جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
1.42K subscribers
117 photos
36 files
685 links
"جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند" میں روزانہ ایک دو مسئلہ مدلل ومزین انداز میں بطورِ استفادہ آپ کو ملے گا،

آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda

https://www.hanafimasail.com/?m=1
Download Telegram
جواب نمبر:2⃣6⃣1⃣

عقیقہ کے گوشت کی تقسیم؛
مسئلہ: عقیقہ کے گوشت کو تین برابر حصوں میں تقسیم کرکے، ایک حصہ فقراء ومساکین کو ، دوسرا عزیز رشتہ داروں کو، اور تیسرا حصہ اپنے گھر میں استعمال کرلیا جائے، اور اگر کوئی شخص سارا گوشت گھر میں بنا کر عزیز رشتہ داروں کی دعوت کرے، تو یہ بھی جائز اور درست ہے۔(۱)

الحجۃ علی ما قلنا:
(۱) ما في ’’ اعلاء السنن ‘‘ : وسبیلہا في الأکل والہدیۃ والصدقۃ سبیل الأضحیۃ ۔ اہـ۔ (۱۷/۱۴۰، تحت رقم الحدیث :۵۵۱۴ ، باب أفضلیۃ ذبح الشاۃ في العقیقۃ)
ما في ’’ رد المحتار ‘‘ : قال في البدائع : والأفضل أن یتصدق بالثلث ، ویتخذ الثلث ضیافۃ لأقربائہ وأصدقائہ ، ویدّخر الثلث ، ویستحب أن یأکل منہا ۔ (۹/۴۷۴ ، کتاب الأضحیۃ ، ط ۔ دار الکتب العلمیۃ بیروت ، ۶/۳۲۸ ، ط ۔ دار الفکر بیروت ، بدائع الصنائع : ۶/۳۲۹ ، التضحیۃ ، ط ۔ دار الکتب العلمیۃ بیروت ، ۵/۸۰ ، ط ؛ دار الکتاب العربي بیروت)
(فتاوی بنوریہ ، رقم الفتوی :۸۳۵۸،المسائل المہمۃ:۵/۱۳۳)

واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:3⃣6⃣1⃣

بڑی عمر والوں کا عقیقہ؛
مسئلہ: اگر کسی شخص کا عقیقہ بچپن میں نہ کیا گیا ہو، توبڑا ہونے کے بعد اُس کا بھی عقیقہ کیا جاسکتا ہے، مگر وقتِ مستحب کی فضیلت اُسے حاصل نہ ہوگی(۱)، اگر ساتویں دین عقیقہ نہ کرسکیں، تو ۱۴؍ویں دن، یا ۲۱؍ویں دن کردیں، ورنہ جب بھی عقیقہ کریں، تو دن کے اعتبار سے ساتویں دن کریں۔(۲)
---------------------------------------------------
والحجۃ علی ما قلنا :
(۱) ما في ’’ مصنف ابن أبي شیبۃ ‘‘ : عن محمد [ابن سیرین] قال : ’’ لو أعلم أنہ لم یعقّ عني لعققتُ عن نفسي ‘‘ ۔
(۱۲/۳۱۹ ، حدیث :۲۴۷۱۸ ، کتاب العقیقۃ ، ط : المجلس العلمي أفریقہ)
ما في ’’ إعلاء السنن ‘‘ : عن الحسن البصري : ’’ إذا لم یعق عنک فعقّ عن نفسک ، وإن کنت رجلا ‘‘ ۔
(۱۷/۱۳۴، باب أفضلیۃ ذبح الشاۃ في العقیقۃ ، تحت حدیث :۵۵۱۴ ، بیروت)
(حاشیہ فتاویٰ محمودیہ:۱۷/۵۱۱، کراچی)
ما في ’’ الموسوعۃ الفقہیۃ ‘‘ : ونصّ الشافعیۃ علی أن العقیقۃ لا تفوت بتأخیرہا لکن یستحب أن لا یؤخر عن سنّ البلوغ ‘‘ ۔ (۳۰/۲۷۹، عقیقۃ ، وقت العقیقۃ)
(کتاب المسائل:۲/۳۴۲)
(۲) ما في ’’ إعلاء السنن ‘‘ : انہا إن لم تذبح في السّابع ذبحت في الرابع عشر وإلا ففي الحادي والعشرین ثم ہکذا في الأسابیع ۔
(۱۷/۱۳۱، باب أفضلیۃ ذبح الشاۃ في العقیقۃ ، تحت حدیث :۵۵۱۴)
(بہشتی زیوراختری:۳/۴۲، کتاب المسائل:۲/۳۴۱،ط: مکتبہ اسماعیل، محقق ومدلل مسائل قربانی:ص/۱۳۶)


واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
جواب نمبر:4⃣6⃣1⃣

بڑی عمر میں عقیقہ کرنے پر سر کے بال مونڈنا:
مسئلہ:اگر بڑی عمرمیں عقیقہ کیا جارہا ہو، تو سر کے بال منڈوانا ضروری نہیں ہے، بلکہ اگر یہ عقیقہ بڑی عمر کی لڑکی کا ہے، تو اس کے بال مونڈنا، جائز نہیں ہے۔(۱)
------------------------------------------------------
الحجۃ علی ما قلنا :
(۱) ما في ’’ صحیح البخاري ‘‘ : عن ابن عباس قال : ’’ لعن النبي ﷺ المتشبہین من الرجال بالنساء والمتشبہات من النساء بالرجال ‘‘ ۔
(۲/۸۷۴ ، قدیمي ، مشکوۃ المصابیح : ص/۳۸۵ ، قدیمي)
ما في ’’ البحر الرائق ‘‘ : وإذا حلقت المرأۃ شعر رأسہا فإن کان لوجع أصابہا فلا بأس بہ ، وإن حلقت تشبہ الرجال فہو مکروہ ۔
(۸/۳۷۵ ، کتاب الکراہیۃ ، الفتاوی الہندیۃ : ۵/۳۵۸)
ما في ’’ الدر المختار مع الشامیۃ ‘‘ : وفیہ : قطعت شعر رأسہا أثمن ولعنت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والمعنی المؤثر تشبہ بالرجال اھــ ۔ (درمختار) ۔ وفي الشامیۃ : أي العلۃ المؤثرۃ في إثمہا التشبہ بالرجال ، فإنہ لا یجوز کالتشبہ بالنساء ۔ (۹/۵۸۳،۵۸۴، فصل في البیع)
(محقق ومدلل جدید مسائل :۱/۵۸۹، مسئلہ نمبر :۴۴۶ ،کتاب اللباس والزینۃ ، ایڈیشن ثانی)
(مستفاد: فتاویٰ دار العلوم دیوبند:۱۵/۶۲۲، فتاویٰ محمودیہ: ۱۷/۵۱۱)
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل:۴/۲۳۸، قدیمی، و۵/۴۷۸، جدید)
( کتاب المسائل:۲/۳۴۳، ۳۴۴، مکتبہ اسماعیل)

واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
جواب نمبر:5⃣6⃣1⃣

عقیقہ کے وقت بال کٹانا مستحب ہے۔
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: بعض لوگ اپنی اولاد کا عقیقہ ساتویں دن نہیں کراتے، چاہے لڑکا ہو یا لڑکی، اور سال بھر یا چھ مہینہ یا ایک مہینہ، تو ایسا شخص جو عقیقہ کرنے کا اِرادہ رکھتا ہو اور بال نہ کٹاتا ہو تو بال نہ کٹانے کی وجہ سے گنہگار ہوگا یا نہیں؟

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:عقیقہ کے وقت بال کٹانا کوئی لازم نہیں، صرف مستحب ہے؛ لہٰذا اگر ابھی عقیقہ نہ کرنا ہو تو پہلے بھی بال کٹانے میں کوئی حرج نہیں ہے، اور مسئولہ صورت میں بال نہ کٹانے والے پر کوئی گناہ نہیں ہے۔

ویستحب حلق رأس المولود یوم سابعہ۔ (إعلاء السنن، کتاب الذبائح / باب أفضلیۃ ذبح الشاۃ في العقیقۃ ۱۷؍۱۱۹)
یستحب لمن ولد لہ ولد أن یسمیہ یوم أسبوعہ ویحلق رأسہ … ثم یعق عند الحلق عقیقۃ إباحۃ علی ما في الجامع المحبوبي أو تطوعًا علی ما في شرح الطحاوي۔ (رد المحتار / کتاب الأضحیۃ ۶؍۳۳۶ دار الفکر بیروت)
حلق شعرہ مباحۃ لا سنۃ ولا واجبۃ۔ (الفتاویٰ الہندیۃ ۵؍۳۶۲)

فقط واللہ تعالیٰ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
جواب نمبر:6⃣6⃣1⃣

عقیقہ میں بچی کا سر منڈانا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: عقیقہ میں چھوٹی لڑکیوں کے بال منڈانا کتروانا درست ہے یا نہیں؟ نیز منڈانے یا کتروانے کے لئے کتنی عمر ہونی چاہئے؟

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: عقیقہ میں سرمنڈانے کے حکم سے بچیوں کے لئے سر منڈوانے کی حلت معلوم ہوتی ہے؛ لیکن جب وہ ۸-۹؍ سال کی ہوجائے تو بلا عذر ایسا نہ کیا جائے۔
(فتاویٰ محمودیہ ۱۷؍۵۱۱ ڈابھیل)
عن سمرۃ بن جندب رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: کل غلام رہینٌ بعقیقتہ، یذبح عنہ یوم سابعہ، وتحلق رأسہ یسمی، ویحلق رأسہ۔ (سنن النسائي، کتاب العقیقۃ / باب متی یعقّ ۲؍۱۶۷)
ویستحب حلق رأس المولود یوم سابعہ۔ (إعلاء السنن، کتاب الذبائح / باب أفضلیۃ ذبح الشاۃ في العقیقۃ ۱۷؍۱۱۹ إدارۃ القرآن کراچی)
العقیقۃ عن الغلام وعن الجاریۃ، وہي ذبح شاۃ في سابع الولادۃ وضیافۃ الناس وحلق شعرہ مباحۃ لا سنۃ ولا واجبۃ، کذا في وجیز الکردري۔ (الفتاویٰ الہندیۃ / الباب الثاني والعشرون في تسمیۃ الأولاد ۵؍۳۶۲ کوئٹہ، حجۃ اللّٰہ البالغۃ / باب العقیقۃ ۲؍۳۷۳ مکتبۃ حجاز دیوبند، شامي / قبیل کتاب الحظر والإباحۃ ۶؍۳۳۶)

فقط واللہ تعالیٰ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
جواب نمبر:7⃣6⃣1⃣

سوال:
کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا عقیقہ کیا تھا؟

جواب :
بعض ضعیف روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت انے اپنا عقیقہ فرمایا تھا لیکن محدثین کے نزدیک یہ روایات ضعیف اور غیر ثابت ہیں اگر مان لے تو مطلب یہ ہوگا کہ آپ اکو علم نہیں تھا اسلئے دوبارہ کیا جیساکہ فتاوی محمودیہ میں ہے یا یہ مطلب ہوگا پہلے کو غیر معتبر سمجھ کر فرمایا ورنہ سیرت کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عبد المطلب نے آپ کی طرف سے عقیقہ کیا تھا حوالہ جات حسب ِ ذیل ملاحظہ ہو ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے :
شرح سفر السعادۃ میں بھی ایسا ہی لکھا ہے کہ حضور اکو اپنے عقیقہ کا علم نہیں تھا اسلئے اپنا عقیقہ کیا تھا … ۔
(فتاوی محمودیہ ۱۱/ ۳۴۶)
اس روایت کو نقل کرنے کے بعد حافظ ابن حجر نے اس کی سند پر تفصیلی بحث کی ہے ،ملاحظہ ہو :
فتح الباری میں ہے :
وکان اشار بذلک الی انّ الحدیث الذی ورد ان النبی ا عق عن نفسہ بعد النبوۃ لا یثبت وہو کذلک …فی احد طریقہ عبد اللہ بن محرّر قال البزار تفرد بہ ، عبد اللہ وہو ضعیف، وفی طریق آخر ، داؤد بن محبر وہو ضعیف ، قال ابن معین ھذا الحدیث لیس بشئی وقال النسائی ، انہ لیس بقوی ، وقال ابو داؤد لا أخرج حدیثہ وتحمل ان یقال : ان صح ھذا الخبر کان من خصائصہ کما قالوا فی تضحیتہ عمن لم یضح من امتہ۔
(فتح الباری ۹/ ۵۹۵باب اماطۃ الاذی عن الصبی فی العقیقہ)
اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ روایت جس میں نبوت ملنے کے بعد آپ ﷺ کا اپنا عقیقہ فرمانا مذکور ہے وہ روایت ضعیف بلکہ غیر ثابت ہے ۔اور اگر صحیح مان بھی لیا جائے یہ آپﷺ کی خصوصیت ہوگی (جیساکہ اوپر کی عبارت میں مذکور ہوا ) نیز حافظ صاحب نے ایک روایت ذکر کی ہے جسکا مفہوم یہ ہے جس کا عقیقہ نہ ہو تو اس کے لئے اس کی قربانی کفایت کر جائے گی ۔ملاحظہ ہو :
عن عبد الرزاق عن معمر عن قتادۃ:من لم یعق عنہ أجزأتہ اضحیتہ۔(فتح الباری ۹/ ۵۹۵،مطبعہ سعودیہ)
سیرۃالمصطفیٰ میں ہے کہ آنحضرت اکی طرف سے عبد المطلب نے عقیقہ کیا تھا ۔
(سیرۃ المصطفیٰ ص۱ ۶۔از حضرت مولانا ادریس صاحب کاندھلویؒ)
خلاصہ: اگر یہ بات درست ہے تو پھر یا تو دوبارہ عقیقہ کرنے کی روایت صحیح نہیں ہے یا پھر عقیقہ کو غیر معتبر سمجھ کر دوبارہ فرمایا۔۔


واللہ اعلم
فتاوی دارالعلوم زکریا1

محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
جواب نمبر:8⃣6⃣1⃣

سوال:
استخارہ کرنا کہاں تک درست ہے اور اس کا طریقۂ کار کیا ہے ؟ استخارہ کرنے کے بعد خواب میں پانی دیکھنا یا پانی سے منہ دھونا ، یا پھر ا نڈے دیکھنا اچھی تعبیر ہے یا نہیں۔

جواب:
استخارہ کے معنی خیر اور بھلائی طلب کرنے کے ہیں ،اسلام سے پہلے عربوں کا طریقہ یہ تھا کہ سفر یا کاروبار شروع کرتے یا نکاح کرتے ، تو دیویوں ، دیوتاؤں کے سامنے جاکر پانسے نکالتے تھے، کسی پانسہ پر ہاں لکھا ہوتا کسی پر نہیں، کسی پر نفع بخش اور کسی پر نقصان دہ، اس عمل کی جڑیں ان کے مشرکانہ عمل میں پیوست تھی ، اس لئے آپ انے اس سے منع فرمایا ، اور اس کے بجائے استخارہ کا حکم فرمایا ، تاکہ اللہ ہی سے انسان اپنے معاملہ میں بھلائی اور بھلائی کی رہنمائی کو طلب کرے۔


(۱) سنن أبي داؤد ، حدیث نمبر :۱۱۷۳۔
جن باتوں کا کرنا واجب یا ناجائز ہو ، ان میں استخارہ نہیں، استخارہ ایسے کاموں کے بارے میں ہے جن میں اللہ تعالی نے دونوں پہلوؤں کی اجازت دی ہو ، (۱)استخارہ کا مقصد رفع تردد ہے کہ اگر کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے بارے میں اطمینان نہ ہو، تو اطمینان حاصل کیا جائے۔
استخارہ کا طریقہ آپ ا نے یہ بتایا کہ دو رکعت نفل نماز پڑھے اور اس کے بعد دعاء کرے :
’’ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ وَاسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ وَ اَسْاَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمِ فَاِنَّکَ تَقْدِرُ وَلَا اَقْدِرُ ، وَتَعْلَمُ وَلاَ اَعْلَمُ ، وَاَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوْبِ ، اَللّٰھُمَّ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ ھٰذَا الْاَمْرَ خَیْرٌ لِّیْ فِيْ دِیْنِیْ وَمَعِیْشَتِیْ وَعَاقِبَۃِ اَمْرِیْ ، اَوْ قَالَ : فِيْ عَاجِلِ اَمْرِیْ وَ آجِلِہٖ ، فَیَسِّرْہُ لِیْ ، ثُمَّ بَارِکْ لِیْ فِیْہِ ، وَاِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ ھٰذَا الْاَمْرَ شَرٌّ لِّيْ فِيْ دِیْنِیْ وَمَعِیْشَتِیْ وَعَاقِبَۃِ اَمْرِیْ، اَوْ قَالَ : فِيْ عَاجِلِ اَمْرِیْ وَ آجِلِہٖ ، فَاصْرِفْہْ عَنِّیْ وَاصْرِفْنِیْ عَنْہُ وَاقْدِرْ لِيَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ ، ثُمَّ ارْضِنِیْ بِہٖ ‘‘(۲)
’’ اے اللہ ! میں آپ کے علم کے مطابق آپ سے بھلائی کا طلب گار ہوں، آپ کے خزانۂ قدرت کا خواستگار ہوں، آپ سے آپ کی عظیم مہربانی مانگتاہوں، آپ قادر ہیں، میں قادر نہیں، آپ باخبر ہیں، میں باخبر نہیں، آپ غیب کی


(۱) دیکھئے : عمدۃ القاری شرح البخاري: ۳/۶۵۰۔
(۲) الجامع للترمذی ، حدیث نمبر : ۴۸۰، باب ماجاء في صلاۃ الاستخارۃ ۔
باتوں کوبھی جانتے ہیں ،اے اللہ ! اگر آپ جانتے ہیںکہ یہ بات میرے لئے دین و دنیا اور انجام کے اعتبار سے بہتر ہے، تو اس کو میرے لئے آسان فرمادیجئے، پھر میرے لئے اس میں برکت دیجئے اور اگر آپ جانتے ہیں کہ یہ چیز میرے لئے دین و دنیا اور انجام کے اعتبار سے بہترنہیں تو اس کو مجھ سے پھیر دیجئے، اور مجھ کو اس سے اور میرے لئے جہاں کہیں بھی بھلائی ہو اس کو میرے لیے مقدر فرما دیجئے ، پھر مجھ کو اس پر راضی کر دیجئے‘‘
اس دعاء کے بعد جس چیز کے بارے میں استخارہ کرنا چاہتے ہیں،اس کا ذکرکرے، ---- دعا ء کے لئے کوئی خاص زبان متعین نہیں ، اگر عربی زبان میں دعاء کرنا دشوار ہو تو اس دعاکامفہوم اردو زبان میں ہی ادا کرسکتے ہیں ،استخارہ کے بعد یہ ضروری نہیں کہ خواب کے ذریعہ ہی رہنمائی ہو ، اور نہ یہ ضروری ہے کہ جو خواب دیکھے وہ استخارہ ہی سے متعلق ہو۔ (۱)استخارہ کرنے کے بعد جس بات پر قلب مطمئن ہوجائے اسے اختیار کریں ، البتہ ممکن ہے کہ کبھی یہ اطمینان ِ قلبی خواب کی بناء پر حاصل ہو جائے، جب تک قلب کو طمانینت نہ ہو ، استخارہ کا سلسلہ جاری رکھنا چاہئے ۔
جہاں تک آپ کے خواب کی بات ہے تو بعض اہل علم نے لکھا ہے کہ خواب میں سفیدی یا سبزہ کو دیکھنا نیک فال ہے، اور اس بات کے بہتر ہونے کی علامت ہے ، اور سیاہ یا سرخ چیز کا دیکھنا اس امر کے نامناسب ہونے کا اشارہ ہے ،مولانا محمد یوسف بنوری ؒ نے علامہ شامی ؒ کے حوالہ سے یہ بات نقل کی ہے ۔ (۲) لہذا آپ کا پانی یاا نڈے دیکھنا بظاہر اس امر کے بہتر ہونے کی طرف اشارہ ہے۔

(۱) دیکھئے : فتح الباری : ۱۱/۱۵۸۔
(۲) معارف السنن : ۴/۲۷۸۔


مستفاد: کتاب الفتاوی

واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:9⃣6⃣1⃣

استخارہ کی حقیقت
فرمایا:استخارہ میں ضروری چیز دورکعت نماز اور دعائے استخارہ ہے باقی سونا اور خواب کا دیکھنا ہرگز شرط نہیں۔ یہ سب کچھ عوام نے تصنیف کررکھا ہے ۔(اسعد الابرار ۱۲۶ ملفوظ ص:۷۷)(اشراف الاحکام ص:۱۰۳)

واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:0⃣7⃣1⃣


سجدہ سہو کے مسائل

۱۔ جس شخص کے ذمہ سجدہ ہوا اور سلام پھیر دے اور بعد میں یاد آئے کہ مجھ پر سجدہ بھی ہے اس سلام سے صلوۃ قطع نہیں ہوئی ،جب سجدہ یاد آئے کرے۔
۲۔ کوئی شخص سجدہ سہو کرچکا پھر اس کے بعد اور ہوگیا تو پھر کیا کرے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ سجدہ کافی ہے جو قبل اسہو کے کرچکا ۔فقہاء کو حق تعالیٰ جزائے خیر دے انہوں نے کس قدر تحقیق کی ہے سوچ سوچ کر مسائل لکھئے ظلم کرتے ہیں وہ لوگ جو ان کی شان میں گستاخی کرتے ہیں ۔خلاصہ یہ ہے کہ جیسے سجدہ سہو مقدم سہو کے لئے کافی ہے اسی طرح مؤخر کے لئے بھی کافی ہے۔(حسن العزیز ج۳ص:۵۵۵)(اشراف الاحکام ص:۱۰۳)

زیادتی تشہد مخل فی الصلوۃ نہیں
یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ ایک شخص نے قصر نماز پڑھی اور سہو تشہد کے بعد کھڑا ہوگیا اور کھڑے ہوتے ہی یاد آگیا کہ یہ قعدہ اخیر ہ ہے فوراً بیٹھ گیا تو اب سجدہ سہو کے لئے اور تشہد پڑھ کر سجدہ کرے یا بلاتشہد پڑھے بیٹھتے ہی سجدہ کرے اور بعد ازاں تشہد پڑھ کر حسب دستور سلام پھیردے۔
فرمایا بیٹھتے ہی سجدہ کرے۔ تشہد قبل السجدہ کی ضرورت نہیں وہ پڑھا ہوا تشہد کافی ہے اور اگر ایسا کیا کہ تشہد پڑھا اس کے بعد سجدہ سہو اور تشہد پھر ادا کیا تب بھی نامز ہوگئی خواہ یہ تشہد قبل السجود و عملاًہو۔فرمایا زادتی تشہد سے نماز میں خرابی نہیں آئی۔ (حسن العزیز ج۴ص۳۵) (اشراف الاحکام ص:۱۰۳)

مستفاد:اشرف الحکام اشرف علی تھانوی رح

واللہ اعلم


محمد امیر۔۔۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:1⃣7⃣1⃣

استخارہ کرنے کا طریقہ
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: حدیث شریف کی روشنی میں بتائیں کہ استخارہ کسے کہتے ہیں؟ اور جب کسی بندہ کو دینی یا دنیاوی کوئی ضرورت پیش آئے، یا کوئی معاملہ خرید وفروخت، عقد نکاح وغیرہ کرنا چاہے، اور اس کی اچھائی برائی یا خیر وشر کو معلوم کرنا ہو تو شریعت میں اس کا کیا طریقہ ہے؟

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:جب کسی شخص کو کوئی اہم معاملہ درپیش ہو اور وہ یہ طے نہ کر پارہا ہو کہ اس کو اختیار کرنا بہتر رہے گا یا نہیں؟ تو اسے چاہئے کہ استخارہ کرے۔ استخارہ کے معنی خیر طلب کرنے کے آتے ہیں، یعنی اپنے معاملہ میں اللہ تعالیٰ سے خیر اور بھلائی کی دعا کرے۔ اور اس کا طریقہ پیغمبر ں نے یہ بتلایا ہے کہ دو رکعت نفل نماز پڑھی جائے، اس کے بعد پوری توجہ کے ساتھ یہ دعا پڑھے:
اللّٰہُمَّ إِنِّیْ اَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ وَاَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ وَاَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمِ، فَإِنَّکَ تَقْدِرُ وَلاَ أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلاَ أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوْبِ، اَللّٰہُمَّ إِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ ہٰذَا الْأَمْرَ خَیْرٌ لِیْ فِیْ دِیْنِیْ وَمَعَاشِیْ وَعَاقِبَۃِ أَمْرِیْ، أَوْ قَالَ عَاجِلِ أَمْرِیْ وَاٰجِلِہٖ فَاقْدُرْہُ لِیْ وَیَسِّرْہُ لِیْ ثُمَّ بَارِکْ لِیْ فِیْہِ، وَإِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ ہٰذَا الأَمْرَ شَرٌّ لِیْ فِیْ دِیْنِیْ وَمَعَاشِیْ وَعَاقِبَۃِ أَمْرِیْ أَوْ قَالَ عَاجِلِ أَمْرِیْ وَاٰجِلِہٖ فَاصْرِفُہُ عَنِّیْ وَاصْرِفْنِیْ عَنْہُ وَاقْدِرْ لِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ ثُمَّ رَضِّنِیْ بِہٖ۔ قَالَ وَیُسَمِّیْ حَاجَتَہٗ۔ (صحیح البخاري رقم: ۱۱۶۶، سنن الترمذي ۴۰۸، سنن أبي داؤد ۱۵۳۸)
ترجمہ:- اے اللہ! میں آپ کے علم کے ذریعہ خیر کا طالب ہو، اور آپ کی قدرت سے طاقت حاصل کرنا چاہتا ہوں، اور آپ کے فضلِ عظیم کا سائل ہوں، بے شک آپ قادر ہیں اور میں قدرت نہیں رکھتا، اور آپ کو علم ہے کہ میں لاعلم ہوں، اور آپ چھپی ہوئی باتوں سے اچھی طرح واقف ہیں۔ اے اللہ! اگر آپ علم کے مطابق یہ کام (یہاں اس کام کا تصور کرے) میرے حق میں دینی، دنیوی اور اخروی اعتبار سے (یا فی الحال اور انجام کار کے اعتبار سے) بہتر ہے، تو اسے میرے لئے مقدر فرمائیے، اور اسے میرے حق میں آسانی کرکے اس میں مجھے برکت سے نوازے، اور اگر آپ کو علم ہے کہ یہ کام (یہاں کام کا تصور کرے) میرے حق میں دینی، دنیوی اور اخروی اعتبار سے (یا فی الحال اور انجام کے اعتبار سے) برا ہے تو اس کو مجھ سے اور مجھے اس سے ہٹادے اور جس جانب خیر ہے وہی میرے لئے مقدر فرمادے، پھر مجھے اس عمل سے راضی کردے۔
دعا پڑھتے ہوئے جب ہٰذا الأمر پر پہنچے تو دونوں جگہ اس کام کا دل میں دھیان جمائے جس کے لئے استخارہ کررہا ہے یا دعا پوری پڑھنے کے بعد اس کام کو ذکر کرے۔ دعا کے شروع اور اخیر میں اللہ کی حمد وثناء اور درود شریف بھی ملالے، اور اگر عربی میں دعا نہ پڑھی جاسکے تو اردو یا اپنی مادری زبان میں اسی مفہوم کی دعا مانگے۔

ومنہا رکعۃ الاستخارۃ عن جابر بن عبد اللّٰہ قال: کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یعلمنا الاستخارۃ في الأمور کلہا … الخ۔ رواہ الجماعۃ إلا مسلمًا۔ شرح المنیۃ … ویسمی حاجتہ قال ط: أي بدل قولہ ہٰذا الأمر قلت: أو یقول بعدہ وہو کذا وکذا … وفي الحلیۃ: ویستحب افتتاح ہٰذا الدعاء وختمہ بالحمدلۃ والصلاۃ۔ (الدر المختار مع الشامي / باب الوتر والنوافل ۲؍۴۷۰ زکریا)


مستفاد:کتاب النوازل

واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:2⃣7⃣1⃣

سوال # 63030
(۱) میت کی نمازِ جنازہ پڑھانے کا سب سے زیادہ حق کس کا ہے ؟
(۲) اگر میت کا سگا رشتے دار مثلاً بھائی، باپ، بیٹا وغیرہ امام مسجد کی بجائے خود امامت کرنے کا مطالبہ کرے تو اسکا یہ مطالبہ ازروئے شریعت کیسا ہوگا ؟
(۳) نیز کیا کوئی شخص اپنی بیوی کی نماز جنازہ کی امامت کرسکتا ہے ؟
Published on: Jan 18, 2016 جواب # 63030
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 299-299/M=4/1437-U

(۱، ۲) نماز جنازہ پڑھانے کا حق سب سے پہلے سلطان کو ہے پھر اس کے نائب (امیر شہر) کو پھر قاضی کو پھر امیر بلدہ کو پھر قاضی کے نائب کو پھر امام مسجد کو بشرطیکہ وہ ولی سے افضل ہو، وُلاة کی تقدیم واجب ہے اور امام کی مندوب، اگر امام محلہ صالح دین دار اور ولی سے افضل ہے تو ولی میت کو چاہیے کہ امام سے نماز پڑھانے کی درخواست کرے ورنہ ولی کو خود نماز پڑھانے کا زیادہ حق ہے، اگر میت کے رشتے داروں میں بھائی، بیٹا اور باپ سبھی موجود ہوں تو باپ کو زیادہ حق ہے، اگر ولی میت خود نماز جنازہ پڑھانے کا مطالبہ کرے تو اس کو اس کا حق ہے لیکن امام مسجد اگر اس سے افضل ہو تو ولی امام کو نماز پڑھانے کی اجازت دے دے یہ بہترہے ۔ ویقدّم في الصلاة علیہ السلطان إن حضر أو نائبہ وہو أمیر المصر ثم القاضي ثم صاحب الشرط ثم خلیفة القاضي ثم إمام الحي․․․ فیہ إیہام وذلک أن تقدیم الولاة واجب وتقدیم إمام الحي مندوب فقط بشرط أن یکون أفضل من الولي وإلا فالولي أولی کما في المجتبی (درمختار)
(۳) کرسکتا ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:3⃣7⃣1⃣

مغرب میں سہواً چوتھی رکعت ملانے والے امام کی اقتداء؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: اِمام صاحب نے مغرب کی نماز میں تیسری رکعت پر  قعدہ کیا، اُس کے بعد بھول سے کھڑے ہوگئے، اور چوتھی رکعت پر قعدہ کرنے کے بعد سجدۂ سہو کرکے سلام پھیرا، اَب اِس دوران ایک مسبوق  شخص اِمام کی چوتھی رکعت کے قعدے میں شامل ہوتا ہے، تو سوال یہ ہے کہ اس مسبوق شخص کی اقتداء درست ہوئی یا نہیں؟ اور اِس کا فریضہ ادا ہو گا یا نہیں؟

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: مسئولہ صورت میں چوںکہ تیسری رکعت کے قعدے کے بعد امام کا فریضہ پورا ہوچکا تھا اور بعد میں اُس نے چوتھی رکعت جو سہواً ملائی ہے وہ نفل کے درجہ میں تھی؛ لہٰذا مسبوق نے اپنی فرض نماز مغرب کی نیت سے جو امام کی اقتداء کی ہے وہ درست نہیں ہوئی؛ کیوںکہ اِس میں مفترض کا متنفل کے پیچھے اقتداء کرنا پایا گیا جو ممنوع ہے۔
تتمۃ: لو اقتدیٰ بہ مفترض في قیام الخامسۃ بعد القعود مقدر التشہد لم یصح ولم عاد إلی القعدۃ؛ لأنہ قام إلی الخامسۃ فقد شرع في النفل، فکان اقتداء المفترض بالمتنفل۔ (شامي، کتاب الصلاۃ / باب سجود السہو ۲؍۵۵۵۵ زکریا)

مستفاد:کتاب النوازل

فقط واللہ تعالیٰ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:4⃣7⃣1⃣

امام، مغرب کے قعدہ اخیرہ میں مقدار تشہد بیٹھ کر سہواً کھڑا ہوجائے تو مسبوق کیاکرے؟
سوال:
ایک شخص مغرب کی نماز میں امام کے پیچھے دوسری رکعت  میں شریک ہوتا ہے لیکن امام تیسری رکعت میں تھوڑا تشہد بیٹھ کر سہواً کھڑا ہوتاہے تو اب اس کو یاد رہتاہے تو امام دورکعت اور ملاتا ہے تاکہ دونفل اور تین فرض ہوجاویں تو سجدہ سہو کرکے سلام پھیردیتا ہے لیکن رہا اب وہ مقتدی جو دوسری رکعت میں شریک ہونے والا ہے اس کی بھی تین  رکعت ہوگئی دونفل ایک فرض اگر یہ سلام پھیرتا ہے تو سوال پیدا ہوتاہے کہ نفلوں کے پیچھے فرض نہیں ہوتے اب یہ شخص دوبارہ نماز پڑھے یااس کے اوپر بناء کرے اگر بناء کرے تو دورکعت ملائے یا نہ ملائے اس کی کیا شکل ہے؟

جواب:
اس صورت میں جب امام مقدار تشہد قعدہ اخیرہ کرکے سہواً کھڑا ہواہے مسبوق کو امام کی اتباع نہ کرنی چاہیے اگر کرے گا تو مسبوق کی نماز فاسد ہوجائے گی کما فی غنیۃ المستملی:ص:۴۴۰۔ ومن جملتہا انہ لوقام امامہٗ إلی الخامسۃ فتابعہٗ فان کان الامام قعد علی الرابعۃ فسدت صلوٰۃ المسبوق لا قتدائہٖ فی موضع الانفراد۔اس عبارت سے معلوم ہوا کہ اس مسبوق کو اس حالت میں امام کی اقتداء نہ کرنی چاہیے بلکہ اپنی نماز کھڑے ہوکر خود پوری کرلینی چاہیے اگر چہ اس صورت میں بھی اس قول میں فساد صلوٰۃ ہی ہے لیکن اصح یہ ہے کہ نماز ہوجائے گی مگر مکروہ ہوگی کما فی الغنیۃ ومن جملتہا انہ لوابتدأ بقضاء ما سبق، قیل تفسدُ صلوٰتہ والاصح لا تفسد ولکن تکرہ۔

فقط واللہ تعالیٰ اعلم

مستفاد:نظام الفتاوی

محمد امیر۔۔۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
👍1
جواب نمبر:5⃣7⃣1⃣

مسبوق امام کے ساتھ سلام پھیرکر سجدہ سہو کرے گایانہیں؟
سوال:
اگر امام کو سجدہ سہو لازم ہوتو مسبوق امام کے ساتھ سلام پھیر کر سجدہسہو کرے یابلاسلام پھیرے سجدئہ سہو کرے کیوں کہ اگر امام کے ساتھ سلام کرکے سجدہ سہو کرے تو درمیان میں خلل لازم ہورہاہے کیسے کرے؟

جواب:
مسبوق امام کے ساتھ بلا سلام پھیرے سجدہ سہو کرے اگر مسئلہ جانتا  تھا کہ مسبوق کو سلام نہیں پھیرنا چاہئے اور بھول کر سلام پھیردیا تو نمازہوجائے گی۔

فقط واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔



کیا مسبوق امام کے سجدئہ سہو والے سلام میں اتباع کریگا؟
سوال:
مسبوق امام کے ساتھ سجدہ سہو کے سلام میں امام  کی اتباع کریگا  یانہیںاگر اتباع کرے تونماز درست ہوگی یانہیں۔ اتباع کرنے کی صورت میں کیاحکم ہے اور اتباع نہ کرنے کی صورت میں کیا حکم ہے۔

جواب:
مسبوق امام کے ساتھ سجدہ سہو تو کرے گا باقی سہو کے سلام میں سلام نہیں کرے گا۔ پس اگر مسبوق کو مسئلہ معلوم  تھا کہ اس سلام میں ہم کو سلام پھیرنا ہے۔پھر بھول کر سلام پھیردیا تو نماز اس کی ہوجائے گی اور اگر بھول کر سلام نہیں پھیرا ہے بلکہ قصداً سلام پھیرا ہے یا مسئلہ نہ معلوم ہونے سے یہ گمان کرتے ہوئے سلام پھیرا ہے کہ مجھے بھی سلام پھیرنا چاہیے تو اس کی نماز نہیں ہوگی بلکہ اس کو دوبارہ نماز پڑھنی ہوگی ہکذا فی ردالمختار۔

مستفاد:نظام الفتاوی


فقط واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔

محمد امیر۔۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:6⃣7⃣1⃣

مسبوق نے نماز مغرب میں قعدہ ترک کردیا تواس پرسجدہ سہو واجب ہے یا نہیں؟
سوال:
 مغرب کی ایک رکعت امام کے ساتھ ملی، دو رکعت پوری کرنے میں درمیان کاقعدہ رہ گیا تو سجدہ سہو کرے یا نہیں، اگرقصداً قعدہ چھوڑ دے تو کچھ حرج ہے یا نہیں؟
الجواب:
یہ قعدہ قول معتمدپرواجب ہے ، اس کوقصداً ترک نہ کیاجائے، البتہ اگرسہواً رہ گیا تو سجدہ سہوواجب نہیں، فی الشامی (ص۶۲۴ ج۱) قال فی شرح المنیۃ ولولم یقعدجازاستحسانالاقیاساً ولم یلزمہ سجودالسھولکون الرکعۃ اولیٰ من وجہ۔

واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:7⃣7⃣1⃣

مغرب کی نمازمیں امام کابھول کر چوتھی رکعت کے لیے قیام کرنا۔
سوال:
امام نے مغرب کی تینوں رکعتیں پڑھیں اور قعدہ اخیرہ بھی کرلیا، مگربھول کے امام نے یہ سمجھا کہ دو رکعتیں ہوئی ہیں، اب امام پھر چوتھی رکعت کے لیے کھڑاہوگیا، اور نہ کسی مقتدی نے بتلایا، اور سب مقتدی بھی امام کے ہمراہ کھڑے ہوگئے، مگرایک مقتدی امام کے ساتھ نہیں کھڑاہوا بلکہ قعدہ ہی میں بیٹھا رہا، جب امام نے چوتھی پڑھ لی اور سجدہ سہو بھی کرلیا، اب امام کے ساتھ اس آدمی نے بھی سلام پھیرا ، جوچوتھی رکعت کے واسطے نہیں کھڑاہواتھا، اب اس صورت میں اس آدمی کی نماز ہوجائے گی یا نہیں؟کیونکہ اس نے امام کے ساتھ چوتھی رکعت میں اتباع نہیں کی ہے، فقط بینواتوجروا؟

الجواب:
فی الدرالمختار(وان قعدفی الرابعۃ) مثلاً قدرالتشھد(ثم قام عادوسلم) ولوسلم قائما صح ثم الاصح ان القوم ینظرونہ فان عادتبعوہ(وان سجد للخامسۃ سلموالانہ ثم فرضہ اذلم یبق علیہ الا السلام وقال الشامی (قولہ مثلا) ای قعدافی ثالثۃ الثلاثی اوفی ثانیۃ الثنائی ح(قولہ ثم الاصح الخ)لانہ لااتباع فی البدعۃ وقیل یتبعونہ مطلقاً عاداولا(قولہ فان عاد) ای قبل ان یقید الخامسۃ بسجدۃ تبعوہ ای فی السلام(ص۷۸۲ ج۱)وھکذا فی مراقی الفلاح مع الطحطاوی (ص۲۷۲)
ان عبارتوں سے معلوم ہوا کہ حالت مذکورہ فی السوال میں اصح یہی ہے کہ امام کی اتباع چوتھی رکعت میں نہ کی جائے، بلکہ منتظربیٹھا رہے، اگر امام چوتھی رکعت کاسجدہ کرنے سے پیشتر بیٹھ کر سلام پھیرے تو مقتدی اس کے ہمراہ سلام پھیرے، ورنہ جب امام چوتھی رکعت کا سجدہ کرے اس وقت مقتدی خود سلام پھیردے، پس اس بیٹھنے والے شخص نے یہ تو ٹھیک کیا کہ چوتھی رکعت میں امام کے ساتھ کھڑانہیں ہوا، لیکن چوتھی رکعت میں سجدہ کرنے کے بعد امام کے سلام کا انتظارنہ کرنا چاہیے تھا، لیکن اس تاخیر سے نماز فاسد نہیں ہوئی، غایت مافی الباب قول اصح پرتاخیرسے سجدہ سہوآتا، مگر چونکہ اس نے بعد میں سلام میں امام کا اتباع کیاہے اس لیے اس کا وہی حکم ہے جو وجوب سجدہ سہو برمقتدی کاحکم ہے اور جن لوگوں نے امام کے ساتھ چوتھی رکعت پڑھی ان کی نماز قول ثانی پر جواصح کا مقابل ہے صحیح ہوگئی، بشرطیکہ امام نے سجدہ سہو کرلیاہو، اور گویہ روایت اصح نہیں مگرا س وقت عموم جہل وبلویٰ کی وجہ سے اسی پر فتویٰ دینا مناسب ہے، ورنہ بہت لوگوں کی نمازیں باطل ہوں گی۔


مستفاد:امدادالاحکام

واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔۔


دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:8⃣7⃣1⃣

یوسف علیہ السلام اور زلیخا کی شادی:

قرآن حکیم نے سورہ یوسف میں حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ ذکر فرمایا ہے وہیں پر *"امرأة العزيز"* کا ذکر بھی ملتا ہے لیکن یہ خاتون کون تھی، اس کا نام کیا تھا اور اس کا یوسف علیہ السلام سے جو رشتہ ذکر کیا جاتا ہے اس کے متعلق قرآن وحدیث میں کیا ملتا ہے؟

زلیخا کا نام:
"زلیخا" عزیز مصر توطیفار یا پوتیفار کی زوجہ کا نام ہے جو مصر کی ساکنہ تھی اور روایات کے مطابق بےاولاد تھی اس لئے کہ شوہر نامرد تھا، اور مصر کے ملک میں چونکہ اس وقت بت پرستی کا دور دورہ تھا یہ بھی بت پرست تھی۔

بائبل میں اس شخص کا نام فوطیقار لکھا ہے جس نے یوسف کو خریدا تھا۔ قرآن مجید نے آگے چل کر عزیز کے لقب سے اس کا ذکر کیا ہے۔ وہ شاہی خزانے کا یا باڈی گارڈوں کا افسرتھا۔ تلمود میں اس کی بیوی کا نام زلیخا لکھا ہے۔(زلیخا یا راعیل). عزیز مصر کی بیوی کا نام راعیل تھا، کوئی کہتا ہے زلیخا تھا۔ یہ رعابیل کی بیٹی تھیں.

(ماخوذ از 

1. "تفسیر عثمانی" مفسر مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ.

2. "تفسیر ابن کثیر" حافظ عماد الدین ابوالفداء ابن کثیر).

گویا قرآن وحدیث میں اس کے نام کے متعلق کوئی واضح بات موجود نہیں بلکہ اسرائیلی روایات کی بنیاد پر اس کا نام *راعیل اور لقب زلیخا* بیان کیا جاتا ہے.


یوسف علیہ السلام سے شادی:

جس طرح قرآن و حدیث ان کے نام کے بارے میں خاموش ہیں اسی طرح ان کی شادی سے متعلق بھی خاموش ہیں، البتہ تفاسیر اور تاریخ کی کتابوں نے اسرائیلیات سے اس بات کو نقل کیا ہے کہ وزیر خزانہ بننے کے بعد یوسف علیہ السلام کی زلیخا سے شادی ہوئی تھی.

حوالہ جات:
لم يرد في القرآن الكريم، ولا في السنة النبوية، ما يثبت أو ينفي زواج يوسف عليه السلام من امرأة العزيز، والتي قيل إن اسمها "راعيل"، وقال بعضهم: اسمها "زليخا"، ولكن استظهر الحافظ ابن كثير أن "زليخا" لقبها. 

وورد في زواج يوسف عليه السلام من "راعيل" خبرٌ عن إمام السير والتاريخ محمد بن إسحاق رحمه الله حيث يقول:

"لما قال يوسف للملك: {اجعلني على خزائن الأرض إني حفيظ عليم} قال الملك: قد فعلت! فولاه فيما يذكرون عمل إطفير، وعزل إطفير عما كان عليه، يقول الله: {وكذلك مكنا ليوسف في الأرض يتبوأ منها حيث يشاء}الآية.

قال: فذكر لي - والله أعلم - أن إطفير هَلَك في تلك الليالي، وأن الملك الرَّيان بن الوليد، زوَّج يوسف امرأة إطفير "راعيل"، وأنها حين دخلت عليه قال: أليس هذا خيرًا مما كنت تريدين؟ قال: فيزعمون أنها قالت: أيُّها الصديق، لا تلمني، فإني كنت امرأة كما ترى حسنًا وجمالاً، ناعمةً في ملك ودنيا، وكان صاحبي لا يأتي النساء، وكنتَ كما جعلكَ الله في حسنك وهيئتك، فغلبتني نفسي على ما رأيت. 

فيزعمون أنه وجدَها عذراء، فأصابها، فولدت له رجلين: أفرائيم بن يوسف، وميشا بن يوسف، وولد لأفرائيم نون، والد يوشع بن نون، ورحمة امرأة أيوب عليه السلام" انتهى.

رواه ابن أبي حاتم في "التفسير"

(7/2161)، والطبري في "جامع البيان" (16/151).
وورد نحوه عن زيد بن أسلم التابعي الجليل، وعن وهب بن منبه المعروف بالرواية عن الإسرائيليات. 

نقل ذلك السيوطي في "الدر المنثور"(4/553)

وقال ابن القيم رحمه الله:

"الباب السابع والعشرون فيمن ترك محبوبه حراما فبذل له حلالاً أو أعاضه الله خيراً منه: عنوان هذا الباب وقاعدته أنَّ مَن ترك لله شيئاً عوضه الله خيراً منه، كما ترك يوسف الصديق عليه السلام امرأة العزيز لله، واختار السجن على الفاحشة، فعوضه الله أن مكَّنه في الأرض يتبوأ منها حيث يشاء، وأتته المرأة صاغرة سائلة راغبة في الوصل الحلال، فتزوجها فلما دخل بها قال: هذا خير مما كنت تريدين.

فتأمل كيف جزاه الله سبحانه وتعالى على ضيق السجن، أن مكَّنه في الأرض ينزل منها حيث يشاء، وأذل له العزيز امرأته، وأقرت المرأة والنسوة ببراءته، وهذه سنته تعالى في عباده قديماً وحديثاً إلى يوم القيامة". انتهى من "روضة المحبين"
(ص/445). 

وهذا لا يعني القطع بثبوت هذه القصة، بل الظاهر أنها مأخوذة عن أهل الكتاب، وقد أمرنا بعدم تصديقهم وعدم تكذيبهم أيضاً، قال النبي صلى الله عليه وسلم: "لَا تُصَدِّقُوا أَهْلَ الْكِتَابِ وَلَا تُكَذِّبُوهُمْ وَقُولُوا آمَنَّا بِالَّذِي أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَأُنْزِلَ إِلَيْكُمْ والهُنَا وَإِلهُكُمْ وَاحِدٌ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ" رواه البخاري (4485) وصححه �

ذكَره السمرقندي في تفسيره بصيغة التضعيف، فقال: ورُوي في الخبر أن زوج زليخا مات، وبقيت امرأته زليخا، فجلست يوما على الطريق، فَمَرّ عليها يوسف في حَشَمِه، فقالت زليخا: الحمد لله الذي جعل العبد مَلِكا بِطاعته، وجعل الملك مملوكا بمعصيته، وتزوجها يوسف فوجدها عذراء، وأخْبَرَت أن زوجها كان عِنِّينًا لم يَصِل إليها...

ولا أظنه صحيحا.
وھذا مما لا ینفع علمه، ولا یضر الجھل به..

خلاصہ کلام:
زلیخا کا نام یا ان کی حضرت یوسف علیہ السلام سے شادی کے متعلق کوئی
بات قرآن یا حدیث سے ثابت نہیں، البتہ اسرائیلیات سے کچھ باتوں کا ثبوت ملتا ہے لیکن وہ باتیں صرف اس حد تک ہیں کہ نہ ان کو سچا کہا جاسکتا ہے اور نہ جھوٹا.


واللہ اعلم


محمد امیر۔۔۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے


جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
Channel name was changed to «جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند»
جواب نمبر:9⃣7⃣1⃣

کھڑے ہوکر زمزم پینا
سوال:
ایک صاحب کھڑے ہوکر زمزم کا پانی پی رہے تھے، اور سر ان کا کھلا ہواتھا، دوسرے صاحب نے منع کیا کہ اس طرح پانی پینا صرف حج کے موقع پر ہے ،اور جگہ زمزم کا پانی عام طریقہ پر پینا چاہئے ؟ 

جواب:
رسول اللہا نے حجۃ الوداع کے موقعہ سے زمزم کا پانی کھڑے ہوکر  نوش فرمایا تھا اور چونکہ آپ ا احرام کی چادر لپیٹے ہوئے تھے ،اس لئے سر مبارک کھلا ہوا تھا ۔ (۱) بعض اہل علم کی رائے ہے کہ آپ ا کایہ کھڑا ہونا اس بنیاد پر تھا کہ وہاں کیچڑتھا اور بیٹھنے میں آلودگی کا خطرہ تھا، لیکن اکثر علماء کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ رسول اللہ ا نے چونکہ کھڑے ہوکر زمزم پیا ہے ، اس  لئے کھڑے ہوکر پینے میں بہر حال اتباع نبوی کی رعایت ہے ، اسی کو مشہور حنفی فقیہ 

(۱) مجمع الزوائد :۵/۱۲۷ ، باب الشرب من زمزم ، ط : دار الفکر ۔محشی ۔
علامہ شرنبلالی ؒ نے بھی ترجیح دیا ہے ،(۱)اور چونکہ زمزم کی عظمت کا پہلو کچھ  حج ہی سے متعلق نہیں، بلکہ ہر وقت اور ہر جگہ ہے ، اس لئے یہ سمجھنا درست نہیںکہ حج کے موقعہ سے زمزم پینے کے احکام الگ ہیں اور عام میں الگ، آپ کے دوست کا عمل درست اور مناسب ہے۔


مستفاد:کتاب الفتاوی

واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔۔



  جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail