درود شریف میں صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر کیوں ہے ؟
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جب درود پڑھا جاتاہے توتمام انبیاء میں سے صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ہی کیوں تشبیہ ذکر کی جاتی ہے جیسے ’’ کماصلیت علی ابراہیم‘‘۔ حالانکہ کتنے ہی دوسر ے انبیاء بھی گزرے ہیں ؟
#بسم_اللہ_الرحمن_الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں درود شریف میں صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خاص کرنے کی کئی وجوہات علماء نے ذکر فرمائی ہیں :
(۱)حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نبی علیہ السلام کے واسطے لیلۃ المعراج میں ہمیں (امت محمدیہ کو ) سلام کہلوایا لہٰذا ہمیں بھی ایساکرنے کاحکم دیاگیا۔
(۲)حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ہمارانام مسلمان رکھا اس پر ان کی فضیلت کے اظہار کے لئے صرف ان ہی کوخاص کیا۔
(۳)درود شریف سے مقصود دعا کرناہے کہ جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ﷲ تعالی نے خلیل بنایا اسی طرح ہمارے نبی علیہ السلام کو بھی خلیل بنائیں۔
(۴)آپ چونکہ نسب کے اعتبار سے آپ علیہ السلام کے آباء میں شامل ہیں اس لئے ایساکیاگیا۔
(۵)آپ بقیہ تمام انبیاء میں افضل ہیں۔
(۶)آپ علیہ السلام کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اقتدا کاحکم دیاگیا اس لئے درود میں بھی ان ہی کو خاص کیاگیا۔
وخص ابراھیم لسلامہ علینا،اولانہ سمانا المسلمین اولان
المطلوب صلاۃ یتخذ بھاخلیلا(الدرالمختار۵۱۴/۱)
(قولہ لسلامہ علینا) ای لیلۃ المعراج حیث قال ابلغ امتک منی السلام (قولہ اولانہ سماناالمسلمین ) کمااخبر تعالی بقولہ ھو سماکم المسلمین۔(الطحطاوی علی الدر۲۲۶/۱)
نقل اولا کمانقل فی الطحطاوی ثم قال …… واجیب باجوبۃ اخری :منھا ان ذلک لابوتہ ……ولرفعۃ شانہ فی الرسل وکونہ افضل بقیۃ الانبیاء علی الراجح ……وللامر بالاقتداء بہ فی قولہ تعالی ان اتبع ملۃ ابراھیم حنیفا۔(ردالمحتار علی الدرالمختار،۵۱۴/۱)(نجم الفتاوی ۴۵۵/۱،کتاب العقائد)
واللہ اعلم بالصواب
#محمد_امیر_الدین_حنفی_دیوبندی
https://t.me/jamashuda
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جب درود پڑھا جاتاہے توتمام انبیاء میں سے صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ہی کیوں تشبیہ ذکر کی جاتی ہے جیسے ’’ کماصلیت علی ابراہیم‘‘۔ حالانکہ کتنے ہی دوسر ے انبیاء بھی گزرے ہیں ؟
#بسم_اللہ_الرحمن_الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں درود شریف میں صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خاص کرنے کی کئی وجوہات علماء نے ذکر فرمائی ہیں :
(۱)حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نبی علیہ السلام کے واسطے لیلۃ المعراج میں ہمیں (امت محمدیہ کو ) سلام کہلوایا لہٰذا ہمیں بھی ایساکرنے کاحکم دیاگیا۔
(۲)حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ہمارانام مسلمان رکھا اس پر ان کی فضیلت کے اظہار کے لئے صرف ان ہی کوخاص کیا۔
(۳)درود شریف سے مقصود دعا کرناہے کہ جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ﷲ تعالی نے خلیل بنایا اسی طرح ہمارے نبی علیہ السلام کو بھی خلیل بنائیں۔
(۴)آپ چونکہ نسب کے اعتبار سے آپ علیہ السلام کے آباء میں شامل ہیں اس لئے ایساکیاگیا۔
(۵)آپ بقیہ تمام انبیاء میں افضل ہیں۔
(۶)آپ علیہ السلام کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اقتدا کاحکم دیاگیا اس لئے درود میں بھی ان ہی کو خاص کیاگیا۔
وخص ابراھیم لسلامہ علینا،اولانہ سمانا المسلمین اولان
المطلوب صلاۃ یتخذ بھاخلیلا(الدرالمختار۵۱۴/۱)
(قولہ لسلامہ علینا) ای لیلۃ المعراج حیث قال ابلغ امتک منی السلام (قولہ اولانہ سماناالمسلمین ) کمااخبر تعالی بقولہ ھو سماکم المسلمین۔(الطحطاوی علی الدر۲۲۶/۱)
نقل اولا کمانقل فی الطحطاوی ثم قال …… واجیب باجوبۃ اخری :منھا ان ذلک لابوتہ ……ولرفعۃ شانہ فی الرسل وکونہ افضل بقیۃ الانبیاء علی الراجح ……وللامر بالاقتداء بہ فی قولہ تعالی ان اتبع ملۃ ابراھیم حنیفا۔(ردالمحتار علی الدرالمختار،۵۱۴/۱)(نجم الفتاوی ۴۵۵/۱،کتاب العقائد)
واللہ اعلم بالصواب
#محمد_امیر_الدین_حنفی_دیوبندی
https://t.me/jamashuda
👍9❤2
کسی شریک کا تنخواہ یا اجرت وصول کرنا درست نہیں
السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ دو آدمی نے مل کر ہوٹل کرائیں پر لی اور دونوں برابر کے شریک ہیں اب ان میں سے ایک آدمی ہوٹل کی دیکھ ریکھ اور محنت کرتا ہے تو کیا وہ آدمی ہوٹل کے منافع میں سے تنخواہ اور حصہ دونوں لے سکتا ہے مدلل جواب مرحمت فرمائیں۔(ابو محمد)
#وعلیکم_السلام_ورحمۃ_اللہ_وبرکاتہ #بسم_اللہ_الرحمن_الرحیم #الجواب_وباللہ_التوفیق...... صورت مسئولہ میں محنت کرنے والا شریک علیحدہ سے اپنے عمل کی اجرت یعنی تنخواہ نہیں لے سکتا، اس لیے کہ وہ اپنے سرمایہ ہی کے لیے محنت کررہا ہے۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ دونوں اپنی شرکت کے معاہدے میں نفع کی تقسیم کی شرح تبدیل کرکے محنت کرنے والے کے لیے نفع کی شرح زیادہ طے کرلیں، مثلاً: دو تہائی نفع محنت کرنے والے شریک کا ہو اور ایک تہائی دوسرے کا، یہ جائز ہے۔
(ولو) استأجره (لحمل طعام) مشترك (بينهما فلا أجر له)؛ لأنه لا يعمل شيئاً لشريكه إلا ويقع بعضه لنفسه؛ فلا يستحق الأجر۔(الدر المختار وحاشية ابن عابدين ۶۰/۶)
والشريكان في العمل إذا غاب أحدهما أو مرض أو لم يعمل وعمل الآخر فالربح بينهما على ما اشترطا؛ لما روي أن رجلاً جاء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: أنا أعمل في السوق ولي شريك يصلي في المسجد، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لعلك بركتك منه"، والمعنى أن استحقاق الأجر بتقبل العمل دون مباشرته والتقبل كان منهما وإن باشر العمل أحدهما، ألا ترى أن المضارب إذا استعان برب المال في بعض العمل كان الربح بينهما على الشرط أو لا ترى أن الشريكين في العمل يستويان في الربح وهما لا يستطيعان أن يعملا على وجه يكونان فيه سواء، وربما يشترط لأحدهما زيادة ربح لحذاقته وإن كان الآخر أكثر عملاً منه، فكذلك يكون الربح بينهما على الشرط ما بقى العقد بينهما وإن كان المباشر للعمل أحدهما ويستوي إن امتنع الآخر من العمل بعذر أو بغير عذر لأن العقد لا يرتفع بمجرد امتناعه من العمل واستحقاق الربح بالشرط في العقد".(مبسوط سرخسی،۲۸۷/۱۱،دارالفکر)
(قوله: والربح إلخ) حاصله أن الشركة الفاسدة إما بدون مال أو به من الجانبين أو من أحدهما، فحكم الأولى أن الربح فيها للعامل كما علمت، والثانية بقدر المال، ولم يذكر أن لأحدهم أجراً ؛ لأنه لا أجر للشريك في العمل بالمشترك كما ذكروه في قفيز الطحان، والثالثة لرب المال وللآخر أجر مثله (قوله: فالشركة فاسدة) ؛ لأنه في معنى بع منافع دابتي ليكون الأجر بيننا، فيكون كله لصاحب الدابة؛ لأن العاقد عقد العقد على ملك صاحبه بأمره، وللعاقد أجرة مثله؛ لأنه لم يرض أن يعمل مجانا فتح''۔(فتاوی شامی,۳۲۶/۴،دارالفکر) جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی) فتاویٰ قاسمیہ ۵۴/۲۰تا۵۸) فتاویٰ محمودیہ ۳۷۴/۲۳،باب الاجارۃ الفاسدۃ،جامعہ فاروقیہ کراچی) فتاویٰ رحیمیہ ۱۸۴,۳تا۱۸۵,کتاب الشرکۃ ،باب الاجارۃ ،دارالاشاعت کراچی)
واللہ اعلم بالصواب
امیر الدین حنفی ودیوبندی
السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ دو آدمی نے مل کر ہوٹل کرائیں پر لی اور دونوں برابر کے شریک ہیں اب ان میں سے ایک آدمی ہوٹل کی دیکھ ریکھ اور محنت کرتا ہے تو کیا وہ آدمی ہوٹل کے منافع میں سے تنخواہ اور حصہ دونوں لے سکتا ہے مدلل جواب مرحمت فرمائیں۔(ابو محمد)
#وعلیکم_السلام_ورحمۃ_اللہ_وبرکاتہ #بسم_اللہ_الرحمن_الرحیم #الجواب_وباللہ_التوفیق...... صورت مسئولہ میں محنت کرنے والا شریک علیحدہ سے اپنے عمل کی اجرت یعنی تنخواہ نہیں لے سکتا، اس لیے کہ وہ اپنے سرمایہ ہی کے لیے محنت کررہا ہے۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ دونوں اپنی شرکت کے معاہدے میں نفع کی تقسیم کی شرح تبدیل کرکے محنت کرنے والے کے لیے نفع کی شرح زیادہ طے کرلیں، مثلاً: دو تہائی نفع محنت کرنے والے شریک کا ہو اور ایک تہائی دوسرے کا، یہ جائز ہے۔
(ولو) استأجره (لحمل طعام) مشترك (بينهما فلا أجر له)؛ لأنه لا يعمل شيئاً لشريكه إلا ويقع بعضه لنفسه؛ فلا يستحق الأجر۔(الدر المختار وحاشية ابن عابدين ۶۰/۶)
والشريكان في العمل إذا غاب أحدهما أو مرض أو لم يعمل وعمل الآخر فالربح بينهما على ما اشترطا؛ لما روي أن رجلاً جاء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: أنا أعمل في السوق ولي شريك يصلي في المسجد، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لعلك بركتك منه"، والمعنى أن استحقاق الأجر بتقبل العمل دون مباشرته والتقبل كان منهما وإن باشر العمل أحدهما، ألا ترى أن المضارب إذا استعان برب المال في بعض العمل كان الربح بينهما على الشرط أو لا ترى أن الشريكين في العمل يستويان في الربح وهما لا يستطيعان أن يعملا على وجه يكونان فيه سواء، وربما يشترط لأحدهما زيادة ربح لحذاقته وإن كان الآخر أكثر عملاً منه، فكذلك يكون الربح بينهما على الشرط ما بقى العقد بينهما وإن كان المباشر للعمل أحدهما ويستوي إن امتنع الآخر من العمل بعذر أو بغير عذر لأن العقد لا يرتفع بمجرد امتناعه من العمل واستحقاق الربح بالشرط في العقد".(مبسوط سرخسی،۲۸۷/۱۱،دارالفکر)
(قوله: والربح إلخ) حاصله أن الشركة الفاسدة إما بدون مال أو به من الجانبين أو من أحدهما، فحكم الأولى أن الربح فيها للعامل كما علمت، والثانية بقدر المال، ولم يذكر أن لأحدهم أجراً ؛ لأنه لا أجر للشريك في العمل بالمشترك كما ذكروه في قفيز الطحان، والثالثة لرب المال وللآخر أجر مثله (قوله: فالشركة فاسدة) ؛ لأنه في معنى بع منافع دابتي ليكون الأجر بيننا، فيكون كله لصاحب الدابة؛ لأن العاقد عقد العقد على ملك صاحبه بأمره، وللعاقد أجرة مثله؛ لأنه لم يرض أن يعمل مجانا فتح''۔(فتاوی شامی,۳۲۶/۴،دارالفکر) جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی) فتاویٰ قاسمیہ ۵۴/۲۰تا۵۸) فتاویٰ محمودیہ ۳۷۴/۲۳،باب الاجارۃ الفاسدۃ،جامعہ فاروقیہ کراچی) فتاویٰ رحیمیہ ۱۸۴,۳تا۱۸۵,کتاب الشرکۃ ،باب الاجارۃ ،دارالاشاعت کراچی)
واللہ اعلم بالصواب
امیر الدین حنفی ودیوبندی
❤3👍3
سوال ]۸۴۱۴[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں : ہمارے یہاں ’’مدرسہ جامعہ اسلامیہ جلالیہ‘‘ میں درجہ اول دینیات میں غیر مقامی طلبہ داخلہ لیتے ہیں ، ان سے مزید کھانے کے لئے پانچ ہزار پانچ سو روپئے لئے جاتے ہیں اور ان بچوں کے سر پرست صاحبان کو یہ بتلایا جاتا ہے کہ آپ کا بچہ اگر مدرسہ سے چلا جائے تو پانچ ہزار پانچ سو روپئے آپ کو واپس نہیں کئے جائیں گے؛ اس لئے کہ اس سے مدرسہ میں طلبہ کی کمی ہوگی؛ کیوں کہ درجات کے اعتبار سے طلبہ کی تعداد متعین ہے، سرپرست صاحبان بھی اس وقت مان لیتے ہیں ؛ لیکن بعد میں جب بچہ چلا جاتا ہے تو خوراکی کے نام پر جو رقم جمع کی تھی اسے مانگتے ہیں ، مذکورہ صورت میں گارجین کو خوراکی کی رقم واپس کرنا ضروری ہے، جب کہ گارجین نے وعدہ کیا تھا کہ بچہ اگر چلا جائے تو رقم واپس نہیں لیں گے۔ دوسری صورت ہمارے یہاں یہ بھی ہے کہ ایک خصوصی مطبخ قیمتاً چلتا ہے، جس میں اہل ثروت حضرات کے بچے سالانہ نو ہزار روپئے جمع کرتے ہیں اور اپنا کھانا کھاتے ہیں ، اس صورت میں بھی کبھی بچے چلے جاتے ہیں ، ان بچوں کے سرپرست صاحبان بھی بوقت داخلہ وعدہ کرتے ہیں ، بچے چلے جانے کی صورت میں روپئے واپس نہیں لیں گے؛ لیکن بعد میں کچھ لوگ مطالبہ کرتے ہیں ، ایسی صورت میں یہ رقم شرعاً واپس کرنا ضروری ہے یانہیں ؟
(ب) خوراکی کے نام پر جو رقم الگ سے لی جاتی ہے وہی رقم اگر داخلہ فیس کے ساتھ جوڑ کر داخلہ فیس میں اضافہ کردیا جائے اور داخلہ فیس بجائے ۸۰۰؍ کے ۹۸۰؍ یا ۶۳۰۰؍ کردیا جائے اور اس صورت میں اگر بچہ چلا جائے تو رقم واپس نہیں کی جائے گی، تو کیا یہ شرعاً جائز ہے؟
(۲) ایک استاذ ایک مدرسہ میں پڑھاتے پڑھاتے بوڑھے کمزور اور بیمار ومعذور ہوگئے، اب پڑھانے سے معذور ہیں ، ادھر پوری زندگی مدرسہ میں رہنے کی وجہ سے دوسرا کوئی ذریعہ معاش کا بھی گھر میں انتظام نہیں ہے، اب کیا اس حالت میں مدرسہ کی طرف سے ان کے لئے پنشن جاری کرنا یا ان کے لئے پنشن لینا جائز ہے یانہیں ؟ اگر جائز ہے تو کس فنڈ سے ان کو رقم دی جائے گی؟
المستفتی: ارکان حل وعقد جامعہ جلالیہ ہوجائی آسام، ہند
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وبہ التوفیق
حسب تحریر سوال جو رقم مدرسہ میں مقیم طلبہ کے سرپرستوں سے سال بھر کی خوراکی کے نام پر وصول کی جاتی ہے وہ رقم شرعاً طعام کے عوض میں ہے؛ لہٰذا درمیان سال میں اگر طالب علم چلا جاتا ہے، تو حساب لگا کر باقی ماندہ رقم سرپرستوں کو واپس کرنا ضروری ہے؛ کیوں کہ اب اس رقم کا کوئی مصرف نہیں رہا اور داخلہ کے وقت مدرسہ کے ذمہ داران اور طلبہ کے سرپرستوں کے درمیان یہ جو طے ہوا تھا کہ بیچ سال میں طالب علم کے چلے جانے کی صورت میں وہ رقم کی واپسی کے مطالبہ کے مجاز نہ ہوں گے، اس کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں ہے؛ البتہ خوراکی کی رقم اگر داخلہ فیس میں منضم کرکے اصل داخلہ فیس میں اضافہ کردیا جائے تو اب ذمہ داران مدرسہ طالب علم کے درمیانی سال میں واپس چلے جانے کی صورت میں بقیہ رقم کی واپسی کے مکلف نہ ہوں گے۔ اور نہ ہی سرپرست حضرات کو مطالبہ کا اختیار ہوگا؛ اس لئے کہ وہ پوری رقم داخلہ فیس ہی کے لئے متعین ہے اور منجانب مدرسہ اس کا داخلہ ہوچکا ہے۔
عن أبي حمید الساعدي أن رسول ﷲ ﷺ قال: لا یحل لمسلم أن یأخذ مال أخیہ بغیر حق۔ (مجمع الزوائد، باب الغصب وحرمۃ مال المسلم، دارالکتب العلمیۃ بیروت ۴/ ۱۴۱، رقم: ۶۸۵۹، مسند أحمد بن حنبل ۵/ ۴۲۵، رقم: ۲۳۰۰۳)
عن عبدﷲ بن عمرو بن عوف المزني عن أبیہ، عن جدہ، أن رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم قال: الصلح جائز بین المسلمین إلا صلحا حرم حلالا، أو أحل حراما، والمسلمون علی شروطہم، إلا شرطا حرم حلالا، أو أحل حراما۔ (سنن الترمذي، الأحکام، باب ما ذکر عن رسول اﷲ ﷺ في الصلح بین الناس، النسخۃ الہندیۃ ۱/ ۲۵۱، دارالسلام، رقم: ۱۳۵۲)
لو باع کاغذۃ بألف یجوز، ولا یکرہ۔ (فتح القدیر، کتاب الکفالۃ، زکریا دیوبند ۷/ ۱۹۸، دارالفکر ۷/ ۲۱۲، کوئٹہ ۶/ ۳۲۴، دارالحکام ۲/ ۳۰۴، الدر مع الرد، مطلب بیع العینۃ، کراچی ۵/ ۳۲۶، زکریا ۷/ ۶۱۳)
(۲) جب مدرسہ میں قانون وضابطہ یہ بن جائے کہ کمزور اور معذور مدرسین وملازمین کے لئے پنشن جاری کیا جائے گا، تو ایسی صورت میں اس ضابطہ کے مطابق مذکورہ مدرس کو منجانب مدرسہ پنشن دینا جائز اور درست ہے۔ اور بہتر یہ ہے کہ اخبارات اور کثیر الاشاعت رسائل میں اس ضابطہ کا اعلان کردیا جائے، تاکہ لوگوں کو اس کا علم ہوجائے۔
وأما شرائط الصحۃ، فمنہا: رضا المتعاقدین۔ (ہندیۃ، کتاب الإجارۃ، الباب الأول، زکریا جدید ۴/ ۴۴۰، قدیم ۴/ ۴۱۱)
عن عبدﷲ بن عمرو بن عوف المزني عن أبیہ، عن جدہ، أن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم قال: والمسلمون علی شروطہم، إلا شرطا حرم حلالا، أو أحل حراما۔ (المعجم الکبیر للطبراني، دار إحیاء التراث العربي ۱۷/ ۲۲، رقم: ۳۰، سنن الدارقطني، کتاب البیوع، دارالکتب العلمیۃ بیروت ۳/ ۲۳، رقم: ۲۸۶۹)
(ب) خوراکی کے نام پر جو رقم الگ سے لی جاتی ہے وہی رقم اگر داخلہ فیس کے ساتھ جوڑ کر داخلہ فیس میں اضافہ کردیا جائے اور داخلہ فیس بجائے ۸۰۰؍ کے ۹۸۰؍ یا ۶۳۰۰؍ کردیا جائے اور اس صورت میں اگر بچہ چلا جائے تو رقم واپس نہیں کی جائے گی، تو کیا یہ شرعاً جائز ہے؟
(۲) ایک استاذ ایک مدرسہ میں پڑھاتے پڑھاتے بوڑھے کمزور اور بیمار ومعذور ہوگئے، اب پڑھانے سے معذور ہیں ، ادھر پوری زندگی مدرسہ میں رہنے کی وجہ سے دوسرا کوئی ذریعہ معاش کا بھی گھر میں انتظام نہیں ہے، اب کیا اس حالت میں مدرسہ کی طرف سے ان کے لئے پنشن جاری کرنا یا ان کے لئے پنشن لینا جائز ہے یانہیں ؟ اگر جائز ہے تو کس فنڈ سے ان کو رقم دی جائے گی؟
المستفتی: ارکان حل وعقد جامعہ جلالیہ ہوجائی آسام، ہند
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وبہ التوفیق
حسب تحریر سوال جو رقم مدرسہ میں مقیم طلبہ کے سرپرستوں سے سال بھر کی خوراکی کے نام پر وصول کی جاتی ہے وہ رقم شرعاً طعام کے عوض میں ہے؛ لہٰذا درمیان سال میں اگر طالب علم چلا جاتا ہے، تو حساب لگا کر باقی ماندہ رقم سرپرستوں کو واپس کرنا ضروری ہے؛ کیوں کہ اب اس رقم کا کوئی مصرف نہیں رہا اور داخلہ کے وقت مدرسہ کے ذمہ داران اور طلبہ کے سرپرستوں کے درمیان یہ جو طے ہوا تھا کہ بیچ سال میں طالب علم کے چلے جانے کی صورت میں وہ رقم کی واپسی کے مطالبہ کے مجاز نہ ہوں گے، اس کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں ہے؛ البتہ خوراکی کی رقم اگر داخلہ فیس میں منضم کرکے اصل داخلہ فیس میں اضافہ کردیا جائے تو اب ذمہ داران مدرسہ طالب علم کے درمیانی سال میں واپس چلے جانے کی صورت میں بقیہ رقم کی واپسی کے مکلف نہ ہوں گے۔ اور نہ ہی سرپرست حضرات کو مطالبہ کا اختیار ہوگا؛ اس لئے کہ وہ پوری رقم داخلہ فیس ہی کے لئے متعین ہے اور منجانب مدرسہ اس کا داخلہ ہوچکا ہے۔
عن أبي حمید الساعدي أن رسول ﷲ ﷺ قال: لا یحل لمسلم أن یأخذ مال أخیہ بغیر حق۔ (مجمع الزوائد، باب الغصب وحرمۃ مال المسلم، دارالکتب العلمیۃ بیروت ۴/ ۱۴۱، رقم: ۶۸۵۹، مسند أحمد بن حنبل ۵/ ۴۲۵، رقم: ۲۳۰۰۳)
عن عبدﷲ بن عمرو بن عوف المزني عن أبیہ، عن جدہ، أن رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم قال: الصلح جائز بین المسلمین إلا صلحا حرم حلالا، أو أحل حراما، والمسلمون علی شروطہم، إلا شرطا حرم حلالا، أو أحل حراما۔ (سنن الترمذي، الأحکام، باب ما ذکر عن رسول اﷲ ﷺ في الصلح بین الناس، النسخۃ الہندیۃ ۱/ ۲۵۱، دارالسلام، رقم: ۱۳۵۲)
لو باع کاغذۃ بألف یجوز، ولا یکرہ۔ (فتح القدیر، کتاب الکفالۃ، زکریا دیوبند ۷/ ۱۹۸، دارالفکر ۷/ ۲۱۲، کوئٹہ ۶/ ۳۲۴، دارالحکام ۲/ ۳۰۴، الدر مع الرد، مطلب بیع العینۃ، کراچی ۵/ ۳۲۶، زکریا ۷/ ۶۱۳)
(۲) جب مدرسہ میں قانون وضابطہ یہ بن جائے کہ کمزور اور معذور مدرسین وملازمین کے لئے پنشن جاری کیا جائے گا، تو ایسی صورت میں اس ضابطہ کے مطابق مذکورہ مدرس کو منجانب مدرسہ پنشن دینا جائز اور درست ہے۔ اور بہتر یہ ہے کہ اخبارات اور کثیر الاشاعت رسائل میں اس ضابطہ کا اعلان کردیا جائے، تاکہ لوگوں کو اس کا علم ہوجائے۔
وأما شرائط الصحۃ، فمنہا: رضا المتعاقدین۔ (ہندیۃ، کتاب الإجارۃ، الباب الأول، زکریا جدید ۴/ ۴۴۰، قدیم ۴/ ۴۱۱)
عن عبدﷲ بن عمرو بن عوف المزني عن أبیہ، عن جدہ، أن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم قال: والمسلمون علی شروطہم، إلا شرطا حرم حلالا، أو أحل حراما۔ (المعجم الکبیر للطبراني، دار إحیاء التراث العربي ۱۷/ ۲۲، رقم: ۳۰، سنن الدارقطني، کتاب البیوع، دارالکتب العلمیۃ بیروت ۳/ ۲۳، رقم: ۲۸۶۹)
👍6
والوکیل إنما یستفید التصرف من الموکل، وقد أمرہ بالدفع إلی فلان فلا یملک الدفع إلی غیرہ۔ (شامي، کتاب الزکاۃ، زکریا ۳/ ۱۸۹، کراچی ۲/ ۲۶۹) فتاویٰ قاسمیہ ۴۳/۱۹)
واللہ اعلم بالصواب
واللہ اعلم بالصواب
عیدین میں مسبوق اپنی نماز کیسے ادا کریں؟
عید کی نماز میں مسبوق ہونے کی کئی صورتیں ممکن ہیں، ہر ایک کا حکم الگ الگ ذیل میں بیان کیا جاتا ہے:
(۱) جس کی نماز عید میں پہلی رکعت چھوٹ گئی ہو وہ امام کے سلام پھیردینے کے بعد جب کھڑا ہو تو اولاً ثناء، تعوذ، تسمیہ، فاتحہ اور سورت پڑھے، پھر زائد تکبیرات کہے، اس کے بعد رکوع سجدہ کرکے بقیہ نماز پوری کرے گا۔ (فتاویٰ محمودیہ ڈابھیل ۸؍۳۷۸، احسن الفتاویٰ ۴؍۱۴۳)
عبارت ملاحظہ فرمائیں
ولو سبق برکعۃ یقرأ ثم یکبر لئلا یتوالی التکبیر۔ (درمختار) أي لأنہ إذا کبر قبل القراء ۃ وقد کبر مع الإمام بعد القراء ۃ لزم توالی التکبیرات في الرکعتین۔ قال في البحر: ولم یقل بہ أحدٌ من الصحابۃ ولو بدأ بالقراء ۃ یصیر فعلہ موافقاً لقول عليؓ فکان أولیٰ، کذا في المحیط، وہو مخصص لقولہم: إن المسبوق یقضي أول صلاتہ في حق الأذکار۔ (شامی زکریا ۳؍۵۶، البحر الرائق کوئٹہ ۲؍۱۶۱، بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۳، حلبی کبیر اشرفی ۵۷۲، طحطاوي علی المراقي ۵۳۴)
(۲) اور جو شخص امام کے ساتھ اس حال میں آکر شریک ہوا کہ امام پہلی رکعت کی زائد تکبیرات کہہ کر قرأت شروع کرچکا تھا تو یہ مسبوق شخص تکبیر تحریمہ کہہ کر زائد تکبیرات کہے گا۔
عبارت ملاحظہ فرمائیں
وإن أدرکہ بعد ما کبر الإمام الزوائد وشرع في القراء ۃ فإنہ یکبر تکبیرۃ الافتتاح ویأتي بالزائد برأي نفسہ لا برأي الإمام؛ لأنہ مسبوق۔ (بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۲)
(۳) اور اگر امام کو رکوع میں پایا تو اگر امام کے ساتھ رکوع چھوٹ جانے کا اندیشہ نہ ہو تو ایسی صورت میں تکبیر تحریمہ کہہ کر کھڑے کھڑے زائد تکبیرات بھی کہے، پھر امام کے ساتھ رکوع میں شامل ہوجائے۔
وإن أدرک الإمام في الرکوع فإن لم یخف فوت الرکوع مع الإمام یکبر للافتتاح قائماً ویأتي بالزوائد ثم یتابع الإمام في الرکوع۔ (بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۲)
(۴) اور اگر رکوع چھوٹ جانے کا خوف ہو تو تکبیر تحریمہ کہے اور رکوع کی تکبیر کہہ کر رکوع میںچلاجائے، اور رکوع کی حالت میں ہی تکبیراتِ زوائد کہے اور رکوع میں اگر زائد تکبیرات اور رکوع کی تسبیحات دونوں ادا کرسکتا ہو تو دونوں کو جمع کرے، ورنہ تسبیحات کو چھوڑ کر صرف تکبیرات کہے گا۔
عبارت ملاحظہ فرمائیں
وإن خاف إن کبر یرفع الإمام رأسہ من الرکوع کبر للافتتاح وکبر للرکوع ورکع؛ لأنہ لو لم یرکع یفوتہ الرکوع فتفوتہ الرکعۃ بفوتہ وتبین أن التکبیرات أیضاً فاتتہ فیصیر بتحصیل التکبیرات مفوتاً لہا ولغیرہا من أرکان الرکعۃ۔ وہٰذا لا یجوز۔ ثم إذا رکع یکبر تکبیرات العید في الرکوع عند أبي حنیفۃؒ ومحمدؒ … ثم إن أمکنہ الجمع بین التکبیرات والتسبیحات جمع بینہما وإن لم یمکنہ الجمع بینہما، یأتي بالتکبیرات دون التسبیحات؛ لأن التکبیرات واجبۃ والتسبیحات سنۃ والاشتغال بالواجب أولیٰ۔ (بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۲)
(۵) اور اگر رکوع میں تکبیرات پوری ہونے سے پہلے امام نے سر اٹھالیا تو جتنی تکبیرات باقی رہ گئی ہوں وہ ساقط ہوجائیںگی۔
عبارت ملاحظہ فرمائیں
فإن رفع الإمام رأسہ من الرکوع قبل أن یتمہا رفع رأسہ؛ لأن متابعۃ الإمام واجبۃ وسقط عنہ ما بقي من التکبیرات۔ (بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۲، حلبي کبیر أشرفي ۵۷۲، شامي زکریا ۳؍۵۶)(کتاب المسائل۴۷۵/۱)
واللہ اعلم بالصواب
#محمد_امیر_الدین_حنفی_دیوبندی #احمد_نگر_ہوجائی_آسام
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com
عید کی نماز میں مسبوق ہونے کی کئی صورتیں ممکن ہیں، ہر ایک کا حکم الگ الگ ذیل میں بیان کیا جاتا ہے:
(۱) جس کی نماز عید میں پہلی رکعت چھوٹ گئی ہو وہ امام کے سلام پھیردینے کے بعد جب کھڑا ہو تو اولاً ثناء، تعوذ، تسمیہ، فاتحہ اور سورت پڑھے، پھر زائد تکبیرات کہے، اس کے بعد رکوع سجدہ کرکے بقیہ نماز پوری کرے گا۔ (فتاویٰ محمودیہ ڈابھیل ۸؍۳۷۸، احسن الفتاویٰ ۴؍۱۴۳)
عبارت ملاحظہ فرمائیں
ولو سبق برکعۃ یقرأ ثم یکبر لئلا یتوالی التکبیر۔ (درمختار) أي لأنہ إذا کبر قبل القراء ۃ وقد کبر مع الإمام بعد القراء ۃ لزم توالی التکبیرات في الرکعتین۔ قال في البحر: ولم یقل بہ أحدٌ من الصحابۃ ولو بدأ بالقراء ۃ یصیر فعلہ موافقاً لقول عليؓ فکان أولیٰ، کذا في المحیط، وہو مخصص لقولہم: إن المسبوق یقضي أول صلاتہ في حق الأذکار۔ (شامی زکریا ۳؍۵۶، البحر الرائق کوئٹہ ۲؍۱۶۱، بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۳، حلبی کبیر اشرفی ۵۷۲، طحطاوي علی المراقي ۵۳۴)
(۲) اور جو شخص امام کے ساتھ اس حال میں آکر شریک ہوا کہ امام پہلی رکعت کی زائد تکبیرات کہہ کر قرأت شروع کرچکا تھا تو یہ مسبوق شخص تکبیر تحریمہ کہہ کر زائد تکبیرات کہے گا۔
عبارت ملاحظہ فرمائیں
وإن أدرکہ بعد ما کبر الإمام الزوائد وشرع في القراء ۃ فإنہ یکبر تکبیرۃ الافتتاح ویأتي بالزائد برأي نفسہ لا برأي الإمام؛ لأنہ مسبوق۔ (بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۲)
(۳) اور اگر امام کو رکوع میں پایا تو اگر امام کے ساتھ رکوع چھوٹ جانے کا اندیشہ نہ ہو تو ایسی صورت میں تکبیر تحریمہ کہہ کر کھڑے کھڑے زائد تکبیرات بھی کہے، پھر امام کے ساتھ رکوع میں شامل ہوجائے۔
وإن أدرک الإمام في الرکوع فإن لم یخف فوت الرکوع مع الإمام یکبر للافتتاح قائماً ویأتي بالزوائد ثم یتابع الإمام في الرکوع۔ (بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۲)
(۴) اور اگر رکوع چھوٹ جانے کا خوف ہو تو تکبیر تحریمہ کہے اور رکوع کی تکبیر کہہ کر رکوع میںچلاجائے، اور رکوع کی حالت میں ہی تکبیراتِ زوائد کہے اور رکوع میں اگر زائد تکبیرات اور رکوع کی تسبیحات دونوں ادا کرسکتا ہو تو دونوں کو جمع کرے، ورنہ تسبیحات کو چھوڑ کر صرف تکبیرات کہے گا۔
عبارت ملاحظہ فرمائیں
وإن خاف إن کبر یرفع الإمام رأسہ من الرکوع کبر للافتتاح وکبر للرکوع ورکع؛ لأنہ لو لم یرکع یفوتہ الرکوع فتفوتہ الرکعۃ بفوتہ وتبین أن التکبیرات أیضاً فاتتہ فیصیر بتحصیل التکبیرات مفوتاً لہا ولغیرہا من أرکان الرکعۃ۔ وہٰذا لا یجوز۔ ثم إذا رکع یکبر تکبیرات العید في الرکوع عند أبي حنیفۃؒ ومحمدؒ … ثم إن أمکنہ الجمع بین التکبیرات والتسبیحات جمع بینہما وإن لم یمکنہ الجمع بینہما، یأتي بالتکبیرات دون التسبیحات؛ لأن التکبیرات واجبۃ والتسبیحات سنۃ والاشتغال بالواجب أولیٰ۔ (بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۲)
(۵) اور اگر رکوع میں تکبیرات پوری ہونے سے پہلے امام نے سر اٹھالیا تو جتنی تکبیرات باقی رہ گئی ہوں وہ ساقط ہوجائیںگی۔
عبارت ملاحظہ فرمائیں
فإن رفع الإمام رأسہ من الرکوع قبل أن یتمہا رفع رأسہ؛ لأن متابعۃ الإمام واجبۃ وسقط عنہ ما بقي من التکبیرات۔ (بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۲، حلبي کبیر أشرفي ۵۷۲، شامي زکریا ۳؍۵۶)(کتاب المسائل۴۷۵/۱)
واللہ اعلم بالصواب
#محمد_امیر_الدین_حنفی_دیوبندی #احمد_نگر_ہوجائی_آسام
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com
Telegram
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
"جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند" میں روزانہ ایک دو مسئلہ مدلل ومزین انداز میں بطورِ استفادہ آپ کو ملے گا،
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1
👍9❤1
سفر سے وطن اصلی واپسی کے وقت راستہ مسافت شرعی سے کم ہونے کی صورت میں قصر کا حکم
سوال
اگر آدمی سفر شرعی کی مسافت کی دوری پوری کرچکا ہو اور اگر واپسی میں اس کا وطن اصلی سفر کی مسافت شرعی کی دوری پر نہ ہو تو کیا واپسی میں پوری نماز پڑھے گا یا قصر کرے گا؟ یعنی واپسی میں بھی قصر کے لیے مسافت شرعی کا ہونا ضروری ہے یا نہیں ؟
الجواب وبہ التوفیق
اگر کوئی شخص مسافت شرعی(سوا ستتر کلومیٹر) طے کر کے مسافر بن چکا ہو اور سفر میں قصر کرتا رہا ہو، لیکن واپسی کے وقت جس جگہ سے اپنے وطن اصلی تک واپسی کا سفر طے کرنا ہو اس جگہ اور وطن اصلی کے درمیان شرعی مسافت سفر کے برابر فاصلہ نہ ہو (یا تو اس وجہ سے کہ وہ سفر کرتے کرتے واپسی سے پہلے ایسی جگہ آکر ٹھہرا ہو جو اس کے وطنِ اصلی سے مسافت شرعی سے کم مسافت پر واقع ہو یا اس وجہ سے کہ وہ واپسی کے وقت ایسے قریبی راستے کو اختیار کرے جو مسافت شرعی سے کم ہو ) تو اس کی دو صورتیں ہیں:
۱)جہاں ٹھہرا ہوا تھا اگر اس جگہ کم از کم پندرہ دن ٹھہر کر واپس ہورہا ہے تو اب واپسی میں قصر نہیں کرسکتا، کیوں کہ مقیم ہوجانے کے بعد سفر کا آغاز ہوا ہے، لیکن مسافت شرعی ( سوا ستتر کلومیٹر) سے کم ہے ، جب کہ اس صورت میں واپسی کے وقت قصر کے لیے سفر کی مسافتِ شرعی کا ہونا ضروری ہے۔
۲)لیکن اگر جس جگہ سے واپسی ہورہی ہے وہاں پندرہ دن قیام نہ کرنے کی وجہ سے مقیم نہیں تھا، بلکہ مسافر تھا اور قصر کر رہا تھا تو اب واپسی میں بھی وطنِ اصلی میں داخل ہونے سے پہلے پہلے قصر کرتا رہے گا، کیوں کہ اس صورت میں پہلے ہی سے مسافر تھا، نئے سرے سے سفر شروع نہیں کیا، اور مسافر جب تک وطنِ اصلی میں داخل نہ ہوجائے اس وقت تک وہ قصر کرتا ہے، اس صورت میں واپسی کے وقت قصر کے لیے سفر کی مسافتِ شرعی کا ہونا ضروری نہیں ہے، بلکہ دونوں صورتوں (یعنی چاہے مسافتِ شرعی ہو یا نہ ہو) میں وطنِ اصلی میں داخل ہونے سے پہلے پہلے قصر کرنا لازم ہے۔
ولو لموضع طريقان: أحدهما مدة السفر، والآخر أقل، قصر في الأول لا الثاني.
(قوله: قصر في الأول) أي ولو كان اختار السلوك فيه بلا غرض صحيح خلافاً للشافعي، كما في البدائع۔(الدر المختار وحاشية ابن عابدين ١٢٣/٢)
وتعتبر المدة من أي طريق أخذ فيه، كذا في البحر الرائق. فإذا قصد بلدة وإلى مقصده طريقان: أحدهما مسيرة ثلاثة أيام ولياليها، والآخر دونها، فسلك الطريق الأبعد كان مسافراً عندنا، هكذا في فتاوى قاضي خان. وإن سلك الأقصر يتم، كذا في البحر الرائق.(الفتاوى الهندية،١٣٨/١)
وقال أبو حنيفة: إذا خرج إلى مصر في ثلاثة أيام وأمكنه أن يصل إليه من طريق آخر في يوم واحد قصر.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع٩٤/١)
ولا بد للمسافر من قصد مسافة مقدرة بثلاثة أيام حتى يترخص برخصة المسافرين وإلا لا يترخص أبداً ... ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوماً أو أكثر، كذا في الهداية.(الفتاوى الهندية١٣٩/١)
ولا يزال" المسافر الذي استحكم سفره بمضي ثلاثة أيام مسافراً "يقصر حتى يدخل مصره" يعني وطنه الأصلي "أو ينوي إقامته نصف شهر ببلد أو قرية" قدره ابن عباس وابن عمر رضي الله عنهم وإذا لم يستحكم سفره بأن أراد الرجوع لوطنه قبل مضي ثلاثة أيام يتم بمجرد الرجوع وإن لم يصل لوطنه لنقضه السفر؛ لأنه ترك بخلاف السفر لا يوجد بمجرد النية حتى يسير، لأنه فعل "وقصر إن نوى أقل منه" أي من نصف شهر "أو لم ينو" شيئاً "وبقي" على ذلك "سنين".
قوله: "في محل تصح إقامة فيه" شروط إتمام الصلاة ستة النية والمدة واستقلال الرأي واتحاد الموضع وصلاحيته وترك السير در قوله: "يقصر" جملة يقصر صفة مسافراً قوله: "يعني وطنه الأصلي" ومنتهى ذلك بالوصول إلى الربض، فإن الانتهاء كالابتداء والإطلاق دال على أن الدخول أعم من أن يكون للإقامة أولا، ولحاجة نسيها.(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح ص٤٢٥)
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دارالافتاء:جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن،فتویٰ نمبر:144004200424
سوال
اگر آدمی سفر شرعی کی مسافت کی دوری پوری کرچکا ہو اور اگر واپسی میں اس کا وطن اصلی سفر کی مسافت شرعی کی دوری پر نہ ہو تو کیا واپسی میں پوری نماز پڑھے گا یا قصر کرے گا؟ یعنی واپسی میں بھی قصر کے لیے مسافت شرعی کا ہونا ضروری ہے یا نہیں ؟
الجواب وبہ التوفیق
اگر کوئی شخص مسافت شرعی(سوا ستتر کلومیٹر) طے کر کے مسافر بن چکا ہو اور سفر میں قصر کرتا رہا ہو، لیکن واپسی کے وقت جس جگہ سے اپنے وطن اصلی تک واپسی کا سفر طے کرنا ہو اس جگہ اور وطن اصلی کے درمیان شرعی مسافت سفر کے برابر فاصلہ نہ ہو (یا تو اس وجہ سے کہ وہ سفر کرتے کرتے واپسی سے پہلے ایسی جگہ آکر ٹھہرا ہو جو اس کے وطنِ اصلی سے مسافت شرعی سے کم مسافت پر واقع ہو یا اس وجہ سے کہ وہ واپسی کے وقت ایسے قریبی راستے کو اختیار کرے جو مسافت شرعی سے کم ہو ) تو اس کی دو صورتیں ہیں:
۱)جہاں ٹھہرا ہوا تھا اگر اس جگہ کم از کم پندرہ دن ٹھہر کر واپس ہورہا ہے تو اب واپسی میں قصر نہیں کرسکتا، کیوں کہ مقیم ہوجانے کے بعد سفر کا آغاز ہوا ہے، لیکن مسافت شرعی ( سوا ستتر کلومیٹر) سے کم ہے ، جب کہ اس صورت میں واپسی کے وقت قصر کے لیے سفر کی مسافتِ شرعی کا ہونا ضروری ہے۔
۲)لیکن اگر جس جگہ سے واپسی ہورہی ہے وہاں پندرہ دن قیام نہ کرنے کی وجہ سے مقیم نہیں تھا، بلکہ مسافر تھا اور قصر کر رہا تھا تو اب واپسی میں بھی وطنِ اصلی میں داخل ہونے سے پہلے پہلے قصر کرتا رہے گا، کیوں کہ اس صورت میں پہلے ہی سے مسافر تھا، نئے سرے سے سفر شروع نہیں کیا، اور مسافر جب تک وطنِ اصلی میں داخل نہ ہوجائے اس وقت تک وہ قصر کرتا ہے، اس صورت میں واپسی کے وقت قصر کے لیے سفر کی مسافتِ شرعی کا ہونا ضروری نہیں ہے، بلکہ دونوں صورتوں (یعنی چاہے مسافتِ شرعی ہو یا نہ ہو) میں وطنِ اصلی میں داخل ہونے سے پہلے پہلے قصر کرنا لازم ہے۔
ولو لموضع طريقان: أحدهما مدة السفر، والآخر أقل، قصر في الأول لا الثاني.
(قوله: قصر في الأول) أي ولو كان اختار السلوك فيه بلا غرض صحيح خلافاً للشافعي، كما في البدائع۔(الدر المختار وحاشية ابن عابدين ١٢٣/٢)
وتعتبر المدة من أي طريق أخذ فيه، كذا في البحر الرائق. فإذا قصد بلدة وإلى مقصده طريقان: أحدهما مسيرة ثلاثة أيام ولياليها، والآخر دونها، فسلك الطريق الأبعد كان مسافراً عندنا، هكذا في فتاوى قاضي خان. وإن سلك الأقصر يتم، كذا في البحر الرائق.(الفتاوى الهندية،١٣٨/١)
وقال أبو حنيفة: إذا خرج إلى مصر في ثلاثة أيام وأمكنه أن يصل إليه من طريق آخر في يوم واحد قصر.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع٩٤/١)
ولا بد للمسافر من قصد مسافة مقدرة بثلاثة أيام حتى يترخص برخصة المسافرين وإلا لا يترخص أبداً ... ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوماً أو أكثر، كذا في الهداية.(الفتاوى الهندية١٣٩/١)
ولا يزال" المسافر الذي استحكم سفره بمضي ثلاثة أيام مسافراً "يقصر حتى يدخل مصره" يعني وطنه الأصلي "أو ينوي إقامته نصف شهر ببلد أو قرية" قدره ابن عباس وابن عمر رضي الله عنهم وإذا لم يستحكم سفره بأن أراد الرجوع لوطنه قبل مضي ثلاثة أيام يتم بمجرد الرجوع وإن لم يصل لوطنه لنقضه السفر؛ لأنه ترك بخلاف السفر لا يوجد بمجرد النية حتى يسير، لأنه فعل "وقصر إن نوى أقل منه" أي من نصف شهر "أو لم ينو" شيئاً "وبقي" على ذلك "سنين".
قوله: "في محل تصح إقامة فيه" شروط إتمام الصلاة ستة النية والمدة واستقلال الرأي واتحاد الموضع وصلاحيته وترك السير در قوله: "يقصر" جملة يقصر صفة مسافراً قوله: "يعني وطنه الأصلي" ومنتهى ذلك بالوصول إلى الربض، فإن الانتهاء كالابتداء والإطلاق دال على أن الدخول أعم من أن يكون للإقامة أولا، ولحاجة نسيها.(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح ص٤٢٥)
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دارالافتاء:جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن،فتویٰ نمبر:144004200424
❤1
اک چراغ اور بجھ گیا
پیر ذوالفقار احمد نقشبندی رحمہ اللہ بھی وفات پاگئے
إنَّالِلّٰہ وَإنَّاإِلَیہِ راجِعُون ، إنَّ لِلّٰہِ مَاأَخَذَ وَلَہٗ ماأَعࣿطی وَکُلُّ شَیࣿئٍ عِندَہٗ بِأَجَلٍ مُسَمًّی
بڑے ہی افسوس کے ساتھ یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ عالمِ اسلام کی مشہور و معروف شخصیت، تصوف کے عظیم رہنما حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی رحمہ اللہ کا انتقال ہو گیا ہے۔
آپ کی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، اصلاحِ نفس اور تزکیۂ قلوب کے لیے وقف رہی۔ آپ کے وعظ و ارشادات سے بے شمار افراد نے ہدایت پائی اور روحانی فیض حاصل کیا۔ آپ کا انتقال عالمِ اسلام خصوصاً اہلِ تصوف کے لیے ایک عظیم سانحہ ہے۔
دعائے مغفرت:
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی رحمہ اللہ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے قائم کردہ دینی و روحانی مشن کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ان کے اہلِ خانہ، خلفاء، متعلقین اور تمام عقیدت مندوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔
پیر ذوالفقار احمد نقشبندی رحمہ اللہ بھی وفات پاگئے
إنَّالِلّٰہ وَإنَّاإِلَیہِ راجِعُون ، إنَّ لِلّٰہِ مَاأَخَذَ وَلَہٗ ماأَعࣿطی وَکُلُّ شَیࣿئٍ عِندَہٗ بِأَجَلٍ مُسَمًّی
بڑے ہی افسوس کے ساتھ یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ عالمِ اسلام کی مشہور و معروف شخصیت، تصوف کے عظیم رہنما حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی رحمہ اللہ کا انتقال ہو گیا ہے۔
آپ کی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، اصلاحِ نفس اور تزکیۂ قلوب کے لیے وقف رہی۔ آپ کے وعظ و ارشادات سے بے شمار افراد نے ہدایت پائی اور روحانی فیض حاصل کیا۔ آپ کا انتقال عالمِ اسلام خصوصاً اہلِ تصوف کے لیے ایک عظیم سانحہ ہے۔
دعائے مغفرت:
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی رحمہ اللہ کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے قائم کردہ دینی و روحانی مشن کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ان کے اہلِ خانہ، خلفاء، متعلقین اور تمام عقیدت مندوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔
عیدین میں مسبوق اپنی نماز کیسے ادا کریں؟
عید کی نماز میں مسبوق ہونے کی کئی صورتیں ممکن ہیں، ہر ایک کا حکم الگ الگ ذیل میں بیان کیا جاتا ہے:
(۱) جس کی نماز عید میں پہلی رکعت چھوٹ گئی ہو وہ امام کے سلام پھیردینے کے بعد جب کھڑا ہو تو اولاً ثناء، تعوذ، تسمیہ، فاتحہ اور سورت پڑھے، پھر زائد تکبیرات کہے، اس کے بعد رکوع سجدہ کرکے بقیہ نماز پوری کرے گا۔ (فتاویٰ محمودیہ ڈابھیل ۸؍۳۷۸، احسن الفتاویٰ ۴؍۱۴۳)
عبارت ملاحظہ فرمائیں
ولو سبق برکعۃ یقرأ ثم یکبر لئلا یتوالی التکبیر۔ (درمختار) أي لأنہ إذا کبر قبل القراء ۃ وقد کبر مع الإمام بعد القراء ۃ لزم توالی التکبیرات في الرکعتین۔ قال في البحر: ولم یقل بہ أحدٌ من الصحابۃ ولو بدأ بالقراء ۃ یصیر فعلہ موافقاً لقول عليؓ فکان أولیٰ، کذا في المحیط، وہو مخصص لقولہم: إن المسبوق یقضي أول صلاتہ في حق الأذکار۔ (شامی زکریا ۳؍۵۶، البحر الرائق کوئٹہ ۲؍۱۶۱، بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۳، حلبی کبیر اشرفی ۵۷۲، طحطاوي علی المراقي ۵۳۴)
(۲) اور جو شخص امام کے ساتھ اس حال میں آکر شریک ہوا کہ امام پہلی رکعت کی زائد تکبیرات کہہ کر قرأت شروع کرچکا تھا تو یہ مسبوق شخص تکبیر تحریمہ کہہ کر زائد تکبیرات کہے گا۔
عبارت ملاحظہ فرمائیں
وإن أدرکہ بعد ما کبر الإمام الزوائد وشرع في القراء ۃ فإنہ یکبر تکبیرۃ الافتتاح ویأتي بالزائد برأي نفسہ لا برأي الإمام؛ لأنہ مسبوق۔ (بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۲)
(۳) اور اگر امام کو رکوع میں پایا تو اگر امام کے ساتھ رکوع چھوٹ جانے کا اندیشہ نہ ہو تو ایسی صورت میں تکبیر تحریمہ کہہ کر کھڑے کھڑے زائد تکبیرات بھی کہے، پھر امام کے ساتھ رکوع میں شامل ہوجائے۔
وإن أدرک الإمام في الرکوع فإن لم یخف فوت الرکوع مع الإمام یکبر للافتتاح قائماً ویأتي بالزوائد ثم یتابع الإمام في الرکوع۔ (بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۲)
(۴) اور اگر رکوع چھوٹ جانے کا خوف ہو تو تکبیر تحریمہ کہے اور رکوع کی تکبیر کہہ کر رکوع میںچلاجائے، اور رکوع کی حالت میں ہی تکبیراتِ زوائد کہے اور رکوع میں اگر زائد تکبیرات اور رکوع کی تسبیحات دونوں ادا کرسکتا ہو تو دونوں کو جمع کرے، ورنہ تسبیحات کو چھوڑ کر صرف تکبیرات کہے گا۔
عبارت ملاحظہ فرمائیں
وإن خاف إن کبر یرفع الإمام رأسہ من الرکوع کبر للافتتاح وکبر للرکوع ورکع؛ لأنہ لو لم یرکع یفوتہ الرکوع فتفوتہ الرکعۃ بفوتہ وتبین أن التکبیرات أیضاً فاتتہ فیصیر بتحصیل التکبیرات مفوتاً لہا ولغیرہا من أرکان الرکعۃ۔ وہٰذا لا یجوز۔ ثم إذا رکع یکبر تکبیرات العید في الرکوع عند أبي حنیفۃؒ ومحمدؒ … ثم إن أمکنہ الجمع بین التکبیرات والتسبیحات جمع بینہما وإن لم یمکنہ الجمع بینہما، یأتي بالتکبیرات دون التسبیحات؛ لأن التکبیرات واجبۃ والتسبیحات سنۃ والاشتغال بالواجب أولیٰ۔ (بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۲)
(۵) اور اگر رکوع میں تکبیرات پوری ہونے سے پہلے امام نے سر اٹھالیا تو جتنی تکبیرات باقی رہ گئی ہوں وہ ساقط ہوجائیںگی۔
عبارت ملاحظہ فرمائیں
فإن رفع الإمام رأسہ من الرکوع قبل أن یتمہا رفع رأسہ؛ لأن متابعۃ الإمام واجبۃ وسقط عنہ ما بقي من التکبیرات۔ (بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۲، حلبي کبیر أشرفي ۵۷۲، شامي زکریا ۳؍۵۶)(کتاب المسائل۴۷۵/۱)
واللہ اعلم بالصواب
#محمد_امیر_الدین_حنفی_دیوبندی #احمد_نگر_ہوجائی_آسام
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com
عید کی نماز میں مسبوق ہونے کی کئی صورتیں ممکن ہیں، ہر ایک کا حکم الگ الگ ذیل میں بیان کیا جاتا ہے:
(۱) جس کی نماز عید میں پہلی رکعت چھوٹ گئی ہو وہ امام کے سلام پھیردینے کے بعد جب کھڑا ہو تو اولاً ثناء، تعوذ، تسمیہ، فاتحہ اور سورت پڑھے، پھر زائد تکبیرات کہے، اس کے بعد رکوع سجدہ کرکے بقیہ نماز پوری کرے گا۔ (فتاویٰ محمودیہ ڈابھیل ۸؍۳۷۸، احسن الفتاویٰ ۴؍۱۴۳)
عبارت ملاحظہ فرمائیں
ولو سبق برکعۃ یقرأ ثم یکبر لئلا یتوالی التکبیر۔ (درمختار) أي لأنہ إذا کبر قبل القراء ۃ وقد کبر مع الإمام بعد القراء ۃ لزم توالی التکبیرات في الرکعتین۔ قال في البحر: ولم یقل بہ أحدٌ من الصحابۃ ولو بدأ بالقراء ۃ یصیر فعلہ موافقاً لقول عليؓ فکان أولیٰ، کذا في المحیط، وہو مخصص لقولہم: إن المسبوق یقضي أول صلاتہ في حق الأذکار۔ (شامی زکریا ۳؍۵۶، البحر الرائق کوئٹہ ۲؍۱۶۱، بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۳، حلبی کبیر اشرفی ۵۷۲، طحطاوي علی المراقي ۵۳۴)
(۲) اور جو شخص امام کے ساتھ اس حال میں آکر شریک ہوا کہ امام پہلی رکعت کی زائد تکبیرات کہہ کر قرأت شروع کرچکا تھا تو یہ مسبوق شخص تکبیر تحریمہ کہہ کر زائد تکبیرات کہے گا۔
عبارت ملاحظہ فرمائیں
وإن أدرکہ بعد ما کبر الإمام الزوائد وشرع في القراء ۃ فإنہ یکبر تکبیرۃ الافتتاح ویأتي بالزائد برأي نفسہ لا برأي الإمام؛ لأنہ مسبوق۔ (بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۲)
(۳) اور اگر امام کو رکوع میں پایا تو اگر امام کے ساتھ رکوع چھوٹ جانے کا اندیشہ نہ ہو تو ایسی صورت میں تکبیر تحریمہ کہہ کر کھڑے کھڑے زائد تکبیرات بھی کہے، پھر امام کے ساتھ رکوع میں شامل ہوجائے۔
وإن أدرک الإمام في الرکوع فإن لم یخف فوت الرکوع مع الإمام یکبر للافتتاح قائماً ویأتي بالزوائد ثم یتابع الإمام في الرکوع۔ (بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۲)
(۴) اور اگر رکوع چھوٹ جانے کا خوف ہو تو تکبیر تحریمہ کہے اور رکوع کی تکبیر کہہ کر رکوع میںچلاجائے، اور رکوع کی حالت میں ہی تکبیراتِ زوائد کہے اور رکوع میں اگر زائد تکبیرات اور رکوع کی تسبیحات دونوں ادا کرسکتا ہو تو دونوں کو جمع کرے، ورنہ تسبیحات کو چھوڑ کر صرف تکبیرات کہے گا۔
عبارت ملاحظہ فرمائیں
وإن خاف إن کبر یرفع الإمام رأسہ من الرکوع کبر للافتتاح وکبر للرکوع ورکع؛ لأنہ لو لم یرکع یفوتہ الرکوع فتفوتہ الرکعۃ بفوتہ وتبین أن التکبیرات أیضاً فاتتہ فیصیر بتحصیل التکبیرات مفوتاً لہا ولغیرہا من أرکان الرکعۃ۔ وہٰذا لا یجوز۔ ثم إذا رکع یکبر تکبیرات العید في الرکوع عند أبي حنیفۃؒ ومحمدؒ … ثم إن أمکنہ الجمع بین التکبیرات والتسبیحات جمع بینہما وإن لم یمکنہ الجمع بینہما، یأتي بالتکبیرات دون التسبیحات؛ لأن التکبیرات واجبۃ والتسبیحات سنۃ والاشتغال بالواجب أولیٰ۔ (بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۲)
(۵) اور اگر رکوع میں تکبیرات پوری ہونے سے پہلے امام نے سر اٹھالیا تو جتنی تکبیرات باقی رہ گئی ہوں وہ ساقط ہوجائیںگی۔
عبارت ملاحظہ فرمائیں
فإن رفع الإمام رأسہ من الرکوع قبل أن یتمہا رفع رأسہ؛ لأن متابعۃ الإمام واجبۃ وسقط عنہ ما بقي من التکبیرات۔ (بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۲، حلبي کبیر أشرفي ۵۷۲، شامي زکریا ۳؍۵۶)(کتاب المسائل۴۷۵/۱)
واللہ اعلم بالصواب
#محمد_امیر_الدین_حنفی_دیوبندی #احمد_نگر_ہوجائی_آسام
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com
Telegram
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
"جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند" میں روزانہ ایک دو مسئلہ مدلل ومزین انداز میں بطورِ استفادہ آپ کو ملے گا،
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1