جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
1.42K subscribers
117 photos
36 files
685 links
"جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند" میں روزانہ ایک دو مسئلہ مدلل ومزین انداز میں بطورِ استفادہ آپ کو ملے گا،

آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda

https://www.hanafimasail.com/?m=1
Download Telegram
جواب نمبر:3⃣9⃣1⃣

غیر محرم کا تحفہ
سوال:
اسلام میں تحفہ دینا اور قبول کرنا دونوں جائز ہے،اس لئے اگر کوئی غیر محرم ہمیں تحفہ دے تو کیا اسے قبول کیا جاسکتا ہے ؟ اگر ہم قبول نہ کریں تو اس کی دل شکنی ہوگی ، تو کیا اس سے گناہ ہوگا ؟ ( ایک بہن)

جواب:
یوں تو ایک مسلمان کیا ہر انسان کا تحفہ قبول کرنا جائز ہے ، اور اگر کسی عورت کو اندیشہ ہو یا مال حرام ہونے کا گمان ہو ، تو تحفہ نہ قبول کرنا بھی درست ہے ، لیکن کسی عورت کے غیر محرم سے تحفہ کے قبول کرنے میں بعض اوقات فتنہ کا اندیشہ ہوتا ہے ، اور جن لوگوں کا ذہن بیمار ہوتا ہے وہ اس کی وجہ سے غلط امیدیں قائم کرسکتے ہیں، اس لیے آپ کو اپنے سرپرستوں کی اجازت کے بغیر ایسا کوئی تحفہ ہرگز قبول نہیں کرناچاہئے ۔

مستفاد:کتاب الفتاوی

واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:4⃣9⃣1⃣

غیر محرم سے تعلق و محبت کا علاج:
سوال:
ایک عورت کو ایک اجنبی مرد سے محبت پیداہوگئی،معلوم نہیں ان میں محبت کیسی ہے؟کیا صورت کی جائے؟

جواب:
غیر آدمی سے محبت کے نتائج نہایت خطرناک ہیں،فورا توبہ کرکے اللہ تعالی سے عہد کرے اور دعا کرے کہ حق تعالی دعا پر قائم رکھے،درود شریف کثرت سے پڑھا کرے،انشاء اللہ غلط محبت سے دل صاف ہو جائےگا۔
فتاوی محمودیہ306/12اجنی سے محبت درست نہیں۔(م 'ع)

مستفاد:جامع الفتاوی

واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:5⃣9⃣1⃣

ائرہوسٹس سے بات کرنا:
سوال:
ہوئی جہاز میں کھانا وغیرہ کیلئے ائرہوسٹس سے بات کرنا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب:
جہاز میں کھانا اور چائے وغہرہ وقت مقرر پر عملہ کی طرف سے خود پہنچادیا جاتا ہے طلب کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی،معہذا اگر ضرورت ہو تو ائرہوسٹس سے بقدر ضرورت بات کرنا جائز ہے۔

مستفاد:احسن الفتاوی

واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔



جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:6⃣9⃣1⃣

غیر محرم کو سلام کرنا:
سوال:
عورت کیلئے غیر محرم مرد کو سلام کرنا یا اسکے سلام کا جواب لینا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب:
اجنبی مردوعورت کیلئے ایک دوسرے کو سلام کرنا یا سلام کاجواب دینا جائز نہیں،اگر کسی نے سلام کیا تو دوسرے دل میں جواب دے آواز سے نہ دے۔
البتہ کسی ضرورت سے بات کرنے کی نوبت آئے تو سلام وردسلام کی گنجائش ہے۔

قال العلامة الحصکفی رحمہ اللہ تعالی؛ وفی الشرنبلالیة معزیا للجوھرة ولا یتکلم الاجنبیة الاعجوزا اعطست اوسلمت فیشمتھا اویرد السلام علیھا والا لاانتھی۔

وقال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی:(قولہ والا لا)ای والاتکن عجوزا بل شابة لایشمتھا ولا یرد السلام بلسانہ قال فی الخانیة وکذا الرجل مع المراة اذا التقیا یسلم الرجل اولا واذا سلمت المراة الاجنبیةعلی رجل ان کانت عجوزا رد الرجل علیھا السلام بلسانہ بصوت تسمع وان کانت شابة رد علیھا فی نفسہ وکذا الرجل اذا سلم علی امراة اجنبیة فالجواب فیہ علی العکس اھ وفی الذخیرة واذا عطس فتشمتتہ المراة فان عجوزا ردعلیھا والا رد فی نفسہ اھ کذا لو عطست ھی کما فی الخلاصة.
(ردالمختار236/5)

مستفاد:احسن الفتاوی

واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔



جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
ایصال ثواب کاثبوت چاہیے جائزہ ہے تو کیسے


جواب نمبر:7⃣9⃣1⃣

قرآن کریم پڑھ کر مردوں کو ایصال ثواب 
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: مردوں کو پورا قرآن پڑھ کر ایصال ثواب کرنا کیسا ہے؟ کیا  اس کا ثبوت احادیث شریفہ سے ملتا ہے، جبکہ قرآن کریم کی بعض سورتیں، مثلاً سورۂ اخلاص وغیرہ پڑھکر ایصال ثواب کرنے کا ثبوت احادیث میں ملتا ہے؟ 

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:اکثر علماء اہل سنت والجماعت کا موقف یہ ہے کہ آدمی اپنی نفلی عبادتوں- خواہ وہ مالی ہوں یا بدنی ہوں یا دونوں سے مرکب ہوں - کا ثواب دوسرے زندہ یا مردہ لوگوں کو بخش سکتا ہے اس میں شرعاً کوئی  رکاوٹ نہیں؛ لہٰذا اگر کوئی شخص اپنی نفل نمازیں، روزے یا حج وعمرہ یا قرآنِ پاک کی تلاوت وغیرہ کا ثواب اپنے مرحوم یا زندہ متعلقین کو پہنچانا  چاہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، بس شرط یہ ہے کہ یہ اعمال نفلی ہوں اور ان پر دنیا میں کوئی اجرت نہ لی گئی ہو۔

عن معقل بن یسار قال: قال رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم: اقرؤا یس علی موتاکم۔ (سنن أبي داؤد ۲؍۴۴۵)
عن علي رضي اللّٰہ عنہ مرفوعا: من مر علی مقابر، وقرأ: {قل ہو اللّٰہ أحد} إحدی عشرۃ مرۃ، ثم وہب أجرہ للأموات، أعطی من الأجر بعدد الأموات‘‘۔ (إعلاء السنن دارالکتب العلمیۃ ۸؍۳۳۰ رقم: ۲۳۲۰)
عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: من دخل المقابر، ثم قرأ فاتحۃ الکتاب، و قل ہواللّٰہ أحد،، وألہٰکم التکاثر، ثم قال: اللّٰہم إني قد جعلت ثواب ما قرأت من کلامک لأہل المقابر من المؤمنین والمؤمنات کانوا شفعاء لہ إلی اللّٰہ تعالی۔ (إعلاء السنن ۸؍۳۳۱ رقم: ۲۳۲۱)
 علامہ ابن القیمؒ فرماتے ہیں: وأما قراء ۃ القرآن وإہدائہا إلیہ تطوعاً بغیر أجرۃٍ، فہٰذا یصل إلیہ کما یصل إلیہ ثواب الصوم والحج۔ (کتاب الروح ۲۱۱)
اور علامہ ابن تیمیہؒ کے فتاویٰ میں ہے: لا نزاع بین علماء السنۃ والجماعۃ في وصول ثواب العبادات المالیۃ، والصواب أن الأعمال البدنیۃ کذٰلک۔ (مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ ۲۴؍۳۶۶، حاشیۃ البحر العمیق ۴؍۲۲۴۱)
اور صاحب بدائع علامہ کاسانیؒ فرماتے ہیں: وقول النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم: ’’لا یصوم أحد عن أحد ولا یصلي أحد عن أحد‘‘، أي فی حق الخروج عن العہدۃ لا فی حق الثواب فان من صام او صلی او تصدق وجعل ثوابہ لغیرہ من الاموات او الاحیاء جاز، ویصل ثوابہا الیہم عند اہل السنۃ والجماعۃ …، وعلیہ عمل المسلمین من لدن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم الی یومنا ہٰذا فی زیارۃ القبور وقراء ۃ القراٰن علیہا والتکفین والصدقات والصوم والصلاۃ وجعل ثوابہا للاموات ولا امتناع فی العقل ایضاً؛ لان اعطاء الثواب من اللّٰہ تعالیٰ افضال منہ لا استحقاق علیہ فلہ ان یتفضل علی من عمل لاجلہ بجعل الثواب لہ کما لہ ان یتفضل باعطاء الثواب من غیر عمل رأساً ۔ (بدائع الصنائع ۲؍۴۵۴)
اور حضرت امام مالک اور حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہما سے یہ بات منقول ہے کہ تلاوت وغیرہ کا ثواب دوسرے کو نہیں پہنچتا؛ لیکن فقہ شافعی کی  کتابوں میں یہ صراحت بھی ہے کہ اگر ان عبادات کو انجام دے کر آدمی یہ دعا کرلے کہ اللہ تعالیٰ اس کا ثواب فلاں کو پہنچادے تو اس اعتبار سے انجام کار اس کا ثواب دوسرے کو پہنچ جائے گا اوراختلاف کی گنجائش باقی نہ رہے گی۔
چناںچہ علامہ ابن رشد مالکیؒ فرماتے ہیں: محل الخلاف مالم تخرج القراء ۃ مخرج الدعاء بان یقول قبل قراء تہٖ ’’اللّٰہم اجعل ثواب ما اقرؤ ہ لفلان‘‘ فاذا خرجت مخرج الدعاء کان الثواب لفلانٍ قولاً واحداً جاز ذٰلک من غیر خلافٍ۔ (حاشیۃ: البحر العمیق ۴؍۲۲۴۱-۲۲۴۲) 
مذکورہ دلائل سے ثابت ہوا کہ بعض حضرات کا میت کو نفس ایصالِ ثواب پر شدت سے نکیر کرنا صحیح نہیں ہے۔

مستفاد: کتاب النوازل

فقط واﷲ تعالی اعلم 

محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:8⃣9⃣1⃣

ایصالِ ثواب مردوں کی مغفرت کا ذریعہ ہے۔
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: قرآنِ کریم کا ثواب جومیت کو بخشا جاتا ہے مرحوم کے گناہ کا کفارہ ہے اور عذاب قبر اور آتش جہنم سے نجات کا سبب ہوتا ہے؟

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:زندوں کا مردوں کے لئے دعاء خیر کرنا اور ایصالِثواب کرنا مردوں کی مغفرت اور درجات کی بلندی کا ذریعہ بنتا ہے۔
یستحب عند زیادۃ القبور قراء ۃ سورۃ الإخلاص سبع مرات؛ فإنہ بلغني من قرأہا سبع مرات إن کان ذٰلک المیت غیر مغفور لہ یغفر لہ۔ (الفتاویٰ الہندیۃ ۵؍۳۵۰)
إن دعاء الأحیاء للأموات وصدقتہم عنہم نفع لہم في علو الحالات۔ (شرح الفقہ الأکبر ۱۵۶)

فقط واللہ تعالیٰ اعلم



ایصالِ ثواب کے لئے مسجد میں مینار بنانا اور چٹائیاں دینا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: مرحوم کے ایصال ثواب کے ارادہ سے اگر مسجد مدرسہ کی  حفاظت کے لئے کوئی دیوار یا مسجد کا مینار تعمیر کرایا جائے اور وہ پھر منہدم یا نیست ونابود ہوجائے، یا مسجد میں چٹائیاں ڈالی جائیں اور وہ خراب وخستہ ہوجائیں، یعنی بے کار قابل استعمال نہ رہیں تو اس کا ثواب بھی مرحوم کو قیامت تک ملتا رہے گا؟

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:جب تک وہ دیوار باقی رہے گی، یا وہ عمارت موجود رہے گی، اس وقت تک ہی اسے ثواب ملتا رہے گا، اسی طرح جب تک چٹائیوں پر نماز پڑھی جاتی رہے اس وقت تک وہ ثواب کا مستحق رہے گا، خراب ہونے کے بعد قیامت تک ثواب نہ ملے گا۔
(مستفاد: فضائل صدقات ۱؍۹۷)
عن عکرمۃ مولیٰ ابن عباس رضي اللّٰہ عنہما یقول: أنبأنا ابن عباس أن سعد بن عبادۃ رضي اللّٰہ عنہ - أخا بني ساعدۃ - توفیت أمہ وہو غائب عنہ فأتی النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم فقال یا رسول اللّٰہ! إن أمي توفیت وأنا غائب عنہا، فہل ینفعہا شيء إن تصدقتُ بہ عنہا، قال نعم! قال: فإني أُشہِدک أن حائطي المخرافَ صدقۃ علیہا۔ (صحیح البخاري، کتاب الوصایا / باب الإشہاد في الوقف والصدقۃ ۲۶۱۱ رقم: ۲۷۶۲)
عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: إذا مات الإنسان انقطع عنہ عملہ، إلا من ثلاثۃ: إلا من صدقۃ جاریۃ، أو علم ینتفع بہ، أو ولد صالح یدعو لہ۔ (صحیح مسلم ۲؍۴۱)

مستفاد:کتاب النوازل

فقط واللہ تعالیٰ اعلم


محمد امیر۔۔۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:9⃣9⃣1⃣

ایصالِ ثواب کی دائمی صورت؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: دائمی اجر وثواب کا کوئی ایسا ذریعہ بھی ہوسکتا ہے جس میں نمود نہ ہو؟

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:دائمی ثواب کی صورت یہ ہے کہ مثلاً مسجد یا مدرسہ کے لئے زمین وقف کردی جائے۔
عن ابن عباس رضي اللّٰہ عنہما أن سعد بن عبادۃ أخا بني ساعدۃ توفیت أمہ وہو غائب عنہا فأتی النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم فقال یا رسول اللّٰہ! إن أمي توفیت وأنا غائب عنہا، فہل ینفعہا شيء إن تصدقت بہ عنہا، قال نعم! قال: فإني أشہدک أن حائطي المخراف صدقۃ علیہا۔ (صحیح البخاري، کتاب الوصایا / باب الإشہاد في الوقف والصدقۃ ۱؍۳۸۷ رقم: ۲۶۸۱ ف: ۲۷۶۲)
عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: إذا مات الإنسان انقطع عنہ عملہ، إلا من ثلاثۃ: إلا من صدقۃ جاریۃ، أو علم ینتفع بہ، أو ولد صالح یدعو لہ۔ (صحیح مسلم ۲؍۴۱)


مستفاد:کتاب النوازل

فقط واللہ تعالیٰ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:0⃣0⃣2⃣

(ایصال ثواب سے متعلق مسائل کا بیان)
سوال:
جو لوگ گھروں پر قرآن خوانی کراتے ہیں ان کو قرآن کا ثواب ملے  گا یا نہیں، پھر اس مردے کیلئے جس کے لئے قرآن خوانی کرائی ہے اسے ثواب ملے گا یا نہیں؟
اگر اللہ کے نام پر کپڑا یا پیسہ دیا جائے ہماری نیت اس مردے کی روح کوثواب پہنچانے کی ہو تو کیا اسے ثواب ملے گا یا نہیں؟ ہم روزانہ تلاوت قرآن پاک یا درود شریف، کلمہ طیبہ پڑھ کر آدم علیہ السلام سے لے کر تمام انبیاء تک اور تمام مسلمانوں کو جو رحلت کر چکے ہیں ان کو ایصال ثواب کریں تو کیا ان کو ثواب ملے گا یا نہیں؟
(۲) اگر کسی شخص کا ذاتی کاروبار یا مکان کا کرایہ آتا ہو وہ اسے چھوڑ کر انتقال کر جائے تو اس شخص کیلئے یہ اثاثہ جو اس کی اولاد استعمال کرتے ہیں، کیا یہ صدقہ جاریہ ہو گا یا نہیں؟

جواب:
(۱) نفلی عبادات، خواہ وہ تلاوت قرآن ہو یا نفلی نماز ہو یا صدقہ ہو، اس کا ثواب کسی مردے کو پہنچایا جا سکتا ہے اور اس کو ثواب پہنچتا بھی ہے (۱) اور خود ایصال ثواب کرنے والے کو بھی ثواب ملتا ہے (۲۲)، لیکن اس  کے لئے طریقہ ایسا اختیار کرنا چاہئے جس میں نام و نمود اور دکھاوا وغیرہ نہ ہو۔ آج کل گھروں پر باقاعدہ لوگوں کو جمع کر کے جو قرآن خوانی کی جاتی ہے اس میں اکثر نام و نمود ہوتا ہے اور ناجائز رسمیں ہوتی ہیں، اس لئے اس سے پرہیز کر کے میت کو ثواب پہنچا دیں۔ روزانہ تلاوت یا تسبیح وغیرہ پڑھتے ہیں اس کا ثواب تمام وفات شدہ مسلمانوں کو پہنچایا جا سکتا ہے (۳) اس میں کوئی حرج نہیں، بلکہ انشاء اللہ موجب ثواب ہوگا۔
(۲) اگر کسی شخص نے اس نیت سے کمایا ہو کہ یہ میرے بچوں یا عزیزوں کے کام آئے تو انشاء اللہ اس پر صدقہ جاریہ کا ثواب ملنے کی امید ہے۔

(۱ تا ۳) ایصال ثواب کے ثبوت کیلئے چند قرآنی آیات یہ ہیں:  فاعلم انہ لا الہ الا اللہ و استغفر لذنبک و للمؤمنین و المؤمنات (سورۃ محمد: ۱۹۹)، و فی سورۃ الحشر ۱۰: و الذین جائُو من بعدھم یقولون ربنا اغفر لنا و لاخواننا الذین سبقونا بالایمان و لا تجعل فی قلوبنا غلا للذین آمنوا ربنا انک رؤف رحیم، (و فی سورۃ نوح آیت ۲۸) رب اغفرلی و لوالدی و لمن دخل بیتی مؤمنا و للمؤمنین و لمؤمنات۔
کتب تفاسیر میں درج ذیل کتب ملاحظہ فرمائیں: روح المعانی ۲۷/۶۶ و ۶۷ (طبع مکتبہ رشیدیہ لاہور)، و معارف القرآن ص۲۱۹ ج۷، و فی صفوۃ التفاسیر ۳/۳۲۳ (طبع مکتبہ فاروقیہ پشاور)
رب اغفرلی، بدأ بنفسہ ثم بابویہ ثم عم لجمیع المؤمنین و لمؤمنات لیکون ذلک ابلغ و اجمع، و فی کشف الخفاء و مزیل الالباس ج۲ ص۳۷۱ رقم۲۶۳۰ (طبع موسسۃ الرسالۃ بیروت) من مر بالمقابر فقرأ احدی عشرۃ مرۃ قل ہو اللہ احد ثم وھب اجرہ الاموات اعطی من الاجر بعدد الاموات الخ۔
اور چند احادیث مبارکہ یہ ہیں:
و فی الصحیح للبخاریؒ باب اذا قال داری صدقۃ الخ رقم۲۶۰۵ ج۳ ص۱۰۱۳ (طبع دار ابن کثیر یمامہ بیروت) عن ابن
 عباسؓ ان سعد بن عبادۃؓ توفیت امہ و ھو غائب عنھا فقال یا رسول اللہ ان امی توفیت و انا غائب عنھا اینفعھا شیء ان تصدقت بہ عنھا، قال نعم، قال فانی اشھدک انی حائطی المخراف صدقۃ علیھا۔
و فی مشکوٰۃ المصابیح ج۱/ص۱۴۱ (طبع قدیمی کتب خانہ) عن معقل بن یسار قال قال رسول اللہ ﷺ من دخل المقابر ثم قرأ فاتحۃ الکتاب و قل ہو اللہ احد و الھاکم التکاثر ثم قال اللھم انی قد جعلت ثواب ما قرأت من کلامک لاھل المقابر من المؤمنین و المؤمنات کانوا شفعاء لہ الی اللہ تعالی۔
و فیہ ایضا ص۱۳۵ عن انسؓ ان رسول اللہ ﷺ قال من دخل المقابر فقرأ سورۃ یسین خفف اللہ عنھم و کان لہ بعدد من فیھا حسنات، و فیہ ایضا ص۱۳۲ اخرج الطبرانی فی الوسط و البیہقی فی سننہ عن ابی ہریرۃؓ قال قال رسول اللہ ﷺ ان اللہ لیرفع الدرجۃ للعبد الصالح فی الجنۃ فیقول یارب انیٰ لی ھذا فیقول باستغفار ولدک لک و لفظ البیہقی دعاء ولدک لک، و خرجہ البخاری فی الادب عن ابی ہریرۃؓ موقوفا۔
و فیہ ایضا ص۱۳۵ عن احمد بن حنبلؒ قال اذا دخلتم المقابر فاقرؤا بفاتحۃ الکتاب و المعوذتین و قل ہو اللہ احد و اجعلوا ذؒک لاھل المقابر فانہ یصل الیھم۔
و فی الصحیح للامام مسلم ؒ باب ما یلحق الانسان من الثواب بعد وفاتہ رقم  ۱۶۳۱ ج۳ ص۱۲۵۵ (طبع دار احیاء التراث العربی بیروت)  عن ابی ہریرۃؓ ان رسول اللہ ﷺ قال ثم اذا مات الانسان انقطع عنہ عملہ الا من ثلاثۃ الا من صدقۃ جاریۃ او علم ینتفع بھا او ولد صالح یدعوا لہ، و راجع ایضا مرقاۃ المفاتیح ص۸۲ ج۴ (طبع مکتبہ امدادیہ ملتان) و فی شرح العقائد ص۱۷۲ (طبع قدیمی کتب خانہ) و فی دعاء الاحیاء للاموات و صدقتھم ای صدقۃ الاحیاء عنھم ای عن الاموات نفع لھم ای للاموات خلافا للمعتزلہ۔
ان آیات قرآنیہ اور احادیث و کتب عقائد کی عبارات کی بناء پر حضرات فقہاء کرامؒ نے اس عقیدہ ایصال ثواب کو درست قرار دیا ہے اور نہ صرف اس کا اثبات فرمایا بلکہ اسے مستحسن قرار دیا، چنانچہ کتب فقہ میں ہے:  و فی الھدایۃ باب الحج عن الغیر ج۱ ص۲۹۶
(طبع مکتبہ شرکت علمیہ) ان الانسان لہ ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ صلوٰۃ او صوما او صدقۃ او غیرھا عند اھل السنۃ و الجماعۃ۔
و فی الشامیۃ ۲/۲۴۳ مطلب فی القرأۃ للمیت و اھداء ثوابھا لہ، صرح علمائنا فی باب الحج عن الغیر بان للانسان ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ صلوٰۃ او صدقۃ او  غیرھا، کذا فی الھدایۃ ........... الافضل لمن یتصدق نفلا ان ینوی لجمیع المومنین و المؤمنات لانھا تصل الیھم و لا ینقص من اجرہ شیء ھو مذھب اھل السنۃ الجماعۃ (و فیہ بعد اسطر) و فی البحر من صام او صلی او تصدق و جعلثوابہ لغیرہ من الاموات و الاحیاء جاز و یصل ثوابھا الیھم عند اھل السنۃ و الجماعۃ، کذا فی البدائع۔
و فی معارف السنن ۵/۲۸۶ (طبع ایچ ایم سعید) و قد تعرض فی الھدایۃ الی مسؤلۃ الاثابۃ و اھداء الثواب فقال الاصل فی ھذا الباب ان الانسان لہ ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ صلوٰۃ او صوما او صدقۃ و غیرھا عند اھل السنۃ و الجماعۃ، و فیہ ایضا ۵/۲۹۱ ثم ان الشافعیؒ لا یجوز اھداء ثواب تلاوۃ القرآن و لا یصح عندہ الاثابۃ فیما عدا الدعاء و الصدقۃ و لکن الشافعیۃ أفتوا بایصال ثوابالتلاوۃ و یجوز عندنا اھداء ثواب کل شیء ......... و تبین ان مذہب ابی حنیفۃؒ فی ھذا الصدد اوسط المذاہب الخ۔ (محمد زبیر حق نواز عفا اللہ عنھما)

مستفاد:فتاوی عثمانی

واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:1⃣0⃣2⃣

ایصالِ ثواب کے لئے صدقہ جاریہ میں کون سی چیز بہتر ہے؟
سوال:
(۱) صدقۂ جاریہ کیلئے مندرجہ ذیل چیزوں میں سے کون سی بہتر ہے؟
(الف) مسجد کی تعمیر میں حصہ لینا (ب) دینی مدرسہ کی امداد کرنا (ت) کنواں تعمیر کرنا (ج) یا اور کوئی کام جس سے مرحوم کو ثواب دارین حاصل ہو۔
(۲) لوگ کہتے ہیں کہ انسان سے گناہ کبیرہ اور صغیرہ سرزد ہوں تو ۹۰ ہزار مرتبہ کلمہ شریف یعنی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھ کر مرحوم کو اس کاثواب دیدیں یا بخش دیں تو اس کے سارے گناہ اللہ معاف کر دیتا ہے، اور اسے عذاب دوزخ سے نجات دیتا ہے، کیا یہ صحیح ہے؟
(۳) ثواب سے کیا مراد ہے، قرآن پڑھ کر ثواب مرحوم یا مرحومہ کو پہنچا دینے سے عذاب ختم ہو جاتا ہے؟
(۴) مجھے پڑھنے کے لئے ایسی چیز بتا دیں کہ اس کو پڑھوں اور عذاب قبر سے محفوظ رہوں۔
(۵) کلام پاک یا تیس پارے مسجد میں رکھوادیں تو کیا مرحومہ کو ثواب ہوگا؟

(۶) میری اہلیہ ہارٹ فیل ہونے سے اللہ کو پیاری ہوگئی، نمازِ تہجد ادا کرنے کے بعد نمازِ فجر کے وقت نماز کے انتظار میں بیٹھی تھی کہ اس کا انتقال ہوگیا، ایسی عورت کے متعلق کیا حکم ہے؟
جواب:
(۱) یہ تمام امور خیر ہی خیر ہیں اور صدقۂ جاریہ کے لئے ایسے کا م کا انتخاب کرنا بہتر ہے جس کی ضرورت بھی زیادہ ہو اور جس کا فائدہ عرصے تک لوگ اٹھاتے رہیں، اپنے حالات کے لحاظ سے اس کا فیصلہ ہر شخص کو خود کرنا چاہئے۔
(۲) سارے کے سارے گناہ معاف ہونے کی تو کوئی ضمانت نہیں لیکن کلمہ طیبہ یا قرآن شریف پڑھ کر جتنا زیادہ سے زیادہ ثواب میت کو پہنچا سکتے ہوں، بہتر ہے ۔
(۳) اس کا جواب بھی وہی ہے، تلاوت قرآن کا ایصال ثواب کیا جائے تو ہر حرف پر دس نیکیاں میت کو ملتی ہیں،لہٰذا جتنا زیادہ سے زیادہ ایصال ثواب کیا  جائے گا میت کے نامہ اعمال میں اضافہ ہوگا اور عذاب میں کمی ہوتی چلی جائے گی لیکن عذاب سے رہائی کی مکمل ضمانت کوئی نہیں دے سکتا۔
(۴) قرآن مجید کی تلاوت جتنی زیدہ ممکن ہو، کریں، خاص طور سے سورۂ ملک (یعنی تبارک الذی بیدہ الملک) روزانہ پڑھا کریں۔ حدیث میں ہے کہ یہ سورت عذاب قبر سے انسان کو محفوظ رکھنے میں مددگار ہوتی ہے، نیز سبحان اللہ و الحمد للہ و لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر اور استغفار کثرت سے کیا کریں، اس سے گناہ معاف ہوتے ہیں۔
(۵) دونوں سے ثواب حاصل ہوگا ۔
(۶) آپ کی اہلیہ کی وفات جس انداز سے ہوئی وہ قابل رشک ہے، اللہ تعالی کی رحمت سے یہی امید رکھنی چاہئے کہ انشاء اللہ وہ جنتی ہیں لیکن ساتھ ہی ایصال ثواب میں کوتاہی نہیں کرنی چاہئے۔ و اللہ اعلم


مستفاد:فتاوی عثمانی

محمد امیر ۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:2⃣0⃣2⃣

عقیدہ ایصال ثواب
سوال:
قرآن میں اس بات کی وضاحت ہے کہ ہر انسان کے نیک عمل کا جوثواب ہوگا اس کا صرف کرنے والا حق دار ہے وہ دوسرے کو نہیں دیا جا سکتا لیکن مسلمان دھڑلے سے ایصال ثواب کر رہے ہیں یہاں تک کہ حج بدل بھی کرتے یا کراتے ہیں۔ کیا ایصال ثواب کیا جاسکتا ہے؟
جواب: قرآن کریم نے یہ فرمایا ہے کہ "انسان کو بطور حق صرف اسی عمل کا اجر ملے گا جو اس نے خود کیا ہو" (۱) لیکن اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اس 
کے استحقاق سے زائد کوئی اجر اپنی رحمت سے دیدیں تو یہ اس کے خلاف نہیں (۲)، چنانچہ احادیث میں جو ایصال ثواب کا ثبوت ہے وہ اللہ تعالیٰ کی  اسی رحمت کی بنیاد پر ہے۔ احادیث چونکہ قرآن کریم کی تفسیر ہیں اور قرآن کریم نے آپ ﷺ کو قرآن کا معلم بنا کر بھیجنے کا ذکر فرمایا ہے، اس لئے آپ ﷺ کی بیان کردہ تفسیر مستند ترین تفسیر ہے۔ و اللہ اعلم

احقر محمد تقی عثمانی عفی عنہ
۴-۸-۱۴۲۲ھ
(۱) و ان لیس للانسان الا ما سعی، (سورۃ نجم آیت ۳۹)۔
(۲) و فی شرح الصدور للسیوطیؒ باب فی قرأۃ القرآن للمیت او علی القبر ص۱۳۴ (طبع مطابع الرشید مدینہ منورہ) لیس للانسان الا ما سعی، من طریق العدل فاما من باب الفضل فجائز ان یزیدہ اللہ تعالی ما شاء قالہ الحسین بن الفضل، و کذا فی مرقاۃ المفاتیح ج۴ ص۸۲ (طبع مکتبہ امدادیہ ملتان)، نیزایصال ثواب سے متعلق مزید تفصیل اور خاص طور پر آیت مذکورہ کے مفہوم کے لئے مذکورہ کتاب شرح الصدور للسیوطیؒ باب فی قرأۃ القرآن للمیت او علی القبر ص۱۳۴ اور سابقہ فتویٰ اور حاشیہ ملاحظہ فرمائیں۔ (محمد زبیر حق نواز)

مستفاد:فتاوی عثمانی

محمد امیر حنفی دیوبندی۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:3⃣0⃣2⃣

نمازِ جناز ہ کے بعد ایصالِ ثواب کے ایک طریقہ کاحکم
سوال:
ہمارے یہاں میت کی مغفرت کے لئے نمازِ جنازہ کے بعد چند علماء اور کچھ لوگ ایک جگہ اکٹھے ہوکر حلقہ بنا لیتے ہیں۔ قرآن کریم اور کچھ رقم ایک جگہ باندھ کر اس حلقہ میں پھرتے ہیں پھر ایک معلن کھڑا ہو کر چند اشعار پڑھتا ہے بعد ازاں میت کی الفاظ اس حلقہ پر تقسیم کی جاتی ہے آیا یہ مروجہ حیلہ ائمۂاربعہ کتاب اللہ سنت الرسول اللہ اجماع امت قیاس صحیح سے ثابت ہے یا کہ نہ اور نبی علیہ السلام خلفاء راشدین، اور تابعین تبع تابعین کے زمانہ میں میت کے مغفرت کے لئے یہ حیلہ کیا گیا ہے یا کہ نہ اور جو علماء یہ کہہ کر اسکو فروغ دیتے ہیں کہ اس حیلہ کی وجہ سے چار ہزار کبیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں۔ زندگی میں اللہ کے جو حقوق مثلاً نماز روزہ زکوٰۃ ضائع ہوئے ہیں انکی تلافی ہو جاتی ہے انکے متعلق آپکا کیا فیصلہ ہے۔
میت کی نمازِ جنازہ کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا کیا ہے (مسنون یاکہ بدعت اور بعض حضرات اس کو بدعت حسنہ کہتے ہیں لہذا بدعت حسنہ کی بھی وضاحت کریں۔
 
جواب:
دعائے مغفرت کا یہ طریقہ مروجہ جس کو حیلہ اسقاطہ بھی کہا جاتا ہے شرعاً ثابت نہیں جناب نبی کریم علیہ السلام اور زمانہ خلفاء راشدین بلکہ خیرالقرون میں ثابت نہیں ہے اس کو فروغ دینا یا اس پریہ مذکورہ فضیلتیں بیان کرنا یہ سب غلط اور ناجائز ہے۔ دین میں استحداث اور بدعت ہے واجب الترک ہے۔

فقط واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔

مستفاد:نظام الفتاوی

محمد امیر۔حنفی دیوبندی

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:4⃣0⃣2⃣


اُجرت لے کر ایصالِ ثواب کرنا
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں محمد طیب علی بیمار ہوئے اس کے بعد اس نے چند مولوی صاحب کو بلاکر ایک سو روپیہ دیا اور کہا کہ میرے لئے ختم قرآن کرنا یا ختم شفاختم یونس پڑھوانا مولوی صاحبان نے جاکر مسجد میں ختم پڑھنا شروع کر دیا اس قسم کا ختم اجرت لیکر مسجد میں جائز ہے یا کہ نہیں نیز ایصالِ ثواب کے لئے مسجد میں قرآن خوانی جائز ہے یا کہ نہیں۔ بینوا توجروا۔

جواب:
اس طرح روپیہ لیکر ختم قرآن یا کوئی ختم کرنا اجرت لیکر ختم کرنا ہو جائیگا اس طرح ختم قرآن جائز نہیں ہے۔ یہ تو اجارہ علی الطاعات میں داخل ہو جائیگا اور اس پر کوئی ثواب نہ ملیگا پھر ایصال کس چیز کا کریں گے ایصالتو ثواب کا ہوتا ہے اور اس طرح مسجد میں ختم کرنا مسجد میں عمل اجارہ کرنا  ہوگا اور یہ دوسرا گناہ ہوگا اور مسجد میں بھی جائز نہ ہوگا ہاں بغیر کسی اجرت وغیرہ کے از خود محض ثواب پہونچانے کی نیت سے قرآن پاک پڑھنا اور قرآن  خوانی کرنا جائز ہے اور یہ مسجد میں بھی جائز ہوگا بشرطیکہ نمازیوں کی نماز میں خلل نہ واقع ہو۔

فقط واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔

مستفاد:نظام الفتاوی

محمد امیر حنفی دیوبندی

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:5⃣0⃣2⃣

آنحضرت ﷺ کے لئے ایصالِ ثواب، اِشکال کا جواب

سوال:
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ عظام مندرجہ ذیل مسئلے کے متعلق کہ مسلمان حضرات بخدمتِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ایصالِ ثواب کرتے ہیں، ہمارےایصالِ ثواب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا فائدہ پہنچتا ہے؟ جبکہ آپ دوجہانوں کے سردار ہیں، اور جنت کے اعلیٰ ترین مقام آپ کے لئے یقینی ہیں۔
س… میں قرآن مجید کی تلاوت اور صدقہ و خیرات کرکے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور بعد کے اکابر علمائے دین کو ایصالِ ثواب کرتا ہوں، لیکن چند  روز سے ایک خیال ذہن میں آتا ہے، جس کی وجہ سے بے حد پریشان ہوں، خیال یہ ہے کہ ہم لوگ ان ہستیوں کو ثواب پہنچا رہے ہیں جن پر خدا خود  دُرود و سلام پیش کرتا ہے، یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو، توبہ توبہ! معاذ اللہ! ہم اتنے بڑے ہیں کہ چند آیات پڑھ کر اس کا ثواب حضور صلی اللہ  علیہ وسلم و صحابہ رضی اللہ عنہم تک پہنچا رہے ہیں، یہ تو نہ سمجھ میں آنے والی بات ہے۔

جواب:
 ایصالِ ثواب کی ایک صورت تو یہ ہے کہ دُوسرے کو محتاج سمجھ کرثواب پہنچایا جائے، یہ صورت تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر مقبولانِ الٰہی کے حق میں نہیں پائی جاتی، اور یہی منشا ہے آپ کے شبہ کا، اور دُوسری صورت یہ ہے کہ ان اکابر کے ہم پر بے شمار احسانات ہیں، اور احسان شناسی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ان کی خدمت میں کوئی ہدیہ پیش کیا کریں، ظاہر ہے کہ ان اکابر کی خدمت میں ایصالِ ثواب اور دُعائے ترقیٴ درجات کے سوا اور کیا ہدیہ پیش کیا جاسکتا ہے؟ پس ہمارا ایصالِ ثواب اس بنا پر نہیں کہ ․․․معاذ اللہ․․․ یہ حضرات ہمارے ایصالِ ثواب کے محتاج ہیں، بلکہ یہ حق تعالیٰ شانہ کی ہم پر عنایت ہے کہ ایصالِ ثواب کے ذریعے  ہمارے لئے ان اکابر کی خدمت میں ہدیہ پیش کرنے کا دروازہ کھول دیا، جس کی بدولت ہمارا حق احسان شناسی بھی ادا ہوجاتا ہے اور ان اکابر کے ساتھ ہمارے تعلق و محبت میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے، اس سے ان اکابر کے درجات میں بھی مزید ترقی ہوتی ہے، اس کی برکت سے ہماری سیئات کا کفارہ بھی ہوتا ہے، اور ہمیں حق تعالیٰ شانہ کی عنایت سے بے پایاں حصہ ملتا ہے۔ اس کی مثال ایسی سمجھ لیجئے کہ کسی غریب مزدور پر بادشاہ کے بہت سے احسانات ہوں اور وہ اپنے تقاضائے محبت کی بنا پر کوئی ہدیہ بادشاہ کی خدمت میں پیش کرنا چاہے اور بادشاہ ازراہ مراحم خسروانہ اس کے ہدیہ کو قبول فرماکر اسے اپنے مزید انعامات کا مورد بنائے، یہاں کسی کو یہ شبہ نہیں ہوگا کہ اس فقیر درویش کا ہدیہ پیش کرنا بادشاہ کی ضرورت کی بنا پر ہے، نہیں! بلکہ یہ خود اس مسکین کی ضرورت ہے۔
دُرود و سلام تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے بھیجتے ہیں، کما فی النص، اپنے کسی عزیز کو ایصالِ ثواب کرنے کی وجہ معقول ہے، اس کی بخشش کے لئے، اور رفعِ درجات کے لئے۔

تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ایصالِ ثواب کرنے کی حقیقت  پر روشنی ڈالئے، اور قرآن و سنت کی روشنی میں اس کا صحیح جواب دے کر ممنون فرمائیں۔

جواب:
اُمت کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایصالِ ثوابنصوص سے ثابت ہے، چنانچہ ایصالِ ثواب کی ایک صورت آپ کے لئے  ترقیٴ درجات کی دُعا،اور مقامِ وسیلہ کی درخواست ہے، صحیح مسلم کی حدیث میں ہے:

“اذا سمعتم الموٴذّن فقولوا مثل ما یقول، ثم صلوا علیّ فانہ من یصلی علیّ صلٰوة صلی الله علیہ وسلم بھا عشرًا، ثم سلوا الله لی الوسیلة فانھا منزلة فی الجنة لا ینبغی الا لعبد من عباد الله وارجوا ان اکون انا ھو، فمن سأل لی الوسیلة حلت علیہ الشفاعة۔” (مشکوٰة ص:۶۴)

ترجمہ:… “جب تم موٴذّن کو سنو تو اس کی اذان کا اسی کی مثل الفاظ سے جواب دو، پھر مجھ پر دُرود پڑھو، کیونکہ جو شخص مجھ پر ایک بار دُرود پڑھے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس پر دس رحمتیں نازل فرماتے ہیں، پھر میرے لئے اللہ تعالیٰ سے “وسیلہ” کی درخواست کرو، یہ ایک مرتبہ ہے جنت میں، جو اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے صرف ایک بندے کے شایانِ شان ہے، اور میں اُمید رکھتا ہوں کہ وہ بندہ میں ہی ہوں گا، پس جس شخص نے میرے لئے وسیلہ کی درخواست کی، اس کو میری شفاعت نصیب ہوگی۔”

اور صحیح بخاری میں ہے:

“من قال حین سمع النداء، اللّٰھم رب ھٰذہ الدعوة التامة والصلٰوة القائمة اٰت محمدن الوسیلة والفضیلة وابعثہ مقامًا محمودن الذی وعدتہ، حلت لہ شفاعتی یوم القیامة۔” (مشکوٰة ص:۶۵)

ترجمہ:…”جو شخص اذان سن کر یہ دُعا پڑھے: “اے اللہ! جو مالک ہے اس کامل دعوت کا، اور قائم ہونے والی نماز کا، عطا کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ اور فضیلت اور کھڑا کر آپ کو مقامِ محمود میں، جس کا آپ نے وعدہ فرمایا ہے” قیامت کے دن اس کو میری شفاعت نصیب ہوگی۔”

حضرت عمر رضی اللہ عنہ عمرہ کے لئے تشریف لے جارہے تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلبی کے لئے حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رُخصت کرتے ہوئے فرمایا:

“لا تنسنا یا اخی من دعائک۔ وفی روایة: اشرکنا یا اخی فی دعائک۔”
(ابوداودج:1ص:۲۱۰، ترمذی ج:۲ ص:۱۹۵)

ترجمہ:…”بھائی جان! ہمیں اپنی دُعا میں نہ بھولنا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ: بھائی جان! اپنی دُعا میں ہمیں بھی شریک رکھنا۔”

ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جس طرح حیاتِ طیبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دُعا مطلوب تھی، اسی طرح وصال شریف کے بعد بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دُعا مطلوب ہے۔

ایصالِ ثواب ہی کی ایک صورت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قربانی کی جائے، حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس کا حکم فرمایا تھا:

“عن حنش قال رأیت علیًّا رضی الله عنہ یضحی بکبشین، فقلت لہ: ما ھٰذا؟ فقال: ان رسول الله صلی الله علیہ وسلم اوصانی ان اضحی عنہ، فانا اضحی عنہ۔” (ابوداوٴد، باب الاضحیة عن المیّت ج:۲ ص:۲۹)

ترجمہ:…”حنش کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ مینڈھوں کی قربانی کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: یہ کیا؟ فرمایا کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی تھی کہ میں آپ کی طرف سے قربانی کیا کروں، سو میں آپ کی طرف سے قربانی کرتا ہوں۔”

“وفی روایة: امرنی رسول الله صلی الله علیہ وسلم ان اضحی عنہ فانا اضحی عنہ ابدًا۔”

(مسندِ احمد ج:۱ ص:۱۰۷)

“وفی روایة: فلا ادعہ ابدًا۔” (ایضاً ج:۱ ص:۱۴۹)

ترجمہ:…”ایک روایت میں ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا تھا کہ میں آپ کی طرف سے قربانی کیا کروں، سو میں آپ کی طرف سے ہمیشہ قربانی کرتا ہوں۔”

ترجمہ:…”ایک روایت میں ہے کہ میں اس کو کبھی نہیں چھوڑتا۔”

علاوہ ازیں زندوں کی طرف سے مرحومین کو ہدیہ پیش کرنے کی صورتایصالِ ثواب ہے، اور کسی محبوب و معظم شخصیت کی خدمت میں ہدیہ پیش کرنے سے یہ غرض نہیں ہوتی کہ اس ہدیہ سے اس کی ناداری کی مکافات ہوگی، کسی بہت بڑے امیر کبیر کو اس کے احباب کی طرف سے ہدیہ پیش کیا جانا عام معمول ہے، اور کسی کے حاشیہٴ خیال میں بھی یہ بات نہیں کہ ہمارے اس حقیر ہدیہ سے اس کے مال و دولت میں اضافہ ہوجائے گا، بلکہ صرف ازدیادِ محبت کے لئے ہدیہ پیش کیا جاتا ہے، اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہِ عالی میں گناہگار اُمتیوں کی طرف سے ایصالِ ثواب کے ذریعہ ہدیہ پیش کرنا اس وجہ سے نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان حقیر ہدایا کی احتیاج ہے، بلکہ یہ ہدیہ پیش کرنے والوں کی طرف سے اظہارِ تعلق و محبت کا ایک ذریعہ ہے، جس سے جانبین کی محبت میں اضافہ ہوتا ہے، اور اس کا نفع خود ایصالِ ثواب کرنے والوں کو پہنچتا ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درجاتِ قرب میں بھی اس سے اضافہ ہوتا ہے۔

علامہ ابنِ عابدین شامی نے ردالمحتار میں باب الشہید سے قبیل اس مسئلے پر مختصر سا کلام کیا ہے، اتمامِ فائدہ کے لئے اسے نقل کرتا ہوں:

“ذکر ابن حجر فی الفتاویٰ الفقھیة ان الحافظ ابن تیمیة زعم منع اھداء ثواب القرائة للنبی صلی الله علیہ وسلم لان جنابہ الرفیع لا یجرأ علیہ الا بما اذن فیہ وھو الصلٰوة علیہ وسوال الوسیلة لہ۔

قال: وبالغ السبکی وغیرہ فی الردّ علیہ بان مثل ذٰلک لا یحتاج لاذن خاص الا تری ان ابن عمر کان یعتمر عنہ صلی الله علیہ وسلم عمرًا بعدہ موتہ من غیر وصیة وحج ابن الموفق وھو فی طبقة الجنید عنہ سبعین حجة وختم ابن السراج عنہ صلی الله علیہ وسلم اکثر من عشرة اٰلاف ختمة وضحی عنہ مثل ذٰلک۔ اھ۔

قلت: رأیت نحو ذٰلک بخط مفتی الحنفیة الشھاب احمد بن الشلبی شیخ صاحب البحر نقلًا عن شرح الطیبة للنویری ومن جملة ما نقلہ ان ابن عقیل من الحنابلة قال: یستحب اھدائھا لہ صلی الله علیہ وسلم۔

قلت: وقول علمائنا لہ ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ، یدخل فیہ النبی صلی الله علیہ  وسلم فانہ احق بذٰلک حیث انقذنا من الضلالة ففی ذٰلک نوع شکر واسدأ جمیل لہ والکامل قابل لزیادة الکمال وما استدل بہ بعض المانعین من انہ تحصیل الحاصل لان جمیع اعمال امتہ فی میزانہ یجاب عنہ بانہ لا مانع من ذٰلک فان الله تعالیٰ اخبرنا بانہ صلی علیہ ثم امرنا بالصلٰوة علیہ بان نقول اللّٰھم صل علی محمد، والله اعلم۔” (شامی ج:۲ ص:۲۴۴، طبع مصر)

ترجمہ:…”ابنِ حجر (مکی شافعی) نے فتاویٰ فقہیہ میں ذکر کیا ہے کہ حافظ ابنِ تیمیہ کا خیال ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاوت کے ثواب کا ہدیہ  کرنا ممنوع ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہِ عالی میں صرف اسی کی جرأت کی جاسکتی ہے جس کا اذن ہو، اور وہ ہے آپ پر صلوٰة و سلام بھیجنا اور آپ کے لئے دُعائے وسیلہ کرنا۔

ابنِ حجررحکہتے ہیں کہ: امام سبکی وغیرہ نے ابنِ تیمیہ پر خوب خوب رَدّ کیا ہے کہ ایسی چیز اذنِ خاص کی محتاج نہیں ہوتی، دیکھتے نہیں ہو کہ ابنِ عمر ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عمرے کیا کرتے تھے، جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس کی وصیت بھی نہیں فرمائی تھی۔ ابن الموفق نے جو جنید کے ہم طبقہ ہیں، آپ کی طرف سے ستر حج کئے،
ابن السراج نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دس ہزار ختم کئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اتنی ہی قربانیاں کیں۔

میں کہتا ہوں کہ میں نے اسی قسم کی بات مفتی حنفیہ شیخ شہاب الدین احمد بن الشلبی، جو صاحبِ بحر الرائق کے اُستاذ ہیں، کی تحریر میں بھی دیکھی ہے، جو موصوف نے علامہ نیویری کی “شرح الطیبہ” سے نقل کی ہے، اس میں موصوف نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ حنابلہ میں سے ابنِ عقیل کا قول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہٴ ثواب مستحب ہے۔

میں کہتا ہوں کہ ہمارے علماء کا یہ قول کہ: “آدمی کو چاہئے کہ اپنے عمل کاثواب دُوسروں کو بخش دے” اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی داخل ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا زیادہ استحقاق رکھتے ہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے ہمیں گمراہی سے نجات دلائی، پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ثواب کا ہدیہ کرنے میں ایک طرح کا تشکر  اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات کا اعتراف ہے، اور (آپ صلی اللہ علیہ وسلم اگرچہ ہر اعتبار سے کامل ہیں، مگر) کامل زیادتِ کمال کے قابل ہوتا ہے۔ اور بعض مانعین نے جو استدلال کیا ہے کہ یہ تحصیلِ حاصل ہے، کیونکہ اُمت کے تمام عمل خود ہی آپ کے نامہٴ عمل میں درج ہوتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ یہ چیز ایصالِ ثواب سے مانع نہیں، چنانچہ اللہ  تعالیٰ نے ہمیں خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمتیں نازل فرماتے ہیں، اس کے باوجود ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آپ کے لئے رحمت طلب کرنے کے لئے اللّٰھم صل علیٰ محمد کہا کریں۔”

مستفاد:آپ کے مسائل اور انکا حل

واللہ اعلم


محمد امیر۔حنفی دیوبندی

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
نماز استخارہ.pdf
1018.1 KB
نماز استخارہ کے فضائل و مسائل
جواب نمبر:6⃣0⃣2⃣

سوال:
التحیات (قعدہ) میں اشھد ان الا لا الہ الا اللہ کہتے وقت کس ہاتھ کی انگلی اٹھانی چاہئے؟ ایک شخص کو مین دیکھا کہ وہ بائیں ہاتھ کی انگلی اٹھا رہا ہے۔؟

الجوب:
التحیات میں اشھد ان لا الہ الا اللہ کہتے وقت دائیں ہاتھ کی انگلی اٹھانا سنت ہے بائیں ہاتھ کی انگلی اٹھانا صحیح نہیں ہے۔

قال العلامة ابن عابدین:(تحت قولہ بل فی متن دررالبحار الخ)۔۔۔۔۔۔وصفتھا ان یحلق من یدہ الیمنی عند الشھادت الابھام والوسطی ویقبض البنصر والخنصر ویشیر بالمسبحة الخ

(در مختار908/1 باب صفة الصلوة قبل مطلب مھم فی عقد الاصابع عند التشھد)

قال العلامة حسن بن عمار الشرنبلالی رح:وتسن الاشارة فی الصحیح لانہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رفع اصابعہ السبابة وقد احناھا شیئا ومن قال انہ لا یشیر اصلا فھو خلاف الروایة والدرایة وتکون بالمسبحة ای السبابة من الیمنی فقد لیشیر بھا۔۔۔۔۔یرفعھا ای المسبحة عند النفی۔۔۔۔۔ویضعھا عند الاثبات۔
مراقی الفلاح علی صدر الطحطاوی218فصل فی سنن الصلوة

مستفاد:فتاوی حقانیہ۔آپکے مسائل اور انکا حل۔

واللہ اعلم

کتبہ:محمد امیر حنفی دیوبندی

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail


سوال # 152943
کیا التحیات میں انگلی کو حرکت دینا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے؟ اور کیا یہ سنت سے ثابت ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں بتائیں، مجھے کوئی مسلک یا فرقہ کے حالات نہیں چاہئے۔
Published on: Jun 21, 2017 جواب # 152943
بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa: 943-887/sd=9/1438


جی ہاں! التحیات میں انگلی کو حرکت دینا یعنی اشہد أن لا إلہ پر انگلی اٹھاکر إلا اللہ پر گرادینا سنت سے ثابت ہے ، علامہ شامی اور ملاعلی قاری نے اس مسئلے کی وضاحت کے لیے باقاعدہ رسالہ لکھا ہے ، جو تعلیق و تخریج کے بعد طبع ہوچکا ہے ، تفصیل کے لیے یہ رسالہ دیکھا جاسکتا ہے ۔


واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
جواب نمبر:7⃣0⃣2⃣

نذر کا کھانا محتاج کا حق ہے
سوال:
ایک شخص دانشمند فتاوی جدیدہ ایجاد کرتا ہے کہ نذراللہ اور ایصال ثواب کا کھانا محتاج وفقراء وغیرہ کا حق ہے۔متمول اور مرفہ الحال کو ناجایز ہے۔یہ صحیح ہے یا غلط۔؟
الجوب:
یہ صحیح ہے کہ نذراللہ وایصال ثواب کا کھانا ونقد وغیرہ فقراء ومساکین کا حق ہے۔امراء ورئساءکو کھلانا نہیں چاہئے۔

مصرف الزکوة الخ وھو ایضا مصرف لصدقة الفطر والکفارة والنذر وغیر ذالک من الصدقات والواجبة۔
(در مختار باب المصرف 79/2 ط۔س339/3ظفیر)

واللہ اعلم
فتاوی دارالعلوم دیوبند

کتبہ:محمد امیر حنفی دیوبندی

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:8⃣0⃣2⃣

نذر کی چیز خود کھانا جائز نہیں۔

سوال:
ایک شخص نے نذر مانی لہ اللہ تعالی میرا یہ کام آسان کرے تو میں واسطے اللہ کے پیر صاحب کی رتنی دونگا اسکا وہ کام ہوگیا تو وہ نذر کی چیز اپ بھی کھاتا ہے اولاد کو بھی دیتا ہے اور غنی کو بھی دیتا ہے اور مسکنوں کوبھی دیتا ہے۔جائز ہے یا نہیں۔؟

الجواب:
نذر کی چیز خود نہیں کھانی چاہئے مسکینوں اور فقیروں کو دینی چاہئے۔اور اس طرح نذر نہ کرنی چاہئے۔چنانچہ اس طرح کرنی چاہئے کہ اگر میرا کام ہوگیا تو اللہ کے واسطے محتاجوں کو اس قدر دونگا (نذر کی چیز غنی کو بھی کھانا جائز نہیں جیسے زکوة اورصدقة الفطر۔

مصرف الزکوةالخ وھو مصرف ایضا لصدقة البر والکفارة والنذر۔
رد المحتار باب المصرف79/2ط۔س339/3ظفیر
ولا الی من بینھا ولا الخ اوزوجية الخ ولا الی غنی یملک قدر نصاب فارغ عن حاجة الاصلیة من ای مال کان۔
(الدرالمختار علی ھامش ردالمحتار باب المصرف86/2۔88ط۔س336/2ظفیر)

واللہ اعلم
فتاوی دارالعلوم دیوبند

کتبہ؛محمد امیر۔حنفی دیوبندی

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail