🌲 توکل علی اللہ 🌲
راستہ چلنے والا اگرچہ سینکڑوں ہنر رکھتا ہو پھر بھی توکل ضروری ہے۔ اپنے جبار خدا پر بھروسہ کرو تاکہ مراد تک پہنچو۔
● ارشادِ باری تعالٰی ہے۔۔
إذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ إنَّ الله یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِینَ۔
جب کسی عمل کا ارادہ کرو تو اللہ تعالٰی پر توکل کرو کیونکہ خداوندمتعال اپنے اوپر بھروسہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔(1)
● خدا تعالٰی فرماتا ہے۔۔
وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ فَھُوَ حَسْبُہُ۔
اور جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے۔ اللہ اسے کافی ہوتا ہے۔(2)
● رسول اکرمؐ فرماتے ہیں۔۔
مَنْ سَرَّہُ اَنْ یَّکُوْنَ اَقْوَی النَّاسِ فَلْیَتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ۔
جو چاہتا ہو کہ سب لوگوں سے طاقتور ہو، خدا پر بھروسہ کرے۔(3)
■ حضرت ابراہیمؑ کا توکل
جب بت پرستوں نے حضرت ابراہیمؑ سے اپنے بتوں کو توڑنے کا انتقام لینے کے لئے منجیق میں ڈالا اور ہوا میں اچھال کر دہکتی ہوئی بلند شعلہ آگ کے سمندر میں پھینک دیا، آسمان و زمین کے درمیان آگ میں اترنے کے سفر کے دوران مقرب فرشتہ آپ کے سامنے ظاہر ہوا اور پوچھا:
اے خلیل خدا! کوئی حاجت ہو تو بتاؤ، میں فوری طور پر آپ کے لئے انجام دے سکتا ہوں۔
حضرت ابراہیمؑ نے فرمایا؛
مجھے آپ سے کوئی حاجت نہیں ہے۔ مجھے صرف بے نیاز خدا سے حاجت ہے۔ میرے سب راز اس پر عیاں ہیں اور اس سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ خود بہتر جانتا ہے کہ اپنے ضرورت مند بندے کے لئے کیا کرے۔ اسی اثنا میں حکمِ خدا سے آگ گل و ریحان میں بدل گئی۔ اور باعثِ سلامتی قرار پائی۔(4)
■ بہترین سرپرست
ایک دن حضرت عزرائیلؑ ملک الموت حضرت موسٰیؑ کے پاس آئے جب حضرت موسٰیؑ نے انہیں دیکھا تو پوچھا کیسے آنا ہوا؟ ملاقات کے لئے آئے ہو یا قبضِ روح کے لئے آئے ہو۔؟
ملک الموت نے کہا؛
قبضِ روح کے لئے آیا ہوں۔
حضرت موسٰیؑ نے والدہ اور خاندان کے باقی افراد سے الوداع کے لئے مہلت چاہی۔ بیوی بچوں سے آخری ملاقات کر لوں۔
ملک الموت نے فرمایا؛
مجھے اس کا اختیار اور اجازت نہیں ہے۔
حضرت موسٰیؑ نے فرمایا؛
اچھا تو پھر ایک سجدہ کرنے کی مہلت دے دو۔
جس کی مہلت مل گئی اور حضرت موسٰیؑ سجدے میں چلے گئے۔ سجدے میں جاکر دعا کی۔۔
خدایا! ملک الموت کو حکم فرما کہ مجھے والدہ اور اہل و عیال سے الوداع کے لئے جانے دیں۔
خداوندمتعال نے حضرت عزرائیلؑ کو حکم دیا کہ موسٰیؑ کی روح کے قبض کو مؤخر کردے۔
حضرت موسٰیؑ اپنی والدہ کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا:
والدہ گرامی مجھے معاف کر دیں، میں ایک سفر پر جا رہا ہوں۔
ماں نے پوچھا؛
کونسا سفر۔؟
حضرت موسٰیؑ نے جواب دیا؛
سفرِ آخرت پر۔
ماں نے رونا شروع کر دیا اور حضرت موسٰیؑ نے الوداعی بازو والدہ کے گلے میں ڈال دیے۔ ماں سے جدا ہوکر اپنی بیوی اور بچوں کے پاس گئے۔ حضرت موسٰیؑ کا ایک چھوٹا بچہ تھا جس سے آپؑ کو زیادہ ہی محبت تھی۔ بچے نے حضرت موسٰیؑ کے پیراہن کا دامن پکڑ لیا اور زاروقطار رونے لگا۔ حضرت موسٰیؑ بھی سخت متأثر ہوئے، آپ سے بھی رہا نہ گیا۔ آپ بھی گریہ کرنے لگے۔
خداوندمتعال کی طرف سے خطاب ہوا؛
موسٰیؑ جو آپ ہماری ملاقات کے لئے ہمارے پاس آ رہے ہو تو رونا کس لئے؟
حضرت موسٰیؑ نے عرض کیا؛
پروردگار عالم مجھے اپنے بچوں کے لئے رونا آرہا ہے کیونکہ مجھے اپنے بچوں سے بہت زیادہ محبت ہے۔
خطابِ خداوندی آیا؛
موسٰیؑ ذرا اپنا عصا دریا میں مارو۔
حضرت موسٰیؑ نے عصا مارا۔ دریا پھٹ گیا ایک سفید پتھر نظر آیا جس میں سے ایک کمزور کیڑا پتھر کے اندر بیٹھا ہوا دیکھا جس کے منہ میں سبز پتا تھا اور وہ اسے چبانے میں مشغول تھا۔
خداوندمتعال نے حضرت موسٰیؑ سے خطاب فرمایا؛
موسٰی اس دریا کی تہہ اور اس پتھر کے اندر اس کمزور سے کیڑے کو نہیں بھولتا ہوں تو کیا تیرے بچوں کو بھول جاؤں گا۔؟ اطمینانِ خاطر سے چلے آؤ کہ میں ان کا بہترین نگہبان ہوں۔
حضرت موسٰیؑ نے عزرائیلؑ سے فرمایا؛
اپنے کام کو انجام دو اور پھر آپ کی روح قبض ہوگئی۔(5)
🌹 آگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
✍ سید سجاد حسین ھمدانی
📚حوالہ جات:
1)سورہ آل عمران، آیت159۔
2)سورہ طلاق، آیت3۔
3)میزان الحکمۃ:22645۔
4)نشان از بے نشان ہا، ج1، ص434۔
5)داستانہائے وپندہا، ج4، ص137 تا 139۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
راستہ چلنے والا اگرچہ سینکڑوں ہنر رکھتا ہو پھر بھی توکل ضروری ہے۔ اپنے جبار خدا پر بھروسہ کرو تاکہ مراد تک پہنچو۔
● ارشادِ باری تعالٰی ہے۔۔
إذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ إنَّ الله یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِینَ۔
جب کسی عمل کا ارادہ کرو تو اللہ تعالٰی پر توکل کرو کیونکہ خداوندمتعال اپنے اوپر بھروسہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔(1)
● خدا تعالٰی فرماتا ہے۔۔
وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ فَھُوَ حَسْبُہُ۔
اور جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے۔ اللہ اسے کافی ہوتا ہے۔(2)
● رسول اکرمؐ فرماتے ہیں۔۔
مَنْ سَرَّہُ اَنْ یَّکُوْنَ اَقْوَی النَّاسِ فَلْیَتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ۔
جو چاہتا ہو کہ سب لوگوں سے طاقتور ہو، خدا پر بھروسہ کرے۔(3)
■ حضرت ابراہیمؑ کا توکل
جب بت پرستوں نے حضرت ابراہیمؑ سے اپنے بتوں کو توڑنے کا انتقام لینے کے لئے منجیق میں ڈالا اور ہوا میں اچھال کر دہکتی ہوئی بلند شعلہ آگ کے سمندر میں پھینک دیا، آسمان و زمین کے درمیان آگ میں اترنے کے سفر کے دوران مقرب فرشتہ آپ کے سامنے ظاہر ہوا اور پوچھا:
اے خلیل خدا! کوئی حاجت ہو تو بتاؤ، میں فوری طور پر آپ کے لئے انجام دے سکتا ہوں۔
حضرت ابراہیمؑ نے فرمایا؛
مجھے آپ سے کوئی حاجت نہیں ہے۔ مجھے صرف بے نیاز خدا سے حاجت ہے۔ میرے سب راز اس پر عیاں ہیں اور اس سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ خود بہتر جانتا ہے کہ اپنے ضرورت مند بندے کے لئے کیا کرے۔ اسی اثنا میں حکمِ خدا سے آگ گل و ریحان میں بدل گئی۔ اور باعثِ سلامتی قرار پائی۔(4)
■ بہترین سرپرست
ایک دن حضرت عزرائیلؑ ملک الموت حضرت موسٰیؑ کے پاس آئے جب حضرت موسٰیؑ نے انہیں دیکھا تو پوچھا کیسے آنا ہوا؟ ملاقات کے لئے آئے ہو یا قبضِ روح کے لئے آئے ہو۔؟
ملک الموت نے کہا؛
قبضِ روح کے لئے آیا ہوں۔
حضرت موسٰیؑ نے والدہ اور خاندان کے باقی افراد سے الوداع کے لئے مہلت چاہی۔ بیوی بچوں سے آخری ملاقات کر لوں۔
ملک الموت نے فرمایا؛
مجھے اس کا اختیار اور اجازت نہیں ہے۔
حضرت موسٰیؑ نے فرمایا؛
اچھا تو پھر ایک سجدہ کرنے کی مہلت دے دو۔
جس کی مہلت مل گئی اور حضرت موسٰیؑ سجدے میں چلے گئے۔ سجدے میں جاکر دعا کی۔۔
خدایا! ملک الموت کو حکم فرما کہ مجھے والدہ اور اہل و عیال سے الوداع کے لئے جانے دیں۔
خداوندمتعال نے حضرت عزرائیلؑ کو حکم دیا کہ موسٰیؑ کی روح کے قبض کو مؤخر کردے۔
حضرت موسٰیؑ اپنی والدہ کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا:
والدہ گرامی مجھے معاف کر دیں، میں ایک سفر پر جا رہا ہوں۔
ماں نے پوچھا؛
کونسا سفر۔؟
حضرت موسٰیؑ نے جواب دیا؛
سفرِ آخرت پر۔
ماں نے رونا شروع کر دیا اور حضرت موسٰیؑ نے الوداعی بازو والدہ کے گلے میں ڈال دیے۔ ماں سے جدا ہوکر اپنی بیوی اور بچوں کے پاس گئے۔ حضرت موسٰیؑ کا ایک چھوٹا بچہ تھا جس سے آپؑ کو زیادہ ہی محبت تھی۔ بچے نے حضرت موسٰیؑ کے پیراہن کا دامن پکڑ لیا اور زاروقطار رونے لگا۔ حضرت موسٰیؑ بھی سخت متأثر ہوئے، آپ سے بھی رہا نہ گیا۔ آپ بھی گریہ کرنے لگے۔
خداوندمتعال کی طرف سے خطاب ہوا؛
موسٰیؑ جو آپ ہماری ملاقات کے لئے ہمارے پاس آ رہے ہو تو رونا کس لئے؟
حضرت موسٰیؑ نے عرض کیا؛
پروردگار عالم مجھے اپنے بچوں کے لئے رونا آرہا ہے کیونکہ مجھے اپنے بچوں سے بہت زیادہ محبت ہے۔
خطابِ خداوندی آیا؛
موسٰیؑ ذرا اپنا عصا دریا میں مارو۔
حضرت موسٰیؑ نے عصا مارا۔ دریا پھٹ گیا ایک سفید پتھر نظر آیا جس میں سے ایک کمزور کیڑا پتھر کے اندر بیٹھا ہوا دیکھا جس کے منہ میں سبز پتا تھا اور وہ اسے چبانے میں مشغول تھا۔
خداوندمتعال نے حضرت موسٰیؑ سے خطاب فرمایا؛
موسٰی اس دریا کی تہہ اور اس پتھر کے اندر اس کمزور سے کیڑے کو نہیں بھولتا ہوں تو کیا تیرے بچوں کو بھول جاؤں گا۔؟ اطمینانِ خاطر سے چلے آؤ کہ میں ان کا بہترین نگہبان ہوں۔
حضرت موسٰیؑ نے عزرائیلؑ سے فرمایا؛
اپنے کام کو انجام دو اور پھر آپ کی روح قبض ہوگئی۔(5)
🌹 آگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
✍ سید سجاد حسین ھمدانی
📚حوالہ جات:
1)سورہ آل عمران، آیت159۔
2)سورہ طلاق، آیت3۔
3)میزان الحکمۃ:22645۔
4)نشان از بے نشان ہا، ج1، ص434۔
5)داستانہائے وپندہا، ج4، ص137 تا 139۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
✨ جبرئیل کی تمنا ✨
💢 قال رسول الله (صلی الله علیه و آله و سلم) یَا عَلِیُّ!
✍ تمَنَّی جَبْرئِیلُ اَنْ یَکُونَ مِنْ بَنِی آدَمَ بِسَبْعِ خِصَالٍ وَ هِیَ:
♨ الصَّلَوه فِی الْجَمَاعَه وَ مُجَالَسَتُهُ الْعُلَمَاءَ وَ الصُّلْحُ بَیْنَ الاِثْنَیْنِ
♨ و اِکْرَامُ الْیَتِیمِ وَ عِیَاده الْمَرِیضِ وَ تَشْیِیعُ الْجَنَازه
♨ و سَْقیُ الْمَاءِ فِی الْحَجِّ
☀ فاحْرُصْ عَلَی ذَلِکَ
💢 پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا:
✍ یاعلی! بنی آدم میں سات ایسی خصلتیں پائی جاتی ہیں جس کی وجہ سے جبرئیل کی بھی آرزو ہے کہ وہ بنی آدم میں سے ہوتا:
♨ نماز جماعت میں شرکت کرنا،
♨ علماء کے ساتھ نشست و برخاست،
♨ دو مومن بھائیوں کے درمیان صلح کرنا،
♨ یتیم سے کرم نوازی،
♨ مریض کی عیادت،
♨ تشییع جنازہ میں شرکت،
♨ حاجیوں کو پانی پلانا؛
☀یا علی تم ان امور کو انجام دینے میں زیادہ دلچسبی رکھو
📚 مواعظ العددیه، علی مشکینی، نشر الهادی، قم، ص195.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
💢 قال رسول الله (صلی الله علیه و آله و سلم) یَا عَلِیُّ!
✍ تمَنَّی جَبْرئِیلُ اَنْ یَکُونَ مِنْ بَنِی آدَمَ بِسَبْعِ خِصَالٍ وَ هِیَ:
♨ الصَّلَوه فِی الْجَمَاعَه وَ مُجَالَسَتُهُ الْعُلَمَاءَ وَ الصُّلْحُ بَیْنَ الاِثْنَیْنِ
♨ و اِکْرَامُ الْیَتِیمِ وَ عِیَاده الْمَرِیضِ وَ تَشْیِیعُ الْجَنَازه
♨ و سَْقیُ الْمَاءِ فِی الْحَجِّ
☀ فاحْرُصْ عَلَی ذَلِکَ
💢 پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا:
✍ یاعلی! بنی آدم میں سات ایسی خصلتیں پائی جاتی ہیں جس کی وجہ سے جبرئیل کی بھی آرزو ہے کہ وہ بنی آدم میں سے ہوتا:
♨ نماز جماعت میں شرکت کرنا،
♨ علماء کے ساتھ نشست و برخاست،
♨ دو مومن بھائیوں کے درمیان صلح کرنا،
♨ یتیم سے کرم نوازی،
♨ مریض کی عیادت،
♨ تشییع جنازہ میں شرکت،
♨ حاجیوں کو پانی پلانا؛
☀یا علی تم ان امور کو انجام دینے میں زیادہ دلچسبی رکھو
📚 مواعظ العددیه، علی مشکینی، نشر الهادی، قم، ص195.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 قیصر روم کا مسلمان ہونا 🔷
بادشاہ قیصر روم نے کسی عباسی خلیفہ کو لکھا۔ ہم نے انجیل میں پڑھا، جو شخص ایسی سورہ پڑھے جس میں (ث، ج، خ، ز، ش، ظ، ف) نہ ہوں خدا اس کے جسم کو جہنم سے حرام قرار دیتا ہے۔ ہم نے تورات، انجیل، زبور میں تلاش کیا ہمیں ایسی سورہ نہیں ملی، کیا تمہاری کتاب میں ایسی سورہ ہے۔
خلیفہ نے علماء اسلام کو اکٹھا کر کے سوال کو دھرایا کوئی جواب نہ دے سکا۔آخر میں امام علی نقی علیہ السلام سے پوچھا گیا۔۔
امام علی نقی علیہ السلام نے فرمایا؛
وہ سورہ حمد ہے۔ ان ساتوں حروفوں میں اس میں کوئی حرف نہیں۔
لوگوں نے پوچھا کیوں نہیں۔؟
امام علی نقیؑ نے فرمایا:
ث، ثثبور یعنی ہلاکت پر،
ج، جخیم یعنی جہنم پر،
خ، خبیث پر،
ز، زقوم یعنی تھوہڑ پر،
ش، شقاوت پر،
ظ، ظلمت یعنی تاریکی پر،
ف، فرقت یا آفت پر دلالت کرتا ہے، یہ سورہ رحمت ہے اس میں عذاب کا اشارہ نہیں ہے۔
قیصر روم نے جب اس سوال کا جواب سنا۔ وہ بہت متأثر ہوا اور مسلمان ہو گیا۔یہ امام علیہ السلام کی برکت سے ہوا۔
📚 کشکول(احمد قاضی زاہدی) ج١ ص٢٠٣۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
بادشاہ قیصر روم نے کسی عباسی خلیفہ کو لکھا۔ ہم نے انجیل میں پڑھا، جو شخص ایسی سورہ پڑھے جس میں (ث، ج، خ، ز، ش، ظ، ف) نہ ہوں خدا اس کے جسم کو جہنم سے حرام قرار دیتا ہے۔ ہم نے تورات، انجیل، زبور میں تلاش کیا ہمیں ایسی سورہ نہیں ملی، کیا تمہاری کتاب میں ایسی سورہ ہے۔
خلیفہ نے علماء اسلام کو اکٹھا کر کے سوال کو دھرایا کوئی جواب نہ دے سکا۔آخر میں امام علی نقی علیہ السلام سے پوچھا گیا۔۔
امام علی نقی علیہ السلام نے فرمایا؛
وہ سورہ حمد ہے۔ ان ساتوں حروفوں میں اس میں کوئی حرف نہیں۔
لوگوں نے پوچھا کیوں نہیں۔؟
امام علی نقیؑ نے فرمایا:
ث، ثثبور یعنی ہلاکت پر،
ج، جخیم یعنی جہنم پر،
خ، خبیث پر،
ز، زقوم یعنی تھوہڑ پر،
ش، شقاوت پر،
ظ، ظلمت یعنی تاریکی پر،
ف، فرقت یا آفت پر دلالت کرتا ہے، یہ سورہ رحمت ہے اس میں عذاب کا اشارہ نہیں ہے۔
قیصر روم نے جب اس سوال کا جواب سنا۔ وہ بہت متأثر ہوا اور مسلمان ہو گیا۔یہ امام علیہ السلام کی برکت سے ہوا۔
📚 کشکول(احمد قاضی زاہدی) ج١ ص٢٠٣۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌼 حقوق العباد 🌼
خداوندمتعال اپنے حقوق تو معاف فرما سکتا ہے لیکن اپنے بندوں کے حقوق سے درگزر نہیں فرماتا۔
●حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں۔۔
جَعَلَ الله حُقُوْقَ عِبَادِہِ مُقَدِّمَةً عَلٰی حُقُوْقِہِ۔
خداوندمتعال نے اپنے حقوق سے اپنے بندوں کے حقوق کو مقدم قرار دیا ہے۔(1)
●حضرت امام حسن عسکریؑ نے فرمایا؛
اَعْرَفُ النَّاسِ بِحُقُوْقِ اِخْوَانِہِ وَ اَشَدِّھِمْ قَضَآءً لَّھَا اَعْظَمُھُمْ عِنْدَاللهِ شَانًا۔
اپنے مومن بھائیوں کے حقوق کی معرفت رکھنے والوں اور انہیں ادا کرنے کی سختی سے پابندی کرنے والوں کی اللہ تعالٰی کے نزدیک بڑی شان ہے۔(2)
■مشکوک اموال
حضرت امام زین العابدینؑ کو احرام کی حالت میں کسی نے دیکھا کہ چہرے مبارک کا رنگ زرد تھا اور آپ بالکل خاموش، پریشان محسوس ہو رہے تھے۔ کسی نے آپ سے آپ کی اس حالت کے بارے میں دریافت کیا اور پوچھا؛
کیا وجہ ہے یہ دین کے رہنما آقائے دین ہیں لیکن تلبیہ کی آواز بھی ہمیں سنائی نہیں دے رہی۔
آپ نے جواب میں فرمایا؛
میں خداوندمتعال کی ہیبت سے گھبرایا ہوا ہوں اس بات کا خوف محسوس کر رہا ہوں، میں لبیک کہوں اور واپسی جواب آئے لالبیک ولاسعدیک۔
اور پھر وضاحت کے لئے بلا فاصلہ فرمایا؛
میں جانتا ہوں کہ اگر کوئی شخص مشکوک اموال کے ساتھ حج کرے تو اس کے لبیک کے جواب میں کہہ دیا جاتا ہے لالبیک ولاسعدیک۔ جاؤ پہلے لوگوں کے حقوق واپس کرو اور پھر ادھر آنا۔(3)
■خلال دندان
حضرت عیسٰیؑ نے ایک قبرستان سے گزرتے ہوئے ایک قبر والے کے زندہ ہونے کی دعا فرمائی۔
جب وہ شخص زندہ ہوکر برآمد ہوا۔ حضرت عیسٰیؑ نے اس سے قبر کی حالت کے بارے میں دریافت فرمایا۔ اس نے بتایا۔۔
میں اونٹوں پر مال برداری کا کام کرتا تھا۔ ایک بار میں نے کسی شخص کا ایندھن لے جانا تھا راستے میں میں نے اپنے دانتوں کو صاف کرنے کے لیے ایندھن سے خلال (ایک تیلا) توڑا تھا اور اپنے دانتوں کا خلال کیا تھا۔ موت کے وقت سے لے کر اسی خلال کی سزا کا عذاب ہو رہا ہے۔(4)
📚 حوالہ جات:
1)میزان الحکمۃ:4150۔
2)میزان الحکمۃ:1454۔
3)موضوعی داستانیں، ص125۔
4)موضوعی داستانیں، ص126۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
خداوندمتعال اپنے حقوق تو معاف فرما سکتا ہے لیکن اپنے بندوں کے حقوق سے درگزر نہیں فرماتا۔
●حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں۔۔
جَعَلَ الله حُقُوْقَ عِبَادِہِ مُقَدِّمَةً عَلٰی حُقُوْقِہِ۔
خداوندمتعال نے اپنے حقوق سے اپنے بندوں کے حقوق کو مقدم قرار دیا ہے۔(1)
●حضرت امام حسن عسکریؑ نے فرمایا؛
اَعْرَفُ النَّاسِ بِحُقُوْقِ اِخْوَانِہِ وَ اَشَدِّھِمْ قَضَآءً لَّھَا اَعْظَمُھُمْ عِنْدَاللهِ شَانًا۔
اپنے مومن بھائیوں کے حقوق کی معرفت رکھنے والوں اور انہیں ادا کرنے کی سختی سے پابندی کرنے والوں کی اللہ تعالٰی کے نزدیک بڑی شان ہے۔(2)
■مشکوک اموال
حضرت امام زین العابدینؑ کو احرام کی حالت میں کسی نے دیکھا کہ چہرے مبارک کا رنگ زرد تھا اور آپ بالکل خاموش، پریشان محسوس ہو رہے تھے۔ کسی نے آپ سے آپ کی اس حالت کے بارے میں دریافت کیا اور پوچھا؛
کیا وجہ ہے یہ دین کے رہنما آقائے دین ہیں لیکن تلبیہ کی آواز بھی ہمیں سنائی نہیں دے رہی۔
آپ نے جواب میں فرمایا؛
میں خداوندمتعال کی ہیبت سے گھبرایا ہوا ہوں اس بات کا خوف محسوس کر رہا ہوں، میں لبیک کہوں اور واپسی جواب آئے لالبیک ولاسعدیک۔
اور پھر وضاحت کے لئے بلا فاصلہ فرمایا؛
میں جانتا ہوں کہ اگر کوئی شخص مشکوک اموال کے ساتھ حج کرے تو اس کے لبیک کے جواب میں کہہ دیا جاتا ہے لالبیک ولاسعدیک۔ جاؤ پہلے لوگوں کے حقوق واپس کرو اور پھر ادھر آنا۔(3)
■خلال دندان
حضرت عیسٰیؑ نے ایک قبرستان سے گزرتے ہوئے ایک قبر والے کے زندہ ہونے کی دعا فرمائی۔
جب وہ شخص زندہ ہوکر برآمد ہوا۔ حضرت عیسٰیؑ نے اس سے قبر کی حالت کے بارے میں دریافت فرمایا۔ اس نے بتایا۔۔
میں اونٹوں پر مال برداری کا کام کرتا تھا۔ ایک بار میں نے کسی شخص کا ایندھن لے جانا تھا راستے میں میں نے اپنے دانتوں کو صاف کرنے کے لیے ایندھن سے خلال (ایک تیلا) توڑا تھا اور اپنے دانتوں کا خلال کیا تھا۔ موت کے وقت سے لے کر اسی خلال کی سزا کا عذاب ہو رہا ہے۔(4)
📚 حوالہ جات:
1)میزان الحکمۃ:4150۔
2)میزان الحکمۃ:1454۔
3)موضوعی داستانیں، ص125۔
4)موضوعی داستانیں، ص126۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌻 ماں 🌻
شوہر کے گھر میں داخل ہوتے ہی
بیوی کا غصہ پھوٹ پڑا۔۔
سارا دن کہاں رہے؟ آفس میں پتہ كيا، وہاں بھی نہیں پہنچے! معاملہ کیا ہے؟
"وہ۔۔۔ وہ ... میں ..."
شوہر کی هكلاهٹ پر جھلاتے ہوئے بیوی پھر برسی، بولتے نہیں؟ کہاں چلے گئے تھے یہ گندا باکس اور کپڑوں کی پوٹلی کس کی اٹھا لائے؟
وہ میں ماں کو لانے گاؤں چلا گیا تھا.
شوہر تھوڑی ہمت کر کے بولا۔
کیا کہا؟ آپ ماں کو یہاں لے آئے؟ شرم نہیں آئی تمہیں؟
تمہارے بھائیوں کے پاس انہیں کیا تکلیف ہے؟
چراغ پا تھی بیوی!
اس نے پاس کھڑی پھٹی ہوئی سفید ساڑھی سے آنکھیں پونچھتی بیمار بوڑھی کی طرف دیکھا تک نہیں۔
انہیں میرے بھائیوں کے پاس نہیں چھوڑا جا سکتا تم سمجھ کیوں نہیں رہی.
شوہر نے دبی زبان سے کہا.
کیوں، یہاں کوئی کبیر کا خزانہ رکھا ہے؟ تمہاری چند ہزار روپلی کی تنخواہ میں بچوں کی پڑھائی اور گھر خرچ کس طرح چلا رہی ہوں، میں ہی جانتی ہوں!
بیوی کا لہجہ اتنا ہی شدید تھا
اب یہ ہمارے پاس ہی رہے گی شوہر نے سختی سے پیروی کی۔
میں کہتی ہوں، انہیں اسی وقت واپس چھوڑ کر آؤ. ورنہ میں اس گھر میں ایک لمحہ بھی نہیں رہوں گی اور ان مہارانی جی کو بھی یہاں آتے ذرا سی بھی شرم نہیں آئی؟
کہہ کر بیوی نے بوڑھی عورت کی طرف دیکھا، تو پاؤں تلے سے زمین ہی سرک گئی!
جھیپتے ہوئے بیوی بولی: "ماں، تم؟"
ہاں بیٹی! تمہارے بھائی اور بھابھی نے مجھے گھر سے نکال دیا. داماد جی کو فون كيا تو یہ مجھے یہاں لے آئے.
بڑھیا نے کہا، تو بیوی نے چہکتی نظروں سے شوہر کی طرف دیکھا اور بولی:
آپ بھی بڑے وہ ہو، ڈارلنگ! پہلے کیوں نہیں بتایا کہ میری ماں کو لانے گئے تھے؟
🔘 اس میسج کو اتنا شیئر کرو کہ ہر عورت تک پہنچ سکے!
کہ ماں تو ماں ہوتی ہے! کیا میری، کیا تیری؟
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/652
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
شوہر کے گھر میں داخل ہوتے ہی
بیوی کا غصہ پھوٹ پڑا۔۔
سارا دن کہاں رہے؟ آفس میں پتہ كيا، وہاں بھی نہیں پہنچے! معاملہ کیا ہے؟
"وہ۔۔۔ وہ ... میں ..."
شوہر کی هكلاهٹ پر جھلاتے ہوئے بیوی پھر برسی، بولتے نہیں؟ کہاں چلے گئے تھے یہ گندا باکس اور کپڑوں کی پوٹلی کس کی اٹھا لائے؟
وہ میں ماں کو لانے گاؤں چلا گیا تھا.
شوہر تھوڑی ہمت کر کے بولا۔
کیا کہا؟ آپ ماں کو یہاں لے آئے؟ شرم نہیں آئی تمہیں؟
تمہارے بھائیوں کے پاس انہیں کیا تکلیف ہے؟
چراغ پا تھی بیوی!
اس نے پاس کھڑی پھٹی ہوئی سفید ساڑھی سے آنکھیں پونچھتی بیمار بوڑھی کی طرف دیکھا تک نہیں۔
انہیں میرے بھائیوں کے پاس نہیں چھوڑا جا سکتا تم سمجھ کیوں نہیں رہی.
شوہر نے دبی زبان سے کہا.
کیوں، یہاں کوئی کبیر کا خزانہ رکھا ہے؟ تمہاری چند ہزار روپلی کی تنخواہ میں بچوں کی پڑھائی اور گھر خرچ کس طرح چلا رہی ہوں، میں ہی جانتی ہوں!
بیوی کا لہجہ اتنا ہی شدید تھا
اب یہ ہمارے پاس ہی رہے گی شوہر نے سختی سے پیروی کی۔
میں کہتی ہوں، انہیں اسی وقت واپس چھوڑ کر آؤ. ورنہ میں اس گھر میں ایک لمحہ بھی نہیں رہوں گی اور ان مہارانی جی کو بھی یہاں آتے ذرا سی بھی شرم نہیں آئی؟
کہہ کر بیوی نے بوڑھی عورت کی طرف دیکھا، تو پاؤں تلے سے زمین ہی سرک گئی!
جھیپتے ہوئے بیوی بولی: "ماں، تم؟"
ہاں بیٹی! تمہارے بھائی اور بھابھی نے مجھے گھر سے نکال دیا. داماد جی کو فون كيا تو یہ مجھے یہاں لے آئے.
بڑھیا نے کہا، تو بیوی نے چہکتی نظروں سے شوہر کی طرف دیکھا اور بولی:
آپ بھی بڑے وہ ہو، ڈارلنگ! پہلے کیوں نہیں بتایا کہ میری ماں کو لانے گئے تھے؟
🔘 اس میسج کو اتنا شیئر کرو کہ ہر عورت تک پہنچ سکے!
کہ ماں تو ماں ہوتی ہے! کیا میری، کیا تیری؟
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/652
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
💓حضرت موسٰیؑ کا بہشتی ہمسایہ💓
حضرت موسٰیؑ اپنے رب سے محوِ مناجات تھے کہ دل میں خیال گزرا، جنت میں میرا ہمسایہ کون ہوگا لہذا عرض کیا؛
پروردگار، اے رب ذوالجلال! کیا مجھے یہ خبر دی جا سکتی ہے کہ جنت میں میرا ہمسایہ کون ہوگا اور کیا میں اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ…
حضرت موسٰیؑ اپنے رب سے محوِ مناجات تھے کہ دل میں خیال گزرا، جنت میں میرا ہمسایہ کون ہوگا لہذا عرض کیا؛
پروردگار، اے رب ذوالجلال! کیا مجھے یہ خبر دی جا سکتی ہے کہ جنت میں میرا ہمسایہ کون ہوگا اور کیا میں اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ…
🔶 ہم نشینی 🔶
💦حضرت امام سجاد علیہ السلام اپنے فرزند ارجمند کو فرماتے ہیں: کوشش کرو پانچ آدمیوں کے ساتھ ہمنشینی نہ کرو.
آپ کے فرزند نے سوال کیا:
اے بابا جان وہ کونسے افراد ہیں؟
حضرت امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا:
1💧 - جھوٹے آدمی کے ساتھ ہمنشینی نہیں کرو، کیونکہ وہ دور سے آپ کو پانی کی طرح دیکھائی دے گا، لیکن اندر سے خراب ہے، وہ دور کو نزدیک اور نزدیک کو دور دیکھاتا ہے.
2 💧- وہ لوگ جو اللہ تعالی کی نافرمانی کرتے ہیں، ان کے ساتھ ہمنشینی نہیں کرو، کیونکہ وہ تمہیں ایک لقمہ سے بھی کم قیمت پر فروخت کر ڈالیں گے، اور اپنی صحیح زندگی کے لئے بیدار رہو.
3 💧- بخیل کے ساتھ ہمنشینی نہیں کرو، کیونکہ وہ تمہیں ذلیل اور خوار کرے گا، جب تم محتاج اور ضرورت مند ہو گے ، وہ تمہیں نہ مال، نہ زبان، کسی طرح سے بھی تمہاری مدد نہیں کرے گا.
4 💧- احمق کی دوستی سے اجتناب کرو، کیونکہ وہ تمہیں نفع پہنچانے کی کوشش کرے گا لیکن نقصان پہنچائے گا، کیونکہ وہ تشخیص دینے میں عاجز ہے، وہ اچھے اور برے کی تمیز نہیں کر سکتا.
5 💧- قطع رحم کرنے والے سے ہمنشینی نہیں کرو، کیونکہ وہ اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ صلہء رحمی نہیں کرتا اور ان کے ساتھ اچھائی نہیں کرتا، کیونکہ میں نے قرآن کریم میں قطع رحم کرنے والے شخص کو ملعون پایا ہے، اور ضروری ہے کہ ملعون شخص سے دوری اختیار کریں، تاکہ تم اس آگ میں مبتلا نہ ہو جاؤ.
📚 حوالہ:
بحارالانوار ج. 17.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
💦حضرت امام سجاد علیہ السلام اپنے فرزند ارجمند کو فرماتے ہیں: کوشش کرو پانچ آدمیوں کے ساتھ ہمنشینی نہ کرو.
آپ کے فرزند نے سوال کیا:
اے بابا جان وہ کونسے افراد ہیں؟
حضرت امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا:
1💧 - جھوٹے آدمی کے ساتھ ہمنشینی نہیں کرو، کیونکہ وہ دور سے آپ کو پانی کی طرح دیکھائی دے گا، لیکن اندر سے خراب ہے، وہ دور کو نزدیک اور نزدیک کو دور دیکھاتا ہے.
2 💧- وہ لوگ جو اللہ تعالی کی نافرمانی کرتے ہیں، ان کے ساتھ ہمنشینی نہیں کرو، کیونکہ وہ تمہیں ایک لقمہ سے بھی کم قیمت پر فروخت کر ڈالیں گے، اور اپنی صحیح زندگی کے لئے بیدار رہو.
3 💧- بخیل کے ساتھ ہمنشینی نہیں کرو، کیونکہ وہ تمہیں ذلیل اور خوار کرے گا، جب تم محتاج اور ضرورت مند ہو گے ، وہ تمہیں نہ مال، نہ زبان، کسی طرح سے بھی تمہاری مدد نہیں کرے گا.
4 💧- احمق کی دوستی سے اجتناب کرو، کیونکہ وہ تمہیں نفع پہنچانے کی کوشش کرے گا لیکن نقصان پہنچائے گا، کیونکہ وہ تشخیص دینے میں عاجز ہے، وہ اچھے اور برے کی تمیز نہیں کر سکتا.
5 💧- قطع رحم کرنے والے سے ہمنشینی نہیں کرو، کیونکہ وہ اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ صلہء رحمی نہیں کرتا اور ان کے ساتھ اچھائی نہیں کرتا، کیونکہ میں نے قرآن کریم میں قطع رحم کرنے والے شخص کو ملعون پایا ہے، اور ضروری ہے کہ ملعون شخص سے دوری اختیار کریں، تاکہ تم اس آگ میں مبتلا نہ ہو جاؤ.
📚 حوالہ:
بحارالانوار ج. 17.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 الله تعالٰی کی بخشش 🔷
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ایک شخص ایسا تھا جو اپنی توبہ پر کبھی ثابت قدم نہیں رہتا تھا۔ جب بھی وہ توبہ کرتا، اسے توڑ دیتا۔ یہاں تک کہ اسے اس حال میں بیس سال گزر گئے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی کہ میرے اس بندے سے کہہ دو میں تجھ سے سخت ناراض ہوں۔۔۔
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس آدمی کو اللہ کا پیغام دیا تو وہ بہت غمگین ہُوا اور جنگلوں کی طرف نکل گیا۔ اور وہاں جا کر اس گناہگار شخص نے ایسی خوبصورت دعا کی کہ اللہ تعالٰی کو دوبارہ وحی کرنا پڑی۔۔۔ اس شخص نے بارگاہِ ربّ العزت میں عرض کی۔۔
اے ربّ ذوالجلال! "تیری رحمت کم ہو گئی یا میرے گناہوں نے تجھے دُکھ دیا؟تیری بخشش کے خزانے ختم ہو گئے یا بندوں پر تیری نگاہِ کرم نہیں رہی؟ تیرے عفوودرگزر سے کونسا گناہ بڑا ہے؟ تُو کریم ہے، میں بخیل ہوں، کیا میرا بخل تیرے کرم پر غالب آ گیا ہے؟ اگر تُو نے اپنے بندوں کو اپنی رحمت سے محروم کر دیا تو وہ کس کے دروازے پر جائیں گے؟ اگر تُو نے دھتکار دیا تو وہ کہاں جائیں گے؟
اے ربِّ قادر و قہار! اگر تیری بخشش کم ہو گئی اور میرے لیے عذاب ہی رہ گیا ہے تو تمام گناہ گاروں کا عذاب مجھے دے دے میں اُن پر اپنی جان قربان کرتا ہوں۔"
اللّہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا؛ جاؤ اور میرے بندے سے کہدو کہ تُو نے میرے کمالِ قدرت اور عفو و درگزر کی حقیقت کو سمجھ لیا ہے۔ اگر تیرے گناہوں سے زمین بھر جائے تب بھی میں بخش دوں گا۔
📚 مُکاشِفۃُالقلُوب،ص170,171۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/646
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ایک شخص ایسا تھا جو اپنی توبہ پر کبھی ثابت قدم نہیں رہتا تھا۔ جب بھی وہ توبہ کرتا، اسے توڑ دیتا۔ یہاں تک کہ اسے اس حال میں بیس سال گزر گئے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی کہ میرے اس بندے سے کہہ دو میں تجھ سے سخت ناراض ہوں۔۔۔
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس آدمی کو اللہ کا پیغام دیا تو وہ بہت غمگین ہُوا اور جنگلوں کی طرف نکل گیا۔ اور وہاں جا کر اس گناہگار شخص نے ایسی خوبصورت دعا کی کہ اللہ تعالٰی کو دوبارہ وحی کرنا پڑی۔۔۔ اس شخص نے بارگاہِ ربّ العزت میں عرض کی۔۔
اے ربّ ذوالجلال! "تیری رحمت کم ہو گئی یا میرے گناہوں نے تجھے دُکھ دیا؟تیری بخشش کے خزانے ختم ہو گئے یا بندوں پر تیری نگاہِ کرم نہیں رہی؟ تیرے عفوودرگزر سے کونسا گناہ بڑا ہے؟ تُو کریم ہے، میں بخیل ہوں، کیا میرا بخل تیرے کرم پر غالب آ گیا ہے؟ اگر تُو نے اپنے بندوں کو اپنی رحمت سے محروم کر دیا تو وہ کس کے دروازے پر جائیں گے؟ اگر تُو نے دھتکار دیا تو وہ کہاں جائیں گے؟
اے ربِّ قادر و قہار! اگر تیری بخشش کم ہو گئی اور میرے لیے عذاب ہی رہ گیا ہے تو تمام گناہ گاروں کا عذاب مجھے دے دے میں اُن پر اپنی جان قربان کرتا ہوں۔"
اللّہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا؛ جاؤ اور میرے بندے سے کہدو کہ تُو نے میرے کمالِ قدرت اور عفو و درگزر کی حقیقت کو سمجھ لیا ہے۔ اگر تیرے گناہوں سے زمین بھر جائے تب بھی میں بخش دوں گا۔
📚 مُکاشِفۃُالقلُوب،ص170,171۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/646
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌲 خدا سے اُمید 🌲
خداوندمتعال کی معافی ہمارے گناہوں اور جرائم سے زیادہ ہے۔ ہمیشہ میری امیدیں خداوند ذوالجلال سے وابستہ ہیں کسی بھی شخص کو اپنے خالق لم یزل ولایزال سے ناامید نہیں ہونا چاہیے۔
●خداوندمتعال نے حضرت عیسٰیؑ سے فرمایا؛
"لا تَیْئَاسْ مِنْ رُوْحِی"…
خداوندمتعال کی معافی ہمارے گناہوں اور جرائم سے زیادہ ہے۔ ہمیشہ میری امیدیں خداوند ذوالجلال سے وابستہ ہیں کسی بھی شخص کو اپنے خالق لم یزل ولایزال سے ناامید نہیں ہونا چاہیے۔
●خداوندمتعال نے حضرت عیسٰیؑ سے فرمایا؛
"لا تَیْئَاسْ مِنْ رُوْحِی"…
🔷 وقت، وقت اور وقت 🔷
ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ 1 ﺭﻭﭘﮯ ﮐﯽ ﭘﺘﻨﮓ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ 2 ﮐﻠﻮﻣﯿﭩﺮ ﺗﮏ ﺑﮭﺎﮔﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﻛﺘﻨﯽ ﭼﻮﭨﯿﮟ ﻟﮕﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ ... ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﭘﺘﻨﮓ ﺑﮭﯽ ﮨﻤﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺩﻭﮌﺍﺗﯽ ﺗﮭﯽ ...
ﺁﺝ ﭘﺘﮧ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﮯ،
ﺩﺭﺍﺻﻞ ﻭﮦ ﭘﺘﻨﮓ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ؛
ﺍﯾﮏ ﭼﯿﻠﻨﺞ ﺗﮭﺎ ...
ﺧﻮﺷﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺩﻭﮌﻧﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ ... ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺧﻮﺷﯿﺎﮞ ﺩﮐﺎﻧﻮﮞ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯿﮟ ... ﺷﺎﯾﺪ ﯾﮩﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮨﮯ ... !!!
ﺟﺐ ﺑﭽﭙﻦ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺍﺏ ﺗﮭﺎ ... ﺟﺐ ﺟﻮﺍﻥ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻮ ﺑﭽﭙﻦ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﯾﺎﺩ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ... !!
ﺟﺐ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ، ﺁﺯﺍﺩﯼ ﺍﭼﮭﯽ ﻟﮕﺘﯽ ﺗﮭﯽ ... ﺁﺝ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮨﮯ، ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﮔﮭﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺟﻠﺪﯼ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ ... !!
ﺍﺳﮑﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﮭﮕﮍﮮ ﺗﮭﮯ، ﺁﺝ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮨﯽ ﺍﻧﭩﺮﻧﯿﭧ ﭘﮧ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ... !!
ﺧﻮﺷﯽ ﮐﺲ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﭘﺘﮧ ﺍﺏ ﭼﻼ ﮨﮯ ... ﺑﭽﭙﻦ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺍﺏ ﮨﻮﺍ ...
ﺟﺐ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﺮﭦ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﭼﮭﭙﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﮯ ﭘﮭﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺟﺎﺩﻭ ﺳﮯ ﻏﺎﺋﺐ ﮐﺮ ﺩﯾﮯ ۔۔۔
ﺟﺐ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﭼﺎﺭ ﺭﻧﮕﻮﮞ ﺳﮯ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺍﯾﮏ ﻗﻠﻢ ﮨﻮﺍ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺑﭩﻦ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﺑﺎﻧﮯ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ...
ﺟﺐ ﮨﻢ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﮭﭙﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﮈﺭﺍ ﺳﮑﯿﮟ ...
ﺟﺐ ﺁﻧﮑﮫ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ کے ﺳﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﮈﺭﺍﻣﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﮨﻤﯿﮟ ﮔﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﮯ ﺑﺴﺘﺮ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﮮ ...
ﺳﻮﭼﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ کہ ﯾﮧ ﭼﺎﻧﺪ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﭼﻞ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ...
ﻓﺮﯾﺞ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺳﮯ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﮐﮯ ﯾﮧ ﺟﺎﻧﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ کہ ﺍﺱ کی ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﺐ ﺑﻨﺪ ﮨﻮﺗﯽ ہے ...
ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﻢ ﺑﮍﮮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ؟
ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﻢ ﺑﮍﮮ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ۔۔۔؟
ﯾﮩﯽ ﻗﺪﺭﺕ ﮐﮯ ﺍﺻﻮﻝ ﮨﯿﮟ .. ﯾﮩﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺩﺳﺘﻮﺭ ﮨﮯ ...
ﻧﮧ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﺳﮯ ﺁﺋﮯ ﺗﮭﮯ،،، ﻣﮕﺮ ﺁﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﯿﺎ،،، ﻧﮧ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺟﺎﻧﺎ ﺗﻮ ﮨﮯ ﮨﯽ .... ﺗﻮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﯾﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﺱ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﮐﯽ ﺑﻨﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﺬﺍﺭﯾﮟ،، ﺟﺲ ﺳﮯ ﺟﺘﻨﺎ ﻣﺎﻧﮕﻮ ﻭﮦ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ..
ﺟﺲ ﮐﮯ ﻋﻄﺎ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﮐﻮ ﺑﺨﺸﻨﮯ ﮐﺎ ﺑﮩﺎﻧﮧ ﮈﮬﻮﻧﮉﮮ .. ﺍﺱ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻏﻼﻡ ﺑﻨﯿﮟ ﺟﻮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻗﺪﺭﺩﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﻭﻓﺎؤﮞ ﻭﺍﻻ ھے....
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے ضرور شیئر کریں۔
https://t.me/islamwitheman/570
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ 1 ﺭﻭﭘﮯ ﮐﯽ ﭘﺘﻨﮓ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ 2 ﮐﻠﻮﻣﯿﭩﺮ ﺗﮏ ﺑﮭﺎﮔﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﻛﺘﻨﯽ ﭼﻮﭨﯿﮟ ﻟﮕﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ ... ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﭘﺘﻨﮓ ﺑﮭﯽ ﮨﻤﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺩﻭﮌﺍﺗﯽ ﺗﮭﯽ ...
ﺁﺝ ﭘﺘﮧ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﮯ،
ﺩﺭﺍﺻﻞ ﻭﮦ ﭘﺘﻨﮓ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ؛
ﺍﯾﮏ ﭼﯿﻠﻨﺞ ﺗﮭﺎ ...
ﺧﻮﺷﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺩﻭﮌﻧﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ ... ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺧﻮﺷﯿﺎﮞ ﺩﮐﺎﻧﻮﮞ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯿﮟ ... ﺷﺎﯾﺪ ﯾﮩﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮨﮯ ... !!!
ﺟﺐ ﺑﭽﭙﻦ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺍﺏ ﺗﮭﺎ ... ﺟﺐ ﺟﻮﺍﻥ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻮ ﺑﭽﭙﻦ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﯾﺎﺩ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ... !!
ﺟﺐ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ، ﺁﺯﺍﺩﯼ ﺍﭼﮭﯽ ﻟﮕﺘﯽ ﺗﮭﯽ ... ﺁﺝ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮨﮯ، ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﮔﮭﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺟﻠﺪﯼ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ ... !!
ﺍﺳﮑﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﮭﮕﮍﮮ ﺗﮭﮯ، ﺁﺝ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮨﯽ ﺍﻧﭩﺮﻧﯿﭧ ﭘﮧ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ... !!
ﺧﻮﺷﯽ ﮐﺲ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﭘﺘﮧ ﺍﺏ ﭼﻼ ﮨﮯ ... ﺑﭽﭙﻦ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺍﺏ ﮨﻮﺍ ...
ﺟﺐ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﺮﭦ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﭼﮭﭙﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﮯ ﭘﮭﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺟﺎﺩﻭ ﺳﮯ ﻏﺎﺋﺐ ﮐﺮ ﺩﯾﮯ ۔۔۔
ﺟﺐ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﭼﺎﺭ ﺭﻧﮕﻮﮞ ﺳﮯ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺍﯾﮏ ﻗﻠﻢ ﮨﻮﺍ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺑﭩﻦ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﺑﺎﻧﮯ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ...
ﺟﺐ ﮨﻢ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﮭﭙﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﮈﺭﺍ ﺳﮑﯿﮟ ...
ﺟﺐ ﺁﻧﮑﮫ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ کے ﺳﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﮈﺭﺍﻣﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﮨﻤﯿﮟ ﮔﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﮯ ﺑﺴﺘﺮ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﮮ ...
ﺳﻮﭼﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ کہ ﯾﮧ ﭼﺎﻧﺪ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﭼﻞ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ...
ﻓﺮﯾﺞ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺳﮯ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﮐﮯ ﯾﮧ ﺟﺎﻧﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ کہ ﺍﺱ کی ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﺐ ﺑﻨﺪ ﮨﻮﺗﯽ ہے ...
ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﻢ ﺑﮍﮮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ؟
ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﻢ ﺑﮍﮮ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ۔۔۔؟
ﯾﮩﯽ ﻗﺪﺭﺕ ﮐﮯ ﺍﺻﻮﻝ ﮨﯿﮟ .. ﯾﮩﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺩﺳﺘﻮﺭ ﮨﮯ ...
ﻧﮧ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﺳﮯ ﺁﺋﮯ ﺗﮭﮯ،،، ﻣﮕﺮ ﺁﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﯿﺎ،،، ﻧﮧ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺟﺎﻧﺎ ﺗﻮ ﮨﮯ ﮨﯽ .... ﺗﻮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﯾﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﺱ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﮐﯽ ﺑﻨﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﺬﺍﺭﯾﮟ،، ﺟﺲ ﺳﮯ ﺟﺘﻨﺎ ﻣﺎﻧﮕﻮ ﻭﮦ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ..
ﺟﺲ ﮐﮯ ﻋﻄﺎ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﮐﻮ ﺑﺨﺸﻨﮯ ﮐﺎ ﺑﮩﺎﻧﮧ ﮈﮬﻮﻧﮉﮮ .. ﺍﺱ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻏﻼﻡ ﺑﻨﯿﮟ ﺟﻮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻗﺪﺭﺩﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﻭﻓﺎؤﮞ ﻭﺍﻻ ھے....
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے ضرور شیئر کریں۔
https://t.me/islamwitheman/570
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷️ موت اور اس کی تیاری (درس) 🔷️
موت ایک سواری ہے جو ہر دروازے پر کھڑی ہوتی ہے، آخر مٹی کے اندر اترنا ہو گا. اپنی زندگی کا سرمایہ اپنی قبر میں بھیجیں قبل اس کے کہ دنیاوی زندگی کا خاتمہ ہو.
● قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے..
کل نفس ذائقة الموت.
ہر جاندار موت…
موت ایک سواری ہے جو ہر دروازے پر کھڑی ہوتی ہے، آخر مٹی کے اندر اترنا ہو گا. اپنی زندگی کا سرمایہ اپنی قبر میں بھیجیں قبل اس کے کہ دنیاوی زندگی کا خاتمہ ہو.
● قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے..
کل نفس ذائقة الموت.
ہر جاندار موت…
🕸 عنکبوت 🕸
ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ "ﺍﻟﻌﻨﮑﺒﻮﺕ" ﮨﮯ، ﻋﻨﮑﺒﻮﺕ ﮐﻮ ﺍﺭﺩﻭ ﻣﯿﮟ "ﻣﮑﮍﯼ" ﮐﮩﺎ ﺟﺎ ﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻗﺮﺁﻥ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﻮﺩﺍ ﯾﺎ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﻋﻨﮑﺒﻮﺕ ﮐﺎ ﮨﮯ۔
ﺟﺪﯾﺪ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻣﺎﺩﮦ ﻋﻨﮑﺒﻮﺕ ﺑﭽﮯ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻧﺮ ﻋﻨﮑﺒﻮﺕ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ، ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﺍﻭﻻﺩ ﺑﮍﯼ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ہے ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﺘﯽ ہے، ﮐﺘﻨﺎ ﻋﺠﯿﺐ ﻭ ﻏﺮﯾﺐ ﮔﮭﺮﺍﻧﮧ ﮨﮯ، ﯾﻘﯿﻨﺎ ﺑﺪﺗﺮﯾﻦ ﮔﮭﺮﺍﻧﮧ ﮨﮯ۔
ﻗﺮﺍﻥ ﮐﺎ ﻣﻌﺠﺰﮦ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺟﻤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺍﺱ ﮔﮭﺮﺍﻧﮯ ﮐﯽ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮ ﺩﯼ۔۔۔
"ﺍﻥَّ ﺍﻭﮬﻦَ ﺍﻟﺒُﯿﻮﺕِ ﻟﺒﯿﺖُ ﺍﻟﻌﻨﮑﺒﻮﺕ ﻟﻮ ﮐﺎﻧﻮﺍ
ﯾﻌﻠﻤﻮﻥ۔"
ترجمہ:
ﺑﮯ ﺷﮏ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﻋﻨﮑﺒﻮﺕ ﮐﺎ ﮨﮯ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ (ﺍﻧﺴﺎﻥ) ﻋﻠﻢ ﺭﮐﮭﺘﮯ۔"
ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺍﻟﻠﮧ!
ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻋﻨﮑﺒﻮﺕ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺣﺴﯽ (ﻇﺎﮨﺮ) ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﮐﻮ ﺗﻮ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﻌﻨﻮﯼ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ (ﺩﺷﻤﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻧﮧ ﺟﻨﮕﯽ) ﺳﮯ ﺑﮯ ﺧﺒﺮ ﺗﮭﮯ!
ﺍﺏ ﺟﺪﯾﺪ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﻋﻠﻢ ﺭﮐﮭﺘﮯ (ﯾﻌﻨﯽ ﻣﮑﮍﯼ ﮐﯽ ﮔﮭﺮﯾﻠﻮﮞ ﮐﻤﺰﻭﺭﯾﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺩﺷﻤﻨﯽ ﺳﮯ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﻮﺗﮯ)
ﺍﺱ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎلی ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﭘﻮﺭﯼ ﺳﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺍﺱ ﺑﺮﯼ ﺧﺼﻠﺖ ﻭﺍلے ﮐﯿﮍﮮ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﺎ ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﺳﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﺳﮯ ﺁﺧﺮ ﺗﮏ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﻓﺘﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ!!
ﺳﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺍﺑﺘﺪﺍ ﯾﻮﮞ ﮨﮯ۔۔۔
"ﺍﻟﻢ ﺍﺣﺴﺐ ﺍﻟﻨﺎﺱ ﺍﻥ ﯾﺘﺮﮐﻮﺍ ﺍﻥ ﯾﻘﻮﻟﻮﺍ ﺁﻣﻨﺎ ﻭﮬﻢ ﻻ ﯾﻔﺘﻨﻮﻥ۔"
ترجمہ:
ﮐﯿﺎ ﻟﻮﮒ ﯾﮧ ﺧﯿﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﭼﮭﻮﭦ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻئے ہیں ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺁﺯﻣﺎﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ جائے ﮔﺎ۔
ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ۔۔
"ﻭﻣﻦ ﺍﻟﻨﺎﺱ ﻣﻦ ﯾﻘﻮﻝ ﺁﻣﻨﺎ ﺑﺎﻟﻠﮧ ﻓﺎﺫﺍ ﺍﻭﺫﯼ ﻓﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺟﻌﻞ ﻓﺘﻨۃ ﺍﻟﻨﺎﺱ ﮐﻌﺬﺍﺏ ﺍﻟﻠﮧ"
ترجمہ:
اور ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﻮ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻئے ہیں ﻣﮕﺮ ﺟﺐ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﺫﯾﺖ ﺩﯼ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺁﺯﻣﺎﺋﺶ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻋﺬﺍﺏ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﮑﮍﯼ ﮐﺎ ﻓﺘﻨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺁﺯﻣﺎﺋﺸﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﮨﮯ؟
ﻓﺘﻨﮯ، ﺳﺎﺯﺷﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺁﺯﻣﺎﺋﺸﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﮑﮍﯼ ﮐﮯ ﺟﺎﻝ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﯿﭽﯿﺪﮦ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺗﻤﯿﺰ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺑﮯﻧﻘﺎﺏ ﮐﺮﻧﺎ ﺁﺳﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔ ﻣﮕﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﯾﮧ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺳﺎﺯﺷﯽ ﮐﻔﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﻨﺎﻓﻖ ﺍﯾﺠﻨﭩﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﭼﺎﻟﯿﮟ ﻣﮑﮍﯼ ﮐﮯ ﺟﺎﻝ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﻤﺮ ﮐﺲ ﻟﯿﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ، ﯾﻘﯿﻨﺎ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺗﻮ ﻣﺘﻘﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﮨﯽ ﮨﮯ!!
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/748
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ "ﺍﻟﻌﻨﮑﺒﻮﺕ" ﮨﮯ، ﻋﻨﮑﺒﻮﺕ ﮐﻮ ﺍﺭﺩﻭ ﻣﯿﮟ "ﻣﮑﮍﯼ" ﮐﮩﺎ ﺟﺎ ﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻗﺮﺁﻥ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﻮﺩﺍ ﯾﺎ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﻋﻨﮑﺒﻮﺕ ﮐﺎ ﮨﮯ۔
ﺟﺪﯾﺪ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻣﺎﺩﮦ ﻋﻨﮑﺒﻮﺕ ﺑﭽﮯ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻧﺮ ﻋﻨﮑﺒﻮﺕ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ، ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﺍﻭﻻﺩ ﺑﮍﯼ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ہے ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﺘﯽ ہے، ﮐﺘﻨﺎ ﻋﺠﯿﺐ ﻭ ﻏﺮﯾﺐ ﮔﮭﺮﺍﻧﮧ ﮨﮯ، ﯾﻘﯿﻨﺎ ﺑﺪﺗﺮﯾﻦ ﮔﮭﺮﺍﻧﮧ ﮨﮯ۔
ﻗﺮﺍﻥ ﮐﺎ ﻣﻌﺠﺰﮦ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺟﻤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺍﺱ ﮔﮭﺮﺍﻧﮯ ﮐﯽ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮ ﺩﯼ۔۔۔
"ﺍﻥَّ ﺍﻭﮬﻦَ ﺍﻟﺒُﯿﻮﺕِ ﻟﺒﯿﺖُ ﺍﻟﻌﻨﮑﺒﻮﺕ ﻟﻮ ﮐﺎﻧﻮﺍ
ﯾﻌﻠﻤﻮﻥ۔"
ترجمہ:
ﺑﮯ ﺷﮏ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﻋﻨﮑﺒﻮﺕ ﮐﺎ ﮨﮯ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ (ﺍﻧﺴﺎﻥ) ﻋﻠﻢ ﺭﮐﮭﺘﮯ۔"
ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺍﻟﻠﮧ!
ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻋﻨﮑﺒﻮﺕ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺣﺴﯽ (ﻇﺎﮨﺮ) ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﮐﻮ ﺗﻮ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﻌﻨﻮﯼ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ (ﺩﺷﻤﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻧﮧ ﺟﻨﮕﯽ) ﺳﮯ ﺑﮯ ﺧﺒﺮ ﺗﮭﮯ!
ﺍﺏ ﺟﺪﯾﺪ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﻋﻠﻢ ﺭﮐﮭﺘﮯ (ﯾﻌﻨﯽ ﻣﮑﮍﯼ ﮐﯽ ﮔﮭﺮﯾﻠﻮﮞ ﮐﻤﺰﻭﺭﯾﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺩﺷﻤﻨﯽ ﺳﮯ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﻮﺗﮯ)
ﺍﺱ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎلی ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﭘﻮﺭﯼ ﺳﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺍﺱ ﺑﺮﯼ ﺧﺼﻠﺖ ﻭﺍلے ﮐﯿﮍﮮ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﺎ ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﺳﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﺳﮯ ﺁﺧﺮ ﺗﮏ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﻓﺘﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ!!
ﺳﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺍﺑﺘﺪﺍ ﯾﻮﮞ ﮨﮯ۔۔۔
"ﺍﻟﻢ ﺍﺣﺴﺐ ﺍﻟﻨﺎﺱ ﺍﻥ ﯾﺘﺮﮐﻮﺍ ﺍﻥ ﯾﻘﻮﻟﻮﺍ ﺁﻣﻨﺎ ﻭﮬﻢ ﻻ ﯾﻔﺘﻨﻮﻥ۔"
ترجمہ:
ﮐﯿﺎ ﻟﻮﮒ ﯾﮧ ﺧﯿﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﭼﮭﻮﭦ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻئے ہیں ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺁﺯﻣﺎﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ جائے ﮔﺎ۔
ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ۔۔
"ﻭﻣﻦ ﺍﻟﻨﺎﺱ ﻣﻦ ﯾﻘﻮﻝ ﺁﻣﻨﺎ ﺑﺎﻟﻠﮧ ﻓﺎﺫﺍ ﺍﻭﺫﯼ ﻓﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺟﻌﻞ ﻓﺘﻨۃ ﺍﻟﻨﺎﺱ ﮐﻌﺬﺍﺏ ﺍﻟﻠﮧ"
ترجمہ:
اور ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﻮ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻئے ہیں ﻣﮕﺮ ﺟﺐ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﺫﯾﺖ ﺩﯼ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺁﺯﻣﺎﺋﺶ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻋﺬﺍﺏ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﮑﮍﯼ ﮐﺎ ﻓﺘﻨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺁﺯﻣﺎﺋﺸﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﮨﮯ؟
ﻓﺘﻨﮯ، ﺳﺎﺯﺷﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺁﺯﻣﺎﺋﺸﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﮑﮍﯼ ﮐﮯ ﺟﺎﻝ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﯿﭽﯿﺪﮦ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺗﻤﯿﺰ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺑﮯﻧﻘﺎﺏ ﮐﺮﻧﺎ ﺁﺳﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔ ﻣﮕﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﯾﮧ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺳﺎﺯﺷﯽ ﮐﻔﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﻨﺎﻓﻖ ﺍﯾﺠﻨﭩﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﭼﺎﻟﯿﮟ ﻣﮑﮍﯼ ﮐﮯ ﺟﺎﻝ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﻤﺮ ﮐﺲ ﻟﯿﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ، ﯾﻘﯿﻨﺎ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺗﻮ ﻣﺘﻘﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﮨﯽ ﮨﮯ!!
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/748
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 وقت، وقت اور وقت 🔷
ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ 1 ﺭﻭﭘﮯ ﮐﯽ ﭘﺘﻨﮓ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ 2 ﮐﻠﻮﻣﯿﭩﺮ ﺗﮏ ﺑﮭﺎﮔﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﻛﺘﻨﯽ ﭼﻮﭨﯿﮟ ﻟﮕﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ ... ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﭘﺘﻨﮓ ﺑﮭﯽ ﮨﻤﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺩﻭﮌﺍﺗﯽ ﺗﮭﯽ ...
ﺁﺝ ﭘﺘﮧ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﮯ،
ﺩﺭﺍﺻﻞ ﻭﮦ ﭘﺘﻨﮓ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ؛
ﺍﯾﮏ ﭼﯿﻠﻨﺞ ﺗﮭﺎ ...
ﺧﻮﺷﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺩﻭﮌﻧﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ ...…
ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ 1 ﺭﻭﭘﮯ ﮐﯽ ﭘﺘﻨﮓ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ 2 ﮐﻠﻮﻣﯿﭩﺮ ﺗﮏ ﺑﮭﺎﮔﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﻛﺘﻨﯽ ﭼﻮﭨﯿﮟ ﻟﮕﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ ... ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﭘﺘﻨﮓ ﺑﮭﯽ ﮨﻤﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺩﻭﮌﺍﺗﯽ ﺗﮭﯽ ...
ﺁﺝ ﭘﺘﮧ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﮯ،
ﺩﺭﺍﺻﻞ ﻭﮦ ﭘﺘﻨﮓ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ؛
ﺍﯾﮏ ﭼﯿﻠﻨﺞ ﺗﮭﺎ ...
ﺧﻮﺷﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺩﻭﮌﻧﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ ...…
🔷 ریاست کا بادشاہ 🔷
ایک ریاست کے بادشاہ نے یہ اعلان کروا دیا کہ کل صبح جب میرے محل کا مرکزی دروازہ کھولا جائے گا تب جس شخص نے بھی محل میں جس چیز کو ہاتھ لگا دیا وہ چیز اس کی ھو جائے گی.
اس اعلان کو سن کر سب لوگ آپس میں بات چیت کرنے لگے کہ میں تو سب سے قیمتی چیز کو ہاتھ لگاؤں گا.
کچھ لوگ کہنے لگے میں تو سونے کو ہاتھ لگاؤں گا، کچھ لوگ چاندی کو تو کچھ لوگ قیمتی زیورات کو، کچھ لوگ گھوڑوں کو تو کچھ لوگ ہاتھی، کچھ لوگ دودھ دینے والی گائے کو ہاتھ لگانے کی بات کر رہے تھے.
جب صبح محل کا مرکزی دروازہ کھلا اور سب لوگ اپنی اپنی من پسند چیزوں کے لئے دوڑے. سب کو اس بات کی جلدی تھی کہ پہلے میں اپنی من پسند چیزوں کو ہاتھ لگا دوں تاکہ وہ چیز ہمیشہ کے لئے میری ہو جائے۔
بادشاہ اپنی جگہ پر بیٹھا سب کو دیکھ رہا تھا اور اپنے آس پاس ھونے والی بھاگ دوڑ کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا.
اسی وقت اس بھیڑ میں سے ایک شخص بادشاہ کی طرف بڑھنے لگا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا بادشاہ کے پاس پہنچ کر اس نے"بادشاہ" کو چھو لیا.
بادشاہ کو ہاتھ لگاتے ہی "بادشاہ" اس کا ہو گیا اور بادشاہ کی "ہر چیز" بھی اس کی ھو گئی.
🔘 جس طرح "بادشاہ" نے ان لوگوں کو موقع دیا اور ان لوگوں نے غلطیاں کیں. ٹھیک اسی طرح ساری دنیا کا "مالک" بھی ہم سب کو ہر روز موقع دیتا ہے، لیکن افسوس ہم لوگ بھی ہر روز غلطیاں کرتے ہیں.
ہم اللہ کو حاصل کرنے کی بجائے اللہ کی بنائی ہوئی دنیا کی چیزوں کی آرزو کرتے ہیں. لیکن کبھی بھی ہم لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ کیوں نہ دنیا کے بنانے والے "مالک" کو پا لیا جائے.
اگر "مالک" ہمارا ھو گیا تو اس کی بنائی ہوئی ہر چیز بھی ہماری ھو جائے گی۔۔!
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے ضرور شیئر کریں۔
https://t.me/islamwitheman/747
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ایک ریاست کے بادشاہ نے یہ اعلان کروا دیا کہ کل صبح جب میرے محل کا مرکزی دروازہ کھولا جائے گا تب جس شخص نے بھی محل میں جس چیز کو ہاتھ لگا دیا وہ چیز اس کی ھو جائے گی.
اس اعلان کو سن کر سب لوگ آپس میں بات چیت کرنے لگے کہ میں تو سب سے قیمتی چیز کو ہاتھ لگاؤں گا.
کچھ لوگ کہنے لگے میں تو سونے کو ہاتھ لگاؤں گا، کچھ لوگ چاندی کو تو کچھ لوگ قیمتی زیورات کو، کچھ لوگ گھوڑوں کو تو کچھ لوگ ہاتھی، کچھ لوگ دودھ دینے والی گائے کو ہاتھ لگانے کی بات کر رہے تھے.
جب صبح محل کا مرکزی دروازہ کھلا اور سب لوگ اپنی اپنی من پسند چیزوں کے لئے دوڑے. سب کو اس بات کی جلدی تھی کہ پہلے میں اپنی من پسند چیزوں کو ہاتھ لگا دوں تاکہ وہ چیز ہمیشہ کے لئے میری ہو جائے۔
بادشاہ اپنی جگہ پر بیٹھا سب کو دیکھ رہا تھا اور اپنے آس پاس ھونے والی بھاگ دوڑ کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا.
اسی وقت اس بھیڑ میں سے ایک شخص بادشاہ کی طرف بڑھنے لگا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا بادشاہ کے پاس پہنچ کر اس نے"بادشاہ" کو چھو لیا.
بادشاہ کو ہاتھ لگاتے ہی "بادشاہ" اس کا ہو گیا اور بادشاہ کی "ہر چیز" بھی اس کی ھو گئی.
🔘 جس طرح "بادشاہ" نے ان لوگوں کو موقع دیا اور ان لوگوں نے غلطیاں کیں. ٹھیک اسی طرح ساری دنیا کا "مالک" بھی ہم سب کو ہر روز موقع دیتا ہے، لیکن افسوس ہم لوگ بھی ہر روز غلطیاں کرتے ہیں.
ہم اللہ کو حاصل کرنے کی بجائے اللہ کی بنائی ہوئی دنیا کی چیزوں کی آرزو کرتے ہیں. لیکن کبھی بھی ہم لوگ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ کیوں نہ دنیا کے بنانے والے "مالک" کو پا لیا جائے.
اگر "مالک" ہمارا ھو گیا تو اس کی بنائی ہوئی ہر چیز بھی ہماری ھو جائے گی۔۔!
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے ضرور شیئر کریں۔
https://t.me/islamwitheman/747
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 الله تعالٰی کی بخشش 🔷
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ایک شخص ایسا تھا جو اپنی توبہ پر کبھی ثابت قدم نہیں رہتا تھا۔ جب بھی وہ توبہ کرتا، اسے توڑ دیتا۔ یہاں تک کہ اسے اس حال میں بیس سال گزر گئے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی کہ…
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ایک شخص ایسا تھا جو اپنی توبہ پر کبھی ثابت قدم نہیں رہتا تھا۔ جب بھی وہ توبہ کرتا، اسے توڑ دیتا۔ یہاں تک کہ اسے اس حال میں بیس سال گزر گئے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی کہ…
🎅 ریڈی میڈ 🎅
جس طرح گھریلو کھانوں کی جگہ فاسٹ فوڈز نے لے رکھی ہے اسیطرح عبادات اور تلاوت کلام پاک کی جگہ مختصر آرام دہ وظائف نے لے رکھی ہے۔
ہمارے بچے کہنا نہیں مانتے ۔۔۔
کاروبار میں برکت نہیں ہے ۔۔۔
گھر میں جو پیسہ آتا ہے سمجھ نہیں آتی کہاں جاتا ہے۔۔
اولاد ضدی ہو گئی ہے۔۔۔
گھر میں آئے روز کوئی نا کوئی بیمار ہو رہا ہے۔۔
کوئی نا کوئی پریشانی آجاتی ہے ۔۔۔
جس کام میں ہاتھ ڈالو وہیں رکاوٹ ۔۔۔
کام بنتے بنتے رہ جاتے ہیں ۔۔۔
ناجانے بیسیوں مسائل ہر گھر میں موجود ہیں ۔۔
اور ان کے اسباب بھی ہمارے آس پاس ہی ہیں لیکن ہم انہیں سیریس نہیں لیتے یا پھر انہیں اسباب ہی نہیں سمجھتے۔
مثال کے طور پر بنکوں سے قرضے لینا،
اوپر (رشوت) کی کمائی کھانا،
ایک دوسرے کی ترقی دیکھ کر حسد کرنا اور دعا دیئے بغیر جھوٹی تعریف کرنا (نظر لگنے کا سبب)
نماز نہ پڑھنے کی نحوست ہمارے گھروں میں ہمارے کاروبار میں ۔۔۔
ہفتوں قرآن نہ کھولنا۔۔۔
یہ سارے اسباب ہیں ان پریشانیوں کے جو آئے روز ہمارے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہیں ۔۔۔
لیکن اس میں بھی ہمیں ریڈی میڈ وظیفہ چاہئے جس کا تعلق نہ نماز سے ہو، نہ سود سے روک تھام ہو، نہ رشوت کی ممانعت سے لیس ہو، نہ ہی قرآن کھولنا پڑے بس کوئی آسان سا وظیفہ مل جائے تو چار چاند لگ جائیں۔
ایک دفعہ کسی صاحب کا فون آیا اور گھریلو مسائل بتا کر کہنے لگے کوئی وظیفہ بتائیں۔
عرض کی میں کوئی پیر، عامل یا شیخ تو ہوں نہیں۔ ہاں البتہ کہیں پڑھا تھا کہ سورہ بقرہ اول تا آخر اہتمام سے پڑھی جائے اور پھر دعا کی جائے تو اللہ کے حکم سے خیر ہوتی ہے۔
وہ صاحب شاید دل ہی دل میں سورہ کوثر کیلئے کمر باند رہے تھے۔ سورہ بقرہ کا نام سن کر گھبرا گئے اور کہا ان شاءاللہ میں پڑھوں گا۔
دو دن بعد پھر کال آئی "کیا سورہ بقرہ ایک ہی دن پڑھنی ہے؟
کیا ایک ہی آدمی نے پڑھنی ہے یا گھر کے سارے افراد پڑھ سکتے ہیں؟
کیا صحن میں بیٹھ کر پڑھ سکتے ہیں؟
اچھا یہ بتائیں اگر درمیان میں باتیں کر لیں تو کیا دوبارہ شروع سے پڑھنی پڑھے گی؟؟ (اس جیسی کئی توہمات)
عرض کیا جیسے بھی پڑھیں بس اللہ کا نام لیکر پڑھ لیں ایک بار مکمل ۔۔۔
پھر کچھ دن بعد کال آئی اور پھر سے سوالات۔ مگر سورہ بقرہ وہیں کی وہیں کھڑی تھی۔
(انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا ابھی تک ایک رکوع پڑھنے کی ہمت نہ ہو سکی !!)
اور وہی ہوا جسکا ڈر تھا۔ آخر میں فرمانے لگے "جناب اگر ممکن ہو تو آپ پڑھ دیں گے ہماری طرف سے؟
گویا ریڈی میڈ موصوف پڑھوانا چاہ رہے تھے وہ بھی ہوم ڈلیوری کیساتھ۔
✍ مستنصر حسین تارڑ
😂🤡😂
https://t.me/muskuraahten
🎅 MUSKURAAHTEN 🎅
جس طرح گھریلو کھانوں کی جگہ فاسٹ فوڈز نے لے رکھی ہے اسیطرح عبادات اور تلاوت کلام پاک کی جگہ مختصر آرام دہ وظائف نے لے رکھی ہے۔
ہمارے بچے کہنا نہیں مانتے ۔۔۔
کاروبار میں برکت نہیں ہے ۔۔۔
گھر میں جو پیسہ آتا ہے سمجھ نہیں آتی کہاں جاتا ہے۔۔
اولاد ضدی ہو گئی ہے۔۔۔
گھر میں آئے روز کوئی نا کوئی بیمار ہو رہا ہے۔۔
کوئی نا کوئی پریشانی آجاتی ہے ۔۔۔
جس کام میں ہاتھ ڈالو وہیں رکاوٹ ۔۔۔
کام بنتے بنتے رہ جاتے ہیں ۔۔۔
ناجانے بیسیوں مسائل ہر گھر میں موجود ہیں ۔۔
اور ان کے اسباب بھی ہمارے آس پاس ہی ہیں لیکن ہم انہیں سیریس نہیں لیتے یا پھر انہیں اسباب ہی نہیں سمجھتے۔
مثال کے طور پر بنکوں سے قرضے لینا،
اوپر (رشوت) کی کمائی کھانا،
ایک دوسرے کی ترقی دیکھ کر حسد کرنا اور دعا دیئے بغیر جھوٹی تعریف کرنا (نظر لگنے کا سبب)
نماز نہ پڑھنے کی نحوست ہمارے گھروں میں ہمارے کاروبار میں ۔۔۔
ہفتوں قرآن نہ کھولنا۔۔۔
یہ سارے اسباب ہیں ان پریشانیوں کے جو آئے روز ہمارے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہیں ۔۔۔
لیکن اس میں بھی ہمیں ریڈی میڈ وظیفہ چاہئے جس کا تعلق نہ نماز سے ہو، نہ سود سے روک تھام ہو، نہ رشوت کی ممانعت سے لیس ہو، نہ ہی قرآن کھولنا پڑے بس کوئی آسان سا وظیفہ مل جائے تو چار چاند لگ جائیں۔
ایک دفعہ کسی صاحب کا فون آیا اور گھریلو مسائل بتا کر کہنے لگے کوئی وظیفہ بتائیں۔
عرض کی میں کوئی پیر، عامل یا شیخ تو ہوں نہیں۔ ہاں البتہ کہیں پڑھا تھا کہ سورہ بقرہ اول تا آخر اہتمام سے پڑھی جائے اور پھر دعا کی جائے تو اللہ کے حکم سے خیر ہوتی ہے۔
وہ صاحب شاید دل ہی دل میں سورہ کوثر کیلئے کمر باند رہے تھے۔ سورہ بقرہ کا نام سن کر گھبرا گئے اور کہا ان شاءاللہ میں پڑھوں گا۔
دو دن بعد پھر کال آئی "کیا سورہ بقرہ ایک ہی دن پڑھنی ہے؟
کیا ایک ہی آدمی نے پڑھنی ہے یا گھر کے سارے افراد پڑھ سکتے ہیں؟
کیا صحن میں بیٹھ کر پڑھ سکتے ہیں؟
اچھا یہ بتائیں اگر درمیان میں باتیں کر لیں تو کیا دوبارہ شروع سے پڑھنی پڑھے گی؟؟ (اس جیسی کئی توہمات)
عرض کیا جیسے بھی پڑھیں بس اللہ کا نام لیکر پڑھ لیں ایک بار مکمل ۔۔۔
پھر کچھ دن بعد کال آئی اور پھر سے سوالات۔ مگر سورہ بقرہ وہیں کی وہیں کھڑی تھی۔
(انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا ابھی تک ایک رکوع پڑھنے کی ہمت نہ ہو سکی !!)
اور وہی ہوا جسکا ڈر تھا۔ آخر میں فرمانے لگے "جناب اگر ممکن ہو تو آپ پڑھ دیں گے ہماری طرف سے؟
گویا ریڈی میڈ موصوف پڑھوانا چاہ رہے تھے وہ بھی ہوم ڈلیوری کیساتھ۔
✍ مستنصر حسین تارڑ
😂🤡😂
https://t.me/muskuraahten
🎅 MUSKURAAHTEN 🎅
Telegram
🎅مسکراہٹیں🎅
لطیفے، مزاحیہ اور ہارر کلپس
🔷حضرت خضرؑ و موسٰیؑ(حصہ اول)🔷
حضرت موسٰیؑ بنی اسرائیل کو خطاب کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو ان سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ علم کس کے پاس ہے؟
حضرت موسٰیؑ نے فرمایا:
میرے پاس۔
تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب کیا کہ علم کو اللہ کی طرف منسوب کیوں نہیں کیا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی کہ بحرین جہاں دو دریا ملتے ہیں وہاں میرے بندوں میں سے ایک بندہ ایسا ہے جس کے پاس آپ سے زیادہ علم ہے۔
موسٰیؑ نے عرض کیا:
اے رب! میں کس طرح اس کے پاس پہنچوں گا؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا؛
زنبیل میں ایک مچھلی رکھ کر چل دو جہاں وہ کھو جائے گی وہیں وہ شخص آپ کو ملے گا۔
پھر موسٰیؑ نے اپنے ساتھ اپنے خادم یوشع بن نون کو لیا اور زنبیل میں مچھلی رکھ کر چل دیئے یہانتک کہ ایک ٹیلے کے پاس پہنچے تو موسٰیؑ اور ان کے خادم دونوں لیٹ گئے اور سو گئے۔ مچھلی زنبیل میں کودنے لگی۔ یہاں تک کہ نکل کر دریا میں گر گئی۔ اللہ تعالیٰ نے پانی کا بہاؤ وہیں روک دیا اور وہاں طاق سا بن گیا اور اس کا راستہ ویسا ہی بنا رہا۔ جب کہ موسٰیؑ کے ساتھی بھول گئے کہ انہیں مچھلی کے متعلق بتائیں، صبح ہوئی تو موسٰیؑ نےاپنے ساتھی سے کھانا طلب کیا اور فرمایا کہ اس سفر میں ہمیں بہت تھکن ہوئی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ موسٰیؑ اسی وقت تھکے جب اس جگہ سے تجاوز کیا جس کے متعلق حکم دیا گیا تھا کہ ان کے ساتھی نے کہا۔ دیکھئے جب ہم ٹیلے پر ٹھہرے تو میں مچھلی بھول گیا تھا اور یقینا یہ شیطان ہی کا کام ہے کہ مجھے بھلا دیا کہ میں آپ سے اس کا تذکرہ کروں کہ اس نے عجیب طریقے سے دریا کا راستہ اختیار کیا۔ موسٰیؑ فرمانے لگے وہی جگہ ہم تلاش کر رہے تھے۔ چنانچہ وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانوں پر واپس لوٹے۔ وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے چلتے چٹان کے پاس پہنچے تو ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ چادر سے اپنے آپ کو ڈھانکے ہوئے ہے۔۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں سلام کیا۔ انہوں نے فرمایا اس زمین میں سلام کہاں؟
موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا میں زمین میں موسٰی ہوں۔
انہوں نے پوچھا؛
بنی اسرائیل کا موسیٰ؟
آپ علیہ السلام نے فرمایا؛ ہاں۔
حضرت خضر نے فرمایا؛
اے موسیٰ تمہارے پاس اللہ کا دیا ہوا ایک علم ہے جسے میں نہیں جانتا اور میرے پاس اللہ کا عطا کردہ ایک علم ہے جسے آپ نہیں جانتے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا؛
کیا میں اس شرط پر آپ کے پیچھے چلوں کہ آپ میری رہنمائی فرماتے ہوئے مجھے وہ بات سکھائیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھائی۔
حضرت خضرؑ نے فرمایا؛
آپ صبر نہیں کر سکیں گے اور اس چیز پر کیسے صبر کر سکیں گے جس کا آپ کی عقل نے احاطہ نہیں کیا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا؛
عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے اور میں آپ کی حکم عدولی نہیں کروں گا۔
حضرت خضرؑ نے فرمایا؛
اگر میری پیروی کرنا ہی چاہتے ہو تو جب تک کوئی بات میں خود نہ بیان کروں آپ مجھے نہیں پوچھیں گے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا؛
ٹھیک ہے ۔۔
پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضرؑ دونوں ساحل پر چل رہے تھے کہ ایک کشتی ان کے پاس سے گذری، انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی سوار کرلو انہوں نے حضرت خضر علیہ السلام کو پہچان لیا اور بغیر کرائے کے دونوں کو بٹھا لیا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے اس کشتی کا تختہ اکھاڑ دیا۔
حضرت موسٰیؑ بول پڑے کہ آپ نے کشتی کو توڑ دیا تاکہ اس کشتی والے غرق ہو جائیں آپ نے بڑا عجیب کام کیا ہے۔۔
حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا:
اے موسیٰ! کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کر سکو گے۔
حضرت موسیٰ نے فرمایا؛
جو بات میں بھول گیا ہوں آپ اس پر میرا مؤاخذہ نہ کریں اور مجھے تنگی میں نہ ڈالیں۔
پھر وہ کشتی پر سے اتر کر ابھی ساحل پر چل رہے تھے کہ ایک بچہ بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔۔ حضرت خضر علیہ السلام نے اس کا سر پکڑا اور اسے ہاتھ سے جھٹکا دے کر قتل کر دیا۔
موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ آپ نے ایک بے گناہ قتل کر دیا۔ آپ نے بڑی بے جا حرکت کی۔
وہ کہنے لگے کہ میں نے کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ راوی کہتا ہے کہ یہ بات پہلی بات سے زیادہ تعجب خیز تھی۔
موسٰیؑ کہنے لگے کہ اگر اس کے بعد بھی میں آپ سے کسی چیز کے بارے میں سوال کروں تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھئے گا۔ آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ چکے ہیں۔
پھر وہ دونوں چلے یہاں تک کہ ایک بستی کے پاس سے گذرے اور ان سے کھانے کے لئے کچھ مانگا تو انہوں نے ان کی مہمانی کرنے سے انکار کر دیا۔ اتنے میں وہاں انہیں ایک دیوار ملی جو گرنے کے قریب تھی تو حضرت خضرؑ نے اس دیوار کو سیدھا کھڑا کر دیا ۔
موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ ہم ان لوگوں کے پاس آئے تو انہوں نے ہماری ضیافت تک نہیں کی اور ہمیں کھانا کھلانے سے بھی انکار کر دیا۔ اگر آپ چاہتے تو اس کام کی اجرت لے سکتے تھے۔۔۔!!
حضرت خضرؑ نے فرمایا کہ بس اب یہ وقت۔۔۔ جاری ہے۔۔
بقیہ حصہ دوم میں۔۔۔۔
https://t.me/islamwitheman/759
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
حضرت موسٰیؑ بنی اسرائیل کو خطاب کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو ان سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ علم کس کے پاس ہے؟
حضرت موسٰیؑ نے فرمایا:
میرے پاس۔
تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب کیا کہ علم کو اللہ کی طرف منسوب کیوں نہیں کیا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی کہ بحرین جہاں دو دریا ملتے ہیں وہاں میرے بندوں میں سے ایک بندہ ایسا ہے جس کے پاس آپ سے زیادہ علم ہے۔
موسٰیؑ نے عرض کیا:
اے رب! میں کس طرح اس کے پاس پہنچوں گا؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا؛
زنبیل میں ایک مچھلی رکھ کر چل دو جہاں وہ کھو جائے گی وہیں وہ شخص آپ کو ملے گا۔
پھر موسٰیؑ نے اپنے ساتھ اپنے خادم یوشع بن نون کو لیا اور زنبیل میں مچھلی رکھ کر چل دیئے یہانتک کہ ایک ٹیلے کے پاس پہنچے تو موسٰیؑ اور ان کے خادم دونوں لیٹ گئے اور سو گئے۔ مچھلی زنبیل میں کودنے لگی۔ یہاں تک کہ نکل کر دریا میں گر گئی۔ اللہ تعالیٰ نے پانی کا بہاؤ وہیں روک دیا اور وہاں طاق سا بن گیا اور اس کا راستہ ویسا ہی بنا رہا۔ جب کہ موسٰیؑ کے ساتھی بھول گئے کہ انہیں مچھلی کے متعلق بتائیں، صبح ہوئی تو موسٰیؑ نےاپنے ساتھی سے کھانا طلب کیا اور فرمایا کہ اس سفر میں ہمیں بہت تھکن ہوئی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ موسٰیؑ اسی وقت تھکے جب اس جگہ سے تجاوز کیا جس کے متعلق حکم دیا گیا تھا کہ ان کے ساتھی نے کہا۔ دیکھئے جب ہم ٹیلے پر ٹھہرے تو میں مچھلی بھول گیا تھا اور یقینا یہ شیطان ہی کا کام ہے کہ مجھے بھلا دیا کہ میں آپ سے اس کا تذکرہ کروں کہ اس نے عجیب طریقے سے دریا کا راستہ اختیار کیا۔ موسٰیؑ فرمانے لگے وہی جگہ ہم تلاش کر رہے تھے۔ چنانچہ وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانوں پر واپس لوٹے۔ وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے چلتے چٹان کے پاس پہنچے تو ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ چادر سے اپنے آپ کو ڈھانکے ہوئے ہے۔۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں سلام کیا۔ انہوں نے فرمایا اس زمین میں سلام کہاں؟
موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا میں زمین میں موسٰی ہوں۔
انہوں نے پوچھا؛
بنی اسرائیل کا موسیٰ؟
آپ علیہ السلام نے فرمایا؛ ہاں۔
حضرت خضر نے فرمایا؛
اے موسیٰ تمہارے پاس اللہ کا دیا ہوا ایک علم ہے جسے میں نہیں جانتا اور میرے پاس اللہ کا عطا کردہ ایک علم ہے جسے آپ نہیں جانتے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا؛
کیا میں اس شرط پر آپ کے پیچھے چلوں کہ آپ میری رہنمائی فرماتے ہوئے مجھے وہ بات سکھائیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھائی۔
حضرت خضرؑ نے فرمایا؛
آپ صبر نہیں کر سکیں گے اور اس چیز پر کیسے صبر کر سکیں گے جس کا آپ کی عقل نے احاطہ نہیں کیا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا؛
عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے اور میں آپ کی حکم عدولی نہیں کروں گا۔
حضرت خضرؑ نے فرمایا؛
اگر میری پیروی کرنا ہی چاہتے ہو تو جب تک کوئی بات میں خود نہ بیان کروں آپ مجھے نہیں پوچھیں گے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا؛
ٹھیک ہے ۔۔
پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضرؑ دونوں ساحل پر چل رہے تھے کہ ایک کشتی ان کے پاس سے گذری، انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی سوار کرلو انہوں نے حضرت خضر علیہ السلام کو پہچان لیا اور بغیر کرائے کے دونوں کو بٹھا لیا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے اس کشتی کا تختہ اکھاڑ دیا۔
حضرت موسٰیؑ بول پڑے کہ آپ نے کشتی کو توڑ دیا تاکہ اس کشتی والے غرق ہو جائیں آپ نے بڑا عجیب کام کیا ہے۔۔
حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا:
اے موسیٰ! کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کر سکو گے۔
حضرت موسیٰ نے فرمایا؛
جو بات میں بھول گیا ہوں آپ اس پر میرا مؤاخذہ نہ کریں اور مجھے تنگی میں نہ ڈالیں۔
پھر وہ کشتی پر سے اتر کر ابھی ساحل پر چل رہے تھے کہ ایک بچہ بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔۔ حضرت خضر علیہ السلام نے اس کا سر پکڑا اور اسے ہاتھ سے جھٹکا دے کر قتل کر دیا۔
موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ آپ نے ایک بے گناہ قتل کر دیا۔ آپ نے بڑی بے جا حرکت کی۔
وہ کہنے لگے کہ میں نے کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ راوی کہتا ہے کہ یہ بات پہلی بات سے زیادہ تعجب خیز تھی۔
موسٰیؑ کہنے لگے کہ اگر اس کے بعد بھی میں آپ سے کسی چیز کے بارے میں سوال کروں تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھئے گا۔ آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ چکے ہیں۔
پھر وہ دونوں چلے یہاں تک کہ ایک بستی کے پاس سے گذرے اور ان سے کھانے کے لئے کچھ مانگا تو انہوں نے ان کی مہمانی کرنے سے انکار کر دیا۔ اتنے میں وہاں انہیں ایک دیوار ملی جو گرنے کے قریب تھی تو حضرت خضرؑ نے اس دیوار کو سیدھا کھڑا کر دیا ۔
موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ ہم ان لوگوں کے پاس آئے تو انہوں نے ہماری ضیافت تک نہیں کی اور ہمیں کھانا کھلانے سے بھی انکار کر دیا۔ اگر آپ چاہتے تو اس کام کی اجرت لے سکتے تھے۔۔۔!!
حضرت خضرؑ نے فرمایا کہ بس اب یہ وقت۔۔۔ جاری ہے۔۔
بقیہ حصہ دوم میں۔۔۔۔
https://t.me/islamwitheman/759
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷حضرت خضرؑ و موسٰیؑ(حصہ دوم)🔷
حضرت خضرؑ نے فرمایا کہ بس اب یہ وقت ہماری اور آپ کی جدائی کا ہے۔ میں آپ کو ان چیزوں کی حقیقت بتا دیتا ہوں جن پر آپ صبر نہیں کر سکے۔۔ !!
▫️حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت موسیٰؑ کا کپڑا پکڑ کر فرمایا کہ میں اب آپ کو ان کاموں کا…
حضرت خضرؑ نے فرمایا کہ بس اب یہ وقت ہماری اور آپ کی جدائی کا ہے۔ میں آپ کو ان چیزوں کی حقیقت بتا دیتا ہوں جن پر آپ صبر نہیں کر سکے۔۔ !!
▫️حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت موسیٰؑ کا کپڑا پکڑ کر فرمایا کہ میں اب آپ کو ان کاموں کا…
🔷حضرت خضرؑ و موسٰیؑ(حصہ دوم)🔷
حضرت خضرؑ نے فرمایا کہ بس اب یہ وقت ہماری اور آپ کی جدائی کا ہے۔ میں آپ کو ان چیزوں کی حقیقت بتا دیتا ہوں جن پر آپ صبر نہیں کر سکے۔۔ !!
▫️حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت موسیٰؑ کا کپڑا پکڑ کر فرمایا کہ میں اب آپ کو ان کاموں کا راز بتاتا ہوں کہ جن پر تم صبر نہ کر سکے۔۔ کشتی تو ان مسکینوں کی تھی کہ جو سمندر میں مزدوری کرتے تھے اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ظلماً کشتیوں کو چھین لیتا تھا تو میں نے چاہا کہ میں اس کشتی کو عیب دار کر دوں تو جب کشتی چھیننے والا آیا تو اس نے کشتی کو عیب دار سمجھ کر چھوڑ دیا اور وہ کشتی آگے بڑھ گئی اور کشتی والوں نے ایک لکڑی لگا کر اسے درست کر لیا۔۔!!
▫️اور وہ لڑکا جسے میں نے قتل کیا ہے فطرةً کافر تھا اس کے ماں باپ اس سے بڑا پیار کرتے تھے تو جب وہ بڑا ہوتا تو وہ اپنے ماں باپ کو بھی سرکشی میں پھنسا دیتا تو ہم نے چاہا کہ اللہ تعالیٰ ان کو اس لڑکے کے بدلہ میں دوسرا لڑکا عطا فرما دے جو کہ اس سے بہتر ہو۔۔!
▫️اور وہ دیوار جسے میں نے درست کیا وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی جس کے نیچےخزانہ تھا۔۔
نبی اکرمؐ نے فرمایا؛ ہماری چاہت تھی کہ موسٰی اللہ ان پر رحمت کرے کچھ دیر اور صبر کرتے تاکہ ہمیں ان کی عجیب وغریب خبریں سننے کو ملتیں۔۔
پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ موسیٰ نے پہلا سوال تو بھول کر کیا تھا۔ پھر ایک چڑیا آئی جس نے کشتی کے کنارے پر بیٹھ کر دریا میں اپنی چونچ ڈبوئی، پھر حضرت خضر علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا میرے اور آپ کے علم نے اللہ کے علم میں سے صرف اسی قدر کم کیا جتنا اس چڑیا نے دریا سے--!!
📚 حوالہ جات؛
صحیح بخاری، جلد دوم، حدیث1921۔
صحیح مسلم، جلد سوم، حدیث1662۔
صحیح مسلم، جلد سوم، حدیث1664۔
جامع ترمذی، جلد دوم، حدیث1094۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/758
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
حضرت خضرؑ نے فرمایا کہ بس اب یہ وقت ہماری اور آپ کی جدائی کا ہے۔ میں آپ کو ان چیزوں کی حقیقت بتا دیتا ہوں جن پر آپ صبر نہیں کر سکے۔۔ !!
▫️حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت موسیٰؑ کا کپڑا پکڑ کر فرمایا کہ میں اب آپ کو ان کاموں کا راز بتاتا ہوں کہ جن پر تم صبر نہ کر سکے۔۔ کشتی تو ان مسکینوں کی تھی کہ جو سمندر میں مزدوری کرتے تھے اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ظلماً کشتیوں کو چھین لیتا تھا تو میں نے چاہا کہ میں اس کشتی کو عیب دار کر دوں تو جب کشتی چھیننے والا آیا تو اس نے کشتی کو عیب دار سمجھ کر چھوڑ دیا اور وہ کشتی آگے بڑھ گئی اور کشتی والوں نے ایک لکڑی لگا کر اسے درست کر لیا۔۔!!
▫️اور وہ لڑکا جسے میں نے قتل کیا ہے فطرةً کافر تھا اس کے ماں باپ اس سے بڑا پیار کرتے تھے تو جب وہ بڑا ہوتا تو وہ اپنے ماں باپ کو بھی سرکشی میں پھنسا دیتا تو ہم نے چاہا کہ اللہ تعالیٰ ان کو اس لڑکے کے بدلہ میں دوسرا لڑکا عطا فرما دے جو کہ اس سے بہتر ہو۔۔!
▫️اور وہ دیوار جسے میں نے درست کیا وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی جس کے نیچےخزانہ تھا۔۔
نبی اکرمؐ نے فرمایا؛ ہماری چاہت تھی کہ موسٰی اللہ ان پر رحمت کرے کچھ دیر اور صبر کرتے تاکہ ہمیں ان کی عجیب وغریب خبریں سننے کو ملتیں۔۔
پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ موسیٰ نے پہلا سوال تو بھول کر کیا تھا۔ پھر ایک چڑیا آئی جس نے کشتی کے کنارے پر بیٹھ کر دریا میں اپنی چونچ ڈبوئی، پھر حضرت خضر علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا میرے اور آپ کے علم نے اللہ کے علم میں سے صرف اسی قدر کم کیا جتنا اس چڑیا نے دریا سے--!!
📚 حوالہ جات؛
صحیح بخاری، جلد دوم، حدیث1921۔
صحیح مسلم، جلد سوم، حدیث1662۔
صحیح مسلم، جلد سوم، حدیث1664۔
جامع ترمذی، جلد دوم، حدیث1094۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/758
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷حضرت خضرؑ و موسٰیؑ(حصہ اول)🔷
حضرت موسٰیؑ بنی اسرائیل کو خطاب کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو ان سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ علم کس کے پاس ہے؟
حضرت موسٰیؑ نے فرمایا:
میرے پاس۔
تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب کیا کہ علم کو اللہ کی طرف منسوب کیوں نہیں کیا۔…
حضرت موسٰیؑ بنی اسرائیل کو خطاب کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو ان سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ علم کس کے پاس ہے؟
حضرت موسٰیؑ نے فرمایا:
میرے پاس۔
تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب کیا کہ علم کو اللہ کی طرف منسوب کیوں نہیں کیا۔…
🔷 واقعۂ حضرت خضرؑ 🔷
حضرت خضرؑ اور حضرت موسٰیؑ کا واقعہ قران پاک میں اس طرح بیان ہوا ہے۔۔۔
ترجمہ:
اور جب موسیٰ نے اپنے شاگرد سے کہا کہ جب تک دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں خواہ برسوں چلتا رہوں۔ جب ان کے ملنے کے مقام پر پہنچے تو اپنی مچھلی بھول گئے تو اس نے دریا میں سرنگ کی طرح اپنا رستہ بنا لیاجب آگے چلے تو موسیٰ نے اپنے شاگرد سے کہا کہ ہمارے لئے کھانا لاؤ۔ اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی ہے ۔۔ اس نے کہا کہ بھلا آپ نے دیکھا کہ جب ہم نے پتھر کے ساتھ آرام کیا تھا تو میں مچھلی وہیں بھول گیا۔ اور مجھے آپ سے اس کا ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا۔ اور اس نے عجب طرح سے دریا میں اپنا رستہ لیا۔۔ موسیٰ نے کہا یہی تو وہ مقام ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے تو وہ اپنے پاؤں کے نشان دیکھتے دیکھتے لوٹ گئے ۔۔ وہاں انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ دیکھا جس کو ہم نے اپنے ہاں سے رحمت یعنی نبوت یا نعمت ولایت دی تھی۔۔ اور اپنے پاس سے علم بخشا تھا موسیٰ نے ان سے جن کا نام خضر تھا کہا کہ جو علم خدا کی طرف سے آپ کو سکھایا گیا ہے اگر آپ اس میں سے مجھے کچھ بھلائی کی باتیں سکھائیں تو میں آپ کے ساتھ رہوں ۔۔ خضر نے کہا کہ تم میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کر سکو گے ۔۔ اور جس بات کی تمہیں خبر ہی نہیں اس پر صبر کر بھی کیوں کرسکتے ہو۔۔ موسیٰ نے کہا خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابر پایئے گا۔۔ اور میں آپ کے ارشاد کے خلاف نہیں کروں گا۔۔ خضر نے کہا کہ اگر تم میرے ساتھ رہنا چاہو تو شرط یہ ہے مجھ سے کوئی بات نہ پوچھنا جب تک میں خود اس کا ذکر تم سے نہ کروں۔۔ تو دونوں چل پڑے۔ یہاں تک کہ جب کشتی میں سوار ہوئے تو خضر نے کشتی کو پھاڑ ڈالا۔۔ موسیٰ نے کہا کیا آپ نے اس لئے پھاڑا ہے کہ سواروں کو غرق کر دیں یہ تو آپ نے بڑی عجیب بات کی خضر نے کہا۔ کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کرسکو گے۔۔ موسیٰ نے کہا کہ جو بھول مجھ سے ہوئی اس پر مواخذہ نہ کیجیئے اور میرے معاملے میں مجھ پر مشکل نہ ڈالئے پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ رستے میں ایک لڑکا ملا تو خضر نے اُسے مار ڈالا۔۔ موسیٰ نے کہا کہ آپ نے ایک بےگناہ شخص کو ناحق بغیر قصاص کے مار ڈالا۔۔ یہ تو آپ نے بری بات کی خضر نے کہا کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم سے میرے ساتھ صبر نہیں کر سکو گے انہوں نے کہا کہ اگر میں اس کے بعد پھر کوئی بات پوچھوں یعنی اعتراض کروں تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیئے گا کہ آپ میری طرف سے عذر کے قبول کرنے میں غایت کو پہنچ گئے ۔۔ پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ ایک گاؤں والوں کے پاس پہنچے اور ان سے کھانا طلب کیا۔ انہوں نے ان کی ضیافت کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر انہوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو جھک کر گرا چاہتی تھی۔ خضر نے اس کو سیدھا کر دیا۔ موسیٰ نے کہا اگر آپ چاہتے تو ان سے اس کا معاوضہ لیتے تاکہ کھانے کا کام چلتا خضر نے کہا اب مجھ میں اور تجھ میں علیحدگی۔۔!! مگر جن باتوں پر تم صبر نہ کر سکے میں ان کا تمہیں بھید بتائے دیتا ہوں۔۔!!
وہ جو کشتی تھی ، غریب لوگوں کی تھی جو دریا میں محنت کر کے یعنی کشتیاں چلا کر گذارہ کرتے تھے۔۔!! اور ان کے سامنے کی طرف ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا۔۔ تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں ۔۔ تاکہ وہ اسے غصب نہ کر سکے۔۔
اور وہ جو لڑکا تھا اس کے ماں باپ دنوں مومن تھے ہمیں اندیشہ ہوا کہ وہ بڑا ہو کر بدکردار ہوتا کہیں ان کو سرکشی اور کفر میں نہ پھنسا دے تو ہم نے چاہا کہ ان کا پروردگار اس کی جگہ ان کو اور بچّہ عطا فرمائے جو پاک طبیعت میں اور محبت میں اس سے بہتر ہو۔۔!! اور وہ جو دیوار تھی سو وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی جو شہر میں رہتے تھے اور اس کے نیچے ان کا خزانہ مدفون تھا۔۔ اور ان کا باپ ایک نیک بخت آدمی تھا۔ تو تمہارے پروردگار نے چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور پھر اپنا خزانہ نکالیں۔۔ یہ تمہارے پروردگار کی مہربانی ہے۔ اور یہ کام میں نے اپنی طرف سے نہیں کئے۔ یہ ان باتوں کا راز ہے جن پر تم صبر نہ کرسکے۔۔!!
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/758
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
حضرت خضرؑ اور حضرت موسٰیؑ کا واقعہ قران پاک میں اس طرح بیان ہوا ہے۔۔۔
ترجمہ:
اور جب موسیٰ نے اپنے شاگرد سے کہا کہ جب تک دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں خواہ برسوں چلتا رہوں۔ جب ان کے ملنے کے مقام پر پہنچے تو اپنی مچھلی بھول گئے تو اس نے دریا میں سرنگ کی طرح اپنا رستہ بنا لیاجب آگے چلے تو موسیٰ نے اپنے شاگرد سے کہا کہ ہمارے لئے کھانا لاؤ۔ اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی ہے ۔۔ اس نے کہا کہ بھلا آپ نے دیکھا کہ جب ہم نے پتھر کے ساتھ آرام کیا تھا تو میں مچھلی وہیں بھول گیا۔ اور مجھے آپ سے اس کا ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا۔ اور اس نے عجب طرح سے دریا میں اپنا رستہ لیا۔۔ موسیٰ نے کہا یہی تو وہ مقام ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے تو وہ اپنے پاؤں کے نشان دیکھتے دیکھتے لوٹ گئے ۔۔ وہاں انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ دیکھا جس کو ہم نے اپنے ہاں سے رحمت یعنی نبوت یا نعمت ولایت دی تھی۔۔ اور اپنے پاس سے علم بخشا تھا موسیٰ نے ان سے جن کا نام خضر تھا کہا کہ جو علم خدا کی طرف سے آپ کو سکھایا گیا ہے اگر آپ اس میں سے مجھے کچھ بھلائی کی باتیں سکھائیں تو میں آپ کے ساتھ رہوں ۔۔ خضر نے کہا کہ تم میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کر سکو گے ۔۔ اور جس بات کی تمہیں خبر ہی نہیں اس پر صبر کر بھی کیوں کرسکتے ہو۔۔ موسیٰ نے کہا خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابر پایئے گا۔۔ اور میں آپ کے ارشاد کے خلاف نہیں کروں گا۔۔ خضر نے کہا کہ اگر تم میرے ساتھ رہنا چاہو تو شرط یہ ہے مجھ سے کوئی بات نہ پوچھنا جب تک میں خود اس کا ذکر تم سے نہ کروں۔۔ تو دونوں چل پڑے۔ یہاں تک کہ جب کشتی میں سوار ہوئے تو خضر نے کشتی کو پھاڑ ڈالا۔۔ موسیٰ نے کہا کیا آپ نے اس لئے پھاڑا ہے کہ سواروں کو غرق کر دیں یہ تو آپ نے بڑی عجیب بات کی خضر نے کہا۔ کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کرسکو گے۔۔ موسیٰ نے کہا کہ جو بھول مجھ سے ہوئی اس پر مواخذہ نہ کیجیئے اور میرے معاملے میں مجھ پر مشکل نہ ڈالئے پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ رستے میں ایک لڑکا ملا تو خضر نے اُسے مار ڈالا۔۔ موسیٰ نے کہا کہ آپ نے ایک بےگناہ شخص کو ناحق بغیر قصاص کے مار ڈالا۔۔ یہ تو آپ نے بری بات کی خضر نے کہا کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم سے میرے ساتھ صبر نہیں کر سکو گے انہوں نے کہا کہ اگر میں اس کے بعد پھر کوئی بات پوچھوں یعنی اعتراض کروں تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیئے گا کہ آپ میری طرف سے عذر کے قبول کرنے میں غایت کو پہنچ گئے ۔۔ پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ ایک گاؤں والوں کے پاس پہنچے اور ان سے کھانا طلب کیا۔ انہوں نے ان کی ضیافت کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر انہوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو جھک کر گرا چاہتی تھی۔ خضر نے اس کو سیدھا کر دیا۔ موسیٰ نے کہا اگر آپ چاہتے تو ان سے اس کا معاوضہ لیتے تاکہ کھانے کا کام چلتا خضر نے کہا اب مجھ میں اور تجھ میں علیحدگی۔۔!! مگر جن باتوں پر تم صبر نہ کر سکے میں ان کا تمہیں بھید بتائے دیتا ہوں۔۔!!
وہ جو کشتی تھی ، غریب لوگوں کی تھی جو دریا میں محنت کر کے یعنی کشتیاں چلا کر گذارہ کرتے تھے۔۔!! اور ان کے سامنے کی طرف ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا۔۔ تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں ۔۔ تاکہ وہ اسے غصب نہ کر سکے۔۔
اور وہ جو لڑکا تھا اس کے ماں باپ دنوں مومن تھے ہمیں اندیشہ ہوا کہ وہ بڑا ہو کر بدکردار ہوتا کہیں ان کو سرکشی اور کفر میں نہ پھنسا دے تو ہم نے چاہا کہ ان کا پروردگار اس کی جگہ ان کو اور بچّہ عطا فرمائے جو پاک طبیعت میں اور محبت میں اس سے بہتر ہو۔۔!! اور وہ جو دیوار تھی سو وہ دو یتیم لڑکوں کی تھی جو شہر میں رہتے تھے اور اس کے نیچے ان کا خزانہ مدفون تھا۔۔ اور ان کا باپ ایک نیک بخت آدمی تھا۔ تو تمہارے پروردگار نے چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور پھر اپنا خزانہ نکالیں۔۔ یہ تمہارے پروردگار کی مہربانی ہے۔ اور یہ کام میں نے اپنی طرف سے نہیں کئے۔ یہ ان باتوں کا راز ہے جن پر تم صبر نہ کرسکے۔۔!!
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/758
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷حضرت خضرؑ و موسٰیؑ(حصہ اول)🔷
حضرت موسٰیؑ بنی اسرائیل کو خطاب کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو ان سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ علم کس کے پاس ہے؟
حضرت موسٰیؑ نے فرمایا:
میرے پاس۔
تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب کیا کہ علم کو اللہ کی طرف منسوب کیوں نہیں کیا۔…
حضرت موسٰیؑ بنی اسرائیل کو خطاب کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو ان سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ علم کس کے پاس ہے؟
حضرت موسٰیؑ نے فرمایا:
میرے پاس۔
تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب کیا کہ علم کو اللہ کی طرف منسوب کیوں نہیں کیا۔…
🌹 پاک دامنی 🌹
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں؛ اللہ تعالٰی کے نزدیک بہترین عبادت پاک دامنی ہے انسان کو اپنے پیٹ اوراپنی شرمگاہ کو محفوظ رکھنا چاہیے۔
علامہ محمد بن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ جابر جعفی کابیان ہے کہ میں ایک دن حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے ملا، تو آپؑ نے فرمایا؛
اے جابر! میں دنیا سے بالکل بے فکر ہوں کیونکہ جس کے دل میں دین خالص ہو وہ دنیا کو کچھ نہیں سمجھتا اور تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ دنیا چھوڑی ہوئی سواری، اتارا ہوا کپڑا اوراستعمال کی ہوئی عورت ہے۔ مومن دنیا کی بقا سے مطمئن نہیں ہوتا اوراس کی دیکھی ہوئی چیزوں کی وجہ سے نور خدا اس سے پوشیدہ نہیں ہوتا۔ مومن کو تقویٰ اختیار کرنا چاہیے کہ وہ ہر وقت اسے متنبہ اور بیدار کھتا ہے۔
سنو! دنیا ایک سرائے فانی ہے۔۔
"نزلت بہ وارتحلت منہ“
اس میں آنا جانا لگا رہتا ہے۔ آج آئے اورکل گئے اور دنیا ایک خواب ہے جو کمال کے مانند دیکھی جاتی ہے اور جب جاگ اٹھے توکچھ نہیں۔
آپؑ نے فرمایا؛
تکبر بہت بری چیز ہے، یہ جس قدر انسان میں پیدا ہوگا اسی قدر اس کی عقل گھٹے گی، کمینے شخص کا حربہ گالیاں بکنا ہے۔
ایک عالم کی موت کو ابلیس نوے عابدوں کے مرنے سے بہتر سمجھتا ہے۔ ایک ہزار عابد سے وہ ایک عالم بہتر ہے جو اپنے علم سے فائدہ پہنچا رہا ہو۔
میرے ماننے والے وہ ہیں جو اللہ کی اطاعت کریں۔ آنسوؤں کی بڑی قیمت ہے رونے والا بخشا جاتا ہے اور جس رخسار پر آنسو جاری ہوں وہ ذلیل نہیں ہوتا۔
سستی اور زیادہ تیزی برائیوں کی کنجی ہے۔
خداکے نزدیک بہترین عبادت پاک دامنی ہے انسان کوچاہیے کہ اپنے پیٹ اور اپنی شرمگاہوں کو محفوظ رکھیں۔
دعاسے قضا بھی ٹل جاتی ہے۔ نیکی بہترین خیرات ہے۔
بدترین عیب یہ ہے کہ انسان کو اپنی آنکھ کی شہتیر دکھائی نہ دے اور دوسرے کی آنکھ کا تنکا نظر آئے، یعنی اپنے بڑے گناہ کی پرواہ نہ ہو، اور دوسروں کے چھوٹے عیب اسے بڑے نظر آئیں اور خود عمل نہ کرے، صرف دوسروں کو تعلیم دے۔
جوخوشحالی میں ساتھ دے اورتنگ دستی میں دور رہے وہ تمہارابھائی اوردوست نہیں ہے۔
📚 مطالب السؤل، ص272۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں؛ اللہ تعالٰی کے نزدیک بہترین عبادت پاک دامنی ہے انسان کو اپنے پیٹ اوراپنی شرمگاہ کو محفوظ رکھنا چاہیے۔
علامہ محمد بن طلحہ شافعی لکھتے ہیں کہ جابر جعفی کابیان ہے کہ میں ایک دن حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے ملا، تو آپؑ نے فرمایا؛
اے جابر! میں دنیا سے بالکل بے فکر ہوں کیونکہ جس کے دل میں دین خالص ہو وہ دنیا کو کچھ نہیں سمجھتا اور تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ دنیا چھوڑی ہوئی سواری، اتارا ہوا کپڑا اوراستعمال کی ہوئی عورت ہے۔ مومن دنیا کی بقا سے مطمئن نہیں ہوتا اوراس کی دیکھی ہوئی چیزوں کی وجہ سے نور خدا اس سے پوشیدہ نہیں ہوتا۔ مومن کو تقویٰ اختیار کرنا چاہیے کہ وہ ہر وقت اسے متنبہ اور بیدار کھتا ہے۔
سنو! دنیا ایک سرائے فانی ہے۔۔
"نزلت بہ وارتحلت منہ“
اس میں آنا جانا لگا رہتا ہے۔ آج آئے اورکل گئے اور دنیا ایک خواب ہے جو کمال کے مانند دیکھی جاتی ہے اور جب جاگ اٹھے توکچھ نہیں۔
آپؑ نے فرمایا؛
تکبر بہت بری چیز ہے، یہ جس قدر انسان میں پیدا ہوگا اسی قدر اس کی عقل گھٹے گی، کمینے شخص کا حربہ گالیاں بکنا ہے۔
ایک عالم کی موت کو ابلیس نوے عابدوں کے مرنے سے بہتر سمجھتا ہے۔ ایک ہزار عابد سے وہ ایک عالم بہتر ہے جو اپنے علم سے فائدہ پہنچا رہا ہو۔
میرے ماننے والے وہ ہیں جو اللہ کی اطاعت کریں۔ آنسوؤں کی بڑی قیمت ہے رونے والا بخشا جاتا ہے اور جس رخسار پر آنسو جاری ہوں وہ ذلیل نہیں ہوتا۔
سستی اور زیادہ تیزی برائیوں کی کنجی ہے۔
خداکے نزدیک بہترین عبادت پاک دامنی ہے انسان کوچاہیے کہ اپنے پیٹ اور اپنی شرمگاہوں کو محفوظ رکھیں۔
دعاسے قضا بھی ٹل جاتی ہے۔ نیکی بہترین خیرات ہے۔
بدترین عیب یہ ہے کہ انسان کو اپنی آنکھ کی شہتیر دکھائی نہ دے اور دوسرے کی آنکھ کا تنکا نظر آئے، یعنی اپنے بڑے گناہ کی پرواہ نہ ہو، اور دوسروں کے چھوٹے عیب اسے بڑے نظر آئیں اور خود عمل نہ کرے، صرف دوسروں کو تعلیم دے۔
جوخوشحالی میں ساتھ دے اورتنگ دستی میں دور رہے وہ تمہارابھائی اوردوست نہیں ہے۔
📚 مطالب السؤل، ص272۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani