🎙بانیِ مجلس صاحب سے انٹرویو🎙
از قلم: الاحقر محمد زکی حیدری
سلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ! مومنین و مومنات کرام حسب وعدہ میں اپنے دوسرے انٹرویو کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوں. آج ہمارے اسٹوڈیو میں ہم نے بانی مجلس کو مدعو کیا ہے. آئیے ان سے سوالات کا سلسلہ شروع کرتے ہیں.
حقیر: سلام علیکم
بانی: وعلیکم سلام
ح: بانی مجلس صاحب آپ اپنے بارے میں ذرا بتائیں اور آپ کس پیشے سے منسلک ہیں؟
ب: جی میرے والد صاحب مولا پاک ان کو جنت میں جگہ عطا فرمائے محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور میں وزیر اعلی کے خاص مشیروں میں سے تھے. اس دور میں بھی ابا حضور بڑی مجالس کرواتے تھے اور امام بارگاہ بنوائے، ضریحاں بنوائیں اور ذوالجناح خریدے. اب اندرون سندہ و پنجاب میں زمینیں ہیں مالکوں کی دَین ہے کسی کی نوکری کرنے کی ضرورت نہیں. ابا سب کچھ ہمارے لیئے چھوڑ گئے. ابا بڑی مجالس کرواتے، ان کی مجلس میں بڑے بڑے سیاسی لوگ آتے تھے. یہ البم ساتھ لایا ہوں. چاہیں تو دیکھ سکتے ہیں.
ح: جی اس کی ضرورت نہیں. آپ کی بات ہی کافی ہے. اچھا بانی صاحب آپ کے امام بارگاہ میں عزاداروں کا جم غفیر ہوتا ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ آپ صرف ذاکریں کو بلاتے ہیں علماء کو نہیں. اس میں کتنی سچائی ہے؟
ب: بکواس! یہ صادقیہ امام بارگاہ والوں کی شروع سے ہمارے خلاف پالیسی رہی ہے ان کو ہمارے امام بارگاہ کے پروگرامز سے ہمیشہ جلن ہوتی ہے، تبھی ایسی باتیں پھیلاتے ہیں. ان سے پوچھیں وہ کون سا علامہ ہے جو ہمارے پاس نہیں پڑھا، علامہ عرفان حیدر عابدی، علامہ ناصر ملتانی، علامہ غضنفر عباس تونسوی، علامہ ضمیر اختر نقوی، علامہ حافظ تصدق علامہ جعفر جتوئی ... اور بھی نام گنوا سکتا ہوں. ان سے پوچھیں کوئی ایک بھی بڑا علامہ پڑھایا کبھی، مسجد کے مولوی سے عشرے پڑھانے والے ہم پہ انگلیاں اٹھاتے ہیں.
ح: ماشاء اللہ! اچھا یہ بتائیے کہ...
ب: اور جی قطع کلامی معاف! ان سے پوچھیں کتنی ضریحاں ہیں ان کے امام بارگاہ میں؟ ہمارے امام بارگاہ میں آپ آکر دیکھیں شہہ نشین آپ کو پنجوں اور ضریحوں سے بھرا ملے گا،۳۰ فٹ کا چوڑا چاندی کا جھولا علی اصغر۴. ابا حضور کربلا سے ضریح بنوا کر لائے ہیں آدھا کلو سونا لگا ہے... شہزادی سکینہ (س) کے بالیوں کی شبیہ، اور یہ کیا بات کریں گے مولا عباس (ع) کی قسم آپ میرے مومن بھائی ہیں حیدری بھائی تکبر سے توبہ ہے (دونوں ہاتھ کانوں تک لے جاتے ہوئے) ہمارا ذوالجناح جب نکلتا ہے تو ذوالجناح کی سج دھج دیکھ کر لگتا ہے براق ہے براق. اور ان صادقیہ والوں کا ذوالجناح تو دور
عَلم بھی بڑے عرصے تک پتلے لوہے کا رہا، ۴۰ فوٹ کا، اوپر سے رنگ کر دیتے تھے. مولا کا کرم ہے ۱۰۰ فٹ کا عَلم ہے ہمارا اور اسٹین لیس اسٹیل پلیٹڈ ہے. صادقیہ امام بارگاہ والوں کو اس بات سے جلن ہوتی ہے.
ح: ماشاء اللہ! ویسے کیا ہی اچھا ہو کہ ہم سب مومن عزادار ہیں، اگر ایک ہی شہر میں متحد ہو کر اتحاد و بھائی چارے و رواداری و محبت و... سے ایک ہی بڑا پروگرام کریں، ایک ہی جلوس نکلے۔
ح: حیدری بھائی ہم نے کب منع کیا ہے صادقیہ والوں کو، ہمارے ہاں تو ھند سندہ سے قافلے آتے ہیں بھائی، مہمان خانہ محرم میں بھرا رہتا ہے، دن رات نیاز چلتی ہے، مجلس و جلوس میں پیر رکھنے کی جگہ نہیں ملتی، مرد تو مرد مستورات کی بڑی تعداد ہوتی ہے. ایسے میں ہمیں کیا ضرورت کہ صادقیہ والوں کی منتیں کریں، اور ان کے نخرے ہوتے ہیں بھائی، نماز کے وقت مجلس کا وقفہ کرو، فلاں علامہ نے یہ بات کہہ دی احتجاج، فلاں علامہ کو پڑھاؤ گے تو ہم نہیں آئیں گے اور بھی ھزار باتیں..
ح: محترم آپ خمس ادا کرتے ہیں؟ کیونکہ آئمہ (ع) کی تعلیمات میں واضح طور ملتا ہے کہ جس مال سے خمس نہ نکالا جائے وہ حرام ہے؟
ب: عجیب بات کردی حیدری بھائی! یہ اتنا سب کچھ بتایا عَلم، علامہ، ضریحاں، کیا یہ سب مفت میں ہوتا ہے کہ میں خمس نکالوں. علائقے میں سب سے بڑی اور بہترین نیاز ہمارے ہاں ہوتی ہے. جشن میں سب سے بڑا کیک اور خشک میوے اور دودہ کا گاڑھا مِلک شیک پورے ڈویژن میں ہمارے یہاں ہی بنتا ہے. اور یہ مولا کا کرم ہے، مالکوں نے عزت دی ہے کسی علامہ کو مجلس کی نیاز ہم سے زیادہ کوئی نہیں دیتا، یہ لیں میرا فون سارے علامہ و ذاکروں کے نمبر موجود ہیں مجھے نام سے جانتے ہیں، سب میری بات کی تصدیق کریں گے.
ح: جی دیکھیئے اس کا اجر تو مولا حسین (ع) آپ کو دیں گے مگر مجتہدین کرام کا فتوا ہے کہ آپ جتنی بھی خیرات کر لیں، فلاحی کام کر لیں، خمس کا حساب الگ ہے جیسے زکام کیلئے الگ دوائی، کھانسی کیلئے الگ، و پیٹ درد کیلئے الگ، ایک دوائی سے ساری بیماریوں کا علاج ممکن نہیں. اسی طرح اسلام میں مال کا حساب بھی الگ ہے صدقہ الگ، خیرات الگ خمس الگ، خمس واجب ہے نہ دیا تو مال حرام ہے۔
ب: ھاھاھا! بھائی ناراض نہ ہونا آپ بلکل صادقیہ کے لونڈوں والی بات کر رہے ہیں. ارے بھئی یہ مولویوں کی باتیں ہیں عزاداری قبول کرنے والے مالک پنجتن پاک ہیں نہ کہ یہ مولوی۔
از قلم: الاحقر محمد زکی حیدری
سلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ! مومنین و مومنات کرام حسب وعدہ میں اپنے دوسرے انٹرویو کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوں. آج ہمارے اسٹوڈیو میں ہم نے بانی مجلس کو مدعو کیا ہے. آئیے ان سے سوالات کا سلسلہ شروع کرتے ہیں.
حقیر: سلام علیکم
بانی: وعلیکم سلام
ح: بانی مجلس صاحب آپ اپنے بارے میں ذرا بتائیں اور آپ کس پیشے سے منسلک ہیں؟
ب: جی میرے والد صاحب مولا پاک ان کو جنت میں جگہ عطا فرمائے محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور میں وزیر اعلی کے خاص مشیروں میں سے تھے. اس دور میں بھی ابا حضور بڑی مجالس کرواتے تھے اور امام بارگاہ بنوائے، ضریحاں بنوائیں اور ذوالجناح خریدے. اب اندرون سندہ و پنجاب میں زمینیں ہیں مالکوں کی دَین ہے کسی کی نوکری کرنے کی ضرورت نہیں. ابا سب کچھ ہمارے لیئے چھوڑ گئے. ابا بڑی مجالس کرواتے، ان کی مجلس میں بڑے بڑے سیاسی لوگ آتے تھے. یہ البم ساتھ لایا ہوں. چاہیں تو دیکھ سکتے ہیں.
ح: جی اس کی ضرورت نہیں. آپ کی بات ہی کافی ہے. اچھا بانی صاحب آپ کے امام بارگاہ میں عزاداروں کا جم غفیر ہوتا ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ آپ صرف ذاکریں کو بلاتے ہیں علماء کو نہیں. اس میں کتنی سچائی ہے؟
ب: بکواس! یہ صادقیہ امام بارگاہ والوں کی شروع سے ہمارے خلاف پالیسی رہی ہے ان کو ہمارے امام بارگاہ کے پروگرامز سے ہمیشہ جلن ہوتی ہے، تبھی ایسی باتیں پھیلاتے ہیں. ان سے پوچھیں وہ کون سا علامہ ہے جو ہمارے پاس نہیں پڑھا، علامہ عرفان حیدر عابدی، علامہ ناصر ملتانی، علامہ غضنفر عباس تونسوی، علامہ ضمیر اختر نقوی، علامہ حافظ تصدق علامہ جعفر جتوئی ... اور بھی نام گنوا سکتا ہوں. ان سے پوچھیں کوئی ایک بھی بڑا علامہ پڑھایا کبھی، مسجد کے مولوی سے عشرے پڑھانے والے ہم پہ انگلیاں اٹھاتے ہیں.
ح: ماشاء اللہ! اچھا یہ بتائیے کہ...
ب: اور جی قطع کلامی معاف! ان سے پوچھیں کتنی ضریحاں ہیں ان کے امام بارگاہ میں؟ ہمارے امام بارگاہ میں آپ آکر دیکھیں شہہ نشین آپ کو پنجوں اور ضریحوں سے بھرا ملے گا،۳۰ فٹ کا چوڑا چاندی کا جھولا علی اصغر۴. ابا حضور کربلا سے ضریح بنوا کر لائے ہیں آدھا کلو سونا لگا ہے... شہزادی سکینہ (س) کے بالیوں کی شبیہ، اور یہ کیا بات کریں گے مولا عباس (ع) کی قسم آپ میرے مومن بھائی ہیں حیدری بھائی تکبر سے توبہ ہے (دونوں ہاتھ کانوں تک لے جاتے ہوئے) ہمارا ذوالجناح جب نکلتا ہے تو ذوالجناح کی سج دھج دیکھ کر لگتا ہے براق ہے براق. اور ان صادقیہ والوں کا ذوالجناح تو دور
عَلم بھی بڑے عرصے تک پتلے لوہے کا رہا، ۴۰ فوٹ کا، اوپر سے رنگ کر دیتے تھے. مولا کا کرم ہے ۱۰۰ فٹ کا عَلم ہے ہمارا اور اسٹین لیس اسٹیل پلیٹڈ ہے. صادقیہ امام بارگاہ والوں کو اس بات سے جلن ہوتی ہے.
ح: ماشاء اللہ! ویسے کیا ہی اچھا ہو کہ ہم سب مومن عزادار ہیں، اگر ایک ہی شہر میں متحد ہو کر اتحاد و بھائی چارے و رواداری و محبت و... سے ایک ہی بڑا پروگرام کریں، ایک ہی جلوس نکلے۔
ح: حیدری بھائی ہم نے کب منع کیا ہے صادقیہ والوں کو، ہمارے ہاں تو ھند سندہ سے قافلے آتے ہیں بھائی، مہمان خانہ محرم میں بھرا رہتا ہے، دن رات نیاز چلتی ہے، مجلس و جلوس میں پیر رکھنے کی جگہ نہیں ملتی، مرد تو مرد مستورات کی بڑی تعداد ہوتی ہے. ایسے میں ہمیں کیا ضرورت کہ صادقیہ والوں کی منتیں کریں، اور ان کے نخرے ہوتے ہیں بھائی، نماز کے وقت مجلس کا وقفہ کرو، فلاں علامہ نے یہ بات کہہ دی احتجاج، فلاں علامہ کو پڑھاؤ گے تو ہم نہیں آئیں گے اور بھی ھزار باتیں..
ح: محترم آپ خمس ادا کرتے ہیں؟ کیونکہ آئمہ (ع) کی تعلیمات میں واضح طور ملتا ہے کہ جس مال سے خمس نہ نکالا جائے وہ حرام ہے؟
ب: عجیب بات کردی حیدری بھائی! یہ اتنا سب کچھ بتایا عَلم، علامہ، ضریحاں، کیا یہ سب مفت میں ہوتا ہے کہ میں خمس نکالوں. علائقے میں سب سے بڑی اور بہترین نیاز ہمارے ہاں ہوتی ہے. جشن میں سب سے بڑا کیک اور خشک میوے اور دودہ کا گاڑھا مِلک شیک پورے ڈویژن میں ہمارے یہاں ہی بنتا ہے. اور یہ مولا کا کرم ہے، مالکوں نے عزت دی ہے کسی علامہ کو مجلس کی نیاز ہم سے زیادہ کوئی نہیں دیتا، یہ لیں میرا فون سارے علامہ و ذاکروں کے نمبر موجود ہیں مجھے نام سے جانتے ہیں، سب میری بات کی تصدیق کریں گے.
ح: جی دیکھیئے اس کا اجر تو مولا حسین (ع) آپ کو دیں گے مگر مجتہدین کرام کا فتوا ہے کہ آپ جتنی بھی خیرات کر لیں، فلاحی کام کر لیں، خمس کا حساب الگ ہے جیسے زکام کیلئے الگ دوائی، کھانسی کیلئے الگ، و پیٹ درد کیلئے الگ، ایک دوائی سے ساری بیماریوں کا علاج ممکن نہیں. اسی طرح اسلام میں مال کا حساب بھی الگ ہے صدقہ الگ، خیرات الگ خمس الگ، خمس واجب ہے نہ دیا تو مال حرام ہے۔
ب: ھاھاھا! بھائی ناراض نہ ہونا آپ بلکل صادقیہ کے لونڈوں والی بات کر رہے ہیں. ارے بھئی یہ مولویوں کی باتیں ہیں عزاداری قبول کرنے والے مالک پنجتن پاک ہیں نہ کہ یہ مولوی۔
ح: آپ کا بہت بہت شکریہ محترم آپ نے ہمیں وقت دیا. اللہ (ج) آپ کو سلامت رکھے.
ب: شکریہ
قارئیں محترم آپ سے میرا ایک سوال ہے کہ اس انٹرویو میں سے آپ کو کیا لگا، یہ بانی صاحب امام حسین (ع) کو خوش کرنے کیلئے خرچ کرتے ہیں یا پھر دکھاوا کر کے اپنے نفس کو خوش کرنے کیلئے؟
کیا خمس (نعوذباللہ) ایک مذاق ہے جو آئمہ (ع) نے کیا ہے، جس کی پابندی ہم کریں نہ کریں پھر بھی امام حسین (ع) خوش ہوں گے کہ چلو حرام کا پیسہ ہی صحیح میرے نام کی مجلس تو کروادی؟
کیا واقعی ایسا ہے؟
کیا میں ڈاکہ ڈال کر مجلس کرواؤں یا مسجد بنواؤں تو ثواب ہوگا؟ تو کیا خمس جو سادات کا حق ہے اس پر ڈاکہ ڈال کر ہماری عبادت قبول ہوگی؟
فدک کے غاصب کے بارے میں کیا خیال ہے، اس نے سادات کی والدہ کا حق غصب کیا اور لعنتی بنا اور آج حقِ سادات کے غاصب بڑے عزادار!!!
مجھے تو بات سمجھ نہیں آئی آپ سوچیئے، بانیان مجلس سے ملیئے اور پھر آپ جس نتیجے پہ پہنچیں وہ مجھے بھی بتا دیجئے گا.
اگلے ھفتے تک کیلئے اللہ (ج) حافظ!
https://t.me/islamwitheman/876
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ب: شکریہ
قارئیں محترم آپ سے میرا ایک سوال ہے کہ اس انٹرویو میں سے آپ کو کیا لگا، یہ بانی صاحب امام حسین (ع) کو خوش کرنے کیلئے خرچ کرتے ہیں یا پھر دکھاوا کر کے اپنے نفس کو خوش کرنے کیلئے؟
کیا خمس (نعوذباللہ) ایک مذاق ہے جو آئمہ (ع) نے کیا ہے، جس کی پابندی ہم کریں نہ کریں پھر بھی امام حسین (ع) خوش ہوں گے کہ چلو حرام کا پیسہ ہی صحیح میرے نام کی مجلس تو کروادی؟
کیا واقعی ایسا ہے؟
کیا میں ڈاکہ ڈال کر مجلس کرواؤں یا مسجد بنواؤں تو ثواب ہوگا؟ تو کیا خمس جو سادات کا حق ہے اس پر ڈاکہ ڈال کر ہماری عبادت قبول ہوگی؟
فدک کے غاصب کے بارے میں کیا خیال ہے، اس نے سادات کی والدہ کا حق غصب کیا اور لعنتی بنا اور آج حقِ سادات کے غاصب بڑے عزادار!!!
مجھے تو بات سمجھ نہیں آئی آپ سوچیئے، بانیان مجلس سے ملیئے اور پھر آپ جس نتیجے پہ پہنچیں وہ مجھے بھی بتا دیجئے گا.
اگلے ھفتے تک کیلئے اللہ (ج) حافظ!
https://t.me/islamwitheman/876
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 ذاکر نما خطیب کا انٹرویو 🔷
از قلم: الاحقر محمد زکی حیدری
سلام علیکم مومنین و مومنات آج ہمارے اسٹوڈیو میں ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ ذاکر نما خطیب نے ہمیں شرف گفتگو بخشا ہے، آئیے ان سے سوالات کا سلسلہ شروع کرتے ہیں.
حقیر: سلام علیکم و رحمتہ اللہ
خطیب:…
از قلم: الاحقر محمد زکی حیدری
سلام علیکم مومنین و مومنات آج ہمارے اسٹوڈیو میں ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ ذاکر نما خطیب نے ہمیں شرف گفتگو بخشا ہے، آئیے ان سے سوالات کا سلسلہ شروع کرتے ہیں.
حقیر: سلام علیکم و رحمتہ اللہ
خطیب:…
🌛 سونے سے پہلے کے اعمال 🌜
1- تین بار تسبیحات اربعہ.
2- تین بار سوره توحید.
3- چہاردہ معصومینؑ کی نیابت میں 14 بار صلوات.
4- تمام مومنان و مردوں کے لئے طلب مغفرت.
5- تسبیح حضرت زهراءؑ
6- آیت الكرسی، فلق، ناس و كافرون .
7- خواندن این دعا كه به منزله ی هزار نماز است: یَفْعَلُ اللهُ ما یشاءُ بِقُدْرَتِهِ وَ یَحْكُمُ ما یُریدُ بِعِزَّتِهِ
🔰 صحيح و معتبر حديث میں حضرت امام محمد باقر عليه السلام سے منقول ہے سر کے نیچے ہاتھ رکھ کر یہ دعا پڑھیں۔۔
✨بسْمِ اللّهِ اَلّلهُمَّ اِنّى اَسْلَمْتُ نَفْسى اِليْكَ وَ وَجَّهْتُ وَجْهى اِلَيْك وَفَوَّضْتُ اَمْرى اِلَيْكَ وَاَلْجَاْتُ ظَهْرى اِلَيْكَ وَ تَوَكَّلْتُ عَلَيْكَ رَهْبَةً مِنْكَ وَرَغْبَةً اَِليْكَ لامَلْجَاءَ وَلا مَنْجا مِنْكَ اِلَيْكَ امَنْتُ بِكِتابِكَ الَّذى اَنْرَلْتَ وَبِرَ سُولكَ الَّذى اَرْسَلْتَ✨
🌸 اس کے بعد تسبيح حضرت فاطمه سلام الله عليها۔
📘من لا يحضره الفقيه، ج1، ص: 470
🔰 دوسری صحيح حديث میں فرمایا ہے سونے سے پہلے یہ دعا ترك نہ كریں۔۔
✨اعيذُ نَفْسى وَ دُرّيَتى وَ اَهْل بَيْتى وَمالى بِكَلِماتِ اللّهِ التّاماتِ مِنْ كُلِّ شَيْطانٍ وَهامَةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنِ لامَةٍ✨
صبح تک اس کے سانپ، بچھو وغیرہ کے گزند سے محفوظ رہنے کی ضمانت کرتا ہوں.
📘 الكافي (ط - الإسلامية)، ج2، ص: 570۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
بشکریہ: روشنی چینل
https://t.me/islamwitheman/427
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1- تین بار تسبیحات اربعہ.
2- تین بار سوره توحید.
3- چہاردہ معصومینؑ کی نیابت میں 14 بار صلوات.
4- تمام مومنان و مردوں کے لئے طلب مغفرت.
5- تسبیح حضرت زهراءؑ
6- آیت الكرسی، فلق، ناس و كافرون .
7- خواندن این دعا كه به منزله ی هزار نماز است: یَفْعَلُ اللهُ ما یشاءُ بِقُدْرَتِهِ وَ یَحْكُمُ ما یُریدُ بِعِزَّتِهِ
🔰 صحيح و معتبر حديث میں حضرت امام محمد باقر عليه السلام سے منقول ہے سر کے نیچے ہاتھ رکھ کر یہ دعا پڑھیں۔۔
✨بسْمِ اللّهِ اَلّلهُمَّ اِنّى اَسْلَمْتُ نَفْسى اِليْكَ وَ وَجَّهْتُ وَجْهى اِلَيْك وَفَوَّضْتُ اَمْرى اِلَيْكَ وَاَلْجَاْتُ ظَهْرى اِلَيْكَ وَ تَوَكَّلْتُ عَلَيْكَ رَهْبَةً مِنْكَ وَرَغْبَةً اَِليْكَ لامَلْجَاءَ وَلا مَنْجا مِنْكَ اِلَيْكَ امَنْتُ بِكِتابِكَ الَّذى اَنْرَلْتَ وَبِرَ سُولكَ الَّذى اَرْسَلْتَ✨
🌸 اس کے بعد تسبيح حضرت فاطمه سلام الله عليها۔
📘من لا يحضره الفقيه، ج1، ص: 470
🔰 دوسری صحيح حديث میں فرمایا ہے سونے سے پہلے یہ دعا ترك نہ كریں۔۔
✨اعيذُ نَفْسى وَ دُرّيَتى وَ اَهْل بَيْتى وَمالى بِكَلِماتِ اللّهِ التّاماتِ مِنْ كُلِّ شَيْطانٍ وَهامَةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنِ لامَةٍ✨
صبح تک اس کے سانپ، بچھو وغیرہ کے گزند سے محفوظ رہنے کی ضمانت کرتا ہوں.
📘 الكافي (ط - الإسلامية)، ج2، ص: 570۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
بشکریہ: روشنی چینل
https://t.me/islamwitheman/427
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌛سوتے وقت کے اعمال 🌜
🔷 رسول خدا محمد مصطفٰیؐ نے فرمایا که جو شخص سونے سے پہلے 100 مرتبہ سوره قل ھوالله احد پڑھے،
اللہ تعالی اسکے پچاس سال کے گناه معاف فرما دیتا ھے. (جواھرالبحار، ﺹ:192)
🔷 امام جعفر صادقؑ نے فرمایا که سوتے وقت اس کو تین مرتبہ تلاوت کرو…
🔷 رسول خدا محمد مصطفٰیؐ نے فرمایا که جو شخص سونے سے پہلے 100 مرتبہ سوره قل ھوالله احد پڑھے،
اللہ تعالی اسکے پچاس سال کے گناه معاف فرما دیتا ھے. (جواھرالبحار، ﺹ:192)
🔷 امام جعفر صادقؑ نے فرمایا که سوتے وقت اس کو تین مرتبہ تلاوت کرو…
📧 میسجز فارورڈنگ 📧
سوشل میڈیا پر رواں دواں جھوٹ اور سادہ لوح احباب۔۔۔۔
عربی زبان کا مقولہ ہے کہ انسان کے جھوٹے ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سُنی سُنائی بات کو نقل کردیا کرے۔ پنجابی میں بھی ایک مقولہ ہے جس کا مفہوم یوں ہے کہ پاگل ایسے ہی بات کردیتا جبکہ عقل مند سوچتا ہے، پھر بات کرتا ہے۔ اردو میں ہی پہلے تولو، پھر بولو کا مقولہ بھی زبان زد عام ہے۔ سادہ ہونا انسان کی بہت بڑی خامی ہے۔ سادہ احباب جیسے حقیقی زندگی میں، مختلف معاملات میں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگے ہوتے ہیں، ایسے ہی سوشل میڈیا پر بھی وہ یہی کردار ادا کرتے ہیں۔ بلا تصدیق، بلا سوچے سمجھے، غور و فکر کیے، وہ کسی بھی بے بنیاد اور جھوٹی خبر کو، تجزیہ کو، پوسٹ کو ثواب جان کر پھیلانا شروع کردیتے ہیں۔ اس ضمن میں بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔
ایک بار کسی نے واٹس ایپ میں میسج بھیجا، جس پر موبائل فون کی بیٹریوں کا آئکن بنا ہوا تھا، میسج میں لکھا تھا کہ اس میسج کو مختلف واٹس ایپ گروپوں میں شیئر کرو، آپ کے موبائل کی بیٹری ری چارج ہو جائے گی۔ کئی دوستوں نے وہ میسج بڑے اشتیاق سے پھیلایا۔
وقفے وقفے سے ایک میسج واٹس ایپ گروپوں میں گردش کرتا نظر آتا ہے کہ میں ایک کشمیری مریض لڑکی ہوں، میرا یہ موبائل نمبر ہے۔ مجھے امداد چاہیے، واٹس ایپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگر آپ کا یہ میسج جتنی بار واٹس ایپ پر شیئر ہوگا، پچاس پیسہ فی میسج آپ کو ملے گا۔ براہ کرم اسے بہت پھیلاؤ۔
کئی سادہ لوح حضرات اُسے پھیلاتے نظر آتے ہیں۔ اللہ کے بندو پچاس پیسے فی میسج کیا بنے گا؟ وہ شاید کسی نے کسی کا نمبر پھیلانے کے لیے حرکت کی ہے۔
حالیہ دنوں ایک نمبر دیا ہوا تھا کہ اس سے کال مت اٹینڈ کرنا، یہ کسی ہیکر کا نمبر ہے۔ اپنے سبھی پیاروں کو بھیجو۔ مجھے بھی درجنوں سمجھداروں نے یہ میسج بھیجا۔ اللہ کے بندو یہ سب بکواس ہے۔ ایسا کچھ نہیں ہوتا۔
مجھے کئی بار میسج موصول ہوا جس میں لکھا ہوتا کہ میں ووٹ فُلاں سیاسی جماعت کو دوں گا، یہ میسج بیس بندوں کو بھیج کے اپنا بیلنس چیک کرنا، آپ کو دو سو کا بیلنس ملے گا۔ ہمارے احباب ایسے میسج بھیج کر بیلنس چیک کرتے پائے گئے ہیں۔
مذہبی میسج بھی گردش کرتے ملتے ہیں کہ یہ میسج دس بندوں کو بھیجو، تمہارا رُکا ہوا کام ہوجائے گا ورنہ بہت بڑا نقصان ہوگا، اُس کے اندر کلمہ وغیرہ لکھا ہوتا ہے۔
اکثر میسج موصول ہوتا ہے کہ واٹس ایپ کو بند کیا جارہا ہے، یہ میسج آگے بھیجیں تو آپ کا اکاؤنٹ محفوظ رہے گا۔ ہمارے دوست اسے بھی خلوص سے آگے ہنکا دیتے ہیں۔
جھوٹے مذہبی حوالے، قصے، جھوٹی سیاسی خبریں اور مختلف قسم کی غلط ملط باتیں دوست احباب شوق و ذوق سے آگے شیئر فرمارہے ہوتے ہیں۔
دوستو! کسی بھی بات کو آگے شیئر کرنے سے پہلے ایک بار ضرور دیکھا کرو کہ اس کا سورس کیا ہے؟ آیا یہ درست بھی ہے یا غلط؟ باوثوق ذرائع پر ہی اعتماد کیا کریں ورنہ ہر پوسٹ، خبر، بات کو بلا سوچے سمجھے شیئر کرنے سے آپ کی شخصیت مجروح ہوگی۔ سوشل میڈیا پر مختلف مقاصد کے تحت پھیلائے جانے والے جھوٹے پروپیگنڈوں کو پھیلا کا اپنے جھوٹے یا غیر معتبر ہونے کا ثبوت نہ دیجیے۔
👆 ایک مراسلہ 👆
http://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
سوشل میڈیا پر رواں دواں جھوٹ اور سادہ لوح احباب۔۔۔۔
عربی زبان کا مقولہ ہے کہ انسان کے جھوٹے ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سُنی سُنائی بات کو نقل کردیا کرے۔ پنجابی میں بھی ایک مقولہ ہے جس کا مفہوم یوں ہے کہ پاگل ایسے ہی بات کردیتا جبکہ عقل مند سوچتا ہے، پھر بات کرتا ہے۔ اردو میں ہی پہلے تولو، پھر بولو کا مقولہ بھی زبان زد عام ہے۔ سادہ ہونا انسان کی بہت بڑی خامی ہے۔ سادہ احباب جیسے حقیقی زندگی میں، مختلف معاملات میں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگے ہوتے ہیں، ایسے ہی سوشل میڈیا پر بھی وہ یہی کردار ادا کرتے ہیں۔ بلا تصدیق، بلا سوچے سمجھے، غور و فکر کیے، وہ کسی بھی بے بنیاد اور جھوٹی خبر کو، تجزیہ کو، پوسٹ کو ثواب جان کر پھیلانا شروع کردیتے ہیں۔ اس ضمن میں بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔
ایک بار کسی نے واٹس ایپ میں میسج بھیجا، جس پر موبائل فون کی بیٹریوں کا آئکن بنا ہوا تھا، میسج میں لکھا تھا کہ اس میسج کو مختلف واٹس ایپ گروپوں میں شیئر کرو، آپ کے موبائل کی بیٹری ری چارج ہو جائے گی۔ کئی دوستوں نے وہ میسج بڑے اشتیاق سے پھیلایا۔
وقفے وقفے سے ایک میسج واٹس ایپ گروپوں میں گردش کرتا نظر آتا ہے کہ میں ایک کشمیری مریض لڑکی ہوں، میرا یہ موبائل نمبر ہے۔ مجھے امداد چاہیے، واٹس ایپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگر آپ کا یہ میسج جتنی بار واٹس ایپ پر شیئر ہوگا، پچاس پیسہ فی میسج آپ کو ملے گا۔ براہ کرم اسے بہت پھیلاؤ۔
کئی سادہ لوح حضرات اُسے پھیلاتے نظر آتے ہیں۔ اللہ کے بندو پچاس پیسے فی میسج کیا بنے گا؟ وہ شاید کسی نے کسی کا نمبر پھیلانے کے لیے حرکت کی ہے۔
حالیہ دنوں ایک نمبر دیا ہوا تھا کہ اس سے کال مت اٹینڈ کرنا، یہ کسی ہیکر کا نمبر ہے۔ اپنے سبھی پیاروں کو بھیجو۔ مجھے بھی درجنوں سمجھداروں نے یہ میسج بھیجا۔ اللہ کے بندو یہ سب بکواس ہے۔ ایسا کچھ نہیں ہوتا۔
مجھے کئی بار میسج موصول ہوا جس میں لکھا ہوتا کہ میں ووٹ فُلاں سیاسی جماعت کو دوں گا، یہ میسج بیس بندوں کو بھیج کے اپنا بیلنس چیک کرنا، آپ کو دو سو کا بیلنس ملے گا۔ ہمارے احباب ایسے میسج بھیج کر بیلنس چیک کرتے پائے گئے ہیں۔
مذہبی میسج بھی گردش کرتے ملتے ہیں کہ یہ میسج دس بندوں کو بھیجو، تمہارا رُکا ہوا کام ہوجائے گا ورنہ بہت بڑا نقصان ہوگا، اُس کے اندر کلمہ وغیرہ لکھا ہوتا ہے۔
اکثر میسج موصول ہوتا ہے کہ واٹس ایپ کو بند کیا جارہا ہے، یہ میسج آگے بھیجیں تو آپ کا اکاؤنٹ محفوظ رہے گا۔ ہمارے دوست اسے بھی خلوص سے آگے ہنکا دیتے ہیں۔
جھوٹے مذہبی حوالے، قصے، جھوٹی سیاسی خبریں اور مختلف قسم کی غلط ملط باتیں دوست احباب شوق و ذوق سے آگے شیئر فرمارہے ہوتے ہیں۔
دوستو! کسی بھی بات کو آگے شیئر کرنے سے پہلے ایک بار ضرور دیکھا کرو کہ اس کا سورس کیا ہے؟ آیا یہ درست بھی ہے یا غلط؟ باوثوق ذرائع پر ہی اعتماد کیا کریں ورنہ ہر پوسٹ، خبر، بات کو بلا سوچے سمجھے شیئر کرنے سے آپ کی شخصیت مجروح ہوگی۔ سوشل میڈیا پر مختلف مقاصد کے تحت پھیلائے جانے والے جھوٹے پروپیگنڈوں کو پھیلا کا اپنے جھوٹے یا غیر معتبر ہونے کا ثبوت نہ دیجیے۔
👆 ایک مراسلہ 👆
http://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🗣سائبر کرائم بل اور سزائیں🗣
عام افراد کے لئے سائبر جرائم اور ان کی سزاؤں کا جاننا بے حد ضروری ہے۔
1) کسی بھی شخص کے موبائل فون، لیپ ٹاپ وغیرہ تک بلا اجازت رسائی کی صورت میں 3 ماہ قید یا 50ہزار جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔
2) کسی بھی شخص کے ڈیٹا کو بلا اجازت کاپی کرنے پر 6 ماہ قید یا 1 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔
3) کسی بھی شخص کے فون، لیپ ٹاپ کے ڈیٹا کو نقصان پہنچانے کی صورت میں 2 سال قیدیا 5 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔
4) اہم ڈیٹا (جیسے ملکی سالمیت کے لیے ضروری معلومات کا ڈیٹا بیس) تک بلااجازت رسائی کی صورت میں 3سال قید یا 10 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
5) اہم ڈیٹا کو بلااجازت کاپی کرنے پر 5 سال قید یا 50لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
6) اہم ڈیٹا کو نقصان پہنچانے پر 7سال قید، 1کروڑ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
7) جرم اور نفرت انگیز تقاریر کی تائید و تشہیر پر 5سال قیدیا 1کروڑ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
8) سائبر دہشت گردی:کو ئی بھی شخص جو اہم ڈیٹا کو نقصان پہنچائے یا پہنچانے کی دھمکی دے یا نفرت انگیز تقاریر پھیلائے ، اسے 14سال قید یا 50 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔
9) الیکٹرونک جعل سازی پر 3 سال قید یا ڈھائی لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں
10) الیکٹرونک فراڈ پر 2سال قید یا 1کروڑ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔
11) کسی بھی جرم میں استعمال ہونے والی ڈیوائس بنانے، حاصل کرنے یا فراہم کرنے پر 6ماہ قید یا 50ہزر جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
12) کسی بھی شخص کی شناخت کو بلا اجازت استعمال کرنے پر 3 سال قید یا 50لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
13) سم کارڈ کے بلا اجازت اجراء پر 3 سال قید یا 5 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
14) کمیونی کیشن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے پر 3سال قید یا 10 لاکھ جرماہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
15)بلااجازت نقب زنی( جیسے کمیونی وغیرہ میں) پر 2سال قیدیا 5لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔
16) کسی کی شہرت کے خلاف جرائم:کسی کے خلاف غلط معلومات پھیلانے پر 3 سال قید یا 10 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔
17)کسی کی عریاں تصویر/ ویڈیو آویزاں کرنے یا دکھانے پر 7 سال قید یا 50 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
18) وائرس زدہ کوڈ لکھنے یا پھیلانے پر 2سال قید یا 10لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
19) آن لائن ہراساں کرنے، بازاری یا ناشائستہ گفتگو کرنے پر 1سال قید یا یا 10 لاکھ روپے جرمانہ یا رونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
20)سپامنگ پر پہلی دفعہ 50ہزار روپے جرمانہ اور اس کے بعد خلاف ورزی پر 3ماہ قید یا 10 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
21) سپوفنگ پر 3سال قید یا 5لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔
#Pakistan #Cyber_Bill
خود بهی محتاط رہیں دوسروں کو بهی محتاط رہنے کی تلقین کریں۔
👆 مراسلہ 👆
https://t.me/islamwitheman/884
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
عام افراد کے لئے سائبر جرائم اور ان کی سزاؤں کا جاننا بے حد ضروری ہے۔
1) کسی بھی شخص کے موبائل فون، لیپ ٹاپ وغیرہ تک بلا اجازت رسائی کی صورت میں 3 ماہ قید یا 50ہزار جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔
2) کسی بھی شخص کے ڈیٹا کو بلا اجازت کاپی کرنے پر 6 ماہ قید یا 1 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔
3) کسی بھی شخص کے فون، لیپ ٹاپ کے ڈیٹا کو نقصان پہنچانے کی صورت میں 2 سال قیدیا 5 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔
4) اہم ڈیٹا (جیسے ملکی سالمیت کے لیے ضروری معلومات کا ڈیٹا بیس) تک بلااجازت رسائی کی صورت میں 3سال قید یا 10 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
5) اہم ڈیٹا کو بلااجازت کاپی کرنے پر 5 سال قید یا 50لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
6) اہم ڈیٹا کو نقصان پہنچانے پر 7سال قید، 1کروڑ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
7) جرم اور نفرت انگیز تقاریر کی تائید و تشہیر پر 5سال قیدیا 1کروڑ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
8) سائبر دہشت گردی:کو ئی بھی شخص جو اہم ڈیٹا کو نقصان پہنچائے یا پہنچانے کی دھمکی دے یا نفرت انگیز تقاریر پھیلائے ، اسے 14سال قید یا 50 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔
9) الیکٹرونک جعل سازی پر 3 سال قید یا ڈھائی لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں
10) الیکٹرونک فراڈ پر 2سال قید یا 1کروڑ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔
11) کسی بھی جرم میں استعمال ہونے والی ڈیوائس بنانے، حاصل کرنے یا فراہم کرنے پر 6ماہ قید یا 50ہزر جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
12) کسی بھی شخص کی شناخت کو بلا اجازت استعمال کرنے پر 3 سال قید یا 50لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
13) سم کارڈ کے بلا اجازت اجراء پر 3 سال قید یا 5 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
14) کمیونی کیشن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے پر 3سال قید یا 10 لاکھ جرماہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
15)بلااجازت نقب زنی( جیسے کمیونی وغیرہ میں) پر 2سال قیدیا 5لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔
16) کسی کی شہرت کے خلاف جرائم:کسی کے خلاف غلط معلومات پھیلانے پر 3 سال قید یا 10 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔
17)کسی کی عریاں تصویر/ ویڈیو آویزاں کرنے یا دکھانے پر 7 سال قید یا 50 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
18) وائرس زدہ کوڈ لکھنے یا پھیلانے پر 2سال قید یا 10لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
19) آن لائن ہراساں کرنے، بازاری یا ناشائستہ گفتگو کرنے پر 1سال قید یا یا 10 لاکھ روپے جرمانہ یا رونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
20)سپامنگ پر پہلی دفعہ 50ہزار روپے جرمانہ اور اس کے بعد خلاف ورزی پر 3ماہ قید یا 10 لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
21) سپوفنگ پر 3سال قید یا 5لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔
#Pakistan #Cyber_Bill
خود بهی محتاط رہیں دوسروں کو بهی محتاط رہنے کی تلقین کریں۔
👆 مراسلہ 👆
https://t.me/islamwitheman/884
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
📧 میسجز فارورڈنگ 📧
سوشل میڈیا پر رواں دواں جھوٹ اور سادہ لوح احباب۔۔۔۔
عربی زبان کا مقولہ ہے کہ انسان کے جھوٹے ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سُنی سُنائی بات کو نقل کردیا کرے۔ پنجابی میں بھی ایک مقولہ ہے جس کا مفہوم یوں ہے کہ پاگل ایسے ہی بات کردیتا جبکہ…
سوشل میڈیا پر رواں دواں جھوٹ اور سادہ لوح احباب۔۔۔۔
عربی زبان کا مقولہ ہے کہ انسان کے جھوٹے ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سُنی سُنائی بات کو نقل کردیا کرے۔ پنجابی میں بھی ایک مقولہ ہے جس کا مفہوم یوں ہے کہ پاگل ایسے ہی بات کردیتا جبکہ…
❄ازدواجی زندگی اور 10نصیحتیں❄
اہلسنت کے امام احمد ابن حنبلؒ نے اپنے صاحب زادے کو شادی کی رات ۱۰ نصیحتیں فرمائیں۔ ہر شادی شدہ مرد کو چاہیئے کہ انکو غور سے پڑھے اور اپنی زندگی میں عملی طور پر اختیار کرے۔
میرے بیٹے! تم گھر کا سکون حاصل نہیں کرسکتے جب تک کہ اپنی بیوی کے معاملے میں ان ۱۰ عادتوں کو نہ اپناؤ لہذا ان کو غور سے سنو اور عمل کا ارادہ کرو۔۔
*پہلی دو* تو یہ کہ عورتیں تمھاری توجہ چاہتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ تم ان سے واضح الفاظ میں محبت کا اظہار کرتے رہو۔
لہذا وقتاً فوقتاً اپنی بیوی کو اپنی محبت کا احساس دلاتے رہو اور واضح الفاظ میں اسکو بتاؤ کہ وہ تمہارے لئے کس قدر اہم اور محبوب ہے۔
(اس گمان میں نہ رہو کہ وہ خود سمجھ جائے گی، رشتوں کو اظہار کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے)
یاد رکھو! اگر تم نے اس اظہار میں کنجوسی سے کام لیا تو تم دونوں کے درمیان ایک تلخ دراڑ آجائے گی جو وقت کے ساتھ بڑھتی رہے گی اور محبت کو ختم کردے گی۔
۳- عورتوں کو سخت مزاج اور ضرورت سے زیادہ محتاط مردوں سے کوفت ہوتی ہے۔ لیکن وہ نرم مزاج مرد کی نرمی کا بےجا فائدہ اٹھانا بھی جانتی ہیں۔ لہذا ان دونوں صفات میں اعتدال سے کام لینا تاکہ گھر میں توازن قائم رہے اور تم دونوں کو ذہنی سکون حاصل ہو۔
۴- عورتیں اپنے شوہر سے وہی توقع رکھتی ہیں جو شوہر اپنی بیوی سے رکھتا ہے۔۔
یعنی عزت، محبت بھری باتیں، ظاہری جمال، صاف ستھرا لباس اور خوشبودار جسم لہذا ہمیشہ اسکا خیال رکھنا۔
۵- یاد رکھو گھر کی چار دیواری عورت کی سلطنت ہے، جب وہ وہاں ہوتی ہے تو گویا اپنی مملکت کے تخت پر بیٹھی ہوتی ہے۔ اسکی اس سلطنت میں بےجا مداخلت ہرگز نہ کرنا اور اسکا تخت چھیننے کی کوشش نہ کرنا۔ جس حد تک ممکن ہو گھر کے معاملات اسکے سپرد کرنا اور اس میں تصرف کی اسکو آزادی دینا۔
۵- ہر بیوی اپنے شوہر سے محبت کرنا چاہتی ہے لیکن یاد رکھو اسکے اپنے ماں باپ، بہن، بھائی اور دیگر گھر والے بھی ہیں جن سے وہ لاتعلق نہیں ہو سکتی اور نہ ہی اس سے ایسی توقع جائز ہے۔ لہذا کبھی بھی اپنے اور اسکے گھر والوں کے درمیان مقابلے کی صورت پیدا نہ ہونے دینا کیونکہ اگر اسنے مجبوراً تمہاری خاطر اپنے گھر والوں کو چھوڑ بھی دیا تب بھی وہ بےچین رہے گی اور یہ بےچینی بالآخر تم سے اسے دور کردے گی۔
۷- بلاشبہ عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور اسی میں اسکا حسن بھی ہے یہ ہرگز کوئی نقص نہیں، وہ ایسے ہی اچھی لگتی ہے جسطرح بھنویں گولائی میں خوبصورت معلوم ہوتی ہیں۔ لہذا اسکے ٹیڑھپن سے فائدہ اٹھاؤ اور اسکے اس حسن سے لطف اندوز ہو۔
اگر کبھی اسکی کوئی بات ناگوار بھی لگے تو اسکے ساتھ سختی اور تلخی سے اسکو سیدھا کرنے کی کوشش نہ کرو ورنہ وہ ٹوٹ جائے گی، اور اسکا ٹوٹنا بالآخر طلاق تک نوبت لے جائے گا۔
مگر اسکے ساتھ ساتھ ایسا بھی نہ کرنا کہ اسکی ہر غلط اور بےجا بات مانتے ہی چلے جاؤ ورنہ وہ مغرور ہو جائے گی جو اسکے اپنے ہی لئے نقصان دہ ہے۔ لہذا معتدل مزاج رہنا اور حکمت سے معاملات کو چلانا۔
۸- شوہر کی ناقدری اور ناشکری اکثر عورتوں کی فطرت میں ہوتی ہے، اگر ساری عمر بھی اس پر نوازشیں کرتے رہو لیکن کبھی کوئی کمی رہ گئی تو وہ یہی کہے گی تم نے میری کونسی بات سنی ہے آج تک۔ لہذا اسکی اس فطرت سے زیادہ پریشان مت ہونا اور نہ ہی اسکی وجہ سے اس سے محبت میں کمی کرنا۔
یہ ایک چھوٹا سا عیب ہے اس کے اندر
لیکن اسکے مقابلے میں اسکے اندر بےشمار خوبیاں بھی ہیں بس تم ان پر نظر رکھنا اور اللہ کی بندی سمجھ کر اس سے محبت کرتے رہنا اور حقوق ادا کرتے رہنا۔
۹- ہر عورت پر جسمانی کمزوری کے کچھ ایام آتے ہیں۔ ان ایام میں اللہ تعالٰی نے بھی اسکو عبادات میں چھوٹ دی ہے، اسکی نمازیں معاف کردی ہیں اور اسکو روزوں میں اس وقت تک تاخیر کی اجازت دی ہے جب تک وہ دوبارہ صحتیاب نہ ہو جائے بس ان ایام میں تم اسکے ساتھ ویسے ہی مہربان رہنا جیسے اللہ تعالٰی نے اس پر مہربانی کی ہے۔
جس طرح اللہ نے اس پر سے عبادات ہٹالیں ویسے ہی تم بھی ان ایام میں اسکی کمزوری کا لحاظ رکھتے ہوئے اسکی ذمہ داریوں میں کمی کردو، اسکے کام کاج میں مدد کرادو اور اس کے لئے سہولت پیدا کرو۔
۱۰- آخر میں بس یہ یاد رکھو کہ تمہاری بیوی تمہارے پاس ایک قیدی ہے جسکے بارے میں اللہ تعالٰی تم سے سوال کرے گا۔ بس اسکے ساتھ انتہائی رحم و کرم کا معاملہ کرنا۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
📚 حوالہ: ویب سائٹ جمیعت العلماء ساؤتھ افریقہ
https://t.me/islamwitheman/795
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
اہلسنت کے امام احمد ابن حنبلؒ نے اپنے صاحب زادے کو شادی کی رات ۱۰ نصیحتیں فرمائیں۔ ہر شادی شدہ مرد کو چاہیئے کہ انکو غور سے پڑھے اور اپنی زندگی میں عملی طور پر اختیار کرے۔
میرے بیٹے! تم گھر کا سکون حاصل نہیں کرسکتے جب تک کہ اپنی بیوی کے معاملے میں ان ۱۰ عادتوں کو نہ اپناؤ لہذا ان کو غور سے سنو اور عمل کا ارادہ کرو۔۔
*پہلی دو* تو یہ کہ عورتیں تمھاری توجہ چاہتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ تم ان سے واضح الفاظ میں محبت کا اظہار کرتے رہو۔
لہذا وقتاً فوقتاً اپنی بیوی کو اپنی محبت کا احساس دلاتے رہو اور واضح الفاظ میں اسکو بتاؤ کہ وہ تمہارے لئے کس قدر اہم اور محبوب ہے۔
(اس گمان میں نہ رہو کہ وہ خود سمجھ جائے گی، رشتوں کو اظہار کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے)
یاد رکھو! اگر تم نے اس اظہار میں کنجوسی سے کام لیا تو تم دونوں کے درمیان ایک تلخ دراڑ آجائے گی جو وقت کے ساتھ بڑھتی رہے گی اور محبت کو ختم کردے گی۔
۳- عورتوں کو سخت مزاج اور ضرورت سے زیادہ محتاط مردوں سے کوفت ہوتی ہے۔ لیکن وہ نرم مزاج مرد کی نرمی کا بےجا فائدہ اٹھانا بھی جانتی ہیں۔ لہذا ان دونوں صفات میں اعتدال سے کام لینا تاکہ گھر میں توازن قائم رہے اور تم دونوں کو ذہنی سکون حاصل ہو۔
۴- عورتیں اپنے شوہر سے وہی توقع رکھتی ہیں جو شوہر اپنی بیوی سے رکھتا ہے۔۔
یعنی عزت، محبت بھری باتیں، ظاہری جمال، صاف ستھرا لباس اور خوشبودار جسم لہذا ہمیشہ اسکا خیال رکھنا۔
۵- یاد رکھو گھر کی چار دیواری عورت کی سلطنت ہے، جب وہ وہاں ہوتی ہے تو گویا اپنی مملکت کے تخت پر بیٹھی ہوتی ہے۔ اسکی اس سلطنت میں بےجا مداخلت ہرگز نہ کرنا اور اسکا تخت چھیننے کی کوشش نہ کرنا۔ جس حد تک ممکن ہو گھر کے معاملات اسکے سپرد کرنا اور اس میں تصرف کی اسکو آزادی دینا۔
۵- ہر بیوی اپنے شوہر سے محبت کرنا چاہتی ہے لیکن یاد رکھو اسکے اپنے ماں باپ، بہن، بھائی اور دیگر گھر والے بھی ہیں جن سے وہ لاتعلق نہیں ہو سکتی اور نہ ہی اس سے ایسی توقع جائز ہے۔ لہذا کبھی بھی اپنے اور اسکے گھر والوں کے درمیان مقابلے کی صورت پیدا نہ ہونے دینا کیونکہ اگر اسنے مجبوراً تمہاری خاطر اپنے گھر والوں کو چھوڑ بھی دیا تب بھی وہ بےچین رہے گی اور یہ بےچینی بالآخر تم سے اسے دور کردے گی۔
۷- بلاشبہ عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور اسی میں اسکا حسن بھی ہے یہ ہرگز کوئی نقص نہیں، وہ ایسے ہی اچھی لگتی ہے جسطرح بھنویں گولائی میں خوبصورت معلوم ہوتی ہیں۔ لہذا اسکے ٹیڑھپن سے فائدہ اٹھاؤ اور اسکے اس حسن سے لطف اندوز ہو۔
اگر کبھی اسکی کوئی بات ناگوار بھی لگے تو اسکے ساتھ سختی اور تلخی سے اسکو سیدھا کرنے کی کوشش نہ کرو ورنہ وہ ٹوٹ جائے گی، اور اسکا ٹوٹنا بالآخر طلاق تک نوبت لے جائے گا۔
مگر اسکے ساتھ ساتھ ایسا بھی نہ کرنا کہ اسکی ہر غلط اور بےجا بات مانتے ہی چلے جاؤ ورنہ وہ مغرور ہو جائے گی جو اسکے اپنے ہی لئے نقصان دہ ہے۔ لہذا معتدل مزاج رہنا اور حکمت سے معاملات کو چلانا۔
۸- شوہر کی ناقدری اور ناشکری اکثر عورتوں کی فطرت میں ہوتی ہے، اگر ساری عمر بھی اس پر نوازشیں کرتے رہو لیکن کبھی کوئی کمی رہ گئی تو وہ یہی کہے گی تم نے میری کونسی بات سنی ہے آج تک۔ لہذا اسکی اس فطرت سے زیادہ پریشان مت ہونا اور نہ ہی اسکی وجہ سے اس سے محبت میں کمی کرنا۔
یہ ایک چھوٹا سا عیب ہے اس کے اندر
لیکن اسکے مقابلے میں اسکے اندر بےشمار خوبیاں بھی ہیں بس تم ان پر نظر رکھنا اور اللہ کی بندی سمجھ کر اس سے محبت کرتے رہنا اور حقوق ادا کرتے رہنا۔
۹- ہر عورت پر جسمانی کمزوری کے کچھ ایام آتے ہیں۔ ان ایام میں اللہ تعالٰی نے بھی اسکو عبادات میں چھوٹ دی ہے، اسکی نمازیں معاف کردی ہیں اور اسکو روزوں میں اس وقت تک تاخیر کی اجازت دی ہے جب تک وہ دوبارہ صحتیاب نہ ہو جائے بس ان ایام میں تم اسکے ساتھ ویسے ہی مہربان رہنا جیسے اللہ تعالٰی نے اس پر مہربانی کی ہے۔
جس طرح اللہ نے اس پر سے عبادات ہٹالیں ویسے ہی تم بھی ان ایام میں اسکی کمزوری کا لحاظ رکھتے ہوئے اسکی ذمہ داریوں میں کمی کردو، اسکے کام کاج میں مدد کرادو اور اس کے لئے سہولت پیدا کرو۔
۱۰- آخر میں بس یہ یاد رکھو کہ تمہاری بیوی تمہارے پاس ایک قیدی ہے جسکے بارے میں اللہ تعالٰی تم سے سوال کرے گا۔ بس اسکے ساتھ انتہائی رحم و کرم کا معاملہ کرنا۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
📚 حوالہ: ویب سائٹ جمیعت العلماء ساؤتھ افریقہ
https://t.me/islamwitheman/795
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
💓 ازدواج (حصہ اول) 💗
خدا نے انسان کو باقی مخلوقات سے تفکر وتعقل و تہذیب کی بنیاد پر ممتاز قرار دیکر اشرف المخلوقات اور بلند مرتبہ خلق کیا اور اخلاق و تہذیب کے اوج و کمال تک پہنچنے کو اسکا ھدف خلقت معین کیا.
اگر ہم ایک اور زاویہ نگاہ سے دیکھیں تو انسان کو…
خدا نے انسان کو باقی مخلوقات سے تفکر وتعقل و تہذیب کی بنیاد پر ممتاز قرار دیکر اشرف المخلوقات اور بلند مرتبہ خلق کیا اور اخلاق و تہذیب کے اوج و کمال تک پہنچنے کو اسکا ھدف خلقت معین کیا.
اگر ہم ایک اور زاویہ نگاہ سے دیکھیں تو انسان کو…
👈 گھر کو نمونہ جنت بنانے کے موضوع پر پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں..
❄گھر نمونہ جنت
https://t.me/islamwitheman/527
💞میاں بیوی کی محبت کا تقاضا
https://t.me/islamwitheman/295
🌹عورتوں کی ذمہ داری (حصہ اول)
https://t.me/islamwitheman/243
🌹عورتوں کی ذمہ داری (حصہ دوم)
https://t.me/islamwitheman/244
🌹عورتوں کی ذمہ داری (حصہ سوم)
https://t.me/islamwitheman/245
🌹خاندان کی سرپرستی
https://t.me/islamwitheman/241
🌹کامیاب ازدواجی زندگی
https://t.me/islamwitheman/200
🔷 ساس اور بہو
https://t.me/islamwitheman/199
🔷عقلمند بیوی
https://t.me/islamwitheman/197
🔷خاوند کی سوچ بیوی کے لئے
https://t.me/islamwitheman/193
💖💕خاوند اور بیوی
https://t.me/islamwitheman/189
📝انداز بیان و سوچ
https://t.me/islamwitheman/158
🔷کامیاب ازدواجی زندگی کا راز
https://t.me/islamwitheman/136
🔷 بیوی.....
https://t.me/islamwitheman/38
💕شریک حیات کے حقوق
https://t.me/islamwitheman/529
💗 ازدواج (حصہ اول)
https://t.me/islamwitheman/795
💗 ازدواج ( حصہ دوم)
https://t.me/islamwitheman/796
❄ازدواجی زندگی اور 10نصیحتیں
https://t.me/islamwitheman/888
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
❄گھر نمونہ جنت
https://t.me/islamwitheman/527
💞میاں بیوی کی محبت کا تقاضا
https://t.me/islamwitheman/295
🌹عورتوں کی ذمہ داری (حصہ اول)
https://t.me/islamwitheman/243
🌹عورتوں کی ذمہ داری (حصہ دوم)
https://t.me/islamwitheman/244
🌹عورتوں کی ذمہ داری (حصہ سوم)
https://t.me/islamwitheman/245
🌹خاندان کی سرپرستی
https://t.me/islamwitheman/241
🌹کامیاب ازدواجی زندگی
https://t.me/islamwitheman/200
🔷 ساس اور بہو
https://t.me/islamwitheman/199
🔷عقلمند بیوی
https://t.me/islamwitheman/197
🔷خاوند کی سوچ بیوی کے لئے
https://t.me/islamwitheman/193
💖💕خاوند اور بیوی
https://t.me/islamwitheman/189
📝انداز بیان و سوچ
https://t.me/islamwitheman/158
🔷کامیاب ازدواجی زندگی کا راز
https://t.me/islamwitheman/136
🔷 بیوی.....
https://t.me/islamwitheman/38
💕شریک حیات کے حقوق
https://t.me/islamwitheman/529
💗 ازدواج (حصہ اول)
https://t.me/islamwitheman/795
💗 ازدواج ( حصہ دوم)
https://t.me/islamwitheman/796
❄ازدواجی زندگی اور 10نصیحتیں
https://t.me/islamwitheman/888
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
❄ گھر نمونہ جنت ❄
ایک امیر عورت پیر صاحب کے پاس گئی اور کہا کہ پیر صاحب مجھے کوئی ایسا تعویذ دیں کہ میرا شوہر میری ہر بات مانے جو بھی میں کہوں وہ میرے تابع ھو جائے.
ییر صاحب بھی دور اندیش انسان تھے انھوں نے اس عورت کی بات غور سے سنی، اور کہا کہ یہ عمل تو…
ایک امیر عورت پیر صاحب کے پاس گئی اور کہا کہ پیر صاحب مجھے کوئی ایسا تعویذ دیں کہ میرا شوہر میری ہر بات مانے جو بھی میں کہوں وہ میرے تابع ھو جائے.
ییر صاحب بھی دور اندیش انسان تھے انھوں نے اس عورت کی بات غور سے سنی، اور کہا کہ یہ عمل تو…
🚫 الفاظ اور کمان کے تیر 🚫
ایک بادشاہ ہر وقت اپنے سر کو ڈھانپ کے رکھتا۔ اُسے کبھی کسی نے ننگے سر نہیں دیکھا تھا۔ بہت سے لوگوں نے اِس راز کو جاننے کی کوشش کی لیکن بادشاہ ہر مرتبہ کمال مہارت سے بات کا رُخ موڑ کر جواب دینے سے بچ جاتا۔
ایک روز اُسکے وزیرِ خاص نے بادشاہ سے اِس راز کو جاننے کی ٹھان لی، حسب سابق بادشاہ نے بڑی کوشش کی کہ کسی طرح وزیر کا دھیان اِدھر اُدھر ہو جائے، لیکن اُس نے بھی جاننے کا مصمم ارادہ کر رکھا تھا، آخر بادشاہ نے وزیر کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے۔ لیکن اُسے ایک شرط پر بتانے کی حامی بھری کہ وہ آگے کسی کو نہیں بتائے گا۔ اور ساتھ ہی کہا کہ اگر اُس نے شرط کی خلاف ورزی کی تو اُسے سخت سزا بھگتنا ہو گی۔
بادشاہ نے بتایا کہ، "اُس کے سر پر ایک سینگ ہے، اِسی لیے وہ اپنے سر کو ہمیشہ ڈھانپ کے رکھتا ہے۔۔۔!" اِس بات کو کچھ دِن ہی ہوئے تھے کہ پورے شہر میں یہ خبر پھیل گئی کہ بادشاہ کے سر پر سینگ ہے۔ بادشاہ کو بڑا غصہ آیا۔ اُس نے اپنے اُس وزیرِ خاص کو طلب کیا اور شرط کی خلاف ورزی کی پاداش میں شاہی حکم صادر کیا کہ اُسے سخت سے سخت سزا دی جائے۔۔۔۔
وزیر بہت سمجھدار تھا، وہ جھٹ سے بولا، "بادشاہ سلامت! جب آپ بادشاہ ہو کر خود اپنے ہی راز کو نہیں چھپا سکے تو پھر آپ مجھ سے یا کسی اور سے کیسے یہ اُمید کر سکتے ہیں کہ وہ آپکے راز کو چھپا کر رکھے۔ لہٰذا جتنی سزا کا حقدار میں ہوں اُتنی آپکو بھی ملنی چاہیے۔۔۔!"
میرے عزیز دوستو ! زبان سے نکلے ہوئے الفاظ اور کمان سے نکلا ہوا تیر جب نکلتے ہیں تو دو کام ہوتے ہیں۔
◘ پہلا یہ کہ وہ پھر کبھی لوٹ کر واپس نہیں آ سکتے۔ چاہے لاکھ پچھتاوے کے ہاتھ ملو۔
◘ اور دوسرا یہ کہ وہ پھر جہاں جہاں سے گزرتے ہیں اپنی شدت اور قوت کے مطابق زخم لگاتے جاتے ہیں۔ جس کا دوش ہم اپنے علاوہ کسی اور کو نہیں دے سکتے۔
اِس لیے کہتے ہیں کہ جب تک الفاظ آپکے اندر رہتے ہیں، وہ آپکے غلام ہوتے ہیں۔ اور جیسے ہی وہ ادا ہو جاتے ہیں، پھر آپ اُنکے غلام بن جاتے ہو۔ اگلی پوری زندگی آپکو اپنے عمل اور کردار سے اپنے کہے ہوئے الفاظ کی پاسداری کرنی پڑتی ہے۔ الله تعالیٰ ہم سب کا حامی و مددگار ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آمین !!
________________________
■خوش اخلاقی، بداخلاقی اور الفاظ کے اثر کے متعلق مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ لنک پر کلک کریں۔۔
💐 خوش خُلقی
https://t.me/islamwitheman/634
🌺الفاظ و انداز اور لہجہ
https://t.me/islamwitheman/475
💐 لفظوں کا زہر (تین کہانیاں)
https://t.me/islamwitheman/846
🚫 الفاظ اور کمان کے تیر
https://t.me/islamwitheman/892
🔵اخلاق اور خودسازی
https://t.me/islamwitheman/214
🔵اللھم فحسن خلقی
https://t.me/islamwitheman/324
👅احتیاط کے ساتھ بولا کریں
https://t.me/islamwitheman/396
🔵ایک بچہ اور کچھوا
https://t.me/islamwitheman/539
🔵مسکراہٹ و خاموشی
https://t.me/islamwitheman/22
📝مخدوم بنے رہنا کمال نہیں
https://t.me/islamwitheman/462
🔵 بداخلاقی کا انجام
https://t.me/islamwitheman/528
🌷احسان فراموشی
https://t.me/islamwitheman/379
🔷نصیحت آموز
https://t.me/islamwitheman/549
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
ایک بادشاہ ہر وقت اپنے سر کو ڈھانپ کے رکھتا۔ اُسے کبھی کسی نے ننگے سر نہیں دیکھا تھا۔ بہت سے لوگوں نے اِس راز کو جاننے کی کوشش کی لیکن بادشاہ ہر مرتبہ کمال مہارت سے بات کا رُخ موڑ کر جواب دینے سے بچ جاتا۔
ایک روز اُسکے وزیرِ خاص نے بادشاہ سے اِس راز کو جاننے کی ٹھان لی، حسب سابق بادشاہ نے بڑی کوشش کی کہ کسی طرح وزیر کا دھیان اِدھر اُدھر ہو جائے، لیکن اُس نے بھی جاننے کا مصمم ارادہ کر رکھا تھا، آخر بادشاہ نے وزیر کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے۔ لیکن اُسے ایک شرط پر بتانے کی حامی بھری کہ وہ آگے کسی کو نہیں بتائے گا۔ اور ساتھ ہی کہا کہ اگر اُس نے شرط کی خلاف ورزی کی تو اُسے سخت سزا بھگتنا ہو گی۔
بادشاہ نے بتایا کہ، "اُس کے سر پر ایک سینگ ہے، اِسی لیے وہ اپنے سر کو ہمیشہ ڈھانپ کے رکھتا ہے۔۔۔!" اِس بات کو کچھ دِن ہی ہوئے تھے کہ پورے شہر میں یہ خبر پھیل گئی کہ بادشاہ کے سر پر سینگ ہے۔ بادشاہ کو بڑا غصہ آیا۔ اُس نے اپنے اُس وزیرِ خاص کو طلب کیا اور شرط کی خلاف ورزی کی پاداش میں شاہی حکم صادر کیا کہ اُسے سخت سے سخت سزا دی جائے۔۔۔۔
وزیر بہت سمجھدار تھا، وہ جھٹ سے بولا، "بادشاہ سلامت! جب آپ بادشاہ ہو کر خود اپنے ہی راز کو نہیں چھپا سکے تو پھر آپ مجھ سے یا کسی اور سے کیسے یہ اُمید کر سکتے ہیں کہ وہ آپکے راز کو چھپا کر رکھے۔ لہٰذا جتنی سزا کا حقدار میں ہوں اُتنی آپکو بھی ملنی چاہیے۔۔۔!"
میرے عزیز دوستو ! زبان سے نکلے ہوئے الفاظ اور کمان سے نکلا ہوا تیر جب نکلتے ہیں تو دو کام ہوتے ہیں۔
◘ پہلا یہ کہ وہ پھر کبھی لوٹ کر واپس نہیں آ سکتے۔ چاہے لاکھ پچھتاوے کے ہاتھ ملو۔
◘ اور دوسرا یہ کہ وہ پھر جہاں جہاں سے گزرتے ہیں اپنی شدت اور قوت کے مطابق زخم لگاتے جاتے ہیں۔ جس کا دوش ہم اپنے علاوہ کسی اور کو نہیں دے سکتے۔
اِس لیے کہتے ہیں کہ جب تک الفاظ آپکے اندر رہتے ہیں، وہ آپکے غلام ہوتے ہیں۔ اور جیسے ہی وہ ادا ہو جاتے ہیں، پھر آپ اُنکے غلام بن جاتے ہو۔ اگلی پوری زندگی آپکو اپنے عمل اور کردار سے اپنے کہے ہوئے الفاظ کی پاسداری کرنی پڑتی ہے۔ الله تعالیٰ ہم سب کا حامی و مددگار ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آمین !!
________________________
■خوش اخلاقی، بداخلاقی اور الفاظ کے اثر کے متعلق مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ لنک پر کلک کریں۔۔
💐 خوش خُلقی
https://t.me/islamwitheman/634
🌺الفاظ و انداز اور لہجہ
https://t.me/islamwitheman/475
💐 لفظوں کا زہر (تین کہانیاں)
https://t.me/islamwitheman/846
🚫 الفاظ اور کمان کے تیر
https://t.me/islamwitheman/892
🔵اخلاق اور خودسازی
https://t.me/islamwitheman/214
🔵اللھم فحسن خلقی
https://t.me/islamwitheman/324
👅احتیاط کے ساتھ بولا کریں
https://t.me/islamwitheman/396
🔵ایک بچہ اور کچھوا
https://t.me/islamwitheman/539
🔵مسکراہٹ و خاموشی
https://t.me/islamwitheman/22
📝مخدوم بنے رہنا کمال نہیں
https://t.me/islamwitheman/462
🔵 بداخلاقی کا انجام
https://t.me/islamwitheman/528
🌷احسان فراموشی
https://t.me/islamwitheman/379
🔷نصیحت آموز
https://t.me/islamwitheman/549
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
💐 خوش خُلقی 💐
اچھے خوبصورت چہرے سے اچھی سیرت بہتر ہے۔ اچھی عادت والا بیگانوں کا اپنا ہوتا یے اور بُری عادات والا اپنوں سے بیگانہ ہوتا ہے۔
●رسول اکرمؐ فرماتے ہیں۔۔
"اَلاِسْلامُ حُسْنُ الْخُلْقِ"
اسلام خوش اخلاقی کا نام ہے۔(1)
●حضرت امام حسنؑ فرماتے ہیں۔۔…
اچھے خوبصورت چہرے سے اچھی سیرت بہتر ہے۔ اچھی عادت والا بیگانوں کا اپنا ہوتا یے اور بُری عادات والا اپنوں سے بیگانہ ہوتا ہے۔
●رسول اکرمؐ فرماتے ہیں۔۔
"اَلاِسْلامُ حُسْنُ الْخُلْقِ"
اسلام خوش اخلاقی کا نام ہے۔(1)
●حضرت امام حسنؑ فرماتے ہیں۔۔…
🌺 حق مہر میں حِفظ سورۂ قرآن 🌺
جس وقت میرے بابا جان کی انگیجمینٹ ہوئی -- بابا نے مہر کی جگہ سورہ آل عمران حفظ کرکے میری والدہ کو ھدیہ کیا---- اور جس دم میری انگیمینٹ ہوئی بابا نے میرے منگیتر سے کہا-- تمہیں قرآن مجید کا ایک مکمل سورہ حفظ کرنا ھوگا ورنہ میں اپنی بیٹی کا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں نھیں دونگا--- مجھ سے کسی ایک سورہ کو منتخب کرنے کے لئے کہا گیا-- چونکہ میری نظر میں سورہ نور کثیرالمطالب اور آسانی سے یاد ہونیوالا سورہ نہیں تھا لہذا میں نے سورہ نور کا انتخاب کیا-
شادی سے چند روز قبل باوجودیکہ نکاح و بیاہ کی ڈھیر ساری مصروفیات سر پہ منڈلا رہی تھیں مگر میرے منگیتر کے ہاتھوں میں مسلسل قرآن مجید نظر آرھا تھا۔
محفل عروسی سے چند روز قبل میرا منگیتر بابا جان کے سامنے حاضر ہوا,
بابا نے کہا: اگر درمیان قرآئت کوئی اشتباہ یا غلطی سرزد ھوئی تو پھر شروع سے سورہ دہرانا ھوگا-
یہ سنکر انہوں نے نرم و نازک اور لطیف آواز میں سورہ نور کی تلاوت شروع کی۔۔
یہ وہ حسِین وخوشگوار لمحات تھے جنہیں میں کبھی دستِ فراموشی کے سپرد نہیں کرسکتی-- میرے کاندھے سے لگی ہوئی ماں بار بار میری طرف دیکھتی اور ہلکی سی مسکان ان کے ہونٹوں پہ بکھر جاتی-- ہم اُس لمحہ کا بہت بیتابی سے انتظار کررہے تھے کہ جب وہ کوئی غلطی کریں اور پھر شروع سے سورہ کی تلاوت کرنا پڑے۔
مگر میرے شوھر نے (خدا انکا نصیب اچھا کرے) دورانِ قرائت ایک بار بھی اشتباہ نہیں کیا۔
جب سورہ ختم ہوا، بابا جان نے انہیں لپک کے اپنی آغوش میں بھرلیا اور کہا: لو یہ رہا تمہارا بہترین تحفہ، میں اپنی بیٹی کا ہاتھ تمہارے سپرد کرتا ھوں کیونکہ تم نے اپنا وعدہ بخوبی نبھایا ھے۔
میں نے اپنے شوھر سے نہ زر لیا نہ زیور، انہوں نے مجھے کلامِ خداوندعالم سے قانع کردیا، یہی میرا زر بھی تھا یہی میرا زیور بھی.
________________________
👈 قرآن کریم کے متعلق مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔
🌹 قرآن مجید کا پڑھنا
https://t.me/islamwitheman/284
📖 تلاوت قرآن
https://t.me/islamwitheman/285
🔵 قرآن کے متعلق غورطلب باتیں
https://t.me/islamwitheman/286
🔵 قرآن کس لیے نازل کیا گیا
https://t.me/islamwitheman/287
🌹🌼 قرآنی معلومات
https://t.me/islamwitheman/288
📗 قرآن میں اصول دین و فروع دیں
https://t.me/islamwitheman/402
🌸میں قرآن میں کہاں ہوں؟
https://t.me/islamwitheman/847
🌼 قرآن کریم کے واجب سجدے
https://t.me/islamwitheman/849
🌺 حق مہر میں حِفظ سورۂ قرآن
https://t.me/islamwitheman/893
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
جس وقت میرے بابا جان کی انگیجمینٹ ہوئی -- بابا نے مہر کی جگہ سورہ آل عمران حفظ کرکے میری والدہ کو ھدیہ کیا---- اور جس دم میری انگیمینٹ ہوئی بابا نے میرے منگیتر سے کہا-- تمہیں قرآن مجید کا ایک مکمل سورہ حفظ کرنا ھوگا ورنہ میں اپنی بیٹی کا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں نھیں دونگا--- مجھ سے کسی ایک سورہ کو منتخب کرنے کے لئے کہا گیا-- چونکہ میری نظر میں سورہ نور کثیرالمطالب اور آسانی سے یاد ہونیوالا سورہ نہیں تھا لہذا میں نے سورہ نور کا انتخاب کیا-
شادی سے چند روز قبل باوجودیکہ نکاح و بیاہ کی ڈھیر ساری مصروفیات سر پہ منڈلا رہی تھیں مگر میرے منگیتر کے ہاتھوں میں مسلسل قرآن مجید نظر آرھا تھا۔
محفل عروسی سے چند روز قبل میرا منگیتر بابا جان کے سامنے حاضر ہوا,
بابا نے کہا: اگر درمیان قرآئت کوئی اشتباہ یا غلطی سرزد ھوئی تو پھر شروع سے سورہ دہرانا ھوگا-
یہ سنکر انہوں نے نرم و نازک اور لطیف آواز میں سورہ نور کی تلاوت شروع کی۔۔
یہ وہ حسِین وخوشگوار لمحات تھے جنہیں میں کبھی دستِ فراموشی کے سپرد نہیں کرسکتی-- میرے کاندھے سے لگی ہوئی ماں بار بار میری طرف دیکھتی اور ہلکی سی مسکان ان کے ہونٹوں پہ بکھر جاتی-- ہم اُس لمحہ کا بہت بیتابی سے انتظار کررہے تھے کہ جب وہ کوئی غلطی کریں اور پھر شروع سے سورہ کی تلاوت کرنا پڑے۔
مگر میرے شوھر نے (خدا انکا نصیب اچھا کرے) دورانِ قرائت ایک بار بھی اشتباہ نہیں کیا۔
جب سورہ ختم ہوا، بابا جان نے انہیں لپک کے اپنی آغوش میں بھرلیا اور کہا: لو یہ رہا تمہارا بہترین تحفہ، میں اپنی بیٹی کا ہاتھ تمہارے سپرد کرتا ھوں کیونکہ تم نے اپنا وعدہ بخوبی نبھایا ھے۔
میں نے اپنے شوھر سے نہ زر لیا نہ زیور، انہوں نے مجھے کلامِ خداوندعالم سے قانع کردیا، یہی میرا زر بھی تھا یہی میرا زیور بھی.
________________________
👈 قرآن کریم کے متعلق مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔
🌹 قرآن مجید کا پڑھنا
https://t.me/islamwitheman/284
📖 تلاوت قرآن
https://t.me/islamwitheman/285
🔵 قرآن کے متعلق غورطلب باتیں
https://t.me/islamwitheman/286
🔵 قرآن کس لیے نازل کیا گیا
https://t.me/islamwitheman/287
🌹🌼 قرآنی معلومات
https://t.me/islamwitheman/288
📗 قرآن میں اصول دین و فروع دیں
https://t.me/islamwitheman/402
🌸میں قرآن میں کہاں ہوں؟
https://t.me/islamwitheman/847
🌼 قرآن کریم کے واجب سجدے
https://t.me/islamwitheman/849
🌺 حق مہر میں حِفظ سورۂ قرآن
https://t.me/islamwitheman/893
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌹 ﻗﺮﺁﻥ مجید کا ﭘﮍهنا 🌹
ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺫﺭﺍ ﺑﮭﯽ ﺷﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻗﺮﺁﻥ ﺍﯾﮏ ﺁﺳﻤﺎﻧﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﮨﮯ. ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﮐﻼﻡ ﮨﮯ۔ ﺍﻟﻠﮧ تعالٰی ﻧﮯ ﯾﮧ ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﺭﮨﻨﻤﺎﺋﯽ ﮐﮯ لئے ﻧﺎﺯﻝ ﮐﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﻥ کی ﮨﺪﺍﯾﺖ ﮐﮯ لئے ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﻧﺸﺎﻧﯿﺎﮞ ﮨﯿﮟ. ﯾﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﭘﺮ ﻣﻨﺤﺼﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﺲ ﻗﺪﺭ ﺍﺱ ﮐﺘﺎﺏ…
ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺫﺭﺍ ﺑﮭﯽ ﺷﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻗﺮﺁﻥ ﺍﯾﮏ ﺁﺳﻤﺎﻧﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﮨﮯ. ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﮐﻼﻡ ﮨﮯ۔ ﺍﻟﻠﮧ تعالٰی ﻧﮯ ﯾﮧ ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﺭﮨﻨﻤﺎﺋﯽ ﮐﮯ لئے ﻧﺎﺯﻝ ﮐﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﻥ کی ﮨﺪﺍﯾﺖ ﮐﮯ لئے ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﻧﺸﺎﻧﯿﺎﮞ ﮨﯿﮟ. ﯾﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﭘﺮ ﻣﻨﺤﺼﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﺲ ﻗﺪﺭ ﺍﺱ ﮐﺘﺎﺏ…
🌲 توکل بر خدا 🌲
دلہن نے گھر میں داخل ہوتے ہی تنقیدی نظروں سے گھر کا معائنہ کیا، چہرہ پر کسی قسم کا تاثر نہیں تھا،
گھر کیا تھا، ایک کچی چہاردیواری تھی، جس میں کچی پکی اینٹوں کو جوڑ کر ایک چھوٹا سا کمرہ نما بنا لیا گیا، چھت کھجور کے پتوں کی تھی، جس سے چھن چھن کر روشنی کمرے میں آرہی تھی، کمرے میں کوئی کھڑکی نہیں تھی، دیوار کو کاٹ کر کمرے کا ایک مدخل بنا لیا گیا تھا، کمرے کے فرش پر کھجور کے پتوں کا ایک گدّا بچھا ہوا تھا، گرہستی کے نام پر مٹی کی ایک ہنڈیا، ایک آبخورہ اور طاق پر ایک لکڑی کا پیالہ رکھا تھا۔
دولہن خاموشی سے بستر پر بیٹھ گئی، تھوڑی دیر میں دولھے میاں خشک روٹی کے کچھ ٹکڑے اور سالن لائے اور بیوی سے کہا:
آئیے پہلے کھانا کھالیں، پھر باتیں ہوں گی، عورت پہلی بار مسکرائی اور دستر خوان پر بیٹھ گئی، دونوں اسطرح کھانے لگے جیسے انواع و اقسام کے کھانے سامنے پروسے گئے ہوں، کھانے کیبعد دونوں نے اللہ کا شکر ادا کیا، جس نے انھیں بھوکا نہیں رکھا۔
دولہن کمرے سے باہر نکلی اور ٹہلنے لگی، طاق پر رکھے ہوئے پیالے کو ہاتھ میں لے کر غور سے دیکھا، اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ پیالے میں کیا ہے، آخر شوہر سے دریافت کیا۔۔
"اس پیالے میں کیا ہے؟"
شوہر کا چہرہ پھیکا پڑگیا، دبی زبان میں کہا:
"روٹی کے کچھ ٹکڑے ہیں، پانی میں بھگو دیے ہیں، صبح ہم دونوں کا ناشتہ ہو جائےگا۔"
دلھن نے پیالے کو پٹک کر اسی طاق پر واپس رکھ دیا، آنکھوں کے شہابی ڈورے شرربار ہوگئے، رخسار کے انار دہکنے لگے، آتش غضب سے جسم کی حدت بڑھ گئی، دولھا گھبرا گیا، پل بھر میں دلھن کی کیفیت کیوں بدل گئی۔
لرزتی ہوئی آواز میں پوچھا:
"کیا ہوا تم اتنا پریشان کیوں ہوگئیں؟"
دولہن نے فیصلہ کن آواز میں کہا:
"میں آپ کے ساتھ نہیں رہ سکتی، مجھ کو میرے گھر پہنچا دیجئے۔"
شوہر کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا، اس نے منت سماجت کرتے ہوئے کہا:
"ابھی تک تو آپ خوش تھیں، اچانک آپ کو کیا ہو گیا؟ کیا میں آپ کو پسند۔۔۔ ایسی بات تھی تو نکاح سے پہلے آپ کو بتا دینا چاھئے تھا۔"
دلہن نے نرمی سی کہا:
"ایسی کوئی بات نہیں، آپ تو مجھے دل و جان سے پسند ہیں۔"
"پھر میری غربت سے آپ گھبرا گئیں؟ میں نے تو پہلے ہی آپ کے والد سے کہہ دیا تھا کہ مال ومنال کے نام پر میرے گھر میں الله کے نام کے علاوہ کچھ نہیں ہے، پھر بھی میں محنت کروں گا اور آپ کے نان و نفقہ کا انتظام کروں گا ان شاء اللہ۔"
اس نے جواب دیا:
"آپ پتہ نہیں کیا کیا کہے جارہے ہیں، دراصل آپ کو الله پر بھروسہ اور توکل نہیں ہے اور جس شخص کا توکل الله پر نہ ہو اس کے ساتھ میں کیسے رہ سکتی ہوں؟"
"آپ نے میری کس بات سے اندازہ لگایا کہ مجھے الله پر توکل نہیں ہے؟" شوہر نے کہا۔
"اگر الله پر توکل ہوتا تو کل کی روزی کا انتظام آج ہی کیوں کرتے؟ پیالے میں روٹی نہ بھگوتے، کیا آپ نے پڑھا نہیں ہے۔۔
ومن یتوکل علی الله فھو حسبه، اگر آپ چاھتے ہیں کہ میں آپ کے ساتھ رہوں تو آپ ابھی اس پیالے کو لے جائیے اور کسی بھوکے کو کھلا دیجئیے، اللہ نے آج روزی دی ہے تو بھروسہ رکھئے الله کل بھی دے گا۔"
شوہر نے پیالے کو ہاتھ میں لیا اور زاروقطار رونے لگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
🌲 توکل علی اللہ
https://t.me/islamwitheman/687
🌲 خدا سے امید
https://t.me/islamwitheman/646
🌲 بہترین حسن ظن
https://t.me/islamwitheman/263
🌲 الله تعالٰی کی رحمت
https://t.me/islamwitheman/134
🌲 الله تعالٰی کی رحمت پر بھروسہ
https://t.me/islamwitheman/137
🌲 بیمثال مالک
https://t.me/islamwitheman/110
🌲 الله تعالٰی کی مدد
https://t.me/islamwitheman/25
🌲 حسن نیت اور جذبہ شرمساری
https://t.me/islamwitheman/301
🌲 توکل بر خدا
https://t.me/islamwitheman/894
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
دلہن نے گھر میں داخل ہوتے ہی تنقیدی نظروں سے گھر کا معائنہ کیا، چہرہ پر کسی قسم کا تاثر نہیں تھا،
گھر کیا تھا، ایک کچی چہاردیواری تھی، جس میں کچی پکی اینٹوں کو جوڑ کر ایک چھوٹا سا کمرہ نما بنا لیا گیا، چھت کھجور کے پتوں کی تھی، جس سے چھن چھن کر روشنی کمرے میں آرہی تھی، کمرے میں کوئی کھڑکی نہیں تھی، دیوار کو کاٹ کر کمرے کا ایک مدخل بنا لیا گیا تھا، کمرے کے فرش پر کھجور کے پتوں کا ایک گدّا بچھا ہوا تھا، گرہستی کے نام پر مٹی کی ایک ہنڈیا، ایک آبخورہ اور طاق پر ایک لکڑی کا پیالہ رکھا تھا۔
دولہن خاموشی سے بستر پر بیٹھ گئی، تھوڑی دیر میں دولھے میاں خشک روٹی کے کچھ ٹکڑے اور سالن لائے اور بیوی سے کہا:
آئیے پہلے کھانا کھالیں، پھر باتیں ہوں گی، عورت پہلی بار مسکرائی اور دستر خوان پر بیٹھ گئی، دونوں اسطرح کھانے لگے جیسے انواع و اقسام کے کھانے سامنے پروسے گئے ہوں، کھانے کیبعد دونوں نے اللہ کا شکر ادا کیا، جس نے انھیں بھوکا نہیں رکھا۔
دولہن کمرے سے باہر نکلی اور ٹہلنے لگی، طاق پر رکھے ہوئے پیالے کو ہاتھ میں لے کر غور سے دیکھا، اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ پیالے میں کیا ہے، آخر شوہر سے دریافت کیا۔۔
"اس پیالے میں کیا ہے؟"
شوہر کا چہرہ پھیکا پڑگیا، دبی زبان میں کہا:
"روٹی کے کچھ ٹکڑے ہیں، پانی میں بھگو دیے ہیں، صبح ہم دونوں کا ناشتہ ہو جائےگا۔"
دلھن نے پیالے کو پٹک کر اسی طاق پر واپس رکھ دیا، آنکھوں کے شہابی ڈورے شرربار ہوگئے، رخسار کے انار دہکنے لگے، آتش غضب سے جسم کی حدت بڑھ گئی، دولھا گھبرا گیا، پل بھر میں دلھن کی کیفیت کیوں بدل گئی۔
لرزتی ہوئی آواز میں پوچھا:
"کیا ہوا تم اتنا پریشان کیوں ہوگئیں؟"
دولہن نے فیصلہ کن آواز میں کہا:
"میں آپ کے ساتھ نہیں رہ سکتی، مجھ کو میرے گھر پہنچا دیجئے۔"
شوہر کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا، اس نے منت سماجت کرتے ہوئے کہا:
"ابھی تک تو آپ خوش تھیں، اچانک آپ کو کیا ہو گیا؟ کیا میں آپ کو پسند۔۔۔ ایسی بات تھی تو نکاح سے پہلے آپ کو بتا دینا چاھئے تھا۔"
دلہن نے نرمی سی کہا:
"ایسی کوئی بات نہیں، آپ تو مجھے دل و جان سے پسند ہیں۔"
"پھر میری غربت سے آپ گھبرا گئیں؟ میں نے تو پہلے ہی آپ کے والد سے کہہ دیا تھا کہ مال ومنال کے نام پر میرے گھر میں الله کے نام کے علاوہ کچھ نہیں ہے، پھر بھی میں محنت کروں گا اور آپ کے نان و نفقہ کا انتظام کروں گا ان شاء اللہ۔"
اس نے جواب دیا:
"آپ پتہ نہیں کیا کیا کہے جارہے ہیں، دراصل آپ کو الله پر بھروسہ اور توکل نہیں ہے اور جس شخص کا توکل الله پر نہ ہو اس کے ساتھ میں کیسے رہ سکتی ہوں؟"
"آپ نے میری کس بات سے اندازہ لگایا کہ مجھے الله پر توکل نہیں ہے؟" شوہر نے کہا۔
"اگر الله پر توکل ہوتا تو کل کی روزی کا انتظام آج ہی کیوں کرتے؟ پیالے میں روٹی نہ بھگوتے، کیا آپ نے پڑھا نہیں ہے۔۔
ومن یتوکل علی الله فھو حسبه، اگر آپ چاھتے ہیں کہ میں آپ کے ساتھ رہوں تو آپ ابھی اس پیالے کو لے جائیے اور کسی بھوکے کو کھلا دیجئیے، اللہ نے آج روزی دی ہے تو بھروسہ رکھئے الله کل بھی دے گا۔"
شوہر نے پیالے کو ہاتھ میں لیا اور زاروقطار رونے لگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
🌲 توکل علی اللہ
https://t.me/islamwitheman/687
🌲 خدا سے امید
https://t.me/islamwitheman/646
🌲 بہترین حسن ظن
https://t.me/islamwitheman/263
🌲 الله تعالٰی کی رحمت
https://t.me/islamwitheman/134
🌲 الله تعالٰی کی رحمت پر بھروسہ
https://t.me/islamwitheman/137
🌲 بیمثال مالک
https://t.me/islamwitheman/110
🌲 الله تعالٰی کی مدد
https://t.me/islamwitheman/25
🌲 حسن نیت اور جذبہ شرمساری
https://t.me/islamwitheman/301
🌲 توکل بر خدا
https://t.me/islamwitheman/894
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌲 توکل علی اللہ 🌲
راستہ چلنے والا اگرچہ سینکڑوں ہنر رکھتا ہو پھر بھی توکل ضروری ہے۔ اپنے جبار خدا پر بھروسہ کرو تاکہ مراد تک پہنچو۔
● ارشادِ باری تعالٰی ہے۔۔
إذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ إنَّ الله یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِینَ۔
جب کسی عمل کا ارادہ…
راستہ چلنے والا اگرچہ سینکڑوں ہنر رکھتا ہو پھر بھی توکل ضروری ہے۔ اپنے جبار خدا پر بھروسہ کرو تاکہ مراد تک پہنچو۔
● ارشادِ باری تعالٰی ہے۔۔
إذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ إنَّ الله یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِینَ۔
جب کسی عمل کا ارادہ…
⚘ایک طالبعلم کا زنا سے بچنا⚘
ﻭﮦ ﻋﻮﺭﺕ ﺭﻭﺯ ﺍﺱ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺑﻐﯿﺮ ﺍسکی ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﮯ، ﺳﺮﺟﮭﮑﺎ ﮐﺮ ﮔﻠﯽ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﺟﺎﺗﺎ۔ ﻭﮦ دینی ﻃﺎلبعلم ﻟﮕﺘﺎﺗﮭﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯽ ﺍﺳﮯ ﺩﻝ ﺩﮮ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ کسیطرﺡ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻧﻈﺮِﺍﻟﺘﻔﺎﺕ ﮈﺍﻟﮯ۔
ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺴﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﮕﻦ ﺳﺮﺟﮭﮑﺎﺋﮯ ﺯﯾﺮﻟﺐ ﮐﭽﮫ ﭘﮍﮬﺘﺎ ﮨﻮﺍ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ایک ﻣﺨﺼﻮﺹ ﻭﻗﺖ ﭘﺮﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﺁﻧﮑﮫ اﭨﮭﺎﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ۔
ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺍﺏ ﺿﺪ ﺳﯽ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ، ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﻋﻮﺭﺕ ﺗﮭﯽ۔ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺍﺗﻨﯽ ﮐﮧ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺑﺎﮨﺮﻧﮑﻠﺘﯽ ﺗﻮﻟﻮﮒ ﺍﺳﮯ ﺑﮯﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﭘﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ۔ ﺍﺳﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ جسکی ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ کیلئے ﻟﻮﮒ ﺗﺮﺳﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﺳﮑﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﮔﻮﺍﺭﮦ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ۔
ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻧﺎ ﮐﯽ ﺷﮑﺴﺖ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﮐﯽ ﺗﻮﮨﯿﻦ ﭘﺮ ﻭﮦ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﻣﻨﺼﻮﺑﮧ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺍﺱ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﻮ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺳﮑﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﺎ ﻏﺮﻭﺭ ﺗﻮﮌ ﺳﮑﮯ۔ ﺁﺧﺮﮐﺎﺭ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺳﺠﮭﺎﺩﯾﺎ۔۔۔
ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﺟﺐ ﻭﮦ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺍﺱ ﮔﻠﯽ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﺳﮑﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺁکر ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﯽ؛
ﺑﯿﭩﺎ! ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﻟﮑﻦ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﻼﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ؛
ﺍﻣﺎﮞ ﺟﯽ ﺁپکی ﻣﺎﻟﮑﻦ ﮐﻮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﺎﻡﮨﮯ؟
ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ؛
ﺑﯿﭩﺎ! ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ مسئلہ ﭘﻮﭼﮭﻨﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﻣﺠﺒﻮﺭﮨﮯ، ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺳﮑﺘﯽ۔
ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺍسکے ﺳﺎﺗﮫ ﭼﻼﮔﯿﺎ ﻧﻮﮐﺮﺍﻧﯽ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﭩﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮنیکا کہکر ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ۔
ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮﺑﻌﺪ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻭﮨﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﯽ، ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ نے ﺍﭘﻨﯽ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﺟﮭﮑﺎلیں اور ﭘﻮﭼﮭﺎ؛ بیبی ﺁﭖ ﻧﮯ ﮐﻮﻧﺴﺎ مسئلہ ﭘﻮﭼﮭﻨﺎ ﮨﮯ؟
ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺷﯿﻄﺎﻧﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﺁﮔﺌﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﮐﺎﺣﺎﻝ ﮐﮭﻮلدﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻟﻮﮞ۔
ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺳﻦ ﮐﺮ ﮐﺎﻧﭗ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ؛ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ بندی ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﮈﺭﻭ ﮐﯿﻮﮞ ﮔﻨﺎﮦ کیطرف ﻣﺎﺋﻞ ﮨﻮﺭﮨﯽ ﮨﻮ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ ﻟﯿﮑﻦ بےسود۔
عورت ﻧﮯ ﮐﮩﺎ؛
ﯾﺎﺗﻮ ﺗﻢ ﻣﯿﺮﯼ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﻭﮔﮯ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺷﻮﺭ ﻣﭽﺎﺅنگی ﮐﮧ ﺗﻢ ﺯﺑﺮﺩﺳﺘﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﺰﺕ ﭘﺮﺣﻤﻠﮧ ﮐﯿﺎ۔
ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﯾﮧ سنکر ﺑﮩﺖ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮﺍ، ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﺰﺕ کسیطرﺡ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ، ﺍﺳﮑﯽ ﺑﺎﺕ ﻣﺎﻧﺘﺎ ﺗﻮ ﮔﻨﺎہگاﺭ ﮨﻮﺗﺎ، ﻧﮧ ﻣﺎﻧﺘﺎ ﺗﻮﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﺍ ﺑﻨﺘﺎ۔
ﻭﮦ ﻋﺠﯿﺐ ﻣﺼﯿﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻨﺲ ﮔﯿﺎﺗﮭﺎ۔ ﺩﻝ ﮨﯽ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﻟﻠﮧ کیطرف ﻣﺘﻮﺟﮧ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﻣﺪﺩ ﭼﺎﮨﯽ ﺗﻮ ﺍسکے ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺍک ﺗﺮﮐﯿﺐ ﺁﮔﺌﯽ۔۔
ﺍﺱ ﻧﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ؛ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﻧﮯ کیلئے ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮﮞ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﺨﻼﺀ ﺟﺎنیکی ﺣﺎﺟﺖ ﮨﮯ۔
ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﺨﻼﺀ ﮐﺎ ﺑﺘﺎﺩﯾﺎ۔
ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺟﺎﮐﺮ ﮈﮬﯿﺮ ﺳﺎﺭﯼ ﻏﻼﻇﺖ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺴﻢ ﭘﺮ ﻣﻞ ﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﮨﺮ ﺁﮔﯿﺎ۔
ﻋﻮﺭﺕ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ہی ﭼﻼ ﺍﭨﮭﯽ ﯾﮧ ﺗﻢ ﻧﮯ ﮐﯿﺎﮐﯿﺎ ﻇﺎﻟﻢ۔۔ ﻣﺠﮫ ﺟﯿﺴﯽ ﻧﻔﯿﺲ ﻃﺒﻌﯿﺖ ﻭﺍﻟﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﮔﻨﺪﯼ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺁﮔﺌﮯ۔۔ ﺩﻓﻊ ﮨﻮ ﺟﺎﺅ۔۔ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺅ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ۔
ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻓﻮﺭﺍً ﺍسکے ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻗﺮﯾﺐ ﮨﯽ ﻧﮩﺮ ﭘﺮ خودﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﺎﮎ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺷﮑﺮ ﺍﺩﺍﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﻭﺍﭘﺲ ﻣﺪﺭﺳﮯ ﭼﻼﮔﯿﺎ۔
ﻧﻤﺎﺯ کیبعد ﺟﺐ ﻭﮦ ﺳﺒﻖ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺗﻮ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺍﺳﺘﺎﺩﺟﯽ ﻧﮯﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺁﺝ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎﺭﯼ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺁﺭﮨﯽ ﮨﮯ، ﮐﺲ ﻧﮯ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻟﮕﺎﺋﯽﮨﮯ؟
ﻭﮦ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺍسکے ﺟﺴﻢ ﺳﮯ ﺍﺑﮭﯽ ﺑﺪﺑﻮﮔﺌﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺘﺎﺩﺟﯽ ﻃﻨﺰ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﭧ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ اسکی ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮ ﺁﮔﺌﮯ۔
ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺍﺳﺘﺎﺩﺟﯽ ﻧﮯ ﭘﮭﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮐﺲ ﻧﮯ ﻟﮕﺎﺋﯽﮨﮯ؟
ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺭﮨﺎ ﺁﺧﺮﮐﺎﺭ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ سبکو ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﮐﺮﮐﮯ ﺑﻼﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺳﻮﻧﮕﮭﻨﮯ ﻟﮕﮯ۔
ﺍﺱ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺳﺮﺟﮭﮑﺎ ﮐﺮ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔
ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﺍسکے ﮐﭙﮍﻭﮞ ﮐﻮﺳﻮﻧﮕﮭﺎ ﺗﻮﻭﮦ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺍﺳﮑﮯ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﺳﮯ ﺁﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺑﺘﺎﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺗﻢ ﻧﮯ ﻟﮕﺎﺋﯽﮨﮯ؟
ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺭﻭ ﭘﮍﺍﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯﻟﮕﺎ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺟﯽ ﺍﺏ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﻣﺠﮭﮯ پتہ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﺪﺑﻮ ﺁﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﺎﺭﺍ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﻮ ﺳﻨﺎﯾﺎ۔
ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﻣﺬﺍﻕ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﮌﺍ ﺭﮨﺎ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﺳﮯ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺁﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﺝ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻮﻧﮕﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﯾﻘﯿﻨﺎً ﯾﮧ ﺍﻟﻠﮧ کیطرف ﺳﮯ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮔﻨﺎﮦ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﻧﮯ کیلئے ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮔﻨﺪﮔﯽ ﻟﮕﺎﻧﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺍﺳﯽ ﮔﻨﺪﮔﯽ ﮐﻮ ﺍﯾﺴﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻝ ﺩﯾﺎ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﯽ۔
ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﻥ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﺳﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮨﯽ ﻭﮦﺧﻮﺷﺒﻮ ﺁﺗﯽﺭﮬﯽ۔
________________________________
👈زنا کے بارے مزید پوسٹس۔۔۔
🔴❌ زنا کیا ہے
https://t.me/islamwitheman/416
🚫 زنا کے قریب بھی نہ پهٹکو
https://t.me/islamwitheman/418
🔶 زنا شرک کیبعد سب سے بڑا گناہ
https://t.me/islamwitheman/419
🔵 زنا کا فلسفہ حرمت
https://t.me/islamwitheman/420
🚫 زنا کا سدباب
https://t.me/islamwitheman/421
🌷شیطان کا وار اور خوف خدا
https://t.me/islamwitheman/424
🔵 حریص عالم اور زنا کی نحوست
https://t.me/islamwitheman/456
⚘ایک طالبعلم کا زنا سے بچنا
https://t.me/islamwitheman/895
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
ﻭﮦ ﻋﻮﺭﺕ ﺭﻭﺯ ﺍﺱ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺑﻐﯿﺮ ﺍسکی ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﮯ، ﺳﺮﺟﮭﮑﺎ ﮐﺮ ﮔﻠﯽ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﺟﺎﺗﺎ۔ ﻭﮦ دینی ﻃﺎلبعلم ﻟﮕﺘﺎﺗﮭﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯽ ﺍﺳﮯ ﺩﻝ ﺩﮮ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ کسیطرﺡ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻧﻈﺮِﺍﻟﺘﻔﺎﺕ ﮈﺍﻟﮯ۔
ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺴﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﮕﻦ ﺳﺮﺟﮭﮑﺎﺋﮯ ﺯﯾﺮﻟﺐ ﮐﭽﮫ ﭘﮍﮬﺘﺎ ﮨﻮﺍ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ایک ﻣﺨﺼﻮﺹ ﻭﻗﺖ ﭘﺮﻭﮨﺎﮞ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﺁﻧﮑﮫ اﭨﮭﺎﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ۔
ﺍﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺍﺏ ﺿﺪ ﺳﯽ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ، ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻼﻗﮯ ﮐﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﻋﻮﺭﺕ ﺗﮭﯽ۔ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺍﺗﻨﯽ ﮐﮧ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺑﺎﮨﺮﻧﮑﻠﺘﯽ ﺗﻮﻟﻮﮒ ﺍﺳﮯ ﺑﮯﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﭘﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ۔ ﺍﺳﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ جسکی ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ کیلئے ﻟﻮﮒ ﺗﺮﺳﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﺳﮑﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﮔﻮﺍﺭﮦ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ۔
ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻧﺎ ﮐﯽ ﺷﮑﺴﺖ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﮐﯽ ﺗﻮﮨﯿﻦ ﭘﺮ ﻭﮦ ﭘﺎﮔﻞ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﻣﻨﺼﻮﺑﮧ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺍﺱ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﻮ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺳﮑﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﺎ ﻏﺮﻭﺭ ﺗﻮﮌ ﺳﮑﮯ۔ ﺁﺧﺮﮐﺎﺭ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺳﺠﮭﺎﺩﯾﺎ۔۔۔
ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﺟﺐ ﻭﮦ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺍﺱ ﮔﻠﯽ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﺳﮑﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺁکر ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﯽ؛
ﺑﯿﭩﺎ! ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺎﻟﮑﻦ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﻼﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ؛
ﺍﻣﺎﮞ ﺟﯽ ﺁپکی ﻣﺎﻟﮑﻦ ﮐﻮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﺎﻡﮨﮯ؟
ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ؛
ﺑﯿﭩﺎ! ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ مسئلہ ﭘﻮﭼﮭﻨﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﻣﺠﺒﻮﺭﮨﮯ، ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺳﮑﺘﯽ۔
ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺍسکے ﺳﺎﺗﮫ ﭼﻼﮔﯿﺎ ﻧﻮﮐﺮﺍﻧﯽ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﭩﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮنیکا کہکر ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ۔
ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮﺑﻌﺪ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻭﮨﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﯽ، ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ نے ﺍﭘﻨﯽ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﺟﮭﮑﺎلیں اور ﭘﻮﭼﮭﺎ؛ بیبی ﺁﭖ ﻧﮯ ﮐﻮﻧﺴﺎ مسئلہ ﭘﻮﭼﮭﻨﺎ ﮨﮯ؟
ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺷﯿﻄﺎﻧﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﺁﮔﺌﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﮐﺎﺣﺎﻝ ﮐﮭﻮلدﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻟﻮﮞ۔
ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺳﻦ ﮐﺮ ﮐﺎﻧﭗ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ؛ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ بندی ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﮈﺭﻭ ﮐﯿﻮﮞ ﮔﻨﺎﮦ کیطرف ﻣﺎﺋﻞ ﮨﻮﺭﮨﯽ ﮨﻮ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ ﻟﯿﮑﻦ بےسود۔
عورت ﻧﮯ ﮐﮩﺎ؛
ﯾﺎﺗﻮ ﺗﻢ ﻣﯿﺮﯼ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﻭﮔﮯ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺷﻮﺭ ﻣﭽﺎﺅنگی ﮐﮧ ﺗﻢ ﺯﺑﺮﺩﺳﺘﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﺰﺕ ﭘﺮﺣﻤﻠﮧ ﮐﯿﺎ۔
ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﯾﮧ سنکر ﺑﮩﺖ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮﺍ، ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﺰﺕ کسیطرﺡ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ، ﺍﺳﮑﯽ ﺑﺎﺕ ﻣﺎﻧﺘﺎ ﺗﻮ ﮔﻨﺎہگاﺭ ﮨﻮﺗﺎ، ﻧﮧ ﻣﺎﻧﺘﺎ ﺗﻮﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﺍ ﺑﻨﺘﺎ۔
ﻭﮦ ﻋﺠﯿﺐ ﻣﺼﯿﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻨﺲ ﮔﯿﺎﺗﮭﺎ۔ ﺩﻝ ﮨﯽ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﻟﻠﮧ کیطرف ﻣﺘﻮﺟﮧ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﻣﺪﺩ ﭼﺎﮨﯽ ﺗﻮ ﺍسکے ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺍک ﺗﺮﮐﯿﺐ ﺁﮔﺌﯽ۔۔
ﺍﺱ ﻧﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ؛ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﻧﮯ کیلئے ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮﮞ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﺨﻼﺀ ﺟﺎنیکی ﺣﺎﺟﺖ ﮨﮯ۔
ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﺨﻼﺀ ﮐﺎ ﺑﺘﺎﺩﯾﺎ۔
ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺟﺎﮐﺮ ﮈﮬﯿﺮ ﺳﺎﺭﯼ ﻏﻼﻇﺖ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺴﻢ ﭘﺮ ﻣﻞ ﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﮨﺮ ﺁﮔﯿﺎ۔
ﻋﻮﺭﺕ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ہی ﭼﻼ ﺍﭨﮭﯽ ﯾﮧ ﺗﻢ ﻧﮯ ﮐﯿﺎﮐﯿﺎ ﻇﺎﻟﻢ۔۔ ﻣﺠﮫ ﺟﯿﺴﯽ ﻧﻔﯿﺲ ﻃﺒﻌﯿﺖ ﻭﺍﻟﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﮔﻨﺪﯼ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺁﮔﺌﮯ۔۔ ﺩﻓﻊ ﮨﻮ ﺟﺎﺅ۔۔ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺅ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ۔
ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻓﻮﺭﺍً ﺍسکے ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻗﺮﯾﺐ ﮨﯽ ﻧﮩﺮ ﭘﺮ خودﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﺎﮎ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺷﮑﺮ ﺍﺩﺍﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﻭﺍﭘﺲ ﻣﺪﺭﺳﮯ ﭼﻼﮔﯿﺎ۔
ﻧﻤﺎﺯ کیبعد ﺟﺐ ﻭﮦ ﺳﺒﻖ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺗﻮ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺍﺳﺘﺎﺩﺟﯽ ﻧﮯﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺁﺝ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎﺭﯼ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺁﺭﮨﯽ ﮨﮯ، ﮐﺲ ﻧﮯ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻟﮕﺎﺋﯽﮨﮯ؟
ﻭﮦ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺍسکے ﺟﺴﻢ ﺳﮯ ﺍﺑﮭﯽ ﺑﺪﺑﻮﮔﺌﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﺘﺎﺩﺟﯽ ﻃﻨﺰ ﮐﺮﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﭧ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ اسکی ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮ ﺁﮔﺌﮯ۔
ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺍﺳﺘﺎﺩﺟﯽ ﻧﮯ ﭘﮭﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﮐﺲ ﻧﮯ ﻟﮕﺎﺋﯽﮨﮯ؟
ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺭﮨﺎ ﺁﺧﺮﮐﺎﺭ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ سبکو ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﮐﺮﮐﮯ ﺑﻼﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺳﻮﻧﮕﮭﻨﮯ ﻟﮕﮯ۔
ﺍﺱ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺳﺮﺟﮭﮑﺎ ﮐﺮ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﮔﯿﺎ۔
ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﺍسکے ﮐﭙﮍﻭﮞ ﮐﻮﺳﻮﻧﮕﮭﺎ ﺗﻮﻭﮦ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺍﺳﮑﮯ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﺳﮯ ﺁﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺑﺘﺎﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺗﻢ ﻧﮯ ﻟﮕﺎﺋﯽﮨﮯ؟
ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺭﻭ ﭘﮍﺍﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯﻟﮕﺎ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﺟﯽ ﺍﺏ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﻣﺠﮭﮯ پتہ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﺪﺑﻮ ﺁﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﺎﺭﺍ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺍﺳﺘﺎﺩ ﮐﻮ ﺳﻨﺎﯾﺎ۔
ﺍﺳﺘﺎﺩ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﻣﺬﺍﻕ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﮌﺍ ﺭﮨﺎ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﺳﮯ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺁﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﺝ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻮﻧﮕﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﯾﻘﯿﻨﺎً ﯾﮧ ﺍﻟﻠﮧ کیطرف ﺳﮯ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮔﻨﺎﮦ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﻧﮯ کیلئے ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮔﻨﺪﮔﯽ ﻟﮕﺎﻧﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺍﺳﯽ ﮔﻨﺪﮔﯽ ﮐﻮ ﺍﯾﺴﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﻝ ﺩﯾﺎ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﯽ۔
ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﻥ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﺳﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮨﯽ ﻭﮦﺧﻮﺷﺒﻮ ﺁﺗﯽﺭﮬﯽ۔
________________________________
👈زنا کے بارے مزید پوسٹس۔۔۔
🔴❌ زنا کیا ہے
https://t.me/islamwitheman/416
🚫 زنا کے قریب بھی نہ پهٹکو
https://t.me/islamwitheman/418
🔶 زنا شرک کیبعد سب سے بڑا گناہ
https://t.me/islamwitheman/419
🔵 زنا کا فلسفہ حرمت
https://t.me/islamwitheman/420
🚫 زنا کا سدباب
https://t.me/islamwitheman/421
🌷شیطان کا وار اور خوف خدا
https://t.me/islamwitheman/424
🔵 حریص عالم اور زنا کی نحوست
https://t.me/islamwitheman/456
⚘ایک طالبعلم کا زنا سے بچنا
https://t.me/islamwitheman/895
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🚫 زنا کیا ہے؟ 🚫
زنا کیا ہے؟
اگر مرد ایک ایسی عورت سے صحب/ همبستری کرے جو اس کی بیوی نہیں ہے تو، یہ زنا کہلاتا ہے، ضروری نہیں کہ ساتھ سونے کو ہی زنا کہتے ہیں، بلكہ چھونا بھی زنا کا ایک حصہ ہے. اور کسی پرائی عورت کو دیکھنا آنکھوں کا زنا ہے. زنا کو اسلام میں…
زنا کیا ہے؟
اگر مرد ایک ایسی عورت سے صحب/ همبستری کرے جو اس کی بیوی نہیں ہے تو، یہ زنا کہلاتا ہے، ضروری نہیں کہ ساتھ سونے کو ہی زنا کہتے ہیں، بلكہ چھونا بھی زنا کا ایک حصہ ہے. اور کسی پرائی عورت کو دیکھنا آنکھوں کا زنا ہے. زنا کو اسلام میں…
💐 ﻧﻤﺎﺯ ﻛﻰ ﺍﮨﻤﯿﺖ 💐
ﺍﺳﻼﻡ ﻣﻴﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﻛﻮ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ ﻣﻘﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ، ﺗﻮحید ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺷﮩﺎﺩﺗﯿﻦ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺻﻼۃ (ﻧﻤﺎﺯ) ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﻓﻀﻞ ﺗﺮﯾﻦ ﻋﻤﻞ ﮨﮯ، ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺳﮯ ﻣﻮﺳﻮﻡ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ، ﻓﺮﻣﺎﻥ ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮨﮯ:
ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﻮ ﺿﺎﺋﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﯾﮕﺎ۔(ﺍﻟﺒﻘﺮۃ : 143)
ﯾﻌﻨﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻤﻘﺪﺱ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭘﮍﮬﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻧﻤﺎﺯﯾﮟ ﺭﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﮔﯽ۔(ﺗﻔﺴﻴﺮ ﺍﺑﻦ ﮐﺜﯿﺮ : 1/458)
ﻧﻤﺎﺯ ﮐﯽ ﻗﺪﺭ ﻭ ﻣﻨﺰﻟﺖ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﻔﺮﺍﺩﯾﺖ ﮐﮯ ﺑﺎﻋﺚ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﺒﯿﺎﺀ ﻭ ﺭﺳﻞ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﮯ ﻓﺮﺽ ﮐﯿﺎ، ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ، ﺍﺳﺤﺎﻕ، ﯾﻌﻘﻮﺏ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﭘﺮ ﻧﻤﺎﺯ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺣﯽ ﮐﯽ، ﻓﺮﻣﺎﻥ ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮨﮯ: ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﻧﮑﯽ ﻃﺮﻑ ﻧﯿﮑﯿﺎﮞ، ﻧﻤﺎﺯﯾﮟ، ﺍﻭﺭ ﺯﮐﺎۃ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺣﯽ ﮐﯽ۔ (ﺍﻷﻧﺒﻴﺎﺀ : 73)
ﻣﻮﺳﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺳﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﺑﺮﺍﮦِ ﺭﺍﺳﺖ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﻮﺣﯿﺪ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﮨﯽ ﮐﻮ ﻓﺮﺽ ﮐﯿﺎ، ﻓﺮﻣﺎﻥ ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮨﮯ:
ﺑﯿﺸﮏ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﮨﻮﮞ، ﻣﯿﺮﮮ ﺳﻮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻌﺒﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ، ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﮨﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﺮﻭ، ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﻭ۔ (ﻃﮧ : 14)
ﻣﻮﺳﯽ ﻭ ﮨﺎﺭﻭﻥ ﻋﻠﯿﮩﻤﺎ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ، ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﮨﻢ ﻧﮯ ﻣﻮﺳﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﻮ ﻭﺣﯽ ﮐﯽ: ﺍﭘﻨﯽ ﻗﻮﻡ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﻗﺒﻠﮧ ﺭﺥ ﮔﮭﺮ ﺑﻨﺎﺅ، ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯﯾﮟ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﻭ۔ (ﻳﻮﻧﺲ : 87)
ﺳﺎﺑﻘﮧ ﺍﻣﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ،ﻓﺮﻣﺎﻥ ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮨﮯ: ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﺨﻠﺺ ﮨﻮﮐﺮ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﺻﺮﻑ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﮐﺮﯾﮟ، ﻧﻤﺎﺯﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺯﮐﺎۃ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﯾﮟ، ﯾﮩﯽ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺩﯾﻦ ﮨﮯ۔ (ﺍﻟﺒﯿﻨۃ : 5)
ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﺍﺁﺧﺮﯼ ﻧﺒﯽ ﻣﺤﻤﺪ (ص) ﮐﻮ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
ﺩﻥ ﮐﮯ ﺩوﻧﻮﮞ ﮐﻨﺎﺭﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺣﺼﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﯾﮟ۔ (ﻫﻮﺩ : 114)
نماز پڑھو اس سے پہلے کہ تمھارى نماز پڑھی جائے.
~التماس دعا: عامر شهزاد~
https://t.me/islamwitheman/842
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
ﺍﺳﻼﻡ ﻣﻴﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﻛﻮ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ ﻣﻘﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ، ﺗﻮحید ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺷﮩﺎﺩﺗﯿﻦ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺻﻼۃ (ﻧﻤﺎﺯ) ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﻓﻀﻞ ﺗﺮﯾﻦ ﻋﻤﻞ ﮨﮯ، ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺳﮯ ﻣﻮﺳﻮﻡ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ، ﻓﺮﻣﺎﻥ ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮨﮯ:
ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﻮ ﺿﺎﺋﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﯾﮕﺎ۔(ﺍﻟﺒﻘﺮۃ : 143)
ﯾﻌﻨﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻤﻘﺪﺱ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭘﮍﮬﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻧﻤﺎﺯﯾﮟ ﺭﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﮔﯽ۔(ﺗﻔﺴﻴﺮ ﺍﺑﻦ ﮐﺜﯿﺮ : 1/458)
ﻧﻤﺎﺯ ﮐﯽ ﻗﺪﺭ ﻭ ﻣﻨﺰﻟﺖ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﻔﺮﺍﺩﯾﺖ ﮐﮯ ﺑﺎﻋﺚ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﺒﯿﺎﺀ ﻭ ﺭﺳﻞ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﮯ ﻓﺮﺽ ﮐﯿﺎ، ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ، ﺍﺳﺤﺎﻕ، ﯾﻌﻘﻮﺏ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﭘﺮ ﻧﻤﺎﺯ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺣﯽ ﮐﯽ، ﻓﺮﻣﺎﻥ ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮨﮯ: ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﻧﮑﯽ ﻃﺮﻑ ﻧﯿﮑﯿﺎﮞ، ﻧﻤﺎﺯﯾﮟ، ﺍﻭﺭ ﺯﮐﺎۃ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺣﯽ ﮐﯽ۔ (ﺍﻷﻧﺒﻴﺎﺀ : 73)
ﻣﻮﺳﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺳﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﺑﺮﺍﮦِ ﺭﺍﺳﺖ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﻮﺣﯿﺪ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﮨﯽ ﮐﻮ ﻓﺮﺽ ﮐﯿﺎ، ﻓﺮﻣﺎﻥ ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮨﮯ:
ﺑﯿﺸﮏ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﮨﻮﮞ، ﻣﯿﺮﮮ ﺳﻮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻌﺒﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ، ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﮨﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﺮﻭ، ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﻭ۔ (ﻃﮧ : 14)
ﻣﻮﺳﯽ ﻭ ﮨﺎﺭﻭﻥ ﻋﻠﯿﮩﻤﺎ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ، ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ: ﮨﻢ ﻧﮯ ﻣﻮﺳﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﻮ ﻭﺣﯽ ﮐﯽ: ﺍﭘﻨﯽ ﻗﻮﻡ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﻗﺒﻠﮧ ﺭﺥ ﮔﮭﺮ ﺑﻨﺎﺅ، ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯﯾﮟ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﻭ۔ (ﻳﻮﻧﺲ : 87)
ﺳﺎﺑﻘﮧ ﺍﻣﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ،ﻓﺮﻣﺎﻥ ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮨﮯ: ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﺨﻠﺺ ﮨﻮﮐﺮ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﺻﺮﻑ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﮐﺮﯾﮟ، ﻧﻤﺎﺯﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺯﮐﺎۃ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﯾﮟ، ﯾﮩﯽ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺩﯾﻦ ﮨﮯ۔ (ﺍﻟﺒﯿﻨۃ : 5)
ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﺍﺁﺧﺮﯼ ﻧﺒﯽ ﻣﺤﻤﺪ (ص) ﮐﻮ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
ﺩﻥ ﮐﮯ ﺩوﻧﻮﮞ ﮐﻨﺎﺭﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺣﺼﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﯾﮟ۔ (ﻫﻮﺩ : 114)
نماز پڑھو اس سے پہلے کہ تمھارى نماز پڑھی جائے.
~التماس دعا: عامر شهزاد~
https://t.me/islamwitheman/842
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌸 وضو کا طریقہ 🌸
امیرالمؤمنین حضرت علی علیه السلام کے وضو کا طریقہ اهل سنت کی کتب سے ملاحظہ ہو۔۔۔
🌟 وضو کرنے کا طریقه شیعیان اور اھل سنت کے درمیان ہمیشہ سے اختلاف رہا ہے اور اکثر مناظرات علمی اس موضوع پر کیے گئے ہیں۔
اس پوسٹ میں ہم نے یہ کوشش کی ہے کہ…
امیرالمؤمنین حضرت علی علیه السلام کے وضو کا طریقہ اهل سنت کی کتب سے ملاحظہ ہو۔۔۔
🌟 وضو کرنے کا طریقه شیعیان اور اھل سنت کے درمیان ہمیشہ سے اختلاف رہا ہے اور اکثر مناظرات علمی اس موضوع پر کیے گئے ہیں۔
اس پوسٹ میں ہم نے یہ کوشش کی ہے کہ…
🍃 اول وقت میں فضیلتِ نماز 🍂
خداوندمتعال قرآن میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ أَقيمُوا الصَّلاةَ وَ آتُوا الزَّكاةَ وَ ارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعينَ سوره بقره/ آيه 43
اور نماز قائم کرو اور زکواۃ اد ا کرو اور (اللہ کے سامنے) جھکنے والوں کے ساتھ جھکا کرو۔
نماز اول وقت کی چند فضیلتیں درج ذیل ہیں:
☀️پہلی فضیلت: محافظتِ نماز
حافِظُوا عَلَى الصَّلَواتِ وَ الصَّلاةِ الْوُسْطى وَ قُومُوا لِلَّهِ قانِتينَ سوره بقره/ آيه 238
نمازوں کی محافظت کرو، خصوصا درمیانی نماز کی اور اللہ کے حضور مطیعانہ خضوع کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ۔
✍ خصوصی محافظت کا حکم خود نماز کی ایک فضیلت ہے۔ اس آیہ میں خداوند متعال نماز کی تمام پہلوؤں سے محافظت کا حکم دے رہاہے۔ کہ انہی میں سے ایک پہلو وقت کی رعایت ہے یعنی اول وقت میں نماز ادا کریں کیونکہ اول وقت میں ادا کرنے سے معلوم ہو گا کہ آپ نماز کو کتنی اہمیت دیتے اور خدا سے کتنا عشق کرتے ہیں۔ اور دوسرا یہ کہ اول وقت میں نماز پڑھنے میں بہت سی حکمتیں اور اسرار پوشیدہ ہیں جیسے مثلا اول وقت نماز پڑھنے سے خصوصی الطافِ الہی شامل حال ہوتے ہیں جیسے مثلا معصوم کے بقول اس کی حاجات پوری ہوتی ہیں، بہشت اس کے لئے مباح ہوجاتی ہے، مرتے وقت آسانی ہوتی ہے و۔۔۔ (بحارالانوار، ج 82، ص 204 اور سفینۃ البحار، ج 2، ص 42)
☀️دوسری فضیلت: قربِ خدا
سابِقُوا إِلى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُم ۔۔۔۔ الحدید/ آیہ 21
ایک دوسرے پر سبقت لے جاؤ اپنے پروردگار کی مغفرت کی طرف۔۔۔
وَ السَّابِقُونَ السَّابِقُونَ (10) أُولئِكَ الْمُقَرَّبُونَ (11) ۔۔۔۔ واقعہ / آیہ 10 اور 11
اور سبقت لے جانے والے تو آگے بڑھنے والے ہی ہیں۔ یہی مقرب لوگ ہیں۔
✍ اگر نماز ایسی عبادت ہوتی کہ انسان جس ٹائم مرضی پڑھ لے تو خدا کبھی بھی ایسی عبادات سے متعلق یہ تعبیرات استعمال نہ کرتا۔ یعنی انسان اول وقت میں نماز ادا کرنے کی جتنی جلدی کرتا ہے اور سبقت لینے کی کوشش کرتا ہے ، اتنا ہی زیادہ قربِ الہی کی منزلیں طے کرتے ہوئے مقربین میں سے ہوتا چلاجاتا ہے۔ پس اول وقت نماز ادا کرنے کی فضیلت قربِ نماز کی وجہ سے بھی ہے۔
☀️تیسری فضیلت: نورانی برگشت
قال الباقر (ع): إِنَ الصَّلَاةَ إِذَا ارْتَفَعَتْ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا رَجَعَتْ إِلَى صَاحِبِهَا وَ هِيَ بَيْضَاءُ مُشْرِقَةٌ تَقُولُ حَفِظْتَنِي حَفِظَكَ اللَّهُ وَ إِذَا ارْتَفَعَتْ فِي غَيْرِ وَقْتِهَا بِغَيْرِ حُدُودِهَا رَجَعَتْ إِلَى صَاحِبِهَا وَ هِيَ سَوْدَاءُ مُظْلِمَةٌ تَقُولُ ضَيَّعْتَنِي ضَيَّعَكَ اللَّهُ. (وسائل الشيعه، ج 3، ص 78)
حضرت امام باقر (ع) فرماتے ہیں کہ جب بھی اول وقت کی نماز خدا کی طرف عروج کرتی ہےتو سفید اور نورانی حالت میں پڑھنے والے کی طرف لوٹتی ہے اور اسے خطاب کر کے کہتی ہے تو نے میری حفاظت کی خدا تیری حفاظت کرے۔ لیکن جب نماز اول وقت کے بعد اور بغیر شرائط کے پروردگار کی طرف عروج کرے تو پڑھنے والے کی طرف سیاہ اور تاریک حالت میں برگشت کرتی اور اسے مخاطب کر کے کہتی ہے تو نے مجھے ضائع اور تباہ کیا، خدا تجھے نابود کرے۔
☀️چوتھی فضیلت: شفاعتِ روزِ قیامت
لَا يَنَالُ شَفَاعَتِي مَنْ أَخَّرَ الصَّلَاةَ بَعْدَ وَقْتِهَا (بحار الانوار، ج 83، ص 20)
پیغمبر اسلام (ص) فرماتے ہیں نماز کو اپنے وقت (یعنی اول وقت) سے تاخیر کرنے والے کو روز قیامت میری شفاعت نصیب نہیں ہو گی (یعنی جو بھی اول وقت نماز پڑھے گا اسے شفاعت نبی مکرم اسلام نصیب ہو گی)۔
☀️نتیجہ:
اسی لئے معصوم فرماتےہیں:
إنْ قُبِلَتْ قُبِلَ مَا سِوَاهَا و إنْ رُدَّتْ رُدَّ مَا سِوَاهَا (اصول کافی، ج 3، ص 268)
اگر نماز قبول ہوئی تو ساری عبادات قبول ہو جائیں گی لیکن اگر نماز ردّ ہو گئی تو سب عبادات ردّ ہو جائیں گی۔
✍ملتمس دعا: غلام شبیر حسین
https://t.me/islamwitheman/952
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
خداوندمتعال قرآن میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ أَقيمُوا الصَّلاةَ وَ آتُوا الزَّكاةَ وَ ارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعينَ سوره بقره/ آيه 43
اور نماز قائم کرو اور زکواۃ اد ا کرو اور (اللہ کے سامنے) جھکنے والوں کے ساتھ جھکا کرو۔
نماز اول وقت کی چند فضیلتیں درج ذیل ہیں:
☀️پہلی فضیلت: محافظتِ نماز
حافِظُوا عَلَى الصَّلَواتِ وَ الصَّلاةِ الْوُسْطى وَ قُومُوا لِلَّهِ قانِتينَ سوره بقره/ آيه 238
نمازوں کی محافظت کرو، خصوصا درمیانی نماز کی اور اللہ کے حضور مطیعانہ خضوع کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ۔
✍ خصوصی محافظت کا حکم خود نماز کی ایک فضیلت ہے۔ اس آیہ میں خداوند متعال نماز کی تمام پہلوؤں سے محافظت کا حکم دے رہاہے۔ کہ انہی میں سے ایک پہلو وقت کی رعایت ہے یعنی اول وقت میں نماز ادا کریں کیونکہ اول وقت میں ادا کرنے سے معلوم ہو گا کہ آپ نماز کو کتنی اہمیت دیتے اور خدا سے کتنا عشق کرتے ہیں۔ اور دوسرا یہ کہ اول وقت میں نماز پڑھنے میں بہت سی حکمتیں اور اسرار پوشیدہ ہیں جیسے مثلا اول وقت نماز پڑھنے سے خصوصی الطافِ الہی شامل حال ہوتے ہیں جیسے مثلا معصوم کے بقول اس کی حاجات پوری ہوتی ہیں، بہشت اس کے لئے مباح ہوجاتی ہے، مرتے وقت آسانی ہوتی ہے و۔۔۔ (بحارالانوار، ج 82، ص 204 اور سفینۃ البحار، ج 2، ص 42)
☀️دوسری فضیلت: قربِ خدا
سابِقُوا إِلى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُم ۔۔۔۔ الحدید/ آیہ 21
ایک دوسرے پر سبقت لے جاؤ اپنے پروردگار کی مغفرت کی طرف۔۔۔
وَ السَّابِقُونَ السَّابِقُونَ (10) أُولئِكَ الْمُقَرَّبُونَ (11) ۔۔۔۔ واقعہ / آیہ 10 اور 11
اور سبقت لے جانے والے تو آگے بڑھنے والے ہی ہیں۔ یہی مقرب لوگ ہیں۔
✍ اگر نماز ایسی عبادت ہوتی کہ انسان جس ٹائم مرضی پڑھ لے تو خدا کبھی بھی ایسی عبادات سے متعلق یہ تعبیرات استعمال نہ کرتا۔ یعنی انسان اول وقت میں نماز ادا کرنے کی جتنی جلدی کرتا ہے اور سبقت لینے کی کوشش کرتا ہے ، اتنا ہی زیادہ قربِ الہی کی منزلیں طے کرتے ہوئے مقربین میں سے ہوتا چلاجاتا ہے۔ پس اول وقت نماز ادا کرنے کی فضیلت قربِ نماز کی وجہ سے بھی ہے۔
☀️تیسری فضیلت: نورانی برگشت
قال الباقر (ع): إِنَ الصَّلَاةَ إِذَا ارْتَفَعَتْ فِي أَوَّلِ وَقْتِهَا رَجَعَتْ إِلَى صَاحِبِهَا وَ هِيَ بَيْضَاءُ مُشْرِقَةٌ تَقُولُ حَفِظْتَنِي حَفِظَكَ اللَّهُ وَ إِذَا ارْتَفَعَتْ فِي غَيْرِ وَقْتِهَا بِغَيْرِ حُدُودِهَا رَجَعَتْ إِلَى صَاحِبِهَا وَ هِيَ سَوْدَاءُ مُظْلِمَةٌ تَقُولُ ضَيَّعْتَنِي ضَيَّعَكَ اللَّهُ. (وسائل الشيعه، ج 3، ص 78)
حضرت امام باقر (ع) فرماتے ہیں کہ جب بھی اول وقت کی نماز خدا کی طرف عروج کرتی ہےتو سفید اور نورانی حالت میں پڑھنے والے کی طرف لوٹتی ہے اور اسے خطاب کر کے کہتی ہے تو نے میری حفاظت کی خدا تیری حفاظت کرے۔ لیکن جب نماز اول وقت کے بعد اور بغیر شرائط کے پروردگار کی طرف عروج کرے تو پڑھنے والے کی طرف سیاہ اور تاریک حالت میں برگشت کرتی اور اسے مخاطب کر کے کہتی ہے تو نے مجھے ضائع اور تباہ کیا، خدا تجھے نابود کرے۔
☀️چوتھی فضیلت: شفاعتِ روزِ قیامت
لَا يَنَالُ شَفَاعَتِي مَنْ أَخَّرَ الصَّلَاةَ بَعْدَ وَقْتِهَا (بحار الانوار، ج 83، ص 20)
پیغمبر اسلام (ص) فرماتے ہیں نماز کو اپنے وقت (یعنی اول وقت) سے تاخیر کرنے والے کو روز قیامت میری شفاعت نصیب نہیں ہو گی (یعنی جو بھی اول وقت نماز پڑھے گا اسے شفاعت نبی مکرم اسلام نصیب ہو گی)۔
☀️نتیجہ:
اسی لئے معصوم فرماتےہیں:
إنْ قُبِلَتْ قُبِلَ مَا سِوَاهَا و إنْ رُدَّتْ رُدَّ مَا سِوَاهَا (اصول کافی، ج 3، ص 268)
اگر نماز قبول ہوئی تو ساری عبادات قبول ہو جائیں گی لیکن اگر نماز ردّ ہو گئی تو سب عبادات ردّ ہو جائیں گی۔
✍ملتمس دعا: غلام شبیر حسین
https://t.me/islamwitheman/952
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
💐 ﻧﻤﺎﺯ ﻛﻰ ﺍﮨﻤﯿﺖ 💐
ﺍﺳﻼﻡ ﻣﻴﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﻛﻮ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ ﻣﻘﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ، ﺗﻮحید ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺷﮩﺎﺩﺗﯿﻦ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺻﻼۃ (ﻧﻤﺎﺯ) ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﻓﻀﻞ ﺗﺮﯾﻦ ﻋﻤﻞ ﮨﮯ، ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺳﮯ ﻣﻮﺳﻮﻡ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ، ﻓﺮﻣﺎﻥ ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮨﮯ:
ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﻮ ﺿﺎﺋﻊ…
ﺍﺳﻼﻡ ﻣﻴﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﻛﻮ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ ﻣﻘﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ، ﺗﻮحید ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺷﮩﺎﺩﺗﯿﻦ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺻﻼۃ (ﻧﻤﺎﺯ) ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﻓﻀﻞ ﺗﺮﯾﻦ ﻋﻤﻞ ﮨﮯ، ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺳﮯ ﻣﻮﺳﻮﻡ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ، ﻓﺮﻣﺎﻥ ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮨﮯ:
ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﻮ ﺿﺎﺋﻊ…
❄ نماز کی تاثیر ❄
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: ایک دن میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز کے انتظار میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں ایک شخص اٹھا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! میں نے ایک گناہ کیا ہے اس کی مغفرت کے لیے کیا کروں؟ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کی طرف سے رخ موڑ لیا۔ جب نماز تمام ہو گئی تو وہ آدمی دوبارہ اٹھا اور اس نے اپنا سوال تکرار کیا۔ رسول خدا (ص) نے اس کے جواب میں فرمایا: کیا تم نے ابھی نماز ادا نہیں کی، کیا اس کے لیے اچھے طریقے سے وضو نہیں کیا؟ عرض کیا: کیوں نہیں یا رسول اللہ! فرمایا: یہی نماز، تمہارے گناہوں کا کفارہ اور ان کی بخشش کا سبب ہے۔
📚 بحار الانوار، ج ۷۲، ص۳۱۹۔
________________________
■نماز کے متعلق پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
🔵 کوشش اور توفیق
https://t.me/islamwitheman/227
🔵 نماز نہ پڑھنے کی تاویلات
https://t.me/islamwitheman/297
🔴 کامل نماز کا طریقہ
https://t.me/islamwitheman/293
💝 عبادت میں لذت
https://t.me/islamwitheman/352
💞 میاں بیوی کی محبت کا تقاضا
https://t.me/islamwitheman/295
🔵 نماز میں غفلت
https://t.me/islamwitheman/296
💫 نیت اور عمل
https://t.me/islamwitheman/226
🔴 نماز کی عظمت و ثواب
https://t.me/islamwitheman/292
🔵قیامت کا دن اور تین آدمیوں کی پیشی
https://t.me/islamwitheman/104
🔵 اقیموا الصلاة
https://t.me/islamwitheman/294
⚫ تارک الصّلاة کے نام
https://t.me/islamwitheman/647
☉ جمعرات کے دن کی نماز
https://t.me/islamwitheman/122
🔵 پہلی نماز جمعہ
https://t.me/islamwitheman/368
🔵 مختصر نماز مغفرت والدین
https://t.me/islamwitheman/12
🌸 وضو کا طریقہ
https://t.me/islamwitheman/842
🔵ماۂِ رمضان کی نافلہ نمازیں
https://t.me/islamwitheman/930
💐 ﻧﻤﺎﺯ ﻛﻰ ﺍﮨﻤﯿﺖ
https://t.me/islamwitheman952
🍃 اول وقت میں فضیلتِ نماز
https://t.me/islamwitheman/953
❄نماز کی تاثیر
https://t.me/islamwitheman/954
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: ایک دن میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز کے انتظار میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں ایک شخص اٹھا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! میں نے ایک گناہ کیا ہے اس کی مغفرت کے لیے کیا کروں؟ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کی طرف سے رخ موڑ لیا۔ جب نماز تمام ہو گئی تو وہ آدمی دوبارہ اٹھا اور اس نے اپنا سوال تکرار کیا۔ رسول خدا (ص) نے اس کے جواب میں فرمایا: کیا تم نے ابھی نماز ادا نہیں کی، کیا اس کے لیے اچھے طریقے سے وضو نہیں کیا؟ عرض کیا: کیوں نہیں یا رسول اللہ! فرمایا: یہی نماز، تمہارے گناہوں کا کفارہ اور ان کی بخشش کا سبب ہے۔
📚 بحار الانوار، ج ۷۲، ص۳۱۹۔
________________________
■نماز کے متعلق پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
🔵 کوشش اور توفیق
https://t.me/islamwitheman/227
🔵 نماز نہ پڑھنے کی تاویلات
https://t.me/islamwitheman/297
🔴 کامل نماز کا طریقہ
https://t.me/islamwitheman/293
💝 عبادت میں لذت
https://t.me/islamwitheman/352
💞 میاں بیوی کی محبت کا تقاضا
https://t.me/islamwitheman/295
🔵 نماز میں غفلت
https://t.me/islamwitheman/296
💫 نیت اور عمل
https://t.me/islamwitheman/226
🔴 نماز کی عظمت و ثواب
https://t.me/islamwitheman/292
🔵قیامت کا دن اور تین آدمیوں کی پیشی
https://t.me/islamwitheman/104
🔵 اقیموا الصلاة
https://t.me/islamwitheman/294
⚫ تارک الصّلاة کے نام
https://t.me/islamwitheman/647
☉ جمعرات کے دن کی نماز
https://t.me/islamwitheman/122
🔵 پہلی نماز جمعہ
https://t.me/islamwitheman/368
🔵 مختصر نماز مغفرت والدین
https://t.me/islamwitheman/12
🌸 وضو کا طریقہ
https://t.me/islamwitheman/842
🔵ماۂِ رمضان کی نافلہ نمازیں
https://t.me/islamwitheman/930
💐 ﻧﻤﺎﺯ ﻛﻰ ﺍﮨﻤﯿﺖ
https://t.me/islamwitheman952
🍃 اول وقت میں فضیلتِ نماز
https://t.me/islamwitheman/953
❄نماز کی تاثیر
https://t.me/islamwitheman/954
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 کوشش اور توفیق 🔷
ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﮕﺮ ﺩﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺍﺩﺍﺳﯽ ﮐﮯ ﺗﺎﺛﺮﺍﺕ ﻧﻤﺎﯾﺎﮞ ﺗﮭﮯ.
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻮﺟﮧ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻣﺼﻠﮯ ﮐﯽ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺟﺎﻧﺐ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺗﮭﺎ،
ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﭖ ﮨﻤﺖ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﭨﻨﮯ ﭘﺎﺋﮯ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ.
ﻣﮕﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ…
ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﮕﺮ ﺩﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺍﺩﺍﺳﯽ ﮐﮯ ﺗﺎﺛﺮﺍﺕ ﻧﻤﺎﯾﺎﮞ ﺗﮭﮯ.
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻮﺟﮧ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻣﺼﻠﮯ ﮐﯽ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺟﺎﻧﺐ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺗﮭﺎ،
ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﭖ ﮨﻤﺖ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﭨﻨﮯ ﭘﺎﺋﮯ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ.
ﻣﮕﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ…
🌼 بسم الله کی فضیلت پر یقین 🌼
ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﻗﺤﻂ ﺳﺎﻟﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﻓﺎﺭﻍ ﮬﻮ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﺰﯾﺪ ﮐﭽﮫ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﺭﮬﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﯾﺸﯽ ﻣﺎﻟﮑﺎﻥ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﺗﮭﮯ۔
ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﺎﯾﺎ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺟﻤﻌﮯ ﮐﮯ ﺧﻄﺒﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺑﺘﺎﺋﯽ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻟﮯ ﮐﺮ ﯾﻌﻨﯽ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ، ﺷﺎﯾﺪ ﯾﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﭘﮩﻼ ﺟﻤﻌﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺑﺎﺕ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺮ ﮐﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺎ ﺩﺭﺟﮧ ﭘﺎگئی، ﺍﺱ ﻧﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﮐﮭﻮﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺩﺭﯾﺎ ﭘﮧ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﻭﻧﭽﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﮯ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ ﺍﻟﺮﺣﯿﻢ ﭘﮍﮬﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺫﺭﺍ ﭘﺎﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﭼﺮﺍﻧﮯ ﺟﺎ ﺭﮬﺎ ﮬﮯ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﻧﮯ ﺩﮮ، ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﮬﺎﻧﮑﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺳﮯ ﭼﻠﺘﺎ ﮬﻮﺍ ﺩﺭﯾﺎ ﭘﺎﺭ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ، ﻋﻼﻗﮧ ﮔﮭﺎﺱ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﺍ ﭘﮍﺍ ﺗﮭﺎ، ﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﺘﮯ ﺑﮭﯽ ﺳﻼﻣﺖ ﺗﮭﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺭﺳﺎﺋﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ،، ﺍﺏ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﭘﺎﺭ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺧﻮﺩ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﺟﺎﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﮯ ﺁﺗﺎ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﻭﺯﻥ ﺩﮔﻨﺎ ﭼﮕﻨﺎ ﮬﻮﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻟﻮﮒ ﭼﻮﻧﮑﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﮭﻼﺗﺎ ﮬﮯ، ﻭﮦ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺳﺎﺩﺍ ﺻﺎﻑ ﺩﻝ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﮭﺎ، ﺻﺎﻑ ﺻﺎﻑ ﺑﺎﺕ ﺑﺘﺎ ﺩﯼ ﮐﮧ ﺟﻨﺎﺏ ﮬﻢ ﺗﻮ ﺩﺭﯾﺎ ﭘﺎﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﭼﺮﺍﻧﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮬﯿﮟ، ﺑﺎﺕ ﺳﺐ ﻧﮯ ﺳﻨﯽ ﻣﮕﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﻧﺎﻗﺎﺑﻞِ ﯾﻘﯿﻦ ﺑﺎﺕ ﺗﮭﯽ، ﻣﮕﺮ ﺑﺎﺕ ﮬﻮﺗﮯ ﮬﻮﺗﮯ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﺎﯾﺎ ﺗﮏ ﺟﺎ ﭘﮩﻨﭽﯽ۔ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﺎﯾﺎ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺑﮑﺮﻭﺍﻝ ﮐﻮ ﺑﻠﻮﺍ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺻﻞ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺑﺘﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ۔
ﺑﮑﺮﻭﺍﻝ ﻧﮯ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﺎﯾﺎ ﮬﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺭﯾﻔﺮﯾﻨﺲ ﺑﻨﺎ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺟﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺷﮑﺮﯾﮧ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺟﻤﻌﮯ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻧﺴﺨﮧ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺩﻭ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ۔۔۔
،،
ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﺎﯾﺎ ﺻﺎﺣﺐ ﭨﮏ ﭨﮏ ﺩﯾﺪﻡ ﺩﻡ ﻧﮧ ﮐﺸﯿﺪﻡ ﮐﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺑﻨﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺗﻮ ﮬﻢ ﮬﺮ ﺟﻤﻌﮯ ﮐﻮ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﺗﻮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺑﻨﺎﻧﺎ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ ﻣﮕﺮ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﻭﺍﻻ ﮈﭨﺎ ﺭﮬﺎ ﮐﮧ ﺑﺲ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﺮ ﭼﻠﺘﺎ ﮬﻮﺍ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﺳﻤﯿﺖ ﭘﺎﺭ ﭼﻼ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﻮﮞ۔
ﺁﺧﺮﮐﺎﺭ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺻﺒﺢ ﺧﻮﺩ ﯾﮧ ﺗﺠﺮﺑﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﭨﮭﺎﻧﯽ۔ ﻟﻮﮒ ﺑﮭﯽ ﺻﺒﺢ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺟﻤﻊ ﮬﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮑﺮﻭﺍﻝ ﺑﮭﯽ ﺁ ﮔﯿﺎ۔
ﻣﺠﻤﻊ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻭ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﻧﺪﺭ ﮬﯽ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺟﻮ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﻣﺴﺠﺪ ﺳﮯ ﮐﻨﺪﮬﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻻﺋﮯ ﺗﮭﮯ ،ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺟﻮﺵ ﻭ ﺧﺮﻭﺵ ﺳﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﮐﺒﺮ ﮐﮯ ﻧﻌﺮﮮ ﻟﮕﺎ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﺎﯾﺎ ﮐﮯ ﺣﻖ ﻣﯿﮟ ﺗﻌﺮﯾﻔﯽ ﻣﻮﺷﮕﺎﻓﯿﺎﮞ ﮐﺮ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ ،،
ﺁﺧﺮ ﮐﺎﺭ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺭﺳﮧ ﻣﻨﮕﻮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺎﻧﺪﮬﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﻤﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺎﻧﺪﮬﺎ ، ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﮈﺭﺗﮯ ﮈﺭﺗﮯ ﮈﮬﯿﻼ ﮈﮬﺎﻻ ﺳﺎ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﯾﺎ ﭘﺮ ﭼﻠﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮬﻮ ﮔﺌﮯ ،، ﻣﮕﺮ ﭘﮩﻼ ﭘﺎﺅﮞ ﮬﯽ ﺷﮍﺍﭖ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﺎﯾﺎ ﺻﺎﺣﺐ ﮈﺑﮑﯿﺎﮞ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ ، ﺑﺪﺣﻮﺍﺳﯽ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺑﮭﯽ ﮐﻤﺮ ﮐﻤﺮ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﮬﯿﮟ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﮐﮭﮍﮮ ﺑﮭﯽ ﮬﻮ ﺳﮑﺘﮯ ﮬﯿﮟ ،، ﻭﮦ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺑﮩﺎﺅ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮬﻮ ﮔﺌﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮭﯿﻨﭻ ﮐﮭﺎﻧﭻ ﮐﺮ ﺑﺎﮬﺮ ﻧﮑﺎﻻ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﮐﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺳﺎﺋﮉ ﭘﮧ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺎ۔
ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﯽ ﺩﺭﮔﺖ ﻧﮯ ﺑﮑﺮﻭﺍﻝ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﯽ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﮬﻮ ﮔﯿﺎ ﮬﮯ۔ ﻣﮕﺮ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺭﻭﺯ ﮐﺎ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﺗﮭﺎ ﻟﮩﺬﺍ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﯾﻘﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﻕ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﻠﺘﺎ ﮬﻮﺍ ﺍﻥ ﮐﻮ ﭘﺎﺭ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﺑﮭﯽ ﺁﮔﯿﺎ۔
ﻟﻮﮒ ﺍﺳﮯ ﻭﻟﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﻤﺠﮫ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺣﻖ ﻣﯿﮟ ﻧﻌﺮﮮ ﻟﮕﺎ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮯ ﻧﯿﺎﺯ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﺎﯾﺎ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﺮ ﭼﻠﺘﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﭼﻞ ﮔﯿﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺩﺭﺧﺖ ﺳﮯ ﺑﻨﺪﮬﮯ ﺭﺳﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﯾﮧ ﮬﮯ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ۔ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺑﺮﮐﺖ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺭﺳﮧ ﮐﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﮬﮯ۔ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻭﺭ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﺱ ﺭﺳﮯ ﭘﺮ ﺑﮭﺮﻭﺳﮧ ﺗﮭﺎ ﻟﮩﺬﺍ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺭﺳﮯ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﮐﻤﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﺁﭖ ﺑﮭﯽ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﺳﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﯽ ﺷﺮﻡ ﺭﮐﮫ ﻟﯽ ﻣﮕﺮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﮐﻼﻡ ﺳﻨﺎ ﻣﮕﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ؟ ﻟﮩﺬﺍ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺭﺳﻮﺍ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ!!
ﯾﮩﯽ ﮐﭽﮫ ﺣﺎﻝ ﮨﻤﺎﺭا ﮨﮯ ... ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﯾﻘﯿﻦ ﺳﮯ ﺧﺎﻟﯽ ﮨﮯ...
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
⭕ توکل بر خدا
https://t.me/islamwitheman/894
🌷 بسم اللہ کی فضیلت پر یقین
https://t.me/islamwitheman/955
🌷 تسمیہ
https://t.me/islamwitheman/1611
🌷 کھانے پر الفاظ کا اثر
https://t.me/islamwitheman/1980
🌷 بسم اللہ کی فضیلت
https://t.me/islamwitheman/2216
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ﻋﻼﻗﮯ ﻣﯿﮟ ﻗﺤﻂ ﺳﺎﻟﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﻓﺎﺭﻍ ﮬﻮ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﺰﯾﺪ ﮐﭽﮫ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﺭﮬﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﯾﺸﯽ ﻣﺎﻟﮑﺎﻥ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﺗﮭﮯ۔
ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﺎﯾﺎ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺟﻤﻌﮯ ﮐﮯ ﺧﻄﺒﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺑﺘﺎﺋﯽ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻟﮯ ﮐﺮ ﯾﻌﻨﯽ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ، ﺷﺎﯾﺪ ﯾﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﭘﮩﻼ ﺟﻤﻌﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺑﺎﺕ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺮ ﮐﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺎ ﺩﺭﺟﮧ ﭘﺎگئی، ﺍﺱ ﻧﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﮐﮭﻮﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺩﺭﯾﺎ ﭘﮧ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﻭﻧﭽﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﮯ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻟﺮﺣﻤٰﻦ ﺍﻟﺮﺣﯿﻢ ﭘﮍﮬﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺫﺭﺍ ﭘﺎﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﭼﺮﺍﻧﮯ ﺟﺎ ﺭﮬﺎ ﮬﮯ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﻭﮦ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﻧﮯ ﺩﮮ، ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﮬﺎﻧﮑﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺳﮯ ﭼﻠﺘﺎ ﮬﻮﺍ ﺩﺭﯾﺎ ﭘﺎﺭ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ، ﻋﻼﻗﮧ ﮔﮭﺎﺱ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﺍ ﭘﮍﺍ ﺗﮭﺎ، ﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﺘﮯ ﺑﮭﯽ ﺳﻼﻣﺖ ﺗﮭﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺭﺳﺎﺋﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ،، ﺍﺏ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﭘﺎﺭ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺧﻮﺩ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﺟﺎﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﮯ ﺁﺗﺎ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﻭﺯﻥ ﺩﮔﻨﺎ ﭼﮕﻨﺎ ﮬﻮﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻟﻮﮒ ﭼﻮﻧﮑﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﮭﻼﺗﺎ ﮬﮯ، ﻭﮦ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺳﺎﺩﺍ ﺻﺎﻑ ﺩﻝ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﮭﺎ، ﺻﺎﻑ ﺻﺎﻑ ﺑﺎﺕ ﺑﺘﺎ ﺩﯼ ﮐﮧ ﺟﻨﺎﺏ ﮬﻢ ﺗﻮ ﺩﺭﯾﺎ ﭘﺎﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﭼﺮﺍﻧﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮬﯿﮟ، ﺑﺎﺕ ﺳﺐ ﻧﮯ ﺳﻨﯽ ﻣﮕﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﻧﺎﻗﺎﺑﻞِ ﯾﻘﯿﻦ ﺑﺎﺕ ﺗﮭﯽ، ﻣﮕﺮ ﺑﺎﺕ ﮬﻮﺗﮯ ﮬﻮﺗﮯ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﺎﯾﺎ ﺗﮏ ﺟﺎ ﭘﮩﻨﭽﯽ۔ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﺎﯾﺎ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺑﮑﺮﻭﺍﻝ ﮐﻮ ﺑﻠﻮﺍ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺻﻞ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺑﺘﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﮐﮩﺎ۔
ﺑﮑﺮﻭﺍﻝ ﻧﮯ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﺎﯾﺎ ﮬﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺭﯾﻔﺮﯾﻨﺲ ﺑﻨﺎ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺟﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺷﮑﺮﯾﮧ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺟﻤﻌﮯ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻧﺴﺨﮧ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺩﻭ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ۔۔۔
،،
ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﺎﯾﺎ ﺻﺎﺣﺐ ﭨﮏ ﭨﮏ ﺩﯾﺪﻡ ﺩﻡ ﻧﮧ ﮐﺸﯿﺪﻡ ﮐﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺑﻨﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺗﻮ ﮬﻢ ﮬﺮ ﺟﻤﻌﮯ ﮐﻮ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﺗﻮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺑﻨﺎﻧﺎ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ ﻣﮕﺮ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﻭﺍﻻ ﮈﭨﺎ ﺭﮬﺎ ﮐﮧ ﺑﺲ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﺮ ﭼﻠﺘﺎ ﮬﻮﺍ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﺳﻤﯿﺖ ﭘﺎﺭ ﭼﻼ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﻮﮞ۔
ﺁﺧﺮﮐﺎﺭ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺻﺒﺢ ﺧﻮﺩ ﯾﮧ ﺗﺠﺮﺑﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﭨﮭﺎﻧﯽ۔ ﻟﻮﮒ ﺑﮭﯽ ﺻﺒﺢ ﺩﺭﯾﺎ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺟﻤﻊ ﮬﻮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮑﺮﻭﺍﻝ ﺑﮭﯽ ﺁ ﮔﯿﺎ۔
ﻣﺠﻤﻊ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻭ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﻧﺪﺭ ﮬﯽ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺟﻮ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﻣﺴﺠﺪ ﺳﮯ ﮐﻨﺪﮬﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻻﺋﮯ ﺗﮭﮯ ،ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺟﻮﺵ ﻭ ﺧﺮﻭﺵ ﺳﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﮐﺒﺮ ﮐﮯ ﻧﻌﺮﮮ ﻟﮕﺎ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﺎﯾﺎ ﮐﮯ ﺣﻖ ﻣﯿﮟ ﺗﻌﺮﯾﻔﯽ ﻣﻮﺷﮕﺎﻓﯿﺎﮞ ﮐﺮ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ ،،
ﺁﺧﺮ ﮐﺎﺭ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺭﺳﮧ ﻣﻨﮕﻮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺎﻧﺪﮬﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﻤﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺎﻧﺪﮬﺎ ، ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﮈﺭﺗﮯ ﮈﺭﺗﮯ ﮈﮬﯿﻼ ﮈﮬﺎﻻ ﺳﺎ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﯾﺎ ﭘﺮ ﭼﻠﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮬﻮ ﮔﺌﮯ ،، ﻣﮕﺮ ﭘﮩﻼ ﭘﺎﺅﮞ ﮬﯽ ﺷﮍﺍﭖ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﺎﯾﺎ ﺻﺎﺣﺐ ﮈﺑﮑﯿﺎﮞ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ ، ﺑﺪﺣﻮﺍﺳﯽ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺑﮭﯽ ﮐﻤﺮ ﮐﻤﺮ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﮬﯿﮟ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﮐﮭﮍﮮ ﺑﮭﯽ ﮬﻮ ﺳﮑﺘﮯ ﮬﯿﮟ ،، ﻭﮦ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺑﮩﺎﺅ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮬﻮ ﮔﺌﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮭﯿﻨﭻ ﮐﮭﺎﻧﭻ ﮐﺮ ﺑﺎﮬﺮ ﻧﮑﺎﻻ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﮐﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺳﺎﺋﮉ ﭘﮧ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺎ۔
ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﯽ ﺩﺭﮔﺖ ﻧﮯ ﺑﮑﺮﻭﺍﻝ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﯽ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﮬﻮ ﮔﯿﺎ ﮬﮯ۔ ﻣﮕﺮ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺭﻭﺯ ﮐﺎ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﺗﮭﺎ ﻟﮩﺬﺍ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﯾﻘﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﻕ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﻠﺘﺎ ﮬﻮﺍ ﺍﻥ ﮐﻮ ﭘﺎﺭ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﺑﮭﯽ ﺁﮔﯿﺎ۔
ﻟﻮﮒ ﺍﺳﮯ ﻭﻟﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﻤﺠﮫ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺣﻖ ﻣﯿﮟ ﻧﻌﺮﮮ ﻟﮕﺎ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮯ ﻧﯿﺎﺯ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﺎﯾﺎ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﺮ ﭼﻠﺘﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﭼﻞ ﮔﯿﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺩﺭﺧﺖ ﺳﮯ ﺑﻨﺪﮬﮯ ﺭﺳﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﯾﮧ ﮬﮯ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ۔ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺑﺮﮐﺖ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺭﺳﮧ ﮐﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﮬﮯ۔ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻭﺭ ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﺱ ﺭﺳﮯ ﭘﺮ ﺑﮭﺮﻭﺳﮧ ﺗﮭﺎ ﻟﮩﺬﺍ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺭﺳﮯ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﮐﻤﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﺁﭖ ﺑﮭﯽ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﺳﮯ ﺳﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﯾﻘﯿﻦ ﮐﯽ ﺷﺮﻡ ﺭﮐﮫ ﻟﯽ ﻣﮕﺮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﮐﻼﻡ ﺳﻨﺎ ﻣﮕﺮ ﯾﻘﯿﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ؟ ﻟﮩﺬﺍ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺭﺳﻮﺍ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ!!
ﯾﮩﯽ ﮐﭽﮫ ﺣﺎﻝ ﮨﻤﺎﺭا ﮨﮯ ... ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﯾﻘﯿﻦ ﺳﮯ ﺧﺎﻟﯽ ﮨﮯ...
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
⭕ توکل بر خدا
https://t.me/islamwitheman/894
🌷 بسم اللہ کی فضیلت پر یقین
https://t.me/islamwitheman/955
🌷 تسمیہ
https://t.me/islamwitheman/1611
🌷 کھانے پر الفاظ کا اثر
https://t.me/islamwitheman/1980
🌷 بسم اللہ کی فضیلت
https://t.me/islamwitheman/2216
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌲 توکل بر خدا 🌲
دلہن نے گھر میں داخل ہوتے ہی تنقیدی نظروں سے گھر کا معائنہ کیا، چہرہ پر کسی قسم کا تاثر نہیں تھا،
گھر کیا تھا، ایک کچی چہاردیواری تھی، جس میں کچی پکی اینٹوں کو جوڑ کر ایک چھوٹا سا کمرہ نما بنا لیا گیا، چھت کھجور کے پتوں کی تھی، جس سے چھن…
دلہن نے گھر میں داخل ہوتے ہی تنقیدی نظروں سے گھر کا معائنہ کیا، چہرہ پر کسی قسم کا تاثر نہیں تھا،
گھر کیا تھا، ایک کچی چہاردیواری تھی، جس میں کچی پکی اینٹوں کو جوڑ کر ایک چھوٹا سا کمرہ نما بنا لیا گیا، چھت کھجور کے پتوں کی تھی، جس سے چھن…
■مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔
💓 توکل علی اللہ
https://t.me/islamwitheman/687
🌲 خدا سے امید
https://t.me/islamwitheman/646
🌹بہترین حسن ظن
https://t.me/islamwitheman/263
🔴الله تعالٰی کی رحمت
https://t.me/islamwitheman/134
🔴الله تعالٰی کی رحمت پر بھروسہ
https://t.me/islamwitheman/137
🔴بیمثال مالک
https://t.me/islamwitheman/110
🔴الله تعالٰی کی مدد
https://t.me/islamwitheman/25
🔴حسن نیت اور جذبہ شرمساری
https://t.me/islamwitheman/301
🍀 توکل بر خدا
https://t.me/islamwitheman/894
🌼بسم اللہ کی فضیلت پر یقین
https://t.me/islamwitheman/955
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
💓 توکل علی اللہ
https://t.me/islamwitheman/687
🌲 خدا سے امید
https://t.me/islamwitheman/646
🌹بہترین حسن ظن
https://t.me/islamwitheman/263
🔴الله تعالٰی کی رحمت
https://t.me/islamwitheman/134
🔴الله تعالٰی کی رحمت پر بھروسہ
https://t.me/islamwitheman/137
🔴بیمثال مالک
https://t.me/islamwitheman/110
🔴الله تعالٰی کی مدد
https://t.me/islamwitheman/25
🔴حسن نیت اور جذبہ شرمساری
https://t.me/islamwitheman/301
🍀 توکل بر خدا
https://t.me/islamwitheman/894
🌼بسم اللہ کی فضیلت پر یقین
https://t.me/islamwitheman/955
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌲 توکل علی اللہ 🌲
راستہ چلنے والا اگرچہ سینکڑوں ہنر رکھتا ہو پھر بھی توکل ضروری ہے۔ اپنے جبار خدا پر بھروسہ کرو تاکہ مراد تک پہنچو۔
● ارشادِ باری تعالٰی ہے۔۔
إذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ إنَّ الله یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِینَ۔
جب کسی عمل کا ارادہ…
راستہ چلنے والا اگرچہ سینکڑوں ہنر رکھتا ہو پھر بھی توکل ضروری ہے۔ اپنے جبار خدا پر بھروسہ کرو تاکہ مراد تک پہنچو۔
● ارشادِ باری تعالٰی ہے۔۔
إذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ إنَّ الله یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِینَ۔
جب کسی عمل کا ارادہ…
🔶امام خمینی کی کامیابیاں🔶
جس وقت امام خمینی(رح) کی عمر صرف تیس سال تھی،اس وقت امام خمینی ،جیسا کہ علما کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے کہ اپنے سےبزرگ عالم کے پاس لائحہ عمل لینے کے لیے جاتے ہیں۔امام خمینی بھی آیت اللہ شیخ حسنعلی نخوزکی اصفہانی کے پاس تشریف لے جایا کرتے تھے،جو اس وقت کے ایک بزرگ عالم دین تھے۔آپ اپنے طویل رکوع کی وجہ سے کافی شہرت رکھتے تھے۔عبادت کا یہ انداز تھا کہ پوری پوری رات رکوع کی حالت میں رہتے، شدید برف باری میں بھی چھت پر جا کر اسی طرح مشغول رہتے کہ جب لوگ صبح آتے تودیکھتے کہ پوری کمر برف سے ڈھک چکی ہوتی۔ امام خمینی کی ان سے ملاقات مشہد میں ہوئی،آپ نے ان سے کہا کہ مجھے علم کیمیا سکھائیں۔(علم کیمیا ایک ایسا علم ہے کہ اگر انسان اسے حاصل کر لے تو خاک کو بھی سونے میں تبدیل کر سکتا ہے اور نجانے کتنی طاقتیں اس کے پاس آ جاتی ہیں)۔انھوں نے کہا ٹھیک ہےلیکن میں ایک شرط پر تمہیں یہ سکھاوں گا کہ اپنی پوری زندگی میں تم کسی کو یہ بات نھیں بتاو گے۔امام خمینی نے کہا کہ یہ وعدہ میں آپ سے نھیں کر سکتا،ہو سکتا ہے کہ میں کبھی وعدہ خلافی کر جاوں، اس شرط کے ساتھ مجھے یہ قبول نہین ۔ جب انھوں نے امام خمینی کی یہ شفافیت اور صداقت دیکھی تو اتنی پسند آئی کہ انھوں نے کہا کہ میں تمہیں علم کیمیا سے بھی بڑھ کر ایک چیز سکھاتا ہوں کہ اگر تم اس کو پابندی کے ساتھ انجام دو تو دنیا و آخرت کی تمام تر کامیابیاں تم حاصل کر لو گے، بلکہ دنیا و آخرت کی بادشاہت تمھارے قدموں تلے آ جاے گی۔
اس کے بعد آیت اللہ شیخ حسنعلی نخوزکی اصفہانی نے پانچ مرحلوں پر مشتمل ایک عمل بتایا اور کہا کہ زندگی بھر اس کو انجام دینا ،ایک دفعہ بھی نہ چھوڑنا،جو یہ ہے:
1۔ ہر نماز کے بعد تسبیح حضرت زہرا علیہ سلام ۔
2۔ ہر نماز کے بعد آیت الکرسی، علی العظیم تک البتہ نیت علی العظیم تک کر کہ تبرکا" خالدون تک بھی پڑھی جا سکتی ہے۔
3۔ ہر نماز کے بعد تین مرتبہ سورہ توحید کی تلاوت۔
4۔ ہر نماز کے بعد تین مرتبہ درود۔
5۔ ہر نماز کے بعد تین مرتبہ
سورہ طلاق کی 2 آیت کا آخری جز اور 3 آیت مکمل۔
ومن یتق اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قدرا۔
آیت اللہ شیخ حسن علی نخوزکی اصفہانی کے اس عمل کے طفیل امام خمینی نے اتنی کامیابیاں حاصل کیں کی جب ان کا انتقال ہوا تو پوری دنیا نےدیکھا کہ واقعی دنیا و آخرت کی بادشاہت ان کے پاس تھی۔
📚سید عابد حسین زیدی کے درس سے لیا گیا جز۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ الاسوہ چینل
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
جس وقت امام خمینی(رح) کی عمر صرف تیس سال تھی،اس وقت امام خمینی ،جیسا کہ علما کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے کہ اپنے سےبزرگ عالم کے پاس لائحہ عمل لینے کے لیے جاتے ہیں۔امام خمینی بھی آیت اللہ شیخ حسنعلی نخوزکی اصفہانی کے پاس تشریف لے جایا کرتے تھے،جو اس وقت کے ایک بزرگ عالم دین تھے۔آپ اپنے طویل رکوع کی وجہ سے کافی شہرت رکھتے تھے۔عبادت کا یہ انداز تھا کہ پوری پوری رات رکوع کی حالت میں رہتے، شدید برف باری میں بھی چھت پر جا کر اسی طرح مشغول رہتے کہ جب لوگ صبح آتے تودیکھتے کہ پوری کمر برف سے ڈھک چکی ہوتی۔ امام خمینی کی ان سے ملاقات مشہد میں ہوئی،آپ نے ان سے کہا کہ مجھے علم کیمیا سکھائیں۔(علم کیمیا ایک ایسا علم ہے کہ اگر انسان اسے حاصل کر لے تو خاک کو بھی سونے میں تبدیل کر سکتا ہے اور نجانے کتنی طاقتیں اس کے پاس آ جاتی ہیں)۔انھوں نے کہا ٹھیک ہےلیکن میں ایک شرط پر تمہیں یہ سکھاوں گا کہ اپنی پوری زندگی میں تم کسی کو یہ بات نھیں بتاو گے۔امام خمینی نے کہا کہ یہ وعدہ میں آپ سے نھیں کر سکتا،ہو سکتا ہے کہ میں کبھی وعدہ خلافی کر جاوں، اس شرط کے ساتھ مجھے یہ قبول نہین ۔ جب انھوں نے امام خمینی کی یہ شفافیت اور صداقت دیکھی تو اتنی پسند آئی کہ انھوں نے کہا کہ میں تمہیں علم کیمیا سے بھی بڑھ کر ایک چیز سکھاتا ہوں کہ اگر تم اس کو پابندی کے ساتھ انجام دو تو دنیا و آخرت کی تمام تر کامیابیاں تم حاصل کر لو گے، بلکہ دنیا و آخرت کی بادشاہت تمھارے قدموں تلے آ جاے گی۔
اس کے بعد آیت اللہ شیخ حسنعلی نخوزکی اصفہانی نے پانچ مرحلوں پر مشتمل ایک عمل بتایا اور کہا کہ زندگی بھر اس کو انجام دینا ،ایک دفعہ بھی نہ چھوڑنا،جو یہ ہے:
1۔ ہر نماز کے بعد تسبیح حضرت زہرا علیہ سلام ۔
2۔ ہر نماز کے بعد آیت الکرسی، علی العظیم تک البتہ نیت علی العظیم تک کر کہ تبرکا" خالدون تک بھی پڑھی جا سکتی ہے۔
3۔ ہر نماز کے بعد تین مرتبہ سورہ توحید کی تلاوت۔
4۔ ہر نماز کے بعد تین مرتبہ درود۔
5۔ ہر نماز کے بعد تین مرتبہ
سورہ طلاق کی 2 آیت کا آخری جز اور 3 آیت مکمل۔
ومن یتق اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قدرا۔
آیت اللہ شیخ حسن علی نخوزکی اصفہانی کے اس عمل کے طفیل امام خمینی نے اتنی کامیابیاں حاصل کیں کی جب ان کا انتقال ہوا تو پوری دنیا نےدیکھا کہ واقعی دنیا و آخرت کی بادشاہت ان کے پاس تھی۔
📚سید عابد حسین زیدی کے درس سے لیا گیا جز۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بشکریہ الاسوہ چینل
https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔶 مٹی پر سجدہ 🔶
1- رسولِخداؐ نے فرمایا:
جُعِلَتْ لِىَ الاَْرْضُ مَسْجِداً وَ طَهُوراً۔
ترجمہ:
زمین میرے لئے سجدہ گاہ اور طہارت (تیمم کا وسیلہ) قرار دیا گیا۔
(صحيح بخارى، جلد 1، صفحه 91 اور سنن بيهقى، جلد 2، صفحه 433 نیز یہ حدیث بہت سی دوسری کتب میں بھی نقل ہوئی ہے)
2- رسولِخداؐ نے فرمایا:
"زمین طہور (طہارت اور پاکیزگی کا وسیلہ) بھی ہے اور مسجد اور سجدہ گاہ بھی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ جو طہور ہے اس پر تیمم کیا جاسکتا ہے، مٹی اور پتھر زمین ہے چنانچہ مٹی اور پتھر کو سجدہ گاہ بھی ہونا چاہئے"۔
3- ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسولِخداؐ نے فرمایا:
"سجد رسول الله صلى الله عليه وسلم في يوم مطير حتى اني لانظر إلى أثر ذلك في جبهته وأرنبته"۔
ترجمہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بارش کے دن سجدہ کیا حتی کہ میں نے آپ (ص) کی پیشانی اور ناک پر سجدے کے آثار دکھائی دے رہے تھے۔
(مجمع الزوائد، جلد 2، صفحه 126۔ احمد بن حنبل نے مسند کی جلد 3 صفحہ 60 نقل کیا ہے کہ بارش کی وجہ سے مسجد کی چھت ٹھپک رہی تھی چنانچہ رسول اللہ (ص) پانی اور مٹی میں سجدہ فرماتے رہے حتی کہ میں آپ (ص) کی پیشانی پر مٹی کے اثرات دکھائی دیئے۔) راوی
4- ام المؤمنین میمونہ سے روایت ہے:
"ورسول الله يصلي على الخمرة فيسجد۔"
ترجمہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم چٹائی یا حصیر کے ٹکڑے پر نماز پڑھتے اور سجدہ فرمایا کرتے تھے۔
مسلماً حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حصیر پر نماز پڑھا کرتے تھے۔
(مسند احمد بن حنبل، جلد 6، صفحه 331۔)
5- اہل سنت کے منابع و مآخذ میں متعدد روایات نقل ہوئی ہیں کہ
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم "خمرہ" پر نماز پڑھا کرتے تھے۔ (خمرہ کھجوروں کے پتوں سے تیار کردہ چھوٹی سی چٹائی یا مصلے کو کہا جاتا ہے)۔
عجیب بات یہ ہے کہ اگر شیعہ نماز پڑھتے وقت حصیر کے مصلے یا صفیں بچھائیں تو بعض متعصبین ان پر بدعت کا الزام لگاتے ہیں اور انہیں غضبناک نظروں سے دیکھتے ہیں حالانکہ ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب سنت نبوی ہے۔
ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں: "روى عن عمر بن عبد العزيز أنه كان يؤتى بتراب فيوضع على الخمرة فيسجد عليه"۔ عمر ابن عبدالعزیز سے روایت ہے کہ وہ چٹائی یا حصیر کے اوپر مٹی ڈال کر اس پر سجدہ کیا کرتے تھے۔
(فتح الباري شرح صحيح البخاري جلد 1 صفحه 410)۔ واضح رہے کہ اہل سنت کے ہاں عمر بن عبدالعژیژ کو خلیفہ راشد کا درجہ دیا جاتا ہے۔
6- جابر بن عبداللہ انصاری کہتے ہیں:
كنت اصلّى مع النبى (صلى الله عليه وآله) الظهر فآخذ قبضة من الحصى فاجعلها فى كفىّ ثم احولها إلى الكف الأخرى حتّى تبرد ثمّ اضعها لجبينى حتّى اسجد عليها من شدّة الحرّ۔
ترجمہ:
میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی امامت میں نماز ظہر پڑھ رہا تھا پس کچھ سنگریزے اٹھاتا اور انہیں دست بدست کرتا تاکہ ٹھنڈے ہوجائیں اور میں ان پر سجدہ کرسکوں، یہ عمل گرمی کی شدت کی وجہ سے تھا۔
(مسند احمد، جلد 3، صفحه 327 ; سنن بيهقى، جلد 1، صفحه 439)
7- انس بن مالک سے روایت ہے:
كنّا مع رسول الله(صلى الله عليه وآله) فى شدّة الحرّ فيأخذ أحدنا الحصباء فى يده فإذا برد وضعه و سجد عليه۔
ترجمہ:
ہم شدید گرمی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہمراہ تھے اور ہم میں سے بعض صحابی سنگریزے ہاتھ میں لیتے تا کہ ٹھنڈے ہوجائیں اور پھر انہیں زمین پر رکھتے اور ان پر سجدہ کرتے تھے۔
(السنن الكبرى بيهقى، جلد 2، صفحه 106)
____________
■نماز کے متعلق پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
🔵 کوشش اور توفیق
https://t.me/islamwitheman/227
🔵 نماز نہ پڑھنے کی تاویلات
https://t.me/islamwitheman/297
🔴 کامل نماز کا طریقہ
https://t.me/islamwitheman/293
💝 عبادت میں لذت
https://t.me/islamwitheman/352
💞 میاں بیوی کی محبت کا تقاضا
https://t.me/islamwitheman/295
🔵 نماز میں غفلت
https://t.me/islamwitheman/296
💫 نیت اور عمل
https://t.me/islamwitheman/226
🔴 نماز کی عظمت و ثواب
https://t.me/islamwitheman/292
🔵قیامت کا دن اور تین آدمیوں کی پیشی
https://t.me/islamwitheman/104
🔵 اقیموا الصلاة
https://t.me/islamwitheman/294
⚫ تارک الصّلاة کے نام
https://t.me/islamwitheman/647
☉ جمعرات کے دن کی نماز
https://t.me/islamwitheman/122
🔵 پہلی نماز جمعہ
https://t.me/islamwitheman/368
🔵 مختصر نماز مغفرت والدین
https://t.me/islamwitheman/12
🌸 وضو کا طریقہ
https://t.me/islamwitheman/842
🔵ماۂِ رمضان کی نافلہ نمازیں
https://t.me/islamwitheman/930
💐 ﻧﻤﺎﺯ ﻛﻰ ﺍﮨﻤﯿﺖ
https://t.me/islamwitheman952
🍃 اول وقت میں فضیلتِ نماز
https://t.me/islamwitheman/953
❄نماز کی تاثیر
https://t.me/islamwitheman/954
🔶 مٹی پر سجدہ
https://t.me/islamwitheman/960
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
1- رسولِخداؐ نے فرمایا:
جُعِلَتْ لِىَ الاَْرْضُ مَسْجِداً وَ طَهُوراً۔
ترجمہ:
زمین میرے لئے سجدہ گاہ اور طہارت (تیمم کا وسیلہ) قرار دیا گیا۔
(صحيح بخارى، جلد 1، صفحه 91 اور سنن بيهقى، جلد 2، صفحه 433 نیز یہ حدیث بہت سی دوسری کتب میں بھی نقل ہوئی ہے)
2- رسولِخداؐ نے فرمایا:
"زمین طہور (طہارت اور پاکیزگی کا وسیلہ) بھی ہے اور مسجد اور سجدہ گاہ بھی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ جو طہور ہے اس پر تیمم کیا جاسکتا ہے، مٹی اور پتھر زمین ہے چنانچہ مٹی اور پتھر کو سجدہ گاہ بھی ہونا چاہئے"۔
3- ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسولِخداؐ نے فرمایا:
"سجد رسول الله صلى الله عليه وسلم في يوم مطير حتى اني لانظر إلى أثر ذلك في جبهته وأرنبته"۔
ترجمہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بارش کے دن سجدہ کیا حتی کہ میں نے آپ (ص) کی پیشانی اور ناک پر سجدے کے آثار دکھائی دے رہے تھے۔
(مجمع الزوائد، جلد 2، صفحه 126۔ احمد بن حنبل نے مسند کی جلد 3 صفحہ 60 نقل کیا ہے کہ بارش کی وجہ سے مسجد کی چھت ٹھپک رہی تھی چنانچہ رسول اللہ (ص) پانی اور مٹی میں سجدہ فرماتے رہے حتی کہ میں آپ (ص) کی پیشانی پر مٹی کے اثرات دکھائی دیئے۔) راوی
4- ام المؤمنین میمونہ سے روایت ہے:
"ورسول الله يصلي على الخمرة فيسجد۔"
ترجمہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم چٹائی یا حصیر کے ٹکڑے پر نماز پڑھتے اور سجدہ فرمایا کرتے تھے۔
مسلماً حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حصیر پر نماز پڑھا کرتے تھے۔
(مسند احمد بن حنبل، جلد 6، صفحه 331۔)
5- اہل سنت کے منابع و مآخذ میں متعدد روایات نقل ہوئی ہیں کہ
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم "خمرہ" پر نماز پڑھا کرتے تھے۔ (خمرہ کھجوروں کے پتوں سے تیار کردہ چھوٹی سی چٹائی یا مصلے کو کہا جاتا ہے)۔
عجیب بات یہ ہے کہ اگر شیعہ نماز پڑھتے وقت حصیر کے مصلے یا صفیں بچھائیں تو بعض متعصبین ان پر بدعت کا الزام لگاتے ہیں اور انہیں غضبناک نظروں سے دیکھتے ہیں حالانکہ ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب سنت نبوی ہے۔
ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں: "روى عن عمر بن عبد العزيز أنه كان يؤتى بتراب فيوضع على الخمرة فيسجد عليه"۔ عمر ابن عبدالعزیز سے روایت ہے کہ وہ چٹائی یا حصیر کے اوپر مٹی ڈال کر اس پر سجدہ کیا کرتے تھے۔
(فتح الباري شرح صحيح البخاري جلد 1 صفحه 410)۔ واضح رہے کہ اہل سنت کے ہاں عمر بن عبدالعژیژ کو خلیفہ راشد کا درجہ دیا جاتا ہے۔
6- جابر بن عبداللہ انصاری کہتے ہیں:
كنت اصلّى مع النبى (صلى الله عليه وآله) الظهر فآخذ قبضة من الحصى فاجعلها فى كفىّ ثم احولها إلى الكف الأخرى حتّى تبرد ثمّ اضعها لجبينى حتّى اسجد عليها من شدّة الحرّ۔
ترجمہ:
میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی امامت میں نماز ظہر پڑھ رہا تھا پس کچھ سنگریزے اٹھاتا اور انہیں دست بدست کرتا تاکہ ٹھنڈے ہوجائیں اور میں ان پر سجدہ کرسکوں، یہ عمل گرمی کی شدت کی وجہ سے تھا۔
(مسند احمد، جلد 3، صفحه 327 ; سنن بيهقى، جلد 1، صفحه 439)
7- انس بن مالک سے روایت ہے:
كنّا مع رسول الله(صلى الله عليه وآله) فى شدّة الحرّ فيأخذ أحدنا الحصباء فى يده فإذا برد وضعه و سجد عليه۔
ترجمہ:
ہم شدید گرمی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہمراہ تھے اور ہم میں سے بعض صحابی سنگریزے ہاتھ میں لیتے تا کہ ٹھنڈے ہوجائیں اور پھر انہیں زمین پر رکھتے اور ان پر سجدہ کرتے تھے۔
(السنن الكبرى بيهقى، جلد 2، صفحه 106)
____________
■نماز کے متعلق پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
🔵 کوشش اور توفیق
https://t.me/islamwitheman/227
🔵 نماز نہ پڑھنے کی تاویلات
https://t.me/islamwitheman/297
🔴 کامل نماز کا طریقہ
https://t.me/islamwitheman/293
💝 عبادت میں لذت
https://t.me/islamwitheman/352
💞 میاں بیوی کی محبت کا تقاضا
https://t.me/islamwitheman/295
🔵 نماز میں غفلت
https://t.me/islamwitheman/296
💫 نیت اور عمل
https://t.me/islamwitheman/226
🔴 نماز کی عظمت و ثواب
https://t.me/islamwitheman/292
🔵قیامت کا دن اور تین آدمیوں کی پیشی
https://t.me/islamwitheman/104
🔵 اقیموا الصلاة
https://t.me/islamwitheman/294
⚫ تارک الصّلاة کے نام
https://t.me/islamwitheman/647
☉ جمعرات کے دن کی نماز
https://t.me/islamwitheman/122
🔵 پہلی نماز جمعہ
https://t.me/islamwitheman/368
🔵 مختصر نماز مغفرت والدین
https://t.me/islamwitheman/12
🌸 وضو کا طریقہ
https://t.me/islamwitheman/842
🔵ماۂِ رمضان کی نافلہ نمازیں
https://t.me/islamwitheman/930
💐 ﻧﻤﺎﺯ ﻛﻰ ﺍﮨﻤﯿﺖ
https://t.me/islamwitheman952
🍃 اول وقت میں فضیلتِ نماز
https://t.me/islamwitheman/953
❄نماز کی تاثیر
https://t.me/islamwitheman/954
🔶 مٹی پر سجدہ
https://t.me/islamwitheman/960
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 کوشش اور توفیق 🔷
ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﮕﺮ ﺩﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺍﺩﺍﺳﯽ ﮐﮯ ﺗﺎﺛﺮﺍﺕ ﻧﻤﺎﯾﺎﮞ ﺗﮭﮯ.
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻮﺟﮧ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻣﺼﻠﮯ ﮐﯽ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺟﺎﻧﺐ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺗﮭﺎ،
ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﭖ ﮨﻤﺖ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﭨﻨﮯ ﭘﺎﺋﮯ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ.
ﻣﮕﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ…
ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﮕﺮ ﺩﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺍﺩﺍﺳﯽ ﮐﮯ ﺗﺎﺛﺮﺍﺕ ﻧﻤﺎﯾﺎﮞ ﺗﮭﮯ.
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻮﺟﮧ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻣﺼﻠﮯ ﮐﯽ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺟﺎﻧﺐ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺗﮭﺎ،
ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﭖ ﮨﻤﺖ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﭨﻨﮯ ﭘﺎﺋﮯ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ.
ﻣﮕﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ…