🌻 امانت داری 🌻
●ارشاد خداوندی ہے۔۔
"اِنَّ اللہ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوْا الأمَانَاتِ إلیٰ اَھْلِھَا"
خداوندمتعال آپ کو حکم دیتا ہے امانتیں ان کے مالکوں تک پہنچاؤ۔(1)
●ارشاد باری تعالٰی ہوتا ہے۔۔
"وَالَّذِیْنَ ھُمْ لامَانَاتِھِمْ وَ عَھْدِھِمْ رَاعُوْنَ"
مؤمن اپنی امانتوں اور عہدوپیمان کے پابند ہوتے ہیں۔(2)
●رسول اکرمؐ فرماتے ہیں۔۔
"لا اِیْمَانَ لِمَنْ لا اَمَانَةَ لَہ"
جو امانت دار نہیں، صاحب ایمان نہیں۔(3)
●امیرالمؤمنین علیؑ فرماتے ہیں۔۔
"اَدُّوْا الأمَانَاتِ وَلَوْ إلیٰ أوْلادِ قَتَلَةِالانْبِیَاءَ"
امانتیں واپس کرو، اگرچہ انبیاء کے قاتلوں کی اولاد کی ہی کیوں نہ ہوں۔(4)
■ثمرۂ امانت داری
عبدالرحمٰن بن سبابہ کہتے ہیں کہ جب میرے والد کی وفات ہوئی تو ان کے ایک دوست مجھے تعزیت کرنے کے لئے میرے گھر آئے اور مجھ سے کہا؛
عبدالرحمٰن! کیا تیرے والد نے کوئی چیز ترکہ میں چھوڑی ہے؟
میں نے کہا؛ نہیں
میرے والد کے دوست نے ایک ہزار درھم کی تھیلی میری طرف بڑھائی اور کہا؛
یہ رقم امانت کے طور پر اپنے پاس رکھ لو، اسے اپنے لئے سرمایہ بناؤ، اس کے ساتھ کاروبار کرو۔ جو نفع ملے اپنی ضروریات اور اخراجات میں خرچ کرو اور اصل رقم مجھے واپس کر دینا۔
مجھے بہت خوشی ہوئی اور میں خوش خوش اپنی والدہ کے پاس گیا، سارا قصہ سنایا اور خبر دی۔
پھر رات کو اپنے والد کے ایک دوسرے دوست کے پاس گیا، اس نے میرے لئے کپڑے کے تھان خریدے اور ایک دکان کا انتظام کیا۔ میں دوسرے دن اپنے کاروبار میں مشغول ہوگیا۔
خداوندمتعال نے مجھے برکت عنایت فرمائی اور کشادہ روزی نصیب ہوئی۔
حج کا موسم نزدیک ہوا تو میرا جی چاہا خانۂ خدا کی زیارت کے لئے جاؤں اور فریضۂ حج ادا کروں۔ میں نے اپنی والدہ سے اپنے ارادے کا ذکر کیا تو والدہ نے فرمایا؛
اگر آپ کا حج کا ارادہ ہے تو پہلے قرض والوں کا قرضہ دو پھر حج کے لیے چلے جاؤ۔
میں نے قرضہ کی رقم اکٹھی کی اور ان صاحب کی خدمت میں حاضر ہوکر رقم پیش کی۔ وہ اس قدر خوش ہوئے کہ جیسے میں نے انہیں رقم عنایت کی ہو کیونکہ انہیں میرے قرضہ کی واپسی کی توقع نہ تھی۔۔ میرے والد کے دوست نے کہا؛
شاید یہ رقم کم تھی اس لئے تم نے واپس کردی ہے۔ اگر یہ تھوڑی ہے تو میں آپ کو اور دیتا ہوں۔
میں نے کہا؛
نہیں ایسا نہیں ہے بلکہ میں حج کا ارادہ رکھتا ہوں اس لئے پہلے آپ کی امانت واپس کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
مجھے سعادت نصیب ہوئی اور میں حج پر روانہ ہوگیا۔ مکہ مکرمہ سے حاضری کے بعد مدینہ منورہ زیارات کے لئے گیا۔ اپنے چند دوستوں کے ہمراہ حضرت امام جعفر الصادق علیہ السلام کی زیارت کے لئے حاضر ہوا۔ میں چونکہ نوخیز اور کم عمر جوان تھا، محفل کے آخر میں بیٹھ گیا۔ جب لوگوں کا رش کم ہوا اور محفل میں جگہ خالی ہوئی تو میں ذرا آگے بڑھا۔ امام علیہ السلام نے مجھ سے پوچھا؛ کوئی کام تھا؟
میں نے عرض کی؛
قربان جاؤں، میں عبدالرحمٰن بن سبابہ ہوں۔
آپؑ نے میرے والد کا حال احوال دریافت فرمایا؛
میں نے عرض کیا؛ وہ وفات پاگئے ہیں۔
آپؑ نے بہت زیادہ افسوس فرمایا اور میرے والد کے لئے دعائے رحمت فرمائی اور پوچھا؛
کیا وہ کوئی دنیاوی مال ترکہ کے طور پر چھوڑ گئے تھے؟
میں نے عرض کیا؛ نہیں
آپؑ نے پوچھا؛
پھر تو کس طرح حج کے لئے آیا ہے؟
میں نے اپنے والد کے دوست کی داستان بیان کی۔۔ آپؑ نے میری بات پوری ہونے سے قبل ہی پوچھا؛
تو پھر تو نے اس بندۂ خدا کے ہزار درھم کا کیا کیا؟
میں نے عرض کیا؛ واپس کر دیا ہے۔
امام علیہ السلام نے فرمایا؛
شاباش، بہت اچھا کام کیا تو نے۔ تمہیں ایک نصیحت کروں؟
میں نے عرض کیا؛ جی ہاں، فرمائیے۔۔
امام علیہ السلام نے فرمایا؛
"عَلَیْکَ بِصِدْقِ الْحَدِيْثِ وَ اَدَآءِ الْآمَانَةِ"
تجھ پر لازم ہے سچ بولنا اور امانت واپس کرنا۔
اگر میری اس فرمائش پر عمل کرو گے تو لوگوں کے اموال کے شریک رہو گے۔ پھر آپؑ نے اپنی مبارک انگلیوں کو جمع فرمایا اور ارشاد فرمایا؛ اس طرح لوگوں کے اموال کے شریک ہوا کرو گے۔
میں نے آنحضرت علیہ السلام کی نصیحت پر عمل کیا، میری ہمیشہ مالی حالت اچھی رہی، اور اس قدر برکت ہوئی کہ ایک سال میں تین ہزار درھم زکوۃ ادا کی۔(5)
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
📚 حوالہ جات:
1) سورہ نساء، آیت58۔
2) سورہ مؤمنون، ایت8۔
3) موضوعی داستانیں،ص17۔
4) میزان الحکمۃ، حدیث 1495۔
5) بحارالأنوار، حصہ قصہ جات، ج2۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
●ارشاد خداوندی ہے۔۔
"اِنَّ اللہ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوْا الأمَانَاتِ إلیٰ اَھْلِھَا"
خداوندمتعال آپ کو حکم دیتا ہے امانتیں ان کے مالکوں تک پہنچاؤ۔(1)
●ارشاد باری تعالٰی ہوتا ہے۔۔
"وَالَّذِیْنَ ھُمْ لامَانَاتِھِمْ وَ عَھْدِھِمْ رَاعُوْنَ"
مؤمن اپنی امانتوں اور عہدوپیمان کے پابند ہوتے ہیں۔(2)
●رسول اکرمؐ فرماتے ہیں۔۔
"لا اِیْمَانَ لِمَنْ لا اَمَانَةَ لَہ"
جو امانت دار نہیں، صاحب ایمان نہیں۔(3)
●امیرالمؤمنین علیؑ فرماتے ہیں۔۔
"اَدُّوْا الأمَانَاتِ وَلَوْ إلیٰ أوْلادِ قَتَلَةِالانْبِیَاءَ"
امانتیں واپس کرو، اگرچہ انبیاء کے قاتلوں کی اولاد کی ہی کیوں نہ ہوں۔(4)
■ثمرۂ امانت داری
عبدالرحمٰن بن سبابہ کہتے ہیں کہ جب میرے والد کی وفات ہوئی تو ان کے ایک دوست مجھے تعزیت کرنے کے لئے میرے گھر آئے اور مجھ سے کہا؛
عبدالرحمٰن! کیا تیرے والد نے کوئی چیز ترکہ میں چھوڑی ہے؟
میں نے کہا؛ نہیں
میرے والد کے دوست نے ایک ہزار درھم کی تھیلی میری طرف بڑھائی اور کہا؛
یہ رقم امانت کے طور پر اپنے پاس رکھ لو، اسے اپنے لئے سرمایہ بناؤ، اس کے ساتھ کاروبار کرو۔ جو نفع ملے اپنی ضروریات اور اخراجات میں خرچ کرو اور اصل رقم مجھے واپس کر دینا۔
مجھے بہت خوشی ہوئی اور میں خوش خوش اپنی والدہ کے پاس گیا، سارا قصہ سنایا اور خبر دی۔
پھر رات کو اپنے والد کے ایک دوسرے دوست کے پاس گیا، اس نے میرے لئے کپڑے کے تھان خریدے اور ایک دکان کا انتظام کیا۔ میں دوسرے دن اپنے کاروبار میں مشغول ہوگیا۔
خداوندمتعال نے مجھے برکت عنایت فرمائی اور کشادہ روزی نصیب ہوئی۔
حج کا موسم نزدیک ہوا تو میرا جی چاہا خانۂ خدا کی زیارت کے لئے جاؤں اور فریضۂ حج ادا کروں۔ میں نے اپنی والدہ سے اپنے ارادے کا ذکر کیا تو والدہ نے فرمایا؛
اگر آپ کا حج کا ارادہ ہے تو پہلے قرض والوں کا قرضہ دو پھر حج کے لیے چلے جاؤ۔
میں نے قرضہ کی رقم اکٹھی کی اور ان صاحب کی خدمت میں حاضر ہوکر رقم پیش کی۔ وہ اس قدر خوش ہوئے کہ جیسے میں نے انہیں رقم عنایت کی ہو کیونکہ انہیں میرے قرضہ کی واپسی کی توقع نہ تھی۔۔ میرے والد کے دوست نے کہا؛
شاید یہ رقم کم تھی اس لئے تم نے واپس کردی ہے۔ اگر یہ تھوڑی ہے تو میں آپ کو اور دیتا ہوں۔
میں نے کہا؛
نہیں ایسا نہیں ہے بلکہ میں حج کا ارادہ رکھتا ہوں اس لئے پہلے آپ کی امانت واپس کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
مجھے سعادت نصیب ہوئی اور میں حج پر روانہ ہوگیا۔ مکہ مکرمہ سے حاضری کے بعد مدینہ منورہ زیارات کے لئے گیا۔ اپنے چند دوستوں کے ہمراہ حضرت امام جعفر الصادق علیہ السلام کی زیارت کے لئے حاضر ہوا۔ میں چونکہ نوخیز اور کم عمر جوان تھا، محفل کے آخر میں بیٹھ گیا۔ جب لوگوں کا رش کم ہوا اور محفل میں جگہ خالی ہوئی تو میں ذرا آگے بڑھا۔ امام علیہ السلام نے مجھ سے پوچھا؛ کوئی کام تھا؟
میں نے عرض کی؛
قربان جاؤں، میں عبدالرحمٰن بن سبابہ ہوں۔
آپؑ نے میرے والد کا حال احوال دریافت فرمایا؛
میں نے عرض کیا؛ وہ وفات پاگئے ہیں۔
آپؑ نے بہت زیادہ افسوس فرمایا اور میرے والد کے لئے دعائے رحمت فرمائی اور پوچھا؛
کیا وہ کوئی دنیاوی مال ترکہ کے طور پر چھوڑ گئے تھے؟
میں نے عرض کیا؛ نہیں
آپؑ نے پوچھا؛
پھر تو کس طرح حج کے لئے آیا ہے؟
میں نے اپنے والد کے دوست کی داستان بیان کی۔۔ آپؑ نے میری بات پوری ہونے سے قبل ہی پوچھا؛
تو پھر تو نے اس بندۂ خدا کے ہزار درھم کا کیا کیا؟
میں نے عرض کیا؛ واپس کر دیا ہے۔
امام علیہ السلام نے فرمایا؛
شاباش، بہت اچھا کام کیا تو نے۔ تمہیں ایک نصیحت کروں؟
میں نے عرض کیا؛ جی ہاں، فرمائیے۔۔
امام علیہ السلام نے فرمایا؛
"عَلَیْکَ بِصِدْقِ الْحَدِيْثِ وَ اَدَآءِ الْآمَانَةِ"
تجھ پر لازم ہے سچ بولنا اور امانت واپس کرنا۔
اگر میری اس فرمائش پر عمل کرو گے تو لوگوں کے اموال کے شریک رہو گے۔ پھر آپؑ نے اپنی مبارک انگلیوں کو جمع فرمایا اور ارشاد فرمایا؛ اس طرح لوگوں کے اموال کے شریک ہوا کرو گے۔
میں نے آنحضرت علیہ السلام کی نصیحت پر عمل کیا، میری ہمیشہ مالی حالت اچھی رہی، اور اس قدر برکت ہوئی کہ ایک سال میں تین ہزار درھم زکوۃ ادا کی۔(5)
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
📚 حوالہ جات:
1) سورہ نساء، آیت58۔
2) سورہ مؤمنون، ایت8۔
3) موضوعی داستانیں،ص17۔
4) میزان الحکمۃ، حدیث 1495۔
5) بحارالأنوار، حصہ قصہ جات، ج2۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌲 خدا سے اُمید 🌲
خداوندمتعال کی معافی ہمارے گناہوں اور جرائم سے زیادہ ہے۔ ہمیشہ میری امیدیں خداوند ذوالجلال سے وابستہ ہیں کسی بھی شخص کو اپنے خالق لم یزل ولایزال سے ناامید نہیں ہونا چاہیے۔
●خداوندمتعال نے حضرت عیسٰیؑ سے فرمایا؛
"لا تَیْئَاسْ مِنْ رُوْحِی"
میری رحمت سے ناامید نہ ہونا۔(1)
●حضرت علیؑ نے فرمایا؛
"لا تَرْجُ إلّا رَبَّکَ"
اپنے رب کے بغیر کسی سے امید نہ رکھ۔(2)
■امید
بزرگان دین میں سے ایک دینی شخصیت ہمیشہ لوگوں کے درمیان خداوندمتعال سے امید رکھنے کے راستے بیان کرتے تھے۔ جب انکی وفات ہوئی تو کسی نے انہیں خواب میں دیکھا۔ انھوں نے خواب دیکھنے والے سے فرمایا؛
مجھے خداوندمتعال کی پیشی میں لے جایا گیا مجھے رب ذوالجلال کا خطاب ہوا؛
تجھے کس طرح یہ ہمت ہوئی کہ ہمیشہ لوگوں کو میرے سے طمع اور امیدواری کی دعوت دیتے تھے۔؟
میں نے عرض کیا؛
میرا مقصد تھا کہ ان کے دلوں میں تیری ذات کی محبت جاگزیں ہو اور وہ تیری ذات سے رابطہ رکھیں۔
مجھے میرے رب سے واپسی جواب ملا کہ:
"میں نے تجھے معاف کر دیا اور مغفرت عطا کی"(3)
■اعرابی کا دلچسپ سوال
ایک اعرابی نے حضرت رسول اکرمؐ سے پوچھا؛
قیامت کے دن حساب و کتاب کس کے ہاتھ میں ہوگا؟
آپؐ نے فرمایا؛
خداوندمتعال کے قبضۂ قدرت میں۔
اعرابی نے پھر پوچھا؛
کیا خود خداوندمتعال محاسبہ فرمائے گا؟
آپؐ نے فرمایا؛ ہاں، بالکل۔
اعرابی زیرلب مسکرایا اور تبسم کیا۔
رسول اکرمؐ نے پوچھا؛
کیوں مسکرا رہے ہو؟ ہنستے کیوں ہو؟
اعرابی نے کہا؛
اصحابِ کرم کی شان ہے کہ جب ان کی قدرت کا مرحلہ ہوتا ہے تو درگزر فرماتے ہیں اور جب محاسبہ کرتے ہیں تو رعایت کرتے ہیں اور آسانی کا رویہ اپناتے ہیں۔
حضرت رسول اکرمؐ نے فرمایا؛
یہ شخص ٹھیک کہتا ہے۔ آگاہ رہو کہ خداوندکریم بزرگوار اور نہایت بخشنے والا ہے اور اس کی ذات سے کوئی بڑھ کر بخشنے والا اور کریم نہیں ہے۔ عظیم صاحبِ عظمت اور کریم صاحبِ کرم ہے۔ اور پھر فرمایا؛
اس اعرابی نے فقیہ مردوں والی بات کی ہے۔(4)
■خدا سے امید
حضرت امام جعفر صادقؑ سے نقل ہوا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا؛ جب میدان محشر میں فیصلہ ہوگا اور کسی بندۂ خدا کے لئے حکم ہوگا کہ اسے جہنم میں ڈال دیں تو وہ ایک خاص طرح سے باربار خداوندمتعال کی رحمت کی طرف متوجہ ہوگا۔ خطاب ہوگا۔۔
بار بار کیا دیکھتا ہے؟
وہ بندہ عرض کریگا؛
خدایا میرا گمان اس طرح نہیں تھا بلکہ مجھے تو بخشش کی امید تھی۔
ارشاد ہوگا؛
تیرا کیا گمان تھا؟
وہ شخص عرض کریگا؛
مجھے گمان تھا کہ مجھے بہشت ملے گی۔
خداوندمتعال فرشتوں کو فرمائے گا؛
مجھے میری عزت و جلال کی قسم! اگر کوئی بندہ میرے اوپر ایک گھڑی بھی اچھا گمان کرے اور میری رحمت کا امیدوار ہو، میں ہرگز اسے جہنم کی آگ سے نہیں ڈراتا، پس اس کا گمان حقیقت بنا دو اور اسے میری بہشت میں داخل کردو۔
پھر رسول اکرمؐ نے فرمایا؛
اگر کوئی بندۂ خدا اپنے رب سے اچھا گمان رکھتا ہو تو خداوند ذوالجلال اسے اس کے مقصود و مطلوب تک پہنچا دیتا ہے۔
امام جعفر صادقؑ نے فرمایا؛
خداوند ذوالجلال اپنے بندے کے نیک گمان کے نزدیک ہے۔ اگر اس کا گمان اچھا ہوگا تو اس کا نتیجہ بھی اچھا ہوگا۔ اور اگر گمان بد ہوگا تو نتیجہ بھی بد ہوگا۔(5)
■سرمایۂ گداگری
حضرت موسٰیؑ نے خداوندمتعال سے عرض کیا؛
خدایا! جو چیز میری گداگری کی خرجین میں ہے، کیا وہ تیرے خزانے میں بھی ہے۔؟
خطابِ ایزدی ہوا؛
موسٰیؑ وہ کونسی ایسی چیز ہے جو تیری گداگری کی خرجین میں ہے اور میرے خزانے میں نہیں؟
حضرت موسٰیؑ نے عرض کیا؛
خدایا! میرے پاس تیری ذات جیسا خدا ہے۔(6)
التماس دعا: سید سجاد حسین ھمدانی
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
📚 حوالہ جات:
1) بحارالأنوار، ج14۔
2) غررالحکم، ج6، ص262۔
3) معراج السعادة.
4) اسرارالقوة، ص255۔
5) موضوعی داستانیں، ص25۔
6) داستانہاوپندہا، ج3۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔
🌲 الله تعالٰی کی مدد
https://t.me/islamwitheman/25
🌲 بیمثال مالک
https://t.me/islamwitheman/110
🌲 الله تعالٰی کی رحمت
https://t.me/islamwitheman/134
🌲 الله تعالٰی کی رحمت پر بھروسہ
https://t.me/islamwitheman/137
🌲 بہترین حسن ظن
https://t.me/islamwitheman/263
🌲 حسن نیت اور جذبہ شرمساری
https://t.me/islamwitheman/301
🌲 خدا سے امید
https://t.me/islamwitheman/646
🌲 توکل علی اللہ
https://t.me/islamwitheman/687
🌲 توکل بر خدا
https://t.me/islamwitheman/894
🌲 نا اُمیدی
http://t.me/islamwitheman/1731
🌲 قبولیت سے نا اُمیدی
https://t.me/islamwitheman/1734
🌲 کیوں نا اُمیدی
https://t.me/islamwitheman/1736
🌲 ناامیدی شیطان کا اہم ہتھیار
https://t.me/islamwitheman/2933
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
خداوندمتعال کی معافی ہمارے گناہوں اور جرائم سے زیادہ ہے۔ ہمیشہ میری امیدیں خداوند ذوالجلال سے وابستہ ہیں کسی بھی شخص کو اپنے خالق لم یزل ولایزال سے ناامید نہیں ہونا چاہیے۔
●خداوندمتعال نے حضرت عیسٰیؑ سے فرمایا؛
"لا تَیْئَاسْ مِنْ رُوْحِی"
میری رحمت سے ناامید نہ ہونا۔(1)
●حضرت علیؑ نے فرمایا؛
"لا تَرْجُ إلّا رَبَّکَ"
اپنے رب کے بغیر کسی سے امید نہ رکھ۔(2)
■امید
بزرگان دین میں سے ایک دینی شخصیت ہمیشہ لوگوں کے درمیان خداوندمتعال سے امید رکھنے کے راستے بیان کرتے تھے۔ جب انکی وفات ہوئی تو کسی نے انہیں خواب میں دیکھا۔ انھوں نے خواب دیکھنے والے سے فرمایا؛
مجھے خداوندمتعال کی پیشی میں لے جایا گیا مجھے رب ذوالجلال کا خطاب ہوا؛
تجھے کس طرح یہ ہمت ہوئی کہ ہمیشہ لوگوں کو میرے سے طمع اور امیدواری کی دعوت دیتے تھے۔؟
میں نے عرض کیا؛
میرا مقصد تھا کہ ان کے دلوں میں تیری ذات کی محبت جاگزیں ہو اور وہ تیری ذات سے رابطہ رکھیں۔
مجھے میرے رب سے واپسی جواب ملا کہ:
"میں نے تجھے معاف کر دیا اور مغفرت عطا کی"(3)
■اعرابی کا دلچسپ سوال
ایک اعرابی نے حضرت رسول اکرمؐ سے پوچھا؛
قیامت کے دن حساب و کتاب کس کے ہاتھ میں ہوگا؟
آپؐ نے فرمایا؛
خداوندمتعال کے قبضۂ قدرت میں۔
اعرابی نے پھر پوچھا؛
کیا خود خداوندمتعال محاسبہ فرمائے گا؟
آپؐ نے فرمایا؛ ہاں، بالکل۔
اعرابی زیرلب مسکرایا اور تبسم کیا۔
رسول اکرمؐ نے پوچھا؛
کیوں مسکرا رہے ہو؟ ہنستے کیوں ہو؟
اعرابی نے کہا؛
اصحابِ کرم کی شان ہے کہ جب ان کی قدرت کا مرحلہ ہوتا ہے تو درگزر فرماتے ہیں اور جب محاسبہ کرتے ہیں تو رعایت کرتے ہیں اور آسانی کا رویہ اپناتے ہیں۔
حضرت رسول اکرمؐ نے فرمایا؛
یہ شخص ٹھیک کہتا ہے۔ آگاہ رہو کہ خداوندکریم بزرگوار اور نہایت بخشنے والا ہے اور اس کی ذات سے کوئی بڑھ کر بخشنے والا اور کریم نہیں ہے۔ عظیم صاحبِ عظمت اور کریم صاحبِ کرم ہے۔ اور پھر فرمایا؛
اس اعرابی نے فقیہ مردوں والی بات کی ہے۔(4)
■خدا سے امید
حضرت امام جعفر صادقؑ سے نقل ہوا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا؛ جب میدان محشر میں فیصلہ ہوگا اور کسی بندۂ خدا کے لئے حکم ہوگا کہ اسے جہنم میں ڈال دیں تو وہ ایک خاص طرح سے باربار خداوندمتعال کی رحمت کی طرف متوجہ ہوگا۔ خطاب ہوگا۔۔
بار بار کیا دیکھتا ہے؟
وہ بندہ عرض کریگا؛
خدایا میرا گمان اس طرح نہیں تھا بلکہ مجھے تو بخشش کی امید تھی۔
ارشاد ہوگا؛
تیرا کیا گمان تھا؟
وہ شخص عرض کریگا؛
مجھے گمان تھا کہ مجھے بہشت ملے گی۔
خداوندمتعال فرشتوں کو فرمائے گا؛
مجھے میری عزت و جلال کی قسم! اگر کوئی بندہ میرے اوپر ایک گھڑی بھی اچھا گمان کرے اور میری رحمت کا امیدوار ہو، میں ہرگز اسے جہنم کی آگ سے نہیں ڈراتا، پس اس کا گمان حقیقت بنا دو اور اسے میری بہشت میں داخل کردو۔
پھر رسول اکرمؐ نے فرمایا؛
اگر کوئی بندۂ خدا اپنے رب سے اچھا گمان رکھتا ہو تو خداوند ذوالجلال اسے اس کے مقصود و مطلوب تک پہنچا دیتا ہے۔
امام جعفر صادقؑ نے فرمایا؛
خداوند ذوالجلال اپنے بندے کے نیک گمان کے نزدیک ہے۔ اگر اس کا گمان اچھا ہوگا تو اس کا نتیجہ بھی اچھا ہوگا۔ اور اگر گمان بد ہوگا تو نتیجہ بھی بد ہوگا۔(5)
■سرمایۂ گداگری
حضرت موسٰیؑ نے خداوندمتعال سے عرض کیا؛
خدایا! جو چیز میری گداگری کی خرجین میں ہے، کیا وہ تیرے خزانے میں بھی ہے۔؟
خطابِ ایزدی ہوا؛
موسٰیؑ وہ کونسی ایسی چیز ہے جو تیری گداگری کی خرجین میں ہے اور میرے خزانے میں نہیں؟
حضرت موسٰیؑ نے عرض کیا؛
خدایا! میرے پاس تیری ذات جیسا خدا ہے۔(6)
التماس دعا: سید سجاد حسین ھمدانی
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
📚 حوالہ جات:
1) بحارالأنوار، ج14۔
2) غررالحکم، ج6، ص262۔
3) معراج السعادة.
4) اسرارالقوة، ص255۔
5) موضوعی داستانیں، ص25۔
6) داستانہاوپندہا، ج3۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔
🌲 الله تعالٰی کی مدد
https://t.me/islamwitheman/25
🌲 بیمثال مالک
https://t.me/islamwitheman/110
🌲 الله تعالٰی کی رحمت
https://t.me/islamwitheman/134
🌲 الله تعالٰی کی رحمت پر بھروسہ
https://t.me/islamwitheman/137
🌲 بہترین حسن ظن
https://t.me/islamwitheman/263
🌲 حسن نیت اور جذبہ شرمساری
https://t.me/islamwitheman/301
🌲 خدا سے امید
https://t.me/islamwitheman/646
🌲 توکل علی اللہ
https://t.me/islamwitheman/687
🌲 توکل بر خدا
https://t.me/islamwitheman/894
🌲 نا اُمیدی
http://t.me/islamwitheman/1731
🌲 قبولیت سے نا اُمیدی
https://t.me/islamwitheman/1734
🌲 کیوں نا اُمیدی
https://t.me/islamwitheman/1736
🌲 ناامیدی شیطان کا اہم ہتھیار
https://t.me/islamwitheman/2933
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌲 اللہ کی مدد 🌲
حضرت نوح علیہ السلام نے جب اللہ کے حکم سے کشتی بنانا شروع کی تو ایک مومنہ بڑھیا نے حضرت نوح علیہ السلام سے پوچھا:
کہ آپ یہ کشتی کیوں بنا رہے ہیں؟
آپ نے فرمایا:
بڑی بی! ایک بہت بڑا پانی کا طوفان آنے والا ہے جس میں سب کافر ہلاک ہو جائیں…
حضرت نوح علیہ السلام نے جب اللہ کے حکم سے کشتی بنانا شروع کی تو ایک مومنہ بڑھیا نے حضرت نوح علیہ السلام سے پوچھا:
کہ آپ یہ کشتی کیوں بنا رہے ہیں؟
آپ نے فرمایا:
بڑی بی! ایک بہت بڑا پانی کا طوفان آنے والا ہے جس میں سب کافر ہلاک ہو جائیں…
🔶 تارک الصّلاة کے نام 🔶
حضور اکرمؐ نے فرمایا:
🔶جب تم میں سے کوئی شخص "فجر کی نماز" چھوڑتا ہے تو آسمان سے ایک منادی اسے "یا خاسر" (اے خسارہ اٹھانے والا) کے نام سے پکارتا ہے۔
🔶جب تم میں سے کوئی شخص "ظہر کی نماز" چھوڑتا ہے تو منادی اسے "یا غادر" (اے عہد شکن) کے نام سے پکارتا ہے۔
🔶جب تم میں سے کوئی شخص "عصر کی نماز" چھوڑتا ہے تو منادی اسے "یا فاجر" (اے فجور کرنے والے) کے نام سے پکارتا ہے۔
🔶جب تم میں سے کوئی شخص "مغرب کی نماز" چھوڑتا ہے تو منادی اسے "یا کافر" (اے کافر) کے نام سے پکارتا ہے۔
🔶جب تم میں سے کوئی شخص "عشاء کی نماز" چھوڑتا ہے تو منادی اسے ندا کرتا ہے کہ "کیا تیرا رب نہیں ہے"؟؟
📚 ہدیةالشیعہ ، صفحہ326۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ نماز کے متعلق مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
🔷 کوشش اور توفیق
https://t.me/islamwitheman/227
🔷 نماز نہ پڑھنے کی تاویلات
https://t.me/islamwitheman/297
🔷 کامل نماز کا طریقہ
https://t.me/islamwitheman/293
💝 عبادت میں لذت
https://t.me/islamwitheman/352
💞 میاں بیوی کی محبت کا تقاضا
https://t.me/islamwitheman/295
🔷 نماز میں غفلت
https://t.me/islamwitheman/296
💫 نیت اور عمل
https://t.me/islamwitheman/226
⭕ نماز کی عظمت و ثواب
https://t.me/islamwitheman/292
🔷قیامت کا دن اور تین آدمیوں کی پیشی
https://t.me/islamwitheman/104
🔷 اقیموا الصلاة
https://t.me/islamwitheman/294
☉ جمعرات کے دن کی نماز
https://t.me/islamwitheman/122
🔷 پہلی نماز جمعہ
https://t.me/islamwitheman/368
🔷 مختصر نماز مغفرت والدین
https://t.me/islamwitheman/12
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
حضور اکرمؐ نے فرمایا:
🔶جب تم میں سے کوئی شخص "فجر کی نماز" چھوڑتا ہے تو آسمان سے ایک منادی اسے "یا خاسر" (اے خسارہ اٹھانے والا) کے نام سے پکارتا ہے۔
🔶جب تم میں سے کوئی شخص "ظہر کی نماز" چھوڑتا ہے تو منادی اسے "یا غادر" (اے عہد شکن) کے نام سے پکارتا ہے۔
🔶جب تم میں سے کوئی شخص "عصر کی نماز" چھوڑتا ہے تو منادی اسے "یا فاجر" (اے فجور کرنے والے) کے نام سے پکارتا ہے۔
🔶جب تم میں سے کوئی شخص "مغرب کی نماز" چھوڑتا ہے تو منادی اسے "یا کافر" (اے کافر) کے نام سے پکارتا ہے۔
🔶جب تم میں سے کوئی شخص "عشاء کی نماز" چھوڑتا ہے تو منادی اسے ندا کرتا ہے کہ "کیا تیرا رب نہیں ہے"؟؟
📚 ہدیةالشیعہ ، صفحہ326۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ نماز کے متعلق مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
🔷 کوشش اور توفیق
https://t.me/islamwitheman/227
🔷 نماز نہ پڑھنے کی تاویلات
https://t.me/islamwitheman/297
🔷 کامل نماز کا طریقہ
https://t.me/islamwitheman/293
💝 عبادت میں لذت
https://t.me/islamwitheman/352
💞 میاں بیوی کی محبت کا تقاضا
https://t.me/islamwitheman/295
🔷 نماز میں غفلت
https://t.me/islamwitheman/296
💫 نیت اور عمل
https://t.me/islamwitheman/226
⭕ نماز کی عظمت و ثواب
https://t.me/islamwitheman/292
🔷قیامت کا دن اور تین آدمیوں کی پیشی
https://t.me/islamwitheman/104
🔷 اقیموا الصلاة
https://t.me/islamwitheman/294
☉ جمعرات کے دن کی نماز
https://t.me/islamwitheman/122
🔷 پہلی نماز جمعہ
https://t.me/islamwitheman/368
🔷 مختصر نماز مغفرت والدین
https://t.me/islamwitheman/12
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 کوشش اور توفیق 🔷
ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﮕﺮ ﺩﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺍﺩﺍﺳﯽ ﮐﮯ ﺗﺎﺛﺮﺍﺕ ﻧﻤﺎﯾﺎﮞ ﺗﮭﮯ.
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻮﺟﮧ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻣﺼﻠﮯ ﮐﯽ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺟﺎﻧﺐ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺗﮭﺎ،
ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﭖ ﮨﻤﺖ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﭨﻨﮯ ﭘﺎﺋﮯ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ.
ﻣﮕﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ…
ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﮕﺮ ﺩﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺍﺩﺍﺳﯽ ﮐﮯ ﺗﺎﺛﺮﺍﺕ ﻧﻤﺎﯾﺎﮞ ﺗﮭﮯ.
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻮﺟﮧ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻣﺼﻠﮯ ﮐﯽ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺟﺎﻧﺐ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺗﮭﺎ،
ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﭖ ﮨﻤﺖ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﭨﻨﮯ ﭘﺎﺋﮯ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﻤﺠﮭﺎﯾﺎ.
ﻣﮕﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ…
💓حضرت موسٰیؑ کا بہشتی ہمسایہ💓
حضرت موسٰیؑ اپنے رب سے محوِ مناجات تھے کہ دل میں خیال گزرا، جنت میں میرا ہمسایہ کون ہوگا لہذا عرض کیا؛
پروردگار، اے رب ذوالجلال! کیا مجھے یہ خبر دی جا سکتی ہے کہ جنت میں میرا ہمسایہ کون ہوگا اور کیا میں اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہوں؟
ارشاد ہوا۔۔
فلاں شہر کے فلاں محلہ میں ایک قصاب رہتا ہے، جا کر اس سے ملو۔
حضرت موسٰیؑ بڑے شوق سے اس قصائی کی دکان کی جانب روانہ ہوئے۔ جونہی اس پر نظر پڑی تو بہت خوش ہوئے۔ وہ اس خیال سے اس کے پاس خاموشی سے بیٹھ گئے کہ کیا ہی خوب ہو کہ میں اس شخص کے اعمال و کردار کا بغور جائزہ لوں۔ شاید مجھے اس کی سیرت سے وہ خاص عمل معلوم ہوسکے جو اس قدر بارگاہ ایزدی میں مقبول و پسندیدہ ہے کہ یقینی بہشتی ہونے اور میرے ہمسایہ ہونے کا باعث ہے۔ ایسا کونسا منفرد عمل اس شخص کا خداوندمتعال کو پسند ہے جسکی وجہ سے اتنے بلند مرتبہ و مقام پر فائز ہے۔
کافی وقت اس کی دکان پر گزارنے کے باوجود بھی حضرت موسٰیؑ اس کے ایسے راز سے آگاہ نہ ہوسکے جو اس شخص کا خاص عمل شمار ہوتا۔ بس وہی گوشت فروشی اور لین دین کا سلسلہ جاری رہا۔ اور بس۔
سر شام دکان کا دروازہ بند کر کے جب قصاب اپنے گھر کو روانہ ہونے لگا تو حضرت موسٰیؑ نے اپنا تعارف کروائے بغیر اس جوان سے درخواست کی کہ مجھے آج کی شب اپنا مہمان بنا لیں۔ اس نے آپ کی درخواست پر آپ کو اپنا مہمان بنانے پر آمادگی ظاہر کی، گھر میں لے جاکر ٹھہرایا۔
مہمان نوازی کے رسوم و آداب سے فراغت کے بعد گھر کی چھت کے ساتھ آویزاں ایک ٹوکری کی رسی کھولی اور آہستہ آہستہ اس رسی کو پکڑ کر ٹوکری کو نیچے اتارنا شروع کیا۔ جب ٹوکری سامنے آئی تو حضرت موسٰیؑ نے دیکھا اس میں گٹھڑی نما کپڑے میں بندھی ہوئی ایک بوڑھی مستور تھی۔ اور جوان ایک رقیق شوربا قسم کی خوراک کا پیالہ لایا اور آہستہ آہستہ چمچ کے ساتھ اس بڑھیا کو کھلانا شروع کردیا۔
وہ بڑھیا کبھی کبھی آسمان کی طرف دیکھتی اور اس کے لب حرکت کرتے اور کچھ بولتی لیکن اس کی باتوں کی کوئی سمجھ نہیں آرہی تھی۔
اس بڑھیا کی خدمت سے فارغ ہوکر قصائی جوان نے اپنے مہمان کی مزید خدمت گزاری کے فرائض انجام دیئے اور اجازت چاہی اور جاکر سوگیا۔ مہمان و میزبان دونوں محو آرام ہوئے۔
صبح ہوتے ہی قصائی جوان نے پھر مہمان اور بڑھیا کی خدمت کے فرائض انجام دیئے۔ پھر اس بڑھیا کو اسی ٹوکری میں ڈال کر گھر کی چھت سے آویزاں کردیا۔ اور مہمان کو ساتھ لے کر دکان کی جانب روانہ ہوا۔
حضرت موسٰیؑ نے دوران راہ اس جوان سے پوچھا؛
یہ بڑھیا کون تھی؟
جوان نے جواب دیا؛
یہ میری والدہ تھیں۔
حضرت موسٰیؑ نے پوچھا؛
تو نے کیوں اپنی والدہ کو ٹوکری میں ڈال کر چھت سے لٹکا دیا؟
جوان نے جواب دیا؛
گھر میں صرف میں اور میری والدہ رہتے ہیں۔ کوئی دیکھ بھال کے لئے موجود نہیں۔ مجھے خوف تھا کہ کوئی حیوان اسے تکلیف نہ پہنچائے۔ اس لئے محفوظ جگہ پر رکھ دیا۔
حضرت موسٰیؑ نے پوچھا؛
جب تو اپنی والدہ کو غذا کھلا رہا تھا، تیری والدہ آسمان کی طرف منہ کر کے کیا کہتی تھی۔
جوان نے بتایا؛
وہ دعا کر رہی تھیں اور کہتی تھیں "خدایا میرے بیٹے کو روز قیامت حضرت موسٰیؑ کے ساتھ محشور فرما"
حضرت موسٰیؑ نے فرمایا؛
تجھے خوشخبری ہو کہ تیری والدہ کی دعا قبول ہوگئی ہے۔ کل سے تیرا مہمان بننے والا شخص میں موسٰی ہوں۔ میں نے خداوندمتعال سے درخواست کی تھی کہ مجھے میرے بہشتی ہمسایہ کی خبر دے۔ ادھر مجھے معلوم ہوا کہ آپ میرے ہمسایہ ہونگے۔ میں نے جو معلوم کرنا تھا وہ تیرا پسندیدہ عمل تھا۔ آج مجھے معلوم ہوگیا کہ تیرا پسندیدہ عمل کونسا تھا جو آپ کے میرے ساتھ جنت میں ہمسایہ ہونے کا سبب ہے۔
التماس دعا؛ سید سجاد حسین ھمدانی
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
📚 کشکول ممتاز، ص168۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ ماں، باپ کے بارے میں مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
⭕ ماں کی ناراضگی کا اثر
https://t.me/islamwitheman/331
⭕ عمل کا ردعمل
https://t.me/islamwitheman/333
🔷 اولڈ ایج ہوم
https://t.me/islamwitheman/97
🔷 ساس اور بہو
https://t.me/islamwitheman/199
🔷 ماں اور باپ
https://t.me/islamwitheman/330
🔷 سیب کا درخت
https://t.me/islamwitheman/162
🔷 باپ کے جذبات
https://t.me/islamwitheman/58
🔷 باپ ٹھنڈی چھاؤں
https://t.me/islamwitheman/96
🔷 باپ کی پشت پناہی
https://t.me/islamwitheman/332
🔷 جیسا کرو گے ویسا بھرو گے
https://t.me/islamwitheman/117
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
حضرت موسٰیؑ اپنے رب سے محوِ مناجات تھے کہ دل میں خیال گزرا، جنت میں میرا ہمسایہ کون ہوگا لہذا عرض کیا؛
پروردگار، اے رب ذوالجلال! کیا مجھے یہ خبر دی جا سکتی ہے کہ جنت میں میرا ہمسایہ کون ہوگا اور کیا میں اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہوں؟
ارشاد ہوا۔۔
فلاں شہر کے فلاں محلہ میں ایک قصاب رہتا ہے، جا کر اس سے ملو۔
حضرت موسٰیؑ بڑے شوق سے اس قصائی کی دکان کی جانب روانہ ہوئے۔ جونہی اس پر نظر پڑی تو بہت خوش ہوئے۔ وہ اس خیال سے اس کے پاس خاموشی سے بیٹھ گئے کہ کیا ہی خوب ہو کہ میں اس شخص کے اعمال و کردار کا بغور جائزہ لوں۔ شاید مجھے اس کی سیرت سے وہ خاص عمل معلوم ہوسکے جو اس قدر بارگاہ ایزدی میں مقبول و پسندیدہ ہے کہ یقینی بہشتی ہونے اور میرے ہمسایہ ہونے کا باعث ہے۔ ایسا کونسا منفرد عمل اس شخص کا خداوندمتعال کو پسند ہے جسکی وجہ سے اتنے بلند مرتبہ و مقام پر فائز ہے۔
کافی وقت اس کی دکان پر گزارنے کے باوجود بھی حضرت موسٰیؑ اس کے ایسے راز سے آگاہ نہ ہوسکے جو اس شخص کا خاص عمل شمار ہوتا۔ بس وہی گوشت فروشی اور لین دین کا سلسلہ جاری رہا۔ اور بس۔
سر شام دکان کا دروازہ بند کر کے جب قصاب اپنے گھر کو روانہ ہونے لگا تو حضرت موسٰیؑ نے اپنا تعارف کروائے بغیر اس جوان سے درخواست کی کہ مجھے آج کی شب اپنا مہمان بنا لیں۔ اس نے آپ کی درخواست پر آپ کو اپنا مہمان بنانے پر آمادگی ظاہر کی، گھر میں لے جاکر ٹھہرایا۔
مہمان نوازی کے رسوم و آداب سے فراغت کے بعد گھر کی چھت کے ساتھ آویزاں ایک ٹوکری کی رسی کھولی اور آہستہ آہستہ اس رسی کو پکڑ کر ٹوکری کو نیچے اتارنا شروع کیا۔ جب ٹوکری سامنے آئی تو حضرت موسٰیؑ نے دیکھا اس میں گٹھڑی نما کپڑے میں بندھی ہوئی ایک بوڑھی مستور تھی۔ اور جوان ایک رقیق شوربا قسم کی خوراک کا پیالہ لایا اور آہستہ آہستہ چمچ کے ساتھ اس بڑھیا کو کھلانا شروع کردیا۔
وہ بڑھیا کبھی کبھی آسمان کی طرف دیکھتی اور اس کے لب حرکت کرتے اور کچھ بولتی لیکن اس کی باتوں کی کوئی سمجھ نہیں آرہی تھی۔
اس بڑھیا کی خدمت سے فارغ ہوکر قصائی جوان نے اپنے مہمان کی مزید خدمت گزاری کے فرائض انجام دیئے اور اجازت چاہی اور جاکر سوگیا۔ مہمان و میزبان دونوں محو آرام ہوئے۔
صبح ہوتے ہی قصائی جوان نے پھر مہمان اور بڑھیا کی خدمت کے فرائض انجام دیئے۔ پھر اس بڑھیا کو اسی ٹوکری میں ڈال کر گھر کی چھت سے آویزاں کردیا۔ اور مہمان کو ساتھ لے کر دکان کی جانب روانہ ہوا۔
حضرت موسٰیؑ نے دوران راہ اس جوان سے پوچھا؛
یہ بڑھیا کون تھی؟
جوان نے جواب دیا؛
یہ میری والدہ تھیں۔
حضرت موسٰیؑ نے پوچھا؛
تو نے کیوں اپنی والدہ کو ٹوکری میں ڈال کر چھت سے لٹکا دیا؟
جوان نے جواب دیا؛
گھر میں صرف میں اور میری والدہ رہتے ہیں۔ کوئی دیکھ بھال کے لئے موجود نہیں۔ مجھے خوف تھا کہ کوئی حیوان اسے تکلیف نہ پہنچائے۔ اس لئے محفوظ جگہ پر رکھ دیا۔
حضرت موسٰیؑ نے پوچھا؛
جب تو اپنی والدہ کو غذا کھلا رہا تھا، تیری والدہ آسمان کی طرف منہ کر کے کیا کہتی تھی۔
جوان نے بتایا؛
وہ دعا کر رہی تھیں اور کہتی تھیں "خدایا میرے بیٹے کو روز قیامت حضرت موسٰیؑ کے ساتھ محشور فرما"
حضرت موسٰیؑ نے فرمایا؛
تجھے خوشخبری ہو کہ تیری والدہ کی دعا قبول ہوگئی ہے۔ کل سے تیرا مہمان بننے والا شخص میں موسٰی ہوں۔ میں نے خداوندمتعال سے درخواست کی تھی کہ مجھے میرے بہشتی ہمسایہ کی خبر دے۔ ادھر مجھے معلوم ہوا کہ آپ میرے ہمسایہ ہونگے۔ میں نے جو معلوم کرنا تھا وہ تیرا پسندیدہ عمل تھا۔ آج مجھے معلوم ہوگیا کہ تیرا پسندیدہ عمل کونسا تھا جو آپ کے میرے ساتھ جنت میں ہمسایہ ہونے کا سبب ہے۔
التماس دعا؛ سید سجاد حسین ھمدانی
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
📚 کشکول ممتاز، ص168۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ ماں، باپ کے بارے میں مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
⭕ ماں کی ناراضگی کا اثر
https://t.me/islamwitheman/331
⭕ عمل کا ردعمل
https://t.me/islamwitheman/333
🔷 اولڈ ایج ہوم
https://t.me/islamwitheman/97
🔷 ساس اور بہو
https://t.me/islamwitheman/199
🔷 ماں اور باپ
https://t.me/islamwitheman/330
🔷 سیب کا درخت
https://t.me/islamwitheman/162
🔷 باپ کے جذبات
https://t.me/islamwitheman/58
🔷 باپ ٹھنڈی چھاؤں
https://t.me/islamwitheman/96
🔷 باپ کی پشت پناہی
https://t.me/islamwitheman/332
🔷 جیسا کرو گے ویسا بھرو گے
https://t.me/islamwitheman/117
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
⭕ ماں کی ناراضگی کا اثر ⭕
سعید بن یسار سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے امام جعفر صادقؑ سے سُنا کہ آپ نے فرمایا:
ایک جوان حالتِ احتضار میں تھا کہ پیغمبرِ اکرمؐ اس کے پاس حاضر ہوئے اور آپؐ نے اس سے فرمایا:
کہو ''لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ''
لیکن اس کی زبان…
سعید بن یسار سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے امام جعفر صادقؑ سے سُنا کہ آپ نے فرمایا:
ایک جوان حالتِ احتضار میں تھا کہ پیغمبرِ اکرمؐ اس کے پاس حاضر ہوئے اور آپؐ نے اس سے فرمایا:
کہو ''لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ''
لیکن اس کی زبان…
🌹 مُحبانِ اہلبیتؑ کو نصیحت 🌹
عمرو بن سعید بن بلال سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت ہماری ایک جماعت تھی۔ آپ نے فرمایا: تم معتدل بن جاؤ یعنی میانہ روی اختیار کرو کہ اس سے آگے بڑھ جانے والا تمہاری طرف پلٹ آئیگا اور پیچھے رہ جانے والا تم سے ملحق ہوجائے گا اور اے آل محمد کے شیعو! یہ جان لو کہ ہمارے اور خدا کے درمیان کوئی رشتہ داری نہیں ہے اور نہ ہی خدا کے اوپر ہماری کوئی حجت ہے اور اطاعت کے علاوه کسی اور چیز کے ذریعہ خدا کا تقرب حاصل نہیں کیا جاسکتا پھر جو خدا کا مطیع وفرمانبردار ہوگا اس کو ہماری ولایت سے فائده پہنچے گا لیکن جو عاصی اور نافرمان ہوگا اس کو ہماری ولایت سے کوئی فائده نہیں ہوگا اس کے بعد ہماری طرف مخاطب ہوۓ اور فرمایا: دھوکا نہ دو اور افتراء پردازی نہ کرو۔
📚 بحارالانوار ج ٦٨ ص ١٧٨،
حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: خدا سے ڈرو! تمہيں کوئی دھوکا نہ دے اور کوئی شخص تمہیں جھٹلائے نہ دے۔ کیونکہ میرا دین وہی ہے جو آدم کا دین تھا جس کو خدا نے پسند کیا ہے اور میں بندہ و مخلوق ہوں خدا کی مشیت کے علاوه میں اپنے نفع و نقصان کا بھی مالک نہیں ہوں اور میں وہی چاہتا ہوں جو خدا چاہتا ہے۔
📚 بحارالانوار ج ٦٨ ص ٨٩۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
🔷 حقیقی شیعوں کے آثار
https://t.me/islamwitheman/378
🔷 شیعانِ علی علیہ السلام
https://t.me/islamwitheman/17
💝 اسلام کی بنیاد محبتِ اہلبیتؑ
https://t.me/islamwitheman/476
🔷 بُغضِ اہلبیتؑ کے اثرات
https://t.me/islamwitheman/450
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
عمرو بن سعید بن بلال سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت ہماری ایک جماعت تھی۔ آپ نے فرمایا: تم معتدل بن جاؤ یعنی میانہ روی اختیار کرو کہ اس سے آگے بڑھ جانے والا تمہاری طرف پلٹ آئیگا اور پیچھے رہ جانے والا تم سے ملحق ہوجائے گا اور اے آل محمد کے شیعو! یہ جان لو کہ ہمارے اور خدا کے درمیان کوئی رشتہ داری نہیں ہے اور نہ ہی خدا کے اوپر ہماری کوئی حجت ہے اور اطاعت کے علاوه کسی اور چیز کے ذریعہ خدا کا تقرب حاصل نہیں کیا جاسکتا پھر جو خدا کا مطیع وفرمانبردار ہوگا اس کو ہماری ولایت سے فائده پہنچے گا لیکن جو عاصی اور نافرمان ہوگا اس کو ہماری ولایت سے کوئی فائده نہیں ہوگا اس کے بعد ہماری طرف مخاطب ہوۓ اور فرمایا: دھوکا نہ دو اور افتراء پردازی نہ کرو۔
📚 بحارالانوار ج ٦٨ ص ١٧٨،
حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: خدا سے ڈرو! تمہيں کوئی دھوکا نہ دے اور کوئی شخص تمہیں جھٹلائے نہ دے۔ کیونکہ میرا دین وہی ہے جو آدم کا دین تھا جس کو خدا نے پسند کیا ہے اور میں بندہ و مخلوق ہوں خدا کی مشیت کے علاوه میں اپنے نفع و نقصان کا بھی مالک نہیں ہوں اور میں وہی چاہتا ہوں جو خدا چاہتا ہے۔
📚 بحارالانوار ج ٦٨ ص ٨٩۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔
🔷 حقیقی شیعوں کے آثار
https://t.me/islamwitheman/378
🔷 شیعانِ علی علیہ السلام
https://t.me/islamwitheman/17
💝 اسلام کی بنیاد محبتِ اہلبیتؑ
https://t.me/islamwitheman/476
🔷 بُغضِ اہلبیتؑ کے اثرات
https://t.me/islamwitheman/450
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 حقیقی شیعوں کے آثار 🔷
"أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ هَاشِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَعْيَنَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِؑ قَالَ كَانَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِؑ قَاعِداً فِي…
"أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ هَاشِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَعْيَنَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِؑ قَالَ كَانَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِؑ قَاعِداً فِي…
🌲 توکل علی اللہ 🌲
راستہ چلنے والا اگرچہ سینکڑوں ہنر رکھتا ہو پھر بھی توکل ضروری ہے۔ اپنے جبار خدا پر بھروسہ کرو تاکہ مراد تک پہنچو۔
● ارشادِ باری تعالٰی ہے۔۔
إذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ إنَّ الله یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِینَ۔
جب کسی عمل کا ارادہ کرو تو اللہ تعالٰی پر توکل کرو کیونکہ خداوندمتعال اپنے اوپر بھروسہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔(1)
● خدا تعالٰی فرماتا ہے۔۔
وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ فَھُوَ حَسْبُہُ۔
اور جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے۔ اللہ اسے کافی ہوتا ہے۔(2)
● رسول اکرمؐ فرماتے ہیں۔۔
مَنْ سَرَّہُ اَنْ یَّکُوْنَ اَقْوَی النَّاسِ فَلْیَتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ۔
جو چاہتا ہو کہ سب لوگوں سے طاقتور ہو، خدا پر بھروسہ کرے۔(3)
■ حضرت ابراہیمؑ کا توکل
جب بت پرستوں نے حضرت ابراہیمؑ سے اپنے بتوں کو توڑنے کا انتقام لینے کے لئے منجیق میں ڈالا اور ہوا میں اچھال کر دہکتی ہوئی بلند شعلہ آگ کے سمندر میں پھینک دیا، آسمان و زمین کے درمیان آگ میں اترنے کے سفر کے دوران مقرب فرشتہ آپ کے سامنے ظاہر ہوا اور پوچھا:
اے خلیل خدا! کوئی حاجت ہو تو بتاؤ، میں فوری طور پر آپ کے لئے انجام دے سکتا ہوں۔
حضرت ابراہیمؑ نے فرمایا؛
مجھے آپ سے کوئی حاجت نہیں ہے۔ مجھے صرف بے نیاز خدا سے حاجت ہے۔ میرے سب راز اس پر عیاں ہیں اور اس سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ خود بہتر جانتا ہے کہ اپنے ضرورت مند بندے کے لئے کیا کرے۔ اسی اثنا میں حکمِ خدا سے آگ گل و ریحان میں بدل گئی۔ اور باعثِ سلامتی قرار پائی۔(4)
■ بہترین سرپرست
ایک دن حضرت عزرائیلؑ ملک الموت حضرت موسٰیؑ کے پاس آئے جب حضرت موسٰیؑ نے انہیں دیکھا تو پوچھا کیسے آنا ہوا؟ ملاقات کے لئے آئے ہو یا قبضِ روح کے لئے آئے ہو۔؟
ملک الموت نے کہا؛
قبضِ روح کے لئے آیا ہوں۔
حضرت موسٰیؑ نے والدہ اور خاندان کے باقی افراد سے الوداع کے لئے مہلت چاہی۔ بیوی بچوں سے آخری ملاقات کر لوں۔
ملک الموت نے فرمایا؛
مجھے اس کا اختیار اور اجازت نہیں ہے۔
حضرت موسٰیؑ نے فرمایا؛
اچھا تو پھر ایک سجدہ کرنے کی مہلت دے دو۔
جس کی مہلت مل گئی اور حضرت موسٰیؑ سجدے میں چلے گئے۔ سجدے میں جاکر دعا کی۔۔
خدایا! ملک الموت کو حکم فرما کہ مجھے والدہ اور اہل و عیال سے الوداع کے لئے جانے دیں۔
خداوندمتعال نے حضرت عزرائیلؑ کو حکم دیا کہ موسٰیؑ کی روح کے قبض کو مؤخر کردے۔
حضرت موسٰیؑ اپنی والدہ کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا:
والدہ گرامی مجھے معاف کر دیں، میں ایک سفر پر جا رہا ہوں۔
ماں نے پوچھا؛
کونسا سفر۔؟
حضرت موسٰیؑ نے جواب دیا؛
سفرِ آخرت پر۔
ماں نے رونا شروع کر دیا اور حضرت موسٰیؑ نے الوداعی بازو والدہ کے گلے میں ڈال دیے۔ ماں سے جدا ہوکر اپنی بیوی اور بچوں کے پاس گئے۔ حضرت موسٰیؑ کا ایک چھوٹا بچہ تھا جس سے آپؑ کو زیادہ ہی محبت تھی۔ بچے نے حضرت موسٰیؑ کے پیراہن کا دامن پکڑ لیا اور زاروقطار رونے لگا۔ حضرت موسٰیؑ بھی سخت متأثر ہوئے، آپ سے بھی رہا نہ گیا۔ آپ بھی گریہ کرنے لگے۔
خداوندمتعال کی طرف سے خطاب ہوا؛
موسٰیؑ جو آپ ہماری ملاقات کے لئے ہمارے پاس آ رہے ہو تو رونا کس لئے؟
حضرت موسٰیؑ نے عرض کیا؛
پروردگار عالم مجھے اپنے بچوں کے لئے رونا آرہا ہے کیونکہ مجھے اپنے بچوں سے بہت زیادہ محبت ہے۔
خطابِ خداوندی آیا؛
موسٰیؑ ذرا اپنا عصا دریا میں مارو۔
حضرت موسٰیؑ نے عصا مارا۔ دریا پھٹ گیا ایک سفید پتھر نظر آیا جس میں سے ایک کمزور کیڑا پتھر کے اندر بیٹھا ہوا دیکھا جس کے منہ میں سبز پتا تھا اور وہ اسے چبانے میں مشغول تھا۔
خداوندمتعال نے حضرت موسٰیؑ سے خطاب فرمایا؛
موسٰی اس دریا کی تہہ اور اس پتھر کے اندر اس کمزور سے کیڑے کو نہیں بھولتا ہوں تو کیا تیرے بچوں کو بھول جاؤں گا۔؟ اطمینانِ خاطر سے چلے آؤ کہ میں ان کا بہترین نگہبان ہوں۔
حضرت موسٰیؑ نے عزرائیلؑ سے فرمایا؛
اپنے کام کو انجام دو اور پھر آپ کی روح قبض ہوگئی۔(5)
🌹 آگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
✍ سید سجاد حسین ھمدانی
📚حوالہ جات:
1)سورہ آل عمران، آیت159۔
2)سورہ طلاق، آیت3۔
3)میزان الحکمۃ:22645۔
4)نشان از بے نشان ہا، ج1، ص434۔
5)داستانہائے وپندہا، ج4، ص137 تا 139۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
راستہ چلنے والا اگرچہ سینکڑوں ہنر رکھتا ہو پھر بھی توکل ضروری ہے۔ اپنے جبار خدا پر بھروسہ کرو تاکہ مراد تک پہنچو۔
● ارشادِ باری تعالٰی ہے۔۔
إذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ إنَّ الله یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِینَ۔
جب کسی عمل کا ارادہ کرو تو اللہ تعالٰی پر توکل کرو کیونکہ خداوندمتعال اپنے اوپر بھروسہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔(1)
● خدا تعالٰی فرماتا ہے۔۔
وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ فَھُوَ حَسْبُہُ۔
اور جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے۔ اللہ اسے کافی ہوتا ہے۔(2)
● رسول اکرمؐ فرماتے ہیں۔۔
مَنْ سَرَّہُ اَنْ یَّکُوْنَ اَقْوَی النَّاسِ فَلْیَتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ۔
جو چاہتا ہو کہ سب لوگوں سے طاقتور ہو، خدا پر بھروسہ کرے۔(3)
■ حضرت ابراہیمؑ کا توکل
جب بت پرستوں نے حضرت ابراہیمؑ سے اپنے بتوں کو توڑنے کا انتقام لینے کے لئے منجیق میں ڈالا اور ہوا میں اچھال کر دہکتی ہوئی بلند شعلہ آگ کے سمندر میں پھینک دیا، آسمان و زمین کے درمیان آگ میں اترنے کے سفر کے دوران مقرب فرشتہ آپ کے سامنے ظاہر ہوا اور پوچھا:
اے خلیل خدا! کوئی حاجت ہو تو بتاؤ، میں فوری طور پر آپ کے لئے انجام دے سکتا ہوں۔
حضرت ابراہیمؑ نے فرمایا؛
مجھے آپ سے کوئی حاجت نہیں ہے۔ مجھے صرف بے نیاز خدا سے حاجت ہے۔ میرے سب راز اس پر عیاں ہیں اور اس سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ خود بہتر جانتا ہے کہ اپنے ضرورت مند بندے کے لئے کیا کرے۔ اسی اثنا میں حکمِ خدا سے آگ گل و ریحان میں بدل گئی۔ اور باعثِ سلامتی قرار پائی۔(4)
■ بہترین سرپرست
ایک دن حضرت عزرائیلؑ ملک الموت حضرت موسٰیؑ کے پاس آئے جب حضرت موسٰیؑ نے انہیں دیکھا تو پوچھا کیسے آنا ہوا؟ ملاقات کے لئے آئے ہو یا قبضِ روح کے لئے آئے ہو۔؟
ملک الموت نے کہا؛
قبضِ روح کے لئے آیا ہوں۔
حضرت موسٰیؑ نے والدہ اور خاندان کے باقی افراد سے الوداع کے لئے مہلت چاہی۔ بیوی بچوں سے آخری ملاقات کر لوں۔
ملک الموت نے فرمایا؛
مجھے اس کا اختیار اور اجازت نہیں ہے۔
حضرت موسٰیؑ نے فرمایا؛
اچھا تو پھر ایک سجدہ کرنے کی مہلت دے دو۔
جس کی مہلت مل گئی اور حضرت موسٰیؑ سجدے میں چلے گئے۔ سجدے میں جاکر دعا کی۔۔
خدایا! ملک الموت کو حکم فرما کہ مجھے والدہ اور اہل و عیال سے الوداع کے لئے جانے دیں۔
خداوندمتعال نے حضرت عزرائیلؑ کو حکم دیا کہ موسٰیؑ کی روح کے قبض کو مؤخر کردے۔
حضرت موسٰیؑ اپنی والدہ کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا:
والدہ گرامی مجھے معاف کر دیں، میں ایک سفر پر جا رہا ہوں۔
ماں نے پوچھا؛
کونسا سفر۔؟
حضرت موسٰیؑ نے جواب دیا؛
سفرِ آخرت پر۔
ماں نے رونا شروع کر دیا اور حضرت موسٰیؑ نے الوداعی بازو والدہ کے گلے میں ڈال دیے۔ ماں سے جدا ہوکر اپنی بیوی اور بچوں کے پاس گئے۔ حضرت موسٰیؑ کا ایک چھوٹا بچہ تھا جس سے آپؑ کو زیادہ ہی محبت تھی۔ بچے نے حضرت موسٰیؑ کے پیراہن کا دامن پکڑ لیا اور زاروقطار رونے لگا۔ حضرت موسٰیؑ بھی سخت متأثر ہوئے، آپ سے بھی رہا نہ گیا۔ آپ بھی گریہ کرنے لگے۔
خداوندمتعال کی طرف سے خطاب ہوا؛
موسٰیؑ جو آپ ہماری ملاقات کے لئے ہمارے پاس آ رہے ہو تو رونا کس لئے؟
حضرت موسٰیؑ نے عرض کیا؛
پروردگار عالم مجھے اپنے بچوں کے لئے رونا آرہا ہے کیونکہ مجھے اپنے بچوں سے بہت زیادہ محبت ہے۔
خطابِ خداوندی آیا؛
موسٰیؑ ذرا اپنا عصا دریا میں مارو۔
حضرت موسٰیؑ نے عصا مارا۔ دریا پھٹ گیا ایک سفید پتھر نظر آیا جس میں سے ایک کمزور کیڑا پتھر کے اندر بیٹھا ہوا دیکھا جس کے منہ میں سبز پتا تھا اور وہ اسے چبانے میں مشغول تھا۔
خداوندمتعال نے حضرت موسٰیؑ سے خطاب فرمایا؛
موسٰی اس دریا کی تہہ اور اس پتھر کے اندر اس کمزور سے کیڑے کو نہیں بھولتا ہوں تو کیا تیرے بچوں کو بھول جاؤں گا۔؟ اطمینانِ خاطر سے چلے آؤ کہ میں ان کا بہترین نگہبان ہوں۔
حضرت موسٰیؑ نے عزرائیلؑ سے فرمایا؛
اپنے کام کو انجام دو اور پھر آپ کی روح قبض ہوگئی۔(5)
🌹 آگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
✍ سید سجاد حسین ھمدانی
📚حوالہ جات:
1)سورہ آل عمران، آیت159۔
2)سورہ طلاق، آیت3۔
3)میزان الحکمۃ:22645۔
4)نشان از بے نشان ہا، ج1، ص434۔
5)داستانہائے وپندہا، ج4، ص137 تا 139۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
✨ جبرئیل کی تمنا ✨
💢 قال رسول الله (صلی الله علیه و آله و سلم) یَا عَلِیُّ!
✍ تمَنَّی جَبْرئِیلُ اَنْ یَکُونَ مِنْ بَنِی آدَمَ بِسَبْعِ خِصَالٍ وَ هِیَ:
♨ الصَّلَوه فِی الْجَمَاعَه وَ مُجَالَسَتُهُ الْعُلَمَاءَ وَ الصُّلْحُ بَیْنَ الاِثْنَیْنِ
♨ و اِکْرَامُ الْیَتِیمِ وَ عِیَاده الْمَرِیضِ وَ تَشْیِیعُ الْجَنَازه
♨ و سَْقیُ الْمَاءِ فِی الْحَجِّ
☀ فاحْرُصْ عَلَی ذَلِکَ
💢 پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا:
✍ یاعلی! بنی آدم میں سات ایسی خصلتیں پائی جاتی ہیں جس کی وجہ سے جبرئیل کی بھی آرزو ہے کہ وہ بنی آدم میں سے ہوتا:
♨ نماز جماعت میں شرکت کرنا،
♨ علماء کے ساتھ نشست و برخاست،
♨ دو مومن بھائیوں کے درمیان صلح کرنا،
♨ یتیم سے کرم نوازی،
♨ مریض کی عیادت،
♨ تشییع جنازہ میں شرکت،
♨ حاجیوں کو پانی پلانا؛
☀یا علی تم ان امور کو انجام دینے میں زیادہ دلچسبی رکھو
📚 مواعظ العددیه، علی مشکینی، نشر الهادی، قم، ص195.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
💢 قال رسول الله (صلی الله علیه و آله و سلم) یَا عَلِیُّ!
✍ تمَنَّی جَبْرئِیلُ اَنْ یَکُونَ مِنْ بَنِی آدَمَ بِسَبْعِ خِصَالٍ وَ هِیَ:
♨ الصَّلَوه فِی الْجَمَاعَه وَ مُجَالَسَتُهُ الْعُلَمَاءَ وَ الصُّلْحُ بَیْنَ الاِثْنَیْنِ
♨ و اِکْرَامُ الْیَتِیمِ وَ عِیَاده الْمَرِیضِ وَ تَشْیِیعُ الْجَنَازه
♨ و سَْقیُ الْمَاءِ فِی الْحَجِّ
☀ فاحْرُصْ عَلَی ذَلِکَ
💢 پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا:
✍ یاعلی! بنی آدم میں سات ایسی خصلتیں پائی جاتی ہیں جس کی وجہ سے جبرئیل کی بھی آرزو ہے کہ وہ بنی آدم میں سے ہوتا:
♨ نماز جماعت میں شرکت کرنا،
♨ علماء کے ساتھ نشست و برخاست،
♨ دو مومن بھائیوں کے درمیان صلح کرنا،
♨ یتیم سے کرم نوازی،
♨ مریض کی عیادت،
♨ تشییع جنازہ میں شرکت،
♨ حاجیوں کو پانی پلانا؛
☀یا علی تم ان امور کو انجام دینے میں زیادہ دلچسبی رکھو
📚 مواعظ العددیه، علی مشکینی، نشر الهادی، قم، ص195.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 قیصر روم کا مسلمان ہونا 🔷
بادشاہ قیصر روم نے کسی عباسی خلیفہ کو لکھا۔ ہم نے انجیل میں پڑھا، جو شخص ایسی سورہ پڑھے جس میں (ث، ج، خ، ز، ش، ظ، ف) نہ ہوں خدا اس کے جسم کو جہنم سے حرام قرار دیتا ہے۔ ہم نے تورات، انجیل، زبور میں تلاش کیا ہمیں ایسی سورہ نہیں ملی، کیا تمہاری کتاب میں ایسی سورہ ہے۔
خلیفہ نے علماء اسلام کو اکٹھا کر کے سوال کو دھرایا کوئی جواب نہ دے سکا۔آخر میں امام علی نقی علیہ السلام سے پوچھا گیا۔۔
امام علی نقی علیہ السلام نے فرمایا؛
وہ سورہ حمد ہے۔ ان ساتوں حروفوں میں اس میں کوئی حرف نہیں۔
لوگوں نے پوچھا کیوں نہیں۔؟
امام علی نقیؑ نے فرمایا:
ث، ثثبور یعنی ہلاکت پر،
ج، جخیم یعنی جہنم پر،
خ، خبیث پر،
ز، زقوم یعنی تھوہڑ پر،
ش، شقاوت پر،
ظ، ظلمت یعنی تاریکی پر،
ف، فرقت یا آفت پر دلالت کرتا ہے، یہ سورہ رحمت ہے اس میں عذاب کا اشارہ نہیں ہے۔
قیصر روم نے جب اس سوال کا جواب سنا۔ وہ بہت متأثر ہوا اور مسلمان ہو گیا۔یہ امام علیہ السلام کی برکت سے ہوا۔
📚 کشکول(احمد قاضی زاہدی) ج١ ص٢٠٣۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
بادشاہ قیصر روم نے کسی عباسی خلیفہ کو لکھا۔ ہم نے انجیل میں پڑھا، جو شخص ایسی سورہ پڑھے جس میں (ث، ج، خ، ز، ش، ظ، ف) نہ ہوں خدا اس کے جسم کو جہنم سے حرام قرار دیتا ہے۔ ہم نے تورات، انجیل، زبور میں تلاش کیا ہمیں ایسی سورہ نہیں ملی، کیا تمہاری کتاب میں ایسی سورہ ہے۔
خلیفہ نے علماء اسلام کو اکٹھا کر کے سوال کو دھرایا کوئی جواب نہ دے سکا۔آخر میں امام علی نقی علیہ السلام سے پوچھا گیا۔۔
امام علی نقی علیہ السلام نے فرمایا؛
وہ سورہ حمد ہے۔ ان ساتوں حروفوں میں اس میں کوئی حرف نہیں۔
لوگوں نے پوچھا کیوں نہیں۔؟
امام علی نقیؑ نے فرمایا:
ث، ثثبور یعنی ہلاکت پر،
ج، جخیم یعنی جہنم پر،
خ، خبیث پر،
ز، زقوم یعنی تھوہڑ پر،
ش، شقاوت پر،
ظ، ظلمت یعنی تاریکی پر،
ف، فرقت یا آفت پر دلالت کرتا ہے، یہ سورہ رحمت ہے اس میں عذاب کا اشارہ نہیں ہے۔
قیصر روم نے جب اس سوال کا جواب سنا۔ وہ بہت متأثر ہوا اور مسلمان ہو گیا۔یہ امام علیہ السلام کی برکت سے ہوا۔
📚 کشکول(احمد قاضی زاہدی) ج١ ص٢٠٣۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌼 حقوق العباد 🌼
خداوندمتعال اپنے حقوق تو معاف فرما سکتا ہے لیکن اپنے بندوں کے حقوق سے درگزر نہیں فرماتا۔
●حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں۔۔
جَعَلَ الله حُقُوْقَ عِبَادِہِ مُقَدِّمَةً عَلٰی حُقُوْقِہِ۔
خداوندمتعال نے اپنے حقوق سے اپنے بندوں کے حقوق کو مقدم قرار دیا ہے۔(1)
●حضرت امام حسن عسکریؑ نے فرمایا؛
اَعْرَفُ النَّاسِ بِحُقُوْقِ اِخْوَانِہِ وَ اَشَدِّھِمْ قَضَآءً لَّھَا اَعْظَمُھُمْ عِنْدَاللهِ شَانًا۔
اپنے مومن بھائیوں کے حقوق کی معرفت رکھنے والوں اور انہیں ادا کرنے کی سختی سے پابندی کرنے والوں کی اللہ تعالٰی کے نزدیک بڑی شان ہے۔(2)
■مشکوک اموال
حضرت امام زین العابدینؑ کو احرام کی حالت میں کسی نے دیکھا کہ چہرے مبارک کا رنگ زرد تھا اور آپ بالکل خاموش، پریشان محسوس ہو رہے تھے۔ کسی نے آپ سے آپ کی اس حالت کے بارے میں دریافت کیا اور پوچھا؛
کیا وجہ ہے یہ دین کے رہنما آقائے دین ہیں لیکن تلبیہ کی آواز بھی ہمیں سنائی نہیں دے رہی۔
آپ نے جواب میں فرمایا؛
میں خداوندمتعال کی ہیبت سے گھبرایا ہوا ہوں اس بات کا خوف محسوس کر رہا ہوں، میں لبیک کہوں اور واپسی جواب آئے لالبیک ولاسعدیک۔
اور پھر وضاحت کے لئے بلا فاصلہ فرمایا؛
میں جانتا ہوں کہ اگر کوئی شخص مشکوک اموال کے ساتھ حج کرے تو اس کے لبیک کے جواب میں کہہ دیا جاتا ہے لالبیک ولاسعدیک۔ جاؤ پہلے لوگوں کے حقوق واپس کرو اور پھر ادھر آنا۔(3)
■خلال دندان
حضرت عیسٰیؑ نے ایک قبرستان سے گزرتے ہوئے ایک قبر والے کے زندہ ہونے کی دعا فرمائی۔
جب وہ شخص زندہ ہوکر برآمد ہوا۔ حضرت عیسٰیؑ نے اس سے قبر کی حالت کے بارے میں دریافت فرمایا۔ اس نے بتایا۔۔
میں اونٹوں پر مال برداری کا کام کرتا تھا۔ ایک بار میں نے کسی شخص کا ایندھن لے جانا تھا راستے میں میں نے اپنے دانتوں کو صاف کرنے کے لیے ایندھن سے خلال (ایک تیلا) توڑا تھا اور اپنے دانتوں کا خلال کیا تھا۔ موت کے وقت سے لے کر اسی خلال کی سزا کا عذاب ہو رہا ہے۔(4)
📚 حوالہ جات:
1)میزان الحکمۃ:4150۔
2)میزان الحکمۃ:1454۔
3)موضوعی داستانیں، ص125۔
4)موضوعی داستانیں، ص126۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
خداوندمتعال اپنے حقوق تو معاف فرما سکتا ہے لیکن اپنے بندوں کے حقوق سے درگزر نہیں فرماتا۔
●حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں۔۔
جَعَلَ الله حُقُوْقَ عِبَادِہِ مُقَدِّمَةً عَلٰی حُقُوْقِہِ۔
خداوندمتعال نے اپنے حقوق سے اپنے بندوں کے حقوق کو مقدم قرار دیا ہے۔(1)
●حضرت امام حسن عسکریؑ نے فرمایا؛
اَعْرَفُ النَّاسِ بِحُقُوْقِ اِخْوَانِہِ وَ اَشَدِّھِمْ قَضَآءً لَّھَا اَعْظَمُھُمْ عِنْدَاللهِ شَانًا۔
اپنے مومن بھائیوں کے حقوق کی معرفت رکھنے والوں اور انہیں ادا کرنے کی سختی سے پابندی کرنے والوں کی اللہ تعالٰی کے نزدیک بڑی شان ہے۔(2)
■مشکوک اموال
حضرت امام زین العابدینؑ کو احرام کی حالت میں کسی نے دیکھا کہ چہرے مبارک کا رنگ زرد تھا اور آپ بالکل خاموش، پریشان محسوس ہو رہے تھے۔ کسی نے آپ سے آپ کی اس حالت کے بارے میں دریافت کیا اور پوچھا؛
کیا وجہ ہے یہ دین کے رہنما آقائے دین ہیں لیکن تلبیہ کی آواز بھی ہمیں سنائی نہیں دے رہی۔
آپ نے جواب میں فرمایا؛
میں خداوندمتعال کی ہیبت سے گھبرایا ہوا ہوں اس بات کا خوف محسوس کر رہا ہوں، میں لبیک کہوں اور واپسی جواب آئے لالبیک ولاسعدیک۔
اور پھر وضاحت کے لئے بلا فاصلہ فرمایا؛
میں جانتا ہوں کہ اگر کوئی شخص مشکوک اموال کے ساتھ حج کرے تو اس کے لبیک کے جواب میں کہہ دیا جاتا ہے لالبیک ولاسعدیک۔ جاؤ پہلے لوگوں کے حقوق واپس کرو اور پھر ادھر آنا۔(3)
■خلال دندان
حضرت عیسٰیؑ نے ایک قبرستان سے گزرتے ہوئے ایک قبر والے کے زندہ ہونے کی دعا فرمائی۔
جب وہ شخص زندہ ہوکر برآمد ہوا۔ حضرت عیسٰیؑ نے اس سے قبر کی حالت کے بارے میں دریافت فرمایا۔ اس نے بتایا۔۔
میں اونٹوں پر مال برداری کا کام کرتا تھا۔ ایک بار میں نے کسی شخص کا ایندھن لے جانا تھا راستے میں میں نے اپنے دانتوں کو صاف کرنے کے لیے ایندھن سے خلال (ایک تیلا) توڑا تھا اور اپنے دانتوں کا خلال کیا تھا۔ موت کے وقت سے لے کر اسی خلال کی سزا کا عذاب ہو رہا ہے۔(4)
📚 حوالہ جات:
1)میزان الحکمۃ:4150۔
2)میزان الحکمۃ:1454۔
3)موضوعی داستانیں، ص125۔
4)موضوعی داستانیں، ص126۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌻 ماں 🌻
شوہر کے گھر میں داخل ہوتے ہی
بیوی کا غصہ پھوٹ پڑا۔۔
سارا دن کہاں رہے؟ آفس میں پتہ كيا، وہاں بھی نہیں پہنچے! معاملہ کیا ہے؟
"وہ۔۔۔ وہ ... میں ..."
شوہر کی هكلاهٹ پر جھلاتے ہوئے بیوی پھر برسی، بولتے نہیں؟ کہاں چلے گئے تھے یہ گندا باکس اور کپڑوں کی پوٹلی کس کی اٹھا لائے؟
وہ میں ماں کو لانے گاؤں چلا گیا تھا.
شوہر تھوڑی ہمت کر کے بولا۔
کیا کہا؟ آپ ماں کو یہاں لے آئے؟ شرم نہیں آئی تمہیں؟
تمہارے بھائیوں کے پاس انہیں کیا تکلیف ہے؟
چراغ پا تھی بیوی!
اس نے پاس کھڑی پھٹی ہوئی سفید ساڑھی سے آنکھیں پونچھتی بیمار بوڑھی کی طرف دیکھا تک نہیں۔
انہیں میرے بھائیوں کے پاس نہیں چھوڑا جا سکتا تم سمجھ کیوں نہیں رہی.
شوہر نے دبی زبان سے کہا.
کیوں، یہاں کوئی کبیر کا خزانہ رکھا ہے؟ تمہاری چند ہزار روپلی کی تنخواہ میں بچوں کی پڑھائی اور گھر خرچ کس طرح چلا رہی ہوں، میں ہی جانتی ہوں!
بیوی کا لہجہ اتنا ہی شدید تھا
اب یہ ہمارے پاس ہی رہے گی شوہر نے سختی سے پیروی کی۔
میں کہتی ہوں، انہیں اسی وقت واپس چھوڑ کر آؤ. ورنہ میں اس گھر میں ایک لمحہ بھی نہیں رہوں گی اور ان مہارانی جی کو بھی یہاں آتے ذرا سی بھی شرم نہیں آئی؟
کہہ کر بیوی نے بوڑھی عورت کی طرف دیکھا، تو پاؤں تلے سے زمین ہی سرک گئی!
جھیپتے ہوئے بیوی بولی: "ماں، تم؟"
ہاں بیٹی! تمہارے بھائی اور بھابھی نے مجھے گھر سے نکال دیا. داماد جی کو فون كيا تو یہ مجھے یہاں لے آئے.
بڑھیا نے کہا، تو بیوی نے چہکتی نظروں سے شوہر کی طرف دیکھا اور بولی:
آپ بھی بڑے وہ ہو، ڈارلنگ! پہلے کیوں نہیں بتایا کہ میری ماں کو لانے گئے تھے؟
🔘 اس میسج کو اتنا شیئر کرو کہ ہر عورت تک پہنچ سکے!
کہ ماں تو ماں ہوتی ہے! کیا میری، کیا تیری؟
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/652
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
شوہر کے گھر میں داخل ہوتے ہی
بیوی کا غصہ پھوٹ پڑا۔۔
سارا دن کہاں رہے؟ آفس میں پتہ كيا، وہاں بھی نہیں پہنچے! معاملہ کیا ہے؟
"وہ۔۔۔ وہ ... میں ..."
شوہر کی هكلاهٹ پر جھلاتے ہوئے بیوی پھر برسی، بولتے نہیں؟ کہاں چلے گئے تھے یہ گندا باکس اور کپڑوں کی پوٹلی کس کی اٹھا لائے؟
وہ میں ماں کو لانے گاؤں چلا گیا تھا.
شوہر تھوڑی ہمت کر کے بولا۔
کیا کہا؟ آپ ماں کو یہاں لے آئے؟ شرم نہیں آئی تمہیں؟
تمہارے بھائیوں کے پاس انہیں کیا تکلیف ہے؟
چراغ پا تھی بیوی!
اس نے پاس کھڑی پھٹی ہوئی سفید ساڑھی سے آنکھیں پونچھتی بیمار بوڑھی کی طرف دیکھا تک نہیں۔
انہیں میرے بھائیوں کے پاس نہیں چھوڑا جا سکتا تم سمجھ کیوں نہیں رہی.
شوہر نے دبی زبان سے کہا.
کیوں، یہاں کوئی کبیر کا خزانہ رکھا ہے؟ تمہاری چند ہزار روپلی کی تنخواہ میں بچوں کی پڑھائی اور گھر خرچ کس طرح چلا رہی ہوں، میں ہی جانتی ہوں!
بیوی کا لہجہ اتنا ہی شدید تھا
اب یہ ہمارے پاس ہی رہے گی شوہر نے سختی سے پیروی کی۔
میں کہتی ہوں، انہیں اسی وقت واپس چھوڑ کر آؤ. ورنہ میں اس گھر میں ایک لمحہ بھی نہیں رہوں گی اور ان مہارانی جی کو بھی یہاں آتے ذرا سی بھی شرم نہیں آئی؟
کہہ کر بیوی نے بوڑھی عورت کی طرف دیکھا، تو پاؤں تلے سے زمین ہی سرک گئی!
جھیپتے ہوئے بیوی بولی: "ماں، تم؟"
ہاں بیٹی! تمہارے بھائی اور بھابھی نے مجھے گھر سے نکال دیا. داماد جی کو فون كيا تو یہ مجھے یہاں لے آئے.
بڑھیا نے کہا، تو بیوی نے چہکتی نظروں سے شوہر کی طرف دیکھا اور بولی:
آپ بھی بڑے وہ ہو، ڈارلنگ! پہلے کیوں نہیں بتایا کہ میری ماں کو لانے گئے تھے؟
🔘 اس میسج کو اتنا شیئر کرو کہ ہر عورت تک پہنچ سکے!
کہ ماں تو ماں ہوتی ہے! کیا میری، کیا تیری؟
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/652
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
💓حضرت موسٰیؑ کا بہشتی ہمسایہ💓
حضرت موسٰیؑ اپنے رب سے محوِ مناجات تھے کہ دل میں خیال گزرا، جنت میں میرا ہمسایہ کون ہوگا لہذا عرض کیا؛
پروردگار، اے رب ذوالجلال! کیا مجھے یہ خبر دی جا سکتی ہے کہ جنت میں میرا ہمسایہ کون ہوگا اور کیا میں اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ…
حضرت موسٰیؑ اپنے رب سے محوِ مناجات تھے کہ دل میں خیال گزرا، جنت میں میرا ہمسایہ کون ہوگا لہذا عرض کیا؛
پروردگار، اے رب ذوالجلال! کیا مجھے یہ خبر دی جا سکتی ہے کہ جنت میں میرا ہمسایہ کون ہوگا اور کیا میں اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ…
🔶 ہم نشینی 🔶
💦حضرت امام سجاد علیہ السلام اپنے فرزند ارجمند کو فرماتے ہیں: کوشش کرو پانچ آدمیوں کے ساتھ ہمنشینی نہ کرو.
آپ کے فرزند نے سوال کیا:
اے بابا جان وہ کونسے افراد ہیں؟
حضرت امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا:
1💧 - جھوٹے آدمی کے ساتھ ہمنشینی نہیں کرو، کیونکہ وہ دور سے آپ کو پانی کی طرح دیکھائی دے گا، لیکن اندر سے خراب ہے، وہ دور کو نزدیک اور نزدیک کو دور دیکھاتا ہے.
2 💧- وہ لوگ جو اللہ تعالی کی نافرمانی کرتے ہیں، ان کے ساتھ ہمنشینی نہیں کرو، کیونکہ وہ تمہیں ایک لقمہ سے بھی کم قیمت پر فروخت کر ڈالیں گے، اور اپنی صحیح زندگی کے لئے بیدار رہو.
3 💧- بخیل کے ساتھ ہمنشینی نہیں کرو، کیونکہ وہ تمہیں ذلیل اور خوار کرے گا، جب تم محتاج اور ضرورت مند ہو گے ، وہ تمہیں نہ مال، نہ زبان، کسی طرح سے بھی تمہاری مدد نہیں کرے گا.
4 💧- احمق کی دوستی سے اجتناب کرو، کیونکہ وہ تمہیں نفع پہنچانے کی کوشش کرے گا لیکن نقصان پہنچائے گا، کیونکہ وہ تشخیص دینے میں عاجز ہے، وہ اچھے اور برے کی تمیز نہیں کر سکتا.
5 💧- قطع رحم کرنے والے سے ہمنشینی نہیں کرو، کیونکہ وہ اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ صلہء رحمی نہیں کرتا اور ان کے ساتھ اچھائی نہیں کرتا، کیونکہ میں نے قرآن کریم میں قطع رحم کرنے والے شخص کو ملعون پایا ہے، اور ضروری ہے کہ ملعون شخص سے دوری اختیار کریں، تاکہ تم اس آگ میں مبتلا نہ ہو جاؤ.
📚 حوالہ:
بحارالانوار ج. 17.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
💦حضرت امام سجاد علیہ السلام اپنے فرزند ارجمند کو فرماتے ہیں: کوشش کرو پانچ آدمیوں کے ساتھ ہمنشینی نہ کرو.
آپ کے فرزند نے سوال کیا:
اے بابا جان وہ کونسے افراد ہیں؟
حضرت امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا:
1💧 - جھوٹے آدمی کے ساتھ ہمنشینی نہیں کرو، کیونکہ وہ دور سے آپ کو پانی کی طرح دیکھائی دے گا، لیکن اندر سے خراب ہے، وہ دور کو نزدیک اور نزدیک کو دور دیکھاتا ہے.
2 💧- وہ لوگ جو اللہ تعالی کی نافرمانی کرتے ہیں، ان کے ساتھ ہمنشینی نہیں کرو، کیونکہ وہ تمہیں ایک لقمہ سے بھی کم قیمت پر فروخت کر ڈالیں گے، اور اپنی صحیح زندگی کے لئے بیدار رہو.
3 💧- بخیل کے ساتھ ہمنشینی نہیں کرو، کیونکہ وہ تمہیں ذلیل اور خوار کرے گا، جب تم محتاج اور ضرورت مند ہو گے ، وہ تمہیں نہ مال، نہ زبان، کسی طرح سے بھی تمہاری مدد نہیں کرے گا.
4 💧- احمق کی دوستی سے اجتناب کرو، کیونکہ وہ تمہیں نفع پہنچانے کی کوشش کرے گا لیکن نقصان پہنچائے گا، کیونکہ وہ تشخیص دینے میں عاجز ہے، وہ اچھے اور برے کی تمیز نہیں کر سکتا.
5 💧- قطع رحم کرنے والے سے ہمنشینی نہیں کرو، کیونکہ وہ اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ صلہء رحمی نہیں کرتا اور ان کے ساتھ اچھائی نہیں کرتا، کیونکہ میں نے قرآن کریم میں قطع رحم کرنے والے شخص کو ملعون پایا ہے، اور ضروری ہے کہ ملعون شخص سے دوری اختیار کریں، تاکہ تم اس آگ میں مبتلا نہ ہو جاؤ.
📚 حوالہ:
بحارالانوار ج. 17.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 الله تعالٰی کی بخشش 🔷
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ایک شخص ایسا تھا جو اپنی توبہ پر کبھی ثابت قدم نہیں رہتا تھا۔ جب بھی وہ توبہ کرتا، اسے توڑ دیتا۔ یہاں تک کہ اسے اس حال میں بیس سال گزر گئے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی کہ میرے اس بندے سے کہہ دو میں تجھ سے سخت ناراض ہوں۔۔۔
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس آدمی کو اللہ کا پیغام دیا تو وہ بہت غمگین ہُوا اور جنگلوں کی طرف نکل گیا۔ اور وہاں جا کر اس گناہگار شخص نے ایسی خوبصورت دعا کی کہ اللہ تعالٰی کو دوبارہ وحی کرنا پڑی۔۔۔ اس شخص نے بارگاہِ ربّ العزت میں عرض کی۔۔
اے ربّ ذوالجلال! "تیری رحمت کم ہو گئی یا میرے گناہوں نے تجھے دُکھ دیا؟تیری بخشش کے خزانے ختم ہو گئے یا بندوں پر تیری نگاہِ کرم نہیں رہی؟ تیرے عفوودرگزر سے کونسا گناہ بڑا ہے؟ تُو کریم ہے، میں بخیل ہوں، کیا میرا بخل تیرے کرم پر غالب آ گیا ہے؟ اگر تُو نے اپنے بندوں کو اپنی رحمت سے محروم کر دیا تو وہ کس کے دروازے پر جائیں گے؟ اگر تُو نے دھتکار دیا تو وہ کہاں جائیں گے؟
اے ربِّ قادر و قہار! اگر تیری بخشش کم ہو گئی اور میرے لیے عذاب ہی رہ گیا ہے تو تمام گناہ گاروں کا عذاب مجھے دے دے میں اُن پر اپنی جان قربان کرتا ہوں۔"
اللّہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا؛ جاؤ اور میرے بندے سے کہدو کہ تُو نے میرے کمالِ قدرت اور عفو و درگزر کی حقیقت کو سمجھ لیا ہے۔ اگر تیرے گناہوں سے زمین بھر جائے تب بھی میں بخش دوں گا۔
📚 مُکاشِفۃُالقلُوب،ص170,171۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/646
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ایک شخص ایسا تھا جو اپنی توبہ پر کبھی ثابت قدم نہیں رہتا تھا۔ جب بھی وہ توبہ کرتا، اسے توڑ دیتا۔ یہاں تک کہ اسے اس حال میں بیس سال گزر گئے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی کہ میرے اس بندے سے کہہ دو میں تجھ سے سخت ناراض ہوں۔۔۔
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس آدمی کو اللہ کا پیغام دیا تو وہ بہت غمگین ہُوا اور جنگلوں کی طرف نکل گیا۔ اور وہاں جا کر اس گناہگار شخص نے ایسی خوبصورت دعا کی کہ اللہ تعالٰی کو دوبارہ وحی کرنا پڑی۔۔۔ اس شخص نے بارگاہِ ربّ العزت میں عرض کی۔۔
اے ربّ ذوالجلال! "تیری رحمت کم ہو گئی یا میرے گناہوں نے تجھے دُکھ دیا؟تیری بخشش کے خزانے ختم ہو گئے یا بندوں پر تیری نگاہِ کرم نہیں رہی؟ تیرے عفوودرگزر سے کونسا گناہ بڑا ہے؟ تُو کریم ہے، میں بخیل ہوں، کیا میرا بخل تیرے کرم پر غالب آ گیا ہے؟ اگر تُو نے اپنے بندوں کو اپنی رحمت سے محروم کر دیا تو وہ کس کے دروازے پر جائیں گے؟ اگر تُو نے دھتکار دیا تو وہ کہاں جائیں گے؟
اے ربِّ قادر و قہار! اگر تیری بخشش کم ہو گئی اور میرے لیے عذاب ہی رہ گیا ہے تو تمام گناہ گاروں کا عذاب مجھے دے دے میں اُن پر اپنی جان قربان کرتا ہوں۔"
اللّہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا؛ جاؤ اور میرے بندے سے کہدو کہ تُو نے میرے کمالِ قدرت اور عفو و درگزر کی حقیقت کو سمجھ لیا ہے۔ اگر تیرے گناہوں سے زمین بھر جائے تب بھی میں بخش دوں گا۔
📚 مُکاشِفۃُالقلُوب،ص170,171۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/646
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌲 خدا سے اُمید 🌲
خداوندمتعال کی معافی ہمارے گناہوں اور جرائم سے زیادہ ہے۔ ہمیشہ میری امیدیں خداوند ذوالجلال سے وابستہ ہیں کسی بھی شخص کو اپنے خالق لم یزل ولایزال سے ناامید نہیں ہونا چاہیے۔
●خداوندمتعال نے حضرت عیسٰیؑ سے فرمایا؛
"لا تَیْئَاسْ مِنْ رُوْحِی"…
خداوندمتعال کی معافی ہمارے گناہوں اور جرائم سے زیادہ ہے۔ ہمیشہ میری امیدیں خداوند ذوالجلال سے وابستہ ہیں کسی بھی شخص کو اپنے خالق لم یزل ولایزال سے ناامید نہیں ہونا چاہیے۔
●خداوندمتعال نے حضرت عیسٰیؑ سے فرمایا؛
"لا تَیْئَاسْ مِنْ رُوْحِی"…
🔷 وقت، وقت اور وقت 🔷
ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ 1 ﺭﻭﭘﮯ ﮐﯽ ﭘﺘﻨﮓ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ 2 ﮐﻠﻮﻣﯿﭩﺮ ﺗﮏ ﺑﮭﺎﮔﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﻛﺘﻨﯽ ﭼﻮﭨﯿﮟ ﻟﮕﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ ... ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﭘﺘﻨﮓ ﺑﮭﯽ ﮨﻤﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺩﻭﮌﺍﺗﯽ ﺗﮭﯽ ...
ﺁﺝ ﭘﺘﮧ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﮯ،
ﺩﺭﺍﺻﻞ ﻭﮦ ﭘﺘﻨﮓ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ؛
ﺍﯾﮏ ﭼﯿﻠﻨﺞ ﺗﮭﺎ ...
ﺧﻮﺷﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺩﻭﮌﻧﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ ... ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺧﻮﺷﯿﺎﮞ ﺩﮐﺎﻧﻮﮞ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯿﮟ ... ﺷﺎﯾﺪ ﯾﮩﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮨﮯ ... !!!
ﺟﺐ ﺑﭽﭙﻦ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺍﺏ ﺗﮭﺎ ... ﺟﺐ ﺟﻮﺍﻥ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻮ ﺑﭽﭙﻦ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﯾﺎﺩ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ... !!
ﺟﺐ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ، ﺁﺯﺍﺩﯼ ﺍﭼﮭﯽ ﻟﮕﺘﯽ ﺗﮭﯽ ... ﺁﺝ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮨﮯ، ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﮔﮭﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺟﻠﺪﯼ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ ... !!
ﺍﺳﮑﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﮭﮕﮍﮮ ﺗﮭﮯ، ﺁﺝ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮨﯽ ﺍﻧﭩﺮﻧﯿﭧ ﭘﮧ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ... !!
ﺧﻮﺷﯽ ﮐﺲ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﭘﺘﮧ ﺍﺏ ﭼﻼ ﮨﮯ ... ﺑﭽﭙﻦ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺍﺏ ﮨﻮﺍ ...
ﺟﺐ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﺮﭦ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﭼﮭﭙﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﮯ ﭘﮭﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺟﺎﺩﻭ ﺳﮯ ﻏﺎﺋﺐ ﮐﺮ ﺩﯾﮯ ۔۔۔
ﺟﺐ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﭼﺎﺭ ﺭﻧﮕﻮﮞ ﺳﮯ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺍﯾﮏ ﻗﻠﻢ ﮨﻮﺍ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺑﭩﻦ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﺑﺎﻧﮯ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ...
ﺟﺐ ﮨﻢ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﮭﭙﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﮈﺭﺍ ﺳﮑﯿﮟ ...
ﺟﺐ ﺁﻧﮑﮫ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ کے ﺳﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﮈﺭﺍﻣﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﮨﻤﯿﮟ ﮔﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﮯ ﺑﺴﺘﺮ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﮮ ...
ﺳﻮﭼﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ کہ ﯾﮧ ﭼﺎﻧﺪ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﭼﻞ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ...
ﻓﺮﯾﺞ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺳﮯ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﮐﮯ ﯾﮧ ﺟﺎﻧﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ کہ ﺍﺱ کی ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﺐ ﺑﻨﺪ ﮨﻮﺗﯽ ہے ...
ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﻢ ﺑﮍﮮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ؟
ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﻢ ﺑﮍﮮ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ۔۔۔؟
ﯾﮩﯽ ﻗﺪﺭﺕ ﮐﮯ ﺍﺻﻮﻝ ﮨﯿﮟ .. ﯾﮩﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺩﺳﺘﻮﺭ ﮨﮯ ...
ﻧﮧ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﺳﮯ ﺁﺋﮯ ﺗﮭﮯ،،، ﻣﮕﺮ ﺁﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﯿﺎ،،، ﻧﮧ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺟﺎﻧﺎ ﺗﻮ ﮨﮯ ﮨﯽ .... ﺗﻮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﯾﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﺱ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﮐﯽ ﺑﻨﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﺬﺍﺭﯾﮟ،، ﺟﺲ ﺳﮯ ﺟﺘﻨﺎ ﻣﺎﻧﮕﻮ ﻭﮦ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ..
ﺟﺲ ﮐﮯ ﻋﻄﺎ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﮐﻮ ﺑﺨﺸﻨﮯ ﮐﺎ ﺑﮩﺎﻧﮧ ﮈﮬﻮﻧﮉﮮ .. ﺍﺱ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻏﻼﻡ ﺑﻨﯿﮟ ﺟﻮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻗﺪﺭﺩﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﻭﻓﺎؤﮞ ﻭﺍﻻ ھے....
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے ضرور شیئر کریں۔
https://t.me/islamwitheman/570
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ 1 ﺭﻭﭘﮯ ﮐﯽ ﭘﺘﻨﮓ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ 2 ﮐﻠﻮﻣﯿﭩﺮ ﺗﮏ ﺑﮭﺎﮔﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﻛﺘﻨﯽ ﭼﻮﭨﯿﮟ ﻟﮕﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ ... ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﭘﺘﻨﮓ ﺑﮭﯽ ﮨﻤﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺩﻭﮌﺍﺗﯽ ﺗﮭﯽ ...
ﺁﺝ ﭘﺘﮧ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﮯ،
ﺩﺭﺍﺻﻞ ﻭﮦ ﭘﺘﻨﮓ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ؛
ﺍﯾﮏ ﭼﯿﻠﻨﺞ ﺗﮭﺎ ...
ﺧﻮﺷﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺩﻭﮌﻧﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ ... ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺧﻮﺷﯿﺎﮞ ﺩﮐﺎﻧﻮﮞ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯿﮟ ... ﺷﺎﯾﺪ ﯾﮩﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮨﮯ ... !!!
ﺟﺐ ﺑﭽﭙﻦ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺍﺏ ﺗﮭﺎ ... ﺟﺐ ﺟﻮﺍﻥ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻮ ﺑﭽﭙﻦ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﯾﺎﺩ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ... !!
ﺟﺐ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ، ﺁﺯﺍﺩﯼ ﺍﭼﮭﯽ ﻟﮕﺘﯽ ﺗﮭﯽ ... ﺁﺝ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮨﮯ، ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﮔﮭﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺟﻠﺪﯼ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ ... !!
ﺍﺳﮑﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﮭﮕﮍﮮ ﺗﮭﮯ، ﺁﺝ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮨﯽ ﺍﻧﭩﺮﻧﯿﭧ ﭘﮧ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ... !!
ﺧﻮﺷﯽ ﮐﺲ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﭘﺘﮧ ﺍﺏ ﭼﻼ ﮨﮯ ... ﺑﭽﭙﻦ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺍﺏ ﮨﻮﺍ ...
ﺟﺐ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﺮﭦ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﭼﮭﭙﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﮯ ﭘﮭﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺟﺎﺩﻭ ﺳﮯ ﻏﺎﺋﺐ ﮐﺮ ﺩﯾﮯ ۔۔۔
ﺟﺐ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﭼﺎﺭ ﺭﻧﮕﻮﮞ ﺳﮯ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺍﯾﮏ ﻗﻠﻢ ﮨﻮﺍ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺑﭩﻦ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﺑﺎﻧﮯ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ...
ﺟﺐ ﮨﻢ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﮭﭙﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﮈﺭﺍ ﺳﮑﯿﮟ ...
ﺟﺐ ﺁﻧﮑﮫ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ کے ﺳﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﮈﺭﺍﻣﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﮨﻤﯿﮟ ﮔﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﮯ ﺑﺴﺘﺮ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﮮ ...
ﺳﻮﭼﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ کہ ﯾﮧ ﭼﺎﻧﺪ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺳﺎﺋﯿﮑﻞ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﭼﻞ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ...
ﻓﺮﯾﺞ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺳﮯ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﮐﮯ ﯾﮧ ﺟﺎﻧﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ کہ ﺍﺱ کی ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﺐ ﺑﻨﺪ ﮨﻮﺗﯽ ہے ...
ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﻢ ﺑﮍﮮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ؟
ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﺳﻮﭼﺘﮯ ﮨﻢ ﺑﮍﮮ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ۔۔۔؟
ﯾﮩﯽ ﻗﺪﺭﺕ ﮐﮯ ﺍﺻﻮﻝ ﮨﯿﮟ .. ﯾﮩﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺩﺳﺘﻮﺭ ﮨﮯ ...
ﻧﮧ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﺳﮯ ﺁﺋﮯ ﺗﮭﮯ،،، ﻣﮕﺮ ﺁﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﯿﺎ،،، ﻧﮧ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺟﺎﻧﺎ ﺗﻮ ﮨﮯ ﮨﯽ .... ﺗﻮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﯾﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﺱ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﮐﯽ ﺑﻨﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﺬﺍﺭﯾﮟ،، ﺟﺲ ﺳﮯ ﺟﺘﻨﺎ ﻣﺎﻧﮕﻮ ﻭﮦ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ..
ﺟﺲ ﮐﮯ ﻋﻄﺎ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﮐﻮ ﺑﺨﺸﻨﮯ ﮐﺎ ﺑﮩﺎﻧﮧ ﮈﮬﻮﻧﮉﮮ .. ﺍﺱ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻏﻼﻡ ﺑﻨﯿﮟ ﺟﻮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻗﺪﺭﺩﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﻭﻓﺎؤﮞ ﻭﺍﻻ ھے....
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے ضرور شیئر کریں۔
https://t.me/islamwitheman/570
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷️ موت اور اس کی تیاری (درس) 🔷️
موت ایک سواری ہے جو ہر دروازے پر کھڑی ہوتی ہے، آخر مٹی کے اندر اترنا ہو گا. اپنی زندگی کا سرمایہ اپنی قبر میں بھیجیں قبل اس کے کہ دنیاوی زندگی کا خاتمہ ہو.
● قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے..
کل نفس ذائقة الموت.
ہر جاندار موت…
موت ایک سواری ہے جو ہر دروازے پر کھڑی ہوتی ہے، آخر مٹی کے اندر اترنا ہو گا. اپنی زندگی کا سرمایہ اپنی قبر میں بھیجیں قبل اس کے کہ دنیاوی زندگی کا خاتمہ ہو.
● قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے..
کل نفس ذائقة الموت.
ہر جاندار موت…
🕸 عنکبوت 🕸
ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ "ﺍﻟﻌﻨﮑﺒﻮﺕ" ﮨﮯ، ﻋﻨﮑﺒﻮﺕ ﮐﻮ ﺍﺭﺩﻭ ﻣﯿﮟ "ﻣﮑﮍﯼ" ﮐﮩﺎ ﺟﺎ ﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻗﺮﺁﻥ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﻮﺩﺍ ﯾﺎ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﻋﻨﮑﺒﻮﺕ ﮐﺎ ﮨﮯ۔
ﺟﺪﯾﺪ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻣﺎﺩﮦ ﻋﻨﮑﺒﻮﺕ ﺑﭽﮯ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻧﺮ ﻋﻨﮑﺒﻮﺕ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ، ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﺍﻭﻻﺩ ﺑﮍﯼ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ہے ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﺘﯽ ہے، ﮐﺘﻨﺎ ﻋﺠﯿﺐ ﻭ ﻏﺮﯾﺐ ﮔﮭﺮﺍﻧﮧ ﮨﮯ، ﯾﻘﯿﻨﺎ ﺑﺪﺗﺮﯾﻦ ﮔﮭﺮﺍﻧﮧ ﮨﮯ۔
ﻗﺮﺍﻥ ﮐﺎ ﻣﻌﺠﺰﮦ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺟﻤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺍﺱ ﮔﮭﺮﺍﻧﮯ ﮐﯽ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮ ﺩﯼ۔۔۔
"ﺍﻥَّ ﺍﻭﮬﻦَ ﺍﻟﺒُﯿﻮﺕِ ﻟﺒﯿﺖُ ﺍﻟﻌﻨﮑﺒﻮﺕ ﻟﻮ ﮐﺎﻧﻮﺍ
ﯾﻌﻠﻤﻮﻥ۔"
ترجمہ:
ﺑﮯ ﺷﮏ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﻋﻨﮑﺒﻮﺕ ﮐﺎ ﮨﮯ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ (ﺍﻧﺴﺎﻥ) ﻋﻠﻢ ﺭﮐﮭﺘﮯ۔"
ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺍﻟﻠﮧ!
ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻋﻨﮑﺒﻮﺕ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺣﺴﯽ (ﻇﺎﮨﺮ) ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﮐﻮ ﺗﻮ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﻌﻨﻮﯼ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ (ﺩﺷﻤﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻧﮧ ﺟﻨﮕﯽ) ﺳﮯ ﺑﮯ ﺧﺒﺮ ﺗﮭﮯ!
ﺍﺏ ﺟﺪﯾﺪ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﻋﻠﻢ ﺭﮐﮭﺘﮯ (ﯾﻌﻨﯽ ﻣﮑﮍﯼ ﮐﯽ ﮔﮭﺮﯾﻠﻮﮞ ﮐﻤﺰﻭﺭﯾﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺩﺷﻤﻨﯽ ﺳﮯ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﻮﺗﮯ)
ﺍﺱ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎلی ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﭘﻮﺭﯼ ﺳﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺍﺱ ﺑﺮﯼ ﺧﺼﻠﺖ ﻭﺍلے ﮐﯿﮍﮮ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﺎ ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﺳﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﺳﮯ ﺁﺧﺮ ﺗﮏ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﻓﺘﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ!!
ﺳﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺍﺑﺘﺪﺍ ﯾﻮﮞ ﮨﮯ۔۔۔
"ﺍﻟﻢ ﺍﺣﺴﺐ ﺍﻟﻨﺎﺱ ﺍﻥ ﯾﺘﺮﮐﻮﺍ ﺍﻥ ﯾﻘﻮﻟﻮﺍ ﺁﻣﻨﺎ ﻭﮬﻢ ﻻ ﯾﻔﺘﻨﻮﻥ۔"
ترجمہ:
ﮐﯿﺎ ﻟﻮﮒ ﯾﮧ ﺧﯿﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﭼﮭﻮﭦ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻئے ہیں ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺁﺯﻣﺎﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ جائے ﮔﺎ۔
ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ۔۔
"ﻭﻣﻦ ﺍﻟﻨﺎﺱ ﻣﻦ ﯾﻘﻮﻝ ﺁﻣﻨﺎ ﺑﺎﻟﻠﮧ ﻓﺎﺫﺍ ﺍﻭﺫﯼ ﻓﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺟﻌﻞ ﻓﺘﻨۃ ﺍﻟﻨﺎﺱ ﮐﻌﺬﺍﺏ ﺍﻟﻠﮧ"
ترجمہ:
اور ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﻮ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻئے ہیں ﻣﮕﺮ ﺟﺐ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﺫﯾﺖ ﺩﯼ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺁﺯﻣﺎﺋﺶ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻋﺬﺍﺏ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﮑﮍﯼ ﮐﺎ ﻓﺘﻨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺁﺯﻣﺎﺋﺸﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﮨﮯ؟
ﻓﺘﻨﮯ، ﺳﺎﺯﺷﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺁﺯﻣﺎﺋﺸﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﮑﮍﯼ ﮐﮯ ﺟﺎﻝ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﯿﭽﯿﺪﮦ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺗﻤﯿﺰ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺑﮯﻧﻘﺎﺏ ﮐﺮﻧﺎ ﺁﺳﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔ ﻣﮕﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﯾﮧ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺳﺎﺯﺷﯽ ﮐﻔﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﻨﺎﻓﻖ ﺍﯾﺠﻨﭩﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﭼﺎﻟﯿﮟ ﻣﮑﮍﯼ ﮐﮯ ﺟﺎﻝ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﻤﺮ ﮐﺲ ﻟﯿﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ، ﯾﻘﯿﻨﺎ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺗﻮ ﻣﺘﻘﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﮨﯽ ﮨﮯ!!
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/748
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ "ﺍﻟﻌﻨﮑﺒﻮﺕ" ﮨﮯ، ﻋﻨﮑﺒﻮﺕ ﮐﻮ ﺍﺭﺩﻭ ﻣﯿﮟ "ﻣﮑﮍﯼ" ﮐﮩﺎ ﺟﺎ ﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﻗﺮﺁﻥ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﻮﺩﺍ ﯾﺎ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﻋﻨﮑﺒﻮﺕ ﮐﺎ ﮨﮯ۔
ﺟﺪﯾﺪ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻣﺎﺩﮦ ﻋﻨﮑﺒﻮﺕ ﺑﭽﮯ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻧﺮ ﻋﻨﮑﺒﻮﺕ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ، ﭘﮭﺮ ﺟﺐ ﺍﻭﻻﺩ ﺑﮍﯼ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ہے ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﺘﯽ ہے، ﮐﺘﻨﺎ ﻋﺠﯿﺐ ﻭ ﻏﺮﯾﺐ ﮔﮭﺮﺍﻧﮧ ﮨﮯ، ﯾﻘﯿﻨﺎ ﺑﺪﺗﺮﯾﻦ ﮔﮭﺮﺍﻧﮧ ﮨﮯ۔
ﻗﺮﺍﻥ ﮐﺎ ﻣﻌﺠﺰﮦ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺟﻤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺍﺱ ﮔﮭﺮﺍﻧﮯ ﮐﯽ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮ ﺩﯼ۔۔۔
"ﺍﻥَّ ﺍﻭﮬﻦَ ﺍﻟﺒُﯿﻮﺕِ ﻟﺒﯿﺖُ ﺍﻟﻌﻨﮑﺒﻮﺕ ﻟﻮ ﮐﺎﻧﻮﺍ
ﯾﻌﻠﻤﻮﻥ۔"
ترجمہ:
ﺑﮯ ﺷﮏ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﻋﻨﮑﺒﻮﺕ ﮐﺎ ﮨﮯ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ (ﺍﻧﺴﺎﻥ) ﻋﻠﻢ ﺭﮐﮭﺘﮯ۔"
ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺍﻟﻠﮧ!
ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻋﻨﮑﺒﻮﺕ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺣﺴﯽ (ﻇﺎﮨﺮ) ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﮐﻮ ﺗﻮ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﻌﻨﻮﯼ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ (ﺩﺷﻤﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻧﮧ ﺟﻨﮕﯽ) ﺳﮯ ﺑﮯ ﺧﺒﺮ ﺗﮭﮯ!
ﺍﺏ ﺟﺪﯾﺪ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﻋﻠﻢ ﺭﮐﮭﺘﮯ (ﯾﻌﻨﯽ ﻣﮑﮍﯼ ﮐﯽ ﮔﮭﺮﯾﻠﻮﮞ ﮐﻤﺰﻭﺭﯾﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺩﺷﻤﻨﯽ ﺳﮯ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﻮﺗﮯ)
ﺍﺱ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎلی ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﭘﻮﺭﯼ ﺳﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺍﺱ ﺑﺮﯼ ﺧﺼﻠﺖ ﻭﺍلے ﮐﯿﮍﮮ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﺎ ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﺳﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﺳﮯ ﺁﺧﺮ ﺗﮏ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﻓﺘﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ!!
ﺳﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺍﺑﺘﺪﺍ ﯾﻮﮞ ﮨﮯ۔۔۔
"ﺍﻟﻢ ﺍﺣﺴﺐ ﺍﻟﻨﺎﺱ ﺍﻥ ﯾﺘﺮﮐﻮﺍ ﺍﻥ ﯾﻘﻮﻟﻮﺍ ﺁﻣﻨﺎ ﻭﮬﻢ ﻻ ﯾﻔﺘﻨﻮﻥ۔"
ترجمہ:
ﮐﯿﺎ ﻟﻮﮒ ﯾﮧ ﺧﯿﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﭼﮭﻮﭦ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻئے ہیں ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺁﺯﻣﺎﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ جائے ﮔﺎ۔
ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ۔۔
"ﻭﻣﻦ ﺍﻟﻨﺎﺱ ﻣﻦ ﯾﻘﻮﻝ ﺁﻣﻨﺎ ﺑﺎﻟﻠﮧ ﻓﺎﺫﺍ ﺍﻭﺫﯼ ﻓﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺟﻌﻞ ﻓﺘﻨۃ ﺍﻟﻨﺎﺱ ﮐﻌﺬﺍﺏ ﺍﻟﻠﮧ"
ترجمہ:
اور ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﻮ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻئے ہیں ﻣﮕﺮ ﺟﺐ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺭﺍﮦ ﻣﯿﮟ ﺍﺫﯾﺖ ﺩﯼ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺁﺯﻣﺎﺋﺶ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻋﺬﺍﺏ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﮑﮍﯼ ﮐﺎ ﻓﺘﻨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺁﺯﻣﺎﺋﺸﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﮨﮯ؟
ﻓﺘﻨﮯ، ﺳﺎﺯﺷﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺁﺯﻣﺎﺋﺸﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻣﮑﮍﯼ ﮐﮯ ﺟﺎﻝ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭘﯿﭽﯿﺪﮦ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺗﻤﯿﺰ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺑﮯﻧﻘﺎﺏ ﮐﺮﻧﺎ ﺁﺳﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔ ﻣﮕﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﯾﮧ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺳﺎﺯﺷﯽ ﮐﻔﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﻨﺎﻓﻖ ﺍﯾﺠﻨﭩﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﭼﺎﻟﯿﮟ ﻣﮑﮍﯼ ﮐﮯ ﺟﺎﻝ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﻤﺮ ﮐﺲ ﻟﯿﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ، ﯾﻘﯿﻨﺎ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺗﻮ ﻣﺘﻘﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﮨﯽ ﮨﮯ!!
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/748
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 وقت، وقت اور وقت 🔷
ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ 1 ﺭﻭﭘﮯ ﮐﯽ ﭘﺘﻨﮓ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ 2 ﮐﻠﻮﻣﯿﭩﺮ ﺗﮏ ﺑﮭﺎﮔﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﻛﺘﻨﯽ ﭼﻮﭨﯿﮟ ﻟﮕﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ ... ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﭘﺘﻨﮓ ﺑﮭﯽ ﮨﻤﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺩﻭﮌﺍﺗﯽ ﺗﮭﯽ ...
ﺁﺝ ﭘﺘﮧ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﮯ،
ﺩﺭﺍﺻﻞ ﻭﮦ ﭘﺘﻨﮓ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ؛
ﺍﯾﮏ ﭼﯿﻠﻨﺞ ﺗﮭﺎ ...
ﺧﻮﺷﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺩﻭﮌﻧﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ ...…
ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ 1 ﺭﻭﭘﮯ ﮐﯽ ﭘﺘﻨﮓ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ 2 ﮐﻠﻮﻣﯿﭩﺮ ﺗﮏ ﺑﮭﺎﮔﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﻛﺘﻨﯽ ﭼﻮﭨﯿﮟ ﻟﮕﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ ... ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﭘﺘﻨﮓ ﺑﮭﯽ ﮨﻤﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺩﻭﮌﺍﺗﯽ ﺗﮭﯽ ...
ﺁﺝ ﭘﺘﮧ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﮯ،
ﺩﺭﺍﺻﻞ ﻭﮦ ﭘﺘﻨﮓ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ؛
ﺍﯾﮏ ﭼﯿﻠﻨﺞ ﺗﮭﺎ ...
ﺧﻮﺷﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺩﻭﮌﻧﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ ...…