ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.64K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
🐠🐈 صدقه 🐈🐠

ایک نوجوان کی ماں سخت بیمار اور ہسپتال میں انتہائی نگہداشت کے شعبہ میں داخل تھی۔ ڈاکٹروں نے یہاں تک کہہ دیا تھاکہ برخوردار زندگی موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے مگر ہم اب مایوس ہو چکے ہیں۔ تم کسی بھی لمحہ کوئی بری خبر سننے کیلئے ذہنی طور پر تیار رہنا۔
رات گھر گزارنے کے بعد صبح ماں سے ملاقات کیلئے ہسپتال جاتے ہوئے نوجوان راستے میں ایک پیٹرول پمپ پر رکا، پٹرول بھروانے کیلئے اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے اس کی نظر سروس شاپ کی دیوار کے پاس پڑی جہاں ایک بلی نے خالی ڈبے کے نیچے بچے دےرکھے تھے۔
یہ نوزائیدہ بچے بہت ہی چھوٹے تھے جو ابھی چلنے پھرنے کے قابل بھی نہیں تھے۔ نوجوان کے ذہن میں جو پہلی بات آئی وہ یہ تھی کہ اتنےنازک اور چھوٹے سے بچے کھانا کہاں سے اور کیسے کھائیں گے۔ یہ خیال آتے ہی اس نے اپنی کار ایک طرف ہٹا کر بند کی، دکان سے جا کر مچھلی کا ایک ڈبہ خریدا، کھول کر اسے بلی کے بچوں کےپاس رکھا۔ بچوں نے کھانا شروع کیا تو وہ خوش ہو کر اپنی کار کی طرف گیا اور پٹرول بھروا کر ہسپتال جا پہنچا۔
جیسے ہی اس نے اپنی ماں کےکمرے میں جھانکا تو بسترخالی پا کراس کی آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا۔ ڈوبتے دل کے ساتھ ایک نرس سے پوچھا؛ میری امی کہاں ہے؟ نرس نےکہا؛ آج آپ کی امی کی طبیعت معجزاتی طور پر سنبھلی تھی۔ اسے جیسے ہی ہوش آیا تو ڈاکٹر نے کہا تھا اسے تازہ ہوا لینے کیلئے باہر لے جاؤ۔ تو ہم نے اسے کوریڈور سے باہر لان میں بٹھا دیا ہے، آپ اسے جا کر مل سکتے ہیں۔
نوجوان بھاگتا ہوا اپنی ماں کے پاس پہنچا، اسے سلام کیا، حال احوال پوچھا تو اس کی ماں نے کہا؛ بیٹے آج صبح میں نےخواب دیکھا کہ ایک بلی اور اس کے چھوٹے چھوٹے معصوم بچے آسمان کی طرف ہاتھ اُٹھائے میرے لیئے دعا کر رہے ہیں۔ بس یہ خواب دیکھتے ہی میری آنکھ کھل گئی اور باقی کی صورتحال تم خود دیکھ رہے ہو۔ اور نوجوان حیرت بھری خوشی کے ساتھ اپنی ماں کی باتیں سنتا رہا اور اپنے دل کو ٹھنڈا کرتا رہا۔
جی ہاں، اس خدا کی رحمت کی وسعت سب کچھ کو اپنے اندر سمو لیتی ہے، ایسے تو ہمیں نہیں سکھایا گیا کہ اپنے مریضوں کاصدقہ سے علاج کرو یا صدقہ ہی تو ہے جو تمہارے رب کے غصے کو ٹھنڈا کرتا ہے۔

■ حضرت امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں..
واضح طور پر دیا جانے والا صدقہ ستر(70) بلاؤں کو دور کرتا ہے اور پوشیدہ طور پر دیا جانے والا صدقہ اللہ کے غضب کو ختم کرتا ہے.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

📚 کتاب: ثواب الأعمال

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 بہشتی اور دوزخی 🔷

ایک طباخی نے شبلی کی بہت زیادہ تعریف سنی اور وہ اسکا عاشق ہو گیا. اسے ایک دن خبر ملی کہ آج شبلی اس کے شہر میں آرہا ہے. وہ بہت خوش ہوا اور اس کے دیدار و ملاقات کے لیے بیتاب تھا. اپنے تنور کے سامنے روٹی لینے والوں کی قطار لگی ہوئی تھی. اس شدید گرمی کے دن میں اس کے پاس ایک شخص تیزی سے آیا اور کہا؛
"میں بہت دور کے سفر سے آرہا ہوں اور بہت بھوکا ہوں. مجھے ایک روٹی دیدو. مجھے بہت زیادہ بھوک ہے."

طباخی نے کہا؛
"ایک درہم کی ایک روٹی ہے. درہم دے دو، روٹی لے لو."

مسافر جو بھوک سے نڈھال تھا، اس کے چہرے کا رنگ اڑا ہوا تھا، اس پر کمزوری اور تهکاوٹ کے باعث کپکپی طاری تھی.. طباخی سے درخواست کی کہ...
"اپنی جوانمردی اور شرافت کے سبب بغیر درہم کے ایک روٹی ہدیہ کردو."

طباخی چیخا اور جهڑک کر کہا؛
اگر آپ میرے گرم تنور کی رونق دیکھ رہے ہیں اور میرے کاروبار کو چلتا دیکھ رہے ہیں تو یہ صرف اسی وجہ سے ہے کہ میں تیرے جیسے گداگروں پر عنایت نہیں کرتا.

مسافر نے سر نیچا کر لیا اور چلنے کی راہ لی، طباخی کے تنور کو چھوڑ کر چلا گیا.
مسافر کے ساتھ روٹی لینے کے انتظار میں کھڑا ایک اور شخص یہ سارا ماجرا دیکھتا رہا اور طباخی سے کہا؛
کاش آپ جوانمردی دکھاتے اور اسے ایک روٹی دے کر اپنا مہمان بنا لیتے اور تمہیں اس پر فخر ہوتا.

طباخی نے اسے بھی جهڑک کر کہا؛
تیری بات کا اس سے کیا مطلب؟ فضول بات نہ کرو.

اس نے آہ کینچهی اور کہا؛
میں نے سنا ہے کہ تجھے شبلی کے ساتھ عشق کی حد تک محبت ہے. میں نے سارا ماجرا دیکھا اور چپ رہا تاکہ دیکھ لوں کہ تو اپنے محبوب کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے.

طباخی نے فوراً پوچھا؛
اچھا تو کیا وہ شبلی تھے؟

اس شخص نے کہا؛
ہاں تو اور کیا. وہی تو تھے. اور آپ کے عشق کا پتہ چل گیا. اگر آپ کو اس سے محبت تھی تو اسے کیوں روٹی نہیں دی؟

طباخی تیزتیز دوڑتا ہوا شبلی کے پیچھے بھاگا. اسکو جا کر ملا اور معزرت خواہی کی، پاؤں پر گر گیا، معافی کا طلبگار ہوا.

شبلی نے اس شرط پر راضی ہونے کا اظہار کیا کہ ایک ضروری عمل میں آپکو بتاتا ہوں، اگر مجھے راضی کرنا ہے تو وہ انجام دینا ہو گا.
طباخی نے شرط قبول کرلی.

شبلی نے کہا؛
اگر آپ مجھے راضی کرنا چاہتے ہیں تو کل غرباء و مساکین کے ساتھ مجھے کھانا کھلائیں اور جتنا ہو سکے ہماری خدمت کریں، خاطرخواہ کھانے کا انتظام کریں.

طباخی نے شرط قبول کرتے ہوئے ایک سو طلائی سکہ کے خرچہ کے ساتھ کھانے کا اہتمام کیا. انواع و اقسام کے کھانوں کے ساتھ نہایت عمدہ دسترخوان بچھایا، قسم و اقسام کے مشروبات پیش کئے.

شبلی دسترخوان پر آکر بیٹھ گئے اور دعا کرنے کے بعد کھانے کی طرف ہاتھ بڑھایا تاکہ اور لوگ بھی کھانا تناول کریں. اسی اثناء میں ایک شخص جو شبلی کو جانتا تھا، بلند آواز سے اسے مخاطب ہو کر بولا؛
میں چاہتا ہوں کہ اس مجمع سے بہشتی اور دوزخی بندوں کا پتہ چلاؤں... آپ بتا سکتے ہیں؟

شبلی نے کہا؛
"اگر آپ کسی جہنمی کو دیکھنا چاہتے ہیں تو اس طباخی کو دیکھ لیں، جس نے شہرت طلبی اور ناموری حاصل کرنے کے لیے اتنے کثیر اخراجات والی دعوت کا اہتمام کیا ہے اور مجھے خوش کرنے کے لیے ایک سو طلائی سکہ خرچ کر ڈالا جبکہ کل خداوندمتعال کی رضا حاصل کرنے کے لیے ایک روٹی کی قربانی دینے سے دریغ کیا."

📚 قصہ ہائے عطار 63/8. (ترجمہ فارسی)

■ حضرت امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں..
ہر قسم کی ریاکاری شرک ہے. یقیناً جو شخص لوگوں کی خوشنودی کے لیے عمل کرے گا، اسکا اجر بھی لوگوں کے ذمہ ہوگا. (اسے خداوندمتعال کے اجر کی امید نہیں کرنا چاہیے)

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

📚 میزان الحکمہ.

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌱 سوکھی ٹہنی ہری ہوگئی🌱

ایک مرتبہ ایک بہت ہی گناہ گار، اپنے زمانے کا مانا ہوا فاسق و فاجر شخص ایک جنگل کے قریب جا رہا تھا کہ اس نے ایک آدمی کو دیکھا جو اپنے سامنے زمین میں ایک سوکھی ٹہنی دبائے بیٹھا تھا اور الله کی عبادت کر رہا تھا، اس گناہ گار آدمی نے پوچھا تم کیا کر رہے ہو؟
اس نیک اور پرہیز گار بندے نے بتایا میں سالوں سے دنیا سے دور اس ویرانے میں الله کی عبادت کر رہا ہوں، جس دن میری عبادت قبول ہوگی اس دن یہ ٹہنی ہری ہو جائے گی اسطرح مجھے پتہ چل جائے گا-
اس گناہ گار کے دل میں جانے کیا آئی وہ بھی زمین میں ایک سوکھی ٹہنی دبا کر بیٹھ گیا اور عبادت کرنے لگا-
تھوڑی دیر بعد کہیں سے ایک آدمی کی مدد کی پکار آئی اور پکارنے والے نے نقاہت بھری آواز میں پانی مانگا دونوں نے سنی ان سنی کر دی، آواز دوبارہ آئی، تین چار مرتبہ کی پکار کے بعد گناہ گار نے نیک شخص سے کہا ،میں تو ابھی بیٹھا ہوں، تمہیں کتنا عرصہ ہوگیا ہے تم ذرا اٹھ کر اسے پانی تو پلا دو، میں ابھی ابھی بیٹھا ہوں اٹھنا نہیں چاہتا-
اس نیک بندے نے گناہ گار کو ڈانٹ کر کہا میری عبادت میں خلل نہ ڈالو میری ارتکاز ٹوٹ جاتا ہے-
جب مدد کی پکار مسلسل آتی رہی تو گناہ گار سے رہا نہ گیا، اس نے اپنی جگہ چھوڑی اور پانی پلانے چلا گیا، جب تھوڑی دیر بعد واپس آیا تو اس نے دیکھا اس کی ٹہنی ہری ہو چکی تھی، اور اس نیک بندے کی ٹہنی ویسی کی ویسی ہی تھی
وہ تو رب ہے کہ جس کی توبہ قبول کر لے ۔۔۔ کبھی کبھی برسوں کے ریاضت بھی ایک لمحے میں پلٹائی جاتی ہے ۔۔
اور کبھی ایک آنسو توبہ کا سبب بن جاتا ہے.

بشکریہ: عاشق علی معصومی

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌺 گنہگارجوان اور اللہ کی بخشش🌺

بنی اسرائیل کا ایک جوان جو اللہ تعالی کی عبادت میں مصروف تھا. اس نے بیس(۲۰) سال تک نماز، روزہ اور اطاعت خداوندی میں گزارے اور ۲۰ سال تک اس جوان کا یہی کام تھا. ایک دن اس نے فریب کھایا اور آہستہ آہستہ اللہ تعالی سے دور ہوتا گیا اور اس کی عبادتیں گناہوں میں ہو گئیں. خلاصہ گنہگار ہو گیا.
اس نے بیس سال کے عرصے میں ایک مرتبہ آئینہ میں دیکھا کہ سر کے بال سفید چکے تھے. وہ اپنے کیے پر بہت افسوس کر رہا تھا.

اس جوان نے کہا اے اللہ تعالی میں نے بیس سال عبادت کی اور بیس سال معصیت کی ہے اگر دوبارہ آپ کی طرف آؤں تو مجھے قبول کرو گے؟

اس نے آواز سنی:
«اجبتنا فاحببناک ترکتنا فترکناک و عصیتنا فامهلناک و ان رجعت الینا قبلنا»

جب تک آپ ہمارے ساتھ دوست تھے. اسی طرح ہم بھی آپ کے دوست تھے. آپ نے ہم کو چھوڑ دیا، اسی طرح ہم نے بھی آپ کو ترک کردیا. تم نے معصیت کی پس ہم نے تمہیں مہلت دی اور اگر آپ ہمارے پاس واپس آتے ہیں، تجھے قبول کریں گے.
📚(ثمراۃ الحیوۃ، ج۳، ص۳۷۷)

پس اس نے توبہ کی اور ایک عابد قرار پایا، اور اسی طرح اللہ تعالی کی بخشش تمام گنہگاروں کےلئے ہے اور رہے گی.

📚اصول کافی: ج 2، ص435.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 ممنون و مشکور 🔷

ﮐﻞ ﺍﯾﮏ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﻭﻧﮕﭩﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﮐﺮ ﺩﯾﺌﮯ، ﺑﻈﺎﮨﺮ ﺑﮩﺖ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ
ﺳﺎ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮨﮯ
ﻟﯿﮑﻦ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ کیلئے ﻋﺒﺮﺕ ﮨﮯ:
ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺭﻭﺯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﻠﯽ، ﺑﭽﮯ ﺩﮮ ﮔﺌﯽ۔
ﻣﺠﮭﮯ ﺑﻠﯽ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﺑﮩﺖ ﭘﺴﻨﺪ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮑﻮ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ
ﺑﻠﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻧﮑﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﻧﮯ ﺩﯾﺘﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ
ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺑﮭﯽ ﺑﮍﮬﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻏﺮﺍﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﭘﺮﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺑﻠﯽ ﺍﺩﮬﺮ ﺍُﺩﮬﺮ ﭨﮩﻞ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺑﮭﻮﮐﯽ ﻟﮓ
ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﻭﺩﮪ ﺩﯾﺎ ۔ ﻭﮦ ﺍﺑﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮈﺭ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﺑﮍﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﻮﮎ ﺳﮯ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﻗﺮﯾﺐ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺩﮪ
ﭘﯿﻨﮯ ﻟﮕﯽ۔
ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﭘﮭﺮ ﺩﻭﺩﮪ ﺩﯾﺎ۔
ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﺻﺒﺢ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﺑﻠﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ
ﻟﯿﮑﺮ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﭦ ﭘﻮﭦ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﯽ۔ ﻣﯿﺮﺍ ﺫﮨﻦ ﺟﮑﮍ
ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ۔
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺻﺮﻑ ﺩﻭ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﺱ ﺑﻠﯽ ﮐﻮ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﯿﻨﮯ ﮐﯿﻠﯿﺌﮯ ﺩﯾﺎ
ﺗﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﺗﻨﯽ ﻣﻤﻨﻮﻥ ﻭ ﻣﺸﮑﻮﺭ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﭨﻨﮯ
ﻟﮕﯽ
ﻣﯿﺮﺍ ﺍﻟﻠﮧ!!!
ﻣﯿﺮﺍ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺗﻨﮯ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﮐﮭﻼ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ،
ﭘﻼ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ،
ﺳُﻼ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ،
ﺍُﭨﮭﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ،
ﺑِﭩﮭﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ،
ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﮨﺮ ﻧﻌﻤﺖ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔
ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻢ ﮐﯿﻮﮞ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﺁﭖ ﻧﺬﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ؟؟
ﮨﻢ ﮐﯿﻮﮞ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﺭ ﭘﺮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻤﻨﻮﻥ ﻭ ﻣﺸﮑﻮﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻦ
ﺟﺎﺗﮯ؟

ﺍﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ:
ﻭَﻫُﻮَ ﺍﻟَّﺬِﻱ ﺃَﻧﺸَﺄَ ﻟَﻜُﻢُ ﺍﻟﺴَّﻤْﻊَ ﻭَﺍﻟْﺄَﺑْﺼَﺎﺭَ ﻭَﺍﻟْﺄَﻓْﺌِﺪَﺓَ ﻗَﻠِﻴﻼً ﻣَّﺎ ﺗَﺸْﻜُﺮُﻭﻥَ.
ترجمہ:
ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺫﺍﺕ ﻭﮦ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﯿﺌﮯ ﮐﺎﻥ، ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻝ، ﻟﯿﮑﻦ ﺗﻢ ﺑﮩﺖ ﮐﻢ ﺷﮑﺮ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ۔
ﺳﻮﺭﮦ ﻣؤﻣﻨﻮﻥ ﺁية: 78

👆ایک مراسلہ👆

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 عیب پوشی 🔷

آدمیوں کے عیوب کی تلاشی خباثتِ نفس ہے اور انکے عیبوں کا اظہار معیوب بلکہ آیات واخبار سے پایا جاتا ہے کہ جو شخص عیوب کا متلاشی ہو اور رسوا کرنیوالا ہو وہ خبیث ترین انسان ہے.

● ارشادِ خداوندی ہے..
اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ. (القرآن)
ترجمہ:
جو لوگ مؤمنين کے اعمال ناشائستہ کے ظاہر کرنے کو دوست رکھتے ہیں انکے لئے عذاب دردناک ہے.

●حضرت محمدؐ نے فرمایا؛
مَنْ عَلِمَ مِنْ اَخِیْہِ سَیِّئًا فَسَتَرَهَا سَتَرَاللەُ عَلَیْہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ. (میزان الحکمہ:14377)
ترجمہ:
جو کوئی اپنے بھائی کی کسی برائی پر اطلاع پائے اور اسے چھپا دے تو اللہ تعالٰی قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا.

● رسول اکرمؐ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا، عرض کیا؛
میں چاہتا ہوں آپ مجھے کوئی طریقہ بتائیں کہ خداوندمتعال میرے عیوب کی پردہ پوشی فرمائے.

آپؐ نے فرمایا؛
اُسْتُرْ عُیُوْبَ اِخْوَانِکَ یَسْتَرُ اللهُ عَلَیْکَ عُیُوْبَکَ.
آپ اپنے مسلمان بھائیوں کی عیب پوشی کیا کریں، اللہ تعالٰی آپ کی عیب پوشی فرمائے گا. (میزان الحکمہ:(14380)

● احادیث میں وارد ہوا ہے کہ قیامت کے روز ایک شخص کو لایا جائے گا وہ سخت رو رہا ہو گا. اسے خطاب ہو گا، پوچھا جائے گا کہ کیوں روتے ہو؟
وہ عرض کریگا؛ میں آج اس خیال سے روتا ہوں کہ آج اہلِ محشر اور فرشتوں کے درمیان میرے کیا کیا عیب ظاہر ہوں گے.

اسے خداوندمتعال کی طرف سے خطاب ہوگا؛
اے میرے بندے! میں نے دنیا میں اس وقت جب تو میری نافرمانی میں مصروفِ عمل تھا اور خوشحالی سے ہنس رہا تھا، تجھے تیرے عیب ظاہر کر کے رسوا نہیں کیا، آج کس طرح تیری آبروریزی کرونگا جبکہ آج تو پریشان ہے اور رو رہا ہے.

■ ایک دن حضرت موسٰیؑ سو رہے تھے کہ بنی اسرائیل کے کسی شخص نے آپؑ کا عصا چُرا لیا، اسے درمیان سے کاٹ کر دونوں ٹکڑے زمیں میں دفن کر دیے.
جب حضرت موسٰیؑ کی آنکھ کھلی تو آپ نے اپنا عصا غائب پایا. اسی وقت اپنے رب ذوالجلال کے حضور شکایت کی؛ خدایا یہ میرے عصا کا کیا ہوا. میرا عصا کدھر گیا؟

ندا آئی؛ موسٰیؑ آپ کے عصا کو کسی نے دو ٹکڑے کرکے زمین میں دفن کردیا ہے.

حضرت موسٰیؑ نے عرض کیا؛
خدایا کون ہے وہ..؟ کس نے یہ کام کیا..؟ کہاں پر چھپایا ہے میرے عصا کو..؟

جواب ملا؛
موسٰیؑ آپ کو تو معلوم ہے، میرا حکم ہے کہ میرے بندوں کی پردہ پوشی کی جائے. آپ جس جگہ کھڑے ہیں اسی جگہ پر اپنے عصا کو آواز دیں، میں آپ کے عصا کو سننے کی قدرت عطا کرونگا، وہ آپ کی آواز سن کر آپ کا جواب دے گا.

حضرت موسٰی علیہ السلام نے اپنے عصا کو آواز دی. عصا نے خدا کی قدرت سے جواب دیا اور زمین سے دونیم حالت میں برآمد ہوا. آپؑ نے اپنے عصا کے دونوں حصوں کو اٹھا لیا اور پھر آپس میں ملا دیا تو وہ ٹھیک ہو گیا.
(موضوعی داستانیں)

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 عیب پوشی کے بارے مزید پوسٹس کے لیے لنک پر کلک کریں.

🌺 پردہ پوشی
https://t.me/islamwitheman/323

⭕ پردہ پوشی
https://t.me/islamwitheman/280
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷مرنےکے5بڑےپچھتاوے(حصہ اول)🔷

برونی وئیر (Bronnie Ware) ایک آسٹریلین نرس تھی۔ مگر اس کا کام عام نرسوں جیسا نہیں تھا۔
وہ ایک ایسے کلینک میں کام کرتی رہی جہاں ایسے مریض لائے جاتے تھے جو زندگی کی بازی ہار رہے ہوتے تھے۔
ان کی سانسیں چند ہفتوں کی مہمان ہوتی تھیں۔ مریضوں میں ہرعمر اور ہر مرض کے لوگ ہوتے تھے۔

ان میں صرف ایک چیز یکساں ہوتی کہ وہ صرف چند ہفتوں کے مہمان ہوتے تھے۔ زندگی کی ڈورٹوٹنے والی ہوتی تھی۔ برونی نے محسوس کیا کہ اسکے کلینک میں دس بارہ ہفتوں سے زیادہ کوئی زندہ نہ رہتاتھا۔

کلینک میں موجود دوسرے ڈاکٹروں اور دیگر نرسوں نے ان چند دنوں کی اہمیت کو محسوس نہیں کیا مگر برونی ایک حساس ذہن کی مالک تھی۔
اس نے محسوس کیا کہ اگر انسان کو یہ پتہ ہو کہ وہ اب اس دنیا سے جانے والا ہے تو غیر معمولی حد تک سچ بولنے لگتا ہے۔
اپنے گزرے ہوئے وقت پر نظر ڈال کرنتائج نکالنے کی صلاحیت سے مالا مال ہوجاتا ہے‘ اپنی تمام عمر کے المیے، خوشیاں اورنچوڑ سب کچھ بتانا چاہتا ہے۔
برونی نے محسوس کیا، کہ موت کی وادی کے سفر پر روانگی سے چنددن پہلے انسان مکمل طور پر تنہا ہوجاتا ہے۔
خوفناک اکیلے پن کے احساس میں مبتلا شخص لوگوں کو اپنی زندگی کے بارے میں بتانا چاہتا ہے۔ باتیں کرنا چاہتا ہے۔ مگر اس کے پاس کوئی نہیں ہوتا۔ کوئی رشتہ دار، کوئی عزیز اور کوئی ہمدرد۔
برونی نے فیصلہ کیا کہ زندگی سے اگلے سفر پر جانے والے تمام لوگوں کی باتیں سنے گی۔ان سے مکالمہ کرے گی۔ ان سے ان کے بیتے ہوئے وقت کی خوشیاں، غم، دکھ، تکلیف اورمسائل سب کچھ غورسے سن کرمحفوظ کرلے گی۔ چنانچہ برونی نے اپنے مریضوں کے آخری وقت کو کمپیوٹر پرایک" بلاگ (Blog) " کی شکل میں مرتب کرناشروع کر دیا۔

اس کے بلاگ کو بے انتہا مقبولیت حاصل ہوگئی۔ لاکھوں کی تعدادمیں لوگوں نے پوری دنیاسے ان کی لکھی ہوئی باتوں کو پڑھنا شروع کر دیا۔ برونی کے خواب وخیال میں نہیں تھا کہ اس کے اور مریضوں کے تاثرات کو اتنی پذیرائی ملے گی۔

اس نے ایک اور بڑا کام کر ڈالا۔

یہ سب کچھ ایک کتاب میں لکھ دیا۔
اس کتاب کانام
”مرنے کے پانچ بڑے پچھتاوے”

The top five regrets of Dying
تھا۔
برونی کی تصنیف شدہ کتاب مقبولیت کی بلندترین سطح کوچھونے لگی۔
حیرت کی بات یہ بھی تھی کہ تمام دم توڑتے لوگوں کے تاثرات بالکل یکساں تھے۔ وہ ایک جیسے ذہنی پُل صراط سے گزررہے تھے۔ یہ پانچ پچھتاوے کیا تھے!

دنیا چھوڑنے سے پہلے ایک بات سب نے کہی۔ اس سے کوئی بھی مستثناء نہیں تھا۔ ہرایک کی زبان پر تھا کہ مجھ میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ زندگی کو اپنی طرح سے جیتا۔ پوری زندگی کو اپنے ارد گرد کے لوگوں کی توقعات کے حساب سے بسر کرتا رہا۔

● برونی کواندازہ ہوا کہ ہر انسان کے خواب ہوتے ہیں۔ مگر وہ تمام خواب ادھورے صرف اس وجہ سے رہ جاتے ہیں کہ انسان اپنی زندگی کی ڈور ارد گرد کے واقعات، حادثات اور لوگوں کے ہاتھ میں دے دیتا ہے۔ وہ زندگی میں خود فیصلے کر ہی نہیں پاتا۔ یہ تمام لوگوں کا پہلا اور یکساں پچھتاوا تھا۔

● دوسری بات جو خصوصاً مرد حضرات نے زیادہ کہی کیونکہ اکثرحالات میں گھر کے اخراجات پورے کرنے کی ذمے داری مرد کی ہوتی ہے۔ یہ کہ انھوں نے اپنے کام یا کاروبار پر اتنی توجہ دی کہ اپنے بچوں کابچپن نہ دیکھ پائے۔ وقت کی قلت کے باعث اپنے خاندان کو اچھی طرح جان نہیں پائے۔ کام اور روزگار کے غم نے ان سے تمام وقت ہی چھین لیا جس میں دراصل انھیں کافی ٹائم اپنے بچوں اور اہل خانہ کو دینا چاہیے تھا۔
ساری محنت جن لوگوں کے لیے کر رہے تھے، کام کی زیادتی نے دراصل اسے ان سے دورکر دیا۔ کام ان کے لیے پھانسی کا پھندا بن گیاجس نے ان کی زندگی میں کامیابی ضرور دی، مگر ان کو اپنے نزدیک ترین رشتوں کے لیے اجنبی بنادیا۔
برونی نے اپنے اکثر مریضوں کو یہ کہتے سنا کہ انھیں اپنی زندگی میں اتناکام نہیں کرنا چاہیے تھاکہ رشتوں کی دنیا میں اکیلے رہ جائیں۔ یہ دوسرا احساس زیاں تھا۔

● تیسری بات بھی انتہائی اہم تھی۔
اکثر لوگوں نے خودسے گلہ کیا کہ ان میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ اپنے اصل خیالات اورجذبات سے دوسروں کو آگاہ کر پاتے۔
بیشتر لوگ صرف اس لیے اپنے اصل جذبات کا اظہار نہ کر پائے کہ دوسروں کو ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے یا دوسروں کا خیال رکھنا چاہتے تھے۔
مگراس کا نقصان یہ ہوا کہ وہ ایک عامیانہ سی زندگی گزارتے رہے۔ ان کی تمام صلاحیتیں ان کے اندر قید رہ گئیں ۔ کئی افراد کے مزاج میں اس وجہ سے اتنی تلخی آگئی کہ تمام عمر کڑھتے رہے۔ انھیں ہونے والے نقصان کاعلم اس وقت ہوا جب بیمار پڑ گے اور کسی قابل نہ رہے۔

● چوتھا غم بھی بڑا فکر انگیز تھا۔
اکثر لوگ اس افسوس کا اظہار کرتے رہے کہ اپنے پرانے دوستوں سے....

جاری ہے... اس کے مکمل دو حصے ہیں. اس کا بقیہ حصہ دوم میں ملاحظہ فرمائیے.

https://t.me/islamwitheman/511
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷مرنےکے5بڑےپچھتاوے(حصہ دوم)🔷


● چوتھا غم بھی بڑا فکرانگیز تھا۔
اکثرلوگ اس افسوس کااظہار کرتےرہے کہ اپنے پرانے دوستوں سےرابطہ میں نہ رہ پائے۔ نوکری، کام، روزگار یا کاروبار میں اتنے مصروف ہوگئے کہ انکے بہترین دوست ان سے دور ہوتےگئے۔
انکو اس زیاں کااحساس تک نہ ہوا۔ اپنے اچھے دوستوں کو وقت نہ دےپائے جن سے ایک بےلوث جذبے کی آبیاری ہوتی رہتی۔ کشمکشِ زندگی نے انھیں اپنے قریب ترین دوستوں سے بھی اتنا دور کردیا کہ سب عملی طور پر اجنبی سے بن گئے۔
سالہاسال کیبعد ملاقات اور وہ بھی ادھوری سی۔
برونی نے محسوس کیاکہ سب لوگوں کی خواہش تھی کہ آخری وقت میں انکے بہترین دوست انکے ساتھ ہوتے۔ عجیب حقیقت یہ تھی کہ کسی کےساتھ بھی سانس ختم ہوتے وقت اسکے دوست موجود نہیں تھے۔
اکثرمریض برونی کو اپنےپرانے دوستوں کے نام بتاتےتھے۔ ان تمام خوشگوار اور غمگین لمحوں کو دہراتےتھے جووقت کی گرد میں کہیں گم ہوچکےتھے۔ اپنے دوستوں کی حِس مزاح، عادات اور انکی شرارتوں کا ذکرکرتے رہتےتھے۔

برونی تمام مریضوں کو جھوٹا دلاسہ دیتی رہتی کہ وہ فکر نہ کریں، انکے دوست انکے پاس آتےہی ہوں گے۔
مگرحقیقت میں کسی کےپاس بھی ایک دوسرے کیلئے وقت نہیں تھا۔ زندگی میں بھی اورآخری سانسوں میں بھی!

● پانچویں اور آخری بات بہت متاثرکن تھی۔ تمام مریض یہ کہتےتھے کہ انھوں نے اپنے آپ کو ذاتی طورپرخوش رکھنے کیلئے کوئی محنت نہیں کی۔
اکثریت نےدوسروں کی خوشی کواپنی خوشی جان لیا۔ اپنی خوشی کوجاننے اور پہچاننے کا عمل شروع ہی نہیں کیا۔
اکثر لوگوں نے اپنی خوشی کوقربان کرڈالا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انکی زندگی سے مسرت کاخوبصورت پرندہ غائب ہوگیا۔ وہ لوگوں کوظاہری طورپر متاثرکرتے رہے کہ انتہائی مطمئن زندگی گزار رہےہیں۔

دراصل انھوں نےنئےتجربے کرنےچھوڑ دیے۔ وہ یکسانیت کاشکار ہوگئے۔ تبدیلی سے اتنے گھبرا گئے کہ پوری زندگی ایک غلط تاثردیا
کہ بہت اطمینان سےاپنی زندگی گزاررہے ہیں۔ لیکن انھوں نےاپنے اندرہنسی اور قہقہوں کومصلوب کردیا۔ تمام خوبصورت اور بھرپور جذبے پنہاں رہے بلکہ پابندسلاسل ہی رہے۔

عمر کیساتھ ساتھ اپنےاوپرسنجیدگی اور غیرجذباتیت کا ایساخول چڑھالیا، کہ ہنسنابھول گئے۔ اپنےقہقہوں کی بھرپور آوازسنی ہی نہیں۔ اپنےاندر گھٹ گھٹ کر جیتے رہےمگر اپنی خوشی کی پرواہ نہیں کی۔ حماقتیں کرنےکی جدوجہد بھی ترک کرڈالی۔
نتیجہ یہ ہواکہ عجیب سی زندگی گزارکر سفرعدم پر روانہ ہوگئے۔

■ برونی کی تمام باتیں میرے ذہن پر نقش ہوچکی ہیں۔ میرےعلم میں ہے کہ آپ سب لوگ انتہائی ذہین ہیں۔ آپکی زندگی میں یہ پانچ غم بالکل نہیں ہونگے۔ آپ ہرطرح سے مکمل اور بھرپور زندگی گزار رہےہوں گے۔ اپنے بچوں اور خاندان کو وقت دیتےہوں گے۔ اپنے جذبات کو اپنےاندر ابلنے نہیں دیتے ہونگے۔ پرانےدوستوں کیساتھ خوب قہقہے لگاتے ہونگے۔ اپنی ذات کی خوشی کو بھرپور اہمیت دیتےہوں گے۔

● مگر مجھےایسے لگتاہے کہ ہم سب لوگ ان پانچوں المیوں میں سےکسی نہ کسی کا شکار ضرورہیں۔

● اس کےباوجود میری دعاہے کہ کسی بھی شخص کی زندگی میں پانچ تو درکنار، ایک بھی پچھتاوا نہ ہو۔

مگر..
شائدمیں غلط کہہ رہاہوں؟

■ ایک بادشاہ نےکسی بات پرخوش ہوکر ایک شخص کو یہ اختیار دیاکہ وہ سورج غروب ھونے تک جتنی زمین کادائرہ مکمل کرلےگا، وہ زمین اسکو الاٹ کردی جائیگی۔ اوراگر وہ دائرہ مکمل نہ کرسکا اورسورج غروب ھوگیا تواسے کچھ نہیں ملےگا۔
یہ سن کر وہ شخص چل پڑا. چلتےچلتے ظہر ھوگئی تو اسے خیال آیا کہ اب واپسی کاچکر شروع کردینا چاھئے، مگر پھر لالچ نے غلبہ پالیا اورسوچا کہ تھوڑا سا اور آگے سےچکر کاٹ لوں. پھر واپسی کاخیال آیا تو سامنے کے خوبصورت پہاڑ کو دیکھ کر اس نےسوچا اسکو بھی اپنی جاگیر میں شامل کرلیناچاھئے۔
الغرض واپسی کا سفر کافی دیرسے شروع کیا. اب واپسی میں یوں لگتاتھا جیسے سورج نے اسکے ساتھ مسابقت شروع کردی ھے۔ وہ جتناتیز چلتا پتہ چلتا سورج بھی اُتنا جلدی ڈھل رھاھے۔ عصر کیبعد تو سورج ڈھلنےکی بجائے لگتاتھا پِگهلنا شروع ھوگیا ھے۔
وہ شخص دوڑناشروع ھوگیا کیونکہ اسے سب کچھ ہاتھ سےجاتانطر آرھا تھا۔ اب وہ اپنی لالچ کوکوس رہاتھا، مگربہت دیر ھوچکی تھی۔ دوڑتےدوڑتے اسکا سینہ درد سے پھٹاجا رھاتھا،مگر وہ تھا کہ بس دوڑے جا رھاتھا.
آخرسورج غروب ہوا تو وہ شخص اسطرح گرا کہ اسکا سر اسکے سٹارٹنگ پوائنٹ کوچھو رہاتھا اور پاؤں واپسی کے دائرےکو مکمل کر رھےتھے، یوں اسکی لاش نے دائرہ مکمل کردیا- جس جگہ وہ گراتھا اسی جگہ اسکی قبر بنائی گئی اور قبر پرکتبہ لگایاگیا، جس پرلکھا تھا..
"اس شخص کی ضرورت بس اتنی ساری جگہ تھی جتنی جگہ اسکی قبرھے"

اللہ پاک نےبھی اسیطرف اشارہ کیاھے
والعصر، ان الانسان لفی خسر...

آج ہمارے دائرےبھی بہت بڑے ھوگئے ہیں، چلئے واپسی کی سوچ سوچتےہیں..

اللہ ہمیں موت سے پہلےموت کی تیاری کی توفیق نصیب فرمائے اور خاتمہ بالخیر فرمائے.. آمین

👆ایک مراسلہ👆

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷️ موت اور اس کی تیاری (درس) 🔷️

موت ایک سواری ہے جو ہر دروازے پر کھڑی ہوتی ہے، آخر مٹی کے اندر اترنا ہو گا. اپنی زندگی کا سرمایہ اپنی قبر میں بھیجیں قبل اس کے کہ دنیاوی زندگی کا خاتمہ ہو.

● قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے..
کل نفس ذائقة الموت.
ہر جاندار موت کو چکهنے والا ہے.(1)

● حضرت رسول اکرمؐ فرماتے ہیں..
"إستعد للموت قبل نزول الموت"
موت کے آنے سے قبل موت کی تیاری کرو.(2)

● حضرت علیؑ فرماتے ہیں..
"تذودوا فی ایام الفناء لایام البقاء"
فانی زندگی کے دنوں میں باقی رہنے والی زندگی کے لئے سامان اکٹھا کرو.(3)

■ حضرت علیؑ اور گھر کا سامان:
سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ حضرت علیؑ کی خلافتِ ظاہری کے زمانے میں مجھے آپؑ کی خدمت میں حاضر ہونے اور زیارت کرنے کی سعادت نصیب ہوئی. میں نے دیکھا کہ آپؑ ایک چھوٹی سی چٹائی پر بیٹھے تھے اور اس گھر میں صرف وہی چٹائی نظر آئی، کوئی اور شے میری نظروں سے نہیں گزری. میں نے عرض کیا؛

اے امیرالمؤمنینؑ! یہ سارا بیت المال آپ کی خدمت اور آپ کے اختیار میں ہے لیکن مجھے اس گھر میں، آپ کے اس کمرے میں صرف ایک چٹائی نظر آرہی ہے. اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے. گھر کا کوئی اور سامان، اسباب، متاع نہیں ہے؟

آپؑ نے فرمایا؛
اے غفلہ کے فرزند! عقلمند لوگوں کو جب معلوم ہو کہ وہ جس گھر میں رہ رہے ہیں، اسمیں ہمیشہ نہیں رہنا ہے. اور اس سے ایک دن کوچ کرنا ہے تو وہ اس میں سامان اکٹھا نہیں کرتے.
ہمارے سکون و آرام کا گھر ابھی آگے ہے. ہم اپنے بہترین اور عمدہ سامان زندگی ادھر بهجوا دیتے ہیں. بہت جلد اس کی طرف کوچ کر جائیں گے اور ادھر خوشی سے رہیں گے.(4)

■ حضرت ادریسؑ اور موت کی تیاری:
حضرت ادریسؑ الله تعالیٰ کے پیغمبر تھے. وہ اپنے زمانے کے عابد ترین افراد سے شمار ہوتے تھے. ان کی توجہ دنیا کی جانب بالکل نہ تھی. وہ ہمیشہ روزہ سے ہوتے اور ان کی بس ایک ہی آرزو تھی اور وہ تھی بہشت.
حضرت ادریسؑ کے معمولات کا ہر لمحہ عبادتِ خدا سے معمور ہوتا تھا. روزانہ جب انکی عبادت کے اعمال آسمان پر جاتے تو ملائکہ کے لیے باعثِ تعجب قرار پاتے.

ایک دن ملک الموت نے انکی زیارت کی خواہش کی. خداوندمتعال سے اجازت طلب کی تاکہ حضرت ادریسؑ کی ملاقات کو جائیں. اجازت مل گئی تو وہ ایک انسان کی شکل اختیار فرما کر انکی زیارت کو روانہ ہوئے.

حضرت ادریسؑ نے انکو کھانا پیش کیا تو انہوں نے نہیں کھایا. حضرت ادریسؑ نے پوچھا؛ میں جاننا چاہتا ہوں کہ آپ کون ہیں؟

ملک الموت نے فرمایا؛ میں عزرائیل ہوں اور آپ کی زیارت کے لئے آیا ہوں.

حضرت ادریسؑ نے فرمایا؛ تو آؤ میری روح قبض کرو.

حضرت عزرائیلؑ نے فرمایا؛ یہ کام تو خداوندمتعال کے حکم پر موقوف ہے، اس کی اجازت کے بغیر میں انجام نہیں دے سکتا.
اسی وقت ارشادِ قدرت ہوا؛ اچھا تو ان کی روح قبض کرلو.

عزرائیلؑ نے روح قبض کرلی اور پھر خداوندمتعال نے انہیں زندہ کر دیا. ملک الموت نے پوچھا؛ آپ نے سب کچھ کیسا پایا؟
حضرت ادریسؑ نے فرمایا؛
بہت سخت اور ہولناک منظر اور دشوار کام انجام خطرناک.

عزرائیلؑ نے پوچھا؛
آپ نے یہ یہ خواہش کیونکر کی؟

حضرت ادریسؑ نے فرمایا؛
اس لئے کہ میں موت کی سختی کو چکھ کر دیکھوں اور اپنے آپ کو اس کے لئے آمادہ کرسکوں.(5)

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

📚حوالہ جات:
(1)سورہ آل عمران:185.
(2)میزان الحکمہ:18864.
(3)میزان الحکمہ:18891.
(4)داستانہائے بحارالأنوار، ج4، ص39.
(5)داستانہائے کشف الاسرار، ص365.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

■ موت اور دنیا کی بے ثباتی کے متعلق مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ لنک پر کلک کریں..

🔷 مرنے کے 5 بڑے پچھتاوے
https://t.me/islamwitheman/554

🔷️ عقلمند بادشاہ
https://t.me/islamwitheman/363

🔷️ یہ وقت بھی گزر جائیگا
https://t.me/islamwitheman/511

🔷️ دنیا ایک ضعیفہ کی صورت
https://t.me/islamwitheman/471

🌹 دنیا کی زندگی
https://t.me/islamwitheman/461

🔷️ ایک گدھے کا حساب
https://t.me/islamwitheman/251

⌚مقررہ وقت
https://t.me/islamwitheman/144

🔷️ دنیا کا دارومدار
https://t.me/islamwitheman/95

🔷️ بیوقوف کون؟
https://t.me/islamwitheman/59

🔷 موت اور اس کی تیاری
https://t.me/islamwitheman/570
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
📚 علم و دانش 📚

یقیناً ہر شخص کی زندگی علم سے ہے. انسان تعلیم کے ذریعے بلندی پر جاسکتا ہے، علم وحكمت انسان کے لئے کمال ہے.

●ارشاد رب العزت ہے..
"قل هل یستوی الذین یعلمون والذين لایعلمون"
کہدو (اےرسولؐ) کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہیں.(1)

●حضرت رسول اکرمؐ فرماتے ہیں..
"ان طالب العلم یستغفرلە کل شئ حتی الحتیان فی البحر"
طالب علم کے لیے دنیا کی ہر شے حتی کہ سمندر کی مچھلیاں بھی بخشش کی دعا کرتی ہیں.(2)

●حضرت علیؑ فرماتے ہیں۔۔
"لا کنزانفع من العلم"
علم سے بڑھ کر فائدہ مند کوئی خزانہ نہیں ہے۔(3)

●حضرت امام علیؑ فرماتے ہیں۔۔
"العلم ضالة المؤمن"
حکمت اور حکمت و دانش مومن کی گمشدہ شے ہے۔(4)

●أمام جعفر الصادقؑ فرماتے ہیں۔۔
مجھے ایسے جوان پسند ہیں کہ جن کا ہر دن دو طرح سے شروع ہوتا ہو۔۔۔
یا عالم ہوں یا متعلم ہوں۔
اور اگر نہ عالم ہوں، نہ متعلم ہوں تو ایسے افراد اپنے فریضہ میں کوتاہی کرنے والے ہیں۔ میری نظروں میں اپنے وظیفہ میں کوتاہی کرنے والے جوانی کو ضائع کرنے والے ہیں۔ جوانی ضائع کرنا گناہ ہے۔ مجھے اپنے جدبزرگوار حضرت محمد مصطفٰیؐ کے رب کی قسم گناہگاروں کا ٹھکانا جہنم ہے۔(5)

■علمی محافل کا مقام؛
مدینہ منورہ میں انصار میں سے ایک شخص رسول اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپؐ سے پوچھا؛
اے رسول خدا بیان فرمائیں کہ اگر کسی شخص کا جنازہ تیار ہو چکا ہو، اسے دفن کرنے کے لئے اٹھایا جارہا ہو اور ادھر سے علمی محفل بھی برپا ہو جس میں شریک ہوکر فائدہ مند ہوا جا سکتا ہے، وقت کی صورتحال بھی اس طرح ہے کہ ان دونوں میں سے ایک میں شرکت ممکن ہے، آپ کو کون سا امر پسندیدہ ہے کہ کس طرف شرکت کی جائے؟

حضور اکرمؐ نے فرمایا؛
اگر جنازہ کے امور انجام دینے کے لئے کچھ اور لوگ موجود ہوں تو آپ محفلِ علم میں شریک ہوں۔ کیونکہ محفلِ علم میں شریک ہونا ہزار جنازہ میں شرکت، ہزار بیماروں کی عیادت، ہزار رات کی عبادت، ہزار روز کے روزہ، ہزار درھم کے صدقہ اور ہزار غیر واجب حج، ہزار غیر واجب جہاد سے کہیں بہتر ہے۔
ایک عالم کے حضور حاضری جیسے بلند مرتبہ عمل کو یہ سارے اعمال اجر و مفاد میں نہیں پہنچ سکتے۔
کیا آپ کو معلوم نہیں ہے کہ اطاعتِ خداوندی کا وسیلہ علم ہے۔ اور علم ہی کے وسیلہ سے عبادتِ خدا انجام پاتی ہے۔ دنیا کی خیروخوبی علم کے ساتھ مربوط ہے اور شرِ دنیا و آخرت جہالت کی وجہ سے ہے۔(6)

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

📚 حوالہ جات:
1)سورہ زمر، آیہ9۔
2)میزان الحکمہ:13485۔
3)میزان الحکمہ:13352۔
4)میزان الحکمہ:13350۔
5)داستانہائے بحارالأنوار، ج2، ص109۔
6)داستان راستان، ج2، ص235، 236۔

https://t.me/islamwitheman/430
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 خدا دوستی 🔷

●رسول اکرمؐ فرماتے ہیں۔۔ "الایمان فی قلب الرجل أن یحب الله عزوجل"
بندے کے دل میں ایمان کی علامت ہے کہ اللہ عزوجل سے محبت رکھتا ہو۔(1)

●امیرالمؤمنین حضرت علیؑ فرماتے ہیں۔۔
"اذا اکرم الله عبدا شغلہ بمحبتہ"
جب خداوندمتعال کسی شخص کو عزت عطا فرماتا ہے تو اس کے دل کو اپنی محبت میں مشغول کردیتا ہے۔(2)

●علامہ مجلسی فرماتے ہیں کہ۔۔

الله کا بندہ بن جا،
اور پھر کبھی نہ گھبرا،
خدا والا ہوجا اور بادشاہی کر،
خدا سے دور ہو جا تو جو چاہے کر۔(3)

■حضرت ابراہیمؑ کی خدا دوستی؛
خداوندمتعال نے حضرت ابراہیمؑ کو فراواں ثروت سے نوازا تھا۔ ان کے پاس گوسفند کا اتنا بڑا ریوڑ تھا کہ جس کی حفاظت کے لئے چار سو حفاظتی جانور ہوتے تھے۔

ملائکہ نے بارگاہِ خداوندی میں خیال ظاہر کیا کہ حضرت ابراہیمؑ کی خدا دوستی کا راز نعمت کی فراوانی ہے۔ آخر خدا نے جو انہیں اسقدر مال و دولت سے نوازا ہے تو وہی محبت کا سبب ہے۔
خداوندمتعال نے انہیں یہ سمجھانے کے لئے کہ حقیقت اسطرح نہیں ہے بلکہ ابراہیمؑ کو میرے ساتھ بےلوث محبت ہے، حضرت جبرائیلؑ کو حکم دیا کہ وہ جاکر حضرت ابراہیمؑ کے نزدیک سے کھڑے ہوکر میرے نام سے پکاریں، جہاں ابراہیمؑ سن رہے ہوں۔
حضرت جبرائیلؑ گئے اس وقت حضرت ابراہیمؑ اپنے گوسفندوں کے ریوڑ کے پاس تھے۔ ادھر سے جبرائیلؑ نے ایک ٹیلے پر کھڑے ہو کر بہترین آواز کیساتھ اس طرح تسبیح کی۔۔
"سبوح قدوس رب الملائکة والروح"
پاک وپاکیزہ ہے ملائکہ اور روح کا رب۔

جونہی رب ذوالجلال کا اسم مبارک حضرت ابراہیمؑ کے گوشِ سماعت سے ٹکرایا تو بےچین ہو گئے اور آپ کے پورے جسم مبارک میں محبت کی لہر دوڑ گئی۔

یہ کون خوش آواز ہے کہ جس نے میرے دوست محبوب کا نام لیا کہ میں جان تن بدن اپنے دوست کے اس پیغام پر لُٹانے کو تیار ہوگیا۔

حضرت ابراہیمؑ نے اپنے دائیں بائیں دیکھا تو آپ کو ایک شخص بلندی پر کھڑا نظر آیا۔ آپ اس کی طرف دوڑے اور پوچھا؛
آپ نے میرے دوست کا نام لیا ہے؟

جبرائیلؑ نے فرمایا؛
ہاں۔۔۔ میں نے لیا ہے اور پھر سے دوبارہ تکرار کردیا۔

حضرت ابراہیمؑ نے درخواست کی؛
اے بندۂ خدا اگر آپ مہربانی فرما کر ایک بار پھر سے میرے دوست کا نام لےلو تو میں آپ کو اس کے بدلے اپنے اس ریوڑ کا ایک تہائی بخش دونگا۔

حضرت جبرائیلؑ نے پھر سے تکرار کردیا۔

حضرت ابراہیمؑ کثرت شوق سے بے قرار و بےچین ہوگئے۔ اور درخواست کی کہ اے بندۂ خدا اگر تو ایک بار پھر سے میرے دوست کا نام لے تو اس ریوڑ کا نصف تیرا ہوا۔

حضرت جبرائیلؑ نے پھر سے تکرار کردیا۔

حضرت ابراہیمؑ کے شوقِ محبت اور فرطِ جذبات میں اضافہ ہوگیا۔ آپ نے بیقرار ہوکر پھر سے درخواست کی؛
اگر آپ پھر سے میرے محبوب کے نام کا تکرار کردو تو یہ سارے گوسفند آپ کے ہوئے۔

حضرت جبرائیلؑ نے وہی نام اسی طرح دُہرا دیا۔


اب حضرت ابراہیمؑ کی تسکین نہ ہونے کی وجہ سے آپ نے فرمایا؛
میرے پاس اب کچھ بھی نہیں رہا۔ اب اگر مجھے پھر سے میرے محبوب کا نام سنوا دو تو میں خود آپ کا ہوا۔

حضرت جبرائیلؑ نے پھر سے نام ذاتِ ذوالجلال دُہرا دیا۔

حضرت ابراہیمؑ نے فرمایا؛
اچھا تو آئیے اور میرے ساتھ اس ریوڑ کو بھی وصول کر کے لے چلیے کیونکہ یہ سب کچھ اب آپ کا ہوا۔

حضرت جبرائیلؑ نے عرض کیا؛
اے ابراہیمؑ! مجھے آپ کے ریوڑ کی ضرورت نہیں ہے، میں تو جبرائیل ہوں، میں کہتا ہوں آپ واقعاً اس قابل ہیں کہ خداوندمتعال آپ کو اپنا دوست بنائے۔
آپ نے مکمل وفاداری، بلند پایہ دوستی اور سچی محبت و اطاعت اور پرخلوص تعلق کا ثبوت دیا ہے۔ اور پھر اپنے سارے اقرار کردہ معاہدوں پر ثابت قدم رہے ہیں۔(4)

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

📚 حوالہ جات:
1)دوستی در قرآن وحدیث، ص282۔
2)دوستی در قرآن وحدیث، ص308۔
3)موضوعی داستانیں، ص194۔
4)موضوعی داستانیں، ص195۔

https://t.me/islamwitheman/477
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 دنیا کی محبت 🔷

دنیا آزمائش کی جگہ ہے، آسائش کی نہیں۔ اے دل اس دنیا کے ساتھ دل نہ لگاؤ کہ اس سے پریشانی ملتی ہے۔

●ارشاد باری تعالٰی ہوتا ہے۔۔
"وما ھٰذِہِ الحیٰوةُ الدنیا إلا لھوٌ و لعبٌ۔ وإن الدّارَ الآخرةَ لَھِیَ الحَیَوَانُ لو کانوا یَعلَمون"
(سورہ عنکبوت)
اور یہ دنیا کی زندگی تو لھو و لعب ہے جبکہ دارِآخرت زندگی ہی زندگی ہے اگر تم کو خبر ہو۔

●"فَلا تَغُرَنَّکُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیا"
اور تمہیں دنیا کی زندگی دھوکہ نہ دے۔
(سورہ لقمان)

●رسول اکرمؐ فرماتے ہیں۔۔
"حب الدنیا اصل کل معصیة و أول کل ذنب"
دنیا کی محبت ہر برائی کی جڑ اور ہر گناہ کی ابتدا ہوتی ہے۔
(میزان الحکمہ:5816۔)

■شوق میں رکاوٹ
ایک شخص نے رسول اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کی:
رسول خدا مجھے سمجھائیں کہ آخر کیونکر ہمیں موت کی آغوش میں جانے کا شوق نہیں؟

آپؐ نے فرمایا؛
"اپنے مال اپنے آگے بھیجنا شروع کردو۔ کیونکہ ہر شخص کا دل اس کے مال کے ساتھ ہوتا ہے۔ جدھر مال ہوتا ہے، دل اسی طرف جاتا ہے۔ جو مال آگے روانہ کرتا ہے وہ اس طرف جلدی جانا پسند کرتا ہے تاکہ اپنے مال کے پاس جلدی پہنچ جائے اور اگر کسی جگہ جمع کررکھا ہو تو پسند کرتا ہے اسی کے پاس ٹھہرا رہے"
(درس ہائے از تاریخ، ص970)

■دنیا کی شکل
اس دنیا میں اڑھائی ہزار سال عمر گزارنے والے نبی حضرت نوحؑ سے حضرت جبرائیلؑ نے پوچھا:
اے انبیاء میں سے درازترین عمر گزارنے والے نبی! آپ نے اس دنیا کو کیسا پایا، آپ کا اس دنیا کے بارے کیا نظریہ ہے؟

حضرت نوحؑ نے فرمایا:
میں نے دنیا کو اس گھر کی مانند پایا ہے جس کے دو دروازے ہیں۔ میں اس کے ایک دروازے سے داخل ہوا ہوں اور دوسرے دروازے سے نکل گیا ہوں۔
(معراج السعادة)

■دنیا چیونٹی کی نظر میں
ایک دن حضرت سلیمانؑ اپنے وزراء و مملکت کے رؤسا کے ہمراہ اپنے دربار میں تخت نشین تھے کہ ادھر سے ایک چیونٹی کا گزر ہوا۔ چیونٹی نے آپؑ سے ایک سوال کیا؛
اے اللہ کے نبی! کیا آپ یہ بتانا پسند فرمائیں گے کہ اللہ تعالٰی نے اس جہاں میں آپ کو کونسی منفرد نعمت و کرامت سے نوازا ہے؟

حضرت سلیمانؑ نے فرمایا؛
ہوا کو میرے تابع کردیا ہے۔

چیونٹی نے عرض کیا؛
اے حضرت سلیمانؑ کیا آپ نے کبھی توجہ فرمائی ہے کہ اس میں کتنی عجیب و لطیف بات ہے کہ جو کچھ آپ کو اس مملکت سے امتیازی طور پر حاصل ہے گویا وہ سب ہوا کی مانند ہے۔ آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ کسی کے ہاتھوں میں ہوا باقی رہی ہو۔ بس آپ کی دنیاوی سلطنت کا حال بھی اسی طرح کا ہے۔
(داستانہائے کشف الاسرار، ص161)

■شرِّ دنیا
جناب شیخ بہائی نے روایت کی ہے کہ تورات میں خداوندمتعال فرماتا ہے کہ۔۔
اے فرزندِ آدم! ہر روز میں تیرے لیے تازہ، پاکیزہ روزی بھیجتا ہوں لیکن جب شام ہوتی ہے تو میرے ملائکہ تیرے برے اعمال کا مجموعہ لے کر لوٹتے ہیں۔ میری طرف سے ہمیشہ تیرے لیے خیر و خوبی نازل ہوتی ہے اور تیری طرف سے شر و برائی میرے سامنے آتی ہے۔

اے فرزندِ آدم! تو میرے لئے اسی قدر اطاعت گزار بن جا جتنا تو میرا محتاج ہے اور آتشِ جہنم کی برداشت کی حد تک میری نافرمانی کر۔ دنیا کے لئے اسی قدر کام کر جتنا تجھے دنیا میں رہنا ہے اور آخرت کے لئے بھی اتنا کام کر جتنا تجھے وہاں رہنا ہوگا۔ اس میں اپنی رہنے کی مقدار کے مطابق زاد و توشہ اکٹھا کر۔

اے فرزندِ آدم! اپنے دل سے دنیا کی محبت نکال دے کیونکہ میری اور دنیا کی محبت ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتی۔
(موضوعی داستانیں، ص179)

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman/570
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
💐 خوش خُلقی 💐

اچھے خوبصورت چہرے سے اچھی سیرت بہتر ہے۔ اچھی عادت والا بیگانوں کا اپنا ہوتا یے اور بُری عادات والا اپنوں سے بیگانہ ہوتا ہے۔

●رسول اکرمؐ فرماتے ہیں۔۔
"اَلاِسْلامُ حُسْنُ الْخُلْقِ"
اسلام خوش اخلاقی کا نام ہے۔(1)

●حضرت امام حسنؑ فرماتے ہیں۔۔
"اِنَّ اَحْسَنَ الْحُسْنِ اَلْخُلْقُ الْحَسَنِ"
بہترین نیکی خوش خلقی ہے۔(2)

●أمام جعفر الصادقؑ فرماتے ہیں۔۔
"حُسْنُ الْخُلْقِ یُزِیْدُ فِی الرِّزْقِ"
خوش خلقی رزق میں اضافہ کرتی ہے۔(3)

■اخلاق نبویؐ؛
أنس بن مالک کہتے ہیں میں رسول اکرمؐ کی خدمت میں تھا۔ آپؐ نے اس روز ایک ایسی چادر زیب تن فرمائی ہوئی تھی جس کے حاشیے کنارے سخت اور درشت تھے اچانک ایک صحرائی بیابانی عرب بدو نمودار ہوا اور آتے ہی حضورؐ کی ردائے مبارک سے پکڑا اور سختی سے اسطرح کھینچا کہ آپ کی گردن مبارک پر نشان پڑ گئے اور۔۔۔
اس عرب مرد نے کہا؛
اے محمد یہ دو اونٹ مجھے سامان لاد کر دے۔ کیونکہ جو مال تیرے پاس ہے یہ خدا کا مال ہے، تیرا اور تیرے باپ کا مال نہیں ہے۔

آپؐ اس کے سامنے چپ ہو گئے اور پھر فرمایا؛
یہ سارے مال اللہ تعالٰی کے اموال ہیں اور میں تو خدا کا بندہ ہوں۔ اب بتاؤ جو تو نے میرے ساتھ سلوک کیا ہے اس کا تجھ سے بدلہ لوں۔؟

اس عرب بدو نے کہا؛
نہیں جناب

آپؐ نے فرمایا؛
کیونکر۔۔؟

اس شخص نے کہا؛
اس لئے کہ آپ کا یہ شیوہ نہیں ہے بلکہ آپ کا کام تو برائی کا بدلہ برائی سے دینا نہیں بلکہ بھلائی سے دینا ہے۔

آپؐ مسکرائے اور فرمایا؛
اس کے ایک اونٹ پر جَو لاد دیئے جائیں اور دوسرے پر کھجوریں۔(4)

■شیطانی شکنجہ؛
کسی شخص نے مولا علیؑ کے غلام قنبر کو گالیاں دیں۔ قنبر بھی اسے اسی قسم کی گالیاں دینے پر آمادہ ہوا۔ حضرت علیؑ نے قنبر کو بلایا اور فرمایا؛
قنبر خاموش رہو۔ اس گالیاں دینے والے شخص کو ذلیل و خوار ہونے دو۔ تم اپنی چپ کو اس کی سزا قرار دو۔ تمہارے چپ ہونے سے خداوندمتعال خوشنود ہو گا اور تمہارا دشمن شیطان کے شکنجے میں آ جائے گا۔

■مالک اشترؓ؛
مالک اشتر کوفہ کے بازار سے گزر رہے تھے۔ ایک ایسے شخص نے جو مالک اشتر کو نہیں جانتا تھا، انکی طرف مٹی پھینکی۔ جناب مالک اشتر چپ کر کے گزر گئے اور کچھ نہ کہا۔ لوگوں نے اس شخص سے کہا؛ کیا تجھے معلوم ہے کہ تو نے کس شخص کی توہین کی ہے۔ اس نے کہا؛ نہیں معلوم۔
لوگوں نے کہا؛ یہ شخص مالک اشتر ہے۔ حضرت علیؑ کے جانثار جانباز ہیں، ان کے لشکر کے جرنیل ہے۔
اس شخص پر خوف طاری ہوا اور وہ مالک اشتر کے پیچھے دوڑا تاکہ ان سے مل کر معذرت کرے۔ جب وہ پہنچا تو مالک اشتر مسجد میں مشغول نماز تھے۔ جب مالک نماز سے فارغ ہوئے تو وہ شخص مالک کے پیروں پر گر گیا۔
جناب مالک نے پوچھا؛
ایسا کیوں کرتے ہو؟
اس مرد نے کہا؛
میں اپنے کیے کام کی معافی چاہتا ہوں۔

جناب مالک نے فرمایا؛
میں نے مسجد میں داخل ہوتے ہی تمہارے لیے مغفرت کی دعا کر دی تھی۔(5)

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

📚حوالہ جات؛
1) میزان الحکمہ:4988۔
2) میزان الحکمۃ:4989۔
3) میزان الحکمۃ:5075۔
4) منازل الآخرة، ص100۔
5) منازل الآخرة، ص100۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

■ خوش اخلاقی اور بد اخلاقی کے متعلق مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ لنک پر کلک کریں۔

🌺 الفاظ و انداز اور لہجہ
https://t.me/islamwitheman/475

🔷 اخلاق اور خودسازی
https://t.me/islamwitheman/214

🔷 اللھم فحسن خلقی
https://t.me/islamwitheman/324

👅 احتیاط کے ساتھ بولا کریں
https://t.me/islamwitheman/396

🔷 ایک بچہ اور کچھوا
https://t.me/islamwitheman/539

🔷 مسکراہٹ و خاموشی
https://t.me/islamwitheman/22

📝 مخدوم بنے رہنا کمال نہیں
https://t.me/islamwitheman/462

🔷 بد اخلاقی کا انجام
https://t.me/islamwitheman/528

🌷 احسان فراموشی
https://t.me/islamwitheman/379

🔷 نصیحت آموز
https://t.me/islamwitheman/549
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔶 خوف خدا سے یحییٰؑ کا گریہ 🔶

■مولا علی علیہ السلام فرماتے ھیں۔۔ اگر آج دنیا میں خوف خدا سے زیادہ گریہ کرو گے تو کل قیامت کے دن تمہاری آنکھیں روشن اور خوش ہوں گی۔

■حضرت یحییٰؑ خوف خدا میں اس قدر روئے کہ آپ کی آنکھوں کے کناروں سے گوشت ختم ہوگیا اور آپ کے دندانِ مبارک ظاہر ہوگئے اسی لئے حضرت ذکریاؑ جب بنی اسرائیل کو وعظ و نصیحت کرنے تشریف لے جاتے اور خطاب کرنے کا ارادہ کرتے تو اپنے دائیں بائیں ضرور نگاہ کرتے اگر انہیں حضرت یحییٰؑ نظر آتے تو جنت و دوزخ کا ذکر نہ فرماتے۔

ایک مرتبہ حضرت ذکریاؑ جناب یحییٰؑ کی مجمع میں موجودگی سے متوجہ نہ ہوئے اور اپنا وعظ شروع کر دیا اور پھر آتشِ جہنم کا تذکرہ بھی ہوا۔ حضرت یحییٰؑ نے سخت گھبراہٹ میں اٹھ کر بیابان کا راستہ لیا۔
جناب ذکریاؑ وعظ سے فارغ ہوئے تو حضرت یحییٰؑ کی والدہ سے فرمایا؛ اٹھو اور جاؤ یحییٰؑ کو تلاش کرو۔ مجھے خوف ہے کہ شاید وہ آپ کو زندہ نہ مل سکیں۔
انکی والدہ انکی تلاش میں نکل پڑیں، راستہ میں بنی اسرائیل کے بعض جوان مل گئے وہ بھی بیبی کے ساتھ چل پڑے۔ سب مل حضرت یحییٰؑ کو تلاش کرنے لگے۔ راستے میں ایک چرواہے سے ملاقات ہوئی۔ اس سے پوچھا؛
کیا آپ نے ان علامات و شکل کا جوان دیکھا ہے؟

چرواہے نے کہا؛
ہاں میں نے ابھی انہیں اس پہاڑ کے دامن میں دیکھا ہے وہ اپنے دونوں پاؤں پانی میں ڈالے آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے اور اس طرح گفتگو کر رہے تھے۔۔۔
اے میرے مولا! میرے مولا! مجھے تیری عزت و جلال کی قسم! میں آج کے بعد ٹھنڈا پانی نہ پیوں گا اور اس وقت تک اسی طرح رہونگا جبتک تو مجھے میرا آخرت کا مقام دکھا نہ دے۔

جناب یحییٰؑ کی والدہ اپنے فرزند کی تلاش میں روانہ ہوئیں اور انہیں پاکر گود میں لیا اور قسم دی کہ گھر واپس آؤ۔ بالآخر وہ اپنی ماں کے ساتھ واپس اپنے گھر تشریف لائے۔

📚 رسالہ لقاءاللہ، ص159 تا 163۔

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌼 خوفِ خُدا 🌼

جو کوئی اپنے خدا سے ڈرنے والا ہوتا ہے، دنیا کی مخلوقات اس سے ڈرتی ہیں۔

●ارشاد خداوندی ہوتا ہے۔۔
"وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ جَنَّتَانِ"
اور جو کوئی عظمتِ خداوندی کا دل میں خوف رکھے اس کے لئے دو بہشت ہیں۔(1)

●ارشاد باری تعالٰی ہے۔۔
"وَأمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ وَنَھَی النَّفْسَ عَنِ الْھَوٰی فَإنَّ الْجَنَّةَ ھِیَ الْمَأوٰى"
اور جو عظمتِ رب سے ڈرا اور اپنے آپ کو خواہشات سے روکا تو جنت اس کا ٹھکانا ہے۔(2)

●رسول اکرمؐ فرماتے ہیں۔۔
"اَعْلَی النَّاسَ مَنْزِلَةً عِنْدَ اللہِ اَخُوْفُھُمْ مِنْہُ"
سب سے زیادہ مرتبہ اللہ تعالٰی کے نزدیک اس کا ہے جو اللہ سے سب سے زیادہ ڈرتا ہے۔(3)

■ملائکہ مقرب کا خوف؛
رسول اکرمؐ نے فرمایا؛ جب بھی جبرائیلؑ میرے پاس آئے تو خوفِ خدا سے لرزاں تھے۔ ایک دن میں نے جبرائیلؑ سے پوچھا؛ کیا وجہ ہے میں نے میکائیلؑ کو کبھی مسکراتے نہیں دیکھا؟
حضرت جبرائیلؑ نے جواب فرمایا؛
جس دن سے جہنم کی آگ کو خلق کیا گیا ہے اسی دن سے میکائیلؑ نے ہنسنا چھوڑ دیا ہے۔(4)

■حضرت علیؑ کا گریہ؛
حبہ عرفی اور نوف بکالی کہتے ہیں ہم ایک شب کوفہ کے دارالامارہ کے صحن میں سوئے ہوئے تھے، نصف شب کے بعد ہم نے محسوس کیا کہ حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام آہستہ آہستہ اپنے حجرے سے نکل کر صحن کی طرف تشریف لاتے ہیں لیکن آپؑ کی حالت عجیب ہے۔ آپؑ اپنے جسمانی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے دیوار کا سہارا لے کر چل رہے ہیں اور زیرلب سورہ آلِ عمران کی آخری آیات کی تلاوت میں مصروف ہیں۔
جونہی آپؑ کی تلاوت آیات اختتام کو پہنچتی تو آپؑ دوبارہ ابتدا سے شروع کر دیتے اور مسلسل انہی آیات کی تلاوت میں مصروفِ عمل رہے۔

حبہ اور نوف اپنے اپنے بستر میں لیٹے اس منظر کو دیکھ رہے تھے۔ آپؑ پےدرپے گریہ فرما رہے تھے۔

حضرت علی علیہ السلام حبہ کے نزدیک تشریف لائے اور پوچھا؛
جاگتے ہو یا سو رہے ہو؟

حبہ نے جواب دیا؛
بیدار ہوں اے امیرالمؤمنین اور سوچ رہا ہوں کہ جب آپ اپنے رب کی خشیت میں اس قدر رو رہے ہیں تو ہمارا کیا حال ہوگا۔

حضرت امیرالمؤمنینؑ نے آنکھیں جھکا کر پھر رونا شروع کر دیا اور فرمایا؛
اے حبہ! ہم سب کو ایک روز اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہونا ہے جس کے سامنے سے ہمارا کوئی عمل پوشیدہ نہیں ہے، وہ تیرے اور میرے شہہ رگ سے زیادہ نزدیک ہے اور کوئی بھی چیز کسی وقت بھی ہمارے اور ہمارے رب کے درمیان حائل نہیں ہے۔
پھر نوف سے پوچھا؛
کیا سو رہے ہو؟

نوف نے کہا؛
نہیں مولا۔۔۔ اے امیرالمؤمنین میں تو کافی دیر سے آپ کو روتا دیکھ کر خود بھی رو رہا ہوں۔

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا؛
اے نوف! اگر آج دنیا میں خوفِ خدا سے زیادہ گریہ کرو گے تو کل قیامت کے دن تمہاری آنکھیں روشن اور خوش ہونگی۔

اے نوف! خداوندمتعال کے خوف سے آنکھوں سے نکلنے والا ہر قطرہ جہنم کی آگ کے کئی دریاؤں کو خاموش کردیتا ہے۔

اے نوف! کسی کا بھی مقام و منزلت خوفِ خدا میں رونے والے سے برتر نہیں اور اگر کوئی کسی کو خدا کے لئے دوست رکھتا ہو تو اس کا بہت بلند مقام ہے۔

اے نوف! جو خداوندمتعال سے محبت کرے اور خدا کے لئے ہی کسی شے سے محبت کرتا ہو تو وہ خدا کے راستے میں کسی چیز کو ترجیح نہیں دیتا۔

اور۔۔
جو شخص کسی شے سے دشمنی خدا کے لئے کرتا ہے تو اسے اس دشمنی کے لئے بھی نیکی ہی ملے گی۔ جب کوئی اس درجہ ایمان پر فائز ہو تو وہ ایمان کے حقائق کے کمال تک پہنچ جاتا ہے۔
پھر آپ نے حبہ اور نوف کو کچھ دیر وعظ و نصیحت فرمائی اور آپ کی گفتگو کا آخری جملہ یہ تھا۔۔
خدا سے خوف کھاؤ، میں نے تمہیں بتا دیا ہے۔(5)

■اویسؓ کا گریہ؛
اویسؓ قرنی ایک موعظہ کی محفل میں حاضر ھوا کرتے تھے۔ واعظ کی باتیں سن کر ان پر گریہ طاری ہوجاتا تھا۔ جب آتش جہنم کا ذکر آتا تو ان کی دھاڑیں بلند ہو جاتی تھیں اور وہ بھاگتے دوڑتے تھے۔ ان پر ایسی بےکیفی کی حالت طاری ہوجاتی تھی کہ لوگ ان کے پیچھے دوڑ پڑتے تھے اور انہیں کہتے تھے دیوانہ دیوانہ۔(6)

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

📚 حوالہ جات؛
1) سورہ رحمان۔
2) سورہ نازعات۔
3) میزان الحکمۃ:5191۔
4) معراج السعادة، ص141۔
5) داستان راستان، ج2، ص180۔
6) اسرارالقلوب، ص202۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

■ خوف خدا کے متعلق مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں۔۔۔

🌷 شیطان کا وار اور خوف خدا
https://t.me/islamwitheman/424

🔷 کسی کا بُرا مت کرو
https://t.me/islamwitheman/347

🔶 خوفِ خُدا سے یحیٰیؑ کا گریہ
https://t.me/islamwitheman/635
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌻 امانت داری 🌻

●ارشاد خداوندی ہے۔۔
"اِنَّ اللہ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوْا الأمَانَاتِ إلیٰ اَھْلِھَا"
خداوندمتعال آپ کو حکم دیتا ہے امانتیں ان کے مالکوں تک پہنچاؤ۔(1)

●ارشاد باری تعالٰی ہوتا ہے۔۔
"وَالَّذِیْنَ ھُمْ لامَانَاتِھِمْ وَ عَھْدِھِمْ رَاعُوْنَ"
مؤمن اپنی امانتوں اور عہدوپیمان کے پابند ہوتے ہیں۔(2)

●رسول اکرمؐ فرماتے ہیں۔۔
"لا اِیْمَانَ لِمَنْ لا اَمَانَةَ لَہ"
جو امانت دار نہیں، صاحب ایمان نہیں۔(3)

●امیرالمؤمنین علیؑ فرماتے ہیں۔۔
"اَدُّوْا الأمَانَاتِ وَلَوْ إلیٰ أوْلادِ قَتَلَةِالانْبِیَاءَ"
امانتیں واپس کرو، اگرچہ انبیاء کے قاتلوں کی اولاد کی ہی کیوں نہ ہوں۔(4)

■ثمرۂ امانت داری
عبدالرحمٰن بن سبابہ کہتے ہیں کہ جب میرے والد کی وفات ہوئی تو ان کے ایک دوست مجھے تعزیت کرنے کے لئے میرے گھر آئے اور مجھ سے کہا؛
عبدالرحمٰن! کیا تیرے والد نے کوئی چیز ترکہ میں چھوڑی ہے؟

میں نے کہا؛ نہیں

میرے والد کے دوست نے ایک ہزار درھم کی تھیلی میری طرف بڑھائی اور کہا؛
یہ رقم امانت کے طور پر اپنے پاس رکھ لو، اسے اپنے لئے سرمایہ بناؤ، اس کے ساتھ کاروبار کرو۔ جو نفع ملے اپنی ضروریات اور اخراجات میں خرچ کرو اور اصل رقم مجھے واپس کر دینا۔

مجھے بہت خوشی ہوئی اور میں خوش خوش اپنی والدہ کے پاس گیا، سارا قصہ سنایا اور خبر دی۔
پھر رات کو اپنے والد کے ایک دوسرے دوست کے پاس گیا، اس نے میرے لئے کپڑے کے تھان خریدے اور ایک دکان کا انتظام کیا۔ میں دوسرے دن اپنے کاروبار میں مشغول ہوگیا۔
خداوندمتعال نے مجھے برکت عنایت فرمائی اور کشادہ روزی نصیب ہوئی۔
حج کا موسم نزدیک ہوا تو میرا جی چاہا خانۂ خدا کی زیارت کے لئے جاؤں اور فریضۂ حج ادا کروں۔ میں نے اپنی والدہ سے اپنے ارادے کا ذکر کیا تو والدہ نے فرمایا؛
اگر آپ کا حج کا ارادہ ہے تو پہلے قرض والوں کا قرضہ دو پھر حج کے لیے چلے جاؤ۔
میں نے قرضہ کی رقم اکٹھی کی اور ان صاحب کی خدمت میں حاضر ہوکر رقم پیش کی۔ وہ اس قدر خوش ہوئے کہ جیسے میں نے انہیں رقم عنایت کی ہو کیونکہ انہیں میرے قرضہ کی واپسی کی توقع نہ تھی۔۔ میرے والد کے دوست نے کہا؛
شاید یہ رقم کم تھی اس لئے تم نے واپس کردی ہے۔ اگر یہ تھوڑی ہے تو میں آپ کو اور دیتا ہوں۔

میں نے کہا؛
نہیں ایسا نہیں ہے بلکہ میں حج کا ارادہ رکھتا ہوں اس لئے پہلے آپ کی امانت واپس کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔

مجھے سعادت نصیب ہوئی اور میں حج پر روانہ ہوگیا۔ مکہ مکرمہ سے حاضری کے بعد مدینہ منورہ زیارات کے لئے گیا۔ اپنے چند دوستوں کے ہمراہ حضرت امام جعفر الصادق علیہ السلام کی زیارت کے لئے حاضر ہوا۔ میں چونکہ نوخیز اور کم عمر جوان تھا، محفل کے آخر میں بیٹھ گیا۔ جب لوگوں کا رش کم ہوا اور محفل میں جگہ خالی ہوئی تو میں ذرا آگے بڑھا۔ امام علیہ السلام نے مجھ سے پوچھا؛ کوئی کام تھا؟

میں نے عرض کی؛
قربان جاؤں، میں عبدالرحمٰن بن سبابہ ہوں۔
آپؑ نے میرے والد کا حال احوال دریافت فرمایا؛
میں نے عرض کیا؛ وہ وفات پاگئے ہیں۔

آپؑ نے بہت زیادہ افسوس فرمایا اور میرے والد کے لئے دعائے رحمت فرمائی اور پوچھا؛
کیا وہ کوئی دنیاوی مال ترکہ کے طور پر چھوڑ گئے تھے؟

میں نے عرض کیا؛ نہیں

آپؑ نے پوچھا؛
پھر تو کس طرح حج کے لئے آیا ہے؟

میں نے اپنے والد کے دوست کی داستان بیان کی۔۔ آپؑ نے میری بات پوری ہونے سے قبل ہی پوچھا؛
تو پھر تو نے اس بندۂ خدا کے ہزار درھم کا کیا کیا؟

میں نے عرض کیا؛ واپس کر دیا ہے۔

امام علیہ السلام نے فرمایا؛
شاباش، بہت اچھا کام کیا تو نے۔ تمہیں ایک نصیحت کروں؟

میں نے عرض کیا؛ جی ہاں، فرمائیے۔۔

امام علیہ السلام نے فرمایا؛
"عَلَیْکَ بِصِدْقِ الْحَدِيْثِ وَ اَدَآءِ الْآمَانَةِ"
تجھ پر لازم ہے سچ بولنا اور امانت واپس کرنا۔
اگر میری اس فرمائش پر عمل کرو گے تو لوگوں کے اموال کے شریک رہو گے۔ پھر آپؑ نے اپنی مبارک انگلیوں کو جمع فرمایا اور ارشاد فرمایا؛ اس طرح لوگوں کے اموال کے شریک ہوا کرو گے۔
میں نے آنحضرت علیہ السلام کی نصیحت پر عمل کیا، میری ہمیشہ مالی حالت اچھی رہی، اور اس قدر برکت ہوئی کہ ایک سال میں تین ہزار درھم زکوۃ ادا کی۔(5)

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

📚 حوالہ جات:
1) سورہ نساء، آیت58۔
2) سورہ مؤمنون، ایت8۔
3) موضوعی داستانیں،ص17۔
4) میزان الحکمۃ، حدیث 1495۔
5) بحارالأنوار، حصہ قصہ جات، ج2۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕