فطر فافطرنا اجمعین، ھذا حدیث حسن صحیح۔ مزید احادیث اور تفصیل کیلئے دیکھئے: درس ترمذی ج۲ ص۵۵۵۔ (محمد زبیر حق نواز)
مستفاد:فتاوی عثمانی1
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
مستفاد:فتاوی عثمانی1
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:3⃣2⃣2⃣
ہمارے امام صاحب نے ایک دن ظہر کی نماز پڑھا ئی پھر دس منٹ کے بعد 25-30/ آدمی آئے اسی امام صاحب اسی ظہر کی نماز اسی جگہ پڑھادی، کیا مسئلہ ہے؟براہ کرم، جواب دیں۔
Published on: Jan 20, 2011 جواب # 29383
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی(م): 206=206-2/1432
صورت مسئولہ میں جب امام صاحب نے ظہر کی فرض نماز پڑھادی تھی تو فریضہ ادا ہوگیا تھا، پھر دوبارہ اسی ظہر کی نماز پڑھائی تو ان کی حیثیت متنفل کی ہوئی اور پچیس تیس آدمی جنھوں نے امام کی اقتداء میں نماز ادا کی ان کی حیثیت اگر مفترض کی تھی تو ان مقتدیوں کا فرض ادا نہ ہوا۔ فرض پڑھنے والے کی نماز نفل پڑھنے والے کے پیچھے درست نہیں۔ وہ حضرات اپنی ظہر کی نماز دوبارہ ادا کرلیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
ہمارے امام صاحب نے ایک دن ظہر کی نماز پڑھا ئی پھر دس منٹ کے بعد 25-30/ آدمی آئے اسی امام صاحب اسی ظہر کی نماز اسی جگہ پڑھادی، کیا مسئلہ ہے؟براہ کرم، جواب دیں۔
Published on: Jan 20, 2011 جواب # 29383
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی(م): 206=206-2/1432
صورت مسئولہ میں جب امام صاحب نے ظہر کی فرض نماز پڑھادی تھی تو فریضہ ادا ہوگیا تھا، پھر دوبارہ اسی ظہر کی نماز پڑھائی تو ان کی حیثیت متنفل کی ہوئی اور پچیس تیس آدمی جنھوں نے امام کی اقتداء میں نماز ادا کی ان کی حیثیت اگر مفترض کی تھی تو ان مقتدیوں کا فرض ادا نہ ہوا۔ فرض پڑھنے والے کی نماز نفل پڑھنے والے کے پیچھے درست نہیں۔ وہ حضرات اپنی ظہر کی نماز دوبارہ ادا کرلیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:4⃣2⃣2⃣
مقتدی سے فرض کہ کر سنت پڑھنا:
سوال:
زید ہمیشہ عصر سے پہلے سنت پڑھنے کا عادی تھا ایک روز اسکا دوست بکر آگیا اور کہاں چلو دونوں آدمی چل کر جماعت سے فرض پڑھلیں،آج سنت نہ پڑھو تو کیا حرج ہے۔اس پر زید نے کہا کہ۔میں ہمیشہ سنت پڑھتے آیا ہوں بغیر سنت کے فرض نہیں پڑھونگا۔اس پر دونو بہت دیر تک بحث کرتے رہیں آخر میں زید نے بکر کے شر سے بچنے کیلئے سنت کی نیت کرکے کہاں کہ اچھا چلو!میں فرض ادا کرتا ہوں، یہ کہ کر سنت کی نیت بانھ لی اور بکر مقتدی بن گیا،سلام پھیرنے کے بعد زید نے کہا کہ میاں ہم نے تو سنت پڑھی ہے اب دونوں پھر سے فرض پڑھیں گے،بکر نے کہاں میرا سارا گناہ تمہارے سر ہے،اب میں دوبارہ نہ ادا کرونگا مجھے تم نے کیوں دھوکا دیا،تم نے سنت کی نیت کرکے فرض بتائیں،مین فرض کی نیت بانھ لی میری نماز ہوگئی ،تم جانو تمہارا کام جانے۔ایسی صورت میں بکر کی نماز ہوئی ہے یا نہیں؟
جب کہ زیدنے سنت کی نماز ادا کی تھی،زید بہت نادم ہے کہ اب عذاب الہی سے بچنے کا کیا ذریعہ ہے،کیوںکہ اسکا سارا گناہ مجھ پر ہوا؟
الجواب حامدا ومصلیا:
بکر کا زید کو سنت سے روکنا شرعا مذموم ہے(1)پھر زید کا بکر کو دھوکا دیکر فرض بتا کر سنت پڑھنا بھی شرعا مذموم ہے(2)لیکن بکر کو جب معلوم ہوگیا کہ زید نے سنت پڑھی ہے تو بکر کو فرض پھر ادا کرنا چاہئے(3)بکر فرض ادا نہیں کریگا تو بکر کئ ذمہ فرض باقی رہے گااور بکر گناہ گار ہوگا (4)لیکن اگر بکر کے نزدیک زید جھوٹا ہے اور اسنے فرض پڑھ کر یہ کہاں ہے کہ مین سنت پڑھی ہے تو بکر کے ذمہ فرض کو دوبارہ پڑھنا لازم نہیں اسکی نماز درست ہو گئی۔
(1)قال اللہ عزوجل:الذین یستحبوا الحیوةالدنیا علی الاخرہ ویصدون عن سبیل اللہ ویبغونھا عوجا اولئک فی ضلال بعید۔ سورہ ابراھیم3
(2)عن ابی ھریرة رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: من حمل علینا السلاح فلیس منا،ومن غشنا فلیس منا۔
(الصحیح لمسلم کتاب الایمان باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم من غشنا فلیس منا۔70/1قدیمی)
(3)لان اقتداء بنا ووصف الفرضیة معدوم فی حق الامام فی الاولی وھو مشارکة وھو موافقة،فلابد من اتحاد،وھو معدوم فی الثانیة...........اھ"البحر الرائق ،کتاب الصلوة باب الامامة.631/1رشیدیہ۔
"لان اتحد الصلاتین شرط عندنا۔۔(الدرالمختار باب الامامة.579/1.سعید)
وکذا گی تبیین الحقائق باب الامامة۔36/1بیروت،دار الکتاب علمیة)
(4)عن ابی الدرداء رضی اللہ عنہ قال:اوصانی خلیلی ان لاتشرک باللہ شیئا،وان قطعت وحرقت،ولا تترک الصلوة مکتوبة متعمدا،فمن ترکھا متعمدا،فقد برئت منہ الذمة""
(مشکوة المصابیح،کتاب الصلوة،الفصل الثالث 57قدیمی)
مستفاد:فتاوی محمودیہ
واللہ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
مقتدی سے فرض کہ کر سنت پڑھنا:
سوال:
زید ہمیشہ عصر سے پہلے سنت پڑھنے کا عادی تھا ایک روز اسکا دوست بکر آگیا اور کہاں چلو دونوں آدمی چل کر جماعت سے فرض پڑھلیں،آج سنت نہ پڑھو تو کیا حرج ہے۔اس پر زید نے کہا کہ۔میں ہمیشہ سنت پڑھتے آیا ہوں بغیر سنت کے فرض نہیں پڑھونگا۔اس پر دونو بہت دیر تک بحث کرتے رہیں آخر میں زید نے بکر کے شر سے بچنے کیلئے سنت کی نیت کرکے کہاں کہ اچھا چلو!میں فرض ادا کرتا ہوں، یہ کہ کر سنت کی نیت بانھ لی اور بکر مقتدی بن گیا،سلام پھیرنے کے بعد زید نے کہا کہ میاں ہم نے تو سنت پڑھی ہے اب دونوں پھر سے فرض پڑھیں گے،بکر نے کہاں میرا سارا گناہ تمہارے سر ہے،اب میں دوبارہ نہ ادا کرونگا مجھے تم نے کیوں دھوکا دیا،تم نے سنت کی نیت کرکے فرض بتائیں،مین فرض کی نیت بانھ لی میری نماز ہوگئی ،تم جانو تمہارا کام جانے۔ایسی صورت میں بکر کی نماز ہوئی ہے یا نہیں؟
جب کہ زیدنے سنت کی نماز ادا کی تھی،زید بہت نادم ہے کہ اب عذاب الہی سے بچنے کا کیا ذریعہ ہے،کیوںکہ اسکا سارا گناہ مجھ پر ہوا؟
الجواب حامدا ومصلیا:
بکر کا زید کو سنت سے روکنا شرعا مذموم ہے(1)پھر زید کا بکر کو دھوکا دیکر فرض بتا کر سنت پڑھنا بھی شرعا مذموم ہے(2)لیکن بکر کو جب معلوم ہوگیا کہ زید نے سنت پڑھی ہے تو بکر کو فرض پھر ادا کرنا چاہئے(3)بکر فرض ادا نہیں کریگا تو بکر کئ ذمہ فرض باقی رہے گااور بکر گناہ گار ہوگا (4)لیکن اگر بکر کے نزدیک زید جھوٹا ہے اور اسنے فرض پڑھ کر یہ کہاں ہے کہ مین سنت پڑھی ہے تو بکر کے ذمہ فرض کو دوبارہ پڑھنا لازم نہیں اسکی نماز درست ہو گئی۔
(1)قال اللہ عزوجل:الذین یستحبوا الحیوةالدنیا علی الاخرہ ویصدون عن سبیل اللہ ویبغونھا عوجا اولئک فی ضلال بعید۔ سورہ ابراھیم3
(2)عن ابی ھریرة رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: من حمل علینا السلاح فلیس منا،ومن غشنا فلیس منا۔
(الصحیح لمسلم کتاب الایمان باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم من غشنا فلیس منا۔70/1قدیمی)
(3)لان اقتداء بنا ووصف الفرضیة معدوم فی حق الامام فی الاولی وھو مشارکة وھو موافقة،فلابد من اتحاد،وھو معدوم فی الثانیة...........اھ"البحر الرائق ،کتاب الصلوة باب الامامة.631/1رشیدیہ۔
"لان اتحد الصلاتین شرط عندنا۔۔(الدرالمختار باب الامامة.579/1.سعید)
وکذا گی تبیین الحقائق باب الامامة۔36/1بیروت،دار الکتاب علمیة)
(4)عن ابی الدرداء رضی اللہ عنہ قال:اوصانی خلیلی ان لاتشرک باللہ شیئا،وان قطعت وحرقت،ولا تترک الصلوة مکتوبة متعمدا،فمن ترکھا متعمدا،فقد برئت منہ الذمة""
(مشکوة المصابیح،کتاب الصلوة،الفصل الثالث 57قدیمی)
مستفاد:فتاوی محمودیہ
واللہ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:5⃣2⃣2⃣
تحقیق حدیث "عالم کا سونا عبادت ہے"
سوال: کیا یہ حدیث ( نوم العالم ﺧﻴﺮ ﻣﻦ عبادة الجاهل ) صحیح ہے؟
الجواب بعون الله :
یہ بات نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے ، نہ کسی صحابی یا تابعی کا قول ہے ۔ کتب احادیث میں بھی یہ معروف نہیں ، اور معتبر کتب حدیث میں تلاش بسیار کے بعد بھی اس کا کوئی سراغ نہیں ملا ۔
ہاں شیعہ روافض کی کتابوں میں - جو مجمع الاکاذیب ھوتی ہیں - یہ بات ملتی ہے ، جیسے شیخ صدوق ( رافضی وفات 381 ﻫـ ) کی کتاب ( من لا یحضرہ الفقیہ ) 4/352 میں یہ روایت اس طرح مذکور ہے :
روي ﺣماد ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ ، ﻭﺃﻧﺲ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ ، ﺟﻤﻴﻌﺎ – ﻳﻌﻨﻲ ﺣﻤﺎدا وﻣﺤﻤﺪا والد أنس - ﻋﻦ ﺟﻌﻔﺮ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ، ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ ، ﻋﻦ ﺟﺪﻩ ، ﻋﻦ ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻃﺎﻟﺐ ، ﻋﻦ ﺍﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ وﺳﻠﻢ أنه ﻗاﻟﻪ : - وذكر ﺣﺪﻳﺜﺎ ﻃﻮﻳﻼ ﺟﺪا، وﻓﻴﻪ : ( ﻳﺎ ﻋﻠﻲ ! ﻧﻮم العاﻟﻢ ﺧﻴﺮ ﻣﻦ ﻋﺒادة العابد) ۔
مذکورہ کتاب کے حوالے سے یہ روایت پھر دیگر کتب روافض میں پھیل گئی ، جیسے : " ﻣﻜﺎﺭﻡ ﺍﻷﺧﻼﻕ " ﻟﻠﻄﺒﺮﺳﻲ ( ﺕ 548 ﻫـ ) ( ﺹ 441/ ) ، ﻭ " ﺑﺤﺎﺭ ﺍﻷﻧﻮﺍﺭ " ﻟﻠﻤﺠﻠﺴﻲ ( 2/25 ) ۔
حدیث کے جعلی ہونے کی علامات بالکل ظاھر ہیں ، اس لئے کہ حماد بن عمرو اور محمد والد انس ، دونوں مجہول غیر معروف راوی ہیں ، جعفر صادق سے روایت کرنے والوں میں ان کا ذکر نہیں ہے ، مزید یہ کہ ان دونوں کا ترجمہ اھل سنت کی رجال الحدیث کی کتابوں میں نہ اھل تشیع کی کتابوں میں ہے ، یہاں تک کہ ( من لا یحضرہ الفقیہ ) کے محقق نے اس روایت پر نوٹ لکھا ہے : ( ﺣﻤﺎﺩ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ - ﻟﻌﻠﻪ ﺍﻟﻨﺼﻴﺒﻲ - ﻏﻴﺮ ﻣﺬﻛﻮﺭ ، ﻭﻛﺬﺍ ﺃﻧﺲ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ، ﻭﻓﻲ ﺍﻟﻄﺮﻳﻖ ﺇﻟﻴﻬﻤﺎ ﻣﺠﺎﻫﻴﻞ ، ﻭﻛﺄﻧﻬﻢ ﻣﻦ ﺍﻟﻌﺎﻣﺔ – ﻳﻌﻨﻲ ﺃﻫﻞ ﺍﻟﺴﻨﺔ - ! "- ﺍﻧﺘﻬﻰ .
اس سے واضح ہوگیا کہ خود روافض بھی اس طرح کی روایتوں کو صحیح ثابت قرار نہیں دیتے ۔
ابو القاسم خوئی رافضی کی رجالِ روافض پر مرتب کی ہوئی کتاب ( معجم رجال الحدیث ) ( 7/235 ) میں حماد بن عمرو کے ترجمہ میں لکھا ہے : ( ﻟﻢ ﻳﻨﻘﻞ ﻋﻦ ﺃﺣﺪ ﺗﻮﺛﻴﻘﻪ ) ۔ بلکہ یہ طویل وصیت جس کے ضمن میں یہ الفاظ وارد ہیں ، اس وصیت کے بارے میں خود خوئی کہتے ہیں : " ﻃﺮﻳﻖ ﺍﻟﺼﺪﻭﻕ ﺇﻟﻴﻪ ﻓﻲ ﻭﺻﻴﺔ ﺍﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺁﻟﻪ ﻷﻣﻴﺮ ﺍﻟﻤﺆﻣﻨﻴﻦ ﻋﻠﻴﻪ ﺍﻟﺴﻼﻡ ... ﺿﻌﻴﻒ ﺑﻌﺪﺓ ﻣﻦ ﺍﻟﻤﺠﺎﻫﻴﻞ " ﺍﻧﺘﻬﻰ ۔
تعجب کی بات ہے کہ روافض کے یہاں جعفر صادق سے منقول سینکڑوں روایتیں اسی مجہول سند سے مروی ہیں ، جس سند کا خود روافض اعتبار نہیں کرتے ، اور مجہول راویوں ہی کی وجہ سے غیر ثابت روایتیں کتب حدیث کی راہ لیتی ہیں ۔
مذکورہ بالا روایت کے مفہوم میں بعض لوگ ایک دوسری حدیث اس طرح بیان کرتے ہیں : ( نوم العالم عبادة ) یعنی "عالم کا سونا عبادت ہے" یہ بھی ثابت نہیں ہے ۔
ملا علی قاریؒ نے الاسرار المرفوعة میں لکھا ہے کہ ( نوم العالم عبادة ) یہ بے اصل روایت ہے.
خلاصہ یہ ہے کہ :
عالم کا سونا عبادت ہے، یا عالم کا سونا جاہل کی عبادت سے بہتر ہے. دونوں حدیثیں بے اصل ہیں۔
واللہ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
تحقیق حدیث "عالم کا سونا عبادت ہے"
سوال: کیا یہ حدیث ( نوم العالم ﺧﻴﺮ ﻣﻦ عبادة الجاهل ) صحیح ہے؟
الجواب بعون الله :
یہ بات نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے ، نہ کسی صحابی یا تابعی کا قول ہے ۔ کتب احادیث میں بھی یہ معروف نہیں ، اور معتبر کتب حدیث میں تلاش بسیار کے بعد بھی اس کا کوئی سراغ نہیں ملا ۔
ہاں شیعہ روافض کی کتابوں میں - جو مجمع الاکاذیب ھوتی ہیں - یہ بات ملتی ہے ، جیسے شیخ صدوق ( رافضی وفات 381 ﻫـ ) کی کتاب ( من لا یحضرہ الفقیہ ) 4/352 میں یہ روایت اس طرح مذکور ہے :
روي ﺣماد ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ ، ﻭﺃﻧﺲ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ ، ﺟﻤﻴﻌﺎ – ﻳﻌﻨﻲ ﺣﻤﺎدا وﻣﺤﻤﺪا والد أنس - ﻋﻦ ﺟﻌﻔﺮ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ، ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ ، ﻋﻦ ﺟﺪﻩ ، ﻋﻦ ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻃﺎﻟﺐ ، ﻋﻦ ﺍﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ وﺳﻠﻢ أنه ﻗاﻟﻪ : - وذكر ﺣﺪﻳﺜﺎ ﻃﻮﻳﻼ ﺟﺪا، وﻓﻴﻪ : ( ﻳﺎ ﻋﻠﻲ ! ﻧﻮم العاﻟﻢ ﺧﻴﺮ ﻣﻦ ﻋﺒادة العابد) ۔
مذکورہ کتاب کے حوالے سے یہ روایت پھر دیگر کتب روافض میں پھیل گئی ، جیسے : " ﻣﻜﺎﺭﻡ ﺍﻷﺧﻼﻕ " ﻟﻠﻄﺒﺮﺳﻲ ( ﺕ 548 ﻫـ ) ( ﺹ 441/ ) ، ﻭ " ﺑﺤﺎﺭ ﺍﻷﻧﻮﺍﺭ " ﻟﻠﻤﺠﻠﺴﻲ ( 2/25 ) ۔
حدیث کے جعلی ہونے کی علامات بالکل ظاھر ہیں ، اس لئے کہ حماد بن عمرو اور محمد والد انس ، دونوں مجہول غیر معروف راوی ہیں ، جعفر صادق سے روایت کرنے والوں میں ان کا ذکر نہیں ہے ، مزید یہ کہ ان دونوں کا ترجمہ اھل سنت کی رجال الحدیث کی کتابوں میں نہ اھل تشیع کی کتابوں میں ہے ، یہاں تک کہ ( من لا یحضرہ الفقیہ ) کے محقق نے اس روایت پر نوٹ لکھا ہے : ( ﺣﻤﺎﺩ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ - ﻟﻌﻠﻪ ﺍﻟﻨﺼﻴﺒﻲ - ﻏﻴﺮ ﻣﺬﻛﻮﺭ ، ﻭﻛﺬﺍ ﺃﻧﺲ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ، ﻭﻓﻲ ﺍﻟﻄﺮﻳﻖ ﺇﻟﻴﻬﻤﺎ ﻣﺠﺎﻫﻴﻞ ، ﻭﻛﺄﻧﻬﻢ ﻣﻦ ﺍﻟﻌﺎﻣﺔ – ﻳﻌﻨﻲ ﺃﻫﻞ ﺍﻟﺴﻨﺔ - ! "- ﺍﻧﺘﻬﻰ .
اس سے واضح ہوگیا کہ خود روافض بھی اس طرح کی روایتوں کو صحیح ثابت قرار نہیں دیتے ۔
ابو القاسم خوئی رافضی کی رجالِ روافض پر مرتب کی ہوئی کتاب ( معجم رجال الحدیث ) ( 7/235 ) میں حماد بن عمرو کے ترجمہ میں لکھا ہے : ( ﻟﻢ ﻳﻨﻘﻞ ﻋﻦ ﺃﺣﺪ ﺗﻮﺛﻴﻘﻪ ) ۔ بلکہ یہ طویل وصیت جس کے ضمن میں یہ الفاظ وارد ہیں ، اس وصیت کے بارے میں خود خوئی کہتے ہیں : " ﻃﺮﻳﻖ ﺍﻟﺼﺪﻭﻕ ﺇﻟﻴﻪ ﻓﻲ ﻭﺻﻴﺔ ﺍﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺁﻟﻪ ﻷﻣﻴﺮ ﺍﻟﻤﺆﻣﻨﻴﻦ ﻋﻠﻴﻪ ﺍﻟﺴﻼﻡ ... ﺿﻌﻴﻒ ﺑﻌﺪﺓ ﻣﻦ ﺍﻟﻤﺠﺎﻫﻴﻞ " ﺍﻧﺘﻬﻰ ۔
تعجب کی بات ہے کہ روافض کے یہاں جعفر صادق سے منقول سینکڑوں روایتیں اسی مجہول سند سے مروی ہیں ، جس سند کا خود روافض اعتبار نہیں کرتے ، اور مجہول راویوں ہی کی وجہ سے غیر ثابت روایتیں کتب حدیث کی راہ لیتی ہیں ۔
مذکورہ بالا روایت کے مفہوم میں بعض لوگ ایک دوسری حدیث اس طرح بیان کرتے ہیں : ( نوم العالم عبادة ) یعنی "عالم کا سونا عبادت ہے" یہ بھی ثابت نہیں ہے ۔
ملا علی قاریؒ نے الاسرار المرفوعة میں لکھا ہے کہ ( نوم العالم عبادة ) یہ بے اصل روایت ہے.
خلاصہ یہ ہے کہ :
عالم کا سونا عبادت ہے، یا عالم کا سونا جاہل کی عبادت سے بہتر ہے. دونوں حدیثیں بے اصل ہیں۔
واللہ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:6⃣2⃣2⃣
ایک جگہ عید کی نماز پڑھانے کے بعد دوسری جگہ امامت کرنا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: مسجد ہٰذا کا امام ہمیشہ پنج وقتہ وجمعہ وعیدین کی نماز اسی مسجد میں پڑھائے اور یہ امام صاحب پہلے عیدین کی نماز کسی دوسری جگہ جاکر پڑھا دیتے ہیں، اور پھر محلہ کی مسجد میں عیدین کی نماز پڑھاتے ہیں تو محلہ والوں کی نماز عیدین ہوئی یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: امام صاحب نے اپنی نماز عید پہلے پڑھنے کے بعد دوسری جگہ جو نماز عید کے نام سے پڑھائی ہے وہ عید کی نماز نہیں؛ بلکہ نفل نماز باجماعت ہوگئی ہے جو مکروہ ہے، وہ آئندہ ایسا نہ کریں؛ البتہ دوسرے مقتدیوں کی نماز ہوگئی، اب ان پر کوئی واجب نہیں۔
کذا تستفاد من العبارۃ الاٰتیۃ: صلی العشاء والوتر والتراویح ثم أم قوماً اٰخرین في التراویح ونویٰ الإمامۃ کرہ لہ ذٰلک ولا یکرہ للمأمین۔ (شامی کراچی ۲؍۴۹، شامی ۳؍ زکریا)
مستفاد:کتاب النوازل5
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
ایک جگہ عید کی نماز پڑھانے کے بعد دوسری جگہ امامت کرنا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: مسجد ہٰذا کا امام ہمیشہ پنج وقتہ وجمعہ وعیدین کی نماز اسی مسجد میں پڑھائے اور یہ امام صاحب پہلے عیدین کی نماز کسی دوسری جگہ جاکر پڑھا دیتے ہیں، اور پھر محلہ کی مسجد میں عیدین کی نماز پڑھاتے ہیں تو محلہ والوں کی نماز عیدین ہوئی یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: امام صاحب نے اپنی نماز عید پہلے پڑھنے کے بعد دوسری جگہ جو نماز عید کے نام سے پڑھائی ہے وہ عید کی نماز نہیں؛ بلکہ نفل نماز باجماعت ہوگئی ہے جو مکروہ ہے، وہ آئندہ ایسا نہ کریں؛ البتہ دوسرے مقتدیوں کی نماز ہوگئی، اب ان پر کوئی واجب نہیں۔
کذا تستفاد من العبارۃ الاٰتیۃ: صلی العشاء والوتر والتراویح ثم أم قوماً اٰخرین في التراویح ونویٰ الإمامۃ کرہ لہ ذٰلک ولا یکرہ للمأمین۔ (شامی کراچی ۲؍۴۹، شامی ۳؍ زکریا)
مستفاد:کتاب النوازل5
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:7⃣2⃣2⃣
عید کی نماز میں مسبوق کیا کرے؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: عید کی نماز میں مسبوق کیا کرے؟ اور تکبیراتِ واجبہ کب کہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: مسبوق شخص جس کی نماز عید میں پہلی رکعت چھوٹ گئی ہو، امام کے سلام پھیردینے کے بعد جب کھڑا ہو تو اولاً ثناء، تعوذ، تسمیہ، سورۂ فاتحہ اور سورت پڑھے، پھر زائد تکبیرات کہے، اس کے بعد رکوع سجدہ کرکے بقیہ نماز پوری کرے۔
(فتاویٰ محمودیہ ۸؍۳۷۸ ڈابھیل، احسن الفتاویٰ ۴؍۱۵۳)
عن حماد قال: إذا فاتتک من صلاۃ العید رکعۃ فاقضہا واصنع فیہا مثال ما یصنع الإمام في الرکعۃ الأولیٰ، وعن الحسن قال: یکبر معہ في ہذہ ما أدرک منہا، و یقضي التي فاتتہ، ویکبر فیہا مثل تکبیر الإمام في الرکعۃ الثانیۃ۔(المصنف لابن أبي شیبۃ ۴؍۲۳۷ رقم: ۶۳-۵۸۶۲)
ولو سبق برکعۃ یقرأ ثم یکبر لئلا یتوالی التکبیر (درمختار) أي لأنہ إذا کبر قبل القراء ۃ وقد کبر مع الإمام بعد القراء ۃ لزم توالی التکبیرات في الرکعتین، قال في البحر: ولم یقل بہ أحد من الصحابۃ ولو بدأ بالقراء ۃ یصیر فعلہ موافقاً لقول علي رضي اللّٰہ عنہ فکان أولیٰ، کذا في المحیط، وہو مخصص لقولہم: إن المسبوق یقضي أول صلاتہ في حق الأذکار۔ (شامي زکریا ۳؍۵۶، کراچی ۲؍۱۷۴، البحر الرائق کوئٹہ ۲؍۱۶۱، بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۳، حلبي کبیر أشرفي ۵۷۲، طحطاوي علی المراقي ۵۳۴)
ولو شرع الإمام في صلاۃ العید فجاء رجل واقتدیٰ بہ فإن کان قبل التکبیرات الزوائد یتابع الإمام علی مذہبہ ویترک رأیہ۔ (بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۲)
(۲) اور جو شخص امام کے ساتھ اس حال میں آکر شریک ہوا کہ امام پہلی رکعت کی زائد تکبیرات کہہ کر قرأت شروع کرچکا تھا، تو یہ شخص تکبیر تحریمہ کہہ کر زائد تکبیرات کہے گا۔
وإن أدرکہ بعد ما کبر الإمام الزوائد وشرع في القراء ۃ فإنہ یکبر تکبیرۃ الافتتاح ویأتي بالزوائد برأي نفسہ لا برأي الإمام؛ لأنہ مسبوق۔ (بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۲)
(۳) اور اگر امام کو رکوع میں پایا تو اگر امام کے ساتھ رکوع چھوٹ جانے کا اندیشہ نہ ہو تو ایسی صورت میں تکبیر تحریمہ کہہ کر کھڑے کھڑے زائد تکبیرات بھی کہے، پھر امام کے ساتھ رکوع میں شامل ہوجائے۔
وإن أدرک الإمام في الرکوع فإن لم یخف فوت الرکوع مع الإمام یکبر للافتتاح قائماً ویأتي بالزوائد ثم یتابع الإمام في الرکوع۔ (بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۲، الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۲؍۶۲۸ رقم: ۳۵۵۹، ۲؍۶۱۸ رقم: ۳۴۳۴)
(۴) اور اگر رکوع چھوٹ جانے کا خوف ہو تو تکبیر تحریمہ کہے اور رکوع کی تکبیر کہہ کر رکوع میں چلاجائے، اور رکوع کی حالت میں ہی تکبیراتِ زوائد کہے، اور رکوع میں اگر زائد تکبیرات اور رکوع کی تسبیحات دونوں ادا کرسکتا ہو تو دونوں کو جمع کرے ورنہ تسبیحات کو چھوڑکر صرف تکبیرات کہے گا۔
وإن خاف إن کبر یرفع الإمام رأسہ من الرکوع کبر للافتتاح وکبر للرکوع ورکع؛ لأنہ لو لم یرکع یفوتہ الرکوع فتفوتہ الرکعۃ بفوتہ فتبین أن التکبیرات أیضاً فاتہ فیصیر بتحصیل التکبیرات مفوتا لہا ولغیرہا من أرکان الرکعۃ وہٰذا لا یجوز، ثم إذا رکع یکبر تکبیرات العید في الرکوع عند أبي حنیفۃؒ ومحمد رحمہما اللّٰہ تعالیٰ، ثم إن أمکنہ الجمع بین التبکیرات والتسبیحات جمع بینہما وإن لم یمکنہ الجمع بینہما، یأتي بالتکبیرات دون التسبیحات؛ لأن التکبیرات واجبۃ والتسبیحات سنۃ والاشتغال بالواجب أولیٰ۔ (بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۲)
(۵) اور اگر رکوع میں تکبیرات پوری ہونے سے پہلے امام نے سر اٹھالیا تو جتنی تکبیرات باقی رہ گئی ہوں، وہ ساقط ہوجائیںگی۔
فإن رفع الإمام رأسہ من الرکوع قبل أن یتمہا رفع رأسہ؛ لأن متابعۃ الإمام واجبۃ وسقط عنہ ما بقي من التکبیرات۔ (بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۲، حلبي کبیر أشرفي ۵۷۲، شامي زکریا ۳؍۵۶)
مستفاد:کتاب النوازل
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
عید کی نماز میں مسبوق کیا کرے؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: عید کی نماز میں مسبوق کیا کرے؟ اور تکبیراتِ واجبہ کب کہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: مسبوق شخص جس کی نماز عید میں پہلی رکعت چھوٹ گئی ہو، امام کے سلام پھیردینے کے بعد جب کھڑا ہو تو اولاً ثناء، تعوذ، تسمیہ، سورۂ فاتحہ اور سورت پڑھے، پھر زائد تکبیرات کہے، اس کے بعد رکوع سجدہ کرکے بقیہ نماز پوری کرے۔
(فتاویٰ محمودیہ ۸؍۳۷۸ ڈابھیل، احسن الفتاویٰ ۴؍۱۵۳)
عن حماد قال: إذا فاتتک من صلاۃ العید رکعۃ فاقضہا واصنع فیہا مثال ما یصنع الإمام في الرکعۃ الأولیٰ، وعن الحسن قال: یکبر معہ في ہذہ ما أدرک منہا، و یقضي التي فاتتہ، ویکبر فیہا مثل تکبیر الإمام في الرکعۃ الثانیۃ۔(المصنف لابن أبي شیبۃ ۴؍۲۳۷ رقم: ۶۳-۵۸۶۲)
ولو سبق برکعۃ یقرأ ثم یکبر لئلا یتوالی التکبیر (درمختار) أي لأنہ إذا کبر قبل القراء ۃ وقد کبر مع الإمام بعد القراء ۃ لزم توالی التکبیرات في الرکعتین، قال في البحر: ولم یقل بہ أحد من الصحابۃ ولو بدأ بالقراء ۃ یصیر فعلہ موافقاً لقول علي رضي اللّٰہ عنہ فکان أولیٰ، کذا في المحیط، وہو مخصص لقولہم: إن المسبوق یقضي أول صلاتہ في حق الأذکار۔ (شامي زکریا ۳؍۵۶، کراچی ۲؍۱۷۴، البحر الرائق کوئٹہ ۲؍۱۶۱، بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۳، حلبي کبیر أشرفي ۵۷۲، طحطاوي علی المراقي ۵۳۴)
ولو شرع الإمام في صلاۃ العید فجاء رجل واقتدیٰ بہ فإن کان قبل التکبیرات الزوائد یتابع الإمام علی مذہبہ ویترک رأیہ۔ (بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۲)
(۲) اور جو شخص امام کے ساتھ اس حال میں آکر شریک ہوا کہ امام پہلی رکعت کی زائد تکبیرات کہہ کر قرأت شروع کرچکا تھا، تو یہ شخص تکبیر تحریمہ کہہ کر زائد تکبیرات کہے گا۔
وإن أدرکہ بعد ما کبر الإمام الزوائد وشرع في القراء ۃ فإنہ یکبر تکبیرۃ الافتتاح ویأتي بالزوائد برأي نفسہ لا برأي الإمام؛ لأنہ مسبوق۔ (بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۲)
(۳) اور اگر امام کو رکوع میں پایا تو اگر امام کے ساتھ رکوع چھوٹ جانے کا اندیشہ نہ ہو تو ایسی صورت میں تکبیر تحریمہ کہہ کر کھڑے کھڑے زائد تکبیرات بھی کہے، پھر امام کے ساتھ رکوع میں شامل ہوجائے۔
وإن أدرک الإمام في الرکوع فإن لم یخف فوت الرکوع مع الإمام یکبر للافتتاح قائماً ویأتي بالزوائد ثم یتابع الإمام في الرکوع۔ (بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۲، الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۲؍۶۲۸ رقم: ۳۵۵۹، ۲؍۶۱۸ رقم: ۳۴۳۴)
(۴) اور اگر رکوع چھوٹ جانے کا خوف ہو تو تکبیر تحریمہ کہے اور رکوع کی تکبیر کہہ کر رکوع میں چلاجائے، اور رکوع کی حالت میں ہی تکبیراتِ زوائد کہے، اور رکوع میں اگر زائد تکبیرات اور رکوع کی تسبیحات دونوں ادا کرسکتا ہو تو دونوں کو جمع کرے ورنہ تسبیحات کو چھوڑکر صرف تکبیرات کہے گا۔
وإن خاف إن کبر یرفع الإمام رأسہ من الرکوع کبر للافتتاح وکبر للرکوع ورکع؛ لأنہ لو لم یرکع یفوتہ الرکوع فتفوتہ الرکعۃ بفوتہ فتبین أن التکبیرات أیضاً فاتہ فیصیر بتحصیل التکبیرات مفوتا لہا ولغیرہا من أرکان الرکعۃ وہٰذا لا یجوز، ثم إذا رکع یکبر تکبیرات العید في الرکوع عند أبي حنیفۃؒ ومحمد رحمہما اللّٰہ تعالیٰ، ثم إن أمکنہ الجمع بین التبکیرات والتسبیحات جمع بینہما وإن لم یمکنہ الجمع بینہما، یأتي بالتکبیرات دون التسبیحات؛ لأن التکبیرات واجبۃ والتسبیحات سنۃ والاشتغال بالواجب أولیٰ۔ (بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۲)
(۵) اور اگر رکوع میں تکبیرات پوری ہونے سے پہلے امام نے سر اٹھالیا تو جتنی تکبیرات باقی رہ گئی ہوں، وہ ساقط ہوجائیںگی۔
فإن رفع الإمام رأسہ من الرکوع قبل أن یتمہا رفع رأسہ؛ لأن متابعۃ الإمام واجبۃ وسقط عنہ ما بقي من التکبیرات۔ (بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۲، حلبي کبیر أشرفي ۵۷۲، شامي زکریا ۳؍۵۶)
مستفاد:کتاب النوازل
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:8⃣2⃣2⃣
چند لوگوں کی نماز عید چھوٹ جائے توکیا کرے؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: الف:- کچھ لوگوں کی نماز عید چھوٹ گئی اب وہ ادا کرنی چاہتے ہیں تو عیدگاہ میں یا جس مسجد میں عید ہوتی ہو اس میں دوبارہ عید کینماز پڑھ سکتے ہیں یا کسی دوسری جگہ جہاں نماز نہ ہوتی ہو وہیں جاکر ادا کریں؟
ب: ان لوگوں میں ایسے لوگ تو ہیں جو عید کی نماز چھوٹی چھوٹی سورتوں سے پڑھالیںگے مگر خطبہ ان کے بس کی بات نہیں، تو کیا عید کا خطبہ وہ امام یا شخص پڑھ دے جس نے نماز ادا کرلی ہے، اور خطبہ بھی پڑھ دیا ہے، یا سن لیا ہے، یہ جائز ہے یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:جو معتد بہٖ لوگ عید کی نماز سے رہ گئے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ کسی میدان، ہال یا اسی طرح مسجد میں نماز ادا کریں جہاں پہلےنماز نہ ہوئی ہے اور افضل یہ ہے کہ جو امامت کرے وہی خطبہ بھی دے، جو شخص پہلے خطبہ دے چکا ہے اس کا دوبارہ خطبہ پڑھنا درست نہ ہوگا، جیسے کہ دوسری مرتبہ ایک ہی شخص کا ایک ہی وقت میں اذان دینا درست نہیں ہوتا۔
المستفاد: ولو أمکنہ الذہاب إلی إمام اٰخر فعل لأنہا تؤدي بمصر واحد بمواضع کثیرۃ اتفاقاً۔ (درمختار کراچی ۲؍۱۷۶، زکریا ۳؍۵۹)
ولا ینبغي أن یصلي غیر الخطیب لأنہا کشئ واحد۔ (درمختار کراچی ۲؍۱۶۲، زکریا ۳؍۳۹)
یکرہ لہ أن یؤذن في مسجدین؛ لأنہ إذا صلی في المسجد الأول یکون متنفلاً بالأذان في المسجد الثاني۔ (شامی ۱؍۴۰۰کراچی )
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
چند لوگوں کی نماز عید چھوٹ جائے توکیا کرے؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: الف:- کچھ لوگوں کی نماز عید چھوٹ گئی اب وہ ادا کرنی چاہتے ہیں تو عیدگاہ میں یا جس مسجد میں عید ہوتی ہو اس میں دوبارہ عید کینماز پڑھ سکتے ہیں یا کسی دوسری جگہ جہاں نماز نہ ہوتی ہو وہیں جاکر ادا کریں؟
ب: ان لوگوں میں ایسے لوگ تو ہیں جو عید کی نماز چھوٹی چھوٹی سورتوں سے پڑھالیںگے مگر خطبہ ان کے بس کی بات نہیں، تو کیا عید کا خطبہ وہ امام یا شخص پڑھ دے جس نے نماز ادا کرلی ہے، اور خطبہ بھی پڑھ دیا ہے، یا سن لیا ہے، یہ جائز ہے یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:جو معتد بہٖ لوگ عید کی نماز سے رہ گئے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ کسی میدان، ہال یا اسی طرح مسجد میں نماز ادا کریں جہاں پہلےنماز نہ ہوئی ہے اور افضل یہ ہے کہ جو امامت کرے وہی خطبہ بھی دے، جو شخص پہلے خطبہ دے چکا ہے اس کا دوبارہ خطبہ پڑھنا درست نہ ہوگا، جیسے کہ دوسری مرتبہ ایک ہی شخص کا ایک ہی وقت میں اذان دینا درست نہیں ہوتا۔
المستفاد: ولو أمکنہ الذہاب إلی إمام اٰخر فعل لأنہا تؤدي بمصر واحد بمواضع کثیرۃ اتفاقاً۔ (درمختار کراچی ۲؍۱۷۶، زکریا ۳؍۵۹)
ولا ینبغي أن یصلي غیر الخطیب لأنہا کشئ واحد۔ (درمختار کراچی ۲؍۱۶۲، زکریا ۳؍۳۹)
یکرہ لہ أن یؤذن في مسجدین؛ لأنہ إذا صلی في المسجد الأول یکون متنفلاً بالأذان في المسجد الثاني۔ (شامی ۱؍۴۰۰کراچی )
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:9⃣2⃣2⃣
طلاقِ معلق کا مسئلہ
سوال:
میرے میاں نے مجھے میری بہن کے گھر جانے سے منع کیا اور کہا کہ: ”تم وہاں گئیں تو تم مجھ پر طلاق ہوجاوٴگی“ اور تین مرتبہ یہ الفاظ دہرائے کہ: ”میں تمہیں طلاق دے دُوں گا۔“ اور اس کے دُوسرے تیسرے دن ہی ہم وہاں چلے گئے، پہلے مجھے معلوم نہیں تھا کہ زبان سے کہنے سے طلاقہوجاتی ہے، لوگوں سے معلوم ہوا کہ اس طرح بھی طلاق ہوجاتی ہے، جبکہ میاں نہیں مان رہے اور کہہ رہے ہیں کہ: ”طلاق دینے کا میں نے وعدہ کیا ہے، اور طلاق نہیں دی“ جبکہ یہی الفاظ جو اَبھی لکھے ہیں، میرے میاں نے مجھے کہے تھے، کیا اس صورت میں طلاق ہوئی یا نہیں؟ اگر ہوئی تو اس کا حل کیا ہے؟
جواب:
آپ کے وہاں جانے کے بعد شوہر نے دو لفظ استعمال کئے ہیں، ایک یہ کہ: ”اگر تم وہاں گئیں تو مجھ پر طلاق ہوجاوٴگی“ اس سے ایک طلاق ہوگئی، مگر شوہر عدّت کے اندر اگر زبان سے کہہ دے کہ: ”میں نے طلاق واپس لے لی“ یا میاں بیوی کا تعلق قائم کرلے تو رُجوع ہوجائے گا، دوبارہ نکاح کی ضرورت نہیں۔ دُوسرا فقرہ آپ کے شوہر کا جسے انہوں نے تین بار دہرایا، یہ تھا کہ: ”میں تمہیں طلاق دے دُوں گا“ یہ طلاق دینے کی دھمکی ہے، ان الفاظ سے طلاق نہیں ہوئی۔
آپ کے مسائل اور انکا حل
واللہ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
طلاقِ معلق کا مسئلہ
سوال:
میرے میاں نے مجھے میری بہن کے گھر جانے سے منع کیا اور کہا کہ: ”تم وہاں گئیں تو تم مجھ پر طلاق ہوجاوٴگی“ اور تین مرتبہ یہ الفاظ دہرائے کہ: ”میں تمہیں طلاق دے دُوں گا۔“ اور اس کے دُوسرے تیسرے دن ہی ہم وہاں چلے گئے، پہلے مجھے معلوم نہیں تھا کہ زبان سے کہنے سے طلاقہوجاتی ہے، لوگوں سے معلوم ہوا کہ اس طرح بھی طلاق ہوجاتی ہے، جبکہ میاں نہیں مان رہے اور کہہ رہے ہیں کہ: ”طلاق دینے کا میں نے وعدہ کیا ہے، اور طلاق نہیں دی“ جبکہ یہی الفاظ جو اَبھی لکھے ہیں، میرے میاں نے مجھے کہے تھے، کیا اس صورت میں طلاق ہوئی یا نہیں؟ اگر ہوئی تو اس کا حل کیا ہے؟
جواب:
آپ کے وہاں جانے کے بعد شوہر نے دو لفظ استعمال کئے ہیں، ایک یہ کہ: ”اگر تم وہاں گئیں تو مجھ پر طلاق ہوجاوٴگی“ اس سے ایک طلاق ہوگئی، مگر شوہر عدّت کے اندر اگر زبان سے کہہ دے کہ: ”میں نے طلاق واپس لے لی“ یا میاں بیوی کا تعلق قائم کرلے تو رُجوع ہوجائے گا، دوبارہ نکاح کی ضرورت نہیں۔ دُوسرا فقرہ آپ کے شوہر کا جسے انہوں نے تین بار دہرایا، یہ تھا کہ: ”میں تمہیں طلاق دے دُوں گا“ یہ طلاق دینے کی دھمکی ہے، ان الفاظ سے طلاق نہیں ہوئی۔
آپ کے مسائل اور انکا حل
واللہ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:0⃣3⃣2⃣
”اگر میں فلاں کام کروں تو مجھ پر عورت طلاق“ کا حکم
سوال:
ایک شخص نے اپنی والدہ سے غصّے میں آکر کہا کہ: ”اگر میں تیرے پاس آوٴں تو مجھ پر عورت طلاق ہوگی“ اور یہ لفظ اس نے صرف ایک ہی مرتبہ کہا ہے، اب وہ شخص اپنی والدہ کے پاس آنا چاہتا ہے تو اس کے لئے کیا صورت ہوگی؟
جواب:
اس صورت میں وہ شخص زندگی میں جب کبھی اپنی والدہ کے پاس جائے گا تو بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوگی، جس کا حکمِ شرعی یہ ہے کہ عدّت کے اندر بغیر تجدیدِ نکاح کے شوہر رُجوع کرسکتا ہے۔ البتہ عدّت کے بعد عورت کی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرنا ہوگا۔ بہتر یہ ہے کہ یہ شخص والدہ کے پاس چلا جائے، اس سے ایک طلاق رجعی ہوجائے گی، اس کے بعد یہ شخص بیوی سے رُجوع کرے اور ”رُجوع“ سے مراد یہ ہے کہ یا تو زبان سے کہہ دے کہ میں نے طلاق واپس لے لی، یا بیوی کو ہاتھ لگادے، یا اس سے صحبت کرلے۔ زبان سے یا فعل سے رُجوع کرلینے کے بعد طلاق کا اثر ختم ہوجائے گا۔ لیکن اس شخص نے تین طلاقوں میں سے ایک طلاق کا حق استعمال کرلیا، اب اس کے پاس صرف دو طلاقوں کا حق باقی رہ گیا، آئندہ اگر دو طلاقیں دے دیں تو بیوی حرام ہوجائے گی، اس لئے آئندہ احتیاط کرے۔
آپ کے مسائل اور انکا حل
واللہ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
”اگر میں فلاں کام کروں تو مجھ پر عورت طلاق“ کا حکم
سوال:
ایک شخص نے اپنی والدہ سے غصّے میں آکر کہا کہ: ”اگر میں تیرے پاس آوٴں تو مجھ پر عورت طلاق ہوگی“ اور یہ لفظ اس نے صرف ایک ہی مرتبہ کہا ہے، اب وہ شخص اپنی والدہ کے پاس آنا چاہتا ہے تو اس کے لئے کیا صورت ہوگی؟
جواب:
اس صورت میں وہ شخص زندگی میں جب کبھی اپنی والدہ کے پاس جائے گا تو بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوگی، جس کا حکمِ شرعی یہ ہے کہ عدّت کے اندر بغیر تجدیدِ نکاح کے شوہر رُجوع کرسکتا ہے۔ البتہ عدّت کے بعد عورت کی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرنا ہوگا۔ بہتر یہ ہے کہ یہ شخص والدہ کے پاس چلا جائے، اس سے ایک طلاق رجعی ہوجائے گی، اس کے بعد یہ شخص بیوی سے رُجوع کرے اور ”رُجوع“ سے مراد یہ ہے کہ یا تو زبان سے کہہ دے کہ میں نے طلاق واپس لے لی، یا بیوی کو ہاتھ لگادے، یا اس سے صحبت کرلے۔ زبان سے یا فعل سے رُجوع کرلینے کے بعد طلاق کا اثر ختم ہوجائے گا۔ لیکن اس شخص نے تین طلاقوں میں سے ایک طلاق کا حق استعمال کرلیا، اب اس کے پاس صرف دو طلاقوں کا حق باقی رہ گیا، آئندہ اگر دو طلاقیں دے دیں تو بیوی حرام ہوجائے گی، اس لئے آئندہ احتیاط کرے۔
آپ کے مسائل اور انکا حل
واللہ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:1⃣3⃣2⃣
کسی کام پر معلق طلاق کا حکم
سوال: مکرمی جناب حضرت مفتی صاحب دامت برکاتہم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بعد سلام عرض یہ ہے کہ کیافرماتے ہیں علماء دین وشرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں زید کی بیوی حرام کاری یعنی زنا میں مبتلا ہوئی زید کو اسکی اطلاع ہوئی تو زید نے اس سے دریافت کیا۔ تو اس نے انکار کیا۔ زید کو حرام کاری کی اطلاع جو ملی ہے اس کے اندر کسی قسم کا ریب نہیں ہے زید نے غصہ میں آکر یہ کہا کہ اگر آج کے بعد تو نے یہ غلط کام کیا تو تجھے تین طلاق اور زید اپنی بیوی رکھنا چاہتا ہے۔ تو طلاق معلق کو رفع کرنے کی صورت قرآن و حدیث کی روشنی میں تحریر فرمائیں۔نیز دوبارہ معلوم اور شبہ ہونے پر زید عورت کے ساتھ رہ سکتا ہے، یا نہیں؟
الجـواب وباﷲ التـوفـیـق
جواب : خط کشیدہ جملہ کہنے کے بعد جب تک یہ غلط کام (زنا) کرانا دلیلِ شرعی سے ثابت نہ ہو اس وقت تک کوئی طلاق نہیں پڑیگی۔ اسی طرح اس جملہ کے کہنے سے قبل
جو زنا کرایا ہوگا اس سے بھی طلاق کا حکم نہ ہوگا۔ البتہ اس خط کشیدہ کہنے کے بعد جب بھی زنا کرائیگی اور دلیل شرعی سے زنا ثابت ہو جائیگا تو تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ہو جائیگی۔ محض زنا کے شبہ سے کسی طلاق کے وقوع کا حکم نہ ہوگا۔ اور اس معلق طلاق کو رفع کرنے کی کوئی جائز صورت نہیں ہے۔
نظام الفتاوی
واللہ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
کسی کام پر معلق طلاق کا حکم
سوال: مکرمی جناب حضرت مفتی صاحب دامت برکاتہم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بعد سلام عرض یہ ہے کہ کیافرماتے ہیں علماء دین وشرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں زید کی بیوی حرام کاری یعنی زنا میں مبتلا ہوئی زید کو اسکی اطلاع ہوئی تو زید نے اس سے دریافت کیا۔ تو اس نے انکار کیا۔ زید کو حرام کاری کی اطلاع جو ملی ہے اس کے اندر کسی قسم کا ریب نہیں ہے زید نے غصہ میں آکر یہ کہا کہ اگر آج کے بعد تو نے یہ غلط کام کیا تو تجھے تین طلاق اور زید اپنی بیوی رکھنا چاہتا ہے۔ تو طلاق معلق کو رفع کرنے کی صورت قرآن و حدیث کی روشنی میں تحریر فرمائیں۔نیز دوبارہ معلوم اور شبہ ہونے پر زید عورت کے ساتھ رہ سکتا ہے، یا نہیں؟
الجـواب وباﷲ التـوفـیـق
جواب : خط کشیدہ جملہ کہنے کے بعد جب تک یہ غلط کام (زنا) کرانا دلیلِ شرعی سے ثابت نہ ہو اس وقت تک کوئی طلاق نہیں پڑیگی۔ اسی طرح اس جملہ کے کہنے سے قبل
جو زنا کرایا ہوگا اس سے بھی طلاق کا حکم نہ ہوگا۔ البتہ اس خط کشیدہ کہنے کے بعد جب بھی زنا کرائیگی اور دلیل شرعی سے زنا ثابت ہو جائیگا تو تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ہو جائیگی۔ محض زنا کے شبہ سے کسی طلاق کے وقوع کا حکم نہ ہوگا۔ اور اس معلق طلاق کو رفع کرنے کی کوئی جائز صورت نہیں ہے۔
نظام الفتاوی
واللہ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:2⃣3⃣2⃣
اگر بھائی کے گھر آنے سے طلاق کو معلق کیا تو اَب کیا کرے؟
سوال:
میں ایک کرائے کے مکان میں رہ رہا تھا، آج سے پانچ سال پہلے ہم دونوں بھائیوں کی آپس میں باتیں ہو رہی تھیں، تو باتوں باتوں میں تلخ کلامی ہوگئی اور بہت زیادہ ہوئی، اسی دوران بھائی باہر نکل گیا، کافی دُور جاکر اس نے کہا کہ میں اپنے بھائی کے گھر آوٴں تو میری بیوی پر تیرہ دفعہ طلاق ہے۔ اب وہ بھائی عرصہ ۵۵ سال سے میرے گھر نہیں آیا، اب وہ میرے گھر کس صورت میں آسکتا ہے؟ اور ان باتوں کا کیا حل ہے؟
جواب:
آپ کا بھائی جب بھی آپ کے گھر آئے گا اس کی بیوی کو تین طلاق ہوجائیں گی۔ اگر وہ اپنی قسم توڑنا چاہتا ہے تو اس کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ وہ اپنی بیوی کو ”ایک طلاق بائن“ دے دے، پھر جب بیوی کی عدّت ختم ہوجائے تو آپ کے گھر چلا جائے، اس کی قسم ٹوٹ جائے گی، دوبارہ اپنی بیوی سے نکاح کرلے۔
آپ کے مسائل اور انکا حل
واللہ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
اگر بھائی کے گھر آنے سے طلاق کو معلق کیا تو اَب کیا کرے؟
سوال:
میں ایک کرائے کے مکان میں رہ رہا تھا، آج سے پانچ سال پہلے ہم دونوں بھائیوں کی آپس میں باتیں ہو رہی تھیں، تو باتوں باتوں میں تلخ کلامی ہوگئی اور بہت زیادہ ہوئی، اسی دوران بھائی باہر نکل گیا، کافی دُور جاکر اس نے کہا کہ میں اپنے بھائی کے گھر آوٴں تو میری بیوی پر تیرہ دفعہ طلاق ہے۔ اب وہ بھائی عرصہ ۵۵ سال سے میرے گھر نہیں آیا، اب وہ میرے گھر کس صورت میں آسکتا ہے؟ اور ان باتوں کا کیا حل ہے؟
جواب:
آپ کا بھائی جب بھی آپ کے گھر آئے گا اس کی بیوی کو تین طلاق ہوجائیں گی۔ اگر وہ اپنی قسم توڑنا چاہتا ہے تو اس کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ وہ اپنی بیوی کو ”ایک طلاق بائن“ دے دے، پھر جب بیوی کی عدّت ختم ہوجائے تو آپ کے گھر چلا جائے، اس کی قسم ٹوٹ جائے گی، دوبارہ اپنی بیوی سے نکاح کرلے۔
آپ کے مسائل اور انکا حل
واللہ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:3⃣3⃣2⃣
معلق تین طلاق کی ایک صورت کا حکم
سوال:
سوال کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں میرے شوہر نے کہا تھا کہ اگر تو مجھے شراب پیتا ہوا دیکھے یا نشہ میں پڑا ہوا دیکھے اور اس کی تحقیق ہوجاوے تو میری طرف سے ایک بار نہیں بلکہ تین بار آزاد ہے جس وقت یہ الفاظ کہے تھے اس وقت کوئی دوسرا شخص ہمارے پاس نہیںتھا فقط ہم دونوں ہی تھے اب میں نے اپنے شوہر کوشراب کے نشہ میں دیکھا اور مجھے اس کے منھ سے بدبو بھی آئی تھی میں اس کی تحقیق کی تومعلوم ہوا کہ شراب پی ہے عند الشرع طلاق ہوگئی یا کہ نہیں۔
الجـواب وباﷲ التـوفـیـق
جواب:اگر یہ جملہ( اگر تو مجھے شراب پیتا ہوا دیکھے یا نشہ میں پڑاہوا دیکھے) کہنے کے بعد عورت نے خود شوہر کوشراب پیتے دیکھا ہے یا نشہ میں پڑا ہوا دیکھا ہے جب تو تین طلاق واقع ہوکر حرمت ِ مغلظہ واقع ہوگئی بغیرحلالہ کے اس شوہر کے لیے حلال نہیں ہے اور اگر شراب پیتے ہوئے یا نشہ میں پڑا ہوا خود نہیں دیکھا ہے بلکہ محض منھ سے شراب کی بدبوآنے سے یا لوگوں کے بیان کرنے سے کہ شراب ہی ہے یامحض شراب کے نشہ میں ہونے کے گمان سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔
نظام الفتاوی
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
معلق تین طلاق کی ایک صورت کا حکم
سوال:
سوال کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں میرے شوہر نے کہا تھا کہ اگر تو مجھے شراب پیتا ہوا دیکھے یا نشہ میں پڑا ہوا دیکھے اور اس کی تحقیق ہوجاوے تو میری طرف سے ایک بار نہیں بلکہ تین بار آزاد ہے جس وقت یہ الفاظ کہے تھے اس وقت کوئی دوسرا شخص ہمارے پاس نہیںتھا فقط ہم دونوں ہی تھے اب میں نے اپنے شوہر کوشراب کے نشہ میں دیکھا اور مجھے اس کے منھ سے بدبو بھی آئی تھی میں اس کی تحقیق کی تومعلوم ہوا کہ شراب پی ہے عند الشرع طلاق ہوگئی یا کہ نہیں۔
الجـواب وباﷲ التـوفـیـق
جواب:اگر یہ جملہ( اگر تو مجھے شراب پیتا ہوا دیکھے یا نشہ میں پڑاہوا دیکھے) کہنے کے بعد عورت نے خود شوہر کوشراب پیتے دیکھا ہے یا نشہ میں پڑا ہوا دیکھا ہے جب تو تین طلاق واقع ہوکر حرمت ِ مغلظہ واقع ہوگئی بغیرحلالہ کے اس شوہر کے لیے حلال نہیں ہے اور اگر شراب پیتے ہوئے یا نشہ میں پڑا ہوا خود نہیں دیکھا ہے بلکہ محض منھ سے شراب کی بدبوآنے سے یا لوگوں کے بیان کرنے سے کہ شراب ہی ہے یامحض شراب کے نشہ میں ہونے کے گمان سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔
نظام الفتاوی
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:4⃣3⃣2⃣
معلق تین طلاق کی ایک صورت کا حکم
سوال:
عرض ہے کہ ہم نے اپنی بیوی کو غصہ سے کہا کہ بنگلہ سے باہر جائوگی تو تینوں طلاق وہ نہ باہر گئی اس کے بعد پھر ہم نے کہا کہ بنگلہ سے باہر اندر کے اس پار جائوگی تو تم کو اصلی تینوں طلاق ہوجاویگی بنگلہ کے باہر ہوگئی اندر کے اس پار نہ گئی اب اس میں طلاق ہوئی یا نہیں ہوئی ۔
الجـواب وباﷲ التـوفـیـق
جواب:اگر ایک ہی معاملہ میں یہ دونوں قسم کھائی ہیں تو صورت مسئولہ میں تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت ِ مغلظہ ہوگئی اور اگر دو معاملہ میںیہ دونوں قسمیں الگ الگ کھائی ہیں اور ایک واقعہ کا دوسرے واقعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے تو کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔
نظام الفتاوی
فقط واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
معلق تین طلاق کی ایک صورت کا حکم
سوال:
عرض ہے کہ ہم نے اپنی بیوی کو غصہ سے کہا کہ بنگلہ سے باہر جائوگی تو تینوں طلاق وہ نہ باہر گئی اس کے بعد پھر ہم نے کہا کہ بنگلہ سے باہر اندر کے اس پار جائوگی تو تم کو اصلی تینوں طلاق ہوجاویگی بنگلہ کے باہر ہوگئی اندر کے اس پار نہ گئی اب اس میں طلاق ہوئی یا نہیں ہوئی ۔
الجـواب وباﷲ التـوفـیـق
جواب:اگر ایک ہی معاملہ میں یہ دونوں قسم کھائی ہیں تو صورت مسئولہ میں تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت ِ مغلظہ ہوگئی اور اگر دو معاملہ میںیہ دونوں قسمیں الگ الگ کھائی ہیں اور ایک واقعہ کا دوسرے واقعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے تو کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔
نظام الفتاوی
فقط واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:5⃣3⃣2⃣
مسجد میں اذان مکروہ ہے
سوال:
ہمارے محلے میں ایک جامع مسجد ہے، جس کی تعمیر کا کام ہو رہا ہے، کچھ حصہ تعمیر ہوگیا ہے اور باقی ابھی بہت کام ہے، لیکن ابھی کچھ دن سے ایک آدمی نے یہ کہا کہ مسجد کے اندر اذان دینا جائز نہیں ہے، اس لئےاذان دینے کے لئے ایک علیحدہ کمرہ صحن میں بنایا جائے، نمازیوں نے یہ اعتراض کیا ہے کہ ابھی مسجد کا کافی کام پڑا ہے، اور دُوسری وجہ یہ ہے کہمسجد کے صحن میں کمرہ بننے سے خوبصورتی میں بھی فرق آجائے گا، لیکن وہ آدمی بضد ہے کہ مسجد میں اذان دینا شرعاً جائز نہیں ہے، آپ اس بارے میں جلدی جواب دیں، ویسے ہر مسجد میں اذان اندر دی جاتی ہے۔
جواب:
مسجد میں اذان دینا مکروہِ تنزیہی ہے، وہ صاحب یہ تو صحیح فرماتے ہیں کہاذان کی جگہ مسجد سے باہر بنائی جانی چاہئے، مگر ان کا یہ کہنا غلط ہے کہ اذانمسجد میں ناجائز ہے، ناجائز تو نہیں، البتہ مکروہِ تنزیہی ہے، اور خدا کے گھر میں کسی مکروہِ تنزیہی کا ارتکاب بھی نہیں ہونا چاہئے، ہاں! جمعہ کی دُوسری اذان اس سے مستثنیٰ ہے، کہ وہ خطیب کے سامنے مسجد میں ہوتی ہے۔
آپ کے مسائل اور انکا حل
واللہ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
مسجد میں اذان مکروہ ہے
سوال:
ہمارے محلے میں ایک جامع مسجد ہے، جس کی تعمیر کا کام ہو رہا ہے، کچھ حصہ تعمیر ہوگیا ہے اور باقی ابھی بہت کام ہے، لیکن ابھی کچھ دن سے ایک آدمی نے یہ کہا کہ مسجد کے اندر اذان دینا جائز نہیں ہے، اس لئےاذان دینے کے لئے ایک علیحدہ کمرہ صحن میں بنایا جائے، نمازیوں نے یہ اعتراض کیا ہے کہ ابھی مسجد کا کافی کام پڑا ہے، اور دُوسری وجہ یہ ہے کہمسجد کے صحن میں کمرہ بننے سے خوبصورتی میں بھی فرق آجائے گا، لیکن وہ آدمی بضد ہے کہ مسجد میں اذان دینا شرعاً جائز نہیں ہے، آپ اس بارے میں جلدی جواب دیں، ویسے ہر مسجد میں اذان اندر دی جاتی ہے۔
جواب:
مسجد میں اذان دینا مکروہِ تنزیہی ہے، وہ صاحب یہ تو صحیح فرماتے ہیں کہاذان کی جگہ مسجد سے باہر بنائی جانی چاہئے، مگر ان کا یہ کہنا غلط ہے کہ اذانمسجد میں ناجائز ہے، ناجائز تو نہیں، البتہ مکروہِ تنزیہی ہے، اور خدا کے گھر میں کسی مکروہِ تنزیہی کا ارتکاب بھی نہیں ہونا چاہئے، ہاں! جمعہ کی دُوسری اذان اس سے مستثنیٰ ہے، کہ وہ خطیب کے سامنے مسجد میں ہوتی ہے۔
آپ کے مسائل اور انکا حل
واللہ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:6⃣3⃣2⃣
”اذان کس جگہ دی جائے؟“ پر علمی بحث
سوال:
ایک سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا ہے کہ مسجد میں اذان دینا مکروہِ تنزیہی ہے، اور آپ نے جواب کے اخیر میں فرمایا ہے: ”ہاں! جمعہ کی دُوسری اذان اس سے مستثنیٰ ہے، کہ وہ خطیب کے سامنے مسجد میں ہوتی ہے۔“
اس خط کے ذریعہ آپ سے یہ دردمندانہ اپیل ہے کہ آپ بلاتحقیق شرعی کبھی فتویٰ دینے کی کوشش نہ فرمائیں، اس لئے کہ آپ نے اذان کو مسجد میں مکروہِ تنزیہی لکھ دیا ہے، حالانکہ تنزیہی کی تصریح تو کسی بھی فقہ کی معتبر کتاب میں نہیں ہے، ہاں! کراہیت کے الفاظ ہیں، اور آپ نے کراہیت کا مشہور قاعدہ تو ازبر کیا ہی ہوگا کہ احناف کے نزدیک مطلق کراہیت سے کراہیتِ تحریمی مراد ہوتی ہے، نہ کہ تنزیہی، ہاں! شوافع کے نزدیک تنزیہی ہوتی ہے۔ چنانچہ علامہ عبدالغنی نابلسی حدیقہ ندیہ میں رقم طراز ہیں:
”الکراھیة عند الشافعیة اذا اطلقت تنصرف الی التنزیہیة لا التحریمة بخلاف مذھبنا۔“
ترجمہ:…”کراہیت کا لفظ جب مطلق بولا جائے تو شافعیہ کے نزدیک اس سے کراہیتِ تنزیہی مراد ہوتی ہے، نہ کہ تحریمی، بخلاف ہمارے مذہب کے (کہ ہمارے یہاں مطلق کراہت سے کراہتِ تحریمی مراد ہوتی ہے)۔“
کیا آپ کو یہ بھی معلوم نہیں کہ مکروہِ تنزیہی کا ارتکاب سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بیانِ جواز کے لئے بھی کیا کرتے تھے، مگر اذان آپ نے کبھی بھی مسجد کے اندر نہ دلوائی، اور نہ ہی خلفائے راشدین کے زمانے میں کبھی ایسا ہوا، پھر اس پر مستزاد یہ کہ آپ نے اذانِ ثانی کو مسجد میں دینا کراہیتِ تنزیہی سے بھی مستثنیٰ کردیا، اگر آپ نے بین یدی کے الفاظ سے یہ سمجھا ہے تو آپ غلطی پر ہیں، اس لئے کہ بین یدی کا معنی ہیں ”سامنے“ نہ کہ ”بیچ میں“، یا پھر خطیب سے ایک فٹ کے فاصلے پر کھڑے ہوکر اس کے منہ میں منہ ڈالا جائے، جب مسجد میں علی الاطلاق اذان کی کراہیت ہے تو آپ نے کس قرینے سے اذانِ ثانی کو مستثنیٰ قرار دیا؟ میں آپ کو بتاوٴں کہ بین یدی بھی ہونا صرف احناف ہی کے نزدیک سنت ہے، ورنہ مالکی تو اس کو بھی بدعت کہتے ہیں، چنانچہ علامہ خلیل بن اسحاق مالکی نے فرمایا ہے:
”اختلف اھل النقل ھل کان یوٴذّن بین یدیہ صلی الله علیہ وسلم او علی المنار؟ الذی نقلہ اصحابنا انہ کان علی المنار۔“
ترجمہ:…”اہل نقل کا اس میں اختلاف ہے کہ آیا اذان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوتی تھی یا منارہ پر؟ جس بات کو ہمارے اصحاب (یعنی مالکیہ) نے نقل کیا ہے وہ یہ ہے کہ اذان منارہ پر ہوتی تھی۔“
علامہ یوسف بن سعید ثقفی مالکی حاشیہ جواہر ذکیہ میں فرماتے ہیں:
”الأذان الثانی کان علی المنار فی الزمن القدیم وعلیہ اھل المغرب الی الاٰن وفعلہ بین یدی الامام مکروہ ․․․․ الخ۔“
ترجمہ:…”زمانہٴ قدیم میں اذانِ ثانی منارہ پر ہوتی تھی اور اہلِ مغرب کا عمل آج تک اسی پر ہے، اور امام کے آگے اذان دینا مکروہ ہے۔“
بہرصورت! میں تفصیلی دلائل کی جانب جانا نہیں چاہتا، اس لئے تاکہ آپ میرا مسوّدہ ردّی کے ٹوکرے کا سامان نہ بنائیں، از راہِ کرم آپ مذکورہ دلائل کی روشنی میں اس حقیقتِ ثابتہ کو مان گئے ہیں کہ واقعی ہر اذان مسجد میں عند الاحناف مکروہِ تحریمی ہے تو آپ اپنا اعتذار قارئین کے سامنے پیش فرمائیں، ورنہ (مجھے احقاقِ حق مقصود ہے) بصورتِ دیگر آپ میرے سوالات کا اطمینان بخش جواب عطا فرمائیں۔
ج… اوّل چند روایات نقل کرتا ہوں:
۱:… فتاویٰ عالمگیری (ج:۱ ص:۵۵) میں فتاویٰ قاضی خان سے نقل کیا ہے:
”وینبغی ان یوٴذّن علی المأذنة او خارج المسجد ولا یوٴذّن فی المسجد۔“
ترجمہ:…”اور مناسب یہ ہے کہ اذان مأذنہ پر دی جائے، یا مسجد سے باہر دی جائے اور مسجد کے اندر اذان نہ دی جائے۔“
۲:… ہدایہ میں ہے:
”واذا اصعد الامام المنبر جلس واذّن الموٴذّنون بین یدی المنبر بذالک جری التوارث۔“
(فتح القدیر ج:۱ ص:۴۲۱)
ترجمہ:…”اور جب امام منبر پر بیٹھ جائے تو موٴذّن منبر کے آگے اذان دیں، مسلمانوں کا تعامل اسی کے مطابق چلا آیا ہے۔“
۳:… فتح الباری شرح بخاری میں ہے:
”قال المھلب الحکمة فی جعل الاذان فی ھذا المحل لیعرف الناس بجلوس الامام علی المنبر فینصتون لہ اذا خطب۔ کذا قال وفیہ نظر فان فی سیاق ابن اسحاق عند الطبرانی وغیرہ عن الزھری فی ھٰذا الحدیث ان بلالا کان یوٴذّن علی باب المسجد فالظاھر انہ کان مطلق الاعلام لا لخصوص الانصات نعم لما زید الاذاناو الاول کان للاعلام۔ وکان الذی بین یدی الخطیب للانصات۔“
ترجمہ:…”مہلب کہتے ہیں: اس جگہ (یعنی منبر کے آگے) اذان کہنے میں یہ حکمت ہے کہ لوگوں کو امام کا منبر پر بیٹھنا معلوم ہوجائے، پس جب وہ خطبہ شروع کرے تو خطبہ کے لئے خاموشی اختیار کریں، مہلب کے اس قول میں نظر ہے، اس لئے کہ اس حدیث میں طبرانی وغیرہ کی روایت میں ابنِ اسحاق نے زہری سے نقل کیا ہے کہ: ”بلال مسجد کے دروازے پر اذان دیا کرتے تھے“ پس ظاہر یہ ہے کہ یہ اذان مطلقاً اعلان کے لئے ہوئی، محض لوگوں کو خاموش کرانے کے لئے نہیں۔
”اذان کس جگہ دی جائے؟“ پر علمی بحث
سوال:
ایک سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا ہے کہ مسجد میں اذان دینا مکروہِ تنزیہی ہے، اور آپ نے جواب کے اخیر میں فرمایا ہے: ”ہاں! جمعہ کی دُوسری اذان اس سے مستثنیٰ ہے، کہ وہ خطیب کے سامنے مسجد میں ہوتی ہے۔“
اس خط کے ذریعہ آپ سے یہ دردمندانہ اپیل ہے کہ آپ بلاتحقیق شرعی کبھی فتویٰ دینے کی کوشش نہ فرمائیں، اس لئے کہ آپ نے اذان کو مسجد میں مکروہِ تنزیہی لکھ دیا ہے، حالانکہ تنزیہی کی تصریح تو کسی بھی فقہ کی معتبر کتاب میں نہیں ہے، ہاں! کراہیت کے الفاظ ہیں، اور آپ نے کراہیت کا مشہور قاعدہ تو ازبر کیا ہی ہوگا کہ احناف کے نزدیک مطلق کراہیت سے کراہیتِ تحریمی مراد ہوتی ہے، نہ کہ تنزیہی، ہاں! شوافع کے نزدیک تنزیہی ہوتی ہے۔ چنانچہ علامہ عبدالغنی نابلسی حدیقہ ندیہ میں رقم طراز ہیں:
”الکراھیة عند الشافعیة اذا اطلقت تنصرف الی التنزیہیة لا التحریمة بخلاف مذھبنا۔“
ترجمہ:…”کراہیت کا لفظ جب مطلق بولا جائے تو شافعیہ کے نزدیک اس سے کراہیتِ تنزیہی مراد ہوتی ہے، نہ کہ تحریمی، بخلاف ہمارے مذہب کے (کہ ہمارے یہاں مطلق کراہت سے کراہتِ تحریمی مراد ہوتی ہے)۔“
کیا آپ کو یہ بھی معلوم نہیں کہ مکروہِ تنزیہی کا ارتکاب سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بیانِ جواز کے لئے بھی کیا کرتے تھے، مگر اذان آپ نے کبھی بھی مسجد کے اندر نہ دلوائی، اور نہ ہی خلفائے راشدین کے زمانے میں کبھی ایسا ہوا، پھر اس پر مستزاد یہ کہ آپ نے اذانِ ثانی کو مسجد میں دینا کراہیتِ تنزیہی سے بھی مستثنیٰ کردیا، اگر آپ نے بین یدی کے الفاظ سے یہ سمجھا ہے تو آپ غلطی پر ہیں، اس لئے کہ بین یدی کا معنی ہیں ”سامنے“ نہ کہ ”بیچ میں“، یا پھر خطیب سے ایک فٹ کے فاصلے پر کھڑے ہوکر اس کے منہ میں منہ ڈالا جائے، جب مسجد میں علی الاطلاق اذان کی کراہیت ہے تو آپ نے کس قرینے سے اذانِ ثانی کو مستثنیٰ قرار دیا؟ میں آپ کو بتاوٴں کہ بین یدی بھی ہونا صرف احناف ہی کے نزدیک سنت ہے، ورنہ مالکی تو اس کو بھی بدعت کہتے ہیں، چنانچہ علامہ خلیل بن اسحاق مالکی نے فرمایا ہے:
”اختلف اھل النقل ھل کان یوٴذّن بین یدیہ صلی الله علیہ وسلم او علی المنار؟ الذی نقلہ اصحابنا انہ کان علی المنار۔“
ترجمہ:…”اہل نقل کا اس میں اختلاف ہے کہ آیا اذان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوتی تھی یا منارہ پر؟ جس بات کو ہمارے اصحاب (یعنی مالکیہ) نے نقل کیا ہے وہ یہ ہے کہ اذان منارہ پر ہوتی تھی۔“
علامہ یوسف بن سعید ثقفی مالکی حاشیہ جواہر ذکیہ میں فرماتے ہیں:
”الأذان الثانی کان علی المنار فی الزمن القدیم وعلیہ اھل المغرب الی الاٰن وفعلہ بین یدی الامام مکروہ ․․․․ الخ۔“
ترجمہ:…”زمانہٴ قدیم میں اذانِ ثانی منارہ پر ہوتی تھی اور اہلِ مغرب کا عمل آج تک اسی پر ہے، اور امام کے آگے اذان دینا مکروہ ہے۔“
بہرصورت! میں تفصیلی دلائل کی جانب جانا نہیں چاہتا، اس لئے تاکہ آپ میرا مسوّدہ ردّی کے ٹوکرے کا سامان نہ بنائیں، از راہِ کرم آپ مذکورہ دلائل کی روشنی میں اس حقیقتِ ثابتہ کو مان گئے ہیں کہ واقعی ہر اذان مسجد میں عند الاحناف مکروہِ تحریمی ہے تو آپ اپنا اعتذار قارئین کے سامنے پیش فرمائیں، ورنہ (مجھے احقاقِ حق مقصود ہے) بصورتِ دیگر آپ میرے سوالات کا اطمینان بخش جواب عطا فرمائیں۔
ج… اوّل چند روایات نقل کرتا ہوں:
۱:… فتاویٰ عالمگیری (ج:۱ ص:۵۵) میں فتاویٰ قاضی خان سے نقل کیا ہے:
”وینبغی ان یوٴذّن علی المأذنة او خارج المسجد ولا یوٴذّن فی المسجد۔“
ترجمہ:…”اور مناسب یہ ہے کہ اذان مأذنہ پر دی جائے، یا مسجد سے باہر دی جائے اور مسجد کے اندر اذان نہ دی جائے۔“
۲:… ہدایہ میں ہے:
”واذا اصعد الامام المنبر جلس واذّن الموٴذّنون بین یدی المنبر بذالک جری التوارث۔“
(فتح القدیر ج:۱ ص:۴۲۱)
ترجمہ:…”اور جب امام منبر پر بیٹھ جائے تو موٴذّن منبر کے آگے اذان دیں، مسلمانوں کا تعامل اسی کے مطابق چلا آیا ہے۔“
۳:… فتح الباری شرح بخاری میں ہے:
”قال المھلب الحکمة فی جعل الاذان فی ھذا المحل لیعرف الناس بجلوس الامام علی المنبر فینصتون لہ اذا خطب۔ کذا قال وفیہ نظر فان فی سیاق ابن اسحاق عند الطبرانی وغیرہ عن الزھری فی ھٰذا الحدیث ان بلالا کان یوٴذّن علی باب المسجد فالظاھر انہ کان مطلق الاعلام لا لخصوص الانصات نعم لما زید الاذاناو الاول کان للاعلام۔ وکان الذی بین یدی الخطیب للانصات۔“
ترجمہ:…”مہلب کہتے ہیں: اس جگہ (یعنی منبر کے آگے) اذان کہنے میں یہ حکمت ہے کہ لوگوں کو امام کا منبر پر بیٹھنا معلوم ہوجائے، پس جب وہ خطبہ شروع کرے تو خطبہ کے لئے خاموشی اختیار کریں، مہلب کے اس قول میں نظر ہے، اس لئے کہ اس حدیث میں طبرانی وغیرہ کی روایت میں ابنِ اسحاق نے زہری سے نقل کیا ہے کہ: ”بلال مسجد کے دروازے پر اذان دیا کرتے تھے“ پس ظاہر یہ ہے کہ یہ اذان مطلقاً اعلان کے لئے ہوئی، محض لوگوں کو خاموش کرانے کے لئے نہیں۔
ہاں!جب پہلی اذان کا اضافہ کیا گیا تو پہلیاذان اطلاعِ عام کے لئے تھی، اور جو اذان خطیب کے آگے ہوتی ہے وہ خاموش کرانے کے لئے ہوتی ہے۔“
پہلی روایت سے معلوم ہوا کہ اذان کا منارہ پر یا مسجد سے باہر ہونا مناسب ہے، مسجد کے اندر اذان دینا مناسب نہیں، اور یہی مفہوم ہے کراہیتِ تنزیہی کا، کیونکہ کراہتِ تحریمی کو ”لا ینبغی“ (مناسب نہیں) کے لفظ سے تعبیر نہیں کیا جاتا، بلکہ ”لا یجوز“ (یعنی جائز نہیں) کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ جن فقہاء کی عبارت میں صرف مکروہ کا لفظ آیا ہے، ان کی مراد بھی یہی ”لا ینبغی“ (مناسب نہیں) والی کراہت ہے، کراہتِ تحریمی مراد نہیں۔
اور یہ قاعدہ اپنی جگہ صحیح ہے کہ مکروہ کا لفظ جب مطلق ذکر کیا جائے تو اس سے مکروہِ تحریمی مراد ہوتا ہے۔ لیکن یہ قاعدہ عام نہیں ہے، بلکہ بسااوقات مکروہ کا لفظ مکروہِ تنزیہی کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے، اس لئے جہاں مکروہ کا لفظ مطلق ذکر کیا جائے وہاں قرائن و دلائل میں غور کرکے یہ دیکھنا ہوگا کہ یہاں مکروہِ تحریمی مراد ہے یا مکروہِ تنزیہی؟ جیسا کہ مکروہاتِ صلوٰة کے آغاز میں شیخ ابن نجیم نے البحر الرائق میں، اور علامہ شامی نے رد المحتار میں ذکر کیا ہے (دیکھئے: البحر الرائق ج:۲ ص:۲۰، رد المحتار ج:۱ ص:۶۳۹)۔
مسجد میں اذان دینے کے بارے میں کتاب الاصل (مبسوط) میں امام محمد کی تصریح حسبِ ذیل ہے:
”قلت ارأیت الموٴذّن اذا لم یکن لہ منارة والمسجد صغیر این احب الیک ان یوٴذّن؟ قال: احب ذالک الی ان یوٴذّن خارجًا من المسجد واذا اذّن فی المسجد اجزاہ۔“ (کتاب الاصل ج:۱ ص:۱۴۱)
ترجمہ:…”میں نے کہا: یہ فرمائیے کہ جب موٴذّن کے لئے منارہ نہ ہو اور مسجدچھوٹی ہو تو آپ کے نزدیک کس جگہ اذان دینا بہتر ہوگا؟ کیا وہ مسجد سے باہر نکل کر اذان دے تاکہ لوگ سنیں یا مسجد میں اذان دے؟ فرمایا: میرے نزدیک بہتر یہ ہے کہ مسجد سے باہر اذان کہے، اور اگر مسجد میںاذان دے دی جائے تب بھی اس کو کفایت کرے گی۔“
حضرت امام محمد کی اس تصریح سے ثابت ہوا کہ مسجد میں اذان دینا بہتر نہیں، لیکن اگر دے دی جائے تب بھی کوئی مضائقہ نہیں۔
دُوسری روایت سے معلوم ہوا کہ جمعہ کی دُوسری اذان منبر کے سامنے ہوتی ہے، اور اُمت کا تعامل اسی پر چلا آتا ہے، فقہاء اس منبر کی اذان کو مختلف تعبیرات سے ذکر کرتے ہیں، کبھی ”خطیب کے آگے“ کے لفظ سے، کبھی ”منبر کے پاس، اس کے قریب“ کے لفظ سے، اور کبھی ”منبر پر“ کے لفظ سے، ان تمام تعبیرات سے بشرطِ فہم و انصاف یہی سمجھا جاتا ہے کہ جمعہ کی دُوسری اذان منبر کے پاس داخلِ مسجد ہو۔
تیسری روایت سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضراتِ شیخین رضی اللہ عنہما کے زمانے میں دُوسری نمازوں کی طرح جمعہ کی بھی ایک ہی اذان ہوتی تھی، چونکہ اس سے بیک وقت دو مقصد تھے، ایک تومسجد سے باہر کے لوگوں کو وقتِ نماز کی اطلاع دینا، دُوسرے حاضرینِ مسجدکو خطبہ شروع ہونے کی اطلاع دینا، تاکہ وہ خاموش ہوکر خطبہ کی طرف متوجہ ہوجائیں، اس لئے دونوں پہلووٴں کی رعایت کرتے ہوئے یہ اذان مسجد کے دروازے پر کہلائی جاتی تھی، خلیفہٴ راشد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور میں پہلی اذان کا اضافہ ہوا جو زوراء پر ہوتی تھی، اور دُوسری اذان صرف خطبہ کے لئے مخصوص ہوگئی، جو منبر کے پاس کہی جانے لگی۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صاحبِ ہدایہ اور دیگر فقہاء نے جس توارث کا حوالہ دیا ہے اس سے وہ توارثِ قدیم مراد ہے جو دورِ عثمانی سے چلا آرہا ہے، کیونکہ توارثِ حادث خود حجت نہیں، اسے معرضِ دلیل میں پیش کرنا فقہاء کی شان سے بعید ہے، جہاں تک مجھے معلوم ہے مذاہبِ اربعہ اس پر متفق ہیں کہ جمعہ کی دُوسری اذان منبر کے سامنے ہو، جیسا کہ ہمارے شیخ حضرت العلامہ سیّد محمد یوسف بنوری نوّر اللہ مرقدہ نے معارف السنن (ج::۴ ص:۴۰۲) میں نقل کیا ہے، اگر بعض مالکیوں نے اس سے اختلاف کیا ہے، تو تعامل و توارث کے مقابلے میں ان کی رائے ہمارے لئے حجت نہیں، راقم الحروف کو کتبِ فقہ سے جو تحقیق ہوئی وہ عرض کردی گئی، اگر کسی صاحب کی تحقیق کچھ اور ہو تو وہ اپنی تحقیق پر عمل فرمائیں۔
آپ کے مسائل اور انکا حل
واللہ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
پہلی روایت سے معلوم ہوا کہ اذان کا منارہ پر یا مسجد سے باہر ہونا مناسب ہے، مسجد کے اندر اذان دینا مناسب نہیں، اور یہی مفہوم ہے کراہیتِ تنزیہی کا، کیونکہ کراہتِ تحریمی کو ”لا ینبغی“ (مناسب نہیں) کے لفظ سے تعبیر نہیں کیا جاتا، بلکہ ”لا یجوز“ (یعنی جائز نہیں) کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ جن فقہاء کی عبارت میں صرف مکروہ کا لفظ آیا ہے، ان کی مراد بھی یہی ”لا ینبغی“ (مناسب نہیں) والی کراہت ہے، کراہتِ تحریمی مراد نہیں۔
اور یہ قاعدہ اپنی جگہ صحیح ہے کہ مکروہ کا لفظ جب مطلق ذکر کیا جائے تو اس سے مکروہِ تحریمی مراد ہوتا ہے۔ لیکن یہ قاعدہ عام نہیں ہے، بلکہ بسااوقات مکروہ کا لفظ مکروہِ تنزیہی کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے، اس لئے جہاں مکروہ کا لفظ مطلق ذکر کیا جائے وہاں قرائن و دلائل میں غور کرکے یہ دیکھنا ہوگا کہ یہاں مکروہِ تحریمی مراد ہے یا مکروہِ تنزیہی؟ جیسا کہ مکروہاتِ صلوٰة کے آغاز میں شیخ ابن نجیم نے البحر الرائق میں، اور علامہ شامی نے رد المحتار میں ذکر کیا ہے (دیکھئے: البحر الرائق ج:۲ ص:۲۰، رد المحتار ج:۱ ص:۶۳۹)۔
مسجد میں اذان دینے کے بارے میں کتاب الاصل (مبسوط) میں امام محمد کی تصریح حسبِ ذیل ہے:
”قلت ارأیت الموٴذّن اذا لم یکن لہ منارة والمسجد صغیر این احب الیک ان یوٴذّن؟ قال: احب ذالک الی ان یوٴذّن خارجًا من المسجد واذا اذّن فی المسجد اجزاہ۔“ (کتاب الاصل ج:۱ ص:۱۴۱)
ترجمہ:…”میں نے کہا: یہ فرمائیے کہ جب موٴذّن کے لئے منارہ نہ ہو اور مسجدچھوٹی ہو تو آپ کے نزدیک کس جگہ اذان دینا بہتر ہوگا؟ کیا وہ مسجد سے باہر نکل کر اذان دے تاکہ لوگ سنیں یا مسجد میں اذان دے؟ فرمایا: میرے نزدیک بہتر یہ ہے کہ مسجد سے باہر اذان کہے، اور اگر مسجد میںاذان دے دی جائے تب بھی اس کو کفایت کرے گی۔“
حضرت امام محمد کی اس تصریح سے ثابت ہوا کہ مسجد میں اذان دینا بہتر نہیں، لیکن اگر دے دی جائے تب بھی کوئی مضائقہ نہیں۔
دُوسری روایت سے معلوم ہوا کہ جمعہ کی دُوسری اذان منبر کے سامنے ہوتی ہے، اور اُمت کا تعامل اسی پر چلا آتا ہے، فقہاء اس منبر کی اذان کو مختلف تعبیرات سے ذکر کرتے ہیں، کبھی ”خطیب کے آگے“ کے لفظ سے، کبھی ”منبر کے پاس، اس کے قریب“ کے لفظ سے، اور کبھی ”منبر پر“ کے لفظ سے، ان تمام تعبیرات سے بشرطِ فہم و انصاف یہی سمجھا جاتا ہے کہ جمعہ کی دُوسری اذان منبر کے پاس داخلِ مسجد ہو۔
تیسری روایت سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضراتِ شیخین رضی اللہ عنہما کے زمانے میں دُوسری نمازوں کی طرح جمعہ کی بھی ایک ہی اذان ہوتی تھی، چونکہ اس سے بیک وقت دو مقصد تھے، ایک تومسجد سے باہر کے لوگوں کو وقتِ نماز کی اطلاع دینا، دُوسرے حاضرینِ مسجدکو خطبہ شروع ہونے کی اطلاع دینا، تاکہ وہ خاموش ہوکر خطبہ کی طرف متوجہ ہوجائیں، اس لئے دونوں پہلووٴں کی رعایت کرتے ہوئے یہ اذان مسجد کے دروازے پر کہلائی جاتی تھی، خلیفہٴ راشد حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور میں پہلی اذان کا اضافہ ہوا جو زوراء پر ہوتی تھی، اور دُوسری اذان صرف خطبہ کے لئے مخصوص ہوگئی، جو منبر کے پاس کہی جانے لگی۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صاحبِ ہدایہ اور دیگر فقہاء نے جس توارث کا حوالہ دیا ہے اس سے وہ توارثِ قدیم مراد ہے جو دورِ عثمانی سے چلا آرہا ہے، کیونکہ توارثِ حادث خود حجت نہیں، اسے معرضِ دلیل میں پیش کرنا فقہاء کی شان سے بعید ہے، جہاں تک مجھے معلوم ہے مذاہبِ اربعہ اس پر متفق ہیں کہ جمعہ کی دُوسری اذان منبر کے سامنے ہو، جیسا کہ ہمارے شیخ حضرت العلامہ سیّد محمد یوسف بنوری نوّر اللہ مرقدہ نے معارف السنن (ج::۴ ص:۴۰۲) میں نقل کیا ہے، اگر بعض مالکیوں نے اس سے اختلاف کیا ہے، تو تعامل و توارث کے مقابلے میں ان کی رائے ہمارے لئے حجت نہیں، راقم الحروف کو کتبِ فقہ سے جو تحقیق ہوئی وہ عرض کردی گئی، اگر کسی صاحب کی تحقیق کچھ اور ہو تو وہ اپنی تحقیق پر عمل فرمائیں۔
آپ کے مسائل اور انکا حل
واللہ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:7⃣3⃣2⃣
مائک اذان کے لیے خارج مسجدرکھنے کاحکم
سوال:
گذارش ہے کہ جامع مسجد کرت پور میں لوڈ اسپیکر لگاہواہے لیکن میک جامع مسجد کے اندر شہ نشیں کے پاس رکھ دیا ہے اور لوڈاسپیکر دومیناروں کے درمیان رکھ دیا ہے جس میں اذان کی آواز نکلتی ہے بہت سے آدمی کہتے ہیں کہ میک اندر مسجد کے رکھ کر اذان نہیں دینی چاہیے میک باہر رکھ کراذان دو اس مسئلہ میں علماء دین کا کیا خیال ہے تاکہ اس پر عمل کیا جاوے حالاں کہ عید ین کے موقع پر بھی خطبہ اور اذان وہیں پر ہوتی ہے عند الشرع کیا حکم ہے۔
جواب:
اذان مسجد کے باہر ہونی چاہیے اور جہاں مائک ہوتاہے اسی جگہ سے دیجاتی ہے اس لیے مائک کو بھی مسجد کے باہر ہونا چاہیے اور عیدین کی نماز میں اذان تو ہوتی نہیں صرف خطبہ ہوتاہے اور خطبہ ممبر پرہوتا ہے اس لیے خطبہ میں مائک ممبر کے پاس رکھا جائے گا۔
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
داخل ِ مسجد اذان دینے کاحکم
سوال:
مائک کو مسجد میں رکھ کر اذان پڑھنا کیساہے اگر مائک کو باہر رکھنے سے آواز میں کسی قسم کی کمی محسوس ہوتی ہے تو یہ مسجد میں اندر اذان پڑھنے کیلئے عذر ہوسکتاہے یاکہ نہیں؟
جواب:
مسجد سے علیحدہ جگہ مائک کو رکھ کر اذان پڑھ سکتے ہیں مسجد میں اذاندینا مناسب نہیں ہے وینبغی ان یؤذن علی المئذنۃ اوخارج المسجد ولایؤذن فی المسجدکذا فتاویٰ قاضی خاں عالمگیری،ج:۱،ص:۵۲۔
نظام الفتاوی5
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
مائک اذان کے لیے خارج مسجدرکھنے کاحکم
سوال:
گذارش ہے کہ جامع مسجد کرت پور میں لوڈ اسپیکر لگاہواہے لیکن میک جامع مسجد کے اندر شہ نشیں کے پاس رکھ دیا ہے اور لوڈاسپیکر دومیناروں کے درمیان رکھ دیا ہے جس میں اذان کی آواز نکلتی ہے بہت سے آدمی کہتے ہیں کہ میک اندر مسجد کے رکھ کر اذان نہیں دینی چاہیے میک باہر رکھ کراذان دو اس مسئلہ میں علماء دین کا کیا خیال ہے تاکہ اس پر عمل کیا جاوے حالاں کہ عید ین کے موقع پر بھی خطبہ اور اذان وہیں پر ہوتی ہے عند الشرع کیا حکم ہے۔
جواب:
اذان مسجد کے باہر ہونی چاہیے اور جہاں مائک ہوتاہے اسی جگہ سے دیجاتی ہے اس لیے مائک کو بھی مسجد کے باہر ہونا چاہیے اور عیدین کی نماز میں اذان تو ہوتی نہیں صرف خطبہ ہوتاہے اور خطبہ ممبر پرہوتا ہے اس لیے خطبہ میں مائک ممبر کے پاس رکھا جائے گا۔
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
داخل ِ مسجد اذان دینے کاحکم
سوال:
مائک کو مسجد میں رکھ کر اذان پڑھنا کیساہے اگر مائک کو باہر رکھنے سے آواز میں کسی قسم کی کمی محسوس ہوتی ہے تو یہ مسجد میں اندر اذان پڑھنے کیلئے عذر ہوسکتاہے یاکہ نہیں؟
جواب:
مسجد سے علیحدہ جگہ مائک کو رکھ کر اذان پڑھ سکتے ہیں مسجد میں اذاندینا مناسب نہیں ہے وینبغی ان یؤذن علی المئذنۃ اوخارج المسجد ولایؤذن فی المسجدکذا فتاویٰ قاضی خاں عالمگیری،ج:۱،ص:۵۲۔
نظام الفتاوی5
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:8⃣3⃣2⃣
جس مسجد میں پنج گانہ نماز ہوتی ہو اس میں بلااذان
نماز پڑھنے کا حکم
سوال:
ایک مسجد میں ایک شخص نماز ظہر کے وقت تنہا داخل ہوا اس مسجدمیںپابندی سے نماز نہیں ہوتی ہے یہ معلوم ہے تو ایسی صورت میں اس شخص کو تنہا نماز ظہر بلا اذان پڑھنا جائزہے یا نہیں؟
جواب:
تمام محلہ والوں پر ضروری ہے کہ مسجد میں باقاعدہ جماعت پنج گانہ کا انتظام رکھیں اگراس میں کوتاہی ہوگی تو جو شخص جس قدر بااختیار ہوگا اتنا ہی اس سے باز پرس عنداللہ ہوگی۔
نیز ایسے موقعہ پر اگر ایک ہی شخص تنہا آکر اذان دیکر کچھ انتظار کرکے تنہا نماز ادا کرکے مسجد کا حق اداکرے گا تواس کو مصلیوں سے بھری ہوئی مسجدکی جماعت کا ثواب ملے گا۔
بہر حال ایسے موقعہ میں بھی اذان دیکر جماعت کا ا نتظار کرکے اگر کچھ مصلی آجائیں جماعت سے پڑھنا چاہیے۔
فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔
نظام الفتاوی5
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جس مسجد میں پنج گانہ نماز ہوتی ہو اس میں بلااذان
نماز پڑھنے کا حکم
سوال:
ایک مسجد میں ایک شخص نماز ظہر کے وقت تنہا داخل ہوا اس مسجدمیںپابندی سے نماز نہیں ہوتی ہے یہ معلوم ہے تو ایسی صورت میں اس شخص کو تنہا نماز ظہر بلا اذان پڑھنا جائزہے یا نہیں؟
جواب:
تمام محلہ والوں پر ضروری ہے کہ مسجد میں باقاعدہ جماعت پنج گانہ کا انتظام رکھیں اگراس میں کوتاہی ہوگی تو جو شخص جس قدر بااختیار ہوگا اتنا ہی اس سے باز پرس عنداللہ ہوگی۔
نیز ایسے موقعہ پر اگر ایک ہی شخص تنہا آکر اذان دیکر کچھ انتظار کرکے تنہا نماز ادا کرکے مسجد کا حق اداکرے گا تواس کو مصلیوں سے بھری ہوئی مسجدکی جماعت کا ثواب ملے گا۔
بہر حال ایسے موقعہ میں بھی اذان دیکر جماعت کا ا نتظار کرکے اگر کچھ مصلی آجائیں جماعت سے پڑھنا چاہیے۔
فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔
نظام الفتاوی5
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:9⃣3⃣2⃣
حدودِ مسجد سے باہر اذان پڑھنا
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: مسجد کے دائرہ صحن سے باہر وقتی نماز کے لئے اذان دینا کیسا ہے؟ اکثر مسجد اور مدرسہ کی چہار دیواری ایک ہی ہوتی ہے، مگر دائرۂ مسجد ومدرسہ الگ الگ ہوتے ہیں، مدرسہ کے دائرہ کے اندر سے ہی مائک سےاذان دے دی جائے تو وہ اذان معتبر ہوگی؟ مائک مسجد میں نہ رکھ کر مدرسہ میں رکھا جائے یہ کیسا ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: مدرسہ میں لاؤڈاسپیکر رکھ کر اذان دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (مستفاد: احسن الفتاویٰ ۲؍۲۹۵)
عن عروۃ بن الزبیر عن امرأۃ من بني النجار قالت: کان بیتي من أطول بیت حول المسجد، فکان بلال یؤذن علیہ الفجر…الخ۔
(سنن أبي داؤد، الصلاۃ / باب الأذان فوق المنارۃ رقم: ۵۱۹)
وینبغي أن یؤذن علی المئذنۃ أو خارج المسجد … کذا في الخانیۃ، والسنۃ أن یؤذن في موضع عال یکون أسمع لجیرانہ ویرفع صوتہ ولا یجہد نفسہ، کذا في البحر۔ (الفتاویٰ الہندیۃ، ۱؍۵۵، کذا في الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۲؍۱۳۸ رقم: ۱۹۶۵ زکریا، البحر الرائق، الصلاۃ / باب الأذان ۱؍۲۵۵ کوئٹہ، الدر المختار مع الشامي، الصلاۃ / باب الأذان ۱؍؍۱۸۴ کراچی)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتاب النوازل
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
حدودِ مسجد سے باہر اذان پڑھنا
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: مسجد کے دائرہ صحن سے باہر وقتی نماز کے لئے اذان دینا کیسا ہے؟ اکثر مسجد اور مدرسہ کی چہار دیواری ایک ہی ہوتی ہے، مگر دائرۂ مسجد ومدرسہ الگ الگ ہوتے ہیں، مدرسہ کے دائرہ کے اندر سے ہی مائک سےاذان دے دی جائے تو وہ اذان معتبر ہوگی؟ مائک مسجد میں نہ رکھ کر مدرسہ میں رکھا جائے یہ کیسا ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: مدرسہ میں لاؤڈاسپیکر رکھ کر اذان دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (مستفاد: احسن الفتاویٰ ۲؍۲۹۵)
عن عروۃ بن الزبیر عن امرأۃ من بني النجار قالت: کان بیتي من أطول بیت حول المسجد، فکان بلال یؤذن علیہ الفجر…الخ۔
(سنن أبي داؤد، الصلاۃ / باب الأذان فوق المنارۃ رقم: ۵۱۹)
وینبغي أن یؤذن علی المئذنۃ أو خارج المسجد … کذا في الخانیۃ، والسنۃ أن یؤذن في موضع عال یکون أسمع لجیرانہ ویرفع صوتہ ولا یجہد نفسہ، کذا في البحر۔ (الفتاویٰ الہندیۃ، ۱؍۵۵، کذا في الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۲؍۱۳۸ رقم: ۱۹۶۵ زکریا، البحر الرائق، الصلاۃ / باب الأذان ۱؍۲۵۵ کوئٹہ، الدر المختار مع الشامي، الصلاۃ / باب الأذان ۱؍؍۱۸۴ کراچی)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتاب النوازل
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:0⃣4⃣2⃣
مدرسہ میں جماعت کی نماز کے لئے اذان دینے سے
وہ مسجد کے حکم میں نہیں ہوگا ؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ:مدرسہ عربیہ رحمانیہ واقع محلہ افغانان سہس پور ضلع بجنور جو حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب کا قائم کردہ ہے، اس مدرسہ سے مسجدیں دور دور ہیں؛ اس لئے ہم اساتذہ مدرسہ ہی میں نماز باجماعت ادا کرتے ہیں، محلہ کی مساجد کی اذان کی آواز کماحقہ لاؤڈ اسپیکر سے آجاتی ہے؛ اس لئےاذان دئے بغیر مدرسہ میں جماعت کی جاتی ہے، چوںکہ مدرسہ کے طلباء بھی نماز پڑھتے ہیں، اگر وہ طلباء مسجد میں جائیں، تو بچے تو شرارت کرتے ہی ہیں؛ اس لئے اس پر مسجد کے نمازیوں کو اعتراض ہوگا، اس وجہ سے مدرسہ ہی میں نماز پڑھتے ہیں، کبھی کبھی کچھ لوگ محلہ کے بھی شریک جماعت ہوجاتے ہیں، اگر اذان دی جائے تو مدرسہ مسجد کے حکم میں ہوجائے گا، جب کہ مدرسہ کی چھٹی کے ایام میں نماز نہیں ہوتی، مدرسہ بند رہتا ہے، آپ مہربانی فرماکر وضاحت فرمادیں کہ ہمیں مدرسہ میں نماز باجماعت ادا کرنے کے لئے اذان دینا ضروری ہے یانہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: مسئولہ صورت میں مدرسہ میں جماعت کے لئے اذانضروری نہیں ہے؛ اس لئے کہ محلہ کی اذان کافی ہے؛ لیکن افضل اور مستحب یہ ہے کہ اذان دے کر جماعت سے نماز پڑھی جائے اور اس کے لئے لاؤڈ اسپیکر ضروری نہیں؛ بلکہ بلند آواز سے بغیر لاؤڈ اسپیکر کے اذان کافی ہے اور محض اذان دینے سے یہ مدرسہ مسجد کے حکم میں نہ ہوگا۔
فلا یکرہ ترکہما إذ أذان الحي یکفیہ (درمختار) لأن أذان المحلۃ وإقامتہا کأذانہ وإقامتہ؛ لأن المؤذن نائب أہل المصر کلہم کما یشیر إلیہ ابن مسعود حین صلی بعلقمۃ والأسود بغیر أذان ولا إقامۃ، حیث قال: أذان الحي یکفینا وقد علمت تصریح الکنز بِنُدُبہ للمسافر وللمصلي في بیتہ في المصر، فالمقصود من کفایۃ أذان الحي نفي الکراہۃ المؤثمۃ۔ (شامي ۲؍۵۸ بیروت، درمختار مع الشامي ۲؍۶۳-۶۴ زکریا)
وکرہ ترکہما للمسافر لا لمصل في بیتہ في المصر، وندباً لہما۔ (کنز الدقائق علی ہامش البحر الرائق ۱؍۲۶۵، تبیین الحقائق ۱؍۲۵۰ بیروت، النہر الفائق ۱؍۱۸۰ ملتان)
ویکرہ أداء المکتوبۃ بالجماعۃ في المسجد بغیر أذان وإقامۃ، ولا یکرہ في البیوت والکروم وضیاع القریٰ؛ لأن أذان القریۃ والمصر أذان لہم، وإن أذنوا کان أولیٰ۔ (الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۲؍۱۵۲ رقم: ۲۰۰۶ زکریا)
فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
کتاب النوازل
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
مدرسہ میں جماعت کی نماز کے لئے اذان دینے سے
وہ مسجد کے حکم میں نہیں ہوگا ؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ:مدرسہ عربیہ رحمانیہ واقع محلہ افغانان سہس پور ضلع بجنور جو حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب کا قائم کردہ ہے، اس مدرسہ سے مسجدیں دور دور ہیں؛ اس لئے ہم اساتذہ مدرسہ ہی میں نماز باجماعت ادا کرتے ہیں، محلہ کی مساجد کی اذان کی آواز کماحقہ لاؤڈ اسپیکر سے آجاتی ہے؛ اس لئےاذان دئے بغیر مدرسہ میں جماعت کی جاتی ہے، چوںکہ مدرسہ کے طلباء بھی نماز پڑھتے ہیں، اگر وہ طلباء مسجد میں جائیں، تو بچے تو شرارت کرتے ہی ہیں؛ اس لئے اس پر مسجد کے نمازیوں کو اعتراض ہوگا، اس وجہ سے مدرسہ ہی میں نماز پڑھتے ہیں، کبھی کبھی کچھ لوگ محلہ کے بھی شریک جماعت ہوجاتے ہیں، اگر اذان دی جائے تو مدرسہ مسجد کے حکم میں ہوجائے گا، جب کہ مدرسہ کی چھٹی کے ایام میں نماز نہیں ہوتی، مدرسہ بند رہتا ہے، آپ مہربانی فرماکر وضاحت فرمادیں کہ ہمیں مدرسہ میں نماز باجماعت ادا کرنے کے لئے اذان دینا ضروری ہے یانہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: مسئولہ صورت میں مدرسہ میں جماعت کے لئے اذانضروری نہیں ہے؛ اس لئے کہ محلہ کی اذان کافی ہے؛ لیکن افضل اور مستحب یہ ہے کہ اذان دے کر جماعت سے نماز پڑھی جائے اور اس کے لئے لاؤڈ اسپیکر ضروری نہیں؛ بلکہ بلند آواز سے بغیر لاؤڈ اسپیکر کے اذان کافی ہے اور محض اذان دینے سے یہ مدرسہ مسجد کے حکم میں نہ ہوگا۔
فلا یکرہ ترکہما إذ أذان الحي یکفیہ (درمختار) لأن أذان المحلۃ وإقامتہا کأذانہ وإقامتہ؛ لأن المؤذن نائب أہل المصر کلہم کما یشیر إلیہ ابن مسعود حین صلی بعلقمۃ والأسود بغیر أذان ولا إقامۃ، حیث قال: أذان الحي یکفینا وقد علمت تصریح الکنز بِنُدُبہ للمسافر وللمصلي في بیتہ في المصر، فالمقصود من کفایۃ أذان الحي نفي الکراہۃ المؤثمۃ۔ (شامي ۲؍۵۸ بیروت، درمختار مع الشامي ۲؍۶۳-۶۴ زکریا)
وکرہ ترکہما للمسافر لا لمصل في بیتہ في المصر، وندباً لہما۔ (کنز الدقائق علی ہامش البحر الرائق ۱؍۲۶۵، تبیین الحقائق ۱؍۲۵۰ بیروت، النہر الفائق ۱؍۱۸۰ ملتان)
ویکرہ أداء المکتوبۃ بالجماعۃ في المسجد بغیر أذان وإقامۃ، ولا یکرہ في البیوت والکروم وضیاع القریٰ؛ لأن أذان القریۃ والمصر أذان لہم، وإن أذنوا کان أولیٰ۔ (الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۲؍۱۵۲ رقم: ۲۰۰۶ زکریا)
فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
کتاب النوازل
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:1⃣4⃣2⃣
مسجد کے اندر لاؤڈاسپیکر سے اذان دینا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: مسجد کے اندر لاؤڈاسپیکر سے بغیر کسی مجبوری کے اذان دینے میں کیا حکم ہے؟ نیز مکروہ وعدم مکروہ اور افضل اور غیر افضل کو بھی بحوالہ کتب تحریر فرمائیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اصل مقصود اذان کی آواز لوگوں تک پہنچنا ہے، پہلے یہ مقصود اُس وقت ہی حاصل ہوتا تھا جب کہ مسجد کے باہر منارہ پر کھڑے ہوکر اذان کہی جاتی تھی، اسی لئے فقہاء نے مسجد کے اندر اذان دینے کو خلافِ اولیٰ قرار دیا تھا؛ لیکن لاؤڈاسپیکر پر اذان دینے کی صورت میں مسجدکے اندر رہتے ہوئے بھی یہ مقصود حاصل ہوجاتا ہے، اس لئے اب مسجدکے اندر لاؤڈاسپیکر پر اذان دینا خلافِ مقصود نہیں ہے؛ کیوںکہ اسپیکروں کے ذریعہ اذان کی آواز دور تک پہنچ جاتی ہے، باقی اختلاف سے بچنے کے لئے مسجد سے متصل کسی کمرہ وغیرہ میں اذان کا نظم کردیں تو بہتر ہے۔
ویکرہ أن یؤذن في المسجد کما في القہستاني عن النظم فإن لم یکن ثمۃ مکان مرتفع للأذان یؤذن في فناء المسجد، کما في الفتح۔ (طحطاوي علی المراقي / کتاب الصلاۃ ۱۰۷ کراچی، ۱۹۷ دار الکتاب دیوبند)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتاب النوازل 13
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے ۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
مسجد کے اندر لاؤڈاسپیکر سے اذان دینا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: مسجد کے اندر لاؤڈاسپیکر سے بغیر کسی مجبوری کے اذان دینے میں کیا حکم ہے؟ نیز مکروہ وعدم مکروہ اور افضل اور غیر افضل کو بھی بحوالہ کتب تحریر فرمائیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اصل مقصود اذان کی آواز لوگوں تک پہنچنا ہے، پہلے یہ مقصود اُس وقت ہی حاصل ہوتا تھا جب کہ مسجد کے باہر منارہ پر کھڑے ہوکر اذان کہی جاتی تھی، اسی لئے فقہاء نے مسجد کے اندر اذان دینے کو خلافِ اولیٰ قرار دیا تھا؛ لیکن لاؤڈاسپیکر پر اذان دینے کی صورت میں مسجدکے اندر رہتے ہوئے بھی یہ مقصود حاصل ہوجاتا ہے، اس لئے اب مسجدکے اندر لاؤڈاسپیکر پر اذان دینا خلافِ مقصود نہیں ہے؛ کیوںکہ اسپیکروں کے ذریعہ اذان کی آواز دور تک پہنچ جاتی ہے، باقی اختلاف سے بچنے کے لئے مسجد سے متصل کسی کمرہ وغیرہ میں اذان کا نظم کردیں تو بہتر ہے۔
ویکرہ أن یؤذن في المسجد کما في القہستاني عن النظم فإن لم یکن ثمۃ مکان مرتفع للأذان یؤذن في فناء المسجد، کما في الفتح۔ (طحطاوي علی المراقي / کتاب الصلاۃ ۱۰۷ کراچی، ۱۹۷ دار الکتاب دیوبند)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتاب النوازل 13
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے ۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail