ہاں!جب پہلی اذان کا اضافہ کیا گیا تو پہلیاذان اطلاعِ عام کے لئے تھی، اور جو اذان خطیب کے آگے ہوتی ہے وہ خاموش کرانے کے لئے ہوتی ہے۔“
پہلی روایت سے معلوم ہوا کہ اذان کا منارہ پر یا مسجد سے باہر ہونا مناسب ہے، مسجد کے اندر اذان دینا مناسب نہیں، اور یہی مفہوم ہے کراہیتِ تنزیہی کا، کیونکہ کراہتِ تحریمی کو ”لا ینبغی“ (مناسب نہیں) کے لفظ سے تعبیر نہیں کیا جاتا، بلکہ ”لا یجوز“ (یعنی جائز نہیں) کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ جن فقہاء کی عبارت میں صرف مکروہ کا لفظ آیا ہے، ان کی مراد بھی یہی ”لا ینبغی“ (مناسب نہیں) والی کراہت ہے، کراہتِ تحریمی مراد نہیں۔
اور یہ قاعدہ اپنی جگہ صحیح ہے کہ مکروہ کا لفظ جب مطلق ذکر کیا جائے تو اس سے مکروہِ تحریمی مراد ہوتا ہے۔ لیکن یہ قاعدہ عام نہیں ہے، بلکہ بسااوقات مکروہ کا لفظ مکروہِ تنزیہی کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے، اس لئے جہاں مکروہ کا لفظ مطلق ذکر کیا جائے وہاں قرائن و دلائل میں غور کرکے یہ دیکھنا ہوگا کہ یہاں مکروہِ تحریمی مراد ہے یا مکروہِ تنزیہی؟ جیسا کہ مکروہاتِ صلوٰة کے آغاز میں شیخ ابن نجیم نے البحر الرائق میں، اور علامہ شامی نے رد المحتار میں ذکر کیا ہے (دیکھئے: البحر الرائق ج:۲ ص:۲۰، رد المحتار ج:۱ ص:۶۳۹)۔
مسجد میں اذان دینے کے بارے میں کتاب الاصل (مبسوط) میں امام محمد کی تصریح حسبِ ذیل ہے:
”قلت ارأیت الموٴذّن اذا لم یکن لہ منارة والمسجد صغیر این احب الیک ان یوٴذّن؟ قال: احب ذالک الی ان یوٴذّن خارجًا من المسجد واذا اذّن فی المسجد اجزاہ۔“ (کتاب الاصل ج:۱ ص:۱۴۱)
ترجمہ:…”میں نے کہا: یہ فرمائیے کہ جب موٴذّن کے لئے منارہ نہ ہو اور مسجدچھوٹی ہو تو آپ کے نزدیک کس جگہ اذان دینا بہتر ہوگا؟ کیا وہ مسجد سے باہر نکل کر اذان دے تاکہ لوگ سنیں یا مسجد میں اذان دے؟ فرمایا: میرے نزدیک بہتر یہ ہے کہ مسجد سے باہر اذان کہے، اور اگر مسجد میںاذان دے دی جائے تب بھی اس کو کفایت کرے گی۔“
حضرت امام محمد کی اس تصریح سے ثابت ہوا کہ مسجد میں اذان دینا بہتر نہیں، لیکن اگر دے دی جائے تب بھی کوئی مضائقہ نہیں۔
دُوسری روایت سے معلوم ہوا کہ جمعہ کی دُوسری اذان منبر کے سامنے ہوتی ہے، اور اُمت کا تعامل اسی پر چلا آتا ہے، فقہاء اس منبر کی اذان کو مختلف تعبیرات سے ذکر کرتے ہیں، کبھی ”خطیب کے آگے“ کے لفظ سے، کبھی ”منبر کے پاس، اس کے قریب“ کے لفظ سے، اور کبھی ”منبر پر“ کے لفظ سے، ان تمام تعبیرات سے بشرطِ فہم و انصاف یہی سمجھا جاتا ہے کہ جمعہ کی دُوسری اذان منبر کے پاس داخلِ مسجد ہو۔
تیسری روایت سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضراتِ شیخین رضی اللہ عنہما کے زمانے میں دُوسری نمازوں کی طرح جمعہ کی بھی ایک ہی اذان ہوتی تھی، چونکہ اس سے بیک وقت دو مقصد تھے، ایک تومسجد سے باہر کے لوگوں کو وقتِ نماز کی اطلاع دینا، دُوسرے حاضرینِ مسجدکو خطبہ شروع ہونے کی اطلاع دینا، تاکہ وہ خاموش ہوکر خطبہ کی طرف متوجہ ہوجائیں، اس لئے دونوں پہلووٴں کی رعایت کرتے ہوئے یہ اذان مسجد کے دروازے پر کہلائی جاتی تھی، خلیفہٴ راشد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور میں پہلی اذان کا اضافہ ہوا جو زوراء پر ہوتی تھی، اور دُوسری اذان صرف خطبہ کے لئے مخصوص ہوگئی، جو منبر کے پاس کہی جانے لگی۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صاحبِ ہدایہ اور دیگر فقہاء نے جس توارث کا حوالہ دیا ہے اس سے وہ توارثِ قدیم مراد ہے جو دورِ عثمانی سے چلا آرہا ہے، کیونکہ توارثِ حادث خود حجت نہیں، اسے معرضِ دلیل میں پیش کرنا فقہاء کی شان سے بعید ہے، جہاں تک مجھے معلوم ہے مذاہبِ اربعہ اس پر متفق ہیں کہ جمعہ کی دُوسری اذان منبر کے سامنے ہو، جیسا کہ ہمارے شیخ حضرت العلامہ سیّد محمد یوسف بنوری نوّر اللہ مرقدہ نے معارف السنن (ج::۴ ص:۴۰۲) میں نقل کیا ہے، اگر بعض مالکیوں نے اس سے اختلاف کیا ہے، تو تعامل و توارث کے مقابلے میں ان کی رائے ہمارے لئے حجت نہیں، راقم الحروف کو کتبِ فقہ سے جو تحقیق ہوئی وہ عرض کردی گئی، اگر کسی صاحب کی تحقیق کچھ اور ہو تو وہ اپنی تحقیق پر عمل فرمائیں۔
آپ کے مسائل اور انکا حل
واللہ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
پہلی روایت سے معلوم ہوا کہ اذان کا منارہ پر یا مسجد سے باہر ہونا مناسب ہے، مسجد کے اندر اذان دینا مناسب نہیں، اور یہی مفہوم ہے کراہیتِ تنزیہی کا، کیونکہ کراہتِ تحریمی کو ”لا ینبغی“ (مناسب نہیں) کے لفظ سے تعبیر نہیں کیا جاتا، بلکہ ”لا یجوز“ (یعنی جائز نہیں) کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ جن فقہاء کی عبارت میں صرف مکروہ کا لفظ آیا ہے، ان کی مراد بھی یہی ”لا ینبغی“ (مناسب نہیں) والی کراہت ہے، کراہتِ تحریمی مراد نہیں۔
اور یہ قاعدہ اپنی جگہ صحیح ہے کہ مکروہ کا لفظ جب مطلق ذکر کیا جائے تو اس سے مکروہِ تحریمی مراد ہوتا ہے۔ لیکن یہ قاعدہ عام نہیں ہے، بلکہ بسااوقات مکروہ کا لفظ مکروہِ تنزیہی کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے، اس لئے جہاں مکروہ کا لفظ مطلق ذکر کیا جائے وہاں قرائن و دلائل میں غور کرکے یہ دیکھنا ہوگا کہ یہاں مکروہِ تحریمی مراد ہے یا مکروہِ تنزیہی؟ جیسا کہ مکروہاتِ صلوٰة کے آغاز میں شیخ ابن نجیم نے البحر الرائق میں، اور علامہ شامی نے رد المحتار میں ذکر کیا ہے (دیکھئے: البحر الرائق ج:۲ ص:۲۰، رد المحتار ج:۱ ص:۶۳۹)۔
مسجد میں اذان دینے کے بارے میں کتاب الاصل (مبسوط) میں امام محمد کی تصریح حسبِ ذیل ہے:
”قلت ارأیت الموٴذّن اذا لم یکن لہ منارة والمسجد صغیر این احب الیک ان یوٴذّن؟ قال: احب ذالک الی ان یوٴذّن خارجًا من المسجد واذا اذّن فی المسجد اجزاہ۔“ (کتاب الاصل ج:۱ ص:۱۴۱)
ترجمہ:…”میں نے کہا: یہ فرمائیے کہ جب موٴذّن کے لئے منارہ نہ ہو اور مسجدچھوٹی ہو تو آپ کے نزدیک کس جگہ اذان دینا بہتر ہوگا؟ کیا وہ مسجد سے باہر نکل کر اذان دے تاکہ لوگ سنیں یا مسجد میں اذان دے؟ فرمایا: میرے نزدیک بہتر یہ ہے کہ مسجد سے باہر اذان کہے، اور اگر مسجد میںاذان دے دی جائے تب بھی اس کو کفایت کرے گی۔“
حضرت امام محمد کی اس تصریح سے ثابت ہوا کہ مسجد میں اذان دینا بہتر نہیں، لیکن اگر دے دی جائے تب بھی کوئی مضائقہ نہیں۔
دُوسری روایت سے معلوم ہوا کہ جمعہ کی دُوسری اذان منبر کے سامنے ہوتی ہے، اور اُمت کا تعامل اسی پر چلا آتا ہے، فقہاء اس منبر کی اذان کو مختلف تعبیرات سے ذکر کرتے ہیں، کبھی ”خطیب کے آگے“ کے لفظ سے، کبھی ”منبر کے پاس، اس کے قریب“ کے لفظ سے، اور کبھی ”منبر پر“ کے لفظ سے، ان تمام تعبیرات سے بشرطِ فہم و انصاف یہی سمجھا جاتا ہے کہ جمعہ کی دُوسری اذان منبر کے پاس داخلِ مسجد ہو۔
تیسری روایت سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضراتِ شیخین رضی اللہ عنہما کے زمانے میں دُوسری نمازوں کی طرح جمعہ کی بھی ایک ہی اذان ہوتی تھی، چونکہ اس سے بیک وقت دو مقصد تھے، ایک تومسجد سے باہر کے لوگوں کو وقتِ نماز کی اطلاع دینا، دُوسرے حاضرینِ مسجدکو خطبہ شروع ہونے کی اطلاع دینا، تاکہ وہ خاموش ہوکر خطبہ کی طرف متوجہ ہوجائیں، اس لئے دونوں پہلووٴں کی رعایت کرتے ہوئے یہ اذان مسجد کے دروازے پر کہلائی جاتی تھی، خلیفہٴ راشد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور میں پہلی اذان کا اضافہ ہوا جو زوراء پر ہوتی تھی، اور دُوسری اذان صرف خطبہ کے لئے مخصوص ہوگئی، جو منبر کے پاس کہی جانے لگی۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صاحبِ ہدایہ اور دیگر فقہاء نے جس توارث کا حوالہ دیا ہے اس سے وہ توارثِ قدیم مراد ہے جو دورِ عثمانی سے چلا آرہا ہے، کیونکہ توارثِ حادث خود حجت نہیں، اسے معرضِ دلیل میں پیش کرنا فقہاء کی شان سے بعید ہے، جہاں تک مجھے معلوم ہے مذاہبِ اربعہ اس پر متفق ہیں کہ جمعہ کی دُوسری اذان منبر کے سامنے ہو، جیسا کہ ہمارے شیخ حضرت العلامہ سیّد محمد یوسف بنوری نوّر اللہ مرقدہ نے معارف السنن (ج::۴ ص:۴۰۲) میں نقل کیا ہے، اگر بعض مالکیوں نے اس سے اختلاف کیا ہے، تو تعامل و توارث کے مقابلے میں ان کی رائے ہمارے لئے حجت نہیں، راقم الحروف کو کتبِ فقہ سے جو تحقیق ہوئی وہ عرض کردی گئی، اگر کسی صاحب کی تحقیق کچھ اور ہو تو وہ اپنی تحقیق پر عمل فرمائیں۔
آپ کے مسائل اور انکا حل
واللہ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:7⃣3⃣2⃣
مائک اذان کے لیے خارج مسجدرکھنے کاحکم
سوال:
گذارش ہے کہ جامع مسجد کرت پور میں لوڈ اسپیکر لگاہواہے لیکن میک جامع مسجد کے اندر شہ نشیں کے پاس رکھ دیا ہے اور لوڈاسپیکر دومیناروں کے درمیان رکھ دیا ہے جس میں اذان کی آواز نکلتی ہے بہت سے آدمی کہتے ہیں کہ میک اندر مسجد کے رکھ کر اذان نہیں دینی چاہیے میک باہر رکھ کراذان دو اس مسئلہ میں علماء دین کا کیا خیال ہے تاکہ اس پر عمل کیا جاوے حالاں کہ عید ین کے موقع پر بھی خطبہ اور اذان وہیں پر ہوتی ہے عند الشرع کیا حکم ہے۔
جواب:
اذان مسجد کے باہر ہونی چاہیے اور جہاں مائک ہوتاہے اسی جگہ سے دیجاتی ہے اس لیے مائک کو بھی مسجد کے باہر ہونا چاہیے اور عیدین کی نماز میں اذان تو ہوتی نہیں صرف خطبہ ہوتاہے اور خطبہ ممبر پرہوتا ہے اس لیے خطبہ میں مائک ممبر کے پاس رکھا جائے گا۔
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
داخل ِ مسجد اذان دینے کاحکم
سوال:
مائک کو مسجد میں رکھ کر اذان پڑھنا کیساہے اگر مائک کو باہر رکھنے سے آواز میں کسی قسم کی کمی محسوس ہوتی ہے تو یہ مسجد میں اندر اذان پڑھنے کیلئے عذر ہوسکتاہے یاکہ نہیں؟
جواب:
مسجد سے علیحدہ جگہ مائک کو رکھ کر اذان پڑھ سکتے ہیں مسجد میں اذاندینا مناسب نہیں ہے وینبغی ان یؤذن علی المئذنۃ اوخارج المسجد ولایؤذن فی المسجدکذا فتاویٰ قاضی خاں عالمگیری،ج:۱،ص:۵۲۔
نظام الفتاوی5
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
مائک اذان کے لیے خارج مسجدرکھنے کاحکم
سوال:
گذارش ہے کہ جامع مسجد کرت پور میں لوڈ اسپیکر لگاہواہے لیکن میک جامع مسجد کے اندر شہ نشیں کے پاس رکھ دیا ہے اور لوڈاسپیکر دومیناروں کے درمیان رکھ دیا ہے جس میں اذان کی آواز نکلتی ہے بہت سے آدمی کہتے ہیں کہ میک اندر مسجد کے رکھ کر اذان نہیں دینی چاہیے میک باہر رکھ کراذان دو اس مسئلہ میں علماء دین کا کیا خیال ہے تاکہ اس پر عمل کیا جاوے حالاں کہ عید ین کے موقع پر بھی خطبہ اور اذان وہیں پر ہوتی ہے عند الشرع کیا حکم ہے۔
جواب:
اذان مسجد کے باہر ہونی چاہیے اور جہاں مائک ہوتاہے اسی جگہ سے دیجاتی ہے اس لیے مائک کو بھی مسجد کے باہر ہونا چاہیے اور عیدین کی نماز میں اذان تو ہوتی نہیں صرف خطبہ ہوتاہے اور خطبہ ممبر پرہوتا ہے اس لیے خطبہ میں مائک ممبر کے پاس رکھا جائے گا۔
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
داخل ِ مسجد اذان دینے کاحکم
سوال:
مائک کو مسجد میں رکھ کر اذان پڑھنا کیساہے اگر مائک کو باہر رکھنے سے آواز میں کسی قسم کی کمی محسوس ہوتی ہے تو یہ مسجد میں اندر اذان پڑھنے کیلئے عذر ہوسکتاہے یاکہ نہیں؟
جواب:
مسجد سے علیحدہ جگہ مائک کو رکھ کر اذان پڑھ سکتے ہیں مسجد میں اذاندینا مناسب نہیں ہے وینبغی ان یؤذن علی المئذنۃ اوخارج المسجد ولایؤذن فی المسجدکذا فتاویٰ قاضی خاں عالمگیری،ج:۱،ص:۵۲۔
نظام الفتاوی5
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:8⃣3⃣2⃣
جس مسجد میں پنج گانہ نماز ہوتی ہو اس میں بلااذان
نماز پڑھنے کا حکم
سوال:
ایک مسجد میں ایک شخص نماز ظہر کے وقت تنہا داخل ہوا اس مسجدمیںپابندی سے نماز نہیں ہوتی ہے یہ معلوم ہے تو ایسی صورت میں اس شخص کو تنہا نماز ظہر بلا اذان پڑھنا جائزہے یا نہیں؟
جواب:
تمام محلہ والوں پر ضروری ہے کہ مسجد میں باقاعدہ جماعت پنج گانہ کا انتظام رکھیں اگراس میں کوتاہی ہوگی تو جو شخص جس قدر بااختیار ہوگا اتنا ہی اس سے باز پرس عنداللہ ہوگی۔
نیز ایسے موقعہ پر اگر ایک ہی شخص تنہا آکر اذان دیکر کچھ انتظار کرکے تنہا نماز ادا کرکے مسجد کا حق اداکرے گا تواس کو مصلیوں سے بھری ہوئی مسجدکی جماعت کا ثواب ملے گا۔
بہر حال ایسے موقعہ میں بھی اذان دیکر جماعت کا ا نتظار کرکے اگر کچھ مصلی آجائیں جماعت سے پڑھنا چاہیے۔
فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔
نظام الفتاوی5
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جس مسجد میں پنج گانہ نماز ہوتی ہو اس میں بلااذان
نماز پڑھنے کا حکم
سوال:
ایک مسجد میں ایک شخص نماز ظہر کے وقت تنہا داخل ہوا اس مسجدمیںپابندی سے نماز نہیں ہوتی ہے یہ معلوم ہے تو ایسی صورت میں اس شخص کو تنہا نماز ظہر بلا اذان پڑھنا جائزہے یا نہیں؟
جواب:
تمام محلہ والوں پر ضروری ہے کہ مسجد میں باقاعدہ جماعت پنج گانہ کا انتظام رکھیں اگراس میں کوتاہی ہوگی تو جو شخص جس قدر بااختیار ہوگا اتنا ہی اس سے باز پرس عنداللہ ہوگی۔
نیز ایسے موقعہ پر اگر ایک ہی شخص تنہا آکر اذان دیکر کچھ انتظار کرکے تنہا نماز ادا کرکے مسجد کا حق اداکرے گا تواس کو مصلیوں سے بھری ہوئی مسجدکی جماعت کا ثواب ملے گا۔
بہر حال ایسے موقعہ میں بھی اذان دیکر جماعت کا ا نتظار کرکے اگر کچھ مصلی آجائیں جماعت سے پڑھنا چاہیے۔
فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔
نظام الفتاوی5
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:9⃣3⃣2⃣
حدودِ مسجد سے باہر اذان پڑھنا
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: مسجد کے دائرہ صحن سے باہر وقتی نماز کے لئے اذان دینا کیسا ہے؟ اکثر مسجد اور مدرسہ کی چہار دیواری ایک ہی ہوتی ہے، مگر دائرۂ مسجد ومدرسہ الگ الگ ہوتے ہیں، مدرسہ کے دائرہ کے اندر سے ہی مائک سےاذان دے دی جائے تو وہ اذان معتبر ہوگی؟ مائک مسجد میں نہ رکھ کر مدرسہ میں رکھا جائے یہ کیسا ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: مدرسہ میں لاؤڈاسپیکر رکھ کر اذان دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (مستفاد: احسن الفتاویٰ ۲؍۲۹۵)
عن عروۃ بن الزبیر عن امرأۃ من بني النجار قالت: کان بیتي من أطول بیت حول المسجد، فکان بلال یؤذن علیہ الفجر…الخ۔
(سنن أبي داؤد، الصلاۃ / باب الأذان فوق المنارۃ رقم: ۵۱۹)
وینبغي أن یؤذن علی المئذنۃ أو خارج المسجد … کذا في الخانیۃ، والسنۃ أن یؤذن في موضع عال یکون أسمع لجیرانہ ویرفع صوتہ ولا یجہد نفسہ، کذا في البحر۔ (الفتاویٰ الہندیۃ، ۱؍۵۵، کذا في الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۲؍۱۳۸ رقم: ۱۹۶۵ زکریا، البحر الرائق، الصلاۃ / باب الأذان ۱؍۲۵۵ کوئٹہ، الدر المختار مع الشامي، الصلاۃ / باب الأذان ۱؍؍۱۸۴ کراچی)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتاب النوازل
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
حدودِ مسجد سے باہر اذان پڑھنا
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: مسجد کے دائرہ صحن سے باہر وقتی نماز کے لئے اذان دینا کیسا ہے؟ اکثر مسجد اور مدرسہ کی چہار دیواری ایک ہی ہوتی ہے، مگر دائرۂ مسجد ومدرسہ الگ الگ ہوتے ہیں، مدرسہ کے دائرہ کے اندر سے ہی مائک سےاذان دے دی جائے تو وہ اذان معتبر ہوگی؟ مائک مسجد میں نہ رکھ کر مدرسہ میں رکھا جائے یہ کیسا ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: مدرسہ میں لاؤڈاسپیکر رکھ کر اذان دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (مستفاد: احسن الفتاویٰ ۲؍۲۹۵)
عن عروۃ بن الزبیر عن امرأۃ من بني النجار قالت: کان بیتي من أطول بیت حول المسجد، فکان بلال یؤذن علیہ الفجر…الخ۔
(سنن أبي داؤد، الصلاۃ / باب الأذان فوق المنارۃ رقم: ۵۱۹)
وینبغي أن یؤذن علی المئذنۃ أو خارج المسجد … کذا في الخانیۃ، والسنۃ أن یؤذن في موضع عال یکون أسمع لجیرانہ ویرفع صوتہ ولا یجہد نفسہ، کذا في البحر۔ (الفتاویٰ الہندیۃ، ۱؍۵۵، کذا في الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۲؍۱۳۸ رقم: ۱۹۶۵ زکریا، البحر الرائق، الصلاۃ / باب الأذان ۱؍۲۵۵ کوئٹہ، الدر المختار مع الشامي، الصلاۃ / باب الأذان ۱؍؍۱۸۴ کراچی)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتاب النوازل
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:0⃣4⃣2⃣
مدرسہ میں جماعت کی نماز کے لئے اذان دینے سے
وہ مسجد کے حکم میں نہیں ہوگا ؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ:مدرسہ عربیہ رحمانیہ واقع محلہ افغانان سہس پور ضلع بجنور جو حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب کا قائم کردہ ہے، اس مدرسہ سے مسجدیں دور دور ہیں؛ اس لئے ہم اساتذہ مدرسہ ہی میں نماز باجماعت ادا کرتے ہیں، محلہ کی مساجد کی اذان کی آواز کماحقہ لاؤڈ اسپیکر سے آجاتی ہے؛ اس لئےاذان دئے بغیر مدرسہ میں جماعت کی جاتی ہے، چوںکہ مدرسہ کے طلباء بھی نماز پڑھتے ہیں، اگر وہ طلباء مسجد میں جائیں، تو بچے تو شرارت کرتے ہی ہیں؛ اس لئے اس پر مسجد کے نمازیوں کو اعتراض ہوگا، اس وجہ سے مدرسہ ہی میں نماز پڑھتے ہیں، کبھی کبھی کچھ لوگ محلہ کے بھی شریک جماعت ہوجاتے ہیں، اگر اذان دی جائے تو مدرسہ مسجد کے حکم میں ہوجائے گا، جب کہ مدرسہ کی چھٹی کے ایام میں نماز نہیں ہوتی، مدرسہ بند رہتا ہے، آپ مہربانی فرماکر وضاحت فرمادیں کہ ہمیں مدرسہ میں نماز باجماعت ادا کرنے کے لئے اذان دینا ضروری ہے یانہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: مسئولہ صورت میں مدرسہ میں جماعت کے لئے اذانضروری نہیں ہے؛ اس لئے کہ محلہ کی اذان کافی ہے؛ لیکن افضل اور مستحب یہ ہے کہ اذان دے کر جماعت سے نماز پڑھی جائے اور اس کے لئے لاؤڈ اسپیکر ضروری نہیں؛ بلکہ بلند آواز سے بغیر لاؤڈ اسپیکر کے اذان کافی ہے اور محض اذان دینے سے یہ مدرسہ مسجد کے حکم میں نہ ہوگا۔
فلا یکرہ ترکہما إذ أذان الحي یکفیہ (درمختار) لأن أذان المحلۃ وإقامتہا کأذانہ وإقامتہ؛ لأن المؤذن نائب أہل المصر کلہم کما یشیر إلیہ ابن مسعود حین صلی بعلقمۃ والأسود بغیر أذان ولا إقامۃ، حیث قال: أذان الحي یکفینا وقد علمت تصریح الکنز بِنُدُبہ للمسافر وللمصلي في بیتہ في المصر، فالمقصود من کفایۃ أذان الحي نفي الکراہۃ المؤثمۃ۔ (شامي ۲؍۵۸ بیروت، درمختار مع الشامي ۲؍۶۳-۶۴ زکریا)
وکرہ ترکہما للمسافر لا لمصل في بیتہ في المصر، وندباً لہما۔ (کنز الدقائق علی ہامش البحر الرائق ۱؍۲۶۵، تبیین الحقائق ۱؍۲۵۰ بیروت، النہر الفائق ۱؍۱۸۰ ملتان)
ویکرہ أداء المکتوبۃ بالجماعۃ في المسجد بغیر أذان وإقامۃ، ولا یکرہ في البیوت والکروم وضیاع القریٰ؛ لأن أذان القریۃ والمصر أذان لہم، وإن أذنوا کان أولیٰ۔ (الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۲؍۱۵۲ رقم: ۲۰۰۶ زکریا)
فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
کتاب النوازل
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
مدرسہ میں جماعت کی نماز کے لئے اذان دینے سے
وہ مسجد کے حکم میں نہیں ہوگا ؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ:مدرسہ عربیہ رحمانیہ واقع محلہ افغانان سہس پور ضلع بجنور جو حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب کا قائم کردہ ہے، اس مدرسہ سے مسجدیں دور دور ہیں؛ اس لئے ہم اساتذہ مدرسہ ہی میں نماز باجماعت ادا کرتے ہیں، محلہ کی مساجد کی اذان کی آواز کماحقہ لاؤڈ اسپیکر سے آجاتی ہے؛ اس لئےاذان دئے بغیر مدرسہ میں جماعت کی جاتی ہے، چوںکہ مدرسہ کے طلباء بھی نماز پڑھتے ہیں، اگر وہ طلباء مسجد میں جائیں، تو بچے تو شرارت کرتے ہی ہیں؛ اس لئے اس پر مسجد کے نمازیوں کو اعتراض ہوگا، اس وجہ سے مدرسہ ہی میں نماز پڑھتے ہیں، کبھی کبھی کچھ لوگ محلہ کے بھی شریک جماعت ہوجاتے ہیں، اگر اذان دی جائے تو مدرسہ مسجد کے حکم میں ہوجائے گا، جب کہ مدرسہ کی چھٹی کے ایام میں نماز نہیں ہوتی، مدرسہ بند رہتا ہے، آپ مہربانی فرماکر وضاحت فرمادیں کہ ہمیں مدرسہ میں نماز باجماعت ادا کرنے کے لئے اذان دینا ضروری ہے یانہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: مسئولہ صورت میں مدرسہ میں جماعت کے لئے اذانضروری نہیں ہے؛ اس لئے کہ محلہ کی اذان کافی ہے؛ لیکن افضل اور مستحب یہ ہے کہ اذان دے کر جماعت سے نماز پڑھی جائے اور اس کے لئے لاؤڈ اسپیکر ضروری نہیں؛ بلکہ بلند آواز سے بغیر لاؤڈ اسپیکر کے اذان کافی ہے اور محض اذان دینے سے یہ مدرسہ مسجد کے حکم میں نہ ہوگا۔
فلا یکرہ ترکہما إذ أذان الحي یکفیہ (درمختار) لأن أذان المحلۃ وإقامتہا کأذانہ وإقامتہ؛ لأن المؤذن نائب أہل المصر کلہم کما یشیر إلیہ ابن مسعود حین صلی بعلقمۃ والأسود بغیر أذان ولا إقامۃ، حیث قال: أذان الحي یکفینا وقد علمت تصریح الکنز بِنُدُبہ للمسافر وللمصلي في بیتہ في المصر، فالمقصود من کفایۃ أذان الحي نفي الکراہۃ المؤثمۃ۔ (شامي ۲؍۵۸ بیروت، درمختار مع الشامي ۲؍۶۳-۶۴ زکریا)
وکرہ ترکہما للمسافر لا لمصل في بیتہ في المصر، وندباً لہما۔ (کنز الدقائق علی ہامش البحر الرائق ۱؍۲۶۵، تبیین الحقائق ۱؍۲۵۰ بیروت، النہر الفائق ۱؍۱۸۰ ملتان)
ویکرہ أداء المکتوبۃ بالجماعۃ في المسجد بغیر أذان وإقامۃ، ولا یکرہ في البیوت والکروم وضیاع القریٰ؛ لأن أذان القریۃ والمصر أذان لہم، وإن أذنوا کان أولیٰ۔ (الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۲؍۱۵۲ رقم: ۲۰۰۶ زکریا)
فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
کتاب النوازل
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:1⃣4⃣2⃣
مسجد کے اندر لاؤڈاسپیکر سے اذان دینا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: مسجد کے اندر لاؤڈاسپیکر سے بغیر کسی مجبوری کے اذان دینے میں کیا حکم ہے؟ نیز مکروہ وعدم مکروہ اور افضل اور غیر افضل کو بھی بحوالہ کتب تحریر فرمائیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اصل مقصود اذان کی آواز لوگوں تک پہنچنا ہے، پہلے یہ مقصود اُس وقت ہی حاصل ہوتا تھا جب کہ مسجد کے باہر منارہ پر کھڑے ہوکر اذان کہی جاتی تھی، اسی لئے فقہاء نے مسجد کے اندر اذان دینے کو خلافِ اولیٰ قرار دیا تھا؛ لیکن لاؤڈاسپیکر پر اذان دینے کی صورت میں مسجدکے اندر رہتے ہوئے بھی یہ مقصود حاصل ہوجاتا ہے، اس لئے اب مسجدکے اندر لاؤڈاسپیکر پر اذان دینا خلافِ مقصود نہیں ہے؛ کیوںکہ اسپیکروں کے ذریعہ اذان کی آواز دور تک پہنچ جاتی ہے، باقی اختلاف سے بچنے کے لئے مسجد سے متصل کسی کمرہ وغیرہ میں اذان کا نظم کردیں تو بہتر ہے۔
ویکرہ أن یؤذن في المسجد کما في القہستاني عن النظم فإن لم یکن ثمۃ مکان مرتفع للأذان یؤذن في فناء المسجد، کما في الفتح۔ (طحطاوي علی المراقي / کتاب الصلاۃ ۱۰۷ کراچی، ۱۹۷ دار الکتاب دیوبند)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتاب النوازل 13
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے ۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
مسجد کے اندر لاؤڈاسپیکر سے اذان دینا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: مسجد کے اندر لاؤڈاسپیکر سے بغیر کسی مجبوری کے اذان دینے میں کیا حکم ہے؟ نیز مکروہ وعدم مکروہ اور افضل اور غیر افضل کو بھی بحوالہ کتب تحریر فرمائیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اصل مقصود اذان کی آواز لوگوں تک پہنچنا ہے، پہلے یہ مقصود اُس وقت ہی حاصل ہوتا تھا جب کہ مسجد کے باہر منارہ پر کھڑے ہوکر اذان کہی جاتی تھی، اسی لئے فقہاء نے مسجد کے اندر اذان دینے کو خلافِ اولیٰ قرار دیا تھا؛ لیکن لاؤڈاسپیکر پر اذان دینے کی صورت میں مسجدکے اندر رہتے ہوئے بھی یہ مقصود حاصل ہوجاتا ہے، اس لئے اب مسجدکے اندر لاؤڈاسپیکر پر اذان دینا خلافِ مقصود نہیں ہے؛ کیوںکہ اسپیکروں کے ذریعہ اذان کی آواز دور تک پہنچ جاتی ہے، باقی اختلاف سے بچنے کے لئے مسجد سے متصل کسی کمرہ وغیرہ میں اذان کا نظم کردیں تو بہتر ہے۔
ویکرہ أن یؤذن في المسجد کما في القہستاني عن النظم فإن لم یکن ثمۃ مکان مرتفع للأذان یؤذن في فناء المسجد، کما في الفتح۔ (طحطاوي علی المراقي / کتاب الصلاۃ ۱۰۷ کراچی، ۱۹۷ دار الکتاب دیوبند)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتاب النوازل 13
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے ۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:2⃣4⃣2⃣
حدودِ مسجد میں مائک سے اَذان دینا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ایک مسجد میں جس میں پہلے مائک نہیں تھا، اُس وقت مسجدکی اونچی جگہ پر اذان ہوتی تھی، بغیر مائک کے اُس اذان سے محلہ میں آواز نہیں جاتی تھی، تو آواز کے لئے مائک کا انتظام کیا گیا، اب مائک سے مسجد کی حد کے اندر اذان دی جاتی ہے، اس سے محلہ میں آواز جاتی ہے، تو مسجد کی حد کے اندر اذان دینا کیسا ہے؛ کیوںکہ لوگ مسجد کی حد کے اندر اذان دینے کو اعتراض کررہے ہے، کیا لوگوں کا اعتراض کرنا صحیح ہے یا غلط؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: مسجد سے خارج کسی اونچی جگہ پر اذان دینے کا مقصداذان کی آواز دور تک پہنچانا ہے، اور لاؤڈاسپیکر کے ذریعہ اذان دینے کی صورت میں یہ مقصد ہر جگہ سے پورا ہوجاتا ہے، خواہ مسجد کے اندر اذاندی جائے یا باہر، اس لئے لاؤڈاسپیکر کے ذریعہ مسجد کے اندر اذان دینے میں کسی قسم کی کوئی کراہت نہیں ہے، نیز جمعہ کی اذانِ ثانی بھی بالاتفاق مسجد ہی میں ہوتی ہے، اس سے بھی معلوم ہوا کہ دوسری اذانوں کے لئے خارجمسجد کا حکم محض تبلیغ صوت کے لئے ہے؛ لہٰذا لوگوں کا اعتراض کرنا صحیح نہیں ہے۔
(احسن الفتاویٰ ۲؍۲۹۵، فتاویٰ محمودیہ ۱۶؍۲۲۳ ڈابھیل)
وینبغي أن یؤذن علی المأذنۃ أو خارج المسجد، ولا یؤذن في المسجد کذا في قاضي خاں۔ والسنۃ أن یؤذن في موضع عالٍ یکون إسمع لجیرانہ، ویرفع صوتہ ولا یجہد نفسہ، کذا في البحر۔ (الفتاویٰ الہندیۃ، کتاب الصلاۃ / الباب الثاني في الأذان ۱؍۵۵، کذا في الشامي / باب الأذان ۲؍۴۸)
واعلم أن الأذان لا یکرہ في المسجد مطلقًا کما فہم بعضہم من بعض العبارات الفقہیۃ وعمّموہ ہٰذا الأذان (الأذان بین یدي الخطیب) بل مقیدًا بما إذا کان المقصود إعلام ناس غیر حاضرین - إلی قولہ - في الجلابي أنہ یؤذن في المسجدأو ما في حکمہ لا في البعید منہ، قال لشیخ: قولہ في المسجد: صریح في عدم الکراہۃ الأذان في داخل المسجد۔ (إعلاء السنن / باب التأذین عند الخطبۃ ۸؍۶۹)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتاب النوازل
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
حدودِ مسجد میں مائک سے اَذان دینا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ایک مسجد میں جس میں پہلے مائک نہیں تھا، اُس وقت مسجدکی اونچی جگہ پر اذان ہوتی تھی، بغیر مائک کے اُس اذان سے محلہ میں آواز نہیں جاتی تھی، تو آواز کے لئے مائک کا انتظام کیا گیا، اب مائک سے مسجد کی حد کے اندر اذان دی جاتی ہے، اس سے محلہ میں آواز جاتی ہے، تو مسجد کی حد کے اندر اذان دینا کیسا ہے؛ کیوںکہ لوگ مسجد کی حد کے اندر اذان دینے کو اعتراض کررہے ہے، کیا لوگوں کا اعتراض کرنا صحیح ہے یا غلط؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: مسجد سے خارج کسی اونچی جگہ پر اذان دینے کا مقصداذان کی آواز دور تک پہنچانا ہے، اور لاؤڈاسپیکر کے ذریعہ اذان دینے کی صورت میں یہ مقصد ہر جگہ سے پورا ہوجاتا ہے، خواہ مسجد کے اندر اذاندی جائے یا باہر، اس لئے لاؤڈاسپیکر کے ذریعہ مسجد کے اندر اذان دینے میں کسی قسم کی کوئی کراہت نہیں ہے، نیز جمعہ کی اذانِ ثانی بھی بالاتفاق مسجد ہی میں ہوتی ہے، اس سے بھی معلوم ہوا کہ دوسری اذانوں کے لئے خارجمسجد کا حکم محض تبلیغ صوت کے لئے ہے؛ لہٰذا لوگوں کا اعتراض کرنا صحیح نہیں ہے۔
(احسن الفتاویٰ ۲؍۲۹۵، فتاویٰ محمودیہ ۱۶؍۲۲۳ ڈابھیل)
وینبغي أن یؤذن علی المأذنۃ أو خارج المسجد، ولا یؤذن في المسجد کذا في قاضي خاں۔ والسنۃ أن یؤذن في موضع عالٍ یکون إسمع لجیرانہ، ویرفع صوتہ ولا یجہد نفسہ، کذا في البحر۔ (الفتاویٰ الہندیۃ، کتاب الصلاۃ / الباب الثاني في الأذان ۱؍۵۵، کذا في الشامي / باب الأذان ۲؍۴۸)
واعلم أن الأذان لا یکرہ في المسجد مطلقًا کما فہم بعضہم من بعض العبارات الفقہیۃ وعمّموہ ہٰذا الأذان (الأذان بین یدي الخطیب) بل مقیدًا بما إذا کان المقصود إعلام ناس غیر حاضرین - إلی قولہ - في الجلابي أنہ یؤذن في المسجدأو ما في حکمہ لا في البعید منہ، قال لشیخ: قولہ في المسجد: صریح في عدم الکراہۃ الأذان في داخل المسجد۔ (إعلاء السنن / باب التأذین عند الخطبۃ ۸؍۶۹)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتاب النوازل
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:3⃣4⃣2⃣
مسجد کی حد میں اذان دینا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: حدودِ مسجد میں مائک رکھ کر اذان دینا کیسا ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اذان میں اصل مقصود آواز بلند کرنا اور دور تک آواز پہنچانا ہے؛ لہٰذا جب لاؤڈاسپیکر سے اذان دی جائے اور ہارن مسجد کے اوپر لگے ہوں، جیساکہ عام معمول ہے، تو حدودِ مسجد میں مائک رکھ کر اذان دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور جن بعض فقہی عبارتوں میں مسجد کے اندراذان دینے کو مکروہ لکھا گیا ہے، وہ اس صورت میں ہے جب کہ بغیر لاؤڈاسپیکر کے اذان دی جارہی ہو، یا ایسی جگہ اذان دی جارہی ہو جس سے آواز دور نہ پہنچے۔
واعلم أن الأذان لا یکرہ في المسجد مطلقًا کما فہِم بعضہم من بعض العبارات الفقہیۃ وعمومہ ہٰذا الأذان؛ بل مقیدًا بما إذا کان المقصود إعلام ناس غیر حاضرین کما في رد المحتار، وفي السراج: وینبغي للمؤذن أن یؤذن في موضع یکون أسمع للجیران ویرفع صوتہ، ولا یجہد نفسہ؛ لأنہ یتضرر - إلی قولہ - في الجلابي: أنہ یؤذن في المسجد أو ما في حکمہ لا في البعید عنہ۔ قال الشیخ: قولہ في المسجد صریح في عدم کراہۃ الأذان في داخل المسجد وإنما ہو خلاف الأولی إذا مست الحاجۃ إلی الإعلان البالغ وہو المراد بالکراہۃ المنقولۃ في بعض الکتب فافہم۔ (إعلاء السنن، أبواب الجمعۃ / باب التأذین عند الخطبۃ ۸؍۸۶-۸۷ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتاب النوازل 3
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
مسجد کی حد میں اذان دینا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: حدودِ مسجد میں مائک رکھ کر اذان دینا کیسا ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اذان میں اصل مقصود آواز بلند کرنا اور دور تک آواز پہنچانا ہے؛ لہٰذا جب لاؤڈاسپیکر سے اذان دی جائے اور ہارن مسجد کے اوپر لگے ہوں، جیساکہ عام معمول ہے، تو حدودِ مسجد میں مائک رکھ کر اذان دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور جن بعض فقہی عبارتوں میں مسجد کے اندراذان دینے کو مکروہ لکھا گیا ہے، وہ اس صورت میں ہے جب کہ بغیر لاؤڈاسپیکر کے اذان دی جارہی ہو، یا ایسی جگہ اذان دی جارہی ہو جس سے آواز دور نہ پہنچے۔
واعلم أن الأذان لا یکرہ في المسجد مطلقًا کما فہِم بعضہم من بعض العبارات الفقہیۃ وعمومہ ہٰذا الأذان؛ بل مقیدًا بما إذا کان المقصود إعلام ناس غیر حاضرین کما في رد المحتار، وفي السراج: وینبغي للمؤذن أن یؤذن في موضع یکون أسمع للجیران ویرفع صوتہ، ولا یجہد نفسہ؛ لأنہ یتضرر - إلی قولہ - في الجلابي: أنہ یؤذن في المسجد أو ما في حکمہ لا في البعید عنہ۔ قال الشیخ: قولہ في المسجد صریح في عدم کراہۃ الأذان في داخل المسجد وإنما ہو خلاف الأولی إذا مست الحاجۃ إلی الإعلان البالغ وہو المراد بالکراہۃ المنقولۃ في بعض الکتب فافہم۔ (إعلاء السنن، أبواب الجمعۃ / باب التأذین عند الخطبۃ ۸؍۸۶-۸۷ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتاب النوازل 3
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:4⃣4⃣2⃣
بڑی مونچھوں کا حکم
سوال:
ایک شخص کی مونچھیں اتنی بڑی ہیں کہ پانی وغیرہ پیتے وقت مونچھیں اس پانی وغیرہ کے ساتھ لگ جاتی ہیں، تو ایسی مونچھوں اور اس پانی وغیرہ کا کیا حکم ہے؟
جواب:
اتنی بڑی مونچھیں رکھنا شرعاً گناہ ہے، حدیث میں آتا ہے:
“عن زید بن أرقم رضی الله عنہ أن رسول الله صلی الله علیہ وسلم قال: من لم یأخذ من شاربہ فلیس منّا۔” (مشکوٰة ص:۳۸۱)
ترجمہ:… “آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: جو شخص مونچھیں نہیں تراشتا وہ ہم میں سے نہیں۔
واللہ اعلم
آپ کے مسائل اور انکا حل 7
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
بڑی مونچھوں کا حکم
سوال:
ایک شخص کی مونچھیں اتنی بڑی ہیں کہ پانی وغیرہ پیتے وقت مونچھیں اس پانی وغیرہ کے ساتھ لگ جاتی ہیں، تو ایسی مونچھوں اور اس پانی وغیرہ کا کیا حکم ہے؟
جواب:
اتنی بڑی مونچھیں رکھنا شرعاً گناہ ہے، حدیث میں آتا ہے:
“عن زید بن أرقم رضی الله عنہ أن رسول الله صلی الله علیہ وسلم قال: من لم یأخذ من شاربہ فلیس منّا۔” (مشکوٰة ص:۳۸۱)
ترجمہ:… “آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ: جو شخص مونچھیں نہیں تراشتا وہ ہم میں سے نہیں۔
واللہ اعلم
آپ کے مسائل اور انکا حل 7
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
Telegram
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
"جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند" میں روزانہ ایک دو مسئلہ مدلل ومزین انداز میں بطورِ استفادہ آپ کو ملے گا،
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1
جواب نمبر:5⃣4⃣2⃣
Bangladeshسوال # 149099
میرے ایک رشتہ دار بینک میں کام کررہے ہیں سکوریٹی کارڈ کے طورپر، اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ یہ کم پیسے والی ملازمت ہے، اب ان کو آفر ملا ہے کہ ان کو پانچ سو روپئے اضافی ملیں گے اگر وہ بڑی مونچھ رکھتے ہیں جیسے کہ روسی لیڈر جوسیف سیٹلن رکھتے تھے۔ ان کی داڑھی نہیں ہے، مقامی امام نے کہا کہ پانی پینے تک پانی مونچھ کو ٹچ کرے گا، کیوں کہ اس سے اوپر کے ہونٹ چھپ جائیں گے، تو پینے کا پانی شراب کی طرح حرام ہوجائے گا، کیوں کہ یہ مونچھ کو ٹچ( چھو)رہاہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا کوئی ایسا فتوی ہے کہ پانی یا پینے کا پانی مونچھ کو ٹچ کرے گا وہ شراب کی طرح ہوجائے گا؟
(۲) اگر وہ بڑی مونچھ رکھتے ہیں توکیا ان کو فاسق کہا جائے گا؟ ہم فکر مند ہیں، کیوں کہ ہم امام کی موجودگی میں ان ہی کی امامت میں نماز پڑھتے ہیں۔وہ قرآن بہت اچھا پڑھتے ہیں۔ براہ کرم، قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں۔
Published on: Apr 19, 2017 جواب # 149099
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa: 736-713/sn=7/1438
پانی مونچھ کو ٹچ کرنے کی وجہ سے وہ شراب کی طرح حرام ہوجائے یہ بات تو درست نہیں ہے؛ البتہ بڑی مونچھ رکھنا یہ حدیث کے خلاف ہے، متعدد احادیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈاڑھی کو بڑھانے اور مونچھوں کو خوب باریک کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ أنھکوا الشوارب وأعفوا اللحی (بخاری عن ابن عمر، رقم: ۵۸۹۳)؛ اس صورتِ مسئولہ میں محض اضافی تنخواہ کے لیے ایک غیرمسلم لیڈر کی طرح بڑی بڑی مونچھیں رکھنا درست نہیں ہے۔
(۲) ڈاڑھی نہ رکھنے کی وجہ سے تو وہ پہلے ہی سے ”فاسق“ ہے اب مونچھیں بڑی رکھنے کی وجہ سے ”فسق“ میں اضافہ ہوجائے گا، اور فقہائے کرام نے صراحت کی ہے کہ ”فاسق“ کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہوتی ہے گو وہ قرآن کریم اچھا پڑھتا ہو۔ ․․․ ومفاسدہ کون الکراہة في الفاسق تحریمیة (حاشیة الطحطاوي علی المراقی)؛ لہٰذا آپ حضرات اس کے علاوہ کسی باشرع آدمی کے پیچھے نماز پڑھا کریں، اس کے پیچھے نماز مکروہ ہوگی۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
Bangladeshسوال # 149099
میرے ایک رشتہ دار بینک میں کام کررہے ہیں سکوریٹی کارڈ کے طورپر، اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ یہ کم پیسے والی ملازمت ہے، اب ان کو آفر ملا ہے کہ ان کو پانچ سو روپئے اضافی ملیں گے اگر وہ بڑی مونچھ رکھتے ہیں جیسے کہ روسی لیڈر جوسیف سیٹلن رکھتے تھے۔ ان کی داڑھی نہیں ہے، مقامی امام نے کہا کہ پانی پینے تک پانی مونچھ کو ٹچ کرے گا، کیوں کہ اس سے اوپر کے ہونٹ چھپ جائیں گے، تو پینے کا پانی شراب کی طرح حرام ہوجائے گا، کیوں کہ یہ مونچھ کو ٹچ( چھو)رہاہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا کوئی ایسا فتوی ہے کہ پانی یا پینے کا پانی مونچھ کو ٹچ کرے گا وہ شراب کی طرح ہوجائے گا؟
(۲) اگر وہ بڑی مونچھ رکھتے ہیں توکیا ان کو فاسق کہا جائے گا؟ ہم فکر مند ہیں، کیوں کہ ہم امام کی موجودگی میں ان ہی کی امامت میں نماز پڑھتے ہیں۔وہ قرآن بہت اچھا پڑھتے ہیں۔ براہ کرم، قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں۔
Published on: Apr 19, 2017 جواب # 149099
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa: 736-713/sn=7/1438
پانی مونچھ کو ٹچ کرنے کی وجہ سے وہ شراب کی طرح حرام ہوجائے یہ بات تو درست نہیں ہے؛ البتہ بڑی مونچھ رکھنا یہ حدیث کے خلاف ہے، متعدد احادیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈاڑھی کو بڑھانے اور مونچھوں کو خوب باریک کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ أنھکوا الشوارب وأعفوا اللحی (بخاری عن ابن عمر، رقم: ۵۸۹۳)؛ اس صورتِ مسئولہ میں محض اضافی تنخواہ کے لیے ایک غیرمسلم لیڈر کی طرح بڑی بڑی مونچھیں رکھنا درست نہیں ہے۔
(۲) ڈاڑھی نہ رکھنے کی وجہ سے تو وہ پہلے ہی سے ”فاسق“ ہے اب مونچھیں بڑی رکھنے کی وجہ سے ”فسق“ میں اضافہ ہوجائے گا، اور فقہائے کرام نے صراحت کی ہے کہ ”فاسق“ کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہوتی ہے گو وہ قرآن کریم اچھا پڑھتا ہو۔ ․․․ ومفاسدہ کون الکراہة في الفاسق تحریمیة (حاشیة الطحطاوي علی المراقی)؛ لہٰذا آپ حضرات اس کے علاوہ کسی باشرع آدمی کے پیچھے نماز پڑھا کریں، اس کے پیچھے نماز مکروہ ہوگی۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:6⃣4⃣2⃣
نماز میں مونچھوں پر ہاتھ پھیرنا فعلِ عبث ہے
سوال:
ہمارے علاقے میں زیادہ تر پولیس والے ہیں، اور عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جب بھی وہ باجماعت نماز ادا کرتے ہیں تو زیادہ تر مونچھوں پر ہاتھ پھیرتے رہتے ہیں، اب یہ بتائیں کہ نماز میں مونچھوں پر ہاتھ پھیرنے سے نماز پوری ہوجاتی ہے یا نہیں؟
جواب:
مونچھوں پر ہاتھ پھیرنا فعلِ عبث ہے، اس سے نماز مکروہ ہوجاتی ہے۔
واللہ اعلم
آپ کے مسائل اور انکا حل
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
نماز میں مونچھوں پر ہاتھ پھیرنا فعلِ عبث ہے
سوال:
ہمارے علاقے میں زیادہ تر پولیس والے ہیں، اور عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جب بھی وہ باجماعت نماز ادا کرتے ہیں تو زیادہ تر مونچھوں پر ہاتھ پھیرتے رہتے ہیں، اب یہ بتائیں کہ نماز میں مونچھوں پر ہاتھ پھیرنے سے نماز پوری ہوجاتی ہے یا نہیں؟
جواب:
مونچھوں پر ہاتھ پھیرنا فعلِ عبث ہے، اس سے نماز مکروہ ہوجاتی ہے۔
واللہ اعلم
آپ کے مسائل اور انکا حل
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
Telegram
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
"جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند" میں روزانہ ایک دو مسئلہ مدلل ومزین انداز میں بطورِ استفادہ آپ کو ملے گا،
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1
جواب نمبر:7⃣4⃣2⃣
عورت کے مرتد ہوجانے کی صورت میں مہر کاحکم
سوال:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ۔
عورت مرگئی یا مرتد ہوگئی یاطلاق دیدی ہر صورت میں مرد کے ذمہ مہر رہ گیا عورت کے والد پر مردکا زیور ہے اس صورت میں مہر کو اس زیور میںمجرے لگانا ہے یہ کیساہے مجرے لگے گایاکہ نہیں؟
اگرمرتدہو نے کے بعد پھر اپنے ماں باپ کے گھر آگئی تو کیاحکم ہے؟
مرتد ہونے سے قبل دولڑکے ایک لڑکی خاوند عورت کا والد اور والدہ اور تین بھائی موجود ہیں مہر کس کوکتنا ملے گا۔
الجـواب وباﷲ التـوفـیـق:
جواب: مذکورہ صورت میںمرد کے ذمہ مہر کی ادائیگی واجب رہے گی مرد کا زیور جوعورت کے باپ کے پاس ہے اگرمرد نے وہ زیور بیوی کو ہبہ نہیںکیا ہے نہ عرفاً نہ صراحتاً تو مہر میں مجرا ہوگا ۔
(۳)پھرجب اپنے باپ کے گھر آگئی تو شوہر اوّل کو وہ عورت ملے گی بشرطیکہمرتد ہونے سے پیشتر طلاق بائن یامغلظہ نہ واقع ہوچکی ہواور اگر مرتد ہونے سے قبل طلاق بائن یاطلا ق مغلظہ واقع ہوچکی تھی تو عورت آزاد رہے گی جس مرد سے چاہے نکاح کرے اور جس نے طلاق دیدی ہے اس سے مہر وصول کرسکتی ہے۔
(تنبیہ)خوب یادرہے کہ عورت کے مرتد ہونے سے حلالہ ساقط نہیںہوتا ہے اور مہر کی بھی مستحق رہتی ہے اس لیے کہ مفتیٰ بہ قول میں عورت کےمرتد ہونے سے نکاح نہیںٹوٹتا۔
جب ہر صورت میں مہر کی مستحق ہے تومہر خود لے گی ابھی تقسیم کا کوئی سوال ہی نہیں ہے۔
فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔
نظام الفتاوی
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
عورت کے مرتد ہوجانے کی صورت میں مہر کاحکم
سوال:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ۔
عورت مرگئی یا مرتد ہوگئی یاطلاق دیدی ہر صورت میں مرد کے ذمہ مہر رہ گیا عورت کے والد پر مردکا زیور ہے اس صورت میں مہر کو اس زیور میںمجرے لگانا ہے یہ کیساہے مجرے لگے گایاکہ نہیں؟
اگرمرتدہو نے کے بعد پھر اپنے ماں باپ کے گھر آگئی تو کیاحکم ہے؟
مرتد ہونے سے قبل دولڑکے ایک لڑکی خاوند عورت کا والد اور والدہ اور تین بھائی موجود ہیں مہر کس کوکتنا ملے گا۔
الجـواب وباﷲ التـوفـیـق:
جواب: مذکورہ صورت میںمرد کے ذمہ مہر کی ادائیگی واجب رہے گی مرد کا زیور جوعورت کے باپ کے پاس ہے اگرمرد نے وہ زیور بیوی کو ہبہ نہیںکیا ہے نہ عرفاً نہ صراحتاً تو مہر میں مجرا ہوگا ۔
(۳)پھرجب اپنے باپ کے گھر آگئی تو شوہر اوّل کو وہ عورت ملے گی بشرطیکہمرتد ہونے سے پیشتر طلاق بائن یامغلظہ نہ واقع ہوچکی ہواور اگر مرتد ہونے سے قبل طلاق بائن یاطلا ق مغلظہ واقع ہوچکی تھی تو عورت آزاد رہے گی جس مرد سے چاہے نکاح کرے اور جس نے طلاق دیدی ہے اس سے مہر وصول کرسکتی ہے۔
(تنبیہ)خوب یادرہے کہ عورت کے مرتد ہونے سے حلالہ ساقط نہیںہوتا ہے اور مہر کی بھی مستحق رہتی ہے اس لیے کہ مفتیٰ بہ قول میں عورت کےمرتد ہونے سے نکاح نہیںٹوٹتا۔
جب ہر صورت میں مہر کی مستحق ہے تومہر خود لے گی ابھی تقسیم کا کوئی سوال ہی نہیں ہے۔
فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔
نظام الفتاوی
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
Telegram
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
"جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند" میں روزانہ ایک دو مسئلہ مدلل ومزین انداز میں بطورِ استفادہ آپ کو ملے گا،
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1
جواب نمبر:8⃣4⃣2⃣
indiaسوال # 146994
غیر مقلدین فقہ حنفی کے اس مسئلے پہ اعتراض کرتے ہیں اور الزام لگاتے ہیں کہ یہ مسئلہ حدیث کے خلاف ہے ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو شخص اپنا دین بدل دے اسکو قتل کردو،(بخاری:کتاب الجھاد والسیر،باب لایعذب بعذاب اللہ،حدیث#3017]فقہ حنفی(ولاتقتل المرتدة بل تحبس حتی تسلم)اگر عورت مرتد ہوجائے تو قتل نہیں قید کیاجائے گا (کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنااحناف کانصب العین ہے ) حتی کہ اسلام لے آئے[ فتاوی عالمگیری:ج2 ص277،سطر16،کتاب السیر،باب احکام المرتدین)۔برائے مہربانی اسکا مدلل جواب دیں۔
Published on: Jan 4, 2017 جواب # 146994
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 270-48/D=4/1438
دار الاسلام میں اگر کوئی عورت مرتد ہوجائے تو اس کو قید کرکے اسلام پر مجبور کیا جائے گا، قتل نہیں کیا جائے گا الا یہ کہ امام اس کو قتل کرنے میں مصلحت سمجھے قال فيالدر: والمرتدة․․․ تحبس أبدًا ․․․ حتی تسلم ولا تقتل (الدر المختار مع ردالمحتار ۶/ ۳۹۹ط زکریا) لو أمرالإمام بقتل بعض من نساء أہل الحرب مرتدة کانت أو غیرہا لمصلحة فلا بأس بہ (تفسیر مظہری ۶/ ۳۲۹ط رشیدیہ) اور یہ بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین سے ثابت ہے چنانچہ (۱) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: وجدت امرأة مقتولة في بعض مغازي رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فنہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن قتل النساء والصبیان (بخاری رقم ۳۰۱۵) اس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے اگرچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ایک خاص موقع کا ہے؛ لیکن العبرة لعموم اللفظ لا لخصوص المورد کے قاعدہ کی رو سے یہ مرتدہ کو بھی شامل ہے۔ (۲) حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی نصیحتیں کی تھیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ أیما امرأة ارتدت عن الإسلام فادعہا فإن تابت فاقبل منہا وإن أبت استتبہا (معجم کبیر للطبرانی: ۲۰/ ۵۳ط قاہرہ) اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل کا حکم نہیں فرمایا؛ بلکہ اس سے توبہ کے مطالبہ کا حکم فرمایا (۳) حضرت ابن عباس نے فرمایا المرتدة عن الاسلام تحبس ولا تقتل (دار قطنی ۴/ ۱۲۷ط: رسالة) مذکورہ احادیث وآثار کے علاوہ اور بھی بہت سی احادیث وآثار ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مرتدہ کا حکم حبس ہے نہ کہ قتل، انہی احادیث وآثار کی بنیاد پر حنفیہ نے مرتدہ کو قید کرکے توبہ پر مجبور کرنے کا حکم دیا ہے اور قتل کا حکم نہیں دیا ہے جیسا کہ درمختار کے حوالہ سے گذرچکا، رہی استفتاء میں مذکور حدیث تو وہ مردوں کے ساتھ خاص ہے اور خصوصیت کی دلیل مذکورہ احادیث وآثار ہیں نیز جن احادیث و آثار میں مرتدہ کے قتل کا حکم آیا ہے یا تو وہ ضعیف ہیں یا مصلحت پر مبنی ہیں جس کے ہم بھی قائل ہیں جیسا کہ تفسیر مظہری کے حوالہ سے گذرچکا ہے۔ تفصیل کے لیے مطالعہ فرمائیں نصب الرایہ ۳/ ۴۵۶تا ۴۵۹، فتح القدیر ۶/ ۷۲تا ۷۶، تفسیر مظہری ۶/ ۳۲۶تا ۳۲۸، نیز مطالعہ فرمائیں فتاوی عالمگیری پر اعتراضات کے جوابات۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
indiaسوال # 146994
غیر مقلدین فقہ حنفی کے اس مسئلے پہ اعتراض کرتے ہیں اور الزام لگاتے ہیں کہ یہ مسئلہ حدیث کے خلاف ہے ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو شخص اپنا دین بدل دے اسکو قتل کردو،(بخاری:کتاب الجھاد والسیر،باب لایعذب بعذاب اللہ،حدیث#3017]فقہ حنفی(ولاتقتل المرتدة بل تحبس حتی تسلم)اگر عورت مرتد ہوجائے تو قتل نہیں قید کیاجائے گا (کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنااحناف کانصب العین ہے ) حتی کہ اسلام لے آئے[ فتاوی عالمگیری:ج2 ص277،سطر16،کتاب السیر،باب احکام المرتدین)۔برائے مہربانی اسکا مدلل جواب دیں۔
Published on: Jan 4, 2017 جواب # 146994
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 270-48/D=4/1438
دار الاسلام میں اگر کوئی عورت مرتد ہوجائے تو اس کو قید کرکے اسلام پر مجبور کیا جائے گا، قتل نہیں کیا جائے گا الا یہ کہ امام اس کو قتل کرنے میں مصلحت سمجھے قال فيالدر: والمرتدة․․․ تحبس أبدًا ․․․ حتی تسلم ولا تقتل (الدر المختار مع ردالمحتار ۶/ ۳۹۹ط زکریا) لو أمرالإمام بقتل بعض من نساء أہل الحرب مرتدة کانت أو غیرہا لمصلحة فلا بأس بہ (تفسیر مظہری ۶/ ۳۲۹ط رشیدیہ) اور یہ بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین سے ثابت ہے چنانچہ (۱) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: وجدت امرأة مقتولة في بعض مغازي رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فنہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن قتل النساء والصبیان (بخاری رقم ۳۰۱۵) اس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے اگرچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ایک خاص موقع کا ہے؛ لیکن العبرة لعموم اللفظ لا لخصوص المورد کے قاعدہ کی رو سے یہ مرتدہ کو بھی شامل ہے۔ (۲) حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سی نصیحتیں کی تھیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ أیما امرأة ارتدت عن الإسلام فادعہا فإن تابت فاقبل منہا وإن أبت استتبہا (معجم کبیر للطبرانی: ۲۰/ ۵۳ط قاہرہ) اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل کا حکم نہیں فرمایا؛ بلکہ اس سے توبہ کے مطالبہ کا حکم فرمایا (۳) حضرت ابن عباس نے فرمایا المرتدة عن الاسلام تحبس ولا تقتل (دار قطنی ۴/ ۱۲۷ط: رسالة) مذکورہ احادیث وآثار کے علاوہ اور بھی بہت سی احادیث وآثار ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مرتدہ کا حکم حبس ہے نہ کہ قتل، انہی احادیث وآثار کی بنیاد پر حنفیہ نے مرتدہ کو قید کرکے توبہ پر مجبور کرنے کا حکم دیا ہے اور قتل کا حکم نہیں دیا ہے جیسا کہ درمختار کے حوالہ سے گذرچکا، رہی استفتاء میں مذکور حدیث تو وہ مردوں کے ساتھ خاص ہے اور خصوصیت کی دلیل مذکورہ احادیث وآثار ہیں نیز جن احادیث و آثار میں مرتدہ کے قتل کا حکم آیا ہے یا تو وہ ضعیف ہیں یا مصلحت پر مبنی ہیں جس کے ہم بھی قائل ہیں جیسا کہ تفسیر مظہری کے حوالہ سے گذرچکا ہے۔ تفصیل کے لیے مطالعہ فرمائیں نصب الرایہ ۳/ ۴۵۶تا ۴۵۹، فتح القدیر ۶/ ۷۲تا ۷۶، تفسیر مظہری ۶/ ۳۲۶تا ۳۲۸، نیز مطالعہ فرمائیں فتاوی عالمگیری پر اعتراضات کے جوابات۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:9⃣4⃣2⃣
سوال # 35537
جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ مرتد واجب القتل ہے تو کیا عام مسلمان کسی مرتد کو دیکھ کر قتل کرسکتا ہے، یا پھر یہ ذمہ داری حکومت وقت کی ہے اور اگر حکومت وقت اپنی ذمہ داری انجام نہ دے تو کیا ساری امت اس گناہ میں شامل ہوگی؟
Published on: Nov 21, 2011 جواب # 35537
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی(م): 1838=1838-12/1432
عام مسلمان کو قتل کرنے کی اجازت نہیں، اگر حکومت اپنی ذمے داری نہ نبھائے تو اس بارے میں امت سے مواخذہ نہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سوال # 35537
جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ مرتد واجب القتل ہے تو کیا عام مسلمان کسی مرتد کو دیکھ کر قتل کرسکتا ہے، یا پھر یہ ذمہ داری حکومت وقت کی ہے اور اگر حکومت وقت اپنی ذمہ داری انجام نہ دے تو کیا ساری امت اس گناہ میں شامل ہوگی؟
Published on: Nov 21, 2011 جواب # 35537
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی(م): 1838=1838-12/1432
عام مسلمان کو قتل کرنے کی اجازت نہیں، اگر حکومت اپنی ذمے داری نہ نبھائے تو اس بارے میں امت سے مواخذہ نہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:0⃣5⃣2⃣
Pakistanسوال # 2438
اسلام کو چھوڑ کر جانے والے کے بارے میں قرآن کا کیا حکم ہے؟ کیا وہ واجب القتل ہے؟ تفصیل سے قرآن اور سنت کی روشنی میں جواب دیں۔
Published on: Jan 9, 2008 جواب # 2438
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی: 979/ د= 931/ د
اسلام چھوڑکر مرتد ہونے والے شخص کو تین روز مہلت دی جائے گی، اپنے فیصلہ پر غور کرنے کی، اگر ارتداد سے رجوع کرلیتا ہے فبہا، ورنہ قاضی اسلام اس کے قتل کا حکم جاری کرے گا۔ اور بادشاہ اسلام اس کو نافذ کرے گا۔ اس سزا کے جاری کرنے کا حق بادشاہ اسلام کو ہے۔ ہرکس و ناکس اس سزا کے جاری کرنے کا مکلف نہیں ہے اور نہ ہی سزا جاری کرنا غیربادشاہ کے لیے جائز ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
Pakistanسوال # 2438
اسلام کو چھوڑ کر جانے والے کے بارے میں قرآن کا کیا حکم ہے؟ کیا وہ واجب القتل ہے؟ تفصیل سے قرآن اور سنت کی روشنی میں جواب دیں۔
Published on: Jan 9, 2008 جواب # 2438
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی: 979/ د= 931/ د
اسلام چھوڑکر مرتد ہونے والے شخص کو تین روز مہلت دی جائے گی، اپنے فیصلہ پر غور کرنے کی، اگر ارتداد سے رجوع کرلیتا ہے فبہا، ورنہ قاضی اسلام اس کے قتل کا حکم جاری کرے گا۔ اور بادشاہ اسلام اس کو نافذ کرے گا۔ اس سزا کے جاری کرنے کا حق بادشاہ اسلام کو ہے۔ ہرکس و ناکس اس سزا کے جاری کرنے کا مکلف نہیں ہے اور نہ ہی سزا جاری کرنا غیربادشاہ کے لیے جائز ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:1⃣5⃣2⃣
Pakistanسوال # 1692
قتل مرتد کی وجہ جواز کیا ہے؟ صحیح حدیث کے حوالے سے جواب دیں۔
Published on: Nov 11, 2007 جواب # 1692
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی: 1161/ ب= 1091/ ب
بخاری شریف میں حدیث آئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَنْ بّدَّلَ دِیْنَہ فاقْتلُوہ یعنی جو شخص اپنا دین اسلام بدل کر کفر اختیار کرے اور مرتد ہوجائے اسے قتل کردو۔ اورایک دوسری حدیث المعجم الکبیر للطبرانی میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من بدل دینہ فاقتلوہ إن اللہ لا یقبل توبة عبد کفر بعد إسلامہ یہ دونوں زیلعی: ج۲ ص۱۵۷ میں مذکور ہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
Pakistanسوال # 1692
قتل مرتد کی وجہ جواز کیا ہے؟ صحیح حدیث کے حوالے سے جواب دیں۔
Published on: Nov 11, 2007 جواب # 1692
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی: 1161/ ب= 1091/ ب
بخاری شریف میں حدیث آئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَنْ بّدَّلَ دِیْنَہ فاقْتلُوہ یعنی جو شخص اپنا دین اسلام بدل کر کفر اختیار کرے اور مرتد ہوجائے اسے قتل کردو۔ اورایک دوسری حدیث المعجم الکبیر للطبرانی میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من بدل دینہ فاقتلوہ إن اللہ لا یقبل توبة عبد کفر بعد إسلامہ یہ دونوں زیلعی: ج۲ ص۱۵۷ میں مذکور ہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:2⃣5⃣2⃣
سوال:18987کراچی
اس مسلمان کیلئے کیا سزا ہوگی جو اسلام سے نکل کر کسی دوسری مذہب میں چلا جائے۔ اور دھریہ کیلئے کیا سزا ہے؟
الجواب حامدا ومصلیا:
جو آدمی اسلام کو چھوڑکر نعوذ باللہ مرتد ہوجائے اور باوجود سمجھانے کے وہ باز نہ آئے اور کفر پر رہنے کو ترجیح دے تو ایسا شخص باغی ہے حکومت وقت اور مجاز عدالت کو چاہئے کہ اسکے شکوک وشبہات کو دور کرکے اسے تمام کفریہ عقائد سے توبہ کرائے اور شہادتیں پڑھواکر دوبارہ اسلام میں داخل کرئےاور اگر باوجود سمجھانے کے وہ کفر پرہی مصر رہے تو عدالت ایسے خبیث النفس شخص کو قتل کروا سکتی ہے یہی اسکی سزا ہے۔
کما فی الھندیة:- المرتد عرفا ھو راجح عن دین الاسلام(الی قولہ) اذا ارتدا لمسلم عن الاسلام العیاذ باللہ عرض علیہ الاسلام فان کانت لہ شبھة ابداھا کشفت الا ان العرض علی ما قالو غیر واجب بل مستحب کذا فی فتح القدیر یحبس ثلاث ایام فان اسلم والا قتل واسلامہ ان یاتی بکلمة الشھادة ویتبرا عن الادیان کلھا سوی الاسلام الخ۔253/2
واللہ اعلم
دارالافتاء والقضاء
فتاوی دار العلوم بنوریة العالمیة
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سوال:18987کراچی
اس مسلمان کیلئے کیا سزا ہوگی جو اسلام سے نکل کر کسی دوسری مذہب میں چلا جائے۔ اور دھریہ کیلئے کیا سزا ہے؟
الجواب حامدا ومصلیا:
جو آدمی اسلام کو چھوڑکر نعوذ باللہ مرتد ہوجائے اور باوجود سمجھانے کے وہ باز نہ آئے اور کفر پر رہنے کو ترجیح دے تو ایسا شخص باغی ہے حکومت وقت اور مجاز عدالت کو چاہئے کہ اسکے شکوک وشبہات کو دور کرکے اسے تمام کفریہ عقائد سے توبہ کرائے اور شہادتیں پڑھواکر دوبارہ اسلام میں داخل کرئےاور اگر باوجود سمجھانے کے وہ کفر پرہی مصر رہے تو عدالت ایسے خبیث النفس شخص کو قتل کروا سکتی ہے یہی اسکی سزا ہے۔
کما فی الھندیة:- المرتد عرفا ھو راجح عن دین الاسلام(الی قولہ) اذا ارتدا لمسلم عن الاسلام العیاذ باللہ عرض علیہ الاسلام فان کانت لہ شبھة ابداھا کشفت الا ان العرض علی ما قالو غیر واجب بل مستحب کذا فی فتح القدیر یحبس ثلاث ایام فان اسلم والا قتل واسلامہ ان یاتی بکلمة الشھادة ویتبرا عن الادیان کلھا سوی الاسلام الخ۔253/2
واللہ اعلم
دارالافتاء والقضاء
فتاوی دار العلوم بنوریة العالمیة
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:3⃣5⃣2⃣
سوال:24266لاہور
محترم مفتی صاحب میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ مرد کے مونچوں کے بارے مین اسلام میں کیا احکامات ہے۔۔۔۔۔۔۔۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی مونچوں کے بارے میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا بیان کیا؟انکی مونچوں کو اسلام کا فخر کہا تھا یا کچھ اور؟
الجواب حامدا ومصلیا:
مونچوں کا کتروانا مسنون ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جس طرح مونچیں رکھی ہے وہ بھی شرعا جائز اور درست ہی ہیں لیکن ان کے مونچوں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد تتبع کے باوجود نہیں ملا۔۔۔
فی الدر:-والختلفوا فی المسنون فی الشارب ھل ھوالقص والحلق؟والمذھب عند بعض المتئخرین من مشایخنا انہ القص۔قال فی البدائع وھو الصحیح۔قال الطحاوی: القص حسن والحلق احسن۔وھوقول علمائنا الثلاثة.نھر407/6
والمختار فی الشارب ترک الاستیصال والاقتصار علی ما یبدوا به طرف الشفة.(نووی شرح لمسلم 129/1
والله اعلم
دارالافتاء والقضاء
الجامعة البنوریة العالمیة
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سوال:24266لاہور
محترم مفتی صاحب میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ مرد کے مونچوں کے بارے مین اسلام میں کیا احکامات ہے۔۔۔۔۔۔۔۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی مونچوں کے بارے میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا بیان کیا؟انکی مونچوں کو اسلام کا فخر کہا تھا یا کچھ اور؟
الجواب حامدا ومصلیا:
مونچوں کا کتروانا مسنون ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جس طرح مونچیں رکھی ہے وہ بھی شرعا جائز اور درست ہی ہیں لیکن ان کے مونچوں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد تتبع کے باوجود نہیں ملا۔۔۔
فی الدر:-والختلفوا فی المسنون فی الشارب ھل ھوالقص والحلق؟والمذھب عند بعض المتئخرین من مشایخنا انہ القص۔قال فی البدائع وھو الصحیح۔قال الطحاوی: القص حسن والحلق احسن۔وھوقول علمائنا الثلاثة.نھر407/6
والمختار فی الشارب ترک الاستیصال والاقتصار علی ما یبدوا به طرف الشفة.(نووی شرح لمسلم 129/1
والله اعلم
دارالافتاء والقضاء
الجامعة البنوریة العالمیة
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:4⃣5⃣2⃣
سوال:
پانی پیتے وقت اگر مونچھ پانی میں ڈوب جائے تو کیا پانی ناپاک اور اسکا پینا حرام ہوجاتا ہے۔؟اسی طرح انگلیوں کے ناخن پانی میں ڈوب جائیں تو کیا حکم ہیں۔؟
الجواب:
مونچ کے بال اور ناخن ترشنا امور فطرت میں سے ہے۔ انکو کا بڑھانا پسندیدہ نہیں،اگر یہ پانی میں ڈوب جائیں تو اس سے پانی ناپاک نہیں ہوتا۔البتہ اتنے زیادہ بال یاناخن بڑھانا مکروہ ضرور ہے،اسلئے کہ مونچھیں بڑھانا اوربڑی، لمبی اور طویل مونچھیں رکھنا مجوسیوں کی نشانی ہے۔اسلئے اتنی لمبی مونچھیں نہیں رکھنی چاہئے کہ پانی پیتے وقت مونچھ پانی میں ڈوب جائے۔ مسلمانوں کو اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت ومحبت میں داڑھی رکھنی چاہئے اور مونچھیں کتروانی چاہئے۔ مونچھیں لمبی رکھنا نا پسدیدہ عمل تو ہے ہی،اس سے انسانیت ہیت بگڑ جاتی ہے۔
واللہ اعلم
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سوال:
پانی پیتے وقت اگر مونچھ پانی میں ڈوب جائے تو کیا پانی ناپاک اور اسکا پینا حرام ہوجاتا ہے۔؟اسی طرح انگلیوں کے ناخن پانی میں ڈوب جائیں تو کیا حکم ہیں۔؟
الجواب:
مونچ کے بال اور ناخن ترشنا امور فطرت میں سے ہے۔ انکو کا بڑھانا پسندیدہ نہیں،اگر یہ پانی میں ڈوب جائیں تو اس سے پانی ناپاک نہیں ہوتا۔البتہ اتنے زیادہ بال یاناخن بڑھانا مکروہ ضرور ہے،اسلئے کہ مونچھیں بڑھانا اوربڑی، لمبی اور طویل مونچھیں رکھنا مجوسیوں کی نشانی ہے۔اسلئے اتنی لمبی مونچھیں نہیں رکھنی چاہئے کہ پانی پیتے وقت مونچھ پانی میں ڈوب جائے۔ مسلمانوں کو اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت ومحبت میں داڑھی رکھنی چاہئے اور مونچھیں کتروانی چاہئے۔ مونچھیں لمبی رکھنا نا پسدیدہ عمل تو ہے ہی،اس سے انسانیت ہیت بگڑ جاتی ہے۔
واللہ اعلم
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:5⃣5⃣2⃣
اذان کے وقت مسجد میں بات کرنا:
سوال:
دوحدیثوں کا مفہوم ہے کہ اذان کے وقت بات کرنے سے ایمان جاتے رہنے کا خوف ہے۔اور مسجد میں دنیا کی باتیں کرنے سے 40برس کی نیکیاں ضائع ہو جاتی ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ اکثر بازاروں میں یا نماز کے لئے آتے وقت یا بوقت اذان لین دین کرتے ہیں،اگر کوئی شخص خاموش رہے تو شدید تکلیف ہوگی۔ایسے موقع پر کیا کیا جائے؟
الجواب حامدا ومصلیا:
اذان کے وقت باتیں کرنے سے ایمان جاتے رہنے کا خوف کس حدیث میں ہے۔مجھے وہ حدیث محفوظ نہیں،آپ لکھے تو اس کو دیکھا جائےگا۔مسجد میں دنیاوی باتیں کرنے کیلئے بیٹھنا منع ہے۔اگر نماز کیلئے مسجد میں جائے اور وہاں کوئی اتفاقیہ تجارت وملازمت وغیرہ کی باتیں بھی کسی سے کرلے تو یہ اس حکم میں نہیں ہے۔
عن عمربن شعیب عن ابیہ عن جدہ قال:نھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن تناشد الاشعار فی المسجد وعن البیع والاشتراء فیہ،وان یتحلق الناس یوم الجمعة قبل الصلوة فی المسجد""
(رواہ ابودود والترمذی)
وعن الحسن مرسلا قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یاتی علی الناس زمان یکون حدیثھم فی مسجدھم فی امر دنیاھم،فلاتجالسھم،فلیس اللہ فیھم حاجة"رواہ البیھقی فی شعب الایمان"
(مشکوة المصابیح ،کتاب الصلوة،باب المساجد،ومواضع الصلوة70/1قدیمی)
والکلام المباح،وقیدہ فی الظھیریة بان یجلس لاجلہ""(الدر المختار)
""قولہ بان یجلس لاجلہ) فانہ حینئذ لایباح بالاتفاق؛لان المسجد مابنی لامور الدنیا وفی صلوة الجلابی:الکلام المباح من حدیث الدنیا یجوز فی المساجد وانکان الاولی ان یشتغل بذکراللہ تعالی""
(الدرالمختار مع رد المحتار) کتاب الصلوة باب ما یفسد الصلوۃ وما یکرہ فیھا مطلب فی الغرس فی المسجد 662/1سعید")
(وکذا فی الفتاوی العالمگیریه کتاب الکراھیة الباب الخامس فی آداب المسجد والقبلة والمصحف اھ321/5رشیدیه)
واللہ اعلم
فتاوی محمودیه
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
اذان کے وقت مسجد میں بات کرنا:
سوال:
دوحدیثوں کا مفہوم ہے کہ اذان کے وقت بات کرنے سے ایمان جاتے رہنے کا خوف ہے۔اور مسجد میں دنیا کی باتیں کرنے سے 40برس کی نیکیاں ضائع ہو جاتی ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ اکثر بازاروں میں یا نماز کے لئے آتے وقت یا بوقت اذان لین دین کرتے ہیں،اگر کوئی شخص خاموش رہے تو شدید تکلیف ہوگی۔ایسے موقع پر کیا کیا جائے؟
الجواب حامدا ومصلیا:
اذان کے وقت باتیں کرنے سے ایمان جاتے رہنے کا خوف کس حدیث میں ہے۔مجھے وہ حدیث محفوظ نہیں،آپ لکھے تو اس کو دیکھا جائےگا۔مسجد میں دنیاوی باتیں کرنے کیلئے بیٹھنا منع ہے۔اگر نماز کیلئے مسجد میں جائے اور وہاں کوئی اتفاقیہ تجارت وملازمت وغیرہ کی باتیں بھی کسی سے کرلے تو یہ اس حکم میں نہیں ہے۔
عن عمربن شعیب عن ابیہ عن جدہ قال:نھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن تناشد الاشعار فی المسجد وعن البیع والاشتراء فیہ،وان یتحلق الناس یوم الجمعة قبل الصلوة فی المسجد""
(رواہ ابودود والترمذی)
وعن الحسن مرسلا قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یاتی علی الناس زمان یکون حدیثھم فی مسجدھم فی امر دنیاھم،فلاتجالسھم،فلیس اللہ فیھم حاجة"رواہ البیھقی فی شعب الایمان"
(مشکوة المصابیح ،کتاب الصلوة،باب المساجد،ومواضع الصلوة70/1قدیمی)
والکلام المباح،وقیدہ فی الظھیریة بان یجلس لاجلہ""(الدر المختار)
""قولہ بان یجلس لاجلہ) فانہ حینئذ لایباح بالاتفاق؛لان المسجد مابنی لامور الدنیا وفی صلوة الجلابی:الکلام المباح من حدیث الدنیا یجوز فی المساجد وانکان الاولی ان یشتغل بذکراللہ تعالی""
(الدرالمختار مع رد المحتار) کتاب الصلوة باب ما یفسد الصلوۃ وما یکرہ فیھا مطلب فی الغرس فی المسجد 662/1سعید")
(وکذا فی الفتاوی العالمگیریه کتاب الکراھیة الباب الخامس فی آداب المسجد والقبلة والمصحف اھ321/5رشیدیه)
واللہ اعلم
فتاوی محمودیه
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:6⃣5⃣2⃣
ایک ہی امام کا دوجگہ نماز عید پڑھانا
سوال:
دوجگہ ہیں دونوں کے درمیان چار میل کا فاصلہ ہے اور ایک امام ہے اور وہ دوسری جگہ نماز پڑھا تا ہے اور اس جگہ اپنے نائب وغیرہ کردیتا ہے مگر اس کی صورت یہ ہے کہ ایک بستی والے چاند کی خبر سن کر نماز پڑھ لیتے ہیں اور دوسری جگہ والے نماز نہیں پڑھتے اور وہی امام دونوں جگہ مماز پڑھاتا ہے حالاںکہ امام روزہ سے ہے تو کیا اول جماعت والے کی نماز ہوگی اور اس امام کی نماز یوگی یا نہیں؟ دوسری جماعت والے دوسرے دن نماز پڑھتے ہیں اور وہی امام پڑھاتا ہے تو اس صورت میں ان لوگوں کی نماز ہوگی یا نہیں؟
الجواب حامدا ومصلیا:
جب پیلی دفعہ (چاند ہو جانے پر) نماز عید امام نے ایک جگہ پڑھلی تو دوسرے دن دوسری بستی میں اس کو نماز عید پڑھانے کا حق نہیں اور اسکے پیچھے دورسرے دن پڑھنےوالوں کی نماز درست نہیں ہوگی۔
ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم بالناس صلوةالخوف وجعل الناس طائفتین،وصلی بکل طائفة شطر الصلوة لینال کل فریق فضیلة الصلوة خلفه""
قال العلامة الکاسانی رح تحت الحدیث المذکور" ولو جاز اقتداء المفترض بالمتنفل،لاتم الصلوة بالطائفة ثم نو النفل وصلی بالطائفة الثانیة لینال کل طائفة فضیلة الصلوة خلفہ من غیر الحاجة الی المشی وافعال کثیرة لیست من الصلوة.
(بدائع الصنائع بیان شرائط الاقتداء 58/1رشیدیه)
واللہ اعلم
فتاوی محمودیه8
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
ایک ہی امام کا دوجگہ نماز عید پڑھانا
سوال:
دوجگہ ہیں دونوں کے درمیان چار میل کا فاصلہ ہے اور ایک امام ہے اور وہ دوسری جگہ نماز پڑھا تا ہے اور اس جگہ اپنے نائب وغیرہ کردیتا ہے مگر اس کی صورت یہ ہے کہ ایک بستی والے چاند کی خبر سن کر نماز پڑھ لیتے ہیں اور دوسری جگہ والے نماز نہیں پڑھتے اور وہی امام دونوں جگہ مماز پڑھاتا ہے حالاںکہ امام روزہ سے ہے تو کیا اول جماعت والے کی نماز ہوگی اور اس امام کی نماز یوگی یا نہیں؟ دوسری جماعت والے دوسرے دن نماز پڑھتے ہیں اور وہی امام پڑھاتا ہے تو اس صورت میں ان لوگوں کی نماز ہوگی یا نہیں؟
الجواب حامدا ومصلیا:
جب پیلی دفعہ (چاند ہو جانے پر) نماز عید امام نے ایک جگہ پڑھلی تو دوسرے دن دوسری بستی میں اس کو نماز عید پڑھانے کا حق نہیں اور اسکے پیچھے دورسرے دن پڑھنےوالوں کی نماز درست نہیں ہوگی۔
ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم بالناس صلوةالخوف وجعل الناس طائفتین،وصلی بکل طائفة شطر الصلوة لینال کل فریق فضیلة الصلوة خلفه""
قال العلامة الکاسانی رح تحت الحدیث المذکور" ولو جاز اقتداء المفترض بالمتنفل،لاتم الصلوة بالطائفة ثم نو النفل وصلی بالطائفة الثانیة لینال کل طائفة فضیلة الصلوة خلفہ من غیر الحاجة الی المشی وافعال کثیرة لیست من الصلوة.
(بدائع الصنائع بیان شرائط الاقتداء 58/1رشیدیه)
واللہ اعلم
فتاوی محمودیه8
محمد امیر الدین حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail