جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
1.42K subscribers
117 photos
36 files
685 links
"جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند" میں روزانہ ایک دو مسئلہ مدلل ومزین انداز میں بطورِ استفادہ آپ کو ملے گا،

آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda

https://www.hanafimasail.com/?m=1
Download Telegram
تبلیغی اسفار میں نکلنے کو ہم ناجائز نہیں کہہ سکتے۔

(۳) مفتی رشید احمد صاحب لدھیانو ی علیہ الرحمہ کا سوال وجواب دیکھ لیا گیا ہے کہ اس میں جواب سوال کے مطابق نہیں ہے؛ اس لئے کہ دو مسئلے بالکل الگ الگ ہیں:

(۱) عورتوں کا اپنے حقیقی محرم اور اپنے شوہروں کے ساتھ دور دراز سفروں کو جانا بالاتفاق جائز ہے، اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔

(۲) عورتوں کا بغیر محرم یا بغیر شوہر کے دور دراز کے سفر پر جانا بالاتفاق ناجائز ہے، سائل نے پہلے مسئلہ سے متعلق سوال کیا اور حضرت مفتی صاحبؒ نے دوسرے مسئلہ سے متعلق جواب دیا؛ اس لئے سوال وجواب میں کوئی انطباق نہیں ہے اور اس کے بعد تقریباً چار صفحات میں جو عربی عبارات نقل کی گئی ہیں، ان میں سے کسی بھی عبارت میں عورتوں کے محارم یا شوہروں کے ساتھ دور دراز سفر میں نکلنے کی ممانعت موجود نہیں ہے؛ اس لئے ہمیں حیرت ہے کہ اس بے جوڑ فتوی کو ’’فتاوی دارالعلوم‘‘ میں ضم کر کے اس کا جزو کیسے بنا دیا گیا؟ مذکورہ تینوں مفتیان کرام ہمارے لئے بہت زیادہ قابل احترام اور ہمارے لئے پیشوا کے درجہ میں ہیں، مگر ہم کو اس بات پر شرمندگی ہے کہ ’’فتاوی دارالعلوم‘‘ میں ضم کئے گئے تینوں فتاوی میں سے ایک سے بھی مذکورہ وجوہات کی بنا پر اتفاق نہ کر سکے۔


📚فتاویٰ قاسمیہ ۵۰۲/۴)

واللہ اعلم بالصواب
👍1
تبلیغ کے لئے جانے والے صحابی کے مردہ گدھے کا زندہ ہونا

سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: ایک صحابی رسول ﷺ ایک گدھا لے کر تبلیغ دین کے لئے چلے، تھک کر ایک درخت کے نیچے لیٹ گئے ، اٹھنے کے بعد کیا دیکھتے ہیں کہ گدھا مر گیا ہے، وہ فکر مند نہیں ہوئے بلکہ دو رکعت نماز حاجت پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی، تو وہ گدھا زندہ ہوگیا، بعینہٖ یہی واقعہ ایک اور صحابی کے ساتھ پیش آیا، ان کا ایک لڑکا فوت ہوگیا، تو انہوں نے بھی دو رکعت نماز پڑھی اور دعا کی ، تو وہ لڑکا زندہ ہوگیا۔ یہ واقعات کس کتاب میں مذکور ہیں؟ براہ کرم حوالہ سے مطلع فرمائیں۔
المستفتی: شفیع احمد اعظمی بحرین

#بسم_اللہ_الرحمن_الرحیم #الجواب_وباللہ_التوفیق....... ایسا کوئی واقعہ کسی معتبر کتاب میں خاکسار کی نظر سے نہیں گذرا۔

📚فتاویٰ قاسمیہ ۴۲۸/۴)

واللہ اعلم بالصواب
👍2👏1
کیا ایک عورت چار مردوں کو جہنم میں لے جائے گی؟

سوال:
رسول پاک ﷺ نے فرمایا ۔ مجھے جب میراج پر لے جایا گیا میں دیکھا کہ میری امت کی بہت سی عورتیں سخت عذاب سے مبتلا تھی اُن کے سر کے بال جہنم کے دیواروں سے بندھے ہوئے تھے ۔ یہ وہ عورتیں تھی جو اپنے سر کے بال دوسرے مردوں سے نہیں چھپاتی تھی قیامت کے دن پردے کا سوال کیا جائیگا تو 1 عورت 4 جنّتی مردوں کو لیکر جائیگی ۔ 1 باپ ، 2 بھائی ، 3 شوہر ، 4 بیٹا، اسی حدیث کا دلیل مانگا جا رہا ہے مُجھ سے ۔مہربانی کرکے دلیل مجھے بھیجیں۔


#بسم_اللہ_الرحمن_الرحیم #الجواب_وباللہ_التوفیق.......
جواب نمبر: 605065


Fatwa : 831-848/M=01/1443

اس طرح کے عذاب پر مشتمل روایت کو علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے ”الکبائر“ میں الکبیرة السابعة والأربعون، نشوز المرأة علی زوجہا کے تحت بغیر سند کے ذکر کیا ہے، لیکن ایک عورت کے چار جنتی مردوں (باپ، بیٹا، شوہر، بھائی) کو جہنم میں لے جانے کی صراحت کسی روایت میں نہیں مل سکی۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

-------------------------------------------------------------
عورت اپنے ساتھ چار مردوں کو جہنم میں لے جائے گی" روایت کی تحقیق

سوال
ایک عورت اپنے ساتھ چار لوگوں کو جہنم لے کر جائے گی۔۔۔۔إلى آخره. کیا یہ حدیث ہے؟

#بسم_اللہ_الرحمن_الرحیم #الجواب_وباللہ_التوفیق.......
یہ روایت ہمیں تلاش کے باوجود نہیں مل سکی، اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنے سے گریز کیا جائے۔

فقط واللہ اعلم 
فتوی نمبر : 144106200833
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
1👏1
کیا بے نمازی عورت چار آدمیوں کو جہنم میں لے جائے گی؟

سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: کہ اس بات کی تحقیق مقصود ہے کہ بہت مشہور ہے کہ ایک غیرنمازی عورت چار آدمیوں کو جہنم میں لے جائے گی۔ (۱) اپنے باپ (۲) اپنے شوہر (۳) اپنے بھائی (۴) اپنے بیٹے کو حضور والا سے اس بات کی تحقیق مطلوب ہے کیا اس قسم کی کوئی حدیث ہے یاکہ یہ مشہور ہی ہے، کوئی حدیث نہیں ہے؟اگر حدیث ہے تو قوی درجہ کی یا ضعیف درجہ کی ہے تو کیا اس کو بطور ترغیب کے وعظ و تقریروں میں بیان کیا جاسکتا ہے؟
المستفتی: ثناء اللہ پرتاب گڈھی، متعلم دارالعلوم اسلامیہ بستی


#بسم_اللہ_الرحمن_الرحیم #الجواب_وباللہ_التوفیق.......

ایسی کوئی حدیث احقر کی نظر سے نہیں گذری نہ صحیح حدیث شریف اور نہ ہی ضعیف۔


📚 فتاویٰ قاسمیہ 276/4)

فقط واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
2👍1
السلام علیکم ورحمتہ اللہ
             ایک شخص نے اپنی منکوحہ کو دخول سے پہلے اور خلوت صحیحہ کے بعد طلاق دی۔
پوچھنا یہ ہے کہ (1)اس صورت میں کونسی طلاق واقع ہوگی طلاق رجعی یا طلاق بائن؟(2)اور اگر طلاق کے بعد بچے کی پیدائش ہوجائے تو کیا اس کا اس شخص سے نسب ثابت ہوگا؟(3)اور مھر کا کیا حکم ہوگا اس صورت میں؟
            برائے کرم جوابات مع دلائل عنایت فرماکر مشکور و ممنون ہوں۔
       والسلام
عرفان اللہ بلوچستان
03312853468

#وعلیکم_السلام_ورحمۃ_اللہ_وبرکاتہ #بسم_اللہ_الرحمن_الرحیم #الجواب_وباللہ_التوفیق.......
عورت کو نکاح کے بعد، رخصتی سے پہلے  لیکن خلوتِ صحیحہ کے بعد اس کا شوہر  طلاق دے دے تو اس کا حکم عام عورت کی طرح ہوگا جس سے اس کا شوہر ازدواجی تعلق قائم کرچکا ہو، یعنی اس کا شوہر اگر اسے تین طلاقیں متفرق دے یا اکٹھی دے بہر صورت تینوں واقع ہوجائیں گے، اور عورت اپنے شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجائے گی۔ اور اگر ایسی عورت کو شوہر ایک طلاق دے تو ایک ہی طلاق واقع ہوگی، البتہ وہ ایک طلاق،  طلاقِ بائن ہوگی، اس کے بعد دوبارہ نکاح کرنے کے لیے تجدیدِ نکاح کی ضرورت ہوگی اور مذکورہ عورت پر عدت بھی لازم ہوگی۔ اور عورت کل مہر کا حق دار ہوگی ۔اور بچے کا نسب بھی اسی مرد سے ثابت ہوگی ۔


"(والخلوة) مبتدأ خبره قوله الآتي: كالوطء ... (كالوطء) فيما يجيء ... وكذا في وقوع طلاق بائن آخر على المختار.

(قوله: وكذا في وقوع طلاق بائن آخر إلخ) في البزازية: والمختار أنه يقع عليها طلاق آخر في عدة الخلوة، وقيل لا اهـ وفي الذخيرة: وأما وقوع طلاق آخر في هذه العدة فقد قيل: لايقع، وقيل: يقع، وهو أقرب إلى الصواب؛ لأنّ الأحكام لما اختلفت يجب القول بالوقوع احتياطًا، ثم هذا الطلاق يكون رجعيًّا أو بائنًا، ذكر شيخ الإسلام أنه يكون بائنًا اهـ ومثله في الوهبانية وشرحها.

والحاصل أنه إذا خلا بها خلوةً صحيحةً، ثمّ طلّقها طلقةً واحدةً فلا شبهة في وقوعها، فإذا طلقها في العدة طلقة أخرى فمقتضى كونها مطلقة قبل الدخول أن لاتقع عليها الثانية، لكن لما اختلفت الأحكام في الخلوة في أنها تارة تكون كالوطء وتارة لا تكون جعلناها كالوطء في هذا فقلنا بوقوع الثانية احتياطا لوجودها في العدة، والمطلقة قبل الدخول لايلحقها طلاق آخر إذا لم تكن معتدة بخلاف هذه.

والظاهر أن وجه كون الطلاق الثاني بائنا هو الاحتياط أيضا، ولم يتعرضوا للطلاق الأول. وأفاد الرحمتي أنه بائن أيضا لأن طلاق قبل الدخول غير موجب للعدة لأن العدة إنما وجبت لجعلنا الخلوة كالوطء احتياطا، فإن الظاهر وجود الوطء في الخلوة الصحيحة ولأن الرجعة حق الزوج وإقراره بأنه طلق قبل الوطء ينفذ عليه فيقع بائنا، وإذا كان الأول لا تعقبه الرجعة يلزم كون الثاني مثله. اهـ. ويشير إلى هذا قول الشارح طلاق بائن آخر فإنه يفيد أن الأول بائن أيضا، ويدل عليه ما يأتي قريبا من أنه لا رجعة بعده، وسيأتي التصريح به في باب الرجعة، وقد علمت مما قررناه أن المذكور في الذخيرة هو الطلاق الثاني دون الأول فافهم. ثم ظاهر إطلاقهم وقوع البائن أولا وثانيا وإن كان بصريح الطلاق، وطلاق الموطوءة ليس كذلك فيخالف الخلوة الوطء في ذلك.

وأجاب ح: بأن المراد التشبيه من بعض الوجوه وهو أن في كل منهما وقوع طلاق بعد آخر. اهـ. وأما الجواب بأن البائن قد يلحق البائن في الموطوء فلايدفع المخالفة المذكورة، فافهم.(الدر المختار وحاشية ابن عابدين ١١٤/٣الي ١١٩)

ذهب الحنفية إلى أن ثبوت النسب مما يترتب على الخلوة ولو من المجبوب، وقال ابن عابدين راويا عن ابن الشحنة في عقد الفرائد: إن المطلقة قبل الدخول لو ولدت لأقل من ستة أشهر من حين الطلاق ثبت نسبه للتيقن بأن العلوق كان قبل الطلاق، وأن الطلاق بعد الدخول، ولو ولدته لأكثر لا يثبت لعدم العدة، ولو اختلى بها فطلقها يثبت وإن جاءت به لأكثر من ستة أشهر، قال: ففي هذه الصورة تكون الخصوصية للخلوة .(الموسوعة الفقهية الكويتية ٥٤٠/١٩)

📚 احسن الفتاوی 168/5 کتاب الطلاق ،ایچ،ایم،سعید،کراچی)

📚خزینۃ الفقه 162/2تا167،فی مسائل الطلاق)

📚دار الافتاء دارالعلوم دیوبند ،جواب نمبر: 167918)

واللہ اعلم بالصواب
👍4
جملہ حقوق محفوظ شدہ کتابوں کی فوٹو کاپی کرانا
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: یہ تو معلوم ہے کہ جملہ حقوق محفوظ شدہ کتب کی طباعت محفوظ کرنے والے کی اجازت کے بغیر جائز نہیں ہے، تو کیا اس کتاب کی فوٹو اسٹیٹ کرنا بھی جائز نہ ہوگا، اگر جائز ہے تو طباعت اور فوٹو اسٹیٹ میں کیا فرق ہے؟ ان دونوں کی حقیقت کے بارے میں مطلع فرمائیں؟


#بسم_اللہ_الرحمن_الرحیم #الجواب_وباللہ_التوفیق.......

حقوق محفوظ والی کتاب کا فوٹو اسٹیٹ کرانا یا اپنی ضرورت کے لئے کسی خرید کردہ کیسٹ کی نقل کرانا شرعاً یا اخلاقاً یا قانوناً کسی بھی طرح ممنوع نہیں ہے؛ کیوںکہ اس سے حقوق محفوظ کرانے والے کو کوئی ضرر نہیں پہنچتا، ضرر اس وقت پہنچتا ہے جب کہ کتاب کو باقاعدہ طبع کراکے یا کیسٹ کو سیکڑوں کی تعداد میں نقل کراکے بازار میں فروخت کیا جائے۔ (تفصیل دیکھئے: فقہ البیوع، للشیخ المفتی محمد تقی العثمانی ۲۸۶ مکتبہ معارف القرآن کراچی)

📚کتاب النوازل 53/11

فقط واللہ تعالیٰ اعلم
👍41
قسطوں پر خریدی ہوئی چیز کو اقساط کی ادائیگی سے قبل آگے بیچنے کا حکم

سوال
کیا قسطوں پر کوئی چیز لے کر تمام اقساط کی ادائیگی سے قبل اس کو آگے بیچ دینا جائز ہے ؟

#بسم_اللہ_الرحمن_الرحیم #الجواب_وباللہ_التوفیق.......
واضح رہےکہ بیع میں محض ایجاب وقبول سے عقد تام ہوجاتا ہے،اور عقد تام ہوجانے کے بعد مبیع میں مشتری کا حق اور ثمن میں بائع کا حق ثابت ہوجاتا ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگرایک شخص ادھار پر کوئی چیز خریدے،اور اس پربائع کی رضا مندی سے قبضہ بھی کرلے توخریدنے والے کے لیےتمام قسطوں کی ادائیگی سے قبل بھی اس چیز کوآگے کسی اور کو بیچنا مطلقاً جائز ہے،تاہم اگر وہ چیز فروخت کنندہ ہی کو بیچی جارہی ہوتو اس صورت میں اقساط کی مکمل ادائیگی سے قبل پہلی والی قیمت سے کم قیمت میں وہ چیز اسی کو بیچنا جائز نہیں ہے۔

"وحكمه ثبوت الملك.
(قوله: وحكمه ثبوت الملك) أي في البدلين لكل منهما في بدل، وهذا حكمه الأصلي، والتابع وجوب تسليم المبيع والثمن.(رد المحتار على الدر المختار٥٠٦/٤،کتاب البیوع،ط:ایج ایم سعید)

وفيه ايضا:

"(و) فسد (شراء ما باع بنفسه أو بوكيله) من الذي اشتراه ولو حكما كوارثه (بالأقل) من قدر الثمن الأول (قبل نقد) كل (الثمن) الأول...(ولا بد) لعدم الجواز (من اتحاد جنس الثمن) وكون المبيع بحاله (فإن اختلف) جنس الثمن أو تعيب المبيع (جاز مطلقا) كما لو شراه بأزيد أو بعد النقد.

(قوله قبل نقد كل الثمن الأول) قيد به؛ لأن بعده لا فساد، ولا يجوز قبل النقد، وإن بقي درهم ... (قوله بأزيد أو بعد النقد) ومثل الأزيد المساوي كما في الزيلعي، وهذا قول المصنف بالأقل قبل نقد الثمن."(رد المحتار على الدر المختار ٧٣/٥،کتاب البیوع،‌‌باب البيع الفاسد،ط:ایج ایم سعید)

"وإن كان مؤجلا فليس للبائع أن يحبس المبيع قبل حلول الأجل ولا بعده كذا في المبسوط...إذا استوفى الثمن وسلم المبيع أو سلم بغير قبض الثمن أو قبض المشتري بإجازة البائع لفظا أو قبضه وهو يراه ولا ينهاه ليس له أن يسترده ليحبسه بالثمن."(الفتاوي الهندية ١٥/٣،کتاب البیوع،الباب الرابع،ط:دار الفکر،بیروت)

"(ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع ما لم يقبض، والنهي يوجب فساد المنهي؛ ولأنه بيع فيه غرر الإنفساخ بهلاك المعقود عليه؛ لأنه إذا هلك المعقود عليه قبل القبض يبطل البيع الأول فينفسخ الثاني؛ لأنه بناه على الأول، وقد نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع فيه غرر، وسواء باعه من غير بائعه، أو من بائعه؛ لأن النهي مطلق لا يوجب الفصل بين البيع من غير بائعه وبين البيع من بائعه.(بدائع الصنائع ١٨٠/٥كتاب البيوع،فصل في شرائط الصحة في ‌البيوع،ط:دار الكتب العلمية) جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی

فقط والله أعلم
https://telegram.me/jamashuda
👍5
نماز کے زریعہ گدھا کا زندہ کرنا


سوال

ایک صحابی کا گدھا مرگیا ، تو انھوں نے دو رکعت نفل پڑھ کر دعا مانگی، تو اللہ پاک نے ان کا گدھا زندہ کردیا۔ ایک صحابیہ کا بچہ فوت ہوا تو انھوں نے دو رکعت نفل پڑھ کر دعا مانگی تو اللہ پاک نے ان کا بچہ زندہ کردیا۔ حضرت امام ابو حنیفہ ایک ہی وضو سے عشاء اور فجر کی نماز پڑھا کرتے تھے اور ان کا یہ معمول چالیس سال تک رہا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے ٹانگ میں جب تیر لگا تو نماز کی حالت میں نکالا گیا، جب کہ حضرت علی رضي الله عنه کو ذرا بھی تکلیف نہیں ہوئی۔ کیا یہ سب درست ہے؟

جواب کا متن:
بسم الله الرحمن الرحيم
(فتوى: 721/هـ=485/هـ)

نمبر (1) و نمبر (2) واقعے آپ نے کہاں سے نقل کئے ہیں؟ ان کا حوالہ لکھئے۔ نمبر (3) اور نمبر (4) یعنی حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا واقعہ اور اسی طرح سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مذکورہ واقعہ کتبِ تواریخ میں منقول و مذکور ہے اور یہ واقعات سب درست ہیں، ان میں شرعاً و عقلاً و نقلاً کچھ استبعاد نہیں ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
👍51
درود شریف میں صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر کیوں ہے ؟

سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جب درود پڑھا جاتاہے توتمام انبیاء میں سے صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ہی کیوں تشبیہ ذکر کی جاتی ہے جیسے ’’ کماصلیت علی ابراہیم‘‘۔ حالانکہ کتنے ہی دوسر ے انبیاء بھی گزرے ہیں ؟

#بسم_اللہ_الرحمن_الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں درود شریف میں صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خاص کرنے کی کئی وجوہات علماء نے ذکر فرمائی ہیں :

(۱)حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نبی علیہ السلام کے واسطے لیلۃ المعراج میں ہمیں (امت محمدیہ کو ) سلام کہلوایا لہٰذا ہمیں بھی ایساکرنے کاحکم دیاگیا۔

(۲)حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ہمارانام مسلمان رکھا اس پر ان کی فضیلت کے اظہار کے لئے صرف ان ہی کوخاص کیا۔

(۳)درود شریف سے مقصود دعا کرناہے کہ جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ﷲ تعالی نے خلیل بنایا اسی طرح ہمارے نبی علیہ السلام کو بھی خلیل بنائیں۔

(۴)آپ چونکہ نسب کے اعتبار سے آپ علیہ السلام کے آباء میں شامل ہیں اس لئے ایساکیاگیا۔

(۵)آپ بقیہ تمام انبیاء میں افضل ہیں۔

(۶)آپ علیہ السلام کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اقتدا کاحکم دیاگیا اس لئے درود میں بھی ان ہی کو خاص کیاگیا۔

وخص ابراھیم لسلامہ علینا،اولانہ سمانا المسلمین اولان
المطلوب صلاۃ یتخذ بھاخلیلا(الدرالمختار۵۱۴/۱)

(قولہ لسلامہ علینا) ای لیلۃ المعراج حیث قال ابلغ امتک منی السلام (قولہ اولانہ سماناالمسلمین ) کمااخبر تعالی بقولہ ھو سماکم المسلمین۔(الطحطاوی علی الدر۲۲۶/۱)

نقل اولا کمانقل فی الطحطاوی ثم قال …… واجیب باجوبۃ اخری :منھا ان ذلک لابوتہ ……ولرفعۃ شانہ فی الرسل وکونہ افضل بقیۃ الانبیاء علی الراجح ……وللامر بالاقتداء بہ فی قولہ تعالی ان اتبع ملۃ ابراھیم حنیفا۔(ردالمحتار علی الدرالمختار،۵۱۴/۱)(نجم الفتاوی ۴۵۵/۱،کتاب العقائد)

واللہ اعلم بالصواب
#محمد_امیر_الدین_حنفی_دیوبندی

https://t.me/jamashuda
👍92
کسی شریک کا تنخواہ یا اجرت وصول کرنا درست نہیں


السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ دو آدمی نے مل کر ہوٹل کرائیں پر لی اور دونوں برابر کے شریک ہیں اب ان میں سے ایک آدمی ہوٹل کی دیکھ ریکھ اور محنت کرتا ہے تو کیا وہ آدمی ہوٹل کے منافع میں سے تنخواہ اور حصہ دونوں لے سکتا ہے مدلل جواب مرحمت فرمائیں۔(ابو محمد)

#وعلیکم_السلام_ورحمۃ_اللہ_وبرکاتہ #بسم_اللہ_الرحمن_الرحیم #الجواب_وباللہ_التوفیق...... صورت مسئولہ میں محنت کرنے والا شریک علیحدہ سے اپنے عمل کی اجرت یعنی تنخواہ نہیں لے سکتا، اس لیے کہ وہ اپنے سرمایہ ہی کے لیے محنت کررہا ہے۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ دونوں اپنی شرکت کے معاہدے میں نفع کی تقسیم کی شرح تبدیل کرکے محنت کرنے والے کے لیے نفع کی شرح زیادہ طے کرلیں، مثلاً: دو تہائی نفع محنت کرنے والے شریک کا ہو اور ایک تہائی دوسرے کا، یہ جائز ہے۔

(ولو) استأجره (لحمل طعام) مشترك (بينهما فلا أجر له)؛ لأنه لا يعمل شيئاً لشريكه إلا ويقع بعضه لنفسه؛ فلا يستحق الأجر۔(الدر المختار وحاشية ابن عابدين ۶۰/۶)

والشريكان في العمل إذا غاب أحدهما أو مرض أو لم يعمل وعمل الآخر فالربح بينهما على ما اشترطا؛ لما روي أن رجلاً جاء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: أنا أعمل في السوق ولي شريك يصلي في المسجد، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لعلك بركتك منه"، والمعنى أن استحقاق الأجر بتقبل العمل دون مباشرته والتقبل كان منهما وإن باشر العمل أحدهما، ألا ترى أن المضارب إذا استعان برب المال في بعض العمل كان الربح بينهما على الشرط أو لا ترى أن الشريكين في العمل يستويان في الربح وهما لا يستطيعان أن يعملا على وجه يكونان فيه سواء، وربما يشترط لأحدهما زيادة ربح لحذاقته وإن كان الآخر أكثر عملاً منه، فكذلك يكون الربح بينهما على الشرط ما بقى العقد بينهما وإن كان المباشر للعمل أحدهما ويستوي إن امتنع الآخر من العمل بعذر أو بغير عذر لأن العقد لا يرتفع بمجرد امتناعه من العمل واستحقاق الربح بالشرط في العقد".(مبسوط سرخسی،۲۸۷/۱۱،دارالفکر)

(قوله: والربح إلخ) حاصله أن الشركة الفاسدة إما بدون مال أو به من الجانبين أو من أحدهما، فحكم الأولى أن الربح فيها للعامل كما علمت، والثانية بقدر المال، ولم يذكر أن لأحدهم أجراً ؛ لأنه لا أجر للشريك في العمل بالمشترك كما ذكروه في قفيز الطحان، والثالثة لرب المال وللآخر أجر مثله (قوله: فالشركة فاسدة) ؛ لأنه في معنى بع منافع دابتي ليكون الأجر بيننا، فيكون كله لصاحب الدابة؛ لأن العاقد عقد العقد على ملك صاحبه بأمره، وللعاقد أجرة مثله؛ لأنه لم يرض أن يعمل مجانا فتح''۔(فتاوی شامی,۳۲۶/۴،دارالفکر) جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی) فتاویٰ قاسمیہ ۵۴/۲۰تا۵۸) فتاویٰ محمودیہ ۳۷۴/۲۳،باب الاجارۃ الفاسدۃ،جامعہ فاروقیہ کراچی) فتاویٰ رحیمیہ ۱۸۴,۳تا۱۸۵,کتاب الشرکۃ ،باب الاجارۃ ،دارالاشاعت کراچی)

واللہ اعلم بالصواب
امیر الدین حنفی ودیوبندی
3👍3
سوال ]۸۴۱۴[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں : ہمارے یہاں ’’مدرسہ جامعہ اسلامیہ جلالیہ‘‘ میں درجہ اول دینیات میں غیر مقامی طلبہ داخلہ لیتے ہیں ، ان سے مزید کھانے کے لئے پانچ ہزار پانچ سو روپئے لئے جاتے ہیں اور ان بچوں کے سر پرست صاحبان کو یہ بتلایا جاتا ہے کہ آپ کا بچہ اگر مدرسہ سے چلا جائے تو پانچ ہزار پانچ سو روپئے آپ کو واپس نہیں کئے جائیں گے؛ اس لئے کہ اس سے مدرسہ میں طلبہ کی کمی ہوگی؛ کیوں کہ درجات کے اعتبار سے طلبہ کی تعداد متعین ہے، سرپرست صاحبان بھی اس وقت مان لیتے ہیں ؛ لیکن بعد میں جب بچہ چلا جاتا ہے تو خوراکی کے نام پر جو رقم جمع کی تھی اسے مانگتے ہیں ، مذکورہ صورت میں گارجین کو خوراکی کی رقم واپس کرنا ضروری ہے، جب کہ گارجین نے وعدہ کیا تھا کہ بچہ اگر چلا جائے تو رقم واپس نہیں لیں گے۔ دوسری صورت ہمارے یہاں یہ بھی ہے کہ ایک خصوصی مطبخ قیمتاً چلتا ہے، جس میں اہل ثروت حضرات کے بچے سالانہ نو ہزار روپئے جمع کرتے ہیں اور اپنا کھانا کھاتے ہیں ، اس صورت میں بھی کبھی بچے چلے جاتے ہیں ، ان بچوں کے سرپرست صاحبان بھی بوقت داخلہ وعدہ کرتے ہیں ، بچے چلے جانے کی صورت میں روپئے واپس نہیں لیں گے؛ لیکن بعد میں کچھ لوگ مطالبہ کرتے ہیں ، ایسی صورت میں یہ رقم شرعاً واپس کرنا ضروری ہے یانہیں ؟
(ب) خوراکی کے نام پر جو رقم الگ سے لی جاتی ہے وہی رقم اگر داخلہ فیس کے ساتھ جوڑ کر داخلہ فیس میں اضافہ کردیا جائے اور داخلہ فیس بجائے ۸۰۰؍ کے ۹۸۰؍ یا ۶۳۰۰؍ کردیا جائے اور اس صورت میں اگر بچہ چلا جائے تو رقم واپس نہیں کی جائے گی، تو کیا یہ شرعاً جائز ہے؟
(۲) ایک استاذ ایک مدرسہ میں پڑھاتے پڑھاتے بوڑھے کمزور اور بیمار ومعذور ہوگئے، اب پڑھانے سے معذور ہیں ، ادھر پوری زندگی مدرسہ میں رہنے کی وجہ سے دوسرا کوئی ذریعہ معاش کا بھی گھر میں انتظام نہیں ہے، اب کیا اس حالت میں مدرسہ کی طرف سے ان کے لئے پنشن جاری کرنا یا ان کے لئے پنشن لینا جائز ہے یانہیں ؟ اگر جائز ہے تو کس فنڈ سے ان کو رقم دی جائے گی؟
المستفتی: ارکان حل وعقد جامعہ جلالیہ ہوجائی آسام، ہند

بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وبہ التوفیق
حسب تحریر سوال جو رقم مدرسہ میں مقیم طلبہ کے سرپرستوں سے سال بھر کی خوراکی کے نام پر وصول کی جاتی ہے وہ رقم شرعاً طعام کے عوض میں ہے؛ لہٰذا درمیان سال میں اگر طالب علم چلا جاتا ہے، تو حساب لگا کر باقی ماندہ رقم سرپرستوں کو واپس کرنا ضروری ہے؛ کیوں کہ اب اس رقم کا کوئی مصرف نہیں رہا اور داخلہ کے وقت مدرسہ کے ذمہ داران اور طلبہ کے سرپرستوں کے درمیان یہ جو طے ہوا تھا کہ بیچ سال میں طالب علم کے چلے جانے کی صورت میں وہ رقم کی واپسی کے مطالبہ کے مجاز نہ ہوں گے، اس کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں ہے؛ البتہ خوراکی کی رقم اگر داخلہ فیس میں منضم کرکے اصل داخلہ فیس میں اضافہ کردیا جائے تو اب ذمہ داران مدرسہ طالب علم کے درمیانی سال میں واپس چلے جانے کی صورت میں بقیہ رقم کی واپسی کے مکلف نہ ہوں گے۔ اور نہ ہی سرپرست حضرات کو مطالبہ کا اختیار ہوگا؛ اس لئے کہ وہ پوری رقم داخلہ فیس ہی کے لئے متعین ہے اور منجانب مدرسہ اس کا داخلہ ہوچکا ہے۔

عن أبي حمید الساعدي أن رسول ﷲ ﷺ قال: لا یحل لمسلم أن یأخذ مال أخیہ بغیر حق۔ (مجمع الزوائد، باب الغصب وحرمۃ مال المسلم، دارالکتب العلمیۃ بیروت ۴/ ۱۴۱، رقم: ۶۸۵۹، مسند أحمد بن حنبل ۵/ ۴۲۵، رقم: ۲۳۰۰۳)

عن عبدﷲ بن عمرو بن عوف المزني عن أبیہ، عن جدہ، أن رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم قال: الصلح جائز بین المسلمین إلا صلحا حرم حلالا، أو أحل حراما، والمسلمون علی شروطہم، إلا شرطا حرم حلالا، أو أحل حراما۔ (سنن الترمذي، الأحکام، باب ما ذکر عن رسول اﷲ ﷺ في الصلح بین الناس، النسخۃ الہندیۃ ۱/ ۲۵۱، دارالسلام، رقم: ۱۳۵۲)

لو باع کاغذۃ بألف یجوز، ولا یکرہ۔ (فتح القدیر، کتاب الکفالۃ، زکریا دیوبند ۷/ ۱۹۸، دارالفکر ۷/ ۲۱۲، کوئٹہ ۶/ ۳۲۴، دارالحکام ۲/ ۳۰۴، الدر مع الرد، مطلب بیع العینۃ، کراچی ۵/ ۳۲۶، زکریا ۷/ ۶۱۳)

(۲) جب مدرسہ میں قانون وضابطہ یہ بن جائے کہ کمزور اور معذور مدرسین وملازمین کے لئے پنشن جاری کیا جائے گا، تو ایسی صورت میں اس ضابطہ کے مطابق مذکورہ مدرس کو منجانب مدرسہ پنشن دینا جائز اور درست ہے۔ اور بہتر یہ ہے کہ اخبارات اور کثیر الاشاعت رسائل میں اس ضابطہ کا اعلان کردیا جائے، تاکہ لوگوں کو اس کا علم ہوجائے۔

وأما شرائط الصحۃ، فمنہا: رضا المتعاقدین۔ (ہندیۃ، کتاب الإجارۃ، الباب الأول، زکریا جدید ۴/ ۴۴۰، قدیم ۴/ ۴۱۱)

عن عبدﷲ بن عمرو بن عوف المزني عن أبیہ، عن جدہ، أن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم قال: والمسلمون علی شروطہم، إلا شرطا حرم حلالا، أو أحل حراما۔ (المعجم الکبیر للطبراني، دار إحیاء التراث العربي ۱۷/ ۲۲، رقم: ۳۰، سنن الدارقطني، کتاب البیوع، دارالکتب العلمیۃ بیروت ۳/ ۲۳، رقم: ۲۸۶۹)
👍6
والوکیل إنما یستفید التصرف من الموکل، وقد أمرہ بالدفع إلی فلان فلا یملک الدفع إلی غیرہ۔ (شامي، کتاب الزکاۃ، زکریا ۳/ ۱۸۹، کراچی ۲/ ۲۶۹) فتاویٰ قاسمیہ ۴۳/۱۹)

واللہ اعلم بالصواب
1
عیدین میں مسبوق اپنی نماز کیسے ادا کریں؟

عید کی نماز میں مسبوق ہونے کی کئی صورتیں ممکن ہیں، ہر ایک کا حکم الگ الگ ذیل میں بیان کیا جاتا ہے:

(۱) جس کی نماز عید میں پہلی رکعت چھوٹ گئی ہو وہ امام کے سلام پھیردینے کے بعد جب کھڑا ہو تو اولاً ثناء، تعوذ، تسمیہ، فاتحہ اور سورت پڑھے، پھر زائد تکبیرات کہے، اس کے بعد رکوع سجدہ کرکے بقیہ نماز پوری کرے گا۔ (فتاویٰ محمودیہ ڈابھیل ۸؍۳۷۸، احسن الفتاویٰ ۴؍۱۴۳)

عبارت ملاحظہ فرمائیں
ولو سبق برکعۃ یقرأ ثم یکبر لئلا یتوالی التکبیر۔ (درمختار) أي لأنہ إذا کبر قبل القراء ۃ وقد کبر مع الإمام بعد القراء ۃ لزم توالی التکبیرات في الرکعتین۔ قال في البحر: ولم یقل بہ أحدٌ من الصحابۃ ولو بدأ بالقراء ۃ یصیر فعلہ موافقاً لقول عليؓ فکان أولیٰ، کذا في المحیط، وہو مخصص لقولہم: إن المسبوق یقضي أول صلاتہ في حق الأذکار۔ (شامی زکریا ۳؍۵۶، البحر الرائق کوئٹہ ۲؍۱۶۱، بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۳، حلبی کبیر اشرفی ۵۷۲، طحطاوي علی المراقي ۵۳۴)

(۲) اور جو شخص امام کے ساتھ اس حال میں آکر شریک ہوا کہ امام پہلی رکعت کی زائد تکبیرات کہہ کر قرأت شروع کرچکا تھا تو یہ مسبوق شخص تکبیر تحریمہ کہہ کر زائد تکبیرات کہے گا۔

عبارت ملاحظہ فرمائیں
وإن أدرکہ بعد ما کبر الإمام الزوائد وشرع في القراء ۃ فإنہ یکبر تکبیرۃ الافتتاح ویأتي بالزائد برأي نفسہ لا برأي الإمام؛ لأنہ مسبوق۔ (بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۲)

(۳) اور اگر امام کو رکوع میں پایا تو اگر امام کے ساتھ رکوع چھوٹ جانے کا اندیشہ نہ ہو تو ایسی صورت میں تکبیر تحریمہ کہہ کر کھڑے کھڑے زائد تکبیرات بھی کہے، پھر امام کے ساتھ رکوع میں شامل ہوجائے۔

وإن أدرک الإمام في الرکوع فإن لم یخف فوت الرکوع مع الإمام یکبر للافتتاح قائماً ویأتي بالزوائد ثم یتابع الإمام في الرکوع۔ (بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۲)

(۴) اور اگر رکوع چھوٹ جانے کا خوف ہو تو تکبیر تحریمہ کہے اور رکوع کی تکبیر کہہ کر رکوع میںچلاجائے، اور رکوع کی حالت میں ہی تکبیراتِ زوائد کہے اور رکوع میں اگر زائد تکبیرات اور رکوع کی تسبیحات دونوں ادا کرسکتا ہو تو دونوں کو جمع کرے، ورنہ تسبیحات کو چھوڑ کر صرف تکبیرات کہے گا۔

عبارت ملاحظہ فرمائیں
وإن خاف إن کبر یرفع الإمام رأسہ من الرکوع کبر للافتتاح وکبر للرکوع ورکع؛ لأنہ لو لم یرکع یفوتہ الرکوع فتفوتہ الرکعۃ بفوتہ وتبین أن التکبیرات أیضاً فاتتہ فیصیر بتحصیل التکبیرات مفوتاً لہا ولغیرہا من أرکان الرکعۃ۔ وہٰذا لا یجوز۔ ثم إذا رکع یکبر تکبیرات العید في الرکوع عند أبي حنیفۃؒ ومحمدؒ … ثم إن أمکنہ الجمع بین التکبیرات والتسبیحات جمع بینہما وإن لم یمکنہ الجمع بینہما، یأتي بالتکبیرات دون التسبیحات؛ لأن التکبیرات واجبۃ والتسبیحات سنۃ والاشتغال بالواجب أولیٰ۔ (بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۲)

(۵) اور اگر رکوع میں تکبیرات پوری ہونے سے پہلے امام نے سر اٹھالیا تو جتنی تکبیرات باقی رہ گئی ہوں وہ ساقط ہوجائیںگی۔

عبارت ملاحظہ فرمائیں
فإن رفع الإمام رأسہ من الرکوع قبل أن یتمہا رفع رأسہ؛ لأن متابعۃ الإمام واجبۃ وسقط عنہ ما بقي من التکبیرات۔ (بدائع الصنائع زکریا ۱؍۶۲۲، حلبي کبیر أشرفي ۵۷۲، شامي زکریا ۳؍۵۶)(کتاب المسائل۴۷۵/۱)

واللہ اعلم بالصواب
#محمد_امیر_الدین_حنفی_دیوبندی #احمد_نگر_ہوجائی_آسام
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
https://telegram.me/jamashuda

https://www.hanafimasail.com
👍91