جواب نمبر:0⃣2⃣1⃣
سوال # 68784
میرا سوال یہ ہے کہ کیا مفتی سید احمد پالن پوری تبلیغ کے خلاف ہیں یا نہیں؟ کیونکہ میرے پاس واٹس اپ پر ان کی رائے یعنی فتوی آیا ہے کہ تبلیغ الگ فرقے کا روپ لے رہی ہے اگر ایسا ہے تو کیا میں جماعت و تبلیغ کے کام کو کرنا یا اس میں جڑنا چھوڑ دوں؟ اب میں ایک ماہ سے اس بات پر فکر مند ہو گیاہوں کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے۔ رات کو نیند بھی نہیں آتی، پریشان ہوں، اپنا مقصد سمجھ نہیں آتا آپ ہی بتائیں مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں ہلاک نہ ہوجاوٴں۔
Published on: Sep 3, 2016 جواب # 68784
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 859-859/B=11/1437
مفتی سعید احمد پالن پوری صاحب یا دارالعلوم دیوبند کا کوئی عالم تبلیغ کے خلاف نہیں ہے، ہاں کچھ تبلیغ والے اعتدال سے ہٹ کر جو غلو کی باتیں کرتے ہیں، اور بہت سی اُلٹی سیدھی باتیں کرتے ہیں، مثلاً :
(۱) خالص جہاد سے متعلق آیاتِ قرآنی کو تبلیغ پر فٹ کرتے ہیں، جو قرآن میں ایک طرح کی تحریف ہے۔
(۲) مدارس دینیہ بیکار ہیں اس سے کچھ حاصل نہیں ہوتا، علم دین جماعت میں نکلنے سے حاصل ہوتا ہے۔
(۳) علماء نے اب تک کیا کیا؟ انہوں نے کوئی کام نہیں کیا، جو کچھ دین پھیلایا ہے علماء نے نہیں پھیلایا ہے بلکہ تبلیغی جماعت نے پھیلایا ہے۔ علماء نے ۴/ فیصد دین کا کام کیا ہے ۹۶/ فیصد جماعت والوں نے کیا ہے وہ بھی علماء نے اللہ واسطے نہیں کیا بلکہ تنخواہ لے کر کیا ہے۔
(۴) اگر کہیں کوئی عالم قرآن پاک کی تفسیر بیان کرتے ہیں تو اسے روک دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ صرف فضائل اعمال پڑھی جائے گی اور کوئی کتاب نہیں پڑھی جائے گی۔
(۵) تقویٰ اور تزکیہ نفس حاصل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، جماعت میں نکلنے سے سب کچھ حاصل ہوجائے گا۔
(۶) جو عالم سال کا چلہ نہ لگائے اسے امام و مدرس نہیں رکھتے، اور اگر لاعلمی میں رکھ لیا اور بعد میں معلوم ہوا کہ اس نے سال کا چلہ نہیں لگایا ہے تواسے امامت اور مدرسی سے ہٹا دیتے ہیں، اسے اپنی لڑکی نہیں دیتے۔
(۷) علماء کو حقیر سمجھتے ہیں، ان سے آئے دن بحث کرتے ہیں۔
(۸) جو شخص چلہ نہ لگائے ہوئے ہو اسے دیندار کیا اسے مسلمان بھی نہیں سمجھتے۔
(۹) جو شخص مروجہ نظام الدین والی تبلیغ میں نہ لگے، خواہ وہ کتناہی زیادہ دین کا کام کرے اسے دین کا کام نہیں سمجھتے، اس طرح کی بہت سی باتیں ہیں جن کو دیکھ کر مفتی سعید# صاحب پالن پوری ہی نہیں بہت سے علماء اور بزرگان دین کی زبانی ہم نے یہ جملہ سنا ہے کہ یہ تبلیغی جماعت ایک نیا فرقہ بنتی جارہی ہے قرآن و حدیث کے طریقوں کو چھوڑ کر اپنا طریقہ اور نیا دین اختیار کرتی جارہی ہے، یہ سب حالات دیکھ کر پڑھا لکھا دیندار اور سنجیدہ آدمی واقعی فکر مند ہو گیا ہے۔ اور اِس وقت مرکز نظام الدین میں بھی کچھ اسی طرح کے حالات کو دیکھ کر تبلیغ کے ذمہ دار حضرات بھی فکر مندہی نہیں بلکہ علیحدہ ہوگئے ہیں۔ یہ سب باتیں محض اعتدال سے ہٹنے کی وجہ سے پیدا ہوئیں، آپ جماعت کے کام کو نہ چھوڑیں ضرور کریں، مگر اعتدال سے نہ ہٹیں، حضرت مولانا الیاس# صاحب نے جس نہج اور جس اصول پر کام شروع کیا تھا اسی اصول اور اسی نہج پر کام کریں تو ان شاء اللہ کوئی انگلی نہ اٹھائے گا۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سوال # 68784
میرا سوال یہ ہے کہ کیا مفتی سید احمد پالن پوری تبلیغ کے خلاف ہیں یا نہیں؟ کیونکہ میرے پاس واٹس اپ پر ان کی رائے یعنی فتوی آیا ہے کہ تبلیغ الگ فرقے کا روپ لے رہی ہے اگر ایسا ہے تو کیا میں جماعت و تبلیغ کے کام کو کرنا یا اس میں جڑنا چھوڑ دوں؟ اب میں ایک ماہ سے اس بات پر فکر مند ہو گیاہوں کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے۔ رات کو نیند بھی نہیں آتی، پریشان ہوں، اپنا مقصد سمجھ نہیں آتا آپ ہی بتائیں مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں ہلاک نہ ہوجاوٴں۔
Published on: Sep 3, 2016 جواب # 68784
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 859-859/B=11/1437
مفتی سعید احمد پالن پوری صاحب یا دارالعلوم دیوبند کا کوئی عالم تبلیغ کے خلاف نہیں ہے، ہاں کچھ تبلیغ والے اعتدال سے ہٹ کر جو غلو کی باتیں کرتے ہیں، اور بہت سی اُلٹی سیدھی باتیں کرتے ہیں، مثلاً :
(۱) خالص جہاد سے متعلق آیاتِ قرآنی کو تبلیغ پر فٹ کرتے ہیں، جو قرآن میں ایک طرح کی تحریف ہے۔
(۲) مدارس دینیہ بیکار ہیں اس سے کچھ حاصل نہیں ہوتا، علم دین جماعت میں نکلنے سے حاصل ہوتا ہے۔
(۳) علماء نے اب تک کیا کیا؟ انہوں نے کوئی کام نہیں کیا، جو کچھ دین پھیلایا ہے علماء نے نہیں پھیلایا ہے بلکہ تبلیغی جماعت نے پھیلایا ہے۔ علماء نے ۴/ فیصد دین کا کام کیا ہے ۹۶/ فیصد جماعت والوں نے کیا ہے وہ بھی علماء نے اللہ واسطے نہیں کیا بلکہ تنخواہ لے کر کیا ہے۔
(۴) اگر کہیں کوئی عالم قرآن پاک کی تفسیر بیان کرتے ہیں تو اسے روک دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ صرف فضائل اعمال پڑھی جائے گی اور کوئی کتاب نہیں پڑھی جائے گی۔
(۵) تقویٰ اور تزکیہ نفس حاصل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، جماعت میں نکلنے سے سب کچھ حاصل ہوجائے گا۔
(۶) جو عالم سال کا چلہ نہ لگائے اسے امام و مدرس نہیں رکھتے، اور اگر لاعلمی میں رکھ لیا اور بعد میں معلوم ہوا کہ اس نے سال کا چلہ نہیں لگایا ہے تواسے امامت اور مدرسی سے ہٹا دیتے ہیں، اسے اپنی لڑکی نہیں دیتے۔
(۷) علماء کو حقیر سمجھتے ہیں، ان سے آئے دن بحث کرتے ہیں۔
(۸) جو شخص چلہ نہ لگائے ہوئے ہو اسے دیندار کیا اسے مسلمان بھی نہیں سمجھتے۔
(۹) جو شخص مروجہ نظام الدین والی تبلیغ میں نہ لگے، خواہ وہ کتناہی زیادہ دین کا کام کرے اسے دین کا کام نہیں سمجھتے، اس طرح کی بہت سی باتیں ہیں جن کو دیکھ کر مفتی سعید# صاحب پالن پوری ہی نہیں بہت سے علماء اور بزرگان دین کی زبانی ہم نے یہ جملہ سنا ہے کہ یہ تبلیغی جماعت ایک نیا فرقہ بنتی جارہی ہے قرآن و حدیث کے طریقوں کو چھوڑ کر اپنا طریقہ اور نیا دین اختیار کرتی جارہی ہے، یہ سب حالات دیکھ کر پڑھا لکھا دیندار اور سنجیدہ آدمی واقعی فکر مند ہو گیا ہے۔ اور اِس وقت مرکز نظام الدین میں بھی کچھ اسی طرح کے حالات کو دیکھ کر تبلیغ کے ذمہ دار حضرات بھی فکر مندہی نہیں بلکہ علیحدہ ہوگئے ہیں۔ یہ سب باتیں محض اعتدال سے ہٹنے کی وجہ سے پیدا ہوئیں، آپ جماعت کے کام کو نہ چھوڑیں ضرور کریں، مگر اعتدال سے نہ ہٹیں، حضرت مولانا الیاس# صاحب نے جس نہج اور جس اصول پر کام شروع کیا تھا اسی اصول اور اسی نہج پر کام کریں تو ان شاء اللہ کوئی انگلی نہ اٹھائے گا۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:1⃣2⃣1⃣
سوال # 60272
دعوت والے کام میں اکثر مجلس کے دوران ایک بات کہی جاتی ہے کہ دین کی مجلس میں تھوڑی دیر بیٹھنا ستر سال کی نفل عبادت سے بہتر ہے، کیا یہ صحیح ہے؟تو پانچ منٹ مجلس میں بیٹھنا بہتر ہے تہجد وغیرہ نفل عبادت پڑھنے سے ۔ براہ کرم، حوالے کے ساتھ جواب دیں۔
Published on: Jan 18, 2016 جواب # 60272
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 1363-1359/B=4/1437-U
اس میں کوئی شک نہیں کہ دعوت وتبلیغ کی محنت کا کام بہت اعلیٰ درجہ کا کام ہے اور اس ام میں بے انتہا اجر وثواب بھی ہے، لیکن یہ بات کہ دین کی مجلس میں تھوڑی دیر بیٹھنا ستر سال کی نفل عبادت سے بہتر ہے یہ روایت ہماری نظر سے نہیں گذری، نیز اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ پانچ منٹ مجلس میں بیٹھنا تہجد سے بہتر ہے، صحیح نہیں ہے، جن صاحب نے یہ باتیں بیان فرمائی ہیں ان ہی سے اس روایت کا حوالہ طلب فرمائیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سوال # 60272
دعوت والے کام میں اکثر مجلس کے دوران ایک بات کہی جاتی ہے کہ دین کی مجلس میں تھوڑی دیر بیٹھنا ستر سال کی نفل عبادت سے بہتر ہے، کیا یہ صحیح ہے؟تو پانچ منٹ مجلس میں بیٹھنا بہتر ہے تہجد وغیرہ نفل عبادت پڑھنے سے ۔ براہ کرم، حوالے کے ساتھ جواب دیں۔
Published on: Jan 18, 2016 جواب # 60272
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 1363-1359/B=4/1437-U
اس میں کوئی شک نہیں کہ دعوت وتبلیغ کی محنت کا کام بہت اعلیٰ درجہ کا کام ہے اور اس ام میں بے انتہا اجر وثواب بھی ہے، لیکن یہ بات کہ دین کی مجلس میں تھوڑی دیر بیٹھنا ستر سال کی نفل عبادت سے بہتر ہے یہ روایت ہماری نظر سے نہیں گذری، نیز اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ پانچ منٹ مجلس میں بیٹھنا تہجد سے بہتر ہے، صحیح نہیں ہے، جن صاحب نے یہ باتیں بیان فرمائی ہیں ان ہی سے اس روایت کا حوالہ طلب فرمائیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:2⃣2⃣1⃣
Indiaسوال # 59630
ایک ساتھی نے اپنی بات میں کہا کہ ” اس امت کی جو فضیلت ہے کہ وہ سب امتوں سے پہلے جنت میں جائے گی وہ اس دعوت کے کام کی وجہ سے ہے“ کیا یہ صحیح ہے؟
Published on: Jul 11, 2015 جواب # 59630
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 510-510/Sd=9/1436-U
اِس امت کا سب سے پہلے جنت میں جانا اصلاً حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں ہونے کی وجہ سے ہوگا، صرف دعوت کا کام سب سے پہلے جنت میں جانے کا سبب نہیں ہے۔ البتہ اس امت کی من جملہ خصوصیات میں ایک خصوصیت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بھی ہے، جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا ہے: کُنْتُمْ خَیْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ، مذکورہ ساتھی کو اپنی طرف سے دعوت کے کام کے فضائل بیان نہیں کرنے چاہیے، اس کو جماعت کے اصول کی روشنی میں بات کرنی چاہیے۔
وعن عمرو بن قیس، رضی اللہ عنہ، أن رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم - صلی اللہ علیہ وسلم قال: نحن الآخرون، ونحن السابقون یوم القیامة- إلخ (مشکاة المصابیح، ص: ۵۱۴، باب فضائل سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم) وعن بہز بن حکیم عن أبیہ عن جدہ أنہ سمع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول فی قولہ تعالی: کنتم خیر أمة أخرجت للناس قال: أنتم تتمون سبعین أمة أنتم خیرہا وأکرمہا علی اللہ تعالی (مشکاة، ص: ۵۸۴، باب ثواب ہذہ الأمة) قال في اللمعات تحت ہذا الحدیث: امراد جمیع الموٴمنین من ہذہ الأمة؛ فإن وجوہ الخیریة التي یمتازون بہا عمن عداہم من الأمم ثابت لکل منہم من حسن الاعتقاد وثبات القدم في الإیمان بنبیّہم وغیرہا․ (حاشیة مشکاة نقلاً عن اللمعات، ص: ۵۸۴)․
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
Indiaسوال # 59630
ایک ساتھی نے اپنی بات میں کہا کہ ” اس امت کی جو فضیلت ہے کہ وہ سب امتوں سے پہلے جنت میں جائے گی وہ اس دعوت کے کام کی وجہ سے ہے“ کیا یہ صحیح ہے؟
Published on: Jul 11, 2015 جواب # 59630
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 510-510/Sd=9/1436-U
اِس امت کا سب سے پہلے جنت میں جانا اصلاً حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں ہونے کی وجہ سے ہوگا، صرف دعوت کا کام سب سے پہلے جنت میں جانے کا سبب نہیں ہے۔ البتہ اس امت کی من جملہ خصوصیات میں ایک خصوصیت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بھی ہے، جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا ہے: کُنْتُمْ خَیْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ، مذکورہ ساتھی کو اپنی طرف سے دعوت کے کام کے فضائل بیان نہیں کرنے چاہیے، اس کو جماعت کے اصول کی روشنی میں بات کرنی چاہیے۔
وعن عمرو بن قیس، رضی اللہ عنہ، أن رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم - صلی اللہ علیہ وسلم قال: نحن الآخرون، ونحن السابقون یوم القیامة- إلخ (مشکاة المصابیح، ص: ۵۱۴، باب فضائل سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم) وعن بہز بن حکیم عن أبیہ عن جدہ أنہ سمع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول فی قولہ تعالی: کنتم خیر أمة أخرجت للناس قال: أنتم تتمون سبعین أمة أنتم خیرہا وأکرمہا علی اللہ تعالی (مشکاة، ص: ۵۸۴، باب ثواب ہذہ الأمة) قال في اللمعات تحت ہذا الحدیث: امراد جمیع الموٴمنین من ہذہ الأمة؛ فإن وجوہ الخیریة التي یمتازون بہا عمن عداہم من الأمم ثابت لکل منہم من حسن الاعتقاد وثبات القدم في الإیمان بنبیّہم وغیرہا․ (حاشیة مشکاة نقلاً عن اللمعات، ص: ۵۸۴)․
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:3⃣2⃣1⃣
سوال # 57936
(۱) مجھے یہ پوچھنا تھا کہ اگر میں کسی اور لائن سے دین کی محنت کررہا ہوں جیساکہ مدرسے یا خانقاہ سے بہت فائدہ محسوس کررہا ہوں تو کیا جماعت میں جا کر چار مہینے لگانا تب بھی ضروری ہے؟
(۲) اوریہ مثال صحیح ہے کہ اس کام کی مثال نوح علیہ السلام کی کشتی کی مانند ہے جو اس میں لگا وہ کامیاب جو نہ نکلا وہ ناکامیاب جیسا کہ بہت سے ساتھی یہ مثال دیتے ہیں؟
Published on: Mar 7, 2015 جواب # 57936
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 489-519/L=5/1436-U
جماعت میں جاکر چار مہینے لگانا ضروری تو نہیں ہے؛ البتہ جماعت میں جاکر وقت لگانے کا مستقل فائدہ ہے؛ اس لیے وقت لگانا فائدہ سے خالی نہ ہوگا، ان تینوں چیزوں (مدرسہ، خانقاہ اور تبلیغ) میں کوئی تزاحم نہیں ہے، آدمی کو چاہیے کہ حتی الوسع ہرلائن سے دین کی خدمت کرے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سوال # 57936
(۱) مجھے یہ پوچھنا تھا کہ اگر میں کسی اور لائن سے دین کی محنت کررہا ہوں جیساکہ مدرسے یا خانقاہ سے بہت فائدہ محسوس کررہا ہوں تو کیا جماعت میں جا کر چار مہینے لگانا تب بھی ضروری ہے؟
(۲) اوریہ مثال صحیح ہے کہ اس کام کی مثال نوح علیہ السلام کی کشتی کی مانند ہے جو اس میں لگا وہ کامیاب جو نہ نکلا وہ ناکامیاب جیسا کہ بہت سے ساتھی یہ مثال دیتے ہیں؟
Published on: Mar 7, 2015 جواب # 57936
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 489-519/L=5/1436-U
جماعت میں جاکر چار مہینے لگانا ضروری تو نہیں ہے؛ البتہ جماعت میں جاکر وقت لگانے کا مستقل فائدہ ہے؛ اس لیے وقت لگانا فائدہ سے خالی نہ ہوگا، ان تینوں چیزوں (مدرسہ، خانقاہ اور تبلیغ) میں کوئی تزاحم نہیں ہے، آدمی کو چاہیے کہ حتی الوسع ہرلائن سے دین کی خدمت کرے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:4⃣2⃣1⃣
اگر علامات ظاہر نہ ہوں تو شرعاً لڑکا کب بالغ ہوگا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: لڑکے کا سن بلوغ کیا ہے؟ اور وہ کب بالغ قرار دیا جاتا ہے؟ کیا بلوغ اس کی علامات پر مبنی ہے یا عمر پر؟ اگر عمر کی کوئی تحدید ہوتی ہے تو بالغ ہونے کی عمر لڑکے کے لئے کیا ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اگر بارہ سال کے بعد بلوغ کی کوئی علامت احتلام وغیرہ پائی جائے، تو اُسی وقت سے وہ بالغ ہوجائے گا، ورنہ پندرہ سال پورے ہونے پر اسے بالغ قرار دیا جائے گا۔
یحکم ببلوغ الغلام بالاحتلام أو الإنزال أو الإحبال … وببلوغ الجاریۃ بالحیض أو الاحتلام أو الحبل … فإن لم یوجد شيء من ذٰلک فإذا تم لہ ثماني عشرۃ سنۃً، ولہا سبع عشرۃ سنۃً عندہ، وعندہما إذا تم خمسۃ عشر سنۃً فیہما، وہو روایۃ الإمام، وبہ قالت الأئمۃ الثلا ثۃ، وبہ یفتی … وأدنی مدتہ لہ ثنتا عشرۃ سنۃ، ولہا تسع سنین، الخ۔ (ملتقی الأبحر علی ہامش مجمع الأنہر، کتاب الحجر / فصل في بیان أحکام البلوغ ۲؍۴۴۴ دار إحیاء التراث العربي بیروت، البحر الرائق، کتاب الإکراہ / باب الحجر، فصل في حد البلوغ ۸؍۱۵۳ زکریا، الفتاویٰ الہندیۃ، کتاب لحجر / الفصل الثاني في معرفۃ حد البلوغ ۵؍۶۱ زکریا)
بلوغ الغلام بالاحتلام والإحبال والإنزال، والأصل ہو الإنزال، والجاریۃ بالاحتلام والحیض والحبل، فإن لم یوجد فیہما شيء، فحتی یتم لکل منہما خمس عشرۃ سنۃً، بہ یفتی۔ (الدر المختار، کتاب الحجر / فصل: بلوغ الغلام بالاحتلام ۶؍۱۵۳ کراچی)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
اگر علامات ظاہر نہ ہوں تو شرعاً لڑکا کب بالغ ہوگا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: لڑکے کا سن بلوغ کیا ہے؟ اور وہ کب بالغ قرار دیا جاتا ہے؟ کیا بلوغ اس کی علامات پر مبنی ہے یا عمر پر؟ اگر عمر کی کوئی تحدید ہوتی ہے تو بالغ ہونے کی عمر لڑکے کے لئے کیا ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اگر بارہ سال کے بعد بلوغ کی کوئی علامت احتلام وغیرہ پائی جائے، تو اُسی وقت سے وہ بالغ ہوجائے گا، ورنہ پندرہ سال پورے ہونے پر اسے بالغ قرار دیا جائے گا۔
یحکم ببلوغ الغلام بالاحتلام أو الإنزال أو الإحبال … وببلوغ الجاریۃ بالحیض أو الاحتلام أو الحبل … فإن لم یوجد شيء من ذٰلک فإذا تم لہ ثماني عشرۃ سنۃً، ولہا سبع عشرۃ سنۃً عندہ، وعندہما إذا تم خمسۃ عشر سنۃً فیہما، وہو روایۃ الإمام، وبہ قالت الأئمۃ الثلا ثۃ، وبہ یفتی … وأدنی مدتہ لہ ثنتا عشرۃ سنۃ، ولہا تسع سنین، الخ۔ (ملتقی الأبحر علی ہامش مجمع الأنہر، کتاب الحجر / فصل في بیان أحکام البلوغ ۲؍۴۴۴ دار إحیاء التراث العربي بیروت، البحر الرائق، کتاب الإکراہ / باب الحجر، فصل في حد البلوغ ۸؍۱۵۳ زکریا، الفتاویٰ الہندیۃ، کتاب لحجر / الفصل الثاني في معرفۃ حد البلوغ ۵؍۶۱ زکریا)
بلوغ الغلام بالاحتلام والإحبال والإنزال، والأصل ہو الإنزال، والجاریۃ بالاحتلام والحیض والحبل، فإن لم یوجد فیہما شيء، فحتی یتم لکل منہما خمس عشرۃ سنۃً، بہ یفتی۔ (الدر المختار، کتاب الحجر / فصل: بلوغ الغلام بالاحتلام ۶؍۱۵۳ کراچی)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:5⃣2⃣1⃣
تین تولہ سونا اور چاندی پر زکوٰۃ
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ:ایک خاتون کی ملکیت میں تین تولہ سونا اور کچھ چاندی ہے سونے کے ساتھ زکوۃ کے نصاب کی تکمیل کے لئے کم سے کم کتنی چاندی ہو نے چاہئے ؟ چالیس درہم کے برابر یا اس سے بھی کم اگر اس سے بھی کم تو کم سے کم کتنے درہم کے مقدار کے برابر کتابوں میں چالیس درہم کا لفظ قرض کی وصولی کے تعلق سے ادائے زکوۃ کے بارے میں آتا ہے ۔اس لئے یہ سوال ذہن میں آتا ہے سوال کرنے والے سونے کی مقدار لکھ کر تھوڑی چاندی کا لفظ استعمال کرتے ہیں ۔
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:جب سونے کے ساتھ ساتھ چاندی بھی ملکیت میں ہو تو دونوں کی قیمت لگا کر یہ دیکھا جائے گا کہ کل قیمت چاندی کے نصاب تک پہنچ رہی ہے یانہیں ؟ اگر پہنچ رہی ہے تو زکوٰۃ واجب ہوگی اور اس میں چاندی کے چالیس درہم کے برابر ہونے یا نہ ہونے کی کوئی شرط نہیں ہے بلکہ اگر سونے کے ساتھ تھوڑی بہت چاندی بھی ہو تو پورا نصاب چاندی ہی کا بنا دیا جائے گا۔ انفع للفقراء ہونے کی وجہ سے فتویٰ اسی پر ہے۔
وعن أبي حنیفۃ أنہ یقوم بما فیہ إیجاب الزکاۃ حتی إذا بلغ بالتقویم بأحدہما نصابا ولم یقوم بالأخر قوم بما یبلغ نصابا فہو أحد الروایتین عن محمد رحمہ اللّٰہ، ولو کان بالتقویم بکل واحد منہما یبلغ نصابا یقوم بما ہو أنفع للفقراء من حیث الرواج، وإن کان في الرواج سواء یتخیر المالک (الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۳؍۱۶۵ رقم: ۴۰۰ زکریا)
یجب أن یکون التقوی بما ہو أنفع للفقراء رواجا۔ (شامي ۳؍۲۳۴ زکریا)
ویضم الذہب إلی الفضۃ وعکسہ بجمع الثمنیۃ قیمۃ (درمختار) أي من جہۃ القیمۃ فمن لہ مائۃ درہم وخمسۃ مثاقیل قیمتہا مائۃ علیہ زکاتہا۔ (شامی ۳؍۲۳۴ زکریا، ہدایۃ ۲۱۳۱، الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۳؍۱۵۸)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
تین تولہ سونا اور چاندی پر زکوٰۃ
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ:ایک خاتون کی ملکیت میں تین تولہ سونا اور کچھ چاندی ہے سونے کے ساتھ زکوۃ کے نصاب کی تکمیل کے لئے کم سے کم کتنی چاندی ہو نے چاہئے ؟ چالیس درہم کے برابر یا اس سے بھی کم اگر اس سے بھی کم تو کم سے کم کتنے درہم کے مقدار کے برابر کتابوں میں چالیس درہم کا لفظ قرض کی وصولی کے تعلق سے ادائے زکوۃ کے بارے میں آتا ہے ۔اس لئے یہ سوال ذہن میں آتا ہے سوال کرنے والے سونے کی مقدار لکھ کر تھوڑی چاندی کا لفظ استعمال کرتے ہیں ۔
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:جب سونے کے ساتھ ساتھ چاندی بھی ملکیت میں ہو تو دونوں کی قیمت لگا کر یہ دیکھا جائے گا کہ کل قیمت چاندی کے نصاب تک پہنچ رہی ہے یانہیں ؟ اگر پہنچ رہی ہے تو زکوٰۃ واجب ہوگی اور اس میں چاندی کے چالیس درہم کے برابر ہونے یا نہ ہونے کی کوئی شرط نہیں ہے بلکہ اگر سونے کے ساتھ تھوڑی بہت چاندی بھی ہو تو پورا نصاب چاندی ہی کا بنا دیا جائے گا۔ انفع للفقراء ہونے کی وجہ سے فتویٰ اسی پر ہے۔
وعن أبي حنیفۃ أنہ یقوم بما فیہ إیجاب الزکاۃ حتی إذا بلغ بالتقویم بأحدہما نصابا ولم یقوم بالأخر قوم بما یبلغ نصابا فہو أحد الروایتین عن محمد رحمہ اللّٰہ، ولو کان بالتقویم بکل واحد منہما یبلغ نصابا یقوم بما ہو أنفع للفقراء من حیث الرواج، وإن کان في الرواج سواء یتخیر المالک (الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۳؍۱۶۵ رقم: ۴۰۰ زکریا)
یجب أن یکون التقوی بما ہو أنفع للفقراء رواجا۔ (شامي ۳؍۲۳۴ زکریا)
ویضم الذہب إلی الفضۃ وعکسہ بجمع الثمنیۃ قیمۃ (درمختار) أي من جہۃ القیمۃ فمن لہ مائۃ درہم وخمسۃ مثاقیل قیمتہا مائۃ علیہ زکاتہا۔ (شامی ۳؍۲۳۴ زکریا، ہدایۃ ۲۱۳۱، الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۳؍۱۵۸)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:6⃣2⃣1⃣
جمعہ کی اذان ثانی کا جواب؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: جمعہ کے خطبہ کی اذان کے جواب ودعا کا ثبوت ہے یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:خطبۂ جمعہ کی اذان کا جواب زبان سے نہیں دیا جائے گا؛ بلکہ دل دل میں اس کا خیال کرلیا جائے گا، یہی حکم اذانِ ثانی کے بعد کی دعا کا ہے؛ اس لئے کہ امام کے منبر پر بیٹھ جانے کے بعد کسی قسم کی گفتگو جائز نہیں۔ (فتاویٰ محمودیہ ۱۲؍ ۱۷۹ میرٹھ، امداد الاحکام ۲؍۴۵، فتاویٰ رحیمیہ ۳؍۶۸، کفایت المفتی ۳؍۲۲۰، عزیز الفتاویٰ ۲۶۹)
وینبغی أن لا یجیب بلسانہ اتفاقاً في الأذان بین یدي الخطیب۔ (درمختار علی ہامش رد المحتار زکریا ۲؍۷۰، نعمانیہ ۱؍۲۶۸)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جمعہ کی اذان ثانی کا جواب؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: جمعہ کے خطبہ کی اذان کے جواب ودعا کا ثبوت ہے یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:خطبۂ جمعہ کی اذان کا جواب زبان سے نہیں دیا جائے گا؛ بلکہ دل دل میں اس کا خیال کرلیا جائے گا، یہی حکم اذانِ ثانی کے بعد کی دعا کا ہے؛ اس لئے کہ امام کے منبر پر بیٹھ جانے کے بعد کسی قسم کی گفتگو جائز نہیں۔ (فتاویٰ محمودیہ ۱۲؍ ۱۷۹ میرٹھ، امداد الاحکام ۲؍۴۵، فتاویٰ رحیمیہ ۳؍۶۸، کفایت المفتی ۳؍۲۲۰، عزیز الفتاویٰ ۲۶۹)
وینبغی أن لا یجیب بلسانہ اتفاقاً في الأذان بین یدي الخطیب۔ (درمختار علی ہامش رد المحتار زکریا ۲؍۷۰، نعمانیہ ۱؍۲۶۸)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:7⃣2⃣1⃣
Pakistanسوال # 63886
کیا خواتین مصنوعی زیورات استعمال کر سکتی ہیں جیسا کہ بازار میں دستیاب عام جیولری ہوتی ہے ۔جس میں ہر دھات جیسے لوہا، اسٹیل، تانبا، پلاسٹک، اور کانچ شامل ہیں؟ سونا چاندی کے زیورات کافی مہنگے ہونے سے میچنگ جیولری آسانی سے خریدی جا سکتی ہے ۔ نیر سونے چاندی کے علاوہ کسی اور دھات کی انگوٹھی پہننا کیوں منع ہے ۔ پراہ مہربانی مفصل جواب اردو میں عنایت فرمائیں۔ جزاک اللہ
Published on: Apr 25, 2016 جواب # 63886
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 559-554/H=7/1437
خواتین ہردھات کا زیور استعمال کرسکتی ہیں لوہا، اسٹیل، تانبا، پلاسٹک، کانچ کا بنا ہوا زیور ان کے لیے استعمال کرنا درست ہے، البتہ انگوٹھی صرف سونے اور چاندی کی جائز ہے اِن دونوں دھاتوں کے علاوہ انگوٹھی پہننا خواتین کو بھی جمہور کے نزدیک جائز نہیں۔
فیحرم (بیغرہا کحجر) اھ در مختار وفي رد المحتار تحت قولہ فیحرم بغیرہا وفي الجوہرة التختم بالحدید والصفر والنحاس والرصاص مکروہ للرجال والنساء اھ ج۵/ ۲۲۹، (ط، مکتبہ نعمانیہ)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
Pakistanسوال # 63886
کیا خواتین مصنوعی زیورات استعمال کر سکتی ہیں جیسا کہ بازار میں دستیاب عام جیولری ہوتی ہے ۔جس میں ہر دھات جیسے لوہا، اسٹیل، تانبا، پلاسٹک، اور کانچ شامل ہیں؟ سونا چاندی کے زیورات کافی مہنگے ہونے سے میچنگ جیولری آسانی سے خریدی جا سکتی ہے ۔ نیر سونے چاندی کے علاوہ کسی اور دھات کی انگوٹھی پہننا کیوں منع ہے ۔ پراہ مہربانی مفصل جواب اردو میں عنایت فرمائیں۔ جزاک اللہ
Published on: Apr 25, 2016 جواب # 63886
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 559-554/H=7/1437
خواتین ہردھات کا زیور استعمال کرسکتی ہیں لوہا، اسٹیل، تانبا، پلاسٹک، کانچ کا بنا ہوا زیور ان کے لیے استعمال کرنا درست ہے، البتہ انگوٹھی صرف سونے اور چاندی کی جائز ہے اِن دونوں دھاتوں کے علاوہ انگوٹھی پہننا خواتین کو بھی جمہور کے نزدیک جائز نہیں۔
فیحرم (بیغرہا کحجر) اھ در مختار وفي رد المحتار تحت قولہ فیحرم بغیرہا وفي الجوہرة التختم بالحدید والصفر والنحاس والرصاص مکروہ للرجال والنساء اھ ج۵/ ۲۲۹، (ط، مکتبہ نعمانیہ)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:8⃣2⃣1⃣
سوال # 150053
میں علم طب حاصل کرنا چاہتی،لیکن اس میں مہارت کیلئے 1 ماہر حکیم کی نگرانی میں پریکٹس کرنی ہو گی،کیا میرے لئے مکمل پردے کے ساتھ ماہر حکیم کی نگرانی میں خواتین مریضوں کی تشخیص کرنا اور تشخیص اور علاج کے بارے میں حکیم صاحب سے بات کرنا جائز ہے ؟
Published on: Apr 25, 2017 جواب # 150053
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa: 644-776/N=7/1438
دور حاضر میں ایلو پیتھک علاج عروج پر ہے اور اپنی ترقی و مقبولیت میں سب پر فائق ہے اور لوگ عام طور پر اسی علاج کی طرف رجوع کرتے ہیں، دوسرے علاج کی طرف صرف خصوصی حالات میں رجوع کرتے ہیں اور طب یونانی کی طرف تو صرف ان امراض میں لوگ رجوع کرتے ہیں جن میں دوسرا طریقہ علاج بالکل کام یاب نہیں ہوتا اور لوگ پریشان وعاجز ہوجاتے ہیں۔اور طب یونانی میں ایسے علاج کی عام طور پر ضرورت بھی نہیں پڑتی ، جس میں ستر کھولنا پڑے۔ اور عورتیں تو اس طرح کے علاج کے لیے حکما کے پاس جاتی ہی نہیں اور خود حکما بھی اس طرح کا علاج نہیں کرتے؛ بلکہ صرف مریض کی نبض دیکھ کر یا مریض کا حال سن کر نسخہ تجویز کردیتے ہیں؛ اس لیے موجودہ صورت حال میں مرد حکما سے مرد اور عورتیں دونوں علاج کراسکتی ہیں، اس لائن میں عورتوں کے اعضائے مستورہ دیکھ کر علاج کرنے کے لیے حکما عورتوں کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے۔ اور کسی خاتون کا کسی غیر محرم حکیم کے پاس پریکٹس اور مہارت کے لیے بیٹھنا اور اس کی نگرانی میں خواتین مریضوں کی تشخیص کرنا اور تشخیص اور علاج کے بارے میں حکیم سے بات کرنا وغیرہ فتنہ سے خالی معلوم نہیں ہوتا؛
اس لیے اگر آپ علم طب حاصل کرنا چاہتی ہیں تو حاصل کرلیں، اس میں شرعاً کچھ حرج نہیں؛ البتہ کسی نامحرم حکیم کے پاس بیٹھ کر پریکٹس نہ کریں ؛ بلکہ خود خواتین مریضوں کا علاج شروع کردیں اور احتیاط کے ساتھ کریں، انشاء اللہ کچھ عرصہ میں آپ خودماہر تجربہ کار ہوجائیں گی۔ اور اگر آپ کو کوئی خاتون حکیم مل جائے تو اس کے پاس رہ کر پریکٹس کرنے میں شرعاً کچھ حرج نہیں۔
مستفاد:وکذا ینظر مرید…مداواتھا ینظر الطبیب إلی موضع مرضھا بقدر الضرورة؛ إذ الضرورات تتقدر بقدرھا ……وینبغي أن یعلم امرأة تداویھا؛ لأن نظر الجنس إلی الجنس أخف (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الحظر والإباحة، فصل فی النظر والمس، ۹: ۵۳۲، ۵۳۳، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، قولہ: ”وینبغي الخ“:کذا أطلقہ فی الھدایة والخانیة، وقال فی الجوھرة: إذا کان المرض في سائر بدنھا غیر الفرج یجوز النظر إلیہ عند الدواء؛ لأنہ موضع ضرورة، وإن کان في موضع الفرج فینبغي أن یعلم امرأة تداویھا، فإن لم توجد وخافوا علیھا أن تھلک أو یصیبھا وجع لا تحتملہ یستتروا منھا کل شییٴ إلا موضع العلة، ثم یداویھا الرجل ویغض بصرہ ما استطاع إلا عن موضع الجرح اھ فتأمل، والظاھر أن ینبغي ھنا للوجوب (رد المحتار)۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سوال # 150053
میں علم طب حاصل کرنا چاہتی،لیکن اس میں مہارت کیلئے 1 ماہر حکیم کی نگرانی میں پریکٹس کرنی ہو گی،کیا میرے لئے مکمل پردے کے ساتھ ماہر حکیم کی نگرانی میں خواتین مریضوں کی تشخیص کرنا اور تشخیص اور علاج کے بارے میں حکیم صاحب سے بات کرنا جائز ہے ؟
Published on: Apr 25, 2017 جواب # 150053
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa: 644-776/N=7/1438
دور حاضر میں ایلو پیتھک علاج عروج پر ہے اور اپنی ترقی و مقبولیت میں سب پر فائق ہے اور لوگ عام طور پر اسی علاج کی طرف رجوع کرتے ہیں، دوسرے علاج کی طرف صرف خصوصی حالات میں رجوع کرتے ہیں اور طب یونانی کی طرف تو صرف ان امراض میں لوگ رجوع کرتے ہیں جن میں دوسرا طریقہ علاج بالکل کام یاب نہیں ہوتا اور لوگ پریشان وعاجز ہوجاتے ہیں۔اور طب یونانی میں ایسے علاج کی عام طور پر ضرورت بھی نہیں پڑتی ، جس میں ستر کھولنا پڑے۔ اور عورتیں تو اس طرح کے علاج کے لیے حکما کے پاس جاتی ہی نہیں اور خود حکما بھی اس طرح کا علاج نہیں کرتے؛ بلکہ صرف مریض کی نبض دیکھ کر یا مریض کا حال سن کر نسخہ تجویز کردیتے ہیں؛ اس لیے موجودہ صورت حال میں مرد حکما سے مرد اور عورتیں دونوں علاج کراسکتی ہیں، اس لائن میں عورتوں کے اعضائے مستورہ دیکھ کر علاج کرنے کے لیے حکما عورتوں کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے۔ اور کسی خاتون کا کسی غیر محرم حکیم کے پاس پریکٹس اور مہارت کے لیے بیٹھنا اور اس کی نگرانی میں خواتین مریضوں کی تشخیص کرنا اور تشخیص اور علاج کے بارے میں حکیم سے بات کرنا وغیرہ فتنہ سے خالی معلوم نہیں ہوتا؛
اس لیے اگر آپ علم طب حاصل کرنا چاہتی ہیں تو حاصل کرلیں، اس میں شرعاً کچھ حرج نہیں؛ البتہ کسی نامحرم حکیم کے پاس بیٹھ کر پریکٹس نہ کریں ؛ بلکہ خود خواتین مریضوں کا علاج شروع کردیں اور احتیاط کے ساتھ کریں، انشاء اللہ کچھ عرصہ میں آپ خودماہر تجربہ کار ہوجائیں گی۔ اور اگر آپ کو کوئی خاتون حکیم مل جائے تو اس کے پاس رہ کر پریکٹس کرنے میں شرعاً کچھ حرج نہیں۔
مستفاد:وکذا ینظر مرید…مداواتھا ینظر الطبیب إلی موضع مرضھا بقدر الضرورة؛ إذ الضرورات تتقدر بقدرھا ……وینبغي أن یعلم امرأة تداویھا؛ لأن نظر الجنس إلی الجنس أخف (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الحظر والإباحة، فصل فی النظر والمس، ۹: ۵۳۲، ۵۳۳، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، قولہ: ”وینبغي الخ“:کذا أطلقہ فی الھدایة والخانیة، وقال فی الجوھرة: إذا کان المرض في سائر بدنھا غیر الفرج یجوز النظر إلیہ عند الدواء؛ لأنہ موضع ضرورة، وإن کان في موضع الفرج فینبغي أن یعلم امرأة تداویھا، فإن لم توجد وخافوا علیھا أن تھلک أو یصیبھا وجع لا تحتملہ یستتروا منھا کل شییٴ إلا موضع العلة، ثم یداویھا الرجل ویغض بصرہ ما استطاع إلا عن موضع الجرح اھ فتأمل، والظاھر أن ینبغي ھنا للوجوب (رد المحتار)۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:9⃣2⃣1⃣
جس حصہ میں منی لگی ہو صرف اس حصہ کو دھونے سےکپڑا پاک ہوجائے گا۔
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: اگر کسی کپڑے میں منی لگ جائے توصرف وہ حصہ دھولینے سے جہاں منیٰ لگی ہوئی ہے کپڑا پاک ہوجائے گا اور پھر اس کپڑے میں نماز ادا ہوجائے گی یانہیں؟ ایک صاحب نے بتایا ہے کہ حالتِ جنابت میں جو کپڑے بدن سے لگے ہوئے ہوںگے سب کی تبدیلی لازمی ہے، توکیا ان صاحب کی بات درست ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: صرف جس حصہ میں منی لگی ہے اس حصہ کو دھونے سے کپڑا پاک ہوجائے گا اور اس میں نماز درست ہوجائے گی، یہ بات غلط ہے کہ حالتِ جنابت کا پہنا ہوا پورا کپڑا ناپاک ہوتا ہے؛ البتہ اگر نجاست لگنے کا یقین ہو؛ لیکن نجاست کی جگہ متعین کرنے میں دشواری ہو رہی ہو تو پھر پورا کپڑا دھونا ضروری ہوگا؛ تاکہ کوئی شبہ نہ رہے۔
مستفاد: عن ہمام بن الحارث قال: ضاف عائشۃ رضي اللّٰہ عنہا ضیف فأمرت لہ صفراء فنام فیہا فاحتلم فاستحیی أن یرسل إلیہا وبہا أثر الإحتلام فغمسہا في الماء ثم أرسل بہا فقالت عائشۃ رضي اللّٰہ عنہا: لم أفسد علینا ثوبنا إنما کان یکفیہ أن یفرکہ بأصابعہ، وربما فرکتہ من ثوب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بأصابعي۔ (سنن الترمذي ۱؍۳۱)
عن جابر بن سمرۃ رضي اللّٰہ عنہ قال: سأل رجل النبي ا أصلي في الثوب الذي أتی فیہ أہلي: قال نعم! إلا أن تری فیہ شیئا فتغسلہ۔ (موارد الظمآن ۱؍۸۲)
عن عائشۃ رضي اللّٰہ عنہا أنہا کانت تغسل المنی من ثوب رسول اللّٰہ ا، قالت: ثم أراہ فیہ بقعۃ أوبقعاً۔ (سنن أبي داؤد ۱؍۵۳، صحیح مسلم ۱؍۱۴۰)
ولو أن ثوبا أصابتہ النجاسۃ وہي کثیرۃ فجفت وذہب أثرہا وخفی مکانہا، غسل جمیع الثوب۔ (بدائع الصنائع ۱؍۲۳۶ زکریا)
فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ ہے
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جس حصہ میں منی لگی ہو صرف اس حصہ کو دھونے سےکپڑا پاک ہوجائے گا۔
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: اگر کسی کپڑے میں منی لگ جائے توصرف وہ حصہ دھولینے سے جہاں منیٰ لگی ہوئی ہے کپڑا پاک ہوجائے گا اور پھر اس کپڑے میں نماز ادا ہوجائے گی یانہیں؟ ایک صاحب نے بتایا ہے کہ حالتِ جنابت میں جو کپڑے بدن سے لگے ہوئے ہوںگے سب کی تبدیلی لازمی ہے، توکیا ان صاحب کی بات درست ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: صرف جس حصہ میں منی لگی ہے اس حصہ کو دھونے سے کپڑا پاک ہوجائے گا اور اس میں نماز درست ہوجائے گی، یہ بات غلط ہے کہ حالتِ جنابت کا پہنا ہوا پورا کپڑا ناپاک ہوتا ہے؛ البتہ اگر نجاست لگنے کا یقین ہو؛ لیکن نجاست کی جگہ متعین کرنے میں دشواری ہو رہی ہو تو پھر پورا کپڑا دھونا ضروری ہوگا؛ تاکہ کوئی شبہ نہ رہے۔
مستفاد: عن ہمام بن الحارث قال: ضاف عائشۃ رضي اللّٰہ عنہا ضیف فأمرت لہ صفراء فنام فیہا فاحتلم فاستحیی أن یرسل إلیہا وبہا أثر الإحتلام فغمسہا في الماء ثم أرسل بہا فقالت عائشۃ رضي اللّٰہ عنہا: لم أفسد علینا ثوبنا إنما کان یکفیہ أن یفرکہ بأصابعہ، وربما فرکتہ من ثوب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بأصابعي۔ (سنن الترمذي ۱؍۳۱)
عن جابر بن سمرۃ رضي اللّٰہ عنہ قال: سأل رجل النبي ا أصلي في الثوب الذي أتی فیہ أہلي: قال نعم! إلا أن تری فیہ شیئا فتغسلہ۔ (موارد الظمآن ۱؍۸۲)
عن عائشۃ رضي اللّٰہ عنہا أنہا کانت تغسل المنی من ثوب رسول اللّٰہ ا، قالت: ثم أراہ فیہ بقعۃ أوبقعاً۔ (سنن أبي داؤد ۱؍۵۳، صحیح مسلم ۱؍۱۴۰)
ولو أن ثوبا أصابتہ النجاسۃ وہي کثیرۃ فجفت وذہب أثرہا وخفی مکانہا، غسل جمیع الثوب۔ (بدائع الصنائع ۱؍۲۳۶ زکریا)
فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ ہے
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:0⃣3⃣1⃣
مقدار درہم سے زیادہ نجاست کپڑے پر لگ گئی۔
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ایک شخص موٹر سائیکل سے ایک جگہ جارہا ہے، گاڑی کے نجاست کے اوپر سے گذرتے وقت چھینٹیں اڑیں اور روپئے سے زیادہ مقدار میں نجاست لگ گئی؛ لیکن چلتے چلتے نجاست خشک ہوکر مقدار میں روپئے سے کم ہوگئی تو کیا اس کپڑے میں بغیر دھوئے نماز پڑھی جاسکتی ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:مسئولہ صورت میں چونکہ ابتداء میں مقدار درہم سے زیادہ نجاست لگی ہے؛ اس لئے اسے پاک کئے بغیر اس میں نماز درست نہیں ہے، اگرچہ خشک ہونے کے بعد اس کی مقدار کم رہ گئی ہو۔
عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ عن النبي صلی علیہ وسلم قال: تعاد الصلاۃ من قدر الدرہم من الدم۔ (سنن الدار قطني ۱؍۳۸۵ رقم: ۱۴۷۹)
وإن کانت أکثر من قدر الدرہم منعت جواز الصلاۃ۔ (الفتاوی التاتارخانیۃ ۱؍۴۴۰ زکریا، درمحتار مع الشامي ۱؍۵۲۰ زکریا)
لو کانت أزید من الدرہم وقت الإصابۃ ثم جفت فخفت فصارت أقل منعت۔ (شامي ۱؍۵۲۱ زکریا)
فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
مقدار درہم سے زیادہ نجاست کپڑے پر لگ گئی۔
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ایک شخص موٹر سائیکل سے ایک جگہ جارہا ہے، گاڑی کے نجاست کے اوپر سے گذرتے وقت چھینٹیں اڑیں اور روپئے سے زیادہ مقدار میں نجاست لگ گئی؛ لیکن چلتے چلتے نجاست خشک ہوکر مقدار میں روپئے سے کم ہوگئی تو کیا اس کپڑے میں بغیر دھوئے نماز پڑھی جاسکتی ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:مسئولہ صورت میں چونکہ ابتداء میں مقدار درہم سے زیادہ نجاست لگی ہے؛ اس لئے اسے پاک کئے بغیر اس میں نماز درست نہیں ہے، اگرچہ خشک ہونے کے بعد اس کی مقدار کم رہ گئی ہو۔
عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ عن النبي صلی علیہ وسلم قال: تعاد الصلاۃ من قدر الدرہم من الدم۔ (سنن الدار قطني ۱؍۳۸۵ رقم: ۱۴۷۹)
وإن کانت أکثر من قدر الدرہم منعت جواز الصلاۃ۔ (الفتاوی التاتارخانیۃ ۱؍۴۴۰ زکریا، درمحتار مع الشامي ۱؍۵۲۰ زکریا)
لو کانت أزید من الدرہم وقت الإصابۃ ثم جفت فخفت فصارت أقل منعت۔ (شامي ۱؍۵۲۱ زکریا)
فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:1⃣3⃣1⃣
ٹنکی کے نل سے وضو کرتے ہوئے زمین کی چھینٹوں کا کپڑوں پر اُڑنا۔
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: عام طور پر لوگ ٹنکی کے نل سے وضو کرتے ہیں، مسجد کے علاوہ اپنے گھر پر اگر کوئی وضو کرتا ہے تو دورانِ وضو زمین کی چھینٹیںاس کے کپڑوں پر آجاتی ہیں، وہ جگہ ایسی ہے کہ سب اہل خانہ جوتے پہن کر اس پر چلتے ہیں اور اس جگہ پر گندگی کا امکان بھی رہتا ہے، اس طرح کی چھینٹوں سے کپڑے پاک رہتے ہیں یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اس طرح کی چھینٹوں سے کپڑے کی نجاست کا حکم نہیں دیا جائے گا؛ البتہ اگر نجاست بالکل واضح ہو تو اس کی چھینٹیں ناپاک ہوںگی۔
شک في وجود النجس فالأصل بقاء الطہارۃ، ولذا قال محمدؒ: حوض تملأ منہ الصغار والعبید بلأیدي الدنسۃ والجرار الوسخۃ یجوز الوضوء منہ ما لم یعلم بہ نجاسۃ۔ (الأشباہ ۱؍۱۰۳)
أما غسالۃ النجاسۃ الحکمیہ: وہي الماء المستعمل فہو في ظاہر الروایۃ طاہر غیر مطہر، أي لایجوز التوضوء بہ، لکن في الراحج یجوز إزالۃ النجاسۃ الحقیقیۃ بہ۔ (الفقہ الاسلامي وأدلتہ ۱؍۳۴۱، شامي، کتاب الطہارۃ/ بحث الماء المستعمل ۱؍۲۰۱ کراچی، کذا في الفتاویٰ الہندیۃ، کتاب الطہارۃ / الفصل الثاني فیما لا یجوز بہ التوضوء ۱؍۲۲ کوئٹہ)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
ٹنکی کے نل سے وضو کرتے ہوئے زمین کی چھینٹوں کا کپڑوں پر اُڑنا۔
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: عام طور پر لوگ ٹنکی کے نل سے وضو کرتے ہیں، مسجد کے علاوہ اپنے گھر پر اگر کوئی وضو کرتا ہے تو دورانِ وضو زمین کی چھینٹیںاس کے کپڑوں پر آجاتی ہیں، وہ جگہ ایسی ہے کہ سب اہل خانہ جوتے پہن کر اس پر چلتے ہیں اور اس جگہ پر گندگی کا امکان بھی رہتا ہے، اس طرح کی چھینٹوں سے کپڑے پاک رہتے ہیں یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اس طرح کی چھینٹوں سے کپڑے کی نجاست کا حکم نہیں دیا جائے گا؛ البتہ اگر نجاست بالکل واضح ہو تو اس کی چھینٹیں ناپاک ہوںگی۔
شک في وجود النجس فالأصل بقاء الطہارۃ، ولذا قال محمدؒ: حوض تملأ منہ الصغار والعبید بلأیدي الدنسۃ والجرار الوسخۃ یجوز الوضوء منہ ما لم یعلم بہ نجاسۃ۔ (الأشباہ ۱؍۱۰۳)
أما غسالۃ النجاسۃ الحکمیہ: وہي الماء المستعمل فہو في ظاہر الروایۃ طاہر غیر مطہر، أي لایجوز التوضوء بہ، لکن في الراحج یجوز إزالۃ النجاسۃ الحقیقیۃ بہ۔ (الفقہ الاسلامي وأدلتہ ۱؍۳۴۱، شامي، کتاب الطہارۃ/ بحث الماء المستعمل ۱؍۲۰۱ کراچی، کذا في الفتاویٰ الہندیۃ، کتاب الطہارۃ / الفصل الثاني فیما لا یجوز بہ التوضوء ۱؍۲۲ کوئٹہ)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:2⃣3⃣1⃣
سوال:
پیشاب کا بستر جو خشک ہو،اگر اس پر لیٹ جائے تو کیا اس لیٹ جانے سے پہنے ہوئے کپڑے ناپاک ہوجائینگے؟ اور اگر ایسی حالت میں پسینہ آجائے اور اس پیشاب کی بو کپڑوں میں آنے لگے تو کیا اس سے بھی کپڑے ناپاک ہوجائینگے یا اگر بو نہ آئے پسینہ خوب آتا ہو تو کیا حکم ہے؟
الجواب حامدا ومصلیا:
پستر اگر خشک ہے اور بدن پر پسینہ بھی نہیں آیا تو نہ بدن ناپاک ہوگا نہ کپڑے ناپاک ہونگے ،اگر بستر صاف ہے اور پیشاب بدن پر یا کپڑے پر لگ گیا،یا بستر تو خشک ہے لیکن پسینہ آکر تر ہوا اور پیشاب کا اثر کپڑوں میں یا بدن میں آگیا تو اسکی وجہ سے ناپاکی کا حکم ہوگا۔
کذا فی رد المحتار231/1)
نام او مشی علی نجاسة،ان ظھر عینھا،تنجس، والا لا"(الدرالمختار)وقال ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی:(قولہ: نام) ای فعرق.....قولہ:علی نجاسة):ای یابسة لما فی متن الملتقی:لو وضع ثوبا رطبا علی ما طُیّن بطین نجس جاف،لاینجس... بخلاف ما اذا کان اطین رطبا۔""
(الدر المختار مع ردالمحتار) کتاب الطھارة ،باب الانجاس:346/1سعید)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سوال:
پیشاب کا بستر جو خشک ہو،اگر اس پر لیٹ جائے تو کیا اس لیٹ جانے سے پہنے ہوئے کپڑے ناپاک ہوجائینگے؟ اور اگر ایسی حالت میں پسینہ آجائے اور اس پیشاب کی بو کپڑوں میں آنے لگے تو کیا اس سے بھی کپڑے ناپاک ہوجائینگے یا اگر بو نہ آئے پسینہ خوب آتا ہو تو کیا حکم ہے؟
الجواب حامدا ومصلیا:
پستر اگر خشک ہے اور بدن پر پسینہ بھی نہیں آیا تو نہ بدن ناپاک ہوگا نہ کپڑے ناپاک ہونگے ،اگر بستر صاف ہے اور پیشاب بدن پر یا کپڑے پر لگ گیا،یا بستر تو خشک ہے لیکن پسینہ آکر تر ہوا اور پیشاب کا اثر کپڑوں میں یا بدن میں آگیا تو اسکی وجہ سے ناپاکی کا حکم ہوگا۔
کذا فی رد المحتار231/1)
نام او مشی علی نجاسة،ان ظھر عینھا،تنجس، والا لا"(الدرالمختار)وقال ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی:(قولہ: نام) ای فعرق.....قولہ:علی نجاسة):ای یابسة لما فی متن الملتقی:لو وضع ثوبا رطبا علی ما طُیّن بطین نجس جاف،لاینجس... بخلاف ما اذا کان اطین رطبا۔""
(الدر المختار مع ردالمحتار) کتاب الطھارة ،باب الانجاس:346/1سعید)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
Telegram
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
"جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند" میں روزانہ ایک دو مسئلہ مدلل ومزین انداز میں بطورِ استفادہ آپ کو ملے گا،
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1
جواب نمبر:3⃣3⃣1⃣
New Zealandسوال # 151364
کیا اگر ماضی میں کسی حنفی عامی کو غسل کے فرائض معلوم نہ تھے تو کیا ان نمازوں کی قضاء کرنی ہوگی کیونکہ ائمہ کرام کے مابین اختلاف ہے تو معاملہ میں کچھ تخفیف ہے یا نہیں؟
Published on: May 25, 2017 جواب # 151364
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa: 1095-963/sn=8/1438
احناف کے نزدیک غسل جنابت میں کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا اور پورے بدن پر پانی بہانا فرض ہے، اگر کسی شخص نے جہالت یا کسی اور وجہ سے ان میں سے کسی ایک فرض کو چھوڑدیا تو اس کا غسل صحیح نہیں ہوا اور اس غسل سے پڑھی ہوئی نمازیں بھی صحیح نہیں ہوئیں، ان کی قضا ضروری ہے، کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کے سلسلے میں بعض ائمہ کے اختلاف کا پایا جانا اس کے لیے باعثِ تخفیف نہیں ہے؛ البتہ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ غسل جنابت کے لیے شرعاً نیت ضروری نہیں ہے اور نہ ہی یہ ضروری ہے کہ ایک ہی مجلس میں تینوں فرائض پائے جائیں؛ اس لیے اگر کسی نے دوارنِ غسل (مثلاً) کلی کرنا بھول گیا یا جہالت کی وجہ سے قصداً چھوڑدیا؛ لیکن اس نے اس غسل کے بعد نماز کے لیے وضو کرتے وقت یا کسی اور ضرورت کے تحت اچھی طرح کلی کرلی تو اس سے غسل کا فرض بھی ادا ہوجائے گا؛ لہٰذا اس کے بعد پڑھی ہوئی نمازیں پاکی کی حالت میں پڑھی ہوئی شمار ہوں گی۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
New Zealandسوال # 151364
کیا اگر ماضی میں کسی حنفی عامی کو غسل کے فرائض معلوم نہ تھے تو کیا ان نمازوں کی قضاء کرنی ہوگی کیونکہ ائمہ کرام کے مابین اختلاف ہے تو معاملہ میں کچھ تخفیف ہے یا نہیں؟
Published on: May 25, 2017 جواب # 151364
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa: 1095-963/sn=8/1438
احناف کے نزدیک غسل جنابت میں کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا اور پورے بدن پر پانی بہانا فرض ہے، اگر کسی شخص نے جہالت یا کسی اور وجہ سے ان میں سے کسی ایک فرض کو چھوڑدیا تو اس کا غسل صحیح نہیں ہوا اور اس غسل سے پڑھی ہوئی نمازیں بھی صحیح نہیں ہوئیں، ان کی قضا ضروری ہے، کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کے سلسلے میں بعض ائمہ کے اختلاف کا پایا جانا اس کے لیے باعثِ تخفیف نہیں ہے؛ البتہ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ غسل جنابت کے لیے شرعاً نیت ضروری نہیں ہے اور نہ ہی یہ ضروری ہے کہ ایک ہی مجلس میں تینوں فرائض پائے جائیں؛ اس لیے اگر کسی نے دوارنِ غسل (مثلاً) کلی کرنا بھول گیا یا جہالت کی وجہ سے قصداً چھوڑدیا؛ لیکن اس نے اس غسل کے بعد نماز کے لیے وضو کرتے وقت یا کسی اور ضرورت کے تحت اچھی طرح کلی کرلی تو اس سے غسل کا فرض بھی ادا ہوجائے گا؛ لہٰذا اس کے بعد پڑھی ہوئی نمازیں پاکی کی حالت میں پڑھی ہوئی شمار ہوں گی۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:4⃣3⃣1⃣
سوال # 151309
مفتی صاحب، میرا آپ سے یہ سوال تھا کہ اگر جسم پر کوئی پینٹ ، چونا یا ڈسٹمپر وغیرہ لگا ہو تو کیا غسل اور وضو ہو جائے گا؟
2 -اگر وضو میں کلی کرتے وقت منہ سے خون آ جائے تو کیا وضو ہو جائے گا؟
Published on: May 18, 2017 جواب # 151309
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa: 920-837/B=8/1438
(۱) اگر وہ پینٹ چپکدار ہے، اور جسم پر جم گیا ہے، وضو کرتے وقت یا غسل کرتے وقت پانی اس کے اندر نہیں پہنچے گا تو وضو اور غسل صحیح نہیں ہوگا۔ پہلے کسی ترکیب سے اسے چھٹائیں اس کے بعد وضو اور غسل کریں۔
(۲) وضو نہ ہوگا، کلی کرتے رہیں جب خون آنا بالکل بند ہوجائے اس کے بعد وضو کریں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سوال # 151309
مفتی صاحب، میرا آپ سے یہ سوال تھا کہ اگر جسم پر کوئی پینٹ ، چونا یا ڈسٹمپر وغیرہ لگا ہو تو کیا غسل اور وضو ہو جائے گا؟
2 -اگر وضو میں کلی کرتے وقت منہ سے خون آ جائے تو کیا وضو ہو جائے گا؟
Published on: May 18, 2017 جواب # 151309
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa: 920-837/B=8/1438
(۱) اگر وہ پینٹ چپکدار ہے، اور جسم پر جم گیا ہے، وضو کرتے وقت یا غسل کرتے وقت پانی اس کے اندر نہیں پہنچے گا تو وضو اور غسل صحیح نہیں ہوگا۔ پہلے کسی ترکیب سے اسے چھٹائیں اس کے بعد وضو اور غسل کریں۔
(۲) وضو نہ ہوگا، کلی کرتے رہیں جب خون آنا بالکل بند ہوجائے اس کے بعد وضو کریں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:5⃣3⃣1⃣
مسجد میں نماز جنازہ
نماز جنازہ مسجد کے اندر پڑھنا
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: نماز جنازہ مسجد کے اندر پڑھنا کیسا ہے؟ جب کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے صحیح مسلم میں حدیث مروی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا قسم کھاکر فرماتی ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضاء کی نماز جنازہ مسجد کے اندر ادا فرمائی اور موطاامام مالک میں ہے کہ حضرت عمر کا جنازہ مسجد کے اندر پڑھا گیا، تو کیا ان دونوں حدیثوں کی وجہ سے مسجد کے اندر نماز جنازہ ادا کرنا جائز ہے؟ یا یہ حکم منسوخ ہوچکا ہے؟ اگر یہ حکم منسوخ ہوچکا ہے تو پھر بتائیں کہ حضور کے زمانہ میں نماز جنازہ کہاں ہوتی تھی؟ اور مذکورہ حدیثوں کا پھر کیا جواب ہوگا؟ مدلل ومبرہن جواب تحریر فرمائیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا مکروہ تحریمی ہے، مسجدیں صرف پنج وقتہ نمازوں کے لئے بنائی جاتی ہیں، اسی لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کے قریب نماز جنازہ کے لئے ایک مخصوص جگہ بنوائی تھی، اگر نماز جنازہ مسجد میں مشروع ہوتی تو آپ علیحدہ سے جگہ بنوانے کا اہتمام کیوں فرماتے؟ یہی وجہ ہے کہ صحیح مسلم شریف میں روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جنازے مسجد میں داخل نہیں کئے جاتے تھے، اور یہی آپ کا مبارک طریقہ تھا۔ چناںچہ جب نجاشی کے انتقال کی خبر آپ کو پہنچی، تو آپ صحابہ کرام کی ایک جماعت کو لے کر مسجدِنبوی سے باہر تشریف لائے اور اس مخصوص جگہ پر نماز ادا فرمائی۔
نیز بعض احادیثِ شریفہ میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’جس نے مسجد میں نماز جنازہ پڑھی، اس کو کچھ ثواب نہ ملے گا‘‘۔
بریں بنا مسجد میں بلاعذر نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں ہے، اسی وجہ سے جب حضرت سہیل بن بیضاء کا جنازہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی فرمائش پر مسجد میں داخل کیا جانے لگا تو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اس پر اعتراض کیا، روایت میں ہے:
فبلغہن أن الناس قد عابوا ذٰلک وقالوا: وما کانت الجنائز یدخل بہ المسجد۔ (صحیح مسلم ۱؍۳۱۴) وفي روایۃ: فأنکر ذٰلک الناس علیہا۔ (المؤطأ لإمام مالک ۱۷۱ رقم: ۲۲ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مسجد کے اندر جنازہ داخل کئے جانے پر اعتراض کرنا اس کے خلافِ سنت ہونے کی واضح دلیل ہے۔ (مستفاد: فتاویٰ محمودیہ ۸؍۶۷۷-۶۸۲ ڈابھیل)
اور موطا مالک میں سیدناحضرت عمر رضی اللہ عنہ کے جنازہ کی نماز مسجد میں پڑھنے کا ذکر ہے، وہ عذر پر محمول ہوگا۔
عن نافع عن عبد اللّٰہ بن عمر رضي اللّٰہ عنہما أنہ قال: صُلِّيَ علی عمر بن الخطاب في المسجد۔ (المؤطأ لإمام مالک ۱۷۱ رقم: ۲۳ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
وقال الباجي: معنی حدیث الباب ما تقدم من أن یکون صلي علیہ، وہو خارج المسجد، والمصلون علیہ في المسجد، ویحتمل أن یکون صلي علیہ في الموضع الذي دفن فیہ، وقد کان من المسجد، ولہ الآن حکم المقابر، وکذٰلک المسجد إذا کان فیہ مقبرۃ فلا بأس أن یصلی في موضع المقابر منہ علی میت الخ، وفي البرہان: صلاۃ الصحابۃ علی أبي بکر وعمر رضي اللّٰہ عنہما في المسجد کانت لعارض دفنہما عند رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم الخ۔ (أوجز المسالک ۲؍۴۶۲)
عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: من صلی علی جنازۃ في المسجد فلیس لہ شيء۔ (سنن ابن ماجۃ، کتاب الجنائز ۱؍۱۰۹رقم: ۱۵۱۷، سنن أبي داؤد ۲؍۹۸، مسند أحمد ۳؍۱۹۱ رقم: ۹۴۳۷)
عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ قال: نعیٰ لنا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم النجاشي صاحبَ الحبشۃ الیوم الذي مات فیہ فقال: استغفروا لأخیکم، وفي روایۃ: نعی النجاشي في الیوم الذي مات فیہ وخرج إلی المصلی فصف بہم وکبر أربعاً۔ (صحیح البخاري، کتاب الجنائز / باب الرجل یعنی إلی أہل المیت بنفسہ ۱؍۱۶۶-۱۶۷-۱۷۷، صحیح مسلم، کتاب الجنائز / فصل في النعي الناس المیت ۱؍۳۰۹)
ولم یکن من ہدیہ الراتب الصلاۃ علیہ في المسجد وإنما کان یصلي علیہ الجنازۃخارج المسجد۔ (زاد المعاد لابن القیم الجوزیۃ، فصل في تجہیز المیت والصلاۃ علیہ ۱۹۴ بیروت، أوجز المسالک / باب الصلاۃ علی الجنائز في المسجد ۴؍؍۲۳۵ إدارۃ تالیفات أشرفیۃ ملتان)
وفي حدیث بن عمر: أن الیہود جاؤا إلی النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم برجل منہم وامرأۃ زنیاً، فأمر بہما فرُجما قریباً من موضع الجنائز عند المسجد۔ (صحیح البخاري، کتاب الجنائز / باب الصلاۃ علی الجنائز بالمصلی والمسجد ۱؍۱۷۷)
ودل حدیث بن عمر علی أنہ کان للجنائز مکان معد للصلاۃ علیہا فقد یستفاد منہ أن ما وقع من الصلاۃ علی بعض الجنائز في المسجد کان لأمر عارض۔ (فتح الباري، کتاب الجنائز / باب الصلاۃ علی الجنائز بالمصلی والمسجد ۳؍۲۵۶)
عن ابن حبیب أن مصلی الجنائز المدینۃ کان لاصقاً بمسجد النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم من ناحیۃ جہۃ المشرق۔ (فتح الباري، کتاب الجنائز
مسجد میں نماز جنازہ
نماز جنازہ مسجد کے اندر پڑھنا
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: نماز جنازہ مسجد کے اندر پڑھنا کیسا ہے؟ جب کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے صحیح مسلم میں حدیث مروی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا قسم کھاکر فرماتی ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضاء کی نماز جنازہ مسجد کے اندر ادا فرمائی اور موطاامام مالک میں ہے کہ حضرت عمر کا جنازہ مسجد کے اندر پڑھا گیا، تو کیا ان دونوں حدیثوں کی وجہ سے مسجد کے اندر نماز جنازہ ادا کرنا جائز ہے؟ یا یہ حکم منسوخ ہوچکا ہے؟ اگر یہ حکم منسوخ ہوچکا ہے تو پھر بتائیں کہ حضور کے زمانہ میں نماز جنازہ کہاں ہوتی تھی؟ اور مذکورہ حدیثوں کا پھر کیا جواب ہوگا؟ مدلل ومبرہن جواب تحریر فرمائیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا مکروہ تحریمی ہے، مسجدیں صرف پنج وقتہ نمازوں کے لئے بنائی جاتی ہیں، اسی لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کے قریب نماز جنازہ کے لئے ایک مخصوص جگہ بنوائی تھی، اگر نماز جنازہ مسجد میں مشروع ہوتی تو آپ علیحدہ سے جگہ بنوانے کا اہتمام کیوں فرماتے؟ یہی وجہ ہے کہ صحیح مسلم شریف میں روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جنازے مسجد میں داخل نہیں کئے جاتے تھے، اور یہی آپ کا مبارک طریقہ تھا۔ چناںچہ جب نجاشی کے انتقال کی خبر آپ کو پہنچی، تو آپ صحابہ کرام کی ایک جماعت کو لے کر مسجدِنبوی سے باہر تشریف لائے اور اس مخصوص جگہ پر نماز ادا فرمائی۔
نیز بعض احادیثِ شریفہ میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’جس نے مسجد میں نماز جنازہ پڑھی، اس کو کچھ ثواب نہ ملے گا‘‘۔
بریں بنا مسجد میں بلاعذر نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں ہے، اسی وجہ سے جب حضرت سہیل بن بیضاء کا جنازہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی فرمائش پر مسجد میں داخل کیا جانے لگا تو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اس پر اعتراض کیا، روایت میں ہے:
فبلغہن أن الناس قد عابوا ذٰلک وقالوا: وما کانت الجنائز یدخل بہ المسجد۔ (صحیح مسلم ۱؍۳۱۴) وفي روایۃ: فأنکر ذٰلک الناس علیہا۔ (المؤطأ لإمام مالک ۱۷۱ رقم: ۲۲ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا مسجد کے اندر جنازہ داخل کئے جانے پر اعتراض کرنا اس کے خلافِ سنت ہونے کی واضح دلیل ہے۔ (مستفاد: فتاویٰ محمودیہ ۸؍۶۷۷-۶۸۲ ڈابھیل)
اور موطا مالک میں سیدناحضرت عمر رضی اللہ عنہ کے جنازہ کی نماز مسجد میں پڑھنے کا ذکر ہے، وہ عذر پر محمول ہوگا۔
عن نافع عن عبد اللّٰہ بن عمر رضي اللّٰہ عنہما أنہ قال: صُلِّيَ علی عمر بن الخطاب في المسجد۔ (المؤطأ لإمام مالک ۱۷۱ رقم: ۲۳ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
وقال الباجي: معنی حدیث الباب ما تقدم من أن یکون صلي علیہ، وہو خارج المسجد، والمصلون علیہ في المسجد، ویحتمل أن یکون صلي علیہ في الموضع الذي دفن فیہ، وقد کان من المسجد، ولہ الآن حکم المقابر، وکذٰلک المسجد إذا کان فیہ مقبرۃ فلا بأس أن یصلی في موضع المقابر منہ علی میت الخ، وفي البرہان: صلاۃ الصحابۃ علی أبي بکر وعمر رضي اللّٰہ عنہما في المسجد کانت لعارض دفنہما عند رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم الخ۔ (أوجز المسالک ۲؍۴۶۲)
عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: من صلی علی جنازۃ في المسجد فلیس لہ شيء۔ (سنن ابن ماجۃ، کتاب الجنائز ۱؍۱۰۹رقم: ۱۵۱۷، سنن أبي داؤد ۲؍۹۸، مسند أحمد ۳؍۱۹۱ رقم: ۹۴۳۷)
عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ قال: نعیٰ لنا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم النجاشي صاحبَ الحبشۃ الیوم الذي مات فیہ فقال: استغفروا لأخیکم، وفي روایۃ: نعی النجاشي في الیوم الذي مات فیہ وخرج إلی المصلی فصف بہم وکبر أربعاً۔ (صحیح البخاري، کتاب الجنائز / باب الرجل یعنی إلی أہل المیت بنفسہ ۱؍۱۶۶-۱۶۷-۱۷۷، صحیح مسلم، کتاب الجنائز / فصل في النعي الناس المیت ۱؍۳۰۹)
ولم یکن من ہدیہ الراتب الصلاۃ علیہ في المسجد وإنما کان یصلي علیہ الجنازۃخارج المسجد۔ (زاد المعاد لابن القیم الجوزیۃ، فصل في تجہیز المیت والصلاۃ علیہ ۱۹۴ بیروت، أوجز المسالک / باب الصلاۃ علی الجنائز في المسجد ۴؍؍۲۳۵ إدارۃ تالیفات أشرفیۃ ملتان)
وفي حدیث بن عمر: أن الیہود جاؤا إلی النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم برجل منہم وامرأۃ زنیاً، فأمر بہما فرُجما قریباً من موضع الجنائز عند المسجد۔ (صحیح البخاري، کتاب الجنائز / باب الصلاۃ علی الجنائز بالمصلی والمسجد ۱؍۱۷۷)
ودل حدیث بن عمر علی أنہ کان للجنائز مکان معد للصلاۃ علیہا فقد یستفاد منہ أن ما وقع من الصلاۃ علی بعض الجنائز في المسجد کان لأمر عارض۔ (فتح الباري، کتاب الجنائز / باب الصلاۃ علی الجنائز بالمصلی والمسجد ۳؍۲۵۶)
عن ابن حبیب أن مصلی الجنائز المدینۃ کان لاصقاً بمسجد النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم من ناحیۃ جہۃ المشرق۔ (فتح الباري، کتاب الجنائز
/ باب الصلاۃ علی الجنائز بالمصلی والمسجد ۳؍۲۵۶)
وقد ذکر ابن سعد في الطبقات الکبریٰ أن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم بنی موضعاً للجنائز لاصقاً بالمسجد بعد الفراغ من المسجد الشریف في السنۃ الأولیٰ من الہجرۃ۔ (التعلیق الصبیح علی مشکوٰۃ المصابیح / باب المشي بالجنازۃ والصلاۃ علیہا ۲؍۲۳۹ لاہور)
وقد أوّلَ بعض أصحابنا حدیث عائشۃ رضي اللّٰہ تعالیٰ عنہا: إنما صلي في المسجد بعذر مطرٍ، وقیل: بعذر الاعتکاف۔ (لامع الدراری، کتاب الجنائز / باب صلاۃ الصبیان مع الناس ۴؍۳۶۴)
نحن نقول أیضاً: صلاتہ في المسجد کان للمطر أو للاعتکاف۔ (عمدۃ القاري / باب الرجل ینعی إلی أہل المیت ۸؍۱۸ بیروت)
وقال الملا علي القاري: لو کان إدخال المیت المسجد للصلاۃ علیہ أفضل لکان أکثر صلاتہ علیہ الصلاۃ والسلام علی المیت في المسجد، و لما امتنع جلُّ الصحابۃ عنہ، وإنما الحدیث یفید الجواز في الجملۃ، وقد نازع جماعۃ من المتأخرین الشافعي في الاستحباب، بأنہ کان للجنائز موضع معروف خارج المسجد، والغالب منہ علیہ السلام الصلاۃ علیہا ثمہ۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الجنائز / باب المشي بالجنازۃوالصلاۃ علیہا، الفصل الأول ۴؍۱۴۴ تحت رقم: ۱۵۵۶)
وتکرہ صلاۃ الجنازۃ في المسجد الذي تقام فیہ الجماعۃ مکروہ، ولا تکرہ بعذر المطر ونحوہ ہٰکذا في الکافي۔
(الفتاویٰ الہندیۃ ۱؍۱۶۵، شامي ۳؍۱۲۶ زکریا، ۲؍؍۲۲۴ کراچی)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
وقد ذکر ابن سعد في الطبقات الکبریٰ أن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم بنی موضعاً للجنائز لاصقاً بالمسجد بعد الفراغ من المسجد الشریف في السنۃ الأولیٰ من الہجرۃ۔ (التعلیق الصبیح علی مشکوٰۃ المصابیح / باب المشي بالجنازۃ والصلاۃ علیہا ۲؍۲۳۹ لاہور)
وقد أوّلَ بعض أصحابنا حدیث عائشۃ رضي اللّٰہ تعالیٰ عنہا: إنما صلي في المسجد بعذر مطرٍ، وقیل: بعذر الاعتکاف۔ (لامع الدراری، کتاب الجنائز / باب صلاۃ الصبیان مع الناس ۴؍۳۶۴)
نحن نقول أیضاً: صلاتہ في المسجد کان للمطر أو للاعتکاف۔ (عمدۃ القاري / باب الرجل ینعی إلی أہل المیت ۸؍۱۸ بیروت)
وقال الملا علي القاري: لو کان إدخال المیت المسجد للصلاۃ علیہ أفضل لکان أکثر صلاتہ علیہ الصلاۃ والسلام علی المیت في المسجد، و لما امتنع جلُّ الصحابۃ عنہ، وإنما الحدیث یفید الجواز في الجملۃ، وقد نازع جماعۃ من المتأخرین الشافعي في الاستحباب، بأنہ کان للجنائز موضع معروف خارج المسجد، والغالب منہ علیہ السلام الصلاۃ علیہا ثمہ۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الجنائز / باب المشي بالجنازۃوالصلاۃ علیہا، الفصل الأول ۴؍۱۴۴ تحت رقم: ۱۵۵۶)
وتکرہ صلاۃ الجنازۃ في المسجد الذي تقام فیہ الجماعۃ مکروہ، ولا تکرہ بعذر المطر ونحوہ ہٰکذا في الکافي۔
(الفتاویٰ الہندیۃ ۱؍۱۶۵، شامي ۳؍۱۲۶ زکریا، ۲؍؍۲۲۴ کراچی)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:6⃣3⃣1⃣
بغیر عذر شرعی کے نماز جنازہ مسجد میں پڑھنا کیسا ہے؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: بغیر عذر شرعی نماز جنازہ مسجد میں پڑھنا کیسا ہے؟ خواہ جنازہخارج مسجد ہو اور کچھ لوگ خارج مسجد ہوں یا کچھ لوگ حدود مسجد میں ہوں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:بلاعذر مسجد میں نماز جنازہ حنفیہ کے نزدیک مکروہ ہے، ہاں جب جنازہ باہر ہو تو امام اور جو مقتدی اس کے ساتھ باہر ہوں، ان کی نماز بالاتفاق مکروہ نہ ہوگی، مگر ایسی صورت میں مسجد کے اندر نماز جنازہپڑھنے والے مقتدیوں کی نماز کراہت تنزیہی سے خالی نہ ہوگی۔
وأجاب في النہر بحمل الاتفاق علی عدم الکراہۃ في حق من کان خارج المسجدوما مر في حق من کان داخلہ۔ (شامي ۲؍۲۲۵ کراچی)
ولو کانت الجنازۃ والإمام وبعض القوم خارج المسجد وباقي القوم في المسجد کما ہو المعہود في جوامعنا لایکرہ باتفاق أصحابنا۔ (مجمع الأنہر ۱؍۱۸۵۵)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
بغیر عذر شرعی کے نماز جنازہ مسجد میں پڑھنا کیسا ہے؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: بغیر عذر شرعی نماز جنازہ مسجد میں پڑھنا کیسا ہے؟ خواہ جنازہخارج مسجد ہو اور کچھ لوگ خارج مسجد ہوں یا کچھ لوگ حدود مسجد میں ہوں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:بلاعذر مسجد میں نماز جنازہ حنفیہ کے نزدیک مکروہ ہے، ہاں جب جنازہ باہر ہو تو امام اور جو مقتدی اس کے ساتھ باہر ہوں، ان کی نماز بالاتفاق مکروہ نہ ہوگی، مگر ایسی صورت میں مسجد کے اندر نماز جنازہپڑھنے والے مقتدیوں کی نماز کراہت تنزیہی سے خالی نہ ہوگی۔
وأجاب في النہر بحمل الاتفاق علی عدم الکراہۃ في حق من کان خارج المسجدوما مر في حق من کان داخلہ۔ (شامي ۲؍۲۲۵ کراچی)
ولو کانت الجنازۃ والإمام وبعض القوم خارج المسجد وباقي القوم في المسجد کما ہو المعہود في جوامعنا لایکرہ باتفاق أصحابنا۔ (مجمع الأنہر ۱؍۱۸۵۵)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:7⃣3⃣1⃣
مسجد میں نماز جنازہ کیوں منع ہے؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: مسجد میں نماز جنازہ جائز ہے کہ نہیں؟ اگر نہیں ہے تو کیوں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:بلاعذر مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا مکروہ ہے اور اس کی دو علتیں فقہاء نے بیان کی ہیں، اول یہ کہ جنازہ اندر ہونے کی وجہ سے تلویثمسجد کا خطرہ ہے، دوسرے یہ کہ مسجد نماز جنازہ کے لئے اصالۃً نہیں بنائی گئی ہے؛ بلکہ مسجد کی تعمیر کا اصل مقصد نماز پنج گانہ کی ادائیگی ہے۔
وکرہت تحریماً، وقیل تنزیہاً في مسجد جماعۃ ہو أي المیت فیہ وحدہ أو مع القوم، واختلف في لخارجۃ عن المسجد وحدہ أو مع بعض القوم، والمختار الکراہۃ مطلقاً بناء اً علی أن المسجد إنما بني للمکتوبۃ وتوابعہا۔ (درمختار مع الشامي ۲؍۲۲۵۵ کراچی، ۳؍۱۲۶ زکریا، طحطاوي ۳۲۷)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
مسجد میں نماز جنازہ مکروہ ہونے کی علت؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: جو لوگ جنازہ میں مسجد کے اندر ہوں، جیسے شاہی مسجد میں کیا حکم ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:حنفیہ کا مختار قول یہ ہے کہ بلا کسی عذر کے جو لوگمسجد میں کھڑے ہوںگے ان کی نماز مکروہ ہوگی، ایک قول عدم کراہت کا بھی ہے، اور یہ اختلاف علتوں کے اختلاف پر مبنی ہے، جن حضرات نے تلویثمسجد کو علت ممانعت قرار دیا ہے ان کے نزدیک جنازہ مسجد سے باہر ہونے کی صورت میں کوئی کراہت نہیں اور جو لوگ مسجد کے مقصد تعمیر یعنی ادائے فرائض وغیرہ کو علت ممانعت کہتے ہین، ان کے نزدیک مطلقاً مسجدمیں نماز جنازہ ممنوع ہے، اس اختلاف کی وجہ سے مسئولہ صورت کی کراہت میں یقینا تخفیف ہوجاتی ہے۔
وکرہت تحریماً، وقیل تنزیہاً في مسجد جماعۃ ہو أي المیت فیہ وحدہ أو مع القوم، واختلف في الخارجۃ عن المسجد وحدہ أو مع بعض القوم، والمختار الکراہۃ مطلقاً، خلاصۃ: بناء علی أن المسجد إنما بني للمکتوبۃ وتوابعہا کنافلہ وذکر وتدریس وعلم۔ (درمختار) وتحتہ في الشامیۃ: أما إذا علّلنا بخوف تلویث المسجد وحدہ أو مع بعض القوم۔ قال في شرح المنیۃ: وإلیہ مال في المبسوط والمحیط وعلیہ العمل وہو المختار۔ (شامي ۲؍۲۲۴ کراچی، شامي ۳؍۱۲۶ زکریا، طحطاوي ۳۲۷، البحر الرائق ۲؍۱۸۷ کوئٹہ، منحۃ الخالق ۲؍۱۸۷، امداد الفتاویٰ ۱؍۷۶۶)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
مسجد میں نماز جنازہ کیوں منع ہے؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: مسجد میں نماز جنازہ جائز ہے کہ نہیں؟ اگر نہیں ہے تو کیوں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:بلاعذر مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا مکروہ ہے اور اس کی دو علتیں فقہاء نے بیان کی ہیں، اول یہ کہ جنازہ اندر ہونے کی وجہ سے تلویثمسجد کا خطرہ ہے، دوسرے یہ کہ مسجد نماز جنازہ کے لئے اصالۃً نہیں بنائی گئی ہے؛ بلکہ مسجد کی تعمیر کا اصل مقصد نماز پنج گانہ کی ادائیگی ہے۔
وکرہت تحریماً، وقیل تنزیہاً في مسجد جماعۃ ہو أي المیت فیہ وحدہ أو مع القوم، واختلف في لخارجۃ عن المسجد وحدہ أو مع بعض القوم، والمختار الکراہۃ مطلقاً بناء اً علی أن المسجد إنما بني للمکتوبۃ وتوابعہا۔ (درمختار مع الشامي ۲؍۲۲۵۵ کراچی، ۳؍۱۲۶ زکریا، طحطاوي ۳۲۷)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
مسجد میں نماز جنازہ مکروہ ہونے کی علت؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: جو لوگ جنازہ میں مسجد کے اندر ہوں، جیسے شاہی مسجد میں کیا حکم ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:حنفیہ کا مختار قول یہ ہے کہ بلا کسی عذر کے جو لوگمسجد میں کھڑے ہوںگے ان کی نماز مکروہ ہوگی، ایک قول عدم کراہت کا بھی ہے، اور یہ اختلاف علتوں کے اختلاف پر مبنی ہے، جن حضرات نے تلویثمسجد کو علت ممانعت قرار دیا ہے ان کے نزدیک جنازہ مسجد سے باہر ہونے کی صورت میں کوئی کراہت نہیں اور جو لوگ مسجد کے مقصد تعمیر یعنی ادائے فرائض وغیرہ کو علت ممانعت کہتے ہین، ان کے نزدیک مطلقاً مسجدمیں نماز جنازہ ممنوع ہے، اس اختلاف کی وجہ سے مسئولہ صورت کی کراہت میں یقینا تخفیف ہوجاتی ہے۔
وکرہت تحریماً، وقیل تنزیہاً في مسجد جماعۃ ہو أي المیت فیہ وحدہ أو مع القوم، واختلف في الخارجۃ عن المسجد وحدہ أو مع بعض القوم، والمختار الکراہۃ مطلقاً، خلاصۃ: بناء علی أن المسجد إنما بني للمکتوبۃ وتوابعہا کنافلہ وذکر وتدریس وعلم۔ (درمختار) وتحتہ في الشامیۃ: أما إذا علّلنا بخوف تلویث المسجد وحدہ أو مع بعض القوم۔ قال في شرح المنیۃ: وإلیہ مال في المبسوط والمحیط وعلیہ العمل وہو المختار۔ (شامي ۲؍۲۲۴ کراچی، شامي ۳؍۱۲۶ زکریا، طحطاوي ۳۲۷، البحر الرائق ۲؍۱۸۷ کوئٹہ، منحۃ الخالق ۲؍۱۸۷، امداد الفتاویٰ ۱؍۷۶۶)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail