جواب نمبر:9⃣5⃣
Pakistanسوال # 49707
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام مبارک پر انگوٹھے چومنا قرآن وحدیث سے ثابت ہے؟
Published on: Dec 5, 2013 جواب # 49707
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 113-105/B=1/1435-U
یہ بدعتیوں کا ایجاد کردہ عمل ہے، قرآن وحدیث سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا ہے۔ اور نہ کسی صحابی سے یہ عمل منقول ہے، اس سے بچنا ہی ضروری ہے۔
__________________
جواب صحیح ہے اور اس سلسلہ میں اہل بدعت جو روایتیں نقل کرتے ہیں وہ موضوع یا حد درجہ ضعیف ہیں۔ (ن)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
http://t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
Pakistanسوال # 49707
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام مبارک پر انگوٹھے چومنا قرآن وحدیث سے ثابت ہے؟
Published on: Dec 5, 2013 جواب # 49707
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 113-105/B=1/1435-U
یہ بدعتیوں کا ایجاد کردہ عمل ہے، قرآن وحدیث سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا ہے۔ اور نہ کسی صحابی سے یہ عمل منقول ہے، اس سے بچنا ہی ضروری ہے۔
__________________
جواب صحیح ہے اور اس سلسلہ میں اہل بدعت جو روایتیں نقل کرتے ہیں وہ موضوع یا حد درجہ ضعیف ہیں۔ (ن)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
http://t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:0⃣6⃣
Pakistanسوال # 62410
(۱) مجھے کسی نے کہا ہے کہ حضور پاک کے نام پر انگوٹھے چومنا حضرت آدم علیہ السلام کی اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سنت ہے یہ بات ٹھیک ہے یا نہیں؟
(۲) حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نام کر انگوٹھے چومنا جائز ہے یا ناجائز؟
جواب دلائل کے ساتھ دے دیں تو سمجھنے میں آسانی ہو گی۔جزاک اللہ.
Published on: Dec 16, 2015 جواب # 62410
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 166-172/L=3/1437-U
(۱) (۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام مبارک کے ذکر کے وقت انگوٹھا چومنا کسی خاص عقیدے کے پیش نظر جائز نہیں ہے، اس بارے میں حضرت آدم علیہ السلام کا ایک عمل قصص الانبیاء وغیرہ میں مذکور ہے نیز اذان کے وقت نبی علیہ السلام کے نام مبارک یعنی أشہد أن محمدا رسول اللہ پر انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر پھیرنے کے سلسلے میں حضرت خضر علیہ السلام وحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت منقول ہے، لیکن یہ تمام کی تمام روایات موضوع ہیں، علامہ شامی فرماتے ہیں، وذکر ذلک الجراحی وأطال، ثم قال: ولم یصح فی المرفوع من کل ہذا شیء․ (رد المحتار: ۲/۶۸، ط زکریا دیوبند) علامہ جراحی نے اس کو ذکر کرکے اس پر لمبی بحث کی ہے، پھر فرمایا اس سلسلے میں کوئی مرفوع حدیث ثابت نہیں ہے، علامہ سخاوی فرماتے ہیں: وحکی الخطابي في شرح مختصرة خلیل حکایة آخر غیر ما ہنا وتوسع في ذلک ولا یصح شيء من ہذا في المرفوع کما قال الموٴلف بل کلہ مختلق موضوع․
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
Pakistanسوال # 62410
(۱) مجھے کسی نے کہا ہے کہ حضور پاک کے نام پر انگوٹھے چومنا حضرت آدم علیہ السلام کی اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سنت ہے یہ بات ٹھیک ہے یا نہیں؟
(۲) حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نام کر انگوٹھے چومنا جائز ہے یا ناجائز؟
جواب دلائل کے ساتھ دے دیں تو سمجھنے میں آسانی ہو گی۔جزاک اللہ.
Published on: Dec 16, 2015 جواب # 62410
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 166-172/L=3/1437-U
(۱) (۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام مبارک کے ذکر کے وقت انگوٹھا چومنا کسی خاص عقیدے کے پیش نظر جائز نہیں ہے، اس بارے میں حضرت آدم علیہ السلام کا ایک عمل قصص الانبیاء وغیرہ میں مذکور ہے نیز اذان کے وقت نبی علیہ السلام کے نام مبارک یعنی أشہد أن محمدا رسول اللہ پر انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر پھیرنے کے سلسلے میں حضرت خضر علیہ السلام وحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت منقول ہے، لیکن یہ تمام کی تمام روایات موضوع ہیں، علامہ شامی فرماتے ہیں، وذکر ذلک الجراحی وأطال، ثم قال: ولم یصح فی المرفوع من کل ہذا شیء․ (رد المحتار: ۲/۶۸، ط زکریا دیوبند) علامہ جراحی نے اس کو ذکر کرکے اس پر لمبی بحث کی ہے، پھر فرمایا اس سلسلے میں کوئی مرفوع حدیث ثابت نہیں ہے، علامہ سخاوی فرماتے ہیں: وحکی الخطابي في شرح مختصرة خلیل حکایة آخر غیر ما ہنا وتوسع في ذلک ولا یصح شيء من ہذا في المرفوع کما قال الموٴلف بل کلہ مختلق موضوع․
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:1⃣6⃣
Indiaسوال # 63294
اور جب نماز کے لیے تکبیر کہی جاتی ہے تو انگلی اٹھانا اور انگوٹھیوں کو چومنا کیسا ہے؟
براہ کرم، قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں۔
Published on: Jan 18, 2016 جواب # 63294
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 317-317/M=4/1437-U
نماز شروع کرتے وقت جو تکبیر کہی جاتی ہے جس کو تکبیر تحریمہ کہتے ہیں اس تکبیر میں صرف ہاتھ اٹھانا ثابت ہے، انگوٹھوں کو چومنا ثابت نہیں، او اگر تکبیر سے مراد اقامت ہے جو جماعت کھڑی ہونے کے وقت کہی جاتی ہے تو اس میں بھی انگلی اٹھانا اور انگوٹھا چومنا ثابت نہیں، بعض لوگ کلمہٴ شہادت کے وقت انگوٹھا چومنے کو ثواب اور سنت سمجھتے ہیں یہ صحیح نہیں، اس سے بچنا چاہیے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
Indiaسوال # 63294
اور جب نماز کے لیے تکبیر کہی جاتی ہے تو انگلی اٹھانا اور انگوٹھیوں کو چومنا کیسا ہے؟
براہ کرم، قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں۔
Published on: Jan 18, 2016 جواب # 63294
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 317-317/M=4/1437-U
نماز شروع کرتے وقت جو تکبیر کہی جاتی ہے جس کو تکبیر تحریمہ کہتے ہیں اس تکبیر میں صرف ہاتھ اٹھانا ثابت ہے، انگوٹھوں کو چومنا ثابت نہیں، او اگر تکبیر سے مراد اقامت ہے جو جماعت کھڑی ہونے کے وقت کہی جاتی ہے تو اس میں بھی انگلی اٹھانا اور انگوٹھا چومنا ثابت نہیں، بعض لوگ کلمہٴ شہادت کے وقت انگوٹھا چومنے کو ثواب اور سنت سمجھتے ہیں یہ صحیح نہیں، اس سے بچنا چاہیے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:2⃣6⃣
Indiaسوال # 66909
جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سنیں کیا تو اس وقت اپنے انگوٹھے سے اپنی آنکھوں کو چھونا درست ہے یا نہیں؟
براہ کرم، اس بارے میں وضاحت فرمائیں۔
Published on: Jul 17, 2016 جواب # 66909
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 874-858/Sd=10/1437
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سننے پر درود شریف پڑھنا چاہیے، اس وقت انگوٹھے سے آنکھوں کا چھونا ثابت نہیں ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
Indiaسوال # 66909
جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سنیں کیا تو اس وقت اپنے انگوٹھے سے اپنی آنکھوں کو چھونا درست ہے یا نہیں؟
براہ کرم، اس بارے میں وضاحت فرمائیں۔
Published on: Jul 17, 2016 جواب # 66909
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 874-858/Sd=10/1437
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سننے پر درود شریف پڑھنا چاہیے، اس وقت انگوٹھے سے آنکھوں کا چھونا ثابت نہیں ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:3⃣6⃣
سوال # 46312
(۱) اگر نماز کی آخری رکعت میں امام کے ساتھ شامل ہو تو ہم کو اپنی رکعتیں کس طرح تعین کرنا ہوگا؟ مسئلہ تو پہلے دو رکعت تعین کرنے کا ہے؟(۲) نماز کو دیر کرکے پڑھنے والوں پر کیا حکم ہے؟(۳) اگر چار رکعات والی نماز ہو اور کسی شخص نے تین رکعات ہی پڑھی اور یہ سوچتاہے کہ چار پڑھ لی ہیں، کیوں کہ اس طرح کئی دفعہ محسوس ہوتاہے تو کیا حکم ہوگا؟ (۴) نماز کن حالات میں د ہرانا فرض ہے؟(۵) اگر کوئی نماز میں شامل ہوتے ہوئے تکبیر اولی کوز بان سے ادا نہ کرے بس صرف دل ہی دل میں کہہ لے تو کیا یہ کافی ہے؟(۶) نماز کے اذکار اگر دل ہی دل میں پڑھ لے اور زبان سے ادا کرنے میں کوتاہی کرے تو کیا نمازہوجائے گی؟(۷) نماز میں دھیان پیدا کرنے کے لیے کیا کرنا چاہئے؟(۸) واجب الوتر کی قضا بھی فرض ہے؟اگر نہ کرے تو کیا گناہ ہوگا(۹) اگر ایک شخص کو معلوم نہیں ہے کہ کتنی نماز یں قضاہوئی ہیں تو کس طرح قضائے عمری کرے گا؟
Published on: Aug 24, 2013 جواب # 46312
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی: 981/201/D=10/1434
چھوٹی ہوئی رکعتوں کے ادا کرنے کے سلسلہ میں ضابطہ یہ ہے کہ چھوٹی ہوئی رکعتیں ”قرأت کے حق میں اول نماز مانی جائیں گی“ چنانچہ شروع کی دو رکعتوں میں سورہٴ فاتحہ اور ضم سورہ کیا جائے گا، اور ”قعدہ کے حق میںآ خر نماز“ چنانچہ ایک رکعت پانے والا ایک رکعت مزید ادا کرکے قعدہ کرلے گا، لہٰذا جس شخص کی عصر یا ظہر کی تین رکعتیں چھوٹی ہوں وہ پہلی رکعت میں سورہٴ فاتحہ اور ضم سورہ کرکے رکوع سجدہ کے بعد قعدہ کرے گا پھر دوسری رکعت کے لیے اٹھے گا (جو واقع میں تیسری رکعت ہے) اور اس میں سورہٴ فاتحہ اور ضم سورہ کرے گا، مگر رکوع سجدہ کے بعد قعدہ نہیں کرے گا بلکہ تیسری رکعت (جو واقع میں چوتھی رکعت ہے) کے لیے کھڑا ہوجائے گا اور صرف سورہٴ فاتحہ پڑھے گا، دوسری سورہ نہیں ملائے گا، پھر رکوع سجدہ قعدہ کرکے سلام پھیردے گا۔
(۲) وقت مستحب سے موخر کرکے پڑھنا خلافِ اولیٰ ہے یعنی اس سے ثواب میں کمی آجاتی ہے، اور بلاعذر وقت مکروہ میں پڑھنا مکروہ یعنی باعث گناہ ہے اور قضا کردینا بہت ہی سخت گناہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے انتہا درجہ کی کوتاہی فرمایا ہے قال أما أنہ لیس في النوم تفریط إنما التفریط علی من لم یصل حتی یجيء وقت الصلاة الأخری (رواہ مسلم)
(۳) اگر پہلی بار ایسا اتفاق ہوا ہو تو از سر نو دوبارہ نماز پڑھ لے او راگر ایسا شبہ اکثر پیش آجاتا ہے تو کم تعداد جو کہ یقینی ہے اسے مان کر بقیہ رکعت پوری کرے، مثلاً دو اور تین میں شبہ ہوا تو دو مان کر بقیہ نماز پڑھے، مگر احتیاطاً تیسری رکعت میں بھی قعدہ کرے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ یہ چوتھی ہو اور چوتھی میں قعدہ اخیرہ فرض ہے۔
(۴) (الف) جب نماز کی کوئی شرط پوری نہ ہو مثلاً وضو، غسل، کپڑے کی طہارت کے بغیر نماز پڑھ لیا ہو۔ (ب) یا نماز کا کوئی رکن (فرض) ادا کرنے سے رہ گیا مثلاً کسی رکعت کا رکوع یا سجدہ نہیں کیا ان صورتوں میں نماز کا دہرانا فرض ہے۔ (ج) کسی واجب کے چھوٹنے یا فرض کے موٴخر ہونے کی بنا پر سجدہٴ سہو واجب ہوا ہو مگر اس نے سجدہٴ سہو نہیں کیا تو نماز واجب الاعادہ ہوتی ہے۔ تفصیل کے لیے بہشتی زیور حصہ اول دوم یا بہشتی ثمر حصہ اول پڑھیں تاکہ نماز کے مسائل یاد ہوجائیں کیونکہ ان کی ضرورت اکثر پیش آتی ہے۔
(۵) زبان سے ادا کرنا ضروری ہے، ایسی آواز کہ آدمی خود سن لے یا کم ازکم حروف کی ادائیگی صحیح طور پر ہوجائے ضروری ہے۔
(۶) اس کا بھی وہی حکم ہے جو تکبیر کا ہے جن چیزوں کا کہنا فرض یا واجب ہے، مثلاً قرأت تشہد (التحیات) ان کی ادائیگی زبان سے نہ ہونے کی صورت میں نماز صحیح نہیں ہوگی اور جن چیزوں کا کہنا سنت ہے مثلاً رکوع سجدہ کی تسبیح ان کے زبان سے نہ کہنے کی صورت میں ثواب میں کمی آجائے گی۔
(۷) جو رکن ادا کررہا ہے یا جو الفاظ زبان سے نکال رہا ہے اس کی طرف دھیان رکھے۔
(۸) جی ہاں گناہ ہوگا۔
(۹) اندازہ سے حساب لگاکر یاد داشت میں نوٹ کرے پھر تھوڑا تھوڑا ادا کرتا رہے اور یادداشت میں نشان لگاتا رہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سوال # 46312
(۱) اگر نماز کی آخری رکعت میں امام کے ساتھ شامل ہو تو ہم کو اپنی رکعتیں کس طرح تعین کرنا ہوگا؟ مسئلہ تو پہلے دو رکعت تعین کرنے کا ہے؟(۲) نماز کو دیر کرکے پڑھنے والوں پر کیا حکم ہے؟(۳) اگر چار رکعات والی نماز ہو اور کسی شخص نے تین رکعات ہی پڑھی اور یہ سوچتاہے کہ چار پڑھ لی ہیں، کیوں کہ اس طرح کئی دفعہ محسوس ہوتاہے تو کیا حکم ہوگا؟ (۴) نماز کن حالات میں د ہرانا فرض ہے؟(۵) اگر کوئی نماز میں شامل ہوتے ہوئے تکبیر اولی کوز بان سے ادا نہ کرے بس صرف دل ہی دل میں کہہ لے تو کیا یہ کافی ہے؟(۶) نماز کے اذکار اگر دل ہی دل میں پڑھ لے اور زبان سے ادا کرنے میں کوتاہی کرے تو کیا نمازہوجائے گی؟(۷) نماز میں دھیان پیدا کرنے کے لیے کیا کرنا چاہئے؟(۸) واجب الوتر کی قضا بھی فرض ہے؟اگر نہ کرے تو کیا گناہ ہوگا(۹) اگر ایک شخص کو معلوم نہیں ہے کہ کتنی نماز یں قضاہوئی ہیں تو کس طرح قضائے عمری کرے گا؟
Published on: Aug 24, 2013 جواب # 46312
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی: 981/201/D=10/1434
چھوٹی ہوئی رکعتوں کے ادا کرنے کے سلسلہ میں ضابطہ یہ ہے کہ چھوٹی ہوئی رکعتیں ”قرأت کے حق میں اول نماز مانی جائیں گی“ چنانچہ شروع کی دو رکعتوں میں سورہٴ فاتحہ اور ضم سورہ کیا جائے گا، اور ”قعدہ کے حق میںآ خر نماز“ چنانچہ ایک رکعت پانے والا ایک رکعت مزید ادا کرکے قعدہ کرلے گا، لہٰذا جس شخص کی عصر یا ظہر کی تین رکعتیں چھوٹی ہوں وہ پہلی رکعت میں سورہٴ فاتحہ اور ضم سورہ کرکے رکوع سجدہ کے بعد قعدہ کرے گا پھر دوسری رکعت کے لیے اٹھے گا (جو واقع میں تیسری رکعت ہے) اور اس میں سورہٴ فاتحہ اور ضم سورہ کرے گا، مگر رکوع سجدہ کے بعد قعدہ نہیں کرے گا بلکہ تیسری رکعت (جو واقع میں چوتھی رکعت ہے) کے لیے کھڑا ہوجائے گا اور صرف سورہٴ فاتحہ پڑھے گا، دوسری سورہ نہیں ملائے گا، پھر رکوع سجدہ قعدہ کرکے سلام پھیردے گا۔
(۲) وقت مستحب سے موخر کرکے پڑھنا خلافِ اولیٰ ہے یعنی اس سے ثواب میں کمی آجاتی ہے، اور بلاعذر وقت مکروہ میں پڑھنا مکروہ یعنی باعث گناہ ہے اور قضا کردینا بہت ہی سخت گناہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے انتہا درجہ کی کوتاہی فرمایا ہے قال أما أنہ لیس في النوم تفریط إنما التفریط علی من لم یصل حتی یجيء وقت الصلاة الأخری (رواہ مسلم)
(۳) اگر پہلی بار ایسا اتفاق ہوا ہو تو از سر نو دوبارہ نماز پڑھ لے او راگر ایسا شبہ اکثر پیش آجاتا ہے تو کم تعداد جو کہ یقینی ہے اسے مان کر بقیہ رکعت پوری کرے، مثلاً دو اور تین میں شبہ ہوا تو دو مان کر بقیہ نماز پڑھے، مگر احتیاطاً تیسری رکعت میں بھی قعدہ کرے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ یہ چوتھی ہو اور چوتھی میں قعدہ اخیرہ فرض ہے۔
(۴) (الف) جب نماز کی کوئی شرط پوری نہ ہو مثلاً وضو، غسل، کپڑے کی طہارت کے بغیر نماز پڑھ لیا ہو۔ (ب) یا نماز کا کوئی رکن (فرض) ادا کرنے سے رہ گیا مثلاً کسی رکعت کا رکوع یا سجدہ نہیں کیا ان صورتوں میں نماز کا دہرانا فرض ہے۔ (ج) کسی واجب کے چھوٹنے یا فرض کے موٴخر ہونے کی بنا پر سجدہٴ سہو واجب ہوا ہو مگر اس نے سجدہٴ سہو نہیں کیا تو نماز واجب الاعادہ ہوتی ہے۔ تفصیل کے لیے بہشتی زیور حصہ اول دوم یا بہشتی ثمر حصہ اول پڑھیں تاکہ نماز کے مسائل یاد ہوجائیں کیونکہ ان کی ضرورت اکثر پیش آتی ہے۔
(۵) زبان سے ادا کرنا ضروری ہے، ایسی آواز کہ آدمی خود سن لے یا کم ازکم حروف کی ادائیگی صحیح طور پر ہوجائے ضروری ہے۔
(۶) اس کا بھی وہی حکم ہے جو تکبیر کا ہے جن چیزوں کا کہنا فرض یا واجب ہے، مثلاً قرأت تشہد (التحیات) ان کی ادائیگی زبان سے نہ ہونے کی صورت میں نماز صحیح نہیں ہوگی اور جن چیزوں کا کہنا سنت ہے مثلاً رکوع سجدہ کی تسبیح ان کے زبان سے نہ کہنے کی صورت میں ثواب میں کمی آجائے گی۔
(۷) جو رکن ادا کررہا ہے یا جو الفاظ زبان سے نکال رہا ہے اس کی طرف دھیان رکھے۔
(۸) جی ہاں گناہ ہوگا۔
(۹) اندازہ سے حساب لگاکر یاد داشت میں نوٹ کرے پھر تھوڑا تھوڑا ادا کرتا رہے اور یادداشت میں نشان لگاتا رہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:4⃣6⃣
سوال:
ہم لوگ حنفی المسلک ہیں اور متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں یہاں تمام ہی نمازیں اوّل وقت میں ادا کی جاتی ہیں، لیکن عصر کی نماز میں کافی اشکال رہتاہے کیوں کہ اس وقت ہمارے یہاں عصر کی نماز ۳؍ بج کر ۴۸؍منٹ پرادا کی جاتی ہے،پس کیا ایسی شکل میں ہم لوگ جماعت سے نمازادا کریں،یاکہ بعد میں الگ تنہا ادا کی جائے،مغرب کی اذان ۵۵؍ بج کر ۵۵؍منٹ پر ہوتی ہے۔
جواب:
حنفیہ کے نزدیک بھی ایک قول میں اس وقت نماز عصر کا وقت ہوجاتاہے اگر چہ مفتی بہ اور بہتر یہی ہے کہ دومثل کے بعد نماز عصر ادا کریں، لہٰذا حنفیہ کے اس قول کے مطابق عمل کریں اور جماعت عصر بھی انہیں لوگوں کے ساتھ ادا کریں،جماعت نہ چھوڑیں اور نہ اپنی جماعت الگ اور دوسری بنائیں۔
مستفاد:نظام الفتاوی5
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سوال:
ہم لوگ حنفی المسلک ہیں اور متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں یہاں تمام ہی نمازیں اوّل وقت میں ادا کی جاتی ہیں، لیکن عصر کی نماز میں کافی اشکال رہتاہے کیوں کہ اس وقت ہمارے یہاں عصر کی نماز ۳؍ بج کر ۴۸؍منٹ پرادا کی جاتی ہے،پس کیا ایسی شکل میں ہم لوگ جماعت سے نمازادا کریں،یاکہ بعد میں الگ تنہا ادا کی جائے،مغرب کی اذان ۵۵؍ بج کر ۵۵؍منٹ پر ہوتی ہے۔
جواب:
حنفیہ کے نزدیک بھی ایک قول میں اس وقت نماز عصر کا وقت ہوجاتاہے اگر چہ مفتی بہ اور بہتر یہی ہے کہ دومثل کے بعد نماز عصر ادا کریں، لہٰذا حنفیہ کے اس قول کے مطابق عمل کریں اور جماعت عصر بھی انہیں لوگوں کے ساتھ ادا کریں،جماعت نہ چھوڑیں اور نہ اپنی جماعت الگ اور دوسری بنائیں۔
مستفاد:نظام الفتاوی5
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
Telegram
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
"جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند" میں روزانہ ایک دو مسئلہ مدلل ومزین انداز میں بطورِ استفادہ آپ کو ملے گا،
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1
جواب نمبر:5⃣6⃣
سوال:
گذارش ہے کہ ہمارے محلہ کی مسجد میں روزانہ بعد نماز فجر حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب کی تالیف کردہ فضائل نماز ذکر وغیرہ میں سے کسی ایک کتاب میں سے چند حدیثیں پڑھیں جاتی ہیں یہ عمل گذشتہ دس سال سے ہورہاہے نمازیوں کو اس سے بہت نفع ہورہاہے مسجد کے ایک دونمازی کچھ عرصہ سے عام طور پر جماعت ختم ہونے کے بعد آتے ہیں اور اس عمل پر اعتراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہماری نماز میں خلل واقع ہوتاہے(کتاب امام صاحب کے مصلیٰ کے پاس پڑھی جاتی ہے) براہ ِ کرم شریعت کے حکم سے آگاہ فرمائیں ان کا یہ مطالبہ قابل تسلیم ہے یاکہ نہیں۔
جواب:
نماز باجماعت بے شرعی عذر ومجبوری کے ترک نہ کرنا چاہیے نمازباجماعت کی بڑی تاکید وارد ہے نماز باجماعت بہت سے اعتبار سے واجب ہے اور شعار کا درجہ رکھتی ہے نماز باجماعت میںسستی کرنا یا عام طور پر ختمجماعت پر آنے کی عادت ڈالنا بہت بری بات ہے نماز باجماعت پڑھنے کی ہمیشہ کوشش کرنا ضروری ہے اگر اتفاقاً اپنی مسجد میں نماز باجماعت چھوٹ جائے تو باجماعت ادا کرنے کی کوشش کرنا چاہیے اگر کسی دوسری مسجد میںجماعت مل جانے کا ظن غالب ہوتو اس میں چلا جانا چاہیے ورنہ اپنی مسجدمیں جس میں نماز باجماعت ادا کرنے کا معمول ہے چند افراد اکٹھا ہوجاویں تواصل مسجد سے ہٹ کر وضو خانہ وغیرہ میں جماعت سے نماز پڑھنا چاہیے اگر اس کا بھی موقع نہ ہوتو کسی کنارہ تنہا پرھ لے اورایسی صورت میں جو لوگ مصلیٰ کے پاس وعظ وتبلیغکررہے ہیں یاکتاب سنارہے ہیں اس کا کوئی قصور نہیں ہے البتہ جو لوگ مسبوق ہوگئے چند رکعتیں چھوٹ گئی ہیں یا سنن ونوافل رواتب میں بعد نماز جماعت مشغول ہیں ان کی رعایت واجب ہے اور اسی صورت میں اس طرح وعظ وتلقین کرنا چاہیے کہ سنن ونوافل مثلاً ظہر ومغرب وعشاء پڑھنے والوں کو اور مسبوق کو خلل واقع نہ ہو۔
مستفاد:نظام الفتاوی
فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔
محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سوال:
گذارش ہے کہ ہمارے محلہ کی مسجد میں روزانہ بعد نماز فجر حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب کی تالیف کردہ فضائل نماز ذکر وغیرہ میں سے کسی ایک کتاب میں سے چند حدیثیں پڑھیں جاتی ہیں یہ عمل گذشتہ دس سال سے ہورہاہے نمازیوں کو اس سے بہت نفع ہورہاہے مسجد کے ایک دونمازی کچھ عرصہ سے عام طور پر جماعت ختم ہونے کے بعد آتے ہیں اور اس عمل پر اعتراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہماری نماز میں خلل واقع ہوتاہے(کتاب امام صاحب کے مصلیٰ کے پاس پڑھی جاتی ہے) براہ ِ کرم شریعت کے حکم سے آگاہ فرمائیں ان کا یہ مطالبہ قابل تسلیم ہے یاکہ نہیں۔
جواب:
نماز باجماعت بے شرعی عذر ومجبوری کے ترک نہ کرنا چاہیے نمازباجماعت کی بڑی تاکید وارد ہے نماز باجماعت بہت سے اعتبار سے واجب ہے اور شعار کا درجہ رکھتی ہے نماز باجماعت میںسستی کرنا یا عام طور پر ختمجماعت پر آنے کی عادت ڈالنا بہت بری بات ہے نماز باجماعت پڑھنے کی ہمیشہ کوشش کرنا ضروری ہے اگر اتفاقاً اپنی مسجد میں نماز باجماعت چھوٹ جائے تو باجماعت ادا کرنے کی کوشش کرنا چاہیے اگر کسی دوسری مسجد میںجماعت مل جانے کا ظن غالب ہوتو اس میں چلا جانا چاہیے ورنہ اپنی مسجدمیں جس میں نماز باجماعت ادا کرنے کا معمول ہے چند افراد اکٹھا ہوجاویں تواصل مسجد سے ہٹ کر وضو خانہ وغیرہ میں جماعت سے نماز پڑھنا چاہیے اگر اس کا بھی موقع نہ ہوتو کسی کنارہ تنہا پرھ لے اورایسی صورت میں جو لوگ مصلیٰ کے پاس وعظ وتبلیغکررہے ہیں یاکتاب سنارہے ہیں اس کا کوئی قصور نہیں ہے البتہ جو لوگ مسبوق ہوگئے چند رکعتیں چھوٹ گئی ہیں یا سنن ونوافل رواتب میں بعد نماز جماعت مشغول ہیں ان کی رعایت واجب ہے اور اسی صورت میں اس طرح وعظ وتلقین کرنا چاہیے کہ سنن ونوافل مثلاً ظہر ومغرب وعشاء پڑھنے والوں کو اور مسبوق کو خلل واقع نہ ہو۔
مستفاد:نظام الفتاوی
فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔
محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
Telegram
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
"جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند" میں روزانہ ایک دو مسئلہ مدلل ومزین انداز میں بطورِ استفادہ آپ کو ملے گا،
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1
جواب نمبر:6⃣6⃣
قرض پر زکوۃ
مسئلہ(۱۲۳): جو رقم قرضِ حسنہ کے طورپر دی گئی اس کے وصول ہونے پر سالہائے گذشتہ کی زکوۃ واجب ہوتی ہے، اگر وصول ہونے سے پہلے دیدیا تویہ بھی جائزہے، اور اگر وصولی کی بالکل ہی امید نہ ہوتو زکوۃ واجب نہیں ہوگی، لیکن خلافِ توقع وامیدوصول ہوجائے تو سالہائے گذشتہ کی زکوۃ دینا بھی واجب ہوگا۔
الحجۃ علی ما قلنا :
ما في ’’ حاشیۃ الطحطاوي علی مراقي الفلاح ‘‘ : وزکاۃ الدین علی أقسام : فإنہ قوي ووسط وضعیف ، فالقوي وہو بدل القرض ومال التجارۃ إذا قبضہ وکان علی مقر ولو مفلساً أو علی جاحد علیہ بینۃ زکاہ لما مضی ۔
(ص :۳۹۰ ، کتاب الزکاۃ) (فتاوی حقانیہ : ۳/۵۳۲- ۴۹۸)
ما في ’’ الدر المختار مع رد المحتار ‘‘ : (ولو کان الدین علی مقر مليء أو) علی(معسر أو مفلس) أي محکوم بإفلاسہ (أو) علی (جاحد علیہ بینۃ) وعن محمد لا زکوۃ، وہو الصحیح ۔’’ درمختار‘‘۔ (۳/۱۸۴؍۱۸۵ ، مطلب : في زکاۃ ثمن المبیع وفائً)
(فتاوی حقانیہ:۳/۴۹۸، فتاوی محمودیہ:۳/۴۰۲، فتاوی عثمانی:۲/۶۴)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
قرض پر زکوۃ
مسئلہ(۱۲۳): جو رقم قرضِ حسنہ کے طورپر دی گئی اس کے وصول ہونے پر سالہائے گذشتہ کی زکوۃ واجب ہوتی ہے، اگر وصول ہونے سے پہلے دیدیا تویہ بھی جائزہے، اور اگر وصولی کی بالکل ہی امید نہ ہوتو زکوۃ واجب نہیں ہوگی، لیکن خلافِ توقع وامیدوصول ہوجائے تو سالہائے گذشتہ کی زکوۃ دینا بھی واجب ہوگا۔
الحجۃ علی ما قلنا :
ما في ’’ حاشیۃ الطحطاوي علی مراقي الفلاح ‘‘ : وزکاۃ الدین علی أقسام : فإنہ قوي ووسط وضعیف ، فالقوي وہو بدل القرض ومال التجارۃ إذا قبضہ وکان علی مقر ولو مفلساً أو علی جاحد علیہ بینۃ زکاہ لما مضی ۔
(ص :۳۹۰ ، کتاب الزکاۃ) (فتاوی حقانیہ : ۳/۵۳۲- ۴۹۸)
ما في ’’ الدر المختار مع رد المحتار ‘‘ : (ولو کان الدین علی مقر مليء أو) علی(معسر أو مفلس) أي محکوم بإفلاسہ (أو) علی (جاحد علیہ بینۃ) وعن محمد لا زکوۃ، وہو الصحیح ۔’’ درمختار‘‘۔ (۳/۱۸۴؍۱۸۵ ، مطلب : في زکاۃ ثمن المبیع وفائً)
(فتاوی حقانیہ:۳/۴۹۸، فتاوی محمودیہ:۳/۴۰۲، فتاوی عثمانی:۲/۶۴)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:7⃣6⃣
قرض لے کر قربانی:
مسئلہ:اگر کسی شخص کی ملکیت میں اس کی ضرورت سے زائد، نصاب کے بقدر مال ہو، یا نقد روپیہ ہو، لیکن وہ کہیں غائب ہو، یا کسی کو قرض دے رکھا ہو، او رقربانی کے دنوں میں اس کی وصولی اور ملنا ممکن نہ ہو، اور اس کے پاس اتنا بھی مال نہ ہو، جس سے وہ قربانی کا جانور خرید سکے، تو اس پر قربانی واجب نہیں ہوگی، اور نہ ہی اس پر قرض لے کر قربانی کرنا لازم ہوگا، کیوں کہ مال کی عدمِ موجودگی کی وجہ سے وہ فقیر کے حکم میں ہے۔
الحجۃ علی ما قلنا:
ما في ’’ الفتاوی التاتارخانیۃ ‘‘ : سئل علي بن أحمد عن رجل لہ دین مؤجل ، أو غیر مؤجل علی رجل وہو مقر حتی جاء یوم النحر ، ولیس في ید رب الدین شيء یمکنہ شراء الأضحیۃ ہل علیہ أن یستقرض ، ویشتري أضحیۃ یضحي بہا فقال : لا ، قیل لہ : ہل یجب علیہ قیمۃ الأضحیۃ إذا وصل إلیہ الدین بعد فوات الوقت ، قال : لا ، قیل : ہل یجب علی رب الدین أن یسأل منہ عن الدین إذا غلب علی ظنہ لو سأل منہ ثمن الأضحیۃ یعطیہ فیلزمہ منہ ، وإن کان مؤجلا فقال : نعم ۔ (۱۷/۴۶۴ ، کتاب الأضحیۃ ، الفصل التاسع في المتفرقات ، رقم المسئلۃ :۲۷۸۴۶ ، الفتاوی الہندیۃ :۵/۳۰۷ ، کتاب الأضحیۃ ، الباب التاسع في المتفرقات)
ما في ’’ بدائع الصنائع ‘‘ : وکذا لو کان مال غائب لا یصل إلیہ في أیام النحر ، لأنہ فقیر وقت غیبۃ المال حتی تحل لہ الصدقۃ بخلاف الزکاۃ فإنہا تجب علیہ ، لأن جمیع العمر وقت الزکاۃ وہذہ قربۃ مؤقتۃ فیعتبر الغنی في وقتہا ۔ (۴/۱۹۶، کتاب الأضحیۃ ، فصل شرائط الوجوب ، الفتاوی الہندیۃ :۵/۲۹۲، کتاب الأضحیۃ ، الباب الأول الخ)
(مسائل قربانی :ص/۶۴، ۶۵، مولانا عبد المعبود صاحب،المسائل المہمۃ:۸/۱۷۲)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
قرض لے کر قربانی:
مسئلہ:اگر کسی شخص کی ملکیت میں اس کی ضرورت سے زائد، نصاب کے بقدر مال ہو، یا نقد روپیہ ہو، لیکن وہ کہیں غائب ہو، یا کسی کو قرض دے رکھا ہو، او رقربانی کے دنوں میں اس کی وصولی اور ملنا ممکن نہ ہو، اور اس کے پاس اتنا بھی مال نہ ہو، جس سے وہ قربانی کا جانور خرید سکے، تو اس پر قربانی واجب نہیں ہوگی، اور نہ ہی اس پر قرض لے کر قربانی کرنا لازم ہوگا، کیوں کہ مال کی عدمِ موجودگی کی وجہ سے وہ فقیر کے حکم میں ہے۔
الحجۃ علی ما قلنا:
ما في ’’ الفتاوی التاتارخانیۃ ‘‘ : سئل علي بن أحمد عن رجل لہ دین مؤجل ، أو غیر مؤجل علی رجل وہو مقر حتی جاء یوم النحر ، ولیس في ید رب الدین شيء یمکنہ شراء الأضحیۃ ہل علیہ أن یستقرض ، ویشتري أضحیۃ یضحي بہا فقال : لا ، قیل لہ : ہل یجب علیہ قیمۃ الأضحیۃ إذا وصل إلیہ الدین بعد فوات الوقت ، قال : لا ، قیل : ہل یجب علی رب الدین أن یسأل منہ عن الدین إذا غلب علی ظنہ لو سأل منہ ثمن الأضحیۃ یعطیہ فیلزمہ منہ ، وإن کان مؤجلا فقال : نعم ۔ (۱۷/۴۶۴ ، کتاب الأضحیۃ ، الفصل التاسع في المتفرقات ، رقم المسئلۃ :۲۷۸۴۶ ، الفتاوی الہندیۃ :۵/۳۰۷ ، کتاب الأضحیۃ ، الباب التاسع في المتفرقات)
ما في ’’ بدائع الصنائع ‘‘ : وکذا لو کان مال غائب لا یصل إلیہ في أیام النحر ، لأنہ فقیر وقت غیبۃ المال حتی تحل لہ الصدقۃ بخلاف الزکاۃ فإنہا تجب علیہ ، لأن جمیع العمر وقت الزکاۃ وہذہ قربۃ مؤقتۃ فیعتبر الغنی في وقتہا ۔ (۴/۱۹۶، کتاب الأضحیۃ ، فصل شرائط الوجوب ، الفتاوی الہندیۃ :۵/۲۹۲، کتاب الأضحیۃ ، الباب الأول الخ)
(مسائل قربانی :ص/۶۴، ۶۵، مولانا عبد المعبود صاحب،المسائل المہمۃ:۸/۱۷۲)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:8⃣6⃣
قربانی کے لیے بڑا جانور ضروری نہیں۔
مسئلہ:اگر کسی شخص کی ملکیت میں ضرورت سے زائد اتنامال ہے، جس سے اُس پر قربانی واجب ہوجاتی ہے، لیکن اُس کے پاس نقد رقم نہیں ہے، تو اُس پر واجب ہے کہ قرض لے کر قربانی کرے، جیسا کہ اپنی دوسری ضروریات کے لیے قرض لیتا ہے، البتہ سودی قرض لینے سے اجتناب کرے، نیز یہ بات بھی سمجھ لینا چاہیے کہ واجب قربانی کے اپنے ذمہ سے ساقط ہونے کے لیے پورا ایک بڑا جانور خریدنا ضروری نہیں ہے، بلکہ اس میں سے ایک حصہ لے لینے سے بھی یہ واجب ادا ہوجاتا ہے۔
الحجۃ علی ما قلنا:
ما في ’’ سنن الدار قطني ‘‘ : عن عائشۃ قالت : قلت : یا رسول اللہ ! أستدین وأضحي ؟ قال : ’’ نعم ، فإنہ دینٌ مقضي ‘‘ ۔ (۴/۱۸۸، کتاب الأشربۃ وغیرہا ، باب الصید والذبائح الخ ، الرقم :۴۷۱۰ ، دار الایمان ، نصب الرایۃ للزیلعي :۴/۴۹۹، کتاب الأضحیۃ)
ما في ’’ رد المحتار ‘‘ : لہ مال کثیر غائب في ید مضاربہ أو شریکہ ومعہ مہ الحجرین أو متاع البیت ما یضحي بہ تلزم ۔ (۹/۴۵۳ ، کتاب الأضحیۃ ، الفتاوی الہندیۃ :۵/۳۰۷ ، کتاب الأضحیۃ ، الباب التاسع في المتفرقات) (کتاب الفتاویٰ: ۴/۱۳۳،المسائل المہمۃ:۸/۱۷۳)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
قربانی کے لیے بڑا جانور ضروری نہیں۔
مسئلہ:اگر کسی شخص کی ملکیت میں ضرورت سے زائد اتنامال ہے، جس سے اُس پر قربانی واجب ہوجاتی ہے، لیکن اُس کے پاس نقد رقم نہیں ہے، تو اُس پر واجب ہے کہ قرض لے کر قربانی کرے، جیسا کہ اپنی دوسری ضروریات کے لیے قرض لیتا ہے، البتہ سودی قرض لینے سے اجتناب کرے، نیز یہ بات بھی سمجھ لینا چاہیے کہ واجب قربانی کے اپنے ذمہ سے ساقط ہونے کے لیے پورا ایک بڑا جانور خریدنا ضروری نہیں ہے، بلکہ اس میں سے ایک حصہ لے لینے سے بھی یہ واجب ادا ہوجاتا ہے۔
الحجۃ علی ما قلنا:
ما في ’’ سنن الدار قطني ‘‘ : عن عائشۃ قالت : قلت : یا رسول اللہ ! أستدین وأضحي ؟ قال : ’’ نعم ، فإنہ دینٌ مقضي ‘‘ ۔ (۴/۱۸۸، کتاب الأشربۃ وغیرہا ، باب الصید والذبائح الخ ، الرقم :۴۷۱۰ ، دار الایمان ، نصب الرایۃ للزیلعي :۴/۴۹۹، کتاب الأضحیۃ)
ما في ’’ رد المحتار ‘‘ : لہ مال کثیر غائب في ید مضاربہ أو شریکہ ومعہ مہ الحجرین أو متاع البیت ما یضحي بہ تلزم ۔ (۹/۴۵۳ ، کتاب الأضحیۃ ، الفتاوی الہندیۃ :۵/۳۰۷ ، کتاب الأضحیۃ ، الباب التاسع في المتفرقات) (کتاب الفتاویٰ: ۴/۱۳۳،المسائل المہمۃ:۸/۱۷۳)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:9⃣6⃣
قربانی کا جانور قرض لیکر یا ادھار پر خریدنا:
قربانی کے جانور کی خریداری میں بسا اوقات نقد ادائیگی کیلئے کسی کے پاس رقم نہیں ہوتی اور وہ قرض لیکر یا ادھار پرجانور کو خریدنا چاہتا ہے تو اِس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر وہ صاحبِ نصاب نہیں تو قرض لیکر اپنے آپ پر اضافی بوجھ نہیں ڈالنا چاہیئے ، کیونکہ شریعت نے اُس پر قربانی کو لازم ہی نہیں کیا ۔ہاں! اگر وہ صاحبِ نصاب ہے لیکن فی الحال جانور کی خریداری کیلئے اُس کے پاس رقم موجود نہیں تو وہ کسی سے ادھار لیکریا خود بیچنے والے سے ادھار پر جانور خریدسکتا ہے۔اس میں کوئی حرج نہیں ۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل :4/220)
قربانی کا جانور قسطوں پر خریدنا:
قسطوں پر کی جانے والی خریدو فروخت جائز ہے ، اور قربانی کے جانور میں بھی یہ طریقہ اپنایا جاسکتا ہے یعنی ایک متعیّنہ رقم میں جانور کو خرید لیا جائے اور بعد میں ماہانہ یا جو بھی طے ہو اُس کے مطابق قسطوں کی ادئیگی کی جاتی رہے ۔اس میں کوئی حرج نہیں ۔کیونکہ جس جانور کے آپ مالک ہیں اُس کی قربانی جائز ہے ، خواہ نقد خریدیں یا ادھار اور قسطوں پر۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل :4/220)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
قربانی کا جانور قرض لیکر یا ادھار پر خریدنا:
قربانی کے جانور کی خریداری میں بسا اوقات نقد ادائیگی کیلئے کسی کے پاس رقم نہیں ہوتی اور وہ قرض لیکر یا ادھار پرجانور کو خریدنا چاہتا ہے تو اِس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر وہ صاحبِ نصاب نہیں تو قرض لیکر اپنے آپ پر اضافی بوجھ نہیں ڈالنا چاہیئے ، کیونکہ شریعت نے اُس پر قربانی کو لازم ہی نہیں کیا ۔ہاں! اگر وہ صاحبِ نصاب ہے لیکن فی الحال جانور کی خریداری کیلئے اُس کے پاس رقم موجود نہیں تو وہ کسی سے ادھار لیکریا خود بیچنے والے سے ادھار پر جانور خریدسکتا ہے۔اس میں کوئی حرج نہیں ۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل :4/220)
قربانی کا جانور قسطوں پر خریدنا:
قسطوں پر کی جانے والی خریدو فروخت جائز ہے ، اور قربانی کے جانور میں بھی یہ طریقہ اپنایا جاسکتا ہے یعنی ایک متعیّنہ رقم میں جانور کو خرید لیا جائے اور بعد میں ماہانہ یا جو بھی طے ہو اُس کے مطابق قسطوں کی ادئیگی کی جاتی رہے ۔اس میں کوئی حرج نہیں ۔کیونکہ جس جانور کے آپ مالک ہیں اُس کی قربانی جائز ہے ، خواہ نقد خریدیں یا ادھار اور قسطوں پر۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل :4/220)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:0⃣7⃣
رنج وغم اور قرض سے نجات دلانے والی دعا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: حضرت میرے اوپر بہت بڑا قرض ہوگیا ہے، اور بعض کاروباری پریشانیوں اور کھریلو حالات کی وجہ سے میں بہت رنج وغم کا شکار ہوں، اس لئے حضور والا سے درخواست ہے کہ مجھ پڑھنے کے لئے کوئی ایسا دعا فرمادیں، جو میرے غموں کو دور کردے اور قرض سے ادائیگی کا سبب بن جائے۔
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: آپ درج ذیل دعا کا کثرت سے اہتمام کیا کریں:
اللّٰہم إني أعوذ بک من الہم والحزن وأعوذ بک من العجز والکسل وأعوذ بک من البخل والجبن وأعوذ بک من غلبۃ الدین وقہر الرجال۔ (سنن الترمذي ۲؍۱۸۶، سنن أبي داؤد ۱؍۲۱۵)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
رنج وغم اور قرض سے نجات دلانے والی دعا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: حضرت میرے اوپر بہت بڑا قرض ہوگیا ہے، اور بعض کاروباری پریشانیوں اور کھریلو حالات کی وجہ سے میں بہت رنج وغم کا شکار ہوں، اس لئے حضور والا سے درخواست ہے کہ مجھ پڑھنے کے لئے کوئی ایسا دعا فرمادیں، جو میرے غموں کو دور کردے اور قرض سے ادائیگی کا سبب بن جائے۔
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: آپ درج ذیل دعا کا کثرت سے اہتمام کیا کریں:
اللّٰہم إني أعوذ بک من الہم والحزن وأعوذ بک من العجز والکسل وأعوذ بک من البخل والجبن وأعوذ بک من غلبۃ الدین وقہر الرجال۔ (سنن الترمذي ۲؍۱۸۶، سنن أبي داؤد ۱؍۲۱۵)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:1⃣7⃣
باب الربوا
(سود کے احکام)
اے ٹی ایم (A.T.M)سے قرض کی ادائیگی۔
مسئلہ:آج کل بعض لوگ اپنے قرضوں کی ادائیگی اے ٹی ایم(A.T.M) کے ذریعہ کرتے ہیں، مثلاً ایک شخص کسی سے ایک ہزار روپئے قرض لیتا ہے، اور مقررہ وقت پر قرض خواہ کے اے ٹی ایم (A.T.M) اکاؤنٹ میں ایک ہزار روپئے ڈال دیتا ہے، بینک اپنا سروس چارج ۲۵؍ روپئے اس میں سے کاٹ لیتا ہے، تو قرض خواہ کواس کی پوری رقم ایک ہزار کی بجائے ۹۷۵؍ روپئے ہی ملتے ہیں، جب کہ وہ پورے ایک ہزار کا حقدار ہے، اس لیے ادائیگی ٔ قرض کی یہ صورت درست نہیں ہے، البتہ اے ٹی ایم(A.T.M) کے ذریعہ ادائیگی ٔ قرض کی یہ صورت، اس وقت درست ہوجائے گی ، جب قرض دار اصل قرض کی رقم کے ساتھ بینک کا سروس چارج بھی قرض خواہ کے اکاؤنٹ میں ڈالدے۔
الحجۃ علی ما قلنا:
ما في ’’ رد المحتار ‘‘ : إن الدیون تقضی بأمثالہا علی معنی أن المقبوض مضمون علی القابض ، لأن قبضہ بنفسہ علی وجہ التملک ، ولرب الدین علی المدیون مثلہ ۔ (۵/۶۷۵)
ما في ’’ بحوث في قضایا فقہیۃ معاصرۃ ‘‘ : القرض یجب في الشریعۃ الإسلامیۃ أن تقضی بأمثالہا ۔۔۔۔۔۔۔ والذي یتحقق من النظر في دلائل القرآن والسنۃ ، معاملات الناس أن المثلیۃ المطلوبۃ في القرض ہي المثلیۃ في المقدار والکمیۃ ، دون المثلیۃ في القیمۃ والمالیۃ ۔ (ص/۱۷۴)
ما في ’’ الفتاوی الہندیۃ ‘‘ : والقرض ہو أن یقرض الدراہم والدنانیر أو شیئاً مثلیاً یأخذ مثلہ في ثاني الحال ۔ (۵/۳۶۶)
واللہ اعلم
محمد امیر ۔۔۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
باب الربوا
(سود کے احکام)
اے ٹی ایم (A.T.M)سے قرض کی ادائیگی۔
مسئلہ:آج کل بعض لوگ اپنے قرضوں کی ادائیگی اے ٹی ایم(A.T.M) کے ذریعہ کرتے ہیں، مثلاً ایک شخص کسی سے ایک ہزار روپئے قرض لیتا ہے، اور مقررہ وقت پر قرض خواہ کے اے ٹی ایم (A.T.M) اکاؤنٹ میں ایک ہزار روپئے ڈال دیتا ہے، بینک اپنا سروس چارج ۲۵؍ روپئے اس میں سے کاٹ لیتا ہے، تو قرض خواہ کواس کی پوری رقم ایک ہزار کی بجائے ۹۷۵؍ روپئے ہی ملتے ہیں، جب کہ وہ پورے ایک ہزار کا حقدار ہے، اس لیے ادائیگی ٔ قرض کی یہ صورت درست نہیں ہے، البتہ اے ٹی ایم(A.T.M) کے ذریعہ ادائیگی ٔ قرض کی یہ صورت، اس وقت درست ہوجائے گی ، جب قرض دار اصل قرض کی رقم کے ساتھ بینک کا سروس چارج بھی قرض خواہ کے اکاؤنٹ میں ڈالدے۔
الحجۃ علی ما قلنا:
ما في ’’ رد المحتار ‘‘ : إن الدیون تقضی بأمثالہا علی معنی أن المقبوض مضمون علی القابض ، لأن قبضہ بنفسہ علی وجہ التملک ، ولرب الدین علی المدیون مثلہ ۔ (۵/۶۷۵)
ما في ’’ بحوث في قضایا فقہیۃ معاصرۃ ‘‘ : القرض یجب في الشریعۃ الإسلامیۃ أن تقضی بأمثالہا ۔۔۔۔۔۔۔ والذي یتحقق من النظر في دلائل القرآن والسنۃ ، معاملات الناس أن المثلیۃ المطلوبۃ في القرض ہي المثلیۃ في المقدار والکمیۃ ، دون المثلیۃ في القیمۃ والمالیۃ ۔ (ص/۱۷۴)
ما في ’’ الفتاوی الہندیۃ ‘‘ : والقرض ہو أن یقرض الدراہم والدنانیر أو شیئاً مثلیاً یأخذ مثلہ في ثاني الحال ۔ (۵/۳۶۶)
واللہ اعلم
محمد امیر ۔۔۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:2⃣7⃣
قرض خواہ کا انتقال ہوجائے تو قرض کس کو دے؟
مسئلہ:اگر کوئی شخص کسی سے روپیہ وغیرہ قرض لے، یا کوئی اُدھار مُعامَلہ کرے، اور ابھی قرض چکایا نہیں تھا، یا اُدھاری اَدا نہیں کی تھی کہ قرض خواہ یا دائن اِس جہانِ فانی سے رخصت ہوگیا، تو اب قرض دار یا مدیون کو چاہیے کہ وہ قرض یا دَین جو اس کے ذمہ لازم ہے میت کے شرعی وارثوں کو ادا کردیں، کیوں کہ میت کا جو قرض کسی کے ذمہ ہوتا ہے وہ اس کی وِراثت اور ترکہ میں شامل ہے(۱)، اور اگر میت کاکوئی وارث موجود نہ ہو، یا اُس تک رسائی ممکن نہ ہو، تو اب وہ قرض یا دَین کی رقم میت کی طرف سے صدقہ کردیں۔(۲)
الحجۃ علی ما قلنا:
(۱) ما في ’’ الموسوعۃ الفقہیۃ ‘‘ : والموت لم یعرف مسقطاً للدین في أصول الشرع ، فلا یسقط شيء منہ بالموت کسائر الدیون ۔
(۳۹/۱۷۳، مہر ، الموت ، بدائع الصنائع :۲/۵۸۸ ، کتاب النکاح ، بیان ما یتأکد بہ المہر)
ما في ’’ الموسوعۃ الفقہیۃ ‘‘ : لا خلاف بین الفقہاء في عدم تأثیر موت الدائن علی الدیون التي وجبت لہ في ذمۃ الغرماء ، وأنہا تنتقل إلی ورثتہ کسائر الأموال التي ترکہا ، لأن الدیون في الذمم أموال حقیقۃ أو حکمًا باعتبارہا تؤول إلی مال عند الاستیفاء ۔ (۳۹/۲۶۰ ،۲۶۱ ، موت)
(۲) ما في ’’ الدر المختار مع الشامیۃ ‘‘ : (علیہ دیون ومظالم جہل أربابہا وأیس) من علیہ ذلک (من معرفتہم فعلیہ التصدق بقدرہا من مالہ وإن واستغرقت جمیع مالہ) ہذا مذہب أصحابنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (و) متی فعل ذلک (سقط عنہ المطالبۃ) من أصحاب الدیون ۔ (در مختار) وفي الشامیۃ : وإن لم یجد المدیون ولا وارثہ صاحب الدین ولا وارثہ فتصدق المدیون أو وارثہ عن صاحب الدین برئ في الآخرۃ ۔ (۶/۴۴۳ ، کتاب اللقطۃ ، قبیل مطلب فیمن علیہ دیون ومظالم وجہل أربابہا ، ط : دار الکتب العلمیۃ بیروت ، و:۴/۲۸۳ ، ط: دار الفکر بیروت)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
قرض خواہ کا انتقال ہوجائے تو قرض کس کو دے؟
مسئلہ:اگر کوئی شخص کسی سے روپیہ وغیرہ قرض لے، یا کوئی اُدھار مُعامَلہ کرے، اور ابھی قرض چکایا نہیں تھا، یا اُدھاری اَدا نہیں کی تھی کہ قرض خواہ یا دائن اِس جہانِ فانی سے رخصت ہوگیا، تو اب قرض دار یا مدیون کو چاہیے کہ وہ قرض یا دَین جو اس کے ذمہ لازم ہے میت کے شرعی وارثوں کو ادا کردیں، کیوں کہ میت کا جو قرض کسی کے ذمہ ہوتا ہے وہ اس کی وِراثت اور ترکہ میں شامل ہے(۱)، اور اگر میت کاکوئی وارث موجود نہ ہو، یا اُس تک رسائی ممکن نہ ہو، تو اب وہ قرض یا دَین کی رقم میت کی طرف سے صدقہ کردیں۔(۲)
الحجۃ علی ما قلنا:
(۱) ما في ’’ الموسوعۃ الفقہیۃ ‘‘ : والموت لم یعرف مسقطاً للدین في أصول الشرع ، فلا یسقط شيء منہ بالموت کسائر الدیون ۔
(۳۹/۱۷۳، مہر ، الموت ، بدائع الصنائع :۲/۵۸۸ ، کتاب النکاح ، بیان ما یتأکد بہ المہر)
ما في ’’ الموسوعۃ الفقہیۃ ‘‘ : لا خلاف بین الفقہاء في عدم تأثیر موت الدائن علی الدیون التي وجبت لہ في ذمۃ الغرماء ، وأنہا تنتقل إلی ورثتہ کسائر الأموال التي ترکہا ، لأن الدیون في الذمم أموال حقیقۃ أو حکمًا باعتبارہا تؤول إلی مال عند الاستیفاء ۔ (۳۹/۲۶۰ ،۲۶۱ ، موت)
(۲) ما في ’’ الدر المختار مع الشامیۃ ‘‘ : (علیہ دیون ومظالم جہل أربابہا وأیس) من علیہ ذلک (من معرفتہم فعلیہ التصدق بقدرہا من مالہ وإن واستغرقت جمیع مالہ) ہذا مذہب أصحابنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (و) متی فعل ذلک (سقط عنہ المطالبۃ) من أصحاب الدیون ۔ (در مختار) وفي الشامیۃ : وإن لم یجد المدیون ولا وارثہ صاحب الدین ولا وارثہ فتصدق المدیون أو وارثہ عن صاحب الدین برئ في الآخرۃ ۔ (۶/۴۴۳ ، کتاب اللقطۃ ، قبیل مطلب فیمن علیہ دیون ومظالم وجہل أربابہا ، ط : دار الکتب العلمیۃ بیروت ، و:۴/۲۸۳ ، ط: دار الفکر بیروت)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:3⃣7⃣
مسجد کے بیت المال کی رقم لوگوں کو قرض دینا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: مسجد کے بیت المال کی رقم بطور قرض کا روبار کے لئے لوگوں میں تقسیم کی جاسکتی ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: مسجد کی جمع شدہ رقم بطور قرض کاروبار کے لئے لوگوں میں دینا جائز نہیں۔
مع أن القیم لیس لہ إقراض مال المسجد، قال في جامع الفصولین: لیس للمتولي إیداع مال الوقف والمسجد إلا ممن في عیالہ، ولا إقراضہ فلو أقرضہ ضمن۔ (البحر الرائق / کتاب الوقف ۵؍۲۳۹ کراچی)
وفي القنیۃ: ولا یجوز للقیم شراء شيء من مال المسجد لنفسہ ولا البیع لہ، وإن کان فیہ منفعۃ ظاہرۃٌ للمسجد۔ (البحر الرائق / کتاب الوقف ۵؍۴۰۱ زکریا)
والودیعۃ لا تودع ولا تعار ولا تواجر ولا ترہن، وإن فعل شیئًا منہا ضمن۔ (الفتاویٰ الہندیۃ / الباب الأول من کتاب الودیعۃ ۴؍۳۳۸ زکریا)
فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
مسجد کے بیت المال کی رقم لوگوں کو قرض دینا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: مسجد کے بیت المال کی رقم بطور قرض کا روبار کے لئے لوگوں میں تقسیم کی جاسکتی ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: مسجد کی جمع شدہ رقم بطور قرض کاروبار کے لئے لوگوں میں دینا جائز نہیں۔
مع أن القیم لیس لہ إقراض مال المسجد، قال في جامع الفصولین: لیس للمتولي إیداع مال الوقف والمسجد إلا ممن في عیالہ، ولا إقراضہ فلو أقرضہ ضمن۔ (البحر الرائق / کتاب الوقف ۵؍۲۳۹ کراچی)
وفي القنیۃ: ولا یجوز للقیم شراء شيء من مال المسجد لنفسہ ولا البیع لہ، وإن کان فیہ منفعۃ ظاہرۃٌ للمسجد۔ (البحر الرائق / کتاب الوقف ۵؍۴۰۱ زکریا)
والودیعۃ لا تودع ولا تعار ولا تواجر ولا ترہن، وإن فعل شیئًا منہا ضمن۔ (الفتاویٰ الہندیۃ / الباب الأول من کتاب الودیعۃ ۴؍۳۳۸ زکریا)
فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:4⃣7⃣
سودی قرض لے کر دوکان چلانے والے کے یہاں مزدوری کرنا؟
سوال:کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: اگر کوئی آدمی سود پر روپئے لے کر یا بینک سے رقم اٹھاکر یا فائننس سے روپئے لے کر دوکان لگائے یا کاروبار کرے، تو کیا اُس کے یہاں نوکری جائز ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: سودی قرض لینا اگرچہ ممنوع ہے؛ لیکن ایسے شخص یہاں ملازمت منع نہیں ہے۔
کل قرض جر نفعًا فہو ربا۔ (نصب الرایۃ / کتاب الحوالۃ ۴؍۶۰ المجلس العلمي ڈابھیل، ۴؍۱۳۱ مکتبۃ دار الایمان)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر ۔۔۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سودی قرض لے کر دوکان چلانے والے کے یہاں مزدوری کرنا؟
سوال:کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: اگر کوئی آدمی سود پر روپئے لے کر یا بینک سے رقم اٹھاکر یا فائننس سے روپئے لے کر دوکان لگائے یا کاروبار کرے، تو کیا اُس کے یہاں نوکری جائز ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: سودی قرض لینا اگرچہ ممنوع ہے؛ لیکن ایسے شخص یہاں ملازمت منع نہیں ہے۔
کل قرض جر نفعًا فہو ربا۔ (نصب الرایۃ / کتاب الحوالۃ ۴؍۶۰ المجلس العلمي ڈابھیل، ۴؍۱۳۱ مکتبۃ دار الایمان)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر ۔۔۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:5⃣7⃣
کافر قرض خواہ اگر قرض سے زائد سود مانگے تو کیا حکم ہے؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: زید نے کسی کافر سے قرض لیا، پھر اصلیت دے دی اور جو ربوا تھا اس کو ادا نہیں کیا، وہ اس پر بار بار اصرار کرتا ہے، مگر کہنے کے باوجود بھی نہیں دیتا، تو اس کا کیا حکم ہے؟ سود ادا کرے یا نہیں، اگر ادا کرے گا تو کیا گناہ ہوگا یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اگر زید کو شدید قسم کے جانی ومالی نقصان کا اندیشہ نہ ہو تو ہرگز سود نہ دے ورنہ گنہگار ہوگا۔
عن جابر بن عبد اللّٰہ رضي اللّٰہ عنہ قال: لعن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم آکل الربوا ومؤکلہ وکاتبہ وشاہدیہ، وقال: ہم سواء۔ (صحیح مسلم ۲؍۷۲ رقم: ۱۵۹۸، سنن الترمذي ۱؍۲۲۹ رقم: ۱۲۰۶، مشکاۃ المصابیح، البیوع / باب الربا ۲۴۴، مرقاۃ المفاتیح ۶؍۴۳ رقم: ۲۸۰۷ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
کافر قرض خواہ اگر قرض سے زائد سود مانگے تو کیا حکم ہے؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: زید نے کسی کافر سے قرض لیا، پھر اصلیت دے دی اور جو ربوا تھا اس کو ادا نہیں کیا، وہ اس پر بار بار اصرار کرتا ہے، مگر کہنے کے باوجود بھی نہیں دیتا، تو اس کا کیا حکم ہے؟ سود ادا کرے یا نہیں، اگر ادا کرے گا تو کیا گناہ ہوگا یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اگر زید کو شدید قسم کے جانی ومالی نقصان کا اندیشہ نہ ہو تو ہرگز سود نہ دے ورنہ گنہگار ہوگا۔
عن جابر بن عبد اللّٰہ رضي اللّٰہ عنہ قال: لعن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم آکل الربوا ومؤکلہ وکاتبہ وشاہدیہ، وقال: ہم سواء۔ (صحیح مسلم ۲؍۷۲ رقم: ۱۵۹۸، سنن الترمذي ۱؍۲۲۹ رقم: ۱۲۰۶، مشکاۃ المصابیح، البیوع / باب الربا ۲۴۴، مرقاۃ المفاتیح ۶؍۴۳ رقم: ۲۸۰۷ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:6⃣7⃣
قرض ادا کرنے کے لئے سود لینا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ہمارے والد صاحب کی مالی حیثیت بہت کمزور ہے، تقریباً ۴۵ یا ۴۶؍ہزار روپئے قرض ہے، کوئی صورت سمجھ میں نہیں آتی کیسے ادا ہوگا؟ بظاہر کوئی آمدنی بھی نہیں ہے، ایسے حالات میں میں قرض ادا کرنے کے لئے سود کا روپیہ لاٹری کھلواکر یا زکوٰۃ کا روپیہ حاصل کرکے قرض ادا کرسکتے ہیں یا شرعاً جو حکم ہو تحریر فرمائیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:لاٹری کھلوانا اور سود لینا قطعاً حرام ہے، قرض کی ادائیگی کے لئے اس حرام کے ارتکاب کی ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی، جس روپیہ سے آپ لاٹری خریدنا چاہتے ہیں یا اس پر سود لینا چاہتے ہیں، اسے قرض کی ادائیگی میں کیوں صرف نہیں کرتے؟ اگر حلال طریقہ پر کوشش جاری رکھیں اور رفتہ رفتہ قرض ادا کرتے رہیں، تو انشاء اللہ جلد ہی اس ذمہ سے سبک دوش ہوجائیںگے۔
ارشاد خداوندی ہے:
قال اللّٰہ تعالیٰ: {وَمَنْ یَتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَہُ مَخْرَجًا۔ وَیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ} [الطلاق، جزء آیت: ۲-۳]
یعنی جو شخص اللہ سے تقویٰ اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے کوئی نکلنے کا راستہ کھول دیتا ہے، اور اس کو ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔
عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: اجتنبوا السبع الموبقات، قالوا یا رسول اللّٰہ! وما ہن؟ قال: الشرک باللّٰہ، والسحر، وقتل النفس التي حرم اللّٰہ إلا بالحق، وأکل الربا وأکل مال الیتیم، والتولي یوم الزحف، وقذف المحصنات الغافلات المؤمنات۔ (صحیح البخاري رقم: ۲۷۶۶، صحیح مسلم رقم: ۸۹، کذا في الترغیب والترہیب مکمل ۴۱۷ رقم: ۲۸۶۴ بیت الأفکار الدولیۃ)
البتہ اگر آپ خاندان سادات میں سے نہیں ہیں اور کوئی مال دار اپنی زکوٰۃ کی رقم سے آپ کا قرض ادا کرتا ہے، تو یہ صورت درست ہے، زکوٰۃ دینے والے کی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔
عن معقل قال: سألت الزہري عن {الْغَارِمِیْنَ} قال: أصحاب الدین {وَابْنِ السَّبِیْلِ} وإن کان غنیًا۔ (المصنف لابن أبي شیبۃ ۲؍۴۲۴ رقم: ۱۰۶۶۲ بیروت)
فإن کان مدیوناً فدفع إلیہ مقدار ما لو قضی بہ دینہ لا یبقی لہ شيء أو یبقی دونہ المأتین لا بأس بہ۔ (الفتاویٰ الہندیۃ ۱؍۱۸۸، الدر المختار مع الشامي / باب المصرف ۳؍۳۰۳ زکریا، مجمع الأنہر الزکاۃ / في بیان أحکام المصارف ۱؍۳۳۳ بیروت، کذا في الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۳؍۲۲۱ رقم: ۴۱۸۵ زکریا)
ولو قضیٰ دین الفقیر بزکوٰۃ مالہ إن کان بأمرہ یجوز۔ (الفتاویٰ الہندیۃ / کتاب الزکاۃ ۱؍۱۹۰ زکریا)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
قرض ادا کرنے کے لئے سود لینا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ہمارے والد صاحب کی مالی حیثیت بہت کمزور ہے، تقریباً ۴۵ یا ۴۶؍ہزار روپئے قرض ہے، کوئی صورت سمجھ میں نہیں آتی کیسے ادا ہوگا؟ بظاہر کوئی آمدنی بھی نہیں ہے، ایسے حالات میں میں قرض ادا کرنے کے لئے سود کا روپیہ لاٹری کھلواکر یا زکوٰۃ کا روپیہ حاصل کرکے قرض ادا کرسکتے ہیں یا شرعاً جو حکم ہو تحریر فرمائیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:لاٹری کھلوانا اور سود لینا قطعاً حرام ہے، قرض کی ادائیگی کے لئے اس حرام کے ارتکاب کی ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی، جس روپیہ سے آپ لاٹری خریدنا چاہتے ہیں یا اس پر سود لینا چاہتے ہیں، اسے قرض کی ادائیگی میں کیوں صرف نہیں کرتے؟ اگر حلال طریقہ پر کوشش جاری رکھیں اور رفتہ رفتہ قرض ادا کرتے رہیں، تو انشاء اللہ جلد ہی اس ذمہ سے سبک دوش ہوجائیںگے۔
ارشاد خداوندی ہے:
قال اللّٰہ تعالیٰ: {وَمَنْ یَتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَہُ مَخْرَجًا۔ وَیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ} [الطلاق، جزء آیت: ۲-۳]
یعنی جو شخص اللہ سے تقویٰ اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے کوئی نکلنے کا راستہ کھول دیتا ہے، اور اس کو ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔
عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: اجتنبوا السبع الموبقات، قالوا یا رسول اللّٰہ! وما ہن؟ قال: الشرک باللّٰہ، والسحر، وقتل النفس التي حرم اللّٰہ إلا بالحق، وأکل الربا وأکل مال الیتیم، والتولي یوم الزحف، وقذف المحصنات الغافلات المؤمنات۔ (صحیح البخاري رقم: ۲۷۶۶، صحیح مسلم رقم: ۸۹، کذا في الترغیب والترہیب مکمل ۴۱۷ رقم: ۲۸۶۴ بیت الأفکار الدولیۃ)
البتہ اگر آپ خاندان سادات میں سے نہیں ہیں اور کوئی مال دار اپنی زکوٰۃ کی رقم سے آپ کا قرض ادا کرتا ہے، تو یہ صورت درست ہے، زکوٰۃ دینے والے کی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔
عن معقل قال: سألت الزہري عن {الْغَارِمِیْنَ} قال: أصحاب الدین {وَابْنِ السَّبِیْلِ} وإن کان غنیًا۔ (المصنف لابن أبي شیبۃ ۲؍۴۲۴ رقم: ۱۰۶۶۲ بیروت)
فإن کان مدیوناً فدفع إلیہ مقدار ما لو قضی بہ دینہ لا یبقی لہ شيء أو یبقی دونہ المأتین لا بأس بہ۔ (الفتاویٰ الہندیۃ ۱؍۱۸۸، الدر المختار مع الشامي / باب المصرف ۳؍۳۰۳ زکریا، مجمع الأنہر الزکاۃ / في بیان أحکام المصارف ۱؍۳۳۳ بیروت، کذا في الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۳؍۲۲۱ رقم: ۴۱۸۵ زکریا)
ولو قضیٰ دین الفقیر بزکوٰۃ مالہ إن کان بأمرہ یجوز۔ (الفتاویٰ الہندیۃ / کتاب الزکاۃ ۱؍۱۹۰ زکریا)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
استبرء عن البول.pdf
450.4 KB
کیا پیشاب کے بعد استبراء کرنا ضروری ہے؟
جواب نمبر:8⃣7⃣
نماز کے بعد مصلی (جا نماز) کا کونا موڑنا
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مصلی کو موڑدینا نہ فرض ہے نہ واجب ہے نہ سنت ہے نہ مستحب ، نہ ہی آدابِ نماز میں اس کا شمار ہے بلکہ یہ بے اصل بات ہے، حضرت اقدس الحاج مولانا اشرف علی صاحب تھانوی نور اللہ مرقدہ ارشاد فرماتے ہیں ”مسئلہ بعض عورتیں نماز پڑھنے کے بعد جا نماز (مصلّی) کا گوشہ یہ سمجھ کر الٹ دینا ضروری سمجھتی ہیں کہ شیطان اس پر نماز پڑھے گا سو اس میں کسی بات کی بھی اصل نہیں ہے۔“
(اغلاط العوام ص:56)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
نماز کے بعد مصلی (جا نماز) کا کونا موڑنا
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مصلی کو موڑدینا نہ فرض ہے نہ واجب ہے نہ سنت ہے نہ مستحب ، نہ ہی آدابِ نماز میں اس کا شمار ہے بلکہ یہ بے اصل بات ہے، حضرت اقدس الحاج مولانا اشرف علی صاحب تھانوی نور اللہ مرقدہ ارشاد فرماتے ہیں ”مسئلہ بعض عورتیں نماز پڑھنے کے بعد جا نماز (مصلّی) کا گوشہ یہ سمجھ کر الٹ دینا ضروری سمجھتی ہیں کہ شیطان اس پر نماز پڑھے گا سو اس میں کسی بات کی بھی اصل نہیں ہے۔“
(اغلاط العوام ص:56)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
