جواب نمبر:1⃣1⃣1⃣
اگر سونا چاندی کی قیمت کے اعتبار سے چاندی کے نصاب کے برابر ہو وزن کے اعتبار سے نہ ہو؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: اگر کسی کے پاس سونا ہو پیسہ وغیرہ کچھ نہ ہو اور یہ سونا قیمت کے اعتبار سے چاندی کے نصاب کو پہنچتا ہو لیکن وزن کے اعتبار سے سونے کے نصاب یعنی بیس مثقال کو نہ پہنچتا ہو تو ایسے شخص پر زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں ؟کیا اس کے حق میں سونے کا نصاب معتبر ہو گا یا نہیں ؟اور ایسے شخص پر صدقۃ الفطر اور قربانی واجب ہو گی یا نہیں ؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اگر کسی شخص کے پا س صرف سونا موجود ہو اس کے ساتھ چاندی یا روپیہ پیسہ یا مال تجارت کچھ نہ ہو، تو اب یہ دیکھا جائے گا کہ یہ سونا وزن کے اعتبار سے اپنے نصاب یعنی بیس مثقال کو پہنچتا ہے یا نہیں ۔اگر اس نصاب کو پہنچتا ہے تو اس پر زکوۃ واجب ہوگی اور اگر اس نصاب کو نہ پہنچتا ہو، تو اگر چہ اس کی قیمت چاندی کے نصاب یا اس سے زائد ہو پھر بھی ایسے شخص پر مذکورہ صدقۂ فطر اور قربانی کے وجوب کا حکم نہ ہوگا؛ البتہ اگر سونے کے ساتھ روپیہ پیسہ یا چاندی بھی ہو، تو ایسی صورت میں انفع للفقراء کو ملحوظ رکھتے ہوئے اگر دونوں کو ملاکر قیمت چاندی کے نصاب کو پہنچ جائے تو زکوۃ واجب ہوگی۔
(مستفاد ایضاح المسائل ۱۰۴)
نصاب الذہب عشرون مثقالاً۔ (تنویر الأبصار مع الدر المختار ۳؍۲۲۴، ہدایۃ ۱؍۲۱۱)
المعتبر وزنہا أداء أووجوبا وقال محمدؒ: یعتبر الأ نفع للفقراء حتی لو أدی عن خمسۃ درہم جیاد خمسۃ زیوفا قیمتہا أربعۃ جیاد جاز۔ (البحر الرائق ۲؍۳۹۵ زکریا)
ولو بلع بأحدہما نصابا وخمسا وبالآخر أقل قومہ بالأنفع للفقراء۔ (شامي ۲؍۲۹۹ کراچی)
حتی لا تجب الزکاۃ في مصوغ وزنہ أقل من مأتین وقیمتہ فوقہما۔ (البحر الرائق ۲؍۴۰۱ زکریا)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر ۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
اگر سونا چاندی کی قیمت کے اعتبار سے چاندی کے نصاب کے برابر ہو وزن کے اعتبار سے نہ ہو؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: اگر کسی کے پاس سونا ہو پیسہ وغیرہ کچھ نہ ہو اور یہ سونا قیمت کے اعتبار سے چاندی کے نصاب کو پہنچتا ہو لیکن وزن کے اعتبار سے سونے کے نصاب یعنی بیس مثقال کو نہ پہنچتا ہو تو ایسے شخص پر زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں ؟کیا اس کے حق میں سونے کا نصاب معتبر ہو گا یا نہیں ؟اور ایسے شخص پر صدقۃ الفطر اور قربانی واجب ہو گی یا نہیں ؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اگر کسی شخص کے پا س صرف سونا موجود ہو اس کے ساتھ چاندی یا روپیہ پیسہ یا مال تجارت کچھ نہ ہو، تو اب یہ دیکھا جائے گا کہ یہ سونا وزن کے اعتبار سے اپنے نصاب یعنی بیس مثقال کو پہنچتا ہے یا نہیں ۔اگر اس نصاب کو پہنچتا ہے تو اس پر زکوۃ واجب ہوگی اور اگر اس نصاب کو نہ پہنچتا ہو، تو اگر چہ اس کی قیمت چاندی کے نصاب یا اس سے زائد ہو پھر بھی ایسے شخص پر مذکورہ صدقۂ فطر اور قربانی کے وجوب کا حکم نہ ہوگا؛ البتہ اگر سونے کے ساتھ روپیہ پیسہ یا چاندی بھی ہو، تو ایسی صورت میں انفع للفقراء کو ملحوظ رکھتے ہوئے اگر دونوں کو ملاکر قیمت چاندی کے نصاب کو پہنچ جائے تو زکوۃ واجب ہوگی۔
(مستفاد ایضاح المسائل ۱۰۴)
نصاب الذہب عشرون مثقالاً۔ (تنویر الأبصار مع الدر المختار ۳؍۲۲۴، ہدایۃ ۱؍۲۱۱)
المعتبر وزنہا أداء أووجوبا وقال محمدؒ: یعتبر الأ نفع للفقراء حتی لو أدی عن خمسۃ درہم جیاد خمسۃ زیوفا قیمتہا أربعۃ جیاد جاز۔ (البحر الرائق ۲؍۳۹۵ زکریا)
ولو بلع بأحدہما نصابا وخمسا وبالآخر أقل قومہ بالأنفع للفقراء۔ (شامي ۲؍۲۹۹ کراچی)
حتی لا تجب الزکاۃ في مصوغ وزنہ أقل من مأتین وقیمتہ فوقہما۔ (البحر الرائق ۲؍۴۰۱ زکریا)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر ۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:2⃣1⃣1⃣
گھر کی عورتوں سے تجارت یا نوکری کرانا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ہم لوگ اپنے گھر کی عورتوں سے جیسے ماں بہن یا بیوی سے تجارت یا نوکری کراسکتے ہیں یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: ایسی تجارت یا نوکری جس میں بے پردگی لازم آتی ہو، عورتوں کے لئے کسی بھی صورت میں جائز نہیں؛ البتہ اگر ایسی ملازمت ہو جس میں بے پردگی کا خدشہ نہ ہو مثلاً بچیوں کے اِسکول میں تعلیم دینا وغیرہ تو اِس کی گنجائش ہے۔
(جواہر الفقہ ۴؍۱۴۶، فتاویٰ محمودیہ ۴؍۱۵۲قدیم زکریا)
عن عبد اللّٰہ رضي اللّٰہ عنہ عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: المرأۃ عورۃ فإذا خرجت استشرفہا الشیطان۔ (سنن الترمذي آخر أبواب النکاح ۱؍۲۲۲ رقم: ۱۱۷۳، المسند للإمام أحمد بن حنبل ۹؍۳۳۷ رقم: ۵۴۶۸ ط: الرسالۃ، مسند البزار البحر الزخار ۵؍۴۲۷ رقم: ۲۰۶۱)
وزاد فیہ: وأقرب ما تکون من وہ ربہا وہيفي قعر بیتہا۔ (صحیح ابن خزیمۃ ۲؍۸۱۴ رقم: ۱۹۸۶)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
گھر کی عورتوں سے تجارت یا نوکری کرانا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ہم لوگ اپنے گھر کی عورتوں سے جیسے ماں بہن یا بیوی سے تجارت یا نوکری کراسکتے ہیں یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: ایسی تجارت یا نوکری جس میں بے پردگی لازم آتی ہو، عورتوں کے لئے کسی بھی صورت میں جائز نہیں؛ البتہ اگر ایسی ملازمت ہو جس میں بے پردگی کا خدشہ نہ ہو مثلاً بچیوں کے اِسکول میں تعلیم دینا وغیرہ تو اِس کی گنجائش ہے۔
(جواہر الفقہ ۴؍۱۴۶، فتاویٰ محمودیہ ۴؍۱۵۲قدیم زکریا)
عن عبد اللّٰہ رضي اللّٰہ عنہ عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: المرأۃ عورۃ فإذا خرجت استشرفہا الشیطان۔ (سنن الترمذي آخر أبواب النکاح ۱؍۲۲۲ رقم: ۱۱۷۳، المسند للإمام أحمد بن حنبل ۹؍۳۳۷ رقم: ۵۴۶۸ ط: الرسالۃ، مسند البزار البحر الزخار ۵؍۴۲۷ رقم: ۲۰۶۱)
وزاد فیہ: وأقرب ما تکون من وہ ربہا وہيفي قعر بیتہا۔ (صحیح ابن خزیمۃ ۲؍۸۱۴ رقم: ۱۹۸۶)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:3⃣1⃣1⃣
خواتین کو نوکری نہ دینا معاشرہ کے لیے بھی مفید ہے۔
اقتصادیات اور معاشیات کے ماہر ایک صاحب نے کہا کہ یہ کیا بات ہے کہ عورتوں کو نوکری نہ دی جائے۔ میں نے کہا کہ یہ اقتصادیات و معاشیات کے لحاظ سے بھی معاشرہ پر ظلم ہے کیوں کہ ایک شوہر نوکر ہے، اب آپ نے اس کی بیوی کو بھی نوکری دے دی تو اس کا گھرانہ امیر سے امیر تر ہوگیا، ڈبل آمدنی ہوگئی، لیکن اس لڑکی کی جگہ جس مرد کو نوکری نہیں ملی اس کا گھرانہ تو اُجڑ گیا، اس کے چھوٹے چھوٹے بچے اور بوڑھے ماں باپ بھوکوں مررہے ہیں، یہ معاشرہ پر ظلم ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ جو ارحم الراحمین ہیں اور سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم جو رحمۃ للعالمین ہیں وہ ضرور حکم دیتے کہ اپنی دوکانوں میں اور اپنے گھر میں ہر جگہ عورتوں کو ملازم رکھ لو، مگر اﷲ نے ان کو پردہ میں رکھا ہے۔
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
خواتین کو نوکری نہ دینا معاشرہ کے لیے بھی مفید ہے۔
اقتصادیات اور معاشیات کے ماہر ایک صاحب نے کہا کہ یہ کیا بات ہے کہ عورتوں کو نوکری نہ دی جائے۔ میں نے کہا کہ یہ اقتصادیات و معاشیات کے لحاظ سے بھی معاشرہ پر ظلم ہے کیوں کہ ایک شوہر نوکر ہے، اب آپ نے اس کی بیوی کو بھی نوکری دے دی تو اس کا گھرانہ امیر سے امیر تر ہوگیا، ڈبل آمدنی ہوگئی، لیکن اس لڑکی کی جگہ جس مرد کو نوکری نہیں ملی اس کا گھرانہ تو اُجڑ گیا، اس کے چھوٹے چھوٹے بچے اور بوڑھے ماں باپ بھوکوں مررہے ہیں، یہ معاشرہ پر ظلم ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ جو ارحم الراحمین ہیں اور سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم جو رحمۃ للعالمین ہیں وہ ضرور حکم دیتے کہ اپنی دوکانوں میں اور اپنے گھر میں ہر جگہ عورتوں کو ملازم رکھ لو، مگر اﷲ نے ان کو پردہ میں رکھا ہے۔
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:4⃣1⃣1⃣
بیوی کو سرکاری نوکری کرنے پر مجبور کرنا اور حلیہ بگاڑنے کی دھمکی دینا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ایک تعلیم یافتہ خاتون کو اگر اُس کا شوہر سرکاری نوکری کرنے پر مجبور کرے، اور اُس کے منع کرنے پر ظلم وزیادتی کرے، اور نوکری کے امتحان میں پاس نہ ہونے پر حلیہ بگاڑنے تک کی دھمکی دے، تو ایسی حالت میں اُس خاتون کو کیا کرنا چاہئے؟ حالاںکہ وہ خاتون نوکری کرنے کی بالکل نہیں رکھتی؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: شوہر کی طرف سے عورت کو سرکاری نوکری کرنے پر مجبور کرنا قطعاً جائز نہیں ، اگر عورت اِس بارے میں اُس کا حکم ماننے سے انکار کردے تو عورت پر کوئی گناہ نہ ہوگا، عورت کے نان نفقہ کی ذمہ داری شوہر پر ہے، جب کہ شوہر کے اِخراجات کی کوئی ذمہ داری عورت پر نہیں ہے۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ۶؍۴۱۸)
قال اللّٰہ تعالیٰ: {فَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ ذٰلِکَ اَدْنَی اَلاَّ تَعُوْلُوْا} [النساء، جزء آیت: ۳]
وفي الدر المختار: یجب ظاہر الآیۃ أنہ فرض أن یعدل، أي أن لا یجوز فیہ أي في القسم بالتسویۃ، وفي الملبوس والمأکول۔ (شامي ۳؍۳۷۷ زکریا)
قال في الدر المختار ناقلاً عن النہر: والذي علیہ العمل في دیارنا لایسافر بہا جبرًا علیہا، وعلیہ الفتویٰ۔ (شامي ۳؍۲۹۴ زکریا)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
بیوی کو سرکاری نوکری کرنے پر مجبور کرنا اور حلیہ بگاڑنے کی دھمکی دینا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ایک تعلیم یافتہ خاتون کو اگر اُس کا شوہر سرکاری نوکری کرنے پر مجبور کرے، اور اُس کے منع کرنے پر ظلم وزیادتی کرے، اور نوکری کے امتحان میں پاس نہ ہونے پر حلیہ بگاڑنے تک کی دھمکی دے، تو ایسی حالت میں اُس خاتون کو کیا کرنا چاہئے؟ حالاںکہ وہ خاتون نوکری کرنے کی بالکل نہیں رکھتی؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: شوہر کی طرف سے عورت کو سرکاری نوکری کرنے پر مجبور کرنا قطعاً جائز نہیں ، اگر عورت اِس بارے میں اُس کا حکم ماننے سے انکار کردے تو عورت پر کوئی گناہ نہ ہوگا، عورت کے نان نفقہ کی ذمہ داری شوہر پر ہے، جب کہ شوہر کے اِخراجات کی کوئی ذمہ داری عورت پر نہیں ہے۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ۶؍۴۱۸)
قال اللّٰہ تعالیٰ: {فَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ ذٰلِکَ اَدْنَی اَلاَّ تَعُوْلُوْا} [النساء، جزء آیت: ۳]
وفي الدر المختار: یجب ظاہر الآیۃ أنہ فرض أن یعدل، أي أن لا یجوز فیہ أي في القسم بالتسویۃ، وفي الملبوس والمأکول۔ (شامي ۳؍۳۷۷ زکریا)
قال في الدر المختار ناقلاً عن النہر: والذي علیہ العمل في دیارنا لایسافر بہا جبرًا علیہا، وعلیہ الفتویٰ۔ (شامي ۳؍۲۹۴ زکریا)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:5⃣1⃣1⃣
مسلم فنڈ کی نوکری کا حکم؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: میں نے بی اے اور ادیب کامل تک تعلیم پائی ہے، اور حافظ قرآن ہوں، شادی شدہ ہوں، اور والدین کی شرکت میں رہتا ہوں، میرے والد سبزی کا کام کرتے ہیں، اور تھوک کا کام بھی کرتے ہیں، اور تقریباً ۴-۵؍ہزار روپیہ ماہانہ کمالیتے ہیں، میرے ایک بھائی مسجد میں امامت ومؤذن کا کام انجام دیتے ہیں، اور ۶؍سو روپیہ کمالیتے ہیں، میں مسلم فنڈ میں تقریباً تین سال سے ملازمت کرتا ہوں، اور اب ۱۴۰۰؍روپیہ بطور ملازمت ملتے ہیں، تو کیا مسلمانوں کے لئے یہ نوکری جائز نہیں ہے، ہمارے درمیان یہ بحث ومباحثہ کی بات بنی ہوئی ہے کہ نوکری جائز ہے یا نہیں؟ کسی صورت میں اور کس کس کے لئے ملازمت جائز ہے؟ ایک حدیث ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ جس نے ایک لقمہ بھی حرام کھایا پیا، اس کی کوئی دعا وعبادت مقبول نہیں ہوتی، تو اگر یہ نوکری ہمارے لئے ناجائز ہوئی اور ہم یہ روپیہ کھاچکے ہیں، تو کیا کریں؟ کیا اس کا کوئی کارکن اور عہدہ دار ہونا بھی جائز نہیں ہے،کیوں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:آپ کے یہاں کے مسلم فنڈ کا کاروبار اگر اکابر کے مقرر کردہ طریقہ پر فارم کی بیع وشراء کے ذریعہ ہوتا ہے، اور اس میں سودی رقم شامل نہیں ہوتی، تو اس کی ملازمت اور رکنیت وغیرہ میں کوئی مضائقہ نہیں، اور اگر سارا کاروباری سودی ہے، تو اس کا حکم بینک جیسا ہے، بغیر شدید ضرورت کے اس کی ملازمت کی اجازت نہ ہوگی، تحقیق کرکے سوال معلوم کریں۔
عن جابر بن عبد اللّٰہ رضي اللّٰہ عنہ قال: لعن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم آکل الربوا ومؤکلہ وکاتبہ وشاہدیہ، وقال: ہم سواء۔ (صحیح مسلم ۲؍۷۲ رقم: ۱۵۹۸، سنن الترمذي ۱؍۲۲۹ رقم: ۱۲۰۶، مشکاۃ المصابیح، البیوع / باب الربا ۲۴۴، مرقاۃ المفاتیح ۶؍۴۳ رقم: ۲۸۰۷ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
قال الخطابي: سوّی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بین اٰکل الربا وموکلہ، إذ کل لا یتوصل إلی أکلہ إلا بمعاونتہٖ ومشارکتہ إیاہ، فہما شریکان في الإثم کما کانا شریکین في الفعل … ’’وکاتبہ وشاہدیہ‘‘ قال النووي: فیہ تصریح بتحریم کتابۃ المتراتبین، والشہادۃ علیہما، وبتحریم الإعانۃ علی الباطل۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب البیوع / باب الربا ۶؍۵۱ رشیدیۃ، ۶؍۵۹ المکتبۃ الأشرفیۃ دیوبند)
قولہ: لعن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اٰکل الربا وموکلہ وکاتبہ وشاہدیہ، وقال: ہم سواء۔ ہٰذا تصریح بتحریم کتابۃ المبایعۃ … وفیہ تحریم الإعانۃ علی الباطل۔ (شرح النووي علی صحیح مسلم، کتاب المساقات والمزارعۃ / باب الربا ۲؍۲۸، مرقاۃ المفاتیح ۶؍۵۹ المکتبۃ الأشرفیۃ دیوبند)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
مسلم فنڈ کی نوکری کا حکم؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: میں نے بی اے اور ادیب کامل تک تعلیم پائی ہے، اور حافظ قرآن ہوں، شادی شدہ ہوں، اور والدین کی شرکت میں رہتا ہوں، میرے والد سبزی کا کام کرتے ہیں، اور تھوک کا کام بھی کرتے ہیں، اور تقریباً ۴-۵؍ہزار روپیہ ماہانہ کمالیتے ہیں، میرے ایک بھائی مسجد میں امامت ومؤذن کا کام انجام دیتے ہیں، اور ۶؍سو روپیہ کمالیتے ہیں، میں مسلم فنڈ میں تقریباً تین سال سے ملازمت کرتا ہوں، اور اب ۱۴۰۰؍روپیہ بطور ملازمت ملتے ہیں، تو کیا مسلمانوں کے لئے یہ نوکری جائز نہیں ہے، ہمارے درمیان یہ بحث ومباحثہ کی بات بنی ہوئی ہے کہ نوکری جائز ہے یا نہیں؟ کسی صورت میں اور کس کس کے لئے ملازمت جائز ہے؟ ایک حدیث ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ جس نے ایک لقمہ بھی حرام کھایا پیا، اس کی کوئی دعا وعبادت مقبول نہیں ہوتی، تو اگر یہ نوکری ہمارے لئے ناجائز ہوئی اور ہم یہ روپیہ کھاچکے ہیں، تو کیا کریں؟ کیا اس کا کوئی کارکن اور عہدہ دار ہونا بھی جائز نہیں ہے،کیوں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:آپ کے یہاں کے مسلم فنڈ کا کاروبار اگر اکابر کے مقرر کردہ طریقہ پر فارم کی بیع وشراء کے ذریعہ ہوتا ہے، اور اس میں سودی رقم شامل نہیں ہوتی، تو اس کی ملازمت اور رکنیت وغیرہ میں کوئی مضائقہ نہیں، اور اگر سارا کاروباری سودی ہے، تو اس کا حکم بینک جیسا ہے، بغیر شدید ضرورت کے اس کی ملازمت کی اجازت نہ ہوگی، تحقیق کرکے سوال معلوم کریں۔
عن جابر بن عبد اللّٰہ رضي اللّٰہ عنہ قال: لعن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم آکل الربوا ومؤکلہ وکاتبہ وشاہدیہ، وقال: ہم سواء۔ (صحیح مسلم ۲؍۷۲ رقم: ۱۵۹۸، سنن الترمذي ۱؍۲۲۹ رقم: ۱۲۰۶، مشکاۃ المصابیح، البیوع / باب الربا ۲۴۴، مرقاۃ المفاتیح ۶؍۴۳ رقم: ۲۸۰۷ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
قال الخطابي: سوّی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بین اٰکل الربا وموکلہ، إذ کل لا یتوصل إلی أکلہ إلا بمعاونتہٖ ومشارکتہ إیاہ، فہما شریکان في الإثم کما کانا شریکین في الفعل … ’’وکاتبہ وشاہدیہ‘‘ قال النووي: فیہ تصریح بتحریم کتابۃ المتراتبین، والشہادۃ علیہما، وبتحریم الإعانۃ علی الباطل۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب البیوع / باب الربا ۶؍۵۱ رشیدیۃ، ۶؍۵۹ المکتبۃ الأشرفیۃ دیوبند)
قولہ: لعن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اٰکل الربا وموکلہ وکاتبہ وشاہدیہ، وقال: ہم سواء۔ ہٰذا تصریح بتحریم کتابۃ المبایعۃ … وفیہ تحریم الإعانۃ علی الباطل۔ (شرح النووي علی صحیح مسلم، کتاب المساقات والمزارعۃ / باب الربا ۲؍۲۸، مرقاۃ المفاتیح ۶؍۵۹ المکتبۃ الأشرفیۃ دیوبند)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:6⃣1⃣1⃣
نوکری کے لئے رشوت دینے اور لینے والے کا شرعی حکم
سوال:
رشوت دینے والا اور رشوت لینے والا دونوں جہنمی ہیں، لیکن بعض معاشرتی بُرائیوں کے پیشِ نظر رشوت لینے والا خود مختار ہوتا ہے اور زبردستی رشوت طلب کرتا ہے، اور رشوت دینے والا، دینے پر مجبور ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ انکار کرتا ہے تو اس کا کام روک دیا جاتا ہے، کیونکہ بعض کام ہیں جس کے بغیر اس معاشرے میں نہیں رہ سکتا۔ اور بعض لوگ نوکریاں دِلانے کے لئے بھی رشوت لیتے ہیں، اور کیا نوکری حاصل کرنے والا شخص جو رشوت دے کر نوکری حاصل کرتا ہے تو کیا اس کا کمایا ہوا رزق حلال ہوگا؟ کیونکہ ایسا شخص بھی خوشی سے رشوت نہیں دیتا، تو ان حالات میں لینے والا اور رشوت دینے والا ان دونوں کے لئے کیا حکم ہے؟
جواب:
رشوت لینے والا تو ہر حال میں ”فی النار“ کا مصداق ہے، اور رشوت دینے والے کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ دفعِ ظلم کے لئے رشوت دی جائے تو اُمید ہے کہ اللہ تعالیٰ موٴاخذہ نہیں فرمائیں گے۔ رشوت دے کر جو نوکری حاصل کی گئی ہو اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر یہ شخص اس ملازمت کا اہل ہے اور جو کام اس کے سپرد کیا گیا ہے اسے ٹھیک ٹھیک انجام دیتا ہے تو اس کی تنخواہ حلال ہے، (گو رشوت کا وبال ہوگا)، اور اگر وہ اس کام کا اہل ہی نہیں تو تنخواہ بھی حلال نہیں۔
دفعِ ظلم کے لئے رشوت کا جواز
سوال:
آپ نے ایک جواب میں لکھا ہے کہ دفعِ مضرّت کے لئے رشوت دینا جائز ہے، حالانکہ رشوت لینے اور دینے والا دونوں ملعون ہیں، پھر آپ نے کیوں جواز کا قول فرمایا ہے؟
جواب:
رشوت کے بارے میں جناب نے مجھ پر جو اعتراض کیا تھا، میں نے اعترافِ شکست کے ساتھ اس بحث کو ختم کردینا چاہا تھا، لیکن آنجناب نے اس کو بھی محسوس فرمایا، اس لئے مختصراً پھر عرض کرتا ہوں کہ اگر اس سے شفا نہ ہو تو سمجھ لیا جائے کہ میں اس سے زیادہ عرض کرنے سے معذور ہوں۔
جناب کا یہ ارشاد بجا ہے کہ رشوت قطعی حرام ہے، خدا اور رسول نے راشی اور مرتشی دونوں پر لعنت کی ہے، اور اس پر دوزخ کی وعید سنائی ہے۔ لیکن جناب کو معلوم ہے کہ اضطرار کی حالت میں مردار کی بھی اجازت دے دی جاتی ہے، کچھ یہی نوعیت رشوت دینے کی ہے۔ ایک شخص کسی ظالم خونخوار کے حوالے ہے، وہ ظلم دفع کرنے کے لئے رشوت دیتا ہے، فقہائے اُمت اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ: ”اُمید ہے کہ اس پر موٴاخذہ نہ ہوگا“ اور یہی میں نے لکھا تھا۔ ظاہر ہے کہ اس پر عام حالات کا قانون نافذ نہیں ہوسکتا، اس لئے رشوت لینا تو ہر حال میں حرام ہے اور گناہِ کبیرہ ہے، اور رشوت دینے کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ جلبِ منفعت کے لئے رشوت دے، یہ حرام ہے، اور یہی مصداق ہے ان احادیث کا جن میں رشوت دینے پر وعید آئی ہے۔ اور دُوسری صورت یہ کہ دفعِ ظلم کے لئے رشوت دینے پر مجبور ہو، اس کے بارے میں فقہاء فرماتے ہیں کہ: ”اُمید ہے کہ موٴاخذہ نہ ہوگا“، اس صورت پر جناب کا یہ فرمانا کہ: ”میں اللہ اور رسول کے مقابلے میں فقہاء کی تقلید پر زور دے رہا ہوں“ بہت ہی افسوس ناک الزام ہے۔ اسی لئے میں نے لکھا کہ: ”آپ ماشاء اللہ خود ”مجتہد“ ہیں، مجتہد کے مقابلے میں مقلد بے چارہ کیا کرسکتا ہے؟“ آپ کا یہ فرمانا کہ: ”عوام علمائے کرام پر اعتماد کرتے ہیں، مگر ان میں خلوص چاہئے“ بجا ہے، لیکن جناب نے تو بے اعتمادی کی بات کی تھی، جس پر مجھے اعترافِ شکست کرنا پڑا۔
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔
مستفاد:آپ کے مسائل اور انکا حل۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
نوکری کے لئے رشوت دینے اور لینے والے کا شرعی حکم
سوال:
رشوت دینے والا اور رشوت لینے والا دونوں جہنمی ہیں، لیکن بعض معاشرتی بُرائیوں کے پیشِ نظر رشوت لینے والا خود مختار ہوتا ہے اور زبردستی رشوت طلب کرتا ہے، اور رشوت دینے والا، دینے پر مجبور ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ انکار کرتا ہے تو اس کا کام روک دیا جاتا ہے، کیونکہ بعض کام ہیں جس کے بغیر اس معاشرے میں نہیں رہ سکتا۔ اور بعض لوگ نوکریاں دِلانے کے لئے بھی رشوت لیتے ہیں، اور کیا نوکری حاصل کرنے والا شخص جو رشوت دے کر نوکری حاصل کرتا ہے تو کیا اس کا کمایا ہوا رزق حلال ہوگا؟ کیونکہ ایسا شخص بھی خوشی سے رشوت نہیں دیتا، تو ان حالات میں لینے والا اور رشوت دینے والا ان دونوں کے لئے کیا حکم ہے؟
جواب:
رشوت لینے والا تو ہر حال میں ”فی النار“ کا مصداق ہے، اور رشوت دینے والے کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ دفعِ ظلم کے لئے رشوت دی جائے تو اُمید ہے کہ اللہ تعالیٰ موٴاخذہ نہیں فرمائیں گے۔ رشوت دے کر جو نوکری حاصل کی گئی ہو اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر یہ شخص اس ملازمت کا اہل ہے اور جو کام اس کے سپرد کیا گیا ہے اسے ٹھیک ٹھیک انجام دیتا ہے تو اس کی تنخواہ حلال ہے، (گو رشوت کا وبال ہوگا)، اور اگر وہ اس کام کا اہل ہی نہیں تو تنخواہ بھی حلال نہیں۔
دفعِ ظلم کے لئے رشوت کا جواز
سوال:
آپ نے ایک جواب میں لکھا ہے کہ دفعِ مضرّت کے لئے رشوت دینا جائز ہے، حالانکہ رشوت لینے اور دینے والا دونوں ملعون ہیں، پھر آپ نے کیوں جواز کا قول فرمایا ہے؟
جواب:
رشوت کے بارے میں جناب نے مجھ پر جو اعتراض کیا تھا، میں نے اعترافِ شکست کے ساتھ اس بحث کو ختم کردینا چاہا تھا، لیکن آنجناب نے اس کو بھی محسوس فرمایا، اس لئے مختصراً پھر عرض کرتا ہوں کہ اگر اس سے شفا نہ ہو تو سمجھ لیا جائے کہ میں اس سے زیادہ عرض کرنے سے معذور ہوں۔
جناب کا یہ ارشاد بجا ہے کہ رشوت قطعی حرام ہے، خدا اور رسول نے راشی اور مرتشی دونوں پر لعنت کی ہے، اور اس پر دوزخ کی وعید سنائی ہے۔ لیکن جناب کو معلوم ہے کہ اضطرار کی حالت میں مردار کی بھی اجازت دے دی جاتی ہے، کچھ یہی نوعیت رشوت دینے کی ہے۔ ایک شخص کسی ظالم خونخوار کے حوالے ہے، وہ ظلم دفع کرنے کے لئے رشوت دیتا ہے، فقہائے اُمت اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ: ”اُمید ہے کہ اس پر موٴاخذہ نہ ہوگا“ اور یہی میں نے لکھا تھا۔ ظاہر ہے کہ اس پر عام حالات کا قانون نافذ نہیں ہوسکتا، اس لئے رشوت لینا تو ہر حال میں حرام ہے اور گناہِ کبیرہ ہے، اور رشوت دینے کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ جلبِ منفعت کے لئے رشوت دے، یہ حرام ہے، اور یہی مصداق ہے ان احادیث کا جن میں رشوت دینے پر وعید آئی ہے۔ اور دُوسری صورت یہ کہ دفعِ ظلم کے لئے رشوت دینے پر مجبور ہو، اس کے بارے میں فقہاء فرماتے ہیں کہ: ”اُمید ہے کہ موٴاخذہ نہ ہوگا“، اس صورت پر جناب کا یہ فرمانا کہ: ”میں اللہ اور رسول کے مقابلے میں فقہاء کی تقلید پر زور دے رہا ہوں“ بہت ہی افسوس ناک الزام ہے۔ اسی لئے میں نے لکھا کہ: ”آپ ماشاء اللہ خود ”مجتہد“ ہیں، مجتہد کے مقابلے میں مقلد بے چارہ کیا کرسکتا ہے؟“ آپ کا یہ فرمانا کہ: ”عوام علمائے کرام پر اعتماد کرتے ہیں، مگر ان میں خلوص چاہئے“ بجا ہے، لیکن جناب نے تو بے اعتمادی کی بات کی تھی، جس پر مجھے اعترافِ شکست کرنا پڑا۔
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔
مستفاد:آپ کے مسائل اور انکا حل۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:7⃣1⃣1⃣
خواتین کی ملازمت‘ شریعت اسلامیہ کی نظر میں
شریعت کی تعلیمات کے مطابق مردوعورت کو اس طرح زندگی گزارنی چاہئے کہ گھر کے باہر کی دوڑ دھوپ مرد کے ذمہ رہے، اسی لئے بیوی اور بچوں کے تمام جائز اخراجات مرد کے اوپر فرض کئے گئے ہیں، شریعت اسلامیہ نے صنف نازک پر کوئی خرچہ لازم نہیں قرار دیا، شادی سے قبل اس کے تمام اخراجات باپ کے ذمہ اور شادی کے بعد رہائش، کپڑے، کھانے اور ضروریات وغیرہ کے تمام مصارف شوہر کے ذمہ رکھے ہیں۔ عورتوں سے کہا گیا کہ وہ گھر کی ملکہ ہیں۔ (صحیح بخاری ) لہٰذا ان کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز گھر کو بنانا چاہئے جیسا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَقَرْنَ فِی بُيوْتِکُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهلية الْاُوْلٰی (سورۃ الاحزاب ۳۳) حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے درمیان کام کو اس طرح تقسیم کردیا تھا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا گھر کے اندر کے کام کیا کرتی تھیں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ گھر کے باہر کے کام انجام دیا کرتے تھے۔ لوگوں کے تحفظ کی ذمہ داری مردوں پر رکھی گئی ہے، نہ کہ عورتوں پر، مردوں پر جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کو واجب یا سنت مؤکدہ اشد التاکید قرار دیا گیا، جبکہ عورتوں کو گھر میں نماز پڑھنے کی بار بار ترغیب دی گئی۔
مرد وعورت کی ذمہ داری کی یہ تقسیم نہ صرف اسلام کا مزاج ہے بلکہ یہ ایک فطری اور متوازن نظام ہے جو مردو عورت دونوں کے لئے سکون وراحت کا باعث ہے۔ لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ عورت کا ملازمت یا کاروبار کرنا حرام ہے، بلکہ قرآن وحدیث چند شرائط کے ساتھ اس کی اجازت بھی دیتا ہے۔ جو کام مردوں کے لئے جائز ہیں، اگر قرآن وحدیث میں عورتوں کو ان سے منع نہیں کیا گیا ہے تو عورتوں کے لئے شرعی حدود وقیود کے ساتھ انہیں انجام دینا جائز ہے۔ بعض اوقات خواتین کی ملازمت کرنا معاشرہ کی اجتماعی ضرورت بھی ہوتی ہے مثلاً امراض نساء وولادت کی ڈاکٹر، معلمات جو لڑکیوں کے لئے بہترین تعلیم کا نظم کرسکیں۔ غرضیکہ عورت شرعی حدود وقیود کے ساتھ ملازمت یا کاروبار کرسکتی ہے۔ ان شرعی حدود کے لئے چار امور اہم ہیں: ۱) پردہ کے احکام کی رعایت ہو۔ ۲) اجنبی مردوں کے اختلاط سے دور رہا جائے۔ ۳) گھر سے کام کی جگہ تک آنے جانے کا معقول بند وبست ہو ۴) ولی وسرپرست کی اجازت ہو۔
خواتین کے ملازمت یا کاروبار کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے گھر کے معاشی حالات بہتر ہوجاتے ہیں۔ نیز سماج کے بگڑے ہوئے لوگ جو عورتوں کو مجبور و بے بس سمجھ کر ان پر ظلم وزیادتی کرتے ہیں اور عورتیں خاموش رہنے پر مجبور رہتی ہیں، اس کے ذریعہ خواتین کو کچھ آزادی حاصل ہوجاتی ہے۔ لیکن ہماری سوسائٹی اور خود عورتوں کو جو اس سے نقصانات ہوئے ہیں وہ ان محدود فوائد سے کہیں زیادہ ہیں، چند نقصانات پیش خدمت ہیں: ۱) عورت جب خود ملازمت کرتی ہے تو وہ اپنی ضروریات کے لئے شوہر کی محتاج نہیں ہوتی ، اس لئے شوہر کی جانب سے خلاف مزاج بات پیش آنے پر برداشت کرنے کا جذبہ کم ہوجاتا ہے، جس کی وجہ سے رشتۂ نکاح میں دراڑ آنے لگتی ہے اور طلاق تک نوبت آجاتی ہے، چنانچہ ملازمت کرنے والی خواتین کے لئے طلاق کے واقعے ملازمت نہ کرنے والی عورتوں کے مقابلہ میں زیادہ سامنے آتے ہیں۔ ۲) جب عورت ملازمت کے لئے نکلتی ہے تو بسا اوقات شوہر عورت کے بارے میں شک وشبہات میں مبتلا ہوجاتاہے، یہ چیز اس کے سکون میں رکاوٹ بن جاتی ہے، جس کی وجہ سے نکاح کا اہم مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔ ۳) بچے ماں کی ممتا اور صحیح تربیت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ ۴) خواتین کی ملازمت سے عورتوں کے جنسی استحصال کے واقعات کثرت سے پیش آتے ہیں۔ ۵) عورت کی ملازمت کی وجہ سے گھر خاص کر مطبخ (کچن)کا نظم صحیح نہیں چلتا ہے جس کی وجہ سے شوہر اور بیوی کے درمیان لڑائی جھگڑے کے واقعات زیادہ پیش آتے ہیں۔
غرضیکہ مذکورہ بالا شرائط کی موجودگی میں عورت ملازمت کرسکتی ہے مگر عورت کی ملازمت کی وجہ سے جو عموماً نقصانات سامنے آتے ہیں، جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے، ان کا سد باب کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
خواتین کی ملازمت‘ شریعت اسلامیہ کی نظر میں
شریعت کی تعلیمات کے مطابق مردوعورت کو اس طرح زندگی گزارنی چاہئے کہ گھر کے باہر کی دوڑ دھوپ مرد کے ذمہ رہے، اسی لئے بیوی اور بچوں کے تمام جائز اخراجات مرد کے اوپر فرض کئے گئے ہیں، شریعت اسلامیہ نے صنف نازک پر کوئی خرچہ لازم نہیں قرار دیا، شادی سے قبل اس کے تمام اخراجات باپ کے ذمہ اور شادی کے بعد رہائش، کپڑے، کھانے اور ضروریات وغیرہ کے تمام مصارف شوہر کے ذمہ رکھے ہیں۔ عورتوں سے کہا گیا کہ وہ گھر کی ملکہ ہیں۔ (صحیح بخاری ) لہٰذا ان کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز گھر کو بنانا چاہئے جیسا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَقَرْنَ فِی بُيوْتِکُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهلية الْاُوْلٰی (سورۃ الاحزاب ۳۳) حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے درمیان کام کو اس طرح تقسیم کردیا تھا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا گھر کے اندر کے کام کیا کرتی تھیں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ گھر کے باہر کے کام انجام دیا کرتے تھے۔ لوگوں کے تحفظ کی ذمہ داری مردوں پر رکھی گئی ہے، نہ کہ عورتوں پر، مردوں پر جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کو واجب یا سنت مؤکدہ اشد التاکید قرار دیا گیا، جبکہ عورتوں کو گھر میں نماز پڑھنے کی بار بار ترغیب دی گئی۔
مرد وعورت کی ذمہ داری کی یہ تقسیم نہ صرف اسلام کا مزاج ہے بلکہ یہ ایک فطری اور متوازن نظام ہے جو مردو عورت دونوں کے لئے سکون وراحت کا باعث ہے۔ لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ عورت کا ملازمت یا کاروبار کرنا حرام ہے، بلکہ قرآن وحدیث چند شرائط کے ساتھ اس کی اجازت بھی دیتا ہے۔ جو کام مردوں کے لئے جائز ہیں، اگر قرآن وحدیث میں عورتوں کو ان سے منع نہیں کیا گیا ہے تو عورتوں کے لئے شرعی حدود وقیود کے ساتھ انہیں انجام دینا جائز ہے۔ بعض اوقات خواتین کی ملازمت کرنا معاشرہ کی اجتماعی ضرورت بھی ہوتی ہے مثلاً امراض نساء وولادت کی ڈاکٹر، معلمات جو لڑکیوں کے لئے بہترین تعلیم کا نظم کرسکیں۔ غرضیکہ عورت شرعی حدود وقیود کے ساتھ ملازمت یا کاروبار کرسکتی ہے۔ ان شرعی حدود کے لئے چار امور اہم ہیں: ۱) پردہ کے احکام کی رعایت ہو۔ ۲) اجنبی مردوں کے اختلاط سے دور رہا جائے۔ ۳) گھر سے کام کی جگہ تک آنے جانے کا معقول بند وبست ہو ۴) ولی وسرپرست کی اجازت ہو۔
خواتین کے ملازمت یا کاروبار کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے گھر کے معاشی حالات بہتر ہوجاتے ہیں۔ نیز سماج کے بگڑے ہوئے لوگ جو عورتوں کو مجبور و بے بس سمجھ کر ان پر ظلم وزیادتی کرتے ہیں اور عورتیں خاموش رہنے پر مجبور رہتی ہیں، اس کے ذریعہ خواتین کو کچھ آزادی حاصل ہوجاتی ہے۔ لیکن ہماری سوسائٹی اور خود عورتوں کو جو اس سے نقصانات ہوئے ہیں وہ ان محدود فوائد سے کہیں زیادہ ہیں، چند نقصانات پیش خدمت ہیں: ۱) عورت جب خود ملازمت کرتی ہے تو وہ اپنی ضروریات کے لئے شوہر کی محتاج نہیں ہوتی ، اس لئے شوہر کی جانب سے خلاف مزاج بات پیش آنے پر برداشت کرنے کا جذبہ کم ہوجاتا ہے، جس کی وجہ سے رشتۂ نکاح میں دراڑ آنے لگتی ہے اور طلاق تک نوبت آجاتی ہے، چنانچہ ملازمت کرنے والی خواتین کے لئے طلاق کے واقعے ملازمت نہ کرنے والی عورتوں کے مقابلہ میں زیادہ سامنے آتے ہیں۔ ۲) جب عورت ملازمت کے لئے نکلتی ہے تو بسا اوقات شوہر عورت کے بارے میں شک وشبہات میں مبتلا ہوجاتاہے، یہ چیز اس کے سکون میں رکاوٹ بن جاتی ہے، جس کی وجہ سے نکاح کا اہم مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔ ۳) بچے ماں کی ممتا اور صحیح تربیت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ ۴) خواتین کی ملازمت سے عورتوں کے جنسی استحصال کے واقعات کثرت سے پیش آتے ہیں۔ ۵) عورت کی ملازمت کی وجہ سے گھر خاص کر مطبخ (کچن)کا نظم صحیح نہیں چلتا ہے جس کی وجہ سے شوہر اور بیوی کے درمیان لڑائی جھگڑے کے واقعات زیادہ پیش آتے ہیں۔
غرضیکہ مذکورہ بالا شرائط کی موجودگی میں عورت ملازمت کرسکتی ہے مگر عورت کی ملازمت کی وجہ سے جو عموماً نقصانات سامنے آتے ہیں، جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے، ان کا سد باب کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:8⃣1⃣1⃣
india سوال # 150025
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں زید ایک مسجد میں امامت کرتاہے اور ساتھ ہی مکتب پڑھا تاہے اپنے گھر سے باہر رہتا ہے ، والدین سے دور نکاح ہوچکاہے ،بیو ی وا لدین کے ساتھ رہتی ہے ، تشکیل ہوتی ہے ایک سال کی، زید جانا چاہتا ہے لیکن بیوی منع کرتی ہے اور حوالہ حضرت عمر رضي الله عنه کے دورخلافت کا دے تی ہے کہ کوئی بھی مجاہد جو شادی شدہ تھا چار مہینے سے زیادہ باہر نہیں رہ سکتا تھا چار ماہ گذر نے پراس کو گھر ضرور جانا پڑتا تھا تو برائے مہربانی مجھے پورا واقعہ اور قرآن وحدیث کی روشنی میں مسئلہ کا حل بتا کر شکریہ کا مؤقع عنایت فرمائیں۔
Published on: Apr 23, 2017 جواب # 150025
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa: 648-726/N=7/1438
(۱): حضرت عمررضي الله عنه کا یہ واقعہ اس طرح ہے کہ آپ رضي الله عنه ایک مرتبہ رات میں گشت فرمارہے تھے، آپرضي الله عنه کا گذر ایک مکان کے قریب سے ہوا تو اس مکان سے کچھ آواز آرہی تھی، آپ نے سوچا کہ شاید مکان میں کوئی پریشان ہے؛ اس لیے آپرضي الله عنه نے دیوار سے گان لگادیے تو کوئی خاتون شوہر کے فراق میں شدت شہوت میں کچھ اشعار پڑھ رہی تھی، آپ رضي الله عنه نے اس مکان پر نشان لگادیا، صبح تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا ہے کہ اس کا شوہر ایک لمبی مدت سے جہاد میں گیا ہوا ہے۔ حضرت عمررضي الله عنه نے اپنی صاحبزادی: حضرت حفصہرضي الله عنه سے دریافت فرمایا : ایک عورت شوہر کے بغیر کب تک صبر کرسکتی ہے؟ حضرت حفصہرضي الله عنه نے فرمایا : چار مہینہ ۔ تو حضرت عمررضي الله عنه نے مختلف لشکروں کے امراء کو یہ فرمان جاری فرمایا کہ کوئی شادی شدہ لشکری اپنی اہلیہ سے چار ماہ سے زیادہ دور نہ رہے، یعنی: چار مہینہ کے اندر اس کی واپسی کا نظم کیا جائے۔ اور بعض روایات میں ہے: عورتوں نے بتایا کہ عورت شوہر کے بغیر دو مہینہ صبر کرسکتی ہے، تیسرے مہینہ میں صبر کم ہوجاتا اور چوتھے مہینہ میں صبر ناپید ہوجاتا ہے۔ اور بعض روایات میں پانچ مہینہ اور بعض میں چھ مہینہ کا ذکر آیا ہے۔ اور بعض روایات میں ہے: حضرت حفصہرضي الله عنه نے فرمایا کہ تعجب ہے کہ آپ جیسا آدمی مجھ سے ایسا سوال کررہا ہے؟ حضرت عمررضي الله عنه نے فرمایا کہ اگر مسلمانوں کی خیر خواہی مد نظر نہ ہوتی تو میں تجھ سے یہ بات دریافت نہ کرتا۔ اور بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ حضرت عمررضي الله عنه نے اس خاتون کے ساتھ ایک عورت کو رکھ دیا اور اس کے شوہر کو جہاد سے واپس بلایا۔
إن عمر رضی اللہ تعالی عنہ لما سمع فی اللیل امرأة تقول: فو اللہ لولا اللہ تخشی عواقبہ، لزحزح من ھذا السریر جوانبہ ، فسأل عنھا بنتہ حفصة کم تصبر المرأة عن الرجل؟ فقالت: أربعة أشھر، فأمر أمراء الأجناد أن لا یتخلف المتزوج عن أھلہ أکثر منھا (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب النکاح ، باب القسم ۴:۳۸۰، ط: مکتبة زکریا دیوبند)،وانظر المغني لابن قدامة (۷: ۳۰۴، ط:مکتبة القاھرة)والمھذب للشیرازي (۲: ۱۰۶، ۱۰۷، ط: عیسی الحلبي) أیضا۔
(۲): زید جب مسجد کی امامت اور مکتب کی تعلیم سے جڑا ہوا ہے تو یہ دونوں بھی دین کی عظیم خدمات ہیں، انھیں معمولی نہیں سمجھنا چاہیے؛ لہٰذا وہ انہیں خدمات میں لگا رہے اور بہتر سے بہتر طریقے پر اور کامل اخلاص کے ساتھ مفوضہ خدمات انجام دینے کی کوشش کرے، پیسہ ہرگز مقصود نہ ہو، بنیادی مقصد خدمت دین ہو؛ البتہ مقامی طور پر جماعت کی محنت سے جڑے، مشورے اور تعلیم میں شرکت کرے اور لوگوں کو دین کی دعوت دے۔ اور حسب سہولت وانتظام مہینہ، ڈیڑھ مہینہ میں یا اس سے کم وبیش مدت میں وطن جاکر بیوی سے ملاقات کرآیا کرے تاکہ اس کا بھی حق ادا ہوتا رہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
india سوال # 150025
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں زید ایک مسجد میں امامت کرتاہے اور ساتھ ہی مکتب پڑھا تاہے اپنے گھر سے باہر رہتا ہے ، والدین سے دور نکاح ہوچکاہے ،بیو ی وا لدین کے ساتھ رہتی ہے ، تشکیل ہوتی ہے ایک سال کی، زید جانا چاہتا ہے لیکن بیوی منع کرتی ہے اور حوالہ حضرت عمر رضي الله عنه کے دورخلافت کا دے تی ہے کہ کوئی بھی مجاہد جو شادی شدہ تھا چار مہینے سے زیادہ باہر نہیں رہ سکتا تھا چار ماہ گذر نے پراس کو گھر ضرور جانا پڑتا تھا تو برائے مہربانی مجھے پورا واقعہ اور قرآن وحدیث کی روشنی میں مسئلہ کا حل بتا کر شکریہ کا مؤقع عنایت فرمائیں۔
Published on: Apr 23, 2017 جواب # 150025
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa: 648-726/N=7/1438
(۱): حضرت عمررضي الله عنه کا یہ واقعہ اس طرح ہے کہ آپ رضي الله عنه ایک مرتبہ رات میں گشت فرمارہے تھے، آپرضي الله عنه کا گذر ایک مکان کے قریب سے ہوا تو اس مکان سے کچھ آواز آرہی تھی، آپ نے سوچا کہ شاید مکان میں کوئی پریشان ہے؛ اس لیے آپرضي الله عنه نے دیوار سے گان لگادیے تو کوئی خاتون شوہر کے فراق میں شدت شہوت میں کچھ اشعار پڑھ رہی تھی، آپ رضي الله عنه نے اس مکان پر نشان لگادیا، صبح تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا ہے کہ اس کا شوہر ایک لمبی مدت سے جہاد میں گیا ہوا ہے۔ حضرت عمررضي الله عنه نے اپنی صاحبزادی: حضرت حفصہرضي الله عنه سے دریافت فرمایا : ایک عورت شوہر کے بغیر کب تک صبر کرسکتی ہے؟ حضرت حفصہرضي الله عنه نے فرمایا : چار مہینہ ۔ تو حضرت عمررضي الله عنه نے مختلف لشکروں کے امراء کو یہ فرمان جاری فرمایا کہ کوئی شادی شدہ لشکری اپنی اہلیہ سے چار ماہ سے زیادہ دور نہ رہے، یعنی: چار مہینہ کے اندر اس کی واپسی کا نظم کیا جائے۔ اور بعض روایات میں ہے: عورتوں نے بتایا کہ عورت شوہر کے بغیر دو مہینہ صبر کرسکتی ہے، تیسرے مہینہ میں صبر کم ہوجاتا اور چوتھے مہینہ میں صبر ناپید ہوجاتا ہے۔ اور بعض روایات میں پانچ مہینہ اور بعض میں چھ مہینہ کا ذکر آیا ہے۔ اور بعض روایات میں ہے: حضرت حفصہرضي الله عنه نے فرمایا کہ تعجب ہے کہ آپ جیسا آدمی مجھ سے ایسا سوال کررہا ہے؟ حضرت عمررضي الله عنه نے فرمایا کہ اگر مسلمانوں کی خیر خواہی مد نظر نہ ہوتی تو میں تجھ سے یہ بات دریافت نہ کرتا۔ اور بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ حضرت عمررضي الله عنه نے اس خاتون کے ساتھ ایک عورت کو رکھ دیا اور اس کے شوہر کو جہاد سے واپس بلایا۔
إن عمر رضی اللہ تعالی عنہ لما سمع فی اللیل امرأة تقول: فو اللہ لولا اللہ تخشی عواقبہ، لزحزح من ھذا السریر جوانبہ ، فسأل عنھا بنتہ حفصة کم تصبر المرأة عن الرجل؟ فقالت: أربعة أشھر، فأمر أمراء الأجناد أن لا یتخلف المتزوج عن أھلہ أکثر منھا (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب النکاح ، باب القسم ۴:۳۸۰، ط: مکتبة زکریا دیوبند)،وانظر المغني لابن قدامة (۷: ۳۰۴، ط:مکتبة القاھرة)والمھذب للشیرازي (۲: ۱۰۶، ۱۰۷، ط: عیسی الحلبي) أیضا۔
(۲): زید جب مسجد کی امامت اور مکتب کی تعلیم سے جڑا ہوا ہے تو یہ دونوں بھی دین کی عظیم خدمات ہیں، انھیں معمولی نہیں سمجھنا چاہیے؛ لہٰذا وہ انہیں خدمات میں لگا رہے اور بہتر سے بہتر طریقے پر اور کامل اخلاص کے ساتھ مفوضہ خدمات انجام دینے کی کوشش کرے، پیسہ ہرگز مقصود نہ ہو، بنیادی مقصد خدمت دین ہو؛ البتہ مقامی طور پر جماعت کی محنت سے جڑے، مشورے اور تعلیم میں شرکت کرے اور لوگوں کو دین کی دعوت دے۔ اور حسب سہولت وانتظام مہینہ، ڈیڑھ مہینہ میں یا اس سے کم وبیش مدت میں وطن جاکر بیوی سے ملاقات کرآیا کرے تاکہ اس کا بھی حق ادا ہوتا رہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:9⃣1⃣1⃣
سوال # 145546
حضرت میراسوال ہے کہ دعوت وتبلیغ والے اکثر بیان شروع کرتے وقت کہتے ہیں کہ تھوڑی دیر دین کے لیے غوروفکرکرناساٹھ سترسال کی نفلی عبادت سے افضل ہے ، یہ کوئی حدیث ہے یاکسی بزرگ کاقول اگر حدیث ہے ؟برائے مہربانی حوالہ کے ساتھ جواب دیں۔
Published on: Jan 9, 2017 جواب # 145546
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 55-391/M=4/1438
دین کی فکر لے کر تھوڑی دیر بیٹھنا بلاشبہ کار ثواب ہے اور فکر ومحنت جیسی ہوگی اسی قدر اجر وثواب حاصل ہوگا لیکن اس کو ساٹھ ستر سال کی نفلی عبادت سے افضل سمجھنا یہ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں، اس مضمون کی زبان زد روایت ”فکر ساعة خیر من عبادة ستین سنة“ کو متعدد علماء ناقدین حدیث نے نہایت ضعیف بلکہ موضوع قرار دیا ہے اس لیے عام مجالس میں اسے بیان کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ ملا علی قاری رحمہ اللہ لکھتے ہیں: لیس بحدیث إنما ہو کلام السري السقطي“ (المصنوع في أحایدث الموضوع ص: ۸۲) نیز علامہ شوکانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: رواہ أبو الشیخ عن أبي ہریرة رضي اللہ عنہ مرفوعًا وفي إسنادہ عثمان بن عبد اللہ القرشي وإسحاق بن نجیع المطلي کذابان والمتہم بہ أحدہما وقد رواہ الدیلمي من حدیث أنس من وجہ آخر (الفوائد المجموعة ص: ۲۴۲بحوالہ: عمدة الأقاویل في تحقیق الأباطیل ص ۲۴۷، ۲۴۸، مستفاد النوازل)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سوال # 145546
حضرت میراسوال ہے کہ دعوت وتبلیغ والے اکثر بیان شروع کرتے وقت کہتے ہیں کہ تھوڑی دیر دین کے لیے غوروفکرکرناساٹھ سترسال کی نفلی عبادت سے افضل ہے ، یہ کوئی حدیث ہے یاکسی بزرگ کاقول اگر حدیث ہے ؟برائے مہربانی حوالہ کے ساتھ جواب دیں۔
Published on: Jan 9, 2017 جواب # 145546
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 55-391/M=4/1438
دین کی فکر لے کر تھوڑی دیر بیٹھنا بلاشبہ کار ثواب ہے اور فکر ومحنت جیسی ہوگی اسی قدر اجر وثواب حاصل ہوگا لیکن اس کو ساٹھ ستر سال کی نفلی عبادت سے افضل سمجھنا یہ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں، اس مضمون کی زبان زد روایت ”فکر ساعة خیر من عبادة ستین سنة“ کو متعدد علماء ناقدین حدیث نے نہایت ضعیف بلکہ موضوع قرار دیا ہے اس لیے عام مجالس میں اسے بیان کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ ملا علی قاری رحمہ اللہ لکھتے ہیں: لیس بحدیث إنما ہو کلام السري السقطي“ (المصنوع في أحایدث الموضوع ص: ۸۲) نیز علامہ شوکانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: رواہ أبو الشیخ عن أبي ہریرة رضي اللہ عنہ مرفوعًا وفي إسنادہ عثمان بن عبد اللہ القرشي وإسحاق بن نجیع المطلي کذابان والمتہم بہ أحدہما وقد رواہ الدیلمي من حدیث أنس من وجہ آخر (الفوائد المجموعة ص: ۲۴۲بحوالہ: عمدة الأقاویل في تحقیق الأباطیل ص ۲۴۷، ۲۴۸، مستفاد النوازل)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:0⃣2⃣1⃣
سوال # 68784
میرا سوال یہ ہے کہ کیا مفتی سید احمد پالن پوری تبلیغ کے خلاف ہیں یا نہیں؟ کیونکہ میرے پاس واٹس اپ پر ان کی رائے یعنی فتوی آیا ہے کہ تبلیغ الگ فرقے کا روپ لے رہی ہے اگر ایسا ہے تو کیا میں جماعت و تبلیغ کے کام کو کرنا یا اس میں جڑنا چھوڑ دوں؟ اب میں ایک ماہ سے اس بات پر فکر مند ہو گیاہوں کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے۔ رات کو نیند بھی نہیں آتی، پریشان ہوں، اپنا مقصد سمجھ نہیں آتا آپ ہی بتائیں مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں ہلاک نہ ہوجاوٴں۔
Published on: Sep 3, 2016 جواب # 68784
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 859-859/B=11/1437
مفتی سعید احمد پالن پوری صاحب یا دارالعلوم دیوبند کا کوئی عالم تبلیغ کے خلاف نہیں ہے، ہاں کچھ تبلیغ والے اعتدال سے ہٹ کر جو غلو کی باتیں کرتے ہیں، اور بہت سی اُلٹی سیدھی باتیں کرتے ہیں، مثلاً :
(۱) خالص جہاد سے متعلق آیاتِ قرآنی کو تبلیغ پر فٹ کرتے ہیں، جو قرآن میں ایک طرح کی تحریف ہے۔
(۲) مدارس دینیہ بیکار ہیں اس سے کچھ حاصل نہیں ہوتا، علم دین جماعت میں نکلنے سے حاصل ہوتا ہے۔
(۳) علماء نے اب تک کیا کیا؟ انہوں نے کوئی کام نہیں کیا، جو کچھ دین پھیلایا ہے علماء نے نہیں پھیلایا ہے بلکہ تبلیغی جماعت نے پھیلایا ہے۔ علماء نے ۴/ فیصد دین کا کام کیا ہے ۹۶/ فیصد جماعت والوں نے کیا ہے وہ بھی علماء نے اللہ واسطے نہیں کیا بلکہ تنخواہ لے کر کیا ہے۔
(۴) اگر کہیں کوئی عالم قرآن پاک کی تفسیر بیان کرتے ہیں تو اسے روک دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ صرف فضائل اعمال پڑھی جائے گی اور کوئی کتاب نہیں پڑھی جائے گی۔
(۵) تقویٰ اور تزکیہ نفس حاصل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، جماعت میں نکلنے سے سب کچھ حاصل ہوجائے گا۔
(۶) جو عالم سال کا چلہ نہ لگائے اسے امام و مدرس نہیں رکھتے، اور اگر لاعلمی میں رکھ لیا اور بعد میں معلوم ہوا کہ اس نے سال کا چلہ نہیں لگایا ہے تواسے امامت اور مدرسی سے ہٹا دیتے ہیں، اسے اپنی لڑکی نہیں دیتے۔
(۷) علماء کو حقیر سمجھتے ہیں، ان سے آئے دن بحث کرتے ہیں۔
(۸) جو شخص چلہ نہ لگائے ہوئے ہو اسے دیندار کیا اسے مسلمان بھی نہیں سمجھتے۔
(۹) جو شخص مروجہ نظام الدین والی تبلیغ میں نہ لگے، خواہ وہ کتناہی زیادہ دین کا کام کرے اسے دین کا کام نہیں سمجھتے، اس طرح کی بہت سی باتیں ہیں جن کو دیکھ کر مفتی سعید# صاحب پالن پوری ہی نہیں بہت سے علماء اور بزرگان دین کی زبانی ہم نے یہ جملہ سنا ہے کہ یہ تبلیغی جماعت ایک نیا فرقہ بنتی جارہی ہے قرآن و حدیث کے طریقوں کو چھوڑ کر اپنا طریقہ اور نیا دین اختیار کرتی جارہی ہے، یہ سب حالات دیکھ کر پڑھا لکھا دیندار اور سنجیدہ آدمی واقعی فکر مند ہو گیا ہے۔ اور اِس وقت مرکز نظام الدین میں بھی کچھ اسی طرح کے حالات کو دیکھ کر تبلیغ کے ذمہ دار حضرات بھی فکر مندہی نہیں بلکہ علیحدہ ہوگئے ہیں۔ یہ سب باتیں محض اعتدال سے ہٹنے کی وجہ سے پیدا ہوئیں، آپ جماعت کے کام کو نہ چھوڑیں ضرور کریں، مگر اعتدال سے نہ ہٹیں، حضرت مولانا الیاس# صاحب نے جس نہج اور جس اصول پر کام شروع کیا تھا اسی اصول اور اسی نہج پر کام کریں تو ان شاء اللہ کوئی انگلی نہ اٹھائے گا۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سوال # 68784
میرا سوال یہ ہے کہ کیا مفتی سید احمد پالن پوری تبلیغ کے خلاف ہیں یا نہیں؟ کیونکہ میرے پاس واٹس اپ پر ان کی رائے یعنی فتوی آیا ہے کہ تبلیغ الگ فرقے کا روپ لے رہی ہے اگر ایسا ہے تو کیا میں جماعت و تبلیغ کے کام کو کرنا یا اس میں جڑنا چھوڑ دوں؟ اب میں ایک ماہ سے اس بات پر فکر مند ہو گیاہوں کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے۔ رات کو نیند بھی نہیں آتی، پریشان ہوں، اپنا مقصد سمجھ نہیں آتا آپ ہی بتائیں مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں ہلاک نہ ہوجاوٴں۔
Published on: Sep 3, 2016 جواب # 68784
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 859-859/B=11/1437
مفتی سعید احمد پالن پوری صاحب یا دارالعلوم دیوبند کا کوئی عالم تبلیغ کے خلاف نہیں ہے، ہاں کچھ تبلیغ والے اعتدال سے ہٹ کر جو غلو کی باتیں کرتے ہیں، اور بہت سی اُلٹی سیدھی باتیں کرتے ہیں، مثلاً :
(۱) خالص جہاد سے متعلق آیاتِ قرآنی کو تبلیغ پر فٹ کرتے ہیں، جو قرآن میں ایک طرح کی تحریف ہے۔
(۲) مدارس دینیہ بیکار ہیں اس سے کچھ حاصل نہیں ہوتا، علم دین جماعت میں نکلنے سے حاصل ہوتا ہے۔
(۳) علماء نے اب تک کیا کیا؟ انہوں نے کوئی کام نہیں کیا، جو کچھ دین پھیلایا ہے علماء نے نہیں پھیلایا ہے بلکہ تبلیغی جماعت نے پھیلایا ہے۔ علماء نے ۴/ فیصد دین کا کام کیا ہے ۹۶/ فیصد جماعت والوں نے کیا ہے وہ بھی علماء نے اللہ واسطے نہیں کیا بلکہ تنخواہ لے کر کیا ہے۔
(۴) اگر کہیں کوئی عالم قرآن پاک کی تفسیر بیان کرتے ہیں تو اسے روک دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ صرف فضائل اعمال پڑھی جائے گی اور کوئی کتاب نہیں پڑھی جائے گی۔
(۵) تقویٰ اور تزکیہ نفس حاصل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، جماعت میں نکلنے سے سب کچھ حاصل ہوجائے گا۔
(۶) جو عالم سال کا چلہ نہ لگائے اسے امام و مدرس نہیں رکھتے، اور اگر لاعلمی میں رکھ لیا اور بعد میں معلوم ہوا کہ اس نے سال کا چلہ نہیں لگایا ہے تواسے امامت اور مدرسی سے ہٹا دیتے ہیں، اسے اپنی لڑکی نہیں دیتے۔
(۷) علماء کو حقیر سمجھتے ہیں، ان سے آئے دن بحث کرتے ہیں۔
(۸) جو شخص چلہ نہ لگائے ہوئے ہو اسے دیندار کیا اسے مسلمان بھی نہیں سمجھتے۔
(۹) جو شخص مروجہ نظام الدین والی تبلیغ میں نہ لگے، خواہ وہ کتناہی زیادہ دین کا کام کرے اسے دین کا کام نہیں سمجھتے، اس طرح کی بہت سی باتیں ہیں جن کو دیکھ کر مفتی سعید# صاحب پالن پوری ہی نہیں بہت سے علماء اور بزرگان دین کی زبانی ہم نے یہ جملہ سنا ہے کہ یہ تبلیغی جماعت ایک نیا فرقہ بنتی جارہی ہے قرآن و حدیث کے طریقوں کو چھوڑ کر اپنا طریقہ اور نیا دین اختیار کرتی جارہی ہے، یہ سب حالات دیکھ کر پڑھا لکھا دیندار اور سنجیدہ آدمی واقعی فکر مند ہو گیا ہے۔ اور اِس وقت مرکز نظام الدین میں بھی کچھ اسی طرح کے حالات کو دیکھ کر تبلیغ کے ذمہ دار حضرات بھی فکر مندہی نہیں بلکہ علیحدہ ہوگئے ہیں۔ یہ سب باتیں محض اعتدال سے ہٹنے کی وجہ سے پیدا ہوئیں، آپ جماعت کے کام کو نہ چھوڑیں ضرور کریں، مگر اعتدال سے نہ ہٹیں، حضرت مولانا الیاس# صاحب نے جس نہج اور جس اصول پر کام شروع کیا تھا اسی اصول اور اسی نہج پر کام کریں تو ان شاء اللہ کوئی انگلی نہ اٹھائے گا۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:1⃣2⃣1⃣
سوال # 60272
دعوت والے کام میں اکثر مجلس کے دوران ایک بات کہی جاتی ہے کہ دین کی مجلس میں تھوڑی دیر بیٹھنا ستر سال کی نفل عبادت سے بہتر ہے، کیا یہ صحیح ہے؟تو پانچ منٹ مجلس میں بیٹھنا بہتر ہے تہجد وغیرہ نفل عبادت پڑھنے سے ۔ براہ کرم، حوالے کے ساتھ جواب دیں۔
Published on: Jan 18, 2016 جواب # 60272
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 1363-1359/B=4/1437-U
اس میں کوئی شک نہیں کہ دعوت وتبلیغ کی محنت کا کام بہت اعلیٰ درجہ کا کام ہے اور اس ام میں بے انتہا اجر وثواب بھی ہے، لیکن یہ بات کہ دین کی مجلس میں تھوڑی دیر بیٹھنا ستر سال کی نفل عبادت سے بہتر ہے یہ روایت ہماری نظر سے نہیں گذری، نیز اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ پانچ منٹ مجلس میں بیٹھنا تہجد سے بہتر ہے، صحیح نہیں ہے، جن صاحب نے یہ باتیں بیان فرمائی ہیں ان ہی سے اس روایت کا حوالہ طلب فرمائیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سوال # 60272
دعوت والے کام میں اکثر مجلس کے دوران ایک بات کہی جاتی ہے کہ دین کی مجلس میں تھوڑی دیر بیٹھنا ستر سال کی نفل عبادت سے بہتر ہے، کیا یہ صحیح ہے؟تو پانچ منٹ مجلس میں بیٹھنا بہتر ہے تہجد وغیرہ نفل عبادت پڑھنے سے ۔ براہ کرم، حوالے کے ساتھ جواب دیں۔
Published on: Jan 18, 2016 جواب # 60272
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 1363-1359/B=4/1437-U
اس میں کوئی شک نہیں کہ دعوت وتبلیغ کی محنت کا کام بہت اعلیٰ درجہ کا کام ہے اور اس ام میں بے انتہا اجر وثواب بھی ہے، لیکن یہ بات کہ دین کی مجلس میں تھوڑی دیر بیٹھنا ستر سال کی نفل عبادت سے بہتر ہے یہ روایت ہماری نظر سے نہیں گذری، نیز اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ پانچ منٹ مجلس میں بیٹھنا تہجد سے بہتر ہے، صحیح نہیں ہے، جن صاحب نے یہ باتیں بیان فرمائی ہیں ان ہی سے اس روایت کا حوالہ طلب فرمائیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:2⃣2⃣1⃣
Indiaسوال # 59630
ایک ساتھی نے اپنی بات میں کہا کہ ” اس امت کی جو فضیلت ہے کہ وہ سب امتوں سے پہلے جنت میں جائے گی وہ اس دعوت کے کام کی وجہ سے ہے“ کیا یہ صحیح ہے؟
Published on: Jul 11, 2015 جواب # 59630
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 510-510/Sd=9/1436-U
اِس امت کا سب سے پہلے جنت میں جانا اصلاً حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں ہونے کی وجہ سے ہوگا، صرف دعوت کا کام سب سے پہلے جنت میں جانے کا سبب نہیں ہے۔ البتہ اس امت کی من جملہ خصوصیات میں ایک خصوصیت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بھی ہے، جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا ہے: کُنْتُمْ خَیْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ، مذکورہ ساتھی کو اپنی طرف سے دعوت کے کام کے فضائل بیان نہیں کرنے چاہیے، اس کو جماعت کے اصول کی روشنی میں بات کرنی چاہیے۔
وعن عمرو بن قیس، رضی اللہ عنہ، أن رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم - صلی اللہ علیہ وسلم قال: نحن الآخرون، ونحن السابقون یوم القیامة- إلخ (مشکاة المصابیح، ص: ۵۱۴، باب فضائل سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم) وعن بہز بن حکیم عن أبیہ عن جدہ أنہ سمع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول فی قولہ تعالی: کنتم خیر أمة أخرجت للناس قال: أنتم تتمون سبعین أمة أنتم خیرہا وأکرمہا علی اللہ تعالی (مشکاة، ص: ۵۸۴، باب ثواب ہذہ الأمة) قال في اللمعات تحت ہذا الحدیث: امراد جمیع الموٴمنین من ہذہ الأمة؛ فإن وجوہ الخیریة التي یمتازون بہا عمن عداہم من الأمم ثابت لکل منہم من حسن الاعتقاد وثبات القدم في الإیمان بنبیّہم وغیرہا․ (حاشیة مشکاة نقلاً عن اللمعات، ص: ۵۸۴)․
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
Indiaسوال # 59630
ایک ساتھی نے اپنی بات میں کہا کہ ” اس امت کی جو فضیلت ہے کہ وہ سب امتوں سے پہلے جنت میں جائے گی وہ اس دعوت کے کام کی وجہ سے ہے“ کیا یہ صحیح ہے؟
Published on: Jul 11, 2015 جواب # 59630
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 510-510/Sd=9/1436-U
اِس امت کا سب سے پہلے جنت میں جانا اصلاً حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں ہونے کی وجہ سے ہوگا، صرف دعوت کا کام سب سے پہلے جنت میں جانے کا سبب نہیں ہے۔ البتہ اس امت کی من جملہ خصوصیات میں ایک خصوصیت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بھی ہے، جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا ہے: کُنْتُمْ خَیْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ، مذکورہ ساتھی کو اپنی طرف سے دعوت کے کام کے فضائل بیان نہیں کرنے چاہیے، اس کو جماعت کے اصول کی روشنی میں بات کرنی چاہیے۔
وعن عمرو بن قیس، رضی اللہ عنہ، أن رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم - صلی اللہ علیہ وسلم قال: نحن الآخرون، ونحن السابقون یوم القیامة- إلخ (مشکاة المصابیح، ص: ۵۱۴، باب فضائل سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم) وعن بہز بن حکیم عن أبیہ عن جدہ أنہ سمع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول فی قولہ تعالی: کنتم خیر أمة أخرجت للناس قال: أنتم تتمون سبعین أمة أنتم خیرہا وأکرمہا علی اللہ تعالی (مشکاة، ص: ۵۸۴، باب ثواب ہذہ الأمة) قال في اللمعات تحت ہذا الحدیث: امراد جمیع الموٴمنین من ہذہ الأمة؛ فإن وجوہ الخیریة التي یمتازون بہا عمن عداہم من الأمم ثابت لکل منہم من حسن الاعتقاد وثبات القدم في الإیمان بنبیّہم وغیرہا․ (حاشیة مشکاة نقلاً عن اللمعات، ص: ۵۸۴)․
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:3⃣2⃣1⃣
سوال # 57936
(۱) مجھے یہ پوچھنا تھا کہ اگر میں کسی اور لائن سے دین کی محنت کررہا ہوں جیساکہ مدرسے یا خانقاہ سے بہت فائدہ محسوس کررہا ہوں تو کیا جماعت میں جا کر چار مہینے لگانا تب بھی ضروری ہے؟
(۲) اوریہ مثال صحیح ہے کہ اس کام کی مثال نوح علیہ السلام کی کشتی کی مانند ہے جو اس میں لگا وہ کامیاب جو نہ نکلا وہ ناکامیاب جیسا کہ بہت سے ساتھی یہ مثال دیتے ہیں؟
Published on: Mar 7, 2015 جواب # 57936
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 489-519/L=5/1436-U
جماعت میں جاکر چار مہینے لگانا ضروری تو نہیں ہے؛ البتہ جماعت میں جاکر وقت لگانے کا مستقل فائدہ ہے؛ اس لیے وقت لگانا فائدہ سے خالی نہ ہوگا، ان تینوں چیزوں (مدرسہ، خانقاہ اور تبلیغ) میں کوئی تزاحم نہیں ہے، آدمی کو چاہیے کہ حتی الوسع ہرلائن سے دین کی خدمت کرے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سوال # 57936
(۱) مجھے یہ پوچھنا تھا کہ اگر میں کسی اور لائن سے دین کی محنت کررہا ہوں جیساکہ مدرسے یا خانقاہ سے بہت فائدہ محسوس کررہا ہوں تو کیا جماعت میں جا کر چار مہینے لگانا تب بھی ضروری ہے؟
(۲) اوریہ مثال صحیح ہے کہ اس کام کی مثال نوح علیہ السلام کی کشتی کی مانند ہے جو اس میں لگا وہ کامیاب جو نہ نکلا وہ ناکامیاب جیسا کہ بہت سے ساتھی یہ مثال دیتے ہیں؟
Published on: Mar 7, 2015 جواب # 57936
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 489-519/L=5/1436-U
جماعت میں جاکر چار مہینے لگانا ضروری تو نہیں ہے؛ البتہ جماعت میں جاکر وقت لگانے کا مستقل فائدہ ہے؛ اس لیے وقت لگانا فائدہ سے خالی نہ ہوگا، ان تینوں چیزوں (مدرسہ، خانقاہ اور تبلیغ) میں کوئی تزاحم نہیں ہے، آدمی کو چاہیے کہ حتی الوسع ہرلائن سے دین کی خدمت کرے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:4⃣2⃣1⃣
اگر علامات ظاہر نہ ہوں تو شرعاً لڑکا کب بالغ ہوگا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: لڑکے کا سن بلوغ کیا ہے؟ اور وہ کب بالغ قرار دیا جاتا ہے؟ کیا بلوغ اس کی علامات پر مبنی ہے یا عمر پر؟ اگر عمر کی کوئی تحدید ہوتی ہے تو بالغ ہونے کی عمر لڑکے کے لئے کیا ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اگر بارہ سال کے بعد بلوغ کی کوئی علامت احتلام وغیرہ پائی جائے، تو اُسی وقت سے وہ بالغ ہوجائے گا، ورنہ پندرہ سال پورے ہونے پر اسے بالغ قرار دیا جائے گا۔
یحکم ببلوغ الغلام بالاحتلام أو الإنزال أو الإحبال … وببلوغ الجاریۃ بالحیض أو الاحتلام أو الحبل … فإن لم یوجد شيء من ذٰلک فإذا تم لہ ثماني عشرۃ سنۃً، ولہا سبع عشرۃ سنۃً عندہ، وعندہما إذا تم خمسۃ عشر سنۃً فیہما، وہو روایۃ الإمام، وبہ قالت الأئمۃ الثلا ثۃ، وبہ یفتی … وأدنی مدتہ لہ ثنتا عشرۃ سنۃ، ولہا تسع سنین، الخ۔ (ملتقی الأبحر علی ہامش مجمع الأنہر، کتاب الحجر / فصل في بیان أحکام البلوغ ۲؍۴۴۴ دار إحیاء التراث العربي بیروت، البحر الرائق، کتاب الإکراہ / باب الحجر، فصل في حد البلوغ ۸؍۱۵۳ زکریا، الفتاویٰ الہندیۃ، کتاب لحجر / الفصل الثاني في معرفۃ حد البلوغ ۵؍۶۱ زکریا)
بلوغ الغلام بالاحتلام والإحبال والإنزال، والأصل ہو الإنزال، والجاریۃ بالاحتلام والحیض والحبل، فإن لم یوجد فیہما شيء، فحتی یتم لکل منہما خمس عشرۃ سنۃً، بہ یفتی۔ (الدر المختار، کتاب الحجر / فصل: بلوغ الغلام بالاحتلام ۶؍۱۵۳ کراچی)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
اگر علامات ظاہر نہ ہوں تو شرعاً لڑکا کب بالغ ہوگا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: لڑکے کا سن بلوغ کیا ہے؟ اور وہ کب بالغ قرار دیا جاتا ہے؟ کیا بلوغ اس کی علامات پر مبنی ہے یا عمر پر؟ اگر عمر کی کوئی تحدید ہوتی ہے تو بالغ ہونے کی عمر لڑکے کے لئے کیا ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اگر بارہ سال کے بعد بلوغ کی کوئی علامت احتلام وغیرہ پائی جائے، تو اُسی وقت سے وہ بالغ ہوجائے گا، ورنہ پندرہ سال پورے ہونے پر اسے بالغ قرار دیا جائے گا۔
یحکم ببلوغ الغلام بالاحتلام أو الإنزال أو الإحبال … وببلوغ الجاریۃ بالحیض أو الاحتلام أو الحبل … فإن لم یوجد شيء من ذٰلک فإذا تم لہ ثماني عشرۃ سنۃً، ولہا سبع عشرۃ سنۃً عندہ، وعندہما إذا تم خمسۃ عشر سنۃً فیہما، وہو روایۃ الإمام، وبہ قالت الأئمۃ الثلا ثۃ، وبہ یفتی … وأدنی مدتہ لہ ثنتا عشرۃ سنۃ، ولہا تسع سنین، الخ۔ (ملتقی الأبحر علی ہامش مجمع الأنہر، کتاب الحجر / فصل في بیان أحکام البلوغ ۲؍۴۴۴ دار إحیاء التراث العربي بیروت، البحر الرائق، کتاب الإکراہ / باب الحجر، فصل في حد البلوغ ۸؍۱۵۳ زکریا، الفتاویٰ الہندیۃ، کتاب لحجر / الفصل الثاني في معرفۃ حد البلوغ ۵؍۶۱ زکریا)
بلوغ الغلام بالاحتلام والإحبال والإنزال، والأصل ہو الإنزال، والجاریۃ بالاحتلام والحیض والحبل، فإن لم یوجد فیہما شيء، فحتی یتم لکل منہما خمس عشرۃ سنۃً، بہ یفتی۔ (الدر المختار، کتاب الحجر / فصل: بلوغ الغلام بالاحتلام ۶؍۱۵۳ کراچی)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:5⃣2⃣1⃣
تین تولہ سونا اور چاندی پر زکوٰۃ
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ:ایک خاتون کی ملکیت میں تین تولہ سونا اور کچھ چاندی ہے سونے کے ساتھ زکوۃ کے نصاب کی تکمیل کے لئے کم سے کم کتنی چاندی ہو نے چاہئے ؟ چالیس درہم کے برابر یا اس سے بھی کم اگر اس سے بھی کم تو کم سے کم کتنے درہم کے مقدار کے برابر کتابوں میں چالیس درہم کا لفظ قرض کی وصولی کے تعلق سے ادائے زکوۃ کے بارے میں آتا ہے ۔اس لئے یہ سوال ذہن میں آتا ہے سوال کرنے والے سونے کی مقدار لکھ کر تھوڑی چاندی کا لفظ استعمال کرتے ہیں ۔
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:جب سونے کے ساتھ ساتھ چاندی بھی ملکیت میں ہو تو دونوں کی قیمت لگا کر یہ دیکھا جائے گا کہ کل قیمت چاندی کے نصاب تک پہنچ رہی ہے یانہیں ؟ اگر پہنچ رہی ہے تو زکوٰۃ واجب ہوگی اور اس میں چاندی کے چالیس درہم کے برابر ہونے یا نہ ہونے کی کوئی شرط نہیں ہے بلکہ اگر سونے کے ساتھ تھوڑی بہت چاندی بھی ہو تو پورا نصاب چاندی ہی کا بنا دیا جائے گا۔ انفع للفقراء ہونے کی وجہ سے فتویٰ اسی پر ہے۔
وعن أبي حنیفۃ أنہ یقوم بما فیہ إیجاب الزکاۃ حتی إذا بلغ بالتقویم بأحدہما نصابا ولم یقوم بالأخر قوم بما یبلغ نصابا فہو أحد الروایتین عن محمد رحمہ اللّٰہ، ولو کان بالتقویم بکل واحد منہما یبلغ نصابا یقوم بما ہو أنفع للفقراء من حیث الرواج، وإن کان في الرواج سواء یتخیر المالک (الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۳؍۱۶۵ رقم: ۴۰۰ زکریا)
یجب أن یکون التقوی بما ہو أنفع للفقراء رواجا۔ (شامي ۳؍۲۳۴ زکریا)
ویضم الذہب إلی الفضۃ وعکسہ بجمع الثمنیۃ قیمۃ (درمختار) أي من جہۃ القیمۃ فمن لہ مائۃ درہم وخمسۃ مثاقیل قیمتہا مائۃ علیہ زکاتہا۔ (شامی ۳؍۲۳۴ زکریا، ہدایۃ ۲۱۳۱، الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۳؍۱۵۸)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
تین تولہ سونا اور چاندی پر زکوٰۃ
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ:ایک خاتون کی ملکیت میں تین تولہ سونا اور کچھ چاندی ہے سونے کے ساتھ زکوۃ کے نصاب کی تکمیل کے لئے کم سے کم کتنی چاندی ہو نے چاہئے ؟ چالیس درہم کے برابر یا اس سے بھی کم اگر اس سے بھی کم تو کم سے کم کتنے درہم کے مقدار کے برابر کتابوں میں چالیس درہم کا لفظ قرض کی وصولی کے تعلق سے ادائے زکوۃ کے بارے میں آتا ہے ۔اس لئے یہ سوال ذہن میں آتا ہے سوال کرنے والے سونے کی مقدار لکھ کر تھوڑی چاندی کا لفظ استعمال کرتے ہیں ۔
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:جب سونے کے ساتھ ساتھ چاندی بھی ملکیت میں ہو تو دونوں کی قیمت لگا کر یہ دیکھا جائے گا کہ کل قیمت چاندی کے نصاب تک پہنچ رہی ہے یانہیں ؟ اگر پہنچ رہی ہے تو زکوٰۃ واجب ہوگی اور اس میں چاندی کے چالیس درہم کے برابر ہونے یا نہ ہونے کی کوئی شرط نہیں ہے بلکہ اگر سونے کے ساتھ تھوڑی بہت چاندی بھی ہو تو پورا نصاب چاندی ہی کا بنا دیا جائے گا۔ انفع للفقراء ہونے کی وجہ سے فتویٰ اسی پر ہے۔
وعن أبي حنیفۃ أنہ یقوم بما فیہ إیجاب الزکاۃ حتی إذا بلغ بالتقویم بأحدہما نصابا ولم یقوم بالأخر قوم بما یبلغ نصابا فہو أحد الروایتین عن محمد رحمہ اللّٰہ، ولو کان بالتقویم بکل واحد منہما یبلغ نصابا یقوم بما ہو أنفع للفقراء من حیث الرواج، وإن کان في الرواج سواء یتخیر المالک (الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۳؍۱۶۵ رقم: ۴۰۰ زکریا)
یجب أن یکون التقوی بما ہو أنفع للفقراء رواجا۔ (شامي ۳؍۲۳۴ زکریا)
ویضم الذہب إلی الفضۃ وعکسہ بجمع الثمنیۃ قیمۃ (درمختار) أي من جہۃ القیمۃ فمن لہ مائۃ درہم وخمسۃ مثاقیل قیمتہا مائۃ علیہ زکاتہا۔ (شامی ۳؍۲۳۴ زکریا، ہدایۃ ۲۱۳۱، الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۳؍۱۵۸)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:6⃣2⃣1⃣
جمعہ کی اذان ثانی کا جواب؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: جمعہ کے خطبہ کی اذان کے جواب ودعا کا ثبوت ہے یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:خطبۂ جمعہ کی اذان کا جواب زبان سے نہیں دیا جائے گا؛ بلکہ دل دل میں اس کا خیال کرلیا جائے گا، یہی حکم اذانِ ثانی کے بعد کی دعا کا ہے؛ اس لئے کہ امام کے منبر پر بیٹھ جانے کے بعد کسی قسم کی گفتگو جائز نہیں۔ (فتاویٰ محمودیہ ۱۲؍ ۱۷۹ میرٹھ، امداد الاحکام ۲؍۴۵، فتاویٰ رحیمیہ ۳؍۶۸، کفایت المفتی ۳؍۲۲۰، عزیز الفتاویٰ ۲۶۹)
وینبغی أن لا یجیب بلسانہ اتفاقاً في الأذان بین یدي الخطیب۔ (درمختار علی ہامش رد المحتار زکریا ۲؍۷۰، نعمانیہ ۱؍۲۶۸)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جمعہ کی اذان ثانی کا جواب؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: جمعہ کے خطبہ کی اذان کے جواب ودعا کا ثبوت ہے یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:خطبۂ جمعہ کی اذان کا جواب زبان سے نہیں دیا جائے گا؛ بلکہ دل دل میں اس کا خیال کرلیا جائے گا، یہی حکم اذانِ ثانی کے بعد کی دعا کا ہے؛ اس لئے کہ امام کے منبر پر بیٹھ جانے کے بعد کسی قسم کی گفتگو جائز نہیں۔ (فتاویٰ محمودیہ ۱۲؍ ۱۷۹ میرٹھ، امداد الاحکام ۲؍۴۵، فتاویٰ رحیمیہ ۳؍۶۸، کفایت المفتی ۳؍۲۲۰، عزیز الفتاویٰ ۲۶۹)
وینبغی أن لا یجیب بلسانہ اتفاقاً في الأذان بین یدي الخطیب۔ (درمختار علی ہامش رد المحتار زکریا ۲؍۷۰، نعمانیہ ۱؍۲۶۸)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:7⃣2⃣1⃣
Pakistanسوال # 63886
کیا خواتین مصنوعی زیورات استعمال کر سکتی ہیں جیسا کہ بازار میں دستیاب عام جیولری ہوتی ہے ۔جس میں ہر دھات جیسے لوہا، اسٹیل، تانبا، پلاسٹک، اور کانچ شامل ہیں؟ سونا چاندی کے زیورات کافی مہنگے ہونے سے میچنگ جیولری آسانی سے خریدی جا سکتی ہے ۔ نیر سونے چاندی کے علاوہ کسی اور دھات کی انگوٹھی پہننا کیوں منع ہے ۔ پراہ مہربانی مفصل جواب اردو میں عنایت فرمائیں۔ جزاک اللہ
Published on: Apr 25, 2016 جواب # 63886
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 559-554/H=7/1437
خواتین ہردھات کا زیور استعمال کرسکتی ہیں لوہا، اسٹیل، تانبا، پلاسٹک، کانچ کا بنا ہوا زیور ان کے لیے استعمال کرنا درست ہے، البتہ انگوٹھی صرف سونے اور چاندی کی جائز ہے اِن دونوں دھاتوں کے علاوہ انگوٹھی پہننا خواتین کو بھی جمہور کے نزدیک جائز نہیں۔
فیحرم (بیغرہا کحجر) اھ در مختار وفي رد المحتار تحت قولہ فیحرم بغیرہا وفي الجوہرة التختم بالحدید والصفر والنحاس والرصاص مکروہ للرجال والنساء اھ ج۵/ ۲۲۹، (ط، مکتبہ نعمانیہ)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
Pakistanسوال # 63886
کیا خواتین مصنوعی زیورات استعمال کر سکتی ہیں جیسا کہ بازار میں دستیاب عام جیولری ہوتی ہے ۔جس میں ہر دھات جیسے لوہا، اسٹیل، تانبا، پلاسٹک، اور کانچ شامل ہیں؟ سونا چاندی کے زیورات کافی مہنگے ہونے سے میچنگ جیولری آسانی سے خریدی جا سکتی ہے ۔ نیر سونے چاندی کے علاوہ کسی اور دھات کی انگوٹھی پہننا کیوں منع ہے ۔ پراہ مہربانی مفصل جواب اردو میں عنایت فرمائیں۔ جزاک اللہ
Published on: Apr 25, 2016 جواب # 63886
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 559-554/H=7/1437
خواتین ہردھات کا زیور استعمال کرسکتی ہیں لوہا، اسٹیل، تانبا، پلاسٹک، کانچ کا بنا ہوا زیور ان کے لیے استعمال کرنا درست ہے، البتہ انگوٹھی صرف سونے اور چاندی کی جائز ہے اِن دونوں دھاتوں کے علاوہ انگوٹھی پہننا خواتین کو بھی جمہور کے نزدیک جائز نہیں۔
فیحرم (بیغرہا کحجر) اھ در مختار وفي رد المحتار تحت قولہ فیحرم بغیرہا وفي الجوہرة التختم بالحدید والصفر والنحاس والرصاص مکروہ للرجال والنساء اھ ج۵/ ۲۲۹، (ط، مکتبہ نعمانیہ)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:8⃣2⃣1⃣
سوال # 150053
میں علم طب حاصل کرنا چاہتی،لیکن اس میں مہارت کیلئے 1 ماہر حکیم کی نگرانی میں پریکٹس کرنی ہو گی،کیا میرے لئے مکمل پردے کے ساتھ ماہر حکیم کی نگرانی میں خواتین مریضوں کی تشخیص کرنا اور تشخیص اور علاج کے بارے میں حکیم صاحب سے بات کرنا جائز ہے ؟
Published on: Apr 25, 2017 جواب # 150053
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa: 644-776/N=7/1438
دور حاضر میں ایلو پیتھک علاج عروج پر ہے اور اپنی ترقی و مقبولیت میں سب پر فائق ہے اور لوگ عام طور پر اسی علاج کی طرف رجوع کرتے ہیں، دوسرے علاج کی طرف صرف خصوصی حالات میں رجوع کرتے ہیں اور طب یونانی کی طرف تو صرف ان امراض میں لوگ رجوع کرتے ہیں جن میں دوسرا طریقہ علاج بالکل کام یاب نہیں ہوتا اور لوگ پریشان وعاجز ہوجاتے ہیں۔اور طب یونانی میں ایسے علاج کی عام طور پر ضرورت بھی نہیں پڑتی ، جس میں ستر کھولنا پڑے۔ اور عورتیں تو اس طرح کے علاج کے لیے حکما کے پاس جاتی ہی نہیں اور خود حکما بھی اس طرح کا علاج نہیں کرتے؛ بلکہ صرف مریض کی نبض دیکھ کر یا مریض کا حال سن کر نسخہ تجویز کردیتے ہیں؛ اس لیے موجودہ صورت حال میں مرد حکما سے مرد اور عورتیں دونوں علاج کراسکتی ہیں، اس لائن میں عورتوں کے اعضائے مستورہ دیکھ کر علاج کرنے کے لیے حکما عورتوں کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے۔ اور کسی خاتون کا کسی غیر محرم حکیم کے پاس پریکٹس اور مہارت کے لیے بیٹھنا اور اس کی نگرانی میں خواتین مریضوں کی تشخیص کرنا اور تشخیص اور علاج کے بارے میں حکیم سے بات کرنا وغیرہ فتنہ سے خالی معلوم نہیں ہوتا؛
اس لیے اگر آپ علم طب حاصل کرنا چاہتی ہیں تو حاصل کرلیں، اس میں شرعاً کچھ حرج نہیں؛ البتہ کسی نامحرم حکیم کے پاس بیٹھ کر پریکٹس نہ کریں ؛ بلکہ خود خواتین مریضوں کا علاج شروع کردیں اور احتیاط کے ساتھ کریں، انشاء اللہ کچھ عرصہ میں آپ خودماہر تجربہ کار ہوجائیں گی۔ اور اگر آپ کو کوئی خاتون حکیم مل جائے تو اس کے پاس رہ کر پریکٹس کرنے میں شرعاً کچھ حرج نہیں۔
مستفاد:وکذا ینظر مرید…مداواتھا ینظر الطبیب إلی موضع مرضھا بقدر الضرورة؛ إذ الضرورات تتقدر بقدرھا ……وینبغي أن یعلم امرأة تداویھا؛ لأن نظر الجنس إلی الجنس أخف (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الحظر والإباحة، فصل فی النظر والمس، ۹: ۵۳۲، ۵۳۳، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، قولہ: ”وینبغي الخ“:کذا أطلقہ فی الھدایة والخانیة، وقال فی الجوھرة: إذا کان المرض في سائر بدنھا غیر الفرج یجوز النظر إلیہ عند الدواء؛ لأنہ موضع ضرورة، وإن کان في موضع الفرج فینبغي أن یعلم امرأة تداویھا، فإن لم توجد وخافوا علیھا أن تھلک أو یصیبھا وجع لا تحتملہ یستتروا منھا کل شییٴ إلا موضع العلة، ثم یداویھا الرجل ویغض بصرہ ما استطاع إلا عن موضع الجرح اھ فتأمل، والظاھر أن ینبغي ھنا للوجوب (رد المحتار)۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سوال # 150053
میں علم طب حاصل کرنا چاہتی،لیکن اس میں مہارت کیلئے 1 ماہر حکیم کی نگرانی میں پریکٹس کرنی ہو گی،کیا میرے لئے مکمل پردے کے ساتھ ماہر حکیم کی نگرانی میں خواتین مریضوں کی تشخیص کرنا اور تشخیص اور علاج کے بارے میں حکیم صاحب سے بات کرنا جائز ہے ؟
Published on: Apr 25, 2017 جواب # 150053
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa: 644-776/N=7/1438
دور حاضر میں ایلو پیتھک علاج عروج پر ہے اور اپنی ترقی و مقبولیت میں سب پر فائق ہے اور لوگ عام طور پر اسی علاج کی طرف رجوع کرتے ہیں، دوسرے علاج کی طرف صرف خصوصی حالات میں رجوع کرتے ہیں اور طب یونانی کی طرف تو صرف ان امراض میں لوگ رجوع کرتے ہیں جن میں دوسرا طریقہ علاج بالکل کام یاب نہیں ہوتا اور لوگ پریشان وعاجز ہوجاتے ہیں۔اور طب یونانی میں ایسے علاج کی عام طور پر ضرورت بھی نہیں پڑتی ، جس میں ستر کھولنا پڑے۔ اور عورتیں تو اس طرح کے علاج کے لیے حکما کے پاس جاتی ہی نہیں اور خود حکما بھی اس طرح کا علاج نہیں کرتے؛ بلکہ صرف مریض کی نبض دیکھ کر یا مریض کا حال سن کر نسخہ تجویز کردیتے ہیں؛ اس لیے موجودہ صورت حال میں مرد حکما سے مرد اور عورتیں دونوں علاج کراسکتی ہیں، اس لائن میں عورتوں کے اعضائے مستورہ دیکھ کر علاج کرنے کے لیے حکما عورتوں کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے۔ اور کسی خاتون کا کسی غیر محرم حکیم کے پاس پریکٹس اور مہارت کے لیے بیٹھنا اور اس کی نگرانی میں خواتین مریضوں کی تشخیص کرنا اور تشخیص اور علاج کے بارے میں حکیم سے بات کرنا وغیرہ فتنہ سے خالی معلوم نہیں ہوتا؛
اس لیے اگر آپ علم طب حاصل کرنا چاہتی ہیں تو حاصل کرلیں، اس میں شرعاً کچھ حرج نہیں؛ البتہ کسی نامحرم حکیم کے پاس بیٹھ کر پریکٹس نہ کریں ؛ بلکہ خود خواتین مریضوں کا علاج شروع کردیں اور احتیاط کے ساتھ کریں، انشاء اللہ کچھ عرصہ میں آپ خودماہر تجربہ کار ہوجائیں گی۔ اور اگر آپ کو کوئی خاتون حکیم مل جائے تو اس کے پاس رہ کر پریکٹس کرنے میں شرعاً کچھ حرج نہیں۔
مستفاد:وکذا ینظر مرید…مداواتھا ینظر الطبیب إلی موضع مرضھا بقدر الضرورة؛ إذ الضرورات تتقدر بقدرھا ……وینبغي أن یعلم امرأة تداویھا؛ لأن نظر الجنس إلی الجنس أخف (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الحظر والإباحة، فصل فی النظر والمس، ۹: ۵۳۲، ۵۳۳، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، قولہ: ”وینبغي الخ“:کذا أطلقہ فی الھدایة والخانیة، وقال فی الجوھرة: إذا کان المرض في سائر بدنھا غیر الفرج یجوز النظر إلیہ عند الدواء؛ لأنہ موضع ضرورة، وإن کان في موضع الفرج فینبغي أن یعلم امرأة تداویھا، فإن لم توجد وخافوا علیھا أن تھلک أو یصیبھا وجع لا تحتملہ یستتروا منھا کل شییٴ إلا موضع العلة، ثم یداویھا الرجل ویغض بصرہ ما استطاع إلا عن موضع الجرح اھ فتأمل، والظاھر أن ینبغي ھنا للوجوب (رد المحتار)۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:9⃣2⃣1⃣
جس حصہ میں منی لگی ہو صرف اس حصہ کو دھونے سےکپڑا پاک ہوجائے گا۔
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: اگر کسی کپڑے میں منی لگ جائے توصرف وہ حصہ دھولینے سے جہاں منیٰ لگی ہوئی ہے کپڑا پاک ہوجائے گا اور پھر اس کپڑے میں نماز ادا ہوجائے گی یانہیں؟ ایک صاحب نے بتایا ہے کہ حالتِ جنابت میں جو کپڑے بدن سے لگے ہوئے ہوںگے سب کی تبدیلی لازمی ہے، توکیا ان صاحب کی بات درست ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: صرف جس حصہ میں منی لگی ہے اس حصہ کو دھونے سے کپڑا پاک ہوجائے گا اور اس میں نماز درست ہوجائے گی، یہ بات غلط ہے کہ حالتِ جنابت کا پہنا ہوا پورا کپڑا ناپاک ہوتا ہے؛ البتہ اگر نجاست لگنے کا یقین ہو؛ لیکن نجاست کی جگہ متعین کرنے میں دشواری ہو رہی ہو تو پھر پورا کپڑا دھونا ضروری ہوگا؛ تاکہ کوئی شبہ نہ رہے۔
مستفاد: عن ہمام بن الحارث قال: ضاف عائشۃ رضي اللّٰہ عنہا ضیف فأمرت لہ صفراء فنام فیہا فاحتلم فاستحیی أن یرسل إلیہا وبہا أثر الإحتلام فغمسہا في الماء ثم أرسل بہا فقالت عائشۃ رضي اللّٰہ عنہا: لم أفسد علینا ثوبنا إنما کان یکفیہ أن یفرکہ بأصابعہ، وربما فرکتہ من ثوب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بأصابعي۔ (سنن الترمذي ۱؍۳۱)
عن جابر بن سمرۃ رضي اللّٰہ عنہ قال: سأل رجل النبي ا أصلي في الثوب الذي أتی فیہ أہلي: قال نعم! إلا أن تری فیہ شیئا فتغسلہ۔ (موارد الظمآن ۱؍۸۲)
عن عائشۃ رضي اللّٰہ عنہا أنہا کانت تغسل المنی من ثوب رسول اللّٰہ ا، قالت: ثم أراہ فیہ بقعۃ أوبقعاً۔ (سنن أبي داؤد ۱؍۵۳، صحیح مسلم ۱؍۱۴۰)
ولو أن ثوبا أصابتہ النجاسۃ وہي کثیرۃ فجفت وذہب أثرہا وخفی مکانہا، غسل جمیع الثوب۔ (بدائع الصنائع ۱؍۲۳۶ زکریا)
فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ ہے
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جس حصہ میں منی لگی ہو صرف اس حصہ کو دھونے سےکپڑا پاک ہوجائے گا۔
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: اگر کسی کپڑے میں منی لگ جائے توصرف وہ حصہ دھولینے سے جہاں منیٰ لگی ہوئی ہے کپڑا پاک ہوجائے گا اور پھر اس کپڑے میں نماز ادا ہوجائے گی یانہیں؟ ایک صاحب نے بتایا ہے کہ حالتِ جنابت میں جو کپڑے بدن سے لگے ہوئے ہوںگے سب کی تبدیلی لازمی ہے، توکیا ان صاحب کی بات درست ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: صرف جس حصہ میں منی لگی ہے اس حصہ کو دھونے سے کپڑا پاک ہوجائے گا اور اس میں نماز درست ہوجائے گی، یہ بات غلط ہے کہ حالتِ جنابت کا پہنا ہوا پورا کپڑا ناپاک ہوتا ہے؛ البتہ اگر نجاست لگنے کا یقین ہو؛ لیکن نجاست کی جگہ متعین کرنے میں دشواری ہو رہی ہو تو پھر پورا کپڑا دھونا ضروری ہوگا؛ تاکہ کوئی شبہ نہ رہے۔
مستفاد: عن ہمام بن الحارث قال: ضاف عائشۃ رضي اللّٰہ عنہا ضیف فأمرت لہ صفراء فنام فیہا فاحتلم فاستحیی أن یرسل إلیہا وبہا أثر الإحتلام فغمسہا في الماء ثم أرسل بہا فقالت عائشۃ رضي اللّٰہ عنہا: لم أفسد علینا ثوبنا إنما کان یکفیہ أن یفرکہ بأصابعہ، وربما فرکتہ من ثوب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بأصابعي۔ (سنن الترمذي ۱؍۳۱)
عن جابر بن سمرۃ رضي اللّٰہ عنہ قال: سأل رجل النبي ا أصلي في الثوب الذي أتی فیہ أہلي: قال نعم! إلا أن تری فیہ شیئا فتغسلہ۔ (موارد الظمآن ۱؍۸۲)
عن عائشۃ رضي اللّٰہ عنہا أنہا کانت تغسل المنی من ثوب رسول اللّٰہ ا، قالت: ثم أراہ فیہ بقعۃ أوبقعاً۔ (سنن أبي داؤد ۱؍۵۳، صحیح مسلم ۱؍۱۴۰)
ولو أن ثوبا أصابتہ النجاسۃ وہي کثیرۃ فجفت وذہب أثرہا وخفی مکانہا، غسل جمیع الثوب۔ (بدائع الصنائع ۱؍۲۳۶ زکریا)
فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ ہے
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail