جواب نمبر:1⃣1⃣2⃣
نذر ونیاز کے نام پر کھانا بناکر امیر غریب سب کو کھلانا کیسا ہے؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: نیاز کیا چیز ہے عام طور سے کوئی مکان بناتا ہے تب مکانوں کی نیاز کرتا ہے اور کھانا پکاکر کھلاتا ہے، ایسے ہی پریشانی وغیرہ آتی ہے تب نیاز کرتے ہیں، یہ نیاز کا کھانا خوشی وغم دونوں موقعوں پر بنتا ہے، معلوم یہ کرنا ہے کہ یہ نیاز کے نام پر کھانا بنانا اور پھر امیر غریب سب کو کھلانا کیسا ہے، اگر یہ نیاز کے نام کا کھانا ٹھیک نہیں ہے تو پھر عوام کو کس انداز سے سمجھائیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: بلا التزام کے صدقہ کرنا جائز ہے مگر مروجہ نذرونیاز اور فاتحہ اعمال بدعت ہیں۔
(مستفاد: فتاویٰ رشیدیہ ۱۵۴)
عن العرباض بن ساریۃ رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ذات یوم في خطبتہ…: إیاکم ومحدثات الأمور، فإن کل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ۔ (مسند أحمد ۶؍۱۲۶، سنن أبي داؤد ۲؍۶۳۵، سنن الترمذي ۲؍۹۶، سنن ابن ماجۃ ۱؍۶)
مستفاد:کتاب النوازل
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
نذر ونیاز کے نام پر کھانا بناکر امیر غریب سب کو کھلانا کیسا ہے؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: نیاز کیا چیز ہے عام طور سے کوئی مکان بناتا ہے تب مکانوں کی نیاز کرتا ہے اور کھانا پکاکر کھلاتا ہے، ایسے ہی پریشانی وغیرہ آتی ہے تب نیاز کرتے ہیں، یہ نیاز کا کھانا خوشی وغم دونوں موقعوں پر بنتا ہے، معلوم یہ کرنا ہے کہ یہ نیاز کے نام پر کھانا بنانا اور پھر امیر غریب سب کو کھلانا کیسا ہے، اگر یہ نیاز کے نام کا کھانا ٹھیک نہیں ہے تو پھر عوام کو کس انداز سے سمجھائیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: بلا التزام کے صدقہ کرنا جائز ہے مگر مروجہ نذرونیاز اور فاتحہ اعمال بدعت ہیں۔
(مستفاد: فتاویٰ رشیدیہ ۱۵۴)
عن العرباض بن ساریۃ رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ذات یوم في خطبتہ…: إیاکم ومحدثات الأمور، فإن کل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ۔ (مسند أحمد ۶؍۱۲۶، سنن أبي داؤد ۲؍۶۳۵، سنن الترمذي ۲؍۹۶، سنن ابن ماجۃ ۱؍۶)
مستفاد:کتاب النوازل
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:2⃣1⃣2⃣
سودی کاروباری کے یہاں دعوت کھانا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: سودی لین دین کرنے والے کے یہاں دعوت وغیرہ میں جانا درست ہے یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اگر اُس شخص کی غالب آمدنی حرام ہے تو اُس کے یہاںدعوت کھانے سے احتراز کرنا چاہئے۔
لا یجیب دعوۃ الفاسق المعلن لیعلم أنہ غیر راضٍ بفسقہ، وکذا دعوۃ من کان غالب مالہ من حرام ما لم یخبر أنہ حلال، وبالعکس یجیب ما لم یتبین عندہ أنہ حرام، کذا في التمرتاشي، أکل الربا وکاسب الحرام أہدیٰ إلیہ أو أضافہ وغالب مالہ حرام لایقبل ولا یأکل ما لم یخبرہ أن ذٰلک المال أصلہ حلال ورثہ أو استقراضہ۔ (الفتاویٰ الہندیۃ، کتاب الکراہیۃ / الباب الثاني عشر ۵؍۳۴۳)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
رشوت لینے والے مسلمان کے پیسہ سے کھانا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: مسلم ساتھی کے پیسہ سے کھانا پینا جب کہ وہ رشوت بھی لیتے ہوں جائز ہے یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: جو ساتھی رشوت لیتے ہوں اور اُن کی غالب آمدنی رشوت پر مشتمل ہو، تو اُن کی دعوت قبول کرنی درست نہیں ہے۔ اور اگر غالب آمدنی رشوت سے نہ ہو؛ بلکہ دوسرے حلال کاروبار سے ہو، تو دعوتقبول کرسکتے ہیں۔
(کفایت المفتی ۵؍۱۰۵)
آکل الربا وکاسب الحرام أہدیٰ إلیہ أو أضافہ وغالب مالہ حرام لایقبل ولا یأکل ما لم یخبرہ أن ذٰلک المال أصلہ حلال، وإن کان غالب مالہ حلالاً لا بأس بقبول ہدیتہ والأکل منہا۔ (الفتاویٰ الہندیۃ، کتاب الکراہیۃ / الباب الثاني عشر ۵؍۳۴۳)
غالب مال المہدي إن حلالاً لا بأس بقبول ہدیتہ وأکل مالہ ما لم یتبین أنہ حرام۔ (مجمع الأنہر، کتاب الکراہیۃ / فصل في الأکل ۲؍۱۸۶ مکتبۃ فقیہ الأمۃ)
مستفاد:کتاب النوازل
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سودی کاروباری کے یہاں دعوت کھانا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: سودی لین دین کرنے والے کے یہاں دعوت وغیرہ میں جانا درست ہے یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اگر اُس شخص کی غالب آمدنی حرام ہے تو اُس کے یہاںدعوت کھانے سے احتراز کرنا چاہئے۔
لا یجیب دعوۃ الفاسق المعلن لیعلم أنہ غیر راضٍ بفسقہ، وکذا دعوۃ من کان غالب مالہ من حرام ما لم یخبر أنہ حلال، وبالعکس یجیب ما لم یتبین عندہ أنہ حرام، کذا في التمرتاشي، أکل الربا وکاسب الحرام أہدیٰ إلیہ أو أضافہ وغالب مالہ حرام لایقبل ولا یأکل ما لم یخبرہ أن ذٰلک المال أصلہ حلال ورثہ أو استقراضہ۔ (الفتاویٰ الہندیۃ، کتاب الکراہیۃ / الباب الثاني عشر ۵؍۳۴۳)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
رشوت لینے والے مسلمان کے پیسہ سے کھانا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: مسلم ساتھی کے پیسہ سے کھانا پینا جب کہ وہ رشوت بھی لیتے ہوں جائز ہے یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: جو ساتھی رشوت لیتے ہوں اور اُن کی غالب آمدنی رشوت پر مشتمل ہو، تو اُن کی دعوت قبول کرنی درست نہیں ہے۔ اور اگر غالب آمدنی رشوت سے نہ ہو؛ بلکہ دوسرے حلال کاروبار سے ہو، تو دعوتقبول کرسکتے ہیں۔
(کفایت المفتی ۵؍۱۰۵)
آکل الربا وکاسب الحرام أہدیٰ إلیہ أو أضافہ وغالب مالہ حرام لایقبل ولا یأکل ما لم یخبرہ أن ذٰلک المال أصلہ حلال، وإن کان غالب مالہ حلالاً لا بأس بقبول ہدیتہ والأکل منہا۔ (الفتاویٰ الہندیۃ، کتاب الکراہیۃ / الباب الثاني عشر ۵؍۳۴۳)
غالب مال المہدي إن حلالاً لا بأس بقبول ہدیتہ وأکل مالہ ما لم یتبین أنہ حرام۔ (مجمع الأنہر، کتاب الکراہیۃ / فصل في الأکل ۲؍۱۸۶ مکتبۃ فقیہ الأمۃ)
مستفاد:کتاب النوازل
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:3⃣1⃣2⃣
سود سے توبہ کرنے والے کے گھر دعوت کا حکم
سوال:۔ ایک شخص اپنی دعوت کو پردہ نہیں کراتا اور نکاح میں خلافِ شرع کام کرتا ہے اور بے نمازی بھی ہے اور تھوڑی کچھ زمین رہن رکھ کر اس سے نفع بھی حاصل کرکے تصرف کرتا ہے ، اب وہ شخص توبہ کرکے یوں کہتا ہے کہ میں آئندہ ایسا کام نہیں کروں گا جس مال میں شک ہے وہ نہیں کھاؤں گا، اب اس کے گھر میں دعوت کھانا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب
جب مشکوک مال نہیں کھلاتا تو دعوت میں کیا شک ہے۔
سوال:۔ ایک شخص کا دو قسم کا مال ہے اور اکثر حلال ہے تو اس کے گھر میںدعوت کھانا جائز ہے یا نہیں؟ وہ شخص یوں کہتا ہے کہ میں نے حلال مال الگ رکھا ہے اور اسی حلال سے کھلانا چاہتا ہوں ، اب یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟
الجواب
اگر حلال علیحدہ ہے تو اس کا کھانا ہر حال میں جائز ہے لیکن اگر مقتدا کیدعوت قبول کرنے سے عوام کو ایسی آمدنی کمانے پر جرأت بڑھتی ہو تو مقتدا کو احتیاط چاہئے۔
مستفاد: امدادالاحکام
فقط واللہ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سود سے توبہ کرنے والے کے گھر دعوت کا حکم
سوال:۔ ایک شخص اپنی دعوت کو پردہ نہیں کراتا اور نکاح میں خلافِ شرع کام کرتا ہے اور بے نمازی بھی ہے اور تھوڑی کچھ زمین رہن رکھ کر اس سے نفع بھی حاصل کرکے تصرف کرتا ہے ، اب وہ شخص توبہ کرکے یوں کہتا ہے کہ میں آئندہ ایسا کام نہیں کروں گا جس مال میں شک ہے وہ نہیں کھاؤں گا، اب اس کے گھر میں دعوت کھانا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب
جب مشکوک مال نہیں کھلاتا تو دعوت میں کیا شک ہے۔
سوال:۔ ایک شخص کا دو قسم کا مال ہے اور اکثر حلال ہے تو اس کے گھر میںدعوت کھانا جائز ہے یا نہیں؟ وہ شخص یوں کہتا ہے کہ میں نے حلال مال الگ رکھا ہے اور اسی حلال سے کھلانا چاہتا ہوں ، اب یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟
الجواب
اگر حلال علیحدہ ہے تو اس کا کھانا ہر حال میں جائز ہے لیکن اگر مقتدا کیدعوت قبول کرنے سے عوام کو ایسی آمدنی کمانے پر جرأت بڑھتی ہو تو مقتدا کو احتیاط چاہئے۔
مستفاد: امدادالاحکام
فقط واللہ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
Telegram
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
"جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند" میں روزانہ ایک دو مسئلہ مدلل ومزین انداز میں بطورِ استفادہ آپ کو ملے گا،
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1
جواب نمبر:4⃣1⃣2⃣
طلاق دینے کے بعد مہر اور بچوں کا خرچ دینا ہوگا۔
سوال:
اگر زید اپنی بیوی کو طلاق نامہ ارسال کردے تو کیا شرعی حیثیت سے وہ حق مہر اور بچوں کے خرچ کا ذمہ دار ہوگا؟ جبکہ وہ بچے لینا نہیں چاہتا اور اس کے مالی وسائل بھی اتنے نہیں کہ وہ حق مہر کی کثیر رقم کے علاوہ بچوں کا خرچہ بھی یکمشت دے سکے۔ جبکہ زید کی سسرال والے طلاق نامہ ملنے پر یکمشت مہر کی رقم اور بچوں کے خرچے کا دعویٰ کریں گے، ایسی صورت میں شرعی حکم کیا ہے؟
جواب:
مہر تو دینا ہی پڑے گا، عورت اگر چاہے تو قسطوں میں وصول کرسکتی ہے، بچوں کو خرچ اس کو ماہوار دینا ہوگا، خرچ کی مقدار صلح صفائی سے بھی طے ہوسکتی ہے اور عدالت کے ذریعہ بھی۔
مستفاد: آپ کے مسائل اور انکا حل
واللہ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
طلاق دینے کے بعد مہر اور بچوں کا خرچ دینا ہوگا۔
سوال:
اگر زید اپنی بیوی کو طلاق نامہ ارسال کردے تو کیا شرعی حیثیت سے وہ حق مہر اور بچوں کے خرچ کا ذمہ دار ہوگا؟ جبکہ وہ بچے لینا نہیں چاہتا اور اس کے مالی وسائل بھی اتنے نہیں کہ وہ حق مہر کی کثیر رقم کے علاوہ بچوں کا خرچہ بھی یکمشت دے سکے۔ جبکہ زید کی سسرال والے طلاق نامہ ملنے پر یکمشت مہر کی رقم اور بچوں کے خرچے کا دعویٰ کریں گے، ایسی صورت میں شرعی حکم کیا ہے؟
جواب:
مہر تو دینا ہی پڑے گا، عورت اگر چاہے تو قسطوں میں وصول کرسکتی ہے، بچوں کو خرچ اس کو ماہوار دینا ہوگا، خرچ کی مقدار صلح صفائی سے بھی طے ہوسکتی ہے اور عدالت کے ذریعہ بھی۔
مستفاد: آپ کے مسائل اور انکا حل
واللہ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:5⃣1⃣2⃣
نکاح ،طلاق، مہر کے ثبوت کی ایک صورت۔
سوال:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مندرجہ ذیل مسائل میں۔
(الف)خالد نے اپنی لڑکی خالدہ کا نکاح جلسہ عام میں زاہد سے کیا خالدہ شوہر زاہد کے گھر گئی شب اولیٰ میں خالدہ نے زاہد سے کہا کہ تمہاری شکل مجھے پسند نہیں ہے میں نے دین مہر چھوڑدیا اور تم مجھے طلاق دیدو خالدہ کی دادی اور نانی نے چند دفعہ خالدہ کو زاہد کے گھر پہنچادیا لیکن زاہد اور خالدہ میں کسی قسم کا تعلق نہیں رہا ہے بعدہ خالدہ برابر اپنے باپ کے گھر مقیم رہی نکاح کے کچھ عرصہ بعد زاہد نے خالدہ کو تین طلاق دیدی۔
(ب)نکاح کے وقت خالد نے ناصر اور صابر کو خالدہ کے پاس اجازت کے لے روانہ کیا اور دونوں گواہوں نے بتلایا کہ خالدہ نے نکاح کی اجازت دیدی ہے لہٰذا نکاح پڑھادیا گیا ہے لیکن جب خالدہ اور زاہد کاجھگڑا اور رنجش انجمن دارجلنگ میں پیش ہوا تو خالدہ نے بتلایا کہ شادی کے وقت تک اس کو حیض نہیں ہوا تھا اور وہ نابالغہ تھی اور خالدہ کی دادی خود مقرہ ہے کہ شادی کے وقت وہ خالدہ نابالغہ تھی اور خود خالد کو علم تھا بوقت نکاح اپنی لڑکی کے نابالغہ ہونے کا، تو اس صورت میں خالد کو خود ولی ہوکر نکاح پڑھانے کی اجازت دینی چاہیے تھی لیکن اس کے خلاف خالد نے نابالغہ خالدہ کی رضامندی دریافت کرائی ہے اور خالدہ نے اجازت بھی دیدی ہے جب کہ نابالغہ ہونے کی صورت میں خالدہ اجازت دینے کا استحقاق نہیں رکھتی ہے خالدہ بوقت نکاح نابالغہ تھی اس صورت میں اس کی رضامندی کیا مشروع ہے۔
(۲)خالد باپ ہونے کی صورت میں بذات خود حقیقی ولی تھا لیکن اس نے نابالغہ خالدہ کی رضامندی سے نکاح پڑھادیا ہے۔
(۳) کیامندرجہ بالا ۱و ۲ صورتوں میں خالدہ کا زاہد سے نکاح درست ہوا ہے۔
(۴) مندرجہ بالا الف کے مطابق طلاق کی کیا صورت رہے گی خالدہ نے مہرچھوڑنے کے لیے کہا تھا کیا یہ خلع کی شکل ہوئی ۔
(۵)شب اولیٰ میں نابالغہ خالدہ نے زاہد کے ساتھ طوفان بدتمیزی برپاکی اور زاہد کے ہاتھ کی انگلیوں کو دانت سے زخمی کیا لہٰذا زاہد ہمبستر نہیں ہوسکا کیا اس کو خلوت صحیح تصویر کیا جائے گا۔
(۶) حقیقی ولی خالد کی غلطی کے باعث اگرنکاح درست نہیں ہوا تو کیا پھر بھی زاہد دین مہر کاذمہ دار ہوگا۔
(۷)اگر نکاح درست ہواور جب کہ نابالغہ خالدہ نے طلاق طلب کی اورمعاف کرنے کوکہا کیاایسی صورت میں زاہد دین مہر ادا کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔
الجـواب وباﷲ التـوفـیـق
جواب:صورت مسئولہ میں حسب تحریر سوال نکاح بالکل صحیح منعقد ہوا اور خلوۃ صحیح بھی متحقق ہوگئی اورمہر بھی پورا واجب الاداء ہوگیا اور تین طلاقبھی واقع ہوکر حرمت مغلظہ ہوگئی نمبروار واقعات مذکورہ سے اس حکم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔نابالغہ ہونے کی وجہ سے مہر کی معافی درست نہیں ہوئی اور مراہقہ ہونے کی وجہ سے خلوۃ صحیحہ متحقق ہوگئی۔
مستفاد:نظام الفتاوی
فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔
محمد امیر حنفی دیوبندی۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
نکاح ،طلاق، مہر کے ثبوت کی ایک صورت۔
سوال:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مندرجہ ذیل مسائل میں۔
(الف)خالد نے اپنی لڑکی خالدہ کا نکاح جلسہ عام میں زاہد سے کیا خالدہ شوہر زاہد کے گھر گئی شب اولیٰ میں خالدہ نے زاہد سے کہا کہ تمہاری شکل مجھے پسند نہیں ہے میں نے دین مہر چھوڑدیا اور تم مجھے طلاق دیدو خالدہ کی دادی اور نانی نے چند دفعہ خالدہ کو زاہد کے گھر پہنچادیا لیکن زاہد اور خالدہ میں کسی قسم کا تعلق نہیں رہا ہے بعدہ خالدہ برابر اپنے باپ کے گھر مقیم رہی نکاح کے کچھ عرصہ بعد زاہد نے خالدہ کو تین طلاق دیدی۔
(ب)نکاح کے وقت خالد نے ناصر اور صابر کو خالدہ کے پاس اجازت کے لے روانہ کیا اور دونوں گواہوں نے بتلایا کہ خالدہ نے نکاح کی اجازت دیدی ہے لہٰذا نکاح پڑھادیا گیا ہے لیکن جب خالدہ اور زاہد کاجھگڑا اور رنجش انجمن دارجلنگ میں پیش ہوا تو خالدہ نے بتلایا کہ شادی کے وقت تک اس کو حیض نہیں ہوا تھا اور وہ نابالغہ تھی اور خالدہ کی دادی خود مقرہ ہے کہ شادی کے وقت وہ خالدہ نابالغہ تھی اور خود خالد کو علم تھا بوقت نکاح اپنی لڑکی کے نابالغہ ہونے کا، تو اس صورت میں خالد کو خود ولی ہوکر نکاح پڑھانے کی اجازت دینی چاہیے تھی لیکن اس کے خلاف خالد نے نابالغہ خالدہ کی رضامندی دریافت کرائی ہے اور خالدہ نے اجازت بھی دیدی ہے جب کہ نابالغہ ہونے کی صورت میں خالدہ اجازت دینے کا استحقاق نہیں رکھتی ہے خالدہ بوقت نکاح نابالغہ تھی اس صورت میں اس کی رضامندی کیا مشروع ہے۔
(۲)خالد باپ ہونے کی صورت میں بذات خود حقیقی ولی تھا لیکن اس نے نابالغہ خالدہ کی رضامندی سے نکاح پڑھادیا ہے۔
(۳) کیامندرجہ بالا ۱و ۲ صورتوں میں خالدہ کا زاہد سے نکاح درست ہوا ہے۔
(۴) مندرجہ بالا الف کے مطابق طلاق کی کیا صورت رہے گی خالدہ نے مہرچھوڑنے کے لیے کہا تھا کیا یہ خلع کی شکل ہوئی ۔
(۵)شب اولیٰ میں نابالغہ خالدہ نے زاہد کے ساتھ طوفان بدتمیزی برپاکی اور زاہد کے ہاتھ کی انگلیوں کو دانت سے زخمی کیا لہٰذا زاہد ہمبستر نہیں ہوسکا کیا اس کو خلوت صحیح تصویر کیا جائے گا۔
(۶) حقیقی ولی خالد کی غلطی کے باعث اگرنکاح درست نہیں ہوا تو کیا پھر بھی زاہد دین مہر کاذمہ دار ہوگا۔
(۷)اگر نکاح درست ہواور جب کہ نابالغہ خالدہ نے طلاق طلب کی اورمعاف کرنے کوکہا کیاایسی صورت میں زاہد دین مہر ادا کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔
الجـواب وباﷲ التـوفـیـق
جواب:صورت مسئولہ میں حسب تحریر سوال نکاح بالکل صحیح منعقد ہوا اور خلوۃ صحیح بھی متحقق ہوگئی اورمہر بھی پورا واجب الاداء ہوگیا اور تین طلاقبھی واقع ہوکر حرمت مغلظہ ہوگئی نمبروار واقعات مذکورہ سے اس حکم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔نابالغہ ہونے کی وجہ سے مہر کی معافی درست نہیں ہوئی اور مراہقہ ہونے کی وجہ سے خلوۃ صحیحہ متحقق ہوگئی۔
مستفاد:نظام الفتاوی
فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔
محمد امیر حنفی دیوبندی۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:6⃣1⃣2⃣
مقروض آدمی کا حج کرنا جائز ہے لیکن قرضہ ادا کرنے کی بھی فکر کرے
سوال:
ایک صاحب مقروض ہیں، لیکن پیسہ آتے ہی بجائے قرضہ واپس کرنے کے وہ پاکستان سے اپنے والدین کو بلاکر ساتھ ہی خود بھی حج کرتے ہیں، ایسے حج کرنے کے بارے میں شرعی حیثیت کیا ہے؟
جواب:
حج تو ہوگیا، مگر کسی کا قرضہ ادا نہ کرنا بڑی بُری بات ہے، کبیرہ گناہوں کے بعد سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی مقروض ہوکر دُنیا سے جائے اور اتنا مال چھوڑ کر نہ جائے جس سے اس کا قرضہ ادا ہوسکے۔ میّت کا قرضجب تک ادا نہ کردیا جائے وہ محبوس رہتا ہے، اس لئے ادائے قرض کا اہتمام سب سے اہم ہے۔
مستفاد:آپ کے مسائل اور انکا حل
واللہ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
مقروض آدمی کا حج کرنا جائز ہے لیکن قرضہ ادا کرنے کی بھی فکر کرے
سوال:
ایک صاحب مقروض ہیں، لیکن پیسہ آتے ہی بجائے قرضہ واپس کرنے کے وہ پاکستان سے اپنے والدین کو بلاکر ساتھ ہی خود بھی حج کرتے ہیں، ایسے حج کرنے کے بارے میں شرعی حیثیت کیا ہے؟
جواب:
حج تو ہوگیا، مگر کسی کا قرضہ ادا نہ کرنا بڑی بُری بات ہے، کبیرہ گناہوں کے بعد سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی مقروض ہوکر دُنیا سے جائے اور اتنا مال چھوڑ کر نہ جائے جس سے اس کا قرضہ ادا ہوسکے۔ میّت کا قرضجب تک ادا نہ کردیا جائے وہ محبوس رہتا ہے، اس لئے ادائے قرض کا اہتمام سب سے اہم ہے۔
مستفاد:آپ کے مسائل اور انکا حل
واللہ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:7⃣1⃣2⃣
قرض دار کا حج کے لئے جانا
سوال:
اگر کسی شخص کے ذمہ قرض کی ادائیگی باقی ہو، لیکن کچھ رقم اسے مہیاہوگئی ہوتو کیاوہ سفرِحج کرسکتاہے ؟
جواب:
قرض باقی رہنے کی دوصورتیں ہیں ، ایک صورت یہ ہے کہ قرض باقی ہے لیکن بنیادی ضروریات کے علاوہ اتنی منقولہ اورغیر منقولہ جائداد موجودہے کہ اس سے قرض بھی اداہوسکتاہے اور سفر حج کے اخراجات بھی مہیا ہوسکتے ہیں ، تب تو اس پر حج واجب ہے ، اگر سامان بیچنا نہیں چاہتاتو اسے قرض لے کر حج کرناچاہئے ، جسے بعد میں ادا کردے ، کیونکہ حج اس پر فرض ہے ، اور قرض محض اس لئے لینا پڑ رہاہے کہ وہ اپنے سامان کو فروخت کرنانہیں چاہتاورنہ حقیقت میں وہ صاحب ِ استطاعت ہے ۔
دوسری صورت یہ ہے کہ اس کے اندر قرض اداکرنے کی فی الحال استطاعت ہی نہیں ہے ، تو اگر اس بات کا غالب گمان ہو اور کوئی صورت پیش نظر ہوکہ آئندہ اس کے لئے اداء قرض کی سبیل پیداہوجائے گی ، تب توبہتر ہے کہ قرض لے کر حج کرلے ،اور اس سے فریضئہ حج ادا ہوجائے گا ،کیونکہ نہ معلوم آئندہ صحت وفاکرے یانہ کرے ، اور اگر بظاہر ادائےقرض کی کوئی صورت سامنے نہ ہوتو قرض لے کر حج کرنا بہتر نہیں ، کیونکہ اس سے دوسروں کاحق ضائع ہونے کااندیشہ ہے، اور لوگوں کے حقوق ضائع کرکے ایک ایسی عبادت انجام دینا جوابھی فرض نہیں ، نہ شریعت کی نظرمیں پسندیدہ عمل ہے ، اورنہ عقلایہ عمل مناسب ہے ، تاہم اگر کوئی شخص اس طرح حج کرلے تو فریضہ اداہوجائے گااگر بعد میں صاحب ِ استطاعت ہوجائے تو دوبارہ حج کرنافرض نہیں ۔
مستفاد:کتاب الفتاوی
واللہ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
قرض دار کا حج کے لئے جانا
سوال:
اگر کسی شخص کے ذمہ قرض کی ادائیگی باقی ہو، لیکن کچھ رقم اسے مہیاہوگئی ہوتو کیاوہ سفرِحج کرسکتاہے ؟
جواب:
قرض باقی رہنے کی دوصورتیں ہیں ، ایک صورت یہ ہے کہ قرض باقی ہے لیکن بنیادی ضروریات کے علاوہ اتنی منقولہ اورغیر منقولہ جائداد موجودہے کہ اس سے قرض بھی اداہوسکتاہے اور سفر حج کے اخراجات بھی مہیا ہوسکتے ہیں ، تب تو اس پر حج واجب ہے ، اگر سامان بیچنا نہیں چاہتاتو اسے قرض لے کر حج کرناچاہئے ، جسے بعد میں ادا کردے ، کیونکہ حج اس پر فرض ہے ، اور قرض محض اس لئے لینا پڑ رہاہے کہ وہ اپنے سامان کو فروخت کرنانہیں چاہتاورنہ حقیقت میں وہ صاحب ِ استطاعت ہے ۔
دوسری صورت یہ ہے کہ اس کے اندر قرض اداکرنے کی فی الحال استطاعت ہی نہیں ہے ، تو اگر اس بات کا غالب گمان ہو اور کوئی صورت پیش نظر ہوکہ آئندہ اس کے لئے اداء قرض کی سبیل پیداہوجائے گی ، تب توبہتر ہے کہ قرض لے کر حج کرلے ،اور اس سے فریضئہ حج ادا ہوجائے گا ،کیونکہ نہ معلوم آئندہ صحت وفاکرے یانہ کرے ، اور اگر بظاہر ادائےقرض کی کوئی صورت سامنے نہ ہوتو قرض لے کر حج کرنا بہتر نہیں ، کیونکہ اس سے دوسروں کاحق ضائع ہونے کااندیشہ ہے، اور لوگوں کے حقوق ضائع کرکے ایک ایسی عبادت انجام دینا جوابھی فرض نہیں ، نہ شریعت کی نظرمیں پسندیدہ عمل ہے ، اورنہ عقلایہ عمل مناسب ہے ، تاہم اگر کوئی شخص اس طرح حج کرلے تو فریضہ اداہوجائے گااگر بعد میں صاحب ِ استطاعت ہوجائے تو دوبارہ حج کرنافرض نہیں ۔
مستفاد:کتاب الفتاوی
واللہ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:8⃣1⃣2⃣
قرض ادا کرے یا حج کرے؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: اگر کسی شخص کے اوپر قرض ہے اور وہ حج کرنا چاہتا ہے، تو کیا اس کا حج ادا ہوجائے گا یا نہیں؟ اگر ادا ہوگا تو حج اسلام ادا ہوگا، یاپھر پہلے اس کو قرض ادا کرنا ضروری ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:مناسب یہ ہے کہ پہلے قرض ادا کرے پھر حج کوجائے؛ لیکن اگر قرض کی ادائیگی سے پہلے ہی حج کرلے تو اس کا حج اسلام ادا ہوجائے گا، بعد میں حج کرنا لازم نہیں۔
عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: مطل الغني ظلم۔ (صحیح البخاري، کتاب الاستقراض وأداء الدیون / باب مطلب الغني ظلم رقم: ۲۴۰۰، فتح الباري ۶؍۷۸ بیروت)
وإن کان في مالہ وفاء بالدین یقضي الدین ولا یحج، ویکرہ الخروج إلی الغزو والحج لمن علیہ الدین۔ (قاضي خان ۱؍۳۱۳، الفتاویٰ الہندیۃ ۱؍۲۲۱)
کذا الغریم لمدیون لا مال لہ یقضي بہ … وعن قضاء دیونہ حالۃً أو مؤجلۃً۔ (غنیۃ الناسک ۲۰ إدارۃ القرآن کراچی، کذا في الشامي ۳؍۴۵۴ زکریا)
الحنفیۃ قالوا: الاستطاعۃ ہي القدرۃ علی الزاد والراحلۃ بشرط أن یکونا زائدین عن حاجاتہ الأصلیۃ کالدین الذي علیہ۔ (الفقہ علی المذاہب الأربعۃ مکمل ۳۵۱، کذا في الدر المختار ۳؍۴۶۰-۴۶۱ زکریا)
ولو حج الفقیر ثم استغنی لم یحج ثانیا؛ لأن شرط الوجوب التمکن من الوصول إلی موضع الأداء۔ (مجمع الأنہر ۱؍۳۸۴۴ مکتبہ فقیہ الأمت، فتاویٰ رحیمیہ ۵؍۲۲۴- ۲۲۶)
مستفاد:کتاب النوازل
فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
قرض ادا کرے یا حج کرے؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: اگر کسی شخص کے اوپر قرض ہے اور وہ حج کرنا چاہتا ہے، تو کیا اس کا حج ادا ہوجائے گا یا نہیں؟ اگر ادا ہوگا تو حج اسلام ادا ہوگا، یاپھر پہلے اس کو قرض ادا کرنا ضروری ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:مناسب یہ ہے کہ پہلے قرض ادا کرے پھر حج کوجائے؛ لیکن اگر قرض کی ادائیگی سے پہلے ہی حج کرلے تو اس کا حج اسلام ادا ہوجائے گا، بعد میں حج کرنا لازم نہیں۔
عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: مطل الغني ظلم۔ (صحیح البخاري، کتاب الاستقراض وأداء الدیون / باب مطلب الغني ظلم رقم: ۲۴۰۰، فتح الباري ۶؍۷۸ بیروت)
وإن کان في مالہ وفاء بالدین یقضي الدین ولا یحج، ویکرہ الخروج إلی الغزو والحج لمن علیہ الدین۔ (قاضي خان ۱؍۳۱۳، الفتاویٰ الہندیۃ ۱؍۲۲۱)
کذا الغریم لمدیون لا مال لہ یقضي بہ … وعن قضاء دیونہ حالۃً أو مؤجلۃً۔ (غنیۃ الناسک ۲۰ إدارۃ القرآن کراچی، کذا في الشامي ۳؍۴۵۴ زکریا)
الحنفیۃ قالوا: الاستطاعۃ ہي القدرۃ علی الزاد والراحلۃ بشرط أن یکونا زائدین عن حاجاتہ الأصلیۃ کالدین الذي علیہ۔ (الفقہ علی المذاہب الأربعۃ مکمل ۳۵۱، کذا في الدر المختار ۳؍۴۶۰-۴۶۱ زکریا)
ولو حج الفقیر ثم استغنی لم یحج ثانیا؛ لأن شرط الوجوب التمکن من الوصول إلی موضع الأداء۔ (مجمع الأنہر ۱؍۳۸۴۴ مکتبہ فقیہ الأمت، فتاویٰ رحیمیہ ۵؍۲۲۴- ۲۲۶)
مستفاد:کتاب النوازل
فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:9⃣1⃣2⃣
جس پر حج فرض نہ ہو اس کا قرض لے کر حج کرنا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: میں ایک غریب کسان ہوں، میں اپنے رشتہ دار سے قرضلے کر حج بیت اﷲ کرنا چاہتا ہوں، میں اپنے رشتہ داروں کا قرض انشاء اﷲ دس سال کے عرصہ میں واپس ادا کرنے کا ارادہ کرتا ہوں۔ تو معلوم یہ کرنا ہے کہ میرا حج قابلِ قبول ہے یانہیں؟ اگر قبولیت کی کوئی شکل ہو، تو میں آئندہ سال حج کا فارم بھروں، اور اگر نہیں تو میں اپنا ارادہ ملتوی کروں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: جب آپ پر حج واجب نہیں ہے تو قرض کا بوجھ اٹھانے کی کیا ضرورت ہے؟ تاہم اگر قرض لے کر حج کو گئے تو حج ہوجائے گا۔
قال اللّٰہ تبارک وتعالیٰ: {وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلا} [اٰل عمران: ۹۷]
عن طارق قال: سمعت ابن أبي أوفی رضي اللّٰہ عنہ یسأل عن الرجل یستقرض ویحج، قال: یسترزق اللّٰہ ولا یستقرض، قال: وکنا نقول: لا یستقرض إلا أن یکون لہ وفاء۔ (السنن الکبریٰ للبیہقي ۴؍۵۴۴۴ رقم: ۸۶۵۴ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
عن محمد بن المنکدر أنہ کان یستقرض ویحج، فقیل لہ: تستقرض وتحج؟ فقال: إن الحج أقضی للدین۔ (المصنف لابن أبي شیبۃ ۸؍۷۹۶ رقم: ۱۶۱۱۴ المجلس العلمي)
ووسعہ أن یستقرض ویحج الخ، أما إن علم أنہ لیس لہ جہۃ القضاء أصلاً فالأفضل عدم الاستقراض؛ لأن تحمل حقوق اللّٰہ تعالیٰ أخف من ثقل حقوق العباد۔ (غنیۃ الناسک ۳۳، ومثلہ في الدر المختار مع الشامي ۳؍۴۵۵ زکریا، خانیۃ علی الہندیۃ ۱؍۲۸۴، البحر العمیق ۱؍۳۸۶، طحطاوي علی المراقي ۳۹۷)
مستفاد:کتاب النوازل
فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جس پر حج فرض نہ ہو اس کا قرض لے کر حج کرنا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: میں ایک غریب کسان ہوں، میں اپنے رشتہ دار سے قرضلے کر حج بیت اﷲ کرنا چاہتا ہوں، میں اپنے رشتہ داروں کا قرض انشاء اﷲ دس سال کے عرصہ میں واپس ادا کرنے کا ارادہ کرتا ہوں۔ تو معلوم یہ کرنا ہے کہ میرا حج قابلِ قبول ہے یانہیں؟ اگر قبولیت کی کوئی شکل ہو، تو میں آئندہ سال حج کا فارم بھروں، اور اگر نہیں تو میں اپنا ارادہ ملتوی کروں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: جب آپ پر حج واجب نہیں ہے تو قرض کا بوجھ اٹھانے کی کیا ضرورت ہے؟ تاہم اگر قرض لے کر حج کو گئے تو حج ہوجائے گا۔
قال اللّٰہ تبارک وتعالیٰ: {وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلا} [اٰل عمران: ۹۷]
عن طارق قال: سمعت ابن أبي أوفی رضي اللّٰہ عنہ یسأل عن الرجل یستقرض ویحج، قال: یسترزق اللّٰہ ولا یستقرض، قال: وکنا نقول: لا یستقرض إلا أن یکون لہ وفاء۔ (السنن الکبریٰ للبیہقي ۴؍۵۴۴۴ رقم: ۸۶۵۴ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
عن محمد بن المنکدر أنہ کان یستقرض ویحج، فقیل لہ: تستقرض وتحج؟ فقال: إن الحج أقضی للدین۔ (المصنف لابن أبي شیبۃ ۸؍۷۹۶ رقم: ۱۶۱۱۴ المجلس العلمي)
ووسعہ أن یستقرض ویحج الخ، أما إن علم أنہ لیس لہ جہۃ القضاء أصلاً فالأفضل عدم الاستقراض؛ لأن تحمل حقوق اللّٰہ تعالیٰ أخف من ثقل حقوق العباد۔ (غنیۃ الناسک ۳۳، ومثلہ في الدر المختار مع الشامي ۳؍۴۵۵ زکریا، خانیۃ علی الہندیۃ ۱؍۲۸۴، البحر العمیق ۱؍۳۸۶، طحطاوي علی المراقي ۳۹۷)
مستفاد:کتاب النوازل
فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
Telegram
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
"جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند" میں روزانہ ایک دو مسئلہ مدلل ومزین انداز میں بطورِ استفادہ آپ کو ملے گا،
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1
جواب نمبر:0⃣2⃣2⃣
دکان بیچ کر حج کرنا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: زید کے پاس پانچ دوکانیں اور رہنے کے لئے ایک مکان ہے، چار دوکانیں کرایہ پر ہیں، زید خود بھی دوکان کرتا ہے، اتنا پیسہ نہیں ہے کہحج کرسکے، کیا اس کے ذمہ دوکان بیچ کر حج کرنا فرض ہے؟ جب کہ صورتِ حال یہ ہے کہ اگر دوکانوں کا کرایہ نہ آئے تب بھی گذر بسر ہوسکتی ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:جو ضرورت سے زائد دوکانیں ہیں، اگر ان کی قیمت اتنی ہے کہ وہ مصارفِ سفر حج میں کافی ہوجائے، تو مسئولہ صورت میں زید پر زائد دوکانیں فروخت کرکے حج کو جانا لازم ہے۔
بخلاف الفاضل عنہ من مسکن أو عبد أو متاع أو کتب شرعیۃ أو اٰنیۃ…، تثبت بہا الاستطاعۃ۔ (شامي ۳؍۴۶۰ زکریا)
وإن کان لہ من الضیاع مالو باع مقدار ما یکفي الزاد والراحلۃ یبقی بعد رجوعہ من ضیعتہ قدر ما یعیش بفلتہ الباقي افترض علیہ الحج، وإلا لا۔ (غنیۃ الناسک ۲۰، شامي ۳؍۴۹۱ زکریا، البحر العمیق ۱؍۳۸۱، الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۳؍۴۷۳ زکریا، انوار مناسک ۱۶۹)
مستفاد:کتاب النوازل
فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
دکان بیچ کر حج کرنا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: زید کے پاس پانچ دوکانیں اور رہنے کے لئے ایک مکان ہے، چار دوکانیں کرایہ پر ہیں، زید خود بھی دوکان کرتا ہے، اتنا پیسہ نہیں ہے کہحج کرسکے، کیا اس کے ذمہ دوکان بیچ کر حج کرنا فرض ہے؟ جب کہ صورتِ حال یہ ہے کہ اگر دوکانوں کا کرایہ نہ آئے تب بھی گذر بسر ہوسکتی ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:جو ضرورت سے زائد دوکانیں ہیں، اگر ان کی قیمت اتنی ہے کہ وہ مصارفِ سفر حج میں کافی ہوجائے، تو مسئولہ صورت میں زید پر زائد دوکانیں فروخت کرکے حج کو جانا لازم ہے۔
بخلاف الفاضل عنہ من مسکن أو عبد أو متاع أو کتب شرعیۃ أو اٰنیۃ…، تثبت بہا الاستطاعۃ۔ (شامي ۳؍۴۶۰ زکریا)
وإن کان لہ من الضیاع مالو باع مقدار ما یکفي الزاد والراحلۃ یبقی بعد رجوعہ من ضیعتہ قدر ما یعیش بفلتہ الباقي افترض علیہ الحج، وإلا لا۔ (غنیۃ الناسک ۲۰، شامي ۳؍۴۹۱ زکریا، البحر العمیق ۱؍۳۸۱، الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۳؍۴۷۳ زکریا، انوار مناسک ۱۶۹)
مستفاد:کتاب النوازل
فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:1⃣2⃣2⃣
کیا تبلیغ میں جانے کا ثواب ۷؍لاکھ گنا ہے؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: تبلیغی جماعت کے مقررین کا کہنا ہے کہ جماعت میں نکلنے کے بعد ایک نماز کا ثواب ۷۷؍لاکھ نمازوں کے برابر ملتا ہے، دوسرے یہ کہ جماعت میں نکلنا یہ جہاد فی سبیل اﷲ بالسیف کے برابر ہے یانہیں؟ اور یہ کہنا کہ جماعت میں نکلنا یہ انبیاء کرام والا کام ہے، یہ صحیح ہے یانہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: ایک عمل پر ۷؍لاکھ گنا کا ثواب کا وعدہ درا صل مجاہد فی سبیل اﷲ کے لئے ہے، تبلیغی جماعت میں جانے والے لوگ اس میں داخل نہیں ہیں۔
(مستفاد: تحفۃ الالمعی ۴؍۵۶۴)
باقی اگر اﷲ تعالیٰ اپنے فضل سے عطا فرمادے تو کوئی بعید بھی نہیں ہے۔ (فتاوی محمودیہ ۴؍۳۰۰ ڈابھیل)
اور جماعت جو کام کرتی ہے وہ انبیاء علیہم السلام کے کئے ہوئے کاموں میں سے ایک ہے، اس حد تک یہ بات صحیح ہے؛ لیکن اگر کوئی جاہل یہ کہے کہ انبیاء والا کام تو صرف تبلیغی جماعت ہی ہے تو یہ بات بلا شبہ غلط ہوگی۔
عن علي وأبي الدرداء وأبي ہریرۃ وأبي أمامۃ وعبد اللّٰہ بن عمر وعبد اللّٰہ بن عمرو وجابر بن عبد اللّٰہ وعمران بن حصین رضي اللّٰہ تعالیٰ عنہم کلہم یحدث عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم أنہ قال: من أرسل نفقۃ في سبیل اللّٰہ، وأقام في بیتہ فلہ بکل درہم سبع مائۃ درہم، ومن غزا بنفسہ في سبیل اللّٰہ وأنفق في وجہہ ذلک فلہ بکل درہم سبع مائۃ ألف درہم، ثم تلا ہذہ الآیۃ: واللّٰہ یضاعف لمن یشاء۔ (سنن ابن ماجۃ، کتاب الجہاد / باب فضل النفقۃ في سبیل اللّٰہ رقم: ۲۷۶۱، مشکوۃ شریف ۲؍۳۳۵، الترغیب والترہیب مکمل ۲۹۰ رقم: ۱۹۹۰ بیروت)
مستفاد:کتاب النوازل
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
کیا تبلیغ میں جانے کا ثواب ۷؍لاکھ گنا ہے؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: تبلیغی جماعت کے مقررین کا کہنا ہے کہ جماعت میں نکلنے کے بعد ایک نماز کا ثواب ۷۷؍لاکھ نمازوں کے برابر ملتا ہے، دوسرے یہ کہ جماعت میں نکلنا یہ جہاد فی سبیل اﷲ بالسیف کے برابر ہے یانہیں؟ اور یہ کہنا کہ جماعت میں نکلنا یہ انبیاء کرام والا کام ہے، یہ صحیح ہے یانہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: ایک عمل پر ۷؍لاکھ گنا کا ثواب کا وعدہ درا صل مجاہد فی سبیل اﷲ کے لئے ہے، تبلیغی جماعت میں جانے والے لوگ اس میں داخل نہیں ہیں۔
(مستفاد: تحفۃ الالمعی ۴؍۵۶۴)
باقی اگر اﷲ تعالیٰ اپنے فضل سے عطا فرمادے تو کوئی بعید بھی نہیں ہے۔ (فتاوی محمودیہ ۴؍۳۰۰ ڈابھیل)
اور جماعت جو کام کرتی ہے وہ انبیاء علیہم السلام کے کئے ہوئے کاموں میں سے ایک ہے، اس حد تک یہ بات صحیح ہے؛ لیکن اگر کوئی جاہل یہ کہے کہ انبیاء والا کام تو صرف تبلیغی جماعت ہی ہے تو یہ بات بلا شبہ غلط ہوگی۔
عن علي وأبي الدرداء وأبي ہریرۃ وأبي أمامۃ وعبد اللّٰہ بن عمر وعبد اللّٰہ بن عمرو وجابر بن عبد اللّٰہ وعمران بن حصین رضي اللّٰہ تعالیٰ عنہم کلہم یحدث عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم أنہ قال: من أرسل نفقۃ في سبیل اللّٰہ، وأقام في بیتہ فلہ بکل درہم سبع مائۃ درہم، ومن غزا بنفسہ في سبیل اللّٰہ وأنفق في وجہہ ذلک فلہ بکل درہم سبع مائۃ ألف درہم، ثم تلا ہذہ الآیۃ: واللّٰہ یضاعف لمن یشاء۔ (سنن ابن ماجۃ، کتاب الجہاد / باب فضل النفقۃ في سبیل اللّٰہ رقم: ۲۷۶۱، مشکوۃ شریف ۲؍۳۳۵، الترغیب والترہیب مکمل ۲۹۰ رقم: ۱۹۹۰ بیروت)
مستفاد:کتاب النوازل
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
❤1
جواب نمبر:2⃣2⃣2⃣
کتاب ما یتعلق بالدعوۃ و التبلیغ
(دعوت و تبلیغ سے متعلق مسائل کا بیان)
تبلیغ اور جہاد کے فرض عین اور فرض کفایہ سے متعلق تحقیق
اور مروجہ تبلیغی جماعت اور اس میں اوقات لگانے کی شرعی حیثیت
سیدی حضرت اقدس حضرت مولانا جسٹس مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم
السلام علیکم و رحمۃ اللہ۔ مزاج گرامی! دل سے دعائیں ہیں کہ اللہ تعالی حضرت کو ہمیشہ صحت و عافیت کے ساتھ خدمت دین کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
حضرت! اس ناکارہ کے دل میں حضرت کی جو محبت وعظمت ہے اس کے اظہار میں طوالت ہوجائیگی۔ مختصراً عرض ہے کہ حضرت کیلئے دل و جان سے، دل کی اتھاہ گہرائیوں سے دعائیں نکلتی رہتی ہیں۔
حضرت کی مصروفیات تو واقعی ہوتی ہیں، تاہم ایک مسئلہ میں حضرت کی رائے مطلوب ہے۔ دوسری کسی جگہ سے حضرت جیسی تسلی متوقع نہیں تھی۔ امید ہے جواب سے بہرمند فرمائیں گے۔
حضرت اکابر کی کتابوں میں اور حضرت کے ایک مستقل وعظ "دین کی حقیقت تسلیم و رضا" میں یہ بات دل میں بیٹھ گئی ہے کہ دین شوق پورے کرنے کا نام نہیں بلکہ اس وقت جو حکم اور وقت کا تقاضا ہو اس کے پورے کرنے کا نام دین ہے، لیکن دوسری طرف اپنے اکابر تبلیغی جماعت والوں کے ہاں دین کی حقیقت کو "قربانی" کے نام سے پیش کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے تردد ہوتا ہے کہ صحیح طرزِ عمل کیا ہونا چاہئے۔
مثلاً ہمارے پاکستان کے سابقہ امیر ............... صاحب مد ظلہم کا جس ہفتہ کا سہ روزہ متعین تھا اسی ہفتہ ان کے سسر کا انتقال ہوگیا۔ اب وہ اس سوچ میں تھے کہ کیا کریں؟ تسلیم و رضا کے پیش نظر تو سہ روزہ کو اس ہفتہ مؤخر بھی کیا جاسکتا تھا تاکہ غمزدہ بیوی کو شوہر سے ساتھ رہنے سے تسلی ہو، لیکن امیر صاحب پاکستان نے سہ روزہ کو مقدم رکھا اور چلے گئے۔ واپسی پر فکر مند تھے کہ بیوی خفا ہوگی لیکن بیوی خلاف توقع بہت محبت سے پیش آئی۔ اور عرض کیا کہ رات اباجی خواب میں ملے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ........... آئے تو اس پر خفا نہ ہونا۔ اس کے سہ روزہ پر جانے سے اللہ تعالی نے میری مغفرت فرمادی ہے۔ اب تسلیم و رضا کے تحت نہ نکلتے تو یہ مغفرت کا بہانہ کیسے بنتا؟
اکثر اکابر تبلیغ والوں سے سنتے ہیں کہ انتظامی چلوں اور سالوں سے ثواب تو ہوتا ہے لیکن کفر نہیں ٹوٹے گا۔ کیونکہ اس کیلئے "قربانی" شرط ہے
کہ گھر میں بیوی بیمار ہے، کھیت میں فصل تیار ہے، جیب میں رقم نہیں، حالات خراب ہیں، تب نکلے گا تو ہدایت عام ہوگی۔ اب تسلیم و رضا کے پیش نظر جب بیوی بیمار ہے تو اس کی دلجوئی ضروری ہے۔ فصل تیار ہے تو کٹائی ضروری ہے۔ اب اس میں تسلیم و رضا کو دیکھا جائے یا قربانی کو۔ غالباً غزوۂ تبوک میں کھجور بالکل پکی ہوئی تھیں لیکن دین کی حقیقت قربانی کے پیش نظر صحابہؓ اللہ کے راستے میں نکل گئے۔
ایک صاحب نے ایک عالم سے پوچھا کہ ایک شخص اللہ کے راستے میں نکلنا چاہتا ہے لیکن اس کا بوڑھا والد نابینا ہے، جوان بیوی ہے اور آس پاس ماحول بھی سازگار نہیں، اور اس کے چھوٹے چھوٹے بچے بھی ہیں۔ اس عالم نے کہا کہ صورت مسئولہ میں یہ شخص اگر نکلتا ہے تو بڑا ظالم ہے۔ اس عالم کو بتایا گیا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر کی یہی حالت تھی جب وہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ نکلے تھے، اب تسلیم و رضا کے تحت تو نہ نکلنا سمجھ میں آتا ہے لیکن بزرگ کہتے ہیں کہ جب اسی حالت میں نکلے گا تو جہاں کفر ٹوٹے گا، وہاں اس کا یقین بھی بنے گا اور گھر والوں کو یقین بھی بنے گا کہ حقیقی محافظ اور رازق تو اللہ ہے۔
بعض لوگوں سے یہ بھی سنتے ہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے وقت چونکہ بلوغ اسلام نہیں ہوا تھا، اس لئے ان پر یہ ذمہ داری بڑھی ہوئی تھی۔ اب تو بلوغ اسلام ہوگیا ہے اب ویسی ذمہ داری نہیں جبکہ تبلیغ والے کہتے ہیں کہ جب بے دینی اور دین سے دوری اسی دور کے مثل عود کر آئی ہو تو کیا حکم وہی عود کر نہیں آئے گا؟
اکابر اہل علم، تبلیغ میں نکلنے کی شرعی حیثیت کو فرض کفایہ کہتے ہیں جبکہ تبلیغ کے بزرگ کہتے ہیں کہ کفایہ کا مطلب تو یہ ہے کہ وہ فرض کی ادائیگی میں کفایت بھی کر جائے۔ اب اربوں انسان دین سے دور ہیں۔ تو کیا سینکڑوں اور ہزاروں کا نکلنا اس فرض کی ادائیگی میں کفایت کر رہا ہے؟
بعض ساتھیوں سے یہ بھی سنتے ہیں کہ ایک سفر میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے روزے تو افطار کروا دیئے تھے لیکن تبلیغی سفر موقوف نہیں فرمایا۔ اسی طرح حضرت حنظلہؓ کو جب غسل جنابت کی حاجت تھی، وقت کا تقاضا تو غسل تھا، لیکن انہوں نے اسی ناپاکی کی حالت میں اللہ کے راستے کو مقدم رکھا۔
حضرت! امید ہے میں نے اپنے اشکال کی وضاحت کافی حد تک کردی ہے۔ مزید طوالت مناسب نہیں لگتی۔ حضرت اپنی فقیہانہ بصیرت و خدادا فہم کے تحت اس بات کی کسی قدر تفصیل سے وضاحت فرما دیجئے کہ بعض اوقات جب دین کا تقاضا تبلیغ والے پیش کرتے ہیں تو اس وقت کوئی نہ کوئی شرعی تقاضا بھی درپیش ہوجائے تو تسلیم و رضا کے تحت اس تقاضے کو پورا کیا جائے یا صحابہ کرامؓ کی طرح قربانی کر کے
کتاب ما یتعلق بالدعوۃ و التبلیغ
(دعوت و تبلیغ سے متعلق مسائل کا بیان)
تبلیغ اور جہاد کے فرض عین اور فرض کفایہ سے متعلق تحقیق
اور مروجہ تبلیغی جماعت اور اس میں اوقات لگانے کی شرعی حیثیت
سیدی حضرت اقدس حضرت مولانا جسٹس مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم
السلام علیکم و رحمۃ اللہ۔ مزاج گرامی! دل سے دعائیں ہیں کہ اللہ تعالی حضرت کو ہمیشہ صحت و عافیت کے ساتھ خدمت دین کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
حضرت! اس ناکارہ کے دل میں حضرت کی جو محبت وعظمت ہے اس کے اظہار میں طوالت ہوجائیگی۔ مختصراً عرض ہے کہ حضرت کیلئے دل و جان سے، دل کی اتھاہ گہرائیوں سے دعائیں نکلتی رہتی ہیں۔
حضرت کی مصروفیات تو واقعی ہوتی ہیں، تاہم ایک مسئلہ میں حضرت کی رائے مطلوب ہے۔ دوسری کسی جگہ سے حضرت جیسی تسلی متوقع نہیں تھی۔ امید ہے جواب سے بہرمند فرمائیں گے۔
حضرت اکابر کی کتابوں میں اور حضرت کے ایک مستقل وعظ "دین کی حقیقت تسلیم و رضا" میں یہ بات دل میں بیٹھ گئی ہے کہ دین شوق پورے کرنے کا نام نہیں بلکہ اس وقت جو حکم اور وقت کا تقاضا ہو اس کے پورے کرنے کا نام دین ہے، لیکن دوسری طرف اپنے اکابر تبلیغی جماعت والوں کے ہاں دین کی حقیقت کو "قربانی" کے نام سے پیش کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے تردد ہوتا ہے کہ صحیح طرزِ عمل کیا ہونا چاہئے۔
مثلاً ہمارے پاکستان کے سابقہ امیر ............... صاحب مد ظلہم کا جس ہفتہ کا سہ روزہ متعین تھا اسی ہفتہ ان کے سسر کا انتقال ہوگیا۔ اب وہ اس سوچ میں تھے کہ کیا کریں؟ تسلیم و رضا کے پیش نظر تو سہ روزہ کو اس ہفتہ مؤخر بھی کیا جاسکتا تھا تاکہ غمزدہ بیوی کو شوہر سے ساتھ رہنے سے تسلی ہو، لیکن امیر صاحب پاکستان نے سہ روزہ کو مقدم رکھا اور چلے گئے۔ واپسی پر فکر مند تھے کہ بیوی خفا ہوگی لیکن بیوی خلاف توقع بہت محبت سے پیش آئی۔ اور عرض کیا کہ رات اباجی خواب میں ملے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ........... آئے تو اس پر خفا نہ ہونا۔ اس کے سہ روزہ پر جانے سے اللہ تعالی نے میری مغفرت فرمادی ہے۔ اب تسلیم و رضا کے تحت نہ نکلتے تو یہ مغفرت کا بہانہ کیسے بنتا؟
اکثر اکابر تبلیغ والوں سے سنتے ہیں کہ انتظامی چلوں اور سالوں سے ثواب تو ہوتا ہے لیکن کفر نہیں ٹوٹے گا۔ کیونکہ اس کیلئے "قربانی" شرط ہے
کہ گھر میں بیوی بیمار ہے، کھیت میں فصل تیار ہے، جیب میں رقم نہیں، حالات خراب ہیں، تب نکلے گا تو ہدایت عام ہوگی۔ اب تسلیم و رضا کے پیش نظر جب بیوی بیمار ہے تو اس کی دلجوئی ضروری ہے۔ فصل تیار ہے تو کٹائی ضروری ہے۔ اب اس میں تسلیم و رضا کو دیکھا جائے یا قربانی کو۔ غالباً غزوۂ تبوک میں کھجور بالکل پکی ہوئی تھیں لیکن دین کی حقیقت قربانی کے پیش نظر صحابہؓ اللہ کے راستے میں نکل گئے۔
ایک صاحب نے ایک عالم سے پوچھا کہ ایک شخص اللہ کے راستے میں نکلنا چاہتا ہے لیکن اس کا بوڑھا والد نابینا ہے، جوان بیوی ہے اور آس پاس ماحول بھی سازگار نہیں، اور اس کے چھوٹے چھوٹے بچے بھی ہیں۔ اس عالم نے کہا کہ صورت مسئولہ میں یہ شخص اگر نکلتا ہے تو بڑا ظالم ہے۔ اس عالم کو بتایا گیا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر کی یہی حالت تھی جب وہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ نکلے تھے، اب تسلیم و رضا کے تحت تو نہ نکلنا سمجھ میں آتا ہے لیکن بزرگ کہتے ہیں کہ جب اسی حالت میں نکلے گا تو جہاں کفر ٹوٹے گا، وہاں اس کا یقین بھی بنے گا اور گھر والوں کو یقین بھی بنے گا کہ حقیقی محافظ اور رازق تو اللہ ہے۔
بعض لوگوں سے یہ بھی سنتے ہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے وقت چونکہ بلوغ اسلام نہیں ہوا تھا، اس لئے ان پر یہ ذمہ داری بڑھی ہوئی تھی۔ اب تو بلوغ اسلام ہوگیا ہے اب ویسی ذمہ داری نہیں جبکہ تبلیغ والے کہتے ہیں کہ جب بے دینی اور دین سے دوری اسی دور کے مثل عود کر آئی ہو تو کیا حکم وہی عود کر نہیں آئے گا؟
اکابر اہل علم، تبلیغ میں نکلنے کی شرعی حیثیت کو فرض کفایہ کہتے ہیں جبکہ تبلیغ کے بزرگ کہتے ہیں کہ کفایہ کا مطلب تو یہ ہے کہ وہ فرض کی ادائیگی میں کفایت بھی کر جائے۔ اب اربوں انسان دین سے دور ہیں۔ تو کیا سینکڑوں اور ہزاروں کا نکلنا اس فرض کی ادائیگی میں کفایت کر رہا ہے؟
بعض ساتھیوں سے یہ بھی سنتے ہیں کہ ایک سفر میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے روزے تو افطار کروا دیئے تھے لیکن تبلیغی سفر موقوف نہیں فرمایا۔ اسی طرح حضرت حنظلہؓ کو جب غسل جنابت کی حاجت تھی، وقت کا تقاضا تو غسل تھا، لیکن انہوں نے اسی ناپاکی کی حالت میں اللہ کے راستے کو مقدم رکھا۔
حضرت! امید ہے میں نے اپنے اشکال کی وضاحت کافی حد تک کردی ہے۔ مزید طوالت مناسب نہیں لگتی۔ حضرت اپنی فقیہانہ بصیرت و خدادا فہم کے تحت اس بات کی کسی قدر تفصیل سے وضاحت فرما دیجئے کہ بعض اوقات جب دین کا تقاضا تبلیغ والے پیش کرتے ہیں تو اس وقت کوئی نہ کوئی شرعی تقاضا بھی درپیش ہوجائے تو تسلیم و رضا کے تحت اس تقاضے کو پورا کیا جائے یا صحابہ کرامؓ کی طرح قربانی کر کے
ان تقاضوں کو مؤخر کردیا جائے؟
حضرت! مذکورہ اشکال کے ساتھ ایک بات ضمناً عرض کرتا چلوں کہ بعض امور میں اکابر اہل علم اور اکابر اہل تبلیغ کے زاویۂ نگاہ میں کچھ فرق محسوس ہوتا ہے۔ مثلاً عام اہل علم تبلیغ میں نکلنے کو فرض کفایہ اور تبلیغ والے فرض عین بتلاتے ہیں، جیسے آج سے نصف صدی قبل حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے صحبت اہل اللہ کے فرض عین ہونے کا فتوی دیا تھا۔ کیونکہ بدون صحبت اہل اللہ اس وقت اصلاح ظاہر و باطن قریب قریب ناممکن تھی۔ اب یہ بات بھی مشاہدہ ہے کہ نکلنے سے نہ صرف عوام بلکہ علماء کرام کی دینی حالت میں جو انقلاب آتا ہے اس کا خود مشاہدہ ہے اور ناقابل انکار حقیقت ہے۔ تو اگر مقدمۃ الواجب واجب کے تحت نکلنے کو فرض عین بتلایا جائے تو اس کی کیا شرعی حیثیت ہوگی؟
والسلام
بندہ محمد راشد
جواب:
مکرمی و محترمی: السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
آپ کا گرامی نامہ ملا۔ آپ احقر ناکارہ کیلئے جس طرح دعائیں کرتے ہیں، اس پر کس زبان سے شکر ادا کروں، اللہ تعالی آپ کو اس کا بہترین صلہ دنیا و آخرت میں عطا فرمائیں، آمین۔
آپ نے تبلیغی جماعت کے بارے میں جو باتیں پوچھی ہیں، ان کے بارے میں چند اصولی باتیں عرض کرتا ہوں، خدا کرے کہ وہ باعث اطمینان ہوں۔
(۱) جب جہاد فرض عین ہوجائے تو اس وقت ایک ایمرجنسی کی حالت ہوتی ہے، اس وقت نہ تجارت جائز ہے، نہ بیوی بچوں کے عام حقوق اس طرح باقی رہتے ہیں جیسے امن کی حالت میں ہوتے ہیں اور نہ جہاد کے سوا کوئی اور ایسا کام جائز ہوتا ہے جو جہاد کے منافی یا اس کی راہ میں رکاوٹ بننے والا ہو (۱)۔ آپ نے صحابہ کرامؓ کے عہد مبارک کی جتنی مثالیں پیش کی ہیں، وہ سب اسی حالت سے متعلق ہیں، غزوۂ تبوک میں جہاد کے فرض عین مونے کا اعلان خود قرآن کریم میں بھی فرمایا گیا تھا (۲)، اور آنحضرت ﷺ نے دو ٹوک الفاظ میں واضح فرما دیا تھا، لہٰذا پکی ہوئی کھیتیاں یا گھر والوں کے مسائل اس فرض عین کی ادائیگی میں مانع نہیں ہوسکیں۔ اس کے باجود آپ ﷺ نے حضرت علیؓ جیسے جانباز صحابی کو حکم دیا کہ وہ مدینہ منوہ میں رہ کر کمزوروں کی دیکھ بھال کریں۔ حضرت علیؓ کی خواہش تو یہ تھی کہ وہ جہاد کی فضیلت حاصل کریں، لیکن آپ ﷺ کے حکم کی وجہ سے تسلیم و رضا کی خاطر مدینہ منورہ میں رہے، اور کمزوروں کی دیکھ بھال کی (۳)۔ حضرت حنظلہؓ کا واقعہ بھی ایسے ہی وقت کا ہے جب دشمن حملہ آور ہوچکا تھا اور جہاد فرضعین تھا (۴)، حضرت صدیق اکبرؓ پر بھی حضور اقدس ﷺ کے ساتھ ہجرت فرض ہوچکی تھی، اور انہوں نے اسی فریضے کو ادا فرمایا ورنہ عام حالات میں آپ ﷺ نے والدین کی خدمت کو جہاد پر مقدم قرار دیا، اور ایسے صحابہؓ کو لوٹا دیا جو والدین کو روتا چھوڑ کر جہاد کیلئے آئے تھے (۵)۔
اگر سہ روزہ یا چلے پر نکلنا اسی درجے میں فرض عین قرار دیا جائے جس درجے میں جہاد نفیر عام کے وقت فرض ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ تجارت، صنعت، زراعت کشھ جائز نہ ہو، بلکہ ہر انسان ہر وقت تبلیغی سفر پر ہی رہے، جیسا کہ جہاد کے فرض عین ہونے کے وقت دوسرا کوئی کام جائز نہیں ہوتا۔ سوال یہ ہے کہ اگر سہ روزہ یا چلہ لگانا فرض عین ہے تو اس کی حد کیا ہے؟ کیا قرآن و حدیث کا کائی حکم اسکی تعیین کرتا ہے؟ دوسرے سہ روزہ لگانے کے بعد جب آدمی پورے مہینے تجارت یا زراعت میں مصروف ہوگا تو کیا اس وقت تبلیغی سفر فرض عین نہیں ہوگا؟ اگر نہیں ہوگا تو وہفرض عین کہاں رہا؟ اور ہوگا تو تجارت اور کسب معاش کیسے جائز ہوا؟
(۲) آپ نے لکھا ہے کہ "ایک سفر میں آپ ﷺ نے روزے تو افطار کرادئیے، لیکن تبلیغی سفر موقوف نہیں فرمایا" اولاً تو یہ تبلیغی سفر نہیں تھا، فتح مکہ کے جہاد کا سفر تھا (۶)۔ دوسرے روزے مشقت شدیدہ کی وجہ سے افطار کرائے گئے (۷)، سفر موقوف کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی، زیادہ سے زیادہ شدید گرمی تھی، مگر صرف اتنی بات سے جہاد کو ترک کرنا ضروری نہ تھا۔ کیونکہ اس مشقت کا اثر زیادہ سے زیادہ اپنی ذات پر تھا، کسی کا حق یا مال تلف نہیں ہو رہا تھا۔
(۳) آپ نے فرض کفایہ کا جو مطلب لکھا ہے اگر کفایہ کا یہی مطلب ہے تو پوری تاریخ اسلام میں جہاد کو کبھی "فرض کفایہ" نہ ہونا چاہئے تھا، کیونکہ غیر مسلموں کی تعداد تاریخ کے ہر دور میں مسلمانوں کے تین گنے سے بھی ہمیشہ زائد رہی ہے۔ کروڑوں انسان ہر دور میں دین سے دور رہے ہیں، لہٰذا جب فقہائے امت نے جہاد کو فرض کفایہ قرار دیا تو کیا اس وقت دنیا کی اکثریت مسلمان ہوگئی تھی؟ جب آنحضرت ﷺ دنیا سے تشریف لے گئے تو صحابۂ کرامؓ کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار بتائی جاتی ہے۔ جو ظاہر ہے کہ اس وقت کی دنیا کی آبادی کا بہت ،مختصر حصہ تھا۔ لیکن کیا آپ ﷺ نے تبلیغی سفر کو فرض عین قرار دے کر کبھی صحابۂ کرام ؓ کو یہ حکم دیا کہ وہ سب اپنے حقوق واجبہ ترک کر کے دوسرے شہروں اور ملکوں میں جائیں؟ واقعہ یہ ہے کہ "فرض کفایہ" کا مطلب صرف اس قدر ہے کہ اگر مسلمانوں کی معتد بہ جماعت یہ کام کر رہی ہے تو اس کا یہ عمل د
حضرت! مذکورہ اشکال کے ساتھ ایک بات ضمناً عرض کرتا چلوں کہ بعض امور میں اکابر اہل علم اور اکابر اہل تبلیغ کے زاویۂ نگاہ میں کچھ فرق محسوس ہوتا ہے۔ مثلاً عام اہل علم تبلیغ میں نکلنے کو فرض کفایہ اور تبلیغ والے فرض عین بتلاتے ہیں، جیسے آج سے نصف صدی قبل حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے صحبت اہل اللہ کے فرض عین ہونے کا فتوی دیا تھا۔ کیونکہ بدون صحبت اہل اللہ اس وقت اصلاح ظاہر و باطن قریب قریب ناممکن تھی۔ اب یہ بات بھی مشاہدہ ہے کہ نکلنے سے نہ صرف عوام بلکہ علماء کرام کی دینی حالت میں جو انقلاب آتا ہے اس کا خود مشاہدہ ہے اور ناقابل انکار حقیقت ہے۔ تو اگر مقدمۃ الواجب واجب کے تحت نکلنے کو فرض عین بتلایا جائے تو اس کی کیا شرعی حیثیت ہوگی؟
والسلام
بندہ محمد راشد
جواب:
مکرمی و محترمی: السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
آپ کا گرامی نامہ ملا۔ آپ احقر ناکارہ کیلئے جس طرح دعائیں کرتے ہیں، اس پر کس زبان سے شکر ادا کروں، اللہ تعالی آپ کو اس کا بہترین صلہ دنیا و آخرت میں عطا فرمائیں، آمین۔
آپ نے تبلیغی جماعت کے بارے میں جو باتیں پوچھی ہیں، ان کے بارے میں چند اصولی باتیں عرض کرتا ہوں، خدا کرے کہ وہ باعث اطمینان ہوں۔
(۱) جب جہاد فرض عین ہوجائے تو اس وقت ایک ایمرجنسی کی حالت ہوتی ہے، اس وقت نہ تجارت جائز ہے، نہ بیوی بچوں کے عام حقوق اس طرح باقی رہتے ہیں جیسے امن کی حالت میں ہوتے ہیں اور نہ جہاد کے سوا کوئی اور ایسا کام جائز ہوتا ہے جو جہاد کے منافی یا اس کی راہ میں رکاوٹ بننے والا ہو (۱)۔ آپ نے صحابہ کرامؓ کے عہد مبارک کی جتنی مثالیں پیش کی ہیں، وہ سب اسی حالت سے متعلق ہیں، غزوۂ تبوک میں جہاد کے فرض عین مونے کا اعلان خود قرآن کریم میں بھی فرمایا گیا تھا (۲)، اور آنحضرت ﷺ نے دو ٹوک الفاظ میں واضح فرما دیا تھا، لہٰذا پکی ہوئی کھیتیاں یا گھر والوں کے مسائل اس فرض عین کی ادائیگی میں مانع نہیں ہوسکیں۔ اس کے باجود آپ ﷺ نے حضرت علیؓ جیسے جانباز صحابی کو حکم دیا کہ وہ مدینہ منوہ میں رہ کر کمزوروں کی دیکھ بھال کریں۔ حضرت علیؓ کی خواہش تو یہ تھی کہ وہ جہاد کی فضیلت حاصل کریں، لیکن آپ ﷺ کے حکم کی وجہ سے تسلیم و رضا کی خاطر مدینہ منورہ میں رہے، اور کمزوروں کی دیکھ بھال کی (۳)۔ حضرت حنظلہؓ کا واقعہ بھی ایسے ہی وقت کا ہے جب دشمن حملہ آور ہوچکا تھا اور جہاد فرضعین تھا (۴)، حضرت صدیق اکبرؓ پر بھی حضور اقدس ﷺ کے ساتھ ہجرت فرض ہوچکی تھی، اور انہوں نے اسی فریضے کو ادا فرمایا ورنہ عام حالات میں آپ ﷺ نے والدین کی خدمت کو جہاد پر مقدم قرار دیا، اور ایسے صحابہؓ کو لوٹا دیا جو والدین کو روتا چھوڑ کر جہاد کیلئے آئے تھے (۵)۔
اگر سہ روزہ یا چلے پر نکلنا اسی درجے میں فرض عین قرار دیا جائے جس درجے میں جہاد نفیر عام کے وقت فرض ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ تجارت، صنعت، زراعت کشھ جائز نہ ہو، بلکہ ہر انسان ہر وقت تبلیغی سفر پر ہی رہے، جیسا کہ جہاد کے فرض عین ہونے کے وقت دوسرا کوئی کام جائز نہیں ہوتا۔ سوال یہ ہے کہ اگر سہ روزہ یا چلہ لگانا فرض عین ہے تو اس کی حد کیا ہے؟ کیا قرآن و حدیث کا کائی حکم اسکی تعیین کرتا ہے؟ دوسرے سہ روزہ لگانے کے بعد جب آدمی پورے مہینے تجارت یا زراعت میں مصروف ہوگا تو کیا اس وقت تبلیغی سفر فرض عین نہیں ہوگا؟ اگر نہیں ہوگا تو وہفرض عین کہاں رہا؟ اور ہوگا تو تجارت اور کسب معاش کیسے جائز ہوا؟
(۲) آپ نے لکھا ہے کہ "ایک سفر میں آپ ﷺ نے روزے تو افطار کرادئیے، لیکن تبلیغی سفر موقوف نہیں فرمایا" اولاً تو یہ تبلیغی سفر نہیں تھا، فتح مکہ کے جہاد کا سفر تھا (۶)۔ دوسرے روزے مشقت شدیدہ کی وجہ سے افطار کرائے گئے (۷)، سفر موقوف کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی، زیادہ سے زیادہ شدید گرمی تھی، مگر صرف اتنی بات سے جہاد کو ترک کرنا ضروری نہ تھا۔ کیونکہ اس مشقت کا اثر زیادہ سے زیادہ اپنی ذات پر تھا، کسی کا حق یا مال تلف نہیں ہو رہا تھا۔
(۳) آپ نے فرض کفایہ کا جو مطلب لکھا ہے اگر کفایہ کا یہی مطلب ہے تو پوری تاریخ اسلام میں جہاد کو کبھی "فرض کفایہ" نہ ہونا چاہئے تھا، کیونکہ غیر مسلموں کی تعداد تاریخ کے ہر دور میں مسلمانوں کے تین گنے سے بھی ہمیشہ زائد رہی ہے۔ کروڑوں انسان ہر دور میں دین سے دور رہے ہیں، لہٰذا جب فقہائے امت نے جہاد کو فرض کفایہ قرار دیا تو کیا اس وقت دنیا کی اکثریت مسلمان ہوگئی تھی؟ جب آنحضرت ﷺ دنیا سے تشریف لے گئے تو صحابۂ کرامؓ کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار بتائی جاتی ہے۔ جو ظاہر ہے کہ اس وقت کی دنیا کی آبادی کا بہت ،مختصر حصہ تھا۔ لیکن کیا آپ ﷺ نے تبلیغی سفر کو فرض عین قرار دے کر کبھی صحابۂ کرام ؓ کو یہ حکم دیا کہ وہ سب اپنے حقوق واجبہ ترک کر کے دوسرے شہروں اور ملکوں میں جائیں؟ واقعہ یہ ہے کہ "فرض کفایہ" کا مطلب صرف اس قدر ہے کہ اگر مسلمانوں کی معتد بہ جماعت یہ کام کر رہی ہے تو اس کا یہ عمل د
وسروں کے فریضے کی ادائیگی کیلئے بھی کافی ہوجاتا ہے۔
(۴) "تسلیم و رضا" اور "قربانی" میں کوئی تعارض نہیں ہے۔ اللہ تعالی کے حکم کی اطاعت قربانی چاہتی ہے، کبھی یہ قربانی جان کی ہوتی ہے۔ کبھی مال کی، کبھی خواہشات کی، جب آپ ﷺ نے حضرت علیؓ کو تبوک جانے سے روکا اور انہوں نے سر تسلیم خم کر دیا تو یہ تسلیم و رضا بھی تھی اور خواہش کی قربانی بھی، جب آپ ﷺ نے حضرت حذیفہ بن یمانؓ کو جنگ بدر میں شرکت سے روکا اور انہوں نے اطاعت کی تو یہ بھی خواہش کی قربانی تھی۔ جب جہاد فرض عین ہوجائے اس وقت جان، مال اور دنیوی خواہشات کی قربانی دی جاتی ہے، اور جب فرض کفایہ ہو اور انسان کیلئے شرعا جائز ہو تب بھی وہ انہی چیزوں کی قربانی پیش کرتا ہے ، لیکن جب تک فرض عین نہ ہو، یہ قربانی اپنی ذات کی حد تک محدود رہتی ہے، دوسرے اصحاب حقوق کی قربانی نہیں کی جاتی۔ ہاں اگر اصحاب حقوق اپنے حقوق خوشی سے چھوڑ دیں تو ان کیلئے باعث اجر ہے، اور اس صورت میں جہاد یا دعوت کے کام میں شرکت باعث اجر عظیم ہے۔ آپ نے جن بزرگ کی مثال دی کہ ان کے سسر کا انتقال ہوگیا تھا۔ پھر بھی وہ سہ روزہ پر چلے گئے، ان کے بارے میں عرض یہ ہے کہ اگر ان کی اہلیہ کو ان کے جانے سے کوئی ناقابل برداشت تکلیف نہیں ہوئی تو شرعا ان کا یہ عمل ناجائز نہیں تھا۔ البتہ افضل ہونے میں رائیں مختلف ہو سکتی ہیں۔ اور خواب کوئی شرعی حجت نہیں ہے جس سے کسی حکم شرعی پر استدلال کیا جائے۔
(۵) یہ بات احقر کی فہم ناقص سے بالاتر ہے کہ تبلیغ میں نکلنے پر ہمیشہ صحابہ کرامؓ کے جہاد کے واقعات سے استدلال کیا جاتا ہے، لیکن عملاً جہاد کے بارے میں طرز عمل یہ ہے کہ گویا جہاد کوئی شرعی فریضہ ہی نہیں ہے، بلکہ اسے عملاً منسوخ سمجھا جاتا ہے اور جہاد کی بعض اوقات مخالفت بھی کی جاتی ہے۔
(۶) مذکورہ بالا گذارشات کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ میں تبلیغی جماعت کا مخالف ہوں، یا یہ کہ تبلیغ کے کام کو اہمیت نہیں دیتا۔ حقیقت یہ ہے کہ تبلیغ کا کام نہایت اہمیت کا حامل ہے، خاص طور پر تبلیغی جماعت نے بفضلہ تعالیٰ مجموعی حیثیت سے بڑا قابل تعریف کام کیا ہے اور اس سے امت کو بہت فائدہ پہنچا ہے، لیکن کسی کام کی اہمیت واضح کرنے کیلئے یہ ضروری نہیں ہے کہ اسے ہر قیمت پر فرض عین قرار دیا جائے۔ دوسرے، جہاں تبلیغی جماعت کے ساتھ تعاون و تناصر ضروری ہے، وہاں بعض غلو آمیز باتوں کی اصلاح بھی ضروری ہے جو بعض نووارد یا حدود کی رعایت نہ رکھنے والے حضرات سے سرزد ہوتی رہتی ہیں، اور اب بعض اوقات احکام شرعیہ میں تصرف کی حد تک پہنچ رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دین کی صحیح فہم اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ والسلام واللہ سبحانہ اعلم
احقر محمد تقی عثمانی عفی عنہ
۲۸-۳-۱۴۱۸ھ
(۱) تفصیل کیلئے حضرت والا دامت برکاتہم کی تصنیف "تکملہ فتح الملہم" کتاب الامارۃ، مسئلۃ فرضیۃ الجہاد ج۳ ص۳۷۴ ملاحظہ فرمائیں۔
(۲) ما کان لاھل المدینۃ و من حولھم من الاعراب ان یتخلفوا عن رسول اللہ ولا یرغبوا بانفسھم عن نفسہ، الآیۃ (سورۃ التوبۃ ۱۲۰)
(۳) و فی صحیح البخاریؒ باب من حبسہ العذر عن الغزو ج۱ ص۳۱۸ حدثنا احمد بن یونس ثنا رھیر ثنا ان انسا حدثھم قال رجعنا عن غزوۃ تبوک مع النبی ﷺ ح و ثنا سلیمن بن حرب ثنا حماد ھو ابن زید عن حمید عن انس ان النبی ﷺ کان فی غزوۃ فقال ان اقواما بالمدینۃ خلفنا ما سلکنا شعبا ولا وادیا الا وھم معنا فیہ حبسھم العذر الخ۔ و کذا فی صحیح مسلم ج۲ ص۱۴۱ (طبع قدیمی کتب خانہ)۔
(۴) و فی المغنی لابن قدامۃ ج۹ ص۱۷۴ (طبع دار الفکر بیروت) مسئلۃ قال و واجب علی الناس اذا جاء العدو ان ینفروا المقل منھم و المکثر ولا یخرجوا الی العدو الا باذن الامیر الا ان یفجاھم عدو غالب یخافون کلبہ فلا یمکنھم ان یستاذنوہ ان النفیر یعم جمیع الناس ممن کان من اھل القتال حین الحاجۃ الی نفیرھم لمجیء العدو الیھم ولا یجوز لاحد التخلف الا من یحتاج الی تخلفہ لحفظ المکان و الاھل و المال و من یمنعہ الامیر ............. و ذلک لقول اللہ تعالی انفروا خفافا و ثقالا ، التوبۃ، وقول النبی ﷺ اذا استنفرتم فانفروا ........ وقال بعد اسطر وقد نفر من اصحاب رسول اللہ ﷺ و ھو جنب یعنی غسیل الملئکۃ حنظلۃ ابن الراھب الخ۔
(۵) دیکھئے الصحیح لمسلم ج۲ ص۳۱۳ (طبع قدیمی کتب خانہ) و جامع الترمذی ۱ / ۲۰۰ (طبع فاروقی کتب خانہ)۔
(۶ و ۷) و فی الترمذی ج۱ ص۸۹ (طبع فاروقی کتب خانہ) باب ما جاء فی کراھیۃ الصوم فی السفر، عن جابر بن عبد اللہ ان رسول اللہ ﷺ خرج الی مکۃ عام الفتح فصام حتی بلغ کراع الغمیم و صام الناس معہ فقیل لہ: ان الناس شق علیھم الصیام، وان الناس ینظرون فیما فعلت فدعا بقدح من ماء بعد العصر فشرب و الناس ینظرون الیہ، فافطر بعضھم و صام بعضھم ........الخ۔
و فی جامع الترمذی، ابواب فضائل الجھاد باب فی الفطر عند القتال ج۱ ص۲۰۱ و ص۲۰۲ (طبع مذکور) عن ابی سعید الخدریؓ قال: لما بلغ النبی ﷺ عام الفتح مر الظھران فآذننا بلقاء العدو فامرنا بال
(۴) "تسلیم و رضا" اور "قربانی" میں کوئی تعارض نہیں ہے۔ اللہ تعالی کے حکم کی اطاعت قربانی چاہتی ہے، کبھی یہ قربانی جان کی ہوتی ہے۔ کبھی مال کی، کبھی خواہشات کی، جب آپ ﷺ نے حضرت علیؓ کو تبوک جانے سے روکا اور انہوں نے سر تسلیم خم کر دیا تو یہ تسلیم و رضا بھی تھی اور خواہش کی قربانی بھی، جب آپ ﷺ نے حضرت حذیفہ بن یمانؓ کو جنگ بدر میں شرکت سے روکا اور انہوں نے اطاعت کی تو یہ بھی خواہش کی قربانی تھی۔ جب جہاد فرض عین ہوجائے اس وقت جان، مال اور دنیوی خواہشات کی قربانی دی جاتی ہے، اور جب فرض کفایہ ہو اور انسان کیلئے شرعا جائز ہو تب بھی وہ انہی چیزوں کی قربانی پیش کرتا ہے ، لیکن جب تک فرض عین نہ ہو، یہ قربانی اپنی ذات کی حد تک محدود رہتی ہے، دوسرے اصحاب حقوق کی قربانی نہیں کی جاتی۔ ہاں اگر اصحاب حقوق اپنے حقوق خوشی سے چھوڑ دیں تو ان کیلئے باعث اجر ہے، اور اس صورت میں جہاد یا دعوت کے کام میں شرکت باعث اجر عظیم ہے۔ آپ نے جن بزرگ کی مثال دی کہ ان کے سسر کا انتقال ہوگیا تھا۔ پھر بھی وہ سہ روزہ پر چلے گئے، ان کے بارے میں عرض یہ ہے کہ اگر ان کی اہلیہ کو ان کے جانے سے کوئی ناقابل برداشت تکلیف نہیں ہوئی تو شرعا ان کا یہ عمل ناجائز نہیں تھا۔ البتہ افضل ہونے میں رائیں مختلف ہو سکتی ہیں۔ اور خواب کوئی شرعی حجت نہیں ہے جس سے کسی حکم شرعی پر استدلال کیا جائے۔
(۵) یہ بات احقر کی فہم ناقص سے بالاتر ہے کہ تبلیغ میں نکلنے پر ہمیشہ صحابہ کرامؓ کے جہاد کے واقعات سے استدلال کیا جاتا ہے، لیکن عملاً جہاد کے بارے میں طرز عمل یہ ہے کہ گویا جہاد کوئی شرعی فریضہ ہی نہیں ہے، بلکہ اسے عملاً منسوخ سمجھا جاتا ہے اور جہاد کی بعض اوقات مخالفت بھی کی جاتی ہے۔
(۶) مذکورہ بالا گذارشات کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ میں تبلیغی جماعت کا مخالف ہوں، یا یہ کہ تبلیغ کے کام کو اہمیت نہیں دیتا۔ حقیقت یہ ہے کہ تبلیغ کا کام نہایت اہمیت کا حامل ہے، خاص طور پر تبلیغی جماعت نے بفضلہ تعالیٰ مجموعی حیثیت سے بڑا قابل تعریف کام کیا ہے اور اس سے امت کو بہت فائدہ پہنچا ہے، لیکن کسی کام کی اہمیت واضح کرنے کیلئے یہ ضروری نہیں ہے کہ اسے ہر قیمت پر فرض عین قرار دیا جائے۔ دوسرے، جہاں تبلیغی جماعت کے ساتھ تعاون و تناصر ضروری ہے، وہاں بعض غلو آمیز باتوں کی اصلاح بھی ضروری ہے جو بعض نووارد یا حدود کی رعایت نہ رکھنے والے حضرات سے سرزد ہوتی رہتی ہیں، اور اب بعض اوقات احکام شرعیہ میں تصرف کی حد تک پہنچ رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دین کی صحیح فہم اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ والسلام واللہ سبحانہ اعلم
احقر محمد تقی عثمانی عفی عنہ
۲۸-۳-۱۴۱۸ھ
(۱) تفصیل کیلئے حضرت والا دامت برکاتہم کی تصنیف "تکملہ فتح الملہم" کتاب الامارۃ، مسئلۃ فرضیۃ الجہاد ج۳ ص۳۷۴ ملاحظہ فرمائیں۔
(۲) ما کان لاھل المدینۃ و من حولھم من الاعراب ان یتخلفوا عن رسول اللہ ولا یرغبوا بانفسھم عن نفسہ، الآیۃ (سورۃ التوبۃ ۱۲۰)
(۳) و فی صحیح البخاریؒ باب من حبسہ العذر عن الغزو ج۱ ص۳۱۸ حدثنا احمد بن یونس ثنا رھیر ثنا ان انسا حدثھم قال رجعنا عن غزوۃ تبوک مع النبی ﷺ ح و ثنا سلیمن بن حرب ثنا حماد ھو ابن زید عن حمید عن انس ان النبی ﷺ کان فی غزوۃ فقال ان اقواما بالمدینۃ خلفنا ما سلکنا شعبا ولا وادیا الا وھم معنا فیہ حبسھم العذر الخ۔ و کذا فی صحیح مسلم ج۲ ص۱۴۱ (طبع قدیمی کتب خانہ)۔
(۴) و فی المغنی لابن قدامۃ ج۹ ص۱۷۴ (طبع دار الفکر بیروت) مسئلۃ قال و واجب علی الناس اذا جاء العدو ان ینفروا المقل منھم و المکثر ولا یخرجوا الی العدو الا باذن الامیر الا ان یفجاھم عدو غالب یخافون کلبہ فلا یمکنھم ان یستاذنوہ ان النفیر یعم جمیع الناس ممن کان من اھل القتال حین الحاجۃ الی نفیرھم لمجیء العدو الیھم ولا یجوز لاحد التخلف الا من یحتاج الی تخلفہ لحفظ المکان و الاھل و المال و من یمنعہ الامیر ............. و ذلک لقول اللہ تعالی انفروا خفافا و ثقالا ، التوبۃ، وقول النبی ﷺ اذا استنفرتم فانفروا ........ وقال بعد اسطر وقد نفر من اصحاب رسول اللہ ﷺ و ھو جنب یعنی غسیل الملئکۃ حنظلۃ ابن الراھب الخ۔
(۵) دیکھئے الصحیح لمسلم ج۲ ص۳۱۳ (طبع قدیمی کتب خانہ) و جامع الترمذی ۱ / ۲۰۰ (طبع فاروقی کتب خانہ)۔
(۶ و ۷) و فی الترمذی ج۱ ص۸۹ (طبع فاروقی کتب خانہ) باب ما جاء فی کراھیۃ الصوم فی السفر، عن جابر بن عبد اللہ ان رسول اللہ ﷺ خرج الی مکۃ عام الفتح فصام حتی بلغ کراع الغمیم و صام الناس معہ فقیل لہ: ان الناس شق علیھم الصیام، وان الناس ینظرون فیما فعلت فدعا بقدح من ماء بعد العصر فشرب و الناس ینظرون الیہ، فافطر بعضھم و صام بعضھم ........الخ۔
و فی جامع الترمذی، ابواب فضائل الجھاد باب فی الفطر عند القتال ج۱ ص۲۰۱ و ص۲۰۲ (طبع مذکور) عن ابی سعید الخدریؓ قال: لما بلغ النبی ﷺ عام الفتح مر الظھران فآذننا بلقاء العدو فامرنا بال
فطر فافطرنا اجمعین، ھذا حدیث حسن صحیح۔ مزید احادیث اور تفصیل کیلئے دیکھئے: درس ترمذی ج۲ ص۵۵۵۔ (محمد زبیر حق نواز)
مستفاد:فتاوی عثمانی1
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
مستفاد:فتاوی عثمانی1
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:3⃣2⃣2⃣
ہمارے امام صاحب نے ایک دن ظہر کی نماز پڑھا ئی پھر دس منٹ کے بعد 25-30/ آدمی آئے اسی امام صاحب اسی ظہر کی نماز اسی جگہ پڑھادی، کیا مسئلہ ہے؟براہ کرم، جواب دیں۔
Published on: Jan 20, 2011 جواب # 29383
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی(م): 206=206-2/1432
صورت مسئولہ میں جب امام صاحب نے ظہر کی فرض نماز پڑھادی تھی تو فریضہ ادا ہوگیا تھا، پھر دوبارہ اسی ظہر کی نماز پڑھائی تو ان کی حیثیت متنفل کی ہوئی اور پچیس تیس آدمی جنھوں نے امام کی اقتداء میں نماز ادا کی ان کی حیثیت اگر مفترض کی تھی تو ان مقتدیوں کا فرض ادا نہ ہوا۔ فرض پڑھنے والے کی نماز نفل پڑھنے والے کے پیچھے درست نہیں۔ وہ حضرات اپنی ظہر کی نماز دوبارہ ادا کرلیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
ہمارے امام صاحب نے ایک دن ظہر کی نماز پڑھا ئی پھر دس منٹ کے بعد 25-30/ آدمی آئے اسی امام صاحب اسی ظہر کی نماز اسی جگہ پڑھادی، کیا مسئلہ ہے؟براہ کرم، جواب دیں۔
Published on: Jan 20, 2011 جواب # 29383
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی(م): 206=206-2/1432
صورت مسئولہ میں جب امام صاحب نے ظہر کی فرض نماز پڑھادی تھی تو فریضہ ادا ہوگیا تھا، پھر دوبارہ اسی ظہر کی نماز پڑھائی تو ان کی حیثیت متنفل کی ہوئی اور پچیس تیس آدمی جنھوں نے امام کی اقتداء میں نماز ادا کی ان کی حیثیت اگر مفترض کی تھی تو ان مقتدیوں کا فرض ادا نہ ہوا۔ فرض پڑھنے والے کی نماز نفل پڑھنے والے کے پیچھے درست نہیں۔ وہ حضرات اپنی ظہر کی نماز دوبارہ ادا کرلیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:4⃣2⃣2⃣
مقتدی سے فرض کہ کر سنت پڑھنا:
سوال:
زید ہمیشہ عصر سے پہلے سنت پڑھنے کا عادی تھا ایک روز اسکا دوست بکر آگیا اور کہاں چلو دونوں آدمی چل کر جماعت سے فرض پڑھلیں،آج سنت نہ پڑھو تو کیا حرج ہے۔اس پر زید نے کہا کہ۔میں ہمیشہ سنت پڑھتے آیا ہوں بغیر سنت کے فرض نہیں پڑھونگا۔اس پر دونو بہت دیر تک بحث کرتے رہیں آخر میں زید نے بکر کے شر سے بچنے کیلئے سنت کی نیت کرکے کہاں کہ اچھا چلو!میں فرض ادا کرتا ہوں، یہ کہ کر سنت کی نیت بانھ لی اور بکر مقتدی بن گیا،سلام پھیرنے کے بعد زید نے کہا کہ میاں ہم نے تو سنت پڑھی ہے اب دونوں پھر سے فرض پڑھیں گے،بکر نے کہاں میرا سارا گناہ تمہارے سر ہے،اب میں دوبارہ نہ ادا کرونگا مجھے تم نے کیوں دھوکا دیا،تم نے سنت کی نیت کرکے فرض بتائیں،مین فرض کی نیت بانھ لی میری نماز ہوگئی ،تم جانو تمہارا کام جانے۔ایسی صورت میں بکر کی نماز ہوئی ہے یا نہیں؟
جب کہ زیدنے سنت کی نماز ادا کی تھی،زید بہت نادم ہے کہ اب عذاب الہی سے بچنے کا کیا ذریعہ ہے،کیوںکہ اسکا سارا گناہ مجھ پر ہوا؟
الجواب حامدا ومصلیا:
بکر کا زید کو سنت سے روکنا شرعا مذموم ہے(1)پھر زید کا بکر کو دھوکا دیکر فرض بتا کر سنت پڑھنا بھی شرعا مذموم ہے(2)لیکن بکر کو جب معلوم ہوگیا کہ زید نے سنت پڑھی ہے تو بکر کو فرض پھر ادا کرنا چاہئے(3)بکر فرض ادا نہیں کریگا تو بکر کئ ذمہ فرض باقی رہے گااور بکر گناہ گار ہوگا (4)لیکن اگر بکر کے نزدیک زید جھوٹا ہے اور اسنے فرض پڑھ کر یہ کہاں ہے کہ مین سنت پڑھی ہے تو بکر کے ذمہ فرض کو دوبارہ پڑھنا لازم نہیں اسکی نماز درست ہو گئی۔
(1)قال اللہ عزوجل:الذین یستحبوا الحیوةالدنیا علی الاخرہ ویصدون عن سبیل اللہ ویبغونھا عوجا اولئک فی ضلال بعید۔ سورہ ابراھیم3
(2)عن ابی ھریرة رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: من حمل علینا السلاح فلیس منا،ومن غشنا فلیس منا۔
(الصحیح لمسلم کتاب الایمان باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم من غشنا فلیس منا۔70/1قدیمی)
(3)لان اقتداء بنا ووصف الفرضیة معدوم فی حق الامام فی الاولی وھو مشارکة وھو موافقة،فلابد من اتحاد،وھو معدوم فی الثانیة...........اھ"البحر الرائق ،کتاب الصلوة باب الامامة.631/1رشیدیہ۔
"لان اتحد الصلاتین شرط عندنا۔۔(الدرالمختار باب الامامة.579/1.سعید)
وکذا گی تبیین الحقائق باب الامامة۔36/1بیروت،دار الکتاب علمیة)
(4)عن ابی الدرداء رضی اللہ عنہ قال:اوصانی خلیلی ان لاتشرک باللہ شیئا،وان قطعت وحرقت،ولا تترک الصلوة مکتوبة متعمدا،فمن ترکھا متعمدا،فقد برئت منہ الذمة""
(مشکوة المصابیح،کتاب الصلوة،الفصل الثالث 57قدیمی)
مستفاد:فتاوی محمودیہ
واللہ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
مقتدی سے فرض کہ کر سنت پڑھنا:
سوال:
زید ہمیشہ عصر سے پہلے سنت پڑھنے کا عادی تھا ایک روز اسکا دوست بکر آگیا اور کہاں چلو دونوں آدمی چل کر جماعت سے فرض پڑھلیں،آج سنت نہ پڑھو تو کیا حرج ہے۔اس پر زید نے کہا کہ۔میں ہمیشہ سنت پڑھتے آیا ہوں بغیر سنت کے فرض نہیں پڑھونگا۔اس پر دونو بہت دیر تک بحث کرتے رہیں آخر میں زید نے بکر کے شر سے بچنے کیلئے سنت کی نیت کرکے کہاں کہ اچھا چلو!میں فرض ادا کرتا ہوں، یہ کہ کر سنت کی نیت بانھ لی اور بکر مقتدی بن گیا،سلام پھیرنے کے بعد زید نے کہا کہ میاں ہم نے تو سنت پڑھی ہے اب دونوں پھر سے فرض پڑھیں گے،بکر نے کہاں میرا سارا گناہ تمہارے سر ہے،اب میں دوبارہ نہ ادا کرونگا مجھے تم نے کیوں دھوکا دیا،تم نے سنت کی نیت کرکے فرض بتائیں،مین فرض کی نیت بانھ لی میری نماز ہوگئی ،تم جانو تمہارا کام جانے۔ایسی صورت میں بکر کی نماز ہوئی ہے یا نہیں؟
جب کہ زیدنے سنت کی نماز ادا کی تھی،زید بہت نادم ہے کہ اب عذاب الہی سے بچنے کا کیا ذریعہ ہے،کیوںکہ اسکا سارا گناہ مجھ پر ہوا؟
الجواب حامدا ومصلیا:
بکر کا زید کو سنت سے روکنا شرعا مذموم ہے(1)پھر زید کا بکر کو دھوکا دیکر فرض بتا کر سنت پڑھنا بھی شرعا مذموم ہے(2)لیکن بکر کو جب معلوم ہوگیا کہ زید نے سنت پڑھی ہے تو بکر کو فرض پھر ادا کرنا چاہئے(3)بکر فرض ادا نہیں کریگا تو بکر کئ ذمہ فرض باقی رہے گااور بکر گناہ گار ہوگا (4)لیکن اگر بکر کے نزدیک زید جھوٹا ہے اور اسنے فرض پڑھ کر یہ کہاں ہے کہ مین سنت پڑھی ہے تو بکر کے ذمہ فرض کو دوبارہ پڑھنا لازم نہیں اسکی نماز درست ہو گئی۔
(1)قال اللہ عزوجل:الذین یستحبوا الحیوةالدنیا علی الاخرہ ویصدون عن سبیل اللہ ویبغونھا عوجا اولئک فی ضلال بعید۔ سورہ ابراھیم3
(2)عن ابی ھریرة رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: من حمل علینا السلاح فلیس منا،ومن غشنا فلیس منا۔
(الصحیح لمسلم کتاب الایمان باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم من غشنا فلیس منا۔70/1قدیمی)
(3)لان اقتداء بنا ووصف الفرضیة معدوم فی حق الامام فی الاولی وھو مشارکة وھو موافقة،فلابد من اتحاد،وھو معدوم فی الثانیة...........اھ"البحر الرائق ،کتاب الصلوة باب الامامة.631/1رشیدیہ۔
"لان اتحد الصلاتین شرط عندنا۔۔(الدرالمختار باب الامامة.579/1.سعید)
وکذا گی تبیین الحقائق باب الامامة۔36/1بیروت،دار الکتاب علمیة)
(4)عن ابی الدرداء رضی اللہ عنہ قال:اوصانی خلیلی ان لاتشرک باللہ شیئا،وان قطعت وحرقت،ولا تترک الصلوة مکتوبة متعمدا،فمن ترکھا متعمدا،فقد برئت منہ الذمة""
(مشکوة المصابیح،کتاب الصلوة،الفصل الثالث 57قدیمی)
مستفاد:فتاوی محمودیہ
واللہ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:5⃣2⃣2⃣
تحقیق حدیث "عالم کا سونا عبادت ہے"
سوال: کیا یہ حدیث ( نوم العالم ﺧﻴﺮ ﻣﻦ عبادة الجاهل ) صحیح ہے؟
الجواب بعون الله :
یہ بات نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے ، نہ کسی صحابی یا تابعی کا قول ہے ۔ کتب احادیث میں بھی یہ معروف نہیں ، اور معتبر کتب حدیث میں تلاش بسیار کے بعد بھی اس کا کوئی سراغ نہیں ملا ۔
ہاں شیعہ روافض کی کتابوں میں - جو مجمع الاکاذیب ھوتی ہیں - یہ بات ملتی ہے ، جیسے شیخ صدوق ( رافضی وفات 381 ﻫـ ) کی کتاب ( من لا یحضرہ الفقیہ ) 4/352 میں یہ روایت اس طرح مذکور ہے :
روي ﺣماد ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ ، ﻭﺃﻧﺲ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ ، ﺟﻤﻴﻌﺎ – ﻳﻌﻨﻲ ﺣﻤﺎدا وﻣﺤﻤﺪا والد أنس - ﻋﻦ ﺟﻌﻔﺮ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ، ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ ، ﻋﻦ ﺟﺪﻩ ، ﻋﻦ ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻃﺎﻟﺐ ، ﻋﻦ ﺍﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ وﺳﻠﻢ أنه ﻗاﻟﻪ : - وذكر ﺣﺪﻳﺜﺎ ﻃﻮﻳﻼ ﺟﺪا، وﻓﻴﻪ : ( ﻳﺎ ﻋﻠﻲ ! ﻧﻮم العاﻟﻢ ﺧﻴﺮ ﻣﻦ ﻋﺒادة العابد) ۔
مذکورہ کتاب کے حوالے سے یہ روایت پھر دیگر کتب روافض میں پھیل گئی ، جیسے : " ﻣﻜﺎﺭﻡ ﺍﻷﺧﻼﻕ " ﻟﻠﻄﺒﺮﺳﻲ ( ﺕ 548 ﻫـ ) ( ﺹ 441/ ) ، ﻭ " ﺑﺤﺎﺭ ﺍﻷﻧﻮﺍﺭ " ﻟﻠﻤﺠﻠﺴﻲ ( 2/25 ) ۔
حدیث کے جعلی ہونے کی علامات بالکل ظاھر ہیں ، اس لئے کہ حماد بن عمرو اور محمد والد انس ، دونوں مجہول غیر معروف راوی ہیں ، جعفر صادق سے روایت کرنے والوں میں ان کا ذکر نہیں ہے ، مزید یہ کہ ان دونوں کا ترجمہ اھل سنت کی رجال الحدیث کی کتابوں میں نہ اھل تشیع کی کتابوں میں ہے ، یہاں تک کہ ( من لا یحضرہ الفقیہ ) کے محقق نے اس روایت پر نوٹ لکھا ہے : ( ﺣﻤﺎﺩ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ - ﻟﻌﻠﻪ ﺍﻟﻨﺼﻴﺒﻲ - ﻏﻴﺮ ﻣﺬﻛﻮﺭ ، ﻭﻛﺬﺍ ﺃﻧﺲ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ، ﻭﻓﻲ ﺍﻟﻄﺮﻳﻖ ﺇﻟﻴﻬﻤﺎ ﻣﺠﺎﻫﻴﻞ ، ﻭﻛﺄﻧﻬﻢ ﻣﻦ ﺍﻟﻌﺎﻣﺔ – ﻳﻌﻨﻲ ﺃﻫﻞ ﺍﻟﺴﻨﺔ - ! "- ﺍﻧﺘﻬﻰ .
اس سے واضح ہوگیا کہ خود روافض بھی اس طرح کی روایتوں کو صحیح ثابت قرار نہیں دیتے ۔
ابو القاسم خوئی رافضی کی رجالِ روافض پر مرتب کی ہوئی کتاب ( معجم رجال الحدیث ) ( 7/235 ) میں حماد بن عمرو کے ترجمہ میں لکھا ہے : ( ﻟﻢ ﻳﻨﻘﻞ ﻋﻦ ﺃﺣﺪ ﺗﻮﺛﻴﻘﻪ ) ۔ بلکہ یہ طویل وصیت جس کے ضمن میں یہ الفاظ وارد ہیں ، اس وصیت کے بارے میں خود خوئی کہتے ہیں : " ﻃﺮﻳﻖ ﺍﻟﺼﺪﻭﻕ ﺇﻟﻴﻪ ﻓﻲ ﻭﺻﻴﺔ ﺍﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺁﻟﻪ ﻷﻣﻴﺮ ﺍﻟﻤﺆﻣﻨﻴﻦ ﻋﻠﻴﻪ ﺍﻟﺴﻼﻡ ... ﺿﻌﻴﻒ ﺑﻌﺪﺓ ﻣﻦ ﺍﻟﻤﺠﺎﻫﻴﻞ " ﺍﻧﺘﻬﻰ ۔
تعجب کی بات ہے کہ روافض کے یہاں جعفر صادق سے منقول سینکڑوں روایتیں اسی مجہول سند سے مروی ہیں ، جس سند کا خود روافض اعتبار نہیں کرتے ، اور مجہول راویوں ہی کی وجہ سے غیر ثابت روایتیں کتب حدیث کی راہ لیتی ہیں ۔
مذکورہ بالا روایت کے مفہوم میں بعض لوگ ایک دوسری حدیث اس طرح بیان کرتے ہیں : ( نوم العالم عبادة ) یعنی "عالم کا سونا عبادت ہے" یہ بھی ثابت نہیں ہے ۔
ملا علی قاریؒ نے الاسرار المرفوعة میں لکھا ہے کہ ( نوم العالم عبادة ) یہ بے اصل روایت ہے.
خلاصہ یہ ہے کہ :
عالم کا سونا عبادت ہے، یا عالم کا سونا جاہل کی عبادت سے بہتر ہے. دونوں حدیثیں بے اصل ہیں۔
واللہ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
تحقیق حدیث "عالم کا سونا عبادت ہے"
سوال: کیا یہ حدیث ( نوم العالم ﺧﻴﺮ ﻣﻦ عبادة الجاهل ) صحیح ہے؟
الجواب بعون الله :
یہ بات نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے ، نہ کسی صحابی یا تابعی کا قول ہے ۔ کتب احادیث میں بھی یہ معروف نہیں ، اور معتبر کتب حدیث میں تلاش بسیار کے بعد بھی اس کا کوئی سراغ نہیں ملا ۔
ہاں شیعہ روافض کی کتابوں میں - جو مجمع الاکاذیب ھوتی ہیں - یہ بات ملتی ہے ، جیسے شیخ صدوق ( رافضی وفات 381 ﻫـ ) کی کتاب ( من لا یحضرہ الفقیہ ) 4/352 میں یہ روایت اس طرح مذکور ہے :
روي ﺣماد ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ ، ﻭﺃﻧﺲ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ ، ﺟﻤﻴﻌﺎ – ﻳﻌﻨﻲ ﺣﻤﺎدا وﻣﺤﻤﺪا والد أنس - ﻋﻦ ﺟﻌﻔﺮ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ، ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ ، ﻋﻦ ﺟﺪﻩ ، ﻋﻦ ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻃﺎﻟﺐ ، ﻋﻦ ﺍﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ وﺳﻠﻢ أنه ﻗاﻟﻪ : - وذكر ﺣﺪﻳﺜﺎ ﻃﻮﻳﻼ ﺟﺪا، وﻓﻴﻪ : ( ﻳﺎ ﻋﻠﻲ ! ﻧﻮم العاﻟﻢ ﺧﻴﺮ ﻣﻦ ﻋﺒادة العابد) ۔
مذکورہ کتاب کے حوالے سے یہ روایت پھر دیگر کتب روافض میں پھیل گئی ، جیسے : " ﻣﻜﺎﺭﻡ ﺍﻷﺧﻼﻕ " ﻟﻠﻄﺒﺮﺳﻲ ( ﺕ 548 ﻫـ ) ( ﺹ 441/ ) ، ﻭ " ﺑﺤﺎﺭ ﺍﻷﻧﻮﺍﺭ " ﻟﻠﻤﺠﻠﺴﻲ ( 2/25 ) ۔
حدیث کے جعلی ہونے کی علامات بالکل ظاھر ہیں ، اس لئے کہ حماد بن عمرو اور محمد والد انس ، دونوں مجہول غیر معروف راوی ہیں ، جعفر صادق سے روایت کرنے والوں میں ان کا ذکر نہیں ہے ، مزید یہ کہ ان دونوں کا ترجمہ اھل سنت کی رجال الحدیث کی کتابوں میں نہ اھل تشیع کی کتابوں میں ہے ، یہاں تک کہ ( من لا یحضرہ الفقیہ ) کے محقق نے اس روایت پر نوٹ لکھا ہے : ( ﺣﻤﺎﺩ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﻭ - ﻟﻌﻠﻪ ﺍﻟﻨﺼﻴﺒﻲ - ﻏﻴﺮ ﻣﺬﻛﻮﺭ ، ﻭﻛﺬﺍ ﺃﻧﺲ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ، ﻭﻓﻲ ﺍﻟﻄﺮﻳﻖ ﺇﻟﻴﻬﻤﺎ ﻣﺠﺎﻫﻴﻞ ، ﻭﻛﺄﻧﻬﻢ ﻣﻦ ﺍﻟﻌﺎﻣﺔ – ﻳﻌﻨﻲ ﺃﻫﻞ ﺍﻟﺴﻨﺔ - ! "- ﺍﻧﺘﻬﻰ .
اس سے واضح ہوگیا کہ خود روافض بھی اس طرح کی روایتوں کو صحیح ثابت قرار نہیں دیتے ۔
ابو القاسم خوئی رافضی کی رجالِ روافض پر مرتب کی ہوئی کتاب ( معجم رجال الحدیث ) ( 7/235 ) میں حماد بن عمرو کے ترجمہ میں لکھا ہے : ( ﻟﻢ ﻳﻨﻘﻞ ﻋﻦ ﺃﺣﺪ ﺗﻮﺛﻴﻘﻪ ) ۔ بلکہ یہ طویل وصیت جس کے ضمن میں یہ الفاظ وارد ہیں ، اس وصیت کے بارے میں خود خوئی کہتے ہیں : " ﻃﺮﻳﻖ ﺍﻟﺼﺪﻭﻕ ﺇﻟﻴﻪ ﻓﻲ ﻭﺻﻴﺔ ﺍﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺁﻟﻪ ﻷﻣﻴﺮ ﺍﻟﻤﺆﻣﻨﻴﻦ ﻋﻠﻴﻪ ﺍﻟﺴﻼﻡ ... ﺿﻌﻴﻒ ﺑﻌﺪﺓ ﻣﻦ ﺍﻟﻤﺠﺎﻫﻴﻞ " ﺍﻧﺘﻬﻰ ۔
تعجب کی بات ہے کہ روافض کے یہاں جعفر صادق سے منقول سینکڑوں روایتیں اسی مجہول سند سے مروی ہیں ، جس سند کا خود روافض اعتبار نہیں کرتے ، اور مجہول راویوں ہی کی وجہ سے غیر ثابت روایتیں کتب حدیث کی راہ لیتی ہیں ۔
مذکورہ بالا روایت کے مفہوم میں بعض لوگ ایک دوسری حدیث اس طرح بیان کرتے ہیں : ( نوم العالم عبادة ) یعنی "عالم کا سونا عبادت ہے" یہ بھی ثابت نہیں ہے ۔
ملا علی قاریؒ نے الاسرار المرفوعة میں لکھا ہے کہ ( نوم العالم عبادة ) یہ بے اصل روایت ہے.
خلاصہ یہ ہے کہ :
عالم کا سونا عبادت ہے، یا عالم کا سونا جاہل کی عبادت سے بہتر ہے. دونوں حدیثیں بے اصل ہیں۔
واللہ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:6⃣2⃣2⃣
ایک جگہ عید کی نماز پڑھانے کے بعد دوسری جگہ امامت کرنا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: مسجد ہٰذا کا امام ہمیشہ پنج وقتہ وجمعہ وعیدین کی نماز اسی مسجد میں پڑھائے اور یہ امام صاحب پہلے عیدین کی نماز کسی دوسری جگہ جاکر پڑھا دیتے ہیں، اور پھر محلہ کی مسجد میں عیدین کی نماز پڑھاتے ہیں تو محلہ والوں کی نماز عیدین ہوئی یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: امام صاحب نے اپنی نماز عید پہلے پڑھنے کے بعد دوسری جگہ جو نماز عید کے نام سے پڑھائی ہے وہ عید کی نماز نہیں؛ بلکہ نفل نماز باجماعت ہوگئی ہے جو مکروہ ہے، وہ آئندہ ایسا نہ کریں؛ البتہ دوسرے مقتدیوں کی نماز ہوگئی، اب ان پر کوئی واجب نہیں۔
کذا تستفاد من العبارۃ الاٰتیۃ: صلی العشاء والوتر والتراویح ثم أم قوماً اٰخرین في التراویح ونویٰ الإمامۃ کرہ لہ ذٰلک ولا یکرہ للمأمین۔ (شامی کراچی ۲؍۴۹، شامی ۳؍ زکریا)
مستفاد:کتاب النوازل5
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
ایک جگہ عید کی نماز پڑھانے کے بعد دوسری جگہ امامت کرنا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: مسجد ہٰذا کا امام ہمیشہ پنج وقتہ وجمعہ وعیدین کی نماز اسی مسجد میں پڑھائے اور یہ امام صاحب پہلے عیدین کی نماز کسی دوسری جگہ جاکر پڑھا دیتے ہیں، اور پھر محلہ کی مسجد میں عیدین کی نماز پڑھاتے ہیں تو محلہ والوں کی نماز عیدین ہوئی یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: امام صاحب نے اپنی نماز عید پہلے پڑھنے کے بعد دوسری جگہ جو نماز عید کے نام سے پڑھائی ہے وہ عید کی نماز نہیں؛ بلکہ نفل نماز باجماعت ہوگئی ہے جو مکروہ ہے، وہ آئندہ ایسا نہ کریں؛ البتہ دوسرے مقتدیوں کی نماز ہوگئی، اب ان پر کوئی واجب نہیں۔
کذا تستفاد من العبارۃ الاٰتیۃ: صلی العشاء والوتر والتراویح ثم أم قوماً اٰخرین في التراویح ونویٰ الإمامۃ کرہ لہ ذٰلک ولا یکرہ للمأمین۔ (شامی کراچی ۲؍۴۹، شامی ۳؍ زکریا)
مستفاد:کتاب النوازل5
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:7⃣2⃣2⃣
عید کی نماز میں مسبوق کیا کرے؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: عید کی نماز میں مسبوق کیا کرے؟ اور تکبیراتِ واجبہ کب کہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: مسبوق شخص جس کی نماز عید میں پہلی رکعت چھوٹ گئی ہو، امام کے سلام پھیردینے کے بعد جب کھڑا ہو تو اولاً ثناء، تعوذ، تسمیہ، سورۂ فاتحہ اور سورت پڑھے، پھر زائد تکبیرات کہے، اس کے بعد رکوع سجدہ کرکے بقیہ نماز پوری کرے۔
(فتاویٰ محمودیہ ۸؍۳۷۸ ڈابھیل، احسن الفتاویٰ ۴؍۱۵۳)
عن حماد قال: إذا فاتتک من صلاۃ العید رکعۃ فاقضہا واصنع فیہا مثال ما یصنع الإمام في الرکعۃ الأولیٰ، وعن الحسن قال: یکبر معہ في ہذہ ما أدرک منہا، و یقضي التي فاتتہ، ویکبر فیہا مثل تکبیر الإمام في الرکعۃ الثانیۃ۔(المصنف لابن أبي شیبۃ ۴؍۲۳۷ رقم: ۶۳-۵۸۶۲)
ولو سبق برکعۃ یقرأ ثم یکبر لئلا یتوالی التکبیر (درمختار) أي لأنہ إذا کبر قبل القراء ۃ وقد کبر مع الإمام بعد القراء ۃ لزم توالی التکبیرات في الرکعتین، قال في البحر: ولم یقل بہ أحد من الصحابۃ ولو بدأ بالقراء ۃ یصیر فعلہ موافقاً لقول علي رضي اللّٰہ عنہ فکان أولیٰ، کذا في المحیط، وہو مخصص لقولہم: إن المسبوق یقضي أول صلاتہ في حق الأذکار۔ (شامي زکریا ۳؍۵۶، کراچی ۲؍۱۷۴، البحر الرائق کوئٹہ ۲؍۱۶۱، بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۳، حلبي کبیر أشرفي ۵۷۲، طحطاوي علی المراقي ۵۳۴)
ولو شرع الإمام في صلاۃ العید فجاء رجل واقتدیٰ بہ فإن کان قبل التکبیرات الزوائد یتابع الإمام علی مذہبہ ویترک رأیہ۔ (بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۲)
(۲) اور جو شخص امام کے ساتھ اس حال میں آکر شریک ہوا کہ امام پہلی رکعت کی زائد تکبیرات کہہ کر قرأت شروع کرچکا تھا، تو یہ شخص تکبیر تحریمہ کہہ کر زائد تکبیرات کہے گا۔
وإن أدرکہ بعد ما کبر الإمام الزوائد وشرع في القراء ۃ فإنہ یکبر تکبیرۃ الافتتاح ویأتي بالزوائد برأي نفسہ لا برأي الإمام؛ لأنہ مسبوق۔ (بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۲)
(۳) اور اگر امام کو رکوع میں پایا تو اگر امام کے ساتھ رکوع چھوٹ جانے کا اندیشہ نہ ہو تو ایسی صورت میں تکبیر تحریمہ کہہ کر کھڑے کھڑے زائد تکبیرات بھی کہے، پھر امام کے ساتھ رکوع میں شامل ہوجائے۔
وإن أدرک الإمام في الرکوع فإن لم یخف فوت الرکوع مع الإمام یکبر للافتتاح قائماً ویأتي بالزوائد ثم یتابع الإمام في الرکوع۔ (بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۲، الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۲؍۶۲۸ رقم: ۳۵۵۹، ۲؍۶۱۸ رقم: ۳۴۳۴)
(۴) اور اگر رکوع چھوٹ جانے کا خوف ہو تو تکبیر تحریمہ کہے اور رکوع کی تکبیر کہہ کر رکوع میں چلاجائے، اور رکوع کی حالت میں ہی تکبیراتِ زوائد کہے، اور رکوع میں اگر زائد تکبیرات اور رکوع کی تسبیحات دونوں ادا کرسکتا ہو تو دونوں کو جمع کرے ورنہ تسبیحات کو چھوڑکر صرف تکبیرات کہے گا۔
وإن خاف إن کبر یرفع الإمام رأسہ من الرکوع کبر للافتتاح وکبر للرکوع ورکع؛ لأنہ لو لم یرکع یفوتہ الرکوع فتفوتہ الرکعۃ بفوتہ فتبین أن التکبیرات أیضاً فاتہ فیصیر بتحصیل التکبیرات مفوتا لہا ولغیرہا من أرکان الرکعۃ وہٰذا لا یجوز، ثم إذا رکع یکبر تکبیرات العید في الرکوع عند أبي حنیفۃؒ ومحمد رحمہما اللّٰہ تعالیٰ، ثم إن أمکنہ الجمع بین التبکیرات والتسبیحات جمع بینہما وإن لم یمکنہ الجمع بینہما، یأتي بالتکبیرات دون التسبیحات؛ لأن التکبیرات واجبۃ والتسبیحات سنۃ والاشتغال بالواجب أولیٰ۔ (بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۲)
(۵) اور اگر رکوع میں تکبیرات پوری ہونے سے پہلے امام نے سر اٹھالیا تو جتنی تکبیرات باقی رہ گئی ہوں، وہ ساقط ہوجائیںگی۔
فإن رفع الإمام رأسہ من الرکوع قبل أن یتمہا رفع رأسہ؛ لأن متابعۃ الإمام واجبۃ وسقط عنہ ما بقي من التکبیرات۔ (بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۲، حلبي کبیر أشرفي ۵۷۲، شامي زکریا ۳؍۵۶)
مستفاد:کتاب النوازل
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
عید کی نماز میں مسبوق کیا کرے؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: عید کی نماز میں مسبوق کیا کرے؟ اور تکبیراتِ واجبہ کب کہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: مسبوق شخص جس کی نماز عید میں پہلی رکعت چھوٹ گئی ہو، امام کے سلام پھیردینے کے بعد جب کھڑا ہو تو اولاً ثناء، تعوذ، تسمیہ، سورۂ فاتحہ اور سورت پڑھے، پھر زائد تکبیرات کہے، اس کے بعد رکوع سجدہ کرکے بقیہ نماز پوری کرے۔
(فتاویٰ محمودیہ ۸؍۳۷۸ ڈابھیل، احسن الفتاویٰ ۴؍۱۵۳)
عن حماد قال: إذا فاتتک من صلاۃ العید رکعۃ فاقضہا واصنع فیہا مثال ما یصنع الإمام في الرکعۃ الأولیٰ، وعن الحسن قال: یکبر معہ في ہذہ ما أدرک منہا، و یقضي التي فاتتہ، ویکبر فیہا مثل تکبیر الإمام في الرکعۃ الثانیۃ۔(المصنف لابن أبي شیبۃ ۴؍۲۳۷ رقم: ۶۳-۵۸۶۲)
ولو سبق برکعۃ یقرأ ثم یکبر لئلا یتوالی التکبیر (درمختار) أي لأنہ إذا کبر قبل القراء ۃ وقد کبر مع الإمام بعد القراء ۃ لزم توالی التکبیرات في الرکعتین، قال في البحر: ولم یقل بہ أحد من الصحابۃ ولو بدأ بالقراء ۃ یصیر فعلہ موافقاً لقول علي رضي اللّٰہ عنہ فکان أولیٰ، کذا في المحیط، وہو مخصص لقولہم: إن المسبوق یقضي أول صلاتہ في حق الأذکار۔ (شامي زکریا ۳؍۵۶، کراچی ۲؍۱۷۴، البحر الرائق کوئٹہ ۲؍۱۶۱، بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۳، حلبي کبیر أشرفي ۵۷۲، طحطاوي علی المراقي ۵۳۴)
ولو شرع الإمام في صلاۃ العید فجاء رجل واقتدیٰ بہ فإن کان قبل التکبیرات الزوائد یتابع الإمام علی مذہبہ ویترک رأیہ۔ (بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۲)
(۲) اور جو شخص امام کے ساتھ اس حال میں آکر شریک ہوا کہ امام پہلی رکعت کی زائد تکبیرات کہہ کر قرأت شروع کرچکا تھا، تو یہ شخص تکبیر تحریمہ کہہ کر زائد تکبیرات کہے گا۔
وإن أدرکہ بعد ما کبر الإمام الزوائد وشرع في القراء ۃ فإنہ یکبر تکبیرۃ الافتتاح ویأتي بالزوائد برأي نفسہ لا برأي الإمام؛ لأنہ مسبوق۔ (بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۲)
(۳) اور اگر امام کو رکوع میں پایا تو اگر امام کے ساتھ رکوع چھوٹ جانے کا اندیشہ نہ ہو تو ایسی صورت میں تکبیر تحریمہ کہہ کر کھڑے کھڑے زائد تکبیرات بھی کہے، پھر امام کے ساتھ رکوع میں شامل ہوجائے۔
وإن أدرک الإمام في الرکوع فإن لم یخف فوت الرکوع مع الإمام یکبر للافتتاح قائماً ویأتي بالزوائد ثم یتابع الإمام في الرکوع۔ (بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۲، الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۲؍۶۲۸ رقم: ۳۵۵۹، ۲؍۶۱۸ رقم: ۳۴۳۴)
(۴) اور اگر رکوع چھوٹ جانے کا خوف ہو تو تکبیر تحریمہ کہے اور رکوع کی تکبیر کہہ کر رکوع میں چلاجائے، اور رکوع کی حالت میں ہی تکبیراتِ زوائد کہے، اور رکوع میں اگر زائد تکبیرات اور رکوع کی تسبیحات دونوں ادا کرسکتا ہو تو دونوں کو جمع کرے ورنہ تسبیحات کو چھوڑکر صرف تکبیرات کہے گا۔
وإن خاف إن کبر یرفع الإمام رأسہ من الرکوع کبر للافتتاح وکبر للرکوع ورکع؛ لأنہ لو لم یرکع یفوتہ الرکوع فتفوتہ الرکعۃ بفوتہ فتبین أن التکبیرات أیضاً فاتہ فیصیر بتحصیل التکبیرات مفوتا لہا ولغیرہا من أرکان الرکعۃ وہٰذا لا یجوز، ثم إذا رکع یکبر تکبیرات العید في الرکوع عند أبي حنیفۃؒ ومحمد رحمہما اللّٰہ تعالیٰ، ثم إن أمکنہ الجمع بین التبکیرات والتسبیحات جمع بینہما وإن لم یمکنہ الجمع بینہما، یأتي بالتکبیرات دون التسبیحات؛ لأن التکبیرات واجبۃ والتسبیحات سنۃ والاشتغال بالواجب أولیٰ۔ (بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۲)
(۵) اور اگر رکوع میں تکبیرات پوری ہونے سے پہلے امام نے سر اٹھالیا تو جتنی تکبیرات باقی رہ گئی ہوں، وہ ساقط ہوجائیںگی۔
فإن رفع الإمام رأسہ من الرکوع قبل أن یتمہا رفع رأسہ؛ لأن متابعۃ الإمام واجبۃ وسقط عنہ ما بقي من التکبیرات۔ (بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۲، حلبي کبیر أشرفي ۵۷۲، شامي زکریا ۳؍۵۶)
مستفاد:کتاب النوازل
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:8⃣2⃣2⃣
چند لوگوں کی نماز عید چھوٹ جائے توکیا کرے؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: الف:- کچھ لوگوں کی نماز عید چھوٹ گئی اب وہ ادا کرنی چاہتے ہیں تو عیدگاہ میں یا جس مسجد میں عید ہوتی ہو اس میں دوبارہ عید کینماز پڑھ سکتے ہیں یا کسی دوسری جگہ جہاں نماز نہ ہوتی ہو وہیں جاکر ادا کریں؟
ب: ان لوگوں میں ایسے لوگ تو ہیں جو عید کی نماز چھوٹی چھوٹی سورتوں سے پڑھالیںگے مگر خطبہ ان کے بس کی بات نہیں، تو کیا عید کا خطبہ وہ امام یا شخص پڑھ دے جس نے نماز ادا کرلی ہے، اور خطبہ بھی پڑھ دیا ہے، یا سن لیا ہے، یہ جائز ہے یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:جو معتد بہٖ لوگ عید کی نماز سے رہ گئے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ کسی میدان، ہال یا اسی طرح مسجد میں نماز ادا کریں جہاں پہلےنماز نہ ہوئی ہے اور افضل یہ ہے کہ جو امامت کرے وہی خطبہ بھی دے، جو شخص پہلے خطبہ دے چکا ہے اس کا دوبارہ خطبہ پڑھنا درست نہ ہوگا، جیسے کہ دوسری مرتبہ ایک ہی شخص کا ایک ہی وقت میں اذان دینا درست نہیں ہوتا۔
المستفاد: ولو أمکنہ الذہاب إلی إمام اٰخر فعل لأنہا تؤدي بمصر واحد بمواضع کثیرۃ اتفاقاً۔ (درمختار کراچی ۲؍۱۷۶، زکریا ۳؍۵۹)
ولا ینبغي أن یصلي غیر الخطیب لأنہا کشئ واحد۔ (درمختار کراچی ۲؍۱۶۲، زکریا ۳؍۳۹)
یکرہ لہ أن یؤذن في مسجدین؛ لأنہ إذا صلی في المسجد الأول یکون متنفلاً بالأذان في المسجد الثاني۔ (شامی ۱؍۴۰۰کراچی )
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
چند لوگوں کی نماز عید چھوٹ جائے توکیا کرے؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: الف:- کچھ لوگوں کی نماز عید چھوٹ گئی اب وہ ادا کرنی چاہتے ہیں تو عیدگاہ میں یا جس مسجد میں عید ہوتی ہو اس میں دوبارہ عید کینماز پڑھ سکتے ہیں یا کسی دوسری جگہ جہاں نماز نہ ہوتی ہو وہیں جاکر ادا کریں؟
ب: ان لوگوں میں ایسے لوگ تو ہیں جو عید کی نماز چھوٹی چھوٹی سورتوں سے پڑھالیںگے مگر خطبہ ان کے بس کی بات نہیں، تو کیا عید کا خطبہ وہ امام یا شخص پڑھ دے جس نے نماز ادا کرلی ہے، اور خطبہ بھی پڑھ دیا ہے، یا سن لیا ہے، یہ جائز ہے یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:جو معتد بہٖ لوگ عید کی نماز سے رہ گئے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ کسی میدان، ہال یا اسی طرح مسجد میں نماز ادا کریں جہاں پہلےنماز نہ ہوئی ہے اور افضل یہ ہے کہ جو امامت کرے وہی خطبہ بھی دے، جو شخص پہلے خطبہ دے چکا ہے اس کا دوبارہ خطبہ پڑھنا درست نہ ہوگا، جیسے کہ دوسری مرتبہ ایک ہی شخص کا ایک ہی وقت میں اذان دینا درست نہیں ہوتا۔
المستفاد: ولو أمکنہ الذہاب إلی إمام اٰخر فعل لأنہا تؤدي بمصر واحد بمواضع کثیرۃ اتفاقاً۔ (درمختار کراچی ۲؍۱۷۶، زکریا ۳؍۵۹)
ولا ینبغي أن یصلي غیر الخطیب لأنہا کشئ واحد۔ (درمختار کراچی ۲؍۱۶۲، زکریا ۳؍۳۹)
یکرہ لہ أن یؤذن في مسجدین؛ لأنہ إذا صلی في المسجد الأول یکون متنفلاً بالأذان في المسجد الثاني۔ (شامی ۱؍۴۰۰کراچی )
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail