جواب نمبر:4⃣6⃣
سوال:
ہم لوگ حنفی المسلک ہیں اور متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں یہاں تمام ہی نمازیں اوّل وقت میں ادا کی جاتی ہیں، لیکن عصر کی نماز میں کافی اشکال رہتاہے کیوں کہ اس وقت ہمارے یہاں عصر کی نماز ۳؍ بج کر ۴۸؍منٹ پرادا کی جاتی ہے،پس کیا ایسی شکل میں ہم لوگ جماعت سے نمازادا کریں،یاکہ بعد میں الگ تنہا ادا کی جائے،مغرب کی اذان ۵۵؍ بج کر ۵۵؍منٹ پر ہوتی ہے۔
جواب:
حنفیہ کے نزدیک بھی ایک قول میں اس وقت نماز عصر کا وقت ہوجاتاہے اگر چہ مفتی بہ اور بہتر یہی ہے کہ دومثل کے بعد نماز عصر ادا کریں، لہٰذا حنفیہ کے اس قول کے مطابق عمل کریں اور جماعت عصر بھی انہیں لوگوں کے ساتھ ادا کریں،جماعت نہ چھوڑیں اور نہ اپنی جماعت الگ اور دوسری بنائیں۔
مستفاد:نظام الفتاوی5
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سوال:
ہم لوگ حنفی المسلک ہیں اور متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں یہاں تمام ہی نمازیں اوّل وقت میں ادا کی جاتی ہیں، لیکن عصر کی نماز میں کافی اشکال رہتاہے کیوں کہ اس وقت ہمارے یہاں عصر کی نماز ۳؍ بج کر ۴۸؍منٹ پرادا کی جاتی ہے،پس کیا ایسی شکل میں ہم لوگ جماعت سے نمازادا کریں،یاکہ بعد میں الگ تنہا ادا کی جائے،مغرب کی اذان ۵۵؍ بج کر ۵۵؍منٹ پر ہوتی ہے۔
جواب:
حنفیہ کے نزدیک بھی ایک قول میں اس وقت نماز عصر کا وقت ہوجاتاہے اگر چہ مفتی بہ اور بہتر یہی ہے کہ دومثل کے بعد نماز عصر ادا کریں، لہٰذا حنفیہ کے اس قول کے مطابق عمل کریں اور جماعت عصر بھی انہیں لوگوں کے ساتھ ادا کریں،جماعت نہ چھوڑیں اور نہ اپنی جماعت الگ اور دوسری بنائیں۔
مستفاد:نظام الفتاوی5
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
Telegram
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
"جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند" میں روزانہ ایک دو مسئلہ مدلل ومزین انداز میں بطورِ استفادہ آپ کو ملے گا،
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1
جواب نمبر:5⃣6⃣
سوال:
گذارش ہے کہ ہمارے محلہ کی مسجد میں روزانہ بعد نماز فجر حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب کی تالیف کردہ فضائل نماز ذکر وغیرہ میں سے کسی ایک کتاب میں سے چند حدیثیں پڑھیں جاتی ہیں یہ عمل گذشتہ دس سال سے ہورہاہے نمازیوں کو اس سے بہت نفع ہورہاہے مسجد کے ایک دونمازی کچھ عرصہ سے عام طور پر جماعت ختم ہونے کے بعد آتے ہیں اور اس عمل پر اعتراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہماری نماز میں خلل واقع ہوتاہے(کتاب امام صاحب کے مصلیٰ کے پاس پڑھی جاتی ہے) براہ ِ کرم شریعت کے حکم سے آگاہ فرمائیں ان کا یہ مطالبہ قابل تسلیم ہے یاکہ نہیں۔
جواب:
نماز باجماعت بے شرعی عذر ومجبوری کے ترک نہ کرنا چاہیے نمازباجماعت کی بڑی تاکید وارد ہے نماز باجماعت بہت سے اعتبار سے واجب ہے اور شعار کا درجہ رکھتی ہے نماز باجماعت میںسستی کرنا یا عام طور پر ختمجماعت پر آنے کی عادت ڈالنا بہت بری بات ہے نماز باجماعت پڑھنے کی ہمیشہ کوشش کرنا ضروری ہے اگر اتفاقاً اپنی مسجد میں نماز باجماعت چھوٹ جائے تو باجماعت ادا کرنے کی کوشش کرنا چاہیے اگر کسی دوسری مسجد میںجماعت مل جانے کا ظن غالب ہوتو اس میں چلا جانا چاہیے ورنہ اپنی مسجدمیں جس میں نماز باجماعت ادا کرنے کا معمول ہے چند افراد اکٹھا ہوجاویں تواصل مسجد سے ہٹ کر وضو خانہ وغیرہ میں جماعت سے نماز پڑھنا چاہیے اگر اس کا بھی موقع نہ ہوتو کسی کنارہ تنہا پرھ لے اورایسی صورت میں جو لوگ مصلیٰ کے پاس وعظ وتبلیغکررہے ہیں یاکتاب سنارہے ہیں اس کا کوئی قصور نہیں ہے البتہ جو لوگ مسبوق ہوگئے چند رکعتیں چھوٹ گئی ہیں یا سنن ونوافل رواتب میں بعد نماز جماعت مشغول ہیں ان کی رعایت واجب ہے اور اسی صورت میں اس طرح وعظ وتلقین کرنا چاہیے کہ سنن ونوافل مثلاً ظہر ومغرب وعشاء پڑھنے والوں کو اور مسبوق کو خلل واقع نہ ہو۔
مستفاد:نظام الفتاوی
فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔
محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سوال:
گذارش ہے کہ ہمارے محلہ کی مسجد میں روزانہ بعد نماز فجر حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب کی تالیف کردہ فضائل نماز ذکر وغیرہ میں سے کسی ایک کتاب میں سے چند حدیثیں پڑھیں جاتی ہیں یہ عمل گذشتہ دس سال سے ہورہاہے نمازیوں کو اس سے بہت نفع ہورہاہے مسجد کے ایک دونمازی کچھ عرصہ سے عام طور پر جماعت ختم ہونے کے بعد آتے ہیں اور اس عمل پر اعتراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہماری نماز میں خلل واقع ہوتاہے(کتاب امام صاحب کے مصلیٰ کے پاس پڑھی جاتی ہے) براہ ِ کرم شریعت کے حکم سے آگاہ فرمائیں ان کا یہ مطالبہ قابل تسلیم ہے یاکہ نہیں۔
جواب:
نماز باجماعت بے شرعی عذر ومجبوری کے ترک نہ کرنا چاہیے نمازباجماعت کی بڑی تاکید وارد ہے نماز باجماعت بہت سے اعتبار سے واجب ہے اور شعار کا درجہ رکھتی ہے نماز باجماعت میںسستی کرنا یا عام طور پر ختمجماعت پر آنے کی عادت ڈالنا بہت بری بات ہے نماز باجماعت پڑھنے کی ہمیشہ کوشش کرنا ضروری ہے اگر اتفاقاً اپنی مسجد میں نماز باجماعت چھوٹ جائے تو باجماعت ادا کرنے کی کوشش کرنا چاہیے اگر کسی دوسری مسجد میںجماعت مل جانے کا ظن غالب ہوتو اس میں چلا جانا چاہیے ورنہ اپنی مسجدمیں جس میں نماز باجماعت ادا کرنے کا معمول ہے چند افراد اکٹھا ہوجاویں تواصل مسجد سے ہٹ کر وضو خانہ وغیرہ میں جماعت سے نماز پڑھنا چاہیے اگر اس کا بھی موقع نہ ہوتو کسی کنارہ تنہا پرھ لے اورایسی صورت میں جو لوگ مصلیٰ کے پاس وعظ وتبلیغکررہے ہیں یاکتاب سنارہے ہیں اس کا کوئی قصور نہیں ہے البتہ جو لوگ مسبوق ہوگئے چند رکعتیں چھوٹ گئی ہیں یا سنن ونوافل رواتب میں بعد نماز جماعت مشغول ہیں ان کی رعایت واجب ہے اور اسی صورت میں اس طرح وعظ وتلقین کرنا چاہیے کہ سنن ونوافل مثلاً ظہر ومغرب وعشاء پڑھنے والوں کو اور مسبوق کو خلل واقع نہ ہو۔
مستفاد:نظام الفتاوی
فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔
محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
Telegram
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
"جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند" میں روزانہ ایک دو مسئلہ مدلل ومزین انداز میں بطورِ استفادہ آپ کو ملے گا،
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1
جواب نمبر:6⃣6⃣
قرض پر زکوۃ
مسئلہ(۱۲۳): جو رقم قرضِ حسنہ کے طورپر دی گئی اس کے وصول ہونے پر سالہائے گذشتہ کی زکوۃ واجب ہوتی ہے، اگر وصول ہونے سے پہلے دیدیا تویہ بھی جائزہے، اور اگر وصولی کی بالکل ہی امید نہ ہوتو زکوۃ واجب نہیں ہوگی، لیکن خلافِ توقع وامیدوصول ہوجائے تو سالہائے گذشتہ کی زکوۃ دینا بھی واجب ہوگا۔
الحجۃ علی ما قلنا :
ما في ’’ حاشیۃ الطحطاوي علی مراقي الفلاح ‘‘ : وزکاۃ الدین علی أقسام : فإنہ قوي ووسط وضعیف ، فالقوي وہو بدل القرض ومال التجارۃ إذا قبضہ وکان علی مقر ولو مفلساً أو علی جاحد علیہ بینۃ زکاہ لما مضی ۔
(ص :۳۹۰ ، کتاب الزکاۃ) (فتاوی حقانیہ : ۳/۵۳۲- ۴۹۸)
ما في ’’ الدر المختار مع رد المحتار ‘‘ : (ولو کان الدین علی مقر مليء أو) علی(معسر أو مفلس) أي محکوم بإفلاسہ (أو) علی (جاحد علیہ بینۃ) وعن محمد لا زکوۃ، وہو الصحیح ۔’’ درمختار‘‘۔ (۳/۱۸۴؍۱۸۵ ، مطلب : في زکاۃ ثمن المبیع وفائً)
(فتاوی حقانیہ:۳/۴۹۸، فتاوی محمودیہ:۳/۴۰۲، فتاوی عثمانی:۲/۶۴)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
قرض پر زکوۃ
مسئلہ(۱۲۳): جو رقم قرضِ حسنہ کے طورپر دی گئی اس کے وصول ہونے پر سالہائے گذشتہ کی زکوۃ واجب ہوتی ہے، اگر وصول ہونے سے پہلے دیدیا تویہ بھی جائزہے، اور اگر وصولی کی بالکل ہی امید نہ ہوتو زکوۃ واجب نہیں ہوگی، لیکن خلافِ توقع وامیدوصول ہوجائے تو سالہائے گذشتہ کی زکوۃ دینا بھی واجب ہوگا۔
الحجۃ علی ما قلنا :
ما في ’’ حاشیۃ الطحطاوي علی مراقي الفلاح ‘‘ : وزکاۃ الدین علی أقسام : فإنہ قوي ووسط وضعیف ، فالقوي وہو بدل القرض ومال التجارۃ إذا قبضہ وکان علی مقر ولو مفلساً أو علی جاحد علیہ بینۃ زکاہ لما مضی ۔
(ص :۳۹۰ ، کتاب الزکاۃ) (فتاوی حقانیہ : ۳/۵۳۲- ۴۹۸)
ما في ’’ الدر المختار مع رد المحتار ‘‘ : (ولو کان الدین علی مقر مليء أو) علی(معسر أو مفلس) أي محکوم بإفلاسہ (أو) علی (جاحد علیہ بینۃ) وعن محمد لا زکوۃ، وہو الصحیح ۔’’ درمختار‘‘۔ (۳/۱۸۴؍۱۸۵ ، مطلب : في زکاۃ ثمن المبیع وفائً)
(فتاوی حقانیہ:۳/۴۹۸، فتاوی محمودیہ:۳/۴۰۲، فتاوی عثمانی:۲/۶۴)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:7⃣6⃣
قرض لے کر قربانی:
مسئلہ:اگر کسی شخص کی ملکیت میں اس کی ضرورت سے زائد، نصاب کے بقدر مال ہو، یا نقد روپیہ ہو، لیکن وہ کہیں غائب ہو، یا کسی کو قرض دے رکھا ہو، او رقربانی کے دنوں میں اس کی وصولی اور ملنا ممکن نہ ہو، اور اس کے پاس اتنا بھی مال نہ ہو، جس سے وہ قربانی کا جانور خرید سکے، تو اس پر قربانی واجب نہیں ہوگی، اور نہ ہی اس پر قرض لے کر قربانی کرنا لازم ہوگا، کیوں کہ مال کی عدمِ موجودگی کی وجہ سے وہ فقیر کے حکم میں ہے۔
الحجۃ علی ما قلنا:
ما في ’’ الفتاوی التاتارخانیۃ ‘‘ : سئل علي بن أحمد عن رجل لہ دین مؤجل ، أو غیر مؤجل علی رجل وہو مقر حتی جاء یوم النحر ، ولیس في ید رب الدین شيء یمکنہ شراء الأضحیۃ ہل علیہ أن یستقرض ، ویشتري أضحیۃ یضحي بہا فقال : لا ، قیل لہ : ہل یجب علیہ قیمۃ الأضحیۃ إذا وصل إلیہ الدین بعد فوات الوقت ، قال : لا ، قیل : ہل یجب علی رب الدین أن یسأل منہ عن الدین إذا غلب علی ظنہ لو سأل منہ ثمن الأضحیۃ یعطیہ فیلزمہ منہ ، وإن کان مؤجلا فقال : نعم ۔ (۱۷/۴۶۴ ، کتاب الأضحیۃ ، الفصل التاسع في المتفرقات ، رقم المسئلۃ :۲۷۸۴۶ ، الفتاوی الہندیۃ :۵/۳۰۷ ، کتاب الأضحیۃ ، الباب التاسع في المتفرقات)
ما في ’’ بدائع الصنائع ‘‘ : وکذا لو کان مال غائب لا یصل إلیہ في أیام النحر ، لأنہ فقیر وقت غیبۃ المال حتی تحل لہ الصدقۃ بخلاف الزکاۃ فإنہا تجب علیہ ، لأن جمیع العمر وقت الزکاۃ وہذہ قربۃ مؤقتۃ فیعتبر الغنی في وقتہا ۔ (۴/۱۹۶، کتاب الأضحیۃ ، فصل شرائط الوجوب ، الفتاوی الہندیۃ :۵/۲۹۲، کتاب الأضحیۃ ، الباب الأول الخ)
(مسائل قربانی :ص/۶۴، ۶۵، مولانا عبد المعبود صاحب،المسائل المہمۃ:۸/۱۷۲)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
قرض لے کر قربانی:
مسئلہ:اگر کسی شخص کی ملکیت میں اس کی ضرورت سے زائد، نصاب کے بقدر مال ہو، یا نقد روپیہ ہو، لیکن وہ کہیں غائب ہو، یا کسی کو قرض دے رکھا ہو، او رقربانی کے دنوں میں اس کی وصولی اور ملنا ممکن نہ ہو، اور اس کے پاس اتنا بھی مال نہ ہو، جس سے وہ قربانی کا جانور خرید سکے، تو اس پر قربانی واجب نہیں ہوگی، اور نہ ہی اس پر قرض لے کر قربانی کرنا لازم ہوگا، کیوں کہ مال کی عدمِ موجودگی کی وجہ سے وہ فقیر کے حکم میں ہے۔
الحجۃ علی ما قلنا:
ما في ’’ الفتاوی التاتارخانیۃ ‘‘ : سئل علي بن أحمد عن رجل لہ دین مؤجل ، أو غیر مؤجل علی رجل وہو مقر حتی جاء یوم النحر ، ولیس في ید رب الدین شيء یمکنہ شراء الأضحیۃ ہل علیہ أن یستقرض ، ویشتري أضحیۃ یضحي بہا فقال : لا ، قیل لہ : ہل یجب علیہ قیمۃ الأضحیۃ إذا وصل إلیہ الدین بعد فوات الوقت ، قال : لا ، قیل : ہل یجب علی رب الدین أن یسأل منہ عن الدین إذا غلب علی ظنہ لو سأل منہ ثمن الأضحیۃ یعطیہ فیلزمہ منہ ، وإن کان مؤجلا فقال : نعم ۔ (۱۷/۴۶۴ ، کتاب الأضحیۃ ، الفصل التاسع في المتفرقات ، رقم المسئلۃ :۲۷۸۴۶ ، الفتاوی الہندیۃ :۵/۳۰۷ ، کتاب الأضحیۃ ، الباب التاسع في المتفرقات)
ما في ’’ بدائع الصنائع ‘‘ : وکذا لو کان مال غائب لا یصل إلیہ في أیام النحر ، لأنہ فقیر وقت غیبۃ المال حتی تحل لہ الصدقۃ بخلاف الزکاۃ فإنہا تجب علیہ ، لأن جمیع العمر وقت الزکاۃ وہذہ قربۃ مؤقتۃ فیعتبر الغنی في وقتہا ۔ (۴/۱۹۶، کتاب الأضحیۃ ، فصل شرائط الوجوب ، الفتاوی الہندیۃ :۵/۲۹۲، کتاب الأضحیۃ ، الباب الأول الخ)
(مسائل قربانی :ص/۶۴، ۶۵، مولانا عبد المعبود صاحب،المسائل المہمۃ:۸/۱۷۲)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:8⃣6⃣
قربانی کے لیے بڑا جانور ضروری نہیں۔
مسئلہ:اگر کسی شخص کی ملکیت میں ضرورت سے زائد اتنامال ہے، جس سے اُس پر قربانی واجب ہوجاتی ہے، لیکن اُس کے پاس نقد رقم نہیں ہے، تو اُس پر واجب ہے کہ قرض لے کر قربانی کرے، جیسا کہ اپنی دوسری ضروریات کے لیے قرض لیتا ہے، البتہ سودی قرض لینے سے اجتناب کرے، نیز یہ بات بھی سمجھ لینا چاہیے کہ واجب قربانی کے اپنے ذمہ سے ساقط ہونے کے لیے پورا ایک بڑا جانور خریدنا ضروری نہیں ہے، بلکہ اس میں سے ایک حصہ لے لینے سے بھی یہ واجب ادا ہوجاتا ہے۔
الحجۃ علی ما قلنا:
ما في ’’ سنن الدار قطني ‘‘ : عن عائشۃ قالت : قلت : یا رسول اللہ ! أستدین وأضحي ؟ قال : ’’ نعم ، فإنہ دینٌ مقضي ‘‘ ۔ (۴/۱۸۸، کتاب الأشربۃ وغیرہا ، باب الصید والذبائح الخ ، الرقم :۴۷۱۰ ، دار الایمان ، نصب الرایۃ للزیلعي :۴/۴۹۹، کتاب الأضحیۃ)
ما في ’’ رد المحتار ‘‘ : لہ مال کثیر غائب في ید مضاربہ أو شریکہ ومعہ مہ الحجرین أو متاع البیت ما یضحي بہ تلزم ۔ (۹/۴۵۳ ، کتاب الأضحیۃ ، الفتاوی الہندیۃ :۵/۳۰۷ ، کتاب الأضحیۃ ، الباب التاسع في المتفرقات) (کتاب الفتاویٰ: ۴/۱۳۳،المسائل المہمۃ:۸/۱۷۳)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
قربانی کے لیے بڑا جانور ضروری نہیں۔
مسئلہ:اگر کسی شخص کی ملکیت میں ضرورت سے زائد اتنامال ہے، جس سے اُس پر قربانی واجب ہوجاتی ہے، لیکن اُس کے پاس نقد رقم نہیں ہے، تو اُس پر واجب ہے کہ قرض لے کر قربانی کرے، جیسا کہ اپنی دوسری ضروریات کے لیے قرض لیتا ہے، البتہ سودی قرض لینے سے اجتناب کرے، نیز یہ بات بھی سمجھ لینا چاہیے کہ واجب قربانی کے اپنے ذمہ سے ساقط ہونے کے لیے پورا ایک بڑا جانور خریدنا ضروری نہیں ہے، بلکہ اس میں سے ایک حصہ لے لینے سے بھی یہ واجب ادا ہوجاتا ہے۔
الحجۃ علی ما قلنا:
ما في ’’ سنن الدار قطني ‘‘ : عن عائشۃ قالت : قلت : یا رسول اللہ ! أستدین وأضحي ؟ قال : ’’ نعم ، فإنہ دینٌ مقضي ‘‘ ۔ (۴/۱۸۸، کتاب الأشربۃ وغیرہا ، باب الصید والذبائح الخ ، الرقم :۴۷۱۰ ، دار الایمان ، نصب الرایۃ للزیلعي :۴/۴۹۹، کتاب الأضحیۃ)
ما في ’’ رد المحتار ‘‘ : لہ مال کثیر غائب في ید مضاربہ أو شریکہ ومعہ مہ الحجرین أو متاع البیت ما یضحي بہ تلزم ۔ (۹/۴۵۳ ، کتاب الأضحیۃ ، الفتاوی الہندیۃ :۵/۳۰۷ ، کتاب الأضحیۃ ، الباب التاسع في المتفرقات) (کتاب الفتاویٰ: ۴/۱۳۳،المسائل المہمۃ:۸/۱۷۳)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:9⃣6⃣
قربانی کا جانور قرض لیکر یا ادھار پر خریدنا:
قربانی کے جانور کی خریداری میں بسا اوقات نقد ادائیگی کیلئے کسی کے پاس رقم نہیں ہوتی اور وہ قرض لیکر یا ادھار پرجانور کو خریدنا چاہتا ہے تو اِس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر وہ صاحبِ نصاب نہیں تو قرض لیکر اپنے آپ پر اضافی بوجھ نہیں ڈالنا چاہیئے ، کیونکہ شریعت نے اُس پر قربانی کو لازم ہی نہیں کیا ۔ہاں! اگر وہ صاحبِ نصاب ہے لیکن فی الحال جانور کی خریداری کیلئے اُس کے پاس رقم موجود نہیں تو وہ کسی سے ادھار لیکریا خود بیچنے والے سے ادھار پر جانور خریدسکتا ہے۔اس میں کوئی حرج نہیں ۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل :4/220)
قربانی کا جانور قسطوں پر خریدنا:
قسطوں پر کی جانے والی خریدو فروخت جائز ہے ، اور قربانی کے جانور میں بھی یہ طریقہ اپنایا جاسکتا ہے یعنی ایک متعیّنہ رقم میں جانور کو خرید لیا جائے اور بعد میں ماہانہ یا جو بھی طے ہو اُس کے مطابق قسطوں کی ادئیگی کی جاتی رہے ۔اس میں کوئی حرج نہیں ۔کیونکہ جس جانور کے آپ مالک ہیں اُس کی قربانی جائز ہے ، خواہ نقد خریدیں یا ادھار اور قسطوں پر۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل :4/220)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
قربانی کا جانور قرض لیکر یا ادھار پر خریدنا:
قربانی کے جانور کی خریداری میں بسا اوقات نقد ادائیگی کیلئے کسی کے پاس رقم نہیں ہوتی اور وہ قرض لیکر یا ادھار پرجانور کو خریدنا چاہتا ہے تو اِس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر وہ صاحبِ نصاب نہیں تو قرض لیکر اپنے آپ پر اضافی بوجھ نہیں ڈالنا چاہیئے ، کیونکہ شریعت نے اُس پر قربانی کو لازم ہی نہیں کیا ۔ہاں! اگر وہ صاحبِ نصاب ہے لیکن فی الحال جانور کی خریداری کیلئے اُس کے پاس رقم موجود نہیں تو وہ کسی سے ادھار لیکریا خود بیچنے والے سے ادھار پر جانور خریدسکتا ہے۔اس میں کوئی حرج نہیں ۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل :4/220)
قربانی کا جانور قسطوں پر خریدنا:
قسطوں پر کی جانے والی خریدو فروخت جائز ہے ، اور قربانی کے جانور میں بھی یہ طریقہ اپنایا جاسکتا ہے یعنی ایک متعیّنہ رقم میں جانور کو خرید لیا جائے اور بعد میں ماہانہ یا جو بھی طے ہو اُس کے مطابق قسطوں کی ادئیگی کی جاتی رہے ۔اس میں کوئی حرج نہیں ۔کیونکہ جس جانور کے آپ مالک ہیں اُس کی قربانی جائز ہے ، خواہ نقد خریدیں یا ادھار اور قسطوں پر۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل :4/220)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:0⃣7⃣
رنج وغم اور قرض سے نجات دلانے والی دعا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: حضرت میرے اوپر بہت بڑا قرض ہوگیا ہے، اور بعض کاروباری پریشانیوں اور کھریلو حالات کی وجہ سے میں بہت رنج وغم کا شکار ہوں، اس لئے حضور والا سے درخواست ہے کہ مجھ پڑھنے کے لئے کوئی ایسا دعا فرمادیں، جو میرے غموں کو دور کردے اور قرض سے ادائیگی کا سبب بن جائے۔
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: آپ درج ذیل دعا کا کثرت سے اہتمام کیا کریں:
اللّٰہم إني أعوذ بک من الہم والحزن وأعوذ بک من العجز والکسل وأعوذ بک من البخل والجبن وأعوذ بک من غلبۃ الدین وقہر الرجال۔ (سنن الترمذي ۲؍۱۸۶، سنن أبي داؤد ۱؍۲۱۵)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
رنج وغم اور قرض سے نجات دلانے والی دعا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: حضرت میرے اوپر بہت بڑا قرض ہوگیا ہے، اور بعض کاروباری پریشانیوں اور کھریلو حالات کی وجہ سے میں بہت رنج وغم کا شکار ہوں، اس لئے حضور والا سے درخواست ہے کہ مجھ پڑھنے کے لئے کوئی ایسا دعا فرمادیں، جو میرے غموں کو دور کردے اور قرض سے ادائیگی کا سبب بن جائے۔
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: آپ درج ذیل دعا کا کثرت سے اہتمام کیا کریں:
اللّٰہم إني أعوذ بک من الہم والحزن وأعوذ بک من العجز والکسل وأعوذ بک من البخل والجبن وأعوذ بک من غلبۃ الدین وقہر الرجال۔ (سنن الترمذي ۲؍۱۸۶، سنن أبي داؤد ۱؍۲۱۵)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:1⃣7⃣
باب الربوا
(سود کے احکام)
اے ٹی ایم (A.T.M)سے قرض کی ادائیگی۔
مسئلہ:آج کل بعض لوگ اپنے قرضوں کی ادائیگی اے ٹی ایم(A.T.M) کے ذریعہ کرتے ہیں، مثلاً ایک شخص کسی سے ایک ہزار روپئے قرض لیتا ہے، اور مقررہ وقت پر قرض خواہ کے اے ٹی ایم (A.T.M) اکاؤنٹ میں ایک ہزار روپئے ڈال دیتا ہے، بینک اپنا سروس چارج ۲۵؍ روپئے اس میں سے کاٹ لیتا ہے، تو قرض خواہ کواس کی پوری رقم ایک ہزار کی بجائے ۹۷۵؍ روپئے ہی ملتے ہیں، جب کہ وہ پورے ایک ہزار کا حقدار ہے، اس لیے ادائیگی ٔ قرض کی یہ صورت درست نہیں ہے، البتہ اے ٹی ایم(A.T.M) کے ذریعہ ادائیگی ٔ قرض کی یہ صورت، اس وقت درست ہوجائے گی ، جب قرض دار اصل قرض کی رقم کے ساتھ بینک کا سروس چارج بھی قرض خواہ کے اکاؤنٹ میں ڈالدے۔
الحجۃ علی ما قلنا:
ما في ’’ رد المحتار ‘‘ : إن الدیون تقضی بأمثالہا علی معنی أن المقبوض مضمون علی القابض ، لأن قبضہ بنفسہ علی وجہ التملک ، ولرب الدین علی المدیون مثلہ ۔ (۵/۶۷۵)
ما في ’’ بحوث في قضایا فقہیۃ معاصرۃ ‘‘ : القرض یجب في الشریعۃ الإسلامیۃ أن تقضی بأمثالہا ۔۔۔۔۔۔۔ والذي یتحقق من النظر في دلائل القرآن والسنۃ ، معاملات الناس أن المثلیۃ المطلوبۃ في القرض ہي المثلیۃ في المقدار والکمیۃ ، دون المثلیۃ في القیمۃ والمالیۃ ۔ (ص/۱۷۴)
ما في ’’ الفتاوی الہندیۃ ‘‘ : والقرض ہو أن یقرض الدراہم والدنانیر أو شیئاً مثلیاً یأخذ مثلہ في ثاني الحال ۔ (۵/۳۶۶)
واللہ اعلم
محمد امیر ۔۔۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
باب الربوا
(سود کے احکام)
اے ٹی ایم (A.T.M)سے قرض کی ادائیگی۔
مسئلہ:آج کل بعض لوگ اپنے قرضوں کی ادائیگی اے ٹی ایم(A.T.M) کے ذریعہ کرتے ہیں، مثلاً ایک شخص کسی سے ایک ہزار روپئے قرض لیتا ہے، اور مقررہ وقت پر قرض خواہ کے اے ٹی ایم (A.T.M) اکاؤنٹ میں ایک ہزار روپئے ڈال دیتا ہے، بینک اپنا سروس چارج ۲۵؍ روپئے اس میں سے کاٹ لیتا ہے، تو قرض خواہ کواس کی پوری رقم ایک ہزار کی بجائے ۹۷۵؍ روپئے ہی ملتے ہیں، جب کہ وہ پورے ایک ہزار کا حقدار ہے، اس لیے ادائیگی ٔ قرض کی یہ صورت درست نہیں ہے، البتہ اے ٹی ایم(A.T.M) کے ذریعہ ادائیگی ٔ قرض کی یہ صورت، اس وقت درست ہوجائے گی ، جب قرض دار اصل قرض کی رقم کے ساتھ بینک کا سروس چارج بھی قرض خواہ کے اکاؤنٹ میں ڈالدے۔
الحجۃ علی ما قلنا:
ما في ’’ رد المحتار ‘‘ : إن الدیون تقضی بأمثالہا علی معنی أن المقبوض مضمون علی القابض ، لأن قبضہ بنفسہ علی وجہ التملک ، ولرب الدین علی المدیون مثلہ ۔ (۵/۶۷۵)
ما في ’’ بحوث في قضایا فقہیۃ معاصرۃ ‘‘ : القرض یجب في الشریعۃ الإسلامیۃ أن تقضی بأمثالہا ۔۔۔۔۔۔۔ والذي یتحقق من النظر في دلائل القرآن والسنۃ ، معاملات الناس أن المثلیۃ المطلوبۃ في القرض ہي المثلیۃ في المقدار والکمیۃ ، دون المثلیۃ في القیمۃ والمالیۃ ۔ (ص/۱۷۴)
ما في ’’ الفتاوی الہندیۃ ‘‘ : والقرض ہو أن یقرض الدراہم والدنانیر أو شیئاً مثلیاً یأخذ مثلہ في ثاني الحال ۔ (۵/۳۶۶)
واللہ اعلم
محمد امیر ۔۔۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:2⃣7⃣
قرض خواہ کا انتقال ہوجائے تو قرض کس کو دے؟
مسئلہ:اگر کوئی شخص کسی سے روپیہ وغیرہ قرض لے، یا کوئی اُدھار مُعامَلہ کرے، اور ابھی قرض چکایا نہیں تھا، یا اُدھاری اَدا نہیں کی تھی کہ قرض خواہ یا دائن اِس جہانِ فانی سے رخصت ہوگیا، تو اب قرض دار یا مدیون کو چاہیے کہ وہ قرض یا دَین جو اس کے ذمہ لازم ہے میت کے شرعی وارثوں کو ادا کردیں، کیوں کہ میت کا جو قرض کسی کے ذمہ ہوتا ہے وہ اس کی وِراثت اور ترکہ میں شامل ہے(۱)، اور اگر میت کاکوئی وارث موجود نہ ہو، یا اُس تک رسائی ممکن نہ ہو، تو اب وہ قرض یا دَین کی رقم میت کی طرف سے صدقہ کردیں۔(۲)
الحجۃ علی ما قلنا:
(۱) ما في ’’ الموسوعۃ الفقہیۃ ‘‘ : والموت لم یعرف مسقطاً للدین في أصول الشرع ، فلا یسقط شيء منہ بالموت کسائر الدیون ۔
(۳۹/۱۷۳، مہر ، الموت ، بدائع الصنائع :۲/۵۸۸ ، کتاب النکاح ، بیان ما یتأکد بہ المہر)
ما في ’’ الموسوعۃ الفقہیۃ ‘‘ : لا خلاف بین الفقہاء في عدم تأثیر موت الدائن علی الدیون التي وجبت لہ في ذمۃ الغرماء ، وأنہا تنتقل إلی ورثتہ کسائر الأموال التي ترکہا ، لأن الدیون في الذمم أموال حقیقۃ أو حکمًا باعتبارہا تؤول إلی مال عند الاستیفاء ۔ (۳۹/۲۶۰ ،۲۶۱ ، موت)
(۲) ما في ’’ الدر المختار مع الشامیۃ ‘‘ : (علیہ دیون ومظالم جہل أربابہا وأیس) من علیہ ذلک (من معرفتہم فعلیہ التصدق بقدرہا من مالہ وإن واستغرقت جمیع مالہ) ہذا مذہب أصحابنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (و) متی فعل ذلک (سقط عنہ المطالبۃ) من أصحاب الدیون ۔ (در مختار) وفي الشامیۃ : وإن لم یجد المدیون ولا وارثہ صاحب الدین ولا وارثہ فتصدق المدیون أو وارثہ عن صاحب الدین برئ في الآخرۃ ۔ (۶/۴۴۳ ، کتاب اللقطۃ ، قبیل مطلب فیمن علیہ دیون ومظالم وجہل أربابہا ، ط : دار الکتب العلمیۃ بیروت ، و:۴/۲۸۳ ، ط: دار الفکر بیروت)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
قرض خواہ کا انتقال ہوجائے تو قرض کس کو دے؟
مسئلہ:اگر کوئی شخص کسی سے روپیہ وغیرہ قرض لے، یا کوئی اُدھار مُعامَلہ کرے، اور ابھی قرض چکایا نہیں تھا، یا اُدھاری اَدا نہیں کی تھی کہ قرض خواہ یا دائن اِس جہانِ فانی سے رخصت ہوگیا، تو اب قرض دار یا مدیون کو چاہیے کہ وہ قرض یا دَین جو اس کے ذمہ لازم ہے میت کے شرعی وارثوں کو ادا کردیں، کیوں کہ میت کا جو قرض کسی کے ذمہ ہوتا ہے وہ اس کی وِراثت اور ترکہ میں شامل ہے(۱)، اور اگر میت کاکوئی وارث موجود نہ ہو، یا اُس تک رسائی ممکن نہ ہو، تو اب وہ قرض یا دَین کی رقم میت کی طرف سے صدقہ کردیں۔(۲)
الحجۃ علی ما قلنا:
(۱) ما في ’’ الموسوعۃ الفقہیۃ ‘‘ : والموت لم یعرف مسقطاً للدین في أصول الشرع ، فلا یسقط شيء منہ بالموت کسائر الدیون ۔
(۳۹/۱۷۳، مہر ، الموت ، بدائع الصنائع :۲/۵۸۸ ، کتاب النکاح ، بیان ما یتأکد بہ المہر)
ما في ’’ الموسوعۃ الفقہیۃ ‘‘ : لا خلاف بین الفقہاء في عدم تأثیر موت الدائن علی الدیون التي وجبت لہ في ذمۃ الغرماء ، وأنہا تنتقل إلی ورثتہ کسائر الأموال التي ترکہا ، لأن الدیون في الذمم أموال حقیقۃ أو حکمًا باعتبارہا تؤول إلی مال عند الاستیفاء ۔ (۳۹/۲۶۰ ،۲۶۱ ، موت)
(۲) ما في ’’ الدر المختار مع الشامیۃ ‘‘ : (علیہ دیون ومظالم جہل أربابہا وأیس) من علیہ ذلک (من معرفتہم فعلیہ التصدق بقدرہا من مالہ وإن واستغرقت جمیع مالہ) ہذا مذہب أصحابنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (و) متی فعل ذلک (سقط عنہ المطالبۃ) من أصحاب الدیون ۔ (در مختار) وفي الشامیۃ : وإن لم یجد المدیون ولا وارثہ صاحب الدین ولا وارثہ فتصدق المدیون أو وارثہ عن صاحب الدین برئ في الآخرۃ ۔ (۶/۴۴۳ ، کتاب اللقطۃ ، قبیل مطلب فیمن علیہ دیون ومظالم وجہل أربابہا ، ط : دار الکتب العلمیۃ بیروت ، و:۴/۲۸۳ ، ط: دار الفکر بیروت)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:3⃣7⃣
مسجد کے بیت المال کی رقم لوگوں کو قرض دینا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: مسجد کے بیت المال کی رقم بطور قرض کا روبار کے لئے لوگوں میں تقسیم کی جاسکتی ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: مسجد کی جمع شدہ رقم بطور قرض کاروبار کے لئے لوگوں میں دینا جائز نہیں۔
مع أن القیم لیس لہ إقراض مال المسجد، قال في جامع الفصولین: لیس للمتولي إیداع مال الوقف والمسجد إلا ممن في عیالہ، ولا إقراضہ فلو أقرضہ ضمن۔ (البحر الرائق / کتاب الوقف ۵؍۲۳۹ کراچی)
وفي القنیۃ: ولا یجوز للقیم شراء شيء من مال المسجد لنفسہ ولا البیع لہ، وإن کان فیہ منفعۃ ظاہرۃٌ للمسجد۔ (البحر الرائق / کتاب الوقف ۵؍۴۰۱ زکریا)
والودیعۃ لا تودع ولا تعار ولا تواجر ولا ترہن، وإن فعل شیئًا منہا ضمن۔ (الفتاویٰ الہندیۃ / الباب الأول من کتاب الودیعۃ ۴؍۳۳۸ زکریا)
فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
مسجد کے بیت المال کی رقم لوگوں کو قرض دینا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: مسجد کے بیت المال کی رقم بطور قرض کا روبار کے لئے لوگوں میں تقسیم کی جاسکتی ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: مسجد کی جمع شدہ رقم بطور قرض کاروبار کے لئے لوگوں میں دینا جائز نہیں۔
مع أن القیم لیس لہ إقراض مال المسجد، قال في جامع الفصولین: لیس للمتولي إیداع مال الوقف والمسجد إلا ممن في عیالہ، ولا إقراضہ فلو أقرضہ ضمن۔ (البحر الرائق / کتاب الوقف ۵؍۲۳۹ کراچی)
وفي القنیۃ: ولا یجوز للقیم شراء شيء من مال المسجد لنفسہ ولا البیع لہ، وإن کان فیہ منفعۃ ظاہرۃٌ للمسجد۔ (البحر الرائق / کتاب الوقف ۵؍۴۰۱ زکریا)
والودیعۃ لا تودع ولا تعار ولا تواجر ولا ترہن، وإن فعل شیئًا منہا ضمن۔ (الفتاویٰ الہندیۃ / الباب الأول من کتاب الودیعۃ ۴؍۳۳۸ زکریا)
فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:4⃣7⃣
سودی قرض لے کر دوکان چلانے والے کے یہاں مزدوری کرنا؟
سوال:کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: اگر کوئی آدمی سود پر روپئے لے کر یا بینک سے رقم اٹھاکر یا فائننس سے روپئے لے کر دوکان لگائے یا کاروبار کرے، تو کیا اُس کے یہاں نوکری جائز ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: سودی قرض لینا اگرچہ ممنوع ہے؛ لیکن ایسے شخص یہاں ملازمت منع نہیں ہے۔
کل قرض جر نفعًا فہو ربا۔ (نصب الرایۃ / کتاب الحوالۃ ۴؍۶۰ المجلس العلمي ڈابھیل، ۴؍۱۳۱ مکتبۃ دار الایمان)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر ۔۔۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سودی قرض لے کر دوکان چلانے والے کے یہاں مزدوری کرنا؟
سوال:کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: اگر کوئی آدمی سود پر روپئے لے کر یا بینک سے رقم اٹھاکر یا فائننس سے روپئے لے کر دوکان لگائے یا کاروبار کرے، تو کیا اُس کے یہاں نوکری جائز ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: سودی قرض لینا اگرچہ ممنوع ہے؛ لیکن ایسے شخص یہاں ملازمت منع نہیں ہے۔
کل قرض جر نفعًا فہو ربا۔ (نصب الرایۃ / کتاب الحوالۃ ۴؍۶۰ المجلس العلمي ڈابھیل، ۴؍۱۳۱ مکتبۃ دار الایمان)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر ۔۔۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:5⃣7⃣
کافر قرض خواہ اگر قرض سے زائد سود مانگے تو کیا حکم ہے؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: زید نے کسی کافر سے قرض لیا، پھر اصلیت دے دی اور جو ربوا تھا اس کو ادا نہیں کیا، وہ اس پر بار بار اصرار کرتا ہے، مگر کہنے کے باوجود بھی نہیں دیتا، تو اس کا کیا حکم ہے؟ سود ادا کرے یا نہیں، اگر ادا کرے گا تو کیا گناہ ہوگا یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اگر زید کو شدید قسم کے جانی ومالی نقصان کا اندیشہ نہ ہو تو ہرگز سود نہ دے ورنہ گنہگار ہوگا۔
عن جابر بن عبد اللّٰہ رضي اللّٰہ عنہ قال: لعن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم آکل الربوا ومؤکلہ وکاتبہ وشاہدیہ، وقال: ہم سواء۔ (صحیح مسلم ۲؍۷۲ رقم: ۱۵۹۸، سنن الترمذي ۱؍۲۲۹ رقم: ۱۲۰۶، مشکاۃ المصابیح، البیوع / باب الربا ۲۴۴، مرقاۃ المفاتیح ۶؍۴۳ رقم: ۲۸۰۷ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
کافر قرض خواہ اگر قرض سے زائد سود مانگے تو کیا حکم ہے؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: زید نے کسی کافر سے قرض لیا، پھر اصلیت دے دی اور جو ربوا تھا اس کو ادا نہیں کیا، وہ اس پر بار بار اصرار کرتا ہے، مگر کہنے کے باوجود بھی نہیں دیتا، تو اس کا کیا حکم ہے؟ سود ادا کرے یا نہیں، اگر ادا کرے گا تو کیا گناہ ہوگا یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اگر زید کو شدید قسم کے جانی ومالی نقصان کا اندیشہ نہ ہو تو ہرگز سود نہ دے ورنہ گنہگار ہوگا۔
عن جابر بن عبد اللّٰہ رضي اللّٰہ عنہ قال: لعن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم آکل الربوا ومؤکلہ وکاتبہ وشاہدیہ، وقال: ہم سواء۔ (صحیح مسلم ۲؍۷۲ رقم: ۱۵۹۸، سنن الترمذي ۱؍۲۲۹ رقم: ۱۲۰۶، مشکاۃ المصابیح، البیوع / باب الربا ۲۴۴، مرقاۃ المفاتیح ۶؍۴۳ رقم: ۲۸۰۷ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:6⃣7⃣
قرض ادا کرنے کے لئے سود لینا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ہمارے والد صاحب کی مالی حیثیت بہت کمزور ہے، تقریباً ۴۵ یا ۴۶؍ہزار روپئے قرض ہے، کوئی صورت سمجھ میں نہیں آتی کیسے ادا ہوگا؟ بظاہر کوئی آمدنی بھی نہیں ہے، ایسے حالات میں میں قرض ادا کرنے کے لئے سود کا روپیہ لاٹری کھلواکر یا زکوٰۃ کا روپیہ حاصل کرکے قرض ادا کرسکتے ہیں یا شرعاً جو حکم ہو تحریر فرمائیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:لاٹری کھلوانا اور سود لینا قطعاً حرام ہے، قرض کی ادائیگی کے لئے اس حرام کے ارتکاب کی ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی، جس روپیہ سے آپ لاٹری خریدنا چاہتے ہیں یا اس پر سود لینا چاہتے ہیں، اسے قرض کی ادائیگی میں کیوں صرف نہیں کرتے؟ اگر حلال طریقہ پر کوشش جاری رکھیں اور رفتہ رفتہ قرض ادا کرتے رہیں، تو انشاء اللہ جلد ہی اس ذمہ سے سبک دوش ہوجائیںگے۔
ارشاد خداوندی ہے:
قال اللّٰہ تعالیٰ: {وَمَنْ یَتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَہُ مَخْرَجًا۔ وَیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ} [الطلاق، جزء آیت: ۲-۳]
یعنی جو شخص اللہ سے تقویٰ اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے کوئی نکلنے کا راستہ کھول دیتا ہے، اور اس کو ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔
عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: اجتنبوا السبع الموبقات، قالوا یا رسول اللّٰہ! وما ہن؟ قال: الشرک باللّٰہ، والسحر، وقتل النفس التي حرم اللّٰہ إلا بالحق، وأکل الربا وأکل مال الیتیم، والتولي یوم الزحف، وقذف المحصنات الغافلات المؤمنات۔ (صحیح البخاري رقم: ۲۷۶۶، صحیح مسلم رقم: ۸۹، کذا في الترغیب والترہیب مکمل ۴۱۷ رقم: ۲۸۶۴ بیت الأفکار الدولیۃ)
البتہ اگر آپ خاندان سادات میں سے نہیں ہیں اور کوئی مال دار اپنی زکوٰۃ کی رقم سے آپ کا قرض ادا کرتا ہے، تو یہ صورت درست ہے، زکوٰۃ دینے والے کی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔
عن معقل قال: سألت الزہري عن {الْغَارِمِیْنَ} قال: أصحاب الدین {وَابْنِ السَّبِیْلِ} وإن کان غنیًا۔ (المصنف لابن أبي شیبۃ ۲؍۴۲۴ رقم: ۱۰۶۶۲ بیروت)
فإن کان مدیوناً فدفع إلیہ مقدار ما لو قضی بہ دینہ لا یبقی لہ شيء أو یبقی دونہ المأتین لا بأس بہ۔ (الفتاویٰ الہندیۃ ۱؍۱۸۸، الدر المختار مع الشامي / باب المصرف ۳؍۳۰۳ زکریا، مجمع الأنہر الزکاۃ / في بیان أحکام المصارف ۱؍۳۳۳ بیروت، کذا في الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۳؍۲۲۱ رقم: ۴۱۸۵ زکریا)
ولو قضیٰ دین الفقیر بزکوٰۃ مالہ إن کان بأمرہ یجوز۔ (الفتاویٰ الہندیۃ / کتاب الزکاۃ ۱؍۱۹۰ زکریا)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
قرض ادا کرنے کے لئے سود لینا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ہمارے والد صاحب کی مالی حیثیت بہت کمزور ہے، تقریباً ۴۵ یا ۴۶؍ہزار روپئے قرض ہے، کوئی صورت سمجھ میں نہیں آتی کیسے ادا ہوگا؟ بظاہر کوئی آمدنی بھی نہیں ہے، ایسے حالات میں میں قرض ادا کرنے کے لئے سود کا روپیہ لاٹری کھلواکر یا زکوٰۃ کا روپیہ حاصل کرکے قرض ادا کرسکتے ہیں یا شرعاً جو حکم ہو تحریر فرمائیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:لاٹری کھلوانا اور سود لینا قطعاً حرام ہے، قرض کی ادائیگی کے لئے اس حرام کے ارتکاب کی ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی، جس روپیہ سے آپ لاٹری خریدنا چاہتے ہیں یا اس پر سود لینا چاہتے ہیں، اسے قرض کی ادائیگی میں کیوں صرف نہیں کرتے؟ اگر حلال طریقہ پر کوشش جاری رکھیں اور رفتہ رفتہ قرض ادا کرتے رہیں، تو انشاء اللہ جلد ہی اس ذمہ سے سبک دوش ہوجائیںگے۔
ارشاد خداوندی ہے:
قال اللّٰہ تعالیٰ: {وَمَنْ یَتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَہُ مَخْرَجًا۔ وَیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ} [الطلاق، جزء آیت: ۲-۳]
یعنی جو شخص اللہ سے تقویٰ اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے کوئی نکلنے کا راستہ کھول دیتا ہے، اور اس کو ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔
عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: اجتنبوا السبع الموبقات، قالوا یا رسول اللّٰہ! وما ہن؟ قال: الشرک باللّٰہ، والسحر، وقتل النفس التي حرم اللّٰہ إلا بالحق، وأکل الربا وأکل مال الیتیم، والتولي یوم الزحف، وقذف المحصنات الغافلات المؤمنات۔ (صحیح البخاري رقم: ۲۷۶۶، صحیح مسلم رقم: ۸۹، کذا في الترغیب والترہیب مکمل ۴۱۷ رقم: ۲۸۶۴ بیت الأفکار الدولیۃ)
البتہ اگر آپ خاندان سادات میں سے نہیں ہیں اور کوئی مال دار اپنی زکوٰۃ کی رقم سے آپ کا قرض ادا کرتا ہے، تو یہ صورت درست ہے، زکوٰۃ دینے والے کی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔
عن معقل قال: سألت الزہري عن {الْغَارِمِیْنَ} قال: أصحاب الدین {وَابْنِ السَّبِیْلِ} وإن کان غنیًا۔ (المصنف لابن أبي شیبۃ ۲؍۴۲۴ رقم: ۱۰۶۶۲ بیروت)
فإن کان مدیوناً فدفع إلیہ مقدار ما لو قضی بہ دینہ لا یبقی لہ شيء أو یبقی دونہ المأتین لا بأس بہ۔ (الفتاویٰ الہندیۃ ۱؍۱۸۸، الدر المختار مع الشامي / باب المصرف ۳؍۳۰۳ زکریا، مجمع الأنہر الزکاۃ / في بیان أحکام المصارف ۱؍۳۳۳ بیروت، کذا في الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۳؍۲۲۱ رقم: ۴۱۸۵ زکریا)
ولو قضیٰ دین الفقیر بزکوٰۃ مالہ إن کان بأمرہ یجوز۔ (الفتاویٰ الہندیۃ / کتاب الزکاۃ ۱؍۱۹۰ زکریا)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
استبرء عن البول.pdf
450.4 KB
کیا پیشاب کے بعد استبراء کرنا ضروری ہے؟
جواب نمبر:8⃣7⃣
نماز کے بعد مصلی (جا نماز) کا کونا موڑنا
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مصلی کو موڑدینا نہ فرض ہے نہ واجب ہے نہ سنت ہے نہ مستحب ، نہ ہی آدابِ نماز میں اس کا شمار ہے بلکہ یہ بے اصل بات ہے، حضرت اقدس الحاج مولانا اشرف علی صاحب تھانوی نور اللہ مرقدہ ارشاد فرماتے ہیں ”مسئلہ بعض عورتیں نماز پڑھنے کے بعد جا نماز (مصلّی) کا گوشہ یہ سمجھ کر الٹ دینا ضروری سمجھتی ہیں کہ شیطان اس پر نماز پڑھے گا سو اس میں کسی بات کی بھی اصل نہیں ہے۔“
(اغلاط العوام ص:56)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
نماز کے بعد مصلی (جا نماز) کا کونا موڑنا
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مصلی کو موڑدینا نہ فرض ہے نہ واجب ہے نہ سنت ہے نہ مستحب ، نہ ہی آدابِ نماز میں اس کا شمار ہے بلکہ یہ بے اصل بات ہے، حضرت اقدس الحاج مولانا اشرف علی صاحب تھانوی نور اللہ مرقدہ ارشاد فرماتے ہیں ”مسئلہ بعض عورتیں نماز پڑھنے کے بعد جا نماز (مصلّی) کا گوشہ یہ سمجھ کر الٹ دینا ضروری سمجھتی ہیں کہ شیطان اس پر نماز پڑھے گا سو اس میں کسی بات کی بھی اصل نہیں ہے۔“
(اغلاط العوام ص:56)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:9⃣7⃣
🍇شوال کے روزوں کا استحباب 🍇
شریعت مطہرہ میں شوال کے چھ روزے مستحب اور مسنون ہیں اور حضور اکرم ﷺ کی حدیث مبارکہ میں صحیح سند کے ساتھ منقول ہے اور اس حدیث کو امام مسلم، ترمذی، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے صحیح سند کے ساتھ ذکر کیا ہے، اور فقہ حنفی کی معتبر کتابوں نے بھی ان روزوں کو مستحب اور مسنون قرار دیا ہے، لہٰذا ان روزوں کا اہتمام کرنا چاہیے۔
امام اعظم امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی طرف ان روزوں کی کراہت کا جو قول منسوب ہے، تو اس کے متعلق دو باتیں سمجھ لیں کہ۔
1⃣جن حضرات نے امام صاحب رحمہ اللہ کی طرف یہ قول منسوب کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ امام صاحب اس کو مکروہ اس لئے کہتے تھےکہ لوگ کہیں اس کو رمضان میں شمار نہ کریں جس کی وجہ سے نصاریٰ سے تشبہ پیدا ہوجائے، اب چونکہ یہ بات بھی نہیں رہی۔
2⃣جن حضرات نے امام صاحب رحمہ اللہ کی طرف کراہت کا مطلق قول منسوب کیا ہے، اس کو علامہ شامی رحمہ اللہ نے علامہ قاسم ابن قطلوبغا رحمہ اللہ کے رسالہ ’’تحرير الأقوال فی صوم الست من شوال‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے جھوٹا اور بلا دلیل قرار دیا ہے، اسی طرح حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”معارف السنن“ شرح ترمذی میں امام ابو حنیفہ اور امام مالک رحمہما اللہ کی طرف اس قول کی نسبت کو صیغہ تمریض ”نُسِبَ“ کے ساتھ ذکر کرنے کے بعد اخیر میں علامہ قاسم بن قطلوبغا کے رسالہ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ علامہ قاسم بن قطلوبغا رحمہ اللہ نے حنفی مذہب کے نصوص سے یہ ثابت کردیا ہے کہ امام ابو حنیفہ اور امام ابویوسف رحمہما اللہ کے نزدیک یہ روزے مستحب ہیں، لہٰذا مذکورہ روزوں کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ امام صاحب رحمہ اللہ سے ثابت نہیں ہیں بلکہ کراہت ثابت ہے، یہ کسی طرح درست نہیں ہے۔
(مستفاد ازنجم الفتاوی)
شش عید کے روزے رکھنے سے رمضان کے قضا روزے ادا نہ ہوں گے!
عوام میں یہ بات مشہور ہے کہ "شش عید کے لئے عید کے دُوسرے دن روزہ رکھنا ضروری ہے" بالکل غلط ہے، عید کے دُوسرے دن روزہ رکھنا کوئی ضروری نہیں، بلکہ عید کے مہینے میں، جب بھی چھ روزے رکھ لئے جائیں، خواہ لگاتار رکھے جائیں یا متفرق طور پر، پورا ثواب مل جائے گا، بلکہ بعض اہلِ علم نے تو عید کے دُوسرے دن روزہ رکھنے کو مکروہ کہا ہے، مگر صحیح یہ ہے کہ مکروہ نہیں، دُوسرے دن سے بھی شروع کرسکتے ہیں، شوال کے چھ روزے رکھنے سے رمضان کے قضا روزے ادا نہیں ہوں گے، بلکہ وہ الگ رکھنے ہوں گے، کیونکہ یہ نفلی روزے ہیں، اور رمضان کے فرض روزے، جب تک رمضان کے قضا روزوں کی نیت نہیں کرے گا، وہ ادا نہیں ہوں گے۔
(فتاوی یوسفی)
ایک غلط فہمی کا ازالہ!
شوال کے چھ روزے مستحب ہیں، یہ نہ فرض ہیں اور نہ واجب، اس لئے یہ سمجھنا کہ رمضان کے روزے کا اجر ان روزوں پر موقوف رہتا ہے، درست نہیں، فضائل پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ شریعت میں جس عمل کا جو درجہ ہو اس کو اسی درجہ پر رکھا جائے، کسی عمل کے لئے جو اہمیت ثابت ہے، اگر اس کو اس سے زیادہ اہمیت دے دی جا ئے تو یہ بھی بدعت ہے۔
(کتاب الفتاوی جلد سوم)
شوال کے روزوں میں دوسرے روزے کی نیت!
ماہ شوال میں جس نیت سے روزہ رکھیں گے، اسی کا اعتبار ہوگا، اگر رمضان کے روزے کی قضا کی نیت سے روزہ رکھا ہے تو قضا روزے ادا ہوں گے، شوال کے نفل روزے ادا نہ ہوں گے۔
عورت کے لئے شوال کے روزے رکھنا!
عورت بھی شوال کے روزے رکھ سکتی ہے، سوائے عورت کی ماہواری کے مخصوص ایام کے کہ ان میں نہیں رکھ سکتی۔
(مستفاد از فتاوی دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند)
شوال میں قضا روزے رکھنا افضل ہے!
جس شخص کے ذمہ فرض روزے قضا ہوں، اس کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ نفل روزہ رکھنے کی بجائے اولاً فرض کی قضا کرے، لہٰذا اگر کسی نے شوال کے چھ روزوں میں رمضان کے قضا کی نیت کرلی تو ان سے قضا کی ادائیگی درست ہوگئی، اور یہ بات مطلقاً صحیح نہیں ہے کہ جس پر قضا روزے ہوں وہ نفل روزے رکھ ہی نہیں سکتا، صحیح مسئلہ یہ ہے کہ وہ نفل روزے بھی رکھ سکتا ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ نفل کے بجائے فرض کی قضا کرے، تاکہ اس کے ذمہ سے فرض روزے ساقط ہوجائے۔
مستفاد از کتاب النوازل)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
🍇شوال کے روزوں کا استحباب 🍇
شریعت مطہرہ میں شوال کے چھ روزے مستحب اور مسنون ہیں اور حضور اکرم ﷺ کی حدیث مبارکہ میں صحیح سند کے ساتھ منقول ہے اور اس حدیث کو امام مسلم، ترمذی، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے صحیح سند کے ساتھ ذکر کیا ہے، اور فقہ حنفی کی معتبر کتابوں نے بھی ان روزوں کو مستحب اور مسنون قرار دیا ہے، لہٰذا ان روزوں کا اہتمام کرنا چاہیے۔
امام اعظم امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی طرف ان روزوں کی کراہت کا جو قول منسوب ہے، تو اس کے متعلق دو باتیں سمجھ لیں کہ۔
1⃣جن حضرات نے امام صاحب رحمہ اللہ کی طرف یہ قول منسوب کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ امام صاحب اس کو مکروہ اس لئے کہتے تھےکہ لوگ کہیں اس کو رمضان میں شمار نہ کریں جس کی وجہ سے نصاریٰ سے تشبہ پیدا ہوجائے، اب چونکہ یہ بات بھی نہیں رہی۔
2⃣جن حضرات نے امام صاحب رحمہ اللہ کی طرف کراہت کا مطلق قول منسوب کیا ہے، اس کو علامہ شامی رحمہ اللہ نے علامہ قاسم ابن قطلوبغا رحمہ اللہ کے رسالہ ’’تحرير الأقوال فی صوم الست من شوال‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے جھوٹا اور بلا دلیل قرار دیا ہے، اسی طرح حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”معارف السنن“ شرح ترمذی میں امام ابو حنیفہ اور امام مالک رحمہما اللہ کی طرف اس قول کی نسبت کو صیغہ تمریض ”نُسِبَ“ کے ساتھ ذکر کرنے کے بعد اخیر میں علامہ قاسم بن قطلوبغا کے رسالہ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ علامہ قاسم بن قطلوبغا رحمہ اللہ نے حنفی مذہب کے نصوص سے یہ ثابت کردیا ہے کہ امام ابو حنیفہ اور امام ابویوسف رحمہما اللہ کے نزدیک یہ روزے مستحب ہیں، لہٰذا مذکورہ روزوں کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ امام صاحب رحمہ اللہ سے ثابت نہیں ہیں بلکہ کراہت ثابت ہے، یہ کسی طرح درست نہیں ہے۔
(مستفاد ازنجم الفتاوی)
شش عید کے روزے رکھنے سے رمضان کے قضا روزے ادا نہ ہوں گے!
عوام میں یہ بات مشہور ہے کہ "شش عید کے لئے عید کے دُوسرے دن روزہ رکھنا ضروری ہے" بالکل غلط ہے، عید کے دُوسرے دن روزہ رکھنا کوئی ضروری نہیں، بلکہ عید کے مہینے میں، جب بھی چھ روزے رکھ لئے جائیں، خواہ لگاتار رکھے جائیں یا متفرق طور پر، پورا ثواب مل جائے گا، بلکہ بعض اہلِ علم نے تو عید کے دُوسرے دن روزہ رکھنے کو مکروہ کہا ہے، مگر صحیح یہ ہے کہ مکروہ نہیں، دُوسرے دن سے بھی شروع کرسکتے ہیں، شوال کے چھ روزے رکھنے سے رمضان کے قضا روزے ادا نہیں ہوں گے، بلکہ وہ الگ رکھنے ہوں گے، کیونکہ یہ نفلی روزے ہیں، اور رمضان کے فرض روزے، جب تک رمضان کے قضا روزوں کی نیت نہیں کرے گا، وہ ادا نہیں ہوں گے۔
(فتاوی یوسفی)
ایک غلط فہمی کا ازالہ!
شوال کے چھ روزے مستحب ہیں، یہ نہ فرض ہیں اور نہ واجب، اس لئے یہ سمجھنا کہ رمضان کے روزے کا اجر ان روزوں پر موقوف رہتا ہے، درست نہیں، فضائل پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ شریعت میں جس عمل کا جو درجہ ہو اس کو اسی درجہ پر رکھا جائے، کسی عمل کے لئے جو اہمیت ثابت ہے، اگر اس کو اس سے زیادہ اہمیت دے دی جا ئے تو یہ بھی بدعت ہے۔
(کتاب الفتاوی جلد سوم)
شوال کے روزوں میں دوسرے روزے کی نیت!
ماہ شوال میں جس نیت سے روزہ رکھیں گے، اسی کا اعتبار ہوگا، اگر رمضان کے روزے کی قضا کی نیت سے روزہ رکھا ہے تو قضا روزے ادا ہوں گے، شوال کے نفل روزے ادا نہ ہوں گے۔
عورت کے لئے شوال کے روزے رکھنا!
عورت بھی شوال کے روزے رکھ سکتی ہے، سوائے عورت کی ماہواری کے مخصوص ایام کے کہ ان میں نہیں رکھ سکتی۔
(مستفاد از فتاوی دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند)
شوال میں قضا روزے رکھنا افضل ہے!
جس شخص کے ذمہ فرض روزے قضا ہوں، اس کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ نفل روزہ رکھنے کی بجائے اولاً فرض کی قضا کرے، لہٰذا اگر کسی نے شوال کے چھ روزوں میں رمضان کے قضا کی نیت کرلی تو ان سے قضا کی ادائیگی درست ہوگئی، اور یہ بات مطلقاً صحیح نہیں ہے کہ جس پر قضا روزے ہوں وہ نفل روزے رکھ ہی نہیں سکتا، صحیح مسئلہ یہ ہے کہ وہ نفل روزے بھی رکھ سکتا ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ نفل کے بجائے فرض کی قضا کرے، تاکہ اس کے ذمہ سے فرض روزے ساقط ہوجائے۔
مستفاد از کتاب النوازل)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:0⃣8⃣
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.
سوال:
کسی عورت کے رمضان المبارک کے روزے چھوٹ گئے (ماہواری کی وجہ سے) یہ عورت شوال کے چھ 6 روزے رکھے اسی میں رمضان کے روزے کی قضاء کر لیں تو اس سے رمضان کے قضاء اور شوال کے روزے کی فضیلت دونوں شامل ہوجائے گی۔؟
برائے مہربانی جلد جواب مرحمت فرمائیں
الجواب وبہ التوفیق
صورت مسئولہ میں رمضان کے روزے فرض ہیں شوال کے چھ روزے نفل ہیں لہذا شوال کے چھ روزوں میں رمضان کے روزوں کی قضا کی نیت کرنا درست نہیں اسیطرح رمضان کا روزہ صحیح نہیں ھوگا۔
ومتی نوی شیئین مختلفین متساویین فی الوکادہ والفریضتہ ولا رجحان لاحدھما علی الآخر بطلا ومتی ترجح احدہما علی الآخر ثبت الراجح کذا فی محیط السرخسی...... واذا نوی قضاء بعض رمضان والتطوع یقع عن رمضان فی قول ابی یوسف وھو روایتہ عن ابی حنیفتہ کذا فی الذخیرہ۔
عالمگیری. جلد اول.196.197. رشیدیہ
واللہ اعلم بالصواب
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.
سوال:
کسی عورت کے رمضان المبارک کے روزے چھوٹ گئے (ماہواری کی وجہ سے) یہ عورت شوال کے چھ 6 روزے رکھے اسی میں رمضان کے روزے کی قضاء کر لیں تو اس سے رمضان کے قضاء اور شوال کے روزے کی فضیلت دونوں شامل ہوجائے گی۔؟
برائے مہربانی جلد جواب مرحمت فرمائیں
الجواب وبہ التوفیق
صورت مسئولہ میں رمضان کے روزے فرض ہیں شوال کے چھ روزے نفل ہیں لہذا شوال کے چھ روزوں میں رمضان کے روزوں کی قضا کی نیت کرنا درست نہیں اسیطرح رمضان کا روزہ صحیح نہیں ھوگا۔
ومتی نوی شیئین مختلفین متساویین فی الوکادہ والفریضتہ ولا رجحان لاحدھما علی الآخر بطلا ومتی ترجح احدہما علی الآخر ثبت الراجح کذا فی محیط السرخسی...... واذا نوی قضاء بعض رمضان والتطوع یقع عن رمضان فی قول ابی یوسف وھو روایتہ عن ابی حنیفتہ کذا فی الذخیرہ۔
عالمگیری. جلد اول.196.197. رشیدیہ
واللہ اعلم بالصواب
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:1⃣8⃣
شوال کے چھے روزے
اللہ تعالی ایسی کریم ذات ہے کہ چھوٹے عمل کا بڑا اجر اور تھوڑے عمل کا زیادہ اجر عطا فرماتے ہیں. مہربانی کی انتہاء دیکھیے کہ ہمارے بعض ان اعمال کو بھی قبول فرمالیتے ہیں جن میں اخلاص کی جگہ کچھ ریاء کا کھوٹ شامل ہوتا ہے. اسی کرم کے سہارے ہم اس دنیا میں جی رہے ہیں اور آخرت میں اسی کا سہارا ہے.
اس ذات نے خوشیوں بھری عید نصیب فرمائی جس پر اس کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے
چونکہ روزے کے اجر اللہ کریم نے از خود اپنے ذمہ لیا ہے اس لیے ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ یہ عبادت پورا سال کرے. اللہ کریم کی شان کرم دیکھیے کہ رمضان کے بعد اگر کوئی شخص رمضان کے روزوں کے ساتھ شوال کے چھ روزے بھی رکھ لے تو اسے پورا سال روزہ رکھنے کا اجر عطاء فرما دیتے ہیں.
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جس نے رمضان کے روزے رکھے، پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ پورے زمانے کے روزے رکھنے کی طرح ہے۔
🔍📖 صحیح مسلم: کتاب الصیام ،باب استحباب صوم ستۃ ايام من شوال
دوسری حدیث میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہےکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے رمضان کے روزے رکھے اور شوال کے چھ روزے رکھے تو گویا اس نے پورے سال کے روزے رکھے.
🔍📖 مسند احمد:حدیث نمبر 14302
پہلی حدیث میں شوال کے چھ روزے رکھنے کو”پورے زمانے کے روزے“اور دوسری حدیث میں ”پورے سال کے روزے“ رکھنے کی مانند قرار دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان جب رمضان المبارک کے پورے مہینے کے روزے رکھتا ہے تو ”الحسنة بعشر امثالها“ (ایک نیکی کا کم از کم اجر دس گناہ ہے) کے اصول کے مطابق اس ایک مہینے کے روزے دس مہینوں کے برابر بن جاتے ہیں۔ اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھےجائیں تو یہ دو مہینے کے روزوں برابر ہو جاتے ہیں، گویا رمضان اور اس کے بعدچھ روزے شوال میں رکھنے والا پورے سال کے روزوں کا مستحق بن جاتا ہے۔ اس سے مذکورہ حدیث کا مطلب واضح سمجھ میں آتا ہے”گویا اس نے پورے سال کے روزے رکھے“ نیز اگر مسلمان کی زندگی کا یہی معمول بن جائے کہ وہ رمضان کے ساتھ ساتھ شوال کے روزوں کو بھی مستقل رکھتا رہے تو یہ ایسے ہے جیسے اس نے پوری زندگی روزوں کے ساتھ گزاری ہو۔ اس وضاحت سے حدیث مذکور کا مضمون”یہ پورے زمانے کے روزے رکھنے کی طرح ہے“بالکل واضح ہوجاتا ہے۔ لہذا کوشش کرنی چاہیے کہ اس فضیلت کو حاصل کر لیا جائے۔
📜چند ضروری مسائل:
1⃣اگر کسی کے ذمہ؛ رمضان کے روزے ہوں تو احتیاطا پہلے ان روزوں کی قضاء کی جائے، بعد میں شوال کے بقیہ دنوں میں ان چھ روزوں کو رکھا جائے۔
🔍📖 نہایۃ المحتاج: ج10 ص310 باب فی صوم التطوع
2⃣شوال کے یہ چھ روزے عید کے فوراً بعد رکھنا ضروری نہیں بلکہ عید کے دن کے بعد جب بھی چاہیں رکھ سکتے ہیں۔ بس اس بات کا اہتمام کر لیا جائے کہ ان چھ روزوں کی تعداد شوال میں مکمل ہو جانی چاہیے۔
🔍📖 شرح النقایۃج2 ص 215 الایام التی یستحب صومھا۔
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
شوال کے چھے روزے
اللہ تعالی ایسی کریم ذات ہے کہ چھوٹے عمل کا بڑا اجر اور تھوڑے عمل کا زیادہ اجر عطا فرماتے ہیں. مہربانی کی انتہاء دیکھیے کہ ہمارے بعض ان اعمال کو بھی قبول فرمالیتے ہیں جن میں اخلاص کی جگہ کچھ ریاء کا کھوٹ شامل ہوتا ہے. اسی کرم کے سہارے ہم اس دنیا میں جی رہے ہیں اور آخرت میں اسی کا سہارا ہے.
اس ذات نے خوشیوں بھری عید نصیب فرمائی جس پر اس کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے
چونکہ روزے کے اجر اللہ کریم نے از خود اپنے ذمہ لیا ہے اس لیے ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ یہ عبادت پورا سال کرے. اللہ کریم کی شان کرم دیکھیے کہ رمضان کے بعد اگر کوئی شخص رمضان کے روزوں کے ساتھ شوال کے چھ روزے بھی رکھ لے تو اسے پورا سال روزہ رکھنے کا اجر عطاء فرما دیتے ہیں.
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جس نے رمضان کے روزے رکھے، پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ پورے زمانے کے روزے رکھنے کی طرح ہے۔
🔍📖 صحیح مسلم: کتاب الصیام ،باب استحباب صوم ستۃ ايام من شوال
دوسری حدیث میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہےکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے رمضان کے روزے رکھے اور شوال کے چھ روزے رکھے تو گویا اس نے پورے سال کے روزے رکھے.
🔍📖 مسند احمد:حدیث نمبر 14302
پہلی حدیث میں شوال کے چھ روزے رکھنے کو”پورے زمانے کے روزے“اور دوسری حدیث میں ”پورے سال کے روزے“ رکھنے کی مانند قرار دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان جب رمضان المبارک کے پورے مہینے کے روزے رکھتا ہے تو ”الحسنة بعشر امثالها“ (ایک نیکی کا کم از کم اجر دس گناہ ہے) کے اصول کے مطابق اس ایک مہینے کے روزے دس مہینوں کے برابر بن جاتے ہیں۔ اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھےجائیں تو یہ دو مہینے کے روزوں برابر ہو جاتے ہیں، گویا رمضان اور اس کے بعدچھ روزے شوال میں رکھنے والا پورے سال کے روزوں کا مستحق بن جاتا ہے۔ اس سے مذکورہ حدیث کا مطلب واضح سمجھ میں آتا ہے”گویا اس نے پورے سال کے روزے رکھے“ نیز اگر مسلمان کی زندگی کا یہی معمول بن جائے کہ وہ رمضان کے ساتھ ساتھ شوال کے روزوں کو بھی مستقل رکھتا رہے تو یہ ایسے ہے جیسے اس نے پوری زندگی روزوں کے ساتھ گزاری ہو۔ اس وضاحت سے حدیث مذکور کا مضمون”یہ پورے زمانے کے روزے رکھنے کی طرح ہے“بالکل واضح ہوجاتا ہے۔ لہذا کوشش کرنی چاہیے کہ اس فضیلت کو حاصل کر لیا جائے۔
📜چند ضروری مسائل:
1⃣اگر کسی کے ذمہ؛ رمضان کے روزے ہوں تو احتیاطا پہلے ان روزوں کی قضاء کی جائے، بعد میں شوال کے بقیہ دنوں میں ان چھ روزوں کو رکھا جائے۔
🔍📖 نہایۃ المحتاج: ج10 ص310 باب فی صوم التطوع
2⃣شوال کے یہ چھ روزے عید کے فوراً بعد رکھنا ضروری نہیں بلکہ عید کے دن کے بعد جب بھی چاہیں رکھ سکتے ہیں۔ بس اس بات کا اہتمام کر لیا جائے کہ ان چھ روزوں کی تعداد شوال میں مکمل ہو جانی چاہیے۔
🔍📖 شرح النقایۃج2 ص 215 الایام التی یستحب صومھا۔
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:2⃣8⃣
ﺷﻮﺍﻝ ﮐﮯ ﭼﮫ ﺭﻭﺯﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﻋﻈﻢ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ کا موقف
ﺑﺎﻃﻞ ﻧﮯ ﮨﺮ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﻮ ﺍﮨﻞِ ﺣﻖ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﺌﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﺣﺮﺑﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﮯ؛ﺗﻘﺮﯾﺮﻭﺗﺤﺮﯾﺮ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺍﮨﻞِ ﺣﻖ ﮐﯽ ﻋﺒﺎﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻄﻠﺐ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﮈﮬﺎﻝ ﮐﺮ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﻮ ﺑﺪﻇﻦ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ۔
ﺍﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﺍﯾﮏ ﻣﯿﺴﺞ ﻋﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺭﮨﺎ ﮨﮯﮐﮧ ﻓﻘﮧ ﺣﻨﻔﯽ ﻗﺮﺁﻥ ﻭﺣﺪﯾﺚ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﮨﮯ۔
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻣﺜﺎﻝ ﯾﻮﮞ ﺩﯼ ﮐﮧ ﺣﺪﯾﺚ ﻣﺒﺎﺭﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ : ﺟﺲ ﻧﮯ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮐﮯ ﺭﻭﺯﮮ ﺭﮐﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺷﻮﺍﻝ ﮐﮯ ﭼﮫ ﺭﻭﺯﮮ ﺭﮐﮭﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺳﺎﻝ ﺑﮭﺮ ﺭﻭﺯﮮ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺛﻮﺍﺏ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ۔
ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﻓﺘﺎﻭﯼٰ ﻋﺎﻟﻤﮕﯿﺮﯾﮧ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺳﮯ ﺗﻘﺎﺑﻞ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺑﻮﺣﻨﯿﻔﮧ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺷﻮﺍﻝ ﮐﮯ ﭼﮫ ﺭﻭﺯﮮ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮨﮯ۔
ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻏﻠﻂ ﮨﮯ۔ ﻓﻘﮧ ﺣﻨﻔﯽ ﮐﯽ ﻣﻌﺘﺒﺮ ﮐﺘﺐ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺍﺳﯽ ﻓﺘﺎﻭﯼٰ ﻋﺎﻟﻤﮕﯿﺮﯾﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺷﻮﺍﻝ ﮐﮯ 6 ﺭﻭﺯﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﺴﺘﺤﺐ ﮐﮩﺎ ﮔﯿﺎ۔
ﺑﺎﻗﯽ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﻥ ﮐﻮ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮐﮩﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﻣﻄﻠﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﯾﮧ ﺣﮑﻢ ﺧﺎﺹ ﺻﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﮨﮯ۔
ﺟﯿﺴﮯﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺨﺺ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺯﮦ ﻋﯿﺪ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺭﮐﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﻧﭻ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮨﮯ۔
ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﺍﻥ ﺭﻭﺯﻭﮞ ﮐﻮ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻓﺮﺽ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻓﺮﺽ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮨﮯ۔
ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺨﺺ ﻋﯿﺪﺍﻟﻔﻄﺮ ﮐﮯ ﺩﻥ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻓﺮﺽ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺷﻮﺍﻝ ﮐﮯ 6 ﺭﻭﺯﮮ ﺭﮐﮭﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻣﺴﺘﺤﺐ ﮨﮯ۔ﺍﺣﻨﺎﻑ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺭﺍﺟﺢ ﯾﮩﯽ ﻗﻮﻝ ﮨﮯ۔
ﭼﻨﺪ ﺗﺼﺮﯾﺤﺎﺕ ﻣﻼﺣﻈﮧ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ:
1⃣ ﻭَﺍﻟْﺄَﺻَﺢُّ ﺃَﻧَّﻪُ ﻟَﺎ ﺑَﺄْﺱَ ﺑِﻪِ۔۔۔۔ ﻭَﺗُﺴْﺘَﺤَﺐُّ ﺍﻟﺴِّﺘَّﺔُ ﻣُﺘَﻔَﺮِّﻗَﺔً ﻛُﻞَّ ﺃُﺳْﺒُﻮﻉٍ ﻳَﻮْﻣَﺎﻥِ۔۔۔۔۔۔۔ ﻭَﻳُﻜْﺮَﻩُ ﺻَﻮْﻡُ ﺍﻟْﻮِﺻَﺎﻝِ ﻭﻫﻮ ﺃَﻥْ ﻳَﺼُﻮﻡَ ﺍﻟﺴَّﻨَﺔَ ﻛُﻠَّﻬَﺎ ﻭَﻟَﺎ ﻳُﻔْﻄِﺮَ ﻓﻲ ﺍﻟْﺄَﻳَّﺎﻡِ ﺍﻟْﻤَﻨْﻬِﻲِّ ﻋﻨﻬﺎ ﻭﺇﺫﺍ ﺃَﻓْﻄَﺮَ ﻓﻲ ﺍﻟْﺄَﻳَّﺎﻡِ ﺍﻟْﻤَﻨْﻬِﻴَّﺔِ ﺍﻟْﻤُﺨْﺘَﺎﺭُ ﺃَﻧَّﻪُ ﻟَﺎ ﺑَﺄْﺱَ ﺑِﻪِ
( ﻓﺘﺎﻭﯼ ﻋﺎﻟﻤﮕﯿﺮﯼ ﺝ 1 ﺹ 221 ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺼﻮﻡ ﺑﺎﺏ ﻓﯿﻤﺎﯾﮑﺮﮦ ﻟﻠﺼﺎﺋﻢ ﻭﻣﺎﻻ ﯾﮑﺮﮦ )
ﺣﺎﺻﻞ ﻋﺒﺎﺭﺕ : ﺷﻮﺍﻝ ﮐﮯ ﭼﮫ ﺭﻭﺯﻭﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﻗﻮﻝ ﮨﯿﮟ۔
1⃣ : ﻣﮑﺮﻭﮦ، 2⃣ : ﻣﺴﺘﺤﺐ
ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺨﺺ ﻋﯿﺪ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺑﮭﯽ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﻋﯿﺪ ﮐﺎ ﺩﻥ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﺗﻮ ﻣﺴﺘﺤﺐ ﮨﮯ۔
2⃣ ﻭﻧﺪﺏ ﺗﻔﺮﻳﻖ ﺻﻮﻡ ﺍﻟﺴﺖ ﻣﻦ ﺷﻮﺍﻝ ﻭﻻ ﻳﻜﺮﻩ ﺍﻟﺘﺘﺎﺑﻊ ﻋﻠﻰ ﺍﻟﻤﺨﺘﺎﺭ ﺧﻼﻓﺎ ﻟﻠﺜﺎﻧﻲ۔۔۔ ﻭﺍﻻﺗﺒﺎﻉ ﺍﻟﻤﻜﺮﻭﻩ ﺃﻥ ﻳﺼﻮﻡ ﺍﻟﻔﻄﺮ ﻭﺧﻤﺴﺔ ﺑﻌﺪﻩ ﻓﻠﻮ ﺃﻓﻄﺮ ﻟﻢ ﻳﻜﺮﻩ ﺑﻞ ﻳﺴﺘﺤﺐ ﻭﻳﺴﻦ
( ﺭﺩ ﺍﻟﻤﺤﺘﺎﺭ ﺝ 3 ﺹ 485 ،486 ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺼﻮﻡ : ﻣﻄﻠﺐ ﻓﯽ ﺻﻮﻡ ﺍﻟﺴﺖ ﻣﻦ ﺷﻮﺍﻝ
ﺍﺱ ﻋﺒﺎﺭﺕ ﮐﺎ ﺣﺎﺻﻞ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺷﻮﺍﻝ ﮐﮯ ﺭﻭﺯﮮ ﻣﺴﺘﺤﺐ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﯿﺪ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺳﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮨﮯ۔
ﯾﮩﯽ ﺑﺎﺕ ﺑﺪﺍﺋﻊ ﺍﻟﺼﻨﺎﺋﻊ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﺬﮐﻮﺭ ﮨﮯ۔
[ ﺝ 2 ﺹ 215 ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺼﻮﻡ ﺍﻟﺼﯿﺎﻡ ﻓﯽ ﺍﻻﯾﺎﻡ ﺍﻟﻤﮑﺮﻭﮨۃ ]
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
ﺷﻮﺍﻝ ﮐﮯ ﭼﮫ ﺭﻭﺯﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﻋﻈﻢ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ کا موقف
ﺑﺎﻃﻞ ﻧﮯ ﮨﺮ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﻮ ﺍﮨﻞِ ﺣﻖ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﺌﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﺣﺮﺑﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﮯ؛ﺗﻘﺮﯾﺮﻭﺗﺤﺮﯾﺮ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺍﮨﻞِ ﺣﻖ ﮐﯽ ﻋﺒﺎﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻄﻠﺐ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﮈﮬﺎﻝ ﮐﺮ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﻮ ﺑﺪﻇﻦ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ۔
ﺍﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﺍﯾﮏ ﻣﯿﺴﺞ ﻋﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺭﮨﺎ ﮨﮯﮐﮧ ﻓﻘﮧ ﺣﻨﻔﯽ ﻗﺮﺁﻥ ﻭﺣﺪﯾﺚ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﮨﮯ۔
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻣﺜﺎﻝ ﯾﻮﮞ ﺩﯼ ﮐﮧ ﺣﺪﯾﺚ ﻣﺒﺎﺭﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ : ﺟﺲ ﻧﮯ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮐﮯ ﺭﻭﺯﮮ ﺭﮐﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺷﻮﺍﻝ ﮐﮯ ﭼﮫ ﺭﻭﺯﮮ ﺭﮐﮭﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺳﺎﻝ ﺑﮭﺮ ﺭﻭﺯﮮ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺛﻮﺍﺏ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ۔
ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﻓﺘﺎﻭﯼٰ ﻋﺎﻟﻤﮕﯿﺮﯾﮧ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺳﮯ ﺗﻘﺎﺑﻞ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺑﻮﺣﻨﯿﻔﮧ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺷﻮﺍﻝ ﮐﮯ ﭼﮫ ﺭﻭﺯﮮ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮨﮯ۔
ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻏﻠﻂ ﮨﮯ۔ ﻓﻘﮧ ﺣﻨﻔﯽ ﮐﯽ ﻣﻌﺘﺒﺮ ﮐﺘﺐ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺍﺳﯽ ﻓﺘﺎﻭﯼٰ ﻋﺎﻟﻤﮕﯿﺮﯾﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺷﻮﺍﻝ ﮐﮯ 6 ﺭﻭﺯﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﺴﺘﺤﺐ ﮐﮩﺎ ﮔﯿﺎ۔
ﺑﺎﻗﯽ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﻥ ﮐﻮ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮐﮩﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﻣﻄﻠﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﯾﮧ ﺣﮑﻢ ﺧﺎﺹ ﺻﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﮨﮯ۔
ﺟﯿﺴﮯﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺨﺺ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺯﮦ ﻋﯿﺪ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺭﮐﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﻧﭻ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮨﮯ۔
ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﺍﻥ ﺭﻭﺯﻭﮞ ﮐﻮ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻓﺮﺽ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻓﺮﺽ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮨﮯ۔
ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺨﺺ ﻋﯿﺪﺍﻟﻔﻄﺮ ﮐﮯ ﺩﻥ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻓﺮﺽ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺷﻮﺍﻝ ﮐﮯ 6 ﺭﻭﺯﮮ ﺭﮐﮭﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻣﺴﺘﺤﺐ ﮨﮯ۔ﺍﺣﻨﺎﻑ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺭﺍﺟﺢ ﯾﮩﯽ ﻗﻮﻝ ﮨﮯ۔
ﭼﻨﺪ ﺗﺼﺮﯾﺤﺎﺕ ﻣﻼﺣﻈﮧ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ:
1⃣ ﻭَﺍﻟْﺄَﺻَﺢُّ ﺃَﻧَّﻪُ ﻟَﺎ ﺑَﺄْﺱَ ﺑِﻪِ۔۔۔۔ ﻭَﺗُﺴْﺘَﺤَﺐُّ ﺍﻟﺴِّﺘَّﺔُ ﻣُﺘَﻔَﺮِّﻗَﺔً ﻛُﻞَّ ﺃُﺳْﺒُﻮﻉٍ ﻳَﻮْﻣَﺎﻥِ۔۔۔۔۔۔۔ ﻭَﻳُﻜْﺮَﻩُ ﺻَﻮْﻡُ ﺍﻟْﻮِﺻَﺎﻝِ ﻭﻫﻮ ﺃَﻥْ ﻳَﺼُﻮﻡَ ﺍﻟﺴَّﻨَﺔَ ﻛُﻠَّﻬَﺎ ﻭَﻟَﺎ ﻳُﻔْﻄِﺮَ ﻓﻲ ﺍﻟْﺄَﻳَّﺎﻡِ ﺍﻟْﻤَﻨْﻬِﻲِّ ﻋﻨﻬﺎ ﻭﺇﺫﺍ ﺃَﻓْﻄَﺮَ ﻓﻲ ﺍﻟْﺄَﻳَّﺎﻡِ ﺍﻟْﻤَﻨْﻬِﻴَّﺔِ ﺍﻟْﻤُﺨْﺘَﺎﺭُ ﺃَﻧَّﻪُ ﻟَﺎ ﺑَﺄْﺱَ ﺑِﻪِ
( ﻓﺘﺎﻭﯼ ﻋﺎﻟﻤﮕﯿﺮﯼ ﺝ 1 ﺹ 221 ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺼﻮﻡ ﺑﺎﺏ ﻓﯿﻤﺎﯾﮑﺮﮦ ﻟﻠﺼﺎﺋﻢ ﻭﻣﺎﻻ ﯾﮑﺮﮦ )
ﺣﺎﺻﻞ ﻋﺒﺎﺭﺕ : ﺷﻮﺍﻝ ﮐﮯ ﭼﮫ ﺭﻭﺯﻭﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﻗﻮﻝ ﮨﯿﮟ۔
1⃣ : ﻣﮑﺮﻭﮦ، 2⃣ : ﻣﺴﺘﺤﺐ
ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺨﺺ ﻋﯿﺪ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺑﮭﯽ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﻋﯿﺪ ﮐﺎ ﺩﻥ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﺗﻮ ﻣﺴﺘﺤﺐ ﮨﮯ۔
2⃣ ﻭﻧﺪﺏ ﺗﻔﺮﻳﻖ ﺻﻮﻡ ﺍﻟﺴﺖ ﻣﻦ ﺷﻮﺍﻝ ﻭﻻ ﻳﻜﺮﻩ ﺍﻟﺘﺘﺎﺑﻊ ﻋﻠﻰ ﺍﻟﻤﺨﺘﺎﺭ ﺧﻼﻓﺎ ﻟﻠﺜﺎﻧﻲ۔۔۔ ﻭﺍﻻﺗﺒﺎﻉ ﺍﻟﻤﻜﺮﻭﻩ ﺃﻥ ﻳﺼﻮﻡ ﺍﻟﻔﻄﺮ ﻭﺧﻤﺴﺔ ﺑﻌﺪﻩ ﻓﻠﻮ ﺃﻓﻄﺮ ﻟﻢ ﻳﻜﺮﻩ ﺑﻞ ﻳﺴﺘﺤﺐ ﻭﻳﺴﻦ
( ﺭﺩ ﺍﻟﻤﺤﺘﺎﺭ ﺝ 3 ﺹ 485 ،486 ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺼﻮﻡ : ﻣﻄﻠﺐ ﻓﯽ ﺻﻮﻡ ﺍﻟﺴﺖ ﻣﻦ ﺷﻮﺍﻝ
ﺍﺱ ﻋﺒﺎﺭﺕ ﮐﺎ ﺣﺎﺻﻞ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺷﻮﺍﻝ ﮐﮯ ﺭﻭﺯﮮ ﻣﺴﺘﺤﺐ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﯿﺪ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺳﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮨﮯ۔
ﯾﮩﯽ ﺑﺎﺕ ﺑﺪﺍﺋﻊ ﺍﻟﺼﻨﺎﺋﻊ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﺬﮐﻮﺭ ﮨﮯ۔
[ ﺝ 2 ﺹ 215 ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺼﻮﻡ ﺍﻟﺼﯿﺎﻡ ﻓﯽ ﺍﻻﯾﺎﻡ ﺍﻟﻤﮑﺮﻭﮨۃ ]
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:3⃣8⃣
سوال:
ایک آدمی عصر کی نماز پڑھ رہا تھا ایک رکعت باقی تھی اتنے میں غروب آفتاب کا وقت ہو گیا تو ایسی صورت میں آدمی کیا کرے؟
یعنی نماز مکمل کرے یا نہ کرے؟
اور اگر کسی نے نماز مکمل کر لی تو کیا نماز ہوگئی یا دوبارہ پڑھنی ہوگی ؟
جواب:
ایسی صورت میں آدمی اس بقیہ رکعت کو مکمل کرلے، اس کی وہی نماز درست ہوجائے گی، دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے،
حدیث: عن أبي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "إذا أدرك أحدكم سجدة من صلاة العصر قبل أن تغرب الشمس فليتم صلاته"
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر عصر کی نماز کی ایک رکعت بھی کوئی شخص سورج غروب ہونے سے پہلے پا سکا تو پوری نماز پڑھے، یعنی بقیہ رکعت بھی مکمل کرلے، نماز درست ہوجائے گی، اور اس کی نماز ادا شمار ہوگی،
(صحیح بخاری حدیث: 556)
حدیث ٢: "عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَدْرَکَ مِنْ الْعَصْرِ سَجْدَةً قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ أَوْ مِنْ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ فَقَدْ أَدْرَکَهَا وَالسَّجْدَةُ إِنَّمَا هِيَ الرَّکْعَةُ"
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس آدمی نے سورج کے غروب ہونے سے پہلے عصر کی نماز میں سے ایک سجدہ کو پالیا یا جس آدمی نے سورج کے نکلنے سے پہلے صبح کی نماز سے ایک سجدہ کو پالیا تو اس نے اس نماز کو پالیا اور سجدہ سے رکعت مراد ہے،
(صحیح مسلم حدیث: 1274/ 76/ 77)
📓 فقہی حوالہ: "وکرہ صلاۃ مطلقا مع شروق واستواء وغروب الا عصر یومہ فلا یکرہ فعلہ" (شامی زکریا ٢/ ٣٢)(نور الایضاح ص:٥٩)
(ماخوذ از: کتاب المسائل ١/ ٢٤٣)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سوال:
ایک آدمی عصر کی نماز پڑھ رہا تھا ایک رکعت باقی تھی اتنے میں غروب آفتاب کا وقت ہو گیا تو ایسی صورت میں آدمی کیا کرے؟
یعنی نماز مکمل کرے یا نہ کرے؟
اور اگر کسی نے نماز مکمل کر لی تو کیا نماز ہوگئی یا دوبارہ پڑھنی ہوگی ؟
جواب:
ایسی صورت میں آدمی اس بقیہ رکعت کو مکمل کرلے، اس کی وہی نماز درست ہوجائے گی، دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے،
حدیث: عن أبي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "إذا أدرك أحدكم سجدة من صلاة العصر قبل أن تغرب الشمس فليتم صلاته"
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر عصر کی نماز کی ایک رکعت بھی کوئی شخص سورج غروب ہونے سے پہلے پا سکا تو پوری نماز پڑھے، یعنی بقیہ رکعت بھی مکمل کرلے، نماز درست ہوجائے گی، اور اس کی نماز ادا شمار ہوگی،
(صحیح بخاری حدیث: 556)
حدیث ٢: "عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَدْرَکَ مِنْ الْعَصْرِ سَجْدَةً قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ أَوْ مِنْ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ فَقَدْ أَدْرَکَهَا وَالسَّجْدَةُ إِنَّمَا هِيَ الرَّکْعَةُ"
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس آدمی نے سورج کے غروب ہونے سے پہلے عصر کی نماز میں سے ایک سجدہ کو پالیا یا جس آدمی نے سورج کے نکلنے سے پہلے صبح کی نماز سے ایک سجدہ کو پالیا تو اس نے اس نماز کو پالیا اور سجدہ سے رکعت مراد ہے،
(صحیح مسلم حدیث: 1274/ 76/ 77)
📓 فقہی حوالہ: "وکرہ صلاۃ مطلقا مع شروق واستواء وغروب الا عصر یومہ فلا یکرہ فعلہ" (شامی زکریا ٢/ ٣٢)(نور الایضاح ص:٥٩)
(ماخوذ از: کتاب المسائل ١/ ٢٤٣)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
