ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.61K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
🔷 شیشہ 🔷

ایک آدمی نے اپنے بیٹے کو سمجھانے کے لیے اسے ایک شیشے کے سامنے کھڑا کر کے پوچھا:
"بیٹا اس شیشے میں تمہیں کیا نظر آ رہا ہے؟"

بیٹے نے جواب دیا:
"ابا جان دوسری طرف لوگ نظر آ رہے ہیں۔"

پھر باپ نے اسے ایک آئینے کے سامنے کھڑا کیا اور پوچھا:
"اب کیا نظر آ رہا ہے؟"

بیٹے نے جواب دیا:
"ابا جان اب مجھے اپنا چہرہ نظر آ رہا ہے۔"

باپ نے کہا:
"دیکھو بیٹے یہ دونوں ہی شیشے ہیں۔ ایک پر چاندی کا ملمع چڑھایا گیا ہے تو اس میں تمہیں اپنا آپ نظر آ رہا ہے اور دوسرے پر کچھ نہیں چڑھایا تو اس میں سے تمہیں دوسری طرف لوگ نظر آ رہے ہیں۔ بالکل اسی طرح اگر تم صرف شیشہ بن کر رہو گے تو تمہیں دوسرے لوگ نظر آتے رہیں گے، لیکن اگر تم اپنے آپ پر سونے چاندی کا ملمع چڑھا لو گے اور آئینہ بن جاؤ گے تو تمہیں لوگ نظر آنا بند ہو جائیں گے اور صرف اپنا آپ ہی نظر آئے گا اور اپنا آپ نظر آنے سے انسان میں تکبر بڑھتا ہے۔ اس لیے ہمیشہ شیشہ بن کر رہنا تاکہ دوسرے لوگوں کے دکھ درد، غم اور تکلیفیں تمہیں نظر آتی رہیں۔

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🔷 موت کی یاد 🔷

دین مبین اسلام میں موت کو یاد کرنے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے اور اس کے فوائد بھی بتائے گئے ہیں اسی لیے کہا گیا ہے کہ اگر دنیا و آخرت کا فائدہ چاہتے ہو تو موت کو یاد کیا کرو اور جب موت کے بارے میں امام صادق (علیہ السلام) سے سوال کیا گیا تو امام (علیہ السلام) نے موت کو یاد کرنے کے سات فائدے بتائے ہیں:
"ذِكرُ المَوتِ يُميتُ الشَّهَواتِ في النَّفسِ، و يَقلَعُ مَنابِتَ الغَفلَةِ، و يُقَوّي القلبَ بمَواعِدِ اللّه ِ، و يُرِقُّ الطَّبعَ، و يَكسِرُ أعلامَ الهَوى و يُطفِئُ نارَ الحِرصِ، و يُحَقِّرُ الدُّنيا؛"

موت کو یاد کرنے سے خواھشات نفسانی مر جاتی ہیں،
غفلت سے بیداری حاصل ہوتی ہے،
دل کو خدا کے وعدوں پر مضبوط کرتی ہے،
مزاج میں نرمی آتی ہے،
ھوس کے پرچم کو سرنگوں کرتی ہے،
حرص کی آگ کو ختم کرتی ہے،
دنیا کو حقیر بنا دیتی ہے۔
(بحار الأنوار،ج۶،ص۱۳۳)

اس روایت میں امام (علیہ السلام) درحقیقت موت کو یاد رکھنے کی تاکید کر رہے ہیں اور امام (علیہ السلام) کے اس فرمان پر اگر عمل کیا جائے تو حقیقی طور پر پھر نہ تو دنیا میں کسی مشکل کا سامنا کرنا پڑے اور نہ ہی آخرت میں، خداوندمتعال سے دعا ہے کہ ہم سب کو آئمہ (علیھم السلام) کے فرامین پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

📚بحار الأنوار، علامه مجلسی، دار الاحیاء، بیروت، ۱۴۰۳ق، ج۶، ص۱۳۳.

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🔷 ننانوے کا قانون 🔷

بادشاہ وقت نے اپنے وزیر خاص سے پوچھا: یہ میرے نوکر مجھ سے زیادہ کیسے خوش باش پھرتے ہیں۔ جبکہ ان کے پاس کچھ نہیں اور میرے پاس کمی کسی چیز کی نہیں۔

وزیر نے کہا: بادشاہ سلامت، اپنے کسی خادم پر قانون نمبر ننانوے کا استعمال کر کے دیکھیئے۔

بادشاہ نے پوچھا: اچھا، یہ قانون نمبر ننانوے کیا ہوتا ہے؟

وزیر نے کہا: بادشاہ سلامت، ایک صراحی میں ننانوے درہم ڈال کر، صراحی پر لکھیئے اس میں تمہارے لیئے سو درہم ہدیہ ہے، رات کو کسی خادم کے گھر کے دروازے کے سامنے رکھ کر دروازہ کھٹکھٹا کر ادھر اُدھر چھپ جائیے اور تماشہ دیکھ لیجیئے۔

بادشاہ نے، جیسے وزیر نے سمجھایا تھا، ویسے کیا، صراحی رکھنے والے نے دروازہ کھٹکھٹایا اور چھپ کر تماشہ دیکھنا شروع کر دیا۔

اندر سے خادم نکلا، صراحی اٹھائی اور گھر چلا گیا۔ دراہم گنے تو ننانوے نکلے، جبکہ صراحی پر لکھا سو درہم تھا۔ سوچا: یقینا ایک درہم کہیں باہر گرا پڑا ہوگا۔

خادم اور اس کے سارے گھر والے باہر نکلے اور درہم کی تلاش شروع کر دی۔ ان کی ساری رات اسی تلاش میں گزر گئی۔ خادم کا غصہ دیدنی تھا، کچھ رات صبر اور باقی کی رات بک بک اور جھک جھک میں گزری۔ خادم نے اپنے بیوی بچوں کو سست بھی کہا کیونکہ وہ درہم تلاش کرنے میں ناکام رہے تھے۔

دوسر ےدن یہ ملازم محل میں کام کرنے کیلئے گیا تو اس کا مزاج مکدر، آنکھوں سے جگراتے، کام سے جھنجھلاہٹ، شکل پر افسردگی عیاں تھی۔ بادشاہ سمجھ گیا کہ ننانوے کا قانون کیا ہوا کرتا ہے۔

لوگ ان ننانوے نعمتوں کو بھول جاتے ہیں جو الله تبارک و تعالیٰ نے انہیں عطا فرمائی ہوتی ہیں۔ اور ساری زندگی اس ایک نعمت کے حصول میں سر گرداں رہ کر گزار دیتے ہیں جو انہیں نہیں ملی ہوتی۔

اور یہ والی رہ گئی نعمت بھی الله کی کسی حکمت سے وجہ سے رُکی ہوئی ہوتی ہے جسے عطا کر دینا الله کیلئے بڑا کام نہیں ہوا کرتا۔

لوگ اپنی اسی ایک مفقود نعمت کیلئے سرگرداں رہ کر اپنے پاس موجود ننانوے نعمتوں کی لذتوں سے محروم مزاجوں کو مکدر کر کے جیتے ہیں۔

اپنی مل چکی نعمتوں پر الله تبارک و تعالٰی کا احسان مانیئے اور ان سے مستفید ہو کر شکرگزار بندے بن کر رہیئے۔ الله پاک ہمیں اپنے شکر گزار بندے بنا دے۔ آمین

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🔷 نیکی کے قابل 🔷

ایک شخص جنگل کے درمیان سے گزر رہا تھا کہ اس نے جھاڑیوں کے درمیان ایک سانپ پھنسا ہوا دیکھا، سانپ نے اس سے مدد کی اپیل کی تو اس نے ایک لکڑی کی مدد سے سانپ کو وہاں سے نکالا۔ باہر آتے ہی سانپ نےکہا کہ میں تمہیں ڈسوں گا۔

اس شخص نے کہا کہ میں نے تمہارے ساتھ نیکی کی ہے تم میرے ساتھ بدی کرنا چاہتے ہو۔

سانپ نے کہا کہ ہاں نیکی کا جواب بدی ہی ہے۔

اس آدمی نے کہا کہ چلو کسی سے فیصلہ کرا لیتے ہیں۔

چلتے چلتے ایک گائے کے پاس پہنچے اور اس کو سارا واقعہ بیان کرکے فیصلہ پوچھا تو اس نے کہا کہ واقعی نیکی کا جواب بدی ہے کیونکہ جب میں جوان تھی اور دودھ دیتی تھی تو میرا مالک میرا خیال رکھتا تھا اور چارہ پانی وقت پہ دیتا تھا لیکن اب میں بوڑھی ہوگئی ہوں تو اس نے بھی خیال رکھنا چھوڑ دیا ہے۔

یہ سن کر سانپ نے کہا کہ اب تو میں ڈسوں گا۔
اس آدمی نے کہا کہ ایک اور فیصلہ لے لیتے ہیں۔
سانپ مان گیا اور انہوں نے ایک گدھے سے فیصلہ کروایا، گدھے نے بھی یہی کہا کہ نیکی کا جواب بدی ہے، کیونکہ جب تک میرے اندر دم تھا میں اپنے مالک کے کام آتا رہا جونہی میں بوڑھا ہوا اس نے مجھے بھگا دیا۔

سانپ اس شخص کو ڈسنے ہی لگا تھا کہ اس نے منت کر کے کہا کہ ایک آخری موقع اور دو۔۔۔
سانپ کے حق میں دو فیصلے ہوچکے تھے اس لیے وہ آخری فیصلہ لینے پہ مان گیا۔۔

اب کی بار وہ دونوں ایک بندر کے پاس گئے اور اسے سارا واقعہ سنا کر کہا کہ فیصلہ کرو۔

اس نے آدمی سے کہا کہ مجھے ان جھاڑیوں کے پاس لے چلو، سانپ کو اندر پھینکو اور باہر پھر میرے سامنے باہر نکالو، اس کے بعد میں فیصلہ کروں گا۔

وہ تینوں واپس اسی جگہ گئے۔ آدمی نے سانپ کو جھاڑیوں کے اندر پھینک دیا اور پھر باہر نکالنے ہی لگا تھا کہ بندر نے منع کردیا اور کہا کہ اس کے ساتھ نیکی مت کر، یہ نیکی کے قابل ہی نہیں۔

خدا کی قسم وہ بندر پاکستانی عوام سے زیادہ عقل مند تھا۔ پاکستانیوں کو بار بار ایک ہی طرح کے سانپ مختلف ناموں اور طریقوں سے ڈستے ہیں لیکن ہمیں یہ خیال نہیں آتا کہ یہ سانپ ہیں۔ ان کے ساتھ نیکی کرنا اپنے آپ کو مشکل میں ڈالنے کے برابر ہے...

👆ایک مراسلہ👆

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🔷 ڈیپریشن 🔷

یه لفظ آج کل اتنا عام ہے ہر کوئی بنا سجھے, بنا جانے اس کا استعمال کرتا هے....آخر یه ہے کیا؟؟

ڈیپریشن بےبسی اور مایوسی کا نام هے۔
hopelessness & helplessness...

جب بھی ہم کچھ سوچتے ہیں اور پلان بناتے ہیں کہ یه کام میں اس طرح سے کر کے میں اپنا ٹارگٹ حاصل کر لوں گی....لیکن ویسا هوتا نہیں...پھر آپ اس ناکامی کے لیے خود کو اور دوسروں کو قصوروار ٹهہراتے هیں...اس طرح آپ physically and mentally اپنے آپ کو تھکا دیتے هیں.
اس ناکامی کو اپنے اوپر اتنا *سوار* کر لینا که آپ بیمار هوجاتے هیں...پھر گھر , بچے اور خود ڈسٹرب هوجاتے هیں.

انبیاء کرام, صحابه کرام پر بے انتہا مشکلیں آیئں ....وه ڈیپریشن کا شکار کیوں نهیں ہوۓ؟؟

کیا کوئی مسلمان الله سبحان وتعالی کے ہوتے ہوۓ بے بس, مایوس ہو سکتا هے؟؟
کیا کوئی الله کی ذات کو جانتے ہوۓ اسکی رحمت سے مایوس ہوسکتا هے؟؟

🔷ڈیریشن کی کئی وجوهات هیں...
1. بہت زیاده حساس ہونا
2. بہت انا پرست ہونا
3. مرضی کے خلاف بات برداشت نه کرنا
4. غیر متوقع نتائج کو قبول نه کرنا
5. ماضی کو حال سے بہتر سمجھنا
6. حال سے شکوه کرتے رہنا
7. پرفیکشن کو معیار سمجھنا اور پھر حسرت کا شکار رہنا

■ان سب باتوں کے پیچھے کیا هے...
🔸الله کی ذات کو مکمل نه پہچاننا,
🔸تقدیر پر کمزور ایمان,
🔸توکل علی اللہ کی کمی،
🔸جہاں الله سے تعلق کمزور ہوا وہیں شیطان نے اپنا ڈیره جما لیا....شیطان مایوس نے مایوس کر دیا
helplessness and hopelessness
🔸نا شکرا پن اس قدر بڑھ جاتا هے که ہاتھ میں موجود نعمتیں معمولی لگتی ہیں...اور سوچ میں بس وهی چیز ہوتی هے جو چاهیے یا جو نہیں ہوتی...وہی حسرت دل, دماغ یہاں تک که جسم کو بھی جکڑ لیتی ہیں...اور پم اپنی سوچ کے غلام ہو کر ره جاتے هیں...

■الله تعالی فرماتا ہےکہ:
🔺 میں نے زندگی موت بنائی جو آزمائش هے...
🔺 تم آزماۓ جاؤ گے بھوک سے, خوف سے مال ک نقصان سے
🔺 اولاد اور هر نعمت کا ملنا نه ملنا هر صورت آزمائش هے.
🔺 تم پر کوئی بوجھ تمهاری برداشت سے بڑھ کر نهیں ڈالوں گا
🔺 بوجھ ڈل جاۓ تو نماز اور صبر سے مدد لو
🔺 جو مجھ پر بھروسه کرے میں اس کے لیے کافی هوں.
🔺 کون هے جو بےقرار کے دل کی دعا سنتا هے جب که وه پکارے...

سوچیں!!! شیطان کا ڈیپریشن میں جانا بنتا ہے... وه مایوس هے کیونکه وه نافرمان ہے اور بےبس ہے کیونکه جسکا الله نہیں اس کا کوئی بھی نہیں... الحمدلله ہمارے پاس تو الله جیسی ہستی کا ساتھ ہے...

■کیسے هم اپنے آپ کو ڈیپریشن سے بچائیں:
1. الله اور اس کی کتاب سے رابطه مضبوط کریں
2. هر چیز کا مثبت پہلو دیکھیں...
3. ضروری نہیں که جو کوشش کی ہے اس کے نتائج وہی ہوں جیسا که ہم چاهتے ہیں.
4. کسی چیز کے نه ہونے میں بھی خیر کا پہلو تلاش کریں... الله کے بارے میں بہترین گمان رکھیں
5. مایوس کرنے والے اور بھڑکانے والے لوگوں سے اپنے مسائل ڈسکس نه کریں بلکه ایسے لوگوں سے بات کریں جو آپ کو مثبت رویے کی طرف لے کر جائیں.
7. حقیقت کو قبول کرنے میں جلدی کریں...یه نہیں ہوسکتا, ایسا کیسے ہو سکتا هے...ایسے جملے اور سوچ ڈیپریشن کی شکل اختیار کر جاتے هیں...

الله نه کرے اگر کسی کو ڈیپریشن هے تو وه یه کریں..
1. الله سے رجوع... الله کی طرف ڈوریں
2. hope givers and motivators کی کمپنی میں بیٹھیں
3. تلاوت سنیں اور بلند آواز میں تلاوت کریں
4. تنہا رهنے سے پرهیز کریں
5. اپنے محسوسات کو لکھنے کی کوشش کریں...بھلے ہی بعد میں پھاڑ کر پھینک دیں یا جلا دیں..
6. check your thyroid level as well
7. تازه پھل اور پانی بہت پیئیں.

الله ھم سب کا حامی و ناصر ہو۔

👆ایک مراسلہ👆

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🔷 کمال 🔷

ایک فارسی حکایت
ابوسعید ابوالخیر سے کسی نے کہا؛ ’’کیا کمال کا انسان ھو گا وہ جو ھوا میں اُڑ سکے۔‘‘
ابوسعید نے جواب دیا؛ ’’یہ کونسی بڑی بات ھے، یہ کام تو مکّھی بھی کر سکتی ھے۔‘‘

’’اور اگر کوئی شخص پانی پر چل سکے اُس کے بارے میں آپ کا کیا فرمانا ھے؟

’’یہ بھی کوئی خاص بات نہیں ھے کیونکہ لکڑی کا ٹکڑا بھی سطحِ آب پر تیر سکتا ھے۔‘‘

ؔؔ’’تو پھر آپ کے خیال میں کمال کیا ھے؟‘‘
’’میری نظر میں کمال یہ ھے کہ لوگوں کے درمیان رھو اور کسی کو تمہاری زبان سے تکلیف نہ پہنچے۔
جھوٹ کبھی نہ کہو، کسی کا تمسخر مت اُڑاؤ، کسی کی ذات سے کوئی ناجائز فائدہ مت اُٹھاؤ، یہ کمال ھیں۔

یہ ضروری نہیں کہ کسی کی ناجائز بات یا عادت کو برداشت کیا جائے، یہ کافی ھے کہ کسی کے بارے میں بن جانے کوئی رائے قائم نہ کریں۔

یہ لازم نہیں ھے کہ ھم ایک دوسرے کو خوش کرنے کی کوشش کریں، یہ کافی ھے کہ ایک دوسرے کو تکلیف نہ پہنچائیں۔

یہ ضروری نہیں کہ ھم دوسروں کی اصلاح کریں، یہ کافی ھے کہ ھماری نگاہ اپنے عیوب پر ھو۔

حتّیٰ کہ یہ بھی ضروری نہیں کہ ھم ایک دوسرے سے محبّت کریں، اتنا کافی ھے کہ ایک دوسرے کے دشمن نہ ھوں۔

دوسروں کے ساتھ امن کے ساتھ جینا کمال ھے۔‘‘

📚حکایاتِ فارسی

https://t.me/muskuraahten
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🌹 بیوی زندگی کی ساتھی 🌹

چند راتیں پہلے کی بات ہے، میں نے اپنے بستر پر، نیند آ جانے سے پہلے، اپنے پہلو میں سوئی، اپنی بیوی کے چہرے کو غور سے دیکھا، اس کی پیاری سی اور نرم و نازک شکل پر کافی دیر غور کرتا رہا، پھر میں نے اپنے آپ سے کہا:

​​کیا مسکین ہوتی ہے یہ عورت بھی، برسوں اپنے باپ کی شفقت کے سائے تلے اپنے گھر والوں کے ساتھ پلتی بڑھتی ہے، اور اب کہاں ایک نا واقف شخص کے ساتھ آ کر سوئی پڑی ہے، اور اس نا واقف شخص کیلئے اس نے اپنے گھر بار ماں باپ چھوڑا، والدین کا لاڈ و پیار اور ناز نخرا چھوڑا، اپنے گھر کی راحت اور آرام کو چھوڑا، اور ایسے شخص کے پاس آئی پڑی ہے جو بس اسے اچھے کی تلقین اور برائی سے روکتا ہے، اس شخص کی دل و جان سے خدمت کرتی ہے، اس کا دل بہلاتی ہے، اس کو راحت اور سکون دیتی ہے، تاکہ بس اس کا رب اس سے راضی ہو جائے، اور بس اس لئیے کہ یہ اس کیلئے اس کے دین کا حکم ہے،​​

پھر میں نے اپنے آپ سے سوال کیا:
​کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ،، جو بیدردی اور بے رحمی سے اپنی بیویوں کو مار پیٹ لیتے ہیں..​

بلکہ کچھ تو دھکے دیکر اپنے گھر سے بھی باہر نکال کرتے ہیں،، انہیں واپس اپنے ماں باپ کے اس گھر لا ڈالتے ہیں جو وہ اس کی خاطر چھوڑ کر آئی تھی..​

​کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ،، جو بیویوں کو گھر میں ڈال کر دوستوں کے ساتھ نکل کھڑے ہوتے ہیں، ہوٹلوں میں جا کر وہ کچھ کھاتے پیتے ہیں جس کا ان کے گھر میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا..​

​کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ،، جن کے باہر اٹھنے بیٹھنے کا دورانیہ ان کے اپنے بیوی بچوں کے پاس اٹھنے بیٹھنے کے دورانیئے سے زیادہ ہوتا ہے..​

​کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ؛، جو اپنے گھر کو اپنی بیوی کیلئے جیل بنا کر رکھ دیتے ہیں، نا انہیں کبھی باہر اندر لیجاتے ہیں، اور نا ہی کبھی ان کے پاس بیٹھ کر ان سے دل کا حال سنتے سناتے ہیں..​

​کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ،، جو اپنی بیوی کو ایسی حالت میں سلا دیتے ہیں کہ اس کے دل میں کسی چیز کی خلش اور چھبن تھی، اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور اس کا گلا کسی قہر سے دبا جا رہا تھا..​

​کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ،، جو اپنی راحت اور اپنی بہتر زندگی کیلئے گھر چھوڑ کر باہر نکل کھڑے ہوتے ہیں، پیچھے مڑ کر اپنی بیوی اور بچوں کی خبر بھی نہیں لیتے کہ ان پر ان کے باہر رہنے کے عرصہ میں کیا گزرتی ہوگی..​

کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ،، جو ایسی ذمہ داری سے بھاگ جاتے ہیں جس کے بارے میں ان سے روز محشر پوچھ گچھ کی جائے گی..​

■​​اپنی ماں اور اپنی بیوی دونوں کو بے پناہ عزت دو،، اسلئے کہ ایک تمہیں دنیا میں لائی،، اور دوسری ساری دنیا چھوڑ کر تمہارے پاس آئی۔۔۔​

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
📚 علم و علماء کی قدردانی 📚

ایک مولوی صاحب مسجد کے صحن میں بچوں کو قُرآن پڑھا رہے تھے کہ نمازِ عصر کا وقت ہو گیا۔ مولوی صاحب نے ایک بچے کو اُٹھ کر آذان دینے کو کہا۔۔۔!!

بچہ نظریں نیچی کر کے بولا:
’’اُستاد جی مُجھے شرم آتی ہے۔‘‘

مولوی صاحب نے دُوسرے بچے کو آذان دینے کا کہا۔

اُس بچے نے بھی کہا:
’’اُستاد جی مُجھے بھی شرم آتی ہے۔‘‘

تیسرے اور چوتھے بچے کا بھی یہی جواب تھا۔

یہ سارا ماجرا دیکھ کر مولوی صاحب نے ٹھنڈی سانس بھری اور آذان کے لیے اُٹھتے ہوئے کہا: "چلو پھر میں ہی بے شرم ہوں جو روز آذان دیتا ہوں۔"

🔘 مؤمنین یہ ہنسنے کا نہیں بلکہ رونے کا مقام ہے ۔۔۔ ہم عُلما کے کردار و گفتار پر اعتراض کرنے سے کبھی نہیں تھکتے۔ اُنگلی اُٹھانا آسان ہے مگر غلط کو درست کرنا مُشکل۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ عُلماء مُعاشرے کے اندر اپنا کردار صحیح طریقہ سے ادا نہیں کر رہے تو آپ کے لیے یہ سُنہری موقع ہے اس خامی کو دُور کرنے کا۔ کہ آگے آئیے، علم حاصل کیجئے، اس قابل بنئے اور اس مظلوم قوم کی سرپرستی کیجئے۔

فرمان معصوم علیہ السلام ہے کہ۔۔۔
''لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي طَلَبِ‏ الْعِلْمِ‏ لَطَلَبُوهُ‏ وَ لَوْ بِسَفْكِ الْمُهَجِ وَ خَوْضِ اللُّجَجِ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى أَوْحَى إِلَى دَانِيَالَ أَنَّ أَمْقَتَ عَبِيدِي إِلَيَّ الْجَاهِلُ الْمُسْتَخِفُّ بِحَقِّ أَهْلِ الْعِلْمِ التَّارِكُ لِلِاقْتِدَاءِ بِهِمْ وَ أَنَّ أَحَبَّ عَبِيدِي إِلَيَّ التَّقِيُّ الطَّالِبُ لِلثَّوَابِ الْجَزِيلِ اللَّازِمُ لِلْعُلَمَاءِ التَّابِعُ لِلْحُلَمَاءِ الْقَابِلُ عَنِ الْحُكَمَاء''.

’’اگر لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ علم حاصل کرنے میں کیا فائدہ ہے تو اسے ضرور حاصل کریں گے خواہ خون جگر کیوں نہ پینا پڑے اور بھنور سے کیوں نہ گزرنا پڑے، خداوندعالم نے دانیالؑ پیغمبر پر وحی نازل کی اور فرمایا: میرے بندوں میں میرا سب سے بڑا دشمن وہ نادان بندہ ہے جو اہلِ علم کے حق کی پرواہ نہیں کرتا اور ان کی پیروی نہیں کرتا اور میرے بندوں میں میرا سب سے زیادہ محبوب اور پرہیزگار بندہ وہ ہے جو کثیر ثواب کی تمنا رکھتا ہے، عالموں کا خادم، بردباروں کا پیروکار اور حکمت شعاروں کی تواضع کرنے والا ہوتا ہے۔‘‘

✍ سید سجاد حسین ہمدانی

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ شکریہ

📚 کافی، ج1، باب ثواب العلم والتعلیم، حدیث5.

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🔷 آٹھ مسائل 🔷

ایک روز شیخ شفیق بلخیؒ نے اپنے شاگرد حاتمؒ سے پوچھا.. "حاتم! تم کتنے دنوں سے میرے ساتھ ہو..؟"

حاتم نے کہا.. "بتیس برس سے.."

شیخ نے پوچھا.. "بتاؤ اتنے طویل عرصے میں تم نے مجھ سے کیا سیکھا..؟"

حاتم نے کہا.. "صرف آٹھ مسئلے.."

شیخ نے کہا.. "انا للہ وانا الیہ راجعون.. میرے اوقات تیرے اوپر ضائع چلے گئے.. تُو نے صرف آٹھ مسئلےسیکھے..؟"

حاتم نے کہا.. "استادِ محترم! زیادہ نہیں سیکھ سکا اور جھوٹ بھی نہیں بول سکتا.."

شیخ نے کہا.. "اچھا بتاؤ کیا سیکھا ہے..؟"

حاتمؒ نے کہا.. "میں نے مخلوق کو دیکھا تو معلوم ہوا ہر ایک کا محبوب ہوتا ہے قبر میں جانے تک.. جب بندہ قبر میں پہنچ جاتا ہے تو اپنے محبوب سے جدا ہو جاتا ہے.. اس لیے میں نے اپنا محبوب "نیکیوں" کو بنا لیا ہے کہ جب میں قبر میں جاؤں گا تو یہ میرا محبوب میرے ساتھ قبر میں رہے گا..

2: لوگوں کو دیکھا کہ کسی کے پاس قیمتی چیز ہے تو اسے سنبھال کر رکھتا ہے اور اس کی حفاظت کرتا ہے.. پھر فرمانِ الہی پڑھا..

"جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ خرچ ہو جانے والا ہے.. جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہی باقی رہنے والا ہے.."
(سورۃ النحل آیت 96)

تو جو چیز مجھے قیمتی ہاتھ آئی اسے اللہ کی طرف پھیر دیا تا کہ اس کے پاس محفوظ ہو جائے جو کبھی ضائع نہ ہو..

3: میں نے خدا کے فرمان پر غور کیا..
"اور جس نے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف کیا اور نفس کو بُری خواہشات سے باز رکھا' جنت اسی کا ٹھکانہ ہو گا.."
(سورۃ النازعات آیت 40)

تو اپنے نفس کو بُرائیوں سے لگام دی.. خواہشاتِ نفسانی سے بچنے کی محنت کی , یہاں تک کہ میرا نفس اطاعتِ الٰہی پر جم گیا..

4: لوگوں کو دیکھا ہر ایک کا رجحان دنیاوی مال، حسب نسب، دنیاوی جاہ و منصب میں پایا.. ان امور میں غور کرنے سے یہ چیزیں ہیچ دکھائی دیں.. اُدھر فرمان الٰہی دیکھا..

"درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے.."
(سورۃ الحجرات آیت 13)

تو میں نے تقوٰی اختیار کیا تاکہ اللہ کے ہاں عزت پاؤں..

5: لوگوں میں یہ بھی دیکھا کہ آپس میں گمانِ بد رکھتے ہیں، ایک دوسرے کو بُرا کہتے ہیں.. دوسری طرف اللہ کا فرمان دیکھا..

"دنیا کی زندگی میں ان کی بسر اوقات کی ذرائع تو ہم نے ان کے درمیان تقسیم کیے ہیں.."
(سورۃ الزخرف آیت 32)

اس لیے میں حسد کو چھوڑ کر خلق سے کنارہ کر لیا اور یقین ہوا کہ قسمت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے.. خلق کی عداوت سے باز آگیا..

6: لوگوں کو دیکھا کہ ایک دوسرے سے سرکشی اور کشت و خون کرتے ہیں.. اللہ کی طرف رجوع کیا تو فرمایا..

"درحقیقت شیطان تمہارا دشمن ہے اس لیے تم بھی اسے اپنا دشمن سمجھو۔"
(سورۃ فاطر آیت 6)

اس بنا پر میں نے صرف اس اکیلے شیطان کو اپنا دشمن ٹھہرا لیا اور اس بات کی کوشش کی کہ اس سے بچتا رہوں..

7: لوگوں کو دیکھا پارہ نان (روٹی کے ٹکرے) پر اپنے نفس کو ذلیل کر رہے ہیں، ناجائز امور میں قدم رکھتے ہیں.. میں نے ارشادِ باری تعالٰی دیکھا..

"زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو.."
(سورۃ ہود آیت6)

پھر میں ان باتوں میں مشغول ہوا جو اللہ کے حقوق میرے ذمے ہیں.. اس رزق کی طلب ترک کی جو اللہ کے ذمے ہے..

8: میں نے خلق کو دیکھا، ہر ایک کسی عارضی چیز پر بھروسہ کرتا ہے.. کوئی زمین پر بھروسہ کرتا ہے، کوئی اپنی تجارت پر، کوئی اپنے پیشے پر، کوئی بدن پر، کوئی ذہنی اور علمی صلاحیتوں پر بھروسہ کیے ہوئے ہے.. میں نے خدا کی طرف رجوع کیا.. یہ ارشاد دیکھا..

"جو اللہ پر بھروسہ کرے اس کے لیے وہ کافی ہے.."
(سورۃ طلاق آیت3)

تو میں نے اپنےخدا پر توکل کیا.. وہی مجھے کافی ہے.."

شیخ بلخیؒ نے فرمایا..
"اے میرے پیارے شاگرد حاتم! خدا تمہیں ان کی توفیق نصیب کرے.. میں نے قرآن کے علوم پر مطالعہ کیا تو ان سب کی اصل جڑ انہی آٹھ مسائل کو پایا.. ان پر عمل کرنے والا گویا چاروں آسمانی کتابوں کا عامل ہوا.."

📚الاحیاء العلوم.. امام غزالیؒ

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
💎 سچ کا انعام 💎

بہت پرانے زمانے میں ایک بادشاہ تھا، اس کا کوئی بیٹا نہ تھا۔ جب وہ بوڑھا ہو گیا تو اسے فکر ہوئی کہ اس کے مرنے کے بعد تخت و تاج کا وارث کون ہو گا؟
لہذا ایک دن اس نے اپنے ملک میں اعلان کرایا کہ وہ ایک بچے کو گود لینا چاہتا ہے جو بعد میں اس کے تخت و تاج کا وارث ہو گا۔

بچے کے انتخاب کے لیے یہ طریقہ بتایا گیا کہ تمام ملک میں سے کچھ بچے منتخب کئے جائیں گے، ہر بچے کو بیج دیا جائے گا۔ جس بچے کے بوئے ہوئے پودے پر سب سے خوبصورت پھول کھلے گا وہ بادشاہ کا وارث بنا دیا جائیگا۔

سونگ چن نامی ایک لڑکا تھا، اس نے بھی بادشاہ سے ایک بیج لیا اور اپنے گھر آکر ایک گملے میں بو دیا۔

تفصیل سے پڑھئے۔۔۔
وہ ہر روز اسے پانی دیا کر تا تھا، اسے امید تھی اس کے پودے پر سب سے زیادہ خوبصور ت پھول کھلے گا۔ دن گزرتے گئے مگر گملے میں سے کچھ بھی نہ نکلا۔
سو نگ چن کو بڑی فکر تھی۔ اس نے ایک اور گملا خریدا اور دور سے جاکر مٹی لایا اور اس بیج کو دوبارہ احتیاط سے لگایا مگر دو مہینے گزر جانے پر بھی گملے میں سے کوئی پودا نہ نکلا۔

پلک جھپکتے میں پھولوں کی نمائش کا دن آ پہنچا۔ سارے ملک کے بچے شاہی محل میں جمع ہوئے۔ ہر ایک اپنے ہاتھوں میں ایک گملا لیے ہوئے تھا۔ گملوں میں رنگ برنگے پھول کھلے ہوئے تھے۔ وہ واقعی بڑے خوبصورت تھے۔

بادشاہ پھول دیکھنے بچوں کے پاس آیا۔ وہ ہر ایک خوبصورت پھول کو دیکھتا رہا مگر اسے کوئی پسند نہیں آرہا تھا۔ چلتے چلتے اچانک اس کی نظر سونگ چن پر پڑی جو ایک خالی گملا لیے سر جھکائے کھڑا تھا۔ بادشاہ سونگ چن کے پاس جاکر رک گیا اور اس سے پو چھا: ”بیٹے! تم خالی گملا لیے کیو ں کھڑے ہو؟“
سونگ چن نے روتے ہوئے کہا:
”میں نے بیج گملے میں ڈالا تھا اور روزانہ پانی بھی دیتا تھا مگر اس سے اب تک کوئی پودا نہیں اگا، اس لیے خالی گملا لیے کھڑا ہو ں۔“
سونگ چن کی بات سن کر بادشاہ ہنس پڑا اور بولا:
تم ایک سچے لڑکے ہو، مجھے اپنے تخت و تاج کے لیے تم جیسے سچے لڑکے کی تلاش تھی، تم ہی اس ملک کے بادشاہ ہو گے۔ کیونکہ میں نے سب بچوں کو جو بیج دیئے تھے وہ ابلے ہوئے تھے۔ خراب ہو چکے تھے اسلیے ان سے پودے کا اگنا ممکن ہی نہیں تھا۔
دوسرے بچے اس لیے خوبصورت پھول کھلانے میں کامیاب ہو گئے تھے کہ انہوں نے اس خراب کی جگہ اچھے بیج بوئے تھے مگر سونگ چن نے یہ غلط حرکت نہیں کی تھی اور جھو ٹ سے کام نہیں لیا تھا لہذا اسے سچائی کا انعام مل گیا.

سچ ہے کہ سچائی کا انعام دنیا و آخرت میں مل جاتا ہے. آپ بھی کبھی جھوٹ سے کام نہ لیں.

📚منبع؛ نوائے افتخار۔

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🔷 دوستی کے آداب 🔷

یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ دوستی کی بقا اور دوام اسکی حدود اور رفاقت کے آداب ملحوظ رکھنے سے وابستہ ہے۔

دوست بنانا آسان ہے لیکن دوستی کے بندھن کی حفاظت خاصا مشکل کام ہے۔

حضرت امام علیؑ نے اپنے کلام میں دوستی کی پائیداری اور بقا کا موجب بننے والے چند ظریف نکات کی جانب اشارہ کیا ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں:
"ناتواں ترین شخص وہ ہے جو دوست نہ بنا سکے اور اس سے بھی زیادہ ناتواں وہ شخص ہے جو اپنا دوست کھو بیٹھے۔"
(بحارالانوار، ج٧٤، ص٢٧٨)

بعض جوانوں کو شکایت ہوتی ہے کہ ان کی دوستیاں زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتیں۔ اگر اسکی وجوہات کا جائرہ لیں تو ایک اہم وجہ دوستی کی حدود کا لحاظ نہ رکھنا اور رشتۂ رفاقت میں افراط و تفریط کا شکار ہو جانا ہے۔ اس سلسلے میں بھی امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کے سود مند فرمودات و نصائح پر عمل ان مشکلات کے حل میں یقیناً مددگار ثابت ہوگا۔
مضبوط دوستی کے بارے میں امام علیؑ کے فرمودات میں شامل درجِ ذیل نکات خاص اہمیت رکھتے ہیں۔۔۔

🌹الف= دوستی میں اعتدال:
عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جوان دوستی میں افراط (حد سے بڑھ جانا) کا شکار ہو جاتے ہیں اور توازن کی حدود میں نہیں رہتے۔ اس عدم توازن کی اہم وجہ عمر کے اس حصے میں جذبات و احساسات کی فراوانی ہے۔ ایسے جوان دوستی کے دنوں میں اپنے دوست سے حد سے زیادہ محبت اور لگاؤ ظاہر کرتے ہیں اور اگر دوستی کا یہ بندھن ٹوٹ جائے تو اسی سابقہ دوست کے خلاف انتہائی دشمنی اور عداوت کا اظہار کرتے ہیں، حتیٰ بسااوقات کوئی خطرناک قدم بھی اٹھا بیٹتھے ہیں۔
امام علیؑ کی نصیحت ہے کہ دوستی اور رفاقت کے رشتے میں میانہ روی سے کام لو۔ آپ فرماتے ہیں:
"اپنے پسندیدہ دوست سے دوستی کا اظہار کرتے وقت اعتدال کو ملحوظ رکھو، شاید ایک روز وہ تمہارا دشمن ہو جائے۔ اسیطرح اگر کسی سے تمہاری ناراضگی یا عداوت ہوجائے تو اسکے اظہار میں بھی اعتدال سے کام لو کیونکہ ممکن ہے کسی روز وہ تمہارا دوست بن جائے۔
زیرِ گفتگو مکتوب میں بھی امام علیؑ فرماتے ہیں:
"اگر تم اپنے کسی بھائی سے قطع تعلق کرنا چاہتے ہو تو اپنے پاس اتنی گنجائش رکھو کہ اگر وہ کسی دن واپس آنا چاہے تو اسکے پاس پلٹنے کا راستہ کھلا ہوا ہو۔(نہج البلاغہ، مکتوب٣١)

🌹ب= دوطرفہ محبت:
دوستی اور رفاقت کی بنیاد دوطرفہ محبت ہے۔ اگر کوئی ایک دوست تو تعلقات و روابط کی برقراری چاہتا ہو اور دوسرا اس کی طرف کسی رغبت کا اظہار نہ کرے تو ایسی صورت میں دوستی کا مشتاق شخص ذلیل و خوار ہو جاتا ہے۔ اسی بنا پر امیرالمؤمنین علیؑ نے اپنے اس مکتوب میں فرمایا ہے:
"لا ترغَنَبنَّ فیمنَ زَھَدَ عَنک"َ
جو کوئی تمہاری طرف راغب نہ ہو تم بھی اس سے رغبت کا اظہار نہ کرو۔
(نہج البلاغہ، مکتوب٣١)

🌹ج= دوستی کے بندھن کی حفاظت:
امام علیؑ نے رشتۂ دوستی کی حفاظت پر بہت زیادہ زور دیا ہے۔ لہٰذا اس بندھن کی مضبوطی و استحکام کا باعث بننے والے عوامل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"اگر تمہارا دوست تم سے دوری اختیار کرے تو درگزر سے کام لو۔ جب وہ تم سے دور ہو تو تم اس سے قریب ہو جاؤ، اگر وہ سختی برتے تو تم نرمی کا سلوک کرو اور اگر وہ کسی غلطی یا خطا کا شکار ہوجائے تو اسکے عذر و معذرت کو قبول کر لو۔"
البتہ جب کم ظرف لوگ تمہاری عالی نفسی اور حسنِ سلوک کو تمہاری کمزوری اور اپنی چالاکی سمجھنے لگیں تو ایسے موقع کیلئے امام کا فرمان ہے کہ:
"ان تمام مواقع پر موقع شناسی کا ثبوت دو اور ہوشیار رہو کہ جس طرزِ عمل کیلئے کہا گیا ہے اسے اسکی موزوں جگہ ہی ملحوظ رکھو اور ایسے شخص کے بارے میں روا نہ رکھو جو اس سلوک کی اہلیت نہ رکھتا ہو۔"

دوستی کے حوالے سے ایک اور قابل توجہ نکتہ اپنے دوست کو نصیحت کرنا اور اس کا خیر خواہ ہونا ہے۔ امام علیؑ فرماتے ہیں:
"اپنے بھائی کو مخلصانہ نصیحت کرتے رہنا، چاہے اسے اچھی لگے، چاہے بری محسوس ہوں۔
(نہج البلاغہ۔ مکتوب٣١)

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
😢 ایام فاطمیہ سلام اللہ علیہا 😢

ایام فاطمیہ (13 جمادی الاول تا 3 جمادی الثانی) کی مناسبت سے آپ تمام مومنین کی خدمت میں تعزیت پیش کرتا ہوں۔ اس مناسبت سے بیبی کی کچھ سوانح حیات۔۔۔

نام: فاطمہ سلام اللَّه علیہا
لقب: زہرا سلام اللَّه علیہا
کنیت: ام الحسنین٫ سیدۃ النساء
والد کا نام: محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
والدہ کا نام: حضرت خدیجتہ الکبریٰ سلام اللَّه علیہا
اولاد: حسن، حسین، زینب، اُم کلثوم و اسقاط محسن علیھم السلام
تاریخ ولادت: 20‌‌ جمادی الثانی 5 بعثت
مقام ولادت: مکہ معظمہ
مدت حیات؛ 18 سال 9 ماہ 5 دن
سبب شہادت: پہلو پر جلتا ہوا دروازہ گرنا٫ نیز ضرب تازیانہ۔
جائے دفن: جنت البقیع (مدینہ)

■ ایام فاطمیہ سلام اللَّه علیہا
13 جمادی الاول سے شروع ہوتے ہیں۔ 3 جمادی الثانی تک چلتے ہیں مطلب کے ایام فاطمیہ 20 دن کا ہوتا ہے۔

یہ بیس دن کا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ بیبی کی تاریخِ شہادت میں اختلاف ہے اس لیے ان بیس دنوں کو جن میں بیبی کی شہادت ملتی ہیں ان کو ایامِ فاطمیہ سلام اللہ علیہا کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔

■ شہادت
بیبی کی شہادت کے بارے میں دو روایات ملتی ہیں۔ روایات کے مطابق بیبی کی شہادتِ رسول خدا (ص) کے جانے کے 75 یا 95 دن بعد ہوئی۔

■ شہادت کی تاریخ
۱۳‌ جمادی الاول‌ ۱۱ ھجری
۳‌ جمادی الثانی ۱۱ ھجری

📚 حوالاجات
جامع عباسی ص 79۔
انوار الحسینیہ جلد 3، ص 39، طبح نجف۔
چودہ ستارے باب 2۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

🔶 سیدہ زھراءؑ کی شہادت، تجہیز و تدفین
https://www.facebook.com/share/p/1Cqmb8Cidm/
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🔰 اچھا انسان 🔰

🔸ایک شخص نے حضرت آیت اللہ بھاء الدینی سے کہا:

❗️آقا جان میرے لئے دعا کریں میں ایک انسان بن جاؤں

✨ حضرت آیت الله بهاء الدینی نےجواب دیا:

دعا کے ذریعے اچھا آدمی بننا مشکل ہے.

☕️ کبھی دیکھا ہے کہ بغیر چائے اور پانی کے چائے تیار ہو گئی ہو.

🍲کبھی دیکھا ہے کہ کھانے اور پانی پینے کے علاوہ آدمی کا پیٹ بھرا ہو.

💡 کبھی دیکھا ہے کہ بغیر بجلی کے بلب روشن ہوئے ہوں.

👌علم و عمل صالح کے علاوہ اچھا انسان بننا بہت مشکل ہے.

📔داستانهای کوتاه، جلد 1

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
💐 قرآن کی تصدیق 💐

ہندوستان میں ایک بڑے بزرگ مولانا تمییز الدین گزرے ہیں‘ جن کو لوگ منشی صاحب کہتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک گاؤں سے گزر رہے تھے کہ گاؤں کے لوگ جمع ہیں اور سامنے کسی آدمی کا جنازہ رکھا ہے۔ منشی صاحب وہیں کھڑے ہوگئے‘ لوگوں نے کہا:

’’منشی صاحب آپ جنازہ پڑھائیں‘‘ منشی صاحب نے کہا میں نہیں پڑھاتا۔ گھر سے پیغام آیا کہ منشی صاحب ہی پڑھائیں گے لوگوں نے اس آدمی کی بیوی سے پوچھا کہ منشی صاحب کا نام تم نے کیوں لیا تو اس نے کہا: یہ آدمی جو فوت ہوا ہے اس نے فوت ہونے سے پہلے کہا تھا کہ میر...اجنازہ منشی صاحب پڑھائیں۔ لوگوں نے کہا:

آج اتفاق سے آئے ہوئے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہماری بات پوری ہوگئی۔ منشی صاحب نے جنازہ پڑھایا۔ اپنے ہاتھوں سے اس میت کو قبر میں اتارا‘ دفن کیا اور چلے گئے۔ جب دفتر میں پہنچے جیب میں دیکھا تو ملازمت کا کارڈ غائب تھا۔ خیال آیا کہ جب میں نے اس بزرگ کو قبر میں اتارا تو وہ کارڈ بھی قبر میں گرگیا۔ ملازمت کا مسئلہ تھا‘ اسی وقت واپس آئے‘ گاؤں کے لوگوں کو جمع کیا اور کہا کہ انہیں ابھی ابھی دفن کیا ہے‘ میری ملازمت کا مسئلہ ہے تھوڑا سا مٹی کو ہٹاؤ تاکہ میں اپنا کارڈ اٹھالوں۔ سب لوگ جمع ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ منشی صاحب بڑے اللہ والے ہیں‘ کوئی بات نہیں۔ مٹی کو ہٹایا‘ جب اس کے کفن کے قریب پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ساری قبر گلاب کے پھولوں سے بھری پڑی ہے۔ منشی صاحب کو اپنی ملازمت بھول گئی۔ سیدھے اس عورت کے گھر گئے اور جاکر کہا کہ اماں بتاؤ: یہ جو بزرگ تھا اس کا عمل کیا تھا‘ بوڑھی عورت نے عجیب بات کہی‘ اس نے کہا: یہ تو ان پڑھ تھے ‘ زبانی انہوں نے چندسورتیں یاد کررکھی تھیں لیکن لکھنا آتا تھا نہ پڑھنا۔

مجھے اس کے نکاح میں آئے پینتالیس سال ہوگئے ہیں۔ ایک کام یہ روزانہ کرتے تھےکہ جب صبح کی نماز پڑھ کر فارغ ہوجاتے تو قرآن سامنے رکھ لیتے اور اس کی سطروں پر انگلی رکھ کر کہتے اے اللہ! تو نے یہ بھی سچ کہا‘ یہ بھی سچ کہا‘ یہ بھی سچ کہا‘‘.

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
📦 تابوت سکینہ 📦

یہ شمشاد کی لکڑی کا بنا ھوا ایک صندوق تھا جو آدم علیہ سلام پر نازل ھواتھا۔، یہ پوری زندگی آپ کے پاس رھا۔ پھر بطور میراث آپکے اولاد کو ملتا رھا، یہاں تک کہ یہ حضرت یعقوب علیہ سلام کو ملا اور آپکے بعد آپکی اولاد بنی اسرایئل کو ملا اور بعد میں یہ حضرت موسئ علیہ سلام کو ملا جس میں وہ اپنا خاص سامان اور تورات شریف رکھا کرتے تھے۔یہ بڑا ھی مقدس اور بابرکت صندوق تھا، بنی اسرایئل جب کفار سے جہاد کرتے اور انکو شکست کاڈر ھوتا تو وہ اس صندوق کو آگے رکھتے تو اس صندوق سے ایسی رحمتوں اور برکتوں کا ظہور ھوتا کہ مجاھدین کے دلوں کو چین آرام و سکون حاصل ھو جاتا اور صندوق وہ جتنا آگے بڑھاتے آسمان سے نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ کی بشارت عظمی نازل ھوتی۔بنی اسرایئل میں جب بھی کھبی اختلاف ھوتا تو وہ اسی صندوق سے فیصلہ کراتے۔ صندوق سے فیصلہ کی آواز خود ھی آتی العرض یہ تابوت بنی اسرایئل کے لیے تابوت سکینہ ثابت ھوی۔
لیکن جب بنی اسرایئل طرح طرح کے گناھوں میں ملوث ھوے اور ان لوگوں میں سرکشی اور ظلم و جبر کا دور دورا عام ھوا تو انکی بداعمالیوں کی نحوست کی بدولت اللہ کا یہ عذاب نازل ھوگیا کہ قوم عمالقہ کے ایک لشکرر جرار نے بنی اسرایئل پر حملہ کیا اور بنی اسرایئل کی ایسی کی تیسی کر دی۔ ان میں قتل عام کیا اور انکی بستیوں کو تخت وتاراج کیا اور متبرک صندوق کو بھی اٹھا کر راستے میں نجاستوں کے کوڑے میں پھینک دیا۔اس بے ادبی کی سزا میں اللہ نے قوم عمالقہ پر وباء مسلط کی جس سے طرح طرح کی بیماریاں ان پر مسلط ھوی۔ اس وباء سے قوم عمالقہ کے پانچ شہر آن کی آن میں تباہ ھوکر ویران ھوے جس سے انکو یہ بات ماننی پڑی کہ یہ جو بھی ھو رھا ھے یہ سب کچھ اللہ کا عذاب ھے جو صندوق سکینہ کی وجہ سے اللہ نے ان پر مسلط کیا ھے، ان کی آنکھیں کھولنے میں ذرا دیر بھی نھی لگی۔ سو انھوں صندوق سکینہ تلاش کر کہ بیل گاڑی میں ڈال کر بیل گاڑی کو بنی اسرایئل کی طرف ھانک دیا۔اللہ تعالی نے چار فرشتوں کو بیجھا جنھوں نے یہ مبارک صندوق اٹھا کر بنی اسرایئل کے بابرکت نبی حضرت شمویل علیہ سلام کی خدمت میں پیش کیا۔۔ اس وقت شمویل علیہ سلام نے طالوت کو بنی اسرایئل پر بادشاہ مقرر فرمایا تھا، اس وقت بنی اسرایئل طالوت کی بادشاھی ماننے کو تیار نہ تھے۔اور انھوں نے یہی شرط ٹھہرائی تھی کہ جب صندوق سکینہ آجائے تو ھم طالوت کی بادشاھی کی اطاعت کرینگے۔۔
📚تفسیر روح البیان، ج1، ص385۔ پ2، البقرۃ: 247۔
تفسیر الصاوی، ج1، ص209۔

چنانچہ وہ صندوق انکے سامنے پیش کیا گیا اور انھوں نے طالوت کی بادشاھی کی اطاعت کی۔

اس مقدس صندوق میں موسئ علیہ سلام کا عصاء ان کی مقدس جوتیاں، ھارون علیہ سلام کا عمامہ ، حضرت سلیمان علیہ سلام کی انگوٹھی ، تورات کے چند تحتے ، کچھ من و سلویٰ اور اسکے علاوہ کچھ انبیاء علیہ سلام کے صورتوں کے حلیے وعیرہ شامل تھےقرآن نے صندوق سکینہ کو کچھ یوں بیان کیا ھے۔۔

📌وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ آيَةَ مُلْكِهِ أَن يَأْتِيَكُمُ التَّابُوتُ فِيهِ سَكِينَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَبَقِيَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ آلُ مُوسَىٰ وَآلُ هَارُونَ تَحْمِلُهُ الْمَلَائِكَةُ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ۔۔۔۔۔۔ (پارہ 2 ، سورہ البقرہ :248)

ترجمہ۔۔۔
اور پیغمبر نے ان سے کہا کہ ان کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس ایک صندوق آئے گا جس کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تسلی (بخشنے والی چیز) ہوگی اور کچھ اور چیزیں بھی ہوں گی جو موسیٰ اور ہارون چھوڑ گئے تھے۔ اگر تم ایمان رکھتے ہو تو یہ تمہارے لئے ایک بڑی نشانی ہے۔

منقول۔۔۔ جاوید چوہدری 

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
👍1
🔷 خواہشات اور گناہ 🔷

خواہش گناہ کی طرف لے جانے والے عوامل میں سب سے بڑاعامل ہے ۔ انسان کی تخلیق جس ڈھنگ پر ہوئی ہے اس میں انسان کے اندر بہت سی جبلتیں رکھ دی گئی ہیں ۔ مثلاً کھانے پینے ، تحفظ اور جنسی تعلق قائم کرنے کی جبلتیں وغیرہ ۔ یہ اور ان جیسی دیگر جبلتوں سے انسان کی ضروریات پیدا ہوتی ہیں ۔ جبلتوں کے ساتھ انسان کو ایک ذوقِ جمال بھی عطا کیا گیا ہے ۔ وہ ضرورت سے آگے بڑ ھ کر لذت، خوبصورتی اور کشش جیسے تصورات سے نہ صرف واقف ہے بلکہ ان کی طرف لپکتا ہے ۔ یہ ضروریات اور جمالیات جب اپنا ظہور کرتے ہیں تو خواہشات جنم لیتی ہیں ۔

اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں چونکہ انسان کو امتحان کے تحت پیدا کیا ہے ۔ اس لیے خواہشات کی تسکین کے لیے اسے کھلی چھوٹ نہیں دی ہے ۔ بلکہ اس کی ضروریات اور خواہشات کو ایک خاص دائرے کا پابند بنایا ہے ۔ مگرانسان اپنے امتحان کو سمجھنے کے بجائے خواہشات کے گھوڑ ے کو بے لگام چھوڑ دیتا ہے ۔ جس کے بعد حلال حرام، جائز ناجائز اور صحیح و غلط کی بحث اس کے لیے غیر متعلق ہوجاتی ہے ۔ اور رب کی نافرمانی انسان کی زندگی کا معمول بن جاتی ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے تمام پاکیزہ اشیا کا کھانا پینا حلال قرار دیا ہے ۔ مگر اکثر انسانی معاشروں میں خنزیرکا گوشت اور شراب معمول کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے تعلق کو انسانوں کے لیے جائز قرار دیا ہے ۔ مگر بہت سے انسان اس دائرے سے باہر نکل کر زنا کی وادیوں میں اپنی خواہشات کی تسکین ڈھونڈتے رہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے زیب و زینت کو جائز قرار دیا ہے ۔ مگر انسانی معاشروں میں زیب و زینت اکثر فحاشی، عریانی اور خواتین کی نمائش کی شکل اختیار کر لیتی ہے ۔

یہ اور ان جیسی متعدد مثالیں یہ بتاتی ہیں کہ ضروریات کی تکمیل اور جمالیات کی تسکین کو اللہ تعالیٰ نے انسانو ں کے لیے جائز قراردیا ہے ، مگر انسانوں کی اکثریت ان چیزوں کے پیچھے چلتے چلتے رب کی نافرمانی کی منزل تک جاپہنچتی ہے ۔ وہ خواہش کے لیے خدا کی اطاعت کا راستہ چھوڑ کر شیطان کی پیروری کا طریقہ اختیار کر لیتی ہے ۔ وہ شیطان جو اللہ تعالیٰ کا مجرم ہے اور جس نے اللہ تعالیٰ کو یہ چیلنج دیا تھا کہ وہ انسانوں کو اپنا شکر گزار نہیں پائیں گے ۔ بدقسمتی سے شیطان کے اس چیلنج کو انسان خواہشات کی پیروی میں درست ثابت کر دیتے ہیں ۔

ایسے میں بندۂ مؤمن کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی خواہشات کے معاملے میں ہمیشہ یہ یاد رکھے کہ شیطان خواہش کے دروازے سے اس کے دل میں داخل ہو سکتا ہے ۔ چنانچہ وہ خواہش کے اس دروازے پر تقویٰ اور پرہیزگاری کی چوکی قائم کرے ۔ وہ ضمیر کے پہرے دار کو اس چوکی پر نگران مقرر کرے ۔ وہ مسلسل یہ جائزہ لیتا رہے کہ کہیں خواہش کے دروازے سے ضروریات اور جمالیات کے ساتھ گناہ اور نافرمانی تو اس کے حرمِ دل میں داخل نہیں ہورہے ۔ کہیں اس کی نگاہ، اس کی زبان، اس کا پیٹ اور دیگر اعضائے جسمانی حرام کی آماجگاہ تو نہیں بن رہے ۔ کبھی ایسا ہو تو اُسے چاہیے کہ فوراً اپنے رب کی طرف رجوع کرے ۔ اس سے اپنے گنا ہوں کی معافی مانگے ۔ توبہ اور تقویٰ کا راستہ اختیار کرے ۔ وہ ایسا کرے گا تو اللہ تعالیٰ کو غفور و رحیم پائے گا۔ وگرنہ اس معاملے میں غفلت کا رویہ دل کو سیاہ کر دیتا ہے اور انسان خدا کو چھوڑ کر آخر کار خواہشِ نفسانی کو اپنا معبود بنالیتا ہے ، (الفرقان43:)۔ اور جو شخص یہ کام کرے گا وہ عنقریب اپنے گنا ہوں کا انجام جہنم کی آگ کی شکل میں بھگت لے گا۔.....................

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
👍1
🌹 ولادت باسعادت امام علی سجادؑ 🌹

#ولادت_باسعادت_امام_زین_العابدینؑ_مبارک_ہو۔

🔷 تاریخ ولادت:
حضرت امام علی بن الحسین (ع) کی تاریخ ولادت کے بارے میں مؤرخین کا خاصا اختلاف ہےـ بعض نے 15 جمادی الاول، بعض نے 5 شعبان اور بعض نے 7 شعبان اور بعض نے 9 شعبان ولادت کی تاریخ بیان کی ہے.
اور سال کے بارے میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے. بعض نے 38ھ، بعض نے 36ھ اور بعض نے 37ھ بیان کیا ہے.

🔷 آپؑ کا نسب مبارک:
آپؑ کا اسم گرامی علی ابن الحسين،
آپؑ سید الشہداء امام حسینؑ کے شہزادے اورحضرت علی مرتضیٰؑ و خاتون جنتؑ کے پوتے ہیں.
آپ کی والدہ کا نام شہربانو یا سلامہ یا سلافہ یا پهر غزالہ ہے۔
کامل مبرد میں ہے کہ جناب شہربانو، بادشاہ ایران یزدجرد بن شہریار بن شیرویہ ابن پرویز بن ہرمز بن نوشیرواں عادل "کسری" کی بیٹی تھیں.
(ارشاد مفید ص ۳۹۱، فصل الخطاب)

معرکہ کربلا میں آپ اپنے والد امام عالی مقام کے ساتھ تھے، لیکن سخت علیل ہونے کے باعث معرکے میں شریک نہیں ہوسکے، جنگ کے خاتمے کے بعد قافلہ اہلبیت کے ساتھ دمشق لے جائے گئے وہاں سے مدینہ منورہ تشریف لائے۔

🔷 آپؑ کے القاب:
زین العابدین، سید العابدین، سید الساجدین، زین الصالحین، وارث علم النبیین ،سجّاد، زاھد، عابد، بكّاء، ذوالثّفنات، زکی اور امین.

🔷 آپؑ کی کنیت:
ابو محمد، ابوالحسن، اور ایک قول کے مطابق ابوالقاسم ہے.

🔷 نسل حسینی:
امام حسین علیہ السلام کی نسل امام زین العابدینؑ سے آگے بڑهی ہے اور حسینی سادات کا سلسلہ نسب امام علی زین العابدینؑ سے شروع ہوتا ہے.

🔷 آپؑ کی شخصیت:
نورالابصارصفحہ 126 اور اخبارالاول صفحة 109 پر مُلّا مُبّین تحریر فرماتےہیں کہ حُسن وجمال، صورت وکمال میں نہایت ہی ممتاز تھے، آپ کے چہرہ مُبارک پر کسی کی نظر پڑتی تھی تو وہ آپ کا احترام کرنے اور آپ کی تعظیم کرنے پر مجبور ہو جاتا.
وسیلةالنجات صفحہ 219 پر محمد بن طلحہ شافی رقمطراز ہیں کہ آپ صاف کپڑے پہنتے تھے اور جب راستہ چلتے تھے تو نہایت خشوع کے ساتھ، راہداری میں آپ کے ہاتھ زانوؤں سے باہر نہیں جاتے تھے۔

🔷 آپؑ کی عبادت:
خاندانی نجابت وشرافت کے ساتھ ساتھ ذاتی اوصاف وکمالات کی بنیاد پر معاصرین میں نمایاں شرف وفضیلت رکھتے تھے، زہد وتقویٰ، جود وسخا، تواضع وانکساری اورغربا پروری میں ضرب المثل ہیں. شب بیداری اور عبادت گزاری میں ایسے ممتاز ہوئے کہ زین العابدین کے لقب سے یاد کیے گئے.

آپؑ کو عبادت گزاری میں امتیاز کامل حاصل تھا۔ رات بھر جاگنے کی وجہ سے آپ کا سارا بدن زرد رہا کرتا تھا اور خوف خدا میں روتے روتے آپؑ کی آنکھیں پھول جایا کرتی تھیں اور نماز میں کھڑے کھڑے آپؑ کے پاؤں سُوج جایا کرتے تھے۔

جس طرح آپؑ کی عبادت گزاری میں پیروی ناممکن ہے۔ اسی طرح آپؑ کی شانِ عبادت کی رقم طرازی بھی دشوار ہے.

مطالب السُولُ صفحہ 262 پر محمد بن طلحہ شافعی لکھتے ہیں۔ کہ آپ جب وُضو کے لیے بیٹھتے تھے تو آپ کے چہرے مبارک کا رنگ زرد ہو جایا کرتا تھا.

حضرت سعید بن مسیب سے کسی نے کہا کہ مَیں نے فلاں سے زیادہ متقی وپرہیزگار کسی کو نہیں دیکھا، اس پر ابن مسیب نے فرمایا کہ کیا تم نے علی بن حسین (ع) کو دیکھا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں. حضرت ابن مسیب نے فرمایا کہ مَیں نے علی بن حسین سے بڑھ کر متقی وپرہیزگار کسی کو نہیں پایا۔

امام ذہبی کے مطابق آپ سے روایت کرنے والوں میں آپ کے صاحبزادے امام ابوجعفر محمدباقر، حضرت زید، حضرت عمر اور حضرت عبداللہ کے علاوہ زیدبن اسلم، عاصم بن عمر، امام زہری، یحییٰ بن سعید اور ابوالزناد وغیرہ قابل ذکر ہیں.

امام ذہبی نے امام زہری کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ "میں نے علی بن حسین سے زیادہ فقیہ کسی کو نہیں دیکھا."

🔹 علمائے جرح وتعدیل باتفاق رائے آپ کو ثقہ، مامون اور حجت تسلیم کرتے ہیں. یہی وجہ ہے کہ صحاح ستہ کے مصنفین نے بلاتکلف اپنی کتب میں آپ سے مروی احادیث درج کی ہیں.

🔶 آخری آرام گاہ:
آپ کی وفات ۹۴ھ میں ہوئی (بعض نے ۹۲ھ بھی لکھی ہے). آپ کی آخری آرامگاہ جنت البقیع میں اپنے تایا امام حسنؑ کے پہلو میں ہے۔

👈 مزید تفصیل کے لیے۔۔۔
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=123209486429527&id=100062214292056
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌼 عورت کی عظمت 🌼

گاؤں کی عورتیں اور مرد پہاڑی کے قریب اپنی سرسبز فصلوں میں کام کر رہے تھے کہ دور سے بہار کی تیز بہار ہوا کو چیرتا ہوا ایک نوجوان ان کی طرف دوڑتا آتا دکھائی دیا اور گاؤں والوں کو آکر بتایا فاریہ سِمنانی کا وہ پاگل عاشق جو پہاڑی پر بیٹھ کر فاریہ کی مدح میں حافظ شیرازی (رح) کے اشعار پڑھا کرتا تھا، نے آج سِمنان- کہ جہاں فاریہ سِمنانی نے اپنا بچپنا گذارا تھا، جانے کا فیصلہ کیا ہے. یہ سن کر سب لوگ خداحافظی کیلئے گاؤں کے دروازے پر جمع ہوئے اور انہوں نے عاشق سے التجا کی کہ نہ جائے مگر وہ نہ مانا، اسے فاریہ کے بچپن سے مربوط ہر وہ جگہ دیکھنی تھی جہاں فاریہ کے قدموں کے نشان پڑے تھے. آخر گاؤں والوں نے اس سے کہا: اے عاشق ہم سب سنی مسلک کے ہیں لیکن ہم نے تمہیں ہمیشہ ایک نیک دل انسان پایا، بیشک تم شیعہ ہو مگر ہمیں کچھ اچھی باتیں اپنی یادگار کہ طور پر دے جاؤ. اس عاشق نے نیم کے ھرے بھرے درخت کے تنے پر ٹیک لگائی، تھوڑی دیر چپ رہا اور کہا " اللہ (ج) نے کسی کو سنی یا شیعہ نہیں بنایا ہم سب مسلمان پیدا ہوئے تھے. تم میرے اپنے ہو... میری گمشدہ فاریہ سمنانی تمہیں ملے تو اسے کہنا میں سِمنان میں ہوں..." عاشق کی یہ بات سن کر اس مجمعے سے ایک باریش مُلا نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا:" اس عورت کے عشق میں گرفتار مجنوں سے عقل و خرد کی باتوں کی کیسی امید، عورت کے عاشق کی عقل بھی عورت جیسی..."

یہ سن کر عاشق کے چہرے کا رنگ لال ہوگیا، یہ طیور گاؤں والوں نے پہلی بار مشاہدہ کیئے تھے سو سب اس ھیبت کی وجہ سے چپ ہوگئے، جب خاموشی چھاگئی تو عاشق نے بولنا شروع کیا.
"کاش تمہاری کانوں نے اللہ (ج) کے کلام کو سنا ہوتا تو تمہیں پتہ چلتا کہ *اللہ (ج) کے پاس جسموں کی کوئی قدر و قیمت نہیں، یہ خاکی بدن کہ جس میں مرد و عورت الگ الگ ہیں اس بدن کی کوئی اہمیت نہیں، اہمیت ہے تو روح کی ہے اور روح میں عورت مرد کا کوئی فرق نہیں*، روح جیسی تمہارے اندر پھونکی گئی اسی طرح عورت کے اندر، "الروح من امر ربی" کا مصداق فقط تمہارا روح نہیں عورت کا روح بھی ہے! فرق جسمانیت کا ہے تم جسم دیکھتے ہو اس لیئے عورت تمہیں کمزور و ناتواں و نازک نظر آتی ہے مگر اللہ (ج) روح دیکھتا ہے، سارا کام روح کا ہے جسم اس کا ایک غلام ہے اگر اللہ (ج) نے عورت کو مرد سے کم درجے کا بنانا ہوتا تو جسم کی مانند روح میں بھی فرق رکھتا مگر نہیں روح کے لحاظ سے مرد و عورت کے یکساں ہیں."

ملا کے خلیفے نے آواز دی "اے جاہل مجنوں! کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا اللہ (ج) فرماتا ہے الرجال قوامون علی النساء، مرد عورت پر حاکم ہے."
عاشق نے کہا:"اگر بقول تمہارے قرآن میں عادل اللہ (ج) مرد کو جنس کی بنیاد پر عورت سے افضل کہتا ہے تو کیا تم مریم و حاجرہ و خدیجہ و فاطمہ سے افضل ہو؟ ھرگز نہیں! تم نے اس آیت میں مرد کی معاشی سرپرستی کے مفہوم کو مرد کی عورت پر فوقیت و فضیلت سمجھ لیا یہ تمہاری مردانہ تفسیر ہے جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں."

پھر اس عاشق نے اپنی جیب سے ایک پھول نکالا سامنے کھڑی ایک پانچ سالا بچی کے بالوں میں وہ پھول لگا کر کہا:" گاؤں والو! *عورت کی زندگی مرد پر احسان کے سوا کچھ نہیں اور مرد کی زندگی عورت سے احسان فراموشی کے سوا کچھ نہیں...*"
یہ کہہ کر عاشق چپ ہو گیا.

ایک جوان لڑکی نے آواز دی "اے عاشق! ہمیں اس کی تفصیل بتاؤ کیونکہ ہم اشاروں میں باتیں سمجھنے پر قادر نہیں."
عاشق نے ھرے بھرے کھیتوں سے آنے والی باد بہار کی طرف چہرا پھیر دیا، ٹھنڈی سانس لی اور کہا " احسان یعنی حق سے زیادہ عطا کرنا، مرد کا عورت پر حق نہیں کہ وہ اس کے لیئے گھر بار کا کام کرے اور اس کے بچے پالے لیکن پھر بھی عورت یہ کام کرتی ہےیہ اس کا احسان ہے اور مرد اس احسان کو عورت کا فریضہ سمجھ کر اس کی احسان فراموشی کرتا ہے، عورت مریم (س) کی صورت میں تکالیف برداشت کر کے عیسی (ع) کو پالتی ہے کہ مرد ہدایت پائیں، اور اسی قبیلے کے مرد اس احسان کے بدلے اس پر بدکاری کا الزام لگاتے ہیں، عورت راتوں کو جاگ کر مرد کے نطفے کو عظیم انسان بناتی ہے اور مرد سکون بھری نیند سوتے ہیں اور خواب میں جنت کی حوریں دیکھتے ہیں، عورت درد حمل کی تکلیف میں مبتلا ہوتی ہے اور مرد کو یہ فکر لاحق ہوتی ہے کہ کہیں بیٹی نہ پیدا ہوجائے، عورت بچے کے ولادت کی ساری تکالیف برداشت کرتی ہے مرد اس کے ساتھ اپنا نام لگا کر اسے خود سے منسوب کردیتا ہے..."

عاشق کی بات جاری ہی تھی کہ گاؤں کے مُلاں نے ایک اور قہقہہ لگایا اور کہا:" تم بڑے مفسر ہو مجنوں! ذرا بتاؤ مرد کو قرآن نے کیوں اجازت دی ہے کہ وہ عورت کو مارے؟ *اتنا مارے کہ ہڈی نہ ٹوٹے لیکن بیشک مارے،* کیا تم نے قرآن کی یہ آیت نہیں پڑھی... فَعِظُوهُنَّ وَ اهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضاجِعِ وَ اضْرِبُوهُن...َّ؟؟؟"
اس بار عاشق نے اس کی طرف نگاہ نہ کی اور ٹکٹکی باندہ کر انہیں ہرے بھرے کھیتوں کی جانب دیکھتا رہا پھر اپنا منہ گاؤں والوں کی طرف پھیر کر کہا:"میرے عز
یزو! کیا میں تم میں سے بوڑھی ترین عورت کو ایک غلطی کرنے پر اپنے رومال یا دانت صاف کرنے والے مسواک سے ماروں تو کیا تم اسے مارنا کہوگے یا دکھاوا؟"
گاؤں والے بولے: "اسے بھلا کوئی کیوں مارنا کہے گا."
عاشق نے کہا " تو بس! قرآن نے عورت کی غلطیوں پر مرد کو حکم دیا کہ وہ اسے نصیحت کرے، عورت نہ مانے تو بستر جدا کرے اور پھر بھی نہ مانے تو اپنا رومال لپیٹ کر یا مسواک سے اس طرح مارے کہ اس کے جسم پر نشان تک نہ پڑے، کیا اسے سزا کہو گے یا اظہار ناراضگی، کیا اس بات سے تمہیں عورت سے نفرت کی بو آتی کے یا ملا کی بات سے؟"

ایک عورت جس کی گود میں بچہ تھا بولی " اے عاشق! اللہ (ج) نے جنت میں مردوں کو حوریں دینے کا وعدہ کیا ہے لیکن عورت کو کچھ نہیں کیا یہ عدل ہے؟" یہ بات سن کر عاشق مسکرایا اور مُلا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:"بہتر ہوگا اس کا جواب یہ مولانا دیں" ملا مزید پریشان ہوگیا اور چپ ہوگیا. پھر اس عورت نے یہی سوال عاشق سے پوچھا، عاشق نے کہا:" عربی میں حورا خوبصورت سیاہ آنکھوں والی عورت کو کہا جاتا ہے اور احور بڑی آنکھوں والے خوبصورت مرد کو، قرآن میں لفظ حور جمع کے طور پر استعمال ہوا ہے، یہ لفظ حورا کا بھی جمع ہے اور اھور کا بھی... سو اللہ (ج) نے نے ایک لفظ "حور" میں ایسی کرامت رکھ دی کہ اس کی تلاوت عورت کرے تو اسے احور ملنے کی بشارت کے طورپر اور مرد پڑھے تو اسے جنت میں حوراء کی بشارت کے طور پر "

پھر عاشق اٹھا اور کہا:" لوگو! عورت سے محبت کرو، اس کی قدر کرو، وہ تم سے کچھ نہیں چاہتی سوائے احترام و محبت کے، رسول (ص) کو پسند ہے عورت، علی (ع) فاطمہ (س) کے ساتھ گھر کام کرتے تھے... تم میں اور ملا میں فرق ہونا چاہیئے اس نے اسلام کو عورت کی دشمنی کا چشمہ لگا کر دیکھا ہے، اس لیئے اسے پورا دین عورت کے خلاف نظر اتا ہے مگر میں نے فاریہ سِمنانی کے عشق کا چشمہ لگا کر اس دین کو دیکھا ہے، اب یہ تم ہی سوچو مجھے عورت کے عشق نے ھدایت دی کے یا اس مولوی کو عورت کی نفرت نے؟"

یہ کہہ کر اس نے اپنی گٹھڑی اٹھائی اور جانے لگا، سب گاؤں والے تھوڑے سے فاصلے تک اس کے پیچھے پیچھے چلے، پھر سب نم آنکھوں سے اسے دیکھتے رہے اور وہ کچھ دیر بعد پھاڑوں کی اوٹ میں ان ھرے بھرے کھیتوں میں گم ہوگیا.

👆ایک مراسلہ👆

🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸