جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
1.42K subscribers
117 photos
36 files
685 links
"جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند" میں روزانہ ایک دو مسئلہ مدلل ومزین انداز میں بطورِ استفادہ آپ کو ملے گا،

آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda

https://www.hanafimasail.com/?m=1
Download Telegram
جواب نمبر:8⃣2⃣1⃣

سوال # 150053
میں علم طب حاصل کرنا چاہتی،لیکن اس میں مہارت کیلئے 1 ماہر حکیم کی نگرانی میں پریکٹس کرنی ہو گی،کیا میرے لئے مکمل پردے کے ساتھ ماہر حکیم کی نگرانی میں خواتین مریضوں کی تشخیص کرنا اور تشخیص اور علاج کے بارے میں حکیم صاحب سے بات کرنا جائز ہے ؟
Published on: Apr 25, 2017 جواب # 150053
بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa: 644-776/N=7/1438


دور حاضر میں ایلو پیتھک علاج عروج پر ہے اور اپنی ترقی و مقبولیت میں سب پر فائق ہے اور لوگ عام طور پر اسی علاج کی طرف رجوع کرتے ہیں، دوسرے علاج کی طرف صرف خصوصی حالات میں رجوع کرتے ہیں اور طب یونانی کی طرف تو صرف ان امراض میں لوگ رجوع کرتے ہیں جن میں دوسرا طریقہ علاج بالکل کام یاب نہیں ہوتا اور لوگ پریشان وعاجز ہوجاتے ہیں۔اور طب یونانی میں ایسے علاج کی عام طور پر ضرورت بھی نہیں پڑتی ، جس میں ستر کھولنا پڑے۔ اور عورتیں تو اس طرح کے علاج کے لیے حکما کے پاس جاتی ہی نہیں اور خود حکما بھی اس طرح کا علاج نہیں کرتے؛ بلکہ صرف مریض کی نبض دیکھ کر یا مریض کا حال سن کر نسخہ تجویز کردیتے ہیں؛ اس لیے موجودہ صورت حال میں مرد حکما سے مرد اور عورتیں دونوں علاج کراسکتی ہیں، اس لائن میں عورتوں کے اعضائے مستورہ دیکھ کر علاج کرنے کے لیے حکما عورتوں کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے۔ اور کسی خاتون کا کسی غیر محرم حکیم کے پاس پریکٹس اور مہارت کے لیے بیٹھنا اور اس کی نگرانی میں خواتین مریضوں کی تشخیص کرنا اور تشخیص اور علاج کے بارے میں حکیم سے بات کرنا وغیرہ فتنہ سے خالی معلوم نہیں ہوتا؛


اس لیے اگر آپ علم طب حاصل کرنا چاہتی ہیں تو حاصل کرلیں، اس میں شرعاً کچھ حرج نہیں؛ البتہ کسی نامحرم حکیم کے پاس بیٹھ کر پریکٹس نہ کریں ؛ بلکہ خود خواتین مریضوں کا علاج شروع کردیں اور احتیاط کے ساتھ کریں، انشاء اللہ کچھ عرصہ میں آپ خودماہر تجربہ کار ہوجائیں گی۔ اور اگر آپ کو کوئی خاتون حکیم مل جائے تو اس کے پاس رہ کر پریکٹس کرنے میں شرعاً کچھ حرج نہیں۔


مستفاد:وکذا ینظر مرید…مداواتھا ینظر الطبیب إلی موضع مرضھا بقدر الضرورة؛ إذ الضرورات تتقدر بقدرھا ……وینبغي أن یعلم امرأة تداویھا؛ لأن نظر الجنس إلی الجنس أخف (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الحظر والإباحة، فصل فی النظر والمس، ۹: ۵۳۲، ۵۳۳، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، قولہ: ”وینبغي الخ“:کذا أطلقہ فی الھدایة والخانیة، وقال فی الجوھرة: إذا کان المرض في سائر بدنھا غیر الفرج یجوز النظر إلیہ عند الدواء؛ لأنہ موضع ضرورة، وإن کان في موضع الفرج فینبغي أن یعلم امرأة تداویھا، فإن لم توجد وخافوا علیھا أن تھلک أو یصیبھا وجع لا تحتملہ یستتروا منھا کل شییٴ إلا موضع العلة، ثم یداویھا الرجل ویغض بصرہ ما استطاع إلا عن موضع الجرح اھ فتأمل، والظاھر أن ینبغي ھنا للوجوب (رد المحتار)۔


واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

محمد امیر۔۔۔۔۔۔

دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:9⃣2⃣1⃣

جس حصہ میں منی لگی ہو صرف اس حصہ کو دھونے سےکپڑا پاک ہوجائے گا۔
 
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: اگر کسی کپڑے میں منی لگ جائے توصرف وہ حصہ دھولینے سے جہاں منیٰ لگی ہوئی ہے کپڑا پاک ہوجائے گا اور پھر اس کپڑے میں نماز  ادا ہوجائے گی یانہیں؟ ایک صاحب نے بتایا ہے کہ حالتِ جنابت میں جو کپڑے بدن سے لگے ہوئے ہوںگے سب کی تبدیلی لازمی ہے، توکیا ان صاحب کی بات درست ہے؟ 

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: صرف جس حصہ میں منی لگی ہے اس حصہ کو دھونے سے کپڑا پاک ہوجائے گا اور اس میں نماز درست ہوجائے گی، یہ بات غلط ہے کہ حالتِ جنابت کا پہنا ہوا پورا کپڑا ناپاک ہوتا ہے؛ البتہ اگر نجاست  لگنے کا یقین ہو؛ لیکن نجاست کی جگہ متعین کرنے میں دشواری ہو رہی ہو تو پھر پورا کپڑا دھونا ضروری ہوگا؛ تاکہ کوئی شبہ نہ رہے۔

مستفاد: عن ہمام بن الحارث قال: ضاف عائشۃ رضي اللّٰہ عنہا ضیف فأمرت لہ صفراء فنام فیہا فاحتلم فاستحیی أن یرسل إلیہا وبہا أثر الإحتلام فغمسہا في الماء ثم أرسل بہا فقالت عائشۃ رضي اللّٰہ عنہا: لم أفسد علینا ثوبنا إنما کان یکفیہ أن یفرکہ بأصابعہ، وربما فرکتہ من ثوب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بأصابعي۔ (سنن الترمذي ۱؍۳۱)
عن جابر بن سمرۃ رضي اللّٰہ عنہ قال: سأل رجل النبي ا أصلي في الثوب الذي أتی فیہ أہلي: قال نعم! إلا أن تری فیہ شیئا فتغسلہ۔ (موارد الظمآن ۱؍۸۲)
عن عائشۃ رضي اللّٰہ عنہا أنہا کانت تغسل المنی من ثوب رسول اللّٰہ ا، قالت: ثم أراہ فیہ بقعۃ أوبقعاً۔ (سنن أبي داؤد ۱؍۵۳، صحیح مسلم ۱؍۱۴۰)
ولو أن ثوبا أصابتہ النجاسۃ وہي کثیرۃ فجفت وذہب أثرہا وخفی مکانہا، غسل جمیع الثوب۔ (بدائع الصنائع ۱؍۲۳۶ زکریا)

فقط واﷲ تعالیٰ اعلم  

محمد امیر۔۔۔۔۔۔

دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ ہے

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:0⃣3⃣1⃣

مقدار درہم سے زیادہ نجاست کپڑے پر لگ گئی۔
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ایک شخص موٹر سائیکل سے ایک جگہ جارہا ہے، گاڑی کے نجاست کے اوپر سے گذرتے وقت چھینٹیں اڑیں اور روپئے سے زیادہ مقدار میں نجاست لگ گئی؛ لیکن چلتے چلتے نجاست خشک ہوکر مقدار میں روپئے سے کم ہوگئی تو کیا اس کپڑے میں بغیر دھوئے نماز پڑھی جاسکتی ہے؟

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:مسئولہ صورت میں چونکہ ابتداء میں مقدار درہم سے زیادہ نجاست لگی ہے؛ اس لئے اسے پاک کئے بغیر اس میں نماز درست نہیں ہے، اگرچہ خشک ہونے کے بعد اس کی مقدار کم رہ گئی ہو۔

عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ عن  النبي صلی علیہ وسلم قال: تعاد الصلاۃ من قدر الدرہم من الدم۔ (سنن الدار قطني ۱؍۳۸۵ رقم: ۱۴۷۹)
وإن کانت أکثر من قدر الدرہم منعت جواز الصلاۃ۔ (الفتاوی التاتارخانیۃ ۱؍۴۴۰ زکریا، درمحتار مع الشامي ۱؍۵۲۰ زکریا)
لو کانت أزید من الدرہم وقت الإصابۃ ثم جفت فخفت فصارت أقل منعت۔ (شامي ۱؍۵۲۱ زکریا)

فقط واﷲ تعالیٰ اعلم 

محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔


دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:1⃣3⃣1⃣

ٹنکی کے نل سے وضو کرتے ہوئے زمین کی چھینٹوں کا کپڑوں پر اُڑنا۔

سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: عام طور پر لوگ ٹنکی کے نل سے وضو کرتے ہیں، مسجد کے علاوہ اپنے گھر پر اگر کوئی وضو کرتا ہے تو دورانِ وضو زمین کی چھینٹیںاس کے کپڑوں پر آجاتی ہیں، وہ جگہ ایسی ہے کہ سب اہل خانہ جوتے پہن کر اس پر چلتے ہیں اور اس جگہ پر گندگی کا امکان بھی رہتا ہے، اس طرح کی چھینٹوں سے کپڑے پاک رہتے ہیں یا نہیں؟

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اس طرح کی چھینٹوں سے کپڑے کی نجاست کا حکم نہیں دیا جائے گا؛ البتہ اگر نجاست بالکل واضح ہو تو اس کی چھینٹیں ناپاک ہوںگی۔

شک في وجود النجس فالأصل بقاء الطہارۃ، ولذا قال محمدؒ: حوض تملأ منہ الصغار والعبید بلأیدي الدنسۃ والجرار الوسخۃ یجوز الوضوء منہ ما لم یعلم بہ نجاسۃ۔ (الأشباہ ۱؍۱۰۳)
أما غسالۃ النجاسۃ الحکمیہ: وہي الماء المستعمل فہو في ظاہر الروایۃ طاہر غیر مطہر، أي لایجوز التوضوء بہ، لکن في الراحج یجوز إزالۃ النجاسۃ الحقیقیۃ بہ۔ (الفقہ الاسلامي وأدلتہ ۱؍۳۴۱، شامي، کتاب الطہارۃ/ بحث الماء المستعمل ۱؍۲۰۱ کراچی، کذا في الفتاویٰ الہندیۃ، کتاب الطہارۃ / الفصل الثاني فیما لا یجوز بہ التوضوء ۱؍۲۲ کوئٹہ)

فقط واللہ تعالیٰ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔

دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:2⃣3⃣1⃣

سوال:
پیشاب کا بستر جو خشک ہو،اگر اس پر لیٹ جائے تو کیا اس لیٹ جانے سے پہنے ہوئے کپڑے ناپاک ہوجائینگے؟ اور اگر ایسی حالت میں پسینہ آجائے اور اس پیشاب کی بو کپڑوں میں آنے لگے تو کیا اس سے بھی کپڑے ناپاک ہوجائینگے یا اگر بو نہ آئے پسینہ خوب آتا ہو تو کیا حکم ہے؟

الجواب حامدا ومصلیا:
پستر اگر خشک ہے اور بدن پر پسینہ بھی نہیں آیا تو نہ بدن ناپاک ہوگا نہ کپڑے ناپاک ہونگے ،اگر بستر صاف ہے اور پیشاب بدن پر یا کپڑے پر لگ گیا،یا بستر تو خشک ہے لیکن پسینہ آکر تر ہوا اور پیشاب کا اثر کپڑوں میں یا بدن میں آگیا تو اسکی وجہ سے ناپاکی کا حکم ہوگا۔
کذا فی رد المحتار231/1)

نام او مشی علی نجاسة،ان ظھر عینھا،تنجس، والا لا"(الدرالمختار)وقال ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی:(قولہ: نام) ای فعرق.....قولہ:علی نجاسة):ای یابسة لما فی متن الملتقی:لو وضع ثوبا رطبا علی ما طُیّن بطین نجس جاف،لاینجس... بخلاف ما اذا کان اطین رطبا۔""
(الدر المختار مع ردالمحتار) کتاب الطھارة ،باب الانجاس:346/1سعید)

واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔

دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:3⃣3⃣1⃣
New Zealandسوال # 151364
کیا اگر ماضی میں کسی حنفی عامی کو غسل کے فرائض معلوم نہ تھے تو کیا ان نمازوں کی قضاء کرنی ہوگی کیونکہ ائمہ کرام کے مابین اختلاف ہے تو معاملہ میں کچھ تخفیف ہے یا نہیں؟
Published on: May 25, 2017 جواب # 151364
بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa: 1095-963/sn=8/1438


احناف کے نزدیک غسل جنابت میں کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا اور پورے بدن پر پانی بہانا فرض ہے، اگر کسی شخص نے جہالت یا کسی اور وجہ سے ان میں سے کسی ایک فرض کو چھوڑدیا تو اس کا غسل صحیح نہیں ہوا اور اس غسل سے پڑھی ہوئی نمازیں بھی صحیح نہیں ہوئیں، ان کی قضا ضروری ہے، کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کے سلسلے میں بعض ائمہ کے اختلاف کا پایا جانا اس کے لیے باعثِ تخفیف نہیں ہے؛ البتہ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ غسل جنابت کے لیے شرعاً نیت ضروری نہیں ہے اور نہ ہی یہ ضروری ہے کہ ایک ہی مجلس میں تینوں فرائض پائے جائیں؛ اس لیے اگر کسی نے دوارنِ غسل (مثلاً) کلی کرنا بھول گیا یا جہالت کی وجہ سے قصداً چھوڑدیا؛ لیکن اس نے اس غسل کے بعد نماز کے لیے وضو کرتے وقت یا کسی اور ضرورت کے تحت اچھی طرح کلی کرلی تو اس سے غسل کا فرض بھی ادا ہوجائے گا؛ لہٰذا اس کے بعد پڑھی ہوئی نمازیں پاکی کی حالت میں پڑھی ہوئی شمار ہوں گی۔


واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:4⃣3⃣1⃣

سوال # 151309
مفتی صاحب، میرا آپ سے یہ سوال تھا کہ اگر جسم پر کوئی پینٹ ، چونا یا ڈسٹمپر وغیرہ لگا ہو تو کیا غسل اور وضو ہو جائے گا؟
2 -اگر وضو میں کلی کرتے وقت منہ سے خون آ جائے تو کیا وضو ہو جائے گا؟
Published on: May 18, 2017 جواب # 151309
بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa: 920-837/B=8/1438


(۱) اگر وہ پینٹ چپکدار ہے، اور جسم پر جم گیا ہے، وضو کرتے وقت یا غسل کرتے وقت پانی اس کے اندر نہیں پہنچے گا تو وضو اور غسل صحیح نہیں ہوگا۔ پہلے کسی ترکیب سے اسے چھٹائیں اس کے بعد وضو اور غسل کریں۔


(۲) وضو نہ ہوگا، کلی کرتے رہیں جب خون آنا بالکل بند ہوجائے اس کے بعد وضو کریں۔


واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


محمد امیر۔۔۔۔


جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:5⃣3⃣1⃣

مسجد میں نماز جنازہ

نماز جنازہ مسجد کے اندر پڑھنا
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: نماز جنازہ مسجد کے اندر پڑھنا کیسا ہے؟ جب کہ حضرت  عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے صحیح مسلم میں حدیث مروی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا قسم کھاکر فرماتی ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضاء کی نماز جنازہ مسجد کے اندر ادا فرمائی اور موطاامام مالک میں ہے کہ حضرت عمر کا جنازہ مسجد کے اندر پڑھا گیا، تو کیا ان دونوں حدیثوں کی وجہ سے مسجد کے اندر نماز جنازہ ادا کرنا جائز ہے؟ یا یہ حکم  منسوخ ہوچکا ہے؟ اگر یہ حکم منسوخ ہوچکا ہے تو پھر بتائیں کہ حضور کے زمانہ میں نماز جنازہ کہاں ہوتی تھی؟ اور مذکورہ حدیثوں کا پھر کیا جواب ہوگا؟ مدلل ومبرہن جواب تحریر فرمائیں؟

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا مکروہ تحریمی ہے، مسجدیں صرف پنج وقتہ نمازوں کے لئے بنائی جاتی ہیں، اسی لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کے قریب نماز جنازہ کے لئے ایک مخصوص جگہ بنوائی تھی، اگر نماز جنازہ مسجد میں مشروع ہوتی تو آپ علیحدہ سے جگہ بنوانے  کا اہتمام کیوں فرماتے؟ یہی وجہ ہے کہ صحیح مسلم شریف میں روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جنازے مسجد میں داخل نہیں  کئے جاتے تھے، اور یہی آپ کا مبارک طریقہ تھا۔ چناںچہ جب نجاشی کے انتقال کی خبر آپ کو پہنچی، تو آپ صحابہ کرام کی ایک جماعت کو لے کر مسجدِنبوی سے باہر تشریف لائے اور اس مخصوص جگہ پر نماز ادا فرمائی۔
نیز بعض احادیثِ شریفہ میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’جس نے مسجد میں نماز جنازہ پڑھی، اس کو کچھ ثواب نہ ملے گا‘‘۔
بریں بنا مسجد میں بلاعذر نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں ہے، اسی وجہ سے جب حضرت سہیل بن بیضاء کا جنازہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی فرمائش پر مسجد میں داخل کیا جانے لگا تو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اس پر اعتراض کیا، روایت میں ہے:
فبلغہن أن الناس قد عابوا ذٰلک وقالوا: وما کانت الجنائز یدخل بہ المسجد۔ (صحیح مسلم ۱؍۳۱۴) وفي روایۃ: فأنکر ذٰلک الناس علیہا۔ (المؤطأ لإمام مالک ۱۷۱ رقم: ۲۲ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مسجد کے اندر جنازہ داخل کئے جانے پر  اعتراض کرنا اس کے خلافِ سنت ہونے کی واضح دلیل ہے۔ (مستفاد: فتاویٰ محمودیہ ۸؍۶۷۷-۶۸۲ ڈابھیل)
اور موطا مالک میں سیدناحضرت عمر رضی اللہ عنہ کے جنازہ کی نماز مسجد میں پڑھنے کا ذکر ہے، وہ عذر پر محمول ہوگا۔
عن نافع عن عبد اللّٰہ بن عمر رضي اللّٰہ عنہما أنہ قال: صُلِّيَ علی عمر بن الخطاب في المسجد۔ (المؤطأ لإمام مالک ۱۷۱ رقم: ۲۳ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
وقال الباجي: معنی حدیث الباب ما تقدم من أن یکون صلي علیہ، وہو خارج المسجد، والمصلون علیہ في المسجد، ویحتمل أن یکون صلي علیہ في الموضع الذي دفن فیہ، وقد کان من المسجد، ولہ الآن حکم المقابر، وکذٰلک المسجد إذا کان فیہ مقبرۃ فلا بأس أن یصلی في موضع المقابر منہ علی میت الخ، وفي البرہان: صلاۃ الصحابۃ علی أبي بکر وعمر رضي اللّٰہ عنہما في المسجد کانت لعارض دفنہما عند رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم الخ۔ (أوجز المسالک ۲؍۴۶۲)
عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: من صلی علی جنازۃ في المسجد فلیس لہ شيء۔ (سنن ابن ماجۃ، کتاب الجنائز ۱؍۱۰۹رقم: ۱۵۱۷، سنن أبي داؤد ۲؍۹۸، مسند أحمد ۳؍۱۹۱ رقم: ۹۴۳۷)
عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ قال: نعیٰ لنا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم النجاشي صاحبَ الحبشۃ الیوم الذي مات فیہ فقال: استغفروا لأخیکم، وفي روایۃ: نعی النجاشي في الیوم الذي مات فیہ وخرج إلی المصلی فصف بہم وکبر أربعاً۔ (صحیح البخاري، کتاب الجنائز / باب الرجل یعنی إلی أہل المیت بنفسہ ۱؍۱۶۶-۱۶۷-۱۷۷، صحیح مسلم، کتاب الجنائز / فصل في النعي الناس المیت ۱؍۳۰۹)
ولم یکن من ہدیہ الراتب الصلاۃ علیہ في المسجد وإنما کان یصلي علیہ الجنازۃخارج المسجد۔ (زاد المعاد لابن القیم الجوزیۃ، فصل في تجہیز المیت والصلاۃ علیہ ۱۹۴ بیروت، أوجز المسالک / باب الصلاۃ علی الجنائز في المسجد ۴؍؍۲۳۵ إدارۃ تالیفات أشرفیۃ ملتان)
وفي حدیث بن عمر: أن الیہود جاؤا إلی النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم برجل منہم وامرأۃ زنیاً، فأمر بہما فرُجما قریباً من موضع الجنائز عند المسجد۔ (صحیح البخاري، کتاب الجنائز / باب الصلاۃ علی الجنائز بالمصلی والمسجد ۱؍۱۷۷)
ودل حدیث بن عمر علی أنہ کان للجنائز مکان معد للصلاۃ علیہا فقد یستفاد منہ أن ما وقع من الصلاۃ علی بعض الجنائز في المسجد کان لأمر عارض۔ (فتح الباري، کتاب الجنائز / باب الصلاۃ علی الجنائز بالمصلی والمسجد ۳؍۲۵۶)
عن ابن حبیب أن مصلی الجنائز المدینۃ کان لاصقاً بمسجد النبي صلی اللّٰہ علیہ  وسلم من ناحیۃ جہۃ المشرق۔ (فتح الباري، کتاب الجنائز
/ باب الصلاۃ علی الجنائز بالمصلی والمسجد ۳؍۲۵۶)
وقد ذکر ابن سعد في الطبقات الکبریٰ أن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم بنی موضعاً للجنائز لاصقاً بالمسجد بعد الفراغ من المسجد الشریف في السنۃ الأولیٰ من الہجرۃ۔ (التعلیق الصبیح علی مشکوٰۃ المصابیح / باب المشي بالجنازۃ والصلاۃ علیہا ۲؍۲۳۹ لاہور)
وقد أوّلَ بعض أصحابنا حدیث عائشۃ رضي اللّٰہ تعالیٰ عنہا: إنما صلي في المسجد بعذر مطرٍ، وقیل: بعذر الاعتکاف۔ (لامع الدراری، کتاب الجنائز / باب صلاۃ الصبیان مع الناس ۴؍۳۶۴)
 نحن نقول أیضاً: صلاتہ في المسجد کان للمطر أو للاعتکاف۔ (عمدۃ القاري / باب الرجل ینعی إلی أہل المیت ۸؍۱۸ بیروت)
وقال الملا علي القاري: لو کان إدخال المیت المسجد للصلاۃ علیہ أفضل لکان أکثر صلاتہ علیہ الصلاۃ والسلام علی المیت في المسجد، و لما امتنع جلُّ الصحابۃ عنہ، وإنما الحدیث یفید الجواز في الجملۃ، وقد نازع جماعۃ من المتأخرین الشافعي في الاستحباب، بأنہ کان للجنائز موضع معروف خارج المسجد، والغالب منہ علیہ السلام الصلاۃ علیہا ثمہ۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الجنائز / باب المشي بالجنازۃوالصلاۃ علیہا، الفصل الأول ۴؍۱۴۴ تحت رقم: ۱۵۵۶)
وتکرہ صلاۃ الجنازۃ في المسجد الذي تقام فیہ الجماعۃ مکروہ، ولا تکرہ بعذر المطر ونحوہ ہٰکذا في الکافي۔
(الفتاویٰ الہندیۃ ۱؍۱۶۵، شامي ۳؍۱۲۶ زکریا، ۲؍؍۲۲۴ کراچی)

فقط واللہ تعالیٰ اعلم

فقط واللہ تعالیٰ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:6⃣3⃣1⃣

بغیر عذر شرعی کے نماز جنازہ مسجد میں پڑھنا کیسا ہے؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: بغیر عذر شرعی نماز جنازہ مسجد میں پڑھنا کیسا ہے؟ خواہ جنازہخارج مسجد ہو اور کچھ لوگ خارج مسجد ہوں یا کچھ لوگ حدود مسجد میں ہوں؟

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:بلاعذر مسجد میں نماز جنازہ حنفیہ کے نزدیک مکروہ ہے، ہاں جب جنازہ باہر ہو تو امام اور جو مقتدی اس کے ساتھ باہر ہوں، ان کی نماز بالاتفاق مکروہ نہ ہوگی، مگر ایسی صورت میں مسجد کے اندر نماز جنازہپڑھنے والے مقتدیوں کی نماز کراہت تنزیہی سے خالی نہ ہوگی۔

وأجاب في النہر بحمل الاتفاق علی عدم الکراہۃ في حق من کان خارج المسجدوما مر في حق من کان داخلہ۔ (شامي ۲؍۲۲۵ کراچی)
ولو کانت الجنازۃ والإمام وبعض القوم خارج المسجد وباقي القوم في المسجد کما ہو المعہود في جوامعنا لایکرہ باتفاق أصحابنا۔ (مجمع الأنہر ۱؍۱۸۵۵)

فقط واللہ تعالیٰ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔

دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:7⃣3⃣1⃣

مسجد میں نماز جنازہ کیوں منع ہے؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: مسجد میں نماز جنازہ جائز ہے کہ نہیں؟ اگر نہیں ہے تو کیوں؟

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:بلاعذر مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا مکروہ ہے اور اس کی دو علتیں فقہاء نے بیان کی ہیں، اول یہ کہ جنازہ اندر ہونے کی وجہ سے تلویثمسجد کا خطرہ ہے، دوسرے یہ کہ مسجد نماز جنازہ کے لئے اصالۃً نہیں بنائی گئی ہے؛ بلکہ مسجد کی تعمیر کا اصل مقصد نماز پنج گانہ کی ادائیگی ہے۔
وکرہت تحریماً، وقیل تنزیہاً في مسجد جماعۃ ہو أي المیت فیہ وحدہ أو مع القوم، واختلف في لخارجۃ عن المسجد وحدہ أو مع بعض القوم، والمختار الکراہۃ مطلقاً بناء اً علی أن المسجد إنما بني للمکتوبۃ وتوابعہا۔ (درمختار مع الشامي ۲؍۲۲۵۵ کراچی، ۳؍۱۲۶ زکریا، طحطاوي ۳۲۷)

فقط واللہ تعالیٰ اعلم



مسجد میں نماز جنازہ مکروہ ہونے کی علت؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: جو لوگ جنازہ میں مسجد کے اندر ہوں، جیسے شاہی مسجد میں کیا حکم ہے؟

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:حنفیہ کا مختار قول یہ ہے کہ بلا کسی عذر کے جو لوگمسجد میں کھڑے ہوںگے ان کی نماز مکروہ ہوگی، ایک قول عدم کراہت کا بھی ہے، اور یہ اختلاف علتوں کے اختلاف پر مبنی ہے، جن حضرات نے تلویثمسجد کو علت ممانعت قرار دیا ہے ان کے نزدیک جنازہ مسجد سے باہر ہونے کی صورت میں کوئی کراہت نہیں اور جو لوگ مسجد کے مقصد تعمیر یعنی ادائے فرائض وغیرہ کو علت ممانعت کہتے ہین، ان کے نزدیک مطلقاً مسجدمیں نماز جنازہ ممنوع ہے، اس اختلاف کی وجہ سے مسئولہ صورت کی کراہت میں یقینا تخفیف ہوجاتی ہے۔

وکرہت تحریماً، وقیل تنزیہاً في مسجد جماعۃ ہو أي المیت فیہ وحدہ أو مع القوم، واختلف في الخارجۃ عن المسجد وحدہ أو مع بعض القوم، والمختار الکراہۃ مطلقاً، خلاصۃ: بناء علی أن المسجد إنما بني للمکتوبۃ وتوابعہا کنافلہ وذکر وتدریس وعلم۔ (درمختار) وتحتہ في الشامیۃ: أما إذا علّلنا بخوف تلویث المسجد وحدہ أو مع بعض القوم۔ قال في شرح المنیۃ: وإلیہ مال في المبسوط والمحیط وعلیہ العمل وہو المختار۔ (شامي ۲؍۲۲۴ کراچی، شامي ۳؍۱۲۶ زکریا، طحطاوي ۳۲۷، البحر الرائق ۲؍۱۸۷ کوئٹہ، منحۃ الخالق ۲؍۱۸۷، امداد الفتاویٰ ۱؍۷۶۶)

فقط واللہ تعالیٰ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔

دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:8⃣3⃣1⃣

عذر واقعی کی وجہ سے مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: نماز جنازہ مسجد کے اندرونی حصہ میں ادا کرنا کیسا ہے؟ اگر کسی مسجد میں بار بار منع کرنے کے باوجود اصرار ہو تو کیا حکم ہے؟
اگر کسی خاص صورت میں گنجائش ہو تو اس کی وضاحت فرمائیں، مجمع زیادہ ہو گیا اور مسجد کے باہر کے حصہ (صحن) کی جگہ ناکافی ہو تو کیا مسجد کے اندرجنازہ رکھنے کی اجازت ہے؟

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:مسجد شرعی کے اندر میت کے جنازہ کو رکھ کر وہاں نمازجنازہ پڑھنا مطلقاً مکروہ ہے؛ البتہ اگر کوئی واقعی عذر ہو مثلاً بارش وغیرہ ہو جائے اور مسجد کے علاوہ کوئی جگہ نماز جنازہ کے لئے دستیاب نہ ہو سکے، تو ایسی صورت میں مسجد کے اندر جنازہ کی اجازت ہو گی، اسی طرح اگر ضرورت کے موقع پر اگر یہ شکل ختیار کی جائے کہ جنازہ اور امام کے ساتھ کچھ لوگ مسجد سے باہر ہوں اور بقیہ نمازی مسجد کے اندر ہوں تو اس کی بھی گنجائش ہے۔

وکرہت تحریمًا، وقیل: تنزیہًا في مسجد جماعۃ ہو أي المیت فیہ وحدہ، أو مع القوم، واختلف في الخارجۃ عن المسجد وحدہ، أو مع بعض القوم، (درمختار) تحتہ في الشامیۃ: مسجد جماعۃ أي المسجد الجامع، ومسجد المحلۃ قہستاني - إلی قولہ - فلا یکرہ إذا کان المیت خارج المسجد وحدہ، أو مع القوم۔ قال في شرح المنیۃ: وإلیہ مال في المبسوط والمحیط وعلیہ العمل وہو المختار۔ (شامي ۳؍۱۲۶ زکریا)
ولو کانت الجنازۃ والإمام وبعض القوم خارج المسجد، وباقي القوم في المسجدکما ہو المعہود في جوامعنا لا یکرہ بإتفاق أصحابنا۔ (مجمع الأنہر ۱؍۱۸۴۴، فتح القدیر ۲؍۱۳۲-۱۳۳ زکریا، کتاب المسائل ۱؍۵۷۶)

فقط واللہ تعالیٰ اعلم 

محمد امیر۔۔۔۔۔۔

https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:9⃣3⃣1⃣

مسجد میں نماز جنازہ پڑھنے کا حکم
سوال:
آدم جی نگر کی مکہ مسجد کو تعمیر ہوئے ۱۵ سال تقریبا ہو گئے، تب سے جنازے کی نماز مسجد کے میدان میں ہوا کرتی تھی۔ امام صاحب کی امامت  کے آخری ایام میں محراب کے بیچ میں کھڑکی توڑ کر دروازہ بنا دیا گیا اور محراب کے باہر چار فٹ اونچا چبوترہ بنایا گیا، اب چبوترے پر جنازہ رکھ دیا جاتا ہے اور محراب کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے، جنازہ کی نماز مسجد میں پڑھی  جاتی ہے۔ نئے امام صاحب نے جنازے کی نماز کا یہ طریقہ بند کر دیا ہے اور پہلے کی طرح نماز کھلے میدان میں ہونے لگی۔ مولانا مفتی محمد اسماعیل صاحب نے گجراتی کتاب میں جو فتوی کی کتاب ہے لکھا ہے کہ جنازے کی نماز کسی حالت میں مسجد میں پڑھنا مذہب حنفی میں مکروہ تحریمی ہے۔ اب کون سا  طریقہ درست تھا؟ بہشتی گوہر میں مسئلہ کیا لکھا ہے؟ اور کہا جاتا ہے کہ حرمین میں مسجد میں نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے۔ آپ واضح فرمائیں کیا حکم ہے؟

جواب:
میت کو محراب سے باہر رکھ کر اگر نماز جنازہ مسجد کے اندر پڑھی  جائے تو راجح قول کے مطابق یہ صورت بھی مکروہ ہے، البتہ آس پاس نمازجنازہ پڑھنے کیلئے کوئی اور جگہ نہ ہو تو مجبوراً فقہاء نے اس کی اجازت دی ہے لیکن چونکہ صورت مسئولہ میں مسجد کے ساتھ مسجد ہی کا کھلا میدان موجود ہے اس لئے جس مسجد کے بارے میں سوال ہے وہاں مسجد کے اندر بلا عذر نماز پڑھنا مکروہ ہے۔ نئے امام صاحب کا طریقہ درست ہے جو نماز جنازہ کھلے میدان میں پڑھاتے ہیں ایسا ہی کرنا چاہئے۔ 

لما فی الدر المختار: و اختلف فی الخارجۃ عن المسجد وحدہ او مع بعض القوم و  المختار الکراھۃ مطلقاً خلاصہ .......... و ھو الموافق لاطلاق حدیث ابی داؤد من صلی علی میت فی المسجد فلا صلاۃ لہ، (و قال الشامیؒ انما تکرہ فی المسجد بلا عذر فان کان فلا) (شامی) (۱)۔
بہشتی گوہر (۲)، امداد الفتاوی (۳) وغیرہ سب میں مسئلہ اس طرح ہے اور جب مسجد کے ساتھ کھلی جگہ موجود ہے تو مکروہ تحریمی، مکروہ تنزیہی کی بحث  میں نہیں پڑنا چاہئے، باہر ہی نماز پڑھنی چاہئے۔ حرمین شریفین کے امام صاحب، مذہب میں حنبلی ہیں اور حنبلی مذہب کے اندر مسجد میں نماز جنازہجائز 
ہے (۴)۔
و اللہ سبحانہ اعلم

(۱) الدر المختار مع رد المحتار ج۲ ص۲۲۵ و ۲۲۶ (طبع سعید۔)
(۲) بہشتی گوہر ص۹۴ مسئلہ نمبر ۱۷ (طبع میر محمد کتب خانہ)۔
(۳) امداد الفتاوی ج۱ ص۵۳۳ و ۵۳۴۔
(۴) و فی المغنی لابن قدامۃ مع الشرح الکبیر ج۲ ص۳۵۸ (طبع دار الکتاب العربی بیروت) و لا باس بالصلوٰۃ علی المیت فی المسجد اذا لم یخف تلویثہ الخ۔

مسجد میں نماز جنازہ کا حکم (فارسی)
سوال: در صحن مسجد پنج وقتت یا در صحن جامع مسجد بصورت غیر معتاد نمازجنازہ جائز بلا کراہت است یا نہ؟
جواب: نماز جنازہ در مسجد جائز نیست، کذا فی کتب الفقہ (۱)۔

و اللہ اعلم

(۱) دیکھئے امداد الفتاوی ص۴۴۵۔

محمد امیر۔۔۔۔۔


جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:0⃣4⃣1⃣

نمازِ جنازہ مسجد کے اندر پڑھنا مکروہ ہے

سوال:
اکثر یہاں دیکھا جاتا ہے کہ جنازہ محراب کے اندر رکھ کر محراب کے سرے پر امام کھڑے ہوجاتے ہیں اور مقتدی حضرات مسجد میں صف آرا ہوجاتے ہیں، بعد میں نمازِ جنازہ پڑھادی جاتی ہے۔ کیا یہ طریقہ صحیح ہے؟ اور عذر یہ پیش کیا جاتا ہے کہ جگہ کی کمی کی وجہ سے ایسا کرنا پڑتا ہے۔

جواب:
 مسجد میں نمازِ جنازہ کی تین صورتیں ہیں، اور حنفیہ کے نزدیک علی الترتیب تینوں مکروہ ہیں، ایک یہ کہ جنازہ مسجد میں ہو اور امام و مقتدی بھیمسجد میں ہوں، دوم یہ کہ جنازہ باہر ہو اور امام و مقتدی مسجد میں ہوں، سوم یہ کہ جنازہ امام اور کچھ مقتدی مسجد سے باہر ہوں اور کچھ مقتدی مسجد کے اندر ہوں، اگر کسی عذرِ صحیح کی وجہ سے مسجد میں جنازہ پڑھا تو جائز ہے۔

آپ کے مسائل اور انکا حل
جواب نمبر:1⃣4⃣1⃣

مسجد میں نماز جنازہ پڑھنے کا حکم
سوال:
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مندرجہ ذیل مسائل میں کہ جامع مسجد میں جمعہ کے دن ایک جنازہ آگیا لیکن بارش ایسی کثرت سے  ہو رہی ہے کہ اگر میدان میں نمازِ جنازہ پڑھی جائے تو جتنے  نمازی ہیں سب پانی میں بھیگ جائیں کیا ایسی صورت میں جنازہ کو مسجد کے اندر رکھ کر مسجد میں جنازہ کی نماز پڑھی جائے یا کہ نہیں؟

جواب:
اگر کوئی دوسری جگہ نہیں ہے اور نہ بارش کے ختم ہونے کا امکان ہے تو عذر مذکور کی وجہ سے مسجد میں صلاۃ جنازہ پڑھ لی جائے تو ہوجائیگی۔

انما نکرۃ الصلوۃ فی المسجد بلا عذر فان کان فلا ومن الاعذاب المطر کما فی الخانیہ شامی ( ص ۸۲۹، ج ۱)

فقط واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔

محمد امیر۔۔۔۔۔

دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:2⃣4⃣1⃣

مذہب حنفی میں راجح اور صحیح ہے کہ مسجد جماعت میں نمازجنازہ مطلقاً مکروہ ہے
سوال: تبلیغی کانفرنس صوبہ متحدہ آگرہ اودھ امسال خورجہ میں منعقدہوئی ہے، جس کے صدر حضرت مولانا حسین احمد صاحب مدنی صاحب صدر مدرس مدرسہ عالیہ دیوبندقرار پائے ہیں، حضرت مولانا جمعہ کے دن خورجہ تشریف لے آئے،جمعہ کے دن بعدنمازجمعہ ایک جنازہ کی نمازجنازہ کومسجدکے اندر رکھ کر اور مصلی باہرمسجد مولانا نے نماز پڑھائی، جس وقت کہ جنازہمسجد کے اندر رکھاگیاتو عبداللہ خان گنج والوں نے مولانا سے عرض کیا کہ مسجد کے اندر جنازہ رکھ کر  پڑھنا مکروہ تحریمی ہے، اس پر مولانا نے فرمایا کہ نہیں جائز ہے، آپ نمازپڑھ لیں، میں بعدنماز آپ کااطمینان کردوں گا، مگرعبداللہ خان بھائی نے نماز نہیں پڑحی اور عرض کیا کہ تمام حضرات دیوبندسے کہ جو آج قبروں میں بھی آرام فرمارہے ہیں، اور موجودہ بھی ہیں یہی سنتے رہے ہیں کہ مسجدکے اندر جنازہ کی نمازمکروہ ہے، چونکہ مجمع ہزار پانچ سو آدمیوں کا تھا بڑی  قیل وقال ہوئی،بعدنماز ایک اور صاحب نے عرض کیاکہ مولانا اس مسئلہ کوحل فرماتے جایئے گا کہ جنازہ مسجد کے اندر رکھ کر نماز پڑھناجائز ہے یا  نہیں، ورنہ احتمال رہے ہے کہ خورجہ والوں کے سرپھوٹنے لگیں، اس پر مولانا نے فرمایا کہ شوافع کے یہاں بالکل درست ہے، اور احناف کے یہاںجنازہ کو مسجد کے اندر رکھ کر نمازپڑھنے میں اختلاف ہے، ایک جواز کی طرف اور دوسرا عدم جواز کی طرف او رمکہ میں یہی ہوتاہے اور مدینہ میںمسجد کے اندرجنازہ رکھ کرنمازپڑھی جاتی ہے، اس پرایک صاحب نے عرض کیاکہ مولانا ہم رواج اور رسم دریافت نہیں کرتے ہیں، حدیث شریف میں کیاحکم ہے، مولانا نے حدیث شریف پڑھ دی، اس کے بعد لوگوں نے مولوی صاحب اور قاری صاحب سے دریافت کیا، دونوں صاحبوں نے اس صورت کو متفق علیہ مکروہ تحریمی بتایا، اور اگرجنازہ مسجد سے باہر ہو اور مصلیان داخل فی المسجدتو اس صورت کو احناف کے یہاں مختلف فیہ کہا، مگرراجح یہی ہے کہ اس صورت میں نمازدرست ہے، بالآخر مولانا حسین احمد صاحب کے سامنے ایک استفتاء پیش کیاگیاہے جس میں صورت کااحکم ازروئے فقہ حنفی دریافت کیاہے، مولانا نے فرمایا کہ اگر طحطاوی یا مراقی الفلاح ہوتو میں ابھی دکھادوں، اس پر عرض کیاگیا کہ یہاں یہ دونوں کتابیں نہیں ہیں، جب بندہ کو علم ہواکہ مولانا مراقی الفلاح مانگتے ہیں تب میں نے مولوی صاحب سے عرض کیا کہ مراقی الفلاح میں جناب کو مکہ سے لاکر پیش کی ہے، ایسامعلوم ہوتا تھا کہ مولوی صاحب مولانا سے بالمشافاۃ گفتگو کرنے میں گریزکرتے تھے، بہرحال مولانا اس استفتاء کو دیوبند لے گئے ہیں، مگر ہفتہ ہواکہ جواب نہیں آیا ، دیکھئے کیاجواب مرحمت فرماتے ہیں، حضور والا صورت مسطورہ میں فقہ حنفی میں کچھ گنجائش جواز کی ہے یا نہیں؟
الجواب: اس مسئلہ میں مولانا حسین احمد صاحب نے جو فرمایا ہے صحیح ہے، احناف کے علماء میں جنازہ کو مسجد کے اندر رکھ کر بشرطیکہ مقتدی وامام سب  باہرہوں نماز پڑھنے میں بھی اختلاف ہے، بعض نے اس کو جائز کہاہے، شرح مراقی الفلاح میں ہے، فلوکان المیت موضوعاً فی المسجد والناس خارجہ لاتکرہ وبالعکس تکرہ کما فی الجوھرۃ قال الطحطاوی (ص ۳۴۷۷ ) وفیہ ان المیت یشغل المسجد بقدر جنازتہ،
مگرعلماء احناف کے اقوال مختلف ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ مذہب میں بھی اختلاف ہے بلکہ جب کسی مسئلہ میں اقوال مختلف ہوتے ہیں تو مذہب ان میں سے ایک ہوتا ہے، اور مذہب وہ ہے جس کو اہل متون نے اختیارکیاہو، پس مذہب حنفی میں راجح اورصحیح یہ ہے کہ مسجد جماعت میں نماز جنازہبہرحال مکروہ ہے، خواہ جنازہ تنہا مسجد کے اندر ہو اور مقتدی اور امام باہریامقتدی وامام مسجد کے اندر ہواورجنازہ باہر، یاامام اور جنازہ تنہا یا مع بعض قوم کے باہرہوں اور باقی مقتدی اندر،جیساکہ درمختار اور شامی ص ۹۲۴ ج  ۱ سے ظاہر ہے ، البتہ چونکہ اس مسئلہ میں شوافع اور خود علماء حنفیہ کے درمیان اختلاف ہے، اس لیے مولانا حسین احمد صاحب کے فعل پرشدت کے ساتھ انکار کرنا بے جا تھا، اور مولانا کو بھی مناسب تھا کہ چونکہ منکر کاانکار بالکل غلط نہ تھا بلکہ مذہب مختاروصحیح کے موافق تھا اس لیے اس کے انکار کوعملاً تسلیم کرلیتے ہیں اور بعد میں قولاً اس کی اصلاح فرمادیتے کہ مسئلہ مختلف فیہ ہے، اس میں صورت کی بھی گنجائش ہے جس پر آپ نے انکارکیاتھا، اس لیے شدت کے ساتھ انکار مناسب نہ تھا۔

واللہ اعلم، ۲۴ جمادی الثانی ۴۷ھ

محمد امیر۔۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:3⃣4⃣1⃣

مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا مکروہ ہے

سوال:
کیا مسجد شریف میں نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے،یا نہیں اگر جائزنہیں تو عرب میں حج کے موقع پر کیوں مسجد میں نمازجنازہ پڑھی جاتی ہے۔؟

جواب:
قال فی الدرالمختار(وکرت تحریما)وقیل (تنزیھا فی مسجد جماعة ھو)ای المیت (فیہ) وحدہ او مع القوم(اواختلف فی الخارجة)عن المسجد وحدہ او مع بعض القوم(والمختار الکراہة)مطلقا خلاصة بناءا علی ان المسجد انما بنی للمکتوبة وتابعھا الخ۔ وھو الموافق لاطلاق حدیث ابی دود من صلی علی میت فی المسجد فلا صلاة لہ قال فی ردالمختار قولہ فلا صلوة لہ ھذہ روایة ابن ابی شیبة وروایة احمد وابی دود فلا شیئ لہ الخ۔وفیہ قبیلہ من صلی علی میت فی مسجد یقضی کون المصلی فی المسجد سواء کان المیت فیہ او لا فیکرہ ذلک اخذ من منطوق الحدیث ویویدہ ما ذکرہ العلامة قاسم فی رسالتہ من انہ روی ان النیی صلی اللہ علیہ وسلم لما نع النجاشی الی اصحابہ خرج فصلی علیہ فی المصلی قال ولو جازت فی المسجد لم یکن للخروج معنی اہ مع ان المیت کان خارج المسجد۔
(شامی653/1باب صلوة الجائز۔

ان روایت سے واضح ہے کہ عند الحنفیہ مسجد جماعت میں نماز جنازہ مکروہ ہے۔اور اس میں اختلاف ہے کہ مکروہ تحریمی ہے یا تنزیہی۔ حاشیہ مشکوة کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ مکروہ تنزیہی کو ترجیح ہے۔ویظھران الاولی کونھا تنزیھا اذ لحدیث لیس ھو نصاغیر معروف والاقرن الفعل بوعید(حاشیہ مشکوة شریف 145)

واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:4⃣4⃣1⃣

نماز جنازہ کے فوراً بعد فاتحہ پڑھنا اور ہاتھ اٹھاکر دعا کرنا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: نماز جنازہ پڑھ کر فوراً ہی میت کے اوپر فاتحہ پڑھنا اور ہاتھ اٹھاکر دعا کرنا یعنی یہ دونوں امور بعد نماز جنازہ متصلاً کرنا کیسا ہے؟

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:نماز جنازہ خود دعا ہے، اس کے بعد پھر فاتحہ پڑھنا یا ہاتھ اٹھاکر دعا کرنا ثابت نہیں ہے؛ بلکہ کتبِ فقہ میں اس کے بارے میں منع آیا ہے۔

لا یقوم بالدعاء بعد صلاۃ الجنازۃ۔ (خلاصۃ الفتاویٰ ۱؍۵۲۵)
ولا یدعو للمیت بعد صلاۃ الجنازۃ؛ لأنہ یشبہ الزیادۃ في صلاۃ الجنازۃ۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الجنائز / باب المشي بالجنازۃ والصلاۃ علیہا، الفصل الثالث ۴؍۱۷۰ رقم: ۱۶۸۷ رشیدیۃ، الفتاویٰ البزازیۃ علی ہامش الفتاویٰ الہندیۃ ۴؍؍۸۰ رشدیۃ)

فقط واللہ تعالیٰ اعلم



نماز جنازہ کے بعد دعا کرنا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: نماز جنازہ ختم ہونے کے ساتھ ساتھ دعاء کرنے کا ثبوت ہے یا نہیں؟

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:نماز جنازہ خود دعاء ہے؛ لہٰذا اس کے بعد دعاء کرنے کا ثبوت نہیں ہے، اور نہ ہی سلفِ صالحین سے ثابت ہے۔

(فتاویٰ محمودیہ ۸؍۷۱۲، فتاویٰ دارالعلوم ۵؍۳۵۲، کفایت المفتی ۴؍۱۵۸)
فقد صرحوا عن اٰخرہم بأن صلاۃ الجنازۃ ہي الدعاء للمیت؛ إذ ہو المقصود منہا۔ (رد المحتار، کتاب الصلاۃ / باب الجنائز ۲؍۲۱۰ کراچی، ۳؍۱۰۶ زکریا)
قال القاري في شرح المشکاۃ: ولا یدعي للمیت بعد صلاۃ الجنازۃ؛ لأنہ یشبہ الزیادۃ في صلاۃ الجنازۃ۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الجنائز / باب المشي بالجنازۃوالصلاۃ علیہا ۴؍۱۷۰ رقم: ۱۶۸۷ رشیدیۃ)
قال في خلاصۃ الفتاویٰ: لا یقوم الرجل بالدعاء بعد صلاۃ الجنازۃ۔ (خلاصۃ الفتاویٰ ۱؍۲۲۵ رشیدیۃ، بحوالہ حاشیۃ: فتاویٰ محمودیہ ۸؍۷۰۸ ڈابھیل)
وقال في شرح المنیۃ: وفي السراجیۃ: إذا فرغ من الصلاۃ لا یقوم بالدعاء۔ (الفتاویٰ السراجیۃ، کتاب الجنائز / باب الصلاۃ علی الجنازۃ ۲۳۳ کراچی)

فقط واللہ تعالیٰ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:5⃣4⃣1⃣


نماز جنازہ کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا۔
سوال:
حضور اکرم ﷺ نے کسی بھی صحابی کی نماز جنازہ پڑھنے کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی یا نہیں؟ نمازِ جنازہ کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا کیسا ہے؟

جواب:
نماز جنازہ کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعاء مانگنا نہ نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے نہ دوسرے صحابہ کرامؓ سے۔ لہذا آج کل جو رواج چل پڑا ہے اور اس طرح ضروری سمجھتے اور اس کے ترک پر نکیر کرتے ہیں، وہ بدعت اور واجب الترک ہے۔

(۱) و فی مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ ص۴۶ ج۴ (مکتبہ امدادیہ ملتان): ولا یدعو للمیت بعد صلوۃ الجنازۃ، لانہ یشبہ الزیادۃ فی صلوۃ الجنازۃ۔
وفی البزابیۃ (علی الھندیۃ ص۸۰ ج۴): لا یقوم بالدعاء بعد صلوۃ الجنائز، لانہدعا مرۃ لان اکثرھا دعائ، وفی خلاصۃ الفتاوی ص۲۲۵ ج۱ (طبع امجد اکیڈمی لاہور): ولا یقوم بالدعاء ففی قراء ۃ القرآن لاجل المیت بعد صلوۃ الجنازۃوقبلھا، وفی البحر الرائق ص۱۸۳ ج۲ (طبع سعید): لا یدعو بعد التسلیم۔
وفی فتاوی السراجیۃ علی قاضیخان (ص۱۴۵ ج۱): اذا فرغ من الصلوۃ لا یقوم داعیا لہ۔ وفی جامع الرموز فصل فی الجنائز ج۱ ص۲۸۳ (طبع ایچ ایم سعید): لا یقوم داعیا لہ، وفی نفع المفتی والسائل ص۱۴۳ (طبع کتب خانہ رحیمیہ دیوبند یوپی): الدعاء بعد الجنازۃ مکروہ۔ نیز مزید دیکھئے امداد الاحکام ص۱۹۴ ج۱  و امداد المفتین ص۱۷۶۔ (محمد زبیر)


واللہ اعلم

مستفاد:فتاوی عثمانی

محمد امیر۔۔۔۔۔۔


دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:6⃣4⃣1⃣

نماز جنازہ کے بعد دعا مانگنا
سوال:
نماز جنازہ کے بعد دعاء مانگنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:
نماز جنازہ خود دعا ہے، اور اس کے بعد دعا کا اہتمام کسی حدیث یا  صحابہ و تابعین کے عمل سے ثابت نہیں، لہٰذا آجکل بعض حلقوں میں جس اہتمام اور اصرار کے ساتھ یہ عمل کیا جاتا ہے وہ بدعت ہے۔
(کذا فی عزیز الفتاوی ص۳۸۹ ج۱)

فتاوی دار العلوم دیوبند ص۲۸۹ ج۱، مرقاۃ المفاتیح ج۴/۶۴ (مکتبہ امدادیہ ملتان)، بزازیہ مع الھندیۃ ۴/۸۰ (رشیدیہ کوئٹہ)، خلاصۃ الفتاوی ۱/۲۲۵ (امجد اکیڈمی لاہور)، بحر الرائق ۲/۱۸۳، جامع الرموز ص۲۸۳ ج۱ (طبع سعید)، نفع المفتی و السائل ص۱۴۳ (طبع کتب خانہ رحیمیہ دیوبند یوپی)، امداد الاحکام ۱/۱۹۴، امداد المفتین ص ۱۷۶۔

واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:7⃣4⃣1⃣

نماز جنازہ اور تدفین کے بعد کی دعاء
سوال:
کیا نمازِ جنازہ کے بعد دوبارہ دعاءکرنا چاہئے ؟ بعض لوگ تدفین کے بعد دعاء کرتے ہیں، نیز تدفین کے بعد سرہانے اور پائتی سورۂ بقرہ کی ابتدائی اور آخری آیات پڑھی جاتی ہیں، اس کا کیا حکم ہے ؟

جواب:
(الف) نمازِ جنازہ خود دعاء ہے ، دوبارہ ہیئت میں تبدیلی یعنی دفن سے پہلے دعاء کرنا احادیث سے ثابت نہیں ۔
(ب) تدفین کے بعد دعاء کی جاسکتی ہے کہ یہ حدیث سے ثابت ہے ۔(۱)
( ج) قبر کے سرہانے اور پائتی سورۂ بقرہ کا پہلا اورآخری رکوع پڑھنا بھی حدیث میں منقول ہے ، (۲)اس لئے اسے پڑھنا چاہئے ۔
(۱) صحیح مسلم ، حدیث نمبر : ۲۲۵۵ ، باب ما یقال عند دخول القبور و الدعاء لأھلھا، دیکھئے: سنن أبي داؤد ، حدیث نمبر : ۳۲۲۱ ، باب الاستغفار عند القبر للمیت في وقت الانصراف۔ محشی ۔
(۲) سنن أبي داؤد ، حدیث نمبر : ۳۱۹۹ ، باب الدعاء للمیت ۔ محشی ۔

واللہ اعلم


Pakistanسوال # 145435
میرا سوال یہ ہے کہ کیا جب میت کو دفن کیا جاتا ہے تو اس کے بعد اس کے سر اور پیر کی جانب کھڑا ہو کر تلقین کی غرض سے سورة الفاتحہ، البقرہ کا پہلا رکوع اور پھر البقرہ کا آخری رکوع پڑھنا کسے صحیح حدیث سے ثابت ہے ؟
برائے کرم جواب جلد عنایت فرمائیں۔
Published on: Jan 9, 2017 جواب # 145435
بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 19-320/L=4/1438


میت کی تدفین کے بعد میت کے سرہانے کھڑے ہوکر سورہٴ بقرہ کی ابتدائی آیات ”المّ“ سے ”مفلحون“ تک پڑھنا اور پیر کی جانب سورہٴ بقرہ کی آخری آیات ”آمن الرسول سے اخیر آیت تک پڑھنا حدیث سے ثابت ہے، حدیث میں کچھ ضعف ہے لیکن فضائل اعمال میں معتبر ہے، بیہقی اور طبرانی کی روایت میں فاتحة الکتاب کی صراحت ہے؛ البتہ مشکاة میں یہی روایت بحوالہ بیہقی ”فاتحة البقرة“ کے ساتھ مذکور ہے اور ملا علی قاری نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے الم سے مفلحون تک پڑھنا لکھا ہے اور علامہ طیبی کے حوالے سے اس کی وجہ اور حکمت بھی لکھی ہے، اس لیے ممکن ہے کہ بیہقی اور طبرانی کی روایت میں مذکور ”فاتحة الکتاب“ سے ”فاتحة البقرة“ ہی مراد ہو، ویسے ایصالِ ثواب کی غرض سے سورہٴ فاتحہ کی تلاوت کرنے میں بھی مضایقہ نہیں ہے۔ عن عبد ا للہ بن عمر -رضي اللہ عنہما- سمعت النبی -صلی اللہ علیہ وسلم- یقول: إذا مات أحدکم فلا تحبسوہ وأسرعوا بہ إلی قبرہ ولیقرأ عند رأسہ بفاتحة الکتاب، وعند رجلیہ بخاتمة البقرة في قبرہ (رواہ البیہقي في شعب الإیمان رقم: ۹۷۹۴، والطبراني في الکبیر، رقم: ۱۳۶۱۳، قال الہیثمی في المجمع (۴۴۱۳) وفیہ یحی ابن عبد اللہ الباہلی وہو ضعیف وفی المرقاة: ولیقرأعند رأسہ فاتحة البقرة أي: إلی المفلحون․ وعند رجلیہ بخاتمة البقرة أي من آمن الرسول الخ قال الطیبي: لعل تخصیص فاتحتہا لاشتمالہا علی مدح کتاب اللہ، وأنہ ہدی للمتقین، الموصوفین بالخلال الحمیدة من الإیمان بالغیب، وإقامة الصلاة، وإیتاء الزکاة، وخاتمتہا لاحتوائہا علی الإیمان باللہ وملائکتہ وکتبہ ورسلہ، وإظہار الاستکانة، وطلب الغفران والرحمة، والتولی إلی کنف اللہ تعالی وحمایتہ․․․ قال النووی فی الأذکار: قال محمد بن أحمد المروزی: سمعت أحمد بن حنبل یقول: إذا دخلتم المقابر فاقروٴا بفاتحة الکتاب والمعوذتین، وقل ہو اللہ أحد، واجعلوا ثواب ذلک لأہل المقابر، فإنہ یصل إلیہم․ (مرقاة: ۴/ ۸۱باب دفن المیت)


واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند


محمد امیر۔۔۔۔۔

دینی مسائل عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail