جواب نمبر:5⃣3⃣1⃣
مسجد میں نماز جنازہ
نماز جنازہ مسجد کے اندر پڑھنا
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: نماز جنازہ مسجد کے اندر پڑھنا کیسا ہے؟ جب کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے صحیح مسلم میں حدیث مروی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا قسم کھاکر فرماتی ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضاء کی نماز جنازہ مسجد کے اندر ادا فرمائی اور موطاامام مالک میں ہے کہ حضرت عمر کا جنازہ مسجد کے اندر پڑھا گیا، تو کیا ان دونوں حدیثوں کی وجہ سے مسجد کے اندر نماز جنازہ ادا کرنا جائز ہے؟ یا یہ حکم منسوخ ہوچکا ہے؟ اگر یہ حکم منسوخ ہوچکا ہے تو پھر بتائیں کہ حضور کے زمانہ میں نماز جنازہ کہاں ہوتی تھی؟ اور مذکورہ حدیثوں کا پھر کیا جواب ہوگا؟ مدلل ومبرہن جواب تحریر فرمائیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا مکروہ تحریمی ہے، مسجدیں صرف پنج وقتہ نمازوں کے لئے بنائی جاتی ہیں، اسی لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کے قریب نماز جنازہ کے لئے ایک مخصوص جگہ بنوائی تھی، اگر نماز جنازہ مسجد میں مشروع ہوتی تو آپ علیحدہ سے جگہ بنوانے کا اہتمام کیوں فرماتے؟ یہی وجہ ہے کہ صحیح مسلم شریف میں روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جنازے مسجد میں داخل نہیں کئے جاتے تھے، اور یہی آپ کا مبارک طریقہ تھا۔ چناںچہ جب نجاشی کے انتقال کی خبر آپ کو پہنچی، تو آپ صحابہ کرام کی ایک جماعت کو لے کر مسجدِنبوی سے باہر تشریف لائے اور اس مخصوص جگہ پر نماز ادا فرمائی۔
نیز بعض احادیثِ شریفہ میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’جس نے مسجد میں نماز جنازہ پڑھی، اس کو کچھ ثواب نہ ملے گا‘‘۔
بریں بنا مسجد میں بلاعذر نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں ہے، اسی وجہ سے جب حضرت سہیل بن بیضاء کا جنازہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی فرمائش پر مسجد میں داخل کیا جانے لگا تو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اس پر اعتراض کیا، روایت میں ہے:
فبلغہن أن الناس قد عابوا ذٰلک وقالوا: وما کانت الجنائز یدخل بہ المسجد۔ (صحیح مسلم ۱؍۳۱۴) وفي روایۃ: فأنکر ذٰلک الناس علیہا۔ (المؤطأ لإمام مالک ۱۷۱ رقم: ۲۲ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مسجد کے اندر جنازہ داخل کئے جانے پر اعتراض کرنا اس کے خلافِ سنت ہونے کی واضح دلیل ہے۔ (مستفاد: فتاویٰ محمودیہ ۸؍۶۷۷-۶۸۲ ڈابھیل)
اور موطا مالک میں سیدناحضرت عمر رضی اللہ عنہ کے جنازہ کی نماز مسجد میں پڑھنے کا ذکر ہے، وہ عذر پر محمول ہوگا۔
عن نافع عن عبد اللّٰہ بن عمر رضي اللّٰہ عنہما أنہ قال: صُلِّيَ علی عمر بن الخطاب في المسجد۔ (المؤطأ لإمام مالک ۱۷۱ رقم: ۲۳ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
وقال الباجي: معنی حدیث الباب ما تقدم من أن یکون صلي علیہ، وہو خارج المسجد، والمصلون علیہ في المسجد، ویحتمل أن یکون صلي علیہ في الموضع الذي دفن فیہ، وقد کان من المسجد، ولہ الآن حکم المقابر، وکذٰلک المسجد إذا کان فیہ مقبرۃ فلا بأس أن یصلی في موضع المقابر منہ علی میت الخ، وفي البرہان: صلاۃ الصحابۃ علی أبي بکر وعمر رضي اللّٰہ عنہما في المسجد کانت لعارض دفنہما عند رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم الخ۔ (أوجز المسالک ۲؍۴۶۲)
عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: من صلی علی جنازۃ في المسجد فلیس لہ شيء۔ (سنن ابن ماجۃ، کتاب الجنائز ۱؍۱۰۹رقم: ۱۵۱۷، سنن أبي داؤد ۲؍۹۸، مسند أحمد ۳؍۱۹۱ رقم: ۹۴۳۷)
عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ قال: نعیٰ لنا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم النجاشي صاحبَ الحبشۃ الیوم الذي مات فیہ فقال: استغفروا لأخیکم، وفي روایۃ: نعی النجاشي في الیوم الذي مات فیہ وخرج إلی المصلی فصف بہم وکبر أربعاً۔ (صحیح البخاري، کتاب الجنائز / باب الرجل یعنی إلی أہل المیت بنفسہ ۱؍۱۶۶-۱۶۷-۱۷۷، صحیح مسلم، کتاب الجنائز / فصل في النعي الناس المیت ۱؍۳۰۹)
ولم یکن من ہدیہ الراتب الصلاۃ علیہ في المسجد وإنما کان یصلي علیہ الجنازۃخارج المسجد۔ (زاد المعاد لابن القیم الجوزیۃ، فصل في تجہیز المیت والصلاۃ علیہ ۱۹۴ بیروت، أوجز المسالک / باب الصلاۃ علی الجنائز في المسجد ۴؍؍۲۳۵ إدارۃ تالیفات أشرفیۃ ملتان)
وفي حدیث بن عمر: أن الیہود جاؤا إلی النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم برجل منہم وامرأۃ زنیاً، فأمر بہما فرُجما قریباً من موضع الجنائز عند المسجد۔ (صحیح البخاري، کتاب الجنائز / باب الصلاۃ علی الجنائز بالمصلی والمسجد ۱؍۱۷۷)
ودل حدیث بن عمر علی أنہ کان للجنائز مکان معد للصلاۃ علیہا فقد یستفاد منہ أن ما وقع من الصلاۃ علی بعض الجنائز في المسجد کان لأمر عارض۔ (فتح الباري، کتاب الجنائز / باب الصلاۃ علی الجنائز بالمصلی والمسجد ۳؍۲۵۶)
عن ابن حبیب أن مصلی الجنائز المدینۃ کان لاصقاً بمسجد النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم من ناحیۃ جہۃ المشرق۔ (فتح الباري، کتاب الجنائز
مسجد میں نماز جنازہ
نماز جنازہ مسجد کے اندر پڑھنا
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: نماز جنازہ مسجد کے اندر پڑھنا کیسا ہے؟ جب کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے صحیح مسلم میں حدیث مروی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا قسم کھاکر فرماتی ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضاء کی نماز جنازہ مسجد کے اندر ادا فرمائی اور موطاامام مالک میں ہے کہ حضرت عمر کا جنازہ مسجد کے اندر پڑھا گیا، تو کیا ان دونوں حدیثوں کی وجہ سے مسجد کے اندر نماز جنازہ ادا کرنا جائز ہے؟ یا یہ حکم منسوخ ہوچکا ہے؟ اگر یہ حکم منسوخ ہوچکا ہے تو پھر بتائیں کہ حضور کے زمانہ میں نماز جنازہ کہاں ہوتی تھی؟ اور مذکورہ حدیثوں کا پھر کیا جواب ہوگا؟ مدلل ومبرہن جواب تحریر فرمائیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا مکروہ تحریمی ہے، مسجدیں صرف پنج وقتہ نمازوں کے لئے بنائی جاتی ہیں، اسی لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کے قریب نماز جنازہ کے لئے ایک مخصوص جگہ بنوائی تھی، اگر نماز جنازہ مسجد میں مشروع ہوتی تو آپ علیحدہ سے جگہ بنوانے کا اہتمام کیوں فرماتے؟ یہی وجہ ہے کہ صحیح مسلم شریف میں روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جنازے مسجد میں داخل نہیں کئے جاتے تھے، اور یہی آپ کا مبارک طریقہ تھا۔ چناںچہ جب نجاشی کے انتقال کی خبر آپ کو پہنچی، تو آپ صحابہ کرام کی ایک جماعت کو لے کر مسجدِنبوی سے باہر تشریف لائے اور اس مخصوص جگہ پر نماز ادا فرمائی۔
نیز بعض احادیثِ شریفہ میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’جس نے مسجد میں نماز جنازہ پڑھی، اس کو کچھ ثواب نہ ملے گا‘‘۔
بریں بنا مسجد میں بلاعذر نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں ہے، اسی وجہ سے جب حضرت سہیل بن بیضاء کا جنازہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی فرمائش پر مسجد میں داخل کیا جانے لگا تو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اس پر اعتراض کیا، روایت میں ہے:
فبلغہن أن الناس قد عابوا ذٰلک وقالوا: وما کانت الجنائز یدخل بہ المسجد۔ (صحیح مسلم ۱؍۳۱۴) وفي روایۃ: فأنکر ذٰلک الناس علیہا۔ (المؤطأ لإمام مالک ۱۷۱ رقم: ۲۲ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مسجد کے اندر جنازہ داخل کئے جانے پر اعتراض کرنا اس کے خلافِ سنت ہونے کی واضح دلیل ہے۔ (مستفاد: فتاویٰ محمودیہ ۸؍۶۷۷-۶۸۲ ڈابھیل)
اور موطا مالک میں سیدناحضرت عمر رضی اللہ عنہ کے جنازہ کی نماز مسجد میں پڑھنے کا ذکر ہے، وہ عذر پر محمول ہوگا۔
عن نافع عن عبد اللّٰہ بن عمر رضي اللّٰہ عنہما أنہ قال: صُلِّيَ علی عمر بن الخطاب في المسجد۔ (المؤطأ لإمام مالک ۱۷۱ رقم: ۲۳ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
وقال الباجي: معنی حدیث الباب ما تقدم من أن یکون صلي علیہ، وہو خارج المسجد، والمصلون علیہ في المسجد، ویحتمل أن یکون صلي علیہ في الموضع الذي دفن فیہ، وقد کان من المسجد، ولہ الآن حکم المقابر، وکذٰلک المسجد إذا کان فیہ مقبرۃ فلا بأس أن یصلی في موضع المقابر منہ علی میت الخ، وفي البرہان: صلاۃ الصحابۃ علی أبي بکر وعمر رضي اللّٰہ عنہما في المسجد کانت لعارض دفنہما عند رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم الخ۔ (أوجز المسالک ۲؍۴۶۲)
عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: من صلی علی جنازۃ في المسجد فلیس لہ شيء۔ (سنن ابن ماجۃ، کتاب الجنائز ۱؍۱۰۹رقم: ۱۵۱۷، سنن أبي داؤد ۲؍۹۸، مسند أحمد ۳؍۱۹۱ رقم: ۹۴۳۷)
عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ قال: نعیٰ لنا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم النجاشي صاحبَ الحبشۃ الیوم الذي مات فیہ فقال: استغفروا لأخیکم، وفي روایۃ: نعی النجاشي في الیوم الذي مات فیہ وخرج إلی المصلی فصف بہم وکبر أربعاً۔ (صحیح البخاري، کتاب الجنائز / باب الرجل یعنی إلی أہل المیت بنفسہ ۱؍۱۶۶-۱۶۷-۱۷۷، صحیح مسلم، کتاب الجنائز / فصل في النعي الناس المیت ۱؍۳۰۹)
ولم یکن من ہدیہ الراتب الصلاۃ علیہ في المسجد وإنما کان یصلي علیہ الجنازۃخارج المسجد۔ (زاد المعاد لابن القیم الجوزیۃ، فصل في تجہیز المیت والصلاۃ علیہ ۱۹۴ بیروت، أوجز المسالک / باب الصلاۃ علی الجنائز في المسجد ۴؍؍۲۳۵ إدارۃ تالیفات أشرفیۃ ملتان)
وفي حدیث بن عمر: أن الیہود جاؤا إلی النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم برجل منہم وامرأۃ زنیاً، فأمر بہما فرُجما قریباً من موضع الجنائز عند المسجد۔ (صحیح البخاري، کتاب الجنائز / باب الصلاۃ علی الجنائز بالمصلی والمسجد ۱؍۱۷۷)
ودل حدیث بن عمر علی أنہ کان للجنائز مکان معد للصلاۃ علیہا فقد یستفاد منہ أن ما وقع من الصلاۃ علی بعض الجنائز في المسجد کان لأمر عارض۔ (فتح الباري، کتاب الجنائز / باب الصلاۃ علی الجنائز بالمصلی والمسجد ۳؍۲۵۶)
عن ابن حبیب أن مصلی الجنائز المدینۃ کان لاصقاً بمسجد النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم من ناحیۃ جہۃ المشرق۔ (فتح الباري، کتاب الجنائز
/ باب الصلاۃ علی الجنائز بالمصلی والمسجد ۳؍۲۵۶)
وقد ذکر ابن سعد في الطبقات الکبریٰ أن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم بنی موضعاً للجنائز لاصقاً بالمسجد بعد الفراغ من المسجد الشریف في السنۃ الأولیٰ من الہجرۃ۔ (التعلیق الصبیح علی مشکوٰۃ المصابیح / باب المشي بالجنازۃ والصلاۃ علیہا ۲؍۲۳۹ لاہور)
وقد أوّلَ بعض أصحابنا حدیث عائشۃ رضي اللّٰہ تعالیٰ عنہا: إنما صلي في المسجد بعذر مطرٍ، وقیل: بعذر الاعتکاف۔ (لامع الدراری، کتاب الجنائز / باب صلاۃ الصبیان مع الناس ۴؍۳۶۴)
نحن نقول أیضاً: صلاتہ في المسجد کان للمطر أو للاعتکاف۔ (عمدۃ القاري / باب الرجل ینعی إلی أہل المیت ۸؍۱۸ بیروت)
وقال الملا علي القاري: لو کان إدخال المیت المسجد للصلاۃ علیہ أفضل لکان أکثر صلاتہ علیہ الصلاۃ والسلام علی المیت في المسجد، و لما امتنع جلُّ الصحابۃ عنہ، وإنما الحدیث یفید الجواز في الجملۃ، وقد نازع جماعۃ من المتأخرین الشافعي في الاستحباب، بأنہ کان للجنائز موضع معروف خارج المسجد، والغالب منہ علیہ السلام الصلاۃ علیہا ثمہ۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الجنائز / باب المشي بالجنازۃوالصلاۃ علیہا، الفصل الأول ۴؍۱۴۴ تحت رقم: ۱۵۵۶)
وتکرہ صلاۃ الجنازۃ في المسجد الذي تقام فیہ الجماعۃ مکروہ، ولا تکرہ بعذر المطر ونحوہ ہٰکذا في الکافي۔
(الفتاویٰ الہندیۃ ۱؍۱۶۵، شامي ۳؍۱۲۶ زکریا، ۲؍؍۲۲۴ کراچی)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
وقد ذکر ابن سعد في الطبقات الکبریٰ أن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم بنی موضعاً للجنائز لاصقاً بالمسجد بعد الفراغ من المسجد الشریف في السنۃ الأولیٰ من الہجرۃ۔ (التعلیق الصبیح علی مشکوٰۃ المصابیح / باب المشي بالجنازۃ والصلاۃ علیہا ۲؍۲۳۹ لاہور)
وقد أوّلَ بعض أصحابنا حدیث عائشۃ رضي اللّٰہ تعالیٰ عنہا: إنما صلي في المسجد بعذر مطرٍ، وقیل: بعذر الاعتکاف۔ (لامع الدراری، کتاب الجنائز / باب صلاۃ الصبیان مع الناس ۴؍۳۶۴)
نحن نقول أیضاً: صلاتہ في المسجد کان للمطر أو للاعتکاف۔ (عمدۃ القاري / باب الرجل ینعی إلی أہل المیت ۸؍۱۸ بیروت)
وقال الملا علي القاري: لو کان إدخال المیت المسجد للصلاۃ علیہ أفضل لکان أکثر صلاتہ علیہ الصلاۃ والسلام علی المیت في المسجد، و لما امتنع جلُّ الصحابۃ عنہ، وإنما الحدیث یفید الجواز في الجملۃ، وقد نازع جماعۃ من المتأخرین الشافعي في الاستحباب، بأنہ کان للجنائز موضع معروف خارج المسجد، والغالب منہ علیہ السلام الصلاۃ علیہا ثمہ۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الجنائز / باب المشي بالجنازۃوالصلاۃ علیہا، الفصل الأول ۴؍۱۴۴ تحت رقم: ۱۵۵۶)
وتکرہ صلاۃ الجنازۃ في المسجد الذي تقام فیہ الجماعۃ مکروہ، ولا تکرہ بعذر المطر ونحوہ ہٰکذا في الکافي۔
(الفتاویٰ الہندیۃ ۱؍۱۶۵، شامي ۳؍۱۲۶ زکریا، ۲؍؍۲۲۴ کراچی)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:6⃣3⃣1⃣
بغیر عذر شرعی کے نماز جنازہ مسجد میں پڑھنا کیسا ہے؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: بغیر عذر شرعی نماز جنازہ مسجد میں پڑھنا کیسا ہے؟ خواہ جنازہخارج مسجد ہو اور کچھ لوگ خارج مسجد ہوں یا کچھ لوگ حدود مسجد میں ہوں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:بلاعذر مسجد میں نماز جنازہ حنفیہ کے نزدیک مکروہ ہے، ہاں جب جنازہ باہر ہو تو امام اور جو مقتدی اس کے ساتھ باہر ہوں، ان کی نماز بالاتفاق مکروہ نہ ہوگی، مگر ایسی صورت میں مسجد کے اندر نماز جنازہپڑھنے والے مقتدیوں کی نماز کراہت تنزیہی سے خالی نہ ہوگی۔
وأجاب في النہر بحمل الاتفاق علی عدم الکراہۃ في حق من کان خارج المسجدوما مر في حق من کان داخلہ۔ (شامي ۲؍۲۲۵ کراچی)
ولو کانت الجنازۃ والإمام وبعض القوم خارج المسجد وباقي القوم في المسجد کما ہو المعہود في جوامعنا لایکرہ باتفاق أصحابنا۔ (مجمع الأنہر ۱؍۱۸۵۵)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
بغیر عذر شرعی کے نماز جنازہ مسجد میں پڑھنا کیسا ہے؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: بغیر عذر شرعی نماز جنازہ مسجد میں پڑھنا کیسا ہے؟ خواہ جنازہخارج مسجد ہو اور کچھ لوگ خارج مسجد ہوں یا کچھ لوگ حدود مسجد میں ہوں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:بلاعذر مسجد میں نماز جنازہ حنفیہ کے نزدیک مکروہ ہے، ہاں جب جنازہ باہر ہو تو امام اور جو مقتدی اس کے ساتھ باہر ہوں، ان کی نماز بالاتفاق مکروہ نہ ہوگی، مگر ایسی صورت میں مسجد کے اندر نماز جنازہپڑھنے والے مقتدیوں کی نماز کراہت تنزیہی سے خالی نہ ہوگی۔
وأجاب في النہر بحمل الاتفاق علی عدم الکراہۃ في حق من کان خارج المسجدوما مر في حق من کان داخلہ۔ (شامي ۲؍۲۲۵ کراچی)
ولو کانت الجنازۃ والإمام وبعض القوم خارج المسجد وباقي القوم في المسجد کما ہو المعہود في جوامعنا لایکرہ باتفاق أصحابنا۔ (مجمع الأنہر ۱؍۱۸۵۵)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:7⃣3⃣1⃣
مسجد میں نماز جنازہ کیوں منع ہے؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: مسجد میں نماز جنازہ جائز ہے کہ نہیں؟ اگر نہیں ہے تو کیوں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:بلاعذر مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا مکروہ ہے اور اس کی دو علتیں فقہاء نے بیان کی ہیں، اول یہ کہ جنازہ اندر ہونے کی وجہ سے تلویثمسجد کا خطرہ ہے، دوسرے یہ کہ مسجد نماز جنازہ کے لئے اصالۃً نہیں بنائی گئی ہے؛ بلکہ مسجد کی تعمیر کا اصل مقصد نماز پنج گانہ کی ادائیگی ہے۔
وکرہت تحریماً، وقیل تنزیہاً في مسجد جماعۃ ہو أي المیت فیہ وحدہ أو مع القوم، واختلف في لخارجۃ عن المسجد وحدہ أو مع بعض القوم، والمختار الکراہۃ مطلقاً بناء اً علی أن المسجد إنما بني للمکتوبۃ وتوابعہا۔ (درمختار مع الشامي ۲؍۲۲۵۵ کراچی، ۳؍۱۲۶ زکریا، طحطاوي ۳۲۷)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
مسجد میں نماز جنازہ مکروہ ہونے کی علت؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: جو لوگ جنازہ میں مسجد کے اندر ہوں، جیسے شاہی مسجد میں کیا حکم ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:حنفیہ کا مختار قول یہ ہے کہ بلا کسی عذر کے جو لوگمسجد میں کھڑے ہوںگے ان کی نماز مکروہ ہوگی، ایک قول عدم کراہت کا بھی ہے، اور یہ اختلاف علتوں کے اختلاف پر مبنی ہے، جن حضرات نے تلویثمسجد کو علت ممانعت قرار دیا ہے ان کے نزدیک جنازہ مسجد سے باہر ہونے کی صورت میں کوئی کراہت نہیں اور جو لوگ مسجد کے مقصد تعمیر یعنی ادائے فرائض وغیرہ کو علت ممانعت کہتے ہین، ان کے نزدیک مطلقاً مسجدمیں نماز جنازہ ممنوع ہے، اس اختلاف کی وجہ سے مسئولہ صورت کی کراہت میں یقینا تخفیف ہوجاتی ہے۔
وکرہت تحریماً، وقیل تنزیہاً في مسجد جماعۃ ہو أي المیت فیہ وحدہ أو مع القوم، واختلف في الخارجۃ عن المسجد وحدہ أو مع بعض القوم، والمختار الکراہۃ مطلقاً، خلاصۃ: بناء علی أن المسجد إنما بني للمکتوبۃ وتوابعہا کنافلہ وذکر وتدریس وعلم۔ (درمختار) وتحتہ في الشامیۃ: أما إذا علّلنا بخوف تلویث المسجد وحدہ أو مع بعض القوم۔ قال في شرح المنیۃ: وإلیہ مال في المبسوط والمحیط وعلیہ العمل وہو المختار۔ (شامي ۲؍۲۲۴ کراچی، شامي ۳؍۱۲۶ زکریا، طحطاوي ۳۲۷، البحر الرائق ۲؍۱۸۷ کوئٹہ، منحۃ الخالق ۲؍۱۸۷، امداد الفتاویٰ ۱؍۷۶۶)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
مسجد میں نماز جنازہ کیوں منع ہے؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: مسجد میں نماز جنازہ جائز ہے کہ نہیں؟ اگر نہیں ہے تو کیوں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:بلاعذر مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا مکروہ ہے اور اس کی دو علتیں فقہاء نے بیان کی ہیں، اول یہ کہ جنازہ اندر ہونے کی وجہ سے تلویثمسجد کا خطرہ ہے، دوسرے یہ کہ مسجد نماز جنازہ کے لئے اصالۃً نہیں بنائی گئی ہے؛ بلکہ مسجد کی تعمیر کا اصل مقصد نماز پنج گانہ کی ادائیگی ہے۔
وکرہت تحریماً، وقیل تنزیہاً في مسجد جماعۃ ہو أي المیت فیہ وحدہ أو مع القوم، واختلف في لخارجۃ عن المسجد وحدہ أو مع بعض القوم، والمختار الکراہۃ مطلقاً بناء اً علی أن المسجد إنما بني للمکتوبۃ وتوابعہا۔ (درمختار مع الشامي ۲؍۲۲۵۵ کراچی، ۳؍۱۲۶ زکریا، طحطاوي ۳۲۷)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
مسجد میں نماز جنازہ مکروہ ہونے کی علت؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: جو لوگ جنازہ میں مسجد کے اندر ہوں، جیسے شاہی مسجد میں کیا حکم ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:حنفیہ کا مختار قول یہ ہے کہ بلا کسی عذر کے جو لوگمسجد میں کھڑے ہوںگے ان کی نماز مکروہ ہوگی، ایک قول عدم کراہت کا بھی ہے، اور یہ اختلاف علتوں کے اختلاف پر مبنی ہے، جن حضرات نے تلویثمسجد کو علت ممانعت قرار دیا ہے ان کے نزدیک جنازہ مسجد سے باہر ہونے کی صورت میں کوئی کراہت نہیں اور جو لوگ مسجد کے مقصد تعمیر یعنی ادائے فرائض وغیرہ کو علت ممانعت کہتے ہین، ان کے نزدیک مطلقاً مسجدمیں نماز جنازہ ممنوع ہے، اس اختلاف کی وجہ سے مسئولہ صورت کی کراہت میں یقینا تخفیف ہوجاتی ہے۔
وکرہت تحریماً، وقیل تنزیہاً في مسجد جماعۃ ہو أي المیت فیہ وحدہ أو مع القوم، واختلف في الخارجۃ عن المسجد وحدہ أو مع بعض القوم، والمختار الکراہۃ مطلقاً، خلاصۃ: بناء علی أن المسجد إنما بني للمکتوبۃ وتوابعہا کنافلہ وذکر وتدریس وعلم۔ (درمختار) وتحتہ في الشامیۃ: أما إذا علّلنا بخوف تلویث المسجد وحدہ أو مع بعض القوم۔ قال في شرح المنیۃ: وإلیہ مال في المبسوط والمحیط وعلیہ العمل وہو المختار۔ (شامي ۲؍۲۲۴ کراچی، شامي ۳؍۱۲۶ زکریا، طحطاوي ۳۲۷، البحر الرائق ۲؍۱۸۷ کوئٹہ، منحۃ الخالق ۲؍۱۸۷، امداد الفتاویٰ ۱؍۷۶۶)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:8⃣3⃣1⃣
عذر واقعی کی وجہ سے مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: نماز جنازہ مسجد کے اندرونی حصہ میں ادا کرنا کیسا ہے؟ اگر کسی مسجد میں بار بار منع کرنے کے باوجود اصرار ہو تو کیا حکم ہے؟
اگر کسی خاص صورت میں گنجائش ہو تو اس کی وضاحت فرمائیں، مجمع زیادہ ہو گیا اور مسجد کے باہر کے حصہ (صحن) کی جگہ ناکافی ہو تو کیا مسجد کے اندرجنازہ رکھنے کی اجازت ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:مسجد شرعی کے اندر میت کے جنازہ کو رکھ کر وہاں نمازجنازہ پڑھنا مطلقاً مکروہ ہے؛ البتہ اگر کوئی واقعی عذر ہو مثلاً بارش وغیرہ ہو جائے اور مسجد کے علاوہ کوئی جگہ نماز جنازہ کے لئے دستیاب نہ ہو سکے، تو ایسی صورت میں مسجد کے اندر جنازہ کی اجازت ہو گی، اسی طرح اگر ضرورت کے موقع پر اگر یہ شکل ختیار کی جائے کہ جنازہ اور امام کے ساتھ کچھ لوگ مسجد سے باہر ہوں اور بقیہ نمازی مسجد کے اندر ہوں تو اس کی بھی گنجائش ہے۔
وکرہت تحریمًا، وقیل: تنزیہًا في مسجد جماعۃ ہو أي المیت فیہ وحدہ، أو مع القوم، واختلف في الخارجۃ عن المسجد وحدہ، أو مع بعض القوم، (درمختار) تحتہ في الشامیۃ: مسجد جماعۃ أي المسجد الجامع، ومسجد المحلۃ قہستاني - إلی قولہ - فلا یکرہ إذا کان المیت خارج المسجد وحدہ، أو مع القوم۔ قال في شرح المنیۃ: وإلیہ مال في المبسوط والمحیط وعلیہ العمل وہو المختار۔ (شامي ۳؍۱۲۶ زکریا)
ولو کانت الجنازۃ والإمام وبعض القوم خارج المسجد، وباقي القوم في المسجدکما ہو المعہود في جوامعنا لا یکرہ بإتفاق أصحابنا۔ (مجمع الأنہر ۱؍۱۸۴۴، فتح القدیر ۲؍۱۳۲-۱۳۳ زکریا، کتاب المسائل ۱؍۵۷۶)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
عذر واقعی کی وجہ سے مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: نماز جنازہ مسجد کے اندرونی حصہ میں ادا کرنا کیسا ہے؟ اگر کسی مسجد میں بار بار منع کرنے کے باوجود اصرار ہو تو کیا حکم ہے؟
اگر کسی خاص صورت میں گنجائش ہو تو اس کی وضاحت فرمائیں، مجمع زیادہ ہو گیا اور مسجد کے باہر کے حصہ (صحن) کی جگہ ناکافی ہو تو کیا مسجد کے اندرجنازہ رکھنے کی اجازت ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:مسجد شرعی کے اندر میت کے جنازہ کو رکھ کر وہاں نمازجنازہ پڑھنا مطلقاً مکروہ ہے؛ البتہ اگر کوئی واقعی عذر ہو مثلاً بارش وغیرہ ہو جائے اور مسجد کے علاوہ کوئی جگہ نماز جنازہ کے لئے دستیاب نہ ہو سکے، تو ایسی صورت میں مسجد کے اندر جنازہ کی اجازت ہو گی، اسی طرح اگر ضرورت کے موقع پر اگر یہ شکل ختیار کی جائے کہ جنازہ اور امام کے ساتھ کچھ لوگ مسجد سے باہر ہوں اور بقیہ نمازی مسجد کے اندر ہوں تو اس کی بھی گنجائش ہے۔
وکرہت تحریمًا، وقیل: تنزیہًا في مسجد جماعۃ ہو أي المیت فیہ وحدہ، أو مع القوم، واختلف في الخارجۃ عن المسجد وحدہ، أو مع بعض القوم، (درمختار) تحتہ في الشامیۃ: مسجد جماعۃ أي المسجد الجامع، ومسجد المحلۃ قہستاني - إلی قولہ - فلا یکرہ إذا کان المیت خارج المسجد وحدہ، أو مع القوم۔ قال في شرح المنیۃ: وإلیہ مال في المبسوط والمحیط وعلیہ العمل وہو المختار۔ (شامي ۳؍۱۲۶ زکریا)
ولو کانت الجنازۃ والإمام وبعض القوم خارج المسجد، وباقي القوم في المسجدکما ہو المعہود في جوامعنا لا یکرہ بإتفاق أصحابنا۔ (مجمع الأنہر ۱؍۱۸۴۴، فتح القدیر ۲؍۱۳۲-۱۳۳ زکریا، کتاب المسائل ۱؍۵۷۶)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:9⃣3⃣1⃣
مسجد میں نماز جنازہ پڑھنے کا حکم
سوال:
آدم جی نگر کی مکہ مسجد کو تعمیر ہوئے ۱۵ سال تقریبا ہو گئے، تب سے جنازے کی نماز مسجد کے میدان میں ہوا کرتی تھی۔ امام صاحب کی امامت کے آخری ایام میں محراب کے بیچ میں کھڑکی توڑ کر دروازہ بنا دیا گیا اور محراب کے باہر چار فٹ اونچا چبوترہ بنایا گیا، اب چبوترے پر جنازہ رکھ دیا جاتا ہے اور محراب کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے، جنازہ کی نماز مسجد میں پڑھی جاتی ہے۔ نئے امام صاحب نے جنازے کی نماز کا یہ طریقہ بند کر دیا ہے اور پہلے کی طرح نماز کھلے میدان میں ہونے لگی۔ مولانا مفتی محمد اسماعیل صاحب نے گجراتی کتاب میں جو فتوی کی کتاب ہے لکھا ہے کہ جنازے کی نماز کسی حالت میں مسجد میں پڑھنا مذہب حنفی میں مکروہ تحریمی ہے۔ اب کون سا طریقہ درست تھا؟ بہشتی گوہر میں مسئلہ کیا لکھا ہے؟ اور کہا جاتا ہے کہ حرمین میں مسجد میں نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے۔ آپ واضح فرمائیں کیا حکم ہے؟
جواب:
میت کو محراب سے باہر رکھ کر اگر نماز جنازہ مسجد کے اندر پڑھی جائے تو راجح قول کے مطابق یہ صورت بھی مکروہ ہے، البتہ آس پاس نمازجنازہ پڑھنے کیلئے کوئی اور جگہ نہ ہو تو مجبوراً فقہاء نے اس کی اجازت دی ہے لیکن چونکہ صورت مسئولہ میں مسجد کے ساتھ مسجد ہی کا کھلا میدان موجود ہے اس لئے جس مسجد کے بارے میں سوال ہے وہاں مسجد کے اندر بلا عذر نماز پڑھنا مکروہ ہے۔ نئے امام صاحب کا طریقہ درست ہے جو نماز جنازہ کھلے میدان میں پڑھاتے ہیں ایسا ہی کرنا چاہئے۔
لما فی الدر المختار: و اختلف فی الخارجۃ عن المسجد وحدہ او مع بعض القوم و المختار الکراھۃ مطلقاً خلاصہ .......... و ھو الموافق لاطلاق حدیث ابی داؤد من صلی علی میت فی المسجد فلا صلاۃ لہ، (و قال الشامیؒ انما تکرہ فی المسجد بلا عذر فان کان فلا) (شامی) (۱)۔
بہشتی گوہر (۲)، امداد الفتاوی (۳) وغیرہ سب میں مسئلہ اس طرح ہے اور جب مسجد کے ساتھ کھلی جگہ موجود ہے تو مکروہ تحریمی، مکروہ تنزیہی کی بحث میں نہیں پڑنا چاہئے، باہر ہی نماز پڑھنی چاہئے۔ حرمین شریفین کے امام صاحب، مذہب میں حنبلی ہیں اور حنبلی مذہب کے اندر مسجد میں نماز جنازہجائز
ہے (۴)۔
و اللہ سبحانہ اعلم
(۱) الدر المختار مع رد المحتار ج۲ ص۲۲۵ و ۲۲۶ (طبع سعید۔)
(۲) بہشتی گوہر ص۹۴ مسئلہ نمبر ۱۷ (طبع میر محمد کتب خانہ)۔
(۳) امداد الفتاوی ج۱ ص۵۳۳ و ۵۳۴۔
(۴) و فی المغنی لابن قدامۃ مع الشرح الکبیر ج۲ ص۳۵۸ (طبع دار الکتاب العربی بیروت) و لا باس بالصلوٰۃ علی المیت فی المسجد اذا لم یخف تلویثہ الخ۔
مسجد میں نماز جنازہ کا حکم (فارسی)
سوال: در صحن مسجد پنج وقتت یا در صحن جامع مسجد بصورت غیر معتاد نمازجنازہ جائز بلا کراہت است یا نہ؟
جواب: نماز جنازہ در مسجد جائز نیست، کذا فی کتب الفقہ (۱)۔
و اللہ اعلم
(۱) دیکھئے امداد الفتاوی ص۴۴۵۔
محمد امیر۔۔۔۔۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
مسجد میں نماز جنازہ پڑھنے کا حکم
سوال:
آدم جی نگر کی مکہ مسجد کو تعمیر ہوئے ۱۵ سال تقریبا ہو گئے، تب سے جنازے کی نماز مسجد کے میدان میں ہوا کرتی تھی۔ امام صاحب کی امامت کے آخری ایام میں محراب کے بیچ میں کھڑکی توڑ کر دروازہ بنا دیا گیا اور محراب کے باہر چار فٹ اونچا چبوترہ بنایا گیا، اب چبوترے پر جنازہ رکھ دیا جاتا ہے اور محراب کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے، جنازہ کی نماز مسجد میں پڑھی جاتی ہے۔ نئے امام صاحب نے جنازے کی نماز کا یہ طریقہ بند کر دیا ہے اور پہلے کی طرح نماز کھلے میدان میں ہونے لگی۔ مولانا مفتی محمد اسماعیل صاحب نے گجراتی کتاب میں جو فتوی کی کتاب ہے لکھا ہے کہ جنازے کی نماز کسی حالت میں مسجد میں پڑھنا مذہب حنفی میں مکروہ تحریمی ہے۔ اب کون سا طریقہ درست تھا؟ بہشتی گوہر میں مسئلہ کیا لکھا ہے؟ اور کہا جاتا ہے کہ حرمین میں مسجد میں نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے۔ آپ واضح فرمائیں کیا حکم ہے؟
جواب:
میت کو محراب سے باہر رکھ کر اگر نماز جنازہ مسجد کے اندر پڑھی جائے تو راجح قول کے مطابق یہ صورت بھی مکروہ ہے، البتہ آس پاس نمازجنازہ پڑھنے کیلئے کوئی اور جگہ نہ ہو تو مجبوراً فقہاء نے اس کی اجازت دی ہے لیکن چونکہ صورت مسئولہ میں مسجد کے ساتھ مسجد ہی کا کھلا میدان موجود ہے اس لئے جس مسجد کے بارے میں سوال ہے وہاں مسجد کے اندر بلا عذر نماز پڑھنا مکروہ ہے۔ نئے امام صاحب کا طریقہ درست ہے جو نماز جنازہ کھلے میدان میں پڑھاتے ہیں ایسا ہی کرنا چاہئے۔
لما فی الدر المختار: و اختلف فی الخارجۃ عن المسجد وحدہ او مع بعض القوم و المختار الکراھۃ مطلقاً خلاصہ .......... و ھو الموافق لاطلاق حدیث ابی داؤد من صلی علی میت فی المسجد فلا صلاۃ لہ، (و قال الشامیؒ انما تکرہ فی المسجد بلا عذر فان کان فلا) (شامی) (۱)۔
بہشتی گوہر (۲)، امداد الفتاوی (۳) وغیرہ سب میں مسئلہ اس طرح ہے اور جب مسجد کے ساتھ کھلی جگہ موجود ہے تو مکروہ تحریمی، مکروہ تنزیہی کی بحث میں نہیں پڑنا چاہئے، باہر ہی نماز پڑھنی چاہئے۔ حرمین شریفین کے امام صاحب، مذہب میں حنبلی ہیں اور حنبلی مذہب کے اندر مسجد میں نماز جنازہجائز
ہے (۴)۔
و اللہ سبحانہ اعلم
(۱) الدر المختار مع رد المحتار ج۲ ص۲۲۵ و ۲۲۶ (طبع سعید۔)
(۲) بہشتی گوہر ص۹۴ مسئلہ نمبر ۱۷ (طبع میر محمد کتب خانہ)۔
(۳) امداد الفتاوی ج۱ ص۵۳۳ و ۵۳۴۔
(۴) و فی المغنی لابن قدامۃ مع الشرح الکبیر ج۲ ص۳۵۸ (طبع دار الکتاب العربی بیروت) و لا باس بالصلوٰۃ علی المیت فی المسجد اذا لم یخف تلویثہ الخ۔
مسجد میں نماز جنازہ کا حکم (فارسی)
سوال: در صحن مسجد پنج وقتت یا در صحن جامع مسجد بصورت غیر معتاد نمازجنازہ جائز بلا کراہت است یا نہ؟
جواب: نماز جنازہ در مسجد جائز نیست، کذا فی کتب الفقہ (۱)۔
و اللہ اعلم
(۱) دیکھئے امداد الفتاوی ص۴۴۵۔
محمد امیر۔۔۔۔۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:0⃣4⃣1⃣
نمازِ جنازہ مسجد کے اندر پڑھنا مکروہ ہے
سوال:
اکثر یہاں دیکھا جاتا ہے کہ جنازہ محراب کے اندر رکھ کر محراب کے سرے پر امام کھڑے ہوجاتے ہیں اور مقتدی حضرات مسجد میں صف آرا ہوجاتے ہیں، بعد میں نمازِ جنازہ پڑھادی جاتی ہے۔ کیا یہ طریقہ صحیح ہے؟ اور عذر یہ پیش کیا جاتا ہے کہ جگہ کی کمی کی وجہ سے ایسا کرنا پڑتا ہے۔
جواب:
مسجد میں نمازِ جنازہ کی تین صورتیں ہیں، اور حنفیہ کے نزدیک علی الترتیب تینوں مکروہ ہیں، ایک یہ کہ جنازہ مسجد میں ہو اور امام و مقتدی بھیمسجد میں ہوں، دوم یہ کہ جنازہ باہر ہو اور امام و مقتدی مسجد میں ہوں، سوم یہ کہ جنازہ امام اور کچھ مقتدی مسجد سے باہر ہوں اور کچھ مقتدی مسجد کے اندر ہوں، اگر کسی عذرِ صحیح کی وجہ سے مسجد میں جنازہ پڑھا تو جائز ہے۔
آپ کے مسائل اور انکا حل
نمازِ جنازہ مسجد کے اندر پڑھنا مکروہ ہے
سوال:
اکثر یہاں دیکھا جاتا ہے کہ جنازہ محراب کے اندر رکھ کر محراب کے سرے پر امام کھڑے ہوجاتے ہیں اور مقتدی حضرات مسجد میں صف آرا ہوجاتے ہیں، بعد میں نمازِ جنازہ پڑھادی جاتی ہے۔ کیا یہ طریقہ صحیح ہے؟ اور عذر یہ پیش کیا جاتا ہے کہ جگہ کی کمی کی وجہ سے ایسا کرنا پڑتا ہے۔
جواب:
مسجد میں نمازِ جنازہ کی تین صورتیں ہیں، اور حنفیہ کے نزدیک علی الترتیب تینوں مکروہ ہیں، ایک یہ کہ جنازہ مسجد میں ہو اور امام و مقتدی بھیمسجد میں ہوں، دوم یہ کہ جنازہ باہر ہو اور امام و مقتدی مسجد میں ہوں، سوم یہ کہ جنازہ امام اور کچھ مقتدی مسجد سے باہر ہوں اور کچھ مقتدی مسجد کے اندر ہوں، اگر کسی عذرِ صحیح کی وجہ سے مسجد میں جنازہ پڑھا تو جائز ہے۔
آپ کے مسائل اور انکا حل
جواب نمبر:1⃣4⃣1⃣
مسجد میں نماز جنازہ پڑھنے کا حکم
سوال:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مندرجہ ذیل مسائل میں کہ جامع مسجد میں جمعہ کے دن ایک جنازہ آگیا لیکن بارش ایسی کثرت سے ہو رہی ہے کہ اگر میدان میں نمازِ جنازہ پڑھی جائے تو جتنے نمازی ہیں سب پانی میں بھیگ جائیں کیا ایسی صورت میں جنازہ کو مسجد کے اندر رکھ کر مسجد میں جنازہ کی نماز پڑھی جائے یا کہ نہیں؟
جواب:
اگر کوئی دوسری جگہ نہیں ہے اور نہ بارش کے ختم ہونے کا امکان ہے تو عذر مذکور کی وجہ سے مسجد میں صلاۃ جنازہ پڑھ لی جائے تو ہوجائیگی۔
انما نکرۃ الصلوۃ فی المسجد بلا عذر فان کان فلا ومن الاعذاب المطر کما فی الخانیہ شامی ( ص ۸۲۹، ج ۱)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
مسجد میں نماز جنازہ پڑھنے کا حکم
سوال:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مندرجہ ذیل مسائل میں کہ جامع مسجد میں جمعہ کے دن ایک جنازہ آگیا لیکن بارش ایسی کثرت سے ہو رہی ہے کہ اگر میدان میں نمازِ جنازہ پڑھی جائے تو جتنے نمازی ہیں سب پانی میں بھیگ جائیں کیا ایسی صورت میں جنازہ کو مسجد کے اندر رکھ کر مسجد میں جنازہ کی نماز پڑھی جائے یا کہ نہیں؟
جواب:
اگر کوئی دوسری جگہ نہیں ہے اور نہ بارش کے ختم ہونے کا امکان ہے تو عذر مذکور کی وجہ سے مسجد میں صلاۃ جنازہ پڑھ لی جائے تو ہوجائیگی۔
انما نکرۃ الصلوۃ فی المسجد بلا عذر فان کان فلا ومن الاعذاب المطر کما فی الخانیہ شامی ( ص ۸۲۹، ج ۱)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
Telegram
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
"جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند" میں روزانہ ایک دو مسئلہ مدلل ومزین انداز میں بطورِ استفادہ آپ کو ملے گا،
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1
جواب نمبر:2⃣4⃣1⃣
مذہب حنفی میں راجح اور صحیح ہے کہ مسجد جماعت میں نمازجنازہ مطلقاً مکروہ ہے
سوال: تبلیغی کانفرنس صوبہ متحدہ آگرہ اودھ امسال خورجہ میں منعقدہوئی ہے، جس کے صدر حضرت مولانا حسین احمد صاحب مدنی صاحب صدر مدرس مدرسہ عالیہ دیوبندقرار پائے ہیں، حضرت مولانا جمعہ کے دن خورجہ تشریف لے آئے،جمعہ کے دن بعدنمازجمعہ ایک جنازہ کی نمازجنازہ کومسجدکے اندر رکھ کر اور مصلی باہرمسجد مولانا نے نماز پڑھائی، جس وقت کہ جنازہمسجد کے اندر رکھاگیاتو عبداللہ خان گنج والوں نے مولانا سے عرض کیا کہ مسجد کے اندر جنازہ رکھ کر پڑھنا مکروہ تحریمی ہے، اس پر مولانا نے فرمایا کہ نہیں جائز ہے، آپ نمازپڑھ لیں، میں بعدنماز آپ کااطمینان کردوں گا، مگرعبداللہ خان بھائی نے نماز نہیں پڑحی اور عرض کیا کہ تمام حضرات دیوبندسے کہ جو آج قبروں میں بھی آرام فرمارہے ہیں، اور موجودہ بھی ہیں یہی سنتے رہے ہیں کہ مسجدکے اندر جنازہ کی نمازمکروہ ہے، چونکہ مجمع ہزار پانچ سو آدمیوں کا تھا بڑی قیل وقال ہوئی،بعدنماز ایک اور صاحب نے عرض کیاکہ مولانا اس مسئلہ کوحل فرماتے جایئے گا کہ جنازہ مسجد کے اندر رکھ کر نماز پڑھناجائز ہے یا نہیں، ورنہ احتمال رہے ہے کہ خورجہ والوں کے سرپھوٹنے لگیں، اس پر مولانا نے فرمایا کہ شوافع کے یہاں بالکل درست ہے، اور احناف کے یہاںجنازہ کو مسجد کے اندر رکھ کر نمازپڑھنے میں اختلاف ہے، ایک جواز کی طرف اور دوسرا عدم جواز کی طرف او رمکہ میں یہی ہوتاہے اور مدینہ میںمسجد کے اندرجنازہ رکھ کرنمازپڑھی جاتی ہے، اس پرایک صاحب نے عرض کیاکہ مولانا ہم رواج اور رسم دریافت نہیں کرتے ہیں، حدیث شریف میں کیاحکم ہے، مولانا نے حدیث شریف پڑھ دی، اس کے بعد لوگوں نے مولوی صاحب اور قاری صاحب سے دریافت کیا، دونوں صاحبوں نے اس صورت کو متفق علیہ مکروہ تحریمی بتایا، اور اگرجنازہ مسجد سے باہر ہو اور مصلیان داخل فی المسجدتو اس صورت کو احناف کے یہاں مختلف فیہ کہا، مگرراجح یہی ہے کہ اس صورت میں نمازدرست ہے، بالآخر مولانا حسین احمد صاحب کے سامنے ایک استفتاء پیش کیاگیاہے جس میں صورت کااحکم ازروئے فقہ حنفی دریافت کیاہے، مولانا نے فرمایا کہ اگر طحطاوی یا مراقی الفلاح ہوتو میں ابھی دکھادوں، اس پر عرض کیاگیا کہ یہاں یہ دونوں کتابیں نہیں ہیں، جب بندہ کو علم ہواکہ مولانا مراقی الفلاح مانگتے ہیں تب میں نے مولوی صاحب سے عرض کیا کہ مراقی الفلاح میں جناب کو مکہ سے لاکر پیش کی ہے، ایسامعلوم ہوتا تھا کہ مولوی صاحب مولانا سے بالمشافاۃ گفتگو کرنے میں گریزکرتے تھے، بہرحال مولانا اس استفتاء کو دیوبند لے گئے ہیں، مگر ہفتہ ہواکہ جواب نہیں آیا ، دیکھئے کیاجواب مرحمت فرماتے ہیں، حضور والا صورت مسطورہ میں فقہ حنفی میں کچھ گنجائش جواز کی ہے یا نہیں؟
الجواب: اس مسئلہ میں مولانا حسین احمد صاحب نے جو فرمایا ہے صحیح ہے، احناف کے علماء میں جنازہ کو مسجد کے اندر رکھ کر بشرطیکہ مقتدی وامام سب باہرہوں نماز پڑھنے میں بھی اختلاف ہے، بعض نے اس کو جائز کہاہے، شرح مراقی الفلاح میں ہے، فلوکان المیت موضوعاً فی المسجد والناس خارجہ لاتکرہ وبالعکس تکرہ کما فی الجوھرۃ قال الطحطاوی (ص ۳۴۷۷ ) وفیہ ان المیت یشغل المسجد بقدر جنازتہ،
مگرعلماء احناف کے اقوال مختلف ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ مذہب میں بھی اختلاف ہے بلکہ جب کسی مسئلہ میں اقوال مختلف ہوتے ہیں تو مذہب ان میں سے ایک ہوتا ہے، اور مذہب وہ ہے جس کو اہل متون نے اختیارکیاہو، پس مذہب حنفی میں راجح اورصحیح یہ ہے کہ مسجد جماعت میں نماز جنازہبہرحال مکروہ ہے، خواہ جنازہ تنہا مسجد کے اندر ہو اور مقتدی اور امام باہریامقتدی وامام مسجد کے اندر ہواورجنازہ باہر، یاامام اور جنازہ تنہا یا مع بعض قوم کے باہرہوں اور باقی مقتدی اندر،جیساکہ درمختار اور شامی ص ۹۲۴ ج ۱ سے ظاہر ہے ، البتہ چونکہ اس مسئلہ میں شوافع اور خود علماء حنفیہ کے درمیان اختلاف ہے، اس لیے مولانا حسین احمد صاحب کے فعل پرشدت کے ساتھ انکار کرنا بے جا تھا، اور مولانا کو بھی مناسب تھا کہ چونکہ منکر کاانکار بالکل غلط نہ تھا بلکہ مذہب مختاروصحیح کے موافق تھا اس لیے اس کے انکار کوعملاً تسلیم کرلیتے ہیں اور بعد میں قولاً اس کی اصلاح فرمادیتے کہ مسئلہ مختلف فیہ ہے، اس میں صورت کی بھی گنجائش ہے جس پر آپ نے انکارکیاتھا، اس لیے شدت کے ساتھ انکار مناسب نہ تھا۔
واللہ اعلم، ۲۴ جمادی الثانی ۴۷ھ
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
مذہب حنفی میں راجح اور صحیح ہے کہ مسجد جماعت میں نمازجنازہ مطلقاً مکروہ ہے
سوال: تبلیغی کانفرنس صوبہ متحدہ آگرہ اودھ امسال خورجہ میں منعقدہوئی ہے، جس کے صدر حضرت مولانا حسین احمد صاحب مدنی صاحب صدر مدرس مدرسہ عالیہ دیوبندقرار پائے ہیں، حضرت مولانا جمعہ کے دن خورجہ تشریف لے آئے،جمعہ کے دن بعدنمازجمعہ ایک جنازہ کی نمازجنازہ کومسجدکے اندر رکھ کر اور مصلی باہرمسجد مولانا نے نماز پڑھائی، جس وقت کہ جنازہمسجد کے اندر رکھاگیاتو عبداللہ خان گنج والوں نے مولانا سے عرض کیا کہ مسجد کے اندر جنازہ رکھ کر پڑھنا مکروہ تحریمی ہے، اس پر مولانا نے فرمایا کہ نہیں جائز ہے، آپ نمازپڑھ لیں، میں بعدنماز آپ کااطمینان کردوں گا، مگرعبداللہ خان بھائی نے نماز نہیں پڑحی اور عرض کیا کہ تمام حضرات دیوبندسے کہ جو آج قبروں میں بھی آرام فرمارہے ہیں، اور موجودہ بھی ہیں یہی سنتے رہے ہیں کہ مسجدکے اندر جنازہ کی نمازمکروہ ہے، چونکہ مجمع ہزار پانچ سو آدمیوں کا تھا بڑی قیل وقال ہوئی،بعدنماز ایک اور صاحب نے عرض کیاکہ مولانا اس مسئلہ کوحل فرماتے جایئے گا کہ جنازہ مسجد کے اندر رکھ کر نماز پڑھناجائز ہے یا نہیں، ورنہ احتمال رہے ہے کہ خورجہ والوں کے سرپھوٹنے لگیں، اس پر مولانا نے فرمایا کہ شوافع کے یہاں بالکل درست ہے، اور احناف کے یہاںجنازہ کو مسجد کے اندر رکھ کر نمازپڑھنے میں اختلاف ہے، ایک جواز کی طرف اور دوسرا عدم جواز کی طرف او رمکہ میں یہی ہوتاہے اور مدینہ میںمسجد کے اندرجنازہ رکھ کرنمازپڑھی جاتی ہے، اس پرایک صاحب نے عرض کیاکہ مولانا ہم رواج اور رسم دریافت نہیں کرتے ہیں، حدیث شریف میں کیاحکم ہے، مولانا نے حدیث شریف پڑھ دی، اس کے بعد لوگوں نے مولوی صاحب اور قاری صاحب سے دریافت کیا، دونوں صاحبوں نے اس صورت کو متفق علیہ مکروہ تحریمی بتایا، اور اگرجنازہ مسجد سے باہر ہو اور مصلیان داخل فی المسجدتو اس صورت کو احناف کے یہاں مختلف فیہ کہا، مگرراجح یہی ہے کہ اس صورت میں نمازدرست ہے، بالآخر مولانا حسین احمد صاحب کے سامنے ایک استفتاء پیش کیاگیاہے جس میں صورت کااحکم ازروئے فقہ حنفی دریافت کیاہے، مولانا نے فرمایا کہ اگر طحطاوی یا مراقی الفلاح ہوتو میں ابھی دکھادوں، اس پر عرض کیاگیا کہ یہاں یہ دونوں کتابیں نہیں ہیں، جب بندہ کو علم ہواکہ مولانا مراقی الفلاح مانگتے ہیں تب میں نے مولوی صاحب سے عرض کیا کہ مراقی الفلاح میں جناب کو مکہ سے لاکر پیش کی ہے، ایسامعلوم ہوتا تھا کہ مولوی صاحب مولانا سے بالمشافاۃ گفتگو کرنے میں گریزکرتے تھے، بہرحال مولانا اس استفتاء کو دیوبند لے گئے ہیں، مگر ہفتہ ہواکہ جواب نہیں آیا ، دیکھئے کیاجواب مرحمت فرماتے ہیں، حضور والا صورت مسطورہ میں فقہ حنفی میں کچھ گنجائش جواز کی ہے یا نہیں؟
الجواب: اس مسئلہ میں مولانا حسین احمد صاحب نے جو فرمایا ہے صحیح ہے، احناف کے علماء میں جنازہ کو مسجد کے اندر رکھ کر بشرطیکہ مقتدی وامام سب باہرہوں نماز پڑھنے میں بھی اختلاف ہے، بعض نے اس کو جائز کہاہے، شرح مراقی الفلاح میں ہے، فلوکان المیت موضوعاً فی المسجد والناس خارجہ لاتکرہ وبالعکس تکرہ کما فی الجوھرۃ قال الطحطاوی (ص ۳۴۷۷ ) وفیہ ان المیت یشغل المسجد بقدر جنازتہ،
مگرعلماء احناف کے اقوال مختلف ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ مذہب میں بھی اختلاف ہے بلکہ جب کسی مسئلہ میں اقوال مختلف ہوتے ہیں تو مذہب ان میں سے ایک ہوتا ہے، اور مذہب وہ ہے جس کو اہل متون نے اختیارکیاہو، پس مذہب حنفی میں راجح اورصحیح یہ ہے کہ مسجد جماعت میں نماز جنازہبہرحال مکروہ ہے، خواہ جنازہ تنہا مسجد کے اندر ہو اور مقتدی اور امام باہریامقتدی وامام مسجد کے اندر ہواورجنازہ باہر، یاامام اور جنازہ تنہا یا مع بعض قوم کے باہرہوں اور باقی مقتدی اندر،جیساکہ درمختار اور شامی ص ۹۲۴ ج ۱ سے ظاہر ہے ، البتہ چونکہ اس مسئلہ میں شوافع اور خود علماء حنفیہ کے درمیان اختلاف ہے، اس لیے مولانا حسین احمد صاحب کے فعل پرشدت کے ساتھ انکار کرنا بے جا تھا، اور مولانا کو بھی مناسب تھا کہ چونکہ منکر کاانکار بالکل غلط نہ تھا بلکہ مذہب مختاروصحیح کے موافق تھا اس لیے اس کے انکار کوعملاً تسلیم کرلیتے ہیں اور بعد میں قولاً اس کی اصلاح فرمادیتے کہ مسئلہ مختلف فیہ ہے، اس میں صورت کی بھی گنجائش ہے جس پر آپ نے انکارکیاتھا، اس لیے شدت کے ساتھ انکار مناسب نہ تھا۔
واللہ اعلم، ۲۴ جمادی الثانی ۴۷ھ
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:3⃣4⃣1⃣
مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا مکروہ ہے
سوال:
کیا مسجد شریف میں نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے،یا نہیں اگر جائزنہیں تو عرب میں حج کے موقع پر کیوں مسجد میں نمازجنازہ پڑھی جاتی ہے۔؟
جواب:
قال فی الدرالمختار(وکرت تحریما)وقیل (تنزیھا فی مسجد جماعة ھو)ای المیت (فیہ) وحدہ او مع القوم(اواختلف فی الخارجة)عن المسجد وحدہ او مع بعض القوم(والمختار الکراہة)مطلقا خلاصة بناءا علی ان المسجد انما بنی للمکتوبة وتابعھا الخ۔ وھو الموافق لاطلاق حدیث ابی دود من صلی علی میت فی المسجد فلا صلاة لہ قال فی ردالمختار قولہ فلا صلوة لہ ھذہ روایة ابن ابی شیبة وروایة احمد وابی دود فلا شیئ لہ الخ۔وفیہ قبیلہ من صلی علی میت فی مسجد یقضی کون المصلی فی المسجد سواء کان المیت فیہ او لا فیکرہ ذلک اخذ من منطوق الحدیث ویویدہ ما ذکرہ العلامة قاسم فی رسالتہ من انہ روی ان النیی صلی اللہ علیہ وسلم لما نع النجاشی الی اصحابہ خرج فصلی علیہ فی المصلی قال ولو جازت فی المسجد لم یکن للخروج معنی اہ مع ان المیت کان خارج المسجد۔
(شامی653/1باب صلوة الجائز۔
ان روایت سے واضح ہے کہ عند الحنفیہ مسجد جماعت میں نماز جنازہ مکروہ ہے۔اور اس میں اختلاف ہے کہ مکروہ تحریمی ہے یا تنزیہی۔ حاشیہ مشکوة کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ مکروہ تنزیہی کو ترجیح ہے۔ویظھران الاولی کونھا تنزیھا اذ لحدیث لیس ھو نصاغیر معروف والاقرن الفعل بوعید(حاشیہ مشکوة شریف 145)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا مکروہ ہے
سوال:
کیا مسجد شریف میں نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے،یا نہیں اگر جائزنہیں تو عرب میں حج کے موقع پر کیوں مسجد میں نمازجنازہ پڑھی جاتی ہے۔؟
جواب:
قال فی الدرالمختار(وکرت تحریما)وقیل (تنزیھا فی مسجد جماعة ھو)ای المیت (فیہ) وحدہ او مع القوم(اواختلف فی الخارجة)عن المسجد وحدہ او مع بعض القوم(والمختار الکراہة)مطلقا خلاصة بناءا علی ان المسجد انما بنی للمکتوبة وتابعھا الخ۔ وھو الموافق لاطلاق حدیث ابی دود من صلی علی میت فی المسجد فلا صلاة لہ قال فی ردالمختار قولہ فلا صلوة لہ ھذہ روایة ابن ابی شیبة وروایة احمد وابی دود فلا شیئ لہ الخ۔وفیہ قبیلہ من صلی علی میت فی مسجد یقضی کون المصلی فی المسجد سواء کان المیت فیہ او لا فیکرہ ذلک اخذ من منطوق الحدیث ویویدہ ما ذکرہ العلامة قاسم فی رسالتہ من انہ روی ان النیی صلی اللہ علیہ وسلم لما نع النجاشی الی اصحابہ خرج فصلی علیہ فی المصلی قال ولو جازت فی المسجد لم یکن للخروج معنی اہ مع ان المیت کان خارج المسجد۔
(شامی653/1باب صلوة الجائز۔
ان روایت سے واضح ہے کہ عند الحنفیہ مسجد جماعت میں نماز جنازہ مکروہ ہے۔اور اس میں اختلاف ہے کہ مکروہ تحریمی ہے یا تنزیہی۔ حاشیہ مشکوة کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ مکروہ تنزیہی کو ترجیح ہے۔ویظھران الاولی کونھا تنزیھا اذ لحدیث لیس ھو نصاغیر معروف والاقرن الفعل بوعید(حاشیہ مشکوة شریف 145)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:4⃣4⃣1⃣
نماز جنازہ کے فوراً بعد فاتحہ پڑھنا اور ہاتھ اٹھاکر دعا کرنا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: نماز جنازہ پڑھ کر فوراً ہی میت کے اوپر فاتحہ پڑھنا اور ہاتھ اٹھاکر دعا کرنا یعنی یہ دونوں امور بعد نماز جنازہ متصلاً کرنا کیسا ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:نماز جنازہ خود دعا ہے، اس کے بعد پھر فاتحہ پڑھنا یا ہاتھ اٹھاکر دعا کرنا ثابت نہیں ہے؛ بلکہ کتبِ فقہ میں اس کے بارے میں منع آیا ہے۔
لا یقوم بالدعاء بعد صلاۃ الجنازۃ۔ (خلاصۃ الفتاویٰ ۱؍۵۲۵)
ولا یدعو للمیت بعد صلاۃ الجنازۃ؛ لأنہ یشبہ الزیادۃ في صلاۃ الجنازۃ۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الجنائز / باب المشي بالجنازۃ والصلاۃ علیہا، الفصل الثالث ۴؍۱۷۰ رقم: ۱۶۸۷ رشیدیۃ، الفتاویٰ البزازیۃ علی ہامش الفتاویٰ الہندیۃ ۴؍؍۸۰ رشدیۃ)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
نماز جنازہ کے بعد دعا کرنا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: نماز جنازہ ختم ہونے کے ساتھ ساتھ دعاء کرنے کا ثبوت ہے یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:نماز جنازہ خود دعاء ہے؛ لہٰذا اس کے بعد دعاء کرنے کا ثبوت نہیں ہے، اور نہ ہی سلفِ صالحین سے ثابت ہے۔
(فتاویٰ محمودیہ ۸؍۷۱۲، فتاویٰ دارالعلوم ۵؍۳۵۲، کفایت المفتی ۴؍۱۵۸)
فقد صرحوا عن اٰخرہم بأن صلاۃ الجنازۃ ہي الدعاء للمیت؛ إذ ہو المقصود منہا۔ (رد المحتار، کتاب الصلاۃ / باب الجنائز ۲؍۲۱۰ کراچی، ۳؍۱۰۶ زکریا)
قال القاري في شرح المشکاۃ: ولا یدعي للمیت بعد صلاۃ الجنازۃ؛ لأنہ یشبہ الزیادۃ في صلاۃ الجنازۃ۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الجنائز / باب المشي بالجنازۃوالصلاۃ علیہا ۴؍۱۷۰ رقم: ۱۶۸۷ رشیدیۃ)
قال في خلاصۃ الفتاویٰ: لا یقوم الرجل بالدعاء بعد صلاۃ الجنازۃ۔ (خلاصۃ الفتاویٰ ۱؍۲۲۵ رشیدیۃ، بحوالہ حاشیۃ: فتاویٰ محمودیہ ۸؍۷۰۸ ڈابھیل)
وقال في شرح المنیۃ: وفي السراجیۃ: إذا فرغ من الصلاۃ لا یقوم بالدعاء۔ (الفتاویٰ السراجیۃ، کتاب الجنائز / باب الصلاۃ علی الجنازۃ ۲۳۳ کراچی)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
نماز جنازہ کے فوراً بعد فاتحہ پڑھنا اور ہاتھ اٹھاکر دعا کرنا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: نماز جنازہ پڑھ کر فوراً ہی میت کے اوپر فاتحہ پڑھنا اور ہاتھ اٹھاکر دعا کرنا یعنی یہ دونوں امور بعد نماز جنازہ متصلاً کرنا کیسا ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:نماز جنازہ خود دعا ہے، اس کے بعد پھر فاتحہ پڑھنا یا ہاتھ اٹھاکر دعا کرنا ثابت نہیں ہے؛ بلکہ کتبِ فقہ میں اس کے بارے میں منع آیا ہے۔
لا یقوم بالدعاء بعد صلاۃ الجنازۃ۔ (خلاصۃ الفتاویٰ ۱؍۵۲۵)
ولا یدعو للمیت بعد صلاۃ الجنازۃ؛ لأنہ یشبہ الزیادۃ في صلاۃ الجنازۃ۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الجنائز / باب المشي بالجنازۃ والصلاۃ علیہا، الفصل الثالث ۴؍۱۷۰ رقم: ۱۶۸۷ رشیدیۃ، الفتاویٰ البزازیۃ علی ہامش الفتاویٰ الہندیۃ ۴؍؍۸۰ رشدیۃ)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
نماز جنازہ کے بعد دعا کرنا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: نماز جنازہ ختم ہونے کے ساتھ ساتھ دعاء کرنے کا ثبوت ہے یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:نماز جنازہ خود دعاء ہے؛ لہٰذا اس کے بعد دعاء کرنے کا ثبوت نہیں ہے، اور نہ ہی سلفِ صالحین سے ثابت ہے۔
(فتاویٰ محمودیہ ۸؍۷۱۲، فتاویٰ دارالعلوم ۵؍۳۵۲، کفایت المفتی ۴؍۱۵۸)
فقد صرحوا عن اٰخرہم بأن صلاۃ الجنازۃ ہي الدعاء للمیت؛ إذ ہو المقصود منہا۔ (رد المحتار، کتاب الصلاۃ / باب الجنائز ۲؍۲۱۰ کراچی، ۳؍۱۰۶ زکریا)
قال القاري في شرح المشکاۃ: ولا یدعي للمیت بعد صلاۃ الجنازۃ؛ لأنہ یشبہ الزیادۃ في صلاۃ الجنازۃ۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الجنائز / باب المشي بالجنازۃوالصلاۃ علیہا ۴؍۱۷۰ رقم: ۱۶۸۷ رشیدیۃ)
قال في خلاصۃ الفتاویٰ: لا یقوم الرجل بالدعاء بعد صلاۃ الجنازۃ۔ (خلاصۃ الفتاویٰ ۱؍۲۲۵ رشیدیۃ، بحوالہ حاشیۃ: فتاویٰ محمودیہ ۸؍۷۰۸ ڈابھیل)
وقال في شرح المنیۃ: وفي السراجیۃ: إذا فرغ من الصلاۃ لا یقوم بالدعاء۔ (الفتاویٰ السراجیۃ، کتاب الجنائز / باب الصلاۃ علی الجنازۃ ۲۳۳ کراچی)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:5⃣4⃣1⃣
نماز جنازہ کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا۔
سوال:
حضور اکرم ﷺ نے کسی بھی صحابی کی نماز جنازہ پڑھنے کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی یا نہیں؟ نمازِ جنازہ کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا کیسا ہے؟
جواب:
نماز جنازہ کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعاء مانگنا نہ نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے نہ دوسرے صحابہ کرامؓ سے۔ لہذا آج کل جو رواج چل پڑا ہے اور اس طرح ضروری سمجھتے اور اس کے ترک پر نکیر کرتے ہیں، وہ بدعت اور واجب الترک ہے۔
(۱) و فی مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ ص۴۶ ج۴ (مکتبہ امدادیہ ملتان): ولا یدعو للمیت بعد صلوۃ الجنازۃ، لانہ یشبہ الزیادۃ فی صلوۃ الجنازۃ۔
وفی البزابیۃ (علی الھندیۃ ص۸۰ ج۴): لا یقوم بالدعاء بعد صلوۃ الجنائز، لانہدعا مرۃ لان اکثرھا دعائ، وفی خلاصۃ الفتاوی ص۲۲۵ ج۱ (طبع امجد اکیڈمی لاہور): ولا یقوم بالدعاء ففی قراء ۃ القرآن لاجل المیت بعد صلوۃ الجنازۃوقبلھا، وفی البحر الرائق ص۱۸۳ ج۲ (طبع سعید): لا یدعو بعد التسلیم۔
وفی فتاوی السراجیۃ علی قاضیخان (ص۱۴۵ ج۱): اذا فرغ من الصلوۃ لا یقوم داعیا لہ۔ وفی جامع الرموز فصل فی الجنائز ج۱ ص۲۸۳ (طبع ایچ ایم سعید): لا یقوم داعیا لہ، وفی نفع المفتی والسائل ص۱۴۳ (طبع کتب خانہ رحیمیہ دیوبند یوپی): الدعاء بعد الجنازۃ مکروہ۔ نیز مزید دیکھئے امداد الاحکام ص۱۹۴ ج۱ و امداد المفتین ص۱۷۶۔ (محمد زبیر)
واللہ اعلم
مستفاد:فتاوی عثمانی
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
نماز جنازہ کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا۔
سوال:
حضور اکرم ﷺ نے کسی بھی صحابی کی نماز جنازہ پڑھنے کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی یا نہیں؟ نمازِ جنازہ کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا کیسا ہے؟
جواب:
نماز جنازہ کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعاء مانگنا نہ نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے نہ دوسرے صحابہ کرامؓ سے۔ لہذا آج کل جو رواج چل پڑا ہے اور اس طرح ضروری سمجھتے اور اس کے ترک پر نکیر کرتے ہیں، وہ بدعت اور واجب الترک ہے۔
(۱) و فی مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ ص۴۶ ج۴ (مکتبہ امدادیہ ملتان): ولا یدعو للمیت بعد صلوۃ الجنازۃ، لانہ یشبہ الزیادۃ فی صلوۃ الجنازۃ۔
وفی البزابیۃ (علی الھندیۃ ص۸۰ ج۴): لا یقوم بالدعاء بعد صلوۃ الجنائز، لانہدعا مرۃ لان اکثرھا دعائ، وفی خلاصۃ الفتاوی ص۲۲۵ ج۱ (طبع امجد اکیڈمی لاہور): ولا یقوم بالدعاء ففی قراء ۃ القرآن لاجل المیت بعد صلوۃ الجنازۃوقبلھا، وفی البحر الرائق ص۱۸۳ ج۲ (طبع سعید): لا یدعو بعد التسلیم۔
وفی فتاوی السراجیۃ علی قاضیخان (ص۱۴۵ ج۱): اذا فرغ من الصلوۃ لا یقوم داعیا لہ۔ وفی جامع الرموز فصل فی الجنائز ج۱ ص۲۸۳ (طبع ایچ ایم سعید): لا یقوم داعیا لہ، وفی نفع المفتی والسائل ص۱۴۳ (طبع کتب خانہ رحیمیہ دیوبند یوپی): الدعاء بعد الجنازۃ مکروہ۔ نیز مزید دیکھئے امداد الاحکام ص۱۹۴ ج۱ و امداد المفتین ص۱۷۶۔ (محمد زبیر)
واللہ اعلم
مستفاد:فتاوی عثمانی
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:6⃣4⃣1⃣
نماز جنازہ کے بعد دعا مانگنا
سوال:
نماز جنازہ کے بعد دعاء مانگنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:
نماز جنازہ خود دعا ہے، اور اس کے بعد دعا کا اہتمام کسی حدیث یا صحابہ و تابعین کے عمل سے ثابت نہیں، لہٰذا آجکل بعض حلقوں میں جس اہتمام اور اصرار کے ساتھ یہ عمل کیا جاتا ہے وہ بدعت ہے۔
(کذا فی عزیز الفتاوی ص۳۸۹ ج۱)
فتاوی دار العلوم دیوبند ص۲۸۹ ج۱، مرقاۃ المفاتیح ج۴/۶۴ (مکتبہ امدادیہ ملتان)، بزازیہ مع الھندیۃ ۴/۸۰ (رشیدیہ کوئٹہ)، خلاصۃ الفتاوی ۱/۲۲۵ (امجد اکیڈمی لاہور)، بحر الرائق ۲/۱۸۳، جامع الرموز ص۲۸۳ ج۱ (طبع سعید)، نفع المفتی و السائل ص۱۴۳ (طبع کتب خانہ رحیمیہ دیوبند یوپی)، امداد الاحکام ۱/۱۹۴، امداد المفتین ص ۱۷۶۔
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
نماز جنازہ کے بعد دعا مانگنا
سوال:
نماز جنازہ کے بعد دعاء مانگنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:
نماز جنازہ خود دعا ہے، اور اس کے بعد دعا کا اہتمام کسی حدیث یا صحابہ و تابعین کے عمل سے ثابت نہیں، لہٰذا آجکل بعض حلقوں میں جس اہتمام اور اصرار کے ساتھ یہ عمل کیا جاتا ہے وہ بدعت ہے۔
(کذا فی عزیز الفتاوی ص۳۸۹ ج۱)
فتاوی دار العلوم دیوبند ص۲۸۹ ج۱، مرقاۃ المفاتیح ج۴/۶۴ (مکتبہ امدادیہ ملتان)، بزازیہ مع الھندیۃ ۴/۸۰ (رشیدیہ کوئٹہ)، خلاصۃ الفتاوی ۱/۲۲۵ (امجد اکیڈمی لاہور)، بحر الرائق ۲/۱۸۳، جامع الرموز ص۲۸۳ ج۱ (طبع سعید)، نفع المفتی و السائل ص۱۴۳ (طبع کتب خانہ رحیمیہ دیوبند یوپی)، امداد الاحکام ۱/۱۹۴، امداد المفتین ص ۱۷۶۔
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:7⃣4⃣1⃣
نماز جنازہ اور تدفین کے بعد کی دعاء
سوال:
کیا نمازِ جنازہ کے بعد دوبارہ دعاءکرنا چاہئے ؟ بعض لوگ تدفین کے بعد دعاء کرتے ہیں، نیز تدفین کے بعد سرہانے اور پائتی سورۂ بقرہ کی ابتدائی اور آخری آیات پڑھی جاتی ہیں، اس کا کیا حکم ہے ؟
جواب:
(الف) نمازِ جنازہ خود دعاء ہے ، دوبارہ ہیئت میں تبدیلی یعنی دفن سے پہلے دعاء کرنا احادیث سے ثابت نہیں ۔
(ب) تدفین کے بعد دعاء کی جاسکتی ہے کہ یہ حدیث سے ثابت ہے ۔(۱)
( ج) قبر کے سرہانے اور پائتی سورۂ بقرہ کا پہلا اورآخری رکوع پڑھنا بھی حدیث میں منقول ہے ، (۲)اس لئے اسے پڑھنا چاہئے ۔
(۱) صحیح مسلم ، حدیث نمبر : ۲۲۵۵ ، باب ما یقال عند دخول القبور و الدعاء لأھلھا، دیکھئے: سنن أبي داؤد ، حدیث نمبر : ۳۲۲۱ ، باب الاستغفار عند القبر للمیت في وقت الانصراف۔ محشی ۔
(۲) سنن أبي داؤد ، حدیث نمبر : ۳۱۹۹ ، باب الدعاء للمیت ۔ محشی ۔
واللہ اعلم
Pakistanسوال # 145435
میرا سوال یہ ہے کہ کیا جب میت کو دفن کیا جاتا ہے تو اس کے بعد اس کے سر اور پیر کی جانب کھڑا ہو کر تلقین کی غرض سے سورة الفاتحہ، البقرہ کا پہلا رکوع اور پھر البقرہ کا آخری رکوع پڑھنا کسے صحیح حدیث سے ثابت ہے ؟
برائے کرم جواب جلد عنایت فرمائیں۔
Published on: Jan 9, 2017 جواب # 145435
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 19-320/L=4/1438
میت کی تدفین کے بعد میت کے سرہانے کھڑے ہوکر سورہٴ بقرہ کی ابتدائی آیات ”المّ“ سے ”مفلحون“ تک پڑھنا اور پیر کی جانب سورہٴ بقرہ کی آخری آیات ”آمن الرسول سے اخیر آیت تک پڑھنا حدیث سے ثابت ہے، حدیث میں کچھ ضعف ہے لیکن فضائل اعمال میں معتبر ہے، بیہقی اور طبرانی کی روایت میں فاتحة الکتاب کی صراحت ہے؛ البتہ مشکاة میں یہی روایت بحوالہ بیہقی ”فاتحة البقرة“ کے ساتھ مذکور ہے اور ملا علی قاری نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے الم سے مفلحون تک پڑھنا لکھا ہے اور علامہ طیبی کے حوالے سے اس کی وجہ اور حکمت بھی لکھی ہے، اس لیے ممکن ہے کہ بیہقی اور طبرانی کی روایت میں مذکور ”فاتحة الکتاب“ سے ”فاتحة البقرة“ ہی مراد ہو، ویسے ایصالِ ثواب کی غرض سے سورہٴ فاتحہ کی تلاوت کرنے میں بھی مضایقہ نہیں ہے۔ عن عبد ا للہ بن عمر -رضي اللہ عنہما- سمعت النبی -صلی اللہ علیہ وسلم- یقول: إذا مات أحدکم فلا تحبسوہ وأسرعوا بہ إلی قبرہ ولیقرأ عند رأسہ بفاتحة الکتاب، وعند رجلیہ بخاتمة البقرة في قبرہ (رواہ البیہقي في شعب الإیمان رقم: ۹۷۹۴، والطبراني في الکبیر، رقم: ۱۳۶۱۳، قال الہیثمی في المجمع (۴۴۱۳) وفیہ یحی ابن عبد اللہ الباہلی وہو ضعیف وفی المرقاة: ولیقرأعند رأسہ فاتحة البقرة أي: إلی المفلحون․ وعند رجلیہ بخاتمة البقرة أي من آمن الرسول الخ قال الطیبي: لعل تخصیص فاتحتہا لاشتمالہا علی مدح کتاب اللہ، وأنہ ہدی للمتقین، الموصوفین بالخلال الحمیدة من الإیمان بالغیب، وإقامة الصلاة، وإیتاء الزکاة، وخاتمتہا لاحتوائہا علی الإیمان باللہ وملائکتہ وکتبہ ورسلہ، وإظہار الاستکانة، وطلب الغفران والرحمة، والتولی إلی کنف اللہ تعالی وحمایتہ․․․ قال النووی فی الأذکار: قال محمد بن أحمد المروزی: سمعت أحمد بن حنبل یقول: إذا دخلتم المقابر فاقروٴا بفاتحة الکتاب والمعوذتین، وقل ہو اللہ أحد، واجعلوا ثواب ذلک لأہل المقابر، فإنہ یصل إلیہم․ (مرقاة: ۴/ ۸۱باب دفن المیت)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
نماز جنازہ اور تدفین کے بعد کی دعاء
سوال:
کیا نمازِ جنازہ کے بعد دوبارہ دعاءکرنا چاہئے ؟ بعض لوگ تدفین کے بعد دعاء کرتے ہیں، نیز تدفین کے بعد سرہانے اور پائتی سورۂ بقرہ کی ابتدائی اور آخری آیات پڑھی جاتی ہیں، اس کا کیا حکم ہے ؟
جواب:
(الف) نمازِ جنازہ خود دعاء ہے ، دوبارہ ہیئت میں تبدیلی یعنی دفن سے پہلے دعاء کرنا احادیث سے ثابت نہیں ۔
(ب) تدفین کے بعد دعاء کی جاسکتی ہے کہ یہ حدیث سے ثابت ہے ۔(۱)
( ج) قبر کے سرہانے اور پائتی سورۂ بقرہ کا پہلا اورآخری رکوع پڑھنا بھی حدیث میں منقول ہے ، (۲)اس لئے اسے پڑھنا چاہئے ۔
(۱) صحیح مسلم ، حدیث نمبر : ۲۲۵۵ ، باب ما یقال عند دخول القبور و الدعاء لأھلھا، دیکھئے: سنن أبي داؤد ، حدیث نمبر : ۳۲۲۱ ، باب الاستغفار عند القبر للمیت في وقت الانصراف۔ محشی ۔
(۲) سنن أبي داؤد ، حدیث نمبر : ۳۱۹۹ ، باب الدعاء للمیت ۔ محشی ۔
واللہ اعلم
Pakistanسوال # 145435
میرا سوال یہ ہے کہ کیا جب میت کو دفن کیا جاتا ہے تو اس کے بعد اس کے سر اور پیر کی جانب کھڑا ہو کر تلقین کی غرض سے سورة الفاتحہ، البقرہ کا پہلا رکوع اور پھر البقرہ کا آخری رکوع پڑھنا کسے صحیح حدیث سے ثابت ہے ؟
برائے کرم جواب جلد عنایت فرمائیں۔
Published on: Jan 9, 2017 جواب # 145435
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 19-320/L=4/1438
میت کی تدفین کے بعد میت کے سرہانے کھڑے ہوکر سورہٴ بقرہ کی ابتدائی آیات ”المّ“ سے ”مفلحون“ تک پڑھنا اور پیر کی جانب سورہٴ بقرہ کی آخری آیات ”آمن الرسول سے اخیر آیت تک پڑھنا حدیث سے ثابت ہے، حدیث میں کچھ ضعف ہے لیکن فضائل اعمال میں معتبر ہے، بیہقی اور طبرانی کی روایت میں فاتحة الکتاب کی صراحت ہے؛ البتہ مشکاة میں یہی روایت بحوالہ بیہقی ”فاتحة البقرة“ کے ساتھ مذکور ہے اور ملا علی قاری نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے الم سے مفلحون تک پڑھنا لکھا ہے اور علامہ طیبی کے حوالے سے اس کی وجہ اور حکمت بھی لکھی ہے، اس لیے ممکن ہے کہ بیہقی اور طبرانی کی روایت میں مذکور ”فاتحة الکتاب“ سے ”فاتحة البقرة“ ہی مراد ہو، ویسے ایصالِ ثواب کی غرض سے سورہٴ فاتحہ کی تلاوت کرنے میں بھی مضایقہ نہیں ہے۔ عن عبد ا للہ بن عمر -رضي اللہ عنہما- سمعت النبی -صلی اللہ علیہ وسلم- یقول: إذا مات أحدکم فلا تحبسوہ وأسرعوا بہ إلی قبرہ ولیقرأ عند رأسہ بفاتحة الکتاب، وعند رجلیہ بخاتمة البقرة في قبرہ (رواہ البیہقي في شعب الإیمان رقم: ۹۷۹۴، والطبراني في الکبیر، رقم: ۱۳۶۱۳، قال الہیثمی في المجمع (۴۴۱۳) وفیہ یحی ابن عبد اللہ الباہلی وہو ضعیف وفی المرقاة: ولیقرأعند رأسہ فاتحة البقرة أي: إلی المفلحون․ وعند رجلیہ بخاتمة البقرة أي من آمن الرسول الخ قال الطیبي: لعل تخصیص فاتحتہا لاشتمالہا علی مدح کتاب اللہ، وأنہ ہدی للمتقین، الموصوفین بالخلال الحمیدة من الإیمان بالغیب، وإقامة الصلاة، وإیتاء الزکاة، وخاتمتہا لاحتوائہا علی الإیمان باللہ وملائکتہ وکتبہ ورسلہ، وإظہار الاستکانة، وطلب الغفران والرحمة، والتولی إلی کنف اللہ تعالی وحمایتہ․․․ قال النووی فی الأذکار: قال محمد بن أحمد المروزی: سمعت أحمد بن حنبل یقول: إذا دخلتم المقابر فاقروٴا بفاتحة الکتاب والمعوذتین، وقل ہو اللہ أحد، واجعلوا ثواب ذلک لأہل المقابر، فإنہ یصل إلیہم․ (مرقاة: ۴/ ۸۱باب دفن المیت)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:8⃣4⃣1⃣
نمازجنازہ کے بعددعا بدعت ہے
سوال:
نمازجنازہ پڑھنے کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرنامکروہ ہے یانہیں؟
الجواب:
قال فی حاشیۃ مالا بدمنہ وبعد سلام برائے دعا ایستادن ہم نشاید بلکہ درحمل جنازہ مشغول شومذ، کذافی الدرالمختار دزاداللبیب اھ (ص ۸۲۲) قلت لم اجدہ فی الدروالشامیۃ فلعلہ فی زاداللبیب والاصل فیہ ان الصلوٰۃ علی الجنازۃوضعت للدعافلامعنی للدعا ء بعد الدعاء فلایصح القیاس علی الصلوات المکتوبۃ وایضاً فذلک ینقل عن السلف، پس نمازجنازہ سے فارغ ہوکر دعاکرنا بھی بدعت ہے اور رفع یدین دعا کے ساتھ ہی ہے تو وہ بھی قابل ترک ہے،
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
نمازجنازہ کے بعددعا بدعت ہے
سوال:
نمازجنازہ پڑھنے کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرنامکروہ ہے یانہیں؟
الجواب:
قال فی حاشیۃ مالا بدمنہ وبعد سلام برائے دعا ایستادن ہم نشاید بلکہ درحمل جنازہ مشغول شومذ، کذافی الدرالمختار دزاداللبیب اھ (ص ۸۲۲) قلت لم اجدہ فی الدروالشامیۃ فلعلہ فی زاداللبیب والاصل فیہ ان الصلوٰۃ علی الجنازۃوضعت للدعافلامعنی للدعا ء بعد الدعاء فلایصح القیاس علی الصلوات المکتوبۃ وایضاً فذلک ینقل عن السلف، پس نمازجنازہ سے فارغ ہوکر دعاکرنا بھی بدعت ہے اور رفع یدین دعا کے ساتھ ہی ہے تو وہ بھی قابل ترک ہے،
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:9⃣4⃣1⃣
نماز جنازہ کے بعد دعا کرنے کا عدم جواز:
سوال: بعد سلام نماز جنازہ کے دعا کرنا اچھا ہے یا نہیں؟
الجواب: بعد سلام بھی نماز جنازہ میں دعا پڑھنا اچھا ہے،
کتبہٗ احمدحسن
باردوم(سوال) بعد نماز جنازہ دعاء مانگنا جائز ہے یا نہیں۔
(جواب اوّل) از مولوی احمد حسن۔
یہ مسئلہ مختلف فیہا ہے، برجندی شرح مختصر وقایہ میں ہے ’’ولا یقوم بالدعاء بعد صلاۃ الجنازۃ لانہ یشبہ الزیادۃ فیھا کذافی المحیط وعن ابی بکر بن حامد ان الدعاء بعد صلاۃ الجنازۃ مکروہ وقال محمد بن الفضل لا باس بہ کذافی القنیہ (ج ۱ ص۱۹۰) اور صلاۃ جنازہ گوحقیقتاًدعا ہے مگر صورتاً تو نماز ہے اور ہر نماز کے بعد دعاء مسنون ہے لعموم الادلۃ ، پس اس عموم سے نماز جنازہ کے بعد بھی دعا کو مسنون کہہ سکتے ہیں، اور جنہوں نے مکروہ کہا ہے تو ظاہر یہ ہے کہ مکروہ تنزیہی مراد لیا ہے اورلاباس بہ کا کلمہ گو اکثر ترک اولی (یعنی جس کا جانب مخالف جائز اور مباح ہو) کے موقعہ پر ہوا کرتاہے مگر کبھی مستحب کے معنی میںبھی ہوا ہے صرح بہ فی ردالمحتار (ج ۱ ص۱۲۴) پس یہ کلمہ یا تو یہاں مستحب پر معمول ہے یا جواز پر بتقریر مذکور بلکہ بقرینہ مقابلہ قولین بھی کیونکہ مکروہ تنزیہی کے معنی ظاہر میں کہ جس کا نہ کرنا اولی ہو اور کرنا ناپسندیدہ ہو۔ سوا اگر لاباس بہ سے بھی یہی مراد ہوتی تو اس قول کا لکھنا بظاہر تکرار غیر مفید ہوتا۔
غرض دونوں طرف وسعت ہے۔ استحباب میںبھی اورعدم استحباب میں بھی ، اور احقر کے نزدیک استحباب راجح ہے، ’’وللناس فیما یعشقون مذا ھب‘‘
فقط۔
کتبہ احمد حسن
(جواب ثانی)…(الجواب ھواالموفق للصواب)
اس مسئلہ میں کتب فقہ میں دور وایتیں پائی جاتی ہیں، ایک روایت عدم جواز کو مقتضی ہے اوردوسری روایت جواز بکراہت کو چنانچہ البحرالرائق جلد دوم ص۱۸۳ میں ہے ، وھی اربع تکبیرات بثناء بعد الاولیٰ وصلوۃ علی النبی صلی اﷲ علیہ واٰلہ وسلم بعد الثانیۃ ودعاء بعد الثالثۃ وقید بقولہ الثالثۃ لانہ یدعو بعد التسلیم کمافی الخلاصۃ وعن الفضلیؒ لا باس بہ انتہی۔
پہلی عبارت عدم جوا زپر دال ہے، جس کو صاحب بحر نے قوی قرار دیا ہے، اور دوسری عبارت جو بطور روایت فضلیؒ سے نقل کیا ہے جس میں لاباس بہ مذکور ہے وہ مشیر بجواز ہے، علی ہذا برحبذی میںجو محیط سے نقل کیا ہے وہ یہ ہے لا یقوم بالدعاء بعد صلاۃ الجنازۃ لانہ یشبہ الزیادۃ فیھا کذافی المحیط وعن ابی بکر ابن حامدؒ ان الدعاء بعد صلاۃ الجنازۃ مکروہ وقال محمد بن الفضل لا باس بہ اور اسی طرح یہ دونوں قول صاحب قنیہ سے بھی نقل کئے گئے ہیں،
اورملا علی قاری شرح ۱؎ مشکوۃ باب الجنائز تحت حدیث مالک بن ہبیرہ تحریر فرماتے ہیں ولاید عو للمیت بعد صلاۃ الجنازۃ لانہ یشبہ الزیادۃ فی صلاۃ الجنازۃاور کبیری میں ہے فی ۳؎ السراجیۃ اذا فرغ من الصلاۃ لا یقوم بالدعاء بالجملہ ان عبارتوں سے عدم جواز دعاء کی ترجیح ثابت ہوتی ہے، اوریہ گفتگو محض دعابعد صلاۃ الجنازہ کے متعلق ہے، لیکن اصل سوال اس دعاء کے متعلق واقع ہے جو اس زمانہ میں بعض بلاد میںمتعارف ہورہا ہے، بعض بلاد میں تو یہ متعارف ہے کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد ایک شخص حاضرین کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ ہر شخص بارہ بارہ دفعہ سورہ اخلاص پڑھ کر اس کا ثواب میت کو پہونچائے، اور بعض بلاد میں یہ متعارف ہے کہ نماز جنازہ سے فارغ ہوکر دعا میں مشغول ہوتے ہیں اور اس دعاء کا اس قدر التزام کیاہے کہ واجب کے درجہ میں پہنچادیا ہے کہ اگر کوئی شخص اس میں شریک نہ ہو تو اسکو وہابی اور بے دین کہتے ہیں ایسی حالت میںیہدعاء بعدصلاۃ الجنازہ اس وجہ سے بھی زیادہ ممنوع ہوگئی کہ حد بدعت میں داخل ہوگئی۔
علاوہ ازیں حدیث شریف میں جنازہ کے متعلق اسرعو اکا حکم ۳؎ ہے اور یہ تاخیر جو سورئہ اخلاص پڑھنے کی وجہ سے یا دعاء میں مشغول ہورہنے کی وجہ سے ہوئی وہ اس امر بالا سراع کے منافی ہے لہٰذا مکروہ اور ناجائز ہوگی۔
یہ سوال مولانا مفتی سعد اللہ رامپوری رحمۃ اللہ علیہ سے بھی کیا گیا ہے، چنانچہ ہم مختصراً اس کو فتاوی سعدیہ سے نقل کئے دیتے ہیں۔
استفتاء: ماقولہم دریں مسئلہ کہ بعد نماز جنازہ خواندن سورئہ اخلاص وفاتحہ ودعابرائے میت جائز است یانہ ۔ بینوا توجروا۔
الجواب: خالی از کراہت نیست زیرا کہ اکثر فقہاء بوجہ زیادہ بعدن برامرِ مسنون منع میکند وبعضے میگو یدلاباس بہ کلمۃ لابأس بہ اکثر درکراہت تنزیہی مستعمل می شود، وفی البر جندی لایقومہ بالدعاء بعد صلاۃ الجنازۃ لانہ یشبہ الزیادۃ فیھا کذافی المحیط وعن ابی بکر بن حامد ان الدعاء بعد صلاۃ الجنازۃ مکروہ وقال محمد بن الفضل لاباس بہ انتہی۔ وفی القنیۃ عن ابی بکر بن حامد ان الدعاء بعد صلاۃ الجنازۃ مکروہ وقال محمد بن الفضل لاباس بہ ناقلا عن المحیط ویضا فیہ لا یقول الرجل بالدعاء بعد صلاۃ الجنازۃ ۔ قال رضی اللہ عنہ لانہ یشبہ الزیادۃ فی صلاۃ الجنارۃ ناقلا عن علاء اسعدی وشرح السرخسی ۔ وفی خلاصۃ الفتاوی لا یقوم بالدعاء بعدصلاۃ الجنازۃ انتہی۔ بقدر الحاجۃ ۱؎۔
پس مجیب
نماز جنازہ کے بعد دعا کرنے کا عدم جواز:
سوال: بعد سلام نماز جنازہ کے دعا کرنا اچھا ہے یا نہیں؟
الجواب: بعد سلام بھی نماز جنازہ میں دعا پڑھنا اچھا ہے،
کتبہٗ احمدحسن
باردوم(سوال) بعد نماز جنازہ دعاء مانگنا جائز ہے یا نہیں۔
(جواب اوّل) از مولوی احمد حسن۔
یہ مسئلہ مختلف فیہا ہے، برجندی شرح مختصر وقایہ میں ہے ’’ولا یقوم بالدعاء بعد صلاۃ الجنازۃ لانہ یشبہ الزیادۃ فیھا کذافی المحیط وعن ابی بکر بن حامد ان الدعاء بعد صلاۃ الجنازۃ مکروہ وقال محمد بن الفضل لا باس بہ کذافی القنیہ (ج ۱ ص۱۹۰) اور صلاۃ جنازہ گوحقیقتاًدعا ہے مگر صورتاً تو نماز ہے اور ہر نماز کے بعد دعاء مسنون ہے لعموم الادلۃ ، پس اس عموم سے نماز جنازہ کے بعد بھی دعا کو مسنون کہہ سکتے ہیں، اور جنہوں نے مکروہ کہا ہے تو ظاہر یہ ہے کہ مکروہ تنزیہی مراد لیا ہے اورلاباس بہ کا کلمہ گو اکثر ترک اولی (یعنی جس کا جانب مخالف جائز اور مباح ہو) کے موقعہ پر ہوا کرتاہے مگر کبھی مستحب کے معنی میںبھی ہوا ہے صرح بہ فی ردالمحتار (ج ۱ ص۱۲۴) پس یہ کلمہ یا تو یہاں مستحب پر معمول ہے یا جواز پر بتقریر مذکور بلکہ بقرینہ مقابلہ قولین بھی کیونکہ مکروہ تنزیہی کے معنی ظاہر میں کہ جس کا نہ کرنا اولی ہو اور کرنا ناپسندیدہ ہو۔ سوا اگر لاباس بہ سے بھی یہی مراد ہوتی تو اس قول کا لکھنا بظاہر تکرار غیر مفید ہوتا۔
غرض دونوں طرف وسعت ہے۔ استحباب میںبھی اورعدم استحباب میں بھی ، اور احقر کے نزدیک استحباب راجح ہے، ’’وللناس فیما یعشقون مذا ھب‘‘
فقط۔
کتبہ احمد حسن
(جواب ثانی)…(الجواب ھواالموفق للصواب)
اس مسئلہ میں کتب فقہ میں دور وایتیں پائی جاتی ہیں، ایک روایت عدم جواز کو مقتضی ہے اوردوسری روایت جواز بکراہت کو چنانچہ البحرالرائق جلد دوم ص۱۸۳ میں ہے ، وھی اربع تکبیرات بثناء بعد الاولیٰ وصلوۃ علی النبی صلی اﷲ علیہ واٰلہ وسلم بعد الثانیۃ ودعاء بعد الثالثۃ وقید بقولہ الثالثۃ لانہ یدعو بعد التسلیم کمافی الخلاصۃ وعن الفضلیؒ لا باس بہ انتہی۔
پہلی عبارت عدم جوا زپر دال ہے، جس کو صاحب بحر نے قوی قرار دیا ہے، اور دوسری عبارت جو بطور روایت فضلیؒ سے نقل کیا ہے جس میں لاباس بہ مذکور ہے وہ مشیر بجواز ہے، علی ہذا برحبذی میںجو محیط سے نقل کیا ہے وہ یہ ہے لا یقوم بالدعاء بعد صلاۃ الجنازۃ لانہ یشبہ الزیادۃ فیھا کذافی المحیط وعن ابی بکر ابن حامدؒ ان الدعاء بعد صلاۃ الجنازۃ مکروہ وقال محمد بن الفضل لا باس بہ اور اسی طرح یہ دونوں قول صاحب قنیہ سے بھی نقل کئے گئے ہیں،
اورملا علی قاری شرح ۱؎ مشکوۃ باب الجنائز تحت حدیث مالک بن ہبیرہ تحریر فرماتے ہیں ولاید عو للمیت بعد صلاۃ الجنازۃ لانہ یشبہ الزیادۃ فی صلاۃ الجنازۃاور کبیری میں ہے فی ۳؎ السراجیۃ اذا فرغ من الصلاۃ لا یقوم بالدعاء بالجملہ ان عبارتوں سے عدم جواز دعاء کی ترجیح ثابت ہوتی ہے، اوریہ گفتگو محض دعابعد صلاۃ الجنازہ کے متعلق ہے، لیکن اصل سوال اس دعاء کے متعلق واقع ہے جو اس زمانہ میں بعض بلاد میںمتعارف ہورہا ہے، بعض بلاد میں تو یہ متعارف ہے کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد ایک شخص حاضرین کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ ہر شخص بارہ بارہ دفعہ سورہ اخلاص پڑھ کر اس کا ثواب میت کو پہونچائے، اور بعض بلاد میں یہ متعارف ہے کہ نماز جنازہ سے فارغ ہوکر دعا میں مشغول ہوتے ہیں اور اس دعاء کا اس قدر التزام کیاہے کہ واجب کے درجہ میں پہنچادیا ہے کہ اگر کوئی شخص اس میں شریک نہ ہو تو اسکو وہابی اور بے دین کہتے ہیں ایسی حالت میںیہدعاء بعدصلاۃ الجنازہ اس وجہ سے بھی زیادہ ممنوع ہوگئی کہ حد بدعت میں داخل ہوگئی۔
علاوہ ازیں حدیث شریف میں جنازہ کے متعلق اسرعو اکا حکم ۳؎ ہے اور یہ تاخیر جو سورئہ اخلاص پڑھنے کی وجہ سے یا دعاء میں مشغول ہورہنے کی وجہ سے ہوئی وہ اس امر بالا سراع کے منافی ہے لہٰذا مکروہ اور ناجائز ہوگی۔
یہ سوال مولانا مفتی سعد اللہ رامپوری رحمۃ اللہ علیہ سے بھی کیا گیا ہے، چنانچہ ہم مختصراً اس کو فتاوی سعدیہ سے نقل کئے دیتے ہیں۔
استفتاء: ماقولہم دریں مسئلہ کہ بعد نماز جنازہ خواندن سورئہ اخلاص وفاتحہ ودعابرائے میت جائز است یانہ ۔ بینوا توجروا۔
الجواب: خالی از کراہت نیست زیرا کہ اکثر فقہاء بوجہ زیادہ بعدن برامرِ مسنون منع میکند وبعضے میگو یدلاباس بہ کلمۃ لابأس بہ اکثر درکراہت تنزیہی مستعمل می شود، وفی البر جندی لایقومہ بالدعاء بعد صلاۃ الجنازۃ لانہ یشبہ الزیادۃ فیھا کذافی المحیط وعن ابی بکر بن حامد ان الدعاء بعد صلاۃ الجنازۃ مکروہ وقال محمد بن الفضل لاباس بہ انتہی۔ وفی القنیۃ عن ابی بکر بن حامد ان الدعاء بعد صلاۃ الجنازۃ مکروہ وقال محمد بن الفضل لاباس بہ ناقلا عن المحیط ویضا فیہ لا یقول الرجل بالدعاء بعد صلاۃ الجنازۃ ۔ قال رضی اللہ عنہ لانہ یشبہ الزیادۃ فی صلاۃ الجنارۃ ناقلا عن علاء اسعدی وشرح السرخسی ۔ وفی خلاصۃ الفتاوی لا یقوم بالدعاء بعدصلاۃ الجنازۃ انتہی۔ بقدر الحاجۃ ۱؎۔
پس مجیب
نے جو اولاً وثانیاً جواب میںمساہلء اور مسامحت کی ہے وہ قابل اعتبار نہیں، جواب صحیح یہی ہے کہ دعا بعد صلاۃ الجنازہ خصوصاًدہ دعا جو متعارف بلاد ہے قطعاً بدعت و ناجائز ہے،
حررہ خلیل احمد عفی عنہ، مہتمم مدرسہ مظاہر علوم
صحیح الجواب۔ عنایت الہٰی عفی عنہ
الجواب صحیح۔ ثابت علی عفی عنہ
الجواب صحیح۔ وہو صریح الحق بندہ محمد الیاس عفی عنہ (کاندھلوی)
الجواب صحیح۔ عبدالوحید عفی عنہ
الجواب صحیح۔ منظور احمد عفی عنہ
الجواب صحیح۔ عبدالرحمن عفی عنہ
محمد امیر۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
حررہ خلیل احمد عفی عنہ، مہتمم مدرسہ مظاہر علوم
صحیح الجواب۔ عنایت الہٰی عفی عنہ
الجواب صحیح۔ ثابت علی عفی عنہ
الجواب صحیح۔ وہو صریح الحق بندہ محمد الیاس عفی عنہ (کاندھلوی)
الجواب صحیح۔ عبدالوحید عفی عنہ
الجواب صحیح۔ منظور احمد عفی عنہ
الجواب صحیح۔ عبدالرحمن عفی عنہ
محمد امیر۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:0⃣5⃣1⃣
نماز جنازہ کے بعد دعاء مشروع نہیں۔
سوال:
عن ابی ھریرة رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا صلیتم المیت فاخلصوالہ الدعاء(ابودود وابن ماجہ)عن وائلة بن الاسقع قال صلی بنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی رجل من المسلمین فسمعتہ یقول اللھم ان فلانبن فلان فی ذمتک وحبل جوارک فقہ من فتنة القبر وعذاب النار وانت اھل الوفاء والحق اللھم مغفرلہ والرحمہ انک انت الغفور الرحیم (ابو دود وابن ماجہ) جنازہ کے بعد دعاء مشروع نییں ہے یا ہے۔؟
الجوب:
نماز جنازہ کے بعد دعا مشروع نہیں ہے (2)اور ان احدیث میں دعا سے مراد نماز جنازہ کی دعا ہے یعنی پہلی حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب تم نماز جنازہ پڑھو تو اس کے اندر دعاء جنازہ اخلاص کے ساتھ، اسی طرح دوسری حدیث میں صاف یہ موجود ہے کہ دعا نماز جنازہ مراد ہے۔
(2)ولا یدعو للمیت بعد صلاة الجنازة لانہ یشبہ الزیادة فی صلاة الجنازة۔
(مرقاة المفاتیح شرح مشکوة المصابیح369/2)
واللہ اعلم
فتاوی دار العلوم دیو بند
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
نماز جنازہ کے بعد دعاء مشروع نہیں۔
سوال:
عن ابی ھریرة رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا صلیتم المیت فاخلصوالہ الدعاء(ابودود وابن ماجہ)عن وائلة بن الاسقع قال صلی بنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی رجل من المسلمین فسمعتہ یقول اللھم ان فلانبن فلان فی ذمتک وحبل جوارک فقہ من فتنة القبر وعذاب النار وانت اھل الوفاء والحق اللھم مغفرلہ والرحمہ انک انت الغفور الرحیم (ابو دود وابن ماجہ) جنازہ کے بعد دعاء مشروع نییں ہے یا ہے۔؟
الجوب:
نماز جنازہ کے بعد دعا مشروع نہیں ہے (2)اور ان احدیث میں دعا سے مراد نماز جنازہ کی دعا ہے یعنی پہلی حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب تم نماز جنازہ پڑھو تو اس کے اندر دعاء جنازہ اخلاص کے ساتھ، اسی طرح دوسری حدیث میں صاف یہ موجود ہے کہ دعا نماز جنازہ مراد ہے۔
(2)ولا یدعو للمیت بعد صلاة الجنازة لانہ یشبہ الزیادة فی صلاة الجنازة۔
(مرقاة المفاتیح شرح مشکوة المصابیح369/2)
واللہ اعلم
فتاوی دار العلوم دیو بند
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:1⃣5⃣1⃣
علماء ربانی اورعلماء سوء کی پہچان:
(مسئلہ :بحضورعلماء کرام شرع متین بحیثیت مشورہ سلف کے دوقسم علماء یعنی علماء ربانی اورعلماء سوء کے علاوہ کوئی اورقسم علماء کی ہے یانہیں؟جن کاشمارنہ علماء ربانی میں ہوں اورنہ علماء سوء میں ہوںنیزعلماء ربانی اورعلماء سوء کی تعریف اورعلامات ظاہرفرمادیں،تاکہ لوگ غلطی میں نہ آجائیںاورعلماء سوء سے گریزاورعلماء ربانی کے دامن گیرہوجائیں،باقی مندرجہ ذیل علماء علماء ربانی ہیں یانہیں؟اورجو لوگ ان کے پیرہیں وہ حق پرہیںیاغلط؟ اسمائے گرامی علماء یہ ہیں(١)حضرت جی مولانامحمدیوسف (٢)حضرت مولاناخلیل احمدسہارنپوری (٣)شیخ الحدیث مولانازکریا (٤)شیخ الہندمولانامحمودالحسن(٥)سیدانورشاہ کشمیری (٦)رشیداحمدگنگوہی(٧)محمدیوسف بنوری (٨)مفتی محمدشفیع (٩)اشرف علی تھانوی(١٠)مفتی عزیزالرحمن(١١)قاری محمدطیب (١٢)شبیراحمدعثمانی (١٣)مفتی کفایت اللہ مندرجہ بالاعلماء جومذکورہیں اورقرآن وسنت ومذہب کے اندر جوحل وحرمت کاثبوت کیاہے توجوکوئی ان سے انکارتاویل کرتے ہیں اورساتھ غلط الزام لگاتے ہیں توایسے علماء علماء سوء میں شمارہیں یانہیں ؟بینوا توجروا
الجواب باسم الملک الوہاب
علماء حق وہ ہیں جو صحیح العقیدہ ہوں ،دنیاکے عاشق نہ ہوںاوران کے سیئات حسنات پرغالب نہ ہوں،شریعت مطہرہ میں دنیاممنوع نہیں ہے دنیاکی محبت ممنوع ہے،صحابہ کرام اور ائمہ مجتہدین میں سے بہت سے بزرگ ایسے گزرے ہیں جومال وجاہ اوربڑے عہدوں کے مالک تھے مگراس کی محبت ان کے دل میں نہ تھی ،جودین کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے،جن علماء میں مندرجہ بالاتین شرائط موجودنہ ہوں وہ علماء سوء ہیں ،علماء حق اورعلماء سوء کے درمیان کوئی اوردرمیانی طبقہ نہیں ،جن اکابردیوبند کاذکراستفتاء میں کیاگیاہے ،قواعدشرعیہ کی روسے یہ علماء حق تھے اوران کی تحقیر وتوہین شرعاً درست نہیں ،البتہ مسائل میں ان سے اختلاف رائے رکھنا جرم نہیں ہے،ان کے اندرخودبھی بہت سے مسائل میں اختلاف رائے موجودہے۔
مثلاً سنت پڑھنے کے بعددعامع رفع الایدی ہیئت اجتماعیہ کومفتی کفایت اللہ صاحب نے ممنوع قراردیاہے،جبکہ علامہ انورشاہ صاحب نے فیض الباری میں جائز لکھاہے ،اسی طرح مااہل بہ لغیراللہ کی تفصیل میں علامہ شبیراحمدعثمانی اورعلامہ انورشاہ کشمیری کے درمیان اختلاف رائے موجودہے ،دورحاضرمیں نعلین پہنے ہوئے مسجدمیں داخل ہونے کے متعلق حضرت مولانا خلیل احمدصاحب اور حضرت مولانا شبیراحمدعثمانی کے درمیان اختلاف رائے موجودہے ،اسی طرح قبرکے پاس دفن کے بعد دعامانگتے وقت ہاتھ اٹھانے کو ہمارے اکثراکابردیوبندنے خلاف سنت لکھاہے جب کہ مولانا رشیداحمدصاحب لدھیانوی نے احسن الفتاویٰ جلد رابع ص ٢٢٤ میں بمقتضائے قاعدہ رفع یدین مستحب ہے ،اوردعابوقت زیارت القبورمیں ثبوت رفع الیدین سے بھی اس کی تائیدہوتی ہے ،مگراکابر کے تعامل عدم رفع کے پیش نظر رفع یدین کے قول وعمل کی ہمت نہ ہوتی تھی، اس بناء پر احسن الفتاویٰ جلد اول باب ردالبدعات میں عدم رفع کافتویٰ تحریرہے ،اس کے بعدحدیث میں رفع یدین کی تصریح مل گئی۔
''قال الحافظ رحمہ اللہ تعالی وفی حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ رایت رسول اللہ ۖ فی قبرعبداللہ ذی البجادین الحدیث وفیہ فلمافرغ من دفنہ استقبل القبلة رافعا یدیہ اخرجہ ابوعوانہ فی صحیحہ ''…(فتح الباری : ١٧٣/١١)
اب استحباب رفع یدین میں کوئی تأمل نہیں رہا ،اس لیے عدم رفع کے سابقہ فتوی سے رجوع کرتاہوں ،فقط واللہ اعلم یہ تھی حضرت لدھیانوی صاحب کی تحریر، خلاصہ یہ ہے کہ علماء دیوبند کے اکابر علماء حق تھے ان کی تعظیم واحترام ضروری ہے ،مگران کی تقلید ضروری نہیں ،تقلیدصرف ائمہ مجتہدین کی کرنی چاہیئے ۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
علماء ربانی اورعلماء سوء کی پہچان:
(مسئلہ :بحضورعلماء کرام شرع متین بحیثیت مشورہ سلف کے دوقسم علماء یعنی علماء ربانی اورعلماء سوء کے علاوہ کوئی اورقسم علماء کی ہے یانہیں؟جن کاشمارنہ علماء ربانی میں ہوں اورنہ علماء سوء میں ہوںنیزعلماء ربانی اورعلماء سوء کی تعریف اورعلامات ظاہرفرمادیں،تاکہ لوگ غلطی میں نہ آجائیںاورعلماء سوء سے گریزاورعلماء ربانی کے دامن گیرہوجائیں،باقی مندرجہ ذیل علماء علماء ربانی ہیں یانہیں؟اورجو لوگ ان کے پیرہیں وہ حق پرہیںیاغلط؟ اسمائے گرامی علماء یہ ہیں(١)حضرت جی مولانامحمدیوسف (٢)حضرت مولاناخلیل احمدسہارنپوری (٣)شیخ الحدیث مولانازکریا (٤)شیخ الہندمولانامحمودالحسن(٥)سیدانورشاہ کشمیری (٦)رشیداحمدگنگوہی(٧)محمدیوسف بنوری (٨)مفتی محمدشفیع (٩)اشرف علی تھانوی(١٠)مفتی عزیزالرحمن(١١)قاری محمدطیب (١٢)شبیراحمدعثمانی (١٣)مفتی کفایت اللہ مندرجہ بالاعلماء جومذکورہیں اورقرآن وسنت ومذہب کے اندر جوحل وحرمت کاثبوت کیاہے توجوکوئی ان سے انکارتاویل کرتے ہیں اورساتھ غلط الزام لگاتے ہیں توایسے علماء علماء سوء میں شمارہیں یانہیں ؟بینوا توجروا
الجواب باسم الملک الوہاب
علماء حق وہ ہیں جو صحیح العقیدہ ہوں ،دنیاکے عاشق نہ ہوںاوران کے سیئات حسنات پرغالب نہ ہوں،شریعت مطہرہ میں دنیاممنوع نہیں ہے دنیاکی محبت ممنوع ہے،صحابہ کرام اور ائمہ مجتہدین میں سے بہت سے بزرگ ایسے گزرے ہیں جومال وجاہ اوربڑے عہدوں کے مالک تھے مگراس کی محبت ان کے دل میں نہ تھی ،جودین کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے،جن علماء میں مندرجہ بالاتین شرائط موجودنہ ہوں وہ علماء سوء ہیں ،علماء حق اورعلماء سوء کے درمیان کوئی اوردرمیانی طبقہ نہیں ،جن اکابردیوبند کاذکراستفتاء میں کیاگیاہے ،قواعدشرعیہ کی روسے یہ علماء حق تھے اوران کی تحقیر وتوہین شرعاً درست نہیں ،البتہ مسائل میں ان سے اختلاف رائے رکھنا جرم نہیں ہے،ان کے اندرخودبھی بہت سے مسائل میں اختلاف رائے موجودہے۔
مثلاً سنت پڑھنے کے بعددعامع رفع الایدی ہیئت اجتماعیہ کومفتی کفایت اللہ صاحب نے ممنوع قراردیاہے،جبکہ علامہ انورشاہ صاحب نے فیض الباری میں جائز لکھاہے ،اسی طرح مااہل بہ لغیراللہ کی تفصیل میں علامہ شبیراحمدعثمانی اورعلامہ انورشاہ کشمیری کے درمیان اختلاف رائے موجودہے ،دورحاضرمیں نعلین پہنے ہوئے مسجدمیں داخل ہونے کے متعلق حضرت مولانا خلیل احمدصاحب اور حضرت مولانا شبیراحمدعثمانی کے درمیان اختلاف رائے موجودہے ،اسی طرح قبرکے پاس دفن کے بعد دعامانگتے وقت ہاتھ اٹھانے کو ہمارے اکثراکابردیوبندنے خلاف سنت لکھاہے جب کہ مولانا رشیداحمدصاحب لدھیانوی نے احسن الفتاویٰ جلد رابع ص ٢٢٤ میں بمقتضائے قاعدہ رفع یدین مستحب ہے ،اوردعابوقت زیارت القبورمیں ثبوت رفع الیدین سے بھی اس کی تائیدہوتی ہے ،مگراکابر کے تعامل عدم رفع کے پیش نظر رفع یدین کے قول وعمل کی ہمت نہ ہوتی تھی، اس بناء پر احسن الفتاویٰ جلد اول باب ردالبدعات میں عدم رفع کافتویٰ تحریرہے ،اس کے بعدحدیث میں رفع یدین کی تصریح مل گئی۔
''قال الحافظ رحمہ اللہ تعالی وفی حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ رایت رسول اللہ ۖ فی قبرعبداللہ ذی البجادین الحدیث وفیہ فلمافرغ من دفنہ استقبل القبلة رافعا یدیہ اخرجہ ابوعوانہ فی صحیحہ ''…(فتح الباری : ١٧٣/١١)
اب استحباب رفع یدین میں کوئی تأمل نہیں رہا ،اس لیے عدم رفع کے سابقہ فتوی سے رجوع کرتاہوں ،فقط واللہ اعلم یہ تھی حضرت لدھیانوی صاحب کی تحریر، خلاصہ یہ ہے کہ علماء دیوبند کے اکابر علماء حق تھے ان کی تعظیم واحترام ضروری ہے ،مگران کی تقلید ضروری نہیں ،تقلیدصرف ائمہ مجتہدین کی کرنی چاہیئے ۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:2⃣5⃣1⃣
رفع یدین نہ کرنے کے دلائل۔
دلیل نمبر:1⃣
قَالَ اللہُ تَعَالیٰ: قَدْاَفْلَحَ الْمُؤمِنُوْنَ الَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ صَلٰوتِھِمْ خَاشِعُوْنَ
(سورۃ مومنون:1،2)
ترجمہ: پکی بات ہے کہ وہ مومن کامیاب ہوگئے جو نماز میں خشوع اختیار کرنے والے ہیں۔
تفسیر: قَالَ اِبْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا مُخْبِتُوْنَ مُتَوَاضِعُوْنَ لَایَلْتَفِتُوْنَ یَمِیْناً وَّلَا شِمَالاً وَّ لَا یَرْفَعُوْنَ اَیْدِیَھُمْ فِی الصَّلٰوۃِ…الخ
(تفسیر ابن عباس رضی اللہ عنہما :ص212)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ’’خشوع کرنے والے سے مراد وہ لوگ ہیں جونماز میں تواضع اورعاجزی اختیار کرتے ہیں اوروہ دائیں بائیں توجہ نہیں کرتے ہیں اورنہ ہی نماز میں رفع یدین کرتے ہیں۔‘‘
دلیل نمبر:2⃣
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اَحْمَدُبْنُ شُعَیْبِ النَّسَائِیُّ اَخْبَرَ نَا سُوَیْدُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ الْاَسْوَدِ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ اَلَااُخْبِرُکُمْ بِصَلٰوۃِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ؛ فَقَامَ فَرَفَعَ یَدَیْہِ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ثُمَّ لَمْ یُعِدْ۔
(سنن النسائی ج1ص158،سنن ابی دائود ج1ص116 )
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’کیامیں تمہیں اس بات کی خبر نہ دوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے نماز پڑھتے تھے ؟حضرت علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے پہلی مرتبہ رفع یدین کیا(یعنی تکبیر تحریمہ کے وقت) پھر(پوری نمازمیں)رفع یدین نہیں کیا۔‘‘
دلیل نمبر:3⃣
اَلْاِمَامُ الْحَافِظُ اَبُوْحَنِیْفَۃَ نُعْمَانُ بْنُ ثَابِتٍ یَقُوْلُ سَمِعْتُ الشَّعْبِیَّ یَقُوْلُ سَمِعْتُ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ یَقُوْلُ؛کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَاافْتَتَحَ الصَّلَاۃَ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتّٰی یُحَاذِیَ مَنْکَبَیْہِ لَایَعُوْدُ بِرَفْعِھِمَا حَتّٰی یُسَلِّمَ مِنْ صَلَا تِہٖ۔
(مسند ابی حنیفہ بروا یۃ ابی نعیم رحمہ اللہ ص344،سنن ابی دائود؛ ج 1 ص 116 )
ترجمہ: حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے،(اس کے بعد پوری نماز میں) سلام پھیرنے تک دوبارہ رفع یدین نہیں کرتے تھے۔‘‘
دلیل نمبر:4⃣
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اَبُوْبَکْرٍ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ الزُّبَیْرِالْحُمَیْدِیُّ ثَنَا الزُّھْرِیُّ قَالَ اَخْبَرَنِیْ سَالِمُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ (رَضِیَ اللہُ عَنْہُ) رَائیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَاافْتَتَحَ الصَّلٰوۃَ رَفَعَ یَدَیْہِ حَذْوَ مَنْکَبَیْہِ وَاِذَااَرَادَاَنْ یَّرْکَعَ وَبَعْدَ مَا یَرْفَعَ رَاْسَہٗ مِنَ الرَّکُوْعِ فَلَا یَرْفَعُ وَلَا بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ۔
(مسند حمیدی ج2ص277،مسند ابی عوانۃ ج 1 ص 334 )
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھاجب نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے ۔رکوع کی طرف جاتے ہوئے، رکوع سے سراٹھاتے ہوئے اور سجدوں کے درمیان رفع یدین نہیں کرتے تھے۔‘‘
دلیل نمبر:5⃣
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ ابْنُ حِبَا نٍ اَخْبَرَ نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ یُوْسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدِ الْعَسْکَرِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍعَنْ شُعْبَۃَ عَنْ سُلَیْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ الْمُسَیِّبَ بْنَ رَافِعٍ عَنْ تَمِیْمِ بْنِ طُرْفَۃَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّہٗ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَاَبْصَرَقَوْمًا قَدْرَفَعُوْا اَیْدِیَھُمْ فَقَالَ قَدْ رَفَعُوْھَا کَاَنَّھَااَذْنَابُ خَیٍل شُمُسٍ اُسْکُنُوْا فِی الصَّلَاۃِ۔‘‘
(صحیح ابن حبان ج3 ص178 ،صحیح مسلم ج1ص181 )
ترجمہ: حضرت جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے لوگوں کو رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا : ’’انہوں نے اپنے ہاتھوں کوشریرگھوڑوں کی دموں کی طرح اٹھایاہے تم نماز میں سکون اختیار کرو ۔‘‘(نماز میں رفع یدین نہ کرو)
دلیل نمبر:6⃣
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ مُحَمَّدُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ بُکَیْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ خَالِدٍ عَنْ سَعِیْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِوبْنِ عَطَائٍ اَنَّہٗ کَانَ جَالِسًا مَعَ نَفَرٍ مِّنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَذَکَرْنَا صَلٰوۃَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ ا
رفع یدین نہ کرنے کے دلائل۔
دلیل نمبر:1⃣
قَالَ اللہُ تَعَالیٰ: قَدْاَفْلَحَ الْمُؤمِنُوْنَ الَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ صَلٰوتِھِمْ خَاشِعُوْنَ
(سورۃ مومنون:1،2)
ترجمہ: پکی بات ہے کہ وہ مومن کامیاب ہوگئے جو نماز میں خشوع اختیار کرنے والے ہیں۔
تفسیر: قَالَ اِبْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا مُخْبِتُوْنَ مُتَوَاضِعُوْنَ لَایَلْتَفِتُوْنَ یَمِیْناً وَّلَا شِمَالاً وَّ لَا یَرْفَعُوْنَ اَیْدِیَھُمْ فِی الصَّلٰوۃِ…الخ
(تفسیر ابن عباس رضی اللہ عنہما :ص212)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ’’خشوع کرنے والے سے مراد وہ لوگ ہیں جونماز میں تواضع اورعاجزی اختیار کرتے ہیں اوروہ دائیں بائیں توجہ نہیں کرتے ہیں اورنہ ہی نماز میں رفع یدین کرتے ہیں۔‘‘
دلیل نمبر:2⃣
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اَحْمَدُبْنُ شُعَیْبِ النَّسَائِیُّ اَخْبَرَ نَا سُوَیْدُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّہِ بْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ الْاَسْوَدِ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ اَلَااُخْبِرُکُمْ بِصَلٰوۃِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ؛ فَقَامَ فَرَفَعَ یَدَیْہِ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ثُمَّ لَمْ یُعِدْ۔
(سنن النسائی ج1ص158،سنن ابی دائود ج1ص116 )
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’کیامیں تمہیں اس بات کی خبر نہ دوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے نماز پڑھتے تھے ؟حضرت علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے پہلی مرتبہ رفع یدین کیا(یعنی تکبیر تحریمہ کے وقت) پھر(پوری نمازمیں)رفع یدین نہیں کیا۔‘‘
دلیل نمبر:3⃣
اَلْاِمَامُ الْحَافِظُ اَبُوْحَنِیْفَۃَ نُعْمَانُ بْنُ ثَابِتٍ یَقُوْلُ سَمِعْتُ الشَّعْبِیَّ یَقُوْلُ سَمِعْتُ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ یَقُوْلُ؛کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَاافْتَتَحَ الصَّلَاۃَ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتّٰی یُحَاذِیَ مَنْکَبَیْہِ لَایَعُوْدُ بِرَفْعِھِمَا حَتّٰی یُسَلِّمَ مِنْ صَلَا تِہٖ۔
(مسند ابی حنیفہ بروا یۃ ابی نعیم رحمہ اللہ ص344،سنن ابی دائود؛ ج 1 ص 116 )
ترجمہ: حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے،(اس کے بعد پوری نماز میں) سلام پھیرنے تک دوبارہ رفع یدین نہیں کرتے تھے۔‘‘
دلیل نمبر:4⃣
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اَبُوْبَکْرٍ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ الزُّبَیْرِالْحُمَیْدِیُّ ثَنَا الزُّھْرِیُّ قَالَ اَخْبَرَنِیْ سَالِمُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ (رَضِیَ اللہُ عَنْہُ) رَائیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَاافْتَتَحَ الصَّلٰوۃَ رَفَعَ یَدَیْہِ حَذْوَ مَنْکَبَیْہِ وَاِذَااَرَادَاَنْ یَّرْکَعَ وَبَعْدَ مَا یَرْفَعَ رَاْسَہٗ مِنَ الرَّکُوْعِ فَلَا یَرْفَعُ وَلَا بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ۔
(مسند حمیدی ج2ص277،مسند ابی عوانۃ ج 1 ص 334 )
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھاجب نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے ۔رکوع کی طرف جاتے ہوئے، رکوع سے سراٹھاتے ہوئے اور سجدوں کے درمیان رفع یدین نہیں کرتے تھے۔‘‘
دلیل نمبر:5⃣
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ ابْنُ حِبَا نٍ اَخْبَرَ نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ یُوْسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدِ الْعَسْکَرِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍعَنْ شُعْبَۃَ عَنْ سُلَیْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ الْمُسَیِّبَ بْنَ رَافِعٍ عَنْ تَمِیْمِ بْنِ طُرْفَۃَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّہٗ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَاَبْصَرَقَوْمًا قَدْرَفَعُوْا اَیْدِیَھُمْ فَقَالَ قَدْ رَفَعُوْھَا کَاَنَّھَااَذْنَابُ خَیٍل شُمُسٍ اُسْکُنُوْا فِی الصَّلَاۃِ۔‘‘
(صحیح ابن حبان ج3 ص178 ،صحیح مسلم ج1ص181 )
ترجمہ: حضرت جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے لوگوں کو رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا : ’’انہوں نے اپنے ہاتھوں کوشریرگھوڑوں کی دموں کی طرح اٹھایاہے تم نماز میں سکون اختیار کرو ۔‘‘(نماز میں رفع یدین نہ کرو)
دلیل نمبر:6⃣
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ مُحَمَّدُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ بُکَیْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ خَالِدٍ عَنْ سَعِیْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِوبْنِ عَطَائٍ اَنَّہٗ کَانَ جَالِسًا مَعَ نَفَرٍ مِّنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَذَکَرْنَا صَلٰوۃَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ ا
َبُوْحُمَیْدِ السَّاعِدِ
یُّ اَنَا کُنْتُ اَحْفَظُکُمْ لِصَلٰوۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَاَ یْتُہٗ اِذَا کَبَّرَ جَعَلَ یَدَیْہِ حَذْوَ مَنْکَبَیْہِ وَاِذَا رَکَعَ اَمْکَنَ یَدَیْہِ مِنْ رُکْبَتَیْہِ ثُمَّ ھَصَرَظَھْرَہٗ فَاِذَا رَفَعَ رَاْسَہٗ اِسْتَویٰ حَتّٰی یَعُوْدَ کُلُّ فَقَارٍ مَّکَانَہٗ وَاِذَا سَجَدَ وَضَعَ یَدَیْہِ غَیْرَمُفَتَرِشٍ وَّلَا قَابِضَہُمَا۔
(صحیح بخاری؛ ج1ص114 ‘ صحیح ابن خزیمہ؛ ج1ص298)
ترجمہ : محمد بن عمر وبن عطاء رحمہ اللہ ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے فرماتے ہیں :’’ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نما زکاذکر کیا ( کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیسے نمازپڑھتے تھے؟) توحضرت ابوحمیدساعدی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’میں تم سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازپڑھنے کے طریقے کو زیادہ یاد رکھنے والا ہوں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کے طریقے کو بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب تکبیر تحریمہ کہی تو اپنے ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھایااور جب رکوع کیا تو اپنے ہاتھوں سے اپنے گھٹنوں کومضبوطی سے پکڑاپھر اپنی پیٹھ کو جھکایا جب سر کو رکوع سے اٹھایا توسیدھے کھڑے ہوگئے حتی کہ ہرہڈی اپنی جگہ پر لوٹ آئی اورجب سجدہ کیاتو اپنے ہاتھوں کو اپنے حال پر رکھا نہ پھیلایا اورنہ ہی ملایا ۔‘‘
دلیل نمبر:7⃣
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اَبُوْجَعْفَرٍ اَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ الطَّحَاوِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ اَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ ثَنَا نُعَیْمُ بْنُ حَمَّادٍ قَالَ ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوْسٰی قَالَ ثَنَا ابْنُ اَبِیْ لَیْلٰی عَنْ نَافِعٍ عَنْ اِبْنِ عُمَرَ… وَعَنِ الْحَکَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ؛ تُرْفَعُ الْاَیْدِیْ فِیْ سَبْعِ مَوَاطِنَ: فِی افْتِتَاحِ الصَّلٰوۃِ وَ عِنْدَ الْبَیْتِ وَعَلَی الصَّفَائِ وَالْمَرْوَۃِ وَبِعَرْفَاتٍ وَ بِالْمُزْدَلْفَۃِ وَعِنْدَ الْجَمْرَ تَیْنِ۔
(سنن طحاوی 416/1)
ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاسات جگہوں پر ہاتھوں کو اٹھایا جاتاہے
٭…1⃣ شروع نماز میں ٭…2⃣ بیت اللہ کے پاس ٭…3⃣ صفاء پر ٭…4 مروہ پر ٭…5 عرفات میں ٭…6 مزدلفہ میں ٭…7 جمرات کے پاس۔
دلیل نمبر:8⃣
قَالَ الْاِمَامُ اَبُوْبَکْرِ الاِسْمَاعِیْلِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ صَالِحِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ اَبُوْمُحَمَّدٍ صَاحِبُ الْبُخَارِیُّ صَدُوْقٌ ثَبْتٌ قَالَ حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرِ السَّھْمِیُّ عَنْ حَمَّادِ (ابْنِ اَبِیْ سُلَیْمَانَ ) عَنْ اِبْرَاہِیْمَ (النَّخْعِیِّ ) عَنْ عَلْقَمَۃِ (بْنِ قَیْسٍ) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ(بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ) قَالَ صَلَّیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاَبِیْ بَکْرٍ وَّ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَافَلَمْ یَرْفَعُوْا اَیْدِیَھُمْ اِلَّاعِنْدَافْتِتَاحِ الصَّلَاۃِ۔
(کتاب المعجم،امام اسماعیلی692/2
سنن کبریٰ امام بیہقی رحمہ اللہ79/2
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ نماز پڑھی انہوں نے پوری نماز میں صرف تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کی ۔‘‘
دلیل نمبر:9⃣ قَالَ الْاِمَامُ ابْنُ قَاسِمٍ (حَدَّثَنَا)وَکِیْعٌ عَنْ اَبِیْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ قَطَّافِ النَّھْشَلِیِّ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ عَلِیًّا کَانَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ اِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاۃَ ثُمَّ لَا یَعُوْدُ۔
(المدونۃ الکبریٰ؛ ج۱ص۷۱،مسند زید بن علی ص۱۰۰)
ترجمہ: ’’حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ جب نمازشروع کرتے تو رفع یدین کرتے پھر پوری نما زمیں رفع یدین نہیں کرتے تھے‘‘۔
دلیل نمبر:0⃣1⃣
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اَبُوْ بَکْرِ بْنِ اَبِیْ شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنِ عَیَّاشٍ عَنْ حُصَیْنٍ عَنْ مُجَاھِدٍقَالَ مَارَاَیْتُ اِبْنَ عُمَرَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ اِلَّافِیْ اَوَّلِ مَا یَفْتَتِحُ۔
(مصنف ابن ابی شیبہ ج1ص268 )
ترجمہ: معروف تابعی حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو شروع نماز کے علاوہ رفع یدین کرتے ہوئے نہیں دیکھا‘‘۔
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
یُّ اَنَا کُنْتُ اَحْفَظُکُمْ لِصَلٰوۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَاَ یْتُہٗ اِذَا کَبَّرَ جَعَلَ یَدَیْہِ حَذْوَ مَنْکَبَیْہِ وَاِذَا رَکَعَ اَمْکَنَ یَدَیْہِ مِنْ رُکْبَتَیْہِ ثُمَّ ھَصَرَظَھْرَہٗ فَاِذَا رَفَعَ رَاْسَہٗ اِسْتَویٰ حَتّٰی یَعُوْدَ کُلُّ فَقَارٍ مَّکَانَہٗ وَاِذَا سَجَدَ وَضَعَ یَدَیْہِ غَیْرَمُفَتَرِشٍ وَّلَا قَابِضَہُمَا۔
(صحیح بخاری؛ ج1ص114 ‘ صحیح ابن خزیمہ؛ ج1ص298)
ترجمہ : محمد بن عمر وبن عطاء رحمہ اللہ ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے فرماتے ہیں :’’ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نما زکاذکر کیا ( کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیسے نمازپڑھتے تھے؟) توحضرت ابوحمیدساعدی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’میں تم سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازپڑھنے کے طریقے کو زیادہ یاد رکھنے والا ہوں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کے طریقے کو بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب تکبیر تحریمہ کہی تو اپنے ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھایااور جب رکوع کیا تو اپنے ہاتھوں سے اپنے گھٹنوں کومضبوطی سے پکڑاپھر اپنی پیٹھ کو جھکایا جب سر کو رکوع سے اٹھایا توسیدھے کھڑے ہوگئے حتی کہ ہرہڈی اپنی جگہ پر لوٹ آئی اورجب سجدہ کیاتو اپنے ہاتھوں کو اپنے حال پر رکھا نہ پھیلایا اورنہ ہی ملایا ۔‘‘
دلیل نمبر:7⃣
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اَبُوْجَعْفَرٍ اَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ الطَّحَاوِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ اَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ ثَنَا نُعَیْمُ بْنُ حَمَّادٍ قَالَ ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوْسٰی قَالَ ثَنَا ابْنُ اَبِیْ لَیْلٰی عَنْ نَافِعٍ عَنْ اِبْنِ عُمَرَ… وَعَنِ الْحَکَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ؛ تُرْفَعُ الْاَیْدِیْ فِیْ سَبْعِ مَوَاطِنَ: فِی افْتِتَاحِ الصَّلٰوۃِ وَ عِنْدَ الْبَیْتِ وَعَلَی الصَّفَائِ وَالْمَرْوَۃِ وَبِعَرْفَاتٍ وَ بِالْمُزْدَلْفَۃِ وَعِنْدَ الْجَمْرَ تَیْنِ۔
(سنن طحاوی 416/1)
ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاسات جگہوں پر ہاتھوں کو اٹھایا جاتاہے
٭…1⃣ شروع نماز میں ٭…2⃣ بیت اللہ کے پاس ٭…3⃣ صفاء پر ٭…4 مروہ پر ٭…5 عرفات میں ٭…6 مزدلفہ میں ٭…7 جمرات کے پاس۔
دلیل نمبر:8⃣
قَالَ الْاِمَامُ اَبُوْبَکْرِ الاِسْمَاعِیْلِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ صَالِحِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ اَبُوْمُحَمَّدٍ صَاحِبُ الْبُخَارِیُّ صَدُوْقٌ ثَبْتٌ قَالَ حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرِ السَّھْمِیُّ عَنْ حَمَّادِ (ابْنِ اَبِیْ سُلَیْمَانَ ) عَنْ اِبْرَاہِیْمَ (النَّخْعِیِّ ) عَنْ عَلْقَمَۃِ (بْنِ قَیْسٍ) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ(بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ) قَالَ صَلَّیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاَبِیْ بَکْرٍ وَّ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَافَلَمْ یَرْفَعُوْا اَیْدِیَھُمْ اِلَّاعِنْدَافْتِتَاحِ الصَّلَاۃِ۔
(کتاب المعجم،امام اسماعیلی692/2
سنن کبریٰ امام بیہقی رحمہ اللہ79/2
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ نماز پڑھی انہوں نے پوری نماز میں صرف تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کی ۔‘‘
دلیل نمبر:9⃣ قَالَ الْاِمَامُ ابْنُ قَاسِمٍ (حَدَّثَنَا)وَکِیْعٌ عَنْ اَبِیْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ قَطَّافِ النَّھْشَلِیِّ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ اَنَّ عَلِیًّا کَانَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ اِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاۃَ ثُمَّ لَا یَعُوْدُ۔
(المدونۃ الکبریٰ؛ ج۱ص۷۱،مسند زید بن علی ص۱۰۰)
ترجمہ: ’’حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ جب نمازشروع کرتے تو رفع یدین کرتے پھر پوری نما زمیں رفع یدین نہیں کرتے تھے‘‘۔
دلیل نمبر:0⃣1⃣
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اَبُوْ بَکْرِ بْنِ اَبِیْ شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرِ بْنِ عَیَّاشٍ عَنْ حُصَیْنٍ عَنْ مُجَاھِدٍقَالَ مَارَاَیْتُ اِبْنَ عُمَرَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ اِلَّافِیْ اَوَّلِ مَا یَفْتَتِحُ۔
(مصنف ابن ابی شیبہ ج1ص268 )
ترجمہ: معروف تابعی حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو شروع نماز کے علاوہ رفع یدین کرتے ہوئے نہیں دیکھا‘‘۔
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail