جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
1.42K subscribers
117 photos
36 files
685 links
"جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند" میں روزانہ ایک دو مسئلہ مدلل ومزین انداز میں بطورِ استفادہ آپ کو ملے گا،

آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda

https://www.hanafimasail.com/?m=1
Download Telegram
جواب نمبر:2⃣4⃣1⃣

مذہب حنفی میں راجح اور صحیح ہے کہ مسجد جماعت میں نمازجنازہ مطلقاً مکروہ ہے
سوال: تبلیغی کانفرنس صوبہ متحدہ آگرہ اودھ امسال خورجہ میں منعقدہوئی ہے، جس کے صدر حضرت مولانا حسین احمد صاحب مدنی صاحب صدر مدرس مدرسہ عالیہ دیوبندقرار پائے ہیں، حضرت مولانا جمعہ کے دن خورجہ تشریف لے آئے،جمعہ کے دن بعدنمازجمعہ ایک جنازہ کی نمازجنازہ کومسجدکے اندر رکھ کر اور مصلی باہرمسجد مولانا نے نماز پڑھائی، جس وقت کہ جنازہمسجد کے اندر رکھاگیاتو عبداللہ خان گنج والوں نے مولانا سے عرض کیا کہ مسجد کے اندر جنازہ رکھ کر  پڑھنا مکروہ تحریمی ہے، اس پر مولانا نے فرمایا کہ نہیں جائز ہے، آپ نمازپڑھ لیں، میں بعدنماز آپ کااطمینان کردوں گا، مگرعبداللہ خان بھائی نے نماز نہیں پڑحی اور عرض کیا کہ تمام حضرات دیوبندسے کہ جو آج قبروں میں بھی آرام فرمارہے ہیں، اور موجودہ بھی ہیں یہی سنتے رہے ہیں کہ مسجدکے اندر جنازہ کی نمازمکروہ ہے، چونکہ مجمع ہزار پانچ سو آدمیوں کا تھا بڑی  قیل وقال ہوئی،بعدنماز ایک اور صاحب نے عرض کیاکہ مولانا اس مسئلہ کوحل فرماتے جایئے گا کہ جنازہ مسجد کے اندر رکھ کر نماز پڑھناجائز ہے یا  نہیں، ورنہ احتمال رہے ہے کہ خورجہ والوں کے سرپھوٹنے لگیں، اس پر مولانا نے فرمایا کہ شوافع کے یہاں بالکل درست ہے، اور احناف کے یہاںجنازہ کو مسجد کے اندر رکھ کر نمازپڑھنے میں اختلاف ہے، ایک جواز کی طرف اور دوسرا عدم جواز کی طرف او رمکہ میں یہی ہوتاہے اور مدینہ میںمسجد کے اندرجنازہ رکھ کرنمازپڑھی جاتی ہے، اس پرایک صاحب نے عرض کیاکہ مولانا ہم رواج اور رسم دریافت نہیں کرتے ہیں، حدیث شریف میں کیاحکم ہے، مولانا نے حدیث شریف پڑھ دی، اس کے بعد لوگوں نے مولوی صاحب اور قاری صاحب سے دریافت کیا، دونوں صاحبوں نے اس صورت کو متفق علیہ مکروہ تحریمی بتایا، اور اگرجنازہ مسجد سے باہر ہو اور مصلیان داخل فی المسجدتو اس صورت کو احناف کے یہاں مختلف فیہ کہا، مگرراجح یہی ہے کہ اس صورت میں نمازدرست ہے، بالآخر مولانا حسین احمد صاحب کے سامنے ایک استفتاء پیش کیاگیاہے جس میں صورت کااحکم ازروئے فقہ حنفی دریافت کیاہے، مولانا نے فرمایا کہ اگر طحطاوی یا مراقی الفلاح ہوتو میں ابھی دکھادوں، اس پر عرض کیاگیا کہ یہاں یہ دونوں کتابیں نہیں ہیں، جب بندہ کو علم ہواکہ مولانا مراقی الفلاح مانگتے ہیں تب میں نے مولوی صاحب سے عرض کیا کہ مراقی الفلاح میں جناب کو مکہ سے لاکر پیش کی ہے، ایسامعلوم ہوتا تھا کہ مولوی صاحب مولانا سے بالمشافاۃ گفتگو کرنے میں گریزکرتے تھے، بہرحال مولانا اس استفتاء کو دیوبند لے گئے ہیں، مگر ہفتہ ہواکہ جواب نہیں آیا ، دیکھئے کیاجواب مرحمت فرماتے ہیں، حضور والا صورت مسطورہ میں فقہ حنفی میں کچھ گنجائش جواز کی ہے یا نہیں؟
الجواب: اس مسئلہ میں مولانا حسین احمد صاحب نے جو فرمایا ہے صحیح ہے، احناف کے علماء میں جنازہ کو مسجد کے اندر رکھ کر بشرطیکہ مقتدی وامام سب  باہرہوں نماز پڑھنے میں بھی اختلاف ہے، بعض نے اس کو جائز کہاہے، شرح مراقی الفلاح میں ہے، فلوکان المیت موضوعاً فی المسجد والناس خارجہ لاتکرہ وبالعکس تکرہ کما فی الجوھرۃ قال الطحطاوی (ص ۳۴۷۷ ) وفیہ ان المیت یشغل المسجد بقدر جنازتہ،
مگرعلماء احناف کے اقوال مختلف ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ مذہب میں بھی اختلاف ہے بلکہ جب کسی مسئلہ میں اقوال مختلف ہوتے ہیں تو مذہب ان میں سے ایک ہوتا ہے، اور مذہب وہ ہے جس کو اہل متون نے اختیارکیاہو، پس مذہب حنفی میں راجح اورصحیح یہ ہے کہ مسجد جماعت میں نماز جنازہبہرحال مکروہ ہے، خواہ جنازہ تنہا مسجد کے اندر ہو اور مقتدی اور امام باہریامقتدی وامام مسجد کے اندر ہواورجنازہ باہر، یاامام اور جنازہ تنہا یا مع بعض قوم کے باہرہوں اور باقی مقتدی اندر،جیساکہ درمختار اور شامی ص ۹۲۴ ج  ۱ سے ظاہر ہے ، البتہ چونکہ اس مسئلہ میں شوافع اور خود علماء حنفیہ کے درمیان اختلاف ہے، اس لیے مولانا حسین احمد صاحب کے فعل پرشدت کے ساتھ انکار کرنا بے جا تھا، اور مولانا کو بھی مناسب تھا کہ چونکہ منکر کاانکار بالکل غلط نہ تھا بلکہ مذہب مختاروصحیح کے موافق تھا اس لیے اس کے انکار کوعملاً تسلیم کرلیتے ہیں اور بعد میں قولاً اس کی اصلاح فرمادیتے کہ مسئلہ مختلف فیہ ہے، اس میں صورت کی بھی گنجائش ہے جس پر آپ نے انکارکیاتھا، اس لیے شدت کے ساتھ انکار مناسب نہ تھا۔

واللہ اعلم، ۲۴ جمادی الثانی ۴۷ھ

محمد امیر۔۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:3⃣4⃣1⃣

مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا مکروہ ہے

سوال:
کیا مسجد شریف میں نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے،یا نہیں اگر جائزنہیں تو عرب میں حج کے موقع پر کیوں مسجد میں نمازجنازہ پڑھی جاتی ہے۔؟

جواب:
قال فی الدرالمختار(وکرت تحریما)وقیل (تنزیھا فی مسجد جماعة ھو)ای المیت (فیہ) وحدہ او مع القوم(اواختلف فی الخارجة)عن المسجد وحدہ او مع بعض القوم(والمختار الکراہة)مطلقا خلاصة بناءا علی ان المسجد انما بنی للمکتوبة وتابعھا الخ۔ وھو الموافق لاطلاق حدیث ابی دود من صلی علی میت فی المسجد فلا صلاة لہ قال فی ردالمختار قولہ فلا صلوة لہ ھذہ روایة ابن ابی شیبة وروایة احمد وابی دود فلا شیئ لہ الخ۔وفیہ قبیلہ من صلی علی میت فی مسجد یقضی کون المصلی فی المسجد سواء کان المیت فیہ او لا فیکرہ ذلک اخذ من منطوق الحدیث ویویدہ ما ذکرہ العلامة قاسم فی رسالتہ من انہ روی ان النیی صلی اللہ علیہ وسلم لما نع النجاشی الی اصحابہ خرج فصلی علیہ فی المصلی قال ولو جازت فی المسجد لم یکن للخروج معنی اہ مع ان المیت کان خارج المسجد۔
(شامی653/1باب صلوة الجائز۔

ان روایت سے واضح ہے کہ عند الحنفیہ مسجد جماعت میں نماز جنازہ مکروہ ہے۔اور اس میں اختلاف ہے کہ مکروہ تحریمی ہے یا تنزیہی۔ حاشیہ مشکوة کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ مکروہ تنزیہی کو ترجیح ہے۔ویظھران الاولی کونھا تنزیھا اذ لحدیث لیس ھو نصاغیر معروف والاقرن الفعل بوعید(حاشیہ مشکوة شریف 145)

واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:4⃣4⃣1⃣

نماز جنازہ کے فوراً بعد فاتحہ پڑھنا اور ہاتھ اٹھاکر دعا کرنا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: نماز جنازہ پڑھ کر فوراً ہی میت کے اوپر فاتحہ پڑھنا اور ہاتھ اٹھاکر دعا کرنا یعنی یہ دونوں امور بعد نماز جنازہ متصلاً کرنا کیسا ہے؟

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:نماز جنازہ خود دعا ہے، اس کے بعد پھر فاتحہ پڑھنا یا ہاتھ اٹھاکر دعا کرنا ثابت نہیں ہے؛ بلکہ کتبِ فقہ میں اس کے بارے میں منع آیا ہے۔

لا یقوم بالدعاء بعد صلاۃ الجنازۃ۔ (خلاصۃ الفتاویٰ ۱؍۵۲۵)
ولا یدعو للمیت بعد صلاۃ الجنازۃ؛ لأنہ یشبہ الزیادۃ في صلاۃ الجنازۃ۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الجنائز / باب المشي بالجنازۃ والصلاۃ علیہا، الفصل الثالث ۴؍۱۷۰ رقم: ۱۶۸۷ رشیدیۃ، الفتاویٰ البزازیۃ علی ہامش الفتاویٰ الہندیۃ ۴؍؍۸۰ رشدیۃ)

فقط واللہ تعالیٰ اعلم



نماز جنازہ کے بعد دعا کرنا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: نماز جنازہ ختم ہونے کے ساتھ ساتھ دعاء کرنے کا ثبوت ہے یا نہیں؟

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:نماز جنازہ خود دعاء ہے؛ لہٰذا اس کے بعد دعاء کرنے کا ثبوت نہیں ہے، اور نہ ہی سلفِ صالحین سے ثابت ہے۔

(فتاویٰ محمودیہ ۸؍۷۱۲، فتاویٰ دارالعلوم ۵؍۳۵۲، کفایت المفتی ۴؍۱۵۸)
فقد صرحوا عن اٰخرہم بأن صلاۃ الجنازۃ ہي الدعاء للمیت؛ إذ ہو المقصود منہا۔ (رد المحتار، کتاب الصلاۃ / باب الجنائز ۲؍۲۱۰ کراچی، ۳؍۱۰۶ زکریا)
قال القاري في شرح المشکاۃ: ولا یدعي للمیت بعد صلاۃ الجنازۃ؛ لأنہ یشبہ الزیادۃ في صلاۃ الجنازۃ۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الجنائز / باب المشي بالجنازۃوالصلاۃ علیہا ۴؍۱۷۰ رقم: ۱۶۸۷ رشیدیۃ)
قال في خلاصۃ الفتاویٰ: لا یقوم الرجل بالدعاء بعد صلاۃ الجنازۃ۔ (خلاصۃ الفتاویٰ ۱؍۲۲۵ رشیدیۃ، بحوالہ حاشیۃ: فتاویٰ محمودیہ ۸؍۷۰۸ ڈابھیل)
وقال في شرح المنیۃ: وفي السراجیۃ: إذا فرغ من الصلاۃ لا یقوم بالدعاء۔ (الفتاویٰ السراجیۃ، کتاب الجنائز / باب الصلاۃ علی الجنازۃ ۲۳۳ کراچی)

فقط واللہ تعالیٰ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:5⃣4⃣1⃣


نماز جنازہ کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا۔
سوال:
حضور اکرم ﷺ نے کسی بھی صحابی کی نماز جنازہ پڑھنے کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی یا نہیں؟ نمازِ جنازہ کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا کیسا ہے؟

جواب:
نماز جنازہ کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعاء مانگنا نہ نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے نہ دوسرے صحابہ کرامؓ سے۔ لہذا آج کل جو رواج چل پڑا ہے اور اس طرح ضروری سمجھتے اور اس کے ترک پر نکیر کرتے ہیں، وہ بدعت اور واجب الترک ہے۔

(۱) و فی مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ ص۴۶ ج۴ (مکتبہ امدادیہ ملتان): ولا یدعو للمیت بعد صلوۃ الجنازۃ، لانہ یشبہ الزیادۃ فی صلوۃ الجنازۃ۔
وفی البزابیۃ (علی الھندیۃ ص۸۰ ج۴): لا یقوم بالدعاء بعد صلوۃ الجنائز، لانہدعا مرۃ لان اکثرھا دعائ، وفی خلاصۃ الفتاوی ص۲۲۵ ج۱ (طبع امجد اکیڈمی لاہور): ولا یقوم بالدعاء ففی قراء ۃ القرآن لاجل المیت بعد صلوۃ الجنازۃوقبلھا، وفی البحر الرائق ص۱۸۳ ج۲ (طبع سعید): لا یدعو بعد التسلیم۔
وفی فتاوی السراجیۃ علی قاضیخان (ص۱۴۵ ج۱): اذا فرغ من الصلوۃ لا یقوم داعیا لہ۔ وفی جامع الرموز فصل فی الجنائز ج۱ ص۲۸۳ (طبع ایچ ایم سعید): لا یقوم داعیا لہ، وفی نفع المفتی والسائل ص۱۴۳ (طبع کتب خانہ رحیمیہ دیوبند یوپی): الدعاء بعد الجنازۃ مکروہ۔ نیز مزید دیکھئے امداد الاحکام ص۱۹۴ ج۱  و امداد المفتین ص۱۷۶۔ (محمد زبیر)


واللہ اعلم

مستفاد:فتاوی عثمانی

محمد امیر۔۔۔۔۔۔


دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:6⃣4⃣1⃣

نماز جنازہ کے بعد دعا مانگنا
سوال:
نماز جنازہ کے بعد دعاء مانگنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:
نماز جنازہ خود دعا ہے، اور اس کے بعد دعا کا اہتمام کسی حدیث یا  صحابہ و تابعین کے عمل سے ثابت نہیں، لہٰذا آجکل بعض حلقوں میں جس اہتمام اور اصرار کے ساتھ یہ عمل کیا جاتا ہے وہ بدعت ہے۔
(کذا فی عزیز الفتاوی ص۳۸۹ ج۱)

فتاوی دار العلوم دیوبند ص۲۸۹ ج۱، مرقاۃ المفاتیح ج۴/۶۴ (مکتبہ امدادیہ ملتان)، بزازیہ مع الھندیۃ ۴/۸۰ (رشیدیہ کوئٹہ)، خلاصۃ الفتاوی ۱/۲۲۵ (امجد اکیڈمی لاہور)، بحر الرائق ۲/۱۸۳، جامع الرموز ص۲۸۳ ج۱ (طبع سعید)، نفع المفتی و السائل ص۱۴۳ (طبع کتب خانہ رحیمیہ دیوبند یوپی)، امداد الاحکام ۱/۱۹۴، امداد المفتین ص ۱۷۶۔

واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:7⃣4⃣1⃣

نماز جنازہ اور تدفین کے بعد کی دعاء
سوال:
کیا نمازِ جنازہ کے بعد دوبارہ دعاءکرنا چاہئے ؟ بعض لوگ تدفین کے بعد دعاء کرتے ہیں، نیز تدفین کے بعد سرہانے اور پائتی سورۂ بقرہ کی ابتدائی اور آخری آیات پڑھی جاتی ہیں، اس کا کیا حکم ہے ؟

جواب:
(الف) نمازِ جنازہ خود دعاء ہے ، دوبارہ ہیئت میں تبدیلی یعنی دفن سے پہلے دعاء کرنا احادیث سے ثابت نہیں ۔
(ب) تدفین کے بعد دعاء کی جاسکتی ہے کہ یہ حدیث سے ثابت ہے ۔(۱)
( ج) قبر کے سرہانے اور پائتی سورۂ بقرہ کا پہلا اورآخری رکوع پڑھنا بھی حدیث میں منقول ہے ، (۲)اس لئے اسے پڑھنا چاہئے ۔
(۱) صحیح مسلم ، حدیث نمبر : ۲۲۵۵ ، باب ما یقال عند دخول القبور و الدعاء لأھلھا، دیکھئے: سنن أبي داؤد ، حدیث نمبر : ۳۲۲۱ ، باب الاستغفار عند القبر للمیت في وقت الانصراف۔ محشی ۔
(۲) سنن أبي داؤد ، حدیث نمبر : ۳۱۹۹ ، باب الدعاء للمیت ۔ محشی ۔

واللہ اعلم


Pakistanسوال # 145435
میرا سوال یہ ہے کہ کیا جب میت کو دفن کیا جاتا ہے تو اس کے بعد اس کے سر اور پیر کی جانب کھڑا ہو کر تلقین کی غرض سے سورة الفاتحہ، البقرہ کا پہلا رکوع اور پھر البقرہ کا آخری رکوع پڑھنا کسے صحیح حدیث سے ثابت ہے ؟
برائے کرم جواب جلد عنایت فرمائیں۔
Published on: Jan 9, 2017 جواب # 145435
بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 19-320/L=4/1438


میت کی تدفین کے بعد میت کے سرہانے کھڑے ہوکر سورہٴ بقرہ کی ابتدائی آیات ”المّ“ سے ”مفلحون“ تک پڑھنا اور پیر کی جانب سورہٴ بقرہ کی آخری آیات ”آمن الرسول سے اخیر آیت تک پڑھنا حدیث سے ثابت ہے، حدیث میں کچھ ضعف ہے لیکن فضائل اعمال میں معتبر ہے، بیہقی اور طبرانی کی روایت میں فاتحة الکتاب کی صراحت ہے؛ البتہ مشکاة میں یہی روایت بحوالہ بیہقی ”فاتحة البقرة“ کے ساتھ مذکور ہے اور ملا علی قاری نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے الم سے مفلحون تک پڑھنا لکھا ہے اور علامہ طیبی کے حوالے سے اس کی وجہ اور حکمت بھی لکھی ہے، اس لیے ممکن ہے کہ بیہقی اور طبرانی کی روایت میں مذکور ”فاتحة الکتاب“ سے ”فاتحة البقرة“ ہی مراد ہو، ویسے ایصالِ ثواب کی غرض سے سورہٴ فاتحہ کی تلاوت کرنے میں بھی مضایقہ نہیں ہے۔ عن عبد ا للہ بن عمر -رضي اللہ عنہما- سمعت النبی -صلی اللہ علیہ وسلم- یقول: إذا مات أحدکم فلا تحبسوہ وأسرعوا بہ إلی قبرہ ولیقرأ عند رأسہ بفاتحة الکتاب، وعند رجلیہ بخاتمة البقرة في قبرہ (رواہ البیہقي في شعب الإیمان رقم: ۹۷۹۴، والطبراني في الکبیر، رقم: ۱۳۶۱۳، قال الہیثمی في المجمع (۴۴۱۳) وفیہ یحی ابن عبد اللہ الباہلی وہو ضعیف وفی المرقاة: ولیقرأعند رأسہ فاتحة البقرة أي: إلی المفلحون․ وعند رجلیہ بخاتمة البقرة أي من آمن الرسول الخ قال الطیبي: لعل تخصیص فاتحتہا لاشتمالہا علی مدح کتاب اللہ، وأنہ ہدی للمتقین، الموصوفین بالخلال الحمیدة من الإیمان بالغیب، وإقامة الصلاة، وإیتاء الزکاة، وخاتمتہا لاحتوائہا علی الإیمان باللہ وملائکتہ وکتبہ ورسلہ، وإظہار الاستکانة، وطلب الغفران والرحمة، والتولی إلی کنف اللہ تعالی وحمایتہ․․․ قال النووی فی الأذکار: قال محمد بن أحمد المروزی: سمعت أحمد بن حنبل یقول: إذا دخلتم المقابر فاقروٴا بفاتحة الکتاب والمعوذتین، وقل ہو اللہ أحد، واجعلوا ثواب ذلک لأہل المقابر، فإنہ یصل إلیہم․ (مرقاة: ۴/ ۸۱باب دفن المیت)


واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


محمد امیر۔۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:8⃣4⃣1⃣

نمازجنازہ کے بعددعا بدعت ہے
سوال:
نمازجنازہ پڑھنے کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرنامکروہ ہے یانہیں؟

الجواب:
قال فی حاشیۃ مالا بدمنہ وبعد سلام برائے دعا ایستادن ہم نشاید بلکہ درحمل جنازہ مشغول شومذ، کذافی الدرالمختار دزاداللبیب اھ (ص ۸۲۲) قلت لم اجدہ فی الدروالشامیۃ فلعلہ فی زاداللبیب والاصل فیہ ان الصلوٰۃ علی الجنازۃوضعت للدعافلامعنی للدعا ء بعد الدعاء فلایصح القیاس علی الصلوات المکتوبۃ وایضاً فذلک ینقل عن السلف، پس نمازجنازہ سے فارغ ہوکر دعاکرنا بھی بدعت ہے اور رفع یدین دعا کے ساتھ ہی ہے تو وہ بھی قابل ترک ہے،

واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:9⃣4⃣1⃣

نماز جنازہ کے بعد دعا کرنے کا عدم جواز:
سوال: بعد سلام نماز جنازہ کے دعا کرنا اچھا ہے یا نہیں؟
الجواب: بعد سلام بھی نماز جنازہ میں دعا پڑھنا اچھا ہے،
کتبہٗ احمدحسن
باردوم(سوال) بعد نماز جنازہ دعاء مانگنا جائز ہے یا نہیں۔
(جواب اوّل) از مولوی احمد حسن۔
یہ مسئلہ مختلف فیہا ہے، برجندی شرح مختصر وقایہ میں ہے ’’ولا یقوم بالدعاء بعد صلاۃ الجنازۃ لانہ یشبہ الزیادۃ فیھا کذافی المحیط وعن ابی بکر بن حامد ان الدعاء بعد صلاۃ الجنازۃ مکروہ وقال محمد بن الفضل لا باس بہ کذافی القنیہ (ج ۱ ص۱۹۰) اور صلاۃ جنازہ گوحقیقتاًدعا ہے مگر صورتاً تو نماز ہے اور ہر نماز کے بعد دعاء مسنون ہے لعموم الادلۃ ، پس اس عموم سے نماز جنازہ کے بعد بھی دعا کو مسنون کہہ سکتے ہیں، اور  جنہوں نے مکروہ کہا ہے تو ظاہر یہ ہے کہ مکروہ تنزیہی مراد لیا ہے اورلاباس بہ کا کلمہ گو اکثر ترک اولی (یعنی جس کا جانب مخالف جائز اور مباح ہو) کے موقعہ پر ہوا کرتاہے مگر کبھی مستحب کے معنی میںبھی ہوا ہے صرح بہ فی ردالمحتار (ج ۱ ص۱۲۴) پس یہ کلمہ یا تو یہاں مستحب پر معمول ہے یا جواز پر بتقریر مذکور بلکہ بقرینہ مقابلہ قولین بھی کیونکہ مکروہ تنزیہی کے معنی ظاہر میں کہ جس کا نہ کرنا اولی ہو اور کرنا ناپسندیدہ ہو۔ سوا اگر لاباس بہ سے بھی یہی مراد ہوتی تو اس قول کا لکھنا بظاہر تکرار غیر مفید ہوتا۔
غرض دونوں طرف وسعت ہے۔ استحباب میںبھی اورعدم استحباب میں بھی ، اور احقر کے نزدیک استحباب راجح ہے، ’’وللناس فیما یعشقون مذا ھب‘‘ 
فقط۔
کتبہ احمد حسن
(جواب ثانی)…(الجواب ھواالموفق للصواب)
اس مسئلہ میں کتب فقہ میں دور وایتیں پائی جاتی ہیں، ایک روایت عدم جواز کو مقتضی ہے اوردوسری روایت جواز بکراہت کو چنانچہ البحرالرائق جلد دوم ص۱۸۳ میں ہے ، وھی اربع تکبیرات بثناء بعد الاولیٰ وصلوۃ علی النبی صلی اﷲ علیہ واٰلہ وسلم بعد الثانیۃ ودعاء بعد الثالثۃ وقید بقولہ الثالثۃ لانہ یدعو بعد التسلیم کمافی الخلاصۃ وعن الفضلیؒ لا باس بہ انتہی۔ 
پہلی عبارت عدم جوا زپر دال ہے، جس کو صاحب بحر نے قوی قرار دیا ہے، اور دوسری عبارت جو بطور روایت فضلیؒ سے نقل کیا ہے جس میں لاباس بہ مذکور ہے وہ مشیر بجواز ہے، علی ہذا برحبذی میںجو محیط سے نقل کیا ہے وہ یہ ہے لا یقوم بالدعاء بعد صلاۃ الجنازۃ لانہ یشبہ الزیادۃ فیھا کذافی المحیط وعن ابی بکر ابن حامدؒ ان الدعاء بعد صلاۃ الجنازۃ مکروہ وقال محمد بن  الفضل لا باس بہ اور اسی طرح یہ دونوں قول صاحب قنیہ سے بھی نقل کئے گئے ہیں،
اورملا علی قاری شرح ۱؎ مشکوۃ باب الجنائز تحت حدیث مالک بن ہبیرہ تحریر فرماتے ہیں ولاید عو للمیت بعد صلاۃ الجنازۃ لانہ یشبہ الزیادۃ فی صلاۃ الجنازۃاور کبیری میں ہے فی ۳؎ السراجیۃ اذا فرغ من الصلاۃ لا یقوم بالدعاء بالجملہ ان عبارتوں سے عدم جواز دعاء کی ترجیح ثابت ہوتی ہے، اوریہ گفتگو محض دعابعد صلاۃ الجنازہ کے متعلق ہے، لیکن اصل سوال اس دعاء کے متعلق واقع ہے جو اس زمانہ میں بعض بلاد میںمتعارف ہورہا ہے، بعض بلاد میں تو یہ متعارف ہے کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد ایک شخص حاضرین کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ ہر شخص بارہ بارہ دفعہ سورہ اخلاص پڑھ کر اس کا ثواب میت کو پہونچائے، اور بعض بلاد میں یہ متعارف ہے کہ نماز جنازہ سے فارغ ہوکر دعا میں مشغول ہوتے ہیں اور اس دعاء کا اس قدر التزام کیاہے کہ واجب کے درجہ میں پہنچادیا ہے کہ اگر کوئی شخص اس میں شریک نہ ہو تو اسکو وہابی اور بے دین کہتے ہیں ایسی حالت میںیہدعاء بعدصلاۃ الجنازہ اس وجہ سے بھی زیادہ ممنوع ہوگئی کہ حد بدعت میں داخل ہوگئی۔
علاوہ ازیں حدیث شریف میں جنازہ کے متعلق اسرعو اکا حکم ۳؎  ہے اور یہ تاخیر جو سورئہ اخلاص پڑھنے کی وجہ سے یا دعاء میں مشغول ہورہنے کی وجہ سے ہوئی وہ اس امر بالا سراع کے منافی ہے لہٰذا مکروہ اور ناجائز ہوگی۔
یہ سوال مولانا مفتی سعد اللہ رامپوری رحمۃ اللہ علیہ سے بھی کیا گیا ہے، چنانچہ ہم مختصراً اس کو فتاوی سعدیہ سے نقل کئے دیتے ہیں۔
استفتاء: ماقولہم دریں مسئلہ کہ بعد نماز جنازہ خواندن سورئہ اخلاص وفاتحہ ودعابرائے میت جائز است یانہ ۔ بینوا توجروا۔
الجواب: خالی از کراہت نیست زیرا کہ اکثر فقہاء بوجہ زیادہ بعدن برامرِ مسنون منع میکند وبعضے میگو یدلاباس بہ کلمۃ لابأس بہ اکثر درکراہت تنزیہی مستعمل می شود، وفی البر جندی لایقومہ بالدعاء بعد صلاۃ الجنازۃ لانہ یشبہ الزیادۃ فیھا کذافی المحیط وعن ابی بکر بن حامد ان الدعاء بعد صلاۃ الجنازۃ مکروہ وقال محمد بن الفضل لاباس بہ انتہی۔ وفی القنیۃ عن ابی بکر بن حامد ان الدعاء بعد صلاۃ الجنازۃ مکروہ وقال محمد بن الفضل لاباس بہ ناقلا عن المحیط ویضا فیہ لا یقول الرجل بالدعاء بعد صلاۃ الجنازۃ ۔ قال رضی اللہ عنہ لانہ  یشبہ الزیادۃ فی صلاۃ الجنارۃ ناقلا عن علاء اسعدی وشرح السرخسی ۔ وفی خلاصۃ الفتاوی لا یقوم بالدعاء بعدصلاۃ الجنازۃ انتہی۔ بقدر الحاجۃ ۱؎۔
پس مجیب
نے جو اولاً وثانیاً جواب میںمساہلء اور مسامحت کی ہے وہ قابل اعتبار نہیں، جواب صحیح یہی ہے کہ دعا بعد صلاۃ الجنازہ خصوصاًدہ دعا جو متعارف بلاد ہے قطعاً بدعت و ناجائز ہے،
حررہ خلیل احمد عفی عنہ، مہتمم مدرسہ مظاہر علوم
صحیح الجواب۔ عنایت الہٰی عفی عنہ 
الجواب صحیح۔ ثابت علی عفی عنہ
الجواب صحیح۔ وہو صریح الحق بندہ محمد الیاس عفی عنہ (کاندھلوی)
الجواب صحیح۔ عبدالوحید عفی عنہ
الجواب صحیح۔ منظور احمد عفی عنہ
الجواب صحیح۔ عبدالرحمن عفی عنہ


محمد امیر۔۔۔


دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:0⃣5⃣1⃣

نماز جنازہ کے بعد دعاء مشروع نہیں۔

سوال:
عن ابی ھریرة رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا صلیتم المیت فاخلصوالہ الدعاء(ابودود وابن ماجہ)عن وائلة بن الاسقع قال صلی بنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی رجل من المسلمین فسمعتہ یقول اللھم ان فلانبن فلان فی ذمتک وحبل جوارک فقہ من فتنة القبر وعذاب النار وانت اھل الوفاء والحق اللھم مغفرلہ والرحمہ انک انت الغفور الرحیم (ابو دود وابن ماجہ) جنازہ کے بعد دعاء مشروع نییں ہے یا ہے۔؟
الجوب:
نماز جنازہ کے بعد دعا مشروع نہیں ہے (2)اور ان احدیث میں دعا سے مراد نماز جنازہ کی دعا ہے یعنی پہلی حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب تم نماز جنازہ پڑھو تو اس کے اندر دعاء جنازہ اخلاص کے ساتھ، اسی طرح دوسری حدیث میں صاف یہ موجود ہے کہ دعا نماز جنازہ مراد ہے۔

(2)ولا یدعو للمیت بعد صلاة الجنازة لانہ یشبہ الزیادة فی صلاة الجنازة۔
(مرقاة المفاتیح شرح مشکوة المصابیح369/2)

واللہ اعلم
فتاوی دار العلوم دیو بند


محمد امیر۔۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے


جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:1⃣5⃣1⃣

علماء ربانی اورعلماء سوء کی پہچان:

(مسئلہ :بحضورعلماء کرام شرع متین بحیثیت مشورہ سلف کے دوقسم علماء یعنی علماء ربانی اورعلماء سوء کے علاوہ کوئی اورقسم علماء کی ہے یانہیں؟جن کاشمارنہ علماء ربانی میں ہوں اورنہ علماء سوء میں ہوںنیزعلماء ربانی اورعلماء سوء کی تعریف اورعلامات ظاہرفرمادیں،تاکہ لوگ غلطی میں نہ آجائیںاورعلماء سوء سے گریزاورعلماء ربانی کے دامن گیرہوجائیں،باقی مندرجہ ذیل علماء علماء ربانی ہیں یانہیں؟اورجو لوگ ان کے پیرہیں وہ حق پرہیںیاغلط؟ اسمائے گرامی علماء یہ ہیں(١)حضرت جی مولانامحمدیوسف (٢)حضرت مولاناخلیل احمدسہارنپوری (٣)شیخ الحدیث مولانازکریا (٤)شیخ الہندمولانامحمودالحسن(٥)سیدانورشاہ کشمیری (٦)رشیداحمدگنگوہی(٧)محمدیوسف بنوری (٨)مفتی محمدشفیع (٩)اشرف علی تھانوی(١٠)مفتی عزیزالرحمن(١١)قاری محمدطیب (١٢)شبیراحمدعثمانی (١٣)مفتی کفایت اللہ مندرجہ بالاعلماء جومذکورہیں اورقرآن وسنت ومذہب کے اندر جوحل وحرمت کاثبوت کیاہے توجوکوئی ان سے انکارتاویل کرتے ہیں اورساتھ غلط الزام لگاتے ہیں توایسے علماء علماء سوء میں شمارہیں یانہیں ؟بینوا توجروا

الجواب باسم الملک الوہاب
علماء حق وہ ہیں جو صحیح العقیدہ ہوں ،دنیاکے عاشق نہ ہوںاوران کے سیئات حسنات پرغالب نہ ہوں،شریعت مطہرہ میں دنیاممنوع نہیں ہے دنیاکی محبت ممنوع ہے،صحابہ کرام اور ائمہ مجتہدین میں سے بہت سے بزرگ ایسے گزرے ہیں جومال وجاہ اوربڑے عہدوں کے مالک تھے مگراس کی محبت ان کے دل میں نہ تھی ،جودین کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے،جن علماء میں مندرجہ بالاتین شرائط موجودنہ ہوں وہ علماء سوء ہیں ،علماء حق اورعلماء سوء کے درمیان کوئی اوردرمیانی طبقہ نہیں ،جن اکابردیوبند کاذکراستفتاء میں کیاگیاہے ،قواعدشرعیہ کی روسے یہ علماء حق تھے اوران کی تحقیر وتوہین شرعاً درست نہیں ،البتہ مسائل میں ان سے اختلاف رائے رکھنا جرم نہیں ہے،ان کے اندرخودبھی بہت سے مسائل میں اختلاف رائے موجودہے۔
مثلاً سنت پڑھنے کے بعددعامع رفع الایدی ہیئت اجتماعیہ کومفتی کفایت اللہ صاحب نے ممنوع قراردیاہے،جبکہ علامہ انورشاہ صاحب نے فیض الباری میں جائز لکھاہے ،اسی طرح مااہل بہ لغیراللہ کی تفصیل میں علامہ شبیراحمدعثمانی اورعلامہ انورشاہ کشمیری کے درمیان اختلاف رائے موجودہے ،دورحاضرمیں نعلین پہنے ہوئے مسجدمیں داخل ہونے کے متعلق حضرت مولانا خلیل احمدصاحب اور حضرت مولانا شبیراحمدعثمانی کے درمیان اختلاف رائے موجودہے ،اسی طرح قبرکے پاس دفن کے بعد دعامانگتے وقت ہاتھ اٹھانے کو ہمارے اکثراکابردیوبندنے خلاف سنت لکھاہے جب کہ مولانا رشیداحمدصاحب لدھیانوی نے احسن الفتاویٰ جلد رابع ص ٢٢٤ میں بمقتضائے قاعدہ رفع یدین مستحب ہے ،اوردعابوقت زیارت القبورمیں ثبوت رفع الیدین سے بھی اس کی تائیدہوتی ہے ،مگراکابر کے تعامل عدم رفع کے پیش نظر رفع یدین کے قول وعمل کی ہمت نہ ہوتی تھی، اس بناء پر احسن الفتاویٰ جلد اول باب ردالبدعات میں عدم رفع کافتویٰ تحریرہے ،اس کے بعدحدیث میں رفع یدین کی تصریح مل گئی۔
''قال الحافظ رحمہ اللہ تعالی وفی حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ رایت رسول اللہ ۖ فی قبرعبداللہ ذی البجادین الحدیث وفیہ فلمافرغ من دفنہ استقبل القبلة رافعا یدیہ اخرجہ ابوعوانہ فی صحیحہ ''…(فتح الباری : ١٧٣/١١)
اب استحباب رفع یدین میں کوئی تأمل نہیں رہا ،اس لیے عدم رفع کے سابقہ فتوی سے رجوع کرتاہوں ،فقط واللہ اعلم یہ تھی حضرت لدھیانوی صاحب کی تحریر، خلاصہ یہ ہے کہ علماء دیوبند کے اکابر علماء حق تھے ان کی تعظیم واحترام ضروری ہے ،مگران کی تقلید ضروری نہیں ،تقلیدصرف ائمہ مجتہدین کی کرنی چاہیئے ۔


واللہ تعالی اعلم بالصواب

محمد امیر۔۔۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:2⃣5⃣1⃣

رفع یدین نہ کرنے کے دلائل۔

دلیل نمبر:1⃣

قَالَ اللہُ تَعَالیٰ: قَدْاَفْلَحَ الْمُؤمِنُوْنَ الَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ صَلٰوتِھِمْ خَاشِعُوْنَ

(سورۃ مومنون:1،2)

ترجمہ: پکی بات ہے کہ وہ مومن کامیاب ہوگئے جو نماز میں خشوع اختیار کرنے والے ہیں۔

تفسیر: قَالَ اِبْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا مُخْبِتُوْنَ مُتَوَاضِعُوْنَ لَایَلْتَفِتُوْنَ یَمِیْناً وَّلَا شِمَالاً وَّ لَا یَرْفَعُوْنَ اَیْدِیَھُمْ فِی الصَّلٰوۃِ…الخ

(تفسیر ابن عباس رضی اللہ عنہما :ص212)

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ’’خشوع کرنے والے سے مراد وہ لوگ ہیں جونماز میں تواضع اورعاجزی اختیار کرتے ہیں اوروہ دائیں بائیں توجہ نہیں کرتے ہیں اورنہ ہی نماز میں رفع یدین کرتے ہیں۔‘‘

دلیل نمبر:2⃣

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اَحْمَدُبْنُ شُعَیْبِ النَّسَائِیُّ اَخْبَرَ نَا سُوَیْدُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ الْاَسْوَدِ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ اَلَااُخْبِرُکُمْ بِصَلٰوۃِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ؛ فَقَامَ فَرَفَعَ یَدَیْہِ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ثُمَّ لَمْ یُعِدْ۔

(سنن النسائی ج1ص158،سنن ابی دائود ج1ص116 )

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’کیامیں تمہیں اس بات کی خبر نہ دوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے نماز پڑھتے تھے ؟حضرت علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے پہلی مرتبہ رفع یدین کیا(یعنی تکبیر تحریمہ کے وقت) پھر(پوری نمازمیں)رفع یدین نہیں کیا۔‘‘

دلیل نمبر:3⃣

اَلْاِمَامُ الْحَافِظُ اَبُوْحَنِیْفَۃَ نُعْمَانُ بْنُ ثَابِتٍ یَقُوْلُ سَمِعْتُ الشَّعْبِیَّ یَقُوْلُ سَمِعْتُ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ یَقُوْلُ؛کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَاافْتَتَحَ الصَّلَاۃَ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتّٰی یُحَاذِیَ مَنْکَبَیْہِ لَایَعُوْدُ بِرَفْعِھِمَا حَتّٰی یُسَلِّمَ مِنْ صَلَا تِہٖ۔

(مسند ابی حنیفہ بروا یۃ ابی نعیم رحمہ اللہ ص344،سنن ابی دائود؛ ج 1 ص 116 )

ترجمہ: حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے،(اس کے بعد پوری نماز میں) سلام پھیرنے تک دوبارہ رفع یدین نہیں کرتے تھے۔‘‘

دلیل نمبر:4⃣

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اَبُوْبَکْرٍ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ الزُّبَیْرِالْحُمَیْدِیُّ ثَنَا الزُّھْرِیُّ قَالَ اَخْبَرَنِیْ سَالِمُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ (رَضِیَ اللہُ عَنْہُ) رَائیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَاافْتَتَحَ الصَّلٰوۃَ رَفَعَ یَدَیْہِ حَذْوَ مَنْکَبَیْہِ وَاِذَااَرَادَاَنْ یَّرْکَعَ وَبَعْدَ مَا یَرْفَعَ رَاْسَہٗ مِنَ الرَّکُوْعِ فَلَا یَرْفَعُ وَلَا بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ۔

(مسند حمیدی ج2ص277،مسند ابی عوانۃ ج 1 ص 334 )

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھاجب نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے ۔رکوع کی طرف جاتے ہوئے، رکوع سے سراٹھاتے ہوئے اور سجدوں کے درمیان رفع یدین نہیں کرتے تھے۔‘‘

دلیل نمبر:5⃣

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ ابْنُ حِبَا نٍ اَخْبَرَ نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ یُوْسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدِ الْعَسْکَرِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍعَنْ شُعْبَۃَ عَنْ سُلَیْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ الْمُسَیِّبَ بْنَ رَافِعٍ عَنْ تَمِیْمِ بْنِ طُرْفَۃَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّہٗ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَاَبْصَرَقَوْمًا قَدْرَفَعُوْا اَیْدِیَھُمْ فَقَالَ قَدْ رَفَعُوْھَا کَاَنَّھَااَذْنَابُ خَیٍل شُمُسٍ اُسْکُنُوْا فِی الصَّلَاۃِ۔‘‘

(صحیح ابن حبان ج3 ص178 ،صحیح مسلم ج1ص181 )

ترجمہ: حضرت جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے لوگوں کو رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا : ’’انہوں نے اپنے ہاتھوں کوشریرگھوڑوں کی دموں کی طرح اٹھایاہے تم نماز میں سکون اختیار کرو ۔‘‘(نماز میں رفع یدین نہ کرو)

دلیل نمبر:6⃣

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ مُحَمَّدُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ بُکَیْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ خَالِدٍ عَنْ سَعِیْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِوبْنِ عَطَائٍ اَنَّہٗ کَانَ جَالِسًا مَعَ نَفَرٍ مِّنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَذَکَرْنَا صَلٰوۃَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ ا
َبُوْحُمَیْدِ السَّاعِدِ

یُّ اَنَا کُنْتُ اَحْفَظُکُمْ لِصَلٰوۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَاَ یْتُہٗ اِذَا کَبَّرَ جَعَلَ یَدَیْہِ حَذْوَ مَنْکَبَیْہِ وَاِذَا رَکَعَ اَمْکَنَ یَدَیْہِ مِنْ رُکْبَتَیْہِ ثُمَّ ھَصَرَظَھْرَہٗ فَاِذَا رَفَعَ رَاْسَہٗ اِسْتَویٰ حَتّٰی یَعُوْدَ کُلُّ فَقَارٍ مَّکَانَہٗ وَاِذَا سَجَدَ وَضَعَ یَدَیْہِ غَیْرَمُفَتَرِشٍ وَّلَا قَابِضَہُمَا۔

(صحیح بخاری؛ ج1ص114 ‘ صحیح ابن خزیمہ؛ ج1ص298)

ترجمہ : محمد بن عمر وبن عطاء رحمہ اللہ ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے فرماتے ہیں :’’ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نما زکاذکر کیا ( کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیسے نمازپڑھتے تھے؟) توحضرت ابوحمیدساعدی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’میں تم سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازپڑھنے کے طریقے کو زیادہ یاد رکھنے والا ہوں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کے طریقے کو بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب تکبیر تحریمہ کہی تو اپنے ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھایااور جب رکوع کیا تو اپنے ہاتھوں سے اپنے گھٹنوں کومضبوطی سے پکڑاپھر اپنی پیٹھ کو جھکایا جب سر کو رکوع سے اٹھایا توسیدھے کھڑے ہوگئے حتی کہ ہرہڈی اپنی جگہ پر لوٹ آئی اورجب سجدہ کیاتو اپنے ہاتھوں کو اپنے حال پر رکھا نہ پھیلایا اورنہ ہی ملایا ۔‘‘

دلیل نمبر:7⃣

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اَبُوْجَعْفَرٍ اَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ الطَّحَاوِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ اَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ ثَنَا نُعَیْمُ بْنُ حَمَّادٍ قَالَ ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوْسٰی قَالَ ثَنَا ابْنُ اَبِیْ لَیْلٰی عَنْ نَافِعٍ عَنْ اِبْنِ عُمَرَ… وَعَنِ الْحَکَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ؛ تُرْفَعُ الْاَیْدِیْ فِیْ سَبْعِ مَوَاطِنَ: فِی افْتِتَاحِ الصَّلٰوۃِ وَ عِنْدَ الْبَیْتِ وَعَلَی الصَّفَائِ وَالْمَرْوَۃِ وَبِعَرْفَاتٍ وَ بِالْمُزْدَلْفَۃِ وَعِنْدَ الْجَمْرَ تَیْنِ۔

(سنن طحاوی 416/1)

ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاسات جگہوں پر ہاتھوں کو اٹھایا جاتاہے

٭…1⃣ شروع نماز میں ٭…2⃣ بیت اللہ کے پاس ٭…3⃣ صفاء پر ٭…4 مروہ پر ٭…5 عرفات میں ٭…6 مزدلفہ میں ٭…7 جمرات کے پاس۔

دلیل نمبر:8⃣

قَالَ الْاِمَامُ اَبُوْبَکْرِ الاِسْمَاعِیْلِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ صَالِحِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ اَبُوْمُحَمَّدٍ صَاحِبُ الْبُخَارِیُّ صَدُوْقٌ ثَبْتٌ قَالَ حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرِ السَّھْمِیُّ عَنْ حَمَّادِ (ابْنِ اَبِیْ سُلَیْمَانَ ) عَنْ اِبْرَاہِیْمَ (النَّخْعِیِّ ) عَنْ عَلْقَمَۃِ (بْنِ قَیْسٍ) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ(بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ) قَالَ صَلَّیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاَبِیْ بَکْرٍ وَّ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَافَلَمْ یَرْفَعُوْا اَیْدِیَھُمْ اِلَّاعِنْدَافْتِتَاحِ الصَّلَاۃِ۔

(کتاب المعجم،امام اسماعیلی692/2
سنن کبریٰ امام بیہقی رحمہ اللہ79/2

ترجمہ : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ نماز پڑھی انہوں نے پوری نماز میں صرف تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کی ۔‘‘

دلیل نمبر:9⃣ قَالَ الْاِمَامُ ابْنُ قَاسِمٍ (حَدَّثَنَا)وَکِیْعٌ عَنْ اَبِیْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ قَطَّافِ النَّھْشَلِیِّ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ عَلِیًّا کَانَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ اِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاۃَ ثُمَّ لَا یَعُوْدُ۔

(المدونۃ الکبریٰ؛ ج۱ص۷۱،مسند زید بن علی ص۱۰۰)

ترجمہ: ’’حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ جب نمازشروع کرتے تو رفع یدین کرتے پھر پوری نما زمیں رفع یدین نہیں کرتے تھے‘‘۔

دلیل نمبر:0⃣1⃣

قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اَبُوْ بَکْرِ بْنِ اَبِیْ شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنِ عَیَّاشٍ عَنْ حُصَیْنٍ عَنْ مُجَاھِدٍقَالَ مَارَاَیْتُ اِبْنَ عُمَرَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ اِلَّافِیْ اَوَّلِ مَا یَفْتَتِحُ۔

(مصنف ابن ابی شیبہ ج1ص268 )

ترجمہ: معروف تابعی حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو شروع نماز کے علاوہ رفع یدین کرتے ہوئے نہیں دیکھا‘‘۔


واللہ اعلم


محمد امیر۔۔۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:3⃣5⃣1⃣

حضوراسے رفع یدین کتنی جگہ ثابت ہے؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: کیا رکوع میں جاتے اور اٹھتے وقت رفع یدین کرنا سنت ہے؟ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم یا صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین سے اس وقت رفع یدین کرنا ثابت ہے یا نہیں؟

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:نماز میں تکبیرِ تحریمہ کے وقت رفع یدین بالاتفاق مسنون ہے؛ البتہ اس کے علاوہ رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت مسنون ہے یا نہیں؟ اس بارے میں روایات مختلف ہیں، بعض سے رفع یدین کا ثبوت ہوتا ہے، جب کہ بعض سے اِن مواقع پر رفع یدین کی نفی ثابت ہوتی ہے، حنفیہ وغیرہ کے نزدیک وہ روایات زیادہ قابلِ ترجیح ہیں، جن میں ترکِ رفع یدین کا ثبوت ہے؛ لہٰذا تکبیرِ تحریمہ کے علاوہ مواقع پر رفع یدین کرنا خلافِ سنت ہوگا۔

والجواب عن أحادیث الرفع أنہا منسوخۃ بدلیل ما روي عن ابن مسعود رضي اللّٰہ عنہ أنہ قال: رفع رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرفعنا وترک فترکنا، علی أن ترک الرفع عند تعارض الأخبار أولیٰ۔ (شرح أبي داؤد للعیني / باب في رفع الیدین ۳؍۳۰۳ المکتبۃ الشاملۃ)
واعلم أن الاٰثار عن الصحابۃ والطرق عنہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کثیرۃ جداً، والکلام فیہا واسع من جہۃ الطحاوي وغیرہ، والقدر المتحقق بعد ذٰلک کلہ ثبوت روایۃ کل من الأمرین عنہ علیہ الصلاۃ والسلام الرفع عند الرکوع، کما رواہ الأئمۃ السنۃ في کتبہم عن ابن عمر وعدمہ، کما رواہ أبوداؤد وغیرہ عن ابن مسعود وغیرہ۔ (فتح القدیر / بیان شروط الصلاۃ ۱؍۳۱۱ دار الفکر بیروت)
وما رواہ منسوخ، فإنہ: روي أنہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کان یرفع، ثم ترک ذلک بدلیل ما روي عن ابن مسعود رضي اللّٰہ عنہ أنہ قال: رفع رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرفعنا وترک فترکنا۔ (بدائع الصنائع ۱؍۴۸۵، نصب الرایۃ للزیلعي ۱؍۴۱۵)

فقط واﷲ تعالیٰ اعلم

محمد امیر۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:4⃣5⃣1⃣

نماز میں حضور علیہ السلام سے رکوع میں جاتے اور اٹھتے وقت عدمِ رفع یدین کا ثبوت
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: کیا کوئی ایسی حدیث معتبر کتابوں میں موجود ہے جس میں یہ ثبوت ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رفع یدین نماز میں یا نماز کے ہر ہر رکن میں نہ کیا ہو، یا آپ نے اس سے منع فرمایا ہو؟

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: شروع زمانہ میں نماز کی ہر نقل وحرکت کے ساتھ رفع یدین کا معمول تھا، حتیٰ کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دائیں بائیں سلام پھیرتے وقت بھی رفع یدین فرماتے تھے؛ لیکن بعد میں بتدریج ہرہر نقل وحرکت کے وقت رفع یدین سے منع کردیا گیا، چناںچہ صحیح روایات سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرتے وقت صحابہ کے رفع یدین کرنے پر اظہار ناگواری بھی فرمایا ہے۔
البتہ تکبیرِ تحریمہ کے وقت رفع یدین کا ثبوت متفقہ روایات میں ہے؛ لہٰذا تحریمہ کی حد تک ثبوت یقینی ہے، اور اس سے زائد میں نسخ کا بھی قوی امکان ہے، اس لئے حنفیہ اس مسئلہ میں یقینی صورت پر عمل کرنا اولیٰ فرماتے ہیں، تفصیل کے لئے تفصیلی کتابوں کا مطالعہ فرمائیں ، چند روایات درج ذیل ہیں۔
عن جابر بن سمرۃ رضي اللّٰہ عنہ قال: خرج علینا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فقال: مالي أراکم رافعي أیدیکم کأنہا أذناب خیل شمس اسکنوا في الصلاۃ۔ (صحیح مسلم ۱؍۱۸۱ رقم: ۴۳۰، سنن أبي داؤد ۱؍۱۴۳ رقم: ۱۰۰۰، سنن النسائي ۱؍۱۳۳ رقم: ۱۱۸۵ مطبوعہ أشرفي)
حدثنا اسحاق، حدثنا ابن إدریس قال: سمعت یزید بن أبي زیاد عن ابن أبي لیلی عن البراء رضي اللّٰہ عنہ قال: رأیت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم رفع یدیہ حین استقبل الصلاۃ، حتی رأیت إبہامیہ قریبا من أذنیہ ثم لم یرفعہما۔ (مسند أبي یعلی الموصلي ۲؍۱۵۳ رقم: ۱۶۸۸، طحاوي شریف ۱؍۱۳۲ رقم: ۱۳۱۳، سنن أبي داؤد ۱؍۱۰۹ رقم: ۷۴۹)
عن علقمۃ عن عبد اللّٰہ بن مسعود رضي اللّٰہ عنہ عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم أنہ کان یرفع یدیہ في أول تکبیرۃ ثم لا یعود۔ (طحاوي شریف ۱؍۱۳۲ جدید ۱؍۲۹۰ رقم: ۱۳۱۶)
عن المغیرۃ قال: قلت لإبراہیم: حدیث وائل أنہ رأی النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم یرفع یدیہ إذا افتتح الصلاۃ، وإذا رکع وإذا رفع رأسہ من الرکوع، فقال: إن کان وائل رآہ مرۃ یفعل ذلک فقد رآہ عبد اللّٰہ خمسین مرۃ لا یفعل ذلک۔ (طحاوي شریف ۱؍۱۳۲ رقم: ۱۳۱۸)
عن علقمۃ قال: قال عبد اللّٰہ بن مسعود رضي اللّٰہ عنہ: ألا أصلي بکم صلاۃ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، فصلی فلم یرفع یدیہ إلا في أول مرۃ۔
(سنن الترمذي ۱؍۵۹ رقم: ۲۵۷، سنن أبي داؤد ۱؍۱۰۹ رقم: ۷۴۸، طحاوي شریف ۱؍۱۳۲، صحیح مسلم ۱؍۱۶۸-۱۸۱ وغیرہ)

فقط واللہ تعالیٰ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:5⃣5⃣1⃣

حنفیہ رفعِ یدین کیوں نہیں کرتے؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: حضرت امام ابوحنیفہؒ نے رفع یدین کیوں نہیں کیا؟ حضرت امام ابوحنیفہؒ کی اتباع کرنے والے حنفی رفع یدین نہیں کرتے، کیا یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا؟ حضور نے رفع یدین کو کب اور کس وقت منع فرمایا، کیا حضور کے زمانہ اور آپ کے خلفاء کے زمانہ میں یا تابعین وتبع تابعین وغیرہ کے زمانہ میں رفع یدین ہوتا تھا؟

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلیفۂ اول سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، امیر المؤمنین سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ، امیر المؤمنین سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ اورسیدنا حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ صحابہ سے نماز میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ دیگر مواقع پر رفع یدین نہ فرمانے کا ثبوت صحیح روایات سے ہے۔
حضرت ابراہیم نخعیؒ نے حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی رفع یدین والی حدیث کے بارے میں فرمایا ہے کہ اگر حضرت وائلؓ نے آپ کو ایک مرتبہ رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا، تو حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے آپ کو پچاس مرتبہ رفع یدین نہ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
اسی طرح حضرت امام طحاویؒ نے حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے نقل فرمایا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نماز میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ رفع یدین نہیں کرتے تھے، جب کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا تھا؛ لیکن آپ کی وفات کے بعد رفع یدین کو ترک فرمادیاتھا؛ لہٰذا حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا رفع یدین نہ کرنا نزدیک نماز میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ رفع یدین کے منسوخ ہونے کی دلیل ہے۔
اِنہی روایات کی بنا پر حضراتِ حنفیہ رکوع میں جاتے اور اٹھتے وقت عدم رفع یدین پر عمل کرتے ہیں، اور اس سلسلہ میں ان کے دلائل مضبوط ہیں۔ تفصیلات مفصل کتابوں میں ملاحظہ فرمائیں۔ چند احادیث وآثار اور فقہی عبارات ذیل میں درج ہیں:
عن علقمۃ عن عبد اللّٰہ ابن مسعود رضي اللّٰہ عنہ قال: صلیت خلف النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم، وأبي بکر وعمر فلم یرفعوا یدیہم إلا عند افتتاح الصلاۃ۔ (السنن الکبری للبیہقي ۲؍۷۹-۸۰ دار الکتب العلمیۃ ۲؍۳۹۳ رقم: ۲۵۸۶ دار الفکر بیروت)
عن عقلمۃ عن عبد اللّٰہ بن مسعود رضي اللّٰہ عنہ عن النبی صلی اﷲ علیہ وسلم أنہ کان یرفع یدیہ في أوّل تکبیرۃ ثم لا یعود۔ (طحاوي شریف ۱؍۱۳۲ رقم: ۱۳۱۶)
عن علقمۃ قال: قال عبد اللّٰہ ابن مسعود رضي اللّٰہ عنہ: ألا أصلي بکم صلاۃ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، فصلی فلم یرفع یدیہ إلا في أول مرۃ۔ (سنن الترمذي ۱؍۵۹ رقم: ۲۵۷، سنن أبي داؤد ۱؍۱۰۹ رقم: ۷۴۸، سنن النسائي ۱؍۱۲۰ رقم: ۱۰۵۹)
قال أبوعیسیٰ حدیث ابن مسعود حدیث حسن، وبہ یقول غیر واحد من أہل العلم من أصحاب النبي والتابعین، وہو قول سفیان وأہل الکوفۃ۔ (سنن الترمذي ۱؍۵۹، وصححہ ابن جزم، بذل المجہود ۴؍۴۱۱ مطبع لکھنؤ، ۲؍۵ مطبع سہارن فور)
عن البراء بن عازب رضي اللّٰہ عنہما قال: رأیت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم رفع یدیہ حین افتتح الصلاۃ، ثم لم یرفعہما حتی انصرف۔ وفي روایۃ: رفع یدیہ إلی قریب من أذنیہ ثم لا یعود۔ (سنن أبي داؤد ۱؍۱۰۹ رقم: ۷۴۹-۷۵۰، مسند أبي یعلی الموصلي ۲؍۱۵۳، رقم: ۱۶۸۸، طحاوي شریف ۱؍۱۳۲ رقم: ۱۳۱۳)
عن إبراہیم عن الأسود قال: رأیت عمر بن الخطاب یرفع یدیہ في أول تکبیرۃ، ثم لایعود، قال: ورأیت إبراہیم والشعبي یفعلان ذلک۔ (طحاوي شریف ۱؍۱۳۳ رقم: ۱۳۲۹)
عن عاصم بن کلیب الجرمي عن أبیہ قال: رأیت علي بن أبي طالب رضي اللّٰہ عنہ رفع یدیہ في التکبیرۃ الأولی من الصلاۃ المکتوبۃ ولم یرفعہما فیما سوی ذلک۔ (الموطأ لإمام محمد ۹۲)
عن مجاہد قال: صلّیت خلف ابن عمر رضي اللّٰہ عنہ فلم یکن یرفع یدیہ إلا في التکبیرۃ الأولی من الصلاۃ، فہذا ابن عمر قد رأی النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم یرفع، ثمَّ قد ترک ہو الرفع بعد النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم فلا یکون ذلک إلا وقد ثبت عندہ نسخ ما قد رأی النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم فعلہ وقامت الحجۃ علیہ بذلک۔ (طحاوي شریف ۱؍۱۳۳ رقم: ۱۳۲۳)
عن المغیرۃ قال: قلت لابراہیم: حدیث وائل أنہ رأی النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم یرفع یدیہ إذا افتتح الصلاۃ وإذا رکع وإذا رفع رأسہ من الرکوع، فقال:إن کان وائل رآہ مرّۃ یفعل ذلک فقد رآہ عبد اللّٰہ خمسین مرّۃ لایفعل ذلک۔ (طحاوي شریف ۱؍۱۳۲ رقم: ۱۳۱۸)
ولا یرفع یدیہ إلا في التکبیرۃ الأولیٰ (ہدایہ) وتحتہ في فتح القدیر: وأخرج الدار قطني وابن عدي عن محمد بن جابر عن حماد بن سلیمان عن إبراہیم عن علقمۃ عن عبد اللّٰہ قال: صلیت مع رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وأبي بکر وعمر رضي اللّٰہ عنہما فلم یرفعوا أیدیہم إلا عند افتتاح الصلاۃ۔ (ہدایۃ مع الفتح ۱؍۳۰۹-۳۱۱ بیروت، أخرجہ الإمام البیہقي في سننہ الکبریٰ ۲؍۱۱۳ جدید، ۲؍۷۹
قدیم رقم: ۲۵۳۴، وإسنادہ جید کذا في الجوہر النقي، إعلاء السنن ۳؍۷۱ رقم: ۸۷۱ دار الکتب العلمیۃ بیورت)
ولا یسن مؤکداً رفع یدیہ إلا في سبع مواطن کما ورد … تکبیرۃ افتتاح وقنوت (درمختار) وفي الشامي: والوارد ہو قولہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لا ترفع الأیدي إلا في سبع مواطن، تکبیرۃ الافتتاح وتکبیرۃ القنوت وتکبیرات العیدین الخ۔ قال في الفتح القدیر: والحدیث غریب بہٰذا اللفظ۔ (شامي ۲؍۲۱۴ زکریا)
فلا یرفع یدیہ عند الرکوع ولا عند الرفع منہ لحدیث أبي داؤد عن البراء قال: رأیت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم حین افتتح الصلاۃ ثم لم یرفعہما حتی انصرف۔ (البحر الرائق ۱؍۳۲۳ کوئٹہ)

فقط واللہ تعالیٰ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:6⃣5⃣1⃣

نماز میں رفع یدین کا حکم
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارا ایک غیر مقلد سے واسطہ پڑا ہے وہ یہ کہتا ہے کہ رفع یدین کے بغیر نماز نہیں ہوتی ہم نے کہا بھائی اختلاف افضل کا ہےلہذا کرلو تب بھی صحیح نہ کرو تب بھی صحیح اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ نماز نہیں ہوتی۔ مفتی صاحب اصل حقیقت کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ امام بخاری نے صرف رفع یدین کی احادیث لکھی ہیں۔ آپ ہمیں ترک والی احادیث بھی لکھ دیں اور اختلاف کی نوعیت اور حنفیہ کا اصل مذہب تفصیل سے بتائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب… رفع یدین کے بارے میں یہ کہنا درست نہیں کہ رفع یدین کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ اس صورت میں خلفائے راشدین، جلیل القدر کبار صحابہ کرام (یعنی حضرت علی، حضرت عبداللہ بن مسعود حضرت ابو ہریرہ، حضرت ابن عمر، حضرت براء ابن عازب ) بلکہ امام الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ان نمازوں کے اوپر سخت اشکال وارد ہوتا ہے جو رفع یدین کے بغیر ادا کی گئیں۔
”مسئلہ رفع یدین میں ائمۃ اربعۃ کے درمیان اختلاف کی نوعیت“
یہ بات واضح رہے کہ رفع یدین کاثبوت اور ترک دونوں احادیث صحیحہ سے ثابت ہے اس کا انکار کوئی نہیں کرسکتا۔ اسی بناء پرائمہ اربعہ علیہم الرحمۃ کے درمیان اختلاف واقع ہوا مگر یہ اختلاف جواز عدم جواز کا نہیں بلکہ افضل وغیر افضل کا ہے۔ شوافع اور حنابلہ کے ہاں رفع یدین افضل و مستحب ہے ، جیسا کہ علامہ نوویؒ نے فرمایا:
وقال الشافعی واحمد وغیرھما یستحب رفع الیدین عند الرکوع وعند الرفع منہ
ترجمہ: ”امام شافعی اورامام احمد بن حنبل وغیرہ نے فرمایا کہ رکوع میںجاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین مستحب ہے۔“
جبکہ احناف اور مالکیہ کے ہاں ترک رفع یدین افضل و مستحب ہے:
احناف کا مستدل (یعنی ترک رفع یدین کی احادیث)
عن علقمۃ قال قال عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ الا اصلی بکم صلوۃ رسول اللہ ﷺفصلی فلم یرفع یدیہ الافی اول مرۃ (ترمذی ۵۹/۱، ابوداود ۱۰۹/۱، سنن نسائی ۱۸۲/۲، وفی مدونۃ الکبری ثم لایرفعھا حتی ینصرف (۱۶۶/۱)
ترجمہ:”حضرت علقمہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز نہ پڑھائوں؟ پھر انہوں نے نماز پڑھائی پس پہلی مرتبہ (تکبیر تحریمہ) کے سوا رفع یدین نہیں کیا۔“
ابو حنیفۃ حدثنا حماد عن ابراھیم عن علقمۃ والاسود عن ابن مسعود ؓ ان رسول اللہ ﷺکان لا یرفع یدیہ الا عند افتتاح الصلوۃ ولا یعود لشیء من ذالک
ترجمہ: ”حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز کے شروع میں (یعنی تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین فرماتے تھے اس کے علاوہ کسی رکن میں نہیں فرماتے تھے۔“
عن محمد بن جابر عن حماد بن سلیمان عن ابراھیم عن علقمۃ عن عبداللہ قال صلیت مع ابی بکر وعمر فلم یرفعوا ایدیھم الا عند التکبیرۃ الاولی فی افتتاح الصلوۃ (سنن دار قطنی ۲۹۶/۱)
ترجمہ:”حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ساتھ نماز پڑھی۔ وہ تکبیر تحریمہ کے علاوہ رفع یدین نہیں کرتے تھے۔“
عن ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما عن النبی ﷺقال لا ترفع الایدی الافی سبعۃ مواطن حین یفتتح الصلوۃ وحین یدخل المسجد الحرام فینظر الی البیت وحین یقوم علی الصفا وحین یقف مع الناس عشیۃ عرفۃ وبجمع رواہ الطبرانی، نصب الرایۃ (۳۹۰/۱) ومثلہ فی المصنف لابن ابی شیبۃ (۴۱۷/۲)
ترجمہ:”حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ رفع یدین نہیں کیا جاتا مگر سات جگہوں میں۔ جب نماز شروع کرے جب مسجد حرام میں داخل ہو کر بیت اللہ کو دیکھے۔ جب صفا پر کھڑا ہو۔ جب مروہ پر کھڑا ہو۔ جب عرفہ کی شام لوگوں کے ساتھ عرفات میں وقوف کرے ۔“
عن تمیم بن طرفۃ عن جابر بن سمرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال خرج علینا رسول اللہ ﷺفقال مالی اراکم رافعی ایدیکم کانھا اذناب خیل شمس اسکنوا فی الصلوۃ (مسلم ۱۸۱/۱، سنن نسائی ۱۷۶/۱، ابو داود ۱۴۳/۱)
ترجمہ:”حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس گھر سے باہر تشریف لائے تو فرمایا کیا بات ہے۔ تمہیں رفع یدین کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ گو یا کہ وہ بِدکے ہوئے گھوڑوں کی دُمیں ہیں۔ نماز میں سکون اختیار کرو۔‘‘
عن الاسود قال رایت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ یرفع یدیہ فی اول تکبیرۃ ثم لا یعود ورأیت ابراھیم والشعبی یفعلان ذالک (شرح معانی الاثار( ۲۲۷/۱)
ترجمہ:”اسود فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا کہ وہ صرف پہلی تکبیر کے وقت رفع یدین کرتے تھے اور میں نے ابراہیم اور شعبی کودیکھا کہ وہ بھی اسی طرح کرتے تھے۔ (یعنی صرف تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کرتے تھے اس کے علاوہ نہیں کرتے تھے۔)
عن البراء ان رسول اللہ ﷺکان اذ افتتح الصلاۃ رفع یدیہ الی قریب من اذنیہ ثم لایعود۔ (شرح معانی ال
اثار ۲۲۷/۱، مدونۃ الکبری ۱۶۶/۱)۔
ترجمہ: ”حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز کے شروع میں کانوں کے قریب تک رفع یدین کرتے تھے اور پھر نہیں کرتے تھے۔“
عن عاصم بن کلیب عن ابیہ ان علیا رضی اللہ تعالیٰ عنہ کان یرفع یدیہ فی اول تکبیر من الصلوۃ ثم لا یرفع بعدہ (شرح معانی الاثار ۱۶۳/۱، مدونۃ الکبری ۱۶۶/۱، المصنف لابن ابی شیبۃ ۴۱۶/۲)
ترجمہ:”عاصم بن کلیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نما زکی پہلی تکبیر کے وقت رفع یدین کرتے تھے اس کے بعد رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
عن مجاھد قال صلیت خلف ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فلم یکن یرفع یدیہ الا فی التکبیرۃ الاولیٰ من الصلوۃ (شرح معانی الاثار ۱۶۳/۱)
ترجمہ:”مجاہد رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی وہ نماز میں صرف پہلی تکبیر (یعنی تکبیر اولیٰ) کے وقت رفع یدین کرتے تھے۔“
اخبرنی نعیم المجمر القاری ان اباھریرۃ کان یصلی بھم فیکبرکلما خفض ورفع وکان یرفع یدیہ حین یکبر ویفتح الصلوۃ (المؤطا للامام محمد ص۹۰)
ترجمہ:”(ابو جعفر) قاری فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کو نماز پڑھاتے تھے تو جب بھی اوپر ہوتے اور نیچے ہوتے (یعنی انتقال کرتے وقت) تکبیر کہتے تھے اور رفع یدین نماز کے شروع میں تکبیر تحریمہ کے وقت کرتے تھے۔
عن ابی اسحاق قال کان اصحاب عبداللہ واصحاب علی لا یرفعون ایدیھم الافی افتتاح الصلوۃ قال وکیع ثم لا یعودون۔(مصنف لابن ابی شیبۃ ۳۹۴/۱)
ترجمہ:”ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود کے اصحاب اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے اصحاب صرف نماز کے شروع میں رفع یدین کیا کرتے تھے۔“
یہ معلوم ہوجانے کے بعد کہ جناب رسول اللہ ﷺ سے ترک رفع یدین ثابت ہے اسی طرح کبار صحابہ کرام و تابعین عظام سے ترک رفع یدین کا عمل متواتر ہے۔ اب ذیل میں اس ترک رفع یدین کی وجہ بھی ذکر کی جاتی ہے تاکہ مسئلہ خوب واضح ہوجائے۔
اس پر تو سب کا اتفاق ہے کہ جو عمل اوفق بالقرآن ہو وہ راجح ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں ان مومنین کی مدح بیان فرمائی گئی ہے جو نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔ حق تعالیٰ شانہ کا ارشاد ہے:
الَّذِيْنَ هُمْ فِي صَلاتِهِمْ خَاشِعُوْنَ۔( المؤمنون:۲)
ترجمہ:”وہ لوگ جو اپنی نماز میں خشوع کرتے ہیں۔“
اس سے معلوم ہوا کہ نماز میں خشوع و خضوع مطلوب ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی خشوع کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
الخشوع تارۃ من فعل القلب کالخشیۃ وتارۃ من فعل البدن کالسکون قیل لابد من اعتبارھما۔(فتح الملھم ۳۱۹/۳)
ترجمہ:”خشوع کبھی دل کا فعل ہوتاہے جیسا کہ خشیت اور کبھی بدن کا جیسا کہ سکون بعض حضرات کہتے ہیں کہ خشوع کیلئے دونوں ضروری ہیں۔“ جیسا کہ ایک حدیث میں بھی وارد ہے
لو خشع ھذا خشعت جوارحہ۔
ترجمہ:”اگر یہ خشوع اختیار کرتا تو اس کے اعضاء وجوارح سکون سے ہوتے۔“
اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کا ظاہر باطن کی ترجمانی کرتا ہے گویا نماز میں جس قدر ظاہری سکون ہوگا اسی قدر خشوع ہوگا اس سے معلوم ہوا کہ ترک رفع اوفق بالقرآن ہے۔
نیز احادیث کے تعارض کے وقت صحابہ کرام کے تعامل کو بڑی اہمیت حاصل ہوتی ہے جب ہم اس پہلو کو دیکھتے ہیں تو حضرات شیخین، حضرت علی، حضرت عبداللہ بن مسعود، سیدنا ابو ہریرہ، حضرت براء بن عازب اور حضرت کعب بن عجرہ کا عمل ترک رفع کا ہے، اور یہ حضرات صحابہ کرام کے علوم کا خلاصہ ہیں ان کے مقابلے میں جن صحابہ کرام سے رفع یدین منقول ہے وہ زیادہ تر کمسن صحابہ ہیں یا قلیل صحبت یافتہ ہیں جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عبداللہ بن زبیر اور حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہم۔ لہٰذا اس اعتبار سے بھی ترک رفع یدین راجح ہوا۔ بعض نادان اس مسئلہ میں صحابی رسول صاحب النعلین ووسادہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں نامناسب الفاظ کہہ جاتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تو بڑی شان ہے، علامہ ذھبی ان کے بارے میں فرماتے ہیں:
ابن مسعود الامام الربانی صاحب رسول اللہ ﷺوخادمہ واحد السابقین الاولین ومن کبار البدریین ومن نبلاء الفقھاء والمقرئین، وکان ممن یتحری فی الاداء ویشدد فی الروایۃ ویزجر تلامذتہ عن التھاون فی ضبط الالفاظ… وکان ابن مسعود یقل من الروایۃ للحدیث ویتورع …… وکان سادۃ الصحابۃ واوعیۃ العلم وائمۃ الھدی (تذکرۃ الحفاظ ۱۶/۱، ۱۷)
ترجمہ:”ابن مسعود امام ربانی صحابی رسول اور خادم، سابقین اولین اور اکابر اہل بدر میں سے تھے ان کا شمار بلند پایہ فقہاء اور قراء میں تھا۔ الفاظ حدیث کے اختیار کرنے میں بڑی احتیاط کرتےتھے۔ روایت میں بڑی سختی فرماتے تھے اپنے تلامذہ کو ضبط الفاظ میں سستی کرنے پر ڈانٹ پلاتے تھے۔ حدیث کی روایت بہت کم کرتے تھے۔ اور اس بارے میں خاص احتیاط وورع سے کام لیتے تھے۔ ان کا شمار سادات صحابہ ، خزانہ علم اور ائمۃ ہدی میں ہوتا تھا۔“
نیز ترک رفع یدین کو اختیار کرنے
کی ایک معقول وجہ بھی موجود ہے۔ جس سے تمام متعارضہ روایات کی توجیہ بھی ہوجاتی ہے اور وہ یہ کہ افعال صلوۃ میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ نمازوں کے احکام حرکت سے سکون کی طرف منتقل ہوتے رہے مثلاً پہلے نماز میں کلام جائز تھا پھر منسوخ ہوگیا۔ پہلے عمل کثیر مفسد صلوٰۃ نہیںتھا بعد میں اس کو مفسد صلوٰۃ قرار دے دیا گیا۔ پہلے نماز میں ادھر ادھر دیکھنا جائز تھا بعد میں اس کی ممانعت وارد ہوئی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شروع میں رفع یدین بکثرت ہوتا تھا اور ہر انتقال کے وقت مشروع تھا پھر رفتہ رفتہ اس میں کمی ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ صرف تکبیر تحریمہ کے وقت رہ گیا۔ معلوم ہوا کہ رفع یدین ابتداء مشروع تھا اور بعد میں اس کو ترک کردیا گیا تو اس اعتبار سے بھی ترک رفع یدین راجح ہوا۔
”مذکورہ مسئلہ کی احادیث پر ایک تحقیقی نظر“
بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ رفع یدین کی احادیث ترک رفع یدین کی احادیث سے زیادہ ہیں معارف السنن (۲/۴۶۰) پر اس سے متعلق یہ بحث ہے کہ ان روایات پر اگر تحقیقی نظر کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ترک رفع یدین کی احادیث کی تعداد زیادہ ہے وہ اس طرح کہ کتب حدیث میں رفع یدین کے متعلق ذکر کی جانے والی احادیث تین طرح کی ہیں۔
۱۔ وہ احادیث جن میں رفع یدین کا ذکر ہے۔ پھر ان میں بعض احادیث ایسی ہیں جن میں صرف تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کا ذکر ہے اور بعض احادیث ایسی ہیں جن میں ہر انتقال کے وقت رفع یدین کا ذکر ہے اور بعض احادیث ایسی ہیں جن میں رکوع کیلئے جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت اور تیسری رکعت کیلئے اٹھتے وقت رفع یدین کا ذکر ہے۔
۲۔ وہ احادیث جن میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ تمام ارکان کیلئے رفع یدین کی نفی کا ذکر ہے۔
۳۔ وہ احادیث جو صفت صلوٰۃ کو بیان کرتی ہیں لیکن ان میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ باقی ارکان کیلئے رفع یدین کا نہ ہی اثبات ہے اور نہ ہی نفی ہے۔
اب جو حضرات رفع یدین کے قائل ہیں۔ ان کا مستدل صرف وہ احادیث ہیں جن میں رکوع کیلئے جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت اور تیسری رکعت کیلئے اٹھتے وقت رفع یدین کا ذکر ہے۔
احناف کا مستدل ایک تو وہ احادیث ہیں جن میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ باقی تمام ارکان میں رفع یدین کی نفی کا ذکر ہے اسی طرح وہ احادیث بھی احناف کا مستدل ہیں جو صفت صلوٰۃ کو تو بیان کرتی ہیں لیکن ان میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ باقی ارکان کیلئے نہ ہی رفع یدین کا اثبات ہے اور نہ ہی نفی ہے۔ اس لیے کہ اگر رفع یدین ہوا ہوتا تو صفت صلوۃ کو بیان کرتے وقت راوی اس رفع یدین (یعنی رکوع کو جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت) کو بیان کرتا یہ احادیث رفع یدین کے ذکر سے ساکت نہ ہوتیں لہٰذا یہ احادیث بھی احناف کا مستدل ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ترک رفع یدین کی احادیث کی تعدادرفع یدین کی احادیث سے زیادہ ہے۔

واللہ اعلم


محمد امیر۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:7⃣5⃣1⃣

ناف سے نیچے ہاتھ باندھنے۔
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا ثابت ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب: جی ہاں احادیث مبارکہ میں ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا ثابت ہے۔ چنانچہ مصنف ابن ابی شیبہ (۳/۳۲۰، طبع ادارۃ القرآن) میں ہے: عن علقمۃ بن وائل بن حجر عن أبیہ قال رأیت رسول اﷲ ﷺ وضع یمینہ علی شمالہ فی الصلوۃ تحت السرۃ۔
(ترجمہ) :حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺکو دیکھا آپ نے نماز میں اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے رکھا ہوا تھا۔
اسی طرح مسند امام احمد (۱/۱۷۷) میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حدیث موجود ہے جو دارقطنی (۱/۲۸۹) اور بیہقی (۲/۳۱) اور ابو داؤد مع بذل المجہود (۲/۲۳)، المنھل العذب المورودشرح ابو داؤد(۳/۱۶۳، حصہ ۵)، وابوداؤد طبع دار ابن حزم (۱/۲۳۸)، شرح العینی لابی داؤد (۳/۳۳۷) اور مصنف لابن ابی شیبۃ (۳/۲۲۴)، اسی طرح حضرت ابوہریرۃ کی روایت ابو داؤد مع البذل (۲/۲۳)، المنہل العذب المورود (۳/۱۶۳،حصہ۵) و ابو داؤد طبع دار ابن حزم (۱/۲۳۸) میں موجود ہے جس کو ابن حزم نے محلی بالآثار (۳/۳۰) میں بھی نقل فرمایا ہے۔ اور مغنی لابن قدامۃ(۱/۵۱۵) اور مجموع للنووی (۳/۲۵۹) میں بھی ہے اورامام اعظم، سفیان ثوری، ابو مجلز، ابراہیم نخعی ، اسحاق بن راہویہ، ابو اسحاق مروزی شافعی، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا مسلک بھی یہی ہے کہ نماز میں ناف کے نیچے ہاتھ باندھے جائیں۔

واللہ اعلم

محمد امیر ۔۔۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail