ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.61K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
ظا

ھر ھوگا اور اس طرح گناھگاروں کا استغفار بھی اس دنیا میں ایک طرح کی شفاعت ھے اور دوسرے لوگوں کیلئے دعا کرنا اور ان کے لئے خدا سے حاجتیں پوری کرانا بھی "شفاعت عند اللہ" کے موارد میں سے ھے کیونکہ یہ سب خدا کے پاس دوسرے لوگوں کو خیر پہنچانے اور ان سے شر کو دور کرنے کے موارد میں سے ھیں۔[2][3]

📚حوالہ جات:
[1] تفسیر نمونہ، ج ۱، ص۲۴۶ ، ۲۲۳۔
[2] آموزش عقاید، مصباح یزدی، ص ۴۸۲ و ۴۸۳۔
[3] مزید معلومات حاصل کرنے کیلئے رجوع کریں ، تفسیر نمونہ، ج۲، ص ۲۶۷، اور ترجمہ تفسیر المیزان، ج ۱، ص۳۷۷، ۲۳۹۔ عنوان: قیامت مین شفاعت کا مقام۔

Copied

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🔷 ماں کی خدمت 🔷

ایک چھوٹا سا بورڈ ریڑھی کی چھت سے لٹک رہا تھا، اس پر موٹے مارکر سے لکھا ہوا تھا۔۔

''گھر میں کوئی نہیں ھے، میری بوڑھی ماں فالج زدہ ہے، مجھے تھوڑی تھوڑی دیر بعد انہیں کھانا کھلانا اور اتنی ہی مرتبه حاجت کرانی پڑتی ہے، اگر آپ کو جلدی ھے تو اپنی مرضی سے فروٹ تول لیں اور پیسے کونے پر ریگزین کے گتے کے نیچے رکھ دیجیے. ساتھ ھی ریٹ بھی لکھے ھوئے هیں۔

اور اگر آپ کے پاس پیسے نه ھوں، تو میری طرف سے لے لینا, اجازت ہے!
وللہ خیرالرازقین!

ادھر اُدھر دیکھا، پاس پڑے ترازو میں دو کلو سیب تولے، درجن کیلے لیے، شاپر میں ڈالے، پرائس لسٹ سے قیمت دیکھی، پیسے نکال کر ریڑھی کے پھٹے کے گتے والے کونے کو اٹھایا، وہاں سو پچاس دس دس کے نوٹ پڑے تھی، میں نے پیسے اسی میں رکھ کر اسے ڈھک دیا، ادھر اُدھر دیکھا کہ شاید کوئی میری طرف متوجہ ہو، اور شاپر اٹھا کر واپس فلیٹ پر آگیا۔

افطار کے بعد میں اور بھائی ادھر گئے. دیکھا اک باریش آدمی، داڑھی آدھی کالی آدھی سفید، ہلکے کریم کلر کرتے شلوار میں ریڑھی کو دھکا لگا کر بس جانے ہی والا تھا وه ھمیں دیکھکر مسکرایا اور بولا:
"صاحب! پھل تو ختم ہوگیا۔۔۔۔"

نام پوچھا تو بولا؛ خادم حسین

پھر ہم تھوڑی دیر میں اس کو لے کر سامنے ڈھابے پہ بیٹھے تھے.
چائے آئی، وہ اپنی کہانی سناتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
"پچھلے تین سال سے اماں بستر پر ھے، کچھ نفسیاتی سی بھی ہوگئی ہے، اور اب تو فالج بھی ہوگیا ہے، میرا کوئی بال بچہ نہیں، بیوی مر گئی ہے، صرف میں ھوں اور میری اماں. اماں کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نهیں اس لئے مجھے ھروقت اماں کا خیال رکھنا پڑتا ھے"

اک دن میں نے اماں کے پاؤں دباتے ھوۓ بڑی نرمی لجالت سے کہا۔۔
"اماں! تیری تیمار داری کو تو بڑا جی کرتا ہے. پر جیب میں کچھ نھیں تو مجھے کمرے سے ہلنے نہیں دیتی، کہتی ہے تو جاتا ہے تو جی گھبراتا ہے، تو ہی بتا میں کیا کروں؟"

اب کیا غیب سے کھانا اترے گا ؟ نہ میں بنی اسرائیل کا جنا ہوں نہ تو موسیٰ کی ماں ہے، کیا کروں! یه سن کر اماں نے ہانپتے کانپتے اٹھنے کی کوشش کی, میں نے تکیہ اونچا کر کے اسکو بٹھایا، ٹیک لگوائی، انھوں نے جھریوں والا چہره اٹھایا اپنے کمزور ہاتھوں کا پیالا بنایا، اور نه جانے رب العالمین سے کیا بات کی،
پهر بولی۔۔
"تو ریڑھی وہی چھوڑ آیا کر، تیرا رزق تجھے اسی کمرے میں بیٹھ کر ملے گا"

میں نے کہا۔۔۔
"اماں کیا بات کرتی ھے, وہاں چھوڑ آؤں گا تو کوئی چور اچکا سب کچھ لے جاۓ گا، آجکل کون لحاظ کرتا ھے؟ بنا مالک کے کون خریدار آئے گا؟"

کہنے لگی۔۔
"تو فجر کو ریڑھی پھلوں سے بھر کر چھوڑ کر آجا بس، زیادہ بک بک نیئں کر، شام کو خالی لے آیا کر، اگر تیرا روپیہ گیا تو یه خالدہ ثریا الله سے پائی پائی وصول دیگی".

"ڈھائی سال ہوگئے ہیں بھائی! صبح ریڑھی لگا جاتا ہوں. شام کو لے جاتا ہوں، لوگ پیسے رکھ جاتے، پھل لے جاتے، دھیلا اوپر نیچے نہیں ہوتا، بلکہ کچھ تو زیادہ رکھ جاتے، اکثر تخمینہ نفع لاگت سے تین چار سو اوپر ہی جا نکلتا ھے، کبھی کوئی اماں کے لیے پھول رکھ جاتا ہے، کبھی کوئی اور چیز! پرسوں ایک پڑھی لکھی بچی پلاؤ بنا کر رکھ گئی، نوٹ لکھکر رکھ گئی "اماں کے لیے"،
اک ڈاکٹر کا گزر ہوا، وہ اپنا کارڈ چھوڑ گیا. پشت پہ لکھ گیا. "انکل! اماں کی طبیعت نہ سنبھلے تو مجھے فون کرنا، میں گھر سے پک کر لوں گا"
کسی حاجی صاحب کا گزر ہوا تو عجوہ کجھور کا پیکٹ چھوڑ گیا،
کوئی جوڑا شاپنگ کرکے گزرا تو فروٹ لیتے ہوئے اماں کے لیے سوٹ رکھ گیا،
روزانہ ایسا کچھ نہ کچھ میرے رزق کے ساتھ موجود ہوتا ہے، نہ اماں ہلنے دیتی ہے نہ اللہ رکنے دیتا ہے.

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🌸 کھانا کھانے کی ابتداء و اختتام 🌸

■آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت علی علیہ السلام کو وصیت کرتے ھوئے فرماتے ہیں:

اے علی! کھانے کی ابتدا بھی نمک سے کرو اور اختتام بھی نمک ، چونکہ نمک میں ستر بیماریوں کا علاج ہے ان میں سے کچھ یہ ہیں:

1- پاگل پن،
2- جزام (کوڑھ)،
3- برص یعنی جلد پر سفید داغ بن جانا، بلکہ بعض کے تو بال اور پوری جلد بھی سفید ھوجاتی ہے،
4- گلے میں درد،
5۔ دانتوں میں درد،
اور
6- پیٹ میں درد،

■امام جعفرصادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
جو چاھتا ہے کہ اس کے منہ پر سے کیل اور دانے ختم ھو جائیں اسے چاہیئے کہ کھانا کھاتے وقت پہلے لقمہ پر تھوڑا سا نمک چھڑک لے.

■امام رضاعلیہ السلام نے اپنے اصحاب سے پوچھا:
بتاؤ بھترین ہانڈی (سالن) کیا ہے؟

تو ایک نے کہا: گوشت.
دوسرے نے کہا: گھی.
تیسرے نے کہا زیتون کاتیل،
یہاں تک آپ نے خود فرمایا: نہیں، بہترین غذا نمک ہے۔

راوی کہتا ہے ایک دفعہ ھم مولا رضا علیہ السلام کے ساتھ سیر کے لئے باہر نکلے، چنانچہ آپ کا خادم نمک لے جانا بھول گیا تو ھم سب بغیر کچھ کھائے واپس آگئے. یعنی حضرت اس قدر پابند تھے کے نمک سے ابتدا اور اختتام فرماتے تھے. چونکہ اس سفر میں نمک ھمراہ نہیں تھا لھذا آپ نے واپس آکر کھانا تناول فرمایا.

■آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک حدیث میں فرماتے ہیں:
جو کوئی بھی کچھ کھانے سے پہلے اور آخر میں تھوڑا سا نمک کھا لیتا ہے تو خداوندعالم اس سے 330 بلاؤں کو دور فرما دیتا ہے. جن میں سے کمترین جذام ہے.

📚مکارم الاخلاق، ص355۔

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🌹 عید میلاد حضرت زینبؑ 🌹

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی ولادت باسعادت 5 جمادی الاوّل پنجم یا ششم ہجری مدینہ میں ہوئی، بعض مؤرخین نے اور اقوال بھی لکھے ہیں. (۱) آپ کی ولادت باسعادت یکم شعبان المعظم بھی ذکر ہوئی ہے۔

🔷آپ کے القابات بہت زیادہ ہیں، ان میں سے بعض یہ ہیں:
عقیلہ بنی ہاشم، عقیلۃالطالبین اور صدیقہ صغریٰ (اس میں اشارہ ہے کہ آپ کے والد گرامی صدیق اکبر، اور والدہ گرامی صدیقہ کبریٰ ہے)، عصمت صغریٰ، ولیة اللہ، الراضیة بالقدر و القضاء، صابرة البلوی من غیر جزع و لا شکوی، امینة اللہ، عالمة غیر معلمة، فھمة غیر مفھمة، محبوبة المصطفی، ثانیةالزهراء.

🔷آپ کی کنیت ام کلثوم، ام عبداللہ، ام الحسن ہے.
لیکن کنیت خاص ام المصائب ہے.
آپ کے شوہر کا نام حضرت عبداللہ بن جعفر بن ابی طالبؑ هے.

🔷آپ کے چار بیٹے، عون، محمد، علی، عباس ہیں کہ ان میں سے عون، محمد کربلا میں شہید ہوئے اور آپ کی ایک بیٹی جناب ام کلثوم ہیں.

🔷آپ کا نام اللہ تعالیٰ نے رکھا، جس وقت آپ کی ولادت ہوئی تو پیغمبر خدا (ص) سفر پر گئے ہوئے تھے، جناب امیرالمؤمنین نے فرمایا:
میں اپنی بیٹی کے نام رکھنے میں پیغمبر خدا (ص) سے پہل نہیں کروں گا یہاں تک کہ پیغمبر خدا (ص) واپس تشریف لائے تو بتایا گیا کہ اللہ نے آپ کو نواسی عطا فرمائی ہے.
آنحضرت (ص) نے فرمایا کہ:
میں اللہ سے پہل نہیں کروں گا پس حضرت جبرائیل نازل ہوئے اور عرض کی کہ خدا نے آپ کو سلام کہا ہے اور فرمایا ہے کہ اس بیٹی کا نام زینب رکھیں، کیونکہ اس نام کو ہم نے لوح ِمحفوظ میں لکھا ہے۔
اس کے بعد پیغمبر خدا (ص) نے جناب زینب۳ کو اپنے پاس منگوایا اور وصیت فرمائی کہ حاضرین اور غائبین، میری خاطر، میری نواسی کا احترام کریں، کیونکہ یہ جناب خدیجہ الکبری سلام اللہٰ علیہا کی طرح ہے۔
آپ (ص) نے فرمایا: حضرت زنیب سلام الله علیہا کا سکینہ و وقار، جناب خدیجہ، اورعصمت و حیا جناب زہراء اور فصاحت و بلاغت جناب علی مرتضی اور حلم اپنے بھائی حسن مجتبیٰ علیہ السلام اور شجاعت اور دل کی قوت میں اپنے بھائی امام حسین علیہ السلام کی طرح ہے. (۲)

📚حوالہ جات
1 ۔ عقیلہ بنی ہاشم ، ص 5 ،زنیب کبریٰ ، ص 17 ، و فیات الائمہ ، ص 431 ،مستدرک سیفنۃ البحار ، ج 4 ،ص 316 ، ج5 ،ص 208
۲۔ ریاحین الشریعہ ،ج3 ،ص 38.

👈 مزید تفصیل کے لیے۔۔۔
https://www.facebook.com/100062214292056/posts/122007136549762/
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🔷 حق کو باطل کیساتھ نہ ملاؤ 🔷

اگر کوئی چیز آپ کو مل تو جائے، مگر اللہ کے نزدیک اس کا حق دار کوئی اور ہو، تو کیا اسے اپنا سمجھ لینا اسے واقعی آپ کا بنا دیتا ہے؟

تصور کیجیے، کسی مجلس میں ایک شخص کو ایسا موقع ملتا ہے جس سے وہ اپنے لیے فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔ کوئی دیکھنے والا نہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں، اور بظاہر اسے روکنے والی بھی کوئی چیز نہیں۔

وہ ایک لمحے کے لیے ٹھہرتا ہے۔ پھر سوچتا ہے: *کیا میرے لیے ممکن ہونا، میرے لیے جائز ہونے کے برابر بھی ہے؟

یہی وہ لمحہ ہے جہاں انسان کی اصل تربیت سامنے آتی ہے۔ کیونکہ ہر وہ راستہ جو کھلا ہو، درست نہیں ہوتا؛ اور ہر وہ چیز جو حاصل کی جا سکتی ہو، ضروری نہیں کہ اس پر ہمارا حق بھی ہو۔

جب انسان اس فرق کو سمجھ لیتا ہے تو اس کی ذات میں دیانت، اس کے گھر میں اعتماد اور معاشرے میں انصاف کی بنیاد مضبوط ہونے لگتی ہے۔

وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ¤ (سورۃ البقرہ، آیت 42)

ترجمہ:
اور حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط نہ کرو اور جانتے بوجھتے حق کو نہ چھپاؤ۔

غلطی ہمیشہ کھلے جھوٹ کی صورت میں نہیں آتی۔ کبھی انسان سچ کا صرف وہ حصہ بیان کرتا ہے جو اس کے فائدے میں ہو، اور وہ حقیقت چھپا لیتا ہے جو اس کی ذمہ داری واضح کر دے۔

قرآن انسان کو صرف جھوٹ سے نہیں روکتا، بلکہ حق کو اس کی اصل صورت میں تسلیم کرنے اور بیان کرنے کی تربیت بھی دیتا ہے۔

حق وہ نہیں جو ہمارے مفاد کو درست ثابت کر دے؛ حق وہ ہے جس کے سامنے ہمارا مفاد بھی جواب دہ ہو۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
«إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ» (صحیح البخاری، حدیث 1؛ صحیح مسلم، حدیث 1907)
ترجمہ
اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔

فکری رہنمائی
نیت عمل کی اخلاقی بنیاد ہے، لیکن اچھی نیت کسی ناجائز طریقے کو خود بخود جائز نہیں بنا دیتی۔ درست مقصد کے لیے بھی درست راستہ اختیار کرنا ضروری ہے۔

اپنے آپ سے پوچھیے: کیا میں واقعی درست کام کر رہا ہوں، یا صرف اپنے عمل کے لیے کوئی قابلِ قبول جواز تلاش کر رہا ہوں؟

امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
«الْحَقُّ أَوْسَعُ الْأَشْيَاءِ فِي التَّوَاصُفِ، وَأَضْيَقُهَا فِي التَّنَاصُفِ» (نہج البلاغہ، خطبہ 216)

ترجمہ
حق بیان کرنے میں سب سے وسیع چیز ہے، مگر باہمی انصاف کے ساتھ حق ادا کرنے میں سب سے تنگ محسوس ہوتا ہے۔

غور کیجیے
حق کی بات کرنا آسان ہے؛ اپنے مفاد کے خلاف بھی حق کو قبول کرنا اصل امتحان ہے۔ انسان دوسروں کے لیے انصاف چاہتا ہے، مگر اپنی باری پر رعایت تلاش کرنے لگے تو اسے اپنے معیار پر نظرثانی کرنی چاہیے۔

کردار کی بلندی وہاں شروع ہوتی ہے جہاں انسان اپنے لیے بھی وہی اصول قبول کرتا ہے جو دوسروں کے لیے درست سمجھتا ہے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 ہاروت و ماروت 🔷

دوفرشتوں ہاروت اورماروت کواللہ تعالی ٰ نے زمین پرانسان بناکربھیجا۔اوران فرشتوں کاذکرسورۃ بقرۃ میں بھی آیاہے ۔اللہ تعالی ٰ نے آسمانی دنیاکے پردے ہٹادئیے اورفرشتوں نے زمین پردیکھا۔فرشتے کیادیکھتے ہیں کہ اہل زمین گناہوں میں مبتلاہیں ان میں شراب نوشی ہے زناہے جھوٹ اورقتل وغارت گری ان میں عام ہے توفرشتوں نے یہ نظارہ دیکھ کراللہ تبارک وتعالیٰ سے شکایت کی کہ ان لوگوں کوتوزمین پرعبادت واطاعت کے لیے بھیجاگیاتھااوران کی حالت یہ ہے کہ یہ گناہوں میں مبتلا ہیں اورآپ ان کی پکڑ بھی نہیں کرتےفرشتو ں کوانسانوں کے اعمال سے بیزاری ہوئی اورانہوں نے انسانوں کے حق میں بدعاکی۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایاکہ میری ذات اہل زمین سے پردے میں ہےاس لیے ان پرمیراخوف کم ہے اورچونکہ تم ہروقت میرے پاس رہتے ہواس لیے تم پرجس درجے کی ہیبت ،خوف اورخشیت طاری ہے اس درجے کی انسانوں پرنہیں ہے۔لہٰذااس لیے انسانوں سے گناہ ہوجا تے ہیں ۔ملائکہ کواس بات پراطمینان نہ ہواتواللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایاکہ ٹھیک ہے توفرشتوں میں سے پارسافرشتوں کوچن لومیں ان زمین پربھیجوں گاتودیکھوں گاکہ جب وہ میرے حجاب میں جائیں گے توان کے اعمال کیاہوں گے۔احادیث میں روایت ہے کہ ملائکہ نے تین فرشتے پیش کیے ان کواللہ تعالی ٰ نے فرمایاکہ تم نے 4کام زمین پرنہیں کرنے،ایک شراب نہیں پینا،دوسرازنانہیں کرنا،تیسراقتل نہیں کرنااورچوتھابتوں کوسجدہ نہیں کرنایہ چارشرائط ان پرلگائیںاوران کوزمین پراتارناچاہاتوایک فرشتے نے کہاکہ یہ مجھ سے نہیں ہوگامیں تونہیں جاتا۔وہ ہٹ گیااورہاروت اورماروت یہ دوفرشتے تیارہوگئےیہ دونوں فرشتے ملائکہ میں بھی سب سے زیادہ عابداورزاہدفرشتے تھے۔اللہ تعالی ٰ نے ان کوزمین پراتاردیا۔حضرت علی ع سے روایت ہے کہ وہ حضرت ادریس ؑ کازمانہ تھایہ فرشتے زمین پرآگئے ان میں اللہ تعالیٰ نے نفسانی خواہشات پیداکردیںاوران کولوگوں کے فیصلوں کے لیے مقررکردیالوگ ان کے پاس اپنے مسائل کے حل کے لیے آتے تھےایک طویل زمانہ اس میں گزرگیایہاں تک کہ ایک دن ایک خاتون آئی وہ بہت حسین وجمیل تھی ،حضرت علی ع فرماتے ہیں کہ اس کے حسن وجمال کایہ عالم تھاکہ جیساکہ زہرہ ستارہ تمام ستارو ں میں سب سے زیادہ خوبصورت ستارہ ہےوہ آئی اوراس نے اپنامسئلہ بیان کیاتوان فرشتوں میں اللہ تعالی ٰ نے جوشہوات ،نفسانی خواہشات رکھی تھیں ا س حسین وجمیل عورت کودیکھتے ہیں بھڑ ک اٹھیں اورخاتون کوبرائی کی دعوت دی اوراسے کہاکہ تم اپنابدن ہمیںپیش کروتواس خاتون نے کہاکہ میری ایک شرط ہے میرے پاس ایک بت ہے تم پہلے اس بت کوسجدہ کرو۔تم جب تم میرے دین کے ہمنواہوجائوگے تومیں تمہاری بات پوری کردوں گی انہوں نے کہاکہ ہماری توبہ یہ شرک ہم سے نہیں ہوگا۔وہ خاتون اتنی بات کہہ کرچلی گئی توایک طویل عرصہ جتنااللہ تعالیٰ کومنظورتھاخاموشی رہی اورا س کے بعدخاتون پھرآئی انہوں نے پھروہی بات کہی توخاتون نے کہاکہ میری ایک شرط ہےتم میرے شوہرکوقتل کروتومیں تمہاری خواہش پوری کروں گی۔توانہوں نے کہاکہ قتل توگناہ کبیرہ ہے یہ تونہیں ہوسکتا۔تواس خاتون نے کہاکہ اچھامیرےپاس شراب ہے تم لوگ شراب پی لو۔توانہوں نے آپس میں مشورہ کیاکہ شراب توچھوٹی چیز ہے شراب پی لیتے ہیں اس سے کچھ نہیں ہوگا۔ایک روایت میں آتاہے کہ یہ فرشتے اس کے گھرمیں پہنچ گئے۔وہاں جاکرانہوں نے شراب پی اورجب شراب پی تووہ مدہوش ہوگئے اوراسی دوران انہوں نے اس عورت سے صحبت بھی کی اوراس کوشوہرکواس ڈرسے قتل کردیاکہ کہیں اس کاشوہرمنہ نہ کھول دے اورلوگوں کومطلع نہ کردےاوراس بت کوسجدہ بھی کیا۔اللہ تعالی ٰ نے آسمان کے پردے کھول دئیے اورسارے ملائکہ یہ نظارہ دیکھ رہے تھےتووہ بڑے ششدررہ گئے اورکہاکہ یہ کیاہوگیاتوسارے فرشتے استغفارکرنے لگے اورکہاکہ یہ توخواہشات کانتیجہ ہے اورجب کوئی حجاب میں چلاجائے توایساہوتاہے۔ تواس خاتون نے ان فرشتوں سے کہاکہ تم لوگ جوآسمانوں پرآتے جاتے ہویہ کس وجہ سے جاتے ہوکیاچیز تمہارے پا س ہےتوانہوں نے کہاکہ ہمارے پاس اسم اعظم ہے تواس عورت نے کہاکہ مجھے بھی اسم اعظم دواورمجھے بھی آسمانوں پرلے چلو،فرشتے اس خاتون کوبھی ساتھ لے کرچلے گئےجب آسمان پر پہنچے توزہرہ کوتواچک لیاگیااوران فرشتوں کے پرکاٹ کرانہیں زمین پرپھینک دیاگیا۔ایک عرصے تک یہ پھرتے رہے اورانہیں پتاچلاایک نبی ہے جوجمعے کے جمعے دعاکرتے ہیں وہ قبو ل ہوتی ہےانہو ں نے سوچاکہ اس نبی کے پاس جاکرہم دعاکراتے ہیں شایدہماری توبہ قبول ہوجائےتوجب یہ نبی کے پاس پہنچے توانہوں نے کہاکہ اللہ تعالی ٰ کی طرف سے تمہیں دواختیاردئیے گئے ہیں کہ تم لوگ دنیاکاعذاب برداشت کرویاآخرت کا۔توانہوں نے آپس میں مشورہ کیااورکہاکہ دنیاتوفانی ہے ہم دنیاکاعذاب برداشت کرلیں گے ۔ایک روایت میں آتاہے کہ بابل کاعلاقہ جوکہ عراق میں ہےوہاں ایک کنوئیں کے اندرانہیں الٹالٹکادیاگیا۔

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🔷 حضرت خضر علیه السلام 🔷

حضرت خضر علیہ السلام کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سام بن نوح علیہ السلام کی نسل سے تھے کچھ کے مطابق آپ حضرت موسی علیہ السلامٰ سے کم و بیش 400 سال بڑے تھے کچھ کے نزدیک آپ کا نام ابو العباس بلیا بن ملکان جبکہ بعض کے مطابق آپ کا اصلى نام تالیا بن ملکان ہے
قرآن کریم میں واضح طور پر حضرت خضر کا نام نہیں لیا گیا بلکہ انہیں عبداً من عبادنا آتیناه رحمۃ من عندنا و علمناه من الدنیا علماً کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے جو ان کے مقام عبودیت اور خاص علم و دانش کو بیان کرتا ہے اور انہیں حضرت موسىٰ علیہ السلام کے معلم کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے قرآن کریم میں سورہ مبارک کہف میں واقعہ قدرے تفصیل سے بیان فرمایا گیا ہے
متعدد روایات میں آپ کو خضر کے نام سے یاد کیا گیا ہے بعض روایات اور بظاهر بعض قرآنى آیات کى تعبیرات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام مقامِ نبوت کے مالک تھے اور مرسل پیغمبروں میں سے تھے اللّٰہ نے انہیں ان کى قوم کى طرف مبعوث کیا تھا تاکہ انھیں توحید اور نبوت کے اقرار کرنے اور آسمانى کتابوں کى طرف دعوت دیں آپ کا معجزه یہ تھا کہ جب بھى اراده فرماتے اذن الهىٰ سے ایک خشک لکڑى یا خشک زمین سرسبز و شاداب هوجاتی اسى لحاظ سے آپ کو خضر کہا جاتا ہے کیونکہ عربی میں سبز رنگ کو خضر کہا جاتا ہے اسی لفظ سے گنبدِ خضراء ہے
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ حیات ہیں اور اصحابِ حضرت حجت عج میں سے ہیں بھٹکے ہوئے لوگوں کی رہنمائی بھی کرتے ہیں
کچھ لوگوں نے بعض افسانوی باتیں بھی منسوب کی ہیں کہ آپ نے آبِ حیات نوش کیا ہوا ہے اسی طرح یہ بھی مشہور ہے کہ کھوجی وہی بنتا ہے جس کا پاؤں حضرت خضر کے نقشِ پا پر آجائے وغیرہ وغیرہ۔
علماء اور صاحبان فکر و نظر بہتر اصلاح فرما سکتے ہیں

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🔷 حضرت عزیر علیہ السلام 🔷

حضرت عزیر علیہ السلام بنی اسرائیل کے جلیل القدر پیغمبروں میں سے ایک پیغمبر ہیں، آپ حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ کا زمانہ بنی اسرائیل کی قیدِ بابل سے رہائی کے بعد کا 457 قبل مسیح کا زمانہ ہے۔ آپ نہ صرف کاہن (روحانی علوم کے ماهر) ہی نہیں تھے بلکہ شریعت موسوی کے عالم بھی تھے اور ایک ماہر کاتب ہونے کی وجہ سے لوگوں میں بڑی قدرومنزلت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔ آپ بڑے نیک دل اور خدا پرست تھے۔

آپ 458 تا 457 قبل مسیح میں ارتخششتا اول (کوروش) ، شاہ ایران( 465 تا 424 قبل مسیح) کے عہد حکومت میں یہودی قیدیوں کی رہائی پر اُن کے سربراہ کی حیثیت سے یروشلیم آئے۔ یہ بخت نصر کی قید سے رہائی پانے والے یہودیوں کا دوسرا گروہ تھا جو تقریبا 5000 افراد پر مشتمل تھا۔ آپ اسی گروہ کی قیادت پر مامور کیے گئے تھے۔ آپ کے یروشلیم پہنچنے پر ہیکل کی تعمیر کا کام باقاعدہ انجام پا چکا تھا لیکن ابھی تک اُسے مختلف مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے پوری طرح استعمال نہیں کیا جاتا تھا۔ آپ نے ہیکل میں نہ صرف باقاعدہ عبادت کی ترویج کی بلکہ دیگر مذہبی رسوم کو بھی پھر سے نافذ کرنے کی طرف توجہ فرمائی، مثلاً عید فسح اور عید فطیر بڑے جوش و خروش سے منائی جانے لگیں۔ آپ کو اپنی قوم کی بعض مشرکانہ حرکات پر سخت ملال ہوا لیکن آپ نے بڑی ہمت اور بردباری سے کام لے کر انہیں شریعت خداوندی کی پوری طرح پیروی کی ترغیب دلائی۔ آپ نے یروشلیم شہر میں بہت سے تعمیری کام کروائے لیکن جس عظیم کارنامے کے باعث آپ تاریخ یہود میں آج تک یاد کیے جاتے ہیں وہ یروشلیم کی فصیلوں کی مرمت اور اُنہیں پھر سے تعمیر کروانے کا کام تھا۔ اس کام میں دارا شہنشاہ ایران نے آپ کی بہت مدد کی لیکن آپ یروشلیم کی تعمیر نو کے کام کو خداوند خدا کی طرف سے تفویض کی ہوئی ذمہ داری سمجھ کر انجام دیتے رہے۔
تورات کی ایک کتاب ، "کتاب عزرا" بھی آپ کے نام سے ہی منسوب ہے۔

"سو سال کی نیند"

آپ ع ایک دفعہ ایک ایسی تباہ حال بستی کے قریب سے گزرے جہاں مکان تباہ هوچکے تھے اور هر طرف انسانوں اور جانوروں کی باقیات هڈیوں اور کھوپڑیوں کی صورت بکهری هوئی تهیں آپ ع نے اس جگہ کر دیکھ کر کہا کہ فیامت کے روز اللہ مجھے اور انہیں کیسے زندہ کرے گا۔اس وقت صبح کا وقت تھا آپ سو گۓ نیند کے دوران ہی اللہ پاک نے آپ کی روح قبض کر لی اور آپ اس حالت میں تقریباً 100 سال تک سوتے رہے پھر سو سال بعد اللہ نے آپ میں دوبارہ روح پھونک دی اور آپ جی اٹھے جب آپ دوبارہ زندہ ہوۓ تو اللہ نے آپ سے سوال کیا اے عزیر تم کتنی دیر تک سوۓ کیونکہ جب اپ کی روح قبض ہوئی تو صبح کا وقت تھا اور جب واپس پھونکی گئی تو عصر کا وقت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا نہیں عزیر تم پورے سو سال تک موت کی حالت میں رهے هو.. مگر دیکهو اپنے کهانے کو یہ اب بهی تازہ هے.. اور دیکهو اپنے گدهے کو...!!! آپ جس گدهے پر سفر کو نکلے تهے وہ ایک طرف بوسیدہ ڈهانچے کی صورت پڑا هوا تها.. پهر الله کے حکم سے اسکے منتشر اعضا دوبارہ اکهٹے هوئے اور وہ پهر سے زندہ هوگیا جیسے کبهی مرا هی نہیں تها.
قرآن میں یہ واقعہ ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے.

اَوۡ کَالَّذِیۡ مَرَّ عَلٰی قَرۡیَۃٍ وَّ ہِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوۡشِہَا ۚ قَالَ اَنّٰی یُحۡیٖ ہٰذِہِ اللّٰہُ بَعۡدَ مَوۡتِہَا ۚ فَاَمَاتَہُ اللّٰہُ مِائَۃَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَہٗ ؕ قَالَ کَمۡ لَبِثۡتَ ؕ قَالَ لَبِثۡتُ یَوۡمًا اَوۡ بَعۡضَ یَوۡمٍ ؕ قَالَ بَلۡ لَّبِثۡتَ مِائَۃَ عَامٍ فَانۡظُرۡ اِلٰی طَعَامِکَ وَ شَرَابِکَ لَمۡ یَتَسَنَّہۡ ۚ وَ انۡظُرۡ اِلٰی حِمَارِکَ وَ لِنَجۡعَلَکَ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ وَ انۡظُرۡ اِلَی الۡعِظَامِ کَیۡفَ نُنۡشِزُہَا ثُمَّ نَکۡسُوۡہَا لَحۡمًا ؕ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗ ۙ قَالَ اَعۡلَمُ اَنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ○
(سورہ البقرہ 259)

(ترجمہ)
یا نہ دیکھا تو نے اس شخص کو کہ گذرا وہ ایک شہر پر اور وہ گرا پڑا تھا اپنی چھتوں پر بولا کیونکر زندہ کرے گا اس کو اللہ مر گئے پیچھے پھر مردہ رکھا اس شخص کو اللہ نے سو برس پھر اٹھایا اس کو کہا تو کتنی دیر یہاں رہا بولا میں رہا ایک دن یا ایک دن سے کچھ کم کہا نہیں بلکہ تو رہا سو برس اب دیکھ اپنا کھانا اور پینا سڑ نہیں گیا اور دیکھ اپنے گدھے کو اور ہم نے تجھ کو نمونہ بنانا چاہا لوگوں کے واسطے اور دیکھ ہڈیوں کی طرف کہ ہم ان کو کس طرح ابھار کر جوڑ دیتےہیں پھر ان پر پہناتے ہیں گوشت پھر جب اس پر ظاہر ہوا یہ حال تو کہہ اٹھا کہ مجھ کو معلوم ہے کہ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے.

حضرت عزیر نے اس تمام کیفیت کو ملاحظہ کرنے کے بعد فرمایا کہ مجھ کو خوب یقین ہوا کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے یعنی میں جو جانتا تھا کہ مردہ کو جگانا خدا تعالیٰ کو آسان ہے سو اپنی آنکھ سے دیکھ لیا.لیکن اسکا مطلب نہیں کہ پہلے انکے یقین میں کچھ کمی تھی. ہاں مشاہدہ نہ ہوا تھا پھر حضرت عزیریہاں سے اٹھ کر بیت
المقدس میں پہنچے کسی نے ان کو نہ پہچانا کیونکہ یہ تو جوان رہے اور ان کے آگے کے بچے بوڑھے ہو گئے جب انہوں نے توریت حفظ سنائی تب لوگوں کو ان کا یقین آیا بخت نصر بنی اسرائیل کی تمام کتابیں جلا گیا تھا جن میں توریت بھی تھی۔
خلاصہ یہ ہوا کہ یقین پورا تھا صرف عین الیقین کے خواستگار تھے جو مشاہدہ پر موقوف ہے.
اللہ کے اس معجزہ سے بجائے کہ بنی اسرائیل کا ایمان اللہ کی وحدانیت پر مزید پختہ هوتا. وہ الٹے گمراہی میں مبتلا هوگئے اور جناب عزیر ع کو خدا کا بیٹا کہنے لگے.

وَقَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرٌ ابْنُ اللّهِ وَقَالَتِ النَّصَارَى الْمَسِيحُ ابْنُ اللّهِ ذَلِكَ قَوْلُهُم بِأَفْوَاهِهِمْ يُضَاهِؤُونَ قَوْلَ الَّذِينَ كَفَرُواْ مِن قَبْلُ قَاتَلَهُمُ اللّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَO

اور یہود نے کہا: عزیر (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں اور نصارٰی نے کہا: مسیح (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں۔ یہ ان کا (لغو) قول ہے جو اپنے مونہہ سے نکالتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے قول سے مشابہت (اختیار) کرتے ہیں جو (ان سے) پہلے کفر کر چکے ہیں، اللہ انہیں ہلاک کرے یہ کہاں بہکے پھرتے ہیںo (التَّوْبَة آیت 30)

📚حوالہ جات:
●تفسیر ابن کثیر
●حیات القلوب
●تفسير روح البیان

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🌷 بالوں کوخضاب لگانا🌷

1-- امام جعفرصادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
ایک شخص پیغمبر رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا ، آپ ص نے اسکی سفید ریش دیکھکر فرمایا :
جس نے اپنی داڑھی اسلام میں سفید کی ھو یعنی دین اسلام پر عمل کرتے ھوئے اسکی داڑھی سفید ھوئی ھو تو ، قیامت کے دن اس کے لئے مخصوص قسم کا نور ھوگا.

پھر

کچھ عرصہ بعد وہی شخص آپ ص کی خدمت میں دوبارہ آیا تو اس نے کالے ر نگ کا خضاب لگایا ھوا تھا ، اب جب آنحضرت ص کی نگاہ اس شخص پر یڑی تو آپ ص نے فرمایا :
یہ ، نور ، اسلام ، اور ایمان ہے. اس(خضاب) سے بیویوں میں محبت زیادہ ھو جاتی ہے اور دشمنوں میں ڈر اور خوف بڑھ جاتا ہے.

2-- حسن بن جھم کہتے ہیں میں امام موسی کاظم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ھوا جبکہ آپ نے سیاہ رنگ کا خضاب لگایا ھوا تھا، میں نے عرض کیا مولا میں آپ پر صدقے قربان، آپ نے کالا کلئر کیا ہے؟
تو آپ نے فرمایا :

خضاب لگانا ثواب کا کام ہے ، خضاب لگانا اپنے آپ کو سنوارنا عورتوں کے عفاف میں اضافہ کرتا ہے اور جب مرد اپنے آپ کو سنوارتے اور صاف ستھرا نہیں رکھتے تو عورتیں بھی اپنے آپ کو بنانا سنوارنا چھوڑ دیتی ہیں .


3 -- امام جعفرصادق ع فرماتے ہیں :

امام حسین علیہ السلام وسمہ سے خضاب فرماتے تھے اور وسمہ لگاکر سر کوباندھ دیتے تھے اور جس کپڑے سے سر کو باندھتے تھے وہ اب بھی ھمارے پاس محفوظ ہے.


4 -- امام جعفرصادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

کالے رنگ کا خضاب لگانا دشمنوں میں خوف و ھیبت اور عورتوں میں انس و محبت ایجاد کرتا ہے.

5 -- امام باقر علیہ السلام فرماتےہیں:

کچھ لوگ میرے پدر بزرگوار امام سجاد علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ھوئے اور انھوں نے دیکھا کہ آپ نے کالے رنگ کا خضاب لگا رکھا ہے تو انھوں نے اس کی وجہ پوچھی؟
تو آپ نے اپنا دست مبارک ریش پر پھیرتے ھوئے فرمایا:
پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی جنگوں میں سے ایک جنگ کے موقعہ پر اپنے اصحاب کو فرمایا ! اپنی داڑھیوں کو کالاخضاب لگا لو تاکہ مشرکوں کے سامنے طاقتور اور جوان نظر آؤ.


6 -- امام باقرعلیہ السلام فرماتے ہیں:

عورتوں کابھی دل کرتا ہے کہ ان کے خاوند ھمیشہ آراستہ پیراستہ ھوں جیساکہ مردوں کا دل کرتا ہے کہ انکی بیویاں ھمیشہ صاف ستھری ، سنوری ھوئیں نظر آئیں.

📕 مکارم الاخلاق، ص- 146-147.

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 نومولود کیلئے مستحب احکام 🔷

اہل تشیع میں نومولود کے لیے 7 مستحب احکام ہیں جو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آئمہ کی سنت سے ہیں:

1 - غسل دینا:
پیدا ہوتے ہی بچے کو غسل دینا مستحب ہے تاکہ پاک ہو جائے۔

2 - اذان اور اقامت:
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
> *اَذِّنْ فِي اُذُنِ الْمَوْلُودِ*
نومولود کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہو، تاکہ شیطان سے محفوظ رہے۔
[وسائل الشیعہ، ج21، ص385]

3 - تحنیک (گھٹی):
بچے کے تالو پر تربتِ امام حسین یا کھجور یا آبِ زمزم لگانا۔

رسول خدا نے امام حسن اور حسین علیہما السلام کی تحنیک کھجور سے کی تھی۔
[اصول کافی، ج6، ص24]

4 - نام رکھنا:
ساتویں دن سے پہلے اچھا اسلامی نام رکھنا واجب کے قریب ہے۔

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
> *خَيْرُ الْاَسْمَاءِ مَا حُمِّدَ بِهِ*
بہترین نام وہ ہیں جو حمد سے ہوں جیسے محمد، احمد، علی، حسن، حسین، فاطمہ
[وسائل الشیعہ، ج21، ص390]

ساتویں دن نام رکھنا زیادہ افضل ہے۔

5 - عقیقہ:
ساتویں دن عقیقہ کرنا بہت تاکید ہے۔

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
> *كُلُّ مَوْلُودٍ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهِ*
ہر بچہ اپنے عقیقہ کے بدلے گروی ہے، یعنی عقیقہ اسے بلاؤں سے بچاتا ہے۔
[وسائل الشیعہ، ج21، ص393]

طریقہ: ایک بکرا یا دنبہ، ہڈیوں کو نہ توڑنا، گوشت کو مومنین میں تقسیم کرنا۔

6 - سر کے بال مونڈنا اور صدقہ:
ساتویں دن بچے کے سر کے بال مونڈ کر ان بالوں کے وزن کے برابر چاندی یا سونا صدقہ دینا۔

> *اِحْلِقْ رَأْسَهُ وَ تَصَدَّقْ بِوَزْنِ شَعْرِهِ ذَهَبًا اَوْ فِضَّةً*
[بحار الانوار، ج104]

7 - ختنہ:
لڑکے کا ختنہ کرنا واجب ہے۔ بہتر ہے ساتویں دن کر دیا جائے، اگر نہ ہو سکے تو بلوغ سے پہلے ضرور کریں۔

امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
> *الْخِتَانُ سُنَّةٌ لِلرِّجَالِ وَ مَكْرُمَةٌ لِلنِّسَاءِ*
ختنہ مردوں کے لیے سنت ہے۔ [وسائل الشیعہ]

اضافی مستحب: ساتویں دن ولیمہ کرنا اور مومنین کو کھانا کھلانا۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔸بچے کی نفسیات سمجھنے کے 12 گن🔸

والدین کی حیثیت سے آپ اپنے بچے کو پیدائش کے دن سے سمجھنا شروع کردیتے ہیں۔ بلاشبہ ایک ذمہ دار والدین کی حیثیت سے یہ آپ کے لیے سب سے ضروری بات ہے۔ دانت کے درد کی تکلیف سے لے کر پیٹ کے درد تک اور نیپی بدلنے سے لے کر لڑکپن کے مسائل تک بچوں کو سمجھنا آسان نہیں ہوتا۔
بچوں کوسمجھنا ان کی بہتر پرورش کے لیے بہت ضروری ہے۔ آپکا بچہ خاص شخصیت کا حامل ہے اور یہ خصوصیت ساری زندگی اس کے ساتھ رہتی ہے۔ آپ کا رویہ بچے کی شخصیت کے مطابق ہو نہ کہ آپ اسکی شخصیت کو بدلنے کی کوشش کریں۔

بچے کی نفسیات کو سمجھنا ایک صبر آزما کام ہے۔ درج ذیل طریقوں سے آپ کو اپنے بچے کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم کر کے اسے سمجھنے میں مدد ملے گی۔۔

1۔مشاہدہ کیجئے
اپنے بچے کی مصروفیات پر نظر رکھیں۔اس طرح آپ کو یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ آپ کا بچہ کیسے کھیلتا ہے کیسے کھاتا ہے اور کس طرح دوسروں سے بات چیت کرتا ہے۔
۔آپ کو اس کی بہت سی خوبیوں سے آگاہی ہوگی۔
۔مشاہدہ کیجئے کہ آیا آپ کا بچہ کسی تبدیلی میں جلد رچ بس جاتا ہے یا وقت لیتا ہے۔
۔سارے بچے ایک جیسی خوبیوں کے حامل نہیں ہوتے، یاد رکھئے ہر بچے کی الگ شخصیت ہوتی ہے۔

2۔دوست کی حیثیت سے پیش آئیں
بچے کے ساتھ دوست کیطرح پیش آئیں اس طرح آپ کا بچہ آپ کے بہت قریب آجاتا ہے لیکن ساتھ ہی کچھ حدود کا خیال رکھیں۔ اگر وہ کوئی غلطی کرتا ہے تو اسے مورد الزام ٹھہرانے کی بجائے دوست کی حیثیت سے فیصلہ دیجئے۔کیونکہ اگر آپ والدین کی حیثیت سے فیصلہ کریں گے تو وہ قدرے مختلف ہوگا۔ اور اسطرح آپ کا بچہ آپ سے کوئی بات شئیر نہیں کرے گا۔ صرف یہی نہیں بلکہ اسے بھی موقعہ دیں کہ وہ آپ کی بات سمجھ سکے۔

3۔بچے کے ساتھ وقت گزاریں
اپنے بچے کے ساتھ زیادہ وقت گزاریں تاکہ آپ اسکو اور اسکے دوستوں کو جان سکیں، اور وہ بھی آپ سے اپنے مسائل شیئر کرسکے۔ آپ کتنے ہی مصروف ہوں اسے تھوڑا وقت ضرور دیں تاکہ اسے پتہ ہو کہ آپ اس کی مدد کے لیئے موجود ہیں۔

4۔بچے کو ذمہ دار بنائیے
اپنے بچے کو کم عمری ہی سے اس کی ذمہ داریوں سے آگاہ کریں۔
اگر وہ بغیر گرائے کپ میں دودھ نکالتا ہے، یا کھیلنے کے بعد اپنے کھلونے واپس ڈبے میں رکھتا ہے تو یہ اسکے ذمہ دار ہونے کی نشانی ہے اس کی حوصلہ افزائی کریں۔ اسکی تعریف کیجئے۔ تاکہ وہ اور زیادہ شوق سے اپنا کام خود کرے۔

5۔ بات سنئے
اپنے بچے کی بات رد کرنے کے بجائے غور سے سنیں اگر آپ اس سے متفق نہیں ہیں تواسے اپنے خیالات سے آگاہ کریں۔

6۔اس پر الزام تراشی نہ کریں
اگر وہ کوئی غلطی کرتا ہے تواسے بتائیں کہ اس نے جو کیا وہ صحیح نہیں تھا۔لیکن آپ اب بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔

7۔ اپنے بچے کو پر اعتماد بنائیں
اس میں اعتماد پیدا کریں۔ اگر اسکا اسکول میں پہلا دن ہے تو اس سے اسکول کے بارے میں پوچھیں، اس نے اسکول میں کیا پڑھا، اسے اپنا ٹیچر کیسا لگا، اس نے کوئی دوست بنایا یا نہیں۔ اس کا اعتماد بڑھائیں تاکہ وہ دوست بنانے کے ساتھ نئے اسکول کا بہتر انداز میں سامنا کر سکے۔

8۔گھریلو معاملات میں اسکی رائے لیں
اگر آپ گھر کے معاملات میں بچے سے رائے لیتے ہیں تو وہ اپنے آپ کو بہت اہم سمجھے گا اور زیادہ ذمہ دار بن جائے گا۔گھر کی سیٹنگ ہو یاکمرے کو نئے سرے سے ترتیب دے رہے ہیں اس میں اپنے بچے کی رائے لیں اور اس میں چھپے منصوبے پر غور کریں بجائے اس کے کہ اس کی غلطیاں نکالیں۔ اسطرح آپ کے بچے میں اعتماد پیدا ہوگا اور قوت فیصلہ میں بھی اضافہ ہوگا۔

9۔بچے کی ذاتی دلچسپیوں سے واقفیت
بچے کی پرورش پر دھیان دینے کے ساتھ اس کی ذاتی پسند، ناپسند سے بھی واقفیت ضروری ہے۔ اپنے بچے سے اس کے پسندیدہ مضمون، پسندیدہ کھیل اور ٹی وی پروگرام کے بارے میں بات کیجئے۔اسے اس کی پسندیدہ فلم دکھائیے یا اس کے ساتھ اس کا پسندیدہ کھیل دیکھئے۔ اسطرح آپ کو اپنے بچے کو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔

10 ۔اپنے وعدے پر قائم رہیں
اپنے بچے سے کئے ہوئے وعدے کو پورا کر کے آپ اسکا دل جیت لیں گے۔ چاہے وہ ساحل سمندر پر جانے کا ہو یا سپر مارکیٹ کا، اپنے وعدے پر قائم رہئیے اسطرح آپ کے بچے میں بھی ایمانداری بڑھے گی۔

11۔اسے آزادی دیجئے
ہر وقت اپنی مرضی چلانے کے بجائے اپنے بچے کو آزادی دیجئے، اسے اسکی پسند کے کام کرنے دیں لیکن اس کے قریب رہیں تاکہ وہ کوئی غلطی نہ کرے اور ضرورت پڑنے پر اس کی رہنمائی کریں۔

12۔بچے کو بچہ ہی رہنے دیں
بچے سے زیادہ امید نہ رکھیں اگر وہ غلطی کرتا ہے تو اس سے بہت کچھ سیکھے گا۔ اسے کسی کام سے روکنے کے بجائے احتیاط کرنا سکھائیں۔

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
👁 ماں کی قربانی 👁

میری ماں کی ایک آنکھ تھی اور وہ میرے سکول کے کیفیٹیریا میں خانسامہ تھی جس کی وجہ سے میں شرمندگی محسوس کرتا تھا سو اُس سے نفرت کرتا تھا۔ میں پانچویں جماعت میں تھا کہ وہ میری کلاس میں میری خیریت دریافت کرنے آئی۔ میں بہت تلملایا کہ اُس کو مجھے اسطرح شرمندہ کرنے کی جرأت کیسے ہوئی۔ اُس واقعہ کے بعد میں اُس کی طرف لاپرواہی برتتا رہا اور اُسے حقارت کی نظروں سے دیکھتا رہا۔

اگلے روز ایک ھم جماعت نے مجھ سے کہا۔۔
“اوہ ۔ تمہاری ماں کی صرف ایک آنکھ ہے”۔
اُس وقت میرا جی چاہا کہ میں زمین کے نیچے دھنس جاؤں اور میں نے ماں سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا۔ میں نے جا کر ماں سے کہا۔۔
“میں تمہاری وجہ سے سکول میں مذاق بنا ہوں۔ تم میری جان کیوں نہیں چھوڑ دیتی؟”
لیکن اُس نے کوئی جواب نہ دیا۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں کیا کہہ رہا تھا۔ میں ماں کے ردِ عمل کا احساس کئے بغیر شہر چھوڑ کر چلا گیا۔

میں محنت کے ساتھ پڑھتا رہا۔ مجھے کسی غیر مُلک میں تعلیم حاصل کرنے کیلئے وظیفہ مل گیا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں نے اسی ملک میں ملازمت اختیار کی اور شادی کر کے رہنے لگا۔ ایک دن میری ماں ھمیں ملنے آ گئی۔ اُسے میری شادی اور باپ بننے کا علم نہ تھا۔ وہ دروازے کے باہر کھڑی رہی اور میرے بچے اس کا مذاق اُڑاتے رھے۔

میں ماں پر چیخا ”تم نے یہاں آ کر میرے بچوں کو ڈرانے کی جرأت کیسے کی؟”

بڑی آہستگی سے اُس نے کہا “معافی چاہتی ہوں۔ میں غلط جگہ پر آ گئی ہوں”۔ اور وہ چلی گئی۔

ایک دن مُجھے اپنے بچپن کے شہر سے ایک مجلس میں شمولیت کا دعوت نامہ ملا جو میرے سکول میں پڑھے بچوں کی پرانی یادوں کے سلسلہ میں تھا۔ میں نے اپنی بیوی سے جھوٹ بولا کہ میں دفتر کے کام سے جا رہا ہوں۔ سکول میں اس مجلس کے بعد میرا جی چاہا کہ میں اُس مکان کو دیکھوں جہاں میں پیدا ہوا اور اپنا بچپن گذارا۔ مجھے ہمارے پرانے ہمسایہ نے بتایا کہ میری ماں مر چکی ہے جس کا مُجھے کوئی افسوس نہ ہوا۔ ہمسائے نے مجھے ایک بند لفافے میں خط دیا کہ وہ ماں نے میرے لئے دیا تھا۔ میں بادلِ نخواستہ لفافہ کھول کر خط پڑھنے لگا۔ لکھا تھا۔۔۔

“میرے پیارے بیٹے! ساری زندگی تُو میرے خیالوں میں بسا رہا۔ مُجھے افسوس ہے کہ جب تم مُلک سے باہر رہائش اختیار کر چکے تھے تو میں نے تمہارے بچوں کو ڈرا کر تمہیں بیزار کیا۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ تم اپنے سکول کی مجلس میں شمولیت کیلئے آؤ گے تو میرا دل باغ باغ ہو گیا۔ مُشکل صرف یہ تھی کہ میں اپنی چارپائی سے اُٹھ نہ سکتی تھی کہ تمہیں جا کر دیکھوں۔ پھر جب میں سوچتی ہوں کہ میں نے ہمیشہ تمہیں بیزار کیا تو میرا دل ٹُوٹ جاتا ہے۔

کیا تم جانتے ہو کہ جب تم ابھی بہت چھوٹے تھے تو ایک حادثہ میں تمہاری ایک آنکھ ضائع ہو گئی تھی۔ دوسری ماؤں کی طرح میں بھی اپنے جگر کے ٹکڑے کو ایک آنکھ کے ساتھ پلتا بڑھتا اور ساتھی بچوں کے طعنے سُنتا نہ دیکھ سکتی تھی۔ سو میں نے اپنی ایک آنکھ تمہیں دے دی۔ جب جراحی کامیاب ہو گئی تو میرا سر فخر سے بلند ہو گیا تھا کہ میرا بیٹا دونوں آنکھوں والا بن گیا اور وہ دنیا کو میری آنکھ سے دیکھے گا...

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🌸 ایمان 🌸

حضرت علی علیہ السّلام سے ایمان کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ایمان چار ستونوں پر قائم ہے۔۔۔
1) صبر،
2) یقین،
3) عدل،

اور
4) جہاد۔

●پھر صبر کی چار شاخیں ہیں۔۔
اشتیاق، خوف، دنیا سے بے اعتنائی اور انتظار۔

اس لیے کہ جو جنت کا مشتاق ہو گا وہ خواہشوں کو بھلا دے گا۔
اور جو دوزخ سے خوف کھائے گا وہ محرمات سے کنارہ کشی کرے گا۔
اور جو دنیا سے بے اعتنائی اختیار کر ے گا وہ مصیبتوں کو سہل سمجھے گا،
اور جسے موت کا انتظار ہو گا وہ نیک کاموں میں جلدی کرے گا۔

●اور یقین کی بھی چار شاخیں ہیں۔۔
روشن نگاہی، حقیقت رسی، عبرت اندوزی اور اگلوں کا طور طریقہ۔

چنانچہ جو دانش و آگہی حاصل کرے گا اس کے سامنے علم و عمل کی راہیں واضح ہو جائیں گی،
اور جس کے لیے علم وعمل آشکار ہو جائے گا وہ عبرت سے آشنا ہوگا وہ ایسا ہے جیسے وہ پہلے لوگوں میں موجود رہا ہو۔

●اور عدل کی بھی چار شاخیں ہیں۔۔
تہوں تک پہنچنے والی فکر اور علمی گہرائی اور فیصلہ کی خوبی اور عقل کی پائیداری۔

چنانچہ جس نے غور و فکر کیا وہ علم کی گہرائیوں میں اترا، وہ فیصلہ کے سر چشموں سے سیراب ہوکر پلٹا اور جس نے حلم و بردباری اختیار کی اس نے اپنے معاملات میں کوئی کمی نہیں کی اور لوگوں میں نیک نام رہ کر زندگی بسر کی۔

●اور جہاد کی بھی چار شاخیں ہیں۔۔
امر بالمعروف، نہی عن المنکر، تمام موقعوں پر راست گفتاری اور بدکرداروں سے نفرت۔

چنانچہ جس نے امر بالمعروف کیا اس نے مومنین کی پشت مضبوط کی،
اور جس نے نہی عن المنکر کیا اس نے کافروں کو ذلیل کیا،
اور جس نے تمام موقعوں پر سچ بولا اس نے اپنا فرض ادا کردیا،
اور جس نے فاسقوں کو برا سمجھا اور اللہ کے لیے غضبناک ہوا اللہ بھی اس کے لیے دوسروں پر غضبناک ہو گا اور قیامت کے دن اس کی خوشی کا سامان کرے گا.

📚قولِ (30) امام علیؑ از نہج البلاغہ

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🚨 انسانیت یا مال و زر 🚨

"ڈاکٹر صاحب جلدی سےآئیے ایک ایمرجنسی کیس ہے" ڈاکٹر سرمد کا اسسٹنٹ بدحواسی کےعالم میں دروازہ کھول کر ان کےآفس میں داخل ہوا
"تو اس میں بدحواس ہونےکی کیا بات ہے؟کیس تو آتے ہی رہتے ہیں" ڈاکٹر سرمد نےاخبار سےنظر ہٹا کر اسسٹنٹ کو گھورتے ہوۓ کہا ان کی نظروں میں واضح ناپسندیدگی نظر آرہی تھی
"سوری سر، وہ دراصل مریض کی حالت بہت خطرےمیں ہے"
اسسٹنٹ نےوضاحت پیش کرنا چاہی
"فیس وصول کرلی؟"
ڈاکٹر نےسوال کیا
"وہ سر دراصل وہ ۔ ۔ ۔ ایک ایکسیڈنٹ کیس ہے، نوجوان سڑک پہ لاوارث پڑا تھا تو کچھ لوگ اسےیہاں پہنچا گئے. لواحقین آئیں گےتو فیس وصول کرلوں گا" اسسٹنٹ نے ہکلاتےہوۓجواب دیا
"دفع ہوجاؤ یو ایڈیٹ ڈیم فول، تمہیں پتا نہیں میں فیس لیے بغیر آپریشن نہیں کرتا"
بری طرح سےچلاتےہوۓڈاکٹرسرمد کہیں سےبھی پڑھے لکھے انسان نہیں لگ رہےتھے
"پتا نہیں کیا سمجھ رکھا ہے، ڈاکٹر سرمد اب مفتوں کا علاج کرےگا ہنہہہ"ڈاکٹر صاحب سر جھٹکتے ہوۓ گویا ہوۓ
اسسٹنٹ جاچکا تھا.
ڈاکٹر صاحب کاموڈ بھی بگڑ چکا تھا، میز سےگاڑی کی چابی اٹھا کر وہ باہر چلدیے.
پندرہ منٹ کی ڈرائیو کےبعد گھر پہنچے تو گھرمیں کوئی نہیں تھا، ان کی مسز کسی پارٹی میں شرکت کرنےگئی تھیں اور اکلوتا بیٹا عاطف بھی غائب تھا.
ملازم کو چائے کا کہہ کر وہ لان میں آکر بیٹھے ہی تھے کہ فون کی گھنٹی بجی.
"ہیلو، ڈاکٹر سرمد بات کررہےہیں؟"
"جی! آپ کون؟"
"میں انسپکٹر شہزاد بات کررہا ہوں، آپ جنرل ہسپتال تشریف لائیےجلدی"
"کیوں خیریت؟"
"آپ بس آجائیے"
بھاگم بھاگ ڈاکٹر صاحب ہسپتال پہنچے، کوریڈور میں موجود ایک ملازم انہیں اندر لے گیا، سردخانے میں وہی انسپکٹر موجود تھا جس نےان کو فون کیا تھا.
"ڈاکٹر صاحب مجھے افسوس ہےکہ میرےپاس آپ کیلیے کوئی اچھی خبر نہیں ہے، انہیں پہچانتے ہیں؟"
انسپکٹر نےبات کرتے ہوۓ ایک لاش کےاوپر سےکپڑا ہٹایا، لاش پہ سےکپڑے کا ہٹنا تھا کہ ڈاکٹر صاحب کو محسوس ہوا جیسے ان کےسر پہ آسمان گرپڑا ہو، وہ لاش ان کےاکلوتے بیٹے عاطف کی تھی.
"اس لڑکےکو پہلے"الشافی ہسپتال" لےجایا گیا تھا لیکن وہاں ڈاکٹر کی بےتوجہی اور بروقت طبی امداد نا ملنےکےباعث اس کی وفات ہوگئی، وہاں موجود ڈاکٹر نےفیس کے بغیر آپریشن کرنے سے انکار کردیا تھا." انسپکٹر تفصیلات بتاتا جارہا تھا لیکن ڈاکٹر صاحب اپنےہی خیالوں میں گم تھے، ان کےذہن میں یہ جملہ ہتھوڑے کی مانند لگ رہا تھا
"اسےالشافی ہسپتال لےجایا گیا تھا لیکن وہاں ڈاکٹر نےفیس کےبغیر آپریشن کرنےسےانکار کردیا"
ڈاکٹر سرمد کےہسپتال کا نام"الشافی ہسپتال" تھا.
یہ پیغام ان تمام ڈاکٹرز کے لیے ہے جو انسانیت سے زیادہ مال و زر کو ترجیح دیتے ہیں۔

اس پوسٹ کو اتنا شیئر کریں کہ ہر ڈاکٹر تک پہنچے۔


https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔓 بند تالے کا کھلنا.....!!

سید جلیل علی نقی کشمیری کہتے ہیں: میں نے فاضل محترم سید عباس لاری سے سنا وہ کہہ رہے تھے جب میں نجف اشرف میں تھا تو ایک دن ماہ رمضان میں سہ پہر کے وقت میں نے افطار کے لیے کھانا تیار کیا.کمرے میں رکھا اور باہر آکر کمرے کو تالا لگادیا. نماز مغرب اور عشاء ادا کرنے اور رات کا کچھ حصہ گزرنے کے بعد میں واپس آیا جب کمرے کے دروازے پر پہنچ کر جیب میں ہاتھ ڈالا تو چابی موجود نہیں تھی میں نے ادھر اُدھر دیکھا مدرسہ میں تلاش کیا.طالب علموں سے پوچھا لیکن چابی نہیں ملی.سخت بھوک اور چابی نہ ملنے کے باعث سخت پریشان ہوگیا.
مدرسے سے باہر آیا اور پریشانی کے عالم میں حرم کی طرف چلنا شروع کردیا اور ساتھ ہی ساتھ میں زمین پر بھی دیکھتا جاتا تھا اچانک مرحوم حاج سید مرتضٰی کشمیری اعلی اللہ مقامہ کو دیکھا. انہوں نے میری پریشانی کا سبب دریافت کیا. میں نے سارا ماجرا بیان کیا.وہ میرے ساتھ مدرسہ آئے اور میرے کمرے کے قریب پہنچ کرکہا لوگ کہتے ہیں کہ اگر کسی کو حضرت موسیٰ ع کی والدہ کانام یاد ہو اور وہ بند تالے پر اسے پڑھے تو بند تالا کھل جاتا ہے. کیا ہماری جدہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا ان سے کمتر ہیں پس انہوں نے بند تالے پر ہاتھ رکھا اور کہا: یا فاطمہ! س تالا فورا" کھل گیا.

📚فضائل الزہراءومناقب انسیہ الحوراء,ص٥٩٧.

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🔶وہ کتا جس نے رسول اللہ ﷺ کا بدلہ لیا.

حافظ ابن حجر العسقلانی نے اس کتے کا ذکر کیا ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کے لیے بدلہ لیا

"ایک دن نصاریٰ کے بڑوں کی ایک جماعت منگولوں کی ایک تقریب میں شرکت کے لیے روانہ ہوئی جو ایک منگول شہزادے کی نصرانیت قبول کرنے پر منعقد کی گئی تھی، اس تقریب میں ایک عیسائی مبلغ نے رسول اللہ ﷺ کو گالی بکی،قریب ہی ایک شکاری کتا باندھا ہوا تھا جو اس صلیبی کی طرف سے گالی بکنے پر چھلانگیں مارنے لگا اور زوردار جھٹکا دے کر رسی نکالی اور اس بدبخت صلیبی پر ٹوٹ پڑا اور اس کو کاٹا اس پر لوگوں نے اس کتے کو قابو کیا اور ہٹا یا ،تقریب میں موجود بعض لوگوں نے کہا کہ یہ محمد (ﷺ) کے خلاف تمہاری گفتگو کی وجہ سے ہوا،اس صلیبی نے کہا :بالکل نہیں، بلکہ یہ کتا خودار ہے جب اس نے بات چیت کے دوران مجھے دیکھا کہ میں بار بار ہاتھ اٹھا رہا ہوں اس نے سمجھا کہ میں اس کو مارنے کے لیے ہاتھ اٹھا رہاہوں تو اس نے مجھ پر حملہ کر دیا ،یہ کہہ کر اس بد بخت نے ہمارے محبوب ﷺ کو پھر گالی بکی ،اس بار کتے نے رسی کی کاٹ دی اور سیدھا اس صلیبی پرچھلانگ لگا کر اس کے منحوس گردن کو دبوچ لیا اور وہ فورا ہلاک ہو گیا، اس کو دیکھ کر 40000 (چالیس ہزار) منگولوں نے اسلام قبول کیا"
۔(الدرر الکامنہ 3/ 203)

اور الذھبی نے اس قصے کو صحیح اسناد کے ساتھ " معجم الشیوخ صفحہ 387 میں نقل کیا ہے ، اس واقعے کے عینی شاہد جمال الدین نے کہا ہے کہ

" اللہ کی قسم کتے نے میری آنکھوں کے سامنے اس ملعون صلیبی کوکاٹا اور اس کا گردن دبوچا جس سے وہ ہلاک ہو گیا"۔

Copied

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
☘ مثبت سوچ ☘

ایک چھوٹا لڑکا اور لڑکی کھیل رہے تھے لڑکے کے پاس کچھ بنٹے تھے اور لڑکی کے پاس کچھ ٹافیاں،
لڑکے نے کہا میں سارے بنٹے تمہیں دیتا ہوں بشرطیکہ تم اپنی ساری ٹافیاں مجھے دے دو لڑکی نے قبول کر لیا
لڑکے نے چند خوبصورت بنٹے چھپا لیے اور باقی دے دیئے ،
جبکہ لڑکی نے وعدے کے مطابق اپنی ساری ٹافیاں لڑکے کو دے دیں ،
جب رات کو لڑکی سوئی تو خواب میں مختلف رنگارنگ اور خوبصورت بنٹوں کو دیکھتی رہی اور خوش وخرم رہی ،
جبکہ لڑکا پوری رات سکون سے نہ سو سکا اور یہ ہی سوچتا رہا کہ حتما لڑکی نے بھی کچھ ٹافیاں چھپا لی ہوں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یقینا بدسکونی اور عذاب اس شخص کے لیے ہوتے ہیں جو دوسروں کے ساتھ صادق نہیں ہوتا اور آرام و سکون اسکو ملتا ہے جو صداقت کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں ، 🍁🍁🍁
اگر آپ آخرت پر ایمان نہیں بھی رکھتے تب بھی کم از کم دنیا میں سکون و آرام کے لیے ہمیشہ صادق رہیں ، دنیا کی لذت بھی مثبت سوچ رکھنے والے انسانوں کو ملتی ہے __
انسان بڑا ہے تو اپنی سوچ کیوجہ سے💧
شریف ہے تو اپنے بول کیوجہ سے💧
قابل احترام ہے تو اپنے عمل کیوجہ سے 💧
یاد رکھیں آپکی منفی سوچ سب سے پہلے آپ کو نقصان پہنچائے گی بعد میں دوسروں کی نوبت آئے گی
اس طرح آپکی مثبت سوچ سب سے پہلے آپکے وجود کو خوشگوار کرئے گی اور بعد میں دوسرے کو مستفید کرئے گی__

کہتے ہے کہ شمع نے ماچس سے کہا کہ
تجھ سے ڈر لگتا ہے کہ تو میری قاتل ہے
ماچس نے کہا کہ مجھ سے مت ڈر
بلکہ اس رسی سے ڈر جو تیرے وجود کے اندر ہے !!!

انسان کی نابودی کی اصل وجہ وہ منفی تفکرات ہے جو اسخے اندر ہیں نہ کہ وہ عوامل جو باہر ہیں
مثبت سوچ آدھی کامیابی ہوتے ہیں
🌷ایک کہتا ہے رات کا اندھیرا ہر طرف پھیل چکا ہے
جبکہ کوئی کہتا ہے کہ صبح کی روشنی نزدیک ہے
🌷کچھ کو پھولوں میں کانٹے نظر آتے ہیں
جبکہ کچھ کانٹوں میں بھی پھول دیکھ رہیے ہوتے ہیں
🌷بعض لوگ عام مکھی کی طرح ہوتے ہیں جو پورے خوبصورت بدن کو چھوڑ کر زخم پر بیٹھتی ہے
جبکہ بعض کی فطرت شہد کی مکھی کی طرح ہوتی ہے کہ ہمیشہ پھولوں کی جانب نگاہ رکھتی ہے
دنیا اتنی بڑی ہے کہ سب کیلئے جگہ موجود ہے
فقط بجائے دوسروں کی جگہ لینے کے اپنی حقیقی جگہ تلاش کریں
کچھ لوگ پشیمان ہوتے ہیں
کچھ کرنے یا کہنے کی وجہ سے
کچھ لوگ پشیمان ہوتے ہیں
کچھ نہ کرنے یا کہنے کی وجہ سے
لیکن کوئی ایسا نہیں جو پشیمان ہوا ہو اپنی مثبت سوچ اور مہربان عمل کیوجہ سے 💝
آئیں سب ملکر اگر دوسروں کیلئے قلم نہیں بن سکتے
کہ انکے لیے آرام و سکون لکھ سکیں
تو حداقل کوشش کریں کہ ریزَر تو بنیں
تا کہ دوسروں کی دکھوں اور غموں کو مٹا سکیں۔

نوٹ ! ندائے بندگی کی تمام تحریریں میں کسی قسم کی تبدیلی ممنوع ہے

✍ میم ۔ نون ۔ خان

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 خالق و رازق 🌹

امام زمانہ عج فرماتے ہیں: <إِنَّ اللهَ تَعٰالٰی ہُوَ الَّذی خَلَقَ الْاَجْسٰامَ وَقَسَّمَ الْاَرْزٰاقَ، لِاَنَّہُ لَیْسَ بِجِسْمٍ وَلٰا حٰالٌّ فی جِسْمٍ، لَیْسَ كَمِثْلِہِ شیءٌ وَہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلیمُ، وَامَّا الْاٴَئِمَّةُ عَلَیْہِمُ السَّلاٰمْ فَإِنَّہُمْ یَسْاٴَلُوْنَ اللهَ تَعٰالٰی فَیَخْلُقُ، وَیَسْاَلوُنَہُ فَیَرْزِقُ، إِیجٰابًا لِمَسْاَلَتِہِمْ وَإِعْظٰاماً لِحَقِّہِمْ>➊
ترجمہ:
”صرف خداوندعالم نے ھی جسموں كو خلق كیا اور اس نے ان كو روزی تقسیم كی ھے؛ كیونكہ وہ جسم یا جسم میں سمانے والا نھیں ھے، كوئی چیز اس كے مثل نھیں ھے، وہ سننے والا اور عالم ھے،
لیكن جب ائمہ معصومین علیھم السلام خداوندعالم سے كسی چیز كی درخواست كرتے ھیں تو خداوندعالم اس كو خلق كرتا ھے۔ وہ جب خدا سے طلب كرتے ھیں تو وہ ان كو عطا كردیتا ھے۔ خدا یہ كام اس لئے كرتا ھے كہ اس نے اپنے لئے ضروری قرار دیا ھے كہ ان حضرات كی دعاؤں كو قبول كرے، اور ان كی شان كو بلند فرمائے“۔
➊ الغیبة، طوسی، ص294، ح248، احتجاج، ج2 ، ص285، بحار الانوار، ج25، ص329، ح4۔

شرح
شیخ طوسی علیہ الرحمہ اپنی كتاب الغیبة میں نقل كرتے ھیں كہ شیعوں كی ایك جماعت نے اھل بیت علیھم السلام كی عظمت كے سلسلہ میں اختلاف كیا۔ جن میں سے بعض لوگوں كا عقیدہ تھا كہ خداوندعالم نے قدرت خلق اور رزق و روزی كو ائمہ معصومین (علیھم السلام) كے حوالہ كردیا ھے۔ ان كے مقابل دوسرے گروہ كا عقیدہ یہ تھا كہ یہ چیز ائمہ معصومین (علیھم السلام) كے لئے محال ھے، اور خداوندعالم كے لئے یہ جائز نھیں ھے كہ خلقت اور رزق كے مسئلہ كو ائمہ علیھم السلام كے حوالہ كردے؛ كیونكہ صرف خداوندعالم كی ذات ھی جسموں كو خلق كرنے پر قادر ھے۔
اس مسئلہ میں شیعوں كے درمیان بہت زیادہ اختلاف ھوگیا تھا۔
چنانچہ اس مجمع میں موجود ایک شخص نے كہا:
”تم لوگ ابو جعفر محمد بن عثمان عمری (امام علیہ السلام كے دوسرے نائب خاص) كے پاس كیوں نہیں جاتے، اور اس سلسلہ میں ان سے سوال كیوں نہیں كرلیتے تاكہ تم پر حقیقت واضح ھوجائے۔ وہی ھمارے اور امام زمانہ علیہ السلام كے درمیان واسطہ ھیں“۔

شیعوں كے دونوں گروہ اس بات پر آمادہ ھوگئے، اور ایک خط لكھا جس میں اس اختلاف كے بارے میں سوال كیا۔
امام علیہ السلام نے ان كے جواب میں تحریر فرمایا:
”خالق كو جسم نہیں ہونا چاہئے اور رازق كو روزی نہیں کھانی چاہئے؛ نتیجہ یہ ھے كہ ھم چونكہ صاحب جسم ہیں، اور روزی كھاتے ہیں، لہٰذا ھم نہ خالق ہیں اور نہ رازق؛ لیكن خداوندعالم نے ھمارے رتبہ كو بلند قرار دیا ھے، وہ ھماری درخواستوں كو قبول كرتا ھے؛ لہٰذا جب ھم كوئی دعا كرتے ہیں تو وہ اس كو قبول كرتا ھے، نہ یہ كہ ھم خدا سے درخواست كے بغیر خود اس كام كی قدرت ركھتے ھوں“۔

منبع: شرحِ چہل حدیث امام مھدی (عج)،
مولّف: علی اصغر رضوانی،
مترجم: اقبال حیدری۔

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🔷 کتابت اور اسلام 🔷

اسلام سے پہلے عرب قوم کتابت اور تحریر و تدریس سے بالکل نابلد تھی۔ چنانچہ اسلام سے پہلے مکہ میں صرف ایک فرد کتابت سے واقف تھا (مناھل العرفان ۱: ۲۵۵) جس کا نام حرب بن امیہ بن عبد الشمس تھا۔ دوران مسافرت اس نے مکہ سے باہر متعدد لوگوں سے کتابت سیکھی۔ا ن میں بشر بن عبد الملک صاحب دومۃ الجندل بھی شامل ہے۔ یہ مکہ میں بھی آیا اور یہاں لوگوں کو کتابت سکھائی۔

جب حضور (ص) کی بعثت ہوئی تو اس وقت مکہ میں سترہ افراد کتابت جانتے تھے۔

کتابت اسلام کے بعد: کتابت چونکہ حصول علم کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس اعتبار سے اسلام نے علم اور قلم کو باہم مقرون کیا۔

چنانچہ ابتدائے وحی میں جس چیز کا سب سے پہلے ذکر آیا ہے وہ قرائت، علم اور قلم ہیں:

اِقْرَاْ وَرَبُّكَ الْاَكْرَمُ۝۳ۙ الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ۝۴ۙ
پڑھیے! اور آپ کا رب بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی۔(۹۶ علق: ۳۔ ۴)

حدیث نبوی (ص) میں ہے:

اذ کان یوم القیامۃ وزن مداد العلماء بدماء الشھداء فیرجح مداد العلماء علی دماء الشھداء۔
(قیامت کے دن علماء)کے قلم کی سیاہی کا وزن شہداء کے خون کے ساتھ کیا جائے گا تو (علماء)کے قلم کی سیاہی شہداء کے خون سے زیادہ وزنی ثابت ہو گی۔ ( الامالی للصدوق ص ۱۶۸)

جنگ بدر میں ساٹھ مشرکین قیدی بنے تو رسول اکرم(ص) نے ان قیدیوں میں سے ہر ایک کا فدیہ دس مسلمانوں کو کتابت سکھاناقرار دیا۔ یوں آپ(ص) نے کتابت اور خواندگی کو آزادی کا ہم پلہ قرار دیا۔ اس واقعہ سے اسلامی تمدن کی تشکیل اور اسلام اور علم کے درمیان رشتے کی مضبوطی کا اندازہ ہو تا ہے

وسائل کتابت: عصر رسالت میں تدوین کتب اور رسل و رسائل کے لیے درج ذیل اشیاء لکھنے کے لیے استعمال ہوتی تھیں:

۱۔ العسب ۔ کھجور کی چھال

۲۔ لخاف ۔ سفید باریک پتھر

۳۔ رقاع ۔ چمڑے کے ٹکڑے

۴۔ کتف ۔ بکری کے شانوں کی ہڈی

۵۔ قتب ۔ پالان کی لکڑی

۶۔ شظاظ۔ وہ لکڑی جس سے بورے کا منہ باندھتے ہیں

۷۔ اشار ۔ چیرے ہوئے تختے

۸۔ قضیم ۔ سفید چمڑا

۹۔ رق ۔ پتلا چمڑا

۱۰۔ حریر ۔ ریشمی کپڑا

۱۱۔ قراطیس ۔ کاغذ

زیادہ تر کتابت کاغذوں اور چمڑوں پرہوتی تھی۔ چنانچہ رسول اکرم(ص) کی طرف سے جاری شدہ امان نامے اور مختلف حکمرانوں کو لکھے جانے والے خطوط چمڑوں پر لکھے ہوئے ہیں۔ اس زمانے میں چین کاغذ سازی میں سب سے آگے تھا۔ اس کے علاوہ ہندوستان میں بھی کاغذ بنتا تھا جو یمن میں فروخت ہوتا تھا۔ رومی بھی کاغذ بناتے تھے جو شام میں بکتا تھا اور ایرانی بھی کاغذ تیار کرتے تھے۔ یہ عراق میں بھی ملتا تھا۔

زمانہ رسالتمآب(ص) میں مندرجہ بالا اشیاء پرکتابت ہوا کرتی تھی اور ان پر لکھے گئے قرآن کو صحیفہ کہتے تھے اور جب ان مختلف ٹکڑوں کو کتابی شکل میں جمع کیا جاتا تو اسے مصحف کہتے تھے۔

حضرت عثمان کے دور میں غیر سرکاری مصاحف کے جلا دیے جانے والے واقعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس دور میں قرآن کاغذوں پر تحریر کیا جاتا تھا۔

مابین الدفتین : کھال سے بنی ہو ئی جلد کو دف کہتے ہیں۔ قدیم زما نے میں اہم دستاویزات ان پر لکھی جاتی تھیں بعد میں کاغذ پر لکھا جانا شروع ہوا اور اسے محفوظ رکھنے کے لیے چمڑے کی دو جلدوں کے درمیان باندھ دیا جاتا تھا۔ ان دونوں جلدوں کو دفتین اور ان میں محفوظ کیے گئے کتابت شدہ موضوع کو مابین دفتین کہا جاتا تھا۔

خود قرآن مجید سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ صدر اسلام میں کتابت کے لیے لچکدار اشیاء موجود تھیں۔

چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاۗءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ۝۰ۭ
اس دن ہم آسمان کو اس طرح لپیٹ لیں گے جس طرح طومار میں اوراق لپیٹتے ہیں۔(۲۱ انبیاء: ۱۰۴)

نیز ارشاد فرمایا:
وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتٰبًا فِيْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْہُ۔۔۔
(اور)اے رسول( اگر ہم کاغذوں پر لکھی ہوئی کوئی کتاب بھی آپ پر نازل کرتے اور یہ لوگ اپنے ہاتھوں سے اسے چھو بھی لیتے۔( ۶ انعام: ۷)

مزید فرمایا:
اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۝۲۹
جو تم کرتے تھے ہم اسے لکھواتے رہتے تھے۔(۴۵جاثیہ: ۲۹)

*تبدیلی ممنوع*

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
🔵 کسب معاش، رھبانیت کی نفی 🔵

حضرت رسول اکرمؐ نے فرمایا: جو شخص اپنے ہاتھ کی سخت کمائی سے دنیا میں کھائے گا بروز قیامت اس کے لیے جنت کے دروازے کھول دیئے جائیں گے کہ جس سے مرضی داخل ہو۔
(میزان الحکمۃ 7217)

■سنت رسول اکرمؐ
مرحوم علامہ محسن فیض کاشانی نقل فرماتے ہیں، روایت ہے کہ حضرت رسول اکرمؐ کو کسی نے خبر دی کہ اس شہر کے تین جوان گوشہ نشین ہوگئے ہیں۔ وہ عذاب کے بارے نازل ہونے والی آیت مبارکہ سے خوفزدہ ہوگئے ہیں۔ وہ تینوں افراد شہر چھوڑ کر صحرا نشین ہوگئے ہیں اور ادھر مصروف عبادت ہیں۔ ان میں سے ہرایک نے اپنی جگہ ایک منٹ مان لی ہے۔

ایک نے منت مانی ہے کہ شادی نہیں کریگا اور کبھی بھی اپنے لیے گھر بسانے کی نہیں سوچے گا۔

دوسرے نے نذر کی ہے کہ کبھی بھی کسی صورت کوئی لذیذ خوراک استعمال نہیں کریگا۔

اور تیسرے نے منت مانی ہے کہ وہ ہمیشہ آبادیوں سے دور لوگوں کی محفلوں سے کنارہ کشی کرے گا۔

حضور اکرمؐ اپنے معمول کے خلاف مسجد میں تشریف لائے۔ آپ اس قدر تیز قدموں سے مسجد کی طرف چل رہے تھے کہ آپؐ کے دوش مبارک سے عباء مبارک اتر گئی۔ ایک طرف سے عباء آپؐ کے دوش پر ہوتی تو دوسری طرف سے اتر جاتی۔ اور آپؐ اسے درست کر لیتے۔ آپؐ نے حضرت بلالؓ کو حکم دیا کہ لوگوں کو بلاؤ۔

حضرت بلالؓ نے اپنے معمول کے مطابق ایک خاص طرز سے لوگوں کو حضرتؐ کے ارادہ کی خبر دی۔

لوگوں نے بھی حضرتؐ کی دعوت سنتے ہی اپنے مشغولیات ترک کر دیئے اور جلدی جلدی آنحضرتؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ سبھی اس انتظار میں تھے کہ آنحضورؐ نے جو اسطرح بلوایا ہے تو معلوم ہوسکے کہ کیا مسئلہ ہے؟

حضرت رسول اکرمؐ اپنے منبر مبارک کی طرف بڑھے اور منبر کی پہلی سیڑھی پر ہی کھڑے ہوگئے اور اس طرح خطاب فرمایا:
اے لوگو! میں جو آپ کے لئے پیامبر خدا ہوں، میرے گھر میں بیویاں ہیں اور لذیذ غذا بھی کھا لیتا ہوں۔ معاشرہ کے ساتھ باہمی زندگی بھی گزارتا ہوں۔ یہ میری سنت (اور روش ہے، زندگی کا کامیاب اور مناسب سلیقہ یہی ہے) جو بھی میری سنت سے انحراف کریگا، اس سے ہٹ کر زندگی گزارے گا وہ میرا نہیں ہے۔ اس کا میرے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے۔
(عوامل کنترل غرائز، ص61)

■خدا کے خاص بندے
حضرت علی علیہ السلام جب کوفہ کو دارالخلافہ قرار دیتے ہوئے کوفہ میں تشریف لائے تو سب سے پہلے مسجد میں تشریف لے گئے۔ آپؑ نے دیکھا کہ لوگوں کا ایک گروہ مسجد کے ایک کونے میں بیٹھا ہے۔

آپؑ نے پوچھا؛ یہ کون لوگ ہیں؟

لوگوں نے بتایا: یہ رجال الحق، حق کا ساتھ دینے والے خاصانِ خدا ہیں۔

آپؑ نے پھر پوچھا؛ رجال الحق سے تمہاری کیا مراد ہے؟

لوگوں نے بتایا؛ یہ مسجد میں تشریف لاتے ہیں اور بس مصروف عبادت رہتے ہیں۔ اگر کھانے کے لئے کچھ مل جائے تو کھا لیتے ہیں، اگر نہ ملے تو صبر کرتے ہیں۔

آپؑ نے فرمایا؛ حیوانات اور پھر حیوانات میں سے خصوصا کتا بھی تو اسی طرح کرتا ہے کہ بیٹھ رہتا ہے۔ کچھ مل جائے تو کھا لیتا ہے ورنہ بیٹھ رہتا ہے۔

پھر آپؑ نے تازیانہ منگوایا اور ان کی طرف بڑھے۔ ان کے سروں پر تازیانے لگائے اور فرمایا:
اٹھو عبادت سے فارغ ہوکر مسجد سے نکلو اور کام کرو۔ کسب معاش کرو۔ کچھ معاشی مصروفیت بناؤ۔
(عوامل کنترل غرائز، ص63)

■ترک معاش
عمر بن آزینہ حضرت امام جعفر صادقؑ کے مقدس معمر اصحاب میں سے ایک متدین شخص تھے۔ وہ کوفہ کے تاجروں سے شمار ہوتے تھے۔ عرصہ دراز تک کام کرتے کرتے تھک گئے تو اپنے آپ کام ترک کر کے بازار سے گوشہ نشین ہوگئے۔ مالی طور پر ان کی حالت مضبوط و مستحکم تھی۔ چنداں پریشانی نہیں تھی۔ وہ ایک دن زیارت کی غرض سے امام جعفر صادقؑ کے پاس تشریف لائے۔

شرف حضوری پر امامؑ نے ان سے پوچھا؛
عمر بن آزینہ آپ کا کیا حال ہے؟

اس نے عرض کیا؛ میں نے کاروبار چھوڑ دیا ہے۔

آپؑ ناراض ہوئے اور فرمایا؛ آخر کیونکر؟

عمر نے عرض کیا؛ فرزندِ رسول میرے پاس بحمداللہ کھانے پینے اور معاش کے لئے بقدر کافی بہت کچھ ہے۔ مجھے کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اب اپنی آخری عمر میں بڑھاپے کے دن کسی مسجد کے گوشہ میں ایک طرف ہوکر بیٹھ جاؤں۔

آپؑ نے فرمایا: "ھذا من قلة العقل"
یہ تو آپ کی کم عقلی کی نشانی ہے۔

اور پھر فرمایا؛ جب واپس جانا تو اپنا تجارت کا کام پھر سے شروع کر دینا۔ بس اتنا خیال رہے کہ نماز کے اوقات میں پابندی سے نماز ادا کرو، ذکر خدا کے ساتھ اپنا قلب منور رکھو۔ کمائی نہ چھوڑو۔ اگر اپنی ضرورت سے زیادہ کما لو تو کسی دوسرے مستحق کو دیدو۔ اس میں دونوں کا فائدہ ہے۔
(عوامل کنترل غرائز، ص63)

✍سید سجاد حسین ھمدانی

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵