ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.64K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
🔷 ان الله یحب المتوکلین 🔷

■ بهائی چاہتے تھے کہ یوسف کو قتل کر دیں مگر یوسف نہ مرا.

■ بهائی چاہتے تھے کہ اس کے آثار مٹا دیں اس کی وقعت اور زیادہ ھو گئی.

■ بهائی چاہتے تھے کہ اس کو فروخت کر کے غلام بنا دیں وہ بادشاہ بن گیا.

■ بهائی چاہتے تھے کہ اس کی محبت باپ کے دل سے ختم کر دیں مگر اس کی محبت اور بڑھ گئی.

⬛ مخلوق کے بنائے گئے نقشوں سے ہراساں نہیں ہونا چاہیے اس لئے کہ خدا کا ارادہ تمام ارادوں سے بالاتر ہے.

حضرت یوسف علیہ السلام جانتے تھے کہ تمام دروازے بند ہیں مگر خدا کیلئے جانتے ھوئے بھی بند دروازے کی طرف دوڑے... اور آپ کیلئے تمام بند دروازے کھل گئے...

■ اگر آپ کے لئے بھی دنیا کے تمام دروازے بند ہو جائیں پھر بھی اللہ پر توکل کرتے ہوئے بند دروازوں کی طرف بھاگو۔۔۔
اس لئے کہ۔۔۔
آپ کا اور حضرت یوسف علیہ السلام کا خدا ایک ھی ہے.

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/Islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 جناب بہلول اور جنید بغدادی 🔷

کہتے ہیں ایک بار شیخ جنید بغدادی نے مریدوں سے پوچھا:
تم لوگوں کو بہلول کا حال معلوم ہے؟
لوگوں نے کہا:
حضرت! وہ تو ایک دیوانہ ہے۔
شیخ نے کہا:
بہلول کو تلاش کرو۔ مجھے اس سے کام ہے.
مریدوں نے ایک صحرا میں بہلول کو ڈھونڈ نکالا اور شیخ کو اپنے ساتھ لے کر وہاں پہنچے.

شیخ نے دیکھا کہ بہلول سر کے نیچے ایک اینٹ رکھے ہوئے دراز ہیں۔
شیخ نے سلام کیا تو بہلول نے جواب دے کر پوچھا:
تم کون ہو؟
میں ہوں جنید بغدادی۔
تو اے ابوالقاسم! تم ہی وہ شیخ بغدادی ہو جو لوگوں کو بزرگوں کی باتیں سکھاتے ہو؟
جی ہاں، کوشش تو کرتا ہوں۔
●اچھا تو تم اپنے کھانے کا طریقہ تو جانتے ہی ہو ں گے؟
کیوں نہیں، بسم اللہ پڑھتا ہوں اور اپنے سامنے کی چیز کھاتا ہوں، چھوٹا نوالہ بناتا ہوں، آہستہ آہستہ چباتا ہوں، دوسروں کے نوالوں پر نظر نہیں ڈالتا اور کھانا کھاتے وقت اللہ کی یاد سے غافل نہیں ہوتا۔
جو لقمہ بھی کھاتا ہوں، الحمدللہ کہتا ہوں۔ کھانا شروع کرنے سے پہلے اور بعد ہاتھ دھوتا ہوں۔
یہ سن کر بہلول اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنا دامن شیخ جنید کی طرف جھٹک دیا۔ پھر ان سے کہا:
تم انسانوں کے پیر مرشد بننا چاہتے ہو اور اب تک کھانے پینے کا طریقہ بھی نہیں جانتے۔ یہ کہہ کر بہلول نے اپنا راستہ لیا۔
مریدوں نے کہا:
یا حضرت! یہ شخص تو دیوانہ ہے۔
ہاں! دیوانہ تو ہے، مگر اپنے کام کے لیے ہوشیاروں کے بھی کان کاٹتا ہے۔ اس سے سچی بات سننا چاہیے۔ آؤ، اس کے پیچھے چلیں۔ مجھے اس سے کام ہے۔

بہلول ایک ویرانے میں پہنچ کر ایک جگہ بیٹھ گئے۔ شیخ بغدادی اس کے پاس پہنچے تو انھوں نے شیخ سے پھر یہ سوال کیا:
کون ہو تم؟
میں ہوں بغدادی شیخ! جو کھانا کھانے کا طریقہ نہیں جانتا۔
بہلول نے کہا:
●خیر تم کھانا کھانے کے آداب سے ناواقف ہو تو گفتگو کا طریقہ جانتے ہی ہو گے؟
شیخ نے جواب دیا:
جی، جانتا تو ہوں۔
تو بتاؤ، کس طرح بات کرتے ہو؟
میں ہر بات ایک اندازے کے مطابق کرتا ہوں۔ بےموقع اور بے حساب نہیں بولتا، سننے والوں کی سمجھ کا اندازہ کر کے اللہ اور رسول کے احکام کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ یہ خیال رکھتا ہوں کہ اتنی باتیں نہ کہوں کہ لوگ مجھ سے بیزار ہو جائیں۔ باطنی اور ظاہری علوم کے نکتے نظر میں رکھتا ہوں۔ اس کے ساتھ گفتگو کے آداب سے متعلق کچھ اور باتیں بھی بیان کیں۔
بہلول نے کہا:
کھانا کھانے کے آداب تو ایک طرف رہے۔ تمھیں تو بات کرنے کا ڈھنگ بھی نہیں آتا۔
پھر شیخ سے منہ پھیرا اور ایک طرف چل دیے۔
مریدوں سے خاموش نہ رہا گیا۔ انہوں نے کہا:
یا حضرت! یہ شخص تو دیوانہ ہے۔ آپ دیوانے سے بھلا کیا توقع رکھتے ہیں؟ "بھئی! مجھے تو اس سے کام ہے۔ تم لوگ نہیں سمجھ سکتے۔
اس کے بعد شیخ نے پھر بہلول کا پیچھا کیا۔

بہلول نے مڑ کر دیکھا اور کہا:
●تمھیں کھانا کھانے اور بات کرنے کے آداب نہیں معلوم ہیں. سونے کا طریقہ تو تمھیں معلوم ہی ہو گا؟
شیخ نے کہا:
جی ہاں! معلوم ہے۔
اچھا بتاؤ، تم کس طرح سوتے ہو؟
جب میں عشا کی نماز اور درود و وظائف سے فارغ ہوتا ہوں تو سونے کے کمرے میں چلا جاتا ہوں۔ اور وہ آداب بیان کیے جو انہیں بزرگان دین کی تعلیم سے حاصل ہوئے تھے۔
بہلول نے کہا:
معلوم ہوا کہ تم سونے کے آداب بھی نہیں جانتے۔
یہ کہہ کر بہلول نے جانا چاہا تو حضرت جنید بغدادی نے ان کا دامن پکڑ لیا اور کہا:
اے حضرت! میں نہیں جانتا. اللہ کے واسطے آپ مجھے سکھا دیں۔"

کچھ دیر بعد بہلول نے کہا:
میاں! یہ جتنی باتیں تم نے کہیں، سب بعد کی چیزیں ہیں۔ اصل بات مجھ سے سنو۔
■کھانے کا اصل طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے حلال کی روزی ہونی چاہیے۔ اگر غذا میں حرام کی آمیزش (ملاوٹ) ہو جائے تو جو آداب تم نے بیان کیے، ان کے برتنے سے کوئی فائدہ نہ ہو گا اور دل روشن ہونے کے بجائے اور تاریک ہو جائے گا۔
شیخ جنید نے بےساختہ کہا:
"جزاک اللہ خیرأً۔"

پھر بہلول نے بتایا:
■گفتگو کرتے وقت سب سے پہلے دل کا پاک اور نیت کا صاف ہونا ضروری ہے اور اس کا بھی خیال رہے کہ جو بات کہی جائے ، اللہ کی رضامندی کے لیے ہو۔ اگر کوئی غرض یا دنیاوی مطلب کا لگاؤ یا بات فضول قسم کی ہو گی تو خواہ کتنے ہی اچھے الفاظ میں کہی جائے گی، تمہارے لیے وبال بن جائے گی، اس لیے ایسے کلام سے خاموشی بہتر ہے.

پھر سونے کے متعلق بتایا:
■اسی طرح سونے سے متعلق جو کچھ تم نے کہا وہ بھی اصل مقصود نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جب تم سونے لگو تو تمہارا دل بغض، کینہ اور حسد سے خالی ہو۔ تمہارے دل میں دنیا اور مالِ دنیا کی محبت نہ ہو اور نیند آنے تک اللہ کے ذکر میں مشغول رہو۔

بہلول کی بات ختم ہوتے ہی حضرت جنید بغدادی نے ان کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور ان کے لیے دعا کی۔

◼️شیخ جنید کے مرید یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئے۔ اور یہ بات ان کی سمجھ میں آ گئی کہ ہر شخص کو چاہیے کہ وہ جو بات نہ جانتا ہو اسے سیکھنے میں ذرا بھی نہ شرمائے.

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 پانی پینے کے آداب 🔷

پانی بیٹھ کر پینا چاہئے یا کھڑے ہو کر؟ کچھ لوگوں کا اصرار ہے کہ بیٹھ کر پینا چاھئے اور کھڑے ہو کر پینے کو سخت مذموم سمجھتے ہیں۔

●جو کچھ ہمیں احادیث کی روشنی میں ملتا ہے وہ یہی ہے کہ پانی کھڑے ہو کر پینا چاہئے۔
اہلسنّت کے ہاں بھی صحیحین میں حضرت علی علیہ السلام اور حضرت عبد اللہ ابن عباس سے مرفوع روایات نقل ہوئی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بعض اوقات کھڑے ہوکر پانی پیا کرتے تھے، اسیطرح بعض صحابہ، حضرت علی علیہ السلام، حضرت عبداللہ ابن عمر، حضرت عبد اللہ ابن زبیر وغیرہم سے بسند صحیح نقل ہوا ہے کہ یہ حضرات بھی کھڑے ہو کر پانی پیا کرتے تھے۔
لیکن اس کے باوجود بھی سنّی حضرات بیٹھ کر پانی پینے کے معاملے میں انتہائی سختگیری کرتے ہیں۔

●شیعہ احادیث میں بھی صحیح و معتبر اسناد سے کھڑے ہو کر پانی پینے کا حکم ملتا ہے۔
●امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
"جب دن میں پانی پیو تو کھڑے ہو کر پیو کیونکہ یہ بدن کو مضبوط اور صحیح رکھتا ہے."
(کافی: ج6 ص382)
مندرجہ بالا حدیث معتبر ہے.

●امام صادق علیہ السلام:
"دن میں کھڑے ہو کر پانی پینا پسینے کے زیادہ ہونے اور بدن کے قوی ہونے کا باعث ہے."
(من لا یحضرہ الفقیہ: ج3 حدیث 4243)
مندرجہ بالا حدیث بھی معتبر ہے۔

●نیز یہ حدیث بھی موجود ہے؛
امام صادق علیہ السلام:
"دن میں کھڑے ہو کر پانی پینا کھانے کو گوارا بناتا ہے (یعنی کھانا کھانے کا دل چاہے گا) اور رات کو کھڑے ہو کر پینے سے زرد آب کی بیماری ہوتی ہے."
(کافی، ج:5 ،ص:383)

■اسی لئے فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ دن میں کھڑے ہو کر پانی پینا اور رات میں بیٹھ کر پانی پینا مستحب ہے.

🍶 پانی اور پیاس امام علیہ السلام 🍶

داؤد رقی کہتے ہیں کہ میں امامِ صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا آپ نے پانی طلب فرمایا جب پینے لگے تو آپ پر رقت طاری ہوگئی آنکھین آنسوؤن سے بھر گئیں اور آپ گریہ کرنے لگے اس کے بعد امام نے فرمایا:
"اے داؤد خدا کی لعنت ہو قاتلانِ حسین علیہ السلام پر، یادِ حسین علیہ السلام زندگی کے عیش و آرام کو کس قدر ناگوار کردیتی ہے میں کبھی ٹھنڈا پانی نہیں پیتا سوائے اس کہ کے حسین علیہ السلام کو یاد کروں.
اور جو کوئی شخص ٹھنڈا پانی پیتے وقت حسین علیہ السلام اور آپ کے اہلبیت کو یاد کرے اور آپ کے قاتلون پر لعنت بھیجے اللہ اس کے لیے ایک لاکھ نیکیاں لکھ دیتا ہے، اس کے ایک لاکھ گناہوں کو مٹادیتا ہے، اور ایک لاکھ مدارج بلند ہوجاتے ہیں. وہ ایسا ہی ہے جیسے اس نے ایک لاکھ غلاموں کو آزاد کیا ہو اور روزِ قیامت اللہ اسے روشن چہرے کے ساتھ محشور فرمائے گا."


🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

📚 کامل الزیارات محدث ابن قولویہ، امالی شیخ صدوق رح.

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 باپ کے جذبات 🔷

ﺍﯾﮏ شخص ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ و آلہ ﻭﺳﻠﻢ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﯽ ﮐﮧ ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ و آلہ ﻭﺳﻠﻢ !!
ﻣﯿﺮﺍ ﺑﺎﭖ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺘﺎ نہیں ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﺎﺭﺍ ﻣﺎﻝ ﺧﺮﭺ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮬﮯ.

ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ و آلہ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ والد محترم ﮐﻮ بلوایا.

ﺟﺐ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﻮ ﭘﺘﺎ ﭼﻼ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ آلہ وﺳﻠﻢ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﯽ ﮬﮯ ﺗﻮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺭﻧﺠﯿﺪﮦ ﮬﻮﺋﮯ اور ﺣﺎﺿﺮﯼ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭼﻠﮯ...

ﭼﻮﻧﮑﮧ ﻋﺮﺏ ﮐﯽ ﮔﮭﭩﯽ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﺗﮭﯽ
ﺗﻮ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺠﮫ ﺍﺷﻌﺎﺭ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ کہتے ہوئے پہنچے،

ﺍﺩﮬﺮ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﺭﺳﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﺒﺮﺍﺋﻞ ﺣﺎﺿﺮ ﮬﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﺒﺤﺎﻧﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﺎ معاملہ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺳﻨﺌﯿﮯ ﮔﺎ ﭘﮩﻠﮯ ﻭﮦ ﺍﺷﻌﺎﺭ ﺳﻨﯿﮟ ﺟﻮ ﻭﮦ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﻮئے ﺁ ﺭﮨﮯ ﮬﯿﮟ.

ﺟﺐ ﻭﮦ شخص حاضر ہوا ﺗﻮ ﺁﭖ ص ﻧﮯﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
ﺁﭖ ﮐﺎ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺑﻌﺪ میں ﺳﻨﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﭘﮩﻠﮯ ﻭﮦ ﺍﺷﻌﺎﺭ ﺳﻨﺎﺋﯿﮯ ﺟﻮ ﺁﭖ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮬﻮئے ﺁﺋﮯ ﮬﯿﮟ.

ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻭﮦ شخص ﺭﻭﻧﮯ لگا... ﮐﮧ
ﺟﻮ ﺍﺷﻌﺎﺭ ﺍﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺯﺑﺎﻥ ﺳﮯ ﺍﺩﺍ بھی ﻧﮩﯿﮟ ہوئے ﺁﭖ کے ﺭﺏ ﻧﮯ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺳﻦ لئے. اور آپ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ کو بتا بهی دیا.
ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﯿﺎ ﺍﺷﻌﺎﺭ ﺗﮭﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺳﻨﺎﺋﯿﮟ.

ﺍﻥ ﺻﺤﺎﺑﯽ ﻧﮯ ﺍﺷﻌﺎﺭ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﮯ.

اشعار کا ترجمہ:
ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ!
ﺟﺲ ﺩﻥ ﺗﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﮬﻮﺍ،
ﮨﻤﺎﺭﯼ محنت ﮐﮯ ﺩﻥ ﺗﺒﮭﯽ ﺳﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮬﻮﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ.
ﺗﻮ ﺭﻭﺗﺎ ﺗﮭﺎ، ﮨﻢ ﺳﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﮯﺗﮭﮯ،
ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎﺗﺎ ﺗﻮ ﮨﻢ ﮐﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﮯ ﺗﮭﮯ،

ﺗﻮ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮬﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﻮ ﺗﺠﮭﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﻃﺒﯿﺐ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ علاج معالجے کے لیے مارے مارے پھرتے تھے ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ تجھے کچھ ہو نہ جائے،
ﮐﮩﯿﮟ ﻣﺮ ﻧﮧ ﺟﺎﺋﮯ،
حالانکہ ﻣﻮﺕ ﺍﻟﮓ ﭼﯿﺰ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﺍﻟﮓ ﭼﯿﺰ ﮬﮯ،

ﭘﮭﺮ ﺗﺠﮭﮯ ﮔﺮﻣﯽ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ،
ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﭨﮭﻨﮉﯼ ﭼﮭﺎؤﮞ ﻣﻞ ﺟﺎﮮ،

ﭨﮭﻨﮉ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﺘﮭﺮ ﺗﻮﮌﮮ،
ﺗﻐﺎﺭﯾﺎﮞ ﺍﭨﮭﺎﺋﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﮔﺮمی ﻣﻞ ﺟﺎﮮ،

ﺟﻮ ﮐﻤﺎﯾﺎ ﺗﯿﺮﮮ ﻟﯿﺌﮯ،
ﺟﻮ ﺑﭽﺎﯾﺎ ﺗﯿﺮﮮ ﻟﯿﺌﮯ،

ﺗﯿﺮﯼ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﮐﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﺍﺗﻨﯽ ﻣﺤﻨﺖ ﮐﯽ ﮐﮧ اب ﻣﯿﺮﯼ ﮨﮉﯾﺎﮞ تک کمزور ﮨﻮ گئی ہیں لیکن تو کڑیل جوان ہو گیا ہے....

ﭘﮭﺮ....
ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺧﺰﺍﮞ ﻧﮯ ﮈﯾﺮﮮ ڈال ﻟﺌﮯ لیکن ﺗﺠﮫ ﭘﺮ ﺑﮩﺎﺭ ﺁﮔﺌﯽ...

ﻣﯿﮟ ﺟﮭﮏ ﮔﯿﺎ،
ﺗﻮ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ،

ﺍﺏ میری خواہش اور ﺍﻣﯿﺪ پوری ہوئی
ﮐﮧ ﺍﺏ ﺗﻮ ﮨﺮﺍ ﺑﮭﺮﺍ ﮬﻮ ﮔﯿﺎ ﮬﮯ،

ﭼﻞ ﺍﺏ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺁﺧﺮﯼ ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ ﺗﯿﺮﯼ ﭼﮭﺎؤﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ﮔﺰﺍﺭﻭﮞ ﮔﺎ،

ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﺁﺗﮯ ﮬﯽ ﺗﯿﺮﮮ ﺗﯿﻮﺭ ﺑﺪﻝ ﮔﺌﮯ....
ﺗﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻣﺎﺗﮭﮯ ﭘﺮ ﭼﮍﮪ ﮔﺌﯿﮟ....

ﺗﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﺎ ہے ﮐﮧ جیسے ﻣﯿﺮﺍ ﺳﯿﻨﮧ ﭘﮭﺎﮌ ﮐﺮ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺘﺎ ہے،
ﺗﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﺎ ﮐﮧ ﮐوئی غلام ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﻧﮩﯿں کرتا...

ﭘﮭﺮ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ساری زندگی کی ﻣﺤﻨﺖ ﮐﻮ ﺟﮭﭩﻼ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ
ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﺍ ﺑﺎﭖ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﻮﮐﺮ ﮬﻮﮞ....
ﻧﻮﮐﺮ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮐﻮئی ﺍﯾﮏ ﻭﻗﺖ ﮐﯽ ﺭﻭﭨﯽ ﺩﮮ ﮨﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﮬﮯ...
ﺗﻮ ﻧﻮﮐﺮ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﮨﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺭﻭﭨﯽ ﺩﮮ ﺩﯾﺎ ﮐﺮ....

ﯾﮧ ﺍﺷﻌﺎﺭ ﺳﻨﺎﺗﮯ ﺳﻨﺎﺗﮯ ﺍس ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ کے چہرہ مبارک ﭘﺮ پڑی تو دیکھا کہ

ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ و آلہ ﻭﺳﻠﻢ ﺍﺗﻨﺎ ﺭﻭﺋﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺩﺍﮌﮬﯽ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺗﺮ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ،

ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ و آلہ ﻭﺳﻠﻢ جلال ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﮕﮧ ﺳﮯ ﺍﭨﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﭩﮯ کا گریبان پکڑ کر ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ
انت و ما لک لابیک،
ﺗﻮ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮﺍ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺗﯿﺮﮮ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﮨﮯ،
ﺗﻮ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮﺍ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺗﯿﺮﮮ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﮨﮯ،
ﺗﻮ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺮﺍ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺗﯿﺮﮮ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﮨﮯ،
( تفسیر قرطبی )

اللہ کریم سے دعا ھے
"رب ارحمهما كما ربياني صغيرا."

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 بیوقوف کون؟ 🔷

ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ
ﻣﯿﺮﯼ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ "ﺑﮯﻭﻗﻮﻑ" ﮨﮯ، ﺍﺳﮯ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﻭ۔
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺑﮭﯽ ۔ ۔ ۔ ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮨﯽ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺧﯿﺮ ﺣﮑﻢ ﺗﮭﺎ، ﻋﻤﻞ ﮨﻮﺍ ۔ ۔ ۔
ﺍﻭﺭ ﺑﮯﻭﻗﻮﻑ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﺳﻨﮑﮍﻭﮞ ﻟﻮﮒ ﭘﯿﺶ ﮐﺮ ﺩﺋﯿﮯ ﮔﺌﮯ،
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺳﺐ ﮐﺎ ﺍﻣﺘﺤﺎﻥ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻓﺎﺋﻨﻞ ﺭﺍﺅﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﺑﮯﻭﻗﻮﻑ ﻗﺮﺍﺭ ﭘﺎﯾﺎ۔
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﻠﮯ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﮨﺎﺭ ﺍﺗﺎﺭ ﮐﺮ ﺍﺱ ﺑﮯﻭﻗﻮﻑ ﮐﮯ ﮔﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺎ، ﻭﮦ ﺑﮯ ﻭﻗﻮﻑ ﺍﻋﺰﺍﺯ ﭘﺎﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻟﻮﭦ ﮔﯿﺎ.
ﺍﮎ ﻋﺮﺻﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ "ﺑﮯﻭﻗﻮﻑ" ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﺧﯿﺎﻝ ﺳﮯ ﺁﯾﺎ،
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻣﺮﺽ ﺍﻟﻤﻮﺕ ﻣﯿﮟ ﺁﺧﺮﯼ ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺍﺭ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ،
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ، ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍﺫﻥِ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﺑﺨﺶ ﺩﯾﺎ۔
ﺑﮯﻭﻗﻮﻑ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﺍ،
"ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ ۔ ۔ ۔ ﺁﭖ ﻟﯿﭩﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﯿﮟ؟"
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍﯾﺎ، ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻻ:
"ﻣﯿﮟ ﺍﺏ ﺍﭨﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﮯ ﺳﻔﺮ ﭘﺮ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ، ﺟﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮔﯽ، ﺍﻭﺭ ﻭﮨﺎﮞ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻟﯿﭩﻨﺎ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮬﮯ."
ﺑﮯﻭﻗﻮﻑ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ:
"ﻭﺍپس ﻧﮩﯿﮟ ﺁﻧﺎ؟ ﮐﯿﺎ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻭﮨﯿﮟ ﺭﮨﻨﺎ ﮬﮯ؟"
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺑﮯﺑﺴﯽ ﺳﮯ ﺑﻮﻻ:
"ﮨﺎﮞ ۔ ۔ ۔ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻭﮨﯿﮟ ﺭﮨﻨﺎ ﮬﮯ."
"ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺗﻮ ﻭﮨﺎﮞ ﯾﻘﯿﻨﺎََ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ ﻣﺤﻞ، ﺑﮍﮮ ﺑﺎﻏﯿﭽﮯ، ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻏﻼﻡ، ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﺑﯿﮕﻤﺎﺕ، ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺖ ﺳﺎﻣﺎﻥِ ﻋﯿﺶ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮬﻮﮔﺎ؟" ﺑﮯﻭﻗﻮﻑ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ

ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﭼﯿﺦ ﻣﺎﺭﮐﺮ ﺭﻭﭘﮍﺍ۔
ﺑﮯﻭﻗﻮﻑ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﺍﺳﮯ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮧ ﺁﺋﯽ ﮐﮧ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯿﻮﮞ ﺭﻭ ﭘﮍﺍ ﮬﮯ۔
"ﻧﮩﯿﮟ ۔ ۔ ۔ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﺟﮭﻮﻧﭙﮍﯼ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺎﺋﯽ ۔ ۔ ۔ ﺭﻭﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﻧﮑﻠﯽ.
"ﮐﯿﺎ ۔ ۔ ۔ﺍﯾﺴﺎ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮬﮯ ۔۔ ۔ ﺁﭖ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﻤﺠﮫ ﺩﺍﺭ ﮨﯿﮟ، ﺟﺐ ﺁﭘﮑﻮ ﭘﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻭﮨﺎﮞ ﺭﮨﻨﺎ ﮬﮯ ﺿﺮﻭﺭ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﮬﻮ ﮔﺎ." ﺑﮯﻭﻗﻮﻑ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ

"ﺍﻓﺴﻮﺱ ۔ ۔ ۔ ۔ ﺻﺪ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ﺁﮦ! ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﻼ ﮐﺎ ﺩﺭﺩ ﺗﮭﺎ.

ﺑﮯ ﻭﻗﻮﻑ ﺍﭨﮭﺎ۔
ﺍﭘﻨﮯ ﮔﻠﮯ ﺳﮯ ﻭﮦ ﮨﺎﺭ ﺍﺗﺎﺭﺍ۔
ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﮔﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ:
"ﺗﻮ ﭘﮭﺮﺣﻀﻮﺭ ۔ ۔ ۔ ﺍﺱ ﮨﺎﺭ ﮐﮯ ﺣﻖ ﺩﺍﺭ ﺁﭖ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﯿﮟ."

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman/39
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 ضرورت 🔷

گاؤں کے مشترکہ ڈیرے پر شام کو مل بیٹھنا اور خوش گپیاں لگانا ہمارا روز کا معمول تھا. آج بھی روز کی طرح کافی لوگ موجود تھے کہ...
اچانک میں نے موضوع بدلا، ہاتھ میں موجود میگزین کھولا اور بولا کہ اس میں ایک جدول ھے اور جو بھی اس جدول کے سوال کا صحیح جواب دے گا میری طرف سے ایک کلو مونگ پھلی اور ساتھ میں گڑ انعام ملے گا.

سب کی توجہ میری طرف ھو گئی اور میں بولا کہ ایک ایسا کلمہ بتاؤ کہ جو تین حرفی ھو اور ھماری زندگی میں سب سے زیادہ اہم اور برتر ہو.

ماسی بشیراں کا نیا نیا بیاہا ہوا بیٹا بولا:
"عشق"

ایک سٹوڈنٹ بولا
"علم"

ایک بے روزگار بولا
"کام"

بوڑھا بابا رحمت بولا
"عمر"

کسان نے صدا لگائی بھائی
"فصل"

ایک کنوارہ بولا:
"یار"

ایک مریض نے سوچا میں کیوں پیچھے رہ جاؤں اور کہنے لگا بھائیوں
"صحت"

ایک کونے میں بیٹھے فقیر نے صدا لگائی
"مال"

چودھری صاحب گرج کر بولے
"جاہ"
اسلم نے تازہ تازہ دوکان بنائی تھی بولا
"قرض"

ان سب کی باتیں سن کر میں سوچنے لگا کہ جسکو جسکی ضرورت ھے وہ ھی اسکے لیے سب سے اھم
پس ممکن ھے کہ ایک گونگے کا جواب ھو "بول"
ایک بہرہ کہے "صدا"
ایک نابینا کہے "نور"

میں اپنے گہرے خیالوں میں ڈوبا اپنے آپ سے کہنے لگا کہ کیوں کسی جگہ سے وہ آواز نہیں آ رھی جس کی ھمیں سب سے زیادہ ضرورت ھے جو نہ فقط ھمارے سب سے زیادہ قریب بلکہ ذھن کے تمام دریچوں میں جگمگا رہا ہے اور دل کی ھر ھر دھڑکن کے ساتھ احساس ھوتا ھے...

🌹 خدا 🌹
🌹 خدا 🌹
🌹 خدا 🌹

کیونکہ جس کو خدا مل جاتا ھے تو باقی سب کچھ تو خود بخود مل جائے گا.

■امام حسین علیہ السلام نے کتنا خوبصورت جملہ دعا عرفہ میں ارشاد فرمایا:

اے خدایا جس نے تجھے پا لیا اس نے کیا کھویا،
اور جس نے تجھے کھو دیا اس نے کیا پایا.

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman/59
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 میت کیساتھ دھوکہ 🔷

نماز کے بعد مولانا اپنی ﺭﻭﭨﯿﻦ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺩﺭﺱ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﺗﮭﮯ.
ﺳﺎﺭﮮ ﻧﻤﺎﺯﯼ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻟﮕﺎ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ. ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺭﺱ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺧﺼﻮﺻﯿﺖ ﭘﺎﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﻨﺪﮦ ﺍﻧﮑﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﻮﺟﮧ ﺍﺩﮬﺮ ﺍﺩﮬﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﭘﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ. ﺑﭽﮯ، ﺑﻮﮌﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﮬﻢ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻃﺒﻘﮧ، ﺳﺐ ﮬﯽ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ دیکھ رہے ﺗﮭﮯ.

ﺳﺐ ﮐﻮ ﺳﮑﺘﮯ ﮐﯽ ﺳﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ کر مولانا سمجھ ﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﺍﺏ ﻋﻮﺍﻡ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﻮﻗﻊ ﮐﮯ ﻋﯿﻦ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺗﯿﺎﺭ ﮬﻮ ﭼﮑﯽ ﮬﮯ.

■ تو مولانا فرمانے لگے کہ "ﺷﯿﻄﺎﻥ ﮐﺐ ﺗﮏ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﺭﮬﺘﺎ ﮬﮯ؟"
ﺳﺐ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺳﻮﺍﻝ ﭘﮧ ﭼﻮﻧﮏ ﭘﮍﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﻮﺍﻟﯿﮧ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﮯ. ﺳﺐ ﮐﻮ ﭼﭗ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ،
■ "ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺁﺧﺮﯼ ﺳﺎﻧﺲ ﺗﮏ ﺍﺳﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﻣﯿﮟ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺍﺳﮑﺎ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺳﻠﺐ ﮬﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺟﮩﻨﻢ ﻣﯿﮟ ﭼﻼ ﺟﺎﺋﮯ، ﯾﻌﻨﯽ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺁﺧﺮﯼ ﺳﺎﻧﺲ ﺗﮏ ﺍﺳﮑﻮ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﺭﮬﺘﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﺍﺳﮑﯽ ﺑﺨﺸﺶ ﻧﮧ ﮬﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺭﺏ ﮐﺮﯾﻢ ﺳﮯ ﮐﯿﮯ ﮔﺌﮯ ﭼﯿﻠﻨﺞ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﻧﮧ ﺟﺎﺅﮞ. ﭘﺮ ﺟﺐ ﺑﻨﺪﮦ ﻓﻮﺕ ﮬﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ﺗﻮ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮨﭧ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺍﺏ ﺍﺱ ﻣﺮﮮ ﮬﻮﺋﮯ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﮐﺮﻧﺎ.

■ ﺍﺳﮑﮯ ﺑﻌﺪ ﭘﺘﮧ ﮬﮯ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﻮﻥ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻏﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﮯ؟
ﺍﻧﮑﺎ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﺑﮭﯽ ﮬﻤﺎﺭﮮ ﻟﺌﮯ ﺍﻧﻮﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ، ﻟﮩﺬﺍ ﺳﺐ ﮬﯽ ﺍﻧﮑﮯ ﻣﻨﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺧﻮﺩ ﮬﯽ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ..
ﻭﮦ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ،
■ "ﺷﯿﻄﺎﻥ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺮﮮ ﮬﻮﺋﮯ ﺑﻨﺪﮮ ﺳﮯ ﮬﻢ ﻟﻮﮒ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﯿﮟ۔"
ﮬﻢ ﻟﻮﮒ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﯿﮟ، ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﻤﮑﻦ ﮬﮯ؟
ﮬﻢ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺩﮬﻮﮐﮯ ﺑﺎﺯ ﮐﯿﺴﮯ ﮬﻮ ﺳﮑﺘﮯ ﮬﯿﮟ؟
ﺳﺐ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﻭﺍﺿﺢ ﻃﻮﺭ ﭘﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ.

مولانا ﺳﺐ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺳﻮﺍﻟﯿﮧ ﻧﺸﺎﻥ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ،
■ "ﺟﺐ ﺑﻨﺪﮦ ﻣﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﮑﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﻢ ﻟﻮﮒ ﮬﯽ ﺍﺳﮑﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﯿﮟ.

■ ﺟﻨﺎﺯﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻟﻮﮒ ﻭﮦ ﮐﮭﮍﮮ ﮬﻮﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﻮ ﻧﻤﺎﺯِ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ، ﭘﺮ ﮐﮭﮍﮮ ﮬﻮﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺏ ﮐﯿﺴﮯ ﺑﮭﻼ ﺍﭘﻨﮯ عزیز ﮐﮯ ﺟﻨﺎﺯﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍے ﻧﮧ ﮬﻮﮞ؟
ﻟﻮﮒ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﺳﮕﮯ رشتہ دار ﮐﺎ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ؟
ﮐﺰﻥ ﮐﺎ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ؟
ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻃﻨﺰ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﮯ لئے ﮬﻢ ﻟﻮﮒ ﻣﺮﮮ ﮬﻮﺋﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﺎﺯ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﮯ.
ﺟﺲ ﺳﭩﯿﺞ ﭘﮧ ﺁﮐﮯ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮨﭧ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ﺍﺱ ﺳﭩﯿﺞ ﭘﮧ ﮬﻢ ﺁ ﮐﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﮬﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮬﯿﮟ، ﮐﮧ ﮬﻢ ﮬﯿﮟ ﻧﺎﮞ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﻣﺸﻦ ﭘﻮﺭﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ.
ﮨﻢ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮬﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﮐﮯ ﺑﮍﮮ ﺑﮍﮮ ﻣﻀﻤﻮﻥ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﮯ ﮬﯿﮟ،
ﻓﻠﻤﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﺎﻧﮯ ﭘﻞ ﺑﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮔﻨﮕﻨﺎﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮬﯿﮟ،
ﺩﻭﮬﮍﮮ ﻣﺎﮨﯿﮯ، ﺷﺎﻋﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﻟﻤﺒﯽ ﻟﻤﺒﯽ ﻏﺰﻟﯿﮟ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﮯ ﮬﯿﮟ...
ﺟﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ﭘﺎﺗﮯ ﺗﻮ ﺟﻨﺎﺯﮮ ﮐﯽ پانچ ﺗﮑﺒﯿﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﻭﮦ ﺗﺤﻔﮧ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺮﮮ ﮬﻮﺋﮯ ﭘﯿﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﻨﺎ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ ﮬﻢ ﻭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﭘﺎﺗﮯ، ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺷﺮﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺟﻨﺎﺯﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﮬﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮬﯿﮟ.

مولانا ﺑﻮﻟﺘﮯ ﺟﺎ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﮬﻢ ﺳﺐ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﺷﺮﻡ ﮐﮯ ﻣﺎﺭﮮ ﺟﮭﮑﮯ ﺟﺎ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ.
ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﺘﺠﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﺑﻮﻟﮯ،
■ "ﺧﺪﺍﺭﺍ۔۔ ﺁﺝ ﺳﮯ ﮬﯽ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﻋﮩﺪ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﻮ ﻧﻤﺎﺯِ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺁتی ﮐﮧ ﻧﻤﺎﺯِ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺿﺮﻭﺭ ﺳﯿﮑﮭﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﺖ ﮐﻮ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺩﻋﺎﺅﮞ ﮐﺎ ﺗﺤﻔﮧ ﺩﯾﮟ ﺳﮑﯿﮟ..
ﻭﺭﻧﮧ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ
■ ﻣﮑﺎﻓﺎﺕِ ﻋﻤﻞ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺁﭘﮑﮯ ﺟﻨﺎﺯﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻟﻮﮒ ﭼُﭗ ﭼﺎﭖ ﮨﺎﺗﮫ ﺑﺎﻧﺪﮬﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﺭﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﺎﺯﮮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺟﺘﻤﺎﻋﯽ ﺩﻋﺎ ﮐﺎ ﺍﺻﺮﺍﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﯿﮟ، ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻓﻘﻂ ﺁﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺍﮐﺘﻔﺎ ﮐﺮﯾﮟ.

■ ﺩﺭﺱ ﺧﺘﻢ ﮬﻮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ، ﺳﺐ ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮓ ﮐﮯ ﻣﺴﺠﺪ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﺳﺐ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﯾﮧ ﮔﻮﺍﮬﯽ ﺩﯾﺘﮯ ﺟﺎ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﮬﻢ ﻧﻤﺎﺯِ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺿﺮﻭﺭ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ۔۔
ﮬﻢ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﺩﮬﻮﮐﮯ ﺑﺎﺯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﯿﮟ ﮔﮯ...
ﮬﺎﮞ! ﮬﻢ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﺩﮬﻮﮐﮯ ﺑﺎﺯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﯿﮟ ﮔﮯ.

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 موسیقی غذا یا سزا 🔷

ﺭﻗﺺ ﺍﻭﺭ ﮔﺎﻧﺎ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺷﯿﻄﺎﻧﯽ ﮨﺘﮭﮑﻨﮉﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺭﺍﮦ ﺭﺍﺳﺖ ﺳﮯ ﮔﻤﺮﺍﮦ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺍﺳﻼﻡ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﭺ ﺍﻭﺭ ﮔﺎﻧﺎ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺑﻄﻮﺭ ﭘﯿﺸﮧ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺣﺮﺍﻡ۔

●ﺍﻓﺴﻮﺱ! ﮐﮧ ﺁﺝ کل ﺑﺪ ﻗﺴﻤﺘﯽ ﺳﮯ ﺗﺮﻗﯽ ﭘﺴﻨﺪ ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﺍپ ٹو ﮈﯾﭧ ﻟﻮﮒ ﻣﻮﺳﯿﻘﯽ ﺍﻭﺭ ﺭﻗﺺ ﮐﻮ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﺳﮯ ﺑﺎﻋﺚ ﺗﻔﺮﯾﺢ، ﺛﻘﺎﻓﺖ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺡ ﮐﯽ ﻏﺬﺍ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺡ ﮐﯽ ﻏﺬﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺭﻭﺡ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﮨﮯ.

●ﺣﺪﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ص ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻨﮧ ﺍﻭﺭ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺁﻻﺕ ﻣﻮﺳﯿﻘﯽ ﮐﻮ ﺗﻮﮌﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺯﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﭩﺎﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ مبعوث ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﮯ.
(ﻣﺴﻨﺪ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺣﻤﺪ)

●ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﮔﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ.

●ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺟﮕﮧ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
ﺟﺲ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﻋﻮﺭﺕ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺗﻮﺟﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮔﺎﻧﺎ ﺳﻨﮯ ﺗﻮ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﺭﻭﺯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﮕﮭﻼ ﮨﻮﺍ ﺳﯿﺴﮧ ﮈﺍﻻ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ.

■ﻧﺎﭺ ﺍﻭﺭ ﮔﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﺣﺮﺍﻡ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻟﻮﮒ ﺍﺱ ﻟﻌﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﻮﺙ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﻣﻌﺎﺵ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻓﺨﺮ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ.

■ﭘﮩﻠﮯ ﺩﻭﺭ ﮐﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻼﻭﺕ ﻗﺮﺁﻥ ﭘﺎﮎ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯﯾﮟ ﺳﻨﺎﺋﯽ ﺩﯾﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺁﺝ ﮨﺮ ﮔﮭﺮ ﺳﯿﻨﻤﺎ ﮨﺎﺅﺱ ﺑﻨﺎ ہوا ہے.

■ﭘﮩﻠﮯ ﮔﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﯿﺮﺍﺛﯽ، ﺑﮭﺎﻧﮉﺍ، ﮐﻨﺠﺮ ﺍﻭﺭ ﮈﻭﻡ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﺝ ﻣﯿﺮﺍﺛﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﮐﻨﺠﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﻓﻨﮑﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﮔﻠﻮﮐﺎﺭ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﺁﺅ ﺑﮭﮕﺖ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮐﺴﯽ ﺑﮍﮮ ﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﻋﺎﻟﻢ ﺩﯾﻦ ﺍﻭﺭ ﺑﺰﺭﮒ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ.

■ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﺧﻮﻑ ﺧﺪﺍ ﺳﮯ ﻋﺎﺭﯼ ﻟﻮﮒ ﺑﮍﮮ ﻓﺨﺮ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﮯ ﭘﮭﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﻨﺎﺏ ﻣﻮﺳﯿﻘﯽ ﺭﻭﺡ ﮐﯽ ﻏﺬﺍ ﮨﮯ.
ﻣﮕﺮ ﺭﺍﻗﻢ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﯽ ﻏﺬﺍ ﮨﮯ؟ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻧﻔﺎﻕ ﺍﻭﺭ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﻗﺴﺎﻭﺕ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺫﮐﺮ ﻭ ﺗﻼﻭﺕ ﺍﻭﺭ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻭ ﺍﻃﺎﻋﺖ ﮐﯽ ﻟﺬﺕ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﻧﯿﺰ ﺟﻮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﻮ ﺑﮯ ﺣﺠﺎﺏ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺣﯿﺎﺀ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ.
ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺭﺍﻗﻢ ﯾﮧ ﮐﮩﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺣﻖ ﺑﺠﺎﻧﺐ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﻮﺳﯿﻘﯽ ﺭﻭﺡ ﮐﯽ ﻏﺬﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺳﺰﺍ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﺬﺍﺏ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﻧﺸﮧ ﮨﮯ، ﮨﻢ ﻏﺬﺍ ﺳﻤﺠﮫ بیٹھے ہیں.
■ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺭﻭﺡ ﮐﯽ ﻏﺬﺍ ﻧﻤﺎﺯ ﺍﻭﺭ ﺫﮐﺮ ﻭ ﺍﺳﺘﻐﻔﺎﺭ ﮨﮯ۔

●ﺍﺑﻮ ﮨﺮﯾﺮﮦ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ص ﮐﺎ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﮯ:
ﺟﺐ ﻟﻮﮒ ﻣﺤﺼﻮﻝ ﻣﻤﻠﮑﺖ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﻭﻟﺖ ﺑﻨﺎ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺎﻧﺖ ﮐﻮ ﻏﻨﯿﻤﺖ ﺍﻭﺭ ﺯﮐٰﻮۃ ﮐﻮ ﺗﺎﻭﺍﻥ ﺳﻤﺠﮭﯿﮟ ﮔﮯ،
ﺍﻭﺭ ﻏﯿﺮ ﺩﯾﻦ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻋﻠﻢ ﭘﮍﮬﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﺩﻣﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﺎ ﺗﺎﺑﻌﺪﺍﺭ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﮐﺎ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻥ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﺳﺖ ﮐﻮ ﺁﺭﺍﻡ ﭘﮩﻨﭽﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﭖ ﮐﻮ ﺳﺘﺎﺋﮯ ﮔﺎ،
ﺍﻭﺭ ﮔﺎﻧﮯ ﺑﺠﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﮔﺎﻧﮯ ﺑﺠﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﻋﺎﻡ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﻮﮞ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﺍﺏ ﭘﯽ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺍﻣﺖ ﮐﮯ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﻟﻮﮒ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﻟﻌﻨﺖ ﺑﮭﺠﯿﮟ ﮔﮯ،
ﺍﺱ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﮒ ﻣﻨﺘﻈﺮ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺳﺮﺥ ﺁﻧﺪﮬﯽ ﺍﭨﮭﮯ ﮔﯽ، ﺯﻟﺰﻟﮧ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ، ﺧﺴﻮﻑ ﻭﺍﻗﻊ ﮨﻮ ﮔﺎ، ﺻﻮﺭﺗﯿﮟ ﻣﺴﺦ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﯽ، ﺁﺳﻤﺎﻥ ﺳﮯ ﭘﺘﮭﺮ ﺑﺮﺳﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺩﯾﮕﺮ ﻋﻼﻣﺘﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﭘﮯ ﺩﺭ ﭘﮯ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﻮﮞ ﮔﯽ
ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﮐﺴﯽ ﮨﺎﺭ ﮐﺎ ﺩﮬﺎﮔﮧ ﺗﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻣﻮﺗﯽ ﻟﮕﺎ ﺗﺎﺭ ﮔﺮﺗﮯ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ.

ﺑﺮﺍﺩﺭﺍﻥ ﺍﺳﻼﻡ!
ﺍﭘﻨﮯ ﮔﺮﺩ ﻭ ﭘﯿﺶ ﭘﺮ ﻧﻈﺮ ﮈﺍﻟﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮑﮭﺌﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ ﻋﻼﻣﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﻮﻥ ﺳﯽ ﻋﻼﻣﺖ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ۔
•ﮐﯿﺎ ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﮯ ﻣﺤﺼﻮﻻﺕ ﮐﻮ ﺫﺍﺗﯽ ﺟﺎﮔﯿﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺠﮫ ﺭﮐﮭﺎ؟
•ﮐﯿﺎ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﻭﺭ ﺍﻗﺮﺑﺎﺀ ﮐﻮ ﺳﺘﺎﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ؟
•ﮐﯿﺎ ﻗﻮﻡ ﮐﮯ ﺑﺪﺗﺮﯾﻦ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﻟﯿﮉﺭ ﺍﻭﺭ ﺭﮨﻨﻤﺎ نہیں ﺑﻨﮯ ﮨﻮﺋﮯ؟
•ﮐﯿﺎ ﺭﯾﮉﯾﻮ، ﭨﯽ ﻭﯼ، ﻭﯼ۔ﺳﯽ۔ﺁﺭ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﻨﻤﺎ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﮔﺎﻧﮯ ﺑﺠﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﻋﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ؟
•ﮐﯿﺎ ﺯﮐٰﻮۃ ﮐﻮ ﺗﺎﻭﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﭨﯿﮑﺲ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ؟
•ﮐﯿﺎ ﮔﮭﺮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﻗﺺ ﻭ ﺳﺮﻭﺭ ﮐﯽ ﻣﺤﻔﻠﯿﮟ ﺑﺮﭘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ؟

■ﻋﻼﻣﺎﺕ ﺗﻮ ﭘﻮﺭﯼ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﮨﯿﮟ، ﺑﺲ ﺍﺏ ﻋﺬﺍﺏ ﺍﻟٰﮩﯽ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﯿﺠﺌﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﮯ ﮐﯿﺎ ﻣﻌﻨﯽ، ﻋﺬﺍﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﻢ ﻣﺒﺘﻼ ﮨﯿﮟ، ﺑﻼﺅﮞ ﺍﻭﺭ ﺁﻓﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﯿﮟ۔
•ﮐﯿﺎ ﻇﺎﻟﻢ ﺍﻭﺭ ﻓﺎﺳﻖ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﻋﺬﺍﺏ ﺍﻟٰﮩﯽ ﻧﮩﯿﮟ؟
•ﮐﯿﺎ ﺑﯿﻦ ﺍﻻ ﻗﻮﺍﻣﯽ ﺗﺤﻘﯿﺮ ﻭ ﺗﺬﻟﯿﻞ ﻋﺬﺍﺏ ﺍﻟٰﮩﯽ ﻧﮩﯿﮟ؟
•ﮐﯿﺎ ﺑﺎﮨﻤﯽ ﻗﺘﻞ ﻭ ﻗﺘﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﻧﻔﺎﻕ ﻭ ﺍﻓﺘﺮﺍﻕ ﻋﺬﺍﺏ ﺍﻟٰﮩﯽ ﻧﮩﯿﮟ؟
•ﮐﯿﺎ ﻋﺪﻡ ﺗﺤﻔﻆ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﻑ ﻭ ﮈﺭ ﻋﺬﺍﺏ ﺍﻟٰﮩﯽ ﻧﮩﯿﮟ؟
•ﮐﯿﺎ ﺍﻧﺴﺎﻧﯿﺖ کے خون ﮐﯽ ﺍﺭﺯاﻧﯽ ﻋﺬﺍﺏ ﺍﻟٰﮩﯽ ﻧﮩﯿﮟ؟
•ﮐﯿﺎ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﺿﻄﺮﺍﺏ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺣﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﮯ ﭼﯿﻨﯽ ﻋﺬﺍﺏ ﺍﻟٰﮩﯽ ﻧﮩﯿﮟ؟
•ﮐﯿﺎ ﻋﺰﺕ ﻭ ﻧﺎﻣﻮﺱ ﮐﯽ ﭘﺎﻣﺎﻟﯽ ﻋﺬﺍﺏ ﺍﻟٰﮩﯽ ﻧﮩﯿﮟ؟
•ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺯﻟﺰﻟﮯ، ﯾﮧ ﺩﮬﻤﺎﮐﮯ، ﯾﮧ ﺳﯿﻼﺏ ﯾﮧ ﺩﮨﺸﺖ ﮔﺮﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺟﻨﮕﯿﮟ ﻋﺬﺍﺏ ﺍﻟٰﮩﯽ ﻧﮩﯿﮟ؟

■ﻣﻌﺮﺍﺝ ﮐﯽ ﺭﺍﺕ ﺳﺮﻭﺭ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ وآلہ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﻨﻈﺮ ﻣﻼﺣﻈﮧ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﮒ ﮐﮯ ﮐﯿﻞ ﭨﮭﮑﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ، ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﺭﺳﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﯾﮧ ﻭﮦ ﺳﻨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﺁﭖ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻨﺘﮯ ﯾﮧ ﻭﮦ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﺁﭖ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ۔
ﯾﻌﻨﯽ ﺣﺮﺍﻡ ﺳﻨﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﮐﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﻞ ﭨﮭﻮﻧﮏ ﺩﯾﺌﮯ ﮔﺌﮯ.

ﺁﮦ!
ﺭﺍﮒ ﺁﯾﺎ، ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮔﺌﯽ
ﭨﯽ ﻭﯼ ﺁﯾﺎ، ﻧﯿﻨﺪ ﮔﺌﯽ
ﮈﺵ ﺁﺋﯽ، ﻏﯿﺮﺕ ﮔﺌﯽ
ﻭﯾﮉﯾﻮ ﺁﺋﯽ، ﮨﺪﺍﯾﺖ ﮔﺌﯽ
ﻓﻠﻢ ﺁﺋﯽ، ﻋﻠﻢ ﮔﯿﺎ
ﻓﯿﺸﻦ ﺁﯾﺎ، ﺣﯿﺎﺀ ﮔﺌﯽ
ﮐﻠﺐ ﺁﯾﺎ، ﻣﺬﮨﺐ ﮔﯿﺎ
ﮐﺮﮐﭧ ﺁﺋﯽ، ﮐﺎﻡ ﮔﯿﺎ
ﺳﯿﺎﺳﺖ ﺁﺋﯽ، ﺍﻣﻦ ﮔﯿﺎ
ﺑﯿﻨﮏ ﺁﯾﺎ، ﺑﺮﮐﺖ ﮔﺌﯽ
ﮨﻮﺱ ﺁﺋﯽ، ﺳﮑﻮﻥ ﮔﯿﺎ
ﻧﺸﮧ ﺁﯾﺎ، ﺻﺤﺖ گئی.

بشکریہ تحریر: صبا یوسف

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔶 غصہ اور قوت برداشت 🔶

قوت برداشت کو بڑھانے کے لئے یہ پوسٹ ضرور پڑھیں یقیناً جو بھی عمل کرے گا %90 کامیاب ہوگا ان شاء الله۔

■ ﺻﺪﺭ ﺍﯾﻮﺏ ﺧﺎﻥ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ کے ﭘﮩﻠﮯ ﻣﻠﭩﺮﯼ ﮈﮐﭩﯿﭩﺮ ﺗﮭﮯ، ﻭﮦ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺳﮕﺮﯾﭧ ﮐﮯ ﺩﻭ ﺑﮍﮮ ﭘﯿﮑﭧ ﭘﯿﺘﮯ ﺗﮭﮯ، ﺭﻭﺯ ﺻﺒﺢ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺑﭩﻠﺮ ﺳﮕﺮﯾﭧ ﮐﮯ ﺩﻭ ﭘﯿﮑﭧ ﭨﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﯿﮉ ﺭﻭﻡ ﻣﯿﮟ ﺁ ﺟﺎﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺻﺪﺭ ﺍﯾﻮﺏ ﺳﮕﺮﯾﭧ ﺳﻠﮕﺎ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺻﺒﺢ ﮐﺎ ﺁﻏﺎﺯ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ.

ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻣﺸﺮﻗﯽ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﮮ ﭘﺮ ﺗﮭﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺑﻨﮕﺎﻟﯽ ﺑﭩﻠﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺳﮕﺮﯾﭧ ﺩﯾﻨﺎ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﯿﺎ، ﺟﻨﺮﻝ ﺍﯾﻮﺏ ﺧﺎﻥ ﮐﻮ ﺷﺪﯾﺪ ﻏﺼﮧ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﭩﻠﺮ ﮐﻮ ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ ﺩﯾﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ۔
ﺟﺐ ﺍﯾﻮﺏ ﺧﺎﻥ ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ ﺩﮮ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺗﮭﮏ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﺑﭩﻠﺮ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮐﮩﺎ:
’’ﺟﺲ ﮐﻤﺎﻧﮉﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﯽ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﻧﮧ ﮨﻮ ﻭﮦ ﻓﻮﺝ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﭼﻼﺋﮯ ﮔﺎ، ﻣﺠﮭﮯ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﻓﻮﺝ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﻠﮏ ﮐﺎ ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﺧﺮﺍﺏ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ‘‘۔
ﺑﭩﻠﺮ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺍﯾﻮﺏ ﺧﺎﻥ ﮐﮯ ﺩﻝ ﭘﺮ ﻟﮕﯽ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﯽ ﻭﻗﺖ ﺳﮕﺮﯾﭧ ﺗﺮﮎ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﮕﺮﯾﭧ ﮐﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﻧﮧ ﻟﮕﺎﯾﺎ۔

■ ﺭﺳﺘﻢ ﺯﻣﺎﻥ ﮔﺎﻣﺎ ﭘﮩﻠﻮﺍﻥ، ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﻧﮯ ﺁﺝ ﺗﮏ ﺍﺱ ﺟﯿﺴﺎ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﭘﮩﻠﻮﺍﻥ ﭘﯿﺪﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ‘ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺍﯾﮏ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﺳﮯ ﺩوﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﮔﺎﻣﺎ ﭘﮩﻠﻮﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺮ ﻣﯿﮟ ﻭﺯﻥ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺑﺎﭦ ﻣﺎﺭ ﺩﯾﺎ۔
ﮔﺎﻣﮯ ﮐﮯ ﺳﺮ ﺳﮯ ﺧﻮﻥ ﮐﺎ ﻓﻮﺍﺭا ﭘﮭﻮﭦ ﭘﮍا‘ ﮔﺎﻣﮯ ﻧﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﻣﻔﻠﺮ ﻟﭙﯿﭩﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﭗ ﭼﺎﭖ ﮔﮭﺮ ﻟﻮﭦ ﮔﯿﺎ۔
ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
ﭘﮩﻠﻮﺍﻥ ﺻﺎﺣﺐ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺍﺗﻨﯽ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﮐﯽ ﺗﻮﻗﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ. ﺁﭖ ﺩوﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺗﮭﭙﮍ ﻣﺎﺭ ﺩﯾﺘﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺟﺎﻥ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺗﯽ.
ﮔﺎﻣﮯ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ:
’’ﻣﺠﮭﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺎﻗﺖ ﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ بلکہ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﻮﺍﻥ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﺭﺳﺘﻢ ﺯﻣﺎﻥ ﺭﮨﻮﮞ ﮔﺎ ﺟﺐ ﺗﮏ ﻣﯿﺮﯼ ﻗﻮﺕ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﮮ ﮔﯽ‘‘۔

■ ﻗﻮﺕ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﻣﯿﮟ ﭼﯿﻦ ﮐﮯ ﺑﺎﻧﯽ ﭼﯿﺌﺮﻣﯿﻦ ﻣﺎﺅﺯﮮ ﺗﻨﮓ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﺭ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻟﯿﮉﺭﺯ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﺗﮭﮯ‘ ﻭﮦ 75 ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺳﺮﺩﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﺷﻨﮕﮭﺎﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺋﻤﻨﮓ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺩﺭﺟﮧ ﺣﺮﺍﺭﺕ ﻣﻨﻔﯽ ﺩﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔

■ ﻗﻮﺕ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﻐﻞ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻇﮩﯿﺮ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺑﺎﺑﺮ ﺑﮭﯽ ﺳﻨﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻭﮦ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺻﺮﻑ ﮈﮬﺎﺋﯽ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯿﺎﮞ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ ﮨﯿﮟ۔

ﺍﻥ ﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﮊﺩﮬﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮍﺍﺋﯽ ﺗﮭﯽ. ﺍﯾﮏ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﺲ ﻓﭧ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﮊﺩﮬﮯ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺟﮑﮍ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺑﺮ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻥ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺎﺭﮦ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﻟﮍﻧﺎ ﭘﮍﺍ۔

ﺍﻥ ﮐﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ ﺧﺎﺭﺵ ﺗﮭﯽ۔
ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺧﺎﺭﺵ ﮐﺎ ﻣﺮﺽ ﻻﺣﻖ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ، ﺧﺎﺭﺵ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﺷﺪﯾﺪ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺟﺴﻢ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﭙﮍﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻦ ﺳﮑﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﺑﺎﺑﺮ ﮐﯽ ﺍﺱ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺧﺒﺮ ﭘﮭﯿﻠﯽ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺩﺷﻤﻦ ﺷﺒﺎﻧﯽ ﺧﺎﻥ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻋﯿﺎﺩﺕ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺁ ﮔﯿﺎ۔
ﯾﮧ ﺑﺎﺑﺮ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮈﻭﺏ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﻡ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺷﻤﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺟﺎﺋﮯ۔ ﺑﺎﺑﺮ ﻧﮯ ﻓﻮﺭﺍً ﭘﻮﺭﺍ ﺷﺎﮨﯽ ﻟﺒﺎﺱ ﭘﮩﻨﺎ
ﺍﻭﺭ ﺑﻦ ﭨﮭﻦ ﮐﺮ ﺷﺒﺎﻧﯽ ﺧﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ‘ ﻭﮦ ﺁﺩﮬﺎ ﺩﻥ ﺷﺒﺎﻧﯽ ﺧﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﯿﭩﮭا ﺭﮨا‘ ﭘﻮﺭﮮ ﺟﺴﻢ ﭘﺮ ﺷﺪﯾﺪ ﺧﺎﺭﺵ ﮨﻮﺋﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺑﺎﺑﺮ ﻧﮯ ﺧﺎﺭﺵ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ۔

ﺑﺎﺑﺮ ﺍﻥ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﻭ ﺑﮍﯼ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯿﺎﮞ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﺩﮬﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻓﺘﺢ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﺩﮬﯽ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ ﮐﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔

🔘 ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ کامیاب لوگوں ﮐﺎ ﺍﺻﻞ ﺣﺴﻦ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻗﻮﺕ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺎﺭﭦ ﭨﻤﭙﺮﮈ، ﮐﻮﺋﯽ ﻏﺼﯿﻠﮧ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﻠﺪ ﺑﺎﺯ ﺷﺨﺺ ﺗﺮﻗﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ۔ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ وہی ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﻗﻮﺕ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔

🔷 ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮩﺎﮞ ﭘﺮ ﺳﻮﺍﻝ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﯿﺎ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟

ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﮨﺎﮞ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺣﻞ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ (ص) ﮐﯽ ﺣﯿﺎﺕ ﻃﯿﺒﮧ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ۔

ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺍﯾﮏ ﺻﺤﺎﺑﯽؓ ﻧﮯ ﺭﺳﻮﻝ اکرمؐ ﺳﮯ ﻋﺮﺽ کی:
’’ﯾﺎﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ (ص) ﺁﭖ ﻣﺠﮭﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﻮ ﭘﺮﺳﮑﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﮏ ﻓﺎﺭﻣﻮﻟﮧ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺠﺌﮯ‘‘

ﺁﭖؐ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
’’ﻏﺼﮧ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ‘‘

ﺁﭖؐ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
’’ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﻦ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ.
ﺍﻭﻝ۔ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﺟﻮ ﺟﻠﺪﯼ ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻠﺪ ﺍﺻﻞ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺩﻭﻡ۔ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﺟﻮ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻠﺪ ﺍﺻﻞ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ.
ﺳﻮﻡ۔ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﺟﻮ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﺍﺻﻞ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﭨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔‘‘

ﺁﭖؐ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
’’ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ ﺟﺒﮑﮧ ﺑﺪﺗﺮﯾﻦ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﻗﺴﻢ ﮐﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ہیں.‘‘

🔘 ﻏﺼﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ 90 ﻓﯿﺼﺪ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺻﺮﻑ ﻏﺼﮯ ﭘﺮ ﻗﺎﺑﻮ ﭘﺎﻟﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ 90 ﻓﯿﺼﺪ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺍﯾﻨﭩﯽ ﺑﺎﺋﯿﻮﭨﮏ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻣﻠﭩﯽ ﻭﭨﺎﻣﻦ ﮨﮯ۔

ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺻﺮﻑ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﮐﯽ ﻗﻮﺕ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺎﻗﺖ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺍﮐﺜﺮ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﺍﯾﮏ ﮔﺎﻟﯽ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺳﯿﻨﮑﮍﻭﮞ ﮔﺎﻟﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﭻ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺑﺮﯼ ﻧﻈﺮ ﮐﻮ ﺍﮔﻨﻮﺭ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﺮ ﮐﯽ ﻏﻠﯿﻆ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔

ﺁﭖ ﮐﻮ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻏﺼﮧ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﻓﻮﺭﺍً ﺍﭘﻨﮯ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝؐ ﮐﮯ ﯾﮧ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻟﮯ ﺁﺋﯿﮯ۔
ﺁﭖؐ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ’’ﻏﺼﮧ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ‘‘
ﯾﮧ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻗﻮﺕ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﻓﺮما دیں گے.

حضرت علیؑ نے فرماتے ہیں:
قوت برداشت شان کو بلند کرتی ہے۔ (میزان الحکمہ، ج1، ص116)

https://t.me/islamwitheman/3
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 موت بہترین محافظ 🔷

ائیرہوسٹس کہاں گمُ ہوگئی؟
ہوائی امریکا کی چالیسویں ریاست ہے اور ہونولولو ہوائی کا دارالحکومت ہے. یہ دنیا کے خوبصورت ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے.

دنیا کے اس خوبصورت شہر کی قربت میں 28 اپریل 1988ء کو ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ اس واقعہ میں ایک ائیر ہوسٹس جہاز کی چھت اڑنے سے پراسرار طور پر ایسی غائب ہوئی جس کا آج تک پتہ نہیں چل سکا۔

■ یہ واقعہ 58 سالہ ائیر ہوسٹس لانسنگ کلارا بیل (Lansing Clarabelle) کے ساتھ پیش آیا اور اس نے دنیا کے لاکھوں لوگوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا.

کلارا بیل الوہا ائیر لائن میں ملازم تھی اور 28 اپریل کو فلائٹ 243 کے ذریعے ہیلو (Hilo) سے ہونو لولو جا رہی تھی.

فلائیٹ میں 90 مسافر اور عملے کے پانچ ارکان سوار تھے. جہاز نے اس دن 8 فلائیٹس کی تھیں. تمام فلائیٹس ہموار اور نارمل تھیں. موسم بھی خوشگوار تھا. دونوں پائلٹس بھی تجربہ کار تھے. وہ 8 ہزار گھنٹوں سے زیادہ فلائنگ کر چکے تھے.

ہیلو اور ہونولولو کے درمیان 35 منٹ کی فلائٹ تھی. جہاز نے ایک بج کر 25 منٹ پر ٹیک آف کیا اور یہ 20 منٹ میں 23 ہزار فٹ کی بلندی پر پہنچ گیا.

مسافر اور عملہ فلائٹ کو انجوائے کر رہے تھے.۔ پائلٹ کو اچانک فرسٹ کلاس کیبن میں کسی چیز کے ٹوٹنے اور غبارے کی طرح پھٹنے کی آواز آئی. وہ پریشانی میں اس دھماکے کی وجہ تلاش کرنے لگا. وہ ابھی وجہ تلاش کر رہا تھا کہ اس نے ایک عجیب منظر دیکھا. اس نے دیکھا، کلارا بیل فرسٹ کلاس کیبن میں کھڑی ہے. اچانک جہاز کی چھت میں خلا پیدا ہوا، کلارا بیل اپنی جگہ سے اٹھی، جہاز سے اڑی، باہر گری اور خلا میں گم ہوگئی اور اس کے ساتھ ہی جہاز ڈولنے لگا، جہاز کی چھت میں سوراخ ہو چکا تھا.

پائلٹ نے جہاز کو کنٹرول کرنا شروع کر دیا لیکن جہاز ’’آؤٹ آف کنٹرول‘‘ ہو چکا تھا. جہاز کے اندر ہوا بھر گئی، ہوا کا دباؤ انجن کی طاقت سے کئی گنا زیادہ تھا، جہاز کے اندر درجہ حرارت منفی چالیس ڈگری سینٹی گریڈ ہو گیا.
قریب ترین جزیرہ ماؤ تھا، پائلٹ 13منٹ کی سر توڑ کوشش کے بعد جہاز کو ماؤ ایئرپورٹ پر اتارنے میں کامیاب ہو گیا. مسافر اور عملے کے ارکان محفوظ تھے. صرف کلارا بیل غائب تھی. وہ آج تک نہیں مل سکی.

■ حادثے کے بعد تحقیقات ہوئیں. پتہ چلا کہ نمی کی وجہ سے جہاز کی چھت کے پیچ کمزور ہو گئے تھے. وہ ہوا کا دباؤ برداشت نہ کر سکے اور پرواز کے دوران عین اس جگہ سے اکھڑ گئے جہاں کلارا کھڑی تھی. پیچ نکلنے سے چھت کا ایک حصہ اڑ گیا. جہاز میں خلا پیدا ہوا اور کلارا اس خلا سے باہر گر گئی. وہ کہاں گئی اور اس کی لاش کہاں گری، امریکی فضائیہ کو آج تک اس سوال کا جواب نہیں مل سکا۔

● یہ قدرت الہی کا ایک عجیب واقعہ ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ جب کسی کی موت آ جائے تو وہ بچ نہیں سکتا۔

یہ واقعہ حضرت علی علیہ السلام کا وہ قول ثابت کرتا ہے جس میں آپ علیہ السلام نے فرمایا تھا... "زندگی کی سب سے بڑی محافظ موت ہوتی ہے."

■ ہم بھی کیا لوگ ہیں، ہم موت سے بچنے کے سینکڑوں جتن کرتے ہیں لیکن یہ جب آتی ہے تو پھر یہ نہ سمندر دیکھتی ہے، نہ پہاڑ، خلا، صحرا، غار اور نہ ہی ایٹمی مورچہ. یہ انسان پر وہاں سے وار کرتی ہے جس کے بارے میں اس نے سوچا تک نہیں ہوتا.

یہ ہی اس ائیر ہوسٹس کے ساتھ ہوا 94 لوگوں کو ذرا بھر خراش بھی نہیں آئی لیکن ایک عورت جس کی موت کا وقت مقرر تھا ان 95 لوگوں میں سے موت نے صرف اس کو اچک لیا۔ کیونکہ اس کی موت کا وقت آ گیا تھا۔

اللہ تعالی ہمیں زندگی اور موت کی حقیقت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 اعمال اور تسلط 🔷

ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﻐﺪﺍﺩ ﭘﺮ ﺗﺎﺗﺎﺭﯼ ﻓﺘﺢ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﻼﮐﻮ ﺧﺎﻥ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﺑﻐﺪﺍﺩ ﻣﯿﮟ ﮔﺸﺖ ﮐﺮﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﮨﺠﻮﻡ ﭘﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﭘﮍﯼ.
ﭘﻮﭼﮭﺎ ﻟﻮﮒ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﯿﻮﮞ ﺍﮐﭩﮭﮯ ﮨﯿﮟ؟

ﺟﻮﺍﺏ ﺁﯾﺎ: ﺍﯾﮏ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﯿﮟ.
ﺩﺧﺘﺮِ ﮨﻼﮐﻮ ﻧﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﯿﺶ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ.

شہزﺍﺩﯼ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻋﺎﻟﻢ ﺳﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﯽ:
●ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻟﻮﮒ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﮯ؟
ﻋﺎﻟﻢ: ﯾﻘﯿﻨﺎً ﮨﻢ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ.

ﺷﮩﺰﺍﺩﯼ:
●ﮐﯿﺎ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺟﺴﮯ ﭼﺎﮨﮯ ﻏﺎﻟﺐ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ؟
ﻋﺎﻟﻢ: ﯾﻘﯿﻨﺎً ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮨﮯ.

ﺷﮩﺰﺍﺩﯼ:
●ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺁﭺ ﮨﻤﯿﮟ ﺗﻢ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﭘﺮ ﻏﺎﻟﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ؟
ﻋﺎﻟﻢ: ﯾﻘﯿﻨﺎً ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮨﮯ.

ﺷﮩﺰﺍﺩﯼ:
●ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﯽ ﺩﻟﯿﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺧﺪﺍ ﮨﻤﯿﮟ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ؟
ﻋﺎﻟﻢ: ﻧﮩﯿﮟ

ﺷﮩﺰﺍﺩﯼ:
●ﮐﯿﺴﮯ؟

ﻋﺎﻟﻢ:
●ﺗﻢ ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﭼﺮﻭﺍﮨﮯ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ؟

ﺷﮩﺰﺍﺩﯼ: ﮨﺎﮞ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ.

ﻋﺎﻟﻢ:
●ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺭﯾﻮﮌ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﺮﻭﺍﮨﮯ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﭽﮫ ﮐﺘﮯ ﺑﮭﯽ ﺭﮐﮫ ﭼﮭﻮﮌﮮ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ؟
ﺷﮩﺰﺍﺩﯼ: ﮨﺎﮞ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ.

ﻋﺎﻟﻢ:
●ﺍﭼﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﮔﺮ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯿﮍﯾﮟ ﭼﺮﻭﺍﮨﮯ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﻮ ﮐﺴﯽ ﻃﺮﻑ ﮐﻮ ﻧﮑﻞ ﮐﮭﮍﯼ ﮨﻮﮞ، ﺍﻭﺭ ﭼﺮﻭﺍﮨﮯ ﮐﯽ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﻮ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﯽ ﻧﮧ ﮨﻮﮞ، ﺗﻮ ﭼﺮﻭﺍﮨﺎ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ؟
ﺷﮩﺰﺍﺩﯼ: ﻭﮦ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺘﮯ ﺩﻭﮌﺍﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﻥ ﮐﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮐﻤﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﺁﺋﯿﮟ.

ﻋﺎﻟﻢ:
●ﻭﮦ ﮐﺘﮯ ﮐﺐ ﺗﮏ ﺍﻥ ﺑﮭﯿﮍﻭﮞ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭘﮍﮮ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ؟
ﺷﮩﺰﺍﺩﯼ: ﺟﺐ ﺗﮏ ﻭﮦ ﻓﺮﺍﺭ ﺭﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭼﺮﻭﺍﮨﮯ ﮐﮯ ﺍﻗﺘﺪﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﭘﺲ ﻧﮧ ﺁﺟﺎﺋﯿﮟ.

ﻋﺎﻟﻢ:
■ﺗﻮ ﺁﭖ ﺗﺎﺗﺎﺭﯼ ﻟﻮﮒ ﺯﻣﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺣﻖ ﻣﯿﮟ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﭼﮭﻮﮌﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﺘﮯ ﮨﯿﮟ؛ ﺟﺐ ﺗﮏ ﮨﻢ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﺩﺭ ﺳﮯ ﺑﮭﺎﮔﮯ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﻃﺎﻋﺖ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻨﮩﺞ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺗﺐ ﺗﮏ ﺧﺪﺍ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺩﻭﮌﺍﺋﮯ ﺭﮐﮭﮯ ﮔﺎ ﺗﺐ ﺗﮏ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺍﻣﻦ ﭼﯿﻦ ﺗﻢ ﮨﻢ ﭘﺮ ﺣﺮﺍﻡ ﮐﯿﮯ ﺭﮐﮭﻮ ﮔﮯ؛
ﮨﺎﮞ! ﺟﺐ ﮨﻢ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﺩﺭ ﭘﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺍُﺱ ﺩﻥ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﮐﺎﻡ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ.

■ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺁﺝ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻏﻮﺭﻭﻓﮑﺮ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮩﺖ ﮐﭽﮫ ﭘﻮﺷﯿﺪﮦ ﮨﮯ!

■ﺧﺪﺍﯾﺎ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﺱ ﺑﮭﭩﮑﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮔﻠﮯ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﺭ ﭘﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﺩﮮ؛
تقلیدِ ﻃﺎﻏﻮﺕ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺍﻧﺪﮬﯿﺮﯼ ﻃﻮﯾﻞ ﺭﺍﺕ ﮨﻢ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﮐﺮﺩﮮ۔!
ﺑﮭﭩﮑﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺁﮨﻮ ﮐﻮ ﺳﻮﺋﮯ ﺣﺮﻡ ﻟﮯ ﭼﻞ!

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
👹 عزازیل سے ابلیس تک 👹

ابلیس جس کو شیطان کہا جاتا ہے۔ یہ فرشتہ نہیں تھا بلکہ جن تھا جو آگ سے پیدا ہوا تھا۔ لیکن یہ فرشتوں کے ساتھ ملا جلا رہتا تھا اور دربارِ خداوندی میں بہت مقرب اور بڑے بڑے بلند درجات ومراتب سے سرفراز تھا۔
تفاسیر میں ہے کہ ابلیس سب سے پہلے جن یعنی تمام جنات کے باپ "مارج" کے پوتے کا بیٹا تھا۔

حضرت کعب احبار (رض) کا بیان ہے کہ
●ابلیس چالیس ہزار برس تک جنت کا خزانچی رہا،
●اَسّی ہزار برس تک ملائکہ کا ساتھی رہا،
●بیس ہزار برس تک ملائکہ کو وعظ سناتا رہا،
●تیس ہزار برس تک مقربین کا سردار رہا،
●ایک ہزار برس تک روحانین کی سرداری کے منصب پر رہا،
●چودہ ہزار برس تک عرش کا طواف کرتا رہا.

●پہلے آسمان میں اس کا نام عابد،
●دوسرے آسمان میں زاہد،
●تیسرے آسمان میں عارف،
●چوتھے آسمان میں ولی،
●پانچویں آسمان میں تقی،
●چھٹے آسمان میں خازن،
●ساتویں آسمان میں عزازیل تھا،

اور لوح محفوظ میں اس کا نام ابلیس لکھا ہوا تھا اور یہ اپنے انجام سے غافل اور خاتمہ سے بے خبر تھا۔
(تفسیر صاوی، ج۱،ص۵۱،پ۱، البقرۃ : ۳۴، تفسیر جمل ،ج۱ ص ۶۰)

■لیکن جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو ابلیس نے انکار کیا اور حضرت آدم علیہ السلام کی تحقیر اور اپنی بڑائی کا اظہار کر کے تکبر کیا جسکی وجہ سے خداوند عالم نے اس کو مردود کر کے دونوں جہان میں ملعون فرما دیا اور اس کی پیروی کرنے والوں کو جہنم میں عذاب نار کا سزاوار بنادیا۔
چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہوا:
ترجمہ: فرمایا کس چیز نے تجھے روکا کہ تونے سجدہ نہ کیا جب میں نے تجھے حکم دیا تھا بولا میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے مٹی سے بنایا۔ فرمایا تو یہاں سے اتر جا تجھے نہیں پہنچتا کہ یہاں رہ کر غرور کرے نکل تو ہے ذلت والوں میں بولا مجھے فرصت دے اس دن تک کہ لوگ اٹھائے جائیں فرمایا تجھے مہلت ہے بولا تو قسم اس کی کہ تو نے مجھے گمراہ کیا میں ضرور تیرے سیدھے راستہ پر ان کی تاک میں بیٹھوں گا پھر ضرور میں ان کے پاس آؤں گا ان کے آگے اور پیچھے اور داہنے اوربائیں سے اور تو ان میں اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا فرمایا یہاں سے نکل جا رد کیا گیا راندہ ہوا ضرور جو ان میں سے تیرے کہے پر چلا میں تم سب سے جہنم بھر دوں گا۔
(سورہ اعراف:12_18)

■قرآن مجید میں مختلف الفاظ اور متعدد طرزبیان کے ساتھ سات مقامات یعنی سورہ بقرہ، سورہ اعراف، سورہ حجر، سورہ بنی اسرائیل، سورہ کہف، سورہ طٰہٰ، سورہ ص میں اس دل ہلا دینے والے واقعہ کا تذکرہ مذکور ہے.

(۱)اس سے ایک درس ہدایت تو یہ ملتا ہے کہ کبھی اپنی عبادتوں اور نیکیوں پر گھمنڈ اور غرور نہیں کرنا چاہیے اور کسی گنہگار کو اپنی مغفرت سے کبھی مایوس بهی نہیں ہونا چاہیئے کیونکہ خاتمہ کیسا ہو گا عام بندوں کو اس کی کوئی خبر نہیں ہے اور نجات و فلاح کا دارومدار درحقیقت خاتمہ بالخیر پر ہی ہے. اگر بڑے سے بڑے عابد کا خاتمہ بالخیر نہ ہوا تو وہ جہنمی ہو گا اور اگر بڑے سے بڑے گنہگار کا خاتمہ بالخیر ہو گیا تو وہ جنتی ہو گا. دیکھ لو ابلیس کتنا بڑا عبادت گزار اور کس قدر مقرب بارگاہ تھا مگر انجام کیا ہوا؟ کہ اس کی ساری عبادتیں غارت و اکارت ہو گئیں اور وہ دونوں جہان میں ملعون ہو کر عذاب ِ جہنم کا حق دار بن گیا۔ مگر وہ اپنے انجام اور خاتمہ سے بالکل بے خبر تھا۔
■حدیث شریف میں ہے کہ ایک بندہ اہل جہنم کے اعمال کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے اور ایک بندہ اہل جنت کے عمل کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جہنمی ہوتا ہے۔
اِنَّمَاالْاَعْمَالُ بِالْخَوَاتِیْم یعنی عمل کا اعتبار خاتموں پر ہے۔
(مشکوٰۃالمصابیح،کتاب الایمان،باب الایمان بالقدر، الفصل الاول، ص ۲۰)

(۲)انسان عالم ہو یا جاہل متقی ہو یا گنہگار ہر آدمی کو زندگی بھر شیطان کے وسوسوں سے ہوشیار اور اس کے فریبوں سے بچتے رہنا چاہیے۔ کیونکہ شیطان نے قسم کھا رکھی ہے کہ میں وسوسہ ڈال کر بندوں کو صراط مستقیم سے بہکاتا رہوں گا اور بہت سے بندوں کو اللہ کا شکر گزار ہونے سے روک دوں گا۔

◀ ابلیس آیات قرآنی میں:
1=آگاه ہو جاؤ کہ بے شک شیطان کا گروہ بہرحال گهاٹا اٹهانے والا ہے. (مجادلہ)
2=بے شیطان انسان کا کهلا دشمن ہے. (یوسف)
3=اور شیطان ان کے اعمال کو ان کی نظروں میں حسین بنا دیتا ہے. (سورہ نمل)
4=اے اولاد آدم خبردار شیطان تمہیں بهی نہ بہکا دے وہ اور اس کے قبیلے والے تمہیں دیکھ رہے ہیں اس طرح کے تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو. (اعراف)
5=اور جو شخص بهی اللہ کے ذکر سے غافل ہو جائے ہم اسکے لئے ایک شیطان مقرر کر دیں گے جو اس کا ساتهی اور ہمنشین ہو گا. (سوره زحزف)
6=شیطان انسان کے پیچھے لگا ہوا ہے. (فرقان)
7=اور شیطان تو انسان کو رسوا کرنے والا ہے. (نساء)
8=اور شیطان ان سے جو بھی وعدہ کرتا ہے وہ دهوکہ کے سوا کچھ نہیں ہے.

https://t.me/Islamwitheman
⭕ Islam With Eman ⭕
🔷 فٹ بال 🔷

ایک دیوانہ فُٹ بال گراؤنڈ کے پاس کھڑا کھلاڑیوں کو دیکھ رہا تھا۔
سب کھلاڑی مل کر ایک گیند کے پیچھے بھاگ رھے تھے اور جب بھی انہیں موقعہ ملتا گیند کو پاؤں سے ٹھوکر مار دیتے۔

گیند کو اتنے سارے لوگوں سے پٹتا ہوا دیکھ کر وہ حیرت سے کھلاڑیوں کو دیکھ رھا تھا۔

اس سے جب نہ رہا گیا تو اس نے پاس سے گزرتے ہوۓ ایک بزرگ سے پوچھا:

"چاچا اس گیند کا کیا قصور ھے جو اتنے سارے لوگ مل کر اسے لاتوں سے مار رھے ہیں."

بزرگ نے جواب دیا:
"اس گیند کی سب سے بڑی غلطی یہ ھے کہ یہ اندر سے خالی ھے۔ اگر یہ اندر سے خالی نہ ھوتا تو کسی کی کیا مجال تھی کہ اس کو پاؤں کی ٹھوکر پر رکھتا."

کیا ھماری ٹھوکروں کی وجہ اندر سے خالی ہونا تو نہیں......

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 گانا بجانا 🔷

■گانا کیا ہے؟
سیَّد مرتضیٰ اپنی کتاب "وسیلہ" میں فرماتے ہیں:
گانا حرام ہے۔ گانا سُننا بھی حرام ہے اور اس کے ذریعے مال کمانا بھی حرام ہے۔ البتہ ہر اچھی آواز گانا نہیں ہے بلکہ گانا ایک خاص انداز میں آواز کو کھینچنے اور حلق میں مخصوص انداز سے گھمانے کو کہتے ہیں، جو کہ لہو ولعب اور عیش وطرب کی محفلوں میں رائج ہے۔ ایسا گانا موسیقی کے آلات سے عام طور پر ہم آہنگ ہوتا ہے."
الغرض عرفِ عام میں جِسے گانا کہا جاتا ہو وہ حرام ہے۔ پس اگر اشعار، قرآن یا نوحے مرثیے بھی گانے کی طرز پر پڑھے جائیں تو یہ بھی گناہ ہے، بلکہ عام گانے سے زیادہ بڑا گناہ ہے۔ کیونکہ اس طرح قرآنِ مجید اور نوحے مرثیے کی بے حرمتی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا گناہ اور عذاب دُگنا ہے۔"

■گانا، گناہِ کبیرہ
جب حضرت امام محمد باقر علیہ السَّلام نے فرمایا تھا کہ
"گانا ایسی چیزوں میں سے ہے جس پر خداوندِ تعالیٰ نے عذاب کا قول دیا ہے."
تو یہ آیت شریفہ بھی تلاوت فرمائی تھی:
"اور لوگوں میں بعض ایسے بھی ہیں جو بیہودہ چیزیں (لَہْوَالْحَدِیْثِ) خریدتے ہیں تاکہ بغیر سوچے سمجھے وہ لوگوں کو خدا کی راہ سے بھٹکا دیں اور خدا کی نشانیوں کا مذاق اُڑائیں۔ ایسے ہی لوگوں کے لئے بڑا رسوا کر دینے والا عذاب ہے!"
(لقمان:2)
آیت میں "لَہْوَالْحَدِیْثِ" کا لفظ آیا ہے جس سے مراد گانا ہے.
اس آیت شریفہ اور امام محمد باقر علیہ السَّلام کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ گانا بھی لَہْوَالْحَدِیْث یعنی بیہودہ چیزوں میں سے ایک ہے۔ بیہودہ چیز کوئی نامناسب بات، حرکت یا شاعری وغیرہ ہوسکتی ہے جس میں کوئی فائدہ نہ ہو اور جو انسان کو فائدے سے محروم کر دے دوسرے الفاظ میں کلامِ حق اور قرآنِ مجید کی بات ماننے سے روک دینے والی ہر چیز لَھْوَالْحَدِیْث ہے. گمراہ کردینے والی ہر چیز اور فسق وفجور، عیّاشی اور فحاشی کی طرف مائل کرنے والی ہر چیز لَھْوَالْحَدِیْث ہے خواہ وہ گانا سُننا ہو یا خود گانا ہو.

■آپس میں نفاق اور گانا
امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:
"گانے باجے کو اور بے ہودہ باتوں کو غور سے سُننا دل میں نفاق کو اسی طرح پیدا کردیتا ہے جس طرح پانی سبزے کی نشوونما کا باعث بنتاہے۔"
(کتاب کافی)

■گانے کا پروگرام
حضرت امام جعفر صادق علیہ السَّلام نے فرمایا:
لاَ تَدْخُلُوْا بُیوُتاً، اَللّٰہُ مُعْرِضُ عَنْ اَھْلِھَا.
(کتاب کافی)
"ایسے گھروں میں داخل بھی مت ہو جس کے رہنے والوں پر سے خدا نے اپنی نظرِرحمت ہٹالی ہو!"
یہی امام علیہ السّلام فرماتے ہیں
"بَیْتُ الْغِنَآءِ لاَ یُوٴْمَنُ فِیْہِ الْفَجِیٴَة،
وَلاَ یُجَابُ فِیْہِ الدَّعْوَةُ،
وَلاَ یَدْخُلُہُ الْمَلَک."
"جس گھر میں گانا باجا ہوتا ہے وہ ناگہانی مصیبتوں سے محفوظ نہیں رہتا، ایسے مقام پر دُعا مستجاب نہیں ہوتی، اور ایسی جگہ فرشتے نہیں آتے.
(کتابِ کافی اور مستدرک الوسائل. باب ۷۸)

■گانا اور فقر و فاقہ
حضرت علی علیہ السَّلام سے مروی ہے وَالْغِنَآءُ یُوْرِثُ النِّفَاقَ وَ یُعَقِّبُ الْفَقْرَ.
"اور گانا باجا نفاق پیدا کرتا ہے اور فقر و فاقہ کا باعث بنتا ہے!"
(مستدرک الوسائل‘ باب ۷۸)

■گانے کا عذاب
حضر ت رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مروی ہے کہ
"یُحْشَرُ صَاحِبُ الْغِنآءِ مَنْ قَبَرِ ہ اَعْمٰی وَآخْرَسَ وَاَبْکَمَ." (جامعُ الاخبار)
گانا گانے والا شخص اپنی قبر سے جب میدانِ حشر میں نکلے گا تو اندھا بھی ہوگا، بہرا بھی ہوگا اور گونگا بھی ہو گا.

■رحمتِ خداسے محرومی
قطب راوندی نے پیغمبرِ اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی یہ روایت نقل کی ہے کہ
"گانا گانے والا شخص ایسے لوگوں میں شامل ہے جن پر قیامت کے دن خدا نظرِ رحمت نہیں ڈالے گا!"

■لڑکی کی شادی میں گانا بجانا
بعض مجتہدین نے تین شرطوں کے ساتھ شادی کے موقع پر عورتوں کو گانے کی اجازت دی ہے:
(۱) پہلی شرط یہ ہے کہ گانا سُننے والوں میں کوئی مرد موجود نہ ہو، یہاں تک کہ محرم مرد بھی موجودنہ ہوں۔
(۲) دوسری شرط یہ ہے کہ گانے فحش نہ ہوں اور جھوٹی باتوں پر مشتمل نہ ہوں۔
(۳) تیسری شرط یہ ہے کہ گانے کے ساتھ ڈھول تاشہ اور دیگر بجانے کے آلات استعمال نہ ہوں۔
بعض علماء نے دف (یعنی ایسا ڈھول جس کے ایک ہی طرف کھال ہو) شادی میں بجانے کی اجازت دی ہے۔ شہیدِ ثانی اورمحققِ ثانی فرماتے ہیں کہ دف شادی میں اس صورت میں بجاناجائز ہے جب کہ اس کے اطراف میں جھنجھنے نہ لگے ہوں۔
لیکن احتیاط یہ ہے کہ شادی کے موقع پر نہ تو عورتیں گانا گائیں اور نہ ہی کوئی چیز بجائیں۔ شیخ انصاری علیہ الرَّحمہ "مکاسب" میں شہید ِثانی کتاب"دروس" میں اورسیَّد مرتضیٰ کتاب "وسیلہ" میں اس موضوع پر یہی فرماتے ہیں: اَلْاِحْتِیَاطُ طَرِیْقُ النَّجاَةِ یعنی احتیاط ہی نجات کا راستہ ہے.

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

t.me/islamwitheman/70
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 مبارک ہو بیٹی ہوئی ہے 🔷

آپریشن تھیٹر سے باہر نکلتی نرس نے اُس سے مُخاطب ہوتے ہوئے اطلاع دی.
"مبارک ہو بیٹی ہوئی ہے."
دو سال ہوئے شادی کو اور آج اولاد کی خوشی نصیب ہوئی.
ڈاکٹر نے بتایا تھا کچھ پیچیدگیوں کی بنا پر میجر آپریشن کرنا پڑے گا. توقع تھی کے اللہ کی ذات اولادِ نرینہ سے نوازے گی لیکن...

" مبارک ہو بیٹی ہوئی ہے "

یہ وہ الفاظ تھے جنہوں نے اُسے جھنجھوڑ کے رکھ دیا.

جہانزیب نام تھا اُس کا. شکل و صورت سے مردانہ وجاہت چھلکتی تھی.
لڑکیوں کو تو جیسے پیروں کی جوتی سمجھتا تھا. آج اک لڑکی کے ساتھ ہوٹل میں دیکھا گیا تو کل نئی لڑکی کے ساتھ پارک میں.
فلرٹ کرنا تو اسکا دائیں ہاتھ کا کھیل تھا. جوانی کا عروج تھا جوانی بھی وہ جو بے مُہار ہو. انہیں رنگینیوں میں غرق اک لڑکی کی زندگی تباہ کر دی لیکن پیشانی پر ندامت کی شکن تک نہ آئی.
روز کا معمول جو ٹھہرا تھا.
بات جب شادی تک پہنچی تو لڑکی کو یہ کہہ کر دامن بچا لیا کے گھر والے نہیں مان رھے. حقیقت میں خود نہیں چاہتا تھا ایسا.
اپنی عصمت اندھی ہوس میں لُٹانے کے بعد لڑکی کہہ پائی تو بس اتنا....
"میں جذبات کی رو میں بہہ کر جو کر گئی اس کا صِلہ بھی پا لیا آج. یہی نصیب تھا میرا. ہاں اللہ پاک سے دُعا ہے کے مُجھے تو میرے کئے کہ سزا ملنی ہی ہے لیکن تمہیں..... تمہارے نصیب میں اگر اولاد ہے تو دُعا ہے پہلی اولاد بیٹی ہو."

جوانی کے نشے میں چُور یہ بات بھُلا بیٹھا تھا. تھا ہی ایسا بے فکر اور لاپرواہ.

کچھ عرصہ بعد ماں نے خاندان میں اک لڑکی دیکھ کر رشتہ طے کیا اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے کچھ عرصہ میں شادی بھی ھوگئی.
جب بیوی نے گھر میں نئے مہمان آنے کی خوشخبری سنائی بہت خوش تھا اُس دن. قدم زمین پر نہ ٹکتے تھے.

اور اب جب نرس نے بتایا کہ
" مبارک ہو بیٹی ہوئی ہے "

اُس لڑکی کے الفاظ ہتھوڑے کی طرح برس رہے تھے دماغ پر.

"کیا میری بیٹی میرا بدلہ چُکائے گی؟"
اک ٹِیس سی اُٹھی سینے میں.
"میری بیٹی معصوم ہے. وہ بھلا کیوں چُکائے گی."
آنسو رواں تھے آنکھوں سے. لڑیوں کی صورت دامن میں جذب ہو رھے تھے.
"کیا کہیں میری بیٹی کیلئیے بھی کوئی جہانزیب پیدا ھو چکا ہے؟"
"کیا میرا کِیا یہ معصوم سہے گی؟"

الفاظ نہیں تھے ہتھوڑے تھے جو برس رھے تھے.
سینے میں ٹِیس بڑھتی جا رہی تھی. آس پاس سے گُزرنے والے حیرت کی تصویر بنے ہوئے تھے.
"نہیں میرے مولا. میرے گُناہوں کی سزا مُجھے دینا. میری بیٹی کو نہیں."
بڑبڑاتا ہوا کُرسی سے اُٹھا اور مسجد کی جانب لپکا.
درد کی شدت اس قدر تھی کے شاید سینہ پھٹنے والا تھا. لیکن پرواہ ہی کب تھی.
"من چاہ رہا تھا چیخے چلائے لیکن آواز کہیں دور اپنے ہی کئے کے بوجھ تلے دفن تھی حلق میں."

اور پھر گِر پڑا سجدے میں....
بس روئے جا رھا تھا. بچوں کی طرح بِلک بِلک کے. بنا کچھ بولے بِنا کچھ کہے.

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 دجال 🔷

حضرت امام زمانه (عج) کے ظهور کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یه هے که «دجال» نامی ایک شخص خروج کرے گا. علم لغت کے ماهرین کی نظر میں هر جھوٹ بولنے والے اور هر مکر و فریب کرنے والے کو دجال کہا جاتا هے.

روایات میں (جن کا بیشتر حصه اهل سنت کی کتابوں میں سے هے) اس شخص کے بارے میں بہت زیاده اور عجیب قسم کی صفات بیان کی گئی هیں:
من جمله:
●ربوبیت کا دعویٰ کرنا[1]،
●بہت لمبی عمر رکھنا[2]،
●آگ اور پانی کا اس کےساتھ هونا[3]،
●اندھے اور برص کی بیماری میں مبتلا افراد کو شفا دینا[4].

■حقیقت میں دجال کون هے؟ اس کے بارے میں فی الحال کوئی قطعی بات کرنا مشکل هے لیکن اجمالی طور پر اس بارے میں جو احتمالات بتائے گئے هیں، ان کو یہاں ذکر کرتے هیں:

●الف: دجال، ایک انسان هو گا جو جادو اور سحر کے ذریعے کچھ خارق العاده کام سرانجام دے گا، وه آخرالزمان میں خروج کرے گا اور انسانیت کے لئے ایک عظیم فتنه کی سربراهی کرے گا جس طرح دجال کے لغوی معنیٰ سے معلوم هوتا هے، وه جادوگر اور دھوکه باز هو گا اور اس کے پاس مادی امکانات کی کمی نہیں هو گی. بعض روایات میں اس کو «گمراهی کا مسیحا» کا نام دیا گیا هے جو «هدایت کے مسیحا» یعنی حضرت عیسی (علیہ السلام) کے مد مقابل هو گا.
وه حضرت امام زمانه (عج) کے ظهور کے وقت، آپ کے خلاف کام کرے گا یعنی که مخالفت کا علم اٹھائے گا وه ایسے افراد میں سے هو گا جن کی عمر بہت لمبی هو گی اور وه اب بھی موجود هے اور خروج کرنے کے وقت تک زنده رهے گا وه مکه اور مدینه کے علاوه پوری دنیا پر قابض هو جائےگا.[5].

●ب: دجال، وهی ابلیس هے.
●ج: دجال، وهی سفیانی هے.

●د: دجال، کسی خاص آدمی کا نام نہیں، بلکه ایک نمونه اور نشانی کے طور پر ان صفات کےحامل افراد کو دجال کہا گیا هے، یعنی مثالی اور رمزی حیثیت هے.

■«دجال، مغرب کے مترقی تمدن اور ٹیکنالوجی کی مثالی حیثیت هے جو اسلام اور اس کے بنیادی اصولوں کے ساتھ بر سر پیکار هے. ایسا تمدن جو هر انسان کو اپنا غلام بنانا چاهتا هے. هم بہت واضح طور پر دیکھ رهے هیں که کیسے اس وقت مغربی دنیا کے مادی تمدن اور ٹیکنالوجی نے پورے سماج، حتی که مسلمانوں پر اپنا تسلط جما رکھا ہے.

⬛مولائے کائنات امیرالمٶمنین حضرت علی علیه السلام نے خطاب فرماتے هوئے تین مرتبه فرمایا:
«اس سے پہلے که میں آپ کے درمیان سے اٹھ جاٶں، جو بھی پوچھنا چاهتے هیں، پوچھ لیں» نیک سیرت صحابیوں میں سے ایک صحابی جن کا نام صعصعة بن صوحان تھا اپنی جگه سے اٹھ کھڑے هوئےاور عرض کی:
«یا امیرالمٶمنین! دجال کون هے؟»

آپ نے جواب دیتے هوئے فرمایا:
«یاد رکھیے که دجال کا نام صائد بن صائد هو گا اس کی تائید اور تصدیق کرنے والا شخص بہت بدبخت هو گا اور اس کو جھٹلا دینے والا شخص خوش بخت هو گا. وه ایسے علاقے سے ظهور کرے گا جس کا نام «اصبهان» هو گا، ایسے محله سے جو یهودیوں کا محله هو گا. اس کی داهنی آنکھ کی جگه صاف هو گی اور اس میں کوئی آنکھ نہیں هو گی (ممسوح هو گی).

اس کی دوسری آنکھ اس کے ماتھے پر هو گی اور اتنی چمکدار هو گی جیسے ستاره صبح چمک رها هو. اس کی آنکھ میں خون سے لت پت گوشت کا ایک لوتھڑا هو گا اور اس کے ماتھے پر اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھا هوا هو گا «کافر» جس کو تمام افراد حتی که ان پڑھ لوگ بھی پڑھ سکیں گے. دریاٶں کو پار کرے گا اور سورج اس کے ساتھ ساتھ چلے گا اس کےسامنے دھویں کا ایک پہاڑ هو گا اور اس کے پیچھے بھی ایک سفید پہاڑی هو گی جس کو دوسرے لوگ سمجھیں گے که یه کھانے کا پہاڑ هے. وه سخت قحط سالی کے وقت خروج کرے گا. اس کی سواری ایک هرے یا کالے رنگ کا گدھا هو گا اس کی سواری کا هر قدم ایک میل کے برابر هو گا. پوری زمین پر بہت جلدی فاصلوں کو طے کر سکے گا. اگر کسی ندی یا چشمه سے گزرے گا تو وه پانی همیشه کے لئے خشک هو جائے گا. وه بہت هی اونچی آواز میں ایسا که پورے مشرق و مغرب کے لوگ سن سکیں، پکارے گا: اے میرے دوستو اور اے میرے اولیاء، میری طرف آ جاٶ! میں (ایسا خدا هوں جس) نے پیدا کیا هے اور ان چیزوں کو میں نے صورت بخشی هے اور میں نے لوگوں کی تقدیریں بنائی هیں اور آپ کی راهنمائی کرنے کے لئے آیا هوں «انا ربکم الاعلیٰ» وه جھوٹ بول رها هو گا! وه تو الله تعالی کا دشمن هو گا اور آخر میں ایسے شخص کے هاتھوں مارا جائے گا جس کے پیچھے حضرت عیسی (علیہ السلام) نماز پڑھیں گے. (یعنی حضرت مهدی عج)»[6].

حوالہ جات:
[1] . سنن ابن ماجه، ج ٢، ص 1360
[2] . صحیح مسلم، ج ٨، ص 205
[3] . صحیح بخاری، ج ٨، 103
[4] . مسند احمد، ج ٥، ص 13
[5] . منتخب الاثر، لطف الله صافی، ب ٣، ص 532، ح ٨.
[6] . الفقیه، ج ٢، ص 564، باب تحریم المدینه و فضلھا ؛ التھذیب، ج ٦، ص 12، باب ٥، تحریم المدینه و فضلھا.

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 إنما الأعمال بالنيات 🔷

کسی گاؤں ميں ايک بڑا پيپل کا درخت تھا لوگ اس سے بے شمار فائدے اٹھاتے تھے، درخت کی چھال سے دوائيں بناتے اور شہر جاکر بيچتے جس سے انہيں بہت نفع ملتا يہاں تک انہوں نے اس درخت کی پوجا پاٹ شروع کر دی، اب يہ درخت شرک کا مرکز بن چکا تھا۔

وقت يوں ہی تيزی سے گزر رہا تھا کہ ايک نيک شخص اس گاؤں ميں آ کر رہنے لگے، انہوں نے لوگوں کو اس درخت کی پوجا کرتے ديکھا تو آگ بگولہ ہوگئے۔

شرک کا پرچار ديکھ کر ان کی آنکھوں ميں خون اتر آيا، غصے سے بے قابو ہوگئے، پھر غصے کی حالت ميں گھر گئے اور گھر سے کلہاڑی اٹھائی اور اس درخت کو کاٹنے کيلئے گھر سے روانہ ہوئے، ابھی وہ راستے ہی ميں تھے کہ اچانک شيطان انسان کے روپ ميں ظاہر ہوا اور کہا:
جناب کدھر جا رہے ہيں؟

اس نيک شخص نے کہا کہ لوگ ايک درخت کو پوجنے لگے ہيں جو شرک ہے، اب اس درخت کو کاٹنے جا رہا ہوں۔

شيطان نہ کہا آپ واپس چلے جائيں اور اپنے کام سے کام رکھيں۔

يہ سن کر وہ بھڑک اٹھے اور کہا نہيں نہيں ميں ہرگز ايسا نہيں ہونے دوں گا اور ميں اس درخت کو کاٹ کر ہی واپس جاؤں گا، اگر ميں يہاں سے واپس چلا گيا تو اللہ تعالٰی کے سامنے کيا جواب دونگا، ميں تو اسے ضرور کاٹوں گا تاکہ شرک جڑ ہی سے ختم ہو جائے۔

شيطان نے بہت تکرار کی مگر وہ نہ ماننے والے تھے نہ مانے، چنانچہ دونوں میں لڑائی ہوگئی، کچھ دير بعد انہوں نے شيطان کو زير کر ليا۔

شيطان نے اب دوسری چال چلی، اس نے کہا اگر تم اس کام کو چھوڑ دو تو ميں اس کے بدلے تمہيں ہر روز چار تولے سونا دونگا، اگر يہ سودا منظور ہے تو بتاؤ؟

شيطان کی يہ چال کامیاب ھوئی، کچھ سوچ کر انہوں نے کہا يہ سونا روزانہ تم مجھ تک ضرور پہنچايا کرنا ورنہ ميں درخت کاٹ دونگا۔

شيطان نہ کہا ہاں حضرت آپ کو يہ سونا ہر روز صبح سويرے آپ کے بستر کے نيچے سے مل جائے گا۔

کچھ روز تک يہ چار تولہ سونا اس نيک شخص کو ملتا رہا ليکن ايک روز سونا نہيں ملا انہيں بہت غصہ آيا، پھر کلہاڑی اٹھائی اور درخت کو کاٹنے کی غرض سے نکلے، راستے ميں شيطان پھر ملا اور پوچھا:
حضرت کہاں جا رہے ہيں؟

انہوں نے جواب ديا اس درخت کو کاٹنے جا رہا ہوں کيونکہ تم نے چار تولہ سونا دينا بند کر ديا ہے۔

شيطان نے درخت کاٹنے سے منع کيا، ليکن وہ نہ مانے پھر دونوں کے درميان لڑائی ہوگئی اب کی بار شيطان کو فتح حاصل ہوئی، وہ بہت حيران ہوئے شيطان سے پوچھا پہلے تو ميں نے تمہيں ہرا ديا تھا اور اب کی بار تم نے مجھے کیسے ہرا ديا؟

شيطان نے مسکراتے ہوئے کہا مياں پہلے جب درخت کاٹنے جا رہے تھے اس وقت تمہارا مقصد صرف اور صرف اللہ کی خوشنودی تھا، اس وقت تمہاری نيت نيک اور صاف تھی، ليکن اب تمہاری نيت ميں فرق آ گيا ہے اور ميرے بہکاوے ميں آ گئے ہو۔

اس بار تم مجھ سے اس لئے مات کھا گئے کہ اب تمہارا ارادہ درخت کاٹنا نہیں بلکہ چار تولہ سونا حاصل کرنا ہے، اب تم واپس چلے جاؤ ورنہ تمہاری گردن تن سے جدا کر دوں گا۔

يہ سن کر نہايت شرمندگی کی حالت ميں انہيں واپس لوٹنا پڑا۔

■ دوستو۔۔۔۔
آپ کی نيت اگر صحیح ہو گی تو آپ ہر کام ميں کامياب ہوو گے... اس لئے اپنی نیت کو خالص رکھو.

دوستو...
نيت ہی عمل کی روح ہے جس قدر نيت اللہ تعالٰی کيلئے خالص ہو گی اسی قدر اللہ تعالٰی کی مدد اور انعامات زيادہ ہونگے۔

بشکریہ تحریر: خلیل جبران مھدی

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 خدایا میں باغی نہیں ہوں 🔷

ایک دن مرحوم آخوند کاشی علیہ الرحمہ وضو کر رھے تھے کہ ایک بندہ بہت جلدی میں آیا اور وضو کیا اور کمرہ میں نماز شروع کردی.
مرحوم آخوند کاشی بہت دقت سے وضو کرتے تھے اور تمام آداب اور دعاؤں کے ساتھ وضو کرتے.
قبل اس کے کہ مرحوم آخوند وضو ختم کرتے وہ شخص نماز ظہر اور عصر پڑھ چکا تھا.
مرحوم آخوند اور اس شخص کا سامنا ھوا، آخوند نے پوچھا کیا کر رھے تھے؟

اس شخص نے کہا: کچھ نہیں

مرحوم آخوند: تم کچھ بھی نہیں کر رھے تھے؟

اس شخص نے کہا: نہیں کچھ بھی نہیں.
(وہ جانتا تھا کہ اگر کہے کہ نماز پڑھ رھا تھا تو اپنے لیے مشکل پیدا کرتا)

مرحوم آخوند: کیا تم نماز نہیں پڑھ رھے تھے؟
اس شخص نے کہا: نہیں.

مرحوم آخوند: میں نے خود دیکھا کہ نماز پڑھ رھے تھے.

اس شخص نے کہا: نہ آقا غلط دیکھا ھے آپ نے.

مرحوم آخوند: پھر کیا کر رھے تھے؟

اس شخص نے کہا بس آیا ھوں کہ خدا سے کہوں کہ میں باغی نہیں ھوں.

اس جملہ نے مرحوم آخوند کو بہت متاثر کیا.

بہت عرصے تک جب مرحوم آخوند سے ان کے احوال کے بارے میں سوال کیا جاتا تو وہ اپنی ایک خاص حالت میں کہتے؛
میں باغی نہیں ھوں.

■خدایا ھم خود جانتے ھیں کہ جو عبادت ھم نے کی ہے وہ تیری شان کے مطابق نہیں ہے.
ھمارے نماز اور روزے کچھ بھی نہیں کر سکتے ھمارے لیے... بس آئیں ہیں یہ کہنے کہ:
خدایا! ھم باغی نہیں ہیں.

اگر ہم نے غلطی کی ہے اس وقت ھم جاہل تھے.
خدایا! ہماری عبادات کو قبول فرما. آمین
الھی و ربی من لی غیرک.
ترجمہ از فارسی...

بشکریہ: مشاهد حسین

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 دلوں كی اقسام 🔷

دلوں کی وہ اقسام جن کا ذکر قرآن مجید ميں هے. دیکھئے کہ آپ کے پاس ان ميں سے كون سا دل هے.؟

➊ القلب السليم:
يه وه خالص دل هے جو كفر، نفاق اور گندگی سے پاک هوتا هے.
{إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ}
سورة الشعراء: 89.

➋ القلب المنيب:
يه وه دل هے جو الله سے توبه كرنے اور اس كی اطاعت ميں لگا رهتا هے.
{مَنْ خَشِيَ الرَّحْمَن بِالْغَيْبِ وَجَاء بِقَلْبٍ مُّنِيبٍ}
سورة ق: 33.

➌ القلب المخبت:
يه وه دل هے جو جهكا هوا مطمئن اور سكون والا هوتا هے.
{فتُخْبِتَ لَهُ قُلُوبُهُمْ}
سورة الحج: 54.

➍ القلب الوجل:
يه وه دل هے جو نيكی كے بعد بهی ڈرتا رھتا ھے كه پتہ نہیں الله قبول كرے گا يا نہيں اور اپنے رب كے عذاب سے هر وقت ڈرتا رهتا هے.
{وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوا وَّقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ أَنَّهُمْ إِلَى رَبِّهِمْ رَاجِعُونَ}
سورة المؤمنون: 60.

➎ القلب التقی: يه وه دل هے جو الله كے شعائر كی تعظيم كرتا هے.
{ذَلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ}
سورة الحج: 32.

➏ القلب المهدی:
يه وه دل هے جو الله كے فيصلوں پر بهی راضی رهتا هے اور اپنے رب كے احکامات كو بهی بخوشی قبول كر ليتا ھے.
{وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ}
سورة التغابن: 11.

➐ القلب المطمئن:
يه وه دل هے جس كو الله كی توحيد اور اس كے ذكر سے هى سكون آتا هے.
{وتَطْمَئِنُّ قُلُوبُهُم بِذِكْرِ اللّه}
سورة الرعد: 28.

❽ القلب الحی:
يه وه دل هے جو الله كی نافرمان قوموں كا انجام سن كر ان سے عبرت اور نصحيت حاصل كرتا هے.
{إِنَّ فِي ذَلِكَ لَذِكْرَى لِمَن كَانَ لَهُ قَلْبٌ}
سورة ق: 38.

❾ القلب المريض
یہ وہ دل ہے جو شک، نفاق، بداخلاقی اور ہوس و لالچ وغیرہ جیسے امراض میں مبتلا ہے۔ (سورة الاحزاب، الآية 32)

❿ القلب الأعمى
یہ وہ دل ہے جو دیکھتا ھے نہ سنتا ہے، احساس سے عاری ہے، حتی کہ اندھا ہے۔ (سورة الج، الآيه 46)

❶❶ القلب اللاهي
یہ وہ دل ہے جو قرآن سے غافل، دنیا کی رنگینیوں میں مگن رہتا ہے۔ (سورة الانبياء، الآية 03)

❷❶ القلب الأثم
یہ وہ دل ہے جو دیکھتا ھے نہ سنتا ہے، احساس سے عاری ہے، حتی کہ اندھا ہے۔ (سورة البقره، الآية 283)

❸❶ القلب المتكبر
یہ وہ دل ہے جو متکبر اور سرکش ہے، جس کو اپنی دینداری پر گھمنڈ ہے، اس لحاظ سے یہ دل ظلم و جاریت کا گھر ہو کر رہ جاتا ہے۔ (سورة المؤمن)

یااللہ، یارحمان، یارحیم.....
کوئی کام آسان نہیں
سوائے اس کے جس کو تو آسان کر دے
اور تو جب چاہتا ہے مشکل آسان کر دیتا ہے.
هم سب کو آسانیاں عطا فرما...
اور آسانیاں تقسیم کرنے کی توفیق عطا فرما. آمین یارب العالمین

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman/1496
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
📿 تسبیح فاطمۃالزھراء سلام اللہ علیها 📿

اضافی کمالات اور ذاتی مناقب کے بعد اسلام میں صدیقہ طاہرہ کی عطا کا جائزہ لیا جائے تو اس کی دوقسمیں ہیں.

صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیها نے ملت اسلامیہ کو درس تسبیح دیا ہے اور اسلام کو محافظ بھی فراہم کیئے ہیں.

درس تسبیح کے اعتبار سےآپ کی تسبیح آج بھی ہر نماز کی تکمیل اور عبادت کی جان ہے.
معنوی اعتبار سے یہ تکبیر، تحمید اور تسبیح سے مرکب ہے. اور ظاہری اعتبار سے ابتداء میں یہ تسبیح دھاگوں کی گرہوں سے بنائی گئی. اس کے بعد جب جناب حمزہ علیہ السلام کی شہادت واقع ہوئی تو معصومہ عالم نے ان کی خاک قبر سےتسبیح کے دانے تیار کئے اور اسی طرزعمل کی اتباع میں امام سجاد علیہ السلام نے خاک قبر سیدالشھداء سے تسبیح کے دانےتیار کیے جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے. اور اس کے بارے میں یہ روایت بھی ہے کہ خاک شفا خود بھی تسبیح پروردگار کرتی رہتی ہے.
کوئی تسبیح پڑھنے والا ان دانوں پر ذکر خدا نہ بھی کرے اور یہ کوئی حیرت انگیز بات نہیں ہے. اگر سورۃ جمعہ کے مطابق کائنات کا ہر ذرہ تسبیح پروردگار کر رہا ہے. تو جن ذرات میں خون معصوم جذب ھو گیا ہو ان کی تسبیح پروردگار کرنے میں کیا تعجب ہے.
تسبیح کے بارے میں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ دانے ذکر خدا کا ذریعہ ہوتے ہیں، ذکر وہی ہے جو انسان کی زبان پر ہوتا ہے. اس بنا پر پلاسٹک کے دانوں کو ذریعہ بنا کر صلوات بھی پڑھی جاسکتی ہے اور خاک شفا کے دانوں کو ذریعہ بنا کر لعنت بھی پڑھی جاسکتی ہے. اس کا کوئی تعلق دانوں سے نہیں ہے. دانوں پر نہ صلوات پڑھی جاتی ہے اور نہ لعنت. دانے صرف عدد وشمار کرنےکا ذریعہ ہیں بلکہ خاک شفا کے دانےخود بھی ظالموں پر اسی طرح لعنت کرتے ہیں جس طرح ذکر پروردگار کرتے رہتے ہیں.
(نقوش عصمت علامہ ذیشان حیدر صفحہ:۱۸۲--۱۸۳)

■تسبیح زہراء س کی فضیلت:
جناب فاطمہ زہراء سلام اللہ علیھا کی تسبیح کی فضیلت بے شمار احادیث میں آئی ھے.

●امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:
ہم اپنے چھوٹے بچوں کو فاطمہ زہراء سلام اللہ علیها کی تسبیح کا امر دیتے تھے. جیسا کہ ہم انکو نماز کا حکم دیتے ہیں. پس اسکو ترک نہ کرنا کیونکہ جو اسے باقاعدگی کے ساتھ ہمیشہ پڑھتا رہے گا. بدبخت اور شقی نہ ھو گا.

●روایات متعبر میں آیا ھے کہ:
وہ ذکر کثیر جسکا خداوندعالم نے
قرآن میں حکم دیا ھے وہ جناب فاطمہ زہراء سلام اللہ علیها کی تسبیح ھے.
جو شخص نماز کے بعد ہمیشہ پڑھے. اس نے خدا کو بہت زیادہ یاد کیا.
اور آیت...واَذْکُرُوْا اللہَ ذِکْرََا کَثِیْرََا، پر اس نے عمل کیا.

●امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
جو شخص فاطمہ زہراء سلام الله عليها کی تسبیح پڑھکر اسکے بعد استغفار پڑھے تو خدا اس بندے کو بخش دیتا ھے.

●امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
جو شخص نماز کے بعد فاطمہ زہراء سلام الله عليها کی تسبیح پڑھے وہ پاؤں کی حرکت کرنے سے پہلے بخش دیا جاتا ھے. اور اس پہ جنت واجب ھو جاتی ھے.

●جناب رسالت مآب ص نے ارشاد فرمایا:
میرے نزدیک ہر نماز کے بعد فاطمہ زہراء سلام الله عليها کی تسبیح ہر دن ہزار رکعت پڑھنے سے بہتر ھے.

●امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
جو بندہ نماز کے بعد تسبیح پڑھکر ایک دفعہ (لَا اِلٰهَ اِلاَّ اللہُ) پڑھ لے تو خدا اسے بخش دے گا.

📿بہتر یہی ھے کہ تسبیح خاکِ شفا کی ھو. اور اسے ہر وقت اپنے ساتھ رکھنا مستحب اور مصیبت سے محافظ اور بے انتہا ثواب کی حامل ھے.

🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔶 غصہ کرنے کے نقصانات 🔶

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
قدرت رکھنے کے باوجود معاف کر دو اور غصے کے وقت بردباری اختیار کرو.
(نہج البلاغہ، مکتوب69)


■ دوسروں پر غصہ
ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﻮ ﻏﺼﮧ ﺑﮩﺖ ﺁﺗﺎ ﺗﮭﺎ. ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﻗﺎﺑﻮ ﮨﻮﮐﺮ ﻭﮦ ﺑﺮﺍ ﺑﮭﻼ ﮐﮩﺘﺎ. ﺟﺐ ﻏﺼﮧ ﺍﺗﺮﺗﺎ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﭘﺸﯿﻤﺎﻧﯽ ﮨﻮﺗﯽ. ﻭﮦ ﻏﺼﮯ ﭘﺮ ﻗﺎﺑﻮ ﭘﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﺎ.

ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﻨﺎ ﮐﮧ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮔﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻋﺎﻟﻢ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ. ﻟﻮﮔﻮﮞ کے ﻣﺴﺌﻠﻮﮞ کا ﺣﻞ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﮯ. ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﭼﻠﻮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﭘﯿﺶ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺷﺎﯾﺪ ﮐﭽﮫ ﺗﺪﺑﯿﺮ ﻧﮑﻞ ﺁﺋﮯ.

ﻭﮦ ﺍﺱ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ:
"ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮯ ﺣﺪ ﻏﺼﮧ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ."

ﻋﺎﻟﻢ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: "ﺟﺐ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻏﺼﮧ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺩﺭﺧﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﻞ ﭨﮭﻮﻧﮏ ﺩﯾﺎ ﮐﺮﻭ."
ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: ﯾﮧ ﮐﻮﻧﺴﺎ ﺣﻞ ﮨﮯ؟

عالم ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: "ﺗﻢ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﻭ ﺗﻮ ﺳﮩﯽ."

ﺁﺧﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﯾﮩﯽ ﮐﯿﺎ ﺍﺳﮯ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﻏﺼﮧ ﺁﺗﺎ، ﻭﮦ ﺟﻨﮕﻞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﻭﮌﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﮐﯿﻠﯿﮟ ﺩﺭﺧﺖ ﻣﯿﮟ ﭨﮭﻮﻧﮑﺘﺎ ﺟﺎﺗﺎ. ﺁﺧﺮ ﺩﻥ ﮔﺬﺭﺗﮯ گئے.
ﺍﺳﮯ ﺟﺐ ﻏﺼﮧ ﺁﺗﺎ، ﻭﮦ ﯾﮩﯽ ﻋﻤﻞ ﺩﮨﺮﺍﺗﺎ.
ﺁﺧﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻏﺼﮧ ﮐﻢ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﻨﮕﻞ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ.
ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻭﮦ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ:
ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻏﺼﮧ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮨﮯ.
ﻋﺎﻟﻢ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺟﮕﮧ ﭘﺮ ﻟﮯ ﭼﻠﻮ ﺟﮩﺎﮞ ﺗﻢ ﻧﮯ ﮐﯿﻠﯿﮟ ﭨﮭﻮﻧﮑﯽ ﮨﯿﮟ.

ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻭﮨﺎﮞ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ. ﻋﺎﻟﻢ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺧﺖ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﺁﺩﮬﺎ ﮐﯿﻠﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﺍ ﭘﮍﺍ ﮨﮯ.
ﻋﺎﻟﻢ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: ﺍﺏ ﺍﻥ ﮐﯿﻠﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﮑﺎﻟﻮ.

ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺸﮑﻞ ﺳﮯ ﻭﮦ ﮐﯿﻠﯿﮟ ﻧﮑﺎﻝ ﻟﯿﮟ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮨﺎﮞ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺑﮍﮮ ﺑﮯ ﺣﺪ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﺗﮭﮯ.

ﻋﺎﻟﻢ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ: ﯾﮧ ﻭﮦ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺗﻢ ﻏﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﮐﺮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ. ﺩﯾﮑﮭﻮ ﮐﯿﻞ ﺗﻮ ﻧﮑﻞ ﮔﺌﮯ ﻣﮕﺮ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﯿﮟ.

ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺑﮩﺖ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﮨﻮﺍ.
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﻣﺎﻧﮕﯽ ﺍﻭﺭ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﺎ ﺷﮑﺮﯾﮧ ﺍﺩﺍ ﮐﯿﺎ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺁﺋﯿﻨﮧ ﺩﮐﮭﺎﯾﺎ.

🔘 ﮨﻤﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮐﮧ ﺑﻮﻟﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻧﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﻠﯿﮟ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﭨﮭﻮﻧﮑﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﮐﯿﻠﯿﮟ ﻧﮑﻞ ﺑﮭﯽ ﮔﺌﯿﮟ ﺗﻮ ﻧﺸﺎﻥ ﺑﺎﻗﯽ ﺭﮦ ﺟﺎئیگا۔

■ غصے میں کیا گیا فیصلہ
ایک دن ایک بادشاہ نے ایک کنویں سے پانی پینے کا ارادہ کیا، جب بادشاہ نے پانی سے جام بھرا تو، اس کا شاہین جام پر جھپٹا اور پانی کو گرا دیا۔

سارا پانی نیچے گر گیا، اور بادشاہ بہت غصے میں آگیا، اپنی تلوار نکالی اور پل بھر میں، اپنے شاہین کو مار گرایا۔

شاہین کو مارنے کے بعد بادشاہ نے کنویں میں ایک بہت ہی مہلک، اور زہریلے سانپ کو دیکھا جس نے کنویں کے سارے پانی کو بھی زہریلا بنایا ہوا تھا، بادشاہ بہت پریشان ہوا، اپنے فعل پر پچھتایا، اور اپنے شاہین کی حرکت پر بہت متاثر ہوا۔

بادشاہ نے اس واقعہ کے بعد سونے کی تاروں سے، شاہین کا مجسمہ بنوایا، جسکے ایک پر، پر لکھوایا کہ:
ایک دوست ہمیشہ اپ کا دوست ہے حتی کہ اس کا کام اپ پر ناگوار گزرے، اور آپ کو غمگین کرے۔

اور اسکے دوسرے پر، پر لکھوایا کہ:
جو عمل بھی غصہ اور بغیر سوچے سمجھے یا جلدی کیوجہ سے ہو، اس پر پچھتانا ضرور پڑتا ہے۔

■ طیش اور غصہ
ترکهان دکان بند کر کے گهر گیا تو کہیں سے گهومتا پهرتا ایک سیاہ کوبرا ناگ اس کی ورکشاپ میں گهس آیا. یہاں بظاہر تو ناگ کی دلچسپی کی کوئی چیز نہیں تهی پهر بهی ادهر سے ادهر اور اوپر سے نیچے جائزہ لیتا پهر رہا تها کہ اس کا دهڑ وہاں پڑی ایک آری سے ٹکرا کر بہت معمولی سا زخمی ہو گیا.
گهبراہٹ میں ناگ نے پلٹ کر آری پر پوری قوت سے ڈنگ مارا. فولادی آری پر زور سے لگے ڈنگ نے آری کا کیا بگاڑنا تها الٹا ناگ کے منہ سے خون بہنا شروع ہو گیا.
اس بار خشونت اور تکبر میں ناگ نے اپنی سوچ کے مطابق آری کے گرد لپٹ کر، اسے جکڑ کر اور دم گهونٹ کر مارنے کی پوری کوشش کر ڈالی.

دوسرے دن جب ترکهان نے ورکشاپ کهولی تو ایک ناگ کو آری کے گرد لپٹے مردہ پایا جو کسی اور وجہ سے نہیں محض اپنے طیش اور غصے کی بهینٹ چڑھ گیا تها.

🔘 بعض اوقات غصے میں ہم دوسروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر وقت گزرنے کے بعد ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہم نے اپنے آپ کا زیادہ نقصان کیا ہے.

اچهی زندگی کیلئے بعض اوقات ہمیں
کچھ چیزوں کو،
کچھ لوگوں کو،
کچھ حوادث کو،
کچھ کاموں کو،
کچھ باتوں کو نظر انداز کرنا چاہیئے. اپنے آپ کو ذہانت کے ساتھ نظر انداز کرنے کا عادی بنائیے، ضروری نہیں کہ ہم ہر عمل کا ایک رد عمل دکهائیں. ہمارے کچھ رد عمل ہمیں محض نقصان ہی نہیں دیں گے بلکہ ہو سکتا ہے کہ ہماری جان بهی لے لیں.

🌹 آگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ شکریہ

✍ سید سجاد حسین ہمدانی

https://t.me/islamwitheman/72
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕