جواب نمبر:6⃣4⃣2⃣
نماز میں مونچھوں پر ہاتھ پھیرنا فعلِ عبث ہے
سوال:
ہمارے علاقے میں زیادہ تر پولیس والے ہیں، اور عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جب بھی وہ باجماعت نماز ادا کرتے ہیں تو زیادہ تر مونچھوں پر ہاتھ پھیرتے رہتے ہیں، اب یہ بتائیں کہ نماز میں مونچھوں پر ہاتھ پھیرنے سے نماز پوری ہوجاتی ہے یا نہیں؟
جواب:
مونچھوں پر ہاتھ پھیرنا فعلِ عبث ہے، اس سے نماز مکروہ ہوجاتی ہے۔
واللہ اعلم
آپ کے مسائل اور انکا حل
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
نماز میں مونچھوں پر ہاتھ پھیرنا فعلِ عبث ہے
سوال:
ہمارے علاقے میں زیادہ تر پولیس والے ہیں، اور عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جب بھی وہ باجماعت نماز ادا کرتے ہیں تو زیادہ تر مونچھوں پر ہاتھ پھیرتے رہتے ہیں، اب یہ بتائیں کہ نماز میں مونچھوں پر ہاتھ پھیرنے سے نماز پوری ہوجاتی ہے یا نہیں؟
جواب:
مونچھوں پر ہاتھ پھیرنا فعلِ عبث ہے، اس سے نماز مکروہ ہوجاتی ہے۔
واللہ اعلم
آپ کے مسائل اور انکا حل
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
Telegram
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
"جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند" میں روزانہ ایک دو مسئلہ مدلل ومزین انداز میں بطورِ استفادہ آپ کو ملے گا،
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1
جواب نمبر:7⃣4⃣2⃣
عورت کے مرتد ہوجانے کی صورت میں مہر کاحکم
سوال:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ۔
عورت مرگئی یا مرتد ہوگئی یاطلاق دیدی ہر صورت میں مرد کے ذمہ مہر رہ گیا عورت کے والد پر مردکا زیور ہے اس صورت میں مہر کو اس زیور میںمجرے لگانا ہے یہ کیساہے مجرے لگے گایاکہ نہیں؟
اگرمرتدہو نے کے بعد پھر اپنے ماں باپ کے گھر آگئی تو کیاحکم ہے؟
مرتد ہونے سے قبل دولڑکے ایک لڑکی خاوند عورت کا والد اور والدہ اور تین بھائی موجود ہیں مہر کس کوکتنا ملے گا۔
الجـواب وباﷲ التـوفـیـق:
جواب: مذکورہ صورت میںمرد کے ذمہ مہر کی ادائیگی واجب رہے گی مرد کا زیور جوعورت کے باپ کے پاس ہے اگرمرد نے وہ زیور بیوی کو ہبہ نہیںکیا ہے نہ عرفاً نہ صراحتاً تو مہر میں مجرا ہوگا ۔
(۳)پھرجب اپنے باپ کے گھر آگئی تو شوہر اوّل کو وہ عورت ملے گی بشرطیکہمرتد ہونے سے پیشتر طلاق بائن یامغلظہ نہ واقع ہوچکی ہواور اگر مرتد ہونے سے قبل طلاق بائن یاطلا ق مغلظہ واقع ہوچکی تھی تو عورت آزاد رہے گی جس مرد سے چاہے نکاح کرے اور جس نے طلاق دیدی ہے اس سے مہر وصول کرسکتی ہے۔
(تنبیہ)خوب یادرہے کہ عورت کے مرتد ہونے سے حلالہ ساقط نہیںہوتا ہے اور مہر کی بھی مستحق رہتی ہے اس لیے کہ مفتیٰ بہ قول میں عورت کےمرتد ہونے سے نکاح نہیںٹوٹتا۔
جب ہر صورت میں مہر کی مستحق ہے تومہر خود لے گی ابھی تقسیم کا کوئی سوال ہی نہیں ہے۔
فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔
نظام الفتاوی
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
عورت کے مرتد ہوجانے کی صورت میں مہر کاحکم
سوال:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ۔
عورت مرگئی یا مرتد ہوگئی یاطلاق دیدی ہر صورت میں مرد کے ذمہ مہر رہ گیا عورت کے والد پر مردکا زیور ہے اس صورت میں مہر کو اس زیور میںمجرے لگانا ہے یہ کیساہے مجرے لگے گایاکہ نہیں؟
اگرمرتدہو نے کے بعد پھر اپنے ماں باپ کے گھر آگئی تو کیاحکم ہے؟
مرتد ہونے سے قبل دولڑکے ایک لڑکی خاوند عورت کا والد اور والدہ اور تین بھائی موجود ہیں مہر کس کوکتنا ملے گا۔
الجـواب وباﷲ التـوفـیـق:
جواب: مذکورہ صورت میںمرد کے ذمہ مہر کی ادائیگی واجب رہے گی مرد کا زیور جوعورت کے باپ کے پاس ہے اگرمرد نے وہ زیور بیوی کو ہبہ نہیںکیا ہے نہ عرفاً نہ صراحتاً تو مہر میں مجرا ہوگا ۔
(۳)پھرجب اپنے باپ کے گھر آگئی تو شوہر اوّل کو وہ عورت ملے گی بشرطیکہمرتد ہونے سے پیشتر طلاق بائن یامغلظہ نہ واقع ہوچکی ہواور اگر مرتد ہونے سے قبل طلاق بائن یاطلا ق مغلظہ واقع ہوچکی تھی تو عورت آزاد رہے گی جس مرد سے چاہے نکاح کرے اور جس نے طلاق دیدی ہے اس سے مہر وصول کرسکتی ہے۔
(تنبیہ)خوب یادرہے کہ عورت کے مرتد ہونے سے حلالہ ساقط نہیںہوتا ہے اور مہر کی بھی مستحق رہتی ہے اس لیے کہ مفتیٰ بہ قول میں عورت کےمرتد ہونے سے نکاح نہیںٹوٹتا۔
جب ہر صورت میں مہر کی مستحق ہے تومہر خود لے گی ابھی تقسیم کا کوئی سوال ہی نہیں ہے۔
فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔
نظام الفتاوی
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
Telegram
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
"جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند" میں روزانہ ایک دو مسئلہ مدلل ومزین انداز میں بطورِ استفادہ آپ کو ملے گا،
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1
جواب نمبر:8⃣4⃣2⃣
indiaسوال # 146994
غیر مقلدین فقہ حنفی کے اس مسئلے پہ اعتراض کرتے ہیں اور الزام لگاتے ہیں کہ یہ مسئلہ حدیث کے خلاف ہے ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو شخص اپنا دین بدل دے اسکو قتل کردو،(بخاری:کتاب الجھاد والسیر،باب لایعذب بعذاب اللہ،حدیث#3017]فقہ حنفی(ولاتقتل المرتدة بل تحبس حتی تسلم)اگر عورت مرتد ہوجائے تو قتل نہیں قید کیاجائے گا (کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنااحناف کانصب العین ہے ) حتی کہ اسلام لے آئے[ فتاوی عالمگیری:ج2 ص277،سطر16،کتاب السیر،باب احکام المرتدین)۔برائے مہربانی اسکا مدلل جواب دیں۔
Published on: Jan 4, 2017 جواب # 146994
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 270-48/D=4/1438
دار الاسلام میں اگر کوئی عورت مرتد ہوجائے تو اس کو قید کرکے اسلام پر مجبور کیا جائے گا، قتل نہیں کیا جائے گا الا یہ کہ امام اس کو قتل کرنے میں مصلحت سمجھے قال فيالدر: والمرتدة․․․ تحبس أبدًا ․․․ حتی تسلم ولا تقتل (الدر المختار مع ردالمحتار ۶/ ۳۹۹ط زکریا) لو أمرالإمام بقتل بعض من نساء أہل الحرب مرتدة کانت أو غیرہا لمصلحة فلا بأس بہ (تفسیر مظہری ۶/ ۳۲۹ط رشیدیہ) اور یہ بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین سے ثابت ہے چنانچہ (۱) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: وجدت امرأة مقتولة في بعض مغازي رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فنہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن قتل النساء والصبیان (بخاری رقم ۳۰۱۵) اس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے اگرچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ایک خاص موقع کا ہے؛ لیکن العبرة لعموم اللفظ لا لخصوص المورد کے قاعدہ کی رو سے یہ مرتدہ کو بھی شامل ہے۔ (۲) حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی نصیحتیں کی تھیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ أیما امرأة ارتدت عن الإسلام فادعہا فإن تابت فاقبل منہا وإن أبت استتبہا (معجم کبیر للطبرانی: ۲۰/ ۵۳ط قاہرہ) اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل کا حکم نہیں فرمایا؛ بلکہ اس سے توبہ کے مطالبہ کا حکم فرمایا (۳) حضرت ابن عباس نے فرمایا المرتدة عن الاسلام تحبس ولا تقتل (دار قطنی ۴/ ۱۲۷ط: رسالة) مذکورہ احادیث وآثار کے علاوہ اور بھی بہت سی احادیث وآثار ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مرتدہ کا حکم حبس ہے نہ کہ قتل، انہی احادیث وآثار کی بنیاد پر حنفیہ نے مرتدہ کو قید کرکے توبہ پر مجبور کرنے کا حکم دیا ہے اور قتل کا حکم نہیں دیا ہے جیسا کہ درمختار کے حوالہ سے گذرچکا، رہی استفتاء میں مذکور حدیث تو وہ مردوں کے ساتھ خاص ہے اور خصوصیت کی دلیل مذکورہ احادیث وآثار ہیں نیز جن احادیث و آثار میں مرتدہ کے قتل کا حکم آیا ہے یا تو وہ ضعیف ہیں یا مصلحت پر مبنی ہیں جس کے ہم بھی قائل ہیں جیسا کہ تفسیر مظہری کے حوالہ سے گذرچکا ہے۔ تفصیل کے لیے مطالعہ فرمائیں نصب الرایہ ۳/ ۴۵۶تا ۴۵۹، فتح القدیر ۶/ ۷۲تا ۷۶، تفسیر مظہری ۶/ ۳۲۶تا ۳۲۸، نیز مطالعہ فرمائیں فتاوی عالمگیری پر اعتراضات کے جوابات۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
indiaسوال # 146994
غیر مقلدین فقہ حنفی کے اس مسئلے پہ اعتراض کرتے ہیں اور الزام لگاتے ہیں کہ یہ مسئلہ حدیث کے خلاف ہے ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو شخص اپنا دین بدل دے اسکو قتل کردو،(بخاری:کتاب الجھاد والسیر،باب لایعذب بعذاب اللہ،حدیث#3017]فقہ حنفی(ولاتقتل المرتدة بل تحبس حتی تسلم)اگر عورت مرتد ہوجائے تو قتل نہیں قید کیاجائے گا (کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنااحناف کانصب العین ہے ) حتی کہ اسلام لے آئے[ فتاوی عالمگیری:ج2 ص277،سطر16،کتاب السیر،باب احکام المرتدین)۔برائے مہربانی اسکا مدلل جواب دیں۔
Published on: Jan 4, 2017 جواب # 146994
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 270-48/D=4/1438
دار الاسلام میں اگر کوئی عورت مرتد ہوجائے تو اس کو قید کرکے اسلام پر مجبور کیا جائے گا، قتل نہیں کیا جائے گا الا یہ کہ امام اس کو قتل کرنے میں مصلحت سمجھے قال فيالدر: والمرتدة․․․ تحبس أبدًا ․․․ حتی تسلم ولا تقتل (الدر المختار مع ردالمحتار ۶/ ۳۹۹ط زکریا) لو أمرالإمام بقتل بعض من نساء أہل الحرب مرتدة کانت أو غیرہا لمصلحة فلا بأس بہ (تفسیر مظہری ۶/ ۳۲۹ط رشیدیہ) اور یہ بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین سے ثابت ہے چنانچہ (۱) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: وجدت امرأة مقتولة في بعض مغازي رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فنہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن قتل النساء والصبیان (بخاری رقم ۳۰۱۵) اس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے اگرچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ایک خاص موقع کا ہے؛ لیکن العبرة لعموم اللفظ لا لخصوص المورد کے قاعدہ کی رو سے یہ مرتدہ کو بھی شامل ہے۔ (۲) حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی نصیحتیں کی تھیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ أیما امرأة ارتدت عن الإسلام فادعہا فإن تابت فاقبل منہا وإن أبت استتبہا (معجم کبیر للطبرانی: ۲۰/ ۵۳ط قاہرہ) اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل کا حکم نہیں فرمایا؛ بلکہ اس سے توبہ کے مطالبہ کا حکم فرمایا (۳) حضرت ابن عباس نے فرمایا المرتدة عن الاسلام تحبس ولا تقتل (دار قطنی ۴/ ۱۲۷ط: رسالة) مذکورہ احادیث وآثار کے علاوہ اور بھی بہت سی احادیث وآثار ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مرتدہ کا حکم حبس ہے نہ کہ قتل، انہی احادیث وآثار کی بنیاد پر حنفیہ نے مرتدہ کو قید کرکے توبہ پر مجبور کرنے کا حکم دیا ہے اور قتل کا حکم نہیں دیا ہے جیسا کہ درمختار کے حوالہ سے گذرچکا، رہی استفتاء میں مذکور حدیث تو وہ مردوں کے ساتھ خاص ہے اور خصوصیت کی دلیل مذکورہ احادیث وآثار ہیں نیز جن احادیث و آثار میں مرتدہ کے قتل کا حکم آیا ہے یا تو وہ ضعیف ہیں یا مصلحت پر مبنی ہیں جس کے ہم بھی قائل ہیں جیسا کہ تفسیر مظہری کے حوالہ سے گذرچکا ہے۔ تفصیل کے لیے مطالعہ فرمائیں نصب الرایہ ۳/ ۴۵۶تا ۴۵۹، فتح القدیر ۶/ ۷۲تا ۷۶، تفسیر مظہری ۶/ ۳۲۶تا ۳۲۸، نیز مطالعہ فرمائیں فتاوی عالمگیری پر اعتراضات کے جوابات۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:9⃣4⃣2⃣
سوال # 35537
جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ مرتد واجب القتل ہے تو کیا عام مسلمان کسی مرتد کو دیکھ کر قتل کرسکتا ہے، یا پھر یہ ذمہ داری حکومت وقت کی ہے اور اگر حکومت وقت اپنی ذمہ داری انجام نہ دے تو کیا ساری امت اس گناہ میں شامل ہوگی؟
Published on: Nov 21, 2011 جواب # 35537
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی(م): 1838=1838-12/1432
عام مسلمان کو قتل کرنے کی اجازت نہیں، اگر حکومت اپنی ذمے داری نہ نبھائے تو اس بارے میں امت سے مواخذہ نہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سوال # 35537
جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ مرتد واجب القتل ہے تو کیا عام مسلمان کسی مرتد کو دیکھ کر قتل کرسکتا ہے، یا پھر یہ ذمہ داری حکومت وقت کی ہے اور اگر حکومت وقت اپنی ذمہ داری انجام نہ دے تو کیا ساری امت اس گناہ میں شامل ہوگی؟
Published on: Nov 21, 2011 جواب # 35537
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی(م): 1838=1838-12/1432
عام مسلمان کو قتل کرنے کی اجازت نہیں، اگر حکومت اپنی ذمے داری نہ نبھائے تو اس بارے میں امت سے مواخذہ نہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:0⃣5⃣2⃣
Pakistanسوال # 2438
اسلام کو چھوڑ کر جانے والے کے بارے میں قرآن کا کیا حکم ہے؟ کیا وہ واجب القتل ہے؟ تفصیل سے قرآن اور سنت کی روشنی میں جواب دیں۔
Published on: Jan 9, 2008 جواب # 2438
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی: 979/ د= 931/ د
اسلام چھوڑکر مرتد ہونے والے شخص کو تین روز مہلت دی جائے گی، اپنے فیصلہ پر غور کرنے کی، اگر ارتداد سے رجوع کرلیتا ہے فبہا، ورنہ قاضی اسلام اس کے قتل کا حکم جاری کرے گا۔ اور بادشاہ اسلام اس کو نافذ کرے گا۔ اس سزا کے جاری کرنے کا حق بادشاہ اسلام کو ہے۔ ہرکس و ناکس اس سزا کے جاری کرنے کا مکلف نہیں ہے اور نہ ہی سزا جاری کرنا غیربادشاہ کے لیے جائز ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
Pakistanسوال # 2438
اسلام کو چھوڑ کر جانے والے کے بارے میں قرآن کا کیا حکم ہے؟ کیا وہ واجب القتل ہے؟ تفصیل سے قرآن اور سنت کی روشنی میں جواب دیں۔
Published on: Jan 9, 2008 جواب # 2438
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی: 979/ د= 931/ د
اسلام چھوڑکر مرتد ہونے والے شخص کو تین روز مہلت دی جائے گی، اپنے فیصلہ پر غور کرنے کی، اگر ارتداد سے رجوع کرلیتا ہے فبہا، ورنہ قاضی اسلام اس کے قتل کا حکم جاری کرے گا۔ اور بادشاہ اسلام اس کو نافذ کرے گا۔ اس سزا کے جاری کرنے کا حق بادشاہ اسلام کو ہے۔ ہرکس و ناکس اس سزا کے جاری کرنے کا مکلف نہیں ہے اور نہ ہی سزا جاری کرنا غیربادشاہ کے لیے جائز ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:1⃣5⃣2⃣
Pakistanسوال # 1692
قتل مرتد کی وجہ جواز کیا ہے؟ صحیح حدیث کے حوالے سے جواب دیں۔
Published on: Nov 11, 2007 جواب # 1692
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی: 1161/ ب= 1091/ ب
بخاری شریف میں حدیث آئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَنْ بّدَّلَ دِیْنَہ فاقْتلُوہ یعنی جو شخص اپنا دین اسلام بدل کر کفر اختیار کرے اور مرتد ہوجائے اسے قتل کردو۔ اورایک دوسری حدیث المعجم الکبیر للطبرانی میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من بدل دینہ فاقتلوہ إن اللہ لا یقبل توبة عبد کفر بعد إسلامہ یہ دونوں زیلعی: ج۲ ص۱۵۷ میں مذکور ہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
Pakistanسوال # 1692
قتل مرتد کی وجہ جواز کیا ہے؟ صحیح حدیث کے حوالے سے جواب دیں۔
Published on: Nov 11, 2007 جواب # 1692
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی: 1161/ ب= 1091/ ب
بخاری شریف میں حدیث آئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَنْ بّدَّلَ دِیْنَہ فاقْتلُوہ یعنی جو شخص اپنا دین اسلام بدل کر کفر اختیار کرے اور مرتد ہوجائے اسے قتل کردو۔ اورایک دوسری حدیث المعجم الکبیر للطبرانی میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من بدل دینہ فاقتلوہ إن اللہ لا یقبل توبة عبد کفر بعد إسلامہ یہ دونوں زیلعی: ج۲ ص۱۵۷ میں مذکور ہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:2⃣5⃣2⃣
سوال:18987کراچی
اس مسلمان کیلئے کیا سزا ہوگی جو اسلام سے نکل کر کسی دوسری مذہب میں چلا جائے۔ اور دھریہ کیلئے کیا سزا ہے؟
الجواب حامدا ومصلیا:
جو آدمی اسلام کو چھوڑکر نعوذ باللہ مرتد ہوجائے اور باوجود سمجھانے کے وہ باز نہ آئے اور کفر پر رہنے کو ترجیح دے تو ایسا شخص باغی ہے حکومت وقت اور مجاز عدالت کو چاہئے کہ اسکے شکوک وشبہات کو دور کرکے اسے تمام کفریہ عقائد سے توبہ کرائے اور شہادتیں پڑھواکر دوبارہ اسلام میں داخل کرئےاور اگر باوجود سمجھانے کے وہ کفر پرہی مصر رہے تو عدالت ایسے خبیث النفس شخص کو قتل کروا سکتی ہے یہی اسکی سزا ہے۔
کما فی الھندیة:- المرتد عرفا ھو راجح عن دین الاسلام(الی قولہ) اذا ارتدا لمسلم عن الاسلام العیاذ باللہ عرض علیہ الاسلام فان کانت لہ شبھة ابداھا کشفت الا ان العرض علی ما قالو غیر واجب بل مستحب کذا فی فتح القدیر یحبس ثلاث ایام فان اسلم والا قتل واسلامہ ان یاتی بکلمة الشھادة ویتبرا عن الادیان کلھا سوی الاسلام الخ۔253/2
واللہ اعلم
دارالافتاء والقضاء
فتاوی دار العلوم بنوریة العالمیة
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سوال:18987کراچی
اس مسلمان کیلئے کیا سزا ہوگی جو اسلام سے نکل کر کسی دوسری مذہب میں چلا جائے۔ اور دھریہ کیلئے کیا سزا ہے؟
الجواب حامدا ومصلیا:
جو آدمی اسلام کو چھوڑکر نعوذ باللہ مرتد ہوجائے اور باوجود سمجھانے کے وہ باز نہ آئے اور کفر پر رہنے کو ترجیح دے تو ایسا شخص باغی ہے حکومت وقت اور مجاز عدالت کو چاہئے کہ اسکے شکوک وشبہات کو دور کرکے اسے تمام کفریہ عقائد سے توبہ کرائے اور شہادتیں پڑھواکر دوبارہ اسلام میں داخل کرئےاور اگر باوجود سمجھانے کے وہ کفر پرہی مصر رہے تو عدالت ایسے خبیث النفس شخص کو قتل کروا سکتی ہے یہی اسکی سزا ہے۔
کما فی الھندیة:- المرتد عرفا ھو راجح عن دین الاسلام(الی قولہ) اذا ارتدا لمسلم عن الاسلام العیاذ باللہ عرض علیہ الاسلام فان کانت لہ شبھة ابداھا کشفت الا ان العرض علی ما قالو غیر واجب بل مستحب کذا فی فتح القدیر یحبس ثلاث ایام فان اسلم والا قتل واسلامہ ان یاتی بکلمة الشھادة ویتبرا عن الادیان کلھا سوی الاسلام الخ۔253/2
واللہ اعلم
دارالافتاء والقضاء
فتاوی دار العلوم بنوریة العالمیة
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:3⃣5⃣2⃣
سوال:24266لاہور
محترم مفتی صاحب میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ مرد کے مونچوں کے بارے مین اسلام میں کیا احکامات ہے۔۔۔۔۔۔۔۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی مونچوں کے بارے میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا بیان کیا؟انکی مونچوں کو اسلام کا فخر کہا تھا یا کچھ اور؟
الجواب حامدا ومصلیا:
مونچوں کا کتروانا مسنون ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جس طرح مونچیں رکھی ہے وہ بھی شرعا جائز اور درست ہی ہیں لیکن ان کے مونچوں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد تتبع کے باوجود نہیں ملا۔۔۔
فی الدر:-والختلفوا فی المسنون فی الشارب ھل ھوالقص والحلق؟والمذھب عند بعض المتئخرین من مشایخنا انہ القص۔قال فی البدائع وھو الصحیح۔قال الطحاوی: القص حسن والحلق احسن۔وھوقول علمائنا الثلاثة.نھر407/6
والمختار فی الشارب ترک الاستیصال والاقتصار علی ما یبدوا به طرف الشفة.(نووی شرح لمسلم 129/1
والله اعلم
دارالافتاء والقضاء
الجامعة البنوریة العالمیة
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سوال:24266لاہور
محترم مفتی صاحب میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ مرد کے مونچوں کے بارے مین اسلام میں کیا احکامات ہے۔۔۔۔۔۔۔۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی مونچوں کے بارے میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا بیان کیا؟انکی مونچوں کو اسلام کا فخر کہا تھا یا کچھ اور؟
الجواب حامدا ومصلیا:
مونچوں کا کتروانا مسنون ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جس طرح مونچیں رکھی ہے وہ بھی شرعا جائز اور درست ہی ہیں لیکن ان کے مونچوں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد تتبع کے باوجود نہیں ملا۔۔۔
فی الدر:-والختلفوا فی المسنون فی الشارب ھل ھوالقص والحلق؟والمذھب عند بعض المتئخرین من مشایخنا انہ القص۔قال فی البدائع وھو الصحیح۔قال الطحاوی: القص حسن والحلق احسن۔وھوقول علمائنا الثلاثة.نھر407/6
والمختار فی الشارب ترک الاستیصال والاقتصار علی ما یبدوا به طرف الشفة.(نووی شرح لمسلم 129/1
والله اعلم
دارالافتاء والقضاء
الجامعة البنوریة العالمیة
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:4⃣5⃣2⃣
سوال:
پانی پیتے وقت اگر مونچھ پانی میں ڈوب جائے تو کیا پانی ناپاک اور اسکا پینا حرام ہوجاتا ہے۔؟اسی طرح انگلیوں کے ناخن پانی میں ڈوب جائیں تو کیا حکم ہیں۔؟
الجواب:
مونچ کے بال اور ناخن ترشنا امور فطرت میں سے ہے۔ انکو کا بڑھانا پسندیدہ نہیں،اگر یہ پانی میں ڈوب جائیں تو اس سے پانی ناپاک نہیں ہوتا۔البتہ اتنے زیادہ بال یاناخن بڑھانا مکروہ ضرور ہے،اسلئے کہ مونچھیں بڑھانا اوربڑی، لمبی اور طویل مونچھیں رکھنا مجوسیوں کی نشانی ہے۔اسلئے اتنی لمبی مونچھیں نہیں رکھنی چاہئے کہ پانی پیتے وقت مونچھ پانی میں ڈوب جائے۔ مسلمانوں کو اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت ومحبت میں داڑھی رکھنی چاہئے اور مونچھیں کتروانی چاہئے۔ مونچھیں لمبی رکھنا نا پسدیدہ عمل تو ہے ہی،اس سے انسانیت ہیت بگڑ جاتی ہے۔
واللہ اعلم
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سوال:
پانی پیتے وقت اگر مونچھ پانی میں ڈوب جائے تو کیا پانی ناپاک اور اسکا پینا حرام ہوجاتا ہے۔؟اسی طرح انگلیوں کے ناخن پانی میں ڈوب جائیں تو کیا حکم ہیں۔؟
الجواب:
مونچ کے بال اور ناخن ترشنا امور فطرت میں سے ہے۔ انکو کا بڑھانا پسندیدہ نہیں،اگر یہ پانی میں ڈوب جائیں تو اس سے پانی ناپاک نہیں ہوتا۔البتہ اتنے زیادہ بال یاناخن بڑھانا مکروہ ضرور ہے،اسلئے کہ مونچھیں بڑھانا اوربڑی، لمبی اور طویل مونچھیں رکھنا مجوسیوں کی نشانی ہے۔اسلئے اتنی لمبی مونچھیں نہیں رکھنی چاہئے کہ پانی پیتے وقت مونچھ پانی میں ڈوب جائے۔ مسلمانوں کو اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت ومحبت میں داڑھی رکھنی چاہئے اور مونچھیں کتروانی چاہئے۔ مونچھیں لمبی رکھنا نا پسدیدہ عمل تو ہے ہی،اس سے انسانیت ہیت بگڑ جاتی ہے۔
واللہ اعلم
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:5⃣5⃣2⃣
اذان کے وقت مسجد میں بات کرنا:
سوال:
دوحدیثوں کا مفہوم ہے کہ اذان کے وقت بات کرنے سے ایمان جاتے رہنے کا خوف ہے۔اور مسجد میں دنیا کی باتیں کرنے سے 40برس کی نیکیاں ضائع ہو جاتی ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ اکثر بازاروں میں یا نماز کے لئے آتے وقت یا بوقت اذان لین دین کرتے ہیں،اگر کوئی شخص خاموش رہے تو شدید تکلیف ہوگی۔ایسے موقع پر کیا کیا جائے؟
الجواب حامدا ومصلیا:
اذان کے وقت باتیں کرنے سے ایمان جاتے رہنے کا خوف کس حدیث میں ہے۔مجھے وہ حدیث محفوظ نہیں،آپ لکھے تو اس کو دیکھا جائےگا۔مسجد میں دنیاوی باتیں کرنے کیلئے بیٹھنا منع ہے۔اگر نماز کیلئے مسجد میں جائے اور وہاں کوئی اتفاقیہ تجارت وملازمت وغیرہ کی باتیں بھی کسی سے کرلے تو یہ اس حکم میں نہیں ہے۔
عن عمربن شعیب عن ابیہ عن جدہ قال:نھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن تناشد الاشعار فی المسجد وعن البیع والاشتراء فیہ،وان یتحلق الناس یوم الجمعة قبل الصلوة فی المسجد""
(رواہ ابودود والترمذی)
وعن الحسن مرسلا قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یاتی علی الناس زمان یکون حدیثھم فی مسجدھم فی امر دنیاھم،فلاتجالسھم،فلیس اللہ فیھم حاجة"رواہ البیھقی فی شعب الایمان"
(مشکوة المصابیح ،کتاب الصلوة،باب المساجد،ومواضع الصلوة70/1قدیمی)
والکلام المباح،وقیدہ فی الظھیریة بان یجلس لاجلہ""(الدر المختار)
""قولہ بان یجلس لاجلہ) فانہ حینئذ لایباح بالاتفاق؛لان المسجد مابنی لامور الدنیا وفی صلوة الجلابی:الکلام المباح من حدیث الدنیا یجوز فی المساجد وانکان الاولی ان یشتغل بذکراللہ تعالی""
(الدرالمختار مع رد المحتار) کتاب الصلوة باب ما یفسد الصلوۃ وما یکرہ فیھا مطلب فی الغرس فی المسجد 662/1سعید")
(وکذا فی الفتاوی العالمگیریه کتاب الکراھیة الباب الخامس فی آداب المسجد والقبلة والمصحف اھ321/5رشیدیه)
واللہ اعلم
فتاوی محمودیه
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
اذان کے وقت مسجد میں بات کرنا:
سوال:
دوحدیثوں کا مفہوم ہے کہ اذان کے وقت بات کرنے سے ایمان جاتے رہنے کا خوف ہے۔اور مسجد میں دنیا کی باتیں کرنے سے 40برس کی نیکیاں ضائع ہو جاتی ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ اکثر بازاروں میں یا نماز کے لئے آتے وقت یا بوقت اذان لین دین کرتے ہیں،اگر کوئی شخص خاموش رہے تو شدید تکلیف ہوگی۔ایسے موقع پر کیا کیا جائے؟
الجواب حامدا ومصلیا:
اذان کے وقت باتیں کرنے سے ایمان جاتے رہنے کا خوف کس حدیث میں ہے۔مجھے وہ حدیث محفوظ نہیں،آپ لکھے تو اس کو دیکھا جائےگا۔مسجد میں دنیاوی باتیں کرنے کیلئے بیٹھنا منع ہے۔اگر نماز کیلئے مسجد میں جائے اور وہاں کوئی اتفاقیہ تجارت وملازمت وغیرہ کی باتیں بھی کسی سے کرلے تو یہ اس حکم میں نہیں ہے۔
عن عمربن شعیب عن ابیہ عن جدہ قال:نھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن تناشد الاشعار فی المسجد وعن البیع والاشتراء فیہ،وان یتحلق الناس یوم الجمعة قبل الصلوة فی المسجد""
(رواہ ابودود والترمذی)
وعن الحسن مرسلا قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یاتی علی الناس زمان یکون حدیثھم فی مسجدھم فی امر دنیاھم،فلاتجالسھم،فلیس اللہ فیھم حاجة"رواہ البیھقی فی شعب الایمان"
(مشکوة المصابیح ،کتاب الصلوة،باب المساجد،ومواضع الصلوة70/1قدیمی)
والکلام المباح،وقیدہ فی الظھیریة بان یجلس لاجلہ""(الدر المختار)
""قولہ بان یجلس لاجلہ) فانہ حینئذ لایباح بالاتفاق؛لان المسجد مابنی لامور الدنیا وفی صلوة الجلابی:الکلام المباح من حدیث الدنیا یجوز فی المساجد وانکان الاولی ان یشتغل بذکراللہ تعالی""
(الدرالمختار مع رد المحتار) کتاب الصلوة باب ما یفسد الصلوۃ وما یکرہ فیھا مطلب فی الغرس فی المسجد 662/1سعید")
(وکذا فی الفتاوی العالمگیریه کتاب الکراھیة الباب الخامس فی آداب المسجد والقبلة والمصحف اھ321/5رشیدیه)
واللہ اعلم
فتاوی محمودیه
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:6⃣5⃣2⃣
ایک ہی امام کا دوجگہ نماز عید پڑھانا
سوال:
دوجگہ ہیں دونوں کے درمیان چار میل کا فاصلہ ہے اور ایک امام ہے اور وہ دوسری جگہ نماز پڑھا تا ہے اور اس جگہ اپنے نائب وغیرہ کردیتا ہے مگر اس کی صورت یہ ہے کہ ایک بستی والے چاند کی خبر سن کر نماز پڑھ لیتے ہیں اور دوسری جگہ والے نماز نہیں پڑھتے اور وہی امام دونوں جگہ مماز پڑھاتا ہے حالاںکہ امام روزہ سے ہے تو کیا اول جماعت والے کی نماز ہوگی اور اس امام کی نماز یوگی یا نہیں؟ دوسری جماعت والے دوسرے دن نماز پڑھتے ہیں اور وہی امام پڑھاتا ہے تو اس صورت میں ان لوگوں کی نماز ہوگی یا نہیں؟
الجواب حامدا ومصلیا:
جب پیلی دفعہ (چاند ہو جانے پر) نماز عید امام نے ایک جگہ پڑھلی تو دوسرے دن دوسری بستی میں اس کو نماز عید پڑھانے کا حق نہیں اور اسکے پیچھے دورسرے دن پڑھنےوالوں کی نماز درست نہیں ہوگی۔
ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم بالناس صلوةالخوف وجعل الناس طائفتین،وصلی بکل طائفة شطر الصلوة لینال کل فریق فضیلة الصلوة خلفه""
قال العلامة الکاسانی رح تحت الحدیث المذکور" ولو جاز اقتداء المفترض بالمتنفل،لاتم الصلوة بالطائفة ثم نو النفل وصلی بالطائفة الثانیة لینال کل طائفة فضیلة الصلوة خلفہ من غیر الحاجة الی المشی وافعال کثیرة لیست من الصلوة.
(بدائع الصنائع بیان شرائط الاقتداء 58/1رشیدیه)
واللہ اعلم
فتاوی محمودیه8
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
ایک ہی امام کا دوجگہ نماز عید پڑھانا
سوال:
دوجگہ ہیں دونوں کے درمیان چار میل کا فاصلہ ہے اور ایک امام ہے اور وہ دوسری جگہ نماز پڑھا تا ہے اور اس جگہ اپنے نائب وغیرہ کردیتا ہے مگر اس کی صورت یہ ہے کہ ایک بستی والے چاند کی خبر سن کر نماز پڑھ لیتے ہیں اور دوسری جگہ والے نماز نہیں پڑھتے اور وہی امام دونوں جگہ مماز پڑھاتا ہے حالاںکہ امام روزہ سے ہے تو کیا اول جماعت والے کی نماز ہوگی اور اس امام کی نماز یوگی یا نہیں؟ دوسری جماعت والے دوسرے دن نماز پڑھتے ہیں اور وہی امام پڑھاتا ہے تو اس صورت میں ان لوگوں کی نماز ہوگی یا نہیں؟
الجواب حامدا ومصلیا:
جب پیلی دفعہ (چاند ہو جانے پر) نماز عید امام نے ایک جگہ پڑھلی تو دوسرے دن دوسری بستی میں اس کو نماز عید پڑھانے کا حق نہیں اور اسکے پیچھے دورسرے دن پڑھنےوالوں کی نماز درست نہیں ہوگی۔
ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم بالناس صلوةالخوف وجعل الناس طائفتین،وصلی بکل طائفة شطر الصلوة لینال کل فریق فضیلة الصلوة خلفه""
قال العلامة الکاسانی رح تحت الحدیث المذکور" ولو جاز اقتداء المفترض بالمتنفل،لاتم الصلوة بالطائفة ثم نو النفل وصلی بالطائفة الثانیة لینال کل طائفة فضیلة الصلوة خلفہ من غیر الحاجة الی المشی وافعال کثیرة لیست من الصلوة.
(بدائع الصنائع بیان شرائط الاقتداء 58/1رشیدیه)
واللہ اعلم
فتاوی محمودیه8
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:7⃣5⃣2⃣
منی، مذی اور ودی سے طہارت کا حکم
سوال:
کیا منی، مذی اور ودی سے کپڑے کو پاک کرنے کا طریقہ ایک ہی ہے کہ اس کو پانی سے دھویا جائے یا اس میں کوئی فرق بھی ہے؟
الجواب:
ودی اور مذی سے طہارۃ صرف پانی کے ذریعہ حاصل ہوسکتی ہے البتہ منی کے طریقہ طہارت میں یہ بھی ہے کہ خشک ہونے پر رگڑنے سے بھی کپڑا پاک ہوسکتا ہے بشرطیکہ منی رقیق نہ ہو ورنہ پانی سے دھونا ضروری ہے۔
قال طاھر بن عبدالرشیدؒ؛ اذا حت النجاسۃ لم یجز الا فی المنی الیابس فان کان رطبًا لایطھر الابالغسل وھو نجس عندنا (وبعد اسطر) ولٰکن ھٰذا اذا لم یخرج المذی قبل خروج المنی اما اذا خرج الذی ثم خرج المنی لایطہر الثوب بالفرک۔ (خلاصۃ الفتاویٰ، الفصل السادس فی غسل الثوب والدھن:ج؍۱،ص؍۴۱)
قال ابراھیم الحلبیؒ:واما الفرک فیزیل النجاسۃ فی المنی فیطھرالثوب من المنی بہ ای بالفرک اذایبس المنی علی الثوب۔(کبیری۔فصل الاسار،ص؍۱۸۰)
(فتاویٰ حقانیہ :ج؍۲،ص؍۵۷۲)
واللہ اعلم
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
منی، مذی اور ودی سے طہارت کا حکم
سوال:
کیا منی، مذی اور ودی سے کپڑے کو پاک کرنے کا طریقہ ایک ہی ہے کہ اس کو پانی سے دھویا جائے یا اس میں کوئی فرق بھی ہے؟
الجواب:
ودی اور مذی سے طہارۃ صرف پانی کے ذریعہ حاصل ہوسکتی ہے البتہ منی کے طریقہ طہارت میں یہ بھی ہے کہ خشک ہونے پر رگڑنے سے بھی کپڑا پاک ہوسکتا ہے بشرطیکہ منی رقیق نہ ہو ورنہ پانی سے دھونا ضروری ہے۔
قال طاھر بن عبدالرشیدؒ؛ اذا حت النجاسۃ لم یجز الا فی المنی الیابس فان کان رطبًا لایطھر الابالغسل وھو نجس عندنا (وبعد اسطر) ولٰکن ھٰذا اذا لم یخرج المذی قبل خروج المنی اما اذا خرج الذی ثم خرج المنی لایطہر الثوب بالفرک۔ (خلاصۃ الفتاویٰ، الفصل السادس فی غسل الثوب والدھن:ج؍۱،ص؍۴۱)
قال ابراھیم الحلبیؒ:واما الفرک فیزیل النجاسۃ فی المنی فیطھرالثوب من المنی بہ ای بالفرک اذایبس المنی علی الثوب۔(کبیری۔فصل الاسار،ص؍۱۸۰)
(فتاویٰ حقانیہ :ج؍۲،ص؍۵۷۲)
واللہ اعلم
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:8⃣5⃣2⃣
Sawal
Biwi se gale mile bad... or kiss kare bad.... 2... 4 katre nikle to.... us underwear me namaz hogi ky....
مذی وودی والے کپڑے میں نماز:
سوال:
مذی وودی اگر جسم یا کپڑے میں لگی ہوئی ہو اس وقت نماز پڑھ سکتے ہیں بغیر دھوئے ہوئے پھر اگر معاف ہے تو مقدار عفوکیا ہے؟
الجواب حامدا ومصلیا:
مذی وودی کو فقہانے نجاست غلیظہ لکھا ہے،ایک درہم سے کم مقدار بدن پر یا کپڑے پر لگی رہے اور نماذ پڑھلے تو نماز بالکراہت ادا ہو جئےگی،زیادہ ہو تو نماز درست ہی نہ ہوگئ۔ ہاتھ کی ہتھلی کے گڈھے سے رقیق کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
(وعفا) الشارع (عن قدر درھم)وان کرہ تحریما،فیجب غسلہ ........(وعرض مقعر الکف فی رقیق من مغلظةکعذرة)
آدمی،وکذا کل ما خرج منہ موجبا لوضوء او غسل مغلظة "الدر المختار)
قولہ (وان کرہ تحریما)اشار الی ان العفوعنہ بالنسبةالی صحة الصلوةبہ.......ففی المحیط:یکرہ ان یصلی و معہ قدر درھم او دونہ من النجاسة عالما بہ لاختلاف الناس فیه.(ردالمحتار،باب الانجاس 316/1۔318 سعید)
)وکذا فی بدائع الصنائع فصل فی بیان المقدار الذی یصیر بہ المحل نجسا429/1 دارالکتاب العلمیة،بیروت)
واللہ اعلم
فتاوی محمودیه
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
Sawal
Biwi se gale mile bad... or kiss kare bad.... 2... 4 katre nikle to.... us underwear me namaz hogi ky....
مذی وودی والے کپڑے میں نماز:
سوال:
مذی وودی اگر جسم یا کپڑے میں لگی ہوئی ہو اس وقت نماز پڑھ سکتے ہیں بغیر دھوئے ہوئے پھر اگر معاف ہے تو مقدار عفوکیا ہے؟
الجواب حامدا ومصلیا:
مذی وودی کو فقہانے نجاست غلیظہ لکھا ہے،ایک درہم سے کم مقدار بدن پر یا کپڑے پر لگی رہے اور نماذ پڑھلے تو نماز بالکراہت ادا ہو جئےگی،زیادہ ہو تو نماز درست ہی نہ ہوگئ۔ ہاتھ کی ہتھلی کے گڈھے سے رقیق کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
(وعفا) الشارع (عن قدر درھم)وان کرہ تحریما،فیجب غسلہ ........(وعرض مقعر الکف فی رقیق من مغلظةکعذرة)
آدمی،وکذا کل ما خرج منہ موجبا لوضوء او غسل مغلظة "الدر المختار)
قولہ (وان کرہ تحریما)اشار الی ان العفوعنہ بالنسبةالی صحة الصلوةبہ.......ففی المحیط:یکرہ ان یصلی و معہ قدر درھم او دونہ من النجاسة عالما بہ لاختلاف الناس فیه.(ردالمحتار،باب الانجاس 316/1۔318 سعید)
)وکذا فی بدائع الصنائع فصل فی بیان المقدار الذی یصیر بہ المحل نجسا429/1 دارالکتاب العلمیة،بیروت)
واللہ اعلم
فتاوی محمودیه
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
Telegram
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
"جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند" میں روزانہ ایک دو مسئلہ مدلل ومزین انداز میں بطورِ استفادہ آپ کو ملے گا،
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1
جواب نمبر:9⃣5⃣2⃣
سوال # 145644
نماز عیدین کی چھ زائد تکبیروں کے بارے میں مجھے حدیث کے حوالہ سے واضح کریں؟
Published on: Nov 23, 2016 جواب # 145644
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 078-104/B=2/1438
عن سعید بن العاص قال: سألت أبا موسیٰ و حذیفة، کیف کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یکبر فی الأضحیٰ والفطر، فقال أبو موسیٰ کان یکبر أربعاً تکبیرہ علی الجنائز فقال حذیفة صدق (رواہ ابو داوٴد بحوالہ مشکوٰة ص: ۱/۱۲۶) ا س میں چار تکبیر پہلی رکعت میں مع تکبیر تحریمہ کے مراد ہے اور دوسری رکعت میں چار تکبیریں مع رکوع کی تکبیر کے مراد ہیں، احناف کے یہاں یہی راجح ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سوال # 145644
نماز عیدین کی چھ زائد تکبیروں کے بارے میں مجھے حدیث کے حوالہ سے واضح کریں؟
Published on: Nov 23, 2016 جواب # 145644
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 078-104/B=2/1438
عن سعید بن العاص قال: سألت أبا موسیٰ و حذیفة، کیف کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یکبر فی الأضحیٰ والفطر، فقال أبو موسیٰ کان یکبر أربعاً تکبیرہ علی الجنائز فقال حذیفة صدق (رواہ ابو داوٴد بحوالہ مشکوٰة ص: ۱/۱۲۶) ا س میں چار تکبیر پہلی رکعت میں مع تکبیر تحریمہ کے مراد ہے اور دوسری رکعت میں چار تکبیریں مع رکوع کی تکبیر کے مراد ہیں، احناف کے یہاں یہی راجح ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:0⃣6⃣2⃣
Indiaسوال # 59998
(۱) گر کسی شخص کی عید کی نماز جماعت سے رہ گئی یعنی اس کو جماعت نہیں ملی تو کیا وہ اکیلا یا آٹھ دس لوگوں کے ساتھ مل کر یا اکیلا گھر پہ عید کی نماز پڑھ سکتاہے؟
(۲) عید کی نماز نہ پڑھنے کی صورت میں کیا گناہ ہوگا؟
(۳) اگر کسی شخص کو عید کی نماز ایک رکعت ہی ملی تووہ نماز پوری کیسے کرے؟ وہ طریقہ استعمال کرے جیسے ہم پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہیں یا عید کی نماز کی پہلی رکعت تین زاید تکبیروں کے ساتھ والا طریقہ استعمال کریں۔جزاک اللہ ۔
Published on: Aug 26, 2015 جواب # 59998
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 1160-1226/L=11/1436-U
(۱) ایسے شخص کو چاہیے کہ عید کی نماز نہ پڑھے بلکہ گھر جاکر دو چار رکعت نفل پڑھ لے البتہ اگر آٹھ دس لوگوں کی جماعت رہ گئی ہو تو یہ لوگ عیدگاہ سے الگ جماعت کرسکتے ہیں۔
(۲) عید کی نماز واجب ہے، بلاعذر اس کا چھوڑنے والا گنہ گار ہے۔
(۳) ایسا شخص امام کے سلام کے بعد جب کھڑا ہو تو اول ثنا، تعوذ، تسمیہ، فاتحہ، سورت پڑھے پھر تین تکبیرات زوائد کہے پھر تکبیر کہہ کر رکوع کرے اور بقیہ نماز پوری کرے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
Indiaسوال # 59998
(۱) گر کسی شخص کی عید کی نماز جماعت سے رہ گئی یعنی اس کو جماعت نہیں ملی تو کیا وہ اکیلا یا آٹھ دس لوگوں کے ساتھ مل کر یا اکیلا گھر پہ عید کی نماز پڑھ سکتاہے؟
(۲) عید کی نماز نہ پڑھنے کی صورت میں کیا گناہ ہوگا؟
(۳) اگر کسی شخص کو عید کی نماز ایک رکعت ہی ملی تووہ نماز پوری کیسے کرے؟ وہ طریقہ استعمال کرے جیسے ہم پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہیں یا عید کی نماز کی پہلی رکعت تین زاید تکبیروں کے ساتھ والا طریقہ استعمال کریں۔جزاک اللہ ۔
Published on: Aug 26, 2015 جواب # 59998
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 1160-1226/L=11/1436-U
(۱) ایسے شخص کو چاہیے کہ عید کی نماز نہ پڑھے بلکہ گھر جاکر دو چار رکعت نفل پڑھ لے البتہ اگر آٹھ دس لوگوں کی جماعت رہ گئی ہو تو یہ لوگ عیدگاہ سے الگ جماعت کرسکتے ہیں۔
(۲) عید کی نماز واجب ہے، بلاعذر اس کا چھوڑنے والا گنہ گار ہے۔
(۳) ایسا شخص امام کے سلام کے بعد جب کھڑا ہو تو اول ثنا، تعوذ، تسمیہ، فاتحہ، سورت پڑھے پھر تین تکبیرات زوائد کہے پھر تکبیر کہہ کر رکوع کرے اور بقیہ نماز پوری کرے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:1⃣6⃣2⃣
سوال # 23420
میں نے یہ سنا ہے کہ اگر کوئی چارجمعہ تک نماز نہ پڑھے یا چار جمعہ کی نماز نہ پڑھے تو اس کے دل پر کفر کی مہر لگا دی جاتی ہے، براہ کرم، قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں۔
Published on: Jul 22, 2010 جواب # 23420
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی(م):994=994-7/1431
ابوداوٴد، ترمذی اور نسائی وغیرہ کتب حدیث میں صحیح روایت اس طرح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سستی وکاہلی کی وجہ سے (بلاعذر) تین جمعہ ترک کردے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگادیتے ہیں: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من ترک ثلاث جمع تھاونا طبع اللہ علی قلبہ ، رواہ ابو داوٴد والترمذی والنسائی وابن ماجة والدارمی (مشکوة)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سوال # 23420
میں نے یہ سنا ہے کہ اگر کوئی چارجمعہ تک نماز نہ پڑھے یا چار جمعہ کی نماز نہ پڑھے تو اس کے دل پر کفر کی مہر لگا دی جاتی ہے، براہ کرم، قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں۔
Published on: Jul 22, 2010 جواب # 23420
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی(م):994=994-7/1431
ابوداوٴد، ترمذی اور نسائی وغیرہ کتب حدیث میں صحیح روایت اس طرح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سستی وکاہلی کی وجہ سے (بلاعذر) تین جمعہ ترک کردے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگادیتے ہیں: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من ترک ثلاث جمع تھاونا طبع اللہ علی قلبہ ، رواہ ابو داوٴد والترمذی والنسائی وابن ماجة والدارمی (مشکوة)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:2⃣6⃣2⃣
سوال # 17478
کیا
ایک ایسا شخص جس کی تین یا اس سے بھی زیادہ جمعہ کی نمازیں چھوٹ چکی ہوں وہ اپنے
ایمان کی دوبارہ تجدید کرے گا؟ کیوں کہ سنا ہے کہ تین جمعہ چھوڑنے سے ایمان زائل
ہو جاتا ہے یا دل پر مہر لگا دی جاتی ہے۔ برائے مہربانی رہنمائی فرماویں کہ اب وہ
شخص کیا کرے؟
Published on: Nov 18, 2009 جواب # 17478
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی(م):1677=1677-11/1430
حدیث
میں ہے: [من
ترک ثلث جُمعٍ تہاوناً بہا طبع اللہ علی قلبہ رواہ أبوداوٴد] (ترجمہ: جو شخص کاہلی
اور سستی کی وجہ سے تین جمعہ چھوڑدے اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگادیتے ہیں) اگر
محض غفلت وکاہلی کی وجہ سے تین جمعہ چھوٹ جائے تو وہ دائرہٴ اسلام سے خارج نہیں
ہوگا، لیکن اس کا یہ فعل اتنا بڑا گناہ اور اتنا منحوس ہے کہ اس کے دل پر اللہ مہر
لگادیتے ہیں، اس کی معافی کے لیے سچی پکی توبہ واستغفار لازم ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
https://t.me/jamashuda
سوال # 17478
کیا
ایک ایسا شخص جس کی تین یا اس سے بھی زیادہ جمعہ کی نمازیں چھوٹ چکی ہوں وہ اپنے
ایمان کی دوبارہ تجدید کرے گا؟ کیوں کہ سنا ہے کہ تین جمعہ چھوڑنے سے ایمان زائل
ہو جاتا ہے یا دل پر مہر لگا دی جاتی ہے۔ برائے مہربانی رہنمائی فرماویں کہ اب وہ
شخص کیا کرے؟
Published on: Nov 18, 2009 جواب # 17478
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی(م):1677=1677-11/1430
حدیث
میں ہے: [من
ترک ثلث جُمعٍ تہاوناً بہا طبع اللہ علی قلبہ رواہ أبوداوٴد] (ترجمہ: جو شخص کاہلی
اور سستی کی وجہ سے تین جمعہ چھوڑدے اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگادیتے ہیں) اگر
محض غفلت وکاہلی کی وجہ سے تین جمعہ چھوٹ جائے تو وہ دائرہٴ اسلام سے خارج نہیں
ہوگا، لیکن اس کا یہ فعل اتنا بڑا گناہ اور اتنا منحوس ہے کہ اس کے دل پر اللہ مہر
لگادیتے ہیں، اس کی معافی کے لیے سچی پکی توبہ واستغفار لازم ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
https://t.me/jamashuda
جواب نمبر:3⃣6⃣2⃣
کھانا کھاتے وقت سلام کرنا
سوال:
میرے ایک دوست کا کہنا ہے کہ: “کھانا کھاتے وقت نہ تو سلام کرنا جائز ہے اور نہ جواب دینا۔”
جواب:
جو شخص کھانے میں شریک ہونا چاہتا ہے، وہ تو کھانے والوں کو سلامکرسکتا ہے، دُوسرا نہیں، اور اگر کوئی سلام کرے تو کھانے والوں کے ذمے اس کا کوئی جواب نہیں۔
واللہ اعلم
آپ کے مسائل اور انکا حل
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
کھانا کھاتے وقت سلام کرنا
سوال:
میرے ایک دوست کا کہنا ہے کہ: “کھانا کھاتے وقت نہ تو سلام کرنا جائز ہے اور نہ جواب دینا۔”
جواب:
جو شخص کھانے میں شریک ہونا چاہتا ہے، وہ تو کھانے والوں کو سلامکرسکتا ہے، دُوسرا نہیں، اور اگر کوئی سلام کرے تو کھانے والوں کے ذمے اس کا کوئی جواب نہیں۔
واللہ اعلم
آپ کے مسائل اور انکا حل
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:4⃣6⃣2⃣
وضو، اَذان اور کھانا کھاتے وقت سلام کرنا یا جواب دینا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: وضو کرتے وقت، اَذان کے وقت اور کھاتے وقت سلام کرنا جب کہ آدمی اِن تینوں اَوقات میں دنیاوی باتوں میں مشغول ہو، اور عام طور پر ذہنوں میں یہ بات ہے کہ اِن تینوں حالتوں میں سلام نہیں کرنا چاہئے، تو اِن اَوقات میں سلام کرنا کیسا ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: وضو، اَذان اور کھانا کھاتے وقت سلام کرنا مسنون نہیں، اور اگر کوئی کرے تو اُس کا جواب دینا واجب نہیں؛ لیکن اگر جواب دیدے تو کوئی حرج بھی نہیں ہے۔
یکرہ السلام علی العاجر عن الجواب حقیقۃ کالمشغول بالأکل أو الاستفراغ، أو شرعًا کالمشغول بالصلاۃ وقراء ۃ القرآن، لو سلّم لا یستحق الجواب … یأثم بالسلام علی المشغولین بالخطبۃ … أو الأذان والإقامۃ ویردون في الباقي لإمکان الجمع بین فضیلتي الرد۔ (شامي، کتاب الصلاۃ / باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا، مطلب: المواضع التي یکرہ فیہا السلام ۲؍۳۷۵ زکریا)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتاب النوازل
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
وضو، اَذان اور کھانا کھاتے وقت سلام کرنا یا جواب دینا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: وضو کرتے وقت، اَذان کے وقت اور کھاتے وقت سلام کرنا جب کہ آدمی اِن تینوں اَوقات میں دنیاوی باتوں میں مشغول ہو، اور عام طور پر ذہنوں میں یہ بات ہے کہ اِن تینوں حالتوں میں سلام نہیں کرنا چاہئے، تو اِن اَوقات میں سلام کرنا کیسا ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: وضو، اَذان اور کھانا کھاتے وقت سلام کرنا مسنون نہیں، اور اگر کوئی کرے تو اُس کا جواب دینا واجب نہیں؛ لیکن اگر جواب دیدے تو کوئی حرج بھی نہیں ہے۔
یکرہ السلام علی العاجر عن الجواب حقیقۃ کالمشغول بالأکل أو الاستفراغ، أو شرعًا کالمشغول بالصلاۃ وقراء ۃ القرآن، لو سلّم لا یستحق الجواب … یأثم بالسلام علی المشغولین بالخطبۃ … أو الأذان والإقامۃ ویردون في الباقي لإمکان الجمع بین فضیلتي الرد۔ (شامي، کتاب الصلاۃ / باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیہا، مطلب: المواضع التي یکرہ فیہا السلام ۲؍۳۷۵ زکریا)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتاب النوازل
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:5⃣6⃣2⃣
عورت کو سلام کرنا یا اُس کے سلام کا جواب دینا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: کیا عورت کو سلام کرنا یا اُس کے سلام کا جواب دینا جائز ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: محرم عورتوں کو سلام کرنا اور جواب دینا دونوں جائز ہے، اور نامحرم بوڑھی عورت کو بھی سلام کرنا جائز ہے؛ البتہ جوان عورت کوسلام کی ابتداء نہ کی جائے، اگر وہ سلام کرلے تو آہستہ سے جواب دے دیں۔
عن یحی بن أبي کثیر قال: بلغني أنہ یکرہ أن یسلم الرجل علی النساء، والنساء علی الرجل۔ … قلت لعطاء: أَ أُسلِّم علی النساء؟ قال: إن کن شواب فلا۔ (شعب الإیمان للبیہقي / باب في مقاربۃ وموادۃ أہل الدین ۶؍۴۶۰ رقم: ۸۸۹۶-۸۸۹۸ بیروت)
کان قتادۃ یقول: أما امرأۃ من القواعد فلا بأس أن یسلم علیہا، وأما الشابۃ فلا۔ (شعب الإیمان للبیہقي، باب في مقاربۃ وموادۃ أہل الدین / فصل في السلام علی النساء ۶؍۴۶۰ رقم: ۸۸۹۷ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
الفتیات جمع فتیۃ: المرأۃ الشابۃ، ومفہومہ جوازہ علی العجوز؛ بل صرحوا بجواز مصافحتہا عند أمن الشہوۃ۔ (شامي ۲؍۳۷۴)
رد السلام واجب إلا علی … أو سلم الطفل أو السکران أو شابۃ یخشی بہا افتتان۔ (شامي ۲؍۳۷۶ زکریا)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتاب النوازل
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
عورت کو سلام کرنا یا اُس کے سلام کا جواب دینا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: کیا عورت کو سلام کرنا یا اُس کے سلام کا جواب دینا جائز ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: محرم عورتوں کو سلام کرنا اور جواب دینا دونوں جائز ہے، اور نامحرم بوڑھی عورت کو بھی سلام کرنا جائز ہے؛ البتہ جوان عورت کوسلام کی ابتداء نہ کی جائے، اگر وہ سلام کرلے تو آہستہ سے جواب دے دیں۔
عن یحی بن أبي کثیر قال: بلغني أنہ یکرہ أن یسلم الرجل علی النساء، والنساء علی الرجل۔ … قلت لعطاء: أَ أُسلِّم علی النساء؟ قال: إن کن شواب فلا۔ (شعب الإیمان للبیہقي / باب في مقاربۃ وموادۃ أہل الدین ۶؍۴۶۰ رقم: ۸۸۹۶-۸۸۹۸ بیروت)
کان قتادۃ یقول: أما امرأۃ من القواعد فلا بأس أن یسلم علیہا، وأما الشابۃ فلا۔ (شعب الإیمان للبیہقي، باب في مقاربۃ وموادۃ أہل الدین / فصل في السلام علی النساء ۶؍۴۶۰ رقم: ۸۸۹۷ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
الفتیات جمع فتیۃ: المرأۃ الشابۃ، ومفہومہ جوازہ علی العجوز؛ بل صرحوا بجواز مصافحتہا عند أمن الشہوۃ۔ (شامي ۲؍۳۷۴)
رد السلام واجب إلا علی … أو سلم الطفل أو السکران أو شابۃ یخشی بہا افتتان۔ (شامي ۲؍۳۷۶ زکریا)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتاب النوازل
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:6⃣6⃣2⃣
کھانا کھانے والے کو سلام کرنا:
سوال:
قرآن مجید پڑھنے والے کو سلام کرنا یا سلام کا جواب دینا یو کھانا کھانے والے کو سلام کرنا یا سلام کا جواب دینا جائز یے یا نہیں؟
الجواب حامدا ومصلیا:
قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے اور کھانا کھاتے ہوئے کو سلام کرنا مکروہ ہے،اور ایسے سلام کا جواب دینا بھی واجب نہیں۔
قال العلامة الحصکفی رحمه اللہ تعالی:
ودع آکلا الا اذا کنت جائعا وتعلم منہ انہ لیس یمنع،
وقال ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی:یکرہ السلام علی العاجز عن الجواب حقیقة كالمشغول بالاکل اوالاستفراغ،او شرعا کالمشغول بالصلوة وقراة القرآن،ولو سلم لایستحق الجواب، اھ""
(الدر المختار مع ردالمحتار،617/1،کتاب الصلوة باب ما یفسد الصلوة وما یکرہ فیھا، مطلب"الموضع التی یکرہ فیھا السلام۔سعید)
(قولھم:کاکل)ظاھرہ ان ذالک مخصوص بحال وضع اللقمة فی الفم والمضغة، واما قبل وبعد،فلایکرہ، لعدم العجز،وفی صرح الشافعیة،""
(رد المحتار 415/6 کتاب الحظر والاباحة فصل فی البیع، سعید)
واللہ اعلم
فتاوی محمودیه
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
+917086592261
کھانا کھانے والے کو سلام کرنا:
سوال:
قرآن مجید پڑھنے والے کو سلام کرنا یا سلام کا جواب دینا یو کھانا کھانے والے کو سلام کرنا یا سلام کا جواب دینا جائز یے یا نہیں؟
الجواب حامدا ومصلیا:
قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے اور کھانا کھاتے ہوئے کو سلام کرنا مکروہ ہے،اور ایسے سلام کا جواب دینا بھی واجب نہیں۔
قال العلامة الحصکفی رحمه اللہ تعالی:
ودع آکلا الا اذا کنت جائعا وتعلم منہ انہ لیس یمنع،
وقال ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی:یکرہ السلام علی العاجز عن الجواب حقیقة كالمشغول بالاکل اوالاستفراغ،او شرعا کالمشغول بالصلوة وقراة القرآن،ولو سلم لایستحق الجواب، اھ""
(الدر المختار مع ردالمحتار،617/1،کتاب الصلوة باب ما یفسد الصلوة وما یکرہ فیھا، مطلب"الموضع التی یکرہ فیھا السلام۔سعید)
(قولھم:کاکل)ظاھرہ ان ذالک مخصوص بحال وضع اللقمة فی الفم والمضغة، واما قبل وبعد،فلایکرہ، لعدم العجز،وفی صرح الشافعیة،""
(رد المحتار 415/6 کتاب الحظر والاباحة فصل فی البیع، سعید)
واللہ اعلم
فتاوی محمودیه
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
+917086592261
Telegram
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
"جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند" میں روزانہ ایک دو مسئلہ مدلل ومزین انداز میں بطورِ استفادہ آپ کو ملے گا،
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1