جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
1.42K subscribers
117 photos
36 files
685 links
"جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند" میں روزانہ ایک دو مسئلہ مدلل ومزین انداز میں بطورِ استفادہ آپ کو ملے گا،

آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda

https://www.hanafimasail.com/?m=1
Download Telegram
جواب نمبر:8⃣5⃣2⃣

Sawal
Biwi se gale mile bad... or kiss kare bad.... 2... 4 katre nikle to.... us underwear me namaz hogi ky....

مذی وودی والے کپڑے میں نماز:

سوال:
مذی وودی اگر جسم یا کپڑے میں لگی ہوئی ہو اس وقت نماز پڑھ سکتے ہیں بغیر دھوئے ہوئے پھر اگر معاف ہے تو مقدار عفوکیا ہے؟

الجواب حامدا ومصلیا:
مذی وودی کو فقہانے نجاست غلیظہ لکھا ہے،ایک درہم سے کم مقدار بدن پر یا کپڑے پر لگی رہے اور نماذ پڑھلے تو نماز بالکراہت ادا ہو جئےگی،زیادہ ہو تو نماز درست ہی نہ ہوگئ۔ ہاتھ کی ہتھلی کے گڈھے سے رقیق کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

(وعفا) الشارع (عن قدر درھم)وان کرہ تحریما،فیجب غسلہ ........(وعرض مقعر الکف فی رقیق من مغلظةکعذرة)
آدمی،وکذا کل ما خرج منہ موجبا لوضوء او غسل مغلظة "الدر المختار)
قولہ (وان کرہ تحریما)اشار الی ان العفوعنہ بالنسبةالی صحة الصلوةبہ.......ففی المحیط:یکرہ ان یصلی و معہ قدر درھم او دونہ من النجاسة عالما بہ لاختلاف الناس فیه.(ردالمحتار،باب الانجاس 316/1۔318 سعید)
)وکذا فی بدائع الصنائع فصل فی بیان المقدار الذی یصیر بہ المحل نجسا429/1 دارالکتاب العلمیة،بیروت)

واللہ اعلم

فتاوی محمودیه

محمد امیر الدین حنفی دیوبندی

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:9⃣5⃣2⃣

سوال # 145644
نماز عیدین کی چھ زائد تکبیروں کے بارے میں مجھے حدیث کے حوالہ سے واضح کریں؟
Published on: Nov 23, 2016 جواب # 145644
بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 078-104/B=2/1438

عن سعید بن العاص قال: سألت أبا موسیٰ و حذیفة، کیف کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یکبر فی الأضحیٰ والفطر، فقال أبو موسیٰ کان یکبر أربعاً تکبیرہ علی الجنائز فقال حذیفة صدق (رواہ ابو داوٴد بحوالہ مشکوٰة ص: ۱/۱۲۶) ا س میں چار تکبیر پہلی رکعت میں مع تکبیر تحریمہ کے مراد ہے اور دوسری رکعت میں چار تکبیریں مع رکوع کی تکبیر کے مراد ہیں، احناف کے یہاں یہی راجح ہے۔


واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

محمد امیر الدین حنفی دیوبندی

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:0⃣6⃣2⃣

Indiaسوال # 59998
(۱) گر کسی شخص کی عید کی نماز جماعت سے رہ گئی یعنی اس کو جماعت نہیں ملی تو کیا وہ اکیلا یا آٹھ دس لوگوں کے ساتھ مل کر یا اکیلا گھر پہ عید کی نماز پڑھ سکتاہے؟
(۲) عید کی نماز نہ پڑھنے کی صورت میں کیا گناہ ہوگا؟
(۳) اگر کسی شخص کو عید کی نماز ایک رکعت ہی ملی تووہ نماز پوری کیسے کرے؟ وہ طریقہ استعمال کرے جیسے ہم پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہیں یا عید کی نماز کی پہلی رکعت تین زاید تکبیروں کے ساتھ والا طریقہ استعمال کریں۔جزاک اللہ ۔
Published on: Aug 26, 2015 جواب # 59998
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 1160-1226/L=11/1436-U

(۱) ایسے شخص کو چاہیے کہ عید کی نماز نہ پڑھے بلکہ گھر جاکر دو چار رکعت نفل پڑھ لے البتہ اگر آٹھ دس لوگوں کی جماعت رہ گئی ہو تو یہ لوگ عیدگاہ سے الگ جماعت کرسکتے ہیں۔
(۲) عید کی نماز واجب ہے، بلاعذر اس کا چھوڑنے والا گنہ گار ہے۔
(۳) ایسا شخص امام کے سلام کے بعد جب کھڑا ہو تو اول ثنا، تعوذ، تسمیہ، فاتحہ، سورت پڑھے پھر تین تکبیرات زوائد کہے پھر تکبیر کہہ کر رکوع کرے اور بقیہ نماز پوری کرے۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

محمد امیر الدین حنفی دیوبندی

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:1⃣6⃣2⃣

سوال # 23420
میں نے یہ سنا ہے کہ اگر کوئی چارجمعہ تک نماز نہ پڑھے یا چار جمعہ کی نماز نہ پڑھے تو اس کے دل پر کفر کی مہر لگا دی جاتی ہے، براہ کرم، قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں۔
Published on: Jul 22, 2010 جواب # 23420
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی(م):994=994-7/1431

ابوداوٴد، ترمذی اور نسائی وغیرہ کتب حدیث میں صحیح روایت اس طرح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سستی وکاہلی کی وجہ سے (بلاعذر) تین جمعہ ترک کردے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگادیتے ہیں: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من ترک ثلاث جمع تھاونا طبع اللہ علی قلبہ ، رواہ ابو داوٴد والترمذی والنسائی وابن ماجة والدارمی (مشکوة)
واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

محمد امیر الدین حنفی دیوبندی

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:2⃣6⃣2⃣

سوال # 17478


کیا
ایک ایسا شخص جس کی تین یا اس سے بھی زیادہ جمعہ کی نمازیں چھوٹ چکی ہوں وہ اپنے
ایمان کی دوبارہ تجدید کرے گا؟ کیوں کہ سنا ہے کہ تین جمعہ چھوڑنے سے ایمان زائل
ہو جاتا ہے یا دل پر مہر لگا دی جاتی ہے۔ برائے مہربانی رہنمائی فرماویں کہ اب وہ
شخص کیا کرے؟


Published on: Nov 18, 2009 جواب # 17478
بسم الله الرحمن الرحيم


فتوی(م):1677=1677-11/1430





حدیث
میں ہے: [من
ترک ثلث جُمعٍ تہاوناً بہا طبع اللہ علی قلبہ رواہ أبوداوٴد] (ترجمہ: جو شخص کاہلی
اور سستی کی وجہ سے تین جمعہ چھوڑدے اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگادیتے ہیں) اگر
محض غفلت وکاہلی کی وجہ سے تین جمعہ چھوٹ جائے تو وہ دائرہٴ اسلام سے خارج نہیں
ہوگا، لیکن اس کا یہ فعل اتنا بڑا گناہ اور اتنا منحوس ہے کہ اس کے دل پر اللہ مہر
لگادیتے ہیں، اس کی معافی کے لیے سچی پکی توبہ واستغفار لازم ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

محمد امیر حنفی دیوبندی

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
https://t.me/jamashuda
جواب نمبر:3⃣6⃣2⃣

کھانا کھاتے وقت سلام کرنا

سوال:
میرے ایک دوست کا کہنا ہے کہ: “کھانا کھاتے وقت نہ تو سلام کرنا جائز ہے اور نہ جواب دینا۔”

جواب:
جو شخص کھانے میں شریک ہونا چاہتا ہے، وہ تو کھانے والوں کو سلامکرسکتا ہے، دُوسرا نہیں، اور اگر کوئی سلام کرے تو کھانے والوں کے ذمے اس کا کوئی جواب نہیں۔

واللہ اعلم

آپ کے مسائل اور انکا حل

محمد امیر الدین حنفی دیوبندی

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:4⃣6⃣2⃣

وضو، اَذان اور کھانا کھاتے وقت سلام کرنا یا جواب دینا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: وضو کرتے وقت، اَذان کے وقت اور کھاتے وقت سلام کرنا  جب کہ آدمی اِن تینوں اَوقات میں دنیاوی باتوں میں مشغول ہو، اور عام طور پر ذہنوں میں یہ بات ہے کہ اِن تینوں حالتوں میں سلام نہیں کرنا چاہئے، تو اِن اَوقات میں سلام کرنا کیسا ہے؟

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: وضو، اَذان اور کھانا کھاتے وقت سلام کرنا مسنون  نہیں، اور اگر کوئی کرے تو اُس کا جواب دینا واجب نہیں؛ لیکن اگر جواب دیدے تو کوئی حرج بھی نہیں ہے۔ 

یکرہ السلام علی العاجر عن الجواب حقیقۃ کالمشغول بالأکل أو الاستفراغ، أو  شرعًا کالمشغول بالصلاۃ وقراء ۃ القرآن، لو سلّم لا یستحق الجواب … یأثم بالسلام علی المشغولین بالخطبۃ … أو الأذان والإقامۃ ویردون في الباقي لإمکان  الجمع بین فضیلتي الرد۔ (شامي، کتاب الصلاۃ / باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا، مطلب: المواضع التي یکرہ فیہا السلام ۲؍۳۷۵ زکریا)

فقط واللہ تعالیٰ اعلم

کتاب النوازل

محمد امیر الدین حنفی دیوبندی

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail


http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:5⃣6⃣2⃣

عورت کو سلام کرنا یا اُس کے سلام کا جواب دینا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: کیا عورت کو سلام کرنا یا اُس کے سلام کا جواب دینا جائز ہے؟

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: محرم عورتوں کو سلام کرنا اور جواب دینا دونوں جائز ہے، اور نامحرم بوڑھی عورت کو بھی سلام کرنا جائز ہے؛ البتہ جوان عورت کوسلام کی ابتداء نہ کی جائے، اگر وہ سلام کرلے تو آہستہ سے جواب دے دیں۔

عن یحی بن أبي کثیر قال: بلغني أنہ یکرہ أن یسلم الرجل علی النساء، والنساء علی الرجل۔ … قلت لعطاء: أَ أُسلِّم علی النساء؟ قال: إن کن شواب فلا۔ (شعب الإیمان للبیہقي / باب في مقاربۃ وموادۃ أہل الدین ۶؍۴۶۰ رقم: ۸۸۹۶-۸۸۹۸ بیروت)
کان قتادۃ یقول: أما امرأۃ من القواعد فلا بأس أن یسلم علیہا، وأما الشابۃ فلا۔ (شعب الإیمان للبیہقي، باب في مقاربۃ وموادۃ أہل الدین / فصل في السلام علی النساء ۶؍۴۶۰ رقم: ۸۸۹۷ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
الفتیات جمع فتیۃ: المرأۃ الشابۃ، ومفہومہ جوازہ علی العجوز؛ بل صرحوا بجواز مصافحتہا عند أمن الشہوۃ۔ (شامي ۲؍۳۷۴)
رد السلام واجب إلا علی … أو سلم الطفل أو السکران أو شابۃ یخشی بہا افتتان۔ (شامي ۲؍۳۷۶ زکریا)

فقط واللہ تعالیٰ اعلم

کتاب النوازل

محمد امیر الدین حنفی دیوبندی


دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:6⃣6⃣2⃣

کھانا کھانے والے کو سلام کرنا:
سوال:
قرآن مجید پڑھنے والے کو سلام کرنا یا سلام کا جواب دینا یو کھانا کھانے والے کو سلام کرنا یا سلام کا جواب دینا جائز یے یا نہیں؟
الجواب حامدا ومصلیا:
قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے اور کھانا کھاتے ہوئے کو سلام کرنا مکروہ ہے،اور ایسے سلام کا جواب دینا بھی واجب نہیں۔

قال العلامة الحصکفی رحمه اللہ تعالی:
ودع آکلا الا اذا کنت جائعا وتعلم منہ انہ لیس یمنع،
وقال ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی:یکرہ السلام علی العاجز عن الجواب حقیقة كالمشغول بالاکل اوالاستفراغ،او شرعا کالمشغول بالصلوة وقراة القرآن،ولو سلم لایستحق الجواب، اھ""
(الدر المختار مع ردالمحتار،617/1،کتاب الصلوة باب ما یفسد الصلوة وما یکرہ فیھا، مطلب"الموضع التی یکرہ فیھا السلام۔سعید)
(قولھم:کاکل)ظاھرہ ان ذالک مخصوص بحال وضع اللقمة فی الفم والمضغة، واما قبل وبعد،فلایکرہ، لعدم العجز،وفی صرح الشافعیة،""
(رد المحتار 415/6 کتاب الحظر والاباحة فصل فی البیع، سعید)

واللہ اعلم

فتاوی محمودیه

محمد امیر الدین حنفی دیوبندی

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail

+917086592261
جواب نمبر:7⃣6⃣2⃣

Saudi Arabiaسوال # 17019


یہ
تو سنا ہے کہ رات کو سونے سے پہلے سرمہ لگانا سنت ہے، لیکن کیا جمعہ کے دن بھی
لگانا سنت ہے؟ کیا دن میں لگا سکتے ہیں؟


Published on: Dec 25, 2009 جواب # 17019
بسم الله الرحمن الرحيم


فتوی(ل):2017=1597-1/1431





(۱) جمعہ کے دن سرمہ لگانا
مسنون نہیں ہے۔


(۲) جی ہاں لگاسکتے ہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

https://t.me/jamashuda

+917086592261
جواب نمبر:8⃣6⃣2⃣

Indiaسوال # 11564
جمعہ کی نماز میں کل کتنی رکعتیں ہیں ،کتنی رکعتیں فرض ہیں اور کتنی سنت ہیں او رکتنی نفل ہیں؟
Published on: Mar 8, 2009 جواب # 11564
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی: 457=376/د



جمعہ کی نماز میں سنت ونفل ملاکر کل چودہ رکعتیں ہیں: جن میں سے چار رکعت جمعہ سے پہلے سنت موٴکدہ ہے، دو رکعت نماز جمعہ یہ فرض ہے، اس کے بعد چار رکعت طرفین (امام ابوحنیفہ اور امام محمد رحمہما اللہ) کے نزدیک اور چھ رکعت امام ابویوسف رحمہ اللہ کے نزدیک سنت موٴکدہ ہے اور یہی قول راجح ہے، آخر میں دو رکعت نفل ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
+917086592261
جواب نمبر:9⃣6⃣2⃣

Indiaسوال # 9357
جمعہ کی دو رکعت فرض نماز سے پہلے جو چاررکعت سنت پڑھی جاتی ہے اس کی نیت کیسے کی جائے گی؟ اور وہ ظہر کی سنت ہوگی یا جمعہ کی ہوگی؟ اور دو رکعت فرض کے بعد کتنی رکعت سنت پڑھی جائے گی؟ اوراس کی ترتیب کیا ہوگی؟ اورنیت جوکی جائے گی وہ ظہر کی سنت کی کی جائے گی یا اورکوئی؟ تفصیل کے ساتھ اور جلدی جواب دیں مہربانی ہوگی۔ (۲) زید کو دس سورتیں یاد ہیں لیکن وہ تہجد کی نماز اس طرح پڑھتا ہے کہ پہلی رکعت میں دس مرتبہ قل ہو اللہ پڑھتا ہے پھر دوسری رکعت میں نومرتبہ یہی سورت پڑھتا ہے،پھر سلام پھیر دیتا ہے۔ اس کے بعد پھر دو رکعت کی نیت کرتا ہے اور پہلی رکعت میں نو مرتبہ یہی سورت پڑھتاہے اور اس کے بعددوسری رکعت میں آٹھ مرتبہ یہی سورت پڑھتاہے، تو کیا ایسا کرنا اس کے لیے جائز ہے اور اس کی نماز ہوجاتی ہے؟ جلدی جواب دیں مہربانی ہوگی؟
Published on: Dec 28, 2008 جواب # 9357
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی: 2487=403/ ب



جمعہ کے دن سے پہلے دو رکعت تحیة المسجد پڑھیں، یہ مستحب ہے۔ اس کے بعد چار رکعت سنت جمعہ کی نیت سے پڑھیں یعنی اس طرح نیت کریں کہ میں جمعہ کی چار رکعت سنت قبلیہ پڑھتا ہوں اللہ کے واسطے، اور نماز جمعہ کے بعد چار رکعت سنت بعدیہ جمعہ کی نیت سے پڑھئے پھر دو رکعت اور سنت کی نیت سے پڑھیے مفتی بہ قول کے مطابق جمعہ کے بعد چھ رکعت سنت ہے، پہلے چار بعد میں دو رکعت۔

(۲) جس طرح آپ پڑھ رہے ہیں یہ بھی نوافل میں درست ہے، لیکن جب آپ کو دس سورتیں یاد ہیں تو ہررکعت میں ۲-۲ سورتیں پڑھ لیا کریں، یا ۵-۵ سورتیں پڑھ لیا کریں۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

https://t.me/jamashuda
+917086592261
جواب نمبر:0⃣7⃣2⃣

Sawal
Agar tanhai me orat bager duptte ke wazu kare to wazu hoga ky...


وضو کے وقت عورت کے سر کا ننگا رہنا
سوال:
کیا وضو کرتے وقت عورت کا سر پر دوپٹہ اوڑھنا ضروری ہے؟
جواب:
 عورت کو حتی الوسع سر ننگا نہیں کرنا چاہئے، مگر وضو ہوجائے گا۔

واللہ اعلم

آپ کے مسائل اور انکا حل

محمد امیر الدین حنفی دیوبندی

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
+917086592261
جواب نمبر:1⃣7⃣2⃣

عورت کے لئے محض کہنی کھلنا ناقض وضو نہیں 
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ایک عورت نے وضو کیا، پھر کچھ دیر کے بعد اس عورت کی  کہنی تین مرتبہ سبحان اﷲ کہنے کے وقت تک کھلی رہی، تو اب سوال یہ ہے کہ اس عورت کا وضو باقی ہے یاٹوٹ گیا؟ کیا وہ عورت اس وضو سے نماز پڑھ سکتی ہے یادوبارہ اس کو نیا وضو کرنا ہوگا؟ 

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: محض کہنی کھلنے سے عورت کا وضو نہیں ٹوٹتا؛ لہٰذا وہ اسی وضو سے نماز پڑھ سکتی ہے۔ 

مستفاد: سئل رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ما الحدث؟ فقال: ما یخرج من السبیلین۔ (نصب الرایۃ ۱؍۸۳)

فقط واﷲ تعالیٰ اعلم 

کتاب النوازل

محمد امیر الدین حنفی دیوبندی

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
صحیح مشورہ دینے کیلئے👇
+917086592261
جواب نمبر:2⃣7⃣2⃣

حلال جانور کی سات مکروہ چیزیں

سوال:
گزارش ہے کہ کپورے حرام ہیں، اس کی کیا وجوہ ہیں؟

جواب:
حلال جانور کی سات چیزیں مکروہِ تحریمی ہیں:

۱:-بہتا ہوا خون۔ ۲:-غدود۔ ۳:-مثانہ۔ ۴:-پتہ۔

۵:-نر کی پیشاب گاہ۔ ۶:-مادہ کی پیشاب گاہ۔ ۷:-کپورے۔

اوّل الذکر کا حرام ہونا تو قرآنِ کریم سے ثابت ہے، بقیہ اشیاء طبعاً خبیث ہیں، اس لئے ”ویحرم علیھم الخبائث“ کے عموم میں یہ بھی داخل ہیں۔ نیز ایک حدیث شریف میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان سات چیزوں کو ناپسند فرماتے تھے۔
(مصنف عبدالرزاق ج:۴ ص:۵۳۵، مراسیل ابی داوٴد ص:۱۹، سننِ کبریٰ بیہقی ج:۱۰ ص:۷)

آپ کے مسائل اور انکا حل


INDIA سوال # 146427
جانور کے کون کون سے اعضاء کھانا حرام ہے ؟
Published on: Nov 28, 2016 جواب # 146427
بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 205-149/H=2/1438


سات اجزاء کا کھانا حلال مذبوحہ جانور کے ممنوع و مکروہ ہے اور ان میں سے بہتا خون حرام قطعی ہے یکرہ تحریما علی الاوجہ من الشاة سبعة اشیاء وہو الفرج، والخصیہ، والمثانة، والذکر، والغدة، والمرارة، والدم المسفوح للاثر الوارد فی کراہة ذلک لکن فی عد الدم من المکروہ تسامح اھ ج: ۲/۷۴۳قال ابوحنیفة رحمہ اللہ تعالیٰ الدم حرام واکرہ الستة اھ زیلعی: ۶/۶۶۶وہ سات اجزاء یہ ہیں: (۱) مادہ کی فرج۔ (۲) خصیہ ۔ (۳) مثانہ یعنی پیشاب کی تھیلی۔ (۴) نر کا ذکر۔ (۵) غدود۔ (۶) پتّہ یعنی جس تھیلی میں کڑوا پانی رہتا ہے۔ (۷) دم مسفوح جو حرامِ قطعی ہے بقیہ اول الذکر چھ اجزاء مکروہ تحریمی ہیں۔


واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

محمد امیر الدین حنفی دیوبندی

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


+917086592261
جواب نمبر:3⃣7⃣2⃣

جھینگا حنفیہ کے نزدیک مکروہِ تحریمی ہے۔

سوال:
جنگ میں آپ کے مسائل کے عنوان کے تحت ایک مسئلہ دریافت کیا گیا اور اس کا جواب بھی جنگ میں شائع ہوا، وہ مسئلہ نیچے لکھا جاتا ہے، سوال اور جواب دونوں حاضرِ خدمت ہیں، آپ مسئلے کی صحیح نوعیت سے راقم الحروف کو مطلع فرمائیں تاکہ تشویش ختم ہو، یہاں جو لوگ اُلجھن میں ہیں ان کی تشفی کی جاسکے۔

”سوال:
کیا جھینگا کھانا جائز ہے؟

جواب:
مچھلی کے علاوہ کسی اور دریائی یا سمندری جانور کا کھانا جائز نہیں، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جھینگا مچھلی کی قسم نہیں ہے، اگر یہ صحیح ہے تو کھانا جائز نہیں۔“

عوام الناس ”اگر“ اور ”مگر“ میں نہیں جاتے، کیا ابھی تک علماء کو تحقیق نہیں ہوئی کہ جھینگے کی نوعیت کیا ہے؟ یا تو صاف کہہ دیا جائے کہ یہ مچھلی کی قسم نہیں ہے، اس لئے کھانا جائز نہیں، یا اس کے برعکس۔ عوام الناس، علماء کے اس قسم کے بیان سے اسلام اور مسئلے مسائل سے متنفر ہونے لگتے ہیں اور علماء کا یہ رویہ مسئلے مسائل کے سلسلے میں گول مول بہتر نہیں ہے۔ میں نے لغت میں دیکھا تو جھینگے کی تعریف مچھلی کی ایک قسم ہی لکھی گئی ہے۔ آخر علماء کیا آج تک یہ نہیں طے کر پائے کہ یہ مچھلی کی قسم ہے کہ نہیں؟ مفتی محمد شفیع صاحب، مولانا یوسف بنوری، مولانا شبیر احمد عثمانی اور دُوسرے علمائے حق کا کیا رویہ رہا؟ کیا انہوں نے جھینگا کھایا یا نہیں؟ اور اس کے  متعلق کیا فرمایا؟ اُمید ہے آپ ذرا تفصیل سے کام لیتے ہوئے اس مسئلے پر روشنی ڈالیں گے۔

جواب:
صورتِ مسئولہ میں مچھلی کے سوا دریا کا اور کوئی جانور حنفیہ کے نزدیک حلال نہیں۔ جھینگے کی حلت و حرمت اس پر موقوف ہے کہ یہ مچھلی کی جنس میں سے ہے یا نہیں؟ ماہرینِ حیوانات نے مچھلی کی تعریف میں چار چیزیں ذکر کی ہیں۔ ۱:-ریڑھ کی ہڈی، ۲:-سانس لینے کے گلپھڑے، ۳:-تیرنے کے پنکھ، ۴:-ٹھنڈا خون۔ چوتھی علامت عام فہم نہیں ہے، مگر پہلی تین علامات کا جھینگے میں نہ ہونا ہر شخص جانتا ہے۔ اس لئے ماہرینِ حیوانات سب اس اَمر پر متفق ہیں کہ جھینگے کا مچھلی سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ یہ مچھلی سے بالکل الگ جنس ہے۔ جبکہ جواہر اخلاطی میں تصریح ہے کہ ایسی چھوٹی مچھلیاں سب مکروہِ تحریمی ہیں، یہی صحیح تر ہے۔



”حیث قال السمک الصغار کلھا مکروھة التحریم ھو الأصح ․․․․ الخ۔“ (جواہر اخلاطی)



اس لئے جھینگا حنفیہ کے نزدیک مکروہِ تحریمی ہے۔

واللہ اعلم


آپ کے مسائل اور انکا حل


محمد امیر حنفی دیوبندی

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail

+917086592261
جواب نمبر:4⃣7⃣2⃣

جھینگا کھانا اور اس کا کاروبار کرنا

سوال:
جھینگا کھانا یا اس کا کاروبار کرنا جائز ہے یا نہیں؟ کیونکہ بہت سے لوگ اسے کھانے اور کاروبار کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

جواب:
 جھینگا مچھلی ہے یا نہیں؟ یہ مسئلہ اختلافی رہا ہے، جن حضرات نے مچھلی کی  ایک قسم سمجھا انہوں نے کھانے کی اجازت تو دی البتہ احتیاط اسی میں بتلائی کہ نہ کھایا جائے، اب جدید تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ جھینگا مچھلی نہیں  ہے۔ امامِ اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک دریائی جانوروں میں سے صرف مچھلی اپنی تمام قسموں کے ساتھ حلال ہے، اور چونکہ جھینگا مچھلی نہیں، اس لئے امامِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک کھانا جائز نہیں ہوگا، البتہ بطور دوا کھانے میں یا اس کی تجارت میں گنجائش ہوگی کیونکہ مسئلہ اجتہادی ہے، امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نزدیک کھانا حلال ہے۔ اب مسئلہ یہ ہوا کہ جھینگا کھایا تو نہ جائے البتہ اس کی تجارت میں گنجائش ہے۔

واللہ اعلم

آپ کے مسائل اور انکا حل

محمد امیر الدین حنفی دیوبندی

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail

+917086592261
جواب نمبر:5⃣7⃣2⃣

دریائی جھینگا حلال ہے؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ایضاح المسائل کے مطالعہ سے معلوم ہوا کہ دریائی جھینگا حلال ہے، اَب اِس کی دو قسمیں ہیں: ایک کالا، دوسرا سفید۔ کیا دونوں حلال ہیں یا کچھ فرق ہے؟

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اکثر علماء کے نزدیک دریائی جھینگے کی سبھی اقسام حلال ہیں۔ (امداد الفتاویٰ / کھانے پینے کی حلال وحرام ومکروہ ومباح چیزوں کا بیان ۴؍۱۰۳-۱۰۴ زکریا)
تاہم اختلاف علماء کی وجہ سے کوئی شخص اُسے کھانے سے پرہیز کرے تو بات الگ ہے۔

الروبیان: ہو سمک صغیرٌ جدًا أحمر۔ (حیاۃ الحیوان ۱؍۴۷۳)
الدود الذي یقال لہ ’’جھینگا‘‘ حرام عند بعض العلماء؛ لأنہ لا یشبہ السمک، فإنما یباح عندنا من صید البحر أنواع السمک، وہٰذا لا یکون کذٰلک، وقال بعضہم: حلال؛ لأنہ یسمی باسم السمک۔ (مجموعۃ الفتاویٰ / کتاب الأکل والشرب ۲؍۲۹۷ کراچی)
وأما الروبیان أو الإربیان الذي یسمی في اللغۃ المصریۃ: ’’جمبري‘‘ وفي اللغۃ الأردیۃ: ’’جھینگا‘‘ وفي الإنکلیزیۃ: ''SHRIMP" أو "PRAWN" فلا شک في حلتہ عند الأئمۃ الثلاثۃ؛ لأن جمیع حیوانات البحر حلال عندہم۔ وأما عند الحنفیۃ، فیتوقف جوازہ علی أنہ سمک أولا، فذکر غیر واحد من أہل اللغۃ أنہ نوع من السمک، قال ابن درید في جمہرۃ اللغۃ: ۳؍۴۱۴: وإربیان ضربٌ من السمک، وأقرہ في القاموس وتاج العروس: ۱؍۱۴۶۔ وکذٰلک قال الدمیري في حیاۃ الحیوان: ۱؍۴۷۳: الروبیان ہو سمک صغیرٌ جدًا أحمر۔ وأفتی غیر واحد من الحنفیۃ بجوازہ بنائً علی ذٰلک، مثل صاحب الحمادیۃ۔
وقال شیخ مشایخنا التہانويؒ في إمداد الفتاویٰ: ۴؍۱۰۳: لم یثبت بدلیل أن للسمک خواصٌ لازمۃٌ تنتفی السمکیۃُ بانتفائہا، فالمدار علی قول العدول المبصرین … وإن حیوۃ الحیوان‘‘ للدمیري الذي یبحث عن ماہیات الحیوان یصرّ بأن الروبیان ہو سمک صغیر … فإني مطمئن إلی الآن بأنہ سمک - ولعل اللّٰہ یحدث بعد ذٰلک أمرًا …۔
ولکن خبراء علم الحیوان الیوم لا یعتبرونہ سمکًا، ویذکرونہ کنوع مستقل، ویقولون: إنہ من أسرۃ السرطان دون السمک۔ وتعریف السمک عند علماء الحیوان - علی ما ذکر في دائرۃ المعارف البریطانیۃ: ۹؍۳۰۵، طبع ۱۹۵۰م - ہو حیوان ذو عمود فقری، یعیش في الماء ویسبح بعوّاماتہ، ویتنفس بغلصمتہ، وإن الإربیان لیس لہ عمود فقری، ولا یتنفس بغلصمتہ۔ وإن علم الحیوان الیوم یقسم الحیوانات إلی نوعین کبیرین: الأول: الحیوانات الفقریۃ (VERTEBRATE)، وہي التي لہا عمود فقري في الظہر، ولہا نظام عصبي یعمل بواسطتہ۔ والثاني: الحیوانات غیر الفقریۃ (INVERTEBRATE) التي لیس لہا عمود فقري، وإن السمک یقع في النوع الأول، والإربیان في النوع الثاني۔
الذي ذکر في دائرۃ المعارف ۶؍۳۶۳، طبع ۱۹۸۸: أن التسعین في المائۃ من الحیوانات الحیۃ تتعلق بہٰذا النوع، وأنہ یحتوي علی الحیوانات القشریۃ والحشرات، وکذٰلک عرّف البستاني السمک في دائرۃ المعارف ۱۰؍۶۰، بقولہ: ’’حیوان من خلق الماء، واٰخر رتبۃ الحیوانات الفقریۃ، دمہ أحمر، یتنفس في الماء بواسطۃ خیاشیم، ولہ کسائر الحیوانات الفقریۃ ہیکل عظمی‘‘۔ وکذٰلک محمد فرید وجدي عرّفہ بقولہ: ’’السمک من الحیوانات البحریۃ، وہو یکوّن الرتبۃ الخامسۃ من الحیوانات الفقریۃ، دمہا بارد أحمر، تتنفس من الہواء الذائب في الماء بواسطۃ خیاشیمہا، وہي محلاۃ بأعضاء تمکنہا من المعیشۃ دائمًا، وتعوم فیہ بواسطۃ عوّامات، ولبعضہا عوامۃ واحدۃ … الخ‘‘۔
وإن ہٰذہ التعریفات لا تصدق علی الإربیان، وإنہ ینفصل عن السمک بأنہ لیس من الحیوانات الفقریۃ، فلو أخذنا بقول خبراء علم الحیوان، فإنہ لیس سمکًا، فلا یجوز علی أصل الحنفیۃ۔ ولکن السوال ہنا: ہل معتبر في ہٰذا الباب التدقیق العلمي في کونہ سمکًا، أو یعتبر العرف المتفاہم بین الناس؟ ولا شک أن عند اختلاف العرف یعتبر عرف أہل العرب؛ لأن استثناء السمک من میتات البحر، إنما وقع باللغۃ العربیۃ،  وقد أسلفنا أن أہل اللغۃ أمثال ابن درید، والفیروز آبادي، والزبیدي، والدمیري کلہم ذکروا أنہ سمک۔ فمن أخذ بحقیقۃ الإربیان حسب علم الحیوان، قال: بمنع أکلہ عند الحنفیۃ، ومن أخذ بعرف أہل العرب، قال: بجوازہ۔
وربما یرجع ہٰذا القول بأن المعہود من الشریعۃ في أمثال ہٰذہ المسائل الرجوع إلی العرف المتفاہم بین الناس، دون التدقیق في الأبحاث النظریۃ، فلا ینبغي التشدید في مسئلۃ الإربیان عند الإفتاء، ولا سیما في حالۃ کون المسئلۃ مجتہدًا فیہا من أصلہا، ولا شک أنہ حلال عند الأئمۃ الثلاثۃ، وأن اختلاف الفقہاء یورث التخفیف کما تقرر في محلہ، غیر أن الاجتناب عن أکلہ أحوط وأولیٰ وأحریٰ، واللّٰہ سبحانہ أعلم۔ (تکملۃ فتح الملہم، کتاب الصید والذبائح / باب إباحۃ میتات البحر ۳؍۵۱۴۰۵۱۳ مکتبۃ دار العلوم کراچی)

فقط واللہ تعالیٰ اعلم

کتاب النوازل

محمد امیر الدین حنفی دیوبندی

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہ
جواب نمبر:6⃣7⃣2⃣

کیا جھینگا حلال ہے ؟
(سوال:
جھینگا مچھلی تازی یا سوکھی یا اور کوئی مچھلی سوکھی ہوئی جس میں کچھ بدبو ہو کھاسکتے ہیں یا نہیں ؟ کھاری مچھلی یعنی مچھلی پکڑ کر اور شکم چاک کرکے آلائش نکال کر نمک بھر کر اور نمک میں مل کر سکھاتے ہیں جس میں حد سے زیادہ بدبو ہوتی ہے وہ مچھلی مدراس سے آتی ہے کھاسکتے ہیں یا نہیں ؟

جواب:
جھینگا مچھلی مختلف فیہ ہے ،جو علماء اسے مچھلی کی قسم سمجھتے ہیں وہ حلال کہتے ہیں سوکھی مچھلی کھانی جائز ہے (۲) کھاسکتے ہیں جو کھاسکے اور بدبو سے سے متاثر نہ ہو اس کے لئے حلال ہے (۳)

(۲) ولا یحل حیوان مائی الا السمک ( الدر المختار مع الرد ۶/۳۰۶)
(۳) واللحم اذا انتن یحرم اکلہ والسمن واللبن والزیت والدہن اذا انتن لا یحرم ( ہندیۃ ۵/۳۹ ۳کوئٹہ )

واللہ اعلم

کفایت المفتی

محمد امیر الدین حنفی دیوبندی ۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ یے۔


جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
+917086592261
جواب نمبر:7⃣7⃣2⃣

Indiaسوال # 57741
میں چنئی میں انجینئرنگ کی پڑھائی کررہاہوں، میرے کالج میں لڑکوں کے لئے ڈریس کوڈ داڑھی منڈوانا، جوتے پہننا اور نارمل کپڑا پہننا ہے، شروع میں میں نے داڑھی رکھ لی تھی مگر جب میرے امتحان کا وقت آگیا تو میرے صدر شعبہ نے مجھے داڑھی منڈوانے پر مجبور کیا اور میں نے منڈوادی ، داڑھی رکھنے کے لیے کالج اجازت نہیں دیتاہے، لیکن اب میں اچھا محسوس نہیں کررہا ہوں، اور میں نے سنا ہے کہ داڑھنی نہ رکھنے میں بڑا گناہ ہے اور کالج مجھے داڑھی رکھنے کی اجازت نہیں دتاہے، لیکن میں نے دیکھا ہے کہ ہندو طلبہ چالیس دن تک جوتے نہیں پہنتے ہیں جب ان کے یاترا کا وقت آتاہے، کالج ہندو طلبہ کو جوتے نہ پہننے کی اجازت دیتاہے مگر داڑھی رکھنے کی اجازت نہیں دیتاہے، نیز میں یہ کالج چھوڑ بھی نہیں سکتاہوں، کیوں کہ میرے دادانے مجھے یہاں جوائن کرایاہے، اگر میں کالج چھوڑ دیتاہوں تو مجھے آئندہ تین سال کی فیس بھرنی پڑے گی ، مجھے کیا کرنا چاہئے؟اس بارے میں میری مدد کریں۔کیا میں اپنی پڑھائی پوری ہونے تک داڑھی منڈواتا رہوں۔ میں نے سنا ہے کہ ہم قیامت کے دن لوگوں کو گواہ بنا سکتے ہیں، کیا میں ان لوگوں اس صورت حال میں رکھ سکتاہوں تاکہ میں گناہ سے آزاد ہوجاؤں؟
Published on: May 23, 2017 جواب # 57741
بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 490-490/M=5/1436-U


جب کالج کے ضابطے میں جوتا پہننا بھی شامل ہے اور ہندو طلبہ کو یاترا کے وقت کالج والے جوتا نہ پہننے کی اجازت دیتے ہیں تو صرف مسلم طلبہ کے ڈاڑھی رکھنے پر اعتراض کیوں؟ آپ کو داڑھی نہیں منڈوانی چاہیے تھی، آپ کالج کی انتظامیہ سے مل کر پوری قوت کے ساتھ اپنی بات رکھیں کہ ڈاڑھی ہماری شریعت کا حصہ ہے، آپ مسلم پرسنل لاء میں مداخلت نہ کریں نیز جمعیة علمائے ہند کے ذمہ داروں تک شکایت پہنچائیں وہ حضرات اس بارے میں موٴثر طریقے پر کوشش کرسکتے ہیں۔


واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

https://t.me/jamashuda
+917086592261