ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.61K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
🚨 انسانیت یا مال و زر 🚨

"ڈاکٹر صاحب جلدی سےآئیے ایک ایمرجنسی کیس ہے" ڈاکٹر سرمد کا اسسٹنٹ بدحواسی کےعالم میں دروازہ کھول کر ان کےآفس میں داخل ہوا
"تو اس میں بدحواس ہونےکی کیا بات ہے؟کیس تو آتے ہی رہتے ہیں" ڈاکٹر سرمد نےاخبار سےنظر ہٹا کر اسسٹنٹ کو گھورتے ہوۓ کہا ان کی نظروں میں واضح ناپسندیدگی نظر آرہی تھی
"سوری سر، وہ دراصل مریض کی حالت بہت خطرےمیں ہے"
اسسٹنٹ نےوضاحت پیش کرنا چاہی
"فیس وصول کرلی؟"
ڈاکٹر نےسوال کیا
"وہ سر دراصل وہ ۔ ۔ ۔ ایک ایکسیڈنٹ کیس ہے، نوجوان سڑک پہ لاوارث پڑا تھا تو کچھ لوگ اسےیہاں پہنچا گئے. لواحقین آئیں گےتو فیس وصول کرلوں گا" اسسٹنٹ نے ہکلاتےہوۓجواب دیا
"دفع ہوجاؤ یو ایڈیٹ ڈیم فول، تمہیں پتا نہیں میں فیس لیے بغیر آپریشن نہیں کرتا"
بری طرح سےچلاتےہوۓڈاکٹرسرمد کہیں سےبھی پڑھے لکھے انسان نہیں لگ رہےتھے
"پتا نہیں کیا سمجھ رکھا ہے، ڈاکٹر سرمد اب مفتوں کا علاج کرےگا ہنہہہ"ڈاکٹر صاحب سر جھٹکتے ہوۓ گویا ہوۓ
اسسٹنٹ جاچکا تھا.
ڈاکٹر صاحب کاموڈ بھی بگڑ چکا تھا، میز سےگاڑی کی چابی اٹھا کر وہ باہر چلدیے.
پندرہ منٹ کی ڈرائیو کےبعد گھر پہنچے تو گھرمیں کوئی نہیں تھا، ان کی مسز کسی پارٹی میں شرکت کرنےگئی تھیں اور اکلوتا بیٹا عاطف بھی غائب تھا.
ملازم کو چائے کا کہہ کر وہ لان میں آکر بیٹھے ہی تھے کہ فون کی گھنٹی بجی.
"ہیلو، ڈاکٹر سرمد بات کررہےہیں؟"
"جی! آپ کون؟"
"میں انسپکٹر شہزاد بات کررہا ہوں، آپ جنرل ہسپتال تشریف لائیےجلدی"
"کیوں خیریت؟"
"آپ بس آجائیے"
بھاگم بھاگ ڈاکٹر صاحب ہسپتال پہنچے، کوریڈور میں موجود ایک ملازم انہیں اندر لے گیا، سردخانے میں وہی انسپکٹر موجود تھا جس نےان کو فون کیا تھا.
"ڈاکٹر صاحب مجھے افسوس ہےکہ میرےپاس آپ کیلیے کوئی اچھی خبر نہیں ہے، انہیں پہچانتے ہیں؟"
انسپکٹر نےبات کرتے ہوۓ ایک لاش کےاوپر سےکپڑا ہٹایا، لاش پہ سےکپڑے کا ہٹنا تھا کہ ڈاکٹر صاحب کو محسوس ہوا جیسے ان کےسر پہ آسمان گرپڑا ہو، وہ لاش ان کےاکلوتے بیٹے عاطف کی تھی.
"اس لڑکےکو پہلے"الشافی ہسپتال" لےجایا گیا تھا لیکن وہاں ڈاکٹر کی بےتوجہی اور بروقت طبی امداد نا ملنےکےباعث اس کی وفات ہوگئی، وہاں موجود ڈاکٹر نےفیس کے بغیر آپریشن کرنے سے انکار کردیا تھا." انسپکٹر تفصیلات بتاتا جارہا تھا لیکن ڈاکٹر صاحب اپنےہی خیالوں میں گم تھے، ان کےذہن میں یہ جملہ ہتھوڑے کی مانند لگ رہا تھا
"اسےالشافی ہسپتال لےجایا گیا تھا لیکن وہاں ڈاکٹر نےفیس کےبغیر آپریشن کرنےسےانکار کردیا"
ڈاکٹر سرمد کےہسپتال کا نام"الشافی ہسپتال" تھا.
یہ پیغام ان تمام ڈاکٹرز کے لیے ہے جو انسانیت سے زیادہ مال و زر کو ترجیح دیتے ہیں۔

اس پوسٹ کو اتنا شیئر کریں کہ ہر ڈاکٹر تک پہنچے۔


https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔓 بند تالے کا کھلنا.....!!

سید جلیل علی نقی کشمیری کہتے ہیں: میں نے فاضل محترم سید عباس لاری سے سنا وہ کہہ رہے تھے جب میں نجف اشرف میں تھا تو ایک دن ماہ رمضان میں سہ پہر کے وقت میں نے افطار کے لیے کھانا تیار کیا.کمرے میں رکھا اور باہر آکر کمرے کو تالا لگادیا. نماز مغرب اور عشاء ادا کرنے اور رات کا کچھ حصہ گزرنے کے بعد میں واپس آیا جب کمرے کے دروازے پر پہنچ کر جیب میں ہاتھ ڈالا تو چابی موجود نہیں تھی میں نے ادھر اُدھر دیکھا مدرسہ میں تلاش کیا.طالب علموں سے پوچھا لیکن چابی نہیں ملی.سخت بھوک اور چابی نہ ملنے کے باعث سخت پریشان ہوگیا.
مدرسے سے باہر آیا اور پریشانی کے عالم میں حرم کی طرف چلنا شروع کردیا اور ساتھ ہی ساتھ میں زمین پر بھی دیکھتا جاتا تھا اچانک مرحوم حاج سید مرتضٰی کشمیری اعلی اللہ مقامہ کو دیکھا. انہوں نے میری پریشانی کا سبب دریافت کیا. میں نے سارا ماجرا بیان کیا.وہ میرے ساتھ مدرسہ آئے اور میرے کمرے کے قریب پہنچ کرکہا لوگ کہتے ہیں کہ اگر کسی کو حضرت موسیٰ ع کی والدہ کانام یاد ہو اور وہ بند تالے پر اسے پڑھے تو بند تالا کھل جاتا ہے. کیا ہماری جدہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا ان سے کمتر ہیں پس انہوں نے بند تالے پر ہاتھ رکھا اور کہا: یا فاطمہ! س تالا فورا" کھل گیا.

📚فضائل الزہراءومناقب انسیہ الحوراء,ص٥٩٧.

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🔶وہ کتا جس نے رسول اللہ ﷺ کا بدلہ لیا.

حافظ ابن حجر العسقلانی نے اس کتے کا ذکر کیا ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کے لیے بدلہ لیا

"ایک دن نصاریٰ کے بڑوں کی ایک جماعت منگولوں کی ایک تقریب میں شرکت کے لیے روانہ ہوئی جو ایک منگول شہزادے کی نصرانیت قبول کرنے پر منعقد کی گئی تھی، اس تقریب میں ایک عیسائی مبلغ نے رسول اللہ ﷺ کو گالی بکی،قریب ہی ایک شکاری کتا باندھا ہوا تھا جو اس صلیبی کی طرف سے گالی بکنے پر چھلانگیں مارنے لگا اور زوردار جھٹکا دے کر رسی نکالی اور اس بدبخت صلیبی پر ٹوٹ پڑا اور اس کو کاٹا اس پر لوگوں نے اس کتے کو قابو کیا اور ہٹا یا ،تقریب میں موجود بعض لوگوں نے کہا کہ یہ محمد (ﷺ) کے خلاف تمہاری گفتگو کی وجہ سے ہوا،اس صلیبی نے کہا :بالکل نہیں، بلکہ یہ کتا خودار ہے جب اس نے بات چیت کے دوران مجھے دیکھا کہ میں بار بار ہاتھ اٹھا رہا ہوں اس نے سمجھا کہ میں اس کو مارنے کے لیے ہاتھ اٹھا رہاہوں تو اس نے مجھ پر حملہ کر دیا ،یہ کہہ کر اس بد بخت نے ہمارے محبوب ﷺ کو پھر گالی بکی ،اس بار کتے نے رسی کی کاٹ دی اور سیدھا اس صلیبی پرچھلانگ لگا کر اس کے منحوس گردن کو دبوچ لیا اور وہ فورا ہلاک ہو گیا، اس کو دیکھ کر 40000 (چالیس ہزار) منگولوں نے اسلام قبول کیا"
۔(الدرر الکامنہ 3/ 203)

اور الذھبی نے اس قصے کو صحیح اسناد کے ساتھ " معجم الشیوخ صفحہ 387 میں نقل کیا ہے ، اس واقعے کے عینی شاہد جمال الدین نے کہا ہے کہ

" اللہ کی قسم کتے نے میری آنکھوں کے سامنے اس ملعون صلیبی کوکاٹا اور اس کا گردن دبوچا جس سے وہ ہلاک ہو گیا"۔

Copied

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
☘ مثبت سوچ ☘

ایک چھوٹا لڑکا اور لڑکی کھیل رہے تھے لڑکے کے پاس کچھ بنٹے تھے اور لڑکی کے پاس کچھ ٹافیاں،
لڑکے نے کہا میں سارے بنٹے تمہیں دیتا ہوں بشرطیکہ تم اپنی ساری ٹافیاں مجھے دے دو لڑکی نے قبول کر لیا
لڑکے نے چند خوبصورت بنٹے چھپا لیے اور باقی دے دیئے ،
جبکہ لڑکی نے وعدے کے مطابق اپنی ساری ٹافیاں لڑکے کو دے دیں ،
جب رات کو لڑکی سوئی تو خواب میں مختلف رنگارنگ اور خوبصورت بنٹوں کو دیکھتی رہی اور خوش وخرم رہی ،
جبکہ لڑکا پوری رات سکون سے نہ سو سکا اور یہ ہی سوچتا رہا کہ حتما لڑکی نے بھی کچھ ٹافیاں چھپا لی ہوں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یقینا بدسکونی اور عذاب اس شخص کے لیے ہوتے ہیں جو دوسروں کے ساتھ صادق نہیں ہوتا اور آرام و سکون اسکو ملتا ہے جو صداقت کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں ، 🍁🍁🍁
اگر آپ آخرت پر ایمان نہیں بھی رکھتے تب بھی کم از کم دنیا میں سکون و آرام کے لیے ہمیشہ صادق رہیں ، دنیا کی لذت بھی مثبت سوچ رکھنے والے انسانوں کو ملتی ہے __
انسان بڑا ہے تو اپنی سوچ کیوجہ سے💧
شریف ہے تو اپنے بول کیوجہ سے💧
قابل احترام ہے تو اپنے عمل کیوجہ سے 💧
یاد رکھیں آپکی منفی سوچ سب سے پہلے آپ کو نقصان پہنچائے گی بعد میں دوسروں کی نوبت آئے گی
اس طرح آپکی مثبت سوچ سب سے پہلے آپکے وجود کو خوشگوار کرئے گی اور بعد میں دوسرے کو مستفید کرئے گی__

کہتے ہے کہ شمع نے ماچس سے کہا کہ
تجھ سے ڈر لگتا ہے کہ تو میری قاتل ہے
ماچس نے کہا کہ مجھ سے مت ڈر
بلکہ اس رسی سے ڈر جو تیرے وجود کے اندر ہے !!!

انسان کی نابودی کی اصل وجہ وہ منفی تفکرات ہے جو اسخے اندر ہیں نہ کہ وہ عوامل جو باہر ہیں
مثبت سوچ آدھی کامیابی ہوتے ہیں
🌷ایک کہتا ہے رات کا اندھیرا ہر طرف پھیل چکا ہے
جبکہ کوئی کہتا ہے کہ صبح کی روشنی نزدیک ہے
🌷کچھ کو پھولوں میں کانٹے نظر آتے ہیں
جبکہ کچھ کانٹوں میں بھی پھول دیکھ رہیے ہوتے ہیں
🌷بعض لوگ عام مکھی کی طرح ہوتے ہیں جو پورے خوبصورت بدن کو چھوڑ کر زخم پر بیٹھتی ہے
جبکہ بعض کی فطرت شہد کی مکھی کی طرح ہوتی ہے کہ ہمیشہ پھولوں کی جانب نگاہ رکھتی ہے
دنیا اتنی بڑی ہے کہ سب کیلئے جگہ موجود ہے
فقط بجائے دوسروں کی جگہ لینے کے اپنی حقیقی جگہ تلاش کریں
کچھ لوگ پشیمان ہوتے ہیں
کچھ کرنے یا کہنے کی وجہ سے
کچھ لوگ پشیمان ہوتے ہیں
کچھ نہ کرنے یا کہنے کی وجہ سے
لیکن کوئی ایسا نہیں جو پشیمان ہوا ہو اپنی مثبت سوچ اور مہربان عمل کیوجہ سے 💝
آئیں سب ملکر اگر دوسروں کیلئے قلم نہیں بن سکتے
کہ انکے لیے آرام و سکون لکھ سکیں
تو حداقل کوشش کریں کہ ریزَر تو بنیں
تا کہ دوسروں کی دکھوں اور غموں کو مٹا سکیں۔

نوٹ ! ندائے بندگی کی تمام تحریریں میں کسی قسم کی تبدیلی ممنوع ہے

✍ میم ۔ نون ۔ خان

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 خالق و رازق 🌹

امام زمانہ عج فرماتے ہیں: <إِنَّ اللهَ تَعٰالٰی ہُوَ الَّذی خَلَقَ الْاَجْسٰامَ وَقَسَّمَ الْاَرْزٰاقَ، لِاَنَّہُ لَیْسَ بِجِسْمٍ وَلٰا حٰالٌّ فی جِسْمٍ، لَیْسَ كَمِثْلِہِ شیءٌ وَہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلیمُ، وَامَّا الْاٴَئِمَّةُ عَلَیْہِمُ السَّلاٰمْ فَإِنَّہُمْ یَسْاٴَلُوْنَ اللهَ تَعٰالٰی فَیَخْلُقُ، وَیَسْاَلوُنَہُ فَیَرْزِقُ، إِیجٰابًا لِمَسْاَلَتِہِمْ وَإِعْظٰاماً لِحَقِّہِمْ>➊
ترجمہ:
”صرف خداوندعالم نے ھی جسموں كو خلق كیا اور اس نے ان كو روزی تقسیم كی ھے؛ كیونكہ وہ جسم یا جسم میں سمانے والا نھیں ھے، كوئی چیز اس كے مثل نھیں ھے، وہ سننے والا اور عالم ھے،
لیكن جب ائمہ معصومین علیھم السلام خداوندعالم سے كسی چیز كی درخواست كرتے ھیں تو خداوندعالم اس كو خلق كرتا ھے۔ وہ جب خدا سے طلب كرتے ھیں تو وہ ان كو عطا كردیتا ھے۔ خدا یہ كام اس لئے كرتا ھے كہ اس نے اپنے لئے ضروری قرار دیا ھے كہ ان حضرات كی دعاؤں كو قبول كرے، اور ان كی شان كو بلند فرمائے“۔
➊ الغیبة، طوسی، ص294، ح248، احتجاج، ج2 ، ص285، بحار الانوار، ج25، ص329، ح4۔

شرح
شیخ طوسی علیہ الرحمہ اپنی كتاب الغیبة میں نقل كرتے ھیں كہ شیعوں كی ایك جماعت نے اھل بیت علیھم السلام كی عظمت كے سلسلہ میں اختلاف كیا۔ جن میں سے بعض لوگوں كا عقیدہ تھا كہ خداوندعالم نے قدرت خلق اور رزق و روزی كو ائمہ معصومین (علیھم السلام) كے حوالہ كردیا ھے۔ ان كے مقابل دوسرے گروہ كا عقیدہ یہ تھا كہ یہ چیز ائمہ معصومین (علیھم السلام) كے لئے محال ھے، اور خداوندعالم كے لئے یہ جائز نھیں ھے كہ خلقت اور رزق كے مسئلہ كو ائمہ علیھم السلام كے حوالہ كردے؛ كیونكہ صرف خداوندعالم كی ذات ھی جسموں كو خلق كرنے پر قادر ھے۔
اس مسئلہ میں شیعوں كے درمیان بہت زیادہ اختلاف ھوگیا تھا۔
چنانچہ اس مجمع میں موجود ایک شخص نے كہا:
”تم لوگ ابو جعفر محمد بن عثمان عمری (امام علیہ السلام كے دوسرے نائب خاص) كے پاس كیوں نہیں جاتے، اور اس سلسلہ میں ان سے سوال كیوں نہیں كرلیتے تاكہ تم پر حقیقت واضح ھوجائے۔ وہی ھمارے اور امام زمانہ علیہ السلام كے درمیان واسطہ ھیں“۔

شیعوں كے دونوں گروہ اس بات پر آمادہ ھوگئے، اور ایک خط لكھا جس میں اس اختلاف كے بارے میں سوال كیا۔
امام علیہ السلام نے ان كے جواب میں تحریر فرمایا:
”خالق كو جسم نہیں ہونا چاہئے اور رازق كو روزی نہیں کھانی چاہئے؛ نتیجہ یہ ھے كہ ھم چونكہ صاحب جسم ہیں، اور روزی كھاتے ہیں، لہٰذا ھم نہ خالق ہیں اور نہ رازق؛ لیكن خداوندعالم نے ھمارے رتبہ كو بلند قرار دیا ھے، وہ ھماری درخواستوں كو قبول كرتا ھے؛ لہٰذا جب ھم كوئی دعا كرتے ہیں تو وہ اس كو قبول كرتا ھے، نہ یہ كہ ھم خدا سے درخواست كے بغیر خود اس كام كی قدرت ركھتے ھوں“۔

منبع: شرحِ چہل حدیث امام مھدی (عج)،
مولّف: علی اصغر رضوانی،
مترجم: اقبال حیدری۔

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🔷 کتابت اور اسلام 🔷

اسلام سے پہلے عرب قوم کتابت اور تحریر و تدریس سے بالکل نابلد تھی۔ چنانچہ اسلام سے پہلے مکہ میں صرف ایک فرد کتابت سے واقف تھا (مناھل العرفان ۱: ۲۵۵) جس کا نام حرب بن امیہ بن عبد الشمس تھا۔ دوران مسافرت اس نے مکہ سے باہر متعدد لوگوں سے کتابت سیکھی۔ا ن میں بشر بن عبد الملک صاحب دومۃ الجندل بھی شامل ہے۔ یہ مکہ میں بھی آیا اور یہاں لوگوں کو کتابت سکھائی۔

جب حضور (ص) کی بعثت ہوئی تو اس وقت مکہ میں سترہ افراد کتابت جانتے تھے۔

کتابت اسلام کے بعد: کتابت چونکہ حصول علم کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس اعتبار سے اسلام نے علم اور قلم کو باہم مقرون کیا۔

چنانچہ ابتدائے وحی میں جس چیز کا سب سے پہلے ذکر آیا ہے وہ قرائت، علم اور قلم ہیں:

اِقْرَاْ وَرَبُّكَ الْاَكْرَمُ۝۳ۙ الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ۝۴ۙ
پڑھیے! اور آپ کا رب بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی۔(۹۶ علق: ۳۔ ۴)

حدیث نبوی (ص) میں ہے:

اذ کان یوم القیامۃ وزن مداد العلماء بدماء الشھداء فیرجح مداد العلماء علی دماء الشھداء۔
(قیامت کے دن علماء)کے قلم کی سیاہی کا وزن شہداء کے خون کے ساتھ کیا جائے گا تو (علماء)کے قلم کی سیاہی شہداء کے خون سے زیادہ وزنی ثابت ہو گی۔ ( الامالی للصدوق ص ۱۶۸)

جنگ بدر میں ساٹھ مشرکین قیدی بنے تو رسول اکرم(ص) نے ان قیدیوں میں سے ہر ایک کا فدیہ دس مسلمانوں کو کتابت سکھاناقرار دیا۔ یوں آپ(ص) نے کتابت اور خواندگی کو آزادی کا ہم پلہ قرار دیا۔ اس واقعہ سے اسلامی تمدن کی تشکیل اور اسلام اور علم کے درمیان رشتے کی مضبوطی کا اندازہ ہو تا ہے

وسائل کتابت: عصر رسالت میں تدوین کتب اور رسل و رسائل کے لیے درج ذیل اشیاء لکھنے کے لیے استعمال ہوتی تھیں:

۱۔ العسب ۔ کھجور کی چھال

۲۔ لخاف ۔ سفید باریک پتھر

۳۔ رقاع ۔ چمڑے کے ٹکڑے

۴۔ کتف ۔ بکری کے شانوں کی ہڈی

۵۔ قتب ۔ پالان کی لکڑی

۶۔ شظاظ۔ وہ لکڑی جس سے بورے کا منہ باندھتے ہیں

۷۔ اشار ۔ چیرے ہوئے تختے

۸۔ قضیم ۔ سفید چمڑا

۹۔ رق ۔ پتلا چمڑا

۱۰۔ حریر ۔ ریشمی کپڑا

۱۱۔ قراطیس ۔ کاغذ

زیادہ تر کتابت کاغذوں اور چمڑوں پرہوتی تھی۔ چنانچہ رسول اکرم(ص) کی طرف سے جاری شدہ امان نامے اور مختلف حکمرانوں کو لکھے جانے والے خطوط چمڑوں پر لکھے ہوئے ہیں۔ اس زمانے میں چین کاغذ سازی میں سب سے آگے تھا۔ اس کے علاوہ ہندوستان میں بھی کاغذ بنتا تھا جو یمن میں فروخت ہوتا تھا۔ رومی بھی کاغذ بناتے تھے جو شام میں بکتا تھا اور ایرانی بھی کاغذ تیار کرتے تھے۔ یہ عراق میں بھی ملتا تھا۔

زمانہ رسالتمآب(ص) میں مندرجہ بالا اشیاء پرکتابت ہوا کرتی تھی اور ان پر لکھے گئے قرآن کو صحیفہ کہتے تھے اور جب ان مختلف ٹکڑوں کو کتابی شکل میں جمع کیا جاتا تو اسے مصحف کہتے تھے۔

حضرت عثمان کے دور میں غیر سرکاری مصاحف کے جلا دیے جانے والے واقعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس دور میں قرآن کاغذوں پر تحریر کیا جاتا تھا۔

مابین الدفتین : کھال سے بنی ہو ئی جلد کو دف کہتے ہیں۔ قدیم زما نے میں اہم دستاویزات ان پر لکھی جاتی تھیں بعد میں کاغذ پر لکھا جانا شروع ہوا اور اسے محفوظ رکھنے کے لیے چمڑے کی دو جلدوں کے درمیان باندھ دیا جاتا تھا۔ ان دونوں جلدوں کو دفتین اور ان میں محفوظ کیے گئے کتابت شدہ موضوع کو مابین دفتین کہا جاتا تھا۔

خود قرآن مجید سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ صدر اسلام میں کتابت کے لیے لچکدار اشیاء موجود تھیں۔

چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاۗءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ۝۰ۭ
اس دن ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ لیں گے جس طرح طومار میں اوراق لپیٹتے ہیں۔(۲۱ انبیاء: ۱۰۴)

نیز ارشاد فرمایا:
وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتٰبًا فِيْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْہُ۔۔۔
(اور)اے رسول( اگر ہم کاغذوں پر لکھی ہوئی کوئی کتاب بھی آپ پر نازل کرتے اور یہ لوگ اپنے ہاتھوں سے اسے چھو بھی لیتے۔( ۶ انعام: ۷)

مزید فرمایا:
اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۝۲۹
جو تم کرتے تھے ہم اسے لکھواتے رہتے تھے۔(۴۵جاثیہ: ۲۹)

*تبدیلی ممنوع*

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🔵 کسب معاش، رھبانیت کی نفی 🔵

حضرت رسول اکرمؐ نے فرمایا: جو شخص اپنے ہاتھ کی سخت کمائی سے دنیا میں کھائے گا بروز قیامت اس کے لیے جنت کے دروازے کھول دیئے جائیں گے کہ جس سے مرضی داخل ہو۔
(میزان الحکمۃ 7217)

■سنت رسول اکرمؐ
مرحوم علامہ محسن فیض کاشانی نقل فرماتے ہیں، روایت ہے کہ حضرت رسول اکرمؐ کو کسی نے خبر دی کہ اس شہر کے تین جوان گوشہ نشین ہوگئے ہیں۔ وہ عذاب کے بارے نازل ہونے والی آیت مبارکہ سے خوفزدہ ہوگئے ہیں۔ وہ تینوں افراد شہر چھوڑ کر صحرا نشین ہوگئے ہیں اور ادھر مصروف عبادت ہیں۔ ان میں سے ہرایک نے اپنی جگہ ایک منٹ مان لی ہے۔

ایک نے منت مانی ہے کہ شادی نہیں کریگا اور کبھی بھی اپنے لیے گھر بسانے کی نہیں سوچے گا۔

دوسرے نے نذر کی ہے کہ کبھی بھی کسی صورت کوئی لذیذ خوراک استعمال نہیں کریگا۔

اور تیسرے نے منت مانی ہے کہ وہ ہمیشہ آبادیوں سے دور لوگوں کی محفلوں سے کنارہ کشی کرے گا۔

حضور اکرمؐ اپنے معمول کے خلاف مسجد میں تشریف لائے۔ آپ اس قدر تیز قدموں سے مسجد کی طرف چل رہے تھے کہ آپؐ کے دوش مبارک سے عباء مبارک اتر گئی۔ ایک طرف سے عباء آپؐ کے دوش پر ہوتی تو دوسری طرف سے اتر جاتی۔ اور آپؐ اسے درست کر لیتے۔ آپؐ نے حضرت بلالؓ کو حکم دیا کہ لوگوں کو بلاؤ۔

حضرت بلالؓ نے اپنے معمول کے مطابق ایک خاص طرز سے لوگوں کو حضرتؐ کے ارادہ کی خبر دی۔

لوگوں نے بھی حضرتؐ کی دعوت سنتے ہی اپنے مشغولیات ترک کر دیئے اور جلدی جلدی آنحضرتؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ سبھی اس انتظار میں تھے کہ آنحضورؐ نے جو اسطرح بلوایا ہے تو معلوم ہوسکے کہ کیا مسئلہ ہے؟

حضرت رسول اکرمؐ اپنے منبر مبارک کی طرف بڑھے اور منبر کی پہلی سیڑھی پر ہی کھڑے ہوگئے اور اس طرح خطاب فرمایا:
اے لوگو! میں جو آپ کے لئے پیامبر خدا ہوں، میرے گھر میں بیویاں ہیں اور لذیذ غذا بھی کھا لیتا ہوں۔ معاشرہ کے ساتھ باہمی زندگی بھی گزارتا ہوں۔ یہ میری سنت (اور روش ہے، زندگی کا کامیاب اور مناسب سلیقہ یہی ہے) جو بھی میری سنت سے انحراف کریگا، اس سے ہٹ کر زندگی گزارے گا وہ میرا نہیں ہے۔ اس کا میرے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے۔
(عوامل کنترل غرائز، ص61)

■خدا کے خاص بندے
حضرت علی علیہ السلام جب کوفہ کو دارالخلافہ قرار دیتے ہوئے کوفہ میں تشریف لائے تو سب سے پہلے مسجد میں تشریف لے گئے۔ آپؑ نے دیکھا کہ لوگوں کا ایک گروہ مسجد کے ایک کونے میں بیٹھا ہے۔

آپؑ نے پوچھا؛ یہ کون لوگ ہیں؟

لوگوں نے بتایا: یہ رجال الحق، حق کا ساتھ دینے والے خاصانِ خدا ہیں۔

آپؑ نے پھر پوچھا؛ رجال الحق سے تمہاری کیا مراد ہے؟

لوگوں نے بتایا؛ یہ مسجد میں تشریف لاتے ہیں اور بس مصروف عبادت رہتے ہیں۔ اگر کھانے کے لئے کچھ مل جائے تو کھا لیتے ہیں، اگر نہ ملے تو صبر کرتے ہیں۔

آپؑ نے فرمایا؛ حیوانات اور پھر حیوانات میں سے خصوصا کتا بھی تو اسی طرح کرتا ہے کہ بیٹھ رہتا ہے۔ کچھ مل جائے تو کھا لیتا ہے ورنہ بیٹھ رہتا ہے۔

پھر آپؑ نے تازیانہ منگوایا اور ان کی طرف بڑھے۔ ان کے سروں پر تازیانے لگائے اور فرمایا:
اٹھو عبادت سے فارغ ہوکر مسجد سے نکلو اور کام کرو۔ کسب معاش کرو۔ کچھ معاشی مصروفیت بناؤ۔
(عوامل کنترل غرائز، ص63)

■ترک معاش
عمر بن آزینہ حضرت امام جعفر صادقؑ کے مقدس معمر اصحاب میں سے ایک متدین شخص تھے۔ وہ کوفہ کے تاجروں سے شمار ہوتے تھے۔ عرصہ دراز تک کام کرتے کرتے تھک گئے تو اپنے آپ کام ترک کر کے بازار سے گوشہ نشین ہوگئے۔ مالی طور پر ان کی حالت مضبوط و مستحکم تھی۔ چنداں پریشانی نہیں تھی۔ وہ ایک دن زیارت کی غرض سے امام جعفر صادقؑ کے پاس تشریف لائے۔

شرف حضوری پر امامؑ نے ان سے پوچھا؛
عمر بن آزینہ آپ کا کیا حال ہے؟

اس نے عرض کیا؛ میں نے کاروبار چھوڑ دیا ہے۔

آپؑ ناراض ہوئے اور فرمایا؛ آخر کیونکر؟

عمر نے عرض کیا؛ فرزندِ رسول میرے پاس بحمداللہ کھانے پینے اور معاش کے لئے بقدر کافی بہت کچھ ہے۔ مجھے کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اب اپنی آخری عمر میں بڑھاپے کے دن کسی مسجد کے گوشہ میں ایک طرف ہوکر بیٹھ جاؤں۔

آپؑ نے فرمایا: "ھذا من قلة العقل"
یہ تو آپ کی کم عقلی کی نشانی ہے۔

اور پھر فرمایا؛ جب واپس جانا تو اپنا تجارت کا کام پھر سے شروع کر دینا۔ بس اتنا خیال رہے کہ نماز کے اوقات میں پابندی سے نماز ادا کرو، ذکر خدا کے ساتھ اپنا قلب منور رکھو۔ کمائی نہ چھوڑو۔ اگر اپنی ضرورت سے زیادہ کما لو تو کسی دوسرے مستحق کو دیدو۔ اس میں دونوں کا فائدہ ہے۔
(عوامل کنترل غرائز، ص63)

✍سید سجاد حسین ھمدانی

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🔵 بند مٹھی 🔵

کہتے ہیں کہ کچھ افریقی قبائل بندروں کو پکڑنے کیلئے ایک انوکھی ترکیب اختیار کرتے ہیں۔ وہ ناریل میں ایک سوراخ کردیتے ہیں جس میں بمشکل بندر اپنا ہاتھ ڈال سکے۔ ناریل کے اس خول کے اندر وہ بندر کی کچھ من پسند چیزیں بھر دیتے ہیں۔ بندر آتے ہیں اور اس خول میں ہاتھ ڈال کر ان چیزوں کو مٹھی میں بھر لیتے ہیں مگر جب بھری مٹھی کے ساتھ ہاتھ باہر نکالنا چاہتے ہیں تو سوراخ چھوٹا ہونے کے سبب نہیں کرپاتے۔ اب عقل کی بات تو یہ ہے کہ مٹھی خالی کرکے ہاتھ کو خول سے چھڑا لیا جائے مگر بندر کو مٹھی میں دبی اشیاء چھوڑنا گوارا نہیں ہوتا۔ یہ بندر چیختے ہیں، دہائیاں دیتے ہیں مگر بھری مٹھی نہیں نکال پاتے۔ شکاری آتے ہیں اور بندروں کو پکڑ پکڑ کر پنجرے میں ڈال دیتے ہیں۔ یوں اپنی حماقت سے بندر آزادی اور خوشی دونوں گنوا بیٹھتے ہیں۔
۔
سوچیں تو ہم انسانوں کی اکثریت بھی ان بندروں جیسی ہی ہے۔ جو اپنی اپنی مٹھی میں کچھ تھامے قیدی بنے بیٹھے ہیں۔ چیخ رہے ہیں چلا رہے ہیں شکوے شکایات کررہے ہیں مگر مٹھی کھولنے کو تیار نہیں ہیں۔ کسی مٹھی میں دولت کا جنون ہے، کسی میں کسی سے بچھڑنے کا دکھ ہے، کسی میں غم و غصہ ہے، کسی میں حسرتیں ہیں اور کسی میں کچھ یادیں۔ یہ سب افراد اپنی مٹھی میں دبے جذبات و نظریات کے اسیر ہیں۔ اگر آج اپنی اپنی مٹھی کھول کر ان چیزوں کو ہاتھ سے نکلنے دیں تو وہ سب بھی آزاد ہوسکتے ہیں، خوشی و سکون پاسکتے ہیں۔ مگر نہیں۔ ان سب کو شائد ہمیشہ بندر بنے رہنا ہے اور اس نادیدہ مگر خودساختہ پنجرے میں خود کو مقید رکھنا ہے۔

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🔵 شیطانی عمل 🔵

صاحب کتاب "وسائل الشیعہ" اپنی کتاب کی بارھویں جلد میں نقل فرماتے ہیں کہ کوفہ کے تاجروں کا ایک گروہ حضرت امام جعفر صادقؑ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے ان سے اپنے ایک خاص صحابی کے بارے میں احوال پرسی فرمائی تو انہوں نے بتایا کہ انہیں اس کے بارے بہت کم معلومات ہیں کیونکہ وہ کاروبار چھوڑ کر مسجد میں گوشہ نشین ہوگئے ہیں۔ اور بس مصروف عبادت رہتے ہیں۔ نماز ادا کرتے اور دعا پڑھتے ہیں۔

امام جعفر صادقؑ نے تین بار فرمایا:
"ھذا من عمل الشيطان"

پھر آپؑ نے اسے پیغام بھیجا کہ بازار جاؤ اور حلال کمائی تلاش کرو۔ نماز کے اوقات میں نماز ادا کرو۔ اپنا دنیا کا بھی خیال رکھو، اپنی آخرت کی بھی حفاظت کرو۔ اگر کبھی زیادہ اموال جمع ہو جائیں اور آپ کو ان کی ضرورت نہ ہو تو دوسروں کی مدد کردیا کرو۔ (اس میں دونوں کا فائدہ ہے)
(عوامل کنترل غرائز، ص62)

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🔷 ﺫﮐﺮ ﺳﺮﯾﻊ ﺍﻻﺟﺎﺑﺔ (صلوات) 🔷

ﻣﺮﺣﻮﻡ ﺁﯾﺖ ﺍﻟﻠﮧ ﺷﯿﺦ ﻣﺤﻤﺪ ﺗﻘﯽ ﻣﻌﺮﻭﻑ ﺑﮧ ﺁﻗﺎ ﻧﺠﻔﯽ ﺍﺻﻔﮩﺎﻧﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ:
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻧﺠﻒ ﻣﯿﮟ ﺍﻗﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺑﮩﺖ ﺭﯾﺎﺿﺘﯿﮟ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﯼ تھیں ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﺑﮩﺖ ﺍﺳﺮﺍﺭ ﻭ ﺭﻣﻮﺯ ﮐﺸﻒ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﺳﺮﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺯ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺕ ﺻﺒﺢ ﺗﮏ ﻣﺴﺠﺪ ﺳﮩﻠﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ. ﺳﺤﺮ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﺳﺮﺍﺭ ﺭﺟﺎﻝ ﺍﻟﻐﯿﺐ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺳﮯ ﮨﻮﺋﯽ۔۔

ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﺳﻮﺍﻻﺕ ﮐﯿﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺍﻣﺎﻡ ﻋﺼﺮ ﺍﺭﻭاﺣﻨﺎﻓﺪﺍﮦ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﻣﮑﻤﻞ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﺗﻤﺎﻡ ﺳﻮﺍﻻﺕ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﻟﮑﮫ ﻟﯿﺎ۔

ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺳﻮﺍﻻﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺍﻝ ﯾﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺴﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﺫﮐﺮ ﮐﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺩﯾﮟ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺸﮑﻠﻮﮞ ﮐﻮ ﺣﻞ ﮐﺮ ﺳﮑﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺣﺎﺟﺖ ﮐﻮ ﭘﻮﺭﺍ ﮐﺮ ﺳﮑﻮﮞ۔

ﺻﺎﺣﺐ ﺍﺳﺮﺍﺭ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﻣﺤﻤﺪ ﻭﺁﻝ ﻣﺤﻤﺪ (ﻉ) ﭘﺮ ﺻﻠﻮﺍﺕ ﺑﮭﯿﺠﻨﮯ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺫﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺫﮐﺮ ﺑﮩﺖ ﺟﻠﺪ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﻮ ﺧﺪﺍ ﺳﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﻟﮩﺬﺍ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺻﻠﻮﺍﺕ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﮐﺮﻭ۔

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

‏📚 ﺁﺧﺮﺕ ﺳﺎﺯ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ، ﺹ139، 140۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔵 بے جا تنقید 🔵

ڈاکٹر تیزی سے ہسپتال میں داخل ہوا، کپڑے تبدیل کیے اور سیدھا آپریشن تھیٹر کی طرف بڑھا۔ اسے ایک بچے کے آپریشن کے لیے فوری اور ہنگامی طور پر بلایا گیا تھا۔

ہسپتال میں موجود بچے کا باپ ڈاکٹر کو آتا دیکھ کر چلایا؛ ”اتنی دیر لگا دی؟ تمہیں پتا نہیں میرا بیٹا کتنی سخت اذیت میں ہے، زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے، تم لوگوں میں کوئی احساس ذمہ داری نہیں ہے؟“۔

”مجھے افسوس ہے میں ہسپتال میں نہیں تھا ، جیسے ہی مجھے کال ملی میں جتنی جلدی آ سکتا تھا آیا ہوں “ ، ڈاکٹر نے مسکرا کر جواب دیا ۔ ”اب میں چاہوں گا کہ آپ سکون سے بیٹھیئے تاکہ میں اپنا کام شروع کر سکوں“

”میں اور سکون سے بیٹھوں ، اگر اس حالت میں تمہارا بیٹا ہوتا تو کیا تم سکون سے بیٹھتے ؟ اگر تمہارا اپنا بیٹا ابھی مر رہا ہو تو تم کیا کرو گے؟“ باپ غصے سے بولا ۔

ڈاکٹر پھر مسکرا کر کہا، ” ہماری مقدس کتاب کہتی ہے کہ ہم مٹی سے بنے ہیں اور ایک دن ہم سب کو مٹی میں مل جانا ہے ، اللہ بہت بڑا ہے اور غفور رحیم ہے ڈاکٹر کسی کو زندگی نہیں دیتا نہ کسی کی عمر بڑھا سکتا ہے ۔ اب آپ آرام سے بیٹھیں اور اپنے بیٹے کے لیے دعا کریں ۔ ہم آپ کے بیٹے کو بچانے کی پوری کوشش کریں گے“۔

” بس ان لوگوں کی نصیحتیں سنو چاہےتمہیں ان کی ضرورت ہو یا نہ ہو۔ بچے کا باپ بڑبڑایا “۔
آپریشن میں کئی گھنٹے لگ گئے لیکن بالآخر جب ڈاکٹر آپریشن تھیٹر سے باہر آیا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، ” تمہارا بیٹا اب خطرے سے باہر ہے ، اگر کوئی سوال ہو تو نرس سے پوچھ لینا“ ۔ یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گیا ۔

”کتنا مغرور ہے یہ شخص ، کچھ لمحے کے لیے بھی نہیں رکا کہ میں اپنے بچے کی حالت کے بارے میں ہی کچھ پوچھ لیتا“ ، بچے کے باپ نے ڈاکٹرکے جانے بعد نرس سے کہا ۔

نرس نے روتے ہوئے جواب دیا ، ” اس کا بیٹا کل ایک ٹریفک کے حادثے کا شکار ہو گیا تھا ، جب ہم نے اسے آپ کے بیٹے کے لیے کال کی تھی تو وہ اس کی تدفین کر رہا تھا ۔ اور اب جبکہ اس نے آپ کے بیٹے کی جان بچالی ہےتو دوبارہ تدفین کو مکمل کرنے گیا ہے“۔

کبھی کسی پر بےجا تنقید نہ کرو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ دوسرے کی زندگی کیسی ہے اور وہ کن کن مشکلات میں مبتلا ہے
تم نہیں جانتے کہ وہ تمہارے کام آنے کے لیے کتنی بڑی قربانی دے رہا ہے۔

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🔷 شیشہ 🔷

ایک آدمی نے اپنے بیٹے کو سمجھانے کے لیے اسے ایک شیشے کے سامنے کھڑا کر کے پوچھا:
"بیٹا اس شیشے میں تمہیں کیا نظر آ رہا ہے؟"

بیٹے نے جواب دیا:
"ابا جان دوسری طرف لوگ نظر آ رہے ہیں۔"

پھر باپ نے اسے ایک آئینے کے سامنے کھڑا کیا اور پوچھا:
"اب کیا نظر آ رہا ہے؟"

بیٹے نے جواب دیا:
"ابا جان اب مجھے اپنا چہرہ نظر آ رہا ہے۔"

باپ نے کہا:
"دیکھو بیٹے یہ دونوں ہی شیشے ہیں۔ ایک پر چاندی کا ملمع چڑھایا گیا ہے تو اس میں تمہیں اپنا آپ نظر آ رہا ہے اور دوسرے پر کچھ نہیں چڑھایا تو اس میں سے تمہیں دوسری طرف لوگ نظر آ رہے ہیں۔ بالکل اسی طرح اگر تم صرف شیشہ بن کر رہو گے تو تمہیں دوسرے لوگ نظر آتے رہیں گے، لیکن اگر تم اپنے آپ پر سونے چاندی کا ملمع چڑھا لو گے اور آئینہ بن جاؤ گے تو تمہیں لوگ نظر آنا بند ہو جائیں گے اور صرف اپنا آپ ہی نظر آئے گا اور اپنا آپ نظر آنے سے انسان میں تکبر بڑھتا ہے۔ اس لیے ہمیشہ شیشہ بن کر رہنا تاکہ دوسرے لوگوں کے دکھ درد، غم اور تکلیفیں تمہیں نظر آتی رہیں۔

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🔷 موت کی یاد 🔷

دین مبین اسلام میں موت کو یاد کرنے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے اور اس کے فوائد بھی بتائے گئے ہیں اسی لیے کہا گیا ہے کہ اگر دنیا و آخرت کا فائدہ چاہتے ہو تو موت کو یاد کیا کرو اور جب موت کے بارے میں امام صادق (علیہ السلام) سے سوال کیا گیا تو امام (علیہ السلام) نے موت کو یاد کرنے کے سات فائدے بتائے ہیں:
"ذِكرُ المَوتِ يُميتُ الشَّهَواتِ في النَّفسِ، و يَقلَعُ مَنابِتَ الغَفلَةِ، و يُقَوّي القلبَ بمَواعِدِ اللّه ِ، و يُرِقُّ الطَّبعَ، و يَكسِرُ أعلامَ الهَوى و يُطفِئُ نارَ الحِرصِ، و يُحَقِّرُ الدُّنيا؛"

موت کو یاد کرنے سے خواھشات نفسانی مر جاتی ہیں،
غفلت سے بیداری حاصل ہوتی ہے،
دل کو خدا کے وعدوں پر مضبوط کرتی ہے،
مزاج میں نرمی آتی ہے،
ھوس کے پرچم کو سرنگوں کرتی ہے،
حرص کی آگ کو ختم کرتی ہے،
دنیا کو حقیر بنا دیتی ہے۔
(بحار الأنوار،ج۶،ص۱۳۳)

اس روایت میں امام (علیہ السلام) درحقیقت موت کو یاد رکھنے کی تاکید کر رہے ہیں اور امام (علیہ السلام) کے اس فرمان پر اگر عمل کیا جائے تو حقیقی طور پر پھر نہ تو دنیا میں کسی مشکل کا سامنا کرنا پڑے اور نہ ہی آخرت میں، خداوندمتعال سے دعا ہے کہ ہم سب کو آئمہ (علیھم السلام) کے فرامین پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

📚بحار الأنوار، علامه مجلسی، دار الاحیاء، بیروت، ۱۴۰۳ق، ج۶، ص۱۳۳.

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🔷 ننانوے کا قانون 🔷

بادشاہ وقت نے اپنے وزیر خاص سے پوچھا: یہ میرے نوکر مجھ سے زیادہ کیسے خوش باش پھرتے ہیں۔ جبکہ ان کے پاس کچھ نہیں اور میرے پاس کمی کسی چیز کی نہیں۔

وزیر نے کہا: بادشاہ سلامت، اپنے کسی خادم پر قانون نمبر ننانوے کا استعمال کر کے دیکھیئے۔

بادشاہ نے پوچھا: اچھا، یہ قانون نمبر ننانوے کیا ہوتا ہے؟

وزیر نے کہا: بادشاہ سلامت، ایک صراحی میں ننانوے درہم ڈال کر، صراحی پر لکھیئے اس میں تمہارے لیئے سو درہم ہدیہ ہے، رات کو کسی خادم کے گھر کے دروازے کے سامنے رکھ کر دروازہ کھٹکھٹا کر ادھر اُدھر چھپ جائیے اور تماشہ دیکھ لیجیئے۔

بادشاہ نے، جیسے وزیر نے سمجھایا تھا، ویسے کیا، صراحی رکھنے والے نے دروازہ کھٹکھٹایا اور چھپ کر تماشہ دیکھنا شروع کر دیا۔

اندر سے خادم نکلا، صراحی اٹھائی اور گھر چلا گیا۔ دراہم گنے تو ننانوے نکلے، جبکہ صراحی پر لکھا سو درہم تھا۔ سوچا: یقینا ایک درہم کہیں باہر گرا پڑا ہوگا۔

خادم اور اس کے سارے گھر والے باہر نکلے اور درہم کی تلاش شروع کر دی۔ ان کی ساری رات اسی تلاش میں گزر گئی۔ خادم کا غصہ دیدنی تھا، کچھ رات صبر اور باقی کی رات بک بک اور جھک جھک میں گزری۔ خادم نے اپنے بیوی بچوں کو سست بھی کہا کیونکہ وہ درہم تلاش کرنے میں ناکام رہے تھے۔

دوسر ےدن یہ ملازم محل میں کام کرنے کیلئے گیا تو اس کا مزاج مکدر، آنکھوں سے جگراتے، کام سے جھنجھلاہٹ، شکل پر افسردگی عیاں تھی۔ بادشاہ سمجھ گیا کہ ننانوے کا قانون کیا ہوا کرتا ہے۔

لوگ ان ننانوے نعمتوں کو بھول جاتے ہیں جو الله تبارک و تعالیٰ نے انہیں عطا فرمائی ہوتی ہیں۔ اور ساری زندگی اس ایک نعمت کے حصول میں سر گرداں رہ کر گزار دیتے ہیں جو انہیں نہیں ملی ہوتی۔

اور یہ والی رہ گئی نعمت بھی الله کی کسی حکمت سے وجہ سے رُکی ہوئی ہوتی ہے جسے عطا کر دینا الله کیلئے بڑا کام نہیں ہوا کرتا۔

لوگ اپنی اسی ایک مفقود نعمت کیلئے سرگرداں رہ کر اپنے پاس موجود ننانوے نعمتوں کی لذتوں سے محروم مزاجوں کو مکدر کر کے جیتے ہیں۔

اپنی مل چکی نعمتوں پر الله تبارک و تعالٰی کا احسان مانیئے اور ان سے مستفید ہو کر شکرگزار بندے بن کر رہیئے۔ الله پاک ہمیں اپنے شکر گزار بندے بنا دے۔ آمین

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🔷 نیکی کے قابل 🔷

ایک شخص جنگل کے درمیان سے گزر رہا تھا کہ اس نے جھاڑیوں کے درمیان ایک سانپ پھنسا ہوا دیکھا، سانپ نے اس سے مدد کی اپیل کی تو اس نے ایک لکڑی کی مدد سے سانپ کو وہاں سے نکالا۔ باہر آتے ہی سانپ نےکہا کہ میں تمہیں ڈسوں گا۔

اس شخص نے کہا کہ میں نے تمہارے ساتھ نیکی کی ہے تم میرے ساتھ بدی کرنا چاہتے ہو۔

سانپ نے کہا کہ ہاں نیکی کا جواب بدی ہی ہے۔

اس آدمی نے کہا کہ چلو کسی سے فیصلہ کرا لیتے ہیں۔

چلتے چلتے ایک گائے کے پاس پہنچے اور اس کو سارا واقعہ بیان کرکے فیصلہ پوچھا تو اس نے کہا کہ واقعی نیکی کا جواب بدی ہے کیونکہ جب میں جوان تھی اور دودھ دیتی تھی تو میرا مالک میرا خیال رکھتا تھا اور چارہ پانی وقت پہ دیتا تھا لیکن اب میں بوڑھی ہوگئی ہوں تو اس نے بھی خیال رکھنا چھوڑ دیا ہے۔

یہ سن کر سانپ نے کہا کہ اب تو میں ڈسوں گا۔
اس آدمی نے کہا کہ ایک اور فیصلہ لے لیتے ہیں۔
سانپ مان گیا اور انہوں نے ایک گدھے سے فیصلہ کروایا، گدھے نے بھی یہی کہا کہ نیکی کا جواب بدی ہے، کیونکہ جب تک میرے اندر دم تھا میں اپنے مالک کے کام آتا رہا جونہی میں بوڑھا ہوا اس نے مجھے بھگا دیا۔

سانپ اس شخص کو ڈسنے ہی لگا تھا کہ اس نے منت کر کے کہا کہ ایک آخری موقع اور دو۔۔۔
سانپ کے حق میں دو فیصلے ہوچکے تھے اس لیے وہ آخری فیصلہ لینے پہ مان گیا۔۔

اب کی بار وہ دونوں ایک بندر کے پاس گئے اور اسے سارا واقعہ سنا کر کہا کہ فیصلہ کرو۔

اس نے آدمی سے کہا کہ مجھے ان جھاڑیوں کے پاس لے چلو، سانپ کو اندر پھینکو اور باہر پھر میرے سامنے باہر نکالو، اس کے بعد میں فیصلہ کروں گا۔

وہ تینوں واپس اسی جگہ گئے۔ آدمی نے سانپ کو جھاڑیوں کے اندر پھینک دیا اور پھر باہر نکالنے ہی لگا تھا کہ بندر نے منع کردیا اور کہا کہ اس کے ساتھ نیکی مت کر، یہ نیکی کے قابل ہی نہیں۔

خدا کی قسم وہ بندر پاکستانی عوام سے زیادہ عقل مند تھا۔ پاکستانیوں کو بار بار ایک ہی طرح کے سانپ مختلف ناموں اور طریقوں سے ڈستے ہیں لیکن ہمیں یہ خیال نہیں آتا کہ یہ سانپ ہیں۔ ان کے ساتھ نیکی کرنا اپنے آپ کو مشکل میں ڈالنے کے برابر ہے...

👆ایک مراسلہ👆

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🔷 ڈیپریشن 🔷

یه لفظ آج کل اتنا عام ہے ہر کوئی بنا سجھے, بنا جانے اس کا استعمال کرتا هے....آخر یه ہے کیا؟؟

ڈیپریشن بےبسی اور مایوسی کا نام هے۔
hopelessness & helplessness...

جب بھی ہم کچھ سوچتے ہیں اور پلان بناتے ہیں کہ یه کام میں اس طرح سے کر کے میں اپنا ٹارگٹ حاصل کر لوں گی....لیکن ویسا هوتا نہیں...پھر آپ اس ناکامی کے لیے خود کو اور دوسروں کو قصوروار ٹهہراتے هیں...اس طرح آپ physically and mentally اپنے آپ کو تھکا دیتے هیں.
اس ناکامی کو اپنے اوپر اتنا *سوار* کر لینا که آپ بیمار هوجاتے هیں...پھر گھر , بچے اور خود ڈسٹرب هوجاتے هیں.

انبیاء کرام, صحابه کرام پر بے انتہا مشکلیں آیئں ....وه ڈیپریشن کا شکار کیوں نهیں ہوۓ؟؟

کیا کوئی مسلمان الله سبحان وتعالی کے ہوتے ہوۓ بے بس, مایوس ہو سکتا هے؟؟
کیا کوئی الله کی ذات کو جانتے ہوۓ اسکی رحمت سے مایوس ہوسکتا هے؟؟

🔷ڈیریشن کی کئی وجوهات هیں...
1. بہت زیاده حساس ہونا
2. بہت انا پرست ہونا
3. مرضی کے خلاف بات برداشت نه کرنا
4. غیر متوقع نتائج کو قبول نه کرنا
5. ماضی کو حال سے بہتر سمجھنا
6. حال سے شکوه کرتے رہنا
7. پرفیکشن کو معیار سمجھنا اور پھر حسرت کا شکار رہنا

■ان سب باتوں کے پیچھے کیا هے...
🔸الله کی ذات کو مکمل نه پہچاننا,
🔸تقدیر پر کمزور ایمان,
🔸توکل علی اللہ کی کمی،
🔸جہاں الله سے تعلق کمزور ہوا وہیں شیطان نے اپنا ڈیره جما لیا....شیطان مایوس نے مایوس کر دیا
helplessness and hopelessness
🔸نا شکرا پن اس قدر بڑھ جاتا هے که ہاتھ میں موجود نعمتیں معمولی لگتی ہیں...اور سوچ میں بس وهی چیز ہوتی هے جو چاهیے یا جو نہیں ہوتی...وہی حسرت دل, دماغ یہاں تک که جسم کو بھی جکڑ لیتی ہیں...اور پم اپنی سوچ کے غلام ہو کر ره جاتے هیں...

■الله تعالی فرماتا ہےکہ:
🔺 میں نے زندگی موت بنائی جو آزمائش هے...
🔺 تم آزماۓ جاؤ گے بھوک سے, خوف سے مال ک نقصان سے
🔺 اولاد اور هر نعمت کا ملنا نه ملنا هر صورت آزمائش هے.
🔺 تم پر کوئی بوجھ تمهاری برداشت سے بڑھ کر نهیں ڈالوں گا
🔺 بوجھ ڈل جاۓ تو نماز اور صبر سے مدد لو
🔺 جو مجھ پر بھروسه کرے میں اس کے لیے کافی هوں.
🔺 کون هے جو بےقرار کے دل کی دعا سنتا هے جب که وه پکارے...

سوچیں!!! شیطان کا ڈیپریشن میں جانا بنتا ہے... وه مایوس هے کیونکه وه نافرمان ہے اور بےبس ہے کیونکه جسکا الله نہیں اس کا کوئی بھی نہیں... الحمدلله ہمارے پاس تو الله جیسی ہستی کا ساتھ ہے...

■کیسے هم اپنے آپ کو ڈیپریشن سے بچائیں:
1. الله اور اس کی کتاب سے رابطه مضبوط کریں
2. هر چیز کا مثبت پہلو دیکھیں...
3. ضروری نہیں که جو کوشش کی ہے اس کے نتائج وہی ہوں جیسا که ہم چاهتے ہیں.
4. کسی چیز کے نه ہونے میں بھی خیر کا پہلو تلاش کریں... الله کے بارے میں بہترین گمان رکھیں
5. مایوس کرنے والے اور بھڑکانے والے لوگوں سے اپنے مسائل ڈسکس نه کریں بلکه ایسے لوگوں سے بات کریں جو آپ کو مثبت رویے کی طرف لے کر جائیں.
7. حقیقت کو قبول کرنے میں جلدی کریں...یه نہیں ہوسکتا, ایسا کیسے ہو سکتا هے...ایسے جملے اور سوچ ڈیپریشن کی شکل اختیار کر جاتے هیں...

الله نه کرے اگر کسی کو ڈیپریشن هے تو وه یه کریں..
1. الله سے رجوع... الله کی طرف ڈوریں
2. hope givers and motivators کی کمپنی میں بیٹھیں
3. تلاوت سنیں اور بلند آواز میں تلاوت کریں
4. تنہا رهنے سے پرهیز کریں
5. اپنے محسوسات کو لکھنے کی کوشش کریں...بھلے ہی بعد میں پھاڑ کر پھینک دیں یا جلا دیں..
6. check your thyroid level as well
7. تازه پھل اور پانی بہت پیئیں.

الله ھم سب کا حامی و ناصر ہو۔

👆ایک مراسلہ👆

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🔷 کمال 🔷

ایک فارسی حکایت
ابوسعید ابوالخیر سے کسی نے کہا؛ ’’کیا کمال کا انسان ھو گا وہ جو ھوا میں اُڑ سکے۔‘‘
ابوسعید نے جواب دیا؛ ’’یہ کونسی بڑی بات ھے، یہ کام تو مکّھی بھی کر سکتی ھے۔‘‘

’’اور اگر کوئی شخص پانی پر چل سکے اُس کے بارے میں آپ کا کیا فرمانا ھے؟

’’یہ بھی کوئی خاص بات نہیں ھے کیونکہ لکڑی کا ٹکڑا بھی سطحِ آب پر تیر سکتا ھے۔‘‘

ؔؔ’’تو پھر آپ کے خیال میں کمال کیا ھے؟‘‘
’’میری نظر میں کمال یہ ھے کہ لوگوں کے درمیان رھو اور کسی کو تمہاری زبان سے تکلیف نہ پہنچے۔
جھوٹ کبھی نہ کہو، کسی کا تمسخر مت اُڑاؤ، کسی کی ذات سے کوئی ناجائز فائدہ مت اُٹھاؤ، یہ کمال ھیں۔

یہ ضروری نہیں کہ کسی کی ناجائز بات یا عادت کو برداشت کیا جائے، یہ کافی ھے کہ کسی کے بارے میں بن جانے کوئی رائے قائم نہ کریں۔

یہ لازم نہیں ھے کہ ھم ایک دوسرے کو خوش کرنے کی کوشش کریں، یہ کافی ھے کہ ایک دوسرے کو تکلیف نہ پہنچائیں۔

یہ ضروری نہیں کہ ھم دوسروں کی اصلاح کریں، یہ کافی ھے کہ ھماری نگاہ اپنے عیوب پر ھو۔

حتّیٰ کہ یہ بھی ضروری نہیں کہ ھم ایک دوسرے سے محبّت کریں، اتنا کافی ھے کہ ایک دوسرے کے دشمن نہ ھوں۔

دوسروں کے ساتھ امن کے ساتھ جینا کمال ھے۔‘‘

📚حکایاتِ فارسی

https://t.me/muskuraahten
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🌹 بیوی زندگی کی ساتھی 🌹

چند راتیں پہلے کی بات ہے، میں نے اپنے بستر پر، نیند آ جانے سے پہلے، اپنے پہلو میں سوئی، اپنی بیوی کے چہرے کو غور سے دیکھا، اس کی پیاری سی اور نرم و نازک شکل پر کافی دیر غور کرتا رہا، پھر میں نے اپنے آپ سے کہا:

​​کیا مسکین ہوتی ہے یہ عورت بھی، برسوں اپنے باپ کی شفقت کے سائے تلے اپنے گھر والوں کے ساتھ پلتی بڑھتی ہے، اور اب کہاں ایک نا واقف شخص کے ساتھ آ کر سوئی پڑی ہے، اور اس نا واقف شخص کیلئے اس نے اپنے گھر بار ماں باپ چھوڑا، والدین کا لاڈ و پیار اور ناز نخرا چھوڑا، اپنے گھر کی راحت اور آرام کو چھوڑا، اور ایسے شخص کے پاس آئی پڑی ہے جو بس اسے اچھے کی تلقین اور برائی سے روکتا ہے، اس شخص کی دل و جان سے خدمت کرتی ہے، اس کا دل بہلاتی ہے، اس کو راحت اور سکون دیتی ہے، تاکہ بس اس کا رب اس سے راضی ہو جائے، اور بس اس لئیے کہ یہ اس کیلئے اس کے دین کا حکم ہے،​​

پھر میں نے اپنے آپ سے سوال کیا:
​کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ،، جو بیدردی اور بے رحمی سے اپنی بیویوں کو مار پیٹ لیتے ہیں..​

بلکہ کچھ تو دھکے دیکر اپنے گھر سے بھی باہر نکال کرتے ہیں،، انہیں واپس اپنے ماں باپ کے اس گھر لا ڈالتے ہیں جو وہ اس کی خاطر چھوڑ کر آئی تھی..​

​کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ،، جو بیویوں کو گھر میں ڈال کر دوستوں کے ساتھ نکل کھڑے ہوتے ہیں، ہوٹلوں میں جا کر وہ کچھ کھاتے پیتے ہیں جس کا ان کے گھر میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا..​

​کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ،، جن کے باہر اٹھنے بیٹھنے کا دورانیہ ان کے اپنے بیوی بچوں کے پاس اٹھنے بیٹھنے کے دورانیئے سے زیادہ ہوتا ہے..​

​کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ؛، جو اپنے گھر کو اپنی بیوی کیلئے جیل بنا کر رکھ دیتے ہیں، نا انہیں کبھی باہر اندر لیجاتے ہیں، اور نا ہی کبھی ان کے پاس بیٹھ کر ان سے دل کا حال سنتے سناتے ہیں..​

​کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ،، جو اپنی بیوی کو ایسی حالت میں سلا دیتے ہیں کہ اس کے دل میں کسی چیز کی خلش اور چھبن تھی، اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور اس کا گلا کسی قہر سے دبا جا رہا تھا..​

​کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ،، جو اپنی راحت اور اپنی بہتر زندگی کیلئے گھر چھوڑ کر باہر نکل کھڑے ہوتے ہیں، پیچھے مڑ کر اپنی بیوی اور بچوں کی خبر بھی نہیں لیتے کہ ان پر ان کے باہر رہنے کے عرصہ میں کیا گزرتی ہوگی..​

کیسے ہوتے ہیں کچھ لوگ،، جو ایسی ذمہ داری سے بھاگ جاتے ہیں جس کے بارے میں ان سے روز محشر پوچھ گچھ کی جائے گی..​

■​​اپنی ماں اور اپنی بیوی دونوں کو بے پناہ عزت دو،، اسلئے کہ ایک تمہیں دنیا میں لائی،، اور دوسری ساری دنیا چھوڑ کر تمہارے پاس آئی۔۔۔​

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
📚 علم و علماء کی قدردانی 📚

ایک مولوی صاحب مسجد کے صحن میں بچوں کو قُرآن پڑھا رہے تھے کہ نمازِ عصر کا وقت ہو گیا۔ مولوی صاحب نے ایک بچے کو اُٹھ کر آذان دینے کو کہا۔۔۔!!

بچہ نظریں نیچی کر کے بولا:
’’اُستاد جی مُجھے شرم آتی ہے۔‘‘

مولوی صاحب نے دُوسرے بچے کو آذان دینے کا کہا۔

اُس بچے نے بھی کہا:
’’اُستاد جی مُجھے بھی شرم آتی ہے۔‘‘

تیسرے اور چوتھے بچے کا بھی یہی جواب تھا۔

یہ سارا ماجرا دیکھ کر مولوی صاحب نے ٹھنڈی سانس بھری اور آذان کے لیے اُٹھتے ہوئے کہا: "چلو پھر میں ہی بے شرم ہوں جو روز آذان دیتا ہوں۔"

🔘 مؤمنین یہ ہنسنے کا نہیں بلکہ رونے کا مقام ہے ۔۔۔ ہم عُلما کے کردار و گفتار پر اعتراض کرنے سے کبھی نہیں تھکتے۔ اُنگلی اُٹھانا آسان ہے مگر غلط کو درست کرنا مُشکل۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ عُلماء مُعاشرے کے اندر اپنا کردار صحیح طریقہ سے ادا نہیں کر رہے تو آپ کے لیے یہ سُنہری موقع ہے اس خامی کو دُور کرنے کا۔ کہ آگے آئیے، علم حاصل کیجئے، اس قابل بنئے اور اس مظلوم قوم کی سرپرستی کیجئے۔

فرمان معصوم علیہ السلام ہے کہ۔۔۔
''لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي طَلَبِ‏ الْعِلْمِ‏ لَطَلَبُوهُ‏ وَ لَوْ بِسَفْكِ الْمُهَجِ وَ خَوْضِ اللُّجَجِ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى أَوْحَى إِلَى دَانِيَالَ أَنَّ أَمْقَتَ عَبِيدِي إِلَيَّ الْجَاهِلُ الْمُسْتَخِفُّ بِحَقِّ أَهْلِ الْعِلْمِ التَّارِكُ لِلِاقْتِدَاءِ بِهِمْ وَ أَنَّ أَحَبَّ عَبِيدِي إِلَيَّ التَّقِيُّ الطَّالِبُ لِلثَّوَابِ الْجَزِيلِ اللَّازِمُ لِلْعُلَمَاءِ التَّابِعُ لِلْحُلَمَاءِ الْقَابِلُ عَنِ الْحُكَمَاء''.

’’اگر لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ علم حاصل کرنے میں کیا فائدہ ہے تو اسے ضرور حاصل کریں گے خواہ خون جگر کیوں نہ پینا پڑے اور بھنور سے کیوں نہ گزرنا پڑے، خداوندعالم نے دانیالؑ پیغمبر پر وحی نازل کی اور فرمایا: میرے بندوں میں میرا سب سے بڑا دشمن وہ نادان بندہ ہے جو اہلِ علم کے حق کی پرواہ نہیں کرتا اور ان کی پیروی نہیں کرتا اور میرے بندوں میں میرا سب سے زیادہ محبوب اور پرہیزگار بندہ وہ ہے جو کثیر ثواب کی تمنا رکھتا ہے، عالموں کا خادم، بردباروں کا پیروکار اور حکمت شعاروں کی تواضع کرنے والا ہوتا ہے۔‘‘

✍ سید سجاد حسین ہمدانی

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ شکریہ

📚 کافی، ج1، باب ثواب العلم والتعلیم، حدیث5.

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🔷 آٹھ مسائل 🔷

ایک روز شیخ شفیق بلخیؒ نے اپنے شاگرد حاتمؒ سے پوچھا.. "حاتم! تم کتنے دنوں سے میرے ساتھ ہو..؟"

حاتم نے کہا.. "بتیس برس سے.."

شیخ نے پوچھا.. "بتاؤ اتنے طویل عرصے میں تم نے مجھ سے کیا سیکھا..؟"

حاتم نے کہا.. "صرف آٹھ مسئلے.."

شیخ نے کہا.. "انا للہ وانا الیہ راجعون.. میرے اوقات تیرے اوپر ضائع چلے گئے.. تُو نے صرف آٹھ مسئلےسیکھے..؟"

حاتم نے کہا.. "استادِ محترم! زیادہ نہیں سیکھ سکا اور جھوٹ بھی نہیں بول سکتا.."

شیخ نے کہا.. "اچھا بتاؤ کیا سیکھا ہے..؟"

حاتمؒ نے کہا.. "میں نے مخلوق کو دیکھا تو معلوم ہوا ہر ایک کا محبوب ہوتا ہے قبر میں جانے تک.. جب بندہ قبر میں پہنچ جاتا ہے تو اپنے محبوب سے جدا ہو جاتا ہے.. اس لیے میں نے اپنا محبوب "نیکیوں" کو بنا لیا ہے کہ جب میں قبر میں جاؤں گا تو یہ میرا محبوب میرے ساتھ قبر میں رہے گا..

2: لوگوں کو دیکھا کہ کسی کے پاس قیمتی چیز ہے تو اسے سنبھال کر رکھتا ہے اور اس کی حفاظت کرتا ہے.. پھر فرمانِ الہی پڑھا..

"جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ خرچ ہو جانے والا ہے.. جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہی باقی رہنے والا ہے.."
(سورۃ النحل آیت 96)

تو جو چیز مجھے قیمتی ہاتھ آئی اسے اللہ کی طرف پھیر دیا تا کہ اس کے پاس محفوظ ہو جائے جو کبھی ضائع نہ ہو..

3: میں نے خدا کے فرمان پر غور کیا..
"اور جس نے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف کیا اور نفس کو بُری خواہشات سے باز رکھا' جنت اسی کا ٹھکانہ ہو گا.."
(سورۃ النازعات آیت 40)

تو اپنے نفس کو بُرائیوں سے لگام دی.. خواہشاتِ نفسانی سے بچنے کی محنت کی , یہاں تک کہ میرا نفس اطاعتِ الٰہی پر جم گیا..

4: لوگوں کو دیکھا ہر ایک کا رجحان دنیاوی مال، حسب نسب، دنیاوی جاہ و منصب میں پایا.. ان امور میں غور کرنے سے یہ چیزیں ہیچ دکھائی دیں.. اُدھر فرمان الٰہی دیکھا..

"درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیزگار ہے.."
(سورۃ الحجرات آیت 13)

تو میں نے تقوٰی اختیار کیا تاکہ اللہ کے ہاں عزت پاؤں..

5: لوگوں میں یہ بھی دیکھا کہ آپس میں گمانِ بد رکھتے ہیں، ایک دوسرے کو بُرا کہتے ہیں.. دوسری طرف اللہ کا فرمان دیکھا..

"دنیا کی زندگی میں ان کی بسر اوقات کی ذرائع تو ہم نے ان کے درمیان تقسیم کیے ہیں.."
(سورۃ الزخرف آیت 32)

اس لیے میں حسد کو چھوڑ کر خلق سے کنارہ کر لیا اور یقین ہوا کہ قسمت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے.. خلق کی عداوت سے باز آگیا..

6: لوگوں کو دیکھا کہ ایک دوسرے سے سرکشی اور کشت و خون کرتے ہیں.. اللہ کی طرف رجوع کیا تو فرمایا..

"درحقیقت شیطان تمہارا دشمن ہے اس لیے تم بھی اسے اپنا دشمن سمجھو۔"
(سورۃ فاطر آیت 6)

اس بنا پر میں نے صرف اس اکیلے شیطان کو اپنا دشمن ٹھہرا لیا اور اس بات کی کوشش کی کہ اس سے بچتا رہوں..

7: لوگوں کو دیکھا پارہ نان (روٹی کے ٹکرے) پر اپنے نفس کو ذلیل کر رہے ہیں، ناجائز امور میں قدم رکھتے ہیں.. میں نے ارشادِ باری تعالٰی دیکھا..

"زمین پر چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو.."
(سورۃ ہود آیت6)

پھر میں ان باتوں میں مشغول ہوا جو اللہ کے حقوق میرے ذمے ہیں.. اس رزق کی طلب ترک کی جو اللہ کے ذمے ہے..

8: میں نے خلق کو دیکھا، ہر ایک کسی عارضی چیز پر بھروسہ کرتا ہے.. کوئی زمین پر بھروسہ کرتا ہے، کوئی اپنی تجارت پر، کوئی اپنے پیشے پر، کوئی بدن پر، کوئی ذہنی اور علمی صلاحیتوں پر بھروسہ کیے ہوئے ہے.. میں نے خدا کی طرف رجوع کیا.. یہ ارشاد دیکھا..

"جو اللہ پر بھروسہ کرے اس کے لیے وہ کافی ہے.."
(سورۃ طلاق آیت3)

تو میں نے اپنےخدا پر توکل کیا.. وہی مجھے کافی ہے.."

شیخ بلخیؒ نے فرمایا..
"اے میرے پیارے شاگرد حاتم! خدا تمہیں ان کی توفیق نصیب کرے.. میں نے قرآن کے علوم پر مطالعہ کیا تو ان سب کی اصل جڑ انہی آٹھ مسائل کو پایا.. ان پر عمل کرنے والا گویا چاروں آسمانی کتابوں کا عامل ہوا.."

📚الاحیاء العلوم.. امام غزالیؒ

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
💎 سچ کا انعام 💎

بہت پرانے زمانے میں ایک بادشاہ تھا، اس کا کوئی بیٹا نہ تھا۔ جب وہ بوڑھا ہو گیا تو اسے فکر ہوئی کہ اس کے مرنے کے بعد تخت و تاج کا وارث کون ہو گا؟
لہذا ایک دن اس نے اپنے ملک میں اعلان کرایا کہ وہ ایک بچے کو گود لینا چاہتا ہے جو بعد میں اس کے تخت و تاج کا وارث ہو گا۔

بچے کے انتخاب کے لیے یہ طریقہ بتایا گیا کہ تمام ملک میں سے کچھ بچے منتخب کئے جائیں گے، ہر بچے کو بیج دیا جائے گا۔ جس بچے کے بوئے ہوئے پودے پر سب سے خوبصورت پھول کھلے گا وہ بادشاہ کا وارث بنا دیا جائیگا۔

سونگ چن نامی ایک لڑکا تھا، اس نے بھی بادشاہ سے ایک بیج لیا اور اپنے گھر آکر ایک گملے میں بو دیا۔

تفصیل سے پڑھئے۔۔۔
وہ ہر روز اسے پانی دیا کر تا تھا، اسے امید تھی اس کے پودے پر سب سے زیادہ خوبصور ت پھول کھلے گا۔ دن گزرتے گئے مگر گملے میں سے کچھ بھی نہ نکلا۔
سو نگ چن کو بڑی فکر تھی۔ اس نے ایک اور گملا خریدا اور دور سے جاکر مٹی لایا اور اس بیج کو دوبارہ احتیاط سے لگایا مگر دو مہینے گزر جانے پر بھی گملے میں سے کوئی پودا نہ نکلا۔

پلک جھپکتے میں پھولوں کی نمائش کا دن آ پہنچا۔ سارے ملک کے بچے شاہی محل میں جمع ہوئے۔ ہر ایک اپنے ہاتھوں میں ایک گملا لیے ہوئے تھا۔ گملوں میں رنگ برنگے پھول کھلے ہوئے تھے۔ وہ واقعی بڑے خوبصورت تھے۔

بادشاہ پھول دیکھنے بچوں کے پاس آیا۔ وہ ہر ایک خوبصورت پھول کو دیکھتا رہا مگر اسے کوئی پسند نہیں آرہا تھا۔ چلتے چلتے اچانک اس کی نظر سونگ چن پر پڑی جو ایک خالی گملا لیے سر جھکائے کھڑا تھا۔ بادشاہ سونگ چن کے پاس جاکر رک گیا اور اس سے پو چھا: ”بیٹے! تم خالی گملا لیے کیو ں کھڑے ہو؟“
سونگ چن نے روتے ہوئے کہا:
”میں نے بیج گملے میں ڈالا تھا اور روزانہ پانی بھی دیتا تھا مگر اس سے اب تک کوئی پودا نہیں اگا، اس لیے خالی گملا لیے کھڑا ہو ں۔“
سونگ چن کی بات سن کر بادشاہ ہنس پڑا اور بولا:
تم ایک سچے لڑکے ہو، مجھے اپنے تخت و تاج کے لیے تم جیسے سچے لڑکے کی تلاش تھی، تم ہی اس ملک کے بادشاہ ہو گے۔ کیونکہ میں نے سب بچوں کو جو بیج دیئے تھے وہ ابلے ہوئے تھے۔ خراب ہو چکے تھے اسلیے ان سے پودے کا اگنا ممکن ہی نہیں تھا۔
دوسرے بچے اس لیے خوبصورت پھول کھلانے میں کامیاب ہو گئے تھے کہ انہوں نے اس خراب کی جگہ اچھے بیج بوئے تھے مگر سونگ چن نے یہ غلط حرکت نہیں کی تھی اور جھو ٹ سے کام نہیں لیا تھا لہذا اسے سچائی کا انعام مل گیا.

سچ ہے کہ سچائی کا انعام دنیا و آخرت میں مل جاتا ہے. آپ بھی کبھی جھوٹ سے کام نہ لیں.

📚منبع؛ نوائے افتخار۔

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵