ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.61K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
📦 تابوت سکینہ 📦

یہ شمشاد کی لکڑی کا بنا ھوا ایک صندوق تھا جو آدم علیہ سلام پر نازل ھواتھا۔، یہ پوری زندگی آپ کے پاس رھا۔ پھر بطور میراث آپکے اولاد کو ملتا رھا، یہاں تک کہ یہ حضرت یعقوب علیہ سلام کو ملا اور آپکے بعد آپکی اولاد بنی اسرایئل کو ملا اور بعد میں یہ حضرت موسئ علیہ سلام کو ملا جس میں وہ اپنا خاص سامان اور تورات شریف رکھا کرتے تھے۔یہ بڑا ھی مقدس اور بابرکت صندوق تھا، بنی اسرایئل جب کفار سے جہاد کرتے اور انکو شکست کاڈر ھوتا تو وہ اس صندوق کو آگے رکھتے تو اس صندوق سے ایسی رحمتوں اور برکتوں کا ظہور ھوتا کہ مجاھدین کے دلوں کو چین آرام و سکون حاصل ھو جاتا اور صندوق وہ جتنا آگے بڑھاتے آسمان سے نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ کی بشارت عظمی نازل ھوتی۔بنی اسرایئل میں جب بھی کھبی اختلاف ھوتا تو وہ اسی صندوق سے فیصلہ کراتے۔ صندوق سے فیصلہ کی آواز خود ھی آتی العرض یہ تابوت بنی اسرایئل کے لیے تابوت سکینہ ثابت ھوی۔
لیکن جب بنی اسرایئل طرح طرح کے گناھوں میں ملوث ھوے اور ان لوگوں میں سرکشی اور ظلم و جبر کا دور دورا عام ھوا تو انکی بداعمالیوں کی نحوست کی بدولت اللہ کا یہ عذاب نازل ھوگیا کہ قوم عمالقہ کے ایک لشکرر جرار نے بنی اسرایئل پر حملہ کیا اور بنی اسرایئل کی ایسی کی تیسی کر دی۔ ان میں قتل عام کیا اور انکی بستیوں کو تخت وتاراج کیا اور متبرک صندوق کو بھی اٹھا کر راستے میں نجاستوں کے کوڑے میں پھینک دیا۔اس بے ادبی کی سزا میں اللہ نے قوم عمالقہ پر وباء مسلط کی جس سے طرح طرح کی بیماریاں ان پر مسلط ھوی۔ اس وباء سے قوم عمالقہ کے پانچ شہر آن کی آن میں تباہ ھوکر ویران ھوے جس سے انکو یہ بات ماننی پڑی کہ یہ جو بھی ھو رھا ھے یہ سب کچھ اللہ کا عذاب ھے جو صندوق سکینہ کی وجہ سے اللہ نے ان پر مسلط کیا ھے، ان کی آنکھیں کھولنے میں ذرا دیر بھی نھی لگی۔ سو انھوں صندوق سکینہ تلاش کر کہ بیل گاڑی میں ڈال کر بیل گاڑی کو بنی اسرایئل کی طرف ھانک دیا۔اللہ تعالی نے چار فرشتوں کو بیجھا جنھوں نے یہ مبارک صندوق اٹھا کر بنی اسرایئل کے بابرکت نبی حضرت شمویل علیہ سلام کی خدمت میں پیش کیا۔۔ اس وقت شمویل علیہ سلام نے طالوت کو بنی اسرایئل پر بادشاہ مقرر فرمایا تھا، اس وقت بنی اسرایئل طالوت کی بادشاھی ماننے کو تیار نہ تھے۔اور انھوں نے یہی شرط ٹھہرائی تھی کہ جب صندوق سکینہ آجائے تو ھم طالوت کی بادشاھی کی اطاعت کرینگے۔۔
📚تفسیر روح البیان، ج1، ص385۔ پ2، البقرۃ: 247۔
تفسیر الصاوی، ج1، ص209۔

چنانچہ وہ صندوق انکے سامنے پیش کیا گیا اور انھوں نے طالوت کی بادشاھی کی اطاعت کی۔

اس مقدس صندوق میں موسئ علیہ سلام کا عصاء ان کی مقدس جوتیاں، ھارون علیہ سلام کا عمامہ ، حضرت سلیمان علیہ سلام کی انگوٹھی ، تورات کے چند تحتے ، کچھ من و سلویٰ اور اسکے علاوہ کچھ انبیاء علیہ سلام کے صورتوں کے حلیے وعیرہ شامل تھےقرآن نے صندوق سکینہ کو کچھ یوں بیان کیا ھے۔۔

📌وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ آيَةَ مُلْكِهِ أَن يَأْتِيَكُمُ التَّابُوتُ فِيهِ سَكِينَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَبَقِيَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ آلُ مُوسَىٰ وَآلُ هَارُونَ تَحْمِلُهُ الْمَلَائِكَةُ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ۔۔۔۔۔۔ (پارہ 2 ، سورہ البقرہ :248)

ترجمہ۔۔۔
اور پیغمبر نے ان سے کہا کہ ان کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس ایک صندوق آئے گا جس کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تسلی (بخشنے والی چیز) ہوگی اور کچھ اور چیزیں بھی ہوں گی جو موسیٰ اور ہارون چھوڑ گئے تھے۔ اگر تم ایمان رکھتے ہو تو یہ تمہارے لئے ایک بڑی نشانی ہے۔

منقول۔۔۔ جاوید چوہدری 

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
👍1
🔷 خواہشات اور گناہ 🔷

خواہش گناہ کی طرف لے جانے والے عوامل میں سب سے بڑاعامل ہے ۔ انسان کی تخلیق جس ڈھنگ پر ہوئی ہے اس میں انسان کے اندر بہت سی جبلتیں رکھ دی گئی ہیں ۔ مثلاً کھانے پینے ، تحفظ اور جنسی تعلق قائم کرنے کی جبلتیں وغیرہ ۔ یہ اور ان جیسی دیگر جبلتوں سے انسان کی ضروریات پیدا ہوتی ہیں ۔ جبلتوں کے ساتھ انسان کو ایک ذوقِ جمال بھی عطا کیا گیا ہے ۔ وہ ضرورت سے آگے بڑ ھ کر لذت، خوبصورتی اور کشش جیسے تصورات سے نہ صرف واقف ہے بلکہ ان کی طرف لپکتا ہے ۔ یہ ضروریات اور جمالیات جب اپنا ظہور کرتے ہیں تو خواہشات جنم لیتی ہیں ۔

اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں چونکہ انسان کو امتحان کے تحت پیدا کیا ہے ۔ اس لیے خواہشات کی تسکین کے لیے اسے کھلی چھوٹ نہیں دی ہے ۔ بلکہ اس کی ضروریات اور خواہشات کو ایک خاص دائرے کا پابند بنایا ہے ۔ مگرانسان اپنے امتحان کو سمجھنے کے بجائے خواہشات کے گھوڑ ے کو بے لگام چھوڑ دیتا ہے ۔ جس کے بعد حلال حرام، جائز ناجائز اور صحیح و غلط کی بحث اس کے لیے غیر متعلق ہوجاتی ہے ۔ اور رب کی نافرمانی انسان کی زندگی کا معمول بن جاتی ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے تمام پاکیزہ اشیا کا کھانا پینا حلال قرار دیا ہے ۔ مگر اکثر انسانی معاشروں میں خنزیرکا گوشت اور شراب معمول کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے تعلق کو انسانوں کے لیے جائز قرار دیا ہے ۔ مگر بہت سے انسان اس دائرے سے باہر نکل کر زنا کی وادیوں میں اپنی خواہشات کی تسکین ڈھونڈتے رہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے زیب و زینت کو جائز قرار دیا ہے ۔ مگر انسانی معاشروں میں زیب و زینت اکثر فحاشی، عریانی اور خواتین کی نمائش کی شکل اختیار کر لیتی ہے ۔

یہ اور ان جیسی متعدد مثالیں یہ بتاتی ہیں کہ ضروریات کی تکمیل اور جمالیات کی تسکین کو اللہ تعالیٰ نے انسانو ں کے لیے جائز قراردیا ہے ، مگر انسانوں کی اکثریت ان چیزوں کے پیچھے چلتے چلتے رب کی نافرمانی کی منزل تک جاپہنچتی ہے ۔ وہ خواہش کے لیے خدا کی اطاعت کا راستہ چھوڑ کر شیطان کی پیروری کا طریقہ اختیار کر لیتی ہے ۔ وہ شیطان جو اللہ تعالیٰ کا مجرم ہے اور جس نے اللہ تعالیٰ کو یہ چیلنج دیا تھا کہ وہ انسانوں کو اپنا شکر گزار نہیں پائیں گے ۔ بدقسمتی سے شیطان کے اس چیلنج کو انسان خواہشات کی پیروی میں درست ثابت کر دیتے ہیں ۔

ایسے میں بندۂ مؤمن کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی خواہشات کے معاملے میں ہمیشہ یہ یاد رکھے کہ شیطان خواہش کے دروازے سے اس کے دل میں داخل ہو سکتا ہے ۔ چنانچہ وہ خواہش کے اس دروازے پر تقویٰ اور پرہیزگاری کی چوکی قائم کرے ۔ وہ ضمیر کے پہرے دار کو اس چوکی پر نگران مقرر کرے ۔ وہ مسلسل یہ جائزہ لیتا رہے کہ کہیں خواہش کے دروازے سے ضروریات اور جمالیات کے ساتھ گناہ اور نافرمانی تو اس کے حرمِ دل میں داخل نہیں ہورہے ۔ کہیں اس کی نگاہ، اس کی زبان، اس کا پیٹ اور دیگر اعضائے جسمانی حرام کی آماجگاہ تو نہیں بن رہے ۔ کبھی ایسا ہو تو اُسے چاہیے کہ فوراً اپنے رب کی طرف رجوع کرے ۔ اس سے اپنے گنا ہوں کی معافی مانگے ۔ توبہ اور تقویٰ کا راستہ اختیار کرے ۔ وہ ایسا کرے گا تو اللہ تعالیٰ کو غفور و رحیم پائے گا۔ وگرنہ اس معاملے میں غفلت کا رویہ دل کو سیاہ کر دیتا ہے اور انسان خدا کو چھوڑ کر آخر کار خواہشِ نفسانی کو اپنا معبود بنالیتا ہے ، (الفرقان43:)۔ اور جو شخص یہ کام کرے گا وہ عنقریب اپنے گنا ہوں کا انجام جہنم کی آگ کی شکل میں بھگت لے گا۔.....................

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
👍1
🌹 ولادت باسعادت امام علی سجادؑ 🌹

#ولادت_باسعادت_امام_زین_العابدینؑ_مبارک_ہو۔

🔷 تاریخ ولادت:
حضرت امام علی بن الحسین (ع) کی تاریخ ولادت کے بارے میں مؤرخین کا خاصا اختلاف ہےـ بعض نے 15 جمادی الاول، بعض نے 5 شعبان اور بعض نے 7 شعبان اور بعض نے 9 شعبان ولادت کی تاریخ بیان کی ہے.
اور سال کے بارے میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے. بعض نے 38ھ، بعض نے 36ھ اور بعض نے 37ھ بیان کیا ہے.

🔷 آپؑ کا نسب مبارک:
آپؑ کا اسم گرامی علی ابن الحسين،
آپؑ سید الشہداء امام حسینؑ کے شہزادے اورحضرت علی مرتضیٰؑ و خاتون جنتؑ کے پوتے ہیں.
آپ کی والدہ کا نام شہربانو یا سلامہ یا سلافہ یا پهر غزالہ ہے۔
کامل مبرد میں ہے کہ جناب شہربانو، بادشاہ ایران یزدجرد بن شہریار بن شیرویہ ابن پرویز بن ہرمز بن نوشیرواں عادل "کسری" کی بیٹی تھیں.
(ارشاد مفید ص ۳۹۱، فصل الخطاب)

معرکہ کربلا میں آپ اپنے والد امام عالی مقام کے ساتھ تھے، لیکن سخت علیل ہونے کے باعث معرکے میں شریک نہیں ہوسکے، جنگ کے خاتمے کے بعد قافلہ اہلبیت کے ساتھ دمشق لے جائے گئے وہاں سے مدینہ منورہ تشریف لائے۔

🔷 آپؑ کے القاب:
زین العابدین، سید العابدین، سید الساجدین، زین الصالحین، وارث علم النبیین ،سجّاد، زاھد، عابد، بكّاء، ذوالثّفنات، زکی اور امین.

🔷 آپؑ کی کنیت:
ابو محمد، ابوالحسن، اور ایک قول کے مطابق ابوالقاسم ہے.

🔷 نسل حسینی:
امام حسین علیہ السلام کی نسل امام زین العابدینؑ سے آگے بڑهی ہے اور حسینی سادات کا سلسلہ نسب امام علی زین العابدینؑ سے شروع ہوتا ہے.

🔷 آپؑ کی شخصیت:
نورالابصارصفحہ 126 اور اخبارالاول صفحة 109 پر مُلّا مُبّین تحریر فرماتےہیں کہ حُسن وجمال، صورت وکمال میں نہایت ہی ممتاز تھے، آپ کے چہرہ مُبارک پر کسی کی نظر پڑتی تھی تو وہ آپ کا احترام کرنے اور آپ کی تعظیم کرنے پر مجبور ہو جاتا.
وسیلةالنجات صفحہ 219 پر محمد بن طلحہ شافی رقمطراز ہیں کہ آپ صاف کپڑے پہنتے تھے اور جب راستہ چلتے تھے تو نہایت خشوع کے ساتھ، راہداری میں آپ کے ہاتھ زانوؤں سے باہر نہیں جاتے تھے۔

🔷 آپؑ کی عبادت:
خاندانی نجابت وشرافت کے ساتھ ساتھ ذاتی اوصاف وکمالات کی بنیاد پر معاصرین میں نمایاں شرف وفضیلت رکھتے تھے، زہد وتقویٰ، جود وسخا، تواضع وانکساری اورغربا پروری میں ضرب المثل ہیں. شب بیداری اور عبادت گزاری میں ایسے ممتاز ہوئے کہ زین العابدین کے لقب سے یاد کیے گئے.

آپؑ کو عبادت گزاری میں امتیاز کامل حاصل تھا۔ رات بھر جاگنے کی وجہ سے آپ کا سارا بدن زرد رہا کرتا تھا اور خوف خدا میں روتے روتے آپؑ کی آنکھیں پھول جایا کرتی تھیں اور نماز میں کھڑے کھڑے آپؑ کے پاؤں سُوج جایا کرتے تھے۔

جس طرح آپؑ کی عبادت گزاری میں پیروی ناممکن ہے۔ اسی طرح آپؑ کی شانِ عبادت کی رقم طرازی بھی دشوار ہے.

مطالب السُولُ صفحہ 262 پر محمد بن طلحہ شافعی لکھتے ہیں۔ کہ آپ جب وُضو کے لیے بیٹھتے تھے تو آپ کے چہرے مبارک کا رنگ زرد ہو جایا کرتا تھا.

حضرت سعید بن مسیب سے کسی نے کہا کہ مَیں نے فلاں سے زیادہ متقی وپرہیزگار کسی کو نہیں دیکھا، اس پر ابن مسیب نے فرمایا کہ کیا تم نے علی بن حسین (ع) کو دیکھا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں. حضرت ابن مسیب نے فرمایا کہ مَیں نے علی بن حسین سے بڑھ کر متقی وپرہیزگار کسی کو نہیں پایا۔

امام ذہبی کے مطابق آپ سے روایت کرنے والوں میں آپ کے صاحبزادے امام ابوجعفر محمدباقر، حضرت زید، حضرت عمر اور حضرت عبداللہ کے علاوہ زیدبن اسلم، عاصم بن عمر، امام زہری، یحییٰ بن سعید اور ابوالزناد وغیرہ قابل ذکر ہیں.

امام ذہبی نے امام زہری کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ "میں نے علی بن حسین سے زیادہ فقیہ کسی کو نہیں دیکھا."

🔹 علمائے جرح وتعدیل باتفاق رائے آپ کو ثقہ، مامون اور حجت تسلیم کرتے ہیں. یہی وجہ ہے کہ صحاح ستہ کے مصنفین نے بلاتکلف اپنی کتب میں آپ سے مروی احادیث درج کی ہیں.

🔶 آخری آرام گاہ:
آپ کی وفات ۹۴ھ میں ہوئی (بعض نے ۹۲ھ بھی لکھی ہے). آپ کی آخری آرامگاہ جنت البقیع میں اپنے تایا امام حسنؑ کے پہلو میں ہے۔

👈 مزید تفصیل کے لیے۔۔۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=123209486429527&id=100062214292056
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌼 عورت کی عظمت 🌼

گاؤں کی عورتیں اور مرد پہاڑی کے قریب اپنی سرسبز فصلوں میں کام کر رہے تھے کہ دور سے بہار کی تیز بہار ہوا کو چیرتا ہوا ایک نوجوان ان کی طرف دوڑتا آتا دکھائی دیا اور گاؤں والوں کو آکر بتایا فاریہ سِمنانی کا وہ پاگل عاشق جو پہاڑی پر بیٹھ کر فاریہ کی مدح میں حافظ شیرازی (رح) کے اشعار پڑھا کرتا تھا، نے آج سِمنان- کہ جہاں فاریہ سِمنانی نے اپنا بچپنا گذارا تھا، جانے کا فیصلہ کیا ہے. یہ سن کر سب لوگ خداحافظی کیلئے گاؤں کے دروازے پر جمع ہوئے اور انہوں نے عاشق سے التجا کی کہ نہ جائے مگر وہ نہ مانا، اسے فاریہ کے بچپن سے مربوط ہر وہ جگہ دیکھنی تھی جہاں فاریہ کے قدموں کے نشان پڑے تھے. آخر گاؤں والوں نے اس سے کہا: اے عاشق ہم سب سنی مسلک کے ہیں لیکن ہم نے تمہیں ہمیشہ ایک نیک دل انسان پایا، بیشک تم شیعہ ہو مگر ہمیں کچھ اچھی باتیں اپنی یادگار کہ طور پر دے جاؤ. اس عاشق نے نیم کے ھرے بھرے درخت کے تنے پر ٹیک لگائی، تھوڑی دیر چپ رہا اور کہا " اللہ (ج) نے کسی کو سنی یا شیعہ نہیں بنایا ہم سب مسلمان پیدا ہوئے تھے. تم میرے اپنے ہو... میری گمشدہ فاریہ سمنانی تمہیں ملے تو اسے کہنا میں سِمنان میں ہوں..." عاشق کی یہ بات سن کر اس مجمعے سے ایک باریش مُلا نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا:" اس عورت کے عشق میں گرفتار مجنوں سے عقل و خرد کی باتوں کی کیسی امید، عورت کے عاشق کی عقل بھی عورت جیسی..."

یہ سن کر عاشق کے چہرے کا رنگ لال ہوگیا، یہ طیور گاؤں والوں نے پہلی بار مشاہدہ کیئے تھے سو سب اس ھیبت کی وجہ سے چپ ہوگئے، جب خاموشی چھاگئی تو عاشق نے بولنا شروع کیا.
"کاش تمہاری کانوں نے اللہ (ج) کے کلام کو سنا ہوتا تو تمہیں پتہ چلتا کہ *اللہ (ج) کے پاس جسموں کی کوئی قدر و قیمت نہیں، یہ خاکی بدن کہ جس میں مرد و عورت الگ الگ ہیں اس بدن کی کوئی اہمیت نہیں، اہمیت ہے تو روح کی ہے اور روح میں عورت مرد کا کوئی فرق نہیں*، روح جیسی تمہارے اندر پھونکی گئی اسی طرح عورت کے اندر، "الروح من امر ربی" کا مصداق فقط تمہارا روح نہیں عورت کا روح بھی ہے! فرق جسمانیت کا ہے تم جسم دیکھتے ہو اس لیئے عورت تمہیں کمزور و ناتواں و نازک نظر آتی ہے مگر اللہ (ج) روح دیکھتا ہے، سارا کام روح کا ہے جسم اس کا ایک غلام ہے اگر اللہ (ج) نے عورت کو مرد سے کم درجے کا بنانا ہوتا تو جسم کی مانند روح میں بھی فرق رکھتا مگر نہیں روح کے لحاظ سے مرد و عورت کے یکساں ہیں."

ملا کے خلیفے نے آواز دی "اے جاہل مجنوں! کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا اللہ (ج) فرماتا ہے الرجال قوامون علی النساء، مرد عورت پر حاکم ہے."
عاشق نے کہا:"اگر بقول تمہارے قرآن میں عادل اللہ (ج) مرد کو جنس کی بنیاد پر عورت سے افضل کہتا ہے تو کیا تم مریم و حاجرہ و خدیجہ و فاطمہ سے افضل ہو؟ ھرگز نہیں! تم نے اس آیت میں مرد کی معاشی سرپرستی کے مفہوم کو مرد کی عورت پر فوقیت و فضیلت سمجھ لیا یہ تمہاری مردانہ تفسیر ہے جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں."

پھر اس عاشق نے اپنی جیب سے ایک پھول نکالا سامنے کھڑی ایک پانچ سالا بچی کے بالوں میں وہ پھول لگا کر کہا:" گاؤں والو! *عورت کی زندگی مرد پر احسان کے سوا کچھ نہیں اور مرد کی زندگی عورت سے احسان فراموشی کے سوا کچھ نہیں...*"
یہ کہہ کر عاشق چپ ہو گیا.

ایک جوان لڑکی نے آواز دی "اے عاشق! ہمیں اس کی تفصیل بتاؤ کیونکہ ہم اشاروں میں باتیں سمجھنے پر قادر نہیں."
عاشق نے ھرے بھرے کھیتوں سے آنے والی باد بہار کی طرف چہرا پھیر دیا، ٹھنڈی سانس لی اور کہا " احسان یعنی حق سے زیادہ عطا کرنا، مرد کا عورت پر حق نہیں کہ وہ اس کے لیئے گھر بار کا کام کرے اور اس کے بچے پالے لیکن پھر بھی عورت یہ کام کرتی ہےیہ اس کا احسان ہے اور مرد اس احسان کو عورت کا فریضہ سمجھ کر اس کی احسان فراموشی کرتا ہے، عورت مریم (س) کی صورت میں تکالیف برداشت کر کے عیسی (ع) کو پالتی ہے کہ مرد ہدایت پائیں، اور اسی قبیلے کے مرد اس احسان کے بدلے اس پر بدکاری کا الزام لگاتے ہیں، عورت راتوں کو جاگ کر مرد کے نطفے کو عظیم انسان بناتی ہے اور مرد سکون بھری نیند سوتے ہیں اور خواب میں جنت کی حوریں دیکھتے ہیں، عورت درد حمل کی تکلیف میں مبتلا ہوتی ہے اور مرد کو یہ فکر لاحق ہوتی ہے کہ کہیں بیٹی نہ پیدا ہوجائے، عورت بچے کے ولادت کی ساری تکالیف برداشت کرتی ہے مرد اس کے ساتھ اپنا نام لگا کر اسے خود سے منسوب کردیتا ہے..."

عاشق کی بات جاری ہی تھی کہ گاؤں کے مُلاں نے ایک اور قہقہہ لگایا اور کہا:" تم بڑے مفسر ہو مجنوں! ذرا بتاؤ مرد کو قرآن نے کیوں اجازت دی ہے کہ وہ عورت کو مارے؟ *اتنا مارے کہ ہڈی نہ ٹوٹے لیکن بیشک مارے،* کیا تم نے قرآن کی یہ آیت نہیں پڑھی... فَعِظُوهُنَّ وَ اهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضاجِعِ وَ اضْرِبُوهُن...َّ؟؟؟"
اس بار عاشق نے اس کی طرف نگاہ نہ کی اور ٹکٹکی باندہ کر انہیں ہرے بھرے کھیتوں کی جانب دیکھتا رہا پھر اپنا منہ گاؤں والوں کی طرف پھیر کر کہا:"میرے عز
یزو! کیا میں تم میں سے بوڑھی ترین عورت کو ایک غلطی کرنے پر اپنے رومال یا دانت صاف کرنے والے مسواک سے ماروں تو کیا تم اسے مارنا کہوگے یا دکھاوا؟"
گاؤں والے بولے: "اسے بھلا کوئی کیوں مارنا کہے گا."
عاشق نے کہا " تو بس! قرآن نے عورت کی غلطیوں پر مرد کو حکم دیا کہ وہ اسے نصیحت کرے، عورت نہ مانے تو بستر جدا کرے اور پھر بھی نہ مانے تو اپنا رومال لپیٹ کر یا مسواک سے اس طرح مارے کہ اس کے جسم پر نشان تک نہ پڑے، کیا اسے سزا کہو گے یا اظہار ناراضگی، کیا اس بات سے تمہیں عورت سے نفرت کی بو آتی کے یا ملا کی بات سے؟"

ایک عورت جس کی گود میں بچہ تھا بولی " اے عاشق! اللہ (ج) نے جنت میں مردوں کو حوریں دینے کا وعدہ کیا ہے لیکن عورت کو کچھ نہیں کیا یہ عدل ہے؟" یہ بات سن کر عاشق مسکرایا اور مُلا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:"بہتر ہوگا اس کا جواب یہ مولانا دیں" ملا مزید پریشان ہوگیا اور چپ ہوگیا. پھر اس عورت نے یہی سوال عاشق سے پوچھا، عاشق نے کہا:" عربی میں حورا خوبصورت سیاہ آنکھوں والی عورت کو کہا جاتا ہے اور احور بڑی آنکھوں والے خوبصورت مرد کو، قرآن میں لفظ حور جمع کے طور پر استعمال ہوا ہے، یہ لفظ حورا کا بھی جمع ہے اور اھور کا بھی... سو اللہ (ج) نے نے ایک لفظ "حور" میں ایسی کرامت رکھ دی کہ اس کی تلاوت عورت کرے تو اسے احور ملنے کی بشارت کے طورپر اور مرد پڑھے تو اسے جنت میں حوراء کی بشارت کے طور پر "

پھر عاشق اٹھا اور کہا:" لوگو! عورت سے محبت کرو، اس کی قدر کرو، وہ تم سے کچھ نہیں چاہتی سوائے احترام و محبت کے، رسول (ص) کو پسند ہے عورت، علی (ع) فاطمہ (س) کے ساتھ گھر کام کرتے تھے... تم میں اور ملا میں فرق ہونا چاہیئے اس نے اسلام کو عورت کی دشمنی کا چشمہ لگا کر دیکھا ہے، اس لیئے اسے پورا دین عورت کے خلاف نظر اتا ہے مگر میں نے فاریہ سِمنانی کے عشق کا چشمہ لگا کر اس دین کو دیکھا ہے، اب یہ تم ہی سوچو مجھے عورت کے عشق نے ھدایت دی کے یا اس مولوی کو عورت کی نفرت نے؟"

یہ کہہ کر اس نے اپنی گٹھڑی اٹھائی اور جانے لگا، سب گاؤں والے تھوڑے سے فاصلے تک اس کے پیچھے پیچھے چلے، پھر سب نم آنکھوں سے اسے دیکھتے رہے اور وہ کچھ دیر بعد پھاڑوں کی اوٹ میں ان ھرے بھرے کھیتوں میں گم ہوگیا.

👆ایک مراسلہ👆

🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
🌷ہرنی کا توکّل 🌷

دشت و بیابان کی ہرنیاں!

حضرت موسٰیؑ کلیم اللہ کی نبوت کے زمانے میں خشک سالی سے تنگ آئی ھوئی ہرنیاں اپنے وقت کے نبی حضرت موسٰیؑ کی خدمت میں حاضر ھوئیں کہ:
اے نبی خدا! ھم تو پیاس و تشنگی کی وجہ سے تلف ھوتے جارہی ہیں، ھماری تونسل ختم ھوئے جارہی ہے، آپ اللہ کے نبی ہیں ھمارے لئے خدائے مھربان کی بارگاہ میں دعا کریں کہ باران رحمت کا نزول فرمائے!

آپؑ فوراً کوۂِ طور پہ چلے گئے اور ہرنیوں کا قصہ پیش کیا اور حق تعالٰی کی بارگاہ میں بارش کا تقاضا فرمایا!

تو حق تعالٰی سے جواب ملا:
ابھی وعدے کاوقت نہیں پہنچا!

موسٰیؑ جواب "نہ" سن کر واپس آگئے اور انہیں ان کی درخواست کے قبول نہ ھونے کی خبر سنائی!

ان ہرنیوں میں سے ایک نے اپنے آپ کو پیش کیا کہ اگر تم سب کہو تو میں خود کوۂِ طور پر جاکر اپنی درخواست بارگاہ خدا میں پیش کرتی ھوں سب نے کہا ٹھیک ہے، جاؤ!

اس نے اپنے دوستوں کو مخاطب کرکے کہا:
اگر مجھے اچھلتے کودتے واپس آتے دیکھو تو سمجھ لینا کہ ھماری درخواست قبول ھوگئی اور بارش برسے گی ورنہ سمجھ لینا کہ زندہ رہنے کی کوئی امید نہیں!

چنانچہ ہرنی کوۂِ طور پہ چلی گئی اور بارگاۂِ خدا میں اپنی درخواست پیش کی، لیکن ہرنی کو بھی وہی حضرت موسٰیؑ والا جواب ملا کہ فی الحال بارش کا وقت نہیں آیا، یعنی جواب رد سنا،

لیکن واپس آنے سے پہلے اس ہرنی نے اوپر سے اپنے دوستوں کو امید لگائے دیکھا تو دل ہی دل میں بڑی پریشان ھوئی!

اس نے اچھلنا کودنا شروع کردیا اور اپنے آپ سے کہنے لگی:
ابھی دوستوں کو تو خوش کروں اور اس خدائے مھربان پر توکل تو رکھوں،

ابھی کوۂِ طور سے نیچے پہچنے تک امید تو ہے چونکہ اس کی رحمتوں سے مایوس تو نہیں ھونا چاہیے!

ابھی ہرنی نیچے نہیں پہنچی تھی کہ بارش برسنا شروع ھوگئی!

حضرت موسٰی علیہ السلام اعتراض کرنےلگے،

تو ذات حق سے جواب ملا:

اے موسٰی! وہی آپ والا جواب ہرنی نے بھی سنا، فرق صرف اتنا سا تھا کہ ہرنی نے دوبارہ توکل اور امید کا دامن ہاتھ سے جانے نہ دیا دوبارہ حرکت میں بھی توکل اور امید لگائے رکھی!

یہ اسی توکل کا ثمرہ تھا!

پس کسی وقت بھی مایوس نہ ھو!

ممکن ہے بالکل آخری وقت پر نتیجہ آپ کے حق میں ھوجائے۔
چونکہ وہ عَلیٰ کُلِّ شئٍ قَدیر ہے.
ہرچیز پہ قدرت کاملہ رکھتا ہے.

پس ھمیشہ خدا پر توکل کرو!

📜پوسٹ ............آقائ گلبھار.
ترجمہ اردو............ اصغررضا.


http://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🌸 کفن چور کا خوفِ خُدا 🌸

ایک کفن چور قبریں کھول کر مُردوں کے کفن اتار لیتا تھا۔ اس کا ایک ہمسایہ اس کے اس راز سے آگاہ تھا۔
ہمسایہ شدید بیمار ہوا اور اسے اپنی موت کا یقین ہوگیا تو اس نے کفن چور کو بلوا بھیجا۔ جب کفن چور آیا تو ہمسایہ نے کمرے میں موجود سب افراد کو نکال دیا اور ایک تھیلا جس میں دو عدد کفن تھے، کفن چور کے سامنے رکھا۔ اسے اپنی ہمسایہ داری کے لحاظ کا خیال دلایا۔ اور کہا:
میری موت نزدیک آ گئی ہے اور مجھے معلوم ہے کہ تو نے میرا کفن چرانا ہے، میں نے یہ دو کفن بازار سے منگوائے ہیں، ایک مہنگا ہے اور دوسرا سستا ہے۔ ان میں سے جو تیرا دل چاہے اٹھا لو بلکہ میں آپ کو وہی مہنگا کفن دیتا ہوں، مہربانی کرنا مجھے میری قبر میں آزار نہ پہنچانا اور مجھے برہنہ نہ کرنا۔ پھر بہت زیادہ منت سماجت کی تو کفن چور نے وہ مہنگا کفن اٹھا لیا اور اس کی درخواست قبول کر لی۔

ہمسایہ وفات پا گیا اور اسے سپرد خاک کر دیا گیا۔

رات کو کفن چور حسب عادت اپنی کاروائی کے لیے روانہ ہوا اور ہمسایہ کا کفن چرانے کے لئے قبرستان پہنچا۔ جونہی اس نے قبر کھود کر کفن چرانے کا ارادہ کیا اچانک مردے کی دردناک فریاد نکلی؛ یہ کیا کر رہے ہو، مجھے برہنہ نہ کرو۔۔۔
اس سے کفن چور کے دل میں ایمان کی حرارت پیدا ہوئی اور وہ خدا کے خوف سے کانپ اٹھا۔فوراً قبر سے باہر نکل آیا۔ اس پر اس واقعہ سے اس قدر وحشت طاری ہوئی کہ سخت بیمار ہوگیا۔ اسے یقین ہونے لگا کہ یہ خوف اس کے لیے جان لیوا ثابت ہوگا۔ اس نے وصیت کی کہ مرنے کے بعد مجھے دفن نہ کرنا بلکہ مجھے صحرا میں لے جاکر آگ میں جلا دینا اور میری خاکستر کو دریا میں بہا دینا۔

اس کی وفات کے بعد اس کی وصیت پر عمل کیا گیا۔

خداوندمتعال کی طرف سے حکم ہوا اسے زندہ کردیا جائے۔ جب وہ زندہ ہوا تو خطاب ہوا؛
اے میرے بندے! تو نے ایسا کیوں کیا، یہ کیسی وصیت کردی؟

عرض کیا:
خدایا! مجھے شرمساری اور تیرے حضور پیشی کے خوف نے ایسا کرنے پر مجبور کیا۔

ندا آئی؛
ہم نے تجھے اپنے سے خوف کھانے کی وجہ سے اپنی امان میں جگہ دے دی ہے۔ جو بھی اپنے رب سے خوف کھاتا ہے، خداوندمتعال اسے اپنی امان میں لے لیتا ہے۔(1)

■قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے:
وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہ وَنَھَی النَّفْسَ عَنِ الْھَوٰی فَاِنَّ الْجَنَّةَ ھِیَ الْمَأوٰى۔
ترجمہ
"اور جو عظمتِ رب سے ڈرا اور اپنے آپ کو خواہشات سے روکا تو جنت اس کا ٹھکانا ہے۔"(2)

✍سید سجاد حسین ھمدانی

📚حوالہ جات
1) موضوعی داستانیں بحوالہ ایمان، جلد2، ص144۔ 146۔
2)سورہ نازعات۔

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🌼 سو جانا بہتر تھا 🌼

ایک لڑکے نے بیان کیا کہ میں اپنے لڑکپن کے زمانہ میں بہت زیادہ عبادت گزار تھا۔ میں زھد و پرہیزگاری کا دلدادہ تھا۔ مجھے اس قدر عبادت کے ساتھ لگاؤ تھا کہ بعض اوقات پوری پوری رات عبادت میں مشغول رہ کر بیداری میں گزار دیتا۔ میں اور میرے والد محترم مل کر عبادات انجام دیتے۔

ایک رات ہم دونوں باپ، بیٹا مل کر ساری رات عبادتِ خداوندمتعال میں مشغول رہے، میں نے تلاوت قرآن کریم بھی کی۔

اتفاق سے ہم اس شب ایک ایسی جگہ پر تھے جہاں ہمارے اردگرد کافی تعداد میں لوگ سوئے ہوئے تھے۔ میں انہیں دیکھتا رہا کہ ان میں سے کوئی ایک شخص بھی اپنے سونے کی جگہ سے نہیں اٹھا اور نماز و عبادت کی طرف نہیں گیا۔ کسی ایک نے بھی دو رکعت نماز بھی نہیں پڑھی سبھی لوگ اس طرح غافل سوئے گویا مردہ تھے۔

میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ یہ کیسے لوگ ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلا کہ ہماری طرح عبادت کرتا۔

میرے والد کو میری ان باتوں سے خودبینی اور خودپسندی محسوس ہوئی۔ انہوں نے میری طرف دیکھا اور ہنس کر مجھے جواب دیا؛
اے فرزند دلبند! ان باتوں سے تو بہتر تھا کہ تو بھی سو جاتا اور مشغولِ عبادت نہ ہوتا۔ تیری اس عبادت کا کیا فائدہ کہ تو لوگوں کی کھال اتارنے لگا ہے۔؟

📚موضوعی داستانیں بحوالہ قصہ ہائے گلستان و بوستان، جلد1، ص29۔ 30۔

✍سید سجاد حسین ھمدانی

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🎅 یہ منہ اور مسور کی دال 🎅

یہ بادشاہ کا عزیز ترین حجام تھا‘ یہ روزانہ بادشاہ کے پاس حاضر ہوتا تھا اور دو تین گھنٹے اس کے ساتھ رہت اتھا‘ اس دوران بادشاہ سلطنت کے امور بھی سر انجام دیتا رہتا اور حجامت اور شیو بھی کرواتا رہتا تھا۔

ایک دن نائی نے بادشاہ سے عرض کیا ”حضور میں وزیر کے مقابلے میں آپ سے زیادہ قریب ہوں‘ میں آپ کا وفادار بھی ہوں‘ آپ اس کی جگہ مجھے وزیر کیوں نہیں بنا دیتے۔“

بادشاہ مسکرایا اور اس سے کہا ”میں تمہیں وزیر بنانے کیلئے تیار ہوں لیکن تمہیں اس سے پہلے ٹیسٹ دینا ہوگا۔“

نائی نے سینے پر ہاتھ باندھ کر کہا ”آپ حکم کیجئے۔“

بادشاہ بولا ”بندرگاہ پر ایک بحری جہاز آیا ہے‘ مجھے اس کے بارے میں معلومات لا کر دو۔“

نائی بھاگ کر بندرگاہ پر گیا اور واپس آ کر بولا ”جی جہاز وہاں کھڑا ہے۔“

بادشاہ نے پوچھا ”یہ جہاز کب آیا؟“

نائی دوبارہ سمندر کی طرف بھاگا‘ واپس آیا اور بتایا ”دو دن پہلے آیا“

بادشاہ نے کہا ”یہ بتاﺅ یہ جہاز کہاں سے آیا؟“

نائی تیسری بار سمندر کی طرف بھاگا‘ واپس آیا تو بادشاہ نے پوچھا ”جہاز پر کیا لدا ہے؟“

نائی چوتھی بار سمندر کی طرف بھاگ کھڑا ہوا۔

قصہ مختصر نائی شام تک سمندر اور محل کے چکر لگا لگا کر تھک گیا۔‘

اس کے بعد بادشاہ نے وزیر کو بلوایا اور اس سے پوچھا ”کیا سمندر پر کوئی جہاز کھڑا ہے۔؟“

وزیر نے ہاتھ باندھ کر عرض کیا ”جناب دو دن پہلے ایک تجارتی جہاز اٹلی سے ہماری بندرگارہ پر آیا تھا‘ اس میں جانور‘ خوراک اور کپڑا لدا ہے‘ اس کے کپتان کا نام یہ ہے‘ یہ چھ ماہ میں یہاں پہنچا‘ یہ چار دن مزید یہاں ٹھہرے گا‘ یہاں سے ایران جائے گا اور وہاں ایک ماہ رکے گا اور اس میں دو سو نو لوگ سوار ہیں اور میرا مشورہ ہے ہمیں بحری جہازوں پر ٹیکس بڑھا دینا چاہئے۔“

بادشاہ نے یہ سن کر حجام کی طرف دیکھا اور اس سے پوچھا ”کیا تمہیں حجام اور وزیر کا فرق معلوم ہوا؟“

حجام نے چپ چاپ استرا اٹھایا اور عرض کیا ”جناب بادشاہ سلامت کلماں چھوٹیاں رکھاں کہ وڈیاں"

😂🤡😂

#جس_کا_کام_اسی_کو_ساجھے

http://t.me/muskuraahten
🎅 MUSKURAAHTEN 🎅