ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.64K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
🔷 دلوں كی اقسام 🔷

دلوں کی وہ اقسام جن کا ذکر قرآن مجید ميں هے. دیکھئے کہ آپ کے پاس ان ميں سے كون سا دل هے.؟

➊ القلب السليم:
يه وه خالص دل هے جو كفر، نفاق اور گندگی سے پاک هوتا هے.
{إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ}
سورة الشعراء: 89.

➋ القلب المنيب:
يه وه دل هے جو الله سے توبه كرنے اور اس كی اطاعت ميں لگا رهتا هے.
{مَنْ خَشِيَ الرَّحْمَن بِالْغَيْبِ وَجَاء بِقَلْبٍ مُّنِيبٍ}
سورة ق: 33.

➌ القلب المخبت:
يه وه دل هے جو جهكا هوا مطمئن اور سكون والا هوتا هے.
{فتُخْبِتَ لَهُ قُلُوبُهُمْ}
سورة الحج: 54.

➍ القلب الوجل:
يه وه دل هے جو نيكی كے بعد بهی ڈرتا رھتا ھے كه پتہ نہیں الله قبول كرے گا يا نہيں اور اپنے رب كے عذاب سے هر وقت ڈرتا رهتا هے.
{وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوا وَّقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ أَنَّهُمْ إِلَى رَبِّهِمْ رَاجِعُونَ}
سورة المؤمنون: 60.

➎ القلب التقی: يه وه دل هے جو الله كے شعائر كی تعظيم كرتا هے.
{ذَلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ}
سورة الحج: 32.

➏ القلب المهدی:
يه وه دل هے جو الله كے فيصلوں پر بهی راضی رهتا هے اور اپنے رب كے احکامات كو بهی بخوشی قبول كر ليتا ھے.
{وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ}
سورة التغابن: 11.

➐ القلب المطمئن:
يه وه دل هے جس كو الله كی توحيد اور اس كے ذكر سے هى سكون آتا هے.
{وتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللّه}
سورة الرعد: 28.

❽ القلب الحی:
يه وه دل هے جو الله كی نافرمان قوموں كا انجام سن كر ان سے عبرت اور نصحيت حاصل كرتا هے.
{إِنَّ فِي ذَلِكَ لَذِكْرَى لِمَن كَانَ لَهُ قَلْبٌ}
سورة ق: 38.

❾ القلب المريض
یہ وہ دل ہے جو شک، نفاق، بداخلاقی اور ہوس و لالچ وغیرہ جیسے امراض میں مبتلا ہے۔ (سورة الاحزاب، الآية 32)

❿ القلب الأعمى
یہ وہ دل ہے جو دیکھتا ھے نہ سنتا ہے، احساس سے عاری ہے، حتی کہ اندھا ہے۔ (سورة الج، الآيه 46)

❶❶ القلب اللاهي
یہ وہ دل ہے جو قرآن سے غافل، دنیا کی رنگینیوں میں مگن رہتا ہے۔ (سورة الانبياء، الآية 03)

❷❶ القلب الأثم
یہ وہ دل ہے جو دیکھتا ھے نہ سنتا ہے، احساس سے عاری ہے، حتی کہ اندھا ہے۔ (سورة البقره، الآية 283)

❸❶ القلب المتكبر
یہ وہ دل ہے جو متکبر اور سرکش ہے، جس کو اپنی دینداری پر گھمنڈ ہے، اس لحاظ سے یہ دل ظلم و جاریت کا گھر ہو کر رہ جاتا ہے۔ (سورة المؤمن)

یااللہ، یارحمان، یارحیم.....
کوئی کام آسان نہیں
سوائے اس کے جس کو تو آسان کر دے
اور تو جب چاہتا ہے مشکل آسان کر دیتا ہے.
هم سب کو آسانیاں عطا فرما...
اور آسانیاں تقسیم کرنے کی توفیق عطا فرما. آمین یارب العالمین

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman/1496
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
📿 تسبیح فاطمۃالزھراء سلام اللہ علیها 📿

اضافی کمالات اور ذاتی مناقب کے بعد اسلام میں صدیقہ طاہرہ کی عطا کا جائزہ لیا جائے تو اس کی دوقسمیں ہیں.

صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیها نے ملت اسلامیہ کو درس تسبیح دیا ہے اور اسلام کو محافظ بھی فراہم کیئے ہیں.

درس تسبیح کے اعتبار سےآپ کی تسبیح آج بھی ہر نماز کی تکمیل اور عبادت کی جان ہے.
معنوی اعتبار سے یہ تکبیر، تحمید اور تسبیح سے مرکب ہے. اور ظاہری اعتبار سے ابتداء میں یہ تسبیح دھاگوں کی گرہوں سے بنائی گئی. اس کے بعد جب جناب حمزہ علیہ السلام کی شہادت واقع ہوئی تو معصومہ عالم نے ان کی خاک قبر سےتسبیح کے دانے تیار کئے اور اسی طرزعمل کی اتباع میں امام سجاد علیہ السلام نے خاک قبر سیدالشھداء سے تسبیح کے دانےتیار کیے جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے. اور اس کے بارے میں یہ روایت بھی ہے کہ خاک شفا خود بھی تسبیح پروردگار کرتی رہتی ہے.
کوئی تسبیح پڑھنے والا ان دانوں پر ذکر خدا نہ بھی کرے اور یہ کوئی حیرت انگیز بات نہیں ہے. اگر سورۃ جمعہ کے مطابق کائنات کا ہر ذرہ تسبیح پروردگار کر رہا ہے. تو جن ذرات میں خون معصوم جذب ھو گیا ہو ان کی تسبیح پروردگار کرنے میں کیا تعجب ہے.
تسبیح کے بارے میں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ دانے ذکر خدا کا ذریعہ ہوتے ہیں، ذکر وہی ہے جو انسان کی زبان پر ہوتا ہے. اس بنا پر پلاسٹک کے دانوں کو ذریعہ بنا کر صلوات بھی پڑھی جاسکتی ہے اور خاک شفا کے دانوں کو ذریعہ بنا کر لعنت بھی پڑھی جاسکتی ہے. اس کا کوئی تعلق دانوں سے نہیں ہے. دانوں پر نہ صلوات پڑھی جاتی ہے اور نہ لعنت. دانے صرف عدد وشمار کرنےکا ذریعہ ہیں بلکہ خاک شفا کے دانےخود بھی ظالموں پر اسی طرح لعنت کرتے ہیں جس طرح ذکر پروردگار کرتے رہتے ہیں.
(نقوش عصمت علامہ ذیشان حیدر صفحہ:۱۸۲--۱۸۳)

■تسبیح زہراء س کی فضیلت:
جناب فاطمہ زہراء سلام اللہ علیھا کی تسبیح کی فضیلت بے شمار احادیث میں آئی ھے.

●امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:
ہم اپنے چھوٹے بچوں کو فاطمہ زہراء سلام اللہ علیها کی تسبیح کا امر دیتے تھے. جیسا کہ ہم انکو نماز کا حکم دیتے ہیں. پس اسکو ترک نہ کرنا کیونکہ جو اسے باقاعدگی کے ساتھ ہمیشہ پڑھتا رہے گا. بدبخت اور شقی نہ ھو گا.

●روایات متعبر میں آیا ھے کہ:
وہ ذکر کثیر جسکا خداوندعالم نے
قرآن میں حکم دیا ھے وہ جناب فاطمہ زہراء سلام اللہ علیها کی تسبیح ھے.
جو شخص نماز کے بعد ہمیشہ پڑھے. اس نے خدا کو بہت زیادہ یاد کیا.
اور آیت...واَذْکُرُوْا اللہَ ذِکْرََا کَثِیْرََا، پر اس نے عمل کیا.

●امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
جو شخص فاطمہ زہراء سلام الله عليها کی تسبیح پڑھکر اسکے بعد استغفار پڑھے تو خدا اس بندے کو بخش دیتا ھے.

●امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
جو شخص نماز کے بعد فاطمہ زہراء سلام الله عليها کی تسبیح پڑھے وہ پاؤں کی حرکت کرنے سے پہلے بخش دیا جاتا ھے. اور اس پہ جنت واجب ھو جاتی ھے.

●جناب رسالت مآب ص نے ارشاد فرمایا:
میرے نزدیک ہر نماز کے بعد فاطمہ زہراء سلام الله عليها کی تسبیح ہر دن ہزار رکعت پڑھنے سے بہتر ھے.

●امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
جو بندہ نماز کے بعد تسبیح پڑھکر ایک دفعہ (لَا اِلٰهَ اِلاَّ اللہُ) پڑھ لے تو خدا اسے بخش دے گا.

📿بہتر یہی ھے کہ تسبیح خاکِ شفا کی ھو. اور اسے ہر وقت اپنے ساتھ رکھنا مستحب اور مصیبت سے محافظ اور بے انتہا ثواب کی حامل ھے.

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔶 غصہ کرنے کے نقصانات 🔶

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
قدرت رکھنے کے باوجود معاف کر دو اور غصے کے وقت بردباری اختیار کرو.
(نہج البلاغہ، مکتوب69)


■ دوسروں پر غصہ
ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﻮ ﻏﺼﮧ ﺑﮩﺖ ﺁﺗﺎ ﺗﮭﺎ. ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﻗﺎﺑﻮ ﮨﻮﮐﺮ ﻭﮦ ﺑﺮﺍ ﺑﮭﻼ ﮐﮩﺘﺎ. ﺟﺐ ﻏﺼﮧ ﺍﺗﺮﺗﺎ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﭘﺸﯿﻤﺎﻧﯽ ﮨﻮﺗﯽ. ﻭﮦ ﻏﺼﮯ ﭘﺮ ﻗﺎﺑﻮ ﭘﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﺎ.

ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﻨﺎ ﮐﮧ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮔﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻋﺎﻟﻢ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ. ﻟﻮﮔﻮﮞ کے ﻣﺴﺌﻠﻮﮞ کا ﺣﻞ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﮯ. ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﭼﻠﻮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﭘﯿﺶ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺷﺎﯾﺪ ﮐﭽﮫ ﺗﺪﺑﯿﺮ ﻧﮑﻞ ﺁﺋﮯ.

ﻭﮦ ﺍﺱ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ:
"ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮯ ﺣﺪ ﻏﺼﮧ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ."

ﻋﺎﻟﻢ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: "ﺟﺐ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻏﺼﮧ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺩﺭﺧﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﻞ ﭨﮭﻮﻧﮏ ﺩﯾﺎ ﮐﺮﻭ."
ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: ﯾﮧ ﮐﻮﻧﺴﺎ ﺣﻞ ﮨﮯ؟

عالم ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: "ﺗﻢ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﻭ ﺗﻮ ﺳﮩﯽ."

ﺁﺧﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﯾﮩﯽ ﮐﯿﺎ ﺍﺳﮯ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻏﺼﮧ ﺁﺗﺎ، ﻭﮦ ﺟﻨﮕﻞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﻭﮌﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﮐﯿﻠﯿﮟ ﺩﺭﺧﺖ ﻣﯿﮟ ﭨﮭﻮﻧﮑﺘﺎ ﺟﺎﺗﺎ. ﺁﺧﺮ ﺩﻥ ﮔﺬﺭﺗﮯ گئے.
ﺍﺳﮯ ﺟﺐ ﻏﺼﮧ ﺁﺗﺎ، ﻭﮦ ﯾﮩﯽ ﻋﻤﻞ ﺩﮨﺮﺍﺗﺎ.
ﺁﺧﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻏﺼﮧ ﮐﻢ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﻨﮕﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ.
ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻭﮦ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ:
ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻏﺼﮧ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮨﮯ.
ﻋﺎﻟﻢ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺟﮕﮧ ﭘﺮ ﻟﮯ ﭼﻠﻮ ﺟﮩﺎﮞ ﺗﻢ ﻧﮯ ﮐﯿﻠﯿﮟ ﭨﮭﻮﻧﮑﯽ ﮨﯿﮟ.

ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻭﮨﺎﮞ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ. ﻋﺎﻟﻢ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺧﺖ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﺁﺩﮬﺎ ﮐﯿﻠﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﺍ ﭘﮍﺍ ﮨﮯ.
ﻋﺎﻟﻢ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: ﺍﺏ ﺍﻥ ﮐﯿﻠﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﮑﺎﻟﻮ.

ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﻭﮦ ﮐﯿﻠﯿﮟ ﻧﮑﺎﻝ ﻟﯿﮟ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮨﺎﮞ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺑﮍﮮ ﺑﮯ ﺣﺪ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﺗﮭﮯ.

ﻋﺎﻟﻢ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: ﯾﮧ ﻭﮦ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺗﻢ ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﮐﺮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ. ﺩﯾﮑﮭﻮ ﮐﯿﻞ ﺗﻮ ﻧﮑﻞ ﮔﺌﮯ ﻣﮕﺮ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﯿﮟ.

ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺑﮩﺖ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﮨﻮﺍ.
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﻣﺎﻧﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﺎ ﺷﮑﺮﯾﮧ ﺍﺩﺍ ﮐﯿﺎ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺁﺋﯿﻨﮧ ﺩﮐﮭﺎﯾﺎ.

🔘 ﮨﻤﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮐﮧ ﺑﻮﻟﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻧﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﻠﯿﮟ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﭨﮭﻮﻧﮑﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﮐﯿﻠﯿﮟ ﻧﮑﻞ ﺑﮭﯽ ﮔﺌﯿﮟ ﺗﻮ ﻧﺸﺎﻥ ﺑﺎﻗﯽ ﺭﮦ ﺟﺎئیگا۔

■ غصے میں کیا گیا فیصلہ
ایک دن ایک بادشاہ نے ایک کنویں سے پانی پینے کا ارادہ کیا، جب بادشاہ نے پانی سے جام بھرا تو، اس کا شاہین جام پر جھپٹا اور پانی کو گرا دیا۔

سارا پانی نیچے گر گیا، اور بادشاہ بہت غصے میں آگیا، اپنی تلوار نکالی اور پل بھر میں، اپنے شاہین کو مار گرایا۔

شاہین کو مارنے کے بعد بادشاہ نے کنویں میں ایک بہت ہی مہلک، اور زہریلے سانپ کو دیکھا جس نے کنویں کے سارے پانی کو بھی زہریلا بنایا ہوا تھا، بادشاہ بہت پریشان ہوا، اپنے فعل پر پچھتایا، اور اپنے شاہین کی حرکت پر بہت متاثر ہوا۔

بادشاہ نے اس واقعہ کے بعد سونے کی تاروں سے، شاہین کا مجسمہ بنوایا، جسکے ایک پر، پر لکھوایا کہ:
ایک دوست ہمیشہ اپ کا دوست ہے حتی کہ اس کا کام اپ پر ناگوار گزرے، اور آپ کو غمگین کرے۔

اور اسکے دوسرے پر، پر لکھوایا کہ:
جو عمل بھی غصہ اور بغیر سوچے سمجھے یا جلدی کیوجہ سے ہو، اس پر پچھتانا ضرور پڑتا ہے۔

■ طیش اور غصہ
ترکهان دکان بند کر کے گهر گیا تو کہیں سے گهومتا پهرتا ایک سیاہ کوبرا ناگ اس کی ورکشاپ میں گهس آیا. یہاں بظاہر تو ناگ کی دلچسپی کی کوئی چیز نہیں تهی پهر بهی ادهر سے ادهر اور اوپر سے نیچے جائزہ لیتا پهر رہا تها کہ اس کا دهڑ وہاں پڑی ایک آری سے ٹکرا کر بہت معمولی سا زخمی ہو گیا.
گهبراہٹ میں ناگ نے پلٹ کر آری پر پوری قوت سے ڈنگ مارا. فولادی آری پر زور سے لگے ڈنگ نے آری کا کیا بگاڑنا تها الٹا ناگ کے منہ سے خون بہنا شروع ہو گیا.
اس بار خشونت اور تکبر میں ناگ نے اپنی سوچ کے مطابق آری کے گرد لپٹ کر، اسے جکڑ کر اور دم گهونٹ کر مارنے کی پوری کوشش کر ڈالی.

دوسرے دن جب ترکهان نے ورکشاپ کهولی تو ایک ناگ کو آری کے گرد لپٹے مردہ پایا جو کسی اور وجہ سے نہیں محض اپنے طیش اور غصے کی بهینٹ چڑھ گیا تها.

🔘 بعض اوقات غصے میں ہم دوسروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر وقت گزرنے کے بعد ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہم نے اپنے آپ کا زیادہ نقصان کیا ہے.

اچهی زندگی کیلئے بعض اوقات ہمیں
کچھ چیزوں کو،
کچھ لوگوں کو،
کچھ حوادث کو،
کچھ کاموں کو،
کچھ باتوں کو نظر انداز کرنا چاہیئے. اپنے آپ کو ذہانت کے ساتھ نظر انداز کرنے کا عادی بنائیے، ضروری نہیں کہ ہم ہر عمل کا ایک رد عمل دکهائیں. ہمارے کچھ رد عمل ہمیں محض نقصان ہی نہیں دیں گے بلکہ ہو سکتا ہے کہ ہماری جان بهی لے لیں.

🌹 آگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ شکریہ

✍ سید سجاد حسین ہمدانی

https://t.me/islamwitheman/72
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 عقیق کی انگوٹھی 🔷

■ایک شخص نے پاک پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنا درد دل بیان کیا کہ میں ڈاکوؤں کے ہتھے چڑھ گیاتھا... تو آپ (ص) نے اسے فرمایا:
کہ تیرا ہاتھ عقیق کی انگوٹھی سے کیوں خالی تھا؟
یقین کرو عقیق ہر قسم کی بلاؤں سے حفاظت کرتا ہے.

■امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام سے روایت کی گئی ھے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا:
عقیق کی انگوٹھی ہاتھ میں رکھو تاکہ خدا تمھیں برکت دے اور ہر قسم کی بلاؤں سے محفوظ رھو.

■امام رضا علیہ السلام اپنے نورانی کلام میں ارشاد فرماتے ہیں:
جس کے ہاتھ میں عقیق کی انگوٹھی ھو ایسا ہاتھ کبھی فقیر نہیں ھو گا. اور اسکی ہر حاجت بہترین انداز میں پوری ھو جایا کرے گی.

■عبدالرحیم قصیر کہتے ہیں کہ ایک دفعہ حاکم وقت کے کارندے حضرت ابوطالب کی اولاد میں سے ایک شخص کو کسی جرم میں گرفتار کر کے لئے جا رہے تھے کہ راستے میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے ملاقات ھو جاتی ھے تو آپ نے اس کے اھل خانہ سے فرمایا کہ اس کے لئے عقیق کی انگشتری بھیج دیجئے.
انھوں نے ایسے ہی کیا تو اس کو حکمران سے کوئی تکلیف نہ پہنچ سکی.

■ابی المقدام کہتے ہیں کہ ایک دفعہ امام محمد باقر علیہ السلام نے ایک تازیانے مارے گئے شخص کو دیکھا تو فرمایا اس کی عقیق کی انگوٹھی کہاں تھی؟
اگر اس کے پاس ھوتی تو یقینا اسے تازیانے نہ پڑتے.

■امام جعفرصادق علیہ السلام اپنے پدرگرامی اور وہ اپنے جدبزرگوار سے نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا:
کہ جو شخص عقیق کی انگوٹھی بنواتا ہے اور اس پر یہ کلمات نقش کرواتا ہے...
(محمد نبي الله و علي ولي الله)
تو وہ ناگہانی اموات سے محفوظ رہے گا اور طبعی موت مرےگا.

■امام موسی کاظم علیہ السلام اپنے اجداد سے نقل کرتے ھوئے فرماتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام اپنے ایک نورانی وعرفانی کلام میں بیان فرماتے ہیں کہ:
خداوندمتعال نے حضرت موسی علیہ السلام کو خلق فرمایا اور کوہ طور سے ان کے ساتھ ھمکلام ھوا پھر زمین کی طرف اپنی نگاہ ڈالی اور اپنی نورانیت سے عقیق کو خلق کیا اور فرمایا:
مجھےاپنی ذات کی قسم! میں نے اپنے اوپر لازم قرار دیا ہے کہ جس ہاتھ میں عقیق کی انگوٹھی ھو اور اس ہاتھ والا علی ابن ابیطالب کی ولایت کا اقرار کرتا ھو تو اسے عذاب نہیں کروں گا.

حوالہ:
ثواب الاعمال، صفحہ: 373تا377.
بشکریہ تحریر: اصغررضا

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 ان الله یحب التوابين 🔷

بنی اسرائیل کا ایک قصاب اپنے پڑوسی کی لونڈی پر عاشق ہو گیا۔ اتفاق سے ایک دن لونڈی کو اس کے مالک نے دوسرے گاؤں کسی کام سے بھیجا. قصاب کو موقع مل گیا اور وہ بھی اس لونڈی کے پیچھے ہولیا،
جب لونڈی جنگل سے گزری تو اچانک قصاب نے سامنے آ کر اسے پکڑ لیا اور اسے گناہ پر آمادہ کرنے لگا۔

جب لونڈی نے دیکھا کہ اس قصاب کی نیت خراب ہے تو اس نے کہا: ''اے نوجوان تُو اس گناہ میں نہ پڑ! حقیقت یہ ہے کہ جتنا تُو مجھ سے محبت کرتا ہے اس سے کہیں زیادہ میں تیری محبت میں گرفتار ہوں لیکن مجھے اپنے مالک حقیقی عزوجل کا خوف اس گناہ کے اِرتکاب سے روک رہا ہے۔''

اس نیک سیرت اور خوفِ خدا رکھنے والی لونڈی کی زبان سے نکلے ہوئے یہ الفاظ تاثیر کا تیر بن کر اس قصاب کے دل میں پیوست ہوگئے اور اس نے کہا:
''جب تُو اللہ عزوجل سے اِس قدر ڈر رہی ہے تو مَیں اپنے پاک پروردگار عزوجل سے کیوں نہ ڈروں. مَیں بھی تو اسی مالک کا بندہ ہوں، جا....تو بے خوف ہو کر چلی جا۔''

اتنا کہنے کے بعد...
اس قصاب نے اپنے گناہوں سے سچی توبہ کی اور واپس پلٹ گیا.

راستے میں اسے شدید پیاس محسوس ہوئی لیکن اس ویران جنگل میں کہیں پانی کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہ تھا قریب تھا کہ گرمی اور پیاس کی شدت سے اس کا دم نکل جاتا، اتنے میں اسے اس زمانے کے نبی کا ایک قاصد ملا، جب اس نے قصاب کی یہ حالت دیکھی تو پوچھا:
''تجھے کیا پریشانی ہے؟''

کہا: ''مجھے سخت پیاس لگی ہے۔''

یہ سن کر قاصدنے کہا:
''آؤ! ہم دونوں مل کر دعا کرتے ہیں کہ اللہ عزوجل ہم پر اپنی رحمت کے بادل بھیجے اور ہمیں سیراب کرے یہاں تک کہ ہم اپنی بستی میں داخل ہو جائیں۔

''قصاب نے جب یہ سنا تو کہنے لگا:
''میرے پاس تو کوئی ایسا نیک عمل نہیں جس کا وسیلہ دے کر دعا کروں، آپ نیک شخص ہیں آپ ہی دعا فرمائیں۔''

اس قاصد نے کہا:
مَیں دعا کرتا ہوں، تم آمین کہنا۔

پھر قاصد نے دعا کرنا شروع کی اور وہ قصاب آمین کہتا رہا.

تھوڑی ہی دیر میں بادل کے ایک ٹکڑے نے ان دونوں کو ڈھانپ لیا اور وہ بادل کا ٹکڑا ان پر سایہ فگن ہو کر ان کے ساتھ ساتھ چلتا رہا.

جب وہ دونوں بستی میں پہنچے تو قصاب اپنے گھر کی جانب روانہ ہوا اور وہ قاصد اپنی منزل کی طرف جانے لگا، بادل بھی قصاب کے ساتھ ساتھ رہا جب اس قاصد نے یہ ماجرا دیکھا تو قصاب کو بلایا اور کہنے لگا:
''تم نے تو کہا تھا کہ میرے پاس کوئی نیکی نہیں، اور تم نے دعا کرنے سے اِنکار کر دیا تھا، پھر میں نے دعا کی اور تم آمین کہتے رہے لیکن اب حال یہ ہے کہ بادل تمہارے ساتھ ہو لیا ہے اور تمہارے سر پر سایہ فگن ہے، سچ سچ بتاؤ! تم نے ایسی کون سی عظیم نیکی کی ہے جس کی وجہ سے تم پر یہ خاص کرم ہوا؟''

یہ سن کر قصاب نے اپنا سارا واقعہ سنایا۔ اس پر اس قاصد نے کہا:
''اللہ عزوجل کی بارگاہ میں گناہوں سے توبہ کرنے والوں کا جومقام و مرتبہ ہے وہ دوسرے لوگوں کا نہیں.''

اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔ آمین

بے شک گناہ سرزد ہونا انسان ہونے کی دلیل ہے مگر ان پر توبہ کر لینا مومن ہونے کی نشانی ہے.
(حکایتِ سعدی)

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 انسان پیدائشی حریص ہے 🔷

وہ غریب گھرانے کا فرد تها، بی ایڈ کر کے وزیر آباد کے قریب نظام آباد کے گورنمنٹ ہائی سکول میں سائنس ٹیچر بھرتی ہو گیا.
غربت زیادہ تھی اور خواب اونچے.
وہ نوکری سے اکتا کر 2004ء میں دوبئی چلا گیا، چھ ماہ بعد واپس آ گیا.
اور اس نے ایک عجیب کام شروع کیا.
■ہمسایوں سے رقم مانگی اور یہ رقم پندرہ دن میں دوگنی کر کے واپس کردی، محلے کے دو لوگ اگلے گاہک بنے اور دوگنی رقم کے مالک ہو گئے. دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کی لائن لگ گئی.
●یہ کاروبار وزیر آباد، سیالکوٹ اور گوجرانوالہ تک پھیل گیا اور وہ معمولی سکول ماسٹر ارب پتی ہو گیا.
●یہ کاروبار 18 ماہ جاری رہا. اس نے 43ہزار لوگوں سے 7ارب روپے جمع کر لئے.
●رقم ڈبل کرنے کی مدت پندرہ دن، بعد ازاں ایک مہینہ پھر دو مہینے اور آخر میں 70 دن ہو گئی.
■لیکن پھر اس کے برے دن شروع ہو گئے. وہ خفیہ اداروں کی نظر میں آ گیا. تحقیقات شروع ہوئیں تو پتہ چلا وہ "پونزی سکیم" چلا رہا ہے. پونزی مالیاتی فراڈ کی ایک قسم ہے جس میں رقم دینے والا گاہکوں کو ان کی اصل رقم سے منافع لوٹاتا رہتا ہے. شروع کے گاہکوں کو دوگنی رقم مل جاتی ہے لیکن آخری گاہک سارے سرمائے سے محروم ہو جاتے ہیں.
●خفیہ اداروں نے اس کے گرد گھیرا تنگ کر دیا. اس دوران "ڈیلی نیشن" میں اس کے خلاف خبر شائع ہوگئی. اور یہ اپریل 2007ء میں گرفتار ہو گیا.
■جی ہاں یہ شخص سید سبط الحسن عرف ڈبل شاہ تھا. پاکستانی تاریخ کا سب سے بڑا فراڈیا. اس نے صرف ڈیڑھ سال میں تین اضلاع سے سات ارب روپے جمع کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔
نیب نے اس کی جائیداد، زمینیں، اکاﺅنٹس اور سیف پکڑ لئے، یہ رقم تین ارب روپے بنی اور اس نے یہ تین ارب روپے چپ چاپ نیب کے حوالے کر دیئے.
■کیس چلا اور اسے یکم جولائی 2012ء کو 14 سال کی سزا ہوئی، جیل کا دن 12 گھنٹے کا ہوتا ہے چنانچہ 14 سال عملاً 7 سال تھے.
●عدالتیں، حوالات اور مقدمے کے دوران گرفتاری کو بھی سزا سمجھتی ہیں. ڈبل شاہ 13 اپریل 2007ء کو گرفتار ہوا تھا. وہ عدالت کے فیصلے تک پانچ سال قید کاٹ چکا تھا. یہ پانچ سال نفی ہو گئے. باقی رہ گئے دو سال.
●ڈبل شاہ کے لئے چار ارب روپے کے عوض دو سال قید مہنگا سودا نہیں تھا. جیل میں اچھے چال چلن سے سزا میں چھوٹ مل جاتی ہے. ڈبل شاہ کو یہ چھوٹ بھی مل گئی چنانچہ عدالتی فیصلے کے 23ماہ بعد ڈبل شاہ 15مئی 2014ء کو کوٹ لکھپت جیل سے رہا ہو گیا وہ ہر لحاظ سے ظاهرا کامیاب ثابت ہوا.
■وہ سکول ٹیچر فراڈ کے ذریعے 18 ماہ میں سات ارب روپے کا مالک بن گیا. نیب ایڑی چوٹی کا زور لگانے کے باوجود اس سے چار ارب روپے نہیں نکلوا سکا، اور وہ بڑے آرام سے (سیکنڈ کلاس میں) سزا بھگت کر باہر آ گیا.
■وہ جب رہا ہوا تو وہ مکمل طور پر کلیئر تھا. اس نے اب کسی کو کچھ ادا کرنا تھا اور نہ ہی پولیس اور نیب اسے تنگ کر سکتی تھی. ایک سابق سکول ٹیچر کے لئے چار ارب روپے کی رقم قارون کے خزانے سے کم نہیں تھی. وہ لاہور شفٹ ہوا اور دنیا بھر کی سہولیات کے ساتھ شاندار زندگی گزارنے لگا.

■لیکن اب آپ اللہ کا نظام بھی ملاحظہ کیجئے. سید سبط الحسن شاہ عرف ڈبل شاہ کو رہائی کے 16 ماہ بعد اکتوبر2015ء میں ہارٹ اٹیک ہوا. پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی لے جایا گیا. اس کی طبیعت تھوڑی سی بحال ہوئی. گھر آیا لیکن پھر یہ 30اکتوبر2015ء کو انتقال کر گیا. یہ چار ارب روپے کا مالک دنیا سے چپ چاپ رخصت ہو گیا.
●ڈبل شاہ کی ساری بے نامی جائیداد دنیا میں رہ گئی اور وہ خالی ہاتھ اگلے جہاں چلا گیا.
●دنیا کا مال دنیا کے کتے چاٹ گئے۔ یہ کیا ہے؟ یہ ہماری زندگی، ہمارے نہ ختم ہونے والے لالچ اور ہماری لامتناہی حرص کی اصل حقیقت ہے.

●نورجہاں کا مقبرہ نشئیوں کی پناہ گاہ بن جاتا ہے اور شاہ جہاں کے تاج محل میں انگریزوں کے گھوڑے باندھے جاتے ہیں.

●ہم انسان ان چیونٹیوں سے بھی بدتر ہیں جو عمر بھر اپنے جثے سے بڑے دانے کھینچتی رہتی ہیں، انہیں کھینچ، دھکیل کر بلوں تک لاتی ہیں اور جب دانوں کا انبار لگ جاتا ہے تو وہ ان کے سرہانے گر کر مر جاتی ہیں اور پھر ان کی عمر بھر کی جمع پونجی چوہوں کا نوالہ بن جاتی ہے. ہم میں سے زیادہ تر لوگ چونٹیاں ہیں.

●اب آخر میں فلیٹس میاں نواز شریف کےلئے تنگ جوتا بنتے جارہے ہیں. آپ دیکھ لیجئے گا یہ فلیٹس بھی دنیا میں رہ جائیں گے اور انکو بچانے، ان کے لئے لڑنے والے رخصت ہو جائیں گے.

■میں اکثر حیران ہوتا ہوں، ہم انسان جانتے ہیں ہم خسارے کے سوداگر ہیں لیکن اس کے باوجود ہم عمر بھر خسارا بیچتے اور خریدتے رہتے ہیں.
کیوں؟ آخر کیوں؟
ہم انسان آخر ڈبل شاہ کی موت کیوں پسند کرتے ہیں. ہم دولت کے انبار میں کیوں دفن ہونا چاہتے ہیں؟
مجھے آج تک اس سوال کا جواب نہیں ملا.
کاش انسان سمجھ سکے لیکن شاید انسان سمجھنا ہی نہیں چاہتا.

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman/60
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 استاد کا خلوص و شفقت 🔷

پرانے استاد کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کیلئے چھٹی پر جانا پڑا تو ایک نئے استاد کو اس کے بدلے ذمہ داری سونپ دی گئی.

نئے استاد نے سبق کی تشریح کر چکنے کے بعد، ایک طالبعلم سے سوال پوچھا؛

اس طالب علم کے اردگرد بیٹھے دوسرے سارے طلباء ہنس پڑے.

استاد کو اس بلا سبب ہنسی پر بہت حیرت ہوئی، مگر اس نے ایک بات ضرور محسوس کر لی کہ کوئی نا کوئی وجہ ضرور ہوگی.

طلباء کی نظروں، حرکات اور رویے کا پیچھا کرتے آخرکار استاد نے یہ نکتہ پا لیا کہ یہ والا طالب علم ان کی نظروں میں نکما، احمق، پاگل اور غبی ہے، ہنسی انہیں اس بات پر آئی تھی کہ استاد نے سوال بھی پوچھا تو کسی پاگل سے پوچھا.

جیسے ہی چھٹی ہوئی، سارے طلباء باہر جانے لگے تو استاد نے موقع پا کر اس طالب علم کو علیحدگی میں روک لیا. اسے کاغذ پر ایک شعر لکھ کر دیتے ہوئے کہا، کل اسے ایسے یاد کر کے آنا جیسے تجھے اپنا نام یاد ہے، اور یہ بات کسی اور کو پتہ بھی نا چلنے پائے.

دوسرے دن استاد نے کلاس میں جا کر تختہ سیاہ پر ایک شعر لکھا، اس کے معانی، مفہوم، ابلاغ اور تشریح بیان کر کے شعر مٹا دیا. پھر طلباء سے پوچھا؛ یہ شعر کسی کو یاد ہو گیا ہو تو وہ اپنا ہاتھ کھڑا کرے!
جماعت میں سوائے اس لڑکے کے ہچکچاتے، جھجھکتے اور شرماتے ہوئے ہاتھ کھڑا کرنے کے اور کوئی نہ تھا جو ہاتھ کھڑا کرتا.
استاد نے اسے کہا سناؤ، تو لڑکے نے ازبر یاد کیا ہوا شعر سنا دیا.
استاد نے لڑکے کی تعریف کی اور باقی سارے لڑکوں سے کہا اس کیلئے تالیاں بجائیں. سارے طالبعلم حیرت و استعجاب سے دیدے پھاڑے اس لڑکے کو دیکھ رہے تھے.
اس ہفتے وقفے وقفے سے، مختلف اوقات میں اور مختلف طریقوں سے ایسا منظر کئی بار ہوا، استاد لڑکے کی تعریف و توصیف کرتا اور لڑکوں سے حوصلہ افزائی کیلئے تالیاں بجواتا.
دوسرے طلباء کی نظریں، رویہ اور سلوک اس کے ساتھ بدلنا شروع ہو گیا.
اس طالب نے بھی اپنے آپ کو بہتر اور افضل سمجھنا شروع کر دیا، اپنی ذات پر بھروسہ کرنے لگا، غبی اور پاگل کی سوچ سے باہر نکل کر عام طلباء بلکہ بہتری کی جانب بڑھنا شروع ہو گیا. اپنی صلاحیتوں کو بہتر استعمال کرنے لگا، پراعتماد ہوا، دوسروں جیسا پڑھنے لگا بلکہ دوسروں کے ساتھ مقابلے میں آنے لگا.
امتحانات میں خوب محنت کی، اپنے آپ کو ثابت کیا اور اچھے نمبروں سے پاس ہو گیا. اگلی جماعتوں میں اور بہتر پڑھا، یونیورسٹی تک پہنچا، آجکل پی ایچ ڈی کر رہا ہے.

■یہ ایک اخبار میں چھپنے والا شخصی قصہ ہے جس میں ایک شخص اس ایک شعر کو اپنی کامیابی کی سیڑھی قرار دے رہا ہے جو ایک شفیق استاد نے چپکے سے اسے یاد کرنے کیلئے لکھ کر دیدیا تھا.

■لوگ دو قسم کے ہوتے ہیں:
●ایک قسم ان لوگوں کی ہوتی ہے جو خیر کی کنجیوں کا کام کرتے ہیں، شر کے دروازے بند کرتے ہیں، حوصلہ افزائی کرتے ہیں، داد دیتے ہیں، بڑھ کر ہاتھ بڑھاتے ہیں، اپنی استطاعت میں رہ کر مدد کر دیتے ہیں، دوسروں کے شعور اور احساس کو سمجھتے ہیں، کسی کے درد کو پڑھ لیتے ہیں، مداوا کی سبیل نکالتے ہیں، رکاوٹ ہو تو دور کر دیتے ہیں، تنگی ہو، آسانی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ترشی ہو تو حلاوت گھولنے کی کوشش کرتے ہیں، مسکراہٹ بکھیرتے ہیں، انسانیت کو سمجھتے ہیں، انسانیت کی ترویج کر دیتے ہیں، کسی کی بیچارگی کو دیکھ کر ملول ہوتے ہیں اور اپنے تئیں چارہ گری کی سبیل کرتے ہیں، ابتداء کرتے ہیں، ایجاد کرتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں، مل کر کھاتے ہیں، دکھ بانٹتے ہیں، درد سمجھتے ہیں.
●دوسری قسم کے لوگ اس کے برعکس شر کا دروازہ کھولنے والے، قنوطیت اور یاسیت کو پروان چڑھانے والے، چلتوں کو روکنے والے، سامنے پتھر لڑھکانے والے، حوصلوں کو پست کرنے والے، منفی رویوں کی ترویج اور اجاگر کرنے والے، شکایتوں کے پلندے اٹھائے، نصیبوں کرموں اور تقدیروں کو رونے والے، راستے بند اور راستوں میں کھونٹے گاڑنے والے.

■آپ معلم ہیں، والد ہیں، والدہ ہیں، استاد ہیں، قائد ہیں، یا ایک عام شہری ہیں؛ ایک سوال ہے آپ سے:
کیا آپ اپنی قسم بیان کر سکتے ہیں؟
یا الله هم سب کو خیر بانٹنے والا بنا دے.

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 نقطۂ نظر 🔷

●ايک بچے نے سمندر ميں اپنا جوتا کھو ديا تو بلکتے ہوئے بچے نے سمندر کے ساحل پر لکھ ديا کہ...
يہ سمندر چور ہے.

اور
●کچھ ہی فاصلے پر ايک شکاری نے سمندر ميں جال پھينکا اور بہت سی مچھليوں کا شکار کيا. تو خوشی کے عالم ميں اسنے ساحل پر لکھ ديا کہ سخاوت کيلئے اسی سمندر کی مثال دی جاتی ہے...
اے بحرِ سخاوت! سخاوت تم سے اور تم سخاوت سے ہو.

●نوجوان غوطہ خور نے سمندر ميں غوطہ لگايا اور وہ اسکا آخری غوطہ ثابت ہوا. کنارے پر بيٹھی غمزدہ ماں نے ريت پر ٹپکتے ہوئے آنسوں کيساتھ لکھ ديا کہ...
يہ سمندر قاتل ہے.

●ايک بوڑھے شخص کو سمندر نے قیمتی موتی کا تحفہ ديا تو اسنے فرحت جذبات ميں آکر ساحل سمندر پر لکھ ديا کہ...
يہ سمندر کريم اور سخی ہے.

■پھر ايک بہت بڑی لہر آئی اور اسنے سب کا لکھا ہوا مٹا ديا.....

■لوگوں کی باتوں پر سر مت دھرو ہر شخص وہ کہتا ہے جہاں سے وہ ديکھتا ہے، ہر ایک کا اپنا نقطۂ نظر ہوتا ہے. نقطۂ نظر مختلف ہونے سے مخالفت مول نہیں لینی چاہیے بلکہ.....

خطاؤں اور غلطيوں کو مٹا دو تاکہ دوستی اور بھائی چارگی چلتی رہے، کبھی کسی کی خطا کی وجہ سے دوستی اور بھائی چارگی مت مٹلاؤ،
جب تمہارے ساتھ برا سلوک کيا جائے جواب ميں اس سے بدتر کا مت سوچو بلکہ نيکی کی نيت کر لو.

کيونکہ قرآن ميں رب العزت کا فرمان ہے:
(وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۚ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ)
بھلائی اور برائی کبھی برابر نہيں ہو سکتی اور برائی کو اچھے طريقے سے دور کر دو.

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🤲 الله مجیب الدعوات 🤲

میں نے ان سے ایک سوال پوچھا:
"اللہ تعالیٰ سے بات منوانے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟"

وہ مسکرائے، قبلہ رو ہوئے، پاؤں لپیٹے، رانیں تہہ کیں، اپنے جسم کا سارا بوجھ رانوں پر شفٹ کیا اور مجھ سے پوچھا:
"تمہیں اللہ سے کیا چاہیے؟"

ہم دونوں اس وقت جنگل میں بیٹھے تھے. حبس اور گرمی کا موسم تھا. سانس تک لینا مشکل تھا. میں نے اوپر دیکھا. اوپر درختوں کے پتے تھے اور پتوں سے پرے گرم پگھلتا ہوا سورج تھا.
میں نے مسکرا کر عرض کیا:
اگر بادل آ جائیں، ذرا سی ٹھنڈی ہوائیں چلنے لگیں تو موسم اچھا ہو جائے گا.
وہ ہنسے اور آہستہ سے بولے "لو دیکھو" وہ اس کے بعد بیٹھے بیٹھے رکوع میں جھکے اور پنجابی زبان میں دعا کرنے لگے "اللہ جی! کاکے کی دعا قبول کر لے، اللہ جی! ہماری سن لے، وہ دعا کرتے جاتے تھے اور روتے جاتے تھے. پہلے ان کی پلکیں گیلی ہوئیں. پھر ان کے منہ سے سسکیوں کی آوازیں آئیں اور پھر ان کی آنکھیں چھم چھم برسنے لگیں. وہ بری طرح رو رہے تھے.
میں ان کی حالت دیکھ کر پریشان ہو گیا، میں نے زندگی میں بے شمار لوگوں کو روتے دیکھا لیکن ان کا رونا عجیب تھا، وہ ایک خاص ردھم میں رو رہے تھے. منہ سے سسکی نکلتی تھی، پھر آنکھیں برستیں تھیں اور پھر "اللہ جی! ہماری سن لے" کا راگ الاپ بنتا تھا. میں پریشانی، استعجاب اور خوف کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ انھیں دیکھ رہا تھا. وہ دعا کرتے جاتے تھے، روتے جاتے تھے اور سسکیاں بھرتے جاتے تھے. میں نے پھر وہاں ایک عجیب منظر دیکھا، مجھے ہوا ٹھنڈی ہوتی ہوئی محسوس ہوئی، آسمان پر اسی طرح گرم سورج چمک رہا تھا لیکن جنگل کی ہوا میں خنکی بڑھتی جا رہی تھی. میری پیشانی، سر اور گردن کا پسینہ خشک ہو گیا، میرے سینے اور کمر پر رینگتے ہوئے قطرے بھی غائب ہو گئے. میں ٹھنڈی ہوا کو محسوس کر رہا تھا اور حیران ہو رہا تھا. میرے دیکھتے ہی دیکھتے پتوں نے تالیاں بجانا شروع کر دیں، شاخیں ایک دوسرے کے ساتھ الجھنے لگیں، پودے ہوا کی موسیقی پر ناچنے لگے اور پھر بادل کا ایک ٹکڑا کہیں سے آیا اور سورج اور ہمارے سر کے درمیان تن کر ٹھہر گیا. وہ رکے، دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور شکر ادا کرنے لگے.
وہ دیر تک "اللہ جی! آپ کا بہت شکر ہے، اللہ جی! آپ کی بہت مہربانی ہے" کہتے رہے. وہ دعا سے فارغ ہوئے، ذرا سا اوپر اٹھے، ٹانگیں سیدھی کیں اور منہ میری طرف کر کے بیٹھ گئے، ان کی سفید داڑھی آنسوؤں سے تر تھی، انھوں نے کندھے سے رومال اتارا، داڑھی خشک کی اور پھر بولے "دیکھ لو! اللہ نے اپنے دونوں بندوں کی بات مان لی" میں نے ان کا ہاتھ پکڑا، چوما اور پھر عرض کیا "باباجی لیکن اللہ سے بات منوانے کا فارمولہ کیا ہے، اللہ کب، کیسے اور کیا کیا مانتا ہے؟" وہ مسکرائے، شہادت کی دونوں انگلیاں آنکھوں پر رکھیں اور پھر بولے "یہ دو آنکھیں فارمولہ ہیں" میں خاموشی سے ان کی طرف دیکھتا رہا. وہ بولے "میں نے یہ فارمولہ اپنی ماں سے سیکھا، میں بچپن میں جب بھی کوئی بات منوانا چاہتا تھا تو میں رونے لگتا تھا. ماں سے میرا رونا برداشت نہیں ہوتا تھا. وہ تڑپ اٹھتی تھی. وہ مجھے گود میں بھی اٹھا لیتی تھی. مجھے چومتی بھی تھی. میری آنکھیں بھی صاف کرتی تھی اور میری خواہش، میری ضرورت بھی پوری کرتی تھی.
میں ماں کی اس کمزوری کا جی بھر کر فائدہ اٹھاتا تھا. میں رو رو کر اس سے اپنی پسند کے کھانے بھی بنواتا تھا، اس سے نئے کپڑے اور نئے جوتے بھی لیتا تھا اور کھیلنے کے لیے گھر سے باہر بھی جاتا تھا. وہ رکے اور پھر آہستہ سے بولے "میں نے جب مولوی صاحب سے قرآن مجید پڑھنا شروع کیا تو مولوی صاحب نے ایک دن فرمایا "اللہ تعالیٰ انسان سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے، یہ فقرہ سیدھا میرے دل میں لگا اور میں نے سوچا، میں رو کر اپنی ایک ماں سے سب کچھ منوا لیتا ہوں، اللہ اگر مجھ سے ستر ماؤں جتنی محبت کرتا ہے تو پھر میں رو رو کر اس سے کیا کیا نہیں منوا سکتا. وہ رکے اور بولے "بس وہ دن ہے اور آج کا دن ہے، میں روتا ہوں، اللہ کی ذات میں ستر ماؤں کی محبت جگاتا ہوں اور میری ہر جائز خواہش، میری ہر جائز دعا قبول ہو جاتی ہے."

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 علاج بالغذا 🔷

یہ نظم آج سے پچاس سال قبل راندھیر (بھارت کے) ایک حکیم صاحب نے کہی تھی، جو شاعر بھی تھے...

●جہاں تک کام چلتا ہو غذا سے
وہاں تک چاہیے بچنا دوا سے

●اگر خوں کم بنے، بلغم زیادہ
تو کھا گاجر،چنے، شلغم زیادہ

●جگر کے بل پہ ہے انسان جیتا
اگر ضعف جگر ہے کھا پپیتا

●جگر میں ہو اگر گرمی کا احساس
مربّہ آملہ کھا...... یا.... انناس

●اگر ہوتی ہے... معدہ میں گرانی
تو پی لے سونف یا ادرک کا پانی

●تھکن سے ہوں اگر عضلات ڈھیلے
تو فوراََ... دودھ.. گرما گرم پی لے

●جو دکھتا ہو گلا نزلے کے مارے
تو کر نمکین پانی.... کے غرارے

●اگر ہو درد سے دانتوں کے... بے کل
تو انگلی سے مسوڑوں پر نمک مَل

●جو طاقت میں کمی ہوتی ہو محسوس
تو مصری کی ڈلی... ملتان کی... چوس

●شفا چاہیے اگر.... کھانسی سے جلدی
تو پی لے دودھ میں تھوڑی سی ہلدی

●اگر کانوں میں...... تکلیف ہووے
توسرسوں کاتیل پھائےسےنچوڑے

●اگر آنکھوں میں پڑ جاتے ہوں جالے
تودکھنی مرچ گھی کےساتھ کھالے

●تپ دق سے اگر چاہیے.. رہائی
بدل پانی کے گّنا چوس بھائی

●دمہ میں یہ غذا بے شک ہے اچھی
کھٹائی چھوڑکھادریا کی مچھلی

●اگر تجھ کو لگے جاڑے میں سردی
تو استعمال کر.... انڈے کی زردی

●جو بد ہضمی میں تو چاہے افاقہ
تو دو اِک وقت کا کر لے تو فاقہ.

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 دنیا کا دارومدار 🔷

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ حضرت علی علیہ السلام دنیا اور امور دنیا سے حد درجہ بیزار تھے. آپ۴ نے دنیا کو مخاطب کر کے بارہا کہا ہے کہ
"اے دنیا! غُرِی غیری"
جا میرے علاوہ کسی اور کو دھوکا دے، میں نے تجھے طلاق بائن دے دی ہے. جس کے بعد رجوع کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا.

■ابن طلحہ شافی لکھتے ہیں کہ ایک دن حضرت علی علیہ السلام نے جابر ابن عبداللہ انصاری کو لمبی لمبی سانس لیتے ہوئے دیکھا تو پوچھا کہ اے جابر کیا یہ تمہاری ٹھنڈی سانس دنیا کے لئے ہے.
جابر نے عرض کی مولا ہے تو ایسے ہی.

آپ۴ نے فرمایا:
جابر سنو! انسان کی زندگی کا دارومدار سات چیزوں پر ہے اور یہی سات چیزیں وہ ہیں جن پر لذتوں کا خاتمہ ہے. جن کی تفصیل یہ ہے...

➊ کھانے والی چیزیں.
➋ پینے والی چیزیں.
➌ پہننے والی چیزیں.
➍ لذت نکاح والی چیزیں.
➎ سواری والی چیزیں.
➏ سونگھنے والی چیزیں.
➐ سننے والی چیزیں.

■اے جابر اب ان کی حقیقتوں پر غور کرو...
●کھانے میں بہترین چیز شہد ہے، یہ مکھی کا لعاب دہن ہے.
●بہترین پینے کی چیز پانی ہے، یہ زمین پر مارا مارا پھرتا ہے.
●بہترین پہننے کی چیز دیباج ہے یہ کپڑے کا لعاب ہے
●بہترین منکوحات عورت ہے جس کی حد یہ ہے کہ پیشاب کا مقام پیشاب کے مقام میں ہوتا ہے، دنیا اس کی چیز کو اچھی نگاہ سے دیکھتی ہے وہ وہی ہے جو اس کے جسم میں سب سے گندی ہے.
●بہترین سواری گھوڑا ہے جو قتل و قتال کا مرکز ہے.
●بہترین سونگھنے کی چیز مُشک ہے جو ایک جانور کے ناف کا سوکھا ہوا خون ہے.
●بہترین سننے کی چیز غنا (گانا) ہے جو انتہائی گُناہ ہے.

اے جابر ایسی چیزوں کے لئے عاقل کیوں ٹھنڈی سانس لے؟
جابر کہتے ہیں کہ اس ارشاد کے بعد سے میں نے کبھی دنیا کا خیال تک نہیں کیا.

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman/89
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌳 باپ ٹھنڈی چھاؤں 🌳

باپ، عالیشان منصب پر فائز اپنے بیٹے کے عالیشان دفتر میں داخل ہوا،
بیٹے کو محبت بھری نظروں سے دیکھا،
دل زیادہ مچلا تو اس کے پیچھے جا کر کھڑا ہو گیا.
فخر سے مغلوب ہو کر بیٹے کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا:
بیٹے جانتے ہو،
اس دنیا کا طاقتور ترین شخص کون ہے؟
بیٹے نے جھٹ سے جواب دیا:
"میں"

باپ کو حیرت سے ایک جھٹکا لگا، تاکید کیلئے ایک بار پھر پوچھا:
بیٹے اس دنیا کا طاقتور ترین شخص کون ہے؟

بیٹے نے بالکل پہلے جیسی متانت اور سکون سے دھیمے لہجے میں جواب دیا:
"میں"

باپ کے چہرے کا رنگ متغیر ہوگیا، صدمے سے دل بُجھا اور آنکھوں میں آنسو لہرا گئے.

بیٹے کے کندھے سے ہاتھ اُٹھایا اور دروازے کی طرف قدم بڑھا دیئے.
دفتر کے دروازے پر ایک بار پھر رُکا، مُڑکر بیٹے کو دیکھا...
اور پھر سے پوچھا:
بیٹے، اس دُنیا کا طاقتور ترین شخص کون ہے؟
بیٹے نے بغیر کسی توقف کے کہا:
"آپ"

باپ کی حیرت کی انتہاء نہ رہی، بیٹے کی اس بدلتی سوچ پر بہت حیران ہوا، تھوڑے سے قدم واپس مُڑکر اندر آکر
آہستگی سے پوچھا:
تھوڑی دیر پہلے تمہارے خیال میں تم اس دنیا کے طاقتور ترین شخص تھے اور اب تم میرا نام لے رہے ہو،
یہ اچانک تبدیلی کیسی؟
بیٹے نے کہا:
جب آپ کا ہاتھ میرے کندھوں پر تھا تو میں اس دنیا کا طاقتور ترین شخص تھا،
اور اب جب آپ کا ہاتھ اُٹھ گیا ہے اور آپ دور جا کر کھڑے ہوگئے ہیں تو میں تنہا رہ گیا ہوں. اس وقت دنیا کے طاقتور ترین شخص آپ ہو گئے ہیں.

■دیکھیے:
ایک طویل عمر کے بعد؛
بیٹوں کے اپنے باپ کی قبر پر بہائے ہوئے آنسو بھلے کتنے ہی سچے اور اخلاص سے ہی نکلے ہوئے کیوں نہ ہوں،
نہ ان کے باپ کو کوئی فائدہ پہنچا رہے ہوتے ہیں اور نہ ہی اُن بیٹوں کیلئے کوئی افادیت پیدا کر رہے ہوتے ہیں.

ہاں!
البتہ اگر باپ بقید حیات اور اس زمین کے اوپر صحت و تندرستی کے ساتھ،
اپنی دولــتمندی یا اپنی فقـــــــیری کے ساتھ کسی بھی حالت میں موجود ہے تو...
وہ اپنی اولاد کیلئے اللہ کے بعد طاقت اور ملجاء کی سند اور امن و امان کا ضامن ہے.

🔘 مبارک ہو ان خوش قسمتوں کو! جن کے والد زندہ ہیں اور اُن سے راضی بھی ہیں. والد کی قدر کیجیئے، ان کا سایہ آپ کیلئے ٹھنڈی چھاؤں ہی نہیں اور بھی بہت کچھ ہے.

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman/58
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 اولڈ ایج ہوم 🔷

میں سائیکاٹرسٹ کے کلینک ڈاکٹر کو چت لیٹے، آنکھیں بند کیے اپنا مسئلہ بتا رہا تھا....

میں آفس میں مصروف رہتا اور نوشین لیکچرار تھی. بچے سکول، کالج سے آکر اکیڈمی چلے جاتے اور گھر میں صرف اماں اور نوکرانی ہوتی تھی.

اماں کافی بیمار رہنے لگیں تھیں. جسکی وجہ سے میری اور نوشی کی ورک روٹین خراب ہونے لگی.

ایک دن نوشی نے مجھے کہا:
سنئے! اماں کی وجہ سے ہم دونوں کو خاصی ڈسٹربنس ہو رہی ہے کیوں نا ہم انہیں اولڈ ایج ہوم چھوڑ آئیں.

میں غرایا، تم نے یہ سوچا بھی کیسے؟

آپ بھی نا جذباتی ہو جاتے ہیں. ہم کسی اچھے اولڈ ہوم کا انتخاب کریں گے، خدانخواستہ رات کو تو ہم یہاں ہوتے ہیں اگر دن میں اماں کی طبیعت بگڑ گئی تو کیا کرے گی کام والی. آپ ایک دفعہ مسز عباسی نے جو اولڈ ہوم پروجیکٹ شروع کیا ہے وہ دیکھ آئیں.

اچھا فی الحال اپنی بکواس بند کرو۔

اگلے دن میں نہ چاہتے ہوئے بھی گاڑی لیکر مسز عباسی کی طرف چلا گیا، جہاں میرا استقبال مسز عباسی نے خود کیا. میں نے وہ ساری عمارت گھوم پھر کر دیکھی، وہاں زندگی کی ہر سہولت فراہم کی گئی تھی. اماں کے آرام کے لئے مجھے وہ مناسب لگا.

رات کو اماں کے کمرے میں داخل ہوا تو انہوں نے میری طرف دیکھا اور مسکرائیں. میں چپ چاپ بیٹھ گیا. سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ بات کو کیسے شروع کروں. یہ مشکل اماں نے خود ہی آسان کر دی.

"کیا ہوا بیٹا پریشان لگ رہے ہو؟"

جی آپ کی وجہ سے ہی پریشانی تھی. کیسی طبیعت ہے اب؟

میں ٹھیک تو ہوں. مجھے کیا ہونا. بس یہ کمبخت مارا بلڈ پریشر اوپر نیچے ہوتا رہتا ہے.

اماں ایک مشورہ کرنا تھا آپ سے.

بولو بیٹا!

اماں میں ایک جگہ دیکھ کر آیا ہوں وہ آپ کی رہائش کے لئے بہت مناسب ہے. وہاں مجھے یہ پریشانی نہیں ہوگی کہ آپ گھر میں اکیلی ہیں، یا آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے، وہاں ڈاکٹر چوبیس گھنٹے موجود رہتا ہے، ماحول بھی صاف ستھرا ہے.

اماں کی مسکراہٹ تھم گئی. ایک دفعہ ماتھے پہ بل پڑے اور پھر مسکرا دیں. بیٹا مجھے بھی کافی دن سے محسوس ہو رہا تھا کہ تم لوگوں کو کافی ڈسٹرب کر رہی ہوں. ٹھیک ہے کوئی مسئلہ نہیں، جیسے میرا لعل خوش ویسے میں خوش. اماں نے مسکراتے ہوئے میرا ماتھا چوما اور میں کمرے سے نکل آیا.

میرا ضمیر اس بے غیرتی پہ آمادہ نہیں تھا مگر پھر بھی اماں کو میں اولڈ ایج ہوم چھوڑ آیا.

شروع میں دو تین دن بعد چکر لگا لیتا پھر میرے چکر کم ہوتے گئے بس اتوار کی اتوار جانے لگا اور پھر قریبا ایک مہینہ نہ جا سکا. اسی دوران وہ منحوس دن آ گیا.

اتوار کا دن تھا، ایک آدمی کے ساتھ کاروباری ملاقات کرنی تھی، ناشتہ کیا اور گاڑی میں آبیٹھا کہ اٹھارہ سالہ میرا بیٹا، ایان بھی دروازہ کھول کر ساتھ بیٹھ گیا.

ٍڈیڈ آپ کو پتہ ہے میں گاڑی چلانا مکمل سیکھ گیا ہوں.

اچها... واہ شاباش.

ڈیڈ آپ ہمیشہ ہمیں سکول چھوڑ کر آتے ہیں آج میں آپ کو چھوڑ کر آؤں گا.

میں نے ہنستے ہوئے ایان سے پوچھا.
اچھا کہاں چھوڑنے کا ارادہ ہے اپنے پاپا کو؟

اس نے کہا.... اور میں ساکت ہوگیا.

وہ اپنی دھن میں بولتا جا رہا تھا. آج سنڈے ہے مجھے پتہ ہے، آپ گرینی سے ملنے جا رہے ہیں. میں بھی چلتا ہوں ساتھ میں آپ کو ڈرائیونگ بھی دکھاتا ہوں اپنی.
مگر میں ایان کے پہلے جملے پہ ہی ساکت ہو چکا تھا، اسکے جملے میں میرا مستقبل چھپا تھا. میری وہ فصل جو مجھے کاٹنی ہی تھی. میری آنکھوں سے آنسو ابل کر آ رہے تھے اور میں اپنی اماں سے اپنے اس گھٹیا سلوک سے سخت شرمندہ تھا.

ایان کو میں نے گاڑی سے نکالا اور تیزی سے گاڑی چلاتا ہوا اماں کو لینے اولڈ ایج ہوم جانے لگا.

اولڈ ایج ہوم پہنچا تو دوسری بجلی گری کہ کچھ دیر قبل ہی اماں ہارٹ اٹیک سے فوت ہو چکی تھیں اور میری معافی و توبہ کے سارے دروازے بند ہو گئے.

■ ڈاکٹر صاحب تب سے میں انتہائی چڑچڑا ہو چکا ہوں. کاروبار میں دل نہیں لگتا. اکثر چھٹی والے دن سارا سارا دن قبرستان میں اماں کے سرہانے بیٹھ کر ان سے معافی مانگتا رہتا ہوں. مجھے بتائیں کیا اس بے سکونی اور اس ضمیر کا کوئی علاج ہے جو جاگا بھی تو بے فیض. کافی دیر تک میں چپ رہا لیکن ڈاکٹر کی آواز نہ آئی.
میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو ڈاکٹر سر نیچے کئے بیٹھا رو رہا تھا.

ڈاکٹر صاحب! میں دوبارہ بولا تو اس نے سر اٹھایا اور آنکھیں صاف کرکے بولا: اسکے علاوہ اس بے سکونی کا کوئی علاج نہیں کہ اللّٰہ سے توبہ و استغفار کرتے رہا کرو. نیک کام کرو تاکہ وہ تمہارے ماں باپ کے کام آئیں اور شاید تمہیں سکون مل جائے.

وہ دوبارہ بولا:
میں نے ایک ضروری کام سے جانا ہے آپ چلے جائیں. یہ کہتے ہوئے اس نے اپنا موبائل اٹھایا اور ملازم کو بلا کر کلینک بند کرنے کا کہنے لگا.

ڈاکٹر صاحب اتنی ایمرجنسی میں آپ جا کہاں رہے ہیں؟ میں نے پوچھا تو اس نے مُڑ کر جواب دیا: اولڈ ایج ہوم! بابا کو لینے... یہ کہا اور گھوم کر راہداری میں غائب ہو گیا.

https://t.me/islamwitheman/4198
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
☘ روح کا گھر آنا ☘

گھر ميں روح كے آنے كا بيان صحيح السند روايات ميں وارد ہوا ہے۔ الكافى كى تيسرى جلد ميں اس موضوع پر ايک باب باندھا گيا ہے جس كا عنوان ہے:
"ميت كا اپنے اہل وعيال كى زيارت كرنا"

■امام جعفر صادق عليہ السلام فرماتے ہيں:
"بے شک مومن اپنے اہل وعيال كى زيارت كرتا ہے، پس وہ اس چيز كو ديكھتا ہے جو اسے پسند و محبوب ہے اور جسے وہ نا پسند كرتا ہے وہ اس سے پوشيدہ كر دى جاتى ہے، اور كافر بھى اپنے اہل و عيال كى زيارت كرتا ہے، وہ اس شىء كو ديكھتا ہے جسے ناپسند كرتا ہے اور جسے پسند كرتا ہے وہ اس سے پوشيدہ كر دی جاتی ہے، ان ميں سے بعض وہ ہيں جو ہر جمعہ كو زيارت كرتے ہيں، اور ان ميں سے بعض ہیں جو اپنے عمل كى مقدار كے مطابق زيارت كرتے ہيں" (يعنى جو زيادہ ايمان اور عمل صالح ركھتا ہے وہ اتنى زيادہ مقدار ميں زيارت كر سكتا ہے)
📗الكافى، ج 3، ص 230، كتاب الجنائز، باب أن الميت يزور أھلہ، حديث 1.
یہ حديث صحيح السند ہے.

■بعد کی روايت ميں وارد ہوا ہے كہ امام جعفر صادق عليہ السلام فرماتے ہيں:
"كوئى ايسا مومن اور كوئى ايسا كافر نہيں ہے مگر وہ زوالِ شمس (ظہر كے وقت) اپنے اہل و عيال كے پاس آتا ہے، جب مومن اپنے اہل كو صالح عمل كرتے ہوئے ديكھتا ہے تو اس پر اللہ كى حمد بجا لاتا ہے، اور جب كافر اپنے اہل و عيال كو صالح عمل كرتے ديكھتا ہے تو اس پر حسرت كرتا ہے (كہ اے كاش ميں بھى اس عمل كو انجام ديتا)
📗الكافى، ج 3 ، س 230، حديث 2.

■بعض روايات كے مطابق ميت ايک پرندے يا چڑيا يا اس سے چھوٹے پرندے كى صورت ميں دو فرشتوں كے ہمراہ زيارت كے ليے آتى ہے. نيز مومن كى روح اپنى قدر و منزلت كے مطابق زيارت كر سكتى ہے. ہر جمعہ كو زوالِ شمس (ظہر كے وقت) زيارت كر سكتى ہے. ليكن بقيہ دنوں ميں اسے يہ قدرت و اجازت عطا نہيں ہوتى. ليكن جو مومن منزلت و مرتبہ ركھتا ہے اس كے مطابق سال، مہينوں اور ہفتوں كے بقيہ دنوں ميں دو يا تين يا اس سے زائد، اذنِ زيارت اللہ تعالى كى طرف سے عنايت ہوتا ہے.

🅾 ميت كا گھر ميں زيارت كے ليے آنا صحيح السند روايات ميں وارد ہوا ہے اور وقتِ زيارت ’"ظہر كا وقت‘" ہے اور جمعہ كا دن. البتہ اگر مومن صاحب منزلت و مرتبہ ہے تو جمعہ كے علاوہ بقيہ دنوں ميں بھى زيارت كے ليے آتا ہے. "جمعہ كا دن" مومن اور كافر ہر كے ليے قرار ديا گيا ہے. كافر كے ليے يہ زيارت تكليف و غم كا باعث ہے اور مومن كے ليے خوشى کا باعث.

🅾 روايات ميں روح كو سورج سے تشبيہ دى گئى ہے كہ جس طرح سورج ايک جگہ ہوتا ہے ليكن اس كى كرنيں اور روشنى ايک بڑے علاقے كو گھير ليتى ہے اور سورج اس سے تعلق ركھتا ہے. اسى طرح روحِ انسانى ہے. البتہ روحِ انسانى كا احاطہ كرنا اس كى ايمانى منزلت اور مرتبہ كے مطابق ہے. جيسا كہ روايت ميں وارد ہوا ہے:
■محمد بن القاسم نوفلى بيان كرتے ہيں كہ ميں نے امام جعفر صادق عليہ السلام سے پوچھا: مومن خواب ديكھتا ہے تو كبھى جيسا وہ ديكھتا ہے ويسا ہى ہوتا ہے اور كبھى وہ خواب ديكھتا ہے ليكن اس كے مطابق نہيں ہوتا ہے؟
امام عليہ السلام نے فرمايا:
جب مومن سوتا ہے تو اس كى روح ميں سے ايک حركت ہوتى ہے جو پھيلى ہوئى ہوتى ہے آسمان كى طرف جاتى ہے، پس جب بھى مومن كى روح تقدير اور تدبير كے مقام پر ملكوتِ آسمان كو ديكھتى ہے تو وہ "حقّ" ہوتا ہے، اور جب بھى مومن كى روح زمين ميں (كسى واقعہ يا زمين كو) ديكھتى ہے تو خواب ميں دكھائى دينے والے اشتباہات اور حق باطل كا اختلاط ہے.
راوى كہتا ہے كہ ميں نے امام عليہ السلام سے پوچھا: كيا مومن كى روح آسمان كى طرف جاتى ہے؟
امام عليہ السلام نے فرمايا: بالكل
راوى كہتا ہے ميں نے كہا: اس كے بدن ميں كوئى شىء باقى نہيں رہتى؟
امام عليہ السلام نے فرمايا: نہيں ، ايسا نہيں ہے، كيونكہ اگر اس کی روح تمام كى تمام بدن سے خارج ہو جاتى اور كچھ باقى نہ بچتا تو وہ مر جاتا.
راوى كہتا ہے ميں نے پوچھا: پھر كيسے روحِ مومن خارج ہوتى ہے؟
امام عليہ السلام نے فرمايا: كيا تم نے آسمان ميں سورج نہيں ديكھا كہ وہ اپنى جگہ پر ہوتا ہے ليكن اس کی كرنيں اور اس كى شعاعيں زمين پر ہوتى ہيں، بالكل اسى طرح روح بھی اصل بدن ميں ہوتى ہے اور اس كى حركت پھيلى ہوئى ہوتى ہے.
📗أمالى الشيخ الصدوق، ص 145، مجلس 29، حديث 15.

🅾 ميت كے آنے سے گھر ميں كسى شىء ميں كمى يا اضافہ نہيں ہوتا. نہ ہى ميت كسى پہلو كے اعتبار سے اثر انداز ہوتى ہے. البتہ ان مناظر كو ديكھ كر ميت بارگاہِ الہى ميں دعا كرے تو اللہ تعالى اپنے عبدِ مومن كى گزارش پر خير و بركت عنايت فرما سكتا ہے.

🅾 زندوں كے ليے ان روايات ميں يہ فرصت مہيا ہے كہ وہ اعمال صالح كو برپا كر كے اور شر و گناہ كو برطرف كر كے اپنے مرنے والوں كى خوشى كا باعث بنيں.

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 عــورت گلے کا ہار 🔷

امــام جعفــر الصــادق علیہ السلام نے فرمایا:

عورت گلے کا ہار ہوتی ہے، لہٰذا خوب غور و فکر سے کام لیا کرو کہ کس کو گلے لگا رہے ہو. عورت کی کوئی چیز برابری نہیں کر سکتی. نہ نیک عورت کی اور نہ بدکار عورت کی.

●نیک عورت کی برابری نہ تو سونا کر سکتا ہے اور نہ چاندی، کیونکہ وہ سونے اور چاندی سے کئی گنا بہتر ہوتی ہے.
●بدکار عورت کی برابری مٹی بھی نہیں کر سکتی کیونکہ مٹی اس سے کئی گنا بہتر ہوتی ہے.

حوالہ:
وســائل الشیعــہ، جــلد :14، صفحــہ:17.

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
⭕ وقت اور دولت ⭕

ایک بادشاہ نے اعلان کیا کہ کہ جو شخص جھوٹ بولتے ہوئے پکڑا گیا اس کو پانچ دینار جرمانہ ہوگا،
لوگ ایک دوسرے کے سامنے بھی ڈرنے لگے کہ اگر جھوٹ بولتے ہوئے پکڑے گئے تو جرمانہ نہ ہو جائے،
ادھر بادشاہ اور وزیر بھیس بدل کر شہر میں گھومنے لگے، جب تھک گئے تو آرام کرنے کی غرض سے ایک تاجر کے پاس ٹھہرے، اس نے دونوں کو چائے پلائی،

بادشاہ نے تاجر سے پوچھا:
●تمھاری عمر کتنی ہے؟
تاجر نے کہا "20 سال۔

●تمھارے پاس دولت کتنی ہے؟
تاجرنے کہا۔۔۔ "70 ہزار دینار"

بادشاہ نے پوچھا:
●تمھارے بچے کتنے ہیں؟
●تاجر نے جواب دیا: "ایک"

واپس آکر انھوں نے سرکاری دفتر میں تاجر کے کوائف اور جائیداد کی پڑتال کی تو اس کے بیان سے مختلف تھی، بادشاہ نے تاجر کو دربار میں طلب کیا اور وہی تین سوالات دُھرائے۔ تاجر نے وہی جوابات دیے۔
بادشاہ نے وزیر سے کہا:
"اس پر پندرہ دینار جرمانہ عائد کر دو اور سرکاری خزانے میں جمع کرا دو، کیونکہ اس نے تین جھوٹ بولے ہیں، سرکاری کاغذات میں اس کی عمر 35 سال ہے، اس کے پاس 70 ہزار دینار سے زیادہ رقم ہے، اور اس کے پانچ لڑکے ہیں۔"

■تاجر نے کہا: زندگی کے 20 سال ہی نیکی اور ایمان داری سے گزرے ہیں، اسی کو میں اپنی عمر سمجھتا ہوں اور زندگی میں 70 ہزار دینار میں نے ایک مسجد کی تعمیر میں خرچ کیے ہیں، اس کو اپنی دولت سمجھتا ہوں اور چار بچے نالائق اور بد اخلاق ہیں، ایک بچہ اچھا ہے، اسی کو میں اپنا بچہ سمجھتا ہوں۔ "

یہ سُن کر بادشاہ نے جرمانے کا حکم واپس لے لیا اور تاجر سے کہا:
"ہم تمھارے جواب سے خوش ہوئے ہیں،

⭕ وقت وہی شمار کرنے کے لائق ہے جو نیک کاموں میں گزر جائے،
⭕ دولت وہی قابلِ اعتبار ہے جو راہِ خدا میں خرچ ہو،
اور
⭕ اولاد وہی ہے جس کی عادتیں نیک ہوں"۔

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman/95
⭕ Islam With Eman ⭕
🔷 ﻗﯿﺎﻣﺖ کے ﺗﯿﻦ ﺁﺩﻣﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﭘﯿﺸﯽ 🔷

ﻣﺠﺎﮬﺪ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺗﯿﻦ ﺁﺩﻣﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﺍﻟٰﮩﯽ ﻣﯿﮟ ﻻﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ...
ﺍﯾﮏ ﺍﻣﯿﺮ ﮨﻮﮔﺎ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻣﺮﯾﺾ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺴﺮﺍ ﻏﻼﻡ

■ﺍﻣﯿﺮ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ کس ﭼﯿﺰ ﻧﮯ ﺗﺠﮭﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﺳﮯ ﺭﻭﮐﮯ ﺭﮐﮭﺎ؟
●ﻭﮦ ﻋﺮﺽ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ: ﻣﺎﻝ ﮐﯽ ﮐﺜﺮﺕ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﺳﮯ ﻏﺎﻓﻞ ﺭﮐﮭﺎ.
ﺍﺏ حضرت ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﺖ ﮐﯽ ﺟﮭﻠﮏ ﺩﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ: ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺩﻭﻟﺖ ﺗﮭﯽ ﯾﺎ ﺍِﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ؟

ﺍﻣﯿﺮ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﮩﮯ ﮔﺎ ﮐﮧ ﺍِﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺎﻝ ﻭ ﺩﻭﻟﺖ ﺗﮭﯽ.

ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﮐﮧ ﺍﺗﻨﮯ ﻣﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﯾﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﺳﮯ ﻏﺎﻓﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ.

■ﻣﺮﯾﺾ ﮐﻮ ﻻﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ:
ﻣﯿﺮﯼ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﭼﯿﺰ ﻣﺎﻧﻊ ﺗﮭﯽ.؟
●ﻭﮦ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﮮ ﮔﺎ:
ﻣﯿﮟﺑﯿﻤﺎﺭ ﺗﮭﺎ.
ﺍﺏ حضرت ﺍﯾﻮﺏ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻻﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ:
ﺗﻢ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﻻﭼﺎﺭ ﺗﮭﮯ ﯾﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ؟

ﻣﺮﯾﺾ ﮐﮩﮯ ﮔﺎ ﺑﻠﮑﮧ ﯾﮧ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﺗﮭﮯ.

ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ:
ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﺿﻌﻒ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﺎﺯ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮫ ﺳﮑﺎ.

■ﺍﺏ ﻏﻼﻡ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﮨﻮﮔﯽ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ:
ﮐﺲ ﭼﯿﺰ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﺳﮯ ﺑﺎﺯ ﺭﮐﮭﺎ؟

●غلام ﺟﻮﺍﺏ ﺩﮮ ﮔﺎ:
ﻣﯿﮟ ﻏﻼﻡ ﺁﺩﻣﯽ ﺗﮭﺎ.
ﺍﺏ حضرت ﯾﻮﺳﻒ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﻏﻼﻣﯽ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ:
ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻏﻼﻣﯽ ﺍﻭﺭ ﻗﯿﺪ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﺨﺖ ﮨﮯ ﯾﺎ ﮐﮧ ﺍِﻥ ﮐﯽ؟

ﻭﮦ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﮮ ﮔﺎ: ﺍِﻥ ﮐﯽ.

ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺋﮯﮔﺎ: ﺍﻥ ﮐﯽ ﻏﻼﻣﯽ ﺍﻭﺭ ﻗﯿﺪ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻣﯿﮟ ﺁﮌﮮ ﻧﮧ ﺁﺳﮑﯽ.

ﺣﻠﻴﺔ ﺍﻷﻭﻟﻴﺎﺀ ﻭﻃﺒﻘﺎﺕ ﺍﻷﺻﻔﻴﺎﺀ ‏» ﻣﻦ ﺍﻟﻄﺒﻘﺔ ﺍﻷﻭﻟﻰ ﻣﻦ ﺍﻟﺘﺎﺑﻌﻴﻦ‏» ﻣﺠﺎﻫﺪ ﺑﻦ ﺟﺒﺮ » ﺍﻷﺧﺒﺎﺭ ﺍﻟﻤﺮﻭﻳﺔ ﻋﻨﻪ ﻓﻲ ﺍﻟﺘﻔﺴﻴﺮ.


■ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮐﯿﺎ ﻋﺬﺭ ﮨﮯ؟
ﺁﺋﯿﮯ...
ﺗﻮﺑﮧ ﻭ ﺍﺳﺘﻐﻔﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﻣﺎﻧﮕﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﻟﮏ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻟﻖ ﺍﺭﺽ ﻭﺳﻤﺎﺀ ﮐﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻣﯿﮟ ﺟُﺖ ﺟﺎﺋﯿﮟ.
ﺍﺱ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﻮﮞ ﮐﻮ ﺻﺮﻑ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﭘﯿﺪﺍ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﮯ.
ﺍﻭﺭ
ﺍﮔﺮ ﺑﺘﻘﺎﺿﺎﺋﮯ ﺑﺸﺮﯾﺖ ﮔﻨﺎﮦ ﺳﺮﺯﺩ ﮨﻮﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ.

■ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﺳﻌﻴﺪ ﺍﻟﺨﺪﺭﻱ ﺭﺿﻲ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ ﻭَﻗَﺎﻝَ ﺭَﺳُﻮﻝُ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﺻَﻠَّﻰ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠَﻴْﻪِ وآلہ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ ﺇﻥ ﺍﻟﺸَّﻴْﻄَﺎﻥَ ﻗَﺎﻝَ ﻭَﻋِﺰَّﺗِﻚَ ﻳَﺎ ﺭَﺏِّ ﻟَﺎ ﺍَﺑْﺮَﺡُ ﺍُﻏْﻮِﻱ ﻋِﺒَﺎﺩَﻙَ ﻣَﺎ ﺩَﺍﻣَﺖْ ﺃﺭﻭﺍﺣﻬﻢ ﻓِﻲ ﺃﺟﺴﺎﺩﻫﻢ ﻗَﺎﻝَ ﺍﻟﺮَّﺏُّ ﻭَﻋِﺰَّﺗِﻲ ﻭَﺟَﻠَﺎﻟِﻲ ﻟَﺎ ﺍَﺯَﺍﻝُ ﺍَﻏْﻔِﺮُ ﻟَﻬُﻢْ ﻣَﺎ ﺍﺳْﺘَﻐْﻔَﺮُﻭﻧِﻲ.

ترجمہ:
ﺍﺑﻮ ﺳﻌﯿﺪ ﺭﺿﯽ خدری ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ وآلہ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
ﺷﯿﻄﺎﻥ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﺒﺎﺭﮎ ﻭﺗﻌﺎﻟﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ:
ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺏ ﺗﯿﺮﯼ ﻋﺰﺕ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺗﯿﺮﮮ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﮐﯽ ﺭﻭﺣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺟﺴﻤﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﺑﮩﮑﺎﺗﺎ ﺭﮨﻮﮞ ﮔﺎ.

ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
ﻣﯿﺮی ﻋﺰﺕ ﻭﺟﻼﻝ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ! ﺟﺐ ﺗﮏ ﻭﮦ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﻮﮞ ﮔﺎ.

📚 حوالہ جات
‏ﻣﺴﻨﺪ ﺃﺣﻤﺪ: 3/29.
ﻣﺴﺘﺪﺭﻙ ﺍﻟﺤﺎﻛﻢ: 4/261.
ﻣﺴﻨﺪ ﺃﺑﻮ ﻳﻌﻠﻰ: 1399.

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman/102
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
⭕ اللہ تعالٰی کی نعمتیں ⭕

ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﮔﮭﺮ ﺧﺮﯾﺪﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﭘﮩﻠﮯ ﻭﺍﻻ ﮔﮭﺮ ﺑﯿﭽﻨﺎ ﭼﺎﮨﺎ.. ﺍﺱ ﻣﻘﺼﺪ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﮯ ﺩﻭﺳﺖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﯿﺎ ﺟﻮ ﺟﺎﺋﯿﺪﺍﺩ ﮐﯽ ﺧﺮﯾﺪ ﻭ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﭼﮭﯽ ﺷﮩﺮﺕ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﺗﮭﺎ..
ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﺳﺖ ﮐﻮ ﻣُﺪﻋﺎ ﺳﻨﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﮩﺎ...
ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮔﮭـﺮ ﺑﺮﺍﺋﮯ ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺍﺷﺘﮩﺎﺭ ﻟﮑﮫ ﺩﮮ..
ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﻭﺳﺖ ﺍِﺱ ﮔﮭﺮ ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﺗﮭﺎ..
ﺍﺷﺘﮩﺎﺭ ﮐﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﻣﺤﻞ ﻭﻗﻮﻉ' ﺭﻗﺒﮯ' ﮈﯾﺰﺍﺋﻦ' ﺗﻌﻤﯿﺮﺍﺗﯽ ﻣﻮﺍﺩ' ﺑﺎﻏﯿﭽﮯ' ﺳﻮﺋﻤﻨﮓ ﭘﻮﻝ ﺳﻤﯿﺖ ﮨﺮ ﺧﻮﺑﯽ ﮐﺎ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺫﮐﺮ ﮐﯿﺎ.. ﺍشتہار ﻣﮑﻤﻞ ﮨﻮﻧﮯ ﭘﺮ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ
ﺩﻭﺳﺖ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺍﺷﺘﮩﺎﺭ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺳُﻨﺎﯾﺎ ﺗﺎﮐﮧ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﭘﺮ ﺍُﺱ
ﮐﯽ ﺭﺍﺋﮯ ﻟﮯ ﺳﮑﮯ..
ﺍﺷﺘﮩﺎﺭ ﮐﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﺳُﻦ ﮐﺮ ﺍُﺱ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ..
"ﺑﺮﺍﺋﮯ ﻣﮩﺮﺑﺎﻧﯽ ﺍﺱ ﺍﺷﺘﮩﺎﺭ ﮐﻮ ﺫﺭﺍ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﭘﮍﮬﻨﺎ"..
ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺖ ﻧﮯ ﺍﺷﺘﮩﺎﺭ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺳُﻨﺎ ﺩﯾﺎ..
ﺍﺷﺘﮩﺎﺭ ﮐﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮐﻮ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺳُﻦ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺷﺨﺺ
ﺗﻘـﺮﯾﺒﺎً ﭼﯿﺦ ﮨﯽ ﭘﮍﺍ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﺷﺎﻧﺪﺍﺭ ﮔﮭﺮ
ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ؟
ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺭﮨﺎ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﯽ ﺧﻮﺑﯿﺎﮞ ﮨﻮﮞ
ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﮐﺒﮭﯽ ﺧﯿﺎﻝ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺭﮦ ﮨﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﺧﻮﺑﯿﺎﮞ ﺗﻢ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ.. ﻣﮩﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﺱ ﺍﺷﺘﮩﺎﺭ ﮐﻮ ﺿﺎﺋﻊ ﮐﺮ ﺩﻭ.. ﻣﯿﺮﺍ ﮔﮭﺮ ﺑﮑﺎﺅ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ!!___

■ﺍﯾﮏ ﻣﻨﭧ ﭨﮭﮩﺮﯾﺌﮯ.. ﻣﻀﻤﻮﻥ ﺍﺑﮭﯽ ﭘﻮﺭﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ..
ﺍﯾﮏ ﺑﮩﺖ ﭘﺮﺍﻧﯽ ﮐﮩﺎﻭﺕ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﻧﻌﻤﺘﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﯼ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻏﺬ ﭘﺮ ﻟﮑﮭﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﻭ.. ﯾﻘﯿﻨﺎً ﺍﺱ ﻟﮑﮭﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ
ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺧﻮﺵ ﻭ ﺧﺮﻡ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ..
ﺍﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﺎ ﺷﮑﺮ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﯽ ﺑﮭﻼﺋﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮨﯿﮟ.. ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﺑﺮﮐﺘﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﻌﻤﺘﯿﮟ ﮨﻢ
ﭘﺮ ﺑﺮﺱ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﮨﻢ ﺍُﻥ ﮐﻮ ﮔﻨﻨﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﺘﮯ.. ﮨﻢ ﺗﻮ ﺻﺮﻑ ﺍﭘﻨﯽ ﮔﻨﯽ ﭼﻨﯽ ﭼﻨﺪ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯿﺎﮞ ﯾﺎ ﮐﻤﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺗﺎﮨﯿﺎﮞ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﮐﺘﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ..
ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ "..ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻨﮕﮯ ﭘﯿﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺩﯾـﮑﮫ ﮐﺮ
ﮐُﮍﮬﺘﺎ ﺭﮨﺎ.. ﭘﮭﺮ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﮯ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﺲ
ﮐﮯ ﭘﺎﺅﮞ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺷﮑﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ
ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺳﺠﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﮔﺮ ﮔﯿﺎ"..

■ﺍﺏ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺳﻮﺍﻝ!! ___
ﮐﺘﻨﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺁﭖ ﺟﯿﺴﺎ ﮔﮭﺮ' ﮔﺎﮌﯼ'
ﭨﯿﻠﯿﻔﻮﻥ' ﺗﻌﻠﯿﻤﯽ ﺳﻨﺪ' ﻧﻮﮐﺮﯼ ﻭﻏﯿﺮﮦ' ﻭﻏﯿﺮﮦ' ﻭﻏﯿﺮﮦ
ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ؟..
ﮐﺘﻨﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ ﺟﺐ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﯽ ﮔﺎﮌﯼ ﭘﺮ ﺳﻮﺍﺭ ﺟﺎ
ﺭﮨﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺳﮍﮎ ﭘﺮ ﻧﻨﮕﮯ ﭘﺎﺅﮞ ﯾﺎ ﭘﯿﺪﻝ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ
ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ؟..
ﮐﺘﻨﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﭼﮭﺖ ﻧﮩﯿﮟ
ﮨﻮﺗﯽ' ﺟﺐ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺁﺭﺍﻡ ﺳﮯ ﺳﻮ
ﺭﮨﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ؟..
ﮐﺘﻨﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻋﻠﻢ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ
ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﮐﯽ ﺳﻨﺪ
ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ؟..
ﮐﺘﻨﮯ ﺑﮯ ﺭﻭﺯﮔﺎﺭ ﺷﺨﺺ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻓﺎﻗﮧ ﮐﺸﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻣـﻼﺯﻣﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﺼﺐ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ؟..
ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻟﮑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﯽ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﯿﮟ..

■ﮐﯿﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﮨﮯ ﺍﺑﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻋﺘﺮﺍﻑ
ﺍﻭﺭ ﺍُﻥ ﮐﺎ ﺷﮑﺮ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﮐﮧ ﮨﻢ ﮐﮩﮧ
ﺩﯾﮟ..
"ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ! ﺗﯿﺮﺍ ﻻﮐﮫ ﻻﮐﮫ ﺷﮑﺮ ﮨﮯ.. ﻣﯿﮟ ﻧﺎﺩﺍﻥ ﮨﻮﮞ' ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮ ﺩﮮ"!!

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ Islam With Eman ⭕
⭕ خوبصورت حسینہ ⭕

کسان نوجوان اپنے کھیت میں کام کر رہا تھا ایک نسوانی قہقہے سے وہ چونک گیا.....
ایسی حسینہ تو اس نے زندگی بھر نہ دیکھی تھی
وہ اس کی طرف بڑھتا چلا گیا، وہ بھی ہاتھ میں پھول لئے مسکرا رہی تھی. اور پھول کی خوشبو سے جیسے اپنے آپ کو اندر تک معطر کر رہی ہو.
کسان اس کے قریب جا کر بولا.....
میرے ساتھ گھر چلو گی؟ وہ بلا جھجھک اس کے ساتھ ہو لی. وہ فضاؤں میں اڑنے لگا.
چوھدری کا ڈیرہ آباد تھا دوست احباب کے مجمع میں نوکر چاکر خدمت کے لئے کھڑے تھے
چوھدری جی!! چوھدری جی!! اُس کا خادمِ خاص ڈیرے میں ہانپتا کانپتا داخل ہوا
خیر تو ہے؟ خیر تو ہے؟
او جی خیر کہاں.!! میں چوک میں کھڑا تھا، نورے جٹ کا جوان لڑکا ایک ایسی حسینہ کے ساتھ گھر جا رہا تھا کہ اس جیسی زندگی میں نہ دیکھی، نامعلوم کہاں سے لے کر آیا ہے. چاند کا ٹکڑا ہے. چوھدری جی
اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اسے کہاں بٹھائے. آج اس کی زندگی کا بہترین دن تھا، اس نے تو کبھی سوچا بھی نہ تھا. واقعی جب خدا دیتا ہے تو چھپر پھاڑ کے دیتا ہے.
اسے کچھ شور کی آواز آ رہی تھی جو اور قریب آگئی. پھردروازہ کھٹکھٹایا جانے لگا
دروازہ کھلا.
چوھدری ھکا بکا رہ گیا. اور بے اختیار اس حسینہ کی طرف بڑھا.
نوجوان جٹ ایک آھنی دیوار کی طرح اس کے راستے میں حائل ہو گیا.
تم میری لاش پر سے گزر کر ہی اس تک پہنچ پاؤ گے.
تم اس کے قابل نہیں. نہ یہ گھر اس کے قابل ہے. یہ میری حویلی میں رہے گی، نوکرانیاں، راحت، آرام، عزّت، اسے وہاں ملے گی.
نہیں یہ فیصلہ جج کی عدالت میں جائے گا
عدالت پورے جوبن پر تھی. سائل، مدعی، وکلاء، اہلکار، عملہ سب موجود تھے، جج صاحب اپنی مسندِ خاص پر رونق افروز.
جج صاحب نے نظر اٹھائی اسے اپنی نظروں پر یقین نہیں آ رہا تھا اس نے عینک اتار کر صاف کی اور دوبارہ دیکھا واقعی وہ حور اس کے سامنے کھڑی تھی
جج بولا ارے یہ منہ اور مسور کی دال اپنی اوقات دیکھو اور اس کا حسن یہ تم دونوں کے لائق نہیں میرے پاس مال و دولت ہے عہدہ ہے بنگلے ہیں گاڑیاں ہیں نوکر چاکر معاشرے میں ایک حیثیت ہے یہ میرے لائق ہے چلو نکلو تم دونوں اور اس کو یہیں رہنے دو وہ ہکّے بکّے رہ گئے
نہیں چوہدری چلایا یہ نہیں ہوسکتا نوجوان بولا ہم راضی نہیں ہیں اب تو بادشاہ سلامت ہی ہمارے درمیان فیصلہ کریں گے بادشاہ کے پاس چلو جج نے سب کام وہیں چھوڑے اور اب تینوں حسینہ کو ساتھ لئے بادشاہ کے محل کی طرف بڑھنے لگے
دربار سجا ہوا تھا وزیر مشیر درباری سب اپنی اپنی مسندوں پر اور بادشاہ اپنے تخت پر جلوہ افروز تھا اسکے سر پر رکھے ہوئے تاج کے موتیوں سے سارا دربار جگمگا رہا تھا اور وہ خود بھی حسن کا کرشمہ تھا دربان تین اشخاص اور ایک حسینہ کو لا کر بادشاہ کے سامنے پیش کرتا ہے بادشاہ سلامت نے نظر اٹھائی تو دیکھتا کا دیکھتا ہی رہ گیا ایسی حسینہ اور میری سلطنت میں اس نے حکم دیا کہ ان تینوں کو ایک طرف لے جاؤ اور حسینہ کو میرے محل میں لے جاؤ جج صاحب نے کچھ بولنے کی کوشش کی تو بادشاہ سلامت نے ایک طرف دیکھا تین ہٹے کٹے دربان آگے بڑھے اور تینوں خاموشی سے ایک طرف کو ہو گئے
حسینہ جو اب تک خاموش تھی اس نے خاموشی کو توڑا اور بولی فیصلہ میں کروں گی تم چاروں میرے پیچھے دوڑو جو مجھے پکڑ لے گا میں اس کی یہ کہہ کر وہ جلدی سے دربار سے باہر نکلتی ہوئی نظر آئی بادشاہ کو اپنا تخت بھول گیا اور اگلے ہی لمحے وہ چاروں اس کے پیچھے دوڑ رہے تھے وہ ہوا سے باتیں کررہی تھی بادشاہ سلامت تھوڑی ہی دور جاکر دوڑنے کی تاب نہ لاسکے اور ایک لمبی آہ بھر کر وہیں ڈھیر ہو گئے
جج صاحب بھی زیادہ دیر پیچھا نہ کرسکے اور اسکی سانسیں بھی جواب دے گئیں چوھدری صاحب ہمت ہارنے والے تو نہ تھے لیکن آخر کب تک اب وہ تھی اور نوجون تھا جو کہ ہر لمحے اس کے قریب سے قریب تر ہوتا جارہا تھا مگر یہ کیا راستے کے ایک پتھر سے وہ ایسا ٹکرایا کہ منہ کہ بل گرا اور اسکے منہ سے ایک دل خراش چینج بلند ہوئی جو کہ حسینہ کے قہقہوں میں دب گئی
آؤ میرے عاشقو میرے پیچھے آؤ تم مجھے کبھی نہیں پاسکتے اور واقعی ہی اسے کوئی نہ پا سکا کہ وہ دیکھنے میں تو حسینہ تھی حور کے حسن والی تھی دل فریب تھی عقل کو محو کرنے والی تھی لیکن حقیقت میں وہ دنیا تھی اسکے پیچھے دوڑنے والوں کا یہی انجام ہوتا ہے.

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman/104
⭕ Islam With Eman ⭕
🌲 بیمثال مالک 🌲

ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﻏﻼﻡ ﮔﮭﻮ ﮌﮮ ﭘﺮ ﺳﻮﺍﺭ ﻏﺮﻭﺭ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﭼﻼ ﺁ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ. ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺰﺭﮒ ﺁ ﮔﺌﮯ.
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻣﻐﺮﻭﺭ ﻏﻼﻡ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ:
ﯾﮧ ﺍﮐﮍ ﺧﺎﻧﯽ ﺗﻮ ﺍﭼﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ.
ﻏﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﮐﮍ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ:
"ﻣﯿﮟ ﻓﻼﮞ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﻏﻼﻡ ﮨﻮﮞ. ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺑﮩﺖ ﺑﮭﺮﻭﺳﮧﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺳﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﺟﺐ ﺍﺳﮯ ﺑﮭﻮﮎ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ. ﮐﻮﺋﯽ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻓﻮﺭﺍً ﺑﺠﺎ ﻻﺗﺎ ﮨﻮﮞ."

ﺍﺱ ﭘﺮ ﺑﺰﺭﮒ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ:
ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺗﻢ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻏﻠﻄﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ.؟
ﻏﻼﻡ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ:
"ﺍﺱ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ
ﮐﻮﮌﮮ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔"
ﺍﺱ ﭘﺮ ﺑﺰﺭﮒ ﺑﻮﻟﮯ:
ﺗﺐ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﮐﮍﻧﺎ ﭼﺎ ﮨﯿﮯ.
ﻏﻼ ﻡ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮ ﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ:
ﻭﮦ ﮐﯿﺴﮯ؟
ﺑﺰﺭﮒ ﺑﻮﻟﮯ:
"ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﻏﻼﻡ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﻮﮐﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﮭﻼﺗﺎ ﮨﮯ، ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﺷﻔﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ، ﺟﺐ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻏﻠﻄﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﻣﺎﻧﮓ ﻟﻮﮞ ﺗﻮ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺰﺍ ﺩﺋﯿﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﻭ ﻣﮩﺮﺑﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺨﺶ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ."

ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻣﻐﺮﻭﺭ ﻏﻼﻡ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
"ﺗﺐ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻏﻼﻡ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﮟ."

ﺑﺰﺭﮒ ﻓﻮﺭﺍً ﺑﻮﻟﮯ:
"ﺑﺲ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﮨﻮ ﺟﺎ. ﺍﯾﺴﺎ ﻣﺎﻟﮏ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﮩﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ."

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
👍1
🔷 معاشرے کا بگاڑ 🔷

ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﺩﻓﺘﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﻼﺯﻡ ﺗﮭﺎ، ﺁﺝ ﺻﺒﺢ ﺟﺐ ﺳﺒﺰﯼ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻭﮦ ﮔﮭﺮ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺳﺒﺰﯼ ﻭﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﺩﺍﻡ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﭘﺮ پتہ ﭼﻼ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺗﻮ ﺳﺒﺰﯼ ﻣﮩﻨﮕﮯ ﺩﺍﻣﻮﮞ ﺧﺮﯾﺪ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔ ﺧﯿﺮ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺳﺒﺰﯼ ﻧﮑﺎﻟﯽ ﺗﻮ پتہ ﭼﻼ ﮐﮧ ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﺁﺩﮬﯽ ﺳﺒﺰﯼ ﺗﻮ ﮔﻠﯽ ﺳﮍﯼ ﮈﺍﻝ ﺩﯼ ﮨﮯ۔ ﻭﮦ ﺳﺨﺖ ﻏﺼﮯ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺩﻓﺘﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎ،
●ﺗﻮ دفتر میں اس کے پاس ﺍﯾﮏ ﭨﮭﮑﯿﺪﺍﺭ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﻞ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﺮﻭﺍﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺁ ﮔﯿﺎ، ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺳﺒﺰﯼ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺗﮭﺎ، ﭨﮭﯿﮑﺪﺍﺭ ﺳﮯ ﺑﻮﻻ ﺗﻤﮭﺎﺭﺍ ﺑﻞ ﭨﮭﯿﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ۔
ﭨﮭﯿﮑﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﺭﺷﻮﺕ ﮐﯽ ﭘﯿﺸﮑﺶ ﮐﯽ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺳﺒﺰﯼ ﻭﺍﻻ ﺩﻭ ﻧﻤﺒﺮﯼ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﭼﻨﺎﭼﮧ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻞ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔
●ﻭﮦ ﭨﮭﮑﯿﺪﺍﺭ ﺭﺷﻮﺕ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﻓﺲ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﻭﮦ ﺍِﻥ ﺩﻧﻮﮞ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﻼﺋﻨﭧ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﮐﻼﺋﻨﭧ ﮐﻮ ﮐﺎﻝ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺳﯿﻤﻨﭧ ﺍﻭﺭ ﺳﺮﯾﺎ ﮐﻢ ﭘﮍ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﻣﺰﯾﺪ ﭘﯿﺴﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯ، ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﺳﯿﻤﻨﭧ ﺍﻭﺭ ﺳﺮﯾﺎ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﺎ۔ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﮐﻼﺋﻨﭧ ﺟﻮ ﺍﯾﮏ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﭨﮭﮑﯿﺪﺍﺭ ﺩﻭ ﻧﻤﺒﺮﯼ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍُﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﺗﻨﺎ ﭨﺎﺋﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﻠﯿﻨﮏ ﺑﮭﯽ ﭼﻼﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﻨﭩﺮﮐﺸﻦ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﻟﮩﺬﺍ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﺑﮭﺠﻮﺍ ﺩﯾﺌﮯ۔
●ﺍﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﮐﻠﯿﻨﮏ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﯾﺾ ﺁﯾﺎ ﺟﺴﮯ ﺻﺮﻑ ﮐﮭﺎﻧﺴﯽ ﮐﯽ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻧﮯ ﺍُﺳﮯ ﮐﺌﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﮯ ﭨﯿﺴﭧ ﻟﮑﮫ ﺩﯾﺌﮯ ﺍﺱ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮯ ﯾﮧ ﭨﯿﺴﭧ ﮐﺮﻭﺍﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍُﺳﯽ ﮐﯽ ﻟﯿﺒﺎﺭﭨﺮﯼ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ.
ﻭﮦ بیچارہ ﻣﺮﯾﺾ ﮐﺌﯽ ﮨﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﮯ ﺧﺮﭺ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﺎﻧﺴﯽ ﮐﺎ ﺷﺮﺑﺖ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮔﮭﺮ ﭼﻼ ﺁﯾﺎ۔
●ﮔﮭﺮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻭﮦ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﮐﻮ ﮐﻮﺳﺘﺎ ﺭﮨﺎ ﺍُﺳﮯ پتہ ﺗﮭﺎ کہ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻧﮯ ﻣﺎﻝ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﺗﻨﮯ ﭨﯿﺴﭧ ﻟﮑﮫ ﮐﺮ ﺩﯾﺌﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﺍُﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﮐﺎﻥ ﺗﮭﯽ ﺟﻮ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﮐﺮﺍﺋﮯ ﭘﺮ ﺩﮮ ﺭﮐﮭﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻭﮦ ﺩﻭﮐﺎﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺭُﮐﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﺍﮔﻠﮯ مہینے ﺳﮯ ﮐﺮﺍﯾﮧ ﺑﮍﮪ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ، ﻣﮩﻨﮕﺎﺋﯽ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﮪ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ۔
●ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﻭﮦ ﮨﯽ ﺳﺒﺰﯼ ﻭﺍﻻ ﺗﮭﺎ۔

■ﺍﮔﺮ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﭘﮩﻠﮯ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﭨﮭﯿﮏ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ ﺑﺎﻗﯽ ﺳﺐ ﮐُﭽﮫ ﺧﻮﺩﺑﺨﻮﺩ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ.

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕