💎 ہیرا اور شیشہ 💎
ایک بادشاہ کا دربار لگا ہوا تھا، چونکہ سردی کا دن تھا اس لئے بادشاہ کا دربار کھلے میدان میں ہی لگا ہوا تھا. سب خواص و عوام صبح کی دھوپ میں بیٹھے تھے۔
بادشاہ کے تخت کے سامنےایک میز تھی اور اس پر کچھ قیمتی اشیا رکھی تھیں۔
وزیر، مشیر اور امراء وغیرہ سب دربار میں بیٹھے تھے، بادشاہ کے خاندان کے دیگر افراد بھی موجود تھے۔
اسی وقت ایک شخص آیا اوردربار میں داخلے کی اجازت چاہی۔ اجازت مل گئی تو اس نے کہا۔۔
"میرے پاس دو اشیاء ہیں، میں ہر ملک کے بادشاہ کے پاس گیا ہوں اور اپنی اشیاء کو بادشاہ کے سامنے رکھتا ہوں پر کوئی فرق جان نہیں پاتا، تمام ہار چکے ہیں اور میں ہمیشہ کامران و کامیاب ہو کر لوٹتا ہوں"
اب آپ کےملک میں آیا ہوں۔
بادشاہ نے کہا؛ "کیا اشیاء ہیں؟"
تو اس نے دونوں اشیاء بادشاہ کے سامنے میز پر رکھ دیں۔
وہ دونوں اشیاء دکھنے میں بالکل ایک جیسی جسامت، یکساں رنگ، یکساں چمک گویا کہ یہ دونوں اشیاء ایک دوسرے کی نقل محسوس ہوتی تھیں۔
بادشاہ نے کہا یہ دونوں اشیاء تو بالکل ایک جیسی ہیں. تو اس شخص نے کہا جی ہاں دکھائی تو ایک سی ہی دیتی ہیں لیکن ہیں مختلف۔
ان میں سے ایک ہے بہت قیمتی ہیرا اور ایک ہے شیشہ۔
بظاہر یہ دونوں ایک سے ہیں، کوئی آج تک یہ نہیں پہچان سکا کہ کون سا ہیرا ہے اور کون سا شیشہ۔
کوئی جانچ کر بتائے کہ ان میں سے ہیرا کونسا ہے اور کونسا شیشہ؟
اگر کوئی صحیح پہچان گیا اور میں ہار گیا تو یہ قیمتی ہیرا آپ کا ہو جائے گا لیکن شرط یہ ہے کہ اگر کوئی پہچان نہیں پایا تو اس ہیرے کی جو قیمت ہے اتنی رقم آپ کو مجھے بطور انعام دینا ہوگی۔
اسی طرح میں کئی ممالک سے جیت کرآیا ہوں۔
بادشاہ نے کہا میں تو نہیں پہچان سکتا، وزیر و مشیر بولے ہم بھی جانچ نہیں سکتے کیونکہ دونوں بالکل ایک جیسے ہیں۔
سب کو گمان تھا کہ اب تو شکست ہی مقدر ہے لیکن شکست پر انعام کا مسئلہ بھی نہیں تھا، کیونکہ بادشاہ کے پاس بہت دولت تھی، بادشاہ کی عزت کا مسئلہ تھا کیونکہ تمام عالم میں یہ مشہور تھا کہ بادشاہ اور اس کی رعایا بہت ذہین ہے اور اس طرح اُن کی سُبکی ہوتی۔ کوئی شخص بھی پہچان نہیں پا رہا تھا۔
آخر کار تھوڑی سی ہلچل ہوئی، ایک نابینا شخص ہاتھ میں لاٹھی لے کر اٹھا، اس نے کہا مجھے بادشاہ کے پاس لے چلو میں نے تمام باتیں سنی ہیں اور یہ بھی سنا ہے کہ کوئی پہچان نہیں پا رہا ہے ایک موقع مجھے بھی دیں۔
ایک آدمی کے سہارے وہ بادشاہ کے پاس پہنچا اس نے بادشاہ سے درخواست کی کہ ویسے تو میں پیدائشی نابینا ہوں لیکن پھر بھی مجھے ایک موقع دیا جائے۔ میں بھی ایک بار اپنی ذہانت کوجانچ سکوں اور ہو سکتا ہے کہ کامیاب بھی ہو جاؤں اور اگر کامیاب نہ بھی ہوا تو ویسے بھی آپ تو ہارے ہوئے ہی ہیں۔
بادشاہ کو محسوس ہوا کہ اسے موقع دینے میں کیا حرج ہے۔
بادشاہ نے کہا کہ ٹھیک ہے۔
اس نابینا شخص کو دونوں چیزیں چھونے کے لیے دے دی گئیں اور پوچھا گیا۔۔
اس میں کون سا ہیرا ہے؟
اور کون سا شیشہ؟
یہی آپکو معلوم کرنا ہے۔
اس آدمی نے ایک لمحے میں کہہ دیا کہ یہ ہیرا ہے اور یہ شیشہ۔
.
جو آدمی اتنے جگہوں سے جیت کر آیا تھا وہ بہت حیران ہو گیا اورکہا
"ٹھیک ہے آپ نے صحیح پہچانا .. آپکو مبارک ہو۔ اپنے وعدہ کے مطابق اب یہ ہیرا بادشاہ کا ہوا "
تمام لوگ بہت حیران ہوئے کہ ایک نابینا شخص نے کیسے جان لیا کہ اصل ہیرا کونسا ہے اور سب نے یہی سوال اس نابینا شخص سے کیا۔
اس نابینا شخص نے کہا کہ سیدھی سی بات ہے دھوپ میں ہم سب بیٹھے ہیں، میں نے دونوں کو چھو کر محسوس کیا،
جو ٹھنڈا رہا وہ ہیرا
جو گرم ہو گیا وہ شیشہ
■اسی طرح زندگی میں بھی جو شخص سخت اور مشکل حالات میں گرم ہو جائے اور حالات کا سامنا نہ کر سکے وہ شیشہ کی مانند ہے اور جو تمام حالات میں ٹھنڈا رہے وہ ہیرے کی مانند ہے۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ایک بادشاہ کا دربار لگا ہوا تھا، چونکہ سردی کا دن تھا اس لئے بادشاہ کا دربار کھلے میدان میں ہی لگا ہوا تھا. سب خواص و عوام صبح کی دھوپ میں بیٹھے تھے۔
بادشاہ کے تخت کے سامنےایک میز تھی اور اس پر کچھ قیمتی اشیا رکھی تھیں۔
وزیر، مشیر اور امراء وغیرہ سب دربار میں بیٹھے تھے، بادشاہ کے خاندان کے دیگر افراد بھی موجود تھے۔
اسی وقت ایک شخص آیا اوردربار میں داخلے کی اجازت چاہی۔ اجازت مل گئی تو اس نے کہا۔۔
"میرے پاس دو اشیاء ہیں، میں ہر ملک کے بادشاہ کے پاس گیا ہوں اور اپنی اشیاء کو بادشاہ کے سامنے رکھتا ہوں پر کوئی فرق جان نہیں پاتا، تمام ہار چکے ہیں اور میں ہمیشہ کامران و کامیاب ہو کر لوٹتا ہوں"
اب آپ کےملک میں آیا ہوں۔
بادشاہ نے کہا؛ "کیا اشیاء ہیں؟"
تو اس نے دونوں اشیاء بادشاہ کے سامنے میز پر رکھ دیں۔
وہ دونوں اشیاء دکھنے میں بالکل ایک جیسی جسامت، یکساں رنگ، یکساں چمک گویا کہ یہ دونوں اشیاء ایک دوسرے کی نقل محسوس ہوتی تھیں۔
بادشاہ نے کہا یہ دونوں اشیاء تو بالکل ایک جیسی ہیں. تو اس شخص نے کہا جی ہاں دکھائی تو ایک سی ہی دیتی ہیں لیکن ہیں مختلف۔
ان میں سے ایک ہے بہت قیمتی ہیرا اور ایک ہے شیشہ۔
بظاہر یہ دونوں ایک سے ہیں، کوئی آج تک یہ نہیں پہچان سکا کہ کون سا ہیرا ہے اور کون سا شیشہ۔
کوئی جانچ کر بتائے کہ ان میں سے ہیرا کونسا ہے اور کونسا شیشہ؟
اگر کوئی صحیح پہچان گیا اور میں ہار گیا تو یہ قیمتی ہیرا آپ کا ہو جائے گا لیکن شرط یہ ہے کہ اگر کوئی پہچان نہیں پایا تو اس ہیرے کی جو قیمت ہے اتنی رقم آپ کو مجھے بطور انعام دینا ہوگی۔
اسی طرح میں کئی ممالک سے جیت کرآیا ہوں۔
بادشاہ نے کہا میں تو نہیں پہچان سکتا، وزیر و مشیر بولے ہم بھی جانچ نہیں سکتے کیونکہ دونوں بالکل ایک جیسے ہیں۔
سب کو گمان تھا کہ اب تو شکست ہی مقدر ہے لیکن شکست پر انعام کا مسئلہ بھی نہیں تھا، کیونکہ بادشاہ کے پاس بہت دولت تھی، بادشاہ کی عزت کا مسئلہ تھا کیونکہ تمام عالم میں یہ مشہور تھا کہ بادشاہ اور اس کی رعایا بہت ذہین ہے اور اس طرح اُن کی سُبکی ہوتی۔ کوئی شخص بھی پہچان نہیں پا رہا تھا۔
آخر کار تھوڑی سی ہلچل ہوئی، ایک نابینا شخص ہاتھ میں لاٹھی لے کر اٹھا، اس نے کہا مجھے بادشاہ کے پاس لے چلو میں نے تمام باتیں سنی ہیں اور یہ بھی سنا ہے کہ کوئی پہچان نہیں پا رہا ہے ایک موقع مجھے بھی دیں۔
ایک آدمی کے سہارے وہ بادشاہ کے پاس پہنچا اس نے بادشاہ سے درخواست کی کہ ویسے تو میں پیدائشی نابینا ہوں لیکن پھر بھی مجھے ایک موقع دیا جائے۔ میں بھی ایک بار اپنی ذہانت کوجانچ سکوں اور ہو سکتا ہے کہ کامیاب بھی ہو جاؤں اور اگر کامیاب نہ بھی ہوا تو ویسے بھی آپ تو ہارے ہوئے ہی ہیں۔
بادشاہ کو محسوس ہوا کہ اسے موقع دینے میں کیا حرج ہے۔
بادشاہ نے کہا کہ ٹھیک ہے۔
اس نابینا شخص کو دونوں چیزیں چھونے کے لیے دے دی گئیں اور پوچھا گیا۔۔
اس میں کون سا ہیرا ہے؟
اور کون سا شیشہ؟
یہی آپکو معلوم کرنا ہے۔
اس آدمی نے ایک لمحے میں کہہ دیا کہ یہ ہیرا ہے اور یہ شیشہ۔
.
جو آدمی اتنے جگہوں سے جیت کر آیا تھا وہ بہت حیران ہو گیا اورکہا
"ٹھیک ہے آپ نے صحیح پہچانا .. آپکو مبارک ہو۔ اپنے وعدہ کے مطابق اب یہ ہیرا بادشاہ کا ہوا "
تمام لوگ بہت حیران ہوئے کہ ایک نابینا شخص نے کیسے جان لیا کہ اصل ہیرا کونسا ہے اور سب نے یہی سوال اس نابینا شخص سے کیا۔
اس نابینا شخص نے کہا کہ سیدھی سی بات ہے دھوپ میں ہم سب بیٹھے ہیں، میں نے دونوں کو چھو کر محسوس کیا،
جو ٹھنڈا رہا وہ ہیرا
جو گرم ہو گیا وہ شیشہ
■اسی طرح زندگی میں بھی جو شخص سخت اور مشکل حالات میں گرم ہو جائے اور حالات کا سامنا نہ کر سکے وہ شیشہ کی مانند ہے اور جو تمام حالات میں ٹھنڈا رہے وہ ہیرے کی مانند ہے۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌳 شفقتِ پِدری 🌳
ﮐﻞ ﺷﺎﻡ ﮐﺎﻡ ﺳﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺗﮭﮑﺎ ﮬﻮﺍ ﮔﮭﺮ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﺳﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﺎ ﺍﻧﮓﺍﻧﮓ ﭨﻮﭦ ﺭﮬﺎ ﺗﮭﺎ ﺁﺗﮯ ﮨﯽ ﺑﺴﺘﺮ ﭘﺮ ﮔﺮ ﮔﯿﺎ ﺍﺑﻮ ﻓﻮﺭﺍً ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺷﻔﻘﺖ ﺳﮯ ﺣﺎﻝ ﺍﺣﻮﺍﻝ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﮐﮧ ﺑﺎﻋﺚ ﺑﮯﺩﻟﯽ ﺳﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﻭﮦ ﺯﯾﺮِ ﻟﺐ ﺩﻋﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ
ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺑﯿﮕﻢ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺑﭽﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺗﮭﮑﺎ ﮬﻮﺍ ﮬﻮﮞ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﮕﺮ کے ﭨﮑﮍﻭﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻮﮞ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﺍﺗﺮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ۔ ﺑﯿﮕﻢ ﻓﻮﺭﺍً ﺻﺤﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﯿﻠﺘﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻧﻨﮭﮯ ﻣﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﻟﮯ ﺁئی ﺟﻮ ﺁﺗﮯ ﮨﯽ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻟﭙﭧ ﮔﺌﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺳﺎﺭﯼ ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺷﻔﻘﺖِ ﭘِﺪﺭﯼ ﻧﭽﮭﺎﻭﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔
ﻟﯿﮑﻦ ﭼﻨﺪ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﮨﯽ ﻭﺍﻟﺪ ﻣﺤﺘﺮﻡ ﮐﺎ ﺟﮭﺮﯾﻮﮞ ﺑﮭﺮﺍ ﭼﮩﺮﮦ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ کے ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮔﮭﻮﻡ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺷﻔﻘﺖِ ﭘِﺪﺭﯼ ﺳﮯ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺁﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ۔ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﻔﻘﺖِ ﭘِﺪﺭﯼ ﻧﭽﮭﺎﻭﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮯﺭﺧﯽ کے ﺑﺎﻋﺚ ﻭﮦ ﺑﯿﭩﮫ نہ ﺳﮑﮯ۔۔ ﺍﺗﻨﺎ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮧ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ﭼﮭﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ، ﺩﻡ ﺳﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﭩﺘﺎ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮬﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌﺍ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﮌﺗﺎ ﮬﻮﺍ ﻭﺍﻟﺪِﻣﺤﺘﺮﻡ کے ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﭘﮩﻨﭽﺎ۔۔
ﺟﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯽ ﭘﺮ ﻟﯿﭩﮯ نہ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﻦ ﺳﻮﭼﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﻢ ﭼﮭﺖ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺟﺎ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯽ ﭘﺮ ﺍﻥ کے ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﭨﺎﻧﮕﯿﮟ ﺩﺑﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔ ﺍﺑﻮ ﻓﻮﺭﺍً ﺍﭨﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﻟﮕﺎ ﻟﯿﺎ۔ ﻧﺠﺎﻧﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻢ ﺑﺎﭖ ﺑﯿﭩﺎ ﭘﮭﻮﭦ ﭘﮭﻮﭦ ﮐﺮ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﮯ۔
ﻣﯿﮟ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﯾﺴﯽ ﺭﺍﺣﺖ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺒﮭﯽ نہ ﻣﻠﯽ ﺟﻮ ﺑﺎﭖ ﮐﮧ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﭼﻤﭧ ﮐﺮ ﻣﻠﯽ۔
■ﺩﻭﺳﺘﻮ! آپ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﯿﺴﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯿﺎﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪ ﺳﮑﺘﮯ۔ ﭘﯿﺴﮧ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺫﻧﺪﮔﯽ ﮐﻤﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﺳﺐ آپ ﭘﺮ ﻟﭩﺎ ﺩﯾﺎ ﯾﮧ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﮧ ﮐﻞ ﮐﻮ ﻭﮦ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮬﻮﮞ ﮔﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﮍﮬﺎﭘﮯ ﮐﮧ ﻟﺌﮯ ﮐﭽﮫ نہ ﺑﭽﺎﯾﺎ۔ ﺍﮔﺮ ﮐﭽﮫ ﺑﭽﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ آپ کے ﻟﺌﮯ۔ آپ ﺻﺮﻑ ﭼﻨﺪ ﻟﻤﺤﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ کے ﺳﺎﺗﮫ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮﻭ، ﺍﻥ ﺳﮯ ﺩﮐﮫ ﺳﮑﮫ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺷﻔﻘﺖ کے ﺳﺎﺗﮫ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ، ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮﻭ ﺩﻧﯿﺎ ﻭ ﺁﺧﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﻓﻼﺡ ﭘﺎﺟﺎؤ ﮔﮯ.
●رسول خدا (ص) فرماتے ہیں؛
"رِضَآءُ الرَّبِّ فِی رِضَآءِ الْوَالِدَيْنِ"
والدین کی رضامندی خدا کی رضامندی ہے۔ (کنزالعمال: 45520)
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ ماں، باپ کے بارے میں مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
💓حضرت موسٰیؑ کا بہشتی ہمسایہ
https://t.me/islamwitheman/652
⭕ ماں کی ناراضگی کا اثر
https://t.me/islamwitheman/331
⭕ عمل کا ردعمل
https://t.me/islamwitheman/333
🔷 اولڈ ایج ہوم
https://t.me/islamwitheman/97
🔷 ساس اور بہو
https://t.me/islamwitheman/199
🔷 ماں اور باپ
https://t.me/islamwitheman/330
🌳 سیب کا درخت
https://t.me/islamwitheman/162
🌳 باپ کے جذبات
https://t.me/islamwitheman/58
🌳 باپ ٹھنڈی چھاؤں
https://t.me/islamwitheman/96
🌳 باپ کی پشت پناہی
https://t.me/islamwitheman/332
🌳 جیسا کرو گے ویسا بھرو گے
https://t.me/islamwitheman/117
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ﮐﻞ ﺷﺎﻡ ﮐﺎﻡ ﺳﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺗﮭﮑﺎ ﮬﻮﺍ ﮔﮭﺮ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﺳﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﺎ ﺍﻧﮓﺍﻧﮓ ﭨﻮﭦ ﺭﮬﺎ ﺗﮭﺎ ﺁﺗﮯ ﮨﯽ ﺑﺴﺘﺮ ﭘﺮ ﮔﺮ ﮔﯿﺎ ﺍﺑﻮ ﻓﻮﺭﺍً ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺷﻔﻘﺖ ﺳﮯ ﺣﺎﻝ ﺍﺣﻮﺍﻝ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﮐﮧ ﺑﺎﻋﺚ ﺑﮯﺩﻟﯽ ﺳﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﻭﮦ ﺯﯾﺮِ ﻟﺐ ﺩﻋﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ
ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺑﯿﮕﻢ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺑﭽﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺗﮭﮑﺎ ﮬﻮﺍ ﮬﻮﮞ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﮕﺮ کے ﭨﮑﮍﻭﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻮﮞ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﺍﺗﺮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ۔ ﺑﯿﮕﻢ ﻓﻮﺭﺍً ﺻﺤﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﯿﻠﺘﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻧﻨﮭﮯ ﻣﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﻟﮯ ﺁئی ﺟﻮ ﺁﺗﮯ ﮨﯽ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻟﭙﭧ ﮔﺌﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺳﺎﺭﯼ ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺷﻔﻘﺖِ ﭘِﺪﺭﯼ ﻧﭽﮭﺎﻭﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔
ﻟﯿﮑﻦ ﭼﻨﺪ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﮨﯽ ﻭﺍﻟﺪ ﻣﺤﺘﺮﻡ ﮐﺎ ﺟﮭﺮﯾﻮﮞ ﺑﮭﺮﺍ ﭼﮩﺮﮦ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ کے ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮔﮭﻮﻡ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺷﻔﻘﺖِ ﭘِﺪﺭﯼ ﺳﮯ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺁﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ۔ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﻔﻘﺖِ ﭘِﺪﺭﯼ ﻧﭽﮭﺎﻭﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮯﺭﺧﯽ کے ﺑﺎﻋﺚ ﻭﮦ ﺑﯿﭩﮫ نہ ﺳﮑﮯ۔۔ ﺍﺗﻨﺎ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮧ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ﭼﮭﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ، ﺩﻡ ﺳﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﭩﺘﺎ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮬﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌﺍ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﮌﺗﺎ ﮬﻮﺍ ﻭﺍﻟﺪِﻣﺤﺘﺮﻡ کے ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﭘﮩﻨﭽﺎ۔۔
ﺟﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯽ ﭘﺮ ﻟﯿﭩﮯ نہ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﻦ ﺳﻮﭼﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﻢ ﭼﮭﺖ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺟﺎ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯽ ﭘﺮ ﺍﻥ کے ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﭨﺎﻧﮕﯿﮟ ﺩﺑﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔ ﺍﺑﻮ ﻓﻮﺭﺍً ﺍﭨﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﻟﮕﺎ ﻟﯿﺎ۔ ﻧﺠﺎﻧﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻢ ﺑﺎﭖ ﺑﯿﭩﺎ ﭘﮭﻮﭦ ﭘﮭﻮﭦ ﮐﺮ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﮯ۔
ﻣﯿﮟ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﯾﺴﯽ ﺭﺍﺣﺖ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺒﮭﯽ نہ ﻣﻠﯽ ﺟﻮ ﺑﺎﭖ ﮐﮧ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﭼﻤﭧ ﮐﺮ ﻣﻠﯽ۔
■ﺩﻭﺳﺘﻮ! آپ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﯿﺴﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯿﺎﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪ ﺳﮑﺘﮯ۔ ﭘﯿﺴﮧ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺫﻧﺪﮔﯽ ﮐﻤﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﺳﺐ آپ ﭘﺮ ﻟﭩﺎ ﺩﯾﺎ ﯾﮧ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﮧ ﮐﻞ ﮐﻮ ﻭﮦ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮬﻮﮞ ﮔﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﮍﮬﺎﭘﮯ ﮐﮧ ﻟﺌﮯ ﮐﭽﮫ نہ ﺑﭽﺎﯾﺎ۔ ﺍﮔﺮ ﮐﭽﮫ ﺑﭽﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ آپ کے ﻟﺌﮯ۔ آپ ﺻﺮﻑ ﭼﻨﺪ ﻟﻤﺤﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ کے ﺳﺎﺗﮫ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮﻭ، ﺍﻥ ﺳﮯ ﺩﮐﮫ ﺳﮑﮫ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺷﻔﻘﺖ کے ﺳﺎﺗﮫ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ، ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮﻭ ﺩﻧﯿﺎ ﻭ ﺁﺧﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﻓﻼﺡ ﭘﺎﺟﺎؤ ﮔﮯ.
●رسول خدا (ص) فرماتے ہیں؛
"رِضَآءُ الرَّبِّ فِی رِضَآءِ الْوَالِدَيْنِ"
والدین کی رضامندی خدا کی رضامندی ہے۔ (کنزالعمال: 45520)
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ ماں، باپ کے بارے میں مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
💓حضرت موسٰیؑ کا بہشتی ہمسایہ
https://t.me/islamwitheman/652
⭕ ماں کی ناراضگی کا اثر
https://t.me/islamwitheman/331
⭕ عمل کا ردعمل
https://t.me/islamwitheman/333
🔷 اولڈ ایج ہوم
https://t.me/islamwitheman/97
🔷 ساس اور بہو
https://t.me/islamwitheman/199
🔷 ماں اور باپ
https://t.me/islamwitheman/330
🌳 سیب کا درخت
https://t.me/islamwitheman/162
🌳 باپ کے جذبات
https://t.me/islamwitheman/58
🌳 باپ ٹھنڈی چھاؤں
https://t.me/islamwitheman/96
🌳 باپ کی پشت پناہی
https://t.me/islamwitheman/332
🌳 جیسا کرو گے ویسا بھرو گے
https://t.me/islamwitheman/117
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
💓حضرت موسٰیؑ کا بہشتی ہمسایہ💓
حضرت موسٰیؑ اپنے رب سے محوِ مناجات تھے کہ دل میں خیال گزرا، جنت میں میرا ہمسایہ کون ہوگا لہذا عرض کیا؛
پروردگار، اے رب ذوالجلال! کیا مجھے یہ خبر دی جا سکتی ہے کہ جنت میں میرا ہمسایہ کون ہوگا اور کیا میں اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ…
حضرت موسٰیؑ اپنے رب سے محوِ مناجات تھے کہ دل میں خیال گزرا، جنت میں میرا ہمسایہ کون ہوگا لہذا عرض کیا؛
پروردگار، اے رب ذوالجلال! کیا مجھے یہ خبر دی جا سکتی ہے کہ جنت میں میرا ہمسایہ کون ہوگا اور کیا میں اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ…
⭕ خدا کیسا ہے؟ ⭕
خدا کیسا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو اکثر لوگوں، مسلمانوں، غیر مسلموں، چھوٹوں اور بزرگوں کو ضرور پیش آیا ہوگاـ
سوال؟
خدا اسوقت کہاں ہے؟ وہ کس چیز سے بنا ہے؟ خدا سے پہلے کیا تھا؟
اگر آپ بھی اس سوال کا جواب حاصل کرنا چاھتے ہو تو جان لیں کہ ہماری عقل و فھم اتنی قدرت نہیں رکھتی ھے کہ اس حد تک پہنچ جائے،
لیکن ھمارے مولا امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب اسداللہ الغالب علیہ السلام نے اللہ کے وجود کے بارے میں کفار کو بڑی خوبصورت انداز میں وضاحت کے ساتھ جواب دیا اور ھماری ضعیف عقل و فھم کی طرف بھی توجہ دلائی.
کفار کی طرف سے امام علی علیہ السلام سے سوال؟
آپ کا خدا کس سال اور کس تاریخ کو وجود میں آیا؟
امام علی علیہ السلام نے فرمایا:
اللہ تعالی کا وجود تاریخ اور زمان سے پھلے تھا.
کفار نے پوچھا: یہ کیوں کر ھو سکتا؟ کیوں کہ ھر چیز کسی دوسری شئ سے وجود میں آتی ھے یا تبدیل ھوتی.
ھمارے امام علی مرتضٰیؑ نے فرمایا: 3 سے پہلے کون سا عدد ہے؟
کفار نے جواب دیا: 2
امام علیہ السلام نے فرمایا: 2 سے پہلے کون سا عدد؟
انھوں نےجواب دیا: 1
امام علیہ السلام نے پوچھا: 1 سے پہلے؟
انھوں نے جواب دیا: کوئی عدد نہیں.
امام علیہ السلام نے فرمایا: یہ کیسے ممکن ھے کہ ایک عدد کے بعد بے شمار اعداد موجود ہوں اور اس سے پہلے کوئی عدد نہ ہو لیکن اللہ تعالٰی جو احد اور واحد حقیقی ہے سے پہلے کوئی چیز موجود ہو؟
کفار نے عرض کیا: آپ کا خدا کہاں ہے؟ اور کس طرف واقع ہے؟
امام علیہ السلام نے فرمایا: وہ ھر جگہ حاضر اور ھر چیز پر مشرف ہے.
انھوں نے کہا: یہ کیسے ممکن ہے کہ ھر جگہ حاضر ہو اور ھر چیز پر مشرف ھو؟
امام علی علیہ السلام نے فرمایا: اگر آپ لوگ ایک تاریک اور اندھیر جگہ سوئے ہوے ھوں، جب صبح بیدار ھوجائیں تو دن کی روشنی کہاں اور کس طرف سے دیکھتے ھو؟
کفار نے کہا ھر جگہ اور ھر طرف سے.
امام علیہ السلام نے فرمایا: پس وہ خدا جو خود زمین اور آسمانوں کا نور ہے ھر جگہ اور ہر طرف کیوں نہیں ھوسکتا؟
کفار نے کہا: پس خدا نور سے ہے لیکن نور سورج سے ہے پھر آپ کا خدا کس نور سے ہے؟
یہ کس طرح ممکن ہے کہ کسی چیز سے نہ ہو لیکن ہر جگہ موجود ہو اور قدرت بھی رکھتا ہو؟
امام علی علیہ السلام نے فرمایا: خدا خود روشنی کا خالق ہےـ کیا تم نے طوفان اور ھوا کی قدرت کو نہیں دیکھا ہے؟ ھوا کس چیز سے ہے جو نہ دیکھی جاتی ھے نہ وہ کسی چیز سے ہے، درحالیکہ طاقتور ہے، خدا تو خود ھوا کا خالق ہےـ
انھوں نے عرض کیا: ھمارے لئے اپنے خدا کے وصف بیان فرمائیے کہ وہ کس چیز سے بنا ھوا ھے؟ کیا لوہا جیسا سخت ہے؟ یا جاری پانی جیسا؟ یا گیس سے؟ یا دھواں اور بھاپ جیسا ہے؟
حضرت امام علی علیہ السلام نے فرمایا: کیا آج تک آپ کسی مرتے ہوئے بیمار کے پاس بیٹھے تھے؟ اور اس کے ساتھ باتیں کیں؟
انھوں نے جواب دیا: جی ھاں، ھم ایسے بیمار کے پاس تھے اور باتیں بھی کیں.
امام علیہ السلام نے فرمایا: کیا اس کے مرنے کے بعد بھی اس کے ساتھ باتیں کی؟
انھوں نے جواب دیا: نہیں، ایسا ممکن نہیں ـ کیوں کہ وہ مر چکا ہےـ
امام علیہ السلام نے فرمایا: مردہ اور زندہ ہونے میں کیا فرق تھا کہ جس کے بعد کلام اور حرکت کرنے پر قدرت نہیں رکھتا تھا.
انھوں نے کہا: روح، روح اس کے بدن سے خارج ہوئی.
امام علی علیہ السلام نے فرمایا: آپ وہاں پر موجود تھے اور کہتے ہو کہ روح اس کے بدن سے خارج ہوئی اور مرگیاـ اب اس روح کو جو آپ نے اپنی آنکھوں کے سامنے نکلتے ہوے دیکھا، میرے لیے اس کے وصف بیان کریں کہ وہ کس جنس سے تھا؟ اور کیسا تھا؟
یہ سن کر سب خاموش ھو گئے.
امام علی مرتضٰیؑ نے فرمایا: آپ اس روح کی توصیف کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کو تم نے اپنی آنکھوں سے بیمار انسان کے بدن سے نکلتے ہوے دیکھاـ تو آپ کیسے اس ذات اقدس احدیت اور روح کے خالق کو درک کرنے اور سمجھنے کی قدرت رکھ سکتے ہو.
📚اقتباس از کتاب توحید نظری (حجةالاسلام شایان)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزید پوسٹس۔۔۔
⭕ خدا کیسا ہے؟
https://t.me/islamwitheman/773
⭕ صفات باری تعالٰی
https://t.me/islamwitheman/774
⭕ عالم اور بڑھیا
https://t.me/islamwitheman/776
⭕ حجام اور گاہگ
https://t.me/islamwitheman/780
⭕ خدا پر ان دیکھا یقین(حصہ اول)
https://t.me/islamwitheman/793
⭕ خدا پر ان دیکھا یقین(حصہ دوم)
https://t.me/islamwitheman/794
⭕ ایمان اور یقین
https://t.me/islamwitheman/788
⭕ حضرت موسٰیؑ اور گڈریا
https://t.me/islamwitheman/799
🌷 موجبِ اخلاص چیزیں
https://t.me/islamwitheman/1104
⭕ عشقِ خدا
https://t.me/islamwitheman/1105
🌹 تقوٰی کی اہمیت
https://t.me/islamwitheman/1103
⭕ الله تک پہنچنے کا طریقہ
http://t.me/islamwitheman/1329
⭕ توحید
http://t.me/islamwitheman/1609
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
خدا کیسا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو اکثر لوگوں، مسلمانوں، غیر مسلموں، چھوٹوں اور بزرگوں کو ضرور پیش آیا ہوگاـ
سوال؟
خدا اسوقت کہاں ہے؟ وہ کس چیز سے بنا ہے؟ خدا سے پہلے کیا تھا؟
اگر آپ بھی اس سوال کا جواب حاصل کرنا چاھتے ہو تو جان لیں کہ ہماری عقل و فھم اتنی قدرت نہیں رکھتی ھے کہ اس حد تک پہنچ جائے،
لیکن ھمارے مولا امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب اسداللہ الغالب علیہ السلام نے اللہ کے وجود کے بارے میں کفار کو بڑی خوبصورت انداز میں وضاحت کے ساتھ جواب دیا اور ھماری ضعیف عقل و فھم کی طرف بھی توجہ دلائی.
کفار کی طرف سے امام علی علیہ السلام سے سوال؟
آپ کا خدا کس سال اور کس تاریخ کو وجود میں آیا؟
امام علی علیہ السلام نے فرمایا:
اللہ تعالی کا وجود تاریخ اور زمان سے پھلے تھا.
کفار نے پوچھا: یہ کیوں کر ھو سکتا؟ کیوں کہ ھر چیز کسی دوسری شئ سے وجود میں آتی ھے یا تبدیل ھوتی.
ھمارے امام علی مرتضٰیؑ نے فرمایا: 3 سے پہلے کون سا عدد ہے؟
کفار نے جواب دیا: 2
امام علیہ السلام نے فرمایا: 2 سے پہلے کون سا عدد؟
انھوں نےجواب دیا: 1
امام علیہ السلام نے پوچھا: 1 سے پہلے؟
انھوں نے جواب دیا: کوئی عدد نہیں.
امام علیہ السلام نے فرمایا: یہ کیسے ممکن ھے کہ ایک عدد کے بعد بے شمار اعداد موجود ہوں اور اس سے پہلے کوئی عدد نہ ہو لیکن اللہ تعالٰی جو احد اور واحد حقیقی ہے سے پہلے کوئی چیز موجود ہو؟
کفار نے عرض کیا: آپ کا خدا کہاں ہے؟ اور کس طرف واقع ہے؟
امام علیہ السلام نے فرمایا: وہ ھر جگہ حاضر اور ھر چیز پر مشرف ہے.
انھوں نے کہا: یہ کیسے ممکن ہے کہ ھر جگہ حاضر ہو اور ھر چیز پر مشرف ھو؟
امام علی علیہ السلام نے فرمایا: اگر آپ لوگ ایک تاریک اور اندھیر جگہ سوئے ہوے ھوں، جب صبح بیدار ھوجائیں تو دن کی روشنی کہاں اور کس طرف سے دیکھتے ھو؟
کفار نے کہا ھر جگہ اور ھر طرف سے.
امام علیہ السلام نے فرمایا: پس وہ خدا جو خود زمین اور آسمانوں کا نور ہے ھر جگہ اور ہر طرف کیوں نہیں ھوسکتا؟
کفار نے کہا: پس خدا نور سے ہے لیکن نور سورج سے ہے پھر آپ کا خدا کس نور سے ہے؟
یہ کس طرح ممکن ہے کہ کسی چیز سے نہ ہو لیکن ہر جگہ موجود ہو اور قدرت بھی رکھتا ہو؟
امام علی علیہ السلام نے فرمایا: خدا خود روشنی کا خالق ہےـ کیا تم نے طوفان اور ھوا کی قدرت کو نہیں دیکھا ہے؟ ھوا کس چیز سے ہے جو نہ دیکھی جاتی ھے نہ وہ کسی چیز سے ہے، درحالیکہ طاقتور ہے، خدا تو خود ھوا کا خالق ہےـ
انھوں نے عرض کیا: ھمارے لئے اپنے خدا کے وصف بیان فرمائیے کہ وہ کس چیز سے بنا ھوا ھے؟ کیا لوہا جیسا سخت ہے؟ یا جاری پانی جیسا؟ یا گیس سے؟ یا دھواں اور بھاپ جیسا ہے؟
حضرت امام علی علیہ السلام نے فرمایا: کیا آج تک آپ کسی مرتے ہوئے بیمار کے پاس بیٹھے تھے؟ اور اس کے ساتھ باتیں کیں؟
انھوں نے جواب دیا: جی ھاں، ھم ایسے بیمار کے پاس تھے اور باتیں بھی کیں.
امام علیہ السلام نے فرمایا: کیا اس کے مرنے کے بعد بھی اس کے ساتھ باتیں کی؟
انھوں نے جواب دیا: نہیں، ایسا ممکن نہیں ـ کیوں کہ وہ مر چکا ہےـ
امام علیہ السلام نے فرمایا: مردہ اور زندہ ہونے میں کیا فرق تھا کہ جس کے بعد کلام اور حرکت کرنے پر قدرت نہیں رکھتا تھا.
انھوں نے کہا: روح، روح اس کے بدن سے خارج ہوئی.
امام علی علیہ السلام نے فرمایا: آپ وہاں پر موجود تھے اور کہتے ہو کہ روح اس کے بدن سے خارج ہوئی اور مرگیاـ اب اس روح کو جو آپ نے اپنی آنکھوں کے سامنے نکلتے ہوے دیکھا، میرے لیے اس کے وصف بیان کریں کہ وہ کس جنس سے تھا؟ اور کیسا تھا؟
یہ سن کر سب خاموش ھو گئے.
امام علی مرتضٰیؑ نے فرمایا: آپ اس روح کی توصیف کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کو تم نے اپنی آنکھوں سے بیمار انسان کے بدن سے نکلتے ہوے دیکھاـ تو آپ کیسے اس ذات اقدس احدیت اور روح کے خالق کو درک کرنے اور سمجھنے کی قدرت رکھ سکتے ہو.
📚اقتباس از کتاب توحید نظری (حجةالاسلام شایان)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزید پوسٹس۔۔۔
⭕ خدا کیسا ہے؟
https://t.me/islamwitheman/773
⭕ صفات باری تعالٰی
https://t.me/islamwitheman/774
⭕ عالم اور بڑھیا
https://t.me/islamwitheman/776
⭕ حجام اور گاہگ
https://t.me/islamwitheman/780
⭕ خدا پر ان دیکھا یقین(حصہ اول)
https://t.me/islamwitheman/793
⭕ خدا پر ان دیکھا یقین(حصہ دوم)
https://t.me/islamwitheman/794
⭕ ایمان اور یقین
https://t.me/islamwitheman/788
⭕ حضرت موسٰیؑ اور گڈریا
https://t.me/islamwitheman/799
🌷 موجبِ اخلاص چیزیں
https://t.me/islamwitheman/1104
⭕ عشقِ خدا
https://t.me/islamwitheman/1105
🌹 تقوٰی کی اہمیت
https://t.me/islamwitheman/1103
⭕ الله تک پہنچنے کا طریقہ
http://t.me/islamwitheman/1329
⭕ توحید
http://t.me/islamwitheman/1609
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
⭕ خدا کیسا ہے؟ ⭕
خدا کیسا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو اکثر لوگوں، مسلمانوں، غیر مسلموں، چھوٹوں اور بزرگوں کو ضرور پیش آیا ہوگاـ
سوال؟
خدا اسوقت کہاں ہے؟ وہ کس چیز سے بنا ہے؟ خدا سے پہلے کیا تھا؟
اگر آپ بھی اس سوال کا جواب حاصل کرنا چاھتے ہو تو جان لیں…
خدا کیسا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو اکثر لوگوں، مسلمانوں، غیر مسلموں، چھوٹوں اور بزرگوں کو ضرور پیش آیا ہوگاـ
سوال؟
خدا اسوقت کہاں ہے؟ وہ کس چیز سے بنا ہے؟ خدا سے پہلے کیا تھا؟
اگر آپ بھی اس سوال کا جواب حاصل کرنا چاھتے ہو تو جان لیں…
⭕ صفات باری تعالٰی ⭕
گذشتہ چند سالوں میں مختلف طریقوں سے نوجوانوں کے اذھان میں زھر داخل کیا جارہا ہے. ھم سبکی ذمہ داری ہے کہ اسکے سدباب کیلئے اپنااپنا کردار ادا کریں.
یہ ایک ایسا کلیہ ہے کہ اگر نوجوان اسے ایک بار سمجھ لیں تو ان شاءاللہ جب بھی کسی کی تقریر سنیں گے فوراً فیصلہ کرلیں گے کہ یہ آئمہ اطہار علیہم السلام کی تعریف وتوصیف کر رہاہے یا انکے نام پر شرک کا زھر ھمارے افکار میں گھول رہاہے۔
یاد رکھیں! اس دنیا میں تمام انبیاء ورسل و آئمہ اطہار علیہم السلام کی زندگیوں کا صرف ایک ھدف تھا اور وہ ہے "توحیدشناسی" یعنی اگر ھم اصول دین کو قیامت سے سمیٹنا شروع کریں تو امامت نبوت سے ہوتی ہوئی عدل خداوندی سے توحید پر ختم ہوگی اسیطرح جہاد سے لیکر نماز تک ھرعمل کا ماحصل توحید باری تعالٰی ہے.
توحیدِ کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ اللہ رب العزت کی صفات کو سمجھا جائے ذیل میں صفات ثبوتیہ اور صفات سلبیہ کو بیان کررہا ہوں انہیں سمجھیں اور دیکھیں کہ کسطرح یہ نام نہاد کم فہم و کم علم نوجوانوں کو شرک میں مبتلا کرتے ہیں۔۔
🔷صفات ثبوتیہ
قدیم=
یعنی اللہ ھمیشہ سے ہے اور ھمیشہ رھے گا، اب اگرکوئی اللہ کے علاوہ کسی اور کو قدیم کہے تو اس نے دو ذوات کو قدیم کہکر اللہ کی وحدانیت کا انکار کردیا، اور جزو کا اور دوئی کا قائل ہوگیا جوکہ صریحاً شرک ہے لہذا جوکچھ ہے وہ اس کیبعد اس سے پہلے کچھ نہیں. انبیاء ورسل وآئمہ بھی قدیم نہیں کیونکہ وہ مخلوق ہیں۔
قادر=
یعنی وہ ھر شے پر قادر ہے اور اس پر کسی کو کوئی قدرت نہیں، یعنی آئمہ علیہم السلام پر بھی اس کی قدرت ہے اور آئمہ علیہم السلام کی اس پر کوئی قدرت نہیں۔۔
عالم=
وہ عالم ہے ایسا کہ ھر شے کو جانتاہے اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ وہ ایک لمحے کیلئے بھی جاھل رہاہو جبکہ مخلوق عدم سے وجود میں آنے کیبعد عالم بنی اور اسکو علم پروردگار سے ملا کیونکہ وہ اس وقت بھی تھا جب مخلوق نہ تھی۔
حی=
وہ ایسا زندہ ہے جسے موت نہیں، اب جسے بھی موت ہے وہ اللہ نہیں یاد رکھیں۔۔
مدرک=
وہ دیکھتا بھی ہے، سنتا بھی ہے لیکن نہ اسکے کان ہیں اور نہ آنکھیں، اسکے علاوہ جوبھی ہیں وہ دیکھنے اور سننے کے لئے اعضاء کے محتاج ہیں۔
مرید=
وہ صاحب ارادہ ہے جب وہ کسی شے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ ہو جاتی ہے، یعنی وہ اپنے ارادے میں کسی کا پابند نہیں ہے، اس کے ارادے سے سب خلق ہوئے ہیں وہ کسی کے ارادے سے خلق نہیں ہوا۔
متکلم=
وہ کلام کرتا ہے لیکن اس زبان سے نہیں اور جتنی بھی مخلوقات ہیں وہ کلام کیلئے کسی نہ کسی وسیلہ کی محتاج ہیں.
صادق=
وہ سچا ہے اور اسے کسی کا خوف ولالچ نہیں کہ جھوٹ کہے۔
🔷صفات سلبیہ
وہ صفات جن سے اللہ رب العزت منزہ ہے۔
شرکت=
یعنی اسکا کوئی شریک نہیں وہ واحد و احد ہے کسی کی شرکت سے کوئی کام انجام نہیں دیتا جو یہ سمجھتا ہے کہ کوئی اس کا مددگار ہے اور وہ کسی کو شریک کرنے کا محتاج ہے وہ مشرک ہے۔
ترکیب=
یعنی وہ مرکب نہیں ہے کہ کسی شے سے بنا ہو، یعنی جو بھی جسم و اعضاء کا مرکب ہے وہ مخلوق ہے خالق نہیں۔
حلول=
نہ وہ کسی شے میں حلول کرتا ہے اور نہ کوئی شے اس میں حلول کرتی ہے جو یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ اللہ نعوذ باللہ کسی امام میں حلول کرتا ہے وہ مشرک ہے کیونکہ اللہ جسم نہیں کہ جس میں کوئی حلول کر جائے اور وہ کسی میں حلول کر جائے ایسا سوچنا اسے محدود کرنا ہے اور جو محدود ہو وہ اللہ نہیں۔
مکان=
اس کا کوئی ایک مکان نہیں کہ کہا جاسکے کہ وہ اسطرف ہے جیساکہ امام علی علیہ السلام نے فرمایا کہ جس نے اسے ایک جہت میں مانا اس نے اسے قابل اشارہ سمجھا جس نے قابل اشارہ سمجھا اس نے اسے محدود کردیا۔۔ جس نے ایک سمت میں محدود کیا اس نے اور جگہوں کو اس سے خالی سمجھا۔۔
احتیاج=
اسے کسی چیز کی ضرورت نہیں اور سبکو اسکی ضرورت ہے، یعنی کوئی یہ نہ کہے کہ اللہ کو ضرورت تھی کہ امامؑ ہوں تو اس کا وجود ہوگا ورنہ نہیں، اسے کسی بھی شے کی احتیاج نہیں۔
صفات زائد بر ذات=
یعنی اسکی صفات اسکی ذات کے علاوہ کوئی الگ شے نہیں بلکہ اس کی تمام صفات عین ذات ہیں،
یہ عقیدہ اسلئے ضروری ہے کہ صرف اسکی ذات قدیم ہے اگر اسکی صفات کو اسکی ذات سے علیحدہ سمجھاگیا تو صفات کو بھی قدیم ماننا پڑے گا جوکہ محال ہے۔
محل حوادث=
یعنی اس میں تغیر و تبدیلی نہیں نہ اسے اونگھ آتی ہے نہ ہی نیند کیونکہ یہ کیفیات تبدیلی پیدا کرتی ہیں پہلی حالت سے دوسری حالت کی جانب، اور تمام آئمہ اطہارؑ سوتے بھی تھے جاگتے بھی تھے بچے بھی تھے اور پھر جوان اور پھر بوڑھے بھی ہوئے۔
مرئی=
وہ قابل روئیت نہیں وہ نہ دنیا میں دکھائی دے سکتاہے نہ آخرت میں، کیونکہ دکھائی دینے کیلئے جسم ومکان کی شرط ہے اور اللہ رب العزت اس سے پاک و منزہ ہے لہذا جوبھی مرئی ہے وہ خدا نہیں ہوسکتا۔
اگر اسطرح کوئی توحید کو سمجھ لے تو ان شاءاللہ زندگی میں پھر کبھی کسی کے بہکاوے میں نہیں آئیگا.
https://t.me/islamwitheman/773
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
گذشتہ چند سالوں میں مختلف طریقوں سے نوجوانوں کے اذھان میں زھر داخل کیا جارہا ہے. ھم سبکی ذمہ داری ہے کہ اسکے سدباب کیلئے اپنااپنا کردار ادا کریں.
یہ ایک ایسا کلیہ ہے کہ اگر نوجوان اسے ایک بار سمجھ لیں تو ان شاءاللہ جب بھی کسی کی تقریر سنیں گے فوراً فیصلہ کرلیں گے کہ یہ آئمہ اطہار علیہم السلام کی تعریف وتوصیف کر رہاہے یا انکے نام پر شرک کا زھر ھمارے افکار میں گھول رہاہے۔
یاد رکھیں! اس دنیا میں تمام انبیاء ورسل و آئمہ اطہار علیہم السلام کی زندگیوں کا صرف ایک ھدف تھا اور وہ ہے "توحیدشناسی" یعنی اگر ھم اصول دین کو قیامت سے سمیٹنا شروع کریں تو امامت نبوت سے ہوتی ہوئی عدل خداوندی سے توحید پر ختم ہوگی اسیطرح جہاد سے لیکر نماز تک ھرعمل کا ماحصل توحید باری تعالٰی ہے.
توحیدِ کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ اللہ رب العزت کی صفات کو سمجھا جائے ذیل میں صفات ثبوتیہ اور صفات سلبیہ کو بیان کررہا ہوں انہیں سمجھیں اور دیکھیں کہ کسطرح یہ نام نہاد کم فہم و کم علم نوجوانوں کو شرک میں مبتلا کرتے ہیں۔۔
🔷صفات ثبوتیہ
قدیم=
یعنی اللہ ھمیشہ سے ہے اور ھمیشہ رھے گا، اب اگرکوئی اللہ کے علاوہ کسی اور کو قدیم کہے تو اس نے دو ذوات کو قدیم کہکر اللہ کی وحدانیت کا انکار کردیا، اور جزو کا اور دوئی کا قائل ہوگیا جوکہ صریحاً شرک ہے لہذا جوکچھ ہے وہ اس کیبعد اس سے پہلے کچھ نہیں. انبیاء ورسل وآئمہ بھی قدیم نہیں کیونکہ وہ مخلوق ہیں۔
قادر=
یعنی وہ ھر شے پر قادر ہے اور اس پر کسی کو کوئی قدرت نہیں، یعنی آئمہ علیہم السلام پر بھی اس کی قدرت ہے اور آئمہ علیہم السلام کی اس پر کوئی قدرت نہیں۔۔
عالم=
وہ عالم ہے ایسا کہ ھر شے کو جانتاہے اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ وہ ایک لمحے کیلئے بھی جاھل رہاہو جبکہ مخلوق عدم سے وجود میں آنے کیبعد عالم بنی اور اسکو علم پروردگار سے ملا کیونکہ وہ اس وقت بھی تھا جب مخلوق نہ تھی۔
حی=
وہ ایسا زندہ ہے جسے موت نہیں، اب جسے بھی موت ہے وہ اللہ نہیں یاد رکھیں۔۔
مدرک=
وہ دیکھتا بھی ہے، سنتا بھی ہے لیکن نہ اسکے کان ہیں اور نہ آنکھیں، اسکے علاوہ جوبھی ہیں وہ دیکھنے اور سننے کے لئے اعضاء کے محتاج ہیں۔
مرید=
وہ صاحب ارادہ ہے جب وہ کسی شے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ ہو جاتی ہے، یعنی وہ اپنے ارادے میں کسی کا پابند نہیں ہے، اس کے ارادے سے سب خلق ہوئے ہیں وہ کسی کے ارادے سے خلق نہیں ہوا۔
متکلم=
وہ کلام کرتا ہے لیکن اس زبان سے نہیں اور جتنی بھی مخلوقات ہیں وہ کلام کیلئے کسی نہ کسی وسیلہ کی محتاج ہیں.
صادق=
وہ سچا ہے اور اسے کسی کا خوف ولالچ نہیں کہ جھوٹ کہے۔
🔷صفات سلبیہ
وہ صفات جن سے اللہ رب العزت منزہ ہے۔
شرکت=
یعنی اسکا کوئی شریک نہیں وہ واحد و احد ہے کسی کی شرکت سے کوئی کام انجام نہیں دیتا جو یہ سمجھتا ہے کہ کوئی اس کا مددگار ہے اور وہ کسی کو شریک کرنے کا محتاج ہے وہ مشرک ہے۔
ترکیب=
یعنی وہ مرکب نہیں ہے کہ کسی شے سے بنا ہو، یعنی جو بھی جسم و اعضاء کا مرکب ہے وہ مخلوق ہے خالق نہیں۔
حلول=
نہ وہ کسی شے میں حلول کرتا ہے اور نہ کوئی شے اس میں حلول کرتی ہے جو یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ اللہ نعوذ باللہ کسی امام میں حلول کرتا ہے وہ مشرک ہے کیونکہ اللہ جسم نہیں کہ جس میں کوئی حلول کر جائے اور وہ کسی میں حلول کر جائے ایسا سوچنا اسے محدود کرنا ہے اور جو محدود ہو وہ اللہ نہیں۔
مکان=
اس کا کوئی ایک مکان نہیں کہ کہا جاسکے کہ وہ اسطرف ہے جیساکہ امام علی علیہ السلام نے فرمایا کہ جس نے اسے ایک جہت میں مانا اس نے اسے قابل اشارہ سمجھا جس نے قابل اشارہ سمجھا اس نے اسے محدود کردیا۔۔ جس نے ایک سمت میں محدود کیا اس نے اور جگہوں کو اس سے خالی سمجھا۔۔
احتیاج=
اسے کسی چیز کی ضرورت نہیں اور سبکو اسکی ضرورت ہے، یعنی کوئی یہ نہ کہے کہ اللہ کو ضرورت تھی کہ امامؑ ہوں تو اس کا وجود ہوگا ورنہ نہیں، اسے کسی بھی شے کی احتیاج نہیں۔
صفات زائد بر ذات=
یعنی اسکی صفات اسکی ذات کے علاوہ کوئی الگ شے نہیں بلکہ اس کی تمام صفات عین ذات ہیں،
یہ عقیدہ اسلئے ضروری ہے کہ صرف اسکی ذات قدیم ہے اگر اسکی صفات کو اسکی ذات سے علیحدہ سمجھاگیا تو صفات کو بھی قدیم ماننا پڑے گا جوکہ محال ہے۔
محل حوادث=
یعنی اس میں تغیر و تبدیلی نہیں نہ اسے اونگھ آتی ہے نہ ہی نیند کیونکہ یہ کیفیات تبدیلی پیدا کرتی ہیں پہلی حالت سے دوسری حالت کی جانب، اور تمام آئمہ اطہارؑ سوتے بھی تھے جاگتے بھی تھے بچے بھی تھے اور پھر جوان اور پھر بوڑھے بھی ہوئے۔
مرئی=
وہ قابل روئیت نہیں وہ نہ دنیا میں دکھائی دے سکتاہے نہ آخرت میں، کیونکہ دکھائی دینے کیلئے جسم ومکان کی شرط ہے اور اللہ رب العزت اس سے پاک و منزہ ہے لہذا جوبھی مرئی ہے وہ خدا نہیں ہوسکتا۔
اگر اسطرح کوئی توحید کو سمجھ لے تو ان شاءاللہ زندگی میں پھر کبھی کسی کے بہکاوے میں نہیں آئیگا.
https://t.me/islamwitheman/773
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
⭕ خدا کیسا ہے؟ ⭕
خدا کیسا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو اکثر لوگوں، مسلمانوں، غیر مسلموں، چھوٹوں اور بزرگوں کو ضرور پیش آیا ہوگاـ
سوال؟
خدا اسوقت کہاں ہے؟ وہ کس چیز سے بنا ہے؟ خدا سے پہلے کیا تھا؟
اگر آپ بھی اس سوال کا جواب حاصل کرنا چاھتے ہو تو جان لیں…
خدا کیسا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو اکثر لوگوں، مسلمانوں، غیر مسلموں، چھوٹوں اور بزرگوں کو ضرور پیش آیا ہوگاـ
سوال؟
خدا اسوقت کہاں ہے؟ وہ کس چیز سے بنا ہے؟ خدا سے پہلے کیا تھا؟
اگر آپ بھی اس سوال کا جواب حاصل کرنا چاھتے ہو تو جان لیں…
📓 توضیح المسائل اک آسانی 📓
کچھ حضرات سوال کرتے ہیں کہ توضیح المسائل پرانے دور میں نہیں تھی تو اب کیوں، پھر کہتے ہیں کہ فلاں فقیہ نے توضیح نہ لکھی فلاں نے نہیں تو آج کل کے مراجع کیوں لکھتے ہیں؟
شروعاتی صدیوں میں توضیح المسائل اس شکل و صورت میں بیشک نہیں تھی جس طرح آج ہے کیونکہ ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی تھی، عوام میں اکا دکا بندہ ہی پڑھا لکھا نظر آتا تھا. سو عوام چونکہ لکھنا پڑھنا نہیں جانتی تھی تو زیادہ تر گفتگو کے ذریعے ہی سوال جواب کا سلسلہ ہوتا. خط و کتابت بس علماء کے ہی بس کی بات تھی.
لیکن فقہی رسالے مخلتف روایات کے نسخوں کی صورت میں دستہ بند موجود تھے، ھر دستے کو "اصل" کہا جاتا تھا. علماء ان سے استفادہ کرتے تھے.
اس کے بعد شیخ مفید علیہ رحمہ ''متوفی ۴۱۳'' نے *"المقنعہ"* لکھی اور پہلی بار شیعوں کو ایک ایسی فقہی کتاب ملی جس میں آئمہ "ع" روایات نہیں تھی اور مسائل کا جواب فتووں کی صورت میں تھا. جیسے کے قبلے رخ کا تعین، مجبوری میں نجس پانی پینا وغیرہ. یہ کتاب باعث بنی کے عوام کے مسائل کا آسان حل پیش کیا جا سکے.
اس کے بعد شیخ طوسی علیہ رحمہ نے بھی اسی طرز پر اپنی کتاب *"النھایہ"* لکھی جو فقہی مسائل کے جوابات پر مبنی تھی. اس کے بعد اسی بزرگوار نے *"المبسوط"* بھی لکھی.
شیخ طوسی "رض" کے انتقال اور حوزہ علمیہ بغداد کے سقوط کے دو صدیاں بعد حلہ کے حوزہ میں فقہ تشیع نے زور پکڑا اور اس کے بعد فقہ امامی ترقی کرتی کرتی نجف و اصفہاں کے حوزہ ھائے علمیہ سے ہوتی قم کے حوزہ علمیہ تک پہنچی. یہاں شیخ بہائی کی *"جامع عباسی"* کو پہلی توضیح المسائل کہا جا سکتا ہے. اس کے بعد آیت اللہ بروجردی "رض" کے دور میں علامہ کرباسچیان نے باقائدہ طور پر *توضیح المسائل* مرتب کی اور آیت اللہ بروجردی "رض" کی اجازت سے چھپوائی.
فقہ وہ واحد علم کی شاخ ہے جس نے اتنا مسلسل اور کٹھن سفر طے کیا ہے. اتنی کتب کسی موضوع پر نہیں جتنی فقہ پر ہیں اور مسلسل علماء و فقہاء نے عوام کے مسائل کا حل بتا کر ان کی زندگیوں میں آسانی پیدا کی.
آج جب ہمارا بچہ بچہ پڑھا لکھا ہے تو فقہی مسائل کے حل کیلئے ایک جامع کتاب بنام *توضیح المسائل* یا استفتات کے جوابات مختلف زبانوں میں چھپوا کر عوام کی دہلیز تک پہنچانا ممکن ہے تو اس کی مخالفت صرف و صرف ایک کوڑ مغز انسان ہی کر سکتا ہے اور پاک و ہند میں یہ کوڑ مغز موجود ہیں اس لیئے سوال کرتے ہیں شیخ مفید کے دور میں تو ضیح المسائل کیوں نہیں تھی، شیخ کلینی کے دور میں توضیح کیوں نہیں تھی.
*نکتہ*
اگر تمہارا معیار یہ ہی ہے کہ ہر وہ چیز لینی ہے جو آئمہ علیہم السلام کے دور میں تھی یا کسی عالم کے دور میں تو کنگن، کلاوے، شہنشاہ فضائل، بحرالمصائب، نیاز کی دیگیں، اسٹیل کے علم، سبیلیں، عماریاں، تابوت، جلوس، انگوری تابوت، چپ تابوت، بولتا تابوت، آگ کا ماتم ... سب تو آئمہ علیھم السلام کے دور میں نہیں تھا تو کیا یہ بھی چھوڑ دیں گے؟ 🤔
*توضیح المسائل* حلال و حرام کا گھر بیٹھے پتہ لگانے کیلئے اللہ تعالٰی کی ایک عظیم نعمت ہے. جب لوگ پڑھنا لکھنا نہیں جانتے تھے اور چھپائی اتنی وافر مقدار میں ممکن نہیں تھی تو یہ اس شکل میں نہ تھی اب جب پرنٹنگ پریس نے ترقی کر لی عوام بھی پڑھی لکھی ہے تو کیوں نہ ایسی کتاب ہو جو عوام کیلئے آسانی پیدا کرے.
ملتمس دعا: ضیغم عبّاس
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
👆ایک مراسلہ👆
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 تقلید کے بارے پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ لنک پر کلک کریں.
🔷 تقلید کی ضرورت
https://t.me/islamwitheman/357
🔷 تقلید کیوں واجب ہے
https://t.me/islamwitheman/358
🔷 شرائط تقلید
https://t.me/islamwitheman/359
🌷 مجتهد کی ضرورت
https://t.me/islamwitheman/522
📓 توضیح المسائل اک آسانی
https://t.me/islamwitheman/775
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
کچھ حضرات سوال کرتے ہیں کہ توضیح المسائل پرانے دور میں نہیں تھی تو اب کیوں، پھر کہتے ہیں کہ فلاں فقیہ نے توضیح نہ لکھی فلاں نے نہیں تو آج کل کے مراجع کیوں لکھتے ہیں؟
شروعاتی صدیوں میں توضیح المسائل اس شکل و صورت میں بیشک نہیں تھی جس طرح آج ہے کیونکہ ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی تھی، عوام میں اکا دکا بندہ ہی پڑھا لکھا نظر آتا تھا. سو عوام چونکہ لکھنا پڑھنا نہیں جانتی تھی تو زیادہ تر گفتگو کے ذریعے ہی سوال جواب کا سلسلہ ہوتا. خط و کتابت بس علماء کے ہی بس کی بات تھی.
لیکن فقہی رسالے مخلتف روایات کے نسخوں کی صورت میں دستہ بند موجود تھے، ھر دستے کو "اصل" کہا جاتا تھا. علماء ان سے استفادہ کرتے تھے.
اس کے بعد شیخ مفید علیہ رحمہ ''متوفی ۴۱۳'' نے *"المقنعہ"* لکھی اور پہلی بار شیعوں کو ایک ایسی فقہی کتاب ملی جس میں آئمہ "ع" روایات نہیں تھی اور مسائل کا جواب فتووں کی صورت میں تھا. جیسے کے قبلے رخ کا تعین، مجبوری میں نجس پانی پینا وغیرہ. یہ کتاب باعث بنی کے عوام کے مسائل کا آسان حل پیش کیا جا سکے.
اس کے بعد شیخ طوسی علیہ رحمہ نے بھی اسی طرز پر اپنی کتاب *"النھایہ"* لکھی جو فقہی مسائل کے جوابات پر مبنی تھی. اس کے بعد اسی بزرگوار نے *"المبسوط"* بھی لکھی.
شیخ طوسی "رض" کے انتقال اور حوزہ علمیہ بغداد کے سقوط کے دو صدیاں بعد حلہ کے حوزہ میں فقہ تشیع نے زور پکڑا اور اس کے بعد فقہ امامی ترقی کرتی کرتی نجف و اصفہاں کے حوزہ ھائے علمیہ سے ہوتی قم کے حوزہ علمیہ تک پہنچی. یہاں شیخ بہائی کی *"جامع عباسی"* کو پہلی توضیح المسائل کہا جا سکتا ہے. اس کے بعد آیت اللہ بروجردی "رض" کے دور میں علامہ کرباسچیان نے باقائدہ طور پر *توضیح المسائل* مرتب کی اور آیت اللہ بروجردی "رض" کی اجازت سے چھپوائی.
فقہ وہ واحد علم کی شاخ ہے جس نے اتنا مسلسل اور کٹھن سفر طے کیا ہے. اتنی کتب کسی موضوع پر نہیں جتنی فقہ پر ہیں اور مسلسل علماء و فقہاء نے عوام کے مسائل کا حل بتا کر ان کی زندگیوں میں آسانی پیدا کی.
آج جب ہمارا بچہ بچہ پڑھا لکھا ہے تو فقہی مسائل کے حل کیلئے ایک جامع کتاب بنام *توضیح المسائل* یا استفتات کے جوابات مختلف زبانوں میں چھپوا کر عوام کی دہلیز تک پہنچانا ممکن ہے تو اس کی مخالفت صرف و صرف ایک کوڑ مغز انسان ہی کر سکتا ہے اور پاک و ہند میں یہ کوڑ مغز موجود ہیں اس لیئے سوال کرتے ہیں شیخ مفید کے دور میں تو ضیح المسائل کیوں نہیں تھی، شیخ کلینی کے دور میں توضیح کیوں نہیں تھی.
*نکتہ*
اگر تمہارا معیار یہ ہی ہے کہ ہر وہ چیز لینی ہے جو آئمہ علیہم السلام کے دور میں تھی یا کسی عالم کے دور میں تو کنگن، کلاوے، شہنشاہ فضائل، بحرالمصائب، نیاز کی دیگیں، اسٹیل کے علم، سبیلیں، عماریاں، تابوت، جلوس، انگوری تابوت، چپ تابوت، بولتا تابوت، آگ کا ماتم ... سب تو آئمہ علیھم السلام کے دور میں نہیں تھا تو کیا یہ بھی چھوڑ دیں گے؟ 🤔
*توضیح المسائل* حلال و حرام کا گھر بیٹھے پتہ لگانے کیلئے اللہ تعالٰی کی ایک عظیم نعمت ہے. جب لوگ پڑھنا لکھنا نہیں جانتے تھے اور چھپائی اتنی وافر مقدار میں ممکن نہیں تھی تو یہ اس شکل میں نہ تھی اب جب پرنٹنگ پریس نے ترقی کر لی عوام بھی پڑھی لکھی ہے تو کیوں نہ ایسی کتاب ہو جو عوام کیلئے آسانی پیدا کرے.
ملتمس دعا: ضیغم عبّاس
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
👆ایک مراسلہ👆
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 تقلید کے بارے پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ لنک پر کلک کریں.
🔷 تقلید کی ضرورت
https://t.me/islamwitheman/357
🔷 تقلید کیوں واجب ہے
https://t.me/islamwitheman/358
🔷 شرائط تقلید
https://t.me/islamwitheman/359
🌷 مجتهد کی ضرورت
https://t.me/islamwitheman/522
📓 توضیح المسائل اک آسانی
https://t.me/islamwitheman/775
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 تقلید کی ضرورت 🔷
عقلًا اور شرعًا جو شخص آيات اور روايات سے حكم شرعى كا استنباط نہيں كر سكتا اسے ’’تقليدِ فقہى‘‘ كرنا ضرورى ہے.
جو شخص خود تقليد كے مرحلہ ميں ہو اور بعض ايسى روايات پيش كرے جو اس كے خيال ميں قابلِ بحث ہيں، اس كى مثال اس مريض كى سى ہے جسے…
عقلًا اور شرعًا جو شخص آيات اور روايات سے حكم شرعى كا استنباط نہيں كر سكتا اسے ’’تقليدِ فقہى‘‘ كرنا ضرورى ہے.
جو شخص خود تقليد كے مرحلہ ميں ہو اور بعض ايسى روايات پيش كرے جو اس كے خيال ميں قابلِ بحث ہيں، اس كى مثال اس مريض كى سى ہے جسے…
⭕ عالم اور بڑھیا ⭕
ایک عالِم نے ایک بُڑھیا کو چرخہ کاتتے دیکھ کر فرمایا: "اے بُڑھیا.! ساری عُمر چرخہ ہی کاتا ھے یا کچھ اپنے خدا کی بھی پہچان کی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟"
بُڑھیا نے جواب دیا:
"بیٹا مَیں نے تمہاری طرح موٹی موٹی کتابیں تو نہیں پڑھیں مگر۔۔۔۔ سب کچھ اِسی چرخہ میں دیکھ لیا."
عالم نے فرمایا:
"بڑی بی! یہ تو بتاؤ کہ خدا موجود ھے یا نہیں.؟"
بُڑھیا نے جواب دیا:
"ہاں۔۔۔۔ ہر گھڑی اور رات دن۔۔۔۔۔ ہر وقت ایک زبردست خدا موجود ھے."
عالِم نے فرمایا:
"مگر اس کی کوئی دلیل بھی ھے تمہارے پاس.؟"
بُڑھیا بولی:
"دلیل ھے۔۔۔ یہ میرا چرخہ."
عالِم نے پوچھا:
"یہ معمولی سا چرغہ کیسے.؟"
وہ بولی:
"وہ ایسے کہ جب تک مَیں اس چرخہ کو چلاتی رہتی ہُوں۔۔۔۔۔ یہ برابر چلتا رہتا ھے۔۔۔ اور جب مَیں اسے چھوڑ دیتی ہُوں۔۔۔۔۔ تب یہ ٹھہر جاتا ھے۔۔۔۔۔ تو جب اس چھوٹے سے چرخہ کو ہر وقت چلانے والے کی لازماً ضرورت ھے۔۔۔۔۔۔ تو اِتنی بڑی کائنات یعنی زمین و آسمان، چاند، سورج کے اتنے بڑے چرخوں کو کس طرح چلانے والے کی ضرورت نہ ہو گی۔؟
پس جس طرح میرے کاٹھ کے چرخہ کو ایک چلانے والا چاہیے۔۔۔۔ اسی طرح زمین و آسمان کے چرخہ کو ایک چلانے والا چاہیے۔۔۔۔۔ جب تک وہ چلاتا رہے گا۔۔۔ یہ سب چرخے چلتے رہیں گے۔۔۔۔ اور جب وہ چھوڑ دے گا۔۔۔۔۔ تو یہ ٹھہر جائیں گے۔۔۔۔ مگر ہم نے کبھی زمین و آسمان، چاند، سورج کو ٹھہرے ہوئے نہیں دیکھا۔۔۔۔۔ تو جان لیا کہ ان کا چلانے والا ہر گھڑی موجود ھے."
عالم نے سوال کیا:
"اچھا یہ بتاؤ کہ آسمان و زمین کا چرخہ چلانے والا ایک ھے یا دو۔؟"
بُڑھیا نے جواب دیا:
"ایک ھے اور اس دعویٰ کی دلیل بھی یہی میرا چرخہ ھے۔۔۔۔ کیونکہ جب اس چرخہ کو مَیں اپنی مرضی سے ایک طرف کو چلاتی ہُوں۔۔۔۔ تو یہ چرخہ میری
مرضی سے ایک ہی طرف کو چلتا ھے۔۔۔۔۔۔۔ اگر کوئی دوسرا چلانے والا ہوتا۔۔۔۔۔ تب تو چرخہ کی رفتار تیز یا آہستہ ہو جاتی۔۔۔۔۔ اور اس چرخہ کی رفتار میں فرق آنے سے مطلوبہ نتیجہ حاصل نہ ہوتا۔۔۔۔۔ یعنی اگر کوئی دوسرا صریحاً میری مرضی کے خلاف اور میرے چلانے کی مخالف جہت پر چلاتا۔۔۔۔۔ تو یہ چرخہ چلتے چلتے ٹھہر جاتا۔۔۔۔۔ مگر ایسا کبھی نہیں ہُوا.. اس وجہ سے کہ کوئی دُوسرا چلانے والا ھے ہی نہیں۔۔۔۔۔ اسی طرح آسمان و زمین کا چلانے والا اگر کوئی دُوسرا خدا ہوتا۔۔۔۔ تو ضرور آسمانی چرخہ کی رفتار تیز ہو کر دن رات کے نظام میں فرق آ جاتا۔۔۔ یا چلنے سے ٹھہر جاتا۔۔۔۔۔ یا ٹوٹ جاتا۔۔۔۔ جب ایسا نہیں ھے تو پھر ضرور آسمان و زمین کے چرخہ کو چلانے والا ایک ہی خدا ھے..!!"
📚ماخوذ از:
"سیرت الصالحین، صفحہ:3"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزید پوسٹس۔۔۔
⭕ خدا کیسا ہے؟
https://t.me/islamwitheman/773
⭕ صفات باری تعالٰی
https://t.me/islamwitheman/774
⭕ عالم اور بڑھیا
https://t.me/islamwitheman/776
⭕ حجام اور گاہگ
https://t.me/islamwitheman/780
⭕ خدا پر ان دیکھا یقین(حصہ اول)
https://t.me/islamwitheman/793
⭕ خدا پر ان دیکھا یقین(حصہ دوم)
https://t.me/islamwitheman/794
⭕ ایمان اور یقین
https://t.me/islamwitheman/788
⭕ حضرت موسٰیؑ اور گڈریا
https://t.me/islamwitheman/799
🌷 موجبِ اخلاص چیزیں
https://t.me/islamwitheman/1104
⭕ عشقِ خدا
https://t.me/islamwitheman/1105
🌹 تقوٰی کی اہمیت
https://t.me/islamwitheman/1103
⭕ الله تک پہنچنے کا طریقہ
http://t.me/islamwitheman/1329
⭕ توحید
http://t.me/islamwitheman/1609
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ایک عالِم نے ایک بُڑھیا کو چرخہ کاتتے دیکھ کر فرمایا: "اے بُڑھیا.! ساری عُمر چرخہ ہی کاتا ھے یا کچھ اپنے خدا کی بھی پہچان کی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟"
بُڑھیا نے جواب دیا:
"بیٹا مَیں نے تمہاری طرح موٹی موٹی کتابیں تو نہیں پڑھیں مگر۔۔۔۔ سب کچھ اِسی چرخہ میں دیکھ لیا."
عالم نے فرمایا:
"بڑی بی! یہ تو بتاؤ کہ خدا موجود ھے یا نہیں.؟"
بُڑھیا نے جواب دیا:
"ہاں۔۔۔۔ ہر گھڑی اور رات دن۔۔۔۔۔ ہر وقت ایک زبردست خدا موجود ھے."
عالِم نے فرمایا:
"مگر اس کی کوئی دلیل بھی ھے تمہارے پاس.؟"
بُڑھیا بولی:
"دلیل ھے۔۔۔ یہ میرا چرخہ."
عالِم نے پوچھا:
"یہ معمولی سا چرغہ کیسے.؟"
وہ بولی:
"وہ ایسے کہ جب تک مَیں اس چرخہ کو چلاتی رہتی ہُوں۔۔۔۔۔ یہ برابر چلتا رہتا ھے۔۔۔ اور جب مَیں اسے چھوڑ دیتی ہُوں۔۔۔۔۔ تب یہ ٹھہر جاتا ھے۔۔۔۔۔ تو جب اس چھوٹے سے چرخہ کو ہر وقت چلانے والے کی لازماً ضرورت ھے۔۔۔۔۔۔ تو اِتنی بڑی کائنات یعنی زمین و آسمان، چاند، سورج کے اتنے بڑے چرخوں کو کس طرح چلانے والے کی ضرورت نہ ہو گی۔؟
پس جس طرح میرے کاٹھ کے چرخہ کو ایک چلانے والا چاہیے۔۔۔۔ اسی طرح زمین و آسمان کے چرخہ کو ایک چلانے والا چاہیے۔۔۔۔۔ جب تک وہ چلاتا رہے گا۔۔۔ یہ سب چرخے چلتے رہیں گے۔۔۔۔ اور جب وہ چھوڑ دے گا۔۔۔۔۔ تو یہ ٹھہر جائیں گے۔۔۔۔ مگر ہم نے کبھی زمین و آسمان، چاند، سورج کو ٹھہرے ہوئے نہیں دیکھا۔۔۔۔۔ تو جان لیا کہ ان کا چلانے والا ہر گھڑی موجود ھے."
عالم نے سوال کیا:
"اچھا یہ بتاؤ کہ آسمان و زمین کا چرخہ چلانے والا ایک ھے یا دو۔؟"
بُڑھیا نے جواب دیا:
"ایک ھے اور اس دعویٰ کی دلیل بھی یہی میرا چرخہ ھے۔۔۔۔ کیونکہ جب اس چرخہ کو مَیں اپنی مرضی سے ایک طرف کو چلاتی ہُوں۔۔۔۔ تو یہ چرخہ میری
مرضی سے ایک ہی طرف کو چلتا ھے۔۔۔۔۔۔۔ اگر کوئی دوسرا چلانے والا ہوتا۔۔۔۔۔ تب تو چرخہ کی رفتار تیز یا آہستہ ہو جاتی۔۔۔۔۔ اور اس چرخہ کی رفتار میں فرق آنے سے مطلوبہ نتیجہ حاصل نہ ہوتا۔۔۔۔۔ یعنی اگر کوئی دوسرا صریحاً میری مرضی کے خلاف اور میرے چلانے کی مخالف جہت پر چلاتا۔۔۔۔۔ تو یہ چرخہ چلتے چلتے ٹھہر جاتا۔۔۔۔۔ مگر ایسا کبھی نہیں ہُوا.. اس وجہ سے کہ کوئی دُوسرا چلانے والا ھے ہی نہیں۔۔۔۔۔ اسی طرح آسمان و زمین کا چلانے والا اگر کوئی دُوسرا خدا ہوتا۔۔۔۔ تو ضرور آسمانی چرخہ کی رفتار تیز ہو کر دن رات کے نظام میں فرق آ جاتا۔۔۔ یا چلنے سے ٹھہر جاتا۔۔۔۔۔ یا ٹوٹ جاتا۔۔۔۔ جب ایسا نہیں ھے تو پھر ضرور آسمان و زمین کے چرخہ کو چلانے والا ایک ہی خدا ھے..!!"
📚ماخوذ از:
"سیرت الصالحین، صفحہ:3"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزید پوسٹس۔۔۔
⭕ خدا کیسا ہے؟
https://t.me/islamwitheman/773
⭕ صفات باری تعالٰی
https://t.me/islamwitheman/774
⭕ عالم اور بڑھیا
https://t.me/islamwitheman/776
⭕ حجام اور گاہگ
https://t.me/islamwitheman/780
⭕ خدا پر ان دیکھا یقین(حصہ اول)
https://t.me/islamwitheman/793
⭕ خدا پر ان دیکھا یقین(حصہ دوم)
https://t.me/islamwitheman/794
⭕ ایمان اور یقین
https://t.me/islamwitheman/788
⭕ حضرت موسٰیؑ اور گڈریا
https://t.me/islamwitheman/799
🌷 موجبِ اخلاص چیزیں
https://t.me/islamwitheman/1104
⭕ عشقِ خدا
https://t.me/islamwitheman/1105
🌹 تقوٰی کی اہمیت
https://t.me/islamwitheman/1103
⭕ الله تک پہنچنے کا طریقہ
http://t.me/islamwitheman/1329
⭕ توحید
http://t.me/islamwitheman/1609
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
⭕ خدا کیسا ہے؟ ⭕
خدا کیسا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو اکثر لوگوں، مسلمانوں، غیر مسلموں، چھوٹوں اور بزرگوں کو ضرور پیش آیا ہوگاـ
سوال؟
خدا اسوقت کہاں ہے؟ وہ کس چیز سے بنا ہے؟ خدا سے پہلے کیا تھا؟
اگر آپ بھی اس سوال کا جواب حاصل کرنا چاھتے ہو تو جان لیں…
خدا کیسا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو اکثر لوگوں، مسلمانوں، غیر مسلموں، چھوٹوں اور بزرگوں کو ضرور پیش آیا ہوگاـ
سوال؟
خدا اسوقت کہاں ہے؟ وہ کس چیز سے بنا ہے؟ خدا سے پہلے کیا تھا؟
اگر آپ بھی اس سوال کا جواب حاصل کرنا چاھتے ہو تو جان لیں…
⭕ حجام اور گاہگ ⭕
ایک شخص نائی کی دوکان پر بال اور داڑھی بنوانے کے لئے گیا۔ جیسا کہ عموماً ھوتا ھے نائی اور گاھک کے درمیان گفتگو شروع ھو گئی۔ بات جب اللہ کے موضوع پر آئی تو نائی نے کہا:
’’مجھے (نعوذباللہ) اللہ کے وجود پر یقین نہیں ھے.‘‘
گاھک نے پوچھا کہ وہ کیوں؟
نائی نے کہا:
’’اِس کے لئے باھر سڑک پر ایک نظر ڈالنا ھی کافی ھے۔ اگر خدا ھوتا تو کیا اِتنے لوگ بیمار ھوتے؟ اِتنی اولادیں یتیم ھوتیں؟ دنیا میں اِتنا رنج و غم ھوتا؟ مجھے یقین ھے کہ اگر رحیم و کریم اللہ کا وجود ھوتا تو وہ ھرگز اِس کی اجازت نہیں دیتا کہ دنیا اتنے مسائل سے بھری ھو۔‘‘
گاھک نے کچھ دیر سوچا لیکن اُس سے کوئی جواب نہ بن پڑا، ویسے بھی وہ بحث کرنے کے موڈ میں نہیں تھا۔
نائی نے اُس کے بال اور داڑھی بنائے اور وہ پیسے دے کر دوکان سے باھر نکل آیا۔ اُسی وقت اُس کے سامنے سے ایک شخص گزرا جس کے بال اور داڑھی لمبے اور بے ترتیب تھے اور لگ رھا تھا کہ بہت عرصہ وہ نہایا بھی نہیں ھے۔
گاھک واپس دوکان میں داخل ھُوا اور نائی سے کہنے لگا:
’’جانتے ھو کیا؟ میرے خیال میں دنیا میں نائیوں کا بھی کوئی وجود نہیں ھے۔‘‘
نائی نے کہا کہ کیسی بات کر رھے ھو۔ میں نائی ھوں اور تمہارے سامنے موجود ھوں، ابھی ابھی تمہاری داڑھی اور بالوں کی حجامت کی ھے۔
گاہگ بولا:
’’میں نے کہا نا کہ کوئی وجود نہیں ھے نائیوں کا، اگر ھوتا تو ایسے لوگ ھرگز نظر نہ آتے جیسا میں نے ابھی ابھی تمہاری دوکان کے سامنے سے گزرتے دیکھا ھے، لمبے اور الجھے بالوں اور داڑھی کے ساتھ۔‘‘
’’نہیں جناب نائی تو موجود ھیں اب اگر ایسے لوگ ھمارے پاس نہ آئیں تو ھم کیا کر سکتے ھیں؟‘‘
گاہگ بولا:
’’بالکل یہی بات ھے۔ اللہ بھی ھر جگہ اور ھر زمانے میں موجود ھے، اب اگر لوگ اُسے نہ ڈھونڈیں، اُس سے رابطہ نہ کریں اور سچّے دل سے اُس کی پیروی اور اطاعت کر کے اُس سے نہ مانگیں تو یہ اللہ کا تو نعوذباللہ قصور نہیں ھے۔‘‘
📚اخذ از: حکایاتِ فارسی
توحيد كا اقرار:
بسم الله الرحمان الرحيم¤ قل هو الله احد¤ الله الصمد¤ لم يلد و لم يولد¤ و لم يكن له كفوا احد¤
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزید پوسٹس۔۔۔
⭕ خدا کیسا ہے؟
https://t.me/islamwitheman/773
⭕ صفات باری تعالٰی
https://t.me/islamwitheman/774
⭕ عالم اور بڑھیا
https://t.me/islamwitheman/776
⭕ حجام اور گاہگ
https://t.me/islamwitheman/780
⭕ خدا پر ان دیکھا یقین(حصہ اول)
https://t.me/islamwitheman/793
⭕ خدا پر ان دیکھا یقین(حصہ دوم)
https://t.me/islamwitheman/794
⭕ ایمان اور یقین
https://t.me/islamwitheman/788
⭕ حضرت موسٰیؑ اور گڈریا
https://t.me/islamwitheman/799
🌷 موجبِ اخلاص چیزیں
https://t.me/islamwitheman/1104
⭕ عشقِ خدا
https://t.me/islamwitheman/1105
🌹 تقوٰی کی اہمیت
https://t.me/islamwitheman/1103
⭕ الله تک پہنچنے کا طریقہ
http://t.me/islamwitheman/1329
⭕ توحید
http://t.me/islamwitheman/1609
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ایک شخص نائی کی دوکان پر بال اور داڑھی بنوانے کے لئے گیا۔ جیسا کہ عموماً ھوتا ھے نائی اور گاھک کے درمیان گفتگو شروع ھو گئی۔ بات جب اللہ کے موضوع پر آئی تو نائی نے کہا:
’’مجھے (نعوذباللہ) اللہ کے وجود پر یقین نہیں ھے.‘‘
گاھک نے پوچھا کہ وہ کیوں؟
نائی نے کہا:
’’اِس کے لئے باھر سڑک پر ایک نظر ڈالنا ھی کافی ھے۔ اگر خدا ھوتا تو کیا اِتنے لوگ بیمار ھوتے؟ اِتنی اولادیں یتیم ھوتیں؟ دنیا میں اِتنا رنج و غم ھوتا؟ مجھے یقین ھے کہ اگر رحیم و کریم اللہ کا وجود ھوتا تو وہ ھرگز اِس کی اجازت نہیں دیتا کہ دنیا اتنے مسائل سے بھری ھو۔‘‘
گاھک نے کچھ دیر سوچا لیکن اُس سے کوئی جواب نہ بن پڑا، ویسے بھی وہ بحث کرنے کے موڈ میں نہیں تھا۔
نائی نے اُس کے بال اور داڑھی بنائے اور وہ پیسے دے کر دوکان سے باھر نکل آیا۔ اُسی وقت اُس کے سامنے سے ایک شخص گزرا جس کے بال اور داڑھی لمبے اور بے ترتیب تھے اور لگ رھا تھا کہ بہت عرصہ وہ نہایا بھی نہیں ھے۔
گاھک واپس دوکان میں داخل ھُوا اور نائی سے کہنے لگا:
’’جانتے ھو کیا؟ میرے خیال میں دنیا میں نائیوں کا بھی کوئی وجود نہیں ھے۔‘‘
نائی نے کہا کہ کیسی بات کر رھے ھو۔ میں نائی ھوں اور تمہارے سامنے موجود ھوں، ابھی ابھی تمہاری داڑھی اور بالوں کی حجامت کی ھے۔
گاہگ بولا:
’’میں نے کہا نا کہ کوئی وجود نہیں ھے نائیوں کا، اگر ھوتا تو ایسے لوگ ھرگز نظر نہ آتے جیسا میں نے ابھی ابھی تمہاری دوکان کے سامنے سے گزرتے دیکھا ھے، لمبے اور الجھے بالوں اور داڑھی کے ساتھ۔‘‘
’’نہیں جناب نائی تو موجود ھیں اب اگر ایسے لوگ ھمارے پاس نہ آئیں تو ھم کیا کر سکتے ھیں؟‘‘
گاہگ بولا:
’’بالکل یہی بات ھے۔ اللہ بھی ھر جگہ اور ھر زمانے میں موجود ھے، اب اگر لوگ اُسے نہ ڈھونڈیں، اُس سے رابطہ نہ کریں اور سچّے دل سے اُس کی پیروی اور اطاعت کر کے اُس سے نہ مانگیں تو یہ اللہ کا تو نعوذباللہ قصور نہیں ھے۔‘‘
📚اخذ از: حکایاتِ فارسی
توحيد كا اقرار:
بسم الله الرحمان الرحيم¤ قل هو الله احد¤ الله الصمد¤ لم يلد و لم يولد¤ و لم يكن له كفوا احد¤
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزید پوسٹس۔۔۔
⭕ خدا کیسا ہے؟
https://t.me/islamwitheman/773
⭕ صفات باری تعالٰی
https://t.me/islamwitheman/774
⭕ عالم اور بڑھیا
https://t.me/islamwitheman/776
⭕ حجام اور گاہگ
https://t.me/islamwitheman/780
⭕ خدا پر ان دیکھا یقین(حصہ اول)
https://t.me/islamwitheman/793
⭕ خدا پر ان دیکھا یقین(حصہ دوم)
https://t.me/islamwitheman/794
⭕ ایمان اور یقین
https://t.me/islamwitheman/788
⭕ حضرت موسٰیؑ اور گڈریا
https://t.me/islamwitheman/799
🌷 موجبِ اخلاص چیزیں
https://t.me/islamwitheman/1104
⭕ عشقِ خدا
https://t.me/islamwitheman/1105
🌹 تقوٰی کی اہمیت
https://t.me/islamwitheman/1103
⭕ الله تک پہنچنے کا طریقہ
http://t.me/islamwitheman/1329
⭕ توحید
http://t.me/islamwitheman/1609
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
⭕ خدا کیسا ہے؟ ⭕
خدا کیسا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو اکثر لوگوں، مسلمانوں، غیر مسلموں، چھوٹوں اور بزرگوں کو ضرور پیش آیا ہوگاـ
سوال؟
خدا اسوقت کہاں ہے؟ وہ کس چیز سے بنا ہے؟ خدا سے پہلے کیا تھا؟
اگر آپ بھی اس سوال کا جواب حاصل کرنا چاھتے ہو تو جان لیں…
خدا کیسا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو اکثر لوگوں، مسلمانوں، غیر مسلموں، چھوٹوں اور بزرگوں کو ضرور پیش آیا ہوگاـ
سوال؟
خدا اسوقت کہاں ہے؟ وہ کس چیز سے بنا ہے؟ خدا سے پہلے کیا تھا؟
اگر آپ بھی اس سوال کا جواب حاصل کرنا چاھتے ہو تو جان لیں…
⭕ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﯾﻘﯿﻦ ⭕
ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ﺳﮯ ﺳﺮﮔﻮﺷﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ:
" ﺍﮮ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ! ﺗﯿﺮﺍ ﭼﮩﺮﺍ ﮐﺪﮬﺮ ﮨﮯ؟ ﺷﻤﺎﻝ ﯾﺎ ﺟﻨﻮﺏ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ؟ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﻨﮧ ﮐﺮﮐﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﺮ ﺳﮑﻮﮞ۔"
ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻭﺣﯽ ﺑﮭﯿﺠﯽ:
"ﺍﮮ ﻣﻮﺳﯽٰ! ﺁﭖ ﺁ ﮒ ﺟﻼﺋﯿﮟ، ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺭﺩﮔﺮﺩ ﭼﮑﺮ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﺁﮒ ﮐﺎ ﺭﺥ ﮐﺲ ﺟﺎﻧﺐ ﮨﮯ۔؟"
ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺁ ﮒ ﺭﻭﺷﻦ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺭﺩﮔﺮﺩ ﭼﮑﺮ ﻟﮕﺎﯾﺎ، ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺁﮒ ﮐﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮨﺮ ﭼﺎﺭ ﺳﻮ ﯾﮑﺴﺎﮞ ﮨﮯ۔"
ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺩﺭﺑﺎﺭِ ﺍﻟٰﮩﯽ ﻣﯿﮟ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ :
ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎ ! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﮒ ﮐﺎ ﺭﺥ ﮨﺮ ﺟﺎﻧﺐ ﯾﮑﺴﺎﮞ ﮨﯽ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔
ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
"ﺍﮮ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺜﺎﻝ ﺑﮭﯽ ﻭﯾﺴﯽ ﮨﯽ ﮨﮯ۔"
ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ:
ﺍﮮ ﭘﺮﻭﺩﮔﺎﺭ! ﺗﻮ ﺳﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ؟
ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻭﺣﯽ ﻧﺎﺯﻝ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ:
ﺍﮮ ﻣﻮﺳﯽٰ! ﭘﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﺍ ﮨﻮﺍ ﺍﯾﮏ ﭘﯿﺎﻟﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﭘﺮ ﺭﮐﮫ ﻟﻮ، ﭘﮭﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﺭﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﻨﺪ ﮐﯽ ﺁﻏﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﻣﺖ ﺟﺎﺅ۔"
ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮐﯿﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻧﮯ
ﺍﻥ ﭘﺮ ﮨﻠﮑﯽ ﺳﯽ ﺍﻭﻧﮕﮫ ﮈﺍﻟﯽ، ﭘﯿﺎﻟﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﮔﺮ
ﮐﺮ ﭨﻮﭦ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﻧﯽ ﺑﮩﮧ ﮔﯿﺎ۔
ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﭼﯿﺦ ﻧﮑﻞ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮔﮭﺒﺮﺍ ﮔﺌﮯ... ﭘﮭﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
" ﺍﮮ ﻣﻮﺳﯽ ! ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺟﮭﭙﮏ ﺑﮭﯽ ﺳﻮ ﺟﺎﺅﮞ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺩﮬﮍﺍﻡ ﺳﮯ ﮔﺮ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﺗﯿﺮﺍ
ﭘﯿﺎﻟﮧ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﮔﺮ ﭘﮍﺍ۔"
ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﮯ ﺍﺱ ﻗﻮﻝ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍِﺷﺎﺭﮦ ﮨﮯ۔۔
"ﯾﻘﯿﻨﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺁﺳﻤﺎﻧﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﻮ ﺗﮭﺎﻣﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﭨﻞ ﻧﮧ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺗﮭﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ، ﻭﮦ ﺣﻠﯿﻢ ﻭ ﻏﻔﻮﺭ ﮨﮯ۔
(ﻓﺎﻃﺮ: 41)
ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ:
" ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ! ﺗﻮ ﻧﮯ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﮐﯽ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺟﺒﮑﮧ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺗﺠﮭﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﺗﯽ؟
ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﮨﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﯾﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮩﭽﺎﻧﯿﮟ، ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺮﺍﺩﯾﮟ ﻣﺎﻧﮕﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻣﺮﺍﺩﯾﮟ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﻭﮞ، ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﻐﻔﺮﺕ ﻭﺑﺨﺸﺶ ﮐﯽ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﻐﻔﺮﺕ ﻭ ﺑﺨﺸﺶ ﮐﺎ ﭘﺮﻭﺍﻧﮧ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﺮﻭﮞ۔"
ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ:
ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺏ ! ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﻧﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺗﯿﺮﯼ ﮨﯽ ﺟﺴﺘﺠﻮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ؟
ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
"ﮨﺎﮞ ﻣﻮﻣﻦ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﺧﺎﻟﺺ ﮨﮯ۔"
ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ:
ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﺍﮮ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ؟
ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﻣﻮﺳﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
ﺟﺐ ﻣﻮﻣﻦ ﺑﻨﺪﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﻮﻟﺘﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﻝ ﻣﯿﺮﯼ ﯾﺎﺩ ﺳﮯﻟﺒﺮﯾﺰ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﻈﻤﺖ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻣﺤﯿﻂ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺟﻮ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﺑﻦﺟﺎتا ہوں.
توحيد كا اقرار:
بسم الله الرحمن الرحيم¤ قل هو الله احد¤ الله الصمد¤ لم يلد و لم يولد¤ و لم يكن له كفوا احد¤
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزید پوسٹس۔۔۔
⭕ خدا کیسا ہے؟
https://t.me/islamwitheman/773
⭕ صفات باری تعالٰی
https://t.me/islamwitheman/774
⭕ عالم اور بڑھیا
https://t.me/islamwitheman/776
⭕ حجام اور گاہگ
https://t.me/islamwitheman/780
⭕ خدا پر ان دیکھا یقین(حصہ اول)
https://t.me/islamwitheman/793
⭕ خدا پر ان دیکھا یقین(حصہ دوم)
https://t.me/islamwitheman/794
⭕ ایمان اور یقین
https://t.me/islamwitheman/788
⭕ حضرت موسٰیؑ اور گڈریا
https://t.me/islamwitheman/799
🌷 موجبِ اخلاص چیزیں
https://t.me/islamwitheman/1104
⭕ عشقِ خدا
https://t.me/islamwitheman/1105
🌹 تقوٰی کی اہمیت
https://t.me/islamwitheman/1103
⭕ الله تک پہنچنے کا طریقہ
http://t.me/islamwitheman/1329
⭕ توحید
http://t.me/islamwitheman/1609
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ﺳﮯ ﺳﺮﮔﻮﺷﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ:
" ﺍﮮ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ! ﺗﯿﺮﺍ ﭼﮩﺮﺍ ﮐﺪﮬﺮ ﮨﮯ؟ ﺷﻤﺎﻝ ﯾﺎ ﺟﻨﻮﺏ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ؟ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﻨﮧ ﮐﺮﮐﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﺮ ﺳﮑﻮﮞ۔"
ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻭﺣﯽ ﺑﮭﯿﺠﯽ:
"ﺍﮮ ﻣﻮﺳﯽٰ! ﺁﭖ ﺁ ﮒ ﺟﻼﺋﯿﮟ، ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺭﺩﮔﺮﺩ ﭼﮑﺮ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﺁﮒ ﮐﺎ ﺭﺥ ﮐﺲ ﺟﺎﻧﺐ ﮨﮯ۔؟"
ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺁ ﮒ ﺭﻭﺷﻦ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺭﺩﮔﺮﺩ ﭼﮑﺮ ﻟﮕﺎﯾﺎ، ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺁﮒ ﮐﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮨﺮ ﭼﺎﺭ ﺳﻮ ﯾﮑﺴﺎﮞ ﮨﮯ۔"
ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺩﺭﺑﺎﺭِ ﺍﻟٰﮩﯽ ﻣﯿﮟ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ :
ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎ ! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﮒ ﮐﺎ ﺭﺥ ﮨﺮ ﺟﺎﻧﺐ ﯾﮑﺴﺎﮞ ﮨﯽ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔
ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
"ﺍﮮ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺜﺎﻝ ﺑﮭﯽ ﻭﯾﺴﯽ ﮨﯽ ﮨﮯ۔"
ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ:
ﺍﮮ ﭘﺮﻭﺩﮔﺎﺭ! ﺗﻮ ﺳﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ؟
ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻭﺣﯽ ﻧﺎﺯﻝ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ:
ﺍﮮ ﻣﻮﺳﯽٰ! ﭘﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﺍ ﮨﻮﺍ ﺍﯾﮏ ﭘﯿﺎﻟﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﭘﺮ ﺭﮐﮫ ﻟﻮ، ﭘﮭﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﺭﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﻨﺪ ﮐﯽ ﺁﻏﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﻣﺖ ﺟﺎﺅ۔"
ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮐﯿﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻧﮯ
ﺍﻥ ﭘﺮ ﮨﻠﮑﯽ ﺳﯽ ﺍﻭﻧﮕﮫ ﮈﺍﻟﯽ، ﭘﯿﺎﻟﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﮔﺮ
ﮐﺮ ﭨﻮﭦ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﻧﯽ ﺑﮩﮧ ﮔﯿﺎ۔
ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﭼﯿﺦ ﻧﮑﻞ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﮔﮭﺒﺮﺍ ﮔﺌﮯ... ﭘﮭﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
" ﺍﮮ ﻣﻮﺳﯽ ! ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺟﮭﭙﮏ ﺑﮭﯽ ﺳﻮ ﺟﺎﺅﮞ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺩﮬﮍﺍﻡ ﺳﮯ ﮔﺮ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﺗﯿﺮﺍ
ﭘﯿﺎﻟﮧ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﮔﺮ ﭘﮍﺍ۔"
ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﮯ ﺍﺱ ﻗﻮﻝ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍِﺷﺎﺭﮦ ﮨﮯ۔۔
"ﯾﻘﯿﻨﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺁﺳﻤﺎﻧﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﻮ ﺗﮭﺎﻣﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﭨﻞ ﻧﮧ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺗﮭﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ، ﻭﮦ ﺣﻠﯿﻢ ﻭ ﻏﻔﻮﺭ ﮨﮯ۔
(ﻓﺎﻃﺮ: 41)
ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ:
" ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ! ﺗﻮ ﻧﮯ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﮐﯽ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺟﺒﮑﮧ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺗﺠﮭﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﺗﯽ؟
ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﮨﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﯾﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮩﭽﺎﻧﯿﮟ، ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺮﺍﺩﯾﮟ ﻣﺎﻧﮕﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻣﺮﺍﺩﯾﮟ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﻭﮞ، ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﻐﻔﺮﺕ ﻭﺑﺨﺸﺶ ﮐﯽ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﻐﻔﺮﺕ ﻭ ﺑﺨﺸﺶ ﮐﺎ ﭘﺮﻭﺍﻧﮧ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﺮﻭﮞ۔"
ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ:
ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺏ ! ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﻧﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺗﯿﺮﯼ ﮨﯽ ﺟﺴﺘﺠﻮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ؟
ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
"ﮨﺎﮞ ﻣﻮﻣﻦ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﺧﺎﻟﺺ ﮨﮯ۔"
ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ:
ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﺍﮮ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ؟
ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﻣﻮﺳﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
ﺟﺐ ﻣﻮﻣﻦ ﺑﻨﺪﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮭﻮﻟﺘﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﻝ ﻣﯿﺮﯼ ﯾﺎﺩ ﺳﮯﻟﺒﺮﯾﺰ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﻈﻤﺖ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻣﺤﯿﻂ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺟﻮ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﺑﻦﺟﺎتا ہوں.
توحيد كا اقرار:
بسم الله الرحمن الرحيم¤ قل هو الله احد¤ الله الصمد¤ لم يلد و لم يولد¤ و لم يكن له كفوا احد¤
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزید پوسٹس۔۔۔
⭕ خدا کیسا ہے؟
https://t.me/islamwitheman/773
⭕ صفات باری تعالٰی
https://t.me/islamwitheman/774
⭕ عالم اور بڑھیا
https://t.me/islamwitheman/776
⭕ حجام اور گاہگ
https://t.me/islamwitheman/780
⭕ خدا پر ان دیکھا یقین(حصہ اول)
https://t.me/islamwitheman/793
⭕ خدا پر ان دیکھا یقین(حصہ دوم)
https://t.me/islamwitheman/794
⭕ ایمان اور یقین
https://t.me/islamwitheman/788
⭕ حضرت موسٰیؑ اور گڈریا
https://t.me/islamwitheman/799
🌷 موجبِ اخلاص چیزیں
https://t.me/islamwitheman/1104
⭕ عشقِ خدا
https://t.me/islamwitheman/1105
🌹 تقوٰی کی اہمیت
https://t.me/islamwitheman/1103
⭕ الله تک پہنچنے کا طریقہ
http://t.me/islamwitheman/1329
⭕ توحید
http://t.me/islamwitheman/1609
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
⭕ خدا کیسا ہے؟ ⭕
خدا کیسا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو اکثر لوگوں، مسلمانوں، غیر مسلموں، چھوٹوں اور بزرگوں کو ضرور پیش آیا ہوگاـ
سوال؟
خدا اسوقت کہاں ہے؟ وہ کس چیز سے بنا ہے؟ خدا سے پہلے کیا تھا؟
اگر آپ بھی اس سوال کا جواب حاصل کرنا چاھتے ہو تو جان لیں…
خدا کیسا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو اکثر لوگوں، مسلمانوں، غیر مسلموں، چھوٹوں اور بزرگوں کو ضرور پیش آیا ہوگاـ
سوال؟
خدا اسوقت کہاں ہے؟ وہ کس چیز سے بنا ہے؟ خدا سے پہلے کیا تھا؟
اگر آپ بھی اس سوال کا جواب حاصل کرنا چاھتے ہو تو جان لیں…
💠 حضرت علی علیہ السلام اور بے ادب دوکاندار
یہ ان دنوں کی بات ہے جب علی علیہ السلام مملکت اسلامی کے تاجدار تھے۔ آپ بازاروں کی کڑی نگرانی کرتے اسی لئے آپ بازاروں میں جاتے تھے۔ اور لوگوں کو نصیحت کرتے تھے۔
ایک دن آپ خرمہ فروشوں کے بازار میں گئے آپ نے وہاں ایک بچی کو روتے دیکھا، بچی سے رونے کا سبب دریافت کیا بچی نے عرض کیا کہ میرے مالک نے مجھے ایک درہم دیا کہ جاؤ بازار سے خرمہ لے آؤ۔ میں نے اس دوکاندار سے کھجوریں خریدیں اور گھر لے گئی۔ جو میرے مالک کو پسند نہیں آئیں میں وہ واپس اس دوکاندار کے پاس آئی کہ کھجوریں واپس لے لے اور میری رقم میرے حوالے کردے۔
امام علیہ السلام نے دوکاندار سے فرمایا کہ یہ چھوٹی بچی ہے یہ کسی کی کنیز ہے یہ خودمختار نہیں ہے تم یہ کھجوریں لے لو اور اس کی رقم واپس دے دو۔ دوکاندار اپنی جگہ سے اٹھا اس نے اپنا ہاتھ علی علیہ السلام کے سینے پر رکھا آپ کو دوکان سے نیچے اتارنا چاہتا تھا۔
جو لوگ یہ منظر دیکھ رہے تو انہوں نے دوکاندار سے کہا کیا کر رہے ہو؟ یہ علی ابن ابی طالب علیہما السلام ہیں دوکاندار کا رنگ زرد ہوگیا۔
اس نے فوراً اس بچی سے کھجوریں لے لیں اور پیسے بھی واپس کر دیئے پھر اس نے حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ اے امیرالمومنینؑ آپ مجھ سے راضی ہوجائیں اور میری غلطی سے درگزر کردیں۔
آپ نے فرمایا کہ جو چیز مجھے راضی کر سکتی ہے وہ یہ ہے کہ اپنی روش کی اصلاح کرو اس کے ساتھ اخلاق اور ادب کو اپناؤ۔
📚داستانہا وپندھا ج١ ص٤٧۔
📚بحارالانوار ج٩ ص ٥١٩۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
یہ ان دنوں کی بات ہے جب علی علیہ السلام مملکت اسلامی کے تاجدار تھے۔ آپ بازاروں کی کڑی نگرانی کرتے اسی لئے آپ بازاروں میں جاتے تھے۔ اور لوگوں کو نصیحت کرتے تھے۔
ایک دن آپ خرمہ فروشوں کے بازار میں گئے آپ نے وہاں ایک بچی کو روتے دیکھا، بچی سے رونے کا سبب دریافت کیا بچی نے عرض کیا کہ میرے مالک نے مجھے ایک درہم دیا کہ جاؤ بازار سے خرمہ لے آؤ۔ میں نے اس دوکاندار سے کھجوریں خریدیں اور گھر لے گئی۔ جو میرے مالک کو پسند نہیں آئیں میں وہ واپس اس دوکاندار کے پاس آئی کہ کھجوریں واپس لے لے اور میری رقم میرے حوالے کردے۔
امام علیہ السلام نے دوکاندار سے فرمایا کہ یہ چھوٹی بچی ہے یہ کسی کی کنیز ہے یہ خودمختار نہیں ہے تم یہ کھجوریں لے لو اور اس کی رقم واپس دے دو۔ دوکاندار اپنی جگہ سے اٹھا اس نے اپنا ہاتھ علی علیہ السلام کے سینے پر رکھا آپ کو دوکان سے نیچے اتارنا چاہتا تھا۔
جو لوگ یہ منظر دیکھ رہے تو انہوں نے دوکاندار سے کہا کیا کر رہے ہو؟ یہ علی ابن ابی طالب علیہما السلام ہیں دوکاندار کا رنگ زرد ہوگیا۔
اس نے فوراً اس بچی سے کھجوریں لے لیں اور پیسے بھی واپس کر دیئے پھر اس نے حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ اے امیرالمومنینؑ آپ مجھ سے راضی ہوجائیں اور میری غلطی سے درگزر کردیں۔
آپ نے فرمایا کہ جو چیز مجھے راضی کر سکتی ہے وہ یہ ہے کہ اپنی روش کی اصلاح کرو اس کے ساتھ اخلاق اور ادب کو اپناؤ۔
📚داستانہا وپندھا ج١ ص٤٧۔
📚بحارالانوار ج٩ ص ٥١٩۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
⭕خدا پر ان دیکھا یقین(حصہ اول)⭕
Who believe in the unseen. Quran 02:03
پروفیسر: بیٹا تم ایک مسلمان ہو ۔۔۔ کیا میں نے ٹھیک کہا۔۔۔؟
طالب علم: جی سر ۔۔۔
پروفیسر: تو پھر تم خدا پر یقین رکھتے ہو ۔۔۔؟
طالب علم: بالکل جناب ۔۔۔
پروفیسر: کیا خدا ایک اچھی ہستی ہے ۔۔۔؟
طالب علم: یقیناً ۔۔۔
پروفیسر: کیا خدا تمام چیزوں پر قُدرت رکھتا ہے ۔۔۔؟
طالب علم: جی سر بالکل ۔۔۔
پروفیسر: میرا بھائی کینسر کا مریض تھا ۔۔۔ مرنے سے پہلے اس نے خدا کے آگے صحت یاب ہونے کی خاطر بہت دعا کی لیکن اس قدر التجا کے باوجود بالآخر وہ مر گیا ۔۔۔ ہم میں سے اگر کوئی بیمار پڑ جائے تو لوگوں میں اکثریت اس کی مدد کرنے کی کوشش کرے گی ۔۔۔ لیکن خدا نے اس کی کوئی مدد نہ کی ۔۔۔ تو پھر مجھے بتاؤ خدا ایک اچھی ہستی کیسے ہوا ۔۔۔؟
(طالب علم خاموش)
پروفیسر: تمہارے پاس اسکا کوئی جواب نہیں ۔۔۔
چلو میں اپنا سوال پھر سے دہراتا ہوں ۔۔۔ کیا خدا ایک اچھی ہستی ہے ۔۔۔؟
طالب علم: جی سر ۔۔۔
پروفیسر: کیا شیطان ایک اچھی ہستی ہے ۔۔۔؟
طالب علم: نہیں ۔۔۔
پروفیسر: شیطان کہاں سے آیا ۔۔۔؟
طالب علم: خُدا۔۔۔۔ سے ۔۔۔۔
پروفیسر: ٹھیک ۔۔۔ تو پھر اب مجھے یہ بتاؤ کہ کیا دنیا میں بُرائی کا کوئی وجود ہے ۔۔۔؟
طالب علم: جی سر بالکل ہے ۔۔۔
پروفیسر: بُرائی ہر جگہ ہے ۔۔ ہے نا ۔۔۔؟ اور ہر چیز خدا نے ہی بنائی ہے ۔۔۔ ٹھیک ۔۔۔؟
طالب علم: جی ۔۔۔
پروفیسر: تو پھر بُرائی کو کس نے بنایا ۔۔۔؟
(طالب علم نے کوئی جواب نہ دیا)
پروفیسر: دنیا میں بیماریوں ۔۔ نفرتوں ۔۔ عداوتوں اور ان جیسی اور کئی گھناؤنی اشیاء کا وجود ہے ۔۔ ہے نا ۔۔۔؟
طالب علم: جی سر ۔۔۔
پروفیسر: پھر ان سب کو کس نے پیدا کیا ۔۔۔؟
(طالب علم خاموش ۔۔ اس نے اس سوال کا بھی کوئی جواب نہ دیا)
پروفیسر: سائنس کہتی ہے کہ انسانی جسم حواس خمسہ پر مشتمل ہے جنہیں ہم اپنے ارگرد کے ماحول کے مشاہدے اور پہچان کی غرض سے استعمال میں لاتے ہیں ۔۔۔ تو اب مجھے یہ بتاؤ کہ کیا تم نے خدا کو دیکھا ہے ۔۔۔؟
طالب علم: نہیں جناب ۔۔۔
پروفیسر: کیا تم نے کبھی اپنے خدا کو بولتے سنا ہے ۔۔۔؟
طالب علم: نہیں سر ۔۔۔
پروفیسر: کیا تم نے اپنے خدا کو کبھی محسوس کیا ہے ۔۔؟ اسکو چکھا ہے ۔۔؟ سونگھا ہے ۔۔؟ یا تمہاری کوئی بھی حس جس نے خدا کی موجودگی کا کبھی تمہیں احساس دلایا ہو ۔۔۔؟
طالب علم: نہیں جناب ۔۔۔ میرا خیال ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوا ۔۔۔
پروفیسر: لیکن اس کے باوجود تم خدا کو مانتے ہو ۔۔۔؟
طالب علم: جی سر ۔۔۔
پروفیسر: تجربات اور مشاہدات کی رو سے سائنس کہتی ہے کہ تمہارے خدا کا کوئی وجود نہیں ہے ۔۔۔ تو تم اس بارے کیا کہتے ہو ۔۔۔؟
طالب علم: کچھ نہیں سر ۔۔۔ میں بس اپنے ایمان پر یقین رکھتا ہوں ۔۔۔
پروفیسر: ہاں ۔۔۔ ایمان ۔۔۔ سائنس کو یہی تو ایک مسئلہ درپیش ہے ۔۔۔۔!
طالب علم: پروفیسر صاحب ۔۔۔ کیا کوئی ایسی چیز ہے جس کا نام حرارت ہے ۔۔۔؟
پروفیسر: ہاں ۔۔۔ بالکل ہے ۔۔۔
طالب علم: اور سر ۔۔۔ کیا کوئی ایسی چیز بھی ہے جسے ٹھنڈ کہتے ہیں ۔۔۔؟
پروفیسر: بالکل ۔۔۔
طالب علم: نہیں جناب ۔۔۔ ٹھنڈ نام کی کسی چیز کا کوئی وجود نہیں ہے ۔۔۔
(مناقشے نے یک لخت جو اس طرح پلٹا کھایا تو ہال میں مکمل خاموشی چھا گئی)
طالب علم: سر ۔۔۔ آپ مختلف مقداروں میں حرارت حاصل کر سکتے ہیں جیسا کہ زیادہ ۔۔ بہت زیادہ ۔۔ سُپر ۔۔ میگا ۔۔ کم ۔۔ بہت کم یا پھر بالکل نہیں ۔۔۔ لیکن ایسی کسی چیز کا کوئی وجود نہیں جسے "ٹھنڈ" کہتے ہیں ۔۔۔ ہم منفی 458 ڈگری تک درجہ حرارت گرا سکتے ہیں جہاں پہچنے کے بعد حرارت کا بالکل کوئی وجود نہیں رہتا ۔۔۔ اس کے بعد ہم اس سے اور آگے نہیں جا سکتے ۔۔۔ لیکن ٹھنڈ نام کی کسی چیز کا کوئی وجود نہیں ۔۔ بلکہ "ٹھنڈ" کا لفظ ہم صرف حرارت کی غیر موجودگی کے اظہار کیلئے استعمال کرتے ہیں ۔۔۔ ٹھنڈ کی پیمائش کرنے کا بھی کوئی پیمانہ نہیں اور حرارت کیا ہے ۔۔؟ ایک توانائی ۔۔۔ اور ٹھنڈ حرارت کا عکس نہیں بلکہ یہ صرف ایک علامت ہے ۔۔۔ حرارت کی غیر موجودگی کی ۔۔۔
(ہال میں ایسی خاموشی کہ جیسے سامعین کو سانپ سونگھ گیا ہو)
طالب علم: اندھیرے کے متعلق آپ کیا کہتے سر ۔۔۔؟
کیا کوئی ایسی چیز ہے جو اندھیرا کہلاتی ہے ۔۔۔؟
پروفیسر: ہاں ۔۔ بالکل ہے ۔۔۔ اگر نہيں تو پھر یہ رات کیسے ڈھلتی ہے ۔۔۔؟
طالب علم: آپ پھر غلطی پر ہیں سر ۔۔۔ اندھیرا بذاتِ خود کوئی چیز نہیں بلکہ یہ اصل میں۔۔۔ (جاری ہے)
بقیہ حصہ دوم میں ملاحظہ فرمائیں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Who believe in the unseen. Quran 02:03
پروفیسر: بیٹا تم ایک مسلمان ہو ۔۔۔ کیا میں نے ٹھیک کہا۔۔۔؟
طالب علم: جی سر ۔۔۔
پروفیسر: تو پھر تم خدا پر یقین رکھتے ہو ۔۔۔؟
طالب علم: بالکل جناب ۔۔۔
پروفیسر: کیا خدا ایک اچھی ہستی ہے ۔۔۔؟
طالب علم: یقیناً ۔۔۔
پروفیسر: کیا خدا تمام چیزوں پر قُدرت رکھتا ہے ۔۔۔؟
طالب علم: جی سر بالکل ۔۔۔
پروفیسر: میرا بھائی کینسر کا مریض تھا ۔۔۔ مرنے سے پہلے اس نے خدا کے آگے صحت یاب ہونے کی خاطر بہت دعا کی لیکن اس قدر التجا کے باوجود بالآخر وہ مر گیا ۔۔۔ ہم میں سے اگر کوئی بیمار پڑ جائے تو لوگوں میں اکثریت اس کی مدد کرنے کی کوشش کرے گی ۔۔۔ لیکن خدا نے اس کی کوئی مدد نہ کی ۔۔۔ تو پھر مجھے بتاؤ خدا ایک اچھی ہستی کیسے ہوا ۔۔۔؟
(طالب علم خاموش)
پروفیسر: تمہارے پاس اسکا کوئی جواب نہیں ۔۔۔
چلو میں اپنا سوال پھر سے دہراتا ہوں ۔۔۔ کیا خدا ایک اچھی ہستی ہے ۔۔۔؟
طالب علم: جی سر ۔۔۔
پروفیسر: کیا شیطان ایک اچھی ہستی ہے ۔۔۔؟
طالب علم: نہیں ۔۔۔
پروفیسر: شیطان کہاں سے آیا ۔۔۔؟
طالب علم: خُدا۔۔۔۔ سے ۔۔۔۔
پروفیسر: ٹھیک ۔۔۔ تو پھر اب مجھے یہ بتاؤ کہ کیا دنیا میں بُرائی کا کوئی وجود ہے ۔۔۔؟
طالب علم: جی سر بالکل ہے ۔۔۔
پروفیسر: بُرائی ہر جگہ ہے ۔۔ ہے نا ۔۔۔؟ اور ہر چیز خدا نے ہی بنائی ہے ۔۔۔ ٹھیک ۔۔۔؟
طالب علم: جی ۔۔۔
پروفیسر: تو پھر بُرائی کو کس نے بنایا ۔۔۔؟
(طالب علم نے کوئی جواب نہ دیا)
پروفیسر: دنیا میں بیماریوں ۔۔ نفرتوں ۔۔ عداوتوں اور ان جیسی اور کئی گھناؤنی اشیاء کا وجود ہے ۔۔ ہے نا ۔۔۔؟
طالب علم: جی سر ۔۔۔
پروفیسر: پھر ان سب کو کس نے پیدا کیا ۔۔۔؟
(طالب علم خاموش ۔۔ اس نے اس سوال کا بھی کوئی جواب نہ دیا)
پروفیسر: سائنس کہتی ہے کہ انسانی جسم حواس خمسہ پر مشتمل ہے جنہیں ہم اپنے ارگرد کے ماحول کے مشاہدے اور پہچان کی غرض سے استعمال میں لاتے ہیں ۔۔۔ تو اب مجھے یہ بتاؤ کہ کیا تم نے خدا کو دیکھا ہے ۔۔۔؟
طالب علم: نہیں جناب ۔۔۔
پروفیسر: کیا تم نے کبھی اپنے خدا کو بولتے سنا ہے ۔۔۔؟
طالب علم: نہیں سر ۔۔۔
پروفیسر: کیا تم نے اپنے خدا کو کبھی محسوس کیا ہے ۔۔؟ اسکو چکھا ہے ۔۔؟ سونگھا ہے ۔۔؟ یا تمہاری کوئی بھی حس جس نے خدا کی موجودگی کا کبھی تمہیں احساس دلایا ہو ۔۔۔؟
طالب علم: نہیں جناب ۔۔۔ میرا خیال ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوا ۔۔۔
پروفیسر: لیکن اس کے باوجود تم خدا کو مانتے ہو ۔۔۔؟
طالب علم: جی سر ۔۔۔
پروفیسر: تجربات اور مشاہدات کی رو سے سائنس کہتی ہے کہ تمہارے خدا کا کوئی وجود نہیں ہے ۔۔۔ تو تم اس بارے کیا کہتے ہو ۔۔۔؟
طالب علم: کچھ نہیں سر ۔۔۔ میں بس اپنے ایمان پر یقین رکھتا ہوں ۔۔۔
پروفیسر: ہاں ۔۔۔ ایمان ۔۔۔ سائنس کو یہی تو ایک مسئلہ درپیش ہے ۔۔۔۔!
طالب علم: پروفیسر صاحب ۔۔۔ کیا کوئی ایسی چیز ہے جس کا نام حرارت ہے ۔۔۔؟
پروفیسر: ہاں ۔۔۔ بالکل ہے ۔۔۔
طالب علم: اور سر ۔۔۔ کیا کوئی ایسی چیز بھی ہے جسے ٹھنڈ کہتے ہیں ۔۔۔؟
پروفیسر: بالکل ۔۔۔
طالب علم: نہیں جناب ۔۔۔ ٹھنڈ نام کی کسی چیز کا کوئی وجود نہیں ہے ۔۔۔
(مناقشے نے یک لخت جو اس طرح پلٹا کھایا تو ہال میں مکمل خاموشی چھا گئی)
طالب علم: سر ۔۔۔ آپ مختلف مقداروں میں حرارت حاصل کر سکتے ہیں جیسا کہ زیادہ ۔۔ بہت زیادہ ۔۔ سُپر ۔۔ میگا ۔۔ کم ۔۔ بہت کم یا پھر بالکل نہیں ۔۔۔ لیکن ایسی کسی چیز کا کوئی وجود نہیں جسے "ٹھنڈ" کہتے ہیں ۔۔۔ ہم منفی 458 ڈگری تک درجہ حرارت گرا سکتے ہیں جہاں پہچنے کے بعد حرارت کا بالکل کوئی وجود نہیں رہتا ۔۔۔ اس کے بعد ہم اس سے اور آگے نہیں جا سکتے ۔۔۔ لیکن ٹھنڈ نام کی کسی چیز کا کوئی وجود نہیں ۔۔ بلکہ "ٹھنڈ" کا لفظ ہم صرف حرارت کی غیر موجودگی کے اظہار کیلئے استعمال کرتے ہیں ۔۔۔ ٹھنڈ کی پیمائش کرنے کا بھی کوئی پیمانہ نہیں اور حرارت کیا ہے ۔۔؟ ایک توانائی ۔۔۔ اور ٹھنڈ حرارت کا عکس نہیں بلکہ یہ صرف ایک علامت ہے ۔۔۔ حرارت کی غیر موجودگی کی ۔۔۔
(ہال میں ایسی خاموشی کہ جیسے سامعین کو سانپ سونگھ گیا ہو)
طالب علم: اندھیرے کے متعلق آپ کیا کہتے سر ۔۔۔؟
کیا کوئی ایسی چیز ہے جو اندھیرا کہلاتی ہے ۔۔۔؟
پروفیسر: ہاں ۔۔ بالکل ہے ۔۔۔ اگر نہيں تو پھر یہ رات کیسے ڈھلتی ہے ۔۔۔؟
طالب علم: آپ پھر غلطی پر ہیں سر ۔۔۔ اندھیرا بذاتِ خود کوئی چیز نہیں بلکہ یہ اصل میں۔۔۔ (جاری ہے)
بقیہ حصہ دوم میں ملاحظہ فرمائیں۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
⭕ خدا پر ان دیکھا یقین(حصہ دوم)⭕
طالب علم: آپ پھر غلطی پر ہیں سر ۔۔۔ اندھیرا بذاتِ خود کوئی چیز نہیں بلکہ یہ اصل میں کسی چیز کی غیر موجودگی کی دلیل ہے ۔۔۔ آپ روشنی کم ۔۔ معتدل ۔۔ زیادہ یا پھر انتہائی مقدار میں حاصل کر سکتے ہیں جو آنکھوں کو جھپکا دے ۔۔۔ لیکن اگر روشنی مستقل طور پر غائب ہو جائے تو پھر آپ کے پاس اس کا کوئی وجود نہیں ہو گا اور ایسی کیفیت کو ہم اندھیرا کہیں گے ۔۔۔ کیا میں نے ٹھیک کہا ۔۔۔؟
حقیقت میں اندھیرے کا اپنا کوئی وجود نہیں ۔۔۔ اگر اس کا اپنا کوئی وجود ہوتا تو آپ اس میں بھی کم زیادہ کی تمیز کر سکتے جیسے کم اندھیرا ۔۔۔ گہرا اندھیرا یا گھپ اندھیرا وغیرہ وغیرہ جیسا کہ عام بول چال میں کہا جاتا ہے ۔۔۔ درست ۔۔۔؟
پروفیسر: ٹھیک ۔۔۔ تو پھر تم اس سے کیا ثابت کرنا چاہتے ہو ۔۔۔؟
طالب علم: سر ۔۔۔ میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کے فلسفے کی اساس ہی خامیوں پر مبنی ہے ۔۔۔ آپ ہر چیز کی دوہری حیثیت پر یقین رکھتے ہیں ۔۔۔ آپ کے مطابق اگر ایک چیز زندگی ہے تو وہیں دوسری موت ۔۔۔ ایک اچھا خدا اور ایک بُرا ۔۔۔ اور خدا کی ذات پر آپ کا نظریہ ایسے ہے جیسے یہ کوئی ایسی چیز ہو جس کی حد ہو یا جس کی پیمائش کی جا سکتی ہو ۔۔۔
سر ۔۔۔ سائنس کسی انسان کی ذہنی سوچ کے بارے کوئی واضح توجیح پیش نہیں کر سکتی ۔۔۔ سائنس میں بجلی اور مقناطیسیت کا استعمال عام ہے ۔۔۔ پر کیا کبھی کسی نے انہیں دیکھا ہے ۔۔۔؟ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کے بارے میں بھی اب تک کلّی یا مکمل جانکاری حاصل نہیں کی جا سکی ۔۔۔ موت کو زندگی کا الٹ قرار دینا دراصل اس حقیقت سے رو گردانی ہے جیسا کہ موت کے وجود سے انکار ۔۔۔
موت زندگی کا الٹ نہیں ۔۔۔ بلکہ دراصل یہ زندگی کی غیر موجودگی کی علامت ہے ۔۔۔
پروفیسر صاحب ۔۔۔ آپ مجھے یہ بتائیں کہ کیا آپ اپنے طالب علموں کو یہ پڑھاتے ہیں کہ انسان کی نمو بندر سے ہوئی ہے ۔۔۔؟
پروفیسر: اگر تمہارا اشارہ انسانی نمو کے تطویری عمل کی طرف ہے تو بالکل میں یہ درس دیتا ہوں ۔۔۔
طالب علم: سر ۔۔۔ کیا آپ نے اس تطویری عمل کو ہوتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔۔۔؟
(اس بات کا ادراک کرتے ہوئے کہ یہ بحث کیا رخ اختیار کر رہی ہے ۔۔ پروفیسر نے ایک مسکراہٹ کے ساتھ انکار میں اپنا سر ہلا دیا)
طالب علم اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بولا: اور جب کسی نے انسانی افزائش میں تغیرات کےعمل کو رو پذیر ہوتے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا اور نہ ہی کوئی یہ بتا سکتا ہے کہ اس جاری عمل کا اختتام کیا ہو گا ۔۔۔ تو سر کیا آپ ایک ایسا فلسفہ نہیں پڑھا رہے جو کہ آپ کی اپنی ایک ذاتی رائے ہے ۔۔۔؟ اور پھر کیا آپ ایک سائنسدان کے بجائے ایک مبلغ نہیں ہیں جو اپنے ذاتی عقائد کی تبلیغ کر رہے ہیں ۔۔۔؟
(پروفیسر خاموش ۔۔ کلاس میں ہر کوئی اپنے تمام تر حواس مرکوز کیئے ہوئے ہمہ تن گوش)
طالب علم: کیا حاضرین میں سے کسی نے کبھی پروفیسر صاحب کا دماغ دیکھا ہے ۔۔۔؟
(تمام حاضرین کی ہنسی ہال میں گونج گئی)
طالب علم: کیا آپ حاضرین میں کوئی ایسا ہے جس نے پروفیسر صاحب کے دماغ کو بولتے سنا ہے ۔۔؟ اسے محسوس کیا ہے ۔۔؟ چھوا ۔۔ سونگھا یا چکھا ہے ۔۔۔؟
مجھے نہیں لگتا کہ ایسا کوئی ایک شخص بھی ہو گا ۔۔۔ لہذا کیا پھر سائنس کے تجربات اور مشاہدات کے اصولوں کی روشنی میں سائنس یہ کہے گی کہ آپ میں دماغ ہی نہیں ہے ۔۔۔؟
(پروفیسر سمیت تمام حاضرین کی ہنسی گونجی)
سر تمام تر احترام کے ساتھ ۔۔۔ میرا یہ سوال ہے کہ پھر ہم آپ کے لیکچرز پر کیونکر بھروسہ کریں ۔۔۔؟
پروفیسر: میرا خیال ہے کہ تمہارے پاس میرے لیکچرز پر یقین کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ۔۔۔
طالب علم: بالکل سر ۔۔۔ اسی طرح ہمیں خدا اوراس پر ایمان کے درمیان جو ایک ربط ہے اس پر یقین کرنا پڑے گا ۔۔۔ اور یہی ایک ایسی چیز ہے جس نے کائنات کے تمام تر نظام کو زندہ بھی رکھا ہوا ہے اور اسے چلا بھی رہی ہے ۔۔۔۔!
(اقتباس)
اس اقتباس میں جس شاگرد کا ذکر ہے وہ غالبا البیرونی تھے۔
توحيد كا اقرار:
بسم الله الرحمان الرحيم¤ قل هو الله احد¤ الله الصمد¤ لم يلد و لم يولد¤ و لم يكن له كفوا احد¤
https://t.me/islamwitheman/793
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
طالب علم: آپ پھر غلطی پر ہیں سر ۔۔۔ اندھیرا بذاتِ خود کوئی چیز نہیں بلکہ یہ اصل میں کسی چیز کی غیر موجودگی کی دلیل ہے ۔۔۔ آپ روشنی کم ۔۔ معتدل ۔۔ زیادہ یا پھر انتہائی مقدار میں حاصل کر سکتے ہیں جو آنکھوں کو جھپکا دے ۔۔۔ لیکن اگر روشنی مستقل طور پر غائب ہو جائے تو پھر آپ کے پاس اس کا کوئی وجود نہیں ہو گا اور ایسی کیفیت کو ہم اندھیرا کہیں گے ۔۔۔ کیا میں نے ٹھیک کہا ۔۔۔؟
حقیقت میں اندھیرے کا اپنا کوئی وجود نہیں ۔۔۔ اگر اس کا اپنا کوئی وجود ہوتا تو آپ اس میں بھی کم زیادہ کی تمیز کر سکتے جیسے کم اندھیرا ۔۔۔ گہرا اندھیرا یا گھپ اندھیرا وغیرہ وغیرہ جیسا کہ عام بول چال میں کہا جاتا ہے ۔۔۔ درست ۔۔۔؟
پروفیسر: ٹھیک ۔۔۔ تو پھر تم اس سے کیا ثابت کرنا چاہتے ہو ۔۔۔؟
طالب علم: سر ۔۔۔ میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کے فلسفے کی اساس ہی خامیوں پر مبنی ہے ۔۔۔ آپ ہر چیز کی دوہری حیثیت پر یقین رکھتے ہیں ۔۔۔ آپ کے مطابق اگر ایک چیز زندگی ہے تو وہیں دوسری موت ۔۔۔ ایک اچھا خدا اور ایک بُرا ۔۔۔ اور خدا کی ذات پر آپ کا نظریہ ایسے ہے جیسے یہ کوئی ایسی چیز ہو جس کی حد ہو یا جس کی پیمائش کی جا سکتی ہو ۔۔۔
سر ۔۔۔ سائنس کسی انسان کی ذہنی سوچ کے بارے کوئی واضح توجیح پیش نہیں کر سکتی ۔۔۔ سائنس میں بجلی اور مقناطیسیت کا استعمال عام ہے ۔۔۔ پر کیا کبھی کسی نے انہیں دیکھا ہے ۔۔۔؟ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کے بارے میں بھی اب تک کلّی یا مکمل جانکاری حاصل نہیں کی جا سکی ۔۔۔ موت کو زندگی کا الٹ قرار دینا دراصل اس حقیقت سے رو گردانی ہے جیسا کہ موت کے وجود سے انکار ۔۔۔
موت زندگی کا الٹ نہیں ۔۔۔ بلکہ دراصل یہ زندگی کی غیر موجودگی کی علامت ہے ۔۔۔
پروفیسر صاحب ۔۔۔ آپ مجھے یہ بتائیں کہ کیا آپ اپنے طالب علموں کو یہ پڑھاتے ہیں کہ انسان کی نمو بندر سے ہوئی ہے ۔۔۔؟
پروفیسر: اگر تمہارا اشارہ انسانی نمو کے تطویری عمل کی طرف ہے تو بالکل میں یہ درس دیتا ہوں ۔۔۔
طالب علم: سر ۔۔۔ کیا آپ نے اس تطویری عمل کو ہوتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔۔۔؟
(اس بات کا ادراک کرتے ہوئے کہ یہ بحث کیا رخ اختیار کر رہی ہے ۔۔ پروفیسر نے ایک مسکراہٹ کے ساتھ انکار میں اپنا سر ہلا دیا)
طالب علم اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بولا: اور جب کسی نے انسانی افزائش میں تغیرات کےعمل کو رو پذیر ہوتے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا اور نہ ہی کوئی یہ بتا سکتا ہے کہ اس جاری عمل کا اختتام کیا ہو گا ۔۔۔ تو سر کیا آپ ایک ایسا فلسفہ نہیں پڑھا رہے جو کہ آپ کی اپنی ایک ذاتی رائے ہے ۔۔۔؟ اور پھر کیا آپ ایک سائنسدان کے بجائے ایک مبلغ نہیں ہیں جو اپنے ذاتی عقائد کی تبلیغ کر رہے ہیں ۔۔۔؟
(پروفیسر خاموش ۔۔ کلاس میں ہر کوئی اپنے تمام تر حواس مرکوز کیئے ہوئے ہمہ تن گوش)
طالب علم: کیا حاضرین میں سے کسی نے کبھی پروفیسر صاحب کا دماغ دیکھا ہے ۔۔۔؟
(تمام حاضرین کی ہنسی ہال میں گونج گئی)
طالب علم: کیا آپ حاضرین میں کوئی ایسا ہے جس نے پروفیسر صاحب کے دماغ کو بولتے سنا ہے ۔۔؟ اسے محسوس کیا ہے ۔۔؟ چھوا ۔۔ سونگھا یا چکھا ہے ۔۔۔؟
مجھے نہیں لگتا کہ ایسا کوئی ایک شخص بھی ہو گا ۔۔۔ لہذا کیا پھر سائنس کے تجربات اور مشاہدات کے اصولوں کی روشنی میں سائنس یہ کہے گی کہ آپ میں دماغ ہی نہیں ہے ۔۔۔؟
(پروفیسر سمیت تمام حاضرین کی ہنسی گونجی)
سر تمام تر احترام کے ساتھ ۔۔۔ میرا یہ سوال ہے کہ پھر ہم آپ کے لیکچرز پر کیونکر بھروسہ کریں ۔۔۔؟
پروفیسر: میرا خیال ہے کہ تمہارے پاس میرے لیکچرز پر یقین کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ۔۔۔
طالب علم: بالکل سر ۔۔۔ اسی طرح ہمیں خدا اوراس پر ایمان کے درمیان جو ایک ربط ہے اس پر یقین کرنا پڑے گا ۔۔۔ اور یہی ایک ایسی چیز ہے جس نے کائنات کے تمام تر نظام کو زندہ بھی رکھا ہوا ہے اور اسے چلا بھی رہی ہے ۔۔۔۔!
(اقتباس)
اس اقتباس میں جس شاگرد کا ذکر ہے وہ غالبا البیرونی تھے۔
توحيد كا اقرار:
بسم الله الرحمان الرحيم¤ قل هو الله احد¤ الله الصمد¤ لم يلد و لم يولد¤ و لم يكن له كفوا احد¤
https://t.me/islamwitheman/793
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
⭕خدا پر ان دیکھا یقین(حصہ اول)⭕
Who believe in the unseen. Quran 02:03
پروفیسر: بیٹا تم ایک مسلمان ہو ۔۔۔ کیا میں نے ٹھیک کہا۔۔۔؟
طالب علم: جی سر ۔۔۔
پروفیسر: تو پھر تم خدا پر یقین رکھتے ہو ۔۔۔؟
طالب علم: بالکل جناب ۔۔۔
پروفیسر: کیا خدا ایک اچھی ہستی…
Who believe in the unseen. Quran 02:03
پروفیسر: بیٹا تم ایک مسلمان ہو ۔۔۔ کیا میں نے ٹھیک کہا۔۔۔؟
طالب علم: جی سر ۔۔۔
پروفیسر: تو پھر تم خدا پر یقین رکھتے ہو ۔۔۔؟
طالب علم: بالکل جناب ۔۔۔
پروفیسر: کیا خدا ایک اچھی ہستی…
💓 ازدواج (حصہ اول) 💗
خدا نے انسان کو باقی مخلوقات سے تفکر وتعقل و تہذیب کی بنیاد پر ممتاز قرار دیکر اشرف المخلوقات اور بلند مرتبہ خلق کیا اور اخلاق و تہذیب کے اوج و کمال تک پہنچنے کو اسکا ھدف خلقت معین کیا.
اگر ہم ایک اور زاویہ نگاہ سے دیکھیں تو انسان کو معاشرتی حیوان سے تعبیر کیا گیا ہے یعنی وہ معاشرتی اور گروھی زندگی گزارنا چاہتا ہے اور اگر اسی معاشرتی زندگی میں انسان اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دے اور آسمانی قوانین کی پابندی نہ کرے تو ہوسکتا ہے کہ بہت ہی متمدن ہوجائے اور بہترین وسائل حیات کو بروئے کار لائے مگر وہ ایک ایسا منہ چھوٹ حیوان ہوگا جو معاشرے میں فتنہ وفساد ہی پھیلائے گا.
طبیعی اور فطری لحاظ سے انسان اکیلا نہیں رہ سکتا, اسکے اندر بہترین اور پرسکون زندگی گزارنے کیلیے خدا نے کسی کی ہمراہی کی خواہش ودیعت کی ہے تاکہ وہ اپنے انفرادی اور اجتماعی معاملات کو احسن طریقے سے انجام دے سکے.
چونکہ انسانوں اور حیوانوں میں بہت سے غرائز مماثلت رکھتے ہیں جیسے کھانا, پینا, سونا, اپنی خواہشات کو پورا کرنا اور اپنی نسل کو بڑھانا. خدا نے ان ضروریات کو پورا کرنے کیلیے الہی قوانین و ضوابط بھی وضع کیے ہیں جن میں سے ایک "ازدواج" ہے.دیکھا گیا ہے کہ وہ لوگ جو فطری غریزہ کو غیر فطری انداز سے پورا کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں خصوصا جیسے مغربی ممالک اور ادیان غیر الہیہ سے تعلق رکھنے والے, اسی وجہ سے ان معاشروں میں مختلف مسائل مثلا خطرناک امراض اور اخلاقی گراوٹ تیزی سے رشد پا رہے ہیں.
دین اسلام نے اسلامی خانوادے کو بہت اہمیت دی ہے کیونکہ مندرجہ بالا اس فطری خواھش کو پورا کرنے کا طبیعی, شرعی اور فطری طریقہ تشکیل خاندان ہے.
اور ایک ایسا گھرانہ جسکا آغاز اسلامی رو سے کیا جائے تو بہت با برکت قرار پاتا ہے. چونکہ ایک اچھی فیملی ایک اچھے معاشرے کیلیے اینٹ اور بنیاد کی مانند ہے, اور اگر ہم بنیاد صحیح نہیں رکھیں گے تو عمارت کس طرح صحیح تعمیر کی جا سکے گی؟
ازدواج گھرانے کی بنیاد کا پہلا قدم ہے.بحث کو طوالت سے بچانے کیلیے ہم نکات کی جانب متوجہ ہوتے ہیں کہ اچھی فیملی کے لیے کیا اھم و مھم ہے..
■ازدواج کیوں کریں؟
♦معاشرہ سازی:
کیونکہ ایک اسلامی گھر ہی اسلامی معاشرے کی بنیاد ہے.
♦سکون قلب اور ذہنی آسودگی:
وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ (سورہ روم آیۃ 21)
"اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ تمہارے لیے تمہیں میں سے بیویاں پیدا کیں تاکہ ان کے پاس چین سے رہو اور تمہارے درمیان محبت اور مہربانی پیدا کر دی"
رسولخدا(ص): زوجہ سے عشق و عاشقی مومن کی سرگرمی ہے.
♦شادی سے ناداری کا خاتمہ:
وَأَنكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ ۚ إِن يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ ۗ (سورہ نور آیۃ 32)
"اور جو تم میں مجرّد ہوں اور جو تمہارے غلام اور لونڈیاں نیک ہوں سب کے نکاح کرا دو، اگر وہ مفلس ہوں گے تو اللہ اپنے فضل سے انہیں غنی کر دے گا"
رسولخدا(ص): جس شخص نے اہل و عیال کے اخراجات کے خوف سے ازدواج کو ترک کیا, اس نے خدا سے بدظنی کی.
♦بقائے نسل انسانیت:
رسولخدا(ص) :ازدواج کرو اور نسل انسانی کو آگے بڑھاؤ, روز محشر میں تمہاری کثرت پر تمام امتوں کے درمیان فخر کرونگا حتی سقط شدہ بچہ پر بھی.
♦فطری ضرورت کی تکمیل:
هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ ۗ (سورہ بقرہ آیۃ 187)
"وہ (عورتیں ) تمہارا لباس ہیں اور تم(مرد) انکا لباس ہو"
❗کنوارے کے رزائل ❗
رسولخدا(ص):
⬅پست ترین شخص وہ ہے جو شادی کیے بغیر مرجائے.
⬅اہل جہنم میں اکثر تعداد غیر شادی شدہ افراد کی ہوگی.
⬅بد ترین افراد غیر شادی شدہ ہیں کیونکہ یہ شیطان کے بھائی ہیں.
❗ازدواج کے فضائل ❗
رسولخدا(ص):
⬅اللہ کے نزدیک محبوب ترین گھر وہ ہے جو اسلام کیساتھ ازدواج سے آباد ہو.
⬅اسلام کے بعد اس سے زیادہ کوئی فائدہ مند چیز نہیں ہے کہ کسی شخص کی ایسی بیوی ہو کہ جب وہ اسکی طرف دیکھے تو اسے سرور ملے.
امام صادق علیہ السلام۔۔
⬅شادی شدہ کی دو رکعت غیر شادی شدہ کی 70 رکعات سے بہتر ہے.
⬅صرف شادی شدہ ہی اپنا دامن پاک رکھ سکتے ہیں.
ہمارے معاشرے کا المیہ کم علمی نہیں بلکہ کم عملی ہے, اگر ہم سنجیدگی سے ان باتوں پر غور کریں تو ایک صالح اور خدا ترس معاشرہ وجود میں لانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں اسی طرح عقد کے معاملات کو آسان بنائیں اور شوہر اور بیوی آپس میں حقوق وفرائض کی رعایت کریں تاکہ پاکیزہ نسل پروان چڑھا سکیں۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/796
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
خدا نے انسان کو باقی مخلوقات سے تفکر وتعقل و تہذیب کی بنیاد پر ممتاز قرار دیکر اشرف المخلوقات اور بلند مرتبہ خلق کیا اور اخلاق و تہذیب کے اوج و کمال تک پہنچنے کو اسکا ھدف خلقت معین کیا.
اگر ہم ایک اور زاویہ نگاہ سے دیکھیں تو انسان کو معاشرتی حیوان سے تعبیر کیا گیا ہے یعنی وہ معاشرتی اور گروھی زندگی گزارنا چاہتا ہے اور اگر اسی معاشرتی زندگی میں انسان اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دے اور آسمانی قوانین کی پابندی نہ کرے تو ہوسکتا ہے کہ بہت ہی متمدن ہوجائے اور بہترین وسائل حیات کو بروئے کار لائے مگر وہ ایک ایسا منہ چھوٹ حیوان ہوگا جو معاشرے میں فتنہ وفساد ہی پھیلائے گا.
طبیعی اور فطری لحاظ سے انسان اکیلا نہیں رہ سکتا, اسکے اندر بہترین اور پرسکون زندگی گزارنے کیلیے خدا نے کسی کی ہمراہی کی خواہش ودیعت کی ہے تاکہ وہ اپنے انفرادی اور اجتماعی معاملات کو احسن طریقے سے انجام دے سکے.
چونکہ انسانوں اور حیوانوں میں بہت سے غرائز مماثلت رکھتے ہیں جیسے کھانا, پینا, سونا, اپنی خواہشات کو پورا کرنا اور اپنی نسل کو بڑھانا. خدا نے ان ضروریات کو پورا کرنے کیلیے الہی قوانین و ضوابط بھی وضع کیے ہیں جن میں سے ایک "ازدواج" ہے.دیکھا گیا ہے کہ وہ لوگ جو فطری غریزہ کو غیر فطری انداز سے پورا کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں خصوصا جیسے مغربی ممالک اور ادیان غیر الہیہ سے تعلق رکھنے والے, اسی وجہ سے ان معاشروں میں مختلف مسائل مثلا خطرناک امراض اور اخلاقی گراوٹ تیزی سے رشد پا رہے ہیں.
دین اسلام نے اسلامی خانوادے کو بہت اہمیت دی ہے کیونکہ مندرجہ بالا اس فطری خواھش کو پورا کرنے کا طبیعی, شرعی اور فطری طریقہ تشکیل خاندان ہے.
اور ایک ایسا گھرانہ جسکا آغاز اسلامی رو سے کیا جائے تو بہت با برکت قرار پاتا ہے. چونکہ ایک اچھی فیملی ایک اچھے معاشرے کیلیے اینٹ اور بنیاد کی مانند ہے, اور اگر ہم بنیاد صحیح نہیں رکھیں گے تو عمارت کس طرح صحیح تعمیر کی جا سکے گی؟
ازدواج گھرانے کی بنیاد کا پہلا قدم ہے.بحث کو طوالت سے بچانے کیلیے ہم نکات کی جانب متوجہ ہوتے ہیں کہ اچھی فیملی کے لیے کیا اھم و مھم ہے..
■ازدواج کیوں کریں؟
♦معاشرہ سازی:
کیونکہ ایک اسلامی گھر ہی اسلامی معاشرے کی بنیاد ہے.
♦سکون قلب اور ذہنی آسودگی:
وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ (سورہ روم آیۃ 21)
"اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ تمہارے لیے تمہیں میں سے بیویاں پیدا کیں تاکہ ان کے پاس چین سے رہو اور تمہارے درمیان محبت اور مہربانی پیدا کر دی"
رسولخدا(ص): زوجہ سے عشق و عاشقی مومن کی سرگرمی ہے.
♦شادی سے ناداری کا خاتمہ:
وَأَنكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ ۚ إِن يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ ۗ (سورہ نور آیۃ 32)
"اور جو تم میں مجرّد ہوں اور جو تمہارے غلام اور لونڈیاں نیک ہوں سب کے نکاح کرا دو، اگر وہ مفلس ہوں گے تو اللہ اپنے فضل سے انہیں غنی کر دے گا"
رسولخدا(ص): جس شخص نے اہل و عیال کے اخراجات کے خوف سے ازدواج کو ترک کیا, اس نے خدا سے بدظنی کی.
♦بقائے نسل انسانیت:
رسولخدا(ص) :ازدواج کرو اور نسل انسانی کو آگے بڑھاؤ, روز محشر میں تمہاری کثرت پر تمام امتوں کے درمیان فخر کرونگا حتی سقط شدہ بچہ پر بھی.
♦فطری ضرورت کی تکمیل:
هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ ۗ (سورہ بقرہ آیۃ 187)
"وہ (عورتیں ) تمہارا لباس ہیں اور تم(مرد) انکا لباس ہو"
❗کنوارے کے رزائل ❗
رسولخدا(ص):
⬅پست ترین شخص وہ ہے جو شادی کیے بغیر مرجائے.
⬅اہل جہنم میں اکثر تعداد غیر شادی شدہ افراد کی ہوگی.
⬅بد ترین افراد غیر شادی شدہ ہیں کیونکہ یہ شیطان کے بھائی ہیں.
❗ازدواج کے فضائل ❗
رسولخدا(ص):
⬅اللہ کے نزدیک محبوب ترین گھر وہ ہے جو اسلام کیساتھ ازدواج سے آباد ہو.
⬅اسلام کے بعد اس سے زیادہ کوئی فائدہ مند چیز نہیں ہے کہ کسی شخص کی ایسی بیوی ہو کہ جب وہ اسکی طرف دیکھے تو اسے سرور ملے.
امام صادق علیہ السلام۔۔
⬅شادی شدہ کی دو رکعت غیر شادی شدہ کی 70 رکعات سے بہتر ہے.
⬅صرف شادی شدہ ہی اپنا دامن پاک رکھ سکتے ہیں.
ہمارے معاشرے کا المیہ کم علمی نہیں بلکہ کم عملی ہے, اگر ہم سنجیدگی سے ان باتوں پر غور کریں تو ایک صالح اور خدا ترس معاشرہ وجود میں لانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں اسی طرح عقد کے معاملات کو آسان بنائیں اور شوہر اور بیوی آپس میں حقوق وفرائض کی رعایت کریں تاکہ پاکیزہ نسل پروان چڑھا سکیں۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/796
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
💗 ازدواج ( حصہ دوم) 💗
ہمارے معاشرے کا المیہ کم علمی نہیں بلکہ کم عملی ہے, اگر ہم سنجیدگی سے ان باتوں پر غور کریں تو ایک صالح اور خدا ترس معاشرہ وجود میں لانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں اسی طرح عقد کے معاملات کو آسان بنائیں اور شوہر اور بیوی آپس میں حقوق…
ہمارے معاشرے کا المیہ کم علمی نہیں بلکہ کم عملی ہے, اگر ہم سنجیدگی سے ان باتوں پر غور کریں تو ایک صالح اور خدا ترس معاشرہ وجود میں لانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں اسی طرح عقد کے معاملات کو آسان بنائیں اور شوہر اور بیوی آپس میں حقوق…
💗 ازدواج ( حصہ دوم) 💗
ہمارے معاشرے کا المیہ کم علمی نہیں بلکہ کم عملی ہے, اگر ہم سنجیدگی سے ان باتوں پر غور کریں تو ایک صالح اور خدا ترس معاشرہ وجود میں لانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں اسی طرح عقد کے معاملات کو آسان بنائیں اور شوہر اور بیوی آپس میں حقوق وفرائض کی رعایت کریں تاکہ پاکیزہ نسل پروان چڑھا سکیں۔
💓تقریب نکاح کے آداب:
♦نمود و نمائش سے پرہیز کریں.
♦سادگی اپنائیں.
♦مخلوط محفل نہ ہو.
♦تصاویر, عکسبندی اور فلم بندی سے بچا جائے.
♦عزیز و اقارب اور اہم شخصیات کو مدعو کریں .
♦وقت رخصتی دلہن اور دولہا کو نصیحتیں کریں اور دعائیں دیں۔
❗بیوی کے فرائض یا شوہر کے حقوق:
معصومؑ: عورت اپنے پروردگار کا حق ادا نہیں کر سکتی جب تک کہ وہ اپنے شوہر کے حقوق ادا نہ کرے.
♦اسکی بغیر اجازت گھر سے نہ نکلے.
♦اسکے عیوب کی پردہ پوشی کرے اور اسکی غیبت نہ کرے.
♦اسکی اختیارسےباہر فرمائش نہ کرے.
♦اپنے آپکو نامحرموں سے بچائے.
♦اسکو اچھائی سے یاد کرے اور اسکے لیے دعائیں کرے.
♦شوہر محتاج ہو تو اسے حقارت سے نہ دیکھے.
♦خود کو فقط اسی کیلیے آراستہ کرے اور اسکی خواہش کا احترام کرے.
❗شوہر کے فرائض یا بیوی کے حقوق:
امام صادقؑ۔۔
"خدا اس شخص پر رحمت نازل کرتا ہے جو اپنے اور اپنی بیوی کے درمیان اچھا رابطہ قائم کرتا ہےکیونکہ خدا نے مرد کو اختیار دیا ہے اور اسکو سرپرست بنایا ہے."
♦بیوی کو ضروریات زندگی کا سامان مہیا کرے.
♦اسے احکام شریعہ سکھائے.
♦ترش روئی اور سختی سے پیش نہ آئے.
♦خرچ کرکے احسان نہ جتائے.
♦سفر سے واپسی میں بیوی کیلیے تحفہ لائے.
♦بلا وجہ ناراض نہ ہو اور محبت سے پیش آئے.
اگر ہم ان ہی مندرجہ بالا الہی آیات و احادیث اور اصول و قوانین کی رعایت کریں گے تو اپنے مقصد خلقت یعنی اخلاقی کمال کو حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرسکیں گے. اور اسی طرح اپنے خانوادہ کو بھی معاشرےکیلیے بہترین ,کارمند اور مفید ثابت کرسکیں گے.
ہمیں چاہیے کہ معاشرے کی بےجا اور فرسودہ روایات و رسوم و رواج کا خاتمہ کریں اور اس پرفتن و پر آشوب دور میں ازدواج کے وسائل میں آسانی پیدا کریں تاکہ نیکی اور اسلامی اقدار کو فروغ ملے اور برائی و فحاشیت کا معاشرے سے خاتمہ ہو. اور امام زمانہؑ کے ظہور میں تعجیل کیلیے بہترین زمینہ سازی فراہم کی جاسکے.
"آپ سب کی نیک تمنائیں اور پرخلوص دعائیں ہماری نئی شروع ہونے والی زندگی میں مزید محبت وبرکت کا باعث بنیں گی."
تحریر بشکریہ: ر۔ ملکوتی
📚 کتب کے حوالہ جات:
♦القرآن الکریم
♦تہذیب زندگی (مولانا شہنشاہ نقوی)
♦دولہا اور دلہن(محسن ماجرا جو)
♦تنظیم خانوادہ(فارسی تحقیق)
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 گھر کو نمونہ جنت بنانے کے موضوع پر مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں..
❄ گھر نمونہ جنت
https://t.me/islamwitheman/527
💞 میاں بیوی کی محبت کا تقاضا
https://t.me/islamwitheman/295
🌹 عورتوں کی ذمہ داری (حصہ اول)
https://t.me/islamwitheman/243
🌹 عورتوں کی ذمہ داری (حصہ دوم)
https://t.me/islamwitheman/244
🌹 عورتوں کی ذمہ داری (حصہ سوم)
https://t.me/islamwitheman/245
🌹 خاندان کی سرپرستی
https://t.me/islamwitheman/241
🌹 کامیاب ازدواجی زندگی
https://t.me/islamwitheman/200
🔷 ساس اور بہو
https://t.me/islamwitheman/199
🔷 عقلمند بیوی
https://t.me/islamwitheman/197
🔷 خاوند کی سوچ بیوی کے لئے
https://t.me/islamwitheman/193
💕 خاوند اور بیوی
https://t.me/islamwitheman/189
📝 انداز بیان و سوچ
https://t.me/islamwitheman/158
🔷 کامیاب ازدواجی زندگی کا راز
https://t.me/islamwitheman/136
🔷 بیوی.....
https://t.me/islamwitheman/38
💕 شریک حیات کے حقوق
https://t.me/islamwitheman/529
💗 ازدواج (حصہ اول)
https://t.me/islamwitheman/794
💗 ازدواج ( حصہ دوم)
https://t.me/islamwitheman/796
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ہمارے معاشرے کا المیہ کم علمی نہیں بلکہ کم عملی ہے, اگر ہم سنجیدگی سے ان باتوں پر غور کریں تو ایک صالح اور خدا ترس معاشرہ وجود میں لانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں اسی طرح عقد کے معاملات کو آسان بنائیں اور شوہر اور بیوی آپس میں حقوق وفرائض کی رعایت کریں تاکہ پاکیزہ نسل پروان چڑھا سکیں۔
💓تقریب نکاح کے آداب:
♦نمود و نمائش سے پرہیز کریں.
♦سادگی اپنائیں.
♦مخلوط محفل نہ ہو.
♦تصاویر, عکسبندی اور فلم بندی سے بچا جائے.
♦عزیز و اقارب اور اہم شخصیات کو مدعو کریں .
♦وقت رخصتی دلہن اور دولہا کو نصیحتیں کریں اور دعائیں دیں۔
❗بیوی کے فرائض یا شوہر کے حقوق:
معصومؑ: عورت اپنے پروردگار کا حق ادا نہیں کر سکتی جب تک کہ وہ اپنے شوہر کے حقوق ادا نہ کرے.
♦اسکی بغیر اجازت گھر سے نہ نکلے.
♦اسکے عیوب کی پردہ پوشی کرے اور اسکی غیبت نہ کرے.
♦اسکی اختیارسےباہر فرمائش نہ کرے.
♦اپنے آپکو نامحرموں سے بچائے.
♦اسکو اچھائی سے یاد کرے اور اسکے لیے دعائیں کرے.
♦شوہر محتاج ہو تو اسے حقارت سے نہ دیکھے.
♦خود کو فقط اسی کیلیے آراستہ کرے اور اسکی خواہش کا احترام کرے.
❗شوہر کے فرائض یا بیوی کے حقوق:
امام صادقؑ۔۔
"خدا اس شخص پر رحمت نازل کرتا ہے جو اپنے اور اپنی بیوی کے درمیان اچھا رابطہ قائم کرتا ہےکیونکہ خدا نے مرد کو اختیار دیا ہے اور اسکو سرپرست بنایا ہے."
♦بیوی کو ضروریات زندگی کا سامان مہیا کرے.
♦اسے احکام شریعہ سکھائے.
♦ترش روئی اور سختی سے پیش نہ آئے.
♦خرچ کرکے احسان نہ جتائے.
♦سفر سے واپسی میں بیوی کیلیے تحفہ لائے.
♦بلا وجہ ناراض نہ ہو اور محبت سے پیش آئے.
اگر ہم ان ہی مندرجہ بالا الہی آیات و احادیث اور اصول و قوانین کی رعایت کریں گے تو اپنے مقصد خلقت یعنی اخلاقی کمال کو حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کرسکیں گے. اور اسی طرح اپنے خانوادہ کو بھی معاشرےکیلیے بہترین ,کارمند اور مفید ثابت کرسکیں گے.
ہمیں چاہیے کہ معاشرے کی بےجا اور فرسودہ روایات و رسوم و رواج کا خاتمہ کریں اور اس پرفتن و پر آشوب دور میں ازدواج کے وسائل میں آسانی پیدا کریں تاکہ نیکی اور اسلامی اقدار کو فروغ ملے اور برائی و فحاشیت کا معاشرے سے خاتمہ ہو. اور امام زمانہؑ کے ظہور میں تعجیل کیلیے بہترین زمینہ سازی فراہم کی جاسکے.
"آپ سب کی نیک تمنائیں اور پرخلوص دعائیں ہماری نئی شروع ہونے والی زندگی میں مزید محبت وبرکت کا باعث بنیں گی."
تحریر بشکریہ: ر۔ ملکوتی
📚 کتب کے حوالہ جات:
♦القرآن الکریم
♦تہذیب زندگی (مولانا شہنشاہ نقوی)
♦دولہا اور دلہن(محسن ماجرا جو)
♦تنظیم خانوادہ(فارسی تحقیق)
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 گھر کو نمونہ جنت بنانے کے موضوع پر مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں..
❄ گھر نمونہ جنت
https://t.me/islamwitheman/527
💞 میاں بیوی کی محبت کا تقاضا
https://t.me/islamwitheman/295
🌹 عورتوں کی ذمہ داری (حصہ اول)
https://t.me/islamwitheman/243
🌹 عورتوں کی ذمہ داری (حصہ دوم)
https://t.me/islamwitheman/244
🌹 عورتوں کی ذمہ داری (حصہ سوم)
https://t.me/islamwitheman/245
🌹 خاندان کی سرپرستی
https://t.me/islamwitheman/241
🌹 کامیاب ازدواجی زندگی
https://t.me/islamwitheman/200
🔷 ساس اور بہو
https://t.me/islamwitheman/199
🔷 عقلمند بیوی
https://t.me/islamwitheman/197
🔷 خاوند کی سوچ بیوی کے لئے
https://t.me/islamwitheman/193
💕 خاوند اور بیوی
https://t.me/islamwitheman/189
📝 انداز بیان و سوچ
https://t.me/islamwitheman/158
🔷 کامیاب ازدواجی زندگی کا راز
https://t.me/islamwitheman/136
🔷 بیوی.....
https://t.me/islamwitheman/38
💕 شریک حیات کے حقوق
https://t.me/islamwitheman/529
💗 ازدواج (حصہ اول)
https://t.me/islamwitheman/794
💗 ازدواج ( حصہ دوم)
https://t.me/islamwitheman/796
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
❄ گھر نمونہ جنت ❄
ایک امیر عورت پیر صاحب کے پاس گئی اور کہا کہ پیر صاحب مجھے کوئی ایسا تعویذ دیں کہ میرا شوہر میری ہر بات مانے جو بھی میں کہوں وہ میرے تابع ھو جائے.
ییر صاحب بھی دور اندیش انسان تھے انھوں نے اس عورت کی بات غور سے سنی، اور کہا کہ یہ عمل تو…
ایک امیر عورت پیر صاحب کے پاس گئی اور کہا کہ پیر صاحب مجھے کوئی ایسا تعویذ دیں کہ میرا شوہر میری ہر بات مانے جو بھی میں کہوں وہ میرے تابع ھو جائے.
ییر صاحب بھی دور اندیش انسان تھے انھوں نے اس عورت کی بات غور سے سنی، اور کہا کہ یہ عمل تو…
⭕ حضرت موسٰیؑ اور گڈریا ⭕
حضرت موسٰیؑ ایک دن جنگل میں جا رہے تھے آپ نے دیکھا کہ ایک بھیڑ بکریاں چرانے والا (گڈریا) دست بستہ کھڑا ہے اور بڑے شوق سے کہہ رہا ہے کہ۔۔
"اے خدا! میرے پاس آ کر بیٹھ تاکہ میں تیری جوتی سیوں، تیرے سر میں کنگھی کروں، تیری جوئیں ماروں، میں تیرے ہاتھ پاؤں دھوؤں، تجھے نہلاؤں، صاف ستھرے کپڑے پہناؤں اور تجھ پر قربان ہو جاؤں،
اگر تو میرے پاس آئے تو میں اپنا کمبل بچھا کر تجھے اس پر بٹھاؤں اور بکریوں کا تازہ تازہ گرم گرم دودھ تجھے پلاؤں۔
اگر تو بیمار ہو جائے تو میں اپنوں کی طرح تیری خدمت کروں، تیرے ہاتھ چوموں، تیرے پاؤں دبا کر تجھے میٹھی نیند سلاؤں. جب صبح خواب استراحت سے بیدار ہو تو تیرا منہ دھلاؤں۔ تیرے کھانے کیلئے قورمہ، قلیا، پلاؤ، پنیر کوفتے، مکھن ملائی اور کھیر تیار کراؤں، تجھے اپنے ہاتھ سے کھلاؤں.
اگر تو مجھے اپنا گھر دکھا دے تو میں تازندگی صبح و شام تیرے ہاں دودھ اور مکھن پہنچا دیا کروں۔ میری تمام بکریاں اور بھیڑیں تجھ پر قربان ہوں۔"
حضرت موسٰیؑ نے اس کی یہ مستانہ باتیں سنیں اور قریب جا کر پوچھا کہ تو کس سے یہ باتیں کر رہا ہے، تو کس کا میزبان بننا چاہتا ہے، تجھے کس کو اپنے ہاں دعوت پر بلانے کی اس قدر آرزو ہے؟
گڈریا بولا:
"میں اس سے ہمکلام ہو رہا ہوں جو میرا پیدا کرنے والا ہے، جس نے مجھے بولنے کے لیے زبان دی ہے، مجھے یہ بھیڑ بکریاں عطا کیں، جن کے دودھ کو میں اپنی غذا اور جن کی پشم سے میں اپنا لباس بناتا ہوں اور جس نے مجھے یہ چیزیں دی ہیں میں اسی کے دیئے ہوئے سے اس کی دعوت کرنا چاہتا ہوں۔
اگر وہ مجھ غریب کے گھر تشریف لے آئے تو میں خوشی سے پھولے نہ سماؤں،
میری آبرو بڑھ جائے گی اور اس کی شان میں کچھ فرق نہ آئے گا۔"
حضرت موسٰیؑ نے کہا:
گڈریے! تیرا کلام بڑا گستاخانہ ہے، تو خدا سے ایسی باتیں کر رہا ہے۔ وہ تو سب کا رازق ہے اسے کسی کھانے کی محتاجی نہیں ہے۔ نہ وہ تھکتا ہے اور نہ اسے نیند آتی ہے۔ تو اس کے پاؤں کیا دبائے گا تو کیا سمجھا کہ اس کا تیرے جیسا جسم ہے؟
جان لے اور یقین کر لے کہ اس کا کوئی جسم نہیں ہے۔ اس کے تیرے جیسے ہاتھ پاؤں نہیں ہیں وہ سب چیزوں سے بے نیاز ہے وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
وہی سب کا حاجت روا ہے۔ وہ تیرے پاس کمبل پر بیٹھ کر تیری بکریوں کا دودھ نہیں پی سکتا۔
بس ایسے بے ادبانہ کلام سے توبہ کر.
حضرت موسٰیؑ نے اس غریب گڈریے کو اس قدر دبایا کہ وہ بالکل سہم گیا اور کہنے لگا:
"اے موسٰیؑ! تو نے تو میری زبان بند کر دی ہے۔ میرا منہ سی دیا ہے اور پشیمانی پیدا کر کے میرا دل جلا دیا۔
پس وہ چیخ مار کر اوراپنے کپڑے پھاڑ کر ایک طرف جنگل کو نکل گیا اور نبئ وقت کا حکم سن کر اس نے اللہ سے اپنی شوق بھری ہمکلامی چھوڑ دی اور اپنا ارمان دل ہی دل میں دبا کر بیٹھ گیا۔
وہ گڈریا پڑھا لکھا آدمی تو نہ تھا کہ سوچ سمجھ کر شائستہ بات کرتا ہاں اس کے دل میں خدا کی محبت ضرور تھی اور وہ کمال شوق سے اسی کا اظہار کر رہا تھا خدا کو اس کی یہ ذوق و شوق کی باتیں پیاری لگتی تھیں۔ جب وہ ان سے رک گیا تو اللہ تعالی کو ناگوار معلوم ہوا۔
فوراً اللہ تعالیٰ نے اپنے کلیم (حضرت موسٰیؑ) کی طرف وحی بھیجی کہ تو نے میرے ایک محب کو مجھ سے جدا کر دیا ہے۔
"اے موسٰیؑ ہم نے تجھے اس لیے نبی بنایا تھا کہ تو بندوں کو ہم سے ملائے مگر تو نے تو اپنے فرض منصبی کو چھوڑ کر اور راہ اختیار کر لی۔ اے موسٰیؑ ہم نیتوں کو دیکھتے ہیں عملوں کو نہیں دیکھتے۔ ہماری نظر حال پر ہے قال پر نہیں۔ ہمیں دلی سوز کی قدر ہے لفظوں کا خیال نہیں۔
جا اور ہم سے جدا کردہ بندے کو پھر اپنے شغل میں لگا کہ ہم کو وہی محبوب ہے۔
حضرت موسٰیؑ یہ حکم الہیٰ سن کر فوراً واپس جنگل میں آئے اور بعد از تلاش بسیار کے بعد اس گڈریے کو ڈھونڈا اور کہا بھائی اپنی مناجات میں لگے رہو اور جو میں نے تمہیں روکا تھا اس کا کچھ خیال نہ کرو۔ تمہاری محبت اور سوز میں ڈوبی ہوئی باتیں اللہ تعالیٰ کو پیاری لگتی ہیں۔ اپنے شغل میں مصروف رہو اور مجھے معاف کر دو۔ میں تمہارے وظیفہ میں خلل انداز ہوا۔ اللہ تعالٰی نیتوں کو دیکھتا ہے، ظاہری اعمال پر اس کی نظر نہیں۔
(اقتباس)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزید پوسٹس۔۔۔
⭕ خدا کیسا ہے؟
https://t.me/islamwitheman/773
⭕ صفات باری تعالٰی
https://t.me/islamwitheman/774
⭕ عالم اور بڑھیا
https://t.me/islamwitheman/776
⭕ حجام اور گاہگ
https://t.me/islamwitheman/780
⭕ خدا پر ان دیکھا یقین(حصہ اول)
https://t.me/islamwitheman/793
⭕ خدا پر ان دیکھا یقین(حصہ دوم)
https://t.me/islamwitheman/794
⭕ ایمان اور یقین
https://t.me/islamwitheman/788
⭕ حضرت موسٰیؑ اور گڈریا
https://t.me/islamwitheman/799
🌷 موجبِ اخلاص چیزیں
https://t.me/islamwitheman/1104
⭕ عشقِ خدا
https://t.me/islamwitheman/1105
⭕ توحید
http://t.me/islamwitheman/1609
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
حضرت موسٰیؑ ایک دن جنگل میں جا رہے تھے آپ نے دیکھا کہ ایک بھیڑ بکریاں چرانے والا (گڈریا) دست بستہ کھڑا ہے اور بڑے شوق سے کہہ رہا ہے کہ۔۔
"اے خدا! میرے پاس آ کر بیٹھ تاکہ میں تیری جوتی سیوں، تیرے سر میں کنگھی کروں، تیری جوئیں ماروں، میں تیرے ہاتھ پاؤں دھوؤں، تجھے نہلاؤں، صاف ستھرے کپڑے پہناؤں اور تجھ پر قربان ہو جاؤں،
اگر تو میرے پاس آئے تو میں اپنا کمبل بچھا کر تجھے اس پر بٹھاؤں اور بکریوں کا تازہ تازہ گرم گرم دودھ تجھے پلاؤں۔
اگر تو بیمار ہو جائے تو میں اپنوں کی طرح تیری خدمت کروں، تیرے ہاتھ چوموں، تیرے پاؤں دبا کر تجھے میٹھی نیند سلاؤں. جب صبح خواب استراحت سے بیدار ہو تو تیرا منہ دھلاؤں۔ تیرے کھانے کیلئے قورمہ، قلیا، پلاؤ، پنیر کوفتے، مکھن ملائی اور کھیر تیار کراؤں، تجھے اپنے ہاتھ سے کھلاؤں.
اگر تو مجھے اپنا گھر دکھا دے تو میں تازندگی صبح و شام تیرے ہاں دودھ اور مکھن پہنچا دیا کروں۔ میری تمام بکریاں اور بھیڑیں تجھ پر قربان ہوں۔"
حضرت موسٰیؑ نے اس کی یہ مستانہ باتیں سنیں اور قریب جا کر پوچھا کہ تو کس سے یہ باتیں کر رہا ہے، تو کس کا میزبان بننا چاہتا ہے، تجھے کس کو اپنے ہاں دعوت پر بلانے کی اس قدر آرزو ہے؟
گڈریا بولا:
"میں اس سے ہمکلام ہو رہا ہوں جو میرا پیدا کرنے والا ہے، جس نے مجھے بولنے کے لیے زبان دی ہے، مجھے یہ بھیڑ بکریاں عطا کیں، جن کے دودھ کو میں اپنی غذا اور جن کی پشم سے میں اپنا لباس بناتا ہوں اور جس نے مجھے یہ چیزیں دی ہیں میں اسی کے دیئے ہوئے سے اس کی دعوت کرنا چاہتا ہوں۔
اگر وہ مجھ غریب کے گھر تشریف لے آئے تو میں خوشی سے پھولے نہ سماؤں،
میری آبرو بڑھ جائے گی اور اس کی شان میں کچھ فرق نہ آئے گا۔"
حضرت موسٰیؑ نے کہا:
گڈریے! تیرا کلام بڑا گستاخانہ ہے، تو خدا سے ایسی باتیں کر رہا ہے۔ وہ تو سب کا رازق ہے اسے کسی کھانے کی محتاجی نہیں ہے۔ نہ وہ تھکتا ہے اور نہ اسے نیند آتی ہے۔ تو اس کے پاؤں کیا دبائے گا تو کیا سمجھا کہ اس کا تیرے جیسا جسم ہے؟
جان لے اور یقین کر لے کہ اس کا کوئی جسم نہیں ہے۔ اس کے تیرے جیسے ہاتھ پاؤں نہیں ہیں وہ سب چیزوں سے بے نیاز ہے وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
وہی سب کا حاجت روا ہے۔ وہ تیرے پاس کمبل پر بیٹھ کر تیری بکریوں کا دودھ نہیں پی سکتا۔
بس ایسے بے ادبانہ کلام سے توبہ کر.
حضرت موسٰیؑ نے اس غریب گڈریے کو اس قدر دبایا کہ وہ بالکل سہم گیا اور کہنے لگا:
"اے موسٰیؑ! تو نے تو میری زبان بند کر دی ہے۔ میرا منہ سی دیا ہے اور پشیمانی پیدا کر کے میرا دل جلا دیا۔
پس وہ چیخ مار کر اوراپنے کپڑے پھاڑ کر ایک طرف جنگل کو نکل گیا اور نبئ وقت کا حکم سن کر اس نے اللہ سے اپنی شوق بھری ہمکلامی چھوڑ دی اور اپنا ارمان دل ہی دل میں دبا کر بیٹھ گیا۔
وہ گڈریا پڑھا لکھا آدمی تو نہ تھا کہ سوچ سمجھ کر شائستہ بات کرتا ہاں اس کے دل میں خدا کی محبت ضرور تھی اور وہ کمال شوق سے اسی کا اظہار کر رہا تھا خدا کو اس کی یہ ذوق و شوق کی باتیں پیاری لگتی تھیں۔ جب وہ ان سے رک گیا تو اللہ تعالی کو ناگوار معلوم ہوا۔
فوراً اللہ تعالیٰ نے اپنے کلیم (حضرت موسٰیؑ) کی طرف وحی بھیجی کہ تو نے میرے ایک محب کو مجھ سے جدا کر دیا ہے۔
"اے موسٰیؑ ہم نے تجھے اس لیے نبی بنایا تھا کہ تو بندوں کو ہم سے ملائے مگر تو نے تو اپنے فرض منصبی کو چھوڑ کر اور راہ اختیار کر لی۔ اے موسٰیؑ ہم نیتوں کو دیکھتے ہیں عملوں کو نہیں دیکھتے۔ ہماری نظر حال پر ہے قال پر نہیں۔ ہمیں دلی سوز کی قدر ہے لفظوں کا خیال نہیں۔
جا اور ہم سے جدا کردہ بندے کو پھر اپنے شغل میں لگا کہ ہم کو وہی محبوب ہے۔
حضرت موسٰیؑ یہ حکم الہیٰ سن کر فوراً واپس جنگل میں آئے اور بعد از تلاش بسیار کے بعد اس گڈریے کو ڈھونڈا اور کہا بھائی اپنی مناجات میں لگے رہو اور جو میں نے تمہیں روکا تھا اس کا کچھ خیال نہ کرو۔ تمہاری محبت اور سوز میں ڈوبی ہوئی باتیں اللہ تعالیٰ کو پیاری لگتی ہیں۔ اپنے شغل میں مصروف رہو اور مجھے معاف کر دو۔ میں تمہارے وظیفہ میں خلل انداز ہوا۔ اللہ تعالٰی نیتوں کو دیکھتا ہے، ظاہری اعمال پر اس کی نظر نہیں۔
(اقتباس)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزید پوسٹس۔۔۔
⭕ خدا کیسا ہے؟
https://t.me/islamwitheman/773
⭕ صفات باری تعالٰی
https://t.me/islamwitheman/774
⭕ عالم اور بڑھیا
https://t.me/islamwitheman/776
⭕ حجام اور گاہگ
https://t.me/islamwitheman/780
⭕ خدا پر ان دیکھا یقین(حصہ اول)
https://t.me/islamwitheman/793
⭕ خدا پر ان دیکھا یقین(حصہ دوم)
https://t.me/islamwitheman/794
⭕ ایمان اور یقین
https://t.me/islamwitheman/788
⭕ حضرت موسٰیؑ اور گڈریا
https://t.me/islamwitheman/799
🌷 موجبِ اخلاص چیزیں
https://t.me/islamwitheman/1104
⭕ عشقِ خدا
https://t.me/islamwitheman/1105
⭕ توحید
http://t.me/islamwitheman/1609
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
⭕ خدا کیسا ہے؟ ⭕
خدا کیسا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو اکثر لوگوں، مسلمانوں، غیر مسلموں، چھوٹوں اور بزرگوں کو ضرور پیش آیا ہوگاـ
سوال؟
خدا اسوقت کہاں ہے؟ وہ کس چیز سے بنا ہے؟ خدا سے پہلے کیا تھا؟
اگر آپ بھی اس سوال کا جواب حاصل کرنا چاھتے ہو تو جان لیں…
خدا کیسا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو اکثر لوگوں، مسلمانوں، غیر مسلموں، چھوٹوں اور بزرگوں کو ضرور پیش آیا ہوگاـ
سوال؟
خدا اسوقت کہاں ہے؟ وہ کس چیز سے بنا ہے؟ خدا سے پہلے کیا تھا؟
اگر آپ بھی اس سوال کا جواب حاصل کرنا چاھتے ہو تو جان لیں…
🌹 عالین کون ہیں؟ 🌹
ابو سعید خدری کا کہنا ہے: ہم رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ایک آدمی سامنے سے آیا اور عرض کی: یا رسول خدا ، اللہ کے اس
فرمان " أَسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنْتَ مِنَ الْعالِينَ تو نے تکبر کیا ، یا بڑے لوگوںمیں سے ہو گیا" کے بارے میں مجھے بتلائیے کہ یہ عالین کون لوگ ہیں کہ جن کا مقام فرشتوں سے بھی بلند و بالا ہے؟
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
آدم کی خلقت سے دس ہزارسال پہلے میں ، علی۴، فاطمہ۴ ، حسن۴ اور حسین۴ عرش الہی کے سامنے اللہ کی تسبیح اور تقدیس کرتے تھے اور فرشتے ہماری تسبیح پر تسبیح پڑھتے تھے ۔ پھر جب اللہ نے آدم کو خلق کیا تو فرشتوں کو اس کے سامنے سجدہ کو حکم دیا لیکن ہمیں سجدہ کرنے کا حکم نہ دیا تمام فرشتوں نے آدم کو سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، اس نے سجدہ نہیں کیا۔
اس کے بعد خداوند متعال نے فرمایا: " أَسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنْتَ مِنَ الْعالِينَ [2]"تو نے تکبر کیا یا عالین میں سے ہو گیا"۔ عالین سے مراد پنجتن پاک تھے جن کے نام عرش اعظم پر لکھے ہوئے تھے ۔ لہذا ہم اللہ کا وہ دروازہ ہیں جس سے وارد ہو کر لوگ اللہ کے قریب ہو سکتے ہیں ہمارے ذریعے ہدایت پانے والے ہدایت حاصل کرتے ہیں اور جو ہمیں دوست رکھے خدا اسے دوست رکھتا ہے اور اسے جت میں مقام عطاکرتا ہے اور جو ہمارے ساتھ دشمنی رکھے خدا اس کے ساتھ دشمنی رکھتا ہے اور اسے جہنم کی آگ میں ڈھکیل دیتا ہے اور یہ جان لو حلال زادہ کے علاوہ کوئی ہمیں دوست نہیں رکھے گا۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
📚 حوالہ جات
[1] عنہ البحار ۱۴۲/۱۱ ح ۹ و ج ۲۱/۱۵ ح ۳۴ و ج ۲/۲۵ ح ۲ و ج ۳۰۶/۳۹ ح ۱۲۱۔ تاویل الایات: ۱۸۲ ج۱، عنہ البحار: ۳۴۶/۲۶ ح۱۹۔
[2] ص،۷۵۔
http://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ابو سعید خدری کا کہنا ہے: ہم رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ایک آدمی سامنے سے آیا اور عرض کی: یا رسول خدا ، اللہ کے اس
فرمان " أَسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنْتَ مِنَ الْعالِينَ تو نے تکبر کیا ، یا بڑے لوگوںمیں سے ہو گیا" کے بارے میں مجھے بتلائیے کہ یہ عالین کون لوگ ہیں کہ جن کا مقام فرشتوں سے بھی بلند و بالا ہے؟
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
آدم کی خلقت سے دس ہزارسال پہلے میں ، علی۴، فاطمہ۴ ، حسن۴ اور حسین۴ عرش الہی کے سامنے اللہ کی تسبیح اور تقدیس کرتے تھے اور فرشتے ہماری تسبیح پر تسبیح پڑھتے تھے ۔ پھر جب اللہ نے آدم کو خلق کیا تو فرشتوں کو اس کے سامنے سجدہ کو حکم دیا لیکن ہمیں سجدہ کرنے کا حکم نہ دیا تمام فرشتوں نے آدم کو سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، اس نے سجدہ نہیں کیا۔
اس کے بعد خداوند متعال نے فرمایا: " أَسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنْتَ مِنَ الْعالِينَ [2]"تو نے تکبر کیا یا عالین میں سے ہو گیا"۔ عالین سے مراد پنجتن پاک تھے جن کے نام عرش اعظم پر لکھے ہوئے تھے ۔ لہذا ہم اللہ کا وہ دروازہ ہیں جس سے وارد ہو کر لوگ اللہ کے قریب ہو سکتے ہیں ہمارے ذریعے ہدایت پانے والے ہدایت حاصل کرتے ہیں اور جو ہمیں دوست رکھے خدا اسے دوست رکھتا ہے اور اسے جت میں مقام عطاکرتا ہے اور جو ہمارے ساتھ دشمنی رکھے خدا اس کے ساتھ دشمنی رکھتا ہے اور اسے جہنم کی آگ میں ڈھکیل دیتا ہے اور یہ جان لو حلال زادہ کے علاوہ کوئی ہمیں دوست نہیں رکھے گا۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
📚 حوالہ جات
[1] عنہ البحار ۱۴۲/۱۱ ح ۹ و ج ۲۱/۱۵ ح ۳۴ و ج ۲/۲۵ ح ۲ و ج ۳۰۶/۳۹ ح ۱۲۱۔ تاویل الایات: ۱۸۲ ج۱، عنہ البحار: ۳۴۶/۲۶ ح۱۹۔
[2] ص،۷۵۔
http://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌵 شجرة الزقوم 🌵
عربی زبان کا لفظ "زقوم" قرآن کے مطابق، جہنم میں ایک پیڑ کا نام۔ اس کا مقصد دوزخ میں بسنے والوں کے لیے غذا کے طور پر پیش کیا جانا ہے۔ یہ پیڑ جہنم کے تہہ میں شعلوں کے درمیان ہوگا۔
زقوم کے معنی
ايک قسم کا خار دار پودا،ایک درخت جس کا پھل دوزخیوں کو کھانے کو ملے گا،تھوہڑ کا پودا جو خاردار اور کڑوا اور زہریلا ہوتا ہے،دوزخ کا ایک درخت جس سے دوزخی اپنی خوراک حاصل کریں گے،زہریلی اور مہلک غذاناگ پھنی ،ناگ پھَنی ،ہر کڑوی ،ہیج دھارا،یہ پودا ڈنٹھل دار بے برگ اور خاردار ہے۔
الزقوم۔ ایک درخت جسے حنظل یا تھوہر کہتے ہیں۔ ذائقہ میں تلخ، دیکھنے میں بدنما۔ اثر میں زہریلا ہوتا ہے۔ اس سے استعارہ کے طور پر کہتے ہیں زقم فلان وتزقم۔ اس نے کوئی کریہہ چیز نگل لی۔ دوزخ میں جو یہ درخت آگ سے پیدا ہوگا اس کے ذائقہ ، صورت، اثر کو خیال کیا جا سکتا ہے۔ یہاں ذکر دوزخ میں پیدا ہونے والے اس درخت کا ہے ۔
زقوم کے مترادفات
تھوہَرتھوہڑکیکٹس
زقوم کے انگریزی معنی
a prickly plant،cactus،foul language
زقوم کی حقیقت
اس کے بارے میں(قرآن: سورۃ الاسرا:60)میں مذکور ہے (کہ یہ ایک لعنتی درخت ہے)
(قرآن: سورۃ الصافات:62)
(قرآن: سورۃ الدخان:43)
(قرآن: سورۃ الواقعہ:52)
زقوم دراصل ایک درخت کا نام ہے جو جزیرۂ عرب کے علاقہ تہامہ میں پایا جاتا ہے۔ علامہ آلوسی نے لکھا ہے کہ یہ تمام بنجر صحراؤں میں ہوتا ہے۔ بعض حضرات کا خیال ہے یہ وہی درخت ہے جسے اردو میں تھوہر کہتے ہیں۔ اسی سے ملتا جلتا ہندوستان میں ایک درخت ہے جو ناگ پھن کے نام سے معروف ہے۔ بعض لوگوں نے اسے زقوم قرار دیا ہے۔ اس درخت کا مزہ نہایت کڑوا اور بو نہایت ناگوار ہوتی ہے۔ اور توڑنے پر اس سے دودھ کا رس نکلتا ہے جو اگر جسم کو لگ جائے تو ورم ہوجاتا ہے۔ ناگ پھن اس بھی زیادہ مکروہ درخت ہے اور وہ اپنی شکل و صورت میں بھی زیادہ خوفناک معلوم ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تھوہر یا ناگ پھن نام کے اعتبار سے ہوسکتا ہے زقوم کے قریب ہو۔ لیکن جہاں تک حقیقت کا تعلق ہے زقوم بالکل اس سے الگ چیز ہے۔ یہ دونوں درخت اپنی بدنمائی اور کراہت کے باوجود زمین ہی میں پیدا ہوتے ہیں لیکن زقوم جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے۔ اور دوسرے درختوں کی طرح اس کی تربیت پانی، ہوا اور دھوپ میں نہیں ہوتی بلکہ آگ میں ہوتی ہے۔ اور یہ آگ کے بعض دیگر جانوروں کی طرح آگ ہی میں پھلتا پھولتا ہے۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
http://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
عربی زبان کا لفظ "زقوم" قرآن کے مطابق، جہنم میں ایک پیڑ کا نام۔ اس کا مقصد دوزخ میں بسنے والوں کے لیے غذا کے طور پر پیش کیا جانا ہے۔ یہ پیڑ جہنم کے تہہ میں شعلوں کے درمیان ہوگا۔
زقوم کے معنی
ايک قسم کا خار دار پودا،ایک درخت جس کا پھل دوزخیوں کو کھانے کو ملے گا،تھوہڑ کا پودا جو خاردار اور کڑوا اور زہریلا ہوتا ہے،دوزخ کا ایک درخت جس سے دوزخی اپنی خوراک حاصل کریں گے،زہریلی اور مہلک غذاناگ پھنی ،ناگ پھَنی ،ہر کڑوی ،ہیج دھارا،یہ پودا ڈنٹھل دار بے برگ اور خاردار ہے۔
الزقوم۔ ایک درخت جسے حنظل یا تھوہر کہتے ہیں۔ ذائقہ میں تلخ، دیکھنے میں بدنما۔ اثر میں زہریلا ہوتا ہے۔ اس سے استعارہ کے طور پر کہتے ہیں زقم فلان وتزقم۔ اس نے کوئی کریہہ چیز نگل لی۔ دوزخ میں جو یہ درخت آگ سے پیدا ہوگا اس کے ذائقہ ، صورت، اثر کو خیال کیا جا سکتا ہے۔ یہاں ذکر دوزخ میں پیدا ہونے والے اس درخت کا ہے ۔
زقوم کے مترادفات
تھوہَرتھوہڑکیکٹس
زقوم کے انگریزی معنی
a prickly plant،cactus،foul language
زقوم کی حقیقت
اس کے بارے میں(قرآن: سورۃ الاسرا:60)میں مذکور ہے (کہ یہ ایک لعنتی درخت ہے)
(قرآن: سورۃ الصافات:62)
(قرآن: سورۃ الدخان:43)
(قرآن: سورۃ الواقعہ:52)
زقوم دراصل ایک درخت کا نام ہے جو جزیرۂ عرب کے علاقہ تہامہ میں پایا جاتا ہے۔ علامہ آلوسی نے لکھا ہے کہ یہ تمام بنجر صحراؤں میں ہوتا ہے۔ بعض حضرات کا خیال ہے یہ وہی درخت ہے جسے اردو میں تھوہر کہتے ہیں۔ اسی سے ملتا جلتا ہندوستان میں ایک درخت ہے جو ناگ پھن کے نام سے معروف ہے۔ بعض لوگوں نے اسے زقوم قرار دیا ہے۔ اس درخت کا مزہ نہایت کڑوا اور بو نہایت ناگوار ہوتی ہے۔ اور توڑنے پر اس سے دودھ کا رس نکلتا ہے جو اگر جسم کو لگ جائے تو ورم ہوجاتا ہے۔ ناگ پھن اس بھی زیادہ مکروہ درخت ہے اور وہ اپنی شکل و صورت میں بھی زیادہ خوفناک معلوم ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تھوہر یا ناگ پھن نام کے اعتبار سے ہوسکتا ہے زقوم کے قریب ہو۔ لیکن جہاں تک حقیقت کا تعلق ہے زقوم بالکل اس سے الگ چیز ہے۔ یہ دونوں درخت اپنی بدنمائی اور کراہت کے باوجود زمین ہی میں پیدا ہوتے ہیں لیکن زقوم جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے۔ اور دوسرے درختوں کی طرح اس کی تربیت پانی، ہوا اور دھوپ میں نہیں ہوتی بلکہ آگ میں ہوتی ہے۔ اور یہ آگ کے بعض دیگر جانوروں کی طرح آگ ہی میں پھلتا پھولتا ہے۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
http://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌸 وضو کا طریقہ 🌸
امیرالمؤمنین حضرت علی علیه السلام کے وضو کا طریقہ اهل سنت کی کتب سے ملاحظہ ہو۔۔۔
🌟 وضو کرنے کا طریقه شیعیان اور اھل سنت کے درمیان ہمیشہ سے اختلاف رہا ہے اور اکثر مناظرات علمی اس موضوع پر کیے گئے ہیں۔
اس پوسٹ میں ہم نے یہ کوشش کی ہے کہ اھلسنت کی معتبر کتب سے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے وضو کو ثابت کریں گے.
📒 ابوداؤد طیالسی (جو اھلسنت کے بزرگ اور مشھور عالم دین ہیں) اپنی کتاب مسند میں تحریر کرتے ہیں:
حدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِی عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مَیْسَرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ، یَقُولُ: صَلَّى عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّهُ عَنْهُ الظُّهْرَ فِی الرَّحَبَةِ ثُمَّ جَلَسَ فِی حَوَائِجِ النَّاسِ حَتَّى حَضَرَتِ الْعَصْرُ ثُمَّ أُتِیَ بِکُوزٍ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّ مِنْهُ کَفًّا فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَیَدَیْه ومَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ وَرِجْلَیْه ثمَّ قَامَ فَشَرِبَ فَضْلَ الْمَاءِ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ نَاسًا یَکْرَهُونَ أَنْ یَشْرَبُوا وَهُمْ قِیَامٌ وَرَأَیْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ مِثْلَ الَّذِی فَعَلْتُ وَقَالَ: «هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ یُحْدِثْ۔
💥 نزال بن سبره کہتا ہے: امیرالمؤمنین علی علیه السلام نے کوفہ کے میدان میں نماز ظھر ادا کی پھر تشرف فرما ہوئے اور لوگوں کی مشکلات کو سنا تاکہ بعد میں نماز عصر کا وقت بھی ہو جائے. پھر آپ (ع) نے پانی کا بھرا ہوا کوزہ لیا، آپ نے اپنے ہاتھوں کو دھویا اور پھر اپنے چہرے اقدس اور بازوؤں کو دھویا بعد میں سر اور پاؤں کا مسح کیا۔
حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا: میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سر اور پاؤں کا مسح کرتے ہوئے دیکھا)
📚 مسند ابی داؤد الطیالسی، ج1، ص125.ط دار هجر
✨ محقق کتاب دکتر محمد بن عبدالمحسن الترکی اس روایت کی سند کو مکمل طور پر صحیح جانتے ہیں.
بشکریہ: معارف اھلبیت علیہم السلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ نماز کے متعلق پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
🔷 کوشش اور توفیق
https://t.me/islamwitheman/227
🔷 نماز نہ پڑھنے کی تاویلات
https://t.me/islamwitheman/297
🕌 کامل نماز کا طریقہ
https://t.me/islamwitheman/293
💝 عبادت میں لذت
https://t.me/islamwitheman/352
💞 میاں بیوی کی محبت کا تقاضا
https://t.me/islamwitheman/295
🔷 نماز میں غفلت
https://t.me/islamwitheman/296
💫 نیت اور عمل
https://t.me/islamwitheman/226
🔷 نماز کی عظمت و ثواب
https://t.me/islamwitheman/292
🔷قیامت کا دن اور تین آدمیوں کی پیشی
https://t.me/islamwitheman/104
🔷 اقیموا الصلاة
https://t.me/islamwitheman/294
🔶 تارک الصّلاة کے نام
https://t.me/islamwitheman/647
🔷 پہلی نماز جمعہ
https://t.me/islamwitheman/368
🌸 وضو کا طریقہ
https://t.me/islamwitheman/842
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
امیرالمؤمنین حضرت علی علیه السلام کے وضو کا طریقہ اهل سنت کی کتب سے ملاحظہ ہو۔۔۔
🌟 وضو کرنے کا طریقه شیعیان اور اھل سنت کے درمیان ہمیشہ سے اختلاف رہا ہے اور اکثر مناظرات علمی اس موضوع پر کیے گئے ہیں۔
اس پوسٹ میں ہم نے یہ کوشش کی ہے کہ اھلسنت کی معتبر کتب سے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے وضو کو ثابت کریں گے.
📒 ابوداؤد طیالسی (جو اھلسنت کے بزرگ اور مشھور عالم دین ہیں) اپنی کتاب مسند میں تحریر کرتے ہیں:
حدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِی عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مَیْسَرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ، یَقُولُ: صَلَّى عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّهُ عَنْهُ الظُّهْرَ فِی الرَّحَبَةِ ثُمَّ جَلَسَ فِی حَوَائِجِ النَّاسِ حَتَّى حَضَرَتِ الْعَصْرُ ثُمَّ أُتِیَ بِکُوزٍ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّ مِنْهُ کَفًّا فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَیَدَیْه ومَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ وَرِجْلَیْه ثمَّ قَامَ فَشَرِبَ فَضْلَ الْمَاءِ وَهُوَ قَائِمٌ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ نَاسًا یَکْرَهُونَ أَنْ یَشْرَبُوا وَهُمْ قِیَامٌ وَرَأَیْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ مِثْلَ الَّذِی فَعَلْتُ وَقَالَ: «هَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ یُحْدِثْ۔
💥 نزال بن سبره کہتا ہے: امیرالمؤمنین علی علیه السلام نے کوفہ کے میدان میں نماز ظھر ادا کی پھر تشرف فرما ہوئے اور لوگوں کی مشکلات کو سنا تاکہ بعد میں نماز عصر کا وقت بھی ہو جائے. پھر آپ (ع) نے پانی کا بھرا ہوا کوزہ لیا، آپ نے اپنے ہاتھوں کو دھویا اور پھر اپنے چہرے اقدس اور بازوؤں کو دھویا بعد میں سر اور پاؤں کا مسح کیا۔
حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا: میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سر اور پاؤں کا مسح کرتے ہوئے دیکھا)
📚 مسند ابی داؤد الطیالسی، ج1، ص125.ط دار هجر
✨ محقق کتاب دکتر محمد بن عبدالمحسن الترکی اس روایت کی سند کو مکمل طور پر صحیح جانتے ہیں.
بشکریہ: معارف اھلبیت علیہم السلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ نماز کے متعلق پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
🔷 کوشش اور توفیق
https://t.me/islamwitheman/227
🔷 نماز نہ پڑھنے کی تاویلات
https://t.me/islamwitheman/297
🕌 کامل نماز کا طریقہ
https://t.me/islamwitheman/293
💝 عبادت میں لذت
https://t.me/islamwitheman/352
💞 میاں بیوی کی محبت کا تقاضا
https://t.me/islamwitheman/295
🔷 نماز میں غفلت
https://t.me/islamwitheman/296
💫 نیت اور عمل
https://t.me/islamwitheman/226
🔷 نماز کی عظمت و ثواب
https://t.me/islamwitheman/292
🔷قیامت کا دن اور تین آدمیوں کی پیشی
https://t.me/islamwitheman/104
🔷 اقیموا الصلاة
https://t.me/islamwitheman/294
🔶 تارک الصّلاة کے نام
https://t.me/islamwitheman/647
🔷 پہلی نماز جمعہ
https://t.me/islamwitheman/368
🌸 وضو کا طریقہ
https://t.me/islamwitheman/842
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 کوشش اور توفیق 🔷
ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﮕﺮ ﺩﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺍﺩﺍﺳﯽ ﮐﮯ ﺗﺎﺛﺮﺍﺕ ﻧﻤﺎﯾﺎﮞ ﺗﮭﮯ.
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻮﺟﮧ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻣﺼﻠﮯ ﮐﯽ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺟﺎﻧﺐ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺗﮭﺎ،
ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﭖ ﮨﻤﺖ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﭨﻨﮯ ﭘﺎﺋﮯ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ.
ﻣﮕﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ…
ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﮕﺮ ﺩﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺍﺩﺍﺳﯽ ﮐﮯ ﺗﺎﺛﺮﺍﺕ ﻧﻤﺎﯾﺎﮞ ﺗﮭﮯ.
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻮﺟﮧ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻣﺼﻠﮯ ﮐﯽ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺟﺎﻧﺐ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺗﮭﺎ،
ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﭖ ﮨﻤﺖ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﭨﻨﮯ ﭘﺎﺋﮯ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ.
ﻣﮕﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ…
💐 لفظوں کا زہر 💐
اس سلسلے میں تین اصلاحی کہانیاں پیش کی جا رہی ہیں امید ہے آپ کو پسند آئیں گی۔ اور موجب اصلاح ہونگی۔
■پہلی کہانی
زید نے حامد سے پوچھا؛ تم کہاں کام کرتے ہو؟؟
حامد؛ فلاں دکان میں
ماہانہ کتنی تنخواہ دیتا ہے؟
حامد: 18000 روپے۔
زید؛ 18000 روپے بس۔
تمہاری زندگی کیسے کٹتی ہے اتنے پیسوں میں؟؟
حامد گہری سانس کھینچتے ہوئے بس یار کیا بتاؤں
میٹنگ ختم ہوئی
کچھ دنوں کے بعد
حامد اب اپنے کام سے بیزار ہوگیا، اور تنخواہ بڑھانے کی ڈیمانڈ کردی جسے منٹ سے پیشتر مالک نے رد کردیا، نوجوان نے جاب چھوڑ دی اور بے روزگار ہوگیا،، پہلے اس کے پاس کام تھا اب کام نہیں رہا
مورال۔
سیانے سچ کہتے ہیں
"قلیل دائم خیر من کثیر منقطع"
تھوڑا تھوڑا لیکن ہمیشہ ملنے والا مال اس مال سے بہتر ہوتا ہے جو چھپڑ پھاڑ کر ملے اور جتنی تیزی سے آئے اتنی تیزی سے ختم ہوجائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■دوسری کہانی
ایک سہیلی نے دوسری سہیلی سے پوچھا
بچہ پیدا ہونے کی خوشی میں تمہارے شوہر نے تمہیں کیا تحفہ دیا؟؟؟
دوسری سہیلی نے کہا؛
کچھ بھی نہیں۔
پہلی سہیلی نے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا یہ اچھی بات ہے؟؟
کیا اس کی نظر میں تمہاری کوئی قیمت نہیں؟؟؟
لفظوں کا یہ زہریلا بم گرا کر وہ سہیلی دوسری سہیلی کو اپنی فکر میں غلطاں و پیچاں چھوڑ کر چلتی بنی۔
تھوڑی دیر بعد ظہر کے وقت اس کاشوہر گھر آیا اور بیوی کا منہ لٹکا ہوا پایا۔۔
پھر دونوں کا جھگڑا ہوا ایک دوسرے کو لعنت بھیجی مارپیٹ ہوئی شوہر نے اسے طلاق دے دی،.
جانتے ہیں پرابلم کی شروعات کہاں سے ہوئی؟؟
اس فضول جملے سےجو اس کی زیارت کرنے آئی سہیلی نے کہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■تیسری کہانی
روایت ہے کہ ایک فکر و قلق سے آزاد باپ تھا کہ ایک کہنے والے نے اس کے کان میں نفرت کا منتر پھونکا کہ
تمہارا بیٹا تمہاری بہت زیادہ زیارت کیوں نہیں کرتا کیا اسے تم سے دل کی گہرائیوں سے محبت نہیں؟؟؟
باپ نے بیٹے کے لئے عذر تراشا اور کہا کہ
اس کے کام کا بیک گراونڈ اور شیڈول بہت سخت ہے اسے بہت کم وقت ملتا ہے۔
دوسرے آدمی نے کہا کہ تم کیسے مان سکتے ہو کہ اس کو کام کی وجہ سے آپ سے ملنے کا وقت نہیں ملتا؟؟
یہ تو نہ ملنے کا ماڈرن بہانا ہے۔
اس گفتگو کے کچھ دنوں بعد باپ کے دل میں بیٹے کے تعلق سے پہلی جیسی صفائی نہ رہی اور رضامندی کی جگہ نفرت و حقارت نے لے لی۔
بے شک اے قاری۔۔
کچھ لوگوں کی زبانوں سے شیطان بول جاتا ہے،
ہماری روزمرہ کی زندگی میں کچھ سوالات ہمیں بہت معصوم لگتے ہیں..۔
تم نے یہ کیوں نہیں خریدا؟؟
تمہارے پاس یہ کیوں نہیں ہے؟؟
تم اس شخص کے ساتھ پوری زندگی کیسے چل سکتی ہو؟؟
تم اسے کیسے مان سکتے ہو؟؟
اسطرح کے بیشتر سوالات نادانی میں یا بلامقصد ہم پوچھ بیٹھتے ہیں جبکہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے یہ سوالات سننے والے کے دل میں نفرت یا محبت کا کون سا بیج بورہے ہیں۔
فساد پھیلانے والے نہ بنو،
لوگوں کے گھروں میں اندھے بن کر جاؤ اور وہاں سے گونگا بن کر نکلو۔۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ مزید پوسٹس۔۔۔
🌺 الفاظ و انداز اور لہجہ
https://t.me/islamwitheman/475
👅 احتیاط کے ساتھ بولا کریں
https://t.me/islamwitheman/396
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
اس سلسلے میں تین اصلاحی کہانیاں پیش کی جا رہی ہیں امید ہے آپ کو پسند آئیں گی۔ اور موجب اصلاح ہونگی۔
■پہلی کہانی
زید نے حامد سے پوچھا؛ تم کہاں کام کرتے ہو؟؟
حامد؛ فلاں دکان میں
ماہانہ کتنی تنخواہ دیتا ہے؟
حامد: 18000 روپے۔
زید؛ 18000 روپے بس۔
تمہاری زندگی کیسے کٹتی ہے اتنے پیسوں میں؟؟
حامد گہری سانس کھینچتے ہوئے بس یار کیا بتاؤں
میٹنگ ختم ہوئی
کچھ دنوں کے بعد
حامد اب اپنے کام سے بیزار ہوگیا، اور تنخواہ بڑھانے کی ڈیمانڈ کردی جسے منٹ سے پیشتر مالک نے رد کردیا، نوجوان نے جاب چھوڑ دی اور بے روزگار ہوگیا،، پہلے اس کے پاس کام تھا اب کام نہیں رہا
مورال۔
سیانے سچ کہتے ہیں
"قلیل دائم خیر من کثیر منقطع"
تھوڑا تھوڑا لیکن ہمیشہ ملنے والا مال اس مال سے بہتر ہوتا ہے جو چھپڑ پھاڑ کر ملے اور جتنی تیزی سے آئے اتنی تیزی سے ختم ہوجائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■دوسری کہانی
ایک سہیلی نے دوسری سہیلی سے پوچھا
بچہ پیدا ہونے کی خوشی میں تمہارے شوہر نے تمہیں کیا تحفہ دیا؟؟؟
دوسری سہیلی نے کہا؛
کچھ بھی نہیں۔
پہلی سہیلی نے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا یہ اچھی بات ہے؟؟
کیا اس کی نظر میں تمہاری کوئی قیمت نہیں؟؟؟
لفظوں کا یہ زہریلا بم گرا کر وہ سہیلی دوسری سہیلی کو اپنی فکر میں غلطاں و پیچاں چھوڑ کر چلتی بنی۔
تھوڑی دیر بعد ظہر کے وقت اس کاشوہر گھر آیا اور بیوی کا منہ لٹکا ہوا پایا۔۔
پھر دونوں کا جھگڑا ہوا ایک دوسرے کو لعنت بھیجی مارپیٹ ہوئی شوہر نے اسے طلاق دے دی،.
جانتے ہیں پرابلم کی شروعات کہاں سے ہوئی؟؟
اس فضول جملے سےجو اس کی زیارت کرنے آئی سہیلی نے کہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■تیسری کہانی
روایت ہے کہ ایک فکر و قلق سے آزاد باپ تھا کہ ایک کہنے والے نے اس کے کان میں نفرت کا منتر پھونکا کہ
تمہارا بیٹا تمہاری بہت زیادہ زیارت کیوں نہیں کرتا کیا اسے تم سے دل کی گہرائیوں سے محبت نہیں؟؟؟
باپ نے بیٹے کے لئے عذر تراشا اور کہا کہ
اس کے کام کا بیک گراونڈ اور شیڈول بہت سخت ہے اسے بہت کم وقت ملتا ہے۔
دوسرے آدمی نے کہا کہ تم کیسے مان سکتے ہو کہ اس کو کام کی وجہ سے آپ سے ملنے کا وقت نہیں ملتا؟؟
یہ تو نہ ملنے کا ماڈرن بہانا ہے۔
اس گفتگو کے کچھ دنوں بعد باپ کے دل میں بیٹے کے تعلق سے پہلی جیسی صفائی نہ رہی اور رضامندی کی جگہ نفرت و حقارت نے لے لی۔
بے شک اے قاری۔۔
کچھ لوگوں کی زبانوں سے شیطان بول جاتا ہے،
ہماری روزمرہ کی زندگی میں کچھ سوالات ہمیں بہت معصوم لگتے ہیں..۔
تم نے یہ کیوں نہیں خریدا؟؟
تمہارے پاس یہ کیوں نہیں ہے؟؟
تم اس شخص کے ساتھ پوری زندگی کیسے چل سکتی ہو؟؟
تم اسے کیسے مان سکتے ہو؟؟
اسطرح کے بیشتر سوالات نادانی میں یا بلامقصد ہم پوچھ بیٹھتے ہیں جبکہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے یہ سوالات سننے والے کے دل میں نفرت یا محبت کا کون سا بیج بورہے ہیں۔
فساد پھیلانے والے نہ بنو،
لوگوں کے گھروں میں اندھے بن کر جاؤ اور وہاں سے گونگا بن کر نکلو۔۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ مزید پوسٹس۔۔۔
🌺 الفاظ و انداز اور لہجہ
https://t.me/islamwitheman/475
👅 احتیاط کے ساتھ بولا کریں
https://t.me/islamwitheman/396
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌺 الفاظ و انداز اور لہجہ 🌺
الفاظ کی اپنی ہی ایک دنیا ہوتی ہے. ہر لفظ اپنی ذمہ داری نبھاتا ہے،
کچھ لفظ حکومت کرتے ہیں،
کچھ غلامی،
کچھ لفظ حفاظت کرتے ہیں،
اور کچھ وار،
ہر لفظ کا اپنا ایک مکمّل وجود ہوتا ہے.
جب سے میں نے لفظوں کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ سمجھنا…
الفاظ کی اپنی ہی ایک دنیا ہوتی ہے. ہر لفظ اپنی ذمہ داری نبھاتا ہے،
کچھ لفظ حکومت کرتے ہیں،
کچھ غلامی،
کچھ لفظ حفاظت کرتے ہیں،
اور کچھ وار،
ہر لفظ کا اپنا ایک مکمّل وجود ہوتا ہے.
جب سے میں نے لفظوں کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ سمجھنا…
🌸ميں قرآن ميں کہاں ہوں؟(حصہ اول)🌸
خود کو قرآن مجید میں ڈھونڈیں. انتہائی دلچسپ اور سبق آموز۔۔۔
ایک جليل القدر تابعی اور عرب سردار احنف بن قيس ايک دن بيٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے يہ آيت پڑھی
لَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (سورۃ انبياء 10)
(ترجمہ) ”ہم نے تمہاری طرف ايسی کتاب نازل کی جس ميں تمہارا تذکرہ ہے، کيا تم نہيں سمجھتے ہو“۔
وہ چونک پڑے اور کہا کہ ذرا قرآن مجيد تو لاؤ۔ اس ميں، ميں اپنا تذکرہ تلاش کروں، اور ديکھوں کہ ميں کن لوگوں کے ساتھ ہوں، اور کن سے مجھے مشابہت ہے؟
انہوں نے قرآن مجيد کھولا، کچھ لوگوں کے پاس سے ان کا گزر ہوا، جن کی تعريف يہ کی گئی تھی
كَانُوا قَلِيلًا مِّنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ o وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ o وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ ِ (الذريٰت-17،18،19)
(ترجمہ) ”رات کے تھوڑے حصے ميں سوتے تھے، اور اوقات سحر ميں بخشش مانگا کرتے تھے، اور ان کے مال ميں مانگنے والے اور نہ مانگنے والے (دونوں) کا حق ہوتا تھا“۔
کچھ اور لوگ نظر آئے جن کا حال يہ تھا،
تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ (السجدہ۔ 16)
(ترجمہ) ”ان کے پہلو بچھونوں سے الگ رہتے ہيں (اور) وہ اپنے پروردگار کو خوف اور اُميد سے پکارتے ہيں۔ اور جو (مال) ہم نے ان کو ديا ہے، اس ميں سے خرچ کرتے ہيں“۔
کچھ اور لوگ نظر آئے جن کا حال يہ تھا،
وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِيَامًا (الفرقان۔ 64)
(ترجمہ) ”اور جو اپنے پروردگار کے آگے سجدہ کرکے اور (عجز وادب سے) کھڑے رہ کر راتيں بسر کرتے ہيں“۔
اور کچھ لوگ نظر آئے جن کا تذکرہ اِن الفاظ ميں ہے،
الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاء وَالضَّرَّاء وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (اٰل عمران۔ 134)
(ترجمہ) ”جو آسودگی اور تنگی ميں (اپنا مال خدا کي راہ ميں) خرچ کرتے ہيں، اور غصہ کو روکتے اور لوگوں کے قصور معاف کرتے ہيں، اور خدا نيکو کاروں کو دوست رکھتا ہے“۔
اور کچھ لوگ ملے جن کی حالت يہ تھی،
وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (الحشر۔ 9)
(ترجمہ) ”(اور) دوسروں کو اپنی جانوں سے مقدم رکھتے ہيں خواہ ان کو خود احتياج ہی ہو، اور جو شخص حرص نفس سے بچا ليا گيا تو ايسے ہی لوگ مُراد پانے والے ہوتے ہيں“۔
اور کچھ لوگوں کی زيارت ہوئی جن کے اخلاق يہ تھے،
وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ (الشوريٰ۔ 37)
(ترجمہ) ”اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حيائی کی باتوں سے پرہيز کرتے ہيں، اور جب غصہ آتا ہے تو معاف کر ديتے ہيں“۔
اور کچھ کا ذکر یوں تھا،
وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ (الشوريٰ۔ 38)
(ترجمہ) ”اور جو اپنے پروردگار کا فرمان قبول کرتے ہيں اور نماز پڑھتے ہيں، اور اپنے کام آپس کے مشورہ سے کرتے ہيں اور جو مال ہم نے ان کو عطا فرمايا ہے اس ميں سے خرچ کرتے ہيں“۔
وہ يہاں پہنچ کر ٹھٹک کر رہ گئے، اور کہا : اے اللہ ميں اپنے حال سے واقف ہوں، ميں تو ان لوگوں ميں کہیں نظر نہيں آتا!
پھر انہوں نے ايک دوسرا راستہ ليا، اب ان کو کچھ لوگ نظر آئے، جن کا حال يہ تھا،
إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ o وَيَقُولُونَ أَئِنَّا لَتَارِكُوا آلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُونٍ (سورہ صافات۔ 35،36)
(ترجمہ) ”ان کا يہ حال تھا کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ خدا کے سوا کوئي معبود نہيں تو غرور کرتے تھے، اور کہتے تھے، کہ بھلا ہم ايک ديوانہ شاعر کے کہنے سے کہيں اپنے معبودوں کو چھوڑ دينے والے ہيں؟
پھر اُن لوگوں کا سامنا ہوا جن کی حالت يہ تھی،
وَإِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَإِذَا ذُكِرَ الَّذِينَ مِن دُونِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ (الزمر۔45)
(ترجمہ) ”اور جب تنہا خدا کا ذکر کيا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت پر ايمان نہيں رکھتے انکے دل منقبض ہو جاتے ہيں، اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر کيا جاتا ہے تو اُن کے چہرے کھل اُٹھتے ہيں“۔
کچھ اور لوگوں کے پاس سے گزر ہوا جن سے جب۔۔۔ (جاری ہے)
بقیہ حصہ دوم میں ملاحظہ فرمائیے۔۔
https://t.me/islamwitheman/848
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
خود کو قرآن مجید میں ڈھونڈیں. انتہائی دلچسپ اور سبق آموز۔۔۔
ایک جليل القدر تابعی اور عرب سردار احنف بن قيس ايک دن بيٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے يہ آيت پڑھی
لَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (سورۃ انبياء 10)
(ترجمہ) ”ہم نے تمہاری طرف ايسی کتاب نازل کی جس ميں تمہارا تذکرہ ہے، کيا تم نہيں سمجھتے ہو“۔
وہ چونک پڑے اور کہا کہ ذرا قرآن مجيد تو لاؤ۔ اس ميں، ميں اپنا تذکرہ تلاش کروں، اور ديکھوں کہ ميں کن لوگوں کے ساتھ ہوں، اور کن سے مجھے مشابہت ہے؟
انہوں نے قرآن مجيد کھولا، کچھ لوگوں کے پاس سے ان کا گزر ہوا، جن کی تعريف يہ کی گئی تھی
كَانُوا قَلِيلًا مِّنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ o وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ o وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ ِ (الذريٰت-17،18،19)
(ترجمہ) ”رات کے تھوڑے حصے ميں سوتے تھے، اور اوقات سحر ميں بخشش مانگا کرتے تھے، اور ان کے مال ميں مانگنے والے اور نہ مانگنے والے (دونوں) کا حق ہوتا تھا“۔
کچھ اور لوگ نظر آئے جن کا حال يہ تھا،
تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ (السجدہ۔ 16)
(ترجمہ) ”ان کے پہلو بچھونوں سے الگ رہتے ہيں (اور) وہ اپنے پروردگار کو خوف اور اُميد سے پکارتے ہيں۔ اور جو (مال) ہم نے ان کو ديا ہے، اس ميں سے خرچ کرتے ہيں“۔
کچھ اور لوگ نظر آئے جن کا حال يہ تھا،
وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِيَامًا (الفرقان۔ 64)
(ترجمہ) ”اور جو اپنے پروردگار کے آگے سجدہ کرکے اور (عجز وادب سے) کھڑے رہ کر راتيں بسر کرتے ہيں“۔
اور کچھ لوگ نظر آئے جن کا تذکرہ اِن الفاظ ميں ہے،
الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاء وَالضَّرَّاء وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (اٰل عمران۔ 134)
(ترجمہ) ”جو آسودگی اور تنگی ميں (اپنا مال خدا کي راہ ميں) خرچ کرتے ہيں، اور غصہ کو روکتے اور لوگوں کے قصور معاف کرتے ہيں، اور خدا نيکو کاروں کو دوست رکھتا ہے“۔
اور کچھ لوگ ملے جن کی حالت يہ تھی،
وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (الحشر۔ 9)
(ترجمہ) ”(اور) دوسروں کو اپنی جانوں سے مقدم رکھتے ہيں خواہ ان کو خود احتياج ہی ہو، اور جو شخص حرص نفس سے بچا ليا گيا تو ايسے ہی لوگ مُراد پانے والے ہوتے ہيں“۔
اور کچھ لوگوں کی زيارت ہوئی جن کے اخلاق يہ تھے،
وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ (الشوريٰ۔ 37)
(ترجمہ) ”اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حيائی کی باتوں سے پرہيز کرتے ہيں، اور جب غصہ آتا ہے تو معاف کر ديتے ہيں“۔
اور کچھ کا ذکر یوں تھا،
وَالَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ (الشوريٰ۔ 38)
(ترجمہ) ”اور جو اپنے پروردگار کا فرمان قبول کرتے ہيں اور نماز پڑھتے ہيں، اور اپنے کام آپس کے مشورہ سے کرتے ہيں اور جو مال ہم نے ان کو عطا فرمايا ہے اس ميں سے خرچ کرتے ہيں“۔
وہ يہاں پہنچ کر ٹھٹک کر رہ گئے، اور کہا : اے اللہ ميں اپنے حال سے واقف ہوں، ميں تو ان لوگوں ميں کہیں نظر نہيں آتا!
پھر انہوں نے ايک دوسرا راستہ ليا، اب ان کو کچھ لوگ نظر آئے، جن کا حال يہ تھا،
إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ o وَيَقُولُونَ أَئِنَّا لَتَارِكُوا آلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُونٍ (سورہ صافات۔ 35،36)
(ترجمہ) ”ان کا يہ حال تھا کہ جب ان سے کہا جاتا تھا کہ خدا کے سوا کوئي معبود نہيں تو غرور کرتے تھے، اور کہتے تھے، کہ بھلا ہم ايک ديوانہ شاعر کے کہنے سے کہيں اپنے معبودوں کو چھوڑ دينے والے ہيں؟
پھر اُن لوگوں کا سامنا ہوا جن کی حالت يہ تھی،
وَإِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ وَإِذَا ذُكِرَ الَّذِينَ مِن دُونِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ (الزمر۔45)
(ترجمہ) ”اور جب تنہا خدا کا ذکر کيا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت پر ايمان نہيں رکھتے انکے دل منقبض ہو جاتے ہيں، اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر کيا جاتا ہے تو اُن کے چہرے کھل اُٹھتے ہيں“۔
کچھ اور لوگوں کے پاس سے گزر ہوا جن سے جب۔۔۔ (جاری ہے)
بقیہ حصہ دوم میں ملاحظہ فرمائیے۔۔
https://t.me/islamwitheman/848
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌸میں قرآن میں کہاں ہوں؟(حصہ دوم)🌸
کچھ اور لوگوں کے پاس سے گزر ہوا جن سے جب پوچھا گيا،
مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ o قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ o وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ o وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ oوَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ…
کچھ اور لوگوں کے پاس سے گزر ہوا جن سے جب پوچھا گيا،
مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ o قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ o وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ o وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ oوَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ…
🌸میں قرآن میں کہاں ہوں؟(حصہ دوم)🌸
کچھ اور لوگوں کے پاس سے گزر ہوا جن سے جب پوچھا گيا،
مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ o قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ o وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ o وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ oوَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ o حَتَّى أَتَانَا الْيَقِينُ (المدثر۔ 47-42)
(ترجمہ) ”کہ تم دوزخ ميں کيوں پڑے؟ وہ جواب ديں گے کہ ہم نماز نہيں پڑھتے تھے اور نہ فقيروں کو کھانا کھلاتے تھے اور ہم جھوٹ سچ باتيں بنانے والوں کے ساتھ باتيں بنايا کرتے اور روز جزا کو جھوٹ قرار ديتے تھے، يہاں تک کہ ہميں اس يقيني چيز سے سابقہ پيش آگيا“۔
يہاں بھی پہنچ کر وہ تھوڑی دير کے لئے دم بخود کھڑے رہے۔ پھر کانوں پر ہاتھ رکھ کر کہا: اے اللہ! ان لوگوں سے تيری پناہ! ميں ان لوگوں سےبری ہوں۔
اب وہ قرآن مجيد کے اوراق کو ا لٹ رہے تھے، اور اپنا تذکرہ تلاش کر رہے تھے، يہاں تک کہ اس آيت پر جا کر ٹھہرے:
وَآخَرُونَ اعْتَرَفُواْ بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُواْ عَمَلاً صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا عَسَى اللّهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (التوبہ۔ 102)
(ترجمہ) ”اور کچھ اور لوگ ہيں جن کو اپنے گناہوں کا (صاف) اقرار ہے، انہوں نے اچھے اور برے عملوں کو ملا جلا ديا تھا قريب ہے کہ خدا ان پرمہربانی سے توجہ فرمائے، بے شک خدا بخشنے والا مہربان ہے“۔
اس موقع پر اُن کی زبان سے بے ساختہ نکلا، ہاں ہاں! يہ بے شک ميرا حال ہے !!
تو ہم کن لوگوں میں سے ہیں..؟؟؟
سوچئے گا !!
👆ایک مراسلہ👆
https://t.me/islamwitheman/847
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
کچھ اور لوگوں کے پاس سے گزر ہوا جن سے جب پوچھا گيا،
مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ o قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ o وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ o وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ oوَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ o حَتَّى أَتَانَا الْيَقِينُ (المدثر۔ 47-42)
(ترجمہ) ”کہ تم دوزخ ميں کيوں پڑے؟ وہ جواب ديں گے کہ ہم نماز نہيں پڑھتے تھے اور نہ فقيروں کو کھانا کھلاتے تھے اور ہم جھوٹ سچ باتيں بنانے والوں کے ساتھ باتيں بنايا کرتے اور روز جزا کو جھوٹ قرار ديتے تھے، يہاں تک کہ ہميں اس يقيني چيز سے سابقہ پيش آگيا“۔
يہاں بھی پہنچ کر وہ تھوڑی دير کے لئے دم بخود کھڑے رہے۔ پھر کانوں پر ہاتھ رکھ کر کہا: اے اللہ! ان لوگوں سے تيری پناہ! ميں ان لوگوں سےبری ہوں۔
اب وہ قرآن مجيد کے اوراق کو ا لٹ رہے تھے، اور اپنا تذکرہ تلاش کر رہے تھے، يہاں تک کہ اس آيت پر جا کر ٹھہرے:
وَآخَرُونَ اعْتَرَفُواْ بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُواْ عَمَلاً صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا عَسَى اللّهُ أَن يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (التوبہ۔ 102)
(ترجمہ) ”اور کچھ اور لوگ ہيں جن کو اپنے گناہوں کا (صاف) اقرار ہے، انہوں نے اچھے اور برے عملوں کو ملا جلا ديا تھا قريب ہے کہ خدا ان پرمہربانی سے توجہ فرمائے، بے شک خدا بخشنے والا مہربان ہے“۔
اس موقع پر اُن کی زبان سے بے ساختہ نکلا، ہاں ہاں! يہ بے شک ميرا حال ہے !!
تو ہم کن لوگوں میں سے ہیں..؟؟؟
سوچئے گا !!
👆ایک مراسلہ👆
https://t.me/islamwitheman/847
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌸ميں قرآن ميں کہاں ہوں؟(حصہ اول)🌸
خود کو قرآن مجید میں ڈھونڈیں. انتہائی دلچسپ اور سبق آموز۔۔۔
ایک جليل القدر تابعی اور عرب سردار احنف بن قيس ايک دن بيٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے يہ آيت پڑھی
لَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ…
خود کو قرآن مجید میں ڈھونڈیں. انتہائی دلچسپ اور سبق آموز۔۔۔
ایک جليل القدر تابعی اور عرب سردار احنف بن قيس ايک دن بيٹھے ہوئے تھے کہ کسی نے يہ آيت پڑھی
لَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَابًا فِيهِ ذِكْرُكُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ…