🚫 الفاظ اور کمان کے تیر 🚫
ایک بادشاہ ہر وقت اپنے سر کو ڈھانپ کے رکھتا۔ اُسے کبھی کسی نے ننگے سر نہیں دیکھا تھا۔ بہت سے لوگوں نے اِس راز کو جاننے کی کوشش کی لیکن بادشاہ ہر مرتبہ کمال مہارت سے بات کا رُخ موڑ کر جواب دینے سے بچ جاتا۔
ایک روز اُسکے وزیرِ خاص نے بادشاہ سے اِس راز کو جاننے کی ٹھان لی، حسب سابق بادشاہ نے بڑی کوشش کی کہ کسی طرح وزیر کا دھیان اِدھر اُدھر ہو جائے، لیکن اُس نے بھی جاننے کا مصمم ارادہ کر رکھا تھا، آخر بادشاہ نے وزیر کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے۔ لیکن اُسے ایک شرط پر بتانے کی حامی بھری کہ وہ آگے کسی کو نہیں بتائے گا۔ اور ساتھ ہی کہا کہ اگر اُس نے شرط کی خلاف ورزی کی تو اُسے سخت سزا بھگتنا ہو گی۔
بادشاہ نے بتایا کہ، "اُس کے سر پر ایک سینگ ہے، اِسی لیے وہ اپنے سر کو ہمیشہ ڈھانپ کے رکھتا ہے۔۔۔!" اِس بات کو کچھ دِن ہی ہوئے تھے کہ پورے شہر میں یہ خبر پھیل گئی کہ بادشاہ کے سر پر سینگ ہے۔ بادشاہ کو بڑا غصہ آیا۔ اُس نے اپنے اُس وزیرِ خاص کو طلب کیا اور شرط کی خلاف ورزی کی پاداش میں شاہی حکم صادر کیا کہ اُسے سخت سے سخت سزا دی جائے۔۔۔۔
وزیر بہت سمجھدار تھا، وہ جھٹ سے بولا، "بادشاہ سلامت! جب آپ بادشاہ ہو کر خود اپنے ہی راز کو نہیں چھپا سکے تو پھر آپ مجھ سے یا کسی اور سے کیسے یہ اُمید کر سکتے ہیں کہ وہ آپکے راز کو چھپا کر رکھے۔ لہٰذا جتنی سزا کا حقدار میں ہوں اُتنی آپکو بھی ملنی چاہیے۔۔۔!"
میرے عزیز دوستو ! زبان سے نکلے ہوئے الفاظ اور کمان سے نکلا ہوا تیر جب نکلتے ہیں تو دو کام ہوتے ہیں۔
◘ پہلا یہ کہ وہ پھر کبھی لوٹ کر واپس نہیں آ سکتے۔ چاہے لاکھ پچھتاوے کے ہاتھ ملو۔
◘ اور دوسرا یہ کہ وہ پھر جہاں جہاں سے گزرتے ہیں اپنی شدت اور قوت کے مطابق زخم لگاتے جاتے ہیں۔ جس کا دوش ہم اپنے علاوہ کسی اور کو نہیں دے سکتے۔
اِس لیے کہتے ہیں کہ جب تک الفاظ آپکے اندر رہتے ہیں، وہ آپکے غلام ہوتے ہیں۔ اور جیسے ہی وہ ادا ہو جاتے ہیں، پھر آپ اُنکے غلام بن جاتے ہو۔ اگلی پوری زندگی آپکو اپنے عمل اور کردار سے اپنے کہے ہوئے الفاظ کی پاسداری کرنی پڑتی ہے۔ الله تعالیٰ ہم سب کا حامی و مددگار ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آمین !!
________________________
■خوش اخلاقی، بداخلاقی اور الفاظ کے اثر کے متعلق مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ لنک پر کلک کریں۔۔
💐 خوش خُلقی
https://t.me/islamwitheman/634
🌺الفاظ و انداز اور لہجہ
https://t.me/islamwitheman/475
💐 لفظوں کا زہر (تین کہانیاں)
https://t.me/islamwitheman/846
🚫 الفاظ اور کمان کے تیر
https://t.me/islamwitheman/892
🔵اخلاق اور خودسازی
https://t.me/islamwitheman/214
🔵اللھم فحسن خلقی
https://t.me/islamwitheman/324
👅احتیاط کے ساتھ بولا کریں
https://t.me/islamwitheman/396
🔵ایک بچہ اور کچھوا
https://t.me/islamwitheman/539
🔵مسکراہٹ و خاموشی
https://t.me/islamwitheman/22
📝مخدوم بنے رہنا کمال نہیں
https://t.me/islamwitheman/462
🔵 بداخلاقی کا انجام
https://t.me/islamwitheman/528
🌷احسان فراموشی
https://t.me/islamwitheman/379
🔷نصیحت آموز
https://t.me/islamwitheman/549
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
ایک بادشاہ ہر وقت اپنے سر کو ڈھانپ کے رکھتا۔ اُسے کبھی کسی نے ننگے سر نہیں دیکھا تھا۔ بہت سے لوگوں نے اِس راز کو جاننے کی کوشش کی لیکن بادشاہ ہر مرتبہ کمال مہارت سے بات کا رُخ موڑ کر جواب دینے سے بچ جاتا۔
ایک روز اُسکے وزیرِ خاص نے بادشاہ سے اِس راز کو جاننے کی ٹھان لی، حسب سابق بادشاہ نے بڑی کوشش کی کہ کسی طرح وزیر کا دھیان اِدھر اُدھر ہو جائے، لیکن اُس نے بھی جاننے کا مصمم ارادہ کر رکھا تھا، آخر بادشاہ نے وزیر کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے۔ لیکن اُسے ایک شرط پر بتانے کی حامی بھری کہ وہ آگے کسی کو نہیں بتائے گا۔ اور ساتھ ہی کہا کہ اگر اُس نے شرط کی خلاف ورزی کی تو اُسے سخت سزا بھگتنا ہو گی۔
بادشاہ نے بتایا کہ، "اُس کے سر پر ایک سینگ ہے، اِسی لیے وہ اپنے سر کو ہمیشہ ڈھانپ کے رکھتا ہے۔۔۔!" اِس بات کو کچھ دِن ہی ہوئے تھے کہ پورے شہر میں یہ خبر پھیل گئی کہ بادشاہ کے سر پر سینگ ہے۔ بادشاہ کو بڑا غصہ آیا۔ اُس نے اپنے اُس وزیرِ خاص کو طلب کیا اور شرط کی خلاف ورزی کی پاداش میں شاہی حکم صادر کیا کہ اُسے سخت سے سخت سزا دی جائے۔۔۔۔
وزیر بہت سمجھدار تھا، وہ جھٹ سے بولا، "بادشاہ سلامت! جب آپ بادشاہ ہو کر خود اپنے ہی راز کو نہیں چھپا سکے تو پھر آپ مجھ سے یا کسی اور سے کیسے یہ اُمید کر سکتے ہیں کہ وہ آپکے راز کو چھپا کر رکھے۔ لہٰذا جتنی سزا کا حقدار میں ہوں اُتنی آپکو بھی ملنی چاہیے۔۔۔!"
میرے عزیز دوستو ! زبان سے نکلے ہوئے الفاظ اور کمان سے نکلا ہوا تیر جب نکلتے ہیں تو دو کام ہوتے ہیں۔
◘ پہلا یہ کہ وہ پھر کبھی لوٹ کر واپس نہیں آ سکتے۔ چاہے لاکھ پچھتاوے کے ہاتھ ملو۔
◘ اور دوسرا یہ کہ وہ پھر جہاں جہاں سے گزرتے ہیں اپنی شدت اور قوت کے مطابق زخم لگاتے جاتے ہیں۔ جس کا دوش ہم اپنے علاوہ کسی اور کو نہیں دے سکتے۔
اِس لیے کہتے ہیں کہ جب تک الفاظ آپکے اندر رہتے ہیں، وہ آپکے غلام ہوتے ہیں۔ اور جیسے ہی وہ ادا ہو جاتے ہیں، پھر آپ اُنکے غلام بن جاتے ہو۔ اگلی پوری زندگی آپکو اپنے عمل اور کردار سے اپنے کہے ہوئے الفاظ کی پاسداری کرنی پڑتی ہے۔ الله تعالیٰ ہم سب کا حامی و مددگار ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آمین !!
________________________
■خوش اخلاقی، بداخلاقی اور الفاظ کے اثر کے متعلق مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ لنک پر کلک کریں۔۔
💐 خوش خُلقی
https://t.me/islamwitheman/634
🌺الفاظ و انداز اور لہجہ
https://t.me/islamwitheman/475
💐 لفظوں کا زہر (تین کہانیاں)
https://t.me/islamwitheman/846
🚫 الفاظ اور کمان کے تیر
https://t.me/islamwitheman/892
🔵اخلاق اور خودسازی
https://t.me/islamwitheman/214
🔵اللھم فحسن خلقی
https://t.me/islamwitheman/324
👅احتیاط کے ساتھ بولا کریں
https://t.me/islamwitheman/396
🔵ایک بچہ اور کچھوا
https://t.me/islamwitheman/539
🔵مسکراہٹ و خاموشی
https://t.me/islamwitheman/22
📝مخدوم بنے رہنا کمال نہیں
https://t.me/islamwitheman/462
🔵 بداخلاقی کا انجام
https://t.me/islamwitheman/528
🌷احسان فراموشی
https://t.me/islamwitheman/379
🔷نصیحت آموز
https://t.me/islamwitheman/549
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
💐 خوش خُلقی 💐
اچھے خوبصورت چہرے سے اچھی سیرت بہتر ہے۔ اچھی عادت والا بیگانوں کا اپنا ہوتا یے اور بُری عادات والا اپنوں سے بیگانہ ہوتا ہے۔
●رسول اکرمؐ فرماتے ہیں۔۔
"اَلاِسْلامُ حُسْنُ الْخُلْقِ"
اسلام خوش اخلاقی کا نام ہے۔(1)
●حضرت امام حسنؑ فرماتے ہیں۔۔…
اچھے خوبصورت چہرے سے اچھی سیرت بہتر ہے۔ اچھی عادت والا بیگانوں کا اپنا ہوتا یے اور بُری عادات والا اپنوں سے بیگانہ ہوتا ہے۔
●رسول اکرمؐ فرماتے ہیں۔۔
"اَلاِسْلامُ حُسْنُ الْخُلْقِ"
اسلام خوش اخلاقی کا نام ہے۔(1)
●حضرت امام حسنؑ فرماتے ہیں۔۔…
🌺 حق مہر میں حِفظ سورۂ قرآن 🌺
جس وقت میرے بابا جان کی انگیجمینٹ ہوئی -- بابا نے مہر کی جگہ سورہ آل عمران حفظ کرکے میری والدہ کو ھدیہ کیا---- اور جس دم میری انگیمینٹ ہوئی بابا نے میرے منگیتر سے کہا-- تمہیں قرآن مجید کا ایک مکمل سورہ حفظ کرنا ھوگا ورنہ میں اپنی بیٹی کا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں نھیں دونگا--- مجھ سے کسی ایک سورہ کو منتخب کرنے کے لئے کہا گیا-- چونکہ میری نظر میں سورہ نور کثیرالمطالب اور آسانی سے یاد ہونیوالا سورہ نہیں تھا لہذا میں نے سورہ نور کا انتخاب کیا-
شادی سے چند روز قبل باوجودیکہ نکاح و بیاہ کی ڈھیر ساری مصروفیات سر پہ منڈلا رہی تھیں مگر میرے منگیتر کے ہاتھوں میں مسلسل قرآن مجید نظر آرھا تھا۔
محفل عروسی سے چند روز قبل میرا منگیتر بابا جان کے سامنے حاضر ہوا,
بابا نے کہا: اگر درمیان قرآئت کوئی اشتباہ یا غلطی سرزد ھوئی تو پھر شروع سے سورہ دہرانا ھوگا-
یہ سنکر انہوں نے نرم و نازک اور لطیف آواز میں سورہ نور کی تلاوت شروع کی۔۔
یہ وہ حسِین وخوشگوار لمحات تھے جنہیں میں کبھی دستِ فراموشی کے سپرد نہیں کرسکتی-- میرے کاندھے سے لگی ہوئی ماں بار بار میری طرف دیکھتی اور ہلکی سی مسکان ان کے ہونٹوں پہ بکھر جاتی-- ہم اُس لمحہ کا بہت بیتابی سے انتظار کررہے تھے کہ جب وہ کوئی غلطی کریں اور پھر شروع سے سورہ کی تلاوت کرنا پڑے۔
مگر میرے شوھر نے (خدا انکا نصیب اچھا کرے) دورانِ قرائت ایک بار بھی اشتباہ نہیں کیا۔
جب سورہ ختم ہوا، بابا جان نے انہیں لپک کے اپنی آغوش میں بھرلیا اور کہا: لو یہ رہا تمہارا بہترین تحفہ، میں اپنی بیٹی کا ہاتھ تمہارے سپرد کرتا ھوں کیونکہ تم نے اپنا وعدہ بخوبی نبھایا ھے۔
میں نے اپنے شوھر سے نہ زر لیا نہ زیور، انہوں نے مجھے کلامِ خداوندعالم سے قانع کردیا، یہی میرا زر بھی تھا یہی میرا زیور بھی.
________________________
👈 قرآن کریم کے متعلق مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔
🌹 قرآن مجید کا پڑھنا
https://t.me/islamwitheman/284
📖 تلاوت قرآن
https://t.me/islamwitheman/285
🔵 قرآن کے متعلق غورطلب باتیں
https://t.me/islamwitheman/286
🔵 قرآن کس لیے نازل کیا گیا
https://t.me/islamwitheman/287
🌹🌼 قرآنی معلومات
https://t.me/islamwitheman/288
📗 قرآن میں اصول دین و فروع دیں
https://t.me/islamwitheman/402
🌸میں قرآن میں کہاں ہوں؟
https://t.me/islamwitheman/847
🌼 قرآن کریم کے واجب سجدے
https://t.me/islamwitheman/849
🌺 حق مہر میں حِفظ سورۂ قرآن
https://t.me/islamwitheman/893
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
جس وقت میرے بابا جان کی انگیجمینٹ ہوئی -- بابا نے مہر کی جگہ سورہ آل عمران حفظ کرکے میری والدہ کو ھدیہ کیا---- اور جس دم میری انگیمینٹ ہوئی بابا نے میرے منگیتر سے کہا-- تمہیں قرآن مجید کا ایک مکمل سورہ حفظ کرنا ھوگا ورنہ میں اپنی بیٹی کا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں نھیں دونگا--- مجھ سے کسی ایک سورہ کو منتخب کرنے کے لئے کہا گیا-- چونکہ میری نظر میں سورہ نور کثیرالمطالب اور آسانی سے یاد ہونیوالا سورہ نہیں تھا لہذا میں نے سورہ نور کا انتخاب کیا-
شادی سے چند روز قبل باوجودیکہ نکاح و بیاہ کی ڈھیر ساری مصروفیات سر پہ منڈلا رہی تھیں مگر میرے منگیتر کے ہاتھوں میں مسلسل قرآن مجید نظر آرھا تھا۔
محفل عروسی سے چند روز قبل میرا منگیتر بابا جان کے سامنے حاضر ہوا,
بابا نے کہا: اگر درمیان قرآئت کوئی اشتباہ یا غلطی سرزد ھوئی تو پھر شروع سے سورہ دہرانا ھوگا-
یہ سنکر انہوں نے نرم و نازک اور لطیف آواز میں سورہ نور کی تلاوت شروع کی۔۔
یہ وہ حسِین وخوشگوار لمحات تھے جنہیں میں کبھی دستِ فراموشی کے سپرد نہیں کرسکتی-- میرے کاندھے سے لگی ہوئی ماں بار بار میری طرف دیکھتی اور ہلکی سی مسکان ان کے ہونٹوں پہ بکھر جاتی-- ہم اُس لمحہ کا بہت بیتابی سے انتظار کررہے تھے کہ جب وہ کوئی غلطی کریں اور پھر شروع سے سورہ کی تلاوت کرنا پڑے۔
مگر میرے شوھر نے (خدا انکا نصیب اچھا کرے) دورانِ قرائت ایک بار بھی اشتباہ نہیں کیا۔
جب سورہ ختم ہوا، بابا جان نے انہیں لپک کے اپنی آغوش میں بھرلیا اور کہا: لو یہ رہا تمہارا بہترین تحفہ، میں اپنی بیٹی کا ہاتھ تمہارے سپرد کرتا ھوں کیونکہ تم نے اپنا وعدہ بخوبی نبھایا ھے۔
میں نے اپنے شوھر سے نہ زر لیا نہ زیور، انہوں نے مجھے کلامِ خداوندعالم سے قانع کردیا، یہی میرا زر بھی تھا یہی میرا زیور بھی.
________________________
👈 قرآن کریم کے متعلق مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔
🌹 قرآن مجید کا پڑھنا
https://t.me/islamwitheman/284
📖 تلاوت قرآن
https://t.me/islamwitheman/285
🔵 قرآن کے متعلق غورطلب باتیں
https://t.me/islamwitheman/286
🔵 قرآن کس لیے نازل کیا گیا
https://t.me/islamwitheman/287
🌹🌼 قرآنی معلومات
https://t.me/islamwitheman/288
📗 قرآن میں اصول دین و فروع دیں
https://t.me/islamwitheman/402
🌸میں قرآن میں کہاں ہوں؟
https://t.me/islamwitheman/847
🌼 قرآن کریم کے واجب سجدے
https://t.me/islamwitheman/849
🌺 حق مہر میں حِفظ سورۂ قرآن
https://t.me/islamwitheman/893
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌹 ﻗﺮﺁﻥ مجید کا ﭘﮍهنا 🌹
ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺫﺭﺍ ﺑﮭﯽ ﺷﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻗﺮﺁﻥ ﺍﯾﮏ ﺁﺳﻤﺎﻧﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﮨﮯ. ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﮐﻼﻡ ﮨﮯ۔ ﺍﻟﻠﮧ تعالٰی ﻧﮯ ﯾﮧ ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﺭﮨﻨﻤﺎﺋﯽ ﮐﮯ لئے ﻧﺎﺯﻝ ﮐﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﻥ کی ﮨﺪﺍﯾﺖ ﮐﮯ لئے ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﻧﺸﺎﻧﯿﺎﮞ ﮨﯿﮟ. ﯾﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﭘﺮ ﻣﻨﺤﺼﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﺲ ﻗﺪﺭ ﺍﺱ ﮐﺘﺎﺏ…
ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺫﺭﺍ ﺑﮭﯽ ﺷﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻗﺮﺁﻥ ﺍﯾﮏ ﺁﺳﻤﺎﻧﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﮨﮯ. ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﮐﻼﻡ ﮨﮯ۔ ﺍﻟﻠﮧ تعالٰی ﻧﮯ ﯾﮧ ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﺭﮨﻨﻤﺎﺋﯽ ﮐﮯ لئے ﻧﺎﺯﻝ ﮐﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﻥ کی ﮨﺪﺍﯾﺖ ﮐﮯ لئے ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﻧﺸﺎﻧﯿﺎﮞ ﮨﯿﮟ. ﯾﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﭘﺮ ﻣﻨﺤﺼﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﺲ ﻗﺪﺭ ﺍﺱ ﮐﺘﺎﺏ…
🌲 توکل بر خدا 🌲
دلہن نے گھر میں داخل ہوتے ہی تنقیدی نظروں سے گھر کا معائنہ کیا، چہرہ پر کسی قسم کا تاثر نہیں تھا،
گھر کیا تھا، ایک کچی چہاردیواری تھی، جس میں کچی پکی اینٹوں کو جوڑ کر ایک چھوٹا سا کمرہ نما بنا لیا گیا، چھت کھجور کے پتوں کی تھی، جس سے چھن چھن کر روشنی کمرے میں آرہی تھی، کمرے میں کوئی کھڑکی نہیں تھی، دیوار کو کاٹ کر کمرے کا ایک مدخل بنا لیا گیا تھا، کمرے کے فرش پر کھجور کے پتوں کا ایک گدّا بچھا ہوا تھا، گرہستی کے نام پر مٹی کی ایک ہنڈیا، ایک آبخورہ اور طاق پر ایک لکڑی کا پیالہ رکھا تھا۔
دولہن خاموشی سے بستر پر بیٹھ گئی، تھوڑی دیر میں دولھے میاں خشک روٹی کے کچھ ٹکڑے اور سالن لائے اور بیوی سے کہا:
آئیے پہلے کھانا کھالیں، پھر باتیں ہوں گی، عورت پہلی بار مسکرائی اور دستر خوان پر بیٹھ گئی، دونوں اسطرح کھانے لگے جیسے انواع و اقسام کے کھانے سامنے پروسے گئے ہوں، کھانے کیبعد دونوں نے اللہ کا شکر ادا کیا، جس نے انھیں بھوکا نہیں رکھا۔
دولہن کمرے سے باہر نکلی اور ٹہلنے لگی، طاق پر رکھے ہوئے پیالے کو ہاتھ میں لے کر غور سے دیکھا، اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ پیالے میں کیا ہے، آخر شوہر سے دریافت کیا۔۔
"اس پیالے میں کیا ہے؟"
شوہر کا چہرہ پھیکا پڑگیا، دبی زبان میں کہا:
"روٹی کے کچھ ٹکڑے ہیں، پانی میں بھگو دیے ہیں، صبح ہم دونوں کا ناشتہ ہو جائےگا۔"
دلھن نے پیالے کو پٹک کر اسی طاق پر واپس رکھ دیا، آنکھوں کے شہابی ڈورے شرربار ہوگئے، رخسار کے انار دہکنے لگے، آتش غضب سے جسم کی حدت بڑھ گئی، دولھا گھبرا گیا، پل بھر میں دلھن کی کیفیت کیوں بدل گئی۔
لرزتی ہوئی آواز میں پوچھا:
"کیا ہوا تم اتنا پریشان کیوں ہوگئیں؟"
دولہن نے فیصلہ کن آواز میں کہا:
"میں آپ کے ساتھ نہیں رہ سکتی، مجھ کو میرے گھر پہنچا دیجئے۔"
شوہر کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا، اس نے منت سماجت کرتے ہوئے کہا:
"ابھی تک تو آپ خوش تھیں، اچانک آپ کو کیا ہو گیا؟ کیا میں آپ کو پسند۔۔۔ ایسی بات تھی تو نکاح سے پہلے آپ کو بتا دینا چاھئے تھا۔"
دلہن نے نرمی سی کہا:
"ایسی کوئی بات نہیں، آپ تو مجھے دل و جان سے پسند ہیں۔"
"پھر میری غربت سے آپ گھبرا گئیں؟ میں نے تو پہلے ہی آپ کے والد سے کہہ دیا تھا کہ مال ومنال کے نام پر میرے گھر میں الله کے نام کے علاوہ کچھ نہیں ہے، پھر بھی میں محنت کروں گا اور آپ کے نان و نفقہ کا انتظام کروں گا ان شاء اللہ۔"
اس نے جواب دیا:
"آپ پتہ نہیں کیا کیا کہے جارہے ہیں، دراصل آپ کو الله پر بھروسہ اور توکل نہیں ہے اور جس شخص کا توکل الله پر نہ ہو اس کے ساتھ میں کیسے رہ سکتی ہوں؟"
"آپ نے میری کس بات سے اندازہ لگایا کہ مجھے الله پر توکل نہیں ہے؟" شوہر نے کہا۔
"اگر الله پر توکل ہوتا تو کل کی روزی کا انتظام آج ہی کیوں کرتے؟ پیالے میں روٹی نہ بھگوتے، کیا آپ نے پڑھا نہیں ہے۔۔
ومن یتوکل علی الله فھو حسبه، اگر آپ چاھتے ہیں کہ میں آپ کے ساتھ رہوں تو آپ ابھی اس پیالے کو لے جائیے اور کسی بھوکے کو کھلا دیجئیے، اللہ نے آج روزی دی ہے تو بھروسہ رکھئے الله کل بھی دے گا۔"
شوہر نے پیالے کو ہاتھ میں لیا اور زاروقطار رونے لگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
🌲 توکل علی اللہ
https://t.me/islamwitheman/687
🌲 خدا سے امید
https://t.me/islamwitheman/646
🌲 بہترین حسن ظن
https://t.me/islamwitheman/263
🌲 الله تعالٰی کی رحمت
https://t.me/islamwitheman/134
🌲 الله تعالٰی کی رحمت پر بھروسہ
https://t.me/islamwitheman/137
🌲 بیمثال مالک
https://t.me/islamwitheman/110
🌲 الله تعالٰی کی مدد
https://t.me/islamwitheman/25
🌲 حسن نیت اور جذبہ شرمساری
https://t.me/islamwitheman/301
🌲 توکل بر خدا
https://t.me/islamwitheman/894
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
دلہن نے گھر میں داخل ہوتے ہی تنقیدی نظروں سے گھر کا معائنہ کیا، چہرہ پر کسی قسم کا تاثر نہیں تھا،
گھر کیا تھا، ایک کچی چہاردیواری تھی، جس میں کچی پکی اینٹوں کو جوڑ کر ایک چھوٹا سا کمرہ نما بنا لیا گیا، چھت کھجور کے پتوں کی تھی، جس سے چھن چھن کر روشنی کمرے میں آرہی تھی، کمرے میں کوئی کھڑکی نہیں تھی، دیوار کو کاٹ کر کمرے کا ایک مدخل بنا لیا گیا تھا، کمرے کے فرش پر کھجور کے پتوں کا ایک گدّا بچھا ہوا تھا، گرہستی کے نام پر مٹی کی ایک ہنڈیا، ایک آبخورہ اور طاق پر ایک لکڑی کا پیالہ رکھا تھا۔
دولہن خاموشی سے بستر پر بیٹھ گئی، تھوڑی دیر میں دولھے میاں خشک روٹی کے کچھ ٹکڑے اور سالن لائے اور بیوی سے کہا:
آئیے پہلے کھانا کھالیں، پھر باتیں ہوں گی، عورت پہلی بار مسکرائی اور دستر خوان پر بیٹھ گئی، دونوں اسطرح کھانے لگے جیسے انواع و اقسام کے کھانے سامنے پروسے گئے ہوں، کھانے کیبعد دونوں نے اللہ کا شکر ادا کیا، جس نے انھیں بھوکا نہیں رکھا۔
دولہن کمرے سے باہر نکلی اور ٹہلنے لگی، طاق پر رکھے ہوئے پیالے کو ہاتھ میں لے کر غور سے دیکھا، اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ پیالے میں کیا ہے، آخر شوہر سے دریافت کیا۔۔
"اس پیالے میں کیا ہے؟"
شوہر کا چہرہ پھیکا پڑگیا، دبی زبان میں کہا:
"روٹی کے کچھ ٹکڑے ہیں، پانی میں بھگو دیے ہیں، صبح ہم دونوں کا ناشتہ ہو جائےگا۔"
دلھن نے پیالے کو پٹک کر اسی طاق پر واپس رکھ دیا، آنکھوں کے شہابی ڈورے شرربار ہوگئے، رخسار کے انار دہکنے لگے، آتش غضب سے جسم کی حدت بڑھ گئی، دولھا گھبرا گیا، پل بھر میں دلھن کی کیفیت کیوں بدل گئی۔
لرزتی ہوئی آواز میں پوچھا:
"کیا ہوا تم اتنا پریشان کیوں ہوگئیں؟"
دولہن نے فیصلہ کن آواز میں کہا:
"میں آپ کے ساتھ نہیں رہ سکتی، مجھ کو میرے گھر پہنچا دیجئے۔"
شوہر کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا، اس نے منت سماجت کرتے ہوئے کہا:
"ابھی تک تو آپ خوش تھیں، اچانک آپ کو کیا ہو گیا؟ کیا میں آپ کو پسند۔۔۔ ایسی بات تھی تو نکاح سے پہلے آپ کو بتا دینا چاھئے تھا۔"
دلہن نے نرمی سی کہا:
"ایسی کوئی بات نہیں، آپ تو مجھے دل و جان سے پسند ہیں۔"
"پھر میری غربت سے آپ گھبرا گئیں؟ میں نے تو پہلے ہی آپ کے والد سے کہہ دیا تھا کہ مال ومنال کے نام پر میرے گھر میں الله کے نام کے علاوہ کچھ نہیں ہے، پھر بھی میں محنت کروں گا اور آپ کے نان و نفقہ کا انتظام کروں گا ان شاء اللہ۔"
اس نے جواب دیا:
"آپ پتہ نہیں کیا کیا کہے جارہے ہیں، دراصل آپ کو الله پر بھروسہ اور توکل نہیں ہے اور جس شخص کا توکل الله پر نہ ہو اس کے ساتھ میں کیسے رہ سکتی ہوں؟"
"آپ نے میری کس بات سے اندازہ لگایا کہ مجھے الله پر توکل نہیں ہے؟" شوہر نے کہا۔
"اگر الله پر توکل ہوتا تو کل کی روزی کا انتظام آج ہی کیوں کرتے؟ پیالے میں روٹی نہ بھگوتے، کیا آپ نے پڑھا نہیں ہے۔۔
ومن یتوکل علی الله فھو حسبه، اگر آپ چاھتے ہیں کہ میں آپ کے ساتھ رہوں تو آپ ابھی اس پیالے کو لے جائیے اور کسی بھوکے کو کھلا دیجئیے، اللہ نے آج روزی دی ہے تو بھروسہ رکھئے الله کل بھی دے گا۔"
شوہر نے پیالے کو ہاتھ میں لیا اور زاروقطار رونے لگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
🌲 توکل علی اللہ
https://t.me/islamwitheman/687
🌲 خدا سے امید
https://t.me/islamwitheman/646
🌲 بہترین حسن ظن
https://t.me/islamwitheman/263
🌲 الله تعالٰی کی رحمت
https://t.me/islamwitheman/134
🌲 الله تعالٰی کی رحمت پر بھروسہ
https://t.me/islamwitheman/137
🌲 بیمثال مالک
https://t.me/islamwitheman/110
🌲 الله تعالٰی کی مدد
https://t.me/islamwitheman/25
🌲 حسن نیت اور جذبہ شرمساری
https://t.me/islamwitheman/301
🌲 توکل بر خدا
https://t.me/islamwitheman/894
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌲 توکل علی اللہ 🌲
راستہ چلنے والا اگرچہ سینکڑوں ہنر رکھتا ہو پھر بھی توکل ضروری ہے۔ اپنے جبار خدا پر بھروسہ کرو تاکہ مراد تک پہنچو۔
● ارشادِ باری تعالٰی ہے۔۔
إذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ إنَّ الله یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِینَ۔
جب کسی عمل کا ارادہ…
راستہ چلنے والا اگرچہ سینکڑوں ہنر رکھتا ہو پھر بھی توکل ضروری ہے۔ اپنے جبار خدا پر بھروسہ کرو تاکہ مراد تک پہنچو۔
● ارشادِ باری تعالٰی ہے۔۔
إذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ إنَّ الله یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِینَ۔
جب کسی عمل کا ارادہ…
⚘ایک طالبعلم کا زنا سے بچنا⚘
ﻭﮦ ﻋﻮﺭﺕ ﺭﻭﺯ ﺍﺱ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺑﻐﯿﺮ ﺍسکی ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﮯ، ﺳﺮﺟﮭﮑﺎ ﮐﺮ ﮔﻠﯽ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﺟﺎﺗﺎ۔ ﻭﮦ دینی ﻃﺎلبعلم ﻟﮕﺘﺎﺗﮭﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯽ ﺍﺳﮯ ﺩﻝ ﺩﮮ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ کسیطرﺡ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻧﻈﺮِﺍﻟﺘﻔﺎﺕ ﮈﺍﻟﮯ۔
ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺴﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﮕﻦ ﺳﺮﺟﮭﮑﺎﺋﮯ ﺯﯾﺮﻟﺐ ﮐﭽﮫ ﭘﮍﮬﺘﺎ ﮨﻮﺍ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ایک ﻣﺨﺼﻮﺹ ﻭﻗﺖ ﭘﺮﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﺁﻧﮑﮫ اﭨﮭﺎﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ۔
ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺍﺏ ﺿﺪ ﺳﯽ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ، ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﻋﻮﺭﺕ ﺗﮭﯽ۔ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺍﺗﻨﯽ ﮐﮧ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺑﺎﮨﺮﻧﮑﻠﺘﯽ ﺗﻮﻟﻮﮒ ﺍﺳﮯ ﺑﮯﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﭘﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ۔ ﺍﺳﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ جسکی ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ کیلئے ﻟﻮﮒ ﺗﺮﺳﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﺳﮑﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﮔﻮﺍﺭﮦ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ۔
ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻧﺎ ﮐﯽ ﺷﮑﺴﺖ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﮐﯽ ﺗﻮﮨﯿﻦ ﭘﺮ ﻭﮦ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﻣﻨﺼﻮﺑﮧ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺍﺱ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﻮ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺳﮑﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﺎ ﻏﺮﻭﺭ ﺗﻮﮌ ﺳﮑﮯ۔ ﺁﺧﺮﮐﺎﺭ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺳﺠﮭﺎﺩﯾﺎ۔۔۔
ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﺟﺐ ﻭﮦ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺍﺱ ﮔﻠﯽ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﺳﮑﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺁکر ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﯽ؛
ﺑﯿﭩﺎ! ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﻟﮑﻦ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﻼﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ؛
ﺍﻣﺎﮞ ﺟﯽ ﺁپکی ﻣﺎﻟﮑﻦ ﮐﻮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﺎﻡﮨﮯ؟
ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ؛
ﺑﯿﭩﺎ! ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ مسئلہ ﭘﻮﭼﮭﻨﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﻣﺠﺒﻮﺭﮨﮯ، ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺳﮑﺘﯽ۔
ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺍسکے ﺳﺎﺗﮫ ﭼﻼﮔﯿﺎ ﻧﻮﮐﺮﺍﻧﯽ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﭩﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮنیکا کہکر ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ۔
ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮﺑﻌﺪ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻭﮨﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﯽ، ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ نے ﺍﭘﻨﯽ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﺟﮭﮑﺎلیں اور ﭘﻮﭼﮭﺎ؛ بیبی ﺁﭖ ﻧﮯ ﮐﻮﻧﺴﺎ مسئلہ ﭘﻮﭼﮭﻨﺎ ﮨﮯ؟
ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺷﯿﻄﺎﻧﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﺁﮔﺌﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﮐﺎﺣﺎﻝ ﮐﮭﻮلدﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻟﻮﮞ۔
ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺳﻦ ﮐﺮ ﮐﺎﻧﭗ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ؛ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ بندی ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﮈﺭﻭ ﮐﯿﻮﮞ ﮔﻨﺎﮦ کیطرف ﻣﺎﺋﻞ ﮨﻮﺭﮨﯽ ﮨﻮ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ ﻟﯿﮑﻦ بےسود۔
عورت ﻧﮯ ﮐﮩﺎ؛
ﯾﺎﺗﻮ ﺗﻢ ﻣﯿﺮﯼ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﻭﮔﮯ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺷﻮﺭ ﻣﭽﺎﺅنگی ﮐﮧ ﺗﻢ ﺯﺑﺮﺩﺳﺘﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﺰﺕ ﭘﺮﺣﻤﻠﮧ ﮐﯿﺎ۔
ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﯾﮧ سنکر ﺑﮩﺖ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮﺍ، ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﺰﺕ کسیطرﺡ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ، ﺍﺳﮑﯽ ﺑﺎﺕ ﻣﺎﻧﺘﺎ ﺗﻮ ﮔﻨﺎہگاﺭ ﮨﻮﺗﺎ، ﻧﮧ ﻣﺎﻧﺘﺎ ﺗﻮﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﺍ ﺑﻨﺘﺎ۔
ﻭﮦ ﻋﺠﯿﺐ ﻣﺼﯿﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻨﺲ ﮔﯿﺎﺗﮭﺎ۔ ﺩﻝ ﮨﯽ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﻟﻠﮧ کیطرف ﻣﺘﻮﺟﮧ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﻣﺪﺩ ﭼﺎﮨﯽ ﺗﻮ ﺍسکے ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺍک ﺗﺮﮐﯿﺐ ﺁﮔﺌﯽ۔۔
ﺍﺱ ﻧﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ؛ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﻧﮯ کیلئے ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮﮞ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﺨﻼﺀ ﺟﺎنیکی ﺣﺎﺟﺖ ﮨﮯ۔
ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﺨﻼﺀ ﮐﺎ ﺑﺘﺎﺩﯾﺎ۔
ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺟﺎﮐﺮ ﮈﮬﯿﺮ ﺳﺎﺭﯼ ﻏﻼﻇﺖ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺴﻢ ﭘﺮ ﻣﻞ ﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﮨﺮ ﺁﮔﯿﺎ۔
ﻋﻮﺭﺕ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ہی ﭼﻼ ﺍﭨﮭﯽ ﯾﮧ ﺗﻢ ﻧﮯ ﮐﯿﺎﮐﯿﺎ ﻇﺎﻟﻢ۔۔ ﻣﺠﮫ ﺟﯿﺴﯽ ﻧﻔﯿﺲ ﻃﺒﻌﯿﺖ ﻭﺍﻟﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﮔﻨﺪﯼ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺁﮔﺌﮯ۔۔ ﺩﻓﻊ ﮨﻮ ﺟﺎﺅ۔۔ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺅ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ۔
ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻓﻮﺭﺍً ﺍسکے ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻗﺮﯾﺐ ﮨﯽ ﻧﮩﺮ ﭘﺮ خودﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﺎﮎ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺷﮑﺮ ﺍﺩﺍﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﻭﺍﭘﺲ ﻣﺪﺭﺳﮯ ﭼﻼﮔﯿﺎ۔
ﻧﻤﺎﺯ کیبعد ﺟﺐ ﻭﮦ ﺳﺒﻖ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺗﻮ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺍﺳﺘﺎﺩﺟﯽ ﻧﮯﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺁﺝ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎﺭﯼ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺁﺭﮨﯽ ﮨﮯ، ﮐﺲ ﻧﮯ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻟﮕﺎﺋﯽﮨﮯ؟
ﻭﮦ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺍسکے ﺟﺴﻢ ﺳﮯ ﺍﺑﮭﯽ ﺑﺪﺑﻮﮔﺌﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺘﺎﺩﺟﯽ ﻃﻨﺰ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﭧ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ اسکی ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮ ﺁﮔﺌﮯ۔
ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺍﺳﺘﺎﺩﺟﯽ ﻧﮯ ﭘﮭﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮐﺲ ﻧﮯ ﻟﮕﺎﺋﯽﮨﮯ؟
ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺭﮨﺎ ﺁﺧﺮﮐﺎﺭ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ سبکو ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﮐﺮﮐﮯ ﺑﻼﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺳﻮﻧﮕﮭﻨﮯ ﻟﮕﮯ۔
ﺍﺱ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺳﺮﺟﮭﮑﺎ ﮐﺮ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔
ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﺍسکے ﮐﭙﮍﻭﮞ ﮐﻮﺳﻮﻧﮕﮭﺎ ﺗﻮﻭﮦ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺍﺳﮑﮯ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﺳﮯ ﺁﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺑﺘﺎﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺗﻢ ﻧﮯ ﻟﮕﺎﺋﯽﮨﮯ؟
ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺭﻭ ﭘﮍﺍﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯﻟﮕﺎ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺟﯽ ﺍﺏ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﻣﺠﮭﮯ پتہ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﺪﺑﻮ ﺁﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﺎﺭﺍ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﻮ ﺳﻨﺎﯾﺎ۔
ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﻣﺬﺍﻕ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﮌﺍ ﺭﮨﺎ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﺳﮯ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺁﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﺝ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻮﻧﮕﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﯾﻘﯿﻨﺎً ﯾﮧ ﺍﻟﻠﮧ کیطرف ﺳﮯ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮔﻨﺎﮦ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﻧﮯ کیلئے ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮔﻨﺪﮔﯽ ﻟﮕﺎﻧﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺍﺳﯽ ﮔﻨﺪﮔﯽ ﮐﻮ ﺍﯾﺴﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻝ ﺩﯾﺎ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﯽ۔
ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﻥ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﺳﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮨﯽ ﻭﮦﺧﻮﺷﺒﻮ ﺁﺗﯽﺭﮬﯽ۔
________________________________
👈زنا کے بارے مزید پوسٹس۔۔۔
🔴❌ زنا کیا ہے
https://t.me/islamwitheman/416
🚫 زنا کے قریب بھی نہ پهٹکو
https://t.me/islamwitheman/418
🔶 زنا شرک کیبعد سب سے بڑا گناہ
https://t.me/islamwitheman/419
🔵 زنا کا فلسفہ حرمت
https://t.me/islamwitheman/420
🚫 زنا کا سدباب
https://t.me/islamwitheman/421
🌷شیطان کا وار اور خوف خدا
https://t.me/islamwitheman/424
🔵 حریص عالم اور زنا کی نحوست
https://t.me/islamwitheman/456
⚘ایک طالبعلم کا زنا سے بچنا
https://t.me/islamwitheman/895
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
ﻭﮦ ﻋﻮﺭﺕ ﺭﻭﺯ ﺍﺱ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺑﻐﯿﺮ ﺍسکی ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﮯ، ﺳﺮﺟﮭﮑﺎ ﮐﺮ ﮔﻠﯽ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﺟﺎﺗﺎ۔ ﻭﮦ دینی ﻃﺎلبعلم ﻟﮕﺘﺎﺗﮭﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯽ ﺍﺳﮯ ﺩﻝ ﺩﮮ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ کسیطرﺡ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻧﻈﺮِﺍﻟﺘﻔﺎﺕ ﮈﺍﻟﮯ۔
ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺴﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﮕﻦ ﺳﺮﺟﮭﮑﺎﺋﮯ ﺯﯾﺮﻟﺐ ﮐﭽﮫ ﭘﮍﮬﺘﺎ ﮨﻮﺍ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ایک ﻣﺨﺼﻮﺹ ﻭﻗﺖ ﭘﺮﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﺁﻧﮑﮫ اﭨﮭﺎﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ۔
ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺍﺏ ﺿﺪ ﺳﯽ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ، ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﻋﻮﺭﺕ ﺗﮭﯽ۔ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺍﺗﻨﯽ ﮐﮧ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺑﺎﮨﺮﻧﮑﻠﺘﯽ ﺗﻮﻟﻮﮒ ﺍﺳﮯ ﺑﮯﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﭘﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ۔ ﺍﺳﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ جسکی ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ کیلئے ﻟﻮﮒ ﺗﺮﺳﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﺳﮑﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﮔﻮﺍﺭﮦ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ۔
ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻧﺎ ﮐﯽ ﺷﮑﺴﺖ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﮐﯽ ﺗﻮﮨﯿﻦ ﭘﺮ ﻭﮦ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﻣﻨﺼﻮﺑﮧ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺍﺱ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﻮ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺳﮑﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﺎ ﻏﺮﻭﺭ ﺗﻮﮌ ﺳﮑﮯ۔ ﺁﺧﺮﮐﺎﺭ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺳﺠﮭﺎﺩﯾﺎ۔۔۔
ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﺟﺐ ﻭﮦ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺍﺱ ﮔﻠﯽ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﺳﮑﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺁکر ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﯽ؛
ﺑﯿﭩﺎ! ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﻟﮑﻦ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﻼﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ؛
ﺍﻣﺎﮞ ﺟﯽ ﺁپکی ﻣﺎﻟﮑﻦ ﮐﻮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﺎﻡﮨﮯ؟
ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ؛
ﺑﯿﭩﺎ! ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ مسئلہ ﭘﻮﭼﮭﻨﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﻣﺠﺒﻮﺭﮨﮯ، ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺳﮑﺘﯽ۔
ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺍسکے ﺳﺎﺗﮫ ﭼﻼﮔﯿﺎ ﻧﻮﮐﺮﺍﻧﯽ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﭩﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮنیکا کہکر ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ۔
ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮﺑﻌﺪ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻭﮨﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﯽ، ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ نے ﺍﭘﻨﯽ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﺟﮭﮑﺎلیں اور ﭘﻮﭼﮭﺎ؛ بیبی ﺁﭖ ﻧﮯ ﮐﻮﻧﺴﺎ مسئلہ ﭘﻮﭼﮭﻨﺎ ﮨﮯ؟
ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺷﯿﻄﺎﻧﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﺁﮔﺌﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﮐﺎﺣﺎﻝ ﮐﮭﻮلدﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻟﻮﮞ۔
ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺳﻦ ﮐﺮ ﮐﺎﻧﭗ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ؛ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ بندی ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﮈﺭﻭ ﮐﯿﻮﮞ ﮔﻨﺎﮦ کیطرف ﻣﺎﺋﻞ ﮨﻮﺭﮨﯽ ﮨﻮ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ ﻟﯿﮑﻦ بےسود۔
عورت ﻧﮯ ﮐﮩﺎ؛
ﯾﺎﺗﻮ ﺗﻢ ﻣﯿﺮﯼ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﻭﮔﮯ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺷﻮﺭ ﻣﭽﺎﺅنگی ﮐﮧ ﺗﻢ ﺯﺑﺮﺩﺳﺘﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﺰﺕ ﭘﺮﺣﻤﻠﮧ ﮐﯿﺎ۔
ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﯾﮧ سنکر ﺑﮩﺖ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮﺍ، ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﺰﺕ کسیطرﺡ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ، ﺍﺳﮑﯽ ﺑﺎﺕ ﻣﺎﻧﺘﺎ ﺗﻮ ﮔﻨﺎہگاﺭ ﮨﻮﺗﺎ، ﻧﮧ ﻣﺎﻧﺘﺎ ﺗﻮﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﺍ ﺑﻨﺘﺎ۔
ﻭﮦ ﻋﺠﯿﺐ ﻣﺼﯿﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻨﺲ ﮔﯿﺎﺗﮭﺎ۔ ﺩﻝ ﮨﯽ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﻟﻠﮧ کیطرف ﻣﺘﻮﺟﮧ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﻣﺪﺩ ﭼﺎﮨﯽ ﺗﻮ ﺍسکے ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺍک ﺗﺮﮐﯿﺐ ﺁﮔﺌﯽ۔۔
ﺍﺱ ﻧﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ؛ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﻧﮯ کیلئے ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮﮞ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﺨﻼﺀ ﺟﺎنیکی ﺣﺎﺟﺖ ﮨﮯ۔
ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﺨﻼﺀ ﮐﺎ ﺑﺘﺎﺩﯾﺎ۔
ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺟﺎﮐﺮ ﮈﮬﯿﺮ ﺳﺎﺭﯼ ﻏﻼﻇﺖ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺴﻢ ﭘﺮ ﻣﻞ ﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﮨﺮ ﺁﮔﯿﺎ۔
ﻋﻮﺭﺕ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ہی ﭼﻼ ﺍﭨﮭﯽ ﯾﮧ ﺗﻢ ﻧﮯ ﮐﯿﺎﮐﯿﺎ ﻇﺎﻟﻢ۔۔ ﻣﺠﮫ ﺟﯿﺴﯽ ﻧﻔﯿﺲ ﻃﺒﻌﯿﺖ ﻭﺍﻟﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﮔﻨﺪﯼ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺁﮔﺌﮯ۔۔ ﺩﻓﻊ ﮨﻮ ﺟﺎﺅ۔۔ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺅ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ۔
ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻓﻮﺭﺍً ﺍسکے ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻗﺮﯾﺐ ﮨﯽ ﻧﮩﺮ ﭘﺮ خودﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﺎﮎ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺷﮑﺮ ﺍﺩﺍﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﻭﺍﭘﺲ ﻣﺪﺭﺳﮯ ﭼﻼﮔﯿﺎ۔
ﻧﻤﺎﺯ کیبعد ﺟﺐ ﻭﮦ ﺳﺒﻖ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺗﻮ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺍﺳﺘﺎﺩﺟﯽ ﻧﮯﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺁﺝ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎﺭﯼ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺁﺭﮨﯽ ﮨﮯ، ﮐﺲ ﻧﮯ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻟﮕﺎﺋﯽﮨﮯ؟
ﻭﮦ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺍسکے ﺟﺴﻢ ﺳﮯ ﺍﺑﮭﯽ ﺑﺪﺑﻮﮔﺌﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺘﺎﺩﺟﯽ ﻃﻨﺰ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﭧ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ اسکی ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮ ﺁﮔﺌﮯ۔
ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺍﺳﺘﺎﺩﺟﯽ ﻧﮯ ﭘﮭﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮐﺲ ﻧﮯ ﻟﮕﺎﺋﯽﮨﮯ؟
ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺭﮨﺎ ﺁﺧﺮﮐﺎﺭ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ سبکو ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﮐﺮﮐﮯ ﺑﻼﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺳﻮﻧﮕﮭﻨﮯ ﻟﮕﮯ۔
ﺍﺱ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺳﺮﺟﮭﮑﺎ ﮐﺮ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔
ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﺍسکے ﮐﭙﮍﻭﮞ ﮐﻮﺳﻮﻧﮕﮭﺎ ﺗﻮﻭﮦ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺍﺳﮑﮯ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﺳﮯ ﺁﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺑﺘﺎﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺗﻢ ﻧﮯ ﻟﮕﺎﺋﯽﮨﮯ؟
ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺭﻭ ﭘﮍﺍﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯﻟﮕﺎ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺟﯽ ﺍﺏ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﻣﺠﮭﮯ پتہ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﺪﺑﻮ ﺁﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﺎﺭﺍ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﻮ ﺳﻨﺎﯾﺎ۔
ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﻣﺬﺍﻕ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﮌﺍ ﺭﮨﺎ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﺳﮯ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺁﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﺝ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻮﻧﮕﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﯾﻘﯿﻨﺎً ﯾﮧ ﺍﻟﻠﮧ کیطرف ﺳﮯ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮔﻨﺎﮦ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﻧﮯ کیلئے ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮔﻨﺪﮔﯽ ﻟﮕﺎﻧﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺍﺳﯽ ﮔﻨﺪﮔﯽ ﮐﻮ ﺍﯾﺴﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻝ ﺩﯾﺎ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﯽ۔
ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﻥ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﺳﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮨﯽ ﻭﮦﺧﻮﺷﺒﻮ ﺁﺗﯽﺭﮬﯽ۔
________________________________
👈زنا کے بارے مزید پوسٹس۔۔۔
🔴❌ زنا کیا ہے
https://t.me/islamwitheman/416
🚫 زنا کے قریب بھی نہ پهٹکو
https://t.me/islamwitheman/418
🔶 زنا شرک کیبعد سب سے بڑا گناہ
https://t.me/islamwitheman/419
🔵 زنا کا فلسفہ حرمت
https://t.me/islamwitheman/420
🚫 زنا کا سدباب
https://t.me/islamwitheman/421
🌷شیطان کا وار اور خوف خدا
https://t.me/islamwitheman/424
🔵 حریص عالم اور زنا کی نحوست
https://t.me/islamwitheman/456
⚘ایک طالبعلم کا زنا سے بچنا
https://t.me/islamwitheman/895
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🚫 زنا کیا ہے؟ 🚫
زنا کیا ہے؟
اگر مرد ایک ایسی عورت سے صحب/ همبستری کرے جو اس کی بیوی نہیں ہے تو، یہ زنا کہلاتا ہے، ضروری نہیں کہ ساتھ سونے کو ہی زنا کہتے ہیں، بلكہ چھونا بھی زنا کا ایک حصہ ہے. اور کسی پرائی عورت کو دیکھنا آنکھوں کا زنا ہے. زنا کو اسلام میں…
زنا کیا ہے؟
اگر مرد ایک ایسی عورت سے صحب/ همبستری کرے جو اس کی بیوی نہیں ہے تو، یہ زنا کہلاتا ہے، ضروری نہیں کہ ساتھ سونے کو ہی زنا کہتے ہیں، بلكہ چھونا بھی زنا کا ایک حصہ ہے. اور کسی پرائی عورت کو دیکھنا آنکھوں کا زنا ہے. زنا کو اسلام میں…
💐 ﻧﻤﺎﺯ ﻛﻰ ﺍﮨﻤﯿﺖ 💐
ﺍﺳﻼﻡ ﻣﻴﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﻛﻮ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ ﻣﻘﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ، ﺗﻮحید ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺷﮩﺎﺩﺗﯿﻦ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺻﻼۃ (ﻧﻤﺎﺯ) ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﻓﻀﻞ ﺗﺮﯾﻦ ﻋﻤﻞ ﮨﮯ، ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺳﮯ ﻣﻮﺳﻮﻡ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ، ﻓﺮﻣﺎﻥ ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮨﮯ:
ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﻮ ﺿﺎﺋﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﯾﮕﺎ۔(ﺍﻟﺒﻘﺮۃ : 143)
ﯾﻌﻨﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻤﻘﺪﺱ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭘﮍﮬﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻧﻤﺎﺯﯾﮟ ﺭﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﮔﯽ۔(ﺗﻔﺴﻴﺮ ﺍﺑﻦ ﮐﺜﯿﺮ : 1/458)
ﻧﻤﺎﺯ ﮐﯽ ﻗﺪﺭ ﻭ ﻣﻨﺰﻟﺖ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﻔﺮﺍﺩﯾﺖ ﮐﮯ ﺑﺎﻋﺚ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﺒﯿﺎﺀ ﻭ ﺭﺳﻞ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﮯ ﻓﺮﺽ ﮐﯿﺎ، ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ، ﺍﺳﺤﺎﻕ، ﯾﻌﻘﻮﺏ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﭘﺮ ﻧﻤﺎﺯ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺣﯽ ﮐﯽ، ﻓﺮﻣﺎﻥ ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮨﮯ: ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﻧﮑﯽ ﻃﺮﻑ ﻧﯿﮑﯿﺎﮞ، ﻧﻤﺎﺯﯾﮟ، ﺍﻭﺭ ﺯﮐﺎۃ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺣﯽ ﮐﯽ۔ (ﺍﻷﻧﺒﻴﺎﺀ : 73)
ﻣﻮﺳﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺳﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﺑﺮﺍﮦِ ﺭﺍﺳﺖ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﻮﺣﯿﺪ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﮨﯽ ﮐﻮ ﻓﺮﺽ ﮐﯿﺎ، ﻓﺮﻣﺎﻥ ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮨﮯ:
ﺑﯿﺸﮏ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﮨﻮﮞ، ﻣﯿﺮﮮ ﺳﻮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻌﺒﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ، ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﮨﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﺮﻭ، ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﻭ۔ (ﻃﮧ : 14)
ﻣﻮﺳﯽ ﻭ ﮨﺎﺭﻭﻥ ﻋﻠﯿﮩﻤﺎ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ، ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﮨﻢ ﻧﮯ ﻣﻮﺳﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﻮ ﻭﺣﯽ ﮐﯽ: ﺍﭘﻨﯽ ﻗﻮﻡ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﻗﺒﻠﮧ ﺭﺥ ﮔﮭﺮ ﺑﻨﺎﺅ، ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯﯾﮟ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﻭ۔ (ﻳﻮﻧﺲ : 87)
ﺳﺎﺑﻘﮧ ﺍﻣﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ،ﻓﺮﻣﺎﻥ ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮨﮯ: ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﺨﻠﺺ ﮨﻮﮐﺮ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﺻﺮﻑ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﮐﺮﯾﮟ، ﻧﻤﺎﺯﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺯﮐﺎۃ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﯾﮟ، ﯾﮩﯽ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺩﯾﻦ ﮨﮯ۔ (ﺍﻟﺒﯿﻨۃ : 5)
ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﺍﺁﺧﺮﯼ ﻧﺒﯽ ﻣﺤﻤﺪ (ص) ﮐﻮ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
ﺩﻥ ﮐﮯ ﺩوﻧﻮﮞ ﮐﻨﺎﺭﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺣﺼﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﯾﮟ۔ (ﻫﻮﺩ : 114)
نماز پڑھو اس سے پہلے کہ تمھارى نماز پڑھی جائے.
~التماس دعا: عامر شهزاد~
https://t.me/islamwitheman/842
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
ﺍﺳﻼﻡ ﻣﻴﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﻛﻮ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ ﻣﻘﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ، ﺗﻮحید ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺷﮩﺎﺩﺗﯿﻦ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺻﻼۃ (ﻧﻤﺎﺯ) ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﻓﻀﻞ ﺗﺮﯾﻦ ﻋﻤﻞ ﮨﮯ، ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺳﮯ ﻣﻮﺳﻮﻡ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ، ﻓﺮﻣﺎﻥ ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮨﮯ:
ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﻮ ﺿﺎﺋﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﯾﮕﺎ۔(ﺍﻟﺒﻘﺮۃ : 143)
ﯾﻌﻨﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻤﻘﺪﺱ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭘﮍﮬﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻧﻤﺎﺯﯾﮟ ﺭﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﮔﯽ۔(ﺗﻔﺴﻴﺮ ﺍﺑﻦ ﮐﺜﯿﺮ : 1/458)
ﻧﻤﺎﺯ ﮐﯽ ﻗﺪﺭ ﻭ ﻣﻨﺰﻟﺖ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﻔﺮﺍﺩﯾﺖ ﮐﮯ ﺑﺎﻋﺚ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﺒﯿﺎﺀ ﻭ ﺭﺳﻞ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﮯ ﻓﺮﺽ ﮐﯿﺎ، ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ، ﺍﺳﺤﺎﻕ، ﯾﻌﻘﻮﺏ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﭘﺮ ﻧﻤﺎﺯ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺣﯽ ﮐﯽ، ﻓﺮﻣﺎﻥ ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮨﮯ: ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﻧﮑﯽ ﻃﺮﻑ ﻧﯿﮑﯿﺎﮞ، ﻧﻤﺎﺯﯾﮟ، ﺍﻭﺭ ﺯﮐﺎۃ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺣﯽ ﮐﯽ۔ (ﺍﻷﻧﺒﻴﺎﺀ : 73)
ﻣﻮﺳﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺳﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﺑﺮﺍﮦِ ﺭﺍﺳﺖ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﻮﺣﯿﺪ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﮨﯽ ﮐﻮ ﻓﺮﺽ ﮐﯿﺎ، ﻓﺮﻣﺎﻥ ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮨﮯ:
ﺑﯿﺸﮏ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﮨﻮﮞ، ﻣﯿﺮﮮ ﺳﻮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻌﺒﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ، ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﮨﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﺮﻭ، ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﻭ۔ (ﻃﮧ : 14)
ﻣﻮﺳﯽ ﻭ ﮨﺎﺭﻭﻥ ﻋﻠﯿﮩﻤﺎ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ، ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﮨﻢ ﻧﮯ ﻣﻮﺳﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﻮ ﻭﺣﯽ ﮐﯽ: ﺍﭘﻨﯽ ﻗﻮﻡ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﻗﺒﻠﮧ ﺭﺥ ﮔﮭﺮ ﺑﻨﺎﺅ، ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯﯾﮟ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﻭ۔ (ﻳﻮﻧﺲ : 87)
ﺳﺎﺑﻘﮧ ﺍﻣﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ،ﻓﺮﻣﺎﻥ ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮨﮯ: ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﺨﻠﺺ ﮨﻮﮐﺮ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﺻﺮﻑ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﮐﺮﯾﮟ، ﻧﻤﺎﺯﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺯﮐﺎۃ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﯾﮟ، ﯾﮩﯽ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺩﯾﻦ ﮨﮯ۔ (ﺍﻟﺒﯿﻨۃ : 5)
ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﺍﺁﺧﺮﯼ ﻧﺒﯽ ﻣﺤﻤﺪ (ص) ﮐﻮ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
ﺩﻥ ﮐﮯ ﺩوﻧﻮﮞ ﮐﻨﺎﺭﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺣﺼﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﯾﮟ۔ (ﻫﻮﺩ : 114)
نماز پڑھو اس سے پہلے کہ تمھارى نماز پڑھی جائے.
~التماس دعا: عامر شهزاد~
https://t.me/islamwitheman/842
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌸 وضو کا طریقہ 🌸
امیرالمؤمنین حضرت علی علیه السلام کے وضو کا طریقہ اهل سنت کی کتب سے ملاحظہ ہو۔۔۔
🌟 وضو کرنے کا طریقه شیعیان اور اھل سنت کے درمیان ہمیشہ سے اختلاف رہا ہے اور اکثر مناظرات علمی اس موضوع پر کیے گئے ہیں۔
اس پوسٹ میں ہم نے یہ کوشش کی ہے کہ…
امیرالمؤمنین حضرت علی علیه السلام کے وضو کا طریقہ اهل سنت کی کتب سے ملاحظہ ہو۔۔۔
🌟 وضو کرنے کا طریقه شیعیان اور اھل سنت کے درمیان ہمیشہ سے اختلاف رہا ہے اور اکثر مناظرات علمی اس موضوع پر کیے گئے ہیں۔
اس پوسٹ میں ہم نے یہ کوشش کی ہے کہ…
🍃 اول وقت میں فضیلتِ نماز 🍂
خداوندمتعال قرآن میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ أَقيمُوا الصَّلاةَ وَ آتُوا الزَّكاةَ وَ ارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعينَ سوره بقره/ آيه 43
اور نماز قائم کرو اور زکواۃ اد ا کرو اور (اللہ کے سامنے) جھکنے والوں کے ساتھ جھکا کرو۔
نماز اول وقت کی چند فضیلتیں درج ذیل ہیں:
☀️پہلی فضیلت: محافظتِ نماز
حافِظُوا عَلَى الصَّلَواتِ وَ الصَّلاةِ الْوُسْطى وَ قُومُوا لِلَّهِ قانِتينَ سوره بقره/ آيه 238
نمازوں کی محافظت کرو، خصوصا درمیانی نماز کی اور اللہ کے حضور مطیعانہ خضوع کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ۔
✍ خصوصی محافظت کا حکم خود نماز کی ایک فضیلت ہے۔ اس آیہ میں خداوند متعال نماز کی تمام پہلوؤں سے محافظت کا حکم دے رہاہے۔ کہ انہی میں سے ایک پہلو وقت کی رعایت ہے یعنی اول وقت میں نماز ادا کریں کیونکہ اول وقت میں ادا کرنے سے معلوم ہو گا کہ آپ نماز کو کتنی اہمیت دیتے اور خدا سے کتنا عشق کرتے ہیں۔ اور دوسرا یہ کہ اول وقت میں نماز پڑھنے میں بہت سی حکمتیں اور اسرار پوشیدہ ہیں جیسے مثلا اول وقت نماز پڑھنے سے خصوصی الطافِ الہی شامل حال ہوتے ہیں جیسے مثلا معصوم کے بقول اس کی حاجات پوری ہوتی ہیں، بہشت اس کے لئے مباح ہوجاتی ہے، مرتے وقت آسانی ہوتی ہے و۔۔۔ (بحارالانوار، ج 82، ص 204 اور سفینۃ البحار، ج 2، ص 42)
☀️دوسری فضیلت: قربِ خدا
سابِقُوا إِلى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُم ۔۔۔۔ الحدید/ آیہ 21
ایک دوسرے پر سبقت لے جاؤ اپنے پروردگار کی مغفرت کی طرف۔۔۔
وَ السَّابِقُونَ السَّابِقُونَ (10) أُولئِكَ الْمُقَرَّبُونَ (11) ۔۔۔۔ واقعہ / آیہ 10 اور 11
اور سبقت لے جانے والے تو آگے بڑھنے والے ہی ہیں۔ یہی مقرب لوگ ہیں۔
✍ اگر نماز ایسی عبادت ہوتی کہ انسان جس ٹائم مرضی پڑھ لے تو خدا کبھی بھی ایسی عبادات سے متعلق یہ تعبیرات استعمال نہ کرتا۔ یعنی انسان اول وقت میں نماز ادا کرنے کی جتنی جلدی کرتا ہے اور سبقت لینے کی کوشش کرتا ہے ، اتنا ہی زیادہ قربِ الہی کی منزلیں طے کرتے ہوئے مقربین میں سے ہوتا چلاجاتا ہے۔ پس اول وقت نماز ادا کرنے کی فضیلت قربِ نماز کی وجہ سے بھی ہے۔
☀️تیسری فضیلت: نورانی برگشت
قال الباقر (ع): إِنَ الصَّلَاةَ إِذَا ارْتَفَعَتْ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا رَجَعَتْ إِلَى صَاحِبِهَا وَ هِيَ بَيْضَاءُ مُشْرِقَةٌ تَقُولُ حَفِظْتَنِي حَفِظَكَ اللَّهُ وَ إِذَا ارْتَفَعَتْ فِي غَيْرِ وَقْتِهَا بِغَيْرِ حُدُودِهَا رَجَعَتْ إِلَى صَاحِبِهَا وَ هِيَ سَوْدَاءُ مُظْلِمَةٌ تَقُولُ ضَيَّعْتَنِي ضَيَّعَكَ اللَّهُ. (وسائل الشيعه، ج 3، ص 78)
حضرت امام باقر (ع) فرماتے ہیں کہ جب بھی اول وقت کی نماز خدا کی طرف عروج کرتی ہےتو سفید اور نورانی حالت میں پڑھنے والے کی طرف لوٹتی ہے اور اسے خطاب کر کے کہتی ہے تو نے میری حفاظت کی خدا تیری حفاظت کرے۔ لیکن جب نماز اول وقت کے بعد اور بغیر شرائط کے پروردگار کی طرف عروج کرے تو پڑھنے والے کی طرف سیاہ اور تاریک حالت میں برگشت کرتی اور اسے مخاطب کر کے کہتی ہے تو نے مجھے ضائع اور تباہ کیا، خدا تجھے نابود کرے۔
☀️چوتھی فضیلت: شفاعتِ روزِ قیامت
لَا يَنَالُ شَفَاعَتِي مَنْ أَخَّرَ الصَّلَاةَ بَعْدَ وَقْتِهَا (بحار الانوار، ج 83، ص 20)
پیغمبر اسلام (ص) فرماتے ہیں نماز کو اپنے وقت (یعنی اول وقت) سے تاخیر کرنے والے کو روز قیامت میری شفاعت نصیب نہیں ہو گی (یعنی جو بھی اول وقت نماز پڑھے گا اسے شفاعت نبی مکرم اسلام نصیب ہو گی)۔
☀️نتیجہ:
اسی لئے معصوم فرماتےہیں:
إنْ قُبِلَتْ قُبِلَ مَا سِوَاهَا و إنْ رُدَّتْ رُدَّ مَا سِوَاهَا (اصول کافی، ج 3، ص 268)
اگر نماز قبول ہوئی تو ساری عبادات قبول ہو جائیں گی لیکن اگر نماز ردّ ہو گئی تو سب عبادات ردّ ہو جائیں گی۔
✍ملتمس دعا: غلام شبیر حسین
https://t.me/islamwitheman/952
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
خداوندمتعال قرآن میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ أَقيمُوا الصَّلاةَ وَ آتُوا الزَّكاةَ وَ ارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعينَ سوره بقره/ آيه 43
اور نماز قائم کرو اور زکواۃ اد ا کرو اور (اللہ کے سامنے) جھکنے والوں کے ساتھ جھکا کرو۔
نماز اول وقت کی چند فضیلتیں درج ذیل ہیں:
☀️پہلی فضیلت: محافظتِ نماز
حافِظُوا عَلَى الصَّلَواتِ وَ الصَّلاةِ الْوُسْطى وَ قُومُوا لِلَّهِ قانِتينَ سوره بقره/ آيه 238
نمازوں کی محافظت کرو، خصوصا درمیانی نماز کی اور اللہ کے حضور مطیعانہ خضوع کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ۔
✍ خصوصی محافظت کا حکم خود نماز کی ایک فضیلت ہے۔ اس آیہ میں خداوند متعال نماز کی تمام پہلوؤں سے محافظت کا حکم دے رہاہے۔ کہ انہی میں سے ایک پہلو وقت کی رعایت ہے یعنی اول وقت میں نماز ادا کریں کیونکہ اول وقت میں ادا کرنے سے معلوم ہو گا کہ آپ نماز کو کتنی اہمیت دیتے اور خدا سے کتنا عشق کرتے ہیں۔ اور دوسرا یہ کہ اول وقت میں نماز پڑھنے میں بہت سی حکمتیں اور اسرار پوشیدہ ہیں جیسے مثلا اول وقت نماز پڑھنے سے خصوصی الطافِ الہی شامل حال ہوتے ہیں جیسے مثلا معصوم کے بقول اس کی حاجات پوری ہوتی ہیں، بہشت اس کے لئے مباح ہوجاتی ہے، مرتے وقت آسانی ہوتی ہے و۔۔۔ (بحارالانوار، ج 82، ص 204 اور سفینۃ البحار، ج 2، ص 42)
☀️دوسری فضیلت: قربِ خدا
سابِقُوا إِلى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُم ۔۔۔۔ الحدید/ آیہ 21
ایک دوسرے پر سبقت لے جاؤ اپنے پروردگار کی مغفرت کی طرف۔۔۔
وَ السَّابِقُونَ السَّابِقُونَ (10) أُولئِكَ الْمُقَرَّبُونَ (11) ۔۔۔۔ واقعہ / آیہ 10 اور 11
اور سبقت لے جانے والے تو آگے بڑھنے والے ہی ہیں۔ یہی مقرب لوگ ہیں۔
✍ اگر نماز ایسی عبادت ہوتی کہ انسان جس ٹائم مرضی پڑھ لے تو خدا کبھی بھی ایسی عبادات سے متعلق یہ تعبیرات استعمال نہ کرتا۔ یعنی انسان اول وقت میں نماز ادا کرنے کی جتنی جلدی کرتا ہے اور سبقت لینے کی کوشش کرتا ہے ، اتنا ہی زیادہ قربِ الہی کی منزلیں طے کرتے ہوئے مقربین میں سے ہوتا چلاجاتا ہے۔ پس اول وقت نماز ادا کرنے کی فضیلت قربِ نماز کی وجہ سے بھی ہے۔
☀️تیسری فضیلت: نورانی برگشت
قال الباقر (ع): إِنَ الصَّلَاةَ إِذَا ارْتَفَعَتْ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا رَجَعَتْ إِلَى صَاحِبِهَا وَ هِيَ بَيْضَاءُ مُشْرِقَةٌ تَقُولُ حَفِظْتَنِي حَفِظَكَ اللَّهُ وَ إِذَا ارْتَفَعَتْ فِي غَيْرِ وَقْتِهَا بِغَيْرِ حُدُودِهَا رَجَعَتْ إِلَى صَاحِبِهَا وَ هِيَ سَوْدَاءُ مُظْلِمَةٌ تَقُولُ ضَيَّعْتَنِي ضَيَّعَكَ اللَّهُ. (وسائل الشيعه، ج 3، ص 78)
حضرت امام باقر (ع) فرماتے ہیں کہ جب بھی اول وقت کی نماز خدا کی طرف عروج کرتی ہےتو سفید اور نورانی حالت میں پڑھنے والے کی طرف لوٹتی ہے اور اسے خطاب کر کے کہتی ہے تو نے میری حفاظت کی خدا تیری حفاظت کرے۔ لیکن جب نماز اول وقت کے بعد اور بغیر شرائط کے پروردگار کی طرف عروج کرے تو پڑھنے والے کی طرف سیاہ اور تاریک حالت میں برگشت کرتی اور اسے مخاطب کر کے کہتی ہے تو نے مجھے ضائع اور تباہ کیا، خدا تجھے نابود کرے۔
☀️چوتھی فضیلت: شفاعتِ روزِ قیامت
لَا يَنَالُ شَفَاعَتِي مَنْ أَخَّرَ الصَّلَاةَ بَعْدَ وَقْتِهَا (بحار الانوار، ج 83، ص 20)
پیغمبر اسلام (ص) فرماتے ہیں نماز کو اپنے وقت (یعنی اول وقت) سے تاخیر کرنے والے کو روز قیامت میری شفاعت نصیب نہیں ہو گی (یعنی جو بھی اول وقت نماز پڑھے گا اسے شفاعت نبی مکرم اسلام نصیب ہو گی)۔
☀️نتیجہ:
اسی لئے معصوم فرماتےہیں:
إنْ قُبِلَتْ قُبِلَ مَا سِوَاهَا و إنْ رُدَّتْ رُدَّ مَا سِوَاهَا (اصول کافی، ج 3، ص 268)
اگر نماز قبول ہوئی تو ساری عبادات قبول ہو جائیں گی لیکن اگر نماز ردّ ہو گئی تو سب عبادات ردّ ہو جائیں گی۔
✍ملتمس دعا: غلام شبیر حسین
https://t.me/islamwitheman/952
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
💐 ﻧﻤﺎﺯ ﻛﻰ ﺍﮨﻤﯿﺖ 💐
ﺍﺳﻼﻡ ﻣﻴﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﻛﻮ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ ﻣﻘﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ، ﺗﻮحید ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺷﮩﺎﺩﺗﯿﻦ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺻﻼۃ (ﻧﻤﺎﺯ) ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﻓﻀﻞ ﺗﺮﯾﻦ ﻋﻤﻞ ﮨﮯ، ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺳﮯ ﻣﻮﺳﻮﻡ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ، ﻓﺮﻣﺎﻥ ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮨﮯ:
ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﻮ ﺿﺎﺋﻊ…
ﺍﺳﻼﻡ ﻣﻴﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﻛﻮ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ ﻣﻘﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ، ﺗﻮحید ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺷﮩﺎﺩﺗﯿﻦ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺻﻼۃ (ﻧﻤﺎﺯ) ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﻓﻀﻞ ﺗﺮﯾﻦ ﻋﻤﻞ ﮨﮯ، ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺳﮯ ﻣﻮﺳﻮﻡ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ، ﻓﺮﻣﺎﻥ ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮨﮯ:
ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﻮ ﺿﺎﺋﻊ…
❄ نماز کی تاثیر ❄
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: ایک دن میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز کے انتظار میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں ایک شخص اٹھا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! میں نے ایک گناہ کیا ہے اس کی مغفرت کے لیے کیا کروں؟ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کی طرف سے رخ موڑ لیا۔ جب نماز تمام ہو گئی تو وہ آدمی دوبارہ اٹھا اور اس نے اپنا سوال تکرار کیا۔ رسول خدا (ص) نے اس کے جواب میں فرمایا: کیا تم نے ابھی نماز ادا نہیں کی، کیا اس کے لیے اچھے طریقے سے وضو نہیں کیا؟ عرض کیا: کیوں نہیں یا رسول اللہ! فرمایا: یہی نماز، تمہارے گناہوں کا کفارہ اور ان کی بخشش کا سبب ہے۔
📚 بحار الانوار، ج ۷۲، ص۳۱۹۔
________________________
■نماز کے متعلق پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
🔵 کوشش اور توفیق
https://t.me/islamwitheman/227
🔵 نماز نہ پڑھنے کی تاویلات
https://t.me/islamwitheman/297
🔴 کامل نماز کا طریقہ
https://t.me/islamwitheman/293
💝 عبادت میں لذت
https://t.me/islamwitheman/352
💞 میاں بیوی کی محبت کا تقاضا
https://t.me/islamwitheman/295
🔵 نماز میں غفلت
https://t.me/islamwitheman/296
💫 نیت اور عمل
https://t.me/islamwitheman/226
🔴 نماز کی عظمت و ثواب
https://t.me/islamwitheman/292
🔵قیامت کا دن اور تین آدمیوں کی پیشی
https://t.me/islamwitheman/104
🔵 اقیموا الصلاة
https://t.me/islamwitheman/294
⚫ تارک الصّلاة کے نام
https://t.me/islamwitheman/647
☉ جمعرات کے دن کی نماز
https://t.me/islamwitheman/122
🔵 پہلی نماز جمعہ
https://t.me/islamwitheman/368
🔵 مختصر نماز مغفرت والدین
https://t.me/islamwitheman/12
🌸 وضو کا طریقہ
https://t.me/islamwitheman/842
🔵ماۂِ رمضان کی نافلہ نمازیں
https://t.me/islamwitheman/930
💐 ﻧﻤﺎﺯ ﻛﻰ ﺍﮨﻤﯿﺖ
https://t.me/islamwitheman952
🍃 اول وقت میں فضیلتِ نماز
https://t.me/islamwitheman/953
❄نماز کی تاثیر
https://t.me/islamwitheman/954
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: ایک دن میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز کے انتظار میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں ایک شخص اٹھا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! میں نے ایک گناہ کیا ہے اس کی مغفرت کے لیے کیا کروں؟ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کی طرف سے رخ موڑ لیا۔ جب نماز تمام ہو گئی تو وہ آدمی دوبارہ اٹھا اور اس نے اپنا سوال تکرار کیا۔ رسول خدا (ص) نے اس کے جواب میں فرمایا: کیا تم نے ابھی نماز ادا نہیں کی، کیا اس کے لیے اچھے طریقے سے وضو نہیں کیا؟ عرض کیا: کیوں نہیں یا رسول اللہ! فرمایا: یہی نماز، تمہارے گناہوں کا کفارہ اور ان کی بخشش کا سبب ہے۔
📚 بحار الانوار، ج ۷۲، ص۳۱۹۔
________________________
■نماز کے متعلق پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
🔵 کوشش اور توفیق
https://t.me/islamwitheman/227
🔵 نماز نہ پڑھنے کی تاویلات
https://t.me/islamwitheman/297
🔴 کامل نماز کا طریقہ
https://t.me/islamwitheman/293
💝 عبادت میں لذت
https://t.me/islamwitheman/352
💞 میاں بیوی کی محبت کا تقاضا
https://t.me/islamwitheman/295
🔵 نماز میں غفلت
https://t.me/islamwitheman/296
💫 نیت اور عمل
https://t.me/islamwitheman/226
🔴 نماز کی عظمت و ثواب
https://t.me/islamwitheman/292
🔵قیامت کا دن اور تین آدمیوں کی پیشی
https://t.me/islamwitheman/104
🔵 اقیموا الصلاة
https://t.me/islamwitheman/294
⚫ تارک الصّلاة کے نام
https://t.me/islamwitheman/647
☉ جمعرات کے دن کی نماز
https://t.me/islamwitheman/122
🔵 پہلی نماز جمعہ
https://t.me/islamwitheman/368
🔵 مختصر نماز مغفرت والدین
https://t.me/islamwitheman/12
🌸 وضو کا طریقہ
https://t.me/islamwitheman/842
🔵ماۂِ رمضان کی نافلہ نمازیں
https://t.me/islamwitheman/930
💐 ﻧﻤﺎﺯ ﻛﻰ ﺍﮨﻤﯿﺖ
https://t.me/islamwitheman952
🍃 اول وقت میں فضیلتِ نماز
https://t.me/islamwitheman/953
❄نماز کی تاثیر
https://t.me/islamwitheman/954
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 کوشش اور توفیق 🔷
ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﮕﺮ ﺩﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺍﺩﺍﺳﯽ ﮐﮯ ﺗﺎﺛﺮﺍﺕ ﻧﻤﺎﯾﺎﮞ ﺗﮭﮯ.
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻮﺟﮧ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻣﺼﻠﮯ ﮐﯽ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺟﺎﻧﺐ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺗﮭﺎ،
ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﭖ ﮨﻤﺖ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﭨﻨﮯ ﭘﺎﺋﮯ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ.
ﻣﮕﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ…
ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﮕﺮ ﺩﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺍﺩﺍﺳﯽ ﮐﮯ ﺗﺎﺛﺮﺍﺕ ﻧﻤﺎﯾﺎﮞ ﺗﮭﮯ.
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻮﺟﮧ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻣﺼﻠﮯ ﮐﯽ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺟﺎﻧﺐ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺗﮭﺎ،
ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﭖ ﮨﻤﺖ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﭨﻨﮯ ﭘﺎﺋﮯ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ.
ﻣﮕﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ…
🌼 بسم الله کی فضیلت پر یقین 🌼
ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﻗﺤﻂ ﺳﺎﻟﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﻓﺎﺭﻍ ﮬﻮ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﺰﯾﺪ ﮐﭽﮫ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﺭﮬﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﯾﺸﯽ ﻣﺎﻟﮑﺎﻥ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﺗﮭﮯ۔
ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﺎﯾﺎ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺟﻤﻌﮯ ﮐﮯ ﺧﻄﺒﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺑﺘﺎﺋﯽ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻟﮯ ﮐﺮ ﯾﻌﻨﯽ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ، ﺷﺎﯾﺪ ﯾﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﭘﮩﻼ ﺟﻤﻌﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺑﺎﺕ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺮ ﮐﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺎ ﺩﺭﺟﮧ ﭘﺎگئی، ﺍﺱ ﻧﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﮐﮭﻮﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺩﺭﯾﺎ ﭘﮧ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﻭﻧﭽﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﮯ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ ﺍﻟﺮﺣﯿﻢ ﭘﮍﮬﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺫﺭﺍ ﭘﺎﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﭼﺮﺍﻧﮯ ﺟﺎ ﺭﮬﺎ ﮬﮯ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﻧﮯ ﺩﮮ، ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﮬﺎﻧﮑﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺳﮯ ﭼﻠﺘﺎ ﮬﻮﺍ ﺩﺭﯾﺎ ﭘﺎﺭ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ، ﻋﻼﻗﮧ ﮔﮭﺎﺱ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﺍ ﭘﮍﺍ ﺗﮭﺎ، ﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﺘﮯ ﺑﮭﯽ ﺳﻼﻣﺖ ﺗﮭﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺭﺳﺎﺋﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ،، ﺍﺏ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﭘﺎﺭ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺧﻮﺩ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﺟﺎﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﮯ ﺁﺗﺎ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﻭﺯﻥ ﺩﮔﻨﺎ ﭼﮕﻨﺎ ﮬﻮﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻟﻮﮒ ﭼﻮﻧﮑﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﮭﻼﺗﺎ ﮬﮯ، ﻭﮦ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺳﺎﺩﺍ ﺻﺎﻑ ﺩﻝ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﮭﺎ، ﺻﺎﻑ ﺻﺎﻑ ﺑﺎﺕ ﺑﺘﺎ ﺩﯼ ﮐﮧ ﺟﻨﺎﺏ ﮬﻢ ﺗﻮ ﺩﺭﯾﺎ ﭘﺎﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﭼﺮﺍﻧﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮬﯿﮟ، ﺑﺎﺕ ﺳﺐ ﻧﮯ ﺳﻨﯽ ﻣﮕﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﻧﺎﻗﺎﺑﻞِ ﯾﻘﯿﻦ ﺑﺎﺕ ﺗﮭﯽ، ﻣﮕﺮ ﺑﺎﺕ ﮬﻮﺗﮯ ﮬﻮﺗﮯ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﺎﯾﺎ ﺗﮏ ﺟﺎ ﭘﮩﻨﭽﯽ۔ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﺎﯾﺎ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺑﮑﺮﻭﺍﻝ ﮐﻮ ﺑﻠﻮﺍ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺻﻞ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺑﺘﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ۔
ﺑﮑﺮﻭﺍﻝ ﻧﮯ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﺎﯾﺎ ﮬﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺭﯾﻔﺮﯾﻨﺲ ﺑﻨﺎ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺟﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺷﮑﺮﯾﮧ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺟﻤﻌﮯ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻧﺴﺨﮧ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺩﻭ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ۔۔۔
،،
ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﺎﯾﺎ ﺻﺎﺣﺐ ﭨﮏ ﭨﮏ ﺩﯾﺪﻡ ﺩﻡ ﻧﮧ ﮐﺸﯿﺪﻡ ﮐﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺑﻨﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺗﻮ ﮬﻢ ﮬﺮ ﺟﻤﻌﮯ ﮐﻮ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﺗﻮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺑﻨﺎﻧﺎ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ ﻣﮕﺮ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﻭﺍﻻ ﮈﭨﺎ ﺭﮬﺎ ﮐﮧ ﺑﺲ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﺮ ﭼﻠﺘﺎ ﮬﻮﺍ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﺳﻤﯿﺖ ﭘﺎﺭ ﭼﻼ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﻮﮞ۔
ﺁﺧﺮﮐﺎﺭ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺻﺒﺢ ﺧﻮﺩ ﯾﮧ ﺗﺠﺮﺑﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﭨﮭﺎﻧﯽ۔ ﻟﻮﮒ ﺑﮭﯽ ﺻﺒﺢ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺟﻤﻊ ﮬﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮑﺮﻭﺍﻝ ﺑﮭﯽ ﺁ ﮔﯿﺎ۔
ﻣﺠﻤﻊ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻭ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﻧﺪﺭ ﮬﯽ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺟﻮ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﻣﺴﺠﺪ ﺳﮯ ﮐﻨﺪﮬﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻻﺋﮯ ﺗﮭﮯ ،ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺟﻮﺵ ﻭ ﺧﺮﻭﺵ ﺳﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﮐﺒﺮ ﮐﮯ ﻧﻌﺮﮮ ﻟﮕﺎ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﺎﯾﺎ ﮐﮯ ﺣﻖ ﻣﯿﮟ ﺗﻌﺮﯾﻔﯽ ﻣﻮﺷﮕﺎﻓﯿﺎﮞ ﮐﺮ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ ،،
ﺁﺧﺮ ﮐﺎﺭ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺭﺳﮧ ﻣﻨﮕﻮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺎﻧﺪﮬﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﻤﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺎﻧﺪﮬﺎ ، ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﮈﺭﺗﮯ ﮈﺭﺗﮯ ﮈﮬﯿﻼ ﮈﮬﺎﻻ ﺳﺎ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﯾﺎ ﭘﺮ ﭼﻠﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮬﻮ ﮔﺌﮯ ،، ﻣﮕﺮ ﭘﮩﻼ ﭘﺎﺅﮞ ﮬﯽ ﺷﮍﺍﭖ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﺎﯾﺎ ﺻﺎﺣﺐ ﮈﺑﮑﯿﺎﮞ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ ، ﺑﺪﺣﻮﺍﺳﯽ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺑﮭﯽ ﮐﻤﺮ ﮐﻤﺮ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﮬﯿﮟ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﮐﮭﮍﮮ ﺑﮭﯽ ﮬﻮ ﺳﮑﺘﮯ ﮬﯿﮟ ،، ﻭﮦ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺑﮩﺎﺅ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮬﻮ ﮔﺌﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮭﯿﻨﭻ ﮐﮭﺎﻧﭻ ﮐﺮ ﺑﺎﮬﺮ ﻧﮑﺎﻻ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﮐﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺳﺎﺋﮉ ﭘﮧ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺎ۔
ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﯽ ﺩﺭﮔﺖ ﻧﮯ ﺑﮑﺮﻭﺍﻝ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﯽ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﮬﻮ ﮔﯿﺎ ﮬﮯ۔ ﻣﮕﺮ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺭﻭﺯ ﮐﺎ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﺗﮭﺎ ﻟﮩﺬﺍ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﯾﻘﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﻕ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﻠﺘﺎ ﮬﻮﺍ ﺍﻥ ﮐﻮ ﭘﺎﺭ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﺑﮭﯽ ﺁﮔﯿﺎ۔
ﻟﻮﮒ ﺍﺳﮯ ﻭﻟﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﻤﺠﮫ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺣﻖ ﻣﯿﮟ ﻧﻌﺮﮮ ﻟﮕﺎ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮯ ﻧﯿﺎﺯ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﺎﯾﺎ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﺮ ﭼﻠﺘﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﭼﻞ ﮔﯿﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺩﺭﺧﺖ ﺳﮯ ﺑﻨﺪﮬﮯ ﺭﺳﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﯾﮧ ﮬﮯ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ۔ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺑﺮﮐﺖ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺭﺳﮧ ﮐﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﮬﮯ۔ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻭﺭ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﺱ ﺭﺳﮯ ﭘﺮ ﺑﮭﺮﻭﺳﮧ ﺗﮭﺎ ﻟﮩﺬﺍ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺭﺳﮯ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﮐﻤﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﺁﭖ ﺑﮭﯽ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﺳﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﯽ ﺷﺮﻡ ﺭﮐﮫ ﻟﯽ ﻣﮕﺮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﮐﻼﻡ ﺳﻨﺎ ﻣﮕﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ؟ ﻟﮩﺬﺍ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺭﺳﻮﺍ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ!!
ﯾﮩﯽ ﮐﭽﮫ ﺣﺎﻝ ﮨﻤﺎﺭا ﮨﮯ ... ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﯾﻘﯿﻦ ﺳﮯ ﺧﺎﻟﯽ ﮨﮯ...
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
⭕ توکل بر خدا
https://t.me/islamwitheman/894
🌷 بسم اللہ کی فضیلت پر یقین
https://t.me/islamwitheman/955
🌷 تسمیہ
https://t.me/islamwitheman/1611
🌷 کھانے پر الفاظ کا اثر
https://t.me/islamwitheman/1980
🌷 بسم اللہ کی فضیلت
https://t.me/islamwitheman/2216
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﻗﺤﻂ ﺳﺎﻟﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﻓﺎﺭﻍ ﮬﻮ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﺰﯾﺪ ﮐﭽﮫ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﺭﮬﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﯾﺸﯽ ﻣﺎﻟﮑﺎﻥ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﺗﮭﮯ۔
ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﺎﯾﺎ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺟﻤﻌﮯ ﮐﮯ ﺧﻄﺒﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺑﺘﺎﺋﯽ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻟﮯ ﮐﺮ ﯾﻌﻨﯽ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ، ﺷﺎﯾﺪ ﯾﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﭘﮩﻼ ﺟﻤﻌﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺑﺎﺕ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺮ ﮐﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺎ ﺩﺭﺟﮧ ﭘﺎگئی، ﺍﺱ ﻧﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﮐﮭﻮﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺩﺭﯾﺎ ﭘﮧ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﻭﻧﭽﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﮯ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ ﺍﻟﺮﺣﯿﻢ ﭘﮍﮬﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺫﺭﺍ ﭘﺎﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﭼﺮﺍﻧﮯ ﺟﺎ ﺭﮬﺎ ﮬﮯ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﻧﮯ ﺩﮮ، ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﮬﺎﻧﮑﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺳﮯ ﭼﻠﺘﺎ ﮬﻮﺍ ﺩﺭﯾﺎ ﭘﺎﺭ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ، ﻋﻼﻗﮧ ﮔﮭﺎﺱ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﺍ ﭘﮍﺍ ﺗﮭﺎ، ﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﺘﮯ ﺑﮭﯽ ﺳﻼﻣﺖ ﺗﮭﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺭﺳﺎﺋﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ،، ﺍﺏ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﭘﺎﺭ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺧﻮﺩ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﺟﺎﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﮯ ﺁﺗﺎ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﻭﺯﻥ ﺩﮔﻨﺎ ﭼﮕﻨﺎ ﮬﻮﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻟﻮﮒ ﭼﻮﻧﮑﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﮭﻼﺗﺎ ﮬﮯ، ﻭﮦ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺳﺎﺩﺍ ﺻﺎﻑ ﺩﻝ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﮭﺎ، ﺻﺎﻑ ﺻﺎﻑ ﺑﺎﺕ ﺑﺘﺎ ﺩﯼ ﮐﮧ ﺟﻨﺎﺏ ﮬﻢ ﺗﻮ ﺩﺭﯾﺎ ﭘﺎﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﭼﺮﺍﻧﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮬﯿﮟ، ﺑﺎﺕ ﺳﺐ ﻧﮯ ﺳﻨﯽ ﻣﮕﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﻧﺎﻗﺎﺑﻞِ ﯾﻘﯿﻦ ﺑﺎﺕ ﺗﮭﯽ، ﻣﮕﺮ ﺑﺎﺕ ﮬﻮﺗﮯ ﮬﻮﺗﮯ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﺎﯾﺎ ﺗﮏ ﺟﺎ ﭘﮩﻨﭽﯽ۔ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﺎﯾﺎ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺑﮑﺮﻭﺍﻝ ﮐﻮ ﺑﻠﻮﺍ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺻﻞ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺑﺘﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ۔
ﺑﮑﺮﻭﺍﻝ ﻧﮯ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﺎﯾﺎ ﮬﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺭﯾﻔﺮﯾﻨﺲ ﺑﻨﺎ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺟﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺷﮑﺮﯾﮧ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺟﻤﻌﮯ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻧﺴﺨﮧ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺩﻭ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ۔۔۔
،،
ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﺎﯾﺎ ﺻﺎﺣﺐ ﭨﮏ ﭨﮏ ﺩﯾﺪﻡ ﺩﻡ ﻧﮧ ﮐﺸﯿﺪﻡ ﮐﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺑﻨﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺗﻮ ﮬﻢ ﮬﺮ ﺟﻤﻌﮯ ﮐﻮ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﺗﻮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺑﻨﺎﻧﺎ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ ﻣﮕﺮ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﻭﺍﻻ ﮈﭨﺎ ﺭﮬﺎ ﮐﮧ ﺑﺲ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﺮ ﭼﻠﺘﺎ ﮬﻮﺍ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﺳﻤﯿﺖ ﭘﺎﺭ ﭼﻼ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﻮﮞ۔
ﺁﺧﺮﮐﺎﺭ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺻﺒﺢ ﺧﻮﺩ ﯾﮧ ﺗﺠﺮﺑﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﭨﮭﺎﻧﯽ۔ ﻟﻮﮒ ﺑﮭﯽ ﺻﺒﺢ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺟﻤﻊ ﮬﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮑﺮﻭﺍﻝ ﺑﮭﯽ ﺁ ﮔﯿﺎ۔
ﻣﺠﻤﻊ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻭ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﻧﺪﺭ ﮬﯽ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺟﻮ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﻣﺴﺠﺪ ﺳﮯ ﮐﻨﺪﮬﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻻﺋﮯ ﺗﮭﮯ ،ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺟﻮﺵ ﻭ ﺧﺮﻭﺵ ﺳﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﮐﺒﺮ ﮐﮯ ﻧﻌﺮﮮ ﻟﮕﺎ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﺎﯾﺎ ﮐﮯ ﺣﻖ ﻣﯿﮟ ﺗﻌﺮﯾﻔﯽ ﻣﻮﺷﮕﺎﻓﯿﺎﮞ ﮐﺮ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ ،،
ﺁﺧﺮ ﮐﺎﺭ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺭﺳﮧ ﻣﻨﮕﻮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺎﻧﺪﮬﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﻤﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺎﻧﺪﮬﺎ ، ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﮈﺭﺗﮯ ﮈﺭﺗﮯ ﮈﮬﯿﻼ ﮈﮬﺎﻻ ﺳﺎ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﯾﺎ ﭘﺮ ﭼﻠﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮬﻮ ﮔﺌﮯ ،، ﻣﮕﺮ ﭘﮩﻼ ﭘﺎﺅﮞ ﮬﯽ ﺷﮍﺍﭖ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﺎﯾﺎ ﺻﺎﺣﺐ ﮈﺑﮑﯿﺎﮞ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ ، ﺑﺪﺣﻮﺍﺳﯽ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺑﮭﯽ ﮐﻤﺮ ﮐﻤﺮ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﮬﯿﮟ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﮐﮭﮍﮮ ﺑﮭﯽ ﮬﻮ ﺳﮑﺘﮯ ﮬﯿﮟ ،، ﻭﮦ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺑﮩﺎﺅ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮬﻮ ﮔﺌﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮭﯿﻨﭻ ﮐﮭﺎﻧﭻ ﮐﺮ ﺑﺎﮬﺮ ﻧﮑﺎﻻ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﮐﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺳﺎﺋﮉ ﭘﮧ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺎ۔
ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﯽ ﺩﺭﮔﺖ ﻧﮯ ﺑﮑﺮﻭﺍﻝ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﯽ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﮬﻮ ﮔﯿﺎ ﮬﮯ۔ ﻣﮕﺮ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺭﻭﺯ ﮐﺎ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﺗﮭﺎ ﻟﮩﺬﺍ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﯾﻘﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﻕ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﻠﺘﺎ ﮬﻮﺍ ﺍﻥ ﮐﻮ ﭘﺎﺭ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﺑﮭﯽ ﺁﮔﯿﺎ۔
ﻟﻮﮒ ﺍﺳﮯ ﻭﻟﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﻤﺠﮫ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺣﻖ ﻣﯿﮟ ﻧﻌﺮﮮ ﻟﮕﺎ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮯ ﻧﯿﺎﺯ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﺎﯾﺎ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﺮ ﭼﻠﺘﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﭼﻞ ﮔﯿﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺩﺭﺧﺖ ﺳﮯ ﺑﻨﺪﮬﮯ ﺭﺳﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﯾﮧ ﮬﮯ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ۔ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺑﺮﮐﺖ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺭﺳﮧ ﮐﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﮬﮯ۔ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻭﺭ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﺱ ﺭﺳﮯ ﭘﺮ ﺑﮭﺮﻭﺳﮧ ﺗﮭﺎ ﻟﮩﺬﺍ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺭﺳﮯ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﮐﻤﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﺁﭖ ﺑﮭﯽ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﺳﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﯽ ﺷﺮﻡ ﺭﮐﮫ ﻟﯽ ﻣﮕﺮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﮐﻼﻡ ﺳﻨﺎ ﻣﮕﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ؟ ﻟﮩﺬﺍ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺭﺳﻮﺍ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ!!
ﯾﮩﯽ ﮐﭽﮫ ﺣﺎﻝ ﮨﻤﺎﺭا ﮨﮯ ... ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﯾﻘﯿﻦ ﺳﮯ ﺧﺎﻟﯽ ﮨﮯ...
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
⭕ توکل بر خدا
https://t.me/islamwitheman/894
🌷 بسم اللہ کی فضیلت پر یقین
https://t.me/islamwitheman/955
🌷 تسمیہ
https://t.me/islamwitheman/1611
🌷 کھانے پر الفاظ کا اثر
https://t.me/islamwitheman/1980
🌷 بسم اللہ کی فضیلت
https://t.me/islamwitheman/2216
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌲 توکل بر خدا 🌲
دلہن نے گھر میں داخل ہوتے ہی تنقیدی نظروں سے گھر کا معائنہ کیا، چہرہ پر کسی قسم کا تاثر نہیں تھا،
گھر کیا تھا، ایک کچی چہاردیواری تھی، جس میں کچی پکی اینٹوں کو جوڑ کر ایک چھوٹا سا کمرہ نما بنا لیا گیا، چھت کھجور کے پتوں کی تھی، جس سے چھن…
دلہن نے گھر میں داخل ہوتے ہی تنقیدی نظروں سے گھر کا معائنہ کیا، چہرہ پر کسی قسم کا تاثر نہیں تھا،
گھر کیا تھا، ایک کچی چہاردیواری تھی، جس میں کچی پکی اینٹوں کو جوڑ کر ایک چھوٹا سا کمرہ نما بنا لیا گیا، چھت کھجور کے پتوں کی تھی، جس سے چھن…
■مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔
💓 توکل علی اللہ
https://t.me/islamwitheman/687
🌲 خدا سے امید
https://t.me/islamwitheman/646
🌹بہترین حسن ظن
https://t.me/islamwitheman/263
🔴الله تعالٰی کی رحمت
https://t.me/islamwitheman/134
🔴الله تعالٰی کی رحمت پر بھروسہ
https://t.me/islamwitheman/137
🔴بیمثال مالک
https://t.me/islamwitheman/110
🔴الله تعالٰی کی مدد
https://t.me/islamwitheman/25
🔴حسن نیت اور جذبہ شرمساری
https://t.me/islamwitheman/301
🍀 توکل بر خدا
https://t.me/islamwitheman/894
🌼بسم اللہ کی فضیلت پر یقین
https://t.me/islamwitheman/955
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
💓 توکل علی اللہ
https://t.me/islamwitheman/687
🌲 خدا سے امید
https://t.me/islamwitheman/646
🌹بہترین حسن ظن
https://t.me/islamwitheman/263
🔴الله تعالٰی کی رحمت
https://t.me/islamwitheman/134
🔴الله تعالٰی کی رحمت پر بھروسہ
https://t.me/islamwitheman/137
🔴بیمثال مالک
https://t.me/islamwitheman/110
🔴الله تعالٰی کی مدد
https://t.me/islamwitheman/25
🔴حسن نیت اور جذبہ شرمساری
https://t.me/islamwitheman/301
🍀 توکل بر خدا
https://t.me/islamwitheman/894
🌼بسم اللہ کی فضیلت پر یقین
https://t.me/islamwitheman/955
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌲 توکل علی اللہ 🌲
راستہ چلنے والا اگرچہ سینکڑوں ہنر رکھتا ہو پھر بھی توکل ضروری ہے۔ اپنے جبار خدا پر بھروسہ کرو تاکہ مراد تک پہنچو۔
● ارشادِ باری تعالٰی ہے۔۔
إذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ إنَّ الله یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِینَ۔
جب کسی عمل کا ارادہ…
راستہ چلنے والا اگرچہ سینکڑوں ہنر رکھتا ہو پھر بھی توکل ضروری ہے۔ اپنے جبار خدا پر بھروسہ کرو تاکہ مراد تک پہنچو۔
● ارشادِ باری تعالٰی ہے۔۔
إذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ إنَّ الله یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِینَ۔
جب کسی عمل کا ارادہ…
🔶امام خمینی کی کامیابیاں🔶
جس وقت امام خمینی(رح) کی عمر صرف تیس سال تھی،اس وقت امام خمینی ،جیسا کہ علما کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے کہ اپنے سےبزرگ عالم کے پاس لائحہ عمل لینے کے لیے جاتے ہیں۔امام خمینی بھی آیت اللہ شیخ حسنعلی نخوزکی اصفہانی کے پاس تشریف لے جایا کرتے تھے،جو اس وقت کے ایک بزرگ عالم دین تھے۔آپ اپنے طویل رکوع کی وجہ سے کافی شہرت رکھتے تھے۔عبادت کا یہ انداز تھا کہ پوری پوری رات رکوع کی حالت میں رہتے، شدید برف باری میں بھی چھت پر جا کر اسی طرح مشغول رہتے کہ جب لوگ صبح آتے تودیکھتے کہ پوری کمر برف سے ڈھک چکی ہوتی۔ امام خمینی کی ان سے ملاقات مشہد میں ہوئی،آپ نے ان سے کہا کہ مجھے علم کیمیا سکھائیں۔(علم کیمیا ایک ایسا علم ہے کہ اگر انسان اسے حاصل کر لے تو خاک کو بھی سونے میں تبدیل کر سکتا ہے اور نجانے کتنی طاقتیں اس کے پاس آ جاتی ہیں)۔انھوں نے کہا ٹھیک ہےلیکن میں ایک شرط پر تمہیں یہ سکھاوں گا کہ اپنی پوری زندگی میں تم کسی کو یہ بات نھیں بتاو گے۔امام خمینی نے کہا کہ یہ وعدہ میں آپ سے نھیں کر سکتا،ہو سکتا ہے کہ میں کبھی وعدہ خلافی کر جاوں، اس شرط کے ساتھ مجھے یہ قبول نہین ۔ جب انھوں نے امام خمینی کی یہ شفافیت اور صداقت دیکھی تو اتنی پسند آئی کہ انھوں نے کہا کہ میں تمہیں علم کیمیا سے بھی بڑھ کر ایک چیز سکھاتا ہوں کہ اگر تم اس کو پابندی کے ساتھ انجام دو تو دنیا و آخرت کی تمام تر کامیابیاں تم حاصل کر لو گے، بلکہ دنیا و آخرت کی بادشاہت تمھارے قدموں تلے آ جاے گی۔
اس کے بعد آیت اللہ شیخ حسنعلی نخوزکی اصفہانی نے پانچ مرحلوں پر مشتمل ایک عمل بتایا اور کہا کہ زندگی بھر اس کو انجام دینا ،ایک دفعہ بھی نہ چھوڑنا،جو یہ ہے:
1۔ ہر نماز کے بعد تسبیح حضرت زہرا علیہ سلام ۔
2۔ ہر نماز کے بعد آیت الکرسی، علی العظیم تک البتہ نیت علی العظیم تک کر کہ تبرکا" خالدون تک بھی پڑھی جا سکتی ہے۔
3۔ ہر نماز کے بعد تین مرتبہ سورہ توحید کی تلاوت۔
4۔ ہر نماز کے بعد تین مرتبہ درود۔
5۔ ہر نماز کے بعد تین مرتبہ
سورہ طلاق کی 2 آیت کا آخری جز اور 3 آیت مکمل۔
ومن یتق اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قدرا۔
آیت اللہ شیخ حسن علی نخوزکی اصفہانی کے اس عمل کے طفیل امام خمینی نے اتنی کامیابیاں حاصل کیں کی جب ان کا انتقال ہوا تو پوری دنیا نےدیکھا کہ واقعی دنیا و آخرت کی بادشاہت ان کے پاس تھی۔
📚سید عابد حسین زیدی کے درس سے لیا گیا جز۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ الاسوہ چینل
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
جس وقت امام خمینی(رح) کی عمر صرف تیس سال تھی،اس وقت امام خمینی ،جیسا کہ علما کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے کہ اپنے سےبزرگ عالم کے پاس لائحہ عمل لینے کے لیے جاتے ہیں۔امام خمینی بھی آیت اللہ شیخ حسنعلی نخوزکی اصفہانی کے پاس تشریف لے جایا کرتے تھے،جو اس وقت کے ایک بزرگ عالم دین تھے۔آپ اپنے طویل رکوع کی وجہ سے کافی شہرت رکھتے تھے۔عبادت کا یہ انداز تھا کہ پوری پوری رات رکوع کی حالت میں رہتے، شدید برف باری میں بھی چھت پر جا کر اسی طرح مشغول رہتے کہ جب لوگ صبح آتے تودیکھتے کہ پوری کمر برف سے ڈھک چکی ہوتی۔ امام خمینی کی ان سے ملاقات مشہد میں ہوئی،آپ نے ان سے کہا کہ مجھے علم کیمیا سکھائیں۔(علم کیمیا ایک ایسا علم ہے کہ اگر انسان اسے حاصل کر لے تو خاک کو بھی سونے میں تبدیل کر سکتا ہے اور نجانے کتنی طاقتیں اس کے پاس آ جاتی ہیں)۔انھوں نے کہا ٹھیک ہےلیکن میں ایک شرط پر تمہیں یہ سکھاوں گا کہ اپنی پوری زندگی میں تم کسی کو یہ بات نھیں بتاو گے۔امام خمینی نے کہا کہ یہ وعدہ میں آپ سے نھیں کر سکتا،ہو سکتا ہے کہ میں کبھی وعدہ خلافی کر جاوں، اس شرط کے ساتھ مجھے یہ قبول نہین ۔ جب انھوں نے امام خمینی کی یہ شفافیت اور صداقت دیکھی تو اتنی پسند آئی کہ انھوں نے کہا کہ میں تمہیں علم کیمیا سے بھی بڑھ کر ایک چیز سکھاتا ہوں کہ اگر تم اس کو پابندی کے ساتھ انجام دو تو دنیا و آخرت کی تمام تر کامیابیاں تم حاصل کر لو گے، بلکہ دنیا و آخرت کی بادشاہت تمھارے قدموں تلے آ جاے گی۔
اس کے بعد آیت اللہ شیخ حسنعلی نخوزکی اصفہانی نے پانچ مرحلوں پر مشتمل ایک عمل بتایا اور کہا کہ زندگی بھر اس کو انجام دینا ،ایک دفعہ بھی نہ چھوڑنا،جو یہ ہے:
1۔ ہر نماز کے بعد تسبیح حضرت زہرا علیہ سلام ۔
2۔ ہر نماز کے بعد آیت الکرسی، علی العظیم تک البتہ نیت علی العظیم تک کر کہ تبرکا" خالدون تک بھی پڑھی جا سکتی ہے۔
3۔ ہر نماز کے بعد تین مرتبہ سورہ توحید کی تلاوت۔
4۔ ہر نماز کے بعد تین مرتبہ درود۔
5۔ ہر نماز کے بعد تین مرتبہ
سورہ طلاق کی 2 آیت کا آخری جز اور 3 آیت مکمل۔
ومن یتق اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قدرا۔
آیت اللہ شیخ حسن علی نخوزکی اصفہانی کے اس عمل کے طفیل امام خمینی نے اتنی کامیابیاں حاصل کیں کی جب ان کا انتقال ہوا تو پوری دنیا نےدیکھا کہ واقعی دنیا و آخرت کی بادشاہت ان کے پاس تھی۔
📚سید عابد حسین زیدی کے درس سے لیا گیا جز۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ الاسوہ چینل
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔶 مٹی پر سجدہ 🔶
1- رسولِخداؐ نے فرمایا:
جُعِلَتْ لِىَ الاَْرْضُ مَسْجِداً وَ طَهُوراً۔
ترجمہ:
زمین میرے لئے سجدہ گاہ اور طہارت (تیمم کا وسیلہ) قرار دیا گیا۔
(صحيح بخارى، جلد 1، صفحه 91 اور سنن بيهقى، جلد 2، صفحه 433 نیز یہ حدیث بہت سی دوسری کتب میں بھی نقل ہوئی ہے)
2- رسولِخداؐ نے فرمایا:
"زمین طہور (طہارت اور پاکیزگی کا وسیلہ) بھی ہے اور مسجد اور سجدہ گاہ بھی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ جو طہور ہے اس پر تیمم کیا جاسکتا ہے، مٹی اور پتھر زمین ہے چنانچہ مٹی اور پتھر کو سجدہ گاہ بھی ہونا چاہئے"۔
3- ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسولِخداؐ نے فرمایا:
"سجد رسول الله صلى الله عليه وسلم في يوم مطير حتى اني لانظر إلى أثر ذلك في جبهته وأرنبته"۔
ترجمہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بارش کے دن سجدہ کیا حتی کہ میں نے آپ (ص) کی پیشانی اور ناک پر سجدے کے آثار دکھائی دے رہے تھے۔
(مجمع الزوائد، جلد 2، صفحه 126۔ احمد بن حنبل نے مسند کی جلد 3 صفحہ 60 نقل کیا ہے کہ بارش کی وجہ سے مسجد کی چھت ٹھپک رہی تھی چنانچہ رسول اللہ (ص) پانی اور مٹی میں سجدہ فرماتے رہے حتی کہ میں آپ (ص) کی پیشانی پر مٹی کے اثرات دکھائی دیئے۔) راوی
4- ام المؤمنین میمونہ سے روایت ہے:
"ورسول الله يصلي على الخمرة فيسجد۔"
ترجمہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم چٹائی یا حصیر کے ٹکڑے پر نماز پڑھتے اور سجدہ فرمایا کرتے تھے۔
مسلماً حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حصیر پر نماز پڑھا کرتے تھے۔
(مسند احمد بن حنبل، جلد 6، صفحه 331۔)
5- اہل سنت کے منابع و مآخذ میں متعدد روایات نقل ہوئی ہیں کہ
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم "خمرہ" پر نماز پڑھا کرتے تھے۔ (خمرہ کھجوروں کے پتوں سے تیار کردہ چھوٹی سی چٹائی یا مصلے کو کہا جاتا ہے)۔
عجیب بات یہ ہے کہ اگر شیعہ نماز پڑھتے وقت حصیر کے مصلے یا صفیں بچھائیں تو بعض متعصبین ان پر بدعت کا الزام لگاتے ہیں اور انہیں غضبناک نظروں سے دیکھتے ہیں حالانکہ ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب سنت نبوی ہے۔
ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں: "روى عن عمر بن عبد العزيز أنه كان يؤتى بتراب فيوضع على الخمرة فيسجد عليه"۔ عمر ابن عبدالعزیز سے روایت ہے کہ وہ چٹائی یا حصیر کے اوپر مٹی ڈال کر اس پر سجدہ کیا کرتے تھے۔
(فتح الباري شرح صحيح البخاري جلد 1 صفحه 410)۔ واضح رہے کہ اہل سنت کے ہاں عمر بن عبدالعژیژ کو خلیفہ راشد کا درجہ دیا جاتا ہے۔
6- جابر بن عبداللہ انصاری کہتے ہیں:
كنت اصلّى مع النبى (صلى الله عليه وآله) الظهر فآخذ قبضة من الحصى فاجعلها فى كفىّ ثم احولها إلى الكف الأخرى حتّى تبرد ثمّ اضعها لجبينى حتّى اسجد عليها من شدّة الحرّ۔
ترجمہ:
میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی امامت میں نماز ظہر پڑھ رہا تھا پس کچھ سنگریزے اٹھاتا اور انہیں دست بدست کرتا تاکہ ٹھنڈے ہوجائیں اور میں ان پر سجدہ کرسکوں، یہ عمل گرمی کی شدت کی وجہ سے تھا۔
(مسند احمد، جلد 3، صفحه 327 ; سنن بيهقى، جلد 1، صفحه 439)
7- انس بن مالک سے روایت ہے:
كنّا مع رسول الله(صلى الله عليه وآله) فى شدّة الحرّ فيأخذ أحدنا الحصباء فى يده فإذا برد وضعه و سجد عليه۔
ترجمہ:
ہم شدید گرمی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہمراہ تھے اور ہم میں سے بعض صحابی سنگریزے ہاتھ میں لیتے تا کہ ٹھنڈے ہوجائیں اور پھر انہیں زمین پر رکھتے اور ان پر سجدہ کرتے تھے۔
(السنن الكبرى بيهقى، جلد 2، صفحه 106)
____________
■نماز کے متعلق پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
🔵 کوشش اور توفیق
https://t.me/islamwitheman/227
🔵 نماز نہ پڑھنے کی تاویلات
https://t.me/islamwitheman/297
🔴 کامل نماز کا طریقہ
https://t.me/islamwitheman/293
💝 عبادت میں لذت
https://t.me/islamwitheman/352
💞 میاں بیوی کی محبت کا تقاضا
https://t.me/islamwitheman/295
🔵 نماز میں غفلت
https://t.me/islamwitheman/296
💫 نیت اور عمل
https://t.me/islamwitheman/226
🔴 نماز کی عظمت و ثواب
https://t.me/islamwitheman/292
🔵قیامت کا دن اور تین آدمیوں کی پیشی
https://t.me/islamwitheman/104
🔵 اقیموا الصلاة
https://t.me/islamwitheman/294
⚫ تارک الصّلاة کے نام
https://t.me/islamwitheman/647
☉ جمعرات کے دن کی نماز
https://t.me/islamwitheman/122
🔵 پہلی نماز جمعہ
https://t.me/islamwitheman/368
🔵 مختصر نماز مغفرت والدین
https://t.me/islamwitheman/12
🌸 وضو کا طریقہ
https://t.me/islamwitheman/842
🔵ماۂِ رمضان کی نافلہ نمازیں
https://t.me/islamwitheman/930
💐 ﻧﻤﺎﺯ ﻛﻰ ﺍﮨﻤﯿﺖ
https://t.me/islamwitheman952
🍃 اول وقت میں فضیلتِ نماز
https://t.me/islamwitheman/953
❄نماز کی تاثیر
https://t.me/islamwitheman/954
🔶 مٹی پر سجدہ
https://t.me/islamwitheman/960
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1- رسولِخداؐ نے فرمایا:
جُعِلَتْ لِىَ الاَْرْضُ مَسْجِداً وَ طَهُوراً۔
ترجمہ:
زمین میرے لئے سجدہ گاہ اور طہارت (تیمم کا وسیلہ) قرار دیا گیا۔
(صحيح بخارى، جلد 1، صفحه 91 اور سنن بيهقى، جلد 2، صفحه 433 نیز یہ حدیث بہت سی دوسری کتب میں بھی نقل ہوئی ہے)
2- رسولِخداؐ نے فرمایا:
"زمین طہور (طہارت اور پاکیزگی کا وسیلہ) بھی ہے اور مسجد اور سجدہ گاہ بھی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ جو طہور ہے اس پر تیمم کیا جاسکتا ہے، مٹی اور پتھر زمین ہے چنانچہ مٹی اور پتھر کو سجدہ گاہ بھی ہونا چاہئے"۔
3- ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسولِخداؐ نے فرمایا:
"سجد رسول الله صلى الله عليه وسلم في يوم مطير حتى اني لانظر إلى أثر ذلك في جبهته وأرنبته"۔
ترجمہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بارش کے دن سجدہ کیا حتی کہ میں نے آپ (ص) کی پیشانی اور ناک پر سجدے کے آثار دکھائی دے رہے تھے۔
(مجمع الزوائد، جلد 2، صفحه 126۔ احمد بن حنبل نے مسند کی جلد 3 صفحہ 60 نقل کیا ہے کہ بارش کی وجہ سے مسجد کی چھت ٹھپک رہی تھی چنانچہ رسول اللہ (ص) پانی اور مٹی میں سجدہ فرماتے رہے حتی کہ میں آپ (ص) کی پیشانی پر مٹی کے اثرات دکھائی دیئے۔) راوی
4- ام المؤمنین میمونہ سے روایت ہے:
"ورسول الله يصلي على الخمرة فيسجد۔"
ترجمہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم چٹائی یا حصیر کے ٹکڑے پر نماز پڑھتے اور سجدہ فرمایا کرتے تھے۔
مسلماً حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حصیر پر نماز پڑھا کرتے تھے۔
(مسند احمد بن حنبل، جلد 6، صفحه 331۔)
5- اہل سنت کے منابع و مآخذ میں متعدد روایات نقل ہوئی ہیں کہ
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم "خمرہ" پر نماز پڑھا کرتے تھے۔ (خمرہ کھجوروں کے پتوں سے تیار کردہ چھوٹی سی چٹائی یا مصلے کو کہا جاتا ہے)۔
عجیب بات یہ ہے کہ اگر شیعہ نماز پڑھتے وقت حصیر کے مصلے یا صفیں بچھائیں تو بعض متعصبین ان پر بدعت کا الزام لگاتے ہیں اور انہیں غضبناک نظروں سے دیکھتے ہیں حالانکہ ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب سنت نبوی ہے۔
ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں: "روى عن عمر بن عبد العزيز أنه كان يؤتى بتراب فيوضع على الخمرة فيسجد عليه"۔ عمر ابن عبدالعزیز سے روایت ہے کہ وہ چٹائی یا حصیر کے اوپر مٹی ڈال کر اس پر سجدہ کیا کرتے تھے۔
(فتح الباري شرح صحيح البخاري جلد 1 صفحه 410)۔ واضح رہے کہ اہل سنت کے ہاں عمر بن عبدالعژیژ کو خلیفہ راشد کا درجہ دیا جاتا ہے۔
6- جابر بن عبداللہ انصاری کہتے ہیں:
كنت اصلّى مع النبى (صلى الله عليه وآله) الظهر فآخذ قبضة من الحصى فاجعلها فى كفىّ ثم احولها إلى الكف الأخرى حتّى تبرد ثمّ اضعها لجبينى حتّى اسجد عليها من شدّة الحرّ۔
ترجمہ:
میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی امامت میں نماز ظہر پڑھ رہا تھا پس کچھ سنگریزے اٹھاتا اور انہیں دست بدست کرتا تاکہ ٹھنڈے ہوجائیں اور میں ان پر سجدہ کرسکوں، یہ عمل گرمی کی شدت کی وجہ سے تھا۔
(مسند احمد، جلد 3، صفحه 327 ; سنن بيهقى، جلد 1، صفحه 439)
7- انس بن مالک سے روایت ہے:
كنّا مع رسول الله(صلى الله عليه وآله) فى شدّة الحرّ فيأخذ أحدنا الحصباء فى يده فإذا برد وضعه و سجد عليه۔
ترجمہ:
ہم شدید گرمی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہمراہ تھے اور ہم میں سے بعض صحابی سنگریزے ہاتھ میں لیتے تا کہ ٹھنڈے ہوجائیں اور پھر انہیں زمین پر رکھتے اور ان پر سجدہ کرتے تھے۔
(السنن الكبرى بيهقى، جلد 2، صفحه 106)
____________
■نماز کے متعلق پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
🔵 کوشش اور توفیق
https://t.me/islamwitheman/227
🔵 نماز نہ پڑھنے کی تاویلات
https://t.me/islamwitheman/297
🔴 کامل نماز کا طریقہ
https://t.me/islamwitheman/293
💝 عبادت میں لذت
https://t.me/islamwitheman/352
💞 میاں بیوی کی محبت کا تقاضا
https://t.me/islamwitheman/295
🔵 نماز میں غفلت
https://t.me/islamwitheman/296
💫 نیت اور عمل
https://t.me/islamwitheman/226
🔴 نماز کی عظمت و ثواب
https://t.me/islamwitheman/292
🔵قیامت کا دن اور تین آدمیوں کی پیشی
https://t.me/islamwitheman/104
🔵 اقیموا الصلاة
https://t.me/islamwitheman/294
⚫ تارک الصّلاة کے نام
https://t.me/islamwitheman/647
☉ جمعرات کے دن کی نماز
https://t.me/islamwitheman/122
🔵 پہلی نماز جمعہ
https://t.me/islamwitheman/368
🔵 مختصر نماز مغفرت والدین
https://t.me/islamwitheman/12
🌸 وضو کا طریقہ
https://t.me/islamwitheman/842
🔵ماۂِ رمضان کی نافلہ نمازیں
https://t.me/islamwitheman/930
💐 ﻧﻤﺎﺯ ﻛﻰ ﺍﮨﻤﯿﺖ
https://t.me/islamwitheman952
🍃 اول وقت میں فضیلتِ نماز
https://t.me/islamwitheman/953
❄نماز کی تاثیر
https://t.me/islamwitheman/954
🔶 مٹی پر سجدہ
https://t.me/islamwitheman/960
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 کوشش اور توفیق 🔷
ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﮕﺮ ﺩﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺍﺩﺍﺳﯽ ﮐﮯ ﺗﺎﺛﺮﺍﺕ ﻧﻤﺎﯾﺎﮞ ﺗﮭﮯ.
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻮﺟﮧ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻣﺼﻠﮯ ﮐﯽ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺟﺎﻧﺐ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺗﮭﺎ،
ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﭖ ﮨﻤﺖ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﭨﻨﮯ ﭘﺎﺋﮯ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ.
ﻣﮕﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ…
ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﮕﺮ ﺩﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺍﺩﺍﺳﯽ ﮐﮯ ﺗﺎﺛﺮﺍﺕ ﻧﻤﺎﯾﺎﮞ ﺗﮭﮯ.
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻮﺟﮧ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻣﺼﻠﮯ ﮐﯽ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺟﺎﻧﺐ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺗﮭﺎ،
ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﭖ ﮨﻤﺖ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﭨﻨﮯ ﭘﺎﺋﮯ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ.
ﻣﮕﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ…
👁نظر بد سے کیا مراد ہے؟👁
نظرِ بد كا تصور شيعہ و سنى ہر دو كتبِ احاديث ميں وارد ہوا ہے۔ اہل سنت اور وہابيوں كا اس پر عقيدہ انتہائى قوى ہے كيونكہ اس سے متعلق روايت ’’بخارى و مسلم‘‘ ميں وارد ہوئى ہے۔
🔻مكتبِ اہل بيت عليہم السلام ميں تقريبا ۵ كے قريب روايات وارد ہوئى ہيں جوكہ از لحاظ سند ’’ضعيف‘‘ ہيں۔ نہج البلاغہ ميں بھى امام على عليہ السلام كے كلمات وارد ہوئے ہيں جن سے نظرِ بد كے تصور كو سمجھا جا سكتا ہے۔ البتہ نہج البلاغہ ميں منقول كلمات كى سند بھى وارد نہيں ہوئى ہے۔ ليكن اكثر علماء و فقہاء كرام معتبر ذخيرہ حديث ميں وارد ہونے والى ايسى روايات جو استحباب كو بيان كرے اس پر بغير سند كے بھى عمل كرتے ہيں۔
🔻نظرِ بد كے اگر ہم قائل ہو جائيں تو اس كے ليے بہترين عمل اللہ سبحانہ پر توكل كرنا، صدقہ دينا اور مشكل سے بچنے كى دعا كرنا ہے۔ ليكن اگر كوئى صرف صحيح السند روايات پر نظريہ قائم كرنا چاہے تو پھر نظرِ بد كا كوئى وجود نہيں۔ ايسے موارد ميں احتياط كا دامن نہيں چھوڑنا چاہيے اور تمام مسائل كے حل كى بازگشت اللہ سبحانہ كى طرف پلٹانى چاہيے۔ نيز صدقہ دينے اور دعا پڑھنے ميں كوئى حرج نہيں۔ ليكن كسى سے بداخلاقى كرنا، كسى پر تہمت لگانا، مختلف دھوئيں دينا، كسى سے غلط فہمى پيدا كر لينا۔۔۔ ايسے امور كسى صورت درست نہيں۔ بلكہ غيبت، تہمت، الزام تراشى، غلط فہمى ايجاد كرنا۔۔۔ گناہوں ميں سے ہے.
https://t.me/islamwitheman/220
https://t.me/islamwitheman/221
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
نظرِ بد كا تصور شيعہ و سنى ہر دو كتبِ احاديث ميں وارد ہوا ہے۔ اہل سنت اور وہابيوں كا اس پر عقيدہ انتہائى قوى ہے كيونكہ اس سے متعلق روايت ’’بخارى و مسلم‘‘ ميں وارد ہوئى ہے۔
🔻مكتبِ اہل بيت عليہم السلام ميں تقريبا ۵ كے قريب روايات وارد ہوئى ہيں جوكہ از لحاظ سند ’’ضعيف‘‘ ہيں۔ نہج البلاغہ ميں بھى امام على عليہ السلام كے كلمات وارد ہوئے ہيں جن سے نظرِ بد كے تصور كو سمجھا جا سكتا ہے۔ البتہ نہج البلاغہ ميں منقول كلمات كى سند بھى وارد نہيں ہوئى ہے۔ ليكن اكثر علماء و فقہاء كرام معتبر ذخيرہ حديث ميں وارد ہونے والى ايسى روايات جو استحباب كو بيان كرے اس پر بغير سند كے بھى عمل كرتے ہيں۔
🔻نظرِ بد كے اگر ہم قائل ہو جائيں تو اس كے ليے بہترين عمل اللہ سبحانہ پر توكل كرنا، صدقہ دينا اور مشكل سے بچنے كى دعا كرنا ہے۔ ليكن اگر كوئى صرف صحيح السند روايات پر نظريہ قائم كرنا چاہے تو پھر نظرِ بد كا كوئى وجود نہيں۔ ايسے موارد ميں احتياط كا دامن نہيں چھوڑنا چاہيے اور تمام مسائل كے حل كى بازگشت اللہ سبحانہ كى طرف پلٹانى چاہيے۔ نيز صدقہ دينے اور دعا پڑھنے ميں كوئى حرج نہيں۔ ليكن كسى سے بداخلاقى كرنا، كسى پر تہمت لگانا، مختلف دھوئيں دينا، كسى سے غلط فہمى پيدا كر لينا۔۔۔ ايسے امور كسى صورت درست نہيں۔ بلكہ غيبت، تہمت، الزام تراشى، غلط فہمى ايجاد كرنا۔۔۔ گناہوں ميں سے ہے.
https://t.me/islamwitheman/220
https://t.me/islamwitheman/221
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
👁 نظر بد اور اسکا علاج 👁
ہمارے ہاں پائے جانے والے عقائد میں سے متعدد عقائد افراط وتفریط کا شکار، اور بہت سی غلط فہمیوں کی نذر ہوچکے ہیں۔ انہی میں سے ایک عقیدہ "نظر بد کا لگنا" بھی ہے۔
نظر بد ایک ایسا موضوع ہے، جس کے بارے میں ہمارے معاشرے میں دو متضاد آراء…
ہمارے ہاں پائے جانے والے عقائد میں سے متعدد عقائد افراط وتفریط کا شکار، اور بہت سی غلط فہمیوں کی نذر ہوچکے ہیں۔ انہی میں سے ایک عقیدہ "نظر بد کا لگنا" بھی ہے۔
نظر بد ایک ایسا موضوع ہے، جس کے بارے میں ہمارے معاشرے میں دو متضاد آراء…
🌺 احترام سادات 🌺
سادات كے احترام ميں مختلف روايات شيعہ و سنى كتب ميں وارد ہوئى ہيں۔ علماء اعلام آيت مودت سے استدلال كرتے ہوئے احترام سادات كى خصوصى تاكيد كرتے ہيں. نيز روايات ميں ہے كہ جس نے اولادِ رسول صلى اللہ عليہ وآلہ وسلم كا احترام كيا آپ صلى اللہ عليہ وآلہ وسلم روزِ قيامت اس كى شفاعت كريں گے۔
🔻 اللہ تعالٰی نے انسان كى عزت و احترام كا حكم قرآن كريم ميں نازل كيا ہے۔ پھر مؤمن كى جان، مال اور عزت حرمت ركھتا ہے۔ اس ليے مؤمن كى بے احترامى كرنا اور اس كى تذليل كرنا جائز نہيں ہے۔ اگر مومن سيد ہو تو اس كى قدر و قيمت بڑھ جاتى ہے اور اس كا احترام رسول اللہ صلى اللہ عليہ وآلہ وسلم اور جناب زہراء سلام اللہ عليہا كى وجہ سے زيادہ كرنا چاہيے۔
🔹اگر سيد بداخلاق يا جرائم پيشہ ہو تو ضرورى نہيں ہے كہ اس سے رابطہ قائم كيا جائے۔ البتہ اسے ايسے الفاظ نہيں بول سكتے جو اس كے نسب كى طرف جائيں يا اس كى اس طرح كى تذليل نہيں كر سكتے كہ رسول اللہ صلى اللہ عليہ وآلہ وسلم كى طرف اس كى بازگشت ہو۔ نيز روايات سے ظاہر ہوتا ہے كہ سيد كى بے احترامى كسى صورت نہ كى جائے اور خاموشى سے كنارہ كش ہو جايا جائے۔ ہاں، اگر سيد مجرم ہے تو جرم كى سزا اور قانون كے مطابق حدود اس پر جارى ہوں گى۔
🔹 سيد كا احترام اس وقت تک ہے جب تک وہ ولايت سے متمسك اور آئمہ اہلبيت عليہم السلام سے بغض و دشمنى كا اظہار نہيں كرتا۔ ليكن اگر كسى پر ناصبى، منافق، كافر، مشرک ۔۔ جيسے عناوين آئيں تو اس صورت ميں حسب كى بنياد پر اسے قابل قدر قرار نہيں ديا جا سكتا۔
اگر سيد اہل ولاء ميں سے ہے يعنى ناصبى و منافق نہيں ہے بلكہ اہلبيت عليہم السلام سے مودت و محبت ركھنے والا ہے ليكن گناہ گار ہے يا بد زبان ہے يا مجرم ہے تو احترام سادات باقى رہے گا ليكن اسے فضيلت و قدر حاصل نہيں ہو گى اور نہ ہى اسے مؤمن و متقى پر برترى دى جائے گى۔ رسوال اللہ صلى اللہ عليہ وآلہ كے احترام كى وجہ سے اس كا احترام كيا جائے گا اور قانونى ضابطوں كى رعايت كى جائے گى، مثلا نمازِ جماعت كے ليے عادل عالم ہونا ضرورى ہے، اب اگر ايک سيد ہے ليكن عادل نہيں ہے تو اسے غيرسيد پر يہاں فضيلت نہيں دى جائے گى، اس كا احترام اپنى جگہ كيا جائے گا ليكن فضيلت اہل فضل و تقوٰی كے ساتھ خاص ہے۔
https://t.me/islamwitheman/140
https://t.me/islamwitheman/488
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
سادات كے احترام ميں مختلف روايات شيعہ و سنى كتب ميں وارد ہوئى ہيں۔ علماء اعلام آيت مودت سے استدلال كرتے ہوئے احترام سادات كى خصوصى تاكيد كرتے ہيں. نيز روايات ميں ہے كہ جس نے اولادِ رسول صلى اللہ عليہ وآلہ وسلم كا احترام كيا آپ صلى اللہ عليہ وآلہ وسلم روزِ قيامت اس كى شفاعت كريں گے۔
🔻 اللہ تعالٰی نے انسان كى عزت و احترام كا حكم قرآن كريم ميں نازل كيا ہے۔ پھر مؤمن كى جان، مال اور عزت حرمت ركھتا ہے۔ اس ليے مؤمن كى بے احترامى كرنا اور اس كى تذليل كرنا جائز نہيں ہے۔ اگر مومن سيد ہو تو اس كى قدر و قيمت بڑھ جاتى ہے اور اس كا احترام رسول اللہ صلى اللہ عليہ وآلہ وسلم اور جناب زہراء سلام اللہ عليہا كى وجہ سے زيادہ كرنا چاہيے۔
🔹اگر سيد بداخلاق يا جرائم پيشہ ہو تو ضرورى نہيں ہے كہ اس سے رابطہ قائم كيا جائے۔ البتہ اسے ايسے الفاظ نہيں بول سكتے جو اس كے نسب كى طرف جائيں يا اس كى اس طرح كى تذليل نہيں كر سكتے كہ رسول اللہ صلى اللہ عليہ وآلہ وسلم كى طرف اس كى بازگشت ہو۔ نيز روايات سے ظاہر ہوتا ہے كہ سيد كى بے احترامى كسى صورت نہ كى جائے اور خاموشى سے كنارہ كش ہو جايا جائے۔ ہاں، اگر سيد مجرم ہے تو جرم كى سزا اور قانون كے مطابق حدود اس پر جارى ہوں گى۔
🔹 سيد كا احترام اس وقت تک ہے جب تک وہ ولايت سے متمسك اور آئمہ اہلبيت عليہم السلام سے بغض و دشمنى كا اظہار نہيں كرتا۔ ليكن اگر كسى پر ناصبى، منافق، كافر، مشرک ۔۔ جيسے عناوين آئيں تو اس صورت ميں حسب كى بنياد پر اسے قابل قدر قرار نہيں ديا جا سكتا۔
اگر سيد اہل ولاء ميں سے ہے يعنى ناصبى و منافق نہيں ہے بلكہ اہلبيت عليہم السلام سے مودت و محبت ركھنے والا ہے ليكن گناہ گار ہے يا بد زبان ہے يا مجرم ہے تو احترام سادات باقى رہے گا ليكن اسے فضيلت و قدر حاصل نہيں ہو گى اور نہ ہى اسے مؤمن و متقى پر برترى دى جائے گى۔ رسوال اللہ صلى اللہ عليہ وآلہ كے احترام كى وجہ سے اس كا احترام كيا جائے گا اور قانونى ضابطوں كى رعايت كى جائے گى، مثلا نمازِ جماعت كے ليے عادل عالم ہونا ضرورى ہے، اب اگر ايک سيد ہے ليكن عادل نہيں ہے تو اسے غيرسيد پر يہاں فضيلت نہيں دى جائے گى، اس كا احترام اپنى جگہ كيا جائے گا ليكن فضيلت اہل فضل و تقوٰی كے ساتھ خاص ہے۔
https://t.me/islamwitheman/140
https://t.me/islamwitheman/488
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌹 سادات کی فضیلت 🌹
■ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
قیامت کے دن چار گروہ میری شفاعت کے مستحق قرار پائیں گے.
1-- میرے بعد میری ذریت کی عزت و احترام کرنے والے.
2-- انکی ضروریات پوری کرنے والے.
3-- انکو اضطراری حالت سے نکالنے میں مدد کرنے والے.…
■ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
قیامت کے دن چار گروہ میری شفاعت کے مستحق قرار پائیں گے.
1-- میرے بعد میری ذریت کی عزت و احترام کرنے والے.
2-- انکی ضروریات پوری کرنے والے.
3-- انکو اضطراری حالت سے نکالنے میں مدد کرنے والے.…
🔵 ڈاکٹر مجدی کی تحقیق 🔵
مصر کے رہنے والے ڈاکٹر مجدی نے شیعوں کے بارہ اماموں کو قرآن سے ثابت کیا ہے. ڈاکٹر مجدى وهبة الشافعى؛ مصر کی مشہور اسلامی الازھر یونیورسٹی کے پروفیسر اور خطیب ہیں. انہوں نے اپنی تحقیق میں عظیم حقیقت کا انکشاف کرتے ہوئے عالم اسلام کو حیرت میں ڈال دیا اور اس تحقیق کے بعد شیعہ مذہب قبول کرلیا.
🔵 قرآن میں ذکر ہونے والی اعداد بے دلیل اوف بے جا نہیں ہیں بلکہ وہ کسی نہ کسی خاص مقصد سے بیان کئے گئے ہیں مثلا کلمه یوم (روز) جو قرآن میں ۳۶۵ بار تکرار ہوا ہے اور ایک سال میں ۳۶۵ دن ہوتے ہیں، یا كلمه شهر (مہینہ) جس کا تذکرہ ۱۲ بار قرآن میں آیا ہے اور ایک سال میں بارہ مہینے ہوتے ہیں، اور اسی طرح دوسری بہت سی مثالیں موجود ہیں ...
🔻انہوں نے ان معلومات کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنی ریسرچ کو انجام دیا اور بہت ہی حیرت انگیز نتیجہ اخذ کیا ہے که:
✅ کلمه امام بارہ بار قرآن میں آیا ہے اور شیعوں کے اعتقاد کے مطابق ان کے اماموں کی تعداد بارہ ہے.
ان آیات میں کلمه امام آیاہے:
🍁البقره ۱۲۴🍁التوبه ۱۲ 🍁هود ۱۷ 🍁الاسراء ۷۰ 🍁الانبياء ۷۲ 🍁القصص ۵ 🍁الحجر ۷۹ 🍁السجدة ۲۴ 🍁يس ۱۲ 🍁القصص ۴۱ 🍁الفرقان ۷۴ 🍁الأحقاف ۱۲
✅ کلمه شیعه یا اسکے مشتقات بھی ۱۲ بار قرآن آیا ہیں.
✅ کلمه العصمه (عصمت) جس کے بارے میں شیعوں کا اعتقاد ہے کہ ۱۲ امام (ع) اور فاطمه زهرا (س) و حضرت محمد مصطفی (ص) معصوم ہیں. یہ بھی ۱۴ بار قرآن میں تکرار ہوا ہے.
🔻ان آیات میں :
🍃النساء ۱۴۶ 🍃آل عمران ۱۰۱ 🍃النساء ۱۷۵ 🍃المائدة ۶۷ 🍃آل عمران ۱۰۳ 🍃يوسف ۳۲ 🍃يونس ۲۷ 🍃هود (اس آیت میں دو کلمه) ۴۳ 🍃الأحزاب ۱۷ 🍃غافر ۳۳ 🍃الممتحنة ۱۰ 🍃الحج ۷۸
✅ كلمه الكساء ( جنکو آل عبا بھی کہاجاتا ہے) قرآن كريم میں اپنے تمام لفظی انواع کے ساتھ پانچ بار ذکر ہوا ہے، اهل سنت کی کتاب (صحیحین) میں پیامبر کی بیوی ام سلمہ سے روایت ہے کہ ان کی تعداد پانچ ہے جن میں نبى محمد (ص) و امام على و فاطمة الزهراء و حسن و حسين عليهم السلام اجمعين؛ شامل ہیں:
البقرة ۲۳۳
البقرة ۲۵۹
المائدة ۸۹
المؤمنون ۱۴
النساء ۵
✅ موسی نے جن چشموں کو اپنی قوم کے لئے جاری کیا تھا کیوں ان کی تعداد بارہ ہی تھی؟
✅ اور اسی طرح قرآن میں ۱۲ مہینوں (شهر) کا ذکر
اور کلمه الأسباط ۱۲ بار اور النقباء ۱۲ بار و البروج ۱۲ بات و الحواريين ۱۲ بار اور كلمه توحيد ( لا اله إلا الله ) ۱۲ حرف و ( محمد رسول الله ) ۱۲ حرف و ( النبي المصطفى ) ۱۲ حرف و ( الصادق الأمين ) ۱۲ حرف، همانا امامان اهل بیت ۱۲ إمامند. و ( أمير المؤمنين ) ۱۲ حرف و ( فاطمة الزهراء ) ۱۲ حرف و ( الحسن والحسين ) ۱۲ حرف و ( الحسن المجتبى ) ۱۲ حرف و ( الحسين الشهيد ) ۱۲ حرف و ( الإمام السجاد ) ۱۲ حرف و ( الإمام الباقر ) ۱۲ حرف و ( الإمام الصادق ) ۱۲ حرف و ( الإمام الكاظم ) ۱۲ حرف و ( الإمام الرضاء ) ۱۲ حرف و ( الإمام الجواد ) ۱۲ حرف و ( الإمام الهادى ) ۱۲ حرف و ( الحسن العسكرى ) ۱۲ حرف و ( القائم المهدى ) ۱۲ حرف و ( خليفة النبيين ) ۱۲ حرف و ( و خاتم الوصيين ) ۱۲ حرف و ( و هؤلاء العترة ) ۱۲ حرف و ( سادة أهل الجنة) ۱۲ حرف و ( محبهم مؤمن تقى ) ۱۲ حرف و ( عدوهم كافر شقى ) ۱۲ حرف.
✅ اب آيه تطهير پر توجہ کریں:
( إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت و يطهركم تطهيرا )
اس آیت میں ۴۷ حرف ہیں، اور نیچے دیئے گئے ناموں کے حروف پر توجہ دیں:
فاطمة ۵ 🌹 على ۳ 🌹 حسن ۳ 🌹 حسين ۴ 🌹 على ۳ 🌹 محمد ۴ 🌹 جعفر ۴ 🌹 موسى ۴ 🌹 على ۳ 🌹 محمد ۴ 🌹 على ۳ 🌹حسن ۳ 🌹 محمد ۴
ٹوٹل ۴۷ حرف ہوتے ہیں.
👆ایک مراسلہ👆
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
مصر کے رہنے والے ڈاکٹر مجدی نے شیعوں کے بارہ اماموں کو قرآن سے ثابت کیا ہے. ڈاکٹر مجدى وهبة الشافعى؛ مصر کی مشہور اسلامی الازھر یونیورسٹی کے پروفیسر اور خطیب ہیں. انہوں نے اپنی تحقیق میں عظیم حقیقت کا انکشاف کرتے ہوئے عالم اسلام کو حیرت میں ڈال دیا اور اس تحقیق کے بعد شیعہ مذہب قبول کرلیا.
🔵 قرآن میں ذکر ہونے والی اعداد بے دلیل اوف بے جا نہیں ہیں بلکہ وہ کسی نہ کسی خاص مقصد سے بیان کئے گئے ہیں مثلا کلمه یوم (روز) جو قرآن میں ۳۶۵ بار تکرار ہوا ہے اور ایک سال میں ۳۶۵ دن ہوتے ہیں، یا كلمه شهر (مہینہ) جس کا تذکرہ ۱۲ بار قرآن میں آیا ہے اور ایک سال میں بارہ مہینے ہوتے ہیں، اور اسی طرح دوسری بہت سی مثالیں موجود ہیں ...
🔻انہوں نے ان معلومات کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنی ریسرچ کو انجام دیا اور بہت ہی حیرت انگیز نتیجہ اخذ کیا ہے که:
✅ کلمه امام بارہ بار قرآن میں آیا ہے اور شیعوں کے اعتقاد کے مطابق ان کے اماموں کی تعداد بارہ ہے.
ان آیات میں کلمه امام آیاہے:
🍁البقره ۱۲۴🍁التوبه ۱۲ 🍁هود ۱۷ 🍁الاسراء ۷۰ 🍁الانبياء ۷۲ 🍁القصص ۵ 🍁الحجر ۷۹ 🍁السجدة ۲۴ 🍁يس ۱۲ 🍁القصص ۴۱ 🍁الفرقان ۷۴ 🍁الأحقاف ۱۲
✅ کلمه شیعه یا اسکے مشتقات بھی ۱۲ بار قرآن آیا ہیں.
✅ کلمه العصمه (عصمت) جس کے بارے میں شیعوں کا اعتقاد ہے کہ ۱۲ امام (ع) اور فاطمه زهرا (س) و حضرت محمد مصطفی (ص) معصوم ہیں. یہ بھی ۱۴ بار قرآن میں تکرار ہوا ہے.
🔻ان آیات میں :
🍃النساء ۱۴۶ 🍃آل عمران ۱۰۱ 🍃النساء ۱۷۵ 🍃المائدة ۶۷ 🍃آل عمران ۱۰۳ 🍃يوسف ۳۲ 🍃يونس ۲۷ 🍃هود (اس آیت میں دو کلمه) ۴۳ 🍃الأحزاب ۱۷ 🍃غافر ۳۳ 🍃الممتحنة ۱۰ 🍃الحج ۷۸
✅ كلمه الكساء ( جنکو آل عبا بھی کہاجاتا ہے) قرآن كريم میں اپنے تمام لفظی انواع کے ساتھ پانچ بار ذکر ہوا ہے، اهل سنت کی کتاب (صحیحین) میں پیامبر کی بیوی ام سلمہ سے روایت ہے کہ ان کی تعداد پانچ ہے جن میں نبى محمد (ص) و امام على و فاطمة الزهراء و حسن و حسين عليهم السلام اجمعين؛ شامل ہیں:
البقرة ۲۳۳
البقرة ۲۵۹
المائدة ۸۹
المؤمنون ۱۴
النساء ۵
✅ موسی نے جن چشموں کو اپنی قوم کے لئے جاری کیا تھا کیوں ان کی تعداد بارہ ہی تھی؟
✅ اور اسی طرح قرآن میں ۱۲ مہینوں (شهر) کا ذکر
اور کلمه الأسباط ۱۲ بار اور النقباء ۱۲ بار و البروج ۱۲ بات و الحواريين ۱۲ بار اور كلمه توحيد ( لا اله إلا الله ) ۱۲ حرف و ( محمد رسول الله ) ۱۲ حرف و ( النبي المصطفى ) ۱۲ حرف و ( الصادق الأمين ) ۱۲ حرف، همانا امامان اهل بیت ۱۲ إمامند. و ( أمير المؤمنين ) ۱۲ حرف و ( فاطمة الزهراء ) ۱۲ حرف و ( الحسن والحسين ) ۱۲ حرف و ( الحسن المجتبى ) ۱۲ حرف و ( الحسين الشهيد ) ۱۲ حرف و ( الإمام السجاد ) ۱۲ حرف و ( الإمام الباقر ) ۱۲ حرف و ( الإمام الصادق ) ۱۲ حرف و ( الإمام الكاظم ) ۱۲ حرف و ( الإمام الرضاء ) ۱۲ حرف و ( الإمام الجواد ) ۱۲ حرف و ( الإمام الهادى ) ۱۲ حرف و ( الحسن العسكرى ) ۱۲ حرف و ( القائم المهدى ) ۱۲ حرف و ( خليفة النبيين ) ۱۲ حرف و ( و خاتم الوصيين ) ۱۲ حرف و ( و هؤلاء العترة ) ۱۲ حرف و ( سادة أهل الجنة) ۱۲ حرف و ( محبهم مؤمن تقى ) ۱۲ حرف و ( عدوهم كافر شقى ) ۱۲ حرف.
✅ اب آيه تطهير پر توجہ کریں:
( إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت و يطهركم تطهيرا )
اس آیت میں ۴۷ حرف ہیں، اور نیچے دیئے گئے ناموں کے حروف پر توجہ دیں:
فاطمة ۵ 🌹 على ۳ 🌹 حسن ۳ 🌹 حسين ۴ 🌹 على ۳ 🌹 محمد ۴ 🌹 جعفر ۴ 🌹 موسى ۴ 🌹 على ۳ 🌹 محمد ۴ 🌹 على ۳ 🌹حسن ۳ 🌹 محمد ۴
ٹوٹل ۴۷ حرف ہوتے ہیں.
👆ایک مراسلہ👆
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
💥⚡✨جنتی باورچی خانہ✨⚡💥
🌺 ان خواتین کے لیے جو چاھتی ھیں انکے گھر کا دستر خوان نورانی اور بابرکت ھو🌺
🌷🍃 جب بھی خریداری کے لیے جائیں سورہ کوثر اور سورہ قدر کی تلاوت کریں تاکہ برکت زیادہ ھو🍃🌷
💐🍃کھانا پکانے سے پہلے اس کھانے کو کسی معصوم علیہ السلام کی خدمت میں نذر کر دیں🍃🌷
🍃🌹🍃ایسا بھی کرسکتے ھیں جو دن کسی معصوم علیہ السلام سے منصوب ھے انکے لیے نذر کردیں اس طرح ھم ھروز کی غذا کسی معصوم علیہ السلام کے نام پر کھائیں گے🍃🌹🍃
🥀🍃پکانے کے دوران سورہ نور کی 35آیت(اللہ نورالسموات والارض) تا(کل شئ علیم) تک تلاوت کریں آپ اس آیت کو باورچی خانے میں لکھ کر لٹکا سکتیں ھیں 🍃🥀
🍃ا🌷سطرح کھانا مزیدار ھوگا اور آپس میں گھر والوں میں پیار ومحبت زیادہ ھوگا 🌷🍃
🥀انکے دل نورانی ھونگے ایک دوسرے کے ساتھ با اخلاق ھونگے🍃🥀
🍂🌾جب کھانا پک چکیں نکالنے سے پہلے سات مرتبہ سورہ قریش کی تلاوت کریں🍂🌾
🌷🌹پکاتے ھوئے جب آپ آج کے پکائے ھو کھانے کو کسی معصوم علیہ السلام کے نام سے منصوب کریں گی تو آپ کو اور گھر والوں کو یہ سوچ کر
ھی بہت لطف آئے گا کہ آپ آج کس مصوم علیہ السلام کی نذر کھایں گے 🌹🌷
🍁🌿پکانے سے پہلے وضو کریں🌿🍂
🌷🌷باورچی خانے میں داخل ھونے سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھیں🌷🌷
💐جب آپ یہ دیکھیں کام زیادہ ھےلا حول ولا قوہ الا باللہ پڑھیں💐
💥چولھا روشن کرتے ھوئے اللھم اجرنا من النار( یعنی پروردگار مجھے جہنم کی آگ سے دور رکھ) 💥
🌺پانی کا استعمال کرتے ھوئے پیغمبر صل اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجیں تاکہ انک شفاعت اور حوض کوثر کا پانی پینا نصیب ھو🌺
🌸پھل ااور سبزی کے استعمال کے وقت کہیں اللھم اسئلک الجنہ🌸
🎄کاٹتے ھویے کہیں سبحان اللہ ولحمد للہ🎄
✨✨جب آپ کا کام ختم ھوجائےشکر پروردگار بجا لائیں✨✨
🌿🍃اور اگر تھک گئیں اعوذ باللہ پڑھیں🌿🍃
🌷🌷 ان تمام ذکر کو انجام دیتے ھوئے آپ ایک مجاھد کی طرح ہیں اب آپ سوچیں آپ کھانا بھی پکارہی ھیں اور جھاد کا ثواب بھی لے رہی ہیں🌷🌷
👆ایک مراسلہ👆
https://t.me/islamwitheman/889
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🌺 ان خواتین کے لیے جو چاھتی ھیں انکے گھر کا دستر خوان نورانی اور بابرکت ھو🌺
🌷🍃 جب بھی خریداری کے لیے جائیں سورہ کوثر اور سورہ قدر کی تلاوت کریں تاکہ برکت زیادہ ھو🍃🌷
💐🍃کھانا پکانے سے پہلے اس کھانے کو کسی معصوم علیہ السلام کی خدمت میں نذر کر دیں🍃🌷
🍃🌹🍃ایسا بھی کرسکتے ھیں جو دن کسی معصوم علیہ السلام سے منصوب ھے انکے لیے نذر کردیں اس طرح ھم ھروز کی غذا کسی معصوم علیہ السلام کے نام پر کھائیں گے🍃🌹🍃
🥀🍃پکانے کے دوران سورہ نور کی 35آیت(اللہ نورالسموات والارض) تا(کل شئ علیم) تک تلاوت کریں آپ اس آیت کو باورچی خانے میں لکھ کر لٹکا سکتیں ھیں 🍃🥀
🍃ا🌷سطرح کھانا مزیدار ھوگا اور آپس میں گھر والوں میں پیار ومحبت زیادہ ھوگا 🌷🍃
🥀انکے دل نورانی ھونگے ایک دوسرے کے ساتھ با اخلاق ھونگے🍃🥀
🍂🌾جب کھانا پک چکیں نکالنے سے پہلے سات مرتبہ سورہ قریش کی تلاوت کریں🍂🌾
🌷🌹پکاتے ھوئے جب آپ آج کے پکائے ھو کھانے کو کسی معصوم علیہ السلام کے نام سے منصوب کریں گی تو آپ کو اور گھر والوں کو یہ سوچ کر
ھی بہت لطف آئے گا کہ آپ آج کس مصوم علیہ السلام کی نذر کھایں گے 🌹🌷
🍁🌿پکانے سے پہلے وضو کریں🌿🍂
🌷🌷باورچی خانے میں داخل ھونے سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھیں🌷🌷
💐جب آپ یہ دیکھیں کام زیادہ ھےلا حول ولا قوہ الا باللہ پڑھیں💐
💥چولھا روشن کرتے ھوئے اللھم اجرنا من النار( یعنی پروردگار مجھے جہنم کی آگ سے دور رکھ) 💥
🌺پانی کا استعمال کرتے ھوئے پیغمبر صل اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجیں تاکہ انک شفاعت اور حوض کوثر کا پانی پینا نصیب ھو🌺
🌸پھل ااور سبزی کے استعمال کے وقت کہیں اللھم اسئلک الجنہ🌸
🎄کاٹتے ھویے کہیں سبحان اللہ ولحمد للہ🎄
✨✨جب آپ کا کام ختم ھوجائےشکر پروردگار بجا لائیں✨✨
🌿🍃اور اگر تھک گئیں اعوذ باللہ پڑھیں🌿🍃
🌷🌷 ان تمام ذکر کو انجام دیتے ھوئے آپ ایک مجاھد کی طرح ہیں اب آپ سوچیں آپ کھانا بھی پکارہی ھیں اور جھاد کا ثواب بھی لے رہی ہیں🌷🌷
👆ایک مراسلہ👆
https://t.me/islamwitheman/889
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
👈 گھر کو نمونہ جنت بنانے کے موضوع پر پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں..
❄گھر نمونہ جنت
https://t.me/islamwitheman/527
💞میاں بیوی کی محبت کا تقاضا
https://t.me/islamwitheman/295
🌹عورتوں کی ذمہ داری (حصہ اول)
https://t.me/islamwitheman/243…
❄گھر نمونہ جنت
https://t.me/islamwitheman/527
💞میاں بیوی کی محبت کا تقاضا
https://t.me/islamwitheman/295
🌹عورتوں کی ذمہ داری (حصہ اول)
https://t.me/islamwitheman/243…
🔶 قرض کے بارے احادیث 🔶
حضرت رسولخدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم:
١۔ قرض لینے سے اجتناب کرو کیونکہ یہ رات کا غم اور دن کی ذلت ہوتا ہے۔
(بحارالانوار، جلد١٠٣، ص١٤١)
٢۔ جوشخص زندہ رہنا چاہتا ہے حالانکہ یہاں کسی نے ہمیشہ زندہ نہیں رہنا تو اسے چاہیئے کہ سویرے بیدار ہو اپنے جوتے ڈھیلے ڈھالے پہنے، اپنی چادر کو خفیف رکھے اور جماع کم کیا کرے۔
پوچھا گیا: اپنی چادر کوخفیف رکھنے کا کیا مقصد ہے؟
فرمایا: قرضے کم لیا کرے۔ (چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائے)
(وسائل الشیعہ، جلد١٣، ص٧٧)
٣۔ جوشخص کسی مؤمن کو قرضہ دے اور اس کی آسودہ حالی تک اسے مہلت دے تو جب تک قرضہ واپس نہیں ہوجاتا اس کا مال زکوٰۃ ہی سمجھا جائے گا (اسے زکوٰۃ کا ثواب ملے گا) اور وہ خود قرض کی ادائیگی تک ملائکہ کے ورود میں دن رات گزارتا رہے گا۔
(بحارالانوار، جلد١٠٣، ص١٣٩)
حضرت علی علیہ السلام:
٤۔ بکثرت قرضہ سچے شخص کو جھوٹا اور بروقت ادا کر دینے والے کو وعدہ خلاف بنا دیتا ہے۔
(غررالحکم)
حضرت امام محمد باقرعلیہ السلام:
٥۔ راہ خدا میں شہادت ہر گناہ کو مٹا دیتی ہے سوائے قرض کے کیونکہ اس کا کفارہ صرف اسی صورت میں ہوتا ہے کہ یا تو اسے خود ادا کرے یا اس کا ساتھی اس کی طرف سے ادا کرے یا پھر جس کا حق ہے وہ معاف کردے۔
(وسائل الشیعہ جلد١٣ص٨٣)
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام:
٦۔ چور تین قسم کے ہیں۔۔
١۔زکوٰۃ ادا نہ کرنے والا،
٢۔بیوی کے حق مہر کو حلال سمجھ کر ادا نہ کرنے والا،
٣۔ادا نہ کرنے کی نیت سے قرض لینے والا۔
(وسائل الشیعہ، جلد١٨، ص٥٢٢)
حضرت رسولخدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم:
٧۔ جوشخص یہ چاہتا ہے کہ جس دن عرش الہٰی کے سایہ کے علاوہ کوئی اور سایہ نہیں ہوگا اور وہ عرش الٰہی کے سایہ میں رہے، تو اسے چاہئے کہ تنگدست مقروض کو آسانی حاصل ہونے تک مہلت دے یا اس سے اپنے حق کا مطالبہ کرنا چھوڑ دے۔
(وسائل الشیعہ، جلد١٣، ص١١٣)
٨۔ جو گواہ ٹھہرائے بغیر کسی کو کوئی قرضہ دے اور اس کا حق ضائع ہوجائے تو ١سے اس کے ضائع ہونے کا کوئی اجر نہیں ملے گا۔
(وسائل الشیعہ، جلد١٣، ص٩٣)
٩۔ قرضہ کم سے کم لیا کرو، اس لئے کہ قرضہ جتنا کم ہوگا، عمر اسی قدر زیادہ ہوگی۔
(بحارالأنوار، جلد١٠٣، ص١٤٥)
نقل از تفسیر المعین و ترجمۃ القرآن الکریم
تالیف: علامہ محمد علی فاضل دام عزہ
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
حضرت رسولخدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم:
١۔ قرض لینے سے اجتناب کرو کیونکہ یہ رات کا غم اور دن کی ذلت ہوتا ہے۔
(بحارالانوار، جلد١٠٣، ص١٤١)
٢۔ جوشخص زندہ رہنا چاہتا ہے حالانکہ یہاں کسی نے ہمیشہ زندہ نہیں رہنا تو اسے چاہیئے کہ سویرے بیدار ہو اپنے جوتے ڈھیلے ڈھالے پہنے، اپنی چادر کو خفیف رکھے اور جماع کم کیا کرے۔
پوچھا گیا: اپنی چادر کوخفیف رکھنے کا کیا مقصد ہے؟
فرمایا: قرضے کم لیا کرے۔ (چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائے)
(وسائل الشیعہ، جلد١٣، ص٧٧)
٣۔ جوشخص کسی مؤمن کو قرضہ دے اور اس کی آسودہ حالی تک اسے مہلت دے تو جب تک قرضہ واپس نہیں ہوجاتا اس کا مال زکوٰۃ ہی سمجھا جائے گا (اسے زکوٰۃ کا ثواب ملے گا) اور وہ خود قرض کی ادائیگی تک ملائکہ کے ورود میں دن رات گزارتا رہے گا۔
(بحارالانوار، جلد١٠٣، ص١٣٩)
حضرت علی علیہ السلام:
٤۔ بکثرت قرضہ سچے شخص کو جھوٹا اور بروقت ادا کر دینے والے کو وعدہ خلاف بنا دیتا ہے۔
(غررالحکم)
حضرت امام محمد باقرعلیہ السلام:
٥۔ راہ خدا میں شہادت ہر گناہ کو مٹا دیتی ہے سوائے قرض کے کیونکہ اس کا کفارہ صرف اسی صورت میں ہوتا ہے کہ یا تو اسے خود ادا کرے یا اس کا ساتھی اس کی طرف سے ادا کرے یا پھر جس کا حق ہے وہ معاف کردے۔
(وسائل الشیعہ جلد١٣ص٨٣)
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام:
٦۔ چور تین قسم کے ہیں۔۔
١۔زکوٰۃ ادا نہ کرنے والا،
٢۔بیوی کے حق مہر کو حلال سمجھ کر ادا نہ کرنے والا،
٣۔ادا نہ کرنے کی نیت سے قرض لینے والا۔
(وسائل الشیعہ، جلد١٨، ص٥٢٢)
حضرت رسولخدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم:
٧۔ جوشخص یہ چاہتا ہے کہ جس دن عرش الہٰی کے سایہ کے علاوہ کوئی اور سایہ نہیں ہوگا اور وہ عرش الٰہی کے سایہ میں رہے، تو اسے چاہئے کہ تنگدست مقروض کو آسانی حاصل ہونے تک مہلت دے یا اس سے اپنے حق کا مطالبہ کرنا چھوڑ دے۔
(وسائل الشیعہ، جلد١٣، ص١١٣)
٨۔ جو گواہ ٹھہرائے بغیر کسی کو کوئی قرضہ دے اور اس کا حق ضائع ہوجائے تو ١سے اس کے ضائع ہونے کا کوئی اجر نہیں ملے گا۔
(وسائل الشیعہ، جلد١٣، ص٩٣)
٩۔ قرضہ کم سے کم لیا کرو، اس لئے کہ قرضہ جتنا کم ہوگا، عمر اسی قدر زیادہ ہوگی۔
(بحارالأنوار، جلد١٠٣، ص١٤٥)
نقل از تفسیر المعین و ترجمۃ القرآن الکریم
تالیف: علامہ محمد علی فاضل دام عزہ
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔶 قارون کا انجام 🔶
قارون حضرت موسٰی علیہ السلام کے چاچا کا لڑکا تھا یہ بہت خوش آواز تھا۔ تورات بڑی خوش الحالی سے پڑھتا تھا۔ اس لئے اسے لوگ منور کہتے تھے۔
یہ چونکہ بہت مالدار تھا، اس لئے اللہ کو بھول بیٹھا تھا۔
قوم میں عام طور پر جس لباس کا دستور تھا اس نے اس سے بالشت بھر نیچا بنوایا تھا جس سے اس کا غرور اور تکبر اور اس کی دولت ظاہر ہو۔
اس کے پاس اس قدر مال تھا کہ اس کے خزانے کی کنجیاں اٹھانے پر قوی مردوں کی ایک جماعت مقرر تھی۔
اس کے بہت سے خزانے تھے ہر خزانے کی کنجی الگ تھی جو بالشت بھر کی تھی۔قوم کے بزرگوں نے قارون کو نصیحت کی کہ اتنا اکڑ مت تو قارون نے جواب دیا کہ
"میں ایک عقلمند، زیرک، دانا شخص ہوں اور اسے اللہ بھی جانتاہے، اسی لئے اس نے مجھے دولت دی ہے۔"
قارون ایک دن نہایت قیمتی پوشاک پہن کر رزق برق عمدہ سواری پر سوار ہوکر اپنے غلاموں کو آگے پیچھے بیش بہا پوشاکیں پہنائے ہوئے لے کر بڑے ٹھاٹھ سے اتراتا ہوا نکلا، اس کا یہ ٹھاٹھ اور یہ زینت و تجمل دیکھ کر دنیا داروں کے منہ میں پانی بھر آیا اور کہنے لگے کاش ہمارے پاس بھی اس جتنا مال ہوتا یہ تو بڑا خوش نصیب ہے اور بڑی قسمت والا ہے۔
قارون اس طمطراق سے نکلا وہ سفید قیمتی خچر پر بیش بہا پوشاک پہنے تھا تب ادھر حضرت موسٰی علیہ السلام خطبہ پڑھ رہے تھے، بنواسرائیل کا مجمع تھا سب کی نگاہیں اس کی دھوم دھام پر لگ گئیں۔
حضرت موسٰی علیہ السلام نے اس سے پوچھا:
"اس طرح کیسے نکلے ہو؟"
اس نے کہا:
ایک فضیلت اللہ نے تمہیں دے رکھی ہے اگر تمہارے پاس نبوت ہے تو میرے پاس عزت و دولت ہے اگر آپ کو میری فضیلت میں شک ہے تو میں تیار ہوں آپ اللہ سے دعا کریں دیکھ لیجئے اللہ کس کی دعا قبول کرتا ہے۔
"آپ علیہ السلام اس بات پر آمادہ ہوگئے اور اسے لے کر چلے حضرت موسٰی علیہ السلام نے فرمایا:
"اب پہلے دعا کروں یا تو کرے گا"
قارون نے کہا میں کروں گا اس نے دعا مانگی لیکن قبول نہ ہوئی۔
حضرت موسٰی علیہ السلام نے اللہ تعالٰی سے سے دعا کی یا اللہ زمین کو حکم کر جو میں کہوں مان لے۔
اللہ نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اور وحی آئی میں نے زمین کو تیری اطاعت کا حکم دے دیا ہے حضرت موسٰی علیہ السلام نے یہ سن کر زمین سے کہا:
"اے زمین اسے اور اس کے لوگوں کو پکڑ لے وہیں یہ لوگ اپنے قدموں تک زمین میں دھنس گئے، پھر مونڈھوں تک۔
پھر فرمایا:
اس کے خزانے اور اس کے مال بھی یہیں لے آؤ اسی وقت قارون کے تمام خزانے آگئے آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، قاروں اپنے خزانے سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا زمین جیسی تھی ویسی ہوگئی۔"
ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا ۔ ۔ ۔؟
📚بحوالہ: تفسیر ابن کثیر۔
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
قارون حضرت موسٰی علیہ السلام کے چاچا کا لڑکا تھا یہ بہت خوش آواز تھا۔ تورات بڑی خوش الحالی سے پڑھتا تھا۔ اس لئے اسے لوگ منور کہتے تھے۔
یہ چونکہ بہت مالدار تھا، اس لئے اللہ کو بھول بیٹھا تھا۔
قوم میں عام طور پر جس لباس کا دستور تھا اس نے اس سے بالشت بھر نیچا بنوایا تھا جس سے اس کا غرور اور تکبر اور اس کی دولت ظاہر ہو۔
اس کے پاس اس قدر مال تھا کہ اس کے خزانے کی کنجیاں اٹھانے پر قوی مردوں کی ایک جماعت مقرر تھی۔
اس کے بہت سے خزانے تھے ہر خزانے کی کنجی الگ تھی جو بالشت بھر کی تھی۔قوم کے بزرگوں نے قارون کو نصیحت کی کہ اتنا اکڑ مت تو قارون نے جواب دیا کہ
"میں ایک عقلمند، زیرک، دانا شخص ہوں اور اسے اللہ بھی جانتاہے، اسی لئے اس نے مجھے دولت دی ہے۔"
قارون ایک دن نہایت قیمتی پوشاک پہن کر رزق برق عمدہ سواری پر سوار ہوکر اپنے غلاموں کو آگے پیچھے بیش بہا پوشاکیں پہنائے ہوئے لے کر بڑے ٹھاٹھ سے اتراتا ہوا نکلا، اس کا یہ ٹھاٹھ اور یہ زینت و تجمل دیکھ کر دنیا داروں کے منہ میں پانی بھر آیا اور کہنے لگے کاش ہمارے پاس بھی اس جتنا مال ہوتا یہ تو بڑا خوش نصیب ہے اور بڑی قسمت والا ہے۔
قارون اس طمطراق سے نکلا وہ سفید قیمتی خچر پر بیش بہا پوشاک پہنے تھا تب ادھر حضرت موسٰی علیہ السلام خطبہ پڑھ رہے تھے، بنواسرائیل کا مجمع تھا سب کی نگاہیں اس کی دھوم دھام پر لگ گئیں۔
حضرت موسٰی علیہ السلام نے اس سے پوچھا:
"اس طرح کیسے نکلے ہو؟"
اس نے کہا:
ایک فضیلت اللہ نے تمہیں دے رکھی ہے اگر تمہارے پاس نبوت ہے تو میرے پاس عزت و دولت ہے اگر آپ کو میری فضیلت میں شک ہے تو میں تیار ہوں آپ اللہ سے دعا کریں دیکھ لیجئے اللہ کس کی دعا قبول کرتا ہے۔
"آپ علیہ السلام اس بات پر آمادہ ہوگئے اور اسے لے کر چلے حضرت موسٰی علیہ السلام نے فرمایا:
"اب پہلے دعا کروں یا تو کرے گا"
قارون نے کہا میں کروں گا اس نے دعا مانگی لیکن قبول نہ ہوئی۔
حضرت موسٰی علیہ السلام نے اللہ تعالٰی سے سے دعا کی یا اللہ زمین کو حکم کر جو میں کہوں مان لے۔
اللہ نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اور وحی آئی میں نے زمین کو تیری اطاعت کا حکم دے دیا ہے حضرت موسٰی علیہ السلام نے یہ سن کر زمین سے کہا:
"اے زمین اسے اور اس کے لوگوں کو پکڑ لے وہیں یہ لوگ اپنے قدموں تک زمین میں دھنس گئے، پھر مونڈھوں تک۔
پھر فرمایا:
اس کے خزانے اور اس کے مال بھی یہیں لے آؤ اسی وقت قارون کے تمام خزانے آگئے آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، قاروں اپنے خزانے سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا زمین جیسی تھی ویسی ہوگئی۔"
ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا ۔ ۔ ۔؟
📚بحوالہ: تفسیر ابن کثیر۔
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌷 خوشحال زندگی کے لئے 🌷
1- آپکو سب سے زیادہ طاقت والے اور سب سے بڑے مالدار کا ساتھ حاصل ھے (الله سبحانہ و تعالیٰ) اس پر اعتماد کریں اور خوش رہیں۔
2- دن کا آغاز نماز فجر، اذکار اور توکل علی الله سے کریں۔
3- نماز، تلاوت اور ذکر، چہرے کا نور، دل کا چین اور مزید نیک اعمال کی توفیق کا ذریعہ ھے۔
4- مصیبتوں، مشقتوں حتٰی کے ذمہ داریوں کے نبھانے میں نماز آپکی مددگار ھے، اسکا سہارہ لیں۔
5۔ خشوع اور اطمینان سے کیا گیا سجدہ زمین بھر سونے سے بھی بہتر ھے، اسکی قدر کریں۔
6- نماز اطمینان سے ادا کریں باقی سارے کام اس سے بہت کم اہمیت کے ہیں۔
7- خشوع سے خالی نماز، آنسو سے خالی آنکھیں محرومی ھے، اس محرومی سے نکلیں۔
8- تمام فکروں، غموں کا سبب اپنے رب سے دوری ھے، اس دوری کو ختم کردیں۔
9- افکار اور غم کی کثرت میں کہیں لااله الا اللہ۔
10- دعا نہ چھوڑیں، یہ کامیابی کی کنجی ھے۔
11- روپے پیسے سے فقیروں اور مسکینوں کی دعا خریدیں۔
12- گناھوں سے مسلسل معافی مانگتے رھیں، گناہ بھی معاف رزق میں بھی اضافہ۔
13- جو جہنم کی آگ یاد رکھے، گناہ سے بچنا اسکے لئے آسان ھو جائیگا۔
14- مظلوم کی بدعا اور محروم کی آہ سے بچیں۔
15- اخبار، رسائل سے پہلے کچھ تلاوت قرآن کرلیں۔
16- قرآن تک ہر وقت رسائی رکھیں، ایک آیت کی تلاوت بھی دنیا ومافیہا سے بہتر ھے۔
17- سورۃ الملک کی تلاوت نجات کا باعث ھے۔
18- زندگی انتہائی مختصر ھے۔ غصہ نہ کریں، کسی سے بغض نہ رکھیں۔
19- بدگمانی سے بچیں، دوسروں کو بھی راحت پہنچائیں اور خود بھی راحت میں رہیں۔
20۔ دوسروں کو تکلیف دینے سے بہت بچیں۔
21- بحث مباحثہ چھوڑیے بڑے بڑے کام کرنے کو پڑے ہیں۔
22- یاد رکھیں زبان سے نکلے کلمات لکھے جارھے ہیں۔ زبان سے کوئی لفظ نکالتے ھوئے سوچیں اسکے اثرات کیا ھونگے، ایک لفظ بعض اوقات مہلک ھو جاتا ھے۔
23- غیبت کریں نہ سنیں، کوئی کر رہا ہو تو اسکو بھی روکیں۔
24- جو آپکی غیبت کرے اسکو معاف کردیں وہ تو خود اپنی نیکیاں آپکی نذر کررھا ھے۔
25- سخت آندھیوں میں امید کا دامن نہ چھوٹے۔
26- جب رات ھمیشہ نہیں رہتی تو غم، پریشانی کے بادل بھی چھٹ جائیں گے اور تنگی آسانی سے بدل جائیگی۔
27- آپ اپنی اصلاح کی فکر کریں، آپکا گھرانہ بھی آپکے راستہ پر چلیگا۔
28- آپکا نفس برائی کی طرف بلاتا ھے، اسکو نیکی میں لگاکر مقابلہ کریں۔
29- والدین کی قدر کیجئے، انکو نعمت عظمٰی سمجھیں، رضائے الہٰی کا قریبی سبب ھے۔
30- آخر مردہ یہ تمنا کیوں کریگا کہ وہ واپس آکر صدقہ کرے اس لئے کہ وہ صدقہ کا فائدہ دیکھ لیگا۔ صدقہ کریں، مومن قیامت کے دن اپنے صدقہ کے سائے میں ھوگا۔
بہت ممکن ھے پڑھنے والا لکھنے اور بھیجنے والے سے زیادہ عمل کرلے۔
https://t.me/islamwitheman/979
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1- آپکو سب سے زیادہ طاقت والے اور سب سے بڑے مالدار کا ساتھ حاصل ھے (الله سبحانہ و تعالیٰ) اس پر اعتماد کریں اور خوش رہیں۔
2- دن کا آغاز نماز فجر، اذکار اور توکل علی الله سے کریں۔
3- نماز، تلاوت اور ذکر، چہرے کا نور، دل کا چین اور مزید نیک اعمال کی توفیق کا ذریعہ ھے۔
4- مصیبتوں، مشقتوں حتٰی کے ذمہ داریوں کے نبھانے میں نماز آپکی مددگار ھے، اسکا سہارہ لیں۔
5۔ خشوع اور اطمینان سے کیا گیا سجدہ زمین بھر سونے سے بھی بہتر ھے، اسکی قدر کریں۔
6- نماز اطمینان سے ادا کریں باقی سارے کام اس سے بہت کم اہمیت کے ہیں۔
7- خشوع سے خالی نماز، آنسو سے خالی آنکھیں محرومی ھے، اس محرومی سے نکلیں۔
8- تمام فکروں، غموں کا سبب اپنے رب سے دوری ھے، اس دوری کو ختم کردیں۔
9- افکار اور غم کی کثرت میں کہیں لااله الا اللہ۔
10- دعا نہ چھوڑیں، یہ کامیابی کی کنجی ھے۔
11- روپے پیسے سے فقیروں اور مسکینوں کی دعا خریدیں۔
12- گناھوں سے مسلسل معافی مانگتے رھیں، گناہ بھی معاف رزق میں بھی اضافہ۔
13- جو جہنم کی آگ یاد رکھے، گناہ سے بچنا اسکے لئے آسان ھو جائیگا۔
14- مظلوم کی بدعا اور محروم کی آہ سے بچیں۔
15- اخبار، رسائل سے پہلے کچھ تلاوت قرآن کرلیں۔
16- قرآن تک ہر وقت رسائی رکھیں، ایک آیت کی تلاوت بھی دنیا ومافیہا سے بہتر ھے۔
17- سورۃ الملک کی تلاوت نجات کا باعث ھے۔
18- زندگی انتہائی مختصر ھے۔ غصہ نہ کریں، کسی سے بغض نہ رکھیں۔
19- بدگمانی سے بچیں، دوسروں کو بھی راحت پہنچائیں اور خود بھی راحت میں رہیں۔
20۔ دوسروں کو تکلیف دینے سے بہت بچیں۔
21- بحث مباحثہ چھوڑیے بڑے بڑے کام کرنے کو پڑے ہیں۔
22- یاد رکھیں زبان سے نکلے کلمات لکھے جارھے ہیں۔ زبان سے کوئی لفظ نکالتے ھوئے سوچیں اسکے اثرات کیا ھونگے، ایک لفظ بعض اوقات مہلک ھو جاتا ھے۔
23- غیبت کریں نہ سنیں، کوئی کر رہا ہو تو اسکو بھی روکیں۔
24- جو آپکی غیبت کرے اسکو معاف کردیں وہ تو خود اپنی نیکیاں آپکی نذر کررھا ھے۔
25- سخت آندھیوں میں امید کا دامن نہ چھوٹے۔
26- جب رات ھمیشہ نہیں رہتی تو غم، پریشانی کے بادل بھی چھٹ جائیں گے اور تنگی آسانی سے بدل جائیگی۔
27- آپ اپنی اصلاح کی فکر کریں، آپکا گھرانہ بھی آپکے راستہ پر چلیگا۔
28- آپکا نفس برائی کی طرف بلاتا ھے، اسکو نیکی میں لگاکر مقابلہ کریں۔
29- والدین کی قدر کیجئے، انکو نعمت عظمٰی سمجھیں، رضائے الہٰی کا قریبی سبب ھے۔
30- آخر مردہ یہ تمنا کیوں کریگا کہ وہ واپس آکر صدقہ کرے اس لئے کہ وہ صدقہ کا فائدہ دیکھ لیگا۔ صدقہ کریں، مومن قیامت کے دن اپنے صدقہ کے سائے میں ھوگا۔
بہت ممکن ھے پڑھنے والا لکھنے اور بھیجنے والے سے زیادہ عمل کرلے۔
https://t.me/islamwitheman/979
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
💥⚡✨جنتی باورچی خانہ✨⚡💥
🌺 ان خواتین کے لیے جو چاھتی ھیں انکے گھر کا دستر خوان نورانی اور بابرکت ھو🌺
🌷🍃 جب بھی خریداری کے لیے جائیں سورہ کوثر اور سورہ قدر کی تلاوت کریں تاکہ برکت زیادہ ھو🍃🌷
💐🍃کھانا پکانے سے پہلے اس کھانے کو کسی معصوم علیہ السلام کی خدمت…
🌺 ان خواتین کے لیے جو چاھتی ھیں انکے گھر کا دستر خوان نورانی اور بابرکت ھو🌺
🌷🍃 جب بھی خریداری کے لیے جائیں سورہ کوثر اور سورہ قدر کی تلاوت کریں تاکہ برکت زیادہ ھو🍃🌷
💐🍃کھانا پکانے سے پہلے اس کھانے کو کسی معصوم علیہ السلام کی خدمت…