« يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ يَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَ بِاَيْمَانِهِمْ » [ الحدید : ۱۲ ]*
👍1
🖇️ ’’جس دن تو ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو دیکھے گا ان کی روشنی ان کے آگے اور ان کی دائیں طرفوں میں دوڑ رہی ہو گی۔‘‘
*تفسیر القرآن الکریم*
*✒️ حافظ عبدالسلام بھٹوی رحمہ اللّٰــــہ*
*#UnitedTeam*
*#یونائیٹڈ_ٹیم*
*تفسیر القرآن الکریم*
*✒️ حافظ عبدالسلام بھٹوی رحمہ اللّٰــــہ*
*#UnitedTeam*
*#یونائیٹڈ_ٹیم*
مفتی اعظم پاکستان جسٹس مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کا فتویٰ اور تفسیر صغیر سے متعلق فیصلہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چیف جسٹس آف پاکستان کا فیصلہ اس وقت مختلف حلقوں میں زیر بحث ہے۔ اہل علم کا کام دعوت دین امر بالمعروف،نھی عن المنکر،احقاق حق اور ابطال باطل ہے۔مسئلہ کی حساسیت کے پیشِ نظر غیر سنجیدہ اور غیر علمی رویوں سے اجتناب کرنا چاہیے
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بارے میں سوشل میڈیا پر متضاد آراء کا اظہار کیا جارہا ہے یہ مسئلہ اسلامی نظریاتی کونسل میں بھی زیر بحث ہے اس مسئلہ کی بابت مختلف لوگوں نے سوشل میڈیا پر ویڈیو کلپس جاری کئے اوربعض نے چند سطور پر مبنی اپنی آراء کا بھی اظہار کیا جبکہ اس حساس مسئلہ کو نہایت سنجیدگی کے ساتھ قرآن و سنت،فقہ اسلامی اور آئین و تعزیرات پاکستان و قرآن ایکٹ کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے
ہم بہت شکر گزار ہیں مفتی اعظم پاکستان جسٹس مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے جنہوں نے بروقت راقم کے استفتاء پر اس مسئلہ کی شرعی حیثیت کو واضح کیاجبکہ بہت سے لوگ خاموش ہیں۔ خواص و عوام کے فائدے کے لئے اس فتویٰ کو عام کیا جارہا ہے۔ختم نبوت سے متعلق یہ نہایت اہم فتوی ہے۔
بصد شکریہ منقول از Dr. Umair Mahmood Siddiqui
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چیف جسٹس آف پاکستان کا فیصلہ اس وقت مختلف حلقوں میں زیر بحث ہے۔ اہل علم کا کام دعوت دین امر بالمعروف،نھی عن المنکر،احقاق حق اور ابطال باطل ہے۔مسئلہ کی حساسیت کے پیشِ نظر غیر سنجیدہ اور غیر علمی رویوں سے اجتناب کرنا چاہیے
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بارے میں سوشل میڈیا پر متضاد آراء کا اظہار کیا جارہا ہے یہ مسئلہ اسلامی نظریاتی کونسل میں بھی زیر بحث ہے اس مسئلہ کی بابت مختلف لوگوں نے سوشل میڈیا پر ویڈیو کلپس جاری کئے اوربعض نے چند سطور پر مبنی اپنی آراء کا بھی اظہار کیا جبکہ اس حساس مسئلہ کو نہایت سنجیدگی کے ساتھ قرآن و سنت،فقہ اسلامی اور آئین و تعزیرات پاکستان و قرآن ایکٹ کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے
ہم بہت شکر گزار ہیں مفتی اعظم پاکستان جسٹس مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے جنہوں نے بروقت راقم کے استفتاء پر اس مسئلہ کی شرعی حیثیت کو واضح کیاجبکہ بہت سے لوگ خاموش ہیں۔ خواص و عوام کے فائدے کے لئے اس فتویٰ کو عام کیا جارہا ہے۔ختم نبوت سے متعلق یہ نہایت اہم فتوی ہے۔
بصد شکریہ منقول از Dr. Umair Mahmood Siddiqui