جواب نمبر:6⃣4⃣
شش عید کے روزوں کو بدعت کہنا جہالت اورلاعلمی کی دلیل ہے، یہ روزے احناف کے نزدیک صحیح ومفتی بہ قول کے مطابق مستحب وسنت ہیں، البتہ اگر کوئی شخص یہ روزے عید الفطر کا دن ملاکر رکھتا ہے، یعنی: عید الفطر اور اس کے بعد پانچ دن روزے رکھتا ہے تو یہ مکروہ ہے ؛ کیوں کہ عید الفطر کے دن روزہ رکھنا حرام ہے، اس سلسلہ میں چند دلائل اور حوالجات حسب ذیل ہیں:
الف:صحیح مسلم میں حضرت ابو ایوب انصاری سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے، پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ پوری زندگی روزہ رکھنے کے برابر ہے ، عن أبي أیوب الأنصاري أنہ حدثہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: من صام رمضان ثم أتبعہ ستاً من شوال کان کصیام الدھر، رواہ مسلم (مشکاة المصابیح، کتاب الصوم ، باب صیام التطوع، ص ۱۷۹، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)،البتہ حضرت ثوبان اور حضرت جابربن عبد اللہ کی روایت میں ہے کہ یہ ایک سال روزے کے برابر ہے(رسالہ: تحریر الأقوال فی صوم الست من شوال من مجموعة رسائل العلامة قاسم بن قطلوبغا، ص ۳۹۱ - ۳۹۳، مطبوعہ:دار النوادر، سوریة، لبنان، الکویت)۔
ب:صاحب بدائع علامہ کاسانی نے فرمایا: اتباع مکروہ یہ ہے کہ آدمی عید الفطر کے دن روزہ رکھے اور اس کے بعد پانچ دن روزے رکھے، اور اگر کسی نے عید الفطر کے دن افطار کیا ، پھر اس کے بعد چھ دن روزے رکھا تو یہ مکروہ نہیں؛ بلکہ مستحب وسنت ہے۔
والإتباع المکروہ ھو أن یصوم یوم الفطر ویصوم بعدہ خمسة أیام، فأما إذا أفطر یوم العید ثم صام بعدہ ستة أیام فلیس بمکروہ؛ بل ھو مستحب وسنة (بدائع الصنائع ، کتاب الصوم ۲: ۵۶۲، ط: دار الکتب العلمیة بیروت)۔
ج: صاحب ہدایہ علامہ مرغینانی نے فرمایا: مرغوب وپسندیدہ روزوں میں شوال کے مسلسل چھ روزے بھی ہیں(رسالہ: تحریر الأقوال فی صوم الست من شوال من مجموعة رسائل العلامة قاسم بن قطلوبغا، ص ۳۸۶ )۔
د:فتاوی عالمگیری میں البحر الرائق کے حوالے سے ہے کہ شوال کے چھ روزوں میں کچھ حرج نہیں، اور محیط سرخسی کے حوالے سے ہے: صحیح تر قول یہ ہے کہ شوال کے چھ روزوں میں کچھ حرج نہیں، یعنی: یہ روزے مستحب ہیں؛ کیوں کہ حرج کی نفی قول کراہت کے مقابلہ میں ہے اور ایسی صورت میں حرج نہ ہونے کا مطلب استحباب ہوتا ہے۔
عامة المتأخرین لم یروا بہ - بصوم الستة من شوال- بأساً ھکذا فی البحر الرائق، والأصح أنہ لا بأس بہ کذا فی محیط السرخسي (الفتاوی الھندیة، کتاب الصوم ، الباب الثالث فیما یکرہ للصائم وما لا یکرہ،۱: ۲۰۱، ط: مکتبة زکریا دیوبند)،وکلمة ” لا بأس“ ھنا مستعملة فی المندوب ؛لأنہا لیست مطردة لما ترکہ أولی، بل تستعمل فی المندوب أیضاً إذا کان المحل مما یتوھم فیہ البأس أي: الشدة، خاصة إذا تأید ذلک الأمر بالحدیث النبوي - علی صاحبہ الصلاة والسلام - کذا حققہ الحصکفي وابن عابدین الشامي فی الدر المختار وحاشیتہ رد المحتار (کتاب الطھارة۱: ۲۴۱، کتاب الصلاة، باب العیدین ۳: ۶۵،باب الجنائز في شرح قول الدر: ” ولا بأس برش الماء علیہ “ ۳:۱۴۳ و۶: ۲۵۷ ط مکتبة زکریا دیوبند)، ومثلہا کلمة ” لا جناح “ بل قد استعملت ھذہ في سورة البقرة (رقم الآیہ: ۱۵۸)بمعنی الوجوب کما في رد المحتار لابن عابدین الشامي (۶: ۲۵۷)،وکلمة ” لا حرج“ أیضاً؛لأنہا بمعناھا۔
ھ:علامہ حصکفی نے در مختار میں ابن کمال کے حوالے سے وہی مضمون نقل فرمایا ہے ، جو اوپر بدائع کے حوالے سے ذکر کیا گیا،یعنی: عید الفطر کا دن چھوڑ کر ماہ شوال میں چھ روزے رکھنا مستحب وسنت ہے، اور علامہ شامی نے اپنے حاشیہ میں اسے برقرار رکھا؛ بلکہ متعدد کتابوں کے حوالے سے اسے موٴکد فرمایا اور کراہت کے قول کی تردید فرمائی اور آخر میں علامہ قاسم بن قطلوبغاکے رسالہ(:تحریر الأقوال فی صوم الست من شوال) کا حوالہ دیا جس میں علامہ قاسم بن قطلوبغا نے کراہت کے قول کی تردید فرماکر کتب مذہب سے استحباب وسنیت کا قول موٴکد فرمایا ہے، ذیل میں صرف در مختار کی عبارت پیش کی جاتی ہے:
والإتباع المکروہ ھو أن یصوم الفطر و خمسة بعدہ، فلو أفطر لم یکرہ؛ بل یستحب ویسن، ابن کمال (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما یکرہ فیھا، ۳: ۴۲۲، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔
و: اسی طرح علامہ محمد یوسف بنوری نے بھی سنن ترمذی کی مشہور شرح: معارف السنن (کتاب الصوم، باب ما جاء في صیام ستة من شوال) میں علامہ قاسم بن قطلوبغا کے رسالہ کی روشنی میں اسی قول کو موٴکد فرمایا ہے کہ شوال کے چھ روزے مستحب ہیں اور کراہت کے قول کی تردید فرمائی ہے۔
ز: علامہ ظفر احمد عثمانی نے اعلاء السنن (۹: ۱۷۷، مطبوعہ: إدارة القرآن والعلوم الإسلامیة کراچی)میں حضرت ابی ایوب انصاری کی روایت پر استحباب کا باب قائم فرمایا ہے،یعنی: باب استحباب صیام ستة من شوال الخ معلوم ہوا کہ شوال کے چھ روزے مستحب ہیں۔
ح: بہشتی زیورکامل(۳: ۱۴۲) میں ہے:
عید کے چھ دن نفل روزہ رکھنے کا بھی اور نفلوں سے زیادہ ثواب ہے
شش عید کے روزوں کو بدعت کہنا جہالت اورلاعلمی کی دلیل ہے، یہ روزے احناف کے نزدیک صحیح ومفتی بہ قول کے مطابق مستحب وسنت ہیں، البتہ اگر کوئی شخص یہ روزے عید الفطر کا دن ملاکر رکھتا ہے، یعنی: عید الفطر اور اس کے بعد پانچ دن روزے رکھتا ہے تو یہ مکروہ ہے ؛ کیوں کہ عید الفطر کے دن روزہ رکھنا حرام ہے، اس سلسلہ میں چند دلائل اور حوالجات حسب ذیل ہیں:
الف:صحیح مسلم میں حضرت ابو ایوب انصاری سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے، پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ پوری زندگی روزہ رکھنے کے برابر ہے ، عن أبي أیوب الأنصاري أنہ حدثہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: من صام رمضان ثم أتبعہ ستاً من شوال کان کصیام الدھر، رواہ مسلم (مشکاة المصابیح، کتاب الصوم ، باب صیام التطوع، ص ۱۷۹، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)،البتہ حضرت ثوبان اور حضرت جابربن عبد اللہ کی روایت میں ہے کہ یہ ایک سال روزے کے برابر ہے(رسالہ: تحریر الأقوال فی صوم الست من شوال من مجموعة رسائل العلامة قاسم بن قطلوبغا، ص ۳۹۱ - ۳۹۳، مطبوعہ:دار النوادر، سوریة، لبنان، الکویت)۔
ب:صاحب بدائع علامہ کاسانی نے فرمایا: اتباع مکروہ یہ ہے کہ آدمی عید الفطر کے دن روزہ رکھے اور اس کے بعد پانچ دن روزے رکھے، اور اگر کسی نے عید الفطر کے دن افطار کیا ، پھر اس کے بعد چھ دن روزے رکھا تو یہ مکروہ نہیں؛ بلکہ مستحب وسنت ہے۔
والإتباع المکروہ ھو أن یصوم یوم الفطر ویصوم بعدہ خمسة أیام، فأما إذا أفطر یوم العید ثم صام بعدہ ستة أیام فلیس بمکروہ؛ بل ھو مستحب وسنة (بدائع الصنائع ، کتاب الصوم ۲: ۵۶۲، ط: دار الکتب العلمیة بیروت)۔
ج: صاحب ہدایہ علامہ مرغینانی نے فرمایا: مرغوب وپسندیدہ روزوں میں شوال کے مسلسل چھ روزے بھی ہیں(رسالہ: تحریر الأقوال فی صوم الست من شوال من مجموعة رسائل العلامة قاسم بن قطلوبغا، ص ۳۸۶ )۔
د:فتاوی عالمگیری میں البحر الرائق کے حوالے سے ہے کہ شوال کے چھ روزوں میں کچھ حرج نہیں، اور محیط سرخسی کے حوالے سے ہے: صحیح تر قول یہ ہے کہ شوال کے چھ روزوں میں کچھ حرج نہیں، یعنی: یہ روزے مستحب ہیں؛ کیوں کہ حرج کی نفی قول کراہت کے مقابلہ میں ہے اور ایسی صورت میں حرج نہ ہونے کا مطلب استحباب ہوتا ہے۔
عامة المتأخرین لم یروا بہ - بصوم الستة من شوال- بأساً ھکذا فی البحر الرائق، والأصح أنہ لا بأس بہ کذا فی محیط السرخسي (الفتاوی الھندیة، کتاب الصوم ، الباب الثالث فیما یکرہ للصائم وما لا یکرہ،۱: ۲۰۱، ط: مکتبة زکریا دیوبند)،وکلمة ” لا بأس“ ھنا مستعملة فی المندوب ؛لأنہا لیست مطردة لما ترکہ أولی، بل تستعمل فی المندوب أیضاً إذا کان المحل مما یتوھم فیہ البأس أي: الشدة، خاصة إذا تأید ذلک الأمر بالحدیث النبوي - علی صاحبہ الصلاة والسلام - کذا حققہ الحصکفي وابن عابدین الشامي فی الدر المختار وحاشیتہ رد المحتار (کتاب الطھارة۱: ۲۴۱، کتاب الصلاة، باب العیدین ۳: ۶۵،باب الجنائز في شرح قول الدر: ” ولا بأس برش الماء علیہ “ ۳:۱۴۳ و۶: ۲۵۷ ط مکتبة زکریا دیوبند)، ومثلہا کلمة ” لا جناح “ بل قد استعملت ھذہ في سورة البقرة (رقم الآیہ: ۱۵۸)بمعنی الوجوب کما في رد المحتار لابن عابدین الشامي (۶: ۲۵۷)،وکلمة ” لا حرج“ أیضاً؛لأنہا بمعناھا۔
ھ:علامہ حصکفی نے در مختار میں ابن کمال کے حوالے سے وہی مضمون نقل فرمایا ہے ، جو اوپر بدائع کے حوالے سے ذکر کیا گیا،یعنی: عید الفطر کا دن چھوڑ کر ماہ شوال میں چھ روزے رکھنا مستحب وسنت ہے، اور علامہ شامی نے اپنے حاشیہ میں اسے برقرار رکھا؛ بلکہ متعدد کتابوں کے حوالے سے اسے موٴکد فرمایا اور کراہت کے قول کی تردید فرمائی اور آخر میں علامہ قاسم بن قطلوبغاکے رسالہ(:تحریر الأقوال فی صوم الست من شوال) کا حوالہ دیا جس میں علامہ قاسم بن قطلوبغا نے کراہت کے قول کی تردید فرماکر کتب مذہب سے استحباب وسنیت کا قول موٴکد فرمایا ہے، ذیل میں صرف در مختار کی عبارت پیش کی جاتی ہے:
والإتباع المکروہ ھو أن یصوم الفطر و خمسة بعدہ، فلو أفطر لم یکرہ؛ بل یستحب ویسن، ابن کمال (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما یکرہ فیھا، ۳: ۴۲۲، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔
و: اسی طرح علامہ محمد یوسف بنوری نے بھی سنن ترمذی کی مشہور شرح: معارف السنن (کتاب الصوم، باب ما جاء في صیام ستة من شوال) میں علامہ قاسم بن قطلوبغا کے رسالہ کی روشنی میں اسی قول کو موٴکد فرمایا ہے کہ شوال کے چھ روزے مستحب ہیں اور کراہت کے قول کی تردید فرمائی ہے۔
ز: علامہ ظفر احمد عثمانی نے اعلاء السنن (۹: ۱۷۷، مطبوعہ: إدارة القرآن والعلوم الإسلامیة کراچی)میں حضرت ابی ایوب انصاری کی روایت پر استحباب کا باب قائم فرمایا ہے،یعنی: باب استحباب صیام ستة من شوال الخ معلوم ہوا کہ شوال کے چھ روزے مستحب ہیں۔
ح: بہشتی زیورکامل(۳: ۱۴۲) میں ہے:
عید کے چھ دن نفل روزہ رکھنے کا بھی اور نفلوں سے زیادہ ثواب ہے
۔
درج بالا چند دلائل اور حوالجات سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوگئی کہ شوال کے چھ روزے احناف کے نزدیک بلا شبہ مستحب وسنت ہیں اور ان کی کراہت یا بدعت کا قول صحیح نہیں۔
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔
@jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
درج بالا چند دلائل اور حوالجات سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوگئی کہ شوال کے چھ روزے احناف کے نزدیک بلا شبہ مستحب وسنت ہیں اور ان کی کراہت یا بدعت کا قول صحیح نہیں۔
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔
@jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
عیدین میں روزہ رکھنا حرام ہے.pdf
1.1 MB
عیدین میں روزہ رکھنا کیسا ہے؟
داڑھی کے احکام و مسائل.pdf
645.1 KB
ڈاڑھی کاٹنا کیسا ہے
جواب نمبر:7⃣4⃣
Eid k din galy milny ka bta den۔
عیدین میں گلے ملنے کا شرعی حکم
*اَلْجَواب حَامِدَاوَّمُصَلِّیا*
ہر قوم کے لیے سال میں کوئی نہ کوئی خوشی کا دن ہوتا ہے،جسے وہ اپنے مزاج و مذاق ،اپنے انداز اور اپنے طور طریقوں سے مناتی ہے۔
مسلمانوں کو بھی اللہ تعالی نے ”میٹھی عید “اور ”عید قرباں“کی صورت میں یہ دن عطا فرمایا ہے، کہ اس دن امت کے کلمہ گو مسلمان عید الفطراور عید الاضحی کی نماز کے ذریعے اس دن کی خوشی کا آغاز کرتے ہیں اور گویا کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے سر بسجود ہو کراس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ عید کا دن مسلمانوں کے لیے عیسائیوں ،یہودیوں یا دوسری قوموں کی طرح صرف ایک تہوار ہی نہیں، بلکہ یہ دن مسلمانوں کی عبادت کا دن بھی ہے اور خوشی کا دن بھی، جسے مسلمان اپنے دین کے توحیدی مزاج، اس کی تاریخ وروایات کے مطابق مناتے ہیں۔
لیکن !آج ہمارے معاشرے میں کم قسمتی سے، بوجہ دین سے دوری ، عید کے ایام میں ایسی رسوم شامل ہو گئی ہیں جن کا دین سے دور کا بھی تعلق نہیں اور عمومی طور پر مسلمانوں کا ایک بہت بڑا طبقہ انہیں عید کے تہوار کا حصہ اور دین سمجھ کر انجام دے رہا ہے،ان رسوم میں سے ایک رسم عید کے دن ”مصافحہ ومعانقہ کرنا “ہے۔
آج ہمارے معاشرے میں خاص عید کے موقع پر صر ف عید کی وجہ سے گلے ملنے کی رسم کو بہت سے لوگوں نے اس قدر اہم اور خاص عمل سمجھ لیا ہے کہ اس عمل میں سستی و کوتاہی کسی حال میں گوارا نہیں کرتے ،خواہ ایک ہی گھر کے افراد کیوں نہ ہوں اور ایک ساتھ عید کی نماز کے لیے گئے ہوں،ایک دوسرے کے قریب ہی کھڑے ہو کر نما زادا کی ہو اور خاص اس موقع پر ملاقات نہ ہو رہی ہو،یہاں تک کہ عید کے دن خواہ تمام نمازوں، مسنون اعمال اور گناہوں سے بچنے کی تو فیق نہ ہو، مگر یہ رسم ادا کرنا انتہائی لازم سمجھا جاتا ہے بلکہ خاص اس عمل کی غرض سے ایک دوسرے سے ملنے کی کوشش کی جاتی ہے، اور اگر خاص عید کے دن کسی کے ساتھ یہ رسم پوری نہ ہو سکے تو اگلے روز بھی اس کی جستجو اور کوشش رہتی ہے اوراگر کوئی اس کو ادا نہ کرے تو اسے بہت برا سمجھا جاتا ہے جیساکہ عام طور پر مشاہدہ ہے، سِتم اس پر یہ ہے کہ اس میں مردوں کے شانہ بشانہ عورتیں بھی ہیں۔
اس سلسلے میں یہ بات واضح رہے کہ مصافحہ یا معانقہ کرنے (یعنی دونوں ہاتھ ملانے اور گلے ملنے )میں حضور صلی الله علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کاطریقہ یہ تھاکہ جب آپس میں ملاقات ہوتی تو پہلے سنت کے مطابق سلام کرتے اور سلام کے بعد مصافحہ کرتے اور جب سفر سے واپس آتے تو معانقہ کرتے(اس سے ہٹ کر مصافحہ ومعانقہ کا کوئی خاص دن مثلاً: کسی نماز کے بعد یا عید کا موقع مقرر نہ تھا )۔
چناں چہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے جب بھی رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے ملاقات کی تو آپ نے مجھ سے مصافحہ فرمایااور ایک دن رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے مجھے بلانے کے لیے (میرے گھر میں)کوئی قاصد بھیجا ، مگر اس وقت میں اپنے گھر میں موجود نہیں تھا (بلکہ باہر گیا ہوا تھا)جب میں اپنے گھر آیا تو مجھے اطلاع دی گئی کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے مجھے بلانے کے لیے قاصد بھیجا تھا ،میں فوراً رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا،اس وقت آپ اپنے بستر پر تشریف فرما تھے ، آپ نے مجھے فوراً اپنے ساتھ چمٹا لیا (یعنی مجھ سے معانقہ فرمایا)تو میں نے آپ کو بہت ہی حسین و جمیل اور خوبصورت پایا۔(سنن ابی داوٴد،رقم الحدیث: (2514) :4/453،داراحیاء التراث العربی)
حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم جب آپس میں ملاقات کرتے تو مصافحہ کرتے اور جب کسی سفر سے لو ٹتے تو معانقہ کیا کرتے تھے ۔(الترغیب والترہیب، رقم(4007)، ص:514،دار ابن حزم)
ان دونوں روایات(اور دیگر کئی روایات )سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین ملاقات کے وقت مصافحہ کرتے اور سفر سے واپسی پر معانقہ فرماتے تھے، لہٰذامذکورہ تفصیل سے مصافحہ اور معانقہ کرنا مسنون و مستحب اور قابلِ ثواب ہے، اس پر عمل کرنا چاہیے۔
چناں چہ اگر کوئی مصافحہ اور معانقہ کے عمل کو عید کے دن ، خاص عید کے دن کی وجہ سے لازم ،ضروری اور سنت نہ سمجھے اور عیدین کے علاوہ سال کے دیگر ایام میں بھی اس عمل کو سنت سمجھ کر اپنی مستقل عادت بنا لے اور پھر عیدین کے دن اپنی گذشتہ عادت کے مطابق ملاقات کے وقت سنت کے مطابق سلام کر کے دونوں ہاتھو ں سے مصافحہ کرے یا جو عزیز ، رشتہ دار یا دوست عید کے دن سفر سے آئیں اور سفر سے آنے کی وجہ سے ان سے گلے ملے ،تو یہ نہ صرف جائز بلکہ عین سنت ہے۔
جب کہ خاص عید کی تخصیص کی وجہ سے مصافحہ اور معانقہ کرنا شرعاً ثابت نہیں ، نہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے زمانے میں اور نہ ہی خیر القرون کے زمانے میں، لہٰذا اس طریقے کو ترک کرنے اور دوسروں کو حکمت و بصیرت کے ساتھ
سمجھا نے کی ضرورت ہے
Eid k din galy milny ka bta den۔
عیدین میں گلے ملنے کا شرعی حکم
*اَلْجَواب حَامِدَاوَّمُصَلِّیا*
ہر قوم کے لیے سال میں کوئی نہ کوئی خوشی کا دن ہوتا ہے،جسے وہ اپنے مزاج و مذاق ،اپنے انداز اور اپنے طور طریقوں سے مناتی ہے۔
مسلمانوں کو بھی اللہ تعالی نے ”میٹھی عید “اور ”عید قرباں“کی صورت میں یہ دن عطا فرمایا ہے، کہ اس دن امت کے کلمہ گو مسلمان عید الفطراور عید الاضحی کی نماز کے ذریعے اس دن کی خوشی کا آغاز کرتے ہیں اور گویا کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے سر بسجود ہو کراس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ عید کا دن مسلمانوں کے لیے عیسائیوں ،یہودیوں یا دوسری قوموں کی طرح صرف ایک تہوار ہی نہیں، بلکہ یہ دن مسلمانوں کی عبادت کا دن بھی ہے اور خوشی کا دن بھی، جسے مسلمان اپنے دین کے توحیدی مزاج، اس کی تاریخ وروایات کے مطابق مناتے ہیں۔
لیکن !آج ہمارے معاشرے میں کم قسمتی سے، بوجہ دین سے دوری ، عید کے ایام میں ایسی رسوم شامل ہو گئی ہیں جن کا دین سے دور کا بھی تعلق نہیں اور عمومی طور پر مسلمانوں کا ایک بہت بڑا طبقہ انہیں عید کے تہوار کا حصہ اور دین سمجھ کر انجام دے رہا ہے،ان رسوم میں سے ایک رسم عید کے دن ”مصافحہ ومعانقہ کرنا “ہے۔
آج ہمارے معاشرے میں خاص عید کے موقع پر صر ف عید کی وجہ سے گلے ملنے کی رسم کو بہت سے لوگوں نے اس قدر اہم اور خاص عمل سمجھ لیا ہے کہ اس عمل میں سستی و کوتاہی کسی حال میں گوارا نہیں کرتے ،خواہ ایک ہی گھر کے افراد کیوں نہ ہوں اور ایک ساتھ عید کی نماز کے لیے گئے ہوں،ایک دوسرے کے قریب ہی کھڑے ہو کر نما زادا کی ہو اور خاص اس موقع پر ملاقات نہ ہو رہی ہو،یہاں تک کہ عید کے دن خواہ تمام نمازوں، مسنون اعمال اور گناہوں سے بچنے کی تو فیق نہ ہو، مگر یہ رسم ادا کرنا انتہائی لازم سمجھا جاتا ہے بلکہ خاص اس عمل کی غرض سے ایک دوسرے سے ملنے کی کوشش کی جاتی ہے، اور اگر خاص عید کے دن کسی کے ساتھ یہ رسم پوری نہ ہو سکے تو اگلے روز بھی اس کی جستجو اور کوشش رہتی ہے اوراگر کوئی اس کو ادا نہ کرے تو اسے بہت برا سمجھا جاتا ہے جیساکہ عام طور پر مشاہدہ ہے، سِتم اس پر یہ ہے کہ اس میں مردوں کے شانہ بشانہ عورتیں بھی ہیں۔
اس سلسلے میں یہ بات واضح رہے کہ مصافحہ یا معانقہ کرنے (یعنی دونوں ہاتھ ملانے اور گلے ملنے )میں حضور صلی الله علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کاطریقہ یہ تھاکہ جب آپس میں ملاقات ہوتی تو پہلے سنت کے مطابق سلام کرتے اور سلام کے بعد مصافحہ کرتے اور جب سفر سے واپس آتے تو معانقہ کرتے(اس سے ہٹ کر مصافحہ ومعانقہ کا کوئی خاص دن مثلاً: کسی نماز کے بعد یا عید کا موقع مقرر نہ تھا )۔
چناں چہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے جب بھی رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے ملاقات کی تو آپ نے مجھ سے مصافحہ فرمایااور ایک دن رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے مجھے بلانے کے لیے (میرے گھر میں)کوئی قاصد بھیجا ، مگر اس وقت میں اپنے گھر میں موجود نہیں تھا (بلکہ باہر گیا ہوا تھا)جب میں اپنے گھر آیا تو مجھے اطلاع دی گئی کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے مجھے بلانے کے لیے قاصد بھیجا تھا ،میں فوراً رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا،اس وقت آپ اپنے بستر پر تشریف فرما تھے ، آپ نے مجھے فوراً اپنے ساتھ چمٹا لیا (یعنی مجھ سے معانقہ فرمایا)تو میں نے آپ کو بہت ہی حسین و جمیل اور خوبصورت پایا۔(سنن ابی داوٴد،رقم الحدیث: (2514) :4/453،داراحیاء التراث العربی)
حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم جب آپس میں ملاقات کرتے تو مصافحہ کرتے اور جب کسی سفر سے لو ٹتے تو معانقہ کیا کرتے تھے ۔(الترغیب والترہیب، رقم(4007)، ص:514،دار ابن حزم)
ان دونوں روایات(اور دیگر کئی روایات )سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین ملاقات کے وقت مصافحہ کرتے اور سفر سے واپسی پر معانقہ فرماتے تھے، لہٰذامذکورہ تفصیل سے مصافحہ اور معانقہ کرنا مسنون و مستحب اور قابلِ ثواب ہے، اس پر عمل کرنا چاہیے۔
چناں چہ اگر کوئی مصافحہ اور معانقہ کے عمل کو عید کے دن ، خاص عید کے دن کی وجہ سے لازم ،ضروری اور سنت نہ سمجھے اور عیدین کے علاوہ سال کے دیگر ایام میں بھی اس عمل کو سنت سمجھ کر اپنی مستقل عادت بنا لے اور پھر عیدین کے دن اپنی گذشتہ عادت کے مطابق ملاقات کے وقت سنت کے مطابق سلام کر کے دونوں ہاتھو ں سے مصافحہ کرے یا جو عزیز ، رشتہ دار یا دوست عید کے دن سفر سے آئیں اور سفر سے آنے کی وجہ سے ان سے گلے ملے ،تو یہ نہ صرف جائز بلکہ عین سنت ہے۔
جب کہ خاص عید کی تخصیص کی وجہ سے مصافحہ اور معانقہ کرنا شرعاً ثابت نہیں ، نہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے زمانے میں اور نہ ہی خیر القرون کے زمانے میں، لہٰذا اس طریقے کو ترک کرنے اور دوسروں کو حکمت و بصیرت کے ساتھ
سمجھا نے کی ضرورت ہے
،
کہ کسی شرعی دلیل سے اس کا ثبوت نہیں اور فقہائے کرام واکابر عظام رحمہم اللہ نے اسی پہلو سے اس کو بدعت اور ناجائز قرار دیا ہے اور اس سے بچنے کی تاکید فرما ئی ہے، تاہم اس سلسلے میں کسی قسم کے فتنے و انتشار سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے،لہٰذا اگر کوئی اس موقع پر ملنے پر ہی بضد ہو تو اُس وقت اس سے بغیر سنت کی نیت کیے، مل تو لیں ،لیکن ہیئتِ مخصوصہ بدل دیں، یعنی تین کے بجائے ایک دفعہ ملنے پر اکتفا کریں اور پھر کسی دوسری نشست میں پیار و محبت سے اس کو سمجھاکر مسئلہ واضح کر دیں۔
ذیل میں اس مسئلے سے متعلق فقہ و فتاوی سے گہری مناسبت رکھنے والے اکابر علماء و فقہاء امت کی آرا کو نقل کیا جاتا ہے، تاکہ اس رسم کی حقیقت قارئین کے سامنے پوری طرح واضح ہو جائے۔
*… فقیہ النفس ،حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی صاحب رحمہ اللہ ”فتاوی رشیدیہ “میں تحریر فرماتے ہیں:
”عیدین میں معانقہ کرنا بدعت ہے“۔(ص:443،سعید)
*…مفتی اعظم ہند،حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
”عیدین میں معانقہ کرنا یا عید کی تخصیص سمجھ کر مصافحہ کرنا شرعی نہیں، بلکہ محض ایک رسم ہے“۔(کفایت المفتی:3/302،دارالاشاعت)
*…حکیم الامت ،مجدد ملت،حضرت مولانا اشرف علی تھانو ی صاحب رحمہ اللہ رقم طراز ہیں:
”قاعدہ کلیہ ہے کہ عبادات میں حضرت شارع علیہ السلام نے جو ہیئت و کیفیت معیّن فرمادی ہے،اس میں تغیّر وتبدّل جائز نہیں اور مصافحہ چوں کہ سنت ہے، اس لیے عبادات میں سے ہے، حسبِ قاعدہ مذکورہ اس میں ہیئت و کیفیت ِ منقو لہ سے تجاوز جائز نہ ہو گااور شارع علیہ السلا م سے صرف اولِ لِقاء کے وقت بالاجماع یاوداع کے وقت بھی علی الاختلاف منقول ہے،پس اب اس کے لیے ان دو وقتوں کے سوا اور کوئی محل و موقع تجویز کرنا تغییر عباد ت کرنا ہے، جوممنوع ہے لہٰذا مصافحہ بعد عیدین یا بعد نمازپنجگانہ مکروہ و بدعت ہے،شامی میں اس کی تصریح موجود ہے“۔(امداد الفتاوی :1/557،مکتبہ دارالعلوم ،کراچی)
*…حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
”عیدین کی نماز کے بعد مصافحہ کا جو رواج ہے یہ بدعت ہے، دوسرے اوقات کی طرح اگر کسی شخص سے اس وقت نئی ملاقات ہو تو مصافحہ کر لے، ورنہ نہیں“۔ (امداد الاحکام:1/188، مکتبہ دار العلوم،کراچی)
*…مفتی اعظم پاکستان،حضرت مولانا،مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
”یہ بدعت ہے اور شعارِ روافض ہے، ترک کرناچاہیے“۔ (امداد المفتین،ص:187،دارالاشاعت)
*…صدر مفتی دارالعلوم دیوبند،حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمان صاحب رحمہ ا للہ لکھتے ہیں:
”نمازِ عیدین یا دیگر نمازوں کے بعد تخصیص مصافحہ کی کرنا اور اسی وقتِ خاص میں اس کو سنت جاننا اور معمول بہ ٹھہرانا بعض فقہاء نے منع لکھا ہے اور تبیین ِمحارم میں اس کو روافض کے طریقہ سے لکھاہے اور مکروہ فرمایا ہے“۔(عزیز الفتاوی،ص:147،دار الاشاعت)
…فقیہ الامت،حضرت مولانامفتی محمود حسن گنگوہی صاحب رحمہ اللہ اس سلسلے میں تحریر فرماتے ہیں:
”عید کا مصافحہ و معانقہ بدعت ہے“۔(فتاوی محمودیہ:8/464، ادارہ الفاروق،کراچی)
*…حضرت مولانا ،مفتی سید عبد الرحیم لاجپوری صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
”عید کی نماز کے بعد ملنا اور معانقہ و مصافحہ کرنا کوئی امرِ مسنون نہیں ہے،لوگوں کی اختراعات اور بدعات میں سے ہے،احادیث میں جہاں تک معلوم ہے اس کا پتہ نہیں چلتا،غیبوبت کے بعد مصافحہ اور طویل غیبوبت پر معانقہ ثابت ہے،مگر عید کی نماز کے بعد ان کا ثبوت نہیں ہے،یہاں یہ حالت ہے کہ وہ رفقاء جو نماز میں شریک بلکہ برابر میں کھڑے تھے، سلام اور خطبہ کے بعد معانق ہوتے ہیں اور اس کو امرِ دینی سمجھتے ہیں،اس لیے یہ غلط چیز ہے“۔ (فتاوی رحیمیہ:2/111،112،دارالاشاعت)․
*…مفکر ِاسلام ،حضرت مولانا،مفتی محمود صاحب رحمہ اللہ رقم طراز ہیں:
”واضح رہے کہ مصافحہ اور معانقہ ابتدائے ملاقات کے وقت مسنون ہے اور وداع کے وقت مختلف فیہ ہے،لہذا بعد از نماز عید مسنون تو ہر گز نہیں ہے، کیوں کہ اس کا ثبوت حضور پاک صلی الله علیہ وسلم سے نہیں ہے ، ہاں بعض علماء اس کو بدعت مباحہ کہتے ہیں اور (بعض )علماء اس کو بدعت مکروہہ کہتے ہیں اور مولانا عبد الحئی صاحب لکھنوی اپنے فتاوی کی جلد /2،ص/45 پر فرماتے ہیں،”علی کل تقدیر ترک اس کا اولیٰ ہے…“۔(فتاوی مفتی محمود:2/513،جمعیت پبلیکیشنز)
*…حضرت مولانا مفتی نظام الدین صاحب اعظمی فرماتے ہیں:
”مطلقاً نماز کے بعد بالالتزام مصافحہ یا معانقہ کرنا شرعاً درست نہیں ،حتیٰ الامکان اس عمل سے بچنا ضروری ہے،لیکن ابتدائی ملاقات کسی نماز کے بعد فوراً ہو رہی ہو تو اس صور ت میں گنجائش ہے کہ مصافحہ یا معانقہ کیاجا سکتا ہے “۔(نظام الفتاوی:1/59،مکتبہ رحمانیہ)
*…فقیہ العصر،حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
”یہ طریقہ اختیارکرنا بدعت اور مکروہ ہے…بدعت یا کسی گناہ کا ارتکاب کسی مصلحت کے پیشِ
نظر ہر گزجائز نہیں ،البتہ دوسروں کو منع کرنااس وقت ضروری ہے جب
کہ کسی شرعی دلیل سے اس کا ثبوت نہیں اور فقہائے کرام واکابر عظام رحمہم اللہ نے اسی پہلو سے اس کو بدعت اور ناجائز قرار دیا ہے اور اس سے بچنے کی تاکید فرما ئی ہے، تاہم اس سلسلے میں کسی قسم کے فتنے و انتشار سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے،لہٰذا اگر کوئی اس موقع پر ملنے پر ہی بضد ہو تو اُس وقت اس سے بغیر سنت کی نیت کیے، مل تو لیں ،لیکن ہیئتِ مخصوصہ بدل دیں، یعنی تین کے بجائے ایک دفعہ ملنے پر اکتفا کریں اور پھر کسی دوسری نشست میں پیار و محبت سے اس کو سمجھاکر مسئلہ واضح کر دیں۔
ذیل میں اس مسئلے سے متعلق فقہ و فتاوی سے گہری مناسبت رکھنے والے اکابر علماء و فقہاء امت کی آرا کو نقل کیا جاتا ہے، تاکہ اس رسم کی حقیقت قارئین کے سامنے پوری طرح واضح ہو جائے۔
*… فقیہ النفس ،حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی صاحب رحمہ اللہ ”فتاوی رشیدیہ “میں تحریر فرماتے ہیں:
”عیدین میں معانقہ کرنا بدعت ہے“۔(ص:443،سعید)
*…مفتی اعظم ہند،حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
”عیدین میں معانقہ کرنا یا عید کی تخصیص سمجھ کر مصافحہ کرنا شرعی نہیں، بلکہ محض ایک رسم ہے“۔(کفایت المفتی:3/302،دارالاشاعت)
*…حکیم الامت ،مجدد ملت،حضرت مولانا اشرف علی تھانو ی صاحب رحمہ اللہ رقم طراز ہیں:
”قاعدہ کلیہ ہے کہ عبادات میں حضرت شارع علیہ السلام نے جو ہیئت و کیفیت معیّن فرمادی ہے،اس میں تغیّر وتبدّل جائز نہیں اور مصافحہ چوں کہ سنت ہے، اس لیے عبادات میں سے ہے، حسبِ قاعدہ مذکورہ اس میں ہیئت و کیفیت ِ منقو لہ سے تجاوز جائز نہ ہو گااور شارع علیہ السلا م سے صرف اولِ لِقاء کے وقت بالاجماع یاوداع کے وقت بھی علی الاختلاف منقول ہے،پس اب اس کے لیے ان دو وقتوں کے سوا اور کوئی محل و موقع تجویز کرنا تغییر عباد ت کرنا ہے، جوممنوع ہے لہٰذا مصافحہ بعد عیدین یا بعد نمازپنجگانہ مکروہ و بدعت ہے،شامی میں اس کی تصریح موجود ہے“۔(امداد الفتاوی :1/557،مکتبہ دارالعلوم ،کراچی)
*…حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
”عیدین کی نماز کے بعد مصافحہ کا جو رواج ہے یہ بدعت ہے، دوسرے اوقات کی طرح اگر کسی شخص سے اس وقت نئی ملاقات ہو تو مصافحہ کر لے، ورنہ نہیں“۔ (امداد الاحکام:1/188، مکتبہ دار العلوم،کراچی)
*…مفتی اعظم پاکستان،حضرت مولانا،مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
”یہ بدعت ہے اور شعارِ روافض ہے، ترک کرناچاہیے“۔ (امداد المفتین،ص:187،دارالاشاعت)
*…صدر مفتی دارالعلوم دیوبند،حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمان صاحب رحمہ ا للہ لکھتے ہیں:
”نمازِ عیدین یا دیگر نمازوں کے بعد تخصیص مصافحہ کی کرنا اور اسی وقتِ خاص میں اس کو سنت جاننا اور معمول بہ ٹھہرانا بعض فقہاء نے منع لکھا ہے اور تبیین ِمحارم میں اس کو روافض کے طریقہ سے لکھاہے اور مکروہ فرمایا ہے“۔(عزیز الفتاوی،ص:147،دار الاشاعت)
…فقیہ الامت،حضرت مولانامفتی محمود حسن گنگوہی صاحب رحمہ اللہ اس سلسلے میں تحریر فرماتے ہیں:
”عید کا مصافحہ و معانقہ بدعت ہے“۔(فتاوی محمودیہ:8/464، ادارہ الفاروق،کراچی)
*…حضرت مولانا ،مفتی سید عبد الرحیم لاجپوری صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
”عید کی نماز کے بعد ملنا اور معانقہ و مصافحہ کرنا کوئی امرِ مسنون نہیں ہے،لوگوں کی اختراعات اور بدعات میں سے ہے،احادیث میں جہاں تک معلوم ہے اس کا پتہ نہیں چلتا،غیبوبت کے بعد مصافحہ اور طویل غیبوبت پر معانقہ ثابت ہے،مگر عید کی نماز کے بعد ان کا ثبوت نہیں ہے،یہاں یہ حالت ہے کہ وہ رفقاء جو نماز میں شریک بلکہ برابر میں کھڑے تھے، سلام اور خطبہ کے بعد معانق ہوتے ہیں اور اس کو امرِ دینی سمجھتے ہیں،اس لیے یہ غلط چیز ہے“۔ (فتاوی رحیمیہ:2/111،112،دارالاشاعت)․
*…مفکر ِاسلام ،حضرت مولانا،مفتی محمود صاحب رحمہ اللہ رقم طراز ہیں:
”واضح رہے کہ مصافحہ اور معانقہ ابتدائے ملاقات کے وقت مسنون ہے اور وداع کے وقت مختلف فیہ ہے،لہذا بعد از نماز عید مسنون تو ہر گز نہیں ہے، کیوں کہ اس کا ثبوت حضور پاک صلی الله علیہ وسلم سے نہیں ہے ، ہاں بعض علماء اس کو بدعت مباحہ کہتے ہیں اور (بعض )علماء اس کو بدعت مکروہہ کہتے ہیں اور مولانا عبد الحئی صاحب لکھنوی اپنے فتاوی کی جلد /2،ص/45 پر فرماتے ہیں،”علی کل تقدیر ترک اس کا اولیٰ ہے…“۔(فتاوی مفتی محمود:2/513،جمعیت پبلیکیشنز)
*…حضرت مولانا مفتی نظام الدین صاحب اعظمی فرماتے ہیں:
”مطلقاً نماز کے بعد بالالتزام مصافحہ یا معانقہ کرنا شرعاً درست نہیں ،حتیٰ الامکان اس عمل سے بچنا ضروری ہے،لیکن ابتدائی ملاقات کسی نماز کے بعد فوراً ہو رہی ہو تو اس صور ت میں گنجائش ہے کہ مصافحہ یا معانقہ کیاجا سکتا ہے “۔(نظام الفتاوی:1/59،مکتبہ رحمانیہ)
*…فقیہ العصر،حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
”یہ طریقہ اختیارکرنا بدعت اور مکروہ ہے…بدعت یا کسی گناہ کا ارتکاب کسی مصلحت کے پیشِ
نظر ہر گزجائز نہیں ،البتہ دوسروں کو منع کرنااس وقت ضروری ہے جب
قبول کی امید ہو،ورنہ ”نہی عن المنکر“ ضروری نہیں، غرض یہ کہ خود نمازِ عید کے بعدکسی سے مصافحہ یا معانقہ نہ کرے،ہاں! اگر کسی سے ملاقات ہی بعد نماز کے ہوئی ہو تو اس سے جائز ہے،مگر تشبّہ بالبدعة اور اس کی تائید کا ذریعہ ہونے کی وجہ سے اس سے بھی اجتناب کرنا چاہیے“۔ (احسن الفتاوی :1/354،سعید)
*…حکیم العصر،حضرت مولانا محمدیوسف لدھیانوی شہید رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”یہ سنت نہیں،محض لوگوں کی بنائی ہوئی ایک رسم ہے،اس کو دین کی بات سمجھنا اور نہ کرنے والے کو لائق ملامت سمجھنا بدعت ہے“۔(آپ کے مسائل اور ان کا حل:2/573،مکتبہ لدھیانوی)․
*…جامعہ حقانیہ (اکوڑہ خٹک)سے جاری ہونے والے فتاوی میں ہے کہ:
”عیدین اور جمعہ کی نمازوں کے بعد مصافحہ کرنے میں علمائے کرام کا اختلاف ہے،حضرت تھانوی رحمہ اللہ اوردیگر محققین علمائے کرام نے اس کو ممنوع قرار دیا ہے اور بعض دیگر حضرات نے اس کی اجازت مرحمت فرمائی ہے،لہذا اگر مصافحہ کرنے میں التزام مالا یلزم ہو توممنوع ہے،ورنہ نہیں تاہم نہ کرنا بہترہے“۔(فتاوی حقانیہ:2/53،جامعہ دار العلوم حقانیہ ، اکوڑہ خٹک،نوشہرہ)
*…جامعہ خیر المدارس (ملتان)سے جاری ہونے والے فتاوی میں ہے:
”عیدین یا دوسری نمازوں کے بعد مصافحہ یا معانقہ کرنا بدعت ہے، مصافحہ یا معانقہ کی سنت صرف ملاقات یا رخصتی کے وقت ہے اور اسی ملاقات ہی کے مصافحہ کے متعلق آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ موجب تکفیر ذنوب و سقوط گناہ ہے، الحاصل مصافحہ نماز کے بعد بہر حال مکروہ ہے ، نیز ! یہ روافض کا طریقہ ہے، اس سے اجتناب لازم ہے“۔ (خیر الفتاوی:1/570،مکتبہ امدادیہ)
*…صدر ِدارالعلوم کراچی ،حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب زید مجدہم فرماتے ہیں:
”عید پر معانقہ کرنا سنت سے ثابت نہیں،لہٰذا اس کا التزام بدعت ہے،اگر کوئی یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ عید پر معانقہ سنت ہے یا عید کے ساتھ معانقہ کی شرعاً کوئی خصوصیت ہے تو شرعاً ایسے شخص کے ساتھ معانقہ نہیں کرنا چاہیے“۔ (امداد السائلین المعروف فتاوی دار العلوم کراچی: 1/165، 166،ادارة المعارف، کراچی)
*…شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب زید مجدہم فرماتے ہیں:
”دو مسلمانوں کی ملاقات کے وقت مصافحہ مسنون ہے،نیز کوئی شخص سفر سے آئے تو اس سے معانقہ کرنا بھی سنت سے ثابت ہے،ان دونوں مواقع کے علاوہ سنت نہیں ہے،لیکن اگر سنت سمجھے بغیر اتفاقاً کبھی کر لے تو گناہ بھی نہیں اور سنت سمجھ کر کرے تو بدعت ہے، ہمارے زمانے میں چوں کہ فرض نمازوں کے بعد مصافحہ اور عیدین کے بعد معانقہ کو سنت سمجھا جانے لگا ہے،حالاں کہ یہ آں حضرت صلی الله علیہ وسلم سے ثابت نہیں،اس لیے علماء نے اس کو بدعت قرار دیا ہے اور اس سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے، لیکن کہیں اعتقاد سنت کا نہ ہو تو مباح ہے“۔(فتاوی عثمانی:1/103،مکتبہ معارف القرآن)
*…دارالعلوم یاسین القرآن سے جاری ہونے والے فتاوی میں ہے کہ:
”صورت مسئولہ میں مصافحہ ،شریعت میں اُنس ومحبت کے پیدا کرنے کا ذریعہ ہے،اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ مصافحہ کرنا سنت ہے،لیکن اپنی طرف سے مصافحہ کو بعض مواقع کے ساتھ خاص کر لینا اور ان مواقع پر اہتمام و التزام کے ساتھ مصافحہ کرنا صحیح نہیں ہے بلکہ اس کا ترک لازم ہے، جیساکہ نماز کے بعد مصافحہ کرنے کو علامہ شامی نے شیعوں کا شعار قرار دیا ہے“۔ (نجم الفتاوی :1/136، دارالعلوم یاسین القرآن،کراچی)
*…حضرت مولانا عبد الحئی لکھنوی صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”مصافحہ اور معانقہ کا وقت ابتدائے ملاقات ہے،پس عید کی نماز کے بعدمصافحہ اور معانقہ مسنون نہیں ہے اور علماء اس باب میں مختلف ہیں،بعض بدعت مباحہ کہتے ہیں اور بعض ہر حال میں بدعتِ مکروہہ کہتے ہیں، اس کا تر ک اولیٰ ہے“۔(مجموعة الفتاوی (مترجم):2/201،202،سعید)
*…حضرت مولانا سید زوّار حسین شاہ صاحب نے لکھا ہے کہ:
”عیدین کے روز نمازِ عیدین کے بعد مصافحہ و معانقہ کرنا ہر حال میں مکروہ و بدعت ہے،صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وسلف صالحین رحمہم اللہ سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا،آج کل اس پر بہت زیادہ عمل ہو گیا ہے،حتیٰ الامکان اس کا ترک لازم ہے،بلکہ ہر نماز کے بعد بھی مصافحہ کرنا مکروہ اور بدعت ہے،بعض جگہ اس کا بھی رواج عام ہو گیا ہے،یہ طریقہ رافضیوں کا ہے اس لیے بھی اس سے پر ہیز ضروری ہے“۔(عمدة الفقہ :2/461،زوّار اکیڈمی)․
*…جامعہ فاروقیہ(کراچی)سے جاری ہونے والے فتاوی میں ہے:
”نماز کے بعد بشمولِ عیدین ،مصافحہ یا معانقہ کرنا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین واسلافِ امت رحمہم اللہ میں سے کسی سے بھی جزوی طور پر ثابت نہیں، فقہاء و محدثینِ کرام سے اس عمل کی ممانعت منقول ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اسے بدعتِ شنیعہ اور علامہ ابن ِ عابدین رحمہ اللہ نے اسے روافض کی بدعت باور کرتے ہوئے ترک کا حکم دیاہے“۔(تبویب رجسٹر فتاوی:61/90،غیر مطبوعہ)
مذکورہ بالا تمام فتاوی سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ عیدین کی نماز کےب
*…حکیم العصر،حضرت مولانا محمدیوسف لدھیانوی شہید رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”یہ سنت نہیں،محض لوگوں کی بنائی ہوئی ایک رسم ہے،اس کو دین کی بات سمجھنا اور نہ کرنے والے کو لائق ملامت سمجھنا بدعت ہے“۔(آپ کے مسائل اور ان کا حل:2/573،مکتبہ لدھیانوی)․
*…جامعہ حقانیہ (اکوڑہ خٹک)سے جاری ہونے والے فتاوی میں ہے کہ:
”عیدین اور جمعہ کی نمازوں کے بعد مصافحہ کرنے میں علمائے کرام کا اختلاف ہے،حضرت تھانوی رحمہ اللہ اوردیگر محققین علمائے کرام نے اس کو ممنوع قرار دیا ہے اور بعض دیگر حضرات نے اس کی اجازت مرحمت فرمائی ہے،لہذا اگر مصافحہ کرنے میں التزام مالا یلزم ہو توممنوع ہے،ورنہ نہیں تاہم نہ کرنا بہترہے“۔(فتاوی حقانیہ:2/53،جامعہ دار العلوم حقانیہ ، اکوڑہ خٹک،نوشہرہ)
*…جامعہ خیر المدارس (ملتان)سے جاری ہونے والے فتاوی میں ہے:
”عیدین یا دوسری نمازوں کے بعد مصافحہ یا معانقہ کرنا بدعت ہے، مصافحہ یا معانقہ کی سنت صرف ملاقات یا رخصتی کے وقت ہے اور اسی ملاقات ہی کے مصافحہ کے متعلق آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ موجب تکفیر ذنوب و سقوط گناہ ہے، الحاصل مصافحہ نماز کے بعد بہر حال مکروہ ہے ، نیز ! یہ روافض کا طریقہ ہے، اس سے اجتناب لازم ہے“۔ (خیر الفتاوی:1/570،مکتبہ امدادیہ)
*…صدر ِدارالعلوم کراچی ،حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب زید مجدہم فرماتے ہیں:
”عید پر معانقہ کرنا سنت سے ثابت نہیں،لہٰذا اس کا التزام بدعت ہے،اگر کوئی یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ عید پر معانقہ سنت ہے یا عید کے ساتھ معانقہ کی شرعاً کوئی خصوصیت ہے تو شرعاً ایسے شخص کے ساتھ معانقہ نہیں کرنا چاہیے“۔ (امداد السائلین المعروف فتاوی دار العلوم کراچی: 1/165، 166،ادارة المعارف، کراچی)
*…شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب زید مجدہم فرماتے ہیں:
”دو مسلمانوں کی ملاقات کے وقت مصافحہ مسنون ہے،نیز کوئی شخص سفر سے آئے تو اس سے معانقہ کرنا بھی سنت سے ثابت ہے،ان دونوں مواقع کے علاوہ سنت نہیں ہے،لیکن اگر سنت سمجھے بغیر اتفاقاً کبھی کر لے تو گناہ بھی نہیں اور سنت سمجھ کر کرے تو بدعت ہے، ہمارے زمانے میں چوں کہ فرض نمازوں کے بعد مصافحہ اور عیدین کے بعد معانقہ کو سنت سمجھا جانے لگا ہے،حالاں کہ یہ آں حضرت صلی الله علیہ وسلم سے ثابت نہیں،اس لیے علماء نے اس کو بدعت قرار دیا ہے اور اس سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے، لیکن کہیں اعتقاد سنت کا نہ ہو تو مباح ہے“۔(فتاوی عثمانی:1/103،مکتبہ معارف القرآن)
*…دارالعلوم یاسین القرآن سے جاری ہونے والے فتاوی میں ہے کہ:
”صورت مسئولہ میں مصافحہ ،شریعت میں اُنس ومحبت کے پیدا کرنے کا ذریعہ ہے،اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ مصافحہ کرنا سنت ہے،لیکن اپنی طرف سے مصافحہ کو بعض مواقع کے ساتھ خاص کر لینا اور ان مواقع پر اہتمام و التزام کے ساتھ مصافحہ کرنا صحیح نہیں ہے بلکہ اس کا ترک لازم ہے، جیساکہ نماز کے بعد مصافحہ کرنے کو علامہ شامی نے شیعوں کا شعار قرار دیا ہے“۔ (نجم الفتاوی :1/136، دارالعلوم یاسین القرآن،کراچی)
*…حضرت مولانا عبد الحئی لکھنوی صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”مصافحہ اور معانقہ کا وقت ابتدائے ملاقات ہے،پس عید کی نماز کے بعدمصافحہ اور معانقہ مسنون نہیں ہے اور علماء اس باب میں مختلف ہیں،بعض بدعت مباحہ کہتے ہیں اور بعض ہر حال میں بدعتِ مکروہہ کہتے ہیں، اس کا تر ک اولیٰ ہے“۔(مجموعة الفتاوی (مترجم):2/201،202،سعید)
*…حضرت مولانا سید زوّار حسین شاہ صاحب نے لکھا ہے کہ:
”عیدین کے روز نمازِ عیدین کے بعد مصافحہ و معانقہ کرنا ہر حال میں مکروہ و بدعت ہے،صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وسلف صالحین رحمہم اللہ سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا،آج کل اس پر بہت زیادہ عمل ہو گیا ہے،حتیٰ الامکان اس کا ترک لازم ہے،بلکہ ہر نماز کے بعد بھی مصافحہ کرنا مکروہ اور بدعت ہے،بعض جگہ اس کا بھی رواج عام ہو گیا ہے،یہ طریقہ رافضیوں کا ہے اس لیے بھی اس سے پر ہیز ضروری ہے“۔(عمدة الفقہ :2/461،زوّار اکیڈمی)․
*…جامعہ فاروقیہ(کراچی)سے جاری ہونے والے فتاوی میں ہے:
”نماز کے بعد بشمولِ عیدین ،مصافحہ یا معانقہ کرنا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین واسلافِ امت رحمہم اللہ میں سے کسی سے بھی جزوی طور پر ثابت نہیں، فقہاء و محدثینِ کرام سے اس عمل کی ممانعت منقول ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اسے بدعتِ شنیعہ اور علامہ ابن ِ عابدین رحمہ اللہ نے اسے روافض کی بدعت باور کرتے ہوئے ترک کا حکم دیاہے“۔(تبویب رجسٹر فتاوی:61/90،غیر مطبوعہ)
مذکورہ بالا تمام فتاوی سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ عیدین کی نماز کےب
عدصحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ،تابعین ، تبع تابعین اورسلف صالحین رحمہم اللہ اجمعین میں سے کسی سے اس مذکورہ عمل(مصافحہ و معانقہ )کا مسنون یا عبادت ہونا منقول نہیں ۔
اس لیے اس بات کا اہتمام کرناہم سب کے لیے از حد ضروری ہے کہ اس بابرکت دن میں کہیں ہم انجانے میں یہ عمل کر کے کسی گناہ کے مرتکب تو نہیں ہو رہے!! اگر ایسا ہے تو فی الفور اس عمل یا اس جیسے دیگر گناہوں سے اللہ جل جلالہ کے حضور توبہ تائب ہو کراعمال مسنونہ کو اپنانے کی ہر ممکن کوشش کریں اور پوری حکمت و بصیرت سے گرد ونواح میں موجوداس عمل میں مبتلا افراد ِ امت کو سمجھانے کی کوشش کریں۔اللہ رب العزت ہم سب کو صراط مستقیم پر گامز ن رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
واللہ اعلم
ُمحمد امير۔۔۔۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
اس لیے اس بات کا اہتمام کرناہم سب کے لیے از حد ضروری ہے کہ اس بابرکت دن میں کہیں ہم انجانے میں یہ عمل کر کے کسی گناہ کے مرتکب تو نہیں ہو رہے!! اگر ایسا ہے تو فی الفور اس عمل یا اس جیسے دیگر گناہوں سے اللہ جل جلالہ کے حضور توبہ تائب ہو کراعمال مسنونہ کو اپنانے کی ہر ممکن کوشش کریں اور پوری حکمت و بصیرت سے گرد ونواح میں موجوداس عمل میں مبتلا افراد ِ امت کو سمجھانے کی کوشش کریں۔اللہ رب العزت ہم سب کو صراط مستقیم پر گامز ن رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
واللہ اعلم
ُمحمد امير۔۔۔۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:8⃣4⃣
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
عید کے چاند کی اطلاع کے بعد معتکف کب اعتکاف سے باہر نکل سکتا ہے اور اس کا طریقہ کیا ہے؟
الْجَواب حامِداوّمُصلّیاً
جب شوال کا چاند نظر آئے تو اعتکاف پورا ہوجاتا ہے، معتکف اگر چاہے تو اسی وقت مسجد سے گھر چلا جائے ،لیکن افضل یہ ہے کہ رات مسجد ہی میں گزارے، اور صبح عید کی نماز کے لیے مسجد ہی سے جائے، پھر عید کی نماز کے بعد گھر جائے۔
ما في ’’ موسوعۃ مسائل الجمہور في الفقہ الإسلامي ‘‘ : مسألۃ [۵۹۶] - جمہور الفقہاء علی أن من نوی اعتکاف العشر الأواخر من رمضان فإنہ یدخل معتکفہ قبل غروب الشمس من لیلۃ إحدی وعشرین ، ویخرج منہ بعد غروب الشمس من لیلۃ الأول من شوال ، وہو مذہب الشافعي وجماعۃ الفقہاء ، وہو قول أحمد في روایۃ ومالک والثوري وأبي حنیفۃ ۔ (۱/۳۳۲ ، کتاب الاعتکاف ، باب في من نوی اعتکاف العشر الأواخر من رمضان ، موسوعۃ الفقہ الإسلامي :۳/۲۰۳ ، کتاب الصیام ، الاعتکاف)
(۲) ما في ’’ حاشیۃ موسوعۃ مسائل الجمہور ‘‘ : (فائدۃ) جماعۃ العلماء وفقہاء الأمصار یرغبون لمن اعتکف العشر الأواخر في رمضان أن لا یخرج من معتکفہ إلا بعد الفجر عند توجہہ لصلاۃ العید رأسًا ، ولیس ہذا علی الوجوب عند جمہورہم ۔۔۔۔۔۔۔۔ قال القرطبي : استحب مالک لمن اعتکف العشر الأواخر أن یبیت لیلۃ الفطر في المسجد حتی یغدو إلی المصلَّی ، وبہ قال أحمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قال النووي : ویستحب أن یمکث في معتکفہ بعد ہلال شوال حتی یصلي العید أو یخرج منہ إلی المصلی إن صلوہا في غیرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وقال الموفق رحمہ اللہ : ومن اعتکف العشر الأواخر من رمضان استحب أن یبیت لیلۃ العید في معتکفہ نصّ علیہ أحمد ، وروي عن النخعي وأبي مجلز وأبي بکر بن عبد الرحمن والمطلب بن حنطب وأبي قلابۃ أنہم کانوا یستحبون ذلک ، وروی الأثرم باسنادہ عن أیوب عن أبي قلابۃ أنہ کان یبیت في المسجد لیلۃ الفطر ثم یغدو کما ہو إلی العید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وقال إبراہیم (النخعي) : کانوا یحبون لمن اعتکف العشر الأواخر من رمضان أن یبیت لیلۃ الفطر في المسجد ثم یغدو إلی المصلی ۔ (۱/۳۳۲ ، کتاب الاعتکاف ، ط: دار السلام) (اعتکاف کے مسائل :ص/۲۵)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
@jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
عید کے چاند کی اطلاع کے بعد معتکف کب اعتکاف سے باہر نکل سکتا ہے اور اس کا طریقہ کیا ہے؟
الْجَواب حامِداوّمُصلّیاً
جب شوال کا چاند نظر آئے تو اعتکاف پورا ہوجاتا ہے، معتکف اگر چاہے تو اسی وقت مسجد سے گھر چلا جائے ،لیکن افضل یہ ہے کہ رات مسجد ہی میں گزارے، اور صبح عید کی نماز کے لیے مسجد ہی سے جائے، پھر عید کی نماز کے بعد گھر جائے۔
ما في ’’ موسوعۃ مسائل الجمہور في الفقہ الإسلامي ‘‘ : مسألۃ [۵۹۶] - جمہور الفقہاء علی أن من نوی اعتکاف العشر الأواخر من رمضان فإنہ یدخل معتکفہ قبل غروب الشمس من لیلۃ إحدی وعشرین ، ویخرج منہ بعد غروب الشمس من لیلۃ الأول من شوال ، وہو مذہب الشافعي وجماعۃ الفقہاء ، وہو قول أحمد في روایۃ ومالک والثوري وأبي حنیفۃ ۔ (۱/۳۳۲ ، کتاب الاعتکاف ، باب في من نوی اعتکاف العشر الأواخر من رمضان ، موسوعۃ الفقہ الإسلامي :۳/۲۰۳ ، کتاب الصیام ، الاعتکاف)
(۲) ما في ’’ حاشیۃ موسوعۃ مسائل الجمہور ‘‘ : (فائدۃ) جماعۃ العلماء وفقہاء الأمصار یرغبون لمن اعتکف العشر الأواخر في رمضان أن لا یخرج من معتکفہ إلا بعد الفجر عند توجہہ لصلاۃ العید رأسًا ، ولیس ہذا علی الوجوب عند جمہورہم ۔۔۔۔۔۔۔۔ قال القرطبي : استحب مالک لمن اعتکف العشر الأواخر أن یبیت لیلۃ الفطر في المسجد حتی یغدو إلی المصلَّی ، وبہ قال أحمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قال النووي : ویستحب أن یمکث في معتکفہ بعد ہلال شوال حتی یصلي العید أو یخرج منہ إلی المصلی إن صلوہا في غیرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وقال الموفق رحمہ اللہ : ومن اعتکف العشر الأواخر من رمضان استحب أن یبیت لیلۃ العید في معتکفہ نصّ علیہ أحمد ، وروي عن النخعي وأبي مجلز وأبي بکر بن عبد الرحمن والمطلب بن حنطب وأبي قلابۃ أنہم کانوا یستحبون ذلک ، وروی الأثرم باسنادہ عن أیوب عن أبي قلابۃ أنہ کان یبیت في المسجد لیلۃ الفطر ثم یغدو کما ہو إلی العید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وقال إبراہیم (النخعي) : کانوا یحبون لمن اعتکف العشر الأواخر من رمضان أن یبیت لیلۃ الفطر في المسجد ثم یغدو إلی المصلی ۔ (۱/۳۳۲ ، کتاب الاعتکاف ، ط: دار السلام) (اعتکاف کے مسائل :ص/۲۵)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
@jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:9⃣4⃣
المسائل المہمہ
عیدین کی نماز کا طریقہ
نماز عیدالفطر کی نیت کےعربی الفاظ یہ ہیں
نَوَیتُ اَن اُصَلِّیَ رَکَعتَیِ الوَاجِبِ صَلٰوةَ عِیدِ الفِطرِ مَعَ سِتَّ تَکبِیرَاتٍ وَّاجِباتٍ
اردو میں یوں کہے
" میں نے نیت کی کہ دو رکعت واجب نماز عیدالفطر چھ واجب تکبیروں کے ساتھ پڑھوں"
عید الاضحٰی کی نیت میں صلوة عیدالفطر کی بجائے صلوة عیدالاضحٰی کہے باقی الفاظ دوسری نیتوں کی طرح کہے واجب کا لفظ کہنا شرط نہیں لیکن بہتر ہے، امام اور مقتدی یہ نیت کر کے تکبیر تحریمہ کہہ کر بدستور ہاتھ باندھ لیں اور ثنا (سبحانک الھم) پڑھیں پھر دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھاتے ہوئے اللّٰہ اکبر کہیں اور ہاتھ لٹکتے ہوئے چھوڑ دیں اسی طرح تین مرتبہ کہیں لیکن تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ نہ لٹکائیں بلکہ حسب دستور ناف پر باندھ لیں، امام ان تینوں تکبیروں میں تین مرتبہ سبحان اللّٰہ کہنے کی مقدار یا حسب ضرورت زیادہ وقفہ کرے پھر امام اعوذ و بسم اللّٰہ آہستہ پڑھ کر الحمد شریف اور کوئی سورة جہر سے پڑھے مستحب یہ ہے کہ سورت الاعلٰی پڑھے اور مقتدی خاموش رہیں پھر رکوع و سجود کریں اور جب دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہو جائیں تو امام پہلے الحمد و سورة کی قرآت جہر سے کرے بہتر یہ ہے کہ سورة الغاشیہ پڑھے اور مقتدی خاموش رہیں قرآت ختم کرنے کے بعد رکوع میں جانے سے پہلے تین مرتبہ زائد تکبیریں پہلی رکعت کی طرح کہے، اب تیسری تکبیر پر بھی ہاتھ چھوڑ دیں پھر بغیر ہاتھ اٹھائے چوتھی تکبیر کہہ کر رکوع میں جائیں اور دستور کے موافق نماز پوری کر لیں خلاصہ یہ ہے کہ عیدین کی نماز میں چھ تکبیریں کہنا واجب ہے تین تکبیریں پہلی رکعت میں تحریمہ و ثنا کے بعد تعوذ و بسم اللّٰہ و الحمد سے پہلے اور تین تکبیریں دوسری رکعت میں الحمد و قرآت سورة کے بعد رکوع میں جانے سے پہلے کہے یہی افضل و اولٰی ہے لیکن اگر دوسری رکعت میں پہلی رکعت کی مانند تعوذ و بسم اللّٰہ و الحمد سے پہلے کہہ لے گا تب بھی جائز ہے۔
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
@jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
المسائل المہمہ
عیدین کی نماز کا طریقہ
نماز عیدالفطر کی نیت کےعربی الفاظ یہ ہیں
نَوَیتُ اَن اُصَلِّیَ رَکَعتَیِ الوَاجِبِ صَلٰوةَ عِیدِ الفِطرِ مَعَ سِتَّ تَکبِیرَاتٍ وَّاجِباتٍ
اردو میں یوں کہے
" میں نے نیت کی کہ دو رکعت واجب نماز عیدالفطر چھ واجب تکبیروں کے ساتھ پڑھوں"
عید الاضحٰی کی نیت میں صلوة عیدالفطر کی بجائے صلوة عیدالاضحٰی کہے باقی الفاظ دوسری نیتوں کی طرح کہے واجب کا لفظ کہنا شرط نہیں لیکن بہتر ہے، امام اور مقتدی یہ نیت کر کے تکبیر تحریمہ کہہ کر بدستور ہاتھ باندھ لیں اور ثنا (سبحانک الھم) پڑھیں پھر دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھاتے ہوئے اللّٰہ اکبر کہیں اور ہاتھ لٹکتے ہوئے چھوڑ دیں اسی طرح تین مرتبہ کہیں لیکن تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ نہ لٹکائیں بلکہ حسب دستور ناف پر باندھ لیں، امام ان تینوں تکبیروں میں تین مرتبہ سبحان اللّٰہ کہنے کی مقدار یا حسب ضرورت زیادہ وقفہ کرے پھر امام اعوذ و بسم اللّٰہ آہستہ پڑھ کر الحمد شریف اور کوئی سورة جہر سے پڑھے مستحب یہ ہے کہ سورت الاعلٰی پڑھے اور مقتدی خاموش رہیں پھر رکوع و سجود کریں اور جب دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہو جائیں تو امام پہلے الحمد و سورة کی قرآت جہر سے کرے بہتر یہ ہے کہ سورة الغاشیہ پڑھے اور مقتدی خاموش رہیں قرآت ختم کرنے کے بعد رکوع میں جانے سے پہلے تین مرتبہ زائد تکبیریں پہلی رکعت کی طرح کہے، اب تیسری تکبیر پر بھی ہاتھ چھوڑ دیں پھر بغیر ہاتھ اٹھائے چوتھی تکبیر کہہ کر رکوع میں جائیں اور دستور کے موافق نماز پوری کر لیں خلاصہ یہ ہے کہ عیدین کی نماز میں چھ تکبیریں کہنا واجب ہے تین تکبیریں پہلی رکعت میں تحریمہ و ثنا کے بعد تعوذ و بسم اللّٰہ و الحمد سے پہلے اور تین تکبیریں دوسری رکعت میں الحمد و قرآت سورة کے بعد رکوع میں جانے سے پہلے کہے یہی افضل و اولٰی ہے لیکن اگر دوسری رکعت میں پہلی رکعت کی مانند تعوذ و بسم اللّٰہ و الحمد سے پہلے کہہ لے گا تب بھی جائز ہے۔
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
@jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:0⃣5⃣
عیدین کے بعض مسائل واحکام:
۱- عیدین کی نماز واجب ہے ۔
۲- عیدین کے خطبہ کا سننا جمعہ کے خطبہ کی طرح واجب ہے یعنی اس وقت بولنا، کھانا، پینا، سلام وجواب سب ممنوع ہیں ۔
۳- بلا عذر عیدین کی نماز چھوڑنا گمراہی وبدعت ہے ۔
*۴- نماز عیدکے پڑھنے کا طریقہ :*
دل سے یا زبان سے نیت کرکے تکبیر تحریمہ (اﷲاکبر ) کہہ کر ہاتھ باندھ لیں اورثناء (سبحانک اللھم) اخیر تک پڑھیں پھر تین مرتبہ اﷲاکبر کہیں اورہر ہر مرتبہ تکبیر تحریمہ کی مانند دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھائیں اور ان میں ہر تکبیر کے بعد ہاتھ لٹکادیں اور ہر تکبیر کے بعد امام اتنی دیر تک توقف کرے کہ اس میں تین مرتبہ سبحان اﷲ کہا جاسکتا ہو اور یہ توقف مجمع کی کمی بیشی کے لحاظ سے مختلف ہوسکتا ہے تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ نہ لٹکائیں بلکہ حسب دستور ناف پر باندھ لیں اور امام اعوذباﷲ وبسم اﷲ آہستہ پڑھکر سورہ فاتحہ اور پھر کوئی سورہ جہر سے پڑھے اورمقتدی خاموش رہیں پھر حسب دستور رکوع کرکے دوسری رکعت کیلئے کھڑا ہو دوسری رکعت میں امام پہلے بسم اﷲ آہستہ پڑھ کر سورہ فاتحہ اور کوئی سورت جہر سے پڑھ لے (پہلی رکعت میں سورہ الاعلی اور دوسری رکعت میں سورہ الغاشیہ پڑھنا مستحب ہے) اور مقتدی خاموش رہیں اس کے بعد رکوع میں جانے سے پہلے تین زائد تکبیریں اس طرح کہے جس طرح پہلی رکعت میں کہی تھیں لیکن یہاں تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ نہ باندھے بلکہ لٹکائے رکھے پھر بغیر ہاتھ اٹھائے ہوئے چوتھی تکبیر کہہ کر رکوع میں جائے اور حسب معمول نماز پوری کرے.
*عیدین کے حسب ذیل امور سنت یا مستحب ہیں:*
(۱) باقی ایام کی بنسبت عیدین کے روز جلدی جاگنا اور صبح کی نماز اپنے محلہ کی مسجد میں پڑھنا۔
(۲) غسل کرنا ۔
(۳) مسواک کرنا (اوریہ اسکے علاوہ ہے جو وضو میں کی جاتی ہے کہ وہ تو ہر وضو کے لئے سنت موکدہ ہے اوریہ عیدین کیلئے ہے۔
(۴) جوکپڑے اس کے پاس ہیں ان میں سے اچھے کپڑے پہننا ۔
(۵) خوشبو لگانا ۔
(۶) عیدالفطر کے روز فجر کے بعد عیدگاہ کو جانے سے پہلے کوئی میٹھی چیز کھانا ۔
(۷) جس پر صدقہ فطر واجب ہے اس کا نما زعید الفطر سے پہلے ادا کرنا (صدقہ نصف صاع یعنی پونے دوسیر گہیوں آٹا یا اسکی قیمت ہے )
(۸) فرحت وخوشی کا اظہار کرنا ۔شرع کے موافق اپنی ارائش کرنا ۔
(۹) حسب طاقت صدقہ وخیرات میں کثرت کرنا ۔
(۱۰) عیدگاہ کی طرف جلدی جانا ۔
(۱۱) عید گاہ کی طرف وقار اور اطمینان کے ساتھ جانا اور جن چیزوں کا دیکھنا جائز نہیں ہے ان سے آنکھیں نیچی رکھنا ۔
(۱۲) عید الفطر کی نماز کے لئے عیدگاہ کو جاتے ہوئے راستے میں آہستہ تکبیر کہتے ہوئے جانا اور عید الاضحی کے روز راستہ میں بلند آواز سے تکبیرکہنااور جب عید گاہ میں پہنچ جائے تو تکبیر کہنا بند کردے ایک روایت کے مطابق جب نماز شروع ہو اس وقت بند کرے، تکبیریہ ہے اﷲاکبراﷲاکبرلاالہ الااﷲ واﷲاکبراﷲاکبروﷲ الحمد ۔
(۱۳) دوسرے راستہ سے واپس آنا ۔
(۱۴) آپس میں مبارک باد دینا مستحب ہے ۔
*صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین یوں کہتے تھے *«تقبل اللہ منا ومنکم»*
(۱۵) عیدین کی نماز سے واپس آنے کے بعد گھر پر چار رکعت نماز نفل پڑھنا مستحب ہے ۔(۱)
کتبہ : ولی حسن ٹونکی
بینات -شوال ۱۳۸۶ھ بمطابق فروری ۱۹۶۷ء
جلد:۹-شمارہ:۴ ص:۷-۸
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱)عمدۃ الفقہ از شیخ سید زوار حسین شاہ نقشبندی -۲؍۴۵۸تا ۴۶۰،۴۶۲۔
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔
@jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
عیدین کے بعض مسائل واحکام:
۱- عیدین کی نماز واجب ہے ۔
۲- عیدین کے خطبہ کا سننا جمعہ کے خطبہ کی طرح واجب ہے یعنی اس وقت بولنا، کھانا، پینا، سلام وجواب سب ممنوع ہیں ۔
۳- بلا عذر عیدین کی نماز چھوڑنا گمراہی وبدعت ہے ۔
*۴- نماز عیدکے پڑھنے کا طریقہ :*
دل سے یا زبان سے نیت کرکے تکبیر تحریمہ (اﷲاکبر ) کہہ کر ہاتھ باندھ لیں اورثناء (سبحانک اللھم) اخیر تک پڑھیں پھر تین مرتبہ اﷲاکبر کہیں اورہر ہر مرتبہ تکبیر تحریمہ کی مانند دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھائیں اور ان میں ہر تکبیر کے بعد ہاتھ لٹکادیں اور ہر تکبیر کے بعد امام اتنی دیر تک توقف کرے کہ اس میں تین مرتبہ سبحان اﷲ کہا جاسکتا ہو اور یہ توقف مجمع کی کمی بیشی کے لحاظ سے مختلف ہوسکتا ہے تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ نہ لٹکائیں بلکہ حسب دستور ناف پر باندھ لیں اور امام اعوذباﷲ وبسم اﷲ آہستہ پڑھکر سورہ فاتحہ اور پھر کوئی سورہ جہر سے پڑھے اورمقتدی خاموش رہیں پھر حسب دستور رکوع کرکے دوسری رکعت کیلئے کھڑا ہو دوسری رکعت میں امام پہلے بسم اﷲ آہستہ پڑھ کر سورہ فاتحہ اور کوئی سورت جہر سے پڑھ لے (پہلی رکعت میں سورہ الاعلی اور دوسری رکعت میں سورہ الغاشیہ پڑھنا مستحب ہے) اور مقتدی خاموش رہیں اس کے بعد رکوع میں جانے سے پہلے تین زائد تکبیریں اس طرح کہے جس طرح پہلی رکعت میں کہی تھیں لیکن یہاں تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ نہ باندھے بلکہ لٹکائے رکھے پھر بغیر ہاتھ اٹھائے ہوئے چوتھی تکبیر کہہ کر رکوع میں جائے اور حسب معمول نماز پوری کرے.
*عیدین کے حسب ذیل امور سنت یا مستحب ہیں:*
(۱) باقی ایام کی بنسبت عیدین کے روز جلدی جاگنا اور صبح کی نماز اپنے محلہ کی مسجد میں پڑھنا۔
(۲) غسل کرنا ۔
(۳) مسواک کرنا (اوریہ اسکے علاوہ ہے جو وضو میں کی جاتی ہے کہ وہ تو ہر وضو کے لئے سنت موکدہ ہے اوریہ عیدین کیلئے ہے۔
(۴) جوکپڑے اس کے پاس ہیں ان میں سے اچھے کپڑے پہننا ۔
(۵) خوشبو لگانا ۔
(۶) عیدالفطر کے روز فجر کے بعد عیدگاہ کو جانے سے پہلے کوئی میٹھی چیز کھانا ۔
(۷) جس پر صدقہ فطر واجب ہے اس کا نما زعید الفطر سے پہلے ادا کرنا (صدقہ نصف صاع یعنی پونے دوسیر گہیوں آٹا یا اسکی قیمت ہے )
(۸) فرحت وخوشی کا اظہار کرنا ۔شرع کے موافق اپنی ارائش کرنا ۔
(۹) حسب طاقت صدقہ وخیرات میں کثرت کرنا ۔
(۱۰) عیدگاہ کی طرف جلدی جانا ۔
(۱۱) عید گاہ کی طرف وقار اور اطمینان کے ساتھ جانا اور جن چیزوں کا دیکھنا جائز نہیں ہے ان سے آنکھیں نیچی رکھنا ۔
(۱۲) عید الفطر کی نماز کے لئے عیدگاہ کو جاتے ہوئے راستے میں آہستہ تکبیر کہتے ہوئے جانا اور عید الاضحی کے روز راستہ میں بلند آواز سے تکبیرکہنااور جب عید گاہ میں پہنچ جائے تو تکبیر کہنا بند کردے ایک روایت کے مطابق جب نماز شروع ہو اس وقت بند کرے، تکبیریہ ہے اﷲاکبراﷲاکبرلاالہ الااﷲ واﷲاکبراﷲاکبروﷲ الحمد ۔
(۱۳) دوسرے راستہ سے واپس آنا ۔
(۱۴) آپس میں مبارک باد دینا مستحب ہے ۔
*صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین یوں کہتے تھے *«تقبل اللہ منا ومنکم»*
(۱۵) عیدین کی نماز سے واپس آنے کے بعد گھر پر چار رکعت نماز نفل پڑھنا مستحب ہے ۔(۱)
کتبہ : ولی حسن ٹونکی
بینات -شوال ۱۳۸۶ھ بمطابق فروری ۱۹۶۷ء
جلد:۹-شمارہ:۴ ص:۷-۸
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱)عمدۃ الفقہ از شیخ سید زوار حسین شاہ نقشبندی -۲؍۴۵۸تا ۴۶۰،۴۶۲۔
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔
@jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:1⃣5⃣
Orton ko eid ke din ka ajar kese milega farishtai to eid gah ke rastai me kharai honge
اَلْجَواب حَامِدَاوَّمُصَلِّیا
صرف نماز کیلئے نہیں جاسکتی باقی جتنی عبادت کرنا چاہئے کرسکتی ہے کوئی مخصوص عبادت نہیں ہے اس دن کیلئے
یاد رہے نماز عید سے پہلے نفل پڑھنا مطلقاً مکروہ ہے، خواہ گھر میں پڑھے یا عیدگاہ میں، حتیٰ کہ عورت بھی گھر میں نفل پڑھنا چاہے تو نماز عید کے بعد پڑھے اور نماز عید کے بعد فقط عید گاہ میں نفل پڑھنا مکروہ ہے۔
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔
@jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
Orton ko eid ke din ka ajar kese milega farishtai to eid gah ke rastai me kharai honge
اَلْجَواب حَامِدَاوَّمُصَلِّیا
صرف نماز کیلئے نہیں جاسکتی باقی جتنی عبادت کرنا چاہئے کرسکتی ہے کوئی مخصوص عبادت نہیں ہے اس دن کیلئے
یاد رہے نماز عید سے پہلے نفل پڑھنا مطلقاً مکروہ ہے، خواہ گھر میں پڑھے یا عیدگاہ میں، حتیٰ کہ عورت بھی گھر میں نفل پڑھنا چاہے تو نماز عید کے بعد پڑھے اور نماز عید کے بعد فقط عید گاہ میں نفل پڑھنا مکروہ ہے۔
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔
@jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:2⃣5⃣
نمازعید کے احکام
نماز عید واجب ہے یا سنت؟
فقہ حنفی میں عید ین کی نماز واجب ہے،سنت نہیں۔
نماز عید کس پر واجب ہے؟
عید کی نماز شہر کے مردوں پر واجب ہے۔عورتوں پر نماز عید واجب نہیں، اسی طرح گاؤں دیہات کے لوگوں پر نماز عیدواجب نہیں۔
طریقہ:
نماز عید پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے دل میں یہ نیت کرے : میں چھ تکبیروں کے ساتھ عید کی دورکعت واجب نماز پڑھتا ہوں۔(نیت کے مذکورہ الفاظ زبان سے کہنا ضروری نہیں،دل میں ارادہ کرلینا بھی کافی ہے۔)
نیت کرکے ہاتھ باندھ لے اور ’’سبحانک اللّٰھم‘‘ آخر تک پڑھ کر تین مرتبہ اللہ اکبر کہے، ہر مرتبہ تکبیر تحریمہ کی طرح دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھائے،تکبیر کے بعد ہاتھ لٹکادے،دو تکبیروں کے درمیان اتنی دیر تک ٹھہرے جس میں تین مرتبہ ’’سبحان اللّٰہ‘‘ کہا جاسکے۔ تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ باندھ لے اور ’’اعوذ باللّٰہ‘‘ اور’’بسم اللّٰہ‘‘پڑھ کر سورۂ فاتحہ اور کوئی دوسری سورۃ پڑھ کر رکوع وسجدہ کرکے کھڑا ہو، دوسری رکعت میں پہلے سورۂ فاتحہ اور سورت پڑھ لے، اس کے بعد تین تکبیریں اسی طرح کہے، لیکن یہاں تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ نہ باندھے بلکہ لٹکائے رکھے اور پھر چوتھی تکبیر کہہ کر رکوع میں چلا جائے۔
*خطبہ:
عیدین میں خطبہ پڑھنا سنت ہے، واجب نہیں، لیکن جب خطبہ شروع ہوجائے تو مقتدیوں پر اسے سننا واجب ہے۔
خطبہ نماز کے بعد پڑھے:
نماز کے بعدامام منبر پر کھڑے ہو کر دو خطبے پڑھے اور دونوں خطبوں کے درمیان اتنی دیر بیٹھتے جتنی دیر جمعہ کے دوخطبوں کے درمیان بیٹھتے ہیں۔
دعا:
عیدین کی نماز کے بعد دُعا مانگنا جائز بلکہ مستحب ہے،لیکن یہ دعا نماز کے بعد ہونی چاہیے، خطبوں کے بعد دعا کرنا بے اصل ہے۔(محمودیہ، احسن الفتاوی ، فتاوی دارالعلوم زکریا)
_اگر تکبیرات نکل جائیں_
اگر کوئی شخص عید کی نماز میں ایسے وقت آکر شریک ہوا کہ امام تکبیریں پڑھ چکا تھا تو اگر قیام میں آکر شریک ہوا ہو تو نیت باندھنے کے بعد فوراً تکبیریں کہہ لے، اگر چہ امام قرات شروع کرچکا ہو اور اگر رکوع میں آکر شریک ہوا ہو تو اگر غالب گمان یہ ہو کہ تکبیروں سے فارغ ہونے کے بعد امام کے ساتھ رکوع مل جائے گا تو نیت باندھ کر تکبیر کہہ لے، اس کے بعد رکوع میں جائے،رکوع نہ ملنے کا خوف ہوتو رکوع میں شریک ہوجائے اور حالت رکوع میں بجائے تسبیح کے تکبیریں کہہ لے مگر حالت ِ رکوع میں تکبیریں کہتے وقت ہاتھ نہ اٹھائے اور اگر اس کی تکبیریں پوری ہونے سے پہلے امام رکوع سے سر اُٹھالے تو یہ بھی کھڑا ہوجائے اور اس صورت میں جتنی تکبیریں رہ گئی ہیں وہ معاف ہیں۔
عیدین میں سجدہ سہو نہیں:
عیدین کی نماز میں کوئی ایسی غلطی ہوجائے جس سے سجدہ سہو واجب ہوتا ہے تویہ سجدۂ سہوواجب نہیں۔یہ گنجائش ہر ایسی نماز میں ہے جس میں نمازیوں کی تعداد بہت زیادہ ہو۔
نماز عید سے پہلے اشراق ونوافل:
جو مسلمان عید کی نماز پڑھنے والے یا پڑھنے کا ارادہ رکھنے والے ہیں ان کے لیے نماز عید سے پہلے کسی بھی طرح کے نوافل مکروہ ہیں، عید گاہ میں بھی اور گھر میں بھی؛نماز عید کے بعد عید گاہ میں مکروہ ہے گھر وں میں نماز عید کے بعد نوافل درست ہیں؛ لہٰذا دیہات میں نمازعید کے وقت نفل نماز پڑھنا ممنوع نہ ہوگا؛ کیونکہ دیہات میں عید ہوتی ہی نہیں۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 275)
وَتَجِبُ صَلَاةُ الْعِيدَيْنِ عَلَى أَهْلِ الْأَمْصَارِ كَمَا تَجِبُ الْجُمُعَةُ وَهَكَذَا رَوَى الْحَسَنُ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ أَنَّهُ تَجِبُ صَلَاةُ الْعِيدِ عَلَى مَنْ تَجِبُ عَلَيْهِ صَلَاةُ الْجُمُعَةِ۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 275)
حَتَّى لَا تَجِبَ عَلَى النِّسْوَانِ وَالصِّبْيَانِ وَالْمَجَانِينِ
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 277)
وَكَيْفِيَّةِ أَدَائِهَا فَنَقُولُ: يُصَلِّي الْإِمَامُ رَكْعَتَيْنِ: فَيُكَبِّرُ تَكْبِيرَةَ الِافْتِتَاحِ، ثُمَّ يَسْتَفْتِحُ فَيَقُولُ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِك إلَى آخِرِهِ عِنْدَ عَامَّةِ الْعُلَمَاءِ، وَعِنْدَ ابْنِ أَبِي لَيْلَى يَأْتِي بِالثَّنَاءِ بَعْدَ التَّكْبِيرَاتِ وَهَذَا غَيْرُ سَدِيدٍ؛ لِأَنَّ الِاسْتِفْتَاحَ كَاسْمِهِ وُضِعَ لِافْتِتَاحِ الصَّلَاةِ فَكَانَ مَحِلُّهُ ابْتِدَاءَ الصَّلَاةِ، ثُمَّ يَتَعَوَّذُ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ، ثُمَّ يُكَبِّرُ ثَلَاثًا، وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ يُؤَخِّرُ التَّعَوُّذَ عَنْ التَّكْبِيرَاتِ بِنَاءً عَلَى أَنَّ التَّعَوُّذَ سُنَّةُ الِافْتِتَاحِ، أَوْ سُنَّةُ الْقِرَاءَةِ عَلَى مَا ذَكَرْنَا، ثُمَّ يَقْرَأُ ثُمَّ يُكَبِّرُ تَكْبِيرَةَ الرُّكُوعِ فَإِذَا قَامَ إلَى الثَّانِيَةِ يَقْرَأُ أَوَّلًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ ثَلَاثًا، وَيَرْكَعُ بِالرَّابِعَةِ فَحَاصِلُ الْجَوَابِ أَنَّ عِنْدَنَا يُكَبِّرُ فِي صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ تِسْعَ تَكْبِيرَاتٍ: سِتَّةٌ مِنْ الزَّوَائِدِ وَثَلَاثَةٌ أَصْلِيَّاتٌ: تَكْبِي
نمازعید کے احکام
نماز عید واجب ہے یا سنت؟
فقہ حنفی میں عید ین کی نماز واجب ہے،سنت نہیں۔
نماز عید کس پر واجب ہے؟
عید کی نماز شہر کے مردوں پر واجب ہے۔عورتوں پر نماز عید واجب نہیں، اسی طرح گاؤں دیہات کے لوگوں پر نماز عیدواجب نہیں۔
طریقہ:
نماز عید پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے دل میں یہ نیت کرے : میں چھ تکبیروں کے ساتھ عید کی دورکعت واجب نماز پڑھتا ہوں۔(نیت کے مذکورہ الفاظ زبان سے کہنا ضروری نہیں،دل میں ارادہ کرلینا بھی کافی ہے۔)
نیت کرکے ہاتھ باندھ لے اور ’’سبحانک اللّٰھم‘‘ آخر تک پڑھ کر تین مرتبہ اللہ اکبر کہے، ہر مرتبہ تکبیر تحریمہ کی طرح دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھائے،تکبیر کے بعد ہاتھ لٹکادے،دو تکبیروں کے درمیان اتنی دیر تک ٹھہرے جس میں تین مرتبہ ’’سبحان اللّٰہ‘‘ کہا جاسکے۔ تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ باندھ لے اور ’’اعوذ باللّٰہ‘‘ اور’’بسم اللّٰہ‘‘پڑھ کر سورۂ فاتحہ اور کوئی دوسری سورۃ پڑھ کر رکوع وسجدہ کرکے کھڑا ہو، دوسری رکعت میں پہلے سورۂ فاتحہ اور سورت پڑھ لے، اس کے بعد تین تکبیریں اسی طرح کہے، لیکن یہاں تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ نہ باندھے بلکہ لٹکائے رکھے اور پھر چوتھی تکبیر کہہ کر رکوع میں چلا جائے۔
*خطبہ:
عیدین میں خطبہ پڑھنا سنت ہے، واجب نہیں، لیکن جب خطبہ شروع ہوجائے تو مقتدیوں پر اسے سننا واجب ہے۔
خطبہ نماز کے بعد پڑھے:
نماز کے بعدامام منبر پر کھڑے ہو کر دو خطبے پڑھے اور دونوں خطبوں کے درمیان اتنی دیر بیٹھتے جتنی دیر جمعہ کے دوخطبوں کے درمیان بیٹھتے ہیں۔
دعا:
عیدین کی نماز کے بعد دُعا مانگنا جائز بلکہ مستحب ہے،لیکن یہ دعا نماز کے بعد ہونی چاہیے، خطبوں کے بعد دعا کرنا بے اصل ہے۔(محمودیہ، احسن الفتاوی ، فتاوی دارالعلوم زکریا)
_اگر تکبیرات نکل جائیں_
اگر کوئی شخص عید کی نماز میں ایسے وقت آکر شریک ہوا کہ امام تکبیریں پڑھ چکا تھا تو اگر قیام میں آکر شریک ہوا ہو تو نیت باندھنے کے بعد فوراً تکبیریں کہہ لے، اگر چہ امام قرات شروع کرچکا ہو اور اگر رکوع میں آکر شریک ہوا ہو تو اگر غالب گمان یہ ہو کہ تکبیروں سے فارغ ہونے کے بعد امام کے ساتھ رکوع مل جائے گا تو نیت باندھ کر تکبیر کہہ لے، اس کے بعد رکوع میں جائے،رکوع نہ ملنے کا خوف ہوتو رکوع میں شریک ہوجائے اور حالت رکوع میں بجائے تسبیح کے تکبیریں کہہ لے مگر حالت ِ رکوع میں تکبیریں کہتے وقت ہاتھ نہ اٹھائے اور اگر اس کی تکبیریں پوری ہونے سے پہلے امام رکوع سے سر اُٹھالے تو یہ بھی کھڑا ہوجائے اور اس صورت میں جتنی تکبیریں رہ گئی ہیں وہ معاف ہیں۔
عیدین میں سجدہ سہو نہیں:
عیدین کی نماز میں کوئی ایسی غلطی ہوجائے جس سے سجدہ سہو واجب ہوتا ہے تویہ سجدۂ سہوواجب نہیں۔یہ گنجائش ہر ایسی نماز میں ہے جس میں نمازیوں کی تعداد بہت زیادہ ہو۔
نماز عید سے پہلے اشراق ونوافل:
جو مسلمان عید کی نماز پڑھنے والے یا پڑھنے کا ارادہ رکھنے والے ہیں ان کے لیے نماز عید سے پہلے کسی بھی طرح کے نوافل مکروہ ہیں، عید گاہ میں بھی اور گھر میں بھی؛نماز عید کے بعد عید گاہ میں مکروہ ہے گھر وں میں نماز عید کے بعد نوافل درست ہیں؛ لہٰذا دیہات میں نمازعید کے وقت نفل نماز پڑھنا ممنوع نہ ہوگا؛ کیونکہ دیہات میں عید ہوتی ہی نہیں۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 275)
وَتَجِبُ صَلَاةُ الْعِيدَيْنِ عَلَى أَهْلِ الْأَمْصَارِ كَمَا تَجِبُ الْجُمُعَةُ وَهَكَذَا رَوَى الْحَسَنُ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ أَنَّهُ تَجِبُ صَلَاةُ الْعِيدِ عَلَى مَنْ تَجِبُ عَلَيْهِ صَلَاةُ الْجُمُعَةِ۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 275)
حَتَّى لَا تَجِبَ عَلَى النِّسْوَانِ وَالصِّبْيَانِ وَالْمَجَانِينِ
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 277)
وَكَيْفِيَّةِ أَدَائِهَا فَنَقُولُ: يُصَلِّي الْإِمَامُ رَكْعَتَيْنِ: فَيُكَبِّرُ تَكْبِيرَةَ الِافْتِتَاحِ، ثُمَّ يَسْتَفْتِحُ فَيَقُولُ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِك إلَى آخِرِهِ عِنْدَ عَامَّةِ الْعُلَمَاءِ، وَعِنْدَ ابْنِ أَبِي لَيْلَى يَأْتِي بِالثَّنَاءِ بَعْدَ التَّكْبِيرَاتِ وَهَذَا غَيْرُ سَدِيدٍ؛ لِأَنَّ الِاسْتِفْتَاحَ كَاسْمِهِ وُضِعَ لِافْتِتَاحِ الصَّلَاةِ فَكَانَ مَحِلُّهُ ابْتِدَاءَ الصَّلَاةِ، ثُمَّ يَتَعَوَّذُ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ، ثُمَّ يُكَبِّرُ ثَلَاثًا، وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ يُؤَخِّرُ التَّعَوُّذَ عَنْ التَّكْبِيرَاتِ بِنَاءً عَلَى أَنَّ التَّعَوُّذَ سُنَّةُ الِافْتِتَاحِ، أَوْ سُنَّةُ الْقِرَاءَةِ عَلَى مَا ذَكَرْنَا، ثُمَّ يَقْرَأُ ثُمَّ يُكَبِّرُ تَكْبِيرَةَ الرُّكُوعِ فَإِذَا قَامَ إلَى الثَّانِيَةِ يَقْرَأُ أَوَّلًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ ثَلَاثًا، وَيَرْكَعُ بِالرَّابِعَةِ فَحَاصِلُ الْجَوَابِ أَنَّ عِنْدَنَا يُكَبِّرُ فِي صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ تِسْعَ تَكْبِيرَاتٍ: سِتَّةٌ مِنْ الزَّوَائِدِ وَثَلَاثَةٌ أَصْلِيَّاتٌ: تَكْبِي
رَةُ الِافْتِتَ
احِ، وَتَكْبِيرَتَا الرُّكُوعِ وَيُوَالِي بَيْنَ الْقِرَاءَتَيْنِ فَيَقْرَأُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى بَعْدَ التَّكْبِيرَاتِ وَفِي الثَّانِيَةِ قَبْلَ التَّكْبِيرَاتِ.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 277)
وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ أَنَّهُ يَسْكُتُ بَيْنَ كُلِّ تَكْبِيرَتَيْنِ قَدْرَ ثَلَاثِ تَسْبِيحَاتٍ
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 276)
وَأَمَّا الْخُطْبَةُ فَلَيْسَتْ بِشَرْطٍ؛ لِأَنَّهَا تُؤَدَّى بَعْدَ الصَّلَاةِ وَشَرْطُ الشَّيْءِ يَكُونُ سَابِقًا عَلَيْهِ أَوْ مُقَارِنًا لَهُ
(أوجز المسالک ۳/ ۴۲۴)
ولأن المبادرۃ إلی صلاۃ العید مسنونۃ ، وفي الاشتغال بالتطوع تاخیرہا … وعامۃ أصحابنا علی أنہ لایتطوع قبل صلاۃ العید لا فی المصلی، ولا فی البیت، فأول الصلاۃ في ہذا الیوم صلاۃ العید۔
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
احِ، وَتَكْبِيرَتَا الرُّكُوعِ وَيُوَالِي بَيْنَ الْقِرَاءَتَيْنِ فَيَقْرَأُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى بَعْدَ التَّكْبِيرَاتِ وَفِي الثَّانِيَةِ قَبْلَ التَّكْبِيرَاتِ.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 277)
وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ أَنَّهُ يَسْكُتُ بَيْنَ كُلِّ تَكْبِيرَتَيْنِ قَدْرَ ثَلَاثِ تَسْبِيحَاتٍ
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 276)
وَأَمَّا الْخُطْبَةُ فَلَيْسَتْ بِشَرْطٍ؛ لِأَنَّهَا تُؤَدَّى بَعْدَ الصَّلَاةِ وَشَرْطُ الشَّيْءِ يَكُونُ سَابِقًا عَلَيْهِ أَوْ مُقَارِنًا لَهُ
(أوجز المسالک ۳/ ۴۲۴)
ولأن المبادرۃ إلی صلاۃ العید مسنونۃ ، وفي الاشتغال بالتطوع تاخیرہا … وعامۃ أصحابنا علی أنہ لایتطوع قبل صلاۃ العید لا فی المصلی، ولا فی البیت، فأول الصلاۃ في ہذا الیوم صلاۃ العید۔
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:3⃣5⃣
گروی رکھے ہوئے زیور پر زکوٰۃ کا حکم
السلام عليكم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب درج ذیل مسئلہ کی وضاحت فرمائیں
کہ زیور بیوی کی ملکیت میں ہے اور شوہر نے بیوی کازیور رہن رکھ کر قرض لیا تو کیا اس رہن رکھے ہوے زیور کی زکوۃ نکالنا پڑے گا؟ کس صورت میں زکوۃ واجب هو گی اور کس صو رت میں نہی واجب ہوگی اگر تفصیل سے جواب دیں تو مہربانی ہوگی کیوں کی اکثر لوگ رمضان مے پوچھتے ہیں کہ بیوی کا زیور رہن رکھا ھے یا بینک میں ہے تو زکوۃ نکا لنا ہے یا نہیں۔؟
الجواب وباللہ التوفیق :خود اپنا زیور کوئی گروی رکھے تو اس پہ زکوة واجب نہیں ہے
لیکن اگر بیوی کی ملکیت کا زیور شوہر رہن رکھے تو یہ دین قوی ہے اور دین قوی پہ زکوة فرض ہے اس لئے اب اس رہن رکھے ہوئے زیور کی زکوة بیوی کے ذمہ واجب الاداء ہے یا تو ابھی جوڑ کے دیدے ورنہ زیور وصول ہونے کے بعد بقیہ تمام سالوں کی زکوة حسب قواعد ادا کرے
ولا: أي لا یجب الزکاۃ في مرہون أي لا علی المرتہن لعدم ملک الرقبۃ، ولا علی الراہن لعدم الید۔ (الدرالمختار کتاب الزکاۃ مع الشامي ۳؍۱۸۰ زکریا، ۲؍۲۶۳ کراچی)
ومن موانع الوجوب الرہن إذا کان في ید المرتہن لعدم ملک الید کذا في العنایۃ۔ (البحر الرائق ۲؍۳۵۵ رشیدیۃ، ۲؍۲۰۳ کوئٹہ)
قسم أبو حنیفۃ الدین علی ثلاثۃ أقسام قوی وہو بدل القرض، ومال التجارۃ ومتوسط وہو بدل ما لیس للتجارۃ … ففي القوی تجب الزکوۃ إذا حال الحول، ویتراخی القضاء إلی أن یقبض … ویعتبر لما مضی من الحول۔ (البحر الرائق ۲؍ ۲۰۷کوئٹہ، کذا في الدر المختار، الزکاۃ / باب الزکاۃ المال ۲؍۳۰۵ کراچی۔ ہکذا فی کتاب النوازل)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
گروی رکھے ہوئے زیور پر زکوٰۃ کا حکم
السلام عليكم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب درج ذیل مسئلہ کی وضاحت فرمائیں
کہ زیور بیوی کی ملکیت میں ہے اور شوہر نے بیوی کازیور رہن رکھ کر قرض لیا تو کیا اس رہن رکھے ہوے زیور کی زکوۃ نکالنا پڑے گا؟ کس صورت میں زکوۃ واجب هو گی اور کس صو رت میں نہی واجب ہوگی اگر تفصیل سے جواب دیں تو مہربانی ہوگی کیوں کی اکثر لوگ رمضان مے پوچھتے ہیں کہ بیوی کا زیور رہن رکھا ھے یا بینک میں ہے تو زکوۃ نکا لنا ہے یا نہیں۔؟
الجواب وباللہ التوفیق :خود اپنا زیور کوئی گروی رکھے تو اس پہ زکوة واجب نہیں ہے
لیکن اگر بیوی کی ملکیت کا زیور شوہر رہن رکھے تو یہ دین قوی ہے اور دین قوی پہ زکوة فرض ہے اس لئے اب اس رہن رکھے ہوئے زیور کی زکوة بیوی کے ذمہ واجب الاداء ہے یا تو ابھی جوڑ کے دیدے ورنہ زیور وصول ہونے کے بعد بقیہ تمام سالوں کی زکوة حسب قواعد ادا کرے
ولا: أي لا یجب الزکاۃ في مرہون أي لا علی المرتہن لعدم ملک الرقبۃ، ولا علی الراہن لعدم الید۔ (الدرالمختار کتاب الزکاۃ مع الشامي ۳؍۱۸۰ زکریا، ۲؍۲۶۳ کراچی)
ومن موانع الوجوب الرہن إذا کان في ید المرتہن لعدم ملک الید کذا في العنایۃ۔ (البحر الرائق ۲؍۳۵۵ رشیدیۃ، ۲؍۲۰۳ کوئٹہ)
قسم أبو حنیفۃ الدین علی ثلاثۃ أقسام قوی وہو بدل القرض، ومال التجارۃ ومتوسط وہو بدل ما لیس للتجارۃ … ففي القوی تجب الزکوۃ إذا حال الحول، ویتراخی القضاء إلی أن یقبض … ویعتبر لما مضی من الحول۔ (البحر الرائق ۲؍ ۲۰۷کوئٹہ، کذا في الدر المختار، الزکاۃ / باب الزکاۃ المال ۲؍۳۰۵ کراچی۔ ہکذا فی کتاب النوازل)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
Telegram
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
"جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند" میں روزانہ ایک دو مسئلہ مدلل ومزین انداز میں بطورِ استفادہ آپ کو ملے گا،
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1
جواب نمبر:4⃣5⃣
سوال:
عیدین میں امام حنفی ہے اور نصف مقتدی سے زائد شافعی ہیں اور نصف مقتدی سے کم حنفی ہیں تو امام کو کس مذہب کے موافق نماز پڑھانی چاہئے۔؟
الجواب:عیدین کی نماز مین امام حنفی اپنے مذہب کے موافق تکبیرات زوائد کہے یعنی تین تکبیرات ہر رکعت میں علاوہ تکبیر افتتاح و رکوع کے،مقتدی جو شافعی المذہب ہے وہ اپنے مذہب کے موافق تکبیرات پوری کرلیں اگر انکے نزدیک یہ جائز ہو کہ امام حنفی کے پیچھے تکبیرات پوری کرلی جاویں۔ البتہ امام حنفی کو ان کے مذہب کا اتباع ضروری نہیں ہے۔لیکن اگر امام انکی رعایت سے ان کے مذہب کے موافق تکبیرات کہےگا تو اسمیں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔
ویصلی الامام رکعتین مثنیا قبل الزوائد وھی ثلاث تکبیرات فی کلی رکعة والو زاد تابعہ الی ستة عشر لانہ ماثور (الدرالمختار باب العیدین 115/1 ط.س.172/2 ظفیر
لکن یندب للخروج من لخاف لا سیما للامام لکن بشرط عدم لزوم ارتکاب مکروہ مذھبہ(رد المحتار1)
مستفاد:فتاوی دارالعلوم دیوبند5
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سوال:
عیدین میں امام حنفی ہے اور نصف مقتدی سے زائد شافعی ہیں اور نصف مقتدی سے کم حنفی ہیں تو امام کو کس مذہب کے موافق نماز پڑھانی چاہئے۔؟
الجواب:عیدین کی نماز مین امام حنفی اپنے مذہب کے موافق تکبیرات زوائد کہے یعنی تین تکبیرات ہر رکعت میں علاوہ تکبیر افتتاح و رکوع کے،مقتدی جو شافعی المذہب ہے وہ اپنے مذہب کے موافق تکبیرات پوری کرلیں اگر انکے نزدیک یہ جائز ہو کہ امام حنفی کے پیچھے تکبیرات پوری کرلی جاویں۔ البتہ امام حنفی کو ان کے مذہب کا اتباع ضروری نہیں ہے۔لیکن اگر امام انکی رعایت سے ان کے مذہب کے موافق تکبیرات کہےگا تو اسمیں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔
ویصلی الامام رکعتین مثنیا قبل الزوائد وھی ثلاث تکبیرات فی کلی رکعة والو زاد تابعہ الی ستة عشر لانہ ماثور (الدرالمختار باب العیدین 115/1 ط.س.172/2 ظفیر
لکن یندب للخروج من لخاف لا سیما للامام لکن بشرط عدم لزوم ارتکاب مکروہ مذھبہ(رد المحتار1)
مستفاد:فتاوی دارالعلوم دیوبند5
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:5⃣5⃣
سونا چاندی اور روپیہ تینوں مل کر اگر نصاب کے بقدر ہوں؟
سوال(۸):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: میرے پاس چالیس تولہ چاندی اور نقد دس ہزار روپیہ ہے، سونا کچھ بھی نہیں ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ مجھے چاندی کی زکوٰۃ ادا کرنی پڑے گی یا صرف پیسوں کی؟ کیونکہ چاندی اپنے نصاب سے کم ہے، بعض علماء کا کہنا ہے کہ نقدی روپیہ چاندی کے حکم میں ہوتا ہے، اسی طرح اگر سونا نصاب سے کم ہو تو کیا پیسوں سے اس کی تکمیل کرکے زکوٰۃ دینا چاہئے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: مسئولہ صورت میں حکم یہی ہے کہ چاندی کی قیمت لگاکر موجودہ رقم کو بھی چاندی کی رقم میں ضم کرلیا جائے گا، اور کل رقم پر ڈھائی فیصدی کے اعتبار سے زکوٰۃ واجب ہوگی، اور اگر سونا نصاب سے کم ہو اور روپیہ موجود ہو تو سونے کی قیمت لگاکر چاندی کے نصاب سے زکوٰۃ ادا کی جائے گی، فتویٰ اسی پر ہے ۔
وتضم قیمۃ العروض إلی الذہب والفضۃ حتی یتم النصاب؛ لأن الوجوب في الکل باعتبار التجارۃ وإن افترقت جہۃ الأعداد ویضم الذہب إلی الفضۃ للمحانسۃ من الثمنیۃ۔ (ہدایۃ ۱؍۲۱۳ مکبتۃ بلال دیوبند)
ویضم الذہب إلی الفضۃ وعکسہ بجامع الثمنیۃ قیمۃً۔ قال الشامي: أي من جہۃ القیمۃ، فمن لہ مائۃ درہم وخمسۃ مثاقیل قیمتہا مائۃ علیہ زکاتہا، خلافا لہما۔ (الدر المختار مع الرد المحتار، الزکاۃ/ باب زکاۃ المال ۲؍۳۰۳ کراچی، ۳؍۲۳۴ زکریا، البحر الرائق الزکاۃ / باب زکاۃ المال ۲؍۴۰۰ رشیدیہ، تبیین الحقائق، الزکاۃ / باب زکاۃ المال ۲؍۸۰ بیروت، الفتاوٰی التاتارخانیۃ ۳؍۱۵۸ زکریا، الفتاویٰ الہندیۃ ۱؍۱۷۹)
ولو بلغ بأحدہما نصاباً وخمساً، وبالآخر أقل قومہ بالأنفع للفقیر۔ (الدر المختار مع الرد المختار، زکاۃ / باب زکاۃ المال ۳؍۲۲۹ زکریا)
أخرجہ أبوداؤد عن عمرو بن یعلی فذکر الحدیث نحو حدیث الخاتم: قیل لسفیان: کیف تزکیہ؟ قال: تضمہ إلی غیرہ۔ (سنن أبي داؤد ۳؍۱۵۸)
فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سونا چاندی اور روپیہ تینوں مل کر اگر نصاب کے بقدر ہوں؟
سوال(۸):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: میرے پاس چالیس تولہ چاندی اور نقد دس ہزار روپیہ ہے، سونا کچھ بھی نہیں ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ مجھے چاندی کی زکوٰۃ ادا کرنی پڑے گی یا صرف پیسوں کی؟ کیونکہ چاندی اپنے نصاب سے کم ہے، بعض علماء کا کہنا ہے کہ نقدی روپیہ چاندی کے حکم میں ہوتا ہے، اسی طرح اگر سونا نصاب سے کم ہو تو کیا پیسوں سے اس کی تکمیل کرکے زکوٰۃ دینا چاہئے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: مسئولہ صورت میں حکم یہی ہے کہ چاندی کی قیمت لگاکر موجودہ رقم کو بھی چاندی کی رقم میں ضم کرلیا جائے گا، اور کل رقم پر ڈھائی فیصدی کے اعتبار سے زکوٰۃ واجب ہوگی، اور اگر سونا نصاب سے کم ہو اور روپیہ موجود ہو تو سونے کی قیمت لگاکر چاندی کے نصاب سے زکوٰۃ ادا کی جائے گی، فتویٰ اسی پر ہے ۔
وتضم قیمۃ العروض إلی الذہب والفضۃ حتی یتم النصاب؛ لأن الوجوب في الکل باعتبار التجارۃ وإن افترقت جہۃ الأعداد ویضم الذہب إلی الفضۃ للمحانسۃ من الثمنیۃ۔ (ہدایۃ ۱؍۲۱۳ مکبتۃ بلال دیوبند)
ویضم الذہب إلی الفضۃ وعکسہ بجامع الثمنیۃ قیمۃً۔ قال الشامي: أي من جہۃ القیمۃ، فمن لہ مائۃ درہم وخمسۃ مثاقیل قیمتہا مائۃ علیہ زکاتہا، خلافا لہما۔ (الدر المختار مع الرد المحتار، الزکاۃ/ باب زکاۃ المال ۲؍۳۰۳ کراچی، ۳؍۲۳۴ زکریا، البحر الرائق الزکاۃ / باب زکاۃ المال ۲؍۴۰۰ رشیدیہ، تبیین الحقائق، الزکاۃ / باب زکاۃ المال ۲؍۸۰ بیروت، الفتاوٰی التاتارخانیۃ ۳؍۱۵۸ زکریا، الفتاویٰ الہندیۃ ۱؍۱۷۹)
ولو بلغ بأحدہما نصاباً وخمساً، وبالآخر أقل قومہ بالأنفع للفقیر۔ (الدر المختار مع الرد المختار، زکاۃ / باب زکاۃ المال ۳؍۲۲۹ زکریا)
أخرجہ أبوداؤد عن عمرو بن یعلی فذکر الحدیث نحو حدیث الخاتم: قیل لسفیان: کیف تزکیہ؟ قال: تضمہ إلی غیرہ۔ (سنن أبي داؤد ۳؍۱۵۸)
فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:6⃣5⃣
سوال # 14464
محترم
مولانا صاحب میرا سوال یہ ہے کہ [ہمارے بریلوی بھائی ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم کا نام لینے کے بعد انگوٹھا چومتے ہیں] کیا یہ درست ہے یا غلط؟
Published on: Jul 7, 2009 جواب # 14464
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی:
1175=1117/ب
یہ
عمل کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔ اس لیے یہ کوئی شرعی کام یا عبادت کا کام نہیں۔
اسے عبادت سمجھنا اور اس کا التزام کرنا بدعت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا
نام مبارک لینے یا سننے کے بعد درود شریف پڑھنا صحیح احادیث سے ثابت ہے، لہٰذا آپ
کا نام نامی اور اسم گرامی لینے کے بعد صلی اللہ علیہ وسلم کہنا چاہیے، یہ عبادت
اور افضل ترین عبادت ہے اور کارِ ثواب ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سوال # 14464
محترم
مولانا صاحب میرا سوال یہ ہے کہ [ہمارے بریلوی بھائی ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم کا نام لینے کے بعد انگوٹھا چومتے ہیں] کیا یہ درست ہے یا غلط؟
Published on: Jul 7, 2009 جواب # 14464
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی:
1175=1117/ب
یہ
عمل کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔ اس لیے یہ کوئی شرعی کام یا عبادت کا کام نہیں۔
اسے عبادت سمجھنا اور اس کا التزام کرنا بدعت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا
نام مبارک لینے یا سننے کے بعد درود شریف پڑھنا صحیح احادیث سے ثابت ہے، لہٰذا آپ
کا نام نامی اور اسم گرامی لینے کے بعد صلی اللہ علیہ وسلم کہنا چاہیے، یہ عبادت
اور افضل ترین عبادت ہے اور کارِ ثواب ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:7⃣5⃣
سوال # 29582
سوال یہ ہے کہ دیوبند کے ایک عالم کے ایک نسخہ میں پڑھا ہے جس میں لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام آنے پر انگوٹھی چومنے کی جو حدیث ہے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ہے، موضوع ہے، یہ عمل بدعت ہے۔ میں نے سناہے کہ علامہ شامی نے در مختار میں اس عمل کو مستحب لکھا ہے۔ جو عمل مستحب ہو وہ بدعت کیسے ہوسکتاہے ۔ براہ کرم، اس مسئلہ کو ذرا تفصیل سے سمجھائیں، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کاعمل اور درمختار میں جو لکھا ہے۔
Published on: Feb 9, 2011 جواب # 29582
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی(د): 355=107-3/1432
دیوبند کے عالم نے اپنے نسخے میں انگوٹھا چومنے کے بارے میں مروی روایت سے متعلق کیا بات لکھی ہے اسے کتاب کا نام اور صفحہ نمبر کے ساتھ لکھیں، البتہ ایک قدیم بڑے محدث علامہ طاہر پٹنی نے اس حدیث کو ”تذکرة الموضوعات، ص:۱/۳۶“ کے ضمن میں لکھا ہے، نیز حدیث کی عدم صحت کے ساتھ ساتھ صحابہٴ کرام اور تابعین عظام کے زمانے میں اس پر عمل کا ثبوت نہیں ملتا؛ اس لیے انگوٹھا نہ چومنے میں ہی احتیاط ہے؛ بلکہ اذان کے دوران، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح سند کے منقول کلمات کو دہرانا چاہیے، پھر اگر مذکورہ بالا حدیث کی صحت اور تعامل سے قطع نظر بھی کرلیا جائے تب بھی یہاں دو باتیں قابل لحاظ ہیں: (۱) ان روایات میں یہ عمل بہ طور علاج وحفاظت رمد (آشوبِ چشم) کے لیے آیا ہے، چناں چہ المقاصد الحسنہ للسخاوی میں کئی ایک روایت میں ”لم تَرمد عینہ“ مذکور ہے (یعنی جو اس طرح کرے گا، اسے آشوبِ چشم کی بیماری لاحق نہ ہوگی) اورعلاج ایک امر دنیوی ہے، اس میں کوئی فضیلت وغیرہ نہیں اور اب لوگ اس کو ثواب وتعظیم نبوی جو کہ امر دینی ہے، سمجھ کر کرتے ہیں اور تداوی کو عبادت سمجھنا بدعت ہے؛ اس لیے اس اعتقاد سے یہ بدعت ہوگا۔ (۲) انگوٹھا چومنے والے اس کا التزام عملی واعتقادی کرتے ہیں اور تارک کو مطعون سمجھتے ہیں؛ اس لیے اگر ان روایتوں کو فضیلت پر بھی محمول کرلیں تب بھی یہ عمل ثانی الذکر وجہ کی بنا پر بدعت ہوگا، رہی علامہ شامی کی بات تو انھوں نے اسے ”سنت“ نہیں کہا؛ بلکہ مستحب لکھا ہے اور یہ اس صورت پر محمول ہے جب التزامِ عملی یا اعتقادی نہ ہو، اور یہ بھی احتمال ہے کہ انھوں نے بہ طور علاج ایسا کرنے کو پسند فرمایا۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda جمع شدہ فتاوی
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سوال # 29582
سوال یہ ہے کہ دیوبند کے ایک عالم کے ایک نسخہ میں پڑھا ہے جس میں لکھا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام آنے پر انگوٹھی چومنے کی جو حدیث ہے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ہے، موضوع ہے، یہ عمل بدعت ہے۔ میں نے سناہے کہ علامہ شامی نے در مختار میں اس عمل کو مستحب لکھا ہے۔ جو عمل مستحب ہو وہ بدعت کیسے ہوسکتاہے ۔ براہ کرم، اس مسئلہ کو ذرا تفصیل سے سمجھائیں، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کاعمل اور درمختار میں جو لکھا ہے۔
Published on: Feb 9, 2011 جواب # 29582
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی(د): 355=107-3/1432
دیوبند کے عالم نے اپنے نسخے میں انگوٹھا چومنے کے بارے میں مروی روایت سے متعلق کیا بات لکھی ہے اسے کتاب کا نام اور صفحہ نمبر کے ساتھ لکھیں، البتہ ایک قدیم بڑے محدث علامہ طاہر پٹنی نے اس حدیث کو ”تذکرة الموضوعات، ص:۱/۳۶“ کے ضمن میں لکھا ہے، نیز حدیث کی عدم صحت کے ساتھ ساتھ صحابہٴ کرام اور تابعین عظام کے زمانے میں اس پر عمل کا ثبوت نہیں ملتا؛ اس لیے انگوٹھا نہ چومنے میں ہی احتیاط ہے؛ بلکہ اذان کے دوران، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح سند کے منقول کلمات کو دہرانا چاہیے، پھر اگر مذکورہ بالا حدیث کی صحت اور تعامل سے قطع نظر بھی کرلیا جائے تب بھی یہاں دو باتیں قابل لحاظ ہیں: (۱) ان روایات میں یہ عمل بہ طور علاج وحفاظت رمد (آشوبِ چشم) کے لیے آیا ہے، چناں چہ المقاصد الحسنہ للسخاوی میں کئی ایک روایت میں ”لم تَرمد عینہ“ مذکور ہے (یعنی جو اس طرح کرے گا، اسے آشوبِ چشم کی بیماری لاحق نہ ہوگی) اورعلاج ایک امر دنیوی ہے، اس میں کوئی فضیلت وغیرہ نہیں اور اب لوگ اس کو ثواب وتعظیم نبوی جو کہ امر دینی ہے، سمجھ کر کرتے ہیں اور تداوی کو عبادت سمجھنا بدعت ہے؛ اس لیے اس اعتقاد سے یہ بدعت ہوگا۔ (۲) انگوٹھا چومنے والے اس کا التزام عملی واعتقادی کرتے ہیں اور تارک کو مطعون سمجھتے ہیں؛ اس لیے اگر ان روایتوں کو فضیلت پر بھی محمول کرلیں تب بھی یہ عمل ثانی الذکر وجہ کی بنا پر بدعت ہوگا، رہی علامہ شامی کی بات تو انھوں نے اسے ”سنت“ نہیں کہا؛ بلکہ مستحب لکھا ہے اور یہ اس صورت پر محمول ہے جب التزامِ عملی یا اعتقادی نہ ہو، اور یہ بھی احتمال ہے کہ انھوں نے بہ طور علاج ایسا کرنے کو پسند فرمایا۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda جمع شدہ فتاوی
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:8⃣5⃣
سوال # 38060
۱-مثلا حاضر و ناظر میں بریلوی یہ مانتے ہیں اور ور بتاتے ہیں کہ یہ دنیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح دیکھتی ہے جیسے پوری دنیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی میں ہو تو وہ لوگ اس حدیث کو بول کر کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوری دنیا کے انسانوں کو دیکھتے ہیں اور سنتے ہیں تو ایسی کوئی حدیث ہے تو بتائیں۔
۲- انگوٹھا چوم کر آنکھوں پہ اسلئے لگاتے ہیں کیوں کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ایسا عمل کیا تھا جب حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام آتا تھا ۔ براہ کرم،بتائیں کہ اس کی کیا حقیقت ہے؟
Published on: Mar 29, 2012 جواب # 38060
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی: 612-531/B=5/1433
(۱) ایسی کوئی حدیث ہماری نظر سے نہیں گذری، جو لوگ ایسی بات کہتے ہیں، ان سے ہی حدیث کا حوالہ طلب کریں۔
(۲) حضرت ابوبکر کا یہ عمل کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سن کر انگوٹھے چومنے کا ذکر کسی حدیث سے ثابت نہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سوال # 38060
۱-مثلا حاضر و ناظر میں بریلوی یہ مانتے ہیں اور ور بتاتے ہیں کہ یہ دنیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح دیکھتی ہے جیسے پوری دنیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی میں ہو تو وہ لوگ اس حدیث کو بول کر کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوری دنیا کے انسانوں کو دیکھتے ہیں اور سنتے ہیں تو ایسی کوئی حدیث ہے تو بتائیں۔
۲- انگوٹھا چوم کر آنکھوں پہ اسلئے لگاتے ہیں کیوں کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ایسا عمل کیا تھا جب حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام آتا تھا ۔ براہ کرم،بتائیں کہ اس کی کیا حقیقت ہے؟
Published on: Mar 29, 2012 جواب # 38060
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی: 612-531/B=5/1433
(۱) ایسی کوئی حدیث ہماری نظر سے نہیں گذری، جو لوگ ایسی بات کہتے ہیں، ان سے ہی حدیث کا حوالہ طلب کریں۔
(۲) حضرت ابوبکر کا یہ عمل کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سن کر انگوٹھے چومنے کا ذکر کسی حدیث سے ثابت نہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:9⃣5⃣
Pakistanسوال # 49707
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام مبارک پر انگوٹھے چومنا قرآن وحدیث سے ثابت ہے؟
Published on: Dec 5, 2013 جواب # 49707
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 113-105/B=1/1435-U
یہ بدعتیوں کا ایجاد کردہ عمل ہے، قرآن وحدیث سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا ہے۔ اور نہ کسی صحابی سے یہ عمل منقول ہے، اس سے بچنا ہی ضروری ہے۔
__________________
جواب صحیح ہے اور اس سلسلہ میں اہل بدعت جو روایتیں نقل کرتے ہیں وہ موضوع یا حد درجہ ضعیف ہیں۔ (ن)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
http://t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
Pakistanسوال # 49707
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام مبارک پر انگوٹھے چومنا قرآن وحدیث سے ثابت ہے؟
Published on: Dec 5, 2013 جواب # 49707
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 113-105/B=1/1435-U
یہ بدعتیوں کا ایجاد کردہ عمل ہے، قرآن وحدیث سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا ہے۔ اور نہ کسی صحابی سے یہ عمل منقول ہے، اس سے بچنا ہی ضروری ہے۔
__________________
جواب صحیح ہے اور اس سلسلہ میں اہل بدعت جو روایتیں نقل کرتے ہیں وہ موضوع یا حد درجہ ضعیف ہیں۔ (ن)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
http://t.me/almasail
http://t.me/group_almasail