جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
1.42K subscribers
117 photos
36 files
685 links
"جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند" میں روزانہ ایک دو مسئلہ مدلل ومزین انداز میں بطورِ استفادہ آپ کو ملے گا،

آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda

https://www.hanafimasail.com/?m=1
Download Telegram
ابن السراج نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دس ہزار ختم کئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اتنی ہی قربانیاں کیں۔

میں کہتا ہوں کہ میں نے اسی قسم کی بات مفتی حنفیہ شیخ شہاب الدین احمد بن الشلبی، جو صاحبِ بحر الرائق کے اُستاذ ہیں، کی تحریر میں بھی دیکھی ہے، جو موصوف نے علامہ نیویری کی “شرح الطیبہ” سے نقل کی ہے، اس میں موصوف نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ حنابلہ میں سے ابنِ عقیل کا قول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہٴ ثواب مستحب ہے۔

میں کہتا ہوں کہ ہمارے علماء کا یہ قول کہ: “آدمی کو چاہئے کہ اپنے عمل کاثواب دُوسروں کو بخش دے” اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی داخل ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا زیادہ استحقاق رکھتے ہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے ہمیں گمراہی سے نجات دلائی، پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ثواب کا ہدیہ کرنے میں ایک طرح کا تشکر  اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات کا اعتراف ہے، اور (آپ صلی اللہ علیہ وسلم اگرچہ ہر اعتبار سے کامل ہیں، مگر) کامل زیادتِ کمال کے قابل ہوتا ہے۔ اور بعض مانعین نے جو استدلال کیا ہے کہ یہ تحصیلِ حاصل ہے، کیونکہ اُمت کے تمام عمل خود ہی آپ کے نامہٴ عمل میں درج ہوتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ یہ چیز ایصالِ ثواب سے مانع نہیں، چنانچہ اللہ  تعالیٰ نے ہمیں خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمتیں نازل فرماتے ہیں، اس کے باوجود ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آپ کے لئے رحمت طلب کرنے کے لئے اللّٰھم صل علیٰ محمد کہا کریں۔”

مستفاد:آپ کے مسائل اور انکا حل

واللہ اعلم


محمد امیر۔حنفی دیوبندی

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
نماز استخارہ.pdf
1018.1 KB
نماز استخارہ کے فضائل و مسائل
جواب نمبر:6⃣0⃣2⃣

سوال:
التحیات (قعدہ) میں اشھد ان الا لا الہ الا اللہ کہتے وقت کس ہاتھ کی انگلی اٹھانی چاہئے؟ ایک شخص کو مین دیکھا کہ وہ بائیں ہاتھ کی انگلی اٹھا رہا ہے۔؟

الجوب:
التحیات میں اشھد ان لا الہ الا اللہ کہتے وقت دائیں ہاتھ کی انگلی اٹھانا سنت ہے بائیں ہاتھ کی انگلی اٹھانا صحیح نہیں ہے۔

قال العلامة ابن عابدین:(تحت قولہ بل فی متن دررالبحار الخ)۔۔۔۔۔۔وصفتھا ان یحلق من یدہ الیمنی عند الشھادت الابھام والوسطی ویقبض البنصر والخنصر ویشیر بالمسبحة الخ

(در مختار908/1 باب صفة الصلوة قبل مطلب مھم فی عقد الاصابع عند التشھد)

قال العلامة حسن بن عمار الشرنبلالی رح:وتسن الاشارة فی الصحیح لانہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رفع اصابعہ السبابة وقد احناھا شیئا ومن قال انہ لا یشیر اصلا فھو خلاف الروایة والدرایة وتکون بالمسبحة ای السبابة من الیمنی فقد لیشیر بھا۔۔۔۔۔یرفعھا ای المسبحة عند النفی۔۔۔۔۔ویضعھا عند الاثبات۔
مراقی الفلاح علی صدر الطحطاوی218فصل فی سنن الصلوة

مستفاد:فتاوی حقانیہ۔آپکے مسائل اور انکا حل۔

واللہ اعلم

کتبہ:محمد امیر حنفی دیوبندی

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail


سوال # 152943
کیا التحیات میں انگلی کو حرکت دینا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے؟ اور کیا یہ سنت سے ثابت ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں بتائیں، مجھے کوئی مسلک یا فرقہ کے حالات نہیں چاہئے۔
Published on: Jun 21, 2017 جواب # 152943
بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa: 943-887/sd=9/1438


جی ہاں! التحیات میں انگلی کو حرکت دینا یعنی اشہد أن لا إلہ پر انگلی اٹھاکر إلا اللہ پر گرادینا سنت سے ثابت ہے ، علامہ شامی اور ملاعلی قاری نے اس مسئلے کی وضاحت کے لیے باقاعدہ رسالہ لکھا ہے ، جو تعلیق و تخریج کے بعد طبع ہوچکا ہے ، تفصیل کے لیے یہ رسالہ دیکھا جاسکتا ہے ۔


واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
جواب نمبر:7⃣0⃣2⃣

نذر کا کھانا محتاج کا حق ہے
سوال:
ایک شخص دانشمند فتاوی جدیدہ ایجاد کرتا ہے کہ نذراللہ اور ایصال ثواب کا کھانا محتاج وفقراء وغیرہ کا حق ہے۔متمول اور مرفہ الحال کو ناجایز ہے۔یہ صحیح ہے یا غلط۔؟
الجوب:
یہ صحیح ہے کہ نذراللہ وایصال ثواب کا کھانا ونقد وغیرہ فقراء ومساکین کا حق ہے۔امراء ورئساءکو کھلانا نہیں چاہئے۔

مصرف الزکوة الخ وھو ایضا مصرف لصدقة الفطر والکفارة والنذر وغیر ذالک من الصدقات والواجبة۔
(در مختار باب المصرف 79/2 ط۔س339/3ظفیر)

واللہ اعلم
فتاوی دارالعلوم دیوبند

کتبہ:محمد امیر حنفی دیوبندی

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:8⃣0⃣2⃣

نذر کی چیز خود کھانا جائز نہیں۔

سوال:
ایک شخص نے نذر مانی لہ اللہ تعالی میرا یہ کام آسان کرے تو میں واسطے اللہ کے پیر صاحب کی رتنی دونگا اسکا وہ کام ہوگیا تو وہ نذر کی چیز اپ بھی کھاتا ہے اولاد کو بھی دیتا ہے اور غنی کو بھی دیتا ہے اور مسکنوں کوبھی دیتا ہے۔جائز ہے یا نہیں۔؟

الجواب:
نذر کی چیز خود نہیں کھانی چاہئے مسکینوں اور فقیروں کو دینی چاہئے۔اور اس طرح نذر نہ کرنی چاہئے۔چنانچہ اس طرح کرنی چاہئے کہ اگر میرا کام ہوگیا تو اللہ کے واسطے محتاجوں کو اس قدر دونگا (نذر کی چیز غنی کو بھی کھانا جائز نہیں جیسے زکوة اورصدقة الفطر۔

مصرف الزکوةالخ وھو مصرف ایضا لصدقة البر والکفارة والنذر۔
رد المحتار باب المصرف79/2ط۔س339/3ظفیر
ولا الی من بینھا ولا الخ اوزوجية الخ ولا الی غنی یملک قدر نصاب فارغ عن حاجة الاصلیة من ای مال کان۔
(الدرالمختار علی ھامش ردالمحتار باب المصرف86/2۔88ط۔س336/2ظفیر)

واللہ اعلم
فتاوی دارالعلوم دیوبند

کتبہ؛محمد امیر۔حنفی دیوبندی

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:9⃣0⃣2⃣

جس شخس نے چند غریبوں کو کھانا دینے کی نذر مانی ہو،کیا رقم دے سکتا ہے۔

سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین مسئلہ ذیل میں کہ زید نے نذر مانی تھی کہ اگر لڑکا اچھا ہوگیا تو میں پانچ غریبوں کو کھا نا کھلاونگا لیکن لڑکا اچھا ہونے کے بعد اس نے بجائے پانچ غریبوں کے صرف ایک غریب کو پانچ غریبوں کے کھانے کے پیسے دےدئے تو نذر پوری ہوگئی یا نہیں اور کیا ان پیسوں کو کھانے میں استعمال لانا ضروری ہے یا دیگر اشیاء میں بھی خرچ کرسکتا ہے۔ بینوا توجروا

الجواب:
سورت مسئلہ میں اگر ایک غریب کو دیدیا توتب بھی جائز ہے اگر کھانے کے بجائے پیسے دئے تو بھی جائز ہے۔لیکن پیسے صدقة الفطر کی تعداد سے ایک وقت کے کم نہ ہو۔در مختار میں ہے 741/3نذر ان یتصدق بعشرة دراھم من الخبز فتصدق بغیرہ جاز ان سوی العشرة الخ قلت وکما لا یتعین عددہ ففی الخانیة ان زوجت بنتی فالف درھم من مال صدقة لکل مسکین درھم فزوج ودفع الالف الی مسکین جملة جاز الخ۔

مستفاد:فتاوی مفتی محمود

واللہ اعلم

کتبہ؛محمد امیر حنفی دیوبندی

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:0⃣1⃣2⃣

بتوں کی نذر کا کھانا حرام ہے
سوال:
ہندووٴں کے تہواروں پر “پرشاد” نام کی خوراک تقسیم کی جاتی ہے، جس میں پھل اور پکے پکائے کھانے بھی ہوتے ہیں، اور یہ خوراک مختلف بتوں کی نذر کرکے تقسیم کی جاتی ہے، اس کو بعض مسلمان بھی کھاتے ہیں۔ ازراہ کرم بتائیے کہ یہ مسلمانوں کے لئے مطلق حرام ہے یا جائز ہے؟
جواب:
بتوں کے نام کی نذر کی ہوئی چیز شرعاً حرام ہے، کسی مسلمان کو اس کاکھانا جائز نہیں۔

مستفاد: آپ کے مسائل اور انکا حل۔

واللہ اعلم

محمد امیر۔حنفی دیوبندی

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:1⃣1⃣2⃣

نذر ونیاز کے نام پر کھانا بناکر امیر غریب سب کو کھلانا کیسا ہے؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: نیاز کیا چیز ہے عام طور سے کوئی مکان بناتا ہے تب مکانوں کی نیاز کرتا ہے اور کھانا پکاکر کھلاتا ہے، ایسے ہی پریشانی وغیرہ آتی ہے تب نیاز کرتے ہیں، یہ نیاز کا کھانا خوشی وغم دونوں موقعوں پر بنتا ہے، معلوم یہ کرنا ہے کہ یہ نیاز کے نام پر کھانا بنانا اور پھر امیر غریب سب کو کھلانا کیسا ہے، اگر یہ نیاز کے نام کا کھانا ٹھیک نہیں ہے تو پھر عوام کو کس انداز سے سمجھائیں؟

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: بلا التزام کے صدقہ کرنا جائز ہے مگر مروجہ نذرونیاز اور فاتحہ اعمال بدعت ہیں۔
(مستفاد: فتاویٰ رشیدیہ ۱۵۴)
عن العرباض بن ساریۃ رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ذات یوم في خطبتہ…: إیاکم ومحدثات الأمور، فإن کل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ۔ (مسند أحمد ۶؍۱۲۶، سنن أبي داؤد ۲؍۶۳۵، سنن الترمذي ۲؍۹۶، سنن ابن ماجۃ ۱؍۶)

مستفاد:کتاب النوازل

فقط واللہ تعالیٰ اعلم

محمد امیر حنفی دیوبندی

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:2⃣1⃣2⃣

سودی کاروباری کے یہاں دعوت کھانا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: سودی لین دین کرنے والے کے یہاں دعوت وغیرہ میں جانا درست ہے یا نہیں؟

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اگر اُس شخص کی غالب آمدنی حرام ہے تو اُس کے یہاںدعوت کھانے سے احتراز کرنا چاہئے۔ 
لا یجیب دعوۃ الفاسق المعلن لیعلم أنہ غیر راضٍ بفسقہ، وکذا دعوۃ من کان غالب مالہ من حرام ما لم یخبر أنہ حلال، وبالعکس یجیب ما لم یتبین عندہ أنہ حرام، کذا في التمرتاشي، أکل الربا وکاسب الحرام أہدیٰ إلیہ أو أضافہ وغالب مالہ حرام لایقبل ولا یأکل ما لم یخبرہ أن ذٰلک المال أصلہ حلال ورثہ أو استقراضہ۔ (الفتاویٰ الہندیۃ، کتاب الکراہیۃ / الباب الثاني عشر ۵؍۳۴۳)

فقط واللہ تعالیٰ اعلم


رشوت لینے والے مسلمان کے پیسہ سے کھانا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: مسلم ساتھی کے پیسہ سے کھانا پینا جب کہ وہ رشوت بھی لیتے ہوں جائز ہے یا نہیں؟

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: جو ساتھی رشوت لیتے ہوں اور اُن کی غالب آمدنی رشوت پر مشتمل ہو، تو اُن کی دعوت قبول کرنی درست نہیں ہے۔ اور اگر غالب آمدنی رشوت سے نہ ہو؛ بلکہ دوسرے حلال کاروبار سے ہو، تو دعوتقبول کرسکتے ہیں۔
(کفایت المفتی ۵؍۱۰۵)
آکل الربا وکاسب الحرام أہدیٰ إلیہ أو أضافہ وغالب مالہ حرام لایقبل ولا یأکل ما لم یخبرہ أن ذٰلک المال أصلہ حلال، وإن کان غالب مالہ حلالاً لا بأس بقبول ہدیتہ والأکل منہا۔ (الفتاویٰ الہندیۃ، کتاب الکراہیۃ / الباب الثاني عشر ۵؍۳۴۳)
غالب مال المہدي إن حلالاً لا بأس بقبول ہدیتہ وأکل مالہ ما لم یتبین أنہ حرام۔ (مجمع الأنہر، کتاب الکراہیۃ / فصل في الأکل ۲؍۱۸۶ مکتبۃ فقیہ الأمۃ)


مستفاد:کتاب النوازل


فقط واللہ تعالیٰ اعلم

محمد امیر حنفی دیوبندی

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔



جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:3⃣1⃣2⃣

سود سے توبہ کرنے والے کے گھر دعوت کا حکم 
سوال:۔ ایک شخص اپنی دعوت کو پردہ نہیں کراتا اور نکاح میں خلافِ شرع  کام کرتا ہے اور بے نمازی بھی ہے اور تھوڑی کچھ زمین رہن رکھ کر اس سے نفع بھی حاصل کرکے تصرف کرتا ہے ، اب وہ شخص توبہ کرکے یوں کہتا ہے کہ میں آئندہ ایسا کام نہیں کروں گا جس مال میں شک ہے وہ نہیں کھاؤں گا، اب اس کے گھر میں دعوت کھانا جائز ہے یا نہیں؟ 
الجواب
جب مشکوک مال نہیں کھلاتا تو دعوت میں کیا شک ہے۔ 
سوال:۔ ایک شخص کا دو قسم کا مال ہے اور اکثر حلال ہے تو اس کے گھر میںدعوت کھانا جائز ہے یا نہیں؟ وہ شخص یوں کہتا ہے کہ میں نے حلال مال الگ رکھا ہے اور اسی حلال سے کھلانا چاہتا ہوں ، اب یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟ 
الجواب
اگر حلال علیحدہ ہے تو اس کا کھانا ہر حال میں جائز ہے لیکن اگر مقتدا کیدعوت قبول کرنے سے عوام کو ایسی آمدنی کمانے پر جرأت بڑھتی ہو تو مقتدا کو احتیاط چاہئے۔

مستفاد: امدادالاحکام

فقط واللہ اعلم

محمد امیر حنفی دیوبندی

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔



جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:4⃣1⃣2⃣

طلاق دینے کے بعد مہر اور بچوں کا خرچ دینا ہوگا۔

سوال:
اگر زید اپنی بیوی کو طلاق نامہ ارسال کردے تو کیا شرعی حیثیت سے وہ حق مہر اور بچوں کے خرچ کا ذمہ دار ہوگا؟ جبکہ وہ بچے لینا نہیں چاہتا اور اس کے مالی وسائل بھی اتنے نہیں کہ وہ حق مہر کی کثیر رقم کے علاوہ بچوں کا خرچہ بھی یکمشت دے سکے۔ جبکہ زید کی سسرال والے طلاق نامہ ملنے پر یکمشت مہر کی رقم اور بچوں کے خرچے کا دعویٰ کریں گے، ایسی صورت میں شرعی حکم کیا ہے؟

جواب:
 مہر تو دینا ہی پڑے گا، عورت اگر چاہے تو قسطوں میں وصول کرسکتی  ہے، بچوں کو خرچ اس کو ماہوار دینا ہوگا، خرچ کی مقدار صلح صفائی سے بھی طے ہوسکتی ہے اور عدالت کے ذریعہ بھی۔

مستفاد: آپ کے مسائل اور انکا حل

واللہ اعلم

محمد امیر حنفی دیوبندی


دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:5⃣1⃣2⃣

نکاح ،طلاق، مہر کے ثبوت کی ایک صورت۔
سوال:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مندرجہ ذیل مسائل میں۔
(الف)خالد نے اپنی لڑکی خالدہ کا نکاح جلسہ عام میں زاہد سے کیا خالدہ شوہر زاہد کے گھر گئی شب اولیٰ میں خالدہ نے زاہد سے کہا کہ تمہاری شکل مجھے پسند نہیں ہے میں نے دین مہر چھوڑدیا اور تم مجھے طلاق دیدو خالدہ کی دادی اور نانی نے چند دفعہ خالدہ کو زاہد کے گھر پہنچادیا لیکن زاہد  اور خالدہ میں کسی قسم کا تعلق نہیں رہا ہے بعدہ خالدہ برابر اپنے باپ کے گھر مقیم رہی نکاح کے کچھ عرصہ بعد زاہد نے خالدہ کو تین طلاق دیدی۔
(ب)نکاح کے وقت خالد نے ناصر اور صابر کو خالدہ کے پاس اجازت کے لے روانہ کیا اور دونوں گواہوں نے بتلایا کہ خالدہ نے نکاح کی اجازت دیدی ہے لہٰذا نکاح پڑھادیا گیا ہے لیکن جب خالدہ اور زاہد کاجھگڑا اور رنجش انجمن دارجلنگ میں پیش ہوا تو خالدہ نے بتلایا کہ شادی کے وقت تک اس کو حیض نہیں ہوا تھا اور وہ نابالغہ تھی اور خالدہ کی دادی خود مقرہ ہے کہ شادی کے وقت وہ خالدہ نابالغہ تھی اور خود خالد کو علم تھا بوقت نکاح اپنی لڑکی کے نابالغہ ہونے کا، تو اس صورت میں خالد کو خود ولی ہوکر نکاح پڑھانے کی اجازت دینی چاہیے تھی لیکن اس کے خلاف خالد نے نابالغہ خالدہ کی رضامندی دریافت کرائی ہے اور خالدہ نے اجازت بھی دیدی ہے جب کہ نابالغہ ہونے کی صورت میں خالدہ اجازت دینے کا استحقاق نہیں رکھتی ہے خالدہ بوقت نکاح نابالغہ تھی اس صورت میں اس کی رضامندی کیا مشروع ہے۔
(۲)خالد باپ ہونے کی صورت میں بذات خود حقیقی ولی تھا لیکن اس نے نابالغہ خالدہ کی رضامندی سے نکاح پڑھادیا ہے۔
(۳) کیامندرجہ بالا ۱و ۲ صورتوں میں خالدہ کا زاہد سے نکاح درست ہوا ہے۔
(۴) مندرجہ بالا الف کے مطابق طلاق کی کیا صورت رہے گی خالدہ نے مہرچھوڑنے کے لیے کہا تھا کیا یہ خلع کی شکل ہوئی ۔ 
(۵)شب اولیٰ میں نابالغہ خالدہ نے زاہد کے ساتھ طوفان بدتمیزی برپاکی اور زاہد کے ہاتھ کی انگلیوں کو دانت سے زخمی کیا لہٰذا زاہد ہمبستر نہیں ہوسکا کیا اس کو خلوت صحیح تصویر کیا جائے گا۔
(۶) حقیقی ولی خالد کی غلطی کے باعث اگرنکاح درست نہیں ہوا تو کیا پھر بھی زاہد دین مہر کاذمہ دار ہوگا۔
(۷)اگر نکاح درست ہواور جب کہ نابالغہ خالدہ نے طلاق طلب کی اورمعاف کرنے کوکہا کیاایسی صورت میں زاہد دین مہر ادا کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔

الجـواب وباﷲ التـوفـیـق
جواب:صورت مسئولہ میں حسب تحریر سوال نکاح بالکل صحیح منعقد ہوا اور خلوۃ صحیح بھی متحقق ہوگئی اورمہر بھی پورا واجب الاداء ہوگیا اور تین طلاقبھی واقع ہوکر حرمت مغلظہ ہوگئی نمبروار واقعات  مذکورہ سے اس حکم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔نابالغہ ہونے کی وجہ سے مہر کی معافی درست نہیں ہوئی اور مراہقہ ہونے کی وجہ سے خلوۃ صحیحہ متحقق ہوگئی۔

مستفاد:نظام الفتاوی

فقط واللہ  تعالیٰ اعلم۔

محمد امیر حنفی دیوبندی۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:6⃣1⃣2⃣

مقروض آدمی کا حج کرنا جائز ہے لیکن قرضہ ادا کرنے کی بھی فکر کرے

سوال:
ایک صاحب مقروض ہیں، لیکن پیسہ آتے ہی بجائے قرضہ واپس کرنے کے وہ پاکستان سے اپنے والدین کو بلاکر ساتھ ہی خود بھی حج کرتے ہیں، ایسے حج کرنے کے بارے میں شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب:
 حج تو ہوگیا، مگر کسی کا قرضہ ادا نہ کرنا بڑی بُری بات ہے، کبیرہ گناہوں کے بعد سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی مقروض ہوکر دُنیا سے جائے اور اتنا مال چھوڑ کر نہ جائے جس سے اس کا قرضہ ادا ہوسکے۔ میّت کا قرضجب تک ادا نہ کردیا جائے وہ محبوس رہتا ہے، اس لئے ادائے قرض کا اہتمام سب سے اہم ہے۔

مستفاد:آپ کے مسائل اور انکا حل

واللہ اعلم

محمد امیر حنفی دیوبندی


دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:7⃣1⃣2⃣

قرض دار کا حج کے لئے جانا
سوال:
اگر کسی شخص کے ذمہ قرض کی ادائیگی باقی ہو، لیکن کچھ رقم اسے مہیاہوگئی ہوتو کیاوہ سفرِحج کرسکتاہے ؟

جواب:
 قرض باقی رہنے کی دوصورتیں ہیں ، ایک صورت یہ ہے کہ قرض باقی ہے لیکن بنیادی ضروریات کے علاوہ اتنی منقولہ اورغیر منقولہ جائداد موجودہے کہ اس سے قرض بھی اداہوسکتاہے اور سفر حج کے اخراجات بھی مہیا ہوسکتے ہیں ، تب تو اس پر حج واجب ہے ، اگر سامان بیچنا نہیں چاہتاتو اسے قرض لے کر حج کرناچاہئے ، جسے بعد میں ادا کردے ، کیونکہ حج اس پر فرض ہے ، اور قرض محض اس لئے لینا پڑ رہاہے کہ وہ اپنے سامان کو فروخت کرنانہیں چاہتاورنہ حقیقت میں وہ صاحب ِ استطاعت ہے ۔
دوسری صورت یہ ہے کہ اس کے اندر قرض اداکرنے کی فی الحال  استطاعت ہی نہیں ہے ، تو اگر اس بات کا غالب گمان ہو اور کوئی صورت پیش نظر ہوکہ آئندہ اس کے لئے اداء قرض کی سبیل پیداہوجائے گی ، تب توبہتر ہے کہ قرض لے کر حج کرلے ،اور اس سے فریضئہ حج ادا ہوجائے گا  ،کیونکہ نہ معلوم آئندہ صحت وفاکرے یانہ کرے ، اور اگر بظاہر ادائےقرض کی کوئی صورت سامنے نہ ہوتو قرض لے کر حج کرنا بہتر نہیں ، کیونکہ اس سے دوسروں کاحق ضائع ہونے کااندیشہ ہے، اور لوگوں کے حقوق ضائع کرکے ایک ایسی عبادت انجام دینا جوابھی فرض نہیں ، نہ شریعت کی نظرمیں پسندیدہ عمل ہے ، اورنہ عقلایہ عمل مناسب ہے ، تاہم اگر کوئی شخص اس طرح حج کرلے تو فریضہ اداہوجائے گااگر بعد میں صاحب ِ استطاعت ہوجائے تو دوبارہ حج کرنافرض نہیں ۔

مستفاد:کتاب الفتاوی

واللہ اعلم

محمد امیر حنفی دیوبندی


دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔ 


جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:8⃣1⃣2⃣

 قرض ادا کرے یا حج کرے؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: اگر کسی شخص کے اوپر قرض ہے اور وہ حج کرنا چاہتا ہے، تو کیا اس کا حج ادا ہوجائے گا یا نہیں؟ اگر ادا ہوگا تو حج اسلام ادا ہوگا، یاپھر پہلے اس کو قرض ادا کرنا ضروری ہے؟ 

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ 
الجواب وباللّٰہ التوفیق:مناسب یہ ہے کہ پہلے قرض ادا کرے پھر حج کوجائے؛ لیکن اگر قرض کی ادائیگی سے پہلے ہی حج کرلے تو اس کا حج اسلام ادا ہوجائے گا، بعد میں حج کرنا لازم نہیں۔

عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: مطل الغني ظلم۔ (صحیح البخاري، کتاب الاستقراض وأداء الدیون / باب مطلب الغني ظلم رقم: ۲۴۰۰، فتح الباري ۶؍۷۸ بیروت)
وإن کان في مالہ وفاء بالدین یقضي الدین ولا یحج، ویکرہ الخروج إلی الغزو والحج لمن علیہ الدین۔ (قاضي خان ۱؍۳۱۳، الفتاویٰ الہندیۃ ۱؍۲۲۱)
کذا الغریم لمدیون لا مال لہ یقضي بہ … وعن قضاء دیونہ حالۃً أو مؤجلۃً۔ (غنیۃ الناسک ۲۰ إدارۃ القرآن کراچی، کذا في الشامي ۳؍۴۵۴ زکریا)
الحنفیۃ قالوا: الاستطاعۃ ہي القدرۃ علی الزاد والراحلۃ بشرط أن یکونا زائدین عن حاجاتہ الأصلیۃ کالدین الذي علیہ۔ (الفقہ علی المذاہب الأربعۃ مکمل ۳۵۱، کذا في الدر المختار ۳؍۴۶۰-۴۶۱ زکریا)
ولو حج الفقیر ثم استغنی لم یحج ثانیا؛ لأن شرط الوجوب التمکن من الوصول إلی موضع الأداء۔ (مجمع الأنہر ۱؍۳۸۴۴ مکتبہ فقیہ الأمت، فتاویٰ رحیمیہ ۵؍۲۲۴- ۲۲۶)


مستفاد:کتاب النوازل

فقط واﷲ تعالیٰ اعلم 

محمد امیر حنفی دیوبندی

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:9⃣1⃣2⃣

جس پر حج فرض نہ ہو اس کا قرض لے کر حج کرنا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: میں ایک غریب کسان ہوں، میں اپنے رشتہ دار سے قرضلے کر حج بیت اﷲ کرنا چاہتا ہوں، میں اپنے رشتہ داروں کا قرض انشاء اﷲ  دس سال کے عرصہ میں واپس ادا کرنے کا ارادہ کرتا ہوں۔ تو معلوم یہ کرنا ہے کہ میرا حج قابلِ قبول ہے یانہیں؟ اگر قبولیت کی کوئی شکل ہو، تو میں آئندہ سال حج کا فارم بھروں، اور اگر نہیں تو میں اپنا ارادہ ملتوی کروں؟ 

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ 
الجواب وباللّٰہ التوفیق: جب آپ پر حج واجب نہیں ہے تو قرض کا بوجھ اٹھانے کی کیا ضرورت ہے؟ تاہم اگر قرض لے کر حج کو گئے تو حج ہوجائے گا۔

قال اللّٰہ تبارک وتعالیٰ: {وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلا} [اٰل عمران: ۹۷]
عن طارق قال: سمعت ابن أبي أوفی رضي اللّٰہ عنہ یسأل عن الرجل یستقرض ویحج، قال: یسترزق اللّٰہ ولا یستقرض، قال: وکنا نقول: لا یستقرض إلا أن یکون لہ وفاء۔ (السنن الکبریٰ للبیہقي ۴؍۵۴۴۴ رقم: ۸۶۵۴ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
عن محمد بن المنکدر أنہ کان یستقرض ویحج، فقیل لہ: تستقرض وتحج؟ فقال: إن الحج أقضی للدین۔ (المصنف لابن أبي شیبۃ ۸؍۷۹۶ رقم:  ۱۶۱۱۴ المجلس العلمي)
ووسعہ أن یستقرض ویحج الخ، أما إن علم أنہ لیس لہ جہۃ القضاء أصلاً فالأفضل عدم الاستقراض؛ لأن تحمل حقوق اللّٰہ تعالیٰ أخف من ثقل حقوق العباد۔ (غنیۃ الناسک ۳۳، ومثلہ في الدر المختار مع الشامي ۳؍۴۵۵ زکریا، خانیۃ علی الہندیۃ ۱؍۲۸۴، البحر العمیق ۱؍۳۸۶، طحطاوي علی المراقي ۳۹۷)


مستفاد:کتاب النوازل

فقط واﷲ تعالیٰ اعلم 

محمد امیر حنفی دیوبندی

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:0⃣2⃣2⃣

دکان بیچ کر حج کرنا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: زید کے پاس پانچ دوکانیں اور رہنے کے لئے ایک مکان ہے، چار دوکانیں کرایہ پر ہیں، زید خود بھی دوکان کرتا ہے، اتنا پیسہ نہیں ہے کہحج کرسکے، کیا اس کے ذمہ دوکان بیچ کر حج کرنا فرض ہے؟ جب کہ صورتِ حال یہ ہے کہ اگر دوکانوں کا کرایہ نہ آئے تب بھی گذر بسر ہوسکتی ہے؟

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:جو ضرورت سے زائد دوکانیں ہیں، اگر ان کی قیمت اتنی ہے کہ وہ مصارفِ سفر حج میں کافی ہوجائے، تو مسئولہ صورت میں زید پر زائد دوکانیں فروخت کرکے حج کو جانا لازم ہے۔

بخلاف الفاضل عنہ من مسکن أو عبد أو متاع أو کتب شرعیۃ أو اٰنیۃ…، تثبت بہا الاستطاعۃ۔ (شامي ۳؍۴۶۰ زکریا)
وإن کان لہ من الضیاع مالو باع مقدار ما یکفي الزاد والراحلۃ یبقی بعد رجوعہ من ضیعتہ قدر ما یعیش بفلتہ الباقي افترض علیہ الحج، وإلا لا۔ (غنیۃ الناسک ۲۰، شامي ۳؍۴۹۱ زکریا، البحر العمیق ۱؍۳۸۱، الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۳؍۴۷۳ زکریا، انوار مناسک ۱۶۹)

مستفاد:کتاب النوازل

فقط واﷲ تعالیٰ اعلم

محمد امیر حنفی دیوبندی


دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:1⃣2⃣2⃣

کیا تبلیغ میں جانے کا ثواب ۷؍لاکھ گنا ہے؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: تبلیغی جماعت کے مقررین کا کہنا ہے کہ جماعت میں نکلنے کے بعد ایک نماز کا ثواب ۷۷؍لاکھ نمازوں کے برابر ملتا ہے، دوسرے یہ کہ جماعت میں نکلنا یہ جہاد فی سبیل اﷲ بالسیف کے برابر ہے یانہیں؟ اور یہ کہنا کہ جماعت میں نکلنا یہ انبیاء کرام والا کام ہے، یہ صحیح ہے یانہیں؟ 

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: ایک عمل پر ۷؍لاکھ گنا کا ثواب کا وعدہ درا صل مجاہد فی سبیل اﷲ کے لئے ہے، تبلیغی جماعت میں جانے والے لوگ اس میں داخل نہیں ہیں۔
(مستفاد: تحفۃ الالمعی ۴؍۵۶۴)
باقی اگر اﷲ تعالیٰ اپنے فضل سے عطا فرمادے تو کوئی بعید بھی نہیں ہے۔ (فتاوی محمودیہ ۴؍۳۰۰ ڈابھیل)
اور جماعت جو کام کرتی ہے وہ انبیاء علیہم السلام کے کئے ہوئے کاموں میں  سے ایک ہے، اس حد تک یہ بات صحیح ہے؛ لیکن اگر کوئی جاہل یہ کہے کہ انبیاء والا کام تو صرف تبلیغی جماعت ہی ہے تو یہ بات بلا شبہ غلط ہوگی۔
عن علي وأبي الدرداء وأبي ہریرۃ وأبي أمامۃ وعبد اللّٰہ بن عمر وعبد اللّٰہ بن عمرو وجابر بن عبد اللّٰہ وعمران بن حصین رضي اللّٰہ تعالیٰ عنہم کلہم یحدث عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم أنہ قال: من أرسل نفقۃ في سبیل اللّٰہ، وأقام في بیتہ فلہ بکل درہم سبع مائۃ درہم، ومن غزا بنفسہ في سبیل اللّٰہ وأنفق في وجہہ ذلک فلہ بکل درہم سبع مائۃ ألف درہم، ثم تلا ہذہ الآیۃ: واللّٰہ یضاعف لمن یشاء۔ (سنن ابن ماجۃ، کتاب الجہاد / باب فضل النفقۃ في سبیل اللّٰہ رقم: ۲۷۶۱، مشکوۃ شریف ۲؍۳۳۵، الترغیب والترہیب مکمل ۲۹۰ رقم: ۱۹۹۰ بیروت)

مستفاد:کتاب النوازل

فقط واللہ تعالیٰ اعلم

محمد امیر حنفی دیوبندی


دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
1
جواب نمبر:2⃣2⃣2⃣

کتاب ما یتعلق بالدعوۃ و التبلیغ
(دعوت و تبلیغ سے متعلق مسائل کا بیان)

تبلیغ اور جہاد کے فرض عین اور فرض کفایہ سے متعلق تحقیق 
اور مروجہ تبلیغی جماعت اور اس میں اوقات لگانے کی شرعی حیثیت
سیدی حضرت اقدس حضرت مولانا جسٹس مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم
السلام علیکم و رحمۃ اللہ۔ مزاج گرامی! دل سے دعائیں ہیں کہ اللہ تعالی حضرت کو ہمیشہ صحت و عافیت کے ساتھ خدمت دین کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
حضرت! اس ناکارہ کے دل میں حضرت کی جو محبت وعظمت ہے اس کے اظہار میں طوالت ہوجائیگی۔ مختصراً عرض ہے کہ حضرت کیلئے دل و جان سے، دل کی اتھاہ گہرائیوں سے دعائیں نکلتی رہتی ہیں۔
حضرت کی مصروفیات تو واقعی ہوتی ہیں، تاہم ایک مسئلہ میں حضرت کی رائے مطلوب ہے۔ دوسری کسی جگہ سے حضرت جیسی تسلی متوقع نہیں تھی۔ امید ہے جواب سے بہرمند فرمائیں گے۔
حضرت اکابر کی کتابوں میں اور حضرت کے ایک مستقل وعظ "دین کی حقیقت تسلیم و رضا" میں یہ بات دل میں بیٹھ گئی ہے کہ دین شوق پورے کرنے کا نام نہیں بلکہ اس وقت جو حکم اور وقت کا تقاضا ہو اس کے پورے کرنے کا نام دین ہے، لیکن دوسری طرف اپنے اکابر تبلیغی جماعت والوں کے  ہاں دین کی حقیقت کو "قربانی" کے نام سے پیش کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے تردد ہوتا ہے کہ صحیح طرزِ عمل کیا ہونا چاہئے۔
مثلاً ہمارے پاکستان کے سابقہ امیر ............... صاحب مد ظلہم کا جس ہفتہ کا سہ روزہ متعین تھا اسی ہفتہ ان کے سسر کا انتقال ہوگیا۔ اب وہ اس سوچ میں تھے کہ کیا کریں؟ تسلیم و رضا کے پیش نظر تو سہ روزہ کو اس ہفتہ مؤخر بھی کیا جاسکتا تھا تاکہ غمزدہ بیوی کو شوہر سے ساتھ رہنے سے تسلی ہو، لیکن امیر صاحب پاکستان نے سہ روزہ کو مقدم رکھا اور چلے گئے۔ واپسی پر فکر مند تھے کہ بیوی خفا ہوگی لیکن بیوی خلاف توقع بہت محبت سے پیش آئی۔ اور عرض کیا کہ رات اباجی خواب میں ملے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ........... آئے تو اس پر خفا نہ ہونا۔ اس کے سہ روزہ پر جانے سے اللہ تعالی نے میری مغفرت فرمادی ہے۔ اب تسلیم و رضا کے تحت نہ نکلتے تو یہ مغفرت کا بہانہ کیسے بنتا؟
اکثر اکابر تبلیغ والوں سے سنتے ہیں کہ انتظامی چلوں اور سالوں سے ثواب تو ہوتا ہے لیکن کفر نہیں ٹوٹے گا۔ کیونکہ اس کیلئے "قربانی" شرط ہے 

کہ گھر میں بیوی بیمار ہے، کھیت میں فصل تیار ہے، جیب میں رقم نہیں، حالات خراب ہیں، تب نکلے گا تو ہدایت عام ہوگی۔ اب تسلیم و رضا کے پیش نظر جب بیوی بیمار ہے تو اس کی دلجوئی ضروری ہے۔ فصل تیار ہے تو کٹائی ضروری ہے۔ اب اس میں تسلیم و رضا کو دیکھا جائے یا قربانی کو۔ غالباً غزوۂ تبوک میں کھجور بالکل پکی ہوئی تھیں لیکن دین کی حقیقت قربانی کے پیش نظر صحابہؓ اللہ کے راستے میں نکل گئے۔
ایک صاحب نے ایک عالم سے پوچھا کہ ایک شخص اللہ کے راستے میں نکلنا چاہتا ہے لیکن اس کا بوڑھا والد نابینا ہے، جوان بیوی ہے اور آس پاس ماحول بھی سازگار نہیں، اور اس کے چھوٹے چھوٹے بچے بھی ہیں۔ اس عالم نے کہا کہ صورت مسئولہ میں یہ شخص اگر نکلتا ہے تو بڑا ظالم ہے۔ اس عالم کو بتایا گیا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر کی یہی حالت تھی جب وہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ نکلے تھے، اب تسلیم و رضا کے تحت تو نہ نکلنا سمجھ میں آتا ہے لیکن بزرگ کہتے ہیں کہ جب اسی حالت میں نکلے گا تو جہاں کفر ٹوٹے گا، وہاں اس کا یقین بھی بنے گا اور گھر والوں کو یقین بھی بنے گا کہ حقیقی محافظ اور رازق تو اللہ ہے۔ 
بعض لوگوں سے یہ بھی سنتے ہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے وقت چونکہ بلوغ اسلام نہیں ہوا تھا، اس لئے ان پر یہ ذمہ داری بڑھی ہوئی تھی۔ اب تو بلوغ اسلام ہوگیا ہے اب ویسی ذمہ داری نہیں جبکہ تبلیغ والے کہتے ہیں کہ جب بے دینی اور دین سے دوری اسی دور کے مثل عود کر آئی ہو تو کیا حکم وہی عود کر نہیں آئے گا؟
اکابر اہل علم، تبلیغ میں نکلنے کی شرعی حیثیت کو فرض کفایہ کہتے ہیں جبکہ تبلیغ کے بزرگ کہتے ہیں کہ کفایہ کا مطلب تو یہ ہے کہ وہ فرض کی ادائیگی میں  کفایت بھی کر جائے۔ اب اربوں انسان دین سے دور ہیں۔ تو کیا سینکڑوں اور ہزاروں کا نکلنا اس فرض کی ادائیگی میں کفایت کر رہا ہے؟
بعض ساتھیوں سے یہ بھی سنتے ہیں کہ ایک سفر میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے روزے تو افطار کروا دیئے تھے لیکن تبلیغی سفر موقوف نہیں فرمایا۔ اسی طرح حضرت حنظلہؓ کو جب غسل جنابت کی حاجت تھی، وقت کا تقاضا تو غسل تھا، لیکن انہوں نے اسی ناپاکی کی حالت میں اللہ کے راستے کو مقدم رکھا۔
حضرت! امید ہے میں نے اپنے اشکال کی وضاحت کافی حد تک کردی ہے۔ مزید طوالت مناسب نہیں لگتی۔ حضرت اپنی فقیہانہ بصیرت و خدادا فہم کے تحت اس بات کی کسی قدر تفصیل سے وضاحت فرما دیجئے کہ بعض اوقات جب دین کا تقاضا تبلیغ والے پیش کرتے ہیں تو اس وقت کوئی نہ کوئی شرعی تقاضا بھی درپیش ہوجائے تو تسلیم و رضا کے تحت اس تقاضے کو پورا کیا جائے یا صحابہ کرامؓ کی طرح قربانی کر کے
ان تقاضوں کو مؤخر کردیا جائے؟
حضرت! مذکورہ اشکال کے ساتھ ایک بات ضمناً عرض کرتا چلوں کہ بعض امور میں اکابر اہل علم اور اکابر اہل تبلیغ کے زاویۂ نگاہ میں کچھ فرق محسوس ہوتا ہے۔ مثلاً عام اہل علم تبلیغ میں نکلنے کو فرض کفایہ اور تبلیغ والے فرض عین بتلاتے ہیں، جیسے آج سے نصف صدی قبل حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے صحبت اہل اللہ کے فرض عین ہونے کا فتوی دیا تھا۔ کیونکہ بدون صحبت  اہل اللہ اس وقت اصلاح ظاہر و باطن قریب قریب ناممکن تھی۔ اب یہ بات بھی مشاہدہ ہے کہ نکلنے سے نہ صرف عوام بلکہ علماء کرام کی دینی حالت میں جو انقلاب آتا ہے اس کا خود مشاہدہ ہے اور ناقابل انکار حقیقت ہے۔ تو اگر مقدمۃ الواجب واجب کے تحت نکلنے کو فرض عین بتلایا جائے تو اس کی کیا شرعی حیثیت ہوگی؟
والسلام
بندہ محمد راشد
جواب:
مکرمی و محترمی: السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

آپ کا گرامی نامہ ملا۔ آپ احقر ناکارہ کیلئے جس طرح دعائیں کرتے ہیں، اس پر کس زبان سے شکر ادا کروں، اللہ تعالی آپ کو اس کا بہترین صلہ دنیا و آخرت میں عطا فرمائیں، آمین۔
آپ نے تبلیغی جماعت کے بارے میں جو باتیں پوچھی ہیں، ان کے بارے میں چند اصولی باتیں عرض کرتا ہوں، خدا کرے کہ وہ باعث اطمینان ہوں۔
(۱) جب جہاد فرض عین ہوجائے تو اس وقت ایک ایمرجنسی کی حالت ہوتی  ہے، اس وقت نہ تجارت جائز ہے، نہ بیوی بچوں کے عام حقوق اس طرح باقی رہتے ہیں جیسے امن کی حالت میں ہوتے ہیں اور نہ جہاد کے سوا کوئی اور ایسا کام جائز ہوتا ہے جو جہاد کے منافی یا اس کی راہ میں رکاوٹ بننے والا ہو (۱)۔ آپ نے صحابہ کرامؓ کے عہد مبارک کی جتنی مثالیں پیش کی ہیں، وہ سب اسی حالت سے متعلق ہیں، غزوۂ تبوک میں جہاد کے فرض عین مونے کا اعلان خود قرآن کریم میں بھی فرمایا گیا تھا (۲)، اور آنحضرت  ﷺ نے دو ٹوک الفاظ میں واضح فرما دیا تھا، لہٰذا پکی ہوئی کھیتیاں یا گھر والوں کے مسائل اس فرض عین کی ادائیگی میں مانع نہیں ہوسکیں۔ اس کے باجود آپ  ﷺ نے حضرت علیؓ جیسے جانباز صحابی کو حکم دیا کہ وہ مدینہ منوہ میں رہ کر کمزوروں کی دیکھ بھال کریں۔ حضرت علیؓ کی خواہش تو یہ تھی کہ وہ جہاد کی فضیلت حاصل کریں، لیکن آپ ﷺ کے حکم کی وجہ سے تسلیم و رضا کی خاطر مدینہ منورہ میں رہے، اور کمزوروں کی دیکھ بھال کی (۳)۔ حضرت حنظلہؓ کا واقعہ بھی ایسے ہی وقت کا ہے جب دشمن حملہ آور ہوچکا تھا اور جہاد فرضعین تھا (۴)، حضرت صدیق اکبرؓ پر بھی حضور اقدس  ﷺ کے ساتھ ہجرت فرض ہوچکی تھی، اور انہوں نے اسی فریضے کو ادا فرمایا ورنہ عام حالات میں آپ  ﷺ نے والدین کی خدمت کو جہاد پر مقدم قرار دیا، اور ایسے صحابہؓ کو لوٹا دیا جو والدین کو روتا چھوڑ کر جہاد کیلئے آئے تھے (۵)۔
اگر سہ روزہ یا چلے پر نکلنا اسی درجے میں فرض عین قرار دیا جائے جس درجے میں جہاد نفیر عام کے وقت فرض ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ  تجارت، صنعت، زراعت کشھ جائز نہ ہو، بلکہ ہر انسان ہر وقت تبلیغی سفر پر ہی رہے، جیسا کہ جہاد کے فرض عین ہونے کے وقت دوسرا کوئی کام جائز نہیں ہوتا۔ سوال یہ ہے کہ اگر سہ روزہ یا چلہ لگانا فرض عین ہے تو اس کی  حد کیا ہے؟ کیا قرآن و حدیث کا کائی حکم اسکی تعیین کرتا ہے؟ دوسرے سہ روزہ لگانے کے بعد جب آدمی پورے مہینے تجارت یا زراعت میں مصروف ہوگا تو کیا اس وقت تبلیغی سفر فرض عین نہیں ہوگا؟ اگر نہیں ہوگا تو وہفرض عین کہاں رہا؟ اور ہوگا تو تجارت اور کسب معاش کیسے جائز ہوا؟
(۲) آپ نے لکھا ہے کہ "ایک سفر میں آپ ﷺ نے روزے تو افطار کرادئیے، لیکن تبلیغی سفر موقوف نہیں فرمایا" اولاً تو یہ تبلیغی سفر نہیں تھا، فتح مکہ کے جہاد کا سفر تھا (۶)۔ دوسرے روزے مشقت شدیدہ کی وجہ سے افطار کرائے گئے (۷)، سفر موقوف کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی، زیادہ سے زیادہ شدید گرمی تھی، مگر صرف اتنی بات سے جہاد کو ترک کرنا ضروری نہ تھا۔ کیونکہ اس مشقت کا اثر زیادہ سے زیادہ اپنی ذات پر تھا، کسی کا حق یا مال تلف نہیں ہو رہا تھا۔
(۳) آپ نے فرض کفایہ کا جو مطلب لکھا ہے اگر کفایہ کا یہی مطلب ہے تو پوری تاریخ اسلام میں جہاد کو کبھی "فرض کفایہ" نہ ہونا چاہئے تھا، کیونکہ  غیر مسلموں کی تعداد تاریخ کے ہر دور میں مسلمانوں کے تین گنے سے بھی ہمیشہ زائد رہی ہے۔ کروڑوں انسان ہر دور میں دین سے دور رہے ہیں، لہٰذا جب فقہائے امت نے جہاد کو فرض کفایہ قرار دیا تو کیا اس وقت دنیا کی اکثریت مسلمان ہوگئی تھی؟ جب آنحضرت  ﷺ دنیا سے تشریف لے گئے تو صحابۂ کرامؓ کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار بتائی جاتی ہے۔ جو ظاہر ہے کہ اس وقت کی دنیا کی آبادی کا بہت ،مختصر حصہ  تھا۔ لیکن کیا آپ ﷺ نے تبلیغی سفر کو فرض عین قرار دے کر کبھی صحابۂ کرام ؓ  کو یہ حکم دیا کہ وہ سب اپنے حقوق واجبہ ترک کر کے دوسرے شہروں اور ملکوں میں جائیں؟ واقعہ یہ ہے کہ "فرض کفایہ" کا مطلب صرف اس قدر ہے کہ اگر مسلمانوں کی معتد بہ جماعت یہ کام کر رہی ہے تو اس کا یہ عمل د