جواب نمبر:8⃣7⃣1⃣
یوسف علیہ السلام اور زلیخا کی شادی:
قرآن حکیم نے سورہ یوسف میں حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ ذکر فرمایا ہے وہیں پر *"امرأة العزيز"* کا ذکر بھی ملتا ہے لیکن یہ خاتون کون تھی، اس کا نام کیا تھا اور اس کا یوسف علیہ السلام سے جو رشتہ ذکر کیا جاتا ہے اس کے متعلق قرآن وحدیث میں کیا ملتا ہے؟
زلیخا کا نام:
"زلیخا" عزیز مصر توطیفار یا پوتیفار کی زوجہ کا نام ہے جو مصر کی ساکنہ تھی اور روایات کے مطابق بےاولاد تھی اس لئے کہ شوہر نامرد تھا، اور مصر کے ملک میں چونکہ اس وقت بت پرستی کا دور دورہ تھا یہ بھی بت پرست تھی۔
بائبل میں اس شخص کا نام فوطیقار لکھا ہے جس نے یوسف کو خریدا تھا۔ قرآن مجید نے آگے چل کر عزیز کے لقب سے اس کا ذکر کیا ہے۔ وہ شاہی خزانے کا یا باڈی گارڈوں کا افسرتھا۔ تلمود میں اس کی بیوی کا نام زلیخا لکھا ہے۔(زلیخا یا راعیل). عزیز مصر کی بیوی کا نام راعیل تھا، کوئی کہتا ہے زلیخا تھا۔ یہ رعابیل کی بیٹی تھیں.
(ماخوذ از
1. "تفسیر عثمانی" مفسر مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ.
2. "تفسیر ابن کثیر" حافظ عماد الدین ابوالفداء ابن کثیر).
گویا قرآن وحدیث میں اس کے نام کے متعلق کوئی واضح بات موجود نہیں بلکہ اسرائیلی روایات کی بنیاد پر اس کا نام *راعیل اور لقب زلیخا* بیان کیا جاتا ہے.
یوسف علیہ السلام سے شادی:
جس طرح قرآن و حدیث ان کے نام کے بارے میں خاموش ہیں اسی طرح ان کی شادی سے متعلق بھی خاموش ہیں، البتہ تفاسیر اور تاریخ کی کتابوں نے اسرائیلیات سے اس بات کو نقل کیا ہے کہ وزیر خزانہ بننے کے بعد یوسف علیہ السلام کی زلیخا سے شادی ہوئی تھی.
حوالہ جات:
لم يرد في القرآن الكريم، ولا في السنة النبوية، ما يثبت أو ينفي زواج يوسف عليه السلام من امرأة العزيز، والتي قيل إن اسمها "راعيل"، وقال بعضهم: اسمها "زليخا"، ولكن استظهر الحافظ ابن كثير أن "زليخا" لقبها.
وورد في زواج يوسف عليه السلام من "راعيل" خبرٌ عن إمام السير والتاريخ محمد بن إسحاق رحمه الله حيث يقول:
"لما قال يوسف للملك: {اجعلني على خزائن الأرض إني حفيظ عليم} قال الملك: قد فعلت! فولاه فيما يذكرون عمل إطفير، وعزل إطفير عما كان عليه، يقول الله: {وكذلك مكنا ليوسف في الأرض يتبوأ منها حيث يشاء}الآية.
قال: فذكر لي - والله أعلم - أن إطفير هَلَك في تلك الليالي، وأن الملك الرَّيان بن الوليد، زوَّج يوسف امرأة إطفير "راعيل"، وأنها حين دخلت عليه قال: أليس هذا خيرًا مما كنت تريدين؟ قال: فيزعمون أنها قالت: أيُّها الصديق، لا تلمني، فإني كنت امرأة كما ترى حسنًا وجمالاً، ناعمةً في ملك ودنيا، وكان صاحبي لا يأتي النساء، وكنتَ كما جعلكَ الله في حسنك وهيئتك، فغلبتني نفسي على ما رأيت.
فيزعمون أنه وجدَها عذراء، فأصابها، فولدت له رجلين: أفرائيم بن يوسف، وميشا بن يوسف، وولد لأفرائيم نون، والد يوشع بن نون، ورحمة امرأة أيوب عليه السلام" انتهى.
رواه ابن أبي حاتم في "التفسير"
(7/2161)، والطبري في "جامع البيان" (16/151).
وورد نحوه عن زيد بن أسلم التابعي الجليل، وعن وهب بن منبه المعروف بالرواية عن الإسرائيليات.
نقل ذلك السيوطي في "الدر المنثور"(4/553)
وقال ابن القيم رحمه الله:
"الباب السابع والعشرون فيمن ترك محبوبه حراما فبذل له حلالاً أو أعاضه الله خيراً منه: عنوان هذا الباب وقاعدته أنَّ مَن ترك لله شيئاً عوضه الله خيراً منه، كما ترك يوسف الصديق عليه السلام امرأة العزيز لله، واختار السجن على الفاحشة، فعوضه الله أن مكَّنه في الأرض يتبوأ منها حيث يشاء، وأتته المرأة صاغرة سائلة راغبة في الوصل الحلال، فتزوجها فلما دخل بها قال: هذا خير مما كنت تريدين.
فتأمل كيف جزاه الله سبحانه وتعالى على ضيق السجن، أن مكَّنه في الأرض ينزل منها حيث يشاء، وأذل له العزيز امرأته، وأقرت المرأة والنسوة ببراءته، وهذه سنته تعالى في عباده قديماً وحديثاً إلى يوم القيامة". انتهى من "روضة المحبين"
(ص/445).
وهذا لا يعني القطع بثبوت هذه القصة، بل الظاهر أنها مأخوذة عن أهل الكتاب، وقد أمرنا بعدم تصديقهم وعدم تكذيبهم أيضاً، قال النبي صلى الله عليه وسلم: "لَا تُصَدِّقُوا أَهْلَ الْكِتَابِ وَلَا تُكَذِّبُوهُمْ وَقُولُوا آمَنَّا بِالَّذِي أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَأُنْزِلَ إِلَيْكُمْ والهُنَا وَإِلهُكُمْ وَاحِدٌ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ" رواه البخاري (4485) وصححه �
ذكَره السمرقندي في تفسيره بصيغة التضعيف، فقال: ورُوي في الخبر أن زوج زليخا مات، وبقيت امرأته زليخا، فجلست يوما على الطريق، فَمَرّ عليها يوسف في حَشَمِه، فقالت زليخا: الحمد لله الذي جعل العبد مَلِكا بِطاعته، وجعل الملك مملوكا بمعصيته، وتزوجها يوسف فوجدها عذراء، وأخْبَرَت أن زوجها كان عِنِّينًا لم يَصِل إليها...
ولا أظنه صحيحا.
وھذا مما لا ینفع علمه، ولا یضر الجھل به..
خلاصہ کلام:
زلیخا کا نام یا ان کی حضرت یوسف علیہ السلام سے شادی کے متعلق کوئی
یوسف علیہ السلام اور زلیخا کی شادی:
قرآن حکیم نے سورہ یوسف میں حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ ذکر فرمایا ہے وہیں پر *"امرأة العزيز"* کا ذکر بھی ملتا ہے لیکن یہ خاتون کون تھی، اس کا نام کیا تھا اور اس کا یوسف علیہ السلام سے جو رشتہ ذکر کیا جاتا ہے اس کے متعلق قرآن وحدیث میں کیا ملتا ہے؟
زلیخا کا نام:
"زلیخا" عزیز مصر توطیفار یا پوتیفار کی زوجہ کا نام ہے جو مصر کی ساکنہ تھی اور روایات کے مطابق بےاولاد تھی اس لئے کہ شوہر نامرد تھا، اور مصر کے ملک میں چونکہ اس وقت بت پرستی کا دور دورہ تھا یہ بھی بت پرست تھی۔
بائبل میں اس شخص کا نام فوطیقار لکھا ہے جس نے یوسف کو خریدا تھا۔ قرآن مجید نے آگے چل کر عزیز کے لقب سے اس کا ذکر کیا ہے۔ وہ شاہی خزانے کا یا باڈی گارڈوں کا افسرتھا۔ تلمود میں اس کی بیوی کا نام زلیخا لکھا ہے۔(زلیخا یا راعیل). عزیز مصر کی بیوی کا نام راعیل تھا، کوئی کہتا ہے زلیخا تھا۔ یہ رعابیل کی بیٹی تھیں.
(ماخوذ از
1. "تفسیر عثمانی" مفسر مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ.
2. "تفسیر ابن کثیر" حافظ عماد الدین ابوالفداء ابن کثیر).
گویا قرآن وحدیث میں اس کے نام کے متعلق کوئی واضح بات موجود نہیں بلکہ اسرائیلی روایات کی بنیاد پر اس کا نام *راعیل اور لقب زلیخا* بیان کیا جاتا ہے.
یوسف علیہ السلام سے شادی:
جس طرح قرآن و حدیث ان کے نام کے بارے میں خاموش ہیں اسی طرح ان کی شادی سے متعلق بھی خاموش ہیں، البتہ تفاسیر اور تاریخ کی کتابوں نے اسرائیلیات سے اس بات کو نقل کیا ہے کہ وزیر خزانہ بننے کے بعد یوسف علیہ السلام کی زلیخا سے شادی ہوئی تھی.
حوالہ جات:
لم يرد في القرآن الكريم، ولا في السنة النبوية، ما يثبت أو ينفي زواج يوسف عليه السلام من امرأة العزيز، والتي قيل إن اسمها "راعيل"، وقال بعضهم: اسمها "زليخا"، ولكن استظهر الحافظ ابن كثير أن "زليخا" لقبها.
وورد في زواج يوسف عليه السلام من "راعيل" خبرٌ عن إمام السير والتاريخ محمد بن إسحاق رحمه الله حيث يقول:
"لما قال يوسف للملك: {اجعلني على خزائن الأرض إني حفيظ عليم} قال الملك: قد فعلت! فولاه فيما يذكرون عمل إطفير، وعزل إطفير عما كان عليه، يقول الله: {وكذلك مكنا ليوسف في الأرض يتبوأ منها حيث يشاء}الآية.
قال: فذكر لي - والله أعلم - أن إطفير هَلَك في تلك الليالي، وأن الملك الرَّيان بن الوليد، زوَّج يوسف امرأة إطفير "راعيل"، وأنها حين دخلت عليه قال: أليس هذا خيرًا مما كنت تريدين؟ قال: فيزعمون أنها قالت: أيُّها الصديق، لا تلمني، فإني كنت امرأة كما ترى حسنًا وجمالاً، ناعمةً في ملك ودنيا، وكان صاحبي لا يأتي النساء، وكنتَ كما جعلكَ الله في حسنك وهيئتك، فغلبتني نفسي على ما رأيت.
فيزعمون أنه وجدَها عذراء، فأصابها، فولدت له رجلين: أفرائيم بن يوسف، وميشا بن يوسف، وولد لأفرائيم نون، والد يوشع بن نون، ورحمة امرأة أيوب عليه السلام" انتهى.
رواه ابن أبي حاتم في "التفسير"
(7/2161)، والطبري في "جامع البيان" (16/151).
وورد نحوه عن زيد بن أسلم التابعي الجليل، وعن وهب بن منبه المعروف بالرواية عن الإسرائيليات.
نقل ذلك السيوطي في "الدر المنثور"(4/553)
وقال ابن القيم رحمه الله:
"الباب السابع والعشرون فيمن ترك محبوبه حراما فبذل له حلالاً أو أعاضه الله خيراً منه: عنوان هذا الباب وقاعدته أنَّ مَن ترك لله شيئاً عوضه الله خيراً منه، كما ترك يوسف الصديق عليه السلام امرأة العزيز لله، واختار السجن على الفاحشة، فعوضه الله أن مكَّنه في الأرض يتبوأ منها حيث يشاء، وأتته المرأة صاغرة سائلة راغبة في الوصل الحلال، فتزوجها فلما دخل بها قال: هذا خير مما كنت تريدين.
فتأمل كيف جزاه الله سبحانه وتعالى على ضيق السجن، أن مكَّنه في الأرض ينزل منها حيث يشاء، وأذل له العزيز امرأته، وأقرت المرأة والنسوة ببراءته، وهذه سنته تعالى في عباده قديماً وحديثاً إلى يوم القيامة". انتهى من "روضة المحبين"
(ص/445).
وهذا لا يعني القطع بثبوت هذه القصة، بل الظاهر أنها مأخوذة عن أهل الكتاب، وقد أمرنا بعدم تصديقهم وعدم تكذيبهم أيضاً، قال النبي صلى الله عليه وسلم: "لَا تُصَدِّقُوا أَهْلَ الْكِتَابِ وَلَا تُكَذِّبُوهُمْ وَقُولُوا آمَنَّا بِالَّذِي أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَأُنْزِلَ إِلَيْكُمْ والهُنَا وَإِلهُكُمْ وَاحِدٌ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ" رواه البخاري (4485) وصححه �
ذكَره السمرقندي في تفسيره بصيغة التضعيف، فقال: ورُوي في الخبر أن زوج زليخا مات، وبقيت امرأته زليخا، فجلست يوما على الطريق، فَمَرّ عليها يوسف في حَشَمِه، فقالت زليخا: الحمد لله الذي جعل العبد مَلِكا بِطاعته، وجعل الملك مملوكا بمعصيته، وتزوجها يوسف فوجدها عذراء، وأخْبَرَت أن زوجها كان عِنِّينًا لم يَصِل إليها...
ولا أظنه صحيحا.
وھذا مما لا ینفع علمه، ولا یضر الجھل به..
خلاصہ کلام:
زلیخا کا نام یا ان کی حضرت یوسف علیہ السلام سے شادی کے متعلق کوئی
بات قرآن یا حدیث سے ثابت نہیں، البتہ اسرائیلیات سے کچھ باتوں کا ثبوت ملتا ہے لیکن وہ باتیں صرف اس حد تک ہیں کہ نہ ان کو سچا کہا جاسکتا ہے اور نہ جھوٹا.
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
Channel name was changed to «جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند»
جواب نمبر:9⃣7⃣1⃣
کھڑے ہوکر زمزم پینا
سوال:
ایک صاحب کھڑے ہوکر زمزم کا پانی پی رہے تھے، اور سر ان کا کھلا ہواتھا، دوسرے صاحب نے منع کیا کہ اس طرح پانی پینا صرف حج کے موقع پر ہے ،اور جگہ زمزم کا پانی عام طریقہ پر پینا چاہئے ؟
جواب:
رسول اللہا نے حجۃ الوداع کے موقعہ سے زمزم کا پانی کھڑے ہوکر نوش فرمایا تھا اور چونکہ آپ ا احرام کی چادر لپیٹے ہوئے تھے ،اس لئے سر مبارک کھلا ہوا تھا ۔ (۱) بعض اہل علم کی رائے ہے کہ آپ ا کایہ کھڑا ہونا اس بنیاد پر تھا کہ وہاں کیچڑتھا اور بیٹھنے میں آلودگی کا خطرہ تھا، لیکن اکثر علماء کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ رسول اللہ ا نے چونکہ کھڑے ہوکر زمزم پیا ہے ، اس لئے کھڑے ہوکر پینے میں بہر حال اتباع نبوی کی رعایت ہے ، اسی کو مشہور حنفی فقیہ
(۱) مجمع الزوائد :۵/۱۲۷ ، باب الشرب من زمزم ، ط : دار الفکر ۔محشی ۔
علامہ شرنبلالی ؒ نے بھی ترجیح دیا ہے ،(۱)اور چونکہ زمزم کی عظمت کا پہلو کچھ حج ہی سے متعلق نہیں، بلکہ ہر وقت اور ہر جگہ ہے ، اس لئے یہ سمجھنا درست نہیںکہ حج کے موقعہ سے زمزم پینے کے احکام الگ ہیں اور عام میں الگ، آپ کے دوست کا عمل درست اور مناسب ہے۔
مستفاد:کتاب الفتاوی
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
کھڑے ہوکر زمزم پینا
سوال:
ایک صاحب کھڑے ہوکر زمزم کا پانی پی رہے تھے، اور سر ان کا کھلا ہواتھا، دوسرے صاحب نے منع کیا کہ اس طرح پانی پینا صرف حج کے موقع پر ہے ،اور جگہ زمزم کا پانی عام طریقہ پر پینا چاہئے ؟
جواب:
رسول اللہا نے حجۃ الوداع کے موقعہ سے زمزم کا پانی کھڑے ہوکر نوش فرمایا تھا اور چونکہ آپ ا احرام کی چادر لپیٹے ہوئے تھے ،اس لئے سر مبارک کھلا ہوا تھا ۔ (۱) بعض اہل علم کی رائے ہے کہ آپ ا کایہ کھڑا ہونا اس بنیاد پر تھا کہ وہاں کیچڑتھا اور بیٹھنے میں آلودگی کا خطرہ تھا، لیکن اکثر علماء کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ رسول اللہ ا نے چونکہ کھڑے ہوکر زمزم پیا ہے ، اس لئے کھڑے ہوکر پینے میں بہر حال اتباع نبوی کی رعایت ہے ، اسی کو مشہور حنفی فقیہ
(۱) مجمع الزوائد :۵/۱۲۷ ، باب الشرب من زمزم ، ط : دار الفکر ۔محشی ۔
علامہ شرنبلالی ؒ نے بھی ترجیح دیا ہے ،(۱)اور چونکہ زمزم کی عظمت کا پہلو کچھ حج ہی سے متعلق نہیں، بلکہ ہر وقت اور ہر جگہ ہے ، اس لئے یہ سمجھنا درست نہیںکہ حج کے موقعہ سے زمزم پینے کے احکام الگ ہیں اور عام میں الگ، آپ کے دوست کا عمل درست اور مناسب ہے۔
مستفاد:کتاب الفتاوی
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:0⃣8⃣1⃣
آب زمزم کھڑے ہوکر پینا مستحب ہے
سوال:
آب زمزم کھڑے ہوکر لوگ پیتے ہیں اگر کوئی بیٹھ کر پئے تو کوئی گناہ ہے نیز کون سا پانی کھڑے ہوکر پینا چاہئیے ؟
جواب:
آب زمزم کو کھڑے ہوکر پینا مستحب ہے بیٹھ کر پینے میں کوئی گناہ نہیں ہے (۵)
-------------------------------------------------------------
(۵) ومن اراد بہ ان یشرب بعدہ من فضل وضوئہٖ کما ء زمزم مستقبل القبلۃ قائماً او قاعداً و فیما عداھما یکرہ قائماً تنزیہاً ( الدر المختار مع الرد ۱/۱۲۹)
مستفاد:کفایت المفتی
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
آب زمزم کھڑے ہوکر پینا مستحب ہے
سوال:
آب زمزم کھڑے ہوکر لوگ پیتے ہیں اگر کوئی بیٹھ کر پئے تو کوئی گناہ ہے نیز کون سا پانی کھڑے ہوکر پینا چاہئیے ؟
جواب:
آب زمزم کو کھڑے ہوکر پینا مستحب ہے بیٹھ کر پینے میں کوئی گناہ نہیں ہے (۵)
-------------------------------------------------------------
(۵) ومن اراد بہ ان یشرب بعدہ من فضل وضوئہٖ کما ء زمزم مستقبل القبلۃ قائماً او قاعداً و فیما عداھما یکرہ قائماً تنزیہاً ( الدر المختار مع الرد ۱/۱۲۹)
مستفاد:کفایت المفتی
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:1⃣8⃣1⃣
زمزم کا پانی بیٹھ کر پینا مستحب ہے یا کھڑے ہوکر :
اِس بارے میں علماء کی دو نوں طرح کی رائیں ہیں :
(1)کھڑے ہوکر مستحب ہے :اِس لئے کہ نبی کریم ﷺ سے کھڑے ہوکر زمزم پینا ثابت ہے ۔
(2)بیٹھ کر مستحب ہے :اِس لئے کہ آپﷺ کا کھڑے ہوکر پینا کسی ضرورت کی وجہ سے تھا ۔
٭کھڑے ہوکر پینے کا جواز بیان کرنے کے لئے ۔
٭وہاں بیٹھنے کی مناسب جگہ نہ ہونے کی وجہ سے ۔
٭تاکہ سب دیکھ لیں اور سب کو معلوم ہوجائے کہ یہ بھی سنن حج میں سے ہے ۔
٭اِس لئے کہ یہ پانی سراسر شفاء ہے ، اِسے کھڑے ہوکر پینے میں کوئی نقصان کا اندیشہ نہیں ۔
٭تاکہ بحالتِ قیام یہ بابرکت پانی پورے بدن میں اچھی طرح پہنچ جائے۔
(انتہاب المنن :1/212)
ماءِ زمزم پینے کی دعاء:
اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَرِزْقًا وَاسِعًا وَشِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ.(دار قطنی: 2738)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
زمزم کا پانی بیٹھ کر پینا مستحب ہے یا کھڑے ہوکر :
اِس بارے میں علماء کی دو نوں طرح کی رائیں ہیں :
(1)کھڑے ہوکر مستحب ہے :اِس لئے کہ نبی کریم ﷺ سے کھڑے ہوکر زمزم پینا ثابت ہے ۔
(2)بیٹھ کر مستحب ہے :اِس لئے کہ آپﷺ کا کھڑے ہوکر پینا کسی ضرورت کی وجہ سے تھا ۔
٭کھڑے ہوکر پینے کا جواز بیان کرنے کے لئے ۔
٭وہاں بیٹھنے کی مناسب جگہ نہ ہونے کی وجہ سے ۔
٭تاکہ سب دیکھ لیں اور سب کو معلوم ہوجائے کہ یہ بھی سنن حج میں سے ہے ۔
٭اِس لئے کہ یہ پانی سراسر شفاء ہے ، اِسے کھڑے ہوکر پینے میں کوئی نقصان کا اندیشہ نہیں ۔
٭تاکہ بحالتِ قیام یہ بابرکت پانی پورے بدن میں اچھی طرح پہنچ جائے۔
(انتہاب المنن :1/212)
ماءِ زمزم پینے کی دعاء:
اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَرِزْقًا وَاسِعًا وَشِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ.(دار قطنی: 2738)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:2⃣8⃣1⃣
مسئلة التنفّس:
تنفّس کا مطلب اور اُس کا حکم :
تنفّس کا معنی سانس لینا ہے ، اور اِس کے دو معنی ہیں :
التنفّس فی الشّرب:پینے کے دوران برتن سے منہ ہٹاکر دو تین مرتبہ سانس لینا۔ یہ مندوب ہے ۔
التنفّس فی الاِناء : پیتے ہوئے برتن کے اندر سانس لینا ۔ یہ مکروہ ہے ۔(الکوکب الدری علی الترمذی :3/39)
أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الإِنَاءِ ثَلَاثًا.(ترمذی: 1884)اِس حدیث میں پہلا معنی مراد ہے ۔
إِذَا شَرِبَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَنَفَّسْ فِي الإِنَاءِ.(ترمذی: 1889)اِس حدیث میں دوسرا معنی مراد ہے ۔
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
مسئلة التنفّس:
تنفّس کا مطلب اور اُس کا حکم :
تنفّس کا معنی سانس لینا ہے ، اور اِس کے دو معنی ہیں :
التنفّس فی الشّرب:پینے کے دوران برتن سے منہ ہٹاکر دو تین مرتبہ سانس لینا۔ یہ مندوب ہے ۔
التنفّس فی الاِناء : پیتے ہوئے برتن کے اندر سانس لینا ۔ یہ مکروہ ہے ۔(الکوکب الدری علی الترمذی :3/39)
أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ يَتَنَفَّسُ فِي الإِنَاءِ ثَلَاثًا.(ترمذی: 1884)اِس حدیث میں پہلا معنی مراد ہے ۔
إِذَا شَرِبَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَتَنَفَّسْ فِي الإِنَاءِ.(ترمذی: 1889)اِس حدیث میں دوسرا معنی مراد ہے ۔
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:3⃣8⃣1⃣
زمزم اور وضو کا بچا ہوا پانی بیٹھ کر پینا افضل ہے۔
حضرت مولانا شفیع صاحب عثمانی رحتة اللہ علیہ کی تحقیق یہی تھی کہ زمزم کا پانی بیٹھ کر پینا ہی افضل ہے اسی طرح وضو کا بچا ہوا پانی بھی بیٹھ کر پینا افضل ہے۔البتہ عذر کے موقع پر جس طرح عام پانی کھڑے ہوکر پینا جائز ہے۔اس برح زمزم اور وضو سے بچاہوا پانی بھی کھڑے ہوکر پینا جائزہے----عام طور پر لوگ یہ کرتے ہیں کہ اچھے خاصے بیٹھے ہوئے تھے۔لیکن جب زمزم کا پانی دیا گیا تو ایک دم سے گھڑے ہوگئے، اور گھڑے ہوکر اسکو پیا،اتنا اہتمام کرکے گھڑے ہوکر پینے کی ضرورت نہیں، بلکہ بیٹھ کر پینا چاہئے، وہی افضل ہے۔
اصلاحی خطبات5
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
زمزم اور وضو کا بچا ہوا پانی بیٹھ کر پینا افضل ہے۔
حضرت مولانا شفیع صاحب عثمانی رحتة اللہ علیہ کی تحقیق یہی تھی کہ زمزم کا پانی بیٹھ کر پینا ہی افضل ہے اسی طرح وضو کا بچا ہوا پانی بھی بیٹھ کر پینا افضل ہے۔البتہ عذر کے موقع پر جس طرح عام پانی کھڑے ہوکر پینا جائز ہے۔اس برح زمزم اور وضو سے بچاہوا پانی بھی کھڑے ہوکر پینا جائزہے----عام طور پر لوگ یہ کرتے ہیں کہ اچھے خاصے بیٹھے ہوئے تھے۔لیکن جب زمزم کا پانی دیا گیا تو ایک دم سے گھڑے ہوگئے، اور گھڑے ہوکر اسکو پیا،اتنا اہتمام کرکے گھڑے ہوکر پینے کی ضرورت نہیں، بلکہ بیٹھ کر پینا چاہئے، وہی افضل ہے۔
اصلاحی خطبات5
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:4⃣8⃣1⃣
زمزم کا پانی غیر مسلم کو دینا:
سوال:
کیا آب زمزم غیر مسلم کو دینا درست ہے ؟
جواب:
آب زمزم ایک متبرک پانی ہے ، لیکن ایسا نہیں ہے کہ غیر مسلموں کو دینے کی ممانعت ہو، مکہ کے فتح ہونے کے بعد بھی ایک سال تک غیر مسلموں کو حج و عمرہ کے لئے آنے کی اجازت باقی رکھی گئی تھی، ظاہر ہے کہ ان دنوں غیر مسلم بھی زمزم کے پانی سے استفادہ کیا کرتے تھے، لہذا اپنے غیر مسلم بھائیوں کو زمزم کا پانی دینے میں کوئی حرج نہیںہے ۔
زمزم کی شیشی کا دوسرے کام میں استعمال
سوال:
آج کل اکثر حجاج اپنے دوست و احباب کی خدمت میں ماءزمزم کی چھوٹی شیشیاں تحفہ میں پیش کرتے ہیں، اس بوتل پر کعبۃ اللہ اور گنبد خضراء کی تصویر ہوتی ہے ، زمزم کا پانی ختم ہونے کے بعد کیا اس بوتل کو دوسری چیزوں کے لئے استعمال میں لایا جاسکتا ہے ؟
جواب:
آج کل یہ رواج سا ہوگیا ہے کہ مسلمان مختلف چیزوں پر خانۂ کعبہ ، یا مسجد نبوی اور گنبد خضراء و غیرہ کی تصویر شائع کردیتے ہیں، ظاہر ہے کہ اصل میں تو اس کے پیچھے
(۱) مراقی الفلاح : ص: ۴۳۔
حضورا سے محبت کا داعیہ کارفرما ہوتا ہے ، لیکن بعض دفعہ یہی چیز ان تصویروں کی بے حرمتی کا باعث بن جاتی ہے، اس لئے اس سے اجتناب کرنا چاہئے، ویسے چونکہ تصویر کا حکم اصل کا نہیں ہوتا ، اس لئے ان شیشیوں کو دوسرے پاک اور جائز چیزوں کے رکھنے میں بھی استعمال کرسکتے ہیں ۔
آبِ زمزم پینے کا طریقہ
سوال:
آبِ زمزم پینے کا طریقہ کیا ہے ؟ اگر یہ پانی بہت عرصہ سے پلاسٹک کے ڈبہ میں بند تھا ، جیسے ایک سال یا اس سے زیادہ عرصہ سے ، اب پینے سے ڈر ہے کہ کہیں صحت کو نقصان نہ ہو ، تو کیا اس پانی کو کسی جگہ بہایا ، یا درخت میں ڈالا جا سکتاہے ؟
جواب:
(الف) زمزم پینے کا ادب فقہاء نے لکھا ہے کہ اسے قبلہ رخ ہو کر پئے، اس سے اپنے چہرے ، سر اور جسم کو پونچھے ، اور سہولت ہو توتھوڑا اپنے اوپر بہا لے ، حضرت عبداللہ بن عباس ص کے بارے میںمنقول ہے کہ وہ زمزمپیتے ہوئے یہ دعاء کرتے تھے:
’’ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ عِلْماً نَافِعاً وَّرِزْقاً وَّاسِعاً وَّشِفَائً مِّنْ کُلِّ دَائٍ‘‘ (۱)
’’اے اللہ ! میں آپ سے علم ِنافع ، کشادہ رزق اور ہر بیماری سے شفا کا طلب گا ر ہوں‘‘
(ب) تجربہ ہے کہ آبِ زمزم بہت دنوں تک بغیر کسی تغیر کے محفوظ رہتا ہے ، یہ اللہ کی طرف سے خاص برکت ہے ، اور غالباًاس پانی کے تجزیہ سے سائنس داںحضرات بھی اس طرح کا
(۱) درر الحکام فی شرح غرر الأحکام : ۱/۲۳۲ ۔
نتیجہ اخذ کر چکے ہیں، ---- ویسے زمزم بہانے یا کسی درخت میں ڈالنے میں کوئی حرج نہیں،یہ بات قرینِ احتیاط معلوم ہوتی ہے کہ مقامِ نجاست پر زمزم گرا نے سے اجتناب کیا جائے۔
مستفاد:کتاب الفتاوی
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
زمزم کا پانی غیر مسلم کو دینا:
سوال:
کیا آب زمزم غیر مسلم کو دینا درست ہے ؟
جواب:
آب زمزم ایک متبرک پانی ہے ، لیکن ایسا نہیں ہے کہ غیر مسلموں کو دینے کی ممانعت ہو، مکہ کے فتح ہونے کے بعد بھی ایک سال تک غیر مسلموں کو حج و عمرہ کے لئے آنے کی اجازت باقی رکھی گئی تھی، ظاہر ہے کہ ان دنوں غیر مسلم بھی زمزم کے پانی سے استفادہ کیا کرتے تھے، لہذا اپنے غیر مسلم بھائیوں کو زمزم کا پانی دینے میں کوئی حرج نہیںہے ۔
زمزم کی شیشی کا دوسرے کام میں استعمال
سوال:
آج کل اکثر حجاج اپنے دوست و احباب کی خدمت میں ماءزمزم کی چھوٹی شیشیاں تحفہ میں پیش کرتے ہیں، اس بوتل پر کعبۃ اللہ اور گنبد خضراء کی تصویر ہوتی ہے ، زمزم کا پانی ختم ہونے کے بعد کیا اس بوتل کو دوسری چیزوں کے لئے استعمال میں لایا جاسکتا ہے ؟
جواب:
آج کل یہ رواج سا ہوگیا ہے کہ مسلمان مختلف چیزوں پر خانۂ کعبہ ، یا مسجد نبوی اور گنبد خضراء و غیرہ کی تصویر شائع کردیتے ہیں، ظاہر ہے کہ اصل میں تو اس کے پیچھے
(۱) مراقی الفلاح : ص: ۴۳۔
حضورا سے محبت کا داعیہ کارفرما ہوتا ہے ، لیکن بعض دفعہ یہی چیز ان تصویروں کی بے حرمتی کا باعث بن جاتی ہے، اس لئے اس سے اجتناب کرنا چاہئے، ویسے چونکہ تصویر کا حکم اصل کا نہیں ہوتا ، اس لئے ان شیشیوں کو دوسرے پاک اور جائز چیزوں کے رکھنے میں بھی استعمال کرسکتے ہیں ۔
آبِ زمزم پینے کا طریقہ
سوال:
آبِ زمزم پینے کا طریقہ کیا ہے ؟ اگر یہ پانی بہت عرصہ سے پلاسٹک کے ڈبہ میں بند تھا ، جیسے ایک سال یا اس سے زیادہ عرصہ سے ، اب پینے سے ڈر ہے کہ کہیں صحت کو نقصان نہ ہو ، تو کیا اس پانی کو کسی جگہ بہایا ، یا درخت میں ڈالا جا سکتاہے ؟
جواب:
(الف) زمزم پینے کا ادب فقہاء نے لکھا ہے کہ اسے قبلہ رخ ہو کر پئے، اس سے اپنے چہرے ، سر اور جسم کو پونچھے ، اور سہولت ہو توتھوڑا اپنے اوپر بہا لے ، حضرت عبداللہ بن عباس ص کے بارے میںمنقول ہے کہ وہ زمزمپیتے ہوئے یہ دعاء کرتے تھے:
’’ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ عِلْماً نَافِعاً وَّرِزْقاً وَّاسِعاً وَّشِفَائً مِّنْ کُلِّ دَائٍ‘‘ (۱)
’’اے اللہ ! میں آپ سے علم ِنافع ، کشادہ رزق اور ہر بیماری سے شفا کا طلب گا ر ہوں‘‘
(ب) تجربہ ہے کہ آبِ زمزم بہت دنوں تک بغیر کسی تغیر کے محفوظ رہتا ہے ، یہ اللہ کی طرف سے خاص برکت ہے ، اور غالباًاس پانی کے تجزیہ سے سائنس داںحضرات بھی اس طرح کا
(۱) درر الحکام فی شرح غرر الأحکام : ۱/۲۳۲ ۔
نتیجہ اخذ کر چکے ہیں، ---- ویسے زمزم بہانے یا کسی درخت میں ڈالنے میں کوئی حرج نہیں،یہ بات قرینِ احتیاط معلوم ہوتی ہے کہ مقامِ نجاست پر زمزم گرا نے سے اجتناب کیا جائے۔
مستفاد:کتاب الفتاوی
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:5⃣8⃣1⃣
نامحرم کو دیکھنا اور بغیر پردے کے بات کرنا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: نامحرم کو دیکھنا، نامحرم سے بات کرنا، پردے کا اہتمام نہ کرنا، ان سے کس قسم کا گناہ ہوتا ہے: صغیرہ یا کبیرہ؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:نامحرم سے نگاہیں نیچی رکھنے اور پردہ کرنے کا حکم قرآنِ کریم میں دیا گیا ہے، اِس لئے اس کی خلاف ورزی بڑا گناہ ہے۔
قال اللّٰہ تبارک وتعالیٰ: {قُلْ لِلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِہِمْ وَیَحْفَظُوْا فُرُوْجَہُمْ} [النور، جزء آیت: ۳۰]
ہٰذا أمر من اللّٰہ تعالیٰ لعبادہ المؤمنین أن یغضوا من أبصارہم عما حرم علیہم، فلا ینظروا إلا إلیٰ ما أباح لہم النظر إلیہ، وأن [یغضوا] أبصارہم عن المحارم، فإن اتفق أن وقع البصر علی محرم من غیر قصد، فلیصرف بصرہ عنہ سریعًا، کما رواہ مسلم في صحیحہ من حدیث یونس بن عبید عن عمرو بن سعید عن أبي زرعۃ بن عمرو بن جریر، عن جدہ جریر بن عبد اللّٰہ البجلي رضي اللّٰہ عنہ قال: سألت النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم عن نظرۃ الفجأۃ، فأمرني أن أصرف بصري۔ (تفسیر ابن کثیر مکمل ۹۳۶ دار السلام للنشر والتوزیع ریاض)
عن عبد اللّٰہ بن بریدۃ عن أبیہ رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لعلي رضي اللّٰہ عنہ: یا علي لا تتبع النظرۃ النظرۃ، فإن لک الأولیٰ ولیس لک الآخرۃ۔
(مشکاۃ المصابیح، کتاب النکاح / باب النظر إلی المخطوبۃ، الفصل الثاني ۲۶۹)
عن الحسن مرسلاً قال: بلغني أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال:
لعن اللّٰہ الناظر والمنظور إلیہ۔ رواہ البیہقي في شعب الإیمان۔ (مشکاۃ المصابیح / باب النظر إلی المخطوبۃ، الفصل الثالث ۲۷۰)
وفیما إذا کان الناظر إلی المرأۃ الأجنبیۃ ہو الرجل، قال: فلیجتنب بجہدہ، وہو دلیل الحرمۃ۔ (الفتاویٰ الہندیۃ، کتاب الکراہیۃ / الباب الثامن فیما یحل للرجل النظر إلیہ ۵؍۳۲۷ زکریا)
مستفاد:کتاب النوازل
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
نامحرم کو دیکھنا اور بغیر پردے کے بات کرنا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: نامحرم کو دیکھنا، نامحرم سے بات کرنا، پردے کا اہتمام نہ کرنا، ان سے کس قسم کا گناہ ہوتا ہے: صغیرہ یا کبیرہ؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:نامحرم سے نگاہیں نیچی رکھنے اور پردہ کرنے کا حکم قرآنِ کریم میں دیا گیا ہے، اِس لئے اس کی خلاف ورزی بڑا گناہ ہے۔
قال اللّٰہ تبارک وتعالیٰ: {قُلْ لِلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِہِمْ وَیَحْفَظُوْا فُرُوْجَہُمْ} [النور، جزء آیت: ۳۰]
ہٰذا أمر من اللّٰہ تعالیٰ لعبادہ المؤمنین أن یغضوا من أبصارہم عما حرم علیہم، فلا ینظروا إلا إلیٰ ما أباح لہم النظر إلیہ، وأن [یغضوا] أبصارہم عن المحارم، فإن اتفق أن وقع البصر علی محرم من غیر قصد، فلیصرف بصرہ عنہ سریعًا، کما رواہ مسلم في صحیحہ من حدیث یونس بن عبید عن عمرو بن سعید عن أبي زرعۃ بن عمرو بن جریر، عن جدہ جریر بن عبد اللّٰہ البجلي رضي اللّٰہ عنہ قال: سألت النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم عن نظرۃ الفجأۃ، فأمرني أن أصرف بصري۔ (تفسیر ابن کثیر مکمل ۹۳۶ دار السلام للنشر والتوزیع ریاض)
عن عبد اللّٰہ بن بریدۃ عن أبیہ رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لعلي رضي اللّٰہ عنہ: یا علي لا تتبع النظرۃ النظرۃ، فإن لک الأولیٰ ولیس لک الآخرۃ۔
(مشکاۃ المصابیح، کتاب النکاح / باب النظر إلی المخطوبۃ، الفصل الثاني ۲۶۹)
عن الحسن مرسلاً قال: بلغني أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال:
لعن اللّٰہ الناظر والمنظور إلیہ۔ رواہ البیہقي في شعب الإیمان۔ (مشکاۃ المصابیح / باب النظر إلی المخطوبۃ، الفصل الثالث ۲۷۰)
وفیما إذا کان الناظر إلی المرأۃ الأجنبیۃ ہو الرجل، قال: فلیجتنب بجہدہ، وہو دلیل الحرمۃ۔ (الفتاویٰ الہندیۃ، کتاب الکراہیۃ / الباب الثامن فیما یحل للرجل النظر إلیہ ۵؍۳۲۷ زکریا)
مستفاد:کتاب النوازل
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:6⃣8⃣1⃣
غیر محرم کے ساتھ خلوت نشینی کا نقصان
کتابوں میں یہ واقعہ لکھا ہے کہ پرانی اُمتوں میں ایک عبادت گزار آدمی تھا۔ 60سال اُس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی۔ ساٹھ سال کے بعد من جانب اللہ آزمایش مقصد ہوئی۔ وہ تنہا عبادت کیا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ اس کی عبادت کی جگہ پر ایک عورت آئی اور چھ دن اس عابد کے قریب رہی۔ وہ عابد اس کے ساتھ گناہ میں ملوث ہوگیا۔ اندازہ کیجیے کہ ساٹھ سال کی عبادت میں نفس سیدھا نہیں ہوا، اور ساٹھ سال کی عبادت کے بعد نامحرم نظر آئی تو وہ زنا میں ملوث ہوگیا۔ بہرحال شرمندگی ہوئی تو اُس نے توبہ کی کہ یہ میں کیا کر بیٹھا۔ 60سال کی عبادت ایک طرف اور 6 راتیں ایک طرف۔ چناں چہ اس نے اللہ کی طرف رجوع کیا اور تو بہ کی۔ اس کے پاس روٹی تھی۔ اُس نے کہا کہ میں کھانا نہیں کھاؤں گا، میں توبہ کرتا رہوں گا۔ غرض وہ مانگتا رہا، گڑگڑاتا رہا۔ اللہ کی شان کہ ایک سائل آگیا جبکہ روٹی ایک تھی یا 3 تھیں۔ اُس نے وہ ایک روٹی یا 3 روٹیاں اس سائل کو دے دیں اور پھر اس کا انتقال ہوگیا۔ اس کی 60 سال کی عبادت کو ایک پلڑے میں رکھا گیا اور دوسرے پلڑے میں 6 راتیں۔
کہتے ہیں کہ کرو بات ساری رات۔ اتنا آسان نہیں ہے یہ جملہ۔ قیامت کے دن معلوم ہوگا کہ جو راتیں ’’کرو بات ساری رات‘‘ والی وہ دوسرے پلڑے میں رکھ دی گئیں تو پھر معلوم ہوگا کہ یہ کیا ہوگیا۔
اس واقعہ میں ہے کہ 60 سال کی عبادت کی قیمت کوئی نہ لگی اور وزن گھٹ گیا جبکہ 6 راتوں کا گناہ بڑھ گیا۔ پھر کیا تھا؟ معاملہ سخت ہوگیا۔ آگے لکھا ہے کہ وہ جو مرتے وقت روٹی صدقہ کی تھی وہ نامۂ اَعمال میں رکھی گئی تو نیکی کا پلڑا بھاری ہوا اور اس کی مغفرت ہوگئی۔
نفس پر خود اعتمادی نہیں کرنی چاہیے
اس لیے زندگی میں کوئی لمحہ ایسا نہیں آتا کہ انسان اپنے نفس کے اوپر اعتماد کرے کہ میں اب ذکر کرکے اور دین کا کام کر کے اتنا پکا ہوچکا ہوں کہ اب یہ عورت کا ہتھیار میرے اوپر اَثر انداز نہیں ہوگا۔ اس بھول میں کبھی کوئی نہ آئے۔ بات اُصول کی ہے ذرا سمجھیے! اللہ ربّ العزّت نے مخلوقات مختلف بنائی ہیں۔ ایک مخلوق سراپا خیر ہے، وہ فرشتے ہیں۔ اور ایک مخلوق سراپا شرّ ہے، وہ شیاطین ہیں۔ اور ایک مخلوق ایسی ہے جو خیر اور شرّ کا مجموعہ ہے، وہ حضرتِ انسان ہے۔ دنیا میں بُرے سے بُرے آدمی کے اندر بھی کہیں نہ کہیں سے کوئی خیر نکل آئے گی، اور بہترین سے بہترین آدمی کے اندر بھی کوئی نہ کوئی برائی ہوگی۔ شریعت نے ہمیں یہ نہیں کہا کہ سو فیصد خیر کو غالب کرو، بلکہ فرمایا کہ خیر کو غالب کرو، سو فیصد کی بات نہیں۔ جو انسان خیر کو غالب کرلے وہ کامیاب، جس کی خیر مغلوب ہوجائے شرّ غالب ہوجائے وہ ناکام۔ تو خیر اور شرّ دونوں نے ساتھ چلنا ہے۔ اعمال میں نیکیاں بھی تولی جائیں گی، گناہ بھی تولے جائیں گے۔ سو فیصد انسان نیک ہوجائے اور اس کے اندر سے بالکل برائی کے ارادے اور خواہشات بھی نکل جائے، ایسا اللہ نے بنایا ہی نہیں۔
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
غیر محرم کے ساتھ خلوت نشینی کا نقصان
کتابوں میں یہ واقعہ لکھا ہے کہ پرانی اُمتوں میں ایک عبادت گزار آدمی تھا۔ 60سال اُس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی۔ ساٹھ سال کے بعد من جانب اللہ آزمایش مقصد ہوئی۔ وہ تنہا عبادت کیا کرتا تھا۔ ایک مرتبہ اس کی عبادت کی جگہ پر ایک عورت آئی اور چھ دن اس عابد کے قریب رہی۔ وہ عابد اس کے ساتھ گناہ میں ملوث ہوگیا۔ اندازہ کیجیے کہ ساٹھ سال کی عبادت میں نفس سیدھا نہیں ہوا، اور ساٹھ سال کی عبادت کے بعد نامحرم نظر آئی تو وہ زنا میں ملوث ہوگیا۔ بہرحال شرمندگی ہوئی تو اُس نے توبہ کی کہ یہ میں کیا کر بیٹھا۔ 60سال کی عبادت ایک طرف اور 6 راتیں ایک طرف۔ چناں چہ اس نے اللہ کی طرف رجوع کیا اور تو بہ کی۔ اس کے پاس روٹی تھی۔ اُس نے کہا کہ میں کھانا نہیں کھاؤں گا، میں توبہ کرتا رہوں گا۔ غرض وہ مانگتا رہا، گڑگڑاتا رہا۔ اللہ کی شان کہ ایک سائل آگیا جبکہ روٹی ایک تھی یا 3 تھیں۔ اُس نے وہ ایک روٹی یا 3 روٹیاں اس سائل کو دے دیں اور پھر اس کا انتقال ہوگیا۔ اس کی 60 سال کی عبادت کو ایک پلڑے میں رکھا گیا اور دوسرے پلڑے میں 6 راتیں۔
کہتے ہیں کہ کرو بات ساری رات۔ اتنا آسان نہیں ہے یہ جملہ۔ قیامت کے دن معلوم ہوگا کہ جو راتیں ’’کرو بات ساری رات‘‘ والی وہ دوسرے پلڑے میں رکھ دی گئیں تو پھر معلوم ہوگا کہ یہ کیا ہوگیا۔
اس واقعہ میں ہے کہ 60 سال کی عبادت کی قیمت کوئی نہ لگی اور وزن گھٹ گیا جبکہ 6 راتوں کا گناہ بڑھ گیا۔ پھر کیا تھا؟ معاملہ سخت ہوگیا۔ آگے لکھا ہے کہ وہ جو مرتے وقت روٹی صدقہ کی تھی وہ نامۂ اَعمال میں رکھی گئی تو نیکی کا پلڑا بھاری ہوا اور اس کی مغفرت ہوگئی۔
نفس پر خود اعتمادی نہیں کرنی چاہیے
اس لیے زندگی میں کوئی لمحہ ایسا نہیں آتا کہ انسان اپنے نفس کے اوپر اعتماد کرے کہ میں اب ذکر کرکے اور دین کا کام کر کے اتنا پکا ہوچکا ہوں کہ اب یہ عورت کا ہتھیار میرے اوپر اَثر انداز نہیں ہوگا۔ اس بھول میں کبھی کوئی نہ آئے۔ بات اُصول کی ہے ذرا سمجھیے! اللہ ربّ العزّت نے مخلوقات مختلف بنائی ہیں۔ ایک مخلوق سراپا خیر ہے، وہ فرشتے ہیں۔ اور ایک مخلوق سراپا شرّ ہے، وہ شیاطین ہیں۔ اور ایک مخلوق ایسی ہے جو خیر اور شرّ کا مجموعہ ہے، وہ حضرتِ انسان ہے۔ دنیا میں بُرے سے بُرے آدمی کے اندر بھی کہیں نہ کہیں سے کوئی خیر نکل آئے گی، اور بہترین سے بہترین آدمی کے اندر بھی کوئی نہ کوئی برائی ہوگی۔ شریعت نے ہمیں یہ نہیں کہا کہ سو فیصد خیر کو غالب کرو، بلکہ فرمایا کہ خیر کو غالب کرو، سو فیصد کی بات نہیں۔ جو انسان خیر کو غالب کرلے وہ کامیاب، جس کی خیر مغلوب ہوجائے شرّ غالب ہوجائے وہ ناکام۔ تو خیر اور شرّ دونوں نے ساتھ چلنا ہے۔ اعمال میں نیکیاں بھی تولی جائیں گی، گناہ بھی تولے جائیں گے۔ سو فیصد انسان نیک ہوجائے اور اس کے اندر سے بالکل برائی کے ارادے اور خواہشات بھی نکل جائے، ایسا اللہ نے بنایا ہی نہیں۔
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:7⃣8⃣1⃣
عورت کا غیر محرم مرد کے کپڑے دھونا؛
مسئلہ: عورت غیر محرم مرد کے کپڑے دھوسکتی ہے(۱)، بشرطیکہ کوئی اور مفسدہ پیدا ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔(۲)
ہاتھ پیر اور سینے کے بال صاف کرنا
مسئلہ: مرد اور عورت کے لیے اپنے ہاتھ، پیر اور سینے کے بال صاف کرنا جائز تو ہے، مگر خلافِ ادب او رغیر اَولیٰ ہے۔(۳)
------------------------------------------------------------
الحجۃ علی ما قلنا :
(۱) ما في ’’ جامع الترمذي ‘‘ : عن ہمام بن الحارث قال : ’’ ضاف عائشۃ ضیف فأمرت لہ بملحفۃ صفراء فنام فیہا فاحتلم ، فاستحیا أن یرسل بہا وبہا أثر الاحتلام فغمسہا في الماء ، ثم أرسل بہا فقالت عائشۃ : لم أفسد علینا ثوبنا ، إنما کان یکفیہ أن یفرکہ بأصابعہ وربما فرکتہ من ثوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بأصبعي ‘‘ ۔
(۱/۳۱ ، أبواب الطہارۃ ، باب ما جاء في المني یصیب الثوب ، الرقم :۱۱۶، سنن ابن ماجۃ :ص/۴۱، کتاب الطہارۃ ، باب في فرک المني من الثوب ، الرقم : ۵۳۸)
(۲) ما في ’’ المقاصد الشرعیۃ ‘‘ : ان الوسیلۃ أو الذریعۃ تکون محرمۃ إذا کان المقصد محرما ۔ (ص/۴۶، صلۃ الذرائع سدا وفتحا بمقاصد الشریعۃ)
ما في ’’ رد المحتار ‘‘ : ما کان سببًا لمحظور فہو محظور ۔ (۹/۴۲۶ ، کتاب الحظر والإباحۃ ، قبیل فصل في اللبس) (فتاویٰ بنوریہ، رقم الفتویٰ: ۲۱۳۸۵)
(۳) ما في ’’ رد المحتار ‘‘ : وفي حلق شعر الصدر والظہر ترک الأدب ۔ کذا في القنیۃ ۔
(۹/۵۸۳، کتاب الحظر والإباحۃ ، فصل في البیع ، البحر الرائق :۸/۳۷۵ ، کتاب الکراہیۃ، فصل في البیع ، تحت قولہ :خصي البہائم ، الفتاوی الہندیۃ :۵/۳۵۸، کتاب الکراہیۃ ، الباب التاسع عشر في الختان والخصاء وقلم الأظفار الخ ، حاشیۃ الطحطاوي
علی مراقي الفلاح :ص/۵۲۶، باب الجمعۃ)
(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۲۹۹۳۴، فتاویٰ محمودیہ: ۲۷/۴۷۲، میرٹھ)
مستفاد:المسائل المہمة
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
عورت کا غیر محرم مرد کے کپڑے دھونا؛
مسئلہ: عورت غیر محرم مرد کے کپڑے دھوسکتی ہے(۱)، بشرطیکہ کوئی اور مفسدہ پیدا ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔(۲)
ہاتھ پیر اور سینے کے بال صاف کرنا
مسئلہ: مرد اور عورت کے لیے اپنے ہاتھ، پیر اور سینے کے بال صاف کرنا جائز تو ہے، مگر خلافِ ادب او رغیر اَولیٰ ہے۔(۳)
------------------------------------------------------------
الحجۃ علی ما قلنا :
(۱) ما في ’’ جامع الترمذي ‘‘ : عن ہمام بن الحارث قال : ’’ ضاف عائشۃ ضیف فأمرت لہ بملحفۃ صفراء فنام فیہا فاحتلم ، فاستحیا أن یرسل بہا وبہا أثر الاحتلام فغمسہا في الماء ، ثم أرسل بہا فقالت عائشۃ : لم أفسد علینا ثوبنا ، إنما کان یکفیہ أن یفرکہ بأصابعہ وربما فرکتہ من ثوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بأصبعي ‘‘ ۔
(۱/۳۱ ، أبواب الطہارۃ ، باب ما جاء في المني یصیب الثوب ، الرقم :۱۱۶، سنن ابن ماجۃ :ص/۴۱، کتاب الطہارۃ ، باب في فرک المني من الثوب ، الرقم : ۵۳۸)
(۲) ما في ’’ المقاصد الشرعیۃ ‘‘ : ان الوسیلۃ أو الذریعۃ تکون محرمۃ إذا کان المقصد محرما ۔ (ص/۴۶، صلۃ الذرائع سدا وفتحا بمقاصد الشریعۃ)
ما في ’’ رد المحتار ‘‘ : ما کان سببًا لمحظور فہو محظور ۔ (۹/۴۲۶ ، کتاب الحظر والإباحۃ ، قبیل فصل في اللبس) (فتاویٰ بنوریہ، رقم الفتویٰ: ۲۱۳۸۵)
(۳) ما في ’’ رد المحتار ‘‘ : وفي حلق شعر الصدر والظہر ترک الأدب ۔ کذا في القنیۃ ۔
(۹/۵۸۳، کتاب الحظر والإباحۃ ، فصل في البیع ، البحر الرائق :۸/۳۷۵ ، کتاب الکراہیۃ، فصل في البیع ، تحت قولہ :خصي البہائم ، الفتاوی الہندیۃ :۵/۳۵۸، کتاب الکراہیۃ ، الباب التاسع عشر في الختان والخصاء وقلم الأظفار الخ ، حاشیۃ الطحطاوي
علی مراقي الفلاح :ص/۵۲۶، باب الجمعۃ)
(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۲۹۹۳۴، فتاویٰ محمودیہ: ۲۷/۴۷۲، میرٹھ)
مستفاد:المسائل المہمة
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:8⃣8⃣1⃣
غیر محرم عورتوں میں بیٹھنے والے کی امامت؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: جو امام غیر محرم عورتوں میں بیٹھتا ہو تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ ہے، پھر وہ توبہ کرلے، تو کیا اب بھی اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ ہوگا؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اگر امام صاحب نے واقعۃً اپنے مذکورہ غلط عمل سے سچی توبہ کرلی ہے، تو ان کے پیچھے نماز بلاکراہت جائز اور درست ہے۔
قال تعالی: {وَاِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا} [طہ: ۸۲]
وینبغي للإمام أن یحترز عن ملامسۃ النساء ومخالطتہن۔ (الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۲؍۲۵۲ رقم: ۲۳۳۷
زکریا)
عن عائشۃ رضي اللّٰہ عنہا قالت: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: إن العبد إذا اعترف ثم تاب تاب اللّٰہ علیہ۔ (مشکوۃ المصابیح ۱؍۲۰۳ رقم:۲۳۳۰، صحیح البخاري رقم: ۴۱۴۱، صحیح مسلم رقم: ۲۷۷۰)
مستفاد:کتاب النوازل
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
غیر محرم عورتوں میں بیٹھنے والے کی امامت؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: جو امام غیر محرم عورتوں میں بیٹھتا ہو تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ ہے، پھر وہ توبہ کرلے، تو کیا اب بھی اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ ہوگا؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اگر امام صاحب نے واقعۃً اپنے مذکورہ غلط عمل سے سچی توبہ کرلی ہے، تو ان کے پیچھے نماز بلاکراہت جائز اور درست ہے۔
قال تعالی: {وَاِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِمَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا} [طہ: ۸۲]
وینبغي للإمام أن یحترز عن ملامسۃ النساء ومخالطتہن۔ (الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۲؍۲۵۲ رقم: ۲۳۳۷
زکریا)
عن عائشۃ رضي اللّٰہ عنہا قالت: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: إن العبد إذا اعترف ثم تاب تاب اللّٰہ علیہ۔ (مشکوۃ المصابیح ۱؍۲۰۳ رقم:۲۳۳۰، صحیح البخاري رقم: ۴۱۴۱، صحیح مسلم رقم: ۲۷۷۰)
مستفاد:کتاب النوازل
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:9⃣8⃣1⃣
نامحرم عورتوں کے ساتھ اختلاط کرکے تعویذ کا پیشہ کرنے والے کی امامت۔
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: جامع مسجد کے امام صاحب ایک مدت سے چلے آرہے ہیں، اب سے تقریباً ۵؍سال قبل تعویذات وجھاڑ پھونک کرنے کا کام بغیر کسی معاوضہ کے کیا کرتے تھے، آگے چل کر جب جھاڑ پھونک کرانے والیوں کی زیادتی ہوئی، تو امام صاحب کی جانب سے ٹال مٹول شروع ہوگئی، جس کا منفی الفاظ میں یہ مطلب تھا کہ اب ہدیہ ونذرانہ پیش کرو، تو تعویذ یا پانی پر یا سر اور سینہ پر پھونک لگواسکتے ہو، بالآخر یہی ہونے لگا، رفتہ رفتہ نوبت یہاں تک پہنچی کہ اب حضرت کی فیس ڈنکے کی چوٹ پر پچپن روپیہ ہے، اور بیرونی مریضوں کا خصوصاً جمعرات کے دن اژدہام رہتا ہے، اور بستی کی وہ غریب وامیر عورتیں جن سے مقررہ فیس یا تو مطلقاً نہ ملنے کی توقع ہو یا ہر مرتبہ نہ دے سکتی ہوں، ان سے صبح کو ملنا شام کو آنا ٹال مٹول سے شفاخانہ کے چکر لگواتے ہیں، اور کبھی بے وقتی کا بہانہ کرکے ڈانٹ ڈپٹ اور پھٹکار بھی لگاتے ہیں کہ تمہیں بھی اسی وقت آنا تھا، جب کہ اسی وقت میں محرم ونامحرم مقامی وبیرونی ہدیہ پیش کرنے والی عورتوں کا ہاتھ اور مزاج بڑے پیار سے دیکھا جاتا ہے، موصوف امام نے اس کام کے لئے ایک کمرہ متعین کر رکھا ہے، فرصت نہ ملنے کی وجہ سے تعویذات لکھنے کا کام گھر کی عورتوں کے سپرد ہے، جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اب یہ کام صرف پیشے کے طور پر ہورہا ہے۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ ایسے شخص کی امامت کرنا کیسا ہے؟ اس کی امامت میں نماز پڑھنا کہاں تک جائز ہے؟ ان ذمہ دارانِ مسجد کے لئے کیا حکم ہے جو اس کے باوجود امام کی طرف داری کرتے ہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: نامحرم تعویذ لینے والی عورتوں سے بے پردہ ملنا اور نامحرم ہدیہ پیش کرنے والی عورتوں کا ہدیہ لینا اور ہاتھ دیکھنا اور مزاج پرسی کرنا ناجائز اور حرام ہے، اور ان چیزوں سے پرہیز نہ کرنے والا امام فاسق اور فاجر ہے، اور ایسے شخص کو امام بنانا مکروہِ تحریمی ہے۔
عن عقبۃ بن عامر رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: إیاکم والدخول علی النساء۔ (صحیح مسلم رقم: ۲۱۷۲)
الخلوۃ بالأجنبیۃ حرام۔ (درمختار مع الشامي ۶؍۳۶۸ کراچی)
وأما الفاسق فقد علّلوا کراہۃ تقدیمہ بأنہ لا یہتم لأمر دینہ وبأن في تقدیمہ للإمامۃ تعظیمہ، وقد وجب علیہم إہانتہ إلی أن قال: فہو کالمبتدع تکرہ إمامتہ بکل حال بل في شرح المنیۃ علی أن کراہۃ تقدیمہ کراہۃ تحریم لما ذکرنا۔ (شامي ۲؍۲۹۹ زکریا)
نیز امام صاحب کی ان حرکات سے جب مقتدی حضرات ناراض ہوں اور ان کے پیچھے نماز پڑھنا پسند نہ کرتے ہوں، تو انہیںامامت نہیں کرنی چاہئے۔ اس کے باوجود جو لوگ امام موصوف کے طرف دار ہیں، وہ گنہگار ہیں۔
ولو أم قوماً وہم لہ کارہون إن الکراہۃ لفساد فیہ أو لأنہم أحق بالإمامۃ منہ کرہ لہ ذٰلک تحریماً لحدیث أبي داؤد: لا یقبل اللّٰہ صلاۃ من تقدم قوماً وہم لہ کارہون، وإن ہو أحق لا والکراہۃ علیہم۔ (بذل المجہود ۴؍۲۱۲، درمختار مع الشامي ۲؍۲۹۷ زکریا، سنن أبي داؤد رقم: ۵۹۳)
لو قدموا فاسقاً یأثمون بنائً علی أن کراہۃ تقدیمہ کراہۃ تحریم لعدم اعتنائہ بأمور دینہ وتساہلہ في الاتیان بلوازمہ۔ (کبیري ۴۷۹، فتاویٰ رحیمیہ ۱؍۱۶۳)
مستفاد: کتاب النوازل
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ یے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
نامحرم عورتوں کے ساتھ اختلاط کرکے تعویذ کا پیشہ کرنے والے کی امامت۔
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: جامع مسجد کے امام صاحب ایک مدت سے چلے آرہے ہیں، اب سے تقریباً ۵؍سال قبل تعویذات وجھاڑ پھونک کرنے کا کام بغیر کسی معاوضہ کے کیا کرتے تھے، آگے چل کر جب جھاڑ پھونک کرانے والیوں کی زیادتی ہوئی، تو امام صاحب کی جانب سے ٹال مٹول شروع ہوگئی، جس کا منفی الفاظ میں یہ مطلب تھا کہ اب ہدیہ ونذرانہ پیش کرو، تو تعویذ یا پانی پر یا سر اور سینہ پر پھونک لگواسکتے ہو، بالآخر یہی ہونے لگا، رفتہ رفتہ نوبت یہاں تک پہنچی کہ اب حضرت کی فیس ڈنکے کی چوٹ پر پچپن روپیہ ہے، اور بیرونی مریضوں کا خصوصاً جمعرات کے دن اژدہام رہتا ہے، اور بستی کی وہ غریب وامیر عورتیں جن سے مقررہ فیس یا تو مطلقاً نہ ملنے کی توقع ہو یا ہر مرتبہ نہ دے سکتی ہوں، ان سے صبح کو ملنا شام کو آنا ٹال مٹول سے شفاخانہ کے چکر لگواتے ہیں، اور کبھی بے وقتی کا بہانہ کرکے ڈانٹ ڈپٹ اور پھٹکار بھی لگاتے ہیں کہ تمہیں بھی اسی وقت آنا تھا، جب کہ اسی وقت میں محرم ونامحرم مقامی وبیرونی ہدیہ پیش کرنے والی عورتوں کا ہاتھ اور مزاج بڑے پیار سے دیکھا جاتا ہے، موصوف امام نے اس کام کے لئے ایک کمرہ متعین کر رکھا ہے، فرصت نہ ملنے کی وجہ سے تعویذات لکھنے کا کام گھر کی عورتوں کے سپرد ہے، جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اب یہ کام صرف پیشے کے طور پر ہورہا ہے۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ ایسے شخص کی امامت کرنا کیسا ہے؟ اس کی امامت میں نماز پڑھنا کہاں تک جائز ہے؟ ان ذمہ دارانِ مسجد کے لئے کیا حکم ہے جو اس کے باوجود امام کی طرف داری کرتے ہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: نامحرم تعویذ لینے والی عورتوں سے بے پردہ ملنا اور نامحرم ہدیہ پیش کرنے والی عورتوں کا ہدیہ لینا اور ہاتھ دیکھنا اور مزاج پرسی کرنا ناجائز اور حرام ہے، اور ان چیزوں سے پرہیز نہ کرنے والا امام فاسق اور فاجر ہے، اور ایسے شخص کو امام بنانا مکروہِ تحریمی ہے۔
عن عقبۃ بن عامر رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: إیاکم والدخول علی النساء۔ (صحیح مسلم رقم: ۲۱۷۲)
الخلوۃ بالأجنبیۃ حرام۔ (درمختار مع الشامي ۶؍۳۶۸ کراچی)
وأما الفاسق فقد علّلوا کراہۃ تقدیمہ بأنہ لا یہتم لأمر دینہ وبأن في تقدیمہ للإمامۃ تعظیمہ، وقد وجب علیہم إہانتہ إلی أن قال: فہو کالمبتدع تکرہ إمامتہ بکل حال بل في شرح المنیۃ علی أن کراہۃ تقدیمہ کراہۃ تحریم لما ذکرنا۔ (شامي ۲؍۲۹۹ زکریا)
نیز امام صاحب کی ان حرکات سے جب مقتدی حضرات ناراض ہوں اور ان کے پیچھے نماز پڑھنا پسند نہ کرتے ہوں، تو انہیںامامت نہیں کرنی چاہئے۔ اس کے باوجود جو لوگ امام موصوف کے طرف دار ہیں، وہ گنہگار ہیں۔
ولو أم قوماً وہم لہ کارہون إن الکراہۃ لفساد فیہ أو لأنہم أحق بالإمامۃ منہ کرہ لہ ذٰلک تحریماً لحدیث أبي داؤد: لا یقبل اللّٰہ صلاۃ من تقدم قوماً وہم لہ کارہون، وإن ہو أحق لا والکراہۃ علیہم۔ (بذل المجہود ۴؍۲۱۲، درمختار مع الشامي ۲؍۲۹۷ زکریا، سنن أبي داؤد رقم: ۵۹۳)
لو قدموا فاسقاً یأثمون بنائً علی أن کراہۃ تقدیمہ کراہۃ تحریم لعدم اعتنائہ بأمور دینہ وتساہلہ في الاتیان بلوازمہ۔ (کبیري ۴۷۹، فتاویٰ رحیمیہ ۱؍۱۶۳)
مستفاد: کتاب النوازل
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ یے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:0⃣9⃣1⃣
غیر محرم مرد عورتوں کا آپس میں مصافحہ کرنا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: کیا غیر محرم لوگ (مرد عورت) آپس میں مصافحہ کرسکتے ہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب سے نوازیں۔
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: نامحرم مرد وعورت کا آپس میں مصافحہ کرنا شرعاً ناجائز ہے، اِس میں سخت فتنہ کا اندیشہ ہے۔
وما حل نظرہ حل لمسہ … إلا من أجنبیۃ، فلا یحل مس وجہہا وکفیہا، و إن أمن الشہوۃ؛ لأنہ أغلظ، ولذا تثبت بہ حرمۃ المصاہرۃ۔ (شامي / کتاب الحظر والإباحۃ ۹؍۵۲۸ زکریا)
ولا یحل لہ أن یمسہا وجہہا ولا کفہا، و إن کان یأمن الشہوۃ۔ (الفتاویٰ الہندیۃ، کتاب الکراہیۃ / الباب الثامن ۵؍۳۸۱ مکتبۃ الإتحاد دیوبند)
مستفاد:کتاب النوازل
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
غیر محرم مرد عورتوں کا آپس میں مصافحہ کرنا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: کیا غیر محرم لوگ (مرد عورت) آپس میں مصافحہ کرسکتے ہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب سے نوازیں۔
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: نامحرم مرد وعورت کا آپس میں مصافحہ کرنا شرعاً ناجائز ہے، اِس میں سخت فتنہ کا اندیشہ ہے۔
وما حل نظرہ حل لمسہ … إلا من أجنبیۃ، فلا یحل مس وجہہا وکفیہا، و إن أمن الشہوۃ؛ لأنہ أغلظ، ولذا تثبت بہ حرمۃ المصاہرۃ۔ (شامي / کتاب الحظر والإباحۃ ۹؍۵۲۸ زکریا)
ولا یحل لہ أن یمسہا وجہہا ولا کفہا، و إن کان یأمن الشہوۃ۔ (الفتاویٰ الہندیۃ، کتاب الکراہیۃ / الباب الثامن ۵؍۳۸۱ مکتبۃ الإتحاد دیوبند)
مستفاد:کتاب النوازل
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:1⃣9⃣1⃣
غیر محرم سے دوستی
سوال:
حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قطع تعلق کرنے والوں کو خدا پسند نہیں کرتے ، تو کیا دوستی کا رشتہ بھی اس ضمن میں آتا ہے ؟
جواب:
حدیث میں جو صلہ رحمی اور قطع رحمی کے الفاظ آئے ہیں، ان کا تعلق رشتہ داروں اور قرابت داروں سے ہے ، نہ کہ عام دوستوں سے ، ہاں ! کسی بھی مسلمان سے تین دنوں سے زیادہ ترک کلام کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔ (۱) یہ حکم تمام اہل تعلق کے لیے ہے ، خواہ رشتہ دار ہوں ، یا محض دوست و احباب ، البتہ کسی مسلمان عورت کے لیے اجنبی یا غیر محرم قرابت دار سے دوستی اور خصوصی تعلق گناہ اور حرام ہے اور اس کی قطعا اجازت نہیں ، اس سے فتنوں کا دروازہ کھلتا ہے ، اس لیے ایسے لوگوں سے قطع تعلق ہی واجب ہے اور اس پر گناہ نہیں، بلکہ ثواب ہے ۔
(۱) صحیح البخاري ، حدیث نمبر : ۶۰۷۳ ، ۶۰۷۴ ،۶۰۷۵ ، باب الھجرۃ ۔ محشی ۔
مستفاد:کتاب الفتاوی
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
غیر محرم سے دوستی
سوال:
حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قطع تعلق کرنے والوں کو خدا پسند نہیں کرتے ، تو کیا دوستی کا رشتہ بھی اس ضمن میں آتا ہے ؟
جواب:
حدیث میں جو صلہ رحمی اور قطع رحمی کے الفاظ آئے ہیں، ان کا تعلق رشتہ داروں اور قرابت داروں سے ہے ، نہ کہ عام دوستوں سے ، ہاں ! کسی بھی مسلمان سے تین دنوں سے زیادہ ترک کلام کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔ (۱) یہ حکم تمام اہل تعلق کے لیے ہے ، خواہ رشتہ دار ہوں ، یا محض دوست و احباب ، البتہ کسی مسلمان عورت کے لیے اجنبی یا غیر محرم قرابت دار سے دوستی اور خصوصی تعلق گناہ اور حرام ہے اور اس کی قطعا اجازت نہیں ، اس سے فتنوں کا دروازہ کھلتا ہے ، اس لیے ایسے لوگوں سے قطع تعلق ہی واجب ہے اور اس پر گناہ نہیں، بلکہ ثواب ہے ۔
(۱) صحیح البخاري ، حدیث نمبر : ۶۰۷۳ ، ۶۰۷۴ ،۶۰۷۵ ، باب الھجرۃ ۔ محشی ۔
مستفاد:کتاب الفتاوی
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:2⃣9⃣1⃣
ران بھی ستر میں داخل ہے
سوال:
لوگ مسجدوں اور دوسری جگہوں پر پیشاب کے لیے رانوں تک جسم کھول لیتے ہیں، کیا شرعا اس کی گنجائش ہے ؟
جواب:
ران کا حصہ ستر میں داخل ہے اور اس کا کھولنا جائز نہیں ،اس سے احتیاط ضروری ہے چنانچہ حضرت علی ص سے روایت ہے کہ رسول اللہ ا نے فرمایا : ’’ران نہ کھولو ، کیوں کہ ران بھی ستر کا حصہ ہے ‘‘(۱) استنجاء کے لیے ستر کی رعایت کے ساتھ ہی جسم کھولنے کی اجازت ہے ۔ ’’ و یحتال لازالتہ من غیر کشف العورۃ عند من یراہ ‘‘ (۲)
(۱) الدار قطنی : ۱/۲۳۲ ۔
(۲) مراقي الفلاح : ص : ۲۸ ۔
مستفاد:کتاب الفتاوی
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
ران بھی ستر میں داخل ہے
سوال:
لوگ مسجدوں اور دوسری جگہوں پر پیشاب کے لیے رانوں تک جسم کھول لیتے ہیں، کیا شرعا اس کی گنجائش ہے ؟
جواب:
ران کا حصہ ستر میں داخل ہے اور اس کا کھولنا جائز نہیں ،اس سے احتیاط ضروری ہے چنانچہ حضرت علی ص سے روایت ہے کہ رسول اللہ ا نے فرمایا : ’’ران نہ کھولو ، کیوں کہ ران بھی ستر کا حصہ ہے ‘‘(۱) استنجاء کے لیے ستر کی رعایت کے ساتھ ہی جسم کھولنے کی اجازت ہے ۔ ’’ و یحتال لازالتہ من غیر کشف العورۃ عند من یراہ ‘‘ (۲)
(۱) الدار قطنی : ۱/۲۳۲ ۔
(۲) مراقي الفلاح : ص : ۲۸ ۔
مستفاد:کتاب الفتاوی
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:3⃣9⃣1⃣
غیر محرم کا تحفہ
سوال:
اسلام میں تحفہ دینا اور قبول کرنا دونوں جائز ہے،اس لئے اگر کوئی غیر محرم ہمیں تحفہ دے تو کیا اسے قبول کیا جاسکتا ہے ؟ اگر ہم قبول نہ کریں تو اس کی دل شکنی ہوگی ، تو کیا اس سے گناہ ہوگا ؟ ( ایک بہن)
جواب:
یوں تو ایک مسلمان کیا ہر انسان کا تحفہ قبول کرنا جائز ہے ، اور اگر کسی عورت کو اندیشہ ہو یا مال حرام ہونے کا گمان ہو ، تو تحفہ نہ قبول کرنا بھی درست ہے ، لیکن کسی عورت کے غیر محرم سے تحفہ کے قبول کرنے میں بعض اوقات فتنہ کا اندیشہ ہوتا ہے ، اور جن لوگوں کا ذہن بیمار ہوتا ہے وہ اس کی وجہ سے غلط امیدیں قائم کرسکتے ہیں، اس لیے آپ کو اپنے سرپرستوں کی اجازت کے بغیر ایسا کوئی تحفہ ہرگز قبول نہیں کرناچاہئے ۔
مستفاد:کتاب الفتاوی
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
غیر محرم کا تحفہ
سوال:
اسلام میں تحفہ دینا اور قبول کرنا دونوں جائز ہے،اس لئے اگر کوئی غیر محرم ہمیں تحفہ دے تو کیا اسے قبول کیا جاسکتا ہے ؟ اگر ہم قبول نہ کریں تو اس کی دل شکنی ہوگی ، تو کیا اس سے گناہ ہوگا ؟ ( ایک بہن)
جواب:
یوں تو ایک مسلمان کیا ہر انسان کا تحفہ قبول کرنا جائز ہے ، اور اگر کسی عورت کو اندیشہ ہو یا مال حرام ہونے کا گمان ہو ، تو تحفہ نہ قبول کرنا بھی درست ہے ، لیکن کسی عورت کے غیر محرم سے تحفہ کے قبول کرنے میں بعض اوقات فتنہ کا اندیشہ ہوتا ہے ، اور جن لوگوں کا ذہن بیمار ہوتا ہے وہ اس کی وجہ سے غلط امیدیں قائم کرسکتے ہیں، اس لیے آپ کو اپنے سرپرستوں کی اجازت کے بغیر ایسا کوئی تحفہ ہرگز قبول نہیں کرناچاہئے ۔
مستفاد:کتاب الفتاوی
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:4⃣9⃣1⃣
غیر محرم سے تعلق و محبت کا علاج:
سوال:
ایک عورت کو ایک اجنبی مرد سے محبت پیداہوگئی،معلوم نہیں ان میں محبت کیسی ہے؟کیا صورت کی جائے؟
جواب:
غیر آدمی سے محبت کے نتائج نہایت خطرناک ہیں،فورا توبہ کرکے اللہ تعالی سے عہد کرے اور دعا کرے کہ حق تعالی دعا پر قائم رکھے،درود شریف کثرت سے پڑھا کرے،انشاء اللہ غلط محبت سے دل صاف ہو جائےگا۔
فتاوی محمودیہ306/12اجنی سے محبت درست نہیں۔(م 'ع)
مستفاد:جامع الفتاوی
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
غیر محرم سے تعلق و محبت کا علاج:
سوال:
ایک عورت کو ایک اجنبی مرد سے محبت پیداہوگئی،معلوم نہیں ان میں محبت کیسی ہے؟کیا صورت کی جائے؟
جواب:
غیر آدمی سے محبت کے نتائج نہایت خطرناک ہیں،فورا توبہ کرکے اللہ تعالی سے عہد کرے اور دعا کرے کہ حق تعالی دعا پر قائم رکھے،درود شریف کثرت سے پڑھا کرے،انشاء اللہ غلط محبت سے دل صاف ہو جائےگا۔
فتاوی محمودیہ306/12اجنی سے محبت درست نہیں۔(م 'ع)
مستفاد:جامع الفتاوی
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:5⃣9⃣1⃣
ائرہوسٹس سے بات کرنا:
سوال:
ہوئی جہاز میں کھانا وغیرہ کیلئے ائرہوسٹس سے بات کرنا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب:
جہاز میں کھانا اور چائے وغہرہ وقت مقرر پر عملہ کی طرف سے خود پہنچادیا جاتا ہے طلب کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی،معہذا اگر ضرورت ہو تو ائرہوسٹس سے بقدر ضرورت بات کرنا جائز ہے۔
مستفاد:احسن الفتاوی
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
ائرہوسٹس سے بات کرنا:
سوال:
ہوئی جہاز میں کھانا وغیرہ کیلئے ائرہوسٹس سے بات کرنا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب:
جہاز میں کھانا اور چائے وغہرہ وقت مقرر پر عملہ کی طرف سے خود پہنچادیا جاتا ہے طلب کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی،معہذا اگر ضرورت ہو تو ائرہوسٹس سے بقدر ضرورت بات کرنا جائز ہے۔
مستفاد:احسن الفتاوی
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
Telegram
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
"جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند" میں روزانہ ایک دو مسئلہ مدلل ومزین انداز میں بطورِ استفادہ آپ کو ملے گا،
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1