(طبع مکتبہ شرکت علمیہ) ان الانسان لہ ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ صلوٰۃ او صوما او صدقۃ او غیرھا عند اھل السنۃ و الجماعۃ۔
و فی الشامیۃ ۲/۲۴۳ مطلب فی القرأۃ للمیت و اھداء ثوابھا لہ، صرح علمائنا فی باب الحج عن الغیر بان للانسان ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ صلوٰۃ او صدقۃ او غیرھا، کذا فی الھدایۃ ........... الافضل لمن یتصدق نفلا ان ینوی لجمیع المومنین و المؤمنات لانھا تصل الیھم و لا ینقص من اجرہ شیء ھو مذھب اھل السنۃ الجماعۃ (و فیہ بعد اسطر) و فی البحر من صام او صلی او تصدق و جعلثوابہ لغیرہ من الاموات و الاحیاء جاز و یصل ثوابھا الیھم عند اھل السنۃ و الجماعۃ، کذا فی البدائع۔
و فی معارف السنن ۵/۲۸۶ (طبع ایچ ایم سعید) و قد تعرض فی الھدایۃ الی مسؤلۃ الاثابۃ و اھداء الثواب فقال الاصل فی ھذا الباب ان الانسان لہ ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ صلوٰۃ او صوما او صدقۃ و غیرھا عند اھل السنۃ و الجماعۃ، و فیہ ایضا ۵/۲۹۱ ثم ان الشافعیؒ لا یجوز اھداء ثواب تلاوۃ القرآن و لا یصح عندہ الاثابۃ فیما عدا الدعاء و الصدقۃ و لکن الشافعیۃ أفتوا بایصال ثوابالتلاوۃ و یجوز عندنا اھداء ثواب کل شیء ......... و تبین ان مذہب ابی حنیفۃؒ فی ھذا الصدد اوسط المذاہب الخ۔ (محمد زبیر حق نواز عفا اللہ عنھما)
مستفاد:فتاوی عثمانی
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
و فی الشامیۃ ۲/۲۴۳ مطلب فی القرأۃ للمیت و اھداء ثوابھا لہ، صرح علمائنا فی باب الحج عن الغیر بان للانسان ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ صلوٰۃ او صدقۃ او غیرھا، کذا فی الھدایۃ ........... الافضل لمن یتصدق نفلا ان ینوی لجمیع المومنین و المؤمنات لانھا تصل الیھم و لا ینقص من اجرہ شیء ھو مذھب اھل السنۃ الجماعۃ (و فیہ بعد اسطر) و فی البحر من صام او صلی او تصدق و جعلثوابہ لغیرہ من الاموات و الاحیاء جاز و یصل ثوابھا الیھم عند اھل السنۃ و الجماعۃ، کذا فی البدائع۔
و فی معارف السنن ۵/۲۸۶ (طبع ایچ ایم سعید) و قد تعرض فی الھدایۃ الی مسؤلۃ الاثابۃ و اھداء الثواب فقال الاصل فی ھذا الباب ان الانسان لہ ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ صلوٰۃ او صوما او صدقۃ و غیرھا عند اھل السنۃ و الجماعۃ، و فیہ ایضا ۵/۲۹۱ ثم ان الشافعیؒ لا یجوز اھداء ثواب تلاوۃ القرآن و لا یصح عندہ الاثابۃ فیما عدا الدعاء و الصدقۃ و لکن الشافعیۃ أفتوا بایصال ثوابالتلاوۃ و یجوز عندنا اھداء ثواب کل شیء ......... و تبین ان مذہب ابی حنیفۃؒ فی ھذا الصدد اوسط المذاہب الخ۔ (محمد زبیر حق نواز عفا اللہ عنھما)
مستفاد:فتاوی عثمانی
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:1⃣0⃣2⃣
ایصالِ ثواب کے لئے صدقہ جاریہ میں کون سی چیز بہتر ہے؟
سوال:
(۱) صدقۂ جاریہ کیلئے مندرجہ ذیل چیزوں میں سے کون سی بہتر ہے؟
(الف) مسجد کی تعمیر میں حصہ لینا (ب) دینی مدرسہ کی امداد کرنا (ت) کنواں تعمیر کرنا (ج) یا اور کوئی کام جس سے مرحوم کو ثواب دارین حاصل ہو۔
(۲) لوگ کہتے ہیں کہ انسان سے گناہ کبیرہ اور صغیرہ سرزد ہوں تو ۹۰ ہزار مرتبہ کلمہ شریف یعنی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھ کر مرحوم کو اس کاثواب دیدیں یا بخش دیں تو اس کے سارے گناہ اللہ معاف کر دیتا ہے، اور اسے عذاب دوزخ سے نجات دیتا ہے، کیا یہ صحیح ہے؟
(۳) ثواب سے کیا مراد ہے، قرآن پڑھ کر ثواب مرحوم یا مرحومہ کو پہنچا دینے سے عذاب ختم ہو جاتا ہے؟
(۴) مجھے پڑھنے کے لئے ایسی چیز بتا دیں کہ اس کو پڑھوں اور عذاب قبر سے محفوظ رہوں۔
(۵) کلام پاک یا تیس پارے مسجد میں رکھوادیں تو کیا مرحومہ کو ثواب ہوگا؟
(۶) میری اہلیہ ہارٹ فیل ہونے سے اللہ کو پیاری ہوگئی، نمازِ تہجد ادا کرنے کے بعد نمازِ فجر کے وقت نماز کے انتظار میں بیٹھی تھی کہ اس کا انتقال ہوگیا، ایسی عورت کے متعلق کیا حکم ہے؟
جواب:
(۱) یہ تمام امور خیر ہی خیر ہیں اور صدقۂ جاریہ کے لئے ایسے کا م کا انتخاب کرنا بہتر ہے جس کی ضرورت بھی زیادہ ہو اور جس کا فائدہ عرصے تک لوگ اٹھاتے رہیں، اپنے حالات کے لحاظ سے اس کا فیصلہ ہر شخص کو خود کرنا چاہئے۔
(۲) سارے کے سارے گناہ معاف ہونے کی تو کوئی ضمانت نہیں لیکن کلمہ طیبہ یا قرآن شریف پڑھ کر جتنا زیادہ سے زیادہ ثواب میت کو پہنچا سکتے ہوں، بہتر ہے ۔
(۳) اس کا جواب بھی وہی ہے، تلاوت قرآن کا ایصال ثواب کیا جائے تو ہر حرف پر دس نیکیاں میت کو ملتی ہیں،لہٰذا جتنا زیادہ سے زیادہ ایصال ثواب کیا جائے گا میت کے نامہ اعمال میں اضافہ ہوگا اور عذاب میں کمی ہوتی چلی جائے گی لیکن عذاب سے رہائی کی مکمل ضمانت کوئی نہیں دے سکتا۔
(۴) قرآن مجید کی تلاوت جتنی زیدہ ممکن ہو، کریں، خاص طور سے سورۂ ملک (یعنی تبارک الذی بیدہ الملک) روزانہ پڑھا کریں۔ حدیث میں ہے کہ یہ سورت عذاب قبر سے انسان کو محفوظ رکھنے میں مددگار ہوتی ہے، نیز سبحان اللہ و الحمد للہ و لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر اور استغفار کثرت سے کیا کریں، اس سے گناہ معاف ہوتے ہیں۔
(۵) دونوں سے ثواب حاصل ہوگا ۔
(۶) آپ کی اہلیہ کی وفات جس انداز سے ہوئی وہ قابل رشک ہے، اللہ تعالی کی رحمت سے یہی امید رکھنی چاہئے کہ انشاء اللہ وہ جنتی ہیں لیکن ساتھ ہی ایصال ثواب میں کوتاہی نہیں کرنی چاہئے۔ و اللہ اعلم
مستفاد:فتاوی عثمانی
محمد امیر ۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
ایصالِ ثواب کے لئے صدقہ جاریہ میں کون سی چیز بہتر ہے؟
سوال:
(۱) صدقۂ جاریہ کیلئے مندرجہ ذیل چیزوں میں سے کون سی بہتر ہے؟
(الف) مسجد کی تعمیر میں حصہ لینا (ب) دینی مدرسہ کی امداد کرنا (ت) کنواں تعمیر کرنا (ج) یا اور کوئی کام جس سے مرحوم کو ثواب دارین حاصل ہو۔
(۲) لوگ کہتے ہیں کہ انسان سے گناہ کبیرہ اور صغیرہ سرزد ہوں تو ۹۰ ہزار مرتبہ کلمہ شریف یعنی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھ کر مرحوم کو اس کاثواب دیدیں یا بخش دیں تو اس کے سارے گناہ اللہ معاف کر دیتا ہے، اور اسے عذاب دوزخ سے نجات دیتا ہے، کیا یہ صحیح ہے؟
(۳) ثواب سے کیا مراد ہے، قرآن پڑھ کر ثواب مرحوم یا مرحومہ کو پہنچا دینے سے عذاب ختم ہو جاتا ہے؟
(۴) مجھے پڑھنے کے لئے ایسی چیز بتا دیں کہ اس کو پڑھوں اور عذاب قبر سے محفوظ رہوں۔
(۵) کلام پاک یا تیس پارے مسجد میں رکھوادیں تو کیا مرحومہ کو ثواب ہوگا؟
(۶) میری اہلیہ ہارٹ فیل ہونے سے اللہ کو پیاری ہوگئی، نمازِ تہجد ادا کرنے کے بعد نمازِ فجر کے وقت نماز کے انتظار میں بیٹھی تھی کہ اس کا انتقال ہوگیا، ایسی عورت کے متعلق کیا حکم ہے؟
جواب:
(۱) یہ تمام امور خیر ہی خیر ہیں اور صدقۂ جاریہ کے لئے ایسے کا م کا انتخاب کرنا بہتر ہے جس کی ضرورت بھی زیادہ ہو اور جس کا فائدہ عرصے تک لوگ اٹھاتے رہیں، اپنے حالات کے لحاظ سے اس کا فیصلہ ہر شخص کو خود کرنا چاہئے۔
(۲) سارے کے سارے گناہ معاف ہونے کی تو کوئی ضمانت نہیں لیکن کلمہ طیبہ یا قرآن شریف پڑھ کر جتنا زیادہ سے زیادہ ثواب میت کو پہنچا سکتے ہوں، بہتر ہے ۔
(۳) اس کا جواب بھی وہی ہے، تلاوت قرآن کا ایصال ثواب کیا جائے تو ہر حرف پر دس نیکیاں میت کو ملتی ہیں،لہٰذا جتنا زیادہ سے زیادہ ایصال ثواب کیا جائے گا میت کے نامہ اعمال میں اضافہ ہوگا اور عذاب میں کمی ہوتی چلی جائے گی لیکن عذاب سے رہائی کی مکمل ضمانت کوئی نہیں دے سکتا۔
(۴) قرآن مجید کی تلاوت جتنی زیدہ ممکن ہو، کریں، خاص طور سے سورۂ ملک (یعنی تبارک الذی بیدہ الملک) روزانہ پڑھا کریں۔ حدیث میں ہے کہ یہ سورت عذاب قبر سے انسان کو محفوظ رکھنے میں مددگار ہوتی ہے، نیز سبحان اللہ و الحمد للہ و لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر اور استغفار کثرت سے کیا کریں، اس سے گناہ معاف ہوتے ہیں۔
(۵) دونوں سے ثواب حاصل ہوگا ۔
(۶) آپ کی اہلیہ کی وفات جس انداز سے ہوئی وہ قابل رشک ہے، اللہ تعالی کی رحمت سے یہی امید رکھنی چاہئے کہ انشاء اللہ وہ جنتی ہیں لیکن ساتھ ہی ایصال ثواب میں کوتاہی نہیں کرنی چاہئے۔ و اللہ اعلم
مستفاد:فتاوی عثمانی
محمد امیر ۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:2⃣0⃣2⃣
عقیدہ ایصال ثواب
سوال:
قرآن میں اس بات کی وضاحت ہے کہ ہر انسان کے نیک عمل کا جوثواب ہوگا اس کا صرف کرنے والا حق دار ہے وہ دوسرے کو نہیں دیا جا سکتا لیکن مسلمان دھڑلے سے ایصال ثواب کر رہے ہیں یہاں تک کہ حج بدل بھی کرتے یا کراتے ہیں۔ کیا ایصال ثواب کیا جاسکتا ہے؟
جواب: قرآن کریم نے یہ فرمایا ہے کہ "انسان کو بطور حق صرف اسی عمل کا اجر ملے گا جو اس نے خود کیا ہو" (۱) لیکن اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اس
کے استحقاق سے زائد کوئی اجر اپنی رحمت سے دیدیں تو یہ اس کے خلاف نہیں (۲)، چنانچہ احادیث میں جو ایصال ثواب کا ثبوت ہے وہ اللہ تعالیٰ کی اسی رحمت کی بنیاد پر ہے۔ احادیث چونکہ قرآن کریم کی تفسیر ہیں اور قرآن کریم نے آپ ﷺ کو قرآن کا معلم بنا کر بھیجنے کا ذکر فرمایا ہے، اس لئے آپ ﷺ کی بیان کردہ تفسیر مستند ترین تفسیر ہے۔ و اللہ اعلم
احقر محمد تقی عثمانی عفی عنہ
۴-۸-۱۴۲۲ھ
(۱) و ان لیس للانسان الا ما سعی، (سورۃ نجم آیت ۳۹)۔
(۲) و فی شرح الصدور للسیوطیؒ باب فی قرأۃ القرآن للمیت او علی القبر ص۱۳۴ (طبع مطابع الرشید مدینہ منورہ) لیس للانسان الا ما سعی، من طریق العدل فاما من باب الفضل فجائز ان یزیدہ اللہ تعالی ما شاء قالہ الحسین بن الفضل، و کذا فی مرقاۃ المفاتیح ج۴ ص۸۲ (طبع مکتبہ امدادیہ ملتان)، نیزایصال ثواب سے متعلق مزید تفصیل اور خاص طور پر آیت مذکورہ کے مفہوم کے لئے مذکورہ کتاب شرح الصدور للسیوطیؒ باب فی قرأۃ القرآن للمیت او علی القبر ص۱۳۴ اور سابقہ فتویٰ اور حاشیہ ملاحظہ فرمائیں۔ (محمد زبیر حق نواز)
مستفاد:فتاوی عثمانی
محمد امیر حنفی دیوبندی۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
عقیدہ ایصال ثواب
سوال:
قرآن میں اس بات کی وضاحت ہے کہ ہر انسان کے نیک عمل کا جوثواب ہوگا اس کا صرف کرنے والا حق دار ہے وہ دوسرے کو نہیں دیا جا سکتا لیکن مسلمان دھڑلے سے ایصال ثواب کر رہے ہیں یہاں تک کہ حج بدل بھی کرتے یا کراتے ہیں۔ کیا ایصال ثواب کیا جاسکتا ہے؟
جواب: قرآن کریم نے یہ فرمایا ہے کہ "انسان کو بطور حق صرف اسی عمل کا اجر ملے گا جو اس نے خود کیا ہو" (۱) لیکن اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اس
کے استحقاق سے زائد کوئی اجر اپنی رحمت سے دیدیں تو یہ اس کے خلاف نہیں (۲)، چنانچہ احادیث میں جو ایصال ثواب کا ثبوت ہے وہ اللہ تعالیٰ کی اسی رحمت کی بنیاد پر ہے۔ احادیث چونکہ قرآن کریم کی تفسیر ہیں اور قرآن کریم نے آپ ﷺ کو قرآن کا معلم بنا کر بھیجنے کا ذکر فرمایا ہے، اس لئے آپ ﷺ کی بیان کردہ تفسیر مستند ترین تفسیر ہے۔ و اللہ اعلم
احقر محمد تقی عثمانی عفی عنہ
۴-۸-۱۴۲۲ھ
(۱) و ان لیس للانسان الا ما سعی، (سورۃ نجم آیت ۳۹)۔
(۲) و فی شرح الصدور للسیوطیؒ باب فی قرأۃ القرآن للمیت او علی القبر ص۱۳۴ (طبع مطابع الرشید مدینہ منورہ) لیس للانسان الا ما سعی، من طریق العدل فاما من باب الفضل فجائز ان یزیدہ اللہ تعالی ما شاء قالہ الحسین بن الفضل، و کذا فی مرقاۃ المفاتیح ج۴ ص۸۲ (طبع مکتبہ امدادیہ ملتان)، نیزایصال ثواب سے متعلق مزید تفصیل اور خاص طور پر آیت مذکورہ کے مفہوم کے لئے مذکورہ کتاب شرح الصدور للسیوطیؒ باب فی قرأۃ القرآن للمیت او علی القبر ص۱۳۴ اور سابقہ فتویٰ اور حاشیہ ملاحظہ فرمائیں۔ (محمد زبیر حق نواز)
مستفاد:فتاوی عثمانی
محمد امیر حنفی دیوبندی۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:3⃣0⃣2⃣
نمازِ جناز ہ کے بعد ایصالِ ثواب کے ایک طریقہ کاحکم
سوال:
ہمارے یہاں میت کی مغفرت کے لئے نمازِ جنازہ کے بعد چند علماء اور کچھ لوگ ایک جگہ اکٹھے ہوکر حلقہ بنا لیتے ہیں۔ قرآن کریم اور کچھ رقم ایک جگہ باندھ کر اس حلقہ میں پھرتے ہیں پھر ایک معلن کھڑا ہو کر چند اشعار پڑھتا ہے بعد ازاں میت کی الفاظ اس حلقہ پر تقسیم کی جاتی ہے آیا یہ مروجہ حیلہ ائمۂاربعہ کتاب اللہ سنت الرسول اللہ اجماع امت قیاس صحیح سے ثابت ہے یا کہ نہ اور نبی علیہ السلام خلفاء راشدین، اور تابعین تبع تابعین کے زمانہ میں میت کے مغفرت کے لئے یہ حیلہ کیا گیا ہے یا کہ نہ اور جو علماء یہ کہہ کر اسکو فروغ دیتے ہیں کہ اس حیلہ کی وجہ سے چار ہزار کبیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں۔ زندگی میں اللہ کے جو حقوق مثلاً نماز روزہ زکوٰۃ ضائع ہوئے ہیں انکی تلافی ہو جاتی ہے انکے متعلق آپکا کیا فیصلہ ہے۔
میت کی نمازِ جنازہ کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا کیا ہے (مسنون یاکہ بدعت اور بعض حضرات اس کو بدعت حسنہ کہتے ہیں لہذا بدعت حسنہ کی بھی وضاحت کریں۔
جواب:
دعائے مغفرت کا یہ طریقہ مروجہ جس کو حیلہ اسقاطہ بھی کہا جاتا ہے شرعاً ثابت نہیں جناب نبی کریم علیہ السلام اور زمانہ خلفاء راشدین بلکہ خیرالقرون میں ثابت نہیں ہے اس کو فروغ دینا یا اس پریہ مذکورہ فضیلتیں بیان کرنا یہ سب غلط اور ناجائز ہے۔ دین میں استحداث اور بدعت ہے واجب الترک ہے۔
فقط واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
مستفاد:نظام الفتاوی
محمد امیر۔حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
نمازِ جناز ہ کے بعد ایصالِ ثواب کے ایک طریقہ کاحکم
سوال:
ہمارے یہاں میت کی مغفرت کے لئے نمازِ جنازہ کے بعد چند علماء اور کچھ لوگ ایک جگہ اکٹھے ہوکر حلقہ بنا لیتے ہیں۔ قرآن کریم اور کچھ رقم ایک جگہ باندھ کر اس حلقہ میں پھرتے ہیں پھر ایک معلن کھڑا ہو کر چند اشعار پڑھتا ہے بعد ازاں میت کی الفاظ اس حلقہ پر تقسیم کی جاتی ہے آیا یہ مروجہ حیلہ ائمۂاربعہ کتاب اللہ سنت الرسول اللہ اجماع امت قیاس صحیح سے ثابت ہے یا کہ نہ اور نبی علیہ السلام خلفاء راشدین، اور تابعین تبع تابعین کے زمانہ میں میت کے مغفرت کے لئے یہ حیلہ کیا گیا ہے یا کہ نہ اور جو علماء یہ کہہ کر اسکو فروغ دیتے ہیں کہ اس حیلہ کی وجہ سے چار ہزار کبیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں۔ زندگی میں اللہ کے جو حقوق مثلاً نماز روزہ زکوٰۃ ضائع ہوئے ہیں انکی تلافی ہو جاتی ہے انکے متعلق آپکا کیا فیصلہ ہے۔
میت کی نمازِ جنازہ کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا کیا ہے (مسنون یاکہ بدعت اور بعض حضرات اس کو بدعت حسنہ کہتے ہیں لہذا بدعت حسنہ کی بھی وضاحت کریں۔
جواب:
دعائے مغفرت کا یہ طریقہ مروجہ جس کو حیلہ اسقاطہ بھی کہا جاتا ہے شرعاً ثابت نہیں جناب نبی کریم علیہ السلام اور زمانہ خلفاء راشدین بلکہ خیرالقرون میں ثابت نہیں ہے اس کو فروغ دینا یا اس پریہ مذکورہ فضیلتیں بیان کرنا یہ سب غلط اور ناجائز ہے۔ دین میں استحداث اور بدعت ہے واجب الترک ہے۔
فقط واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
مستفاد:نظام الفتاوی
محمد امیر۔حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:4⃣0⃣2⃣
اُجرت لے کر ایصالِ ثواب کرنا
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں محمد طیب علی بیمار ہوئے اس کے بعد اس نے چند مولوی صاحب کو بلاکر ایک سو روپیہ دیا اور کہا کہ میرے لئے ختم قرآن کرنا یا ختم شفاختم یونس پڑھوانا مولوی صاحبان نے جاکر مسجد میں ختم پڑھنا شروع کر دیا اس قسم کا ختم اجرت لیکر مسجد میں جائز ہے یا کہ نہیں نیز ایصالِ ثواب کے لئے مسجد میں قرآن خوانی جائز ہے یا کہ نہیں۔ بینوا توجروا۔
جواب:
اس طرح روپیہ لیکر ختم قرآن یا کوئی ختم کرنا اجرت لیکر ختم کرنا ہو جائیگا اس طرح ختم قرآن جائز نہیں ہے۔ یہ تو اجارہ علی الطاعات میں داخل ہو جائیگا اور اس پر کوئی ثواب نہ ملیگا پھر ایصال کس چیز کا کریں گے ایصالتو ثواب کا ہوتا ہے اور اس طرح مسجد میں ختم کرنا مسجد میں عمل اجارہ کرنا ہوگا اور یہ دوسرا گناہ ہوگا اور مسجد میں بھی جائز نہ ہوگا ہاں بغیر کسی اجرت وغیرہ کے از خود محض ثواب پہونچانے کی نیت سے قرآن پاک پڑھنا اور قرآن خوانی کرنا جائز ہے اور یہ مسجد میں بھی جائز ہوگا بشرطیکہ نمازیوں کی نماز میں خلل نہ واقع ہو۔
فقط واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
مستفاد:نظام الفتاوی
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
اُجرت لے کر ایصالِ ثواب کرنا
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں محمد طیب علی بیمار ہوئے اس کے بعد اس نے چند مولوی صاحب کو بلاکر ایک سو روپیہ دیا اور کہا کہ میرے لئے ختم قرآن کرنا یا ختم شفاختم یونس پڑھوانا مولوی صاحبان نے جاکر مسجد میں ختم پڑھنا شروع کر دیا اس قسم کا ختم اجرت لیکر مسجد میں جائز ہے یا کہ نہیں نیز ایصالِ ثواب کے لئے مسجد میں قرآن خوانی جائز ہے یا کہ نہیں۔ بینوا توجروا۔
جواب:
اس طرح روپیہ لیکر ختم قرآن یا کوئی ختم کرنا اجرت لیکر ختم کرنا ہو جائیگا اس طرح ختم قرآن جائز نہیں ہے۔ یہ تو اجارہ علی الطاعات میں داخل ہو جائیگا اور اس پر کوئی ثواب نہ ملیگا پھر ایصال کس چیز کا کریں گے ایصالتو ثواب کا ہوتا ہے اور اس طرح مسجد میں ختم کرنا مسجد میں عمل اجارہ کرنا ہوگا اور یہ دوسرا گناہ ہوگا اور مسجد میں بھی جائز نہ ہوگا ہاں بغیر کسی اجرت وغیرہ کے از خود محض ثواب پہونچانے کی نیت سے قرآن پاک پڑھنا اور قرآن خوانی کرنا جائز ہے اور یہ مسجد میں بھی جائز ہوگا بشرطیکہ نمازیوں کی نماز میں خلل نہ واقع ہو۔
فقط واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
مستفاد:نظام الفتاوی
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:5⃣0⃣2⃣
آنحضرت ﷺ کے لئے ایصالِ ثواب، اِشکال کا جواب
سوال:
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ عظام مندرجہ ذیل مسئلے کے متعلق کہ مسلمان حضرات بخدمتِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ایصالِ ثواب کرتے ہیں، ہمارےایصالِ ثواب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا فائدہ پہنچتا ہے؟ جبکہ آپ دوجہانوں کے سردار ہیں، اور جنت کے اعلیٰ ترین مقام آپ کے لئے یقینی ہیں۔
س… میں قرآن مجید کی تلاوت اور صدقہ و خیرات کرکے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور بعد کے اکابر علمائے دین کو ایصالِ ثواب کرتا ہوں، لیکن چند روز سے ایک خیال ذہن میں آتا ہے، جس کی وجہ سے بے حد پریشان ہوں، خیال یہ ہے کہ ہم لوگ ان ہستیوں کو ثواب پہنچا رہے ہیں جن پر خدا خود دُرود و سلام پیش کرتا ہے، یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو، توبہ توبہ! معاذ اللہ! ہم اتنے بڑے ہیں کہ چند آیات پڑھ کر اس کا ثواب حضور صلی اللہ علیہ وسلم و صحابہ رضی اللہ عنہم تک پہنچا رہے ہیں، یہ تو نہ سمجھ میں آنے والی بات ہے۔
جواب:
ایصالِ ثواب کی ایک صورت تو یہ ہے کہ دُوسرے کو محتاج سمجھ کرثواب پہنچایا جائے، یہ صورت تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر مقبولانِ الٰہی کے حق میں نہیں پائی جاتی، اور یہی منشا ہے آپ کے شبہ کا، اور دُوسری صورت یہ ہے کہ ان اکابر کے ہم پر بے شمار احسانات ہیں، اور احسان شناسی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ان کی خدمت میں کوئی ہدیہ پیش کیا کریں، ظاہر ہے کہ ان اکابر کی خدمت میں ایصالِ ثواب اور دُعائے ترقیٴ درجات کے سوا اور کیا ہدیہ پیش کیا جاسکتا ہے؟ پس ہمارا ایصالِ ثواب اس بنا پر نہیں کہ ․․․معاذ اللہ․․․ یہ حضرات ہمارے ایصالِ ثواب کے محتاج ہیں، بلکہ یہ حق تعالیٰ شانہ کی ہم پر عنایت ہے کہ ایصالِ ثواب کے ذریعے ہمارے لئے ان اکابر کی خدمت میں ہدیہ پیش کرنے کا دروازہ کھول دیا، جس کی بدولت ہمارا حق احسان شناسی بھی ادا ہوجاتا ہے اور ان اکابر کے ساتھ ہمارے تعلق و محبت میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے، اس سے ان اکابر کے درجات میں بھی مزید ترقی ہوتی ہے، اس کی برکت سے ہماری سیئات کا کفارہ بھی ہوتا ہے، اور ہمیں حق تعالیٰ شانہ کی عنایت سے بے پایاں حصہ ملتا ہے۔ اس کی مثال ایسی سمجھ لیجئے کہ کسی غریب مزدور پر بادشاہ کے بہت سے احسانات ہوں اور وہ اپنے تقاضائے محبت کی بنا پر کوئی ہدیہ بادشاہ کی خدمت میں پیش کرنا چاہے اور بادشاہ ازراہ مراحم خسروانہ اس کے ہدیہ کو قبول فرماکر اسے اپنے مزید انعامات کا مورد بنائے، یہاں کسی کو یہ شبہ نہیں ہوگا کہ اس فقیر درویش کا ہدیہ پیش کرنا بادشاہ کی ضرورت کی بنا پر ہے، نہیں! بلکہ یہ خود اس مسکین کی ضرورت ہے۔
دُرود و سلام تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے بھیجتے ہیں، کما فی النص، اپنے کسی عزیز کو ایصالِ ثواب کرنے کی وجہ معقول ہے، اس کی بخشش کے لئے، اور رفعِ درجات کے لئے۔
تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ایصالِ ثواب کرنے کی حقیقت پر روشنی ڈالئے، اور قرآن و سنت کی روشنی میں اس کا صحیح جواب دے کر ممنون فرمائیں۔
جواب:
اُمت کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایصالِ ثوابنصوص سے ثابت ہے، چنانچہ ایصالِ ثواب کی ایک صورت آپ کے لئے ترقیٴ درجات کی دُعا،اور مقامِ وسیلہ کی درخواست ہے، صحیح مسلم کی حدیث میں ہے:
“اذا سمعتم الموٴذّن فقولوا مثل ما یقول، ثم صلوا علیّ فانہ من یصلی علیّ صلٰوة صلی الله علیہ وسلم بھا عشرًا، ثم سلوا الله لی الوسیلة فانھا منزلة فی الجنة لا ینبغی الا لعبد من عباد الله وارجوا ان اکون انا ھو، فمن سأل لی الوسیلة حلت علیہ الشفاعة۔” (مشکوٰة ص:۶۴)
ترجمہ:… “جب تم موٴذّن کو سنو تو اس کی اذان کا اسی کی مثل الفاظ سے جواب دو، پھر مجھ پر دُرود پڑھو، کیونکہ جو شخص مجھ پر ایک بار دُرود پڑھے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس پر دس رحمتیں نازل فرماتے ہیں، پھر میرے لئے اللہ تعالیٰ سے “وسیلہ” کی درخواست کرو، یہ ایک مرتبہ ہے جنت میں، جو اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے صرف ایک بندے کے شایانِ شان ہے، اور میں اُمید رکھتا ہوں کہ وہ بندہ میں ہی ہوں گا، پس جس شخص نے میرے لئے وسیلہ کی درخواست کی، اس کو میری شفاعت نصیب ہوگی۔”
اور صحیح بخاری میں ہے:
“من قال حین سمع النداء، اللّٰھم رب ھٰذہ الدعوة التامة والصلٰوة القائمة اٰت محمدن الوسیلة والفضیلة وابعثہ مقامًا محمودن الذی وعدتہ، حلت لہ شفاعتی یوم القیامة۔” (مشکوٰة ص:۶۵)
ترجمہ:…”جو شخص اذان سن کر یہ دُعا پڑھے: “اے اللہ! جو مالک ہے اس کامل دعوت کا، اور قائم ہونے والی نماز کا، عطا کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ اور فضیلت اور کھڑا کر آپ کو مقامِ محمود میں، جس کا آپ نے وعدہ فرمایا ہے” قیامت کے دن اس کو میری شفاعت نصیب ہوگی۔”
حضرت عمر رضی اللہ عنہ عمرہ کے لئے تشریف لے جارہے تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلبی کے لئے حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رُخصت کرتے ہوئے فرمایا:
“لا تنسنا یا اخی من دعائک۔ وفی روایة: اشرکنا یا اخی فی دعائک۔”
آنحضرت ﷺ کے لئے ایصالِ ثواب، اِشکال کا جواب
سوال:
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ عظام مندرجہ ذیل مسئلے کے متعلق کہ مسلمان حضرات بخدمتِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ایصالِ ثواب کرتے ہیں، ہمارےایصالِ ثواب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا فائدہ پہنچتا ہے؟ جبکہ آپ دوجہانوں کے سردار ہیں، اور جنت کے اعلیٰ ترین مقام آپ کے لئے یقینی ہیں۔
س… میں قرآن مجید کی تلاوت اور صدقہ و خیرات کرکے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور بعد کے اکابر علمائے دین کو ایصالِ ثواب کرتا ہوں، لیکن چند روز سے ایک خیال ذہن میں آتا ہے، جس کی وجہ سے بے حد پریشان ہوں، خیال یہ ہے کہ ہم لوگ ان ہستیوں کو ثواب پہنچا رہے ہیں جن پر خدا خود دُرود و سلام پیش کرتا ہے، یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو، توبہ توبہ! معاذ اللہ! ہم اتنے بڑے ہیں کہ چند آیات پڑھ کر اس کا ثواب حضور صلی اللہ علیہ وسلم و صحابہ رضی اللہ عنہم تک پہنچا رہے ہیں، یہ تو نہ سمجھ میں آنے والی بات ہے۔
جواب:
ایصالِ ثواب کی ایک صورت تو یہ ہے کہ دُوسرے کو محتاج سمجھ کرثواب پہنچایا جائے، یہ صورت تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر مقبولانِ الٰہی کے حق میں نہیں پائی جاتی، اور یہی منشا ہے آپ کے شبہ کا، اور دُوسری صورت یہ ہے کہ ان اکابر کے ہم پر بے شمار احسانات ہیں، اور احسان شناسی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ان کی خدمت میں کوئی ہدیہ پیش کیا کریں، ظاہر ہے کہ ان اکابر کی خدمت میں ایصالِ ثواب اور دُعائے ترقیٴ درجات کے سوا اور کیا ہدیہ پیش کیا جاسکتا ہے؟ پس ہمارا ایصالِ ثواب اس بنا پر نہیں کہ ․․․معاذ اللہ․․․ یہ حضرات ہمارے ایصالِ ثواب کے محتاج ہیں، بلکہ یہ حق تعالیٰ شانہ کی ہم پر عنایت ہے کہ ایصالِ ثواب کے ذریعے ہمارے لئے ان اکابر کی خدمت میں ہدیہ پیش کرنے کا دروازہ کھول دیا، جس کی بدولت ہمارا حق احسان شناسی بھی ادا ہوجاتا ہے اور ان اکابر کے ساتھ ہمارے تعلق و محبت میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے، اس سے ان اکابر کے درجات میں بھی مزید ترقی ہوتی ہے، اس کی برکت سے ہماری سیئات کا کفارہ بھی ہوتا ہے، اور ہمیں حق تعالیٰ شانہ کی عنایت سے بے پایاں حصہ ملتا ہے۔ اس کی مثال ایسی سمجھ لیجئے کہ کسی غریب مزدور پر بادشاہ کے بہت سے احسانات ہوں اور وہ اپنے تقاضائے محبت کی بنا پر کوئی ہدیہ بادشاہ کی خدمت میں پیش کرنا چاہے اور بادشاہ ازراہ مراحم خسروانہ اس کے ہدیہ کو قبول فرماکر اسے اپنے مزید انعامات کا مورد بنائے، یہاں کسی کو یہ شبہ نہیں ہوگا کہ اس فقیر درویش کا ہدیہ پیش کرنا بادشاہ کی ضرورت کی بنا پر ہے، نہیں! بلکہ یہ خود اس مسکین کی ضرورت ہے۔
دُرود و سلام تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے بھیجتے ہیں، کما فی النص، اپنے کسی عزیز کو ایصالِ ثواب کرنے کی وجہ معقول ہے، اس کی بخشش کے لئے، اور رفعِ درجات کے لئے۔
تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ایصالِ ثواب کرنے کی حقیقت پر روشنی ڈالئے، اور قرآن و سنت کی روشنی میں اس کا صحیح جواب دے کر ممنون فرمائیں۔
جواب:
اُمت کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایصالِ ثوابنصوص سے ثابت ہے، چنانچہ ایصالِ ثواب کی ایک صورت آپ کے لئے ترقیٴ درجات کی دُعا،اور مقامِ وسیلہ کی درخواست ہے، صحیح مسلم کی حدیث میں ہے:
“اذا سمعتم الموٴذّن فقولوا مثل ما یقول، ثم صلوا علیّ فانہ من یصلی علیّ صلٰوة صلی الله علیہ وسلم بھا عشرًا، ثم سلوا الله لی الوسیلة فانھا منزلة فی الجنة لا ینبغی الا لعبد من عباد الله وارجوا ان اکون انا ھو، فمن سأل لی الوسیلة حلت علیہ الشفاعة۔” (مشکوٰة ص:۶۴)
ترجمہ:… “جب تم موٴذّن کو سنو تو اس کی اذان کا اسی کی مثل الفاظ سے جواب دو، پھر مجھ پر دُرود پڑھو، کیونکہ جو شخص مجھ پر ایک بار دُرود پڑھے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس پر دس رحمتیں نازل فرماتے ہیں، پھر میرے لئے اللہ تعالیٰ سے “وسیلہ” کی درخواست کرو، یہ ایک مرتبہ ہے جنت میں، جو اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے صرف ایک بندے کے شایانِ شان ہے، اور میں اُمید رکھتا ہوں کہ وہ بندہ میں ہی ہوں گا، پس جس شخص نے میرے لئے وسیلہ کی درخواست کی، اس کو میری شفاعت نصیب ہوگی۔”
اور صحیح بخاری میں ہے:
“من قال حین سمع النداء، اللّٰھم رب ھٰذہ الدعوة التامة والصلٰوة القائمة اٰت محمدن الوسیلة والفضیلة وابعثہ مقامًا محمودن الذی وعدتہ، حلت لہ شفاعتی یوم القیامة۔” (مشکوٰة ص:۶۵)
ترجمہ:…”جو شخص اذان سن کر یہ دُعا پڑھے: “اے اللہ! جو مالک ہے اس کامل دعوت کا، اور قائم ہونے والی نماز کا، عطا کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ اور فضیلت اور کھڑا کر آپ کو مقامِ محمود میں، جس کا آپ نے وعدہ فرمایا ہے” قیامت کے دن اس کو میری شفاعت نصیب ہوگی۔”
حضرت عمر رضی اللہ عنہ عمرہ کے لئے تشریف لے جارہے تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلبی کے لئے حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رُخصت کرتے ہوئے فرمایا:
“لا تنسنا یا اخی من دعائک۔ وفی روایة: اشرکنا یا اخی فی دعائک۔”
(ابوداودج:1ص:۲۱۰، ترمذی ج:۲ ص:۱۹۵)
ترجمہ:…”بھائی جان! ہمیں اپنی دُعا میں نہ بھولنا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ: بھائی جان! اپنی دُعا میں ہمیں بھی شریک رکھنا۔”
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جس طرح حیاتِ طیبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دُعا مطلوب تھی، اسی طرح وصال شریف کے بعد بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دُعا مطلوب ہے۔
ایصالِ ثواب ہی کی ایک صورت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قربانی کی جائے، حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس کا حکم فرمایا تھا:
“عن حنش قال رأیت علیًّا رضی الله عنہ یضحی بکبشین، فقلت لہ: ما ھٰذا؟ فقال: ان رسول الله صلی الله علیہ وسلم اوصانی ان اضحی عنہ، فانا اضحی عنہ۔” (ابوداوٴد، باب الاضحیة عن المیّت ج:۲ ص:۲۹)
ترجمہ:…”حنش کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ مینڈھوں کی قربانی کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: یہ کیا؟ فرمایا کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی تھی کہ میں آپ کی طرف سے قربانی کیا کروں، سو میں آپ کی طرف سے قربانی کرتا ہوں۔”
“وفی روایة: امرنی رسول الله صلی الله علیہ وسلم ان اضحی عنہ فانا اضحی عنہ ابدًا۔”
(مسندِ احمد ج:۱ ص:۱۰۷)
“وفی روایة: فلا ادعہ ابدًا۔” (ایضاً ج:۱ ص:۱۴۹)
ترجمہ:…”ایک روایت میں ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا تھا کہ میں آپ کی طرف سے قربانی کیا کروں، سو میں آپ کی طرف سے ہمیشہ قربانی کرتا ہوں۔”
ترجمہ:…”ایک روایت میں ہے کہ میں اس کو کبھی نہیں چھوڑتا۔”
علاوہ ازیں زندوں کی طرف سے مرحومین کو ہدیہ پیش کرنے کی صورتایصالِ ثواب ہے، اور کسی محبوب و معظم شخصیت کی خدمت میں ہدیہ پیش کرنے سے یہ غرض نہیں ہوتی کہ اس ہدیہ سے اس کی ناداری کی مکافات ہوگی، کسی بہت بڑے امیر کبیر کو اس کے احباب کی طرف سے ہدیہ پیش کیا جانا عام معمول ہے، اور کسی کے حاشیہٴ خیال میں بھی یہ بات نہیں کہ ہمارے اس حقیر ہدیہ سے اس کے مال و دولت میں اضافہ ہوجائے گا، بلکہ صرف ازدیادِ محبت کے لئے ہدیہ پیش کیا جاتا ہے، اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہِ عالی میں گناہگار اُمتیوں کی طرف سے ایصالِ ثواب کے ذریعہ ہدیہ پیش کرنا اس وجہ سے نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان حقیر ہدایا کی احتیاج ہے، بلکہ یہ ہدیہ پیش کرنے والوں کی طرف سے اظہارِ تعلق و محبت کا ایک ذریعہ ہے، جس سے جانبین کی محبت میں اضافہ ہوتا ہے، اور اس کا نفع خود ایصالِ ثواب کرنے والوں کو پہنچتا ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درجاتِ قرب میں بھی اس سے اضافہ ہوتا ہے۔
علامہ ابنِ عابدین شامی نے ردالمحتار میں باب الشہید سے قبیل اس مسئلے پر مختصر سا کلام کیا ہے، اتمامِ فائدہ کے لئے اسے نقل کرتا ہوں:
“ذکر ابن حجر فی الفتاویٰ الفقھیة ان الحافظ ابن تیمیة زعم منع اھداء ثواب القرائة للنبی صلی الله علیہ وسلم لان جنابہ الرفیع لا یجرأ علیہ الا بما اذن فیہ وھو الصلٰوة علیہ وسوال الوسیلة لہ۔
قال: وبالغ السبکی وغیرہ فی الردّ علیہ بان مثل ذٰلک لا یحتاج لاذن خاص الا تری ان ابن عمر کان یعتمر عنہ صلی الله علیہ وسلم عمرًا بعدہ موتہ من غیر وصیة وحج ابن الموفق وھو فی طبقة الجنید عنہ سبعین حجة وختم ابن السراج عنہ صلی الله علیہ وسلم اکثر من عشرة اٰلاف ختمة وضحی عنہ مثل ذٰلک۔ اھ۔
قلت: رأیت نحو ذٰلک بخط مفتی الحنفیة الشھاب احمد بن الشلبی شیخ صاحب البحر نقلًا عن شرح الطیبة للنویری ومن جملة ما نقلہ ان ابن عقیل من الحنابلة قال: یستحب اھدائھا لہ صلی الله علیہ وسلم۔
قلت: وقول علمائنا لہ ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ، یدخل فیہ النبی صلی الله علیہ وسلم فانہ احق بذٰلک حیث انقذنا من الضلالة ففی ذٰلک نوع شکر واسدأ جمیل لہ والکامل قابل لزیادة الکمال وما استدل بہ بعض المانعین من انہ تحصیل الحاصل لان جمیع اعمال امتہ فی میزانہ یجاب عنہ بانہ لا مانع من ذٰلک فان الله تعالیٰ اخبرنا بانہ صلی علیہ ثم امرنا بالصلٰوة علیہ بان نقول اللّٰھم صل علی محمد، والله اعلم۔” (شامی ج:۲ ص:۲۴۴، طبع مصر)
ترجمہ:…”ابنِ حجر (مکی شافعی) نے فتاویٰ فقہیہ میں ذکر کیا ہے کہ حافظ ابنِ تیمیہ کا خیال ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاوت کے ثواب کا ہدیہ کرنا ممنوع ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہِ عالی میں صرف اسی کی جرأت کی جاسکتی ہے جس کا اذن ہو، اور وہ ہے آپ پر صلوٰة و سلام بھیجنا اور آپ کے لئے دُعائے وسیلہ کرنا۔
ابنِ حجررحکہتے ہیں کہ: امام سبکی وغیرہ نے ابنِ تیمیہ پر خوب خوب رَدّ کیا ہے کہ ایسی چیز اذنِ خاص کی محتاج نہیں ہوتی، دیکھتے نہیں ہو کہ ابنِ عمر ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عمرے کیا کرتے تھے، جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس کی وصیت بھی نہیں فرمائی تھی۔ ابن الموفق نے جو جنید کے ہم طبقہ ہیں، آپ کی طرف سے ستر حج کئے،
ترجمہ:…”بھائی جان! ہمیں اپنی دُعا میں نہ بھولنا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ: بھائی جان! اپنی دُعا میں ہمیں بھی شریک رکھنا۔”
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جس طرح حیاتِ طیبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دُعا مطلوب تھی، اسی طرح وصال شریف کے بعد بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دُعا مطلوب ہے۔
ایصالِ ثواب ہی کی ایک صورت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قربانی کی جائے، حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس کا حکم فرمایا تھا:
“عن حنش قال رأیت علیًّا رضی الله عنہ یضحی بکبشین، فقلت لہ: ما ھٰذا؟ فقال: ان رسول الله صلی الله علیہ وسلم اوصانی ان اضحی عنہ، فانا اضحی عنہ۔” (ابوداوٴد، باب الاضحیة عن المیّت ج:۲ ص:۲۹)
ترجمہ:…”حنش کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ مینڈھوں کی قربانی کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: یہ کیا؟ فرمایا کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی تھی کہ میں آپ کی طرف سے قربانی کیا کروں، سو میں آپ کی طرف سے قربانی کرتا ہوں۔”
“وفی روایة: امرنی رسول الله صلی الله علیہ وسلم ان اضحی عنہ فانا اضحی عنہ ابدًا۔”
(مسندِ احمد ج:۱ ص:۱۰۷)
“وفی روایة: فلا ادعہ ابدًا۔” (ایضاً ج:۱ ص:۱۴۹)
ترجمہ:…”ایک روایت میں ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا تھا کہ میں آپ کی طرف سے قربانی کیا کروں، سو میں آپ کی طرف سے ہمیشہ قربانی کرتا ہوں۔”
ترجمہ:…”ایک روایت میں ہے کہ میں اس کو کبھی نہیں چھوڑتا۔”
علاوہ ازیں زندوں کی طرف سے مرحومین کو ہدیہ پیش کرنے کی صورتایصالِ ثواب ہے، اور کسی محبوب و معظم شخصیت کی خدمت میں ہدیہ پیش کرنے سے یہ غرض نہیں ہوتی کہ اس ہدیہ سے اس کی ناداری کی مکافات ہوگی، کسی بہت بڑے امیر کبیر کو اس کے احباب کی طرف سے ہدیہ پیش کیا جانا عام معمول ہے، اور کسی کے حاشیہٴ خیال میں بھی یہ بات نہیں کہ ہمارے اس حقیر ہدیہ سے اس کے مال و دولت میں اضافہ ہوجائے گا، بلکہ صرف ازدیادِ محبت کے لئے ہدیہ پیش کیا جاتا ہے، اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہِ عالی میں گناہگار اُمتیوں کی طرف سے ایصالِ ثواب کے ذریعہ ہدیہ پیش کرنا اس وجہ سے نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان حقیر ہدایا کی احتیاج ہے، بلکہ یہ ہدیہ پیش کرنے والوں کی طرف سے اظہارِ تعلق و محبت کا ایک ذریعہ ہے، جس سے جانبین کی محبت میں اضافہ ہوتا ہے، اور اس کا نفع خود ایصالِ ثواب کرنے والوں کو پہنچتا ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درجاتِ قرب میں بھی اس سے اضافہ ہوتا ہے۔
علامہ ابنِ عابدین شامی نے ردالمحتار میں باب الشہید سے قبیل اس مسئلے پر مختصر سا کلام کیا ہے، اتمامِ فائدہ کے لئے اسے نقل کرتا ہوں:
“ذکر ابن حجر فی الفتاویٰ الفقھیة ان الحافظ ابن تیمیة زعم منع اھداء ثواب القرائة للنبی صلی الله علیہ وسلم لان جنابہ الرفیع لا یجرأ علیہ الا بما اذن فیہ وھو الصلٰوة علیہ وسوال الوسیلة لہ۔
قال: وبالغ السبکی وغیرہ فی الردّ علیہ بان مثل ذٰلک لا یحتاج لاذن خاص الا تری ان ابن عمر کان یعتمر عنہ صلی الله علیہ وسلم عمرًا بعدہ موتہ من غیر وصیة وحج ابن الموفق وھو فی طبقة الجنید عنہ سبعین حجة وختم ابن السراج عنہ صلی الله علیہ وسلم اکثر من عشرة اٰلاف ختمة وضحی عنہ مثل ذٰلک۔ اھ۔
قلت: رأیت نحو ذٰلک بخط مفتی الحنفیة الشھاب احمد بن الشلبی شیخ صاحب البحر نقلًا عن شرح الطیبة للنویری ومن جملة ما نقلہ ان ابن عقیل من الحنابلة قال: یستحب اھدائھا لہ صلی الله علیہ وسلم۔
قلت: وقول علمائنا لہ ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ، یدخل فیہ النبی صلی الله علیہ وسلم فانہ احق بذٰلک حیث انقذنا من الضلالة ففی ذٰلک نوع شکر واسدأ جمیل لہ والکامل قابل لزیادة الکمال وما استدل بہ بعض المانعین من انہ تحصیل الحاصل لان جمیع اعمال امتہ فی میزانہ یجاب عنہ بانہ لا مانع من ذٰلک فان الله تعالیٰ اخبرنا بانہ صلی علیہ ثم امرنا بالصلٰوة علیہ بان نقول اللّٰھم صل علی محمد، والله اعلم۔” (شامی ج:۲ ص:۲۴۴، طبع مصر)
ترجمہ:…”ابنِ حجر (مکی شافعی) نے فتاویٰ فقہیہ میں ذکر کیا ہے کہ حافظ ابنِ تیمیہ کا خیال ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاوت کے ثواب کا ہدیہ کرنا ممنوع ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہِ عالی میں صرف اسی کی جرأت کی جاسکتی ہے جس کا اذن ہو، اور وہ ہے آپ پر صلوٰة و سلام بھیجنا اور آپ کے لئے دُعائے وسیلہ کرنا۔
ابنِ حجررحکہتے ہیں کہ: امام سبکی وغیرہ نے ابنِ تیمیہ پر خوب خوب رَدّ کیا ہے کہ ایسی چیز اذنِ خاص کی محتاج نہیں ہوتی، دیکھتے نہیں ہو کہ ابنِ عمر ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عمرے کیا کرتے تھے، جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس کی وصیت بھی نہیں فرمائی تھی۔ ابن الموفق نے جو جنید کے ہم طبقہ ہیں، آپ کی طرف سے ستر حج کئے،
ابن السراج نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دس ہزار ختم کئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اتنی ہی قربانیاں کیں۔
میں کہتا ہوں کہ میں نے اسی قسم کی بات مفتی حنفیہ شیخ شہاب الدین احمد بن الشلبی، جو صاحبِ بحر الرائق کے اُستاذ ہیں، کی تحریر میں بھی دیکھی ہے، جو موصوف نے علامہ نیویری کی “شرح الطیبہ” سے نقل کی ہے، اس میں موصوف نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ حنابلہ میں سے ابنِ عقیل کا قول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہٴ ثواب مستحب ہے۔
میں کہتا ہوں کہ ہمارے علماء کا یہ قول کہ: “آدمی کو چاہئے کہ اپنے عمل کاثواب دُوسروں کو بخش دے” اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی داخل ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا زیادہ استحقاق رکھتے ہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے ہمیں گمراہی سے نجات دلائی، پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ثواب کا ہدیہ کرنے میں ایک طرح کا تشکر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات کا اعتراف ہے، اور (آپ صلی اللہ علیہ وسلم اگرچہ ہر اعتبار سے کامل ہیں، مگر) کامل زیادتِ کمال کے قابل ہوتا ہے۔ اور بعض مانعین نے جو استدلال کیا ہے کہ یہ تحصیلِ حاصل ہے، کیونکہ اُمت کے تمام عمل خود ہی آپ کے نامہٴ عمل میں درج ہوتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ یہ چیز ایصالِ ثواب سے مانع نہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمتیں نازل فرماتے ہیں، اس کے باوجود ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آپ کے لئے رحمت طلب کرنے کے لئے اللّٰھم صل علیٰ محمد کہا کریں۔”
مستفاد:آپ کے مسائل اور انکا حل
واللہ اعلم
محمد امیر۔حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
میں کہتا ہوں کہ میں نے اسی قسم کی بات مفتی حنفیہ شیخ شہاب الدین احمد بن الشلبی، جو صاحبِ بحر الرائق کے اُستاذ ہیں، کی تحریر میں بھی دیکھی ہے، جو موصوف نے علامہ نیویری کی “شرح الطیبہ” سے نقل کی ہے، اس میں موصوف نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ حنابلہ میں سے ابنِ عقیل کا قول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہٴ ثواب مستحب ہے۔
میں کہتا ہوں کہ ہمارے علماء کا یہ قول کہ: “آدمی کو چاہئے کہ اپنے عمل کاثواب دُوسروں کو بخش دے” اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی داخل ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا زیادہ استحقاق رکھتے ہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے ہمیں گمراہی سے نجات دلائی، پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ثواب کا ہدیہ کرنے میں ایک طرح کا تشکر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات کا اعتراف ہے، اور (آپ صلی اللہ علیہ وسلم اگرچہ ہر اعتبار سے کامل ہیں، مگر) کامل زیادتِ کمال کے قابل ہوتا ہے۔ اور بعض مانعین نے جو استدلال کیا ہے کہ یہ تحصیلِ حاصل ہے، کیونکہ اُمت کے تمام عمل خود ہی آپ کے نامہٴ عمل میں درج ہوتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ یہ چیز ایصالِ ثواب سے مانع نہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمتیں نازل فرماتے ہیں، اس کے باوجود ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آپ کے لئے رحمت طلب کرنے کے لئے اللّٰھم صل علیٰ محمد کہا کریں۔”
مستفاد:آپ کے مسائل اور انکا حل
واللہ اعلم
محمد امیر۔حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
نماز استخارہ.pdf
1018.1 KB
نماز استخارہ کے فضائل و مسائل
جواب نمبر:6⃣0⃣2⃣
سوال:
التحیات (قعدہ) میں اشھد ان الا لا الہ الا اللہ کہتے وقت کس ہاتھ کی انگلی اٹھانی چاہئے؟ ایک شخص کو مین دیکھا کہ وہ بائیں ہاتھ کی انگلی اٹھا رہا ہے۔؟
الجوب:
التحیات میں اشھد ان لا الہ الا اللہ کہتے وقت دائیں ہاتھ کی انگلی اٹھانا سنت ہے بائیں ہاتھ کی انگلی اٹھانا صحیح نہیں ہے۔
قال العلامة ابن عابدین:(تحت قولہ بل فی متن دررالبحار الخ)۔۔۔۔۔۔وصفتھا ان یحلق من یدہ الیمنی عند الشھادت الابھام والوسطی ویقبض البنصر والخنصر ویشیر بالمسبحة الخ
(در مختار908/1 باب صفة الصلوة قبل مطلب مھم فی عقد الاصابع عند التشھد)
قال العلامة حسن بن عمار الشرنبلالی رح:وتسن الاشارة فی الصحیح لانہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رفع اصابعہ السبابة وقد احناھا شیئا ومن قال انہ لا یشیر اصلا فھو خلاف الروایة والدرایة وتکون بالمسبحة ای السبابة من الیمنی فقد لیشیر بھا۔۔۔۔۔یرفعھا ای المسبحة عند النفی۔۔۔۔۔ویضعھا عند الاثبات۔
مراقی الفلاح علی صدر الطحطاوی218فصل فی سنن الصلوة
مستفاد:فتاوی حقانیہ۔آپکے مسائل اور انکا حل۔
واللہ اعلم
کتبہ:محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سوال # 152943
کیا التحیات میں انگلی کو حرکت دینا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے؟ اور کیا یہ سنت سے ثابت ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں بتائیں، مجھے کوئی مسلک یا فرقہ کے حالات نہیں چاہئے۔
Published on: Jun 21, 2017 جواب # 152943
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa: 943-887/sd=9/1438
جی ہاں! التحیات میں انگلی کو حرکت دینا یعنی اشہد أن لا إلہ پر انگلی اٹھاکر إلا اللہ پر گرادینا سنت سے ثابت ہے ، علامہ شامی اور ملاعلی قاری نے اس مسئلے کی وضاحت کے لیے باقاعدہ رسالہ لکھا ہے ، جو تعلیق و تخریج کے بعد طبع ہوچکا ہے ، تفصیل کے لیے یہ رسالہ دیکھا جاسکتا ہے ۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
سوال:
التحیات (قعدہ) میں اشھد ان الا لا الہ الا اللہ کہتے وقت کس ہاتھ کی انگلی اٹھانی چاہئے؟ ایک شخص کو مین دیکھا کہ وہ بائیں ہاتھ کی انگلی اٹھا رہا ہے۔؟
الجوب:
التحیات میں اشھد ان لا الہ الا اللہ کہتے وقت دائیں ہاتھ کی انگلی اٹھانا سنت ہے بائیں ہاتھ کی انگلی اٹھانا صحیح نہیں ہے۔
قال العلامة ابن عابدین:(تحت قولہ بل فی متن دررالبحار الخ)۔۔۔۔۔۔وصفتھا ان یحلق من یدہ الیمنی عند الشھادت الابھام والوسطی ویقبض البنصر والخنصر ویشیر بالمسبحة الخ
(در مختار908/1 باب صفة الصلوة قبل مطلب مھم فی عقد الاصابع عند التشھد)
قال العلامة حسن بن عمار الشرنبلالی رح:وتسن الاشارة فی الصحیح لانہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رفع اصابعہ السبابة وقد احناھا شیئا ومن قال انہ لا یشیر اصلا فھو خلاف الروایة والدرایة وتکون بالمسبحة ای السبابة من الیمنی فقد لیشیر بھا۔۔۔۔۔یرفعھا ای المسبحة عند النفی۔۔۔۔۔ویضعھا عند الاثبات۔
مراقی الفلاح علی صدر الطحطاوی218فصل فی سنن الصلوة
مستفاد:فتاوی حقانیہ۔آپکے مسائل اور انکا حل۔
واللہ اعلم
کتبہ:محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سوال # 152943
کیا التحیات میں انگلی کو حرکت دینا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے؟ اور کیا یہ سنت سے ثابت ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں بتائیں، مجھے کوئی مسلک یا فرقہ کے حالات نہیں چاہئے۔
Published on: Jun 21, 2017 جواب # 152943
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa: 943-887/sd=9/1438
جی ہاں! التحیات میں انگلی کو حرکت دینا یعنی اشہد أن لا إلہ پر انگلی اٹھاکر إلا اللہ پر گرادینا سنت سے ثابت ہے ، علامہ شامی اور ملاعلی قاری نے اس مسئلے کی وضاحت کے لیے باقاعدہ رسالہ لکھا ہے ، جو تعلیق و تخریج کے بعد طبع ہوچکا ہے ، تفصیل کے لیے یہ رسالہ دیکھا جاسکتا ہے ۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
جواب نمبر:7⃣0⃣2⃣
نذر کا کھانا محتاج کا حق ہے
سوال:
ایک شخص دانشمند فتاوی جدیدہ ایجاد کرتا ہے کہ نذراللہ اور ایصال ثواب کا کھانا محتاج وفقراء وغیرہ کا حق ہے۔متمول اور مرفہ الحال کو ناجایز ہے۔یہ صحیح ہے یا غلط۔؟
الجوب:
یہ صحیح ہے کہ نذراللہ وایصال ثواب کا کھانا ونقد وغیرہ فقراء ومساکین کا حق ہے۔امراء ورئساءکو کھلانا نہیں چاہئے۔
مصرف الزکوة الخ وھو ایضا مصرف لصدقة الفطر والکفارة والنذر وغیر ذالک من الصدقات والواجبة۔
(در مختار باب المصرف 79/2 ط۔س339/3ظفیر)
واللہ اعلم
فتاوی دارالعلوم دیوبند
کتبہ:محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
نذر کا کھانا محتاج کا حق ہے
سوال:
ایک شخص دانشمند فتاوی جدیدہ ایجاد کرتا ہے کہ نذراللہ اور ایصال ثواب کا کھانا محتاج وفقراء وغیرہ کا حق ہے۔متمول اور مرفہ الحال کو ناجایز ہے۔یہ صحیح ہے یا غلط۔؟
الجوب:
یہ صحیح ہے کہ نذراللہ وایصال ثواب کا کھانا ونقد وغیرہ فقراء ومساکین کا حق ہے۔امراء ورئساءکو کھلانا نہیں چاہئے۔
مصرف الزکوة الخ وھو ایضا مصرف لصدقة الفطر والکفارة والنذر وغیر ذالک من الصدقات والواجبة۔
(در مختار باب المصرف 79/2 ط۔س339/3ظفیر)
واللہ اعلم
فتاوی دارالعلوم دیوبند
کتبہ:محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:8⃣0⃣2⃣
نذر کی چیز خود کھانا جائز نہیں۔
سوال:
ایک شخص نے نذر مانی لہ اللہ تعالی میرا یہ کام آسان کرے تو میں واسطے اللہ کے پیر صاحب کی رتنی دونگا اسکا وہ کام ہوگیا تو وہ نذر کی چیز اپ بھی کھاتا ہے اولاد کو بھی دیتا ہے اور غنی کو بھی دیتا ہے اور مسکنوں کوبھی دیتا ہے۔جائز ہے یا نہیں۔؟
الجواب:
نذر کی چیز خود نہیں کھانی چاہئے مسکینوں اور فقیروں کو دینی چاہئے۔اور اس طرح نذر نہ کرنی چاہئے۔چنانچہ اس طرح کرنی چاہئے کہ اگر میرا کام ہوگیا تو اللہ کے واسطے محتاجوں کو اس قدر دونگا (نذر کی چیز غنی کو بھی کھانا جائز نہیں جیسے زکوة اورصدقة الفطر۔
مصرف الزکوةالخ وھو مصرف ایضا لصدقة البر والکفارة والنذر۔
رد المحتار باب المصرف79/2ط۔س339/3ظفیر
ولا الی من بینھا ولا الخ اوزوجية الخ ولا الی غنی یملک قدر نصاب فارغ عن حاجة الاصلیة من ای مال کان۔
(الدرالمختار علی ھامش ردالمحتار باب المصرف86/2۔88ط۔س336/2ظفیر)
واللہ اعلم
فتاوی دارالعلوم دیوبند
کتبہ؛محمد امیر۔حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
نذر کی چیز خود کھانا جائز نہیں۔
سوال:
ایک شخص نے نذر مانی لہ اللہ تعالی میرا یہ کام آسان کرے تو میں واسطے اللہ کے پیر صاحب کی رتنی دونگا اسکا وہ کام ہوگیا تو وہ نذر کی چیز اپ بھی کھاتا ہے اولاد کو بھی دیتا ہے اور غنی کو بھی دیتا ہے اور مسکنوں کوبھی دیتا ہے۔جائز ہے یا نہیں۔؟
الجواب:
نذر کی چیز خود نہیں کھانی چاہئے مسکینوں اور فقیروں کو دینی چاہئے۔اور اس طرح نذر نہ کرنی چاہئے۔چنانچہ اس طرح کرنی چاہئے کہ اگر میرا کام ہوگیا تو اللہ کے واسطے محتاجوں کو اس قدر دونگا (نذر کی چیز غنی کو بھی کھانا جائز نہیں جیسے زکوة اورصدقة الفطر۔
مصرف الزکوةالخ وھو مصرف ایضا لصدقة البر والکفارة والنذر۔
رد المحتار باب المصرف79/2ط۔س339/3ظفیر
ولا الی من بینھا ولا الخ اوزوجية الخ ولا الی غنی یملک قدر نصاب فارغ عن حاجة الاصلیة من ای مال کان۔
(الدرالمختار علی ھامش ردالمحتار باب المصرف86/2۔88ط۔س336/2ظفیر)
واللہ اعلم
فتاوی دارالعلوم دیوبند
کتبہ؛محمد امیر۔حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:9⃣0⃣2⃣
جس شخس نے چند غریبوں کو کھانا دینے کی نذر مانی ہو،کیا رقم دے سکتا ہے۔
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین مسئلہ ذیل میں کہ زید نے نذر مانی تھی کہ اگر لڑکا اچھا ہوگیا تو میں پانچ غریبوں کو کھا نا کھلاونگا لیکن لڑکا اچھا ہونے کے بعد اس نے بجائے پانچ غریبوں کے صرف ایک غریب کو پانچ غریبوں کے کھانے کے پیسے دےدئے تو نذر پوری ہوگئی یا نہیں اور کیا ان پیسوں کو کھانے میں استعمال لانا ضروری ہے یا دیگر اشیاء میں بھی خرچ کرسکتا ہے۔ بینوا توجروا
الجواب:
سورت مسئلہ میں اگر ایک غریب کو دیدیا توتب بھی جائز ہے اگر کھانے کے بجائے پیسے دئے تو بھی جائز ہے۔لیکن پیسے صدقة الفطر کی تعداد سے ایک وقت کے کم نہ ہو۔در مختار میں ہے 741/3نذر ان یتصدق بعشرة دراھم من الخبز فتصدق بغیرہ جاز ان سوی العشرة الخ قلت وکما لا یتعین عددہ ففی الخانیة ان زوجت بنتی فالف درھم من مال صدقة لکل مسکین درھم فزوج ودفع الالف الی مسکین جملة جاز الخ۔
مستفاد:فتاوی مفتی محمود
واللہ اعلم
کتبہ؛محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جس شخس نے چند غریبوں کو کھانا دینے کی نذر مانی ہو،کیا رقم دے سکتا ہے۔
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین مسئلہ ذیل میں کہ زید نے نذر مانی تھی کہ اگر لڑکا اچھا ہوگیا تو میں پانچ غریبوں کو کھا نا کھلاونگا لیکن لڑکا اچھا ہونے کے بعد اس نے بجائے پانچ غریبوں کے صرف ایک غریب کو پانچ غریبوں کے کھانے کے پیسے دےدئے تو نذر پوری ہوگئی یا نہیں اور کیا ان پیسوں کو کھانے میں استعمال لانا ضروری ہے یا دیگر اشیاء میں بھی خرچ کرسکتا ہے۔ بینوا توجروا
الجواب:
سورت مسئلہ میں اگر ایک غریب کو دیدیا توتب بھی جائز ہے اگر کھانے کے بجائے پیسے دئے تو بھی جائز ہے۔لیکن پیسے صدقة الفطر کی تعداد سے ایک وقت کے کم نہ ہو۔در مختار میں ہے 741/3نذر ان یتصدق بعشرة دراھم من الخبز فتصدق بغیرہ جاز ان سوی العشرة الخ قلت وکما لا یتعین عددہ ففی الخانیة ان زوجت بنتی فالف درھم من مال صدقة لکل مسکین درھم فزوج ودفع الالف الی مسکین جملة جاز الخ۔
مستفاد:فتاوی مفتی محمود
واللہ اعلم
کتبہ؛محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:0⃣1⃣2⃣
بتوں کی نذر کا کھانا حرام ہے
سوال:
ہندووٴں کے تہواروں پر “پرشاد” نام کی خوراک تقسیم کی جاتی ہے، جس میں پھل اور پکے پکائے کھانے بھی ہوتے ہیں، اور یہ خوراک مختلف بتوں کی نذر کرکے تقسیم کی جاتی ہے، اس کو بعض مسلمان بھی کھاتے ہیں۔ ازراہ کرم بتائیے کہ یہ مسلمانوں کے لئے مطلق حرام ہے یا جائز ہے؟
جواب:
بتوں کے نام کی نذر کی ہوئی چیز شرعاً حرام ہے، کسی مسلمان کو اس کاکھانا جائز نہیں۔
مستفاد: آپ کے مسائل اور انکا حل۔
واللہ اعلم
محمد امیر۔حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
بتوں کی نذر کا کھانا حرام ہے
سوال:
ہندووٴں کے تہواروں پر “پرشاد” نام کی خوراک تقسیم کی جاتی ہے، جس میں پھل اور پکے پکائے کھانے بھی ہوتے ہیں، اور یہ خوراک مختلف بتوں کی نذر کرکے تقسیم کی جاتی ہے، اس کو بعض مسلمان بھی کھاتے ہیں۔ ازراہ کرم بتائیے کہ یہ مسلمانوں کے لئے مطلق حرام ہے یا جائز ہے؟
جواب:
بتوں کے نام کی نذر کی ہوئی چیز شرعاً حرام ہے، کسی مسلمان کو اس کاکھانا جائز نہیں۔
مستفاد: آپ کے مسائل اور انکا حل۔
واللہ اعلم
محمد امیر۔حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:1⃣1⃣2⃣
نذر ونیاز کے نام پر کھانا بناکر امیر غریب سب کو کھلانا کیسا ہے؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: نیاز کیا چیز ہے عام طور سے کوئی مکان بناتا ہے تب مکانوں کی نیاز کرتا ہے اور کھانا پکاکر کھلاتا ہے، ایسے ہی پریشانی وغیرہ آتی ہے تب نیاز کرتے ہیں، یہ نیاز کا کھانا خوشی وغم دونوں موقعوں پر بنتا ہے، معلوم یہ کرنا ہے کہ یہ نیاز کے نام پر کھانا بنانا اور پھر امیر غریب سب کو کھلانا کیسا ہے، اگر یہ نیاز کے نام کا کھانا ٹھیک نہیں ہے تو پھر عوام کو کس انداز سے سمجھائیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: بلا التزام کے صدقہ کرنا جائز ہے مگر مروجہ نذرونیاز اور فاتحہ اعمال بدعت ہیں۔
(مستفاد: فتاویٰ رشیدیہ ۱۵۴)
عن العرباض بن ساریۃ رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ذات یوم في خطبتہ…: إیاکم ومحدثات الأمور، فإن کل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ۔ (مسند أحمد ۶؍۱۲۶، سنن أبي داؤد ۲؍۶۳۵، سنن الترمذي ۲؍۹۶، سنن ابن ماجۃ ۱؍۶)
مستفاد:کتاب النوازل
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
نذر ونیاز کے نام پر کھانا بناکر امیر غریب سب کو کھلانا کیسا ہے؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: نیاز کیا چیز ہے عام طور سے کوئی مکان بناتا ہے تب مکانوں کی نیاز کرتا ہے اور کھانا پکاکر کھلاتا ہے، ایسے ہی پریشانی وغیرہ آتی ہے تب نیاز کرتے ہیں، یہ نیاز کا کھانا خوشی وغم دونوں موقعوں پر بنتا ہے، معلوم یہ کرنا ہے کہ یہ نیاز کے نام پر کھانا بنانا اور پھر امیر غریب سب کو کھلانا کیسا ہے، اگر یہ نیاز کے نام کا کھانا ٹھیک نہیں ہے تو پھر عوام کو کس انداز سے سمجھائیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: بلا التزام کے صدقہ کرنا جائز ہے مگر مروجہ نذرونیاز اور فاتحہ اعمال بدعت ہیں۔
(مستفاد: فتاویٰ رشیدیہ ۱۵۴)
عن العرباض بن ساریۃ رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ذات یوم في خطبتہ…: إیاکم ومحدثات الأمور، فإن کل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ۔ (مسند أحمد ۶؍۱۲۶، سنن أبي داؤد ۲؍۶۳۵، سنن الترمذي ۲؍۹۶، سنن ابن ماجۃ ۱؍۶)
مستفاد:کتاب النوازل
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:2⃣1⃣2⃣
سودی کاروباری کے یہاں دعوت کھانا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: سودی لین دین کرنے والے کے یہاں دعوت وغیرہ میں جانا درست ہے یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اگر اُس شخص کی غالب آمدنی حرام ہے تو اُس کے یہاںدعوت کھانے سے احتراز کرنا چاہئے۔
لا یجیب دعوۃ الفاسق المعلن لیعلم أنہ غیر راضٍ بفسقہ، وکذا دعوۃ من کان غالب مالہ من حرام ما لم یخبر أنہ حلال، وبالعکس یجیب ما لم یتبین عندہ أنہ حرام، کذا في التمرتاشي، أکل الربا وکاسب الحرام أہدیٰ إلیہ أو أضافہ وغالب مالہ حرام لایقبل ولا یأکل ما لم یخبرہ أن ذٰلک المال أصلہ حلال ورثہ أو استقراضہ۔ (الفتاویٰ الہندیۃ، کتاب الکراہیۃ / الباب الثاني عشر ۵؍۳۴۳)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
رشوت لینے والے مسلمان کے پیسہ سے کھانا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: مسلم ساتھی کے پیسہ سے کھانا پینا جب کہ وہ رشوت بھی لیتے ہوں جائز ہے یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: جو ساتھی رشوت لیتے ہوں اور اُن کی غالب آمدنی رشوت پر مشتمل ہو، تو اُن کی دعوت قبول کرنی درست نہیں ہے۔ اور اگر غالب آمدنی رشوت سے نہ ہو؛ بلکہ دوسرے حلال کاروبار سے ہو، تو دعوتقبول کرسکتے ہیں۔
(کفایت المفتی ۵؍۱۰۵)
آکل الربا وکاسب الحرام أہدیٰ إلیہ أو أضافہ وغالب مالہ حرام لایقبل ولا یأکل ما لم یخبرہ أن ذٰلک المال أصلہ حلال، وإن کان غالب مالہ حلالاً لا بأس بقبول ہدیتہ والأکل منہا۔ (الفتاویٰ الہندیۃ، کتاب الکراہیۃ / الباب الثاني عشر ۵؍۳۴۳)
غالب مال المہدي إن حلالاً لا بأس بقبول ہدیتہ وأکل مالہ ما لم یتبین أنہ حرام۔ (مجمع الأنہر، کتاب الکراہیۃ / فصل في الأکل ۲؍۱۸۶ مکتبۃ فقیہ الأمۃ)
مستفاد:کتاب النوازل
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سودی کاروباری کے یہاں دعوت کھانا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: سودی لین دین کرنے والے کے یہاں دعوت وغیرہ میں جانا درست ہے یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اگر اُس شخص کی غالب آمدنی حرام ہے تو اُس کے یہاںدعوت کھانے سے احتراز کرنا چاہئے۔
لا یجیب دعوۃ الفاسق المعلن لیعلم أنہ غیر راضٍ بفسقہ، وکذا دعوۃ من کان غالب مالہ من حرام ما لم یخبر أنہ حلال، وبالعکس یجیب ما لم یتبین عندہ أنہ حرام، کذا في التمرتاشي، أکل الربا وکاسب الحرام أہدیٰ إلیہ أو أضافہ وغالب مالہ حرام لایقبل ولا یأکل ما لم یخبرہ أن ذٰلک المال أصلہ حلال ورثہ أو استقراضہ۔ (الفتاویٰ الہندیۃ، کتاب الکراہیۃ / الباب الثاني عشر ۵؍۳۴۳)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
رشوت لینے والے مسلمان کے پیسہ سے کھانا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: مسلم ساتھی کے پیسہ سے کھانا پینا جب کہ وہ رشوت بھی لیتے ہوں جائز ہے یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: جو ساتھی رشوت لیتے ہوں اور اُن کی غالب آمدنی رشوت پر مشتمل ہو، تو اُن کی دعوت قبول کرنی درست نہیں ہے۔ اور اگر غالب آمدنی رشوت سے نہ ہو؛ بلکہ دوسرے حلال کاروبار سے ہو، تو دعوتقبول کرسکتے ہیں۔
(کفایت المفتی ۵؍۱۰۵)
آکل الربا وکاسب الحرام أہدیٰ إلیہ أو أضافہ وغالب مالہ حرام لایقبل ولا یأکل ما لم یخبرہ أن ذٰلک المال أصلہ حلال، وإن کان غالب مالہ حلالاً لا بأس بقبول ہدیتہ والأکل منہا۔ (الفتاویٰ الہندیۃ، کتاب الکراہیۃ / الباب الثاني عشر ۵؍۳۴۳)
غالب مال المہدي إن حلالاً لا بأس بقبول ہدیتہ وأکل مالہ ما لم یتبین أنہ حرام۔ (مجمع الأنہر، کتاب الکراہیۃ / فصل في الأکل ۲؍۱۸۶ مکتبۃ فقیہ الأمۃ)
مستفاد:کتاب النوازل
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:3⃣1⃣2⃣
سود سے توبہ کرنے والے کے گھر دعوت کا حکم
سوال:۔ ایک شخص اپنی دعوت کو پردہ نہیں کراتا اور نکاح میں خلافِ شرع کام کرتا ہے اور بے نمازی بھی ہے اور تھوڑی کچھ زمین رہن رکھ کر اس سے نفع بھی حاصل کرکے تصرف کرتا ہے ، اب وہ شخص توبہ کرکے یوں کہتا ہے کہ میں آئندہ ایسا کام نہیں کروں گا جس مال میں شک ہے وہ نہیں کھاؤں گا، اب اس کے گھر میں دعوت کھانا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب
جب مشکوک مال نہیں کھلاتا تو دعوت میں کیا شک ہے۔
سوال:۔ ایک شخص کا دو قسم کا مال ہے اور اکثر حلال ہے تو اس کے گھر میںدعوت کھانا جائز ہے یا نہیں؟ وہ شخص یوں کہتا ہے کہ میں نے حلال مال الگ رکھا ہے اور اسی حلال سے کھلانا چاہتا ہوں ، اب یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟
الجواب
اگر حلال علیحدہ ہے تو اس کا کھانا ہر حال میں جائز ہے لیکن اگر مقتدا کیدعوت قبول کرنے سے عوام کو ایسی آمدنی کمانے پر جرأت بڑھتی ہو تو مقتدا کو احتیاط چاہئے۔
مستفاد: امدادالاحکام
فقط واللہ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سود سے توبہ کرنے والے کے گھر دعوت کا حکم
سوال:۔ ایک شخص اپنی دعوت کو پردہ نہیں کراتا اور نکاح میں خلافِ شرع کام کرتا ہے اور بے نمازی بھی ہے اور تھوڑی کچھ زمین رہن رکھ کر اس سے نفع بھی حاصل کرکے تصرف کرتا ہے ، اب وہ شخص توبہ کرکے یوں کہتا ہے کہ میں آئندہ ایسا کام نہیں کروں گا جس مال میں شک ہے وہ نہیں کھاؤں گا، اب اس کے گھر میں دعوت کھانا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب
جب مشکوک مال نہیں کھلاتا تو دعوت میں کیا شک ہے۔
سوال:۔ ایک شخص کا دو قسم کا مال ہے اور اکثر حلال ہے تو اس کے گھر میںدعوت کھانا جائز ہے یا نہیں؟ وہ شخص یوں کہتا ہے کہ میں نے حلال مال الگ رکھا ہے اور اسی حلال سے کھلانا چاہتا ہوں ، اب یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟
الجواب
اگر حلال علیحدہ ہے تو اس کا کھانا ہر حال میں جائز ہے لیکن اگر مقتدا کیدعوت قبول کرنے سے عوام کو ایسی آمدنی کمانے پر جرأت بڑھتی ہو تو مقتدا کو احتیاط چاہئے۔
مستفاد: امدادالاحکام
فقط واللہ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
Telegram
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
"جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند" میں روزانہ ایک دو مسئلہ مدلل ومزین انداز میں بطورِ استفادہ آپ کو ملے گا،
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1
جواب نمبر:4⃣1⃣2⃣
طلاق دینے کے بعد مہر اور بچوں کا خرچ دینا ہوگا۔
سوال:
اگر زید اپنی بیوی کو طلاق نامہ ارسال کردے تو کیا شرعی حیثیت سے وہ حق مہر اور بچوں کے خرچ کا ذمہ دار ہوگا؟ جبکہ وہ بچے لینا نہیں چاہتا اور اس کے مالی وسائل بھی اتنے نہیں کہ وہ حق مہر کی کثیر رقم کے علاوہ بچوں کا خرچہ بھی یکمشت دے سکے۔ جبکہ زید کی سسرال والے طلاق نامہ ملنے پر یکمشت مہر کی رقم اور بچوں کے خرچے کا دعویٰ کریں گے، ایسی صورت میں شرعی حکم کیا ہے؟
جواب:
مہر تو دینا ہی پڑے گا، عورت اگر چاہے تو قسطوں میں وصول کرسکتی ہے، بچوں کو خرچ اس کو ماہوار دینا ہوگا، خرچ کی مقدار صلح صفائی سے بھی طے ہوسکتی ہے اور عدالت کے ذریعہ بھی۔
مستفاد: آپ کے مسائل اور انکا حل
واللہ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
طلاق دینے کے بعد مہر اور بچوں کا خرچ دینا ہوگا۔
سوال:
اگر زید اپنی بیوی کو طلاق نامہ ارسال کردے تو کیا شرعی حیثیت سے وہ حق مہر اور بچوں کے خرچ کا ذمہ دار ہوگا؟ جبکہ وہ بچے لینا نہیں چاہتا اور اس کے مالی وسائل بھی اتنے نہیں کہ وہ حق مہر کی کثیر رقم کے علاوہ بچوں کا خرچہ بھی یکمشت دے سکے۔ جبکہ زید کی سسرال والے طلاق نامہ ملنے پر یکمشت مہر کی رقم اور بچوں کے خرچے کا دعویٰ کریں گے، ایسی صورت میں شرعی حکم کیا ہے؟
جواب:
مہر تو دینا ہی پڑے گا، عورت اگر چاہے تو قسطوں میں وصول کرسکتی ہے، بچوں کو خرچ اس کو ماہوار دینا ہوگا، خرچ کی مقدار صلح صفائی سے بھی طے ہوسکتی ہے اور عدالت کے ذریعہ بھی۔
مستفاد: آپ کے مسائل اور انکا حل
واللہ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:5⃣1⃣2⃣
نکاح ،طلاق، مہر کے ثبوت کی ایک صورت۔
سوال:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مندرجہ ذیل مسائل میں۔
(الف)خالد نے اپنی لڑکی خالدہ کا نکاح جلسہ عام میں زاہد سے کیا خالدہ شوہر زاہد کے گھر گئی شب اولیٰ میں خالدہ نے زاہد سے کہا کہ تمہاری شکل مجھے پسند نہیں ہے میں نے دین مہر چھوڑدیا اور تم مجھے طلاق دیدو خالدہ کی دادی اور نانی نے چند دفعہ خالدہ کو زاہد کے گھر پہنچادیا لیکن زاہد اور خالدہ میں کسی قسم کا تعلق نہیں رہا ہے بعدہ خالدہ برابر اپنے باپ کے گھر مقیم رہی نکاح کے کچھ عرصہ بعد زاہد نے خالدہ کو تین طلاق دیدی۔
(ب)نکاح کے وقت خالد نے ناصر اور صابر کو خالدہ کے پاس اجازت کے لے روانہ کیا اور دونوں گواہوں نے بتلایا کہ خالدہ نے نکاح کی اجازت دیدی ہے لہٰذا نکاح پڑھادیا گیا ہے لیکن جب خالدہ اور زاہد کاجھگڑا اور رنجش انجمن دارجلنگ میں پیش ہوا تو خالدہ نے بتلایا کہ شادی کے وقت تک اس کو حیض نہیں ہوا تھا اور وہ نابالغہ تھی اور خالدہ کی دادی خود مقرہ ہے کہ شادی کے وقت وہ خالدہ نابالغہ تھی اور خود خالد کو علم تھا بوقت نکاح اپنی لڑکی کے نابالغہ ہونے کا، تو اس صورت میں خالد کو خود ولی ہوکر نکاح پڑھانے کی اجازت دینی چاہیے تھی لیکن اس کے خلاف خالد نے نابالغہ خالدہ کی رضامندی دریافت کرائی ہے اور خالدہ نے اجازت بھی دیدی ہے جب کہ نابالغہ ہونے کی صورت میں خالدہ اجازت دینے کا استحقاق نہیں رکھتی ہے خالدہ بوقت نکاح نابالغہ تھی اس صورت میں اس کی رضامندی کیا مشروع ہے۔
(۲)خالد باپ ہونے کی صورت میں بذات خود حقیقی ولی تھا لیکن اس نے نابالغہ خالدہ کی رضامندی سے نکاح پڑھادیا ہے۔
(۳) کیامندرجہ بالا ۱و ۲ صورتوں میں خالدہ کا زاہد سے نکاح درست ہوا ہے۔
(۴) مندرجہ بالا الف کے مطابق طلاق کی کیا صورت رہے گی خالدہ نے مہرچھوڑنے کے لیے کہا تھا کیا یہ خلع کی شکل ہوئی ۔
(۵)شب اولیٰ میں نابالغہ خالدہ نے زاہد کے ساتھ طوفان بدتمیزی برپاکی اور زاہد کے ہاتھ کی انگلیوں کو دانت سے زخمی کیا لہٰذا زاہد ہمبستر نہیں ہوسکا کیا اس کو خلوت صحیح تصویر کیا جائے گا۔
(۶) حقیقی ولی خالد کی غلطی کے باعث اگرنکاح درست نہیں ہوا تو کیا پھر بھی زاہد دین مہر کاذمہ دار ہوگا۔
(۷)اگر نکاح درست ہواور جب کہ نابالغہ خالدہ نے طلاق طلب کی اورمعاف کرنے کوکہا کیاایسی صورت میں زاہد دین مہر ادا کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔
الجـواب وباﷲ التـوفـیـق
جواب:صورت مسئولہ میں حسب تحریر سوال نکاح بالکل صحیح منعقد ہوا اور خلوۃ صحیح بھی متحقق ہوگئی اورمہر بھی پورا واجب الاداء ہوگیا اور تین طلاقبھی واقع ہوکر حرمت مغلظہ ہوگئی نمبروار واقعات مذکورہ سے اس حکم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔نابالغہ ہونے کی وجہ سے مہر کی معافی درست نہیں ہوئی اور مراہقہ ہونے کی وجہ سے خلوۃ صحیحہ متحقق ہوگئی۔
مستفاد:نظام الفتاوی
فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔
محمد امیر حنفی دیوبندی۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
نکاح ،طلاق، مہر کے ثبوت کی ایک صورت۔
سوال:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مندرجہ ذیل مسائل میں۔
(الف)خالد نے اپنی لڑکی خالدہ کا نکاح جلسہ عام میں زاہد سے کیا خالدہ شوہر زاہد کے گھر گئی شب اولیٰ میں خالدہ نے زاہد سے کہا کہ تمہاری شکل مجھے پسند نہیں ہے میں نے دین مہر چھوڑدیا اور تم مجھے طلاق دیدو خالدہ کی دادی اور نانی نے چند دفعہ خالدہ کو زاہد کے گھر پہنچادیا لیکن زاہد اور خالدہ میں کسی قسم کا تعلق نہیں رہا ہے بعدہ خالدہ برابر اپنے باپ کے گھر مقیم رہی نکاح کے کچھ عرصہ بعد زاہد نے خالدہ کو تین طلاق دیدی۔
(ب)نکاح کے وقت خالد نے ناصر اور صابر کو خالدہ کے پاس اجازت کے لے روانہ کیا اور دونوں گواہوں نے بتلایا کہ خالدہ نے نکاح کی اجازت دیدی ہے لہٰذا نکاح پڑھادیا گیا ہے لیکن جب خالدہ اور زاہد کاجھگڑا اور رنجش انجمن دارجلنگ میں پیش ہوا تو خالدہ نے بتلایا کہ شادی کے وقت تک اس کو حیض نہیں ہوا تھا اور وہ نابالغہ تھی اور خالدہ کی دادی خود مقرہ ہے کہ شادی کے وقت وہ خالدہ نابالغہ تھی اور خود خالد کو علم تھا بوقت نکاح اپنی لڑکی کے نابالغہ ہونے کا، تو اس صورت میں خالد کو خود ولی ہوکر نکاح پڑھانے کی اجازت دینی چاہیے تھی لیکن اس کے خلاف خالد نے نابالغہ خالدہ کی رضامندی دریافت کرائی ہے اور خالدہ نے اجازت بھی دیدی ہے جب کہ نابالغہ ہونے کی صورت میں خالدہ اجازت دینے کا استحقاق نہیں رکھتی ہے خالدہ بوقت نکاح نابالغہ تھی اس صورت میں اس کی رضامندی کیا مشروع ہے۔
(۲)خالد باپ ہونے کی صورت میں بذات خود حقیقی ولی تھا لیکن اس نے نابالغہ خالدہ کی رضامندی سے نکاح پڑھادیا ہے۔
(۳) کیامندرجہ بالا ۱و ۲ صورتوں میں خالدہ کا زاہد سے نکاح درست ہوا ہے۔
(۴) مندرجہ بالا الف کے مطابق طلاق کی کیا صورت رہے گی خالدہ نے مہرچھوڑنے کے لیے کہا تھا کیا یہ خلع کی شکل ہوئی ۔
(۵)شب اولیٰ میں نابالغہ خالدہ نے زاہد کے ساتھ طوفان بدتمیزی برپاکی اور زاہد کے ہاتھ کی انگلیوں کو دانت سے زخمی کیا لہٰذا زاہد ہمبستر نہیں ہوسکا کیا اس کو خلوت صحیح تصویر کیا جائے گا۔
(۶) حقیقی ولی خالد کی غلطی کے باعث اگرنکاح درست نہیں ہوا تو کیا پھر بھی زاہد دین مہر کاذمہ دار ہوگا۔
(۷)اگر نکاح درست ہواور جب کہ نابالغہ خالدہ نے طلاق طلب کی اورمعاف کرنے کوکہا کیاایسی صورت میں زاہد دین مہر ادا کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔
الجـواب وباﷲ التـوفـیـق
جواب:صورت مسئولہ میں حسب تحریر سوال نکاح بالکل صحیح منعقد ہوا اور خلوۃ صحیح بھی متحقق ہوگئی اورمہر بھی پورا واجب الاداء ہوگیا اور تین طلاقبھی واقع ہوکر حرمت مغلظہ ہوگئی نمبروار واقعات مذکورہ سے اس حکم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔نابالغہ ہونے کی وجہ سے مہر کی معافی درست نہیں ہوئی اور مراہقہ ہونے کی وجہ سے خلوۃ صحیحہ متحقق ہوگئی۔
مستفاد:نظام الفتاوی
فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔
محمد امیر حنفی دیوبندی۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:6⃣1⃣2⃣
مقروض آدمی کا حج کرنا جائز ہے لیکن قرضہ ادا کرنے کی بھی فکر کرے
سوال:
ایک صاحب مقروض ہیں، لیکن پیسہ آتے ہی بجائے قرضہ واپس کرنے کے وہ پاکستان سے اپنے والدین کو بلاکر ساتھ ہی خود بھی حج کرتے ہیں، ایسے حج کرنے کے بارے میں شرعی حیثیت کیا ہے؟
جواب:
حج تو ہوگیا، مگر کسی کا قرضہ ادا نہ کرنا بڑی بُری بات ہے، کبیرہ گناہوں کے بعد سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی مقروض ہوکر دُنیا سے جائے اور اتنا مال چھوڑ کر نہ جائے جس سے اس کا قرضہ ادا ہوسکے۔ میّت کا قرضجب تک ادا نہ کردیا جائے وہ محبوس رہتا ہے، اس لئے ادائے قرض کا اہتمام سب سے اہم ہے۔
مستفاد:آپ کے مسائل اور انکا حل
واللہ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
مقروض آدمی کا حج کرنا جائز ہے لیکن قرضہ ادا کرنے کی بھی فکر کرے
سوال:
ایک صاحب مقروض ہیں، لیکن پیسہ آتے ہی بجائے قرضہ واپس کرنے کے وہ پاکستان سے اپنے والدین کو بلاکر ساتھ ہی خود بھی حج کرتے ہیں، ایسے حج کرنے کے بارے میں شرعی حیثیت کیا ہے؟
جواب:
حج تو ہوگیا، مگر کسی کا قرضہ ادا نہ کرنا بڑی بُری بات ہے، کبیرہ گناہوں کے بعد سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی مقروض ہوکر دُنیا سے جائے اور اتنا مال چھوڑ کر نہ جائے جس سے اس کا قرضہ ادا ہوسکے۔ میّت کا قرضجب تک ادا نہ کردیا جائے وہ محبوس رہتا ہے، اس لئے ادائے قرض کا اہتمام سب سے اہم ہے۔
مستفاد:آپ کے مسائل اور انکا حل
واللہ اعلم
محمد امیر حنفی دیوبندی
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail