جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
1.42K subscribers
117 photos
36 files
685 links
"جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند" میں روزانہ ایک دو مسئلہ مدلل ومزین انداز میں بطورِ استفادہ آپ کو ملے گا،

آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda

https://www.hanafimasail.com/?m=1
Download Telegram
جواب نمبر:6⃣3⃣

﴿ عید الفطر کی رات کے فضائل﴾

عید الفطر کی شب جسے چاند رات بھی کہا جاتا ہےعُموماً لوگ اِسے عید کی تیاریوں اور خوش گپیوں میں ضائع کردیتے ہیں حالآنکہ یہ ایک عظیم المرتبت رات ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے بندوں کو اُن کی رمضان بھر کی محنتوں کا صلہ دیا جارہا ہوتا ہے۔اِس شب میں عبادت کرنا اور اللہ کے سامنے کھڑا ہونا احادیثِ طیّبہ کی روشنی میں بڑا فضیلت والا عمل ہے ، اِس کی برکت سے قیامت کی ہولناکی سے حفاظت ہوتی ہے۔ اِس سلسلے کی احادیث ملاحظہ فرمائیں:

(1)عید الفطر کی رات انعام والی رات ہے :
رمضان المُبارک کے اختتام پر آنے والی شب یعنی عید الفطر کی رات ایک بہت ہی بابرکت اور اہم ترین رات ہے،جسے حدیث میں”لیلۃ الجائزہ“کہا گیا ہےیعنی انعام ملنے والی رات۔کیونکہ اِس شب میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے اپنے بندوں کو پورے رمضان کی مشقتوں اور قربانیوں کا بہترین صلہ ملتا ہے۔(شعب الایمان : 3421)
(2)اِس رات عبادت کرنے والے کا دل قیامت کے دن مردہ نہیں ہوگا :
عید الفطر کی شب کی ایک بڑی فضیلت یہ ذکر کی گئی ہے کہ اس میں عبادت کرنے والے کا دل قیامت کے دن مُردہ اور خوفزدہ نہیں ہوگا۔
حضرت ابوامامہ ﷜فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺنے اِرشاد فرمایا :
”مَنْ قَامَ لَيْلَتَيِ الْعِيدَيْنِ مُحْتَسِبًا لِلَّهِ لَمْ يَمُتْ قَلْبُهُ يَوْمَ تَمُوتُ الْقُلُوبُ“ جس عیدین (عید الفطر اور عید الاضحیٰ)کی دونوں راتوں میں اللہ تعالیٰ سے اجر و ثواب کی امید رکھتے ہوئے عبادت میں قیام کیا اُس کا دل اُس دن مردہ نہیں ہوگا جس دن سب کے دل مُردہ ہوجائیں گے۔(ابن ماجہ:1782)(طبرانی اوسط:159)
(3)اس میں عبادت کرنے والے کیلئے جنت کا واجب ہونا:
حضرت معاذ بن جبل سے مَروی ہے کہ نبی کریمﷺاِرشاد فرماتے ہیں :
”مَنْ أَحْيَا اللَّيَالِيَ الْخَمْسَ وَجَبتْ لَهُ الْجنَّة لَيْلَةَ التَّرويَة وَلَيْلَةَ عَرَفَة وَلَيْلَةَ النَّحْر وَلَيْلَةَ الْفِطْرِ وَلَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَان“
جو پانچ راتوں میں عبادت کا اہتمام کرےاُس کیلئے جنّت واجب ہوجاتی ہے : لیلۃ الترویۃ یعنی 8 ذی الحجہ کی رات، لیلۃ العرفہ یعنی9ذی الحجہ کی رات ، لیلۃ النّحر یعنی10ذی الحجہ کی رات ، لیلۃ الفطر یعنی عید الفطر کی شب اورلیلۃ النّصف من شعبان یعنی شعبان کی پندرہویں شب۔(الترغیب و الترھیب: 1656)
(4)عید الفطر کی شب میں کی جانے والی دعاء رد نہیں ہوتی:
حضرت عبد اللہ بن عمر﷠سے موقوفاً مروی ہے :
”خَمْسُ لَيَالٍ لَا تُرَدُّ فِيهِنَّ الدُّعَاءَ: لَيْلَةُ الْجُمُعَةِ، وَأَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ رَجَبٍ، وَلَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، وَلَيْلَتَيِ الْعِيدَيْنِ“
پانچ راتیں ایسی ہیں جن میں دعاء کو ردّ نہیں کیا جاتا :
جمعہ کی شب ، رجب کی پہلی شب ، شعبان کی پندرہویں شب ، اور دونوں عیدوں(یعنی عید الفطر اور عید الاضحیٰ)کی راتیں۔(مصنف عبد الرزاق :7927)
****

واللہ اعلم


محمد امیر۔۔۔۔


@jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:7⃣3⃣

﴿ عید الفطرکے دن کے فضائل﴾

عید الفطر صرف ایک خوشی اور مسرّت ہی کا دن نہیں بلکہ یہ دن اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کو لوٹنے اور مغفرت کے خزانوں کو سمیٹنے کا دن ہے ، اِس لئے اِس دن کی حیثیت صرف ایک رسمی خوشی اور رَواجی مسرّت کے دن کی نہیں بلکہ یہ ایک مذہبی تہوار اور دینی و ملّی شعار کا دن ہے، اِسی لئے مسلمان اِس دن کی اِبتداء ہی اللہ کے حضور حاضر ہوکر دو رکعت کی ادائیگی کے ذریعہ کرتے ہیں۔
ذیل میں اِس کے فضائل کو ملاحظہ فرمائیں اور اِس دن کی قدر کرنے کی کوشش کریں :
(1)عید الفطر کا دن انعام ملنے والا دن ہے :
جس طرح عید الفطر کی رات کو ”لیلۃ الجائزہ“ کہا جاتا ہے اِسی طرح عید الفطر کے دن کوحدیث میں”یوم الجوائز“ ”انعامات ملنے والا دن“ کہا جاتا ہے،کیونکہ اس دن اللہ تعالیٰ پورے مہینے کا انعام دے رہے ہوتے ہیں۔
حضرت ابن عباس سے موقوفاً مَروی ہے :
”يَوْمُ الْفِطْرِ يَوْمُ الْجَوَائِزِ“
عید کا دن ”یوم الجَوَائِز“یعنی انعام ملنے والا دن ہے۔(کنز العمال :24540)
(2)عید الفطر مسلمانوں کا مذہبی طور پر خوشی کا دن ہے :
نبی کریمﷺکا اِرشاد ہے :
”إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا وَهَذَا عِيدُنَا“
بیشک ہر قوم کیلئے عید کا دن ہوتا ہے اور یہ ہمارا عید کا دن ہے۔(بخاری:952)

(3)اللہ تعالیٰ کی رضاء و مغفرت اور دعاء کی قبولیت کا دن :
عید الفطر کا دن اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضاء و خوشنودی ،مغفرت و بخشش اور بندوں کی دُعاؤں کی قبولیت کا دن ہے۔احادیثِ طیّبہ سے معلوم ہوتا ہےکہ عید الفطر کے دن اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بےحساب نوازتے اور اُن پر عنایات کی بارش کرتے ہیں، چنانچہ درج ذیل ایک طَویل حدیث میں اِس کی تفصیل منقول ہے، ملاحظہ فرمائیں:
نبی کریمﷺکا اِرشاد ہے:جب عید کی صبح ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کو تمام شہروں میں بھیجتے ہیں،وہ زمین میں اُتر کر تمام گلیوں،راستوں کے سروں پرکھڑے ہوجاتے ہیں اور ایسی آواز سے جس کو جنات اور انسان کے سوا ہر مخلوق سنتی ہے، پکارتے ہیں کہ اے محمد (ﷺ)کی امّت !اس کریم رب کی (درگاہ)کی طرف چلو جو بہت زیادہ عطاء فرمانے والا ہے اور بڑے بڑے قصور کو معاف فرمانےوالا ہے ، پھر جب لوگ عید گاہ کی طرف نکلتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے دریافت فرماتے ہیں :
”مَا جَزَاءُ الْأَجِيْرِ إِذَا عَمِلَ عَمَلَهُ؟“
کیا بدلہ ہے اُس مزدور کا جو اپنا کام پورا کرچکا ہو ،وہ عرض کرتے ہیں : ہمارے معبود اور ہمارے مالک! اُس کا بدلہ یہی ہےکہ اُس کی مزدوری پوری پوری دیدی جائے، تو اللہ تعالیٰ اِرشاد فرماتے ہیں:
”فَإِنِّي أُشْهِدُكُمْ يَا مَلَائِكَتِي! أَنِّي قَدْ جَعَلْتُ ثَوَابَهُمْ مِنْ
صِيَامِهِمْ شَهْرَ رَمَضَانَ وَقِيَامَهُ رِضَائِي وَمَغْفِرَتِي“
اے فرشتو! میں تمہیں گواہ بناتا ہوں میں نے اُن کو رمضان کے روزوں اورتراویح کے بدلہ میں اپنی رضا اور مغفرت عطاء کردی ۔
پھر بندوں سے خطاب کرتے ہوئے اِرشاد ہوتا ہے:
”يَا عِبَادِي سَلُونِي فَوَعِزَّتِي وَجَلَالِي لَا تَسْأَلُونِي الْيَوْمَ شَيْئًا فِي جَمْعِكُمْ لِآخِرَتِكُمْ إِلَّا أَعْطَيْتُكُمْ، وَلَا لِدُنْيَاكُمْ إِلَّا نَظَرْتُ لَكُمْ فَوَعِزَّتِي لَأَسْتُرَنَّ عَلَيْكُمْ عَثَرَاتِكُمْ مَا رَاقَبْتُمُونِي،فوَعِزَّتِي لَا أَخْزِيكُمْ وَلَا أَفْضَحُكُمْ بَيْنَ يَدَيْ أَصْحَابِ الْحُدُودِ، انْصَرِفُوا مَغْفُورًا لَكُمْ قَدْ أَرْضَيْتُمُونِي وَرَضِيتُ عَنْكُمْ“
اے میرے بندو! مجھ سے مانگو ، میری عزّت کی قسم ، میرے جلال کی قسم !آج کے دن اپنے اس اجتماع میں اپنی آخرت کے بارے میں جو سوال کروگےوہ میں عطاء کروں گااور جو اپنی دنیا کے بارے میں سوال کروگے اُس میں تمہاری مصلحت پر نظر کروں گا ،میری عزت کی قسم ! جب تک تم میرا خیال رکھوگےمیں تمہاری لغزشوں پر ستاری کرتا رہوں گا (اور ان کو چھپاتا رہوں گا )میری عزّت کی قسم! اور میرے جلال کی قسم!میں تمہیں مجرموں (اور کافروں)کے سامنے رسوا اور ذلیل نہ کروں گا ، بس اب بخشے بخشائے اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ، تم نے مجھے راضی کردیا اور میں تم سے راضی ہوگیا ۔
پس فرشتے اس اجرو ثواب کو دیکھ کر جو امّت کو افطار کے دن( رمضان کے ختم ہونے کے دن )ملتا ہے ،خوشیاں مناتے ہیں اورخوش ہو جاتے ہیں۔
(شعب الایمان : 3421)
ـــــــــــ٭٭٭ـــــــــــــ


واللہ اعلم


محمد امیر۔۔۔

@jamashuda
t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:8⃣3⃣

عید الفطر یا عید الاضحی کے دن زیارتِ قبور
مسئلہ(۵): عید الفطر اور عید الاضحی کا دن مسرت اور خوشی کا دن ہوتا ہے(۱)، بسا اوقات مسرت میں لگ کر آخرت سے غفلت ہوجاتی ہے، اور زیارتِ قبور سے آخرت کی یاد آجاتی ہے، یا کسی کو اِس خوشی کے موقع پر اپنے مرحوم والدین کی یاد آجاتی ہے، اس لیے اگر کوئی شخص عید الفطر اور عید الاضحی کے دن زیارتِ قبور کے لیے جائے، تو یہ جائز اور درست ہے(۲)، بشرطیکہ اِس عمل کو لازم یا مسنون نہ سمجھا جائے، اور نہ اِس کا ایسا التزام ہو، جس سے دوسروں کو شبہ ہو کہ چیز لازم اور ضروری ہے، نیز اگر کوئی شخص اِس دن زیارتِ قبور کے لیے نہ جائے، تو اُس پر طعن یا اس کی ملامت بھی نہ کی جائے، ورنہ یہ عمل بدعت ہوگا۔(۳)
------------------------------
الحجۃ علی ما قلنا :
=(۱) ما في ’’ صحیح البخاري ‘‘ : عن عائشۃ رضي اللہ عنہا قالت : دخل أبو بکر وعندي جاریتان من جواري الأنصار تغنیان ۔۔۔۔۔ وذلک في یوم عید فقال رسول اللہ ﷺ : ’’ یا أبا بکر ! إن لکل قوم عیدًا ، وہذا عیدنا ‘‘ ۔ (۱/۱۳۰، کتاب العیدین ، باب سنۃ العیدین لأہل الإسلام ، صحیح مسلم :۱/۲۹۱، کتاب العیدین)
ما في ’’ عمدۃ القاري ‘‘ : ان یوم العید یوم انبساط وانشراح یغتفر فیہ ما لا یغتفر في غیرہ ۔
(۶/۳۸۷ ، کتاب العیدین ، باب الحِراب والدَّرق یوم العید)
(۲) ما في ’’ مشکوۃ المصابیح ‘‘ : عن ابن مسعود أن رسول اللہ ﷺ قال : ’’ کنتُ نہیتُکم عن زیارۃ القبور ، فزوروہا ، فإنہا تُزہد في الدنیا وتذکر الآخرۃ ‘‘ ۔ رواہ ابن ماجۃ ۔
(ص/۱۵۴، کتاب الجنائز ، باب زیارۃ القبور ، الفصل الثالث ، الرقم :۱۷۶۹)
(۳) ما في ’’ مجموعۃ رسائل اللکنوي ‘‘ : فکم من مباح یصیر بالالتزام من غیر لزوم ، والتخصیص من غیر مخصص مکروہا ۔
(۳/۴۹۰ ، سباحۃ الفکر في الجہر بالذکر ، الباب الأول ، الثاني والأربعون)
ما في ’’ مرقاۃ المفاتیح ‘‘ : من أصر علی أمر مندوب وجعلہ عزمًا ولم یعمل بالرخصۃ فقد أصاب منہ الشیطان من الاضلال فکیف من أصر علی بدعۃ أو منکر ۔
(۳/۲۶، باب الدعاء في التشہد ، الفصل الأول ، تحت الرقم :۹۴۶)
(فتاویٰ محمودیہ:۱۲/۵۵۶، میرٹھ، فتاویٰ بنوریہ، رقم الفتویٰ: ۱۶۲۵۶)

واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔
@jamashuda
t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:9⃣3⃣

عید الفطر کی نماز دیر سے اور عید الاضحی کی جلدی پڑھنے کا ثبوت

سوال
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: عید الفطر کی نماز دیر سے اور عید الاضحی کی نماز جلدی سے پڑھنے کا ثبوت ہے یا نہیں؟

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:احادیثِ شریفہ اور حضراتِ فقہاء کی تصریحات میں عید الفطر میں قدرے تاخیر کو مستحب کہا ہے؛ تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ بآسانی جماعت میں شرکت کرسکیں، اس کے بالمقابل عیدالاضحی کی نماز جلدی پڑھنا افضل ہے؛ تاکہ قربانی کا عمل جلد از جلد انجام دیا جاسکے۔
عن یزید بن ضمیر الرجني قال خرج عبد اللّٰہ بن بشر صاحب رسول اللّٰہ ا مع الناس في یوم عید فطر أو أضحی فأنکر إبطاء الإمام فقال إنا کنا قد فرغنا ساعتنا ہٰذہ وذٰلک حین التسبیح۔ (سنن أبي داؤد ۱؍۱۶۱، سنن ابن ماجۃ ۹۳)
أخرج البیہقي في السنن الکبریٰ وعبد الرزاق في مصنفہ: عن أبي الحویرث أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کتب إلی عمرو بن حزم وہو بنجران: عجّل الأضحی وأخّر الفطر، وذکّر الناس۔ (سنن الکبریٰ للبیہقي، صلاۃ العیدین / باب الغدو إلی العیدین ۵؍۵۹ رقم: ۶۲۴۲، المصنف لعبد الرزاق / باب خروج من مضی والخطبۃ وفي یدہ عصا ۳؍۲۸۶ رقم: ۵۶۵۱)
عن محمد بن علي وعامر وعطاء قالوا : لا تخرج یوم العید حتی تطلع الشمس۔ (المصنف لابن أبي شیبۃ ۴؍۱۹۲ رقم : ۵۶۶۲)
والسنۃ في صلاۃ الفطر التأخیر إلی ارتفاع الشمس، والسنۃ في یوم النحر التعجیل في أداء الصلاۃ لیشتغل الناس بأمور القرابین، ولکن تعجیلاً لا یکون سبباً لحرمان المسلمین۔ (الفتاویٰ التاتارخانیۃ / صلاۃ العیدین ۲؍۶۰۲ رقم: ۳۴۱۱ زکریا)
یستحب تعجیل صلاۃ الضحی وفي العید یؤخر الخروج قلیلاً۔ (البحر الرائق ۱؍۱۶۰) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۱۸؍۴؍۱۴۲۳ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اللہ عنہ


محمد امیر۔۔۔
@jamashuda
t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:0⃣4⃣

عید الاضحی کی طرح عید الفطر میں بھی تکبیر تشریق کا حکم ہے؟
سوال(۱۲۰۱):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: تکبیر تشریق کو جس طرح عیدالاضحی کی نماز کے بعد پڑھنے کا حکم ہے، کیا اسی طرح عید الفطر کی نماز کے بعد بھی تکبیر تشریق پڑھی جائے گی؟ اگر پڑھنے کا حکم ہے تو کیا اس کو آہستہ پڑھا جائے یا زور سے پڑھا جائے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: عیدالفطر میں بھی تکبیر کی کثرت کا حکم ہے؛ لیکن اس کو آہستہ پڑھا جائے گا۔
قال اللّٰہ تبارک وتعالیٰ: {وَاذْکُرْ رَبَّکَ فِیْ نَفْسِکَ تَضَرُّعًا وَخِیْفَۃً وَدُوْنَ الْجَہْرِ مِنَ الْقَوْلِ} [الاعراف: ۲۰۵]
أخرج الدار قطني عن عبد اللّٰہ بن عمر: أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کان یکبر یوم الفطر من حین یخرج من بیتہ حتی یأتي المصلی۔ (سنن الدار قطني / کتاب العیدین ۲؍۳۴ رقم: ۱۶۹۸)
أخرج ابن أبي شیبۃ عن شعبۃ قال: کنت أقود ابن عباس یوم العید، فسمع الناس یکبرون، فقال: ما شأن الناس؟ قلت: یکبرون، قال: یکبرون؟ قال: یکبر الإمام؟ قلت: لا، قال: أمجانین الناس؟ (مصنف بن أبي شیبۃ / الصلاۃ، باب في التکبیر إذا خرج إلی العید ۴؍۱۹۴ رقم: ۵۶۷۶)
المراد من نفي التکبیر التکبیر بصفۃ الجہر ولا خلاف في جوازہ بصفۃ الإخفاء فأفاد أن الخلاف بین الإمام وصاحبہ في الجہر والإخفاء لا في أصل التکبیر، وقد ذکر الشیخ قاسم في تصحیحہ أن المعتمد قول الإمام۔ (شامی زکریا ۳؍۵۱)
ثم یتوجہ إلی المصلی غیر مکبر، أي لا یکبر جہراً عند أبي حنیفۃ في طریق المصلی، وقالا: یکبر کما في الأضحی، وفي الزاد: والصحیح قول أبي حنیفۃ۔ وفي النصاب: قال أکثر المشائخ: یکبر في الطریق في العیدین جمیعاً خفیۃ ولا یجہر بہا، وہو المختار وبہ نأخذ۔ (الفتاویٰ التاتارخانیۃ / باب من یجب علیہ الخروج ۲؍۶۱۷ رقم: ۳۴۳۲ زکریا) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۲۴؍۲؍۱۴۲۴ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اللہ عنہ


محمد امیر۔۔۔

@jamashuda
t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:1⃣4⃣

786 بسم اللہ کے عدد ہیں یا ہری کرشن کے؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: زید اور بکر دو اختلافی شخص ہیں، زید کہتا ہے کہ ۷۸۶ لکھنا جائز نہیں ہے، چوںکہ ہری کرشن کا نمبر ہے، اور بکر کہتا ہے کہ جائز ہے، چوںکہ بسم اللہ الرحمن الرحیم کا نمبر ہے، تو آیا صورتِ حال میں ۷۸۶ لکھا جائے گا یا نہیں؟ جواز اور عدم جواز سے نوازیں۔ مزید ۷۸۶ اگر ہری کرشن کا نمبر ہے تو بسم اللہ الرحمن الرحیم کا نمبر کیوں ہوا؟ اگر دونوں کے یکساں نمبر ہونے میں کوئی راز ومصلحت پوشیدہ ہے تو اِس کی بھی وضاحت فرمائیں۔

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: بسم اللہ کی جگہ بہتر تو یہی ہے کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم یا باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ جیسے الفاظ لکھے جائیں؛ لیکن اگر بے حرمتی سے بچانے کے مقصد سے بسم اللہ کے عدد ۷۸۶ لکھ دئیے جائیں تو وہ بھی ممنوع نہیں ہے۔ (مکتوباتِ نبوی ۲۴) اور ہری کرشن کے عدد ۷۸۵ ہوتے ہیں، ۷۸۶ نہیں۔

فقط واللہ تعالیٰ اعلم

مستفاد: کتاب النوازل۔

محمد امیر۔۔۔
@jamashuda
t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:2⃣4⃣

786 کا کسی چیز کا عدد ہونا بسم اللہ کے عدد ہونے کے منافی نہیں؟

سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: بسم اللہ الرحمن الرحیم کو ہم لوگ ۷۸۶ لکھتے ہیں، جب کہ بعض حضرات کا کہنا ہے کہ بسم اللہ میں ۷۸۶ کا عدد نہیں ہے، برائے مہربانی وضاحت فرمائیں؟

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: ۷۸۶ بسم اللہ کا عدد ہے، اگرچہ یہ عدد دنیا کی اور بہت سی چیزوں کا عدد بھی بن سکتا ہے؛ لیکن دوسری چیزوں کا عدد ہونا بسم اللہ کے عدد ہونے کے منافی نہیں ہے؛ تاہم یہ عدد بسم اللہ کے قائم مقام نہیں ہے؛ بلکہ محض بسم اللہ کے اِشارے کی حیثیت رکھتا ہے؛ لہٰذا اِس کو لکھنے سے بسم اللہ کی فضیلت حاصل نہیں ہوسکتی۔ (فتاویٰ محمودیہ ۳؍۳۴۰ ڈابھیل، فتاویٰ نظامیہ ۱؍۳۹۶)

فقط واللہ تعالیٰ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔


@jamashuda
t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:3⃣4⃣
India
Question: 2857

786 کی کیا حقیقت ہے؟ کیا اسے بسم اللہ کی لکھا جاسکتا ہے؟
Feb 28,2008
Answer: 2857

فتوی: 93/ ل= 94/ ل

786 نمبر آیت کریمہ بسم اللہ پر دال ہے، اور آیت کریمہ کا واجب الاحترام والتعظیم ہونا اور اس کو موقع اہانت و ذلت سے بچانا شرعاً واجب ہوتا ہے اورخط وغیرہ عام تحریرات عموماً ہرجگہ پڑی رہتی ہیں اگر آیت کریمہ لکھی جائے تو اس کا موقع ذلت واہانت بلکہ مواقع نجاست تک میں پڑجانا ظاہر ہے اس لیے اگر کوئی شخص اس آیت کریمہ کو موقع ذلت واہانت میں پڑنے سے بچانے کی نیت سے بجائے آیت کریمہ کے ۷۸۶ لکھ دے تو الأمور بمقاصدھا کے مطابق بلاشبہ جائز رہے گا۔ (نظام الفتاویٰ: ج۱ ص۳۹۵)

واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند

==================
India
Question: 24016
1.براہ کرم، 786 کے معنی بتائیں۔
Jul 25,2010
Answer: 24016
فتوی(د): 1122=858-7/1431

ابجد کے قاعدہ سے حروف کے جو عدد ہوتے ہیں، بسم اللہ الرحمن الرحیم کا عدد نکالا گیا تو ۷۸۶ نکلا۔ لوگ بسم اللہ الخ کی جگہ ۷۸۶ لکھ دیتے ہیں لیکن یہ بسم اللہ کے لکھنے یا پڑھنے کے قائم مقام نہیں ہوسکتا؛ لہٰذا کسی کام کے کرنے کے وقت بسم اللہ الرحمن الرحیم زبان سے پڑھنا اور قلم سے لکھنا چاہیے۔

واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
=================
Pakistan
Question: 3665

کچھ لوگ بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بجائے 786 لکھتے ہیں، کیا یہ درست ہے؟ اگر درست ہے تو براہ کرم، قرآن وحدیث کے حوالے سے اس کی وضاحت کریں۔
Apr 27,2008
Answer: 3665

فتوی: 562/ ب= 451/ ب

مسنون طریقہ یہ ہے کہ پوری بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھی جائے، اسی میں اجر و ثواب اور خیر و برکت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی طریقہ رہا ہے، جو لوگ بسم اللہ کی جگہ اس کا نقش 786 لکھتے ہیں وہ محض قرآنی آیت کو بے ادبی سے بچانے کے لیے لکھتے ہیں ان کا یہ عمل بھی درست ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند

محمد امیر۔۔۔

@jamashuda
t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:4⃣4⃣


786 کی حقیقت فتاویٰ کی روشنی میں


چند دنوں سے واٹسپ اور فیسبک کی دنیاء پر بسم اللہ الرحمن الرحیم کے عدد 786 کو لیکر کافی پوشٹیں موصول ہورہی ہیں
کہ 786کا استعمال حرام ہے نا جائز ہے اور اسکی مختلف دلیلیں بھی گشت کررہی ہے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اب آپ ناظرین سے درخوست کیجاتی ہیکہ بسم اللہ کے
مشہور و معروف عدد786 کے بارے میں چند فتاوی ملاحظہ کیجئے اور حقیقت سے واقف ہوئیے۔

فقیہ الامت حضرت مولانا مفتی محمود صاحب گنگوہی رحمہ اللہ ایک سوال کے جواب میں یوں رقمطراز ہیکہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم کا ثواب 786لکھنے سے نہیں ملیگا،
یہ بسم اللہ کا عدد ہے جن سے اشارہ ہوسکتاہے۔

فتاوی محمودیہ340/3
کتاب العلم

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
حضرت مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی شھید رحمہ اللہ ایک سوال کے جواب میں یوں رقم طراز ہیکہ
786بسم اللہ شریف کے عدد ہے.
بزرگوں سے اسکے لکھنے کا معمول چلا آرہاہے، غالبا اسکو رواج اسلئے دیاہوکہ خطوط عام طور پر بھاڑ کر پھینک دئیے جاتے ہیں -
جس سے بسم اللہ شریف کی بےادبی ہوتی ہے ـ
اس بےادبی سے بچانے کیلئے غالبا بزرگوں نے بسم اللہ شریف کے اعداد لکھنے شروع کئےــــ
اسکو ہندوؤں کی طرف منسوب کرنا تو غلط ہے ـــــ
البتہ اگر بےادبی کا اندیشہ نا ہوتو بسم اللہ شریف ہی کا لکھنا بہتر ہے

آپکے مسائل اور انکا حل348/8

شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی صاحب پاکستانی دامت برکاتھم ایک سوال کے جواب میں یوں رقم طراز ہیکہ

خطوط کی ابتداء میں
بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنا مسنون ہے ..اور یہ خود قرآن کریم سے ثابت ہے کہ اسمیں حضرت سلیمان علیہ السلام کا خط بسم اللہ سے شروع ہوتاہے،

اور یہ بات کسی مستند کتاب میں نظر میں نہیں آئی کہ بسم اللہ کی جگہ 786 عدد کب سے لکھاجانا شروع ہوا،
لیکن اسکی وجہ غالبا یہ ہیکہ بسم اللہ لکھاہوا کاغذ کسی بے حرمتی کی جگہ استعمال ہوگا تو اس لئے بےادبی ہوگی،،،

لہذا اگر کوئی شخص اس خیال سے زبان سے بسم اللہ پڑھ کر یہ عدد لکھ دے تو سنت اداء ہوجائیگی،
لیکن افضل یہی معلوم ہوتاہیکہ بسم اللہ صراحة لکھی جائے...
اسلئیے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا خط بھی کفار کے پاس گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کافر بادشاہوں کو جو خطوط روانہ فرمائے،،،، انمین بھی
بسم اللہ درج تھی،
ظاھر ہیکہ کفار کے پاس بے حرمتی کا احتمال مسلمانون کے مقابلے میں زیادہ تھا،،
مگر اسکی وجہ سے بسم اللہ کو ترک نہیں کیا گیا۔

واللہ اعلم
تقی صاحب کی بات پوری ہوئی


اب آئیے پاکستان کے مفتی اعظم کی بات سناتاہوں
مفسر قرآن و مفتی اعظم حضرت مولانا محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ
صاحب معارف القرآن
تقی صاحب کے جواب کو ملاحظہ کرنیکے بعد یوں رقم طراز ہیکہ
(مذکورہ)جواب صحیح ہے مگر اسکی شرط یہ ہیکہ ظنِ غالب اس بات کا ہو کہ اس خط کی بےادبی نہ کی جائیگی ـــ
جہاں یہ شرط نہ ہو جیسے عموما خطوط میں یہی حال ہے،،،
وہاں بسم اللہ لکھنے سے پرہیز کرنا بہتر ہے
ــــــــــــــ
صرف زبان سے کہنے پر اکتفاء کرے یا
786کو ایک علامت بسم اللہ ہونیکی حیثیت سے لکھ دےــــــــ
مکاتیبِ نبوی اور مکتوبِ سلیمان میں یہ شرط موجود تھی کیونکہ
عام دنیاء میں سلاطین اور بڑوں کے خطوط احتیاط سے محفوظ رکھے جاتے ہیں....
جن خطوط کے متعلق آج بھی یہ گمان غالب ہو انمیں بسم اللہ لکھنا چاہئے ..............فقط
بندہ محمد شفیع
فتاوی عثمانی 144-145/1
ـــــــــــــــــــــــــــــــــ

واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔

@jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:5⃣4⃣

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَهَذَا حَدِيثُهُ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ صِيَامِ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ أَمَّا يَوْمُ الْأَضْحَی فَتَأْکُلُونَ مِنْ لَحْمِ نُسُکِکُمْ وَأَمَّا يَوْمُ الْفِطْرِ فَفِطْرُکُمْ مِنْ صِيَامِکُمْ۔

ترجمہ:
قتیبہ، بن سعید، زہیر بن حرب، سفیان، زہری، حضرت ابوعبید ؓ سے روایت ہے کہ میں حضرت عمر ؓ کے ساتھ عید کی نماز کے لئے گیا۔ پس آپ نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھی اس کے بعد فرمایا رسول ﷺ نے ان دو دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے (یعنی عید الفطر اور عید الاضحی کے دن) عید الاضحی کے دن کی ممانعت تو اس وجہ سے فرمائی کیونکہ اس دن تم قربانی کا گوشت کھاتے ہو (جو اللہ کی طرف سے ایک ضیافت ہے) اور عید الفطر کے دن کی ممانعت اس وجہ سے ہے کہ یہ دن تمہارے روزوں سے افطار کا دن ہے۔

واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔

@jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:6⃣4⃣

شش عید کے روزوں کو بدعت کہنا جہالت اورلاعلمی کی دلیل ہے، یہ روزے احناف کے نزدیک صحیح ومفتی بہ قول کے مطابق مستحب وسنت ہیں، البتہ اگر کوئی شخص یہ روزے عید الفطر کا دن ملاکر رکھتا ہے، یعنی: عید الفطر اور اس کے بعد پانچ دن روزے رکھتا ہے تو یہ مکروہ ہے ؛ کیوں کہ عید الفطر کے دن روزہ رکھنا حرام ہے، اس سلسلہ میں چند دلائل اور حوالجات حسب ذیل ہیں:
الف:صحیح مسلم میں حضرت ابو ایوب انصاری سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے، پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ پوری زندگی روزہ رکھنے کے برابر ہے ، عن أبي أیوب الأنصاري أنہ حدثہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: من صام رمضان ثم أتبعہ ستاً من شوال کان کصیام الدھر، رواہ مسلم (مشکاة المصابیح، کتاب الصوم ، باب صیام التطوع، ص ۱۷۹، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)،البتہ حضرت ثوبان اور حضرت جابربن عبد اللہ کی روایت میں ہے کہ یہ ایک سال روزے کے برابر ہے(رسالہ: تحریر الأقوال فی صوم الست من شوال من مجموعة رسائل العلامة قاسم بن قطلوبغا، ص ۳۹۱ - ۳۹۳، مطبوعہ:دار النوادر، سوریة، لبنان، الکویت)۔
ب:صاحب بدائع علامہ کاسانی نے فرمایا: اتباع مکروہ یہ ہے کہ آدمی عید الفطر کے دن روزہ رکھے اور اس کے بعد پانچ دن روزے رکھے، اور اگر کسی نے عید الفطر کے دن افطار کیا ، پھر اس کے بعد چھ دن روزے رکھا تو یہ مکروہ نہیں؛ بلکہ مستحب وسنت ہے۔
والإتباع المکروہ ھو أن یصوم یوم الفطر ویصوم بعدہ خمسة أیام، فأما إذا أفطر یوم العید ثم صام بعدہ ستة أیام فلیس بمکروہ؛ بل ھو مستحب وسنة (بدائع الصنائع ، کتاب الصوم ۲: ۵۶۲، ط: دار الکتب العلمیة بیروت)۔
ج: صاحب ہدایہ علامہ مرغینانی نے فرمایا: مرغوب وپسندیدہ روزوں میں شوال کے مسلسل چھ روزے بھی ہیں(رسالہ: تحریر الأقوال فی صوم الست من شوال من مجموعة رسائل العلامة قاسم بن قطلوبغا، ص ۳۸۶ )۔
د:فتاوی عالمگیری میں البحر الرائق کے حوالے سے ہے کہ شوال کے چھ روزوں میں کچھ حرج نہیں، اور محیط سرخسی کے حوالے سے ہے: صحیح تر قول یہ ہے کہ شوال کے چھ روزوں میں کچھ حرج نہیں، یعنی: یہ روزے مستحب ہیں؛ کیوں کہ حرج کی نفی قول کراہت کے مقابلہ میں ہے اور ایسی صورت میں حرج نہ ہونے کا مطلب استحباب ہوتا ہے۔
عامة المتأخرین لم یروا بہ - بصوم الستة من شوال- بأساً ھکذا فی البحر الرائق، والأصح أنہ لا بأس بہ کذا فی محیط السرخسي (الفتاوی الھندیة، کتاب الصوم ، الباب الثالث فیما یکرہ للصائم وما لا یکرہ،۱: ۲۰۱، ط: مکتبة زکریا دیوبند)،وکلمة ” لا بأس“ ھنا مستعملة فی المندوب ؛لأنہا لیست مطردة لما ترکہ أولی، بل تستعمل فی المندوب أیضاً إذا کان المحل مما یتوھم فیہ البأس أي: الشدة، خاصة إذا تأید ذلک الأمر بالحدیث النبوي - علی صاحبہ الصلاة والسلام - کذا حققہ الحصکفي وابن عابدین الشامي فی الدر المختار وحاشیتہ رد المحتار (کتاب الطھارة۱: ۲۴۱، کتاب الصلاة، باب العیدین ۳: ۶۵،باب الجنائز في شرح قول الدر: ” ولا بأس برش الماء علیہ “ ۳:۱۴۳ و۶: ۲۵۷ ط مکتبة زکریا دیوبند)، ومثلہا کلمة ” لا جناح “ بل قد استعملت ھذہ في سورة البقرة (رقم الآیہ: ۱۵۸)بمعنی الوجوب کما في رد المحتار لابن عابدین الشامي (۶: ۲۵۷)،وکلمة ” لا حرج“ أیضاً؛لأنہا بمعناھا۔
ھ:علامہ حصکفی نے در مختار میں ابن کمال کے حوالے سے وہی مضمون نقل فرمایا ہے ، جو اوپر بدائع کے حوالے سے ذکر کیا گیا،یعنی: عید الفطر کا دن چھوڑ کر ماہ شوال میں چھ روزے رکھنا مستحب وسنت ہے، اور علامہ شامی نے اپنے حاشیہ میں اسے برقرار رکھا؛ بلکہ متعدد کتابوں کے حوالے سے اسے موٴکد فرمایا اور کراہت کے قول کی تردید فرمائی اور آخر میں علامہ قاسم بن قطلوبغاکے رسالہ(:تحریر الأقوال فی صوم الست من شوال) کا حوالہ دیا جس میں علامہ قاسم بن قطلوبغا نے کراہت کے قول کی تردید فرماکر کتب مذہب سے استحباب وسنیت کا قول موٴکد فرمایا ہے، ذیل میں صرف در مختار کی عبارت پیش کی جاتی ہے:
والإتباع المکروہ ھو أن یصوم الفطر و خمسة بعدہ، فلو أفطر لم یکرہ؛ بل یستحب ویسن، ابن کمال (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما یکرہ فیھا، ۳: ۴۲۲، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔
و: اسی طرح علامہ محمد یوسف بنوری نے بھی سنن ترمذی کی مشہور شرح: معارف السنن (کتاب الصوم، باب ما جاء في صیام ستة من شوال) میں علامہ قاسم بن قطلوبغا کے رسالہ کی روشنی میں اسی قول کو موٴکد فرمایا ہے کہ شوال کے چھ روزے مستحب ہیں اور کراہت کے قول کی تردید فرمائی ہے۔
ز: علامہ ظفر احمد عثمانی نے اعلاء السنن (۹: ۱۷۷، مطبوعہ: إدارة القرآن والعلوم الإسلامیة کراچی)میں حضرت ابی ایوب انصاری کی روایت پر استحباب کا باب قائم فرمایا ہے،یعنی: باب استحباب صیام ستة من شوال الخ معلوم ہوا کہ شوال کے چھ روزے مستحب ہیں۔
ح: بہشتی زیورکامل(۳: ۱۴۲) میں ہے:
عید کے چھ دن نفل روزہ رکھنے کا بھی اور نفلوں سے زیادہ ثواب ہے
۔
درج بالا چند دلائل اور حوالجات سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوگئی کہ شوال کے چھ روزے احناف کے نزدیک بلا شبہ مستحب وسنت ہیں اور ان کی کراہت یا بدعت کا قول صحیح نہیں۔

واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔

@jamashuda
t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:7⃣4⃣


Eid k din galy milny ka bta den۔

عیدین میں گلے ملنے کا شرعی حکم


*اَلْجَواب حَامِدَاوَّمُصَلِّیا*
ہر قوم کے لیے سال میں کوئی نہ کوئی خوشی کا دن ہوتا ہے،جسے وہ اپنے مزاج و مذاق ،اپنے انداز اور اپنے طور طریقوں سے مناتی ہے۔

مسلمانوں کو بھی اللہ تعالی نے ”میٹھی عید “اور ”عید قرباں“کی صورت میں یہ دن عطا فرمایا ہے، کہ اس دن امت کے کلمہ گو مسلمان عید الفطراور عید الاضحی کی نماز کے ذریعے اس دن کی خوشی کا آغاز کرتے ہیں اور گویا کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے سر بسجود ہو کراس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ عید کا دن مسلمانوں کے لیے عیسائیوں ،یہودیوں یا دوسری قوموں کی طرح صرف ایک تہوار ہی نہیں، بلکہ یہ دن مسلمانوں کی عبادت کا دن بھی ہے اور خوشی کا دن بھی، جسے مسلمان اپنے دین کے توحیدی مزاج، اس کی تاریخ وروایات کے مطابق مناتے ہیں۔

لیکن !آج ہمارے معاشرے میں کم قسمتی سے، بوجہ دین سے دوری ، عید کے ایام میں ایسی رسوم شامل ہو گئی ہیں جن کا دین سے دور کا بھی تعلق نہیں اور عمومی طور پر مسلمانوں کا ایک بہت بڑا طبقہ انہیں عید کے تہوار کا حصہ اور دین سمجھ کر انجام دے رہا ہے،ان رسوم میں سے ایک رسم عید کے دن ”مصافحہ ومعانقہ کرنا “ہے۔

آج ہمارے معاشرے میں خاص عید کے موقع پر صر ف عید کی وجہ سے گلے ملنے کی رسم کو بہت سے لوگوں نے اس قدر اہم اور خاص عمل سمجھ لیا ہے کہ اس عمل میں سستی و کوتاہی کسی حال میں گوارا نہیں کرتے ،خواہ ایک ہی گھر کے افراد کیوں نہ ہوں اور ایک ساتھ عید کی نماز کے لیے گئے ہوں،ایک دوسرے کے قریب ہی کھڑے ہو کر نما زادا کی ہو اور خاص اس موقع پر ملاقات نہ ہو رہی ہو،یہاں تک کہ عید کے دن خواہ تمام نمازوں، مسنون اعمال اور گناہوں سے بچنے کی تو فیق نہ ہو، مگر یہ رسم ادا کرنا انتہائی لازم سمجھا جاتا ہے بلکہ خاص اس عمل کی غرض سے ایک دوسرے سے ملنے کی کوشش کی جاتی ہے، اور اگر خاص عید کے دن کسی کے ساتھ یہ رسم پوری نہ ہو سکے تو اگلے روز بھی اس کی جستجو اور کوشش رہتی ہے اوراگر کوئی اس کو ادا نہ کرے تو اسے بہت برا سمجھا جاتا ہے جیساکہ عام طور پر مشاہدہ ہے، سِتم اس پر یہ ہے کہ اس میں مردوں کے شانہ بشانہ عورتیں بھی ہیں۔

اس سلسلے میں یہ بات واضح رہے کہ مصافحہ یا معانقہ کرنے (یعنی دونوں ہاتھ ملانے اور گلے ملنے )میں حضور صلی الله علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کاطریقہ یہ تھاکہ جب آپس میں ملاقات ہوتی تو پہلے سنت کے مطابق سلام کرتے اور سلام کے بعد مصافحہ کرتے اور جب سفر سے واپس آتے تو معانقہ کرتے(اس سے ہٹ کر مصافحہ ومعانقہ کا کوئی خاص دن مثلاً: کسی نماز کے بعد یا عید کا موقع مقرر نہ تھا )۔

چناں چہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے جب بھی رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے ملاقات کی تو آپ نے مجھ سے مصافحہ فرمایااور ایک دن رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے مجھے بلانے کے لیے (میرے گھر میں)کوئی قاصد بھیجا ، مگر اس وقت میں اپنے گھر میں موجود نہیں تھا (بلکہ باہر گیا ہوا تھا)جب میں اپنے گھر آیا تو مجھے اطلاع دی گئی کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے مجھے بلانے کے لیے قاصد بھیجا تھا ،میں فوراً رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا،اس وقت آپ اپنے بستر پر تشریف فرما تھے ، آپ نے مجھے فوراً اپنے ساتھ چمٹا لیا (یعنی مجھ سے معانقہ فرمایا)تو میں نے آپ کو بہت ہی حسین و جمیل اور خوبصورت پایا۔(سنن ابی داوٴد،رقم الحدیث: (2514) :4/453،داراحیاء التراث العربی)

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم جب آپس میں ملاقات کرتے تو مصافحہ کرتے اور جب کسی سفر سے لو ٹتے تو معانقہ کیا کرتے تھے ۔(الترغیب والترہیب، رقم(4007)، ص:514،دار ابن حزم)

ان دونوں روایات(اور دیگر کئی روایات )سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین ملاقات کے وقت مصافحہ کرتے اور سفر سے واپسی پر معانقہ فرماتے تھے، لہٰذامذکورہ تفصیل سے مصافحہ اور معانقہ کرنا مسنون و مستحب اور قابلِ ثواب ہے، اس پر عمل کرنا چاہیے۔

چناں چہ اگر کوئی مصافحہ اور معانقہ کے عمل کو عید کے دن ، خاص عید کے دن کی وجہ سے لازم ،ضروری اور سنت نہ سمجھے اور عیدین کے علاوہ سال کے دیگر ایام میں بھی اس عمل کو سنت سمجھ کر اپنی مستقل عادت بنا لے اور پھر عیدین کے دن اپنی گذشتہ عادت کے مطابق ملاقات کے وقت سنت کے مطابق سلام کر کے دونوں ہاتھو ں سے مصافحہ کرے یا جو عزیز ، رشتہ دار یا دوست عید کے دن سفر سے آئیں اور سفر سے آنے کی وجہ سے ان سے گلے ملے ،تو یہ نہ صرف جائز بلکہ عین سنت ہے۔

جب کہ خاص عید کی تخصیص کی وجہ سے مصافحہ اور معانقہ کرنا شرعاً ثابت نہیں ، نہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے زمانے میں اور نہ ہی خیر القرون کے زمانے میں، لہٰذا اس طریقے کو ترک کرنے اور دوسروں کو حکمت و بصیرت کے ساتھ

سمجھا نے کی ضرورت ہے
،
کہ کسی شرعی دلیل سے اس کا ثبوت نہیں اور فقہائے کرام واکابر عظام رحمہم اللہ نے اسی پہلو سے اس کو بدعت اور ناجائز قرار دیا ہے اور اس سے بچنے کی تاکید فرما ئی ہے، تاہم اس سلسلے میں کسی قسم کے فتنے و انتشار سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے،لہٰذا اگر کوئی اس موقع پر ملنے پر ہی بضد ہو تو اُس وقت اس سے بغیر سنت کی نیت کیے، مل تو لیں ،لیکن ہیئتِ مخصوصہ بدل دیں، یعنی تین کے بجائے ایک دفعہ ملنے پر اکتفا کریں اور پھر کسی دوسری نشست میں پیار و محبت سے اس کو سمجھاکر مسئلہ واضح کر دیں۔

ذیل میں اس مسئلے سے متعلق فقہ و فتاوی سے گہری مناسبت رکھنے والے اکابر علماء و فقہاء امت کی آرا کو نقل کیا جاتا ہے، تاکہ اس رسم کی حقیقت قارئین کے سامنے پوری طرح واضح ہو جائے۔

*… فقیہ النفس ،حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی صاحب رحمہ اللہ ”فتاوی رشیدیہ “میں تحریر فرماتے ہیں:
”عیدین میں معانقہ کرنا بدعت ہے“۔(ص:443،سعید)

*…مفتی اعظم ہند،حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
”عیدین میں معانقہ کرنا یا عید کی تخصیص سمجھ کر مصافحہ کرنا شرعی نہیں، بلکہ محض ایک رسم ہے“۔(کفایت المفتی:3/302،دارالاشاعت)

*…حکیم الامت ،مجدد ملت،حضرت مولانا اشرف علی تھانو ی صاحب رحمہ اللہ رقم طراز ہیں:
”قاعدہ کلیہ ہے کہ عبادات میں حضرت شارع علیہ السلام نے جو ہیئت و کیفیت معیّن فرمادی ہے،اس میں تغیّر وتبدّل جائز نہیں اور مصافحہ چوں کہ سنت ہے، اس لیے عبادات میں سے ہے، حسبِ قاعدہ مذکورہ اس میں ہیئت و کیفیت ِ منقو لہ سے تجاوز جائز نہ ہو گااور شارع علیہ السلا م سے صرف اولِ لِقاء کے وقت بالاجماع یاوداع کے وقت بھی علی الاختلاف منقول ہے،پس اب اس کے لیے ان دو وقتوں کے سوا اور کوئی محل و موقع تجویز کرنا تغییر عباد ت کرنا ہے، جوممنوع ہے لہٰذا مصافحہ بعد عیدین یا بعد نمازپنجگانہ مکروہ و بدعت ہے،شامی میں اس کی تصریح موجود ہے“۔(امداد الفتاوی :1/557،مکتبہ دارالعلوم ،کراچی)

*…حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
”عیدین کی نماز کے بعد مصافحہ کا جو رواج ہے یہ بدعت ہے، دوسرے اوقات کی طرح اگر کسی شخص سے اس وقت نئی ملاقات ہو تو مصافحہ کر لے، ورنہ نہیں“۔ (امداد الاحکام:1/188، مکتبہ دار العلوم،کراچی)

*…مفتی اعظم پاکستان،حضرت مولانا،مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
”یہ بدعت ہے اور شعارِ روافض ہے، ترک کرناچاہیے“۔ (امداد المفتین،ص:187،دارالاشاعت)

*…صدر مفتی دارالعلوم دیوبند،حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمان صاحب رحمہ ا للہ لکھتے ہیں:
”نمازِ عیدین یا دیگر نمازوں کے بعد تخصیص مصافحہ کی کرنا اور اسی وقتِ خاص میں اس کو سنت جاننا اور معمول بہ ٹھہرانا بعض فقہاء نے منع لکھا ہے اور تبیین ِمحارم میں اس کو روافض کے طریقہ سے لکھاہے اور مکروہ فرمایا ہے“۔(عزیز الفتاوی،ص:147،دار الاشاعت)

…فقیہ الامت،حضرت مولانامفتی محمود حسن گنگوہی صاحب رحمہ اللہ اس سلسلے میں تحریر فرماتے ہیں:
”عید کا مصافحہ و معانقہ بدعت ہے“۔(فتاوی محمودیہ:8/464، ادارہ الفاروق،کراچی)

*…حضرت مولانا ،مفتی سید عبد الرحیم لاجپوری صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
”عید کی نماز کے بعد ملنا اور معانقہ و مصافحہ کرنا کوئی امرِ مسنون نہیں ہے،لوگوں کی اختراعات اور بدعات میں سے ہے،احادیث میں جہاں تک معلوم ہے اس کا پتہ نہیں چلتا،غیبوبت کے بعد مصافحہ اور طویل غیبوبت پر معانقہ ثابت ہے،مگر عید کی نماز کے بعد ان کا ثبوت نہیں ہے،یہاں یہ حالت ہے کہ وہ رفقاء جو نماز میں شریک بلکہ برابر میں کھڑے تھے، سلام اور خطبہ کے بعد معانق ہوتے ہیں اور اس کو امرِ دینی سمجھتے ہیں،اس لیے یہ غلط چیز ہے“۔ (فتاوی رحیمیہ:2/111،112،دارالاشاعت)․

*…مفکر ِاسلام ،حضرت مولانا،مفتی محمود صاحب رحمہ اللہ رقم طراز ہیں:
”واضح رہے کہ مصافحہ اور معانقہ ابتدائے ملاقات کے وقت مسنون ہے اور وداع کے وقت مختلف فیہ ہے،لہذا بعد از نماز عید مسنون تو ہر گز نہیں ہے، کیوں کہ اس کا ثبوت حضور پاک صلی الله علیہ وسلم سے نہیں ہے ، ہاں بعض علماء اس کو بدعت مباحہ کہتے ہیں اور (بعض )علماء اس کو بدعت مکروہہ کہتے ہیں اور مولانا عبد الحئی صاحب لکھنوی اپنے فتاوی کی جلد /2،ص/45 پر فرماتے ہیں،”علی کل تقدیر ترک اس کا اولیٰ ہے…“۔(فتاوی مفتی محمود:2/513،جمعیت پبلیکیشنز)

*…حضرت مولانا مفتی نظام الدین صاحب اعظمی فرماتے ہیں:
”مطلقاً نماز کے بعد بالالتزام مصافحہ یا معانقہ کرنا شرعاً درست نہیں ،حتیٰ الامکان اس عمل سے بچنا ضروری ہے،لیکن ابتدائی ملاقات کسی نماز کے بعد فوراً ہو رہی ہو تو اس صور ت میں گنجائش ہے کہ مصافحہ یا معانقہ کیاجا سکتا ہے “۔(نظام الفتاوی:1/59،مکتبہ رحمانیہ)

*…فقیہ العصر،حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانوی صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
”یہ طریقہ اختیارکرنا بدعت اور مکروہ ہے…بدعت یا کسی گناہ کا ارتکاب کسی مصلحت کے پیشِ
نظر ہر گزجائز نہیں ،البتہ دوسروں کو منع کرنااس وقت ضروری ہے جب
قبول کی امید ہو،ورنہ ”نہی عن المنکر“ ضروری نہیں، غرض یہ کہ خود نمازِ عید کے بعدکسی سے مصافحہ یا معانقہ نہ کرے،ہاں! اگر کسی سے ملاقات ہی بعد نماز کے ہوئی ہو تو اس سے جائز ہے،مگر تشبّہ بالبدعة اور اس کی تائید کا ذریعہ ہونے کی وجہ سے اس سے بھی اجتناب کرنا چاہیے“۔ (احسن الفتاوی :1/354،سعید)

*…حکیم العصر،حضرت مولانا محمدیوسف لدھیانوی شہید رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”یہ سنت نہیں،محض لوگوں کی بنائی ہوئی ایک رسم ہے،اس کو دین کی بات سمجھنا اور نہ کرنے والے کو لائق ملامت سمجھنا بدعت ہے“۔(آپ کے مسائل اور ان کا حل:2/573،مکتبہ لدھیانوی)․

*…جامعہ حقانیہ (اکوڑہ خٹک)سے جاری ہونے والے فتاوی میں ہے کہ:
”عیدین اور جمعہ کی نمازوں کے بعد مصافحہ کرنے میں علمائے کرام کا اختلاف ہے،حضرت تھانوی رحمہ اللہ اوردیگر محققین علمائے کرام نے اس کو ممنوع قرار دیا ہے اور بعض دیگر حضرات نے اس کی اجازت مرحمت فرمائی ہے،لہذا اگر مصافحہ کرنے میں التزام مالا یلزم ہو توممنوع ہے،ورنہ نہیں تاہم نہ کرنا بہترہے“۔(فتاوی حقانیہ:2/53،جامعہ دار العلوم حقانیہ ، اکوڑہ خٹک،نوشہرہ)

*…جامعہ خیر المدارس (ملتان)سے جاری ہونے والے فتاوی میں ہے:
”عیدین یا دوسری نمازوں کے بعد مصافحہ یا معانقہ کرنا بدعت ہے، مصافحہ یا معانقہ کی سنت صرف ملاقات یا رخصتی کے وقت ہے اور اسی ملاقات ہی کے مصافحہ کے متعلق آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ موجب تکفیر ذنوب و سقوط گناہ ہے، الحاصل مصافحہ نماز کے بعد بہر حال مکروہ ہے ، نیز ! یہ روافض کا طریقہ ہے، اس سے اجتناب لازم ہے“۔ (خیر الفتاوی:1/570،مکتبہ امدادیہ)

*…صدر ِدارالعلوم کراچی ،حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب زید مجدہم فرماتے ہیں:
”عید پر معانقہ کرنا سنت سے ثابت نہیں،لہٰذا اس کا التزام بدعت ہے،اگر کوئی یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ عید پر معانقہ سنت ہے یا عید کے ساتھ معانقہ کی شرعاً کوئی خصوصیت ہے تو شرعاً ایسے شخص کے ساتھ معانقہ نہیں کرنا چاہیے“۔ (امداد السائلین المعروف فتاوی دار العلوم کراچی: 1/165، 166،ادارة المعارف، کراچی)

*…شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب زید مجدہم فرماتے ہیں:
”دو مسلمانوں کی ملاقات کے وقت مصافحہ مسنون ہے،نیز کوئی شخص سفر سے آئے تو اس سے معانقہ کرنا بھی سنت سے ثابت ہے،ان دونوں مواقع کے علاوہ سنت نہیں ہے،لیکن اگر سنت سمجھے بغیر اتفاقاً کبھی کر لے تو گناہ بھی نہیں اور سنت سمجھ کر کرے تو بدعت ہے، ہمارے زمانے میں چوں کہ فرض نمازوں کے بعد مصافحہ اور عیدین کے بعد معانقہ کو سنت سمجھا جانے لگا ہے،حالاں کہ یہ آں حضرت صلی الله علیہ وسلم سے ثابت نہیں،اس لیے علماء نے اس کو بدعت قرار دیا ہے اور اس سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے، لیکن کہیں اعتقاد سنت کا نہ ہو تو مباح ہے“۔(فتاوی عثمانی:1/103،مکتبہ معارف القرآن)

*…دارالعلوم یاسین القرآن سے جاری ہونے والے فتاوی میں ہے کہ:
”صورت مسئولہ میں مصافحہ ،شریعت میں اُنس ومحبت کے پیدا کرنے کا ذریعہ ہے،اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ مصافحہ کرنا سنت ہے،لیکن اپنی طرف سے مصافحہ کو بعض مواقع کے ساتھ خاص کر لینا اور ان مواقع پر اہتمام و التزام کے ساتھ مصافحہ کرنا صحیح نہیں ہے بلکہ اس کا ترک لازم ہے، جیساکہ نماز کے بعد مصافحہ کرنے کو علامہ شامی نے شیعوں کا شعار قرار دیا ہے“۔ (نجم الفتاوی :1/136، دارالعلوم یاسین القرآن،کراچی)

*…حضرت مولانا عبد الحئی لکھنوی صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”مصافحہ اور معانقہ کا وقت ابتدائے ملاقات ہے،پس عید کی نماز کے بعدمصافحہ اور معانقہ مسنون نہیں ہے اور علماء اس باب میں مختلف ہیں،بعض بدعت مباحہ کہتے ہیں اور بعض ہر حال میں بدعتِ مکروہہ کہتے ہیں، اس کا تر ک اولیٰ ہے“۔(مجموعة الفتاوی (مترجم):2/201،202،سعید)

*…حضرت مولانا سید زوّار حسین شاہ صاحب نے لکھا ہے کہ:
”عیدین کے روز نمازِ عیدین کے بعد مصافحہ و معانقہ کرنا ہر حال میں مکروہ و بدعت ہے،صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وسلف صالحین رحمہم اللہ سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا،آج کل اس پر بہت زیادہ عمل ہو گیا ہے،حتیٰ الامکان اس کا ترک لازم ہے،بلکہ ہر نماز کے بعد بھی مصافحہ کرنا مکروہ اور بدعت ہے،بعض جگہ اس کا بھی رواج عام ہو گیا ہے،یہ طریقہ رافضیوں کا ہے اس لیے بھی اس سے پر ہیز ضروری ہے“۔(عمدة الفقہ :2/461،زوّار اکیڈمی)․

*…جامعہ فاروقیہ(کراچی)سے جاری ہونے والے فتاوی میں ہے:
”نماز کے بعد بشمولِ عیدین ،مصافحہ یا معانقہ کرنا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین واسلافِ امت رحمہم اللہ میں سے کسی سے بھی جزوی طور پر ثابت نہیں، فقہاء و محدثینِ کرام سے اس عمل کی ممانعت منقول ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اسے بدعتِ شنیعہ اور علامہ ابن ِ عابدین رحمہ اللہ نے اسے روافض کی بدعت باور کرتے ہوئے ترک کا حکم دیاہے“۔(تبویب رجسٹر فتاوی:61/90،غیر مطبوعہ)

مذکورہ بالا تمام فتاوی سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ عیدین کی نماز کےب
عدصحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ،تابعین ، تبع تابعین اورسلف صالحین رحمہم اللہ اجمعین میں سے کسی سے اس مذکورہ عمل(مصافحہ و معانقہ )کا مسنون یا عبادت ہونا منقول نہیں ۔

اس لیے اس بات کا اہتمام کرناہم سب کے لیے از حد ضروری ہے کہ اس بابرکت دن میں کہیں ہم انجانے میں یہ عمل کر کے کسی گناہ کے مرتکب تو نہیں ہو رہے!! اگر ایسا ہے تو فی الفور اس عمل یا اس جیسے دیگر گناہوں سے اللہ جل جلالہ کے حضور توبہ تائب ہو کراعمال مسنونہ کو اپنانے کی ہر ممکن کوشش کریں اور پوری حکمت و بصیرت سے گرد ونواح میں موجوداس عمل میں مبتلا افراد ِ امت کو سمجھانے کی کوشش کریں۔اللہ رب العزت ہم سب کو صراط مستقیم پر گامز ن رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


واللہ اعلم
ُمحمد امير۔۔۔۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:8⃣4⃣

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

عید کے چاند کی اطلاع کے بعد معتکف کب اعتکاف سے باہر نکل سکتا ہے اور اس کا طریقہ کیا ہے؟


الْجَواب حامِداوّمُصلّیاً
جب شوال کا چاند نظر آئے تو اعتکاف پورا ہوجاتا ہے، معتکف اگر چاہے تو اسی وقت مسجد سے گھر چلا جائے ،لیکن افضل یہ ہے کہ رات مسجد ہی میں گزارے، اور صبح عید کی نماز کے لیے مسجد ہی سے جائے، پھر عید کی نماز کے بعد گھر جائے۔
ما في ’’ موسوعۃ مسائل الجمہور في الفقہ الإسلامي ‘‘ : مسألۃ [۵۹۶] - جمہور الفقہاء علی أن من نوی اعتکاف العشر الأواخر من رمضان فإنہ یدخل معتکفہ قبل غروب الشمس من لیلۃ إحدی وعشرین ، ویخرج منہ بعد غروب الشمس من لیلۃ الأول من شوال ، وہو مذہب الشافعي وجماعۃ الفقہاء ، وہو قول أحمد في روایۃ ومالک والثوري وأبي حنیفۃ ۔ (۱/۳۳۲ ، کتاب الاعتکاف ، باب في من نوی اعتکاف العشر الأواخر من رمضان ، موسوعۃ الفقہ الإسلامي :۳/۲۰۳ ، کتاب الصیام ، الاعتکاف)
(۲) ما في ’’ حاشیۃ موسوعۃ مسائل الجمہور ‘‘ : (فائدۃ) جماعۃ العلماء وفقہاء الأمصار یرغبون لمن اعتکف العشر الأواخر في رمضان أن لا یخرج من معتکفہ إلا بعد الفجر عند توجہہ لصلاۃ العید رأسًا ، ولیس ہذا علی الوجوب عند جمہورہم ۔۔۔۔۔۔۔۔ قال القرطبي : استحب مالک لمن اعتکف العشر الأواخر أن یبیت لیلۃ الفطر في المسجد حتی یغدو إلی المصلَّی ، وبہ قال أحمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قال النووي : ویستحب أن یمکث في معتکفہ بعد ہلال شوال حتی یصلي العید أو یخرج منہ إلی المصلی إن صلوہا في غیرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وقال الموفق رحمہ اللہ : ومن اعتکف العشر الأواخر من رمضان استحب أن یبیت لیلۃ العید في معتکفہ نصّ علیہ أحمد ، وروي عن النخعي وأبي مجلز وأبي بکر بن عبد الرحمن والمطلب بن حنطب وأبي قلابۃ أنہم کانوا یستحبون ذلک ، وروی الأثرم باسنادہ عن أیوب عن أبي قلابۃ أنہ کان یبیت في المسجد لیلۃ الفطر ثم یغدو کما ہو إلی العید ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وقال إبراہیم (النخعي) : کانوا یحبون لمن اعتکف العشر الأواخر من رمضان أن یبیت لیلۃ الفطر في المسجد ثم یغدو إلی المصلی ۔ (۱/۳۳۲ ، کتاب الاعتکاف ، ط: دار السلام) (اعتکاف کے مسائل :ص/۲۵)


واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔

@jamashuda
t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:9⃣4⃣


المسائل المہمہ
عیدین کی نماز کا طریقہ

نماز عیدالفطر کی نیت کےعربی الفاظ یہ ہیں
نَوَیتُ اَن اُصَلِّیَ رَکَعتَیِ الوَاجِبِ صَلٰوةَ عِیدِ الفِطرِ مَعَ سِتَّ تَکبِیرَاتٍ وَّاجِباتٍ
اردو میں یوں کہے
" میں نے نیت کی کہ دو رکعت واجب نماز عیدالفطر چھ واجب تکبیروں کے ساتھ پڑھوں"
عید الاضحٰی کی نیت میں صلوة عیدالفطر کی بجائے صلوة عیدالاضحٰی کہے باقی الفاظ دوسری نیتوں کی طرح کہے واجب کا لفظ کہنا شرط نہیں لیکن بہتر ہے، امام اور مقتدی یہ نیت کر کے تکبیر تحریمہ کہہ کر بدستور ہاتھ باندھ لیں اور ثنا (سبحانک الھم) پڑھیں پھر دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھاتے ہوئے اللّٰہ اکبر کہیں اور ہاتھ لٹکتے ہوئے چھوڑ دیں اسی طرح تین مرتبہ کہیں لیکن تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ نہ لٹکائیں بلکہ حسب دستور ناف پر باندھ لیں، امام ان تینوں تکبیروں میں تین مرتبہ سبحان اللّٰہ کہنے کی مقدار یا حسب ضرورت زیادہ وقفہ کرے پھر امام اعوذ و بسم اللّٰہ آہستہ پڑھ کر الحمد شریف اور کوئی سورة جہر سے پڑھے مستحب یہ ہے کہ سورت الاعلٰی پڑھے اور مقتدی خاموش رہیں پھر رکوع و سجود کریں اور جب دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہو جائیں تو امام پہلے الحمد و سورة کی قرآت جہر سے کرے بہتر یہ ہے کہ سورة الغاشیہ پڑھے اور مقتدی خاموش رہیں قرآت ختم کرنے کے بعد رکوع میں جانے سے پہلے تین مرتبہ زائد تکبیریں پہلی رکعت کی طرح کہے، اب تیسری تکبیر پر بھی ہاتھ چھوڑ دیں پھر بغیر ہاتھ اٹھائے چوتھی تکبیر کہہ کر رکوع میں جائیں اور دستور کے موافق نماز پوری کر لیں خلاصہ یہ ہے کہ عیدین کی نماز میں چھ تکبیریں کہنا واجب ہے تین تکبیریں پہلی رکعت میں تحریمہ و ثنا کے بعد تعوذ و بسم اللّٰہ و الحمد سے پہلے اور تین تکبیریں دوسری رکعت میں الحمد و قرآت سورة کے بعد رکوع میں جانے سے پہلے کہے یہی افضل و اولٰی ہے لیکن اگر دوسری رکعت میں پہلی رکعت کی مانند تعوذ و بسم اللّٰہ و الحمد سے پہلے کہہ لے گا تب بھی جائز ہے۔

واللہ اعلم


محمد امیر۔۔۔۔۔۔


@jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:0⃣5⃣


عیدین کے بعض مسائل واحکام:

۱- عیدین کی نماز واجب ہے ۔
۲- عیدین کے خطبہ کا سننا جمعہ کے خطبہ کی طرح واجب ہے یعنی اس وقت بولنا، کھانا، پینا، سلام وجواب سب ممنوع ہیں ۔
۳- بلا عذر عیدین کی نماز چھوڑنا گمراہی وبدعت ہے ۔

*۴- نماز عیدکے پڑھنے کا طریقہ :*
دل سے یا زبان سے نیت کرکے تکبیر تحریمہ (اﷲاکبر ) کہہ کر ہاتھ باندھ لیں اورثناء (سبحانک اللھم) اخیر تک پڑھیں پھر تین مرتبہ اﷲاکبر کہیں اورہر ہر مرتبہ تکبیر تحریمہ کی مانند دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھائیں اور ان میں ہر تکبیر کے بعد ہاتھ لٹکادیں اور ہر تکبیر کے بعد امام اتنی دیر تک توقف کرے کہ اس میں تین مرتبہ سبحان اﷲ کہا جاسکتا ہو اور یہ توقف مجمع کی کمی بیشی کے لحاظ سے مختلف ہوسکتا ہے تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ نہ لٹکائیں بلکہ حسب دستور ناف پر باندھ لیں اور امام اعوذباﷲ وبسم اﷲ آہستہ پڑھکر سورہ فاتحہ اور پھر کوئی سورہ جہر سے پڑھے اورمقتدی خاموش رہیں پھر حسب دستور رکوع کرکے دوسری رکعت کیلئے کھڑا ہو دوسری رکعت میں امام پہلے بسم اﷲ آہستہ پڑھ کر سورہ فاتحہ اور کوئی سورت جہر سے پڑھ لے (پہلی رکعت میں سورہ الاعلی اور دوسری رکعت میں سورہ الغاشیہ پڑھنا مستحب ہے) اور مقتدی خاموش رہیں اس کے بعد رکوع میں جانے سے پہلے تین زائد تکبیریں اس طرح کہے جس طرح پہلی رکعت میں کہی تھیں لیکن یہاں تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ نہ باندھے بلکہ لٹکائے رکھے پھر بغیر ہاتھ اٹھائے ہوئے چوتھی تکبیر کہہ کر رکوع میں جائے اور حسب معمول نماز پوری کرے.

*عیدین کے حسب ذیل امور سنت یا مستحب ہیں:*

(۱) باقی ایام کی بنسبت عیدین کے روز جلدی جاگنا اور صبح کی نماز اپنے محلہ کی مسجد میں پڑھنا۔
(۲) غسل کرنا ۔
(۳) مسواک کرنا (اوریہ اسکے علاوہ ہے جو وضو میں کی جاتی ہے کہ وہ تو ہر وضو کے لئے سنت موکدہ ہے اوریہ عیدین کیلئے ہے۔
(۴) جوکپڑے اس کے پاس ہیں ان میں سے اچھے کپڑے پہننا ۔
(۵) خوشبو لگانا ۔
(۶) عیدالفطر کے روز فجر کے بعد عیدگاہ کو جانے سے پہلے کوئی میٹھی چیز کھانا ۔
(۷) جس پر صدقہ فطر واجب ہے اس کا نما زعید الفطر سے پہلے ادا کرنا (صدقہ نصف صاع یعنی پونے دوسیر گہیوں آٹا یا اسکی قیمت ہے )
(۸) فرحت وخوشی کا اظہار کرنا ۔شرع کے موافق اپنی ارائش کرنا ۔
(۹) حسب طاقت صدقہ وخیرات میں کثرت کرنا ۔
(۱۰) عیدگاہ کی طرف جلدی جانا ۔
(۱۱) عید گاہ کی طرف وقار اور اطمینان کے ساتھ جانا اور جن چیزوں کا دیکھنا جائز نہیں ہے ان سے آنکھیں نیچی رکھنا ۔
(۱۲) عید الفطر کی نماز کے لئے عیدگاہ کو جاتے ہوئے راستے میں آہستہ تکبیر کہتے  ہوئے جانا اور عید الاضحی کے روز راستہ میں بلند آواز سے تکبیرکہنااور جب عید گاہ میں پہنچ جائے تو تکبیر کہنا بند کردے ایک روایت کے مطابق جب نماز شروع ہو اس وقت بند کرے، تکبیریہ ہے اﷲاکبراﷲاکبرلاالہ الااﷲ واﷲاکبراﷲاکبروﷲ الحمد ۔
(۱۳) دوسرے راستہ سے واپس آنا ۔
(۱۴) آپس میں مبارک باد دینا مستحب ہے ۔
*صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین یوں کہتے تھے *«تقبل اللہ منا ومنکم»*
(۱۵) عیدین کی نماز سے واپس آنے کے بعد گھر پر چار رکعت نماز نفل پڑھنا مستحب ہے ۔(۱)
کتبہ : ولی حسن ٹونکی 
بینات -شوال ۱۳۸۶ھ بمطابق فروری ۱۹۶۷ء
جلد:۹-شمارہ:۴ ص:۷-۸
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱)عمدۃ الفقہ از شیخ سید زوار حسین شاہ نقشبندی -۲؍۴۵۸تا ۴۶۰،۴۶۲۔


واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔

@jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail