جواب نمبر:9⃣9⃣
قربانی کی فضیلت:
قربانی اسلام کا ایک عظیم ، عاشقانہ، والہانہ اور بے حد فضیلت والا حکم ہے، ہرزمانے میں مسلمانوں نے نہایت محبت، عشق اور اہتمام سے اس حکم کو پورا کیا، اور پورا پورا سال اس کی تیاری اور انتظار میں گزارا، مگر اس زمانے کے ملحدین اور نام نہاد روشن خیالوں نے مسلمانوں کے دلوں سے قربانی کی اہمیت کم کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رکھا ہے، اس لیے اس بات کی ضرورت بڑھ گئی ہے کہ مسلمانوں کو عید الاضحی کے موقع پر قربانی کی اہمیت اور فضیلت پوری قوت کے ساتھ بیان کی جائے اور انہیں ملحدین کے ناپاک پروپیگنڈے سے محفوظ رکھا جائے۔
قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے، انہوں نے اللہ پاک کے حکم پر اپنے اکلوتے بیٹے کی گردن پر چھری چلادی اور عشق کے امتحان میں کامیاب ہوگئے، آج ہم سے بیٹے کی گردن پر چھری چلانے کا تقاضانہیں کیا گیابلکہ اپنے پاکیزہ مال سے ا یک حلال جانور خرید کر ذبح کرنے کا حکم دیا گیا ہے، ہمیں چاہیے کہ ہم پورے ذوق وشوق اور اہتمام کے ساتھ اس حکم کو پورا کریں اور اس میں بڑھ چڑھ کر سبقت کریں۔
(اسلامی مہینوں کے فضائل واحکام)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا:
’’یوم النحریعنی عید الاضحی کے دن اولادِ آدم کا کوئی عمل اللہ تعالیٰ کو قربانی سے زیادہ محبوب نہیں ہے ، اور قربانی والا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں اور بالوں اور کھُروں کے ساتھ آئے گا، اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے، اللہ تعالیٰ کی رضا اور مقبولیت کے مقام پر پہنچ جاتا ہے، پس اے اللہ کے بندو پوری خوشدلی کے ساتھ قربانی کیا کرو۔‘‘
(ترمذی،ابن ماجہ، مشکوۃ)
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ :
’’رسول اللہ ﷺکے صحابہ نے عرض کیاکہ یا رسول اللہ! یہ قربانیاں کیا ہیں؟
آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: یہ تمہارے والد ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے، صحابۂ کرام نے عرض کیا کہ ہمارے لیے ان میں کیا(اجر) ہے؟ آپ ﷺنے ارشاد فرمایاکہ ہربال کے بدلے ایک نیکی، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ اُون کا بھی یہی حساب ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: ہاں! اُون کے ہر بال کے بدلے بھی ایک نیکی۔‘‘
(مسند احمد، ابن ماجہ، مشکوۃ)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
قربانی کی فضیلت:
قربانی اسلام کا ایک عظیم ، عاشقانہ، والہانہ اور بے حد فضیلت والا حکم ہے، ہرزمانے میں مسلمانوں نے نہایت محبت، عشق اور اہتمام سے اس حکم کو پورا کیا، اور پورا پورا سال اس کی تیاری اور انتظار میں گزارا، مگر اس زمانے کے ملحدین اور نام نہاد روشن خیالوں نے مسلمانوں کے دلوں سے قربانی کی اہمیت کم کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رکھا ہے، اس لیے اس بات کی ضرورت بڑھ گئی ہے کہ مسلمانوں کو عید الاضحی کے موقع پر قربانی کی اہمیت اور فضیلت پوری قوت کے ساتھ بیان کی جائے اور انہیں ملحدین کے ناپاک پروپیگنڈے سے محفوظ رکھا جائے۔
قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے، انہوں نے اللہ پاک کے حکم پر اپنے اکلوتے بیٹے کی گردن پر چھری چلادی اور عشق کے امتحان میں کامیاب ہوگئے، آج ہم سے بیٹے کی گردن پر چھری چلانے کا تقاضانہیں کیا گیابلکہ اپنے پاکیزہ مال سے ا یک حلال جانور خرید کر ذبح کرنے کا حکم دیا گیا ہے، ہمیں چاہیے کہ ہم پورے ذوق وشوق اور اہتمام کے ساتھ اس حکم کو پورا کریں اور اس میں بڑھ چڑھ کر سبقت کریں۔
(اسلامی مہینوں کے فضائل واحکام)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا:
’’یوم النحریعنی عید الاضحی کے دن اولادِ آدم کا کوئی عمل اللہ تعالیٰ کو قربانی سے زیادہ محبوب نہیں ہے ، اور قربانی والا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں اور بالوں اور کھُروں کے ساتھ آئے گا، اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے، اللہ تعالیٰ کی رضا اور مقبولیت کے مقام پر پہنچ جاتا ہے، پس اے اللہ کے بندو پوری خوشدلی کے ساتھ قربانی کیا کرو۔‘‘
(ترمذی،ابن ماجہ، مشکوۃ)
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ :
’’رسول اللہ ﷺکے صحابہ نے عرض کیاکہ یا رسول اللہ! یہ قربانیاں کیا ہیں؟
آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: یہ تمہارے والد ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے، صحابۂ کرام نے عرض کیا کہ ہمارے لیے ان میں کیا(اجر) ہے؟ آپ ﷺنے ارشاد فرمایاکہ ہربال کے بدلے ایک نیکی، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ اُون کا بھی یہی حساب ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: ہاں! اُون کے ہر بال کے بدلے بھی ایک نیکی۔‘‘
(مسند احمد، ابن ماجہ، مشکوۃ)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:0⃣0⃣1⃣
ہاتھ پیروں پر پکا پینٹ لگا ہونے کی حالت میں وضو کرنا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: احقر پکا پینٹ اور کلر کا کام کرتا ہے، پینٹ ہاتھ کے ناخونوں پر جم جاتا ہے، اور ہفتوں میں چھوٹتا ہے، کیا اس کے لگے رہنے سے میرا وضو وغسل ہوتا ہے یانہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: نماز پڑھنے سے پہلے تیل وغیرہ لگاکر ہاتھ اور بدن کے دیگر حصہ سے اچھی طرح پینٹ کو صاف کرنا لازم ہے، اگر پوری کوشش کے باوجود کچھ حصہ رہ جائے تو ضرورت اور حرج کی وجہ سے وضو اور غسل میں کوئی خرابی لازم نہیں آئے گی۔
وفي الجامع الصغیر: سئل أبو القاسم عن وافر الظفر الذي یبقی في أظفارہ الدرن، أو الذي یعمل عمل الطین أو المرأۃ التي صبغت إصبعہا بالحناء أو الصرام أو الصباغ قال: کل ذٰلک سواء یجزیہم وضوء ہم إذ لایستطاع الامتناع عنہ إلا بحرج، والفتوی علی الجواز۔ (الفتاوی الہندیۃ ۱؍۴)
ویعفی أثر شق زوالہ بأن یحتاج في إخراجہ إلی نحو الصابون۔ (مجمع الأنہر ۱؍۹۰)
والمراد بالأثر اللون والریح، فإن شق إزالتہما سقطت۔ (البحر الرائق ۱؍۲۳۷)
شرط صحتہ أي الوضوء زوال ما یمنع وصول الماء إلی الجسد کشمع شحم۔ (مراقي الفلاح مع الطحطاوي ۶۲ أشرفیۃ)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
ہاتھ پیروں پر پکا پینٹ لگا ہونے کی حالت میں وضو کرنا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: احقر پکا پینٹ اور کلر کا کام کرتا ہے، پینٹ ہاتھ کے ناخونوں پر جم جاتا ہے، اور ہفتوں میں چھوٹتا ہے، کیا اس کے لگے رہنے سے میرا وضو وغسل ہوتا ہے یانہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: نماز پڑھنے سے پہلے تیل وغیرہ لگاکر ہاتھ اور بدن کے دیگر حصہ سے اچھی طرح پینٹ کو صاف کرنا لازم ہے، اگر پوری کوشش کے باوجود کچھ حصہ رہ جائے تو ضرورت اور حرج کی وجہ سے وضو اور غسل میں کوئی خرابی لازم نہیں آئے گی۔
وفي الجامع الصغیر: سئل أبو القاسم عن وافر الظفر الذي یبقی في أظفارہ الدرن، أو الذي یعمل عمل الطین أو المرأۃ التي صبغت إصبعہا بالحناء أو الصرام أو الصباغ قال: کل ذٰلک سواء یجزیہم وضوء ہم إذ لایستطاع الامتناع عنہ إلا بحرج، والفتوی علی الجواز۔ (الفتاوی الہندیۃ ۱؍۴)
ویعفی أثر شق زوالہ بأن یحتاج في إخراجہ إلی نحو الصابون۔ (مجمع الأنہر ۱؍۹۰)
والمراد بالأثر اللون والریح، فإن شق إزالتہما سقطت۔ (البحر الرائق ۱؍۲۳۷)
شرط صحتہ أي الوضوء زوال ما یمنع وصول الماء إلی الجسد کشمع شحم۔ (مراقي الفلاح مع الطحطاوي ۶۲ أشرفیۃ)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:1⃣0⃣1⃣
ناخن پالش
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ناخن پالش کا استعمال کیسا ہے؟ عام طور پر یہ بات اس طرح سننے میں آتی ہے کہ اس کے لگانے سے نہ غسل ہوتا ہے اور نہ وضو کیا یہ صحیح ہے؟ شریعت میں اگر استعمال درست نہیں تو کیا ایام مخصوصہ میں اس کے لگانے کی اجازت ہے، جن ایام میں نماز وغیرہ کے لیے وضو اور غسل کی ضرورت نہیں پڑتی کیا حکم ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: ناخن پالش لگے رہنے کی صورت میں وضو اور غسل صحیح نہیں ہوسکتا، لہٰذا اس کے بجائے زینت کے لیے مہندی کا استعمال کیا جائے جو مانع غسل ووضو نہیں ہے، بہتر یہ ہے کہ ناپاکی کے ایام میں بھیناخن پالش سے احتراز کریں اس لیے کہ پالش لگا کر اس کو چھڑانا بھی ایک کارے دارد ہے، اس لئے ایسے فیشن سے دورہی رہنا اچھا ہے جو طہارت کو مشکوک بنادے۔
إن صلبا منع وھو الأصح (درمختار) لامتناع نفوذ الماء مع عدم الضرورۃ والحرج۔ (شامي ۱؍۲۸۹ زکریا)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
بالوں او رناخون پر رنگ سے نماز کا حکم ؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: آج کل بالوں میں کلر اور ڈائی کرائی جاتی ہے اس سے نمازہوجائے گی یا نہیں؟ اور ناخن پر پالش لگانے سے نماز ہو جائے گی کہ نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: بالوں یا ناخونوں پر ایسارنگ لگانے سے جو اندر تک پانی پہنچانے سے مانع نہ ہو، مثلاًمہندی اور خضاب وغیرہ، تو اس سے وضویا نمازمیں کوئی خرابی نہیں آتی؛ لیکن اگر ایسی پالش نا خونو ں پرلگائی جائے جن کی باقاعدہ پرت جم جاتی ہے، تو اس کے لگانے سے وضودرست نہیں ہوگا؛ کیوںکہ اندرتک پانی نہیں پہنچا، اور جب وضو درست نہیں ہوگا تو نماز بھی صحیح نہ ہوگی۔
سئل أبو القاسم عن وافر الظفر الذي یبقی في أظفارہ الدرن أو الذي یعمل عمل الطین أو المرأۃ التي صبغت إصبعیہا بالحناء أو الصرام إلی قولہ یجز یہم وضوء ہم۔ (الفتاوی الہندیۃ ۱؍۴)
أو لزق بأصل ظفرہ طین یابس أو رطب لم یجز۔ (الفتاوی الہندیۃ ۱؍۴)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
ناخن پالش
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ناخن پالش کا استعمال کیسا ہے؟ عام طور پر یہ بات اس طرح سننے میں آتی ہے کہ اس کے لگانے سے نہ غسل ہوتا ہے اور نہ وضو کیا یہ صحیح ہے؟ شریعت میں اگر استعمال درست نہیں تو کیا ایام مخصوصہ میں اس کے لگانے کی اجازت ہے، جن ایام میں نماز وغیرہ کے لیے وضو اور غسل کی ضرورت نہیں پڑتی کیا حکم ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: ناخن پالش لگے رہنے کی صورت میں وضو اور غسل صحیح نہیں ہوسکتا، لہٰذا اس کے بجائے زینت کے لیے مہندی کا استعمال کیا جائے جو مانع غسل ووضو نہیں ہے، بہتر یہ ہے کہ ناپاکی کے ایام میں بھیناخن پالش سے احتراز کریں اس لیے کہ پالش لگا کر اس کو چھڑانا بھی ایک کارے دارد ہے، اس لئے ایسے فیشن سے دورہی رہنا اچھا ہے جو طہارت کو مشکوک بنادے۔
إن صلبا منع وھو الأصح (درمختار) لامتناع نفوذ الماء مع عدم الضرورۃ والحرج۔ (شامي ۱؍۲۸۹ زکریا)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
بالوں او رناخون پر رنگ سے نماز کا حکم ؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: آج کل بالوں میں کلر اور ڈائی کرائی جاتی ہے اس سے نمازہوجائے گی یا نہیں؟ اور ناخن پر پالش لگانے سے نماز ہو جائے گی کہ نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: بالوں یا ناخونوں پر ایسارنگ لگانے سے جو اندر تک پانی پہنچانے سے مانع نہ ہو، مثلاًمہندی اور خضاب وغیرہ، تو اس سے وضویا نمازمیں کوئی خرابی نہیں آتی؛ لیکن اگر ایسی پالش نا خونو ں پرلگائی جائے جن کی باقاعدہ پرت جم جاتی ہے، تو اس کے لگانے سے وضودرست نہیں ہوگا؛ کیوںکہ اندرتک پانی نہیں پہنچا، اور جب وضو درست نہیں ہوگا تو نماز بھی صحیح نہ ہوگی۔
سئل أبو القاسم عن وافر الظفر الذي یبقی في أظفارہ الدرن أو الذي یعمل عمل الطین أو المرأۃ التي صبغت إصبعیہا بالحناء أو الصرام إلی قولہ یجز یہم وضوء ہم۔ (الفتاوی الہندیۃ ۱؍۴)
أو لزق بأصل ظفرہ طین یابس أو رطب لم یجز۔ (الفتاوی الہندیۃ ۱؍۴)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:2⃣0⃣1⃣
ناخن پالش کی بلا
ناخن پالش لگانا کفار کی تقلید ہے، اس سے نہ وضو ہوتا ہے، نہ غسل، نہ نماز۔
سوال:
آج کل نوجوان لڑکیاں اس کشمکش میں مبتلا ہیں کہ آیا لڑکیاں جو ناخنوں کو پالش لگاتی ہیں اس کو صاف کرنے کے بعد وضو کریں یا پالشکے اُوپر سے ہی وضو ہوجائے گا؟ کئی سمجھدار اور تعلیم یافتہ لڑکیاں اور معزّز نمازی عورتیں یہ کہتی ہیں کہ ناخنوں کی پالش صاف کئے بغیر ہی وضو ہوجائے گا۔؟
جواب:
ناخنوں سے متعلق دو بیماریاں عورتوں میں، خصوصاً نوجوان لڑکیوں میں بہت ہی عام ہوتی جارہی ہیں، ایک ناخن بڑھانے کا مرض اور دُوسرا ناخنپالش کا۔ ناخن بڑھانے سے آدمی کے ہاتھ بالکل درندوں جیسے ہوتے ہیں اور پھر ان میں گندگی بھی رہ سکتی ہے، جس سے ناخنوں میں جراثیم پیدا ہوتے ہیں اور مختلف النوع بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دس چیزوں کو ”فطرت“ میں شمار کیا ہے، ان میں ایک ناخن تراشنا بھی ہے، پس ناخن بڑھانے کا فیشن انسانی فطرت کے خلاف ہے، جس کو مسلم خواتین کافروں کی تقلید میں اپنا رہی ہیں، مسلم خواتین کو اس خلافِ فطرت تقلید سے پرہیز کرنا چاہئے۔
دُوسرا مرض ناخن پالش کا ہے۔ حق تعالیٰ شانہ نے عورت کے اعضاء میں فطری حسن رکھا ہے، ناخن پالش کا مصنوعی لبادہ محض غیرفطری چیز ہے، پھر اس میں ناپاک چیزوں کی آمیزش بھی ہوتی ہے، وہی ناپاک ہاتھ کھانے وغیرہ میں استعمال کرنا طبعی کراہت کی چیز ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہناخن پالش کی تہ جم جاتی ہے اور جب تک اس کو صاف نہ کردیا جائے، پانی نیچے نہیں پہنچ سکتا۔ پس نہ وضو ہوتا ہے، نہ غسل، آدمی ناپاک کا ناپاک رہتا ہے۔ جو تعلیم یافتہ لڑکیاں اور معزّز نمازی عورتیں یہ کہتی ہیں کہ ناخن پالش کو صاف کئے بغیر ہی وضو ہوجاتا ہے وہ غلط فہمی میں مبتلا ہیں، اس کو صاف کئے بغیر آدمی پاک نہیں ہوتا، نہ نماز ہوگی، نہ تلاوت جائز ہوگی۔
ناخن پالش والی میّت کی پالش صاف کرکے غسل دیں۔
سوال:
اگر کہیں موت آگئی تو ناخن پالش لگی ہوئی عورت کی میّت کا غسل صحیح ہوجائے گا؟
جواب:
اس کا غسل صحیح نہیں ہوگا، اس لئے ناخن پالش صاف کرکے غسل دیا جائے۔
مستفاد:آپ کے مسائل اور انکا حل2
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
ناخن پالش کی بلا
ناخن پالش لگانا کفار کی تقلید ہے، اس سے نہ وضو ہوتا ہے، نہ غسل، نہ نماز۔
سوال:
آج کل نوجوان لڑکیاں اس کشمکش میں مبتلا ہیں کہ آیا لڑکیاں جو ناخنوں کو پالش لگاتی ہیں اس کو صاف کرنے کے بعد وضو کریں یا پالشکے اُوپر سے ہی وضو ہوجائے گا؟ کئی سمجھدار اور تعلیم یافتہ لڑکیاں اور معزّز نمازی عورتیں یہ کہتی ہیں کہ ناخنوں کی پالش صاف کئے بغیر ہی وضو ہوجائے گا۔؟
جواب:
ناخنوں سے متعلق دو بیماریاں عورتوں میں، خصوصاً نوجوان لڑکیوں میں بہت ہی عام ہوتی جارہی ہیں، ایک ناخن بڑھانے کا مرض اور دُوسرا ناخنپالش کا۔ ناخن بڑھانے سے آدمی کے ہاتھ بالکل درندوں جیسے ہوتے ہیں اور پھر ان میں گندگی بھی رہ سکتی ہے، جس سے ناخنوں میں جراثیم پیدا ہوتے ہیں اور مختلف النوع بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دس چیزوں کو ”فطرت“ میں شمار کیا ہے، ان میں ایک ناخن تراشنا بھی ہے، پس ناخن بڑھانے کا فیشن انسانی فطرت کے خلاف ہے، جس کو مسلم خواتین کافروں کی تقلید میں اپنا رہی ہیں، مسلم خواتین کو اس خلافِ فطرت تقلید سے پرہیز کرنا چاہئے۔
دُوسرا مرض ناخن پالش کا ہے۔ حق تعالیٰ شانہ نے عورت کے اعضاء میں فطری حسن رکھا ہے، ناخن پالش کا مصنوعی لبادہ محض غیرفطری چیز ہے، پھر اس میں ناپاک چیزوں کی آمیزش بھی ہوتی ہے، وہی ناپاک ہاتھ کھانے وغیرہ میں استعمال کرنا طبعی کراہت کی چیز ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہناخن پالش کی تہ جم جاتی ہے اور جب تک اس کو صاف نہ کردیا جائے، پانی نیچے نہیں پہنچ سکتا۔ پس نہ وضو ہوتا ہے، نہ غسل، آدمی ناپاک کا ناپاک رہتا ہے۔ جو تعلیم یافتہ لڑکیاں اور معزّز نمازی عورتیں یہ کہتی ہیں کہ ناخن پالش کو صاف کئے بغیر ہی وضو ہوجاتا ہے وہ غلط فہمی میں مبتلا ہیں، اس کو صاف کئے بغیر آدمی پاک نہیں ہوتا، نہ نماز ہوگی، نہ تلاوت جائز ہوگی۔
ناخن پالش والی میّت کی پالش صاف کرکے غسل دیں۔
سوال:
اگر کہیں موت آگئی تو ناخن پالش لگی ہوئی عورت کی میّت کا غسل صحیح ہوجائے گا؟
جواب:
اس کا غسل صحیح نہیں ہوگا، اس لئے ناخن پالش صاف کرکے غسل دیا جائے۔
مستفاد:آپ کے مسائل اور انکا حل2
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:3⃣0⃣1⃣
ناخن پالش کی موجودگی میں وضوء اور غسل کا حکم :
سوال:
ناخن پالش کے ہوتے ہوئے وضوء اور غسل کاکیا حکم ہے ؟
جواب:
اگر اس کے ازالہ میں حرج ہو تو وضوء ہو جائے گا لیکن مشکوک چیزوں کے لگانے سے اجتناب کرنا چاہئے اور زینت کیلئے مہندی وغیرہ کا فی ہے ۔
در مختار میں ہے :
ویجب ای یفرض غسل کل ما یمکن من البدن بلا حرج مرۃ … ولا یمنع ما علی ظفر صباغ ولا طعام بین اسنانہ او فی سنہ المجوف بہ یفتی ۔ وقیل ان صلبا منع وہو الاصح۔
شامی میں ہے :
(قولہ أن صلبا) ای ان کان ممضوغا مضغا متأکدا ، بحیث تداخلت اجزاؤہ وصار لہ لزوجۃ وعلاکۃ کالعجین شرح المنیۃ۔(قولہ وہو الاصح ) صرح بہ فی شرح المنیۃ وقال لامتناع نفوذ الماء مع عدم الضرورۃ والحرج ۔(الدرالمختارمع الشامی ۱/ ۱۵۲/ ۱۵۴)
فتاوی ہندیہ میں ہے :
والصرام والصباغ مافی ظفرہما یمنع تمام الاغتسال وقیل کل ذلک یجزیہم للحرج والضرورۃ ومواضع الضرورۃ مستثناۃ عن قواعد الشرع کذا فی الظہیریۃ۔
(فتاوی ہندیہ ۱/ ۱۳)
فتاوی حقانیہ میں ہے :
موجودہ دور کے نامور علماء ناخن پالش کے عدم جواز کے قائل ہیں ، کیوں کہناخن پالش سے ناخن کا جسم مستور ہو کر وضوء اور غسل میں اس کو پانی پہنچنا ممکن نہیں رہتا ، اسلئے گوندھے ہو ئے آٹے کی طرح مانع وضوء اور غسل ہے ۔
لیکن بعض دوسرے علماء کے نزدیک ناخن پالش اگر عورت کی زینت مان لی جائے تو پھر ایسی صورت میں اگر ازالہ میں دشواری نہ ہو تو وضوء اور غسل کے لئے ازالہ ضروری ہوگا ، اور اگر ازالہ میں حرج ہو لیکن اس کی تہہ نہ بنی ہو تو پھر اس کا حکم مہندی کی طرح ہو گا اور تہہ بن جانے کی صورت میں اس کے ازالہ میں حرج ہو تو موجبِ حرج ہو نے کی وجہ سے پا نی کا ایصال ضروری نہیں ۔بحوالہ در مختار کما مر۔(فتاوی حقانیہ ۲/ ۵۰۱)
البتہ دوسرے علماء کے نزدیک ناخن پالش وضوء اور غسل کے لئے مانع ہے ۔
ملاحظہ ہو : احسن الفتاوی ۲/ ۲۶، جدید فقہی مسائل ۱/ ۸۷۔
مستفاد:فتاوی دارالعلوم زکریا
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
ناخن پالش کی موجودگی میں وضوء اور غسل کا حکم :
سوال:
ناخن پالش کے ہوتے ہوئے وضوء اور غسل کاکیا حکم ہے ؟
جواب:
اگر اس کے ازالہ میں حرج ہو تو وضوء ہو جائے گا لیکن مشکوک چیزوں کے لگانے سے اجتناب کرنا چاہئے اور زینت کیلئے مہندی وغیرہ کا فی ہے ۔
در مختار میں ہے :
ویجب ای یفرض غسل کل ما یمکن من البدن بلا حرج مرۃ … ولا یمنع ما علی ظفر صباغ ولا طعام بین اسنانہ او فی سنہ المجوف بہ یفتی ۔ وقیل ان صلبا منع وہو الاصح۔
شامی میں ہے :
(قولہ أن صلبا) ای ان کان ممضوغا مضغا متأکدا ، بحیث تداخلت اجزاؤہ وصار لہ لزوجۃ وعلاکۃ کالعجین شرح المنیۃ۔(قولہ وہو الاصح ) صرح بہ فی شرح المنیۃ وقال لامتناع نفوذ الماء مع عدم الضرورۃ والحرج ۔(الدرالمختارمع الشامی ۱/ ۱۵۲/ ۱۵۴)
فتاوی ہندیہ میں ہے :
والصرام والصباغ مافی ظفرہما یمنع تمام الاغتسال وقیل کل ذلک یجزیہم للحرج والضرورۃ ومواضع الضرورۃ مستثناۃ عن قواعد الشرع کذا فی الظہیریۃ۔
(فتاوی ہندیہ ۱/ ۱۳)
فتاوی حقانیہ میں ہے :
موجودہ دور کے نامور علماء ناخن پالش کے عدم جواز کے قائل ہیں ، کیوں کہناخن پالش سے ناخن کا جسم مستور ہو کر وضوء اور غسل میں اس کو پانی پہنچنا ممکن نہیں رہتا ، اسلئے گوندھے ہو ئے آٹے کی طرح مانع وضوء اور غسل ہے ۔
لیکن بعض دوسرے علماء کے نزدیک ناخن پالش اگر عورت کی زینت مان لی جائے تو پھر ایسی صورت میں اگر ازالہ میں دشواری نہ ہو تو وضوء اور غسل کے لئے ازالہ ضروری ہوگا ، اور اگر ازالہ میں حرج ہو لیکن اس کی تہہ نہ بنی ہو تو پھر اس کا حکم مہندی کی طرح ہو گا اور تہہ بن جانے کی صورت میں اس کے ازالہ میں حرج ہو تو موجبِ حرج ہو نے کی وجہ سے پا نی کا ایصال ضروری نہیں ۔بحوالہ در مختار کما مر۔(فتاوی حقانیہ ۲/ ۵۰۱)
البتہ دوسرے علماء کے نزدیک ناخن پالش وضوء اور غسل کے لئے مانع ہے ۔
ملاحظہ ہو : احسن الفتاوی ۲/ ۲۶، جدید فقہی مسائل ۱/ ۸۷۔
مستفاد:فتاوی دارالعلوم زکریا
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:4⃣0⃣1⃣
سوال:
جوتوں پر پالش کرنے کے بعد اگر پالش ناخن وغیرہ میں لگی رہے اچھی طرح صاف نہ کیا جائے تو وضو وغیرہ میں کوئی حرج تو نہیں کہ اسمیں موم کی امیزش ہوتی ہے، موم پانی کو جذب نہیں کرتا؟
الجواب:
اگر محض رنگ اور کسی قدر چکناہٹ باقی ہے تو اس سے وضو میں خلل نہیں آتا جیسے کہ اگر تیل لگا ہوا ہو اور اس پر پانی بہا دیا جائے، اگر صرف رنگ اور چکناہٹ ہی نہیں بلکہ موم بھی باقی ہے جس سے پانی نہیں پہنچ سکتا تو نہ وضو درست، نہ غسل۔
ویجب: ای یفرض غسل کل ما یمکن من البدن بلا حرج مرة کاذن الی آخرہ ، ولا یمنع الطھارة ونیم:ای خرء ذباب وبرغوث لم یصل الماء تحتہ،وحناء ولو جرمہ-بہ یفتی-ودرن ووسخ،وکذا دھن ودسومة الی آخرہ،ولا یمنع ما علی ظفر صباغ ولا طعام بین اسنانہ اوفی سنہ المجوف،بہ یفتی،
وقیل:ان صلیا، منع وھو الاصح"(در مختار 152 154/1 مطلب: ابحاث الغسل،سعید
وکذا فی الفتاوی العالمگیریہ 4/1الفصل الاول فی فرائض الوضوء، رشیدیہ)
وکذا فی مراقی الفلاح 63/1فصل فی تمام احکام الوضو،قدیمی)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سوال:
جوتوں پر پالش کرنے کے بعد اگر پالش ناخن وغیرہ میں لگی رہے اچھی طرح صاف نہ کیا جائے تو وضو وغیرہ میں کوئی حرج تو نہیں کہ اسمیں موم کی امیزش ہوتی ہے، موم پانی کو جذب نہیں کرتا؟
الجواب:
اگر محض رنگ اور کسی قدر چکناہٹ باقی ہے تو اس سے وضو میں خلل نہیں آتا جیسے کہ اگر تیل لگا ہوا ہو اور اس پر پانی بہا دیا جائے، اگر صرف رنگ اور چکناہٹ ہی نہیں بلکہ موم بھی باقی ہے جس سے پانی نہیں پہنچ سکتا تو نہ وضو درست، نہ غسل۔
ویجب: ای یفرض غسل کل ما یمکن من البدن بلا حرج مرة کاذن الی آخرہ ، ولا یمنع الطھارة ونیم:ای خرء ذباب وبرغوث لم یصل الماء تحتہ،وحناء ولو جرمہ-بہ یفتی-ودرن ووسخ،وکذا دھن ودسومة الی آخرہ،ولا یمنع ما علی ظفر صباغ ولا طعام بین اسنانہ اوفی سنہ المجوف،بہ یفتی،
وقیل:ان صلیا، منع وھو الاصح"(در مختار 152 154/1 مطلب: ابحاث الغسل،سعید
وکذا فی الفتاوی العالمگیریہ 4/1الفصل الاول فی فرائض الوضوء، رشیدیہ)
وکذا فی مراقی الفلاح 63/1فصل فی تمام احکام الوضو،قدیمی)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
Telegram
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
"جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند" میں روزانہ ایک دو مسئلہ مدلل ومزین انداز میں بطورِ استفادہ آپ کو ملے گا،
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1
جواب نمبر:5⃣0⃣1⃣
چاندی میں زکوٰة کا نِصاب:
چاندی کا نصاب عربی اوزان کے اعتبار سے دو سو درہم ہے، جس کا وزن تولہ کے حساب سے ساڑھے باوَن تولہ، اور گرام کے اعتبار سے ۶۱۲ چھ سو بارہ گرام ۳۶۰ تین سو ساٹھ مِلی گرام بنتا ہے.
"نصاب فضة مأتا درھم بالاجماع“
(الموسوعة الفقہیہ۲۳ص۲۶۴)
(تاتارخانیہ۳ص۱۵۵زکریا) (ایضاح المسائل ص۱۰۲) (شامی۳ص۲۲۴)
.
فائدہ: زکوٰة میں مال کا چالیسواں حصّہ دینا ہوتا ہے، یعنی چالیس روپے میں سے ایک روپیہ مثلاً، اِسی طرح اندازہ لگا کر سونے چاندی کی زکوٰة ادا کریں گے.
"وھو ربع عشرنصاب أو ان یقوم مقامہ“ (شامی۳ص۱۷۲) (طحطاوی ص۳۸۹) (بحرالرائق۲ص۲۹۳)
.
سونے کا نصاب:
سونے کا نصاب عربی اوزان کے اعتبار سے بیس مِثقال ہے، جس کا وزن تولہ کے حساب سے ساڑھے سات تولہ، اور گرام کے حساب سے ۸۷ ستاسی گرام ۴۸۰ چار سو اسّی ملی گرام بنتا ہے.
"نصاب الذھب عشرون مثقالا“ (شامی۳ص۲۲۴) (ھدایہ۱ص۲۱۱)
.
پھر زکوٰة میں ان بیس مثقال میں سے آدھا مثقال، یا چالیس گرام میں سے ایک گرام، یا اُس کی قیمت ادا کریں گے.
"وفی کل عشرین مثقالا نصف مثقال“ (تاتارخانیہ۳ص۱۵۵زکریا) (ایضاح المسا ص۱۰۳) (ھندیہ۱ص۱۷۸)
حدیث: عن علی رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: فاذا کانت لک مأتا درھم و حال علیہا الحول ففیھا خمسة دراھم، ولیس علیک شئی یعنی فی الذھب حتی تکون لک عشرون دینارا فاذا کانت لک عشرون دینارا وحال علیھا الحول ففیھا نصف دینار فما زاد فبحساب ذالک...الخ(ابوداؤد۱ص۲۲۱)
.
روپیہ پیسہ اور مال تجارت میں زکوٰة کا نصاب:
روپیہ پیسہ میں چاندی کے نصاب کا اعتبار ہوگا یعنی جب حوائجِ اصلیّہ سے زائد اتنا روپیہ اور مال جمع ہوجائے جس سے ساڑھے باوَن تولہ چاندی خریدی جاسکے تو اس روپیہ پیسہ میں زکوٰة واجب ہوجائے گی."الزکوة واجبة فی عروض التجارة کائنة ما کانت اذا بلغت قیمتھا نصابا من الورق والذھب کذا فی الھدایہ (ھندیہ۱ص۱۷۹)
(آپکے مسائل اور ان کا حل۵ص۸۲)
فائدہ: وجوبِ زکوة کیلئے مال پر سال کا گزرنا ضروری ہے، اس سے پہلے زکوة دینا واجب نہیں،
نِصاب: اِتنا مال جس پر زکوٰة یعنی اُس مال کا چالیسواں حصہ ہر سال فقرا کو دے دینا واجب ہو، جس کا سیّد کو دینا حرام ہے.
.
زکوٰة کا نصاب: اِس قدر مال مَوَیشِی یا سونا چاندی یا مالِ تجارت وغیرہ جس پر زکوٰۃ دینا واجب ہے.
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashud t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
چاندی میں زکوٰة کا نِصاب:
چاندی کا نصاب عربی اوزان کے اعتبار سے دو سو درہم ہے، جس کا وزن تولہ کے حساب سے ساڑھے باوَن تولہ، اور گرام کے اعتبار سے ۶۱۲ چھ سو بارہ گرام ۳۶۰ تین سو ساٹھ مِلی گرام بنتا ہے.
"نصاب فضة مأتا درھم بالاجماع“
(الموسوعة الفقہیہ۲۳ص۲۶۴)
(تاتارخانیہ۳ص۱۵۵زکریا) (ایضاح المسائل ص۱۰۲) (شامی۳ص۲۲۴)
.
فائدہ: زکوٰة میں مال کا چالیسواں حصّہ دینا ہوتا ہے، یعنی چالیس روپے میں سے ایک روپیہ مثلاً، اِسی طرح اندازہ لگا کر سونے چاندی کی زکوٰة ادا کریں گے.
"وھو ربع عشرنصاب أو ان یقوم مقامہ“ (شامی۳ص۱۷۲) (طحطاوی ص۳۸۹) (بحرالرائق۲ص۲۹۳)
.
سونے کا نصاب:
سونے کا نصاب عربی اوزان کے اعتبار سے بیس مِثقال ہے، جس کا وزن تولہ کے حساب سے ساڑھے سات تولہ، اور گرام کے حساب سے ۸۷ ستاسی گرام ۴۸۰ چار سو اسّی ملی گرام بنتا ہے.
"نصاب الذھب عشرون مثقالا“ (شامی۳ص۲۲۴) (ھدایہ۱ص۲۱۱)
.
پھر زکوٰة میں ان بیس مثقال میں سے آدھا مثقال، یا چالیس گرام میں سے ایک گرام، یا اُس کی قیمت ادا کریں گے.
"وفی کل عشرین مثقالا نصف مثقال“ (تاتارخانیہ۳ص۱۵۵زکریا) (ایضاح المسا ص۱۰۳) (ھندیہ۱ص۱۷۸)
حدیث: عن علی رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: فاذا کانت لک مأتا درھم و حال علیہا الحول ففیھا خمسة دراھم، ولیس علیک شئی یعنی فی الذھب حتی تکون لک عشرون دینارا فاذا کانت لک عشرون دینارا وحال علیھا الحول ففیھا نصف دینار فما زاد فبحساب ذالک...الخ(ابوداؤد۱ص۲۲۱)
.
روپیہ پیسہ اور مال تجارت میں زکوٰة کا نصاب:
روپیہ پیسہ میں چاندی کے نصاب کا اعتبار ہوگا یعنی جب حوائجِ اصلیّہ سے زائد اتنا روپیہ اور مال جمع ہوجائے جس سے ساڑھے باوَن تولہ چاندی خریدی جاسکے تو اس روپیہ پیسہ میں زکوٰة واجب ہوجائے گی."الزکوة واجبة فی عروض التجارة کائنة ما کانت اذا بلغت قیمتھا نصابا من الورق والذھب کذا فی الھدایہ (ھندیہ۱ص۱۷۹)
(آپکے مسائل اور ان کا حل۵ص۸۲)
فائدہ: وجوبِ زکوة کیلئے مال پر سال کا گزرنا ضروری ہے، اس سے پہلے زکوة دینا واجب نہیں،
نِصاب: اِتنا مال جس پر زکوٰة یعنی اُس مال کا چالیسواں حصہ ہر سال فقرا کو دے دینا واجب ہو، جس کا سیّد کو دینا حرام ہے.
.
زکوٰة کا نصاب: اِس قدر مال مَوَیشِی یا سونا چاندی یا مالِ تجارت وغیرہ جس پر زکوٰۃ دینا واجب ہے.
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashud t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:6⃣0⃣1⃣
لڑکیوں کے زیور کی زکوۃکس پر؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: مبین کی چار لڑکیاں ہیں اور ان میں سے دو بالغ ہیں، اور دو نابالغ ہیں، مبین نے چاروں لڑکیوں کے واسطے ان کے نام سے سات سات تولہ سونے کے زیورات بنواکر رکھ لئے ہیں۔ اور یہ شخص اپنی چاروں لڑکیوں کو ان کے زیور کا مالکانہ حق دے چکا ہے اور یہ لڑکیاں اس زیور کو استعمال کر رہی ہیں، تو اس صورت میں یہ شخص ان لڑکیوں کے زیورات کی زکوۃ دے گا یانہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: سونے کا نصاب ساڑھے سات تولہ ہے، بشرطیکہ اس کے ساتھ چاندی یا روپئے نہ ہوں۔ اور مسئولہ صورت میں جب کہ آپ نے سات سات تولہ ہر لڑکی کو زیورات بناکر دے دئے ہیں اور ان کو مالکانہ حق بھی مل چکا ہے، تو اگر ان لڑکیوں کے پاس اس سونے کے علاوہ چاندی کا کوئی زیور نہیں ہے، اور نہ ان کے پاس روپئے جمع ہیں، تو نصاب کامل نہ ہونے کی وجہ سے نہ تو لڑکیوں پر زکوۃ واجب ہے اور نہ باپ پر۔ اور اگر ان زیورات کے ساتھ چاندی یا روپیہ بھی ہے تو پھر چاندی کے نصاب کے حساب سے بالغ لڑکیوں پر زکوۃ واجب ہوگی، نابالغ پر نہیں۔
عن علي رضي اللّٰہ عنہ عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال : إذا کانت لک مائتا درہم وحال علیہا الحول ففیہا خمسۃ دراہم، ولیس علیک شيء یعنی في الذہب حتی تکون لک عشرون دیناراً۔ (سنن أبي داؤد، الزکاۃ / باب في زکاۃ السائمۃ ۱؍۲۲۱)
فأما إذا کان لہ ذہب مفرد فلا شيء فیہ حتی یبلغ عشرین مثقالا۔ (بدائع الصنائع ۲؍۱۰۵ زکریا)
ونصاب الذہب عشرون مثقالاً، والفضۃ مائتا درہم، کل عشرۃ دراہم وزن سبعۃ مثاقیل۔ (الدرالمختار، الزکاۃ / باب زکاۃ المال ۲؍۲۹۵ کراچی، ۳؍۲۲۴ زکریا، النہر الفائق، الزکاۃ / باب زکاۃ المال ۲؍۴۳۶)
ومنہا البلوغ عندنا فلاتجب علی الصبي۔ (بدائع الصنائع ۲؍۷۹ زکریا، مرقاۃ المفاتیح ۴؍۱۳۵)
تجب في کل مأتي درہم خمسۃ دراہم۔ (الفتاویٰ الہندیۃ ۱؍۱۷۸)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
لڑکیوں کے زیور کی زکوۃکس پر؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: مبین کی چار لڑکیاں ہیں اور ان میں سے دو بالغ ہیں، اور دو نابالغ ہیں، مبین نے چاروں لڑکیوں کے واسطے ان کے نام سے سات سات تولہ سونے کے زیورات بنواکر رکھ لئے ہیں۔ اور یہ شخص اپنی چاروں لڑکیوں کو ان کے زیور کا مالکانہ حق دے چکا ہے اور یہ لڑکیاں اس زیور کو استعمال کر رہی ہیں، تو اس صورت میں یہ شخص ان لڑکیوں کے زیورات کی زکوۃ دے گا یانہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: سونے کا نصاب ساڑھے سات تولہ ہے، بشرطیکہ اس کے ساتھ چاندی یا روپئے نہ ہوں۔ اور مسئولہ صورت میں جب کہ آپ نے سات سات تولہ ہر لڑکی کو زیورات بناکر دے دئے ہیں اور ان کو مالکانہ حق بھی مل چکا ہے، تو اگر ان لڑکیوں کے پاس اس سونے کے علاوہ چاندی کا کوئی زیور نہیں ہے، اور نہ ان کے پاس روپئے جمع ہیں، تو نصاب کامل نہ ہونے کی وجہ سے نہ تو لڑکیوں پر زکوۃ واجب ہے اور نہ باپ پر۔ اور اگر ان زیورات کے ساتھ چاندی یا روپیہ بھی ہے تو پھر چاندی کے نصاب کے حساب سے بالغ لڑکیوں پر زکوۃ واجب ہوگی، نابالغ پر نہیں۔
عن علي رضي اللّٰہ عنہ عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال : إذا کانت لک مائتا درہم وحال علیہا الحول ففیہا خمسۃ دراہم، ولیس علیک شيء یعنی في الذہب حتی تکون لک عشرون دیناراً۔ (سنن أبي داؤد، الزکاۃ / باب في زکاۃ السائمۃ ۱؍۲۲۱)
فأما إذا کان لہ ذہب مفرد فلا شيء فیہ حتی یبلغ عشرین مثقالا۔ (بدائع الصنائع ۲؍۱۰۵ زکریا)
ونصاب الذہب عشرون مثقالاً، والفضۃ مائتا درہم، کل عشرۃ دراہم وزن سبعۃ مثاقیل۔ (الدرالمختار، الزکاۃ / باب زکاۃ المال ۲؍۲۹۵ کراچی، ۳؍۲۲۴ زکریا، النہر الفائق، الزکاۃ / باب زکاۃ المال ۲؍۴۳۶)
ومنہا البلوغ عندنا فلاتجب علی الصبي۔ (بدائع الصنائع ۲؍۷۹ زکریا، مرقاۃ المفاتیح ۴؍۱۳۵)
تجب في کل مأتي درہم خمسۃ دراہم۔ (الفتاویٰ الہندیۃ ۱؍۱۷۸)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:7⃣0⃣1⃣
بیوی کے زیور کی زکوٰۃکس کے ذمہ ہے؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: میں اپنے لڑکے کو اپنے ساتھ رکھتا ہوں؛ لیکن ان کی کمائی میں نہیں لیتا، میری ہدایت ہے کہ تم اپنی کمائی اپنے ہی پاس رکھو، اُن کی شادی میں ان کی بیوی کو سونا ملا ہے، ایسی صورت میں جو زکوٰۃ واجب ہوگی وہ کون ادا کرے گا؟ میں کروںگا یا لڑکا یا ان کی بیوی؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: صورتِ مسئولہ میں زیور کی زکوٰۃ لڑکے کی بیوی پر واجب ہوگی، اس لئے کہ وہی اس کی اصل مالک ہے، باقی اگر آپ یا آپ کا لڑکا اپنی رضامندی سے اور بیوی کی اجازت سے اس کی طرف سے زکوٰۃ ادا کردیں تو بھی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔
رجل أمر رجلاً بأن یؤدي عنہ الزکاۃ من مال نفسہ فأدی المامور فإنہ لا یرجع إلی الآمر مالم یشترط الرجوع۔ (کذا في فتاویٰ قاضی خاں علی الفتاویٰ الہندیۃ / فصل في أداء الزکاۃ ۱؍۲۶۲)
الزکاۃ واجبۃ علی الحر العاقل البالغ المسلم إذا ملک نصاباً ملکا تاماً، وحال علیہ الحول لقولہ تعالی: وآتو الزکاۃ، ولقولہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: أدوا زکاۃ أموالکم، وعلیہ إجماع الأمۃ، والمراد بالواجب الفرض۔ (ہدایۃ ۱؍۱۸۵
فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
محمد امیر ۔۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
بیوی کے زیور کی زکوٰۃکس کے ذمہ ہے؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: میں اپنے لڑکے کو اپنے ساتھ رکھتا ہوں؛ لیکن ان کی کمائی میں نہیں لیتا، میری ہدایت ہے کہ تم اپنی کمائی اپنے ہی پاس رکھو، اُن کی شادی میں ان کی بیوی کو سونا ملا ہے، ایسی صورت میں جو زکوٰۃ واجب ہوگی وہ کون ادا کرے گا؟ میں کروںگا یا لڑکا یا ان کی بیوی؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: صورتِ مسئولہ میں زیور کی زکوٰۃ لڑکے کی بیوی پر واجب ہوگی، اس لئے کہ وہی اس کی اصل مالک ہے، باقی اگر آپ یا آپ کا لڑکا اپنی رضامندی سے اور بیوی کی اجازت سے اس کی طرف سے زکوٰۃ ادا کردیں تو بھی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔
رجل أمر رجلاً بأن یؤدي عنہ الزکاۃ من مال نفسہ فأدی المامور فإنہ لا یرجع إلی الآمر مالم یشترط الرجوع۔ (کذا في فتاویٰ قاضی خاں علی الفتاویٰ الہندیۃ / فصل في أداء الزکاۃ ۱؍۲۶۲)
الزکاۃ واجبۃ علی الحر العاقل البالغ المسلم إذا ملک نصاباً ملکا تاماً، وحال علیہ الحول لقولہ تعالی: وآتو الزکاۃ، ولقولہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: أدوا زکاۃ أموالکم، وعلیہ إجماع الأمۃ، والمراد بالواجب الفرض۔ (ہدایۃ ۱؍۱۸۵
فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
محمد امیر ۔۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:8⃣0⃣1⃣
لڑکیوں کے لئے بنا کر رکھے گئے زیورات کی زکوٰۃ کس پر واجب ہوگی؟
سوال(۲۳):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: زید کی چار بیٹیاں ہیں اور ان چاروں لڑکیوں کی شادی کے لئے زید ابھی سے سونے کے زیورات بنواکر رکھنا چاہتا ہے، تاکہ شادی کے وقت وہ زیورات لڑکیوں کو دے سکے، اور دوسرے اخراجات کیلئے آسانی ہوجائے، اس صورت میں زید اپنی ہر لڑکی کے لئے کتنے سونے کے زیورات بنوا سکتا ہے، اب لڑکیوں کے زیورات کی وجہ سے زید پر اس زیور کی زکوۃ واجب ہے یانہیں؟ اگرچہ زید کی چاروں لڑکیاں بالغ ہیں اور وہ لڑکیوں کے اس زیور سے اپنے لئے تصرف کی نیت بھی نہیں رکھتا ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: زید اپنی بیٹیوں کے لئے جتنا چاہے زیورات بنوا سکتا ہے، اب اس کی زکوۃ کون ادا کرے؟ تو اس سلسلہ میں تفصیل یہ ہے کہ اگر زید ابھی سے اپنی لڑکیوں کو ان کا مالک بناکر ان کے قبضے میں دیدے اور لڑکیاں بالغ ہوں اور زیورات ہر ایک کے حصے میں نصاب تک پہنچتے ہوں (صرف سونے یا چاندی کا نصاب یا دونوں سے مل کر چاندی کی قیمت کا نصاب) تو ایسی صورت میں زکوۃ کی ادائیگی ہر لڑکی پر فرض ہوگی۔ اور اگر زید نے اپنی لڑکیوں کو ابھی مالک نہیں بنایا؛ بلکہ شادی کے وقت مالک بنانے کا ارادہ ہے، تو ایسی صورت میں زکوۃ کی ادائیگی زید ہی پر فرض رہے گی۔
وتصح بالایجاب والقبول والقبض … والقبض لابد منہ لثبوت الملک۔ (ہدایۃ / الہبۃ ۳؍۲۶۷ إدارۃ المعارف)
الزکاۃ واجبۃ علی الحر العاقل البالغ المسلم إذا ملک نصاباً ملکا تاماً، وحال علیہ الحول تعالی: {وَآتُو الزَّکَاۃَ} ولقولہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: أدوا زکاۃ أموالکم، وعلیہ إجماع الأمۃ، والمراد بالواجب الفرض۔ (ہدایۃ ۱؍۱۸۵)
فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
لڑکیوں کے لئے بنا کر رکھے گئے زیورات کی زکوٰۃ کس پر واجب ہوگی؟
سوال(۲۳):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: زید کی چار بیٹیاں ہیں اور ان چاروں لڑکیوں کی شادی کے لئے زید ابھی سے سونے کے زیورات بنواکر رکھنا چاہتا ہے، تاکہ شادی کے وقت وہ زیورات لڑکیوں کو دے سکے، اور دوسرے اخراجات کیلئے آسانی ہوجائے، اس صورت میں زید اپنی ہر لڑکی کے لئے کتنے سونے کے زیورات بنوا سکتا ہے، اب لڑکیوں کے زیورات کی وجہ سے زید پر اس زیور کی زکوۃ واجب ہے یانہیں؟ اگرچہ زید کی چاروں لڑکیاں بالغ ہیں اور وہ لڑکیوں کے اس زیور سے اپنے لئے تصرف کی نیت بھی نہیں رکھتا ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: زید اپنی بیٹیوں کے لئے جتنا چاہے زیورات بنوا سکتا ہے، اب اس کی زکوۃ کون ادا کرے؟ تو اس سلسلہ میں تفصیل یہ ہے کہ اگر زید ابھی سے اپنی لڑکیوں کو ان کا مالک بناکر ان کے قبضے میں دیدے اور لڑکیاں بالغ ہوں اور زیورات ہر ایک کے حصے میں نصاب تک پہنچتے ہوں (صرف سونے یا چاندی کا نصاب یا دونوں سے مل کر چاندی کی قیمت کا نصاب) تو ایسی صورت میں زکوۃ کی ادائیگی ہر لڑکی پر فرض ہوگی۔ اور اگر زید نے اپنی لڑکیوں کو ابھی مالک نہیں بنایا؛ بلکہ شادی کے وقت مالک بنانے کا ارادہ ہے، تو ایسی صورت میں زکوۃ کی ادائیگی زید ہی پر فرض رہے گی۔
وتصح بالایجاب والقبول والقبض … والقبض لابد منہ لثبوت الملک۔ (ہدایۃ / الہبۃ ۳؍۲۶۷ إدارۃ المعارف)
الزکاۃ واجبۃ علی الحر العاقل البالغ المسلم إذا ملک نصاباً ملکا تاماً، وحال علیہ الحول تعالی: {وَآتُو الزَّکَاۃَ} ولقولہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: أدوا زکاۃ أموالکم، وعلیہ إجماع الأمۃ، والمراد بالواجب الفرض۔ (ہدایۃ ۱؍۱۸۵)
فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:9⃣0⃣1⃣
کیا بیوی کے زیور کی زکوٰۃ شوہر یا سسرالی رشتہ دار ادا کرسکتے ہیں؟
سوال(۲۴):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: میری شادی کو چار سال ہوئے ہیں، شادی پر ماں کے گھر سے اور میری سسرال سے کچھ زیور ملا تھا، دونوں کی مالیت کے حساب سے میرے اوپر زکوٰۃ فرض تھی؛ لیکن جب بھی میں نے اپنے شوہر سے کہا تو انہوں نے کہا کہ ابو مشترک سب کی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں؛ لیکن میں کسی طرح بھی مطمئن نہیں ہوں؛ اس لئے میں اپنے ذاتی خرچ سے کچھ زکوٰۃ کی نیت سے ہر ماہ نکالتی ہوں؛ لیکن وہ مجموعی رقم ایک تہائی سے بھی کم ہے، اور مجھ کو ماہانہ خرچ اتنا نہیں ملتا کہ میں پوری زکوٰۃ نکال سکوں، کاروبار یا کرایہ کی آمدنی جو بھی ہے مشترک ہے، ایسی صورت میں مجھے یہ فکر لاحق رہتی ہے کہ آئندہ کے لئے کیا لائحہ عمل اختیار کروں؟ اور اگر گذشتہ سالوں کی زکوۃ بقایہ ہے تو اس کو کیسے ادا کیا جائے، تاکہ میں فرض ادا نہ کرنے کے گناہ سے بچ سکوں، نیز واضح رہے کہ سسرال کے حالات ایسے نہیں ہیں کہ ابو (سسر) یا کسی بھائی سے تفصیل حساب کی مانگی جاسکے۔
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: جو زیور آپ کی ملک میں ہے اس کی زکوٰۃ بھی اصلاً آپ ہی پر فرض ہے، اگر شوہر یا سسرال والے اسے ادا کریں تو یہ ان کی طرف سے تبرع اور احسان ہے؛ اس لئے آپ کو اہتمام کے ساتھ حساب لگاکر اپنی زکوٰۃ خود نکالنی چاہئے، اگر نقد رقم پاس نہ ہو تو زکوٰۃ کی مقدار کے بقدر زیور بیچ کر یا خود زیور ہی کسی مستحق کو دیدیں، تاکہ آپ کے ذمہ سے زکوٰۃ کا فرض ادا ہوجائے۔
الزکاۃ واجبۃ علی الحر العاقل البالغ المسلم إذا ملک نصاباً ملکا تاماً، وحال علیہ الحول لقولہ تعالی: {وَآتُو الزَّکَاۃَ} ولقولہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: أدوا زکاۃ أموالکم، وعلیہ إجماع الأمۃ، والمراد بالواجب الفرض۔ (ہدایۃ ۱؍۱۸۵)
فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
کیا بیوی کے زیور کی زکوٰۃ شوہر یا سسرالی رشتہ دار ادا کرسکتے ہیں؟
سوال(۲۴):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: میری شادی کو چار سال ہوئے ہیں، شادی پر ماں کے گھر سے اور میری سسرال سے کچھ زیور ملا تھا، دونوں کی مالیت کے حساب سے میرے اوپر زکوٰۃ فرض تھی؛ لیکن جب بھی میں نے اپنے شوہر سے کہا تو انہوں نے کہا کہ ابو مشترک سب کی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں؛ لیکن میں کسی طرح بھی مطمئن نہیں ہوں؛ اس لئے میں اپنے ذاتی خرچ سے کچھ زکوٰۃ کی نیت سے ہر ماہ نکالتی ہوں؛ لیکن وہ مجموعی رقم ایک تہائی سے بھی کم ہے، اور مجھ کو ماہانہ خرچ اتنا نہیں ملتا کہ میں پوری زکوٰۃ نکال سکوں، کاروبار یا کرایہ کی آمدنی جو بھی ہے مشترک ہے، ایسی صورت میں مجھے یہ فکر لاحق رہتی ہے کہ آئندہ کے لئے کیا لائحہ عمل اختیار کروں؟ اور اگر گذشتہ سالوں کی زکوۃ بقایہ ہے تو اس کو کیسے ادا کیا جائے، تاکہ میں فرض ادا نہ کرنے کے گناہ سے بچ سکوں، نیز واضح رہے کہ سسرال کے حالات ایسے نہیں ہیں کہ ابو (سسر) یا کسی بھائی سے تفصیل حساب کی مانگی جاسکے۔
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: جو زیور آپ کی ملک میں ہے اس کی زکوٰۃ بھی اصلاً آپ ہی پر فرض ہے، اگر شوہر یا سسرال والے اسے ادا کریں تو یہ ان کی طرف سے تبرع اور احسان ہے؛ اس لئے آپ کو اہتمام کے ساتھ حساب لگاکر اپنی زکوٰۃ خود نکالنی چاہئے، اگر نقد رقم پاس نہ ہو تو زکوٰۃ کی مقدار کے بقدر زیور بیچ کر یا خود زیور ہی کسی مستحق کو دیدیں، تاکہ آپ کے ذمہ سے زکوٰۃ کا فرض ادا ہوجائے۔
الزکاۃ واجبۃ علی الحر العاقل البالغ المسلم إذا ملک نصاباً ملکا تاماً، وحال علیہ الحول لقولہ تعالی: {وَآتُو الزَّکَاۃَ} ولقولہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: أدوا زکاۃ أموالکم، وعلیہ إجماع الأمۃ، والمراد بالواجب الفرض۔ (ہدایۃ ۱؍۱۸۵)
فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:0⃣1⃣1⃣
بیوی کے زیور کی زکوٰۃ کون ادا کرے؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: اگر بیوی میکے سے دیا ہوا شادی کے موقع پر زیور تقریباً چار سال سے میکے رکھ آئی ہو اور رہتی کھاتی شوہر کے ساتھ ہو تو کیا شوہر اس کی زکوٰۃ ادا کرے گا یا میکے والے یا بیوی خود؟
شادی یا خوشی کے موقع پر کسی دوسرے سے مانگ کر پہن کر جاتی ہیں، میرے کہنے پر اپنا زیور میکے سے نہیں لے کر آتی ہے، توکیا ایسی صورت میں مجھ پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: شرعاً بیوی کے زیور کی زکوٰۃ ادا کرنا بیوی پر ہی واجب ہے، شوہر کے ذمہ ادائیگی لازم نہیں ہے، اگر شوہر بیوی کےمملوکہ زیور کی زکوٰۃ ادا نہ کرے تو وہ گنہ گار نہ ہوگا؛ بلکہ بیوی ہی عدم ادائیگی کی ذمہ دار ہوگی، اس لئے مسئولہ صورت میں شوہر پر زکوٰۃ کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔
عن سلیم بن عامر قال سمعت أبا أمامۃ یقول: سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یخطب فی حجۃ الوداع فقال: اتقوا ربکم، و أدوا زکاۃ أموالکم تدخلوا جنۃ ربکم۔ (سنن الترمذي / باب ما ذکر في فضل الصلاۃ رقم: ۶۱۶، التعلیقات علی الہدایۃ ۲؍۳ مکتبہ البشریٰ کراچی)
الزکاۃ واجبۃ علی الحر العاقل البالغ المسلم إذا ملک نصاباً ملکا تاماً، وحال علیہ الحول لقولہ تعالی: {وَآتُو الزَّکَاۃَ} ولقولہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: أدوا زکاۃ أموالکم، وعلیہ إجماع الأمۃ، والمراد بالواجب الفرض۔ (ہدایۃ ۱؍۱۸۵)
فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
محمد امیر ۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
بیوی کے زیور کی زکوٰۃ کون ادا کرے؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: اگر بیوی میکے سے دیا ہوا شادی کے موقع پر زیور تقریباً چار سال سے میکے رکھ آئی ہو اور رہتی کھاتی شوہر کے ساتھ ہو تو کیا شوہر اس کی زکوٰۃ ادا کرے گا یا میکے والے یا بیوی خود؟
شادی یا خوشی کے موقع پر کسی دوسرے سے مانگ کر پہن کر جاتی ہیں، میرے کہنے پر اپنا زیور میکے سے نہیں لے کر آتی ہے، توکیا ایسی صورت میں مجھ پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: شرعاً بیوی کے زیور کی زکوٰۃ ادا کرنا بیوی پر ہی واجب ہے، شوہر کے ذمہ ادائیگی لازم نہیں ہے، اگر شوہر بیوی کےمملوکہ زیور کی زکوٰۃ ادا نہ کرے تو وہ گنہ گار نہ ہوگا؛ بلکہ بیوی ہی عدم ادائیگی کی ذمہ دار ہوگی، اس لئے مسئولہ صورت میں شوہر پر زکوٰۃ کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔
عن سلیم بن عامر قال سمعت أبا أمامۃ یقول: سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یخطب فی حجۃ الوداع فقال: اتقوا ربکم، و أدوا زکاۃ أموالکم تدخلوا جنۃ ربکم۔ (سنن الترمذي / باب ما ذکر في فضل الصلاۃ رقم: ۶۱۶، التعلیقات علی الہدایۃ ۲؍۳ مکتبہ البشریٰ کراچی)
الزکاۃ واجبۃ علی الحر العاقل البالغ المسلم إذا ملک نصاباً ملکا تاماً، وحال علیہ الحول لقولہ تعالی: {وَآتُو الزَّکَاۃَ} ولقولہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: أدوا زکاۃ أموالکم، وعلیہ إجماع الأمۃ، والمراد بالواجب الفرض۔ (ہدایۃ ۱؍۱۸۵)
فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
محمد امیر ۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:1⃣1⃣1⃣
اگر سونا چاندی کی قیمت کے اعتبار سے چاندی کے نصاب کے برابر ہو وزن کے اعتبار سے نہ ہو؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: اگر کسی کے پاس سونا ہو پیسہ وغیرہ کچھ نہ ہو اور یہ سونا قیمت کے اعتبار سے چاندی کے نصاب کو پہنچتا ہو لیکن وزن کے اعتبار سے سونے کے نصاب یعنی بیس مثقال کو نہ پہنچتا ہو تو ایسے شخص پر زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں ؟کیا اس کے حق میں سونے کا نصاب معتبر ہو گا یا نہیں ؟اور ایسے شخص پر صدقۃ الفطر اور قربانی واجب ہو گی یا نہیں ؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اگر کسی شخص کے پا س صرف سونا موجود ہو اس کے ساتھ چاندی یا روپیہ پیسہ یا مال تجارت کچھ نہ ہو، تو اب یہ دیکھا جائے گا کہ یہ سونا وزن کے اعتبار سے اپنے نصاب یعنی بیس مثقال کو پہنچتا ہے یا نہیں ۔اگر اس نصاب کو پہنچتا ہے تو اس پر زکوۃ واجب ہوگی اور اگر اس نصاب کو نہ پہنچتا ہو، تو اگر چہ اس کی قیمت چاندی کے نصاب یا اس سے زائد ہو پھر بھی ایسے شخص پر مذکورہ صدقۂ فطر اور قربانی کے وجوب کا حکم نہ ہوگا؛ البتہ اگر سونے کے ساتھ روپیہ پیسہ یا چاندی بھی ہو، تو ایسی صورت میں انفع للفقراء کو ملحوظ رکھتے ہوئے اگر دونوں کو ملاکر قیمت چاندی کے نصاب کو پہنچ جائے تو زکوۃ واجب ہوگی۔
(مستفاد ایضاح المسائل ۱۰۴)
نصاب الذہب عشرون مثقالاً۔ (تنویر الأبصار مع الدر المختار ۳؍۲۲۴، ہدایۃ ۱؍۲۱۱)
المعتبر وزنہا أداء أووجوبا وقال محمدؒ: یعتبر الأ نفع للفقراء حتی لو أدی عن خمسۃ درہم جیاد خمسۃ زیوفا قیمتہا أربعۃ جیاد جاز۔ (البحر الرائق ۲؍۳۹۵ زکریا)
ولو بلع بأحدہما نصابا وخمسا وبالآخر أقل قومہ بالأنفع للفقراء۔ (شامي ۲؍۲۹۹ کراچی)
حتی لا تجب الزکاۃ في مصوغ وزنہ أقل من مأتین وقیمتہ فوقہما۔ (البحر الرائق ۲؍۴۰۱ زکریا)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر ۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
اگر سونا چاندی کی قیمت کے اعتبار سے چاندی کے نصاب کے برابر ہو وزن کے اعتبار سے نہ ہو؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: اگر کسی کے پاس سونا ہو پیسہ وغیرہ کچھ نہ ہو اور یہ سونا قیمت کے اعتبار سے چاندی کے نصاب کو پہنچتا ہو لیکن وزن کے اعتبار سے سونے کے نصاب یعنی بیس مثقال کو نہ پہنچتا ہو تو ایسے شخص پر زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں ؟کیا اس کے حق میں سونے کا نصاب معتبر ہو گا یا نہیں ؟اور ایسے شخص پر صدقۃ الفطر اور قربانی واجب ہو گی یا نہیں ؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اگر کسی شخص کے پا س صرف سونا موجود ہو اس کے ساتھ چاندی یا روپیہ پیسہ یا مال تجارت کچھ نہ ہو، تو اب یہ دیکھا جائے گا کہ یہ سونا وزن کے اعتبار سے اپنے نصاب یعنی بیس مثقال کو پہنچتا ہے یا نہیں ۔اگر اس نصاب کو پہنچتا ہے تو اس پر زکوۃ واجب ہوگی اور اگر اس نصاب کو نہ پہنچتا ہو، تو اگر چہ اس کی قیمت چاندی کے نصاب یا اس سے زائد ہو پھر بھی ایسے شخص پر مذکورہ صدقۂ فطر اور قربانی کے وجوب کا حکم نہ ہوگا؛ البتہ اگر سونے کے ساتھ روپیہ پیسہ یا چاندی بھی ہو، تو ایسی صورت میں انفع للفقراء کو ملحوظ رکھتے ہوئے اگر دونوں کو ملاکر قیمت چاندی کے نصاب کو پہنچ جائے تو زکوۃ واجب ہوگی۔
(مستفاد ایضاح المسائل ۱۰۴)
نصاب الذہب عشرون مثقالاً۔ (تنویر الأبصار مع الدر المختار ۳؍۲۲۴، ہدایۃ ۱؍۲۱۱)
المعتبر وزنہا أداء أووجوبا وقال محمدؒ: یعتبر الأ نفع للفقراء حتی لو أدی عن خمسۃ درہم جیاد خمسۃ زیوفا قیمتہا أربعۃ جیاد جاز۔ (البحر الرائق ۲؍۳۹۵ زکریا)
ولو بلع بأحدہما نصابا وخمسا وبالآخر أقل قومہ بالأنفع للفقراء۔ (شامي ۲؍۲۹۹ کراچی)
حتی لا تجب الزکاۃ في مصوغ وزنہ أقل من مأتین وقیمتہ فوقہما۔ (البحر الرائق ۲؍۴۰۱ زکریا)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر ۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:2⃣1⃣1⃣
گھر کی عورتوں سے تجارت یا نوکری کرانا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ہم لوگ اپنے گھر کی عورتوں سے جیسے ماں بہن یا بیوی سے تجارت یا نوکری کراسکتے ہیں یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: ایسی تجارت یا نوکری جس میں بے پردگی لازم آتی ہو، عورتوں کے لئے کسی بھی صورت میں جائز نہیں؛ البتہ اگر ایسی ملازمت ہو جس میں بے پردگی کا خدشہ نہ ہو مثلاً بچیوں کے اِسکول میں تعلیم دینا وغیرہ تو اِس کی گنجائش ہے۔
(جواہر الفقہ ۴؍۱۴۶، فتاویٰ محمودیہ ۴؍۱۵۲قدیم زکریا)
عن عبد اللّٰہ رضي اللّٰہ عنہ عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: المرأۃ عورۃ فإذا خرجت استشرفہا الشیطان۔ (سنن الترمذي آخر أبواب النکاح ۱؍۲۲۲ رقم: ۱۱۷۳، المسند للإمام أحمد بن حنبل ۹؍۳۳۷ رقم: ۵۴۶۸ ط: الرسالۃ، مسند البزار البحر الزخار ۵؍۴۲۷ رقم: ۲۰۶۱)
وزاد فیہ: وأقرب ما تکون من وہ ربہا وہيفي قعر بیتہا۔ (صحیح ابن خزیمۃ ۲؍۸۱۴ رقم: ۱۹۸۶)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
گھر کی عورتوں سے تجارت یا نوکری کرانا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ہم لوگ اپنے گھر کی عورتوں سے جیسے ماں بہن یا بیوی سے تجارت یا نوکری کراسکتے ہیں یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: ایسی تجارت یا نوکری جس میں بے پردگی لازم آتی ہو، عورتوں کے لئے کسی بھی صورت میں جائز نہیں؛ البتہ اگر ایسی ملازمت ہو جس میں بے پردگی کا خدشہ نہ ہو مثلاً بچیوں کے اِسکول میں تعلیم دینا وغیرہ تو اِس کی گنجائش ہے۔
(جواہر الفقہ ۴؍۱۴۶، فتاویٰ محمودیہ ۴؍۱۵۲قدیم زکریا)
عن عبد اللّٰہ رضي اللّٰہ عنہ عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: المرأۃ عورۃ فإذا خرجت استشرفہا الشیطان۔ (سنن الترمذي آخر أبواب النکاح ۱؍۲۲۲ رقم: ۱۱۷۳، المسند للإمام أحمد بن حنبل ۹؍۳۳۷ رقم: ۵۴۶۸ ط: الرسالۃ، مسند البزار البحر الزخار ۵؍۴۲۷ رقم: ۲۰۶۱)
وزاد فیہ: وأقرب ما تکون من وہ ربہا وہيفي قعر بیتہا۔ (صحیح ابن خزیمۃ ۲؍۸۱۴ رقم: ۱۹۸۶)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:3⃣1⃣1⃣
خواتین کو نوکری نہ دینا معاشرہ کے لیے بھی مفید ہے۔
اقتصادیات اور معاشیات کے ماہر ایک صاحب نے کہا کہ یہ کیا بات ہے کہ عورتوں کو نوکری نہ دی جائے۔ میں نے کہا کہ یہ اقتصادیات و معاشیات کے لحاظ سے بھی معاشرہ پر ظلم ہے کیوں کہ ایک شوہر نوکر ہے، اب آپ نے اس کی بیوی کو بھی نوکری دے دی تو اس کا گھرانہ امیر سے امیر تر ہوگیا، ڈبل آمدنی ہوگئی، لیکن اس لڑکی کی جگہ جس مرد کو نوکری نہیں ملی اس کا گھرانہ تو اُجڑ گیا، اس کے چھوٹے چھوٹے بچے اور بوڑھے ماں باپ بھوکوں مررہے ہیں، یہ معاشرہ پر ظلم ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ جو ارحم الراحمین ہیں اور سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم جو رحمۃ للعالمین ہیں وہ ضرور حکم دیتے کہ اپنی دوکانوں میں اور اپنے گھر میں ہر جگہ عورتوں کو ملازم رکھ لو، مگر اﷲ نے ان کو پردہ میں رکھا ہے۔
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
خواتین کو نوکری نہ دینا معاشرہ کے لیے بھی مفید ہے۔
اقتصادیات اور معاشیات کے ماہر ایک صاحب نے کہا کہ یہ کیا بات ہے کہ عورتوں کو نوکری نہ دی جائے۔ میں نے کہا کہ یہ اقتصادیات و معاشیات کے لحاظ سے بھی معاشرہ پر ظلم ہے کیوں کہ ایک شوہر نوکر ہے، اب آپ نے اس کی بیوی کو بھی نوکری دے دی تو اس کا گھرانہ امیر سے امیر تر ہوگیا، ڈبل آمدنی ہوگئی، لیکن اس لڑکی کی جگہ جس مرد کو نوکری نہیں ملی اس کا گھرانہ تو اُجڑ گیا، اس کے چھوٹے چھوٹے بچے اور بوڑھے ماں باپ بھوکوں مررہے ہیں، یہ معاشرہ پر ظلم ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ جو ارحم الراحمین ہیں اور سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم جو رحمۃ للعالمین ہیں وہ ضرور حکم دیتے کہ اپنی دوکانوں میں اور اپنے گھر میں ہر جگہ عورتوں کو ملازم رکھ لو، مگر اﷲ نے ان کو پردہ میں رکھا ہے۔
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:4⃣1⃣1⃣
بیوی کو سرکاری نوکری کرنے پر مجبور کرنا اور حلیہ بگاڑنے کی دھمکی دینا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ایک تعلیم یافتہ خاتون کو اگر اُس کا شوہر سرکاری نوکری کرنے پر مجبور کرے، اور اُس کے منع کرنے پر ظلم وزیادتی کرے، اور نوکری کے امتحان میں پاس نہ ہونے پر حلیہ بگاڑنے تک کی دھمکی دے، تو ایسی حالت میں اُس خاتون کو کیا کرنا چاہئے؟ حالاںکہ وہ خاتون نوکری کرنے کی بالکل نہیں رکھتی؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: شوہر کی طرف سے عورت کو سرکاری نوکری کرنے پر مجبور کرنا قطعاً جائز نہیں ، اگر عورت اِس بارے میں اُس کا حکم ماننے سے انکار کردے تو عورت پر کوئی گناہ نہ ہوگا، عورت کے نان نفقہ کی ذمہ داری شوہر پر ہے، جب کہ شوہر کے اِخراجات کی کوئی ذمہ داری عورت پر نہیں ہے۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ۶؍۴۱۸)
قال اللّٰہ تعالیٰ: {فَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ ذٰلِکَ اَدْنَی اَلاَّ تَعُوْلُوْا} [النساء، جزء آیت: ۳]
وفي الدر المختار: یجب ظاہر الآیۃ أنہ فرض أن یعدل، أي أن لا یجوز فیہ أي في القسم بالتسویۃ، وفي الملبوس والمأکول۔ (شامي ۳؍۳۷۷ زکریا)
قال في الدر المختار ناقلاً عن النہر: والذي علیہ العمل في دیارنا لایسافر بہا جبرًا علیہا، وعلیہ الفتویٰ۔ (شامي ۳؍۲۹۴ زکریا)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
بیوی کو سرکاری نوکری کرنے پر مجبور کرنا اور حلیہ بگاڑنے کی دھمکی دینا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ایک تعلیم یافتہ خاتون کو اگر اُس کا شوہر سرکاری نوکری کرنے پر مجبور کرے، اور اُس کے منع کرنے پر ظلم وزیادتی کرے، اور نوکری کے امتحان میں پاس نہ ہونے پر حلیہ بگاڑنے تک کی دھمکی دے، تو ایسی حالت میں اُس خاتون کو کیا کرنا چاہئے؟ حالاںکہ وہ خاتون نوکری کرنے کی بالکل نہیں رکھتی؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: شوہر کی طرف سے عورت کو سرکاری نوکری کرنے پر مجبور کرنا قطعاً جائز نہیں ، اگر عورت اِس بارے میں اُس کا حکم ماننے سے انکار کردے تو عورت پر کوئی گناہ نہ ہوگا، عورت کے نان نفقہ کی ذمہ داری شوہر پر ہے، جب کہ شوہر کے اِخراجات کی کوئی ذمہ داری عورت پر نہیں ہے۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند ۶؍۴۱۸)
قال اللّٰہ تعالیٰ: {فَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ ذٰلِکَ اَدْنَی اَلاَّ تَعُوْلُوْا} [النساء، جزء آیت: ۳]
وفي الدر المختار: یجب ظاہر الآیۃ أنہ فرض أن یعدل، أي أن لا یجوز فیہ أي في القسم بالتسویۃ، وفي الملبوس والمأکول۔ (شامي ۳؍۳۷۷ زکریا)
قال في الدر المختار ناقلاً عن النہر: والذي علیہ العمل في دیارنا لایسافر بہا جبرًا علیہا، وعلیہ الفتویٰ۔ (شامي ۳؍۲۹۴ زکریا)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:5⃣1⃣1⃣
مسلم فنڈ کی نوکری کا حکم؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: میں نے بی اے اور ادیب کامل تک تعلیم پائی ہے، اور حافظ قرآن ہوں، شادی شدہ ہوں، اور والدین کی شرکت میں رہتا ہوں، میرے والد سبزی کا کام کرتے ہیں، اور تھوک کا کام بھی کرتے ہیں، اور تقریباً ۴-۵؍ہزار روپیہ ماہانہ کمالیتے ہیں، میرے ایک بھائی مسجد میں امامت ومؤذن کا کام انجام دیتے ہیں، اور ۶؍سو روپیہ کمالیتے ہیں، میں مسلم فنڈ میں تقریباً تین سال سے ملازمت کرتا ہوں، اور اب ۱۴۰۰؍روپیہ بطور ملازمت ملتے ہیں، تو کیا مسلمانوں کے لئے یہ نوکری جائز نہیں ہے، ہمارے درمیان یہ بحث ومباحثہ کی بات بنی ہوئی ہے کہ نوکری جائز ہے یا نہیں؟ کسی صورت میں اور کس کس کے لئے ملازمت جائز ہے؟ ایک حدیث ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ جس نے ایک لقمہ بھی حرام کھایا پیا، اس کی کوئی دعا وعبادت مقبول نہیں ہوتی، تو اگر یہ نوکری ہمارے لئے ناجائز ہوئی اور ہم یہ روپیہ کھاچکے ہیں، تو کیا کریں؟ کیا اس کا کوئی کارکن اور عہدہ دار ہونا بھی جائز نہیں ہے،کیوں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:آپ کے یہاں کے مسلم فنڈ کا کاروبار اگر اکابر کے مقرر کردہ طریقہ پر فارم کی بیع وشراء کے ذریعہ ہوتا ہے، اور اس میں سودی رقم شامل نہیں ہوتی، تو اس کی ملازمت اور رکنیت وغیرہ میں کوئی مضائقہ نہیں، اور اگر سارا کاروباری سودی ہے، تو اس کا حکم بینک جیسا ہے، بغیر شدید ضرورت کے اس کی ملازمت کی اجازت نہ ہوگی، تحقیق کرکے سوال معلوم کریں۔
عن جابر بن عبد اللّٰہ رضي اللّٰہ عنہ قال: لعن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم آکل الربوا ومؤکلہ وکاتبہ وشاہدیہ، وقال: ہم سواء۔ (صحیح مسلم ۲؍۷۲ رقم: ۱۵۹۸، سنن الترمذي ۱؍۲۲۹ رقم: ۱۲۰۶، مشکاۃ المصابیح، البیوع / باب الربا ۲۴۴، مرقاۃ المفاتیح ۶؍۴۳ رقم: ۲۸۰۷ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
قال الخطابي: سوّی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بین اٰکل الربا وموکلہ، إذ کل لا یتوصل إلی أکلہ إلا بمعاونتہٖ ومشارکتہ إیاہ، فہما شریکان في الإثم کما کانا شریکین في الفعل … ’’وکاتبہ وشاہدیہ‘‘ قال النووي: فیہ تصریح بتحریم کتابۃ المتراتبین، والشہادۃ علیہما، وبتحریم الإعانۃ علی الباطل۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب البیوع / باب الربا ۶؍۵۱ رشیدیۃ، ۶؍۵۹ المکتبۃ الأشرفیۃ دیوبند)
قولہ: لعن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اٰکل الربا وموکلہ وکاتبہ وشاہدیہ، وقال: ہم سواء۔ ہٰذا تصریح بتحریم کتابۃ المبایعۃ … وفیہ تحریم الإعانۃ علی الباطل۔ (شرح النووي علی صحیح مسلم، کتاب المساقات والمزارعۃ / باب الربا ۲؍۲۸، مرقاۃ المفاتیح ۶؍۵۹ المکتبۃ الأشرفیۃ دیوبند)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
مسلم فنڈ کی نوکری کا حکم؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: میں نے بی اے اور ادیب کامل تک تعلیم پائی ہے، اور حافظ قرآن ہوں، شادی شدہ ہوں، اور والدین کی شرکت میں رہتا ہوں، میرے والد سبزی کا کام کرتے ہیں، اور تھوک کا کام بھی کرتے ہیں، اور تقریباً ۴-۵؍ہزار روپیہ ماہانہ کمالیتے ہیں، میرے ایک بھائی مسجد میں امامت ومؤذن کا کام انجام دیتے ہیں، اور ۶؍سو روپیہ کمالیتے ہیں، میں مسلم فنڈ میں تقریباً تین سال سے ملازمت کرتا ہوں، اور اب ۱۴۰۰؍روپیہ بطور ملازمت ملتے ہیں، تو کیا مسلمانوں کے لئے یہ نوکری جائز نہیں ہے، ہمارے درمیان یہ بحث ومباحثہ کی بات بنی ہوئی ہے کہ نوکری جائز ہے یا نہیں؟ کسی صورت میں اور کس کس کے لئے ملازمت جائز ہے؟ ایک حدیث ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ جس نے ایک لقمہ بھی حرام کھایا پیا، اس کی کوئی دعا وعبادت مقبول نہیں ہوتی، تو اگر یہ نوکری ہمارے لئے ناجائز ہوئی اور ہم یہ روپیہ کھاچکے ہیں، تو کیا کریں؟ کیا اس کا کوئی کارکن اور عہدہ دار ہونا بھی جائز نہیں ہے،کیوں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:آپ کے یہاں کے مسلم فنڈ کا کاروبار اگر اکابر کے مقرر کردہ طریقہ پر فارم کی بیع وشراء کے ذریعہ ہوتا ہے، اور اس میں سودی رقم شامل نہیں ہوتی، تو اس کی ملازمت اور رکنیت وغیرہ میں کوئی مضائقہ نہیں، اور اگر سارا کاروباری سودی ہے، تو اس کا حکم بینک جیسا ہے، بغیر شدید ضرورت کے اس کی ملازمت کی اجازت نہ ہوگی، تحقیق کرکے سوال معلوم کریں۔
عن جابر بن عبد اللّٰہ رضي اللّٰہ عنہ قال: لعن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم آکل الربوا ومؤکلہ وکاتبہ وشاہدیہ، وقال: ہم سواء۔ (صحیح مسلم ۲؍۷۲ رقم: ۱۵۹۸، سنن الترمذي ۱؍۲۲۹ رقم: ۱۲۰۶، مشکاۃ المصابیح، البیوع / باب الربا ۲۴۴، مرقاۃ المفاتیح ۶؍۴۳ رقم: ۲۸۰۷ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
قال الخطابي: سوّی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بین اٰکل الربا وموکلہ، إذ کل لا یتوصل إلی أکلہ إلا بمعاونتہٖ ومشارکتہ إیاہ، فہما شریکان في الإثم کما کانا شریکین في الفعل … ’’وکاتبہ وشاہدیہ‘‘ قال النووي: فیہ تصریح بتحریم کتابۃ المتراتبین، والشہادۃ علیہما، وبتحریم الإعانۃ علی الباطل۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب البیوع / باب الربا ۶؍۵۱ رشیدیۃ، ۶؍۵۹ المکتبۃ الأشرفیۃ دیوبند)
قولہ: لعن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اٰکل الربا وموکلہ وکاتبہ وشاہدیہ، وقال: ہم سواء۔ ہٰذا تصریح بتحریم کتابۃ المبایعۃ … وفیہ تحریم الإعانۃ علی الباطل۔ (شرح النووي علی صحیح مسلم، کتاب المساقات والمزارعۃ / باب الربا ۲؍۲۸، مرقاۃ المفاتیح ۶؍۵۹ المکتبۃ الأشرفیۃ دیوبند)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:6⃣1⃣1⃣
نوکری کے لئے رشوت دینے اور لینے والے کا شرعی حکم
سوال:
رشوت دینے والا اور رشوت لینے والا دونوں جہنمی ہیں، لیکن بعض معاشرتی بُرائیوں کے پیشِ نظر رشوت لینے والا خود مختار ہوتا ہے اور زبردستی رشوت طلب کرتا ہے، اور رشوت دینے والا، دینے پر مجبور ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ انکار کرتا ہے تو اس کا کام روک دیا جاتا ہے، کیونکہ بعض کام ہیں جس کے بغیر اس معاشرے میں نہیں رہ سکتا۔ اور بعض لوگ نوکریاں دِلانے کے لئے بھی رشوت لیتے ہیں، اور کیا نوکری حاصل کرنے والا شخص جو رشوت دے کر نوکری حاصل کرتا ہے تو کیا اس کا کمایا ہوا رزق حلال ہوگا؟ کیونکہ ایسا شخص بھی خوشی سے رشوت نہیں دیتا، تو ان حالات میں لینے والا اور رشوت دینے والا ان دونوں کے لئے کیا حکم ہے؟
جواب:
رشوت لینے والا تو ہر حال میں ”فی النار“ کا مصداق ہے، اور رشوت دینے والے کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ دفعِ ظلم کے لئے رشوت دی جائے تو اُمید ہے کہ اللہ تعالیٰ موٴاخذہ نہیں فرمائیں گے۔ رشوت دے کر جو نوکری حاصل کی گئی ہو اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر یہ شخص اس ملازمت کا اہل ہے اور جو کام اس کے سپرد کیا گیا ہے اسے ٹھیک ٹھیک انجام دیتا ہے تو اس کی تنخواہ حلال ہے، (گو رشوت کا وبال ہوگا)، اور اگر وہ اس کام کا اہل ہی نہیں تو تنخواہ بھی حلال نہیں۔
دفعِ ظلم کے لئے رشوت کا جواز
سوال:
آپ نے ایک جواب میں لکھا ہے کہ دفعِ مضرّت کے لئے رشوت دینا جائز ہے، حالانکہ رشوت لینے اور دینے والا دونوں ملعون ہیں، پھر آپ نے کیوں جواز کا قول فرمایا ہے؟
جواب:
رشوت کے بارے میں جناب نے مجھ پر جو اعتراض کیا تھا، میں نے اعترافِ شکست کے ساتھ اس بحث کو ختم کردینا چاہا تھا، لیکن آنجناب نے اس کو بھی محسوس فرمایا، اس لئے مختصراً پھر عرض کرتا ہوں کہ اگر اس سے شفا نہ ہو تو سمجھ لیا جائے کہ میں اس سے زیادہ عرض کرنے سے معذور ہوں۔
جناب کا یہ ارشاد بجا ہے کہ رشوت قطعی حرام ہے، خدا اور رسول نے راشی اور مرتشی دونوں پر لعنت کی ہے، اور اس پر دوزخ کی وعید سنائی ہے۔ لیکن جناب کو معلوم ہے کہ اضطرار کی حالت میں مردار کی بھی اجازت دے دی جاتی ہے، کچھ یہی نوعیت رشوت دینے کی ہے۔ ایک شخص کسی ظالم خونخوار کے حوالے ہے، وہ ظلم دفع کرنے کے لئے رشوت دیتا ہے، فقہائے اُمت اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ: ”اُمید ہے کہ اس پر موٴاخذہ نہ ہوگا“ اور یہی میں نے لکھا تھا۔ ظاہر ہے کہ اس پر عام حالات کا قانون نافذ نہیں ہوسکتا، اس لئے رشوت لینا تو ہر حال میں حرام ہے اور گناہِ کبیرہ ہے، اور رشوت دینے کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ جلبِ منفعت کے لئے رشوت دے، یہ حرام ہے، اور یہی مصداق ہے ان احادیث کا جن میں رشوت دینے پر وعید آئی ہے۔ اور دُوسری صورت یہ کہ دفعِ ظلم کے لئے رشوت دینے پر مجبور ہو، اس کے بارے میں فقہاء فرماتے ہیں کہ: ”اُمید ہے کہ موٴاخذہ نہ ہوگا“، اس صورت پر جناب کا یہ فرمانا کہ: ”میں اللہ اور رسول کے مقابلے میں فقہاء کی تقلید پر زور دے رہا ہوں“ بہت ہی افسوس ناک الزام ہے۔ اسی لئے میں نے لکھا کہ: ”آپ ماشاء اللہ خود ”مجتہد“ ہیں، مجتہد کے مقابلے میں مقلد بے چارہ کیا کرسکتا ہے؟“ آپ کا یہ فرمانا کہ: ”عوام علمائے کرام پر اعتماد کرتے ہیں، مگر ان میں خلوص چاہئے“ بجا ہے، لیکن جناب نے تو بے اعتمادی کی بات کی تھی، جس پر مجھے اعترافِ شکست کرنا پڑا۔
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔
مستفاد:آپ کے مسائل اور انکا حل۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
نوکری کے لئے رشوت دینے اور لینے والے کا شرعی حکم
سوال:
رشوت دینے والا اور رشوت لینے والا دونوں جہنمی ہیں، لیکن بعض معاشرتی بُرائیوں کے پیشِ نظر رشوت لینے والا خود مختار ہوتا ہے اور زبردستی رشوت طلب کرتا ہے، اور رشوت دینے والا، دینے پر مجبور ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ انکار کرتا ہے تو اس کا کام روک دیا جاتا ہے، کیونکہ بعض کام ہیں جس کے بغیر اس معاشرے میں نہیں رہ سکتا۔ اور بعض لوگ نوکریاں دِلانے کے لئے بھی رشوت لیتے ہیں، اور کیا نوکری حاصل کرنے والا شخص جو رشوت دے کر نوکری حاصل کرتا ہے تو کیا اس کا کمایا ہوا رزق حلال ہوگا؟ کیونکہ ایسا شخص بھی خوشی سے رشوت نہیں دیتا، تو ان حالات میں لینے والا اور رشوت دینے والا ان دونوں کے لئے کیا حکم ہے؟
جواب:
رشوت لینے والا تو ہر حال میں ”فی النار“ کا مصداق ہے، اور رشوت دینے والے کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ دفعِ ظلم کے لئے رشوت دی جائے تو اُمید ہے کہ اللہ تعالیٰ موٴاخذہ نہیں فرمائیں گے۔ رشوت دے کر جو نوکری حاصل کی گئی ہو اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر یہ شخص اس ملازمت کا اہل ہے اور جو کام اس کے سپرد کیا گیا ہے اسے ٹھیک ٹھیک انجام دیتا ہے تو اس کی تنخواہ حلال ہے، (گو رشوت کا وبال ہوگا)، اور اگر وہ اس کام کا اہل ہی نہیں تو تنخواہ بھی حلال نہیں۔
دفعِ ظلم کے لئے رشوت کا جواز
سوال:
آپ نے ایک جواب میں لکھا ہے کہ دفعِ مضرّت کے لئے رشوت دینا جائز ہے، حالانکہ رشوت لینے اور دینے والا دونوں ملعون ہیں، پھر آپ نے کیوں جواز کا قول فرمایا ہے؟
جواب:
رشوت کے بارے میں جناب نے مجھ پر جو اعتراض کیا تھا، میں نے اعترافِ شکست کے ساتھ اس بحث کو ختم کردینا چاہا تھا، لیکن آنجناب نے اس کو بھی محسوس فرمایا، اس لئے مختصراً پھر عرض کرتا ہوں کہ اگر اس سے شفا نہ ہو تو سمجھ لیا جائے کہ میں اس سے زیادہ عرض کرنے سے معذور ہوں۔
جناب کا یہ ارشاد بجا ہے کہ رشوت قطعی حرام ہے، خدا اور رسول نے راشی اور مرتشی دونوں پر لعنت کی ہے، اور اس پر دوزخ کی وعید سنائی ہے۔ لیکن جناب کو معلوم ہے کہ اضطرار کی حالت میں مردار کی بھی اجازت دے دی جاتی ہے، کچھ یہی نوعیت رشوت دینے کی ہے۔ ایک شخص کسی ظالم خونخوار کے حوالے ہے، وہ ظلم دفع کرنے کے لئے رشوت دیتا ہے، فقہائے اُمت اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ: ”اُمید ہے کہ اس پر موٴاخذہ نہ ہوگا“ اور یہی میں نے لکھا تھا۔ ظاہر ہے کہ اس پر عام حالات کا قانون نافذ نہیں ہوسکتا، اس لئے رشوت لینا تو ہر حال میں حرام ہے اور گناہِ کبیرہ ہے، اور رشوت دینے کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ جلبِ منفعت کے لئے رشوت دے، یہ حرام ہے، اور یہی مصداق ہے ان احادیث کا جن میں رشوت دینے پر وعید آئی ہے۔ اور دُوسری صورت یہ کہ دفعِ ظلم کے لئے رشوت دینے پر مجبور ہو، اس کے بارے میں فقہاء فرماتے ہیں کہ: ”اُمید ہے کہ موٴاخذہ نہ ہوگا“، اس صورت پر جناب کا یہ فرمانا کہ: ”میں اللہ اور رسول کے مقابلے میں فقہاء کی تقلید پر زور دے رہا ہوں“ بہت ہی افسوس ناک الزام ہے۔ اسی لئے میں نے لکھا کہ: ”آپ ماشاء اللہ خود ”مجتہد“ ہیں، مجتہد کے مقابلے میں مقلد بے چارہ کیا کرسکتا ہے؟“ آپ کا یہ فرمانا کہ: ”عوام علمائے کرام پر اعتماد کرتے ہیں، مگر ان میں خلوص چاہئے“ بجا ہے، لیکن جناب نے تو بے اعتمادی کی بات کی تھی، جس پر مجھے اعترافِ شکست کرنا پڑا۔
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔
مستفاد:آپ کے مسائل اور انکا حل۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:7⃣1⃣1⃣
خواتین کی ملازمت‘ شریعت اسلامیہ کی نظر میں
شریعت کی تعلیمات کے مطابق مردوعورت کو اس طرح زندگی گزارنی چاہئے کہ گھر کے باہر کی دوڑ دھوپ مرد کے ذمہ رہے، اسی لئے بیوی اور بچوں کے تمام جائز اخراجات مرد کے اوپر فرض کئے گئے ہیں، شریعت اسلامیہ نے صنف نازک پر کوئی خرچہ لازم نہیں قرار دیا، شادی سے قبل اس کے تمام اخراجات باپ کے ذمہ اور شادی کے بعد رہائش، کپڑے، کھانے اور ضروریات وغیرہ کے تمام مصارف شوہر کے ذمہ رکھے ہیں۔ عورتوں سے کہا گیا کہ وہ گھر کی ملکہ ہیں۔ (صحیح بخاری ) لہٰذا ان کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز گھر کو بنانا چاہئے جیسا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَقَرْنَ فِی بُيوْتِکُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهلية الْاُوْلٰی (سورۃ الاحزاب ۳۳) حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے درمیان کام کو اس طرح تقسیم کردیا تھا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا گھر کے اندر کے کام کیا کرتی تھیں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ گھر کے باہر کے کام انجام دیا کرتے تھے۔ لوگوں کے تحفظ کی ذمہ داری مردوں پر رکھی گئی ہے، نہ کہ عورتوں پر، مردوں پر جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کو واجب یا سنت مؤکدہ اشد التاکید قرار دیا گیا، جبکہ عورتوں کو گھر میں نماز پڑھنے کی بار بار ترغیب دی گئی۔
مرد وعورت کی ذمہ داری کی یہ تقسیم نہ صرف اسلام کا مزاج ہے بلکہ یہ ایک فطری اور متوازن نظام ہے جو مردو عورت دونوں کے لئے سکون وراحت کا باعث ہے۔ لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ عورت کا ملازمت یا کاروبار کرنا حرام ہے، بلکہ قرآن وحدیث چند شرائط کے ساتھ اس کی اجازت بھی دیتا ہے۔ جو کام مردوں کے لئے جائز ہیں، اگر قرآن وحدیث میں عورتوں کو ان سے منع نہیں کیا گیا ہے تو عورتوں کے لئے شرعی حدود وقیود کے ساتھ انہیں انجام دینا جائز ہے۔ بعض اوقات خواتین کی ملازمت کرنا معاشرہ کی اجتماعی ضرورت بھی ہوتی ہے مثلاً امراض نساء وولادت کی ڈاکٹر، معلمات جو لڑکیوں کے لئے بہترین تعلیم کا نظم کرسکیں۔ غرضیکہ عورت شرعی حدود وقیود کے ساتھ ملازمت یا کاروبار کرسکتی ہے۔ ان شرعی حدود کے لئے چار امور اہم ہیں: ۱) پردہ کے احکام کی رعایت ہو۔ ۲) اجنبی مردوں کے اختلاط سے دور رہا جائے۔ ۳) گھر سے کام کی جگہ تک آنے جانے کا معقول بند وبست ہو ۴) ولی وسرپرست کی اجازت ہو۔
خواتین کے ملازمت یا کاروبار کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے گھر کے معاشی حالات بہتر ہوجاتے ہیں۔ نیز سماج کے بگڑے ہوئے لوگ جو عورتوں کو مجبور و بے بس سمجھ کر ان پر ظلم وزیادتی کرتے ہیں اور عورتیں خاموش رہنے پر مجبور رہتی ہیں، اس کے ذریعہ خواتین کو کچھ آزادی حاصل ہوجاتی ہے۔ لیکن ہماری سوسائٹی اور خود عورتوں کو جو اس سے نقصانات ہوئے ہیں وہ ان محدود فوائد سے کہیں زیادہ ہیں، چند نقصانات پیش خدمت ہیں: ۱) عورت جب خود ملازمت کرتی ہے تو وہ اپنی ضروریات کے لئے شوہر کی محتاج نہیں ہوتی ، اس لئے شوہر کی جانب سے خلاف مزاج بات پیش آنے پر برداشت کرنے کا جذبہ کم ہوجاتا ہے، جس کی وجہ سے رشتۂ نکاح میں دراڑ آنے لگتی ہے اور طلاق تک نوبت آجاتی ہے، چنانچہ ملازمت کرنے والی خواتین کے لئے طلاق کے واقعے ملازمت نہ کرنے والی عورتوں کے مقابلہ میں زیادہ سامنے آتے ہیں۔ ۲) جب عورت ملازمت کے لئے نکلتی ہے تو بسا اوقات شوہر عورت کے بارے میں شک وشبہات میں مبتلا ہوجاتاہے، یہ چیز اس کے سکون میں رکاوٹ بن جاتی ہے، جس کی وجہ سے نکاح کا اہم مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔ ۳) بچے ماں کی ممتا اور صحیح تربیت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ ۴) خواتین کی ملازمت سے عورتوں کے جنسی استحصال کے واقعات کثرت سے پیش آتے ہیں۔ ۵) عورت کی ملازمت کی وجہ سے گھر خاص کر مطبخ (کچن)کا نظم صحیح نہیں چلتا ہے جس کی وجہ سے شوہر اور بیوی کے درمیان لڑائی جھگڑے کے واقعات زیادہ پیش آتے ہیں۔
غرضیکہ مذکورہ بالا شرائط کی موجودگی میں عورت ملازمت کرسکتی ہے مگر عورت کی ملازمت کی وجہ سے جو عموماً نقصانات سامنے آتے ہیں، جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے، ان کا سد باب کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
خواتین کی ملازمت‘ شریعت اسلامیہ کی نظر میں
شریعت کی تعلیمات کے مطابق مردوعورت کو اس طرح زندگی گزارنی چاہئے کہ گھر کے باہر کی دوڑ دھوپ مرد کے ذمہ رہے، اسی لئے بیوی اور بچوں کے تمام جائز اخراجات مرد کے اوپر فرض کئے گئے ہیں، شریعت اسلامیہ نے صنف نازک پر کوئی خرچہ لازم نہیں قرار دیا، شادی سے قبل اس کے تمام اخراجات باپ کے ذمہ اور شادی کے بعد رہائش، کپڑے، کھانے اور ضروریات وغیرہ کے تمام مصارف شوہر کے ذمہ رکھے ہیں۔ عورتوں سے کہا گیا کہ وہ گھر کی ملکہ ہیں۔ (صحیح بخاری ) لہٰذا ان کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز گھر کو بنانا چاہئے جیسا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَقَرْنَ فِی بُيوْتِکُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهلية الْاُوْلٰی (سورۃ الاحزاب ۳۳) حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے درمیان کام کو اس طرح تقسیم کردیا تھا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا گھر کے اندر کے کام کیا کرتی تھیں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ گھر کے باہر کے کام انجام دیا کرتے تھے۔ لوگوں کے تحفظ کی ذمہ داری مردوں پر رکھی گئی ہے، نہ کہ عورتوں پر، مردوں پر جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کو واجب یا سنت مؤکدہ اشد التاکید قرار دیا گیا، جبکہ عورتوں کو گھر میں نماز پڑھنے کی بار بار ترغیب دی گئی۔
مرد وعورت کی ذمہ داری کی یہ تقسیم نہ صرف اسلام کا مزاج ہے بلکہ یہ ایک فطری اور متوازن نظام ہے جو مردو عورت دونوں کے لئے سکون وراحت کا باعث ہے۔ لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ عورت کا ملازمت یا کاروبار کرنا حرام ہے، بلکہ قرآن وحدیث چند شرائط کے ساتھ اس کی اجازت بھی دیتا ہے۔ جو کام مردوں کے لئے جائز ہیں، اگر قرآن وحدیث میں عورتوں کو ان سے منع نہیں کیا گیا ہے تو عورتوں کے لئے شرعی حدود وقیود کے ساتھ انہیں انجام دینا جائز ہے۔ بعض اوقات خواتین کی ملازمت کرنا معاشرہ کی اجتماعی ضرورت بھی ہوتی ہے مثلاً امراض نساء وولادت کی ڈاکٹر، معلمات جو لڑکیوں کے لئے بہترین تعلیم کا نظم کرسکیں۔ غرضیکہ عورت شرعی حدود وقیود کے ساتھ ملازمت یا کاروبار کرسکتی ہے۔ ان شرعی حدود کے لئے چار امور اہم ہیں: ۱) پردہ کے احکام کی رعایت ہو۔ ۲) اجنبی مردوں کے اختلاط سے دور رہا جائے۔ ۳) گھر سے کام کی جگہ تک آنے جانے کا معقول بند وبست ہو ۴) ولی وسرپرست کی اجازت ہو۔
خواتین کے ملازمت یا کاروبار کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے گھر کے معاشی حالات بہتر ہوجاتے ہیں۔ نیز سماج کے بگڑے ہوئے لوگ جو عورتوں کو مجبور و بے بس سمجھ کر ان پر ظلم وزیادتی کرتے ہیں اور عورتیں خاموش رہنے پر مجبور رہتی ہیں، اس کے ذریعہ خواتین کو کچھ آزادی حاصل ہوجاتی ہے۔ لیکن ہماری سوسائٹی اور خود عورتوں کو جو اس سے نقصانات ہوئے ہیں وہ ان محدود فوائد سے کہیں زیادہ ہیں، چند نقصانات پیش خدمت ہیں: ۱) عورت جب خود ملازمت کرتی ہے تو وہ اپنی ضروریات کے لئے شوہر کی محتاج نہیں ہوتی ، اس لئے شوہر کی جانب سے خلاف مزاج بات پیش آنے پر برداشت کرنے کا جذبہ کم ہوجاتا ہے، جس کی وجہ سے رشتۂ نکاح میں دراڑ آنے لگتی ہے اور طلاق تک نوبت آجاتی ہے، چنانچہ ملازمت کرنے والی خواتین کے لئے طلاق کے واقعے ملازمت نہ کرنے والی عورتوں کے مقابلہ میں زیادہ سامنے آتے ہیں۔ ۲) جب عورت ملازمت کے لئے نکلتی ہے تو بسا اوقات شوہر عورت کے بارے میں شک وشبہات میں مبتلا ہوجاتاہے، یہ چیز اس کے سکون میں رکاوٹ بن جاتی ہے، جس کی وجہ سے نکاح کا اہم مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔ ۳) بچے ماں کی ممتا اور صحیح تربیت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ ۴) خواتین کی ملازمت سے عورتوں کے جنسی استحصال کے واقعات کثرت سے پیش آتے ہیں۔ ۵) عورت کی ملازمت کی وجہ سے گھر خاص کر مطبخ (کچن)کا نظم صحیح نہیں چلتا ہے جس کی وجہ سے شوہر اور بیوی کے درمیان لڑائی جھگڑے کے واقعات زیادہ پیش آتے ہیں۔
غرضیکہ مذکورہ بالا شرائط کی موجودگی میں عورت ملازمت کرسکتی ہے مگر عورت کی ملازمت کی وجہ سے جو عموماً نقصانات سامنے آتے ہیں، جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے، ان کا سد باب کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:8⃣1⃣1⃣
india سوال # 150025
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں زید ایک مسجد میں امامت کرتاہے اور ساتھ ہی مکتب پڑھا تاہے اپنے گھر سے باہر رہتا ہے ، والدین سے دور نکاح ہوچکاہے ،بیو ی وا لدین کے ساتھ رہتی ہے ، تشکیل ہوتی ہے ایک سال کی، زید جانا چاہتا ہے لیکن بیوی منع کرتی ہے اور حوالہ حضرت عمر رضي الله عنه کے دورخلافت کا دے تی ہے کہ کوئی بھی مجاہد جو شادی شدہ تھا چار مہینے سے زیادہ باہر نہیں رہ سکتا تھا چار ماہ گذر نے پراس کو گھر ضرور جانا پڑتا تھا تو برائے مہربانی مجھے پورا واقعہ اور قرآن وحدیث کی روشنی میں مسئلہ کا حل بتا کر شکریہ کا مؤقع عنایت فرمائیں۔
Published on: Apr 23, 2017 جواب # 150025
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa: 648-726/N=7/1438
(۱): حضرت عمررضي الله عنه کا یہ واقعہ اس طرح ہے کہ آپ رضي الله عنه ایک مرتبہ رات میں گشت فرمارہے تھے، آپرضي الله عنه کا گذر ایک مکان کے قریب سے ہوا تو اس مکان سے کچھ آواز آرہی تھی، آپ نے سوچا کہ شاید مکان میں کوئی پریشان ہے؛ اس لیے آپرضي الله عنه نے دیوار سے گان لگادیے تو کوئی خاتون شوہر کے فراق میں شدت شہوت میں کچھ اشعار پڑھ رہی تھی، آپ رضي الله عنه نے اس مکان پر نشان لگادیا، صبح تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا ہے کہ اس کا شوہر ایک لمبی مدت سے جہاد میں گیا ہوا ہے۔ حضرت عمررضي الله عنه نے اپنی صاحبزادی: حضرت حفصہرضي الله عنه سے دریافت فرمایا : ایک عورت شوہر کے بغیر کب تک صبر کرسکتی ہے؟ حضرت حفصہرضي الله عنه نے فرمایا : چار مہینہ ۔ تو حضرت عمررضي الله عنه نے مختلف لشکروں کے امراء کو یہ فرمان جاری فرمایا کہ کوئی شادی شدہ لشکری اپنی اہلیہ سے چار ماہ سے زیادہ دور نہ رہے، یعنی: چار مہینہ کے اندر اس کی واپسی کا نظم کیا جائے۔ اور بعض روایات میں ہے: عورتوں نے بتایا کہ عورت شوہر کے بغیر دو مہینہ صبر کرسکتی ہے، تیسرے مہینہ میں صبر کم ہوجاتا اور چوتھے مہینہ میں صبر ناپید ہوجاتا ہے۔ اور بعض روایات میں پانچ مہینہ اور بعض میں چھ مہینہ کا ذکر آیا ہے۔ اور بعض روایات میں ہے: حضرت حفصہرضي الله عنه نے فرمایا کہ تعجب ہے کہ آپ جیسا آدمی مجھ سے ایسا سوال کررہا ہے؟ حضرت عمررضي الله عنه نے فرمایا کہ اگر مسلمانوں کی خیر خواہی مد نظر نہ ہوتی تو میں تجھ سے یہ بات دریافت نہ کرتا۔ اور بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ حضرت عمررضي الله عنه نے اس خاتون کے ساتھ ایک عورت کو رکھ دیا اور اس کے شوہر کو جہاد سے واپس بلایا۔
إن عمر رضی اللہ تعالی عنہ لما سمع فی اللیل امرأة تقول: فو اللہ لولا اللہ تخشی عواقبہ، لزحزح من ھذا السریر جوانبہ ، فسأل عنھا بنتہ حفصة کم تصبر المرأة عن الرجل؟ فقالت: أربعة أشھر، فأمر أمراء الأجناد أن لا یتخلف المتزوج عن أھلہ أکثر منھا (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب النکاح ، باب القسم ۴:۳۸۰، ط: مکتبة زکریا دیوبند)،وانظر المغني لابن قدامة (۷: ۳۰۴، ط:مکتبة القاھرة)والمھذب للشیرازي (۲: ۱۰۶، ۱۰۷، ط: عیسی الحلبي) أیضا۔
(۲): زید جب مسجد کی امامت اور مکتب کی تعلیم سے جڑا ہوا ہے تو یہ دونوں بھی دین کی عظیم خدمات ہیں، انھیں معمولی نہیں سمجھنا چاہیے؛ لہٰذا وہ انہیں خدمات میں لگا رہے اور بہتر سے بہتر طریقے پر اور کامل اخلاص کے ساتھ مفوضہ خدمات انجام دینے کی کوشش کرے، پیسہ ہرگز مقصود نہ ہو، بنیادی مقصد خدمت دین ہو؛ البتہ مقامی طور پر جماعت کی محنت سے جڑے، مشورے اور تعلیم میں شرکت کرے اور لوگوں کو دین کی دعوت دے۔ اور حسب سہولت وانتظام مہینہ، ڈیڑھ مہینہ میں یا اس سے کم وبیش مدت میں وطن جاکر بیوی سے ملاقات کرآیا کرے تاکہ اس کا بھی حق ادا ہوتا رہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
india سوال # 150025
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں زید ایک مسجد میں امامت کرتاہے اور ساتھ ہی مکتب پڑھا تاہے اپنے گھر سے باہر رہتا ہے ، والدین سے دور نکاح ہوچکاہے ،بیو ی وا لدین کے ساتھ رہتی ہے ، تشکیل ہوتی ہے ایک سال کی، زید جانا چاہتا ہے لیکن بیوی منع کرتی ہے اور حوالہ حضرت عمر رضي الله عنه کے دورخلافت کا دے تی ہے کہ کوئی بھی مجاہد جو شادی شدہ تھا چار مہینے سے زیادہ باہر نہیں رہ سکتا تھا چار ماہ گذر نے پراس کو گھر ضرور جانا پڑتا تھا تو برائے مہربانی مجھے پورا واقعہ اور قرآن وحدیث کی روشنی میں مسئلہ کا حل بتا کر شکریہ کا مؤقع عنایت فرمائیں۔
Published on: Apr 23, 2017 جواب # 150025
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa: 648-726/N=7/1438
(۱): حضرت عمررضي الله عنه کا یہ واقعہ اس طرح ہے کہ آپ رضي الله عنه ایک مرتبہ رات میں گشت فرمارہے تھے، آپرضي الله عنه کا گذر ایک مکان کے قریب سے ہوا تو اس مکان سے کچھ آواز آرہی تھی، آپ نے سوچا کہ شاید مکان میں کوئی پریشان ہے؛ اس لیے آپرضي الله عنه نے دیوار سے گان لگادیے تو کوئی خاتون شوہر کے فراق میں شدت شہوت میں کچھ اشعار پڑھ رہی تھی، آپ رضي الله عنه نے اس مکان پر نشان لگادیا، صبح تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا ہے کہ اس کا شوہر ایک لمبی مدت سے جہاد میں گیا ہوا ہے۔ حضرت عمررضي الله عنه نے اپنی صاحبزادی: حضرت حفصہرضي الله عنه سے دریافت فرمایا : ایک عورت شوہر کے بغیر کب تک صبر کرسکتی ہے؟ حضرت حفصہرضي الله عنه نے فرمایا : چار مہینہ ۔ تو حضرت عمررضي الله عنه نے مختلف لشکروں کے امراء کو یہ فرمان جاری فرمایا کہ کوئی شادی شدہ لشکری اپنی اہلیہ سے چار ماہ سے زیادہ دور نہ رہے، یعنی: چار مہینہ کے اندر اس کی واپسی کا نظم کیا جائے۔ اور بعض روایات میں ہے: عورتوں نے بتایا کہ عورت شوہر کے بغیر دو مہینہ صبر کرسکتی ہے، تیسرے مہینہ میں صبر کم ہوجاتا اور چوتھے مہینہ میں صبر ناپید ہوجاتا ہے۔ اور بعض روایات میں پانچ مہینہ اور بعض میں چھ مہینہ کا ذکر آیا ہے۔ اور بعض روایات میں ہے: حضرت حفصہرضي الله عنه نے فرمایا کہ تعجب ہے کہ آپ جیسا آدمی مجھ سے ایسا سوال کررہا ہے؟ حضرت عمررضي الله عنه نے فرمایا کہ اگر مسلمانوں کی خیر خواہی مد نظر نہ ہوتی تو میں تجھ سے یہ بات دریافت نہ کرتا۔ اور بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ حضرت عمررضي الله عنه نے اس خاتون کے ساتھ ایک عورت کو رکھ دیا اور اس کے شوہر کو جہاد سے واپس بلایا۔
إن عمر رضی اللہ تعالی عنہ لما سمع فی اللیل امرأة تقول: فو اللہ لولا اللہ تخشی عواقبہ، لزحزح من ھذا السریر جوانبہ ، فسأل عنھا بنتہ حفصة کم تصبر المرأة عن الرجل؟ فقالت: أربعة أشھر، فأمر أمراء الأجناد أن لا یتخلف المتزوج عن أھلہ أکثر منھا (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب النکاح ، باب القسم ۴:۳۸۰، ط: مکتبة زکریا دیوبند)،وانظر المغني لابن قدامة (۷: ۳۰۴، ط:مکتبة القاھرة)والمھذب للشیرازي (۲: ۱۰۶، ۱۰۷، ط: عیسی الحلبي) أیضا۔
(۲): زید جب مسجد کی امامت اور مکتب کی تعلیم سے جڑا ہوا ہے تو یہ دونوں بھی دین کی عظیم خدمات ہیں، انھیں معمولی نہیں سمجھنا چاہیے؛ لہٰذا وہ انہیں خدمات میں لگا رہے اور بہتر سے بہتر طریقے پر اور کامل اخلاص کے ساتھ مفوضہ خدمات انجام دینے کی کوشش کرے، پیسہ ہرگز مقصود نہ ہو، بنیادی مقصد خدمت دین ہو؛ البتہ مقامی طور پر جماعت کی محنت سے جڑے، مشورے اور تعلیم میں شرکت کرے اور لوگوں کو دین کی دعوت دے۔ اور حسب سہولت وانتظام مہینہ، ڈیڑھ مہینہ میں یا اس سے کم وبیش مدت میں وطن جاکر بیوی سے ملاقات کرآیا کرے تاکہ اس کا بھی حق ادا ہوتا رہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:9⃣1⃣1⃣
سوال # 145546
حضرت میراسوال ہے کہ دعوت وتبلیغ والے اکثر بیان شروع کرتے وقت کہتے ہیں کہ تھوڑی دیر دین کے لیے غوروفکرکرناساٹھ سترسال کی نفلی عبادت سے افضل ہے ، یہ کوئی حدیث ہے یاکسی بزرگ کاقول اگر حدیث ہے ؟برائے مہربانی حوالہ کے ساتھ جواب دیں۔
Published on: Jan 9, 2017 جواب # 145546
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 55-391/M=4/1438
دین کی فکر لے کر تھوڑی دیر بیٹھنا بلاشبہ کار ثواب ہے اور فکر ومحنت جیسی ہوگی اسی قدر اجر وثواب حاصل ہوگا لیکن اس کو ساٹھ ستر سال کی نفلی عبادت سے افضل سمجھنا یہ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں، اس مضمون کی زبان زد روایت ”فکر ساعة خیر من عبادة ستین سنة“ کو متعدد علماء ناقدین حدیث نے نہایت ضعیف بلکہ موضوع قرار دیا ہے اس لیے عام مجالس میں اسے بیان کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ ملا علی قاری رحمہ اللہ لکھتے ہیں: لیس بحدیث إنما ہو کلام السري السقطي“ (المصنوع في أحایدث الموضوع ص: ۸۲) نیز علامہ شوکانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: رواہ أبو الشیخ عن أبي ہریرة رضي اللہ عنہ مرفوعًا وفي إسنادہ عثمان بن عبد اللہ القرشي وإسحاق بن نجیع المطلي کذابان والمتہم بہ أحدہما وقد رواہ الدیلمي من حدیث أنس من وجہ آخر (الفوائد المجموعة ص: ۲۴۲بحوالہ: عمدة الأقاویل في تحقیق الأباطیل ص ۲۴۷، ۲۴۸، مستفاد النوازل)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سوال # 145546
حضرت میراسوال ہے کہ دعوت وتبلیغ والے اکثر بیان شروع کرتے وقت کہتے ہیں کہ تھوڑی دیر دین کے لیے غوروفکرکرناساٹھ سترسال کی نفلی عبادت سے افضل ہے ، یہ کوئی حدیث ہے یاکسی بزرگ کاقول اگر حدیث ہے ؟برائے مہربانی حوالہ کے ساتھ جواب دیں۔
Published on: Jan 9, 2017 جواب # 145546
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 55-391/M=4/1438
دین کی فکر لے کر تھوڑی دیر بیٹھنا بلاشبہ کار ثواب ہے اور فکر ومحنت جیسی ہوگی اسی قدر اجر وثواب حاصل ہوگا لیکن اس کو ساٹھ ستر سال کی نفلی عبادت سے افضل سمجھنا یہ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں، اس مضمون کی زبان زد روایت ”فکر ساعة خیر من عبادة ستین سنة“ کو متعدد علماء ناقدین حدیث نے نہایت ضعیف بلکہ موضوع قرار دیا ہے اس لیے عام مجالس میں اسے بیان کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ ملا علی قاری رحمہ اللہ لکھتے ہیں: لیس بحدیث إنما ہو کلام السري السقطي“ (المصنوع في أحایدث الموضوع ص: ۸۲) نیز علامہ شوکانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: رواہ أبو الشیخ عن أبي ہریرة رضي اللہ عنہ مرفوعًا وفي إسنادہ عثمان بن عبد اللہ القرشي وإسحاق بن نجیع المطلي کذابان والمتہم بہ أحدہما وقد رواہ الدیلمي من حدیث أنس من وجہ آخر (الفوائد المجموعة ص: ۲۴۲بحوالہ: عمدة الأقاویل في تحقیق الأباطیل ص ۲۴۷، ۲۴۸، مستفاد النوازل)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail