جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
1.42K subscribers
117 photos
36 files
685 links
"جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند" میں روزانہ ایک دو مسئلہ مدلل ومزین انداز میں بطورِ استفادہ آپ کو ملے گا،

آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda

https://www.hanafimasail.com/?m=1
Download Telegram
جواب نمبر:6⃣5⃣1⃣

نماز میں رفع یدین کا حکم
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارا ایک غیر مقلد سے واسطہ پڑا ہے وہ یہ کہتا ہے کہ رفع یدین کے بغیر نماز نہیں ہوتی ہم نے کہا بھائی اختلاف افضل کا ہےلہذا کرلو تب بھی صحیح نہ کرو تب بھی صحیح اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ نماز نہیں ہوتی۔ مفتی صاحب اصل حقیقت کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ امام بخاری نے صرف رفع یدین کی احادیث لکھی ہیں۔ آپ ہمیں ترک والی احادیث بھی لکھ دیں اور اختلاف کی نوعیت اور حنفیہ کا اصل مذہب تفصیل سے بتائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب… رفع یدین کے بارے میں یہ کہنا درست نہیں کہ رفع یدین کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ اس صورت میں خلفائے راشدین، جلیل القدر کبار صحابہ کرام (یعنی حضرت علی، حضرت عبداللہ بن مسعود حضرت ابو ہریرہ، حضرت ابن عمر، حضرت براء ابن عازب ) بلکہ امام الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ان نمازوں کے اوپر سخت اشکال وارد ہوتا ہے جو رفع یدین کے بغیر ادا کی گئیں۔
”مسئلہ رفع یدین میں ائمۃ اربعۃ کے درمیان اختلاف کی نوعیت“
یہ بات واضح رہے کہ رفع یدین کاثبوت اور ترک دونوں احادیث صحیحہ سے ثابت ہے اس کا انکار کوئی نہیں کرسکتا۔ اسی بناء پرائمہ اربعہ علیہم الرحمۃ کے درمیان اختلاف واقع ہوا مگر یہ اختلاف جواز عدم جواز کا نہیں بلکہ افضل وغیر افضل کا ہے۔ شوافع اور حنابلہ کے ہاں رفع یدین افضل و مستحب ہے ، جیسا کہ علامہ نوویؒ نے فرمایا:
وقال الشافعی واحمد وغیرھما یستحب رفع الیدین عند الرکوع وعند الرفع منہ
ترجمہ: ”امام شافعی اورامام احمد بن حنبل وغیرہ نے فرمایا کہ رکوع میںجاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین مستحب ہے۔“
جبکہ احناف اور مالکیہ کے ہاں ترک رفع یدین افضل و مستحب ہے:
احناف کا مستدل (یعنی ترک رفع یدین کی احادیث)
عن علقمۃ قال قال عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ الا اصلی بکم صلوۃ رسول اللہ ﷺفصلی فلم یرفع یدیہ الافی اول مرۃ (ترمذی ۵۹/۱، ابوداود ۱۰۹/۱، سنن نسائی ۱۸۲/۲، وفی مدونۃ الکبری ثم لایرفعھا حتی ینصرف (۱۶۶/۱)
ترجمہ:”حضرت علقمہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز نہ پڑھائوں؟ پھر انہوں نے نماز پڑھائی پس پہلی مرتبہ (تکبیر تحریمہ) کے سوا رفع یدین نہیں کیا۔“
ابو حنیفۃ حدثنا حماد عن ابراھیم عن علقمۃ والاسود عن ابن مسعود ؓ ان رسول اللہ ﷺکان لا یرفع یدیہ الا عند افتتاح الصلوۃ ولا یعود لشیء من ذالک
ترجمہ: ”حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز کے شروع میں (یعنی تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین فرماتے تھے اس کے علاوہ کسی رکن میں نہیں فرماتے تھے۔“
عن محمد بن جابر عن حماد بن سلیمان عن ابراھیم عن علقمۃ عن عبداللہ قال صلیت مع ابی بکر وعمر فلم یرفعوا ایدیھم الا عند التکبیرۃ الاولی فی افتتاح الصلوۃ (سنن دار قطنی ۲۹۶/۱)
ترجمہ:”حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ساتھ نماز پڑھی۔ وہ تکبیر تحریمہ کے علاوہ رفع یدین نہیں کرتے تھے۔“
عن ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما عن النبی ﷺقال لا ترفع الایدی الافی سبعۃ مواطن حین یفتتح الصلوۃ وحین یدخل المسجد الحرام فینظر الی البیت وحین یقوم علی الصفا وحین یقف مع الناس عشیۃ عرفۃ وبجمع رواہ الطبرانی، نصب الرایۃ (۳۹۰/۱) ومثلہ فی المصنف لابن ابی شیبۃ (۴۱۷/۲)
ترجمہ:”حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ رفع یدین نہیں کیا جاتا مگر سات جگہوں میں۔ جب نماز شروع کرے جب مسجد حرام میں داخل ہو کر بیت اللہ کو دیکھے۔ جب صفا پر کھڑا ہو۔ جب مروہ پر کھڑا ہو۔ جب عرفہ کی شام لوگوں کے ساتھ عرفات میں وقوف کرے ۔“
عن تمیم بن طرفۃ عن جابر بن سمرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال خرج علینا رسول اللہ ﷺفقال مالی اراکم رافعی ایدیکم کانھا اذناب خیل شمس اسکنوا فی الصلوۃ (مسلم ۱۸۱/۱، سنن نسائی ۱۷۶/۱، ابو داود ۱۴۳/۱)
ترجمہ:”حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس گھر سے باہر تشریف لائے تو فرمایا کیا بات ہے۔ تمہیں رفع یدین کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ گو یا کہ وہ بِدکے ہوئے گھوڑوں کی دُمیں ہیں۔ نماز میں سکون اختیار کرو۔‘‘
عن الاسود قال رایت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ یرفع یدیہ فی اول تکبیرۃ ثم لا یعود ورأیت ابراھیم والشعبی یفعلان ذالک (شرح معانی الاثار( ۲۲۷/۱)
ترجمہ:”اسود فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا کہ وہ صرف پہلی تکبیر کے وقت رفع یدین کرتے تھے اور میں نے ابراہیم اور شعبی کودیکھا کہ وہ بھی اسی طرح کرتے تھے۔ (یعنی صرف تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کرتے تھے اس کے علاوہ نہیں کرتے تھے۔)
عن البراء ان رسول اللہ ﷺکان اذ افتتح الصلاۃ رفع یدیہ الی قریب من اذنیہ ثم لایعود۔ (شرح معانی ال
اثار ۲۲۷/۱، مدونۃ الکبری ۱۶۶/۱)۔
ترجمہ: ”حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز کے شروع میں کانوں کے قریب تک رفع یدین کرتے تھے اور پھر نہیں کرتے تھے۔“
عن عاصم بن کلیب عن ابیہ ان علیا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کان یرفع یدیہ فی اول تکبیر من الصلوۃ ثم لا یرفع بعدہ (شرح معانی الاثار ۱۶۳/۱، مدونۃ الکبری ۱۶۶/۱، المصنف لابن ابی شیبۃ ۴۱۶/۲)
ترجمہ:”عاصم بن کلیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نما زکی پہلی تکبیر کے وقت رفع یدین کرتے تھے اس کے بعد رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
عن مجاھد قال صلیت خلف ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فلم یکن یرفع یدیہ الا فی التکبیرۃ الاولیٰ من الصلوۃ (شرح معانی الاثار ۱۶۳/۱)
ترجمہ:”مجاہد رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی وہ نماز میں صرف پہلی تکبیر (یعنی تکبیر اولیٰ) کے وقت رفع یدین کرتے تھے۔“
اخبرنی نعیم المجمر القاری ان اباھریرۃ کان یصلی بھم فیکبرکلما خفض ورفع وکان یرفع یدیہ حین یکبر ویفتح الصلوۃ (المؤطا للامام محمد ص۹۰)
ترجمہ:”(ابو جعفر) قاری فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کو نماز پڑھاتے تھے تو جب بھی اوپر ہوتے اور نیچے ہوتے (یعنی انتقال کرتے وقت) تکبیر کہتے تھے اور رفع یدین نماز کے شروع میں تکبیر تحریمہ کے وقت کرتے تھے۔
عن ابی اسحاق قال کان اصحاب عبداللہ واصحاب علی لا یرفعون ایدیھم الافی افتتاح الصلوۃ قال وکیع ثم لا یعودون۔(مصنف لابن ابی شیبۃ ۳۹۴/۱)
ترجمہ:”ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود کے اصحاب اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے اصحاب صرف نماز کے شروع میں رفع یدین کیا کرتے تھے۔“
یہ معلوم ہوجانے کے بعد کہ جناب رسول اللہ ﷺ سے ترک رفع یدین ثابت ہے اسی طرح کبار صحابہ کرام و تابعین عظام سے ترک رفع یدین کا عمل متواتر ہے۔ اب ذیل میں اس ترک رفع یدین کی وجہ بھی ذکر کی جاتی ہے تاکہ مسئلہ خوب واضح ہوجائے۔
اس پر تو سب کا اتفاق ہے کہ جو عمل اوفق بالقرآن ہو وہ راجح ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں ان مومنین کی مدح بیان فرمائی گئی ہے جو نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔ حق تعالیٰ شانہ کا ارشاد ہے:
الَّذِيْنَ هُمْ فِي صَلاتِهِمْ خَاشِعُوْنَ۔( المؤمنون:۲)
ترجمہ:”وہ لوگ جو اپنی نماز میں خشوع کرتے ہیں۔“
اس سے معلوم ہوا کہ نماز میں خشوع و خضوع مطلوب ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی خشوع کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
الخشوع تارۃ من فعل القلب کالخشیۃ وتارۃ من فعل البدن کالسکون قیل لابد من اعتبارھما۔(فتح الملھم ۳۱۹/۳)
ترجمہ:”خشوع کبھی دل کا فعل ہوتاہے جیسا کہ خشیت اور کبھی بدن کا جیسا کہ سکون بعض حضرات کہتے ہیں کہ خشوع کیلئے دونوں ضروری ہیں۔“ جیسا کہ ایک حدیث میں بھی وارد ہے
لو خشع ھذا خشعت جوارحہ۔
ترجمہ:”اگر یہ خشوع اختیار کرتا تو اس کے اعضاء وجوارح سکون سے ہوتے۔“
اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کا ظاہر باطن کی ترجمانی کرتا ہے گویا نماز میں جس قدر ظاہری سکون ہوگا اسی قدر خشوع ہوگا اس سے معلوم ہوا کہ ترک رفع اوفق بالقرآن ہے۔
نیز احادیث کے تعارض کے وقت صحابہ کرام کے تعامل کو بڑی اہمیت حاصل ہوتی ہے جب ہم اس پہلو کو دیکھتے ہیں تو حضرات شیخین، حضرت علی، حضرت عبداللہ بن مسعود، سیدنا ابو ہریرہ، حضرت براء بن عازب اور حضرت کعب بن عجرہ کا عمل ترک رفع کا ہے، اور یہ حضرات صحابہ کرام کے علوم کا خلاصہ ہیں ان کے مقابلے میں جن صحابہ کرام سے رفع یدین منقول ہے وہ زیادہ تر کمسن صحابہ ہیں یا قلیل صحبت یافتہ ہیں جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عبداللہ بن زبیر اور حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہم۔ لہٰذا اس اعتبار سے بھی ترک رفع یدین راجح ہوا۔ بعض نادان اس مسئلہ میں صحابی رسول صاحب النعلین ووسادہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں نامناسب الفاظ کہہ جاتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تو بڑی شان ہے، علامہ ذھبی ان کے بارے میں فرماتے ہیں:
ابن مسعود الامام الربانی صاحب رسول اللہ ﷺوخادمہ واحد السابقین الاولین ومن کبار البدریین ومن نبلاء الفقھاء والمقرئین، وکان ممن یتحری فی الاداء ویشدد فی الروایۃ ویزجر تلامذتہ عن التھاون فی ضبط الالفاظ… وکان ابن مسعود یقل من الروایۃ للحدیث ویتورع …… وکان سادۃ الصحابۃ واوعیۃ العلم وائمۃ الھدی (تذکرۃ الحفاظ ۱۶/۱، ۱۷)
ترجمہ:”ابن مسعود امام ربانی صحابی رسول اور خادم، سابقین اولین اور اکابر اہل بدر میں سے تھے ان کا شمار بلند پایہ فقہاء اور قراء میں تھا۔ الفاظ حدیث کے اختیار کرنے میں بڑی احتیاط کرتےتھے۔ روایت میں بڑی سختی فرماتے تھے اپنے تلامذہ کو ضبط الفاظ میں سستی کرنے پر ڈانٹ پلاتے تھے۔ حدیث کی روایت بہت کم کرتے تھے۔ اور اس بارے میں خاص احتیاط وورع سے کام لیتے تھے۔ ان کا شمار سادات صحابہ ، خزانہ علم اور ائمۃ ہدی میں ہوتا تھا۔“
نیز ترک رفع یدین کو اختیار کرنے
کی ایک معقول وجہ بھی موجود ہے۔ جس سے تمام متعارضہ روایات کی توجیہ بھی ہوجاتی ہے اور وہ یہ کہ افعال صلوۃ میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ نمازوں کے احکام حرکت سے سکون کی طرف منتقل ہوتے رہے مثلاً پہلے نماز میں کلام جائز تھا پھر منسوخ ہوگیا۔ پہلے عمل کثیر مفسد صلوٰۃ نہیںتھا بعد میں اس کو مفسد صلوٰۃ قرار دے دیا گیا۔ پہلے نماز میں ادھر ادھر دیکھنا جائز تھا بعد میں اس کی ممانعت وارد ہوئی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شروع میں رفع یدین بکثرت ہوتا تھا اور ہر انتقال کے وقت مشروع تھا پھر رفتہ رفتہ اس میں کمی ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ صرف تکبیر تحریمہ کے وقت رہ گیا۔ معلوم ہوا کہ رفع یدین ابتداء مشروع تھا اور بعد میں اس کو ترک کردیا گیا تو اس اعتبار سے بھی ترک رفع یدین راجح ہوا۔
”مذکورہ مسئلہ کی احادیث پر ایک تحقیقی نظر“
بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ رفع یدین کی احادیث ترک رفع یدین کی احادیث سے زیادہ ہیں معارف السنن (۲/۴۶۰) پر اس سے متعلق یہ بحث ہے کہ ان روایات پر اگر تحقیقی نظر کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ترک رفع یدین کی احادیث کی تعداد زیادہ ہے وہ اس طرح کہ کتب حدیث میں رفع یدین کے متعلق ذکر کی جانے والی احادیث تین طرح کی ہیں۔
۱۔ وہ احادیث جن میں رفع یدین کا ذکر ہے۔ پھر ان میں بعض احادیث ایسی ہیں جن میں صرف تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کا ذکر ہے اور بعض احادیث ایسی ہیں جن میں ہر انتقال کے وقت رفع یدین کا ذکر ہے اور بعض احادیث ایسی ہیں جن میں رکوع کیلئے جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت اور تیسری رکعت کیلئے اٹھتے وقت رفع یدین کا ذکر ہے۔
۲۔ وہ احادیث جن میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ تمام ارکان کیلئے رفع یدین کی نفی کا ذکر ہے۔
۳۔ وہ احادیث جو صفت صلوٰۃ کو بیان کرتی ہیں لیکن ان میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ باقی ارکان کیلئے رفع یدین کا نہ ہی اثبات ہے اور نہ ہی نفی ہے۔
اب جو حضرات رفع یدین کے قائل ہیں۔ ان کا مستدل صرف وہ احادیث ہیں جن میں رکوع کیلئے جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت اور تیسری رکعت کیلئے اٹھتے وقت رفع یدین کا ذکر ہے۔
احناف کا مستدل ایک تو وہ احادیث ہیں جن میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ باقی تمام ارکان میں رفع یدین کی نفی کا ذکر ہے اسی طرح وہ احادیث بھی احناف کا مستدل ہیں جو صفت صلوٰۃ کو تو بیان کرتی ہیں لیکن ان میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ باقی ارکان کیلئے نہ ہی رفع یدین کا اثبات ہے اور نہ ہی نفی ہے۔ اس لیے کہ اگر رفع یدین ہوا ہوتا تو صفت صلوۃ کو بیان کرتے وقت راوی اس رفع یدین (یعنی رکوع کو جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت) کو بیان کرتا یہ احادیث رفع یدین کے ذکر سے ساکت نہ ہوتیں لہٰذا یہ احادیث بھی احناف کا مستدل ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ترک رفع یدین کی احادیث کی تعدادرفع یدین کی احادیث سے زیادہ ہے۔

واللہ اعلم


محمد امیر۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:7⃣5⃣1⃣

ناف سے نیچے ہاتھ باندھنے۔
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا ثابت ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب: جی ہاں احادیث مبارکہ میں ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا ثابت ہے۔ چنانچہ مصنف ابن ابی شیبہ (۳/۳۲۰، طبع ادارۃ القرآن) میں ہے: عن علقمۃ بن وائل بن حجر عن أبیہ قال رأیت رسول اﷲ ﷺ وضع یمینہ علی شمالہ فی الصلوۃ تحت السرۃ۔
(ترجمہ) :حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺکو دیکھا آپ نے نماز میں اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے رکھا ہوا تھا۔
اسی طرح مسند امام احمد (۱/۱۷۷) میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حدیث موجود ہے جو دارقطنی (۱/۲۸۹) اور بیہقی (۲/۳۱) اور ابو داؤد مع بذل المجہود (۲/۲۳)، المنھل العذب المورودشرح ابو داؤد(۳/۱۶۳، حصہ ۵)، وابوداؤد طبع دار ابن حزم (۱/۲۳۸)، شرح العینی لابی داؤد (۳/۳۳۷) اور مصنف لابن ابی شیبۃ (۳/۲۲۴)، اسی طرح حضرت ابوہریرۃ کی روایت ابو داؤد مع البذل (۲/۲۳)، المنہل العذب المورود (۳/۱۶۳،حصہ۵) و ابو داؤد طبع دار ابن حزم (۱/۲۳۸) میں موجود ہے جس کو ابن حزم نے محلی بالآثار (۳/۳۰) میں بھی نقل فرمایا ہے۔ اور مغنی لابن قدامۃ(۱/۵۱۵) اور مجموع للنووی (۳/۲۵۹) میں بھی ہے اورامام اعظم، سفیان ثوری، ابو مجلز، ابراہیم نخعی ، اسحاق بن راہویہ، ابو اسحاق مروزی شافعی، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا مسلک بھی یہی ہے کہ نماز میں ناف کے نیچے ہاتھ باندھے جائیں۔

واللہ اعلم

محمد امیر ۔۔۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:8⃣5⃣1⃣

قبر پر گنبد بنانا یا قبر کو پختہ بنانا ناجائز ہے؟

سوال:
حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کا کی رحمۃ اللہ علیہ جواکابرا ولیائے کرام میں سے دہلی میں گذرے ہیں ، ان کا مزار آج تک خام چلا آرہا ہے۔ ایک شخص کہتا ہے کہ مجھ کو بشارت ہوئی ہے کہ میرا مزار ننگا پڑا ہے اس پر گنبد پختہ بنائو۔ چنانچہ ایک شخص مستعد ہوگیا ہے کہ ان کے مزار پر گنبد بنا دے ۔ لہذا علماء کرام سے سوال ہے کہ کیا شرعاً اس بشارت پر عمل کرنا ونیز کسی قبر پر عمارت و گنبد وغیرہ پختہ بنانا درست ہے یا نہیں ۔ مطابق کتاب وسنت و مذہب حنفیہ کے جواب مرحمت فرمایا جائے بینواتوجروا ۔

جواب:
قبر پر گنبد بنانایا قبر کو پختہ بنانا ناجائز ہے ۔ صریح طور پرحدیث شریف میں اس کی ممانعت آئی ہے ۔(۳) ایسی بشارت (یعنی خواب ) جو کسی نا مشروع فعل کے ارتکاب کی ترغیب دے قابل التفات وقابل عمل نہیں ہے ۔ اس کا جب خیا ل آئے تو لا حول ولا قوۃ الا باللہ پڑھنا چاہئے۔ یہاں تک کہ یہ خیال جاتا رہے ۔

(۳) ’’ولا یجصص، ولا یطین ، ولا یرفع علیہ بناء وقیل لا بأس بہ وھوالمختار کما فی عبارۃ السراجیۃ وقولہ وقیل لابأس بہ الخ المناسب ذکرہ عقب قولہ ولا یطین لان عبارۃ السراجیۃ کما نقلہ الرحمتی ذکر فی تجرید ابی الفضل ان تطیین القبور مکروہ ، والمختار انہ لا یکرہ ا ھ و عزاہ الیہا المصنف فی المخ ایضاً ۔ واما البناء علیہ فلم ارمن اختار جوازہ ۔ وفی شرح المنیۃ عن منیۃ المفتی : المختار انہ لایکرہ التطیین ۔وعن ابی حنیفۃ : یکرہ ان یبنی علیہ بناء من بیت اوقبۃ او نحو ذلک لماروی جابر : نہی رسول اللہ عن تجصیص القبور و ان یکتب علیہا وان یبنی علیہا رواہ مسلم وغیرہ اھ ‘‘ (الدرالمختار مع ردالمحتار : ج ۶ ص ۲۳۷ ط سعید)

واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:9⃣5⃣1⃣

گنبدِ خضریٰ سے استدلال کرکے بزرگانِ دین کی قبروں کو پختہ بنانا
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: بزرگانِ دین کی قبروں کو پکا بنانا کیسا ہے؟ کیا اندر سے کچی اور اوپر سے پکی بنانا جائز ہے، یا کسی بھی طریقے سے پکی نہیں بناسکتے؟ پیارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی قبر پکی ہے، جیسا کہ لوگ کہتے ہیں، کیا پیارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی قبر کو ثبوت بناکر بزرگوں کی قبروں کو پکا بناسکتے ہیں یا نہیں؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرماکر ممنون فرمائیں۔

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:صحیح احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ سرور عالم حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم نے قبروں کو پختہ بنانے اور ان پر تعمیر کرنے سے ممانعت فرمائی ہے؛ اس لئے کسی بھی مسلمان کی قبر کو پختہ بنانا ہرگز جائز نہیں ہے، خواہ وہ اولیاء اﷲ اور بزرگان دین کی قبریں کیوں نہ ہوں؛ بلکہ اولیاء اﷲ کے معاملہ میں شریعت کا اور زیادہ خیال رکھنا چاہئے؛ کیوں کہ ان حضرات کی پوری زندگیاں سنت رسول اﷲ کی اشاعت اور شریعت کی حفاظت میں گذری ہیں، اور یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ سرور عالم حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم کی قبر مبارک بھی کچی ہی ہے پختہ نہیں  ہے؛ البتہ چونکہ خود آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ نبی کا مدفن وہی جگہ بنتی ہے جہاں وہ دنیا سے پردہ فرماتے ہیں، اس لئے اس حکم کی تعمیل میں آپ کا روضۂ مبارکہ حجرۂ عائشہؓ میں بنایا گیا، جو پہلے ہی سے تعمیر شدہ تھا، گویا کہ آپ کی قبر اطہر پر دفن کے بعد تعمیر نہیں ہوئی؛ بلکہ  پہلے سے بنی ہوئی تعمیر میں حسبِ حکم نبوی تدفین ہوئی ہے، اور آج روضۂ اقدس علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام پر جو شاندار عمارت اور دیدہ زیب قبے بنے ہوئے ہیں، یہ سب اسی سابقہ تعمیر کی تجدید کی حیثیت رکھتے ہیں، جن کی تعمیر ہجرت کے ۶۶۷ ؍سال بعد سے شروع ہوئی ہے، اور گنبدِخضریٰ تو صرف دو صدی پہلے ۱۲۳۳۳ھ میں تعمیر کیا گیا ہے، دور اول میں ان کا وجود نہیں تھا، بہر حال یہ نبی اکرم صلی اﷲعلیہ وسلم کی خصوصیت ہے، اس کو نظیر بناکر بزرگان دین اور اولیاء اﷲ کی قبروں کو پختہ بنانا ہرگز جائز نہیں ہے۔

عن جابر رضي اللّٰہ عنہ نہی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أن یجصص القبروأن یعقد علیہ وأن یبنی علیہ۔ (صحیح مسلم ۱؍۳۱۲، سنن أبي داؤد ۲؍۴۶۰۰، سنن الترمذي ۱؍۲۰۳، سنن النسائي ۱؍۲۲، سنن ابن ماجۃ ۱؍۱۱۲)
یکرہ تطیین القبر من فوق أو تحت لما ورد إذا طین القبر لم یسمع صاحبہ الأذان ولا الدعاء ولا یعلم من یزورۃ۔ (بذل المجہود ۱۰؍۵۱۵)
ولا نری أن یزاد علی ما خرج منہ ونکرہ أن یجصص أو یطین أو یجعل عندہ مسجد أوعلم أو یکتب علیہ، ویکرہ الأجر أن یبنی بہ۔ (کتاب الآثار للإمام محمد ۶۱۶ رقم: ۲۵۶، حاشیۃ الطحطاوي ۶۱۱)
إن القاسم بن محمد قال: رأیت قبر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وأبي بکر وعمر مبطوحۃ ببطحاء العرصۃ الحمراء، أي مبسوطۃ بالرمال۔ (فتح الملہم ۲؍۵۰۶)
فقال أبوبکر: إني سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول: ما قبض نبي إلا دفن حیث یقبض۔ (سنن ابن ماجۃ ۱؍۱۱۷)
وأما قبۃ الحجرۃ الشریفۃ المحاذیۃ لہا بأعلی سطح المسجد تمیزا لہا، فلم تکن قبل حریق المسجد الأول ولا بعدہ إلی دولۃ المنصور قلاوون الصالحي؛ بل کان قدیما حول ما یواري الحجرۃ في سطح المسجد حظیر من أجر مقدار نصف قامۃ تمییزاً لہا عن بقیۃ سطح المسجد حتی کانت سنۃ ثمان وسبعین وست مائۃ ۶۷۸ہـ، فعمل ہناک قبۃ مربعۃ من أسفلہا مثمنۃ من أعلاہا خشب أقیمت رؤوس السواري المحیطۃ بالحجرۃ الشریفۃ في صف أسطوان الصندوق، وسمر علیہا ألواح من خشب۔ (خلاصۃ الوفاء ۲؍۱۶۳)
ثم زاد فیہ السلطان قایتباي الأشرف المحمودي شیئا بسیطًا داخل الحجرۃ الشریفۃ لإقامۃ الدرابزین الأخضر الموجود علیہ؛ لأن وذلک لوضع القبۃ الزرقاء علیہ وزیاتہ؛ لأن ہي الممر العام في داخل الحجرات، وکان ذٰلک في عام ۸۸۸ ہـ، ثم عمل السلطان محمود خان العثماني قبۃ أخری علی الحجرۃ الشریفۃ، ودہنہا باللون الأخضر ولذلک أصبحت تسمی بالقبۃ الخضراء، وعمل لہا قاعدۃ عظیمۃ في وسط المسجد الشریف النبوي أقامہا علیہا وہي فوق القبۃ الزرقاء، وکان ذلک في عام ۱۲۳۳ ہـ۔ (تاریخ معالم المدینۃ المنورۃ قدیما وحدیثا ۵۷)
ولم یکن من ہدیہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم تعلیۃ القبور ولا بناء ہا بآجر، ولا بحجر ولبن، ولا تشییدہا، ولا تطیینہا، ولا بناء القباب علیہا، فکل ہذا بدعۃ مکروہۃ مخالفۃ لہدیہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، وقد بعث علي ابن أبي طالب إلی الیمن ألا یدع تمثلا إلا طمسہ، ولا قبر مشرفا إلا سقواہ فسنتہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم تسویۃ ہذہ القبور المشرفۃ کلہا، ونہي أن یجصص القبر، وأن یبنی علیہ، وأن یکتب علیہ، وکانت قبور أصحابہ لا مشرفۃ وملا لاطئۃ، وہکذا کان قبرہ الکریم وقبر صاحبیہ، فقبرہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مسنم مبطوح ببطحاء العرصۃ الحمراء لا بنی ولا مطین،
وہکذا کان قبرصاحبیہ۔ (زاد المعاد ۱؍۲۴۲، دارالعلم والمعرفۃ)
قال الإمام النوويؒ: ولما احتاجت الصحابۃ رضوان اللّٰہ علیہم أجمعین والتابعون إلی الزیادۃ في مسجد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم حین کثر المسلمون وامتدت الزیادۃ إلی أن دخلت بیوت أمہات المومنین فیہ، ومنہا حجرۃ عائشۃ رضي اللّٰہ عنہا مدفن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وصاحبیہ أبي بکر وعمر رضي اللّٰہ عنہما، بنوا علی القبر حیطانا مرتفعۃ مستدیرۃ  حولہ لئلا یظہر في المسجد فیصلي إلیہ العوام، ویؤدي إلی المحذور، ثم بنوا جدارین من رکني القبر الشمالیین، وحرفوہما حتی التقیا، حتی لا یتمکن أحد من استقبال القبر۔ (جامع المہلکات من الکبائر والمحرمات ۱۶۱۶، شرح نووي علی صحیح مسلم۱۱؍۲۰۱، وکذا في وفاء الوفاء ۲؍۵۴۴-۶۰۸، کتاب الفتاوی ۳؍۲۳۱)

فقط واﷲ تعالیٰ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:0⃣6⃣1⃣

رسول اللہ ﷺکی قبر اطہر پر عمارت وگنبد کی حیثیت:
سوال:
رسول اللہ ﷺکی قبر اطہر پر عمارت تو درست ہے کیونکہ آپ کی تدفین کمرہ میں ہوئی تھی لیکن پختہ گنبد بنانے کی کیا حقیقت ہے ؟

جواب:
جب آنحضورﷺکی تدفین کمرہ میں مقصود تھی ، کیو نکہ وفات کا کمرہ مکان ِ تدفین ہے اور یہی رسول اللہ ﷺ کو پسند تھا ، اور جب تدفین کمرہ میں مقصود تھی تو عمارت کی بقا بھی مقصود ہو گی اور اس کی بقا کا طریقہ عمارت کی پختگی ہے ، اس لئے پختہ مکان آپ کے لئے منع نہیں ہے ۔

ہاں گنبد بنانا بعد والے خلفاء کا ذاتی فعل ہے ، آپ اکے ساتھ ابو بکر صدیقص اور عمرفاروق ص کی تدفین عمارت میں تبعاً ہے کسی اور کی قبر پرگنبد یا پختہ تعمیر کر نا صحیح نہیں ۔ جن کتابوں میں جواز لکھا ہے وہ احادیث کے خلاف ہے ۔ 
اس لئے علماء نے اس کی تردید فرمائی ہیں ۔
مسلم شریف میں ہے :
عن جابرقال نہی رسول اللہاان یجصص القبروان یقعد علیہ وان یبنی علیہ ۔(مسلم شریف ۱ / ۳۱۲)
وفی روایۃابن ماجہ: قال نہیٰ رسول اﷲاعن تجصیص القبور۔ (رواہ ابن ماجہ ۱ / ۱۱۲۔ ورواہ ابو داو د ایضا۱/۴۶۰)
شامی میں ہے :
اما البناء علیہ فلم ار من اختارجوازہ فی شرح المنیۃ عن منیۃ المفتی المختارانہ لایکرہ التطیین وعن ابی حنیفۃ ؒ یکرہ ان یبنی علیہ بناء من بیت اوقبۃ اونحوذلک لما روی جابرص نہی رسولاﷲاعن تجصیص القبوروان یکتب علیہا وان یبنی علیہا۔(رد المحتار ۲ / ۲۳۷)
نیز فتاوی عالمگیری۱/۱۶۶۔ وفتاوی تاتارخانیۃ۶/۱۷۱۔ومراقی الفلاح:۳۳۵۔ شرح منیۃ:۵۹۹ ۔ فتاوی محمودیہ ۱۰/۲۸۹ ۔ واحسن الفتاوی۴/۱۸۹۔ وفتاوی رحیمیہ ۳/۹۵ ) سب کتابوں میں عدم جواز منقول ہیں ۔
البتہ بعض کتابوں میں جواز بھی مرقوم ہے۔ ملاحظہ ہو: تقریرات الرافعی میں ہے :
قولہ لایکرہ البناء … فی روح البیان قال الشیخ عبد الغنی النابلسی فی کشف النور عن اصحاب القبورماخلاصتہ ان البدعۃ الحسنۃ الموافقۃ لمقصودالشرع تسمیٰ سنۃ فبناء القباب علی قبورالعلماء والا ولیاء والصلحاء ووضع الستوروالعمائم والثیاب علی قبورہم امرجائزاذاکان القصد بذلک التعظیم فی اعین العامۃ حتی لا یحتقروا صاحب ھذا القبر۔ (تقریرات الرافعی ۲/۱۲۳)
لیکن یہ جواز احادیث کے خلاف ہے لہذا قابل ِ قبول نہیں ملاحظہ ہو۔
فتاوی محمودیہ میں ہے :
 تحریر المختار میں تفسیر روح البیان سے اس کا جواز نقل کیا ہے ،لیکن تفسیر روح البیان خود کوئی معتبر کتاب نہیں اس میں بہت سے مسائل غیر معتبر موجود ہیں پھر یہ کہ اس جواز کے لئے کو ئی سند نقل نہیں کی محض قصد تعظیم اور اجلال پر اعتماد کیا ہے ایسے مسائل منصوصہ میں کسی کا قول بغیر سند خلاف ِ نص کیسے حجت ہو سکتا ہے؟(فتاوی محمدویہ ۱۰ / ۲۹۰)
ہاں انبیاء کو اس بارے میں خصوصیت حاصل ہے کہ جہاں انتقال ہو ں وہی دفن کر دئے جاتے ہیں یعنی مکان وغیرہ میں ۔
تر مذی شریف میں ہے :
عن عائشۃ ؓ قالت لما قبض رسول اللہ اختلفوا فی دفنہ فقال ابو بکر سمعت من رسول اللہا شئیا ما نسیتہ قال:ما قبض اللّٰہ نبیا الا فی الموضع الذی یحب ان یدفن فیہ فدفنہ فی موضع فراشہ۔ (تر مذی شریف۱/۱۹۷) 
ابن ماجہ شریف میں ہے :
فقال ابو بکرص انی سمعت رسول اللّٰہایقول: ماقبض نبی الادفن حیث یقبض۔ (ابن ماجہ شریف۱/۱۱۷)
در مختار میں ہے : 
ولا ینبغی ان یدفن المیت فی الدارولوکان صغیراً لاختصاص ھذہ السنۃ بالانبیاء۔
علامہ شامی فرماتے ہیں :
وہواعم من قول الفتح ولا یدفن صغیرولاکبیرفی البیت الذی مات فیہ فان ذلک خاص بالا نبیاء۔(شامی۲/ ۲۳۵)
رہی یہ بات کہ گنبد خضراء کب تعمیر کیا گیا تو اس سلسلہ میں حضرت مفتی محمود صاحب ؒ نے تحریر فرمایا ہے :
ولید بن عبد الملک کے زمانہ میں حجرہ خام (کچا) کو گرا کر منقش پتھروں سے تعمیر کیا گیا اور ایک حظیرہ بنا یا گیا حضرت عروہ صنے منع بھی کیا لیکن ان کی شنوائی نہ ہو ئی پھر وقتاً فوقتاً تغیر وتزیین ہو تی رہی حتی کہ ۶۷۸ ؁ھ میں قبہ خضراء تعمیر کیا گیا ۔ (فتاوی محمودیہ ۱۰ / ۲۹۴)
 جس کی تفصیل خلاصہ وفاء الوفاء میں علامہ سہمودی نے تحریر فرمائی ہے۔ملاحظہ ہو: 
وأما قبۃ الحجرۃ الشریفۃ المحاذیۃ لھا بأعلی سطح المسجد تکییزا لھا قبل حریق المسجد الأوّل ولا بعدہ الی دولۃ المنصورقلدون الصالحی بل کان قدیما حول ما یوازی الحجرۃ فی سطح المسجد حظیرمن آجرمقدارنصف قامۃ تمییزا لھا عن بقیۃ سطح المسجد حتی کانت سنۃ ثمان وسبعین وستمائۃ فعل ھناک قبۃ مربعۃ من أسفلھا مثمنۃ من أعلاھا أخشاب أقیمت علی رؤس السواری المحیطۃ الشریفۃ فی صف أسطوان الصندوق وسمرعلیھا ألواح من خشب ومن فوقھا ألواح الرصاص وفی أسفلھا طاقۃ یبصرالناظرمنھا سقف المسجد الأسفل الذی کان بہ الطابق وعلیہ المشمع وکان حول ھذہ القبۃ بالسطح الأعلی ألواح رصاص مفروشۃ فیما قرب منھا ویحیط بھا وبالقبۃ درازبین من الخشب جعل مکان حظیرالآجروتحتہ أیضا السقفین شباک خشب یحکیہ وکان المتولی لعملھا الکمال أحمد بن البرھان الربعی ناظرقوص ذکرہ فی الطالع السعید…،وجددت القبۃ الشریفۃ المزکورۃ أ
یام الناصرحسن محمد بن قلدون فاختلت الألواح الرصاص من موضعھا فخشوا من الأمطار فجددت أیضا وأحکمت أیام الأشراف شعبان بن حسین بن محمد سنۃ خمس وستین وسبعمائۃ وأصلح فیھا متولی العمارۃ شیئا فی عمارتہ الآتیۃ فی الفصل بعدہ ثم احترقت فی حریق المسجد الثانی فاقتضی رأی متولی العمارۃ سنۃ سبع وثمانین وثمانمائۃ اتخذھا فی العلووأن تکون من آجروأن یؤسس لھا دعائم عظام بأرض المسجد وعقود حولھا فأتخذ ھذہ الدعائم التی فی موازاۃ الأساطین التی الیھا المقصورۃ السابقۃ وأبدل بعض الأساطین بدعائم وأضاف الی بعضھا أسطوانۃ أخری وقرن بینھما وحصل فیما بین جدار المسجد الشرقی وبین العائم المحدثۃ ھناک ضیق فھدم الجدار الشرقی ھنالک الی باب جبریل وخرج بالجدار فی البلاط ناحیۃ موضع الجنائزنحو ذراع ونصف وأحدث دعامتین عن یمین مثلث الحجرۃ ویسارہ الأولی منھما فی المحل الذی سبق فی الرابع ان الناس یحترمونہ و یقال أن قبرفاطمۃ الزھراء بہ فبدا لحد القبروبعض عظامہ أخبرنی بذلک جمع شاھدوہ ثم لما تمت ھذہ القبۃ تشققت أعالیھا فرمت فلم ینفع الترمیم فیھا لخسۃ مؤنتھا فقوض الأشرف قایتبای أعزاﷲ أنصارہ وأعلی فی سلوک العدل منارۃ للشجاعی شاہین الجمالی النظر فی ذلک وفی المنارۃ الرئیسیۃ السابق ذکرھا فی الثامن وولاہ شیخ الخدام وناظرالحرم فاقتضی الرأی بعد مراجعۃ أھل الخبرۃ ھدم المنارۃ کلھا وھدم أعالی ھذہ القبۃ واختصار یسیرمنھا فأتخذ أخشابا فی طاقاتھا وأتخذ سقفا ھناک یمنع ما یسقط عند الھدم بالحجرۃ ثم ھدم أعالیھا وأعاد بناء ہ مع الأحکام بحیث أتخذ فی بنائھا الجبس الأبیض حملہ معہ من مصرفجاء ت متقنۃ وأتخذ أساقیل شرقی المسجد لصعود العمال فی عمارتھا وعمارۃ تلک المنارۃ ولم تنتھک حرمۃ المسجد فی دعۃ وسکون وکان العمارۃ لیست بہ وکان فی زمن غیرہ کالسوق ذلک فضل اﷲ یؤتیہ من یشاء وکان ذلک فی عام اثنتین وتسعین وثمانمائۃ۔(خلاصۃ الوفاء بأخباردارالمصطفی ۱/۱۴۸)
تاریخ ِمدینہ منوّرۃ میں ہے:
گنبد کی تعمیر:۶۷۸؁؁ میں الملک المنصور قلدون صالحی کے عہد میں حجرہ شریف پر قبّہ بنایا گیا ۔اس سے پہلے قبّہ نہیں تھا قبّہ نیچے سے مربّع اور اوپر سے مثمن (آٹھ گوشہ )تھا۔دیواروں کے سروں پر لکڑی کے تختے قائم کر کے ان کے اوپر لکڑی کی تختیاں اور ان پر سیسہ کی پلیٹیں لگادی گئی۔ (تاریخِ مدینہ منوّرۃ ۸/۲۶۷)   

واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:1⃣6⃣1⃣


عقیقہ کب تک؟
مسئلہ:والد کے ذمہ اپنے لڑکے یا لڑکی کا عقیقہ کرنا، بلوغت سے پہلے، ساتویں دن، چودہویں دن، یا اکیسویں دن مستحب ہے، بلوغت کے بعد عقیقہ والد کے ذمہ باقی نہیں رہتابلکہ ساقط ہوجاتا ہے، البتہ بلوغت کے بعد لڑکا یا لڑکی خود اپنا عقیقہ کرے، یا کوئی اور شخص مثلاً کوئی عزیز یا شوہر اپنی طرف سے اپنی بیوی کا عقیقہ کردے تو درست ہوگا(۱)، اور رہی بات لڑکی کے نام کے ساتھ کس کا نام رہے گا، شوہر یا باپ کا؟ تو اس کے نام کے ساتھ اس کے باپ کا نام رہے گا۔(۲)

الحجۃ علی ما قلنا:
(۱) ما في ’’ اعلاء السنن ‘‘ : عن بریدۃ أن النبي ﷺ قال : ’’العقیقۃ لسبع أو أربع عشرۃ أو إحدی وعشرین‘‘۔ رواہ الطبرانی فی الصغیر والأوسط ۔ (۱۷/۱۳۱، باب افضلیۃ ذبح الشاۃ الخ)
ما فی ’’ فتح الباری ‘‘ : فنقل الرافعی أنہ یدخل وقتہا بالولادۃ ، قال : وذکر السابع فی الخبر بمعنی أن لا تؤخر، ثم قال : والإختیار أن لا تؤخر عن البلوغ ، فإن أخرت عن البلوغ سقطت عمن کان یرید أن یعق عنہ، لکن إن أراد أن یعق عن نفسہ فعل ۔ (۹/۵۹۶، باب إماطۃ الأذی عن الصبی فی العقیقۃ)
(۲) ما فی ’’ القرآن الکریم ‘‘ : {ادعوہم لآبائہم ہو أقسط عند اللہ} ۔ (الأحزاب:۵)
ما فی ’’ المغني ‘‘ : روي عن النبي ﷺ أنہ قال : ’’ إنکم تدعون یوم القیامۃ بأسمائکم وأسماء آبائکم‘‘۔ (۱۱/۱۲۳، فصل ، ۷۸۹۹ ، بیروت)(المسائل المہمۃ:۳/۳۱۸،۳۱۹)

واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:2⃣6⃣1⃣

عقیقہ کے گوشت کی تقسیم؛
مسئلہ: عقیقہ کے گوشت کو تین برابر حصوں میں تقسیم کرکے، ایک حصہ فقراء ومساکین کو ، دوسرا عزیز رشتہ داروں کو، اور تیسرا حصہ اپنے گھر میں استعمال کرلیا جائے، اور اگر کوئی شخص سارا گوشت گھر میں بنا کر عزیز رشتہ داروں کی دعوت کرے، تو یہ بھی جائز اور درست ہے۔(۱)

الحجۃ علی ما قلنا:
(۱) ما في ’’ اعلاء السنن ‘‘ : وسبیلہا في الأکل والہدیۃ والصدقۃ سبیل الأضحیۃ ۔ اہـ۔ (۱۷/۱۴۰، تحت رقم الحدیث :۵۵۱۴ ، باب أفضلیۃ ذبح الشاۃ في العقیقۃ)
ما في ’’ رد المحتار ‘‘ : قال في البدائع : والأفضل أن یتصدق بالثلث ، ویتخذ الثلث ضیافۃ لأقربائہ وأصدقائہ ، ویدّخر الثلث ، ویستحب أن یأکل منہا ۔ (۹/۴۷۴ ، کتاب الأضحیۃ ، ط ۔ دار الکتب العلمیۃ بیروت ، ۶/۳۲۸ ، ط ۔ دار الفکر بیروت ، بدائع الصنائع : ۶/۳۲۹ ، التضحیۃ ، ط ۔ دار الکتب العلمیۃ بیروت ، ۵/۸۰ ، ط ؛ دار الکتاب العربي بیروت)
(فتاوی بنوریہ ، رقم الفتوی :۸۳۵۸،المسائل المہمۃ:۵/۱۳۳)

واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:3⃣6⃣1⃣

بڑی عمر والوں کا عقیقہ؛
مسئلہ: اگر کسی شخص کا عقیقہ بچپن میں نہ کیا گیا ہو، توبڑا ہونے کے بعد اُس کا بھی عقیقہ کیا جاسکتا ہے، مگر وقتِ مستحب کی فضیلت اُسے حاصل نہ ہوگی(۱)، اگر ساتویں دین عقیقہ نہ کرسکیں، تو ۱۴؍ویں دن، یا ۲۱؍ویں دن کردیں، ورنہ جب بھی عقیقہ کریں، تو دن کے اعتبار سے ساتویں دن کریں۔(۲)
---------------------------------------------------
والحجۃ علی ما قلنا :
(۱) ما في ’’ مصنف ابن أبي شیبۃ ‘‘ : عن محمد [ابن سیرین] قال : ’’ لو أعلم أنہ لم یعقّ عني لعققتُ عن نفسي ‘‘ ۔
(۱۲/۳۱۹ ، حدیث :۲۴۷۱۸ ، کتاب العقیقۃ ، ط : المجلس العلمي أفریقہ)
ما في ’’ إعلاء السنن ‘‘ : عن الحسن البصري : ’’ إذا لم یعق عنک فعقّ عن نفسک ، وإن کنت رجلا ‘‘ ۔
(۱۷/۱۳۴، باب أفضلیۃ ذبح الشاۃ في العقیقۃ ، تحت حدیث :۵۵۱۴ ، بیروت)
(حاشیہ فتاویٰ محمودیہ:۱۷/۵۱۱، کراچی)
ما في ’’ الموسوعۃ الفقہیۃ ‘‘ : ونصّ الشافعیۃ علی أن العقیقۃ لا تفوت بتأخیرہا لکن یستحب أن لا یؤخر عن سنّ البلوغ ‘‘ ۔ (۳۰/۲۷۹، عقیقۃ ، وقت العقیقۃ)
(کتاب المسائل:۲/۳۴۲)
(۲) ما في ’’ إعلاء السنن ‘‘ : انہا إن لم تذبح في السّابع ذبحت في الرابع عشر وإلا ففي الحادي والعشرین ثم ہکذا في الأسابیع ۔
(۱۷/۱۳۱، باب أفضلیۃ ذبح الشاۃ في العقیقۃ ، تحت حدیث :۵۵۱۴)
(بہشتی زیوراختری:۳/۴۲، کتاب المسائل:۲/۳۴۱،ط: مکتبہ اسماعیل، محقق ومدلل مسائل قربانی:ص/۱۳۶)


واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
جواب نمبر:4⃣6⃣1⃣

بڑی عمر میں عقیقہ کرنے پر سر کے بال مونڈنا:
مسئلہ:اگر بڑی عمرمیں عقیقہ کیا جارہا ہو، تو سر کے بال منڈوانا ضروری نہیں ہے، بلکہ اگر یہ عقیقہ بڑی عمر کی لڑکی کا ہے، تو اس کے بال مونڈنا، جائز نہیں ہے۔(۱)
------------------------------------------------------
الحجۃ علی ما قلنا :
(۱) ما في ’’ صحیح البخاري ‘‘ : عن ابن عباس قال : ’’ لعن النبي ﷺ المتشبہین من الرجال بالنساء والمتشبہات من النساء بالرجال ‘‘ ۔
(۲/۸۷۴ ، قدیمي ، مشکوۃ المصابیح : ص/۳۸۵ ، قدیمي)
ما في ’’ البحر الرائق ‘‘ : وإذا حلقت المرأۃ شعر رأسہا فإن کان لوجع أصابہا فلا بأس بہ ، وإن حلقت تشبہ الرجال فہو مکروہ ۔
(۸/۳۷۵ ، کتاب الکراہیۃ ، الفتاوی الہندیۃ : ۵/۳۵۸)
ما في ’’ الدر المختار مع الشامیۃ ‘‘ : وفیہ : قطعت شعر رأسہا أثمن ولعنت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والمعنی المؤثر تشبہ بالرجال اھــ ۔ (درمختار) ۔ وفي الشامیۃ : أي العلۃ المؤثرۃ في إثمہا التشبہ بالرجال ، فإنہ لا یجوز کالتشبہ بالنساء ۔ (۹/۵۸۳،۵۸۴، فصل في البیع)
(محقق ومدلل جدید مسائل :۱/۵۸۹، مسئلہ نمبر :۴۴۶ ،کتاب اللباس والزینۃ ، ایڈیشن ثانی)
(مستفاد: فتاویٰ دار العلوم دیوبند:۱۵/۶۲۲، فتاویٰ محمودیہ: ۱۷/۵۱۱)
(آپ کے مسائل اور اُن کا حل:۴/۲۳۸، قدیمی، و۵/۴۷۸، جدید)
( کتاب المسائل:۲/۳۴۳، ۳۴۴، مکتبہ اسماعیل)

واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
جواب نمبر:5⃣6⃣1⃣

عقیقہ کے وقت بال کٹانا مستحب ہے۔
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: بعض لوگ اپنی اولاد کا عقیقہ ساتویں دن نہیں کراتے، چاہے لڑکا ہو یا لڑکی، اور سال بھر یا چھ مہینہ یا ایک مہینہ، تو ایسا شخص جو عقیقہ کرنے کا اِرادہ رکھتا ہو اور بال نہ کٹاتا ہو تو بال نہ کٹانے کی وجہ سے گنہگار ہوگا یا نہیں؟

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:عقیقہ کے وقت بال کٹانا کوئی لازم نہیں، صرف مستحب ہے؛ لہٰذا اگر ابھی عقیقہ نہ کرنا ہو تو پہلے بھی بال کٹانے میں کوئی حرج نہیں ہے، اور مسئولہ صورت میں بال نہ کٹانے والے پر کوئی گناہ نہیں ہے۔

ویستحب حلق رأس المولود یوم سابعہ۔ (إعلاء السنن، کتاب الذبائح / باب أفضلیۃ ذبح الشاۃ في العقیقۃ ۱۷؍۱۱۹)
یستحب لمن ولد لہ ولد أن یسمیہ یوم أسبوعہ ویحلق رأسہ … ثم یعق عند الحلق عقیقۃ إباحۃ علی ما في الجامع المحبوبي أو تطوعًا علی ما في شرح الطحاوي۔ (رد المحتار / کتاب الأضحیۃ ۶؍۳۳۶ دار الفکر بیروت)
حلق شعرہ مباحۃ لا سنۃ ولا واجبۃ۔ (الفتاویٰ الہندیۃ ۵؍۳۶۲)

فقط واللہ تعالیٰ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
جواب نمبر:6⃣6⃣1⃣

عقیقہ میں بچی کا سر منڈانا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: عقیقہ میں چھوٹی لڑکیوں کے بال منڈانا کتروانا درست ہے یا نہیں؟ نیز منڈانے یا کتروانے کے لئے کتنی عمر ہونی چاہئے؟

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: عقیقہ میں سرمنڈانے کے حکم سے بچیوں کے لئے سر منڈوانے کی حلت معلوم ہوتی ہے؛ لیکن جب وہ ۸-۹؍ سال کی ہوجائے تو بلا عذر ایسا نہ کیا جائے۔
(فتاویٰ محمودیہ ۱۷؍۵۱۱ ڈابھیل)
عن سمرۃ بن جندب رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: کل غلام رہینٌ بعقیقتہ، یذبح عنہ یوم سابعہ، وتحلق رأسہ یسمی، ویحلق رأسہ۔ (سنن النسائي، کتاب العقیقۃ / باب متی یعقّ ۲؍۱۶۷)
ویستحب حلق رأس المولود یوم سابعہ۔ (إعلاء السنن، کتاب الذبائح / باب أفضلیۃ ذبح الشاۃ في العقیقۃ ۱۷؍۱۱۹ إدارۃ القرآن کراچی)
العقیقۃ عن الغلام وعن الجاریۃ، وہي ذبح شاۃ في سابع الولادۃ وضیافۃ الناس وحلق شعرہ مباحۃ لا سنۃ ولا واجبۃ، کذا في وجیز الکردري۔ (الفتاویٰ الہندیۃ / الباب الثاني والعشرون في تسمیۃ الأولاد ۵؍۳۶۲ کوئٹہ، حجۃ اللّٰہ البالغۃ / باب العقیقۃ ۲؍۳۷۳ مکتبۃ حجاز دیوبند، شامي / قبیل کتاب الحظر والإباحۃ ۶؍۳۳۶)

فقط واللہ تعالیٰ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
جواب نمبر:7⃣6⃣1⃣

سوال:
کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا عقیقہ کیا تھا؟

جواب :
بعض ضعیف روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت انے اپنا عقیقہ فرمایا تھا لیکن محدثین کے نزدیک یہ روایات ضعیف اور غیر ثابت ہیں اگر مان لے تو مطلب یہ ہوگا کہ آپ اکو علم نہیں تھا اسلئے دوبارہ کیا جیساکہ فتاوی محمودیہ میں ہے یا یہ مطلب ہوگا پہلے کو غیر معتبر سمجھ کر فرمایا ورنہ سیرت کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عبد المطلب نے آپ کی طرف سے عقیقہ کیا تھا حوالہ جات حسب ِ ذیل ملاحظہ ہو ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے :
شرح سفر السعادۃ میں بھی ایسا ہی لکھا ہے کہ حضور اکو اپنے عقیقہ کا علم نہیں تھا اسلئے اپنا عقیقہ کیا تھا … ۔
(فتاوی محمودیہ ۱۱/ ۳۴۶)
اس روایت کو نقل کرنے کے بعد حافظ ابن حجر نے اس کی سند پر تفصیلی بحث کی ہے ،ملاحظہ ہو :
فتح الباری میں ہے :
وکان اشار بذلک الی انّ الحدیث الذی ورد ان النبی ا عق عن نفسہ بعد النبوۃ لا یثبت وہو کذلک …فی احد طریقہ عبد اللہ بن محرّر قال البزار تفرد بہ ، عبد اللہ وہو ضعیف، وفی طریق آخر ، داؤد بن محبر وہو ضعیف ، قال ابن معین ھذا الحدیث لیس بشئی وقال النسائی ، انہ لیس بقوی ، وقال ابو داؤد لا أخرج حدیثہ وتحمل ان یقال : ان صح ھذا الخبر کان من خصائصہ کما قالوا فی تضحیتہ عمن لم یضح من امتہ۔
(فتح الباری ۹/ ۵۹۵باب اماطۃ الاذی عن الصبی فی العقیقہ)
اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ روایت جس میں نبوت ملنے کے بعد آپ ﷺ کا اپنا عقیقہ فرمانا مذکور ہے وہ روایت ضعیف بلکہ غیر ثابت ہے ۔اور اگر صحیح مان بھی لیا جائے یہ آپﷺ کی خصوصیت ہوگی (جیساکہ اوپر کی عبارت میں مذکور ہوا ) نیز حافظ صاحب نے ایک روایت ذکر کی ہے جسکا مفہوم یہ ہے جس کا عقیقہ نہ ہو تو اس کے لئے اس کی قربانی کفایت کر جائے گی ۔ملاحظہ ہو :
عن عبد الرزاق عن معمر عن قتادۃ:من لم یعق عنہ أجزأتہ اضحیتہ۔(فتح الباری ۹/ ۵۹۵،مطبعہ سعودیہ)
سیرۃالمصطفیٰ میں ہے کہ آنحضرت اکی طرف سے عبد المطلب نے عقیقہ کیا تھا ۔
(سیرۃ المصطفیٰ ص۱ ۶۔از حضرت مولانا ادریس صاحب کاندھلویؒ)
خلاصہ: اگر یہ بات درست ہے تو پھر یا تو دوبارہ عقیقہ کرنے کی روایت صحیح نہیں ہے یا پھر عقیقہ کو غیر معتبر سمجھ کر دوبارہ فرمایا۔۔


واللہ اعلم
فتاوی دارالعلوم زکریا1

محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
جواب نمبر:8⃣6⃣1⃣

سوال:
استخارہ کرنا کہاں تک درست ہے اور اس کا طریقۂ کار کیا ہے ؟ استخارہ کرنے کے بعد خواب میں پانی دیکھنا یا پانی سے منہ دھونا ، یا پھر ا نڈے دیکھنا اچھی تعبیر ہے یا نہیں۔

جواب:
استخارہ کے معنی خیر اور بھلائی طلب کرنے کے ہیں ،اسلام سے پہلے عربوں کا طریقہ یہ تھا کہ سفر یا کاروبار شروع کرتے یا نکاح کرتے ، تو دیویوں ، دیوتاؤں کے سامنے جاکر پانسے نکالتے تھے، کسی پانسہ پر ہاں لکھا ہوتا کسی پر نہیں، کسی پر نفع بخش اور کسی پر نقصان دہ، اس عمل کی جڑیں ان کے مشرکانہ عمل میں پیوست تھی ، اس لئے آپ انے اس سے منع فرمایا ، اور اس کے بجائے استخارہ کا حکم فرمایا ، تاکہ اللہ ہی سے انسان اپنے معاملہ میں بھلائی اور بھلائی کی رہنمائی کو طلب کرے۔


(۱) سنن أبي داؤد ، حدیث نمبر :۱۱۷۳۔
جن باتوں کا کرنا واجب یا ناجائز ہو ، ان میں استخارہ نہیں، استخارہ ایسے کاموں کے بارے میں ہے جن میں اللہ تعالی نے دونوں پہلوؤں کی اجازت دی ہو ، (۱)استخارہ کا مقصد رفع تردد ہے کہ اگر کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے بارے میں اطمینان نہ ہو، تو اطمینان حاصل کیا جائے۔
استخارہ کا طریقہ آپ ا نے یہ بتایا کہ دو رکعت نفل نماز پڑھے اور اس کے بعد دعاء کرے :
’’ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ وَاسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ وَ اَسْاَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمِ فَاِنَّکَ تَقْدِرُ وَلَا اَقْدِرُ ، وَتَعْلَمُ وَلاَ اَعْلَمُ ، وَاَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوْبِ ، اَللّٰھُمَّ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ ھٰذَا الْاَمْرَ خَیْرٌ لِّیْ فِيْ دِیْنِیْ وَمَعِیْشَتِیْ وَعَاقِبَۃِ اَمْرِیْ ، اَوْ قَالَ : فِيْ عَاجِلِ اَمْرِیْ وَ آجِلِہٖ ، فَیَسِّرْہُ لِیْ ، ثُمَّ بَارِکْ لِیْ فِیْہِ ، وَاِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ ھٰذَا الْاَمْرَ شَرٌّ لِّيْ فِيْ دِیْنِیْ وَمَعِیْشَتِیْ وَعَاقِبَۃِ اَمْرِیْ، اَوْ قَالَ : فِيْ عَاجِلِ اَمْرِیْ وَ آجِلِہٖ ، فَاصْرِفْہْ عَنِّیْ وَاصْرِفْنِیْ عَنْہُ وَاقْدِرْ لِيَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ ، ثُمَّ ارْضِنِیْ بِہٖ ‘‘(۲)
’’ اے اللہ ! میں آپ کے علم کے مطابق آپ سے بھلائی کا طلب گار ہوں، آپ کے خزانۂ قدرت کا خواستگار ہوں، آپ سے آپ کی عظیم مہربانی مانگتاہوں، آپ قادر ہیں، میں قادر نہیں، آپ باخبر ہیں، میں باخبر نہیں، آپ غیب کی


(۱) دیکھئے : عمدۃ القاری شرح البخاري: ۳/۶۵۰۔
(۲) الجامع للترمذی ، حدیث نمبر : ۴۸۰، باب ماجاء في صلاۃ الاستخارۃ ۔
باتوں کوبھی جانتے ہیں ،اے اللہ ! اگر آپ جانتے ہیںکہ یہ بات میرے لئے دین و دنیا اور انجام کے اعتبار سے بہتر ہے، تو اس کو میرے لئے آسان فرمادیجئے، پھر میرے لئے اس میں برکت دیجئے اور اگر آپ جانتے ہیں کہ یہ چیز میرے لئے دین و دنیا اور انجام کے اعتبار سے بہترنہیں تو اس کو مجھ سے پھیر دیجئے، اور مجھ کو اس سے اور میرے لئے جہاں کہیں بھی بھلائی ہو اس کو میرے لیے مقدر فرما دیجئے ، پھر مجھ کو اس پر راضی کر دیجئے‘‘
اس دعاء کے بعد جس چیز کے بارے میں استخارہ کرنا چاہتے ہیں،اس کا ذکرکرے، ---- دعا ء کے لئے کوئی خاص زبان متعین نہیں ، اگر عربی زبان میں دعاء کرنا دشوار ہو تو اس دعاکامفہوم اردو زبان میں ہی ادا کرسکتے ہیں ،استخارہ کے بعد یہ ضروری نہیں کہ خواب کے ذریعہ ہی رہنمائی ہو ، اور نہ یہ ضروری ہے کہ جو خواب دیکھے وہ استخارہ ہی سے متعلق ہو۔ (۱)استخارہ کرنے کے بعد جس بات پر قلب مطمئن ہوجائے اسے اختیار کریں ، البتہ ممکن ہے کہ کبھی یہ اطمینان ِ قلبی خواب کی بناء پر حاصل ہو جائے، جب تک قلب کو طمانینت نہ ہو ، استخارہ کا سلسلہ جاری رکھنا چاہئے ۔
جہاں تک آپ کے خواب کی بات ہے تو بعض اہل علم نے لکھا ہے کہ خواب میں سفیدی یا سبزہ کو دیکھنا نیک فال ہے، اور اس بات کے بہتر ہونے کی علامت ہے ، اور سیاہ یا سرخ چیز کا دیکھنا اس امر کے نامناسب ہونے کا اشارہ ہے ،مولانا محمد یوسف بنوری ؒ نے علامہ شامی ؒ کے حوالہ سے یہ بات نقل کی ہے ۔ (۲) لہذا آپ کا پانی یاا نڈے دیکھنا بظاہر اس امر کے بہتر ہونے کی طرف اشارہ ہے۔

(۱) دیکھئے : فتح الباری : ۱۱/۱۵۸۔
(۲) معارف السنن : ۴/۲۷۸۔


مستفاد: کتاب الفتاوی

واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:9⃣6⃣1⃣

استخارہ کی حقیقت
فرمایا:استخارہ میں ضروری چیز دورکعت نماز اور دعائے استخارہ ہے باقی سونا اور خواب کا دیکھنا ہرگز شرط نہیں۔ یہ سب کچھ عوام نے تصنیف کررکھا ہے ۔(اسعد الابرار ۱۲۶ ملفوظ ص:۷۷)(اشراف الاحکام ص:۱۰۳)

واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:0⃣7⃣1⃣


سجدہ سہو کے مسائل

۱۔ جس شخص کے ذمہ سجدہ ہوا اور سلام پھیر دے اور بعد میں یاد آئے کہ مجھ پر سجدہ بھی ہے اس سلام سے صلوۃ قطع نہیں ہوئی ،جب سجدہ یاد آئے کرے۔
۲۔ کوئی شخص سجدہ سہو کرچکا پھر اس کے بعد اور ہوگیا تو پھر کیا کرے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ سجدہ کافی ہے جو قبل اسہو کے کرچکا ۔فقہاء کو حق تعالیٰ جزائے خیر دے انہوں نے کس قدر تحقیق کی ہے سوچ سوچ کر مسائل لکھئے ظلم کرتے ہیں وہ لوگ جو ان کی شان میں گستاخی کرتے ہیں ۔خلاصہ یہ ہے کہ جیسے سجدہ سہو مقدم سہو کے لئے کافی ہے اسی طرح مؤخر کے لئے بھی کافی ہے۔(حسن العزیز ج۳ص:۵۵۵)(اشراف الاحکام ص:۱۰۳)

زیادتی تشہد مخل فی الصلوۃ نہیں
یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ ایک شخص نے قصر نماز پڑھی اور سہو تشہد کے بعد کھڑا ہوگیا اور کھڑے ہوتے ہی یاد آگیا کہ یہ قعدہ اخیر ہ ہے فوراً بیٹھ گیا تو اب سجدہ سہو کے لئے اور تشہد پڑھ کر سجدہ کرے یا بلاتشہد پڑھے بیٹھتے ہی سجدہ کرے اور بعد ازاں تشہد پڑھ کر حسب دستور سلام پھیردے۔
فرمایا بیٹھتے ہی سجدہ کرے۔ تشہد قبل السجدہ کی ضرورت نہیں وہ پڑھا ہوا تشہد کافی ہے اور اگر ایسا کیا کہ تشہد پڑھا اس کے بعد سجدہ سہو اور تشہد پھر ادا کیا تب بھی نامز ہوگئی خواہ یہ تشہد قبل السجود و عملاًہو۔فرمایا زادتی تشہد سے نماز میں خرابی نہیں آئی۔ (حسن العزیز ج۴ص۳۵) (اشراف الاحکام ص:۱۰۳)

مستفاد:اشرف الحکام اشرف علی تھانوی رح

واللہ اعلم


محمد امیر۔۔۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:1⃣7⃣1⃣

استخارہ کرنے کا طریقہ
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: حدیث شریف کی روشنی میں بتائیں کہ استخارہ کسے کہتے ہیں؟ اور جب کسی بندہ کو دینی یا دنیاوی کوئی ضرورت پیش آئے، یا کوئی معاملہ خرید وفروخت، عقد نکاح وغیرہ کرنا چاہے، اور اس کی اچھائی برائی یا خیر وشر کو معلوم کرنا ہو تو شریعت میں اس کا کیا طریقہ ہے؟

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:جب کسی شخص کو کوئی اہم معاملہ درپیش ہو اور وہ یہ طے نہ کر پارہا ہو کہ اس کو اختیار کرنا بہتر رہے گا یا نہیں؟ تو اسے چاہئے کہ استخارہ کرے۔ استخارہ کے معنی خیر طلب کرنے کے آتے ہیں، یعنی اپنے معاملہ میں اللہ تعالیٰ سے خیر اور بھلائی کی دعا کرے۔ اور اس کا طریقہ پیغمبر ں نے یہ بتلایا ہے کہ دو رکعت نفل نماز پڑھی جائے، اس کے بعد پوری توجہ کے ساتھ یہ دعا پڑھے:
اللّٰہُمَّ إِنِّیْ اَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ وَاَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ وَاَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمِ، فَإِنَّکَ تَقْدِرُ وَلاَ أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلاَ أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلاَّمُ الْغُیُوْبِ، اَللّٰہُمَّ إِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ ہٰذَا الْأَمْرَ خَیْرٌ لِیْ فِیْ دِیْنِیْ وَمَعَاشِیْ وَعَاقِبَۃِ أَمْرِیْ، أَوْ قَالَ عَاجِلِ أَمْرِیْ وَاٰجِلِہٖ فَاقْدُرْہُ لِیْ وَیَسِّرْہُ لِیْ ثُمَّ بَارِکْ لِیْ فِیْہِ، وَإِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ ہٰذَا الأَمْرَ شَرٌّ لِیْ فِیْ دِیْنِیْ وَمَعَاشِیْ وَعَاقِبَۃِ أَمْرِیْ أَوْ قَالَ عَاجِلِ أَمْرِیْ وَاٰجِلِہٖ فَاصْرِفُہُ عَنِّیْ وَاصْرِفْنِیْ عَنْہُ وَاقْدِرْ لِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ ثُمَّ رَضِّنِیْ بِہٖ۔ قَالَ وَیُسَمِّیْ حَاجَتَہٗ۔ (صحیح البخاري رقم: ۱۱۶۶، سنن الترمذي ۴۰۸، سنن أبي داؤد ۱۵۳۸)
ترجمہ:- اے اللہ! میں آپ کے علم کے ذریعہ خیر کا طالب ہو، اور آپ کی قدرت سے طاقت حاصل کرنا چاہتا ہوں، اور آپ کے فضلِ عظیم کا سائل ہوں، بے شک آپ قادر ہیں اور میں قدرت نہیں رکھتا، اور آپ کو علم ہے کہ میں لاعلم ہوں، اور آپ چھپی ہوئی باتوں سے اچھی طرح واقف ہیں۔ اے اللہ! اگر آپ علم کے مطابق یہ کام (یہاں اس کام کا تصور کرے) میرے حق میں دینی، دنیوی اور اخروی اعتبار سے (یا فی الحال اور انجام کار کے اعتبار سے) بہتر ہے، تو اسے میرے لئے مقدر فرمائیے، اور اسے میرے حق میں آسانی کرکے اس میں مجھے برکت سے نوازے، اور اگر آپ کو علم ہے کہ یہ کام (یہاں کام کا تصور کرے) میرے حق میں دینی، دنیوی اور اخروی اعتبار سے (یا فی الحال اور انجام کے اعتبار سے) برا ہے تو اس کو مجھ سے اور مجھے اس سے ہٹادے اور جس جانب خیر ہے وہی میرے لئے مقدر فرمادے، پھر مجھے اس عمل سے راضی کردے۔
دعا پڑھتے ہوئے جب ہٰذا الأمر پر پہنچے تو دونوں جگہ اس کام کا دل میں دھیان جمائے جس کے لئے استخارہ کررہا ہے یا دعا پوری پڑھنے کے بعد اس کام کو ذکر کرے۔ دعا کے شروع اور اخیر میں اللہ کی حمد وثناء اور درود شریف بھی ملالے، اور اگر عربی میں دعا نہ پڑھی جاسکے تو اردو یا اپنی مادری زبان میں اسی مفہوم کی دعا مانگے۔

ومنہا رکعۃ الاستخارۃ عن جابر بن عبد اللّٰہ قال: کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یعلمنا الاستخارۃ في الأمور کلہا … الخ۔ رواہ الجماعۃ إلا مسلمًا۔ شرح المنیۃ … ویسمی حاجتہ قال ط: أي بدل قولہ ہٰذا الأمر قلت: أو یقول بعدہ وہو کذا وکذا … وفي الحلیۃ: ویستحب افتتاح ہٰذا الدعاء وختمہ بالحمدلۃ والصلاۃ۔ (الدر المختار مع الشامي / باب الوتر والنوافل ۲؍۴۷۰ زکریا)


مستفاد:کتاب النوازل

واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:2⃣7⃣1⃣

سوال # 63030
(۱) میت کی نمازِ جنازہ پڑھانے کا سب سے زیادہ حق کس کا ہے ؟
(۲) اگر میت کا سگا رشتے دار مثلاً بھائی، باپ، بیٹا وغیرہ امام مسجد کی بجائے خود امامت کرنے کا مطالبہ کرے تو اسکا یہ مطالبہ ازروئے شریعت کیسا ہوگا ؟
(۳) نیز کیا کوئی شخص اپنی بیوی کی نماز جنازہ کی امامت کرسکتا ہے ؟
Published on: Jan 18, 2016 جواب # 63030
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 299-299/M=4/1437-U

(۱، ۲) نماز جنازہ پڑھانے کا حق سب سے پہلے سلطان کو ہے پھر اس کے نائب (امیر شہر) کو پھر قاضی کو پھر امیر بلدہ کو پھر قاضی کے نائب کو پھر امام مسجد کو بشرطیکہ وہ ولی سے افضل ہو، وُلاة کی تقدیم واجب ہے اور امام کی مندوب، اگر امام محلہ صالح دین دار اور ولی سے افضل ہے تو ولی میت کو چاہیے کہ امام سے نماز پڑھانے کی درخواست کرے ورنہ ولی کو خود نماز پڑھانے کا زیادہ حق ہے، اگر میت کے رشتے داروں میں بھائی، بیٹا اور باپ سبھی موجود ہوں تو باپ کو زیادہ حق ہے، اگر ولی میت خود نماز جنازہ پڑھانے کا مطالبہ کرے تو اس کو اس کا حق ہے لیکن امام مسجد اگر اس سے افضل ہو تو ولی امام کو نماز پڑھانے کی اجازت دے دے یہ بہترہے ۔ ویقدّم في الصلاة علیہ السلطان إن حضر أو نائبہ وہو أمیر المصر ثم القاضي ثم صاحب الشرط ثم خلیفة القاضي ثم إمام الحي․․․ فیہ إیہام وذلک أن تقدیم الولاة واجب وتقدیم إمام الحي مندوب فقط بشرط أن یکون أفضل من الولي وإلا فالولي أولی کما في المجتبی (درمختار)
(۳) کرسکتا ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail