جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند
1.42K subscribers
117 photos
36 files
685 links
"جمع شدہ فتاوی مسلک دارالعلوم دیوبند" میں روزانہ ایک دو مسئلہ مدلل ومزین انداز میں بطورِ استفادہ آپ کو ملے گا،

آپ خود بھی شامل ہو اور اپنے دوست واحباب کو بھی شامل کریں۔
شکریہ۔
چینل کالنک۔
https://telegram.me/jamashuda

https://www.hanafimasail.com/?m=1
Download Telegram
جواب نمبر:9⃣6⃣

قربانی کا جانور قرض لیکر یا ادھار پر خریدنا:

قربانی کے جانور کی خریداری میں بسا اوقات نقد ادائیگی کیلئے کسی کے پاس رقم نہیں ہوتی اور وہ قرض لیکر یا ادھار پرجانور کو خریدنا چاہتا ہے تو اِس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر وہ صاحبِ نصاب نہیں تو قرض لیکر اپنے آپ پر اضافی بوجھ نہیں ڈالنا چاہیئے ، کیونکہ شریعت نے اُس پر قربانی کو لازم ہی نہیں کیا ۔ہاں! اگر وہ صاحبِ نصاب ہے لیکن فی الحال جانور کی خریداری کیلئے اُس کے پاس رقم موجود نہیں تو وہ کسی سے ادھار لیکریا خود بیچنے والے سے ادھار پر جانور خریدسکتا ہے۔اس میں کوئی حرج نہیں ۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل :4/220)

قربانی کا جانور قسطوں پر خریدنا:

قسطوں پر کی جانے والی خریدو فروخت جائز ہے ، اور قربانی کے جانور میں بھی یہ طریقہ اپنایا جاسکتا ہے یعنی ایک متعیّنہ رقم میں جانور کو خرید لیا جائے اور بعد میں ماہانہ یا جو بھی طے ہو اُس کے مطابق قسطوں کی ادئیگی کی جاتی رہے ۔اس میں کوئی حرج نہیں ۔کیونکہ جس جانور کے آپ مالک ہیں اُس کی قربانی جائز ہے ، خواہ نقد خریدیں یا ادھار اور قسطوں پر۔
(آپ کے مسائل اور ان کا حل :4/220)

واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔

https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:0⃣7⃣


رنج وغم اور قرض سے نجات دلانے والی دعا؟

سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: حضرت میرے اوپر بہت بڑا قرض ہوگیا ہے، اور بعض کاروباری پریشانیوں اور کھریلو حالات کی وجہ سے میں بہت رنج وغم کا شکار ہوں، اس لئے حضور والا سے درخواست ہے کہ مجھ پڑھنے کے لئے کوئی ایسا دعا فرمادیں، جو میرے غموں کو دور کردے اور قرض سے ادائیگی کا سبب بن جائے۔

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ

الجواب وباللّٰہ التوفیق: آپ درج ذیل دعا کا کثرت سے اہتمام کیا کریں:
اللّٰہم إني أعوذ بک من الہم والحزن وأعوذ بک من العجز والکسل وأعوذ بک من البخل والجبن وأعوذ بک من غلبۃ الدین وقہر الرجال۔ (سنن الترمذي ۲؍۱۸۶، سنن أبي داؤد ۱؍۲۱۵)

فقط واللہ تعالیٰ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔

https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:1⃣7⃣

باب الربوا
(سود کے احکام)
اے ٹی ایم (A.T.M)سے قرض کی ادائیگی۔

مسئلہ:آج کل بعض لوگ اپنے قرضوں کی ادائیگی اے ٹی ایم(A.T.M) کے ذریعہ کرتے ہیں، مثلاً ایک شخص کسی سے ایک ہزار روپئے قرض لیتا ہے، اور مقررہ وقت پر قرض خواہ کے اے ٹی ایم (A.T.M) اکاؤنٹ میں ایک ہزار روپئے ڈال دیتا ہے، بینک اپنا سروس چارج ۲۵؍ روپئے اس میں سے کاٹ لیتا ہے، تو قرض خواہ کواس کی پوری رقم ایک ہزار کی بجائے ۹۷۵؍ روپئے ہی ملتے ہیں، جب کہ وہ پورے ایک ہزار کا حقدار ہے، اس لیے ادائیگی ٔ قرض کی یہ صورت درست نہیں ہے، البتہ اے ٹی ایم(A.T.M) کے ذریعہ ادائیگی ٔ قرض کی یہ صورت، اس وقت درست ہوجائے گی ، جب قرض دار اصل قرض کی رقم کے ساتھ بینک کا سروس چارج بھی قرض خواہ کے اکاؤنٹ میں ڈالدے۔

الحجۃ علی ما قلنا:
ما في ’’ رد المحتار ‘‘ : إن الدیون تقضی بأمثالہا علی معنی أن المقبوض مضمون علی القابض ، لأن قبضہ بنفسہ علی وجہ التملک ، ولرب الدین علی المدیون مثلہ ۔ (۵/۶۷۵)
ما في ’’ بحوث في قضایا فقہیۃ معاصرۃ ‘‘ : القرض یجب في الشریعۃ الإسلامیۃ أن تقضی بأمثالہا ۔۔۔۔۔۔۔ والذي یتحقق من النظر في دلائل القرآن والسنۃ ، معاملات الناس أن المثلیۃ المطلوبۃ في القرض ہي المثلیۃ في المقدار والکمیۃ ، دون المثلیۃ في القیمۃ والمالیۃ ۔ (ص/۱۷۴)
ما في ’’ الفتاوی الہندیۃ ‘‘ : والقرض ہو أن یقرض الدراہم والدنانیر أو شیئاً مثلیاً یأخذ مثلہ في ثاني الحال ۔ (۵/۳۶۶)


واللہ اعلم

محمد امیر ۔۔۔۔۔۔۔

https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:2⃣7⃣

قرض خواہ کا انتقال ہوجائے تو قرض کس کو دے؟

مسئلہ:اگر کوئی شخص کسی سے روپیہ وغیرہ قرض لے، یا کوئی اُدھار مُعامَلہ کرے، اور ابھی قرض چکایا نہیں تھا، یا اُدھاری اَدا نہیں کی تھی کہ قرض خواہ یا دائن اِس جہانِ فانی سے رخصت ہوگیا، تو اب قرض دار یا مدیون کو چاہیے کہ وہ قرض یا دَین جو اس کے ذمہ لازم ہے میت کے شرعی وارثوں کو ادا کردیں، کیوں کہ میت کا جو قرض کسی کے ذمہ ہوتا ہے وہ اس کی وِراثت اور ترکہ میں شامل ہے(۱)، اور اگر میت کاکوئی وارث موجود نہ ہو، یا اُس تک رسائی ممکن نہ ہو، تو اب وہ قرض یا دَین کی رقم میت کی طرف سے صدقہ کردیں۔(۲)

الحجۃ علی ما قلنا:
(۱) ما في ’’ الموسوعۃ الفقہیۃ ‘‘ : والموت لم یعرف مسقطاً للدین في أصول الشرع ، فلا یسقط شيء منہ بالموت کسائر الدیون ۔
(۳۹/۱۷۳، مہر ، الموت ، بدائع الصنائع :۲/۵۸۸ ، کتاب النکاح ، بیان ما یتأکد بہ المہر)
ما في ’’ الموسوعۃ الفقہیۃ ‘‘ : لا خلاف بین الفقہاء في عدم تأثیر موت الدائن علی الدیون التي وجبت لہ في ذمۃ الغرماء ، وأنہا تنتقل إلی ورثتہ کسائر الأموال التي ترکہا ، لأن الدیون في الذمم أموال حقیقۃ أو حکمًا باعتبارہا تؤول إلی مال عند الاستیفاء ۔ (۳۹/۲۶۰ ،۲۶۱ ، موت)

(۲) ما في ’’ الدر المختار مع الشامیۃ ‘‘ : (علیہ دیون ومظالم جہل أربابہا وأیس) من علیہ ذلک (من معرفتہم فعلیہ التصدق بقدرہا من مالہ وإن واستغرقت جمیع مالہ) ہذا مذہب أصحابنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (و) متی فعل ذلک (سقط عنہ المطالبۃ) من أصحاب الدیون ۔ (در مختار) وفي الشامیۃ : وإن لم یجد المدیون ولا وارثہ صاحب الدین ولا وارثہ فتصدق المدیون أو وارثہ عن صاحب الدین برئ في الآخرۃ ۔ (۶/۴۴۳ ، کتاب اللقطۃ ، قبیل مطلب فیمن علیہ دیون ومظالم وجہل أربابہا ، ط : دار الکتب العلمیۃ بیروت ، و:۴/۲۸۳ ، ط: دار الفکر بیروت)

واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:3⃣7⃣


مسجد کے بیت المال کی رقم لوگوں کو قرض دینا؟

سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: مسجد کے بیت المال کی رقم بطور قرض کا روبار کے لئے لوگوں میں تقسیم کی جاسکتی ہے؟

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ

الجواب وباللّٰہ التوفیق: مسجد کی جمع شدہ رقم بطور قرض کاروبار کے لئے لوگوں میں دینا جائز نہیں۔

مع أن القیم لیس لہ إقراض مال المسجد، قال في جامع الفصولین: لیس للمتولي إیداع مال الوقف والمسجد إلا ممن في عیالہ، ولا إقراضہ فلو أقرضہ ضمن۔ (البحر الرائق / کتاب الوقف ۵؍۲۳۹ کراچی)
وفي القنیۃ: ولا یجوز للقیم شراء شيء من مال المسجد لنفسہ ولا البیع لہ، وإن کان فیہ منفعۃ ظاہرۃٌ للمسجد۔ (البحر الرائق / کتاب الوقف ۵؍۴۰۱ زکریا)
والودیعۃ لا تودع ولا تعار ولا تواجر ولا ترہن، وإن فعل شیئًا منہا ضمن۔ (الفتاویٰ الہندیۃ / الباب الأول من کتاب الودیعۃ ۴؍۳۳۸ زکریا)

فقط واﷲ تعالیٰ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔

https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:4⃣7⃣

سودی قرض لے کر دوکان چلانے والے کے یہاں مزدوری کرنا؟

سوال:کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: اگر کوئی آدمی سود پر روپئے لے کر یا بینک سے رقم اٹھاکر یا فائننس سے روپئے لے کر دوکان لگائے یا کاروبار کرے، تو کیا اُس کے یہاں نوکری جائز ہے؟

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: سودی قرض لینا اگرچہ ممنوع ہے؛ لیکن ایسے شخص یہاں ملازمت منع نہیں ہے۔
کل قرض جر نفعًا فہو ربا۔ (نصب الرایۃ / کتاب الحوالۃ ۴؍۶۰ المجلس العلمي ڈابھیل، ۴؍۱۳۱ مکتبۃ دار الایمان)

فقط واللہ تعالیٰ اعلم

محمد امیر ۔۔۔۔۔۔۔

https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:5⃣7⃣

کافر قرض خواہ اگر قرض سے زائد سود مانگے تو کیا حکم ہے؟

سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: زید نے کسی کافر سے قرض لیا، پھر اصلیت دے دی اور جو ربوا تھا اس کو ادا نہیں کیا، وہ اس پر بار بار اصرار کرتا ہے، مگر کہنے کے باوجود بھی نہیں دیتا، تو اس کا کیا حکم ہے؟ سود ادا کرے یا نہیں، اگر ادا کرے گا تو کیا گناہ ہوگا یا نہیں؟

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اگر زید کو شدید قسم کے جانی ومالی نقصان کا اندیشہ نہ ہو تو ہرگز سود نہ دے ورنہ گنہگار ہوگا۔
عن جابر بن عبد اللّٰہ رضي اللّٰہ عنہ قال: لعن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم آکل الربوا ومؤکلہ وکاتبہ وشاہدیہ، وقال: ہم سواء۔ (صحیح مسلم ۲؍۷۲ رقم: ۱۵۹۸، سنن الترمذي ۱؍۲۲۹ رقم: ۱۲۰۶، مشکاۃ المصابیح، البیوع / باب الربا ۲۴۴، مرقاۃ المفاتیح ۶؍۴۳ رقم: ۲۸۰۷ دار الکتب العلمیۃ بیروت)

فقط واللہ تعالیٰ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔۔


https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:6⃣7⃣

قرض ادا کرنے کے لئے سود لینا؟

سوال:
کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ہمارے والد صاحب کی مالی حیثیت بہت کمزور ہے، تقریباً ۴۵ یا ۴۶؍ہزار روپئے قرض ہے، کوئی صورت سمجھ میں نہیں آتی کیسے ادا ہوگا؟ بظاہر کوئی آمدنی بھی نہیں ہے، ایسے حالات میں میں قرض ادا کرنے کے لئے سود کا روپیہ لاٹری کھلواکر یا زکوٰۃ کا روپیہ حاصل کرکے قرض ادا کرسکتے ہیں یا شرعاً جو حکم ہو تحریر فرمائیں؟

باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:لاٹری کھلوانا اور سود لینا قطعاً حرام ہے، قرض کی ادائیگی کے لئے اس حرام کے ارتکاب کی ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی، جس روپیہ سے آپ لاٹری خریدنا چاہتے ہیں یا اس پر سود لینا چاہتے ہیں، اسے قرض کی ادائیگی میں کیوں صرف نہیں کرتے؟ اگر حلال طریقہ پر کوشش جاری رکھیں اور رفتہ رفتہ قرض ادا کرتے رہیں، تو انشاء اللہ جلد ہی اس ذمہ سے سبک دوش ہوجائیںگے۔
ارشاد خداوندی ہے:
قال اللّٰہ تعالیٰ: {وَمَنْ یَتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَہُ مَخْرَجًا۔ وَیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ} [الطلاق، جزء آیت: ۲-۳]
یعنی جو شخص اللہ سے تقویٰ اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے کوئی نکلنے کا راستہ کھول دیتا ہے، اور اس کو ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔

عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: اجتنبوا السبع الموبقات، قالوا یا رسول اللّٰہ! وما ہن؟ قال: الشرک باللّٰہ، والسحر، وقتل النفس التي حرم اللّٰہ إلا بالحق، وأکل الربا وأکل مال الیتیم، والتولي یوم الزحف، وقذف المحصنات الغافلات المؤمنات۔ (صحیح البخاري رقم: ۲۷۶۶، صحیح مسلم رقم: ۸۹، کذا في الترغیب والترہیب مکمل ۴۱۷ رقم: ۲۸۶۴ بیت الأفکار الدولیۃ)
البتہ اگر آپ خاندان سادات میں سے نہیں ہیں اور کوئی مال دار اپنی زکوٰۃ کی رقم سے آپ کا قرض ادا کرتا ہے، تو یہ صورت درست ہے، زکوٰۃ دینے والے کی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔

عن معقل قال: سألت الزہري عن {الْغَارِمِیْنَ} قال: أصحاب الدین {وَابْنِ السَّبِیْلِ} وإن کان غنیًا۔ (المصنف لابن أبي شیبۃ ۲؍۴۲۴ رقم: ۱۰۶۶۲ بیروت)
فإن کان مدیوناً فدفع إلیہ مقدار ما لو قضی بہ دینہ لا یبقی لہ شيء أو یبقی دونہ المأتین لا بأس بہ۔ (الفتاویٰ الہندیۃ ۱؍۱۸۸، الدر المختار مع الشامي / باب المصرف ۳؍۳۰۳ زکریا، مجمع الأنہر الزکاۃ / في بیان أحکام المصارف ۱؍۳۳۳ بیروت، کذا في الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۳؍۲۲۱ رقم: ۴۱۸۵ زکریا)
ولو قضیٰ دین الفقیر بزکوٰۃ مالہ إن کان بأمرہ یجوز۔ (الفتاویٰ الہندیۃ / کتاب الزکاۃ ۱؍۱۹۰ زکریا)

فقط واللہ تعالیٰ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔۔

https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
استبرء عن البول.pdf
450.4 KB
کیا پیشاب کے بعد استبراء کرنا ضروری ہے؟
جواب نمبر:8⃣7⃣



نماز کے بعد مصلی (جا نماز) کا کونا موڑنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم
مصلی کو موڑدینا نہ فرض ہے نہ واجب ہے نہ سنت ہے نہ مستحب ، نہ ہی آدابِ نماز میں اس کا شمار ہے بلکہ یہ بے اصل بات ہے، حضرت اقدس الحاج مولانا اشرف علی صاحب تھانوی نور اللہ مرقدہ ارشاد فرماتے ہیں ”مسئلہ بعض عورتیں نماز پڑھنے کے بعد جا نماز (مصلّی) کا گوشہ یہ سمجھ کر الٹ دینا ضروری سمجھتی ہیں کہ شیطان اس پر نماز پڑھے گا سو اس میں کسی بات کی بھی اصل نہیں ہے۔“
(اغلاط العوام ص:56)


واللہ اعلم


محمد امیر۔۔۔۔۔


دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:9⃣7⃣


🍇شوال کے روزوں کا استحباب 🍇

شریعت مطہرہ میں شوال کے چھ روزے مستحب اور مسنون ہیں اور حضور اکرم ﷺ کی حدیث مبارکہ میں صحیح سند کے ساتھ منقول ہے اور اس حدیث کو امام مسلم، ترمذی، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے صحیح سند کے ساتھ ذکر کیا ہے، اور فقہ حنفی کی معتبر کتابوں نے بھی ان روزوں کو مستحب اور مسنون قرار دیا ہے، لہٰذا ان روزوں کا اہتمام کرنا چاہیے۔
امام اعظم امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی طرف ان روزوں کی کراہت کا جو قول منسوب ہے، تو اس کے متعلق دو باتیں سمجھ لیں کہ۔
1⃣جن حضرات نے امام صاحب رحمہ اللہ کی طرف یہ قول منسوب کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ امام صاحب اس کو مکروہ اس لئے کہتے تھےکہ لوگ کہیں اس کو رمضان میں شمار نہ کریں جس کی وجہ سے نصاریٰ سے تشبہ پیدا ہوجائے، اب چونکہ یہ بات بھی نہیں رہی۔
2⃣جن حضرات نے امام صاحب رحمہ اللہ کی طرف کراہت کا مطلق قول منسوب کیا ہے، اس کو علامہ شامی رحمہ اللہ نے علامہ قاسم ابن قطلوبغا رحمہ اللہ کے رسالہ ’’تحرير الأقوال فی صوم الست من شوال‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے جھوٹا اور بلا دلیل قرار دیا ہے، اسی طرح حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”معارف السنن“ شرح  ترمذی میں امام ابو حنیفہ اور امام مالک رحمہما اللہ کی طرف اس قول کی نسبت کو صیغہ تمریض ”نُسِبَ“ کے ساتھ ذکر کرنے کے بعد اخیر میں علامہ قاسم بن قطلوبغا کے رسالہ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ علامہ قاسم بن قطلوبغا رحمہ اللہ نے حنفی مذہب کے نصوص سے یہ ثابت کردیا ہے کہ امام ابو حنیفہ اور امام ابویوسف رحمہما اللہ کے نزدیک یہ روزے مستحب ہیں، لہٰذا مذکورہ روزوں کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ امام صاحب رحمہ اللہ سے ثابت نہیں ہیں  بلکہ کراہت ثابت ہے، یہ کسی طرح درست نہیں ہے۔
(مستفاد ازنجم الفتاوی)

شش عید کے روزے رکھنے سے رمضان کے قضا روزے ادا نہ ہوں گے!

عوام میں یہ بات مشہور ہے کہ "شش عید کے لئے عید کے دُوسرے دن روزہ رکھنا ضروری ہے" بالکل غلط ہے، عید کے دُوسرے دن روزہ رکھنا کوئی ضروری نہیں، بلکہ عید کے مہینے میں، جب بھی چھ روزے رکھ لئے جائیں، خواہ لگاتار رکھے جائیں یا متفرق طور پر، پورا ثواب مل جائے گا، بلکہ بعض اہلِ علم نے تو عید کے دُوسرے دن روزہ رکھنے کو مکروہ کہا ہے، مگر صحیح یہ ہے کہ مکروہ نہیں، دُوسرے دن سے بھی شروع کرسکتے ہیں، شوال کے چھ روزے رکھنے سے رمضان کے قضا روزے ادا نہیں ہوں گے، بلکہ وہ الگ رکھنے ہوں گے، کیونکہ یہ نفلی روزے ہیں، اور رمضان کے فرض روزے، جب تک رمضان کے قضا روزوں کی نیت نہیں کرے گا، وہ ادا نہیں ہوں گے۔
(فتاوی یوسفی)

ایک غلط فہمی کا ازالہ!

شوال کے چھ روزے مستحب ہیں، یہ نہ فرض ہیں اور نہ واجب، اس لئے یہ سمجھنا کہ رمضان کے روزے کا اجر ان روزوں پر موقوف رہتا ہے، درست نہیں، فضائل پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ شریعت میں جس عمل کا جو درجہ ہو اس کو اسی درجہ پر رکھا جائے، کسی عمل کے لئے جو اہمیت ثابت ہے، اگر اس کو اس سے زیادہ اہمیت دے دی جا ئے تو یہ بھی بدعت ہے۔
(کتاب الفتاوی جلد سوم)

شوال کے روزوں میں دوسرے روزے کی نیت!
ماہ شوال میں جس نیت سے روزہ رکھیں گے، اسی کا اعتبار ہوگا، اگر رمضان کے روزے کی قضا کی نیت سے روزہ رکھا ہے تو قضا روزے ادا ہوں گے، شوال کے نفل روزے ادا نہ ہوں گے۔

عورت کے لئے شوال کے روزے رکھنا!
عورت بھی شوال کے روزے رکھ سکتی ہے، سوائے عورت کی ماہواری کے مخصوص ایام کے کہ ان میں نہیں رکھ سکتی۔
(مستفاد از فتاوی دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند)

شوال میں قضا روزے رکھنا افضل ہے!

جس شخص کے ذمہ فرض روزے قضا ہوں، اس کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ نفل روزہ رکھنے کی بجائے اولاً فرض کی قضا کرے، لہٰذا اگر کسی نے شوال کے چھ روزوں میں رمضان کے قضا کی نیت کرلی تو ان سے قضا کی ادائیگی درست ہوگئی، اور یہ بات مطلقاً صحیح نہیں ہے کہ جس پر قضا روزے ہوں وہ نفل روزے رکھ ہی نہیں سکتا، صحیح مسئلہ یہ ہے کہ وہ نفل روزے بھی رکھ سکتا ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ نفل کے بجائے فرض کی قضا کرے، تاکہ اس کے ذمہ سے فرض روزے ساقط ہوجائے۔

مستفاد از کتاب النوازل)

واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔

دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے

https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:0⃣8⃣


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

سوال:
کسی عورت کے رمضان المبارک کے روزے چھوٹ گئے (ماہواری کی وجہ سے) یہ عورت شوال کے چھ 6 روزے رکھے اسی میں رمضان کے روزے کی قضاء کر لیں تو اس سے رمضان کے قضاء اور شوال کے روزے کی فضیلت دونوں شامل ہوجائے گی۔؟

برائے مہربانی جلد جواب مرحمت فرمائیں

الجواب وبہ التوفیق
صورت مسئولہ میں رمضان کے روزے فرض ہیں شوال کے چھ روزے نفل ہیں لہذا شوال کے چھ روزوں میں رمضان کے روزوں کی قضا کی نیت کرنا درست نہیں اسیطرح رمضان کا روزہ صحیح نہیں ھوگا۔

ومتی نوی شیئین مختلفین متساویین فی الوکادہ والفریضتہ ولا رجحان لاحدھما علی الآخر بطلا ومتی ترجح احدہما علی الآخر ثبت الراجح کذا فی محیط السرخسی...... واذا نوی قضاء بعض رمضان والتطوع یقع عن رمضان فی قول ابی یوسف وھو روایتہ عن ابی حنیفتہ کذا فی الذخیرہ۔
عالمگیری. جلد اول.196.197. رشیدیہ

واللہ اعلم بالصواب


محمد امیر۔۔۔۔۔۔

دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔


https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:1⃣8⃣



شوال کے چھے روزے

اللہ تعالی ایسی کریم ذات ہے کہ چھوٹے عمل کا بڑا اجر اور تھوڑے عمل کا زیادہ اجر عطا فرماتے ہیں. مہربانی کی انتہاء دیکھیے کہ ہمارے بعض ان اعمال کو بھی قبول فرمالیتے ہیں جن میں اخلاص کی جگہ کچھ ریاء کا کھوٹ شامل ہوتا ہے. اسی کرم کے سہارے ہم اس دنیا میں جی رہے ہیں اور آخرت میں اسی کا سہارا ہے.

اس ذات نے خوشیوں بھری عید نصیب فرمائی جس پر اس کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے
چونکہ روزے کے اجر اللہ کریم نے از خود اپنے ذمہ لیا ہے اس لیے ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ یہ عبادت پورا سال کرے. اللہ کریم کی شان کرم دیکھیے کہ رمضان کے بعد اگر کوئی شخص رمضان کے روزوں کے ساتھ شوال کے چھ روزے بھی رکھ لے تو اسے پورا سال روزہ رکھنے کا اجر عطاء فرما دیتے ہیں.

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جس نے رمضان کے روزے رکھے، پھر اس کے بعد شوال کے چھ  روزے رکھے تو یہ پورے زمانے کے روزے رکھنے کی طرح ہے۔

🔍📖 صحیح مسلم: کتاب الصیام ،باب استحباب صوم ستۃ ايام من شوال

دوسری حدیث میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہےکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے رمضان کے روزے رکھے اور شوال کے چھ روزے رکھے تو  گویا اس نے پورے سال کے روزے رکھے.

🔍📖 مسند احمد:حدیث نمبر 14302

پہلی حدیث میں شوال کے چھ روزے رکھنے کو”پورے زمانے کے روزے“اور دوسری حدیث میں ”پورے سال کے  روزے“ رکھنے کی مانند قرار دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان جب رمضان المبارک کے پورے مہینے کے روزے رکھتا ہے تو ”الحسنة بعشر امثالها“ (ایک نیکی کا کم از کم اجر دس گناہ ہے) کے اصول کے مطابق اس ایک مہینے کے روزے دس مہینوں کے برابر بن جاتے ہیں۔ اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھےجائیں تو یہ دو مہینے کے روزوں برابر ہو جاتے ہیں، گویا رمضان اور اس کے بعدچھ روزے شوال میں رکھنے والا پورے سال کے روزوں کا مستحق بن جاتا ہے۔ اس سے  مذکورہ حدیث کا مطلب واضح سمجھ میں آتا ہے”گویا اس نے پورے سال کے روزے رکھے“ نیز اگر مسلمان کی زندگی کا یہی معمول بن جائے کہ وہ رمضان کے ساتھ ساتھ شوال کے روزوں کو بھی مستقل رکھتا رہے تو یہ ایسے ہے جیسے اس نے پوری زندگی روزوں کے ساتھ گزاری ہو۔ اس وضاحت سے حدیث مذکور کا مضمون”یہ پورے زمانے کے روزے رکھنے کی طرح ہے“بالکل واضح ہوجاتا ہے۔ لہذا کوشش کرنی چاہیے کہ اس فضیلت کو حاصل کر لیا جائے۔

📜چند ضروری مسائل:

1⃣اگر کسی کے ذمہ؛ رمضان کے روزے ہوں تو احتیاطا پہلے ان روزوں کی قضاء کی جائے، بعد میں شوال کے بقیہ دنوں میں ان چھ روزوں کو رکھا جائے۔

🔍📖 نہایۃ المحتاج: ج10 ص310 باب فی صوم التطوع

2⃣شوال کے یہ چھ روزے عید کے فوراً بعد رکھنا ضروری نہیں بلکہ عید کے دن کے بعد جب  بھی چاہیں رکھ  سکتے ہیں۔ بس اس بات کا اہتمام کر لیا جائے کہ ان چھ روزوں کی تعداد شوال میں مکمل ہو جانی چاہیے۔

🔍📖 شرح النقایۃج2 ص 215 الایام التی یستحب صومھا۔



واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔۔۔۔

دینی مسائل کو عام کرنا صدقئہ جاریہ ہے۔

https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:2⃣8⃣

ﺷﻮﺍﻝ ﮐﮯ ﭼﮫ ﺭﻭﺯﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﻋﻈﻢ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ کا موقف

ﺑﺎﻃﻞ ﻧﮯ ﮨﺮ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﻮ ﺍﮨﻞِ ﺣﻖ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﺌﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﺣﺮﺑﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﮯ؛ﺗﻘﺮﯾﺮﻭﺗﺤﺮﯾﺮ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺍﮨﻞِ ﺣﻖ ﮐﯽ ﻋﺒﺎﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻄﻠﺐ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﮈﮬﺎﻝ ﮐﺮ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﻮ ﺑﺪﻇﻦ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ۔
ﺍﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﺍﯾﮏ ﻣﯿﺴﺞ ﻋﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺭﮨﺎ ﮨﮯﮐﮧ ﻓﻘﮧ ﺣﻨﻔﯽ ﻗﺮﺁﻥ ﻭﺣﺪﯾﺚ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﮨﮯ۔

ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻣﺜﺎﻝ ﯾﻮﮞ ﺩﯼ ﮐﮧ ﺣﺪﯾﺚ ﻣﺒﺎﺭﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ : ﺟﺲ ﻧﮯ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮐﮯ ﺭﻭﺯﮮ ﺭﮐﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺷﻮﺍﻝ ﮐﮯ ﭼﮫ ﺭﻭﺯﮮ ﺭﮐﮭﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺳﺎﻝ ﺑﮭﺮ ﺭﻭﺯﮮ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺛﻮﺍﺏ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ۔

ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﻓﺘﺎﻭﯼٰ ﻋﺎﻟﻤﮕﯿﺮﯾﮧ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺳﮯ ﺗﻘﺎﺑﻞ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺑﻮﺣﻨﯿﻔﮧ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺷﻮﺍﻝ ﮐﮯ ﭼﮫ ﺭﻭﺯﮮ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮨﮯ۔

ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻏﻠﻂ ﮨﮯ۔ ﻓﻘﮧ ﺣﻨﻔﯽ ﮐﯽ ﻣﻌﺘﺒﺮ ﮐﺘﺐ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺍﺳﯽ ﻓﺘﺎﻭﯼٰ ﻋﺎﻟﻤﮕﯿﺮﯾﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺷﻮﺍﻝ ﮐﮯ 6 ﺭﻭﺯﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﺴﺘﺤﺐ ﮐﮩﺎ ﮔﯿﺎ۔

ﺑﺎﻗﯽ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﻥ ﮐﻮ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮐﮩﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﻣﻄﻠﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﯾﮧ ﺣﮑﻢ ﺧﺎﺹ ﺻﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﮨﮯ۔

ﺟﯿﺴﮯﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺨﺺ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺯﮦ ﻋﯿﺪ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺭﮐﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﻧﭻ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮨﮯ۔

ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﺍﻥ ﺭﻭﺯﻭﮞ ﮐﻮ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻓﺮﺽ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻓﺮﺽ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮨﮯ۔

ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺨﺺ ﻋﯿﺪﺍﻟﻔﻄﺮ ﮐﮯ ﺩﻥ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﻓﺮﺽ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺷﻮﺍﻝ ﮐﮯ 6 ﺭﻭﺯﮮ ﺭﮐﮭﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻣﺴﺘﺤﺐ ﮨﮯ۔ﺍﺣﻨﺎﻑ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺭﺍﺟﺢ ﯾﮩﯽ ﻗﻮﻝ ﮨﮯ۔

ﭼﻨﺪ ﺗﺼﺮﯾﺤﺎﺕ ﻣﻼﺣﻈﮧ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ:

1⃣ ﻭَﺍﻟْﺄَﺻَﺢُّ ﺃَﻧَّﻪُ ﻟَﺎ ﺑَﺄْﺱَ ﺑِﻪِ۔۔۔۔ ﻭَﺗُﺴْﺘَﺤَﺐُّ ﺍﻟﺴِّﺘَّﺔُ ﻣُﺘَﻔَﺮِّﻗَﺔً ﻛُﻞَّ ﺃُﺳْﺒُﻮﻉٍ ﻳَﻮْﻣَﺎﻥِ۔۔۔۔۔۔۔ ﻭَﻳُﻜْﺮَﻩُ ﺻَﻮْﻡُ ﺍﻟْﻮِﺻَﺎﻝِ ﻭﻫﻮ ﺃَﻥْ ﻳَﺼُﻮﻡَ ﺍﻟﺴَّﻨَﺔَ ﻛُﻠَّﻬَﺎ ﻭَﻟَﺎ ﻳُﻔْﻄِﺮَ ﻓﻲ ﺍﻟْﺄَﻳَّﺎﻡِ ﺍﻟْﻤَﻨْﻬِﻲِّ ﻋﻨﻬﺎ ﻭﺇﺫﺍ ﺃَﻓْﻄَﺮَ ﻓﻲ ﺍﻟْﺄَﻳَّﺎﻡِ ﺍﻟْﻤَﻨْﻬِﻴَّﺔِ ﺍﻟْﻤُﺨْﺘَﺎﺭُ ﺃَﻧَّﻪُ ﻟَﺎ ﺑَﺄْﺱَ ﺑِﻪِ
‏( ﻓﺘﺎﻭﯼ ﻋﺎﻟﻤﮕﯿﺮﯼ ﺝ 1 ﺹ 221 ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺼﻮﻡ ﺑﺎﺏ ﻓﯿﻤﺎﯾﮑﺮﮦ ﻟﻠﺼﺎﺋﻢ ﻭﻣﺎﻻ ﯾﮑﺮﮦ ‏)

ﺣﺎﺻﻞ ﻋﺒﺎﺭﺕ : ﺷﻮﺍﻝ ﮐﮯ ﭼﮫ ﺭﻭﺯﻭﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﻗﻮﻝ ﮨﯿﮟ۔
1⃣ : ﻣﮑﺮﻭﮦ، 2⃣ : ﻣﺴﺘﺤﺐ

ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺨﺺ ﻋﯿﺪ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺑﮭﯽ ﺭﻭﺯﮦ ﺭﮐﮭﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﻋﯿﺪ ﮐﺎ ﺩﻥ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﺗﻮ ﻣﺴﺘﺤﺐ ﮨﮯ۔

2⃣ ﻭﻧﺪﺏ ﺗﻔﺮﻳﻖ ﺻﻮﻡ ﺍﻟﺴﺖ ﻣﻦ ﺷﻮﺍﻝ ﻭﻻ ﻳﻜﺮﻩ ﺍﻟﺘﺘﺎﺑﻊ ﻋﻠﻰ ﺍﻟﻤﺨﺘﺎﺭ ﺧﻼﻓﺎ ﻟﻠﺜﺎﻧﻲ۔۔۔ ﻭﺍﻻﺗﺒﺎﻉ ﺍﻟﻤﻜﺮﻭﻩ ﺃﻥ ﻳﺼﻮﻡ ﺍﻟﻔﻄﺮ ﻭﺧﻤﺴﺔ ﺑﻌﺪﻩ ﻓﻠﻮ ﺃﻓﻄﺮ ﻟﻢ ﻳﻜﺮﻩ ﺑﻞ ﻳﺴﺘﺤﺐ ﻭﻳﺴﻦ
‏( ﺭﺩ ﺍﻟﻤﺤﺘﺎﺭ ﺝ 3 ﺹ 485 ،486 ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺼﻮﻡ : ﻣﻄﻠﺐ ﻓﯽ ﺻﻮﻡ ﺍﻟﺴﺖ ﻣﻦ ﺷﻮﺍﻝ

ﺍﺱ ﻋﺒﺎﺭﺕ ﮐﺎ ﺣﺎﺻﻞ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺷﻮﺍﻝ ﮐﮯ ﺭﻭﺯﮮ ﻣﺴﺘﺤﺐ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻋﯿﺪ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺳﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﮨﮯ۔

ﯾﮩﯽ ﺑﺎﺕ ﺑﺪﺍﺋﻊ ﺍﻟﺼﻨﺎﺋﻊ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﺬﮐﻮﺭ ﮨﮯ۔
‏[ ﺝ 2 ﺹ 215 ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺼﻮﻡ ﺍﻟﺼﯿﺎﻡ ﻓﯽ ﺍﻻﯾﺎﻡ ﺍﻟﻤﮑﺮﻭﮨۃ ‏]

واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔۔۔

https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:3⃣8⃣


سوال:
ایک آدمی عصر کی نماز پڑھ رہا تھا ایک رکعت باقی تھی اتنے میں غروب آفتاب کا وقت ہو گیا تو ایسی صورت میں آدمی کیا کرے؟ 
یعنی نماز مکمل کرے یا نہ کرے؟ 
اور اگر کسی نے نماز مکمل کر لی تو کیا نماز ہوگئی یا دوبارہ پڑھنی ہوگی ؟

جواب:
ایسی صورت میں آدمی اس بقیہ رکعت کو مکمل کرلے، اس کی وہی نماز درست ہوجائے گی، دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے،
حدیث: عن أبي هريرة،‌‌‌‏ ‌‌‌‏ قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏إذا أدرك أحدكم سجدة من صلاة العصر قبل أن تغرب الشمس فليتم صلاته‏"‌‏
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر عصر کی نماز کی ایک رکعت بھی کوئی شخص سورج غروب ہونے سے پہلے پا سکا تو پوری نماز پڑھے، یعنی بقیہ رکعت بھی مکمل کرلے، نماز درست ہوجائے گی، اور اس کی نماز ادا شمار ہوگی، 
(صحیح بخاری حدیث: 556)

حدیث ٢: "عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَدْرَکَ مِنْ الْعَصْرِ سَجْدَةً قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ أَوْ مِنْ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ فَقَدْ أَدْرَکَهَا وَالسَّجْدَةُ إِنَّمَا هِيَ الرَّکْعَةُ" 
ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس آدمی نے سورج کے غروب ہونے سے پہلے عصر کی نماز میں سے ایک سجدہ کو پالیا یا جس آدمی نے سورج کے نکلنے سے پہلے صبح کی نماز سے ایک سجدہ کو پالیا تو اس نے اس نماز کو پالیا اور سجدہ سے رکعت مراد ہے، 
(صحیح مسلم حدیث: 1274/ 76/ 77)

📓 فقہی حوالہ: "وکرہ صلاۃ مطلقا مع شروق واستواء وغروب الا عصر یومہ فلا یکرہ فعلہ" (شامی زکریا ٢/ ٣٢)(نور الایضاح ص:٥٩)
(ماخوذ از: کتاب المسائل ١/ ٢٤٣)

واللہ اعلم

محمد امیر۔۔۔۔

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:4⃣8⃣



حضرت! کیا ذکر بالجہر شرائط کے ساتھ مسجد میں کرنا جائز ہے؟ اور اگر جائز ہے تو کس طرح اور کن شرائط سے؟
Published on: Apr 23, 2017 جواب # 149906
بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa: 900-862/L=7/1438


ذکر بالجہر جائز اور احادیث سے ثابت ہے، اس لیے مسجد میں ذکر بالجہر کی گنجائش ہے، بشرطیکہ جہر کی وجہ سے نمازیوں کی نماز میں یا سونے والوں کی نیند میں خلل نہ ہو، جہاں تک ہیئت کا تعلق ہے تو حدیث میں کوئی ہیئت مذکور نہیں ہے، البتہ متأخرین صوفیاء خاص طور پر سرہلاکر ذکر کرنے کی ترغیب دیتے ہیں جس کی وجہ سے قلب میں حرارت پیدا ہوتی اور ذکر کے اثرات اعضا وجوارح پر ظاہر ہوتے ہیں؛ اس لیے اگر کوئی متبع سنت بزرگ اس طور پر ذکر کرنے کو بتلائے تو اس طریقہ پر ذکر کرنے کی گنجائش ہوگی۔


واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:5⃣8⃣


سوال # 59995

میں نے کسی کتاب میں عید کے مہینے (شوال ) کے چھ روزوں کے بارے میں پڑھا تھا۔سوال یہ ہے کہ :
(۱) ان روزوں کی کیا حقیقت ہے؟ 
(۲) ان روزوں کو مستقل طورپر رکھنا کیسا ہے؟
(۳) ان روزوں کو کس حالت میں رکھ سکتے ہیں؟
(۴) اگر رمضان کے روزے کسی بیماری /سفر کی وجہ سے رہ گئے ہیں تو ان روزوں کی تلافی کے لیے میں نے شوال کے مہینے میں چھ روزے رکھے، ان چھ روزوں کی وجہ سے چھ شوال کے جو نفل روزے ہیں وہ بھی ادا ہوجائے گا یا ان کو الگ سے رکھنے کی ضرورت ہے؟

Published on: Jul 7, 2015

جواب # 59995

بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 1147-1162/L=9/1436-U

(۱) شوال کے چھ روزوں کی فضیلت حدیث شریف میں مذکور ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”جس نے رمضان کے روزے رکھے اور پھر عید کے بعد چھ روزے رکھے تو اس نے گویا پورے سال کے روزے رکھے“ (مشکاة: ۱۷۹)
(۲) درست ہے اور بہتر یہ ہے کہ تسلسل کے ساتھ روزہ رکھنے کے بجائے متفرق طور پر رکھا جائے۔
(۳) ہرحال میں رکھ سکتے ہیں سوائے عورت کے کہ وہ ماہواری کے ایام میں نہیں رکھ سکتی۔
(۴) آپ جس نیت سے روزہ رکھیں گے اسی کا اعتبار ہوگا، اگر قضا کی نیت سے روزہ رکھتے ہیں تو قضا ادا ہوں گے شوال کے نفل روزے ادا نہ ہوں گے۔

واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

محمد امیر۔۔۔۔۔۔


جمع شدہ فتاوی
https://t.me/jamashuda

t.me/almasail

http://t.me/group_almasail
جواب نمبر:6⃣8⃣

Indiaسوال # 68042
مفتیان کرام کی خدمت میں یہ مسئلہ پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں، دنیا میں مختلف عقائد و نظریات کے علماء کرام موجود ہیں لیکن مفتی زرولی خان کراچی پاکستان مسلک دیوبند کے دنیا میں سب سے بڑے علماء میں سے ایک ہونے کا دعوا کرتے ہیں، پچھلے تقریباً دو سال سے انکی بذریعہ انٹرنیٹ بہت تشہیر کی جا رہی ہے ، انکی ویب سائٹ ahsanululoom.com اور کچھ بیانات سے تخریج کر چند باتیں اور مسائل اس تحریر میں یکجا کئے ہیں. زکوٰت کے مسائل میں لکھتے ہیں؛
(۱) سارا سال صاحب نصاب رہنا ضروری ہے ۔ ایک دفعہ بھی اگر نصاب سے مال کم ہوا تو نصاب ٹوٹ جائے گا۔ اور جب دوبارہ صاحب نصاب ہوگا سال اس دن سے شروع ہوگا۔
(۲) ایک شخص کے پاس ۴ تولہ سونا اور ۵ تولہ چاندی ہے ۔ اس کے علاوہ نقدی نہیں ہے ۔ دونوں نصاب کو نہیں پہنچ رہے ۔ اور علماء نے دونوں کو ملا کر چاندی کے نصاب پر فقراء کی سہولت کے لئے حیلہ لکھا ہے ۔ مگر کیا وہ شخص چاہے تو اس حیلہ کو نہ کرے او کہے میرے پاس دونوں نصاب کو نہیں پہنچتے ۔۔ کیا اس کا عمل درست ہے ؟جواب؛ جی یہ بات درست ہے ۔ اس شخص پر زکوة نہیں ہے ۔
اور تراویح کے بارے میں نمبر
(۳) 8 رکعات تراویح اور 12 رکعات تہجد ہے اور اسکے بعد 3 رکعات وتر ہے ۔ وتر کے بعد کوئی نماز نہیں, وتر کے بعد تہجد پڑھنے والا گنہگار ہے . ایک حدیث پر بہت زور دیتے ہیں کہ وتر کے بعد کوئی نماز نہیں, اور کہتے ہیں کہ قولی حدیث نص قطعی ہے اس کے مقابلے میں فعلی حدیث کی کوئی وقعت نہیں۔
(۴) شش عید کے روزے رکھنا بدعت ہے ۔
(۵) بائیں ہاتھ سے تسبیح پڑھنا نا جائز ہے ۔
(۶) علماء کرام کا تبلیغی جماعت میں جانا حدیث کی توہین ہے ۔
(۷) پیر زلفقار احمد نقبندی کی تحقیر، نمبر 8: نہایت متکبرانا انداز میں بعض علماء کی آواز بنا بنا کر انکی نقل اتارنا، نمبر 9: تمام علماء کرام جو تبلیغی جماعت سے منسلک ہیں انکی تحقیر کرنا انکو گھٹیا درجے کا بد ترین عالم کہنا، نمبر 10: مولانا طارق جمیل صاحب کو کافر کہنا۔
گذارش یہ ہے کے اہل سنت و الجماعت علماء احناف دیوبند مذکورہ بالا باتوں اور مسائل میں سے کتنی باتوں کے قائل ہیں یا یہ صرف علماء دیوبند پر بہتان ہے ۔
Published on: Sep 8, 2016 جواب # 68042
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 1304-1304/N=12/1437

(۱): سارا سال نصاب کا مکمل رہنا ضروری نہیں ، صرف سال کے آغاز میں اور سال کے اختتام پر نصاب کا مکمل رہنا کافی ہے، البتہ نصاب کا کچھ نہ کچھ جزو وحصہ باقی رہنا ضروری ہے، اگر نصاب کا کچھ بھی حصہ باقی نہیں رہا تو سال کا حساب ختم ہوجائے گا اور آئندہ نصاب مکمل ہونے کے بعد ہی دوبارہ سال کا حساب شروع ہوگا، ، اور مولانا زرولی خاں صاحب کی جو رائے ہے، یہ امام زفر کا قول ہے، جس پر فتوی نہیں ۔وشرط کمال النصاب … في طرفي الحول فی الابتداء للانعقاد وفی الانتھاء للوجوب فلا یضر نقصانہ بینھما، فلو ھلک کلہ بطل الحول (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الزکاة، باب زکاة المال، ۳: ۲۳۳، ۲۳۴، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، قولہ:”فلو ھلک کلہ“: أي: في أثناء الحول بطل الحول، حتی لو استفاد فیہ غیرہ استأنف لہ حولاً جدیداً (رد المحتار)،ونقصان النصاب فی الحول لا یضر إن کمل في طرفیہ، أي: إذا کان النصاب کاملاً فی ابتداء الحول وانتھائہ فنقصانہ فیما بین ذلک لا یسقط الزکاة،…… إلا أنہ لا بد من بقاء شیٴ من النصاب الذي انعقد علیہ الحول لیضم المستفاد إلیہ؛ لأن ھلاک الکل یبطل انعقاد الحول؛ إذ لا یمکن اعتبارہ بدون المال (تبیین الحقائق۱: ۲۸۰، ط: المکتبة الإمدادیة، ملتان، باکستان)، قولہ:”إلاإلا أنہ لا بد من بقاء شیٴ من النصاب الخ “:حتی لو بقي درھم أو فلس منہ ثم استفاد قبل فراغ الحول حتی تم علی نصاب زکاہ اھ، فتح (حاشیة الشلبي علی التبیین)۔
(۲): اگر کسی کے پاس سونا، چاندی دونوں ہوں اور دونوں نصاب سے کم ہوں تو ایسی صورت میں اگر سونے کو چاندی سے یا چاندی کو سونے سے ملانے میں قیمت کے اعتبار سے کوئی ایک نصاب مکمل ہوجاتا ہے تو زکوة واجب ہوگی، ورنہ نہیں۔ ویضم الذھب إلی الفضة وعکسہ بجامع الثمنیة قیمة (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الزکاة، باب زکاة المال، ۳: ۲۳۴، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، قولہ:”قولہ:”ویضم الخ“:أي: عند الاجتماع …وفی البدائع: ما ذکر من وجوب الضم إذا لم یکن کل واحد منھما نصاباً بأن کان أقل الخ (رد المحتار)۔
(۳):بیس رکعات تراویح کے موضوع پر متعدد کتابچے اور رسائل لکھے جاچکے ہیں اور ان میں سب دلائل اور تفصیلات جمع کردی گئی ہیں، خلاصہ یہ ہے کہ بیس رکعات تراویح کا مسئلہ دور صحابہ سے اجماعی ہے ، ائمہ اربعہ میں سے کوئی بیس رکعت سے کم تراویح کا قائل نہیں، تفصیل کے لیے فتاوی رحیمیہ اور رکعات تراویح موٴلفہ: محدث کبیر حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب اعظمی ، وغیرہ کا مطالعہ کیا جائے ، وھي عشرون رکعة بإجماع الصحابة رضي عنھم بعشر تسلیمات الخ (مراقی الفلاح مع حاشیة الطحطاوي، ص ۴۱۴، ط: دار الکتب العلمیة بیر
وت)۔ اور تہجد کی نماز تراویح میں شامل نہیں ہے ، وہ تراویح سے الگ ہے جیسا کہ حضرت عمر کے ارشاد گرامی: والتي ینامون عنھا أفضل من التي یقومون بھا(صحیح بخاری شریف)سے معلوم ہوتا ہے۔اور نماز وتر کے بعد جو دو رکعت نفل ہیں، ان کے متعلق علما کا اختلاف ہے، صاحب احسن الفتاوی کی رائے یہ ہے کہ وتر کے بعد دو رکعت نفل بہتر نہیں اور اگر کوئی پڑھے تو ممنوع بھی نہیں ؛ بلکہ مباح ہے؛ کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے چند مرتبہ ان کا پڑھنا ثابت ہے(احسن الفتاوی ۳: ۵۰۳،۵۰۶، مطبوعہ: ایچ، ایم سعید کمپنی، کراچی) ۔ اور فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:وتر کے بعد نوافل کا پڑھنا جائز ہے ، چناں چہ بعض صحابہ جو عشا کے بعد وتر پڑھ لیتے تھے وہ آخر رات میں تہجد پڑھتے تھے تو معلوم ہوا کہ وتر کے بعد نوافل ممنوع نہیں ہیں، نیز آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد وتر کے دو رکعت نفل پڑھی ہیں(۴: ۲۲۰، سوال: ۱۷۱۸، مسائل سنن غیر موٴکدہ، مطبوعہ: مکتبہ دار العلوم دیوبند) جیسا کہ مسلم شریف(۱: ۲۵۴، مطبوعہ: مکتبہ اشرفیہ دیوبند) اور نسائی شریف (۱: ۲۵۳، مطبوعہ؛ مکتبہ اشرفیہ دیوبند)کی روایت میں صراحت ہے، امام نووی نے اسے چند مرتبہ پر محمول کیا ہے اور دوام ومواظبت کی نفی فرمائی ہے(نووی علی شرح مسلم۱: ۲۵۴، مطبوعہ: مکتبہ اشرفیہ دیوبند)۔ اور علامہ ابن القیم نے زاد المعاد میں وتر کے بعد کی دو نفلوں کو وتر کا تتمہ اور تکملہ قرار دیا ہے ؛ کیوں کہ وتر مستقل نماز ہے، گویا یہ وتر کے بعد کی سنتیں ہیں جیسے مغرب کے بعد دو سنتیں ہیں، والصواب أن یقال إن ھاتین الرکعتین تجري مجری السنة وتکمیل الوتر فإن الوتر عبادة مستقلة ولا سیما إن قیل بوجوبہ فتجری الرکعتان بعدہ مجری سنة المغرب من المغرب فإنھا وتر النھار والرکعتان بعدھا تکمیل لھا فکذلک الرکعتان بعد وتر اللیل(زاد المعاد۱: ۸۶ بحوالہ: فتاوی محمودیہ ۷: ۲۲۶، مطبوعہ: ادارہٴ صدیق ڈابھیل)،اور ہمارے اکابر علائے دیوبند نے اس پر بحث فرمائی ہے کہ وتر کے بعد کی دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھی جائیں یا کھڑے ہوکر ؛ کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا بیٹھ کر پڑھنا ثابت ہے، تو اکثر اکابر کی رائے یہ ہے کہ ان کا کھڑے ہوکر پڑھنا افضل ہے، والمحققون من أکابرنا علی أن إتیانھما قیاماً أفضل (اعلاء السنن ۶: ۸۲، بحوالہ: فتاوی محمودیہ ۷: ۲۲۶۔نیز فتاوی رشیدیہ ص۳۶۵، مطبوعہ: گلستاں کتاب گھر دیوبند ، امداد الفتاوی ۱: ۴۵۹- ۴۶۱، سوال: ۳۹۱- ۳۹۳، مطبوعہ: مکتبہ اشرفیہ دیوبند، فتاوی دار العلوم دیوبند ۴: ۲۱۸،۲۳۱، سوال: ۱۷۱۵،۱۷۴۱، فتاوی محمودیہ ۷:۲۲۱ -۲۳۲، سوال: ۳۳۳۲- ۳۳۴۰، مطبوعہ: ادارہ صدیق ڈابھیل، کفایت المفتی جدید ۳: ۳۱۸، جواب: ۵۱۷، ۵۱۸، مطبوعہ: دار الاشاعت کراچی اور آپ کے مسائل اور ان کا حل قدیم ۲: ۳۳۵، ۳۳۶ وغیرہ بھی دیکھیں) ، اس سے بھی دلالتاً یہ معلوم ہوتا ہے کہ وتر کے بعد دو نفلیں ہمارے اکابر علمائے دیوبند کے نزدیک ممنوع نہیں؛ بلکہ ثابت ہیں ، البتہ دوام ومواظبت کا ثبوت نہیں ہے؛ اس لیے یہ سنت موٴکدہ کے درجے میں نہ ہوں گی، اگر کوئی پڑھ لے تو اچھی بات ہے اور اگر نہ پڑھے تو کچھ گناہ نہیں۔
(۴): شش عید کے روزوں کو بدعت کہنا جہالت اورلاعلمی کی دلیل ہے، یہ روزے احناف کے نزدیک صحیح ومفتی بہ قول کے مطابق مستحب وسنت ہیں، البتہ اگر کوئی شخص یہ روزے عید الفطر کا دن ملاکر رکھتا ہے، یعنی: عید الفطر اور اس کے بعد پانچ دن روزے رکھتا ہے تو یہ مکروہ ہے ؛ کیوں کہ عید الفطر کے دن روزہ رکھنا حرام ہے، اس سلسلہ میں چند دلائل اور حوالجات حسب ذیل ہیں:
الف:صحیح مسلم میں حضرت ابو ایوب انصاری سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے، پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ پوری زندگی روزہ رکھنے کے برابر ہے ، عن أبي أیوب الأنصاري أنہ حدثہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: من صام رمضان ثم أتبعہ ستاً من شوال کان کصیام الدھر، رواہ مسلم (مشکاة المصابیح، کتاب الصوم ، باب صیام التطوع، ص ۱۷۹، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)،البتہ حضرت ثوبان اور حضرت جابربن عبد اللہ کی روایت میں ہے کہ یہ ایک سال روزے کے برابر ہے(رسالہ: تحریر الأقوال فی صوم الست من شوال من مجموعة رسائل العلامة قاسم بن قطلوبغا، ص ۳۹۱ - ۳۹۳، مطبوعہ:دار النوادر، سوریة، لبنان، الکویت)۔
ب:صاحب بدائع علامہ کاسانی نے فرمایا: اتباع مکروہ یہ ہے کہ آدمی عید الفطر کے دن روزہ رکھے اور اس کے بعد پانچ دن روزے رکھے، اور اگر کسی نے عید الفطر کے دن افطار کیا ، پھر اس کے بعد چھ دن روزے رکھا تو یہ مکروہ نہیں؛ بلکہ مستحب وسنت ہے۔
والإتباع المکروہ ھو أن یصوم یوم الفطر ویصوم بعدہ خمسة أیام، فأما إذا أفطر یوم العید ثم صام بعدہ ستة أیام فلیس بمکروہ؛ بل ھو مستحب وسنة (بدائع الصنائع ، کتاب الصوم ۲: ۵۶۲، ط: دار الکتب العلمیة بیروت)۔
ج: صاحب ہدایہ علامہ مرغینانینے فرمایا: مرغوب وپسندیدہ روزوں میں شوال کے مسلسل چھ رو
زے بھی ہیں(رسالہ: تحریر الأقوال فی صوم الست من شوال من مجموعة رسائل العلامة قاسم بن قطلوبغا، ص ۳۸۶ )۔
د:فتاوی عالمگیری میں البحر الرائق کے حوالے سے ہے کہ شوال کے چھ روزوں میں کچھ حرج نہیں، اور محیط سرخسی کے حوالے سے ہے: صحیح تر قول یہ ہے کہ شوال کے چھ روزوں میں کچھ حرج نہیں، یعنی: یہ روزے مستحب ہیں؛ کیوں کہ حرج کی نفی قول کراہت کے مقابلہ میں ہے اور ایسی صورت میں حرج نہ ہونے کا مطلب استحباب ہوتا ہے۔
عامة المتأخرین لم یروا بہ - بصوم الستة من شوال- بأساً ھکذا فی البحر الرائق، والأصح أنہ لا بأس بہ کذا فی محیط السرخسي (الفتاوی الھندیة، کتاب الصوم ، الباب الثالث فیما یکرہ للصائم وما لا یکرہ،۱: ۲۰۱، ط: مکتبة زکریا دیوبند)،وکلمة ” لا بأس“ ھنا مستعملة فی المندوب ؛لأنہا لیست مطردة لما ترکہ أولی، بل تستعمل فی المندوب أیضاً إذا کان المحل مما یتوھم فیہ البأس أي: الشدة، خاصة إذا تأید ذلک الأمر بالحدیث النبوي - علی صاحبہ الصلاة والسلام - کذا حققہ الحصکفي وابن عابدین الشامي فی الدر المختار وحاشیتہ رد المحتار (کتاب الطھارة۱: ۲۴۱، کتاب الصلاة، باب العیدین ۳:
۶۵،باب الجنائز في شرح قول الدر: ” ولا بأس برش الماء علیہ “ ۳:۱۴۳ و۶: ۲۵۷ ط مکتبة زکریا دیوبند)، ومثلہا کلمة ” لا جناح “ بل قد استعملت ھذہ في سورة البقرة (رقم الآیہ: ۱۵۸)بمعنی الوجوب کما في رد المحتار لابن عابدین الشامي (۶: ۲۵۷)،وکلمة ” لا حرج“ أیضاً؛لأنہا بمعناھا۔
ھ:علامہ حصکفی نے در مختار میں ابن کمال کے حوالے سے وہی مضمون نقل فرمایا ہے ، جو اوپر بدائع کے حوالے سے ذکر کیا گیا،یعنی: عید الفطر کا دن چھوڑ کر ماہ شوال میں چھ روزے رکھنا مستحب وسنت ہے، اور علامہ شامی نے اپنے حاشیہ میں اسے برقرار رکھا؛ بلکہ متعدد کتابوں کے حوالے سے اسے موٴکد فرمایا اور کراہت کے قول کی تردید فرمائی اور آخر میں علامہ قاسم بن قطلوبغا کے رسالہ(:تحریر الأقوال فی صوم الست من شوال) کا حوالہ دیا جس میں علامہ قاسم بن قطلوبغا نے کراہت کے قول کی تردید فرماکر کتب مذہب سے استحباب وسنیت کا قول موٴکد فرمایا ہے، ذیل میں صرف در مختار کی عبارت پیش کی جاتی ہے:
والإتباع المکروہ ھو أن یصوم الفطر و خمسة بعدہ، فلو أفطر لم یکرہ؛ بل یستحب ویسن، ابن کمال (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما یکرہ فیھا، ۳: ۴۲۲، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔
و: اسی طرح علامہ محمد یوسف بنوری نے بھی سنن ترمذی کی مشہور شرح: معارف السنن (کتاب الصوم، باب ما جاء في صیام ستة من شوال) میں علامہ قاسم بن قطلوبغا کے رسالہ کی روشنی میں اسی قول کو موٴکد فرمایا ہے کہ شوال کے چھ روزے مستحب ہیں اور کراہت کے قول کی تردید فرمائی ہے۔
ز: علامہ ظفر احمد عثمانی نے اعلاء السنن (۹: ۱۷۷، مطبوعہ: إدارة القرآن والعلوم الإسلامیة کراچی)میں حضرت ابی ایوب انصاری کی روایت پر استحباب کا باب قائم فرمایا ہے،یعنی: باب استحباب صیام ستة من شوال الخ معلوم ہوا کہ شوال کے چھ روزے مستحب ہیں۔
ح: بہشتی زیورکامل(۳: ۱۴۲) میں ہے:
عید کے چھ دن نفل روزہ رکھنے کا بھی اور نفلوں سے زیادہ ثواب ہے۔
درج بالا چند دلائل اور حوالجات سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوگئی کہ شوال کے چھ روزے احناف کے نزدیک بلا شبہ مستحب وسنت ہیں اور ان کی کراہت یا بدعت کا قول صحیح نہیں۔
(۵):اگر آدمی تسبیح ہاتھ میں لے کر اس کے ذریعے کلمہ طیبہ ، درود شریف وغیرہ کی گنتی کرتا ہے تو بہتر یہ ہے کہ تسبیح دائیں ہاتھ میں لے کر گنتی کرے ، بلاعذر ومجبوری اس میں بایاں ہاتھ کا استعمال خلاف سنت اور خلاف افضل ہے؛ کیوں کہ تسبیحات کا عدد شمار کرنا بھی ایک اچھا کام ہے، اور ہر اچھے کام کے لیے دایاں ہاتھ کا استعمال سنت وافضل ہے۔ اور اگر کوئی شخص انگلیوں پر تسبیحات شمار کرتا ہے تو انگلیوں کے ذریعے تعداد شمار کرنے کا جو مسنون طریقہ ہے، اسے سیکھ کر اس کے ذریعے تعداد شمار کرے، اور اگر کسی شخص کو انگلیوں کے ذریعے تعداد شمار کرنے کا مسنون طریقہ نہیں آتا اور ہندوپاک وغیرہ میں عوام میں تسبیحات کا عدد شمار کرنے کا جو طریقہ رائج ہے، یعنی: دونوں ہاتھ کے پوروں پر تیس تک تعداد شمار کرنا، وہ اس کے ذریعے تسبیحات شمار کرتا ہے تو چوں کہ ایسے شخص کے لیے پندرہ کے بعد مجبوری ہوتی ہے ورنہ عدد میں اشتباہ ہوسکتا ہے؛ اس لیے اگرایسا شخص مجبوری کی وجہ سے اس طریقہ پر تسبیحات کی تعداد شمار کرتا ہے اور پندرہ کے بعد بائیں ہاتھ کے پوروں پر شمار کرتا ہے تو اس کی اجازت ہے، اسے ناجائز کہنا غلط ہے، جس طرح مسنون عقد انامل میں سو کے بعد سیکڑے کے لیے بایاں ہاتھ استعمال کیا جاتا ہے ؛ کیوں کہ دایاں ہاتھ صرف دہاےؤں تک کافی ہوتا ہے، سیکڑے کا حساب بایاں ہاتھ میں ہوتا ہے، اسی طرح اس میں بھی پندرہ کے بعد اشتباہ وغیرہ سے بچنے کے لیے بایاں ہاتھ کا استعمال غلط نہ ہوگا، اور چوں کہ عقد انامل کا مسنون طریقہ عوام کے لیے آسان نہیں، اسے مستقل سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے، نیز اس میں