ISLAM WITH EMAN
1.28K subscribers
1.2K photos
39 videos
3 files
3.64K links
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
Download Telegram
🌺 الفاظ و انداز اور لہجہ 🌺

الفاظ کی اپنی ہی ایک دنیا ہوتی ہے. ہر لفظ اپنی ذمہ داری نبھاتا ہے،
کچھ لفظ حکومت کرتے ہیں،
کچھ غلامی،
کچھ لفظ حفاظت کرتے ہیں،
اور کچھ وار،
ہر لفظ کا اپنا ایک مکمّل وجود ہوتا ہے.

جب سے میں نے لفظوں کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ سمجھنا شروع کیا تو سمجھا لفظ صرف معنی نہیں رکھتے یہ تو دانت رکھتے ہیں جو کاٹ لیتے ہیں.

یہ ہاتھ رکھتے ہیں جو گریبان کو پھاڑ دیتے ہیں.

یہ پاؤں رکھتے ہیں جو ٹھوکر لگا دیتے ہیں.

اور ان لفظوں کے ہاتھوں میں لہجے کا اسلحہ تھما دیا جائے تو یہ وجود کو چھلنی کرنے پر بھی قدرت رکھتے ہیں.

اپنے لفظوں کے بارے میں محتاط ہو جاؤ، انہیں ادا کرنے سے پہلے سوچ لو کہ یہ کسی کے وجود کو سمیٹیں گے یا کرچی کرچی بکھیر دیں گے. کیونکہ یہ تمہاری ادائیگی کے غلام ہیں اور تم ان کے بادشاہ...
اور بادشاہ اپنی رعایا کا ذمہ دار ہوتا ہے اور اپنے سے بڑے بادشاہ کو جواب دہ بھی...

■ایک ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﺍﻧﺖ ﭨﻮﭦ ﮐﺮ ﮔﺮ ﭘﮍﮮ ﮨﯿﮟ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ نے ﺍﯾﮏ معبّر (خواب کی تعبیر بتانے والے) ﮐﻮ ﺑﻠﻮﺍ ﮐﺮ ﺍُﺳﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺧﻮﺍﺏ ﺳُﻨﺎﯾﺎ.
معبّر ﻧﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ:
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ! ﺍﺳﮑﯽ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﯾﮧ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭘﮑﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻣﺮﯾﮟ ﮔﮯ. ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ کو بہت غصہ آیا. اس نے معبّر ﮐﻮ قتل کردیا.

ایک اور معبّر ﮐﻮ ﺑﻠﻮﺍﯾﺎ ﮔﯿﺎ، ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍُس کو ﺍﭘﻨﺎ ﺧﻮﺍﺏ سنایا.

معبّر ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ! ﺁﭘﮑﻮ ﻣُﺒﺎﺭﮎ ﮨﻮ، ﺧﻮﺍﺏ ﮐﯽ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﯾﮧ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻣﺎﺷﺎﺀﺍﻟﻠﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻟﻤﺒﯽ ﻋﻤﺮ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ.

ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮐﺮ معبّر ﮐﻮ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﻭ ﺍﮐﺮﺍﻡ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺭﺧﺼﺖ ﮐﯿﺎ...

ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﯾﮩﯽ ﻣﻄﻠﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺘﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻟﻤﺒﯽ ﻋﻤﺮ ﭘﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺍُﺳﮑﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ؟

ﺟﯽ ﻣﻄﻠﺐ ﺗﻮ ﯾﮩﯽ ﮨﯽ ﺑﻨﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺑﺎﺕ ﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ اور الفاظ میں ﻓﺮﻕ ﮨﮯ،،

آپ کا بولا گیا ایک ایک لفظ کسی دوسرے کے لئے مرہم بھی بن سکتا ہے،، اور زخم بھی دے سکتا ہے.
اختیار آپ کے ہاتھ میں ہے...!!!

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
💝اسلام کی بنیاد محبتِ اہلبیتؑ 💝

رسولِ اکرمؐ نے فرمایا: جنت میں صرف مسلمان ہی جا سکتا ہے.

جناب ابوذرؓ نے سوال کیا؛
اے خدا کے رسولؐ! اسلام کیا ہے؟

رسول اکرمؐ نے فرمایا:
"اسلام کا لباس تقوٰی ہے،
اس کا شعار ہدائت ہے،
حیا اس کا باطنی جامہ ہے،
ورع (زہد) اس کی اساس ہے،
دینداری اس کا کمال ہے،
اور
عملِ صالح اس کا پھل ہے.

(اے ابوذر یاد رکھو) ہر چیز کی ایک بنیاد ہوتی ہے (جس پر اسکی عمارت قائم ہوتی ہے) اور اسلام کی بنیاد اہلبیتؑ کی محبت ہے."

📚تحف العقول، ص:51.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 حضرت سلیمانؑ اور چڑیا 🔷

منقول ہے کہ جناب سلیمانؑ نے ایک نرچڑیا کو دیکھا، جو اپنی مادہ سے کہہ رہا تھا...
تم مجھ سے کیوں بھاگتی ہو؟ (مجھے موقع کیوں نہیں دیتی؟) اگر میں چاہوں تو حضرت سلیمانؑ کے گنبد کو اپنی چونچ میں پکڑ کر دریا میں پھینک دوں.

جناب سلیمانؑ اس کی گفتگو سن کر مسکرانے لگے اور دونوں کو بلا کر نر سے پوچھا کہ...
جو کچھ تم کہہ رہے تھے کیا اسے کرنے کے لئے تمہارے اندر طاقت ہے؟

تو اس نرچڑیا نے عرض کیا...
اے اللہ کے نبیؑ! میرے اندر اتنی طاقت تو نہیں ہے لیکن (پھر بھی میں نے اپنی بیوی سے وہ جملہ اس لئے کہا کہ) بعض اوقات اپنی بیوی کے سامنے اپنی بڑائی کرنی پڑتی ہے. اور خود کو (کمالات) سے آراستہ کر کے پیش کرنا پڑتا ہے. اور چاہنے والا عاشق (اپنی محبت کے اظہار میں) جو کچھ کہتا ہے، اس پر اسے ملامت نہیں کی جاتی.

یہ سن کر...
جناب سلیمانؑ نے اسکی مادہ سے کہا کہ جب یہ تجھ سے محبت کرتا ہے تو تم اسکی بات کیوں نہیں مانتی؟

مادہ چڑیا کہنے لگی...
اے خدا کے نبیؑ! یہ مجھ سے محبت نہیں کرتا، صرف باتیں بناتا ہے، اسے میرے ساتھ ساتھ ایک اور چڑیا سے بھی محبت ہے.

■مادہ چڑیا کی یہ بات سن کر جناب سلیمانؑ کے دل پر بہت اثر ہوا، وہ بہت شدت سے روئے، پھر چالیس دن تک لوگوں سے ملاقات نہیں کی. (مسلسل عبادت کرتے رہے) اور خدا سے دعا کرتے رہے کہ ان کے دل کو اپنی محبت سے اسی طرح بھر دے کہ اس کی محبت کے ساتھ کسی اور کی محبت کی آمیزش نہ ہو.

■روایت کا انداز بتا رہا ہے کہ خداوندعالم نے ان دونوں (نرومادہ چڑیوں) کو خصوصی ہدایت کی تھی کہ وہ اخلاص کی اہمیت کو واضح کریں، اور پھر اولاً اپنے نبی کے پاس اور ان کے وسیلہ سے عام لوگوں تک یہ پیغام پہنچایا جائے کہ خدا کی محبت میں اخلاص شرط ہے.
والله اعلم بالصواب (مترجم)

📚گفتار انبیاء، ص:133.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔶 غصّہ نہ کرو 🔶

حضرت محمد مصطفٰیؐ کا ارشاد ہے: "جس طرح سرکہ شہد کو خراب کر دیتا ہے اسی طرح غصّہ ایمان کو تباہ کر دیتا ہے."

ایک شخص نے آپؐ سے عرض کیا:
اے خدا کے رسولؐ مجھے کچھ تعلیم دیجئے.

آپؐ نے فرمایا:
جاؤ غصّہ نہ کرو.

اس نے کہا:
بس اتنا کافی ہے...
یہ کہہ کر وہ اپنے گھر چلا گیا، وہاں اس کے قبیلے کے لوگوں میں جنگ چِھڑی ہوئی تھی، سب اسلحے سے لیس ہو کر ایک دوسرے کے مقابل صف آراء ہو چکے تھے.
جب اس شخص نے یہ کیفیت دیکھی تو اس نے بھی خود کو اسلحے سے لیس کیا اور صف میں آ کر کھڑا ہو گیا، اسی وقت اسے پیغمبر اسلامؐ کا ارشاد یاد آیا کہ "غصہ نہ کرو"
چنانچہ اس نے اسلحہ اتار کر پھینک دیا اور دشمن کی قوم کے پاس جا کر بولا:
اے لوگو جو کچھ بھی تم کو زخم لگا ہو، یا تمہارا کوئی آدمی قتل ہوا ہو یا تمہیں کوئی صدمہ پہنچا ہو، اس کا معاوضہ میں اپنے مال سے پورا پورا ادا کرنے پر تیار ہوں...

یہ سن کر وہ لوگ بولے:
جو کچھ ہو چکا وہ تمہارے لیے (معاف) ہے اور ہمیں بھی یہی باتیں زیادہ مناسب ہیں جو تم کہہ رہے ہو.
اس کے بعد سب لوگوں نے آپس میں صلح کر لی اور غیض و غضب ختم ہو گیا.

🌹 آگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ شکریہ

📚 کافی، باب الغضب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 غصّہ کے موضوع پر مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں...

🔶 غصّہ اور قوت برداشت
https://t.me/islamwitheman/72

🔶 غصّہ کرنے کے نقصانات
https://t.me/islamwitheman/86

🔶 غصہ نہ کرو
https://t.me/islamwitheman/478
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 خُدا رزق دینے والا ہے 🔷

حضرت امیرالمؤمنین علیؑ فرماتے ہیں کہ جن باتوں کی جناب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت فرمائی ان میں یہ بھی تھا...

اے نورِ نظر! رزق کے سلسلہ میں جس کی نیت کوتاہ اور یقین و ایمان کمزور ہو اسے اس بات سے درسِ نصیحت حاصل کرنا چاہیے کہ خُداوندعالم نے اپنے امر سے اسے تخلیق کے تین مراحل سے گزارا اور اسے رزق عطا کیا جبکہ ان تین مرحلوں میں سے کسی ایک میں بھی نہ اس کی کسی کوشش کا کوئی دخل تھا، نہ اس نے کوئی تدبیر کی تھی (تو اسے یقین رکھنا چاہیے کہ) چوتھے مرحلہ میں بھی اسے خدا ضرور رزق عطا کرے گا.

■ ان تین مراحل میں سے پہلا مرحلہ تو وہ تھا جب وہ ماں کے پیٹ میں تھا، وہ خود تو ایک محفوظ جگہ پر تھا اور اس کا رزق اسے ملتا رہتا تھا، نہ گرمی اسے تکلیف پہنچاتی تھی نہ سردی.

■ پھر وہاں سے جب قدرت نے اسے باہر کی دنیا میں بھیجا تو اس کی ماں کے دودھ کو اس کا رزق قرار دیا جو اس کی غذائی ضروریات کے لئے کافی بھی تھا. اسی سے وہ پروان چڑھا اور اسے تازگی ملی، جس میں کسی شخص کی قوت و طاقت کا کوئی حصہ نہیں تھا.

■ پھر جب ماں کا دودھ چھوٹا تو خداوندعالم نے اس کے رزق کی ذمہ داری اس کے ماں باپ پر رکھی، جنہوں نے نہایت پیارومحبت کے ساتھ اسے رزق فراہم کیا اور ان کے دل میں ایسی محبت پیدا کر دی کہ وہ اولاد کے مسئلہ میں بیتاب و بے اختیار ہو جاتے ہیں اور اکثر حالات میں وہ اولاد کو خود اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہیں.

● (تو ان تینوں مراحل میں خداوندعالم بندے کو رزق عطا کرتا رہا اور وہ کھاتا رہا)

■ لیکن جب بڑا ہوا، سمجھ پیدا ہوئی اور اپنے رزق کے لیے خود کوشش کرنے لگا تو اب دل تنگ ہونے لگا اور اپنے پروردگار کی طرف سے طرح طرح کی بدگمانیوں میں مبتلا ہونے لگا یہانتک کہ اس کے مال میں خدا کا جو حق ہے اس سے انکار کرنے لگا اور تنگدستی کے خوف سے اور اس عقیدہ و یقین کی کمزوری کی وجہ سے کہ خدا دنیا و آخرت میں اسے بہترین عوض دینے والا ہے اپنی ذات اور اپنے اہل و عیال کے اخراجات میں کمی کرنے لگا.
اے بیٹے ایسا بندہ کتنا برا بندہ ہے.

📚 گفتار انبیاء، آقای محمدتاج لنگرودی، ص:83.
____

👈 رزق کے
موضوع پر مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں...

🔷 محنت میں عظمت
https://t.me/islamwitheman/126

🌎 حضرت سلیمانؑ اور چیونٹی
https://t.me/islamwitheman/145

🔴 حضرت سلیمانؑ کی ضیافت
https://t.me/islamwitheman/146

🌷 پتھر میں کیڑے کو غذا
https://t.me/islamwitheman/233

🔰 چیونٹی کا اطمینان
https://t.me/islamwitheman/257

🔷 بے نیازی
https://t.me/islamwitheman/258

🔷 خدا رزق دینے والا ہے.
https://t.me/islamwitheman/481
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
⭕  آئینہ ⭕

ایک کمپنی کا ایک ملازم اپنے دفتر پہنچا تو اسکی نگاہ دفتر کے گیٹ پر لگے ہوئے ایک نوٹس پر پڑی جس پر لکھا تھا:
"جو شخص کمپنی میں آپ کی ترقی اور بہتری میں رکاوٹ تھا کل رات اسکا انتقال ہوگیا آپ سے گزارش ہے کہ اس کی آخری رسومات اور جنازے کے لیے کانفرنس ہال میں تشریف لے آئیں جہاں پر اسکی میت رکھی ہوئی ہے."

یہ پڑھتے ہی وہ اداس ہو گیا کہ اسکا کوئی ساتھی ہمیشہ کے لیے اس سے جدا ہو گیا لیکن چند لمحوں بعد اس پر تجسس غالب آ گیا کہ آخر وہ شخص کون تھا جو اسکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ تھا اس تجسس کو ساتھ لیے وہ جلدی سے کانفرس ہال میں پہنچا تو وہاں اس کے دفتر کے باقی سارے ساتھی بھی اسی نوٹس کو پڑھ کر آئے ہوئے تھے اور سب حیران تھے کہ آخر یہ شخص کون تھا...

کانفرس ہال کے باہر میت کو دیکھنے کے لیے لوگوں کا اس قدر ہجوم ہو گیا کہ سکیورٹی گارڈ کو یہ حکم جاری کرنا پڑا کہ سب لوگ ایک ایک کر کے اندر جائیں اور میت کا چہرہ دیکھ لیں..

سب ملازمین ایک ایک کر کے اندر جانے لگے جو بھی اندر جاتا اور میت کے چہرے سے کفن ہٹا کر اس کا چہرہ دیکھتا تو ایک لمحے کی لیے حیرت زدہ اور گنگ ہو کر رہ جاتا اور اسکی زبان گویا تالو سے چپک جاتی یوں لگتا کہ گویا کسی نے اسکے دل پر گہری ضرب لگائی ہو..

باری آنے پر وہ شخص بھی اندر گیا اور میت کے چہرے سے کپڑا ہٹا کر دیکھا تو اس کا حال بھی دوسروں جیسا ہی ہوا... کفن کے اندر ایک بڑا سا آئینہ رکھا ہوا ہے اور اسکے ایک کونے پر لکھا تھا:
"دنیا میں ایک ہی شخص ہے جو آپ کی صلاحتیوں کو محدود کر کے آپ کی ترقی میں رکاوٹ بن سکتا ہے اور وہ آپ خود ہیں..
یاد رکھیے! آپ کی زندگی میں تبدیلی آپ کی کمپنی تبدیل ہونے سے، آپ کا باس تبدیل ہونے سے، آپ کے دوست احباب تبدیل ہونے سے نہیں آتی.
آپ کی زندگی میں تبدیلی تب آتی ہے جب آپ اپنی صلاحیتوں پر اعتبار کرنا شروع کر دیتے ہیں، ناممکن کو ممکن اور مشکلات کو چیلنج سمجھتے ہیں.
اپنا تجزیہ کریں. اپنے آپ کو آزمائیں. مشکلات، نقصانات اور نا ممکنات سے گھبرانا چھوڑ دیں اور ایک فاتح کی طرح جیئں....

■ اسی طرح خود کو اسلام کے سانچے میں ڈھالنے کے لئے ہم خود محنت کریں گے تو اللہ تعالی بھی ہماری مدد کرے گا۔ اور ہم اسلام میں ترقی کرتے چلے جائیں گے۔

■ یعنی ہم اپنے آپ کو خود سنوارنے کی کوشش کریں گے تو جلدی سنور جائیں گے۔

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
⭕ تنقید و مشاہدہ ⭕

ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﻮﺑﯿﺎﮨﺘﺎ ﺟﻮﮌﮮ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻧﺌﮯ ﭘﮍﻭﺳﯽ ﺁﺋﮯ۔ ﺍُﺱ ﺟﻮﮌﮮ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﭘﺮ ﺗﻨﻘﯿﺪﯼ ﻧﻈﺮ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﺍُﻥ ﮐﮯ ﮈﺍﺋﻨﻨﮓ ﮨﺎﻝ ﺳﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﺻﺎﻑ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﺎ ﺗﮭﺎ...

ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻧﺎﺷﺘﮧ ﮐﯽ ﻣﯿﺰ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﻧﺎﺷﺘﮧ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﺩﮬﻮ ﮐﺮ ﺑﺎﮨﺮ ﺑﺎﻟﮑﻮﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻼﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ۔

’’ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﮐﺘﻨﮯ ﺧﺮﺍﺏ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﺪﮮ ﮐﭙﮍﮮ ﺩﮬﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺑﯿﻮﯼ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﺳﮯ ﺑﻮﻟﯽ، ﺫﺭﺍ ﺻﺎﻑ ﮐﭙﮍﮮ ﻧﮩﯿﮟ ﺩُﮬﻠﮯ۔ ﺍِﻥ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﻮ ﮐﭙﮍﮮ ﺩﮬﻮﻧﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ، ﺍﻥ ﮐﻮ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﺻﺎﺑﻦ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮐﺮﻟﯿﮟ ﯾﺎ ﮐﻢ ﺍﺯ ﮐﻢ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺳﯿﮑﮫ ﮨﯽ ﻟﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﭙﮍﮮ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﺩﮬﻮﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ.‘‘

ﺷﻮﮨﺮ ﻧﮯ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﺍُﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺭﮨﺎ۔ ﮨﺮ ﺑﺎﺭ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﭘﮍﻭﺳﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﺩﮬﻮ ﮐﺮ ﭘﮭﯿﻼﺗﮯ، ﺍُﺱ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﮯ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺩُﮬﻼﺋﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﯽ ﺗﺎﺛﺮﺍﺕ ﮨﻮﺗﮯ۔ ﻭﮦ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮨﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﯿﺎﻻﺕ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﺮﺗﯽ ﮐﮧ ﺁﺝ ﭘﮭﺮ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﺍﭼﮭﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮬﻮﺋﮯ، ﺩﻝ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺧﻮﺩ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺑﺘﺎ ﺩﻭﮞ ﮐﮧ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﯾﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﮐﯽ ﺩﮬﻼﺋﯽ ﺑﮩﺘﺮ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻭﻏﯿﺮﮦ۔

ﺍﻟﻐﺮﺽ ﻭﮦ ﮔﮭﺮ ﺍﻭﺭ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﮐﯽ ﺩﮬﻼﺋﯽ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮨﯽ ﺍُﺱ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﯽ ﺗﻨﻘﯿﺪ ﮐﺎ ﻧﺸﺎﻧﮧ ﺑﻨﺘﮯ ﺭﮨﺘﮯ۔

ﺗﻘﺮﯾﺒﺎََ ﺍﯾﮏ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﮍﻭﺳﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺻﺎﻑ ﺳُﺘﮭﺮﮮ ﺩُﮬﻠﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺭﮦ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﺳﮯ ﺑﻮﻟﯽ:
ﺩﯾﮑﮭﺎ! ﺑﺎﻵﺧﺮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﯿﮑﮫ ﮨﯽ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﮐﭙﮍﮮ ﮐﯿﺴﮯ ﺩﮬﻮﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ. ﺷﮑﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﺝ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﺻﺎﻑ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺠﮭﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﺧﺮ ﯾﮧ ﻋﻘﻞ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺩﯼ؟ ﺷﺎﯾﺪ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺎﻡ ﻭﺍﻟﯽ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮐﯽ ﮨﮯ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﺻﺎﺑﻦ ﺑﺪﻝ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭼﭗ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ۔

ﺷﻮﮨﺮ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻻ:
ﺁﺝ ﺻﺒﺢ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﺪﯼ ﺍُﭨﮫ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮈﺍﺋﻨﻨﮓ ﮨﺎﻝ ﮐﯽ ﻭﮦ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﺻﺎﻑ ﮐﯽ ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺗﻢ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ..

■ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺭﻭﺯﻣﺮﮦ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﺻﺎﻑ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﻮﺭﻭﺩِ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﭨﮭﮩﺮﺍﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺻﻞ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺧﻮﺩ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﻧﺪﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻢ ﻧﮧ ﺍُﺱ ﮐﻮ ﻣﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻮﻗﻒ ﺳﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮨﭩﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﭼﯿﮏ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ، ﮐﯿﺎ ﻭﮦ ﺻﺎﻑ ﮨﮯ؟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺟﺐ ﮨﻢ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺍﺋﮯ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﺍﻧﺤﺼﺎﺭ ﺍُﺱ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﯾﺎ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﮐﯽ ﺷﻔﺎﻓﯿﺖ ﭘﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﻢ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔

●ﮐﺴﯽ ﭘﺮ ﻧﮑﺘﮧ ﭼﯿﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﻨﻘﯿﺪ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺟﺎﺋﺰﮦ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﻟﮯ ﻟﯿﻨﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ۔ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﯿﺎﻻﺕ ﺍﻭﺭ ﺍﺣﺴﺎﺳﺎﺕ ﮐﻮﺻﺎﻑ ﺍﻭﺭ ﺷﻔﺎﻑ ﺭﮐﮭﯿﮟ۔ ﺟﺐ ﺍﭼﮭﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺑُﺮﯼ ﭼﯿﺰ ﮐﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﻣﺸﺎﮨﺪﮦ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ؟

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 الله پر یقین 🔷

ﺍﯾﮏ ﻣﻔﻠﺲ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻏﺬ ﭘﺮ ﻟﮑﮭﺘﺎ؛
"ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﭽﺎﺱ ﮨﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﮯ ﺩﯾﺪﮮ"
ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﮔﯿﺲ ﻭﺍﻟﮯ ﻏﺒﺎﺭﮮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﮐﺮ ﺍﮌﺍ ﺩﯾﺘﺎ.

ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﻭﺍﻗﻊ ﺗﮭﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﭘُﻠﺴﯿﺌﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻏﺒﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﭘﮑﮍ ﻟﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﻨﺪﯾﺴﮯ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﻣﺤﻈﻮﻅ ﮨﻮﺍ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ،
ﭼﻠﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺳﺎﺭﮮ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺑﻤﺸﮑﻞ ﭘﭽﯿﺲ ﮨﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﮯ ﮨﯽ ﺟﻤﻊ ﮐﺮ ﭘﺎﺋﮯ۔ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﺴﮯ ﻟﯿﮑﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ؛
ﯾﮧ ﺭﮨﺎ ﺗﯿﺮﺍ ﺭﺯﻕ ﭘﭽﯿﺲ ﮨﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﮯ۔ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮓ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﺠﮭﮯ ﭘﮩﭽﺎﻧﮯ ﺁﺋﮯ ﮨﯿﮟ۔

ﺍﺱ ﻏﺮﯾﺐ ﻧﮯ ﭘﻮﻟﯿﺲ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﻨﮧ ﭘﺮ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ نہ ﮐﮩﺎ،
ﺷﮑﺮﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺭﮐﮫ ﻟﯿﺌﮯ۔

ﺍﻧﺪﺭ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻏﺬ ﭘﺮ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﻟﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﯿﺲ ﻭﺍﻟﮯ ﻏﺒﺎﺭﮮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﮐﺮ ﺍﮌﺍ ﺩﯾﺎ۔
ﭘﻮﻟﯿﺲ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ، ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﮐﺎﻏﺬ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ:
ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﯿﺮﯼ ﺑﮩﺖ ﻣﮩﺮﺑﺎﻧﯽ ﺟﻮ ﺗﻮﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﻦ ﻟﯽ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺗﮭﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﮍﮮ ﺑﮯ ﻏﯿﺮﺕ ﮨﯿﮟ، ﺁﺩﮬﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﺩﺑﺎ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﺮے..

■ اس کو یہ یقین تھا کہ اللہ نے پورے بھیجے ہیں لیکن پولیس نے رکھ لئے ہیں.

ہمارا یقین کیسا ہے؟

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman/138
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
📝 كيا ہرقسم كےسادات باعظمت ہيں؟

ايک دن امام رضا عليہ السلام كے بھائى اور امام كاظم عليہ السلام كے بيٹے زيد لوگوں ميں خطاب كرتے ہوۓ كہہ رہے تھے كہ سادات كى بہت عظمت ہے، يہ خاندان بہت اعلىٰ مراتب پہ فائز ہے اور اس خاندان پر جہنم كى آگ اللہ تعالىٰ نے حرام قرار دى ہے، ابھى يہى باتيں كر رہے تھے كہ امام رضا عليہ السلام وہاں تشريف لاۓ اور فرمايا كہ...
’’يہ كيا باتيں ہيں جو تم لوگوں سے كہہ رہے ہو؟ وہ جو تم نے سن ركھا ہے كہ اولاد زہراؑ پر آتش جہنم حرام ہے اس سے مراد حضرت فاطمہؑ كى بلافصل اولاد حضرت حسنينؑ اور ان كى دو بہنيں ہيں‘‘
اگر اس كا مطلب يہ ہوتا جوتم بيان كر رہے ہو كہ اولاد فاطمہؑ امتيازى خصوصيات کی حامل ہيں اور ہر لحاظ سے اہل نجات ہيں تو پھر تم اپنے والد حضرت امام موسىٰ كاظم عليہ السلام سے زيادہ قابل احترام ہو اسلئے كہ انہوں نے دنيا ميں خدا كى اطاعت ميں زندگى بسر كى اور عابد شب زندہ دار تھے اور تم خدا كى نافرمانى كرتے ہو تمہارے قول كے مطابق دونوں برابر اور اہل نجات ہيں، پھر تو فائدے ميں رہے۔ كہ تم نے كوئى كام بھى نہ كيا اور کوئی پريشانى بھى نہيں اٹھائى اور ركھا ركھايا خزانہ تمہيں مل گيا۔

📚 سچى كہانياں، شہيدمرتضى مطہرىؒ، ج2، ص:60.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 مزید پوسٹس۔۔۔۔

🌹 سادات کی فضیلت
https://t.me/islamwitheman/140

⏩ کیا ہر قسم کے سادات باعظمت ہیں؟
https://t.me/islamwitheman/488

🗒 فضیلت سید اور نسب کا بدلنا
https://t.me/islamwitheman/489

🌹سادات
http://t.me/islamwitheman/1614

🌷فقیر سید
http://t.me/islamwitheman/1618

💝 سادات کی خصوصیات
https://t.me/islamwitheman/5113

🔷 احترام سادات کا صلہ
https://t.me/islamwitheman/5204
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
⏩ فضیلتِ سید اور نسب کا بدلنا ⏪

علامہ جمال الدینؒ اولادِ حسنین کریمین علیھم السلام کا تذکرہ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں...
"فتخصصٔ السیادۃ لھم و قد بینہ الشرافۃ لاجل الاباء والام ۰۰۰۰۰۰ فمن ولد منھا ذکراً او انثی فھو سید الی القیامۃ و یجب علی جمیع الخلق تعظیم ابداً."
ترجمہ:
حسنین کریمین علیھم السلام کی اولاد کے لیے سیادت مخصوص ھے مرد ہو یا عورت جو بھی ان کی نسل سے ہو وہ قیامت تک سید ہی رھے گا اور ساری کائنات پر واجب ھے ان کی تعظیم کرتی رھے.(1)

"خصص بیوت النبوۃ بالسیادۃ فکل من یثبت لہ بنبوۃ النبوۃ سید."
ترجمہ:
خداوندعالم نے نبیؐ کے گھرانے کو سیادت کے لیے مخصوص کر دیا ھے لہذا جس فرد بشر کے لیے ثابت ہو جائے کہ یہ نبی کی اولاد ھے وہ یقیناً و لازماً سید مانا جائے گا.(2)

■ لفظ سید بیتِ نبوت کے لئے مخصوص ھے، یہ لفظ نبی اور ان کی اولاد کے سوا کسی کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر کوئی اس لفظ کو خلاف منشاء و رسالت استعمال کرے تو یقیناً حدیث کی روشنی میں ملعون ہو گا. کہ داخل نسب اور خارج نسب پر لعنت ھے.

عن ابی عبداللہ علیہ السلام قال کفر باللہ من تبراء من نسب وان دق.
ترجمہ:
امام جعفر صادقؑ نے فرمایا: اس شخص نے اللہ کے ساتھ کفر کیا جس نے اپنے نسب سے برآت ظاہر کی اگرچہ وہ نسب خسیس ہی کیوں نہ ہو.(3)

📚 حوالہ جات:
(1)موامع التنزیل، ج3، ص:323.
(2)صحاح الاخبار فی نسب السادۃ الفاطمیۃ الاخیار، طبع بمبئی، ص:125.
(3)الکافی، مطبوعہ نولکشور، ص:543، الکتاب الایمان والکفر، باب الانتقاء.
مراۃالعقؤل، جلد2، ص:335، مطبوعہ ایران. باب الانتقاء.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 مزید پوسٹس۔۔۔۔

🌹 سادات کی فضیلت
https://t.me/islamwitheman/140

⏩ کیا ہر قسم کے سادات باعظمت ہیں؟
https://t.me/islamwitheman/488

🗒 فضیلت سید اور نسب کا بدلنا
https://t.me/islamwitheman/489

🌹سادات
http://t.me/islamwitheman/1614

🌷فقیر سید
http://t.me/islamwitheman/1618

💝 سادات کی خصوصیات
https://t.me/islamwitheman/5113

🔷 احترام سادات کا صلہ
https://t.me/islamwitheman/5204
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
⭕ بیٹی ⭕

شادی کی پہلی رات میاں بیوی نے فیصلہ کیا کہ جب وہ کمرے میں پہنچ جائیں گے تو پھر دروازہ نہیں کھولیں گے چاہے کوئی بھی آ جائے.
ابھی دروازہ بند ہوئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ دلہے کے والدین کمرے کے باہر پہنچے تاکہ اپنے بیٹے اور بہو کو نیک تمناؤں اور راحت بھری زندگی کی دعا دے سکیں، دستک ہوئی بتایا گیا کہ دولہے کے والدین باہر موجود ہیں.
دولہا دلہن نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا باوجود اس کے کہ دولہا دروازہ کھولنا چاہتا تھا اس نے اپنے فیصلے کو مدنظر رکھا اور دروازہ نہیں کھولا.
والدین ناکام واپس لوٹ گئے.
ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ دلہن کے والدین بھی دولہے کے گھر جا پہنچے تاکہ اپنی بیٹی اور داماد کو اپنی نیک خواہشات پہنچا سکیں اور انہیں سکھی زندگی کی دعا دے سکیں.
ایک بار پھر کمرے کے دروازے پر دستک دی گئی اور بتایا گیا کہ دلہن کے والدین کمرے کے باہر موجود ہیں.
دولہا دلہن نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا پھر اپنا فیصلہ ذہن میں تازہ کیا.
باوجود اس کے کہ فیصلہ ہو چکا تھا دلہن کی آنسوؤں بھری سرگوشی سنائی دی
نہیں میں اپنے والدین کے ساتھ ایسا نہیں کر سکتی اور فورا دروازہ کھول دیا.
شوہر نے یہ سب دیکھا مگر دلہن کو کچھ نہ کہا خاموش رہا.
اس بات کو برسوں بیت گئے ان کے ہاں چار بیٹے پیدا ہوئے اور پانچویں بار ایک بیٹی پیدا ہوئی...
شوہر نے ننھی گڑیا کے اس دنیا میں آنے کی خوشی میں ایک بہت بڑی پارٹی کا انتظام کیا اور اس پارٹی میں ہر اس شخص کو بلایا جسے وہ جانتا تھا اور خوب خوشیاں منائی گئیں.
اس رات بیوی نے اپنے شوہر سے پوچھا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ آپ نے اتنی بڑی پارٹی کا اہتمام کیا جبکہ اس سے پہلے چاروں بچوں کی پیدائش پر ہم نے یہ سب کچھ نہیں کیا.
شوہر مسکرایا اور بولا
یہ وہ ہے جو میرے لئے دروازہ کھولے گی....

بیٹیاں ہمیشہ قیمتی ہوتی ہیں،،

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman/159
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
⏪تقيہ کا معيار کيا ہے؟⏩

دشمنوں کےمقابلےميں دنياوی اوردينی نقصانات سے محفوظ رہنےکیلئے اپنے باطنی عقيدے اور ايمان کوچھپانے کا نام تقيہ ہے. تقيہ ہرمسلمان شخص کاايک ايسا شرعی فريضہ ہےجسکا سرچشمہ قرآنی آيات ہيں.

🌹قرآن کی نگاه ميں تقيہ:
قرآن مجيدميں تقيہ سےمتعلق بہت سی آيات ہيں ان ميں سےيہاں ہم بعض کاذکر کرتے ہيں...

"لاَّ يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ....الخ"(1)
ترجمہ:
مومنوں کوچاہيے کہ وه اہل ايمان کوچھوڑ کر کفار کو اپنا ولی اور دوست نہ بنائيں اور جو کوئی ايسا کریگا اسکا خدا سے کوئی تعلق نہ ہوگا مگر يہ کہ تمہيں کفار سےخوف ہوتو کوئی حرج نہيں ہے.

يہ آيت بخوبی اس بات کی گواہی ديتی ہےکہ کفار کے ساتھ دوستی رکھنا جائز نہيں ہے ليکن اگر جان خطره ميں ہوتو تقيہ کرتے ہوئے ان سے ظاہری طورپر دوستی کا اظہار کيا جاسکتا ہے.

🌹"مَن كَفَرَ بِاللّهِ مِن....الخ"(2)
ترجمہ:
جوشخص بھی ايمان لانےکیبعد کفر اختيار کرلے سوائے اسکے جسے کفر پر مجبور کرديا جائے اور اسکا دل ايمان سے مطمئن ہو (تو کوئی حرج نہيں ہے) ليکن وه شخص جسکے سينہ ميں کفر کیلئے کافی جگہ پائی جاتی ہو اسکے اوپر خدا کا غضب ہے اور اس کیلئے بہت بڑا عذاب ہے.

■مفسرين نےاس آيت کےشان نزول ميں لکھا ہے کہ...
ايک دن کفار نےجناب عمارابن ياسر کو انکے ماں باپ کے ہمراه گرفتار کرليا اور ان سے کہنے لگے کہ اسلام کوچھوڑ کر کفر و شرک اختيار کرلو تو عماربن ياسر کے ہمراه افراد نے انکے جواب ميں توحيد و رسالت کی گواہياں دينا شروع کرديں جس پر کفار نے ان ميں سے بعض کو شہيد کر ڈالا اور بعض پر طرح طرح کے ظلم و ستم ڈھانے لگے اس وقت جناب عمار نے اپنے باطنی عقيدے کے برخلاف تقيہ اختيار کرکے ظاہری طور پر کفر کے کلمات کو اپنی زبان پر جاری کيا تو کفار نے انہيں چھوڑ ديا پھر اسکے بعد جناب عمار انتہائی پريشانی کے عالم ميں رسول خدا کی خدمت ميں پہنچے تو آنحضرت نے انہيں تسلی دی اور پھر اس سلسلے ميں يہ آيت نازل ہوئی.(3)

●اس آيت اور اس کی تفسير سے بخوبی معلوم ہوجاتا ہے کہ پيغمبرخداۖ کے زمانے ميں اصحاب بھی جان ومال کی حفاظت کیلئے اپنے باطنی عقيدے کو چھپاکر تقيہ کرتے تھے. تقيہ شيعوں کی نگاه ميں
بنی اميہ اور بنی عباس کے ظالم حکمران ہميشہ شيعوں سے برسرپيکار رہے ہيں اور انہوں نے شيعوں کے قتل عام ميں کوئی کسر اٹھا نہيں رکھی ہے.(4)

اس بناپر اس زمانےميں شيعوں نےقرآن مجيد کے حکم کے مطابق انتہائی سخت حالات ميں اپنے سچے عقائد چھپاکر اپنی اور دوسرے مسلمان بھائيوں کی جانيں محفوظ کی تھيں، واضح ہے کہ اس ظلم و ستم کی فضا ميں شيعوں کے لئے تقيہ کے علاوه کوئی ايسا چارهٔ کار نہيں تھا جو شيعوں کو نابودی سے بچاتا لہذا اگر وه ظالم حکام، شيعوں کے دشمن نہ ہوتے اور شيعوں کا بے گناه قتل عام نہ کرتے تو ہرگز شيعہ تقيہ اختيار نہ کرتے.
●يہاں پر اس نکتے کا ذکربھی ضروری ہے کہ تقيہ صرف شيعوں سے ہی مخصوص نہيں ہے بلکہ دوسرے مسلمان بھی جب اپنے ايسے دشمنوں کے مقابلے ميں قرار پاتے ہيں جو مسلمانوں کے تمام فرقوں کے دشمن ہيں (جيسےکہ خوارج اور وه ظالم حکومتيں جو ہرحرام کام کو جائز سمجھتی ہيں) اور ان سے مقابلہ کی طاقت بھی نہيں ہوتی تو وه اپنی جان کی حفاظت کی خاطر تقيہ کا سہارا ليتے ہيں اس بنياد پر اگر اسلامی معاشرے کے تمام افراد اپنے فقہی مذاہب ميں اتفاق رائے رکھتے ہوئے وحدت واخوت کی زندگی گزارنا شروع کر ديں تو پھر ہرگز انھيں تقيہ کی ضرورت باقی نہيں رہے گی.

🌷نتيجہ
گزشتہ بحث سےيہ نتيجہ نکلتا ہےکہ..
١۔تقيہ کی اساس قرآن مجيدپر ہے اور صدر اسلام ميں پيغمبراکرمۖ کے اصحاب بھی تقيہ کرتے تھے اور آنحضرتۖ انکے اس عمل کی تائيد فرماتے تھے يہ سب تقيہ کےجائز ہونےکی دليليں ہيں.
٢۔شيعہ اپنے مذہب کو بچانے اور دشمنوں کے سفاکانہ قتل عام سے محفوظ رہنے کیلئے تقيہ کرتےتھے.
٣۔تقيہ صرف شيعوں سےمخصوص نہيں ہے بلکہ دوسرے مسلمان بھی تقيہ کرتے ہيں.
٤۔تقيہ کرنا اور اپنےباطنی عقائدچھپانا صرف کفار کے مقابلے ميں ہی انجام نہيں پاتا بلکہ تقيہ کا معيار (مسلمانوں کی جان بچانا) عموميت رکھتا ہے اور ہر ايسے ظالم دشمن کے سامنے کہ جسکے ساتھ مقابلے کی قدرت نہ ہو يا اس سے جہاد کرنے کے شرائط پورے نہ ہو رہےہوں تقيہ ضروری ہوجاتا ہے.
٥۔اگر مسلمانوں ميں مکمل وحدت اور ہم فکری پيدا ہوجائے تو ہرگز ان کے درميان تقيہ کی ضرورت باقی نہيں رہےگی.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوره آل عمران آيت: ٢٨
سوره نحل آيت: ١٠٦
اس سلسلےميں جلال الدين سيوطی کی تفسير درالمنثور جلد ٤ ص ١٣١ (طبع بيروت) کامطالعہ کيجئے.
بنی اميہ اور بنی عباس کےحکام کےحکم پر شيعوں کے بےرحمانہ قتل عام کے سلسلے ميں تفصيلی معلومات حاصل کرنے کیلئے ان کتابوں''مقاتل الطالبين'' (مصنفہ ابوالفرج اصفہانی)، ''شہداءالفضيلة (مصنفہ علامہ امينی)، ''الشيعہ والحاکمون'' (مصنفہ محمدجواد مغنيہ) کا مطالعہ مفيدثابت ہوگا.

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
⭕ موازنہ ⭕

ﮐﺴﯽ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮐﻮﺍ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﮐﻮﺍ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺵ ﺑﺎﺵ ﺗﮭﺎ۔
ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﮐﻮﮮ ﻧﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﺗﮯ ﺳﻔﯿﺪ ﮨﻨﺲ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔ ﮐﻮﺍ ﮨﻨﺲ ﮐﮯ ﺩﻭﺩﮪ ﺟﯿﺴﮯ ﺳﻔﯿﺪ ﺭﻧﮓ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﻫﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﻟﮕﺎ...
ﮐﮧ ﯾﮧ ﮨﻨﺲ ﺗﻮ ﯾﻘﯿﻨﺎ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺗﺮﯾﻦ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺵ ﺗﺮﯾﻦ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﮨﻮﮔﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﻨﺎ ﮐﺎﻻ ﮐﻠﻮﭨﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺪﺍ ﮨﻮﮞ۔ ﮐﻮﮮ ﻧﮯ ﺟﺐ ﯾﮩﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﻨﺲ ﺳﮯ ﮐﯽ ﺗﻮ ﮨﻨﺲ ﺑﻮﻻ...
ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺵ ﻗﺴﻤﺖ ﺗﺮﯾﻦ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻃﻮﻃﮯ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺭﺷﮏ ﺁﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﻭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺭﻧﮕﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﺍ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﺮﮮ ﺧﯿﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﻃﻮﻃﺎ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﮨﮯ۔
ﮐﻮﺍ ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻃﻮﻃﮯ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻨﭽﺎ۔ ﺟﺐ ﺍﺱ ﻧﮯ ﯾﮩﯽ ﺑﺎﺕ ﻃﻮﻃﮯ ﺳﮯ ﮐﮩﯽ ﺗﻮ ﻃﻮﻃﺎ ﺑﻮﻻ...
ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺑﮍﺍ ﺧﻮﺵ ﺑﺎﺵ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﻮﺭ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﺎﺭﺍ ﺳﻜﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﯽ ﻏﺎﺭﺕ ﮨﻮ گئی ﮨﮯ۔ ﻣﻮﺭ ﮐﻮ ﺗﻮ ﻗﺪﺭﺕ ﻧﮯ ﺑﯿﺸﻤﺎﺭ ﭘﻨﮑﮭﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺏ ﺻﻮﺭﺕ ﺭﻧﮕﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﺍ ﮨﮯ... ﮐﻮﺍ ﻣﻮﺭ ﮐﻮ ﮈﮬﻮﻧﮉﺗﮯ ﮨﻮﮮ ﭼﮍﯾﺎ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﻮﺭ ﺍﯾﮏ ﭘﻨﺠﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺪ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﻨﮑﮍﻭﮞ ﻟﻮﮒ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺟﻤﻊ ﺗﮭﮯ۔ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﺟﺐ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﮭﯿﮍ ذﺭﺍ ﭼﮭﭩﯽ ﺗﻮ ﮐﻮﺍ ﻣﻮﺭ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻻ...
" ﭘﯿﺎﺭﮮ ﻣﻮﺭ ﺗﻢ ﮐﺲ ﻗﺪﺭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮨﻮ۔ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﺭﻧﮓ ﮐﺘﻨﺎ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮨﮯ۔ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﻟﻮﮒ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯽ ﺷﻮ ﺷﻮ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﮕﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺗﻢ ﯾﻘﯿﻨﺎ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺵ ﻗﺴﻤﺖ ﺗﺮﯾﻦ ﭘﺮﻧﺪﮮ ﮨﻮ۔ ﺗﻢ ﮐﺘﻨﮯ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﮔﮯ۔"
ﻣﻮﺭ ﺑﻮﻻ... ﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺣﺴﯿﻦ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺳﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﺍﺱ ﭘﻨﺠﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺪ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﭼﮍﯾﺎ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﺟﺎﺋﺰﮦ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﺍﺣﺪ ﮐﻮﺍ ﮨﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﮨﮯ ﺟﺴﮯ ﺁﺝ ﺗﮏ ﭘﻨﺠﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺏ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﮐﭽﮫ ﺩﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﮐﺎﺵ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮐﻮﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﺳﮯ ﺟﻨﮕﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﮌﺗﺎ ﮔﮭﻮﻣﺘﺎ ﭘﮭﺮﺗﺎ۔''

ﺑﺎﻟﮑﻞ ﯾﮩﯽ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ۔ ﮨﻢ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﻏﯿﺮ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻮﺍﺯﻧﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔۔

ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺟﻦ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺻﻼﺣﯿﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﺍ ﮨﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻗﺪﺭ کیجئے ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺷﮑﺎﺋﺘﯿﮟ اور ﻧﺎﺷﮑﺮﯼ نہ کیجئے کیونکہ اس طرح غم اور ﺍﺩﺍﺳﯽ ﮨﻢ ﮐﻮ ﮔﮭﯿﺮ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﮯ۔
بلکہ
ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺩﯼ ﮨﻮئی ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ پر اللہ تعالٰی کا شکر ادا ﮐﯿﺠﺌﮯ۔ ﻓﻀﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻮﺍﺯﻧﮧ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻧﮧ ﮐﯿﺠﺌﮯ۔ اور ﺍﻟﻠﮧ تعالٰی ﮐﯽ ﮨﺮ ﻧﻌﻤﺖ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ "ﺍﻟﺤﻤﺪُﻟﻠﮧ" ﮐﮩﻨﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﻓﺮﺽ ﮐﺮ ﻟﯿﺠﺌﮯ...!
کیونکہ
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے...
"جب اللہ تعالٰی کسی بندے کو کسی نعمت سے سرفراز فرمائے اور وہ اس پر الحمدللہ کہے تو جو اس نے حاصل کیا ہے اس سے بھی بہتر دیا جائے گا" (ابن ماجہ:3805)

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 جمادی الثانی کا آخری دن 🔷

ماه ﺟﻤﺎﺩﯼ ﺍﻟﺜﺎﻧﯽ میں ایک مخصوص نماز پڑھی جاتی ہے، آخری دن میں یه نماز پڑھ کر دنیا و آخرت کا فائدہ حاصل کریں..
ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﯾﮧ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﮮ ﺣﻖ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺁﯾﻨﺪﮦ ﺳﺎﻝ ﺗﮏ ﺍﺳﮑﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺎﻝ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﮨﻞﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﯾﻦ ﻭ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﻭ ﻣﺎﻣﻮﻥ ﺭﮐﮭﮯ ﮔﺎ۔ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺍﺱ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻣﺮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﺛﻮﺍﺏ ﻋﻄﺎ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔

🌹 نمازِ مخصوص:
ﺟﻤﺎﺩﯼ ﺍﻟﺜﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺍﻋﻤﺎﻝﮐﮯ ﺿﻤﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﺪ ﺍﺑﻦ ﻃﺎﺅﺱؒ ﻧﮯ ﻧﻘﻞ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻣﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﻭﻗﺖ ﺑﮭﯽ ﭼﺎﮨﮯ ﭼﺎﺭ ﺭﮐﻌﺖ ﻧﻤﺎﺯ ﺩﻭ ﺩﻭ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺑﺠﺎ ﻻﺋﮯ.

ﭘﮩﻠﯽﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺭه ﺍﻟﺤﻤﺪ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺁﯾۃ ﺍﻟﮑﺮﺳﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﭽﯿﺲ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺳﻮﺭه ﻗﺪﺭ، ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺭه ﺍﻟﺤﻤﺪ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺳﻮﺭه ﺗﮑﺎﺛﺮ ﺍﻭﺭ ﭘﭽﯿﺲ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺳﻮﺭه ﺗﻮﺣﯿﺪ.
ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺁﺧﺮﯼ ﺩﻭ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺭه ﺍﻟﺤﻤﺪ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺳﻮﺭه ﮐﺎﻓﺮﻭﻥ ﺍﻭﺭ ﭘﭽﯿﺲ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺳﻮﺭه ﻓﻠﻖ،
ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺭه ﺍﻟﺤﻤﺪ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺳﻮﺭه ﻧﺼﺮ ﺍﻭﺭ ﭘﭽﯿﺲ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺳﻮﺭه ﻧﺎﺱ ﭘﮍﮬﮯ.

ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﺘﺮ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﮐﮩﮯ:
ﺳُﺒْﺤَﺎﻥَ ﷲِ ﻭَﺍﻟْﺤَﻤْﺪُ لِلّٰہِ ﻭَﻟَﺎ ﺍِﻟَﮧَ ﺍِﻟَّﺎ ﷲُ ﻭَﷲُ ﺍَﮐْﺒَﺮُ۔
ﺳﺘﺮ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﮐﮩﮯ:
ﺍَﻟﻠَّﮭُﻢَّ ﺻَﻞ ﻋَﻠﯽٰ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ ﻭَّﺁﻝِ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ۔
ﺗﯿﻦ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﮐﮩﮯ:
ﺍَﻟﻠَّﮭُﻢَّ ﺍﻏْﻔَﺮِ ﻟِﻠْﻤُﻮْٔﻣِﻨِﯿْﻦَ ﻭَﺍﻟْﻤُﻮْٔﻣِﻨَﺎﺕِ۔
ﭘﮭﺮ ﺳﺠﺪﮦ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﮐﺮ ﺗﯿﻦ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﯾﮧ ﮐﮩﮯ: ﯾَﺎ ﺣَﻲُّ ﯾَﺎ ﻗَﯿُّﻮﻡُ ﯾَﺎ ﺫَﺍﻟْﺠَﻠَﺎﻝِ ﻭَﺍﻟْﺎِﮐْﺮَﺍﻡِ ﯾَﺎ ﷲُ ﯾَﺎ ﺭَﺣْﻤَﺎﻥُ ﯾَﺎ ﺭَﺣَﯿْﻢُ ﯾَﺎ ﺍَﺭْﺣَﻢَ ﺍﻟﺮَّﺍﺣِﻤِﯿْﻦَ.

ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﭘﻨﯽ ﺣﺎﺟﺎﺕ ﻃﻠﺐ ﮐﺮﮮ.

📚 مفاتیح الجنان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

■ اس نماز کے سوره دیکھ کر بھی پڑھے جا سکتے ہیں. جو درج ذیل ہیں..

●آیت الکرسی
ﺑِﺴْﻢِ ﺍﻟﻠﻪِ ﺍﻟﺮَﺣْﻤﻦِ ﺍﻟﺮَﺣﯿﻢْ
ﺍﻟﻠﻪُ ﻻَﺇِﻟٰﮧَ ﺇِﻻَّ ﮬُﻮَ ﺍﻟْﺤَﯽُّ ﺍﻟْﻘَﯿُّﻮﻡُ ﻻَﺗَﺄْﺧُﺬُہُ ﺳِﻨَﺔٌ ﻭَﻻَﻧَﻮْﻡٌ ﻟَﮧُ ﻣَﺎ ﻓِﯽ ﺍﻟﺴَّﻤَٰﻮٰﺕ ﻭَﻣَﺎ ﻓِﯽ ﺍﻟْﺄَﺭْﺽِ ﻣَﻦْ ﺫَﺍﺍﻟَّﺬِﯼ ﯾَﺸْﻔَﻊُ ﻋِﻨْﺪَﮦُ ﺇِﻻَّ ﺑِﺈِﺫْﻧِﮧِ ﯾَﻌْﻠَﻢُ ﻣَﺎ ﺑَﯿْﻦَ ﺃَﯾْﺪِﯾﮭِﻢْ ﻭَﻣَﺎ ﺧَﻠْﻔَﮭُﻢْ ﻭَﻻَﯾُﺤِﯿﻄُﻮﻥَ ﺑِﺸَﯽْﺀٍ ﻣِﻦْ ﻋِﻠْﻤِﮧ ﺇِﻻّ ﺑِﻤَﺎ ﺷَﺎﺀَ ﻭَﺳِﻊَ ﮐُﺮْﺳِﯿُّﮧُ ﺍﻟﺴَّﻤٰﻮٰﺕِ ﻭَﺍﻟْﺎَﺭْﺽَ ﻭَﻻَﯾَﺌُﻮﺩُﮦُ ﺣِﻔْﻈُﮭُﻤَﺎ ﻭَﮬُﻮَ ﺍﻟْﻌَﻠِﯽُّ ﺍﻟْﻌَﻈِﯿﻢُ
ﻻَﺇِﮐْﺮَﺍﮦَ ﻓِﯽ ﺍﻟﺪِّﯾﻦِ ﻗَﺪْ ﺗَﺒَﯿَّﻦَ ﺍﻟﺮُّﺷْﺪُ ﻣِﻦْ ﺍﻟﻐَﯽِّ ﻓَﻤَﻦْ ﯾَﮑْﻔُﺮْ ﺑِﺎﻟﻄَّﺎﻏُﻮﺕِ ﻭَﯾُﺆْﻣِﻦْ ﺑِﺎﻟﻠﻪِ ﻓَﻘَﺪْ ﺍﺳْﺘَﻤْﺴَﮏَ ﺑِﺎﻟْﻌُﺮْﻭَﺓِ ﺍﻟْﻮُﺛْﻘَﯽ ﻻَﺍﻧﻔِﺼَﺎﻡَ ﻟَﮭَﺎ ﻭَﺍﻟﻠﻪُ ﺳَﻤِﯿﻊٌ ﻋَﻠِﯿﻢٌ
ﺍﻟﻠﻪُ ﻭَﻟِﯽُّ ﺍﻟَّﺬِﯾﻦَ ﺁﻣَﻨُﻮﺍ ﯾُﺨْﺮِﺟُﮭُﻢْ ﻣِﻦْ ﺍﻟﻈُّﻠُﻤٰﺖِ ﺇِﻟَﯽ ﺍﻟﻨُّﻮﺭِ ﻭَﺍﻟَّﺬِﯾﻦَ ﮐَﻔَﺮُﻭﺍ ﺃَﻭْﻟِﯿٰﺌُﮭُﻢْ ﺍﻟﻄَّﺎﻏُﻮﺕُ ﯾُﺨْﺮِﺟُﻮﻧَﮭُﻢْ ﻣِﻦْ ﺍﻟﻨُّﻮﺭِ ﺇِﻟَﯽ ﺍﻟﻈُّﻠُﻤٰﺖِ ﺃُﻭْﻟٰٓﺌِﮏَ ﺃَﺻْﺤَﺎﺏُ ﺍﻟﻨَّﺎﺭِ ﮬُﻢْ ﻓِﯿﮭَﺎ ﺧٰﻠِﺪُﻭﻥَ.

●سوره قدر
ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺍﻟﺮﺣﻴﻢ
ﺇِﻧَّﺎ ﺃَﻧﺰَﻟْﻨَﺎﻩُ ﻓِﻲ ﻟَﻴْﻠَﺔِ ﺍﻟْﻘَﺪْﺭِ¤ ﻭَﻣَﺎ ﺃَﺩْﺭَﺍﻙَ ﻣَﺎ ﻟَﻴْﻠَﺔُ ﺍﻟْﻘَﺪْﺭِ¤ ﻟَﻴْﻠَﺔُ ﺍﻟْﻘَﺪْﺭِ ﺧَﻴْﺮٌ ﻣِّﻦْ ﺃَﻟْﻒِ ﺷَﻬْﺮٍ¤ ﺗَﻨَﺰَّﻝُ ﺍﻟْﻤَﻼﺋِﻜَﺔُ ﻭَﺍﻟﺮُّﻭﺡُ ﻓِﻴﻬَﺎ ﺑِﺈِﺫْﻥِ ﺭَﺑِّﻬِﻢ ﻣِّﻦ ﻛُﻞِّ ﺃَﻣْﺮٍ¤ ﺳَﻼﻡٌ ﻫِﻲَ ﺣَﺘَّﻰ ﻣَﻄْﻠَﻊِ ﺍﻟْﻔَﺠْﺮِ¤

●سوره التکاثر
ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺍﻟﺮﺣﻴﻢ
ﺃَﻟْﻬَﺎﻛُﻢُ ﺍﻟﺘَّﻜَﺎﺛُﺮُ¤ ﺣَﺘَّﻰ ﺯُﺭْﺗُﻢُ ﺍﻟْﻤَﻘَﺎﺑِﺮَ¤ ﻛَﻼَّ ﺳَﻮْﻑَ ﺗَﻌْﻠَﻤُﻮﻥَ¤ ﺛُﻢَّ ﻛَﻼَّ ﺳَﻮْﻑَ ﺗَﻌْﻠَﻤُﻮﻥَ¤ ﻛَﻼَّ ﻟَﻮْ ﺗَﻌْﻠَﻤُﻮﻥَ ﻋِﻠْﻢَ ﺍﻟْﻴَﻘِﻴﻦِ¤ ﻟَﺘَﺮَﻭُﻥَّ ﺍﻟْﺠَﺤِﻴﻢَ¤ ﺛُﻢَّ ﻟَﺘَﺮَﻭُﻧَّﻬَﺎ ﻋَﻴْﻦَ ﺍﻟْﻴَﻘِﻴﻦِ¤ ﺛُﻢَّ ﻟَﺘُﺴْﺄَﻟُﻦَّ ﻳَﻮْﻣَﺌِﺬٍ ﻋَﻦِ ﺍﻟﻨَّﻌِﻴﻢِ¤

●سوره توحید
ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺍﻟﺮﺣﻴﻢ
ﻗُﻞْ ﻫُﻮَ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﺃَﺣَﺪٌ¤ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﺍﻟﺼَّﻤَﺪُ¤ ﻟَﻢْ ﻳَﻠِﺪْ ﻭَﻟَﻢْ ﻳُﻮﻟَﺪْ¤ ﻭَﻟَﻢْ ﻳَﻜُﻦ ﻟَّﻪُ ﻛُﻔُﻮًﺍ ﺃَﺣَﺪٌ¤

●سوره کافرون
ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺍﻟﺮﺣﻴﻢ
ﻗُﻞْ ﻳَﺎ ﺃَﻳُّﻬَﺎ ﺍﻟْﻜَﺎﻓِﺮُﻭﻥَ¤ ﻻ ﺃَﻋْﺒُﺪُ ﻣَﺎ ﺗَﻌْﺒُﺪُﻭﻥَ¤ ﻭَﻻ ﺃَﻧﺘُﻢْ ﻋَﺎﺑِﺪُﻭﻥَ ﻣَﺎ ﺃَﻋْﺒُﺪُ¤ ﻭَﻻ ﺃَﻧَﺎ ﻋَﺎﺑِﺪٌ ﻣَّﺎ ﻋَﺒَﺪﺗُّﻢْ¤ ﻭَﻻ ﺃَﻧﺘُﻢْ ﻋَﺎﺑِﺪُﻭﻥَ ﻣَﺎ ﺃَﻋْﺒُﺪُ¤ ﻟَﻜُﻢْ ﺩِﻳﻨُﻜُﻢْ ﻭَﻟِﻲَ ﺩِﻳﻦِ¤

●سوره فلق
ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺍﻟﺮﺣﻴﻢ
ﻗُﻞْ ﺃَﻋُﻮﺫُ ﺑِﺮَﺏِّ ﺍﻟْﻔَﻠَﻖِ¤ ﻣِﻦ ﺷَﺮِّ ﻣَﺎ ﺧَﻠَﻖَ¤ ﻭَﻣِﻦ ﺷَﺮِّ ﻏَﺎﺳِﻖٍ ﺇِﺫَﺍ ﻭَﻗَﺐَ¤ ﻭَﻣِﻦ ﺷَﺮِّ ﺍﻟﻨَّﻔَّﺎﺛَﺎﺕِ ﻓِﻲ ﺍﻟْﻌُﻘَﺪِ¤ ﻭَﻣِﻦ ﺷَﺮِّ ﺣَﺎﺳِﺪٍ ﺇِﺫَﺍ ﺣَﺴَﺪَ¤

●سوره نصر
ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺍﻟﺮﺣﻴﻢ
ﺇِﺫَﺍ ﺟَﺎﺀَ ﻧَﺼْﺮُ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﻭَﺍﻟْﻔَﺘْﺢُ¤ ﻭَﺭَﺃَﻳْﺖَ ﺍﻟﻨَّﺎﺱَ ﻳَﺪْﺧُﻠُﻮﻥَ ﻓِﻲ ﺩِﻳﻦِ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﺃَﻓْﻮَﺍﺟًﺎ¤ ﻓَﺴَﺒِّﺢْ ﺑِﺤَﻤْﺪِ ﺭَﺑِّﻚَ ﻭَﺍﺳْﺘَﻐْﻔِﺮْﻩُ ﺇِﻧَّﻪُ ﻛَﺎﻥَ ﺗَﻮَّﺍﺑًﺎ¤

□سوره ناس
ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺍﻟﺮﺣﻴﻢ
ﻗُﻞْ ﺃَﻋُﻮﺫُ ﺑِﺮَﺏِّ ﺍﻟﻨَّﺎﺱِ¤ ﻣَﻠِﻚِ ﺍﻟﻨَّﺎﺱِ¤ ﺇِﻟَﻪِ ﺍﻟﻨَّﺎﺱِ¤ ﻣِﻦ ﺷَﺮِّ ﺍﻟْﻮَﺳْﻮَﺍﺱِ ﺍﻟْﺨَﻨَّﺎﺱِ¤ ﺍﻟَّﺬِﻱ ﻳُﻮَﺳْﻮِﺱُ ﻓِﻲ ﺻُﺪُﻭﺭِ ﺍﻟﻨَّﺎﺱِ¤ ﻣِﻦَ ﺍﻟْﺠِﻨَّﺔِ ﻭَﺍﻟﻨَّﺎﺱِ¤

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
📝 پتھر جيسى سختى

......سكاكى اپنے عہد كے نامور دانشمندوں ميں شمار كئے جاتے تھے ۔ شروع ميں وہ ماہر فنكار اور كاريگر آدمى تھے۔ بڑھاپے ميں ان كو پڑھائى كا جنون پيدا ہوا تو وہ ايک استاد كے پاس حاضر ہوۓتو استاد نے ان كو ايک مسئلہ سكھايا؛
’’استاد كا عقيدہ تھا كہ كتے كى كھال دباغت كے بعد پاک ہوجاتى ہے‘‘
سكاكى نے اس جملے كو كم از كم دس بار دہرايا تاكہ امتحان كے موقع وہ اچھے نمبروں سے كامياب ہوسكے۔ ليكن جب اس سے اس درس كے بارے ميں سوال كيا گيا تو اس نے جواب ديتے ہوۓ كہا؛
’’كتے كا عقيدہ يہ ہے كہ استاد كى كھال دباغت كے بعد پاک ہو جايا كرتى ہے.‘‘
اس كاجواب سن كر سب حاضرين ہنسنے لگے۔ اس بات پر اس كو مدرسہ سے نكال دياگيا۔
سكاكى شہر چھوڑ كر جنگل كى طرف نكل گیا جہاں انہوں نے ديكھا كہ ايک بلندى سے پتھر پر بوند بوند پانى ٹپک رہاہے اور بوند بوند پانى ٹپكنے كى وجہ سے اس سخت پتھر ميں بھى سوراخ پيدا ہوگيا۔ وہ كچھ دير تک اسى موضوع پر سوچتا رہا۔ اس بات نے اس كے دل ودماغ پر گہرا اثر ڈالا۔ اور كہنے لگا؛
’’ميرا دل پڑھنے لكھنے كى طرف چاہے بالكل ہى مائل نہ ہو ليكن اس ميں پتھر جيسى سختى تو نہيں لہذا يہ قطعى ناممكن ہے كہ ميں لگاتار علم كے لئے محنت كروں اور حاصل نہ كرسكوں.‘‘

🔘 دیکھا جائے تو ہم بھی کبھی کبھی کم فکر اور کم دقت ہونے کی وجہ سے تھوڑی تھوڑی سختیوں کی وجہ سے اپنے اھداف کو بھلا دیتے ہیں اور بجائے اسکے کہ ان مشکلات کا مقابلہ کریں ہم خود ہی کم ظرفی کا شکار ہوجاتے ہیں اور پستی کی پستیوں میں سوجاتے ہیں پھر پستیوں سے اتنی محبت ہو جاتی ہے کہ بلندی کا سوچتے تک نہیں،
ایسا انسان اپنی صلاحیتوں پہ ظلم کر رہا ہوتا ہے.....

📚 سچى كہانياں، شہيد مرتضى مطہرىؒ، ص:۲۲۸.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 آئمہ معصومینؐ 🔷

پيغمبر اکرمؐ نے اپنی زندگی ہی ميں يہ بات واضح کردی تھی کہ آپؐ کے بعد باره خليفے ہوں گے اورسب قريش ميں سے ہوں گے اور اسلام کی عزت انہيں خلفاء کی مرہون منت ہوگی..

جابر بن سمره کہتے ہيں..
''سمعت رسول لله يقول لايزال السلام عزيزأ اِلی اثن عشر خليفةً ثم قال کلمة لا أسمعھا فقلت لأب: ماقال؟ فقال کلھم من قريش.''
ترجمہ:
ميں نے پيغمبرِ خدا کو يہ فرماتے ہوئے سنا کہ اسلام کو باره خلفاء کے ذريعہ عزت حاصل ہوگی اور پھر پيغمبر اکرمؐ نے کوئی لفظ کہا جسے ميں نے نہيں سنا ميں نے اپنے والد سے پوچھا کہ پيغمبر اکرمؐ نے کيا فرماياہے؟ جواب ديا کہ پيغمبر اکرمؐ نے فرمايا کہ يہ سب قريش ميں سے ہوں گے.
(صحيح مسلم،جلد6،ص:2،طبع مصر)

اسلام کی تاريخ ميں ايسے باره خلفاء جو اسلام کی عزت کے محافظ اور نگہبان رہے ہوں ان باره اماموں کے علاوه نہيں ملتے جن کو شيعہ اپنے امام مانتے ہيں کيونکہ جن باره خلفاء کا تعارف خود پيغمبر اکرمؐ نے کرايا تھا وہی آنحضرتؐ کے بلا فصل خليفہ شمار ہوتے ہيں اب ديکھنا يہ ہے کہ وه باره افراد کون ہيں؟ اگر ہم ان چار خلفاء سے کہ جن کو اہل سنت خلفاء راشدين کہتے ہيں، چشم پوشی کرليں تو دوسرے خلفاء ميں سے کوئی بھی عزتِ اسلام کا باعث نہيں تھا جيسا کہ اموی اور عباسی خلفاء کی تاريخ اس بات کی شاہد ہے. ليکن شيعوں کے سبھی باره آئمہ اپنے اپنے زمانے ميں تقویٰ اور پرہيزگاری کے پيکر تھے. وه سب پيغمبر اکرمؐ کی سنت کے محافظ تھے نيز وه سب صحابہ کرام، تابعين اور بعد ميں آنے والی نسلوں کی توجہ کا مرکز قرار پائے. مؤرخین نے بھی انکے علم اور ان کی وثاقت کی صاف لفظوں ميں گواہی دی ہے.

ان باره اماموں کے اسمائے گرامی درج ذيل ہيں:
1= امام علیؑ ابن ابی طالبؑ
2= امام حسنؑ بن علیؑ (مجتبیٰؑ)
3= امام حسينؑ بن علیؑ
4= امام علیؑ ابن الحسينؑ (زين العابدينؑ)
5= امام محمدؑ بن علیؑ (باقرؑ)
6= امام جعفرؑ بن محمدؑ (صادقؑ)
7= امام موسیٰؑ بن جعفرؑ (کاظمؑ)
8= امام علیؑ بن موسیٰؑ (رضاؑ)
9= امام محمدؑ بن علیؑ (تقیؑ)
10= امام علیؑ بن محمدؑ (نقیؑ)
11= امام حسنؑ بن علیؑ (عسکریؑ)
12= امام مہدیؑ (قائمؑ)

بارہویں امام مہدی عج کے سلسلے ميں مسلمان محدثين نے پيغمبر اسلامؐ سے متواتر احاديث نقل کی ہيں کہ جن ميں آپ کو مہدی موعود (جن کا وعده کيا گيا ہے) کے نام سے ياد کياگيا ہے.

يہ وه آئمہ معصومينؑ ہيں کہ جنکے اسمائے مبارک پيغمبر اسلامؐ نے بيان فرمائے ہيں انکی زندگی سے متعارف ہونے کيلئے درج ذيل کتابوں کا مطالعہ مفيد ثابت ہوگا...

1. تذکرة الخواص (تذکرة خواص الامّہ)
2. کفاية الاثر
3. وفيات الاعيان
4. اعيان الشيعہ (سيد محسن امين عاملی) يہ کتاب بقيہ کتابوں کی نسبت زياده جامع ہے.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌹امام علیؑ، نبی اکرمؐ کےقائم مقام🌹

"عن سعد بن ابي وقاص قال خلف رسول اﷲ علي بن ابي طالب في غزوه تبوک فقال يا رسول اﷲ تخلفني في النساء والصبيان فقال اما ترضي ان تکون مني بمنزلة هارون من موسي غير انه لا نبي بعدي"
ترجمہ:
حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرمؐ نے حضرت علیؑ کو غزوہ تبوک میں اپنا خلیفہ بنایا تو انہوں نے عرض کیا۔ اے اللہ کے رسولؐ آپ نے مجھے عورتوں اور بچوں میں خلیفہ بنایا ہے۔ اس پر حضورؐ نے فرمایا کہ آپ اس چیز پر راضی نہیں کہ آپ میرے لئے اس طرح بن جائیں جس طرح کہ ہارونؑ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قائم مقام تھے مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا.(1)

"عن زيد بن ارقم قال کانت فلنفرمن اصحاب رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم ابواب شارعة في المسجد فقال يوماً سدوا هذه الابواب الاباب علي قال فتکلم في ذالک ناس فقام رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم فحمد اﷲ و اثني عليه تم قال اما بعد فاني امرت بسد هذه الابواب غير باب علي فقال فيه قائلکم والله ماسددت شيئا ولا فتحته ولکن امرت شي فاتبعته"
ترجمہ:
حضرت زید بن ارقمؓ سے روایت ہے کہ اصحابِ رسولؐ میں سے بعض کے گھروں کے دروازے مسجد نبوی (کے صحن) کی طرف کھلتے تھے ایک دن حضور نبی اکرمؐ نے فرمایا؛ ان تمام دروازوں کو بند کر دو سوائے بابِ علی کے.
راوی کہتا ہے کہ بعض لوگوں نے چہ میگوئیاں کیں اس پر حضور نبی اکرمؐ نے خطبہ ارشاد فرمایا؛ حمد و ثناء کے بعد فرمایا مجھے بابِ علی کے سوا ان تمام دروازوں کو بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے پس تم میں سے کسی نے اس بات پر اعتراض کیا ہے، خدا کی قسم نہ میں کسی چیز کو کھولتا اور نہ بند کرتا ہوں مگر یہ کہ مجھے اس چیز کے کرنے کا حکم دیا جاتا ہے پس میں اس (حکم خداوندی) کی اتباع کرتا ہوں۔(2)

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

📚 حوالہ جات:
(1)صحيح مسلم، 4 : 1870- 1871، کتاب فضائل الصحابه، باب 4 من فضائل علي بن ابي طالب رضي الله عنه، ح : 2404
صحيح البخاري، 3 : 1358، کتاب المناقب باب 9 فضل الصحابه، ح : 3503
صحيح البخاري، 4 : 1602، کتاب المغازي، باب 74غزوه تبوک،ح : 1454
سنن الترمذي، 5 : 640 - 641، کتاب المناقب، باب 30 مناقب علي رضي الله عنه بن ابي طالب، ح : 3724، 3730، 3731
سنن ابن ماجه، 1 : 42، المقدمه، باب فضل علي بن ابي طالب ح : 115
المستدرک للحاکم، 3 : 109، کتاب معرفة الصحابه، باب ذکر بغض فضائل علي رضي الله عنه
المعجم الکبير لطبراني، 1 : 146، ح : 328
المعجم الکبير لطبراني، 1 : 148، ح : 333، 334
المعجم الکبير لطبراني، 2 : 247، ح : 2036
المعجم الکبير لطبراني، 5 : 203، ح : 5094، 5095
المعجم الکبير، 11 : 61، ح : 11087
مسند احمد بن حنبل، 3 : 32،
مسند احمد بن حنبل، 4 : 438
مسند احمد بن حنبل، 3 : 338
مسند ابي يعلي، 1 : 286، ح : 345
مسند ابي يعلي، 2 : 57، ح : 698
مسند ابي يعلي، 2 : 66، ح : 709
مسند ابي يعلي، 2 : 73، ح : 718
مسند ابي يعلي، 2 : 86، ح : 739، 738
مسند ابي يعلي، 2 : 99، ح : 755
مصنف عبدالرزاق، 11 : 226، ح : 20390، باب اصحاب النبیؐ،
مجمع الزوائد، 9 : 109، باب منزلة رضي الله تعالي عنه،
سنن ابن ماجه، 1 : 42 - 43. المقدمه، باب 11 فضل علي بن ابي طالب رضي الله عنه، ح : 115
امام ترمذی نے اس حدیث پاک کو حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور اس کے رجال اور سند کو ثقہ کہا ہے۔
1۔ امام ابو یعلی اورامام طبرانی نے جو حدیث ام سلمہ سے روایت کی ہے اسکی اسناد ثقہ ہے۔
2۔ امام بزار اور امام طبرانی نے جو حدیث ابن عباس سے روایت کی ہے اسکی اسناد بھی ثقہ ہے۔
3۔ امام طبرانی نے حضرت زبیر سے جو روایت کی ہے اسکے رجال کی اسناد بھی ثقہ ہے۔
(2)المستدرک للحاکم، 3 : 125.

https://t.me/islamwitheman/508
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌷 رسول اکرمؐ کا حقیقی جانشین 🌷

ایک وه موقع جب آپ نے اپنے واضح حکم سے غزوه تبوک کے موقع پر حضرت علیؑ کو آپنا قائم مقام نائب بنایا. ساتھ یه بھی فرمایا که اے علیؑ تمھیں مجھ سے وھی نسبت ھے جیسے ھارون کی موسیٰؑ سے تھی ھاں مگر میرے بعد کوئی نبی نه ھو گا.

دوسرا موقع سوره برأت کے نزول کا ھے جس میں آپؐ نے ابوبکر کو بھیجا، مگر الله کا حکم آنے سے حضرت علیؑ کو پیچھے بھیجا تاکه مشرکین تک اعلان برات کے پہنچانے کی ذمه داری لیں. کیونکه الله تعالیٰ کا حکم ھوا تھا که آپ اپنی اہلبیتؑ میں سے حضرت علیؑ کو بھیجیں.

اس واقعه سے برادران کی اس سوچ کی نفی ھوتی ھے که علیؑ اصحاب میں سے ہیں. بلکه یہاں اھلبیتؑ کے فرد ھونے کی وجه سے حکمِ الٰھی ھوا ھے.

دوسرا خلافت کا مسئله حل ھوتا ھے که بحکم خدا آپ کا نائب یا قائم مقام وھی ھو سکتا ھے جو ھر لحاظ سے علم سے، تقویٰ سے، شجاعت سے صلاحیت و اہمیت رکھتا ھو. بحواله: تاریخ ابن کثیر (البدایه والنھایه)، جلد:5، ص:21,22/64,65.

خلافت پر قبضه کیسے کیا گیا یه مکمل روداد ملاحظه فرمائیں:
بخاری شریف جلد:8, حدیث نمبر:6830،
ص:182 تا 189.

حضرت عمر تسلیم کر رھے ھیں که ابوبکر کی بیعت اچانک ھو گئی تھی پھر چل بھی گئی. حضرت عمر خود تسلیم کر رھے ھیں که یه خلافت جس پر ھم نے قبضه کیا یه نہ الله کے حکم پر ھوئی اور نہ ھی رسول اکرمؐ کے حکم سے.

یه سب رجم کے حکم پر دی گئی حدیث نمبر:6830 میں موجود ھے.

👆ایک مراسلہ👆

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔

https://t.me/islamwitheman/509
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 یہ وقت بھی گزر جائیگا 🔷

ایک شخص کو کسی کا قرض ادا کرنا تھا، قرض خواہ نے قرضدار کو مزدوری کے طور پر بیل کے ساتھ ہل میں جوت دیا۔ ایک تیسرا شخص وہاں سے گزرا تو اسے قرضدار کی حالت پر ترس آگیا، اس نے قرض دار کو قرض ادا کرنے کی آفر کی لیکن قرض دار نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ..
"یہ وقت بھی گزر جائیگا"
خیر پورے دن کی بدن توڑ محنت کے بعد قرضدار قرض سے آزاد ہوگیا۔ کچھ عرصہ بعد اس تیسرے شخص کا دوبارہ اسی علاقے سے گزر ہوا تو اس نے سوچا قرضدار کا حال احوال پتہ کرلوں، جاکر معلوم کیا تو علم ہوا کہ قرضدار بہت امیر کبیر ہوگیا ہے، اس نے جاکر اس سے ملاقات کی اور اس کی موجودہ حالت پر خوشی کا اظہار کیا تو اس قرضدار نے مسکرا کر جواب دیا
"یہ وقت بھی گزر جائے گا."
کچھ عرصہ بعد یہ شخص جب دوبارہ اس علاقے میں گیا تو اسے علم ہوا کہ قرضدار فوت ہو چکا ہے، یہ شخص اس کی قبر پر فاتحہ پڑھنے گیا تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب وہاں بھی یہی لکھا تھا کہ..
"یہ وقت بھی گزر جائے گا."
یہ شخص کافی سوچتا رہا کہ آخر اس بات کا کیا مطلب ہو سکتا ہے، کیا قبر میں جانے کے بعد کا وقت بھی گزر جائے گا؟
لیکن جب وہ اس کے بعد دوبارہ وہاں آیا تو اسے اپنی اس بات کا بھی جواب مل گیا، جب اس نے دیکھا کہ اس کی قبر کی جگہ سے سڑک گزر رہی تھی اور وہاں بچے کھیل رہے تھے۔۔۔!!

■ یہ دنیا کسی کی نہیں، یہاں کچھ بھی ہمیشہ نہیں رہتا، باقی رہنے والی چیز صرف اعمال ہیں. کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ وقت بھی گزر جائے اور سوائے پچھتاوے کے ہمارے ہاتھ کچھ نہ آئے پھر ہم کہتے پھریں..
"یالیتنی کنت ترابا" (کاش! میں مٹی ہوتا یعنی کاش مجھے دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے)
اور آواز قدرت آئے کہ اب وقت گزر چکا ہے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

👈 دنیا کی ناپائیداری پر مزید پوسٹس پڑھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں.

🔷 مقررہ وقت
http://t.me/islamwitheman/144

🔷 بیوقوف کون؟
https://t.me/islamwitheman/59

🔷 انسان پیدائشی حریص ہے
https://t.me/islamwitheman/89

🔷 دنیا کا دارومدار
https://t.me/islamwitheman/95

⭕ خوبصورت حسینہ
https://t.me/islamwitheman/109

🔷 عقلمند بادشاہ
https://t.me/islamwitheman/363

🌹 چیونٹی اور شہد
https://t.me/islamwitheman/371

🌹 دنیا کی زندگی
https://t.me/islamwitheman/461

🔷 دنیا ایک ضعیفہ کی صورت میں
https://t.me/islamwitheman/471
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌷 مجتہد کی ضرورت 🌷

اصول کافی، شیخ صدوق کی کتاب من لا یحضرہ الفقیہ اور وسائل الشیعہ کے ہوتے ہوئے توضیح المسائل کی کیا ضرورت ہے؟ ان کتابوں کے اردو تراجم بھی دستیاب ہیں، کوئی بھی شخص ان کتابوں سے برائے راست فرمانِ معصومؑ معلوم کر سکتا ہے۔ اس طرح مجتہد کی ضرورت ہی نہیں رہتی.

تو اس کا جواب یہ ہے کہ..
اسلام کی پہلی ترجیح تو یہی ہے کہ ہر شخص اس لائق ہو کہ وہ براہ راست قرآن اور معصومؑ کا فرمان سمجھتا ہو اور اپنے سارے شرعی مسائل براہ راست قرآن اور حدیث سے اخذ کر سکتا ہو۔ لیکن جب آپ تراجم کے موجود ہونے کی بات کرتے ہیں تو پھر درمیان میں مجتہد سے بھی کم درجے کا ایک مترجم واسطہ بن جاتا ہے ہم اس سے دین لے رہے ہوتے ہیں۔ ہم خود براہ راست معصومؑ کا فرمان تو نہیں سمجھ رہےہوتے۔

ایک بڑی مشکل یہ بھی ہے کہ ان کتابوں کے اندر ایک ہی باب کے ایک ہی مسئلے کے بارے میں مختلف روایتیں موجود ہیں جن کے درمیان بظاہر ٹکراؤ اور تضاد کی سی کفیت نظر آتی ہے۔ اس مشکل کا حل عام آدمی تو دور کی بات کسی عام عالم کے بس میں بھی نہیں ہے۔ اس کام کے لئے خاص علم اور مہارت کی ضرورت ہوتی ہے جس کے پاس یہ دونوں ہوں وہی مجتہد ہوتا ہے۔

ایک اور مشکل، پیش آنے والے جدید مسائل ہیں جن کے اصول اور ضوابط قرآن کریم اور فرامینِ معصومینؑ میں موجود ہیں لیکن ان سے حکم سمجھنے کے لئے اجتھاد کی سطح کا علم درکار ہوتا ہے.

🌹 امام حسن عسکریؑ فرماتے ہیں..
فقہاء (مجتہدین) میں سے ایسا شخص جو
اپنے نفس کی (گناہوں سے) حفاظت کرنے والا ہو،
اپنے دین کی حفاظت کرتا ہو،
ہوا و ہوس (خواہشاتِ نفسانی) کی مخالفت کرتا ہو،
اور اپنے مولا کی پیروی کرتا ہو،
تو پھر عوام کی ذمہ داری ہے کہ اس کی تقلید (پیروی) کریں.

🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے ۔

📚 بحارالانوار، ج 2، ص:88.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

■ تقلید کے بارے مذید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ لنک پر کلک کریں.

🔷 تقلید کی ضرورت
https://t.me/islamwitheman/357

🔷 تقلید کیوں واجب ہے
https://t.me/islamwitheman/358

🔷 شرائط تقلید
https://t.me/islamwitheman/359

🌷 مجتهد کی ضرورت
https://t.me/islamwitheman/522
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🌼 حسنِ ظن 🌼

ایک دن مشہور شاعر اور محدث محمد بن شہاب زہری غمگین شکل و صورت لئے امام زین العابدین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا، امام علیہ السلام نے زہری سے پریشانی کا سبب دریافت کیا تو اس نے کہا..
’’ قَالَ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ غُمُومٌ وَ هُمُومٌ تَتَوَالَى عَلَيَّ لِمَا امْتُحِنْتُ بِهِ مِنْ جِهَةِ حُسَّادِ نِعَمِي‏‘‘
ترجمہ:
مجھے ان لوگوں پر غصہ آتا ہے جن سے میں تو نیکی کرتا ہوں لیکن وہ مجھ سے حسد کرتے ہیں۔‘‘

امام زین العابدینؑ فرمایا:
’’تمہارے لئے ضروری ہے کہ تمام مسلمانوں کو اپنا ذاتی خاندان تصور کرو، ان میں سے جو تم سے بڑا ہو اسے اپنے باپ کے مقام پر سمجھو اور جو تم سے چھوٹا ہو اسے بیٹے کے مقام پر سمجھو اور جو تمہارا ہم عمر ہو اسے اپنا بھائی تصور کرو پھر تم سوچو کہ آیا اپنے خاندان کے افراد کا کوئی نقصان تمہیں پسند آتا ہے؟ کیا تم اپنے خاندان پر ظلم یا بددعا کرنا گوارا کروگے؟ یا چاہو گے کہ ان کے راز آشکار ہوجائیں؟ اور اگر کبھی ابلیس تمہارے دل میں یہ وسوسہ پیدا کرے کہ تم ان سے بہتر ہو تو شیطانی وسوسہ کو اپنے سے دور کرو اور اپنے آپ سے کہو..
کہ فلاں شخص مجھ سے عمر میں بڑا ہے یہ ایمان لانے میں مجھ پر سبقت رکھتا ہے اور اس کے نیک عمل مجھ سے زیادہ ہیں،

اگر وہ تم سے عمر میں چھوٹا ہو تو تم اپنے دل میں یہ خیال کرو کہ اس کی عمر مجھ سے کم ہے اسی لئے اس کے گناہ بھی مجھ سے کم ہیں، لہذا یہ مجھ سے بہتر ہے.

اگر وہ شخص تمہارا ہم عمر ہو تو تم اپنے دل میں یہ خیال پیدا کرو کہ مجھے اپنے گناہوں کا یقین ہے اس کے گناہوں کا شک ہے، لہذا یہ مجھ سے بہتر ہے.

اگر تم کسی کو اپنا احترام کرتے ہوئے دیکھو تو تم میں تکبر اور خود پسندی کے جذبات پیدا نہیں ہونے چاہیے تم اپنے دل سے کہو کہ اسلام ہر مسلمان کو دوسرے مسلمان کے احترام کا حکم دیتا ہے اسی لئے یہ لوگ میرا احترام کرتے ہیں ورنہ مجھ میں کوئی خصوصیت نہیں ہے.

اگر کسی شخص کو اپنے آپ سے بے اعتنائی کرتا ہوا پاؤ تو یہ سمجھو کہ یہ تمہارے گناہوں کی سزا ہے۔ یاد رکھو اگر تم نے میری باتوں پر عمل کیا تو تمہارے دوست زیادہ اور دشمن کم ہوں گے۔ تم ان کی خوبیوں سے مستفید ہو سکو گے اور ان کی برائیوں سے محفوظ رہوگے.

🌹 پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔

📚 بحار الانوار، ج71، ص156.

https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕