🌻 ماں 🌻
شوہر کے گھر میں داخل ہوتے ہی
بیوی کا غصہ پھوٹ پڑا۔۔
سارا دن کہاں رہے؟ آفس میں پتہ كيا، وہاں بھی نہیں پہنچے! معاملہ کیا ہے؟
"وہ۔۔۔ وہ ... میں ..."
شوہر کی هكلاهٹ پر جھلاتے ہوئے بیوی پھر برسی، بولتے نہیں؟ کہاں چلے گئے تھے یہ گندا باکس اور کپڑوں کی پوٹلی کس کی اٹھا لائے؟
وہ میں ماں کو لانے گاؤں چلا گیا تھا.
شوہر تھوڑی ہمت کر کے بولا۔
کیا کہا؟ آپ ماں کو یہاں لے آئے؟ شرم نہیں آئی تمہیں؟
تمہارے بھائیوں کے پاس انہیں کیا تکلیف ہے؟
چراغ پا تھی بیوی!
اس نے پاس کھڑی پھٹی ہوئی سفید ساڑھی سے آنکھیں پونچھتی بیمار بوڑھی کی طرف دیکھا تک نہیں۔
انہیں میرے بھائیوں کے پاس نہیں چھوڑا جا سکتا تم سمجھ کیوں نہیں رہی.
شوہر نے دبی زبان سے کہا.
کیوں، یہاں کوئی کبیر کا خزانہ رکھا ہے؟ تمہاری چند ہزار روپلی کی تنخواہ میں بچوں کی پڑھائی اور گھر خرچ کس طرح چلا رہی ہوں، میں ہی جانتی ہوں!
بیوی کا لہجہ اتنا ہی شدید تھا
اب یہ ہمارے پاس ہی رہے گی شوہر نے سختی سے پیروی کی۔
میں کہتی ہوں، انہیں اسی وقت واپس چھوڑ کر آؤ. ورنہ میں اس گھر میں ایک لمحہ بھی نہیں رہوں گی اور ان مہارانی جی کو بھی یہاں آتے ذرا سی بھی شرم نہیں آئی؟
کہہ کر بیوی نے بوڑھی عورت کی طرف دیکھا، تو پاؤں تلے سے زمین ہی سرک گئی!
جھیپتے ہوئے بیوی بولی: "ماں، تم؟"
ہاں بیٹی! تمہارے بھائی اور بھابھی نے مجھے گھر سے نکال دیا. داماد جی کو فون كيا تو یہ مجھے یہاں لے آئے.
بڑھیا نے کہا، تو بیوی نے چہکتی نظروں سے شوہر کی طرف دیکھا اور بولی:
آپ بھی بڑے وہ ہو، ڈارلنگ! پہلے کیوں نہیں بتایا کہ میری ماں کو لانے گئے تھے؟
🔘 اس میسج کو اتنا شیئر کرو کہ ہر عورت تک پہنچ سکے!
کہ ماں تو ماں ہوتی ہے! کیا میری، کیا تیری؟
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/652
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
شوہر کے گھر میں داخل ہوتے ہی
بیوی کا غصہ پھوٹ پڑا۔۔
سارا دن کہاں رہے؟ آفس میں پتہ كيا، وہاں بھی نہیں پہنچے! معاملہ کیا ہے؟
"وہ۔۔۔ وہ ... میں ..."
شوہر کی هكلاهٹ پر جھلاتے ہوئے بیوی پھر برسی، بولتے نہیں؟ کہاں چلے گئے تھے یہ گندا باکس اور کپڑوں کی پوٹلی کس کی اٹھا لائے؟
وہ میں ماں کو لانے گاؤں چلا گیا تھا.
شوہر تھوڑی ہمت کر کے بولا۔
کیا کہا؟ آپ ماں کو یہاں لے آئے؟ شرم نہیں آئی تمہیں؟
تمہارے بھائیوں کے پاس انہیں کیا تکلیف ہے؟
چراغ پا تھی بیوی!
اس نے پاس کھڑی پھٹی ہوئی سفید ساڑھی سے آنکھیں پونچھتی بیمار بوڑھی کی طرف دیکھا تک نہیں۔
انہیں میرے بھائیوں کے پاس نہیں چھوڑا جا سکتا تم سمجھ کیوں نہیں رہی.
شوہر نے دبی زبان سے کہا.
کیوں، یہاں کوئی کبیر کا خزانہ رکھا ہے؟ تمہاری چند ہزار روپلی کی تنخواہ میں بچوں کی پڑھائی اور گھر خرچ کس طرح چلا رہی ہوں، میں ہی جانتی ہوں!
بیوی کا لہجہ اتنا ہی شدید تھا
اب یہ ہمارے پاس ہی رہے گی شوہر نے سختی سے پیروی کی۔
میں کہتی ہوں، انہیں اسی وقت واپس چھوڑ کر آؤ. ورنہ میں اس گھر میں ایک لمحہ بھی نہیں رہوں گی اور ان مہارانی جی کو بھی یہاں آتے ذرا سی بھی شرم نہیں آئی؟
کہہ کر بیوی نے بوڑھی عورت کی طرف دیکھا، تو پاؤں تلے سے زمین ہی سرک گئی!
جھیپتے ہوئے بیوی بولی: "ماں، تم؟"
ہاں بیٹی! تمہارے بھائی اور بھابھی نے مجھے گھر سے نکال دیا. داماد جی کو فون كيا تو یہ مجھے یہاں لے آئے.
بڑھیا نے کہا، تو بیوی نے چہکتی نظروں سے شوہر کی طرف دیکھا اور بولی:
آپ بھی بڑے وہ ہو، ڈارلنگ! پہلے کیوں نہیں بتایا کہ میری ماں کو لانے گئے تھے؟
🔘 اس میسج کو اتنا شیئر کرو کہ ہر عورت تک پہنچ سکے!
کہ ماں تو ماں ہوتی ہے! کیا میری، کیا تیری؟
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/652
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
💓حضرت موسٰیؑ کا بہشتی ہمسایہ💓
حضرت موسٰیؑ اپنے رب سے محوِ مناجات تھے کہ دل میں خیال گزرا، جنت میں میرا ہمسایہ کون ہوگا لہذا عرض کیا؛
پروردگار، اے رب ذوالجلال! کیا مجھے یہ خبر دی جا سکتی ہے کہ جنت میں میرا ہمسایہ کون ہوگا اور کیا میں اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ…
حضرت موسٰیؑ اپنے رب سے محوِ مناجات تھے کہ دل میں خیال گزرا، جنت میں میرا ہمسایہ کون ہوگا لہذا عرض کیا؛
پروردگار، اے رب ذوالجلال! کیا مجھے یہ خبر دی جا سکتی ہے کہ جنت میں میرا ہمسایہ کون ہوگا اور کیا میں اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ…
🔶 ہم نشینی 🔶
💦حضرت امام سجاد علیہ السلام اپنے فرزند ارجمند کو فرماتے ہیں: کوشش کرو پانچ آدمیوں کے ساتھ ہمنشینی نہ کرو.
آپ کے فرزند نے سوال کیا:
اے بابا جان وہ کونسے افراد ہیں؟
حضرت امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا:
1💧 - جھوٹے آدمی کے ساتھ ہمنشینی نہیں کرو، کیونکہ وہ دور سے آپ کو پانی کی طرح دیکھائی دے گا، لیکن اندر سے خراب ہے، وہ دور کو نزدیک اور نزدیک کو دور دیکھاتا ہے.
2 💧- وہ لوگ جو اللہ تعالی کی نافرمانی کرتے ہیں، ان کے ساتھ ہمنشینی نہیں کرو، کیونکہ وہ تمہیں ایک لقمہ سے بھی کم قیمت پر فروخت کر ڈالیں گے، اور اپنی صحیح زندگی کے لئے بیدار رہو.
3 💧- بخیل کے ساتھ ہمنشینی نہیں کرو، کیونکہ وہ تمہیں ذلیل اور خوار کرے گا، جب تم محتاج اور ضرورت مند ہو گے ، وہ تمہیں نہ مال، نہ زبان، کسی طرح سے بھی تمہاری مدد نہیں کرے گا.
4 💧- احمق کی دوستی سے اجتناب کرو، کیونکہ وہ تمہیں نفع پہنچانے کی کوشش کرے گا لیکن نقصان پہنچائے گا، کیونکہ وہ تشخیص دینے میں عاجز ہے، وہ اچھے اور برے کی تمیز نہیں کر سکتا.
5 💧- قطع رحم کرنے والے سے ہمنشینی نہیں کرو، کیونکہ وہ اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ صلہء رحمی نہیں کرتا اور ان کے ساتھ اچھائی نہیں کرتا، کیونکہ میں نے قرآن کریم میں قطع رحم کرنے والے شخص کو ملعون پایا ہے، اور ضروری ہے کہ ملعون شخص سے دوری اختیار کریں، تاکہ تم اس آگ میں مبتلا نہ ہو جاؤ.
📚 حوالہ:
بحارالانوار ج. 17.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
💦حضرت امام سجاد علیہ السلام اپنے فرزند ارجمند کو فرماتے ہیں: کوشش کرو پانچ آدمیوں کے ساتھ ہمنشینی نہ کرو.
آپ کے فرزند نے سوال کیا:
اے بابا جان وہ کونسے افراد ہیں؟
حضرت امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا:
1💧 - جھوٹے آدمی کے ساتھ ہمنشینی نہیں کرو، کیونکہ وہ دور سے آپ کو پانی کی طرح دیکھائی دے گا، لیکن اندر سے خراب ہے، وہ دور کو نزدیک اور نزدیک کو دور دیکھاتا ہے.
2 💧- وہ لوگ جو اللہ تعالی کی نافرمانی کرتے ہیں، ان کے ساتھ ہمنشینی نہیں کرو، کیونکہ وہ تمہیں ایک لقمہ سے بھی کم قیمت پر فروخت کر ڈالیں گے، اور اپنی صحیح زندگی کے لئے بیدار رہو.
3 💧- بخیل کے ساتھ ہمنشینی نہیں کرو، کیونکہ وہ تمہیں ذلیل اور خوار کرے گا، جب تم محتاج اور ضرورت مند ہو گے ، وہ تمہیں نہ مال، نہ زبان، کسی طرح سے بھی تمہاری مدد نہیں کرے گا.
4 💧- احمق کی دوستی سے اجتناب کرو، کیونکہ وہ تمہیں نفع پہنچانے کی کوشش کرے گا لیکن نقصان پہنچائے گا، کیونکہ وہ تشخیص دینے میں عاجز ہے، وہ اچھے اور برے کی تمیز نہیں کر سکتا.
5 💧- قطع رحم کرنے والے سے ہمنشینی نہیں کرو، کیونکہ وہ اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ صلہء رحمی نہیں کرتا اور ان کے ساتھ اچھائی نہیں کرتا، کیونکہ میں نے قرآن کریم میں قطع رحم کرنے والے شخص کو ملعون پایا ہے، اور ضروری ہے کہ ملعون شخص سے دوری اختیار کریں، تاکہ تم اس آگ میں مبتلا نہ ہو جاؤ.
📚 حوالہ:
بحارالانوار ج. 17.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 الله تعالٰی کی بخشش 🔷
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ایک شخص ایسا تھا جو اپنی توبہ پر کبھی ثابت قدم نہیں رہتا تھا۔ جب بھی وہ توبہ کرتا، اسے توڑ دیتا۔ یہاں تک کہ اسے اس حال میں بیس سال گزر گئے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی کہ میرے اس بندے سے کہہ دو میں تجھ سے سخت ناراض ہوں۔۔۔
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس آدمی کو اللہ کا پیغام دیا تو وہ بہت غمگین ہُوا اور جنگلوں کی طرف نکل گیا۔ اور وہاں جا کر اس گناہگار شخص نے ایسی خوبصورت دعا کی کہ اللہ تعالٰی کو دوبارہ وحی کرنا پڑی۔۔۔ اس شخص نے بارگاہِ ربّ العزت میں عرض کی۔۔
اے ربّ ذوالجلال! "تیری رحمت کم ہو گئی یا میرے گناہوں نے تجھے دُکھ دیا؟تیری بخشش کے خزانے ختم ہو گئے یا بندوں پر تیری نگاہِ کرم نہیں رہی؟ تیرے عفوودرگزر سے کونسا گناہ بڑا ہے؟ تُو کریم ہے، میں بخیل ہوں، کیا میرا بخل تیرے کرم پر غالب آ گیا ہے؟ اگر تُو نے اپنے بندوں کو اپنی رحمت سے محروم کر دیا تو وہ کس کے دروازے پر جائیں گے؟ اگر تُو نے دھتکار دیا تو وہ کہاں جائیں گے؟
اے ربِّ قادر و قہار! اگر تیری بخشش کم ہو گئی اور میرے لیے عذاب ہی رہ گیا ہے تو تمام گناہ گاروں کا عذاب مجھے دے دے میں اُن پر اپنی جان قربان کرتا ہوں۔"
اللّہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا؛ جاؤ اور میرے بندے سے کہدو کہ تُو نے میرے کمالِ قدرت اور عفو و درگزر کی حقیقت کو سمجھ لیا ہے۔ اگر تیرے گناہوں سے زمین بھر جائے تب بھی میں بخش دوں گا۔
📚 مُکاشِفۃُالقلُوب،ص170,171۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/646
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ایک شخص ایسا تھا جو اپنی توبہ پر کبھی ثابت قدم نہیں رہتا تھا۔ جب بھی وہ توبہ کرتا، اسے توڑ دیتا۔ یہاں تک کہ اسے اس حال میں بیس سال گزر گئے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی کہ میرے اس بندے سے کہہ دو میں تجھ سے سخت ناراض ہوں۔۔۔
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس آدمی کو اللہ کا پیغام دیا تو وہ بہت غمگین ہُوا اور جنگلوں کی طرف نکل گیا۔ اور وہاں جا کر اس گناہگار شخص نے ایسی خوبصورت دعا کی کہ اللہ تعالٰی کو دوبارہ وحی کرنا پڑی۔۔۔ اس شخص نے بارگاہِ ربّ العزت میں عرض کی۔۔
اے ربّ ذوالجلال! "تیری رحمت کم ہو گئی یا میرے گناہوں نے تجھے دُکھ دیا؟تیری بخشش کے خزانے ختم ہو گئے یا بندوں پر تیری نگاہِ کرم نہیں رہی؟ تیرے عفوودرگزر سے کونسا گناہ بڑا ہے؟ تُو کریم ہے، میں بخیل ہوں، کیا میرا بخل تیرے کرم پر غالب آ گیا ہے؟ اگر تُو نے اپنے بندوں کو اپنی رحمت سے محروم کر دیا تو وہ کس کے دروازے پر جائیں گے؟ اگر تُو نے دھتکار دیا تو وہ کہاں جائیں گے؟
اے ربِّ قادر و قہار! اگر تیری بخشش کم ہو گئی اور میرے لیے عذاب ہی رہ گیا ہے تو تمام گناہ گاروں کا عذاب مجھے دے دے میں اُن پر اپنی جان قربان کرتا ہوں۔"
اللّہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا؛ جاؤ اور میرے بندے سے کہدو کہ تُو نے میرے کمالِ قدرت اور عفو و درگزر کی حقیقت کو سمجھ لیا ہے۔ اگر تیرے گناہوں سے زمین بھر جائے تب بھی میں بخش دوں گا۔
📚 مُکاشِفۃُالقلُوب،ص170,171۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/646
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌲 خدا سے اُمید 🌲
خداوندمتعال کی معافی ہمارے گناہوں اور جرائم سے زیادہ ہے۔ ہمیشہ میری امیدیں خداوند ذوالجلال سے وابستہ ہیں کسی بھی شخص کو اپنے خالق لم یزل ولایزال سے ناامید نہیں ہونا چاہیے۔
●خداوندمتعال نے حضرت عیسٰیؑ سے فرمایا؛
"لا تَیْئَاسْ مِنْ رُوْحِی"…
خداوندمتعال کی معافی ہمارے گناہوں اور جرائم سے زیادہ ہے۔ ہمیشہ میری امیدیں خداوند ذوالجلال سے وابستہ ہیں کسی بھی شخص کو اپنے خالق لم یزل ولایزال سے ناامید نہیں ہونا چاہیے۔
●خداوندمتعال نے حضرت عیسٰیؑ سے فرمایا؛
"لا تَیْئَاسْ مِنْ رُوْحِی"…
🔷 وقت، وقت اور وقت 🔷
ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ 1 ﺭﻭﭘﮯ ﮐﯽ ﭘﺘﻨﮓ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ 2 ﮐﻠﻮﻣﯿﭩﺮ ﺗﮏ ﺑﮭﺎﮔﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﻛﺘﻨﯽ ﭼﻮﭨﯿﮟ ﻟﮕﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ ... ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﭘﺘﻨﮓ ﺑﮭﯽ ﮨﻤﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺩﻭﮌﺍﺗﯽ ﺗﮭﯽ ...
ﺁﺝ ﭘﺘﮧ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﮯ،
ﺩﺭﺍﺻﻞ ﻭﮦ ﭘﺘﻨﮓ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ؛
ﺍﯾﮏ ﭼﯿﻠﻨﺞ ﺗﮭﺎ ...
ﺧﻮﺷﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺩﻭﮌﻧﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ ... ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺧﻮﺷﯿﺎﮞ ﺩﮐﺎﻧﻮﮞ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯿﮟ ... ﺷﺎﯾﺪ ﯾﮩﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮨﮯ ... !!!
ﺟﺐ ﺑﭽﭙﻦ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺍﺏ ﺗﮭﺎ ... ﺟﺐ ﺟﻮﺍﻥ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻮ ﺑﭽﭙﻦ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﯾﺎﺩ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ... !!
ﺟﺐ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ، ﺁﺯﺍﺩﯼ ﺍﭼﮭﯽ ﻟﮕﺘﯽ ﺗﮭﯽ ... ﺁﺝ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮨﮯ، ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﮔﮭﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺟﻠﺪﯼ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ ... !!
ﺍﺳﮑﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﮭﮕﮍﮮ ﺗﮭﮯ، ﺁﺝ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮨﯽ ﺍﻧﭩﺮﻧﯿﭧ ﭘﮧ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ... !!
ﺧﻮﺷﯽ ﮐﺲ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﭘﺘﮧ ﺍﺏ ﭼﻼ ﮨﮯ ... ﺑﭽﭙﻦ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺍﺏ ﮨﻮﺍ ...
ﺟﺐ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﺮﭦ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﭼﮭﭙﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﮯ ﭘﮭﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺟﺎﺩﻭ ﺳﮯ ﻏﺎﺋﺐ ﮐﺮ ﺩﯾﮯ ۔۔۔
ﺟﺐ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﭼﺎﺭ ﺭﻧﮕﻮﮞ ﺳﮯ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺍﯾﮏ ﻗﻠﻢ ﮨﻮﺍ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺑﭩﻦ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﺑﺎﻧﮯ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ...
ﺟﺐ ﮨﻢ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﮭﭙﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﮈﺭﺍ ﺳﮑﯿﮟ ...
ﺟﺐ ﺁﻧﮑﮫ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ کے ﺳﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﮈﺭﺍﻣﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﮨﻤﯿﮟ ﮔﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﮯ ﺑﺴﺘﺮ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﮮ ...
ﺳﻮﭼﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ کہ ﯾﮧ ﭼﺎﻧﺪ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﭼﻞ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ...
ﻓﺮﯾﺞ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺳﮯ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﮐﮯ ﯾﮧ ﺟﺎﻧﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ کہ ﺍﺱ کی ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﺐ ﺑﻨﺪ ﮨﻮﺗﯽ ہے ...
ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﻢ ﺑﮍﮮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ؟
ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﻢ ﺑﮍﮮ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ۔۔۔؟
ﯾﮩﯽ ﻗﺪﺭﺕ ﮐﮯ ﺍﺻﻮﻝ ﮨﯿﮟ .. ﯾﮩﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺩﺳﺘﻮﺭ ﮨﮯ ...
ﻧﮧ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﺳﮯ ﺁﺋﮯ ﺗﮭﮯ،،، ﻣﮕﺮ ﺁﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﯿﺎ،،، ﻧﮧ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺟﺎﻧﺎ ﺗﻮ ﮨﮯ ﮨﯽ .... ﺗﻮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﯾﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﺱ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﮐﯽ ﺑﻨﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﺬﺍﺭﯾﮟ،، ﺟﺲ ﺳﮯ ﺟﺘﻨﺎ ﻣﺎﻧﮕﻮ ﻭﮦ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ..
ﺟﺲ ﮐﮯ ﻋﻄﺎ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﮐﻮ ﺑﺨﺸﻨﮯ ﮐﺎ ﺑﮩﺎﻧﮧ ﮈﮬﻮﻧﮉﮮ .. ﺍﺱ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻏﻼﻡ ﺑﻨﯿﮟ ﺟﻮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻗﺪﺭﺩﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﻭﻓﺎؤﮞ ﻭﺍﻻ ھے....
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے ضرور شیئر کریں۔
https://t.me/islamwitheman/570
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ 1 ﺭﻭﭘﮯ ﮐﯽ ﭘﺘﻨﮓ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ 2 ﮐﻠﻮﻣﯿﭩﺮ ﺗﮏ ﺑﮭﺎﮔﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﻛﺘﻨﯽ ﭼﻮﭨﯿﮟ ﻟﮕﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ ... ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﭘﺘﻨﮓ ﺑﮭﯽ ﮨﻤﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺩﻭﮌﺍﺗﯽ ﺗﮭﯽ ...
ﺁﺝ ﭘﺘﮧ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﮯ،
ﺩﺭﺍﺻﻞ ﻭﮦ ﭘﺘﻨﮓ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ؛
ﺍﯾﮏ ﭼﯿﻠﻨﺞ ﺗﮭﺎ ...
ﺧﻮﺷﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺩﻭﮌﻧﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ ... ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺧﻮﺷﯿﺎﮞ ﺩﮐﺎﻧﻮﮞ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯿﮟ ... ﺷﺎﯾﺪ ﯾﮩﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮨﮯ ... !!!
ﺟﺐ ﺑﭽﭙﻦ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺍﺏ ﺗﮭﺎ ... ﺟﺐ ﺟﻮﺍﻥ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻮ ﺑﭽﭙﻦ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﯾﺎﺩ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ... !!
ﺟﺐ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ، ﺁﺯﺍﺩﯼ ﺍﭼﮭﯽ ﻟﮕﺘﯽ ﺗﮭﯽ ... ﺁﺝ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮨﮯ، ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﮔﮭﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺟﻠﺪﯼ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ ... !!
ﺍﺳﮑﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﮭﮕﮍﮮ ﺗﮭﮯ، ﺁﺝ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮨﯽ ﺍﻧﭩﺮﻧﯿﭧ ﭘﮧ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ... !!
ﺧﻮﺷﯽ ﮐﺲ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﭘﺘﮧ ﺍﺏ ﭼﻼ ﮨﮯ ... ﺑﭽﭙﻦ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺍﺏ ﮨﻮﺍ ...
ﺟﺐ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﺮﭦ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﭼﮭﭙﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﮯ ﭘﮭﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺟﺎﺩﻭ ﺳﮯ ﻏﺎﺋﺐ ﮐﺮ ﺩﯾﮯ ۔۔۔
ﺟﺐ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﭼﺎﺭ ﺭﻧﮕﻮﮞ ﺳﮯ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺍﯾﮏ ﻗﻠﻢ ﮨﻮﺍ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺑﭩﻦ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﺑﺎﻧﮯ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ...
ﺟﺐ ﮨﻢ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﮭﭙﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﮈﺭﺍ ﺳﮑﯿﮟ ...
ﺟﺐ ﺁﻧﮑﮫ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ کے ﺳﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﮈﺭﺍﻣﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﮨﻤﯿﮟ ﮔﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﮯ ﺑﺴﺘﺮ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﮮ ...
ﺳﻮﭼﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ کہ ﯾﮧ ﭼﺎﻧﺪ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﭼﻞ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ...
ﻓﺮﯾﺞ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺳﮯ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﮐﮯ ﯾﮧ ﺟﺎﻧﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ کہ ﺍﺱ کی ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﺐ ﺑﻨﺪ ﮨﻮﺗﯽ ہے ...
ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﻢ ﺑﮍﮮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ؟
ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﻢ ﺑﮍﮮ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ۔۔۔؟
ﯾﮩﯽ ﻗﺪﺭﺕ ﮐﮯ ﺍﺻﻮﻝ ﮨﯿﮟ .. ﯾﮩﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺩﺳﺘﻮﺭ ﮨﮯ ...
ﻧﮧ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﺳﮯ ﺁﺋﮯ ﺗﮭﮯ،،، ﻣﮕﺮ ﺁﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﯿﺎ،،، ﻧﮧ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺟﺎﻧﺎ ﺗﻮ ﮨﮯ ﮨﯽ .... ﺗﻮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﯾﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﺱ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﮐﯽ ﺑﻨﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﺬﺍﺭﯾﮟ،، ﺟﺲ ﺳﮯ ﺟﺘﻨﺎ ﻣﺎﻧﮕﻮ ﻭﮦ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ..
ﺟﺲ ﮐﮯ ﻋﻄﺎ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﮐﻮ ﺑﺨﺸﻨﮯ ﮐﺎ ﺑﮩﺎﻧﮧ ﮈﮬﻮﻧﮉﮮ .. ﺍﺱ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻏﻼﻡ ﺑﻨﯿﮟ ﺟﻮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻗﺪﺭﺩﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﻭﻓﺎؤﮞ ﻭﺍﻻ ھے....
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے ضرور شیئر کریں۔
https://t.me/islamwitheman/570
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷️ موت اور اس کی تیاری (درس) 🔷️
موت ایک سواری ہے جو ہر دروازے پر کھڑی ہوتی ہے، آخر مٹی کے اندر اترنا ہو گا. اپنی زندگی کا سرمایہ اپنی قبر میں بھیجیں قبل اس کے کہ دنیاوی زندگی کا خاتمہ ہو.
● قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے..
کل نفس ذائقة الموت.
ہر جاندار موت…
موت ایک سواری ہے جو ہر دروازے پر کھڑی ہوتی ہے، آخر مٹی کے اندر اترنا ہو گا. اپنی زندگی کا سرمایہ اپنی قبر میں بھیجیں قبل اس کے کہ دنیاوی زندگی کا خاتمہ ہو.
● قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے..
کل نفس ذائقة الموت.
ہر جاندار موت…
🕸 عنکبوت 🕸
ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ "ﺍﻟﻌﻨﮑﺒﻮﺕ" ﮨﮯ، ﻋﻨﮑﺒﻮﺕ ﮐﻮ ﺍﺭﺩﻭ ﻣﯿﮟ "ﻣﮑﮍﯼ" ﮐﮩﺎ ﺟﺎ ﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻗﺮﺁﻥ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﻮﺩﺍ ﯾﺎ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﻋﻨﮑﺒﻮﺕ ﮐﺎ ﮨﮯ۔
ﺟﺪﯾﺪ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻣﺎﺩﮦ ﻋﻨﮑﺒﻮﺕ ﺑﭽﮯ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻧﺮ ﻋﻨﮑﺒﻮﺕ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ، ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﺍﻭﻻﺩ ﺑﮍﯼ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ہے ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﺘﯽ ہے، ﮐﺘﻨﺎ ﻋﺠﯿﺐ ﻭ ﻏﺮﯾﺐ ﮔﮭﺮﺍﻧﮧ ﮨﮯ، ﯾﻘﯿﻨﺎ ﺑﺪﺗﺮﯾﻦ ﮔﮭﺮﺍﻧﮧ ﮨﮯ۔
ﻗﺮﺍﻥ ﮐﺎ ﻣﻌﺠﺰﮦ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺟﻤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺍﺱ ﮔﮭﺮﺍﻧﮯ ﮐﯽ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮ ﺩﯼ۔۔۔
"ﺍﻥَّ ﺍﻭﮬﻦَ ﺍﻟﺒُﯿﻮﺕِ ﻟﺒﯿﺖُ ﺍﻟﻌﻨﮑﺒﻮﺕ ﻟﻮ ﮐﺎﻧﻮﺍ
ﯾﻌﻠﻤﻮﻥ۔"
ترجمہ:
ﺑﮯ ﺷﮏ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﻋﻨﮑﺒﻮﺕ ﮐﺎ ﮨﮯ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ (ﺍﻧﺴﺎﻥ) ﻋﻠﻢ ﺭﮐﮭﺘﮯ۔"
ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺍﻟﻠﮧ!
ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻋﻨﮑﺒﻮﺕ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺣﺴﯽ (ﻇﺎﮨﺮ) ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﮐﻮ ﺗﻮ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﻌﻨﻮﯼ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ (ﺩﺷﻤﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻧﮧ ﺟﻨﮕﯽ) ﺳﮯ ﺑﮯ ﺧﺒﺮ ﺗﮭﮯ!
ﺍﺏ ﺟﺪﯾﺪ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﻋﻠﻢ ﺭﮐﮭﺘﮯ (ﯾﻌﻨﯽ ﻣﮑﮍﯼ ﮐﯽ ﮔﮭﺮﯾﻠﻮﮞ ﮐﻤﺰﻭﺭﯾﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺩﺷﻤﻨﯽ ﺳﮯ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﻮﺗﮯ)
ﺍﺱ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎلی ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﭘﻮﺭﯼ ﺳﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺍﺱ ﺑﺮﯼ ﺧﺼﻠﺖ ﻭﺍلے ﮐﯿﮍﮮ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﺎ ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﺳﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﺳﮯ ﺁﺧﺮ ﺗﮏ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﻓﺘﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ!!
ﺳﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺍﺑﺘﺪﺍ ﯾﻮﮞ ﮨﮯ۔۔۔
"ﺍﻟﻢ ﺍﺣﺴﺐ ﺍﻟﻨﺎﺱ ﺍﻥ ﯾﺘﺮﮐﻮﺍ ﺍﻥ ﯾﻘﻮﻟﻮﺍ ﺁﻣﻨﺎ ﻭﮬﻢ ﻻ ﯾﻔﺘﻨﻮﻥ۔"
ترجمہ:
ﮐﯿﺎ ﻟﻮﮒ ﯾﮧ ﺧﯿﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﭼﮭﻮﭦ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻئے ہیں ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺁﺯﻣﺎﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ جائے ﮔﺎ۔
ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ۔۔
"ﻭﻣﻦ ﺍﻟﻨﺎﺱ ﻣﻦ ﯾﻘﻮﻝ ﺁﻣﻨﺎ ﺑﺎﻟﻠﮧ ﻓﺎﺫﺍ ﺍﻭﺫﯼ ﻓﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺟﻌﻞ ﻓﺘﻨۃ ﺍﻟﻨﺎﺱ ﮐﻌﺬﺍﺏ ﺍﻟﻠﮧ"
ترجمہ:
اور ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﻮ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻئے ہیں ﻣﮕﺮ ﺟﺐ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﺫﯾﺖ ﺩﯼ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺁﺯﻣﺎﺋﺶ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻋﺬﺍﺏ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﮑﮍﯼ ﮐﺎ ﻓﺘﻨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺁﺯﻣﺎﺋﺸﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﮨﮯ؟
ﻓﺘﻨﮯ، ﺳﺎﺯﺷﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺁﺯﻣﺎﺋﺸﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﮑﮍﯼ ﮐﮯ ﺟﺎﻝ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﯿﭽﯿﺪﮦ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺗﻤﯿﺰ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺑﮯﻧﻘﺎﺏ ﮐﺮﻧﺎ ﺁﺳﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔ ﻣﮕﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﯾﮧ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺳﺎﺯﺷﯽ ﮐﻔﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﻨﺎﻓﻖ ﺍﯾﺠﻨﭩﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﭼﺎﻟﯿﮟ ﻣﮑﮍﯼ ﮐﮯ ﺟﺎﻝ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﻤﺮ ﮐﺲ ﻟﯿﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ، ﯾﻘﯿﻨﺎ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺗﻮ ﻣﺘﻘﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﮨﯽ ﮨﮯ!!
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/748
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ "ﺍﻟﻌﻨﮑﺒﻮﺕ" ﮨﮯ، ﻋﻨﮑﺒﻮﺕ ﮐﻮ ﺍﺭﺩﻭ ﻣﯿﮟ "ﻣﮑﮍﯼ" ﮐﮩﺎ ﺟﺎ ﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻗﺮﺁﻥ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﻮﺩﺍ ﯾﺎ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﻋﻨﮑﺒﻮﺕ ﮐﺎ ﮨﮯ۔
ﺟﺪﯾﺪ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻣﺎﺩﮦ ﻋﻨﮑﺒﻮﺕ ﺑﭽﮯ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻧﺮ ﻋﻨﮑﺒﻮﺕ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ، ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﺍﻭﻻﺩ ﺑﮍﯼ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ہے ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﺘﯽ ہے، ﮐﺘﻨﺎ ﻋﺠﯿﺐ ﻭ ﻏﺮﯾﺐ ﮔﮭﺮﺍﻧﮧ ﮨﮯ، ﯾﻘﯿﻨﺎ ﺑﺪﺗﺮﯾﻦ ﮔﮭﺮﺍﻧﮧ ﮨﮯ۔
ﻗﺮﺍﻥ ﮐﺎ ﻣﻌﺠﺰﮦ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺟﻤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺍﺱ ﮔﮭﺮﺍﻧﮯ ﮐﯽ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮ ﺩﯼ۔۔۔
"ﺍﻥَّ ﺍﻭﮬﻦَ ﺍﻟﺒُﯿﻮﺕِ ﻟﺒﯿﺖُ ﺍﻟﻌﻨﮑﺒﻮﺕ ﻟﻮ ﮐﺎﻧﻮﺍ
ﯾﻌﻠﻤﻮﻥ۔"
ترجمہ:
ﺑﮯ ﺷﮏ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﻋﻨﮑﺒﻮﺕ ﮐﺎ ﮨﮯ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ (ﺍﻧﺴﺎﻥ) ﻋﻠﻢ ﺭﮐﮭﺘﮯ۔"
ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺍﻟﻠﮧ!
ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻋﻨﮑﺒﻮﺕ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺣﺴﯽ (ﻇﺎﮨﺮ) ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﮐﻮ ﺗﻮ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﻌﻨﻮﯼ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ (ﺩﺷﻤﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻧﮧ ﺟﻨﮕﯽ) ﺳﮯ ﺑﮯ ﺧﺒﺮ ﺗﮭﮯ!
ﺍﺏ ﺟﺪﯾﺪ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﻋﻠﻢ ﺭﮐﮭﺘﮯ (ﯾﻌﻨﯽ ﻣﮑﮍﯼ ﮐﯽ ﮔﮭﺮﯾﻠﻮﮞ ﮐﻤﺰﻭﺭﯾﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺩﺷﻤﻨﯽ ﺳﮯ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﻮﺗﮯ)
ﺍﺱ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎلی ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﭘﻮﺭﯼ ﺳﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺍﺱ ﺑﺮﯼ ﺧﺼﻠﺖ ﻭﺍلے ﮐﯿﮍﮮ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﺎ ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﺳﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﺳﮯ ﺁﺧﺮ ﺗﮏ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﻓﺘﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ!!
ﺳﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺍﺑﺘﺪﺍ ﯾﻮﮞ ﮨﮯ۔۔۔
"ﺍﻟﻢ ﺍﺣﺴﺐ ﺍﻟﻨﺎﺱ ﺍﻥ ﯾﺘﺮﮐﻮﺍ ﺍﻥ ﯾﻘﻮﻟﻮﺍ ﺁﻣﻨﺎ ﻭﮬﻢ ﻻ ﯾﻔﺘﻨﻮﻥ۔"
ترجمہ:
ﮐﯿﺎ ﻟﻮﮒ ﯾﮧ ﺧﯿﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﭼﮭﻮﭦ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻئے ہیں ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺁﺯﻣﺎﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ جائے ﮔﺎ۔
ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ۔۔
"ﻭﻣﻦ ﺍﻟﻨﺎﺱ ﻣﻦ ﯾﻘﻮﻝ ﺁﻣﻨﺎ ﺑﺎﻟﻠﮧ ﻓﺎﺫﺍ ﺍﻭﺫﯼ ﻓﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺟﻌﻞ ﻓﺘﻨۃ ﺍﻟﻨﺎﺱ ﮐﻌﺬﺍﺏ ﺍﻟﻠﮧ"
ترجمہ:
اور ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﻮ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻئے ہیں ﻣﮕﺮ ﺟﺐ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﺫﯾﺖ ﺩﯼ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺁﺯﻣﺎﺋﺶ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻋﺬﺍﺏ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﮑﮍﯼ ﮐﺎ ﻓﺘﻨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺁﺯﻣﺎﺋﺸﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﮨﮯ؟
ﻓﺘﻨﮯ، ﺳﺎﺯﺷﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺁﺯﻣﺎﺋﺸﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﮑﮍﯼ ﮐﮯ ﺟﺎﻝ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﯿﭽﯿﺪﮦ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺗﻤﯿﺰ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺑﮯﻧﻘﺎﺏ ﮐﺮﻧﺎ ﺁﺳﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔ ﻣﮕﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﯾﮧ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺳﺎﺯﺷﯽ ﮐﻔﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﻨﺎﻓﻖ ﺍﯾﺠﻨﭩﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﭼﺎﻟﯿﮟ ﻣﮑﮍﯼ ﮐﮯ ﺟﺎﻝ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﻤﺮ ﮐﺲ ﻟﯿﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ، ﯾﻘﯿﻨﺎ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺗﻮ ﻣﺘﻘﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﮨﯽ ﮨﮯ!!
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/748
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 وقت، وقت اور وقت 🔷
ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ 1 ﺭﻭﭘﮯ ﮐﯽ ﭘﺘﻨﮓ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ 2 ﮐﻠﻮﻣﯿﭩﺮ ﺗﮏ ﺑﮭﺎﮔﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﻛﺘﻨﯽ ﭼﻮﭨﯿﮟ ﻟﮕﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ ... ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﭘﺘﻨﮓ ﺑﮭﯽ ﮨﻤﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺩﻭﮌﺍﺗﯽ ﺗﮭﯽ ...
ﺁﺝ ﭘﺘﮧ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﮯ،
ﺩﺭﺍﺻﻞ ﻭﮦ ﭘﺘﻨﮓ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ؛
ﺍﯾﮏ ﭼﯿﻠﻨﺞ ﺗﮭﺎ ...
ﺧﻮﺷﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺩﻭﮌﻧﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ ...…
ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ 1 ﺭﻭﭘﮯ ﮐﯽ ﭘﺘﻨﮓ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ 2 ﮐﻠﻮﻣﯿﭩﺮ ﺗﮏ ﺑﮭﺎﮔﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﻛﺘﻨﯽ ﭼﻮﭨﯿﮟ ﻟﮕﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ ... ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﭘﺘﻨﮓ ﺑﮭﯽ ﮨﻤﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺩﻭﮌﺍﺗﯽ ﺗﮭﯽ ...
ﺁﺝ ﭘﺘﮧ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﮯ،
ﺩﺭﺍﺻﻞ ﻭﮦ ﭘﺘﻨﮓ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ؛
ﺍﯾﮏ ﭼﯿﻠﻨﺞ ﺗﮭﺎ ...
ﺧﻮﺷﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺩﻭﮌﻧﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ ...…
🔷 ریاست کا بادشاہ 🔷
ایک ریاست کے بادشاہ نے یہ اعلان کروا دیا کہ کل صبح جب میرے محل کا مرکزی دروازہ کھولا جائے گا تب جس شخص نے بھی محل میں جس چیز کو ہاتھ لگا دیا وہ چیز اس کی ھو جائے گی.
اس اعلان کو سن کر سب لوگ آپس میں بات چیت کرنے لگے کہ میں تو سب سے قیمتی چیز کو ہاتھ لگاؤں گا.
کچھ لوگ کہنے لگے میں تو سونے کو ہاتھ لگاؤں گا، کچھ لوگ چاندی کو تو کچھ لوگ قیمتی زیورات کو، کچھ لوگ گھوڑوں کو تو کچھ لوگ ہاتھی، کچھ لوگ دودھ دینے والی گائے کو ہاتھ لگانے کی بات کر رہے تھے.
جب صبح محل کا مرکزی دروازہ کھلا اور سب لوگ اپنی اپنی من پسند چیزوں کے لئے دوڑے. سب کو اس بات کی جلدی تھی کہ پہلے میں اپنی من پسند چیزوں کو ہاتھ لگا دوں تاکہ وہ چیز ہمیشہ کے لئے میری ہو جائے۔
بادشاہ اپنی جگہ پر بیٹھا سب کو دیکھ رہا تھا اور اپنے آس پاس ھونے والی بھاگ دوڑ کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا.
اسی وقت اس بھیڑ میں سے ایک شخص بادشاہ کی طرف بڑھنے لگا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا بادشاہ کے پاس پہنچ کر اس نے"بادشاہ" کو چھو لیا.
بادشاہ کو ہاتھ لگاتے ہی "بادشاہ" اس کا ہو گیا اور بادشاہ کی "ہر چیز" بھی اس کی ھو گئی.
🔘 جس طرح "بادشاہ" نے ان لوگوں کو موقع دیا اور ان لوگوں نے غلطیاں کیں. ٹھیک اسی طرح ساری دنیا کا "مالک" بھی ہم سب کو ہر روز موقع دیتا ہے، لیکن افسوس ہم لوگ بھی ہر روز غلطیاں کرتے ہیں.
ہم اللہ کو حاصل کرنے کی بجائے اللہ کی بنائی ہوئی دنیا کی چیزوں کی آرزو کرتے ہیں. لیکن کبھی بھی ہم لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ کیوں نہ دنیا کے بنانے والے "مالک" کو پا لیا جائے.
اگر "مالک" ہمارا ھو گیا تو اس کی بنائی ہوئی ہر چیز بھی ہماری ھو جائے گی۔۔!
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے ضرور شیئر کریں۔
https://t.me/islamwitheman/747
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ایک ریاست کے بادشاہ نے یہ اعلان کروا دیا کہ کل صبح جب میرے محل کا مرکزی دروازہ کھولا جائے گا تب جس شخص نے بھی محل میں جس چیز کو ہاتھ لگا دیا وہ چیز اس کی ھو جائے گی.
اس اعلان کو سن کر سب لوگ آپس میں بات چیت کرنے لگے کہ میں تو سب سے قیمتی چیز کو ہاتھ لگاؤں گا.
کچھ لوگ کہنے لگے میں تو سونے کو ہاتھ لگاؤں گا، کچھ لوگ چاندی کو تو کچھ لوگ قیمتی زیورات کو، کچھ لوگ گھوڑوں کو تو کچھ لوگ ہاتھی، کچھ لوگ دودھ دینے والی گائے کو ہاتھ لگانے کی بات کر رہے تھے.
جب صبح محل کا مرکزی دروازہ کھلا اور سب لوگ اپنی اپنی من پسند چیزوں کے لئے دوڑے. سب کو اس بات کی جلدی تھی کہ پہلے میں اپنی من پسند چیزوں کو ہاتھ لگا دوں تاکہ وہ چیز ہمیشہ کے لئے میری ہو جائے۔
بادشاہ اپنی جگہ پر بیٹھا سب کو دیکھ رہا تھا اور اپنے آس پاس ھونے والی بھاگ دوڑ کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا.
اسی وقت اس بھیڑ میں سے ایک شخص بادشاہ کی طرف بڑھنے لگا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا بادشاہ کے پاس پہنچ کر اس نے"بادشاہ" کو چھو لیا.
بادشاہ کو ہاتھ لگاتے ہی "بادشاہ" اس کا ہو گیا اور بادشاہ کی "ہر چیز" بھی اس کی ھو گئی.
🔘 جس طرح "بادشاہ" نے ان لوگوں کو موقع دیا اور ان لوگوں نے غلطیاں کیں. ٹھیک اسی طرح ساری دنیا کا "مالک" بھی ہم سب کو ہر روز موقع دیتا ہے، لیکن افسوس ہم لوگ بھی ہر روز غلطیاں کرتے ہیں.
ہم اللہ کو حاصل کرنے کی بجائے اللہ کی بنائی ہوئی دنیا کی چیزوں کی آرزو کرتے ہیں. لیکن کبھی بھی ہم لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ کیوں نہ دنیا کے بنانے والے "مالک" کو پا لیا جائے.
اگر "مالک" ہمارا ھو گیا تو اس کی بنائی ہوئی ہر چیز بھی ہماری ھو جائے گی۔۔!
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے ضرور شیئر کریں۔
https://t.me/islamwitheman/747
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 الله تعالٰی کی بخشش 🔷
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ایک شخص ایسا تھا جو اپنی توبہ پر کبھی ثابت قدم نہیں رہتا تھا۔ جب بھی وہ توبہ کرتا، اسے توڑ دیتا۔ یہاں تک کہ اسے اس حال میں بیس سال گزر گئے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی کہ…
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ایک شخص ایسا تھا جو اپنی توبہ پر کبھی ثابت قدم نہیں رہتا تھا۔ جب بھی وہ توبہ کرتا، اسے توڑ دیتا۔ یہاں تک کہ اسے اس حال میں بیس سال گزر گئے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی کہ…
🎅 ریڈی میڈ 🎅
جس طرح گھریلو کھانوں کی جگہ فاسٹ فوڈز نے لے رکھی ہے اسیطرح عبادات اور تلاوت کلام پاک کی جگہ مختصر آرام دہ وظائف نے لے رکھی ہے۔
ہمارے بچے کہنا نہیں مانتے ۔۔۔
کاروبار میں برکت نہیں ہے ۔۔۔
گھر میں جو پیسہ آتا ہے سمجھ نہیں آتی کہاں جاتا ہے۔۔
اولاد ضدی ہو گئی ہے۔۔۔
گھر میں آئے روز کوئی نا کوئی بیمار ہو رہا ہے۔۔
کوئی نا کوئی پریشانی آجاتی ہے ۔۔۔
جس کام میں ہاتھ ڈالو وہیں رکاوٹ ۔۔۔
کام بنتے بنتے رہ جاتے ہیں ۔۔۔
ناجانے بیسیوں مسائل ہر گھر میں موجود ہیں ۔۔
اور ان کے اسباب بھی ہمارے آس پاس ہی ہیں لیکن ہم انہیں سیریس نہیں لیتے یا پھر انہیں اسباب ہی نہیں سمجھتے۔
مثال کے طور پر بنکوں سے قرضے لینا،
اوپر (رشوت) کی کمائی کھانا،
ایک دوسرے کی ترقی دیکھ کر حسد کرنا اور دعا دیئے بغیر جھوٹی تعریف کرنا (نظر لگنے کا سبب)
نماز نہ پڑھنے کی نحوست ہمارے گھروں میں ہمارے کاروبار میں ۔۔۔
ہفتوں قرآن نہ کھولنا۔۔۔
یہ سارے اسباب ہیں ان پریشانیوں کے جو آئے روز ہمارے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہیں ۔۔۔
لیکن اس میں بھی ہمیں ریڈی میڈ وظیفہ چاہئے جس کا تعلق نہ نماز سے ہو، نہ سود سے روک تھام ہو، نہ رشوت کی ممانعت سے لیس ہو، نہ ہی قرآن کھولنا پڑے بس کوئی آسان سا وظیفہ مل جائے تو چار چاند لگ جائیں۔
ایک دفعہ کسی صاحب کا فون آیا اور گھریلو مسائل بتا کر کہنے لگے کوئی وظیفہ بتائیں۔
عرض کی میں کوئی پیر، عامل یا شیخ تو ہوں نہیں۔ ہاں البتہ کہیں پڑھا تھا کہ سورہ بقرہ اول تا آخر اہتمام سے پڑھی جائے اور پھر دعا کی جائے تو اللہ کے حکم سے خیر ہوتی ہے۔
وہ صاحب شاید دل ہی دل میں سورہ کوثر کیلئے کمر باند رہے تھے۔ سورہ بقرہ کا نام سن کر گھبرا گئے اور کہا ان شاءاللہ میں پڑھوں گا۔
دو دن بعد پھر کال آئی "کیا سورہ بقرہ ایک ہی دن پڑھنی ہے؟
کیا ایک ہی آدمی نے پڑھنی ہے یا گھر کے سارے افراد پڑھ سکتے ہیں؟
کیا صحن میں بیٹھ کر پڑھ سکتے ہیں؟
اچھا یہ بتائیں اگر درمیان میں باتیں کر لیں تو کیا دوبارہ شروع سے پڑھنی پڑھے گی؟؟ (اس جیسی کئی توہمات)
عرض کیا جیسے بھی پڑھیں بس اللہ کا نام لیکر پڑھ لیں ایک بار مکمل ۔۔۔
پھر کچھ دن بعد کال آئی اور پھر سے سوالات۔ مگر سورہ بقرہ وہیں کی وہیں کھڑی تھی۔
(انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا ابھی تک ایک رکوع پڑھنے کی ہمت نہ ہو سکی !!)
اور وہی ہوا جسکا ڈر تھا۔ آخر میں فرمانے لگے "جناب اگر ممکن ہو تو آپ پڑھ دیں گے ہماری طرف سے؟
گویا ریڈی میڈ موصوف پڑھوانا چاہ رہے تھے وہ بھی ہوم ڈلیوری کیساتھ۔
✍ مستنصر حسین تارڑ
😂🤡😂
https://t.me/muskuraahten
🎅 MUSKURAAHTEN 🎅
جس طرح گھریلو کھانوں کی جگہ فاسٹ فوڈز نے لے رکھی ہے اسیطرح عبادات اور تلاوت کلام پاک کی جگہ مختصر آرام دہ وظائف نے لے رکھی ہے۔
ہمارے بچے کہنا نہیں مانتے ۔۔۔
کاروبار میں برکت نہیں ہے ۔۔۔
گھر میں جو پیسہ آتا ہے سمجھ نہیں آتی کہاں جاتا ہے۔۔
اولاد ضدی ہو گئی ہے۔۔۔
گھر میں آئے روز کوئی نا کوئی بیمار ہو رہا ہے۔۔
کوئی نا کوئی پریشانی آجاتی ہے ۔۔۔
جس کام میں ہاتھ ڈالو وہیں رکاوٹ ۔۔۔
کام بنتے بنتے رہ جاتے ہیں ۔۔۔
ناجانے بیسیوں مسائل ہر گھر میں موجود ہیں ۔۔
اور ان کے اسباب بھی ہمارے آس پاس ہی ہیں لیکن ہم انہیں سیریس نہیں لیتے یا پھر انہیں اسباب ہی نہیں سمجھتے۔
مثال کے طور پر بنکوں سے قرضے لینا،
اوپر (رشوت) کی کمائی کھانا،
ایک دوسرے کی ترقی دیکھ کر حسد کرنا اور دعا دیئے بغیر جھوٹی تعریف کرنا (نظر لگنے کا سبب)
نماز نہ پڑھنے کی نحوست ہمارے گھروں میں ہمارے کاروبار میں ۔۔۔
ہفتوں قرآن نہ کھولنا۔۔۔
یہ سارے اسباب ہیں ان پریشانیوں کے جو آئے روز ہمارے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہیں ۔۔۔
لیکن اس میں بھی ہمیں ریڈی میڈ وظیفہ چاہئے جس کا تعلق نہ نماز سے ہو، نہ سود سے روک تھام ہو، نہ رشوت کی ممانعت سے لیس ہو، نہ ہی قرآن کھولنا پڑے بس کوئی آسان سا وظیفہ مل جائے تو چار چاند لگ جائیں۔
ایک دفعہ کسی صاحب کا فون آیا اور گھریلو مسائل بتا کر کہنے لگے کوئی وظیفہ بتائیں۔
عرض کی میں کوئی پیر، عامل یا شیخ تو ہوں نہیں۔ ہاں البتہ کہیں پڑھا تھا کہ سورہ بقرہ اول تا آخر اہتمام سے پڑھی جائے اور پھر دعا کی جائے تو اللہ کے حکم سے خیر ہوتی ہے۔
وہ صاحب شاید دل ہی دل میں سورہ کوثر کیلئے کمر باند رہے تھے۔ سورہ بقرہ کا نام سن کر گھبرا گئے اور کہا ان شاءاللہ میں پڑھوں گا۔
دو دن بعد پھر کال آئی "کیا سورہ بقرہ ایک ہی دن پڑھنی ہے؟
کیا ایک ہی آدمی نے پڑھنی ہے یا گھر کے سارے افراد پڑھ سکتے ہیں؟
کیا صحن میں بیٹھ کر پڑھ سکتے ہیں؟
اچھا یہ بتائیں اگر درمیان میں باتیں کر لیں تو کیا دوبارہ شروع سے پڑھنی پڑھے گی؟؟ (اس جیسی کئی توہمات)
عرض کیا جیسے بھی پڑھیں بس اللہ کا نام لیکر پڑھ لیں ایک بار مکمل ۔۔۔
پھر کچھ دن بعد کال آئی اور پھر سے سوالات۔ مگر سورہ بقرہ وہیں کی وہیں کھڑی تھی۔
(انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا ابھی تک ایک رکوع پڑھنے کی ہمت نہ ہو سکی !!)
اور وہی ہوا جسکا ڈر تھا۔ آخر میں فرمانے لگے "جناب اگر ممکن ہو تو آپ پڑھ دیں گے ہماری طرف سے؟
گویا ریڈی میڈ موصوف پڑھوانا چاہ رہے تھے وہ بھی ہوم ڈلیوری کیساتھ۔
✍ مستنصر حسین تارڑ
😂🤡😂
https://t.me/muskuraahten
🎅 MUSKURAAHTEN 🎅
Telegram
🎅مسکراہٹیں🎅
لطیفے، مزاحیہ اور ہارر کلپس
🔷حضرت خضرؑ و موسٰیؑ(حصہ اول)🔷
حضرت موسٰیؑ بنی اسرائیل کو خطاب کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو ان سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ علم کس کے پاس ہے؟
حضرت موسٰیؑ نے فرمایا:
میرے پاس۔
تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب کیا کہ علم کو اللہ کی طرف منسوب کیوں نہیں کیا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی کہ بحرین جہاں دو دریا ملتے ہیں وہاں میرے بندوں میں سے ایک بندہ ایسا ہے جس کے پاس آپ سے زیادہ علم ہے۔
موسٰیؑ نے عرض کیا:
اے رب! میں کس طرح اس کے پاس پہنچوں گا؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا؛
زنبیل میں ایک مچھلی رکھ کر چل دو جہاں وہ کھو جائے گی وہیں وہ شخص آپ کو ملے گا۔
پھر موسٰیؑ نے اپنے ساتھ اپنے خادم یوشع بن نون کو لیا اور زنبیل میں مچھلی رکھ کر چل دیئے یہانتک کہ ایک ٹیلے کے پاس پہنچے تو موسٰیؑ اور ان کے خادم دونوں لیٹ گئے اور سو گئے۔ مچھلی زنبیل میں کودنے لگی۔ یہاں تک کہ نکل کر دریا میں گر گئی۔ اللہ تعالیٰ نے پانی کا بہاؤ وہیں روک دیا اور وہاں طاق سا بن گیا اور اس کا راستہ ویسا ہی بنا رہا۔ جب کہ موسٰیؑ کے ساتھی بھول گئے کہ انہیں مچھلی کے متعلق بتائیں، صبح ہوئی تو موسٰیؑ نےاپنے ساتھی سے کھانا طلب کیا اور فرمایا کہ اس سفر میں ہمیں بہت تھکن ہوئی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ موسٰیؑ اسی وقت تھکے جب اس جگہ سے تجاوز کیا جس کے متعلق حکم دیا گیا تھا کہ ان کے ساتھی نے کہا۔ دیکھئے جب ہم ٹیلے پر ٹھہرے تو میں مچھلی بھول گیا تھا اور یقینا یہ شیطان ہی کا کام ہے کہ مجھے بھلا دیا کہ میں آپ سے اس کا تذکرہ کروں کہ اس نے عجیب طریقے سے دریا کا راستہ اختیار کیا۔ موسٰیؑ فرمانے لگے وہی جگہ ہم تلاش کر رہے تھے۔ چنانچہ وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانوں پر واپس لوٹے۔ وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے چلتے چٹان کے پاس پہنچے تو ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ چادر سے اپنے آپ کو ڈھانکے ہوئے ہے۔۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں سلام کیا۔ انہوں نے فرمایا اس زمین میں سلام کہاں؟
موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا میں زمین میں موسٰی ہوں۔
انہوں نے پوچھا؛
بنی اسرائیل کا موسیٰ؟
آپ علیہ السلام نے فرمایا؛ ہاں۔
حضرت خضر نے فرمایا؛
اے موسیٰ تمہارے پاس اللہ کا دیا ہوا ایک علم ہے جسے میں نہیں جانتا اور میرے پاس اللہ کا عطا کردہ ایک علم ہے جسے آپ نہیں جانتے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا؛
کیا میں اس شرط پر آپ کے پیچھے چلوں کہ آپ میری رہنمائی فرماتے ہوئے مجھے وہ بات سکھائیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھائی۔
حضرت خضرؑ نے فرمایا؛
آپ صبر نہیں کر سکیں گے اور اس چیز پر کیسے صبر کر سکیں گے جس کا آپ کی عقل نے احاطہ نہیں کیا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا؛
عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے اور میں آپ کی حکم عدولی نہیں کروں گا۔
حضرت خضرؑ نے فرمایا؛
اگر میری پیروی کرنا ہی چاہتے ہو تو جب تک کوئی بات میں خود نہ بیان کروں آپ مجھے نہیں پوچھیں گے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا؛
ٹھیک ہے ۔۔
پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضرؑ دونوں ساحل پر چل رہے تھے کہ ایک کشتی ان کے پاس سے گذری، انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی سوار کرلو انہوں نے حضرت خضر علیہ السلام کو پہچان لیا اور بغیر کرائے کے دونوں کو بٹھا لیا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے اس کشتی کا تختہ اکھاڑ دیا۔
حضرت موسٰیؑ بول پڑے کہ آپ نے کشتی کو توڑ دیا تاکہ اس کشتی والے غرق ہو جائیں آپ نے بڑا عجیب کام کیا ہے۔۔
حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا:
اے موسیٰ! کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کر سکو گے۔
حضرت موسیٰ نے فرمایا؛
جو بات میں بھول گیا ہوں آپ اس پر میرا مؤاخذہ نہ کریں اور مجھے تنگی میں نہ ڈالیں۔
پھر وہ کشتی پر سے اتر کر ابھی ساحل پر چل رہے تھے کہ ایک بچہ بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔۔ حضرت خضر علیہ السلام نے اس کا سر پکڑا اور اسے ہاتھ سے جھٹکا دے کر قتل کر دیا۔
موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ آپ نے ایک بے گناہ قتل کر دیا۔ آپ نے بڑی بے جا حرکت کی۔
وہ کہنے لگے کہ میں نے کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ راوی کہتا ہے کہ یہ بات پہلی بات سے زیادہ تعجب خیز تھی۔
موسٰیؑ کہنے لگے کہ اگر اس کے بعد بھی میں آپ سے کسی چیز کے بارے میں سوال کروں تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھئے گا۔ آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ چکے ہیں۔
پھر وہ دونوں چلے یہاں تک کہ ایک بستی کے پاس سے گذرے اور ان سے کھانے کے لئے کچھ مانگا تو انہوں نے ان کی مہمانی کرنے سے انکار کر دیا۔ اتنے میں وہاں انہیں ایک دیوار ملی جو گرنے کے قریب تھی تو حضرت خضرؑ نے اس دیوار کو سیدھا کھڑا کر دیا ۔
موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ ہم ان لوگوں کے پاس آئے تو انہوں نے ہماری ضیافت تک نہیں کی اور ہمیں کھانا کھلانے سے بھی انکار کر دیا۔ اگر آپ چاہتے تو اس کام کی اجرت لے سکتے تھے۔۔۔!!
حضرت خضرؑ نے فرمایا کہ بس اب یہ وقت۔۔۔ جاری ہے۔۔
بقیہ حصہ دوم میں۔۔۔۔
https://t.me/islamwitheman/759
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
حضرت موسٰیؑ بنی اسرائیل کو خطاب کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو ان سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ علم کس کے پاس ہے؟
حضرت موسٰیؑ نے فرمایا:
میرے پاس۔
تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب کیا کہ علم کو اللہ کی طرف منسوب کیوں نہیں کیا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی کہ بحرین جہاں دو دریا ملتے ہیں وہاں میرے بندوں میں سے ایک بندہ ایسا ہے جس کے پاس آپ سے زیادہ علم ہے۔
موسٰیؑ نے عرض کیا:
اے رب! میں کس طرح اس کے پاس پہنچوں گا؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا؛
زنبیل میں ایک مچھلی رکھ کر چل دو جہاں وہ کھو جائے گی وہیں وہ شخص آپ کو ملے گا۔
پھر موسٰیؑ نے اپنے ساتھ اپنے خادم یوشع بن نون کو لیا اور زنبیل میں مچھلی رکھ کر چل دیئے یہانتک کہ ایک ٹیلے کے پاس پہنچے تو موسٰیؑ اور ان کے خادم دونوں لیٹ گئے اور سو گئے۔ مچھلی زنبیل میں کودنے لگی۔ یہاں تک کہ نکل کر دریا میں گر گئی۔ اللہ تعالیٰ نے پانی کا بہاؤ وہیں روک دیا اور وہاں طاق سا بن گیا اور اس کا راستہ ویسا ہی بنا رہا۔ جب کہ موسٰیؑ کے ساتھی بھول گئے کہ انہیں مچھلی کے متعلق بتائیں، صبح ہوئی تو موسٰیؑ نےاپنے ساتھی سے کھانا طلب کیا اور فرمایا کہ اس سفر میں ہمیں بہت تھکن ہوئی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ موسٰیؑ اسی وقت تھکے جب اس جگہ سے تجاوز کیا جس کے متعلق حکم دیا گیا تھا کہ ان کے ساتھی نے کہا۔ دیکھئے جب ہم ٹیلے پر ٹھہرے تو میں مچھلی بھول گیا تھا اور یقینا یہ شیطان ہی کا کام ہے کہ مجھے بھلا دیا کہ میں آپ سے اس کا تذکرہ کروں کہ اس نے عجیب طریقے سے دریا کا راستہ اختیار کیا۔ موسٰیؑ فرمانے لگے وہی جگہ ہم تلاش کر رہے تھے۔ چنانچہ وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانوں پر واپس لوٹے۔ وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے چلتے چٹان کے پاس پہنچے تو ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ چادر سے اپنے آپ کو ڈھانکے ہوئے ہے۔۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں سلام کیا۔ انہوں نے فرمایا اس زمین میں سلام کہاں؟
موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا میں زمین میں موسٰی ہوں۔
انہوں نے پوچھا؛
بنی اسرائیل کا موسیٰ؟
آپ علیہ السلام نے فرمایا؛ ہاں۔
حضرت خضر نے فرمایا؛
اے موسیٰ تمہارے پاس اللہ کا دیا ہوا ایک علم ہے جسے میں نہیں جانتا اور میرے پاس اللہ کا عطا کردہ ایک علم ہے جسے آپ نہیں جانتے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا؛
کیا میں اس شرط پر آپ کے پیچھے چلوں کہ آپ میری رہنمائی فرماتے ہوئے مجھے وہ بات سکھائیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھائی۔
حضرت خضرؑ نے فرمایا؛
آپ صبر نہیں کر سکیں گے اور اس چیز پر کیسے صبر کر سکیں گے جس کا آپ کی عقل نے احاطہ نہیں کیا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا؛
عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے اور میں آپ کی حکم عدولی نہیں کروں گا۔
حضرت خضرؑ نے فرمایا؛
اگر میری پیروی کرنا ہی چاہتے ہو تو جب تک کوئی بات میں خود نہ بیان کروں آپ مجھے نہیں پوچھیں گے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا؛
ٹھیک ہے ۔۔
پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضرؑ دونوں ساحل پر چل رہے تھے کہ ایک کشتی ان کے پاس سے گذری، انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی سوار کرلو انہوں نے حضرت خضر علیہ السلام کو پہچان لیا اور بغیر کرائے کے دونوں کو بٹھا لیا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے اس کشتی کا تختہ اکھاڑ دیا۔
حضرت موسٰیؑ بول پڑے کہ آپ نے کشتی کو توڑ دیا تاکہ اس کشتی والے غرق ہو جائیں آپ نے بڑا عجیب کام کیا ہے۔۔
حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا:
اے موسیٰ! کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کر سکو گے۔
حضرت موسیٰ نے فرمایا؛
جو بات میں بھول گیا ہوں آپ اس پر میرا مؤاخذہ نہ کریں اور مجھے تنگی میں نہ ڈالیں۔
پھر وہ کشتی پر سے اتر کر ابھی ساحل پر چل رہے تھے کہ ایک بچہ بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔۔ حضرت خضر علیہ السلام نے اس کا سر پکڑا اور اسے ہاتھ سے جھٹکا دے کر قتل کر دیا۔
موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ آپ نے ایک بے گناہ قتل کر دیا۔ آپ نے بڑی بے جا حرکت کی۔
وہ کہنے لگے کہ میں نے کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ راوی کہتا ہے کہ یہ بات پہلی بات سے زیادہ تعجب خیز تھی۔
موسٰیؑ کہنے لگے کہ اگر اس کے بعد بھی میں آپ سے کسی چیز کے بارے میں سوال کروں تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھئے گا۔ آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ چکے ہیں۔
پھر وہ دونوں چلے یہاں تک کہ ایک بستی کے پاس سے گذرے اور ان سے کھانے کے لئے کچھ مانگا تو انہوں نے ان کی مہمانی کرنے سے انکار کر دیا۔ اتنے میں وہاں انہیں ایک دیوار ملی جو گرنے کے قریب تھی تو حضرت خضرؑ نے اس دیوار کو سیدھا کھڑا کر دیا ۔
موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ ہم ان لوگوں کے پاس آئے تو انہوں نے ہماری ضیافت تک نہیں کی اور ہمیں کھانا کھلانے سے بھی انکار کر دیا۔ اگر آپ چاہتے تو اس کام کی اجرت لے سکتے تھے۔۔۔!!
حضرت خضرؑ نے فرمایا کہ بس اب یہ وقت۔۔۔ جاری ہے۔۔
بقیہ حصہ دوم میں۔۔۔۔
https://t.me/islamwitheman/759
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷حضرت خضرؑ و موسٰیؑ(حصہ دوم)🔷
حضرت خضرؑ نے فرمایا کہ بس اب یہ وقت ہماری اور آپ کی جدائی کا ہے۔ میں آپ کو ان چیزوں کی حقیقت بتا دیتا ہوں جن پر آپ صبر نہیں کر سکے۔۔ !!
▫️حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت موسیٰؑ کا کپڑا پکڑ کر فرمایا کہ میں اب آپ کو ان کاموں کا…
حضرت خضرؑ نے فرمایا کہ بس اب یہ وقت ہماری اور آپ کی جدائی کا ہے۔ میں آپ کو ان چیزوں کی حقیقت بتا دیتا ہوں جن پر آپ صبر نہیں کر سکے۔۔ !!
▫️حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت موسیٰؑ کا کپڑا پکڑ کر فرمایا کہ میں اب آپ کو ان کاموں کا…
🔷حضرت خضرؑ و موسٰیؑ(حصہ دوم)🔷
حضرت خضرؑ نے فرمایا کہ بس اب یہ وقت ہماری اور آپ کی جدائی کا ہے۔ میں آپ کو ان چیزوں کی حقیقت بتا دیتا ہوں جن پر آپ صبر نہیں کر سکے۔۔ !!
▫️حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت موسیٰؑ کا کپڑا پکڑ کر فرمایا کہ میں اب آپ کو ان کاموں کا راز بتاتا ہوں کہ جن پر تم صبر نہ کر سکے۔۔ کشتی تو ان مسکینوں کی تھی کہ جو سمندر میں مزدوری کرتے تھے اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ظلماً کشتیوں کو چھین لیتا تھا تو میں نے چاہا کہ میں اس کشتی کو عیب دار کر دوں تو جب کشتی چھیننے والا آیا تو اس نے کشتی کو عیب دار سمجھ کر چھوڑ دیا اور وہ کشتی آگے بڑھ گئی اور کشتی والوں نے ایک لکڑی لگا کر اسے درست کر لیا۔۔!!
▫️اور وہ لڑکا جسے میں نے قتل کیا ہے فطرةً کافر تھا اس کے ماں باپ اس سے بڑا پیار کرتے تھے تو جب وہ بڑا ہوتا تو وہ اپنے ماں باپ کو بھی سرکشی میں پھنسا دیتا تو ہم نے چاہا کہ اللہ تعالیٰ ان کو اس لڑکے کے بدلہ میں دوسرا لڑکا عطا فرما دے جو کہ اس سے بہتر ہو۔۔!
▫️اور وہ دیوار جسے میں نے درست کیا وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی جس کے نیچےخزانہ تھا۔۔
نبی اکرمؐ نے فرمایا؛ ہماری چاہت تھی کہ موسٰی اللہ ان پر رحمت کرے کچھ دیر اور صبر کرتے تاکہ ہمیں ان کی عجیب وغریب خبریں سننے کو ملتیں۔۔
پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ موسیٰ نے پہلا سوال تو بھول کر کیا تھا۔ پھر ایک چڑیا آئی جس نے کشتی کے کنارے پر بیٹھ کر دریا میں اپنی چونچ ڈبوئی، پھر حضرت خضر علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا میرے اور آپ کے علم نے اللہ کے علم میں سے صرف اسی قدر کم کیا جتنا اس چڑیا نے دریا سے--!!
📚 حوالہ جات؛
صحیح بخاری، جلد دوم، حدیث1921۔
صحیح مسلم، جلد سوم، حدیث1662۔
صحیح مسلم، جلد سوم، حدیث1664۔
جامع ترمذی، جلد دوم، حدیث1094۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/758
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
حضرت خضرؑ نے فرمایا کہ بس اب یہ وقت ہماری اور آپ کی جدائی کا ہے۔ میں آپ کو ان چیزوں کی حقیقت بتا دیتا ہوں جن پر آپ صبر نہیں کر سکے۔۔ !!
▫️حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت موسیٰؑ کا کپڑا پکڑ کر فرمایا کہ میں اب آپ کو ان کاموں کا راز بتاتا ہوں کہ جن پر تم صبر نہ کر سکے۔۔ کشتی تو ان مسکینوں کی تھی کہ جو سمندر میں مزدوری کرتے تھے اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ظلماً کشتیوں کو چھین لیتا تھا تو میں نے چاہا کہ میں اس کشتی کو عیب دار کر دوں تو جب کشتی چھیننے والا آیا تو اس نے کشتی کو عیب دار سمجھ کر چھوڑ دیا اور وہ کشتی آگے بڑھ گئی اور کشتی والوں نے ایک لکڑی لگا کر اسے درست کر لیا۔۔!!
▫️اور وہ لڑکا جسے میں نے قتل کیا ہے فطرةً کافر تھا اس کے ماں باپ اس سے بڑا پیار کرتے تھے تو جب وہ بڑا ہوتا تو وہ اپنے ماں باپ کو بھی سرکشی میں پھنسا دیتا تو ہم نے چاہا کہ اللہ تعالیٰ ان کو اس لڑکے کے بدلہ میں دوسرا لڑکا عطا فرما دے جو کہ اس سے بہتر ہو۔۔!
▫️اور وہ دیوار جسے میں نے درست کیا وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی جس کے نیچےخزانہ تھا۔۔
نبی اکرمؐ نے فرمایا؛ ہماری چاہت تھی کہ موسٰی اللہ ان پر رحمت کرے کچھ دیر اور صبر کرتے تاکہ ہمیں ان کی عجیب وغریب خبریں سننے کو ملتیں۔۔
پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ موسیٰ نے پہلا سوال تو بھول کر کیا تھا۔ پھر ایک چڑیا آئی جس نے کشتی کے کنارے پر بیٹھ کر دریا میں اپنی چونچ ڈبوئی، پھر حضرت خضر علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا میرے اور آپ کے علم نے اللہ کے علم میں سے صرف اسی قدر کم کیا جتنا اس چڑیا نے دریا سے--!!
📚 حوالہ جات؛
صحیح بخاری، جلد دوم، حدیث1921۔
صحیح مسلم، جلد سوم، حدیث1662۔
صحیح مسلم، جلد سوم، حدیث1664۔
جامع ترمذی، جلد دوم، حدیث1094۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/758
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷حضرت خضرؑ و موسٰیؑ(حصہ اول)🔷
حضرت موسٰیؑ بنی اسرائیل کو خطاب کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو ان سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ علم کس کے پاس ہے؟
حضرت موسٰیؑ نے فرمایا:
میرے پاس۔
تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب کیا کہ علم کو اللہ کی طرف منسوب کیوں نہیں کیا۔…
حضرت موسٰیؑ بنی اسرائیل کو خطاب کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو ان سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ علم کس کے پاس ہے؟
حضرت موسٰیؑ نے فرمایا:
میرے پاس۔
تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب کیا کہ علم کو اللہ کی طرف منسوب کیوں نہیں کیا۔…
🔷 واقعۂ حضرت خضرؑ 🔷
حضرت خضرؑ اور حضرت موسٰیؑ کا واقعہ قران پاک میں اس طرح بیان ہوا ہے۔۔۔
ترجمہ:
اور جب موسیٰ نے اپنے شاگرد سے کہا کہ جب تک دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں خواہ برسوں چلتا رہوں۔ جب ان کے ملنے کے مقام پر پہنچے تو اپنی مچھلی بھول گئے تو اس نے دریا میں سرنگ کی طرح اپنا رستہ بنا لیاجب آگے چلے تو موسیٰ نے اپنے شاگرد سے کہا کہ ہمارے لئے کھانا لاؤ۔ اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی ہے ۔۔ اس نے کہا کہ بھلا آپ نے دیکھا کہ جب ہم نے پتھر کے ساتھ آرام کیا تھا تو میں مچھلی وہیں بھول گیا۔ اور مجھے آپ سے اس کا ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا۔ اور اس نے عجب طرح سے دریا میں اپنا رستہ لیا۔۔ موسیٰ نے کہا یہی تو وہ مقام ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے تو وہ اپنے پاؤں کے نشان دیکھتے دیکھتے لوٹ گئے ۔۔ وہاں انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ دیکھا جس کو ہم نے اپنے ہاں سے رحمت یعنی نبوت یا نعمت ولایت دی تھی۔۔ اور اپنے پاس سے علم بخشا تھا موسیٰ نے ان سے جن کا نام خضر تھا کہا کہ جو علم خدا کی طرف سے آپ کو سکھایا گیا ہے اگر آپ اس میں سے مجھے کچھ بھلائی کی باتیں سکھائیں تو میں آپ کے ساتھ رہوں ۔۔ خضر نے کہا کہ تم میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کر سکو گے ۔۔ اور جس بات کی تمہیں خبر ہی نہیں اس پر صبر کر بھی کیوں کرسکتے ہو۔۔ موسیٰ نے کہا خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابر پایئے گا۔۔ اور میں آپ کے ارشاد کے خلاف نہیں کروں گا۔۔ خضر نے کہا کہ اگر تم میرے ساتھ رہنا چاہو تو شرط یہ ہے مجھ سے کوئی بات نہ پوچھنا جب تک میں خود اس کا ذکر تم سے نہ کروں۔۔ تو دونوں چل پڑے۔ یہاں تک کہ جب کشتی میں سوار ہوئے تو خضر نے کشتی کو پھاڑ ڈالا۔۔ موسیٰ نے کہا کیا آپ نے اس لئے پھاڑا ہے کہ سواروں کو غرق کر دیں یہ تو آپ نے بڑی عجیب بات کی خضر نے کہا۔ کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کرسکو گے۔۔ موسیٰ نے کہا کہ جو بھول مجھ سے ہوئی اس پر مواخذہ نہ کیجیئے اور میرے معاملے میں مجھ پر مشکل نہ ڈالئے پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ رستے میں ایک لڑکا ملا تو خضر نے اُسے مار ڈالا۔۔ موسیٰ نے کہا کہ آپ نے ایک بےگناہ شخص کو ناحق بغیر قصاص کے مار ڈالا۔۔ یہ تو آپ نے بری بات کی خضر نے کہا کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم سے میرے ساتھ صبر نہیں کر سکو گے انہوں نے کہا کہ اگر میں اس کے بعد پھر کوئی بات پوچھوں یعنی اعتراض کروں تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیئے گا کہ آپ میری طرف سے عذر کے قبول کرنے میں غایت کو پہنچ گئے ۔۔ پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ ایک گاؤں والوں کے پاس پہنچے اور ان سے کھانا طلب کیا۔ انہوں نے ان کی ضیافت کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر انہوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو جھک کر گرا چاہتی تھی۔ خضر نے اس کو سیدھا کر دیا۔ موسیٰ نے کہا اگر آپ چاہتے تو ان سے اس کا معاوضہ لیتے تاکہ کھانے کا کام چلتا خضر نے کہا اب مجھ میں اور تجھ میں علیحدگی۔۔!! مگر جن باتوں پر تم صبر نہ کر سکے میں ان کا تمہیں بھید بتائے دیتا ہوں۔۔!!
وہ جو کشتی تھی ، غریب لوگوں کی تھی جو دریا میں محنت کر کے یعنی کشتیاں چلا کر گذارہ کرتے تھے۔۔!! اور ان کے سامنے کی طرف ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا۔۔ تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں ۔۔ تاکہ وہ اسے غصب نہ کر سکے۔۔
اور وہ جو لڑکا تھا اس کے ماں باپ دنوں مومن تھے ہمیں اندیشہ ہوا کہ وہ بڑا ہو کر بدکردار ہوتا کہیں ان کو سرکشی اور کفر میں نہ پھنسا دے تو ہم نے چاہا کہ ان کا پروردگار اس کی جگہ ان کو اور بچّہ عطا فرمائے جو پاک طبیعت میں اور محبت میں اس سے بہتر ہو۔۔!! اور وہ جو دیوار تھی سو وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی جو شہر میں رہتے تھے اور اس کے نیچے ان کا خزانہ مدفون تھا۔۔ اور ان کا باپ ایک نیک بخت آدمی تھا۔ تو تمہارے پروردگار نے چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور پھر اپنا خزانہ نکالیں۔۔ یہ تمہارے پروردگار کی مہربانی ہے۔ اور یہ کام میں نے اپنی طرف سے نہیں کئے۔ یہ ان باتوں کا راز ہے جن پر تم صبر نہ کرسکے۔۔!!
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/758
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
حضرت خضرؑ اور حضرت موسٰیؑ کا واقعہ قران پاک میں اس طرح بیان ہوا ہے۔۔۔
ترجمہ:
اور جب موسیٰ نے اپنے شاگرد سے کہا کہ جب تک دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں خواہ برسوں چلتا رہوں۔ جب ان کے ملنے کے مقام پر پہنچے تو اپنی مچھلی بھول گئے تو اس نے دریا میں سرنگ کی طرح اپنا رستہ بنا لیاجب آگے چلے تو موسیٰ نے اپنے شاگرد سے کہا کہ ہمارے لئے کھانا لاؤ۔ اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی ہے ۔۔ اس نے کہا کہ بھلا آپ نے دیکھا کہ جب ہم نے پتھر کے ساتھ آرام کیا تھا تو میں مچھلی وہیں بھول گیا۔ اور مجھے آپ سے اس کا ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا۔ اور اس نے عجب طرح سے دریا میں اپنا رستہ لیا۔۔ موسیٰ نے کہا یہی تو وہ مقام ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے تو وہ اپنے پاؤں کے نشان دیکھتے دیکھتے لوٹ گئے ۔۔ وہاں انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ دیکھا جس کو ہم نے اپنے ہاں سے رحمت یعنی نبوت یا نعمت ولایت دی تھی۔۔ اور اپنے پاس سے علم بخشا تھا موسیٰ نے ان سے جن کا نام خضر تھا کہا کہ جو علم خدا کی طرف سے آپ کو سکھایا گیا ہے اگر آپ اس میں سے مجھے کچھ بھلائی کی باتیں سکھائیں تو میں آپ کے ساتھ رہوں ۔۔ خضر نے کہا کہ تم میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کر سکو گے ۔۔ اور جس بات کی تمہیں خبر ہی نہیں اس پر صبر کر بھی کیوں کرسکتے ہو۔۔ موسیٰ نے کہا خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابر پایئے گا۔۔ اور میں آپ کے ارشاد کے خلاف نہیں کروں گا۔۔ خضر نے کہا کہ اگر تم میرے ساتھ رہنا چاہو تو شرط یہ ہے مجھ سے کوئی بات نہ پوچھنا جب تک میں خود اس کا ذکر تم سے نہ کروں۔۔ تو دونوں چل پڑے۔ یہاں تک کہ جب کشتی میں سوار ہوئے تو خضر نے کشتی کو پھاڑ ڈالا۔۔ موسیٰ نے کہا کیا آپ نے اس لئے پھاڑا ہے کہ سواروں کو غرق کر دیں یہ تو آپ نے بڑی عجیب بات کی خضر نے کہا۔ کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کرسکو گے۔۔ موسیٰ نے کہا کہ جو بھول مجھ سے ہوئی اس پر مواخذہ نہ کیجیئے اور میرے معاملے میں مجھ پر مشکل نہ ڈالئے پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ رستے میں ایک لڑکا ملا تو خضر نے اُسے مار ڈالا۔۔ موسیٰ نے کہا کہ آپ نے ایک بےگناہ شخص کو ناحق بغیر قصاص کے مار ڈالا۔۔ یہ تو آپ نے بری بات کی خضر نے کہا کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم سے میرے ساتھ صبر نہیں کر سکو گے انہوں نے کہا کہ اگر میں اس کے بعد پھر کوئی بات پوچھوں یعنی اعتراض کروں تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیئے گا کہ آپ میری طرف سے عذر کے قبول کرنے میں غایت کو پہنچ گئے ۔۔ پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ ایک گاؤں والوں کے پاس پہنچے اور ان سے کھانا طلب کیا۔ انہوں نے ان کی ضیافت کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر انہوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو جھک کر گرا چاہتی تھی۔ خضر نے اس کو سیدھا کر دیا۔ موسیٰ نے کہا اگر آپ چاہتے تو ان سے اس کا معاوضہ لیتے تاکہ کھانے کا کام چلتا خضر نے کہا اب مجھ میں اور تجھ میں علیحدگی۔۔!! مگر جن باتوں پر تم صبر نہ کر سکے میں ان کا تمہیں بھید بتائے دیتا ہوں۔۔!!
وہ جو کشتی تھی ، غریب لوگوں کی تھی جو دریا میں محنت کر کے یعنی کشتیاں چلا کر گذارہ کرتے تھے۔۔!! اور ان کے سامنے کی طرف ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا۔۔ تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں ۔۔ تاکہ وہ اسے غصب نہ کر سکے۔۔
اور وہ جو لڑکا تھا اس کے ماں باپ دنوں مومن تھے ہمیں اندیشہ ہوا کہ وہ بڑا ہو کر بدکردار ہوتا کہیں ان کو سرکشی اور کفر میں نہ پھنسا دے تو ہم نے چاہا کہ ان کا پروردگار اس کی جگہ ان کو اور بچّہ عطا فرمائے جو پاک طبیعت میں اور محبت میں اس سے بہتر ہو۔۔!! اور وہ جو دیوار تھی سو وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی جو شہر میں رہتے تھے اور اس کے نیچے ان کا خزانہ مدفون تھا۔۔ اور ان کا باپ ایک نیک بخت آدمی تھا۔ تو تمہارے پروردگار نے چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور پھر اپنا خزانہ نکالیں۔۔ یہ تمہارے پروردگار کی مہربانی ہے۔ اور یہ کام میں نے اپنی طرف سے نہیں کئے۔ یہ ان باتوں کا راز ہے جن پر تم صبر نہ کرسکے۔۔!!
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/758
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷حضرت خضرؑ و موسٰیؑ(حصہ اول)🔷
حضرت موسٰیؑ بنی اسرائیل کو خطاب کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو ان سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ علم کس کے پاس ہے؟
حضرت موسٰیؑ نے فرمایا:
میرے پاس۔
تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب کیا کہ علم کو اللہ کی طرف منسوب کیوں نہیں کیا۔…
حضرت موسٰیؑ بنی اسرائیل کو خطاب کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو ان سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ علم کس کے پاس ہے؟
حضرت موسٰیؑ نے فرمایا:
میرے پاس۔
تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب کیا کہ علم کو اللہ کی طرف منسوب کیوں نہیں کیا۔…
🌹 پاک دامنی 🌹
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں؛ اللہ تعالٰی کے نزدیک بہترین عبادت پاک دامنی ہے انسان کو اپنے پیٹ اوراپنی شرمگاہ کو محفوظ رکھنا چاہیے۔
علامہ محمد بن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ جابر جعفی کابیان ہے کہ میں ایک دن حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے ملا، تو آپؑ نے فرمایا؛
اے جابر! میں دنیا سے بالکل بے فکر ہوں کیونکہ جس کے دل میں دین خالص ہو وہ دنیا کو کچھ نہیں سمجھتا اور تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ دنیا چھوڑی ہوئی سواری، اتارا ہوا کپڑا اوراستعمال کی ہوئی عورت ہے۔ مومن دنیا کی بقا سے مطمئن نہیں ہوتا اوراس کی دیکھی ہوئی چیزوں کی وجہ سے نور خدا اس سے پوشیدہ نہیں ہوتا۔ مومن کو تقویٰ اختیار کرنا چاہیے کہ وہ ہر وقت اسے متنبہ اور بیدار کھتا ہے۔
سنو! دنیا ایک سرائے فانی ہے۔۔
"نزلت بہ وارتحلت منہ“
اس میں آنا جانا لگا رہتا ہے۔ آج آئے اورکل گئے اور دنیا ایک خواب ہے جو کمال کے مانند دیکھی جاتی ہے اور جب جاگ اٹھے توکچھ نہیں۔
آپؑ نے فرمایا؛
تکبر بہت بری چیز ہے، یہ جس قدر انسان میں پیدا ہوگا اسی قدر اس کی عقل گھٹے گی، کمینے شخص کا حربہ گالیاں بکنا ہے۔
ایک عالم کی موت کو ابلیس نوے عابدوں کے مرنے سے بہتر سمجھتا ہے۔ ایک ہزار عابد سے وہ ایک عالم بہتر ہے جو اپنے علم سے فائدہ پہنچا رہا ہو۔
میرے ماننے والے وہ ہیں جو اللہ کی اطاعت کریں۔ آنسوؤں کی بڑی قیمت ہے رونے والا بخشا جاتا ہے اور جس رخسار پر آنسو جاری ہوں وہ ذلیل نہیں ہوتا۔
سستی اور زیادہ تیزی برائیوں کی کنجی ہے۔
خداکے نزدیک بہترین عبادت پاک دامنی ہے انسان کوچاہیے کہ اپنے پیٹ اور اپنی شرمگاہوں کو محفوظ رکھیں۔
دعاسے قضا بھی ٹل جاتی ہے۔ نیکی بہترین خیرات ہے۔
بدترین عیب یہ ہے کہ انسان کو اپنی آنکھ کی شہتیر دکھائی نہ دے اور دوسرے کی آنکھ کا تنکا نظر آئے، یعنی اپنے بڑے گناہ کی پرواہ نہ ہو، اور دوسروں کے چھوٹے عیب اسے بڑے نظر آئیں اور خود عمل نہ کرے، صرف دوسروں کو تعلیم دے۔
جوخوشحالی میں ساتھ دے اورتنگ دستی میں دور رہے وہ تمہارابھائی اوردوست نہیں ہے۔
📚 مطالب السؤل، ص272۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں؛ اللہ تعالٰی کے نزدیک بہترین عبادت پاک دامنی ہے انسان کو اپنے پیٹ اوراپنی شرمگاہ کو محفوظ رکھنا چاہیے۔
علامہ محمد بن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ جابر جعفی کابیان ہے کہ میں ایک دن حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے ملا، تو آپؑ نے فرمایا؛
اے جابر! میں دنیا سے بالکل بے فکر ہوں کیونکہ جس کے دل میں دین خالص ہو وہ دنیا کو کچھ نہیں سمجھتا اور تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ دنیا چھوڑی ہوئی سواری، اتارا ہوا کپڑا اوراستعمال کی ہوئی عورت ہے۔ مومن دنیا کی بقا سے مطمئن نہیں ہوتا اوراس کی دیکھی ہوئی چیزوں کی وجہ سے نور خدا اس سے پوشیدہ نہیں ہوتا۔ مومن کو تقویٰ اختیار کرنا چاہیے کہ وہ ہر وقت اسے متنبہ اور بیدار کھتا ہے۔
سنو! دنیا ایک سرائے فانی ہے۔۔
"نزلت بہ وارتحلت منہ“
اس میں آنا جانا لگا رہتا ہے۔ آج آئے اورکل گئے اور دنیا ایک خواب ہے جو کمال کے مانند دیکھی جاتی ہے اور جب جاگ اٹھے توکچھ نہیں۔
آپؑ نے فرمایا؛
تکبر بہت بری چیز ہے، یہ جس قدر انسان میں پیدا ہوگا اسی قدر اس کی عقل گھٹے گی، کمینے شخص کا حربہ گالیاں بکنا ہے۔
ایک عالم کی موت کو ابلیس نوے عابدوں کے مرنے سے بہتر سمجھتا ہے۔ ایک ہزار عابد سے وہ ایک عالم بہتر ہے جو اپنے علم سے فائدہ پہنچا رہا ہو۔
میرے ماننے والے وہ ہیں جو اللہ کی اطاعت کریں۔ آنسوؤں کی بڑی قیمت ہے رونے والا بخشا جاتا ہے اور جس رخسار پر آنسو جاری ہوں وہ ذلیل نہیں ہوتا۔
سستی اور زیادہ تیزی برائیوں کی کنجی ہے۔
خداکے نزدیک بہترین عبادت پاک دامنی ہے انسان کوچاہیے کہ اپنے پیٹ اور اپنی شرمگاہوں کو محفوظ رکھیں۔
دعاسے قضا بھی ٹل جاتی ہے۔ نیکی بہترین خیرات ہے۔
بدترین عیب یہ ہے کہ انسان کو اپنی آنکھ کی شہتیر دکھائی نہ دے اور دوسرے کی آنکھ کا تنکا نظر آئے، یعنی اپنے بڑے گناہ کی پرواہ نہ ہو، اور دوسروں کے چھوٹے عیب اسے بڑے نظر آئیں اور خود عمل نہ کرے، صرف دوسروں کو تعلیم دے۔
جوخوشحالی میں ساتھ دے اورتنگ دستی میں دور رہے وہ تمہارابھائی اوردوست نہیں ہے۔
📚 مطالب السؤل، ص272۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 مومن کیسے مومن بنتا ہے؟ 🔷
امام رضاؑ: "مومن تب تک مومن نہیں بنتا جب تک تین خصلتیں اس میں نہ ہوں، ایک خصلت اپنے رب کی، دوسری اپنے نبی کی اور تیسرے اپنے ولی (امام) کی۔
جو رب کی خصلت ہے وہ یہ ہے کہ (لوگوں کے) اسرار اور عیوب کی پردہ پوشی کرے، نبی کی خصلت یہ ہے کہ لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کرے، اور ولی کی خصلت یہ ہے کہ مصیبتوں اور سختیوں میں صبر کرے۔"
حدیث کا ماخذ اور اسناد:
یہ حدیث کتاب التمحیص میں ہے، یہ کتاب غیبت صغری کی ان چند کتب میں سے ہے جو ہمارے پاس صحیح سلامت پہنچی ہیں۔۔۔ اس کا مؤلف محمد بن ھمام الاسکافی امام زمانہ عج وکلا کے اصحاب میں سے تھے۔
اس حدیث کو شیخ کلینی نے بھی کم و بیش زیادہ الفاظ کے ساتھ کافی میں اس سند کے ساتھ نقل کیا ہے؛
عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُنْدَارَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ سَهْلِ بْنِ الْحَارِثِ عَنِ الدِّلْهَاثِ مَوْلَى الرِّضَا ع قَالَ سَمِعْتُ الرِّضَا ع
شیخ صدوق نے معانی الاخبار اور امالی میں اس سند کے ساتھ اس روایت کو نقل کیا؛
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى رَحِمَهُ اللَّهُ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْكُوفِيُّ عَنْ سَهْلِ بْنِ زِيَادٍ الْآدَمِيِّ عَنْ مُبَارَكٍ مَوْلَى الرِّضَا عَلِيِّ بْنِ مُوسَى
جبکہ شیخ صدوق نے ہی خصال میں اپنے والد کے ذریعے احمد بن ادریس سے نقل کیا؛
حَدَّثَنَا أَبِي رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِدْرِيسَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ قَالَ حَدَّثَنِي سَهْلُ بْنُ زِيَادٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ الدِّلْهَاثِ مَوْلَى الرِّضَا ع
جبکہ عیون اخبار الرضا اور صفات الشیعہ میں اپنے والد کے ذریعے محمد بن یحیی العطار سے نقل کیا؛
أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْعَطَّارِ عَنْ سَهْلِ بْنِ زِيَادٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ الدِّلْهَاثِ مَوْلَى الرِّضَا ع قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْحَسَنِ ع
اللہ تعالی ہم سب کو صحیح معنوں میں مومن بننے کی توفیق عنایت فرمائے۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
امام رضاؑ: "مومن تب تک مومن نہیں بنتا جب تک تین خصلتیں اس میں نہ ہوں، ایک خصلت اپنے رب کی، دوسری اپنے نبی کی اور تیسرے اپنے ولی (امام) کی۔
جو رب کی خصلت ہے وہ یہ ہے کہ (لوگوں کے) اسرار اور عیوب کی پردہ پوشی کرے، نبی کی خصلت یہ ہے کہ لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کرے، اور ولی کی خصلت یہ ہے کہ مصیبتوں اور سختیوں میں صبر کرے۔"
حدیث کا ماخذ اور اسناد:
یہ حدیث کتاب التمحیص میں ہے، یہ کتاب غیبت صغری کی ان چند کتب میں سے ہے جو ہمارے پاس صحیح سلامت پہنچی ہیں۔۔۔ اس کا مؤلف محمد بن ھمام الاسکافی امام زمانہ عج وکلا کے اصحاب میں سے تھے۔
اس حدیث کو شیخ کلینی نے بھی کم و بیش زیادہ الفاظ کے ساتھ کافی میں اس سند کے ساتھ نقل کیا ہے؛
عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُنْدَارَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ سَهْلِ بْنِ الْحَارِثِ عَنِ الدِّلْهَاثِ مَوْلَى الرِّضَا ع قَالَ سَمِعْتُ الرِّضَا ع
شیخ صدوق نے معانی الاخبار اور امالی میں اس سند کے ساتھ اس روایت کو نقل کیا؛
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى رَحِمَهُ اللَّهُ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْكُوفِيُّ عَنْ سَهْلِ بْنِ زِيَادٍ الْآدَمِيِّ عَنْ مُبَارَكٍ مَوْلَى الرِّضَا عَلِيِّ بْنِ مُوسَى
جبکہ شیخ صدوق نے ہی خصال میں اپنے والد کے ذریعے احمد بن ادریس سے نقل کیا؛
حَدَّثَنَا أَبِي رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِدْرِيسَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ قَالَ حَدَّثَنِي سَهْلُ بْنُ زِيَادٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ الدِّلْهَاثِ مَوْلَى الرِّضَا ع
جبکہ عیون اخبار الرضا اور صفات الشیعہ میں اپنے والد کے ذریعے محمد بن یحیی العطار سے نقل کیا؛
أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْعَطَّارِ عَنْ سَهْلِ بْنِ زِيَادٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ الدِّلْهَاثِ مَوْلَى الرِّضَا ع قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْحَسَنِ ع
اللہ تعالی ہم سب کو صحیح معنوں میں مومن بننے کی توفیق عنایت فرمائے۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
💦 ﺍﻧﻮﮐﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﻟﭽﺴﭗ ﺑﺎﺗﯿﮟ 💦
1. ﻗﻄﺐِ ﺷﻤﺎﻟﯽ ﮐﮯ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﺳﮯ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ 186 ﺩﻥ ﺗﮏ ﺳﻮﺭﺝ ﻣﮑﻤﻞ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻏﺎﺋﺐ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ.
2. ﺳﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺟﺘﻨﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﯾﮟ ﻧﯿﻨﺪ ﺁﻧﮯ ﮐﮯ ﭼﺎﻧﺲ ﺍﺗﻨﮯ ﮨﯽ ﮐﻢ ﮨﯿﮟ۔
3. ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺩﻣﺎﻍ ﺳﺘﺮ ﻓﯿﺼﺪ ﻭﻗﺖ ﭘﺮﺍﻧﯽ
ﯾﺎﺩﻭﮞ ﯾﺎ ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﮐﯽ ﺳﻨﮩﺮﯼ ﯾﺎﺩﻭﮞ ﮐﮯ
ﺧﺎﮐﮯ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺍﺭﺗﺎ ﮨﮯ۔
4. ﭘﻨﺪﺭﮦ ﻣﻨﭧ ﮨﻨﺴﻨﺎ ﺟﺴﻢ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﯽ
ﻓﺎﺋﺪﮦ ﻣﻨﺪ ﮨﮯ ﺟﺘﻨﺎ ﺩﻭ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺳﻮﻧﺎ۔
5. ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺑﺤﺚ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﭘﭽﺎﺳﯽ ﻓﯿﺼﺪ
ﻟﻮﮒ ﺍﻥ ﺗﯿﺰﯾﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺗﯿﺰ ﺟﻤﻠﻮﮞ ﮐﻮ
ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺑﺤﺚ ﻣﯿﮟ
ﮐﮩﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
6. ﻓﻼﺳﻔﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺤﮯ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ.. "ﻧﻮﮮ ﺳﯿﮑﻨﮉ"
7. ﺳﺮﺩﯼ ﮐﯽ ﮐﮭﺎﻧﺴﯽ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﮐﻠﯿﭧ ﮐﮭﺎﻧﺴﯽ ﮐﮯ ﺳﯿﺮﭖ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﮔﻨﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﮩﺘﺮ ﺍﺛﺮ ﺩﮐﮭﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﻟﮩٰﺬﺍ ﺳﺮﺩﯼ ﻭﺍﻟﯽ ﮐﮭﺎﻧﺴﯽ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﮐﻠﯿﭧ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﮐﺮﯾﮟ.
8. ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺟﺬﺑﺎﺗﯽ ﺩﮬﭽﮑﺎ ﭘﻨﺪﺭﮦ ﯾﺎ ﺑﯿﺲ ﻣﻨﭧ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﺎ ﺟﺬﺑﺎﺗﯽ ﻭﻗﺖ ﺁﭖ ﮐﯽ "ﺍﻭﻭﺭ ﺗﮭﻨﮑﻨﮓ" ﯾﻌﻨﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺁﭖ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺯﺧﻢ ﻟﮕﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ.
9. ﻋﺎﻡ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺁﺋﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ
ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﮔﻨﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺣﺴﯿﻦ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
10. ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻧﻮﮮ ﻓﯿﺼﺪ ﻟﻮﮒ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﮔﮭﺒﺮﺍ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺐ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﯾﮧ ﻣﯿﺴﺞ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ.. "ﮐﭽﮫ ﭘﻮﭼﮭﻮﮞ ﺁﭖ ﺳﮯ"
11. ﺯﻣﯿﻦ ﺳﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺳﺘﺎﺭﮦ ﺳﻮﺭﺝ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺯﻣﯿﻦ ﺳﮯ 93 ﻣﻠﯿﻦ ﻣﯿﻞ ﺩﻭﺭ ﻭﺍﻗﻊ ﮨﮯ.
12. ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ 26 ﻣﻠﮑﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﺎ.
13. ﺗﯿﻞ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻼ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﭘﯿﻨﺴﻠﻮﯾﻨﯿﺎ ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ ﻣﯿﮟ 1859ﺀ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻮﺩﺍ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ.
14. ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭘﮩﺎﮌ ﺳﻮﺋﭩﺰﺭ
ﻟﯿﻨﮉ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ.
15. ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﮐﻢ ﻋﻤﺮ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ 8 ﺍﻭﺭ 9 ﺳﺎﻝ ﺗﮭﯽ، ﻭﮦ 1910ﺀ ﻣﯿﮟ ﭼﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔
16. ﺗﻤﺎﻡ ﭘﮭﻠﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺳﺒﺰﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﺴﺒﺖ ﺗﯿﺰ ﻣﺮﭺ ﻣﯿﮟ ﻭﭨﺎﻣﻦ ﺳﯽ ﮐﯽ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔
17. ﻓﺮﻋﻮﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻣﺼﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﻔﺘﮧ 10 ﺩﻥ ﮐﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ.
18. ﺗﺘﻠﯽ ﮐﯽ ﭼﮑﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺣﺲ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﭘﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ہے۔
19. ﺍﭨﮭﺎﺭﻭﯾﮟ ﺻﺪﯼ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﭽﭗ ﺑﻄﻮﺭ ﺩﻭﺍﺀ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ.
20. ﮐﻮﮮ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﺳﻂ ﻋﻤﺮ ﭘﺎﻧﭻ ﺳﻮ ﺳﺎﻝ ﺗﮏ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔
21. ﺍﭨﮭﺎﺭﮦ ﻣﮩﯿﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺩﻭ ﭼﻮﮨﮯ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً 1ﻣﻠﯿﻦ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
22. ﻣﯿﻨﮉﮎ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ، ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺳﻮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﮭﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﮐﮭﻠﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔
23. ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺳﺮﭺ ﺍﻧﺠﻦ ﮔﻮﮔﻞ
ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺍﺭﺑﻮﮞ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻣﻄﻠﻮﺑﮧ
ﻣﻌﻠﻮﻣﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﻭﯾﺐ ﺳﺎﺋﭩﺲ ﮈﮬﻮﻧﮉ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ
ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﺳﺮﭺ ﺍﻧﺠﻦ ﺍﺳﻘﺪﺭ ﭘﯿﭽﯿﺪﮦ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﯼ
ﻣﻘﺪﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﮈﯾﭩﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﻠﻮﻣﺎﺕ ﮐﻮ ﺍﺭﺑﻮﮞ
ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺎﻗﺖ
ﺍﻭﺭ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﻋﻘﻞ ﺩﻧﮓ ﺭﮦﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ.
24. ﺍﯾﮏ ﻣﺮﻏﯽ ﺳﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺳﻄﺎً 228 ﺍﻧﮉﮮ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ.
25. ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻗﺪﺭﺕ ﮐﮯ ﻣﻈﮩﺮ "ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺟﺴﻢ " ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﯾﮧ ﺣﯿﺮﺕ ﺍﻧﮕﯿﺰ ﺑﺎﺕ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺧﻮﻥ ﮐﯽ ﻧﺎﻟﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺠﻤﻮﻋﯽ ﻟﻤﺒﺎﺋﯽ 60 ﮨﺰﺍﺭﻣﯿﻞ ﮐﮯ
ﺑﺮﺍﺑﺮ ﮨﮯ۔
26. ﺳﺎﻡ ﺳﺎﻧﮓ ﮐﻮﺭﯾﺎﺋﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﮯ ﺩﻭ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﺠﻤﻮﻋﮧ ﮨﮯ ﺳﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﻧﮓ. ﺳﺎﻡ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ"ﺗﯿﻦ" ﺍﻭﺭ ﺳﺎﻧﮓ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ "ﺳﺘﺎﺭﮮ" ﮨﮯ۔ ﯾﻌﻨﯽ ﺗﯿﻦ ﺳﺘﺎﺭﮮ
27. ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮔﮩﺮﺍﺋﯽ
ﺗﻘﺮﯾﺒﺎ11 ﮐﻠﻮﻣﯿﮍ (10923 ﻣﯿﮍ) ﮨﮯ.
28. ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻧﻮﮮ ﻓﯿﺼﺪ ﻟﻮﮒ ﮔﻮﮔﻞ ﮐﺎ
ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺳﭙﯿﻠﻨﮓ ﭼﯿﮏ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ
ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ 80 ﻓﯿﺼﺪ ﻟﻮﮒ ﮔﻮﮔﻞ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﭘﺘﮧ ﭼﻞ ﺳﮑﮯ ﺍﻧﭩﺮﻧﯿﭧ ﭼﻞ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﮩﯿﮟ۔
29. ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﺁﺩﮬﯽ ﺁﺑﺎﺩﯼ ﺻﺮﻑ ﭘﺎﻧﭻ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﭼﯿﻦ، ﺑﮭﺎﺭﺕ، ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ، ﺑﻨﮕﻠﮧ ﺩﯾﺶ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮉﻭﻧﯿﺸﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ.
30. ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﺑﺤﯿﺮﮦ ﻣﺮﺩﺍﺭ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﯾﮧ
ﺩﻟﭽﺴﭗ ﺑﺎﺕ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﺍﺱ
ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﮔﺮ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﮈﻭﺑﯿﮟ ﮔﮯ۔
31. ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﺎ "ﻣﮑﻠﯽ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ، ﭨﮭﭩﮭﮧ " ﺟﻮ کہ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ﮨﮯ۔ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺟﮕﮧ ﭘﺮ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺩﻓﻦ ﮨﯿﮟ ۔ﯾﮧ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ 6 ﻣﯿﻞ ﮐﮯ ﻃﻮﯾﻞ ﺍﯾﺮﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻼ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔
32. ﺑﭽﮭﻮ ﭼﮭﮯ ﺩﻥ ﺗﮏ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺎﻧﺲ ﺭﻭﮎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺑﭽﮭﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺗﮩﮧ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﻧﺲ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮯ ﺳﮑﺘﺎ ﻟﮩﺬﺍ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺎﻧﺲ ﺭﻭﮎ ﻟﯿﺘﺎ ﺑﮭﻠﮯ ﺍﺳﮯ ﭼﮭﮯ ﺩﻥ ﻭﮨﺎﮞ ﭘﮍﺍ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﻭ۔ ﻭﮦ ﺳﺎﻧﺲ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮯ ﮔﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺯﻧﺪﮦ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ۔
33. ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺳﯽ ﺧﺎﺗﻮﻥ "ﻣﺴﭩﺮﺱ ﻭﺳﯿﻼﺋﯿﻮ" ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﺳﮯ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻧﯿﮯ ﻣﯿﮟ ﯾﻌﻨﯽ ﺳﻨﮧ 1725ﺀ ﺳﮯ 1765ﺀ ﮐﮯ ﻋﺮﺻﮧ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ 69 ﺑﭽﮯ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﮯ.
34. ﻣﺮﺍﮐﺶ ﮐﮯ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺑﻦ ﺍﻟﺸﺮﻳﻒ ﺍﺑﻦ ﺍﻟﻨﺼﺮ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻣﺮﺍﮐﺶ ﭘﺮ 1672ﺀ ﺳﮯ 1727ﺀ ﺗﮏ 55 ﺳﺎﻝ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺑﯿﻮﯾﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻧﺪﯾﻮﮞ (ﮐﻨﯿﺰﻭﮞ) ﺳﮯ 525 ﺑﯿﭩﮯ ﺍﻭﺭ 342 بیٹیاں ھیں.
https://t.me/muskuraahten
🎅 MUSKURAAHTEN 🎅
1. ﻗﻄﺐِ ﺷﻤﺎﻟﯽ ﮐﮯ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﺳﮯ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ 186 ﺩﻥ ﺗﮏ ﺳﻮﺭﺝ ﻣﮑﻤﻞ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻏﺎﺋﺐ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ.
2. ﺳﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺟﺘﻨﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﯾﮟ ﻧﯿﻨﺪ ﺁﻧﮯ ﮐﮯ ﭼﺎﻧﺲ ﺍﺗﻨﮯ ﮨﯽ ﮐﻢ ﮨﯿﮟ۔
3. ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺩﻣﺎﻍ ﺳﺘﺮ ﻓﯿﺼﺪ ﻭﻗﺖ ﭘﺮﺍﻧﯽ
ﯾﺎﺩﻭﮞ ﯾﺎ ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﮐﯽ ﺳﻨﮩﺮﯼ ﯾﺎﺩﻭﮞ ﮐﮯ
ﺧﺎﮐﮯ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺍﺭﺗﺎ ﮨﮯ۔
4. ﭘﻨﺪﺭﮦ ﻣﻨﭧ ﮨﻨﺴﻨﺎ ﺟﺴﻢ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﯽ
ﻓﺎﺋﺪﮦ ﻣﻨﺪ ﮨﮯ ﺟﺘﻨﺎ ﺩﻭ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺳﻮﻧﺎ۔
5. ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺑﺤﺚ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﭘﭽﺎﺳﯽ ﻓﯿﺼﺪ
ﻟﻮﮒ ﺍﻥ ﺗﯿﺰﯾﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺗﯿﺰ ﺟﻤﻠﻮﮞ ﮐﻮ
ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺑﺤﺚ ﻣﯿﮟ
ﮐﮩﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
6. ﻓﻼﺳﻔﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺤﮯ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ.. "ﻧﻮﮮ ﺳﯿﮑﻨﮉ"
7. ﺳﺮﺩﯼ ﮐﯽ ﮐﮭﺎﻧﺴﯽ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﮐﻠﯿﭧ ﮐﮭﺎﻧﺴﯽ ﮐﮯ ﺳﯿﺮﭖ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﮔﻨﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﮩﺘﺮ ﺍﺛﺮ ﺩﮐﮭﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﻟﮩٰﺬﺍ ﺳﺮﺩﯼ ﻭﺍﻟﯽ ﮐﮭﺎﻧﺴﯽ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﮐﻠﯿﭧ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﮐﺮﯾﮟ.
8. ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺟﺬﺑﺎﺗﯽ ﺩﮬﭽﮑﺎ ﭘﻨﺪﺭﮦ ﯾﺎ ﺑﯿﺲ ﻣﻨﭧ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﺎ ﺟﺬﺑﺎﺗﯽ ﻭﻗﺖ ﺁﭖ ﮐﯽ "ﺍﻭﻭﺭ ﺗﮭﻨﮑﻨﮓ" ﯾﻌﻨﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺁﭖ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺯﺧﻢ ﻟﮕﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ.
9. ﻋﺎﻡ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺁﺋﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ
ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﮔﻨﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺣﺴﯿﻦ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
10. ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻧﻮﮮ ﻓﯿﺼﺪ ﻟﻮﮒ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﮔﮭﺒﺮﺍ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺐ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﯾﮧ ﻣﯿﺴﺞ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ.. "ﮐﭽﮫ ﭘﻮﭼﮭﻮﮞ ﺁﭖ ﺳﮯ"
11. ﺯﻣﯿﻦ ﺳﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺳﺘﺎﺭﮦ ﺳﻮﺭﺝ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺯﻣﯿﻦ ﺳﮯ 93 ﻣﻠﯿﻦ ﻣﯿﻞ ﺩﻭﺭ ﻭﺍﻗﻊ ﮨﮯ.
12. ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ 26 ﻣﻠﮑﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺘﺎ.
13. ﺗﯿﻞ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻼ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﭘﯿﻨﺴﻠﻮﯾﻨﯿﺎ ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ ﻣﯿﮟ 1859ﺀ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻮﺩﺍ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ.
14. ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭘﮩﺎﮌ ﺳﻮﺋﭩﺰﺭ
ﻟﯿﻨﮉ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ.
15. ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﮐﻢ ﻋﻤﺮ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ 8 ﺍﻭﺭ 9 ﺳﺎﻝ ﺗﮭﯽ، ﻭﮦ 1910ﺀ ﻣﯿﮟ ﭼﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔
16. ﺗﻤﺎﻡ ﭘﮭﻠﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺳﺒﺰﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﺴﺒﺖ ﺗﯿﺰ ﻣﺮﭺ ﻣﯿﮟ ﻭﭨﺎﻣﻦ ﺳﯽ ﮐﯽ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔
17. ﻓﺮﻋﻮﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻣﺼﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﻔﺘﮧ 10 ﺩﻥ ﮐﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ.
18. ﺗﺘﻠﯽ ﮐﯽ ﭼﮑﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺣﺲ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﭘﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ہے۔
19. ﺍﭨﮭﺎﺭﻭﯾﮟ ﺻﺪﯼ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﭽﭗ ﺑﻄﻮﺭ ﺩﻭﺍﺀ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ.
20. ﮐﻮﮮ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﺳﻂ ﻋﻤﺮ ﭘﺎﻧﭻ ﺳﻮ ﺳﺎﻝ ﺗﮏ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔
21. ﺍﭨﮭﺎﺭﮦ ﻣﮩﯿﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺩﻭ ﭼﻮﮨﮯ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً 1ﻣﻠﯿﻦ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
22. ﻣﯿﻨﮉﮎ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ، ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺳﻮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﮭﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﮐﮭﻠﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔
23. ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺳﺮﭺ ﺍﻧﺠﻦ ﮔﻮﮔﻞ
ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺍﺭﺑﻮﮞ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻣﻄﻠﻮﺑﮧ
ﻣﻌﻠﻮﻣﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﻭﯾﺐ ﺳﺎﺋﭩﺲ ﮈﮬﻮﻧﮉ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ
ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﺳﺮﭺ ﺍﻧﺠﻦ ﺍﺳﻘﺪﺭ ﭘﯿﭽﯿﺪﮦ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﯼ
ﻣﻘﺪﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﮈﯾﭩﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﻠﻮﻣﺎﺕ ﮐﻮ ﺍﺭﺑﻮﮞ
ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺎﻗﺖ
ﺍﻭﺭ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﻋﻘﻞ ﺩﻧﮓ ﺭﮦﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ.
24. ﺍﯾﮏ ﻣﺮﻏﯽ ﺳﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺳﻄﺎً 228 ﺍﻧﮉﮮ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ.
25. ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻗﺪﺭﺕ ﮐﮯ ﻣﻈﮩﺮ "ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺟﺴﻢ " ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﯾﮧ ﺣﯿﺮﺕ ﺍﻧﮕﯿﺰ ﺑﺎﺕ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺧﻮﻥ ﮐﯽ ﻧﺎﻟﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺠﻤﻮﻋﯽ ﻟﻤﺒﺎﺋﯽ 60 ﮨﺰﺍﺭﻣﯿﻞ ﮐﮯ
ﺑﺮﺍﺑﺮ ﮨﮯ۔
26. ﺳﺎﻡ ﺳﺎﻧﮓ ﮐﻮﺭﯾﺎﺋﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﮯ ﺩﻭ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﺠﻤﻮﻋﮧ ﮨﮯ ﺳﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﻧﮓ. ﺳﺎﻡ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ"ﺗﯿﻦ" ﺍﻭﺭ ﺳﺎﻧﮓ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ "ﺳﺘﺎﺭﮮ" ﮨﮯ۔ ﯾﻌﻨﯽ ﺗﯿﻦ ﺳﺘﺎﺭﮮ
27. ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮔﮩﺮﺍﺋﯽ
ﺗﻘﺮﯾﺒﺎ11 ﮐﻠﻮﻣﯿﮍ (10923 ﻣﯿﮍ) ﮨﮯ.
28. ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻧﻮﮮ ﻓﯿﺼﺪ ﻟﻮﮒ ﮔﻮﮔﻞ ﮐﺎ
ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺳﭙﯿﻠﻨﮓ ﭼﯿﮏ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ
ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ 80 ﻓﯿﺼﺪ ﻟﻮﮒ ﮔﻮﮔﻞ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﭘﺘﮧ ﭼﻞ ﺳﮑﮯ ﺍﻧﭩﺮﻧﯿﭧ ﭼﻞ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﮩﯿﮟ۔
29. ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﺁﺩﮬﯽ ﺁﺑﺎﺩﯼ ﺻﺮﻑ ﭘﺎﻧﭻ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﭼﯿﻦ، ﺑﮭﺎﺭﺕ، ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ، ﺑﻨﮕﻠﮧ ﺩﯾﺶ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮉﻭﻧﯿﺸﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ.
30. ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﺑﺤﯿﺮﮦ ﻣﺮﺩﺍﺭ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﯾﮧ
ﺩﻟﭽﺴﭗ ﺑﺎﺕ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﺍﺱ
ﺳﻤﻨﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﮔﺮ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﮈﻭﺑﯿﮟ ﮔﮯ۔
31. ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﺎ "ﻣﮑﻠﯽ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ، ﭨﮭﭩﮭﮧ " ﺟﻮ کہ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ﮨﮯ۔ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺟﮕﮧ ﭘﺮ ﻻﮐﮭﻮﮞ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺩﻓﻦ ﮨﯿﮟ ۔ﯾﮧ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ 6 ﻣﯿﻞ ﮐﮯ ﻃﻮﯾﻞ ﺍﯾﺮﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻼ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔
32. ﺑﭽﮭﻮ ﭼﮭﮯ ﺩﻥ ﺗﮏ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺎﻧﺲ ﺭﻭﮎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺑﭽﮭﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺗﮩﮧ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﻧﺲ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮯ ﺳﮑﺘﺎ ﻟﮩﺬﺍ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺎﻧﺲ ﺭﻭﮎ ﻟﯿﺘﺎ ﺑﮭﻠﮯ ﺍﺳﮯ ﭼﮭﮯ ﺩﻥ ﻭﮨﺎﮞ ﭘﮍﺍ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﻭ۔ ﻭﮦ ﺳﺎﻧﺲ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮯ ﮔﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺯﻧﺪﮦ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ۔
33. ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺳﯽ ﺧﺎﺗﻮﻥ "ﻣﺴﭩﺮﺱ ﻭﺳﯿﻼﺋﯿﻮ" ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﺧﺎﻭﻧﺪ ﺳﮯ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻧﯿﮯ ﻣﯿﮟ ﯾﻌﻨﯽ ﺳﻨﮧ 1725ﺀ ﺳﮯ 1765ﺀ ﮐﮯ ﻋﺮﺻﮧ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ 69 ﺑﭽﮯ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﮯ.
34. ﻣﺮﺍﮐﺶ ﮐﮯ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺑﻦ ﺍﻟﺸﺮﻳﻒ ﺍﺑﻦ ﺍﻟﻨﺼﺮ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻣﺮﺍﮐﺶ ﭘﺮ 1672ﺀ ﺳﮯ 1727ﺀ ﺗﮏ 55 ﺳﺎﻝ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺑﯿﻮﯾﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻧﺪﯾﻮﮞ (ﮐﻨﯿﺰﻭﮞ) ﺳﮯ 525 ﺑﯿﭩﮯ ﺍﻭﺭ 342 بیٹیاں ھیں.
https://t.me/muskuraahten
🎅 MUSKURAAHTEN 🎅
Telegram
🎅مسکراہٹیں🎅
لطیفے، مزاحیہ اور ہارر کلپس
💎 ہیرا اور شیشہ 💎
ایک بادشاہ کا دربار لگا ہوا تھا، چونکہ سردی کا دن تھا اس لئے بادشاہ کا دربار کھلے میدان میں ہی لگا ہوا تھا. سب خواص و عوام صبح کی دھوپ میں بیٹھے تھے۔
بادشاہ کے تخت کے سامنےایک میز تھی اور اس پر کچھ قیمتی اشیا رکھی تھیں۔
وزیر، مشیر اور امراء وغیرہ سب دربار میں بیٹھے تھے، بادشاہ کے خاندان کے دیگر افراد بھی موجود تھے۔
اسی وقت ایک شخص آیا اوردربار میں داخلے کی اجازت چاہی۔ اجازت مل گئی تو اس نے کہا۔۔
"میرے پاس دو اشیاء ہیں، میں ہر ملک کے بادشاہ کے پاس گیا ہوں اور اپنی اشیاء کو بادشاہ کے سامنے رکھتا ہوں پر کوئی فرق جان نہیں پاتا، تمام ہار چکے ہیں اور میں ہمیشہ کامران و کامیاب ہو کر لوٹتا ہوں"
اب آپ کےملک میں آیا ہوں۔
بادشاہ نے کہا؛ "کیا اشیاء ہیں؟"
تو اس نے دونوں اشیاء بادشاہ کے سامنے میز پر رکھ دیں۔
وہ دونوں اشیاء دکھنے میں بالکل ایک جیسی جسامت، یکساں رنگ، یکساں چمک گویا کہ یہ دونوں اشیاء ایک دوسرے کی نقل محسوس ہوتی تھیں۔
بادشاہ نے کہا یہ دونوں اشیاء تو بالکل ایک جیسی ہیں. تو اس شخص نے کہا جی ہاں دکھائی تو ایک سی ہی دیتی ہیں لیکن ہیں مختلف۔
ان میں سے ایک ہے بہت قیمتی ہیرا اور ایک ہے شیشہ۔
بظاہر یہ دونوں ایک سے ہیں، کوئی آج تک یہ نہیں پہچان سکا کہ کون سا ہیرا ہے اور کون سا شیشہ۔
کوئی جانچ کر بتائے کہ ان میں سے ہیرا کونسا ہے اور کونسا شیشہ؟
اگر کوئی صحیح پہچان گیا اور میں ہار گیا تو یہ قیمتی ہیرا آپ کا ہو جائے گا لیکن شرط یہ ہے کہ اگر کوئی پہچان نہیں پایا تو اس ہیرے کی جو قیمت ہے اتنی رقم آپ کو مجھے بطور انعام دینا ہوگی۔
اسی طرح میں کئی ممالک سے جیت کرآیا ہوں۔
بادشاہ نے کہا میں تو نہیں پہچان سکتا، وزیر و مشیر بولے ہم بھی جانچ نہیں سکتے کیونکہ دونوں بالکل ایک جیسے ہیں۔
سب کو گمان تھا کہ اب تو شکست ہی مقدر ہے لیکن شکست پر انعام کا مسئلہ بھی نہیں تھا، کیونکہ بادشاہ کے پاس بہت دولت تھی، بادشاہ کی عزت کا مسئلہ تھا کیونکہ تمام عالم میں یہ مشہور تھا کہ بادشاہ اور اس کی رعایا بہت ذہین ہے اور اس طرح اُن کی سُبکی ہوتی۔ کوئی شخص بھی پہچان نہیں پا رہا تھا۔
آخر کار تھوڑی سی ہلچل ہوئی، ایک نابینا شخص ہاتھ میں لاٹھی لے کر اٹھا، اس نے کہا مجھے بادشاہ کے پاس لے چلو میں نے تمام باتیں سنی ہیں اور یہ بھی سنا ہے کہ کوئی پہچان نہیں پا رہا ہے ایک موقع مجھے بھی دیں۔
ایک آدمی کے سہارے وہ بادشاہ کے پاس پہنچا اس نے بادشاہ سے درخواست کی کہ ویسے تو میں پیدائشی نابینا ہوں لیکن پھر بھی مجھے ایک موقع دیا جائے۔ میں بھی ایک بار اپنی ذہانت کوجانچ سکوں اور ہو سکتا ہے کہ کامیاب بھی ہو جاؤں اور اگر کامیاب نہ بھی ہوا تو ویسے بھی آپ تو ہارے ہوئے ہی ہیں۔
بادشاہ کو محسوس ہوا کہ اسے موقع دینے میں کیا حرج ہے۔
بادشاہ نے کہا کہ ٹھیک ہے۔
اس نابینا شخص کو دونوں چیزیں چھونے کے لیے دے دی گئیں اور پوچھا گیا۔۔
اس میں کون سا ہیرا ہے؟
اور کون سا شیشہ؟
یہی آپکو معلوم کرنا ہے۔
اس آدمی نے ایک لمحے میں کہہ دیا کہ یہ ہیرا ہے اور یہ شیشہ۔
.
جو آدمی اتنے جگہوں سے جیت کر آیا تھا وہ بہت حیران ہو گیا اورکہا
"ٹھیک ہے آپ نے صحیح پہچانا .. آپکو مبارک ہو۔ اپنے وعدہ کے مطابق اب یہ ہیرا بادشاہ کا ہوا "
تمام لوگ بہت حیران ہوئے کہ ایک نابینا شخص نے کیسے جان لیا کہ اصل ہیرا کونسا ہے اور سب نے یہی سوال اس نابینا شخص سے کیا۔
اس نابینا شخص نے کہا کہ سیدھی سی بات ہے دھوپ میں ہم سب بیٹھے ہیں، میں نے دونوں کو چھو کر محسوس کیا،
جو ٹھنڈا رہا وہ ہیرا
جو گرم ہو گیا وہ شیشہ
■اسی طرح زندگی میں بھی جو شخص سخت اور مشکل حالات میں گرم ہو جائے اور حالات کا سامنا نہ کر سکے وہ شیشہ کی مانند ہے اور جو تمام حالات میں ٹھنڈا رہے وہ ہیرے کی مانند ہے۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ایک بادشاہ کا دربار لگا ہوا تھا، چونکہ سردی کا دن تھا اس لئے بادشاہ کا دربار کھلے میدان میں ہی لگا ہوا تھا. سب خواص و عوام صبح کی دھوپ میں بیٹھے تھے۔
بادشاہ کے تخت کے سامنےایک میز تھی اور اس پر کچھ قیمتی اشیا رکھی تھیں۔
وزیر، مشیر اور امراء وغیرہ سب دربار میں بیٹھے تھے، بادشاہ کے خاندان کے دیگر افراد بھی موجود تھے۔
اسی وقت ایک شخص آیا اوردربار میں داخلے کی اجازت چاہی۔ اجازت مل گئی تو اس نے کہا۔۔
"میرے پاس دو اشیاء ہیں، میں ہر ملک کے بادشاہ کے پاس گیا ہوں اور اپنی اشیاء کو بادشاہ کے سامنے رکھتا ہوں پر کوئی فرق جان نہیں پاتا، تمام ہار چکے ہیں اور میں ہمیشہ کامران و کامیاب ہو کر لوٹتا ہوں"
اب آپ کےملک میں آیا ہوں۔
بادشاہ نے کہا؛ "کیا اشیاء ہیں؟"
تو اس نے دونوں اشیاء بادشاہ کے سامنے میز پر رکھ دیں۔
وہ دونوں اشیاء دکھنے میں بالکل ایک جیسی جسامت، یکساں رنگ، یکساں چمک گویا کہ یہ دونوں اشیاء ایک دوسرے کی نقل محسوس ہوتی تھیں۔
بادشاہ نے کہا یہ دونوں اشیاء تو بالکل ایک جیسی ہیں. تو اس شخص نے کہا جی ہاں دکھائی تو ایک سی ہی دیتی ہیں لیکن ہیں مختلف۔
ان میں سے ایک ہے بہت قیمتی ہیرا اور ایک ہے شیشہ۔
بظاہر یہ دونوں ایک سے ہیں، کوئی آج تک یہ نہیں پہچان سکا کہ کون سا ہیرا ہے اور کون سا شیشہ۔
کوئی جانچ کر بتائے کہ ان میں سے ہیرا کونسا ہے اور کونسا شیشہ؟
اگر کوئی صحیح پہچان گیا اور میں ہار گیا تو یہ قیمتی ہیرا آپ کا ہو جائے گا لیکن شرط یہ ہے کہ اگر کوئی پہچان نہیں پایا تو اس ہیرے کی جو قیمت ہے اتنی رقم آپ کو مجھے بطور انعام دینا ہوگی۔
اسی طرح میں کئی ممالک سے جیت کرآیا ہوں۔
بادشاہ نے کہا میں تو نہیں پہچان سکتا، وزیر و مشیر بولے ہم بھی جانچ نہیں سکتے کیونکہ دونوں بالکل ایک جیسے ہیں۔
سب کو گمان تھا کہ اب تو شکست ہی مقدر ہے لیکن شکست پر انعام کا مسئلہ بھی نہیں تھا، کیونکہ بادشاہ کے پاس بہت دولت تھی، بادشاہ کی عزت کا مسئلہ تھا کیونکہ تمام عالم میں یہ مشہور تھا کہ بادشاہ اور اس کی رعایا بہت ذہین ہے اور اس طرح اُن کی سُبکی ہوتی۔ کوئی شخص بھی پہچان نہیں پا رہا تھا۔
آخر کار تھوڑی سی ہلچل ہوئی، ایک نابینا شخص ہاتھ میں لاٹھی لے کر اٹھا، اس نے کہا مجھے بادشاہ کے پاس لے چلو میں نے تمام باتیں سنی ہیں اور یہ بھی سنا ہے کہ کوئی پہچان نہیں پا رہا ہے ایک موقع مجھے بھی دیں۔
ایک آدمی کے سہارے وہ بادشاہ کے پاس پہنچا اس نے بادشاہ سے درخواست کی کہ ویسے تو میں پیدائشی نابینا ہوں لیکن پھر بھی مجھے ایک موقع دیا جائے۔ میں بھی ایک بار اپنی ذہانت کوجانچ سکوں اور ہو سکتا ہے کہ کامیاب بھی ہو جاؤں اور اگر کامیاب نہ بھی ہوا تو ویسے بھی آپ تو ہارے ہوئے ہی ہیں۔
بادشاہ کو محسوس ہوا کہ اسے موقع دینے میں کیا حرج ہے۔
بادشاہ نے کہا کہ ٹھیک ہے۔
اس نابینا شخص کو دونوں چیزیں چھونے کے لیے دے دی گئیں اور پوچھا گیا۔۔
اس میں کون سا ہیرا ہے؟
اور کون سا شیشہ؟
یہی آپکو معلوم کرنا ہے۔
اس آدمی نے ایک لمحے میں کہہ دیا کہ یہ ہیرا ہے اور یہ شیشہ۔
.
جو آدمی اتنے جگہوں سے جیت کر آیا تھا وہ بہت حیران ہو گیا اورکہا
"ٹھیک ہے آپ نے صحیح پہچانا .. آپکو مبارک ہو۔ اپنے وعدہ کے مطابق اب یہ ہیرا بادشاہ کا ہوا "
تمام لوگ بہت حیران ہوئے کہ ایک نابینا شخص نے کیسے جان لیا کہ اصل ہیرا کونسا ہے اور سب نے یہی سوال اس نابینا شخص سے کیا۔
اس نابینا شخص نے کہا کہ سیدھی سی بات ہے دھوپ میں ہم سب بیٹھے ہیں، میں نے دونوں کو چھو کر محسوس کیا،
جو ٹھنڈا رہا وہ ہیرا
جو گرم ہو گیا وہ شیشہ
■اسی طرح زندگی میں بھی جو شخص سخت اور مشکل حالات میں گرم ہو جائے اور حالات کا سامنا نہ کر سکے وہ شیشہ کی مانند ہے اور جو تمام حالات میں ٹھنڈا رہے وہ ہیرے کی مانند ہے۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌳 شفقتِ پِدری 🌳
ﮐﻞ ﺷﺎﻡ ﮐﺎﻡ ﺳﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺗﮭﮑﺎ ﮬﻮﺍ ﮔﮭﺮ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﺳﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﺎ ﺍﻧﮓﺍﻧﮓ ﭨﻮﭦ ﺭﮬﺎ ﺗﮭﺎ ﺁﺗﮯ ﮨﯽ ﺑﺴﺘﺮ ﭘﺮ ﮔﺮ ﮔﯿﺎ ﺍﺑﻮ ﻓﻮﺭﺍً ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺷﻔﻘﺖ ﺳﮯ ﺣﺎﻝ ﺍﺣﻮﺍﻝ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﮐﮧ ﺑﺎﻋﺚ ﺑﮯﺩﻟﯽ ﺳﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﻭﮦ ﺯﯾﺮِ ﻟﺐ ﺩﻋﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ
ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺑﯿﮕﻢ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺑﭽﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺗﮭﮑﺎ ﮬﻮﺍ ﮬﻮﮞ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﮕﺮ کے ﭨﮑﮍﻭﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻮﮞ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﺍﺗﺮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ۔ ﺑﯿﮕﻢ ﻓﻮﺭﺍً ﺻﺤﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﯿﻠﺘﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻧﻨﮭﮯ ﻣﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﻟﮯ ﺁئی ﺟﻮ ﺁﺗﮯ ﮨﯽ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻟﭙﭧ ﮔﺌﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺳﺎﺭﯼ ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺷﻔﻘﺖِ ﭘِﺪﺭﯼ ﻧﭽﮭﺎﻭﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔
ﻟﯿﮑﻦ ﭼﻨﺪ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﮨﯽ ﻭﺍﻟﺪ ﻣﺤﺘﺮﻡ ﮐﺎ ﺟﮭﺮﯾﻮﮞ ﺑﮭﺮﺍ ﭼﮩﺮﮦ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ کے ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮔﮭﻮﻡ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺷﻔﻘﺖِ ﭘِﺪﺭﯼ ﺳﮯ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺁﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ۔ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﻔﻘﺖِ ﭘِﺪﺭﯼ ﻧﭽﮭﺎﻭﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮯﺭﺧﯽ کے ﺑﺎﻋﺚ ﻭﮦ ﺑﯿﭩﮫ نہ ﺳﮑﮯ۔۔ ﺍﺗﻨﺎ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮧ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ﭼﮭﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ، ﺩﻡ ﺳﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﭩﺘﺎ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮬﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌﺍ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﮌﺗﺎ ﮬﻮﺍ ﻭﺍﻟﺪِﻣﺤﺘﺮﻡ کے ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﭘﮩﻨﭽﺎ۔۔
ﺟﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯽ ﭘﺮ ﻟﯿﭩﮯ نہ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﻦ ﺳﻮﭼﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﻢ ﭼﮭﺖ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺟﺎ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯽ ﭘﺮ ﺍﻥ کے ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﭨﺎﻧﮕﯿﮟ ﺩﺑﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔ ﺍﺑﻮ ﻓﻮﺭﺍً ﺍﭨﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﻟﮕﺎ ﻟﯿﺎ۔ ﻧﺠﺎﻧﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻢ ﺑﺎﭖ ﺑﯿﭩﺎ ﭘﮭﻮﭦ ﭘﮭﻮﭦ ﮐﺮ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﮯ۔
ﻣﯿﮟ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﯾﺴﯽ ﺭﺍﺣﺖ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺒﮭﯽ نہ ﻣﻠﯽ ﺟﻮ ﺑﺎﭖ ﮐﮧ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﭼﻤﭧ ﮐﺮ ﻣﻠﯽ۔
■ﺩﻭﺳﺘﻮ! آپ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﯿﺴﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯿﺎﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪ ﺳﮑﺘﮯ۔ ﭘﯿﺴﮧ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺫﻧﺪﮔﯽ ﮐﻤﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﺳﺐ آپ ﭘﺮ ﻟﭩﺎ ﺩﯾﺎ ﯾﮧ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﮧ ﮐﻞ ﮐﻮ ﻭﮦ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮬﻮﮞ ﮔﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﮍﮬﺎﭘﮯ ﮐﮧ ﻟﺌﮯ ﮐﭽﮫ نہ ﺑﭽﺎﯾﺎ۔ ﺍﮔﺮ ﮐﭽﮫ ﺑﭽﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ آپ کے ﻟﺌﮯ۔ آپ ﺻﺮﻑ ﭼﻨﺪ ﻟﻤﺤﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ کے ﺳﺎﺗﮫ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮﻭ، ﺍﻥ ﺳﮯ ﺩﮐﮫ ﺳﮑﮫ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺷﻔﻘﺖ کے ﺳﺎﺗﮫ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ، ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮﻭ ﺩﻧﯿﺎ ﻭ ﺁﺧﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﻓﻼﺡ ﭘﺎﺟﺎؤ ﮔﮯ.
●رسول خدا (ص) فرماتے ہیں؛
"رِضَآءُ الرَّبِّ فِی رِضَآءِ الْوَالِدَيْنِ"
والدین کی رضامندی خدا کی رضامندی ہے۔ (کنزالعمال: 45520)
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ ماں، باپ کے بارے میں مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
💓حضرت موسٰیؑ کا بہشتی ہمسایہ
https://t.me/islamwitheman/652
⭕ ماں کی ناراضگی کا اثر
https://t.me/islamwitheman/331
⭕ عمل کا ردعمل
https://t.me/islamwitheman/333
🔷 اولڈ ایج ہوم
https://t.me/islamwitheman/97
🔷 ساس اور بہو
https://t.me/islamwitheman/199
🔷 ماں اور باپ
https://t.me/islamwitheman/330
🌳 سیب کا درخت
https://t.me/islamwitheman/162
🌳 باپ کے جذبات
https://t.me/islamwitheman/58
🌳 باپ ٹھنڈی چھاؤں
https://t.me/islamwitheman/96
🌳 باپ کی پشت پناہی
https://t.me/islamwitheman/332
🌳 جیسا کرو گے ویسا بھرو گے
https://t.me/islamwitheman/117
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ﮐﻞ ﺷﺎﻡ ﮐﺎﻡ ﺳﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺗﮭﮑﺎ ﮬﻮﺍ ﮔﮭﺮ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﺳﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﺎ ﺍﻧﮓﺍﻧﮓ ﭨﻮﭦ ﺭﮬﺎ ﺗﮭﺎ ﺁﺗﮯ ﮨﯽ ﺑﺴﺘﺮ ﭘﺮ ﮔﺮ ﮔﯿﺎ ﺍﺑﻮ ﻓﻮﺭﺍً ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺷﻔﻘﺖ ﺳﮯ ﺣﺎﻝ ﺍﺣﻮﺍﻝ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﮐﮧ ﺑﺎﻋﺚ ﺑﮯﺩﻟﯽ ﺳﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﻭﮦ ﺯﯾﺮِ ﻟﺐ ﺩﻋﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ
ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺑﯿﮕﻢ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺑﭽﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺗﮭﮑﺎ ﮬﻮﺍ ﮬﻮﮞ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﮕﺮ کے ﭨﮑﮍﻭﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻮﮞ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﺍﺗﺮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ۔ ﺑﯿﮕﻢ ﻓﻮﺭﺍً ﺻﺤﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﯿﻠﺘﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻧﻨﮭﮯ ﻣﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﻟﮯ ﺁئی ﺟﻮ ﺁﺗﮯ ﮨﯽ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻟﭙﭧ ﮔﺌﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺳﺎﺭﯼ ﺗﮭﮑﺎﻭﭦ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺷﻔﻘﺖِ ﭘِﺪﺭﯼ ﻧﭽﮭﺎﻭﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔
ﻟﯿﮑﻦ ﭼﻨﺪ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﮨﯽ ﻭﺍﻟﺪ ﻣﺤﺘﺮﻡ ﮐﺎ ﺟﮭﺮﯾﻮﮞ ﺑﮭﺮﺍ ﭼﮩﺮﮦ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ کے ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮔﮭﻮﻡ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺷﻔﻘﺖِ ﭘِﺪﺭﯼ ﺳﮯ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺁﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ۔ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﻔﻘﺖِ ﭘِﺪﺭﯼ ﻧﭽﮭﺎﻭﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮯﺭﺧﯽ کے ﺑﺎﻋﺚ ﻭﮦ ﺑﯿﭩﮫ نہ ﺳﮑﮯ۔۔ ﺍﺗﻨﺎ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮧ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﺍ ﭼﮭﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ، ﺩﻡ ﺳﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﭩﺘﺎ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮬﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌﺍ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﮌﺗﺎ ﮬﻮﺍ ﻭﺍﻟﺪِﻣﺤﺘﺮﻡ کے ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﭘﮩﻨﭽﺎ۔۔
ﺟﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯽ ﭘﺮ ﻟﯿﭩﮯ نہ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﻦ ﺳﻮﭼﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮔﻢ ﭼﮭﺖ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﺟﺎ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﯽ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯽ ﭘﺮ ﺍﻥ کے ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﭨﺎﻧﮕﯿﮟ ﺩﺑﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔ ﺍﺑﻮ ﻓﻮﺭﺍً ﺍﭨﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﻟﮕﺎ ﻟﯿﺎ۔ ﻧﺠﺎﻧﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻢ ﺑﺎﭖ ﺑﯿﭩﺎ ﭘﮭﻮﭦ ﭘﮭﻮﭦ ﮐﺮ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﮯ۔
ﻣﯿﮟ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﯾﺴﯽ ﺭﺍﺣﺖ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺒﮭﯽ نہ ﻣﻠﯽ ﺟﻮ ﺑﺎﭖ ﮐﮧ ﺳﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﭼﻤﭧ ﮐﺮ ﻣﻠﯽ۔
■ﺩﻭﺳﺘﻮ! آپ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﯿﺴﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯿﺎﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪ ﺳﮑﺘﮯ۔ ﭘﯿﺴﮧ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺫﻧﺪﮔﯽ ﮐﻤﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﺳﺐ آپ ﭘﺮ ﻟﭩﺎ ﺩﯾﺎ ﯾﮧ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﮧ ﮐﻞ ﮐﻮ ﻭﮦ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮬﻮﮞ ﮔﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﮍﮬﺎﭘﮯ ﮐﮧ ﻟﺌﮯ ﮐﭽﮫ نہ ﺑﭽﺎﯾﺎ۔ ﺍﮔﺮ ﮐﭽﮫ ﺑﭽﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ آپ کے ﻟﺌﮯ۔ آپ ﺻﺮﻑ ﭼﻨﺪ ﻟﻤﺤﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ کے ﺳﺎﺗﮫ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮﻭ، ﺍﻥ ﺳﮯ ﺩﮐﮫ ﺳﮑﮫ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺷﻔﻘﺖ کے ﺳﺎﺗﮫ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ، ﯾﻘﯿﻦ ﮐﺮﻭ ﺩﻧﯿﺎ ﻭ ﺁﺧﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﻓﻼﺡ ﭘﺎﺟﺎؤ ﮔﮯ.
●رسول خدا (ص) فرماتے ہیں؛
"رِضَآءُ الرَّبِّ فِی رِضَآءِ الْوَالِدَيْنِ"
والدین کی رضامندی خدا کی رضامندی ہے۔ (کنزالعمال: 45520)
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ ماں، باپ کے بارے میں مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
💓حضرت موسٰیؑ کا بہشتی ہمسایہ
https://t.me/islamwitheman/652
⭕ ماں کی ناراضگی کا اثر
https://t.me/islamwitheman/331
⭕ عمل کا ردعمل
https://t.me/islamwitheman/333
🔷 اولڈ ایج ہوم
https://t.me/islamwitheman/97
🔷 ساس اور بہو
https://t.me/islamwitheman/199
🔷 ماں اور باپ
https://t.me/islamwitheman/330
🌳 سیب کا درخت
https://t.me/islamwitheman/162
🌳 باپ کے جذبات
https://t.me/islamwitheman/58
🌳 باپ ٹھنڈی چھاؤں
https://t.me/islamwitheman/96
🌳 باپ کی پشت پناہی
https://t.me/islamwitheman/332
🌳 جیسا کرو گے ویسا بھرو گے
https://t.me/islamwitheman/117
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
💓حضرت موسٰیؑ کا بہشتی ہمسایہ💓
حضرت موسٰیؑ اپنے رب سے محوِ مناجات تھے کہ دل میں خیال گزرا، جنت میں میرا ہمسایہ کون ہوگا لہذا عرض کیا؛
پروردگار، اے رب ذوالجلال! کیا مجھے یہ خبر دی جا سکتی ہے کہ جنت میں میرا ہمسایہ کون ہوگا اور کیا میں اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ…
حضرت موسٰیؑ اپنے رب سے محوِ مناجات تھے کہ دل میں خیال گزرا، جنت میں میرا ہمسایہ کون ہوگا لہذا عرض کیا؛
پروردگار، اے رب ذوالجلال! کیا مجھے یہ خبر دی جا سکتی ہے کہ جنت میں میرا ہمسایہ کون ہوگا اور کیا میں اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ…
⭕ خدا کیسا ہے؟ ⭕
خدا کیسا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو اکثر لوگوں، مسلمانوں، غیر مسلموں، چھوٹوں اور بزرگوں کو ضرور پیش آیا ہوگاـ
سوال؟
خدا اسوقت کہاں ہے؟ وہ کس چیز سے بنا ہے؟ خدا سے پہلے کیا تھا؟
اگر آپ بھی اس سوال کا جواب حاصل کرنا چاھتے ہو تو جان لیں کہ ہماری عقل و فھم اتنی قدرت نہیں رکھتی ھے کہ اس حد تک پہنچ جائے،
لیکن ھمارے مولا امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب اسداللہ الغالب علیہ السلام نے اللہ کے وجود کے بارے میں کفار کو بڑی خوبصورت انداز میں وضاحت کے ساتھ جواب دیا اور ھماری ضعیف عقل و فھم کی طرف بھی توجہ دلائی.
کفار کی طرف سے امام علی علیہ السلام سے سوال؟
آپ کا خدا کس سال اور کس تاریخ کو وجود میں آیا؟
امام علی علیہ السلام نے فرمایا:
اللہ تعالی کا وجود تاریخ اور زمان سے پھلے تھا.
کفار نے پوچھا: یہ کیوں کر ھو سکتا؟ کیوں کہ ھر چیز کسی دوسری شئ سے وجود میں آتی ھے یا تبدیل ھوتی.
ھمارے امام علی مرتضٰیؑ نے فرمایا: 3 سے پہلے کون سا عدد ہے؟
کفار نے جواب دیا: 2
امام علیہ السلام نے فرمایا: 2 سے پہلے کون سا عدد؟
انھوں نےجواب دیا: 1
امام علیہ السلام نے پوچھا: 1 سے پہلے؟
انھوں نے جواب دیا: کوئی عدد نہیں.
امام علیہ السلام نے فرمایا: یہ کیسے ممکن ھے کہ ایک عدد کے بعد بے شمار اعداد موجود ہوں اور اس سے پہلے کوئی عدد نہ ہو لیکن اللہ تعالٰی جو احد اور واحد حقیقی ہے سے پہلے کوئی چیز موجود ہو؟
کفار نے عرض کیا: آپ کا خدا کہاں ہے؟ اور کس طرف واقع ہے؟
امام علیہ السلام نے فرمایا: وہ ھر جگہ حاضر اور ھر چیز پر مشرف ہے.
انھوں نے کہا: یہ کیسے ممکن ہے کہ ھر جگہ حاضر ہو اور ھر چیز پر مشرف ھو؟
امام علی علیہ السلام نے فرمایا: اگر آپ لوگ ایک تاریک اور اندھیر جگہ سوئے ہوے ھوں، جب صبح بیدار ھوجائیں تو دن کی روشنی کہاں اور کس طرف سے دیکھتے ھو؟
کفار نے کہا ھر جگہ اور ھر طرف سے.
امام علیہ السلام نے فرمایا: پس وہ خدا جو خود زمین اور آسمانوں کا نور ہے ھر جگہ اور ہر طرف کیوں نہیں ھوسکتا؟
کفار نے کہا: پس خدا نور سے ہے لیکن نور سورج سے ہے پھر آپ کا خدا کس نور سے ہے؟
یہ کس طرح ممکن ہے کہ کسی چیز سے نہ ہو لیکن ہر جگہ موجود ہو اور قدرت بھی رکھتا ہو؟
امام علی علیہ السلام نے فرمایا: خدا خود روشنی کا خالق ہےـ کیا تم نے طوفان اور ھوا کی قدرت کو نہیں دیکھا ہے؟ ھوا کس چیز سے ہے جو نہ دیکھی جاتی ھے نہ وہ کسی چیز سے ہے، درحالیکہ طاقتور ہے، خدا تو خود ھوا کا خالق ہےـ
انھوں نے عرض کیا: ھمارے لئے اپنے خدا کے وصف بیان فرمائیے کہ وہ کس چیز سے بنا ھوا ھے؟ کیا لوہا جیسا سخت ہے؟ یا جاری پانی جیسا؟ یا گیس سے؟ یا دھواں اور بھاپ جیسا ہے؟
حضرت امام علی علیہ السلام نے فرمایا: کیا آج تک آپ کسی مرتے ہوئے بیمار کے پاس بیٹھے تھے؟ اور اس کے ساتھ باتیں کیں؟
انھوں نے جواب دیا: جی ھاں، ھم ایسے بیمار کے پاس تھے اور باتیں بھی کیں.
امام علیہ السلام نے فرمایا: کیا اس کے مرنے کے بعد بھی اس کے ساتھ باتیں کی؟
انھوں نے جواب دیا: نہیں، ایسا ممکن نہیں ـ کیوں کہ وہ مر چکا ہےـ
امام علیہ السلام نے فرمایا: مردہ اور زندہ ہونے میں کیا فرق تھا کہ جس کے بعد کلام اور حرکت کرنے پر قدرت نہیں رکھتا تھا.
انھوں نے کہا: روح، روح اس کے بدن سے خارج ہوئی.
امام علی علیہ السلام نے فرمایا: آپ وہاں پر موجود تھے اور کہتے ہو کہ روح اس کے بدن سے خارج ہوئی اور مرگیاـ اب اس روح کو جو آپ نے اپنی آنکھوں کے سامنے نکلتے ہوے دیکھا، میرے لیے اس کے وصف بیان کریں کہ وہ کس جنس سے تھا؟ اور کیسا تھا؟
یہ سن کر سب خاموش ھو گئے.
امام علی مرتضٰیؑ نے فرمایا: آپ اس روح کی توصیف کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کو تم نے اپنی آنکھوں سے بیمار انسان کے بدن سے نکلتے ہوے دیکھاـ تو آپ کیسے اس ذات اقدس احدیت اور روح کے خالق کو درک کرنے اور سمجھنے کی قدرت رکھ سکتے ہو.
📚اقتباس از کتاب توحید نظری (حجةالاسلام شایان)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزید پوسٹس۔۔۔
⭕ خدا کیسا ہے؟
https://t.me/islamwitheman/773
⭕ صفات باری تعالٰی
https://t.me/islamwitheman/774
⭕ عالم اور بڑھیا
https://t.me/islamwitheman/776
⭕ حجام اور گاہگ
https://t.me/islamwitheman/780
⭕ خدا پر ان دیکھا یقین(حصہ اول)
https://t.me/islamwitheman/793
⭕ خدا پر ان دیکھا یقین(حصہ دوم)
https://t.me/islamwitheman/794
⭕ ایمان اور یقین
https://t.me/islamwitheman/788
⭕ حضرت موسٰیؑ اور گڈریا
https://t.me/islamwitheman/799
🌷 موجبِ اخلاص چیزیں
https://t.me/islamwitheman/1104
⭕ عشقِ خدا
https://t.me/islamwitheman/1105
🌹 تقوٰی کی اہمیت
https://t.me/islamwitheman/1103
⭕ الله تک پہنچنے کا طریقہ
http://t.me/islamwitheman/1329
⭕ توحید
http://t.me/islamwitheman/1609
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
خدا کیسا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو اکثر لوگوں، مسلمانوں، غیر مسلموں، چھوٹوں اور بزرگوں کو ضرور پیش آیا ہوگاـ
سوال؟
خدا اسوقت کہاں ہے؟ وہ کس چیز سے بنا ہے؟ خدا سے پہلے کیا تھا؟
اگر آپ بھی اس سوال کا جواب حاصل کرنا چاھتے ہو تو جان لیں کہ ہماری عقل و فھم اتنی قدرت نہیں رکھتی ھے کہ اس حد تک پہنچ جائے،
لیکن ھمارے مولا امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب اسداللہ الغالب علیہ السلام نے اللہ کے وجود کے بارے میں کفار کو بڑی خوبصورت انداز میں وضاحت کے ساتھ جواب دیا اور ھماری ضعیف عقل و فھم کی طرف بھی توجہ دلائی.
کفار کی طرف سے امام علی علیہ السلام سے سوال؟
آپ کا خدا کس سال اور کس تاریخ کو وجود میں آیا؟
امام علی علیہ السلام نے فرمایا:
اللہ تعالی کا وجود تاریخ اور زمان سے پھلے تھا.
کفار نے پوچھا: یہ کیوں کر ھو سکتا؟ کیوں کہ ھر چیز کسی دوسری شئ سے وجود میں آتی ھے یا تبدیل ھوتی.
ھمارے امام علی مرتضٰیؑ نے فرمایا: 3 سے پہلے کون سا عدد ہے؟
کفار نے جواب دیا: 2
امام علیہ السلام نے فرمایا: 2 سے پہلے کون سا عدد؟
انھوں نےجواب دیا: 1
امام علیہ السلام نے پوچھا: 1 سے پہلے؟
انھوں نے جواب دیا: کوئی عدد نہیں.
امام علیہ السلام نے فرمایا: یہ کیسے ممکن ھے کہ ایک عدد کے بعد بے شمار اعداد موجود ہوں اور اس سے پہلے کوئی عدد نہ ہو لیکن اللہ تعالٰی جو احد اور واحد حقیقی ہے سے پہلے کوئی چیز موجود ہو؟
کفار نے عرض کیا: آپ کا خدا کہاں ہے؟ اور کس طرف واقع ہے؟
امام علیہ السلام نے فرمایا: وہ ھر جگہ حاضر اور ھر چیز پر مشرف ہے.
انھوں نے کہا: یہ کیسے ممکن ہے کہ ھر جگہ حاضر ہو اور ھر چیز پر مشرف ھو؟
امام علی علیہ السلام نے فرمایا: اگر آپ لوگ ایک تاریک اور اندھیر جگہ سوئے ہوے ھوں، جب صبح بیدار ھوجائیں تو دن کی روشنی کہاں اور کس طرف سے دیکھتے ھو؟
کفار نے کہا ھر جگہ اور ھر طرف سے.
امام علیہ السلام نے فرمایا: پس وہ خدا جو خود زمین اور آسمانوں کا نور ہے ھر جگہ اور ہر طرف کیوں نہیں ھوسکتا؟
کفار نے کہا: پس خدا نور سے ہے لیکن نور سورج سے ہے پھر آپ کا خدا کس نور سے ہے؟
یہ کس طرح ممکن ہے کہ کسی چیز سے نہ ہو لیکن ہر جگہ موجود ہو اور قدرت بھی رکھتا ہو؟
امام علی علیہ السلام نے فرمایا: خدا خود روشنی کا خالق ہےـ کیا تم نے طوفان اور ھوا کی قدرت کو نہیں دیکھا ہے؟ ھوا کس چیز سے ہے جو نہ دیکھی جاتی ھے نہ وہ کسی چیز سے ہے، درحالیکہ طاقتور ہے، خدا تو خود ھوا کا خالق ہےـ
انھوں نے عرض کیا: ھمارے لئے اپنے خدا کے وصف بیان فرمائیے کہ وہ کس چیز سے بنا ھوا ھے؟ کیا لوہا جیسا سخت ہے؟ یا جاری پانی جیسا؟ یا گیس سے؟ یا دھواں اور بھاپ جیسا ہے؟
حضرت امام علی علیہ السلام نے فرمایا: کیا آج تک آپ کسی مرتے ہوئے بیمار کے پاس بیٹھے تھے؟ اور اس کے ساتھ باتیں کیں؟
انھوں نے جواب دیا: جی ھاں، ھم ایسے بیمار کے پاس تھے اور باتیں بھی کیں.
امام علیہ السلام نے فرمایا: کیا اس کے مرنے کے بعد بھی اس کے ساتھ باتیں کی؟
انھوں نے جواب دیا: نہیں، ایسا ممکن نہیں ـ کیوں کہ وہ مر چکا ہےـ
امام علیہ السلام نے فرمایا: مردہ اور زندہ ہونے میں کیا فرق تھا کہ جس کے بعد کلام اور حرکت کرنے پر قدرت نہیں رکھتا تھا.
انھوں نے کہا: روح، روح اس کے بدن سے خارج ہوئی.
امام علی علیہ السلام نے فرمایا: آپ وہاں پر موجود تھے اور کہتے ہو کہ روح اس کے بدن سے خارج ہوئی اور مرگیاـ اب اس روح کو جو آپ نے اپنی آنکھوں کے سامنے نکلتے ہوے دیکھا، میرے لیے اس کے وصف بیان کریں کہ وہ کس جنس سے تھا؟ اور کیسا تھا؟
یہ سن کر سب خاموش ھو گئے.
امام علی مرتضٰیؑ نے فرمایا: آپ اس روح کی توصیف کرنے کی قدرت نہیں رکھتے جس کو تم نے اپنی آنکھوں سے بیمار انسان کے بدن سے نکلتے ہوے دیکھاـ تو آپ کیسے اس ذات اقدس احدیت اور روح کے خالق کو درک کرنے اور سمجھنے کی قدرت رکھ سکتے ہو.
📚اقتباس از کتاب توحید نظری (حجةالاسلام شایان)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزید پوسٹس۔۔۔
⭕ خدا کیسا ہے؟
https://t.me/islamwitheman/773
⭕ صفات باری تعالٰی
https://t.me/islamwitheman/774
⭕ عالم اور بڑھیا
https://t.me/islamwitheman/776
⭕ حجام اور گاہگ
https://t.me/islamwitheman/780
⭕ خدا پر ان دیکھا یقین(حصہ اول)
https://t.me/islamwitheman/793
⭕ خدا پر ان دیکھا یقین(حصہ دوم)
https://t.me/islamwitheman/794
⭕ ایمان اور یقین
https://t.me/islamwitheman/788
⭕ حضرت موسٰیؑ اور گڈریا
https://t.me/islamwitheman/799
🌷 موجبِ اخلاص چیزیں
https://t.me/islamwitheman/1104
⭕ عشقِ خدا
https://t.me/islamwitheman/1105
🌹 تقوٰی کی اہمیت
https://t.me/islamwitheman/1103
⭕ الله تک پہنچنے کا طریقہ
http://t.me/islamwitheman/1329
⭕ توحید
http://t.me/islamwitheman/1609
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
⭕ خدا کیسا ہے؟ ⭕
خدا کیسا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو اکثر لوگوں، مسلمانوں، غیر مسلموں، چھوٹوں اور بزرگوں کو ضرور پیش آیا ہوگاـ
سوال؟
خدا اسوقت کہاں ہے؟ وہ کس چیز سے بنا ہے؟ خدا سے پہلے کیا تھا؟
اگر آپ بھی اس سوال کا جواب حاصل کرنا چاھتے ہو تو جان لیں…
خدا کیسا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو اکثر لوگوں، مسلمانوں، غیر مسلموں، چھوٹوں اور بزرگوں کو ضرور پیش آیا ہوگاـ
سوال؟
خدا اسوقت کہاں ہے؟ وہ کس چیز سے بنا ہے؟ خدا سے پہلے کیا تھا؟
اگر آپ بھی اس سوال کا جواب حاصل کرنا چاھتے ہو تو جان لیں…
⭕ صفات باری تعالٰی ⭕
گذشتہ چند سالوں میں مختلف طریقوں سے نوجوانوں کے اذھان میں زھر داخل کیا جارہا ہے. ھم سبکی ذمہ داری ہے کہ اسکے سدباب کیلئے اپنااپنا کردار ادا کریں.
یہ ایک ایسا کلیہ ہے کہ اگر نوجوان اسے ایک بار سمجھ لیں تو ان شاءاللہ جب بھی کسی کی تقریر سنیں گے فوراً فیصلہ کرلیں گے کہ یہ آئمہ اطہار علیہم السلام کی تعریف وتوصیف کر رہاہے یا انکے نام پر شرک کا زھر ھمارے افکار میں گھول رہاہے۔
یاد رکھیں! اس دنیا میں تمام انبیاء ورسل و آئمہ اطہار علیہم السلام کی زندگیوں کا صرف ایک ھدف تھا اور وہ ہے "توحیدشناسی" یعنی اگر ھم اصول دین کو قیامت سے سمیٹنا شروع کریں تو امامت نبوت سے ہوتی ہوئی عدل خداوندی سے توحید پر ختم ہوگی اسیطرح جہاد سے لیکر نماز تک ھرعمل کا ماحصل توحید باری تعالٰی ہے.
توحیدِ کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ اللہ رب العزت کی صفات کو سمجھا جائے ذیل میں صفات ثبوتیہ اور صفات سلبیہ کو بیان کررہا ہوں انہیں سمجھیں اور دیکھیں کہ کسطرح یہ نام نہاد کم فہم و کم علم نوجوانوں کو شرک میں مبتلا کرتے ہیں۔۔
🔷صفات ثبوتیہ
قدیم=
یعنی اللہ ھمیشہ سے ہے اور ھمیشہ رھے گا، اب اگرکوئی اللہ کے علاوہ کسی اور کو قدیم کہے تو اس نے دو ذوات کو قدیم کہکر اللہ کی وحدانیت کا انکار کردیا، اور جزو کا اور دوئی کا قائل ہوگیا جوکہ صریحاً شرک ہے لہذا جوکچھ ہے وہ اس کیبعد اس سے پہلے کچھ نہیں. انبیاء ورسل وآئمہ بھی قدیم نہیں کیونکہ وہ مخلوق ہیں۔
قادر=
یعنی وہ ھر شے پر قادر ہے اور اس پر کسی کو کوئی قدرت نہیں، یعنی آئمہ علیہم السلام پر بھی اس کی قدرت ہے اور آئمہ علیہم السلام کی اس پر کوئی قدرت نہیں۔۔
عالم=
وہ عالم ہے ایسا کہ ھر شے کو جانتاہے اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ وہ ایک لمحے کیلئے بھی جاھل رہاہو جبکہ مخلوق عدم سے وجود میں آنے کیبعد عالم بنی اور اسکو علم پروردگار سے ملا کیونکہ وہ اس وقت بھی تھا جب مخلوق نہ تھی۔
حی=
وہ ایسا زندہ ہے جسے موت نہیں، اب جسے بھی موت ہے وہ اللہ نہیں یاد رکھیں۔۔
مدرک=
وہ دیکھتا بھی ہے، سنتا بھی ہے لیکن نہ اسکے کان ہیں اور نہ آنکھیں، اسکے علاوہ جوبھی ہیں وہ دیکھنے اور سننے کے لئے اعضاء کے محتاج ہیں۔
مرید=
وہ صاحب ارادہ ہے جب وہ کسی شے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ ہو جاتی ہے، یعنی وہ اپنے ارادے میں کسی کا پابند نہیں ہے، اس کے ارادے سے سب خلق ہوئے ہیں وہ کسی کے ارادے سے خلق نہیں ہوا۔
متکلم=
وہ کلام کرتا ہے لیکن اس زبان سے نہیں اور جتنی بھی مخلوقات ہیں وہ کلام کیلئے کسی نہ کسی وسیلہ کی محتاج ہیں.
صادق=
وہ سچا ہے اور اسے کسی کا خوف ولالچ نہیں کہ جھوٹ کہے۔
🔷صفات سلبیہ
وہ صفات جن سے اللہ رب العزت منزہ ہے۔
شرکت=
یعنی اسکا کوئی شریک نہیں وہ واحد و احد ہے کسی کی شرکت سے کوئی کام انجام نہیں دیتا جو یہ سمجھتا ہے کہ کوئی اس کا مددگار ہے اور وہ کسی کو شریک کرنے کا محتاج ہے وہ مشرک ہے۔
ترکیب=
یعنی وہ مرکب نہیں ہے کہ کسی شے سے بنا ہو، یعنی جو بھی جسم و اعضاء کا مرکب ہے وہ مخلوق ہے خالق نہیں۔
حلول=
نہ وہ کسی شے میں حلول کرتا ہے اور نہ کوئی شے اس میں حلول کرتی ہے جو یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ اللہ نعوذ باللہ کسی امام میں حلول کرتا ہے وہ مشرک ہے کیونکہ اللہ جسم نہیں کہ جس میں کوئی حلول کر جائے اور وہ کسی میں حلول کر جائے ایسا سوچنا اسے محدود کرنا ہے اور جو محدود ہو وہ اللہ نہیں۔
مکان=
اس کا کوئی ایک مکان نہیں کہ کہا جاسکے کہ وہ اسطرف ہے جیساکہ امام علی علیہ السلام نے فرمایا کہ جس نے اسے ایک جہت میں مانا اس نے اسے قابل اشارہ سمجھا جس نے قابل اشارہ سمجھا اس نے اسے محدود کردیا۔۔ جس نے ایک سمت میں محدود کیا اس نے اور جگہوں کو اس سے خالی سمجھا۔۔
احتیاج=
اسے کسی چیز کی ضرورت نہیں اور سبکو اسکی ضرورت ہے، یعنی کوئی یہ نہ کہے کہ اللہ کو ضرورت تھی کہ امامؑ ہوں تو اس کا وجود ہوگا ورنہ نہیں، اسے کسی بھی شے کی احتیاج نہیں۔
صفات زائد بر ذات=
یعنی اسکی صفات اسکی ذات کے علاوہ کوئی الگ شے نہیں بلکہ اس کی تمام صفات عین ذات ہیں،
یہ عقیدہ اسلئے ضروری ہے کہ صرف اسکی ذات قدیم ہے اگر اسکی صفات کو اسکی ذات سے علیحدہ سمجھاگیا تو صفات کو بھی قدیم ماننا پڑے گا جوکہ محال ہے۔
محل حوادث=
یعنی اس میں تغیر و تبدیلی نہیں نہ اسے اونگھ آتی ہے نہ ہی نیند کیونکہ یہ کیفیات تبدیلی پیدا کرتی ہیں پہلی حالت سے دوسری حالت کی جانب، اور تمام آئمہ اطہارؑ سوتے بھی تھے جاگتے بھی تھے بچے بھی تھے اور پھر جوان اور پھر بوڑھے بھی ہوئے۔
مرئی=
وہ قابل روئیت نہیں وہ نہ دنیا میں دکھائی دے سکتاہے نہ آخرت میں، کیونکہ دکھائی دینے کیلئے جسم ومکان کی شرط ہے اور اللہ رب العزت اس سے پاک و منزہ ہے لہذا جوبھی مرئی ہے وہ خدا نہیں ہوسکتا۔
اگر اسطرح کوئی توحید کو سمجھ لے تو ان شاءاللہ زندگی میں پھر کبھی کسی کے بہکاوے میں نہیں آئیگا.
https://t.me/islamwitheman/773
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
گذشتہ چند سالوں میں مختلف طریقوں سے نوجوانوں کے اذھان میں زھر داخل کیا جارہا ہے. ھم سبکی ذمہ داری ہے کہ اسکے سدباب کیلئے اپنااپنا کردار ادا کریں.
یہ ایک ایسا کلیہ ہے کہ اگر نوجوان اسے ایک بار سمجھ لیں تو ان شاءاللہ جب بھی کسی کی تقریر سنیں گے فوراً فیصلہ کرلیں گے کہ یہ آئمہ اطہار علیہم السلام کی تعریف وتوصیف کر رہاہے یا انکے نام پر شرک کا زھر ھمارے افکار میں گھول رہاہے۔
یاد رکھیں! اس دنیا میں تمام انبیاء ورسل و آئمہ اطہار علیہم السلام کی زندگیوں کا صرف ایک ھدف تھا اور وہ ہے "توحیدشناسی" یعنی اگر ھم اصول دین کو قیامت سے سمیٹنا شروع کریں تو امامت نبوت سے ہوتی ہوئی عدل خداوندی سے توحید پر ختم ہوگی اسیطرح جہاد سے لیکر نماز تک ھرعمل کا ماحصل توحید باری تعالٰی ہے.
توحیدِ کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ اللہ رب العزت کی صفات کو سمجھا جائے ذیل میں صفات ثبوتیہ اور صفات سلبیہ کو بیان کررہا ہوں انہیں سمجھیں اور دیکھیں کہ کسطرح یہ نام نہاد کم فہم و کم علم نوجوانوں کو شرک میں مبتلا کرتے ہیں۔۔
🔷صفات ثبوتیہ
قدیم=
یعنی اللہ ھمیشہ سے ہے اور ھمیشہ رھے گا، اب اگرکوئی اللہ کے علاوہ کسی اور کو قدیم کہے تو اس نے دو ذوات کو قدیم کہکر اللہ کی وحدانیت کا انکار کردیا، اور جزو کا اور دوئی کا قائل ہوگیا جوکہ صریحاً شرک ہے لہذا جوکچھ ہے وہ اس کیبعد اس سے پہلے کچھ نہیں. انبیاء ورسل وآئمہ بھی قدیم نہیں کیونکہ وہ مخلوق ہیں۔
قادر=
یعنی وہ ھر شے پر قادر ہے اور اس پر کسی کو کوئی قدرت نہیں، یعنی آئمہ علیہم السلام پر بھی اس کی قدرت ہے اور آئمہ علیہم السلام کی اس پر کوئی قدرت نہیں۔۔
عالم=
وہ عالم ہے ایسا کہ ھر شے کو جانتاہے اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ وہ ایک لمحے کیلئے بھی جاھل رہاہو جبکہ مخلوق عدم سے وجود میں آنے کیبعد عالم بنی اور اسکو علم پروردگار سے ملا کیونکہ وہ اس وقت بھی تھا جب مخلوق نہ تھی۔
حی=
وہ ایسا زندہ ہے جسے موت نہیں، اب جسے بھی موت ہے وہ اللہ نہیں یاد رکھیں۔۔
مدرک=
وہ دیکھتا بھی ہے، سنتا بھی ہے لیکن نہ اسکے کان ہیں اور نہ آنکھیں، اسکے علاوہ جوبھی ہیں وہ دیکھنے اور سننے کے لئے اعضاء کے محتاج ہیں۔
مرید=
وہ صاحب ارادہ ہے جب وہ کسی شے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ ہو جاتی ہے، یعنی وہ اپنے ارادے میں کسی کا پابند نہیں ہے، اس کے ارادے سے سب خلق ہوئے ہیں وہ کسی کے ارادے سے خلق نہیں ہوا۔
متکلم=
وہ کلام کرتا ہے لیکن اس زبان سے نہیں اور جتنی بھی مخلوقات ہیں وہ کلام کیلئے کسی نہ کسی وسیلہ کی محتاج ہیں.
صادق=
وہ سچا ہے اور اسے کسی کا خوف ولالچ نہیں کہ جھوٹ کہے۔
🔷صفات سلبیہ
وہ صفات جن سے اللہ رب العزت منزہ ہے۔
شرکت=
یعنی اسکا کوئی شریک نہیں وہ واحد و احد ہے کسی کی شرکت سے کوئی کام انجام نہیں دیتا جو یہ سمجھتا ہے کہ کوئی اس کا مددگار ہے اور وہ کسی کو شریک کرنے کا محتاج ہے وہ مشرک ہے۔
ترکیب=
یعنی وہ مرکب نہیں ہے کہ کسی شے سے بنا ہو، یعنی جو بھی جسم و اعضاء کا مرکب ہے وہ مخلوق ہے خالق نہیں۔
حلول=
نہ وہ کسی شے میں حلول کرتا ہے اور نہ کوئی شے اس میں حلول کرتی ہے جو یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ اللہ نعوذ باللہ کسی امام میں حلول کرتا ہے وہ مشرک ہے کیونکہ اللہ جسم نہیں کہ جس میں کوئی حلول کر جائے اور وہ کسی میں حلول کر جائے ایسا سوچنا اسے محدود کرنا ہے اور جو محدود ہو وہ اللہ نہیں۔
مکان=
اس کا کوئی ایک مکان نہیں کہ کہا جاسکے کہ وہ اسطرف ہے جیساکہ امام علی علیہ السلام نے فرمایا کہ جس نے اسے ایک جہت میں مانا اس نے اسے قابل اشارہ سمجھا جس نے قابل اشارہ سمجھا اس نے اسے محدود کردیا۔۔ جس نے ایک سمت میں محدود کیا اس نے اور جگہوں کو اس سے خالی سمجھا۔۔
احتیاج=
اسے کسی چیز کی ضرورت نہیں اور سبکو اسکی ضرورت ہے، یعنی کوئی یہ نہ کہے کہ اللہ کو ضرورت تھی کہ امامؑ ہوں تو اس کا وجود ہوگا ورنہ نہیں، اسے کسی بھی شے کی احتیاج نہیں۔
صفات زائد بر ذات=
یعنی اسکی صفات اسکی ذات کے علاوہ کوئی الگ شے نہیں بلکہ اس کی تمام صفات عین ذات ہیں،
یہ عقیدہ اسلئے ضروری ہے کہ صرف اسکی ذات قدیم ہے اگر اسکی صفات کو اسکی ذات سے علیحدہ سمجھاگیا تو صفات کو بھی قدیم ماننا پڑے گا جوکہ محال ہے۔
محل حوادث=
یعنی اس میں تغیر و تبدیلی نہیں نہ اسے اونگھ آتی ہے نہ ہی نیند کیونکہ یہ کیفیات تبدیلی پیدا کرتی ہیں پہلی حالت سے دوسری حالت کی جانب، اور تمام آئمہ اطہارؑ سوتے بھی تھے جاگتے بھی تھے بچے بھی تھے اور پھر جوان اور پھر بوڑھے بھی ہوئے۔
مرئی=
وہ قابل روئیت نہیں وہ نہ دنیا میں دکھائی دے سکتاہے نہ آخرت میں، کیونکہ دکھائی دینے کیلئے جسم ومکان کی شرط ہے اور اللہ رب العزت اس سے پاک و منزہ ہے لہذا جوبھی مرئی ہے وہ خدا نہیں ہوسکتا۔
اگر اسطرح کوئی توحید کو سمجھ لے تو ان شاءاللہ زندگی میں پھر کبھی کسی کے بہکاوے میں نہیں آئیگا.
https://t.me/islamwitheman/773
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
⭕ خدا کیسا ہے؟ ⭕
خدا کیسا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو اکثر لوگوں، مسلمانوں، غیر مسلموں، چھوٹوں اور بزرگوں کو ضرور پیش آیا ہوگاـ
سوال؟
خدا اسوقت کہاں ہے؟ وہ کس چیز سے بنا ہے؟ خدا سے پہلے کیا تھا؟
اگر آپ بھی اس سوال کا جواب حاصل کرنا چاھتے ہو تو جان لیں…
خدا کیسا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو اکثر لوگوں، مسلمانوں، غیر مسلموں، چھوٹوں اور بزرگوں کو ضرور پیش آیا ہوگاـ
سوال؟
خدا اسوقت کہاں ہے؟ وہ کس چیز سے بنا ہے؟ خدا سے پہلے کیا تھا؟
اگر آپ بھی اس سوال کا جواب حاصل کرنا چاھتے ہو تو جان لیں…