جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
1.42K subscribers
117 photos
36 files
685 links
"جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند" میں روزانہ ایک دو مسئلہ مدلل ومزین انداز میں بطورِ استفادہ آپ کو ملے گا،

آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda

https://www.hanafimasail.com/?m=1
Download Telegram
3.     اگر مقتدی امام کی متابعت میں تشہد مکمل کیے بغیر کھڑا ہوجائے یا سلام پھیردے تو اس کی نماز  ادا ہوجاتی ہے، اس پر نماز کا اعادہ لازم نہیں ہوگا۔
البتہ اختلاف صرف اس امر میں ہے کہ اگر مقتدی امام کی متابعت میں تشہد مکمل کیے بغیر کھڑا ہوجائے یا سلام پھیر دے تو اس کی نماز بلا کراہت ادا ہوگی یا کراہتِ تحریمی کے ساتھ ادا ہوگی، علامہ طحطاوی اور رحمتی رحمہما اللہ نے بلا کراہت ادائیگی والے قول کو ترجیح دی ہے، جب کہ حلبی رحمہ اللہ نے کراہت تحریمی کے ساتھ ادائیگی والا قول اختیار کیا ہے، علامہ شامی رحمہ اللہ نے دونوں قول اور طرفین کے دلائل ذکر کرنے کے بعد کراہتِ تحریمی والے قول کو دلائل کے ساتھ راجح قرار دیا ہے اور فقہاء متقدمین کی جن عبارات سے مذکورہ مسئلہ میں بلا کراہت ادائیگی کا شبہ ہورہا تھا اس کا صحیح مطلب بھی بیان کیا ہے کہ متقدمین فقہاء کرام کی ان عبارات سے صرف نماز کی صحت اور عدم فساد کا حکم بیان کرنا مقصود ہے، جب کہ دیگر دلائل سے کراہتِ تحریمی ثابت ہے۔بر صغیر پاک و ہند کے اکثر اکابر اہل افتاء نے بھی علامہ شامی رحمہ اللہ کی تحقیق کو راجح قرار دیتے ہوئے مذکورہ مسئلہ میں مقتدی کے لئے امام کی متابعت میں کھڑے ہونے یا سلام پھیرنے سے پہلے تشہد کو مکمل کرنے کو لازم اور واجب قرار دیا ہے اور تشہد ترک کرنے پر کراہت کا قول اختیار کیا ہے، چنانچہ امداد الاحکام میں بھی تشہد کی تکمیل کے لزوم کو بیان کرنے کے بعد فقہاء کرام کی عبارت’’اجزأہ‘‘  کا مطلب یہی بیان کیا گیا ہے کہ نماز کراہت کے ساتھ ادا ہوجائے گی۔

امداد الاحکام میں ہے:
"سوال: مسبوق کے اقتداء کر کے بیٹھتے ہی امام نے سلام پھیر دیا، اب وہ مسبوق تشہد پڑھ کے کھڑا ہوگا یا کیا کرے گا؟
الجواب: مسبوق کے شامل ہوتے ہی اگر امام سلام پھیر دے تب بھی مسبوق کو تشہد پوری کر کے ہی کھڑا ہونا چاہیئے،كما في الدر : ’’(بخلاف سلامه) أو قيامه لثالثة (قبل تمام المؤتم التشهد) فإنه لا يتابعه بل يتمه لوجوبه، ولو لم يتم جاز‘‘ وقال الشامي: ’’ أي ولو خاف أن تفوته الركعة الثالثة مع الإمام كما صرح به في الظهيرية، وشمل بإطلاقه ما لو اقتدى به في أثناء التشهد الأول أو الأخير، فحين قعد قام إمامه أو سلم، ومقتضاه أنه يتم التشهد ثم يقوم ولم أره صريحا، ثم رأيته في الذخيرة ناقلا عن أبي الليث: المختار عندي أنه يتم التشهد وإن لم يفعل أجزأه اهـ ولله الحمد ۔۔۔۔ (قوله ولو لم يتم جاز) أي صح مع كراهة التحريم كما أفاده ح، ونازعه ط والرحمتي الخ ‘‘ (ص۵۱۷).
قلت: وكذا قوله اجزأه يحمل على الاجزاء مع الكراهةكما لا يخفي، والله اعلم،كتبه: الاحقر عبد الكريم ۔  الجواب صحيح: ظفر احمد عفي عنه".
(کتاب الصلاۃ، فصل فی المسبوق و اللاحق، 551/1، ط:مکتبہ دار العلوم کراچی)

احسن الفتاویٰمیں ہے :
"سوال:         کیا مسبوق پر بھی امام کی متابعت میں تشہد پڑھنا واجب ہے؟ اگر نہیں پڑھا تو نماز ہوجائے گی یا نہیں؟ گناہ ہوگا یا نہیں ؟

جواب:        امام کی متابعت میں مسبوق پر بھی تشہد واجب ہے، چھوڑنے سے گناہ ہوگا، مگر نماز ہوجائے گی۔لما في واجبات الشامية:والحاصل أن متابعة الإمام في الفرائض والواجبات من غير تأخير واجبة (رد المحتار،ص۴۳۹،ج۱) وفي العلائية:’’(بخلاف سلامه) أو قيامه لثالثة (قبل تمام المؤتم التشهد) فإنه لا يتابعه بل يتمه لوجوبه، ولو لم يتم جاز‘‘ و في الشامية:’’وشمل بإطلاقه ما لو اقتدى به في أثناء التشهد الأول أو الأخير الخ (قوله ولو لم يتم جاز) أي صح مع كراهة التحريم كما أفاده ح الخ‘‘(رد المحتار،ص۴۶۳ ج۱) و في سجود السهو من الشامية عن شرح المنية عن القنية من أدرك الإمام في القعدة الأولى فقعد معه فقام الإمام قبل شروع المسبوق في التشهد فإنه يتشهد تبعا لتشهد إمامه فكذا هذا. اهـ.(رد المحتار،ص۶۹۸ ج۱)۔ فقط واللہ اعلم۔
سوال:          اگر کسی شخص کے بیٹھتے ہی امام قعدہ اولیٰ سے کھڑا ہوگیا اور یہ شخص التحیات نہ پڑھ سکا تو شرعا اس کا کیا حکم ہے؟ بينوا توجروا۔
جواب:         اس صورت میں مسبوق تشہد پورا کر کے اٹھے، بدون تشہد پورا کئے امام کا اتباع مکروہ تحریمی ہے، مگر نماز ہوجائے گی، آخری قعدہ میں شریک ہونے والے کا بھی یہی حکم ہے کہ اس کا تشہد پورا ہونے سے پہلے امام نے سلام پھیر دیا تو تشہد پورا کر کے کھڑا ہو،قال فى الدر: ’’(بخلاف سلامه) أو قيامه لثالثة (قبل تمام المؤتم التشهد) فإنه لا يتابعه بل يتمه لوجوبه، ولو لم يتم جاز‘‘ وفي الشامية: ’’(قوله: فإنه لا يتابعه إلخ) أي ولو خاف أن تفوته الركعة الثالثة مع الإمام كما صرح به في الظهيرية، وشمل بإطلاقه ما لو اقتدى به في أثناء التشهد الأول أو الأخير، فحين قعد قام إمامه أو سلم، ومقتضاه أنه يتم التشهد ثم يقوم ولم أره صريحا، ثم رأيته في الذخيرة ناقلا عن أبي الليث: المختار عندي أنه يتم التشهد وإن لم يفعل أجزأه اهـ ولله الحمد ۔۔۔۔ (قوله ولو لم يتم جاز) أي صح مع كراهة التحريم كما أفاده ح‘‘۔ (رد المحتار) فقط والله اعلم".
👍3
(کتاب الصلاۃ، باب المسبوق و اللاحق،376/3، ط:سعید)
فتاویٰ محمودیہ میں ہے:
"سوال:         مسبوق قعدہ اخیرہ میں ملا تو امام کے ساتھ تشہد پڑھنا واجب ہے یا نہیں؟
جواب:         مسبوق کو بھی امام کے قعدہ اخیرہ میں تشہد پڑھنا واجب ہے۔
سوال:         جو شخص آخری قعدہ میں شریک ہو ، اس کو بھی التحیات پوری پڑھنا ضروری ہے یا نہیں؟
جواب:        وہ بھی التحیات پوری کر کے ہی نماز پوری کرے۔
سوال:         کسے گردرجماعت داخل شدہ تشہد خواندن آغاز کند، و در آن وقت امام بسلام از نماز فارغ شود، آنکس تشہد اول خواندہ قیام کند یا نہ ؟
جواب:        تشہد اول خواندہ قیام کند، کذا فی رد المحتار ۔
(ترجمہ سوال:کسی شخص نے جماعت میں داخل ہوکر تشہد پڑھنا شروع کیا اور اسی وقت امام سلام کے ذریعہ نماز سے فارغ ہوجائے وہ شخص تشہد پڑھ کر کھڑا ہو یا نہیں ؟)
(ترجمہ جواب: تشہد پڑھ کر کھڑا ہو۔)
سوال:         مسبوق دوسری رکعت میں ہو، اب سوال یہ ہے کہ تشہد اس پر واجب ہے یا سنت یا مستحب ہے؟ پھر چوتھی رکعت (اس کی تیسری) میں پڑھنا کیسا ہے؟ نیز جب آخری رکعت میں مسبوق ہو تب بھی یہی سوال ہے۔ درجہ کا تعین حوالہ سے کریں، نوازش ہوگی۔
جواب:        مسبوق پر امام کے تابع ہوکر تشہد پڑھنا واجب ہے کیونکہ وہ بھی مقتدی ہے، سلام امام کے بعد جب اپنی بقیہ نماز پوری کرے تو ہر قعدہ میں تشہد پڑھنا واجب ہوگا۔’’ لو سلم الإمام أو تكلم قبل فراغ المقتدي من قراءة التشهد يتمه لأنه من الواجبات اھ‘‘ مراقی الفلاح،ص:۱۸۵۔   و يجب قراءة التشهد فيه" أي في الأول وقوله "في الصحيح" متعلق بكل من القعود وتشهده وهو احتراز عن القول بسنتهما أو سنية التشهد وحده للمواظبة  و يجب قراءته أي التشهد في الجلوس الأخير أيضا ‘‘ و في حاشية الطحطاوي: ’’فالمسبوق بثلاث في الرباعية ثلاث قعدات ۔۔۔۔۔ (قوله: ويجب قراءة ) فيسجد للسهو بترك بعضه ككله،اھ‘‘مراقی الفلاح و الطحطاوی،ص:۱۴۹،ص:۱۵۰۔فقط واللہ اعلم".
(کتاب الصلاۃ، باب المسبوق و اللاحق، 558/6۔561، ط:سعید)
’’آپ کے مسائل اور ان کا حل‘‘میں ہے :
سوال:          اگر امام سلام پھیردے اور نمازی نے ابھی تک التحیات مکمل نہ پڑھی ہو تو کیا امام کے ساتھ ہی سلام پھیردے یا پوری دُعا پڑھ کر سلام پھیرے۔
جواب:         تشہد (یعنی التحیات ”عبدہ و رسولہ“ تک) دونوں قعدوں میں واجب ہے، اگر پہلے قعدہ میں مقتدی کا تشہد پورا نہیں ہوا تھا کہ امام تیسری رکعت کے لئے کھڑا ہوگیا تو مقتدی امام کی پیروی نہ کرے، بلکہ اپنا تشہد پورا کرکے کھڑا ہو (”عبدہ و رسولہ“ تک)، اسی طرح اگر آخری قعدہ میں مقتدی کا تشہد پورا نہیں ہوا تھا کہ امام نے سلام پھیردیا تو مقتدی امام کے ساتھ سلام نہ پھیرے، بلکہ اپنا تشہد پورا کرکے سلام پھیرے۔
اگر کوئی شخص پہلے قعدہ میں آکر جماعت میں شریک ہوا اور اس نے التحیات شروع کی تھی کہ امام کھڑا ہوگیا، تو یہ شخص امام کے ساتھ کھڑا نہ ہو بلکہ التحیات ․․․”عبدہ و رسولہ“ تک․․․ پڑھ کر کھڑا ہو، اگر کوئی شخص آخری قعدہ میں شریک ہو، ابھی التحیات پوری نہیں کی تھی کہ امام نے سلام پھیر دیا تو یہ شخص فوراً کھڑا نہ ہوجائے بلکہ التحیات ․․․”عبدہ و رسولہ“ تک ․․․ پوری کرکے کھڑا ہو".
(نماز ادا کرنے کا طریقہ، 3/ 370، ط:مکتبہ لدھیانوی)
فتاویٰ حقانیہمیں ہے:
"سوال:         اگر کوئی شخص ظہر کی نماز میں امام کے ساتھ دوسری رکعت میں شامل ہوجائے اور امام جب دوسری رکعت پر بیٹھ جائے تو اس مسبوق پر بھی تشہد پڑھنا لازم ہے یا نہیں؟ بعض متون اور حواشی میں لکھا ہے کہ مسبوق پر یہ ضروری نہیں۔
جواب:         مسبوق پر بھی تشہد پڑھنا واجب ہے۔
سوال:         اگر مسبوق امام کے ساتھ قعدہ اولیٰ میں شرکت کرے اور مسبوق کے بیٹھتے ہی امام کھڑا ہوجائے تو کیا ایسی صورت میں امام کی متابعت ضروری ہے یا مسبوق تشہد مکمل کرنے کے بعد کھڑا ہوگا؟
جواب:        ایسی صورت میں تشہد مکمل کرنے کے بغیر بھی اگر مسبوق امام کی متابعت کی وجہ سے کھڑا ہوجائے تو نماز مع الکراہت ہوجاتی ہے، مگر بہتر یہ ہے کہ تشہد پوری پڑھ کر پھر اٹھے کیونکہ  قعدہ میں تشہد پڑھنا واجب ہے، لہٰذا ایک واجب کی وجہ سے دوسرے واجب کو ترک نہیں کرنا چاہیئے، یہاں تک کہ مدرک بھی تشہد پورا کرنے کے بغیر نہیں اٹھے گا بلکہ تشہد مکمل کرے پھر اٹھ کر امام کی متابعت کرے، تاکہ دونوں واجب کی رعایت ہو".
(کتاب الصلاۃ، باب المسبوق و اللاحق، 181/3۔182، ط:مکتبہ سیّد احمد شہید)
فتاویٰ فریدیہ میں ہے:
سوال:          کیا فرماتے ہیں علماء دین شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ مقتدی نے قعدہ اولیٰ کو تشہد تک پورا نہ کیا ہو کہ امام قیام کیلئے کھڑا ہو ا،اب مقتدی جس پر امام کی اقتداء واجب ہے کھڑا ہو جائے یا تشہد پورا کرے جبکہ بقدر تشہد بیٹھنا واجب ہے، اب مقتدی کیا کرے؟ بینواتوجروا
👍1
جواب:          اس شخص کیلئے ضروری ہے کہ تشہد پورا کرنے کے بعد قیام کرے،فی الهندیة ص۹۴جلد۱، الامام اذا تشهد وقام من القعدۃ الاولیٰ الی الثالثة فنسی بعض من خلفہ التشهد حتی قاموا جمیعاً، فعلی من لم یتشهد ان یعود ویتشهد ثم یتبع امامہ وان خاف ان تفوتہ الرکعة ، انتہی. فافهم وتدبر وصرح بہ فی ردالمحتار ص۴۳۹جلد۱)۔ وھوالموفق".
 (کتاب الصلاۃ، باب المدرک و المسبوق و اللاحق،469/2 )
فتاویٰ فریدیہ میں ہے:
"سوال:         کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص رباعی نماز میں امام کے ساتھ دوسری رکعت میں شامل ہوا، اب جب امام دوسری رکعت پر بیٹھ گیا تو مسبوق پر یہی تشہد پڑھنا واجب ہے یانہیں؟ بینواتوجروا

جواب:         مسبوق پر یہی تشہد پڑھنا واجب ہے،فی ردالمحتار ص۵۵۱جلد۱کمن ادرک الامام فی القعدۃ الاولیٰ فقعد معہ فقام الامام قبل شروع المسبوق فی التشہد فانہ یتشہد تبعاً لتشہد امامہ۔ وھوالموفق".
  (کتاب الصلاۃ، باب المدرک و المسبوق و اللاحق، 477/2 )
لہٰذا مندرجہ بالا فقہی دلائل کی رو سے  مذکورہ مسئلہ میں مقتدی کے لیے مکمل تشہد پڑھنے کو واجب قرار دینا اور  امام کی متابعت میں کھڑے ہونے یا سلام پھیرنے کی وجہ سے تشہد کو ترک کردینے سے نماز پر کراہت تحریمی کے ساتھ ادائیگی کا حکم لگانا بالکل درست ہے، کیوں کہ امام اور منفرد کی طرح مقتدی کا بھی کسی واجب کو ترک کرنا کراہتِ تحریمی کا باعث ہے، اگرچہ امام کی متابعت کی وجہ سے نماز کے اعادہ کا حکم نہیں دیا جائے گا۔

فقط واللہ اعلم

فتوی نمبر : 144304100175
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
👍2
مسبوق_کا_امام_کی_اقتداء_میں_تشہد_ترک_کرنے_سے_نماز_پر_کراہتِ_تحریمی.pdf
261.3 KB
مسبوق کا امام کی اقتداء میں تشہد ترک کرنے سے نماز پر کراہتِ تحریمی کا حکم لگانے پر اشکال کا جواب
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: عرض یہ ہے کہ جماعتی احباب اکثر اپنے وعظ میں کہتے ہیں: ’’جو شخص ایک رائی کے دانہ کے برابر ایمان بچا کے لے گیا، اللہ تعالیٰ اس کو اس دنیا سے دس گنی بڑی جنت عطا فرمائے گا‘‘، وضاحت طلب امر یہ ہے کہ کیا یہ حدیث سے ثابت ہے؟
المستفتی: عبداللہ چوہان بانگر، دہلی

#بسم_اللہ_الرحمن_الرحیم #الجواب_وباللہ_التوفیق.......
سوال میں ذکر کردہ بات جو جماعت والے بیان کرتے ہیں، حدیث شریف سے ثابت ہے، کہ جس آدمی کے پاس رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہو اگرچہ اس کے اعمال خراب رہے ہوں، اسے اولاً جہنم میں ڈالا جائے گا، اور کچھ دنوں بعد اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ اور ان مؤمنین سے فرمائیں گے جو پہلے ہی سے اللہ کے فضل سے جنت میں داخل ہوچکے ہوںگے کہ ہر ایسے شخص کو جہنم سے نکال دو جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہو، چنانچہ وہ جہنم سے اس حال میں نکالا جائے گا کہ جل کر کوئلہ ہوچکا ہوگا، اس کے بعد اس کو نہرِ حیات میں ڈالا جائے گا، جہاں سے وہ صاف ستھرا ہوکر نکلے گا، پھر اس کو جنت میں اتنی بڑی جگہ عطا فرمائی جائے گی، جو دنیا سے دس گنا بڑی ہوگی۔ اس طرح کی حدیثیں ذخیرۂ حدیث میں کثرت سے وارد ہوئی ہیں۔

حدیث شریف ملاحظہ فرمائیے:

عن أبي سعید الخدريؓ عن النبي ﷺ قال: یدخل أہل الجنۃ الجنۃ، وأہل النار النار، ثم یقول اللہ: أخرجوا من کان في قلبہ مثقال حبۃ من خردل من إیمان، فیخرجون منہا قد اسودوا، فیلقون في نہر الحیا أو الحیاۃ، شک مالک، فینبتون کما تنبت الحبۃ في جانب السیل الم تر أنہا تخرج صفراء ملتویۃ۔ (بخاري شریف، کتاب الإیمان، باب تفاضل أہل الإیمان، النسخۃ الہندیۃ ۱/ ۸، برقم: ۲۲، وہکذا في کتاب الرقاق، باب صفۃ الجنۃ والنار، النسخۃ الہندیۃ ۲/ ۹۷۰، رقم: ۶۵۶۰، ۶۳۱۱، مسلم، کتاب الإیمان، باب إثبات رؤیۃ المؤمنین في الآخرۃ ربہم، النسخۃ الہندیۃ ۱/ ۱۰۳، بیت الأفکار، رقم: ۱۸۴، ترمذي، أبواب صفۃ جہنم، باب ماجاء أن للنار نفسین، النسخۃ الہندیۃ ۲/ ۸۷، دارالسلام، رقم: ۲۵۹۳)

عن عبداللہ بن مسعودؓ قال: قال رسول اللہ ﷺ: إني لأعلم أخر أہل النار خروجا منہا، وآخر أہل الجنۃ دخولا … فیقول اللہ تعالی لہ: اذہب، فادخل الجنۃ، فإن لک مثل الدنیا وعشرۃ أمثالہا، أو إن لک عشرۃ أمثال الدنیا، قال: فیقول: أتسخر بي أو أ تضحک بي وأنت الملک؟ قال: لقد رأیت رسول اللہ ﷺ ضحک حتی بدت نواجذہ، قال: فکان یقال ذاک أدنی أہل الجنۃ منزلۃ۔(مسلم شریف، کتاب الإیمان، باب إثبات الشفاعۃ وإخراج الموحدین من النار، النسخۃ الہندیۃ ۱/ ۱۰۵، بیت الأفکار، رقم: ۱۸۶، بخاري، کتاب التوحید، باب قول اللہ: یریدون أن یبدلوا کلام اللہ ۲/ ۱۱۱۹، برقم: ۷۲۱۰، ف: ۷۵۱۱، ابن ماجۃ، أبواب الزہد، باب صفۃ الجنۃ، النسخۃ الہندیۃ ص: ۲۳۲، دارالسلام، رقم: ۴۳۳۹، ترمذي، أبواب صفۃ جہنم، باب ما جاء أن للنار نفسین ۲/ ۸۷، رقم: ۲۵۹۳، مسند أحمد بن حنبل ۱/ ۴۶۰، رقم: ۴۳۹۱، مسند البزار، مکتبۃ العلوم والحکم ۵/ ۱۸۶، رقم: ۱۷۸۳) فتاویٰ قاسمیہ ۴۱۵/۴)

واللہ اعلم بالصواب
👍21
مستورات کی جماعت کے بارے میں فتاوی دارالعلوم پر نظر ثانی

سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: کہ عورتوں کی جماعت کا مسئلہ لوگوں میں گشت کر رہا ہے، تبلیغی جماعت سے دلچسپی رکھنے والے بعض حضرات اپنی مستورات کو مرکز نظام الدین کی شرائط وضوابط کی پابندی کرتے ہوئے جماعت میں لے جاتے ہیں ۔ اور عام طور پر چھ جوڑوں کی جماعت بنتی ہے، اور ان جوڑوں میں یہ شرط ہوتی ہے کہ عورت اپنے شوہر یا حقیقی بیٹے کے ساتھ جاسکتی ہے اور اس میں یہ شرط ہے کہ ماں اپنے بیٹے کی ماتحتی کو قبول کرتی ہو اور بیٹے کی بات مانتی ہو اور بیٹی اپنے باپ کے ساتھ جاسکتی ہے اور یہ جماعت جب ٹرین پر سفر کرتی ہے تو ٹرین کے دو کیبن ریزویشن کر لیتے ہیں، ایک کیبن میں مرد اور دوسرے کیبن میں عورتیں ہوتی ہیں اور عورتوں کے کیبن میں پردہ لگا دیا جاتا ہے اور جہاں جانا ہوتا ہے، وہاں پہلے ہی سے اطلاع کردی جاتی ہے، جس سے اس جماعت کے لئے قیام اور رہائش کا پہلے ہی سے پردہ کے ساتھ معقول انتظام ہوجاتا ہے۔ اور عورتوں کو اپنے محرم مردوں کے ساتھ کوئی ضروری گفتگو کرنی ہوتی ہے، تو اس کے لئے الگ سے کمرہ ہوتا ہے، جس میں باتیں کرنے کے لئے مرد کو اطلاع کردی جاتی ہے۔ اور اس کمرہ میں اپنے محرم یا شوہر سے ضروری باتیں ہوتی ہیں۔ اور پردہ کا ایسا اہتمام ہوتا ہے کہ جس مرد کو اپنی محرم عورت سے بات کرنی ہو تو نہ اپنے طور پر اسے بلا سکتا ہے، نہ ہی آزادانہ طور پر اس سے بات کرسکتا ہے؛ بلکہ نظام کے مطابق چھوٹے بچے کے ذریعہ بلا کر الگ کمرہ میں بات کرسکتے ہیں، عورتوں کے مجمع میں عورتیں ہی اصلاحی گفتگو کرتی ہیں اور قریبی مسجد کے اندر مرد لوگوں میں اصلاحی باتوں کا مذاکرہ کرتے ہیں، اس طرح مرکز نظام الدین کے شرائط وضوابط کے ساتھ مستورات کی جماعتیں نکلتی ہیں، ہمیں ’’فتاوی دارالعلوم‘‘ جلد: ۱۶ میں مستورات کی جماعت سے متعلق تین فتاوی دیکھنے کا اتفاق ہوا:

(۱) مفتی عبدالرحیم صاحب لاجپوری کا فتوی ہے، جو ص: ۲۰۸؍ پر موجود ہے، اس میں سائل نے سوال کیا کہ میں اپنی اہلیہ کو لے کر جاسکتا ہوں تو مفتی صاحب نے جواب میں لکھا کہ عورتوں کو جماعت میں لے کر جانا مطلوب اور پسندیدہ نہیں۔

(۲) دوسرا فتویٰ حضرت مفتی مہدی حسن صاحب کا لکھا ہوا ہے، اس کے سوال میں لکھا ہے کہ عورتوں کا تبلیغی سفر کرنا مع محرم کے درست ہے؟ تو اس پر مفتی صاحب نے جواب میں لمبی تحریر کے تحت لکھا ہے کہ عورتوں کا تبلیغی سفر کرنا اگرچہ محرم ہی کے ساتھ کیوں نہ ہو، کیوں کر جائز ہوسکتا ہے؟

(۳) تیسرا فتویٰ حضرت مفتی رشید احمد صاحب لدھیانویؒ کا ہے، اس کے سوال میں لکھا ہے کہ عورتوں کا تبلیغ کے لئے اپنے محرم کے ساتھ نکلنا کیسا ہے؟ تو اس کے جواب میں لکھا ہے کہ عورتوں کا جماعت میں نکلنا بہت بڑا فتنہ ہے۔ اور یہ بھی لکھا ہے کہ فقہاء نے دینی کاموں کے لئے عورتوں کے نکلنے کو بالاتفاق حرام قرار دیا ہے، تو فتاوی دارالعلوم کے ان تینوں فتوؤں کے پیش نظر آنجناب سے چند باتیں دریافت کرنی ہیں، تاکہ خلجان دور ہوجائے:

(۱) مفتی عبدالرحیم صاحب نے جو جواب لکھا ہے، کیا اس سے آپ کو اتفاق ہے؟

(۲) حضرت مفتی مہدی حسن صاحبؒ نے اپنے جواب میں لکھا ہے کہ آنحضور ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تبلیغ کے لئے سفر کرتے تھے، جہاد میں جاتے تھے، مگر عام طور پر سب عورتوں کو اپنے ساتھ نہیں لے کر جاتے تھے، تو آپ سے گزارش ہے کہ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جہاد کے سفروں میں اپنی عورتوں کو ساتھ میں نہیں لے کر جاتے تھے؟ اگر نہیں لے کر جاتے تھے؟ تو اس کے سلسلے میں کم از کم دو حدیث تحریر فرما دیں۔

(۴) مفتی رشید احمد صاحبؒ نے جواب میں لکھا ہے کہ عورتوں کا گھروں سے نکلنا بہت بڑا فتنہ ہے؛ اس لئے فقہاء نے دینی کاموں کے لئے بھی عورتوں کے نکلنے کو بالاتفاق حرام قرار دیا ہے، تو آپ سے گزارش ہے کہ کیا واقعی ایسا ہی ہے کہ فقہاء نے عورتوں کو اپنے شوہر یا محرم کے ساتھ نکلنے کو بالاتفاق حرام قرار دیا ہے؟ اور مفتی رشید احمد صاحب نے تین چار صفحات پر عربی عبارتیں نقل کی ہیں، ان عبارات میں ہم کو کوئی ایسی عبارت دیکھنے میں نہیں آئی کہ فقہاء نے دینی کاموں کے لئے بھی شوہر یا محرم کے ساتھ عورتوں کے نکلنے کو حرام قرار دیا ہو؛ اس لئے آپ سے گزارش ہے کہ کوئی حدیث یا فقہی جزئیہ جس میں عورتوں کو شوہر یا محرم کے ساتھ نکلنے کو حرام قرار دیا گیا ہو، وضاحت کے ساتھ تحریر فرما دیں، اگر جواز کی بات ہے تو جواز کے سلسلے میں حدیث یا فقہی جزئیہ تحریر فرما دیں تاکہ ہم کو تسلی ہوجائے۔
المستفتی: محمد سلیمان قاسمی، ناہل غازی آباد


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب وبہ التوفیق
👍1👏1
مذکورہ تینوں جوابات سے متعلق کچھ لکھنے سے پہلے اس بات کی صراحت ضروری ہے کہ دو مسئلے بالکل الگ الگ ہیں۔ اور دونوں کا حکم بھی بالکل الگ الگ ہے اور دونوں کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے۔
پہلا مسئلہ یہ ہے کہ عورتوں کا اپنے شوہروں یا محارم شرعی کے ساتھ دور دراز سفروں میں نکلنا یہ بالاتفاق جائز ہے، اس میں کسی کا اختلاف نہیں؛ اس لئے کہ اس میں کسی قسم کے فتنہ کا اندیشہ نہیں۔

دوسرامسئلہ یہ ہے کہ عورتوں کا بغیر شوہر یا بغیر محرم کے دور دراز مسافت شرعی کا سفر کرنا بالاتفاق ناجائز ہے؛ اس لئے کہ اس میں فتنہ کا اندیشہ ہے؛ لہٰذا اگر پہلے مسئلہ سے متعلق سوال کیا جائے اور مجیب دوسرے مسئلہ کا حکم بیان کرے تو وہ سوال کا جواب نہیں کہلائے گا اور اس کو فتویٰ کہنا بھی مشکل ہے، اس کے بعد ’’فتاوی دارالعلوم‘‘ میں نقل کئے گئے تینوں مسئلوں سے متعلق حسب ذیل گزارش ہے:

(۱) حضرت اقدس مفتی عبدالرحیم صاحب لاجپوری رحمہ اللہ کے فتوی پر غور کیا گیا، ان کا فتویٰ سوال کے مطابق ہے یانہیں؟ سائل نے یہ سوال کیا تھا کہ میں اپنی اہلیہ کو لے کر تبلیغی جماعت میں جاسکتا ہوں؟ تو حضرت مفتی صاحب علیہ الرحمہ نے جواب میں شوہر کے اہلیہ کو ساتھ میں لے جانے کی بات حذف کرکے ان الفاظ سے جواب دیا کہ عورتوں کو جماعت میں لے جانا مطلوب اور پسندیدہ نہیں ہے، عورتیں غیر محتاط ہوتی ہیں۔ مفتی صاحب کا یہ جواب ہم کو سمجھ میں نہیں آیا؛ اس لئے ہم اس فتوی سے اتفاق کرنے سے معذور ہیں۔

(۲) حضرت اقدس مفتی مہدی حسن صاحب نور اللہ مرقدہ سے یہ سوال کیا گیا ہے کہ کیا عورتوں کا تبلیغ کے لئے سفر کرنا مع محرم کے درست ہے؟ اس پر حضرت مفتی صاحب علیہ الرحمہ نے جواب میں جو تحریر فرمایا ہے، اس کا حاصل یہ ہے کہ محرم کے ساتھ بھی عورتوں کے لئے تبلیغی سفر جائز نہیں ہے، اب حضرت کے جواب میں دو باتیں قابل توجہ ہیں:

(۱) حضرت مفتی صاحب علیہ الرحمہ نے یہ الفاظ نقل فرمائے ہیں کہ ’’آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تبلیغ کے لئے سفر کرتے تھے، جہاد میں جاتے تھے؛ لیکن عام طور پر سب عورتوں کو اپنے ساتھ میں نہ لے جاتے تھے۔ حضرت کی اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ حضرت نے یہ اس لئے لکھا ہے کہ حضرت کو معلوم ہے کہ سب عورتوں کو نہیں لے جاتے تھے؛ بلکہ بعض عورتوں کو لے جاتے تھے؛ کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ازواج مطہرات کو دور دراز سفر میں لے جانے کے لئے قرع اندازی فرماتے تھے، جن کا نام نکلتا، ان کو لے کر جاتے اور جن کا نام نہ نکلتا ان کو چھوڑ کر چلے جاتے تھے ۔ اور یہ عورتوں کے اپنے شوہروں کے ساتھ نکلنے کے جواز کی دلیل ہے، اس کو حضرت نے اپنی عبارت سے حذف کردیا ہے؛ کیوں حذف کیا ہے ہماری سمجھ سے بالا تر ہے۔

(۲) حضرت نے یہ الفاظ تحریر فرمائے ہیں کہ اس شر اور فتنہ کے زمانہ میں عورتوں کو تبلیغ کے لئے سفر کرنا اگرچہ محرم کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو؛ کیوں کر جائز ہوسکتا ہے؟ ان الفاظ کے ذریعہ حضرت نے عورتوں کے اپنے محرم کے ساتھ بھی تبلیغی سفر کے لئے نکلنے کو ناجائز لکھا ہے، مگر حضرت نے اس عدم جواز پر کوئی شرعی دلیل تحریر نہیں فرمائی ہے؛ اس لئے کہ عورتوں کا اپنے شوہر یا محرم شرعی کے ساتھ دور دراز سفر میں جانے کے بارے میں عدم جواز پر قرآن وحدیث اور فقہی عبارات میں کوئی بھی دلیل نہ ہم کو ملی نہ حضرت نے نقل فرمائی ہے؛ بلکہ جواز سے متعلق دلائل شرعیہ کا ذخیرہ موجود ہے، جو ہم آگے نقل کریںگے، اس کے باوجود حضرت نے دلائل شرعیہ کو حذف فرما کر یہ حکم کیوں تحریر فرمایا ہے؟ ہم کو سمجھ میں نہیں آیا۔ حضرت نے عدم جواز کی بنیاد شر اور فتنہ کو قرار دیا ہے اور شر اور فتنہ بغیر محرم یا بغیر شوہر کے سفر کرنے سے ہوتا ہے، محرم شرعی یا اپنے شوہر کے ساتھ سفر کیا جائے تو شر وفتنہ کا خطرہ نہیں ہے، ورنہ شریعت اسلامی سفر عمرہ اور نفلی حج کے اسفار میں عورتوں کو اپنے اپنے شوہروں یا محرموں کے ساتھ بھی جانے کی اجازت نہ دیتی۔ اور شریعت نے محرم اور شوہر کے ساتھ جانے کی کھل کر اجازت دے رکھی ہے، جس کا سلسلہ دور نبوت سے لے کر آج تک بلا نکیر جاری ہے اور پوری امت اس کے جواز پر متفق ہے، چنانچہ سفر عمرہ وسفر حج میں عورتیں محرموں اور شوہروں کے ساتھ جاتی ہیں اور حکومت، حج کمیٹی اور گروپ لیڈر کے انتظام میں کئی کئی جوڑوں کو ایک کمرہ میں رہائش دی جاتی ہے، اس لئے سفر حج اور سفر عمرہ میں اختلاط کا جو اندیشہ ہے، مستورات کی جماعت میں اس اختلاط کا دور دور تک بھی اندیشہ نہیں ہے۔ اور اس کے جواز پر چند روایتیں ہم ذیل میں درج کر دیتے ہیں، تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ مستورات کا اپنے شوہروں یا محرموں کے ساتھ دور دراز کے سفر پر جانا بلا کراہت جائز ہے۔

(۱) حدیث کی کتابوں میں صراحت کے ساتھ یہ روایت موجود ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر غزوہ میں حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا اور انصار کی عورتوں کی جماعت کو ساتھ میں لے کر گئے ہیں۔
👍2
حدیث شریف ملاحظہ فرمائیے:
عن أنس بن مالک -رضي اللہ عنہما- قال: کان رسول اللہ ﷺ: یغزو بأم سلیم، ونسوۃ من الأنصار معہ إذا غزا، فیسقین الماء ویداوین الجرحی۔ (مسلم شریف، کتاب الجہاد والسیر، باب غزوۃ النساء مع الرجال، النسخۃ الہندیۃ ۲/ ۱۱۶، بیت الأفکار، رقم: ۱۸۱۰، سنن الترمذي، کتاب الجہاد والسیر، باب ماجاء في خروج النساء في الحرب، النسخۃ الہندیۃ ۱/ ۲۸۶، دارالسلام، رقم: ۱۵۷۵، سنن أبي داؤد، الجہاد، باب في النساء یغزون، النسخۃ الہندیۃ ۱/ ۳۴۳، دارالسلام، رقم: ۲۵۳۱، مسند البزار، مکتبۃ العلوم والحکم ۱۳/ ۲۹۶، رقم: ۶۸۸۰)

(۲) حضرت اسماء بنت یزید بن السکنؓ جو حضرت معاذ بن جبل کی چچا زاد بہن ہیں، جنگ یرموک میں شریک ہوکر شہید ہوئیں۔

عن محمد وعمر عن أبیہا أن أسماء بنت یزید بن السکن بنت معاذ بن جبل قتلت یوم الیرموک تسعۃ من الروم بعمود فسطاطہا۔ (المعجم الکبیر للطبراني، دار إحیاء التراث العربي ۲۴/ ۱۵۷، رقم: ۴۰۳، أسد الغابۃ، دارالفکر ۶/ ۱۸)

(۳) حضرت ام حکیم رضی اللہ عنہا کا واقعہ ہے کہ وہ اپنے شوہر عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ کے ساتھ رومیوں سے جنگ کے دوران موجود تھیں، جس میں حضرت عکرمہ شہید ہوئے۔ اور عدت وفات کے بعد حضرت ام حکیم بنت الحارث کا نکاح خالد بن سعید رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہوا۔

روایت ملاحظہ فرمائیے:
أم حکیم بنت الحارث … شہدت أحدا کافرۃ، ثم أسلمت یوم الفتح، کانت تحت ابن عمہا عکرمۃ بن أبي جہل، ولما أسلمت کان زوجہا قد ہرب إلی الیمن، فاستأذنت لہ من النبي ﷺ واستأذنتہ في أن تصیر في طلبہ، فأذن لہا فردتہ، فأسلم، وقتل عنہا عکرمۃ، فتزوجہا خالد بن سعید۔ (أسد الغابۃ، بیروت ۶/ ۳۲۱)

(۴) حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ان کے شوہر نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بارہ غزوات میں شرکت کی اور ام عطیہ رضی اللہ عنہا بذات خود بخاری کی روایت کے مطابق چھ غزوات میں اور مسلم کی روایت کے مطابق سات غزوات میں شریک ہوئیں۔

حدیث شریف ملاحظہ فرمائیے:
عن أم عطیۃ الأنصاریۃ، قالت: غزوت مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سبع غزوات أخلفہم في رحالہم، واصنع لہم الطعام، وأداوی الجرحی، وأقوم علی المرضی۔ (صحیح مسلم، کتاب الجہاد والسیر، باب النساء الغازیات یرضخ لہن، النسخۃ الہندیۃ ۲/ ۱۱۷، بیت الأفکار، رقم: ۱۸۱۲، سنن ابن ماجۃ، کتاب الجہاد، باب العبید والنساء یشہدون مع المسلمین، النسخۃ الہندیۃ، ص: ۴۱۲، دارالسلام، رقم: ۲۸۵۶، بخاري شریف، کتاب العیدین، باب إذا لم یکن لہا جلباب، النسخۃ الہندیۃ ۱/ ۱۳۴، رقم: ۹۷۰، ف: ۹۸۰)

(۵) حضرت ام سلیط یوم احد میں پانی سے بھرے مٹکے سے زخمی مجاہدین کو پانی پلاتی تھیں۔

حدیث شریف ملاحظہ فرمائیے:
أم سلیط من نساء الأنصار، ممن بایع رسول اللہ ﷺ قال عمر: فإنہا کانت تزفر لنا القرب یوم أحد۔ (بخاري شریف، کتاب الجہاد والسیر، باب حمل النساء القرب إلی الناس في الغزو، النسخۃ الہندیۃ ۱/ ۴۰۳، رقم: ۲۷۹۵، ف: ۲۸۸۱)

(۶) حضرت ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوات میں شریک ہوکر مجاہدین کو پانی پلاتیں، زخمیوں کے لئے دوا دارو کا انتظام کرتیں اور مقتولین کو مدینہ پہنچاتی تھیں۔

حدیث شریف ملاحظہ ہو:
عن الربیع بنت معوذ قالت: کنا مع النبي ﷺ، نسقي، ونداوي الجرحی، ونرد القتلی إلی المدینۃ۔ (بخاري شریف، کتاب الجہاد والسیر، باب مداواۃ النساء الجرحی في الغزو، النسخۃ الہندیۃ ۱/ ۴۰۳، رقم: ۲۷۹۶، ف: ۲۸۸۲)

(۷) حضرت ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا اپنے شوہر عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے ساتھ سمندری سفر میں شریک ہوکر شہید ہوئیں۔ روایت ملاحظہ ہو:
أم حرام … تزوجہا عبادۃ بن الصامت، فأخرجہا معہ، فلما جاز البحر بہا رکبت دابۃ فصرعتہا، فقتلتہا۔ (مسند أحمد ۶/ ۴۲۳، رقم: ۲۷۹۲۱، أسد الغابۃ، بیروت ۶/ ۳۱۷)


(۸) امام طحاویؒ نے اپنی کتاب ’’مشکل الآثار‘‘ میں حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کی روایت نقل فرمائی ہے کہ وہ خود غزوہ خیبر کے سفر میں تھیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے سورج کو غروب ہونے سے روک دیا تھا، واپس بلندی پر سورج آگیا، یہاں تک کہ پہاڑوں کے اوپر سے سورج نظر آنے لگا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عصر کی نماز نہیں پڑھی تھی، اس کے بعد انہوں نے عصر کی نماز پڑھی، اس کے بعد سورج اپنی رفتار سے غروب ہوگیا۔ یہ روایت سند صحیح کے ساتھ ’’مشکل الآثار‘‘ (۲/ ۷، رقم: ۱۲۰۸، اور ۴/۲۶، رقم: ۳۸۵۰) میں صراحت کے ساتھ موجود ہے۔ ان تمام روایات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دور نبوت اور دور صحابہ میں کثرت سے عورتیں اپنے شوہروں اور محرموں کے ساتھ دور دراز سفر میں جایا کرتی تھیں، ان سارے واقعات اور روایات کا علم حضرت مفتی صاحب کو ضرور ہوگا، اس کے باوجود حضرت نے عورتوں کے محرموں کے ساتھ نکلنے کو کیوں ناجائز لکھا ہے؟ ہم کچھ نہیں کہہ سکتے، ان دلائل شرعیہ کی وجہ سے پردہ کی پابندی کے ساتھ محرموں اور شوہروں کے ساتھ مستورات کے لئے
👍4
تبلیغی اسفار میں نکلنے کو ہم ناجائز نہیں کہہ سکتے۔

(۳) مفتی رشید احمد صاحب لدھیانو ی علیہ الرحمہ کا سوال وجواب دیکھ لیا گیا ہے کہ اس میں جواب سوال کے مطابق نہیں ہے؛ اس لئے کہ دو مسئلے بالکل الگ الگ ہیں:

(۱) عورتوں کا اپنے حقیقی محرم اور اپنے شوہروں کے ساتھ دور دراز سفروں کو جانا بالاتفاق جائز ہے، اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔

(۲) عورتوں کا بغیر محرم یا بغیر شوہر کے دور دراز کے سفر پر جانا بالاتفاق ناجائز ہے، سائل نے پہلے مسئلہ سے متعلق سوال کیا اور حضرت مفتی صاحبؒ نے دوسرے مسئلہ سے متعلق جواب دیا؛ اس لئے سوال وجواب میں کوئی انطباق نہیں ہے اور اس کے بعد تقریباً چار صفحات میں جو عربی عبارات نقل کی گئی ہیں، ان میں سے کسی بھی عبارت میں عورتوں کے محارم یا شوہروں کے ساتھ دور دراز سفر میں نکلنے کی ممانعت موجود نہیں ہے؛ اس لئے ہمیں حیرت ہے کہ اس بے جوڑ فتوی کو ’’فتاوی دارالعلوم‘‘ میں ضم کر کے اس کا جزو کیسے بنا دیا گیا؟ مذکورہ تینوں مفتیان کرام ہمارے لئے بہت زیادہ قابل احترام اور ہمارے لئے پیشوا کے درجہ میں ہیں، مگر ہم کو اس بات پر شرمندگی ہے کہ ’’فتاوی دارالعلوم‘‘ میں ضم کئے گئے تینوں فتاوی میں سے ایک سے بھی مذکورہ وجوہات کی بنا پر اتفاق نہ کر سکے۔


📚فتاویٰ قاسمیہ ۵۰۲/۴)

واللہ اعلم بالصواب
👍1
تبلیغ کے لئے جانے والے صحابی کے مردہ گدھے کا زندہ ہونا

سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: ایک صحابی رسول ﷺ ایک گدھا لے کر تبلیغ دین کے لئے چلے، تھک کر ایک درخت کے نیچے لیٹ گئے ، اٹھنے کے بعد کیا دیکھتے ہیں کہ گدھا مر گیا ہے، وہ فکر مند نہیں ہوئے بلکہ دو رکعت نماز حاجت پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی، تو وہ گدھا زندہ ہوگیا، بعینہٖ یہی واقعہ ایک اور صحابی کے ساتھ پیش آیا، ان کا ایک لڑکا فوت ہوگیا، تو انہوں نے بھی دو رکعت نماز پڑھی اور دعا کی ، تو وہ لڑکا زندہ ہوگیا۔ یہ واقعات کس کتاب میں مذکور ہیں؟ براہ کرم حوالہ سے مطلع فرمائیں۔
المستفتی: شفیع احمد اعظمی بحرین

#بسم_اللہ_الرحمن_الرحیم #الجواب_وباللہ_التوفیق....... ایسا کوئی واقعہ کسی معتبر کتاب میں خاکسار کی نظر سے نہیں گذرا۔

📚فتاویٰ قاسمیہ ۴۲۸/۴)

واللہ اعلم بالصواب
👍2👏1
کیا ایک عورت چار مردوں کو جہنم میں لے جائے گی؟

سوال:
رسول پاک ﷺ نے فرمایا ۔ مجھے جب میراج پر لے جایا گیا میں دیکھا کہ میری امت کی بہت سی عورتیں سخت عذاب سے مبتلا تھی اُن کے سر کے بال جہنم کے دیواروں سے بندھے ہوئے تھے ۔ یہ وہ عورتیں تھی جو اپنے سر کے بال دوسرے مردوں سے نہیں چھپاتی تھی قیامت کے دن پردے کا سوال کیا جائیگا تو 1 عورت 4 جنّتی مردوں کو لیکر جائیگی ۔ 1 باپ ، 2 بھائی ، 3 شوہر ، 4 بیٹا، اسی حدیث کا دلیل مانگا جا رہا ہے مُجھ سے ۔مہربانی کرکے دلیل مجھے بھیجیں۔


#بسم_اللہ_الرحمن_الرحیم #الجواب_وباللہ_التوفیق.......
جواب نمبر: 605065


Fatwa : 831-848/M=01/1443

اس طرح کے عذاب پر مشتمل روایت کو علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے ”الکبائر“ میں الکبیرة السابعة والأربعون، نشوز المرأة علی زوجہا کے تحت بغیر سند کے ذکر کیا ہے، لیکن ایک عورت کے چار جنتی مردوں (باپ، بیٹا، شوہر، بھائی) کو جہنم میں لے جانے کی صراحت کسی روایت میں نہیں مل سکی۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

-------------------------------------------------------------
عورت اپنے ساتھ چار مردوں کو جہنم میں لے جائے گی" روایت کی تحقیق

سوال
ایک عورت اپنے ساتھ چار لوگوں کو جہنم لے کر جائے گی۔۔۔۔إلى آخره. کیا یہ حدیث ہے؟

#بسم_اللہ_الرحمن_الرحیم #الجواب_وباللہ_التوفیق.......
یہ روایت ہمیں تلاش کے باوجود نہیں مل سکی، اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنے سے گریز کیا جائے۔

فقط واللہ اعلم 
فتوی نمبر : 144106200833
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
1👏1
کیا بے نمازی عورت چار آدمیوں کو جہنم میں لے جائے گی؟

سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں: کہ اس بات کی تحقیق مقصود ہے کہ بہت مشہور ہے کہ ایک غیرنمازی عورت چار آدمیوں کو جہنم میں لے جائے گی۔ (۱) اپنے باپ (۲) اپنے شوہر (۳) اپنے بھائی (۴) اپنے بیٹے کو حضور والا سے اس بات کی تحقیق مطلوب ہے کیا اس قسم کی کوئی حدیث ہے یاکہ یہ مشہور ہی ہے، کوئی حدیث نہیں ہے؟اگر حدیث ہے تو قوی درجہ کی یا ضعیف درجہ کی ہے تو کیا اس کو بطور ترغیب کے وعظ و تقریروں میں بیان کیا جاسکتا ہے؟
المستفتی: ثناء اللہ پرتاب گڈھی، متعلم دارالعلوم اسلامیہ بستی


#بسم_اللہ_الرحمن_الرحیم #الجواب_وباللہ_التوفیق.......

ایسی کوئی حدیث احقر کی نظر سے نہیں گذری نہ صحیح حدیث شریف اور نہ ہی ضعیف۔


📚 فتاویٰ قاسمیہ 276/4)

فقط واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
2👍1
السلام علیکم ورحمتہ اللہ
             ایک شخص نے اپنی منکوحہ کو دخول سے پہلے اور خلوت صحیحہ کے بعد طلاق دی۔
پوچھنا یہ ہے کہ (1)اس صورت میں کونسی طلاق واقع ہوگی طلاق رجعی یا طلاق بائن؟(2)اور اگر طلاق کے بعد بچے کی پیدائش ہوجائے تو کیا اس کا اس شخص سے نسب ثابت ہوگا؟(3)اور مھر کا کیا حکم ہوگا اس صورت میں؟
            برائے کرم جوابات مع دلائل عنایت فرماکر مشکور و ممنون ہوں۔
       والسلام
عرفان اللہ بلوچستان
03312853468

#وعلیکم_السلام_ورحمۃ_اللہ_وبرکاتہ #بسم_اللہ_الرحمن_الرحیم #الجواب_وباللہ_التوفیق.......
عورت کو نکاح کے بعد، رخصتی سے پہلے  لیکن خلوتِ صحیحہ کے بعد اس کا شوہر  طلاق دے دے تو اس کا حکم عام عورت کی طرح ہوگا جس سے اس کا شوہر ازدواجی تعلق قائم کرچکا ہو، یعنی اس کا شوہر اگر اسے تین طلاقیں متفرق دے یا اکٹھی دے بہر صورت تینوں واقع ہوجائیں گے، اور عورت اپنے شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجائے گی۔ اور اگر ایسی عورت کو شوہر ایک طلاق دے تو ایک ہی طلاق واقع ہوگی، البتہ وہ ایک طلاق،  طلاقِ بائن ہوگی، اس کے بعد دوبارہ نکاح کرنے کے لیے تجدیدِ نکاح کی ضرورت ہوگی اور مذکورہ عورت پر عدت بھی لازم ہوگی۔ اور عورت کل مہر کا حق دار ہوگی ۔اور بچے کا نسب بھی اسی مرد سے ثابت ہوگی ۔


"(والخلوة) مبتدأ خبره قوله الآتي: كالوطء ... (كالوطء) فيما يجيء ... وكذا في وقوع طلاق بائن آخر على المختار.

(قوله: وكذا في وقوع طلاق بائن آخر إلخ) في البزازية: والمختار أنه يقع عليها طلاق آخر في عدة الخلوة، وقيل لا اهـ وفي الذخيرة: وأما وقوع طلاق آخر في هذه العدة فقد قيل: لايقع، وقيل: يقع، وهو أقرب إلى الصواب؛ لأنّ الأحكام لما اختلفت يجب القول بالوقوع احتياطًا، ثم هذا الطلاق يكون رجعيًّا أو بائنًا، ذكر شيخ الإسلام أنه يكون بائنًا اهـ ومثله في الوهبانية وشرحها.

والحاصل أنه إذا خلا بها خلوةً صحيحةً، ثمّ طلّقها طلقةً واحدةً فلا شبهة في وقوعها، فإذا طلقها في العدة طلقة أخرى فمقتضى كونها مطلقة قبل الدخول أن لاتقع عليها الثانية، لكن لما اختلفت الأحكام في الخلوة في أنها تارة تكون كالوطء وتارة لا تكون جعلناها كالوطء في هذا فقلنا بوقوع الثانية احتياطا لوجودها في العدة، والمطلقة قبل الدخول لايلحقها طلاق آخر إذا لم تكن معتدة بخلاف هذه.

والظاهر أن وجه كون الطلاق الثاني بائنا هو الاحتياط أيضا، ولم يتعرضوا للطلاق الأول. وأفاد الرحمتي أنه بائن أيضا لأن طلاق قبل الدخول غير موجب للعدة لأن العدة إنما وجبت لجعلنا الخلوة كالوطء احتياطا، فإن الظاهر وجود الوطء في الخلوة الصحيحة ولأن الرجعة حق الزوج وإقراره بأنه طلق قبل الوطء ينفذ عليه فيقع بائنا، وإذا كان الأول لا تعقبه الرجعة يلزم كون الثاني مثله. اهـ. ويشير إلى هذا قول الشارح طلاق بائن آخر فإنه يفيد أن الأول بائن أيضا، ويدل عليه ما يأتي قريبا من أنه لا رجعة بعده، وسيأتي التصريح به في باب الرجعة، وقد علمت مما قررناه أن المذكور في الذخيرة هو الطلاق الثاني دون الأول فافهم. ثم ظاهر إطلاقهم وقوع البائن أولا وثانيا وإن كان بصريح الطلاق، وطلاق الموطوءة ليس كذلك فيخالف الخلوة الوطء في ذلك.

وأجاب ح: بأن المراد التشبيه من بعض الوجوه وهو أن في كل منهما وقوع طلاق بعد آخر. اهـ. وأما الجواب بأن البائن قد يلحق البائن في الموطوء فلايدفع المخالفة المذكورة، فافهم.(الدر المختار وحاشية ابن عابدين ١١٤/٣الي ١١٩)

ذهب الحنفية إلى أن ثبوت النسب مما يترتب على الخلوة ولو من المجبوب، وقال ابن عابدين راويا عن ابن الشحنة في عقد الفرائد: إن المطلقة قبل الدخول لو ولدت لأقل من ستة أشهر من حين الطلاق ثبت نسبه للتيقن بأن العلوق كان قبل الطلاق، وأن الطلاق بعد الدخول، ولو ولدته لأكثر لا يثبت لعدم العدة، ولو اختلى بها فطلقها يثبت وإن جاءت به لأكثر من ستة أشهر، قال: ففي هذه الصورة تكون الخصوصية للخلوة .(الموسوعة الفقهية الكويتية ٥٤٠/١٩)

📚 احسن الفتاوی 168/5 کتاب الطلاق ،ایچ،ایم،سعید،کراچی)

📚خزینۃ الفقه 162/2تا167،فی مسائل الطلاق)

📚دار الافتاء دارالعلوم دیوبند ،جواب نمبر: 167918)

واللہ اعلم بالصواب
👍4
جملہ حقوق محفوظ شدہ کتابوں کی فوٹو کاپی کرانا
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: یہ تو معلوم ہے کہ جملہ حقوق محفوظ شدہ کتب کی طباعت محفوظ کرنے والے کی اجازت کے بغیر جائز نہیں ہے، تو کیا اس کتاب کی فوٹو اسٹیٹ کرنا بھی جائز نہ ہوگا، اگر جائز ہے تو طباعت اور فوٹو اسٹیٹ میں کیا فرق ہے؟ ان دونوں کی حقیقت کے بارے میں مطلع فرمائیں؟


#بسم_اللہ_الرحمن_الرحیم #الجواب_وباللہ_التوفیق.......

حقوق محفوظ والی کتاب کا فوٹو اسٹیٹ کرانا یا اپنی ضرورت کے لئے کسی خرید کردہ کیسٹ کی نقل کرانا شرعاً یا اخلاقاً یا قانوناً کسی بھی طرح ممنوع نہیں ہے؛ کیوںکہ اس سے حقوق محفوظ کرانے والے کو کوئی ضرر نہیں پہنچتا، ضرر اس وقت پہنچتا ہے جب کہ کتاب کو باقاعدہ طبع کراکے یا کیسٹ کو سیکڑوں کی تعداد میں نقل کراکے بازار میں فروخت کیا جائے۔ (تفصیل دیکھئے: فقہ البیوع، للشیخ المفتی محمد تقی العثمانی ۲۸۶ مکتبہ معارف القرآن کراچی)

📚کتاب النوازل 53/11

فقط واللہ تعالیٰ اعلم
👍41
قسطوں پر خریدی ہوئی چیز کو اقساط کی ادائیگی سے قبل آگے بیچنے کا حکم

سوال
کیا قسطوں پر کوئی چیز لے کر تمام اقساط کی ادائیگی سے قبل اس کو آگے بیچ دینا جائز ہے ؟

#بسم_اللہ_الرحمن_الرحیم #الجواب_وباللہ_التوفیق.......
واضح رہےکہ بیع میں محض ایجاب وقبول سے عقد تام ہوجاتا ہے،اور عقد تام ہوجانے کے بعد مبیع میں مشتری کا حق اور ثمن میں بائع کا حق ثابت ہوجاتا ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگرایک شخص ادھار پر کوئی چیز خریدے،اور اس پربائع کی رضا مندی سے قبضہ بھی کرلے توخریدنے والے کے لیےتمام قسطوں کی ادائیگی سے قبل بھی اس چیز کوآگے کسی اور کو بیچنا مطلقاً جائز ہے،تاہم اگر وہ چیز فروخت کنندہ ہی کو بیچی جارہی ہوتو اس صورت میں اقساط کی مکمل ادائیگی سے قبل پہلی والی قیمت سے کم قیمت میں وہ چیز اسی کو بیچنا جائز نہیں ہے۔

"وحكمه ثبوت الملك.
(قوله: وحكمه ثبوت الملك) أي في البدلين لكل منهما في بدل، وهذا حكمه الأصلي، والتابع وجوب تسليم المبيع والثمن.(رد المحتار على الدر المختار٥٠٦/٤،کتاب البیوع،ط:ایج ایم سعید)

وفيه ايضا:

"(و) فسد (شراء ما باع بنفسه أو بوكيله) من الذي اشتراه ولو حكما كوارثه (بالأقل) من قدر الثمن الأول (قبل نقد) كل (الثمن) الأول...(ولا بد) لعدم الجواز (من اتحاد جنس الثمن) وكون المبيع بحاله (فإن اختلف) جنس الثمن أو تعيب المبيع (جاز مطلقا) كما لو شراه بأزيد أو بعد النقد.

(قوله قبل نقد كل الثمن الأول) قيد به؛ لأن بعده لا فساد، ولا يجوز قبل النقد، وإن بقي درهم ... (قوله بأزيد أو بعد النقد) ومثل الأزيد المساوي كما في الزيلعي، وهذا قول المصنف بالأقل قبل نقد الثمن."(رد المحتار على الدر المختار ٧٣/٥،کتاب البیوع،‌‌باب البيع الفاسد،ط:ایج ایم سعید)

"وإن كان مؤجلا فليس للبائع أن يحبس المبيع قبل حلول الأجل ولا بعده كذا في المبسوط...إذا استوفى الثمن وسلم المبيع أو سلم بغير قبض الثمن أو قبض المشتري بإجازة البائع لفظا أو قبضه وهو يراه ولا ينهاه ليس له أن يسترده ليحبسه بالثمن."(الفتاوي الهندية ١٥/٣،کتاب البیوع،الباب الرابع،ط:دار الفکر،بیروت)

"(ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع ما لم يقبض، والنهي يوجب فساد المنهي؛ ولأنه بيع فيه غرر الإنفساخ بهلاك المعقود عليه؛ لأنه إذا هلك المعقود عليه قبل القبض يبطل البيع الأول فينفسخ الثاني؛ لأنه بناه على الأول، وقد نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع فيه غرر، وسواء باعه من غير بائعه، أو من بائعه؛ لأن النهي مطلق لا يوجب الفصل بين البيع من غير بائعه وبين البيع من بائعه.(بدائع الصنائع ١٨٠/٥كتاب البيوع،فصل في شرائط الصحة في ‌البيوع،ط:دار الكتب العلمية) جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی

فقط والله أعلم
https://telegram.me/jamashuda
👍5
نماز کے زریعہ گدھا کا زندہ کرنا


سوال

ایک صحابی کا گدھا مرگیا ، تو انھوں نے دو رکعت نفل پڑھ کر دعا مانگی، تو اللہ پاک نے ان کا گدھا زندہ کردیا۔ ایک صحابیہ کا بچہ فوت ہوا تو انھوں نے دو رکعت نفل پڑھ کر دعا مانگی تو اللہ پاک نے ان کا بچہ زندہ کردیا۔ حضرت امام ابو حنیفہ ایک ہی وضو سے عشاء اور فجر کی نماز پڑھا کرتے تھے اور ان کا یہ معمول چالیس سال تک رہا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے ٹانگ میں جب تیر لگا تو نماز کی حالت میں نکالا گیا، جب کہ حضرت علی رضي الله عنه کو ذرا بھی تکلیف نہیں ہوئی۔ کیا یہ سب درست ہے؟

جواب کا متن:
بسم الله الرحمن الرحيم
(فتوى: 721/هـ=485/هـ)

نمبر (1) و نمبر (2) واقعے آپ نے کہاں سے نقل کئے ہیں؟ ان کا حوالہ لکھئے۔ نمبر (3) اور نمبر (4) یعنی حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا واقعہ اور اسی طرح سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مذکورہ واقعہ کتبِ تواریخ میں منقول و مذکور ہے اور یہ واقعات سب درست ہیں، ان میں شرعاً و عقلاً و نقلاً کچھ استبعاد نہیں ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
👍51
درود شریف میں صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر کیوں ہے ؟

سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ جب درود پڑھا جاتاہے توتمام انبیاء میں سے صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ہی کیوں تشبیہ ذکر کی جاتی ہے جیسے ’’ کماصلیت علی ابراہیم‘‘۔ حالانکہ کتنے ہی دوسر ے انبیاء بھی گزرے ہیں ؟

#بسم_اللہ_الرحمن_الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں درود شریف میں صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خاص کرنے کی کئی وجوہات علماء نے ذکر فرمائی ہیں :

(۱)حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نبی علیہ السلام کے واسطے لیلۃ المعراج میں ہمیں (امت محمدیہ کو ) سلام کہلوایا لہٰذا ہمیں بھی ایساکرنے کاحکم دیاگیا۔

(۲)حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ہمارانام مسلمان رکھا اس پر ان کی فضیلت کے اظہار کے لئے صرف ان ہی کوخاص کیا۔

(۳)درود شریف سے مقصود دعا کرناہے کہ جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ﷲ تعالی نے خلیل بنایا اسی طرح ہمارے نبی علیہ السلام کو بھی خلیل بنائیں۔

(۴)آپ چونکہ نسب کے اعتبار سے آپ علیہ السلام کے آباء میں شامل ہیں اس لئے ایساکیاگیا۔

(۵)آپ بقیہ تمام انبیاء میں افضل ہیں۔

(۶)آپ علیہ السلام کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اقتدا کاحکم دیاگیا اس لئے درود میں بھی ان ہی کو خاص کیاگیا۔

وخص ابراھیم لسلامہ علینا،اولانہ سمانا المسلمین اولان
المطلوب صلاۃ یتخذ بھاخلیلا(الدرالمختار۵۱۴/۱)

(قولہ لسلامہ علینا) ای لیلۃ المعراج حیث قال ابلغ امتک منی السلام (قولہ اولانہ سماناالمسلمین ) کمااخبر تعالی بقولہ ھو سماکم المسلمین۔(الطحطاوی علی الدر۲۲۶/۱)

نقل اولا کمانقل فی الطحطاوی ثم قال …… واجیب باجوبۃ اخری :منھا ان ذلک لابوتہ ……ولرفعۃ شانہ فی الرسل وکونہ افضل بقیۃ الانبیاء علی الراجح ……وللامر بالاقتداء بہ فی قولہ تعالی ان اتبع ملۃ ابراھیم حنیفا۔(ردالمحتار علی الدرالمختار،۵۱۴/۱)(نجم الفتاوی ۴۵۵/۱،کتاب العقائد)

واللہ اعلم بالصواب
#محمد_امیر_الدین_حنفی_دیوبندی

https://t.me/jamashuda
👍92
کسی شریک کا تنخواہ یا اجرت وصول کرنا درست نہیں


السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ دو آدمی نے مل کر ہوٹل کرائیں پر لی اور دونوں برابر کے شریک ہیں اب ان میں سے ایک آدمی ہوٹل کی دیکھ ریکھ اور محنت کرتا ہے تو کیا وہ آدمی ہوٹل کے منافع میں سے تنخواہ اور حصہ دونوں لے سکتا ہے مدلل جواب مرحمت فرمائیں۔(ابو محمد)

#وعلیکم_السلام_ورحمۃ_اللہ_وبرکاتہ #بسم_اللہ_الرحمن_الرحیم #الجواب_وباللہ_التوفیق...... صورت مسئولہ میں محنت کرنے والا شریک علیحدہ سے اپنے عمل کی اجرت یعنی تنخواہ نہیں لے سکتا، اس لیے کہ وہ اپنے سرمایہ ہی کے لیے محنت کررہا ہے۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ دونوں اپنی شرکت کے معاہدے میں نفع کی تقسیم کی شرح تبدیل کرکے محنت کرنے والے کے لیے نفع کی شرح زیادہ طے کرلیں، مثلاً: دو تہائی نفع محنت کرنے والے شریک کا ہو اور ایک تہائی دوسرے کا، یہ جائز ہے۔

(ولو) استأجره (لحمل طعام) مشترك (بينهما فلا أجر له)؛ لأنه لا يعمل شيئاً لشريكه إلا ويقع بعضه لنفسه؛ فلا يستحق الأجر۔(الدر المختار وحاشية ابن عابدين ۶۰/۶)

والشريكان في العمل إذا غاب أحدهما أو مرض أو لم يعمل وعمل الآخر فالربح بينهما على ما اشترطا؛ لما روي أن رجلاً جاء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: أنا أعمل في السوق ولي شريك يصلي في المسجد، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لعلك بركتك منه"، والمعنى أن استحقاق الأجر بتقبل العمل دون مباشرته والتقبل كان منهما وإن باشر العمل أحدهما، ألا ترى أن المضارب إذا استعان برب المال في بعض العمل كان الربح بينهما على الشرط أو لا ترى أن الشريكين في العمل يستويان في الربح وهما لا يستطيعان أن يعملا على وجه يكونان فيه سواء، وربما يشترط لأحدهما زيادة ربح لحذاقته وإن كان الآخر أكثر عملاً منه، فكذلك يكون الربح بينهما على الشرط ما بقى العقد بينهما وإن كان المباشر للعمل أحدهما ويستوي إن امتنع الآخر من العمل بعذر أو بغير عذر لأن العقد لا يرتفع بمجرد امتناعه من العمل واستحقاق الربح بالشرط في العقد".(مبسوط سرخسی،۲۸۷/۱۱،دارالفکر)

(قوله: والربح إلخ) حاصله أن الشركة الفاسدة إما بدون مال أو به من الجانبين أو من أحدهما، فحكم الأولى أن الربح فيها للعامل كما علمت، والثانية بقدر المال، ولم يذكر أن لأحدهم أجراً ؛ لأنه لا أجر للشريك في العمل بالمشترك كما ذكروه في قفيز الطحان، والثالثة لرب المال وللآخر أجر مثله (قوله: فالشركة فاسدة) ؛ لأنه في معنى بع منافع دابتي ليكون الأجر بيننا، فيكون كله لصاحب الدابة؛ لأن العاقد عقد العقد على ملك صاحبه بأمره، وللعاقد أجرة مثله؛ لأنه لم يرض أن يعمل مجانا فتح''۔(فتاوی شامی,۳۲۶/۴،دارالفکر) جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی) فتاویٰ قاسمیہ ۵۴/۲۰تا۵۸) فتاویٰ محمودیہ ۳۷۴/۲۳،باب الاجارۃ الفاسدۃ،جامعہ فاروقیہ کراچی) فتاویٰ رحیمیہ ۱۸۴,۳تا۱۸۵,کتاب الشرکۃ ،باب الاجارۃ ،دارالاشاعت کراچی)

واللہ اعلم بالصواب
امیر الدین حنفی ودیوبندی
3👍3
سوال ]۸۴۱۴[: کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں : ہمارے یہاں ’’مدرسہ جامعہ اسلامیہ جلالیہ‘‘ میں درجہ اول دینیات میں غیر مقامی طلبہ داخلہ لیتے ہیں ، ان سے مزید کھانے کے لئے پانچ ہزار پانچ سو روپئے لئے جاتے ہیں اور ان بچوں کے سر پرست صاحبان کو یہ بتلایا جاتا ہے کہ آپ کا بچہ اگر مدرسہ سے چلا جائے تو پانچ ہزار پانچ سو روپئے آپ کو واپس نہیں کئے جائیں گے؛ اس لئے کہ اس سے مدرسہ میں طلبہ کی کمی ہوگی؛ کیوں کہ درجات کے اعتبار سے طلبہ کی تعداد متعین ہے، سرپرست صاحبان بھی اس وقت مان لیتے ہیں ؛ لیکن بعد میں جب بچہ چلا جاتا ہے تو خوراکی کے نام پر جو رقم جمع کی تھی اسے مانگتے ہیں ، مذکورہ صورت میں گارجین کو خوراکی کی رقم واپس کرنا ضروری ہے، جب کہ گارجین نے وعدہ کیا تھا کہ بچہ اگر چلا جائے تو رقم واپس نہیں لیں گے۔ دوسری صورت ہمارے یہاں یہ بھی ہے کہ ایک خصوصی مطبخ قیمتاً چلتا ہے، جس میں اہل ثروت حضرات کے بچے سالانہ نو ہزار روپئے جمع کرتے ہیں اور اپنا کھانا کھاتے ہیں ، اس صورت میں بھی کبھی بچے چلے جاتے ہیں ، ان بچوں کے سرپرست صاحبان بھی بوقت داخلہ وعدہ کرتے ہیں ، بچے چلے جانے کی صورت میں روپئے واپس نہیں لیں گے؛ لیکن بعد میں کچھ لوگ مطالبہ کرتے ہیں ، ایسی صورت میں یہ رقم شرعاً واپس کرنا ضروری ہے یانہیں ؟
(ب) خوراکی کے نام پر جو رقم الگ سے لی جاتی ہے وہی رقم اگر داخلہ فیس کے ساتھ جوڑ کر داخلہ فیس میں اضافہ کردیا جائے اور داخلہ فیس بجائے ۸۰۰؍ کے ۹۸۰؍ یا ۶۳۰۰؍ کردیا جائے اور اس صورت میں اگر بچہ چلا جائے تو رقم واپس نہیں کی جائے گی، تو کیا یہ شرعاً جائز ہے؟
(۲) ایک استاذ ایک مدرسہ میں پڑھاتے پڑھاتے بوڑھے کمزور اور بیمار ومعذور ہوگئے، اب پڑھانے سے معذور ہیں ، ادھر پوری زندگی مدرسہ میں رہنے کی وجہ سے دوسرا کوئی ذریعہ معاش کا بھی گھر میں انتظام نہیں ہے، اب کیا اس حالت میں مدرسہ کی طرف سے ان کے لئے پنشن جاری کرنا یا ان کے لئے پنشن لینا جائز ہے یانہیں ؟ اگر جائز ہے تو کس فنڈ سے ان کو رقم دی جائے گی؟
المستفتی: ارکان حل وعقد جامعہ جلالیہ ہوجائی آسام، ہند

بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب وبہ التوفیق
حسب تحریر سوال جو رقم مدرسہ میں مقیم طلبہ کے سرپرستوں سے سال بھر کی خوراکی کے نام پر وصول کی جاتی ہے وہ رقم شرعاً طعام کے عوض میں ہے؛ لہٰذا درمیان سال میں اگر طالب علم چلا جاتا ہے، تو حساب لگا کر باقی ماندہ رقم سرپرستوں کو واپس کرنا ضروری ہے؛ کیوں کہ اب اس رقم کا کوئی مصرف نہیں رہا اور داخلہ کے وقت مدرسہ کے ذمہ داران اور طلبہ کے سرپرستوں کے درمیان یہ جو طے ہوا تھا کہ بیچ سال میں طالب علم کے چلے جانے کی صورت میں وہ رقم کی واپسی کے مطالبہ کے مجاز نہ ہوں گے، اس کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں ہے؛ البتہ خوراکی کی رقم اگر داخلہ فیس میں منضم کرکے اصل داخلہ فیس میں اضافہ کردیا جائے تو اب ذمہ داران مدرسہ طالب علم کے درمیانی سال میں واپس چلے جانے کی صورت میں بقیہ رقم کی واپسی کے مکلف نہ ہوں گے۔ اور نہ ہی سرپرست حضرات کو مطالبہ کا اختیار ہوگا؛ اس لئے کہ وہ پوری رقم داخلہ فیس ہی کے لئے متعین ہے اور منجانب مدرسہ اس کا داخلہ ہوچکا ہے۔

عن أبي حمید الساعدي أن رسول ﷲ ﷺ قال: لا یحل لمسلم أن یأخذ مال أخیہ بغیر حق۔ (مجمع الزوائد، باب الغصب وحرمۃ مال المسلم، دارالکتب العلمیۃ بیروت ۴/ ۱۴۱، رقم: ۶۸۵۹، مسند أحمد بن حنبل ۵/ ۴۲۵، رقم: ۲۳۰۰۳)

عن عبدﷲ بن عمرو بن عوف المزني عن أبیہ، عن جدہ، أن رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم قال: الصلح جائز بین المسلمین إلا صلحا حرم حلالا، أو أحل حراما، والمسلمون علی شروطہم، إلا شرطا حرم حلالا، أو أحل حراما۔ (سنن الترمذي، الأحکام، باب ما ذکر عن رسول اﷲ ﷺ في الصلح بین الناس، النسخۃ الہندیۃ ۱/ ۲۵۱، دارالسلام، رقم: ۱۳۵۲)

لو باع کاغذۃ بألف یجوز، ولا یکرہ۔ (فتح القدیر، کتاب الکفالۃ، زکریا دیوبند ۷/ ۱۹۸، دارالفکر ۷/ ۲۱۲، کوئٹہ ۶/ ۳۲۴، دارالحکام ۲/ ۳۰۴، الدر مع الرد، مطلب بیع العینۃ، کراچی ۵/ ۳۲۶، زکریا ۷/ ۶۱۳)

(۲) جب مدرسہ میں قانون وضابطہ یہ بن جائے کہ کمزور اور معذور مدرسین وملازمین کے لئے پنشن جاری کیا جائے گا، تو ایسی صورت میں اس ضابطہ کے مطابق مذکورہ مدرس کو منجانب مدرسہ پنشن دینا جائز اور درست ہے۔ اور بہتر یہ ہے کہ اخبارات اور کثیر الاشاعت رسائل میں اس ضابطہ کا اعلان کردیا جائے، تاکہ لوگوں کو اس کا علم ہوجائے۔

وأما شرائط الصحۃ، فمنہا: رضا المتعاقدین۔ (ہندیۃ، کتاب الإجارۃ، الباب الأول، زکریا جدید ۴/ ۴۴۰، قدیم ۴/ ۴۱۱)

عن عبدﷲ بن عمرو بن عوف المزني عن أبیہ، عن جدہ، أن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم قال: والمسلمون علی شروطہم، إلا شرطا حرم حلالا، أو أحل حراما۔ (المعجم الکبیر للطبراني، دار إحیاء التراث العربي ۱۷/ ۲۲، رقم: ۳۰، سنن الدارقطني، کتاب البیوع، دارالکتب العلمیۃ بیروت ۳/ ۲۳، رقم: ۲۸۶۹)
👍6
والوکیل إنما یستفید التصرف من الموکل، وقد أمرہ بالدفع إلی فلان فلا یملک الدفع إلی غیرہ۔ (شامي، کتاب الزکاۃ، زکریا ۳/ ۱۸۹، کراچی ۲/ ۲۶۹) فتاویٰ قاسمیہ ۴۳/۱۹)

واللہ اعلم بالصواب
1