سونے سے پہلے اور جاگنے کے بعد غزہ کو یاد رکھیں۔ یاد رکھیں کہ وہ نسل کشی اور بڑے پیمانے پر فاقہ کشی کا نشانہ بن رہے ہیں، اور وہ مسلسل تیسری رات پانی کے اوپر خیموں میں سو رہے ہیں جو شدید بارشوں کے نتیجے میں ڈوب گئے ہیں۔ اپنے آرام دہ بستروں اور بھرے پیٹوں کے ساتھ انہیں یاد رکھیں اور ایسے ہی رہیں جیسے پہلے دن سے آپ اور ہم نے غزہ کے ساتھ آپ کی یکجہتی دیکھائی تھی،
لیکن آپ غزہ کو بھول چکے ہیں کلمہ کی وجہ سے آپ ایک رشتے میں جڑے ہوئے ہیں مگر آپ کو ان کی کوئی پروا نہیں ہے۔ آپ قابض ظالم دہشت گرد اسرائیل کو سپورٹ کرنے والی ہر کمپنی کا بائیکاٹ چھوڑ چکے ہیں۔ آپ کے ملک میں KFC، Macdonald بھر طریقہ سے منافع سمیٹ رہا ہے آپ کوک و پیسی جیسی مصنوعات کو کھلے دل سے استعمال کررہے ہیں کیونکہ آپ بھی بے رحم ہیں آپ غزہ کی سردی میں ٹھٹھرتی معصوم جانوں کو بھول چکے ہیں جن کے نیچے پانی ہے اور اوپر سے بارود برس رہا ہے۔ 💔
لیکن آپ غزہ کو بھول چکے ہیں کلمہ کی وجہ سے آپ ایک رشتے میں جڑے ہوئے ہیں مگر آپ کو ان کی کوئی پروا نہیں ہے۔ آپ قابض ظالم دہشت گرد اسرائیل کو سپورٹ کرنے والی ہر کمپنی کا بائیکاٹ چھوڑ چکے ہیں۔ آپ کے ملک میں KFC، Macdonald بھر طریقہ سے منافع سمیٹ رہا ہے آپ کوک و پیسی جیسی مصنوعات کو کھلے دل سے استعمال کررہے ہیں کیونکہ آپ بھی بے رحم ہیں آپ غزہ کی سردی میں ٹھٹھرتی معصوم جانوں کو بھول چکے ہیں جن کے نیچے پانی ہے اور اوپر سے بارود برس رہا ہے۔ 💔
*┄┅═════✺• ﷽ •✺═════┅┄*
📖 *تفسیـــر القــــرآن الکـــریـم*
*┄┅═════✺• ✨ •✺═════┅┄*
*سُـــورَةُ النُوْر آیت نمبـــر 3️⃣3️⃣*
📑 *تفسیر حصہ اول*
*🌷 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ*
*🌸 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۞*
📖 *وَ لۡیَسۡتَعۡفِفِ الَّذِیۡنَ لَا یَجِدُوۡنَ نِکَاحًا حَتّٰی یُغۡنِیَہُمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ ؕ وَ الَّذِیۡنَ یَبۡتَغُوۡنَ الۡکِتٰبَ مِمَّا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ فَکَاتِبُوۡہُمۡ اِنۡ عَلِمۡتُمۡ فِیۡہِمۡ خَیۡرًا ٭ۖ وَّ اٰتُوۡہُمۡ مِّنۡ مَّالِ اللّٰہِ الَّذِیۡۤ اٰتٰٮکُمۡ ؕ وَ لَا تُکۡرِہُوۡا فَتَیٰتِکُمۡ عَلَی الۡبِغَآءِ اِنۡ اَرَدۡنَ تَحَصُّنًا لِّتَبۡتَغُوۡا عَرَضَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ؕ وَ مَنۡ یُّکۡرِہۡہُّنَّ فَاِنَّ اللّٰہَ مِنۡۢ بَعۡدِ اِکۡرَاہِہِنَّ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۳۳﴾*
✨ *ترجمہ :*
اور حرام سے بہت بچیں وہ لوگ جو نکاح کا کوئی سامان نہیں پاتے، یہاں تک کہ اللہ انھیں اپنے فضل سے غنی کر دے اور وہ لوگ جو مکاتبت ( آزادی کی تحریر) طلب کرتے ہیں، ان میں سے جن کے مالک تمھارے دائیں ہاتھ ہیں تو ان سے مکاتبت کر لو، اگر ان میں کچھ بھلائی معلوم کرو اور انھیں اللہ کے مال میں سے دو جو اس نے تمھیں دیا ہے، اور اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو، اگر وہ پاک دامن رہنا چاہیں، تاکہ تم دنیا کی زندگی کا سامان طلب کرو اور جو انھیں مجبور کرے گا تو یقینا اللہ ان کے مجبور کیے جانے کے بعد بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
📑 *تفسیر*
➊ *وَ لْيَسْتَعْفِفِ الَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ نِكَاحًا:*
🏷️ ’’عَفَّ يَعِفُّ عَفَافًا وَ عِفَّةً‘‘ اس چیز سے باز رہنا جو حلال نہ ہو یا جمیل نہ ہو۔ ’’اِسْتَعَفَّ‘‘ اور ’’ تَعَفَّفَ‘‘ کا بھی یہی معنی ہے۔ (القاموس) ’’ وَ لْيَسْتَعْفِفِ ‘‘ میں حروف کے اضافے کی وجہ سے معنی میں اضافہ ہو گیا، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ’’اور حرام سے بہت بچیں۔‘‘
🔖
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہوت کو روزے کے ساتھ کچلنے کا حکم دیا، کیونکہ اس سے شہوت کمزور ہونے کے علاوہ ضبط نفس کی عادت بھی پڑتی ہے۔ بعض اوقات خیال ہوتا ہے کہ روزے سے تو شہوت قوی ہوئی ہے، یہ خیال فرض روزوں یا کبھی کبھار روزے کی حد تک تو صحیح ہے،```
📍 *کیونکہ جب صحت بہتر ہوتی ہے تو ہر قوت مضبوط ہوتی ہے، مگر مسلسل روزے رکھنے کا نتیجہ وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا اور آپ کے تجویز کر دہ نسخے میں ضبط نفس کی عادت بھی ہے اور کوئی نقصان بھی نہیں، کیونکہ روزے چھوڑنے سے وہ قوت پھر بحال ہو جائے گی جو افزائش نسل اور زمین کی رونق کا ذریعہ ہے۔*
🖇️ اس کے برعکس اگر کوئی شخص مسلسل دھنیا، یا کافور، یا پوٹاشیم برومائید، یا ایسی دوائیں استعمال کرے جن سے شہوت ختم ہو جائے تو اس کا نتیجہ نہایت نقصان دہ نکلتا ہے، کیونکہ دوائیں چھوڑنے کے باوجود بعض اوقات وہ قوت دوبارہ بحال ہی نہیں ہوتی، یہ ایک قسم کا خصی ہونا ہے، جو حرام ہے ۔
➋ *حَتّٰى يُغْنِيَهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ :*
🏷️ اس میں پاک دامن رہنے والوں کے لیے وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں غنی کرے گا اور ان کے لیے آسانی پیدا فرمائے گا۔ مومن کا اللہ کے وعدے پر یقین اس کے لیے انتظار کی مشقت کو آسان بنا دیتا ہے(سعدی)
🔖
🔸 *’’عرفی! اگر رونے سے وصل کی دولت میسر ہو سکتی تو تمنا میں سو سال بھی رویا جا سکتا ہے۔‘‘*
➌ *وَ الَّذِيْنَ يَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ …:*
📌 ’’ الْكِتٰبَ ‘‘ باب مفاعلہ کا مصدر ہے، جیسے ’’قَاتَلَ يُقَاتِلُ مُقَاتَلَةً وَ قِتَالًا‘‘ ہے، یعنی غلام اور اس کے مالک کے درمیان آزادی کی تحریر کہ غلام اتنی رقم قسطوں میں فلاں مدت تک ادا کرے گا تو اسے آزادی مل جائے گی، اسے ’’اَلْكِتَابُ‘‘، ’’اَلْكِتَابَةُ‘‘ یا ’’اَلْمُكَاتَبَةُ ‘‘ کہتے ہیں۔
📖 *تفسیـــر القــــرآن الکـــریـم*
*┄┅═════✺• ✨ •✺═════┅┄*
*سُـــورَةُ النُوْر آیت نمبـــر 3️⃣3️⃣*
📑 *تفسیر حصہ اول*
*🌷 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ*
*🌸 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۞*
📖 *وَ لۡیَسۡتَعۡفِفِ الَّذِیۡنَ لَا یَجِدُوۡنَ نِکَاحًا حَتّٰی یُغۡنِیَہُمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ ؕ وَ الَّذِیۡنَ یَبۡتَغُوۡنَ الۡکِتٰبَ مِمَّا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ فَکَاتِبُوۡہُمۡ اِنۡ عَلِمۡتُمۡ فِیۡہِمۡ خَیۡرًا ٭ۖ وَّ اٰتُوۡہُمۡ مِّنۡ مَّالِ اللّٰہِ الَّذِیۡۤ اٰتٰٮکُمۡ ؕ وَ لَا تُکۡرِہُوۡا فَتَیٰتِکُمۡ عَلَی الۡبِغَآءِ اِنۡ اَرَدۡنَ تَحَصُّنًا لِّتَبۡتَغُوۡا عَرَضَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ؕ وَ مَنۡ یُّکۡرِہۡہُّنَّ فَاِنَّ اللّٰہَ مِنۡۢ بَعۡدِ اِکۡرَاہِہِنَّ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۳۳﴾*
✨ *ترجمہ :*
اور حرام سے بہت بچیں وہ لوگ جو نکاح کا کوئی سامان نہیں پاتے، یہاں تک کہ اللہ انھیں اپنے فضل سے غنی کر دے اور وہ لوگ جو مکاتبت ( آزادی کی تحریر) طلب کرتے ہیں، ان میں سے جن کے مالک تمھارے دائیں ہاتھ ہیں تو ان سے مکاتبت کر لو، اگر ان میں کچھ بھلائی معلوم کرو اور انھیں اللہ کے مال میں سے دو جو اس نے تمھیں دیا ہے، اور اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو، اگر وہ پاک دامن رہنا چاہیں، تاکہ تم دنیا کی زندگی کا سامان طلب کرو اور جو انھیں مجبور کرے گا تو یقینا اللہ ان کے مجبور کیے جانے کے بعد بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
📑 *تفسیر*
➊ *وَ لْيَسْتَعْفِفِ الَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ نِكَاحًا:*
🏷️ ’’عَفَّ يَعِفُّ عَفَافًا وَ عِفَّةً‘‘ اس چیز سے باز رہنا جو حلال نہ ہو یا جمیل نہ ہو۔ ’’اِسْتَعَفَّ‘‘ اور ’’ تَعَفَّفَ‘‘ کا بھی یہی معنی ہے۔ (القاموس) ’’ وَ لْيَسْتَعْفِفِ ‘‘ میں حروف کے اضافے کی وجہ سے معنی میں اضافہ ہو گیا، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ’’اور حرام سے بہت بچیں۔‘‘
🔖
📌 *اس کوشش میں نگاہ نیچی رکھنا، بلااجازت دوسروں کے گھروں میں نہ جانا اور خیالات کو پاکیزہ رکھنا وغیرہ آداب شامل ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان کی اس منہ زور قوت یعنی شہوت کی آفات سے محفوظ رہنے کے لیے نکاح کا حکم دیا اور جسے نکاح میسر نہ ہو اسے زیادہ سے زیادہ نفلی روزے رکھنے کا حکم دیا اور فرمایا :*
🔷 ’’یہ اس کے لیے (شہوت) کچلنے کا باعث ہو گا۔‘‘ [ دیکھیے بخاري : ۱۹۰۵ ]
🔶
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہوت کو روزے کے ساتھ کچلنے کا حکم دیا، کیونکہ اس سے شہوت کمزور ہونے کے علاوہ ضبط نفس کی عادت بھی پڑتی ہے۔ بعض اوقات خیال ہوتا ہے کہ روزے سے تو شہوت قوی ہوئی ہے، یہ خیال فرض روزوں یا کبھی کبھار روزے کی حد تک تو صحیح ہے،```
📍 *کیونکہ جب صحت بہتر ہوتی ہے تو ہر قوت مضبوط ہوتی ہے، مگر مسلسل روزے رکھنے کا نتیجہ وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا اور آپ کے تجویز کر دہ نسخے میں ضبط نفس کی عادت بھی ہے اور کوئی نقصان بھی نہیں، کیونکہ روزے چھوڑنے سے وہ قوت پھر بحال ہو جائے گی جو افزائش نسل اور زمین کی رونق کا ذریعہ ہے۔*
🖇️ اس کے برعکس اگر کوئی شخص مسلسل دھنیا، یا کافور، یا پوٹاشیم برومائید، یا ایسی دوائیں استعمال کرے جن سے شہوت ختم ہو جائے تو اس کا نتیجہ نہایت نقصان دہ نکلتا ہے، کیونکہ دوائیں چھوڑنے کے باوجود بعض اوقات وہ قوت دوبارہ بحال ہی نہیں ہوتی، یہ ایک قسم کا خصی ہونا ہے، جو حرام ہے ۔
➋ *حَتّٰى يُغْنِيَهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ :*
🏷️ اس میں پاک دامن رہنے والوں کے لیے وعدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں غنی کرے گا اور ان کے لیے آسانی پیدا فرمائے گا۔ مومن کا اللہ کے وعدے پر یقین اس کے لیے انتظار کی مشقت کو آسان بنا دیتا ہے(سعدی)
🔖
`عرفی اگر بگریہ میسر شدے وصال صد سال می تو اں بتمنا گریستن``` 🔸 *’’عرفی! اگر رونے سے وصل کی دولت میسر ہو سکتی تو تمنا میں سو سال بھی رویا جا سکتا ہے۔‘‘*
➌ *وَ الَّذِيْنَ يَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ …:*
📌 ’’ الْكِتٰبَ ‘‘ باب مفاعلہ کا مصدر ہے، جیسے ’’قَاتَلَ يُقَاتِلُ مُقَاتَلَةً وَ قِتَالًا‘‘ ہے، یعنی غلام اور اس کے مالک کے درمیان آزادی کی تحریر کہ غلام اتنی رقم قسطوں میں فلاں مدت تک ادا کرے گا تو اسے آزادی مل جائے گی، اسے ’’اَلْكِتَابُ‘‘، ’’اَلْكِتَابَةُ‘‘ یا ’’اَلْمُكَاتَبَةُ ‘‘ کہتے ہیں۔
◽
اس کی دلیل یہ ہے کہ امر وجوب کے لیے ہوتا ہے، اگر اس کے خلاف کوئی قرینہ نہ ہو۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں یہی آیت :```
*« وَ الَّذِيْنَ يَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ …»*
🖇️ درج کرنے کے بعد لکھا ہے کہ ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ میں نے عطاء (تابعی کبیر) سے کہا : ’’کیا مجھ پر واجب ہے کہ میں اپنے غلام سے مکاتبت کروں، جب مجھے معلوم ہو کہ اس کے پاس مال ہے؟‘‘ تو انھوں نے فرمایا : ’’میں تو اسے واجب ہی سمجھتا ہوں۔‘‘
⁉️
تو انس رضی اللہ عنہ نے اس سے مکاتبت کر لی۔ [ بخاري، المکاتب، باب المکاتب و نجومہ …، قبل ح : ۲۵۶۰ ]```
🔖 اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی مالک غلام کے ساتھ مکاتبت کرنے سے انکار کر دے تو غلام عدالت میں جا سکتا ہے اور حاکم مالک کو مکاتبت پر مجبور کرے گا، جیسا کہ عمر رضی اللہ عنہ کے درّے کے ساتھ مارنے سے ثابت ہوتا ہے۔
*(جاری ہے۔۔۔)*
*تفسیر القرآن الکریم*
*✒️ حافظ عبدالسلام بھٹوی رحمہ اللّٰــــہ*
*#UnitedTeam*
*#یونائیٹڈ_ٹیم*
🖇️ *کیونکہ غلام ہوتے ہوئے ان کے جتنے بچے پیدا ہوں گے، وہ ان کی طرح ان کے مالک کے غلام ہوں گے۔ ان دونوں رکاوٹوں کا حل یہ تھا کہ وہ آزادی حاصل کرنے کی کوشش کریں اور اس کے لیے مالک کے ساتھ مکاتبت کر لیں۔*
🔹 اللہ تعالیٰ نے مالکوں کو مکاتبت کا تقاضا کرنے والے لونڈی اور غلاموں کے ساتھ مکاتبت کرنے کا حکم دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ مکاتبت کا تقاضا کرنے والے غلاموں کے ساتھ مکاتبت سے انکار جائز نہیں۔
🔷
اس کی دلیل یہ ہے کہ امر وجوب کے لیے ہوتا ہے، اگر اس کے خلاف کوئی قرینہ نہ ہو۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں یہی آیت :```
*« وَ الَّذِيْنَ يَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ …»*
🖇️ درج کرنے کے بعد لکھا ہے کہ ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ میں نے عطاء (تابعی کبیر) سے کہا : ’’کیا مجھ پر واجب ہے کہ میں اپنے غلام سے مکاتبت کروں، جب مجھے معلوم ہو کہ اس کے پاس مال ہے؟‘‘ تو انھوں نے فرمایا : ’’میں تو اسے واجب ہی سمجھتا ہوں۔‘‘
⁉️
✨ ’’اس سے مکاتبت کرو۔‘‘ انس رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھتے ہوئے انھیں درّے کے ساتھ مارا :
*« فَكَاتِبُوْهُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِيْهِمْ خَيْرًا »*
📌
تو انس رضی اللہ عنہ نے اس سے مکاتبت کر لی۔ [ بخاري، المکاتب، باب المکاتب و نجومہ …، قبل ح : ۲۵۶۰ ]```
🔖 اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی مالک غلام کے ساتھ مکاتبت کرنے سے انکار کر دے تو غلام عدالت میں جا سکتا ہے اور حاکم مالک کو مکاتبت پر مجبور کرے گا، جیسا کہ عمر رضی اللہ عنہ کے درّے کے ساتھ مارنے سے ثابت ہوتا ہے۔
*(جاری ہے۔۔۔)*
*تفسیر القرآن الکریم*
*✒️ حافظ عبدالسلام بھٹوی رحمہ اللّٰــــہ*
*#UnitedTeam*
*#یونائیٹڈ_ٹیم*
VID-20240129-WA0015.mp4
10.5 MB
اگر وہ بولے تو خاموش کروا دیا جاتا ہے... غزہ جن سخت انسانی حالات سے گزر رہا ہے یہ ویڈیو اس کی عکاسی کررہی ہے ایک بچہ سخت سردی میں بے یارو مددگار بیٹھا ہے
*┄┅═════✺• ﷽ •✺═════┅┄*
📖 *تفسیـــر القــــرآن الکـــریـم*
*┄┅═════✺• ✨ •✺═════┅┄*
*سُـــورَةُ النُوْر آیت نمبـــر 5️⃣3️⃣*
📑 *تفسیر حصہ اول*
*🌷 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ*
*🌸 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۞*
📖 *اَللّٰہُ نُوۡرُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ مَثَلُ نُوۡرِہٖ کَمِشۡکٰوۃٍ فِیۡہَا مِصۡبَاحٌ ؕ اَلۡمِصۡبَاحُ فِیۡ زُجَاجَۃٍ ؕ اَلزُّجَاجَۃُ کَاَنَّہَا کَوۡکَبٌ دُرِّیٌّ یُّوۡقَدُ مِنۡ شَجَرَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ زَیۡتُوۡنَۃٍ لَّا شَرۡقِیَّۃٍ وَّ لَا غَرۡبِیَّۃٍ ۙ یَّکَادُ زَیۡتُہَا یُضِیۡٓءُ وَ لَوۡ لَمۡ تَمۡسَسۡہُ نَارٌ ؕ نُوۡرٌ عَلٰی نُوۡرٍ ؕ یَہۡدِی اللّٰہُ لِنُوۡرِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ یَضۡرِبُ اللّٰہُ الۡاَمۡثَالَ لِلنَّاسِ ؕ وَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿ۙ۳۵﴾*
✨ *ترجمہ :*
اللہ ہی آسمانوں اور زمین کا نور ہے، اس کے نور کی مثال ایک طاق کی سی ہے، جس میں ایک چراغ ہے، وہ چراغ ایک فانوس میں ہے، وہ فانوس گویا چمکتا ہوا تارا ہے، وہ (چراغ) ایک مبارک درخت زیتون سے روشن کیا جاتا ہے، جو نہ شرقی ہے اور نہ غربی۔ اس کا تیل قریب ہے کہ روشن ہو جائے، خواہ اسے آگ نے نہ چھوا ہو۔ نور پر نور ہے، اللہ اپنے نور کی طرف جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
📑 *تفسیر*
➊ *اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:*
🏷️ ’’اللہ ہی آسمانوں اور زمین کا نور ہے‘‘ یعنی آسمان و زمین جو روشن ہیں تو اللہ کے نور ہی سے روشن ہیں۔ وہ نہ ہو توکچھ بھی نہ ہو۔
🔖
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں کھڑے ہو کر پانچ باتیں بیان فرمائیں، آپ نے فرمایا :```
*» [ إِنَّ اللّٰهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنَامُ وَلَا يَنْبَغِيْ لَهُ أَنْ يَّنَامَ، يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَ يَرْفَعُهُ، يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّهَارِ وَ عَمَلُ النَّهَارِ قَبْلَ عَمَلِ اللَّيْلِ، حِجَابُهُ النُّوْرُ، لَوْ كَشَفَهُ لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ مَا انْتَهَی إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِهِ] [مسلم، الإیمان، باب في قولہ علیہ السلام ’’إن اللہ لا ینام‘‘ …:۱۷۹ ]*
🔶 ’’اللہ عزوجل سوتا نہیں اور اس کے لائق ہی نہیں کہ وہ سوئے، وہ ترازو کو نیچا کرتا ہے اور اسے اونچا کرتا ہے، رات کا عمل دن کے عمل سے پہلے اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلے اس کی طرف اوپر لے جایا جاتا ہے اور اس کا حجاب نور ہے، اگر وہ اسے ہٹا دے تو اس کے چہرے کی شعاعیں اس کی مخلوق میں سے ہر اس چیز کو جلا دیں جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی ہے۔‘‘
➋
یعنی کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ نور سے روشن ہے۔ یہ نور حسی بھی ہے اور معنوی بھی۔```
◾ *حسی کی کئی قسمیں ہیں، ایک وہ نور جو خود روشن ہے اور دوسروں کو روشن کرتا ہے، جیسے سورج، چاند، ستارے، بجلی، آگ، ہر قسم کے چراغ، جگنو اور ہر وہ حیوان یا درخت جس سے روشنی نکلتی ہے، یہ سب اللہ کے پیدا کردہ ہیں۔*
🏷️ ایک وہ نور ہے جو اللہ تعالیٰ نے حسن یا توانائی کی کسی نہ کسی شکل میں کائنات کے ہر ذرّے میں ودیعت کر رکھا ہے، مثلاً چہرے کا حسن چہرے کا نور کہلاتا ہے، گھر کے افراد گھر کا نور ہوتے ہیں، گلے کا نور آواز کی صورت میں روشنی بکھیرتا ہے، زبان کا نور بولنے سے ظاہر ہوتا ہے، ہر عضو کی توانائی اس کا نور ہے۔
✨
📖 *تفسیـــر القــــرآن الکـــریـم*
*┄┅═════✺• ✨ •✺═════┅┄*
*سُـــورَةُ النُوْر آیت نمبـــر 5️⃣3️⃣*
📑 *تفسیر حصہ اول*
*🌷 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ*
*🌸 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۞*
📖 *اَللّٰہُ نُوۡرُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ مَثَلُ نُوۡرِہٖ کَمِشۡکٰوۃٍ فِیۡہَا مِصۡبَاحٌ ؕ اَلۡمِصۡبَاحُ فِیۡ زُجَاجَۃٍ ؕ اَلزُّجَاجَۃُ کَاَنَّہَا کَوۡکَبٌ دُرِّیٌّ یُّوۡقَدُ مِنۡ شَجَرَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ زَیۡتُوۡنَۃٍ لَّا شَرۡقِیَّۃٍ وَّ لَا غَرۡبِیَّۃٍ ۙ یَّکَادُ زَیۡتُہَا یُضِیۡٓءُ وَ لَوۡ لَمۡ تَمۡسَسۡہُ نَارٌ ؕ نُوۡرٌ عَلٰی نُوۡرٍ ؕ یَہۡدِی اللّٰہُ لِنُوۡرِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ یَضۡرِبُ اللّٰہُ الۡاَمۡثَالَ لِلنَّاسِ ؕ وَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿ۙ۳۵﴾*
✨ *ترجمہ :*
اللہ ہی آسمانوں اور زمین کا نور ہے، اس کے نور کی مثال ایک طاق کی سی ہے، جس میں ایک چراغ ہے، وہ چراغ ایک فانوس میں ہے، وہ فانوس گویا چمکتا ہوا تارا ہے، وہ (چراغ) ایک مبارک درخت زیتون سے روشن کیا جاتا ہے، جو نہ شرقی ہے اور نہ غربی۔ اس کا تیل قریب ہے کہ روشن ہو جائے، خواہ اسے آگ نے نہ چھوا ہو۔ نور پر نور ہے، اللہ اپنے نور کی طرف جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
📑 *تفسیر*
➊ *اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:*
🏷️ ’’اللہ ہی آسمانوں اور زمین کا نور ہے‘‘ یعنی آسمان و زمین جو روشن ہیں تو اللہ کے نور ہی سے روشن ہیں۔ وہ نہ ہو توکچھ بھی نہ ہو۔
🔖
📌 *یاد رہے، یہاں اللہ کے آسمان و زمین کا نور ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ذاتی نور آسمان و زمین کا نور ہے اور اسے روشن کرنے والا ہے۔*
📍 اس کی دلیل یہ ہے کہ اس آیت میں مذکور نور کی مثال بیان کی گئی ہے، جب کہ اللہ کی کوئی مثال ہے ہی نہیں، جیسا کہ فرمایا :
*•« لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ » [ الشورٰی : ۱۱ ]*
🔷 ’’اس کی مثل کوئی چیز نہیں۔‘‘ دوسری دلیل یہ کہ اس آیت میں اس نور کا ذکر ہے جس سے آسمان و زمین روشن ہیں، جب کہ اللہ تعالیٰ کا ذاتی نور حجاب کے پیچھے ہے۔
✨
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں کھڑے ہو کر پانچ باتیں بیان فرمائیں، آپ نے فرمایا :```
*» [ إِنَّ اللّٰهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنَامُ وَلَا يَنْبَغِيْ لَهُ أَنْ يَّنَامَ، يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَ يَرْفَعُهُ، يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّهَارِ وَ عَمَلُ النَّهَارِ قَبْلَ عَمَلِ اللَّيْلِ، حِجَابُهُ النُّوْرُ، لَوْ كَشَفَهُ لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ مَا انْتَهَی إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِهِ] [مسلم، الإیمان، باب في قولہ علیہ السلام ’’إن اللہ لا ینام‘‘ …:۱۷۹ ]*
🔶 ’’اللہ عزوجل سوتا نہیں اور اس کے لائق ہی نہیں کہ وہ سوئے، وہ ترازو کو نیچا کرتا ہے اور اسے اونچا کرتا ہے، رات کا عمل دن کے عمل سے پہلے اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلے اس کی طرف اوپر لے جایا جاتا ہے اور اس کا حجاب نور ہے، اگر وہ اسے ہٹا دے تو اس کے چہرے کی شعاعیں اس کی مخلوق میں سے ہر اس چیز کو جلا دیں جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی ہے۔‘‘
➋
◽ بعض مفسرین نے یہی مفہوم ان الفاظ میں ادا فرمایا :
*»’’ اَللّٰهُ نَوَّرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ ‘‘*
🔖 یعنی اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو روشن فرمایا۔ (نقلہ ابن کثیر عن ضحاک) آسمانوں اور زمین سے سارا جہان مراد ہے،
🖇️
یعنی کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ نور سے روشن ہے۔ یہ نور حسی بھی ہے اور معنوی بھی۔```
◾ *حسی کی کئی قسمیں ہیں، ایک وہ نور جو خود روشن ہے اور دوسروں کو روشن کرتا ہے، جیسے سورج، چاند، ستارے، بجلی، آگ، ہر قسم کے چراغ، جگنو اور ہر وہ حیوان یا درخت جس سے روشنی نکلتی ہے، یہ سب اللہ کے پیدا کردہ ہیں۔*
🏷️ ایک وہ نور ہے جو اللہ تعالیٰ نے حسن یا توانائی کی کسی نہ کسی شکل میں کائنات کے ہر ذرّے میں ودیعت کر رکھا ہے، مثلاً چہرے کا حسن چہرے کا نور کہلاتا ہے، گھر کے افراد گھر کا نور ہوتے ہیں، گلے کا نور آواز کی صورت میں روشنی بکھیرتا ہے، زبان کا نور بولنے سے ظاہر ہوتا ہے، ہر عضو کی توانائی اس کا نور ہے۔
✨
سمندر، پہاڑ، درخت، صحرا غرض ہر چیز کا حسن و جمال اور ان کے منافع اللہ کا نور ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے ان میں ودیعت کر رکھا ہے۔
👍1
🔷 *یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کا پیدا کردہ ہے۔ نور کی ایک قسم ہر عضو کی وہ استعداد ہے جس سے حیوان یا انسان کائنات میں پھیلے ہوئے نور کا ادراک کرتا ہے، مثلاً آنکھ میں بینائی کا نور ہے، یہ نہ ہو تو نہ سورج چاند یا کوئی روشنی نظر آئے، نہ اس سے روشن کائنات کے ذرّے ذرّے میں پھیلا ہوا حسن نظر آئے،*
📌 اس لیے نابینے آدمی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کی آنکھوں میں نور نہیں۔ کان کا نور اس کے سننے کی قوت ہے۔ اسی طرح چھونے، چکھنے، سونگھنے کی قوتیں ان اعضا کا نور ہیں جن میں یہ رکھی گئی ہیں۔
🖇️
اے لوگو! بلاشبہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے واضح دلیل آئی ہے اور ہم نے تمھاری طرف ایک واضح نور نازل کیا ہے
📌 اسی طرح ایمان کا نور بھی اسی کا عطا کردہ ہے، اسی نے وحی بھیجی، پیغمبر بھیجے، کتابیں نازل کیں اور دلوں میں انھیں قبول کرنے کا نور رکھا۔
*(جاری ہے۔۔۔)*
*تفسیر القرآن الکریم*
*✒️ حافظ عبدالسلام بھٹوی رحمہ اللّٰــــہ*
*#UnitedTeam*
*#یونائیٹڈ_ٹیم*
📌 اس لیے نابینے آدمی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کی آنکھوں میں نور نہیں۔ کان کا نور اس کے سننے کی قوت ہے۔ اسی طرح چھونے، چکھنے، سونگھنے کی قوتیں ان اعضا کا نور ہیں جن میں یہ رکھی گئی ہیں۔
🖇️
🌼 *شاہ عبد القادر رحمہ اللہ نے کیا خوب خلاصہ نکالا ہے جو اوپر گزرا کہ اللہ سے رونق اور بستی ہے زمین و آسمان کی، اس کی مدد نہ ہو تو سب ویران ہو جائیں۔*
🌸 معنوی نور کی بھی کئی قسمیں ہیں، ایک اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے جس سے ضلالت کے اندھیرے ختم ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہدایت کا یہ نور پیغمبروں کے ذریعے سے نازل فرمایا، اللہ نے فرمایا :
*« يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكُمْ نُوْرًا مُّبِيْنًا » [ النساء : ۱۷۴ ]*
📍 ’’
اے لوگو! بلاشبہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے واضح دلیل آئی ہے اور ہم نے تمھاری طرف ایک واضح نور نازل کیا ہے
📌 اور فرمایا : *هُوَ الَّذِيْ يُنَزِّلُ عَلٰى عَبْدِهٖۤ اٰيٰتٍۭ بَيِّنٰتٍ لِّيُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ وَ اِنَّ اللّٰهَ بِكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ [ الحدید : ۹ ]*اللہ ان لوگوں کا دوست ہے جو ایمان لائے، وہ انھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے
🔶 ’’وہی ہے جو اپنے بندے پر واضح آیات اتارتا ہے، تاکہ تمھیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم پر یقینا بے حد نرمی کرنے والا نہایت مہربان ہے۔‘‘
◽ اور فرمایا : *« اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ » [ البقرۃ : ۲۵۷ ]*
✨ ’’
🔖 اور فرمایا : *« قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِيْنٌ » [ المائدۃ : ۱۵ ]*ہدایت کا یہ نور اگر کسی دل میں نہ ہو تو جتنے بھی انبیاء آ جائیں یا جتنی بھی آیات الٰہی نازل ہوں دل کے اندھے کو ان سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا اور اگر یہ نور آنکھوں یا کانوں میں نہ ہو تو تمام معجزے اور ہر وعظ و نصیحت بے کار ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
🔷 ’’بے شک تمھارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشنی اور واضح کتاب آئی ہے۔‘‘
📌 مزید دیکھے سورۂ انعام (۱۲۲) اور سورۂ شوریٰ (۵۲)۔
🖇️ *اس معنوی نور کی دوسری قسم حق کو پہچاننے اور قبول کرنے کی وہ استعداد ہے جو مومن کے دل میں ہوتی ہے، جو شروع ہی سے اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے دل میں رکھ دی ہے، مگر بعض اوقات وہ ماحول کے اثر یا اپنی بدعملی کی وجہ سے اس سے محروم ہو جاتا ہے۔*
✨ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
*»• [ مَا مِنْ مَوْلُوْدٍ إِلَّا يُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيْمَةُ بَهِيْمَةً جَمْعَاءَ هَلْ تُحِسُّوْنَ فِيْهَا مِنْ جَدْعَاءَ ؟ ] [بخاري، تفسیر سورۃ الروم، باب لا تبدیل لخلق اللہ : ۴۷۷۵، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ ]*
🔖 ’’پیدا ہونے والا ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی بنا دیتے ہیں، یا نصرانی بنا دیتے ہیں یا مجوسی بنا دیتے ہیں، جیسے چوپایہ پیدا ہوتا ہے تو پورے اعضا والا ہوتا ہے، کیا تم ان میں سے کوئی کان کٹا یا ناک کٹا دیکھتے ہو (یعنی اس کا کان یا ناک بعد میں لوگ کاٹتے ہیں)۔‘‘
🔶
مطلب ساری آیت کا یہ ہے کہ کائنات کی ساری رونق اور آبادی اللہ تعالیٰ کے فیض سے ہے، وہ نہ ہو تو کچھ بھی نہ رہ جائے، نور کے تمام ذرائع مثلاً سورج چاند وغیرہ، ان سے روشن ہونے والی کائنات اور ان کا ادراک کرنے والا نور اسی کا پیدا کردہ ہے،
*« لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا وَ لَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا » [ الأعراف : ۱۷۹ ]*
◾ ’’ان کے دل ہیں جن کے ساتھ وہ سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں جن کے ساتھ وہ دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں جن کے ساتھ وہ سنتے نہیں۔‘‘
🖇️
`📌 اسی طرح ایمان کا نور بھی اسی کا عطا کردہ ہے، اسی نے وحی بھیجی، پیغمبر بھیجے، کتابیں نازل کیں اور دلوں میں انھیں قبول کرنے کا نور رکھا۔
*(جاری ہے۔۔۔)*
*تفسیر القرآن الکریم*
*✒️ حافظ عبدالسلام بھٹوی رحمہ اللّٰــــہ*
*#UnitedTeam*
*#یونائیٹڈ_ٹیم*
👍1
VID-20240222-WA0000.mp4
13.8 MB
*چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا قادیانیوں سے متعلق کیس کا فیصلہ انتہائی متنازعہ اور لاکھوں فرزندان توحید کے دلوں کو زخمی کرنے والا ہے۔ قادیانیوں سے متعلق آئین واضح ہے کہ انھیں بے لگام مذہبی آزادی حاصل نہیں، قادیانی اپنی نام نہاد تفسیر قرآن کی آڑ میں عقیدہ ختم نبوت پر حملہ کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس اپنے اس متنازع فیصلے پر فوری مستعفی ہوں۔JUI سربراہ مولانا فضل الرحمٰن*
چیف جسٹس پاکستان سے نظرثانی کی اپیل:
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور چوہدری پرویز الٰہی صاحب کی قیادت میں الله تعالی نے مجھے یہ توفیق دی اور ہم نے قرآن مجید کی حرمت کے لیے پنجاب ہولی قرآن ایکٹ پاس کیا تھا۔ جس کا مقصد قرآن مجید کی حرمت و تقدس کا تحفظ اور غلط ترجمہ کرکے لوگوں کو گمراہ کرنے والوں کو قانون کے شکنجے میں لانا تھا۔ الله تعالی کے فضل و کرم سے چناب نگر سے ایک ملعون کو گرفتار کیا گیا تھا جس نے قرآن مجید کے ترجمے میں تحریف و ترمیم کرکے "تفسیر صفیر" کے نام سے تفسیر شائع کی جس کا مقصد لوگوں کو گمراہ کرنا تھا۔ اس ملعون کی گرفتاری کے بعد مقدمہ قائم ہوا اور تمام عدالتوں سے سزا ہوئی۔ لیکن افسوسناک اور حیرت ناک امر یہ ہے کہ 6 فروری کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم بنچ نے پٹیشن نمبر L/1054 اور L/1344 آف 2023 سے باعزت بری کرنے کا حکم دے دیا اور کہا کہ قادیانیوں کو بھی اپنے مذہب کی تبلیغ کا پورا پورا حق حاصل ہے۔
اس فیصلے سے لاکھوں کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ۔ یہ فیصلہ کسی بھی مسلمان اور پاکستانی کے لیے ہرگز ہرگز قابل قبول نہیں ہوسکتا کہ کوئی اپنے مذہب کی تبلیغ کے لیے قرآن کے ترجمے میں من پسند الفاظ لکھ کر کسی جھوٹے مدعی نبوت پر چسپا کردے اور سپریم کورٹ اسے اس کا حق تسلیم کرکے کھلی چھوٹ دے ۔آئین کا جو آرٹیکل بائیس ہر شہری کو مذہبی آزادی دیتا ہے وہی آئین قرآن مجید کے ترجمے میں تبدیلی کرنے والوں کو سزا بھی دیتا ہے۔ اسلام اقلیتوں کو پورے پورے حقوق دیتا ہے لیکن قادیانی پہلے دن سے اپنے آپ کو اقلیت تسلیم کرنے سے انکاری ہیں ۔ میری تمام مسلمانوں سے اپیل ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف آواز بلند کریں کہ جناب چیف جسٹس سپریم کورٹ اس فیصلے پر نظر ثانی کرے ۔مسئلہ ختم نبوت رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کا مسئلہ ہے جس پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو کسی قسم کی تبلیغ کی اجازت دراصل اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں لاکھوں شہیدوں کے خون سے غداری اور ان کی قربانیوں سے روگردانی ہے۔
رہنما تحریک انصاف حافظ عمار یاسر
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور چوہدری پرویز الٰہی صاحب کی قیادت میں الله تعالی نے مجھے یہ توفیق دی اور ہم نے قرآن مجید کی حرمت کے لیے پنجاب ہولی قرآن ایکٹ پاس کیا تھا۔ جس کا مقصد قرآن مجید کی حرمت و تقدس کا تحفظ اور غلط ترجمہ کرکے لوگوں کو گمراہ کرنے والوں کو قانون کے شکنجے میں لانا تھا۔ الله تعالی کے فضل و کرم سے چناب نگر سے ایک ملعون کو گرفتار کیا گیا تھا جس نے قرآن مجید کے ترجمے میں تحریف و ترمیم کرکے "تفسیر صفیر" کے نام سے تفسیر شائع کی جس کا مقصد لوگوں کو گمراہ کرنا تھا۔ اس ملعون کی گرفتاری کے بعد مقدمہ قائم ہوا اور تمام عدالتوں سے سزا ہوئی۔ لیکن افسوسناک اور حیرت ناک امر یہ ہے کہ 6 فروری کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں قائم بنچ نے پٹیشن نمبر L/1054 اور L/1344 آف 2023 سے باعزت بری کرنے کا حکم دے دیا اور کہا کہ قادیانیوں کو بھی اپنے مذہب کی تبلیغ کا پورا پورا حق حاصل ہے۔
اس فیصلے سے لاکھوں کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ۔ یہ فیصلہ کسی بھی مسلمان اور پاکستانی کے لیے ہرگز ہرگز قابل قبول نہیں ہوسکتا کہ کوئی اپنے مذہب کی تبلیغ کے لیے قرآن کے ترجمے میں من پسند الفاظ لکھ کر کسی جھوٹے مدعی نبوت پر چسپا کردے اور سپریم کورٹ اسے اس کا حق تسلیم کرکے کھلی چھوٹ دے ۔آئین کا جو آرٹیکل بائیس ہر شہری کو مذہبی آزادی دیتا ہے وہی آئین قرآن مجید کے ترجمے میں تبدیلی کرنے والوں کو سزا بھی دیتا ہے۔ اسلام اقلیتوں کو پورے پورے حقوق دیتا ہے لیکن قادیانی پہلے دن سے اپنے آپ کو اقلیت تسلیم کرنے سے انکاری ہیں ۔ میری تمام مسلمانوں سے اپیل ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف آواز بلند کریں کہ جناب چیف جسٹس سپریم کورٹ اس فیصلے پر نظر ثانی کرے ۔مسئلہ ختم نبوت رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کا مسئلہ ہے جس پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو کسی قسم کی تبلیغ کی اجازت دراصل اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں لاکھوں شہیدوں کے خون سے غداری اور ان کی قربانیوں سے روگردانی ہے۔
رہنما تحریک انصاف حافظ عمار یاسر
چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کا قادیانیوں کے حوالے سے دیا گیا فیصلہ انتہائی متنازعہ ہے۔ آئین پاکستان میں طے شدہ حقائق کے منافی اس فیصلے سے پاکستان بھر کے عوام کے جزبات مجروح ہوئے ہیں۔ اعلی ترین عدالت کی جانب سے اس مقدمے میں قادیانیوں کے حوالے سے آئین پاکستان میں درج نکات کو سراسر نظر انداز کیا گیا ہے جو کہ انتہائی تشویشناک ہے۔ علماء ومشائخ ونگ پاکستان مرکزی مسلم لیگ قانونی ٹیم کی مشاورت سے اس فیصلے پر جلد تفصیلی ردعمل جاری کرے گی اور دیگر جماعتوں کے عمائدین اور علماء مشائخ سے ملکر نظر ثانی اور دیگر قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے گی.
#PMML
Twitter Link : https://x.com/PMMLMedia/status/1760385378836455727?s=20
Facebook Link : https://www.facebook.com/photo/?fbid=370335099278943&set=a.110437678602021
#PMML
Twitter Link : https://x.com/PMMLMedia/status/1760385378836455727?s=20
Facebook Link : https://www.facebook.com/photo/?fbid=370335099278943&set=a.110437678602021
X (formerly Twitter)
PMML (@PMMLMedia) on X
چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کا قادیانیوں کے حوالے سے دیا گیا فیصلہ انتہائی متنازعہ ہے۔ آئین پاکستان میں طے شدہ حقائق کے منافی اس فیصلے سے پاکستان بھر کے عوام کے جزبات مجروح ہوئے ہیں۔ اعلی ترین عدالت کی جانب سے اس مقدمے میں قادیانیوں کے حوالے سے آئین پاکستان…
ایک طرف تاریخ کی مظلوم ترین مسلمان فل سطین۔یوں کا ناحق خون بہایا جا رہا ہے بچوں کو والدین کے سامنے شھید کیا جا رہا ہے اور بچوں کو بھی یتیم عورتوں کو بیوہ کیا جا رہا ہے جو با ضمیر مسلمانوں کے دل خون کے آنسوں رو رہے ہیں مسلمانوں کی نیندیں حرام ہوئی ہیں پوری دنیا میں اس۔را۔ئی۔لیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں اس۔را۔ئی۔لی مصنوعات کا بائیکاٹ عالمی سطح پر پہنچ چکا جبکہ ہمارے کچھ نادان نوجوانوں انہی کی مددگار KFC نے PSL کو سپانسر کرکے اپنی ضمیر بیچ چکے ۔
پی سی بی حکام اس سپانسر شپ کو ختم کرکے قوم سے معافی مانگے ورنہ پوری قوم PSL کے ساتھ PCB کے خلاف مہم چلانا شروع کرکے بائیکاٹ کریں گی
پی سی بی حکام اس سپانسر شپ کو ختم کرکے قوم سے معافی مانگے ورنہ پوری قوم PSL کے ساتھ PCB کے خلاف مہم چلانا شروع کرکے بائیکاٹ کریں گی
*┄┅═════✺• ﷽ •✺═════┅┄*
📖 *تفسیـــر القــــرآن الکـــریـم*
*┄┅═════✺• ✨ •✺═════┅┄*
*سُـــورَةُ النُوْر آیت نمبـــر 8️⃣3️⃣*
📑 *تفسیر*
*🌷 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ*
*🌸 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۞*
📖 *لِیَجۡزِیَہُمُ اللّٰہُ اَحۡسَنَ مَا عَمِلُوۡا وَ یَزِیۡدَہُمۡ مِّنۡ فَضۡلِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ یَرۡزُقُ مَنۡ یَّشَآءُ بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۳۸﴾*
✨ *ترجمہ :*
تاکہ اللہ انھیں اس کا بہترین بدلہ دے جو انھوں نے کیا اور انھیں اپنے فضل سے زیادہ دے اور اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب دیتا ہے۔
📑 *تفسیر*
*»• لِيَجْزِيَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا:*
🏷️ اس کا ترجمہ یہ ہو سکتا ہے :
*»’’ أَيْ ثَوَابَ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا ‘‘*
🔖
دوسرا معنی یہاں زیادہ مناسب ہے، کیونکہ آگے فرمایا :```
*« وَ اللّٰهُ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ »*
✨ ’’اور اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب دیتا ہے۔‘‘
*تفسیر القرآن الکریم*
*✒️ حافظ عبدالسلام بھٹوی رحمہ اللّٰــــہ*
*#UnitedTeam*
*#یونائیٹڈ_ٹیم*
📖 *تفسیـــر القــــرآن الکـــریـم*
*┄┅═════✺• ✨ •✺═════┅┄*
*سُـــورَةُ النُوْر آیت نمبـــر 8️⃣3️⃣*
📑 *تفسیر*
*🌷 أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ*
*🌸 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۞*
📖 *لِیَجۡزِیَہُمُ اللّٰہُ اَحۡسَنَ مَا عَمِلُوۡا وَ یَزِیۡدَہُمۡ مِّنۡ فَضۡلِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ یَرۡزُقُ مَنۡ یَّشَآءُ بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۳۸﴾*
✨ *ترجمہ :*
تاکہ اللہ انھیں اس کا بہترین بدلہ دے جو انھوں نے کیا اور انھیں اپنے فضل سے زیادہ دے اور اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب دیتا ہے۔
📑 *تفسیر*
*»• لِيَجْزِيَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا:*
🏷️ اس کا ترجمہ یہ ہو سکتا ہے :
*»’’ أَيْ ثَوَابَ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا ‘‘*
🔖
*»• ’’ أَيْ أَحْسَنَ جَزَاءٍ مَا عَمِلُوْا ‘‘*
📌 کہ اللہ تعالیٰ انھیں ان اعمال کا بہترین بدلا دے جو انھوں نے کیے۔
🔷
دوسرا معنی یہاں زیادہ مناسب ہے، کیونکہ آگے فرمایا :```
*« وَ اللّٰهُ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ »*
✨ ’’اور اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب دیتا ہے۔‘‘
*تفسیر القرآن الکریم*
*✒️ حافظ عبدالسلام بھٹوی رحمہ اللّٰــــہ*
*#UnitedTeam*
*#یونائیٹڈ_ٹیم*
*آئین پاکستان کے مطابق قادیانی کسی قسم کی نشر واشاعت نہیں کرسکتے*
آرڈیننس 20 ایک قانونی آرڈیننس ہے جو سابق پاکستانی صدر جنرل محمد ضیاء الحق کی سربراہی میں حکومتِ پاکستان نے پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیش کیا۔ اس قانون کا مقصد احمدیہ جماعت کے پیروکاروں پر بعض پابندیاں عائد کرنا تھا۔ چنانچہ اس قانون کی رو سے احمدیہ]جماعت کے پیروکاروں کے لیے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنا جرم قرار دیا گیا ہے۔ ان کے لیے اپنے آپ کو مسلمان کہنا، اسلامی طریق پر سلام کرنا، متعدد اسلامی اصطلحات کا استعمال ممنوع قرار پائے ہیں۔
اس قانون کے ذریعہ پاکستان کے ضابطہ فوجداری کی شق 298 میں دو حصوں کا اضافہ کیا گیا ہے۔
298-B
1۔ اس شق کے مطابق "قادیانی گروہ یا لاہوری گروہ کے کسی رکن کو جو اپنے آپ کو 'احمدی' یا کسی اور نام سے پکارے" کے لیے ممنوع قرار دیا گیا ہے کہ وہ (الف) بول، لکھ یا کسی اور طریقہ سے کسی خلیفہ یا آنحضور ﷺ کے کسی صحابی کے علاوہ کسی کو ""امیر المومنین" یا "خلیفہ المومنین" یا "خلیفہ المسلمین" یا "صحابی" یا "رضی اللہ عنہ" کہے۔ (ب) آنحضور ﷺ کی ازواج کے علاوہ کسی کو "ام المومنین" کہے۔ (ج) آنحضور ﷺ کے خاندان کے اہل بیت کے علاوہ کسی کو "اہل بیت" کہے۔ (د) اپنی جائے عبادت کو "مسجد" کہے۔
ان سب امور کے لیے ایسا کرنے والا احمدی تین سال تک قید نیز جرمانہ کی سزا کا حق دار ہو گا۔
2۔ اس شق کے مطابق "قادیانی گروہ یا لاہوری گروہ کے کسی رکن کو جو اپنے آپ کو 'احمدی' یا کسی اور نام سے پکارے" اپنی عبادت کے لیے بلانے کے طریق کو "اذان" کہنے یا مسلمانوں کے طریق پراذان دینے کی صورت میں تین سال تک قید نیز جرمانہ کی سزا کا حق دار ہو گا۔
298-C
ترمیم
اس شق کے تحت احمدی کہلانے والوں کے لیے خواہ وہ قادیانی فریق سے تعلق رکھتے ہوں یا لاہوری فریق سے، قرار دیا گیا ہے کہ اگر وہ اپنے آپ کو "براہ راست یا بالواسطہ" مسلمان کہیں یا اپنی مذہب کو اسلام کہیں یا اپنے مذہب کی اشاعت یا تبلیغ کریں یا کسی بھی طریق پر مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کریں تو ان سب صورتوں میں تین سال تک قید اور جرمانہ کے مستحق ہوں گے۔
آرڈیننس 20 ایک قانونی آرڈیننس ہے جو سابق پاکستانی صدر جنرل محمد ضیاء الحق کی سربراہی میں حکومتِ پاکستان نے پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیش کیا۔ اس قانون کا مقصد احمدیہ جماعت کے پیروکاروں پر بعض پابندیاں عائد کرنا تھا۔ چنانچہ اس قانون کی رو سے احمدیہ]جماعت کے پیروکاروں کے لیے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنا جرم قرار دیا گیا ہے۔ ان کے لیے اپنے آپ کو مسلمان کہنا، اسلامی طریق پر سلام کرنا، متعدد اسلامی اصطلحات کا استعمال ممنوع قرار پائے ہیں۔
اس قانون کے ذریعہ پاکستان کے ضابطہ فوجداری کی شق 298 میں دو حصوں کا اضافہ کیا گیا ہے۔
298-B
1۔ اس شق کے مطابق "قادیانی گروہ یا لاہوری گروہ کے کسی رکن کو جو اپنے آپ کو 'احمدی' یا کسی اور نام سے پکارے" کے لیے ممنوع قرار دیا گیا ہے کہ وہ (الف) بول، لکھ یا کسی اور طریقہ سے کسی خلیفہ یا آنحضور ﷺ کے کسی صحابی کے علاوہ کسی کو ""امیر المومنین" یا "خلیفہ المومنین" یا "خلیفہ المسلمین" یا "صحابی" یا "رضی اللہ عنہ" کہے۔ (ب) آنحضور ﷺ کی ازواج کے علاوہ کسی کو "ام المومنین" کہے۔ (ج) آنحضور ﷺ کے خاندان کے اہل بیت کے علاوہ کسی کو "اہل بیت" کہے۔ (د) اپنی جائے عبادت کو "مسجد" کہے۔
ان سب امور کے لیے ایسا کرنے والا احمدی تین سال تک قید نیز جرمانہ کی سزا کا حق دار ہو گا۔
2۔ اس شق کے مطابق "قادیانی گروہ یا لاہوری گروہ کے کسی رکن کو جو اپنے آپ کو 'احمدی' یا کسی اور نام سے پکارے" اپنی عبادت کے لیے بلانے کے طریق کو "اذان" کہنے یا مسلمانوں کے طریق پراذان دینے کی صورت میں تین سال تک قید نیز جرمانہ کی سزا کا حق دار ہو گا۔
298-C
ترمیم
اس شق کے تحت احمدی کہلانے والوں کے لیے خواہ وہ قادیانی فریق سے تعلق رکھتے ہوں یا لاہوری فریق سے، قرار دیا گیا ہے کہ اگر وہ اپنے آپ کو "براہ راست یا بالواسطہ" مسلمان کہیں یا اپنی مذہب کو اسلام کہیں یا اپنے مذہب کی اشاعت یا تبلیغ کریں یا کسی بھی طریق پر مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کریں تو ان سب صورتوں میں تین سال تک قید اور جرمانہ کے مستحق ہوں گے۔