🌷 مجتہد کی ضرورت 🌷
اصول کافی، شیخ صدوق کی کتاب من لا یحضرہ الفقیہ اور وسائل الشیعہ کے ہوتے ہوئے توضیح المسائل کی کیا ضرورت ہے؟ ان کتابوں کے اردو تراجم بھی دستیاب ہیں، کوئی بھی شخص ان کتابوں سے برائے راست فرمانِ معصومؑ معلوم کر سکتا ہے۔ اس طرح مجتہد کی ضرورت ہی نہیں رہتی.
تو اس کا جواب یہ ہے کہ..
اسلام کی پہلی ترجیح تو یہی ہے کہ ہر شخص اس لائق ہو کہ وہ براہ راست قرآن اور معصومؑ کا فرمان سمجھتا ہو اور اپنے سارے شرعی مسائل براہ راست قرآن اور حدیث سے اخذ کر سکتا ہو۔ لیکن جب آپ تراجم کے موجود ہونے کی بات کرتے ہیں تو پھر درمیان میں مجتہد سے بھی کم درجے کا ایک مترجم واسطہ بن جاتا ہے ہم اس سے دین لے رہے ہوتے ہیں۔ ہم خود براہ راست معصومؑ کا فرمان تو نہیں سمجھ رہےہوتے۔
ایک بڑی مشکل یہ بھی ہے کہ ان کتابوں کے اندر ایک ہی باب کے ایک ہی مسئلے کے بارے میں مختلف روایتیں موجود ہیں جن کے درمیان بظاہر ٹکراؤ اور تضاد کی سی کفیت نظر آتی ہے۔ اس مشکل کا حل عام آدمی تو دور کی بات کسی عام عالم کے بس میں بھی نہیں ہے۔ اس کام کے لئے خاص علم اور مہارت کی ضرورت ہوتی ہے جس کے پاس یہ دونوں ہوں وہی مجتہد ہوتا ہے۔
ایک اور مشکل، پیش آنے والے جدید مسائل ہیں جن کے اصول اور ضوابط قرآن کریم اور فرامینِ معصومینؑ میں موجود ہیں لیکن ان سے حکم سمجھنے کے لئے اجتھاد کی سطح کا علم درکار ہوتا ہے.
🌹 امام حسن عسکریؑ فرماتے ہیں..
فقہاء (مجتہدین) میں سے ایسا شخص جو
اپنے نفس کی (گناہوں سے) حفاظت کرنے والا ہو،
اپنے دین کی حفاظت کرتا ہو،
ہوا و ہوس (خواہشاتِ نفسانی) کی مخالفت کرتا ہو،
اور اپنے مولا کی پیروی کرتا ہو،
تو پھر عوام کی ذمہ داری ہے کہ اس کی تقلید (پیروی) کریں.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے ۔
📚 بحارالانوار، ج 2، ص:88.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ تقلید کے بارے مذید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ لنک پر کلک کریں.
🔷 تقلید کی ضرورت
https://t.me/islamwitheman/357
🔷 تقلید کیوں واجب ہے
https://t.me/islamwitheman/358
🔷 شرائط تقلید
https://t.me/islamwitheman/359
🌷 مجتهد کی ضرورت
https://t.me/islamwitheman/522
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
اصول کافی، شیخ صدوق کی کتاب من لا یحضرہ الفقیہ اور وسائل الشیعہ کے ہوتے ہوئے توضیح المسائل کی کیا ضرورت ہے؟ ان کتابوں کے اردو تراجم بھی دستیاب ہیں، کوئی بھی شخص ان کتابوں سے برائے راست فرمانِ معصومؑ معلوم کر سکتا ہے۔ اس طرح مجتہد کی ضرورت ہی نہیں رہتی.
تو اس کا جواب یہ ہے کہ..
اسلام کی پہلی ترجیح تو یہی ہے کہ ہر شخص اس لائق ہو کہ وہ براہ راست قرآن اور معصومؑ کا فرمان سمجھتا ہو اور اپنے سارے شرعی مسائل براہ راست قرآن اور حدیث سے اخذ کر سکتا ہو۔ لیکن جب آپ تراجم کے موجود ہونے کی بات کرتے ہیں تو پھر درمیان میں مجتہد سے بھی کم درجے کا ایک مترجم واسطہ بن جاتا ہے ہم اس سے دین لے رہے ہوتے ہیں۔ ہم خود براہ راست معصومؑ کا فرمان تو نہیں سمجھ رہےہوتے۔
ایک بڑی مشکل یہ بھی ہے کہ ان کتابوں کے اندر ایک ہی باب کے ایک ہی مسئلے کے بارے میں مختلف روایتیں موجود ہیں جن کے درمیان بظاہر ٹکراؤ اور تضاد کی سی کفیت نظر آتی ہے۔ اس مشکل کا حل عام آدمی تو دور کی بات کسی عام عالم کے بس میں بھی نہیں ہے۔ اس کام کے لئے خاص علم اور مہارت کی ضرورت ہوتی ہے جس کے پاس یہ دونوں ہوں وہی مجتہد ہوتا ہے۔
ایک اور مشکل، پیش آنے والے جدید مسائل ہیں جن کے اصول اور ضوابط قرآن کریم اور فرامینِ معصومینؑ میں موجود ہیں لیکن ان سے حکم سمجھنے کے لئے اجتھاد کی سطح کا علم درکار ہوتا ہے.
🌹 امام حسن عسکریؑ فرماتے ہیں..
فقہاء (مجتہدین) میں سے ایسا شخص جو
اپنے نفس کی (گناہوں سے) حفاظت کرنے والا ہو،
اپنے دین کی حفاظت کرتا ہو،
ہوا و ہوس (خواہشاتِ نفسانی) کی مخالفت کرتا ہو،
اور اپنے مولا کی پیروی کرتا ہو،
تو پھر عوام کی ذمہ داری ہے کہ اس کی تقلید (پیروی) کریں.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے ۔
📚 بحارالانوار، ج 2، ص:88.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ تقلید کے بارے مذید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ لنک پر کلک کریں.
🔷 تقلید کی ضرورت
https://t.me/islamwitheman/357
🔷 تقلید کیوں واجب ہے
https://t.me/islamwitheman/358
🔷 شرائط تقلید
https://t.me/islamwitheman/359
🌷 مجتهد کی ضرورت
https://t.me/islamwitheman/522
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 تقلید کی ضرورت 🔷
عقلًا اور شرعًا جو شخص آيات اور روايات سے حكم شرعى كا استنباط نہيں كر سكتا اسے ’’تقليدِ فقہى‘‘ كرنا ضرورى ہے.
جو شخص خود تقليد كے مرحلہ ميں ہو اور بعض ايسى روايات پيش كرے جو اس كے خيال ميں قابلِ بحث ہيں، اس كى مثال اس مريض كى سى ہے جسے…
عقلًا اور شرعًا جو شخص آيات اور روايات سے حكم شرعى كا استنباط نہيں كر سكتا اسے ’’تقليدِ فقہى‘‘ كرنا ضرورى ہے.
جو شخص خود تقليد كے مرحلہ ميں ہو اور بعض ايسى روايات پيش كرے جو اس كے خيال ميں قابلِ بحث ہيں، اس كى مثال اس مريض كى سى ہے جسے…
🌼 حسنِ ظن 🌼
ایک دن مشہور شاعر اور محدث محمد بن شہاب زہری غمگین شکل و صورت لئے امام زین العابدین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا، امام علیہ السلام نے زہری سے پریشانی کا سبب دریافت کیا تو اس نے کہا..
’’ قَالَ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ غُمُومٌ وَ هُمُومٌ تَتَوَالَى عَلَيَّ لِمَا امْتُحِنْتُ بِهِ مِنْ جِهَةِ حُسَّادِ نِعَمِي‘‘
ترجمہ:
مجھے ان لوگوں پر غصہ آتا ہے جن سے میں تو نیکی کرتا ہوں لیکن وہ مجھ سے حسد کرتے ہیں۔‘‘
امام زین العابدینؑ فرمایا:
’’تمہارے لئے ضروری ہے کہ تمام مسلمانوں کو اپنا ذاتی خاندان تصور کرو، ان میں سے جو تم سے بڑا ہو اسے اپنے باپ کے مقام پر سمجھو اور جو تم سے چھوٹا ہو اسے بیٹے کے مقام پر سمجھو اور جو تمہارا ہم عمر ہو اسے اپنا بھائی تصور کرو پھر تم سوچو کہ آیا اپنے خاندان کے افراد کا کوئی نقصان تمہیں پسند آتا ہے؟ کیا تم اپنے خاندان پر ظلم یا بددعا کرنا گوارا کروگے؟ یا چاہو گے کہ ان کے راز آشکار ہوجائیں؟ اور اگر کبھی ابلیس تمہارے دل میں یہ وسوسہ پیدا کرے کہ تم ان سے بہتر ہو تو شیطانی وسوسہ کو اپنے سے دور کرو اور اپنے آپ سے کہو..
کہ فلاں شخص مجھ سے عمر میں بڑا ہے یہ ایمان لانے میں مجھ پر سبقت رکھتا ہے اور اس کے نیک عمل مجھ سے زیادہ ہیں،
اگر وہ تم سے عمر میں چھوٹا ہو تو تم اپنے دل میں یہ خیال کرو کہ اس کی عمر مجھ سے کم ہے اسی لئے اس کے گناہ بھی مجھ سے کم ہیں، لہذا یہ مجھ سے بہتر ہے.
اگر وہ شخص تمہارا ہم عمر ہو تو تم اپنے دل میں یہ خیال پیدا کرو کہ مجھے اپنے گناہوں کا یقین ہے اس کے گناہوں کا شک ہے، لہذا یہ مجھ سے بہتر ہے.
اگر تم کسی کو اپنا احترام کرتے ہوئے دیکھو تو تم میں تکبر اور خود پسندی کے جذبات پیدا نہیں ہونے چاہیے تم اپنے دل سے کہو کہ اسلام ہر مسلمان کو دوسرے مسلمان کے احترام کا حکم دیتا ہے اسی لئے یہ لوگ میرا احترام کرتے ہیں ورنہ مجھ میں کوئی خصوصیت نہیں ہے.
اگر کسی شخص کو اپنے آپ سے بے اعتنائی کرتا ہوا پاؤ تو یہ سمجھو کہ یہ تمہارے گناہوں کی سزا ہے۔ یاد رکھو اگر تم نے میری باتوں پر عمل کیا تو تمہارے دوست زیادہ اور دشمن کم ہوں گے۔ تم ان کی خوبیوں سے مستفید ہو سکو گے اور ان کی برائیوں سے محفوظ رہوگے.
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
📚 بحار الانوار، ج71، ص156.
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ایک دن مشہور شاعر اور محدث محمد بن شہاب زہری غمگین شکل و صورت لئے امام زین العابدین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا، امام علیہ السلام نے زہری سے پریشانی کا سبب دریافت کیا تو اس نے کہا..
’’ قَالَ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ غُمُومٌ وَ هُمُومٌ تَتَوَالَى عَلَيَّ لِمَا امْتُحِنْتُ بِهِ مِنْ جِهَةِ حُسَّادِ نِعَمِي‘‘
ترجمہ:
مجھے ان لوگوں پر غصہ آتا ہے جن سے میں تو نیکی کرتا ہوں لیکن وہ مجھ سے حسد کرتے ہیں۔‘‘
امام زین العابدینؑ فرمایا:
’’تمہارے لئے ضروری ہے کہ تمام مسلمانوں کو اپنا ذاتی خاندان تصور کرو، ان میں سے جو تم سے بڑا ہو اسے اپنے باپ کے مقام پر سمجھو اور جو تم سے چھوٹا ہو اسے بیٹے کے مقام پر سمجھو اور جو تمہارا ہم عمر ہو اسے اپنا بھائی تصور کرو پھر تم سوچو کہ آیا اپنے خاندان کے افراد کا کوئی نقصان تمہیں پسند آتا ہے؟ کیا تم اپنے خاندان پر ظلم یا بددعا کرنا گوارا کروگے؟ یا چاہو گے کہ ان کے راز آشکار ہوجائیں؟ اور اگر کبھی ابلیس تمہارے دل میں یہ وسوسہ پیدا کرے کہ تم ان سے بہتر ہو تو شیطانی وسوسہ کو اپنے سے دور کرو اور اپنے آپ سے کہو..
کہ فلاں شخص مجھ سے عمر میں بڑا ہے یہ ایمان لانے میں مجھ پر سبقت رکھتا ہے اور اس کے نیک عمل مجھ سے زیادہ ہیں،
اگر وہ تم سے عمر میں چھوٹا ہو تو تم اپنے دل میں یہ خیال کرو کہ اس کی عمر مجھ سے کم ہے اسی لئے اس کے گناہ بھی مجھ سے کم ہیں، لہذا یہ مجھ سے بہتر ہے.
اگر وہ شخص تمہارا ہم عمر ہو تو تم اپنے دل میں یہ خیال پیدا کرو کہ مجھے اپنے گناہوں کا یقین ہے اس کے گناہوں کا شک ہے، لہذا یہ مجھ سے بہتر ہے.
اگر تم کسی کو اپنا احترام کرتے ہوئے دیکھو تو تم میں تکبر اور خود پسندی کے جذبات پیدا نہیں ہونے چاہیے تم اپنے دل سے کہو کہ اسلام ہر مسلمان کو دوسرے مسلمان کے احترام کا حکم دیتا ہے اسی لئے یہ لوگ میرا احترام کرتے ہیں ورنہ مجھ میں کوئی خصوصیت نہیں ہے.
اگر کسی شخص کو اپنے آپ سے بے اعتنائی کرتا ہوا پاؤ تو یہ سمجھو کہ یہ تمہارے گناہوں کی سزا ہے۔ یاد رکھو اگر تم نے میری باتوں پر عمل کیا تو تمہارے دوست زیادہ اور دشمن کم ہوں گے۔ تم ان کی خوبیوں سے مستفید ہو سکو گے اور ان کی برائیوں سے محفوظ رہوگے.
🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
📚 بحار الانوار، ج71، ص156.
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
❄ گھر نمونہ جنت ❄
ایک امیر عورت پیر صاحب کے پاس گئی اور کہا کہ پیر صاحب مجھے کوئی ایسا تعویذ دیں کہ میرا شوہر میری ہر بات مانے جو بھی میں کہوں وہ میرے تابع ھو جائے.
ییر صاحب بھی دور اندیش انسان تھے انھوں نے اس عورت کی بات غور سے سنی، اور کہا کہ یہ عمل تو شیر کی گردن کے بال پر ھوگا۔ اور وہ بال بھی آپ خود شیر کی گردن سے اکھاڑ کر لائیں گی۔ تب اثر ھوگا ورنہ کوئی فائدہ نہ ھوگا...
وہ عورت بہت پریشان ھوگئی اور مایوس ھو کر واپس آگئی اور اپنی سہیلیوں کو بتایا۔
ایک سہیلی نے مشورہ دیا کہ کام تو مشکل ھے مگر ناممکن نہیں، تم ایسا کرو کہ روزانہ پانچ کلو گوشت لیکر جنگل جایا کرو اور جہاں شیر آتا ھے وہاں ڈال کر چھپ جاؤ... کچھ عرصہ بعد شیر کے سامنے جا کر ڈالو وہ گوشت کا عادی ھو جاۓ گا. تم اس کے قریب جاکر گوشت ڈالنا شروع کر دینا اور اس کی گردن پر پیار سے ہاتھ پھیرنا شروع کر دینا اور جب شیر تم سے مانوس ھو جاۓ تو گردن سے بال اکھیڑ لینا.
اس عورت کو بات پسند آئی. دوسرے دن ہی اس نے گوشت لیا اور جنگل گئی اور گوشت ڈال کے چھپ گئی. شیر آیا گوشت کھایا اور چلا گیا..
اس عورت نے ایک ماہ تک ایسا کیا. ایک ماہ بعد اس نے شیر کے سامنے جا کر گوشت ڈالنا شروع کر دیا تاکہ شیر کو پتہ چل سکے کہ اس کی خدمت کون کرتا ھے...
کچھ عرصہ بعد شیر بھی عورت سے مانوس ھو گیا تھا، عورت نے شیر کی گردن پر آہستہ آہستہ پیار سے ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا. ایک دن عورت نے موقع دیکھ شیر کی گردن سے بال اکھیڑا اور خوشی خوشی پیر صاحب کے پاس پہنچ گئی... اور بال پیر صاحب کو دیا اور کہا کہ میں شیر کی گردن سے بال اکھیڑ کر لے آئی ھوں اب آپ عمل شروع کریں...
پیر صاحب نے پوچھا: کیسے لائی ھو..؟
تو عورت نے پوری تفصیل بتا دی.
پیر صاحب مسکراۓ اور کہا کہ کیا تمہارا شوہر اس جنگلی درندے سے بھی زیادہ خطرناک ہے؟ جوکہ خونخوار ھوتا ھے، جس کی تم نے چند دن خدمت کی اور وہ تم سے اتنا مانوس ھو گیا کہ تم نے اس کی گردن سے بال اکھیڑ لیا اور اس نے تمہیں کچھ بھی نہیں کہا تمہارے شوہر کے ساتھ بھی پیٹ لگا ھوا ھے تم اس کی خدمت کرو جب جنگلی درندہ خدمت سے اتنا مانوس ھو سکتا ھے تو ایک باشعور انسان بھی آپ کے تابع ھو سکتا ھے.
■ میری سب بہنوں سے گزارش ھے کہ اپنے شوہر کی خدمت صرف اور صرف الله پاک کی رضا کے لئے کریں پھر دیکھیں الله پاک آپ کے گھر کو کیسے جنت بناتا ہے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 گھر کو نمونہ جنت بنانے کے موضوع پر مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں..
💞 میاں بیوی کی محبت کا تقاضا
https://t.me/islamwitheman/295
🌹 عورتوں کی ذمہ داری (حصہ اول)
https://t.me/islamwitheman/243
🌹 عورتوں کی ذمہ داری (حصہ دوم)
https://t.me/islamwitheman/244
🌹 عورتوں کی ذمہ داری (حصہ سوم)
https://t.me/islamwitheman/245
🌹 خاندان کی سرپرستی
https://t.me/islamwitheman/241
🌹 کامیاب ازدواجی زندگی
https://t.me/islamwitheman/200
🔷 ساس اور بہو
https://t.me/islamwitheman/199
🔷 عقلمند بیوی
https://t.me/islamwitheman/197
🔷 خاوند کی سوچ بیوی کے لئے
https://t.me/islamwitheman/193
💕 خاوند اور بیوی
https://t.me/islamwitheman/189
📝 انداز بیان و سوچ
https://t.me/islamwitheman/158
🔷 کامیاب ازدواجی زندگی کا راز
https://t.me/islamwitheman/136
🔷 بیوی.....
https://t.me/islamwitheman/38
💕 شریک حیات کے حقوق
https://t.me/islamwitheman/529
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ایک امیر عورت پیر صاحب کے پاس گئی اور کہا کہ پیر صاحب مجھے کوئی ایسا تعویذ دیں کہ میرا شوہر میری ہر بات مانے جو بھی میں کہوں وہ میرے تابع ھو جائے.
ییر صاحب بھی دور اندیش انسان تھے انھوں نے اس عورت کی بات غور سے سنی، اور کہا کہ یہ عمل تو شیر کی گردن کے بال پر ھوگا۔ اور وہ بال بھی آپ خود شیر کی گردن سے اکھاڑ کر لائیں گی۔ تب اثر ھوگا ورنہ کوئی فائدہ نہ ھوگا...
وہ عورت بہت پریشان ھوگئی اور مایوس ھو کر واپس آگئی اور اپنی سہیلیوں کو بتایا۔
ایک سہیلی نے مشورہ دیا کہ کام تو مشکل ھے مگر ناممکن نہیں، تم ایسا کرو کہ روزانہ پانچ کلو گوشت لیکر جنگل جایا کرو اور جہاں شیر آتا ھے وہاں ڈال کر چھپ جاؤ... کچھ عرصہ بعد شیر کے سامنے جا کر ڈالو وہ گوشت کا عادی ھو جاۓ گا. تم اس کے قریب جاکر گوشت ڈالنا شروع کر دینا اور اس کی گردن پر پیار سے ہاتھ پھیرنا شروع کر دینا اور جب شیر تم سے مانوس ھو جاۓ تو گردن سے بال اکھیڑ لینا.
اس عورت کو بات پسند آئی. دوسرے دن ہی اس نے گوشت لیا اور جنگل گئی اور گوشت ڈال کے چھپ گئی. شیر آیا گوشت کھایا اور چلا گیا..
اس عورت نے ایک ماہ تک ایسا کیا. ایک ماہ بعد اس نے شیر کے سامنے جا کر گوشت ڈالنا شروع کر دیا تاکہ شیر کو پتہ چل سکے کہ اس کی خدمت کون کرتا ھے...
کچھ عرصہ بعد شیر بھی عورت سے مانوس ھو گیا تھا، عورت نے شیر کی گردن پر آہستہ آہستہ پیار سے ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا. ایک دن عورت نے موقع دیکھ شیر کی گردن سے بال اکھیڑا اور خوشی خوشی پیر صاحب کے پاس پہنچ گئی... اور بال پیر صاحب کو دیا اور کہا کہ میں شیر کی گردن سے بال اکھیڑ کر لے آئی ھوں اب آپ عمل شروع کریں...
پیر صاحب نے پوچھا: کیسے لائی ھو..؟
تو عورت نے پوری تفصیل بتا دی.
پیر صاحب مسکراۓ اور کہا کہ کیا تمہارا شوہر اس جنگلی درندے سے بھی زیادہ خطرناک ہے؟ جوکہ خونخوار ھوتا ھے، جس کی تم نے چند دن خدمت کی اور وہ تم سے اتنا مانوس ھو گیا کہ تم نے اس کی گردن سے بال اکھیڑ لیا اور اس نے تمہیں کچھ بھی نہیں کہا تمہارے شوہر کے ساتھ بھی پیٹ لگا ھوا ھے تم اس کی خدمت کرو جب جنگلی درندہ خدمت سے اتنا مانوس ھو سکتا ھے تو ایک باشعور انسان بھی آپ کے تابع ھو سکتا ھے.
■ میری سب بہنوں سے گزارش ھے کہ اپنے شوہر کی خدمت صرف اور صرف الله پاک کی رضا کے لئے کریں پھر دیکھیں الله پاک آپ کے گھر کو کیسے جنت بناتا ہے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 گھر کو نمونہ جنت بنانے کے موضوع پر مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں..
💞 میاں بیوی کی محبت کا تقاضا
https://t.me/islamwitheman/295
🌹 عورتوں کی ذمہ داری (حصہ اول)
https://t.me/islamwitheman/243
🌹 عورتوں کی ذمہ داری (حصہ دوم)
https://t.me/islamwitheman/244
🌹 عورتوں کی ذمہ داری (حصہ سوم)
https://t.me/islamwitheman/245
🌹 خاندان کی سرپرستی
https://t.me/islamwitheman/241
🌹 کامیاب ازدواجی زندگی
https://t.me/islamwitheman/200
🔷 ساس اور بہو
https://t.me/islamwitheman/199
🔷 عقلمند بیوی
https://t.me/islamwitheman/197
🔷 خاوند کی سوچ بیوی کے لئے
https://t.me/islamwitheman/193
💕 خاوند اور بیوی
https://t.me/islamwitheman/189
📝 انداز بیان و سوچ
https://t.me/islamwitheman/158
🔷 کامیاب ازدواجی زندگی کا راز
https://t.me/islamwitheman/136
🔷 بیوی.....
https://t.me/islamwitheman/38
💕 شریک حیات کے حقوق
https://t.me/islamwitheman/529
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
💞 میاں بیوی کی محبت کا تقاضا 💞
خاوند کی اپنی بیوی سے محبت کی بہترین داستان، جو چاہتا ہے کہ ﺧﯿﺮ ﻭ بھلائی ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﺎ ﺗﻌﺎﻭﻥ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺟﻨﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﺳﺎتھی ﺑﻨﯿﮟ!!
ﺷﻮﮨﺮ: ﺗﻢ ﻧﮯ ﻋﺼﺮ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﻫ ﻟﯽ؟
ﺑﯿﮕﻢ: ﻧﮩﯿﮟ.
ﺷﻮﮨﺮ: ﻟﯿﮑﻦ ﮐﯿﻮﮞ؟
ﺑﯿﮕﻢ: آج کام کر کے بہت تھک گئی تھی۔…
خاوند کی اپنی بیوی سے محبت کی بہترین داستان، جو چاہتا ہے کہ ﺧﯿﺮ ﻭ بھلائی ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﺎ ﺗﻌﺎﻭﻥ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺟﻨﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﺳﺎتھی ﺑﻨﯿﮟ!!
ﺷﻮﮨﺮ: ﺗﻢ ﻧﮯ ﻋﺼﺮ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﻫ ﻟﯽ؟
ﺑﯿﮕﻢ: ﻧﮩﯿﮟ.
ﺷﻮﮨﺮ: ﻟﯿﮑﻦ ﮐﯿﻮﮞ؟
ﺑﯿﮕﻢ: آج کام کر کے بہت تھک گئی تھی۔…
🔷 بداخلاقی کا انجام 🔷
رسول اکرمؐ کو جب اپنے مقتدر صحابی سعد بن معاذؓ کی وفات کی خبر معلوم ہوئی تو اپنے صحابہ کے ساتھ غسل و کفن کے لیے چل پڑے. آپؐ نے ضروری اسلامی مراسم انجام دینے کے بعد اسے تابوت میں رکھا اور اس کے دفن کے لیے روانہ ہوئے.
آپؐ اس کے جنازے کے ساتھ برہنہ پا اور بدونِ عباء روانہ تھے. کبھی اس کے تابوت کے دائیں جانب کندھا دیتے تو کبھی بائیں جانب سے اٹھاتے جاتے. قبر میں آپؐ خود اترے اور حکم دیا کہ پتھر اور اینٹیں اٹھا کر لائیں. آپؐ نے اپنے دست مبارک سے لحد بنائی.
اسے دفن کرنے کے بعد خود اپنے ہاتهوں سے مٹی ڈالی. سوراخوں کو خوب بند کیا پھر فرمایا؛
مجھے معلوم ہے کہ بالآخر یہ قبر پرانی ہو جائے گی لیکن میرے خدا کو پسند ہے کہ اس کے بندے جب کوئی کام انجام دیں تو محکم کاری کریں اور بخوبی انجام دیں.
اسی وقت سعد کی ماں نمودار ہوئیں اور بیٹے کی قبر پر آکهڑی ہوئیں اور بلند آواز سے کہا؛
اے سعد! تجھے بہشت نصیب ہو اور گوارا ہو.
حضرت رسول اکرمؐ نے اسے فرمایا؛
اے سعد کی ماں! چپ ہو جا. تو اتنے بھروسے سے بات نہ کر. اس وقت سعد پر فشارِقبر کے عذاب کی حالت طاری ہے اور وہ اس وقت اپنی قبر میں تکلیف میں ہے.
آپؐ جب قبرستان سے واپس آرہے تھے تو آپ کے ساتھ والوں نے آپ سے پوچھا؛
اے رسولِخدا! آپ نے جو کام سعد کے لیے انجام دیئے ہم نے ابھی تک کسی دوسرے کے لیے آپ سے ایسا عمل نہیں دیکھا. آپ پابرہنہ اور بدونِ عبا اس کے جنازے کے ساتھ چلے.
آپؐ نے فرمایا؛
صرف میں ہی نہیں بلکہ اس کے جنازہ میں شریک ملائکہ بھی اسی طرح چل رہے تھے. میں نے انہیں دیکھ کر ایسا کیا ہے.
لوگوں نے عرض کیا؛
ہم نے دیکھا، آپ کبھی تابوت کے دائیں تو کبھی تابوت کے بائیں طرف چلتے تھے.
آپؐ نے فرمایا؛
چونکہ میرا ہاتھ حضرت جبرائیل کے ہاتھ میں تھا تو جدھر وہ جاتے تھے، مجھے بھی ادھر جانا ہوتا تھا.
لوگوں نے عرض کیا؛
اے رسول خدا آپ نے سعد کے جنازہ پر نماز پڑھائی اور اسے اپنے ہاتهوں سے قبر میں اتارا. پھر اپنے ہاتهوں سے اس کی قبر بنائی اور پھر بھی فرماتے ہیں کہ سعد پر فشارِقبر کا عذاب ہو رہا ہے؟
آپؐ نے فرمایا؛
ہاں... سعد اپنے گھر میں بداخلاقی سے پیش آتے تھے. اسی لئے اسے فشارِقبر کا عذاب ہو رہا ہے.
📚 داستانہائے بحارالأنوار، ج1، ص5تا23.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
رسول اکرمؐ کو جب اپنے مقتدر صحابی سعد بن معاذؓ کی وفات کی خبر معلوم ہوئی تو اپنے صحابہ کے ساتھ غسل و کفن کے لیے چل پڑے. آپؐ نے ضروری اسلامی مراسم انجام دینے کے بعد اسے تابوت میں رکھا اور اس کے دفن کے لیے روانہ ہوئے.
آپؐ اس کے جنازے کے ساتھ برہنہ پا اور بدونِ عباء روانہ تھے. کبھی اس کے تابوت کے دائیں جانب کندھا دیتے تو کبھی بائیں جانب سے اٹھاتے جاتے. قبر میں آپؐ خود اترے اور حکم دیا کہ پتھر اور اینٹیں اٹھا کر لائیں. آپؐ نے اپنے دست مبارک سے لحد بنائی.
اسے دفن کرنے کے بعد خود اپنے ہاتهوں سے مٹی ڈالی. سوراخوں کو خوب بند کیا پھر فرمایا؛
مجھے معلوم ہے کہ بالآخر یہ قبر پرانی ہو جائے گی لیکن میرے خدا کو پسند ہے کہ اس کے بندے جب کوئی کام انجام دیں تو محکم کاری کریں اور بخوبی انجام دیں.
اسی وقت سعد کی ماں نمودار ہوئیں اور بیٹے کی قبر پر آکهڑی ہوئیں اور بلند آواز سے کہا؛
اے سعد! تجھے بہشت نصیب ہو اور گوارا ہو.
حضرت رسول اکرمؐ نے اسے فرمایا؛
اے سعد کی ماں! چپ ہو جا. تو اتنے بھروسے سے بات نہ کر. اس وقت سعد پر فشارِقبر کے عذاب کی حالت طاری ہے اور وہ اس وقت اپنی قبر میں تکلیف میں ہے.
آپؐ جب قبرستان سے واپس آرہے تھے تو آپ کے ساتھ والوں نے آپ سے پوچھا؛
اے رسولِخدا! آپ نے جو کام سعد کے لیے انجام دیئے ہم نے ابھی تک کسی دوسرے کے لیے آپ سے ایسا عمل نہیں دیکھا. آپ پابرہنہ اور بدونِ عبا اس کے جنازے کے ساتھ چلے.
آپؐ نے فرمایا؛
صرف میں ہی نہیں بلکہ اس کے جنازہ میں شریک ملائکہ بھی اسی طرح چل رہے تھے. میں نے انہیں دیکھ کر ایسا کیا ہے.
لوگوں نے عرض کیا؛
ہم نے دیکھا، آپ کبھی تابوت کے دائیں تو کبھی تابوت کے بائیں طرف چلتے تھے.
آپؐ نے فرمایا؛
چونکہ میرا ہاتھ حضرت جبرائیل کے ہاتھ میں تھا تو جدھر وہ جاتے تھے، مجھے بھی ادھر جانا ہوتا تھا.
لوگوں نے عرض کیا؛
اے رسول خدا آپ نے سعد کے جنازہ پر نماز پڑھائی اور اسے اپنے ہاتهوں سے قبر میں اتارا. پھر اپنے ہاتهوں سے اس کی قبر بنائی اور پھر بھی فرماتے ہیں کہ سعد پر فشارِقبر کا عذاب ہو رہا ہے؟
آپؐ نے فرمایا؛
ہاں... سعد اپنے گھر میں بداخلاقی سے پیش آتے تھے. اسی لئے اسے فشارِقبر کا عذاب ہو رہا ہے.
📚 داستانہائے بحارالأنوار، ج1، ص5تا23.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
💕 شریک حیات کے حقوق 💕
بلا شک ”خاوند جی” کو اللہ تعالیٰ نے بیوی پر برتری اور افضلیت عطاء فرمائی ہے اپنے کلام پاک میں اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زُبان مبارک سے خاوند کو بیوی کا مالک و آقا قرار دِیا ہے لیکن اُسے یہ اجازت نہیں دی کہ وہ اپنی اِس برتری کو جب، جہاں اور جیسے چاہے اِستعمال کرتا پھرے.
جِس خالق و مالک نے جیسے چاہا خاوند کو برتری عطاء فرمائی اِسی خالق و مالک نے جیسے چاہا خاوند کو اپنی طرف سے دی گئی برتری کے استعمال کے لیے حد بندی کر دی، اور وہ اللہ ہے جو اکیلا خالق ہے اور اُس کے عِلاوہ ہر کوئی اُس کی مخلوق ہے، اور خالق اپنی مخلوق کے بارے میں کِسی بھی دوسری مخلوق سے بڑھ کر یقینی عِلم رکھنے والا ہے اور زبردست حکمت والا ہے.
پس اپنی حکمت سے اُس نے خاوند کو عظمت دی اور اپنی حکمت سے اُس کے لیے حدود مقرر فرمائیں اور اپنی کتاب میں اُن کو ذِکر فرمایا اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زُبان مُبارک سے جب چاہا اُن حدود کو بیان کروایا.
خاوند حضرات اپنی برتری کی سرشاری میں یہ مت بھولیں کہ اُنکے خالق و مالک نے اُنہیں برتری عطاء فرمانے سے پہلے اُنہیں یہ بھی بتایا ہے کہ..
"وَلَھُنَّ مِثلُ الَّذِی عَلِیھِنَّ بِالمَعرُوفِ"
اور عورتوں کے لیے بھی ویسا ہی (حق) ہے جیسا کہ اُن پر (مَردوں کا حق) ہے.
اور پھر فرمایا..
"ولِلرِّجَالِ عَلِیھِنَّ دَرجۃٌ"
اور (اسکے ساتھ ساتھ یہ بھی ہےکہ) عورتوں پر مَردوں کا درجہ (بلند) ہے. سورت البقرۃ/آیت ٢٢٨
اور خاوند کے لئے حُکم فرمایا..
"و عاشِرُوھُنَّ بِالمَعرُوفِ"
اور اُن کے ساتھ نیکی والا رویہ رکھتے ہوئے زندگی بسر کرو.
سورت النساء /آیت٤
عاشر کا لفظیٰ معنی مل جل کر زندگی بسر کرنا بنتا ہے اور میل جول بُرائی اور ظُلم والا بھی ہوتا ہے اور نیکی اور بھلائی والا بھی.
اللہ تعالیٰ نے خاوندوں کو یہ حُکم دِیا کہ اپنی بیویوں کے ساتھ نیکی، بھلائی اور خیر والی زندگی بسر کریں، نہ کہ بُرائی اور ظُلم والی، یہ ایک عام اجمالی حُکم ہے جو زندگی کے ہر پہلو کو ڈھانپ لیتا ہے، اور مزید وضاحت کے ساتھ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احکام صادر فرمائے، آئیے اُن کا مُطالعہ کرتے ہیں..
درحقیقت خاندان ایک چھوٹا معاشرہ ہے جو دو افراد یعنی میاں بیوی کے ذریعے قائم ہے اورمعاشرہ لوگوں کی کثرت کا نام نہیں ہے بلکہ ان باہمی تعلقات کا نام ہے جن کا ہدف ایک ہو.
قرآن کریم نے ان کے درمیان محبت والفت کا ہدف اطمینان اورسکون کو قرار دیا ہے فرماتا ہے..
"ومن آیاتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا الیھا وجعل بینکم مودة ورحمة ان فی ذلک لآیات لقوم یتفکرون"
اوراس کی آیات میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہارے نفوس سے تمہاری بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان کے ساتھ سکون حاصل کرسکو اورتمہارے درمیان محبت ورحمت پیدا کر دی بیشک اس میں نشانیاں ہیں اس قوم کے لئے جو سوچتے ہیں.
اور یہ معاشرہ ایک ایسے عقد کے ذریعے وجود میں آتا ہے کہ جس میں نہایت واضح الفاظ کے ساتھ طرفین کی طرف سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ وہ اس عقد کے مفہوم اور اس کے حقوق و فرائض کو قبول کرتے ہیں.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/527
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
بلا شک ”خاوند جی” کو اللہ تعالیٰ نے بیوی پر برتری اور افضلیت عطاء فرمائی ہے اپنے کلام پاک میں اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زُبان مبارک سے خاوند کو بیوی کا مالک و آقا قرار دِیا ہے لیکن اُسے یہ اجازت نہیں دی کہ وہ اپنی اِس برتری کو جب، جہاں اور جیسے چاہے اِستعمال کرتا پھرے.
جِس خالق و مالک نے جیسے چاہا خاوند کو برتری عطاء فرمائی اِسی خالق و مالک نے جیسے چاہا خاوند کو اپنی طرف سے دی گئی برتری کے استعمال کے لیے حد بندی کر دی، اور وہ اللہ ہے جو اکیلا خالق ہے اور اُس کے عِلاوہ ہر کوئی اُس کی مخلوق ہے، اور خالق اپنی مخلوق کے بارے میں کِسی بھی دوسری مخلوق سے بڑھ کر یقینی عِلم رکھنے والا ہے اور زبردست حکمت والا ہے.
پس اپنی حکمت سے اُس نے خاوند کو عظمت دی اور اپنی حکمت سے اُس کے لیے حدود مقرر فرمائیں اور اپنی کتاب میں اُن کو ذِکر فرمایا اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زُبان مُبارک سے جب چاہا اُن حدود کو بیان کروایا.
خاوند حضرات اپنی برتری کی سرشاری میں یہ مت بھولیں کہ اُنکے خالق و مالک نے اُنہیں برتری عطاء فرمانے سے پہلے اُنہیں یہ بھی بتایا ہے کہ..
"وَلَھُنَّ مِثلُ الَّذِی عَلِیھِنَّ بِالمَعرُوفِ"
اور عورتوں کے لیے بھی ویسا ہی (حق) ہے جیسا کہ اُن پر (مَردوں کا حق) ہے.
اور پھر فرمایا..
"ولِلرِّجَالِ عَلِیھِنَّ دَرجۃٌ"
اور (اسکے ساتھ ساتھ یہ بھی ہےکہ) عورتوں پر مَردوں کا درجہ (بلند) ہے. سورت البقرۃ/آیت ٢٢٨
اور خاوند کے لئے حُکم فرمایا..
"و عاشِرُوھُنَّ بِالمَعرُوفِ"
اور اُن کے ساتھ نیکی والا رویہ رکھتے ہوئے زندگی بسر کرو.
سورت النساء /آیت٤
عاشر کا لفظیٰ معنی مل جل کر زندگی بسر کرنا بنتا ہے اور میل جول بُرائی اور ظُلم والا بھی ہوتا ہے اور نیکی اور بھلائی والا بھی.
اللہ تعالیٰ نے خاوندوں کو یہ حُکم دِیا کہ اپنی بیویوں کے ساتھ نیکی، بھلائی اور خیر والی زندگی بسر کریں، نہ کہ بُرائی اور ظُلم والی، یہ ایک عام اجمالی حُکم ہے جو زندگی کے ہر پہلو کو ڈھانپ لیتا ہے، اور مزید وضاحت کے ساتھ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احکام صادر فرمائے، آئیے اُن کا مُطالعہ کرتے ہیں..
درحقیقت خاندان ایک چھوٹا معاشرہ ہے جو دو افراد یعنی میاں بیوی کے ذریعے قائم ہے اورمعاشرہ لوگوں کی کثرت کا نام نہیں ہے بلکہ ان باہمی تعلقات کا نام ہے جن کا ہدف ایک ہو.
قرآن کریم نے ان کے درمیان محبت والفت کا ہدف اطمینان اورسکون کو قرار دیا ہے فرماتا ہے..
"ومن آیاتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا الیھا وجعل بینکم مودة ورحمة ان فی ذلک لآیات لقوم یتفکرون"
اوراس کی آیات میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہارے نفوس سے تمہاری بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان کے ساتھ سکون حاصل کرسکو اورتمہارے درمیان محبت ورحمت پیدا کر دی بیشک اس میں نشانیاں ہیں اس قوم کے لئے جو سوچتے ہیں.
اور یہ معاشرہ ایک ایسے عقد کے ذریعے وجود میں آتا ہے کہ جس میں نہایت واضح الفاظ کے ساتھ طرفین کی طرف سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ وہ اس عقد کے مفہوم اور اس کے حقوق و فرائض کو قبول کرتے ہیں.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/527
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
❄ گھر نمونہ جنت ❄
ایک امیر عورت پیر صاحب کے پاس گئی اور کہا کہ پیر صاحب مجھے کوئی ایسا تعویذ دیں کہ میرا شوہر میری ہر بات مانے جو بھی میں کہوں وہ میرے تابع ھو جائے.
ییر صاحب بھی دور اندیش انسان تھے انھوں نے اس عورت کی بات غور سے سنی، اور کہا کہ یہ عمل تو…
ایک امیر عورت پیر صاحب کے پاس گئی اور کہا کہ پیر صاحب مجھے کوئی ایسا تعویذ دیں کہ میرا شوہر میری ہر بات مانے جو بھی میں کہوں وہ میرے تابع ھو جائے.
ییر صاحب بھی دور اندیش انسان تھے انھوں نے اس عورت کی بات غور سے سنی، اور کہا کہ یہ عمل تو…
🔷یادداشت بہتر بنائیں(حصہ اول)🔷
آپ طالبعلم ہیں اور اچھے نمبرلینا چاہتے ہیں۔ اچھے نمبر لینے کیلئے آپ کو اچھی یادداشت چاہیے اور سبق یاد کرنے کے طریقے آپ کو نہیں آتے.
آپ محنتی بھی ہیں اور آپ کے Concepts بھی بہت واضح ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ آپ نے ہر مضمون کو سمجھنے کے لیے پورا سال کلاس نوٹس بھی بنائے ہیں لیکن اگر آپ کو یاد کرنا نہیں آتا اور آپ یاد کرنے کے بنیادی اصولوں سے واقف نہیں تو امتحانات میں اعلیٰ کامیابی آپ کو نہیں ملے گی۔ انسانی ذہن پر کام کرنے والے سائنسدانوں کے مطابق ہمارے ذہن کے پاس دو لاکھ کھرب سے زیادہ حروف یاد کرنے، 40 زبانوں پر عبور پانے، ایک پورا انسائیکلوپیڈیا یاد کرنے اور درجنوں یونیورسٹیوں سے گریجویشن کی ڈگریاں لینے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔ لیکن آج اس مضمون میں ہمارا موضوع ذہنی صلاحیت نہیں بلکہ ذہنی صلاحیت کو استعمال میں لانا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام میں استاد، کتابیں، سکول، کالج اور یونیورسٹیاں تو شامل ہیں لیکن ذہنی صلاحیت کو استعمال میں لانے اور سبق کو یاد کرنے کی مشقوں کے متعلق کچھ نہیں بتایا جاتا اور طالب علم اپنی ذہنی صلاحیتوں کو استعمال کیے بغیر پڑھائی کو بوجھ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ ماہرین تعلیم ذہن کی سائنس (Mind Scinces) سے ناواقف ہوتے ہیں اور اس غلطی کا خمیازہ پورے سسٹم کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ جدید ملکوں میں یادداشت کو بہتر بنانے کے سیمینارز، لیکچرز اور ورکشاپس منعقد کی جاتی ہیں اور ان سے نہ صرف طالب علم بلکہ عام عوام بھی فائدہ اٹھاتی ہے۔ جب طالب علم کو یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ بہت کچھ یاد کرکے اسے اپنے حافظے میں رکھ سکتے ہیں تو ان کا رجحان کتاب و علم اور تعلیم کی طرف چلا جاتا ہے۔ ہم کتاب، علم اور تعلیم سے اس لیے دور ہیں کیونکہ ہمیں یاد کرنے کے آسان طریقے نہیں بتائے جاتے۔ ہمیں اپنے آپ پر، اپنی صلاحیت پر اور اپنے ٹیلنٹ پر یقین نہیں ہوتا اور ہم اصل روشنی سے بہت دور چلے جاتے ہیں۔
آئیے یادداشت کو بہتر بنانے کے کچھ بنیادی اصول سیکھ لیں۔
1= ہمیں وہ باتیں، وہ حقائق اور وہ واقعات جلدی یاد ہوتے ہیں جس میں ہماری ذات شامل ہوتی ہے۔ نفسیات میں اس کو I.Factor کہتے ہیں۔ آپ اپنے کالج کے دوستوں کے ساتھ گروپ فوٹو بنواتے ہیں لیکن جب بھی آپ یہ فوٹو دیکھیں گے تو سب سے پہلے اپنے آپ کو دیکھیں گے۔ آپ کوئی بھی کہانی یاد کریں لیکن یاد کرنے کیلئے اس کہانی میں خود کو شامل کرلیں۔ وہ کہانی آپ کو جلد یاد ہوجائے گی۔ آپ کسی بھی مضمون اور کسی بھی سبق کے حقائق کو اپنے ساتھ جوڑ لیں وہ سبق جلدی یاد ہوجائے گا۔
2= ہمارا ذہن ایک طرح کی انفارمیشن اکٹھی کرتے کرتے بور محسوس کرنے لگتا ہے۔ اس لیے کبھی بھی ایک ہی مضمون کو لگاتار نہ پڑھیں بلکہ پڑھائی میںVariety لے کر آئیں۔ ایک خاص مضمون کی تیاری اور اسے یاد کرتے ہوئے ہمارے ذہن کے خاص مسل استعمال ہورہے ہوتے ہیں، انہیں آرام دینے کیلئے کچھ دیر کسی دوسرے مضمون کو پڑھ لیں اور پھر دوبارہ اصل مضمون کی طرف واپس آجائیں۔
3= ہمیں وہ باتیں اور حقائق بھول جاتے ہیں جن کو ہم نے یاد کرنے کے بعد دہرایا نہ ہو۔ سائنسدان یہ کہتے ہیں کہ 24 گھنٹے کے بعد ہمارا ذہن بہت تیزی سے بھولنا شروع کردیتا ہے۔ 24 گھنٹے کے اندر اندر 80 سے 100فیصد تک مواد ہمارے ذہن میں رہتا ہے۔ اس لیے لازم ہے کہ 24 گھنٹے کے اندر اندر آپ سبق کو دہرا لیں۔ آپ صرف چند منٹوں کی دہرائی سے سبق کو کئی دن تک یاد رکھ سکتے ہیں۔
4= ذہن کو ماہرین الماری کی طرح تصور کرتے ہیں۔ اگر الماری میں اشیاء بکھری پڑی ہیں تو تلاش کرنے میں تنگی ہوگی اور اگر ترتیب سے ہیں تو آسانی سے مل جائیں گی۔ یادداشت کو بہتر بنانے کیلئے جن باتوں کو یاد کرنا چاہتے ہیں ان کی ترتیب بہتر بنائیں۔ ترتیب بنانے کے ساتھ ساتھ ان کا آپس میں رابطہ بنادیں تاکہ یاد کرنا آسان ہوجائے۔
5= سبق یاد کرتے ہوئے 45 منٹ کی محنت کے بعد 10 منٹ کا وقفہ لیں۔ اس وقفے میں سبق کے متعلق مت سوچیں۔ آپ کی توجہ کا دورانیہ 45 منٹ تک ہوتا ہے۔ اس کے بعد ذہن کو تھوڑا سا آرام دینا ہوتا ہے اور ذہن کا آرام توجہ ہٹانے سے ممکن ہوتا ہے۔ آپ دس منٹ میں میوزک بھی سن سکتے ہیں، نماز بھی پڑھ سکتے ہیں اور چائے کے کپ کو بھی انجوائے کرسکتے ہیں.
■ جاری ہے... اس کے مکمل دو حصے ہیں. بقیہ حصہ دوم میں ملاحظہ کیجئے.
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
آپ طالبعلم ہیں اور اچھے نمبرلینا چاہتے ہیں۔ اچھے نمبر لینے کیلئے آپ کو اچھی یادداشت چاہیے اور سبق یاد کرنے کے طریقے آپ کو نہیں آتے.
آپ محنتی بھی ہیں اور آپ کے Concepts بھی بہت واضح ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ آپ نے ہر مضمون کو سمجھنے کے لیے پورا سال کلاس نوٹس بھی بنائے ہیں لیکن اگر آپ کو یاد کرنا نہیں آتا اور آپ یاد کرنے کے بنیادی اصولوں سے واقف نہیں تو امتحانات میں اعلیٰ کامیابی آپ کو نہیں ملے گی۔ انسانی ذہن پر کام کرنے والے سائنسدانوں کے مطابق ہمارے ذہن کے پاس دو لاکھ کھرب سے زیادہ حروف یاد کرنے، 40 زبانوں پر عبور پانے، ایک پورا انسائیکلوپیڈیا یاد کرنے اور درجنوں یونیورسٹیوں سے گریجویشن کی ڈگریاں لینے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔ لیکن آج اس مضمون میں ہمارا موضوع ذہنی صلاحیت نہیں بلکہ ذہنی صلاحیت کو استعمال میں لانا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام میں استاد، کتابیں، سکول، کالج اور یونیورسٹیاں تو شامل ہیں لیکن ذہنی صلاحیت کو استعمال میں لانے اور سبق کو یاد کرنے کی مشقوں کے متعلق کچھ نہیں بتایا جاتا اور طالب علم اپنی ذہنی صلاحیتوں کو استعمال کیے بغیر پڑھائی کو بوجھ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ ماہرین تعلیم ذہن کی سائنس (Mind Scinces) سے ناواقف ہوتے ہیں اور اس غلطی کا خمیازہ پورے سسٹم کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ جدید ملکوں میں یادداشت کو بہتر بنانے کے سیمینارز، لیکچرز اور ورکشاپس منعقد کی جاتی ہیں اور ان سے نہ صرف طالب علم بلکہ عام عوام بھی فائدہ اٹھاتی ہے۔ جب طالب علم کو یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ بہت کچھ یاد کرکے اسے اپنے حافظے میں رکھ سکتے ہیں تو ان کا رجحان کتاب و علم اور تعلیم کی طرف چلا جاتا ہے۔ ہم کتاب، علم اور تعلیم سے اس لیے دور ہیں کیونکہ ہمیں یاد کرنے کے آسان طریقے نہیں بتائے جاتے۔ ہمیں اپنے آپ پر، اپنی صلاحیت پر اور اپنے ٹیلنٹ پر یقین نہیں ہوتا اور ہم اصل روشنی سے بہت دور چلے جاتے ہیں۔
آئیے یادداشت کو بہتر بنانے کے کچھ بنیادی اصول سیکھ لیں۔
1= ہمیں وہ باتیں، وہ حقائق اور وہ واقعات جلدی یاد ہوتے ہیں جس میں ہماری ذات شامل ہوتی ہے۔ نفسیات میں اس کو I.Factor کہتے ہیں۔ آپ اپنے کالج کے دوستوں کے ساتھ گروپ فوٹو بنواتے ہیں لیکن جب بھی آپ یہ فوٹو دیکھیں گے تو سب سے پہلے اپنے آپ کو دیکھیں گے۔ آپ کوئی بھی کہانی یاد کریں لیکن یاد کرنے کیلئے اس کہانی میں خود کو شامل کرلیں۔ وہ کہانی آپ کو جلد یاد ہوجائے گی۔ آپ کسی بھی مضمون اور کسی بھی سبق کے حقائق کو اپنے ساتھ جوڑ لیں وہ سبق جلدی یاد ہوجائے گا۔
2= ہمارا ذہن ایک طرح کی انفارمیشن اکٹھی کرتے کرتے بور محسوس کرنے لگتا ہے۔ اس لیے کبھی بھی ایک ہی مضمون کو لگاتار نہ پڑھیں بلکہ پڑھائی میںVariety لے کر آئیں۔ ایک خاص مضمون کی تیاری اور اسے یاد کرتے ہوئے ہمارے ذہن کے خاص مسل استعمال ہورہے ہوتے ہیں، انہیں آرام دینے کیلئے کچھ دیر کسی دوسرے مضمون کو پڑھ لیں اور پھر دوبارہ اصل مضمون کی طرف واپس آجائیں۔
3= ہمیں وہ باتیں اور حقائق بھول جاتے ہیں جن کو ہم نے یاد کرنے کے بعد دہرایا نہ ہو۔ سائنسدان یہ کہتے ہیں کہ 24 گھنٹے کے بعد ہمارا ذہن بہت تیزی سے بھولنا شروع کردیتا ہے۔ 24 گھنٹے کے اندر اندر 80 سے 100فیصد تک مواد ہمارے ذہن میں رہتا ہے۔ اس لیے لازم ہے کہ 24 گھنٹے کے اندر اندر آپ سبق کو دہرا لیں۔ آپ صرف چند منٹوں کی دہرائی سے سبق کو کئی دن تک یاد رکھ سکتے ہیں۔
4= ذہن کو ماہرین الماری کی طرح تصور کرتے ہیں۔ اگر الماری میں اشیاء بکھری پڑی ہیں تو تلاش کرنے میں تنگی ہوگی اور اگر ترتیب سے ہیں تو آسانی سے مل جائیں گی۔ یادداشت کو بہتر بنانے کیلئے جن باتوں کو یاد کرنا چاہتے ہیں ان کی ترتیب بہتر بنائیں۔ ترتیب بنانے کے ساتھ ساتھ ان کا آپس میں رابطہ بنادیں تاکہ یاد کرنا آسان ہوجائے۔
5= سبق یاد کرتے ہوئے 45 منٹ کی محنت کے بعد 10 منٹ کا وقفہ لیں۔ اس وقفے میں سبق کے متعلق مت سوچیں۔ آپ کی توجہ کا دورانیہ 45 منٹ تک ہوتا ہے۔ اس کے بعد ذہن کو تھوڑا سا آرام دینا ہوتا ہے اور ذہن کا آرام توجہ ہٹانے سے ممکن ہوتا ہے۔ آپ دس منٹ میں میوزک بھی سن سکتے ہیں، نماز بھی پڑھ سکتے ہیں اور چائے کے کپ کو بھی انجوائے کرسکتے ہیں.
■ جاری ہے... اس کے مکمل دو حصے ہیں. بقیہ حصہ دوم میں ملاحظہ کیجئے.
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷یادداشت بہتر بنائیں(حصہ دوم)🔷
6= ماہرین نفسیات ذہن کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے ’’خود کو ہدایت دینے کے طریقے‘‘ جس کو Auto Suggestion کہا جاتا ہے پر زور دیتے ہیں۔ خود کو بار بار یہ بتائیں کہ آپ کی یاداشت بہتر اور شاندار ہے۔ یہ کام آپ آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بھی کرسکتے ہیں۔ جب آپ خود کو یہ یقین دلا دیتے ہیں کہ آپ بہت کچھ یاد کرنے کے قابل ہوگئے ہیں تو یہ یقین اپنا جادوئی اثر دکھاتا ہے اور آپ کے اندر کا سویا ہوا جن جاگ جاتا ہے۔ ماہرین نے یادداشت کو بہتر بنانے کی فرضی گولیاں طالب علموں کو کھلائیں اور ساتھ یہ بتایا کہ ان سے آپ کی یادداشت 100 گنا بڑھ سکتی ہے اور نتیجہ واقعی 100 فیصد آیا، کیونکہ سب کو یقین ہوگیا تھا کہ اس طرح یادداشت بڑھ جائے گی۔ اسی طرح ہنری فودڈ کہا کرتا تھا کہ ’’خواہ تم یہ سوچتے ہو کہ تم کوئی کام کرسکتے ہو یا یہ سوچتے ہو کہ تم کوئی کام نہیں کرسکتے…تم درست ہوتے ہو۔‘‘
7= آپ کو وہ باتیں اور واقعات زیادہ عرصے تک یاد رہتے ہیں جن کی آپ نے اپنے ذہن میں تصویر بناکر رکھی ہوتی ہے۔ ہمارا ذہن تصویروں میں سوچتا ہے۔ آنکھ کی یادداشت کان کی یادداشت سے 20 گنا زیادہ ہے۔ کوشش کریں کسی بھی Concept کو ذہن میں بٹھانے کے لیے ذہن میں ایک تصویر بنالیں۔ تصویر اور تصور کافی عرصہ تک آپ کے ذہن میں رہے گا۔
8= کسی بھی سبق کو یاد کرنے سے پہلے وقت طے کرلیں کہ اس کو کتنی دیر میں یاد کرنا ہے۔ جب ہمارے پاس یاد کرنے والے مواد اور وقت کا ٹارگٹ واضح ہوتا ہے تو ہمارا ذہن جلدی یاد کرتا ہے۔ ذہن کی صلاحیت تب ایکٹو (Active) ہوجاتی ہے جب اس کے پاس کوئی ہدف ہو۔ آپ جب بھی یاد کرنے کے لیے بیٹھیں تو سٹاپ واچ پاس رکھ لیں اس طرح آپ اپنی یاد کرنے کی رفتار بھی بڑھا سکتے ہیں۔
9= ہم پوری روٹی منہ میں ڈال کر نہیں نگل سکتے، ہمیں پہلے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بنانے ہوتے ہیں۔ پھر اس کو ہضم کرنا ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح ہمارا ذہن بھی کسی بہت بڑے مواد اور ڈیٹے کو اکٹھا ہضم نہیں کرسکتا۔ ہمیں شارٹ نوٹس (Short notes) یا (Key notes) بنانے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ آپ کسی بھی سبق کے Main-Points ، اہم باتوں اور Facts کے نوٹس بنالیں اسی طرح یاد کرنا بھی آسان ہوجائے گا اور آپ کا وقت بھی بچے گا۔
10= ہماری نیند اور آرام کا ہمارے حافظے کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہوتا ہے۔ جب ہم مناسب نیند لیتے ہیں تو ہمارے ذہن کے خلیے فریش ہوجاتے ہیں۔ طالب علموں کو کم از کم 8 گھنٹے کی نیند لینی چاہیے۔ اگر آپ صبح جلدی اٹھنے کے عادی ہیں تو دوپہر کو تھوڑی دیر کیلئے آرام ضرور کریں اس طرح آپ بہت فریش محسوس کریں گے۔
11= آپ اپنے دوستوں کا ایک ایسا گروپ بنالیں جس میں ہفتے میں ایک بار بیٹھ کر یادداشت کا مقابلہ ہوسکے۔ ہم تب زیادہ کام کرتے ہیں جب ہمارا دوسروں سے مقابلہ ہو۔ اگر ہوسکے تو اس گروپ میں غیر نصابی کتابوں کو بھی شامل کریں۔ اس طرح آپ میں مطالعہ کا ذوق بھی بڑھے گا۔
12 ہمارے دماغ کی خوراک گلوکوز ہے۔ ہماری یادداشت تب بہتر ہوتی ہے جب ہم گلوکوز والی خوراک لیں۔ بالخصوص امتحانات میں ناشتے کے دوران آئل اور پروٹین والی خوراک سے پرہیز کریں۔ جوس زیادہ لیں اور اگر چائے پیتے ہیں تو اس میں چینی زیادہ لے لیں۔
ان آسان تکنیکوں کو استعمال کرکے دوسرے ممالک کے بے شمار طالب علم امتحانات میں بھی اعلیٰ نمبر لیتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ بہت سے ورلڈ ریکارڈ بھی قائم کرچکے ہیں۔ آپ بھی نئے سال اور نئے سمسٹر کی پڑھائی کا آغاز ان طریقوں کے ذریعے کیجیے، پھر نتیجہ دیکھئے.
تحریر: قاسم علی شاہ
● مضمون نگار معروف ٹیچر اور ٹرینر ہیں۔ مختلف اداروں میں طالب علموں، گورنمنٹ ملازموں اور ٹیچرز کو ٹرینگ دے چکے ہیں.
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
6= ماہرین نفسیات ذہن کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے ’’خود کو ہدایت دینے کے طریقے‘‘ جس کو Auto Suggestion کہا جاتا ہے پر زور دیتے ہیں۔ خود کو بار بار یہ بتائیں کہ آپ کی یاداشت بہتر اور شاندار ہے۔ یہ کام آپ آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بھی کرسکتے ہیں۔ جب آپ خود کو یہ یقین دلا دیتے ہیں کہ آپ بہت کچھ یاد کرنے کے قابل ہوگئے ہیں تو یہ یقین اپنا جادوئی اثر دکھاتا ہے اور آپ کے اندر کا سویا ہوا جن جاگ جاتا ہے۔ ماہرین نے یادداشت کو بہتر بنانے کی فرضی گولیاں طالب علموں کو کھلائیں اور ساتھ یہ بتایا کہ ان سے آپ کی یادداشت 100 گنا بڑھ سکتی ہے اور نتیجہ واقعی 100 فیصد آیا، کیونکہ سب کو یقین ہوگیا تھا کہ اس طرح یادداشت بڑھ جائے گی۔ اسی طرح ہنری فودڈ کہا کرتا تھا کہ ’’خواہ تم یہ سوچتے ہو کہ تم کوئی کام کرسکتے ہو یا یہ سوچتے ہو کہ تم کوئی کام نہیں کرسکتے…تم درست ہوتے ہو۔‘‘
7= آپ کو وہ باتیں اور واقعات زیادہ عرصے تک یاد رہتے ہیں جن کی آپ نے اپنے ذہن میں تصویر بناکر رکھی ہوتی ہے۔ ہمارا ذہن تصویروں میں سوچتا ہے۔ آنکھ کی یادداشت کان کی یادداشت سے 20 گنا زیادہ ہے۔ کوشش کریں کسی بھی Concept کو ذہن میں بٹھانے کے لیے ذہن میں ایک تصویر بنالیں۔ تصویر اور تصور کافی عرصہ تک آپ کے ذہن میں رہے گا۔
8= کسی بھی سبق کو یاد کرنے سے پہلے وقت طے کرلیں کہ اس کو کتنی دیر میں یاد کرنا ہے۔ جب ہمارے پاس یاد کرنے والے مواد اور وقت کا ٹارگٹ واضح ہوتا ہے تو ہمارا ذہن جلدی یاد کرتا ہے۔ ذہن کی صلاحیت تب ایکٹو (Active) ہوجاتی ہے جب اس کے پاس کوئی ہدف ہو۔ آپ جب بھی یاد کرنے کے لیے بیٹھیں تو سٹاپ واچ پاس رکھ لیں اس طرح آپ اپنی یاد کرنے کی رفتار بھی بڑھا سکتے ہیں۔
9= ہم پوری روٹی منہ میں ڈال کر نہیں نگل سکتے، ہمیں پہلے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بنانے ہوتے ہیں۔ پھر اس کو ہضم کرنا ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح ہمارا ذہن بھی کسی بہت بڑے مواد اور ڈیٹے کو اکٹھا ہضم نہیں کرسکتا۔ ہمیں شارٹ نوٹس (Short notes) یا (Key notes) بنانے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ آپ کسی بھی سبق کے Main-Points ، اہم باتوں اور Facts کے نوٹس بنالیں اسی طرح یاد کرنا بھی آسان ہوجائے گا اور آپ کا وقت بھی بچے گا۔
10= ہماری نیند اور آرام کا ہمارے حافظے کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہوتا ہے۔ جب ہم مناسب نیند لیتے ہیں تو ہمارے ذہن کے خلیے فریش ہوجاتے ہیں۔ طالب علموں کو کم از کم 8 گھنٹے کی نیند لینی چاہیے۔ اگر آپ صبح جلدی اٹھنے کے عادی ہیں تو دوپہر کو تھوڑی دیر کیلئے آرام ضرور کریں اس طرح آپ بہت فریش محسوس کریں گے۔
11= آپ اپنے دوستوں کا ایک ایسا گروپ بنالیں جس میں ہفتے میں ایک بار بیٹھ کر یادداشت کا مقابلہ ہوسکے۔ ہم تب زیادہ کام کرتے ہیں جب ہمارا دوسروں سے مقابلہ ہو۔ اگر ہوسکے تو اس گروپ میں غیر نصابی کتابوں کو بھی شامل کریں۔ اس طرح آپ میں مطالعہ کا ذوق بھی بڑھے گا۔
12 ہمارے دماغ کی خوراک گلوکوز ہے۔ ہماری یادداشت تب بہتر ہوتی ہے جب ہم گلوکوز والی خوراک لیں۔ بالخصوص امتحانات میں ناشتے کے دوران آئل اور پروٹین والی خوراک سے پرہیز کریں۔ جوس زیادہ لیں اور اگر چائے پیتے ہیں تو اس میں چینی زیادہ لے لیں۔
ان آسان تکنیکوں کو استعمال کرکے دوسرے ممالک کے بے شمار طالب علم امتحانات میں بھی اعلیٰ نمبر لیتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ بہت سے ورلڈ ریکارڈ بھی قائم کرچکے ہیں۔ آپ بھی نئے سال اور نئے سمسٹر کی پڑھائی کا آغاز ان طریقوں کے ذریعے کیجیے، پھر نتیجہ دیکھئے.
تحریر: قاسم علی شاہ
● مضمون نگار معروف ٹیچر اور ٹرینر ہیں۔ مختلف اداروں میں طالب علموں، گورنمنٹ ملازموں اور ٹیچرز کو ٹرینگ دے چکے ہیں.
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌹امام حسینؑ اور شامی شخص🌹
عفوودرگزر اور حسن اخلاق کے بارے میں حضرت امام حسین علیہ السلام کا ایک بہترین واقعہ...
ایک شامی آدمی مدینہ منورہ آیا. اس کی نظر ایک جانب بیٹھے ہوئے ایک شخص پر پڑی. وہ انکی عظمت سے متاثر ہوا اور آپؑ کی پرکشش شخصیت کے باعث پوچھا؛
یہ شخص کون ہے؟
وہاں پر موجود لوگوں نے بتایا؛
یہ حسین بن علی علیہ السلام ہیں.
چونکہ وہ شخص شام کا رہائشی تھا اور شام اہلبیتؑ سے متعلق متعصب ماحول سے کچھ زیادہ متاثر تھا اور اسکا ذہن خانوادہ عصمت وطہارت کے خلاف پست خیالات سے لبریز تھا.
چنانچہ اس کے باطن سے غصہ کی آگ شعلہ ور ہوئی... اس نے عین عبادت سمجھ کر بزعم خود خداوندمتعال کی رضا و خوشنودی سمجھتے ہوئے دل کھول کر آپؑ کو نازیبا کلمات سے خطاب کیا.
امام حسین علیہ السلام نے ذرہ بھر بھی غصے کا اظہار نہیں فرمایا اور نہ ہی ناراضگی کا اثر ظاہر ہوا. آپؑ کی مہربان نظریں اس پر مرکوز ہو گئیں اور ہمدردی کا سا رویہ اختیار فرمایا.
آپؑ نے حسن اخلاق اور عفوودرگزر کے مضامین پر مشتمل چند آیات کی تلاوت فرمائی اور اس کی طرف رُخِ انور فرمایا اور اس طرح گفتگو فرمائی...
ہم آپ کی ہر قسم کی خدمت واعانت کے لیے حاضر ہیں. آپ کو جس قدر امداد مطلوب ہو ہم فراہم کریں گے. اور پھر اس سے پوچھا؛
کیا تو اہلِ شام ہے؟
اس نے جواب دیا: ہاں
امامؑ نے فرمایا؛
مجھے اس کی سیرت و روش کا بخوبی علم ہے. اور مجھے اس کے سرچشمہ سے بھی آگاہی ہے...
پھر آپؑ نے فرمایا؛
آپ ہمارے شہر میں مسافر ہیں. اگر کوئی ضرورت ہو تو ہم آپ کی پوری کریں گے. ہم آپ کو اپنے گھر میں رہائش دینے کے لئے بھی تیار ہیں. ہمارے مہمان ٹھہریے. پوشاک، خوراک ہمارے ذمہ ہوگی. اگر آپ کو مالی ضرورت درپیش ہو تو بھی ہم پوری کریں گے.
شامی جسے آپؑ کی طرف سے اس کے برعکس سلوک کی توقع تھی، آپؑ کی مہربانی اور ہمدردی کی باتوں سے متاثر ہوا... اس میں تبدیلی واقع ہوئی...
وہ شامی شخص بیان کرتا ہے:
آپ کے اس سلوک سے میری یہ حالت ہوگئی کہ میرا دل چاہتا ہے.. کاش زمین پهٹ جائے اور میں زمین میں دفن ہو جاؤں. اگر مجھے ان کی اس قدر عظمت کا علم ہوتا تو میں اس طرح گستاخی نہ کرتا... اس سے قبل روئے زمین پر میری نظروں میں حسینؑ اور ان کے والد سے بڑھ کر کسی سے عداوت و بغض نہ تھا لیکن آپؑ کی پرمحبت گفتگو کے بعد پوری کائنات میں ان دونوں سے بڑھ کر مجھے کسی سے محبت نہیں ہے.
📚 داستانِ راستان، ج1، ص23تا30.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
عفوودرگزر اور حسن اخلاق کے بارے میں حضرت امام حسین علیہ السلام کا ایک بہترین واقعہ...
ایک شامی آدمی مدینہ منورہ آیا. اس کی نظر ایک جانب بیٹھے ہوئے ایک شخص پر پڑی. وہ انکی عظمت سے متاثر ہوا اور آپؑ کی پرکشش شخصیت کے باعث پوچھا؛
یہ شخص کون ہے؟
وہاں پر موجود لوگوں نے بتایا؛
یہ حسین بن علی علیہ السلام ہیں.
چونکہ وہ شخص شام کا رہائشی تھا اور شام اہلبیتؑ سے متعلق متعصب ماحول سے کچھ زیادہ متاثر تھا اور اسکا ذہن خانوادہ عصمت وطہارت کے خلاف پست خیالات سے لبریز تھا.
چنانچہ اس کے باطن سے غصہ کی آگ شعلہ ور ہوئی... اس نے عین عبادت سمجھ کر بزعم خود خداوندمتعال کی رضا و خوشنودی سمجھتے ہوئے دل کھول کر آپؑ کو نازیبا کلمات سے خطاب کیا.
امام حسین علیہ السلام نے ذرہ بھر بھی غصے کا اظہار نہیں فرمایا اور نہ ہی ناراضگی کا اثر ظاہر ہوا. آپؑ کی مہربان نظریں اس پر مرکوز ہو گئیں اور ہمدردی کا سا رویہ اختیار فرمایا.
آپؑ نے حسن اخلاق اور عفوودرگزر کے مضامین پر مشتمل چند آیات کی تلاوت فرمائی اور اس کی طرف رُخِ انور فرمایا اور اس طرح گفتگو فرمائی...
ہم آپ کی ہر قسم کی خدمت واعانت کے لیے حاضر ہیں. آپ کو جس قدر امداد مطلوب ہو ہم فراہم کریں گے. اور پھر اس سے پوچھا؛
کیا تو اہلِ شام ہے؟
اس نے جواب دیا: ہاں
امامؑ نے فرمایا؛
مجھے اس کی سیرت و روش کا بخوبی علم ہے. اور مجھے اس کے سرچشمہ سے بھی آگاہی ہے...
پھر آپؑ نے فرمایا؛
آپ ہمارے شہر میں مسافر ہیں. اگر کوئی ضرورت ہو تو ہم آپ کی پوری کریں گے. ہم آپ کو اپنے گھر میں رہائش دینے کے لئے بھی تیار ہیں. ہمارے مہمان ٹھہریے. پوشاک، خوراک ہمارے ذمہ ہوگی. اگر آپ کو مالی ضرورت درپیش ہو تو بھی ہم پوری کریں گے.
شامی جسے آپؑ کی طرف سے اس کے برعکس سلوک کی توقع تھی، آپؑ کی مہربانی اور ہمدردی کی باتوں سے متاثر ہوا... اس میں تبدیلی واقع ہوئی...
وہ شامی شخص بیان کرتا ہے:
آپ کے اس سلوک سے میری یہ حالت ہوگئی کہ میرا دل چاہتا ہے.. کاش زمین پهٹ جائے اور میں زمین میں دفن ہو جاؤں. اگر مجھے ان کی اس قدر عظمت کا علم ہوتا تو میں اس طرح گستاخی نہ کرتا... اس سے قبل روئے زمین پر میری نظروں میں حسینؑ اور ان کے والد سے بڑھ کر کسی سے عداوت و بغض نہ تھا لیکن آپؑ کی پرمحبت گفتگو کے بعد پوری کائنات میں ان دونوں سے بڑھ کر مجھے کسی سے محبت نہیں ہے.
📚 داستانِ راستان، ج1، ص23تا30.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 ایک بچہ اور کچھوا 🔷
حسن اخلاق کے موضوع پر نصیحت آموز کہانی....
کہتے ہیں ایک بچے نے کچھوا پال رکھا تھا، اُسے سارا دن کھلاتا پلاتا اور اُسکے ساتھ کھیلتا تھا۔
سردیوں کی ایک یخ بستہ شام کو بچے نے اپنے کچھوے سے کھیلنا چاہا مگر کچھوا سردی سے بچنے اور اپنے آپ کو گرم رکھنے کیلئے اپنے خول میں چُھپا ہوا تھا۔
بچے نے کچھوے کو خول سے باہر آنے پر آمادہ کرنے کی بُہت کوشش کی مگر بے سود۔ جھلاہٹ میں اُس نے ڈنڈا اُٹھا کر کچھوے کی پٹائی بھی کر ڈالی مگر کوئی نتیجہ نہ نکلا۔
بچے نے چیخ چیخ کر کچھوے کو باہر نکلنے پر راضی کرنا چاہامگر کچھوا سہم کر اپنے خول میں اور زیادہ دُبکا رہا.
بچے کا باپ کمرے میں داخل ہوا تو بچہ غصے سے تلملا رہا تھا۔
باپ نے بچے سے پوچھا؛
بیٹے کیا بات ہے؟
بچے نے اپنا اور کچھوے کا سارا قصہ باپ کو کہہ سُنایا، باپ نے مُسکراتے ہوتے بچے کا ہاتھ تھاما اور بولا اِسے چھوڑو اور میرے ساتھ آؤ۔ بچے کا ہاتھ پکڑے باپ اُسے آتشدان کی طرف لے گیا، آگ جلائی اور حرارت کے پاس ہی بیٹھ کر بچے سے باتیں کرنے لگ گیا۔ تھوڑی ہی دیر گُزری تھی کہ کچھوا بھی حرارت لینے کیلئے آہستہ آہستہ اُن کے پاس آ گیا۔ باپ نے مُسکرا کر بچے کی طرف دیکھا جو کچھوے کو دیکھ کر خوش ہو رہا تھا..
■ باپ نے بچےکو مُخاطب کرتےہوئےکہا:
بیٹے انسان بھی کچھوے کی طرح ہی ہوتے ہیں۔ اگر تم چاہتے ہو کہ وہ اپنے خول اُتار کر تمہارے ساتھ کھلے دِل سے ملیں تو اُنہیں اپنی مُحبت کی حرارت پہنچایا کرو، نہ کہ اُنہیں ڈنڈے کے زور پر یا اپنا حُکم چلا کر۔
● پُر کشش اور جادوئی شخصیت والے لوگوں کے پوشیدہ رازوں میں سے ایک راز یہ بھی ہے کہ وہ..
زندگی میں لوگوں کو اپنی مُحبت کی حِدت اور اپنے جذبات کی گرمی پہنچا کر اُنہیں اپنا گرویدہ بناتے ہیں، اُن کی تعریف و تحسین اور قدر سے اُن کے دِلوں میں اپنے لئے پیار اور چاہت کے جذبات پیدا کرتے ہیں اور پھر اِنہی جذبات کے بل بوتے پر اُن پر اور اُنکے دِلوں پر حکومت کرتے ہیں۔
اور انسانی مخلوق تو ہے ہی ایسی کہ کوئی بھی اُسکے دِل میں گھر نہیں کر سکتا سوائے اِس کے کہ اُس کے ساتھ جذبات کی گرم جوشی، سچے دِل اور روح کی پاکیزگی کے ساتھ مِلا جائے.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/536
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
حسن اخلاق کے موضوع پر نصیحت آموز کہانی....
کہتے ہیں ایک بچے نے کچھوا پال رکھا تھا، اُسے سارا دن کھلاتا پلاتا اور اُسکے ساتھ کھیلتا تھا۔
سردیوں کی ایک یخ بستہ شام کو بچے نے اپنے کچھوے سے کھیلنا چاہا مگر کچھوا سردی سے بچنے اور اپنے آپ کو گرم رکھنے کیلئے اپنے خول میں چُھپا ہوا تھا۔
بچے نے کچھوے کو خول سے باہر آنے پر آمادہ کرنے کی بُہت کوشش کی مگر بے سود۔ جھلاہٹ میں اُس نے ڈنڈا اُٹھا کر کچھوے کی پٹائی بھی کر ڈالی مگر کوئی نتیجہ نہ نکلا۔
بچے نے چیخ چیخ کر کچھوے کو باہر نکلنے پر راضی کرنا چاہامگر کچھوا سہم کر اپنے خول میں اور زیادہ دُبکا رہا.
بچے کا باپ کمرے میں داخل ہوا تو بچہ غصے سے تلملا رہا تھا۔
باپ نے بچے سے پوچھا؛
بیٹے کیا بات ہے؟
بچے نے اپنا اور کچھوے کا سارا قصہ باپ کو کہہ سُنایا، باپ نے مُسکراتے ہوتے بچے کا ہاتھ تھاما اور بولا اِسے چھوڑو اور میرے ساتھ آؤ۔ بچے کا ہاتھ پکڑے باپ اُسے آتشدان کی طرف لے گیا، آگ جلائی اور حرارت کے پاس ہی بیٹھ کر بچے سے باتیں کرنے لگ گیا۔ تھوڑی ہی دیر گُزری تھی کہ کچھوا بھی حرارت لینے کیلئے آہستہ آہستہ اُن کے پاس آ گیا۔ باپ نے مُسکرا کر بچے کی طرف دیکھا جو کچھوے کو دیکھ کر خوش ہو رہا تھا..
■ باپ نے بچےکو مُخاطب کرتےہوئےکہا:
بیٹے انسان بھی کچھوے کی طرح ہی ہوتے ہیں۔ اگر تم چاہتے ہو کہ وہ اپنے خول اُتار کر تمہارے ساتھ کھلے دِل سے ملیں تو اُنہیں اپنی مُحبت کی حرارت پہنچایا کرو، نہ کہ اُنہیں ڈنڈے کے زور پر یا اپنا حُکم چلا کر۔
● پُر کشش اور جادوئی شخصیت والے لوگوں کے پوشیدہ رازوں میں سے ایک راز یہ بھی ہے کہ وہ..
زندگی میں لوگوں کو اپنی مُحبت کی حِدت اور اپنے جذبات کی گرمی پہنچا کر اُنہیں اپنا گرویدہ بناتے ہیں، اُن کی تعریف و تحسین اور قدر سے اُن کے دِلوں میں اپنے لئے پیار اور چاہت کے جذبات پیدا کرتے ہیں اور پھر اِنہی جذبات کے بل بوتے پر اُن پر اور اُنکے دِلوں پر حکومت کرتے ہیں۔
اور انسانی مخلوق تو ہے ہی ایسی کہ کوئی بھی اُسکے دِل میں گھر نہیں کر سکتا سوائے اِس کے کہ اُس کے ساتھ جذبات کی گرم جوشی، سچے دِل اور روح کی پاکیزگی کے ساتھ مِلا جائے.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/536
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌹امام حسینؑ اور شامی شخص🌹
عفوودرگزر اور حسن اخلاق کے بارے میں حضرت امام حسین علیہ السلام کا ایک بہترین واقعہ...
ایک شامی آدمی مدینہ منورہ آیا. اس کی نظر ایک جانب بیٹھے ہوئے ایک شخص پر پڑی. وہ انکی عظمت سے متاثر ہوا اور آپؑ کی پرکشش شخصیت کے باعث پوچھا؛…
عفوودرگزر اور حسن اخلاق کے بارے میں حضرت امام حسین علیہ السلام کا ایک بہترین واقعہ...
ایک شامی آدمی مدینہ منورہ آیا. اس کی نظر ایک جانب بیٹھے ہوئے ایک شخص پر پڑی. وہ انکی عظمت سے متاثر ہوا اور آپؑ کی پرکشش شخصیت کے باعث پوچھا؛…
🔷ایک کسان کی کمائی اور خرچ🔷
ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺷﮑﺎﺭ ﭘﺮ ﻧﮑﻼ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﮐﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﮨﻞ ﭼﻼﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﯾﮑﻬﺎ-
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﮐﺴﺎﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﻬﺎ:
"ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﻨﺎ ﮐﻤﺎ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﻮ؟
ﮐﺴﺎﻥ:
"ﭼﺎﺭ ﺭﻭﭘﮯ"
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ:
ﮐﯿﺴﮯ ﺧﺮﭺ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ؟
ﮐﺴﺎﻥ:
"ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﺧﻮﺩ ﭘﺮ ﺧﺮﭺ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ، ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﻗﺮﺽ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ، ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﻗﺮﺽ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭﺍﯾﮏ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﺩﺭﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ"-
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻻ:
ﺗﻤﻬﺎﺭﯼ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺠﻬﺎ.
ﮐﺴﺎﻥ:
"ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﺧﻮﺩ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﭘﺮ ﺧﺮﭺ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ،
ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﭘﺮ ﯾﻌﻨﯽ ﻗﺮﺽ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﺎﮐﮧ ﺑﮍﻫﺎﭘﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﻬﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮﮮ،
ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﭘﺮ ﺧﺮﭺ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﯾﻌﻨﯽ ﻗﺮﺽ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺟﻮ ﺍﻧﻬﻮﮞﻧﮯ ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺧﺮﭺ ﮐﯿﺎ،
ﺍﻭﺭ
ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﮐﺴﯽ ﻏﺮﯾﺐ ﮐﻮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺟﺲ ﮐﺎ ﺍﺟﺮ ﻣﺠﻬﮯ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﯿﮯ...!"
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺷﮑﺎﺭ ﭘﺮ ﻧﮑﻼ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﮐﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﮨﻞ ﭼﻼﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﯾﮑﻬﺎ-
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﮐﺴﺎﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﻬﺎ:
"ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﻨﺎ ﮐﻤﺎ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﻮ؟
ﮐﺴﺎﻥ:
"ﭼﺎﺭ ﺭﻭﭘﮯ"
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ:
ﮐﯿﺴﮯ ﺧﺮﭺ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ؟
ﮐﺴﺎﻥ:
"ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﺧﻮﺩ ﭘﺮ ﺧﺮﭺ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ، ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﻗﺮﺽ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ، ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﻗﺮﺽ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭﺍﯾﮏ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﺩﺭﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ"-
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻻ:
ﺗﻤﻬﺎﺭﯼ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺠﻬﺎ.
ﮐﺴﺎﻥ:
"ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﺧﻮﺩ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﭘﺮ ﺧﺮﭺ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ،
ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﭘﺮ ﯾﻌﻨﯽ ﻗﺮﺽ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﺎﮐﮧ ﺑﮍﻫﺎﭘﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﻬﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮﮮ،
ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﭘﺮ ﺧﺮﭺ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﯾﻌﻨﯽ ﻗﺮﺽ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺟﻮ ﺍﻧﻬﻮﮞﻧﮯ ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺧﺮﭺ ﮐﯿﺎ،
ﺍﻭﺭ
ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭘﯿﮧ ﮐﺴﯽ ﻏﺮﯾﺐ ﮐﻮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺟﺲ ﮐﺎ ﺍﺟﺮ ﻣﺠﻬﮯ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﯿﮯ...!"
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🐠🐈 صدقه 🐈🐠
ایک نوجوان کی ماں سخت بیمار اور ہسپتال میں انتہائی نگہداشت کے شعبہ میں داخل تھی۔ ڈاکٹروں نے یہاں تک کہہ دیا تھاکہ برخوردار زندگی موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے مگر ہم اب مایوس ہو چکے ہیں۔ تم کسی بھی لمحہ کوئی بری خبر سننے کیلئے ذہنی طور پر تیار رہنا۔
رات گھر گزارنے کے بعد صبح ماں سے ملاقات کیلئے ہسپتال جاتے ہوئے نوجوان راستے میں ایک پیٹرول پمپ پر رکا، پٹرول بھروانے کیلئے اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے اس کی نظر سروس شاپ کی دیوار کے پاس پڑی جہاں ایک بلی نے خالی ڈبے کے نیچے بچے دےرکھے تھے۔
یہ نوزائیدہ بچے بہت ہی چھوٹے تھے جو ابھی چلنے پھرنے کے قابل بھی نہیں تھے۔ نوجوان کے ذہن میں جو پہلی بات آئی وہ یہ تھی کہ اتنےنازک اور چھوٹے سے بچے کھانا کہاں سے اور کیسے کھائیں گے۔ یہ خیال آتے ہی اس نے اپنی کار ایک طرف ہٹا کر بند کی، دکان سے جا کر مچھلی کا ایک ڈبہ خریدا، کھول کر اسے بلی کے بچوں کےپاس رکھا۔ بچوں نے کھانا شروع کیا تو وہ خوش ہو کر اپنی کار کی طرف گیا اور پٹرول بھروا کر ہسپتال جا پہنچا۔
جیسے ہی اس نے اپنی ماں کےکمرے میں جھانکا تو بسترخالی پا کراس کی آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا۔ ڈوبتے دل کے ساتھ ایک نرس سے پوچھا؛ میری امی کہاں ہے؟ نرس نےکہا؛ آج آپ کی امی کی طبیعت معجزاتی طور پر سنبھلی تھی۔ اسے جیسے ہی ہوش آیا تو ڈاکٹر نے کہا تھا اسے تازہ ہوا لینے کیلئے باہر لے جاؤ۔ تو ہم نے اسے کوریڈور سے باہر لان میں بٹھا دیا ہے، آپ اسے جا کر مل سکتے ہیں۔
نوجوان بھاگتا ہوا اپنی ماں کے پاس پہنچا، اسے سلام کیا، حال احوال پوچھا تو اس کی ماں نے کہا؛ بیٹے آج صبح میں نےخواب دیکھا کہ ایک بلی اور اس کے چھوٹے چھوٹے معصوم بچے آسمان کی طرف ہاتھ اُٹھائے میرے لیئے دعا کر رہے ہیں۔ بس یہ خواب دیکھتے ہی میری آنکھ کھل گئی اور باقی کی صورتحال تم خود دیکھ رہے ہو۔ اور نوجوان حیرت بھری خوشی کے ساتھ اپنی ماں کی باتیں سنتا رہا اور اپنے دل کو ٹھنڈا کرتا رہا۔
جی ہاں، اس خدا کی رحمت کی وسعت سب کچھ کو اپنے اندر سمو لیتی ہے، ایسے تو ہمیں نہیں سکھایا گیا کہ اپنے مریضوں کاصدقہ سے علاج کرو یا صدقہ ہی تو ہے جو تمہارے رب کے غصے کو ٹھنڈا کرتا ہے۔
■ حضرت امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں..
واضح طور پر دیا جانے والا صدقہ ستر(70) بلاؤں کو دور کرتا ہے اور پوشیدہ طور پر دیا جانے والا صدقہ اللہ کے غضب کو ختم کرتا ہے.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
📚 کتاب: ثواب الأعمال
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ایک نوجوان کی ماں سخت بیمار اور ہسپتال میں انتہائی نگہداشت کے شعبہ میں داخل تھی۔ ڈاکٹروں نے یہاں تک کہہ دیا تھاکہ برخوردار زندگی موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے مگر ہم اب مایوس ہو چکے ہیں۔ تم کسی بھی لمحہ کوئی بری خبر سننے کیلئے ذہنی طور پر تیار رہنا۔
رات گھر گزارنے کے بعد صبح ماں سے ملاقات کیلئے ہسپتال جاتے ہوئے نوجوان راستے میں ایک پیٹرول پمپ پر رکا، پٹرول بھروانے کیلئے اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے اس کی نظر سروس شاپ کی دیوار کے پاس پڑی جہاں ایک بلی نے خالی ڈبے کے نیچے بچے دےرکھے تھے۔
یہ نوزائیدہ بچے بہت ہی چھوٹے تھے جو ابھی چلنے پھرنے کے قابل بھی نہیں تھے۔ نوجوان کے ذہن میں جو پہلی بات آئی وہ یہ تھی کہ اتنےنازک اور چھوٹے سے بچے کھانا کہاں سے اور کیسے کھائیں گے۔ یہ خیال آتے ہی اس نے اپنی کار ایک طرف ہٹا کر بند کی، دکان سے جا کر مچھلی کا ایک ڈبہ خریدا، کھول کر اسے بلی کے بچوں کےپاس رکھا۔ بچوں نے کھانا شروع کیا تو وہ خوش ہو کر اپنی کار کی طرف گیا اور پٹرول بھروا کر ہسپتال جا پہنچا۔
جیسے ہی اس نے اپنی ماں کےکمرے میں جھانکا تو بسترخالی پا کراس کی آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا۔ ڈوبتے دل کے ساتھ ایک نرس سے پوچھا؛ میری امی کہاں ہے؟ نرس نےکہا؛ آج آپ کی امی کی طبیعت معجزاتی طور پر سنبھلی تھی۔ اسے جیسے ہی ہوش آیا تو ڈاکٹر نے کہا تھا اسے تازہ ہوا لینے کیلئے باہر لے جاؤ۔ تو ہم نے اسے کوریڈور سے باہر لان میں بٹھا دیا ہے، آپ اسے جا کر مل سکتے ہیں۔
نوجوان بھاگتا ہوا اپنی ماں کے پاس پہنچا، اسے سلام کیا، حال احوال پوچھا تو اس کی ماں نے کہا؛ بیٹے آج صبح میں نےخواب دیکھا کہ ایک بلی اور اس کے چھوٹے چھوٹے معصوم بچے آسمان کی طرف ہاتھ اُٹھائے میرے لیئے دعا کر رہے ہیں۔ بس یہ خواب دیکھتے ہی میری آنکھ کھل گئی اور باقی کی صورتحال تم خود دیکھ رہے ہو۔ اور نوجوان حیرت بھری خوشی کے ساتھ اپنی ماں کی باتیں سنتا رہا اور اپنے دل کو ٹھنڈا کرتا رہا۔
جی ہاں، اس خدا کی رحمت کی وسعت سب کچھ کو اپنے اندر سمو لیتی ہے، ایسے تو ہمیں نہیں سکھایا گیا کہ اپنے مریضوں کاصدقہ سے علاج کرو یا صدقہ ہی تو ہے جو تمہارے رب کے غصے کو ٹھنڈا کرتا ہے۔
■ حضرت امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں..
واضح طور پر دیا جانے والا صدقہ ستر(70) بلاؤں کو دور کرتا ہے اور پوشیدہ طور پر دیا جانے والا صدقہ اللہ کے غضب کو ختم کرتا ہے.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
📚 کتاب: ثواب الأعمال
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 بہشتی اور دوزخی 🔷
ایک طباخی نے شبلی کی بہت زیادہ تعریف سنی اور وہ اسکا عاشق ہو گیا. اسے ایک دن خبر ملی کہ آج شبلی اس کے شہر میں آرہا ہے. وہ بہت خوش ہوا اور اس کے دیدار و ملاقات کے لیے بیتاب تھا. اپنے تنور کے سامنے روٹی لینے والوں کی قطار لگی ہوئی تھی. اس شدید گرمی کے دن میں اس کے پاس ایک شخص تیزی سے آیا اور کہا؛
"میں بہت دور کے سفر سے آرہا ہوں اور بہت بھوکا ہوں. مجھے ایک روٹی دیدو. مجھے بہت زیادہ بھوک ہے."
طباخی نے کہا؛
"ایک درہم کی ایک روٹی ہے. درہم دے دو، روٹی لے لو."
مسافر جو بھوک سے نڈھال تھا، اس کے چہرے کا رنگ اڑا ہوا تھا، اس پر کمزوری اور تهکاوٹ کے باعث کپکپی طاری تھی.. طباخی سے درخواست کی کہ...
"اپنی جوانمردی اور شرافت کے سبب بغیر درہم کے ایک روٹی ہدیہ کردو."
طباخی چیخا اور جهڑک کر کہا؛
اگر آپ میرے گرم تنور کی رونق دیکھ رہے ہیں اور میرے کاروبار کو چلتا دیکھ رہے ہیں تو یہ صرف اسی وجہ سے ہے کہ میں تیرے جیسے گداگروں پر عنایت نہیں کرتا.
مسافر نے سر نیچا کر لیا اور چلنے کی راہ لی، طباخی کے تنور کو چھوڑ کر چلا گیا.
مسافر کے ساتھ روٹی لینے کے انتظار میں کھڑا ایک اور شخص یہ سارا ماجرا دیکھتا رہا اور طباخی سے کہا؛
کاش آپ جوانمردی دکھاتے اور اسے ایک روٹی دے کر اپنا مہمان بنا لیتے اور تمہیں اس پر فخر ہوتا.
طباخی نے اسے بھی جهڑک کر کہا؛
تیری بات کا اس سے کیا مطلب؟ فضول بات نہ کرو.
اس نے آہ کینچهی اور کہا؛
میں نے سنا ہے کہ تجھے شبلی کے ساتھ عشق کی حد تک محبت ہے. میں نے سارا ماجرا دیکھا اور چپ رہا تاکہ دیکھ لوں کہ تو اپنے محبوب کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے.
طباخی نے فوراً پوچھا؛
اچھا تو کیا وہ شبلی تھے؟
اس شخص نے کہا؛
ہاں تو اور کیا. وہی تو تھے. اور آپ کے عشق کا پتہ چل گیا. اگر آپ کو اس سے محبت تھی تو اسے کیوں روٹی نہیں دی؟
طباخی تیزتیز دوڑتا ہوا شبلی کے پیچھے بھاگا. اسکو جا کر ملا اور معزرت خواہی کی، پاؤں پر گر گیا، معافی کا طلبگار ہوا.
شبلی نے اس شرط پر راضی ہونے کا اظہار کیا کہ ایک ضروری عمل میں آپکو بتاتا ہوں، اگر مجھے راضی کرنا ہے تو وہ انجام دینا ہو گا.
طباخی نے شرط قبول کرلی.
شبلی نے کہا؛
اگر آپ مجھے راضی کرنا چاہتے ہیں تو کل غرباء و مساکین کے ساتھ مجھے کھانا کھلائیں اور جتنا ہو سکے ہماری خدمت کریں، خاطرخواہ کھانے کا انتظام کریں.
طباخی نے شرط قبول کرتے ہوئے ایک سو طلائی سکہ کے خرچہ کے ساتھ کھانے کا اہتمام کیا. انواع و اقسام کے کھانوں کے ساتھ نہایت عمدہ دسترخوان بچھایا، قسم و اقسام کے مشروبات پیش کئے.
شبلی دسترخوان پر آکر بیٹھ گئے اور دعا کرنے کے بعد کھانے کی طرف ہاتھ بڑھایا تاکہ اور لوگ بھی کھانا تناول کریں. اسی اثناء میں ایک شخص جو شبلی کو جانتا تھا، بلند آواز سے اسے مخاطب ہو کر بولا؛
میں چاہتا ہوں کہ اس مجمع سے بہشتی اور دوزخی بندوں کا پتہ چلاؤں... آپ بتا سکتے ہیں؟
شبلی نے کہا؛
"اگر آپ کسی جہنمی کو دیکھنا چاہتے ہیں تو اس طباخی کو دیکھ لیں، جس نے شہرت طلبی اور ناموری حاصل کرنے کے لیے اتنے کثیر اخراجات والی دعوت کا اہتمام کیا ہے اور مجھے خوش کرنے کے لیے ایک سو طلائی سکہ خرچ کر ڈالا جبکہ کل خداوندمتعال کی رضا حاصل کرنے کے لیے ایک روٹی کی قربانی دینے سے دریغ کیا."
📚 قصہ ہائے عطار 63/8. (ترجمہ فارسی)
■ حضرت امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں..
ہر قسم کی ریاکاری شرک ہے. یقیناً جو شخص لوگوں کی خوشنودی کے لیے عمل کرے گا، اسکا اجر بھی لوگوں کے ذمہ ہوگا. (اسے خداوندمتعال کے اجر کی امید نہیں کرنا چاہیے)
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
📚 میزان الحکمہ.
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ایک طباخی نے شبلی کی بہت زیادہ تعریف سنی اور وہ اسکا عاشق ہو گیا. اسے ایک دن خبر ملی کہ آج شبلی اس کے شہر میں آرہا ہے. وہ بہت خوش ہوا اور اس کے دیدار و ملاقات کے لیے بیتاب تھا. اپنے تنور کے سامنے روٹی لینے والوں کی قطار لگی ہوئی تھی. اس شدید گرمی کے دن میں اس کے پاس ایک شخص تیزی سے آیا اور کہا؛
"میں بہت دور کے سفر سے آرہا ہوں اور بہت بھوکا ہوں. مجھے ایک روٹی دیدو. مجھے بہت زیادہ بھوک ہے."
طباخی نے کہا؛
"ایک درہم کی ایک روٹی ہے. درہم دے دو، روٹی لے لو."
مسافر جو بھوک سے نڈھال تھا، اس کے چہرے کا رنگ اڑا ہوا تھا، اس پر کمزوری اور تهکاوٹ کے باعث کپکپی طاری تھی.. طباخی سے درخواست کی کہ...
"اپنی جوانمردی اور شرافت کے سبب بغیر درہم کے ایک روٹی ہدیہ کردو."
طباخی چیخا اور جهڑک کر کہا؛
اگر آپ میرے گرم تنور کی رونق دیکھ رہے ہیں اور میرے کاروبار کو چلتا دیکھ رہے ہیں تو یہ صرف اسی وجہ سے ہے کہ میں تیرے جیسے گداگروں پر عنایت نہیں کرتا.
مسافر نے سر نیچا کر لیا اور چلنے کی راہ لی، طباخی کے تنور کو چھوڑ کر چلا گیا.
مسافر کے ساتھ روٹی لینے کے انتظار میں کھڑا ایک اور شخص یہ سارا ماجرا دیکھتا رہا اور طباخی سے کہا؛
کاش آپ جوانمردی دکھاتے اور اسے ایک روٹی دے کر اپنا مہمان بنا لیتے اور تمہیں اس پر فخر ہوتا.
طباخی نے اسے بھی جهڑک کر کہا؛
تیری بات کا اس سے کیا مطلب؟ فضول بات نہ کرو.
اس نے آہ کینچهی اور کہا؛
میں نے سنا ہے کہ تجھے شبلی کے ساتھ عشق کی حد تک محبت ہے. میں نے سارا ماجرا دیکھا اور چپ رہا تاکہ دیکھ لوں کہ تو اپنے محبوب کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے.
طباخی نے فوراً پوچھا؛
اچھا تو کیا وہ شبلی تھے؟
اس شخص نے کہا؛
ہاں تو اور کیا. وہی تو تھے. اور آپ کے عشق کا پتہ چل گیا. اگر آپ کو اس سے محبت تھی تو اسے کیوں روٹی نہیں دی؟
طباخی تیزتیز دوڑتا ہوا شبلی کے پیچھے بھاگا. اسکو جا کر ملا اور معزرت خواہی کی، پاؤں پر گر گیا، معافی کا طلبگار ہوا.
شبلی نے اس شرط پر راضی ہونے کا اظہار کیا کہ ایک ضروری عمل میں آپکو بتاتا ہوں، اگر مجھے راضی کرنا ہے تو وہ انجام دینا ہو گا.
طباخی نے شرط قبول کرلی.
شبلی نے کہا؛
اگر آپ مجھے راضی کرنا چاہتے ہیں تو کل غرباء و مساکین کے ساتھ مجھے کھانا کھلائیں اور جتنا ہو سکے ہماری خدمت کریں، خاطرخواہ کھانے کا انتظام کریں.
طباخی نے شرط قبول کرتے ہوئے ایک سو طلائی سکہ کے خرچہ کے ساتھ کھانے کا اہتمام کیا. انواع و اقسام کے کھانوں کے ساتھ نہایت عمدہ دسترخوان بچھایا، قسم و اقسام کے مشروبات پیش کئے.
شبلی دسترخوان پر آکر بیٹھ گئے اور دعا کرنے کے بعد کھانے کی طرف ہاتھ بڑھایا تاکہ اور لوگ بھی کھانا تناول کریں. اسی اثناء میں ایک شخص جو شبلی کو جانتا تھا، بلند آواز سے اسے مخاطب ہو کر بولا؛
میں چاہتا ہوں کہ اس مجمع سے بہشتی اور دوزخی بندوں کا پتہ چلاؤں... آپ بتا سکتے ہیں؟
شبلی نے کہا؛
"اگر آپ کسی جہنمی کو دیکھنا چاہتے ہیں تو اس طباخی کو دیکھ لیں، جس نے شہرت طلبی اور ناموری حاصل کرنے کے لیے اتنے کثیر اخراجات والی دعوت کا اہتمام کیا ہے اور مجھے خوش کرنے کے لیے ایک سو طلائی سکہ خرچ کر ڈالا جبکہ کل خداوندمتعال کی رضا حاصل کرنے کے لیے ایک روٹی کی قربانی دینے سے دریغ کیا."
📚 قصہ ہائے عطار 63/8. (ترجمہ فارسی)
■ حضرت امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں..
ہر قسم کی ریاکاری شرک ہے. یقیناً جو شخص لوگوں کی خوشنودی کے لیے عمل کرے گا، اسکا اجر بھی لوگوں کے ذمہ ہوگا. (اسے خداوندمتعال کے اجر کی امید نہیں کرنا چاہیے)
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
📚 میزان الحکمہ.
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌱 سوکھی ٹہنی ہری ہوگئی🌱
ایک مرتبہ ایک بہت ہی گناہ گار، اپنے زمانے کا مانا ہوا فاسق و فاجر شخص ایک جنگل کے قریب جا رہا تھا کہ اس نے ایک آدمی کو دیکھا جو اپنے سامنے زمین میں ایک سوکھی ٹہنی دبائے بیٹھا تھا اور الله کی عبادت کر رہا تھا، اس گناہ گار آدمی نے پوچھا تم کیا کر رہے ہو؟
اس نیک اور پرہیز گار بندے نے بتایا میں سالوں سے دنیا سے دور اس ویرانے میں الله کی عبادت کر رہا ہوں، جس دن میری عبادت قبول ہوگی اس دن یہ ٹہنی ہری ہو جائے گی اسطرح مجھے پتہ چل جائے گا-
اس گناہ گار کے دل میں جانے کیا آئی وہ بھی زمین میں ایک سوکھی ٹہنی دبا کر بیٹھ گیا اور عبادت کرنے لگا-
تھوڑی دیر بعد کہیں سے ایک آدمی کی مدد کی پکار آئی اور پکارنے والے نے نقاہت بھری آواز میں پانی مانگا دونوں نے سنی ان سنی کر دی، آواز دوبارہ آئی، تین چار مرتبہ کی پکار کے بعد گناہ گار نے نیک شخص سے کہا ،میں تو ابھی بیٹھا ہوں، تمہیں کتنا عرصہ ہوگیا ہے تم ذرا اٹھ کر اسے پانی تو پلا دو، میں ابھی ابھی بیٹھا ہوں اٹھنا نہیں چاہتا-
اس نیک بندے نے گناہ گار کو ڈانٹ کر کہا میری عبادت میں خلل نہ ڈالو میری ارتکاز ٹوٹ جاتا ہے-
جب مدد کی پکار مسلسل آتی رہی تو گناہ گار سے رہا نہ گیا، اس نے اپنی جگہ چھوڑی اور پانی پلانے چلا گیا، جب تھوڑی دیر بعد واپس آیا تو اس نے دیکھا اس کی ٹہنی ہری ہو چکی تھی، اور اس نیک بندے کی ٹہنی ویسی کی ویسی ہی تھی
وہ تو رب ہے کہ جس کی توبہ قبول کر لے ۔۔۔ کبھی کبھی برسوں کے ریاضت بھی ایک لمحے میں پلٹائی جاتی ہے ۔۔
اور کبھی ایک آنسو توبہ کا سبب بن جاتا ہے.
بشکریہ: عاشق علی معصومی
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ایک مرتبہ ایک بہت ہی گناہ گار، اپنے زمانے کا مانا ہوا فاسق و فاجر شخص ایک جنگل کے قریب جا رہا تھا کہ اس نے ایک آدمی کو دیکھا جو اپنے سامنے زمین میں ایک سوکھی ٹہنی دبائے بیٹھا تھا اور الله کی عبادت کر رہا تھا، اس گناہ گار آدمی نے پوچھا تم کیا کر رہے ہو؟
اس نیک اور پرہیز گار بندے نے بتایا میں سالوں سے دنیا سے دور اس ویرانے میں الله کی عبادت کر رہا ہوں، جس دن میری عبادت قبول ہوگی اس دن یہ ٹہنی ہری ہو جائے گی اسطرح مجھے پتہ چل جائے گا-
اس گناہ گار کے دل میں جانے کیا آئی وہ بھی زمین میں ایک سوکھی ٹہنی دبا کر بیٹھ گیا اور عبادت کرنے لگا-
تھوڑی دیر بعد کہیں سے ایک آدمی کی مدد کی پکار آئی اور پکارنے والے نے نقاہت بھری آواز میں پانی مانگا دونوں نے سنی ان سنی کر دی، آواز دوبارہ آئی، تین چار مرتبہ کی پکار کے بعد گناہ گار نے نیک شخص سے کہا ،میں تو ابھی بیٹھا ہوں، تمہیں کتنا عرصہ ہوگیا ہے تم ذرا اٹھ کر اسے پانی تو پلا دو، میں ابھی ابھی بیٹھا ہوں اٹھنا نہیں چاہتا-
اس نیک بندے نے گناہ گار کو ڈانٹ کر کہا میری عبادت میں خلل نہ ڈالو میری ارتکاز ٹوٹ جاتا ہے-
جب مدد کی پکار مسلسل آتی رہی تو گناہ گار سے رہا نہ گیا، اس نے اپنی جگہ چھوڑی اور پانی پلانے چلا گیا، جب تھوڑی دیر بعد واپس آیا تو اس نے دیکھا اس کی ٹہنی ہری ہو چکی تھی، اور اس نیک بندے کی ٹہنی ویسی کی ویسی ہی تھی
وہ تو رب ہے کہ جس کی توبہ قبول کر لے ۔۔۔ کبھی کبھی برسوں کے ریاضت بھی ایک لمحے میں پلٹائی جاتی ہے ۔۔
اور کبھی ایک آنسو توبہ کا سبب بن جاتا ہے.
بشکریہ: عاشق علی معصومی
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌺 گنہگارجوان اور اللہ کی بخشش🌺
بنی اسرائیل کا ایک جوان جو اللہ تعالی کی عبادت میں مصروف تھا. اس نے بیس(۲۰) سال تک نماز، روزہ اور اطاعت خداوندی میں گزارے اور ۲۰ سال تک اس جوان کا یہی کام تھا. ایک دن اس نے فریب کھایا اور آہستہ آہستہ اللہ تعالی سے دور ہوتا گیا اور اس کی عبادتیں گناہوں میں ہو گئیں. خلاصہ گنہگار ہو گیا.
اس نے بیس سال کے عرصے میں ایک مرتبہ آئینہ میں دیکھا کہ سر کے بال سفید چکے تھے. وہ اپنے کیے پر بہت افسوس کر رہا تھا.
اس جوان نے کہا اے اللہ تعالی میں نے بیس سال عبادت کی اور بیس سال معصیت کی ہے اگر دوبارہ آپ کی طرف آؤں تو مجھے قبول کرو گے؟
اس نے آواز سنی:
«اجبتنا فاحببناک ترکتنا فترکناک و عصیتنا فامهلناک و ان رجعت الینا قبلنا»
جب تک آپ ہمارے ساتھ دوست تھے. اسی طرح ہم بھی آپ کے دوست تھے. آپ نے ہم کو چھوڑ دیا، اسی طرح ہم نے بھی آپ کو ترک کردیا. تم نے معصیت کی پس ہم نے تمہیں مہلت دی اور اگر آپ ہمارے پاس واپس آتے ہیں، تجھے قبول کریں گے.
📚(ثمراۃ الحیوۃ، ج۳، ص۳۷۷)
پس اس نے توبہ کی اور ایک عابد قرار پایا، اور اسی طرح اللہ تعالی کی بخشش تمام گنہگاروں کےلئے ہے اور رہے گی.
📚اصول کافی: ج 2، ص435.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
بنی اسرائیل کا ایک جوان جو اللہ تعالی کی عبادت میں مصروف تھا. اس نے بیس(۲۰) سال تک نماز، روزہ اور اطاعت خداوندی میں گزارے اور ۲۰ سال تک اس جوان کا یہی کام تھا. ایک دن اس نے فریب کھایا اور آہستہ آہستہ اللہ تعالی سے دور ہوتا گیا اور اس کی عبادتیں گناہوں میں ہو گئیں. خلاصہ گنہگار ہو گیا.
اس نے بیس سال کے عرصے میں ایک مرتبہ آئینہ میں دیکھا کہ سر کے بال سفید چکے تھے. وہ اپنے کیے پر بہت افسوس کر رہا تھا.
اس جوان نے کہا اے اللہ تعالی میں نے بیس سال عبادت کی اور بیس سال معصیت کی ہے اگر دوبارہ آپ کی طرف آؤں تو مجھے قبول کرو گے؟
اس نے آواز سنی:
«اجبتنا فاحببناک ترکتنا فترکناک و عصیتنا فامهلناک و ان رجعت الینا قبلنا»
جب تک آپ ہمارے ساتھ دوست تھے. اسی طرح ہم بھی آپ کے دوست تھے. آپ نے ہم کو چھوڑ دیا، اسی طرح ہم نے بھی آپ کو ترک کردیا. تم نے معصیت کی پس ہم نے تمہیں مہلت دی اور اگر آپ ہمارے پاس واپس آتے ہیں، تجھے قبول کریں گے.
📚(ثمراۃ الحیوۃ، ج۳، ص۳۷۷)
پس اس نے توبہ کی اور ایک عابد قرار پایا، اور اسی طرح اللہ تعالی کی بخشش تمام گنہگاروں کےلئے ہے اور رہے گی.
📚اصول کافی: ج 2، ص435.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 ممنون و مشکور 🔷
ﮐﻞ ﺍﯾﮏ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﻭﻧﮕﭩﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﮐﺮ ﺩﯾﺌﮯ، ﺑﻈﺎﮨﺮ ﺑﮩﺖ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ
ﺳﺎ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮨﮯ
ﻟﯿﮑﻦ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ کیلئے ﻋﺒﺮﺕ ﮨﮯ:
ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺭﻭﺯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﻠﯽ، ﺑﭽﮯ ﺩﮮ ﮔﺌﯽ۔
ﻣﺠﮭﮯ ﺑﻠﯽ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﺑﮩﺖ ﭘﺴﻨﺪ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮑﻮ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ
ﺑﻠﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻧﮑﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﻧﮯ ﺩﯾﺘﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ
ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺑﮭﯽ ﺑﮍﮬﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻏﺮﺍﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﭘﺮﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺑﻠﯽ ﺍﺩﮬﺮ ﺍُﺩﮬﺮ ﭨﮩﻞ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺑﮭﻮﮐﯽ ﻟﮓ
ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﻭﺩﮪ ﺩﯾﺎ ۔ ﻭﮦ ﺍﺑﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮈﺭ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﺑﮍﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﻮﮎ ﺳﮯ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﻗﺮﯾﺐ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺩﮪ
ﭘﯿﻨﮯ ﻟﮕﯽ۔
ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﭘﮭﺮ ﺩﻭﺩﮪ ﺩﯾﺎ۔
ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﺻﺒﺢ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﺑﻠﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ
ﻟﯿﮑﺮ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﭦ ﭘﻮﭦ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﯽ۔ ﻣﯿﺮﺍ ﺫﮨﻦ ﺟﮑﮍ
ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ۔
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺻﺮﻑ ﺩﻭ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﺱ ﺑﻠﯽ ﮐﻮ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﯿﻨﮯ ﮐﯿﻠﯿﺌﮯ ﺩﯾﺎ
ﺗﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﺗﻨﯽ ﻣﻤﻨﻮﻥ ﻭ ﻣﺸﮑﻮﺭ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﭨﻨﮯ
ﻟﮕﯽ
ﻣﯿﺮﺍ ﺍﻟﻠﮧ!!!
ﻣﯿﺮﺍ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺗﻨﮯ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﮐﮭﻼ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ،
ﭘﻼ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ،
ﺳُﻼ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ،
ﺍُﭨﮭﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ،
ﺑِﭩﮭﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ،
ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﮨﺮ ﻧﻌﻤﺖ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔
ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻢ ﮐﯿﻮﮞ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﺁﭖ ﻧﺬﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ؟؟
ﮨﻢ ﮐﯿﻮﮞ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﺭ ﭘﺮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻤﻨﻮﻥ ﻭ ﻣﺸﮑﻮﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻦ
ﺟﺎﺗﮯ؟
ﺍﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ:
ﻭَﻫُﻮَ ﺍﻟَّﺬِﻱ ﺃَﻧﺸَﺄَ ﻟَﻜُﻢُ ﺍﻟﺴَّﻤْﻊَ ﻭَﺍﻟْﺄَﺑْﺼَﺎﺭَ ﻭَﺍﻟْﺄَﻓْﺌِﺪَﺓَ ﻗَﻠِﻴﻼً ﻣَّﺎ ﺗَﺸْﻜُﺮُﻭﻥَ.
ترجمہ:
ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺫﺍﺕ ﻭﮦ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﯿﺌﮯ ﮐﺎﻥ، ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻝ، ﻟﯿﮑﻦ ﺗﻢ ﺑﮩﺖ ﮐﻢ ﺷﮑﺮ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ۔
ﺳﻮﺭﮦ ﻣؤﻣﻨﻮﻥ ﺁية: 78
👆ایک مراسلہ👆
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ﮐﻞ ﺍﯾﮏ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﻭﻧﮕﭩﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﮐﺮ ﺩﯾﺌﮯ، ﺑﻈﺎﮨﺮ ﺑﮩﺖ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ
ﺳﺎ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﮨﮯ
ﻟﯿﮑﻦ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ کیلئے ﻋﺒﺮﺕ ﮨﮯ:
ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺭﻭﺯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﻠﯽ، ﺑﭽﮯ ﺩﮮ ﮔﺌﯽ۔
ﻣﺠﮭﮯ ﺑﻠﯽ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﺑﮩﺖ ﭘﺴﻨﺪ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮑﻮ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ
ﺑﻠﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻧﮑﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﻧﮯ ﺩﯾﺘﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ
ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺑﮭﯽ ﺑﮍﮬﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻏﺮﺍﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﭘﺮﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺑﻠﯽ ﺍﺩﮬﺮ ﺍُﺩﮬﺮ ﭨﮩﻞ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺑﮭﻮﮐﯽ ﻟﮓ
ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﻭﺩﮪ ﺩﯾﺎ ۔ ﻭﮦ ﺍﺑﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮈﺭ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﺑﮍﯼ ﺩﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﻮﮎ ﺳﮯ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﻗﺮﯾﺐ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺩﮪ
ﭘﯿﻨﮯ ﻟﮕﯽ۔
ﺍﺳﯽ ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﭘﮭﺮ ﺩﻭﺩﮪ ﺩﯾﺎ۔
ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﺻﺒﺢ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﺑﻠﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ
ﻟﯿﮑﺮ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﭦ ﭘﻮﭦ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﯽ۔ ﻣﯿﺮﺍ ﺫﮨﻦ ﺟﮑﮍ
ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ۔
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺻﺮﻑ ﺩﻭ ﺩﻓﻌﮧ ﺍﺱ ﺑﻠﯽ ﮐﻮ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﯿﻨﮯ ﮐﯿﻠﯿﺌﮯ ﺩﯾﺎ
ﺗﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﺗﻨﯽ ﻣﻤﻨﻮﻥ ﻭ ﻣﺸﮑﻮﺭ ﮨﻮﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﭨﻨﮯ
ﻟﮕﯽ
ﻣﯿﺮﺍ ﺍﻟﻠﮧ!!!
ﻣﯿﺮﺍ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺗﻨﮯ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﮐﮭﻼ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ،
ﭘﻼ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ،
ﺳُﻼ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ،
ﺍُﭨﮭﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ،
ﺑِﭩﮭﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ،
ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﮨﺮ ﻧﻌﻤﺖ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔
ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻢ ﮐﯿﻮﮞ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﺁﭖ ﻧﺬﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ؟؟
ﮨﻢ ﮐﯿﻮﮞ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﺭ ﭘﺮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻤﻨﻮﻥ ﻭ ﻣﺸﮑﻮﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻦ
ﺟﺎﺗﮯ؟
ﺍﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ:
ﻭَﻫُﻮَ ﺍﻟَّﺬِﻱ ﺃَﻧﺸَﺄَ ﻟَﻜُﻢُ ﺍﻟﺴَّﻤْﻊَ ﻭَﺍﻟْﺄَﺑْﺼَﺎﺭَ ﻭَﺍﻟْﺄَﻓْﺌِﺪَﺓَ ﻗَﻠِﻴﻼً ﻣَّﺎ ﺗَﺸْﻜُﺮُﻭﻥَ.
ترجمہ:
ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺫﺍﺕ ﻭﮦ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻟﯿﺌﮯ ﮐﺎﻥ، ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻝ، ﻟﯿﮑﻦ ﺗﻢ ﺑﮩﺖ ﮐﻢ ﺷﮑﺮ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ۔
ﺳﻮﺭﮦ ﻣؤﻣﻨﻮﻥ ﺁية: 78
👆ایک مراسلہ👆
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 عیب پوشی 🔷
آدمیوں کے عیوب کی تلاشی خباثتِ نفس ہے اور انکے عیبوں کا اظہار معیوب بلکہ آیات واخبار سے پایا جاتا ہے کہ جو شخص عیوب کا متلاشی ہو اور رسوا کرنیوالا ہو وہ خبیث ترین انسان ہے.
● ارشادِ خداوندی ہے..
اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ. (القرآن)
ترجمہ:
جو لوگ مؤمنين کے اعمال ناشائستہ کے ظاہر کرنے کو دوست رکھتے ہیں انکے لئے عذاب دردناک ہے.
●حضرت محمدؐ نے فرمایا؛
مَنْ عَلِمَ مِنْ اَخِیْہِ سَیِّئًا فَسَتَرَهَا سَتَرَاللەُ عَلَیْہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ. (میزان الحکمہ:14377)
ترجمہ:
جو کوئی اپنے بھائی کی کسی برائی پر اطلاع پائے اور اسے چھپا دے تو اللہ تعالٰی قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا.
● رسول اکرمؐ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا، عرض کیا؛
میں چاہتا ہوں آپ مجھے کوئی طریقہ بتائیں کہ خداوندمتعال میرے عیوب کی پردہ پوشی فرمائے.
آپؐ نے فرمایا؛
اُسْتُرْ عُیُوْبَ اِخْوَانِکَ یَسْتَرُ اللهُ عَلَیْکَ عُیُوْبَکَ.
آپ اپنے مسلمان بھائیوں کی عیب پوشی کیا کریں، اللہ تعالٰی آپ کی عیب پوشی فرمائے گا. (میزان الحکمہ:(14380)
● احادیث میں وارد ہوا ہے کہ قیامت کے روز ایک شخص کو لایا جائے گا وہ سخت رو رہا ہو گا. اسے خطاب ہو گا، پوچھا جائے گا کہ کیوں روتے ہو؟
وہ عرض کریگا؛ میں آج اس خیال سے روتا ہوں کہ آج اہلِ محشر اور فرشتوں کے درمیان میرے کیا کیا عیب ظاہر ہوں گے.
اسے خداوندمتعال کی طرف سے خطاب ہوگا؛
اے میرے بندے! میں نے دنیا میں اس وقت جب تو میری نافرمانی میں مصروفِ عمل تھا اور خوشحالی سے ہنس رہا تھا، تجھے تیرے عیب ظاہر کر کے رسوا نہیں کیا، آج کس طرح تیری آبروریزی کرونگا جبکہ آج تو پریشان ہے اور رو رہا ہے.
■ ایک دن حضرت موسٰیؑ سو رہے تھے کہ بنی اسرائیل کے کسی شخص نے آپؑ کا عصا چُرا لیا، اسے درمیان سے کاٹ کر دونوں ٹکڑے زمیں میں دفن کر دیے.
جب حضرت موسٰیؑ کی آنکھ کھلی تو آپ نے اپنا عصا غائب پایا. اسی وقت اپنے رب ذوالجلال کے حضور شکایت کی؛ خدایا یہ میرے عصا کا کیا ہوا. میرا عصا کدھر گیا؟
ندا آئی؛ موسٰیؑ آپ کے عصا کو کسی نے دو ٹکڑے کرکے زمین میں دفن کردیا ہے.
حضرت موسٰیؑ نے عرض کیا؛
خدایا کون ہے وہ..؟ کس نے یہ کام کیا..؟ کہاں پر چھپایا ہے میرے عصا کو..؟
جواب ملا؛
موسٰیؑ آپ کو تو معلوم ہے، میرا حکم ہے کہ میرے بندوں کی پردہ پوشی کی جائے. آپ جس جگہ کھڑے ہیں اسی جگہ پر اپنے عصا کو آواز دیں، میں آپ کے عصا کو سننے کی قدرت عطا کرونگا، وہ آپ کی آواز سن کر آپ کا جواب دے گا.
حضرت موسٰی علیہ السلام نے اپنے عصا کو آواز دی. عصا نے خدا کی قدرت سے جواب دیا اور زمین سے دونیم حالت میں برآمد ہوا. آپؑ نے اپنے عصا کے دونوں حصوں کو اٹھا لیا اور پھر آپس میں ملا دیا تو وہ ٹھیک ہو گیا.
(موضوعی داستانیں)
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 عیب پوشی کے بارے مزید پوسٹس کے لیے لنک پر کلک کریں.
🌺 پردہ پوشی
https://t.me/islamwitheman/323
⭕ پردہ پوشی
https://t.me/islamwitheman/280
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
آدمیوں کے عیوب کی تلاشی خباثتِ نفس ہے اور انکے عیبوں کا اظہار معیوب بلکہ آیات واخبار سے پایا جاتا ہے کہ جو شخص عیوب کا متلاشی ہو اور رسوا کرنیوالا ہو وہ خبیث ترین انسان ہے.
● ارشادِ خداوندی ہے..
اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ. (القرآن)
ترجمہ:
جو لوگ مؤمنين کے اعمال ناشائستہ کے ظاہر کرنے کو دوست رکھتے ہیں انکے لئے عذاب دردناک ہے.
●حضرت محمدؐ نے فرمایا؛
مَنْ عَلِمَ مِنْ اَخِیْہِ سَیِّئًا فَسَتَرَهَا سَتَرَاللەُ عَلَیْہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ. (میزان الحکمہ:14377)
ترجمہ:
جو کوئی اپنے بھائی کی کسی برائی پر اطلاع پائے اور اسے چھپا دے تو اللہ تعالٰی قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا.
● رسول اکرمؐ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا، عرض کیا؛
میں چاہتا ہوں آپ مجھے کوئی طریقہ بتائیں کہ خداوندمتعال میرے عیوب کی پردہ پوشی فرمائے.
آپؐ نے فرمایا؛
اُسْتُرْ عُیُوْبَ اِخْوَانِکَ یَسْتَرُ اللهُ عَلَیْکَ عُیُوْبَکَ.
آپ اپنے مسلمان بھائیوں کی عیب پوشی کیا کریں، اللہ تعالٰی آپ کی عیب پوشی فرمائے گا. (میزان الحکمہ:(14380)
● احادیث میں وارد ہوا ہے کہ قیامت کے روز ایک شخص کو لایا جائے گا وہ سخت رو رہا ہو گا. اسے خطاب ہو گا، پوچھا جائے گا کہ کیوں روتے ہو؟
وہ عرض کریگا؛ میں آج اس خیال سے روتا ہوں کہ آج اہلِ محشر اور فرشتوں کے درمیان میرے کیا کیا عیب ظاہر ہوں گے.
اسے خداوندمتعال کی طرف سے خطاب ہوگا؛
اے میرے بندے! میں نے دنیا میں اس وقت جب تو میری نافرمانی میں مصروفِ عمل تھا اور خوشحالی سے ہنس رہا تھا، تجھے تیرے عیب ظاہر کر کے رسوا نہیں کیا، آج کس طرح تیری آبروریزی کرونگا جبکہ آج تو پریشان ہے اور رو رہا ہے.
■ ایک دن حضرت موسٰیؑ سو رہے تھے کہ بنی اسرائیل کے کسی شخص نے آپؑ کا عصا چُرا لیا، اسے درمیان سے کاٹ کر دونوں ٹکڑے زمیں میں دفن کر دیے.
جب حضرت موسٰیؑ کی آنکھ کھلی تو آپ نے اپنا عصا غائب پایا. اسی وقت اپنے رب ذوالجلال کے حضور شکایت کی؛ خدایا یہ میرے عصا کا کیا ہوا. میرا عصا کدھر گیا؟
ندا آئی؛ موسٰیؑ آپ کے عصا کو کسی نے دو ٹکڑے کرکے زمین میں دفن کردیا ہے.
حضرت موسٰیؑ نے عرض کیا؛
خدایا کون ہے وہ..؟ کس نے یہ کام کیا..؟ کہاں پر چھپایا ہے میرے عصا کو..؟
جواب ملا؛
موسٰیؑ آپ کو تو معلوم ہے، میرا حکم ہے کہ میرے بندوں کی پردہ پوشی کی جائے. آپ جس جگہ کھڑے ہیں اسی جگہ پر اپنے عصا کو آواز دیں، میں آپ کے عصا کو سننے کی قدرت عطا کرونگا، وہ آپ کی آواز سن کر آپ کا جواب دے گا.
حضرت موسٰی علیہ السلام نے اپنے عصا کو آواز دی. عصا نے خدا کی قدرت سے جواب دیا اور زمین سے دونیم حالت میں برآمد ہوا. آپؑ نے اپنے عصا کے دونوں حصوں کو اٹھا لیا اور پھر آپس میں ملا دیا تو وہ ٹھیک ہو گیا.
(موضوعی داستانیں)
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 عیب پوشی کے بارے مزید پوسٹس کے لیے لنک پر کلک کریں.
🌺 پردہ پوشی
https://t.me/islamwitheman/323
⭕ پردہ پوشی
https://t.me/islamwitheman/280
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌺 پردہ پوشی 🌺
بنی اسرائیل کے زمانے میں ایک مرتبہ قحط پڑ گیا، مدتوں سے بارش نہیں ہو رہی تھی۔ لوگ حضرت موسیٰؑ کے پاس گئے اور عرض کیا:
یاکلیم اللہ! رب تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ بارش نازل فرمائے۔۔۔
چنانچہ حضرت موسیٰؑ نے اپنی قوم کو ہمراہ لیا اور بستی سے باہر…
بنی اسرائیل کے زمانے میں ایک مرتبہ قحط پڑ گیا، مدتوں سے بارش نہیں ہو رہی تھی۔ لوگ حضرت موسیٰؑ کے پاس گئے اور عرض کیا:
یاکلیم اللہ! رب تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ بارش نازل فرمائے۔۔۔
چنانچہ حضرت موسیٰؑ نے اپنی قوم کو ہمراہ لیا اور بستی سے باہر…
🔷مرنےکے5بڑےپچھتاوے(حصہ اول)🔷
برونی وئیر (Bronnie Ware) ایک آسٹریلین نرس تھی۔ مگر اس کا کام عام نرسوں جیسا نہیں تھا۔
وہ ایک ایسے کلینک میں کام کرتی رہی جہاں ایسے مریض لائے جاتے تھے جو زندگی کی بازی ہار رہے ہوتے تھے۔
ان کی سانسیں چند ہفتوں کی مہمان ہوتی تھیں۔ مریضوں میں ہرعمر اور ہر مرض کے لوگ ہوتے تھے۔
ان میں صرف ایک چیز یکساں ہوتی کہ وہ صرف چند ہفتوں کے مہمان ہوتے تھے۔ زندگی کی ڈورٹوٹنے والی ہوتی تھی۔ برونی نے محسوس کیا کہ اسکے کلینک میں دس بارہ ہفتوں سے زیادہ کوئی زندہ نہ رہتاتھا۔
کلینک میں موجود دوسرے ڈاکٹروں اور دیگر نرسوں نے ان چند دنوں کی اہمیت کو محسوس نہیں کیا مگر برونی ایک حساس ذہن کی مالک تھی۔
اس نے محسوس کیا کہ اگر انسان کو یہ پتہ ہو کہ وہ اب اس دنیا سے جانے والا ہے تو غیر معمولی حد تک سچ بولنے لگتا ہے۔
اپنے گزرے ہوئے وقت پر نظر ڈال کرنتائج نکالنے کی صلاحیت سے مالا مال ہوجاتا ہے‘ اپنی تمام عمر کے المیے، خوشیاں اورنچوڑ سب کچھ بتانا چاہتا ہے۔
برونی نے محسوس کیا، کہ موت کی وادی کے سفر پر روانگی سے چنددن پہلے انسان مکمل طور پر تنہا ہوجاتا ہے۔
خوفناک اکیلے پن کے احساس میں مبتلا شخص لوگوں کو اپنی زندگی کے بارے میں بتانا چاہتا ہے۔ باتیں کرنا چاہتا ہے۔ مگر اس کے پاس کوئی نہیں ہوتا۔ کوئی رشتہ دار، کوئی عزیز اور کوئی ہمدرد۔
برونی نے فیصلہ کیا کہ زندگی سے اگلے سفر پر جانے والے تمام لوگوں کی باتیں سنے گی۔ان سے مکالمہ کرے گی۔ ان سے ان کے بیتے ہوئے وقت کی خوشیاں، غم، دکھ، تکلیف اورمسائل سب کچھ غورسے سن کرمحفوظ کرلے گی۔ چنانچہ برونی نے اپنے مریضوں کے آخری وقت کو کمپیوٹر پرایک" بلاگ (Blog) " کی شکل میں مرتب کرناشروع کر دیا۔
اس کے بلاگ کو بے انتہا مقبولیت حاصل ہوگئی۔ لاکھوں کی تعدادمیں لوگوں نے پوری دنیاسے ان کی لکھی ہوئی باتوں کو پڑھنا شروع کر دیا۔ برونی کے خواب وخیال میں نہیں تھا کہ اس کے اور مریضوں کے تاثرات کو اتنی پذیرائی ملے گی۔
اس نے ایک اور بڑا کام کر ڈالا۔
یہ سب کچھ ایک کتاب میں لکھ دیا۔
اس کتاب کانام
”مرنے کے پانچ بڑے پچھتاوے”
The top five regrets of Dying
تھا۔
برونی کی تصنیف شدہ کتاب مقبولیت کی بلندترین سطح کوچھونے لگی۔
حیرت کی بات یہ بھی تھی کہ تمام دم توڑتے لوگوں کے تاثرات بالکل یکساں تھے۔ وہ ایک جیسے ذہنی پُل صراط سے گزررہے تھے۔ یہ پانچ پچھتاوے کیا تھے!
دنیا چھوڑنے سے پہلے ایک بات سب نے کہی۔ اس سے کوئی بھی مستثناء نہیں تھا۔ ہرایک کی زبان پر تھا کہ مجھ میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ زندگی کو اپنی طرح سے جیتا۔ پوری زندگی کو اپنے ارد گرد کے لوگوں کی توقعات کے حساب سے بسر کرتا رہا۔
● برونی کواندازہ ہوا کہ ہر انسان کے خواب ہوتے ہیں۔ مگر وہ تمام خواب ادھورے صرف اس وجہ سے رہ جاتے ہیں کہ انسان اپنی زندگی کی ڈور ارد گرد کے واقعات، حادثات اور لوگوں کے ہاتھ میں دے دیتا ہے۔ وہ زندگی میں خود فیصلے کر ہی نہیں پاتا۔ یہ تمام لوگوں کا پہلا اور یکساں پچھتاوا تھا۔
● دوسری بات جو خصوصاً مرد حضرات نے زیادہ کہی کیونکہ اکثرحالات میں گھر کے اخراجات پورے کرنے کی ذمے داری مرد کی ہوتی ہے۔ یہ کہ انھوں نے اپنے کام یا کاروبار پر اتنی توجہ دی کہ اپنے بچوں کابچپن نہ دیکھ پائے۔ وقت کی قلت کے باعث اپنے خاندان کو اچھی طرح جان نہیں پائے۔ کام اور روزگار کے غم نے ان سے تمام وقت ہی چھین لیا جس میں دراصل انھیں کافی ٹائم اپنے بچوں اور اہل خانہ کو دینا چاہیے تھا۔
ساری محنت جن لوگوں کے لیے کر رہے تھے، کام کی زیادتی نے دراصل اسے ان سے دورکر دیا۔ کام ان کے لیے پھانسی کا پھندا بن گیاجس نے ان کی زندگی میں کامیابی ضرور دی، مگر ان کو اپنے نزدیک ترین رشتوں کے لیے اجنبی بنادیا۔
برونی نے اپنے اکثر مریضوں کو یہ کہتے سنا کہ انھیں اپنی زندگی میں اتناکام نہیں کرنا چاہیے تھاکہ رشتوں کی دنیا میں اکیلے رہ جائیں۔ یہ دوسرا احساس زیاں تھا۔
● تیسری بات بھی انتہائی اہم تھی۔
اکثر لوگوں نے خودسے گلہ کیا کہ ان میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ اپنے اصل خیالات اورجذبات سے دوسروں کو آگاہ کر پاتے۔
بیشتر لوگ صرف اس لیے اپنے اصل جذبات کا اظہار نہ کر پائے کہ دوسروں کو ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے یا دوسروں کا خیال رکھنا چاہتے تھے۔
مگراس کا نقصان یہ ہوا کہ وہ ایک عامیانہ سی زندگی گزارتے رہے۔ ان کی تمام صلاحیتیں ان کے اندر قید رہ گئیں ۔ کئی افراد کے مزاج میں اس وجہ سے اتنی تلخی آگئی کہ تمام عمر کڑھتے رہے۔ انھیں ہونے والے نقصان کاعلم اس وقت ہوا جب بیمار پڑ گے اور کسی قابل نہ رہے۔
● چوتھا غم بھی بڑا فکر انگیز تھا۔
اکثر لوگ اس افسوس کا اظہار کرتے رہے کہ اپنے پرانے دوستوں سے....
جاری ہے... اس کے مکمل دو حصے ہیں. اس کا بقیہ حصہ دوم میں ملاحظہ فرمائیے.
https://t.me/islamwitheman/511
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
برونی وئیر (Bronnie Ware) ایک آسٹریلین نرس تھی۔ مگر اس کا کام عام نرسوں جیسا نہیں تھا۔
وہ ایک ایسے کلینک میں کام کرتی رہی جہاں ایسے مریض لائے جاتے تھے جو زندگی کی بازی ہار رہے ہوتے تھے۔
ان کی سانسیں چند ہفتوں کی مہمان ہوتی تھیں۔ مریضوں میں ہرعمر اور ہر مرض کے لوگ ہوتے تھے۔
ان میں صرف ایک چیز یکساں ہوتی کہ وہ صرف چند ہفتوں کے مہمان ہوتے تھے۔ زندگی کی ڈورٹوٹنے والی ہوتی تھی۔ برونی نے محسوس کیا کہ اسکے کلینک میں دس بارہ ہفتوں سے زیادہ کوئی زندہ نہ رہتاتھا۔
کلینک میں موجود دوسرے ڈاکٹروں اور دیگر نرسوں نے ان چند دنوں کی اہمیت کو محسوس نہیں کیا مگر برونی ایک حساس ذہن کی مالک تھی۔
اس نے محسوس کیا کہ اگر انسان کو یہ پتہ ہو کہ وہ اب اس دنیا سے جانے والا ہے تو غیر معمولی حد تک سچ بولنے لگتا ہے۔
اپنے گزرے ہوئے وقت پر نظر ڈال کرنتائج نکالنے کی صلاحیت سے مالا مال ہوجاتا ہے‘ اپنی تمام عمر کے المیے، خوشیاں اورنچوڑ سب کچھ بتانا چاہتا ہے۔
برونی نے محسوس کیا، کہ موت کی وادی کے سفر پر روانگی سے چنددن پہلے انسان مکمل طور پر تنہا ہوجاتا ہے۔
خوفناک اکیلے پن کے احساس میں مبتلا شخص لوگوں کو اپنی زندگی کے بارے میں بتانا چاہتا ہے۔ باتیں کرنا چاہتا ہے۔ مگر اس کے پاس کوئی نہیں ہوتا۔ کوئی رشتہ دار، کوئی عزیز اور کوئی ہمدرد۔
برونی نے فیصلہ کیا کہ زندگی سے اگلے سفر پر جانے والے تمام لوگوں کی باتیں سنے گی۔ان سے مکالمہ کرے گی۔ ان سے ان کے بیتے ہوئے وقت کی خوشیاں، غم، دکھ، تکلیف اورمسائل سب کچھ غورسے سن کرمحفوظ کرلے گی۔ چنانچہ برونی نے اپنے مریضوں کے آخری وقت کو کمپیوٹر پرایک" بلاگ (Blog) " کی شکل میں مرتب کرناشروع کر دیا۔
اس کے بلاگ کو بے انتہا مقبولیت حاصل ہوگئی۔ لاکھوں کی تعدادمیں لوگوں نے پوری دنیاسے ان کی لکھی ہوئی باتوں کو پڑھنا شروع کر دیا۔ برونی کے خواب وخیال میں نہیں تھا کہ اس کے اور مریضوں کے تاثرات کو اتنی پذیرائی ملے گی۔
اس نے ایک اور بڑا کام کر ڈالا۔
یہ سب کچھ ایک کتاب میں لکھ دیا۔
اس کتاب کانام
”مرنے کے پانچ بڑے پچھتاوے”
The top five regrets of Dying
تھا۔
برونی کی تصنیف شدہ کتاب مقبولیت کی بلندترین سطح کوچھونے لگی۔
حیرت کی بات یہ بھی تھی کہ تمام دم توڑتے لوگوں کے تاثرات بالکل یکساں تھے۔ وہ ایک جیسے ذہنی پُل صراط سے گزررہے تھے۔ یہ پانچ پچھتاوے کیا تھے!
دنیا چھوڑنے سے پہلے ایک بات سب نے کہی۔ اس سے کوئی بھی مستثناء نہیں تھا۔ ہرایک کی زبان پر تھا کہ مجھ میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ زندگی کو اپنی طرح سے جیتا۔ پوری زندگی کو اپنے ارد گرد کے لوگوں کی توقعات کے حساب سے بسر کرتا رہا۔
● برونی کواندازہ ہوا کہ ہر انسان کے خواب ہوتے ہیں۔ مگر وہ تمام خواب ادھورے صرف اس وجہ سے رہ جاتے ہیں کہ انسان اپنی زندگی کی ڈور ارد گرد کے واقعات، حادثات اور لوگوں کے ہاتھ میں دے دیتا ہے۔ وہ زندگی میں خود فیصلے کر ہی نہیں پاتا۔ یہ تمام لوگوں کا پہلا اور یکساں پچھتاوا تھا۔
● دوسری بات جو خصوصاً مرد حضرات نے زیادہ کہی کیونکہ اکثرحالات میں گھر کے اخراجات پورے کرنے کی ذمے داری مرد کی ہوتی ہے۔ یہ کہ انھوں نے اپنے کام یا کاروبار پر اتنی توجہ دی کہ اپنے بچوں کابچپن نہ دیکھ پائے۔ وقت کی قلت کے باعث اپنے خاندان کو اچھی طرح جان نہیں پائے۔ کام اور روزگار کے غم نے ان سے تمام وقت ہی چھین لیا جس میں دراصل انھیں کافی ٹائم اپنے بچوں اور اہل خانہ کو دینا چاہیے تھا۔
ساری محنت جن لوگوں کے لیے کر رہے تھے، کام کی زیادتی نے دراصل اسے ان سے دورکر دیا۔ کام ان کے لیے پھانسی کا پھندا بن گیاجس نے ان کی زندگی میں کامیابی ضرور دی، مگر ان کو اپنے نزدیک ترین رشتوں کے لیے اجنبی بنادیا۔
برونی نے اپنے اکثر مریضوں کو یہ کہتے سنا کہ انھیں اپنی زندگی میں اتناکام نہیں کرنا چاہیے تھاکہ رشتوں کی دنیا میں اکیلے رہ جائیں۔ یہ دوسرا احساس زیاں تھا۔
● تیسری بات بھی انتہائی اہم تھی۔
اکثر لوگوں نے خودسے گلہ کیا کہ ان میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ اپنے اصل خیالات اورجذبات سے دوسروں کو آگاہ کر پاتے۔
بیشتر لوگ صرف اس لیے اپنے اصل جذبات کا اظہار نہ کر پائے کہ دوسروں کو ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے یا دوسروں کا خیال رکھنا چاہتے تھے۔
مگراس کا نقصان یہ ہوا کہ وہ ایک عامیانہ سی زندگی گزارتے رہے۔ ان کی تمام صلاحیتیں ان کے اندر قید رہ گئیں ۔ کئی افراد کے مزاج میں اس وجہ سے اتنی تلخی آگئی کہ تمام عمر کڑھتے رہے۔ انھیں ہونے والے نقصان کاعلم اس وقت ہوا جب بیمار پڑ گے اور کسی قابل نہ رہے۔
● چوتھا غم بھی بڑا فکر انگیز تھا۔
اکثر لوگ اس افسوس کا اظہار کرتے رہے کہ اپنے پرانے دوستوں سے....
جاری ہے... اس کے مکمل دو حصے ہیں. اس کا بقیہ حصہ دوم میں ملاحظہ فرمائیے.
https://t.me/islamwitheman/511
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 یہ وقت بھی گزر جائیگا 🔷
ایک شخص کو کسی کا قرض ادا کرنا تھا، قرض خواہ نے قرضدار کو مزدوری کے طور پر بیل کے ساتھ ہل میں جوت دیا۔ ایک تیسرا شخص وہاں سے گزرا تو اسے قرضدار کی حالت پر ترس آگیا، اس نے قرض دار کو قرض ادا کرنے کی آفر کی لیکن قرض دار نے یہ کہہ…
ایک شخص کو کسی کا قرض ادا کرنا تھا، قرض خواہ نے قرضدار کو مزدوری کے طور پر بیل کے ساتھ ہل میں جوت دیا۔ ایک تیسرا شخص وہاں سے گزرا تو اسے قرضدار کی حالت پر ترس آگیا، اس نے قرض دار کو قرض ادا کرنے کی آفر کی لیکن قرض دار نے یہ کہہ…
🔷مرنےکے5بڑےپچھتاوے(حصہ دوم)🔷
● چوتھا غم بھی بڑا فکرانگیز تھا۔
اکثرلوگ اس افسوس کااظہار کرتےرہے کہ اپنے پرانے دوستوں سےرابطہ میں نہ رہ پائے۔ نوکری، کام، روزگار یا کاروبار میں اتنے مصروف ہوگئے کہ انکے بہترین دوست ان سے دور ہوتےگئے۔
انکو اس زیاں کااحساس تک نہ ہوا۔ اپنے اچھے دوستوں کو وقت نہ دےپائے جن سے ایک بےلوث جذبے کی آبیاری ہوتی رہتی۔ کشمکشِ زندگی نے انھیں اپنے قریب ترین دوستوں سے بھی اتنا دور کردیا کہ سب عملی طور پر اجنبی سے بن گئے۔
سالہاسال کیبعد ملاقات اور وہ بھی ادھوری سی۔
برونی نے محسوس کیاکہ سب لوگوں کی خواہش تھی کہ آخری وقت میں انکے بہترین دوست انکے ساتھ ہوتے۔ عجیب حقیقت یہ تھی کہ کسی کےساتھ بھی سانس ختم ہوتے وقت اسکے دوست موجود نہیں تھے۔
اکثرمریض برونی کو اپنےپرانے دوستوں کے نام بتاتےتھے۔ ان تمام خوشگوار اور غمگین لمحوں کو دہراتےتھے جووقت کی گرد میں کہیں گم ہوچکےتھے۔ اپنے دوستوں کی حِس مزاح، عادات اور انکی شرارتوں کا ذکرکرتے رہتےتھے۔
برونی تمام مریضوں کو جھوٹا دلاسہ دیتی رہتی کہ وہ فکر نہ کریں، انکے دوست انکے پاس آتےہی ہوں گے۔
مگرحقیقت میں کسی کےپاس بھی ایک دوسرے کیلئے وقت نہیں تھا۔ زندگی میں بھی اورآخری سانسوں میں بھی!
● پانچویں اور آخری بات بہت متاثرکن تھی۔ تمام مریض یہ کہتےتھے کہ انھوں نے اپنے آپ کو ذاتی طورپرخوش رکھنے کیلئے کوئی محنت نہیں کی۔
اکثریت نےدوسروں کی خوشی کواپنی خوشی جان لیا۔ اپنی خوشی کوجاننے اور پہچاننے کا عمل شروع ہی نہیں کیا۔
اکثر لوگوں نے اپنی خوشی کوقربان کرڈالا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انکی زندگی سے مسرت کاخوبصورت پرندہ غائب ہوگیا۔ وہ لوگوں کوظاہری طورپر متاثرکرتے رہے کہ انتہائی مطمئن زندگی گزار رہےہیں۔
دراصل انھوں نےنئےتجربے کرنےچھوڑ دیے۔ وہ یکسانیت کاشکار ہوگئے۔ تبدیلی سے اتنے گھبرا گئے کہ پوری زندگی ایک غلط تاثردیا
کہ بہت اطمینان سےاپنی زندگی گزاررہے ہیں۔ لیکن انھوں نےاپنے اندرہنسی اور قہقہوں کومصلوب کردیا۔ تمام خوبصورت اور بھرپور جذبے پنہاں رہے بلکہ پابندسلاسل ہی رہے۔
عمر کیساتھ ساتھ اپنےاوپرسنجیدگی اور غیرجذباتیت کا ایساخول چڑھالیا، کہ ہنسنابھول گئے۔ اپنےقہقہوں کی بھرپور آوازسنی ہی نہیں۔ اپنےاندر گھٹ گھٹ کر جیتے رہےمگر اپنی خوشی کی پرواہ نہیں کی۔ حماقتیں کرنےکی جدوجہد بھی ترک کرڈالی۔
نتیجہ یہ ہواکہ عجیب سی زندگی گزارکر سفرعدم پر روانہ ہوگئے۔
■ برونی کی تمام باتیں میرے ذہن پر نقش ہوچکی ہیں۔ میرےعلم میں ہے کہ آپ سب لوگ انتہائی ذہین ہیں۔ آپکی زندگی میں یہ پانچ غم بالکل نہیں ہونگے۔ آپ ہرطرح سے مکمل اور بھرپور زندگی گزار رہےہوں گے۔ اپنے بچوں اور خاندان کو وقت دیتےہوں گے۔ اپنے جذبات کو اپنےاندر ابلنے نہیں دیتے ہونگے۔ پرانےدوستوں کیساتھ خوب قہقہے لگاتے ہونگے۔ اپنی ذات کی خوشی کو بھرپور اہمیت دیتےہوں گے۔
● مگر مجھےایسے لگتاہے کہ ہم سب لوگ ان پانچوں المیوں میں سےکسی نہ کسی کا شکار ضرورہیں۔
● اس کےباوجود میری دعاہے کہ کسی بھی شخص کی زندگی میں پانچ تو درکنار، ایک بھی پچھتاوا نہ ہو۔
مگر..
شائدمیں غلط کہہ رہاہوں؟
■ ایک بادشاہ نےکسی بات پرخوش ہوکر ایک شخص کو یہ اختیار دیاکہ وہ سورج غروب ھونے تک جتنی زمین کادائرہ مکمل کرلےگا، وہ زمین اسکو الاٹ کردی جائیگی۔ اوراگر وہ دائرہ مکمل نہ کرسکا اورسورج غروب ھوگیا تواسے کچھ نہیں ملےگا۔
یہ سن کر وہ شخص چل پڑا. چلتےچلتے ظہر ھوگئی تو اسے خیال آیا کہ اب واپسی کاچکر شروع کردینا چاھئے، مگر پھر لالچ نے غلبہ پالیا اورسوچا کہ تھوڑا سا اور آگے سےچکر کاٹ لوں. پھر واپسی کاخیال آیا تو سامنے کے خوبصورت پہاڑ کو دیکھ کر اس نےسوچا اسکو بھی اپنی جاگیر میں شامل کرلیناچاھئے۔
الغرض واپسی کا سفر کافی دیرسے شروع کیا. اب واپسی میں یوں لگتاتھا جیسے سورج نے اسکے ساتھ مسابقت شروع کردی ھے۔ وہ جتناتیز چلتا پتہ چلتا سورج بھی اُتنا جلدی ڈھل رھاھے۔ عصر کیبعد تو سورج ڈھلنےکی بجائے لگتاتھا پِگهلنا شروع ھوگیا ھے۔
وہ شخص دوڑناشروع ھوگیا کیونکہ اسے سب کچھ ہاتھ سےجاتانطر آرھا تھا۔ اب وہ اپنی لالچ کوکوس رہاتھا، مگربہت دیر ھوچکی تھی۔ دوڑتےدوڑتے اسکا سینہ درد سے پھٹاجا رھاتھا،مگر وہ تھا کہ بس دوڑے جا رھاتھا.
آخرسورج غروب ہوا تو وہ شخص اسطرح گرا کہ اسکا سر اسکے سٹارٹنگ پوائنٹ کوچھو رہاتھا اور پاؤں واپسی کے دائرےکو مکمل کر رھےتھے، یوں اسکی لاش نے دائرہ مکمل کردیا- جس جگہ وہ گراتھا اسی جگہ اسکی قبر بنائی گئی اور قبر پرکتبہ لگایاگیا، جس پرلکھا تھا..
"اس شخص کی ضرورت بس اتنی ساری جگہ تھی جتنی جگہ اسکی قبرھے"
اللہ پاک نےبھی اسیطرف اشارہ کیاھے
والعصر، ان الانسان لفی خسر...
آج ہمارے دائرےبھی بہت بڑے ھوگئے ہیں، چلئے واپسی کی سوچ سوچتےہیں..
اللہ ہمیں موت سے پہلےموت کی تیاری کی توفیق نصیب فرمائے اور خاتمہ بالخیر فرمائے.. آمین
👆ایک مراسلہ👆
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
● چوتھا غم بھی بڑا فکرانگیز تھا۔
اکثرلوگ اس افسوس کااظہار کرتےرہے کہ اپنے پرانے دوستوں سےرابطہ میں نہ رہ پائے۔ نوکری، کام، روزگار یا کاروبار میں اتنے مصروف ہوگئے کہ انکے بہترین دوست ان سے دور ہوتےگئے۔
انکو اس زیاں کااحساس تک نہ ہوا۔ اپنے اچھے دوستوں کو وقت نہ دےپائے جن سے ایک بےلوث جذبے کی آبیاری ہوتی رہتی۔ کشمکشِ زندگی نے انھیں اپنے قریب ترین دوستوں سے بھی اتنا دور کردیا کہ سب عملی طور پر اجنبی سے بن گئے۔
سالہاسال کیبعد ملاقات اور وہ بھی ادھوری سی۔
برونی نے محسوس کیاکہ سب لوگوں کی خواہش تھی کہ آخری وقت میں انکے بہترین دوست انکے ساتھ ہوتے۔ عجیب حقیقت یہ تھی کہ کسی کےساتھ بھی سانس ختم ہوتے وقت اسکے دوست موجود نہیں تھے۔
اکثرمریض برونی کو اپنےپرانے دوستوں کے نام بتاتےتھے۔ ان تمام خوشگوار اور غمگین لمحوں کو دہراتےتھے جووقت کی گرد میں کہیں گم ہوچکےتھے۔ اپنے دوستوں کی حِس مزاح، عادات اور انکی شرارتوں کا ذکرکرتے رہتےتھے۔
برونی تمام مریضوں کو جھوٹا دلاسہ دیتی رہتی کہ وہ فکر نہ کریں، انکے دوست انکے پاس آتےہی ہوں گے۔
مگرحقیقت میں کسی کےپاس بھی ایک دوسرے کیلئے وقت نہیں تھا۔ زندگی میں بھی اورآخری سانسوں میں بھی!
● پانچویں اور آخری بات بہت متاثرکن تھی۔ تمام مریض یہ کہتےتھے کہ انھوں نے اپنے آپ کو ذاتی طورپرخوش رکھنے کیلئے کوئی محنت نہیں کی۔
اکثریت نےدوسروں کی خوشی کواپنی خوشی جان لیا۔ اپنی خوشی کوجاننے اور پہچاننے کا عمل شروع ہی نہیں کیا۔
اکثر لوگوں نے اپنی خوشی کوقربان کرڈالا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انکی زندگی سے مسرت کاخوبصورت پرندہ غائب ہوگیا۔ وہ لوگوں کوظاہری طورپر متاثرکرتے رہے کہ انتہائی مطمئن زندگی گزار رہےہیں۔
دراصل انھوں نےنئےتجربے کرنےچھوڑ دیے۔ وہ یکسانیت کاشکار ہوگئے۔ تبدیلی سے اتنے گھبرا گئے کہ پوری زندگی ایک غلط تاثردیا
کہ بہت اطمینان سےاپنی زندگی گزاررہے ہیں۔ لیکن انھوں نےاپنے اندرہنسی اور قہقہوں کومصلوب کردیا۔ تمام خوبصورت اور بھرپور جذبے پنہاں رہے بلکہ پابندسلاسل ہی رہے۔
عمر کیساتھ ساتھ اپنےاوپرسنجیدگی اور غیرجذباتیت کا ایساخول چڑھالیا، کہ ہنسنابھول گئے۔ اپنےقہقہوں کی بھرپور آوازسنی ہی نہیں۔ اپنےاندر گھٹ گھٹ کر جیتے رہےمگر اپنی خوشی کی پرواہ نہیں کی۔ حماقتیں کرنےکی جدوجہد بھی ترک کرڈالی۔
نتیجہ یہ ہواکہ عجیب سی زندگی گزارکر سفرعدم پر روانہ ہوگئے۔
■ برونی کی تمام باتیں میرے ذہن پر نقش ہوچکی ہیں۔ میرےعلم میں ہے کہ آپ سب لوگ انتہائی ذہین ہیں۔ آپکی زندگی میں یہ پانچ غم بالکل نہیں ہونگے۔ آپ ہرطرح سے مکمل اور بھرپور زندگی گزار رہےہوں گے۔ اپنے بچوں اور خاندان کو وقت دیتےہوں گے۔ اپنے جذبات کو اپنےاندر ابلنے نہیں دیتے ہونگے۔ پرانےدوستوں کیساتھ خوب قہقہے لگاتے ہونگے۔ اپنی ذات کی خوشی کو بھرپور اہمیت دیتےہوں گے۔
● مگر مجھےایسے لگتاہے کہ ہم سب لوگ ان پانچوں المیوں میں سےکسی نہ کسی کا شکار ضرورہیں۔
● اس کےباوجود میری دعاہے کہ کسی بھی شخص کی زندگی میں پانچ تو درکنار، ایک بھی پچھتاوا نہ ہو۔
مگر..
شائدمیں غلط کہہ رہاہوں؟
■ ایک بادشاہ نےکسی بات پرخوش ہوکر ایک شخص کو یہ اختیار دیاکہ وہ سورج غروب ھونے تک جتنی زمین کادائرہ مکمل کرلےگا، وہ زمین اسکو الاٹ کردی جائیگی۔ اوراگر وہ دائرہ مکمل نہ کرسکا اورسورج غروب ھوگیا تواسے کچھ نہیں ملےگا۔
یہ سن کر وہ شخص چل پڑا. چلتےچلتے ظہر ھوگئی تو اسے خیال آیا کہ اب واپسی کاچکر شروع کردینا چاھئے، مگر پھر لالچ نے غلبہ پالیا اورسوچا کہ تھوڑا سا اور آگے سےچکر کاٹ لوں. پھر واپسی کاخیال آیا تو سامنے کے خوبصورت پہاڑ کو دیکھ کر اس نےسوچا اسکو بھی اپنی جاگیر میں شامل کرلیناچاھئے۔
الغرض واپسی کا سفر کافی دیرسے شروع کیا. اب واپسی میں یوں لگتاتھا جیسے سورج نے اسکے ساتھ مسابقت شروع کردی ھے۔ وہ جتناتیز چلتا پتہ چلتا سورج بھی اُتنا جلدی ڈھل رھاھے۔ عصر کیبعد تو سورج ڈھلنےکی بجائے لگتاتھا پِگهلنا شروع ھوگیا ھے۔
وہ شخص دوڑناشروع ھوگیا کیونکہ اسے سب کچھ ہاتھ سےجاتانطر آرھا تھا۔ اب وہ اپنی لالچ کوکوس رہاتھا، مگربہت دیر ھوچکی تھی۔ دوڑتےدوڑتے اسکا سینہ درد سے پھٹاجا رھاتھا،مگر وہ تھا کہ بس دوڑے جا رھاتھا.
آخرسورج غروب ہوا تو وہ شخص اسطرح گرا کہ اسکا سر اسکے سٹارٹنگ پوائنٹ کوچھو رہاتھا اور پاؤں واپسی کے دائرےکو مکمل کر رھےتھے، یوں اسکی لاش نے دائرہ مکمل کردیا- جس جگہ وہ گراتھا اسی جگہ اسکی قبر بنائی گئی اور قبر پرکتبہ لگایاگیا، جس پرلکھا تھا..
"اس شخص کی ضرورت بس اتنی ساری جگہ تھی جتنی جگہ اسکی قبرھے"
اللہ پاک نےبھی اسیطرف اشارہ کیاھے
والعصر، ان الانسان لفی خسر...
آج ہمارے دائرےبھی بہت بڑے ھوگئے ہیں، چلئے واپسی کی سوچ سوچتےہیں..
اللہ ہمیں موت سے پہلےموت کی تیاری کی توفیق نصیب فرمائے اور خاتمہ بالخیر فرمائے.. آمین
👆ایک مراسلہ👆
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷️ موت اور اس کی تیاری (درس) 🔷️
موت ایک سواری ہے جو ہر دروازے پر کھڑی ہوتی ہے، آخر مٹی کے اندر اترنا ہو گا. اپنی زندگی کا سرمایہ اپنی قبر میں بھیجیں قبل اس کے کہ دنیاوی زندگی کا خاتمہ ہو.
● قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے..
کل نفس ذائقة الموت.
ہر جاندار موت کو چکهنے والا ہے.(1)
● حضرت رسول اکرمؐ فرماتے ہیں..
"إستعد للموت قبل نزول الموت"
موت کے آنے سے قبل موت کی تیاری کرو.(2)
● حضرت علیؑ فرماتے ہیں..
"تذودوا فی ایام الفناء لایام البقاء"
فانی زندگی کے دنوں میں باقی رہنے والی زندگی کے لئے سامان اکٹھا کرو.(3)
■ حضرت علیؑ اور گھر کا سامان:
سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ حضرت علیؑ کی خلافتِ ظاہری کے زمانے میں مجھے آپؑ کی خدمت میں حاضر ہونے اور زیارت کرنے کی سعادت نصیب ہوئی. میں نے دیکھا کہ آپؑ ایک چھوٹی سی چٹائی پر بیٹھے تھے اور اس گھر میں صرف وہی چٹائی نظر آئی، کوئی اور شے میری نظروں سے نہیں گزری. میں نے عرض کیا؛
اے امیرالمؤمنینؑ! یہ سارا بیت المال آپ کی خدمت اور آپ کے اختیار میں ہے لیکن مجھے اس گھر میں، آپ کے اس کمرے میں صرف ایک چٹائی نظر آرہی ہے. اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے. گھر کا کوئی اور سامان، اسباب، متاع نہیں ہے؟
آپؑ نے فرمایا؛
اے غفلہ کے فرزند! عقلمند لوگوں کو جب معلوم ہو کہ وہ جس گھر میں رہ رہے ہیں، اسمیں ہمیشہ نہیں رہنا ہے. اور اس سے ایک دن کوچ کرنا ہے تو وہ اس میں سامان اکٹھا نہیں کرتے.
ہمارے سکون و آرام کا گھر ابھی آگے ہے. ہم اپنے بہترین اور عمدہ سامان زندگی ادھر بهجوا دیتے ہیں. بہت جلد اس کی طرف کوچ کر جائیں گے اور ادھر خوشی سے رہیں گے.(4)
■ حضرت ادریسؑ اور موت کی تیاری:
حضرت ادریسؑ الله تعالیٰ کے پیغمبر تھے. وہ اپنے زمانے کے عابد ترین افراد سے شمار ہوتے تھے. ان کی توجہ دنیا کی جانب بالکل نہ تھی. وہ ہمیشہ روزہ سے ہوتے اور ان کی بس ایک ہی آرزو تھی اور وہ تھی بہشت.
حضرت ادریسؑ کے معمولات کا ہر لمحہ عبادتِ خدا سے معمور ہوتا تھا. روزانہ جب انکی عبادت کے اعمال آسمان پر جاتے تو ملائکہ کے لیے باعثِ تعجب قرار پاتے.
ایک دن ملک الموت نے انکی زیارت کی خواہش کی. خداوندمتعال سے اجازت طلب کی تاکہ حضرت ادریسؑ کی ملاقات کو جائیں. اجازت مل گئی تو وہ ایک انسان کی شکل اختیار فرما کر انکی زیارت کو روانہ ہوئے.
حضرت ادریسؑ نے انکو کھانا پیش کیا تو انہوں نے نہیں کھایا. حضرت ادریسؑ نے پوچھا؛ میں جاننا چاہتا ہوں کہ آپ کون ہیں؟
ملک الموت نے فرمایا؛ میں عزرائیل ہوں اور آپ کی زیارت کے لئے آیا ہوں.
حضرت ادریسؑ نے فرمایا؛ تو آؤ میری روح قبض کرو.
حضرت عزرائیلؑ نے فرمایا؛ یہ کام تو خداوندمتعال کے حکم پر موقوف ہے، اس کی اجازت کے بغیر میں انجام نہیں دے سکتا.
اسی وقت ارشادِ قدرت ہوا؛ اچھا تو ان کی روح قبض کرلو.
عزرائیلؑ نے روح قبض کرلی اور پھر خداوندمتعال نے انہیں زندہ کر دیا. ملک الموت نے پوچھا؛ آپ نے سب کچھ کیسا پایا؟
حضرت ادریسؑ نے فرمایا؛
بہت سخت اور ہولناک منظر اور دشوار کام انجام خطرناک.
عزرائیلؑ نے پوچھا؛
آپ نے یہ یہ خواہش کیونکر کی؟
حضرت ادریسؑ نے فرمایا؛
اس لئے کہ میں موت کی سختی کو چکھ کر دیکھوں اور اپنے آپ کو اس کے لئے آمادہ کرسکوں.(5)
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
📚حوالہ جات:
(1)سورہ آل عمران:185.
(2)میزان الحکمہ:18864.
(3)میزان الحکمہ:18891.
(4)داستانہائے بحارالأنوار، ج4، ص39.
(5)داستانہائے کشف الاسرار، ص365.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ موت اور دنیا کی بے ثباتی کے متعلق مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ لنک پر کلک کریں..
🔷 مرنے کے 5 بڑے پچھتاوے
https://t.me/islamwitheman/554
🔷️ عقلمند بادشاہ
https://t.me/islamwitheman/363
🔷️ یہ وقت بھی گزر جائیگا
https://t.me/islamwitheman/511
🔷️ دنیا ایک ضعیفہ کی صورت
https://t.me/islamwitheman/471
🌹 دنیا کی زندگی
https://t.me/islamwitheman/461
🔷️ ایک گدھے کا حساب
https://t.me/islamwitheman/251
⌚مقررہ وقت
https://t.me/islamwitheman/144
🔷️ دنیا کا دارومدار
https://t.me/islamwitheman/95
🔷️ بیوقوف کون؟
https://t.me/islamwitheman/59
🔷 موت اور اس کی تیاری
https://t.me/islamwitheman/570
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
موت ایک سواری ہے جو ہر دروازے پر کھڑی ہوتی ہے، آخر مٹی کے اندر اترنا ہو گا. اپنی زندگی کا سرمایہ اپنی قبر میں بھیجیں قبل اس کے کہ دنیاوی زندگی کا خاتمہ ہو.
● قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے..
کل نفس ذائقة الموت.
ہر جاندار موت کو چکهنے والا ہے.(1)
● حضرت رسول اکرمؐ فرماتے ہیں..
"إستعد للموت قبل نزول الموت"
موت کے آنے سے قبل موت کی تیاری کرو.(2)
● حضرت علیؑ فرماتے ہیں..
"تذودوا فی ایام الفناء لایام البقاء"
فانی زندگی کے دنوں میں باقی رہنے والی زندگی کے لئے سامان اکٹھا کرو.(3)
■ حضرت علیؑ اور گھر کا سامان:
سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ حضرت علیؑ کی خلافتِ ظاہری کے زمانے میں مجھے آپؑ کی خدمت میں حاضر ہونے اور زیارت کرنے کی سعادت نصیب ہوئی. میں نے دیکھا کہ آپؑ ایک چھوٹی سی چٹائی پر بیٹھے تھے اور اس گھر میں صرف وہی چٹائی نظر آئی، کوئی اور شے میری نظروں سے نہیں گزری. میں نے عرض کیا؛
اے امیرالمؤمنینؑ! یہ سارا بیت المال آپ کی خدمت اور آپ کے اختیار میں ہے لیکن مجھے اس گھر میں، آپ کے اس کمرے میں صرف ایک چٹائی نظر آرہی ہے. اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے. گھر کا کوئی اور سامان، اسباب، متاع نہیں ہے؟
آپؑ نے فرمایا؛
اے غفلہ کے فرزند! عقلمند لوگوں کو جب معلوم ہو کہ وہ جس گھر میں رہ رہے ہیں، اسمیں ہمیشہ نہیں رہنا ہے. اور اس سے ایک دن کوچ کرنا ہے تو وہ اس میں سامان اکٹھا نہیں کرتے.
ہمارے سکون و آرام کا گھر ابھی آگے ہے. ہم اپنے بہترین اور عمدہ سامان زندگی ادھر بهجوا دیتے ہیں. بہت جلد اس کی طرف کوچ کر جائیں گے اور ادھر خوشی سے رہیں گے.(4)
■ حضرت ادریسؑ اور موت کی تیاری:
حضرت ادریسؑ الله تعالیٰ کے پیغمبر تھے. وہ اپنے زمانے کے عابد ترین افراد سے شمار ہوتے تھے. ان کی توجہ دنیا کی جانب بالکل نہ تھی. وہ ہمیشہ روزہ سے ہوتے اور ان کی بس ایک ہی آرزو تھی اور وہ تھی بہشت.
حضرت ادریسؑ کے معمولات کا ہر لمحہ عبادتِ خدا سے معمور ہوتا تھا. روزانہ جب انکی عبادت کے اعمال آسمان پر جاتے تو ملائکہ کے لیے باعثِ تعجب قرار پاتے.
ایک دن ملک الموت نے انکی زیارت کی خواہش کی. خداوندمتعال سے اجازت طلب کی تاکہ حضرت ادریسؑ کی ملاقات کو جائیں. اجازت مل گئی تو وہ ایک انسان کی شکل اختیار فرما کر انکی زیارت کو روانہ ہوئے.
حضرت ادریسؑ نے انکو کھانا پیش کیا تو انہوں نے نہیں کھایا. حضرت ادریسؑ نے پوچھا؛ میں جاننا چاہتا ہوں کہ آپ کون ہیں؟
ملک الموت نے فرمایا؛ میں عزرائیل ہوں اور آپ کی زیارت کے لئے آیا ہوں.
حضرت ادریسؑ نے فرمایا؛ تو آؤ میری روح قبض کرو.
حضرت عزرائیلؑ نے فرمایا؛ یہ کام تو خداوندمتعال کے حکم پر موقوف ہے، اس کی اجازت کے بغیر میں انجام نہیں دے سکتا.
اسی وقت ارشادِ قدرت ہوا؛ اچھا تو ان کی روح قبض کرلو.
عزرائیلؑ نے روح قبض کرلی اور پھر خداوندمتعال نے انہیں زندہ کر دیا. ملک الموت نے پوچھا؛ آپ نے سب کچھ کیسا پایا؟
حضرت ادریسؑ نے فرمایا؛
بہت سخت اور ہولناک منظر اور دشوار کام انجام خطرناک.
عزرائیلؑ نے پوچھا؛
آپ نے یہ یہ خواہش کیونکر کی؟
حضرت ادریسؑ نے فرمایا؛
اس لئے کہ میں موت کی سختی کو چکھ کر دیکھوں اور اپنے آپ کو اس کے لئے آمادہ کرسکوں.(5)
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
📚حوالہ جات:
(1)سورہ آل عمران:185.
(2)میزان الحکمہ:18864.
(3)میزان الحکمہ:18891.
(4)داستانہائے بحارالأنوار، ج4، ص39.
(5)داستانہائے کشف الاسرار، ص365.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ موت اور دنیا کی بے ثباتی کے متعلق مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ لنک پر کلک کریں..
🔷 مرنے کے 5 بڑے پچھتاوے
https://t.me/islamwitheman/554
🔷️ عقلمند بادشاہ
https://t.me/islamwitheman/363
🔷️ یہ وقت بھی گزر جائیگا
https://t.me/islamwitheman/511
🔷️ دنیا ایک ضعیفہ کی صورت
https://t.me/islamwitheman/471
🌹 دنیا کی زندگی
https://t.me/islamwitheman/461
🔷️ ایک گدھے کا حساب
https://t.me/islamwitheman/251
⌚مقررہ وقت
https://t.me/islamwitheman/144
🔷️ دنیا کا دارومدار
https://t.me/islamwitheman/95
🔷️ بیوقوف کون؟
https://t.me/islamwitheman/59
🔷 موت اور اس کی تیاری
https://t.me/islamwitheman/570
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷مرنےکے5بڑےپچھتاوے(حصہ اول)🔷
برونی وئیر (Bronnie Ware) ایک آسٹریلین نرس تھی۔ مگر اس کا کام عام نرسوں جیسا نہیں تھا۔
وہ ایک ایسے کلینک میں کام کرتی رہی جہاں ایسے مریض لائے جاتے تھے جو زندگی کی بازی ہار رہے ہوتے تھے۔
ان کی سانسیں چند ہفتوں کی مہمان ہوتی تھیں۔…
برونی وئیر (Bronnie Ware) ایک آسٹریلین نرس تھی۔ مگر اس کا کام عام نرسوں جیسا نہیں تھا۔
وہ ایک ایسے کلینک میں کام کرتی رہی جہاں ایسے مریض لائے جاتے تھے جو زندگی کی بازی ہار رہے ہوتے تھے۔
ان کی سانسیں چند ہفتوں کی مہمان ہوتی تھیں۔…
📚 علم و دانش 📚
یقیناً ہر شخص کی زندگی علم سے ہے. انسان تعلیم کے ذریعے بلندی پر جاسکتا ہے، علم وحكمت انسان کے لئے کمال ہے.
●ارشاد رب العزت ہے..
"قل هل یستوی الذین یعلمون والذين لایعلمون"
کہدو (اےرسولؐ) کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہیں.(1)
●حضرت رسول اکرمؐ فرماتے ہیں..
"ان طالب العلم یستغفرلە کل شئ حتی الحتیان فی البحر"
طالب علم کے لیے دنیا کی ہر شے حتی کہ سمندر کی مچھلیاں بھی بخشش کی دعا کرتی ہیں.(2)
●حضرت علیؑ فرماتے ہیں۔۔
"لا کنزانفع من العلم"
علم سے بڑھ کر فائدہ مند کوئی خزانہ نہیں ہے۔(3)
●حضرت امام علیؑ فرماتے ہیں۔۔
"العلم ضالة المؤمن"
حکمت اور حکمت و دانش مومن کی گمشدہ شے ہے۔(4)
●أمام جعفر الصادقؑ فرماتے ہیں۔۔
مجھے ایسے جوان پسند ہیں کہ جن کا ہر دن دو طرح سے شروع ہوتا ہو۔۔۔
یا عالم ہوں یا متعلم ہوں۔
اور اگر نہ عالم ہوں، نہ متعلم ہوں تو ایسے افراد اپنے فریضہ میں کوتاہی کرنے والے ہیں۔ میری نظروں میں اپنے وظیفہ میں کوتاہی کرنے والے جوانی کو ضائع کرنے والے ہیں۔ جوانی ضائع کرنا گناہ ہے۔ مجھے اپنے جدبزرگوار حضرت محمد مصطفٰیؐ کے رب کی قسم گناہگاروں کا ٹھکانا جہنم ہے۔(5)
■علمی محافل کا مقام؛
مدینہ منورہ میں انصار میں سے ایک شخص رسول اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپؐ سے پوچھا؛
اے رسول خدا بیان فرمائیں کہ اگر کسی شخص کا جنازہ تیار ہو چکا ہو، اسے دفن کرنے کے لئے اٹھایا جارہا ہو اور ادھر سے علمی محفل بھی برپا ہو جس میں شریک ہوکر فائدہ مند ہوا جا سکتا ہے، وقت کی صورتحال بھی اس طرح ہے کہ ان دونوں میں سے ایک میں شرکت ممکن ہے، آپ کو کون سا امر پسندیدہ ہے کہ کس طرف شرکت کی جائے؟
حضور اکرمؐ نے فرمایا؛
اگر جنازہ کے امور انجام دینے کے لئے کچھ اور لوگ موجود ہوں تو آپ محفلِ علم میں شریک ہوں۔ کیونکہ محفلِ علم میں شریک ہونا ہزار جنازہ میں شرکت، ہزار بیماروں کی عیادت، ہزار رات کی عبادت، ہزار روز کے روزہ، ہزار درھم کے صدقہ اور ہزار غیر واجب حج، ہزار غیر واجب جہاد سے کہیں بہتر ہے۔
ایک عالم کے حضور حاضری جیسے بلند مرتبہ عمل کو یہ سارے اعمال اجر و مفاد میں نہیں پہنچ سکتے۔
کیا آپ کو معلوم نہیں ہے کہ اطاعتِ خداوندی کا وسیلہ علم ہے۔ اور علم ہی کے وسیلہ سے عبادتِ خدا انجام پاتی ہے۔ دنیا کی خیروخوبی علم کے ساتھ مربوط ہے اور شرِ دنیا و آخرت جہالت کی وجہ سے ہے۔(6)
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
📚 حوالہ جات:
1)سورہ زمر، آیہ9۔
2)میزان الحکمہ:13485۔
3)میزان الحکمہ:13352۔
4)میزان الحکمہ:13350۔
5)داستانہائے بحارالأنوار، ج2، ص109۔
6)داستان راستان، ج2، ص235، 236۔
https://t.me/islamwitheman/430
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
یقیناً ہر شخص کی زندگی علم سے ہے. انسان تعلیم کے ذریعے بلندی پر جاسکتا ہے، علم وحكمت انسان کے لئے کمال ہے.
●ارشاد رب العزت ہے..
"قل هل یستوی الذین یعلمون والذين لایعلمون"
کہدو (اےرسولؐ) کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہیں.(1)
●حضرت رسول اکرمؐ فرماتے ہیں..
"ان طالب العلم یستغفرلە کل شئ حتی الحتیان فی البحر"
طالب علم کے لیے دنیا کی ہر شے حتی کہ سمندر کی مچھلیاں بھی بخشش کی دعا کرتی ہیں.(2)
●حضرت علیؑ فرماتے ہیں۔۔
"لا کنزانفع من العلم"
علم سے بڑھ کر فائدہ مند کوئی خزانہ نہیں ہے۔(3)
●حضرت امام علیؑ فرماتے ہیں۔۔
"العلم ضالة المؤمن"
حکمت اور حکمت و دانش مومن کی گمشدہ شے ہے۔(4)
●أمام جعفر الصادقؑ فرماتے ہیں۔۔
مجھے ایسے جوان پسند ہیں کہ جن کا ہر دن دو طرح سے شروع ہوتا ہو۔۔۔
یا عالم ہوں یا متعلم ہوں۔
اور اگر نہ عالم ہوں، نہ متعلم ہوں تو ایسے افراد اپنے فریضہ میں کوتاہی کرنے والے ہیں۔ میری نظروں میں اپنے وظیفہ میں کوتاہی کرنے والے جوانی کو ضائع کرنے والے ہیں۔ جوانی ضائع کرنا گناہ ہے۔ مجھے اپنے جدبزرگوار حضرت محمد مصطفٰیؐ کے رب کی قسم گناہگاروں کا ٹھکانا جہنم ہے۔(5)
■علمی محافل کا مقام؛
مدینہ منورہ میں انصار میں سے ایک شخص رسول اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپؐ سے پوچھا؛
اے رسول خدا بیان فرمائیں کہ اگر کسی شخص کا جنازہ تیار ہو چکا ہو، اسے دفن کرنے کے لئے اٹھایا جارہا ہو اور ادھر سے علمی محفل بھی برپا ہو جس میں شریک ہوکر فائدہ مند ہوا جا سکتا ہے، وقت کی صورتحال بھی اس طرح ہے کہ ان دونوں میں سے ایک میں شرکت ممکن ہے، آپ کو کون سا امر پسندیدہ ہے کہ کس طرف شرکت کی جائے؟
حضور اکرمؐ نے فرمایا؛
اگر جنازہ کے امور انجام دینے کے لئے کچھ اور لوگ موجود ہوں تو آپ محفلِ علم میں شریک ہوں۔ کیونکہ محفلِ علم میں شریک ہونا ہزار جنازہ میں شرکت، ہزار بیماروں کی عیادت، ہزار رات کی عبادت، ہزار روز کے روزہ، ہزار درھم کے صدقہ اور ہزار غیر واجب حج، ہزار غیر واجب جہاد سے کہیں بہتر ہے۔
ایک عالم کے حضور حاضری جیسے بلند مرتبہ عمل کو یہ سارے اعمال اجر و مفاد میں نہیں پہنچ سکتے۔
کیا آپ کو معلوم نہیں ہے کہ اطاعتِ خداوندی کا وسیلہ علم ہے۔ اور علم ہی کے وسیلہ سے عبادتِ خدا انجام پاتی ہے۔ دنیا کی خیروخوبی علم کے ساتھ مربوط ہے اور شرِ دنیا و آخرت جہالت کی وجہ سے ہے۔(6)
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
📚 حوالہ جات:
1)سورہ زمر، آیہ9۔
2)میزان الحکمہ:13485۔
3)میزان الحکمہ:13352۔
4)میزان الحکمہ:13350۔
5)داستانہائے بحارالأنوار، ج2، ص109۔
6)داستان راستان، ج2، ص235، 236۔
https://t.me/islamwitheman/430
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
📚 علم اور عمل 📚
ایک شہزادہ اپنے استاد سے سبق پڑھ رہا تھا.. استاد نے اسے دو جملے پڑھائے..
1 ــ جھوٹ مت بولو..
2 ــ غصہ نہ کرو..
کچھ دیر کے وقفے کے بعد شہزادے کو سبق سنانے کو کہا گیا تو شہزادے نے جواب دیا کہ ابھی سبق یاد نہیں ھوسکا..
دوسرے دن پھر استاد نے…
ایک شہزادہ اپنے استاد سے سبق پڑھ رہا تھا.. استاد نے اسے دو جملے پڑھائے..
1 ــ جھوٹ مت بولو..
2 ــ غصہ نہ کرو..
کچھ دیر کے وقفے کے بعد شہزادے کو سبق سنانے کو کہا گیا تو شہزادے نے جواب دیا کہ ابھی سبق یاد نہیں ھوسکا..
دوسرے دن پھر استاد نے…