جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
1.42K subscribers
117 photos
36 files
685 links
"جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند" میں روزانہ ایک دو مسئلہ مدلل ومزین انداز میں بطورِ استفادہ آپ کو ملے گا،

آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda

https://www.hanafimasail.com/?m=1
Download Telegram
جواب نمبر:0⃣5⃣


عیدین کے بعض مسائل واحکام:

۱- عیدین کی نماز واجب ہے ۔
۲- عیدین کے خطبہ کا سننا جمعہ کے خطبہ کی طرح واجب ہے یعنی اس وقت بولنا، کھانا، پینا، سلام وجواب سب ممنوع ہیں ۔
۳- بلا عذر عیدین کی نماز چھوڑنا گمراہی وبدعت ہے ۔

*۴- نماز عیدکے پڑھنے کا طریقہ :*
دل سے یا زبان سے نیت کرکے تکبیر تحریمہ (اﷲاکبر ) کہہ کر ہاتھ باندھ لیں اورثناء (سبحانک اللھم) اخیر تک پڑھیں پھر تین مرتبہ اﷲاکبر کہیں اورہر ہر مرتبہ تکبیر تحریمہ کی مانند دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھائیں اور ان میں ہر تکبیر کے بعد ہاتھ لٹکادیں اور ہر تکبیر کے بعد امام اتنی دیر تک توقف کرے کہ اس میں تین مرتبہ سبحان اﷲ کہا جاسکتا ہو اور یہ توقف مجمع کی کمی بیشی کے لحاظ سے مختلف ہوسکتا ہے تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ نہ لٹکائیں بلکہ حسب دستور ناف پر باندھ لیں اور امام اعوذباﷲ وبسم اﷲ آہستہ پڑھکر سورہ فاتحہ اور پھر کوئی سورہ جہر سے پڑھے اورمقتدی خاموش رہیں پھر حسب دستور رکوع کرکے دوسری رکعت کیلئے کھڑا ہو دوسری رکعت میں امام پہلے بسم اﷲ آہستہ پڑھ کر سورہ فاتحہ اور کوئی سورت جہر سے پڑھ لے (پہلی رکعت میں سورہ الاعلی اور دوسری رکعت میں سورہ الغاشیہ پڑھنا مستحب ہے) اور مقتدی خاموش رہیں اس کے بعد رکوع میں جانے سے پہلے تین زائد تکبیریں اس طرح کہے جس طرح پہلی رکعت میں کہی تھیں لیکن یہاں تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ نہ باندھے بلکہ لٹکائے رکھے پھر بغیر ہاتھ اٹھائے ہوئے چوتھی تکبیر کہہ کر رکوع میں جائے اور حسب معمول نماز پوری کرے.

*عیدین کے حسب ذیل امور سنت یا مستحب ہیں:*

(۱) باقی ایام کی بنسبت عیدین کے روز جلدی جاگنا اور صبح کی نماز اپنے محلہ کی مسجد میں پڑھنا۔
(۲) غسل کرنا ۔
(۳) مسواک کرنا (اوریہ اسکے علاوہ ہے جو وضو میں کی جاتی ہے کہ وہ تو ہر وضو کے لئے سنت موکدہ ہے اوریہ عیدین کیلئے ہے۔
(۴) جوکپڑے اس کے پاس ہیں ان میں سے اچھے کپڑے پہننا ۔
(۵) خوشبو لگانا ۔
(۶) عیدالفطر کے روز فجر کے بعد عیدگاہ کو جانے سے پہلے کوئی میٹھی چیز کھانا ۔
(۷) جس پر صدقہ فطر واجب ہے اس کا نما زعید الفطر سے پہلے ادا کرنا (صدقہ نصف صاع یعنی پونے دوسیر گہیوں آٹا یا اسکی قیمت ہے )
(۸) فرحت وخوشی کا اظہار کرنا ۔شرع کے موافق اپنی ارائش کرنا ۔
(۹) حسب طاقت صدقہ وخیرات میں کثرت کرنا ۔
(۱۰) عیدگاہ کی طرف جلدی جانا ۔
(۱۱) عید گاہ کی طرف وقار اور اطمینان کے ساتھ جانا اور جن چیزوں کا دیکھنا جائز نہیں ہے ان سے آنکھیں نیچی رکھنا ۔
(۱۲) عید الفطر کی نماز کے لئے عیدگاہ کو جاتے ہوئے راستے میں آہستہ تکبیر کہتے  ہوئے جانا اور عید الاضحی کے روز راستہ میں بلند آواز سے تکبیرکہنااور جب عید گاہ میں پہنچ جائے تو تکبیر کہنا بند کردے ایک روایت کے مطابق جب نماز شروع ہو اس وقت بند کرے، تکبیریہ ہے اﷲاکبراﷲاکبرلاالہ الااﷲ واﷲاکبراﷲاکبروﷲ الحمد ۔
(۱۳) دوسرے راستہ سے واپس آنا ۔
(۱۴) آپس میں مبارک باد دینا مستحب ہے ۔
*صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین یوں کہتے تھے *«تقبل اللہ منا ومنکم»*
(۱۵) عیدین کی نماز سے واپس آنے کے بعد گھر پر چار رکعت نماز نفل پڑھنا مستحب ہے ۔(۱)
کتبہ : ولی حسن ٹونکی 
بینات -شوال ۱۳۸۶ھ بمطابق فروری ۱۹۶۷ء
جلد:۹-شمارہ:۴ ص:۷-۸
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱)عمدۃ الفقہ از شیخ سید زوار حسین شاہ نقشبندی -۲؍۴۵۸تا ۴۶۰،۴۶۲۔


واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔

@jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:1⃣5⃣


Orton ko eid ke din ka ajar kese milega farishtai to eid gah ke rastai me kharai honge


اَلْجَواب حَامِدَاوَّمُصَلِّیا
صرف نماز کیلئے نہیں جاسکتی باقی جتنی عبادت کرنا چاہئے کرسکتی ہے کوئی مخصوص عبادت نہیں ہے اس دن کیلئے
یاد رہے نماز عید سے پہلے نفل پڑھنا مطلقاً مکروہ ہے، خواہ گھر میں پڑھے یا عیدگاہ میں، حتیٰ کہ عورت بھی گھر میں نفل پڑھنا چاہے تو نماز عید کے بعد پڑھے اور نماز عید کے بعد فقط عید گاہ میں نفل پڑھنا مکروہ ہے۔


واللہ اعلم


محمد امیر۔۔۔

@jamashuda
t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:2⃣5⃣


نمازعید کے احکام


نماز عید واجب ہے یا سنت؟

فقہ حنفی میں عید ین کی نماز واجب ہے،سنت نہیں۔


نماز عید کس پر واجب ہے؟

عید کی نماز شہر کے مردوں پر واجب ہے۔عورتوں پر نماز عید واجب نہیں، اسی طرح گاؤں دیہات کے لوگوں پر نماز عیدواجب نہیں۔


طریقہ:

نماز عید پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے دل میں یہ نیت کرے : میں چھ تکبیروں کے ساتھ عید کی دورکعت واجب نماز پڑھتا ہوں۔(نیت کے مذکورہ الفاظ زبان سے کہنا ضروری نہیں،دل میں ارادہ کرلینا بھی کافی ہے۔)
نیت کرکے ہاتھ باندھ لے اور ’’سبحانک اللّٰھم‘‘ آخر تک پڑھ کر تین مرتبہ اللہ اکبر کہے، ہر مرتبہ تکبیر تحریمہ کی طرح دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھائے،تکبیر کے بعد ہاتھ لٹکادے،دو تکبیروں کے درمیان اتنی دیر تک ٹھہرے جس میں تین مرتبہ ’’سبحان اللّٰہ‘‘ کہا جاسکے۔ تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ باندھ لے اور ’’اعوذ باللّٰہ‘‘ اور’’بسم اللّٰہ‘‘پڑھ کر سورۂ فاتحہ اور کوئی دوسری سورۃ پڑھ کر رکوع وسجدہ کرکے کھڑا ہو، دوسری رکعت میں پہلے سورۂ فاتحہ اور سورت پڑھ لے، اس کے بعد تین تکبیریں اسی طرح کہے، لیکن یہاں تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ نہ باندھے بلکہ لٹکائے رکھے اور پھر چوتھی تکبیر کہہ کر رکوع میں چلا جائے۔


*خطبہ:
عیدین میں خطبہ پڑھنا سنت ہے، واجب نہیں، لیکن جب خطبہ شروع ہوجائے تو مقتدیوں پر اسے سننا واجب ہے۔


خطبہ نماز کے بعد پڑھے:

نماز کے بعدامام منبر پر کھڑے ہو کر دو خطبے پڑھے اور دونوں خطبوں کے درمیان اتنی دیر بیٹھتے جتنی دیر جمعہ کے دوخطبوں کے درمیان بیٹھتے ہیں۔


دعا:
عیدین کی نماز کے بعد دُعا مانگنا جائز بلکہ مستحب ہے،لیکن یہ دعا نماز کے بعد ہونی چاہیے، خطبوں کے بعد دعا کرنا بے اصل ہے۔(محمودیہ، احسن الفتاوی ، فتاوی دارالعلوم زکریا)


_اگر تکبیرات نکل جائیں_

اگر کوئی شخص عید کی نماز میں ایسے وقت آکر شریک ہوا کہ امام تکبیریں پڑھ چکا تھا تو اگر قیام میں آکر شریک ہوا ہو تو نیت باندھنے کے بعد فوراً تکبیریں کہہ لے، اگر چہ امام قرات شروع کرچکا ہو اور اگر رکوع میں آکر شریک ہوا ہو تو اگر غالب گمان یہ ہو کہ تکبیروں سے فارغ ہونے کے بعد امام کے ساتھ رکوع مل جائے گا تو نیت باندھ کر تکبیر کہہ لے، اس کے بعد رکوع میں جائے،رکوع نہ ملنے کا خوف ہوتو رکوع میں شریک ہوجائے اور حالت رکوع میں بجائے تسبیح کے تکبیریں کہہ لے مگر حالت ِ رکوع میں تکبیریں کہتے وقت ہاتھ نہ اٹھائے اور اگر اس کی تکبیریں پوری ہونے سے پہلے امام رکوع سے سر اُٹھالے تو یہ بھی کھڑا ہوجائے اور اس صورت میں جتنی تکبیریں رہ گئی ہیں وہ معاف ہیں۔


عیدین میں سجدہ سہو نہیں:

عیدین کی نماز میں کوئی ایسی غلطی ہوجائے جس سے سجدہ سہو واجب ہوتا ہے تویہ سجدۂ سہوواجب نہیں۔یہ گنجائش ہر ایسی نماز میں ہے جس میں نمازیوں کی تعداد بہت زیادہ ہو۔


نماز عید سے پہلے اشراق ونوافل:

جو مسلمان عید کی نماز پڑھنے والے یا پڑھنے کا ارادہ رکھنے والے ہیں ان کے لیے نماز عید سے پہلے کسی بھی طرح کے نوافل مکروہ ہیں، عید گاہ میں بھی اور گھر میں بھی؛نماز عید کے بعد عید گاہ میں مکروہ ہے گھر وں میں نماز عید کے بعد نوافل درست ہیں؛ لہٰذا دیہات میں نمازعید کے وقت نفل نماز پڑھنا ممنوع نہ ہوگا؛ کیونکہ دیہات میں عید ہوتی ہی نہیں۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 275)
وَتَجِبُ صَلَاةُ الْعِيدَيْنِ عَلَى أَهْلِ الْأَمْصَارِ كَمَا تَجِبُ الْجُمُعَةُ وَهَكَذَا رَوَى الْحَسَنُ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ أَنَّهُ تَجِبُ صَلَاةُ الْعِيدِ عَلَى مَنْ تَجِبُ عَلَيْهِ صَلَاةُ الْجُمُعَةِ۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 275)
حَتَّى لَا تَجِبَ عَلَى النِّسْوَانِ وَالصِّبْيَانِ وَالْمَجَانِينِ
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 277)
وَكَيْفِيَّةِ أَدَائِهَا فَنَقُولُ: يُصَلِّي الْإِمَامُ رَكْعَتَيْنِ: فَيُكَبِّرُ تَكْبِيرَةَ الِافْتِتَاحِ، ثُمَّ يَسْتَفْتِحُ فَيَقُولُ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِك إلَى آخِرِهِ عِنْدَ عَامَّةِ الْعُلَمَاءِ، وَعِنْدَ ابْنِ أَبِي لَيْلَى يَأْتِي بِالثَّنَاءِ بَعْدَ التَّكْبِيرَاتِ وَهَذَا غَيْرُ سَدِيدٍ؛ لِأَنَّ الِاسْتِفْتَاحَ كَاسْمِهِ وُضِعَ لِافْتِتَاحِ الصَّلَاةِ فَكَانَ مَحِلُّهُ ابْتِدَاءَ الصَّلَاةِ، ثُمَّ يَتَعَوَّذُ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ، ثُمَّ يُكَبِّرُ ثَلَاثًا، وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ يُؤَخِّرُ التَّعَوُّذَ عَنْ التَّكْبِيرَاتِ بِنَاءً عَلَى أَنَّ التَّعَوُّذَ سُنَّةُ الِافْتِتَاحِ، أَوْ سُنَّةُ الْقِرَاءَةِ عَلَى مَا ذَكَرْنَا، ثُمَّ يَقْرَأُ ثُمَّ يُكَبِّرُ تَكْبِيرَةَ الرُّكُوعِ فَإِذَا قَامَ إلَى الثَّانِيَةِ يَقْرَأُ أَوَّلًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ ثَلَاثًا، وَيَرْكَعُ بِالرَّابِعَةِ فَحَاصِلُ الْجَوَابِ أَنَّ عِنْدَنَا يُكَبِّرُ فِي صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ تِسْعَ تَكْبِيرَاتٍ: سِتَّةٌ مِنْ الزَّوَائِدِ وَثَلَاثَةٌ أَصْلِيَّاتٌ: تَكْبِي
رَةُ الِافْتِتَ

احِ، وَتَكْبِيرَتَا الرُّكُوعِ وَيُوَالِي بَيْنَ الْقِرَاءَتَيْنِ فَيَقْرَأُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى بَعْدَ التَّكْبِيرَاتِ وَفِي الثَّانِيَةِ قَبْلَ التَّكْبِيرَاتِ.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 277)
وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ أَنَّهُ يَسْكُتُ بَيْنَ كُلِّ تَكْبِيرَتَيْنِ قَدْرَ ثَلَاثِ تَسْبِيحَاتٍ
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 276)
وَأَمَّا الْخُطْبَةُ فَلَيْسَتْ بِشَرْطٍ؛ لِأَنَّهَا تُؤَدَّى بَعْدَ الصَّلَاةِ وَشَرْطُ الشَّيْءِ يَكُونُ سَابِقًا عَلَيْهِ أَوْ مُقَارِنًا لَهُ
(أوجز المسالک ۳/ ۴۲۴)
ولأن المبادرۃ إلی صلاۃ العید مسنونۃ ، وفي الاشتغال بالتطوع تاخیرہا … وعامۃ أصحابنا علی أنہ لایتطوع قبل صلاۃ العید لا فی المصلی، ولا فی البیت، فأول الصلاۃ في ہذا الیوم صلاۃ العید۔



واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔


https://t.me/jamashuda
t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:3⃣5⃣


گروی رکھے ہوئے زیور پر زکوٰۃ کا حکم

السلام عليكم ورحمۃاللہ وبرکاتہ

مفتی صاحب درج ذیل مسئلہ کی وضاحت فرمائیں
کہ زیور بیوی کی ملکیت میں ہے اور شوہر نے بیوی کازیور رہن رکھ کر قرض لیا تو کیا اس رہن رکھے ہوے زیور کی زکوۃ نکالنا پڑے گا؟ کس صورت میں زکوۃ واجب هو گی اور کس صو رت میں نہی واجب ہوگی اگر تفصیل سے جواب دیں تو مہربانی ہوگی کیوں کی اکثر لوگ رمضان مے پوچھتے ہیں کہ بیوی کا زیور رہن رکھا ھے یا بینک میں ہے تو زکوۃ نکا لنا ہے یا نہیں۔؟


الجواب وباللہ التوفیق :خود اپنا زیور کوئی گروی رکھے تو اس پہ زکوة واجب نہیں ہے
لیکن اگر بیوی کی ملکیت کا زیور شوہر رہن رکھے تو یہ دین قوی ہے اور دین قوی پہ زکوة فرض ہے اس لئے اب اس رہن رکھے ہوئے زیور کی زکوة بیوی کے ذمہ واجب الاداء ہے یا تو ابھی جوڑ کے دیدے ورنہ زیور وصول ہونے کے بعد بقیہ تمام سالوں کی زکوة حسب قواعد ادا کرے

ولا: أي لا یجب الزکاۃ في مرہون أي لا علی المرتہن لعدم ملک الرقبۃ، ولا علی الراہن لعدم الید۔ (الدرالمختار کتاب الزکاۃ مع الشامي ۳؍۱۸۰ زکریا، ۲؍۲۶۳ کراچی)
ومن موانع الوجوب الرہن إذا کان في ید المرتہن لعدم ملک الید کذا في العنایۃ۔ (البحر الرائق ۲؍۳۵۵ رشیدیۃ، ۲؍۲۰۳ کوئٹہ)

قسم أبو حنیفۃ الدین علی ثلاثۃ أقسام قوی وہو بدل القرض، ومال التجارۃ ومتوسط وہو بدل ما لیس للتجارۃ … ففي القوی تجب الزکوۃ إذا حال الحول، ویتراخی القضاء إلی أن یقبض … ویعتبر لما مضی من الحول۔ (البحر الرائق ۲؍ ۲۰۷کوئٹہ، کذا في الدر المختار، الزکاۃ / باب الزکاۃ المال ۲؍۳۰۵ کراچی۔ ہکذا فی کتاب النوازل)
واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔


https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:4⃣5⃣

سوال:
عیدین میں امام حنفی ہے اور نصف مقتدی سے زائد شافعی ہیں اور نصف مقتدی سے کم حنفی ہیں تو امام کو کس مذہب کے موافق نماز پڑھانی چاہئے۔؟

الجواب:عیدین کی نماز مین امام حنفی اپنے مذہب کے موافق تکبیرات زوائد کہے یعنی تین تکبیرات ہر رکعت میں علاوہ تکبیر افتتاح و رکوع کے،مقتدی جو شافعی المذہب ہے وہ اپنے مذہب کے موافق تکبیرات پوری کرلیں اگر انکے نزدیک یہ جائز ہو کہ امام حنفی کے پیچھے تکبیرات پوری کرلی جاویں۔ البتہ امام حنفی کو ان کے مذہب کا اتباع ضروری نہیں ہے۔لیکن اگر امام انکی رعایت سے ان کے مذہب کے موافق تکبیرات کہےگا تو اسمیں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔
ویصلی الامام رکعتین مثنیا قبل الزوائد وھی ثلاث تکبیرات فی کلی رکعة والو زاد تابعہ الی ستة عشر لانہ ماثور (الدرالمختار باب العیدین 115/1 ط.س.172/2 ظفیر
لکن یندب للخروج من لخاف لا سیما للامام لکن بشرط عدم لزوم ارتکاب مکروہ مذھبہ(رد المحتار1)


مستفاد:فتاوی دارالعلوم دیوبند5


واللہ اعلم


محمد امیر۔۔۔۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:5⃣5⃣

سونا چاندی اور روپیہ تینوں مل کر اگر نصاب کے بقدر ہوں؟
سوال(۸):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: میرے پاس چالیس تولہ چاندی اور نقد دس ہزار روپیہ ہے، سونا کچھ بھی نہیں ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ مجھے چاندی کی زکوٰۃ ادا کرنی پڑے گی یا صرف پیسوں کی؟ کیونکہ چاندی اپنے نصاب سے کم ہے، بعض علماء کا کہنا ہے کہ نقدی روپیہ چاندی کے حکم میں ہوتا ہے، اسی طرح اگر سونا نصاب سے کم ہو تو کیا پیسوں سے اس کی تکمیل کرکے زکوٰۃ دینا چاہئے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: مسئولہ صورت میں حکم یہی ہے کہ چاندی کی قیمت لگاکر موجودہ رقم کو بھی چاندی کی رقم میں ضم کرلیا جائے گا، اور کل رقم پر ڈھائی فیصدی کے اعتبار سے زکوٰۃ واجب ہوگی، اور اگر سونا نصاب سے کم ہو اور روپیہ موجود ہو تو سونے کی قیمت لگاکر چاندی کے نصاب سے زکوٰۃ ادا کی جائے گی، فتویٰ اسی پر ہے ۔ 
وتضم قیمۃ العروض إلی الذہب والفضۃ حتی یتم النصاب؛ لأن الوجوب في الکل باعتبار التجارۃ وإن افترقت جہۃ الأعداد ویضم الذہب إلی الفضۃ للمحانسۃ من الثمنیۃ۔ (ہدایۃ ۱؍۲۱۳ مکبتۃ بلال دیوبند) 
ویضم الذہب إلی الفضۃ وعکسہ بجامع الثمنیۃ قیمۃً۔ قال الشامي: أي من جہۃ القیمۃ، فمن لہ مائۃ درہم وخمسۃ مثاقیل قیمتہا مائۃ علیہ زکاتہا، خلافا لہما۔ (الدر المختار مع الرد المحتار، الزکاۃ/ باب زکاۃ المال ۲؍۳۰۳ کراچی، ۳؍۲۳۴ زکریا، البحر الرائق الزکاۃ / باب زکاۃ المال ۲؍۴۰۰ رشیدیہ، تبیین الحقائق، الزکاۃ / باب زکاۃ المال ۲؍۸۰ بیروت، الفتاوٰی التاتارخانیۃ ۳؍۱۵۸ زکریا، الفتاویٰ الہندیۃ ۱؍۱۷۹)
ولو بلغ بأحدہما نصاباً وخمساً، وبالآخر أقل قومہ بالأنفع للفقیر۔ (الدر المختار مع الرد المختار، زکاۃ / باب زکاۃ المال ۳؍۲۲۹ زکریا) 
أخرجہ أبوداؤد عن عمرو بن یعلی فذکر الحدیث نحو حدیث الخاتم: قیل لسفیان: کیف تزکیہ؟ قال: تضمہ إلی غیرہ۔ (سنن أبي داؤد ۳؍۱۵۸)

فقط واﷲ تعالیٰ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔

https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:6⃣5⃣

سوال # 14464


محترم
مولانا صاحب میرا سوال یہ ہے کہ [ہمارے بریلوی بھائی ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم کا نام لینے کے بعد انگوٹھا چومتے ہیں]  کیا یہ درست ہے یا غلط؟


Published on: Jul 7, 2009 جواب # 14464
بسم الله الرحمن الرحيم


فتوی:
1175=1117/ب


 


یہ
عمل کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔ اس لیے یہ کوئی شرعی کام یا عبادت کا کام نہیں۔
اسے عبادت سمجھنا اور اس کا التزام کرنا بدعت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا
نام مبارک لینے یا سننے کے بعد درود شریف پڑھنا صحیح احادیث سے ثابت ہے، لہٰذا آپ
کا نام نامی اور اسم گرامی لینے کے بعد صلی اللہ علیہ وسلم کہنا چاہیے، یہ عبادت
اور افضل ترین عبادت ہے اور کارِ ثواب ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند



محمد امیر۔۔۔۔


https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:7⃣5⃣

سوال # 29582
سوال یہ ہے کہ دیوبند کے ایک عالم کے ایک نسخہ میں پڑھا ہے جس میں لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام آنے پر انگوٹھی چومنے کی جو حدیث ہے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ہے، موضوع ہے، یہ عمل بدعت ہے۔ میں نے سناہے کہ علامہ شامی نے در مختار میں اس عمل کو مستحب لکھا ہے۔ جو عمل مستحب ہو وہ بدعت کیسے ہوسکتاہے ۔ براہ کرم، اس مسئلہ کو ذرا تفصیل سے سمجھائیں، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کاعمل اور درمختار میں جو لکھا ہے۔
Published on: Feb 9, 2011 جواب # 29582
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی(د): 355=107-3/1432

دیوبند کے عالم نے اپنے نسخے میں انگوٹھا چومنے کے بارے میں مروی روایت سے متعلق کیا بات لکھی ہے اسے کتاب کا نام اور صفحہ نمبر کے ساتھ لکھیں، البتہ ایک قدیم بڑے محدث علامہ طاہر پٹنی نے اس حدیث کو ”تذکرة الموضوعات، ص:۱/۳۶“ کے ضمن میں لکھا ہے، نیز حدیث کی عدم صحت کے ساتھ ساتھ صحابہٴ کرام اور تابعین عظام کے زمانے میں اس پر عمل کا ثبوت نہیں ملتا؛ اس لیے انگوٹھا نہ چومنے میں ہی احتیاط ہے؛ بلکہ اذان کے دوران، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح سند کے منقول کلمات کو دہرانا چاہیے، پھر اگر مذکورہ بالا حدیث کی صحت اور تعامل سے قطع نظر بھی کرلیا جائے تب بھی یہاں دو باتیں قابل لحاظ ہیں: (۱) ان روایات میں یہ عمل بہ طور علاج وحفاظت رمد (آشوبِ چشم) کے لیے آیا ہے، چناں چہ المقاصد الحسنہ للسخاوی میں کئی ایک روایت میں ”لم تَرمد عینہ“ مذکور ہے (یعنی جو اس طرح کرے گا، اسے آشوبِ چشم کی بیماری لاحق نہ ہوگی) اورعلاج ایک امر دنیوی ہے، اس میں کوئی فضیلت وغیرہ نہیں اور اب لوگ اس کو ثواب وتعظیم نبوی جو کہ امر دینی ہے، سمجھ کر کرتے ہیں اور تداوی کو عبادت سمجھنا بدعت ہے؛ اس لیے اس اعتقاد سے یہ بدعت ہوگا۔ (۲) انگوٹھا چومنے والے اس کا التزام عملی واعتقادی کرتے ہیں اور تارک کو مطعون سمجھتے ہیں؛ اس لیے اگر ان روایتوں کو فضیلت پر بھی محمول کرلیں تب بھی یہ عمل ثانی الذکر وجہ کی بنا پر بدعت ہوگا، رہی علامہ شامی کی بات تو انھوں نے اسے ”سنت“ نہیں کہا؛ بلکہ مستحب لکھا ہے اور یہ اس صورت پر محمول ہے جب التزامِ عملی یا اعتقادی نہ ہو، اور یہ بھی احتمال ہے کہ انھوں نے بہ طور علاج ایسا کرنے کو پسند فرمایا۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


محمد امیر۔۔۔۔

https://t.me/jamashuda جمع شدہ فتاوی

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:8⃣5⃣
سوال # 38060
۱-مثلا حاضر و ناظر میں بریلوی یہ مانتے ہیں اور ور بتاتے ہیں کہ یہ دنیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح دیکھتی ہے جیسے پوری دنیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی میں ہو تو وہ لوگ اس حدیث کو بول کر کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوری دنیا کے انسانوں کو دیکھتے ہیں اور سنتے ہیں تو ایسی کوئی حدیث ہے تو بتائیں۔
۲- انگوٹھا چوم کر آنکھوں پہ اسلئے لگاتے ہیں کیوں کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ایسا عمل کیا تھا جب حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام آتا تھا ۔ براہ کرم،بتائیں کہ اس کی کیا حقیقت ہے؟
Published on: Mar 29, 2012 جواب # 38060
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی: 612-531/B=5/1433

(۱) ایسی کوئی حدیث ہماری نظر سے نہیں گذری، جو لوگ ایسی بات کہتے ہیں، ان سے ہی حدیث کا حوالہ طلب کریں۔
(۲) حضرت ابوبکر کا یہ عمل کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سن کر انگوٹھے چومنے کا ذکر کسی حدیث سے ثابت نہیں۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


محمد امیر۔۔۔۔۔



https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:9⃣5⃣

Pakistanسوال # 49707
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام مبارک پر انگوٹھے چومنا قرآن وحدیث سے ثابت ہے؟
Published on: Dec 5, 2013 جواب # 49707
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 113-105/B=1/1435-U

یہ بدعتیوں کا ایجاد کردہ عمل ہے، قرآن وحدیث سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا ہے۔ اور نہ کسی صحابی سے یہ عمل منقول ہے، اس سے بچنا ہی ضروری ہے۔
__________________
جواب صحیح ہے اور اس سلسلہ میں اہل بدعت جو روایتیں نقل کرتے ہیں وہ موضوع یا حد درجہ ضعیف ہیں۔ (ن)

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند



محمد امیر۔۔۔۔۔۔

https://t.me/jamashuda

http://t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:0⃣6⃣

Pakistanسوال # 62410
(۱) مجھے کسی نے کہا ہے کہ حضور پاک کے نام پر انگوٹھے چومنا حضرت آدم علیہ السلام کی اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سنت ہے یہ بات ٹھیک ہے یا نہیں؟
(۲) حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نام کر انگوٹھے چومنا جائز ہے یا ناجائز؟
جواب دلائل کے ساتھ دے دیں تو سمجھنے میں آسانی ہو گی۔جزاک اللہ.
Published on: Dec 16, 2015 جواب # 62410
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 166-172/L=3/1437-U

(۱) (۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام مبارک کے ذکر کے وقت انگوٹھا چومنا کسی خاص عقیدے کے پیش نظر جائز نہیں ہے، اس بارے میں حضرت آدم علیہ السلام کا ایک عمل قصص الانبیاء وغیرہ میں مذکور ہے نیز اذان کے وقت نبی علیہ السلام کے نام مبارک یعنی أشہد أن محمدا رسول اللہ پر انگوٹھے چوم کر آنکھوں پر پھیرنے کے سلسلے میں حضرت خضر علیہ السلام وحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت منقول ہے، لیکن یہ تمام کی تمام روایات موضوع ہیں، علامہ شامی فرماتے ہیں، وذکر ذلک الجراحی وأطال، ثم قال: ولم یصح فی المرفوع من کل ہذا شیء․ (رد المحتار: ۲/۶۸، ط زکریا دیوبند) علامہ جراحی نے اس کو ذکر کرکے اس پر لمبی بحث کی ہے، پھر فرمایا اس سلسلے میں کوئی مرفوع حدیث ثابت نہیں ہے، علامہ سخاوی فرماتے ہیں: وحکی الخطابي في شرح مختصرة خلیل حکایة آخر غیر ما ہنا وتوسع في ذلک ولا یصح شيء من ہذا في المرفوع کما قال الموٴلف بل کلہ مختلق موضوع․

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند



محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔

https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:1⃣6⃣

Indiaسوال # 63294
اور جب نماز کے لیے تکبیر کہی جاتی ہے تو انگلی اٹھانا اور انگوٹھیوں کو چومنا کیسا ہے؟
براہ کرم، قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں۔
Published on: Jan 18, 2016 جواب # 63294
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 317-317/M=4/1437-U

نماز شروع کرتے وقت جو تکبیر کہی جاتی ہے جس کو تکبیر تحریمہ کہتے ہیں اس تکبیر میں صرف ہاتھ اٹھانا ثابت ہے، انگوٹھوں کو چومنا ثابت نہیں، او اگر تکبیر سے مراد اقامت ہے جو جماعت کھڑی ہونے کے وقت کہی جاتی ہے تو اس میں بھی انگلی اٹھانا اور انگوٹھا چومنا ثابت نہیں، بعض لوگ کلمہٴ شہادت کے وقت انگوٹھا چومنے کو ثواب اور سنت سمجھتے ہیں یہ صحیح نہیں، اس سے بچنا چاہیے۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند



محمد امیر۔۔۔۔۔

https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:2⃣6⃣

Indiaسوال # 66909
جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سنیں کیا تو اس وقت اپنے انگوٹھے سے اپنی آنکھوں کو چھونا درست ہے یا نہیں؟
براہ کرم، اس بارے میں وضاحت فرمائیں۔
Published on: Jul 17, 2016 جواب # 66909
بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 874-858/Sd=10/1437


 


آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سننے پر درود شریف پڑھنا چاہیے، اس وقت انگوٹھے سے آنکھوں کا چھونا ثابت نہیں ہے۔


واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


محمد امیر۔۔۔۔۔۔




https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:3⃣6⃣


سوال # 46312

(۱) اگر نماز کی آخری رکعت میں امام کے ساتھ شامل ہو تو ہم کو اپنی رکعتیں کس طرح تعین کرنا ہوگا؟ مسئلہ تو پہلے دو رکعت تعین کرنے کا ہے؟(۲) نماز کو دیر کرکے پڑھنے والوں پر کیا حکم ہے؟(۳) اگر چار رکعات والی نماز ہو اور کسی شخص نے تین رکعات ہی پڑھی اور یہ سوچتاہے کہ چار پڑھ لی ہیں، کیوں کہ اس طرح کئی دفعہ محسوس ہوتاہے تو کیا حکم ہوگا؟ (۴) نماز کن حالات میں د ہرانا فرض ہے؟(۵) اگر کوئی نماز میں شامل ہوتے ہوئے تکبیر اولی کوز بان سے ادا نہ کرے بس صرف دل ہی دل میں کہہ لے تو کیا یہ کافی ہے؟(۶) نماز کے اذکار اگر دل ہی دل میں پڑھ لے اور زبان سے ادا کرنے میں کوتاہی کرے تو کیا نمازہوجائے گی؟(۷) نماز میں دھیان پیدا کرنے کے لیے کیا کرنا چاہئے؟(۸) واجب الوتر کی قضا بھی فرض ہے؟اگر نہ کرے تو کیا گناہ ہوگا(۹) اگر ایک شخص کو معلوم نہیں ہے کہ کتنی نماز یں قضاہوئی ہیں تو کس طرح قضائے عمری کرے گا؟
Published on: Aug 24, 2013 جواب # 46312
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی: 981/201/D=10/1434

چھوٹی ہوئی رکعتوں کے ادا کرنے کے سلسلہ میں ضابطہ یہ ہے کہ چھوٹی ہوئی رکعتیں ”قرأت کے حق میں اول نماز مانی جائیں گی“ چنانچہ شروع کی دو رکعتوں میں سورہٴ فاتحہ اور ضم سورہ کیا جائے گا، اور ”قعدہ کے حق میںآ خر نماز“ چنانچہ ایک رکعت پانے والا ایک رکعت مزید ادا کرکے قعدہ کرلے گا، لہٰذا جس شخص کی عصر یا ظہر کی تین رکعتیں چھوٹی ہوں وہ پہلی رکعت میں سورہٴ فاتحہ اور ضم سورہ کرکے رکوع سجدہ کے بعد قعدہ کرے گا پھر دوسری رکعت کے لیے اٹھے گا (جو واقع میں تیسری رکعت ہے) اور اس میں سورہٴ فاتحہ اور ضم سورہ کرے گا، مگر رکوع سجدہ کے بعد قعدہ نہیں کرے گا بلکہ تیسری رکعت (جو واقع میں چوتھی رکعت ہے) کے لیے کھڑا ہوجائے گا اور صرف سورہٴ فاتحہ پڑھے گا، دوسری سورہ نہیں ملائے گا، پھر رکوع سجدہ قعدہ کرکے سلام پھیردے گا۔
(۲) وقت مستحب سے موخر کرکے پڑھنا خلافِ اولیٰ ہے یعنی اس سے ثواب میں کمی آجاتی ہے، اور بلاعذر وقت مکروہ میں پڑھنا مکروہ یعنی باعث گناہ ہے اور قضا کردینا بہت ہی سخت گناہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے انتہا درجہ کی کوتاہی فرمایا ہے قال أما أنہ لیس في النوم تفریط إنما التفریط علی من لم یصل حتی یجيء وقت الصلاة الأخری (رواہ مسلم)
(۳) اگر پہلی بار ایسا اتفاق ہوا ہو تو از سر نو دوبارہ نماز پڑھ لے او راگر ایسا شبہ اکثر پیش آجاتا ہے تو کم تعداد جو کہ یقینی ہے اسے مان کر بقیہ رکعت پوری کرے، مثلاً دو اور تین میں شبہ ہوا تو دو مان کر بقیہ نماز پڑھے، مگر احتیاطاً تیسری رکعت میں بھی قعدہ کرے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ یہ چوتھی ہو اور چوتھی میں قعدہ اخیرہ فرض ہے۔
(۴) (الف) جب نماز کی کوئی شرط پوری نہ ہو مثلاً وضو، غسل، کپڑے کی طہارت کے بغیر نماز پڑھ لیا ہو۔ (ب) یا نماز کا کوئی رکن (فرض) ادا کرنے سے رہ گیا مثلاً کسی رکعت کا رکوع یا سجدہ نہیں کیا ان صورتوں میں نماز کا دہرانا فرض ہے۔ (ج) کسی واجب کے چھوٹنے یا فرض کے موٴخر ہونے کی بنا پر سجدہٴ سہو واجب ہوا ہو مگر اس نے سجدہٴ سہو نہیں کیا تو نماز واجب الاعادہ ہوتی ہے۔ تفصیل کے لیے بہشتی زیور حصہ اول دوم یا بہشتی ثمر حصہ اول پڑھیں تاکہ نماز کے مسائل یاد ہوجائیں کیونکہ ان کی ضرورت اکثر پیش آتی ہے۔
(۵) زبان سے ادا کرنا ضروری ہے، ایسی آواز کہ آدمی خود سن لے یا کم ازکم حروف کی ادائیگی صحیح طور پر ہوجائے ضروری ہے۔
(۶) اس کا بھی وہی حکم ہے جو تکبیر کا ہے جن چیزوں کا کہنا فرض یا واجب ہے، مثلاً قرأت تشہد (التحیات) ان کی ادائیگی زبان سے نہ ہونے کی صورت میں نماز صحیح نہیں ہوگی اور جن چیزوں کا کہنا سنت ہے مثلاً رکوع سجدہ کی تسبیح ان کے زبان سے نہ کہنے کی صورت میں ثواب میں کمی آجائے گی۔
(۷) جو رکن ادا کررہا ہے یا جو الفاظ زبان سے نکال رہا ہے اس کی طرف دھیان رکھے۔
(۸) جی ہاں گناہ ہوگا۔
(۹) اندازہ سے حساب لگاکر یاد داشت میں نوٹ کرے پھر تھوڑا تھوڑا ادا کرتا رہے اور یادداشت میں نشان لگاتا رہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


محمد امیر۔۔۔۔

https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:4⃣6⃣


سوال:
ہم لوگ حنفی المسلک ہیں اور متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں یہاں تمام ہی نمازیں اوّل وقت میں ادا کی جاتی ہیں، لیکن عصر کی نماز میں کافی اشکال رہتاہے کیوں کہ اس وقت ہمارے یہاں عصر کی نماز ۳؍  بج کر ۴۸؍منٹ پرادا کی جاتی ہے،پس کیا ایسی شکل میں ہم لوگ جماعت سے نمازادا کریں،یاکہ بعد میں الگ تنہا ادا کی جائے،مغرب کی اذان ۵۵؍ بج کر ۵۵؍منٹ پر ہوتی ہے۔

جواب:
حنفیہ کے نزدیک بھی ایک قول میں اس وقت نماز عصر کا وقت ہوجاتاہے اگر چہ مفتی بہ اور بہتر یہی ہے کہ دومثل کے بعد نماز عصر ادا کریں، لہٰذا حنفیہ کے اس قول کے مطابق عمل کریں اور جماعت عصر بھی انہیں لوگوں کے ساتھ ادا کریں،جماعت نہ چھوڑیں اور نہ اپنی جماعت الگ اور دوسری بنائیں۔


مستفاد:نظام الفتاوی5

واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔

https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:5⃣6⃣


سوال:
گذارش ہے کہ ہمارے محلہ کی مسجد میں روزانہ بعد نماز فجر حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب کی تالیف کردہ فضائل نماز ذکر وغیرہ میں سے کسی ایک کتاب میں سے چند حدیثیں  پڑھیں جاتی ہیں یہ عمل گذشتہ دس سال سے ہورہاہے نمازیوں کو اس سے بہت نفع ہورہاہے مسجد کے ایک دونمازی کچھ عرصہ سے عام طور پر جماعت ختم ہونے کے بعد آتے ہیں اور اس عمل پر اعتراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہماری نماز میں خلل واقع ہوتاہے(کتاب امام صاحب کے مصلیٰ کے پاس پڑھی جاتی ہے)  براہ ِ کرم شریعت کے حکم سے آگاہ فرمائیں ان کا یہ مطالبہ قابل تسلیم ہے یاکہ نہیں۔

جواب:
نماز باجماعت بے شرعی عذر ومجبوری کے ترک نہ کرنا چاہیے نمازباجماعت کی بڑی تاکید وارد ہے نماز باجماعت بہت سے اعتبار سے واجب ہے اور شعار کا درجہ رکھتی ہے نماز باجماعت میںسستی کرنا یا عام طور پر ختمجماعت پر آنے کی عادت ڈالنا بہت بری بات ہے نماز باجماعت پڑھنے کی ہمیشہ کوشش کرنا ضروری ہے اگر اتفاقاً اپنی مسجد میں نماز باجماعت چھوٹ جائے تو باجماعت ادا کرنے کی کوشش کرنا چاہیے اگر کسی دوسری مسجد میںجماعت مل جانے کا ظن غالب ہوتو  اس میں چلا جانا چاہیے ورنہ اپنی مسجدمیں جس میں نماز باجماعت ادا کرنے کا معمول ہے چند افراد اکٹھا ہوجاویں تواصل مسجد سے ہٹ کر وضو خانہ وغیرہ میں جماعت سے نماز پڑھنا چاہیے اگر اس کا بھی موقع نہ ہوتو کسی کنارہ  تنہا پرھ لے اورایسی صورت میں جو لوگ مصلیٰ کے پاس وعظ وتبلیغکررہے ہیں یاکتاب سنارہے ہیں اس کا کوئی قصور نہیں ہے البتہ جو لوگ مسبوق ہوگئے چند رکعتیں چھوٹ گئی ہیں یا سنن ونوافل رواتب میں بعد نماز جماعت مشغول ہیں ان کی رعایت واجب ہے اور اسی صورت میں اس طرح وعظ وتلقین کرنا چاہیے کہ سنن ونوافل مثلاً ظہر ومغرب  وعشاء پڑھنے والوں کو اور مسبوق کو خلل واقع نہ ہو۔

مستفاد:نظام الفتاوی

فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔

محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔

https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:6⃣6⃣

قرض پر زکوۃ
مسئلہ(۱۲۳): جو رقم قرضِ حسنہ کے طورپر دی گئی اس کے وصول ہونے پر سالہائے گذشتہ کی زکوۃ واجب ہوتی ہے، اگر وصول ہونے سے پہلے دیدیا تویہ بھی جائزہے، اور اگر وصولی کی بالکل ہی امید نہ ہوتو زکوۃ واجب نہیں ہوگی، لیکن خلافِ توقع وامیدوصول ہوجائے تو سالہائے گذشتہ کی زکوۃ دینا بھی واجب ہوگا۔

الحجۃ علی ما قلنا :
ما في ’’ حاشیۃ الطحطاوي علی مراقي الفلاح ‘‘ : وزکاۃ الدین علی أقسام : فإنہ قوي ووسط وضعیف ، فالقوي وہو بدل القرض ومال التجارۃ إذا قبضہ وکان علی مقر ولو مفلساً أو علی جاحد علیہ بینۃ زکاہ لما مضی ۔
(ص :۳۹۰ ، کتاب الزکاۃ) (فتاوی حقانیہ : ۳/۵۳۲- ۴۹۸)
ما في ’’ الدر المختار مع رد المحتار ‘‘ : (ولو کان الدین علی مقر مليء أو) علی(معسر أو مفلس) أي محکوم بإفلاسہ (أو) علی (جاحد علیہ بینۃ) وعن محمد لا زکوۃ، وہو الصحیح ۔’’ درمختار‘‘۔ (۳/۱۸۴؍۱۸۵ ، مطلب : في زکاۃ ثمن المبیع وفائً)
(فتاوی حقانیہ:۳/۴۹۸، فتاوی محمودیہ:۳/۴۰۲، فتاوی عثمانی:۲/۶۴)

واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔

https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:7⃣6⃣

قرض لے کر قربانی:
مسئلہ:اگر کسی شخص کی ملکیت میں اس کی ضرورت سے زائد، نصاب کے بقدر مال ہو، یا نقد روپیہ ہو، لیکن وہ کہیں غائب ہو، یا کسی کو قرض دے رکھا ہو، او رقربانی کے دنوں میں اس کی وصولی اور ملنا ممکن نہ ہو، اور اس کے پاس اتنا بھی مال نہ ہو، جس سے وہ قربانی کا جانور خرید سکے، تو اس پر قربانی واجب نہیں ہوگی، اور نہ ہی اس پر قرض لے کر قربانی کرنا لازم ہوگا، کیوں کہ مال کی عدمِ موجودگی کی وجہ سے وہ فقیر کے حکم میں ہے۔

الحجۃ علی ما قلنا:
ما في ’’ الفتاوی التاتارخانیۃ ‘‘ : سئل علي بن أحمد عن رجل لہ دین مؤجل ، أو غیر مؤجل علی رجل وہو مقر حتی جاء یوم النحر ، ولیس في ید رب الدین شيء یمکنہ شراء الأضحیۃ ہل علیہ أن یستقرض ، ویشتري أضحیۃ یضحي بہا فقال : لا ، قیل لہ : ہل یجب علیہ قیمۃ الأضحیۃ إذا وصل إلیہ الدین بعد فوات الوقت ، قال : لا ، قیل : ہل یجب علی رب الدین أن یسأل منہ عن الدین إذا غلب علی ظنہ لو سأل منہ ثمن الأضحیۃ یعطیہ فیلزمہ منہ ، وإن کان مؤجلا فقال : نعم ۔ (۱۷/۴۶۴ ، کتاب الأضحیۃ ، الفصل التاسع في المتفرقات ، رقم المسئلۃ :۲۷۸۴۶ ، الفتاوی الہندیۃ :۵/۳۰۷ ، کتاب الأضحیۃ ، الباب التاسع في المتفرقات)
ما في ’’ بدائع الصنائع ‘‘ : وکذا لو کان مال غائب لا یصل إلیہ في أیام النحر ، لأنہ فقیر وقت غیبۃ المال حتی تحل لہ الصدقۃ بخلاف الزکاۃ فإنہا تجب علیہ ، لأن جمیع العمر وقت الزکاۃ وہذہ قربۃ مؤقتۃ فیعتبر الغنی في وقتہا ۔ (۴/۱۹۶، کتاب الأضحیۃ ، فصل شرائط الوجوب ، الفتاوی الہندیۃ :۵/۲۹۲، کتاب الأضحیۃ ، الباب الأول الخ)
(مسائل قربانی :ص/۶۴، ۶۵، مولانا عبد المعبود صاحب،المسائل المہمۃ:۸/۱۷۲)

واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔


https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:8⃣6⃣

قربانی کے لیے بڑا جانور ضروری نہیں۔

مسئلہ:اگر کسی شخص کی ملکیت میں ضرورت سے زائد اتنامال ہے، جس سے اُس پر قربانی واجب ہوجاتی ہے، لیکن اُس کے پاس نقد رقم نہیں ہے، تو اُس پر واجب ہے کہ قرض لے کر قربانی کرے، جیسا کہ اپنی دوسری ضروریات کے لیے قرض لیتا ہے، البتہ سودی قرض لینے سے اجتناب کرے، نیز یہ بات بھی سمجھ لینا چاہیے کہ واجب قربانی کے اپنے ذمہ سے ساقط ہونے کے لیے پورا ایک بڑا جانور خریدنا ضروری نہیں ہے، بلکہ اس میں سے ایک حصہ لے لینے سے بھی یہ واجب ادا ہوجاتا ہے۔

الحجۃ علی ما قلنا:
ما في ’’ سنن الدار قطني ‘‘ : عن عائشۃ قالت : قلت : یا رسول اللہ ! أستدین وأضحي ؟ قال : ’’ نعم ، فإنہ دینٌ مقضي ‘‘ ۔ (۴/۱۸۸، کتاب الأشربۃ وغیرہا ، باب الصید والذبائح الخ ، الرقم :۴۷۱۰ ، دار الایمان ، نصب الرایۃ للزیلعي :۴/۴۹۹، کتاب الأضحیۃ)
ما في ’’ رد المحتار ‘‘ : لہ مال کثیر غائب في ید مضاربہ أو شریکہ ومعہ مہ الحجرین أو متاع البیت ما یضحي بہ تلزم ۔ (۹/۴۵۳ ، کتاب الأضحیۃ ، الفتاوی الہندیۃ :۵/۳۰۷ ، کتاب الأضحیۃ ، الباب التاسع في المتفرقات) (کتاب الفتاویٰ: ۴/۱۳۳،المسائل المہمۃ:۸/۱۷۳)

واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔

https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:9⃣6⃣

قربانی کا جانور قرض لیکر یا ادھار پر خریدنا:

قربانی کے جانور کی خریداری میں بسا اوقات نقد ادائیگی کیلئے کسی کے پاس رقم نہیں ہوتی اور وہ قرض لیکر یا ادھار پرجانور کو خریدنا چاہتا ہے تو اِس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر وہ صاحبِ نصاب نہیں تو قرض لیکر اپنے آپ پر اضافی بوجھ نہیں ڈالنا چاہیئے ، کیونکہ شریعت نے اُس پر قربانی کو لازم ہی نہیں کیا ۔ہاں! اگر وہ صاحبِ نصاب ہے لیکن فی الحال جانور کی خریداری کیلئے اُس کے پاس رقم موجود نہیں تو وہ کسی سے ادھار لیکریا خود بیچنے والے سے ادھار پر جانور خریدسکتا ہے۔اس میں کوئی حرج نہیں ۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل :4/220)

قربانی کا جانور قسطوں پر خریدنا:

قسطوں پر کی جانے والی خریدو فروخت جائز ہے ، اور قربانی کے جانور میں بھی یہ طریقہ اپنایا جاسکتا ہے یعنی ایک متعیّنہ رقم میں جانور کو خرید لیا جائے اور بعد میں ماہانہ یا جو بھی طے ہو اُس کے مطابق قسطوں کی ادئیگی کی جاتی رہے ۔اس میں کوئی حرج نہیں ۔کیونکہ جس جانور کے آپ مالک ہیں اُس کی قربانی جائز ہے ، خواہ نقد خریدیں یا ادھار اور قسطوں پر۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل :4/220)

واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔

https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail