ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.64K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
🔷 خدا دوستی 🔷

●رسول اکرمؐ فرماتے ہیں۔۔ "الایمان فی قلب الرجل أن یحب الله عزوجل"
بندے کے دل میں ایمان کی علامت ہے کہ اللہ عزوجل سے محبت رکھتا ہو۔(1)

●امیرالمؤمنین حضرت علیؑ فرماتے ہیں۔۔
"اذا اکرم الله عبدا شغلہ بمحبتہ"
جب خداوندمتعال کسی شخص کو عزت عطا فرماتا ہے تو اس کے دل کو اپنی محبت میں مشغول کردیتا ہے۔(2)

●علامہ مجلسی فرماتے ہیں کہ۔۔

الله کا بندہ بن جا،
اور پھر کبھی نہ گھبرا،
خدا والا ہوجا اور بادشاہی کر،
خدا سے دور ہو جا تو جو چاہے کر۔(3)

■حضرت ابراہیمؑ کی خدا دوستی؛
خداوندمتعال نے حضرت ابراہیمؑ کو فراواں ثروت سے نوازا تھا۔ ان کے پاس گوسفند کا اتنا بڑا ریوڑ تھا کہ جس کی حفاظت کے لئے چار سو حفاظتی جانور ہوتے تھے۔

ملائکہ نے بارگاہِ خداوندی میں خیال ظاہر کیا کہ حضرت ابراہیمؑ کی خدا دوستی کا راز نعمت کی فراوانی ہے۔ آخر خدا نے جو انہیں اسقدر مال و دولت سے نوازا ہے تو وہی محبت کا سبب ہے۔
خداوندمتعال نے انہیں یہ سمجھانے کے لئے کہ حقیقت اسطرح نہیں ہے بلکہ ابراہیمؑ کو میرے ساتھ بےلوث محبت ہے، حضرت جبرائیلؑ کو حکم دیا کہ وہ جاکر حضرت ابراہیمؑ کے نزدیک سے کھڑے ہوکر میرے نام سے پکاریں، جہاں ابراہیمؑ سن رہے ہوں۔
حضرت جبرائیلؑ گئے اس وقت حضرت ابراہیمؑ اپنے گوسفندوں کے ریوڑ کے پاس تھے۔ ادھر سے جبرائیلؑ نے ایک ٹیلے پر کھڑے ہو کر بہترین آواز کیساتھ اس طرح تسبیح کی۔۔
"سبوح قدوس رب الملائکة والروح"
پاک وپاکیزہ ہے ملائکہ اور روح کا رب۔

جونہی رب ذوالجلال کا اسم مبارک حضرت ابراہیمؑ کے گوشِ سماعت سے ٹکرایا تو بےچین ہو گئے اور آپ کے پورے جسم مبارک میں محبت کی لہر دوڑ گئی۔

یہ کون خوش آواز ہے کہ جس نے میرے دوست محبوب کا نام لیا کہ میں جان تن بدن اپنے دوست کے اس پیغام پر لُٹانے کو تیار ہوگیا۔

حضرت ابراہیمؑ نے اپنے دائیں بائیں دیکھا تو آپ کو ایک شخص بلندی پر کھڑا نظر آیا۔ آپ اس کی طرف دوڑے اور پوچھا؛
آپ نے میرے دوست کا نام لیا ہے؟

جبرائیلؑ نے فرمایا؛
ہاں۔۔۔ میں نے لیا ہے اور پھر سے دوبارہ تکرار کردیا۔

حضرت ابراہیمؑ نے درخواست کی؛
اے بندۂ خدا اگر آپ مہربانی فرما کر ایک بار پھر سے میرے دوست کا نام لےلو تو میں آپ کو اس کے بدلے اپنے اس ریوڑ کا ایک تہائی بخش دونگا۔

حضرت جبرائیلؑ نے پھر سے تکرار کردیا۔

حضرت ابراہیمؑ کثرت شوق سے بے قرار و بےچین ہوگئے۔ اور درخواست کی کہ اے بندۂ خدا اگر تو ایک بار پھر سے میرے دوست کا نام لے تو اس ریوڑ کا نصف تیرا ہوا۔

حضرت جبرائیلؑ نے پھر سے تکرار کردیا۔

حضرت ابراہیمؑ کے شوقِ محبت اور فرطِ جذبات میں اضافہ ہوگیا۔ آپ نے بیقرار ہوکر پھر سے درخواست کی؛
اگر آپ پھر سے میرے محبوب کے نام کا تکرار کردو تو یہ سارے گوسفند آپ کے ہوئے۔

حضرت جبرائیلؑ نے وہی نام اسی طرح دُہرا دیا۔


اب حضرت ابراہیمؑ کی تسکین نہ ہونے کی وجہ سے آپ نے فرمایا؛
میرے پاس اب کچھ بھی نہیں رہا۔ اب اگر مجھے پھر سے میرے محبوب کا نام سنوا دو تو میں خود آپ کا ہوا۔

حضرت جبرائیلؑ نے پھر سے نام ذاتِ ذوالجلال دُہرا دیا۔

حضرت ابراہیمؑ نے فرمایا؛
اچھا تو آئیے اور میرے ساتھ اس ریوڑ کو بھی وصول کر کے لے چلیے کیونکہ یہ سب کچھ اب آپ کا ہوا۔

حضرت جبرائیلؑ نے عرض کیا؛
اے ابراہیمؑ! مجھے آپ کے ریوڑ کی ضرورت نہیں ہے، میں تو جبرائیل ہوں، میں کہتا ہوں آپ واقعاً اس قابل ہیں کہ خداوندمتعال آپ کو اپنا دوست بنائے۔
آپ نے مکمل وفاداری، بلند پایہ دوستی اور سچی محبت و اطاعت اور پرخلوص تعلق کا ثبوت دیا ہے۔ اور پھر اپنے سارے اقرار کردہ معاہدوں پر ثابت قدم رہے ہیں۔(4)

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

📚 حوالہ جات:
1)دوستی در قرآن وحدیث، ص282۔
2)دوستی در قرآن وحدیث، ص308۔
3)موضوعی داستانیں، ص194۔
4)موضوعی داستانیں، ص195۔

https://t.me/islamwitheman/477
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 دنیا کی محبت 🔷

دنیا آزمائش کی جگہ ہے، آسائش کی نہیں۔ اے دل اس دنیا کے ساتھ دل نہ لگاؤ کہ اس سے پریشانی ملتی ہے۔

●ارشاد باری تعالٰی ہوتا ہے۔۔
"وما ھٰذِہِ الحیٰوةُ الدنیا إلا لھوٌ و لعبٌ۔ وإن الدّارَ الآخرةَ لَھِیَ الحَیَوَانُ لو کانوا یَعلَمون"
(سورہ عنکبوت)
اور یہ دنیا کی زندگی تو لھو و لعب ہے جبکہ دارِآخرت زندگی ہی زندگی ہے اگر تم کو خبر ہو۔

●"فَلا تَغُرَنَّکُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیا"
اور تمہیں دنیا کی زندگی دھوکہ نہ دے۔
(سورہ لقمان)

●رسول اکرمؐ فرماتے ہیں۔۔
"حب الدنیا اصل کل معصیة و أول کل ذنب"
دنیا کی محبت ہر برائی کی جڑ اور ہر گناہ کی ابتدا ہوتی ہے۔
(میزان الحکمہ:5816۔)

■شوق میں رکاوٹ
ایک شخص نے رسول اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کی:
رسول خدا مجھے سمجھائیں کہ آخر کیونکر ہمیں موت کی آغوش میں جانے کا شوق نہیں؟

آپؐ نے فرمایا؛
"اپنے مال اپنے آگے بھیجنا شروع کردو۔ کیونکہ ہر شخص کا دل اس کے مال کے ساتھ ہوتا ہے۔ جدھر مال ہوتا ہے، دل اسی طرف جاتا ہے۔ جو مال آگے روانہ کرتا ہے وہ اس طرف جلدی جانا پسند کرتا ہے تاکہ اپنے مال کے پاس جلدی پہنچ جائے اور اگر کسی جگہ جمع کررکھا ہو تو پسند کرتا ہے اسی کے پاس ٹھہرا رہے"
(درس ہائے از تاریخ، ص970)

■دنیا کی شکل
اس دنیا میں اڑھائی ہزار سال عمر گزارنے والے نبی حضرت نوحؑ سے حضرت جبرائیلؑ نے پوچھا:
اے انبیاء میں سے درازترین عمر گزارنے والے نبی! آپ نے اس دنیا کو کیسا پایا، آپ کا اس دنیا کے بارے کیا نظریہ ہے؟

حضرت نوحؑ نے فرمایا:
میں نے دنیا کو اس گھر کی مانند پایا ہے جس کے دو دروازے ہیں۔ میں اس کے ایک دروازے سے داخل ہوا ہوں اور دوسرے دروازے سے نکل گیا ہوں۔
(معراج السعادة)

■دنیا چیونٹی کی نظر میں
ایک دن حضرت سلیمانؑ اپنے وزراء و مملکت کے رؤسا کے ہمراہ اپنے دربار میں تخت نشین تھے کہ ادھر سے ایک چیونٹی کا گزر ہوا۔ چیونٹی نے آپؑ سے ایک سوال کیا؛
اے اللہ کے نبی! کیا آپ یہ بتانا پسند فرمائیں گے کہ اللہ تعالٰی نے اس جہاں میں آپ کو کونسی منفرد نعمت و کرامت سے نوازا ہے؟

حضرت سلیمانؑ نے فرمایا؛
ہوا کو میرے تابع کردیا ہے۔

چیونٹی نے عرض کیا؛
اے حضرت سلیمانؑ کیا آپ نے کبھی توجہ فرمائی ہے کہ اس میں کتنی عجیب و لطیف بات ہے کہ جو کچھ آپ کو اس مملکت سے امتیازی طور پر حاصل ہے گویا وہ سب ہوا کی مانند ہے۔ آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ کسی کے ہاتھوں میں ہوا باقی رہی ہو۔ بس آپ کی دنیاوی سلطنت کا حال بھی اسی طرح کا ہے۔
(داستانہائے کشف الاسرار، ص161)

■شرِّ دنیا
جناب شیخ بہائی نے روایت کی ہے کہ تورات میں خداوندمتعال فرماتا ہے کہ۔۔
اے فرزندِ آدم! ہر روز میں تیرے لیے تازہ، پاکیزہ روزی بھیجتا ہوں لیکن جب شام ہوتی ہے تو میرے ملائکہ تیرے برے اعمال کا مجموعہ لے کر لوٹتے ہیں۔ میری طرف سے ہمیشہ تیرے لیے خیر و خوبی نازل ہوتی ہے اور تیری طرف سے شر و برائی میرے سامنے آتی ہے۔

اے فرزندِ آدم! تو میرے لئے اسی قدر اطاعت گزار بن جا جتنا تو میرا محتاج ہے اور آتشِ جہنم کی برداشت کی حد تک میری نافرمانی کر۔ دنیا کے لئے اسی قدر کام کر جتنا تجھے دنیا میں رہنا ہے اور آخرت کے لئے بھی اتنا کام کر جتنا تجھے وہاں رہنا ہوگا۔ اس میں اپنی رہنے کی مقدار کے مطابق زاد و توشہ اکٹھا کر۔

اے فرزندِ آدم! اپنے دل سے دنیا کی محبت نکال دے کیونکہ میری اور دنیا کی محبت ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتی۔
(موضوعی داستانیں، ص179)

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman/570
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
💐 خوش خُلقی 💐

اچھے خوبصورت چہرے سے اچھی سیرت بہتر ہے۔ اچھی عادت والا بیگانوں کا اپنا ہوتا یے اور بُری عادات والا اپنوں سے بیگانہ ہوتا ہے۔

●رسول اکرمؐ فرماتے ہیں۔۔
"اَلاِسْلامُ حُسْنُ الْخُلْقِ"
اسلام خوش اخلاقی کا نام ہے۔(1)

●حضرت امام حسنؑ فرماتے ہیں۔۔
"اِنَّ اَحْسَنَ الْحُسْنِ اَلْخُلْقُ الْحَسَنِ"
بہترین نیکی خوش خلقی ہے۔(2)

●أمام جعفر الصادقؑ فرماتے ہیں۔۔
"حُسْنُ الْخُلْقِ یُزِیْدُ فِی الرِّزْقِ"
خوش خلقی رزق میں اضافہ کرتی ہے۔(3)

■اخلاق نبویؐ؛
أنس بن مالک کہتے ہیں میں رسول اکرمؐ کی خدمت میں تھا۔ آپؐ نے اس روز ایک ایسی چادر زیب تن فرمائی ہوئی تھی جس کے حاشیے کنارے سخت اور درشت تھے اچانک ایک صحرائی بیابانی عرب بدو نمودار ہوا اور آتے ہی حضورؐ کی ردائے مبارک سے پکڑا اور سختی سے اسطرح کھینچا کہ آپ کی گردن مبارک پر نشان پڑ گئے اور۔۔۔
اس عرب مرد نے کہا؛
اے محمد یہ دو اونٹ مجھے سامان لاد کر دے۔ کیونکہ جو مال تیرے پاس ہے یہ خدا کا مال ہے، تیرا اور تیرے باپ کا مال نہیں ہے۔

آپؐ اس کے سامنے چپ ہو گئے اور پھر فرمایا؛
یہ سارے مال اللہ تعالٰی کے اموال ہیں اور میں تو خدا کا بندہ ہوں۔ اب بتاؤ جو تو نے میرے ساتھ سلوک کیا ہے اس کا تجھ سے بدلہ لوں۔؟

اس عرب بدو نے کہا؛
نہیں جناب

آپؐ نے فرمایا؛
کیونکر۔۔؟

اس شخص نے کہا؛
اس لئے کہ آپ کا یہ شیوہ نہیں ہے بلکہ آپ کا کام تو برائی کا بدلہ برائی سے دینا نہیں بلکہ بھلائی سے دینا ہے۔

آپؐ مسکرائے اور فرمایا؛
اس کے ایک اونٹ پر جَو لاد دیئے جائیں اور دوسرے پر کھجوریں۔(4)

■شیطانی شکنجہ؛
کسی شخص نے مولا علیؑ کے غلام قنبر کو گالیاں دیں۔ قنبر بھی اسے اسی قسم کی گالیاں دینے پر آمادہ ہوا۔ حضرت علیؑ نے قنبر کو بلایا اور فرمایا؛
قنبر خاموش رہو۔ اس گالیاں دینے والے شخص کو ذلیل و خوار ہونے دو۔ تم اپنی چپ کو اس کی سزا قرار دو۔ تمہارے چپ ہونے سے خداوندمتعال خوشنود ہو گا اور تمہارا دشمن شیطان کے شکنجے میں آ جائے گا۔

■مالک اشترؓ؛
مالک اشتر کوفہ کے بازار سے گزر رہے تھے۔ ایک ایسے شخص نے جو مالک اشتر کو نہیں جانتا تھا، انکی طرف مٹی پھینکی۔ جناب مالک اشتر چپ کر کے گزر گئے اور کچھ نہ کہا۔ لوگوں نے اس شخص سے کہا؛ کیا تجھے معلوم ہے کہ تو نے کس شخص کی توہین کی ہے۔ اس نے کہا؛ نہیں معلوم۔
لوگوں نے کہا؛ یہ شخص مالک اشتر ہے۔ حضرت علیؑ کے جانثار جانباز ہیں، ان کے لشکر کے جرنیل ہے۔
اس شخص پر خوف طاری ہوا اور وہ مالک اشتر کے پیچھے دوڑا تاکہ ان سے مل کر معذرت کرے۔ جب وہ پہنچا تو مالک اشتر مسجد میں مشغول نماز تھے۔ جب مالک نماز سے فارغ ہوئے تو وہ شخص مالک کے پیروں پر گر گیا۔
جناب مالک نے پوچھا؛
ایسا کیوں کرتے ہو؟
اس مرد نے کہا؛
میں اپنے کیے کام کی معافی چاہتا ہوں۔

جناب مالک نے فرمایا؛
میں نے مسجد میں داخل ہوتے ہی تمہارے لیے مغفرت کی دعا کر دی تھی۔(5)

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

📚حوالہ جات؛
1) میزان الحکمہ:4988۔
2) میزان الحکمۃ:4989۔
3) میزان الحکمۃ:5075۔
4) منازل الآخرة، ص100۔
5) منازل الآخرة، ص100۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

■ خوش اخلاقی اور بد اخلاقی کے متعلق مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ لنک پر کلک کریں۔

🌺 الفاظ و انداز اور لہجہ
https://t.me/islamwitheman/475

🔷 اخلاق اور خودسازی
https://t.me/islamwitheman/214

🔷 اللھم فحسن خلقی
https://t.me/islamwitheman/324

👅 احتیاط کے ساتھ بولا کریں
https://t.me/islamwitheman/396

🔷 ایک بچہ اور کچھوا
https://t.me/islamwitheman/539

🔷 مسکراہٹ و خاموشی
https://t.me/islamwitheman/22

📝 مخدوم بنے رہنا کمال نہیں
https://t.me/islamwitheman/462

🔷 بد اخلاقی کا انجام
https://t.me/islamwitheman/528

🌷 احسان فراموشی
https://t.me/islamwitheman/379

🔷 نصیحت آموز
https://t.me/islamwitheman/549
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔶 خوف خدا سے یحییٰؑ کا گریہ 🔶

■مولا علی علیہ السلام فرماتے ھیں۔۔ اگر آج دنیا میں خوف خدا سے زیادہ گریہ کرو گے تو کل قیامت کے دن تمہاری آنکھیں روشن اور خوش ہوں گی۔

■حضرت یحییٰؑ خوف خدا میں اس قدر روئے کہ آپ کی آنکھوں کے کناروں سے گوشت ختم ہوگیا اور آپ کے دندانِ مبارک ظاہر ہوگئے اسی لئے حضرت ذکریاؑ جب بنی اسرائیل کو وعظ و نصیحت کرنے تشریف لے جاتے اور خطاب کرنے کا ارادہ کرتے تو اپنے دائیں بائیں ضرور نگاہ کرتے اگر انہیں حضرت یحییٰؑ نظر آتے تو جنت و دوزخ کا ذکر نہ فرماتے۔

ایک مرتبہ حضرت ذکریاؑ جناب یحییٰؑ کی مجمع میں موجودگی سے متوجہ نہ ہوئے اور اپنا وعظ شروع کر دیا اور پھر آتشِ جہنم کا تذکرہ بھی ہوا۔ حضرت یحییٰؑ نے سخت گھبراہٹ میں اٹھ کر بیابان کا راستہ لیا۔
جناب ذکریاؑ وعظ سے فارغ ہوئے تو حضرت یحییٰؑ کی والدہ سے فرمایا؛ اٹھو اور جاؤ یحییٰؑ کو تلاش کرو۔ مجھے خوف ہے کہ شاید وہ آپ کو زندہ نہ مل سکیں۔
انکی والدہ انکی تلاش میں نکل پڑیں، راستہ میں بنی اسرائیل کے بعض جوان مل گئے وہ بھی بیبی کے ساتھ چل پڑے۔ سب مل حضرت یحییٰؑ کو تلاش کرنے لگے۔ راستے میں ایک چرواہے سے ملاقات ہوئی۔ اس سے پوچھا؛
کیا آپ نے ان علامات و شکل کا جوان دیکھا ہے؟

چرواہے نے کہا؛
ہاں میں نے ابھی انہیں اس پہاڑ کے دامن میں دیکھا ہے وہ اپنے دونوں پاؤں پانی میں ڈالے آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے اور اس طرح گفتگو کر رہے تھے۔۔۔
اے میرے مولا! میرے مولا! مجھے تیری عزت و جلال کی قسم! میں آج کے بعد ٹھنڈا پانی نہ پیوں گا اور اس وقت تک اسی طرح رہونگا جبتک تو مجھے میرا آخرت کا مقام دکھا نہ دے۔

جناب یحییٰؑ کی والدہ اپنے فرزند کی تلاش میں روانہ ہوئیں اور انہیں پاکر گود میں لیا اور قسم دی کہ گھر واپس آؤ۔ بالآخر وہ اپنی ماں کے ساتھ واپس اپنے گھر تشریف لائے۔

📚 رسالہ لقاءاللہ، ص159 تا 163۔

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌼 خوفِ خُدا 🌼

جو کوئی اپنے خدا سے ڈرنے والا ہوتا ہے، دنیا کی مخلوقات اس سے ڈرتی ہیں۔

●ارشاد خداوندی ہوتا ہے۔۔
"وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ جَنَّتَانِ"
اور جو کوئی عظمتِ خداوندی کا دل میں خوف رکھے اس کے لئے دو بہشت ہیں۔(1)

●ارشاد باری تعالٰی ہے۔۔
"وَأمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ وَنَھَی النَّفْسَ عَنِ الْھَوٰی فَإنَّ الْجَنَّةَ ھِیَ الْمَأوٰى"
اور جو عظمتِ رب سے ڈرا اور اپنے آپ کو خواہشات سے روکا تو جنت اس کا ٹھکانا ہے۔(2)

●رسول اکرمؐ فرماتے ہیں۔۔
"اَعْلَی النَّاسَ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللہِ اَخُوْفُھُمْ مِنْہُ"
سب سے زیادہ مرتبہ اللہ تعالٰی کے نزدیک اس کا ہے جو اللہ سے سب سے زیادہ ڈرتا ہے۔(3)

■ملائکہ مقرب کا خوف؛
رسول اکرمؐ نے فرمایا؛ جب بھی جبرائیلؑ میرے پاس آئے تو خوفِ خدا سے لرزاں تھے۔ ایک دن میں نے جبرائیلؑ سے پوچھا؛ کیا وجہ ہے میں نے میکائیلؑ کو کبھی مسکراتے نہیں دیکھا؟
حضرت جبرائیلؑ نے جواب فرمایا؛
جس دن سے جہنم کی آگ کو خلق کیا گیا ہے اسی دن سے میکائیلؑ نے ہنسنا چھوڑ دیا ہے۔(4)

■حضرت علیؑ کا گریہ؛
حبہ عرفی اور نوف بکالی کہتے ہیں ہم ایک شب کوفہ کے دارالامارہ کے صحن میں سوئے ہوئے تھے، نصف شب کے بعد ہم نے محسوس کیا کہ حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام آہستہ آہستہ اپنے حجرے سے نکل کر صحن کی طرف تشریف لاتے ہیں لیکن آپؑ کی حالت عجیب ہے۔ آپؑ اپنے جسمانی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے دیوار کا سہارا لے کر چل رہے ہیں اور زیرلب سورہ آلِ عمران کی آخری آیات کی تلاوت میں مصروف ہیں۔
جونہی آپؑ کی تلاوت آیات اختتام کو پہنچتی تو آپؑ دوبارہ ابتدا سے شروع کر دیتے اور مسلسل انہی آیات کی تلاوت میں مصروفِ عمل رہے۔

حبہ اور نوف اپنے اپنے بستر میں لیٹے اس منظر کو دیکھ رہے تھے۔ آپؑ پےدرپے گریہ فرما رہے تھے۔

حضرت علی علیہ السلام حبہ کے نزدیک تشریف لائے اور پوچھا؛
جاگتے ہو یا سو رہے ہو؟

حبہ نے جواب دیا؛
بیدار ہوں اے امیرالمؤمنین اور سوچ رہا ہوں کہ جب آپ اپنے رب کی خشیت میں اس قدر رو رہے ہیں تو ہمارا کیا حال ہوگا۔

حضرت امیرالمؤمنینؑ نے آنکھیں جھکا کر پھر رونا شروع کر دیا اور فرمایا؛
اے حبہ! ہم سب کو ایک روز اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونا ہے جس کے سامنے سے ہمارا کوئی عمل پوشیدہ نہیں ہے، وہ تیرے اور میرے شہہ رگ سے زیادہ نزدیک ہے اور کوئی بھی چیز کسی وقت بھی ہمارے اور ہمارے رب کے درمیان حائل نہیں ہے۔
پھر نوف سے پوچھا؛
کیا سو رہے ہو؟

نوف نے کہا؛
نہیں مولا۔۔۔ اے امیرالمؤمنین میں تو کافی دیر سے آپ کو روتا دیکھ کر خود بھی رو رہا ہوں۔

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا؛
اے نوف! اگر آج دنیا میں خوفِ خدا سے زیادہ گریہ کرو گے تو کل قیامت کے دن تمہاری آنکھیں روشن اور خوش ہونگی۔

اے نوف! خداوندمتعال کے خوف سے آنکھوں سے نکلنے والا ہر قطرہ جہنم کی آگ کے کئی دریاؤں کو خاموش کردیتا ہے۔

اے نوف! کسی کا بھی مقام و منزلت خوفِ خدا میں رونے والے سے برتر نہیں اور اگر کوئی کسی کو خدا کے لئے دوست رکھتا ہو تو اس کا بہت بلند مقام ہے۔

اے نوف! جو خداوندمتعال سے محبت کرے اور خدا کے لئے ہی کسی شے سے محبت کرتا ہو تو وہ خدا کے راستے میں کسی چیز کو ترجیح نہیں دیتا۔

اور۔۔
جو شخص کسی شے سے دشمنی خدا کے لئے کرتا ہے تو اسے اس دشمنی کے لئے بھی نیکی ہی ملے گی۔ جب کوئی اس درجہ ایمان پر فائز ہو تو وہ ایمان کے حقائق کے کمال تک پہنچ جاتا ہے۔
پھر آپ نے حبہ اور نوف کو کچھ دیر وعظ و نصیحت فرمائی اور آپ کی گفتگو کا آخری جملہ یہ تھا۔۔
خدا سے خوف کھاؤ، میں نے تمہیں بتا دیا ہے۔(5)

■اویسؓ کا گریہ؛
اویسؓ قرنی ایک موعظہ کی محفل میں حاضر ھوا کرتے تھے۔ واعظ کی باتیں سن کر ان پر گریہ طاری ہوجاتا تھا۔ جب آتش جہنم کا ذکر آتا تو ان کی دھاڑیں بلند ہو جاتی تھیں اور وہ بھاگتے دوڑتے تھے۔ ان پر ایسی بےکیفی کی حالت طاری ہوجاتی تھی کہ لوگ ان کے پیچھے دوڑ پڑتے تھے اور انہیں کہتے تھے دیوانہ دیوانہ۔(6)

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

📚 حوالہ جات؛
1) سورہ رحمان۔
2) سورہ نازعات۔
3) میزان الحکمۃ:5191۔
4) معراج السعادة، ص141۔
5) داستان راستان، ج2، ص180۔
6) اسرارالقلوب، ص202۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

■ خوف خدا کے متعلق مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔

🌷 شیطان کا وار اور خوف خدا
https://t.me/islamwitheman/424

🔷 کسی کا بُرا مت کرو
https://t.me/islamwitheman/347

🔶 خوفِ خُدا سے یحیٰیؑ کا گریہ
https://t.me/islamwitheman/635
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌻 امانت داری 🌻

●ارشاد خداوندی ہے۔۔
"اِنَّ اللہ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوْا الأمَانَاتِ إلیٰ اَھْلِھَا"
خداوندمتعال آپ کو حکم دیتا ہے امانتیں ان کے مالکوں تک پہنچاؤ۔(1)

●ارشاد باری تعالٰی ہوتا ہے۔۔
"وَالَّذِیْنَ ھُمْ لامَانَاتِھِمْ وَ عَھْدِھِمْ رَاعُوْنَ"
مؤمن اپنی امانتوں اور عہدوپیمان کے پابند ہوتے ہیں۔(2)

●رسول اکرمؐ فرماتے ہیں۔۔
"لا اِیْمَانَ لِمَنْ لا اَمَانَةَ لَہ"
جو امانت دار نہیں، صاحب ایمان نہیں۔(3)

●امیرالمؤمنین علیؑ فرماتے ہیں۔۔
"اَدُّوْا الأمَانَاتِ وَلَوْ إلیٰ أوْلادِ قَتَلَةِالانْبِیَاءَ"
امانتیں واپس کرو، اگرچہ انبیاء کے قاتلوں کی اولاد کی ہی کیوں نہ ہوں۔(4)

■ثمرۂ امانت داری
عبدالرحمٰن بن سبابہ کہتے ہیں کہ جب میرے والد کی وفات ہوئی تو ان کے ایک دوست مجھے تعزیت کرنے کے لئے میرے گھر آئے اور مجھ سے کہا؛
عبدالرحمٰن! کیا تیرے والد نے کوئی چیز ترکہ میں چھوڑی ہے؟

میں نے کہا؛ نہیں

میرے والد کے دوست نے ایک ہزار درھم کی تھیلی میری طرف بڑھائی اور کہا؛
یہ رقم امانت کے طور پر اپنے پاس رکھ لو، اسے اپنے لئے سرمایہ بناؤ، اس کے ساتھ کاروبار کرو۔ جو نفع ملے اپنی ضروریات اور اخراجات میں خرچ کرو اور اصل رقم مجھے واپس کر دینا۔

مجھے بہت خوشی ہوئی اور میں خوش خوش اپنی والدہ کے پاس گیا، سارا قصہ سنایا اور خبر دی۔
پھر رات کو اپنے والد کے ایک دوسرے دوست کے پاس گیا، اس نے میرے لئے کپڑے کے تھان خریدے اور ایک دکان کا انتظام کیا۔ میں دوسرے دن اپنے کاروبار میں مشغول ہوگیا۔
خداوندمتعال نے مجھے برکت عنایت فرمائی اور کشادہ روزی نصیب ہوئی۔
حج کا موسم نزدیک ہوا تو میرا جی چاہا خانۂ خدا کی زیارت کے لئے جاؤں اور فریضۂ حج ادا کروں۔ میں نے اپنی والدہ سے اپنے ارادے کا ذکر کیا تو والدہ نے فرمایا؛
اگر آپ کا حج کا ارادہ ہے تو پہلے قرض والوں کا قرضہ دو پھر حج کے لیے چلے جاؤ۔
میں نے قرضہ کی رقم اکٹھی کی اور ان صاحب کی خدمت میں حاضر ہوکر رقم پیش کی۔ وہ اس قدر خوش ہوئے کہ جیسے میں نے انہیں رقم عنایت کی ہو کیونکہ انہیں میرے قرضہ کی واپسی کی توقع نہ تھی۔۔ میرے والد کے دوست نے کہا؛
شاید یہ رقم کم تھی اس لئے تم نے واپس کردی ہے۔ اگر یہ تھوڑی ہے تو میں آپ کو اور دیتا ہوں۔

میں نے کہا؛
نہیں ایسا نہیں ہے بلکہ میں حج کا ارادہ رکھتا ہوں اس لئے پہلے آپ کی امانت واپس کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔

مجھے سعادت نصیب ہوئی اور میں حج پر روانہ ہوگیا۔ مکہ مکرمہ سے حاضری کے بعد مدینہ منورہ زیارات کے لئے گیا۔ اپنے چند دوستوں کے ہمراہ حضرت امام جعفر الصادق علیہ السلام کی زیارت کے لئے حاضر ہوا۔ میں چونکہ نوخیز اور کم عمر جوان تھا، محفل کے آخر میں بیٹھ گیا۔ جب لوگوں کا رش کم ہوا اور محفل میں جگہ خالی ہوئی تو میں ذرا آگے بڑھا۔ امام علیہ السلام نے مجھ سے پوچھا؛ کوئی کام تھا؟

میں نے عرض کی؛
قربان جاؤں، میں عبدالرحمٰن بن سبابہ ہوں۔
آپؑ نے میرے والد کا حال احوال دریافت فرمایا؛
میں نے عرض کیا؛ وہ وفات پاگئے ہیں۔

آپؑ نے بہت زیادہ افسوس فرمایا اور میرے والد کے لئے دعائے رحمت فرمائی اور پوچھا؛
کیا وہ کوئی دنیاوی مال ترکہ کے طور پر چھوڑ گئے تھے؟

میں نے عرض کیا؛ نہیں

آپؑ نے پوچھا؛
پھر تو کس طرح حج کے لئے آیا ہے؟

میں نے اپنے والد کے دوست کی داستان بیان کی۔۔ آپؑ نے میری بات پوری ہونے سے قبل ہی پوچھا؛
تو پھر تو نے اس بندۂ خدا کے ہزار درھم کا کیا کیا؟

میں نے عرض کیا؛ واپس کر دیا ہے۔

امام علیہ السلام نے فرمایا؛
شاباش، بہت اچھا کام کیا تو نے۔ تمہیں ایک نصیحت کروں؟

میں نے عرض کیا؛ جی ہاں، فرمائیے۔۔

امام علیہ السلام نے فرمایا؛
"عَلَیْکَ بِصِدْقِ الْحَدِيْثِ وَ اَدَآءِ الْآمَانَةِ"
تجھ پر لازم ہے سچ بولنا اور امانت واپس کرنا۔
اگر میری اس فرمائش پر عمل کرو گے تو لوگوں کے اموال کے شریک رہو گے۔ پھر آپؑ نے اپنی مبارک انگلیوں کو جمع فرمایا اور ارشاد فرمایا؛ اس طرح لوگوں کے اموال کے شریک ہوا کرو گے۔
میں نے آنحضرت علیہ السلام کی نصیحت پر عمل کیا، میری ہمیشہ مالی حالت اچھی رہی، اور اس قدر برکت ہوئی کہ ایک سال میں تین ہزار درھم زکوۃ ادا کی۔(5)

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

📚 حوالہ جات:
1) سورہ نساء، آیت58۔
2) سورہ مؤمنون، ایت8۔
3) موضوعی داستانیں،ص17۔
4) میزان الحکمۃ، حدیث 1495۔
5) بحارالأنوار، حصہ قصہ جات، ج2۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌲 خدا سے اُمید 🌲

خداوندمتعال کی معافی ہمارے گناہوں اور جرائم سے زیادہ ہے۔ ہمیشہ میری امیدیں خداوند ذوالجلال سے وابستہ ہیں کسی بھی شخص کو اپنے خالق لم یزل ولایزال سے ناامید نہیں ہونا چاہیے۔

●خداوندمتعال نے حضرت عیسٰیؑ سے فرمایا؛
"لا تَیْئَاسْ مِنْ رُوْحِی"
میری رحمت سے ناامید نہ ہونا۔(1)

●حضرت علیؑ نے فرمایا؛
"لا تَرْجُ إلّا رَبَّکَ"
اپنے رب کے بغیر کسی سے امید نہ رکھ۔(2)

■امید
بزرگان دین میں سے ایک دینی شخصیت ہمیشہ لوگوں کے درمیان خداوندمتعال سے امید رکھنے کے راستے بیان کرتے تھے۔ جب انکی وفات ہوئی تو کسی نے انہیں خواب میں دیکھا۔ انھوں نے خواب دیکھنے والے سے فرمایا؛
مجھے خداوندمتعال کی پیشی میں لے جایا گیا مجھے رب ذوالجلال کا خطاب ہوا؛
تجھے کس طرح یہ ہمت ہوئی کہ ہمیشہ لوگوں کو میرے سے طمع اور امیدواری کی دعوت دیتے تھے۔؟
میں نے عرض کیا؛
میرا مقصد تھا کہ ان کے دلوں میں تیری ذات کی محبت جاگزیں ہو اور وہ تیری ذات سے رابطہ رکھیں۔
مجھے میرے رب سے واپسی جواب ملا کہ:
"میں نے تجھے معاف کر دیا اور مغفرت عطا کی"(3)

■اعرابی کا دلچسپ سوال
ایک اعرابی نے حضرت رسول اکرمؐ سے پوچھا؛
قیامت کے دن حساب و کتاب کس کے ہاتھ میں ہوگا؟

آپؐ نے فرمایا؛
خداوندمتعال کے قبضۂ قدرت میں۔

اعرابی نے پھر پوچھا؛
کیا خود خداوندمتعال محاسبہ فرمائے گا؟

آپؐ نے فرمایا؛ ہاں، بالکل۔

اعرابی زیرلب مسکرایا اور تبسم کیا۔

رسول اکرمؐ نے پوچھا؛
کیوں مسکرا رہے ہو؟ ہنستے کیوں ہو؟

اعرابی نے کہا؛
اصحابِ کرم کی شان ہے کہ جب ان کی قدرت کا مرحلہ ہوتا ہے تو درگزر فرماتے ہیں اور جب محاسبہ کرتے ہیں تو رعایت کرتے ہیں اور آسانی کا رویہ اپناتے ہیں۔

حضرت رسول اکرمؐ نے فرمایا؛
یہ شخص ٹھیک کہتا ہے۔ آگاہ رہو کہ خداوندکریم بزرگوار اور نہایت بخشنے والا ہے اور اس کی ذات سے کوئی بڑھ کر بخشنے والا اور کریم نہیں ہے۔ عظیم صاحبِ عظمت اور کریم صاحبِ کرم ہے۔ اور پھر فرمایا؛
اس اعرابی نے فقیہ مردوں والی بات کی ہے۔(4)

■خدا سے امید
حضرت امام جعفر صادقؑ سے نقل ہوا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا؛ جب میدان محشر میں فیصلہ ہوگا اور کسی بندۂ خدا کے لئے حکم ہوگا کہ اسے جہنم میں ڈال دیں تو وہ ایک خاص طرح سے باربار خداوندمتعال کی رحمت کی طرف متوجہ ہوگا۔ خطاب ہوگا۔۔
بار بار کیا دیکھتا ہے؟

وہ بندہ عرض کریگا؛
خدایا میرا گمان اس طرح نہیں تھا بلکہ مجھے تو بخشش کی امید تھی۔

ارشاد ہوگا؛
تیرا کیا گمان تھا؟

وہ شخص عرض کریگا؛
مجھے گمان تھا کہ مجھے بہشت ملے گی۔

خداوندمتعال فرشتوں کو فرمائے گا؛
مجھے میری عزت و جلال کی قسم! اگر کوئی بندہ میرے اوپر ایک گھڑی بھی اچھا گمان کرے اور میری رحمت کا امیدوار ہو، میں ہرگز اسے جہنم کی آگ سے نہیں ڈراتا، پس اس کا گمان حقیقت بنا دو اور اسے میری بہشت میں داخل کردو۔

پھر رسول اکرمؐ نے فرمایا؛
اگر کوئی بندۂ خدا اپنے رب سے اچھا گمان رکھتا ہو تو خداوند ذوالجلال اسے اس کے مقصود و مطلوب تک پہنچا دیتا ہے۔

امام جعفر صادقؑ نے فرمایا؛
خداوند ذوالجلال اپنے بندے کے نیک گمان کے نزدیک ہے۔ اگر اس کا گمان اچھا ہوگا تو اس کا نتیجہ بھی اچھا ہوگا۔ اور اگر گمان بد ہوگا تو نتیجہ بھی بد ہوگا۔(5)

■سرمایۂ گداگری
حضرت موسٰیؑ نے خداوندمتعال سے عرض کیا؛
خدایا! جو چیز میری گداگری کی خرجین میں ہے، کیا وہ تیرے خزانے میں بھی ہے۔؟

خطابِ ایزدی ہوا؛
موسٰیؑ وہ کونسی ایسی چیز ہے جو تیری گداگری کی خرجین میں ہے اور میرے خزانے میں نہیں؟

حضرت موسٰیؑ نے عرض کیا؛
خدایا! میرے پاس تیری ذات جیسا خدا ہے۔(6)

التماس دعا: سید سجاد حسین ھمدانی

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

📚 حوالہ جات:
1) بحارالأنوار، ج14۔
2) غررالحکم، ج6، ص262۔
3) معراج السعادة.
4) اسرارالقوة، ص255۔
5) موضوعی داستانیں، ص25۔
6) داستانہاوپندہا، ج3۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

■ مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔

🌲 الله تعالٰی کی مدد
https://t.me/islamwitheman/25

🌲 بیمثال مالک
https://t.me/islamwitheman/110

🌲 الله تعالٰی کی رحمت
https://t.me/islamwitheman/134

🌲 الله تعالٰی کی رحمت پر بھروسہ
https://t.me/islamwitheman/137

🌲 بہترین حسن ظن
https://t.me/islamwitheman/263

🌲 حسن نیت اور جذبہ شرمساری
https://t.me/islamwitheman/301

🌲 خدا سے امید
https://t.me/islamwitheman/646

🌲 توکل علی اللہ
https://t.me/islamwitheman/687

🌲 توکل بر خدا
https://t.me/islamwitheman/894

🌲 نا اُمیدی
http://t.me/islamwitheman/1731

🌲 قبولیت سے نا اُمیدی
https://t.me/islamwitheman/1734

🌲 کیوں نا اُمیدی
https://t.me/islamwitheman/1736

🌲 ناامیدی شیطان کا اہم ہتھیار
https://t.me/islamwitheman/2933
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔶 تارک الصّلاة کے نام 🔶

حضور اکرمؐ نے فرمایا:
🔶جب تم میں سے کوئی شخص "فجر کی نماز" چھوڑتا ہے تو آسمان سے ایک منادی اسے "یا خاسر" (اے خسارہ اٹھانے والا) کے نام سے پکارتا ہے۔

🔶جب تم میں سے کوئی شخص "ظہر کی نماز" چھوڑتا ہے تو منادی اسے "یا غادر" (اے عہد شکن) کے نام سے پکارتا ہے۔

🔶جب تم میں سے کوئی شخص "عصر کی نماز" چھوڑتا ہے تو منادی اسے "یا فاجر" (اے فجور کرنے والے) کے نام سے پکارتا ہے۔

🔶جب تم میں سے کوئی شخص "مغرب کی نماز" چھوڑتا ہے تو منادی اسے "یا کافر" (اے کافر) کے نام سے پکارتا ہے۔

🔶جب تم میں سے کوئی شخص "عشاء کی نماز" چھوڑتا ہے تو منادی اسے ندا کرتا ہے کہ "کیا تیرا رب نہیں ہے"؟؟

📚 ہدیةالشیعہ ، صفحہ326۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

■ نماز کے متعلق مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔

🔷 کوشش اور توفیق
https://t.me/islamwitheman/227

🔷 نماز نہ پڑھنے کی تاویلات
https://t.me/islamwitheman/297

🔷 کامل نماز کا طریقہ
https://t.me/islamwitheman/293

💝 عبادت میں لذت
https://t.me/islamwitheman/352

💞 میاں بیوی کی محبت کا تقاضا
https://t.me/islamwitheman/295

🔷 نماز میں غفلت
https://t.me/islamwitheman/296

💫 نیت اور عمل
https://t.me/islamwitheman/226

⭕ نماز کی عظمت و ثواب
https://t.me/islamwitheman/292

🔷قیامت کا دن اور تین آدمیوں کی پیشی
https://t.me/islamwitheman/104

🔷 اقیموا الصلاة
https://t.me/islamwitheman/294

☉ جمعرات کے دن کی نماز
https://t.me/islamwitheman/122

🔷 پہلی نماز جمعہ
https://t.me/islamwitheman/368

🔷 مختصر نماز مغفرت والدین
https://t.me/islamwitheman/12
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
💓حضرت موسٰیؑ کا بہشتی ہمسایہ💓

حضرت موسٰیؑ اپنے رب سے محوِ مناجات تھے کہ دل میں خیال گزرا، جنت میں میرا ہمسایہ کون ہوگا لہذا عرض کیا؛
پروردگار، اے رب ذوالجلال! کیا مجھے یہ خبر دی جا سکتی ہے کہ جنت میں میرا ہمسایہ کون ہوگا اور کیا میں اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہوں؟

ارشاد ہوا۔۔
فلاں شہر کے فلاں محلہ میں ایک قصاب رہتا ہے، جا کر اس سے ملو۔

حضرت موسٰیؑ بڑے شوق سے اس قصائی کی دکان کی جانب روانہ ہوئے۔ جونہی اس پر نظر پڑی تو بہت خوش ہوئے۔ وہ اس خیال سے اس کے پاس خاموشی سے بیٹھ گئے کہ کیا ہی خوب ہو کہ میں اس شخص کے اعمال و کردار کا بغور جائزہ لوں۔ شاید مجھے اس کی سیرت سے وہ خاص عمل معلوم ہوسکے جو اس قدر بارگاہ ایزدی میں مقبول و پسندیدہ ہے کہ یقینی بہشتی ہونے اور میرے ہمسایہ ہونے کا باعث ہے۔ ایسا کونسا منفرد عمل اس شخص کا خداوندمتعال کو پسند ہے جسکی وجہ سے اتنے بلند مرتبہ و مقام پر فائز ہے۔

کافی وقت اس کی دکان پر گزارنے کے باوجود بھی حضرت موسٰیؑ اس کے ایسے راز سے آگاہ نہ ہوسکے جو اس شخص کا خاص عمل شمار ہوتا۔ بس وہی گوشت فروشی اور لین دین کا سلسلہ جاری رہا۔ اور بس۔

سر شام دکان کا دروازہ بند کر کے جب قصاب اپنے گھر کو روانہ ہونے لگا تو حضرت موسٰیؑ نے اپنا تعارف کروائے بغیر اس جوان سے درخواست کی کہ مجھے آج کی شب اپنا مہمان بنا لیں۔ اس نے آپ کی درخواست پر آپ کو اپنا مہمان بنانے پر آمادگی ظاہر کی، گھر میں لے جاکر ٹھہرایا۔
مہمان نوازی کے رسوم و آداب سے فراغت کے بعد گھر کی چھت کے ساتھ آویزاں ایک ٹوکری کی رسی کھولی اور آہستہ آہستہ اس رسی کو پکڑ کر ٹوکری کو نیچے اتارنا شروع کیا۔ جب ٹوکری سامنے آئی تو حضرت موسٰیؑ نے دیکھا اس میں گٹھڑی نما کپڑے میں بندھی ہوئی ایک بوڑھی مستور تھی۔ اور جوان ایک رقیق شوربا قسم کی خوراک کا پیالہ لایا اور آہستہ آہستہ چمچ کے ساتھ اس بڑھیا کو کھلانا شروع کردیا۔

وہ بڑھیا کبھی کبھی آسمان کی طرف دیکھتی اور اس کے لب حرکت کرتے اور کچھ بولتی لیکن اس کی باتوں کی کوئی سمجھ نہیں آرہی تھی۔

اس بڑھیا کی خدمت سے فارغ ہوکر قصائی جوان نے اپنے مہمان کی مزید خدمت گزاری کے فرائض انجام دیئے اور اجازت چاہی اور جاکر سوگیا۔ مہمان و میزبان دونوں محو آرام ہوئے۔

صبح ہوتے ہی قصائی جوان نے پھر مہمان اور بڑھیا کی خدمت کے فرائض انجام دیئے۔ پھر اس بڑھیا کو اسی ٹوکری میں ڈال کر گھر کی چھت سے آویزاں کردیا۔ اور مہمان کو ساتھ لے کر دکان کی جانب روانہ ہوا۔

حضرت موسٰیؑ نے دوران راہ اس جوان سے پوچھا؛
یہ بڑھیا کون تھی؟

جوان نے جواب دیا؛
یہ میری والدہ تھیں۔

حضرت موسٰیؑ نے پوچھا؛
تو نے کیوں اپنی والدہ کو ٹوکری میں ڈال کر چھت سے لٹکا دیا؟

جوان نے جواب دیا؛
گھر میں صرف میں اور میری والدہ رہتے ہیں۔ کوئی دیکھ بھال کے لئے موجود نہیں۔ مجھے خوف تھا کہ کوئی حیوان اسے تکلیف نہ پہنچائے۔ اس لئے محفوظ جگہ پر رکھ دیا۔

حضرت موسٰیؑ نے پوچھا؛
جب تو اپنی والدہ کو غذا کھلا رہا تھا، تیری والدہ آسمان کی طرف منہ کر کے کیا کہتی تھی۔

جوان نے بتایا؛
وہ دعا کر رہی تھیں اور کہتی تھیں "خدایا میرے بیٹے کو روز قیامت حضرت موسٰیؑ کے ساتھ محشور فرما"

حضرت موسٰیؑ نے فرمایا؛
تجھے خوشخبری ہو کہ تیری والدہ کی دعا قبول ہوگئی ہے۔ کل سے تیرا مہمان بننے والا شخص میں موسٰی ہوں۔ میں نے خداوندمتعال سے درخواست کی تھی کہ مجھے میرے بہشتی ہمسایہ کی خبر دے۔ ادھر مجھے معلوم ہوا کہ آپ میرے ہمسایہ ہونگے۔ میں نے جو معلوم کرنا تھا وہ تیرا پسندیدہ عمل تھا۔ آج مجھے معلوم ہوگیا کہ تیرا پسندیدہ عمل کونسا تھا جو آپ کے میرے ساتھ جنت میں ہمسایہ ہونے کا سبب ہے۔

التماس دعا؛ سید سجاد حسین ھمدانی

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

📚 کشکول ممتاز، ص168۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

■ ماں، باپ کے بارے میں مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔

⭕ ماں کی ناراضگی کا اثر
https://t.me/islamwitheman/331

⭕ عمل کا ردعمل
https://t.me/islamwitheman/333

🔷 اولڈ ایج ہوم
https://t.me/islamwitheman/97

🔷 ساس اور بہو
https://t.me/islamwitheman/199

🔷 ماں اور باپ
https://t.me/islamwitheman/330

🔷 سیب کا درخت
https://t.me/islamwitheman/162

🔷 باپ کے جذبات
https://t.me/islamwitheman/58

🔷 باپ ٹھنڈی چھاؤں
https://t.me/islamwitheman/96

🔷 باپ کی پشت پناہی
https://t.me/islamwitheman/332

🔷 جیسا کرو گے ویسا بھرو گے
https://t.me/islamwitheman/117
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹 مُحبانِ اہلبیتؑ کو نصیحت 🌹

عمرو بن سعید بن بلال سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت ہماری ایک جماعت تھی۔ آپ نے فرمایا: تم معتدل بن جاؤ یعنی میانہ روی اختیار کرو کہ اس سے آگے بڑھ جانے والا تمہاری طرف پلٹ آئیگا اور پیچھے رہ جانے والا تم سے ملحق ہوجائے گا اور اے آل محمد کے شیعو! یہ جان لو کہ ہمارے اور خدا کے درمیان کوئی رشتہ داری نہیں ہے اور نہ ہی خدا کے اوپر ہماری کوئی حجت ہے اور اطاعت کے علاوه کسی اور چیز کے ذریعہ خدا کا تقرب حاصل نہیں کیا جاسکتا پھر جو خدا کا مطیع وفرمانبردار ہوگا اس کو ہماری ولایت سے فائده پہنچے گا لیکن جو عاصی اور نافرمان ہوگا اس کو ہماری ولایت سے کوئی فائده نہیں ہوگا اس کے بعد ہماری طرف مخاطب ہوۓ اور فرمایا: دھوکا نہ دو اور افتراء پردازی نہ کرو۔

📚 بحارالانوار ج ٦٨ ص ١٧٨،

حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: خدا سے ڈرو! تمہيں کوئی دھوکا نہ دے اور کوئی شخص تمہیں جھٹلائے نہ دے۔ کیونکہ میرا دین وہی ہے جو آدم کا دین تھا جس کو خدا نے پسند کیا ہے اور میں بندہ و مخلوق ہوں خدا کی مشیت کے علاوه میں اپنے نفع و نقصان کا بھی مالک نہیں ہوں اور میں وہی چاہتا ہوں جو خدا چاہتا ہے۔

📚 بحارالانوار ج ٦٨ ص ٨٩۔

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

■ مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔

🔷 حقیقی شیعوں کے آثار
https://t.me/islamwitheman/378

🔷 شیعانِ علی علیہ السلام
https://t.me/islamwitheman/17

💝 اسلام کی بنیاد محبتِ اہلبیتؑ
https://t.me/islamwitheman/476

🔷 بُغضِ اہلبیتؑ کے اثرات
https://t.me/islamwitheman/450
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌲 توکل علی اللہ 🌲

راستہ چلنے والا اگرچہ سینکڑوں ہنر رکھتا ہو پھر بھی توکل ضروری ہے۔ اپنے جبار خدا پر بھروسہ کرو تاکہ مراد تک پہنچو۔

● ارشادِ باری تعالٰی ہے۔۔
إذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ إنَّ الله یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِینَ۔
جب کسی عمل کا ارادہ کرو تو اللہ تعالٰی پر توکل کرو کیونکہ خداوندمتعال اپنے اوپر بھروسہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔(1)

● خدا تعالٰی فرماتا ہے۔۔
وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ فَھُوَ حَسْبُہُ۔
اور جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے۔ اللہ اسے کافی ہوتا ہے۔(2)

● رسول اکرمؐ فرماتے ہیں۔۔
مَنْ سَرَّہُ اَنْ یَّکُوْنَ اَقْوَی النَّاسِ فَلْیَتَوَکَّلْ عَلَی اللهِ۔
جو چاہتا ہو کہ سب لوگوں سے طاقتور ہو، خدا پر بھروسہ کرے۔(3)

■ حضرت ابراہیمؑ کا توکل
جب بت پرستوں نے حضرت ابراہیمؑ سے اپنے بتوں کو توڑنے کا انتقام لینے کے لئے منجیق میں ڈالا اور ہوا میں اچھال کر دہکتی ہوئی بلند شعلہ آگ کے سمندر میں پھینک دیا، آسمان و زمین کے درمیان آگ میں اترنے کے سفر کے دوران مقرب فرشتہ آپ کے سامنے ظاہر ہوا اور پوچھا:
اے خلیل خدا! کوئی حاجت ہو تو بتاؤ، میں فوری طور پر آپ کے لئے انجام دے سکتا ہوں۔
حضرت ابراہیمؑ نے فرمایا؛
مجھے آپ سے کوئی حاجت نہیں ہے۔ مجھے صرف بے نیاز خدا سے حاجت ہے۔ میرے سب راز اس پر عیاں ہیں اور اس سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ خود بہتر جانتا ہے کہ اپنے ضرورت مند بندے کے لئے کیا کرے۔ اسی اثنا میں حکمِ خدا سے آگ گل و ریحان میں بدل گئی۔ اور باعثِ سلامتی قرار پائی۔(4)

■ بہترین سرپرست
ایک دن حضرت عزرائیلؑ ملک الموت حضرت موسٰیؑ کے پاس آئے جب حضرت موسٰیؑ نے انہیں دیکھا تو پوچھا کیسے آنا ہوا؟ ملاقات کے لئے آئے ہو یا قبضِ روح کے لئے آئے ہو۔؟

ملک الموت نے کہا؛
قبضِ روح کے لئے آیا ہوں۔

حضرت موسٰیؑ نے والدہ اور خاندان کے باقی افراد سے الوداع کے لئے مہلت چاہی۔ بیوی بچوں سے آخری ملاقات کر لوں۔

ملک الموت نے فرمایا؛
مجھے اس کا اختیار اور اجازت نہیں ہے۔

حضرت موسٰیؑ نے فرمایا؛
اچھا تو پھر ایک سجدہ کرنے کی مہلت دے دو۔

جس کی مہلت مل گئی اور حضرت موسٰیؑ سجدے میں چلے گئے۔ سجدے میں جاکر دعا کی۔۔
خدایا! ملک الموت کو حکم فرما کہ مجھے والدہ اور اہل و عیال سے الوداع کے لئے جانے دیں۔

خداوندمتعال نے حضرت عزرائیلؑ کو حکم دیا کہ موسٰیؑ کی روح کے قبض کو مؤخر کردے۔
حضرت موسٰیؑ اپنی والدہ کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا:
والدہ گرامی مجھے معاف کر دیں، میں ایک سفر پر جا رہا ہوں۔

ماں نے پوچھا؛
کونسا سفر۔؟

حضرت موسٰیؑ نے جواب دیا؛
سفرِ آخرت پر۔

ماں نے رونا شروع کر دیا اور حضرت موسٰیؑ نے الوداعی بازو والدہ کے گلے میں ڈال دیے۔ ماں سے جدا ہوکر اپنی بیوی اور بچوں کے پاس گئے۔ حضرت موسٰیؑ کا ایک چھوٹا بچہ تھا جس سے آپؑ کو زیادہ ہی محبت تھی۔ بچے نے حضرت موسٰیؑ کے پیراہن کا دامن پکڑ لیا اور زاروقطار رونے لگا۔ حضرت موسٰیؑ بھی سخت متأثر ہوئے، آپ سے بھی رہا نہ گیا۔ آپ بھی گریہ کرنے لگے۔

خداوندمتعال کی طرف سے خطاب ہوا؛
موسٰیؑ جو آپ ہماری ملاقات کے لئے ہمارے پاس آ رہے ہو تو رونا کس لئے؟

حضرت موسٰیؑ نے عرض کیا؛
پروردگار عالم مجھے اپنے بچوں کے لئے رونا آرہا ہے کیونکہ مجھے اپنے بچوں سے بہت زیادہ محبت ہے۔

خطابِ خداوندی آیا؛
موسٰیؑ ذرا اپنا عصا دریا میں مارو۔

حضرت موسٰیؑ نے عصا مارا۔ دریا پھٹ گیا ایک سفید پتھر نظر آیا جس میں سے ایک کمزور کیڑا پتھر کے اندر بیٹھا ہوا دیکھا جس کے منہ میں سبز پتا تھا اور وہ اسے چبانے میں مشغول تھا۔

خداوندمتعال نے حضرت موسٰیؑ سے خطاب فرمایا؛
موسٰی اس دریا کی تہہ اور اس پتھر کے اندر اس کمزور سے کیڑے کو نہیں بھولتا ہوں تو کیا تیرے بچوں کو بھول جاؤں گا۔؟ اطمینانِ خاطر سے چلے آؤ کہ میں ان کا بہترین نگہبان ہوں۔

حضرت موسٰیؑ نے عزرائیلؑ سے فرمایا؛
اپنے کام کو انجام دو اور پھر آپ کی روح قبض ہوگئی۔(5)

🌹 آگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

✍ سید سجاد حسین ھمدانی

📚حوالہ جات:
1)سورہ آل عمران، آیت159۔
2)سورہ طلاق، آیت3۔
3)میزان الحکمۃ:22645۔
4)نشان از بے نشان ہا، ج1، ص434۔
5)داستانہائے وپندہا، ج4، ص137 تا 139۔

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
✨ جبرئیل کی تمنا ✨

💢 قال رسول الله (صلی الله علیه و آله و سلم) یَا عَلِیُّ!

✍ تمَنَّی جَبْرئِیلُ اَنْ یَکُونَ مِنْ بَنِی آدَمَ بِسَبْعِ خِصَالٍ وَ هِیَ:
♨ الصَّلَوه فِی الْجَمَاعَه وَ مُجَالَسَتُهُ الْعُلَمَاءَ وَ الصُّلْحُ بَیْنَ الاِثْنَیْنِ
♨ و اِکْرَامُ الْیَتِیمِ وَ عِیَاده الْمَرِیضِ وَ تَشْیِیعُ الْجَنَازه
♨ و سَْقیُ الْمَاءِ فِی الْحَجِّ

☀ فاحْرُصْ عَلَی ذَلِکَ

💢 پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا:

✍ یاعلی! بنی آدم میں سات ایسی خصلتیں پائی جاتی ہیں جس کی وجہ سے جبرئیل کی بھی آرزو ہے کہ وہ بنی آدم میں سے ہوتا:
♨ نماز جماعت میں شرکت کرنا،
♨ علماء کے ساتھ نشست و برخاست،
♨ دو مومن بھائیوں کے درمیان صلح کرنا،
♨ یتیم سے کرم نوازی،
♨ مریض کی عیادت،
♨ تشییع جنازہ میں شرکت،
♨ حاجیوں کو پانی پلانا؛

☀یا علی تم ان امور کو انجام دینے میں زیادہ دلچسبی رکھو

📚 مواعظ العددیه، علی مشکینی، نشر الهادی، قم، ص195.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 قیصر روم کا مسلمان ہونا 🔷

بادشاہ قیصر روم نے کسی عباسی خلیفہ کو لکھا۔ ہم نے انجیل میں پڑھا، جو شخص ایسی سورہ پڑھے جس میں (ث، ج، خ، ز، ش، ظ، ف) نہ ہوں خدا اس کے جسم کو جہنم سے حرام قرار دیتا ہے۔ ہم نے تورات، انجیل، زبور میں تلاش کیا ہمیں ایسی سورہ نہیں ملی، کیا تمہاری کتاب میں ایسی سورہ ہے۔

خلیفہ نے علماء اسلام کو اکٹھا کر کے سوال کو دھرایا کوئی جواب نہ دے سکا۔آخر میں امام علی نقی علیہ السلام سے پوچھا گیا۔۔

امام علی نقی علیہ السلام نے فرمایا؛
وہ سورہ حمد ہے۔ ان ساتوں حروفوں میں اس میں کوئی حرف نہیں۔

لوگوں نے پوچھا کیوں نہیں۔؟

امام علی نقیؑ نے فرمایا:
ث، ثثبور یعنی ہلاکت پر،
ج، جخیم یعنی جہنم پر،
خ، خبیث پر،
ز، زقوم یعنی تھوہڑ پر،
ش، شقاوت پر،
ظ، ظلمت یعنی تاریکی پر،
ف، فرقت یا آفت پر دلالت کرتا ہے، یہ سورہ رحمت ہے اس میں عذاب کا اشارہ نہیں ہے۔

قیصر روم نے جب اس سوال کا جواب سنا۔ وہ بہت متأثر ہوا اور مسلمان ہو گیا۔یہ امام علیہ السلام کی برکت سے ہوا۔

📚 کشکول(احمد قاضی زاہدی) ج١ ص٢٠٣۔

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌼 حقوق العباد 🌼

خداوندمتعال اپنے حقوق تو معاف فرما سکتا ہے لیکن اپنے بندوں کے حقوق سے درگزر نہیں فرماتا۔

●حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں۔۔
جَعَلَ الله حُقُوْقَ عِبَادِہِ مُقَدِّمَةً عَلٰی حُقُوْقِہِ۔
خداوندمتعال نے اپنے حقوق سے اپنے بندوں کے حقوق کو مقدم قرار دیا ہے۔(1)

●حضرت امام حسن عسکریؑ نے فرمایا؛
اَعْرَفُ النَّاسِ بِحُقُوْقِ اِخْوَانِہِ وَ اَشَدِّھِمْ قَضَآءً لَّھَا اَعْظَمُھُمْ عِنْدَاللهِ شَانًا۔
اپنے مومن بھائیوں کے حقوق کی معرفت رکھنے والوں اور انہیں ادا کرنے کی سختی سے پابندی کرنے والوں کی اللہ تعالٰی کے نزدیک بڑی شان ہے۔(2)

■مشکوک اموال
حضرت امام زین العابدینؑ کو احرام کی حالت میں کسی نے دیکھا کہ چہرے مبارک کا رنگ زرد تھا اور آپ بالکل خاموش، پریشان محسوس ہو رہے تھے۔ کسی نے آپ سے آپ کی اس حالت کے بارے میں دریافت کیا اور پوچھا؛
کیا وجہ ہے یہ دین کے رہنما آقائے دین ہیں لیکن تلبیہ کی آواز بھی ہمیں سنائی نہیں دے رہی۔

آپ نے جواب میں فرمایا؛
میں خداوندمتعال کی ہیبت سے گھبرایا ہوا ہوں اس بات کا خوف محسوس کر رہا ہوں، میں لبیک کہوں اور واپسی جواب آئے لالبیک ولاسعدیک۔
اور پھر وضاحت کے لئے بلا فاصلہ فرمایا؛
میں جانتا ہوں کہ اگر کوئی شخص مشکوک اموال کے ساتھ حج کرے تو اس کے لبیک کے جواب میں کہہ دیا جاتا ہے لالبیک ولاسعدیک۔ جاؤ پہلے لوگوں کے حقوق واپس کرو اور پھر ادھر آنا۔(3)

■خلال دندان
حضرت عیسٰیؑ نے ایک قبرستان سے گزرتے ہوئے ایک قبر والے کے زندہ ہونے کی دعا فرمائی۔
جب وہ شخص زندہ ہوکر برآمد ہوا۔ حضرت عیسٰیؑ نے اس سے قبر کی حالت کے بارے میں دریافت فرمایا۔ اس نے بتایا۔۔
میں اونٹوں پر مال برداری کا کام کرتا تھا۔ ایک بار میں نے کسی شخص کا ایندھن لے جانا تھا راستے میں میں نے اپنے دانتوں کو صاف کرنے کے لیے ایندھن سے خلال (ایک تیلا) توڑا تھا اور اپنے دانتوں کا خلال کیا تھا۔ موت کے وقت سے لے کر اسی خلال کی سزا کا عذاب ہو رہا ہے۔(4)

📚 حوالہ جات:
1)میزان الحکمۃ:4150۔
2)میزان الحکمۃ:1454۔
3)موضوعی داستانیں، ص125۔
4)موضوعی داستانیں، ص126۔

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕