جواب نمبر:6⃣8⃣
Indiaسوال # 68042
مفتیان کرام کی خدمت میں یہ مسئلہ پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں، دنیا میں مختلف عقائد و نظریات کے علماء کرام موجود ہیں لیکن مفتی زرولی خان کراچی پاکستان مسلک دیوبند کے دنیا میں سب سے بڑے علماء میں سے ایک ہونے کا دعوا کرتے ہیں، پچھلے تقریباً دو سال سے انکی بذریعہ انٹرنیٹ بہت تشہیر کی جا رہی ہے ، انکی ویب سائٹ ahsanululoom.com اور کچھ بیانات سے تخریج کر چند باتیں اور مسائل اس تحریر میں یکجا کئے ہیں. زکوٰت کے مسائل میں لکھتے ہیں؛
(۱) سارا سال صاحب نصاب رہنا ضروری ہے ۔ ایک دفعہ بھی اگر نصاب سے مال کم ہوا تو نصاب ٹوٹ جائے گا۔ اور جب دوبارہ صاحب نصاب ہوگا سال اس دن سے شروع ہوگا۔
(۲) ایک شخص کے پاس ۴ تولہ سونا اور ۵ تولہ چاندی ہے ۔ اس کے علاوہ نقدی نہیں ہے ۔ دونوں نصاب کو نہیں پہنچ رہے ۔ اور علماء نے دونوں کو ملا کر چاندی کے نصاب پر فقراء کی سہولت کے لئے حیلہ لکھا ہے ۔ مگر کیا وہ شخص چاہے تو اس حیلہ کو نہ کرے او کہے میرے پاس دونوں نصاب کو نہیں پہنچتے ۔۔ کیا اس کا عمل درست ہے ؟جواب؛ جی یہ بات درست ہے ۔ اس شخص پر زکوة نہیں ہے ۔
اور تراویح کے بارے میں نمبر
(۳) 8 رکعات تراویح اور 12 رکعات تہجد ہے اور اسکے بعد 3 رکعات وتر ہے ۔ وتر کے بعد کوئی نماز نہیں, وتر کے بعد تہجد پڑھنے والا گنہگار ہے . ایک حدیث پر بہت زور دیتے ہیں کہ وتر کے بعد کوئی نماز نہیں, اور کہتے ہیں کہ قولی حدیث نص قطعی ہے اس کے مقابلے میں فعلی حدیث کی کوئی وقعت نہیں۔
(۴) شش عید کے روزے رکھنا بدعت ہے ۔
(۵) بائیں ہاتھ سے تسبیح پڑھنا نا جائز ہے ۔
(۶) علماء کرام کا تبلیغی جماعت میں جانا حدیث کی توہین ہے ۔
(۷) پیر زلفقار احمد نقبندی کی تحقیر، نمبر 8: نہایت متکبرانا انداز میں بعض علماء کی آواز بنا بنا کر انکی نقل اتارنا، نمبر 9: تمام علماء کرام جو تبلیغی جماعت سے منسلک ہیں انکی تحقیر کرنا انکو گھٹیا درجے کا بد ترین عالم کہنا، نمبر 10: مولانا طارق جمیل صاحب کو کافر کہنا۔
گذارش یہ ہے کے اہل سنت و الجماعت علماء احناف دیوبند مذکورہ بالا باتوں اور مسائل میں سے کتنی باتوں کے قائل ہیں یا یہ صرف علماء دیوبند پر بہتان ہے ۔
Published on: Sep 8, 2016 جواب # 68042
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 1304-1304/N=12/1437
(۱): سارا سال نصاب کا مکمل رہنا ضروری نہیں ، صرف سال کے آغاز میں اور سال کے اختتام پر نصاب کا مکمل رہنا کافی ہے، البتہ نصاب کا کچھ نہ کچھ جزو وحصہ باقی رہنا ضروری ہے، اگر نصاب کا کچھ بھی حصہ باقی نہیں رہا تو سال کا حساب ختم ہوجائے گا اور آئندہ نصاب مکمل ہونے کے بعد ہی دوبارہ سال کا حساب شروع ہوگا، ، اور مولانا زرولی خاں صاحب کی جو رائے ہے، یہ امام زفر کا قول ہے، جس پر فتوی نہیں ۔وشرط کمال النصاب … في طرفي الحول فی الابتداء للانعقاد وفی الانتھاء للوجوب فلا یضر نقصانہ بینھما، فلو ھلک کلہ بطل الحول (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الزکاة، باب زکاة المال، ۳: ۲۳۳، ۲۳۴، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، قولہ:”فلو ھلک کلہ“: أي: في أثناء الحول بطل الحول، حتی لو استفاد فیہ غیرہ استأنف لہ حولاً جدیداً (رد المحتار)،ونقصان النصاب فی الحول لا یضر إن کمل في طرفیہ، أي: إذا کان النصاب کاملاً فی ابتداء الحول وانتھائہ فنقصانہ فیما بین ذلک لا یسقط الزکاة،…… إلا أنہ لا بد من بقاء شیٴ من النصاب الذي انعقد علیہ الحول لیضم المستفاد إلیہ؛ لأن ھلاک الکل یبطل انعقاد الحول؛ إذ لا یمکن اعتبارہ بدون المال (تبیین الحقائق۱: ۲۸۰، ط: المکتبة الإمدادیة، ملتان، باکستان)، قولہ:”إلاإلا أنہ لا بد من بقاء شیٴ من النصاب الخ “:حتی لو بقي درھم أو فلس منہ ثم استفاد قبل فراغ الحول حتی تم علی نصاب زکاہ اھ، فتح (حاشیة الشلبي علی التبیین)۔
(۲): اگر کسی کے پاس سونا، چاندی دونوں ہوں اور دونوں نصاب سے کم ہوں تو ایسی صورت میں اگر سونے کو چاندی سے یا چاندی کو سونے سے ملانے میں قیمت کے اعتبار سے کوئی ایک نصاب مکمل ہوجاتا ہے تو زکوة واجب ہوگی، ورنہ نہیں۔ ویضم الذھب إلی الفضة وعکسہ بجامع الثمنیة قیمة (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الزکاة، باب زکاة المال، ۳: ۲۳۴، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، قولہ:”قولہ:”ویضم الخ“:أي: عند الاجتماع …وفی البدائع: ما ذکر من وجوب الضم إذا لم یکن کل واحد منھما نصاباً بأن کان أقل الخ (رد المحتار)۔
(۳):بیس رکعات تراویح کے موضوع پر متعدد کتابچے اور رسائل لکھے جاچکے ہیں اور ان میں سب دلائل اور تفصیلات جمع کردی گئی ہیں، خلاصہ یہ ہے کہ بیس رکعات تراویح کا مسئلہ دور صحابہ سے اجماعی ہے ، ائمہ اربعہ میں سے کوئی بیس رکعت سے کم تراویح کا قائل نہیں، تفصیل کے لیے فتاوی رحیمیہ اور رکعات تراویح موٴلفہ: محدث کبیر حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب اعظمی ، وغیرہ کا مطالعہ کیا جائے ، وھي عشرون رکعة بإجماع الصحابة رضي عنھم بعشر تسلیمات الخ (مراقی الفلاح مع حاشیة الطحطاوي، ص ۴۱۴، ط: دار الکتب العلمیة بیر
Indiaسوال # 68042
مفتیان کرام کی خدمت میں یہ مسئلہ پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں، دنیا میں مختلف عقائد و نظریات کے علماء کرام موجود ہیں لیکن مفتی زرولی خان کراچی پاکستان مسلک دیوبند کے دنیا میں سب سے بڑے علماء میں سے ایک ہونے کا دعوا کرتے ہیں، پچھلے تقریباً دو سال سے انکی بذریعہ انٹرنیٹ بہت تشہیر کی جا رہی ہے ، انکی ویب سائٹ ahsanululoom.com اور کچھ بیانات سے تخریج کر چند باتیں اور مسائل اس تحریر میں یکجا کئے ہیں. زکوٰت کے مسائل میں لکھتے ہیں؛
(۱) سارا سال صاحب نصاب رہنا ضروری ہے ۔ ایک دفعہ بھی اگر نصاب سے مال کم ہوا تو نصاب ٹوٹ جائے گا۔ اور جب دوبارہ صاحب نصاب ہوگا سال اس دن سے شروع ہوگا۔
(۲) ایک شخص کے پاس ۴ تولہ سونا اور ۵ تولہ چاندی ہے ۔ اس کے علاوہ نقدی نہیں ہے ۔ دونوں نصاب کو نہیں پہنچ رہے ۔ اور علماء نے دونوں کو ملا کر چاندی کے نصاب پر فقراء کی سہولت کے لئے حیلہ لکھا ہے ۔ مگر کیا وہ شخص چاہے تو اس حیلہ کو نہ کرے او کہے میرے پاس دونوں نصاب کو نہیں پہنچتے ۔۔ کیا اس کا عمل درست ہے ؟جواب؛ جی یہ بات درست ہے ۔ اس شخص پر زکوة نہیں ہے ۔
اور تراویح کے بارے میں نمبر
(۳) 8 رکعات تراویح اور 12 رکعات تہجد ہے اور اسکے بعد 3 رکعات وتر ہے ۔ وتر کے بعد کوئی نماز نہیں, وتر کے بعد تہجد پڑھنے والا گنہگار ہے . ایک حدیث پر بہت زور دیتے ہیں کہ وتر کے بعد کوئی نماز نہیں, اور کہتے ہیں کہ قولی حدیث نص قطعی ہے اس کے مقابلے میں فعلی حدیث کی کوئی وقعت نہیں۔
(۴) شش عید کے روزے رکھنا بدعت ہے ۔
(۵) بائیں ہاتھ سے تسبیح پڑھنا نا جائز ہے ۔
(۶) علماء کرام کا تبلیغی جماعت میں جانا حدیث کی توہین ہے ۔
(۷) پیر زلفقار احمد نقبندی کی تحقیر، نمبر 8: نہایت متکبرانا انداز میں بعض علماء کی آواز بنا بنا کر انکی نقل اتارنا، نمبر 9: تمام علماء کرام جو تبلیغی جماعت سے منسلک ہیں انکی تحقیر کرنا انکو گھٹیا درجے کا بد ترین عالم کہنا، نمبر 10: مولانا طارق جمیل صاحب کو کافر کہنا۔
گذارش یہ ہے کے اہل سنت و الجماعت علماء احناف دیوبند مذکورہ بالا باتوں اور مسائل میں سے کتنی باتوں کے قائل ہیں یا یہ صرف علماء دیوبند پر بہتان ہے ۔
Published on: Sep 8, 2016 جواب # 68042
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 1304-1304/N=12/1437
(۱): سارا سال نصاب کا مکمل رہنا ضروری نہیں ، صرف سال کے آغاز میں اور سال کے اختتام پر نصاب کا مکمل رہنا کافی ہے، البتہ نصاب کا کچھ نہ کچھ جزو وحصہ باقی رہنا ضروری ہے، اگر نصاب کا کچھ بھی حصہ باقی نہیں رہا تو سال کا حساب ختم ہوجائے گا اور آئندہ نصاب مکمل ہونے کے بعد ہی دوبارہ سال کا حساب شروع ہوگا، ، اور مولانا زرولی خاں صاحب کی جو رائے ہے، یہ امام زفر کا قول ہے، جس پر فتوی نہیں ۔وشرط کمال النصاب … في طرفي الحول فی الابتداء للانعقاد وفی الانتھاء للوجوب فلا یضر نقصانہ بینھما، فلو ھلک کلہ بطل الحول (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الزکاة، باب زکاة المال، ۳: ۲۳۳، ۲۳۴، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، قولہ:”فلو ھلک کلہ“: أي: في أثناء الحول بطل الحول، حتی لو استفاد فیہ غیرہ استأنف لہ حولاً جدیداً (رد المحتار)،ونقصان النصاب فی الحول لا یضر إن کمل في طرفیہ، أي: إذا کان النصاب کاملاً فی ابتداء الحول وانتھائہ فنقصانہ فیما بین ذلک لا یسقط الزکاة،…… إلا أنہ لا بد من بقاء شیٴ من النصاب الذي انعقد علیہ الحول لیضم المستفاد إلیہ؛ لأن ھلاک الکل یبطل انعقاد الحول؛ إذ لا یمکن اعتبارہ بدون المال (تبیین الحقائق۱: ۲۸۰، ط: المکتبة الإمدادیة، ملتان، باکستان)، قولہ:”إلاإلا أنہ لا بد من بقاء شیٴ من النصاب الخ “:حتی لو بقي درھم أو فلس منہ ثم استفاد قبل فراغ الحول حتی تم علی نصاب زکاہ اھ، فتح (حاشیة الشلبي علی التبیین)۔
(۲): اگر کسی کے پاس سونا، چاندی دونوں ہوں اور دونوں نصاب سے کم ہوں تو ایسی صورت میں اگر سونے کو چاندی سے یا چاندی کو سونے سے ملانے میں قیمت کے اعتبار سے کوئی ایک نصاب مکمل ہوجاتا ہے تو زکوة واجب ہوگی، ورنہ نہیں۔ ویضم الذھب إلی الفضة وعکسہ بجامع الثمنیة قیمة (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الزکاة، باب زکاة المال، ۳: ۲۳۴، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، قولہ:”قولہ:”ویضم الخ“:أي: عند الاجتماع …وفی البدائع: ما ذکر من وجوب الضم إذا لم یکن کل واحد منھما نصاباً بأن کان أقل الخ (رد المحتار)۔
(۳):بیس رکعات تراویح کے موضوع پر متعدد کتابچے اور رسائل لکھے جاچکے ہیں اور ان میں سب دلائل اور تفصیلات جمع کردی گئی ہیں، خلاصہ یہ ہے کہ بیس رکعات تراویح کا مسئلہ دور صحابہ سے اجماعی ہے ، ائمہ اربعہ میں سے کوئی بیس رکعت سے کم تراویح کا قائل نہیں، تفصیل کے لیے فتاوی رحیمیہ اور رکعات تراویح موٴلفہ: محدث کبیر حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب اعظمی ، وغیرہ کا مطالعہ کیا جائے ، وھي عشرون رکعة بإجماع الصحابة رضي عنھم بعشر تسلیمات الخ (مراقی الفلاح مع حاشیة الطحطاوي، ص ۴۱۴، ط: دار الکتب العلمیة بیر
وت)۔ اور تہجد کی نماز تراویح میں شامل نہیں ہے ، وہ تراویح سے الگ ہے جیسا کہ حضرت عمر کے ارشاد گرامی: والتي ینامون عنھا أفضل من التي یقومون بھا(صحیح بخاری شریف)سے معلوم ہوتا ہے۔اور نماز وتر کے بعد جو دو رکعت نفل ہیں، ان کے متعلق علما کا اختلاف ہے، صاحب احسن الفتاوی کی رائے یہ ہے کہ وتر کے بعد دو رکعت نفل بہتر نہیں اور اگر کوئی پڑھے تو ممنوع بھی نہیں ؛ بلکہ مباح ہے؛ کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے چند مرتبہ ان کا پڑھنا ثابت ہے(احسن الفتاوی ۳: ۵۰۳،۵۰۶، مطبوعہ: ایچ، ایم سعید کمپنی، کراچی) ۔ اور فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:وتر کے بعد نوافل کا پڑھنا جائز ہے ، چناں چہ بعض صحابہ جو عشا کے بعد وتر پڑھ لیتے تھے وہ آخر رات میں تہجد پڑھتے تھے تو معلوم ہوا کہ وتر کے بعد نوافل ممنوع نہیں ہیں، نیز آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد وتر کے دو رکعت نفل پڑھی ہیں(۴: ۲۲۰، سوال: ۱۷۱۸، مسائل سنن غیر موٴکدہ، مطبوعہ: مکتبہ دار العلوم دیوبند) جیسا کہ مسلم شریف(۱: ۲۵۴، مطبوعہ: مکتبہ اشرفیہ دیوبند) اور نسائی شریف (۱: ۲۵۳، مطبوعہ؛ مکتبہ اشرفیہ دیوبند)کی روایت میں صراحت ہے، امام نووی نے اسے چند مرتبہ پر محمول کیا ہے اور دوام ومواظبت کی نفی فرمائی ہے(نووی علی شرح مسلم۱: ۲۵۴، مطبوعہ: مکتبہ اشرفیہ دیوبند)۔ اور علامہ ابن القیم نے زاد المعاد میں وتر کے بعد کی دو نفلوں کو وتر کا تتمہ اور تکملہ قرار دیا ہے ؛ کیوں کہ وتر مستقل نماز ہے، گویا یہ وتر کے بعد کی سنتیں ہیں جیسے مغرب کے بعد دو سنتیں ہیں، والصواب أن یقال إن ھاتین الرکعتین تجري مجری السنة وتکمیل الوتر فإن الوتر عبادة مستقلة ولا سیما إن قیل بوجوبہ فتجری الرکعتان بعدہ مجری سنة المغرب من المغرب فإنھا وتر النھار والرکعتان بعدھا تکمیل لھا فکذلک الرکعتان بعد وتر اللیل(زاد المعاد۱: ۸۶ بحوالہ: فتاوی محمودیہ ۷: ۲۲۶، مطبوعہ: ادارہٴ صدیق ڈابھیل)،اور ہمارے اکابر علائے دیوبند نے اس پر بحث فرمائی ہے کہ وتر کے بعد کی دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھی جائیں یا کھڑے ہوکر ؛ کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا بیٹھ کر پڑھنا ثابت ہے، تو اکثر اکابر کی رائے یہ ہے کہ ان کا کھڑے ہوکر پڑھنا افضل ہے، والمحققون من أکابرنا علی أن إتیانھما قیاماً أفضل (اعلاء السنن ۶: ۸۲، بحوالہ: فتاوی محمودیہ ۷: ۲۲۶۔نیز فتاوی رشیدیہ ص۳۶۵، مطبوعہ: گلستاں کتاب گھر دیوبند ، امداد الفتاوی ۱: ۴۵۹- ۴۶۱، سوال: ۳۹۱- ۳۹۳، مطبوعہ: مکتبہ اشرفیہ دیوبند، فتاوی دار العلوم دیوبند ۴: ۲۱۸،۲۳۱، سوال: ۱۷۱۵،۱۷۴۱، فتاوی محمودیہ ۷:۲۲۱ -۲۳۲، سوال: ۳۳۳۲- ۳۳۴۰، مطبوعہ: ادارہ صدیق ڈابھیل، کفایت المفتی جدید ۳: ۳۱۸، جواب: ۵۱۷، ۵۱۸، مطبوعہ: دار الاشاعت کراچی اور آپ کے مسائل اور ان کا حل قدیم ۲: ۳۳۵، ۳۳۶ وغیرہ بھی دیکھیں) ، اس سے بھی دلالتاً یہ معلوم ہوتا ہے کہ وتر کے بعد دو نفلیں ہمارے اکابر علمائے دیوبند کے نزدیک ممنوع نہیں؛ بلکہ ثابت ہیں ، البتہ دوام ومواظبت کا ثبوت نہیں ہے؛ اس لیے یہ سنت موٴکدہ کے درجے میں نہ ہوں گی، اگر کوئی پڑھ لے تو اچھی بات ہے اور اگر نہ پڑھے تو کچھ گناہ نہیں۔
(۴): شش عید کے روزوں کو بدعت کہنا جہالت اورلاعلمی کی دلیل ہے، یہ روزے احناف کے نزدیک صحیح ومفتی بہ قول کے مطابق مستحب وسنت ہیں، البتہ اگر کوئی شخص یہ روزے عید الفطر کا دن ملاکر رکھتا ہے، یعنی: عید الفطر اور اس کے بعد پانچ دن روزے رکھتا ہے تو یہ مکروہ ہے ؛ کیوں کہ عید الفطر کے دن روزہ رکھنا حرام ہے، اس سلسلہ میں چند دلائل اور حوالجات حسب ذیل ہیں:
الف:صحیح مسلم میں حضرت ابو ایوب انصاری سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے، پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ پوری زندگی روزہ رکھنے کے برابر ہے ، عن أبي أیوب الأنصاري أنہ حدثہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: من صام رمضان ثم أتبعہ ستاً من شوال کان کصیام الدھر، رواہ مسلم (مشکاة المصابیح، کتاب الصوم ، باب صیام التطوع، ص ۱۷۹، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)،البتہ حضرت ثوبان اور حضرت جابربن عبد اللہ کی روایت میں ہے کہ یہ ایک سال روزے کے برابر ہے(رسالہ: تحریر الأقوال فی صوم الست من شوال من مجموعة رسائل العلامة قاسم بن قطلوبغا، ص ۳۹۱ - ۳۹۳، مطبوعہ:دار النوادر، سوریة، لبنان، الکویت)۔
ب:صاحب بدائع علامہ کاسانی نے فرمایا: اتباع مکروہ یہ ہے کہ آدمی عید الفطر کے دن روزہ رکھے اور اس کے بعد پانچ دن روزے رکھے، اور اگر کسی نے عید الفطر کے دن افطار کیا ، پھر اس کے بعد چھ دن روزے رکھا تو یہ مکروہ نہیں؛ بلکہ مستحب وسنت ہے۔
والإتباع المکروہ ھو أن یصوم یوم الفطر ویصوم بعدہ خمسة أیام، فأما إذا أفطر یوم العید ثم صام بعدہ ستة أیام فلیس بمکروہ؛ بل ھو مستحب وسنة (بدائع الصنائع ، کتاب الصوم ۲: ۵۶۲، ط: دار الکتب العلمیة بیروت)۔
ج: صاحب ہدایہ علامہ مرغینانینے فرمایا: مرغوب وپسندیدہ روزوں میں شوال کے مسلسل چھ رو
(۴): شش عید کے روزوں کو بدعت کہنا جہالت اورلاعلمی کی دلیل ہے، یہ روزے احناف کے نزدیک صحیح ومفتی بہ قول کے مطابق مستحب وسنت ہیں، البتہ اگر کوئی شخص یہ روزے عید الفطر کا دن ملاکر رکھتا ہے، یعنی: عید الفطر اور اس کے بعد پانچ دن روزے رکھتا ہے تو یہ مکروہ ہے ؛ کیوں کہ عید الفطر کے دن روزہ رکھنا حرام ہے، اس سلسلہ میں چند دلائل اور حوالجات حسب ذیل ہیں:
الف:صحیح مسلم میں حضرت ابو ایوب انصاری سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے، پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ پوری زندگی روزہ رکھنے کے برابر ہے ، عن أبي أیوب الأنصاري أنہ حدثہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: من صام رمضان ثم أتبعہ ستاً من شوال کان کصیام الدھر، رواہ مسلم (مشکاة المصابیح، کتاب الصوم ، باب صیام التطوع، ص ۱۷۹، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)،البتہ حضرت ثوبان اور حضرت جابربن عبد اللہ کی روایت میں ہے کہ یہ ایک سال روزے کے برابر ہے(رسالہ: تحریر الأقوال فی صوم الست من شوال من مجموعة رسائل العلامة قاسم بن قطلوبغا، ص ۳۹۱ - ۳۹۳، مطبوعہ:دار النوادر، سوریة، لبنان، الکویت)۔
ب:صاحب بدائع علامہ کاسانی نے فرمایا: اتباع مکروہ یہ ہے کہ آدمی عید الفطر کے دن روزہ رکھے اور اس کے بعد پانچ دن روزے رکھے، اور اگر کسی نے عید الفطر کے دن افطار کیا ، پھر اس کے بعد چھ دن روزے رکھا تو یہ مکروہ نہیں؛ بلکہ مستحب وسنت ہے۔
والإتباع المکروہ ھو أن یصوم یوم الفطر ویصوم بعدہ خمسة أیام، فأما إذا أفطر یوم العید ثم صام بعدہ ستة أیام فلیس بمکروہ؛ بل ھو مستحب وسنة (بدائع الصنائع ، کتاب الصوم ۲: ۵۶۲، ط: دار الکتب العلمیة بیروت)۔
ج: صاحب ہدایہ علامہ مرغینانینے فرمایا: مرغوب وپسندیدہ روزوں میں شوال کے مسلسل چھ رو
زے بھی ہیں(رسالہ: تحریر الأقوال فی صوم الست من شوال من مجموعة رسائل العلامة قاسم بن قطلوبغا، ص ۳۸۶ )۔
د:فتاوی عالمگیری میں البحر الرائق کے حوالے سے ہے کہ شوال کے چھ روزوں میں کچھ حرج نہیں، اور محیط سرخسی کے حوالے سے ہے: صحیح تر قول یہ ہے کہ شوال کے چھ روزوں میں کچھ حرج نہیں، یعنی: یہ روزے مستحب ہیں؛ کیوں کہ حرج کی نفی قول کراہت کے مقابلہ میں ہے اور ایسی صورت میں حرج نہ ہونے کا مطلب استحباب ہوتا ہے۔
عامة المتأخرین لم یروا بہ - بصوم الستة من شوال- بأساً ھکذا فی البحر الرائق، والأصح أنہ لا بأس بہ کذا فی محیط السرخسي (الفتاوی الھندیة، کتاب الصوم ، الباب الثالث فیما یکرہ للصائم وما لا یکرہ،۱: ۲۰۱، ط: مکتبة زکریا دیوبند)،وکلمة ” لا بأس“ ھنا مستعملة فی المندوب ؛لأنہا لیست مطردة لما ترکہ أولی، بل تستعمل فی المندوب أیضاً إذا کان المحل مما یتوھم فیہ البأس أي: الشدة، خاصة إذا تأید ذلک الأمر بالحدیث النبوي - علی صاحبہ الصلاة والسلام - کذا حققہ الحصکفي وابن عابدین الشامي فی الدر المختار وحاشیتہ رد المحتار (کتاب الطھارة۱: ۲۴۱، کتاب الصلاة، باب العیدین ۳:
۶۵،باب الجنائز في شرح قول الدر: ” ولا بأس برش الماء علیہ “ ۳:۱۴۳ و۶: ۲۵۷ ط مکتبة زکریا دیوبند)، ومثلہا کلمة ” لا جناح “ بل قد استعملت ھذہ في سورة البقرة (رقم الآیہ: ۱۵۸)بمعنی الوجوب کما في رد المحتار لابن عابدین الشامي (۶: ۲۵۷)،وکلمة ” لا حرج“ أیضاً؛لأنہا بمعناھا۔
ھ:علامہ حصکفی نے در مختار میں ابن کمال کے حوالے سے وہی مضمون نقل فرمایا ہے ، جو اوپر بدائع کے حوالے سے ذکر کیا گیا،یعنی: عید الفطر کا دن چھوڑ کر ماہ شوال میں چھ روزے رکھنا مستحب وسنت ہے، اور علامہ شامی نے اپنے حاشیہ میں اسے برقرار رکھا؛ بلکہ متعدد کتابوں کے حوالے سے اسے موٴکد فرمایا اور کراہت کے قول کی تردید فرمائی اور آخر میں علامہ قاسم بن قطلوبغا کے رسالہ(:تحریر الأقوال فی صوم الست من شوال) کا حوالہ دیا جس میں علامہ قاسم بن قطلوبغا نے کراہت کے قول کی تردید فرماکر کتب مذہب سے استحباب وسنیت کا قول موٴکد فرمایا ہے، ذیل میں صرف در مختار کی عبارت پیش کی جاتی ہے:
والإتباع المکروہ ھو أن یصوم الفطر و خمسة بعدہ، فلو أفطر لم یکرہ؛ بل یستحب ویسن، ابن کمال (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما یکرہ فیھا، ۳: ۴۲۲، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔
و: اسی طرح علامہ محمد یوسف بنوری نے بھی سنن ترمذی کی مشہور شرح: معارف السنن (کتاب الصوم، باب ما جاء في صیام ستة من شوال) میں علامہ قاسم بن قطلوبغا کے رسالہ کی روشنی میں اسی قول کو موٴکد فرمایا ہے کہ شوال کے چھ روزے مستحب ہیں اور کراہت کے قول کی تردید فرمائی ہے۔
ز: علامہ ظفر احمد عثمانی نے اعلاء السنن (۹: ۱۷۷، مطبوعہ: إدارة القرآن والعلوم الإسلامیة کراچی)میں حضرت ابی ایوب انصاری کی روایت پر استحباب کا باب قائم فرمایا ہے،یعنی: باب استحباب صیام ستة من شوال الخ معلوم ہوا کہ شوال کے چھ روزے مستحب ہیں۔
ح: بہشتی زیورکامل(۳: ۱۴۲) میں ہے:
عید کے چھ دن نفل روزہ رکھنے کا بھی اور نفلوں سے زیادہ ثواب ہے۔
درج بالا چند دلائل اور حوالجات سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوگئی کہ شوال کے چھ روزے احناف کے نزدیک بلا شبہ مستحب وسنت ہیں اور ان کی کراہت یا بدعت کا قول صحیح نہیں۔
(۵):اگر آدمی تسبیح ہاتھ میں لے کر اس کے ذریعے کلمہ طیبہ ، درود شریف وغیرہ کی گنتی کرتا ہے تو بہتر یہ ہے کہ تسبیح دائیں ہاتھ میں لے کر گنتی کرے ، بلاعذر ومجبوری اس میں بایاں ہاتھ کا استعمال خلاف سنت اور خلاف افضل ہے؛ کیوں کہ تسبیحات کا عدد شمار کرنا بھی ایک اچھا کام ہے، اور ہر اچھے کام کے لیے دایاں ہاتھ کا استعمال سنت وافضل ہے۔ اور اگر کوئی شخص انگلیوں پر تسبیحات شمار کرتا ہے تو انگلیوں کے ذریعے تعداد شمار کرنے کا جو مسنون طریقہ ہے، اسے سیکھ کر اس کے ذریعے تعداد شمار کرے، اور اگر کسی شخص کو انگلیوں کے ذریعے تعداد شمار کرنے کا مسنون طریقہ نہیں آتا اور ہندوپاک وغیرہ میں عوام میں تسبیحات کا عدد شمار کرنے کا جو طریقہ رائج ہے، یعنی: دونوں ہاتھ کے پوروں پر تیس تک تعداد شمار کرنا، وہ اس کے ذریعے تسبیحات شمار کرتا ہے تو چوں کہ ایسے شخص کے لیے پندرہ کے بعد مجبوری ہوتی ہے ورنہ عدد میں اشتباہ ہوسکتا ہے؛ اس لیے اگرایسا شخص مجبوری کی وجہ سے اس طریقہ پر تسبیحات کی تعداد شمار کرتا ہے اور پندرہ کے بعد بائیں ہاتھ کے پوروں پر شمار کرتا ہے تو اس کی اجازت ہے، اسے ناجائز کہنا غلط ہے، جس طرح مسنون عقد انامل میں سو کے بعد سیکڑے کے لیے بایاں ہاتھ استعمال کیا جاتا ہے ؛ کیوں کہ دایاں ہاتھ صرف دہاےؤں تک کافی ہوتا ہے، سیکڑے کا حساب بایاں ہاتھ میں ہوتا ہے، اسی طرح اس میں بھی پندرہ کے بعد اشتباہ وغیرہ سے بچنے کے لیے بایاں ہاتھ کا استعمال غلط نہ ہوگا، اور چوں کہ عقد انامل کا مسنون طریقہ عوام کے لیے آسان نہیں، اسے مستقل سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے، نیز اس میں
د:فتاوی عالمگیری میں البحر الرائق کے حوالے سے ہے کہ شوال کے چھ روزوں میں کچھ حرج نہیں، اور محیط سرخسی کے حوالے سے ہے: صحیح تر قول یہ ہے کہ شوال کے چھ روزوں میں کچھ حرج نہیں، یعنی: یہ روزے مستحب ہیں؛ کیوں کہ حرج کی نفی قول کراہت کے مقابلہ میں ہے اور ایسی صورت میں حرج نہ ہونے کا مطلب استحباب ہوتا ہے۔
عامة المتأخرین لم یروا بہ - بصوم الستة من شوال- بأساً ھکذا فی البحر الرائق، والأصح أنہ لا بأس بہ کذا فی محیط السرخسي (الفتاوی الھندیة، کتاب الصوم ، الباب الثالث فیما یکرہ للصائم وما لا یکرہ،۱: ۲۰۱، ط: مکتبة زکریا دیوبند)،وکلمة ” لا بأس“ ھنا مستعملة فی المندوب ؛لأنہا لیست مطردة لما ترکہ أولی، بل تستعمل فی المندوب أیضاً إذا کان المحل مما یتوھم فیہ البأس أي: الشدة، خاصة إذا تأید ذلک الأمر بالحدیث النبوي - علی صاحبہ الصلاة والسلام - کذا حققہ الحصکفي وابن عابدین الشامي فی الدر المختار وحاشیتہ رد المحتار (کتاب الطھارة۱: ۲۴۱، کتاب الصلاة، باب العیدین ۳:
۶۵،باب الجنائز في شرح قول الدر: ” ولا بأس برش الماء علیہ “ ۳:۱۴۳ و۶: ۲۵۷ ط مکتبة زکریا دیوبند)، ومثلہا کلمة ” لا جناح “ بل قد استعملت ھذہ في سورة البقرة (رقم الآیہ: ۱۵۸)بمعنی الوجوب کما في رد المحتار لابن عابدین الشامي (۶: ۲۵۷)،وکلمة ” لا حرج“ أیضاً؛لأنہا بمعناھا۔
ھ:علامہ حصکفی نے در مختار میں ابن کمال کے حوالے سے وہی مضمون نقل فرمایا ہے ، جو اوپر بدائع کے حوالے سے ذکر کیا گیا،یعنی: عید الفطر کا دن چھوڑ کر ماہ شوال میں چھ روزے رکھنا مستحب وسنت ہے، اور علامہ شامی نے اپنے حاشیہ میں اسے برقرار رکھا؛ بلکہ متعدد کتابوں کے حوالے سے اسے موٴکد فرمایا اور کراہت کے قول کی تردید فرمائی اور آخر میں علامہ قاسم بن قطلوبغا کے رسالہ(:تحریر الأقوال فی صوم الست من شوال) کا حوالہ دیا جس میں علامہ قاسم بن قطلوبغا نے کراہت کے قول کی تردید فرماکر کتب مذہب سے استحباب وسنیت کا قول موٴکد فرمایا ہے، ذیل میں صرف در مختار کی عبارت پیش کی جاتی ہے:
والإتباع المکروہ ھو أن یصوم الفطر و خمسة بعدہ، فلو أفطر لم یکرہ؛ بل یستحب ویسن، ابن کمال (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما یکرہ فیھا، ۳: ۴۲۲، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔
و: اسی طرح علامہ محمد یوسف بنوری نے بھی سنن ترمذی کی مشہور شرح: معارف السنن (کتاب الصوم، باب ما جاء في صیام ستة من شوال) میں علامہ قاسم بن قطلوبغا کے رسالہ کی روشنی میں اسی قول کو موٴکد فرمایا ہے کہ شوال کے چھ روزے مستحب ہیں اور کراہت کے قول کی تردید فرمائی ہے۔
ز: علامہ ظفر احمد عثمانی نے اعلاء السنن (۹: ۱۷۷، مطبوعہ: إدارة القرآن والعلوم الإسلامیة کراچی)میں حضرت ابی ایوب انصاری کی روایت پر استحباب کا باب قائم فرمایا ہے،یعنی: باب استحباب صیام ستة من شوال الخ معلوم ہوا کہ شوال کے چھ روزے مستحب ہیں۔
ح: بہشتی زیورکامل(۳: ۱۴۲) میں ہے:
عید کے چھ دن نفل روزہ رکھنے کا بھی اور نفلوں سے زیادہ ثواب ہے۔
درج بالا چند دلائل اور حوالجات سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوگئی کہ شوال کے چھ روزے احناف کے نزدیک بلا شبہ مستحب وسنت ہیں اور ان کی کراہت یا بدعت کا قول صحیح نہیں۔
(۵):اگر آدمی تسبیح ہاتھ میں لے کر اس کے ذریعے کلمہ طیبہ ، درود شریف وغیرہ کی گنتی کرتا ہے تو بہتر یہ ہے کہ تسبیح دائیں ہاتھ میں لے کر گنتی کرے ، بلاعذر ومجبوری اس میں بایاں ہاتھ کا استعمال خلاف سنت اور خلاف افضل ہے؛ کیوں کہ تسبیحات کا عدد شمار کرنا بھی ایک اچھا کام ہے، اور ہر اچھے کام کے لیے دایاں ہاتھ کا استعمال سنت وافضل ہے۔ اور اگر کوئی شخص انگلیوں پر تسبیحات شمار کرتا ہے تو انگلیوں کے ذریعے تعداد شمار کرنے کا جو مسنون طریقہ ہے، اسے سیکھ کر اس کے ذریعے تعداد شمار کرے، اور اگر کسی شخص کو انگلیوں کے ذریعے تعداد شمار کرنے کا مسنون طریقہ نہیں آتا اور ہندوپاک وغیرہ میں عوام میں تسبیحات کا عدد شمار کرنے کا جو طریقہ رائج ہے، یعنی: دونوں ہاتھ کے پوروں پر تیس تک تعداد شمار کرنا، وہ اس کے ذریعے تسبیحات شمار کرتا ہے تو چوں کہ ایسے شخص کے لیے پندرہ کے بعد مجبوری ہوتی ہے ورنہ عدد میں اشتباہ ہوسکتا ہے؛ اس لیے اگرایسا شخص مجبوری کی وجہ سے اس طریقہ پر تسبیحات کی تعداد شمار کرتا ہے اور پندرہ کے بعد بائیں ہاتھ کے پوروں پر شمار کرتا ہے تو اس کی اجازت ہے، اسے ناجائز کہنا غلط ہے، جس طرح مسنون عقد انامل میں سو کے بعد سیکڑے کے لیے بایاں ہاتھ استعمال کیا جاتا ہے ؛ کیوں کہ دایاں ہاتھ صرف دہاےؤں تک کافی ہوتا ہے، سیکڑے کا حساب بایاں ہاتھ میں ہوتا ہے، اسی طرح اس میں بھی پندرہ کے بعد اشتباہ وغیرہ سے بچنے کے لیے بایاں ہاتھ کا استعمال غلط نہ ہوگا، اور چوں کہ عقد انامل کا مسنون طریقہ عوام کے لیے آسان نہیں، اسے مستقل سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے، نیز اس میں
انگلیوں کا تیزی کے ساتھ چلانامستقل مشق چاہتاہے ؛ اس لیے عقد انامل کا مسنون طریقہ عوام پر لازم نہیں کیا جاسکتا، باقی اگر کوئی شخص عقد انامل کا مسنون طریقہ سیکھ کر اس کے مطابق سیکڑے تک دائیں ہاتھ کی انگلیوں کے ذریعے تسبیحات کا عدد شمار کیا کرے تو اس طریقہ کے مسنون اور افضل ہونے میں کچھ شبہ نہیں۔ عن عبد اللہ بن عمرو رضي اللہ عنہما قال:”رأیت النبي صلی اللہ علیہ وسلم یعقد التسبیح بیمینہ“ أخرجہ أبو داود بلفظہ۲:۸۱ والترمذي ۵:۵۲۱،وانظر صحیح الجامع ۴:۲۸۱ برقم: ۴۸۶۵(حصن المسلم، ص:۹۲)، وصح أنہ صلی اللہ علیہ وسلم کان یعقد التسبیح بیمینہ، وورد أنہ قال: واعقدوہ بالأنامل فإنھن مسوٴولات مستنطقات، وجاء بسند ضعیف علی علي مرفوعاً : نعم المذکر السبحة، قال ابن حجر: والروایات بالتسبیح بالنوی والحصا کثیرة عن الصحابة وبعض أمھات الموٴمنین؛ بل رآھا صلی اللہ علیہ وسلم وأقرھا علیہ، وعقد التسبیح بالأنامل أفضل من السبحة ، وقیل: إن أمن من الغلط فھو أولی وإلا فھي أولی کذا في شرح المشکاة (حاشیة الطحطاوی علی المراقی،فصل فی صفة الأذکار الواردة الخ ص ۳۱۶، ط:دار الکتب العلمیہ بیروت )،وقال أھل العلم: ینبغي أن یکون عدد التسبیح بالیمین (شرح ابن علان للأذکار ۱: ۲۵۱ عن ابن الجوزي)۔
(۶):مولانا زرولی خان کی تحریر یا تقریر کی روشنی میں دیانت داری کے ساتھ موصوف کے دعوی کی وضاحت کی جائے، نیز علمائے کرام کا جماعت میں جانا جس حدیث کے خلاف ہے ، اس کی تعیین بھی کی جائے ، اس کے بعدانشاء اللہ قرآن وحدیث کی روشنی میں مولانا موصوف کے نظریہ کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
(۷):مولانا موصوف، حضرت پیر ذو الفقار احمد صاحب نقشبندی دامت برکاتہم کی کیا تحقیر کرتے ہیں؟ جواب کے لیے اس کی وضاحت ضروری ہے۔
(۸):سیاق وسباق کے ساتھ کسی عالم کی نقالی کی مکمل تفصیل لکھی جائے۔
(۹): یہ نمبر ۶ سے مربوط ہے؛ لہٰذا سوال: ۶ کی وضاحت کے بعد ہی اس کا جواب لکھا جائے گا۔
(۱۰): مولانا موصوف نے مولانا طارق جمیل صاحب کو اپنی کس کتاب یا بیان میں کافر کہا اور کس بنیاد پر کافر کہا؟ دونوں باتوں کی مکمل وضاحت کی جائے، اس کے بعد انشاء اللہ اس کا جواب تحریر کیا جائے گا ۔
مولانا زرولی خان مزاجاً بہت زیادہ متشدد معلوم ہوتے ہیں، موصوف نے متعدد مسائل میں جمہور علما سے اختلاف کیا ہوا ہے، ہندوستان اور پاکستان وغیرہ میں مولانا موصوف کے بیانات اور تحریرات کی وجہ سے بعض مسائل میں عوام میں بہت زیا دہ انتشار پایا جاتا ہے اور بعض ہوا پسند لوگ ان کی بعض آرا کو بہت زیادہ اہمیت وفوقیت دیتے ہیں؛ اس لیے عوام کو مولاناموصوف کے بجائے دیگر معتبر ومستند اور غیر متشدد علمائے کرام کے بیانات اور کتابوں سے ہی استفادہ کرنا چاہئے ، احتیاط اسی میں ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
(۶):مولانا زرولی خان کی تحریر یا تقریر کی روشنی میں دیانت داری کے ساتھ موصوف کے دعوی کی وضاحت کی جائے، نیز علمائے کرام کا جماعت میں جانا جس حدیث کے خلاف ہے ، اس کی تعیین بھی کی جائے ، اس کے بعدانشاء اللہ قرآن وحدیث کی روشنی میں مولانا موصوف کے نظریہ کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
(۷):مولانا موصوف، حضرت پیر ذو الفقار احمد صاحب نقشبندی دامت برکاتہم کی کیا تحقیر کرتے ہیں؟ جواب کے لیے اس کی وضاحت ضروری ہے۔
(۸):سیاق وسباق کے ساتھ کسی عالم کی نقالی کی مکمل تفصیل لکھی جائے۔
(۹): یہ نمبر ۶ سے مربوط ہے؛ لہٰذا سوال: ۶ کی وضاحت کے بعد ہی اس کا جواب لکھا جائے گا۔
(۱۰): مولانا موصوف نے مولانا طارق جمیل صاحب کو اپنی کس کتاب یا بیان میں کافر کہا اور کس بنیاد پر کافر کہا؟ دونوں باتوں کی مکمل وضاحت کی جائے، اس کے بعد انشاء اللہ اس کا جواب تحریر کیا جائے گا ۔
مولانا زرولی خان مزاجاً بہت زیادہ متشدد معلوم ہوتے ہیں، موصوف نے متعدد مسائل میں جمہور علما سے اختلاف کیا ہوا ہے، ہندوستان اور پاکستان وغیرہ میں مولانا موصوف کے بیانات اور تحریرات کی وجہ سے بعض مسائل میں عوام میں بہت زیا دہ انتشار پایا جاتا ہے اور بعض ہوا پسند لوگ ان کی بعض آرا کو بہت زیادہ اہمیت وفوقیت دیتے ہیں؛ اس لیے عوام کو مولاناموصوف کے بجائے دیگر معتبر ومستند اور غیر متشدد علمائے کرام کے بیانات اور کتابوں سے ہی استفادہ کرنا چاہئے ، احتیاط اسی میں ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:7⃣8⃣
سوال # 7784
پاکستان کے دیوبندی مفتی صاحب نے ذکر کیاکہ شوال کے چھ روزے بدعت ہیں ، کیاان کا کہنا درست ہے؟ (۲) کیا آپ مجھے صحیح حدیث کا حوالہ دے دیں گے کہ شوال کے چھ روزے بدعت نہیں ہیں؟
Published on: Sep 25, 2008 جواب # 7784
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی: 1573=1492/ د
(۱) مذکورہ مفتی صاحب نے جو کچھ ذکر کیا ہے ان کے قلم سے لکھواکر بھیجیں۔
(۲) عن أبي أیوب الأنصاري رفعہ من صام رمضان ثم أتبعہ بست من شوال کان کصیام الدہر، مسلم، ترمذی، ابوداوٴد وغیرہ (جمع الفوائد ج۱ ص۱۵۶) قال في المراقي ومنہ أي من المندوب صوم ست من شھر شوال لقولہ صلی اللہ علیہ وسلم من صام رمضان فأتبعہ ستا من شوال کان کصیام الدھر۔ (حاشیة طحطاوي علی المراقي:۶۴۰)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سوال # 7784
پاکستان کے دیوبندی مفتی صاحب نے ذکر کیاکہ شوال کے چھ روزے بدعت ہیں ، کیاان کا کہنا درست ہے؟ (۲) کیا آپ مجھے صحیح حدیث کا حوالہ دے دیں گے کہ شوال کے چھ روزے بدعت نہیں ہیں؟
Published on: Sep 25, 2008 جواب # 7784
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی: 1573=1492/ د
(۱) مذکورہ مفتی صاحب نے جو کچھ ذکر کیا ہے ان کے قلم سے لکھواکر بھیجیں۔
(۲) عن أبي أیوب الأنصاري رفعہ من صام رمضان ثم أتبعہ بست من شوال کان کصیام الدہر، مسلم، ترمذی، ابوداوٴد وغیرہ (جمع الفوائد ج۱ ص۱۵۶) قال في المراقي ومنہ أي من المندوب صوم ست من شھر شوال لقولہ صلی اللہ علیہ وسلم من صام رمضان فأتبعہ ستا من شوال کان کصیام الدھر۔ (حاشیة طحطاوي علی المراقي:۶۴۰)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:8⃣8⃣
[18/06, 2:43 a.m.] Md Amir: Indiaسوال # 66909
جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سنیں کیا تو اس وقت اپنے انگوٹھے سے اپنی آنکھوں کو چھونا درست ہے یا نہیں؟
براہ کرم، اس بارے میں وضاحت فرمائیں۔
Published on: Jul 17, 2016 جواب # 66909
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 874-858/Sd=10/1437
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سننے پر درود شریف پڑھنا چاہیے، اس وقت انگوٹھے سے آنکھوں کا چھونا ثابت نہیں ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
Indiaسوال # 11433
میں دیوبندی ہوں، میرا ایک بریلوی دوست ہے۔ اس نے مجھ سے ایک سوال پوچھا اور کہا کہ میلاد شریف بدعت نہیں ہے۔ اگر یہ بدعت ہوتا تو مدارس، مسجدوں کی محراب، اصول فقہ، اصول حدیث وغیرہ بھی بدعت ہوں گے۔ اس نے مجھ سے یہ بھی کہا کہ صرف کچھ دیوبندی لوگ کہتے ہیں کہ یہ بدعت ہے۔ بہت ساری چیزیں ہیں جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے بعد سے اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے زمانہ سے مسلمانوں کے درمیان بدلتی رہی ہیں۔ وہ مانتاہے کہ غیر اختلافی زمانہ کے بہت سارے علماء کرام جیسے ابن کثیر، ابن تیمیہ اور دوسروں نے لکھا ہے کہ یہ بدعت نہیں ہے۔ آپ برائے کرم مجھے اس کا اصل سبب قرآن، حدیث اور شریعت کے دوسرے ذرائع کی روشنی میں بتادیں؟
Published on: Apr 9, 2009 جواب # 11433
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی: 400=377/ب
آپ کے بریلوی دوست نے بدعت کا مفہوم یہ سمجھا ہے کہ جو چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نہ ہو وہ بدعت ہے۔ درحقیقت بدعت کا صحیح مفہوم انھوں نے نہیں سمجھا۔ بدعت اس عمل کو کہتے ہیں جو قرآن وحدیث سے ثابت نہ ہو، اوراسے دین کا جز اور عبادت اور کارِ ثواب سمجھ کر کرنا۔ اور نہ کرنے والے پر لعنت وملامت کرنا اور اس کو برا سمجھنا۔ مروجہ رسمی میلاد شریف کرنے والے اسے دین کا کام اور دین کا جز اور کار ثواب سمجھ کر کرتے ہیں۔ اس لیے وہ یقینا بدعت ہے۔ اور سب ہی علماء نے اسے بدعت لکھا ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
[18/06, 2:43 a.m.] Md Amir: Indiaسوال # 66909
جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سنیں کیا تو اس وقت اپنے انگوٹھے سے اپنی آنکھوں کو چھونا درست ہے یا نہیں؟
براہ کرم، اس بارے میں وضاحت فرمائیں۔
Published on: Jul 17, 2016 جواب # 66909
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 874-858/Sd=10/1437
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سننے پر درود شریف پڑھنا چاہیے، اس وقت انگوٹھے سے آنکھوں کا چھونا ثابت نہیں ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
Indiaسوال # 11433
میں دیوبندی ہوں، میرا ایک بریلوی دوست ہے۔ اس نے مجھ سے ایک سوال پوچھا اور کہا کہ میلاد شریف بدعت نہیں ہے۔ اگر یہ بدعت ہوتا تو مدارس، مسجدوں کی محراب، اصول فقہ، اصول حدیث وغیرہ بھی بدعت ہوں گے۔ اس نے مجھ سے یہ بھی کہا کہ صرف کچھ دیوبندی لوگ کہتے ہیں کہ یہ بدعت ہے۔ بہت ساری چیزیں ہیں جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے بعد سے اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے زمانہ سے مسلمانوں کے درمیان بدلتی رہی ہیں۔ وہ مانتاہے کہ غیر اختلافی زمانہ کے بہت سارے علماء کرام جیسے ابن کثیر، ابن تیمیہ اور دوسروں نے لکھا ہے کہ یہ بدعت نہیں ہے۔ آپ برائے کرم مجھے اس کا اصل سبب قرآن، حدیث اور شریعت کے دوسرے ذرائع کی روشنی میں بتادیں؟
Published on: Apr 9, 2009 جواب # 11433
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی: 400=377/ب
آپ کے بریلوی دوست نے بدعت کا مفہوم یہ سمجھا ہے کہ جو چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نہ ہو وہ بدعت ہے۔ درحقیقت بدعت کا صحیح مفہوم انھوں نے نہیں سمجھا۔ بدعت اس عمل کو کہتے ہیں جو قرآن وحدیث سے ثابت نہ ہو، اوراسے دین کا جز اور عبادت اور کارِ ثواب سمجھ کر کرنا۔ اور نہ کرنے والے پر لعنت وملامت کرنا اور اس کو برا سمجھنا۔ مروجہ رسمی میلاد شریف کرنے والے اسے دین کا کام اور دین کا جز اور کار ثواب سمجھ کر کرتے ہیں۔ اس لیے وہ یقینا بدعت ہے۔ اور سب ہی علماء نے اسے بدعت لکھا ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
Telegram
جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
"جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند" میں روزانہ ایک دو مسئلہ مدلل ومزین انداز میں بطورِ استفادہ آپ کو ملے گا،
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1
آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda
https://www.hanafimasail.com/?m=1
جواب نمبر:9⃣8⃣
Indiaسوال # 57554
عید میلا دالنبی منانا کیسا ہے؟جب کہ بریلوی کہتے ہیں کہ حضرت اشرف علی رحمتہ اللہ نے کہا ہے کہ کالج میں جائز ہے؟ میں تذبذب میں ہوں؟ براہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔
Published on: Feb 10, 2015 جواب # 57554
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 243-254/H=4/1436-U
(۱) شریعت مطہرہ میں عید میلاد النبی کی کچھ اصل نہیں ہے، یہ ابھی کچھ عرصہ سے ایجاد ہوئی ہے زمانہٴ خیر القرون میں اس کو نہیں منایا گیا، قرآنِ کریم حدیث شریف سے کہیں اس کا ثبوت نہیں ملتا اور نیز اب فی زماننا بے شمار خرافات اور بیہودہ حرکات اس میں شامل ہوگئی ہیں، حضراتِ صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اور متبع سنت علماء فقہاء، محدثین متکلمین نے اس کو نہیں منایا، بڑے بڑے بزرگان دین مشائخ عظام نے اس کو نہیں منایا، شیخ المشائخ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی، حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری، حضرت خواجہ نظام الدین حضرت خواجہ علاء الدین صابر کلیری رحمہم اللہ تعالی رحمة واسعہ اور ان کے علاوہ دیگر متبع سنت صوفیائے کرام کی حیات اور کارنامے سوانح عمری مطبوعہ میں آج کل کی مروجہ عید میلاد النبی کے منانے کا کہیں تذکرہ نہیں ملتا الغرض اس عید میلاد النبی کی عمر چند صدی کے لگ بگ ہے کہ جس میں بہت سے ناجائز امور شامل کرلیے گئے ہیں، اس قسم کی مجلس ومحفل (عید میلاد النبی) میں شریک ہونا منانا جائز نہیں۔
(۲) حضرت اشرف علی رحمة اللہ کون ہیں اور انھوں نے بریلوی سے کب کہا تھا یا کون سی کتاب میں لکھا ہے جن بریلوی نے آپ سے کہا ہے ان سے پورا حوالہ لکھواکر بھیجئے تب ان شاء اللہ تفصیل سے جواب لکھ دیا جائے گا۔
(۳) اگر اب بھی تذبذب رہے تو اپنے اشکال کو صاف صحیح واضح انداز پر لکھئے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
Indiaسوال # 57554
عید میلا دالنبی منانا کیسا ہے؟جب کہ بریلوی کہتے ہیں کہ حضرت اشرف علی رحمتہ اللہ نے کہا ہے کہ کالج میں جائز ہے؟ میں تذبذب میں ہوں؟ براہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔
Published on: Feb 10, 2015 جواب # 57554
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 243-254/H=4/1436-U
(۱) شریعت مطہرہ میں عید میلاد النبی کی کچھ اصل نہیں ہے، یہ ابھی کچھ عرصہ سے ایجاد ہوئی ہے زمانہٴ خیر القرون میں اس کو نہیں منایا گیا، قرآنِ کریم حدیث شریف سے کہیں اس کا ثبوت نہیں ملتا اور نیز اب فی زماننا بے شمار خرافات اور بیہودہ حرکات اس میں شامل ہوگئی ہیں، حضراتِ صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اور متبع سنت علماء فقہاء، محدثین متکلمین نے اس کو نہیں منایا، بڑے بڑے بزرگان دین مشائخ عظام نے اس کو نہیں منایا، شیخ المشائخ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی، حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری، حضرت خواجہ نظام الدین حضرت خواجہ علاء الدین صابر کلیری رحمہم اللہ تعالی رحمة واسعہ اور ان کے علاوہ دیگر متبع سنت صوفیائے کرام کی حیات اور کارنامے سوانح عمری مطبوعہ میں آج کل کی مروجہ عید میلاد النبی کے منانے کا کہیں تذکرہ نہیں ملتا الغرض اس عید میلاد النبی کی عمر چند صدی کے لگ بگ ہے کہ جس میں بہت سے ناجائز امور شامل کرلیے گئے ہیں، اس قسم کی مجلس ومحفل (عید میلاد النبی) میں شریک ہونا منانا جائز نہیں۔
(۲) حضرت اشرف علی رحمة اللہ کون ہیں اور انھوں نے بریلوی سے کب کہا تھا یا کون سی کتاب میں لکھا ہے جن بریلوی نے آپ سے کہا ہے ان سے پورا حوالہ لکھواکر بھیجئے تب ان شاء اللہ تفصیل سے جواب لکھ دیا جائے گا۔
(۳) اگر اب بھی تذبذب رہے تو اپنے اشکال کو صاف صحیح واضح انداز پر لکھئے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:0⃣9⃣
Pakistanسوال # 62315
کیا فرماتے ہیں علماء دیوبند عیدمیلادالنبیﷺ کے بارے میں۔ میرا سوال ضرور پڑھیں۔ (سہیل احمد تورڈھیر صوابی خیبر پختونخواہ پاکستان
بعد از سلام عرض ہے ۔ کہ اپ صاحبان نے اپنے کئی فتووں میں عید میلاد النبیﷺکی ممانعت کی ہے اور اس کو عیسائیوں کا ایجاد قرار دیا ہے فتویٰ نمبر فتوی: 515=381/ل فتوی(د):560=124-3/1432 فتوی: 679-604/B=5/1433 فتوی: 720-616/B=5/1433۔
اپ نے مولانا شوکت علی تھانوی اور دوسرے علمائکے فتووں سے اس کی سخت نکیر کی ہے ۔
حالانکہ مولانا شوکت علی تھانوی اور رشید احمد گنگوئی نے اپنی رسالہ طریقہ مولد شریف میں فتویٰ دیا ہے کہ اگر عید میلاد النبیﷺ میں شرک و بدعت اور مکروہات شرعیہ سے خالی ہو ایسی محفل میں شرکت کرنا باعث خیروبرکت و ثواب ہے ۔ اسی طرح حضرت امداداللہ مہاجر مکی نے اپنی کتاب صفحہ نمبر 78میں لکھا ہے ۔کہ اس میں تو کسی کو کلام ہی نہیں نفس ذکر ولادت شریف ﷺ موجب خیرات وبرکات دینی و اخروی ہے ۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (1114۔ 1174ھ / 1703۔ 1762ء) مکہ مکرمہ میں اپنے قیام کے دوران اپنی کتاب فیوض الحرمین : 80، 81میں عید میلاد النبیﷺ کی تفصیل بیان کی ہے کہ مکہ میں عید میلاد النبیﷺکس طرح جوش سے منایا جاتا تھا۔ اور بہیت سے علما/ اہل سنت ولجماعت سے ثابت ہے ۔ تو پھر اپ حضرات کیوں اس کی ممانعت کرتے ہو۔ “
Published on: Nov 30, 2015 جواب # 62315
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 139-117/L=2/1437-U
اس میں تو کسی کو بھی ا ختلاف نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس حالات اور سیرتِ مبارکہ کا ذکر مستحسن بلکہ افضل الاذکار اور موجب خیر وبرکت ہے بشرطیکہ دن کی تعیین وتخصیص کے بغیر ہو اور شرکت وبدعت ومکروہاتِ شرعیہ سے خالی ہو، اور روایاتِ صحیحہ بیان کیے جائیں؛ لیکن آج کل جس نوعیت سے محافلِ میلاد منعقد کی جاتی ہیں یہ امور غیر مشروعہ پر مشتمل ہوتی ہیں، روایاتِ موضوعہ منکرہ بیان کی جاتی ہیں، بیان کرنے والے اکثر غیر متشرع فساق وفجار ہوتے ہیں، اسراف وریاکاری وسمعہ مقصود ہوتا ہے، ا لتزام مالا یلزم کی حد سے گذرکر اس کو فرائض واجبات سے آگے بڑھادیا جاتا ہے، قیام بوقت ذکرِ ولادت کو ایک فریضہ شرعیہ قرار دے کر اس کے تارک کو لعن طعن کیا جاتا ہے، الغرض مروجہ مجالس میلاد بدعات وخرافات کا ایک مجموعہ بن کر رہ گیا ہے اس لیے اس کا ترک ضروری ہے، اسی طرح اس دن عید منانا اسلامی تعلیم نہیں ہے، یہ نصاری کا طریقہ ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے دن عید مناتے ہیں نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا نہ صحابہ رضی اللہ عنہم وسلف صالحین نے اس دن کو عید کے طور پر منایا، نیز اس دن جلوس نہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں نکلتے تھے نہ ائمہ اربعہ رحمہم اللہ اور سلف صالحین کے دور میں جلوس نکالنا، جھنڈے اور نعروں کے ساتھ سڑکوں پر چلنا یہ غیروں کا طریقہ ہے جس سے بچنے کا ہمیں حکم ہے۔ فقیہ النفس حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ نے اپنے متعدد فتاوی میں اس پر نکیر فرمائی ہے، ایک سوال کے جواب میں حضرت تحریر فرماتے ہیں: ”مجلس مولود مروجہ بدعت ہے اور بسبب خلط امور مکروہہ کے مکروہ تحریمہ ہے“ (رشیدیہ قدیم: ۱۱۵) ایک دوسرے سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں: ”عقد مجلس مولود اگرچہ اس میں کوئی امرِ غیر مشروع نہ ہو مگر اہتمام وتداعی اس میں بھی موجود ہے؛ لہٰذا اس زمانہ میں درست نہیں“ (۱۱۵) جہاں تک فیوض الحرمین کی عبارت کا تعلق ہے تو حضرت گنگوہی رحمہ اللہ نے اس کا خود جواب تحریر فرمایا ہے، اسی کو نقل کیا جاتا ہے، حضرت تحریر فرماتے ہیں: ”فیوض الحرمین میں حاضری مولد النبی میں کہ مکانِ ولادت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے، لکھا ہے وہاں ہرروز زیارت کے واسطے لوگ جاتے ہیں یومِ ولادت میں بھی لوگ جمع تھے اور صلاة وذکر کرتے تھے نہ وہاں تداعی سے اہتمام طلب کے تھے نہ کوئی مجلس تھی بلکہ وہاں لوگ خود بخود جمع ہوکر کوئی درود پڑھتا تھا کوئی ذکر معجزات کرتا تھا نہ کوئی شیرینی نہ چراغ نہ کچھ اور نفس ذکر کو کوئی منع نہیں کرتا“ (فتاوی رشیدیہ قدیم: ۱۱۶، ۱۱۷) اور ۱۲/ ربیع الاول کو عید میلاد النبی منانے کے عدم جواز کی اہم وجہ یہ بھی ہے کہ ۱۲/ ربیع الاول کا دن یوم ولادت کے طور پر مشہور ہے محققین کے یہاں یہ قول راجح ومختار نہیں ہے، اگر اس کا ثبوت قرنِ اول سے ہوتا تو یومِ ولادت میں کسی کو اختلاف نہ ہوتا۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
Pakistanسوال # 62315
کیا فرماتے ہیں علماء دیوبند عیدمیلادالنبیﷺ کے بارے میں۔ میرا سوال ضرور پڑھیں۔ (سہیل احمد تورڈھیر صوابی خیبر پختونخواہ پاکستان
بعد از سلام عرض ہے ۔ کہ اپ صاحبان نے اپنے کئی فتووں میں عید میلاد النبیﷺکی ممانعت کی ہے اور اس کو عیسائیوں کا ایجاد قرار دیا ہے فتویٰ نمبر فتوی: 515=381/ل فتوی(د):560=124-3/1432 فتوی: 679-604/B=5/1433 فتوی: 720-616/B=5/1433۔
اپ نے مولانا شوکت علی تھانوی اور دوسرے علمائکے فتووں سے اس کی سخت نکیر کی ہے ۔
حالانکہ مولانا شوکت علی تھانوی اور رشید احمد گنگوئی نے اپنی رسالہ طریقہ مولد شریف میں فتویٰ دیا ہے کہ اگر عید میلاد النبیﷺ میں شرک و بدعت اور مکروہات شرعیہ سے خالی ہو ایسی محفل میں شرکت کرنا باعث خیروبرکت و ثواب ہے ۔ اسی طرح حضرت امداداللہ مہاجر مکی نے اپنی کتاب صفحہ نمبر 78میں لکھا ہے ۔کہ اس میں تو کسی کو کلام ہی نہیں نفس ذکر ولادت شریف ﷺ موجب خیرات وبرکات دینی و اخروی ہے ۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (1114۔ 1174ھ / 1703۔ 1762ء) مکہ مکرمہ میں اپنے قیام کے دوران اپنی کتاب فیوض الحرمین : 80، 81میں عید میلاد النبیﷺ کی تفصیل بیان کی ہے کہ مکہ میں عید میلاد النبیﷺکس طرح جوش سے منایا جاتا تھا۔ اور بہیت سے علما/ اہل سنت ولجماعت سے ثابت ہے ۔ تو پھر اپ حضرات کیوں اس کی ممانعت کرتے ہو۔ “
Published on: Nov 30, 2015 جواب # 62315
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 139-117/L=2/1437-U
اس میں تو کسی کو بھی ا ختلاف نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس حالات اور سیرتِ مبارکہ کا ذکر مستحسن بلکہ افضل الاذکار اور موجب خیر وبرکت ہے بشرطیکہ دن کی تعیین وتخصیص کے بغیر ہو اور شرکت وبدعت ومکروہاتِ شرعیہ سے خالی ہو، اور روایاتِ صحیحہ بیان کیے جائیں؛ لیکن آج کل جس نوعیت سے محافلِ میلاد منعقد کی جاتی ہیں یہ امور غیر مشروعہ پر مشتمل ہوتی ہیں، روایاتِ موضوعہ منکرہ بیان کی جاتی ہیں، بیان کرنے والے اکثر غیر متشرع فساق وفجار ہوتے ہیں، اسراف وریاکاری وسمعہ مقصود ہوتا ہے، ا لتزام مالا یلزم کی حد سے گذرکر اس کو فرائض واجبات سے آگے بڑھادیا جاتا ہے، قیام بوقت ذکرِ ولادت کو ایک فریضہ شرعیہ قرار دے کر اس کے تارک کو لعن طعن کیا جاتا ہے، الغرض مروجہ مجالس میلاد بدعات وخرافات کا ایک مجموعہ بن کر رہ گیا ہے اس لیے اس کا ترک ضروری ہے، اسی طرح اس دن عید منانا اسلامی تعلیم نہیں ہے، یہ نصاری کا طریقہ ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے دن عید مناتے ہیں نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا نہ صحابہ رضی اللہ عنہم وسلف صالحین نے اس دن کو عید کے طور پر منایا، نیز اس دن جلوس نہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں نکلتے تھے نہ ائمہ اربعہ رحمہم اللہ اور سلف صالحین کے دور میں جلوس نکالنا، جھنڈے اور نعروں کے ساتھ سڑکوں پر چلنا یہ غیروں کا طریقہ ہے جس سے بچنے کا ہمیں حکم ہے۔ فقیہ النفس حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ نے اپنے متعدد فتاوی میں اس پر نکیر فرمائی ہے، ایک سوال کے جواب میں حضرت تحریر فرماتے ہیں: ”مجلس مولود مروجہ بدعت ہے اور بسبب خلط امور مکروہہ کے مکروہ تحریمہ ہے“ (رشیدیہ قدیم: ۱۱۵) ایک دوسرے سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں: ”عقد مجلس مولود اگرچہ اس میں کوئی امرِ غیر مشروع نہ ہو مگر اہتمام وتداعی اس میں بھی موجود ہے؛ لہٰذا اس زمانہ میں درست نہیں“ (۱۱۵) جہاں تک فیوض الحرمین کی عبارت کا تعلق ہے تو حضرت گنگوہی رحمہ اللہ نے اس کا خود جواب تحریر فرمایا ہے، اسی کو نقل کیا جاتا ہے، حضرت تحریر فرماتے ہیں: ”فیوض الحرمین میں حاضری مولد النبی میں کہ مکانِ ولادت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے، لکھا ہے وہاں ہرروز زیارت کے واسطے لوگ جاتے ہیں یومِ ولادت میں بھی لوگ جمع تھے اور صلاة وذکر کرتے تھے نہ وہاں تداعی سے اہتمام طلب کے تھے نہ کوئی مجلس تھی بلکہ وہاں لوگ خود بخود جمع ہوکر کوئی درود پڑھتا تھا کوئی ذکر معجزات کرتا تھا نہ کوئی شیرینی نہ چراغ نہ کچھ اور نفس ذکر کو کوئی منع نہیں کرتا“ (فتاوی رشیدیہ قدیم: ۱۱۶، ۱۱۷) اور ۱۲/ ربیع الاول کو عید میلاد النبی منانے کے عدم جواز کی اہم وجہ یہ بھی ہے کہ ۱۲/ ربیع الاول کا دن یوم ولادت کے طور پر مشہور ہے محققین کے یہاں یہ قول راجح ومختار نہیں ہے، اگر اس کا ثبوت قرنِ اول سے ہوتا تو یومِ ولادت میں کسی کو اختلاف نہ ہوتا۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
محمد امیر۔۔۔۔۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:1⃣9⃣
فرض نماز کے بعد دعا کا مسئلہ
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ’’چار سو اہم مسائل‘‘ کے مصنف لکھتے ہیں کہ فرض نماز کے معاً بعد دعا کرنا درست نہیں ، ان کا یہ کہنا کس حد تک درست ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اَحادیثِ شریفہ میں فرض نمازوں کے بعد ہرفرد کے لئے دعا کرنے کی تاکید وارد ہوئی ہے، اور جب سب لوگ اس تاکیدی حکم پر عمل کریںگے تو خود بخود اجتماعی ہیئت پیدا ہوجائے گی، پس جو بات احادیث سے ثابت ہو وہ نادرست کیسے ہوسکتی ہے۔
عن معاذ بن جبل أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أخذ بیدي قال: یا معاذ واللّٰہ إني لأحبک فقال: أوصیک یا معاذ لا تدعن في دبر کل صلاۃ تقول: اللّٰہم أعني علی ذکرک وشکرک وحسن عبادتک۔ (سنن أبي داؤد، الصلاۃ / باب في الاستغفار رقم: ۱۵۰۸)
عن مغیرۃ بن شعبۃ رضي اللّٰہ عنہ أن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم کان یقول دبر کل صلاۃ مکتوبۃ: لا إلہ إلا اللّٰہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد … الخ۔ (صحیح البخاري ۱؍۱۱۷)
فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
فرض نماز کے بعد دعا کا مسئلہ
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ’’چار سو اہم مسائل‘‘ کے مصنف لکھتے ہیں کہ فرض نماز کے معاً بعد دعا کرنا درست نہیں ، ان کا یہ کہنا کس حد تک درست ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اَحادیثِ شریفہ میں فرض نمازوں کے بعد ہرفرد کے لئے دعا کرنے کی تاکید وارد ہوئی ہے، اور جب سب لوگ اس تاکیدی حکم پر عمل کریںگے تو خود بخود اجتماعی ہیئت پیدا ہوجائے گی، پس جو بات احادیث سے ثابت ہو وہ نادرست کیسے ہوسکتی ہے۔
عن معاذ بن جبل أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أخذ بیدي قال: یا معاذ واللّٰہ إني لأحبک فقال: أوصیک یا معاذ لا تدعن في دبر کل صلاۃ تقول: اللّٰہم أعني علی ذکرک وشکرک وحسن عبادتک۔ (سنن أبي داؤد، الصلاۃ / باب في الاستغفار رقم: ۱۵۰۸)
عن مغیرۃ بن شعبۃ رضي اللّٰہ عنہ أن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم کان یقول دبر کل صلاۃ مکتوبۃ: لا إلہ إلا اللّٰہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد … الخ۔ (صحیح البخاري ۱؍۱۱۷)
فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
👍1
Channel name was changed to «جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند»
جواب نمبر:2⃣9⃣
سوال:
عمر ، زید کے پاس ملازم ہے ، تنخواہ دینے کے موقع پر زید بغیر رضامندیٔ عمر کے اس کی تنخواہ سے کچھ رقم تعمیر مسجد کے لئے کاٹ لیتا ہے ، جس پر عمر ناراض ہوتا ہے اور لوگوں کے سامنے اس کا اظہار بھی کرتا ہے ، مگر بوجہ خوف کے کہ کہیں ملازمت نہ چھوٹے زید کے سامنے بیان نہیں کرتا، کیا از روئے شرع یہ رقم کاٹ لینا جائز ہے ؟ اور اگر مدرسہ کے لئے اس طرح چندہ کیا جائے تو کیا حکم ہے ؟
جواب:
چندہ خواہ مسجد کا ہو یا مدرسہ کا ، جب تک دینے والا رضامندی اور خوش دلی کے ساتھ نہ دے اس وقت تک اسے لینا جائز نہیں ہے ، (۱)اور نہ اسے تعمیر مسجد میں صَرف کرنا چاہیئے ، صورت مسئولہ میں زید کا یہ عمل شرعاً درست نہیں ، بالخصوص جب کہ عمر کا اس سے ناراض ہونا معلوم ہوچکا۔ (۲)
(۱ و ۲) وفی مشکوٰۃ المصابیح ،ج:۱،ص:۲۵۵ (طبع سعید کراچی) قال رسول اللّٰہ ا : ألا ، لا تظلموا، ألا لا یحل مال امریٔ الا بطیب نفس منہ ۔ رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔ وفی حاشیۃ :أی بالاذن أو بالأمر۔
مستفاد:فتاوی عثمانیہ
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
سوال:
عمر ، زید کے پاس ملازم ہے ، تنخواہ دینے کے موقع پر زید بغیر رضامندیٔ عمر کے اس کی تنخواہ سے کچھ رقم تعمیر مسجد کے لئے کاٹ لیتا ہے ، جس پر عمر ناراض ہوتا ہے اور لوگوں کے سامنے اس کا اظہار بھی کرتا ہے ، مگر بوجہ خوف کے کہ کہیں ملازمت نہ چھوٹے زید کے سامنے بیان نہیں کرتا، کیا از روئے شرع یہ رقم کاٹ لینا جائز ہے ؟ اور اگر مدرسہ کے لئے اس طرح چندہ کیا جائے تو کیا حکم ہے ؟
جواب:
چندہ خواہ مسجد کا ہو یا مدرسہ کا ، جب تک دینے والا رضامندی اور خوش دلی کے ساتھ نہ دے اس وقت تک اسے لینا جائز نہیں ہے ، (۱)اور نہ اسے تعمیر مسجد میں صَرف کرنا چاہیئے ، صورت مسئولہ میں زید کا یہ عمل شرعاً درست نہیں ، بالخصوص جب کہ عمر کا اس سے ناراض ہونا معلوم ہوچکا۔ (۲)
(۱ و ۲) وفی مشکوٰۃ المصابیح ،ج:۱،ص:۲۵۵ (طبع سعید کراچی) قال رسول اللّٰہ ا : ألا ، لا تظلموا، ألا لا یحل مال امریٔ الا بطیب نفس منہ ۔ رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔ وفی حاشیۃ :أی بالاذن أو بالأمر۔
مستفاد:فتاوی عثمانیہ
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:3⃣9⃣
مسجد میں غیر حاضر شخص کے لئے جگہ روکنا۔
سوال:
میں کسی مسجد میں کسی بھی حیثیت سے کام کرتا ہوں اور اس مسجد میں نماز کے وقت سے پہلے کئی ایسے خاص آدمیوں کے لئے جگہ مخصوص کردوں جو اذان کے بعد مسجد میں تشریف لاتے ہیں ، اور اس طرح دوسرے نمازی جو وقت سے بہت پہلے مسجد میں پہنچتے ہیں ان کے لئے تکلیف کا سبب بنتے ہیں ، اس طرح جگہ کا روکنا جائز ہے یا نہیں ؟جن کے لئے جگہ روکی جاتی ہے ان کی نماز میں کچھ فرق آتا ہے یا نہیں ؟
جواب:
اس طرح مسجد میں کسی غیر حاضر شخص کے لئے جگہ روکنا درست نہیں ، البتہ جو شخص پہلے آکر کچھ دیر مسجد میں بیٹھ گیا ہو ، پھر کسی ضرورت سے وہاں اپنی کوئی چیز چھوڑ کر چلا جائے تو واپس آنے پر وہ اس جگہ کا زیادہ مستحق ہوگا ۔
ویکرہ ۔۔۔ تخصیص مکان لنفسہ، ولیس لہ ازعاج غیرہ منہ ولو مدرسا ، و اذا ضاق فللمصلی ازعاج القاعد ولو مشتغلا بقراء ۃ أو درس ۔ ( الدر المختار ،ج:۱،ص:۶۶۲ طبع سعید کراچی )۔( وقال العلامۃ الشامی تحتہ) وینبغی تقییدہ بما اذا لم یقم عنہ علی نیۃ العود بلا مھلۃ کما لو قام للوضوء مثلا ولا سیما اذا وضع فیہ ثوبہ لتحقق سبق یدہ تأمل ۔
و فی الھند یۃ کتاب الکراھیۃ ،ج : ۵ ، ص :۳۲۱ ( طبع رشیدیہ کوئٹہ) حرمۃ المسجد خمسۃ عشر ۔۔۔۔۔۔۔ و العاشر أن لا یضیق علی أحد فی الصف۔
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
مسجد میں غیر حاضر شخص کے لئے جگہ روکنا۔
سوال:
میں کسی مسجد میں کسی بھی حیثیت سے کام کرتا ہوں اور اس مسجد میں نماز کے وقت سے پہلے کئی ایسے خاص آدمیوں کے لئے جگہ مخصوص کردوں جو اذان کے بعد مسجد میں تشریف لاتے ہیں ، اور اس طرح دوسرے نمازی جو وقت سے بہت پہلے مسجد میں پہنچتے ہیں ان کے لئے تکلیف کا سبب بنتے ہیں ، اس طرح جگہ کا روکنا جائز ہے یا نہیں ؟جن کے لئے جگہ روکی جاتی ہے ان کی نماز میں کچھ فرق آتا ہے یا نہیں ؟
جواب:
اس طرح مسجد میں کسی غیر حاضر شخص کے لئے جگہ روکنا درست نہیں ، البتہ جو شخص پہلے آکر کچھ دیر مسجد میں بیٹھ گیا ہو ، پھر کسی ضرورت سے وہاں اپنی کوئی چیز چھوڑ کر چلا جائے تو واپس آنے پر وہ اس جگہ کا زیادہ مستحق ہوگا ۔
ویکرہ ۔۔۔ تخصیص مکان لنفسہ، ولیس لہ ازعاج غیرہ منہ ولو مدرسا ، و اذا ضاق فللمصلی ازعاج القاعد ولو مشتغلا بقراء ۃ أو درس ۔ ( الدر المختار ،ج:۱،ص:۶۶۲ طبع سعید کراچی )۔( وقال العلامۃ الشامی تحتہ) وینبغی تقییدہ بما اذا لم یقم عنہ علی نیۃ العود بلا مھلۃ کما لو قام للوضوء مثلا ولا سیما اذا وضع فیہ ثوبہ لتحقق سبق یدہ تأمل ۔
و فی الھند یۃ کتاب الکراھیۃ ،ج : ۵ ، ص :۳۲۱ ( طبع رشیدیہ کوئٹہ) حرمۃ المسجد خمسۃ عشر ۔۔۔۔۔۔۔ و العاشر أن لا یضیق علی أحد فی الصف۔
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:4⃣9⃣
قربانی کس پر فرض۔؟
مسئلہ:جس شخص پر زکوۃ فرض ہو یا جس کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت ہو یا اتنی قیمت کامالِ تجارت ہوتواس پر قربانی اور صدقۂ فطر واجب ہوجاتا ہے، شریعت اسلامیہ میں قربانی کی بڑی فضیلت ہے اور قربانی واجب ہو نے کے باوجود نہ کرنے پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔
الحجۃ علی ما قلنا
ما في ’’ کنز العمال ‘‘ : قولہ علیہ السلام : ’’ الأضاحي سنۃ أبیکم إبراہیم ، بکل شعرۃ حسنۃ وبکل شعرۃ من الصوف حسنۃ ‘‘ ۔ (۵/۳۹، رقم الحدیث :۱۲۲۲۹، ابن ماجہ :ص/۲۲۶)
ما في ’’ جامع الترمذي ‘‘ : قولہ علیہ السلام : ’’ في الأضحیۃ لصاحبہا بکل شعرۃ حسنۃ ‘‘۔ (۱/۲۷۵، باب ماجاء في فضل الأضاحي)
ما في ’’ الترغیب والترہیب ‘‘ : قولہ علیہ السلام : ’’ من وجد سعۃ فلم یضح فلا یحضر مصلانا ‘‘۔ (۲/۱۰۳)
ما في ’’ مجمع الأنہر‘‘ : الأضحیۃ ہي واجبۃ علی حر مسلم مقیم موسر عن نفسہ لا عن طفلہ ۔ (۴/۱۶۶، البحر الرائق : ۸/۳۱۸ ،کتاب الأضحیۃ)
ما في ’’ رد المحتار ‘‘ : ذبح حیوان مخصوص بنیۃ القربۃ في وقت مخصوص وشرائطہا الإسلام والیسار الذي یتعلق بہ صدقۃ الفطر ۔ (۹/۳۷۸ ، کتاب الأضحیۃ)
(المسائل المہمۃ:۲/۱۵۲)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
قربانی کس پر فرض۔؟
مسئلہ:جس شخص پر زکوۃ فرض ہو یا جس کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت ہو یا اتنی قیمت کامالِ تجارت ہوتواس پر قربانی اور صدقۂ فطر واجب ہوجاتا ہے، شریعت اسلامیہ میں قربانی کی بڑی فضیلت ہے اور قربانی واجب ہو نے کے باوجود نہ کرنے پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔
الحجۃ علی ما قلنا
ما في ’’ کنز العمال ‘‘ : قولہ علیہ السلام : ’’ الأضاحي سنۃ أبیکم إبراہیم ، بکل شعرۃ حسنۃ وبکل شعرۃ من الصوف حسنۃ ‘‘ ۔ (۵/۳۹، رقم الحدیث :۱۲۲۲۹، ابن ماجہ :ص/۲۲۶)
ما في ’’ جامع الترمذي ‘‘ : قولہ علیہ السلام : ’’ في الأضحیۃ لصاحبہا بکل شعرۃ حسنۃ ‘‘۔ (۱/۲۷۵، باب ماجاء في فضل الأضاحي)
ما في ’’ الترغیب والترہیب ‘‘ : قولہ علیہ السلام : ’’ من وجد سعۃ فلم یضح فلا یحضر مصلانا ‘‘۔ (۲/۱۰۳)
ما في ’’ مجمع الأنہر‘‘ : الأضحیۃ ہي واجبۃ علی حر مسلم مقیم موسر عن نفسہ لا عن طفلہ ۔ (۴/۱۶۶، البحر الرائق : ۸/۳۱۸ ،کتاب الأضحیۃ)
ما في ’’ رد المحتار ‘‘ : ذبح حیوان مخصوص بنیۃ القربۃ في وقت مخصوص وشرائطہا الإسلام والیسار الذي یتعلق بہ صدقۃ الفطر ۔ (۹/۳۷۸ ، کتاب الأضحیۃ)
(المسائل المہمۃ:۲/۱۵۲)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:5⃣9⃣
مسئلہ:اگر کسی شخص کے پاس ضرورت سے زائد کپڑے، موبائل فون، گھریلو برتن، ٹیپ ریکارڈ، ٹیلی ویژن اور وی سی آر وغیرہ جن کی مالیت نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی ) کے برابر ہو تو اس پر بھی قربانی واجب ہوگی، کیوں کہ وجوبِ قربانی کے لیے نصاب کا نامی ہونا اور اس پر سال گذرنا شرط نہیں ہے۔
الحجۃ علی ما قلنا:
ما في ’’ القرآن الکریم ‘‘ : {فصل لربک وانحر} ۔ (سورۃ الکوثر :۲)
ما في ’’ السنن لإبن ماجۃ ‘‘: قولہ علیہ السلام : ’’من وجد سعۃ فلم یضح فلا یقربن مصلانا ‘‘۔ (ص/۲۲۶)
ما في ’’ الفتاوی الہندیۃ ‘‘ : وأما شروط الوجوب منہا الیسار وہو ما یتعلق بہ وجوب صدقۃ الفطر دون ما یتعلق بہ وجوب الزکاۃ ۔ (۵/۲۹۲)
ما في ’’ بدائع الصنائع ‘‘ : فلا بد من اعتبار الغني وہو أن یکون في ملکہ مائتا درہم أوعشرون دیناراً أو شيء تبلغ قیمتہ ذلک سوی مسکنہ وکسوتۃ وما لا یستغنی عنہ ۔
(۴/۱۹۶، رد المحتار :۹/۳۷۹)
(المسائل المہمۃ:۲/۱۵۳)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
مسئلہ:اگر کسی شخص کے پاس ضرورت سے زائد کپڑے، موبائل فون، گھریلو برتن، ٹیپ ریکارڈ، ٹیلی ویژن اور وی سی آر وغیرہ جن کی مالیت نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی ) کے برابر ہو تو اس پر بھی قربانی واجب ہوگی، کیوں کہ وجوبِ قربانی کے لیے نصاب کا نامی ہونا اور اس پر سال گذرنا شرط نہیں ہے۔
الحجۃ علی ما قلنا:
ما في ’’ القرآن الکریم ‘‘ : {فصل لربک وانحر} ۔ (سورۃ الکوثر :۲)
ما في ’’ السنن لإبن ماجۃ ‘‘: قولہ علیہ السلام : ’’من وجد سعۃ فلم یضح فلا یقربن مصلانا ‘‘۔ (ص/۲۲۶)
ما في ’’ الفتاوی الہندیۃ ‘‘ : وأما شروط الوجوب منہا الیسار وہو ما یتعلق بہ وجوب صدقۃ الفطر دون ما یتعلق بہ وجوب الزکاۃ ۔ (۵/۲۹۲)
ما في ’’ بدائع الصنائع ‘‘ : فلا بد من اعتبار الغني وہو أن یکون في ملکہ مائتا درہم أوعشرون دیناراً أو شيء تبلغ قیمتہ ذلک سوی مسکنہ وکسوتۃ وما لا یستغنی عنہ ۔
(۴/۱۹۶، رد المحتار :۹/۳۷۹)
(المسائل المہمۃ:۲/۱۵۳)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:6⃣9⃣
کاشتکار پرقربانی
مسئلہ:اگر کاشتکار کے پاس ہل چلانے اور دوسری ضرورت کے علاوہ اتنے جانور موجود ہے کہ ان کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا ا س سے زیادہ ہے تو اس کی وجہ سے قربانی واجب ہوگی، اور اگر ایسا نہیں ، اور دوسرا کوئی مال نہیں تو قربانی واجب نہیں ہوگی۔
الحجۃ علی ما قلنا:
ما في ’’ الفتاوی الہندیۃ ‘‘ : والزارع بثورین وآلۃ الفدان لیس بغني وببقرۃ واحدۃ غني وبثلاث ثیران إذا ساوی أحدہما مائتي درہم صاحب نصاب ۔
(۵/۲۹۳، کتاب الأضحیۃ ، الباب الأول في تفسیرہا الخ)
(قربانی کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا:ص/۱۳۳)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
کاشتکار پرقربانی
مسئلہ:اگر کاشتکار کے پاس ہل چلانے اور دوسری ضرورت کے علاوہ اتنے جانور موجود ہے کہ ان کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا ا س سے زیادہ ہے تو اس کی وجہ سے قربانی واجب ہوگی، اور اگر ایسا نہیں ، اور دوسرا کوئی مال نہیں تو قربانی واجب نہیں ہوگی۔
الحجۃ علی ما قلنا:
ما في ’’ الفتاوی الہندیۃ ‘‘ : والزارع بثورین وآلۃ الفدان لیس بغني وببقرۃ واحدۃ غني وبثلاث ثیران إذا ساوی أحدہما مائتي درہم صاحب نصاب ۔
(۵/۲۹۳، کتاب الأضحیۃ ، الباب الأول في تفسیرہا الخ)
(قربانی کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا:ص/۱۳۳)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:7⃣9⃣
مقروض شخص پر قربانی
مسئلہ:اگر کسی آدمی کے اوپر قرض ہو، لیکن اس کے پاس کچھ مال بھی ہو، تو اگر یہ مال اتنا ہو کہ قرض ادا کرنے کے بعد بھی اس کے پاس بنیادی ضرورت سے زائد ، نصاب کے بقدر یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر مال بچ رہتا ہے، تو ایسے شخص پر قربانی واجب ہوگی، او راگر قرض ادا کرنے کے بعد نصاب سے کم مال بچے، تو اس پر قربانی واجب نہیں ہوگی۔
الحجۃ علی ما قلنا:
ما في ’’ الفتاوی الہندیۃ ‘‘ : ولو کان علیہ دین بحیث لو صرف فیہ نقص لا تجب ۔
(۵/۲۹۲، کتاب الأضحیۃ ، الباب الأول الخ)
ما في ’’ بدائع الصنائع ‘‘ : ولو کان علیہ دین بحیث لو صرف إلیہ بعض نصابہ لا ینقص نصابہ لا تجب ، لأن الدین یمنع وجوب الزکاۃ ، فلأن یمنع وجوب الأضحیۃ أولی ، لأن الزکاۃ فرض والأضحیۃ واجبۃ والفرض فوق الواجب ۔(۴/۱۹۶، کتاب الأضحیۃ ، فصل في شرائط الأضحیۃ)
ما في ’’ البحر الرائق ‘‘ : (تجب علی حر مسلم موسر مقیم علی نفسہ الخ) وفي الخانیۃ : الموسر في ظاہر الروایۃ من لہ مائتا درہم أو عشرون دینار أو ما بلغ ذلک سوی سکنہ ومتاعہ ومرکبہ وخادمہ الذي في حاجتہ ۔ (۸/۳۱۹ ، کتاب الأضحیۃ)
(آپ کے مسائل اور ان کا حل :۵/۴۲۵، تخریج شدہ ، مسائل قربانی:ص/۶۴، مولانا محمد عبد المعبود ، مکتبہ القاسم اکیڈمی ، نوشہرہ پاکستان، کتاب الفتاویٰ: ۴/۱۳۳،المسائل المہمۃ:۸/۱۷۱)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
مقروض شخص پر قربانی
مسئلہ:اگر کسی آدمی کے اوپر قرض ہو، لیکن اس کے پاس کچھ مال بھی ہو، تو اگر یہ مال اتنا ہو کہ قرض ادا کرنے کے بعد بھی اس کے پاس بنیادی ضرورت سے زائد ، نصاب کے بقدر یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر مال بچ رہتا ہے، تو ایسے شخص پر قربانی واجب ہوگی، او راگر قرض ادا کرنے کے بعد نصاب سے کم مال بچے، تو اس پر قربانی واجب نہیں ہوگی۔
الحجۃ علی ما قلنا:
ما في ’’ الفتاوی الہندیۃ ‘‘ : ولو کان علیہ دین بحیث لو صرف فیہ نقص لا تجب ۔
(۵/۲۹۲، کتاب الأضحیۃ ، الباب الأول الخ)
ما في ’’ بدائع الصنائع ‘‘ : ولو کان علیہ دین بحیث لو صرف إلیہ بعض نصابہ لا ینقص نصابہ لا تجب ، لأن الدین یمنع وجوب الزکاۃ ، فلأن یمنع وجوب الأضحیۃ أولی ، لأن الزکاۃ فرض والأضحیۃ واجبۃ والفرض فوق الواجب ۔(۴/۱۹۶، کتاب الأضحیۃ ، فصل في شرائط الأضحیۃ)
ما في ’’ البحر الرائق ‘‘ : (تجب علی حر مسلم موسر مقیم علی نفسہ الخ) وفي الخانیۃ : الموسر في ظاہر الروایۃ من لہ مائتا درہم أو عشرون دینار أو ما بلغ ذلک سوی سکنہ ومتاعہ ومرکبہ وخادمہ الذي في حاجتہ ۔ (۸/۳۱۹ ، کتاب الأضحیۃ)
(آپ کے مسائل اور ان کا حل :۵/۴۲۵، تخریج شدہ ، مسائل قربانی:ص/۶۴، مولانا محمد عبد المعبود ، مکتبہ القاسم اکیڈمی ، نوشہرہ پاکستان، کتاب الفتاویٰ: ۴/۱۳۳،المسائل المہمۃ:۸/۱۷۱)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:8⃣9⃣
قربانی کو ’’ قربانی‘‘ کیوں کہتے ہیں؟
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہٗ فرماتے ہیں:
’’قربانی اصل میں ’’قربان‘‘ سے ہے، یعنی قربانی اس چیز کو کہتے ہیں جس کے ساتھ انسان خدا تعالیٰ کا قرب ڈھونڈتا ہے، چنانچہ کہتے ہیں: قربت للہ قرباناً۔میں نے اللہ کے لیے قربانی دی،چونکہ انسان قربانی سے قربِ الٰہی کا طالب ہوتا ہے، اس لیے اس فعل کا نام بھی قربانی ہوا۔‘‘
قربانی کیا ہے؟
ایک تصویری زبان میں تعلیم ہے جسے جاہل اور عالم سب پڑھ سکتے ہیں، وہ تعلیم یہ ہے کہ خدا کسی کے خون اورگوشت کا بھوکا نہیں، وہ تو ’’ وھویُطعم ولا یُطعَم‘‘ ہے، ایسا پاک اور عظیم الشان نہ تو کھالوں کا محتاج ہے نہ گوشت کے چڑھاوے کا بلکہ وہ تمہیں سکھانا چاہتا ہے کہ تم بھی خدا کے حضور میں اسی طرح قربان ہوجاؤ اور یہ بھی تمہارا قربان ہونا ہے کہ اپنے بدلے اپنا قیمتی پیارا جانور قربان کردو۔
کیا قربانی خلافِ عقل ہے ؟
جو لوگ قربانی کو خلافِ عقل کہتے ہیں وہ سن لیں کہ کُل دنیا میں قربانی کا رواج ہے، اور قوموں کی تاریخ پر نظر کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ادنیٰ چیز اعلیٰ کے بدلے میں قربانی کی جاتی ہے، یہ سلسلہ چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی چیزوں میں پایا جاتا ہے، ہم بچے تھے تو یہ بات سنی تھی کہ کسی کو زہریلا سانپ کاٹے تو وہ انگلی کاٹ دی جائے تاکہ کل جسم زہریلے اثر سے محفوظ رہے ، گویا انگلی تمام جسم کے لیے قربانی کی گئی ہے۔
اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارا کوئی دوست آجائے تو جوکچھ ہمارے پاس ہو اسی کی خوشی کے لیے قربان کرنا پڑتا ہے، گھی ، آٹا ، گوشت وغیرہ قیمتی اشیاء اس پیارے کے سامنے کوئی ہستی نہیں رکھتیں۔(جاندار اور بے جان کو قربان کرنا بھی قربانی ہی ہے)اور اس سے زیادہ عزیز ہو تو مرغے مرغیاں ، حتی کہ بھیڑیں اور بکرے قربان کیے جاتے ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر گائے اور اونٹ بھی عزیز مہمان کے لیے قربان کردیئے جاتے ہیں۔
طب میں دیکھا گیا ہے کہ وہ قومیں جو اس کو جائز نہیں سمجھتیں کہ کوئی جاندار قتل ہو، وہ بھی اپنے زخموں کے سینکڑوں کیڑوں کو مار کر اپنی جان پرقربان کردیتے ہیں۔
اس سے اوپر چلو تو ہم دیکھتے ہیں کہ ادنیٰ لوگوں کو اعلیٰ کے لیے قربان کیا جاتا ہے، مثلاً بھنگی کہ تمام قوموں کی عید ہی کا دن ہو مگر ان بیچاروں کے سپرد وہی کام ہوتا ہے، بلکہ ایسے ایام میں ان کواور زیادہ تاکید ہوتی ہے کہ لوگوں کی آسائش وآرام کی خاطر کوئی گندگی کسی گزرگاہ میں نہ رہنے دیں، گویا ادنیٰ کی خوشی اعلیٰ کی خوشی پر قربان ہوئی۔
بعض ہندوگئو رکھشا بڑے زور سے کرتے ہیں ، لداخ کے ملک میں تو دودھ تک نہیں پیتے، کیوں کہ یہ بچھڑوں کا حق ہے ، مگر یہاں ہندو دھوکا دے کر اس کا دودھ دھولیتے ہیں، اور پھر اس سے اور اس کی اولاد سے سخت کام لیتے ہیں، یہاں تک کہ اپنے کاموں کے لیے انہیں مار مار دوست کرتے ہیں، یہ بھی ایک قسم کی قربانی ہے۔
ادنیٰ سپاہی اپنے افسر کے لیے اور وہ افسر اپنے اعلیٰ افسر کے لیے ، اور وہ اعلیٰ افسر اپنے بادشاہ کے بدلے میں قربان ہوتا ہے۔… پس خدانے اس فطری مسئلہ کو برقرار رکھا، اور اس قربانی میں تعلیم دی کہ ادنیٰ اعلیٰ کے لیے قربان کیا جائے۔
(احکام اسلام عقل کی نظر میں)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
قربانی کو ’’ قربانی‘‘ کیوں کہتے ہیں؟
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہٗ فرماتے ہیں:
’’قربانی اصل میں ’’قربان‘‘ سے ہے، یعنی قربانی اس چیز کو کہتے ہیں جس کے ساتھ انسان خدا تعالیٰ کا قرب ڈھونڈتا ہے، چنانچہ کہتے ہیں: قربت للہ قرباناً۔میں نے اللہ کے لیے قربانی دی،چونکہ انسان قربانی سے قربِ الٰہی کا طالب ہوتا ہے، اس لیے اس فعل کا نام بھی قربانی ہوا۔‘‘
قربانی کیا ہے؟
ایک تصویری زبان میں تعلیم ہے جسے جاہل اور عالم سب پڑھ سکتے ہیں، وہ تعلیم یہ ہے کہ خدا کسی کے خون اورگوشت کا بھوکا نہیں، وہ تو ’’ وھویُطعم ولا یُطعَم‘‘ ہے، ایسا پاک اور عظیم الشان نہ تو کھالوں کا محتاج ہے نہ گوشت کے چڑھاوے کا بلکہ وہ تمہیں سکھانا چاہتا ہے کہ تم بھی خدا کے حضور میں اسی طرح قربان ہوجاؤ اور یہ بھی تمہارا قربان ہونا ہے کہ اپنے بدلے اپنا قیمتی پیارا جانور قربان کردو۔
کیا قربانی خلافِ عقل ہے ؟
جو لوگ قربانی کو خلافِ عقل کہتے ہیں وہ سن لیں کہ کُل دنیا میں قربانی کا رواج ہے، اور قوموں کی تاریخ پر نظر کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ادنیٰ چیز اعلیٰ کے بدلے میں قربانی کی جاتی ہے، یہ سلسلہ چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی چیزوں میں پایا جاتا ہے، ہم بچے تھے تو یہ بات سنی تھی کہ کسی کو زہریلا سانپ کاٹے تو وہ انگلی کاٹ دی جائے تاکہ کل جسم زہریلے اثر سے محفوظ رہے ، گویا انگلی تمام جسم کے لیے قربانی کی گئی ہے۔
اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارا کوئی دوست آجائے تو جوکچھ ہمارے پاس ہو اسی کی خوشی کے لیے قربان کرنا پڑتا ہے، گھی ، آٹا ، گوشت وغیرہ قیمتی اشیاء اس پیارے کے سامنے کوئی ہستی نہیں رکھتیں۔(جاندار اور بے جان کو قربان کرنا بھی قربانی ہی ہے)اور اس سے زیادہ عزیز ہو تو مرغے مرغیاں ، حتی کہ بھیڑیں اور بکرے قربان کیے جاتے ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر گائے اور اونٹ بھی عزیز مہمان کے لیے قربان کردیئے جاتے ہیں۔
طب میں دیکھا گیا ہے کہ وہ قومیں جو اس کو جائز نہیں سمجھتیں کہ کوئی جاندار قتل ہو، وہ بھی اپنے زخموں کے سینکڑوں کیڑوں کو مار کر اپنی جان پرقربان کردیتے ہیں۔
اس سے اوپر چلو تو ہم دیکھتے ہیں کہ ادنیٰ لوگوں کو اعلیٰ کے لیے قربان کیا جاتا ہے، مثلاً بھنگی کہ تمام قوموں کی عید ہی کا دن ہو مگر ان بیچاروں کے سپرد وہی کام ہوتا ہے، بلکہ ایسے ایام میں ان کواور زیادہ تاکید ہوتی ہے کہ لوگوں کی آسائش وآرام کی خاطر کوئی گندگی کسی گزرگاہ میں نہ رہنے دیں، گویا ادنیٰ کی خوشی اعلیٰ کی خوشی پر قربان ہوئی۔
بعض ہندوگئو رکھشا بڑے زور سے کرتے ہیں ، لداخ کے ملک میں تو دودھ تک نہیں پیتے، کیوں کہ یہ بچھڑوں کا حق ہے ، مگر یہاں ہندو دھوکا دے کر اس کا دودھ دھولیتے ہیں، اور پھر اس سے اور اس کی اولاد سے سخت کام لیتے ہیں، یہاں تک کہ اپنے کاموں کے لیے انہیں مار مار دوست کرتے ہیں، یہ بھی ایک قسم کی قربانی ہے۔
ادنیٰ سپاہی اپنے افسر کے لیے اور وہ افسر اپنے اعلیٰ افسر کے لیے ، اور وہ اعلیٰ افسر اپنے بادشاہ کے بدلے میں قربان ہوتا ہے۔… پس خدانے اس فطری مسئلہ کو برقرار رکھا، اور اس قربانی میں تعلیم دی کہ ادنیٰ اعلیٰ کے لیے قربان کیا جائے۔
(احکام اسلام عقل کی نظر میں)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:9⃣9⃣
قربانی کی فضیلت:
قربانی اسلام کا ایک عظیم ، عاشقانہ، والہانہ اور بے حد فضیلت والا حکم ہے، ہرزمانے میں مسلمانوں نے نہایت محبت، عشق اور اہتمام سے اس حکم کو پورا کیا، اور پورا پورا سال اس کی تیاری اور انتظار میں گزارا، مگر اس زمانے کے ملحدین اور نام نہاد روشن خیالوں نے مسلمانوں کے دلوں سے قربانی کی اہمیت کم کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رکھا ہے، اس لیے اس بات کی ضرورت بڑھ گئی ہے کہ مسلمانوں کو عید الاضحی کے موقع پر قربانی کی اہمیت اور فضیلت پوری قوت کے ساتھ بیان کی جائے اور انہیں ملحدین کے ناپاک پروپیگنڈے سے محفوظ رکھا جائے۔
قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے، انہوں نے اللہ پاک کے حکم پر اپنے اکلوتے بیٹے کی گردن پر چھری چلادی اور عشق کے امتحان میں کامیاب ہوگئے، آج ہم سے بیٹے کی گردن پر چھری چلانے کا تقاضانہیں کیا گیابلکہ اپنے پاکیزہ مال سے ا یک حلال جانور خرید کر ذبح کرنے کا حکم دیا گیا ہے، ہمیں چاہیے کہ ہم پورے ذوق وشوق اور اہتمام کے ساتھ اس حکم کو پورا کریں اور اس میں بڑھ چڑھ کر سبقت کریں۔
(اسلامی مہینوں کے فضائل واحکام)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا:
’’یوم النحریعنی عید الاضحی کے دن اولادِ آدم کا کوئی عمل اللہ تعالیٰ کو قربانی سے زیادہ محبوب نہیں ہے ، اور قربانی والا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں اور بالوں اور کھُروں کے ساتھ آئے گا، اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے، اللہ تعالیٰ کی رضا اور مقبولیت کے مقام پر پہنچ جاتا ہے، پس اے اللہ کے بندو پوری خوشدلی کے ساتھ قربانی کیا کرو۔‘‘
(ترمذی،ابن ماجہ، مشکوۃ)
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ :
’’رسول اللہ ﷺکے صحابہ نے عرض کیاکہ یا رسول اللہ! یہ قربانیاں کیا ہیں؟
آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: یہ تمہارے والد ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے، صحابۂ کرام نے عرض کیا کہ ہمارے لیے ان میں کیا(اجر) ہے؟ آپ ﷺنے ارشاد فرمایاکہ ہربال کے بدلے ایک نیکی، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ اُون کا بھی یہی حساب ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: ہاں! اُون کے ہر بال کے بدلے بھی ایک نیکی۔‘‘
(مسند احمد، ابن ماجہ، مشکوۃ)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
قربانی کی فضیلت:
قربانی اسلام کا ایک عظیم ، عاشقانہ، والہانہ اور بے حد فضیلت والا حکم ہے، ہرزمانے میں مسلمانوں نے نہایت محبت، عشق اور اہتمام سے اس حکم کو پورا کیا، اور پورا پورا سال اس کی تیاری اور انتظار میں گزارا، مگر اس زمانے کے ملحدین اور نام نہاد روشن خیالوں نے مسلمانوں کے دلوں سے قربانی کی اہمیت کم کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رکھا ہے، اس لیے اس بات کی ضرورت بڑھ گئی ہے کہ مسلمانوں کو عید الاضحی کے موقع پر قربانی کی اہمیت اور فضیلت پوری قوت کے ساتھ بیان کی جائے اور انہیں ملحدین کے ناپاک پروپیگنڈے سے محفوظ رکھا جائے۔
قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے، انہوں نے اللہ پاک کے حکم پر اپنے اکلوتے بیٹے کی گردن پر چھری چلادی اور عشق کے امتحان میں کامیاب ہوگئے، آج ہم سے بیٹے کی گردن پر چھری چلانے کا تقاضانہیں کیا گیابلکہ اپنے پاکیزہ مال سے ا یک حلال جانور خرید کر ذبح کرنے کا حکم دیا گیا ہے، ہمیں چاہیے کہ ہم پورے ذوق وشوق اور اہتمام کے ساتھ اس حکم کو پورا کریں اور اس میں بڑھ چڑھ کر سبقت کریں۔
(اسلامی مہینوں کے فضائل واحکام)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا:
’’یوم النحریعنی عید الاضحی کے دن اولادِ آدم کا کوئی عمل اللہ تعالیٰ کو قربانی سے زیادہ محبوب نہیں ہے ، اور قربانی والا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں اور بالوں اور کھُروں کے ساتھ آئے گا، اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے، اللہ تعالیٰ کی رضا اور مقبولیت کے مقام پر پہنچ جاتا ہے، پس اے اللہ کے بندو پوری خوشدلی کے ساتھ قربانی کیا کرو۔‘‘
(ترمذی،ابن ماجہ، مشکوۃ)
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ :
’’رسول اللہ ﷺکے صحابہ نے عرض کیاکہ یا رسول اللہ! یہ قربانیاں کیا ہیں؟
آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: یہ تمہارے والد ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے، صحابۂ کرام نے عرض کیا کہ ہمارے لیے ان میں کیا(اجر) ہے؟ آپ ﷺنے ارشاد فرمایاکہ ہربال کے بدلے ایک نیکی، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ اُون کا بھی یہی حساب ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: ہاں! اُون کے ہر بال کے بدلے بھی ایک نیکی۔‘‘
(مسند احمد، ابن ماجہ، مشکوۃ)
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:0⃣0⃣1⃣
ہاتھ پیروں پر پکا پینٹ لگا ہونے کی حالت میں وضو کرنا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: احقر پکا پینٹ اور کلر کا کام کرتا ہے، پینٹ ہاتھ کے ناخونوں پر جم جاتا ہے، اور ہفتوں میں چھوٹتا ہے، کیا اس کے لگے رہنے سے میرا وضو وغسل ہوتا ہے یانہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: نماز پڑھنے سے پہلے تیل وغیرہ لگاکر ہاتھ اور بدن کے دیگر حصہ سے اچھی طرح پینٹ کو صاف کرنا لازم ہے، اگر پوری کوشش کے باوجود کچھ حصہ رہ جائے تو ضرورت اور حرج کی وجہ سے وضو اور غسل میں کوئی خرابی لازم نہیں آئے گی۔
وفي الجامع الصغیر: سئل أبو القاسم عن وافر الظفر الذي یبقی في أظفارہ الدرن، أو الذي یعمل عمل الطین أو المرأۃ التي صبغت إصبعہا بالحناء أو الصرام أو الصباغ قال: کل ذٰلک سواء یجزیہم وضوء ہم إذ لایستطاع الامتناع عنہ إلا بحرج، والفتوی علی الجواز۔ (الفتاوی الہندیۃ ۱؍۴)
ویعفی أثر شق زوالہ بأن یحتاج في إخراجہ إلی نحو الصابون۔ (مجمع الأنہر ۱؍۹۰)
والمراد بالأثر اللون والریح، فإن شق إزالتہما سقطت۔ (البحر الرائق ۱؍۲۳۷)
شرط صحتہ أي الوضوء زوال ما یمنع وصول الماء إلی الجسد کشمع شحم۔ (مراقي الفلاح مع الطحطاوي ۶۲ أشرفیۃ)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
ہاتھ پیروں پر پکا پینٹ لگا ہونے کی حالت میں وضو کرنا؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: احقر پکا پینٹ اور کلر کا کام کرتا ہے، پینٹ ہاتھ کے ناخونوں پر جم جاتا ہے، اور ہفتوں میں چھوٹتا ہے، کیا اس کے لگے رہنے سے میرا وضو وغسل ہوتا ہے یانہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: نماز پڑھنے سے پہلے تیل وغیرہ لگاکر ہاتھ اور بدن کے دیگر حصہ سے اچھی طرح پینٹ کو صاف کرنا لازم ہے، اگر پوری کوشش کے باوجود کچھ حصہ رہ جائے تو ضرورت اور حرج کی وجہ سے وضو اور غسل میں کوئی خرابی لازم نہیں آئے گی۔
وفي الجامع الصغیر: سئل أبو القاسم عن وافر الظفر الذي یبقی في أظفارہ الدرن، أو الذي یعمل عمل الطین أو المرأۃ التي صبغت إصبعہا بالحناء أو الصرام أو الصباغ قال: کل ذٰلک سواء یجزیہم وضوء ہم إذ لایستطاع الامتناع عنہ إلا بحرج، والفتوی علی الجواز۔ (الفتاوی الہندیۃ ۱؍۴)
ویعفی أثر شق زوالہ بأن یحتاج في إخراجہ إلی نحو الصابون۔ (مجمع الأنہر ۱؍۹۰)
والمراد بالأثر اللون والریح، فإن شق إزالتہما سقطت۔ (البحر الرائق ۱؍۲۳۷)
شرط صحتہ أي الوضوء زوال ما یمنع وصول الماء إلی الجسد کشمع شحم۔ (مراقي الفلاح مع الطحطاوي ۶۲ أشرفیۃ)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:1⃣0⃣1⃣
ناخن پالش
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ناخن پالش کا استعمال کیسا ہے؟ عام طور پر یہ بات اس طرح سننے میں آتی ہے کہ اس کے لگانے سے نہ غسل ہوتا ہے اور نہ وضو کیا یہ صحیح ہے؟ شریعت میں اگر استعمال درست نہیں تو کیا ایام مخصوصہ میں اس کے لگانے کی اجازت ہے، جن ایام میں نماز وغیرہ کے لیے وضو اور غسل کی ضرورت نہیں پڑتی کیا حکم ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: ناخن پالش لگے رہنے کی صورت میں وضو اور غسل صحیح نہیں ہوسکتا، لہٰذا اس کے بجائے زینت کے لیے مہندی کا استعمال کیا جائے جو مانع غسل ووضو نہیں ہے، بہتر یہ ہے کہ ناپاکی کے ایام میں بھیناخن پالش سے احتراز کریں اس لیے کہ پالش لگا کر اس کو چھڑانا بھی ایک کارے دارد ہے، اس لئے ایسے فیشن سے دورہی رہنا اچھا ہے جو طہارت کو مشکوک بنادے۔
إن صلبا منع وھو الأصح (درمختار) لامتناع نفوذ الماء مع عدم الضرورۃ والحرج۔ (شامي ۱؍۲۸۹ زکریا)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
بالوں او رناخون پر رنگ سے نماز کا حکم ؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: آج کل بالوں میں کلر اور ڈائی کرائی جاتی ہے اس سے نمازہوجائے گی یا نہیں؟ اور ناخن پر پالش لگانے سے نماز ہو جائے گی کہ نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: بالوں یا ناخونوں پر ایسارنگ لگانے سے جو اندر تک پانی پہنچانے سے مانع نہ ہو، مثلاًمہندی اور خضاب وغیرہ، تو اس سے وضویا نمازمیں کوئی خرابی نہیں آتی؛ لیکن اگر ایسی پالش نا خونو ں پرلگائی جائے جن کی باقاعدہ پرت جم جاتی ہے، تو اس کے لگانے سے وضودرست نہیں ہوگا؛ کیوںکہ اندرتک پانی نہیں پہنچا، اور جب وضو درست نہیں ہوگا تو نماز بھی صحیح نہ ہوگی۔
سئل أبو القاسم عن وافر الظفر الذي یبقی في أظفارہ الدرن أو الذي یعمل عمل الطین أو المرأۃ التي صبغت إصبعیہا بالحناء أو الصرام إلی قولہ یجز یہم وضوء ہم۔ (الفتاوی الہندیۃ ۱؍۴)
أو لزق بأصل ظفرہ طین یابس أو رطب لم یجز۔ (الفتاوی الہندیۃ ۱؍۴)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
ناخن پالش
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ناخن پالش کا استعمال کیسا ہے؟ عام طور پر یہ بات اس طرح سننے میں آتی ہے کہ اس کے لگانے سے نہ غسل ہوتا ہے اور نہ وضو کیا یہ صحیح ہے؟ شریعت میں اگر استعمال درست نہیں تو کیا ایام مخصوصہ میں اس کے لگانے کی اجازت ہے، جن ایام میں نماز وغیرہ کے لیے وضو اور غسل کی ضرورت نہیں پڑتی کیا حکم ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: ناخن پالش لگے رہنے کی صورت میں وضو اور غسل صحیح نہیں ہوسکتا، لہٰذا اس کے بجائے زینت کے لیے مہندی کا استعمال کیا جائے جو مانع غسل ووضو نہیں ہے، بہتر یہ ہے کہ ناپاکی کے ایام میں بھیناخن پالش سے احتراز کریں اس لیے کہ پالش لگا کر اس کو چھڑانا بھی ایک کارے دارد ہے، اس لئے ایسے فیشن سے دورہی رہنا اچھا ہے جو طہارت کو مشکوک بنادے۔
إن صلبا منع وھو الأصح (درمختار) لامتناع نفوذ الماء مع عدم الضرورۃ والحرج۔ (شامي ۱؍۲۸۹ زکریا)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
بالوں او رناخون پر رنگ سے نماز کا حکم ؟
سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: آج کل بالوں میں کلر اور ڈائی کرائی جاتی ہے اس سے نمازہوجائے گی یا نہیں؟ اور ناخن پر پالش لگانے سے نماز ہو جائے گی کہ نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: بالوں یا ناخونوں پر ایسارنگ لگانے سے جو اندر تک پانی پہنچانے سے مانع نہ ہو، مثلاًمہندی اور خضاب وغیرہ، تو اس سے وضویا نمازمیں کوئی خرابی نہیں آتی؛ لیکن اگر ایسی پالش نا خونو ں پرلگائی جائے جن کی باقاعدہ پرت جم جاتی ہے، تو اس کے لگانے سے وضودرست نہیں ہوگا؛ کیوںکہ اندرتک پانی نہیں پہنچا، اور جب وضو درست نہیں ہوگا تو نماز بھی صحیح نہ ہوگی۔
سئل أبو القاسم عن وافر الظفر الذي یبقی في أظفارہ الدرن أو الذي یعمل عمل الطین أو المرأۃ التي صبغت إصبعیہا بالحناء أو الصرام إلی قولہ یجز یہم وضوء ہم۔ (الفتاوی الہندیۃ ۱؍۴)
أو لزق بأصل ظفرہ طین یابس أو رطب لم یجز۔ (الفتاوی الہندیۃ ۱؍۴)
فقط واللہ تعالیٰ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:2⃣0⃣1⃣
ناخن پالش کی بلا
ناخن پالش لگانا کفار کی تقلید ہے، اس سے نہ وضو ہوتا ہے، نہ غسل، نہ نماز۔
سوال:
آج کل نوجوان لڑکیاں اس کشمکش میں مبتلا ہیں کہ آیا لڑکیاں جو ناخنوں کو پالش لگاتی ہیں اس کو صاف کرنے کے بعد وضو کریں یا پالشکے اُوپر سے ہی وضو ہوجائے گا؟ کئی سمجھدار اور تعلیم یافتہ لڑکیاں اور معزّز نمازی عورتیں یہ کہتی ہیں کہ ناخنوں کی پالش صاف کئے بغیر ہی وضو ہوجائے گا۔؟
جواب:
ناخنوں سے متعلق دو بیماریاں عورتوں میں، خصوصاً نوجوان لڑکیوں میں بہت ہی عام ہوتی جارہی ہیں، ایک ناخن بڑھانے کا مرض اور دُوسرا ناخنپالش کا۔ ناخن بڑھانے سے آدمی کے ہاتھ بالکل درندوں جیسے ہوتے ہیں اور پھر ان میں گندگی بھی رہ سکتی ہے، جس سے ناخنوں میں جراثیم پیدا ہوتے ہیں اور مختلف النوع بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دس چیزوں کو ”فطرت“ میں شمار کیا ہے، ان میں ایک ناخن تراشنا بھی ہے، پس ناخن بڑھانے کا فیشن انسانی فطرت کے خلاف ہے، جس کو مسلم خواتین کافروں کی تقلید میں اپنا رہی ہیں، مسلم خواتین کو اس خلافِ فطرت تقلید سے پرہیز کرنا چاہئے۔
دُوسرا مرض ناخن پالش کا ہے۔ حق تعالیٰ شانہ نے عورت کے اعضاء میں فطری حسن رکھا ہے، ناخن پالش کا مصنوعی لبادہ محض غیرفطری چیز ہے، پھر اس میں ناپاک چیزوں کی آمیزش بھی ہوتی ہے، وہی ناپاک ہاتھ کھانے وغیرہ میں استعمال کرنا طبعی کراہت کی چیز ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہناخن پالش کی تہ جم جاتی ہے اور جب تک اس کو صاف نہ کردیا جائے، پانی نیچے نہیں پہنچ سکتا۔ پس نہ وضو ہوتا ہے، نہ غسل، آدمی ناپاک کا ناپاک رہتا ہے۔ جو تعلیم یافتہ لڑکیاں اور معزّز نمازی عورتیں یہ کہتی ہیں کہ ناخن پالش کو صاف کئے بغیر ہی وضو ہوجاتا ہے وہ غلط فہمی میں مبتلا ہیں، اس کو صاف کئے بغیر آدمی پاک نہیں ہوتا، نہ نماز ہوگی، نہ تلاوت جائز ہوگی۔
ناخن پالش والی میّت کی پالش صاف کرکے غسل دیں۔
سوال:
اگر کہیں موت آگئی تو ناخن پالش لگی ہوئی عورت کی میّت کا غسل صحیح ہوجائے گا؟
جواب:
اس کا غسل صحیح نہیں ہوگا، اس لئے ناخن پالش صاف کرکے غسل دیا جائے۔
مستفاد:آپ کے مسائل اور انکا حل2
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail
ناخن پالش کی بلا
ناخن پالش لگانا کفار کی تقلید ہے، اس سے نہ وضو ہوتا ہے، نہ غسل، نہ نماز۔
سوال:
آج کل نوجوان لڑکیاں اس کشمکش میں مبتلا ہیں کہ آیا لڑکیاں جو ناخنوں کو پالش لگاتی ہیں اس کو صاف کرنے کے بعد وضو کریں یا پالشکے اُوپر سے ہی وضو ہوجائے گا؟ کئی سمجھدار اور تعلیم یافتہ لڑکیاں اور معزّز نمازی عورتیں یہ کہتی ہیں کہ ناخنوں کی پالش صاف کئے بغیر ہی وضو ہوجائے گا۔؟
جواب:
ناخنوں سے متعلق دو بیماریاں عورتوں میں، خصوصاً نوجوان لڑکیوں میں بہت ہی عام ہوتی جارہی ہیں، ایک ناخن بڑھانے کا مرض اور دُوسرا ناخنپالش کا۔ ناخن بڑھانے سے آدمی کے ہاتھ بالکل درندوں جیسے ہوتے ہیں اور پھر ان میں گندگی بھی رہ سکتی ہے، جس سے ناخنوں میں جراثیم پیدا ہوتے ہیں اور مختلف النوع بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دس چیزوں کو ”فطرت“ میں شمار کیا ہے، ان میں ایک ناخن تراشنا بھی ہے، پس ناخن بڑھانے کا فیشن انسانی فطرت کے خلاف ہے، جس کو مسلم خواتین کافروں کی تقلید میں اپنا رہی ہیں، مسلم خواتین کو اس خلافِ فطرت تقلید سے پرہیز کرنا چاہئے۔
دُوسرا مرض ناخن پالش کا ہے۔ حق تعالیٰ شانہ نے عورت کے اعضاء میں فطری حسن رکھا ہے، ناخن پالش کا مصنوعی لبادہ محض غیرفطری چیز ہے، پھر اس میں ناپاک چیزوں کی آمیزش بھی ہوتی ہے، وہی ناپاک ہاتھ کھانے وغیرہ میں استعمال کرنا طبعی کراہت کی چیز ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہناخن پالش کی تہ جم جاتی ہے اور جب تک اس کو صاف نہ کردیا جائے، پانی نیچے نہیں پہنچ سکتا۔ پس نہ وضو ہوتا ہے، نہ غسل، آدمی ناپاک کا ناپاک رہتا ہے۔ جو تعلیم یافتہ لڑکیاں اور معزّز نمازی عورتیں یہ کہتی ہیں کہ ناخن پالش کو صاف کئے بغیر ہی وضو ہوجاتا ہے وہ غلط فہمی میں مبتلا ہیں، اس کو صاف کئے بغیر آدمی پاک نہیں ہوتا، نہ نماز ہوگی، نہ تلاوت جائز ہوگی۔
ناخن پالش والی میّت کی پالش صاف کرکے غسل دیں۔
سوال:
اگر کہیں موت آگئی تو ناخن پالش لگی ہوئی عورت کی میّت کا غسل صحیح ہوجائے گا؟
جواب:
اس کا غسل صحیح نہیں ہوگا، اس لئے ناخن پالش صاف کرکے غسل دیا جائے۔
مستفاد:آپ کے مسائل اور انکا حل2
واللہ اعلم
محمد امیر۔۔۔۔۔
دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔
جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda
t.me/almasail
http://t.me/group_almasail