💠 حضرت علی علیہ السلام اور بے ادب دوکاندار
یہ ان دنوں کی بات ہے جب علی علیہ السلام مملکت اسلامی کے تاجدار تھے۔ آپ بازاروں کی کڑی نگرانی کرتے اسی لئے آپ بازاروں میں جاتے تھے۔ اور لوگوں کو نصیحت کرتے تھے۔
ایک دن آپ خرمہ فروشوں کے بازار میں گئے آپ نے وہاں ایک بچی کو روتے دیکھا، بچی سے رونے کا سبب دریافت کیا بچی نے عرض کیا کہ میرے مالک نے مجھے ایک درہم دیا کہ جاؤ بازار سے خرمہ لے آؤ۔ میں نے اس دوکاندار سے کھجوریں خریدیں اور گھر لے گئی۔ جو میرے مالک کو پسند نہیں آئیں میں وہ واپس اس دوکاندار کے پاس آئی کہ کھجوریں واپس لے لے اور میری رقم میرے حوالے کردے۔
امام علیہ السلام نے دوکاندار سے فرمایا کہ یہ چھوٹی بچی ہے یہ کسی کی کنیز ہے یہ خودمختار نہیں ہے تم یہ کھجوریں لے لو اور اس کی رقم واپس دے دو۔ دوکاندار اپنی جگہ سے اٹھا اس نے اپنا ہاتھ علی علیہ السلام کے سینے پر رکھا آپ کو دوکان سے نیچے اتارنا چاہتا تھا۔
جو لوگ یہ منظر دیکھ رہے تو انہوں نے دوکاندار سے کہا کیا کر رہے ہو؟ یہ علی ابن ابی طالب علیہما السلام ہیں دوکاندار کا رنگ زرد ہوگیا۔
اس نے فوراً اس بچی سے کھجوریں لے لیں اور پیسے بھی واپس کر دیئے پھر اس نے حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ اے امیرالمومنینؑ آپ مجھ سے راضی ہوجائیں اور میری غلطی سے درگزر کردیں۔
آپ نے فرمایا کہ جو چیز مجھے راضی کر سکتی ہے وہ یہ ہے کہ اپنی روش کی اصلاح کرو اس کے ساتھ اخلاق اور ادب کو اپناؤ۔
📚داستانہا وپندھا ج١ ص٤٧۔
📚بحارالانوار ج٩ ص ٥١٩۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
یہ ان دنوں کی بات ہے جب علی علیہ السلام مملکت اسلامی کے تاجدار تھے۔ آپ بازاروں کی کڑی نگرانی کرتے اسی لئے آپ بازاروں میں جاتے تھے۔ اور لوگوں کو نصیحت کرتے تھے۔
ایک دن آپ خرمہ فروشوں کے بازار میں گئے آپ نے وہاں ایک بچی کو روتے دیکھا، بچی سے رونے کا سبب دریافت کیا بچی نے عرض کیا کہ میرے مالک نے مجھے ایک درہم دیا کہ جاؤ بازار سے خرمہ لے آؤ۔ میں نے اس دوکاندار سے کھجوریں خریدیں اور گھر لے گئی۔ جو میرے مالک کو پسند نہیں آئیں میں وہ واپس اس دوکاندار کے پاس آئی کہ کھجوریں واپس لے لے اور میری رقم میرے حوالے کردے۔
امام علیہ السلام نے دوکاندار سے فرمایا کہ یہ چھوٹی بچی ہے یہ کسی کی کنیز ہے یہ خودمختار نہیں ہے تم یہ کھجوریں لے لو اور اس کی رقم واپس دے دو۔ دوکاندار اپنی جگہ سے اٹھا اس نے اپنا ہاتھ علی علیہ السلام کے سینے پر رکھا آپ کو دوکان سے نیچے اتارنا چاہتا تھا۔
جو لوگ یہ منظر دیکھ رہے تو انہوں نے دوکاندار سے کہا کیا کر رہے ہو؟ یہ علی ابن ابی طالب علیہما السلام ہیں دوکاندار کا رنگ زرد ہوگیا۔
اس نے فوراً اس بچی سے کھجوریں لے لیں اور پیسے بھی واپس کر دیئے پھر اس نے حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ اے امیرالمومنینؑ آپ مجھ سے راضی ہوجائیں اور میری غلطی سے درگزر کردیں۔
آپ نے فرمایا کہ جو چیز مجھے راضی کر سکتی ہے وہ یہ ہے کہ اپنی روش کی اصلاح کرو اس کے ساتھ اخلاق اور ادب کو اپناؤ۔
📚داستانہا وپندھا ج١ ص٤٧۔
📚بحارالانوار ج٩ ص ٥١٩۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
⭕خدا پر ان دیکھا یقین(حصہ اول)⭕
Who believe in the unseen. Quran 02:03
پروفیسر: بیٹا تم ایک مسلمان ہو ۔۔۔ کیا میں نے ٹھیک کہا۔۔۔؟
طالب علم: جی سر ۔۔۔
پروفیسر: تو پھر تم خدا پر یقین رکھتے ہو ۔۔۔؟
طالب علم: بالکل جناب ۔۔۔
پروفیسر: کیا خدا ایک اچھی ہستی ہے ۔۔۔؟
طالب علم: یقیناً ۔۔۔
پروفیسر: کیا خدا تمام چیزوں پر قُدرت رکھتا ہے ۔۔۔؟
طالب علم: جی سر بالکل ۔۔۔
پروفیسر: میرا بھائی کینسر کا مریض تھا ۔۔۔ مرنے سے پہلے اس نے خدا کے آگے صحت یاب ہونے کی خاطر بہت دعا کی لیکن اس قدر التجا کے باوجود بالآخر وہ مر گیا ۔۔۔ ہم میں سے اگر کوئی بیمار پڑ جائے تو لوگوں میں اکثریت اس کی مدد کرنے کی کوشش کرے گی ۔۔۔ لیکن خدا نے اس کی کوئی مدد نہ کی ۔۔۔ تو پھر مجھے بتاؤ خدا ایک اچھی ہستی کیسے ہوا ۔۔۔؟
(طالب علم خاموش)
پروفیسر: تمہارے پاس اسکا کوئی جواب نہیں ۔۔۔
چلو میں اپنا سوال پھر سے دہراتا ہوں ۔۔۔ کیا خدا ایک اچھی ہستی ہے ۔۔۔؟
طالب علم: جی سر ۔۔۔
پروفیسر: کیا شیطان ایک اچھی ہستی ہے ۔۔۔؟
طالب علم: نہیں ۔۔۔
پروفیسر: شیطان کہاں سے آیا ۔۔۔؟
طالب علم: خُدا۔۔۔۔ سے ۔۔۔۔
پروفیسر: ٹھیک ۔۔۔ تو پھر اب مجھے یہ بتاؤ کہ کیا دنیا میں بُرائی کا کوئی وجود ہے ۔۔۔؟
طالب علم: جی سر بالکل ہے ۔۔۔
پروفیسر: بُرائی ہر جگہ ہے ۔۔ ہے نا ۔۔۔؟ اور ہر چیز خدا نے ہی بنائی ہے ۔۔۔ ٹھیک ۔۔۔؟
طالب علم: جی ۔۔۔
پروفیسر: تو پھر بُرائی کو کس نے بنایا ۔۔۔؟
(طالب علم نے کوئی جواب نہ دیا)
پروفیسر: دنیا میں بیماریوں ۔۔ نفرتوں ۔۔ عداوتوں اور ان جیسی اور کئی گھناؤنی اشیاء کا وجود ہے ۔۔ ہے نا ۔۔۔؟
طالب علم: جی سر ۔۔۔
پروفیسر: پھر ان سب کو کس نے پیدا کیا ۔۔۔؟
(طالب علم خاموش ۔۔ اس نے اس سوال کا بھی کوئی جواب نہ دیا)
پروفیسر: سائنس کہتی ہے کہ انسانی جسم حواس خمسہ پر مشتمل ہے جنہیں ہم اپنے ارگرد کے ماحول کے مشاہدے اور پہچان کی غرض سے استعمال میں لاتے ہیں ۔۔۔ تو اب مجھے یہ بتاؤ کہ کیا تم نے خدا کو دیکھا ہے ۔۔۔؟
طالب علم: نہیں جناب ۔۔۔
پروفیسر: کیا تم نے کبھی اپنے خدا کو بولتے سنا ہے ۔۔۔؟
طالب علم: نہیں سر ۔۔۔
پروفیسر: کیا تم نے اپنے خدا کو کبھی محسوس کیا ہے ۔۔؟ اسکو چکھا ہے ۔۔؟ سونگھا ہے ۔۔؟ یا تمہاری کوئی بھی حس جس نے خدا کی موجودگی کا کبھی تمہیں احساس دلایا ہو ۔۔۔؟
طالب علم: نہیں جناب ۔۔۔ میرا خیال ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوا ۔۔۔
پروفیسر: لیکن اس کے باوجود تم خدا کو مانتے ہو ۔۔۔؟
طالب علم: جی سر ۔۔۔
پروفیسر: تجربات اور مشاہدات کی رو سے سائنس کہتی ہے کہ تمہارے خدا کا کوئی وجود نہیں ہے ۔۔۔ تو تم اس بارے کیا کہتے ہو ۔۔۔؟
طالب علم: کچھ نہیں سر ۔۔۔ میں بس اپنے ایمان پر یقین رکھتا ہوں ۔۔۔
پروفیسر: ہاں ۔۔۔ ایمان ۔۔۔ سائنس کو یہی تو ایک مسئلہ درپیش ہے ۔۔۔۔!
طالب علم: پروفیسر صاحب ۔۔۔ کیا کوئی ایسی چیز ہے جس کا نام حرارت ہے ۔۔۔؟
پروفیسر: ہاں ۔۔۔ بالکل ہے ۔۔۔
طالب علم: اور سر ۔۔۔ کیا کوئی ایسی چیز بھی ہے جسے ٹھنڈ کہتے ہیں ۔۔۔؟
پروفیسر: بالکل ۔۔۔
طالب علم: نہیں جناب ۔۔۔ ٹھنڈ نام کی کسی چیز کا کوئی وجود نہیں ہے ۔۔۔
(مناقشے نے یک لخت جو اس طرح پلٹا کھایا تو ہال میں مکمل خاموشی چھا گئی)
طالب علم: سر ۔۔۔ آپ مختلف مقداروں میں حرارت حاصل کر سکتے ہیں جیسا کہ زیادہ ۔۔ بہت زیادہ ۔۔ سُپر ۔۔ میگا ۔۔ کم ۔۔ بہت کم یا پھر بالکل نہیں ۔۔۔ لیکن ایسی کسی چیز کا کوئی وجود نہیں جسے "ٹھنڈ" کہتے ہیں ۔۔۔ ہم منفی 458 ڈگری تک درجہ حرارت گرا سکتے ہیں جہاں پہچنے کے بعد حرارت کا بالکل کوئی وجود نہیں رہتا ۔۔۔ اس کے بعد ہم اس سے اور آگے نہیں جا سکتے ۔۔۔ لیکن ٹھنڈ نام کی کسی چیز کا کوئی وجود نہیں ۔۔ بلکہ "ٹھنڈ" کا لفظ ہم صرف حرارت کی غیر موجودگی کے اظہار کیلئے استعمال کرتے ہیں ۔۔۔ ٹھنڈ کی پیمائش کرنے کا بھی کوئی پیمانہ نہیں اور حرارت کیا ہے ۔۔؟ ایک توانائی ۔۔۔ اور ٹھنڈ حرارت کا عکس نہیں بلکہ یہ صرف ایک علامت ہے ۔۔۔ حرارت کی غیر موجودگی کی ۔۔۔
(ہال میں ایسی خاموشی کہ جیسے سامعین کو سانپ سونگھ گیا ہو)
طالب علم: اندھیرے کے متعلق آپ کیا کہتے سر ۔۔۔؟
کیا کوئی ایسی چیز ہے جو اندھیرا کہلاتی ہے ۔۔۔؟
پروفیسر: ہاں ۔۔ بالکل ہے ۔۔۔ اگر نہيں تو پھر یہ رات کیسے ڈھلتی ہے ۔۔۔؟
طالب علم: آپ پھر غلطی پر ہیں سر ۔۔۔ اندھیرا بذاتِ خود کوئی چیز نہیں بلکہ یہ اصل میں۔۔۔ (جاری ہے)
بقیہ حصہ دوم میں ملاحظہ فرمائیں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Who believe in the unseen. Quran 02:03
پروفیسر: بیٹا تم ایک مسلمان ہو ۔۔۔ کیا میں نے ٹھیک کہا۔۔۔؟
طالب علم: جی سر ۔۔۔
پروفیسر: تو پھر تم خدا پر یقین رکھتے ہو ۔۔۔؟
طالب علم: بالکل جناب ۔۔۔
پروفیسر: کیا خدا ایک اچھی ہستی ہے ۔۔۔؟
طالب علم: یقیناً ۔۔۔
پروفیسر: کیا خدا تمام چیزوں پر قُدرت رکھتا ہے ۔۔۔؟
طالب علم: جی سر بالکل ۔۔۔
پروفیسر: میرا بھائی کینسر کا مریض تھا ۔۔۔ مرنے سے پہلے اس نے خدا کے آگے صحت یاب ہونے کی خاطر بہت دعا کی لیکن اس قدر التجا کے باوجود بالآخر وہ مر گیا ۔۔۔ ہم میں سے اگر کوئی بیمار پڑ جائے تو لوگوں میں اکثریت اس کی مدد کرنے کی کوشش کرے گی ۔۔۔ لیکن خدا نے اس کی کوئی مدد نہ کی ۔۔۔ تو پھر مجھے بتاؤ خدا ایک اچھی ہستی کیسے ہوا ۔۔۔؟
(طالب علم خاموش)
پروفیسر: تمہارے پاس اسکا کوئی جواب نہیں ۔۔۔
چلو میں اپنا سوال پھر سے دہراتا ہوں ۔۔۔ کیا خدا ایک اچھی ہستی ہے ۔۔۔؟
طالب علم: جی سر ۔۔۔
پروفیسر: کیا شیطان ایک اچھی ہستی ہے ۔۔۔؟
طالب علم: نہیں ۔۔۔
پروفیسر: شیطان کہاں سے آیا ۔۔۔؟
طالب علم: خُدا۔۔۔۔ سے ۔۔۔۔
پروفیسر: ٹھیک ۔۔۔ تو پھر اب مجھے یہ بتاؤ کہ کیا دنیا میں بُرائی کا کوئی وجود ہے ۔۔۔؟
طالب علم: جی سر بالکل ہے ۔۔۔
پروفیسر: بُرائی ہر جگہ ہے ۔۔ ہے نا ۔۔۔؟ اور ہر چیز خدا نے ہی بنائی ہے ۔۔۔ ٹھیک ۔۔۔؟
طالب علم: جی ۔۔۔
پروفیسر: تو پھر بُرائی کو کس نے بنایا ۔۔۔؟
(طالب علم نے کوئی جواب نہ دیا)
پروفیسر: دنیا میں بیماریوں ۔۔ نفرتوں ۔۔ عداوتوں اور ان جیسی اور کئی گھناؤنی اشیاء کا وجود ہے ۔۔ ہے نا ۔۔۔؟
طالب علم: جی سر ۔۔۔
پروفیسر: پھر ان سب کو کس نے پیدا کیا ۔۔۔؟
(طالب علم خاموش ۔۔ اس نے اس سوال کا بھی کوئی جواب نہ دیا)
پروفیسر: سائنس کہتی ہے کہ انسانی جسم حواس خمسہ پر مشتمل ہے جنہیں ہم اپنے ارگرد کے ماحول کے مشاہدے اور پہچان کی غرض سے استعمال میں لاتے ہیں ۔۔۔ تو اب مجھے یہ بتاؤ کہ کیا تم نے خدا کو دیکھا ہے ۔۔۔؟
طالب علم: نہیں جناب ۔۔۔
پروفیسر: کیا تم نے کبھی اپنے خدا کو بولتے سنا ہے ۔۔۔؟
طالب علم: نہیں سر ۔۔۔
پروفیسر: کیا تم نے اپنے خدا کو کبھی محسوس کیا ہے ۔۔؟ اسکو چکھا ہے ۔۔؟ سونگھا ہے ۔۔؟ یا تمہاری کوئی بھی حس جس نے خدا کی موجودگی کا کبھی تمہیں احساس دلایا ہو ۔۔۔؟
طالب علم: نہیں جناب ۔۔۔ میرا خیال ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوا ۔۔۔
پروفیسر: لیکن اس کے باوجود تم خدا کو مانتے ہو ۔۔۔؟
طالب علم: جی سر ۔۔۔
پروفیسر: تجربات اور مشاہدات کی رو سے سائنس کہتی ہے کہ تمہارے خدا کا کوئی وجود نہیں ہے ۔۔۔ تو تم اس بارے کیا کہتے ہو ۔۔۔؟
طالب علم: کچھ نہیں سر ۔۔۔ میں بس اپنے ایمان پر یقین رکھتا ہوں ۔۔۔
پروفیسر: ہاں ۔۔۔ ایمان ۔۔۔ سائنس کو یہی تو ایک مسئلہ درپیش ہے ۔۔۔۔!
طالب علم: پروفیسر صاحب ۔۔۔ کیا کوئی ایسی چیز ہے جس کا نام حرارت ہے ۔۔۔؟
پروفیسر: ہاں ۔۔۔ بالکل ہے ۔۔۔
طالب علم: اور سر ۔۔۔ کیا کوئی ایسی چیز بھی ہے جسے ٹھنڈ کہتے ہیں ۔۔۔؟
پروفیسر: بالکل ۔۔۔
طالب علم: نہیں جناب ۔۔۔ ٹھنڈ نام کی کسی چیز کا کوئی وجود نہیں ہے ۔۔۔
(مناقشے نے یک لخت جو اس طرح پلٹا کھایا تو ہال میں مکمل خاموشی چھا گئی)
طالب علم: سر ۔۔۔ آپ مختلف مقداروں میں حرارت حاصل کر سکتے ہیں جیسا کہ زیادہ ۔۔ بہت زیادہ ۔۔ سُپر ۔۔ میگا ۔۔ کم ۔۔ بہت کم یا پھر بالکل نہیں ۔۔۔ لیکن ایسی کسی چیز کا کوئی وجود نہیں جسے "ٹھنڈ" کہتے ہیں ۔۔۔ ہم منفی 458 ڈگری تک درجہ حرارت گرا سکتے ہیں جہاں پہچنے کے بعد حرارت کا بالکل کوئی وجود نہیں رہتا ۔۔۔ اس کے بعد ہم اس سے اور آگے نہیں جا سکتے ۔۔۔ لیکن ٹھنڈ نام کی کسی چیز کا کوئی وجود نہیں ۔۔ بلکہ "ٹھنڈ" کا لفظ ہم صرف حرارت کی غیر موجودگی کے اظہار کیلئے استعمال کرتے ہیں ۔۔۔ ٹھنڈ کی پیمائش کرنے کا بھی کوئی پیمانہ نہیں اور حرارت کیا ہے ۔۔؟ ایک توانائی ۔۔۔ اور ٹھنڈ حرارت کا عکس نہیں بلکہ یہ صرف ایک علامت ہے ۔۔۔ حرارت کی غیر موجودگی کی ۔۔۔
(ہال میں ایسی خاموشی کہ جیسے سامعین کو سانپ سونگھ گیا ہو)
طالب علم: اندھیرے کے متعلق آپ کیا کہتے سر ۔۔۔؟
کیا کوئی ایسی چیز ہے جو اندھیرا کہلاتی ہے ۔۔۔؟
پروفیسر: ہاں ۔۔ بالکل ہے ۔۔۔ اگر نہيں تو پھر یہ رات کیسے ڈھلتی ہے ۔۔۔؟
طالب علم: آپ پھر غلطی پر ہیں سر ۔۔۔ اندھیرا بذاتِ خود کوئی چیز نہیں بلکہ یہ اصل میں۔۔۔ (جاری ہے)
بقیہ حصہ دوم میں ملاحظہ فرمائیں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
⭕ خدا پر ان دیکھا یقین(حصہ دوم)⭕
طالب علم: آپ پھر غلطی پر ہیں سر ۔۔۔ اندھیرا بذاتِ خود کوئی چیز نہیں بلکہ یہ اصل میں کسی چیز کی غیر موجودگی کی دلیل ہے ۔۔۔ آپ روشنی کم ۔۔ معتدل ۔۔ زیادہ یا پھر انتہائی مقدار میں حاصل کر سکتے ہیں جو آنکھوں کو جھپکا دے ۔۔۔ لیکن اگر روشنی مستقل طور پر غائب ہو جائے تو پھر آپ کے پاس اس کا کوئی وجود نہیں ہو گا اور ایسی کیفیت کو ہم اندھیرا کہیں گے ۔۔۔ کیا میں نے ٹھیک کہا ۔۔۔؟
حقیقت میں اندھیرے کا اپنا کوئی وجود نہیں ۔۔۔ اگر اس کا اپنا کوئی وجود ہوتا تو آپ اس میں بھی کم زیادہ کی تمیز کر سکتے جیسے کم اندھیرا ۔۔۔ گہرا اندھیرا یا گھپ اندھیرا وغیرہ وغیرہ جیسا کہ عام بول چال میں کہا جاتا ہے ۔۔۔ درست ۔۔۔؟
پروفیسر: ٹھیک ۔۔۔ تو پھر تم اس سے کیا ثابت کرنا چاہتے ہو ۔۔۔؟
طالب علم: سر ۔۔۔ میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کے فلسفے کی اساس ہی خامیوں پر مبنی ہے ۔۔۔ آپ ہر چیز کی دوہری حیثیت پر یقین رکھتے ہیں ۔۔۔ آپ کے مطابق اگر ایک چیز زندگی ہے تو وہیں دوسری موت ۔۔۔ ایک اچھا خدا اور ایک بُرا ۔۔۔ اور خدا کی ذات پر آپ کا نظریہ ایسے ہے جیسے یہ کوئی ایسی چیز ہو جس کی حد ہو یا جس کی پیمائش کی جا سکتی ہو ۔۔۔
سر ۔۔۔ سائنس کسی انسان کی ذہنی سوچ کے بارے کوئی واضح توجیح پیش نہیں کر سکتی ۔۔۔ سائنس میں بجلی اور مقناطیسیت کا استعمال عام ہے ۔۔۔ پر کیا کبھی کسی نے انہیں دیکھا ہے ۔۔۔؟ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کے بارے میں بھی اب تک کلّی یا مکمل جانکاری حاصل نہیں کی جا سکی ۔۔۔ موت کو زندگی کا الٹ قرار دینا دراصل اس حقیقت سے رو گردانی ہے جیسا کہ موت کے وجود سے انکار ۔۔۔
موت زندگی کا الٹ نہیں ۔۔۔ بلکہ دراصل یہ زندگی کی غیر موجودگی کی علامت ہے ۔۔۔
پروفیسر صاحب ۔۔۔ آپ مجھے یہ بتائیں کہ کیا آپ اپنے طالب علموں کو یہ پڑھاتے ہیں کہ انسان کی نمو بندر سے ہوئی ہے ۔۔۔؟
پروفیسر: اگر تمہارا اشارہ انسانی نمو کے تطویری عمل کی طرف ہے تو بالکل میں یہ درس دیتا ہوں ۔۔۔
طالب علم: سر ۔۔۔ کیا آپ نے اس تطویری عمل کو ہوتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔۔۔؟
(اس بات کا ادراک کرتے ہوئے کہ یہ بحث کیا رخ اختیار کر رہی ہے ۔۔ پروفیسر نے ایک مسکراہٹ کے ساتھ انکار میں اپنا سر ہلا دیا)
طالب علم اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بولا: اور جب کسی نے انسانی افزائش میں تغیرات کےعمل کو رو پذیر ہوتے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا اور نہ ہی کوئی یہ بتا سکتا ہے کہ اس جاری عمل کا اختتام کیا ہو گا ۔۔۔ تو سر کیا آپ ایک ایسا فلسفہ نہیں پڑھا رہے جو کہ آپ کی اپنی ایک ذاتی رائے ہے ۔۔۔؟ اور پھر کیا آپ ایک سائنسدان کے بجائے ایک مبلغ نہیں ہیں جو اپنے ذاتی عقائد کی تبلیغ کر رہے ہیں ۔۔۔؟
(پروفیسر خاموش ۔۔ کلاس میں ہر کوئی اپنے تمام تر حواس مرکوز کیئے ہوئے ہمہ تن گوش)
طالب علم: کیا حاضرین میں سے کسی نے کبھی پروفیسر صاحب کا دماغ دیکھا ہے ۔۔۔؟
(تمام حاضرین کی ہنسی ہال میں گونج گئی)
طالب علم: کیا آپ حاضرین میں کوئی ایسا ہے جس نے پروفیسر صاحب کے دماغ کو بولتے سنا ہے ۔۔؟ اسے محسوس کیا ہے ۔۔؟ چھوا ۔۔ سونگھا یا چکھا ہے ۔۔۔؟
مجھے نہیں لگتا کہ ایسا کوئی ایک شخص بھی ہو گا ۔۔۔ لہذا کیا پھر سائنس کے تجربات اور مشاہدات کے اصولوں کی روشنی میں سائنس یہ کہے گی کہ آپ میں دماغ ہی نہیں ہے ۔۔۔؟
(پروفیسر سمیت تمام حاضرین کی ہنسی گونجی)
سر تمام تر احترام کے ساتھ ۔۔۔ میرا یہ سوال ہے کہ پھر ہم آپ کے لیکچرز پر کیونکر بھروسہ کریں ۔۔۔؟
پروفیسر: میرا خیال ہے کہ تمہارے پاس میرے لیکچرز پر یقین کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ۔۔۔
طالب علم: بالکل سر ۔۔۔ اسی طرح ہمیں خدا اوراس پر ایمان کے درمیان جو ایک ربط ہے اس پر یقین کرنا پڑے گا ۔۔۔ اور یہی ایک ایسی چیز ہے جس نے کائنات کے تمام تر نظام کو زندہ بھی رکھا ہوا ہے اور اسے چلا بھی رہی ہے ۔۔۔۔!
(اقتباس)
اس اقتباس میں جس شاگرد کا ذکر ہے وہ غالبا البیرونی تھے۔
توحيد كا اقرار:
بسم الله الرحمان الرحيم¤ قل هو الله احد¤ الله الصمد¤ لم يلد و لم يولد¤ و لم يكن له كفوا احد¤
https://t.me/islamwitheman/793
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
طالب علم: آپ پھر غلطی پر ہیں سر ۔۔۔ اندھیرا بذاتِ خود کوئی چیز نہیں بلکہ یہ اصل میں کسی چیز کی غیر موجودگی کی دلیل ہے ۔۔۔ آپ روشنی کم ۔۔ معتدل ۔۔ زیادہ یا پھر انتہائی مقدار میں حاصل کر سکتے ہیں جو آنکھوں کو جھپکا دے ۔۔۔ لیکن اگر روشنی مستقل طور پر غائب ہو جائے تو پھر آپ کے پاس اس کا کوئی وجود نہیں ہو گا اور ایسی کیفیت کو ہم اندھیرا کہیں گے ۔۔۔ کیا میں نے ٹھیک کہا ۔۔۔؟
حقیقت میں اندھیرے کا اپنا کوئی وجود نہیں ۔۔۔ اگر اس کا اپنا کوئی وجود ہوتا تو آپ اس میں بھی کم زیادہ کی تمیز کر سکتے جیسے کم اندھیرا ۔۔۔ گہرا اندھیرا یا گھپ اندھیرا وغیرہ وغیرہ جیسا کہ عام بول چال میں کہا جاتا ہے ۔۔۔ درست ۔۔۔؟
پروفیسر: ٹھیک ۔۔۔ تو پھر تم اس سے کیا ثابت کرنا چاہتے ہو ۔۔۔؟
طالب علم: سر ۔۔۔ میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کے فلسفے کی اساس ہی خامیوں پر مبنی ہے ۔۔۔ آپ ہر چیز کی دوہری حیثیت پر یقین رکھتے ہیں ۔۔۔ آپ کے مطابق اگر ایک چیز زندگی ہے تو وہیں دوسری موت ۔۔۔ ایک اچھا خدا اور ایک بُرا ۔۔۔ اور خدا کی ذات پر آپ کا نظریہ ایسے ہے جیسے یہ کوئی ایسی چیز ہو جس کی حد ہو یا جس کی پیمائش کی جا سکتی ہو ۔۔۔
سر ۔۔۔ سائنس کسی انسان کی ذہنی سوچ کے بارے کوئی واضح توجیح پیش نہیں کر سکتی ۔۔۔ سائنس میں بجلی اور مقناطیسیت کا استعمال عام ہے ۔۔۔ پر کیا کبھی کسی نے انہیں دیکھا ہے ۔۔۔؟ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کے بارے میں بھی اب تک کلّی یا مکمل جانکاری حاصل نہیں کی جا سکی ۔۔۔ موت کو زندگی کا الٹ قرار دینا دراصل اس حقیقت سے رو گردانی ہے جیسا کہ موت کے وجود سے انکار ۔۔۔
موت زندگی کا الٹ نہیں ۔۔۔ بلکہ دراصل یہ زندگی کی غیر موجودگی کی علامت ہے ۔۔۔
پروفیسر صاحب ۔۔۔ آپ مجھے یہ بتائیں کہ کیا آپ اپنے طالب علموں کو یہ پڑھاتے ہیں کہ انسان کی نمو بندر سے ہوئی ہے ۔۔۔؟
پروفیسر: اگر تمہارا اشارہ انسانی نمو کے تطویری عمل کی طرف ہے تو بالکل میں یہ درس دیتا ہوں ۔۔۔
طالب علم: سر ۔۔۔ کیا آپ نے اس تطویری عمل کو ہوتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔۔۔؟
(اس بات کا ادراک کرتے ہوئے کہ یہ بحث کیا رخ اختیار کر رہی ہے ۔۔ پروفیسر نے ایک مسکراہٹ کے ساتھ انکار میں اپنا سر ہلا دیا)
طالب علم اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بولا: اور جب کسی نے انسانی افزائش میں تغیرات کےعمل کو رو پذیر ہوتے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا اور نہ ہی کوئی یہ بتا سکتا ہے کہ اس جاری عمل کا اختتام کیا ہو گا ۔۔۔ تو سر کیا آپ ایک ایسا فلسفہ نہیں پڑھا رہے جو کہ آپ کی اپنی ایک ذاتی رائے ہے ۔۔۔؟ اور پھر کیا آپ ایک سائنسدان کے بجائے ایک مبلغ نہیں ہیں جو اپنے ذاتی عقائد کی تبلیغ کر رہے ہیں ۔۔۔؟
(پروفیسر خاموش ۔۔ کلاس میں ہر کوئی اپنے تمام تر حواس مرکوز کیئے ہوئے ہمہ تن گوش)
طالب علم: کیا حاضرین میں سے کسی نے کبھی پروفیسر صاحب کا دماغ دیکھا ہے ۔۔۔؟
(تمام حاضرین کی ہنسی ہال میں گونج گئی)
طالب علم: کیا آپ حاضرین میں کوئی ایسا ہے جس نے پروفیسر صاحب کے دماغ کو بولتے سنا ہے ۔۔؟ اسے محسوس کیا ہے ۔۔؟ چھوا ۔۔ سونگھا یا چکھا ہے ۔۔۔؟
مجھے نہیں لگتا کہ ایسا کوئی ایک شخص بھی ہو گا ۔۔۔ لہذا کیا پھر سائنس کے تجربات اور مشاہدات کے اصولوں کی روشنی میں سائنس یہ کہے گی کہ آپ میں دماغ ہی نہیں ہے ۔۔۔؟
(پروفیسر سمیت تمام حاضرین کی ہنسی گونجی)
سر تمام تر احترام کے ساتھ ۔۔۔ میرا یہ سوال ہے کہ پھر ہم آپ کے لیکچرز پر کیونکر بھروسہ کریں ۔۔۔؟
پروفیسر: میرا خیال ہے کہ تمہارے پاس میرے لیکچرز پر یقین کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ۔۔۔
طالب علم: بالکل سر ۔۔۔ اسی طرح ہمیں خدا اوراس پر ایمان کے درمیان جو ایک ربط ہے اس پر یقین کرنا پڑے گا ۔۔۔ اور یہی ایک ایسی چیز ہے جس نے کائنات کے تمام تر نظام کو زندہ بھی رکھا ہوا ہے اور اسے چلا بھی رہی ہے ۔۔۔۔!
(اقتباس)
اس اقتباس میں جس شاگرد کا ذکر ہے وہ غالبا البیرونی تھے۔
توحيد كا اقرار:
بسم الله الرحمان الرحيم¤ قل هو الله احد¤ الله الصمد¤ لم يلد و لم يولد¤ و لم يكن له كفوا احد¤
https://t.me/islamwitheman/793
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
⭕خدا پر ان دیکھا یقین(حصہ اول)⭕
Who believe in the unseen. Quran 02:03
پروفیسر: بیٹا تم ایک مسلمان ہو ۔۔۔ کیا میں نے ٹھیک کہا۔۔۔؟
طالب علم: جی سر ۔۔۔
پروفیسر: تو پھر تم خدا پر یقین رکھتے ہو ۔۔۔؟
طالب علم: بالکل جناب ۔۔۔
پروفیسر: کیا خدا ایک اچھی ہستی…
Who believe in the unseen. Quran 02:03
پروفیسر: بیٹا تم ایک مسلمان ہو ۔۔۔ کیا میں نے ٹھیک کہا۔۔۔؟
طالب علم: جی سر ۔۔۔
پروفیسر: تو پھر تم خدا پر یقین رکھتے ہو ۔۔۔؟
طالب علم: بالکل جناب ۔۔۔
پروفیسر: کیا خدا ایک اچھی ہستی…
💓 ازدواج (حصہ اول) 💗
خدا نے انسان کو باقی مخلوقات سے تفکر وتعقل و تہذیب کی بنیاد پر ممتاز قرار دیکر اشرف المخلوقات اور بلند مرتبہ خلق کیا اور اخلاق و تہذیب کے اوج و کمال تک پہنچنے کو اسکا ھدف خلقت معین کیا.
اگر ہم ایک اور زاویہ نگاہ سے دیکھیں تو انسان کو معاشرتی حیوان سے تعبیر کیا گیا ہے یعنی وہ معاشرتی اور گروھی زندگی گزارنا چاہتا ہے اور اگر اسی معاشرتی زندگی میں انسان اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دے اور آسمانی قوانین کی پابندی نہ کرے تو ہوسکتا ہے کہ بہت ہی متمدن ہوجائے اور بہترین وسائل حیات کو بروئے کار لائے مگر وہ ایک ایسا منہ چھوٹ حیوان ہوگا جو معاشرے میں فتنہ وفساد ہی پھیلائے گا.
طبیعی اور فطری لحاظ سے انسان اکیلا نہیں رہ سکتا, اسکے اندر بہترین اور پرسکون زندگی گزارنے کیلیے خدا نے کسی کی ہمراہی کی خواہش ودیعت کی ہے تاکہ وہ اپنے انفرادی اور اجتماعی معاملات کو احسن طریقے سے انجام دے سکے.
چونکہ انسانوں اور حیوانوں میں بہت سے غرائز مماثلت رکھتے ہیں جیسے کھانا, پینا, سونا, اپنی خواہشات کو پورا کرنا اور اپنی نسل کو بڑھانا. خدا نے ان ضروریات کو پورا کرنے کیلیے الہی قوانین و ضوابط بھی وضع کیے ہیں جن میں سے ایک "ازدواج" ہے.دیکھا گیا ہے کہ وہ لوگ جو فطری غریزہ کو غیر فطری انداز سے پورا کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں خصوصا جیسے مغربی ممالک اور ادیان غیر الہیہ سے تعلق رکھنے والے, اسی وجہ سے ان معاشروں میں مختلف مسائل مثلا خطرناک امراض اور اخلاقی گراوٹ تیزی سے رشد پا رہے ہیں.
دین اسلام نے اسلامی خانوادے کو بہت اہمیت دی ہے کیونکہ مندرجہ بالا اس فطری خواھش کو پورا کرنے کا طبیعی, شرعی اور فطری طریقہ تشکیل خاندان ہے.
اور ایک ایسا گھرانہ جسکا آغاز اسلامی رو سے کیا جائے تو بہت با برکت قرار پاتا ہے. چونکہ ایک اچھی فیملی ایک اچھے معاشرے کیلیے اینٹ اور بنیاد کی مانند ہے, اور اگر ہم بنیاد صحیح نہیں رکھیں گے تو عمارت کس طرح صحیح تعمیر کی جا سکے گی؟
ازدواج گھرانے کی بنیاد کا پہلا قدم ہے.بحث کو طوالت سے بچانے کیلیے ہم نکات کی جانب متوجہ ہوتے ہیں کہ اچھی فیملی کے لیے کیا اھم و مھم ہے..
■ازدواج کیوں کریں؟
♦معاشرہ سازی:
کیونکہ ایک اسلامی گھر ہی اسلامی معاشرے کی بنیاد ہے.
♦سکون قلب اور ذہنی آسودگی:
وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ (سورہ روم آیۃ 21)
"اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ تمہارے لیے تمہیں میں سے بیویاں پیدا کیں تاکہ ان کے پاس چین سے رہو اور تمہارے درمیان محبت اور مہربانی پیدا کر دی"
رسولخدا(ص): زوجہ سے عشق و عاشقی مومن کی سرگرمی ہے.
♦شادی سے ناداری کا خاتمہ:
وَأَنكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ ۚ إِن يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ ۗ (سورہ نور آیۃ 32)
"اور جو تم میں مجرّد ہوں اور جو تمہارے غلام اور لونڈیاں نیک ہوں سب کے نکاح کرا دو، اگر وہ مفلس ہوں گے تو اللہ اپنے فضل سے انہیں غنی کر دے گا"
رسولخدا(ص): جس شخص نے اہل و عیال کے اخراجات کے خوف سے ازدواج کو ترک کیا, اس نے خدا سے بدظنی کی.
♦بقائے نسل انسانیت:
رسولخدا(ص) :ازدواج کرو اور نسل انسانی کو آگے بڑھاؤ, روز محشر میں تمہاری کثرت پر تمام امتوں کے درمیان فخر کرونگا حتی سقط شدہ بچہ پر بھی.
♦فطری ضرورت کی تکمیل:
هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ ۗ (سورہ بقرہ آیۃ 187)
"وہ (عورتیں ) تمہارا لباس ہیں اور تم(مرد) انکا لباس ہو"
❗کنوارے کے رزائل ❗
رسولخدا(ص):
⬅پست ترین شخص وہ ہے جو شادی کیے بغیر مرجائے.
⬅اہل جہنم میں اکثر تعداد غیر شادی شدہ افراد کی ہوگی.
⬅بد ترین افراد غیر شادی شدہ ہیں کیونکہ یہ شیطان کے بھائی ہیں.
❗ازدواج کے فضائل ❗
رسولخدا(ص):
⬅اللہ کے نزدیک محبوب ترین گھر وہ ہے جو اسلام کیساتھ ازدواج سے آباد ہو.
⬅اسلام کے بعد اس سے زیادہ کوئی فائدہ مند چیز نہیں ہے کہ کسی شخص کی ایسی بیوی ہو کہ جب وہ اسکی طرف دیکھے تو اسے سرور ملے.
امام صادق علیہ السلام۔۔
⬅شادی شدہ کی دو رکعت غیر شادی شدہ کی 70 رکعات سے بہتر ہے.
⬅صرف شادی شدہ ہی اپنا دامن پاک رکھ سکتے ہیں.
ہمارے معاشرے کا المیہ کم علمی نہیں بلکہ کم عملی ہے, اگر ہم سنجیدگی سے ان باتوں پر غور کریں تو ایک صالح اور خدا ترس معاشرہ وجود میں لانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں اسی طرح عقد کے معاملات کو آسان بنائیں اور شوہر اور بیوی آپس میں حقوق وفرائض کی رعایت کریں تاکہ پاکیزہ نسل پروان چڑھا سکیں۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/796
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
خدا نے انسان کو باقی مخلوقات سے تفکر وتعقل و تہذیب کی بنیاد پر ممتاز قرار دیکر اشرف المخلوقات اور بلند مرتبہ خلق کیا اور اخلاق و تہذیب کے اوج و کمال تک پہنچنے کو اسکا ھدف خلقت معین کیا.
اگر ہم ایک اور زاویہ نگاہ سے دیکھیں تو انسان کو معاشرتی حیوان سے تعبیر کیا گیا ہے یعنی وہ معاشرتی اور گروھی زندگی گزارنا چاہتا ہے اور اگر اسی معاشرتی زندگی میں انسان اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دے اور آسمانی قوانین کی پابندی نہ کرے تو ہوسکتا ہے کہ بہت ہی متمدن ہوجائے اور بہترین وسائل حیات کو بروئے کار لائے مگر وہ ایک ایسا منہ چھوٹ حیوان ہوگا جو معاشرے میں فتنہ وفساد ہی پھیلائے گا.
طبیعی اور فطری لحاظ سے انسان اکیلا نہیں رہ سکتا, اسکے اندر بہترین اور پرسکون زندگی گزارنے کیلیے خدا نے کسی کی ہمراہی کی خواہش ودیعت کی ہے تاکہ وہ اپنے انفرادی اور اجتماعی معاملات کو احسن طریقے سے انجام دے سکے.
چونکہ انسانوں اور حیوانوں میں بہت سے غرائز مماثلت رکھتے ہیں جیسے کھانا, پینا, سونا, اپنی خواہشات کو پورا کرنا اور اپنی نسل کو بڑھانا. خدا نے ان ضروریات کو پورا کرنے کیلیے الہی قوانین و ضوابط بھی وضع کیے ہیں جن میں سے ایک "ازدواج" ہے.دیکھا گیا ہے کہ وہ لوگ جو فطری غریزہ کو غیر فطری انداز سے پورا کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں خصوصا جیسے مغربی ممالک اور ادیان غیر الہیہ سے تعلق رکھنے والے, اسی وجہ سے ان معاشروں میں مختلف مسائل مثلا خطرناک امراض اور اخلاقی گراوٹ تیزی سے رشد پا رہے ہیں.
دین اسلام نے اسلامی خانوادے کو بہت اہمیت دی ہے کیونکہ مندرجہ بالا اس فطری خواھش کو پورا کرنے کا طبیعی, شرعی اور فطری طریقہ تشکیل خاندان ہے.
اور ایک ایسا گھرانہ جسکا آغاز اسلامی رو سے کیا جائے تو بہت با برکت قرار پاتا ہے. چونکہ ایک اچھی فیملی ایک اچھے معاشرے کیلیے اینٹ اور بنیاد کی مانند ہے, اور اگر ہم بنیاد صحیح نہیں رکھیں گے تو عمارت کس طرح صحیح تعمیر کی جا سکے گی؟
ازدواج گھرانے کی بنیاد کا پہلا قدم ہے.بحث کو طوالت سے بچانے کیلیے ہم نکات کی جانب متوجہ ہوتے ہیں کہ اچھی فیملی کے لیے کیا اھم و مھم ہے..
■ازدواج کیوں کریں؟
♦معاشرہ سازی:
کیونکہ ایک اسلامی گھر ہی اسلامی معاشرے کی بنیاد ہے.
♦سکون قلب اور ذہنی آسودگی:
وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ (سورہ روم آیۃ 21)
"اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ تمہارے لیے تمہیں میں سے بیویاں پیدا کیں تاکہ ان کے پاس چین سے رہو اور تمہارے درمیان محبت اور مہربانی پیدا کر دی"
رسولخدا(ص): زوجہ سے عشق و عاشقی مومن کی سرگرمی ہے.
♦شادی سے ناداری کا خاتمہ:
وَأَنكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ ۚ إِن يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ ۗ (سورہ نور آیۃ 32)
"اور جو تم میں مجرّد ہوں اور جو تمہارے غلام اور لونڈیاں نیک ہوں سب کے نکاح کرا دو، اگر وہ مفلس ہوں گے تو اللہ اپنے فضل سے انہیں غنی کر دے گا"
رسولخدا(ص): جس شخص نے اہل و عیال کے اخراجات کے خوف سے ازدواج کو ترک کیا, اس نے خدا سے بدظنی کی.
♦بقائے نسل انسانیت:
رسولخدا(ص) :ازدواج کرو اور نسل انسانی کو آگے بڑھاؤ, روز محشر میں تمہاری کثرت پر تمام امتوں کے درمیان فخر کرونگا حتی سقط شدہ بچہ پر بھی.
♦فطری ضرورت کی تکمیل:
هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ ۗ (سورہ بقرہ آیۃ 187)
"وہ (عورتیں ) تمہارا لباس ہیں اور تم(مرد) انکا لباس ہو"
❗کنوارے کے رزائل ❗
رسولخدا(ص):
⬅پست ترین شخص وہ ہے جو شادی کیے بغیر مرجائے.
⬅اہل جہنم میں اکثر تعداد غیر شادی شدہ افراد کی ہوگی.
⬅بد ترین افراد غیر شادی شدہ ہیں کیونکہ یہ شیطان کے بھائی ہیں.
❗ازدواج کے فضائل ❗
رسولخدا(ص):
⬅اللہ کے نزدیک محبوب ترین گھر وہ ہے جو اسلام کیساتھ ازدواج سے آباد ہو.
⬅اسلام کے بعد اس سے زیادہ کوئی فائدہ مند چیز نہیں ہے کہ کسی شخص کی ایسی بیوی ہو کہ جب وہ اسکی طرف دیکھے تو اسے سرور ملے.
امام صادق علیہ السلام۔۔
⬅شادی شدہ کی دو رکعت غیر شادی شدہ کی 70 رکعات سے بہتر ہے.
⬅صرف شادی شدہ ہی اپنا دامن پاک رکھ سکتے ہیں.
ہمارے معاشرے کا المیہ کم علمی نہیں بلکہ کم عملی ہے, اگر ہم سنجیدگی سے ان باتوں پر غور کریں تو ایک صالح اور خدا ترس معاشرہ وجود میں لانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں اسی طرح عقد کے معاملات کو آسان بنائیں اور شوہر اور بیوی آپس میں حقوق وفرائض کی رعایت کریں تاکہ پاکیزہ نسل پروان چڑھا سکیں۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/796
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
💗 ازدواج ( حصہ دوم) 💗
ہمارے معاشرے کا المیہ کم علمی نہیں بلکہ کم عملی ہے, اگر ہم سنجیدگی سے ان باتوں پر غور کریں تو ایک صالح اور خدا ترس معاشرہ وجود میں لانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں اسی طرح عقد کے معاملات کو آسان بنائیں اور شوہر اور بیوی آپس میں حقوق…
ہمارے معاشرے کا المیہ کم علمی نہیں بلکہ کم عملی ہے, اگر ہم سنجیدگی سے ان باتوں پر غور کریں تو ایک صالح اور خدا ترس معاشرہ وجود میں لانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں اسی طرح عقد کے معاملات کو آسان بنائیں اور شوہر اور بیوی آپس میں حقوق…
💗 ازدواج ( حصہ دوم) 💗
ہمارے معاشرے کا المیہ کم علمی نہیں بلکہ کم عملی ہے, اگر ہم سنجیدگی سے ان باتوں پر غور کریں تو ایک صالح اور خدا ترس معاشرہ وجود میں لانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں اسی طرح عقد کے معاملات کو آسان بنائیں اور شوہر اور بیوی آپس میں حقوق وفرائض کی رعایت کریں تاکہ پاکیزہ نسل پروان چڑھا سکیں۔
💓تقریب نکاح کے آداب:
♦نمود و نمائش سے پرہیز کریں.
♦سادگی اپنائیں.
♦مخلوط محفل نہ ہو.
♦تصاویر, عکسبندی اور فلم بندی سے بچا جائے.
♦عزیز و اقارب اور اہم شخصیات کو مدعو کریں .
♦وقت رخصتی دلہن اور دولہا کو نصیحتیں کریں اور دعائیں دیں۔
❗بیوی کے فرائض یا شوہر کے حقوق:
معصومؑ: عورت اپنے پروردگار کا حق ادا نہیں کر سکتی جب تک کہ وہ اپنے شوہر کے حقوق ادا نہ کرے.
♦اسکی بغیر اجازت گھر سے نہ نکلے.
♦اسکے عیوب کی پردہ پوشی کرے اور اسکی غیبت نہ کرے.
♦اسکی اختیارسےباہر فرمائش نہ کرے.
♦اپنے آپکو نامحرموں سے بچائے.
♦اسکو اچھائی سے یاد کرے اور اسکے لیے دعائیں کرے.
♦شوہر محتاج ہو تو اسے حقارت سے نہ دیکھے.
♦خود کو فقط اسی کیلیے آراستہ کرے اور اسکی خواہش کا احترام کرے.
❗شوہر کے فرائض یا بیوی کے حقوق:
امام صادقؑ۔۔
"خدا اس شخص پر رحمت نازل کرتا ہے جو اپنے اور اپنی بیوی کے درمیان اچھا رابطہ قائم کرتا ہےکیونکہ خدا نے مرد کو اختیار دیا ہے اور اسکو سرپرست بنایا ہے."
♦بیوی کو ضروریات زندگی کا سامان مہیا کرے.
♦اسے احکام شریعہ سکھائے.
♦ترش روئی اور سختی سے پیش نہ آئے.
♦خرچ کرکے احسان نہ جتائے.
♦سفر سے واپسی میں بیوی کیلیے تحفہ لائے.
♦بلا وجہ ناراض نہ ہو اور محبت سے پیش آئے.
اگر ہم ان ہی مندرجہ بالا الہی آیات و احادیث اور اصول و قوانین کی رعایت کریں گے تو اپنے مقصد خلقت یعنی اخلاقی کمال کو حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرسکیں گے. اور اسی طرح اپنے خانوادہ کو بھی معاشرےکیلیے بہترین ,کارمند اور مفید ثابت کرسکیں گے.
ہمیں چاہیے کہ معاشرے کی بےجا اور فرسودہ روایات و رسوم و رواج کا خاتمہ کریں اور اس پرفتن و پر آشوب دور میں ازدواج کے وسائل میں آسانی پیدا کریں تاکہ نیکی اور اسلامی اقدار کو فروغ ملے اور برائی و فحاشیت کا معاشرے سے خاتمہ ہو. اور امام زمانہؑ کے ظہور میں تعجیل کیلیے بہترین زمینہ سازی فراہم کی جاسکے.
"آپ سب کی نیک تمنائیں اور پرخلوص دعائیں ہماری نئی شروع ہونے والی زندگی میں مزید محبت وبرکت کا باعث بنیں گی."
تحریر بشکریہ: ر۔ ملکوتی
📚 کتب کے حوالہ جات:
♦القرآن الکریم
♦تہذیب زندگی (مولانا شہنشاہ نقوی)
♦دولہا اور دلہن(محسن ماجرا جو)
♦تنظیم خانوادہ(فارسی تحقیق)
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 گھر کو نمونہ جنت بنانے کے موضوع پر مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں..
❄ گھر نمونہ جنت
https://t.me/islamwitheman/527
💞 میاں بیوی کی محبت کا تقاضا
https://t.me/islamwitheman/295
🌹 عورتوں کی ذمہ داری (حصہ اول)
https://t.me/islamwitheman/243
🌹 عورتوں کی ذمہ داری (حصہ دوم)
https://t.me/islamwitheman/244
🌹 عورتوں کی ذمہ داری (حصہ سوم)
https://t.me/islamwitheman/245
🌹 خاندان کی سرپرستی
https://t.me/islamwitheman/241
🌹 کامیاب ازدواجی زندگی
https://t.me/islamwitheman/200
🔷 ساس اور بہو
https://t.me/islamwitheman/199
🔷 عقلمند بیوی
https://t.me/islamwitheman/197
🔷 خاوند کی سوچ بیوی کے لئے
https://t.me/islamwitheman/193
💕 خاوند اور بیوی
https://t.me/islamwitheman/189
📝 انداز بیان و سوچ
https://t.me/islamwitheman/158
🔷 کامیاب ازدواجی زندگی کا راز
https://t.me/islamwitheman/136
🔷 بیوی.....
https://t.me/islamwitheman/38
💕 شریک حیات کے حقوق
https://t.me/islamwitheman/529
💗 ازدواج (حصہ اول)
https://t.me/islamwitheman/794
💗 ازدواج ( حصہ دوم)
https://t.me/islamwitheman/796
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ہمارے معاشرے کا المیہ کم علمی نہیں بلکہ کم عملی ہے, اگر ہم سنجیدگی سے ان باتوں پر غور کریں تو ایک صالح اور خدا ترس معاشرہ وجود میں لانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں اسی طرح عقد کے معاملات کو آسان بنائیں اور شوہر اور بیوی آپس میں حقوق وفرائض کی رعایت کریں تاکہ پاکیزہ نسل پروان چڑھا سکیں۔
💓تقریب نکاح کے آداب:
♦نمود و نمائش سے پرہیز کریں.
♦سادگی اپنائیں.
♦مخلوط محفل نہ ہو.
♦تصاویر, عکسبندی اور فلم بندی سے بچا جائے.
♦عزیز و اقارب اور اہم شخصیات کو مدعو کریں .
♦وقت رخصتی دلہن اور دولہا کو نصیحتیں کریں اور دعائیں دیں۔
❗بیوی کے فرائض یا شوہر کے حقوق:
معصومؑ: عورت اپنے پروردگار کا حق ادا نہیں کر سکتی جب تک کہ وہ اپنے شوہر کے حقوق ادا نہ کرے.
♦اسکی بغیر اجازت گھر سے نہ نکلے.
♦اسکے عیوب کی پردہ پوشی کرے اور اسکی غیبت نہ کرے.
♦اسکی اختیارسےباہر فرمائش نہ کرے.
♦اپنے آپکو نامحرموں سے بچائے.
♦اسکو اچھائی سے یاد کرے اور اسکے لیے دعائیں کرے.
♦شوہر محتاج ہو تو اسے حقارت سے نہ دیکھے.
♦خود کو فقط اسی کیلیے آراستہ کرے اور اسکی خواہش کا احترام کرے.
❗شوہر کے فرائض یا بیوی کے حقوق:
امام صادقؑ۔۔
"خدا اس شخص پر رحمت نازل کرتا ہے جو اپنے اور اپنی بیوی کے درمیان اچھا رابطہ قائم کرتا ہےکیونکہ خدا نے مرد کو اختیار دیا ہے اور اسکو سرپرست بنایا ہے."
♦بیوی کو ضروریات زندگی کا سامان مہیا کرے.
♦اسے احکام شریعہ سکھائے.
♦ترش روئی اور سختی سے پیش نہ آئے.
♦خرچ کرکے احسان نہ جتائے.
♦سفر سے واپسی میں بیوی کیلیے تحفہ لائے.
♦بلا وجہ ناراض نہ ہو اور محبت سے پیش آئے.
اگر ہم ان ہی مندرجہ بالا الہی آیات و احادیث اور اصول و قوانین کی رعایت کریں گے تو اپنے مقصد خلقت یعنی اخلاقی کمال کو حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرسکیں گے. اور اسی طرح اپنے خانوادہ کو بھی معاشرےکیلیے بہترین ,کارمند اور مفید ثابت کرسکیں گے.
ہمیں چاہیے کہ معاشرے کی بےجا اور فرسودہ روایات و رسوم و رواج کا خاتمہ کریں اور اس پرفتن و پر آشوب دور میں ازدواج کے وسائل میں آسانی پیدا کریں تاکہ نیکی اور اسلامی اقدار کو فروغ ملے اور برائی و فحاشیت کا معاشرے سے خاتمہ ہو. اور امام زمانہؑ کے ظہور میں تعجیل کیلیے بہترین زمینہ سازی فراہم کی جاسکے.
"آپ سب کی نیک تمنائیں اور پرخلوص دعائیں ہماری نئی شروع ہونے والی زندگی میں مزید محبت وبرکت کا باعث بنیں گی."
تحریر بشکریہ: ر۔ ملکوتی
📚 کتب کے حوالہ جات:
♦القرآن الکریم
♦تہذیب زندگی (مولانا شہنشاہ نقوی)
♦دولہا اور دلہن(محسن ماجرا جو)
♦تنظیم خانوادہ(فارسی تحقیق)
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 گھر کو نمونہ جنت بنانے کے موضوع پر مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں..
❄ گھر نمونہ جنت
https://t.me/islamwitheman/527
💞 میاں بیوی کی محبت کا تقاضا
https://t.me/islamwitheman/295
🌹 عورتوں کی ذمہ داری (حصہ اول)
https://t.me/islamwitheman/243
🌹 عورتوں کی ذمہ داری (حصہ دوم)
https://t.me/islamwitheman/244
🌹 عورتوں کی ذمہ داری (حصہ سوم)
https://t.me/islamwitheman/245
🌹 خاندان کی سرپرستی
https://t.me/islamwitheman/241
🌹 کامیاب ازدواجی زندگی
https://t.me/islamwitheman/200
🔷 ساس اور بہو
https://t.me/islamwitheman/199
🔷 عقلمند بیوی
https://t.me/islamwitheman/197
🔷 خاوند کی سوچ بیوی کے لئے
https://t.me/islamwitheman/193
💕 خاوند اور بیوی
https://t.me/islamwitheman/189
📝 انداز بیان و سوچ
https://t.me/islamwitheman/158
🔷 کامیاب ازدواجی زندگی کا راز
https://t.me/islamwitheman/136
🔷 بیوی.....
https://t.me/islamwitheman/38
💕 شریک حیات کے حقوق
https://t.me/islamwitheman/529
💗 ازدواج (حصہ اول)
https://t.me/islamwitheman/794
💗 ازدواج ( حصہ دوم)
https://t.me/islamwitheman/796
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
❄ گھر نمونہ جنت ❄
ایک امیر عورت پیر صاحب کے پاس گئی اور کہا کہ پیر صاحب مجھے کوئی ایسا تعویذ دیں کہ میرا شوہر میری ہر بات مانے جو بھی میں کہوں وہ میرے تابع ھو جائے.
ییر صاحب بھی دور اندیش انسان تھے انھوں نے اس عورت کی بات غور سے سنی، اور کہا کہ یہ عمل تو…
ایک امیر عورت پیر صاحب کے پاس گئی اور کہا کہ پیر صاحب مجھے کوئی ایسا تعویذ دیں کہ میرا شوہر میری ہر بات مانے جو بھی میں کہوں وہ میرے تابع ھو جائے.
ییر صاحب بھی دور اندیش انسان تھے انھوں نے اس عورت کی بات غور سے سنی، اور کہا کہ یہ عمل تو…
⭕ حضرت موسٰیؑ اور گڈریا ⭕
حضرت موسٰیؑ ایک دن جنگل میں جا رہے تھے آپ نے دیکھا کہ ایک بھیڑ بکریاں چرانے والا (گڈریا) دست بستہ کھڑا ہے اور بڑے شوق سے کہہ رہا ہے کہ۔۔
"اے خدا! میرے پاس آ کر بیٹھ تاکہ میں تیری جوتی سیوں، تیرے سر میں کنگھی کروں، تیری جوئیں ماروں، میں تیرے ہاتھ پاؤں دھوؤں، تجھے نہلاؤں، صاف ستھرے کپڑے پہناؤں اور تجھ پر قربان ہو جاؤں،
اگر تو میرے پاس آئے تو میں اپنا کمبل بچھا کر تجھے اس پر بٹھاؤں اور بکریوں کا تازہ تازہ گرم گرم دودھ تجھے پلاؤں۔
اگر تو بیمار ہو جائے تو میں اپنوں کی طرح تیری خدمت کروں، تیرے ہاتھ چوموں، تیرے پاؤں دبا کر تجھے میٹھی نیند سلاؤں. جب صبح خواب استراحت سے بیدار ہو تو تیرا منہ دھلاؤں۔ تیرے کھانے کیلئے قورمہ، قلیا، پلاؤ، پنیر کوفتے، مکھن ملائی اور کھیر تیار کراؤں، تجھے اپنے ہاتھ سے کھلاؤں.
اگر تو مجھے اپنا گھر دکھا دے تو میں تازندگی صبح و شام تیرے ہاں دودھ اور مکھن پہنچا دیا کروں۔ میری تمام بکریاں اور بھیڑیں تجھ پر قربان ہوں۔"
حضرت موسٰیؑ نے اس کی یہ مستانہ باتیں سنیں اور قریب جا کر پوچھا کہ تو کس سے یہ باتیں کر رہا ہے، تو کس کا میزبان بننا چاہتا ہے، تجھے کس کو اپنے ہاں دعوت پر بلانے کی اس قدر آرزو ہے؟
گڈریا بولا:
"میں اس سے ہمکلام ہو رہا ہوں جو میرا پیدا کرنے والا ہے، جس نے مجھے بولنے کے لیے زبان دی ہے، مجھے یہ بھیڑ بکریاں عطا کیں، جن کے دودھ کو میں اپنی غذا اور جن کی پشم سے میں اپنا لباس بناتا ہوں اور جس نے مجھے یہ چیزیں دی ہیں میں اسی کے دیئے ہوئے سے اس کی دعوت کرنا چاہتا ہوں۔
اگر وہ مجھ غریب کے گھر تشریف لے آئے تو میں خوشی سے پھولے نہ سماؤں،
میری آبرو بڑھ جائے گی اور اس کی شان میں کچھ فرق نہ آئے گا۔"
حضرت موسٰیؑ نے کہا:
گڈریے! تیرا کلام بڑا گستاخانہ ہے، تو خدا سے ایسی باتیں کر رہا ہے۔ وہ تو سب کا رازق ہے اسے کسی کھانے کی محتاجی نہیں ہے۔ نہ وہ تھکتا ہے اور نہ اسے نیند آتی ہے۔ تو اس کے پاؤں کیا دبائے گا تو کیا سمجھا کہ اس کا تیرے جیسا جسم ہے؟
جان لے اور یقین کر لے کہ اس کا کوئی جسم نہیں ہے۔ اس کے تیرے جیسے ہاتھ پاؤں نہیں ہیں وہ سب چیزوں سے بے نیاز ہے وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
وہی سب کا حاجت روا ہے۔ وہ تیرے پاس کمبل پر بیٹھ کر تیری بکریوں کا دودھ نہیں پی سکتا۔
بس ایسے بے ادبانہ کلام سے توبہ کر.
حضرت موسٰیؑ نے اس غریب گڈریے کو اس قدر دبایا کہ وہ بالکل سہم گیا اور کہنے لگا:
"اے موسٰیؑ! تو نے تو میری زبان بند کر دی ہے۔ میرا منہ سی دیا ہے اور پشیمانی پیدا کر کے میرا دل جلا دیا۔
پس وہ چیخ مار کر اوراپنے کپڑے پھاڑ کر ایک طرف جنگل کو نکل گیا اور نبئ وقت کا حکم سن کر اس نے اللہ سے اپنی شوق بھری ہمکلامی چھوڑ دی اور اپنا ارمان دل ہی دل میں دبا کر بیٹھ گیا۔
وہ گڈریا پڑھا لکھا آدمی تو نہ تھا کہ سوچ سمجھ کر شائستہ بات کرتا ہاں اس کے دل میں خدا کی محبت ضرور تھی اور وہ کمال شوق سے اسی کا اظہار کر رہا تھا خدا کو اس کی یہ ذوق و شوق کی باتیں پیاری لگتی تھیں۔ جب وہ ان سے رک گیا تو اللہ تعالی کو ناگوار معلوم ہوا۔
فوراً اللہ تعالیٰ نے اپنے کلیم (حضرت موسٰیؑ) کی طرف وحی بھیجی کہ تو نے میرے ایک محب کو مجھ سے جدا کر دیا ہے۔
"اے موسٰیؑ ہم نے تجھے اس لیے نبی بنایا تھا کہ تو بندوں کو ہم سے ملائے مگر تو نے تو اپنے فرض منصبی کو چھوڑ کر اور راہ اختیار کر لی۔ اے موسٰیؑ ہم نیتوں کو دیکھتے ہیں عملوں کو نہیں دیکھتے۔ ہماری نظر حال پر ہے قال پر نہیں۔ ہمیں دلی سوز کی قدر ہے لفظوں کا خیال نہیں۔
جا اور ہم سے جدا کردہ بندے کو پھر اپنے شغل میں لگا کہ ہم کو وہی محبوب ہے۔
حضرت موسٰیؑ یہ حکم الہیٰ سن کر فوراً واپس جنگل میں آئے اور بعد از تلاش بسیار کے بعد اس گڈریے کو ڈھونڈا اور کہا بھائی اپنی مناجات میں لگے رہو اور جو میں نے تمہیں روکا تھا اس کا کچھ خیال نہ کرو۔ تمہاری محبت اور سوز میں ڈوبی ہوئی باتیں اللہ تعالیٰ کو پیاری لگتی ہیں۔ اپنے شغل میں مصروف رہو اور مجھے معاف کر دو۔ میں تمہارے وظیفہ میں خلل انداز ہوا۔ اللہ تعالٰی نیتوں کو دیکھتا ہے، ظاہری اعمال پر اس کی نظر نہیں۔
(اقتباس)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزید پوسٹس۔۔۔
⭕ خدا کیسا ہے؟
https://t.me/islamwitheman/773
⭕ صفات باری تعالٰی
https://t.me/islamwitheman/774
⭕ عالم اور بڑھیا
https://t.me/islamwitheman/776
⭕ حجام اور گاہگ
https://t.me/islamwitheman/780
⭕ خدا پر ان دیکھا یقین(حصہ اول)
https://t.me/islamwitheman/793
⭕ خدا پر ان دیکھا یقین(حصہ دوم)
https://t.me/islamwitheman/794
⭕ ایمان اور یقین
https://t.me/islamwitheman/788
⭕ حضرت موسٰیؑ اور گڈریا
https://t.me/islamwitheman/799
🌷 موجبِ اخلاص چیزیں
https://t.me/islamwitheman/1104
⭕ عشقِ خدا
https://t.me/islamwitheman/1105
⭕ توحید
http://t.me/islamwitheman/1609
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
حضرت موسٰیؑ ایک دن جنگل میں جا رہے تھے آپ نے دیکھا کہ ایک بھیڑ بکریاں چرانے والا (گڈریا) دست بستہ کھڑا ہے اور بڑے شوق سے کہہ رہا ہے کہ۔۔
"اے خدا! میرے پاس آ کر بیٹھ تاکہ میں تیری جوتی سیوں، تیرے سر میں کنگھی کروں، تیری جوئیں ماروں، میں تیرے ہاتھ پاؤں دھوؤں، تجھے نہلاؤں، صاف ستھرے کپڑے پہناؤں اور تجھ پر قربان ہو جاؤں،
اگر تو میرے پاس آئے تو میں اپنا کمبل بچھا کر تجھے اس پر بٹھاؤں اور بکریوں کا تازہ تازہ گرم گرم دودھ تجھے پلاؤں۔
اگر تو بیمار ہو جائے تو میں اپنوں کی طرح تیری خدمت کروں، تیرے ہاتھ چوموں، تیرے پاؤں دبا کر تجھے میٹھی نیند سلاؤں. جب صبح خواب استراحت سے بیدار ہو تو تیرا منہ دھلاؤں۔ تیرے کھانے کیلئے قورمہ، قلیا، پلاؤ، پنیر کوفتے، مکھن ملائی اور کھیر تیار کراؤں، تجھے اپنے ہاتھ سے کھلاؤں.
اگر تو مجھے اپنا گھر دکھا دے تو میں تازندگی صبح و شام تیرے ہاں دودھ اور مکھن پہنچا دیا کروں۔ میری تمام بکریاں اور بھیڑیں تجھ پر قربان ہوں۔"
حضرت موسٰیؑ نے اس کی یہ مستانہ باتیں سنیں اور قریب جا کر پوچھا کہ تو کس سے یہ باتیں کر رہا ہے، تو کس کا میزبان بننا چاہتا ہے، تجھے کس کو اپنے ہاں دعوت پر بلانے کی اس قدر آرزو ہے؟
گڈریا بولا:
"میں اس سے ہمکلام ہو رہا ہوں جو میرا پیدا کرنے والا ہے، جس نے مجھے بولنے کے لیے زبان دی ہے، مجھے یہ بھیڑ بکریاں عطا کیں، جن کے دودھ کو میں اپنی غذا اور جن کی پشم سے میں اپنا لباس بناتا ہوں اور جس نے مجھے یہ چیزیں دی ہیں میں اسی کے دیئے ہوئے سے اس کی دعوت کرنا چاہتا ہوں۔
اگر وہ مجھ غریب کے گھر تشریف لے آئے تو میں خوشی سے پھولے نہ سماؤں،
میری آبرو بڑھ جائے گی اور اس کی شان میں کچھ فرق نہ آئے گا۔"
حضرت موسٰیؑ نے کہا:
گڈریے! تیرا کلام بڑا گستاخانہ ہے، تو خدا سے ایسی باتیں کر رہا ہے۔ وہ تو سب کا رازق ہے اسے کسی کھانے کی محتاجی نہیں ہے۔ نہ وہ تھکتا ہے اور نہ اسے نیند آتی ہے۔ تو اس کے پاؤں کیا دبائے گا تو کیا سمجھا کہ اس کا تیرے جیسا جسم ہے؟
جان لے اور یقین کر لے کہ اس کا کوئی جسم نہیں ہے۔ اس کے تیرے جیسے ہاتھ پاؤں نہیں ہیں وہ سب چیزوں سے بے نیاز ہے وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
وہی سب کا حاجت روا ہے۔ وہ تیرے پاس کمبل پر بیٹھ کر تیری بکریوں کا دودھ نہیں پی سکتا۔
بس ایسے بے ادبانہ کلام سے توبہ کر.
حضرت موسٰیؑ نے اس غریب گڈریے کو اس قدر دبایا کہ وہ بالکل سہم گیا اور کہنے لگا:
"اے موسٰیؑ! تو نے تو میری زبان بند کر دی ہے۔ میرا منہ سی دیا ہے اور پشیمانی پیدا کر کے میرا دل جلا دیا۔
پس وہ چیخ مار کر اوراپنے کپڑے پھاڑ کر ایک طرف جنگل کو نکل گیا اور نبئ وقت کا حکم سن کر اس نے اللہ سے اپنی شوق بھری ہمکلامی چھوڑ دی اور اپنا ارمان دل ہی دل میں دبا کر بیٹھ گیا۔
وہ گڈریا پڑھا لکھا آدمی تو نہ تھا کہ سوچ سمجھ کر شائستہ بات کرتا ہاں اس کے دل میں خدا کی محبت ضرور تھی اور وہ کمال شوق سے اسی کا اظہار کر رہا تھا خدا کو اس کی یہ ذوق و شوق کی باتیں پیاری لگتی تھیں۔ جب وہ ان سے رک گیا تو اللہ تعالی کو ناگوار معلوم ہوا۔
فوراً اللہ تعالیٰ نے اپنے کلیم (حضرت موسٰیؑ) کی طرف وحی بھیجی کہ تو نے میرے ایک محب کو مجھ سے جدا کر دیا ہے۔
"اے موسٰیؑ ہم نے تجھے اس لیے نبی بنایا تھا کہ تو بندوں کو ہم سے ملائے مگر تو نے تو اپنے فرض منصبی کو چھوڑ کر اور راہ اختیار کر لی۔ اے موسٰیؑ ہم نیتوں کو دیکھتے ہیں عملوں کو نہیں دیکھتے۔ ہماری نظر حال پر ہے قال پر نہیں۔ ہمیں دلی سوز کی قدر ہے لفظوں کا خیال نہیں۔
جا اور ہم سے جدا کردہ بندے کو پھر اپنے شغل میں لگا کہ ہم کو وہی محبوب ہے۔
حضرت موسٰیؑ یہ حکم الہیٰ سن کر فوراً واپس جنگل میں آئے اور بعد از تلاش بسیار کے بعد اس گڈریے کو ڈھونڈا اور کہا بھائی اپنی مناجات میں لگے رہو اور جو میں نے تمہیں روکا تھا اس کا کچھ خیال نہ کرو۔ تمہاری محبت اور سوز میں ڈوبی ہوئی باتیں اللہ تعالیٰ کو پیاری لگتی ہیں۔ اپنے شغل میں مصروف رہو اور مجھے معاف کر دو۔ میں تمہارے وظیفہ میں خلل انداز ہوا۔ اللہ تعالٰی نیتوں کو دیکھتا ہے، ظاہری اعمال پر اس کی نظر نہیں۔
(اقتباس)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزید پوسٹس۔۔۔
⭕ خدا کیسا ہے؟
https://t.me/islamwitheman/773
⭕ صفات باری تعالٰی
https://t.me/islamwitheman/774
⭕ عالم اور بڑھیا
https://t.me/islamwitheman/776
⭕ حجام اور گاہگ
https://t.me/islamwitheman/780
⭕ خدا پر ان دیکھا یقین(حصہ اول)
https://t.me/islamwitheman/793
⭕ خدا پر ان دیکھا یقین(حصہ دوم)
https://t.me/islamwitheman/794
⭕ ایمان اور یقین
https://t.me/islamwitheman/788
⭕ حضرت موسٰیؑ اور گڈریا
https://t.me/islamwitheman/799
🌷 موجبِ اخلاص چیزیں
https://t.me/islamwitheman/1104
⭕ عشقِ خدا
https://t.me/islamwitheman/1105
⭕ توحید
http://t.me/islamwitheman/1609
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
⭕ خدا کیسا ہے؟ ⭕
خدا کیسا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو اکثر لوگوں، مسلمانوں، غیر مسلموں، چھوٹوں اور بزرگوں کو ضرور پیش آیا ہوگاـ
سوال؟
خدا اسوقت کہاں ہے؟ وہ کس چیز سے بنا ہے؟ خدا سے پہلے کیا تھا؟
اگر آپ بھی اس سوال کا جواب حاصل کرنا چاھتے ہو تو جان لیں…
خدا کیسا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو اکثر لوگوں، مسلمانوں، غیر مسلموں، چھوٹوں اور بزرگوں کو ضرور پیش آیا ہوگاـ
سوال؟
خدا اسوقت کہاں ہے؟ وہ کس چیز سے بنا ہے؟ خدا سے پہلے کیا تھا؟
اگر آپ بھی اس سوال کا جواب حاصل کرنا چاھتے ہو تو جان لیں…
🌹 عالین کون ہیں؟ 🌹
ابو سعید خدری کا کہنا ہے: ہم رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ایک آدمی سامنے سے آیا اور عرض کی: یا رسول خدا ، اللہ کے اس
فرمان " أَسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنْتَ مِنَ الْعالِينَ تو نے تکبر کیا ، یا بڑے لوگوںمیں سے ہو گیا" کے بارے میں مجھے بتلائیے کہ یہ عالین کون لوگ ہیں کہ جن کا مقام فرشتوں سے بھی بلند و بالا ہے؟
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
آدم کی خلقت سے دس ہزارسال پہلے میں ، علی۴، فاطمہ۴ ، حسن۴ اور حسین۴ عرش الہی کے سامنے اللہ کی تسبیح اور تقدیس کرتے تھے اور فرشتے ہماری تسبیح پر تسبیح پڑھتے تھے ۔ پھر جب اللہ نے آدم کو خلق کیا تو فرشتوں کو اس کے سامنے سجدہ کو حکم دیا لیکن ہمیں سجدہ کرنے کا حکم نہ دیا تمام فرشتوں نے آدم کو سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، اس نے سجدہ نہیں کیا۔
اس کے بعد خداوند متعال نے فرمایا: " أَسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنْتَ مِنَ الْعالِينَ [2]"تو نے تکبر کیا یا عالین میں سے ہو گیا"۔ عالین سے مراد پنجتن پاک تھے جن کے نام عرش اعظم پر لکھے ہوئے تھے ۔ لہذا ہم اللہ کا وہ دروازہ ہیں جس سے وارد ہو کر لوگ اللہ کے قریب ہو سکتے ہیں ہمارے ذریعے ہدایت پانے والے ہدایت حاصل کرتے ہیں اور جو ہمیں دوست رکھے خدا اسے دوست رکھتا ہے اور اسے جت میں مقام عطاکرتا ہے اور جو ہمارے ساتھ دشمنی رکھے خدا اس کے ساتھ دشمنی رکھتا ہے اور اسے جہنم کی آگ میں ڈھکیل دیتا ہے اور یہ جان لو حلال زادہ کے علاوہ کوئی ہمیں دوست نہیں رکھے گا۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
📚 حوالہ جات
[1] عنہ البحار ۱۴۲/۱۱ ح ۹ و ج ۲۱/۱۵ ح ۳۴ و ج ۲/۲۵ ح ۲ و ج ۳۰۶/۳۹ ح ۱۲۱۔ تاویل الایات: ۱۸۲ ج۱، عنہ البحار: ۳۴۶/۲۶ ح۱۹۔
[2] ص،۷۵۔
http://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ابو سعید خدری کا کہنا ہے: ہم رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ایک آدمی سامنے سے آیا اور عرض کی: یا رسول خدا ، اللہ کے اس
فرمان " أَسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنْتَ مِنَ الْعالِينَ تو نے تکبر کیا ، یا بڑے لوگوںمیں سے ہو گیا" کے بارے میں مجھے بتلائیے کہ یہ عالین کون لوگ ہیں کہ جن کا مقام فرشتوں سے بھی بلند و بالا ہے؟
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
آدم کی خلقت سے دس ہزارسال پہلے میں ، علی۴، فاطمہ۴ ، حسن۴ اور حسین۴ عرش الہی کے سامنے اللہ کی تسبیح اور تقدیس کرتے تھے اور فرشتے ہماری تسبیح پر تسبیح پڑھتے تھے ۔ پھر جب اللہ نے آدم کو خلق کیا تو فرشتوں کو اس کے سامنے سجدہ کو حکم دیا لیکن ہمیں سجدہ کرنے کا حکم نہ دیا تمام فرشتوں نے آدم کو سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، اس نے سجدہ نہیں کیا۔
اس کے بعد خداوند متعال نے فرمایا: " أَسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنْتَ مِنَ الْعالِينَ [2]"تو نے تکبر کیا یا عالین میں سے ہو گیا"۔ عالین سے مراد پنجتن پاک تھے جن کے نام عرش اعظم پر لکھے ہوئے تھے ۔ لہذا ہم اللہ کا وہ دروازہ ہیں جس سے وارد ہو کر لوگ اللہ کے قریب ہو سکتے ہیں ہمارے ذریعے ہدایت پانے والے ہدایت حاصل کرتے ہیں اور جو ہمیں دوست رکھے خدا اسے دوست رکھتا ہے اور اسے جت میں مقام عطاکرتا ہے اور جو ہمارے ساتھ دشمنی رکھے خدا اس کے ساتھ دشمنی رکھتا ہے اور اسے جہنم کی آگ میں ڈھکیل دیتا ہے اور یہ جان لو حلال زادہ کے علاوہ کوئی ہمیں دوست نہیں رکھے گا۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
📚 حوالہ جات
[1] عنہ البحار ۱۴۲/۱۱ ح ۹ و ج ۲۱/۱۵ ح ۳۴ و ج ۲/۲۵ ح ۲ و ج ۳۰۶/۳۹ ح ۱۲۱۔ تاویل الایات: ۱۸۲ ج۱، عنہ البحار: ۳۴۶/۲۶ ح۱۹۔
[2] ص،۷۵۔
http://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌵 شجرة الزقوم 🌵
عربی زبان کا لفظ "زقوم" قرآن کے مطابق، جہنم میں ایک پیڑ کا نام۔ اس کا مقصد دوزخ میں بسنے والوں کے لیے غذا کے طور پر پیش کیا جانا ہے۔ یہ پیڑ جہنم کے تہہ میں شعلوں کے درمیان ہوگا۔
زقوم کے معنی
ايک قسم کا خار دار پودا،ایک درخت جس کا پھل دوزخیوں کو کھانے کو ملے گا،تھوہڑ کا پودا جو خاردار اور کڑوا اور زہریلا ہوتا ہے،دوزخ کا ایک درخت جس سے دوزخی اپنی خوراک حاصل کریں گے،زہریلی اور مہلک غذاناگ پھنی ،ناگ پھَنی ،ہر کڑوی ،ہیج دھارا،یہ پودا ڈنٹھل دار بے برگ اور خاردار ہے۔
الزقوم۔ ایک درخت جسے حنظل یا تھوہر کہتے ہیں۔ ذائقہ میں تلخ، دیکھنے میں بدنما۔ اثر میں زہریلا ہوتا ہے۔ اس سے استعارہ کے طور پر کہتے ہیں زقم فلان وتزقم۔ اس نے کوئی کریہہ چیز نگل لی۔ دوزخ میں جو یہ درخت آگ سے پیدا ہوگا اس کے ذائقہ ، صورت، اثر کو خیال کیا جا سکتا ہے۔ یہاں ذکر دوزخ میں پیدا ہونے والے اس درخت کا ہے ۔
زقوم کے مترادفات
تھوہَرتھوہڑکیکٹس
زقوم کے انگریزی معنی
a prickly plant،cactus،foul language
زقوم کی حقیقت
اس کے بارے میں(قرآن: سورۃ الاسرا:60)میں مذکور ہے (کہ یہ ایک لعنتی درخت ہے)
(قرآن: سورۃ الصافات:62)
(قرآن: سورۃ الدخان:43)
(قرآن: سورۃ الواقعہ:52)
زقوم دراصل ایک درخت کا نام ہے جو جزیرۂ عرب کے علاقہ تہامہ میں پایا جاتا ہے۔ علامہ آلوسی نے لکھا ہے کہ یہ تمام بنجر صحراؤں میں ہوتا ہے۔ بعض حضرات کا خیال ہے یہ وہی درخت ہے جسے اردو میں تھوہر کہتے ہیں۔ اسی سے ملتا جلتا ہندوستان میں ایک درخت ہے جو ناگ پھن کے نام سے معروف ہے۔ بعض لوگوں نے اسے زقوم قرار دیا ہے۔ اس درخت کا مزہ نہایت کڑوا اور بو نہایت ناگوار ہوتی ہے۔ اور توڑنے پر اس سے دودھ کا رس نکلتا ہے جو اگر جسم کو لگ جائے تو ورم ہوجاتا ہے۔ ناگ پھن اس بھی زیادہ مکروہ درخت ہے اور وہ اپنی شکل و صورت میں بھی زیادہ خوفناک معلوم ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تھوہر یا ناگ پھن نام کے اعتبار سے ہوسکتا ہے زقوم کے قریب ہو۔ لیکن جہاں تک حقیقت کا تعلق ہے زقوم بالکل اس سے الگ چیز ہے۔ یہ دونوں درخت اپنی بدنمائی اور کراہت کے باوجود زمین ہی میں پیدا ہوتے ہیں لیکن زقوم جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے۔ اور دوسرے درختوں کی طرح اس کی تربیت پانی، ہوا اور دھوپ میں نہیں ہوتی بلکہ آگ میں ہوتی ہے۔ اور یہ آگ کے بعض دیگر جانوروں کی طرح آگ ہی میں پھلتا پھولتا ہے۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
http://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
عربی زبان کا لفظ "زقوم" قرآن کے مطابق، جہنم میں ایک پیڑ کا نام۔ اس کا مقصد دوزخ میں بسنے والوں کے لیے غذا کے طور پر پیش کیا جانا ہے۔ یہ پیڑ جہنم کے تہہ میں شعلوں کے درمیان ہوگا۔
زقوم کے معنی
ايک قسم کا خار دار پودا،ایک درخت جس کا پھل دوزخیوں کو کھانے کو ملے گا،تھوہڑ کا پودا جو خاردار اور کڑوا اور زہریلا ہوتا ہے،دوزخ کا ایک درخت جس سے دوزخی اپنی خوراک حاصل کریں گے،زہریلی اور مہلک غذاناگ پھنی ،ناگ پھَنی ،ہر کڑوی ،ہیج دھارا،یہ پودا ڈنٹھل دار بے برگ اور خاردار ہے۔
الزقوم۔ ایک درخت جسے حنظل یا تھوہر کہتے ہیں۔ ذائقہ میں تلخ، دیکھنے میں بدنما۔ اثر میں زہریلا ہوتا ہے۔ اس سے استعارہ کے طور پر کہتے ہیں زقم فلان وتزقم۔ اس نے کوئی کریہہ چیز نگل لی۔ دوزخ میں جو یہ درخت آگ سے پیدا ہوگا اس کے ذائقہ ، صورت، اثر کو خیال کیا جا سکتا ہے۔ یہاں ذکر دوزخ میں پیدا ہونے والے اس درخت کا ہے ۔
زقوم کے مترادفات
تھوہَرتھوہڑکیکٹس
زقوم کے انگریزی معنی
a prickly plant،cactus،foul language
زقوم کی حقیقت
اس کے بارے میں(قرآن: سورۃ الاسرا:60)میں مذکور ہے (کہ یہ ایک لعنتی درخت ہے)
(قرآن: سورۃ الصافات:62)
(قرآن: سورۃ الدخان:43)
(قرآن: سورۃ الواقعہ:52)
زقوم دراصل ایک درخت کا نام ہے جو جزیرۂ عرب کے علاقہ تہامہ میں پایا جاتا ہے۔ علامہ آلوسی نے لکھا ہے کہ یہ تمام بنجر صحراؤں میں ہوتا ہے۔ بعض حضرات کا خیال ہے یہ وہی درخت ہے جسے اردو میں تھوہر کہتے ہیں۔ اسی سے ملتا جلتا ہندوستان میں ایک درخت ہے جو ناگ پھن کے نام سے معروف ہے۔ بعض لوگوں نے اسے زقوم قرار دیا ہے۔ اس درخت کا مزہ نہایت کڑوا اور بو نہایت ناگوار ہوتی ہے۔ اور توڑنے پر اس سے دودھ کا رس نکلتا ہے جو اگر جسم کو لگ جائے تو ورم ہوجاتا ہے۔ ناگ پھن اس بھی زیادہ مکروہ درخت ہے اور وہ اپنی شکل و صورت میں بھی زیادہ خوفناک معلوم ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تھوہر یا ناگ پھن نام کے اعتبار سے ہوسکتا ہے زقوم کے قریب ہو۔ لیکن جہاں تک حقیقت کا تعلق ہے زقوم بالکل اس سے الگ چیز ہے۔ یہ دونوں درخت اپنی بدنمائی اور کراہت کے باوجود زمین ہی میں پیدا ہوتے ہیں لیکن زقوم جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے۔ اور دوسرے درختوں کی طرح اس کی تربیت پانی، ہوا اور دھوپ میں نہیں ہوتی بلکہ آگ میں ہوتی ہے۔ اور یہ آگ کے بعض دیگر جانوروں کی طرح آگ ہی میں پھلتا پھولتا ہے۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
http://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌸 وضو کا طریقہ 🌸
امیرالمؤمنین حضرت علی علیه السلام کے وضو کا طریقہ اهل سنت کی کتب سے ملاحظہ ہو۔۔۔
🌟 وضو کرنے کا طریقه شیعیان اور اھل سنت کے درمیان ہمیشہ سے اختلاف رہا ہے اور اکثر مناظرات علمی اس موضوع پر کیے گئے ہیں۔
اس پوسٹ میں ہم نے یہ کوشش کی ہے کہ اھلسنت کی معتبر کتب سے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے وضو کو ثابت کریں گے.
📒 ابوداؤد طیالسی (جو اھلسنت کے بزرگ اور مشھور عالم دین ہیں) اپنی کتاب مسند میں تحریر کرتے ہیں:
حدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِی عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مَیْسَرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ، یَقُولُ: صَلَّى عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّهُ عَنْهُ الظُّهْرَ فِی الرَّحَبَةِ ثُمَّ جَلَسَ فِی حَوَائِجِ النَّاسِ حَتَّى حَضَرَتِ الْعَصْرُ ثُمَّ أُتِیَ بِکُوزٍ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّ مِنْهُ کَفًّا فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَیَدَیْه ومَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ وَرِجْلَیْه ثمَّ قَامَ فَشَرِبَ فَضْلَ الْمَاءِ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ نَاسًا یَکْرَهُونَ أَنْ یَشْرَبُوا وَهُمْ قِیَامٌ وَرَأَیْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ مِثْلَ الَّذِی فَعَلْتُ وَقَالَ: «هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ یُحْدِثْ۔
💥 نزال بن سبره کہتا ہے: امیرالمؤمنین علی علیه السلام نے کوفہ کے میدان میں نماز ظھر ادا کی پھر تشرف فرما ہوئے اور لوگوں کی مشکلات کو سنا تاکہ بعد میں نماز عصر کا وقت بھی ہو جائے. پھر آپ (ع) نے پانی کا بھرا ہوا کوزہ لیا، آپ نے اپنے ہاتھوں کو دھویا اور پھر اپنے چہرے اقدس اور بازوؤں کو دھویا بعد میں سر اور پاؤں کا مسح کیا۔
حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا: میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سر اور پاؤں کا مسح کرتے ہوئے دیکھا)
📚 مسند ابی داؤد الطیالسی، ج1، ص125.ط دار هجر
✨ محقق کتاب دکتر محمد بن عبدالمحسن الترکی اس روایت کی سند کو مکمل طور پر صحیح جانتے ہیں.
بشکریہ: معارف اھلبیت علیہم السلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ نماز کے متعلق پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
🔷 کوشش اور توفیق
https://t.me/islamwitheman/227
🔷 نماز نہ پڑھنے کی تاویلات
https://t.me/islamwitheman/297
🕌 کامل نماز کا طریقہ
https://t.me/islamwitheman/293
💝 عبادت میں لذت
https://t.me/islamwitheman/352
💞 میاں بیوی کی محبت کا تقاضا
https://t.me/islamwitheman/295
🔷 نماز میں غفلت
https://t.me/islamwitheman/296
💫 نیت اور عمل
https://t.me/islamwitheman/226
🔷 نماز کی عظمت و ثواب
https://t.me/islamwitheman/292
🔷قیامت کا دن اور تین آدمیوں کی پیشی
https://t.me/islamwitheman/104
🔷 اقیموا الصلاة
https://t.me/islamwitheman/294
🔶 تارک الصّلاة کے نام
https://t.me/islamwitheman/647
🔷 پہلی نماز جمعہ
https://t.me/islamwitheman/368
🌸 وضو کا طریقہ
https://t.me/islamwitheman/842
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
امیرالمؤمنین حضرت علی علیه السلام کے وضو کا طریقہ اهل سنت کی کتب سے ملاحظہ ہو۔۔۔
🌟 وضو کرنے کا طریقه شیعیان اور اھل سنت کے درمیان ہمیشہ سے اختلاف رہا ہے اور اکثر مناظرات علمی اس موضوع پر کیے گئے ہیں۔
اس پوسٹ میں ہم نے یہ کوشش کی ہے کہ اھلسنت کی معتبر کتب سے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے وضو کو ثابت کریں گے.
📒 ابوداؤد طیالسی (جو اھلسنت کے بزرگ اور مشھور عالم دین ہیں) اپنی کتاب مسند میں تحریر کرتے ہیں:
حدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِی عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مَیْسَرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ، یَقُولُ: صَلَّى عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّهُ عَنْهُ الظُّهْرَ فِی الرَّحَبَةِ ثُمَّ جَلَسَ فِی حَوَائِجِ النَّاسِ حَتَّى حَضَرَتِ الْعَصْرُ ثُمَّ أُتِیَ بِکُوزٍ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّ مِنْهُ کَفًّا فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَیَدَیْه ومَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ وَرِجْلَیْه ثمَّ قَامَ فَشَرِبَ فَضْلَ الْمَاءِ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ نَاسًا یَکْرَهُونَ أَنْ یَشْرَبُوا وَهُمْ قِیَامٌ وَرَأَیْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ مِثْلَ الَّذِی فَعَلْتُ وَقَالَ: «هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ یُحْدِثْ۔
💥 نزال بن سبره کہتا ہے: امیرالمؤمنین علی علیه السلام نے کوفہ کے میدان میں نماز ظھر ادا کی پھر تشرف فرما ہوئے اور لوگوں کی مشکلات کو سنا تاکہ بعد میں نماز عصر کا وقت بھی ہو جائے. پھر آپ (ع) نے پانی کا بھرا ہوا کوزہ لیا، آپ نے اپنے ہاتھوں کو دھویا اور پھر اپنے چہرے اقدس اور بازوؤں کو دھویا بعد میں سر اور پاؤں کا مسح کیا۔
حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا: میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سر اور پاؤں کا مسح کرتے ہوئے دیکھا)
📚 مسند ابی داؤد الطیالسی، ج1، ص125.ط دار هجر
✨ محقق کتاب دکتر محمد بن عبدالمحسن الترکی اس روایت کی سند کو مکمل طور پر صحیح جانتے ہیں.
بشکریہ: معارف اھلبیت علیہم السلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ نماز کے متعلق پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
🔷 کوشش اور توفیق
https://t.me/islamwitheman/227
🔷 نماز نہ پڑھنے کی تاویلات
https://t.me/islamwitheman/297
🕌 کامل نماز کا طریقہ
https://t.me/islamwitheman/293
💝 عبادت میں لذت
https://t.me/islamwitheman/352
💞 میاں بیوی کی محبت کا تقاضا
https://t.me/islamwitheman/295
🔷 نماز میں غفلت
https://t.me/islamwitheman/296
💫 نیت اور عمل
https://t.me/islamwitheman/226
🔷 نماز کی عظمت و ثواب
https://t.me/islamwitheman/292
🔷قیامت کا دن اور تین آدمیوں کی پیشی
https://t.me/islamwitheman/104
🔷 اقیموا الصلاة
https://t.me/islamwitheman/294
🔶 تارک الصّلاة کے نام
https://t.me/islamwitheman/647
🔷 پہلی نماز جمعہ
https://t.me/islamwitheman/368
🌸 وضو کا طریقہ
https://t.me/islamwitheman/842
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 کوشش اور توفیق 🔷
ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﮕﺮ ﺩﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺍﺩﺍﺳﯽ ﮐﮯ ﺗﺎﺛﺮﺍﺕ ﻧﻤﺎﯾﺎﮞ ﺗﮭﮯ.
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻮﺟﮧ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻣﺼﻠﮯ ﮐﯽ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺟﺎﻧﺐ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺗﮭﺎ،
ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﭖ ﮨﻤﺖ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﭨﻨﮯ ﭘﺎﺋﮯ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ.
ﻣﮕﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ…
ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﮕﺮ ﺩﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺍﺩﺍﺳﯽ ﮐﮯ ﺗﺎﺛﺮﺍﺕ ﻧﻤﺎﯾﺎﮞ ﺗﮭﮯ.
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻮﺟﮧ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻣﺼﻠﮯ ﮐﯽ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺟﺎﻧﺐ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺗﮭﺎ،
ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﭖ ﮨﻤﺖ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﭨﻨﮯ ﭘﺎﺋﮯ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ.
ﻣﮕﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ…
💐 لفظوں کا زہر 💐
اس سلسلے میں تین اصلاحی کہانیاں پیش کی جا رہی ہیں امید ہے آپ کو پسند آئیں گی۔ اور موجب اصلاح ہونگی۔
■پہلی کہانی
زید نے حامد سے پوچھا؛ تم کہاں کام کرتے ہو؟؟
حامد؛ فلاں دکان میں
ماہانہ کتنی تنخواہ دیتا ہے؟
حامد: 18000 روپے۔
زید؛ 18000 روپے بس۔
تمہاری زندگی کیسے کٹتی ہے اتنے پیسوں میں؟؟
حامد گہری سانس کھینچتے ہوئے بس یار کیا بتاؤں
میٹنگ ختم ہوئی
کچھ دنوں کے بعد
حامد اب اپنے کام سے بیزار ہوگیا، اور تنخواہ بڑھانے کی ڈیمانڈ کردی جسے منٹ سے پیشتر مالک نے رد کردیا، نوجوان نے جاب چھوڑ دی اور بے روزگار ہوگیا،، پہلے اس کے پاس کام تھا اب کام نہیں رہا
مورال۔
سیانے سچ کہتے ہیں
"قلیل دائم خیر من کثیر منقطع"
تھوڑا تھوڑا لیکن ہمیشہ ملنے والا مال اس مال سے بہتر ہوتا ہے جو چھپڑ پھاڑ کر ملے اور جتنی تیزی سے آئے اتنی تیزی سے ختم ہوجائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■دوسری کہانی
ایک سہیلی نے دوسری سہیلی سے پوچھا
بچہ پیدا ہونے کی خوشی میں تمہارے شوہر نے تمہیں کیا تحفہ دیا؟؟؟
دوسری سہیلی نے کہا؛
کچھ بھی نہیں۔
پہلی سہیلی نے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا یہ اچھی بات ہے؟؟
کیا اس کی نظر میں تمہاری کوئی قیمت نہیں؟؟؟
لفظوں کا یہ زہریلا بم گرا کر وہ سہیلی دوسری سہیلی کو اپنی فکر میں غلطاں و پیچاں چھوڑ کر چلتی بنی۔
تھوڑی دیر بعد ظہر کے وقت اس کاشوہر گھر آیا اور بیوی کا منہ لٹکا ہوا پایا۔۔
پھر دونوں کا جھگڑا ہوا ایک دوسرے کو لعنت بھیجی مارپیٹ ہوئی شوہر نے اسے طلاق دے دی،.
جانتے ہیں پرابلم کی شروعات کہاں سے ہوئی؟؟
اس فضول جملے سےجو اس کی زیارت کرنے آئی سہیلی نے کہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■تیسری کہانی
روایت ہے کہ ایک فکر و قلق سے آزاد باپ تھا کہ ایک کہنے والے نے اس کے کان میں نفرت کا منتر پھونکا کہ
تمہارا بیٹا تمہاری بہت زیادہ زیارت کیوں نہیں کرتا کیا اسے تم سے دل کی گہرائیوں سے محبت نہیں؟؟؟
باپ نے بیٹے کے لئے عذر تراشا اور کہا کہ
اس کے کام کا بیک گراونڈ اور شیڈول بہت سخت ہے اسے بہت کم وقت ملتا ہے۔
دوسرے آدمی نے کہا کہ تم کیسے مان سکتے ہو کہ اس کو کام کی وجہ سے آپ سے ملنے کا وقت نہیں ملتا؟؟
یہ تو نہ ملنے کا ماڈرن بہانا ہے۔
اس گفتگو کے کچھ دنوں بعد باپ کے دل میں بیٹے کے تعلق سے پہلی جیسی صفائی نہ رہی اور رضامندی کی جگہ نفرت و حقارت نے لے لی۔
بے شک اے قاری۔۔
کچھ لوگوں کی زبانوں سے شیطان بول جاتا ہے،
ہماری روزمرہ کی زندگی میں کچھ سوالات ہمیں بہت معصوم لگتے ہیں..۔
تم نے یہ کیوں نہیں خریدا؟؟
تمہارے پاس یہ کیوں نہیں ہے؟؟
تم اس شخص کے ساتھ پوری زندگی کیسے چل سکتی ہو؟؟
تم اسے کیسے مان سکتے ہو؟؟
اسطرح کے بیشتر سوالات نادانی میں یا بلامقصد ہم پوچھ بیٹھتے ہیں جبکہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے یہ سوالات سننے والے کے دل میں نفرت یا محبت کا کون سا بیج بورہے ہیں۔
فساد پھیلانے والے نہ بنو،
لوگوں کے گھروں میں اندھے بن کر جاؤ اور وہاں سے گونگا بن کر نکلو۔۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ مزید پوسٹس۔۔۔
🌺 الفاظ و انداز اور لہجہ
https://t.me/islamwitheman/475
👅 احتیاط کے ساتھ بولا کریں
https://t.me/islamwitheman/396
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
اس سلسلے میں تین اصلاحی کہانیاں پیش کی جا رہی ہیں امید ہے آپ کو پسند آئیں گی۔ اور موجب اصلاح ہونگی۔
■پہلی کہانی
زید نے حامد سے پوچھا؛ تم کہاں کام کرتے ہو؟؟
حامد؛ فلاں دکان میں
ماہانہ کتنی تنخواہ دیتا ہے؟
حامد: 18000 روپے۔
زید؛ 18000 روپے بس۔
تمہاری زندگی کیسے کٹتی ہے اتنے پیسوں میں؟؟
حامد گہری سانس کھینچتے ہوئے بس یار کیا بتاؤں
میٹنگ ختم ہوئی
کچھ دنوں کے بعد
حامد اب اپنے کام سے بیزار ہوگیا، اور تنخواہ بڑھانے کی ڈیمانڈ کردی جسے منٹ سے پیشتر مالک نے رد کردیا، نوجوان نے جاب چھوڑ دی اور بے روزگار ہوگیا،، پہلے اس کے پاس کام تھا اب کام نہیں رہا
مورال۔
سیانے سچ کہتے ہیں
"قلیل دائم خیر من کثیر منقطع"
تھوڑا تھوڑا لیکن ہمیشہ ملنے والا مال اس مال سے بہتر ہوتا ہے جو چھپڑ پھاڑ کر ملے اور جتنی تیزی سے آئے اتنی تیزی سے ختم ہوجائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■دوسری کہانی
ایک سہیلی نے دوسری سہیلی سے پوچھا
بچہ پیدا ہونے کی خوشی میں تمہارے شوہر نے تمہیں کیا تحفہ دیا؟؟؟
دوسری سہیلی نے کہا؛
کچھ بھی نہیں۔
پہلی سہیلی نے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا یہ اچھی بات ہے؟؟
کیا اس کی نظر میں تمہاری کوئی قیمت نہیں؟؟؟
لفظوں کا یہ زہریلا بم گرا کر وہ سہیلی دوسری سہیلی کو اپنی فکر میں غلطاں و پیچاں چھوڑ کر چلتی بنی۔
تھوڑی دیر بعد ظہر کے وقت اس کاشوہر گھر آیا اور بیوی کا منہ لٹکا ہوا پایا۔۔
پھر دونوں کا جھگڑا ہوا ایک دوسرے کو لعنت بھیجی مارپیٹ ہوئی شوہر نے اسے طلاق دے دی،.
جانتے ہیں پرابلم کی شروعات کہاں سے ہوئی؟؟
اس فضول جملے سےجو اس کی زیارت کرنے آئی سہیلی نے کہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■تیسری کہانی
روایت ہے کہ ایک فکر و قلق سے آزاد باپ تھا کہ ایک کہنے والے نے اس کے کان میں نفرت کا منتر پھونکا کہ
تمہارا بیٹا تمہاری بہت زیادہ زیارت کیوں نہیں کرتا کیا اسے تم سے دل کی گہرائیوں سے محبت نہیں؟؟؟
باپ نے بیٹے کے لئے عذر تراشا اور کہا کہ
اس کے کام کا بیک گراونڈ اور شیڈول بہت سخت ہے اسے بہت کم وقت ملتا ہے۔
دوسرے آدمی نے کہا کہ تم کیسے مان سکتے ہو کہ اس کو کام کی وجہ سے آپ سے ملنے کا وقت نہیں ملتا؟؟
یہ تو نہ ملنے کا ماڈرن بہانا ہے۔
اس گفتگو کے کچھ دنوں بعد باپ کے دل میں بیٹے کے تعلق سے پہلی جیسی صفائی نہ رہی اور رضامندی کی جگہ نفرت و حقارت نے لے لی۔
بے شک اے قاری۔۔
کچھ لوگوں کی زبانوں سے شیطان بول جاتا ہے،
ہماری روزمرہ کی زندگی میں کچھ سوالات ہمیں بہت معصوم لگتے ہیں..۔
تم نے یہ کیوں نہیں خریدا؟؟
تمہارے پاس یہ کیوں نہیں ہے؟؟
تم اس شخص کے ساتھ پوری زندگی کیسے چل سکتی ہو؟؟
تم اسے کیسے مان سکتے ہو؟؟
اسطرح کے بیشتر سوالات نادانی میں یا بلامقصد ہم پوچھ بیٹھتے ہیں جبکہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے یہ سوالات سننے والے کے دل میں نفرت یا محبت کا کون سا بیج بورہے ہیں۔
فساد پھیلانے والے نہ بنو،
لوگوں کے گھروں میں اندھے بن کر جاؤ اور وہاں سے گونگا بن کر نکلو۔۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ مزید پوسٹس۔۔۔
🌺 الفاظ و انداز اور لہجہ
https://t.me/islamwitheman/475
👅 احتیاط کے ساتھ بولا کریں
https://t.me/islamwitheman/396
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌺 الفاظ و انداز اور لہجہ 🌺
الفاظ کی اپنی ہی ایک دنیا ہوتی ہے. ہر لفظ اپنی ذمہ داری نبھاتا ہے،
کچھ لفظ حکومت کرتے ہیں،
کچھ غلامی،
کچھ لفظ حفاظت کرتے ہیں،
اور کچھ وار،
ہر لفظ کا اپنا ایک مکمّل وجود ہوتا ہے.
جب سے میں نے لفظوں کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ سمجھنا…
الفاظ کی اپنی ہی ایک دنیا ہوتی ہے. ہر لفظ اپنی ذمہ داری نبھاتا ہے،
کچھ لفظ حکومت کرتے ہیں،
کچھ غلامی،
کچھ لفظ حفاظت کرتے ہیں،
اور کچھ وار،
ہر لفظ کا اپنا ایک مکمّل وجود ہوتا ہے.
جب سے میں نے لفظوں کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ سمجھنا…
🌸ميں قرآن ميں کہاں ہوں؟(حصہ اول)🌸
خود کو قرآن مجید میں ڈھونڈیں. انتہائی دلچسپ اور سبق آموز۔۔۔
ایک جليل القدر تابعی اور عرب سردار احنف بن قيس ايک دن بيٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے يہ آيت پڑھی
لَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (سورۃ انبياء 10)
(ترجمہ) ”ہم نے تمہاری طرف ايسی کتاب نازل کی جس ميں تمہارا تذکرہ ہے، کيا تم نہيں سمجھتے ہو“۔
وہ چونک پڑے اور کہا کہ ذرا قرآن مجيد تو لاؤ۔ اس ميں، ميں اپنا تذکرہ تلاش کروں، اور ديکھوں کہ ميں کن لوگوں کے ساتھ ہوں، اور کن سے مجھے مشابہت ہے؟
انہوں نے قرآن مجيد کھولا، کچھ لوگوں کے پاس سے ان کا گزر ہوا، جن کی تعريف يہ کی گئی تھی
كَانُوا قَلِيلًا مِّنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ o وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ o وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ ِ (الذريٰت-17،18،19)
(ترجمہ) ”رات کے تھوڑے حصے ميں سوتے تھے، اور اوقات سحر ميں بخشش مانگا کرتے تھے، اور ان کے مال ميں مانگنے والے اور نہ مانگنے والے (دونوں) کا حق ہوتا تھا“۔
کچھ اور لوگ نظر آئے جن کا حال يہ تھا،
تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ (السجدہ۔ 16)
(ترجمہ) ”ان کے پہلو بچھونوں سے الگ رہتے ہيں (اور) وہ اپنے پروردگار کو خوف اور اُميد سے پکارتے ہيں۔ اور جو (مال) ہم نے ان کو ديا ہے، اس ميں سے خرچ کرتے ہيں“۔
کچھ اور لوگ نظر آئے جن کا حال يہ تھا،
وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِيَامًا (الفرقان۔ 64)
(ترجمہ) ”اور جو اپنے پروردگار کے آگے سجدہ کرکے اور (عجز وادب سے) کھڑے رہ کر راتيں بسر کرتے ہيں“۔
اور کچھ لوگ نظر آئے جن کا تذکرہ اِن الفاظ ميں ہے،
الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاء وَالضَّرَّاء وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (اٰل عمران۔ 134)
(ترجمہ) ”جو آسودگی اور تنگی ميں (اپنا مال خدا کي راہ ميں) خرچ کرتے ہيں، اور غصہ کو روکتے اور لوگوں کے قصور معاف کرتے ہيں، اور خدا نيکو کاروں کو دوست رکھتا ہے“۔
اور کچھ لوگ ملے جن کی حالت يہ تھی،
وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (الحشر۔ 9)
(ترجمہ) ”(اور) دوسروں کو اپنی جانوں سے مقدم رکھتے ہيں خواہ ان کو خود احتياج ہی ہو، اور جو شخص حرص نفس سے بچا ليا گيا تو ايسے ہی لوگ مُراد پانے والے ہوتے ہيں“۔
اور کچھ لوگوں کی زيارت ہوئی جن کے اخلاق يہ تھے،
وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ (الشوريٰ۔ 37)
(ترجمہ) ”اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حيائی کی باتوں سے پرہيز کرتے ہيں، اور جب غصہ آتا ہے تو معاف کر ديتے ہيں“۔
اور کچھ کا ذکر یوں تھا،
وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ (الشوريٰ۔ 38)
(ترجمہ) ”اور جو اپنے پروردگار کا فرمان قبول کرتے ہيں اور نماز پڑھتے ہيں، اور اپنے کام آپس کے مشورہ سے کرتے ہيں اور جو مال ہم نے ان کو عطا فرمايا ہے اس ميں سے خرچ کرتے ہيں“۔
وہ يہاں پہنچ کر ٹھٹک کر رہ گئے، اور کہا : اے اللہ ميں اپنے حال سے واقف ہوں، ميں تو ان لوگوں ميں کہیں نظر نہيں آتا!
پھر انہوں نے ايک دوسرا راستہ ليا، اب ان کو کچھ لوگ نظر آئے، جن کا حال يہ تھا،
إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ o وَيَقُولُونَ أَئِنَّا لَتَارِكُوا آلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُونٍ (سورہ صافات۔ 35،36)
(ترجمہ) ”ان کا يہ حال تھا کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ خدا کے سوا کوئي معبود نہيں تو غرور کرتے تھے، اور کہتے تھے، کہ بھلا ہم ايک ديوانہ شاعر کے کہنے سے کہيں اپنے معبودوں کو چھوڑ دينے والے ہيں؟
پھر اُن لوگوں کا سامنا ہوا جن کی حالت يہ تھی،
وَإِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَإِذَا ذُكِرَ الَّذِينَ مِن دُونِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ (الزمر۔45)
(ترجمہ) ”اور جب تنہا خدا کا ذکر کيا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت پر ايمان نہيں رکھتے انکے دل منقبض ہو جاتے ہيں، اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر کيا جاتا ہے تو اُن کے چہرے کھل اُٹھتے ہيں“۔
کچھ اور لوگوں کے پاس سے گزر ہوا جن سے جب۔۔۔ (جاری ہے)
بقیہ حصہ دوم میں ملاحظہ فرمائیے۔۔
https://t.me/islamwitheman/848
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
خود کو قرآن مجید میں ڈھونڈیں. انتہائی دلچسپ اور سبق آموز۔۔۔
ایک جليل القدر تابعی اور عرب سردار احنف بن قيس ايک دن بيٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے يہ آيت پڑھی
لَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (سورۃ انبياء 10)
(ترجمہ) ”ہم نے تمہاری طرف ايسی کتاب نازل کی جس ميں تمہارا تذکرہ ہے، کيا تم نہيں سمجھتے ہو“۔
وہ چونک پڑے اور کہا کہ ذرا قرآن مجيد تو لاؤ۔ اس ميں، ميں اپنا تذکرہ تلاش کروں، اور ديکھوں کہ ميں کن لوگوں کے ساتھ ہوں، اور کن سے مجھے مشابہت ہے؟
انہوں نے قرآن مجيد کھولا، کچھ لوگوں کے پاس سے ان کا گزر ہوا، جن کی تعريف يہ کی گئی تھی
كَانُوا قَلِيلًا مِّنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ o وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ o وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ ِ (الذريٰت-17،18،19)
(ترجمہ) ”رات کے تھوڑے حصے ميں سوتے تھے، اور اوقات سحر ميں بخشش مانگا کرتے تھے، اور ان کے مال ميں مانگنے والے اور نہ مانگنے والے (دونوں) کا حق ہوتا تھا“۔
کچھ اور لوگ نظر آئے جن کا حال يہ تھا،
تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ (السجدہ۔ 16)
(ترجمہ) ”ان کے پہلو بچھونوں سے الگ رہتے ہيں (اور) وہ اپنے پروردگار کو خوف اور اُميد سے پکارتے ہيں۔ اور جو (مال) ہم نے ان کو ديا ہے، اس ميں سے خرچ کرتے ہيں“۔
کچھ اور لوگ نظر آئے جن کا حال يہ تھا،
وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِيَامًا (الفرقان۔ 64)
(ترجمہ) ”اور جو اپنے پروردگار کے آگے سجدہ کرکے اور (عجز وادب سے) کھڑے رہ کر راتيں بسر کرتے ہيں“۔
اور کچھ لوگ نظر آئے جن کا تذکرہ اِن الفاظ ميں ہے،
الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاء وَالضَّرَّاء وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (اٰل عمران۔ 134)
(ترجمہ) ”جو آسودگی اور تنگی ميں (اپنا مال خدا کي راہ ميں) خرچ کرتے ہيں، اور غصہ کو روکتے اور لوگوں کے قصور معاف کرتے ہيں، اور خدا نيکو کاروں کو دوست رکھتا ہے“۔
اور کچھ لوگ ملے جن کی حالت يہ تھی،
وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (الحشر۔ 9)
(ترجمہ) ”(اور) دوسروں کو اپنی جانوں سے مقدم رکھتے ہيں خواہ ان کو خود احتياج ہی ہو، اور جو شخص حرص نفس سے بچا ليا گيا تو ايسے ہی لوگ مُراد پانے والے ہوتے ہيں“۔
اور کچھ لوگوں کی زيارت ہوئی جن کے اخلاق يہ تھے،
وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ (الشوريٰ۔ 37)
(ترجمہ) ”اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حيائی کی باتوں سے پرہيز کرتے ہيں، اور جب غصہ آتا ہے تو معاف کر ديتے ہيں“۔
اور کچھ کا ذکر یوں تھا،
وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ (الشوريٰ۔ 38)
(ترجمہ) ”اور جو اپنے پروردگار کا فرمان قبول کرتے ہيں اور نماز پڑھتے ہيں، اور اپنے کام آپس کے مشورہ سے کرتے ہيں اور جو مال ہم نے ان کو عطا فرمايا ہے اس ميں سے خرچ کرتے ہيں“۔
وہ يہاں پہنچ کر ٹھٹک کر رہ گئے، اور کہا : اے اللہ ميں اپنے حال سے واقف ہوں، ميں تو ان لوگوں ميں کہیں نظر نہيں آتا!
پھر انہوں نے ايک دوسرا راستہ ليا، اب ان کو کچھ لوگ نظر آئے، جن کا حال يہ تھا،
إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ o وَيَقُولُونَ أَئِنَّا لَتَارِكُوا آلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُونٍ (سورہ صافات۔ 35،36)
(ترجمہ) ”ان کا يہ حال تھا کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ خدا کے سوا کوئي معبود نہيں تو غرور کرتے تھے، اور کہتے تھے، کہ بھلا ہم ايک ديوانہ شاعر کے کہنے سے کہيں اپنے معبودوں کو چھوڑ دينے والے ہيں؟
پھر اُن لوگوں کا سامنا ہوا جن کی حالت يہ تھی،
وَإِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَإِذَا ذُكِرَ الَّذِينَ مِن دُونِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ (الزمر۔45)
(ترجمہ) ”اور جب تنہا خدا کا ذکر کيا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت پر ايمان نہيں رکھتے انکے دل منقبض ہو جاتے ہيں، اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر کيا جاتا ہے تو اُن کے چہرے کھل اُٹھتے ہيں“۔
کچھ اور لوگوں کے پاس سے گزر ہوا جن سے جب۔۔۔ (جاری ہے)
بقیہ حصہ دوم میں ملاحظہ فرمائیے۔۔
https://t.me/islamwitheman/848
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌸میں قرآن میں کہاں ہوں؟(حصہ دوم)🌸
کچھ اور لوگوں کے پاس سے گزر ہوا جن سے جب پوچھا گيا،
مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ o قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ o وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ o وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ oوَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ…
کچھ اور لوگوں کے پاس سے گزر ہوا جن سے جب پوچھا گيا،
مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ o قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ o وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ o وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ oوَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ…
🌸میں قرآن میں کہاں ہوں؟(حصہ دوم)🌸
کچھ اور لوگوں کے پاس سے گزر ہوا جن سے جب پوچھا گيا،
مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ o قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ o وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ o وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ oوَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ o حَتَّى أَتَانَا الْيَقِينُ (المدثر۔ 47-42)
(ترجمہ) ”کہ تم دوزخ ميں کيوں پڑے؟ وہ جواب ديں گے کہ ہم نماز نہيں پڑھتے تھے اور نہ فقيروں کو کھانا کھلاتے تھے اور ہم جھوٹ سچ باتيں بنانے والوں کے ساتھ باتيں بنايا کرتے اور روز جزا کو جھوٹ قرار ديتے تھے، يہاں تک کہ ہميں اس يقيني چيز سے سابقہ پيش آگيا“۔
يہاں بھی پہنچ کر وہ تھوڑی دير کے لئے دم بخود کھڑے رہے۔ پھر کانوں پر ہاتھ رکھ کر کہا: اے اللہ! ان لوگوں سے تيری پناہ! ميں ان لوگوں سےبری ہوں۔
اب وہ قرآن مجيد کے اوراق کو ا لٹ رہے تھے، اور اپنا تذکرہ تلاش کر رہے تھے، يہاں تک کہ اس آيت پر جا کر ٹھہرے:
وَآخَرُونَ اعْتَرَفُواْ بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُواْ عَمَلاً صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا عَسَى اللّهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (التوبہ۔ 102)
(ترجمہ) ”اور کچھ اور لوگ ہيں جن کو اپنے گناہوں کا (صاف) اقرار ہے، انہوں نے اچھے اور برے عملوں کو ملا جلا ديا تھا قريب ہے کہ خدا ان پرمہربانی سے توجہ فرمائے، بے شک خدا بخشنے والا مہربان ہے“۔
اس موقع پر اُن کی زبان سے بے ساختہ نکلا، ہاں ہاں! يہ بے شک ميرا حال ہے !!
تو ہم کن لوگوں میں سے ہیں..؟؟؟
سوچئے گا !!
👆ایک مراسلہ👆
https://t.me/islamwitheman/847
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
کچھ اور لوگوں کے پاس سے گزر ہوا جن سے جب پوچھا گيا،
مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ o قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ o وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ o وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ oوَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ o حَتَّى أَتَانَا الْيَقِينُ (المدثر۔ 47-42)
(ترجمہ) ”کہ تم دوزخ ميں کيوں پڑے؟ وہ جواب ديں گے کہ ہم نماز نہيں پڑھتے تھے اور نہ فقيروں کو کھانا کھلاتے تھے اور ہم جھوٹ سچ باتيں بنانے والوں کے ساتھ باتيں بنايا کرتے اور روز جزا کو جھوٹ قرار ديتے تھے، يہاں تک کہ ہميں اس يقيني چيز سے سابقہ پيش آگيا“۔
يہاں بھی پہنچ کر وہ تھوڑی دير کے لئے دم بخود کھڑے رہے۔ پھر کانوں پر ہاتھ رکھ کر کہا: اے اللہ! ان لوگوں سے تيری پناہ! ميں ان لوگوں سےبری ہوں۔
اب وہ قرآن مجيد کے اوراق کو ا لٹ رہے تھے، اور اپنا تذکرہ تلاش کر رہے تھے، يہاں تک کہ اس آيت پر جا کر ٹھہرے:
وَآخَرُونَ اعْتَرَفُواْ بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُواْ عَمَلاً صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا عَسَى اللّهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (التوبہ۔ 102)
(ترجمہ) ”اور کچھ اور لوگ ہيں جن کو اپنے گناہوں کا (صاف) اقرار ہے، انہوں نے اچھے اور برے عملوں کو ملا جلا ديا تھا قريب ہے کہ خدا ان پرمہربانی سے توجہ فرمائے، بے شک خدا بخشنے والا مہربان ہے“۔
اس موقع پر اُن کی زبان سے بے ساختہ نکلا، ہاں ہاں! يہ بے شک ميرا حال ہے !!
تو ہم کن لوگوں میں سے ہیں..؟؟؟
سوچئے گا !!
👆ایک مراسلہ👆
https://t.me/islamwitheman/847
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌸ميں قرآن ميں کہاں ہوں؟(حصہ اول)🌸
خود کو قرآن مجید میں ڈھونڈیں. انتہائی دلچسپ اور سبق آموز۔۔۔
ایک جليل القدر تابعی اور عرب سردار احنف بن قيس ايک دن بيٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے يہ آيت پڑھی
لَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ…
خود کو قرآن مجید میں ڈھونڈیں. انتہائی دلچسپ اور سبق آموز۔۔۔
ایک جليل القدر تابعی اور عرب سردار احنف بن قيس ايک دن بيٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے يہ آيت پڑھی
لَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ…
🌼 قرآن کریم کے واجب سجدے 🌼
قرآن کریم کے واجب سجدے والی آیات درج ذیل سوروں میں ہیں۔۔
1️⃣. سجدہ
2️⃣. فصلت
3️⃣. نجم
4️⃣. علق (اقرأ)
🔹اگر انسان سجدہ کی آیتوں کو خود پڑهے یا کسی سے سنے تو آیت کے پورا ہونے کے بعد سجدہ کرے اور اگر سجدہ کرنا بهول تو جب بهی یاد آئے سجدہ کرے
🔹سجدہ کرتے وقت باطهارت اور روبہ قبلہ ہونا ضروری نہیں ہے۔
سجدہ کا طریقہ:
سجدہ کی نیت سے پیشانی کو زمین پر رکهے اگرچہ کوئی ذکر نہ پڑهے کافی ہے البتہ ذکر مستحب ہے اور بہتر ہے یہ ذکر پڑهے:
🔹"لٰا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ حَقّا حَقّا لَا إِلٰهَ الّا اللّٰهُ ایماناً وَ تَصْدِیقاً لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ عُبُودِیةً وَ رِقًّا سَجَدْتُ لَک یٰا رَبِّ تَعَبُّداً وَ رِقًّا لَا مُسْتَنْکفاً وَ لَا مُسْتَکبِراً بَلْ أَنَا عَبْدٌ ذَلِیلٌ ضَعِیفٌ خَائِفٌ مُسْتَجِیرٌ".🔹
اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّدٍ وَّعَجِّلْ فَرَجَهُمْ وَالْعَنْ أَعْدَائَهُمْ اَجْمَعِيْنٌ۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 قرآن کریم کے متعلق مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔
🌹 قرآن مجید کا پڑھنا
https://t.me/islamwitheman/284
📖 تلاوت قرآن
https://t.me/islamwitheman/285
🔷 قرآن کے متعلق غورطلب باتیں
https://t.me/islamwitheman/286
🔷 قرآن کس لیے نازل کیا گیا
https://t.me/islamwitheman/287
🌹 قرآنی معلومات
https://t.me/islamwitheman/288
📗 قرآن میں اصول دین و فروع دیں
https://t.me/islamwitheman/402
🌸 میں قرآن میں کہاں ہوں؟
https://t.me/islamwitheman/847
🌼 قرآن کریم کے واجب سجدے
https://t.me/islamwitheman/849
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
قرآن کریم کے واجب سجدے والی آیات درج ذیل سوروں میں ہیں۔۔
1️⃣. سجدہ
2️⃣. فصلت
3️⃣. نجم
4️⃣. علق (اقرأ)
🔹اگر انسان سجدہ کی آیتوں کو خود پڑهے یا کسی سے سنے تو آیت کے پورا ہونے کے بعد سجدہ کرے اور اگر سجدہ کرنا بهول تو جب بهی یاد آئے سجدہ کرے
🔹سجدہ کرتے وقت باطهارت اور روبہ قبلہ ہونا ضروری نہیں ہے۔
سجدہ کا طریقہ:
سجدہ کی نیت سے پیشانی کو زمین پر رکهے اگرچہ کوئی ذکر نہ پڑهے کافی ہے البتہ ذکر مستحب ہے اور بہتر ہے یہ ذکر پڑهے:
🔹"لٰا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ حَقّا حَقّا لَا إِلٰهَ الّا اللّٰهُ ایماناً وَ تَصْدِیقاً لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ عُبُودِیةً وَ رِقًّا سَجَدْتُ لَک یٰا رَبِّ تَعَبُّداً وَ رِقًّا لَا مُسْتَنْکفاً وَ لَا مُسْتَکبِراً بَلْ أَنَا عَبْدٌ ذَلِیلٌ ضَعِیفٌ خَائِفٌ مُسْتَجِیرٌ".🔹
اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَّآلِ مُحَمَّدٍ وَّعَجِّلْ فَرَجَهُمْ وَالْعَنْ أَعْدَائَهُمْ اَجْمَعِيْنٌ۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 قرآن کریم کے متعلق مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔
🌹 قرآن مجید کا پڑھنا
https://t.me/islamwitheman/284
📖 تلاوت قرآن
https://t.me/islamwitheman/285
🔷 قرآن کے متعلق غورطلب باتیں
https://t.me/islamwitheman/286
🔷 قرآن کس لیے نازل کیا گیا
https://t.me/islamwitheman/287
🌹 قرآنی معلومات
https://t.me/islamwitheman/288
📗 قرآن میں اصول دین و فروع دیں
https://t.me/islamwitheman/402
🌸 میں قرآن میں کہاں ہوں؟
https://t.me/islamwitheman/847
🌼 قرآن کریم کے واجب سجدے
https://t.me/islamwitheman/849
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌹 ﻗﺮﺁﻥ مجید کا ﭘﮍهنا 🌹
ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺫﺭﺍ ﺑﮭﯽ ﺷﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻗﺮﺁﻥ ﺍﯾﮏ ﺁﺳﻤﺎﻧﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﮨﮯ. ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﮐﻼﻡ ﮨﮯ۔ ﺍﻟﻠﮧ تعالٰی ﻧﮯ ﯾﮧ ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﺭﮨﻨﻤﺎﺋﯽ ﮐﮯ لئے ﻧﺎﺯﻝ ﮐﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﻥ کی ﮨﺪﺍﯾﺖ ﮐﮯ لئے ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﻧﺸﺎﻧﯿﺎﮞ ﮨﯿﮟ. ﯾﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﭘﺮ ﻣﻨﺤﺼﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﺲ ﻗﺪﺭ ﺍﺱ ﮐﺘﺎﺏ…
ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺫﺭﺍ ﺑﮭﯽ ﺷﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻗﺮﺁﻥ ﺍﯾﮏ ﺁﺳﻤﺎﻧﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﮨﮯ. ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﮐﻼﻡ ﮨﮯ۔ ﺍﻟﻠﮧ تعالٰی ﻧﮯ ﯾﮧ ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﺭﮨﻨﻤﺎﺋﯽ ﮐﮯ لئے ﻧﺎﺯﻝ ﮐﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﻥ کی ﮨﺪﺍﯾﺖ ﮐﮯ لئے ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﻧﺸﺎﻧﯿﺎﮞ ﮨﯿﮟ. ﯾﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﭘﺮ ﻣﻨﺤﺼﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﺲ ﻗﺪﺭ ﺍﺱ ﮐﺘﺎﺏ…
🔷 ایمان کی حفاظت 🔷
ایک جہاز مغربی ملک کی طرف محو پرواز تھا۔ اس میں ایک پڑھا لکھا مسلمان بھی سفر کر رھا تھا۔ جب ائیر ھوسٹس نے دوسرے مسافروں کے ساتھ اس کو بھی شراب پیش کی تو اس نے شراب پینے سے انکار کر دیا جس پر ائیر ھوسٹس نے اپنے سپروائیزر کو مطلع کیا۔
سپروائیزر نے پوچھا کہ۔۔
کیا ھماری خدمتگاری میں کوئی کسر رہ گئی ھے ؟ یہ شراب مہمانداری کے طور پر پیش کی جا رھی ھے۔
مسافر نے اسے بڑی تمیز سے سمجھایا کہ وہ مسلمان ھے اور شراب نہیں پیتا۔
سپروائیزر اصرار کرتا رھا کہ وہ شراب ضرور نوش کر لے۔
اس کے مسلسل اصرار پر مسافر نے کہا کہ ایسا کرو کہ یہ جام پہلے پائلٹ کو دو۔
سپروائیزر کہنے لگا کہ ایسا کیسے ھو سکتا ھے کہ وہ شراب پی کر جہاز اڑائے، وہ ڈیوٹی پر ھے اور اگر وہ ڈیوٹی کے دوران شراب پیئے گا تو اس بات کا سو فیصد امکان ھے کہ جہاز حادثے کا شکار ھو کر تباہ ھو جائے گا۔
مسافر نے سپروائیزر کو کہا۔۔
"میں مسلمان ھوں، میں اپنے ایمان کو بچانے کے لئے ھر وقت ڈیوٹی پر ھوتا ھوں اور اگر میں شراب پیؤں گا تو اس بات کا سو فیصد امکان ھے کہ میں حادثے کا شکار ھو جاؤں گا اور اپنے ایمان کو تباہ کر بیٹھوں گا"ـ
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
"منقول"
http://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ایک جہاز مغربی ملک کی طرف محو پرواز تھا۔ اس میں ایک پڑھا لکھا مسلمان بھی سفر کر رھا تھا۔ جب ائیر ھوسٹس نے دوسرے مسافروں کے ساتھ اس کو بھی شراب پیش کی تو اس نے شراب پینے سے انکار کر دیا جس پر ائیر ھوسٹس نے اپنے سپروائیزر کو مطلع کیا۔
سپروائیزر نے پوچھا کہ۔۔
کیا ھماری خدمتگاری میں کوئی کسر رہ گئی ھے ؟ یہ شراب مہمانداری کے طور پر پیش کی جا رھی ھے۔
مسافر نے اسے بڑی تمیز سے سمجھایا کہ وہ مسلمان ھے اور شراب نہیں پیتا۔
سپروائیزر اصرار کرتا رھا کہ وہ شراب ضرور نوش کر لے۔
اس کے مسلسل اصرار پر مسافر نے کہا کہ ایسا کرو کہ یہ جام پہلے پائلٹ کو دو۔
سپروائیزر کہنے لگا کہ ایسا کیسے ھو سکتا ھے کہ وہ شراب پی کر جہاز اڑائے، وہ ڈیوٹی پر ھے اور اگر وہ ڈیوٹی کے دوران شراب پیئے گا تو اس بات کا سو فیصد امکان ھے کہ جہاز حادثے کا شکار ھو کر تباہ ھو جائے گا۔
مسافر نے سپروائیزر کو کہا۔۔
"میں مسلمان ھوں، میں اپنے ایمان کو بچانے کے لئے ھر وقت ڈیوٹی پر ھوتا ھوں اور اگر میں شراب پیؤں گا تو اس بات کا سو فیصد امکان ھے کہ میں حادثے کا شکار ھو جاؤں گا اور اپنے ایمان کو تباہ کر بیٹھوں گا"ـ
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
"منقول"
http://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 یہ میرا مسئلہ نہیں 🔷
ایک چوہا کسان کے گھر میں بل بنا کر رہتا تھا، ایک دن چوہے نے دیکھا کہ کسان اور اس کی بیوی ایک تھیلے سے کچھ نکال رہے ہیں، چوہے نے سوچا کہ شاید کچھ کھانے کا سامان ہے-
خوب غور سے دیکھنے پر اس نے پایا کہ وہ ایک چوهےدانی تھی- خطرہ بھانپنے پر اس نے گھر کے پچھواڑے میں جا کر کبوتر کو یہ بات بتائی کہ گھر میں چوهےدانی آ گئی ہے-
کبوتر نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ مجھے کیا؟ مجھے کون سا اس میں پھنسنا ہے؟
مایوس چوہا یہ بات مرغ کو بتانے گیا-
مرغ نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ... جا بھائی يہ میرا مسئلہ نہیں ہے-
مایوس چوہے نے دیوار میں جا کر بکرے کو یہ بات بتائی ... اور بکرا ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہونے لگا-
اسی رات چوهےدانی میں كھٹاک کی آواز ہوئی جس میں ایک زہریلا سانپ پھنس گیا تھا-
اندھیرے میں اس کی دم کو چوہا سمجھ کر کسان کی بیوی نے اس کو نکالا اور سانپ نے اسے ڈس لیا-
طبیعت بگڑنے پر کسان نے حکیم کو بلوایا، حکیم نے اسے کبوتر کا سوپ پلانے کا مشورہ دیا،
*کبوتر ابھی برتن میں ابل رہا تھا*
خبر سن کر کسان کے کئی رشتہ دار ملنے آ پہنچے جن کے کھانے کے انتظام کیلئے اگلے دن مرغ کو ذبح کیا گیا۔۔
کچھ دنوں کے بعد کسان کی بیوی مر گئی ... جنازہ اور موت ضیافت میں بکرا پروسنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا ......
چوہا دور جا چکا تھا ... بہت دور ............
اگلی بار کوئی آپ کو اپنے مسئلے بتائے اور آپ کو لگے کہ یہ میرا مسئلہ نہیں ہے تو انتظار کیجیے اور دوبارہ سوچیں .... ہم سب خطرے میں ہیں ....
سماج کا ایک عضو، ایک طبقہ، ایک شہری خطرے میں ہے تو پورا ملک خطرے میں ہے ....
ذات، مذہب اور طبقے کے دائرے سے باہر نكليے-
خود تک محدود مت رہیے- دوسروں کا احساس کیجیے۔ پڑوس میں لگی آگ آپکے گھر تک بھی پہنچ سکتی ہے.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزید پوسٹس۔۔۔
🔷 احساس
https://t.me/islamwitheman/160
🔥 شکر ھے ھمارا کوئی نھیں تھا
https://t.me/islamwitheman/212
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ایک چوہا کسان کے گھر میں بل بنا کر رہتا تھا، ایک دن چوہے نے دیکھا کہ کسان اور اس کی بیوی ایک تھیلے سے کچھ نکال رہے ہیں، چوہے نے سوچا کہ شاید کچھ کھانے کا سامان ہے-
خوب غور سے دیکھنے پر اس نے پایا کہ وہ ایک چوهےدانی تھی- خطرہ بھانپنے پر اس نے گھر کے پچھواڑے میں جا کر کبوتر کو یہ بات بتائی کہ گھر میں چوهےدانی آ گئی ہے-
کبوتر نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ مجھے کیا؟ مجھے کون سا اس میں پھنسنا ہے؟
مایوس چوہا یہ بات مرغ کو بتانے گیا-
مرغ نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ... جا بھائی يہ میرا مسئلہ نہیں ہے-
مایوس چوہے نے دیوار میں جا کر بکرے کو یہ بات بتائی ... اور بکرا ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہونے لگا-
اسی رات چوهےدانی میں كھٹاک کی آواز ہوئی جس میں ایک زہریلا سانپ پھنس گیا تھا-
اندھیرے میں اس کی دم کو چوہا سمجھ کر کسان کی بیوی نے اس کو نکالا اور سانپ نے اسے ڈس لیا-
طبیعت بگڑنے پر کسان نے حکیم کو بلوایا، حکیم نے اسے کبوتر کا سوپ پلانے کا مشورہ دیا،
*کبوتر ابھی برتن میں ابل رہا تھا*
خبر سن کر کسان کے کئی رشتہ دار ملنے آ پہنچے جن کے کھانے کے انتظام کیلئے اگلے دن مرغ کو ذبح کیا گیا۔۔
کچھ دنوں کے بعد کسان کی بیوی مر گئی ... جنازہ اور موت ضیافت میں بکرا پروسنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا ......
چوہا دور جا چکا تھا ... بہت دور ............
اگلی بار کوئی آپ کو اپنے مسئلے بتائے اور آپ کو لگے کہ یہ میرا مسئلہ نہیں ہے تو انتظار کیجیے اور دوبارہ سوچیں .... ہم سب خطرے میں ہیں ....
سماج کا ایک عضو، ایک طبقہ، ایک شہری خطرے میں ہے تو پورا ملک خطرے میں ہے ....
ذات، مذہب اور طبقے کے دائرے سے باہر نكليے-
خود تک محدود مت رہیے- دوسروں کا احساس کیجیے۔ پڑوس میں لگی آگ آپکے گھر تک بھی پہنچ سکتی ہے.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزید پوسٹس۔۔۔
🔷 احساس
https://t.me/islamwitheman/160
🔥 شکر ھے ھمارا کوئی نھیں تھا
https://t.me/islamwitheman/212
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 احساس 🔷
ﺗﻤﺎﻡ ﺍﺣﺒﺎﺏ ﺧﺼﻮﺻﺎً ﻧﻮﺟﻮﺍﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ نیچے ﺩﯼ ﮔﺌﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﯿﮟ۔۔۔
ﭘﮍﮪ ﮐﮧ ﺍﮎ ﺑﺎﺭ ﺿﺮﻭﺭ ﺳﻮﭼﯿﮯ ﮔﺎ کہ ہم میں دوسروں کے لئے کتنا احساس ہے.
ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﮐﺴﯽ ﻣﻠﮏ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﯼ ﮔﺰﺭﮔﺎﮦ ﮐﮯ ﺑﯿﭽﻮﮞ
ﺑﯿﭻ ﺍﯾﮏ ﭼﭩﺎﻧﯽ ﭘﺘﮭﺮ ﺍﯾﺴﮯ ﺭﮐﮭﻮﺍ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ…
ﺗﻤﺎﻡ ﺍﺣﺒﺎﺏ ﺧﺼﻮﺻﺎً ﻧﻮﺟﻮﺍﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ نیچے ﺩﯼ ﮔﺌﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﯿﮟ۔۔۔
ﭘﮍﮪ ﮐﮧ ﺍﮎ ﺑﺎﺭ ﺿﺮﻭﺭ ﺳﻮﭼﯿﮯ ﮔﺎ کہ ہم میں دوسروں کے لئے کتنا احساس ہے.
ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﮐﺴﯽ ﻣﻠﮏ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﯼ ﮔﺰﺭﮔﺎﮦ ﮐﮯ ﺑﯿﭽﻮﮞ
ﺑﯿﭻ ﺍﯾﮏ ﭼﭩﺎﻧﯽ ﭘﺘﮭﺮ ﺍﯾﺴﮯ ﺭﮐﮭﻮﺍ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ…
❄ دعویٰ اور اس کی تشریح ❄
ایک آدمی خلیفہ اول کے دربار میں آیا اور اس نے دعوی کیا کہ۔۔
وہ اللہ سے نہیں ڈرتا اور نہ ہی جنت کی لالچ کرتا ہے اور نہ دوزخ کا خدشہ ہے اور نہ ہی وہ رکوع کرتا ہے اور نہ ہی سجود اور مردار کھاتا ہے اور خون پیتا ہے اور جو نہیں دیکھا اس کی گواہی دیتا ہے اور فتنے سے محبت کرتا ہے اور حق سے کراہت کرتا ہے اور یہود و نصاری کو سچا سمجھتا ہے اور اس کے پاس ایک ایسی چیز ہے جو اللہ کے پاس نہیں ہے اور ایک چیز ہے جو اللہ کے لیے نہیں ہے اور بولا کہ میں احمد النبی ہوں اور میں علی ع ہوں اور میں ہی تمہارا رب ہوں۔
یہ سب باتیں سن کر خلیفہ ثانی کھڑا ہو گیا اور بولا تو کفر میں بڑا ترقی یافتہ ہو گیا ہے۔
ثانی کا قول سن کر امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا ٹھنڈا رہ، گرمی نہ دکھا۔
"یہ شخص اللہ کے اولیاء میں سے ایک ہے یہ جنت کی تمنا نہیں کرتا بلکہ خود اللہ کی تمنا کرتا ہے اور جہنم کی آگ سے خوف نہیں کھاتا مگر اپنے رب سے خوف کھاتا ہے، اللہ کے ظلم سے نہیں ڈرتا کیوں کہ وہ ظلم کرتا ہی نہیں بلکہ اللہ کے عدل سے ڈرتا ہے جس کے آگے کوئی نہیں ٹھہر سکتا اور جو اس نے کہا ہے کہ رکوع و سجود نہیں کرتا مطلب یہ ہے کہ نماز جنازہ میں رکوع و سجود نہیں ہوتا، ٹڈی اور مچھلی کھاتا ہے جوکہ مردہ بھی حلال ہیں اور انکا خون نجس نہیں ہے اور یہ اپنے بیوی بچوں سے محبت کرتا ہے جن کو قرآن میں اللہ نے فتنہ کہا ہے جنت اور جہنم کی گواہی دیتا ہے جس کو اس نے نہیں دیکھا اور حق سے کراہت یہاں حق سے مراد موت ہے جسے اللہ نے حق کہا ہے، یہود و نصاری کو سچا سمجھتا ہے اسلیے کہ وہ اک دوسرے کو جھوٹا کہتے ہیں اور دونوں کا قول سچا ہے اور اس کے پاس بیٹا ہے جوکہ اللہ کے پاس نہیں ہے اور وہ اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے جبکہ اللہ کے پاس کسی قسم کا ظلم موجود نہیں ہے۔ اسکا یہ کہنا کہ
انا احمد النبی کا مطلب ہے میں نبی محمد (ص) کی تعریف کرتا ہوں کہ انہوں نے اللہ کی طرف سے تبلیغ رسالت کی اور یہ قول انا علی کا مطلب ہے کہ میں اپنے قول میں علی (ع) ہوں اور یہ قول انا ربکم اسکا مطلب ہے میری آستین ہے جس کو میں کبھی اوپر اور کبھی نیچے کر لیتا ہوں۔
اس شخص کی باتوں کی مولا علیہ السلام سے تشریح سن کر بے ساختہ ثانی اٹھا مولا علیہ السلام کا سر چوم کر بولا اے ابوالحسن (ع) آپ کے بعد میں دنیا میں نہ رہوں۔
📚 حوالہ کتاب
انوار مشارق القین فی اسرار امیرالمومنینؑ، صفحہ٨٨۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
http://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ایک آدمی خلیفہ اول کے دربار میں آیا اور اس نے دعوی کیا کہ۔۔
وہ اللہ سے نہیں ڈرتا اور نہ ہی جنت کی لالچ کرتا ہے اور نہ دوزخ کا خدشہ ہے اور نہ ہی وہ رکوع کرتا ہے اور نہ ہی سجود اور مردار کھاتا ہے اور خون پیتا ہے اور جو نہیں دیکھا اس کی گواہی دیتا ہے اور فتنے سے محبت کرتا ہے اور حق سے کراہت کرتا ہے اور یہود و نصاری کو سچا سمجھتا ہے اور اس کے پاس ایک ایسی چیز ہے جو اللہ کے پاس نہیں ہے اور ایک چیز ہے جو اللہ کے لیے نہیں ہے اور بولا کہ میں احمد النبی ہوں اور میں علی ع ہوں اور میں ہی تمہارا رب ہوں۔
یہ سب باتیں سن کر خلیفہ ثانی کھڑا ہو گیا اور بولا تو کفر میں بڑا ترقی یافتہ ہو گیا ہے۔
ثانی کا قول سن کر امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا ٹھنڈا رہ، گرمی نہ دکھا۔
"یہ شخص اللہ کے اولیاء میں سے ایک ہے یہ جنت کی تمنا نہیں کرتا بلکہ خود اللہ کی تمنا کرتا ہے اور جہنم کی آگ سے خوف نہیں کھاتا مگر اپنے رب سے خوف کھاتا ہے، اللہ کے ظلم سے نہیں ڈرتا کیوں کہ وہ ظلم کرتا ہی نہیں بلکہ اللہ کے عدل سے ڈرتا ہے جس کے آگے کوئی نہیں ٹھہر سکتا اور جو اس نے کہا ہے کہ رکوع و سجود نہیں کرتا مطلب یہ ہے کہ نماز جنازہ میں رکوع و سجود نہیں ہوتا، ٹڈی اور مچھلی کھاتا ہے جوکہ مردہ بھی حلال ہیں اور انکا خون نجس نہیں ہے اور یہ اپنے بیوی بچوں سے محبت کرتا ہے جن کو قرآن میں اللہ نے فتنہ کہا ہے جنت اور جہنم کی گواہی دیتا ہے جس کو اس نے نہیں دیکھا اور حق سے کراہت یہاں حق سے مراد موت ہے جسے اللہ نے حق کہا ہے، یہود و نصاری کو سچا سمجھتا ہے اسلیے کہ وہ اک دوسرے کو جھوٹا کہتے ہیں اور دونوں کا قول سچا ہے اور اس کے پاس بیٹا ہے جوکہ اللہ کے پاس نہیں ہے اور وہ اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے جبکہ اللہ کے پاس کسی قسم کا ظلم موجود نہیں ہے۔ اسکا یہ کہنا کہ
انا احمد النبی کا مطلب ہے میں نبی محمد (ص) کی تعریف کرتا ہوں کہ انہوں نے اللہ کی طرف سے تبلیغ رسالت کی اور یہ قول انا علی کا مطلب ہے کہ میں اپنے قول میں علی (ع) ہوں اور یہ قول انا ربکم اسکا مطلب ہے میری آستین ہے جس کو میں کبھی اوپر اور کبھی نیچے کر لیتا ہوں۔
اس شخص کی باتوں کی مولا علیہ السلام سے تشریح سن کر بے ساختہ ثانی اٹھا مولا علیہ السلام کا سر چوم کر بولا اے ابوالحسن (ع) آپ کے بعد میں دنیا میں نہ رہوں۔
📚 حوالہ کتاب
انوار مشارق القین فی اسرار امیرالمومنینؑ، صفحہ٨٨۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
http://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 ذاکر نما خطیب کا انٹرویو 🔷
از قلم: الاحقر محمد زکی حیدری
سلام علیکم مومنین و مومنات آج ہمارے اسٹوڈیو میں ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ ذاکر نما خطیب نے ہمیں شرف گفتگو بخشا ہے، آئیے ان سے سوالات کا سلسلہ شروع کرتے ہیں.
حقیر: سلام علیکم و رحمتہ اللہ
خطیب: جی وعلیکم سلام
حقیر: قبلہ ہمارے ناظرین کو اپنے علمی سفر کے بارے میں بتائیے آپ کس حوزے میں کس سطح تک علم حاصل کیا ہے؟
خطیب: جی میرا ماننا ہے کہ عِلَم کسی مدرسے کا مُتاج (محتاج) نہیں ہوتا. میرے مرحوم دادا صیب (صاحب) پہنچے ہوئے بَزورگ (بزرگ) تھے اور بڑے زبردست قِسَم کے ذاکَر تھے، اس کے بعد ابا مرحوم نے ذاکری کی. اور مجھے مولا نے تَفیق (توفیق) دی میں نے خطابت میں نام کمایا. مقصد یہ جی کہ یہ ہمارا آبائی پیشہ ہے جی.
ح: جی یہ پیشہ ہے؟
خ: میرا مطلب یہ ہے جی کہ جدی پشتی مولا کی ڈیوٹی دینے والے ہیں.
ح: جی تو یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ بغیر کسی مدرسے گئے یا عالم دین کے ہاں زانوئے تلمذ تہہ کیئے اتنے بڑے خطیب بن گئے؟
ج: او جی آپ وی بڑے پولے (بھولے) ہیں. اصل میں مدرسوں میں جانا کسی مَصّوم (معصوم) کی سنت ہی نہیں رہی. عِلَم علی (ع) کے در کی لونڈی ہے، جس کے پاس جانے کا حُکَم مولائے کینات ( مولائ کائنات۴) دے دیں اس کے سینے میں چلا جاتا ہے جی! کمال کرتے ہیں کیا سارے مسّوم (معصوم) مدرسے میں پڑھے تھے. (قہقہہ)
ح: اچھا ٹھیک ہے جناب لیکن دنیاوی تعلیم تو ضرور حاصل کی ہوگی اور قاری صاحب کے پاس قرآن تو پڑھا ہوگا بچپن میں؟*
ج: او پاشاؤ (بادشاھو) جو ناطَق قرآن کا ذکَر سینے میں لے کر کومے (گھومے) اسے کیا ضرورت کہ یہ سامَت و خَموش (خاموش) قرآن کا رٹا لگائے. اصَل قرآن تو اھلبیت (ع) ہیں یہ تو کَتاب ہے صِرَف! اور کیا قرآن یہ دو ٹکے کا قاری پڑھائے گا ہمیں، قرآن پڑھایا تو علی (ع) نے پڑھایا، قاری دی داڑھی تے تا کار چ بیوی دی جتی وجدی اے!
ح: ااا...آہم... اہم... دیکھئے آپ آن ایئر ہیں الفاظ کا انتخاب شائستہ ہو تو بہتر ہے.
خ: اچھا جی (قہقہہ)
ح: جی آپ متعہ کے بارے میں کیا خیالات رکھتے ہیں؟
خ: دیکھئے جی آپس کی بات ہے، آپ بھی مومَن مولا کے ماننے والے ہیں! آپ ہی بتاؤ کیا متعہ سے شیعت بدنام نہیں ہورہی؟ اس میں یہ ہے جی کہ بیشک جئیز (جائز) ہو پر اس وَقَت دشمن اہلبیت (ع) حرام* بے غیر کنج* (censored)
متعہ کی بات کو بنیاد بنا کر ہمارے خلاف پَروپَگینڈا کر رہا ہے سو اس وَقَت
متعہ نجیز (ناجائز) ہونا چاہیئے. مذھب کی رسوائی ہے جی!
ح: جی کچھ لوگ قمعہ زنی کے بارے میں بھی بلکل ایسا نظریہ رکھتے ہیں کہ وقت کا تقاضہ یہ ہے قمعہ زنی نہ کی جائے، کیا آپ بھی....
ج: جی عزاداری کے خَلاف وہی حرامزا* بولے گا جس کی ماں نے** رنڈ* نطف** (censored)
خونی پرسے سے کوئی بدنامی نہیں ہوتی یہ سب بکواس ہے. قمعہ زنی واجَب ہے. کسی کو قمعہ زنی سے نفرت ہو تو ہم قمعہ زنی چھوڑ دیں. عجیب گَل ہے جی!
ح: براہ کرم گفتگو کے آداب جو آئمہ (ع) نے سکھائے ہیں، کو ملحوظ خاطر رکھ کر جواب دیجئے کہ نائیجیریہ میں چند سال قبل ایک سؤ شیعہ بھی نہ تھے لیکن اچانک ایک شیخ بنام ابراھیم زکزاکی کی تبلیغ و اخلاق نے اس تعداد کو ڈیڈہ کروڑ میں بدل دیا اس شیخ نے اپنی اس کامیابی کا راز بتاتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے وہابیوں و اھلسنت سے پیش آتے وقت سیرت آئمہ (ع) کو نمونۂ عمل بنایا اور ان سے بڑے پیار و محبت و اخلاق و ایثار و برادرانہ طریقے سے پیش آئے، ہم نے کبھی سرعام ان کے مقدسات کی توہین نہیں کی. اس لیئے وہ شیعہ ہوئے.
کیا آپ اس بات سے اتفاق رکھتے ہیں؟
خ: جی ایسا شیعہ ہونے کا کوئی فئیدہ (فائدہ) نہیں جی، جس میں تبرا نہ ہو. تبرا سرعام ہوگا ہم شیعہ بہت ہیں کسی کو شیعہ بنانا مولائے کینات ( مولائے کائنات علیہ السلام) کا کام ہے، کسی شیخ کا نہیں. یہ سب مولا کے معجزے ہیں شیخ ویخ کیا ہے جی!
ح: آپ کے مخالفین یہ کہتے ہیں کہ آپ نشہ کرتے ہیں، چرس پی کر مجلس پڑھتے ہیں؟
خ: جی فِقا (فقہ) میں بھنگ و چرس پاک ہیں.
ح: جی پاک ہیں یعنی کپڑوں پہ لگ جائے تو کپڑے نجس نہیں ہوتے لیکن کھانا تو حرام ہے نا، تو آپ؟
خ: اوجی پاک کہہ دیا تو پاک ہے یہ مولویوں کی طرح بات کو کُمانے (گھمانے) کی کوشَش نہ کریں.
ح: جی محترم آخری سوال یہ کہ کچھ لوگوں کو شکایت ہے کہ آپ کو منبر پہ تو بہت دیکھا ہے لیکن مسجد میں بہت ہی کم کیا یہ بات درست ہے؟
ح: پائی جان بات ہے عقیدے کی، سچ پوچھیں تو جب سے سنا ہےمیرے مولا علی (ع) ولی کو مسجد میں ملعون نے شہید کیا اس دن سے مسجد کے نام سے ہی دل بھر گیا. ہمارے دادا مرحوم نے ابا مرحوم کو وصیت کی، جو ابا مرحوم بھی ہم سے کہا کرتے تھے: جے میرا پتر ہیں تے کدی علی (ع) دی قتلگاہ اچ جاکے سجدہ نہ کرِیں!
ح: خطیب نما ذاکر صاحب آپ کا بہت ہی شکریہ. یہ ہماری طرف سے آپ کیلئے آپ کا منہ مانگا لفافہ۔
http://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
از قلم: الاحقر محمد زکی حیدری
سلام علیکم مومنین و مومنات آج ہمارے اسٹوڈیو میں ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ ذاکر نما خطیب نے ہمیں شرف گفتگو بخشا ہے، آئیے ان سے سوالات کا سلسلہ شروع کرتے ہیں.
حقیر: سلام علیکم و رحمتہ اللہ
خطیب: جی وعلیکم سلام
حقیر: قبلہ ہمارے ناظرین کو اپنے علمی سفر کے بارے میں بتائیے آپ کس حوزے میں کس سطح تک علم حاصل کیا ہے؟
خطیب: جی میرا ماننا ہے کہ عِلَم کسی مدرسے کا مُتاج (محتاج) نہیں ہوتا. میرے مرحوم دادا صیب (صاحب) پہنچے ہوئے بَزورگ (بزرگ) تھے اور بڑے زبردست قِسَم کے ذاکَر تھے، اس کے بعد ابا مرحوم نے ذاکری کی. اور مجھے مولا نے تَفیق (توفیق) دی میں نے خطابت میں نام کمایا. مقصد یہ جی کہ یہ ہمارا آبائی پیشہ ہے جی.
ح: جی یہ پیشہ ہے؟
خ: میرا مطلب یہ ہے جی کہ جدی پشتی مولا کی ڈیوٹی دینے والے ہیں.
ح: جی تو یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ بغیر کسی مدرسے گئے یا عالم دین کے ہاں زانوئے تلمذ تہہ کیئے اتنے بڑے خطیب بن گئے؟
ج: او جی آپ وی بڑے پولے (بھولے) ہیں. اصل میں مدرسوں میں جانا کسی مَصّوم (معصوم) کی سنت ہی نہیں رہی. عِلَم علی (ع) کے در کی لونڈی ہے، جس کے پاس جانے کا حُکَم مولائے کینات ( مولائ کائنات۴) دے دیں اس کے سینے میں چلا جاتا ہے جی! کمال کرتے ہیں کیا سارے مسّوم (معصوم) مدرسے میں پڑھے تھے. (قہقہہ)
ح: اچھا ٹھیک ہے جناب لیکن دنیاوی تعلیم تو ضرور حاصل کی ہوگی اور قاری صاحب کے پاس قرآن تو پڑھا ہوگا بچپن میں؟*
ج: او پاشاؤ (بادشاھو) جو ناطَق قرآن کا ذکَر سینے میں لے کر کومے (گھومے) اسے کیا ضرورت کہ یہ سامَت و خَموش (خاموش) قرآن کا رٹا لگائے. اصَل قرآن تو اھلبیت (ع) ہیں یہ تو کَتاب ہے صِرَف! اور کیا قرآن یہ دو ٹکے کا قاری پڑھائے گا ہمیں، قرآن پڑھایا تو علی (ع) نے پڑھایا، قاری دی داڑھی تے تا کار چ بیوی دی جتی وجدی اے!
ح: ااا...آہم... اہم... دیکھئے آپ آن ایئر ہیں الفاظ کا انتخاب شائستہ ہو تو بہتر ہے.
خ: اچھا جی (قہقہہ)
ح: جی آپ متعہ کے بارے میں کیا خیالات رکھتے ہیں؟
خ: دیکھئے جی آپس کی بات ہے، آپ بھی مومَن مولا کے ماننے والے ہیں! آپ ہی بتاؤ کیا متعہ سے شیعت بدنام نہیں ہورہی؟ اس میں یہ ہے جی کہ بیشک جئیز (جائز) ہو پر اس وَقَت دشمن اہلبیت (ع) حرام* بے غیر کنج* (censored)
متعہ کی بات کو بنیاد بنا کر ہمارے خلاف پَروپَگینڈا کر رہا ہے سو اس وَقَت
متعہ نجیز (ناجائز) ہونا چاہیئے. مذھب کی رسوائی ہے جی!
ح: جی کچھ لوگ قمعہ زنی کے بارے میں بھی بلکل ایسا نظریہ رکھتے ہیں کہ وقت کا تقاضہ یہ ہے قمعہ زنی نہ کی جائے، کیا آپ بھی....
ج: جی عزاداری کے خَلاف وہی حرامزا* بولے گا جس کی ماں نے** رنڈ* نطف** (censored)
خونی پرسے سے کوئی بدنامی نہیں ہوتی یہ سب بکواس ہے. قمعہ زنی واجَب ہے. کسی کو قمعہ زنی سے نفرت ہو تو ہم قمعہ زنی چھوڑ دیں. عجیب گَل ہے جی!
ح: براہ کرم گفتگو کے آداب جو آئمہ (ع) نے سکھائے ہیں، کو ملحوظ خاطر رکھ کر جواب دیجئے کہ نائیجیریہ میں چند سال قبل ایک سؤ شیعہ بھی نہ تھے لیکن اچانک ایک شیخ بنام ابراھیم زکزاکی کی تبلیغ و اخلاق نے اس تعداد کو ڈیڈہ کروڑ میں بدل دیا اس شیخ نے اپنی اس کامیابی کا راز بتاتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے وہابیوں و اھلسنت سے پیش آتے وقت سیرت آئمہ (ع) کو نمونۂ عمل بنایا اور ان سے بڑے پیار و محبت و اخلاق و ایثار و برادرانہ طریقے سے پیش آئے، ہم نے کبھی سرعام ان کے مقدسات کی توہین نہیں کی. اس لیئے وہ شیعہ ہوئے.
کیا آپ اس بات سے اتفاق رکھتے ہیں؟
خ: جی ایسا شیعہ ہونے کا کوئی فئیدہ (فائدہ) نہیں جی، جس میں تبرا نہ ہو. تبرا سرعام ہوگا ہم شیعہ بہت ہیں کسی کو شیعہ بنانا مولائے کینات ( مولائے کائنات علیہ السلام) کا کام ہے، کسی شیخ کا نہیں. یہ سب مولا کے معجزے ہیں شیخ ویخ کیا ہے جی!
ح: آپ کے مخالفین یہ کہتے ہیں کہ آپ نشہ کرتے ہیں، چرس پی کر مجلس پڑھتے ہیں؟
خ: جی فِقا (فقہ) میں بھنگ و چرس پاک ہیں.
ح: جی پاک ہیں یعنی کپڑوں پہ لگ جائے تو کپڑے نجس نہیں ہوتے لیکن کھانا تو حرام ہے نا، تو آپ؟
خ: اوجی پاک کہہ دیا تو پاک ہے یہ مولویوں کی طرح بات کو کُمانے (گھمانے) کی کوشَش نہ کریں.
ح: جی محترم آخری سوال یہ کہ کچھ لوگوں کو شکایت ہے کہ آپ کو منبر پہ تو بہت دیکھا ہے لیکن مسجد میں بہت ہی کم کیا یہ بات درست ہے؟
ح: پائی جان بات ہے عقیدے کی، سچ پوچھیں تو جب سے سنا ہےمیرے مولا علی (ع) ولی کو مسجد میں ملعون نے شہید کیا اس دن سے مسجد کے نام سے ہی دل بھر گیا. ہمارے دادا مرحوم نے ابا مرحوم کو وصیت کی، جو ابا مرحوم بھی ہم سے کہا کرتے تھے: جے میرا پتر ہیں تے کدی علی (ع) دی قتلگاہ اچ جاکے سجدہ نہ کرِیں!
ح: خطیب نما ذاکر صاحب آپ کا بہت ہی شکریہ. یہ ہماری طرف سے آپ کیلئے آپ کا منہ مانگا لفافہ۔
http://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🎙بانیِ مجلس صاحب سے انٹرویو🎙
از قلم: الاحقر محمد زکی حیدری
سلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ! مومنین و مومنات کرام حسب وعدہ میں اپنے دوسرے انٹرویو کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوں. آج ہمارے اسٹوڈیو میں ہم نے بانی مجلس کو مدعو کیا ہے. آئیے ان سے سوالات کا سلسلہ شروع کرتے ہیں.
حقیر: سلام علیکم
بانی: وعلیکم سلام
ح: بانی مجلس صاحب آپ اپنے بارے میں ذرا بتائیں اور آپ کس پیشے سے منسلک ہیں؟
ب: جی میرے والد صاحب مولا پاک ان کو جنت میں جگہ عطا فرمائے محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور میں وزیر اعلی کے خاص مشیروں میں سے تھے. اس دور میں بھی ابا حضور بڑی مجالس کرواتے تھے اور امام بارگاہ بنوائے، ضریحاں بنوائیں اور ذوالجناح خریدے. اب اندرون سندہ و پنجاب میں زمینیں ہیں مالکوں کی دَین ہے کسی کی نوکری کرنے کی ضرورت نہیں. ابا سب کچھ ہمارے لیئے چھوڑ گئے. ابا بڑی مجالس کرواتے، ان کی مجلس میں بڑے بڑے سیاسی لوگ آتے تھے. یہ البم ساتھ لایا ہوں. چاہیں تو دیکھ سکتے ہیں.
ح: جی اس کی ضرورت نہیں. آپ کی بات ہی کافی ہے. اچھا بانی صاحب آپ کے امام بارگاہ میں عزاداروں کا جم غفیر ہوتا ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ آپ صرف ذاکریں کو بلاتے ہیں علماء کو نہیں. اس میں کتنی سچائی ہے؟
ب: بکواس! یہ صادقیہ امام بارگاہ والوں کی شروع سے ہمارے خلاف پالیسی رہی ہے ان کو ہمارے امام بارگاہ کے پروگرامز سے ہمیشہ جلن ہوتی ہے، تبھی ایسی باتیں پھیلاتے ہیں. ان سے پوچھیں وہ کون سا علامہ ہے جو ہمارے پاس نہیں پڑھا، علامہ عرفان حیدر عابدی، علامہ ناصر ملتانی، علامہ غضنفر عباس تونسوی، علامہ ضمیر اختر نقوی، علامہ حافظ تصدق علامہ جعفر جتوئی ... اور بھی نام گنوا سکتا ہوں. ان سے پوچھیں کوئی ایک بھی بڑا علامہ پڑھایا کبھی، مسجد کے مولوی سے عشرے پڑھانے والے ہم پہ انگلیاں اٹھاتے ہیں.
ح: ماشاء اللہ! اچھا یہ بتائیے کہ...
ب: اور جی قطع کلامی معاف! ان سے پوچھیں کتنی ضریحاں ہیں ان کے امام بارگاہ میں؟ ہمارے امام بارگاہ میں آپ آکر دیکھیں شہہ نشین آپ کو پنجوں اور ضریحوں سے بھرا ملے گا،۳۰ فٹ کا چوڑا چاندی کا جھولا علی اصغر۴. ابا حضور کربلا سے ضریح بنوا کر لائے ہیں آدھا کلو سونا لگا ہے... شہزادی سکینہ (س) کے بالیوں کی شبیہ، اور یہ کیا بات کریں گے مولا عباس (ع) کی قسم آپ میرے مومن بھائی ہیں حیدری بھائی تکبر سے توبہ ہے (دونوں ہاتھ کانوں تک لے جاتے ہوئے) ہمارا ذوالجناح جب نکلتا ہے تو ذوالجناح کی سج دھج دیکھ کر لگتا ہے براق ہے براق. اور ان صادقیہ والوں کا ذوالجناح تو دور
عَلم بھی بڑے عرصے تک پتلے لوہے کا رہا، ۴۰ فوٹ کا، اوپر سے رنگ کر دیتے تھے. مولا کا کرم ہے ۱۰۰ فٹ کا عَلم ہے ہمارا اور اسٹین لیس اسٹیل پلیٹڈ ہے. صادقیہ امام بارگاہ والوں کو اس بات سے جلن ہوتی ہے.
ح: ماشاء اللہ! ویسے کیا ہی اچھا ہو کہ ہم سب مومن عزادار ہیں، اگر ایک ہی شہر میں متحد ہو کر اتحاد و بھائی چارے و رواداری و محبت و... سے ایک ہی بڑا پروگرام کریں، ایک ہی جلوس نکلے۔
ح: حیدری بھائی ہم نے کب منع کیا ہے صادقیہ والوں کو، ہمارے ہاں تو ھند سندہ سے قافلے آتے ہیں بھائی، مہمان خانہ محرم میں بھرا رہتا ہے، دن رات نیاز چلتی ہے، مجلس و جلوس میں پیر رکھنے کی جگہ نہیں ملتی، مرد تو مرد مستورات کی بڑی تعداد ہوتی ہے. ایسے میں ہمیں کیا ضرورت کہ صادقیہ والوں کی منتیں کریں، اور ان کے نخرے ہوتے ہیں بھائی، نماز کے وقت مجلس کا وقفہ کرو، فلاں علامہ نے یہ بات کہہ دی احتجاج، فلاں علامہ کو پڑھاؤ گے تو ہم نہیں آئیں گے اور بھی ھزار باتیں..
ح: محترم آپ خمس ادا کرتے ہیں؟ کیونکہ آئمہ (ع) کی تعلیمات میں واضح طور ملتا ہے کہ جس مال سے خمس نہ نکالا جائے وہ حرام ہے؟
ب: عجیب بات کردی حیدری بھائی! یہ اتنا سب کچھ بتایا عَلم، علامہ، ضریحاں، کیا یہ سب مفت میں ہوتا ہے کہ میں خمس نکالوں. علائقے میں سب سے بڑی اور بہترین نیاز ہمارے ہاں ہوتی ہے. جشن میں سب سے بڑا کیک اور خشک میوے اور دودہ کا گاڑھا مِلک شیک پورے ڈویژن میں ہمارے یہاں ہی بنتا ہے. اور یہ مولا کا کرم ہے، مالکوں نے عزت دی ہے کسی علامہ کو مجلس کی نیاز ہم سے زیادہ کوئی نہیں دیتا، یہ لیں میرا فون سارے علامہ و ذاکروں کے نمبر موجود ہیں مجھے نام سے جانتے ہیں، سب میری بات کی تصدیق کریں گے.
ح: جی دیکھیئے اس کا اجر تو مولا حسین (ع) آپ کو دیں گے مگر مجتہدین کرام کا فتوا ہے کہ آپ جتنی بھی خیرات کر لیں، فلاحی کام کر لیں، خمس کا حساب الگ ہے جیسے زکام کیلئے الگ دوائی، کھانسی کیلئے الگ، و پیٹ درد کیلئے الگ، ایک دوائی سے ساری بیماریوں کا علاج ممکن نہیں. اسی طرح اسلام میں مال کا حساب بھی الگ ہے صدقہ الگ، خیرات الگ خمس الگ، خمس واجب ہے نہ دیا تو مال حرام ہے۔
ب: ھاھاھا! بھائی ناراض نہ ہونا آپ بلکل صادقیہ کے لونڈوں والی بات کر رہے ہیں. ارے بھئی یہ مولویوں کی باتیں ہیں عزاداری قبول کرنے والے مالک پنجتن پاک ہیں نہ کہ یہ مولوی۔
از قلم: الاحقر محمد زکی حیدری
سلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ! مومنین و مومنات کرام حسب وعدہ میں اپنے دوسرے انٹرویو کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوں. آج ہمارے اسٹوڈیو میں ہم نے بانی مجلس کو مدعو کیا ہے. آئیے ان سے سوالات کا سلسلہ شروع کرتے ہیں.
حقیر: سلام علیکم
بانی: وعلیکم سلام
ح: بانی مجلس صاحب آپ اپنے بارے میں ذرا بتائیں اور آپ کس پیشے سے منسلک ہیں؟
ب: جی میرے والد صاحب مولا پاک ان کو جنت میں جگہ عطا فرمائے محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور میں وزیر اعلی کے خاص مشیروں میں سے تھے. اس دور میں بھی ابا حضور بڑی مجالس کرواتے تھے اور امام بارگاہ بنوائے، ضریحاں بنوائیں اور ذوالجناح خریدے. اب اندرون سندہ و پنجاب میں زمینیں ہیں مالکوں کی دَین ہے کسی کی نوکری کرنے کی ضرورت نہیں. ابا سب کچھ ہمارے لیئے چھوڑ گئے. ابا بڑی مجالس کرواتے، ان کی مجلس میں بڑے بڑے سیاسی لوگ آتے تھے. یہ البم ساتھ لایا ہوں. چاہیں تو دیکھ سکتے ہیں.
ح: جی اس کی ضرورت نہیں. آپ کی بات ہی کافی ہے. اچھا بانی صاحب آپ کے امام بارگاہ میں عزاداروں کا جم غفیر ہوتا ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ آپ صرف ذاکریں کو بلاتے ہیں علماء کو نہیں. اس میں کتنی سچائی ہے؟
ب: بکواس! یہ صادقیہ امام بارگاہ والوں کی شروع سے ہمارے خلاف پالیسی رہی ہے ان کو ہمارے امام بارگاہ کے پروگرامز سے ہمیشہ جلن ہوتی ہے، تبھی ایسی باتیں پھیلاتے ہیں. ان سے پوچھیں وہ کون سا علامہ ہے جو ہمارے پاس نہیں پڑھا، علامہ عرفان حیدر عابدی، علامہ ناصر ملتانی، علامہ غضنفر عباس تونسوی، علامہ ضمیر اختر نقوی، علامہ حافظ تصدق علامہ جعفر جتوئی ... اور بھی نام گنوا سکتا ہوں. ان سے پوچھیں کوئی ایک بھی بڑا علامہ پڑھایا کبھی، مسجد کے مولوی سے عشرے پڑھانے والے ہم پہ انگلیاں اٹھاتے ہیں.
ح: ماشاء اللہ! اچھا یہ بتائیے کہ...
ب: اور جی قطع کلامی معاف! ان سے پوچھیں کتنی ضریحاں ہیں ان کے امام بارگاہ میں؟ ہمارے امام بارگاہ میں آپ آکر دیکھیں شہہ نشین آپ کو پنجوں اور ضریحوں سے بھرا ملے گا،۳۰ فٹ کا چوڑا چاندی کا جھولا علی اصغر۴. ابا حضور کربلا سے ضریح بنوا کر لائے ہیں آدھا کلو سونا لگا ہے... شہزادی سکینہ (س) کے بالیوں کی شبیہ، اور یہ کیا بات کریں گے مولا عباس (ع) کی قسم آپ میرے مومن بھائی ہیں حیدری بھائی تکبر سے توبہ ہے (دونوں ہاتھ کانوں تک لے جاتے ہوئے) ہمارا ذوالجناح جب نکلتا ہے تو ذوالجناح کی سج دھج دیکھ کر لگتا ہے براق ہے براق. اور ان صادقیہ والوں کا ذوالجناح تو دور
عَلم بھی بڑے عرصے تک پتلے لوہے کا رہا، ۴۰ فوٹ کا، اوپر سے رنگ کر دیتے تھے. مولا کا کرم ہے ۱۰۰ فٹ کا عَلم ہے ہمارا اور اسٹین لیس اسٹیل پلیٹڈ ہے. صادقیہ امام بارگاہ والوں کو اس بات سے جلن ہوتی ہے.
ح: ماشاء اللہ! ویسے کیا ہی اچھا ہو کہ ہم سب مومن عزادار ہیں، اگر ایک ہی شہر میں متحد ہو کر اتحاد و بھائی چارے و رواداری و محبت و... سے ایک ہی بڑا پروگرام کریں، ایک ہی جلوس نکلے۔
ح: حیدری بھائی ہم نے کب منع کیا ہے صادقیہ والوں کو، ہمارے ہاں تو ھند سندہ سے قافلے آتے ہیں بھائی، مہمان خانہ محرم میں بھرا رہتا ہے، دن رات نیاز چلتی ہے، مجلس و جلوس میں پیر رکھنے کی جگہ نہیں ملتی، مرد تو مرد مستورات کی بڑی تعداد ہوتی ہے. ایسے میں ہمیں کیا ضرورت کہ صادقیہ والوں کی منتیں کریں، اور ان کے نخرے ہوتے ہیں بھائی، نماز کے وقت مجلس کا وقفہ کرو، فلاں علامہ نے یہ بات کہہ دی احتجاج، فلاں علامہ کو پڑھاؤ گے تو ہم نہیں آئیں گے اور بھی ھزار باتیں..
ح: محترم آپ خمس ادا کرتے ہیں؟ کیونکہ آئمہ (ع) کی تعلیمات میں واضح طور ملتا ہے کہ جس مال سے خمس نہ نکالا جائے وہ حرام ہے؟
ب: عجیب بات کردی حیدری بھائی! یہ اتنا سب کچھ بتایا عَلم، علامہ، ضریحاں، کیا یہ سب مفت میں ہوتا ہے کہ میں خمس نکالوں. علائقے میں سب سے بڑی اور بہترین نیاز ہمارے ہاں ہوتی ہے. جشن میں سب سے بڑا کیک اور خشک میوے اور دودہ کا گاڑھا مِلک شیک پورے ڈویژن میں ہمارے یہاں ہی بنتا ہے. اور یہ مولا کا کرم ہے، مالکوں نے عزت دی ہے کسی علامہ کو مجلس کی نیاز ہم سے زیادہ کوئی نہیں دیتا، یہ لیں میرا فون سارے علامہ و ذاکروں کے نمبر موجود ہیں مجھے نام سے جانتے ہیں، سب میری بات کی تصدیق کریں گے.
ح: جی دیکھیئے اس کا اجر تو مولا حسین (ع) آپ کو دیں گے مگر مجتہدین کرام کا فتوا ہے کہ آپ جتنی بھی خیرات کر لیں، فلاحی کام کر لیں، خمس کا حساب الگ ہے جیسے زکام کیلئے الگ دوائی، کھانسی کیلئے الگ، و پیٹ درد کیلئے الگ، ایک دوائی سے ساری بیماریوں کا علاج ممکن نہیں. اسی طرح اسلام میں مال کا حساب بھی الگ ہے صدقہ الگ، خیرات الگ خمس الگ، خمس واجب ہے نہ دیا تو مال حرام ہے۔
ب: ھاھاھا! بھائی ناراض نہ ہونا آپ بلکل صادقیہ کے لونڈوں والی بات کر رہے ہیں. ارے بھئی یہ مولویوں کی باتیں ہیں عزاداری قبول کرنے والے مالک پنجتن پاک ہیں نہ کہ یہ مولوی۔
ح: آپ کا بہت بہت شکریہ محترم آپ نے ہمیں وقت دیا. اللہ (ج) آپ کو سلامت رکھے.
ب: شکریہ
قارئیں محترم آپ سے میرا ایک سوال ہے کہ اس انٹرویو میں سے آپ کو کیا لگا، یہ بانی صاحب امام حسین (ع) کو خوش کرنے کیلئے خرچ کرتے ہیں یا پھر دکھاوا کر کے اپنے نفس کو خوش کرنے کیلئے؟
کیا خمس (نعوذباللہ) ایک مذاق ہے جو آئمہ (ع) نے کیا ہے، جس کی پابندی ہم کریں نہ کریں پھر بھی امام حسین (ع) خوش ہوں گے کہ چلو حرام کا پیسہ ہی صحیح میرے نام کی مجلس تو کروادی؟
کیا واقعی ایسا ہے؟
کیا میں ڈاکہ ڈال کر مجلس کرواؤں یا مسجد بنواؤں تو ثواب ہوگا؟ تو کیا خمس جو سادات کا حق ہے اس پر ڈاکہ ڈال کر ہماری عبادت قبول ہوگی؟
فدک کے غاصب کے بارے میں کیا خیال ہے، اس نے سادات کی والدہ کا حق غصب کیا اور لعنتی بنا اور آج حقِ سادات کے غاصب بڑے عزادار!!!
مجھے تو بات سمجھ نہیں آئی آپ سوچیئے، بانیان مجلس سے ملیئے اور پھر آپ جس نتیجے پہ پہنچیں وہ مجھے بھی بتا دیجئے گا.
اگلے ھفتے تک کیلئے اللہ (ج) حافظ!
https://t.me/islamwitheman/876
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ب: شکریہ
قارئیں محترم آپ سے میرا ایک سوال ہے کہ اس انٹرویو میں سے آپ کو کیا لگا، یہ بانی صاحب امام حسین (ع) کو خوش کرنے کیلئے خرچ کرتے ہیں یا پھر دکھاوا کر کے اپنے نفس کو خوش کرنے کیلئے؟
کیا خمس (نعوذباللہ) ایک مذاق ہے جو آئمہ (ع) نے کیا ہے، جس کی پابندی ہم کریں نہ کریں پھر بھی امام حسین (ع) خوش ہوں گے کہ چلو حرام کا پیسہ ہی صحیح میرے نام کی مجلس تو کروادی؟
کیا واقعی ایسا ہے؟
کیا میں ڈاکہ ڈال کر مجلس کرواؤں یا مسجد بنواؤں تو ثواب ہوگا؟ تو کیا خمس جو سادات کا حق ہے اس پر ڈاکہ ڈال کر ہماری عبادت قبول ہوگی؟
فدک کے غاصب کے بارے میں کیا خیال ہے، اس نے سادات کی والدہ کا حق غصب کیا اور لعنتی بنا اور آج حقِ سادات کے غاصب بڑے عزادار!!!
مجھے تو بات سمجھ نہیں آئی آپ سوچیئے، بانیان مجلس سے ملیئے اور پھر آپ جس نتیجے پہ پہنچیں وہ مجھے بھی بتا دیجئے گا.
اگلے ھفتے تک کیلئے اللہ (ج) حافظ!
https://t.me/islamwitheman/876
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 ذاکر نما خطیب کا انٹرویو 🔷
از قلم: الاحقر محمد زکی حیدری
سلام علیکم مومنین و مومنات آج ہمارے اسٹوڈیو میں ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ ذاکر نما خطیب نے ہمیں شرف گفتگو بخشا ہے، آئیے ان سے سوالات کا سلسلہ شروع کرتے ہیں.
حقیر: سلام علیکم و رحمتہ اللہ
خطیب:…
از قلم: الاحقر محمد زکی حیدری
سلام علیکم مومنین و مومنات آج ہمارے اسٹوڈیو میں ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ ذاکر نما خطیب نے ہمیں شرف گفتگو بخشا ہے، آئیے ان سے سوالات کا سلسلہ شروع کرتے ہیں.
حقیر: سلام علیکم و رحمتہ اللہ
خطیب:…
🌛 سونے سے پہلے کے اعمال 🌜
1- تین بار تسبیحات اربعہ.
2- تین بار سوره توحید.
3- چہاردہ معصومینؑ کی نیابت میں 14 بار صلوات.
4- تمام مومنان و مردوں کے لئے طلب مغفرت.
5- تسبیح حضرت زهراءؑ
6- آیت الكرسی، فلق، ناس و كافرون .
7- خواندن این دعا كه به منزله ی هزار نماز است: یَفْعَلُ اللهُ ما یشاءُ بِقُدْرَتِهِ وَ یَحْكُمُ ما یُریدُ بِعِزَّتِهِ
🔰 صحيح و معتبر حديث میں حضرت امام محمد باقر عليه السلام سے منقول ہے سر کے نیچے ہاتھ رکھ کر یہ دعا پڑھیں۔۔
✨بسْمِ اللّهِ اَلّلهُمَّ اِنّى اَسْلَمْتُ نَفْسى اِليْكَ وَ وَجَّهْتُ وَجْهى اِلَيْك وَفَوَّضْتُ اَمْرى اِلَيْكَ وَاَلْجَاْتُ ظَهْرى اِلَيْكَ وَ تَوَكَّلْتُ عَلَيْكَ رَهْبَةً مِنْكَ وَرَغْبَةً اَِليْكَ لامَلْجَاءَ وَلا مَنْجا مِنْكَ اِلَيْكَ امَنْتُ بِكِتابِكَ الَّذى اَنْرَلْتَ وَبِرَ سُولكَ الَّذى اَرْسَلْتَ✨
🌸 اس کے بعد تسبيح حضرت فاطمه سلام الله عليها۔
📘من لا يحضره الفقيه، ج1، ص: 470
🔰 دوسری صحيح حديث میں فرمایا ہے سونے سے پہلے یہ دعا ترك نہ كریں۔۔
✨اعيذُ نَفْسى وَ دُرّيَتى وَ اَهْل بَيْتى وَمالى بِكَلِماتِ اللّهِ التّاماتِ مِنْ كُلِّ شَيْطانٍ وَهامَةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنِ لامَةٍ✨
صبح تک اس کے سانپ، بچھو وغیرہ کے گزند سے محفوظ رہنے کی ضمانت کرتا ہوں.
📘 الكافي (ط - الإسلامية)، ج2، ص: 570۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
بشکریہ: روشنی چینل
https://t.me/islamwitheman/427
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
1- تین بار تسبیحات اربعہ.
2- تین بار سوره توحید.
3- چہاردہ معصومینؑ کی نیابت میں 14 بار صلوات.
4- تمام مومنان و مردوں کے لئے طلب مغفرت.
5- تسبیح حضرت زهراءؑ
6- آیت الكرسی، فلق، ناس و كافرون .
7- خواندن این دعا كه به منزله ی هزار نماز است: یَفْعَلُ اللهُ ما یشاءُ بِقُدْرَتِهِ وَ یَحْكُمُ ما یُریدُ بِعِزَّتِهِ
🔰 صحيح و معتبر حديث میں حضرت امام محمد باقر عليه السلام سے منقول ہے سر کے نیچے ہاتھ رکھ کر یہ دعا پڑھیں۔۔
✨بسْمِ اللّهِ اَلّلهُمَّ اِنّى اَسْلَمْتُ نَفْسى اِليْكَ وَ وَجَّهْتُ وَجْهى اِلَيْك وَفَوَّضْتُ اَمْرى اِلَيْكَ وَاَلْجَاْتُ ظَهْرى اِلَيْكَ وَ تَوَكَّلْتُ عَلَيْكَ رَهْبَةً مِنْكَ وَرَغْبَةً اَِليْكَ لامَلْجَاءَ وَلا مَنْجا مِنْكَ اِلَيْكَ امَنْتُ بِكِتابِكَ الَّذى اَنْرَلْتَ وَبِرَ سُولكَ الَّذى اَرْسَلْتَ✨
🌸 اس کے بعد تسبيح حضرت فاطمه سلام الله عليها۔
📘من لا يحضره الفقيه، ج1، ص: 470
🔰 دوسری صحيح حديث میں فرمایا ہے سونے سے پہلے یہ دعا ترك نہ كریں۔۔
✨اعيذُ نَفْسى وَ دُرّيَتى وَ اَهْل بَيْتى وَمالى بِكَلِماتِ اللّهِ التّاماتِ مِنْ كُلِّ شَيْطانٍ وَهامَةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنِ لامَةٍ✨
صبح تک اس کے سانپ، بچھو وغیرہ کے گزند سے محفوظ رہنے کی ضمانت کرتا ہوں.
📘 الكافي (ط - الإسلامية)، ج2، ص: 570۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
بشکریہ: روشنی چینل
https://t.me/islamwitheman/427
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌛سوتے وقت کے اعمال 🌜
🔷 رسول خدا محمد مصطفٰیؐ نے فرمایا که جو شخص سونے سے پہلے 100 مرتبہ سوره قل ھوالله احد پڑھے،
اللہ تعالی اسکے پچاس سال کے گناه معاف فرما دیتا ھے. (جواھرالبحار، ﺹ:192)
🔷 امام جعفر صادقؑ نے فرمایا که سوتے وقت اس کو تین مرتبہ تلاوت کرو…
🔷 رسول خدا محمد مصطفٰیؐ نے فرمایا که جو شخص سونے سے پہلے 100 مرتبہ سوره قل ھوالله احد پڑھے،
اللہ تعالی اسکے پچاس سال کے گناه معاف فرما دیتا ھے. (جواھرالبحار، ﺹ:192)
🔷 امام جعفر صادقؑ نے فرمایا که سوتے وقت اس کو تین مرتبہ تلاوت کرو…
📧 میسجز فارورڈنگ 📧
سوشل میڈیا پر رواں دواں جھوٹ اور سادہ لوح احباب۔۔۔۔
عربی زبان کا مقولہ ہے کہ انسان کے جھوٹے ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سُنی سُنائی بات کو نقل کردیا کرے۔ پنجابی میں بھی ایک مقولہ ہے جس کا مفہوم یوں ہے کہ پاگل ایسے ہی بات کردیتا جبکہ عقل مند سوچتا ہے، پھر بات کرتا ہے۔ اردو میں ہی پہلے تولو، پھر بولو کا مقولہ بھی زبان زد عام ہے۔ سادہ ہونا انسان کی بہت بڑی خامی ہے۔ سادہ احباب جیسے حقیقی زندگی میں، مختلف معاملات میں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگے ہوتے ہیں، ایسے ہی سوشل میڈیا پر بھی وہ یہی کردار ادا کرتے ہیں۔ بلا تصدیق، بلا سوچے سمجھے، غور و فکر کیے، وہ کسی بھی بے بنیاد اور جھوٹی خبر کو، تجزیہ کو، پوسٹ کو ثواب جان کر پھیلانا شروع کردیتے ہیں۔ اس ضمن میں بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔
ایک بار کسی نے واٹس ایپ میں میسج بھیجا، جس پر موبائل فون کی بیٹریوں کا آئکن بنا ہوا تھا، میسج میں لکھا تھا کہ اس میسج کو مختلف واٹس ایپ گروپوں میں شیئر کرو، آپ کے موبائل کی بیٹری ری چارج ہو جائے گی۔ کئی دوستوں نے وہ میسج بڑے اشتیاق سے پھیلایا۔
وقفے وقفے سے ایک میسج واٹس ایپ گروپوں میں گردش کرتا نظر آتا ہے کہ میں ایک کشمیری مریض لڑکی ہوں، میرا یہ موبائل نمبر ہے۔ مجھے امداد چاہیے، واٹس ایپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگر آپ کا یہ میسج جتنی بار واٹس ایپ پر شیئر ہوگا، پچاس پیسہ فی میسج آپ کو ملے گا۔ براہ کرم اسے بہت پھیلاؤ۔
کئی سادہ لوح حضرات اُسے پھیلاتے نظر آتے ہیں۔ اللہ کے بندو پچاس پیسے فی میسج کیا بنے گا؟ وہ شاید کسی نے کسی کا نمبر پھیلانے کے لیے حرکت کی ہے۔
حالیہ دنوں ایک نمبر دیا ہوا تھا کہ اس سے کال مت اٹینڈ کرنا، یہ کسی ہیکر کا نمبر ہے۔ اپنے سبھی پیاروں کو بھیجو۔ مجھے بھی درجنوں سمجھداروں نے یہ میسج بھیجا۔ اللہ کے بندو یہ سب بکواس ہے۔ ایسا کچھ نہیں ہوتا۔
مجھے کئی بار میسج موصول ہوا جس میں لکھا ہوتا کہ میں ووٹ فُلاں سیاسی جماعت کو دوں گا، یہ میسج بیس بندوں کو بھیج کے اپنا بیلنس چیک کرنا، آپ کو دو سو کا بیلنس ملے گا۔ ہمارے احباب ایسے میسج بھیج کر بیلنس چیک کرتے پائے گئے ہیں۔
مذہبی میسج بھی گردش کرتے ملتے ہیں کہ یہ میسج دس بندوں کو بھیجو، تمہارا رُکا ہوا کام ہوجائے گا ورنہ بہت بڑا نقصان ہوگا، اُس کے اندر کلمہ وغیرہ لکھا ہوتا ہے۔
اکثر میسج موصول ہوتا ہے کہ واٹس ایپ کو بند کیا جارہا ہے، یہ میسج آگے بھیجیں تو آپ کا اکاؤنٹ محفوظ رہے گا۔ ہمارے دوست اسے بھی خلوص سے آگے ہنکا دیتے ہیں۔
جھوٹے مذہبی حوالے، قصے، جھوٹی سیاسی خبریں اور مختلف قسم کی غلط ملط باتیں دوست احباب شوق و ذوق سے آگے شیئر فرمارہے ہوتے ہیں۔
دوستو! کسی بھی بات کو آگے شیئر کرنے سے پہلے ایک بار ضرور دیکھا کرو کہ اس کا سورس کیا ہے؟ آیا یہ درست بھی ہے یا غلط؟ باوثوق ذرائع پر ہی اعتماد کیا کریں ورنہ ہر پوسٹ، خبر، بات کو بلا سوچے سمجھے شیئر کرنے سے آپ کی شخصیت مجروح ہوگی۔ سوشل میڈیا پر مختلف مقاصد کے تحت پھیلائے جانے والے جھوٹے پروپیگنڈوں کو پھیلا کا اپنے جھوٹے یا غیر معتبر ہونے کا ثبوت نہ دیجیے۔
👆 ایک مراسلہ 👆
http://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
سوشل میڈیا پر رواں دواں جھوٹ اور سادہ لوح احباب۔۔۔۔
عربی زبان کا مقولہ ہے کہ انسان کے جھوٹے ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سُنی سُنائی بات کو نقل کردیا کرے۔ پنجابی میں بھی ایک مقولہ ہے جس کا مفہوم یوں ہے کہ پاگل ایسے ہی بات کردیتا جبکہ عقل مند سوچتا ہے، پھر بات کرتا ہے۔ اردو میں ہی پہلے تولو، پھر بولو کا مقولہ بھی زبان زد عام ہے۔ سادہ ہونا انسان کی بہت بڑی خامی ہے۔ سادہ احباب جیسے حقیقی زندگی میں، مختلف معاملات میں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگے ہوتے ہیں، ایسے ہی سوشل میڈیا پر بھی وہ یہی کردار ادا کرتے ہیں۔ بلا تصدیق، بلا سوچے سمجھے، غور و فکر کیے، وہ کسی بھی بے بنیاد اور جھوٹی خبر کو، تجزیہ کو، پوسٹ کو ثواب جان کر پھیلانا شروع کردیتے ہیں۔ اس ضمن میں بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔
ایک بار کسی نے واٹس ایپ میں میسج بھیجا، جس پر موبائل فون کی بیٹریوں کا آئکن بنا ہوا تھا، میسج میں لکھا تھا کہ اس میسج کو مختلف واٹس ایپ گروپوں میں شیئر کرو، آپ کے موبائل کی بیٹری ری چارج ہو جائے گی۔ کئی دوستوں نے وہ میسج بڑے اشتیاق سے پھیلایا۔
وقفے وقفے سے ایک میسج واٹس ایپ گروپوں میں گردش کرتا نظر آتا ہے کہ میں ایک کشمیری مریض لڑکی ہوں، میرا یہ موبائل نمبر ہے۔ مجھے امداد چاہیے، واٹس ایپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگر آپ کا یہ میسج جتنی بار واٹس ایپ پر شیئر ہوگا، پچاس پیسہ فی میسج آپ کو ملے گا۔ براہ کرم اسے بہت پھیلاؤ۔
کئی سادہ لوح حضرات اُسے پھیلاتے نظر آتے ہیں۔ اللہ کے بندو پچاس پیسے فی میسج کیا بنے گا؟ وہ شاید کسی نے کسی کا نمبر پھیلانے کے لیے حرکت کی ہے۔
حالیہ دنوں ایک نمبر دیا ہوا تھا کہ اس سے کال مت اٹینڈ کرنا، یہ کسی ہیکر کا نمبر ہے۔ اپنے سبھی پیاروں کو بھیجو۔ مجھے بھی درجنوں سمجھداروں نے یہ میسج بھیجا۔ اللہ کے بندو یہ سب بکواس ہے۔ ایسا کچھ نہیں ہوتا۔
مجھے کئی بار میسج موصول ہوا جس میں لکھا ہوتا کہ میں ووٹ فُلاں سیاسی جماعت کو دوں گا، یہ میسج بیس بندوں کو بھیج کے اپنا بیلنس چیک کرنا، آپ کو دو سو کا بیلنس ملے گا۔ ہمارے احباب ایسے میسج بھیج کر بیلنس چیک کرتے پائے گئے ہیں۔
مذہبی میسج بھی گردش کرتے ملتے ہیں کہ یہ میسج دس بندوں کو بھیجو، تمہارا رُکا ہوا کام ہوجائے گا ورنہ بہت بڑا نقصان ہوگا، اُس کے اندر کلمہ وغیرہ لکھا ہوتا ہے۔
اکثر میسج موصول ہوتا ہے کہ واٹس ایپ کو بند کیا جارہا ہے، یہ میسج آگے بھیجیں تو آپ کا اکاؤنٹ محفوظ رہے گا۔ ہمارے دوست اسے بھی خلوص سے آگے ہنکا دیتے ہیں۔
جھوٹے مذہبی حوالے، قصے، جھوٹی سیاسی خبریں اور مختلف قسم کی غلط ملط باتیں دوست احباب شوق و ذوق سے آگے شیئر فرمارہے ہوتے ہیں۔
دوستو! کسی بھی بات کو آگے شیئر کرنے سے پہلے ایک بار ضرور دیکھا کرو کہ اس کا سورس کیا ہے؟ آیا یہ درست بھی ہے یا غلط؟ باوثوق ذرائع پر ہی اعتماد کیا کریں ورنہ ہر پوسٹ، خبر، بات کو بلا سوچے سمجھے شیئر کرنے سے آپ کی شخصیت مجروح ہوگی۔ سوشل میڈیا پر مختلف مقاصد کے تحت پھیلائے جانے والے جھوٹے پروپیگنڈوں کو پھیلا کا اپنے جھوٹے یا غیر معتبر ہونے کا ثبوت نہ دیجیے۔
👆 ایک مراسلہ 👆
http://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani