🔷 ﺧﻮﺩ ﺍﺣﺘﺴﺎﺑﯽ 🔷
ﺍﻳﮏ نوعمر ﻟﮍﻛﺎ "ﭘﯽ۔ﺳﯽ۔ﺍﻭ" ﻣﻴﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮ ﻛﺮ ﭨﻴﻠﻴﻔﻮﻥ ﻛﻴﺒﻦ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮬﺎ۔ ﺍُﺱ ﻧﮯﺭﯾﺴﯿﻮﺭ ﮐﺎﻥ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﯾﺎ, ﻧﻤﺒﺮ ﮈﺍﺋﻞ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﻨﺪ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﮨﯽ ﺷﺎﺋﺴﺘﮧ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮨﻮﺍ۔ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﺍﺗﻨﺎ ﻧﺮﺍﻟﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﭘﯽ۔ﺳﯽ۔ﺍﻭ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﺳﮯ ﺭﮨﺎ ﻧﮧ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍُﺱ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﯽ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺑﮍﮮ ﺍﻧﮩﻤﺎﮎ ﺳﮯ ﺳﻨﻨﮯ ﻟﮕﺎ۔
ﻟﮍﻛﺎ ﮐﺴﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ...
ﻣﻴﮉﻡ! ﺁﭖ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﻏﻴﭽﮯ ﻛﯽ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﺳﺘﮭﺮﺍﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﻳﻜﮫ ﺑﮭﺎﻝ ﻛﻴﻠﺌﮯ ﻣﻼﺯﻡ ﺭﻛﮫ ﻟﯿﺠﺌﮯ, ﭘﻠﯿﺰ...
ﺟﺒﮑﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﻛﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺗﮭﺎ ﻛﮧ "ﻓﯽ ﺍﻟﺤﺎﻝ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﻛﮯ ﭘﺎﺱ ﺍِﺱ ﻛﺎﻡ ﻛﻴﻠﺌﮯ ﺍﻳﮏ ﻣﻼﺯﻡ ﮨﮯ"
ﻟﮍﻛﮯ ﻧﮯ ﺍِﺻﺮﺍﺭ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍُﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﻛﮩﺎ ﻛﮧ..
"ﻣﻴﮉﻡ! ﻣﻴﮟ ﺁﭘﻜﺎ ﻛﺎﻡ, ﺁﭘﻜﮯ ﻣﻮﺟﻮﺩﻩ ﻣﻼﺯﻡ ﺳﮯ ﺁﺩﮬﯽ ﺍُﺟﺮﺕ ﭘﺮ ﻛﺮﻧﮯ ﻛﻴﻠﺌﮯ ﺗﻴﺎﺭ ﮨﻮﮞ"۔
ﺍُﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﻛﮧ "ﻭﻩ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻼﺯﻡ ﺳﮯ ﺑﺎﻟﻜﻞ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻛﺴﯽ ﻗﻴﻤﺖ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺍُﺳﮯ ﺗﺒﺪﻳﻞ ﻧﮩﻴﮟ ﻛﺮﻧﺎﭼﺎﮨﺘﯽ"۔
ﺍﺏ ﻟﮍﻛﺎ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﻩ ﺍﻟﺘﺠﺎﺀ ﭘﺮ ﮨﯽ ﺍُﺗﺮ ﺁﻳﺎ ﺍﻭﺭ ﻋﺎﺟﺰﯼ ﺳﮯ ﺑﻮﻻ ﻛﮧ...
ﻣﻴﮉﻡ! ﻣﻴﮟ ﺑﺎﻏﻴﭽﮯ ﻛﮯ ﻛﺎﻡ ﻛﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺁﭘﮑﺎ ﮔﮭﺮ, ﮔﮭﺮ ﻛﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮔﺰﺭﮔﺎﮦ ﺍﻭﺭ ﻓﭧ ﭘﺎﺗﮫ ﻛﯽ ﺑﮭﯽ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﮐﺮﻭﻧﮕﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﭘﻜﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﻭﻧﮕﺎ, ﺑﺲ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﻮﻗﻊ ﺩﮮ ﺩﯾﮟ۔"!
ﺍﻭﺭ ﺍِﺱ ﺑﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﺍُﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﻛﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﻔﯽ ﻣﻴﮟ ﺗﮭﺎ۔ ﻟﮍﻛﮯ ﻛﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺍﻳﮏ ﻣﺴﻜﺮﺍﮨﭧ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﻓﻮﻥ ﺑﻨﺪ ﻛﺮﺩﻳﺎ۔
ﭘﯽ۔ﺳﯽ۔ﺍﻭ ﮐﺎ ﻣﺎﻟﮏ ﺟﻮ ﻳﮧ ﺳﺎﺭﯼ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺳﻦ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﺭﮨﺎ ﻧﮧ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻟﮍﻛﮯ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮬﺎ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﻛﮩﺎ:
"ﺑﯿﭩﺎ! ﻣﻴﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﻯ ﺑﻠﻨﺪ ﮨﻤﺖ ﮐﯽ ﺩﺍﺩ ﺩﻳﺘﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻟﮕﻦ, ﻣﺜﺒﺖ ﺳﻮﭺ ﺍﻭﺭ ﺍُﻣﻨﮕﻮﮞ ﻛﺎ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﻛﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ, ﻣﻴﮟ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻛﮧ ﺗﻢ ﻣﻴﺮﯼ ﺍﺱ ﺩﻛﺎﻥ ﭘﺮ ﻛﺎﻡ ﻛﺮﻭ۔۔"!
ﻟﮍﻛﮯ ﻧﮯ ﺍُﺳﮑﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ..
"ﺍﻧﮑﻞ! ﺁﭖ ﻛﯽ ﭘﯿﺸﮑﺶ ﻛﺎ ﺑﮩﺖ ﺷﻜﺮﻳﮧ, ﻣﮕﺮ ﻣﺠﮭﮯﻛﺎﻡ ﻧﮩﻴﮟ ﭼﺎﮨﻴﺌﮯ۔ ﻣﻴﮟ ﺗﻮ ﺻﺮﻑ ﺍِﺱ ﺑﺎﺕ ﻛﯽ ﺗﺼﺪﻳﻖ ﻛﺮﻧﺎ ﭼﺎﮦ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﻛﮧ ﻣﻴﮟ ﺁﺟﻜﻞ ﺟﻮ ﻛﺎﻡ ﻛﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﻛﻴﺎ ﺍُﺱ ﻛﺎ ﻣﻌﻴﺎﺭ ﻗﺎﺑﻞِ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﮯ ﺑﮭﯽ ﻳﺎ ﻧﮩﻴﮟ؟"
"ﺍﻭﺭ ﻣﻴﮟ ﺍِﺳﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﻛﮯ ﭘﺎﺱ ﻣﻼﺯﻡ ﮨﻮﮞ ﺟِﺲ ﻛﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻴﮟ ﭨﻴﻠﻴﻔﻮﻥ ﭘﺮ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﻛﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔۔"!
■ ﺍﮔﺮ ﺁﭘﻜﻮ ﺑﮭﯽﺍﭘﻨﮯ ﺍﻋﻤﺎﻝ, ﺍﺧﻼﻕ, ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﻨﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﻟﮏِ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﮐﻮ ﻓﻮﻥ ﻣﻼﺋﯿﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮫ ﻟﯿﺠﺌﮯ ﮐﮧ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻣﻌﯿﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔کیونکہ جلد ہی ہم سب یہ دھوکے کا گھر چھوڑ جائیں گے !! ﻓﻮﻥ ﻧﻤﺒﺮ یہ ہے 2۔۔4۔۔4۔۔3۔۔4 ) 2..فجر..4...ظهر...4...عصر...3...مغرب...4...عشاء....
(جنہیں ﺳﻤﺠﮫ ﺁ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﻭﮦ ﮐﺎﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺮ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻦ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺋﯽ ﻭﮦ ﻣﺰﯾﺪ ﻏﻮﺭ ﻭ ﺧﻮﺽ ﮐﺮﯾﮟ...
● اپنا محاسبہ کیجئے، اس سے پہلے کے دیر ہوجائے....!
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ﺍﻳﮏ نوعمر ﻟﮍﻛﺎ "ﭘﯽ۔ﺳﯽ۔ﺍﻭ" ﻣﻴﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮ ﻛﺮ ﭨﻴﻠﻴﻔﻮﻥ ﻛﻴﺒﻦ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮬﺎ۔ ﺍُﺱ ﻧﮯﺭﯾﺴﯿﻮﺭ ﮐﺎﻥ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﯾﺎ, ﻧﻤﺒﺮ ﮈﺍﺋﻞ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﻨﺪ ﻟﻤﺤﻮﮞ ﺑﻌﺪ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﮨﯽ ﺷﺎﺋﺴﺘﮧ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮨﻮﺍ۔ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﺍﺗﻨﺎ ﻧﺮﺍﻟﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﭘﯽ۔ﺳﯽ۔ﺍﻭ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﺳﮯ ﺭﮨﺎ ﻧﮧ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍُﺱ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﯽ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺑﮍﮮ ﺍﻧﮩﻤﺎﮎ ﺳﮯ ﺳﻨﻨﮯ ﻟﮕﺎ۔
ﻟﮍﻛﺎ ﮐﺴﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ...
ﻣﻴﮉﻡ! ﺁﭖ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﻏﻴﭽﮯ ﻛﯽ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﺳﺘﮭﺮﺍﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﻳﻜﮫ ﺑﮭﺎﻝ ﻛﻴﻠﺌﮯ ﻣﻼﺯﻡ ﺭﻛﮫ ﻟﯿﺠﺌﮯ, ﭘﻠﯿﺰ...
ﺟﺒﮑﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﻛﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺗﮭﺎ ﻛﮧ "ﻓﯽ ﺍﻟﺤﺎﻝ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﻛﮯ ﭘﺎﺱ ﺍِﺱ ﻛﺎﻡ ﻛﻴﻠﺌﮯ ﺍﻳﮏ ﻣﻼﺯﻡ ﮨﮯ"
ﻟﮍﻛﮯ ﻧﮯ ﺍِﺻﺮﺍﺭ ﻛﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍُﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﻛﮩﺎ ﻛﮧ..
"ﻣﻴﮉﻡ! ﻣﻴﮟ ﺁﭘﻜﺎ ﻛﺎﻡ, ﺁﭘﻜﮯ ﻣﻮﺟﻮﺩﻩ ﻣﻼﺯﻡ ﺳﮯ ﺁﺩﮬﯽ ﺍُﺟﺮﺕ ﭘﺮ ﻛﺮﻧﮯ ﻛﻴﻠﺌﮯ ﺗﻴﺎﺭ ﮨﻮﮞ"۔
ﺍُﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﻛﮧ "ﻭﻩ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻼﺯﻡ ﺳﮯ ﺑﺎﻟﻜﻞ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻛﺴﯽ ﻗﻴﻤﺖ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺍُﺳﮯ ﺗﺒﺪﻳﻞ ﻧﮩﻴﮟ ﻛﺮﻧﺎﭼﺎﮨﺘﯽ"۔
ﺍﺏ ﻟﮍﻛﺎ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﻩ ﺍﻟﺘﺠﺎﺀ ﭘﺮ ﮨﯽ ﺍُﺗﺮ ﺁﻳﺎ ﺍﻭﺭ ﻋﺎﺟﺰﯼ ﺳﮯ ﺑﻮﻻ ﻛﮧ...
ﻣﻴﮉﻡ! ﻣﻴﮟ ﺑﺎﻏﻴﭽﮯ ﻛﮯ ﻛﺎﻡ ﻛﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺁﭘﮑﺎ ﮔﮭﺮ, ﮔﮭﺮ ﻛﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮔﺰﺭﮔﺎﮦ ﺍﻭﺭ ﻓﭧ ﭘﺎﺗﮫ ﻛﯽ ﺑﮭﯽ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﮐﺮﻭﻧﮕﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﭘﻜﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﻭﻧﮕﺎ, ﺑﺲ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﻮﻗﻊ ﺩﮮ ﺩﯾﮟ۔"!
ﺍﻭﺭ ﺍِﺱ ﺑﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﺍُﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﻛﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﻔﯽ ﻣﻴﮟ ﺗﮭﺎ۔ ﻟﮍﻛﮯ ﻛﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺍﻳﮏ ﻣﺴﻜﺮﺍﮨﭧ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﻓﻮﻥ ﺑﻨﺪ ﻛﺮﺩﻳﺎ۔
ﭘﯽ۔ﺳﯽ۔ﺍﻭ ﮐﺎ ﻣﺎﻟﮏ ﺟﻮ ﻳﮧ ﺳﺎﺭﯼ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺳﻦ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﺭﮨﺎ ﻧﮧ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻟﮍﻛﮯ ﻛﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮬﺎ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﻛﮩﺎ:
"ﺑﯿﭩﺎ! ﻣﻴﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﻯ ﺑﻠﻨﺪ ﮨﻤﺖ ﮐﯽ ﺩﺍﺩ ﺩﻳﺘﺎ ﮨﻮﮞ۔ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻟﮕﻦ, ﻣﺜﺒﺖ ﺳﻮﭺ ﺍﻭﺭ ﺍُﻣﻨﮕﻮﮞ ﻛﺎ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﻛﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ, ﻣﻴﮟ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻛﮧ ﺗﻢ ﻣﻴﺮﯼ ﺍﺱ ﺩﻛﺎﻥ ﭘﺮ ﻛﺎﻡ ﻛﺮﻭ۔۔"!
ﻟﮍﻛﮯ ﻧﮯ ﺍُﺳﮑﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ..
"ﺍﻧﮑﻞ! ﺁﭖ ﻛﯽ ﭘﯿﺸﮑﺶ ﻛﺎ ﺑﮩﺖ ﺷﻜﺮﻳﮧ, ﻣﮕﺮ ﻣﺠﮭﮯﻛﺎﻡ ﻧﮩﻴﮟ ﭼﺎﮨﻴﺌﮯ۔ ﻣﻴﮟ ﺗﻮ ﺻﺮﻑ ﺍِﺱ ﺑﺎﺕ ﻛﯽ ﺗﺼﺪﻳﻖ ﻛﺮﻧﺎ ﭼﺎﮦ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﻛﮧ ﻣﻴﮟ ﺁﺟﻜﻞ ﺟﻮ ﻛﺎﻡ ﻛﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﻛﻴﺎ ﺍُﺱ ﻛﺎ ﻣﻌﻴﺎﺭ ﻗﺎﺑﻞِ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﮯ ﺑﮭﯽ ﻳﺎ ﻧﮩﻴﮟ؟"
"ﺍﻭﺭ ﻣﻴﮟ ﺍِﺳﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﻛﮯ ﭘﺎﺱ ﻣﻼﺯﻡ ﮨﻮﮞ ﺟِﺲ ﻛﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻴﮟ ﭨﻴﻠﻴﻔﻮﻥ ﭘﺮ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﻛﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔۔"!
■ ﺍﮔﺮ ﺁﭘﻜﻮ ﺑﮭﯽﺍﭘﻨﮯ ﺍﻋﻤﺎﻝ, ﺍﺧﻼﻕ, ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﻨﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﻟﮏِ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﮐﻮ ﻓﻮﻥ ﻣﻼﺋﯿﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮫ ﻟﯿﺠﺌﮯ ﮐﮧ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻣﻌﯿﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔کیونکہ جلد ہی ہم سب یہ دھوکے کا گھر چھوڑ جائیں گے !! ﻓﻮﻥ ﻧﻤﺒﺮ یہ ہے 2۔۔4۔۔4۔۔3۔۔4 ) 2..فجر..4...ظهر...4...عصر...3...مغرب...4...عشاء....
(جنہیں ﺳﻤﺠﮫ ﺁ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﻭﮦ ﮐﺎﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺮ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻦ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺋﯽ ﻭﮦ ﻣﺰﯾﺪ ﻏﻮﺭ ﻭ ﺧﻮﺽ ﮐﺮﯾﮟ...
● اپنا محاسبہ کیجئے، اس سے پہلے کے دیر ہوجائے....!
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 اذان میں علی ولی اللہ 🔷
🕋اذان میں علی ولی اللہ اور الصلوۃ خیر من النوم کا مقایسہ؛ این کجا و آن کجا۔۔۔؟؟؟ ⁉️
⏪اگر بقول شیعہ کے اذان میں {تثویب} "الصلوۃ خیر من النوم" بدعت ہے چونکہ رسول اللہ کے دور میں اذان میں شامل نہیں تھا بلکہ بعد میں اذان میں شامل کیا گیا تو یہی اشکال خود شیعہ پہ بھی وارد ہوتا ہے کیونکہ علی ولی اللہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کے دور میں اذان میں نہیں تھا اور بعد میں اذان میں شامل ہوا؟
⬅️جواب:
ان دو کا آپس میں زمین و آسمان کا فرق ہے:⬇️
اہل سنت تثویب در اذان کو جزء کی حیثیت سے پڑھتے ہیں جبکہ اسکی اصل قرآن و سنت میں ثابت شدہ نہیں ہے۔ اسلئے یہ قطعا "ادخال من الدین ما لیس فی الدین" یعنی بدعت کا مصداق اتم ہے۔
✅مگر شیعہ علی ولی اللہ ہر گز قصد جزئیت سے نہیں پڑھتے بلکہ مطلقا ثواب و مطلوبیت کی نیت سے پڑھتے ہیں جو کہ مندرجہ ذیل وجوھات کی بنا پر نہ صرف اذان کو باطل نہیں کرتا بلکہ اذان کے ثواب کو دوبالا کرتا ہے:
گو اسکے استحباب پر خاص دلیل اذان میں پڑھنے کی موجود نہیں مگر ہمارے پاس مطلق ادلہ موجود ہیں جنکے مطابق شھادتین کے بعد تیسری گواھی دینی چاھئے۔
تو چونکہ اس سے ایک تو اذان کی ترکیب و موالات کو نقصان نہیں پہنچتا بلکہ جیسا کہ نام رسول کے بعد اذان کے اندر ہی صلوۃ پڑھی جا سکتی ہے تو اسی عنوان کے تحت ولایت کی گواھی بھی دی جاسکتی ہے۔
☝🏻اور یاد رہے کہ اذان میں موالات و تسلسل کو برقرار رکھنے کی شرط پر ضروری حد تک کلام بھی کیا جا سکتا ہے۔
اذان میں شامل کئے جانے کی ایک اہم علت معاویہ و اسکے عمال کی طرف سے علانیہ سب و شتم تھا جسکی وجہ سے نام علی کو مٹانے کی سازش کو ناکام بناتے ہوئے شیعہ علماء نے اسے اذان میں شامل کیا مگر اسکی شرط لگائی کہ قصد جزئیت سے ہرگز نہ پڑھا جائے۔
وہ کتب جنمیں مطلقا اقرار شھادت ولایت در اذان کے اثبات پہ روایات موجود ہیں۔ مثلا واقعہ معراج کے ذیل میں ملتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے لا الہ اللہ و محمد رسول اللہ کے ساتھ علی ولی اللہ کو بھی لکھا ہوا دیکھا ہے۔
📚📚الاحتجاج طبرسی صفحہ ۱۵۸۔
اہل سنت کتب: درمنثور سیوطی۔خصائص کبری سیوطی،جلد ۱،ص ۷،الشفا قاضی عیاض،ص ۱۳۸۔المناقب ابن مغازلی،ص۳۹،المناقب النصرۃ فی مناقب عشرہ مبشرہ،جلد ۲ ص ۲۲۷۔درر السمطین۱۲۰.
بشکریہ: سفينة النجاة ٹیلیگرام چینل
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🕋اذان میں علی ولی اللہ اور الصلوۃ خیر من النوم کا مقایسہ؛ این کجا و آن کجا۔۔۔؟؟؟ ⁉️
⏪اگر بقول شیعہ کے اذان میں {تثویب} "الصلوۃ خیر من النوم" بدعت ہے چونکہ رسول اللہ کے دور میں اذان میں شامل نہیں تھا بلکہ بعد میں اذان میں شامل کیا گیا تو یہی اشکال خود شیعہ پہ بھی وارد ہوتا ہے کیونکہ علی ولی اللہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کے دور میں اذان میں نہیں تھا اور بعد میں اذان میں شامل ہوا؟
⬅️جواب:
ان دو کا آپس میں زمین و آسمان کا فرق ہے:⬇️
اہل سنت تثویب در اذان کو جزء کی حیثیت سے پڑھتے ہیں جبکہ اسکی اصل قرآن و سنت میں ثابت شدہ نہیں ہے۔ اسلئے یہ قطعا "ادخال من الدین ما لیس فی الدین" یعنی بدعت کا مصداق اتم ہے۔
✅مگر شیعہ علی ولی اللہ ہر گز قصد جزئیت سے نہیں پڑھتے بلکہ مطلقا ثواب و مطلوبیت کی نیت سے پڑھتے ہیں جو کہ مندرجہ ذیل وجوھات کی بنا پر نہ صرف اذان کو باطل نہیں کرتا بلکہ اذان کے ثواب کو دوبالا کرتا ہے:
گو اسکے استحباب پر خاص دلیل اذان میں پڑھنے کی موجود نہیں مگر ہمارے پاس مطلق ادلہ موجود ہیں جنکے مطابق شھادتین کے بعد تیسری گواھی دینی چاھئے۔
تو چونکہ اس سے ایک تو اذان کی ترکیب و موالات کو نقصان نہیں پہنچتا بلکہ جیسا کہ نام رسول کے بعد اذان کے اندر ہی صلوۃ پڑھی جا سکتی ہے تو اسی عنوان کے تحت ولایت کی گواھی بھی دی جاسکتی ہے۔
☝🏻اور یاد رہے کہ اذان میں موالات و تسلسل کو برقرار رکھنے کی شرط پر ضروری حد تک کلام بھی کیا جا سکتا ہے۔
اذان میں شامل کئے جانے کی ایک اہم علت معاویہ و اسکے عمال کی طرف سے علانیہ سب و شتم تھا جسکی وجہ سے نام علی کو مٹانے کی سازش کو ناکام بناتے ہوئے شیعہ علماء نے اسے اذان میں شامل کیا مگر اسکی شرط لگائی کہ قصد جزئیت سے ہرگز نہ پڑھا جائے۔
وہ کتب جنمیں مطلقا اقرار شھادت ولایت در اذان کے اثبات پہ روایات موجود ہیں۔ مثلا واقعہ معراج کے ذیل میں ملتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے لا الہ اللہ و محمد رسول اللہ کے ساتھ علی ولی اللہ کو بھی لکھا ہوا دیکھا ہے۔
📚📚الاحتجاج طبرسی صفحہ ۱۵۸۔
اہل سنت کتب: درمنثور سیوطی۔خصائص کبری سیوطی،جلد ۱،ص ۷،الشفا قاضی عیاض،ص ۱۳۸۔المناقب ابن مغازلی،ص۳۹،المناقب النصرۃ فی مناقب عشرہ مبشرہ،جلد ۲ ص ۲۲۷۔درر السمطین۱۲۰.
بشکریہ: سفينة النجاة ٹیلیگرام چینل
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
⏪ مردم شماری کےبارے ہماری رائے ⏩
■اپنی مسلکی شناخت چھپانے کا مطلب خود کو پاکستان میں پانچویں درجے کی اقلیت قرار دلوانے کے مترادف ہے، لہذا مردم شماری کے عملے کے سوال پر ببانگِ دہل اپنی شیعہ شناخت ظاہر کرنی چاہئے تاکہ ریاست کے پاس شیعہ آبادی کا درست تناسب موجود ہو اور ریاست میں قانون سازی کے وقت اہلِ تشیع کے حقوق کا تحفظ بھی ممکن ہو۔
تمام دوستوں تک پہنچائیں....
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
■اپنی مسلکی شناخت چھپانے کا مطلب خود کو پاکستان میں پانچویں درجے کی اقلیت قرار دلوانے کے مترادف ہے، لہذا مردم شماری کے عملے کے سوال پر ببانگِ دہل اپنی شیعہ شناخت ظاہر کرنی چاہئے تاکہ ریاست کے پاس شیعہ آبادی کا درست تناسب موجود ہو اور ریاست میں قانون سازی کے وقت اہلِ تشیع کے حقوق کا تحفظ بھی ممکن ہو۔
تمام دوستوں تک پہنچائیں....
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🏰 مسجد گوہر شاد 🏰
ﻣﻠﮑﮧ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺣﺠﺎﺏ ﺍﻭﺭ ﻣﺬﮨﺒﯽ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺗﮭﯿﮟ ﻧﻘﺎﺏ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺁﻭﯾﺰﺍﮞ ﺭﮨﺘﺎ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﺮﻡِ ﺍﻣﺎﻡ ﺭﺿﺎؑ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﺠﺪ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻗﺼﺪ ﮐﯿﺎ.
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﺎﻡ ﭘﺮ ﻣﺎﻣﻮﺭ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺰﺩﻭﺭﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﻤﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﮐﯽ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﯽ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﮯ ﺳﻠﺴلے ﻣﯿﮟ ﺩﻭ برابر ﺍﺟﺮﺕ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺷﺮﻁ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ...
●ﻭﮦ ﺳﺐ ﻟﻮﮒ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﮯ کے ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺑﺎﻭﺿﻮ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ،
●ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﺑﺪﺗﻤﯿﯿﺰﯼ ﺍﻭﺭ ﺑﺪﮐﻼﻣﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ،
●ﺍﺧﻼﻕِ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺍﻭﺭ ﯾﺎﺩِ ﺧﺪﺍ ﮐﻮ ﻣﻠﺤﻮﻅ ﺧﺎﻃﺮ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﮔﮯ.
ﺍﻭﺭ...
●ﺍﯾﺴﮯ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﺟﻮ ﺳﺎﺯ ﻭ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﮐﯽ ﺣﻤﻞ ﻭ ﻧﻘﻞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﻥ ﺑﮯ ﺯﺑﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺁﺏ ﻭ ﺩﺍﻧﮯ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﯿﮟ گے اور ﺍﻥ ﭘﺮ ﺍﺿﺎﻓﯽ ﻭﺯﻥ ﻧﮧ ﮈﺍﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﻮ ﺯﺩﻭ ﮐﻮﺏ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ.
ﻣﻠﮑﮧ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﻣﺰﺩﻭﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻧﮕﺮﺍﻧﯽ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻣﺴﺠﺪ ﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﯿﮟ، ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻭﮦ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻣﺰﺩﻭﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻧﮕﺮﺍﻧﯽ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻣﺴﺠﺪ ﮔﺌﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﻮﺍ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺣﺠﺎﺏ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﮨﭧ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﭘﮍﯼ. ﻟﮭٰﺬﺍ ﺟﻮﺍﻥ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﻝ ﮐﮭﻮ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﻮﮨﺮ ﺷﺎﺩ ﮐﮯ ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﮯ ﺻﺒﺮ ﻭ ﻻﭼﺎﺭ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﺑﺴﺘﺮ ﺗﮏ ﺟﺎ ﭘﮩﻨﭽﺎ۔ ﺑﮩﺖ ﺩﻥ ﮔزﺭ ﮔﺌﮯ ﻭﮦ ﮐﺎﻡ ﭘﮧ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ.
ﮔﻮﮨﺮ ﺷﺎﺩ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﮐﺎ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﭘﺘﮧ ﭼﻼ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮨﮯ، ﻟﮭٰﺬﺍ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﯿﺎﺩﺕ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﯿﮟ.
ﺩﻥ ﮔﺬﺭﺗﮯ ﮔﺌﮯ ﻣﮕﺮ ﺟﻮﺍﻥ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﺑﺪ ﺳﮯ ﺑﺪﺗﺮ ﮨﻮﺗﯽ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ ﺍﺳﮑﯽ ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﯽ ﻣﻮﺕ ﮐﻮ ﯾﻘﯿﻨﯽ ﺟﺎﻥ ﮐﺮ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ہرﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﮑﮧ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﺳﮯ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﻗﺼﮧ ﺳﮯ ﺁﮔﺎﮦ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﯽ ﭼﺎﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺳﮯ ﺟﺎﻥ ﺳﮯ ﮨﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﮨﺎتھ ﺩﮬﻮﻧﮯ ﭘﮍﺟﺎﺋﯿﮟ.
ﻟﮭٰﺬﺍ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﺎﮐﺮ ﻣﻠﮑﮧ ﺳﮯ ﻗﺼﮧ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﻠﮑﮧ ﮐﮯ ﺭﺩ ﻋﻤﻞ ﮐﯽ ﻣﻨﺘﻈﺮ ﮨﻮﺋﯽ. ﻣﻠﮑﮧ ﻧﮯ ﻣﺴﺮﺕ ﺑﮭﺮﮮ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ:
ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻀﺎﺋﻘﮧ ﻧﮩﯿﮟ، ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺘﯽ ﺗﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺑﻨﺪﮦ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺩﻭﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﮐﺎﻡ ﺁﺟﺎﺗﯽ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﻥ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ:
”ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﺳﮯ ﺟﺎﮐﺮ ﮐﮩﮧ ﺩﻭ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮﮞ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﻭ ﺍﻣﻮﺭ ﮐﺎ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﭘﺎﻧﺎ ﻻﺯﻣﯽ ﮨﻮﮔﺎ..
●ﺍﯾﮏ ﯾﮧ ﮐﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﮩﺮﯾﮧ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﻧﻮﺗﻌﻤﯿﺮ ﺷﺪﮦ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺩﻥ ﮐﺎ ﺍﻋﺘﮑﺎﻑ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ ﺍﮔﺮ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﻋﺘﮑﺎﻑ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﮮ۔
●ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺷﺮﻁ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ رﺍﺿﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﺳﮯ ﻃﻼﻕ ﻟﻮﮞ ﮔﯽ. ﺍﮔﺮ ﺷﺮﺍﺋﻂ ﻣﻨﻈﻮﺭ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺎﻡ ﭘﮧ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ۔
ﺟﻮﺍﻥ ﻋﺎﺷﻖ ﮐﻮ ﺟﺐ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﮐﺎ ﯾﮧ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺧﻮﺷﺨﺒﺮﯼ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺘﺮﯼ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺩﻥ ﺗﻮ کچھ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺳﺎﻝ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﮞ... ﻭﮦ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺍﻣﯿﺪ ﺳﮯ ﺟﺎﮐﺮ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺧﺪﺍ ﺍﺳﮯ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﺟﯿﺴﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﮮ ﮔﺎ۔
ﭼﺎﻟﯿﺴﻮﯾﮟ ﺩﻥ ﮔﻮﮨﺮ ﺷﺎﺩ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﭘﻨﺎ ﻗﺎﺻﺪ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﺳﮯ ﻃﻼﻕ ﻃﻠﺐ ﮐﺮﮮ۔
ﻗﺎﺻﺪ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ:
”ﮐﻞ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺩﻥ ﻣﮑﻤﻞ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ، ﻣﻠﮑﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻣﻨﺘﻈﺮ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﺮﻁ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﯾﮟ۔
ﺟﻮﺍﻥ ﻋﺎﺷﻖ ﺟﺲ ﻧﮯ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﮐﮯ ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ، ﻧﻤﺎﺯ ﮐﯽ ﺣﻼﻭﺕ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﻝ ﻧﺮﻡ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻗﺎﺻﺪ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ:
”ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﺑﯿﮕﻢ ﺳﮯ ﮐﮩﻨﺎ ﺍﻭﻻً ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺷﮑﺮﮔزﺍﺭ ﮨﻮﮞ، ﺩﻭﺳﺮﺍ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺍﺏ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﻮﻕ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺎ۔
ﻗﺎﺻﺪ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
"ﮐﯿﺎ ﻣﻄﻠﺐ؟ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﮐﮯ ﻋﺎﺷﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ؟"
ﺟﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
"ﺟﺲ ﻭﻗﺖ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﮐﮯ ﻋﺸﻖ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺻﻠﯽ ﻣﻌﺸﻮﻕ ﺳﮯ ﻧﺎﺁﺷﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺏ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺻﺮﻑ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﺗﮍﭘﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻣﻌﺸﻮﻕ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﻣﯿﮟ ﺧﺪﺍ ﺳﮯ ﻣﺎﻧﻮﺱ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮨﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﮑﻮﻥ ﻣﻠﺘﺎ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﺎ ﻣﺸﮑﻮﺭ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺧﺪﺍ ﺳﮯ ﺁﺷﻨﺎ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ کے ﺑﺎﻋﺚ ﮨﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﻣﻌﺸﻮﻕ ﻣﻼ."
ﺍﻭﺭ...
ﻭﮦ ﺟﻮﺍﻥ ﻣﺴﺠﺪ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﮐﺎ ﭘﮩﻼ ﭘﯿﺶ ﺍﻣﺎﻡ ﺑﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﻣﻄﺎﻟﻌﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﯾﮏ ﻓﻘﯿﮧ ﺍﻭﺭ ﻋﺎﻟﻢ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺟﻮﺍﻥ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺁﯾﺖ ﺍﻟﻠﮧ ﺷﯿﺦ ﻣﺤﻤﺪ ﺻﺎﺩﻕ ﻫﻤﺪﺍﻧﯽ ﺗﮭﮯ.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ﻣﻠﮑﮧ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺣﺠﺎﺏ ﺍﻭﺭ ﻣﺬﮨﺒﯽ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺗﮭﯿﮟ ﻧﻘﺎﺏ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺁﻭﯾﺰﺍﮞ ﺭﮨﺘﺎ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﺮﻡِ ﺍﻣﺎﻡ ﺭﺿﺎؑ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﺠﺪ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻗﺼﺪ ﮐﯿﺎ.
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﺎﻡ ﭘﺮ ﻣﺎﻣﻮﺭ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺰﺩﻭﺭﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﻤﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﮨﺪﺍﯾﺖ ﮐﯽ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﯽ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﮯ ﺳﻠﺴلے ﻣﯿﮟ ﺩﻭ برابر ﺍﺟﺮﺕ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺷﺮﻁ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ...
●ﻭﮦ ﺳﺐ ﻟﻮﮒ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﮯ کے ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺑﺎﻭﺿﻮ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ،
●ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﺑﺪﺗﻤﯿﯿﺰﯼ ﺍﻭﺭ ﺑﺪﮐﻼﻣﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ،
●ﺍﺧﻼﻕِ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺍﻭﺭ ﯾﺎﺩِ ﺧﺪﺍ ﮐﻮ ﻣﻠﺤﻮﻅ ﺧﺎﻃﺮ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﮔﮯ.
ﺍﻭﺭ...
●ﺍﯾﺴﮯ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﺟﻮ ﺳﺎﺯ ﻭ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﮐﯽ ﺣﻤﻞ ﻭ ﻧﻘﻞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﻥ ﺑﮯ ﺯﺑﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺁﺏ ﻭ ﺩﺍﻧﮯ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﯿﮟ گے اور ﺍﻥ ﭘﺮ ﺍﺿﺎﻓﯽ ﻭﺯﻥ ﻧﮧ ﮈﺍﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﻮ ﺯﺩﻭ ﮐﻮﺏ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ.
ﻣﻠﮑﮧ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﻣﺰﺩﻭﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻧﮕﺮﺍﻧﯽ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻣﺴﺠﺪ ﺟﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﯿﮟ، ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻭﮦ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﻣﺰﺩﻭﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻧﮕﺮﺍﻧﯽ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻣﺴﺠﺪ ﮔﺌﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﻮﺍ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺣﺠﺎﺏ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﮨﭧ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﭘﮍﯼ. ﻟﮭٰﺬﺍ ﺟﻮﺍﻥ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﻝ ﮐﮭﻮ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﻮﮨﺮ ﺷﺎﺩ ﮐﮯ ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﺎ ﺑﮯ ﺻﺒﺮ ﻭ ﻻﭼﺎﺭ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﺑﺴﺘﺮ ﺗﮏ ﺟﺎ ﭘﮩﻨﭽﺎ۔ ﺑﮩﺖ ﺩﻥ ﮔزﺭ ﮔﺌﮯ ﻭﮦ ﮐﺎﻡ ﭘﮧ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ.
ﮔﻮﮨﺮ ﺷﺎﺩ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﮐﺎ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﭘﺘﮧ ﭼﻼ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮨﮯ، ﻟﮭٰﺬﺍ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﯿﺎﺩﺕ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﯿﮟ.
ﺩﻥ ﮔﺬﺭﺗﮯ ﮔﺌﮯ ﻣﮕﺮ ﺟﻮﺍﻥ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﺑﺪ ﺳﮯ ﺑﺪﺗﺮ ﮨﻮﺗﯽ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ ﺍﺳﮑﯽ ﻣﺎﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﯽ ﻣﻮﺕ ﮐﻮ ﯾﻘﯿﻨﯽ ﺟﺎﻥ ﮐﺮ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ہرﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﮑﮧ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﺳﮯ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﻗﺼﮧ ﺳﮯ ﺁﮔﺎﮦ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﯽ ﭼﺎﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺳﮯ ﺟﺎﻥ ﺳﮯ ﮨﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﮨﺎتھ ﺩﮬﻮﻧﮯ ﭘﮍﺟﺎﺋﯿﮟ.
ﻟﮭٰﺬﺍ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﺎﮐﺮ ﻣﻠﮑﮧ ﺳﮯ ﻗﺼﮧ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﻠﮑﮧ ﮐﮯ ﺭﺩ ﻋﻤﻞ ﮐﯽ ﻣﻨﺘﻈﺮ ﮨﻮﺋﯽ. ﻣﻠﮑﮧ ﻧﮯ ﻣﺴﺮﺕ ﺑﮭﺮﮮ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ:
ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻀﺎﺋﻘﮧ ﻧﮩﯿﮟ، ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺘﯽ ﺗﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺑﻨﺪﮦ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﺩﻭﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﮐﺎﻡ ﺁﺟﺎﺗﯽ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﻥ ﻣﺰﺩﻭﺭ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ:
”ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﺳﮯ ﺟﺎﮐﺮ ﮐﮩﮧ ﺩﻭ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮﮞ، ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﻭ ﺍﻣﻮﺭ ﮐﺎ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﭘﺎﻧﺎ ﻻﺯﻣﯽ ﮨﻮﮔﺎ..
●ﺍﯾﮏ ﯾﮧ ﮐﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﮩﺮﯾﮧ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﻧﻮﺗﻌﻤﯿﺮ ﺷﺪﮦ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺩﻥ ﮐﺎ ﺍﻋﺘﮑﺎﻑ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ ﺍﮔﺮ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﻋﺘﮑﺎﻑ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﮮ۔
●ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺷﺮﻁ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ رﺍﺿﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﺳﮯ ﻃﻼﻕ ﻟﻮﮞ ﮔﯽ. ﺍﮔﺮ ﺷﺮﺍﺋﻂ ﻣﻨﻈﻮﺭ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺎﻡ ﭘﮧ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ۔
ﺟﻮﺍﻥ ﻋﺎﺷﻖ ﮐﻮ ﺟﺐ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﮐﺎ ﯾﮧ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺧﻮﺷﺨﺒﺮﯼ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺒﯿﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺘﺮﯼ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺩﻥ ﺗﻮ کچھ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺳﺎﻝ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮﮞ... ﻭﮦ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺍﻣﯿﺪ ﺳﮯ ﺟﺎﮐﺮ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺧﺪﺍ ﺍﺳﮯ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﺟﯿﺴﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﮮ ﮔﺎ۔
ﭼﺎﻟﯿﺴﻮﯾﮟ ﺩﻥ ﮔﻮﮨﺮ ﺷﺎﺩ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﭘﻨﺎ ﻗﺎﺻﺪ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﺳﮯ ﻃﻼﻕ ﻃﻠﺐ ﮐﺮﮮ۔
ﻗﺎﺻﺪ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ:
”ﮐﻞ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺩﻥ ﻣﮑﻤﻞ ﮨﻮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ، ﻣﻠﮑﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻣﻨﺘﻈﺮ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺷﺮﻁ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﯾﮟ۔
ﺟﻮﺍﻥ ﻋﺎﺷﻖ ﺟﺲ ﻧﮯ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﮐﮯ ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ، ﻧﻤﺎﺯ ﮐﯽ ﺣﻼﻭﺕ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﻝ ﻧﺮﻡ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻗﺎﺻﺪ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ:
”ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﺑﯿﮕﻢ ﺳﮯ ﮐﮩﻨﺎ ﺍﻭﻻً ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺷﮑﺮﮔزﺍﺭ ﮨﻮﮞ، ﺩﻭﺳﺮﺍ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺍﺏ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﻮﻕ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺎ۔
ﻗﺎﺻﺪ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
"ﮐﯿﺎ ﻣﻄﻠﺐ؟ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﮐﮯ ﻋﺎﺷﻖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ؟"
ﺟﻮﺍﻥ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
"ﺟﺲ ﻭﻗﺖ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﮐﮯ ﻋﺸﻖ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺻﻠﯽ ﻣﻌﺸﻮﻕ ﺳﮯ ﻧﺎﺁﺷﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺏ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﺻﺮﻑ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﺗﮍﭘﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻣﻌﺸﻮﻕ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﻣﯿﮟ ﺧﺪﺍ ﺳﮯ ﻣﺎﻧﻮﺱ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮨﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﮑﻮﻥ ﻣﻠﺘﺎ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﺎ ﻣﺸﮑﻮﺭ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺧﺪﺍ ﺳﮯ ﺁﺷﻨﺎ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ کے ﺑﺎﻋﺚ ﮨﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﻣﻌﺸﻮﻕ ﻣﻼ."
ﺍﻭﺭ...
ﻭﮦ ﺟﻮﺍﻥ ﻣﺴﺠﺪ ﮔﻮﮨﺮﺷﺎﺩ ﮐﺎ ﭘﮩﻼ ﭘﯿﺶ ﺍﻣﺎﻡ ﺑﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﻣﻄﺎﻟﻌﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﯾﮏ ﻓﻘﯿﮧ ﺍﻭﺭ ﻋﺎﻟﻢ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺟﻮﺍﻥ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺁﯾﺖ ﺍﻟﻠﮧ ﺷﯿﺦ ﻣﺤﻤﺪ ﺻﺎﺩﻕ ﻫﻤﺪﺍﻧﯽ ﺗﮭﮯ.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 دنیا ایک ضعیفہ کی صورت 🔷
حضرت عیسٰیؑ کے حالات میں مذکور ہے کہ دنیا انکے سامنے ایک بوڑھی عورت کی شکل میں آئی، جس کے بال سفید ہو چکے تھے لیکن ہر قسم کی زینت سے آراستہ تھی....
حضرت عیسٰیؑ نے اس سے پوچھا:
تو نے کتنی شادیاں کیں؟
دنیا کہنے لگی:
اتنی زیادہ کہ شمار نہیں کر سکتی.
آپؑ نے پوچھا:
تیرے سارے شوہر مر گئے یا انہوں نے تجھے طلاق دے دی؟
دنیا نے جواب دیا:
میں نے (خود ہی) سب کو قتل کر دیا.
تو حضرت عیسٰیؑ نے فرمایا:
بڑے بدنصیب ہیں تیرے وہ شوہر جنہوں نے اب بھی تجھ سے رشتہ قائم رکھا ہے. وہ تیرے گزشتہ شوہروں سے عبرت حاصل کیوں نہیں کرتے؟
■ مجاہد نے ابن عباسؓ کے حوالہ سے حضرت رسولخداؐ سے روایت کی ہے کہ..
حضرت عیسٰیؑ ایک ایسی بستی سے گذرے جہاں کی عمارتیں منہدم ہو چکی تھیں اور آبادی ویران ہو چکی تھی، یہ دیکھکر آپؑ نے اپنے حواریوں میں سے کسی سے فرمایا:
جانتے ہو یہ بستی کیا کہہ رہی ہے؟
حواری نے کہا: نہیں
آپؑ نے فرمایا:
یہ بستی کہہ رہی ہے کہ میرے پروردگار کا سچا وعدہ پورا ہو کر رہا، میری نہریں جن میں بہت پانی تھا خشک ہو گئیں، میرے درخت جو بہت شاداب تھے سوکھ گئے، میرے محل تباہ ہو گئے، میرے باشندے موت سے ہمکنار ہو گئے. اب ان کی ہڈیاں میرے اندر پڑی ہوئی ہیں اور وہ مال جسے انہوں نے حلال و حرام طریقہ سے جمع کیا تھا وہ سب میرے شکم میں پہنچ چکا ہے. زمین و آسمان کی میراث تو (درحقیقت) خدا ہی کے لئے ہے.
■ حضرت عیسٰیؑ فرمایا کرتے تھے کہ...
کب تک ایسا ہو گا کہ تمہیں نصیحت کی جائے اور تم نصیحت حاصل نہ کرو؟ ..... تم نے تو وعظ و نصیحت کرنے والوں کو تھکا دیا ہے. (کہ وہ کہتے رہتے ہیں اور تم پر اثر نہیں ہوتا.)
📚 گفتار انبیاء، ص:174،175.
🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/461
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
حضرت عیسٰیؑ کے حالات میں مذکور ہے کہ دنیا انکے سامنے ایک بوڑھی عورت کی شکل میں آئی، جس کے بال سفید ہو چکے تھے لیکن ہر قسم کی زینت سے آراستہ تھی....
حضرت عیسٰیؑ نے اس سے پوچھا:
تو نے کتنی شادیاں کیں؟
دنیا کہنے لگی:
اتنی زیادہ کہ شمار نہیں کر سکتی.
آپؑ نے پوچھا:
تیرے سارے شوہر مر گئے یا انہوں نے تجھے طلاق دے دی؟
دنیا نے جواب دیا:
میں نے (خود ہی) سب کو قتل کر دیا.
تو حضرت عیسٰیؑ نے فرمایا:
بڑے بدنصیب ہیں تیرے وہ شوہر جنہوں نے اب بھی تجھ سے رشتہ قائم رکھا ہے. وہ تیرے گزشتہ شوہروں سے عبرت حاصل کیوں نہیں کرتے؟
■ مجاہد نے ابن عباسؓ کے حوالہ سے حضرت رسولخداؐ سے روایت کی ہے کہ..
حضرت عیسٰیؑ ایک ایسی بستی سے گذرے جہاں کی عمارتیں منہدم ہو چکی تھیں اور آبادی ویران ہو چکی تھی، یہ دیکھکر آپؑ نے اپنے حواریوں میں سے کسی سے فرمایا:
جانتے ہو یہ بستی کیا کہہ رہی ہے؟
حواری نے کہا: نہیں
آپؑ نے فرمایا:
یہ بستی کہہ رہی ہے کہ میرے پروردگار کا سچا وعدہ پورا ہو کر رہا، میری نہریں جن میں بہت پانی تھا خشک ہو گئیں، میرے درخت جو بہت شاداب تھے سوکھ گئے، میرے محل تباہ ہو گئے، میرے باشندے موت سے ہمکنار ہو گئے. اب ان کی ہڈیاں میرے اندر پڑی ہوئی ہیں اور وہ مال جسے انہوں نے حلال و حرام طریقہ سے جمع کیا تھا وہ سب میرے شکم میں پہنچ چکا ہے. زمین و آسمان کی میراث تو (درحقیقت) خدا ہی کے لئے ہے.
■ حضرت عیسٰیؑ فرمایا کرتے تھے کہ...
کب تک ایسا ہو گا کہ تمہیں نصیحت کی جائے اور تم نصیحت حاصل نہ کرو؟ ..... تم نے تو وعظ و نصیحت کرنے والوں کو تھکا دیا ہے. (کہ وہ کہتے رہتے ہیں اور تم پر اثر نہیں ہوتا.)
📚 گفتار انبیاء، ص:174،175.
🌹 اگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔
https://t.me/islamwitheman/461
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌹 دنیا کی زندگی 🌹
انسانی زندگی خوشی وغم، مشکلات وآسائشیں، فقرودولتمندی، بیماری وصحت، سکون واضطراب کا مجموعہ ہے.
●زندگی کے بعض مراحل میں انسان آرام و آسائش میں ہوتا ہے تو دوسرے بعض مراحل میں تنگدستی و کسمپرسی کے عالم میں لمحات گزار رہا ہوتا ہے.
●کبھی صحت…
انسانی زندگی خوشی وغم، مشکلات وآسائشیں، فقرودولتمندی، بیماری وصحت، سکون واضطراب کا مجموعہ ہے.
●زندگی کے بعض مراحل میں انسان آرام و آسائش میں ہوتا ہے تو دوسرے بعض مراحل میں تنگدستی و کسمپرسی کے عالم میں لمحات گزار رہا ہوتا ہے.
●کبھی صحت…
🔷 حضرت عیسٰیؑ اور استاد 🔷
حضرت امام محمد باقرؑ سے منقول ہے کہ جناب عیسٰیؑ پیدائش کے بعد ایک دن میں اتنے بڑے (نظر آ رہے تھے) جیسے دو ماہ کا بچہ ہوتا ہے پھر جب سات ماہ کے ہوئے تو ان کی مادرگرامی ان کا ہاتھ پکڑ کر کاتبوں کے پاس لے گئیں اور ایک استاد کے سامنے انکو بٹھا دیا (اس عمر میں وہ اچھی طرح گفتگو کرنے لگے تھے)
اس استاد نے جناب عیسٰیؑ سے کہا کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھو، آپؑ نے بسم اللہ پڑھی.
اس استاد نے کہا؛
"ابجد" پڑھو.
تو جناب عیسٰیؑ نے سر اٹھایا اور فرمایا:
تم جانتے بھی ہو کہ "ابجد" کے کیا معنی ہیں؟
یہ سن کر اس نے ان کو مارنے کے لیے کوڑا اٹھا لیا.
یہ دیکھ کر...
حضرت عیسٰیؑ نے فرمایا:
اے بزرگوار! مارو نہیں. اگر تم جانتے ہو تو ٹھیک ہے ورنہ مجھ سے پوچھو، میں اس کی تشریح تمہیں بتاؤں گا.
اس نے کہا:
اچھا، تم ہی اسکی تشریح بتاؤ.
تو فرمایا کہ....
الف یعنی آلاء الله (الله کی نعمتیں)
ب یعنی بهجة الله (الله کی شوکت)
ج یعنی جمال اللہ (اللہ کا حسن و جمال)
د یعنی دین اللہ (اللہ کا دین)
اس کیبعد آپ نے هوز کی تشریح فرمائی اور کہا کہ..
ھ یعنی هول جہنم (جہنم کی ہولناکی)
و یعنی ویل لاهل النار (بڑا افسوس ہے جہنم میں جانے والوں کے لئے)
ز یعنی زفیو جہنم (جہنم کی پرشور آواز)
پھر "حطی" کی تشریح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ...
حطت الخطايا عن المستغفرین (استغفار کرنے والوں کی کوتاہیوں سے درگزر کیا جائے گا)
(پھر) "کلمن" کے بارے فرمایا کہ...
کلام اللہ (اللہ کا کلام اور اس کے کلمات کو کوئی بھی تبدیل نہیں کر سکتا)
(پھر فرمایا کہ) "سَعفص" یعنی ساع بصاع (ایک وزن کا بدلہ اسی کے ہم وزن، جیسا عمل ویسی جزاء)
(اس کیبعد فرمایا کہ) "قرشت" یعنی قرشهم جس کے معنی ہیں، ان کو عالم حشر میں لایا جائے گا.
جب حضرت عیسٰیؑ کی گفتگو اس منزل تک پہنچی تو استاد نے جناب مریمؑ سے کہا کہ...
اے خاتون! بچے کو لے کر گھر تشریف لے جائیے، یہ تعلیم یافتہ ہے، اسے کسی سے پڑھنے کی ضرورت نہیں.
📚 گفتار انبیاء، ص:148.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
حضرت امام محمد باقرؑ سے منقول ہے کہ جناب عیسٰیؑ پیدائش کے بعد ایک دن میں اتنے بڑے (نظر آ رہے تھے) جیسے دو ماہ کا بچہ ہوتا ہے پھر جب سات ماہ کے ہوئے تو ان کی مادرگرامی ان کا ہاتھ پکڑ کر کاتبوں کے پاس لے گئیں اور ایک استاد کے سامنے انکو بٹھا دیا (اس عمر میں وہ اچھی طرح گفتگو کرنے لگے تھے)
اس استاد نے جناب عیسٰیؑ سے کہا کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھو، آپؑ نے بسم اللہ پڑھی.
اس استاد نے کہا؛
"ابجد" پڑھو.
تو جناب عیسٰیؑ نے سر اٹھایا اور فرمایا:
تم جانتے بھی ہو کہ "ابجد" کے کیا معنی ہیں؟
یہ سن کر اس نے ان کو مارنے کے لیے کوڑا اٹھا لیا.
یہ دیکھ کر...
حضرت عیسٰیؑ نے فرمایا:
اے بزرگوار! مارو نہیں. اگر تم جانتے ہو تو ٹھیک ہے ورنہ مجھ سے پوچھو، میں اس کی تشریح تمہیں بتاؤں گا.
اس نے کہا:
اچھا، تم ہی اسکی تشریح بتاؤ.
تو فرمایا کہ....
الف یعنی آلاء الله (الله کی نعمتیں)
ب یعنی بهجة الله (الله کی شوکت)
ج یعنی جمال اللہ (اللہ کا حسن و جمال)
د یعنی دین اللہ (اللہ کا دین)
اس کیبعد آپ نے هوز کی تشریح فرمائی اور کہا کہ..
ھ یعنی هول جہنم (جہنم کی ہولناکی)
و یعنی ویل لاهل النار (بڑا افسوس ہے جہنم میں جانے والوں کے لئے)
ز یعنی زفیو جہنم (جہنم کی پرشور آواز)
پھر "حطی" کی تشریح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ...
حطت الخطايا عن المستغفرین (استغفار کرنے والوں کی کوتاہیوں سے درگزر کیا جائے گا)
(پھر) "کلمن" کے بارے فرمایا کہ...
کلام اللہ (اللہ کا کلام اور اس کے کلمات کو کوئی بھی تبدیل نہیں کر سکتا)
(پھر فرمایا کہ) "سَعفص" یعنی ساع بصاع (ایک وزن کا بدلہ اسی کے ہم وزن، جیسا عمل ویسی جزاء)
(اس کیبعد فرمایا کہ) "قرشت" یعنی قرشهم جس کے معنی ہیں، ان کو عالم حشر میں لایا جائے گا.
جب حضرت عیسٰیؑ کی گفتگو اس منزل تک پہنچی تو استاد نے جناب مریمؑ سے کہا کہ...
اے خاتون! بچے کو لے کر گھر تشریف لے جائیے، یہ تعلیم یافتہ ہے، اسے کسی سے پڑھنے کی ضرورت نہیں.
📚 گفتار انبیاء، ص:148.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🌺 الفاظ و انداز اور لہجہ 🌺
الفاظ کی اپنی ہی ایک دنیا ہوتی ہے. ہر لفظ اپنی ذمہ داری نبھاتا ہے،
کچھ لفظ حکومت کرتے ہیں،
کچھ غلامی،
کچھ لفظ حفاظت کرتے ہیں،
اور کچھ وار،
ہر لفظ کا اپنا ایک مکمّل وجود ہوتا ہے.
جب سے میں نے لفظوں کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ سمجھنا شروع کیا تو سمجھا لفظ صرف معنی نہیں رکھتے یہ تو دانت رکھتے ہیں جو کاٹ لیتے ہیں.
یہ ہاتھ رکھتے ہیں جو گریبان کو پھاڑ دیتے ہیں.
یہ پاؤں رکھتے ہیں جو ٹھوکر لگا دیتے ہیں.
اور ان لفظوں کے ہاتھوں میں لہجے کا اسلحہ تھما دیا جائے تو یہ وجود کو چھلنی کرنے پر بھی قدرت رکھتے ہیں.
اپنے لفظوں کے بارے میں محتاط ہو جاؤ، انہیں ادا کرنے سے پہلے سوچ لو کہ یہ کسی کے وجود کو سمیٹیں گے یا کرچی کرچی بکھیر دیں گے. کیونکہ یہ تمہاری ادائیگی کے غلام ہیں اور تم ان کے بادشاہ...
اور بادشاہ اپنی رعایا کا ذمہ دار ہوتا ہے اور اپنے سے بڑے بادشاہ کو جواب دہ بھی...
■ایک ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﺍﻧﺖ ﭨﻮﭦ ﮐﺮ ﮔﺮ ﭘﮍﮮ ﮨﯿﮟ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ نے ﺍﯾﮏ معبّر (خواب کی تعبیر بتانے والے) ﮐﻮ ﺑﻠﻮﺍ ﮐﺮ ﺍُﺳﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺧﻮﺍﺏ ﺳُﻨﺎﯾﺎ.
معبّر ﻧﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ:
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ! ﺍﺳﮑﯽ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﯾﮧ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭘﮑﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻣﺮﯾﮟ ﮔﮯ. ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ کو بہت غصہ آیا. اس نے معبّر ﮐﻮ قتل کردیا.
ایک اور معبّر ﮐﻮ ﺑﻠﻮﺍﯾﺎ ﮔﯿﺎ، ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍُس کو ﺍﭘﻨﺎ ﺧﻮﺍﺏ سنایا.
معبّر ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ! ﺁﭘﮑﻮ ﻣُﺒﺎﺭﮎ ﮨﻮ، ﺧﻮﺍﺏ ﮐﯽ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﯾﮧ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻣﺎﺷﺎﺀﺍﻟﻠﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻟﻤﺒﯽ ﻋﻤﺮ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ.
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮐﺮ معبّر ﮐﻮ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﻭ ﺍﮐﺮﺍﻡ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺭﺧﺼﺖ ﮐﯿﺎ...
ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﯾﮩﯽ ﻣﻄﻠﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺘﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻟﻤﺒﯽ ﻋﻤﺮ ﭘﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺍُﺳﮑﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ؟
ﺟﯽ ﻣﻄﻠﺐ ﺗﻮ ﯾﮩﯽ ﮨﯽ ﺑﻨﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺑﺎﺕ ﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ اور الفاظ میں ﻓﺮﻕ ﮨﮯ،،
آپ کا بولا گیا ایک ایک لفظ کسی دوسرے کے لئے مرہم بھی بن سکتا ہے،، اور زخم بھی دے سکتا ہے.
اختیار آپ کے ہاتھ میں ہے...!!!
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
الفاظ کی اپنی ہی ایک دنیا ہوتی ہے. ہر لفظ اپنی ذمہ داری نبھاتا ہے،
کچھ لفظ حکومت کرتے ہیں،
کچھ غلامی،
کچھ لفظ حفاظت کرتے ہیں،
اور کچھ وار،
ہر لفظ کا اپنا ایک مکمّل وجود ہوتا ہے.
جب سے میں نے لفظوں کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ سمجھنا شروع کیا تو سمجھا لفظ صرف معنی نہیں رکھتے یہ تو دانت رکھتے ہیں جو کاٹ لیتے ہیں.
یہ ہاتھ رکھتے ہیں جو گریبان کو پھاڑ دیتے ہیں.
یہ پاؤں رکھتے ہیں جو ٹھوکر لگا دیتے ہیں.
اور ان لفظوں کے ہاتھوں میں لہجے کا اسلحہ تھما دیا جائے تو یہ وجود کو چھلنی کرنے پر بھی قدرت رکھتے ہیں.
اپنے لفظوں کے بارے میں محتاط ہو جاؤ، انہیں ادا کرنے سے پہلے سوچ لو کہ یہ کسی کے وجود کو سمیٹیں گے یا کرچی کرچی بکھیر دیں گے. کیونکہ یہ تمہاری ادائیگی کے غلام ہیں اور تم ان کے بادشاہ...
اور بادشاہ اپنی رعایا کا ذمہ دار ہوتا ہے اور اپنے سے بڑے بادشاہ کو جواب دہ بھی...
■ایک ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﺍﻧﺖ ﭨﻮﭦ ﮐﺮ ﮔﺮ ﭘﮍﮮ ﮨﯿﮟ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ نے ﺍﯾﮏ معبّر (خواب کی تعبیر بتانے والے) ﮐﻮ ﺑﻠﻮﺍ ﮐﺮ ﺍُﺳﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺧﻮﺍﺏ ﺳُﻨﺎﯾﺎ.
معبّر ﻧﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ:
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ! ﺍﺳﮑﯽ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﯾﮧ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭘﮑﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻣﺮﯾﮟ ﮔﮯ. ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ کو بہت غصہ آیا. اس نے معبّر ﮐﻮ قتل کردیا.
ایک اور معبّر ﮐﻮ ﺑﻠﻮﺍﯾﺎ ﮔﯿﺎ، ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍُس کو ﺍﭘﻨﺎ ﺧﻮﺍﺏ سنایا.
معبّر ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ! ﺁﭘﮑﻮ ﻣُﺒﺎﺭﮎ ﮨﻮ، ﺧﻮﺍﺏ ﮐﯽ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﯾﮧ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻣﺎﺷﺎﺀﺍﻟﻠﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻟﻤﺒﯽ ﻋﻤﺮ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ.
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮐﺮ معبّر ﮐﻮ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﻭ ﺍﮐﺮﺍﻡ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺭﺧﺼﺖ ﮐﯿﺎ...
ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﯾﮩﯽ ﻣﻄﻠﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺘﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻟﻤﺒﯽ ﻋﻤﺮ ﭘﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺍُﺳﮑﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ؟
ﺟﯽ ﻣﻄﻠﺐ ﺗﻮ ﯾﮩﯽ ﮨﯽ ﺑﻨﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺑﺎﺕ ﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ اور الفاظ میں ﻓﺮﻕ ﮨﮯ،،
آپ کا بولا گیا ایک ایک لفظ کسی دوسرے کے لئے مرہم بھی بن سکتا ہے،، اور زخم بھی دے سکتا ہے.
اختیار آپ کے ہاتھ میں ہے...!!!
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
💝اسلام کی بنیاد محبتِ اہلبیتؑ 💝
رسولِ اکرمؐ نے فرمایا: جنت میں صرف مسلمان ہی جا سکتا ہے.
جناب ابوذرؓ نے سوال کیا؛
اے خدا کے رسولؐ! اسلام کیا ہے؟
رسول اکرمؐ نے فرمایا:
"اسلام کا لباس تقوٰی ہے،
اس کا شعار ہدائت ہے،
حیا اس کا باطنی جامہ ہے،
ورع (زہد) اس کی اساس ہے،
دینداری اس کا کمال ہے،
اور
عملِ صالح اس کا پھل ہے.
(اے ابوذر یاد رکھو) ہر چیز کی ایک بنیاد ہوتی ہے (جس پر اسکی عمارت قائم ہوتی ہے) اور اسلام کی بنیاد اہلبیتؑ کی محبت ہے."
📚تحف العقول، ص:51.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
رسولِ اکرمؐ نے فرمایا: جنت میں صرف مسلمان ہی جا سکتا ہے.
جناب ابوذرؓ نے سوال کیا؛
اے خدا کے رسولؐ! اسلام کیا ہے؟
رسول اکرمؐ نے فرمایا:
"اسلام کا لباس تقوٰی ہے،
اس کا شعار ہدائت ہے،
حیا اس کا باطنی جامہ ہے،
ورع (زہد) اس کی اساس ہے،
دینداری اس کا کمال ہے،
اور
عملِ صالح اس کا پھل ہے.
(اے ابوذر یاد رکھو) ہر چیز کی ایک بنیاد ہوتی ہے (جس پر اسکی عمارت قائم ہوتی ہے) اور اسلام کی بنیاد اہلبیتؑ کی محبت ہے."
📚تحف العقول، ص:51.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 حضرت سلیمانؑ اور چڑیا 🔷
منقول ہے کہ جناب سلیمانؑ نے ایک نرچڑیا کو دیکھا، جو اپنی مادہ سے کہہ رہا تھا...
تم مجھ سے کیوں بھاگتی ہو؟ (مجھے موقع کیوں نہیں دیتی؟) اگر میں چاہوں تو حضرت سلیمانؑ کے گنبد کو اپنی چونچ میں پکڑ کر دریا میں پھینک دوں.
جناب سلیمانؑ اس کی گفتگو سن کر مسکرانے لگے اور دونوں کو بلا کر نر سے پوچھا کہ...
جو کچھ تم کہہ رہے تھے کیا اسے کرنے کے لئے تمہارے اندر طاقت ہے؟
تو اس نرچڑیا نے عرض کیا...
اے اللہ کے نبیؑ! میرے اندر اتنی طاقت تو نہیں ہے لیکن (پھر بھی میں نے اپنی بیوی سے وہ جملہ اس لئے کہا کہ) بعض اوقات اپنی بیوی کے سامنے اپنی بڑائی کرنی پڑتی ہے. اور خود کو (کمالات) سے آراستہ کر کے پیش کرنا پڑتا ہے. اور چاہنے والا عاشق (اپنی محبت کے اظہار میں) جو کچھ کہتا ہے، اس پر اسے ملامت نہیں کی جاتی.
یہ سن کر...
جناب سلیمانؑ نے اسکی مادہ سے کہا کہ جب یہ تجھ سے محبت کرتا ہے تو تم اسکی بات کیوں نہیں مانتی؟
مادہ چڑیا کہنے لگی...
اے خدا کے نبیؑ! یہ مجھ سے محبت نہیں کرتا، صرف باتیں بناتا ہے، اسے میرے ساتھ ساتھ ایک اور چڑیا سے بھی محبت ہے.
■مادہ چڑیا کی یہ بات سن کر جناب سلیمانؑ کے دل پر بہت اثر ہوا، وہ بہت شدت سے روئے، پھر چالیس دن تک لوگوں سے ملاقات نہیں کی. (مسلسل عبادت کرتے رہے) اور خدا سے دعا کرتے رہے کہ ان کے دل کو اپنی محبت سے اسی طرح بھر دے کہ اس کی محبت کے ساتھ کسی اور کی محبت کی آمیزش نہ ہو.
■روایت کا انداز بتا رہا ہے کہ خداوندعالم نے ان دونوں (نرومادہ چڑیوں) کو خصوصی ہدایت کی تھی کہ وہ اخلاص کی اہمیت کو واضح کریں، اور پھر اولاً اپنے نبی کے پاس اور ان کے وسیلہ سے عام لوگوں تک یہ پیغام پہنچایا جائے کہ خدا کی محبت میں اخلاص شرط ہے.
والله اعلم بالصواب (مترجم)
📚گفتار انبیاء، ص:133.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
منقول ہے کہ جناب سلیمانؑ نے ایک نرچڑیا کو دیکھا، جو اپنی مادہ سے کہہ رہا تھا...
تم مجھ سے کیوں بھاگتی ہو؟ (مجھے موقع کیوں نہیں دیتی؟) اگر میں چاہوں تو حضرت سلیمانؑ کے گنبد کو اپنی چونچ میں پکڑ کر دریا میں پھینک دوں.
جناب سلیمانؑ اس کی گفتگو سن کر مسکرانے لگے اور دونوں کو بلا کر نر سے پوچھا کہ...
جو کچھ تم کہہ رہے تھے کیا اسے کرنے کے لئے تمہارے اندر طاقت ہے؟
تو اس نرچڑیا نے عرض کیا...
اے اللہ کے نبیؑ! میرے اندر اتنی طاقت تو نہیں ہے لیکن (پھر بھی میں نے اپنی بیوی سے وہ جملہ اس لئے کہا کہ) بعض اوقات اپنی بیوی کے سامنے اپنی بڑائی کرنی پڑتی ہے. اور خود کو (کمالات) سے آراستہ کر کے پیش کرنا پڑتا ہے. اور چاہنے والا عاشق (اپنی محبت کے اظہار میں) جو کچھ کہتا ہے، اس پر اسے ملامت نہیں کی جاتی.
یہ سن کر...
جناب سلیمانؑ نے اسکی مادہ سے کہا کہ جب یہ تجھ سے محبت کرتا ہے تو تم اسکی بات کیوں نہیں مانتی؟
مادہ چڑیا کہنے لگی...
اے خدا کے نبیؑ! یہ مجھ سے محبت نہیں کرتا، صرف باتیں بناتا ہے، اسے میرے ساتھ ساتھ ایک اور چڑیا سے بھی محبت ہے.
■مادہ چڑیا کی یہ بات سن کر جناب سلیمانؑ کے دل پر بہت اثر ہوا، وہ بہت شدت سے روئے، پھر چالیس دن تک لوگوں سے ملاقات نہیں کی. (مسلسل عبادت کرتے رہے) اور خدا سے دعا کرتے رہے کہ ان کے دل کو اپنی محبت سے اسی طرح بھر دے کہ اس کی محبت کے ساتھ کسی اور کی محبت کی آمیزش نہ ہو.
■روایت کا انداز بتا رہا ہے کہ خداوندعالم نے ان دونوں (نرومادہ چڑیوں) کو خصوصی ہدایت کی تھی کہ وہ اخلاص کی اہمیت کو واضح کریں، اور پھر اولاً اپنے نبی کے پاس اور ان کے وسیلہ سے عام لوگوں تک یہ پیغام پہنچایا جائے کہ خدا کی محبت میں اخلاص شرط ہے.
والله اعلم بالصواب (مترجم)
📚گفتار انبیاء، ص:133.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔶 غصّہ نہ کرو 🔶
حضرت محمد مصطفٰیؐ کا ارشاد ہے: "جس طرح سرکہ شہد کو خراب کر دیتا ہے اسی طرح غصّہ ایمان کو تباہ کر دیتا ہے."
ایک شخص نے آپؐ سے عرض کیا:
اے خدا کے رسولؐ مجھے کچھ تعلیم دیجئے.
آپؐ نے فرمایا:
جاؤ غصّہ نہ کرو.
اس نے کہا:
بس اتنا کافی ہے...
یہ کہہ کر وہ اپنے گھر چلا گیا، وہاں اس کے قبیلے کے لوگوں میں جنگ چِھڑی ہوئی تھی، سب اسلحے سے لیس ہو کر ایک دوسرے کے مقابل صف آراء ہو چکے تھے.
جب اس شخص نے یہ کیفیت دیکھی تو اس نے بھی خود کو اسلحے سے لیس کیا اور صف میں آ کر کھڑا ہو گیا، اسی وقت اسے پیغمبر اسلامؐ کا ارشاد یاد آیا کہ "غصہ نہ کرو"
چنانچہ اس نے اسلحہ اتار کر پھینک دیا اور دشمن کی قوم کے پاس جا کر بولا:
اے لوگو جو کچھ بھی تم کو زخم لگا ہو، یا تمہارا کوئی آدمی قتل ہوا ہو یا تمہیں کوئی صدمہ پہنچا ہو، اس کا معاوضہ میں اپنے مال سے پورا پورا ادا کرنے پر تیار ہوں...
یہ سن کر وہ لوگ بولے:
جو کچھ ہو چکا وہ تمہارے لیے (معاف) ہے اور ہمیں بھی یہی باتیں زیادہ مناسب ہیں جو تم کہہ رہے ہو.
اس کے بعد سب لوگوں نے آپس میں صلح کر لی اور غیض و غضب ختم ہو گیا.
🌹 آگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ شکریہ
📚 کافی، باب الغضب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 غصّہ کے موضوع پر مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں...
🔶 غصّہ اور قوت برداشت
https://t.me/islamwitheman/72
🔶 غصّہ کرنے کے نقصانات
https://t.me/islamwitheman/86
🔶 غصہ نہ کرو
https://t.me/islamwitheman/478
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
حضرت محمد مصطفٰیؐ کا ارشاد ہے: "جس طرح سرکہ شہد کو خراب کر دیتا ہے اسی طرح غصّہ ایمان کو تباہ کر دیتا ہے."
ایک شخص نے آپؐ سے عرض کیا:
اے خدا کے رسولؐ مجھے کچھ تعلیم دیجئے.
آپؐ نے فرمایا:
جاؤ غصّہ نہ کرو.
اس نے کہا:
بس اتنا کافی ہے...
یہ کہہ کر وہ اپنے گھر چلا گیا، وہاں اس کے قبیلے کے لوگوں میں جنگ چِھڑی ہوئی تھی، سب اسلحے سے لیس ہو کر ایک دوسرے کے مقابل صف آراء ہو چکے تھے.
جب اس شخص نے یہ کیفیت دیکھی تو اس نے بھی خود کو اسلحے سے لیس کیا اور صف میں آ کر کھڑا ہو گیا، اسی وقت اسے پیغمبر اسلامؐ کا ارشاد یاد آیا کہ "غصہ نہ کرو"
چنانچہ اس نے اسلحہ اتار کر پھینک دیا اور دشمن کی قوم کے پاس جا کر بولا:
اے لوگو جو کچھ بھی تم کو زخم لگا ہو، یا تمہارا کوئی آدمی قتل ہوا ہو یا تمہیں کوئی صدمہ پہنچا ہو، اس کا معاوضہ میں اپنے مال سے پورا پورا ادا کرنے پر تیار ہوں...
یہ سن کر وہ لوگ بولے:
جو کچھ ہو چکا وہ تمہارے لیے (معاف) ہے اور ہمیں بھی یہی باتیں زیادہ مناسب ہیں جو تم کہہ رہے ہو.
اس کے بعد سب لوگوں نے آپس میں صلح کر لی اور غیض و غضب ختم ہو گیا.
🌹 آگر پوسٹ اچھی لگے تو دوسروں کی بھلائی کے لیے شیئر ضرور کریں۔ شکریہ
📚 کافی، باب الغضب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 غصّہ کے موضوع پر مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں...
🔶 غصّہ اور قوت برداشت
https://t.me/islamwitheman/72
🔶 غصّہ کرنے کے نقصانات
https://t.me/islamwitheman/86
🔶 غصہ نہ کرو
https://t.me/islamwitheman/478
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔶 غصہ اور قوت برداشت 🔶
قوت برداشت کو بڑھانے کے لئے یہ پوسٹ ضرور پڑھیں یقیناً جو بھی عمل کرے گا %90 کامیاب ہوگا ان شاء الله۔
■ ﺻﺪﺭ ﺍﯾﻮﺏ ﺧﺎﻥ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ کے ﭘﮩﻠﮯ ﻣﻠﭩﺮﯼ ﮈﮐﭩﯿﭩﺮ ﺗﮭﮯ، ﻭﮦ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺳﮕﺮﯾﭧ ﮐﮯ ﺩﻭ ﺑﮍﮮ ﭘﯿﮑﭧ ﭘﯿﺘﮯ ﺗﮭﮯ، ﺭﻭﺯ ﺻﺒﺢ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺑﭩﻠﺮ ﺳﮕﺮﯾﭧ ﮐﮯ ﺩﻭ ﭘﯿﮑﭧ ﭨﺮﮮ…
قوت برداشت کو بڑھانے کے لئے یہ پوسٹ ضرور پڑھیں یقیناً جو بھی عمل کرے گا %90 کامیاب ہوگا ان شاء الله۔
■ ﺻﺪﺭ ﺍﯾﻮﺏ ﺧﺎﻥ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ کے ﭘﮩﻠﮯ ﻣﻠﭩﺮﯼ ﮈﮐﭩﯿﭩﺮ ﺗﮭﮯ، ﻭﮦ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺳﮕﺮﯾﭧ ﮐﮯ ﺩﻭ ﺑﮍﮮ ﭘﯿﮑﭧ ﭘﯿﺘﮯ ﺗﮭﮯ، ﺭﻭﺯ ﺻﺒﺢ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺑﭩﻠﺮ ﺳﮕﺮﯾﭧ ﮐﮯ ﺩﻭ ﭘﯿﮑﭧ ﭨﺮﮮ…
🔷 خُدا رزق دینے والا ہے 🔷
حضرت امیرالمؤمنین علیؑ فرماتے ہیں کہ جن باتوں کی جناب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت فرمائی ان میں یہ بھی تھا...
اے نورِ نظر! رزق کے سلسلہ میں جس کی نیت کوتاہ اور یقین و ایمان کمزور ہو اسے اس بات سے درسِ نصیحت حاصل کرنا چاہیے کہ خُداوندعالم نے اپنے امر سے اسے تخلیق کے تین مراحل سے گزارا اور اسے رزق عطا کیا جبکہ ان تین مرحلوں میں سے کسی ایک میں بھی نہ اس کی کسی کوشش کا کوئی دخل تھا، نہ اس نے کوئی تدبیر کی تھی (تو اسے یقین رکھنا چاہیے کہ) چوتھے مرحلہ میں بھی اسے خدا ضرور رزق عطا کرے گا.
■ ان تین مراحل میں سے پہلا مرحلہ تو وہ تھا جب وہ ماں کے پیٹ میں تھا، وہ خود تو ایک محفوظ جگہ پر تھا اور اس کا رزق اسے ملتا رہتا تھا، نہ گرمی اسے تکلیف پہنچاتی تھی نہ سردی.
■ پھر وہاں سے جب قدرت نے اسے باہر کی دنیا میں بھیجا تو اس کی ماں کے دودھ کو اس کا رزق قرار دیا جو اس کی غذائی ضروریات کے لئے کافی بھی تھا. اسی سے وہ پروان چڑھا اور اسے تازگی ملی، جس میں کسی شخص کی قوت و طاقت کا کوئی حصہ نہیں تھا.
■ پھر جب ماں کا دودھ چھوٹا تو خداوندعالم نے اس کے رزق کی ذمہ داری اس کے ماں باپ پر رکھی، جنہوں نے نہایت پیارومحبت کے ساتھ اسے رزق فراہم کیا اور ان کے دل میں ایسی محبت پیدا کر دی کہ وہ اولاد کے مسئلہ میں بیتاب و بے اختیار ہو جاتے ہیں اور اکثر حالات میں وہ اولاد کو خود اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہیں.
● (تو ان تینوں مراحل میں خداوندعالم بندے کو رزق عطا کرتا رہا اور وہ کھاتا رہا)
■ لیکن جب بڑا ہوا، سمجھ پیدا ہوئی اور اپنے رزق کے لیے خود کوشش کرنے لگا تو اب دل تنگ ہونے لگا اور اپنے پروردگار کی طرف سے طرح طرح کی بدگمانیوں میں مبتلا ہونے لگا یہانتک کہ اس کے مال میں خدا کا جو حق ہے اس سے انکار کرنے لگا اور تنگدستی کے خوف سے اور اس عقیدہ و یقین کی کمزوری کی وجہ سے کہ خدا دنیا و آخرت میں اسے بہترین عوض دینے والا ہے اپنی ذات اور اپنے اہل و عیال کے اخراجات میں کمی کرنے لگا.
اے بیٹے ایسا بندہ کتنا برا بندہ ہے.
📚 گفتار انبیاء، آقای محمدتاج لنگرودی، ص:83.
____
👈 رزق کے موضوع پر مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں...
🔷 محنت میں عظمت
https://t.me/islamwitheman/126
🌎 حضرت سلیمانؑ اور چیونٹی
https://t.me/islamwitheman/145
🔴 حضرت سلیمانؑ کی ضیافت
https://t.me/islamwitheman/146
🌷 پتھر میں کیڑے کو غذا
https://t.me/islamwitheman/233
🔰 چیونٹی کا اطمینان
https://t.me/islamwitheman/257
🔷 بے نیازی
https://t.me/islamwitheman/258
🔷 خدا رزق دینے والا ہے.
https://t.me/islamwitheman/481
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
حضرت امیرالمؤمنین علیؑ فرماتے ہیں کہ جن باتوں کی جناب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت فرمائی ان میں یہ بھی تھا...
اے نورِ نظر! رزق کے سلسلہ میں جس کی نیت کوتاہ اور یقین و ایمان کمزور ہو اسے اس بات سے درسِ نصیحت حاصل کرنا چاہیے کہ خُداوندعالم نے اپنے امر سے اسے تخلیق کے تین مراحل سے گزارا اور اسے رزق عطا کیا جبکہ ان تین مرحلوں میں سے کسی ایک میں بھی نہ اس کی کسی کوشش کا کوئی دخل تھا، نہ اس نے کوئی تدبیر کی تھی (تو اسے یقین رکھنا چاہیے کہ) چوتھے مرحلہ میں بھی اسے خدا ضرور رزق عطا کرے گا.
■ ان تین مراحل میں سے پہلا مرحلہ تو وہ تھا جب وہ ماں کے پیٹ میں تھا، وہ خود تو ایک محفوظ جگہ پر تھا اور اس کا رزق اسے ملتا رہتا تھا، نہ گرمی اسے تکلیف پہنچاتی تھی نہ سردی.
■ پھر وہاں سے جب قدرت نے اسے باہر کی دنیا میں بھیجا تو اس کی ماں کے دودھ کو اس کا رزق قرار دیا جو اس کی غذائی ضروریات کے لئے کافی بھی تھا. اسی سے وہ پروان چڑھا اور اسے تازگی ملی، جس میں کسی شخص کی قوت و طاقت کا کوئی حصہ نہیں تھا.
■ پھر جب ماں کا دودھ چھوٹا تو خداوندعالم نے اس کے رزق کی ذمہ داری اس کے ماں باپ پر رکھی، جنہوں نے نہایت پیارومحبت کے ساتھ اسے رزق فراہم کیا اور ان کے دل میں ایسی محبت پیدا کر دی کہ وہ اولاد کے مسئلہ میں بیتاب و بے اختیار ہو جاتے ہیں اور اکثر حالات میں وہ اولاد کو خود اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہیں.
● (تو ان تینوں مراحل میں خداوندعالم بندے کو رزق عطا کرتا رہا اور وہ کھاتا رہا)
■ لیکن جب بڑا ہوا، سمجھ پیدا ہوئی اور اپنے رزق کے لیے خود کوشش کرنے لگا تو اب دل تنگ ہونے لگا اور اپنے پروردگار کی طرف سے طرح طرح کی بدگمانیوں میں مبتلا ہونے لگا یہانتک کہ اس کے مال میں خدا کا جو حق ہے اس سے انکار کرنے لگا اور تنگدستی کے خوف سے اور اس عقیدہ و یقین کی کمزوری کی وجہ سے کہ خدا دنیا و آخرت میں اسے بہترین عوض دینے والا ہے اپنی ذات اور اپنے اہل و عیال کے اخراجات میں کمی کرنے لگا.
اے بیٹے ایسا بندہ کتنا برا بندہ ہے.
📚 گفتار انبیاء، آقای محمدتاج لنگرودی، ص:83.
____
👈 رزق کے موضوع پر مزید پوسٹس دیکھنے کے لئے مطلوبہ پوسٹ کے لنک پر کلک کریں...
🔷 محنت میں عظمت
https://t.me/islamwitheman/126
🌎 حضرت سلیمانؑ اور چیونٹی
https://t.me/islamwitheman/145
🔴 حضرت سلیمانؑ کی ضیافت
https://t.me/islamwitheman/146
🌷 پتھر میں کیڑے کو غذا
https://t.me/islamwitheman/233
🔰 چیونٹی کا اطمینان
https://t.me/islamwitheman/257
🔷 بے نیازی
https://t.me/islamwitheman/258
🔷 خدا رزق دینے والا ہے.
https://t.me/islamwitheman/481
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 محنت میں عظمت 🔷
کسی گاؤں میں ایک نو جوان رہتا تھا. پڑھائی لکھائی جب ختم ہوئی تو والدین نے نوکری کے لئے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ کئی مہینے وہ نوکری کی تلاش میں پھرتا رہا لیکن کہیں نوکری نہ ملی.
ایک دن تھک ہار کر خود سے بولا، رزق تو اللہ کی ذات نے دینا ہے۔…
کسی گاؤں میں ایک نو جوان رہتا تھا. پڑھائی لکھائی جب ختم ہوئی تو والدین نے نوکری کے لئے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ کئی مہینے وہ نوکری کی تلاش میں پھرتا رہا لیکن کہیں نوکری نہ ملی.
ایک دن تھک ہار کر خود سے بولا، رزق تو اللہ کی ذات نے دینا ہے۔…
⭕ آئینہ ⭕
ایک کمپنی کا ایک ملازم اپنے دفتر پہنچا تو اسکی نگاہ دفتر کے گیٹ پر لگے ہوئے ایک نوٹس پر پڑی جس پر لکھا تھا:
"جو شخص کمپنی میں آپ کی ترقی اور بہتری میں رکاوٹ تھا کل رات اسکا انتقال ہوگیا آپ سے گزارش ہے کہ اس کی آخری رسومات اور جنازے کے لیے کانفرنس ہال میں تشریف لے آئیں جہاں پر اسکی میت رکھی ہوئی ہے."
یہ پڑھتے ہی وہ اداس ہو گیا کہ اسکا کوئی ساتھی ہمیشہ کے لیے اس سے جدا ہو گیا لیکن چند لمحوں بعد اس پر تجسس غالب آ گیا کہ آخر وہ شخص کون تھا جو اسکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ تھا اس تجسس کو ساتھ لیے وہ جلدی سے کانفرس ہال میں پہنچا تو وہاں اس کے دفتر کے باقی سارے ساتھی بھی اسی نوٹس کو پڑھ کر آئے ہوئے تھے اور سب حیران تھے کہ آخر یہ شخص کون تھا...
کانفرس ہال کے باہر میت کو دیکھنے کے لیے لوگوں کا اس قدر ہجوم ہو گیا کہ سکیورٹی گارڈ کو یہ حکم جاری کرنا پڑا کہ سب لوگ ایک ایک کر کے اندر جائیں اور میت کا چہرہ دیکھ لیں..
سب ملازمین ایک ایک کر کے اندر جانے لگے جو بھی اندر جاتا اور میت کے چہرے سے کفن ہٹا کر اس کا چہرہ دیکھتا تو ایک لمحے کی لیے حیرت زدہ اور گنگ ہو کر رہ جاتا اور اسکی زبان گویا تالو سے چپک جاتی یوں لگتا کہ گویا کسی نے اسکے دل پر گہری ضرب لگائی ہو..
باری آنے پر وہ شخص بھی اندر گیا اور میت کے چہرے سے کپڑا ہٹا کر دیکھا تو اس کا حال بھی دوسروں جیسا ہی ہوا... کفن کے اندر ایک بڑا سا آئینہ رکھا ہوا ہے اور اسکے ایک کونے پر لکھا تھا:
"دنیا میں ایک ہی شخص ہے جو آپ کی صلاحتیوں کو محدود کر کے آپ کی ترقی میں رکاوٹ بن سکتا ہے اور وہ آپ خود ہیں..
یاد رکھیے! آپ کی زندگی میں تبدیلی آپ کی کمپنی تبدیل ہونے سے، آپ کا باس تبدیل ہونے سے، آپ کے دوست احباب تبدیل ہونے سے نہیں آتی.
آپ کی زندگی میں تبدیلی تب آتی ہے جب آپ اپنی صلاحیتوں پر اعتبار کرنا شروع کر دیتے ہیں، ناممکن کو ممکن اور مشکلات کو چیلنج سمجھتے ہیں.
اپنا تجزیہ کریں. اپنے آپ کو آزمائیں. مشکلات، نقصانات اور نا ممکنات سے گھبرانا چھوڑ دیں اور ایک فاتح کی طرح جیئں....
■ اسی طرح خود کو اسلام کے سانچے میں ڈھالنے کے لئے ہم خود محنت کریں گے تو اللہ تعالی بھی ہماری مدد کرے گا۔ اور ہم اسلام میں ترقی کرتے چلے جائیں گے۔
■ یعنی ہم اپنے آپ کو خود سنوارنے کی کوشش کریں گے تو جلدی سنور جائیں گے۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ایک کمپنی کا ایک ملازم اپنے دفتر پہنچا تو اسکی نگاہ دفتر کے گیٹ پر لگے ہوئے ایک نوٹس پر پڑی جس پر لکھا تھا:
"جو شخص کمپنی میں آپ کی ترقی اور بہتری میں رکاوٹ تھا کل رات اسکا انتقال ہوگیا آپ سے گزارش ہے کہ اس کی آخری رسومات اور جنازے کے لیے کانفرنس ہال میں تشریف لے آئیں جہاں پر اسکی میت رکھی ہوئی ہے."
یہ پڑھتے ہی وہ اداس ہو گیا کہ اسکا کوئی ساتھی ہمیشہ کے لیے اس سے جدا ہو گیا لیکن چند لمحوں بعد اس پر تجسس غالب آ گیا کہ آخر وہ شخص کون تھا جو اسکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ تھا اس تجسس کو ساتھ لیے وہ جلدی سے کانفرس ہال میں پہنچا تو وہاں اس کے دفتر کے باقی سارے ساتھی بھی اسی نوٹس کو پڑھ کر آئے ہوئے تھے اور سب حیران تھے کہ آخر یہ شخص کون تھا...
کانفرس ہال کے باہر میت کو دیکھنے کے لیے لوگوں کا اس قدر ہجوم ہو گیا کہ سکیورٹی گارڈ کو یہ حکم جاری کرنا پڑا کہ سب لوگ ایک ایک کر کے اندر جائیں اور میت کا چہرہ دیکھ لیں..
سب ملازمین ایک ایک کر کے اندر جانے لگے جو بھی اندر جاتا اور میت کے چہرے سے کفن ہٹا کر اس کا چہرہ دیکھتا تو ایک لمحے کی لیے حیرت زدہ اور گنگ ہو کر رہ جاتا اور اسکی زبان گویا تالو سے چپک جاتی یوں لگتا کہ گویا کسی نے اسکے دل پر گہری ضرب لگائی ہو..
باری آنے پر وہ شخص بھی اندر گیا اور میت کے چہرے سے کپڑا ہٹا کر دیکھا تو اس کا حال بھی دوسروں جیسا ہی ہوا... کفن کے اندر ایک بڑا سا آئینہ رکھا ہوا ہے اور اسکے ایک کونے پر لکھا تھا:
"دنیا میں ایک ہی شخص ہے جو آپ کی صلاحتیوں کو محدود کر کے آپ کی ترقی میں رکاوٹ بن سکتا ہے اور وہ آپ خود ہیں..
یاد رکھیے! آپ کی زندگی میں تبدیلی آپ کی کمپنی تبدیل ہونے سے، آپ کا باس تبدیل ہونے سے، آپ کے دوست احباب تبدیل ہونے سے نہیں آتی.
آپ کی زندگی میں تبدیلی تب آتی ہے جب آپ اپنی صلاحیتوں پر اعتبار کرنا شروع کر دیتے ہیں، ناممکن کو ممکن اور مشکلات کو چیلنج سمجھتے ہیں.
اپنا تجزیہ کریں. اپنے آپ کو آزمائیں. مشکلات، نقصانات اور نا ممکنات سے گھبرانا چھوڑ دیں اور ایک فاتح کی طرح جیئں....
■ اسی طرح خود کو اسلام کے سانچے میں ڈھالنے کے لئے ہم خود محنت کریں گے تو اللہ تعالی بھی ہماری مدد کرے گا۔ اور ہم اسلام میں ترقی کرتے چلے جائیں گے۔
■ یعنی ہم اپنے آپ کو خود سنوارنے کی کوشش کریں گے تو جلدی سنور جائیں گے۔
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
⭕ تنقید و مشاہدہ ⭕
ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﻮﺑﯿﺎﮨﺘﺎ ﺟﻮﮌﮮ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻧﺌﮯ ﭘﮍﻭﺳﯽ ﺁﺋﮯ۔ ﺍُﺱ ﺟﻮﮌﮮ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﭘﺮ ﺗﻨﻘﯿﺪﯼ ﻧﻈﺮ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﺍُﻥ ﮐﮯ ﮈﺍﺋﻨﻨﮓ ﮨﺎﻝ ﺳﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﺻﺎﻑ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﺎ ﺗﮭﺎ...
ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻧﺎﺷﺘﮧ ﮐﯽ ﻣﯿﺰ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﻧﺎﺷﺘﮧ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﺩﮬﻮ ﮐﺮ ﺑﺎﮨﺮ ﺑﺎﻟﮑﻮﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻼﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ۔
’’ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﮐﺘﻨﮯ ﺧﺮﺍﺏ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﺪﮮ ﮐﭙﮍﮮ ﺩﮬﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺑﯿﻮﯼ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﺳﮯ ﺑﻮﻟﯽ، ﺫﺭﺍ ﺻﺎﻑ ﮐﭙﮍﮮ ﻧﮩﯿﮟ ﺩُﮬﻠﮯ۔ ﺍِﻥ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﻮ ﮐﭙﮍﮮ ﺩﮬﻮﻧﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ، ﺍﻥ ﮐﻮ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﺻﺎﺑﻦ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮐﺮﻟﯿﮟ ﯾﺎ ﮐﻢ ﺍﺯ ﮐﻢ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺳﯿﮑﮫ ﮨﯽ ﻟﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﭙﮍﮮ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﺩﮬﻮﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ.‘‘
ﺷﻮﮨﺮ ﻧﮯ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﺍُﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺭﮨﺎ۔ ﮨﺮ ﺑﺎﺭ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﭘﮍﻭﺳﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﺩﮬﻮ ﮐﺮ ﭘﮭﯿﻼﺗﮯ، ﺍُﺱ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﮯ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺩُﮬﻼﺋﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﯽ ﺗﺎﺛﺮﺍﺕ ﮨﻮﺗﮯ۔ ﻭﮦ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮨﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﯿﺎﻻﺕ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﺮﺗﯽ ﮐﮧ ﺁﺝ ﭘﮭﺮ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﺍﭼﮭﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮬﻮﺋﮯ، ﺩﻝ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺧﻮﺩ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺑﺘﺎ ﺩﻭﮞ ﮐﮧ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﯾﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﮐﯽ ﺩﮬﻼﺋﯽ ﺑﮩﺘﺮ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻭﻏﯿﺮﮦ۔
ﺍﻟﻐﺮﺽ ﻭﮦ ﮔﮭﺮ ﺍﻭﺭ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﮐﯽ ﺩﮬﻼﺋﯽ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮨﯽ ﺍُﺱ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﯽ ﺗﻨﻘﯿﺪ ﮐﺎ ﻧﺸﺎﻧﮧ ﺑﻨﺘﮯ ﺭﮨﺘﮯ۔
ﺗﻘﺮﯾﺒﺎََ ﺍﯾﮏ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﮍﻭﺳﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺻﺎﻑ ﺳُﺘﮭﺮﮮ ﺩُﮬﻠﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺭﮦ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﺳﮯ ﺑﻮﻟﯽ:
ﺩﯾﮑﮭﺎ! ﺑﺎﻵﺧﺮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﯿﮑﮫ ﮨﯽ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﮐﭙﮍﮮ ﮐﯿﺴﮯ ﺩﮬﻮﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ. ﺷﮑﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﺝ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﺻﺎﻑ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺠﮭﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﺧﺮ ﯾﮧ ﻋﻘﻞ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺩﯼ؟ ﺷﺎﯾﺪ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺎﻡ ﻭﺍﻟﯽ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮐﯽ ﮨﮯ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﺻﺎﺑﻦ ﺑﺪﻝ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭼﭗ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ۔
ﺷﻮﮨﺮ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻻ:
ﺁﺝ ﺻﺒﺢ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﺪﯼ ﺍُﭨﮫ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮈﺍﺋﻨﻨﮓ ﮨﺎﻝ ﮐﯽ ﻭﮦ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﺻﺎﻑ ﮐﯽ ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺗﻢ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ..
■ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺭﻭﺯﻣﺮﮦ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﺻﺎﻑ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﻮﺭﻭﺩِ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﭨﮭﮩﺮﺍﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺻﻞ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺧﻮﺩ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﻧﺪﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻢ ﻧﮧ ﺍُﺱ ﮐﻮ ﻣﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻮﻗﻒ ﺳﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮨﭩﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﭼﯿﮏ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ، ﮐﯿﺎ ﻭﮦ ﺻﺎﻑ ﮨﮯ؟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺟﺐ ﮨﻢ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺍﺋﮯ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﺍﻧﺤﺼﺎﺭ ﺍُﺱ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﯾﺎ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﮐﯽ ﺷﻔﺎﻓﯿﺖ ﭘﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﻢ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
●ﮐﺴﯽ ﭘﺮ ﻧﮑﺘﮧ ﭼﯿﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﻨﻘﯿﺪ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺟﺎﺋﺰﮦ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﻟﮯ ﻟﯿﻨﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ۔ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﯿﺎﻻﺕ ﺍﻭﺭ ﺍﺣﺴﺎﺳﺎﺕ ﮐﻮﺻﺎﻑ ﺍﻭﺭ ﺷﻔﺎﻑ ﺭﮐﮭﯿﮟ۔ ﺟﺐ ﺍﭼﮭﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺑُﺮﯼ ﭼﯿﺰ ﮐﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﻣﺸﺎﮨﺪﮦ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ؟
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻧﻮﺑﯿﺎﮨﺘﺎ ﺟﻮﮌﮮ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻧﺌﮯ ﭘﮍﻭﺳﯽ ﺁﺋﮯ۔ ﺍُﺱ ﺟﻮﮌﮮ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﭘﺮ ﺗﻨﻘﯿﺪﯼ ﻧﻈﺮ ﺭﮐﮭﺘﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﺍُﻥ ﮐﮯ ﮈﺍﺋﻨﻨﮓ ﮨﺎﻝ ﺳﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﺻﺎﻑ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﺎ ﺗﮭﺎ...
ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻧﺎﺷﺘﮧ ﮐﯽ ﻣﯿﺰ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﻧﺎﺷﺘﮧ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﺩﮬﻮ ﮐﺮ ﺑﺎﮨﺮ ﺑﺎﻟﮑﻮﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻼﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ۔
’’ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﮐﺘﻨﮯ ﺧﺮﺍﺏ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﺪﮮ ﮐﭙﮍﮮ ﺩﮬﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺑﯿﻮﯼ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﺳﮯ ﺑﻮﻟﯽ، ﺫﺭﺍ ﺻﺎﻑ ﮐﭙﮍﮮ ﻧﮩﯿﮟ ﺩُﮬﻠﮯ۔ ﺍِﻥ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﻮ ﮐﭙﮍﮮ ﺩﮬﻮﻧﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ، ﺍﻥ ﮐﻮ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﺻﺎﺑﻦ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮐﺮﻟﯿﮟ ﯾﺎ ﮐﻢ ﺍﺯ ﮐﻢ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺳﯿﮑﮫ ﮨﯽ ﻟﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﭙﮍﮮ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﺩﮬﻮﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ.‘‘
ﺷﻮﮨﺮ ﻧﮯ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﺍُﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺭﮨﺎ۔ ﮨﺮ ﺑﺎﺭ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﭘﮍﻭﺳﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﺩﮬﻮ ﮐﺮ ﭘﮭﯿﻼﺗﮯ، ﺍُﺱ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﮯ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺩُﮬﻼﺋﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﯽ ﺗﺎﺛﺮﺍﺕ ﮨﻮﺗﮯ۔ ﻭﮦ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮨﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﯿﺎﻻﺕ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﺮﺗﯽ ﮐﮧ ﺁﺝ ﭘﮭﺮ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﺍﭼﮭﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮬﻮﺋﮯ، ﺩﻝ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺧﻮﺩ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺑﺘﺎ ﺩﻭﮞ ﮐﮧ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﯾﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﮐﯽ ﺩﮬﻼﺋﯽ ﺑﮩﺘﺮ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻭﻏﯿﺮﮦ۔
ﺍﻟﻐﺮﺽ ﻭﮦ ﮔﮭﺮ ﺍﻭﺭ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﮐﯽ ﺩﮬﻼﺋﯽ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮨﯽ ﺍُﺱ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﯽ ﺗﻨﻘﯿﺪ ﮐﺎ ﻧﺸﺎﻧﮧ ﺑﻨﺘﮯ ﺭﮨﺘﮯ۔
ﺗﻘﺮﯾﺒﺎََ ﺍﯾﮏ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﺑﻌﺪ ﻭﮦ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﮍﻭﺳﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺻﺎﻑ ﺳُﺘﮭﺮﮮ ﺩُﮬﻠﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺭﮦ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﺳﮯ ﺑﻮﻟﯽ:
ﺩﯾﮑﮭﺎ! ﺑﺎﻵﺧﺮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﯿﮑﮫ ﮨﯽ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﮐﭙﮍﮮ ﮐﯿﺴﮯ ﺩﮬﻮﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ. ﺷﮑﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﺝ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﺻﺎﻑ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺠﮭﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﺧﺮ ﯾﮧ ﻋﻘﻞ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺩﯼ؟ ﺷﺎﯾﺪ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺎﻡ ﻭﺍﻟﯽ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮐﯽ ﮨﮯ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﺻﺎﺑﻦ ﺑﺪﻝ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﭼﭗ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ۔
ﺷﻮﮨﺮ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻻ:
ﺁﺝ ﺻﺒﺢ ﻣﯿﮟ ﺟﻠﺪﯼ ﺍُﭨﮫ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮈﺍﺋﻨﻨﮓ ﮨﺎﻝ ﮐﯽ ﻭﮦ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﺻﺎﻑ ﮐﯽ ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺗﻢ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﺗﮭﯿﮟ..
■ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺭﻭﺯﻣﺮﮦ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﺻﺎﻑ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﻮﺭﻭﺩِ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﭨﮭﮩﺮﺍﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺻﻞ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺧﻮﺩ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﻧﺪﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻢ ﻧﮧ ﺍُﺱ ﮐﻮ ﻣﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻮﻗﻒ ﺳﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮨﭩﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﭼﯿﮏ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ، ﮐﯿﺎ ﻭﮦ ﺻﺎﻑ ﮨﮯ؟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺟﺐ ﮨﻢ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺍﺋﮯ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﺍﻧﺤﺼﺎﺭ ﺍُﺱ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﯾﺎ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﮐﯽ ﺷﻔﺎﻓﯿﺖ ﭘﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﻢ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
●ﮐﺴﯽ ﭘﺮ ﻧﮑﺘﮧ ﭼﯿﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﻨﻘﯿﺪ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺟﺎﺋﺰﮦ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﻟﮯ ﻟﯿﻨﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ۔ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﯿﺎﻻﺕ ﺍﻭﺭ ﺍﺣﺴﺎﺳﺎﺕ ﮐﻮﺻﺎﻑ ﺍﻭﺭ ﺷﻔﺎﻑ ﺭﮐﮭﯿﮟ۔ ﺟﺐ ﺍﭼﮭﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺑُﺮﯼ ﭼﯿﺰ ﮐﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﻣﺸﺎﮨﺪﮦ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ؟
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
🔷 الله پر یقین 🔷
ﺍﯾﮏ ﻣﻔﻠﺲ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻏﺬ ﭘﺮ ﻟﮑﮭﺘﺎ؛
"ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﭽﺎﺱ ﮨﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﮯ ﺩﯾﺪﮮ"
ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﮔﯿﺲ ﻭﺍﻟﮯ ﻏﺒﺎﺭﮮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﮐﺮ ﺍﮌﺍ ﺩﯾﺘﺎ.
ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﻭﺍﻗﻊ ﺗﮭﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﭘُﻠﺴﯿﺌﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻏﺒﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﭘﮑﮍ ﻟﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﻨﺪﯾﺴﮯ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﻣﺤﻈﻮﻅ ﮨﻮﺍ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ،
ﭼﻠﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺳﺎﺭﮮ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺑﻤﺸﮑﻞ ﭘﭽﯿﺲ ﮨﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﮯ ﮨﯽ ﺟﻤﻊ ﮐﺮ ﭘﺎﺋﮯ۔ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﺴﮯ ﻟﯿﮑﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ؛
ﯾﮧ ﺭﮨﺎ ﺗﯿﺮﺍ ﺭﺯﻕ ﭘﭽﯿﺲ ﮨﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﮯ۔ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮓ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﺠﮭﮯ ﭘﮩﭽﺎﻧﮯ ﺁﺋﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺍﺱ ﻏﺮﯾﺐ ﻧﮯ ﭘﻮﻟﯿﺲ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﻨﮧ ﭘﺮ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ نہ ﮐﮩﺎ،
ﺷﮑﺮﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺭﮐﮫ ﻟﯿﺌﮯ۔
ﺍﻧﺪﺭ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻏﺬ ﭘﺮ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﻟﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﯿﺲ ﻭﺍﻟﮯ ﻏﺒﺎﺭﮮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﮐﺮ ﺍﮌﺍ ﺩﯾﺎ۔
ﭘﻮﻟﯿﺲ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ، ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﮐﺎﻏﺬ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ:
ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﯿﺮﯼ ﺑﮩﺖ ﻣﮩﺮﺑﺎﻧﯽ ﺟﻮ ﺗﻮﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﻦ ﻟﯽ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺗﮭﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﮍﮮ ﺑﮯ ﻏﯿﺮﺕ ﮨﯿﮟ، ﺁﺩﮬﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﺩﺑﺎ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﺮے..
■ اس کو یہ یقین تھا کہ اللہ نے پورے بھیجے ہیں لیکن پولیس نے رکھ لئے ہیں.
ہمارا یقین کیسا ہے؟
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/138
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ﺍﯾﮏ ﻣﻔﻠﺲ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻏﺬ ﭘﺮ ﻟﮑﮭﺘﺎ؛
"ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﭽﺎﺱ ﮨﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﮯ ﺩﯾﺪﮮ"
ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﮔﯿﺲ ﻭﺍﻟﮯ ﻏﺒﺎﺭﮮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﮐﺮ ﺍﮌﺍ ﺩﯾﺘﺎ.
ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﻭﺍﻗﻊ ﺗﮭﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﭘُﻠﺴﯿﺌﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻏﺒﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﭘﮑﮍ ﻟﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﻨﺪﯾﺴﮯ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﻣﺤﻈﻮﻅ ﮨﻮﺍ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ،
ﭼﻠﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺳﺎﺭﮮ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺑﻤﺸﮑﻞ ﭘﭽﯿﺲ ﮨﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﮯ ﮨﯽ ﺟﻤﻊ ﮐﺮ ﭘﺎﺋﮯ۔ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﺴﮯ ﻟﯿﮑﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ؛
ﯾﮧ ﺭﮨﺎ ﺗﯿﺮﺍ ﺭﺯﻕ ﭘﭽﯿﺲ ﮨﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﮯ۔ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮓ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﺠﮭﮯ ﭘﮩﭽﺎﻧﮯ ﺁﺋﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺍﺱ ﻏﺮﯾﺐ ﻧﮯ ﭘﻮﻟﯿﺲ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﻨﮧ ﭘﺮ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ نہ ﮐﮩﺎ،
ﺷﮑﺮﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺭﮐﮫ ﻟﯿﺌﮯ۔
ﺍﻧﺪﺭ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﮐﺎﻏﺬ ﭘﺮ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﻟﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮔﯿﺲ ﻭﺍﻟﮯ ﻏﺒﺎﺭﮮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﮐﺮ ﺍﮌﺍ ﺩﯾﺎ۔
ﭘﻮﻟﯿﺲ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ، ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﮐﺎﻏﺬ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻟﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ:
ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﯿﺮﯼ ﺑﮩﺖ ﻣﮩﺮﺑﺎﻧﯽ ﺟﻮ ﺗﻮﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺳﻦ ﻟﯽ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺗﮭﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﮍﮮ ﺑﮯ ﻏﯿﺮﺕ ﮨﯿﮟ، ﺁﺩﮬﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﺩﺑﺎ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﯿﺮے..
■ اس کو یہ یقین تھا کہ اللہ نے پورے بھیجے ہیں لیکن پولیس نے رکھ لئے ہیں.
ہمارا یقین کیسا ہے؟
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/138
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🔷 اللہ تعالی پر یقین..؟ 🔷
ایک کوہ پیما سخت سردی کے موسم میں برف کے پہاڑ کے اوپر چڑھ رہا تھا کہ رات ہوگئی، پر وہ رکا نہیں اور اپنی چڑھائی جاری رکھی...
اس بار جب اس نے اپنا کُنڈہ برف میں پھنسانا چاہا تو وہ صحیح طرح سے پھنس نہ سکا اور وہ اپنے ہی زور میں رسی…
ایک کوہ پیما سخت سردی کے موسم میں برف کے پہاڑ کے اوپر چڑھ رہا تھا کہ رات ہوگئی، پر وہ رکا نہیں اور اپنی چڑھائی جاری رکھی...
اس بار جب اس نے اپنا کُنڈہ برف میں پھنسانا چاہا تو وہ صحیح طرح سے پھنس نہ سکا اور وہ اپنے ہی زور میں رسی…
📝 كيا ہرقسم كےسادات باعظمت ہيں؟
ايک دن امام رضا عليہ السلام كے بھائى اور امام كاظم عليہ السلام كے بيٹے زيد لوگوں ميں خطاب كرتے ہوۓ كہہ رہے تھے كہ سادات كى بہت عظمت ہے، يہ خاندان بہت اعلىٰ مراتب پہ فائز ہے اور اس خاندان پر جہنم كى آگ اللہ تعالىٰ نے حرام قرار دى ہے، ابھى يہى باتيں كر رہے تھے كہ امام رضا عليہ السلام وہاں تشريف لاۓ اور فرمايا كہ...
’’يہ كيا باتيں ہيں جو تم لوگوں سے كہہ رہے ہو؟ وہ جو تم نے سن ركھا ہے كہ اولاد زہراؑ پر آتش جہنم حرام ہے اس سے مراد حضرت فاطمہؑ كى بلافصل اولاد حضرت حسنينؑ اور ان كى دو بہنيں ہيں‘‘
اگر اس كا مطلب يہ ہوتا جوتم بيان كر رہے ہو كہ اولاد فاطمہؑ امتيازى خصوصيات کی حامل ہيں اور ہر لحاظ سے اہل نجات ہيں تو پھر تم اپنے والد حضرت امام موسىٰ كاظم عليہ السلام سے زيادہ قابل احترام ہو اسلئے كہ انہوں نے دنيا ميں خدا كى اطاعت ميں زندگى بسر كى اور عابد شب زندہ دار تھے اور تم خدا كى نافرمانى كرتے ہو تمہارے قول كے مطابق دونوں برابر اور اہل نجات ہيں، پھر تو فائدے ميں رہے۔ كہ تم نے كوئى كام بھى نہ كيا اور کوئی پريشانى بھى نہيں اٹھائى اور ركھا ركھايا خزانہ تمہيں مل گيا۔
📚 سچى كہانياں، شہيدمرتضى مطہرىؒ، ج2، ص:60.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزید پوسٹس۔۔۔۔
🌹 سادات کی فضیلت
https://t.me/islamwitheman/140
⏩ کیا ہر قسم کے سادات باعظمت ہیں؟
https://t.me/islamwitheman/488
🗒 فضیلت سید اور نسب کا بدلنا
https://t.me/islamwitheman/489
🌹سادات
http://t.me/islamwitheman/1614
🌷فقیر سید
http://t.me/islamwitheman/1618
💝 سادات کی خصوصیات
https://t.me/islamwitheman/5113
🔷 احترام سادات کا صلہ
https://t.me/islamwitheman/5204
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ايک دن امام رضا عليہ السلام كے بھائى اور امام كاظم عليہ السلام كے بيٹے زيد لوگوں ميں خطاب كرتے ہوۓ كہہ رہے تھے كہ سادات كى بہت عظمت ہے، يہ خاندان بہت اعلىٰ مراتب پہ فائز ہے اور اس خاندان پر جہنم كى آگ اللہ تعالىٰ نے حرام قرار دى ہے، ابھى يہى باتيں كر رہے تھے كہ امام رضا عليہ السلام وہاں تشريف لاۓ اور فرمايا كہ...
’’يہ كيا باتيں ہيں جو تم لوگوں سے كہہ رہے ہو؟ وہ جو تم نے سن ركھا ہے كہ اولاد زہراؑ پر آتش جہنم حرام ہے اس سے مراد حضرت فاطمہؑ كى بلافصل اولاد حضرت حسنينؑ اور ان كى دو بہنيں ہيں‘‘
اگر اس كا مطلب يہ ہوتا جوتم بيان كر رہے ہو كہ اولاد فاطمہؑ امتيازى خصوصيات کی حامل ہيں اور ہر لحاظ سے اہل نجات ہيں تو پھر تم اپنے والد حضرت امام موسىٰ كاظم عليہ السلام سے زيادہ قابل احترام ہو اسلئے كہ انہوں نے دنيا ميں خدا كى اطاعت ميں زندگى بسر كى اور عابد شب زندہ دار تھے اور تم خدا كى نافرمانى كرتے ہو تمہارے قول كے مطابق دونوں برابر اور اہل نجات ہيں، پھر تو فائدے ميں رہے۔ كہ تم نے كوئى كام بھى نہ كيا اور کوئی پريشانى بھى نہيں اٹھائى اور ركھا ركھايا خزانہ تمہيں مل گيا۔
📚 سچى كہانياں، شہيدمرتضى مطہرىؒ، ج2، ص:60.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزید پوسٹس۔۔۔۔
🌹 سادات کی فضیلت
https://t.me/islamwitheman/140
⏩ کیا ہر قسم کے سادات باعظمت ہیں؟
https://t.me/islamwitheman/488
🗒 فضیلت سید اور نسب کا بدلنا
https://t.me/islamwitheman/489
🌹سادات
http://t.me/islamwitheman/1614
🌷فقیر سید
http://t.me/islamwitheman/1618
💝 سادات کی خصوصیات
https://t.me/islamwitheman/5113
🔷 احترام سادات کا صلہ
https://t.me/islamwitheman/5204
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
⏩ فضیلتِ سید اور نسب کا بدلنا ⏪
علامہ جمال الدینؒ اولادِ حسنین کریمین علیھم السلام کا تذکرہ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں...
"فتخصصٔ السیادۃ لھم و قد بینہ الشرافۃ لاجل الاباء والام ۰۰۰۰۰۰ فمن ولد منھا ذکراً او انثی فھو سید الی القیامۃ و یجب علی جمیع الخلق تعظیم ابداً."
ترجمہ:
حسنین کریمین علیھم السلام کی اولاد کے لیے سیادت مخصوص ھے مرد ہو یا عورت جو بھی ان کی نسل سے ہو وہ قیامت تک سید ہی رھے گا اور ساری کائنات پر واجب ھے ان کی تعظیم کرتی رھے.(1)
"خصص بیوت النبوۃ بالسیادۃ فکل من یثبت لہ بنبوۃ النبوۃ سید."
ترجمہ:
خداوندعالم نے نبیؐ کے گھرانے کو سیادت کے لیے مخصوص کر دیا ھے لہذا جس فرد بشر کے لیے ثابت ہو جائے کہ یہ نبی کی اولاد ھے وہ یقیناً و لازماً سید مانا جائے گا.(2)
■ لفظ سید بیتِ نبوت کے لئے مخصوص ھے، یہ لفظ نبی اور ان کی اولاد کے سوا کسی کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر کوئی اس لفظ کو خلاف منشاء و رسالت استعمال کرے تو یقیناً حدیث کی روشنی میں ملعون ہو گا. کہ داخل نسب اور خارج نسب پر لعنت ھے.
عن ابی عبداللہ علیہ السلام قال کفر باللہ من تبراء من نسب وان دق.
ترجمہ:
امام جعفر صادقؑ نے فرمایا: اس شخص نے اللہ کے ساتھ کفر کیا جس نے اپنے نسب سے برآت ظاہر کی اگرچہ وہ نسب خسیس ہی کیوں نہ ہو.(3)
📚 حوالہ جات:
(1)موامع التنزیل، ج3، ص:323.
(2)صحاح الاخبار فی نسب السادۃ الفاطمیۃ الاخیار، طبع بمبئی، ص:125.
(3)الکافی، مطبوعہ نولکشور، ص:543، الکتاب الایمان والکفر، باب الانتقاء.
مراۃالعقؤل، جلد2، ص:335، مطبوعہ ایران. باب الانتقاء.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزید پوسٹس۔۔۔۔
🌹 سادات کی فضیلت
https://t.me/islamwitheman/140
⏩ کیا ہر قسم کے سادات باعظمت ہیں؟
https://t.me/islamwitheman/488
🗒 فضیلت سید اور نسب کا بدلنا
https://t.me/islamwitheman/489
🌹سادات
http://t.me/islamwitheman/1614
🌷فقیر سید
http://t.me/islamwitheman/1618
💝 سادات کی خصوصیات
https://t.me/islamwitheman/5113
🔷 احترام سادات کا صلہ
https://t.me/islamwitheman/5204
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
علامہ جمال الدینؒ اولادِ حسنین کریمین علیھم السلام کا تذکرہ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں...
"فتخصصٔ السیادۃ لھم و قد بینہ الشرافۃ لاجل الاباء والام ۰۰۰۰۰۰ فمن ولد منھا ذکراً او انثی فھو سید الی القیامۃ و یجب علی جمیع الخلق تعظیم ابداً."
ترجمہ:
حسنین کریمین علیھم السلام کی اولاد کے لیے سیادت مخصوص ھے مرد ہو یا عورت جو بھی ان کی نسل سے ہو وہ قیامت تک سید ہی رھے گا اور ساری کائنات پر واجب ھے ان کی تعظیم کرتی رھے.(1)
"خصص بیوت النبوۃ بالسیادۃ فکل من یثبت لہ بنبوۃ النبوۃ سید."
ترجمہ:
خداوندعالم نے نبیؐ کے گھرانے کو سیادت کے لیے مخصوص کر دیا ھے لہذا جس فرد بشر کے لیے ثابت ہو جائے کہ یہ نبی کی اولاد ھے وہ یقیناً و لازماً سید مانا جائے گا.(2)
■ لفظ سید بیتِ نبوت کے لئے مخصوص ھے، یہ لفظ نبی اور ان کی اولاد کے سوا کسی کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر کوئی اس لفظ کو خلاف منشاء و رسالت استعمال کرے تو یقیناً حدیث کی روشنی میں ملعون ہو گا. کہ داخل نسب اور خارج نسب پر لعنت ھے.
عن ابی عبداللہ علیہ السلام قال کفر باللہ من تبراء من نسب وان دق.
ترجمہ:
امام جعفر صادقؑ نے فرمایا: اس شخص نے اللہ کے ساتھ کفر کیا جس نے اپنے نسب سے برآت ظاہر کی اگرچہ وہ نسب خسیس ہی کیوں نہ ہو.(3)
📚 حوالہ جات:
(1)موامع التنزیل، ج3، ص:323.
(2)صحاح الاخبار فی نسب السادۃ الفاطمیۃ الاخیار، طبع بمبئی، ص:125.
(3)الکافی، مطبوعہ نولکشور، ص:543، الکتاب الایمان والکفر، باب الانتقاء.
مراۃالعقؤل، جلد2، ص:335، مطبوعہ ایران. باب الانتقاء.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو دوسروں کی بھلائی کے لئے شیئر ضرور کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👈 مزید پوسٹس۔۔۔۔
🌹 سادات کی فضیلت
https://t.me/islamwitheman/140
⏩ کیا ہر قسم کے سادات باعظمت ہیں؟
https://t.me/islamwitheman/488
🗒 فضیلت سید اور نسب کا بدلنا
https://t.me/islamwitheman/489
🌹سادات
http://t.me/islamwitheman/1614
🌷فقیر سید
http://t.me/islamwitheman/1618
💝 سادات کی خصوصیات
https://t.me/islamwitheman/5113
🔷 احترام سادات کا صلہ
https://t.me/islamwitheman/5204
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌹 سادات کی فضیلت 🌹
■ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
قیامت کے دن چار گروہ میری شفاعت کے مستحق قرار پائیں گے.
1-- میرے بعد میری ذریت کی عزت و احترام کرنے والے.
2-- انکی ضروریات پوری کرنے والے.
3-- انکو اضطراری حالت سے نکالنے میں مدد کرنے والے.…
■ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
قیامت کے دن چار گروہ میری شفاعت کے مستحق قرار پائیں گے.
1-- میرے بعد میری ذریت کی عزت و احترام کرنے والے.
2-- انکی ضروریات پوری کرنے والے.
3-- انکو اضطراری حالت سے نکالنے میں مدد کرنے والے.…
⭕ بیٹی ⭕
شادی کی پہلی رات میاں بیوی نے فیصلہ کیا کہ جب وہ کمرے میں پہنچ جائیں گے تو پھر دروازہ نہیں کھولیں گے چاہے کوئی بھی آ جائے.
ابھی دروازہ بند ہوئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ دلہے کے والدین کمرے کے باہر پہنچے تاکہ اپنے بیٹے اور بہو کو نیک تمناؤں اور راحت بھری زندگی کی دعا دے سکیں، دستک ہوئی بتایا گیا کہ دولہے کے والدین باہر موجود ہیں.
دولہا دلہن نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا باوجود اس کے کہ دولہا دروازہ کھولنا چاہتا تھا اس نے اپنے فیصلے کو مدنظر رکھا اور دروازہ نہیں کھولا.
والدین ناکام واپس لوٹ گئے.
ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ دلہن کے والدین بھی دولہے کے گھر جا پہنچے تاکہ اپنی بیٹی اور داماد کو اپنی نیک خواہشات پہنچا سکیں اور انہیں سکھی زندگی کی دعا دے سکیں.
ایک بار پھر کمرے کے دروازے پر دستک دی گئی اور بتایا گیا کہ دلہن کے والدین کمرے کے باہر موجود ہیں.
دولہا دلہن نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا پھر اپنا فیصلہ ذہن میں تازہ کیا.
باوجود اس کے کہ فیصلہ ہو چکا تھا دلہن کی آنسوؤں بھری سرگوشی سنائی دی
نہیں میں اپنے والدین کے ساتھ ایسا نہیں کر سکتی اور فورا دروازہ کھول دیا.
شوہر نے یہ سب دیکھا مگر دلہن کو کچھ نہ کہا خاموش رہا.
اس بات کو برسوں بیت گئے ان کے ہاں چار بیٹے پیدا ہوئے اور پانچویں بار ایک بیٹی پیدا ہوئی...
شوہر نے ننھی گڑیا کے اس دنیا میں آنے کی خوشی میں ایک بہت بڑی پارٹی کا انتظام کیا اور اس پارٹی میں ہر اس شخص کو بلایا جسے وہ جانتا تھا اور خوب خوشیاں منائی گئیں.
اس رات بیوی نے اپنے شوہر سے پوچھا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ آپ نے اتنی بڑی پارٹی کا اہتمام کیا جبکہ اس سے پہلے چاروں بچوں کی پیدائش پر ہم نے یہ سب کچھ نہیں کیا.
شوہر مسکرایا اور بولا
یہ وہ ہے جو میرے لئے دروازہ کھولے گی....
بیٹیاں ہمیشہ قیمتی ہوتی ہیں،،
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/159
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
شادی کی پہلی رات میاں بیوی نے فیصلہ کیا کہ جب وہ کمرے میں پہنچ جائیں گے تو پھر دروازہ نہیں کھولیں گے چاہے کوئی بھی آ جائے.
ابھی دروازہ بند ہوئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ دلہے کے والدین کمرے کے باہر پہنچے تاکہ اپنے بیٹے اور بہو کو نیک تمناؤں اور راحت بھری زندگی کی دعا دے سکیں، دستک ہوئی بتایا گیا کہ دولہے کے والدین باہر موجود ہیں.
دولہا دلہن نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا باوجود اس کے کہ دولہا دروازہ کھولنا چاہتا تھا اس نے اپنے فیصلے کو مدنظر رکھا اور دروازہ نہیں کھولا.
والدین ناکام واپس لوٹ گئے.
ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ دلہن کے والدین بھی دولہے کے گھر جا پہنچے تاکہ اپنی بیٹی اور داماد کو اپنی نیک خواہشات پہنچا سکیں اور انہیں سکھی زندگی کی دعا دے سکیں.
ایک بار پھر کمرے کے دروازے پر دستک دی گئی اور بتایا گیا کہ دلہن کے والدین کمرے کے باہر موجود ہیں.
دولہا دلہن نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا پھر اپنا فیصلہ ذہن میں تازہ کیا.
باوجود اس کے کہ فیصلہ ہو چکا تھا دلہن کی آنسوؤں بھری سرگوشی سنائی دی
نہیں میں اپنے والدین کے ساتھ ایسا نہیں کر سکتی اور فورا دروازہ کھول دیا.
شوہر نے یہ سب دیکھا مگر دلہن کو کچھ نہ کہا خاموش رہا.
اس بات کو برسوں بیت گئے ان کے ہاں چار بیٹے پیدا ہوئے اور پانچویں بار ایک بیٹی پیدا ہوئی...
شوہر نے ننھی گڑیا کے اس دنیا میں آنے کی خوشی میں ایک بہت بڑی پارٹی کا انتظام کیا اور اس پارٹی میں ہر اس شخص کو بلایا جسے وہ جانتا تھا اور خوب خوشیاں منائی گئیں.
اس رات بیوی نے اپنے شوہر سے پوچھا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ آپ نے اتنی بڑی پارٹی کا اہتمام کیا جبکہ اس سے پہلے چاروں بچوں کی پیدائش پر ہم نے یہ سب کچھ نہیں کیا.
شوہر مسکرایا اور بولا
یہ وہ ہے جو میرے لئے دروازہ کھولے گی....
بیٹیاں ہمیشہ قیمتی ہوتی ہیں،،
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman/159
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
🌹 بیٹی، اک ڈھال 🌹
اُس کی شادی کو دس سال ہو رہے تھے۔۔۔ قدرت نے اُسے بیٹیوں جیسی رحمت سے نوازا تھا۔۔
ہر مرتبہ اُسے خواہش ہوتی کہ بیٹا پیدا ہو۔۔ لیکن یکے بعد دیگرے پھول جیسی چھ بیٹیاں اس کے آنگن میں اُتر آئی تھیں۔۔۔
بیٹا نہ ہونے کے سبب خاندان اور گھر والوں…
اُس کی شادی کو دس سال ہو رہے تھے۔۔۔ قدرت نے اُسے بیٹیوں جیسی رحمت سے نوازا تھا۔۔
ہر مرتبہ اُسے خواہش ہوتی کہ بیٹا پیدا ہو۔۔ لیکن یکے بعد دیگرے پھول جیسی چھ بیٹیاں اس کے آنگن میں اُتر آئی تھیں۔۔۔
بیٹا نہ ہونے کے سبب خاندان اور گھر والوں…
⏪تقيہ کا معيار کيا ہے؟⏩
دشمنوں کےمقابلےميں دنياوی اوردينی نقصانات سے محفوظ رہنےکیلئے اپنے باطنی عقيدے اور ايمان کوچھپانے کا نام تقيہ ہے. تقيہ ہرمسلمان شخص کاايک ايسا شرعی فريضہ ہےجسکا سرچشمہ قرآنی آيات ہيں.
🌹قرآن کی نگاه ميں تقيہ:
قرآن مجيدميں تقيہ سےمتعلق بہت سی آيات ہيں ان ميں سےيہاں ہم بعض کاذکر کرتے ہيں...
"لاَّ يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ....الخ"(1)
ترجمہ:
مومنوں کوچاہيے کہ وه اہل ايمان کوچھوڑ کر کفار کو اپنا ولی اور دوست نہ بنائيں اور جو کوئی ايسا کریگا اسکا خدا سے کوئی تعلق نہ ہوگا مگر يہ کہ تمہيں کفار سےخوف ہوتو کوئی حرج نہيں ہے.
يہ آيت بخوبی اس بات کی گواہی ديتی ہےکہ کفار کے ساتھ دوستی رکھنا جائز نہيں ہے ليکن اگر جان خطره ميں ہوتو تقيہ کرتے ہوئے ان سے ظاہری طورپر دوستی کا اظہار کيا جاسکتا ہے.
🌹"مَن كَفَرَ بِاللّهِ مِن....الخ"(2)
ترجمہ:
جوشخص بھی ايمان لانےکیبعد کفر اختيار کرلے سوائے اسکے جسے کفر پر مجبور کرديا جائے اور اسکا دل ايمان سے مطمئن ہو (تو کوئی حرج نہيں ہے) ليکن وه شخص جسکے سينہ ميں کفر کیلئے کافی جگہ پائی جاتی ہو اسکے اوپر خدا کا غضب ہے اور اس کیلئے بہت بڑا عذاب ہے.
■مفسرين نےاس آيت کےشان نزول ميں لکھا ہے کہ...
ايک دن کفار نےجناب عمارابن ياسر کو انکے ماں باپ کے ہمراه گرفتار کرليا اور ان سے کہنے لگے کہ اسلام کوچھوڑ کر کفر و شرک اختيار کرلو تو عماربن ياسر کے ہمراه افراد نے انکے جواب ميں توحيد و رسالت کی گواہياں دينا شروع کرديں جس پر کفار نے ان ميں سے بعض کو شہيد کر ڈالا اور بعض پر طرح طرح کے ظلم و ستم ڈھانے لگے اس وقت جناب عمار نے اپنے باطنی عقيدے کے برخلاف تقيہ اختيار کرکے ظاہری طور پر کفر کے کلمات کو اپنی زبان پر جاری کيا تو کفار نے انہيں چھوڑ ديا پھر اسکے بعد جناب عمار انتہائی پريشانی کے عالم ميں رسول خدا کی خدمت ميں پہنچے تو آنحضرت نے انہيں تسلی دی اور پھر اس سلسلے ميں يہ آيت نازل ہوئی.(3)
●اس آيت اور اس کی تفسير سے بخوبی معلوم ہوجاتا ہے کہ پيغمبرخداۖ کے زمانے ميں اصحاب بھی جان ومال کی حفاظت کیلئے اپنے باطنی عقيدے کو چھپاکر تقيہ کرتے تھے. تقيہ شيعوں کی نگاه ميں
بنی اميہ اور بنی عباس کے ظالم حکمران ہميشہ شيعوں سے برسرپيکار رہے ہيں اور انہوں نے شيعوں کے قتل عام ميں کوئی کسر اٹھا نہيں رکھی ہے.(4)
اس بناپر اس زمانےميں شيعوں نےقرآن مجيد کے حکم کے مطابق انتہائی سخت حالات ميں اپنے سچے عقائد چھپاکر اپنی اور دوسرے مسلمان بھائيوں کی جانيں محفوظ کی تھيں، واضح ہے کہ اس ظلم و ستم کی فضا ميں شيعوں کے لئے تقيہ کے علاوه کوئی ايسا چارهٔ کار نہيں تھا جو شيعوں کو نابودی سے بچاتا لہذا اگر وه ظالم حکام، شيعوں کے دشمن نہ ہوتے اور شيعوں کا بے گناه قتل عام نہ کرتے تو ہرگز شيعہ تقيہ اختيار نہ کرتے.
●يہاں پر اس نکتے کا ذکربھی ضروری ہے کہ تقيہ صرف شيعوں سے ہی مخصوص نہيں ہے بلکہ دوسرے مسلمان بھی جب اپنے ايسے دشمنوں کے مقابلے ميں قرار پاتے ہيں جو مسلمانوں کے تمام فرقوں کے دشمن ہيں (جيسےکہ خوارج اور وه ظالم حکومتيں جو ہرحرام کام کو جائز سمجھتی ہيں) اور ان سے مقابلہ کی طاقت بھی نہيں ہوتی تو وه اپنی جان کی حفاظت کی خاطر تقيہ کا سہارا ليتے ہيں اس بنياد پر اگر اسلامی معاشرے کے تمام افراد اپنے فقہی مذاہب ميں اتفاق رائے رکھتے ہوئے وحدت واخوت کی زندگی گزارنا شروع کر ديں تو پھر ہرگز انھيں تقيہ کی ضرورت باقی نہيں رہے گی.
🌷نتيجہ
گزشتہ بحث سےيہ نتيجہ نکلتا ہےکہ..
١۔تقيہ کی اساس قرآن مجيدپر ہے اور صدر اسلام ميں پيغمبراکرمۖ کے اصحاب بھی تقيہ کرتے تھے اور آنحضرتۖ انکے اس عمل کی تائيد فرماتے تھے يہ سب تقيہ کےجائز ہونےکی دليليں ہيں.
٢۔شيعہ اپنے مذہب کو بچانے اور دشمنوں کے سفاکانہ قتل عام سے محفوظ رہنے کیلئے تقيہ کرتےتھے.
٣۔تقيہ صرف شيعوں سےمخصوص نہيں ہے بلکہ دوسرے مسلمان بھی تقيہ کرتے ہيں.
٤۔تقيہ کرنا اور اپنےباطنی عقائدچھپانا صرف کفار کے مقابلے ميں ہی انجام نہيں پاتا بلکہ تقيہ کا معيار (مسلمانوں کی جان بچانا) عموميت رکھتا ہے اور ہر ايسے ظالم دشمن کے سامنے کہ جسکے ساتھ مقابلے کی قدرت نہ ہو يا اس سے جہاد کرنے کے شرائط پورے نہ ہو رہےہوں تقيہ ضروری ہوجاتا ہے.
٥۔اگر مسلمانوں ميں مکمل وحدت اور ہم فکری پيدا ہوجائے تو ہرگز ان کے درميان تقيہ کی ضرورت باقی نہيں رہےگی.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوره آل عمران آيت: ٢٨
سوره نحل آيت: ١٠٦
اس سلسلےميں جلال الدين سيوطی کی تفسير درالمنثور جلد ٤ ص ١٣١ (طبع بيروت) کامطالعہ کيجئے.
بنی اميہ اور بنی عباس کےحکام کےحکم پر شيعوں کے بےرحمانہ قتل عام کے سلسلے ميں تفصيلی معلومات حاصل کرنے کیلئے ان کتابوں''مقاتل الطالبين'' (مصنفہ ابوالفرج اصفہانی)، ''شہداءالفضيلة (مصنفہ علامہ امينی)، ''الشيعہ والحاکمون'' (مصنفہ محمدجواد مغنيہ) کا مطالعہ مفيدثابت ہوگا.
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
دشمنوں کےمقابلےميں دنياوی اوردينی نقصانات سے محفوظ رہنےکیلئے اپنے باطنی عقيدے اور ايمان کوچھپانے کا نام تقيہ ہے. تقيہ ہرمسلمان شخص کاايک ايسا شرعی فريضہ ہےجسکا سرچشمہ قرآنی آيات ہيں.
🌹قرآن کی نگاه ميں تقيہ:
قرآن مجيدميں تقيہ سےمتعلق بہت سی آيات ہيں ان ميں سےيہاں ہم بعض کاذکر کرتے ہيں...
"لاَّ يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ....الخ"(1)
ترجمہ:
مومنوں کوچاہيے کہ وه اہل ايمان کوچھوڑ کر کفار کو اپنا ولی اور دوست نہ بنائيں اور جو کوئی ايسا کریگا اسکا خدا سے کوئی تعلق نہ ہوگا مگر يہ کہ تمہيں کفار سےخوف ہوتو کوئی حرج نہيں ہے.
يہ آيت بخوبی اس بات کی گواہی ديتی ہےکہ کفار کے ساتھ دوستی رکھنا جائز نہيں ہے ليکن اگر جان خطره ميں ہوتو تقيہ کرتے ہوئے ان سے ظاہری طورپر دوستی کا اظہار کيا جاسکتا ہے.
🌹"مَن كَفَرَ بِاللّهِ مِن....الخ"(2)
ترجمہ:
جوشخص بھی ايمان لانےکیبعد کفر اختيار کرلے سوائے اسکے جسے کفر پر مجبور کرديا جائے اور اسکا دل ايمان سے مطمئن ہو (تو کوئی حرج نہيں ہے) ليکن وه شخص جسکے سينہ ميں کفر کیلئے کافی جگہ پائی جاتی ہو اسکے اوپر خدا کا غضب ہے اور اس کیلئے بہت بڑا عذاب ہے.
■مفسرين نےاس آيت کےشان نزول ميں لکھا ہے کہ...
ايک دن کفار نےجناب عمارابن ياسر کو انکے ماں باپ کے ہمراه گرفتار کرليا اور ان سے کہنے لگے کہ اسلام کوچھوڑ کر کفر و شرک اختيار کرلو تو عماربن ياسر کے ہمراه افراد نے انکے جواب ميں توحيد و رسالت کی گواہياں دينا شروع کرديں جس پر کفار نے ان ميں سے بعض کو شہيد کر ڈالا اور بعض پر طرح طرح کے ظلم و ستم ڈھانے لگے اس وقت جناب عمار نے اپنے باطنی عقيدے کے برخلاف تقيہ اختيار کرکے ظاہری طور پر کفر کے کلمات کو اپنی زبان پر جاری کيا تو کفار نے انہيں چھوڑ ديا پھر اسکے بعد جناب عمار انتہائی پريشانی کے عالم ميں رسول خدا کی خدمت ميں پہنچے تو آنحضرت نے انہيں تسلی دی اور پھر اس سلسلے ميں يہ آيت نازل ہوئی.(3)
●اس آيت اور اس کی تفسير سے بخوبی معلوم ہوجاتا ہے کہ پيغمبرخداۖ کے زمانے ميں اصحاب بھی جان ومال کی حفاظت کیلئے اپنے باطنی عقيدے کو چھپاکر تقيہ کرتے تھے. تقيہ شيعوں کی نگاه ميں
بنی اميہ اور بنی عباس کے ظالم حکمران ہميشہ شيعوں سے برسرپيکار رہے ہيں اور انہوں نے شيعوں کے قتل عام ميں کوئی کسر اٹھا نہيں رکھی ہے.(4)
اس بناپر اس زمانےميں شيعوں نےقرآن مجيد کے حکم کے مطابق انتہائی سخت حالات ميں اپنے سچے عقائد چھپاکر اپنی اور دوسرے مسلمان بھائيوں کی جانيں محفوظ کی تھيں، واضح ہے کہ اس ظلم و ستم کی فضا ميں شيعوں کے لئے تقيہ کے علاوه کوئی ايسا چارهٔ کار نہيں تھا جو شيعوں کو نابودی سے بچاتا لہذا اگر وه ظالم حکام، شيعوں کے دشمن نہ ہوتے اور شيعوں کا بے گناه قتل عام نہ کرتے تو ہرگز شيعہ تقيہ اختيار نہ کرتے.
●يہاں پر اس نکتے کا ذکربھی ضروری ہے کہ تقيہ صرف شيعوں سے ہی مخصوص نہيں ہے بلکہ دوسرے مسلمان بھی جب اپنے ايسے دشمنوں کے مقابلے ميں قرار پاتے ہيں جو مسلمانوں کے تمام فرقوں کے دشمن ہيں (جيسےکہ خوارج اور وه ظالم حکومتيں جو ہرحرام کام کو جائز سمجھتی ہيں) اور ان سے مقابلہ کی طاقت بھی نہيں ہوتی تو وه اپنی جان کی حفاظت کی خاطر تقيہ کا سہارا ليتے ہيں اس بنياد پر اگر اسلامی معاشرے کے تمام افراد اپنے فقہی مذاہب ميں اتفاق رائے رکھتے ہوئے وحدت واخوت کی زندگی گزارنا شروع کر ديں تو پھر ہرگز انھيں تقيہ کی ضرورت باقی نہيں رہے گی.
🌷نتيجہ
گزشتہ بحث سےيہ نتيجہ نکلتا ہےکہ..
١۔تقيہ کی اساس قرآن مجيدپر ہے اور صدر اسلام ميں پيغمبراکرمۖ کے اصحاب بھی تقيہ کرتے تھے اور آنحضرتۖ انکے اس عمل کی تائيد فرماتے تھے يہ سب تقيہ کےجائز ہونےکی دليليں ہيں.
٢۔شيعہ اپنے مذہب کو بچانے اور دشمنوں کے سفاکانہ قتل عام سے محفوظ رہنے کیلئے تقيہ کرتےتھے.
٣۔تقيہ صرف شيعوں سےمخصوص نہيں ہے بلکہ دوسرے مسلمان بھی تقيہ کرتے ہيں.
٤۔تقيہ کرنا اور اپنےباطنی عقائدچھپانا صرف کفار کے مقابلے ميں ہی انجام نہيں پاتا بلکہ تقيہ کا معيار (مسلمانوں کی جان بچانا) عموميت رکھتا ہے اور ہر ايسے ظالم دشمن کے سامنے کہ جسکے ساتھ مقابلے کی قدرت نہ ہو يا اس سے جہاد کرنے کے شرائط پورے نہ ہو رہےہوں تقيہ ضروری ہوجاتا ہے.
٥۔اگر مسلمانوں ميں مکمل وحدت اور ہم فکری پيدا ہوجائے تو ہرگز ان کے درميان تقيہ کی ضرورت باقی نہيں رہےگی.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوره آل عمران آيت: ٢٨
سوره نحل آيت: ١٠٦
اس سلسلےميں جلال الدين سيوطی کی تفسير درالمنثور جلد ٤ ص ١٣١ (طبع بيروت) کامطالعہ کيجئے.
بنی اميہ اور بنی عباس کےحکام کےحکم پر شيعوں کے بےرحمانہ قتل عام کے سلسلے ميں تفصيلی معلومات حاصل کرنے کیلئے ان کتابوں''مقاتل الطالبين'' (مصنفہ ابوالفرج اصفہانی)، ''شہداءالفضيلة (مصنفہ علامہ امينی)، ''الشيعہ والحاکمون'' (مصنفہ محمدجواد مغنيہ) کا مطالعہ مفيدثابت ہوگا.
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
⭕ موازنہ ⭕
ﮐﺴﯽ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮐﻮﺍ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﮐﻮﺍ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺵ ﺑﺎﺵ ﺗﮭﺎ۔
ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﮐﻮﮮ ﻧﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﺗﮯ ﺳﻔﯿﺪ ﮨﻨﺲ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔ ﮐﻮﺍ ﮨﻨﺲ ﮐﮯ ﺩﻭﺩﮪ ﺟﯿﺴﮯ ﺳﻔﯿﺪ ﺭﻧﮓ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﻫﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﻟﮕﺎ...
ﮐﮧ ﯾﮧ ﮨﻨﺲ ﺗﻮ ﯾﻘﯿﻨﺎ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺗﺮﯾﻦ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺵ ﺗﺮﯾﻦ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﮨﻮﮔﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﻨﺎ ﮐﺎﻻ ﮐﻠﻮﭨﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺪﺍ ﮨﻮﮞ۔ ﮐﻮﮮ ﻧﮯ ﺟﺐ ﯾﮩﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﻨﺲ ﺳﮯ ﮐﯽ ﺗﻮ ﮨﻨﺲ ﺑﻮﻻ...
ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺵ ﻗﺴﻤﺖ ﺗﺮﯾﻦ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻃﻮﻃﮯ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺭﺷﮏ ﺁﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﻭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺭﻧﮕﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﺍ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﺮﮮ ﺧﯿﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﻃﻮﻃﺎ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﮨﮯ۔
ﮐﻮﺍ ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻃﻮﻃﮯ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻨﭽﺎ۔ ﺟﺐ ﺍﺱ ﻧﮯ ﯾﮩﯽ ﺑﺎﺕ ﻃﻮﻃﮯ ﺳﮯ ﮐﮩﯽ ﺗﻮ ﻃﻮﻃﺎ ﺑﻮﻻ...
ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺑﮍﺍ ﺧﻮﺵ ﺑﺎﺵ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﻮﺭ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﺎﺭﺍ ﺳﻜﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﯽ ﻏﺎﺭﺕ ﮨﻮ گئی ﮨﮯ۔ ﻣﻮﺭ ﮐﻮ ﺗﻮ ﻗﺪﺭﺕ ﻧﮯ ﺑﯿﺸﻤﺎﺭ ﭘﻨﮑﮭﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺏ ﺻﻮﺭﺕ ﺭﻧﮕﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﺍ ﮨﮯ... ﮐﻮﺍ ﻣﻮﺭ ﮐﻮ ﮈﮬﻮﻧﮉﺗﮯ ﮨﻮﮮ ﭼﮍﯾﺎ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﻮﺭ ﺍﯾﮏ ﭘﻨﺠﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺪ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﻨﮑﮍﻭﮞ ﻟﻮﮒ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺟﻤﻊ ﺗﮭﮯ۔ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﺟﺐ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﮭﯿﮍ ذﺭﺍ ﭼﮭﭩﯽ ﺗﻮ ﮐﻮﺍ ﻣﻮﺭ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻻ...
" ﭘﯿﺎﺭﮮ ﻣﻮﺭ ﺗﻢ ﮐﺲ ﻗﺪﺭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮨﻮ۔ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﺭﻧﮓ ﮐﺘﻨﺎ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮨﮯ۔ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﻟﻮﮒ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯽ ﺷﻮ ﺷﻮ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﮕﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺗﻢ ﯾﻘﯿﻨﺎ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺵ ﻗﺴﻤﺖ ﺗﺮﯾﻦ ﭘﺮﻧﺪﮮ ﮨﻮ۔ ﺗﻢ ﮐﺘﻨﮯ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﮔﮯ۔"
ﻣﻮﺭ ﺑﻮﻻ... ﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺣﺴﯿﻦ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺳﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﺍﺱ ﭘﻨﺠﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺪ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﭼﮍﯾﺎ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﺟﺎﺋﺰﮦ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﺍﺣﺪ ﮐﻮﺍ ﮨﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﮨﮯ ﺟﺴﮯ ﺁﺝ ﺗﮏ ﭘﻨﺠﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺏ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﮐﭽﮫ ﺩﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﮐﺎﺵ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮐﻮﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﺳﮯ ﺟﻨﮕﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﮌﺗﺎ ﮔﮭﻮﻣﺘﺎ ﭘﮭﺮﺗﺎ۔''
ﺑﺎﻟﮑﻞ ﯾﮩﯽ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ۔ ﮨﻢ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﻏﯿﺮ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻮﺍﺯﻧﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔۔
ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺟﻦ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺻﻼﺣﯿﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﺍ ﮨﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻗﺪﺭ کیجئے ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺷﮑﺎﺋﺘﯿﮟ اور ﻧﺎﺷﮑﺮﯼ نہ کیجئے کیونکہ اس طرح غم اور ﺍﺩﺍﺳﯽ ﮨﻢ ﮐﻮ ﮔﮭﯿﺮ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﮯ۔
بلکہ
ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺩﯼ ﮨﻮئی ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ پر اللہ تعالٰی کا شکر ادا ﮐﯿﺠﺌﮯ۔ ﻓﻀﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻮﺍﺯﻧﮧ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻧﮧ ﮐﯿﺠﺌﮯ۔ اور ﺍﻟﻠﮧ تعالٰی ﮐﯽ ﮨﺮ ﻧﻌﻤﺖ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ "ﺍﻟﺤﻤﺪُﻟﻠﮧ" ﮐﮩﻨﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﻓﺮﺽ ﮐﺮ ﻟﯿﺠﺌﮯ...!
کیونکہ
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے...
"جب اللہ تعالٰی کسی بندے کو کسی نعمت سے سرفراز فرمائے اور وہ اس پر الحمدللہ کہے تو جو اس نے حاصل کیا ہے اس سے بھی بہتر دیا جائے گا" (ابن ماجہ:3805)
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ﮐﺴﯽ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮐﻮﺍ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﮐﻮﺍ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺵ ﺑﺎﺵ ﺗﮭﺎ۔
ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﮐﻮﮮ ﻧﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﺗﮯ ﺳﻔﯿﺪ ﮨﻨﺲ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ۔ ﮐﻮﺍ ﮨﻨﺲ ﮐﮯ ﺩﻭﺩﮪ ﺟﯿﺴﮯ ﺳﻔﯿﺪ ﺭﻧﮓ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﻫﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﭼﻨﮯ ﻟﮕﺎ...
ﮐﮧ ﯾﮧ ﮨﻨﺲ ﺗﻮ ﯾﻘﯿﻨﺎ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺗﺮﯾﻦ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺵ ﺗﺮﯾﻦ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﮨﻮﮔﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﻨﺎ ﮐﺎﻻ ﮐﻠﻮﭨﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺪﺍ ﮨﻮﮞ۔ ﮐﻮﮮ ﻧﮯ ﺟﺐ ﯾﮩﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﻨﺲ ﺳﮯ ﮐﯽ ﺗﻮ ﮨﻨﺲ ﺑﻮﻻ...
ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺵ ﻗﺴﻤﺖ ﺗﺮﯾﻦ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻃﻮﻃﮯ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺭﺷﮏ ﺁﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﻭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺭﻧﮕﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﺍ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﺮﮮ ﺧﯿﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﻃﻮﻃﺎ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﮨﮯ۔
ﮐﻮﺍ ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻃﻮﻃﮯ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻨﭽﺎ۔ ﺟﺐ ﺍﺱ ﻧﮯ ﯾﮩﯽ ﺑﺎﺕ ﻃﻮﻃﮯ ﺳﮯ ﮐﮩﯽ ﺗﻮ ﻃﻮﻃﺎ ﺑﻮﻻ...
ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺑﮍﺍ ﺧﻮﺵ ﺑﺎﺵ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﻮﺭ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﺎﺭﺍ ﺳﻜﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﯽ ﻏﺎﺭﺕ ﮨﻮ گئی ﮨﮯ۔ ﻣﻮﺭ ﮐﻮ ﺗﻮ ﻗﺪﺭﺕ ﻧﮯ ﺑﯿﺸﻤﺎﺭ ﭘﻨﮑﮭﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺏ ﺻﻮﺭﺕ ﺭﻧﮕﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﺍ ﮨﮯ... ﮐﻮﺍ ﻣﻮﺭ ﮐﻮ ﮈﮬﻮﻧﮉﺗﮯ ﮨﻮﮮ ﭼﮍﯾﺎ ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﻮﺭ ﺍﯾﮏ ﭘﻨﺠﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺪ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﻨﮑﮍﻭﮞ ﻟﻮﮒ ﺍﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺟﻤﻊ ﺗﮭﮯ۔ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﺟﺐ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﮭﯿﮍ ذﺭﺍ ﭼﮭﭩﯽ ﺗﻮ ﮐﻮﺍ ﻣﻮﺭ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻻ...
" ﭘﯿﺎﺭﮮ ﻣﻮﺭ ﺗﻢ ﮐﺲ ﻗﺪﺭ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮨﻮ۔ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﺭﻧﮓ ﮐﺘﻨﺎ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮨﮯ۔ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﻟﻮﮒ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯽ ﺷﻮ ﺷﻮ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﮕﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺗﻢ ﯾﻘﯿﻨﺎ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺵ ﻗﺴﻤﺖ ﺗﺮﯾﻦ ﭘﺮﻧﺪﮮ ﮨﻮ۔ ﺗﻢ ﮐﺘﻨﮯ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﮔﮯ۔"
ﻣﻮﺭ ﺑﻮﻻ... ﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺣﺴﯿﻦ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺳﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺗﯽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﺍﺱ ﭘﻨﺠﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺪ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﭼﮍﯾﺎ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﺟﺎﺋﺰﮦ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﺍﺣﺪ ﮐﻮﺍ ﮨﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﭘﺮﻧﺪﮦ ﮨﮯ ﺟﺴﮯ ﺁﺝ ﺗﮏ ﭘﻨﺠﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺏ ﭘﭽﮭﻠﮯ ﮐﭽﮫ ﺩﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﮐﺎﺵ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﮐﻮﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﺳﮯ ﺟﻨﮕﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﮌﺗﺎ ﮔﮭﻮﻣﺘﺎ ﭘﮭﺮﺗﺎ۔''
ﺑﺎﻟﮑﻞ ﯾﮩﯽ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ۔ ﮨﻢ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﻏﯿﺮ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻮﺍﺯﻧﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔۔
ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺟﻦ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺻﻼﺣﯿﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﺍ ﮨﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻗﺪﺭ کیجئے ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﺷﮑﺎﺋﺘﯿﮟ اور ﻧﺎﺷﮑﺮﯼ نہ کیجئے کیونکہ اس طرح غم اور ﺍﺩﺍﺳﯽ ﮨﻢ ﮐﻮ ﮔﮭﯿﺮ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﮯ۔
بلکہ
ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺩﯼ ﮨﻮئی ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ پر اللہ تعالٰی کا شکر ادا ﮐﯿﺠﺌﮯ۔ ﻓﻀﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻮﺍﺯﻧﮧ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻧﮧ ﮐﯿﺠﺌﮯ۔ اور ﺍﻟﻠﮧ تعالٰی ﮐﯽ ﮨﺮ ﻧﻌﻤﺖ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ "ﺍﻟﺤﻤﺪُﻟﻠﮧ" ﮐﮩﻨﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﻓﺮﺽ ﮐﺮ ﻟﯿﺠﺌﮯ...!
کیونکہ
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے...
"جب اللہ تعالٰی کسی بندے کو کسی نعمت سے سرفراز فرمائے اور وہ اس پر الحمدللہ کہے تو جو اس نے حاصل کیا ہے اس سے بھی بہتر دیا جائے گا" (ابن ماجہ:3805)
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
🔷 جمادی الثانی کا آخری دن 🔷
ماه ﺟﻤﺎﺩﯼ ﺍﻟﺜﺎﻧﯽ میں ایک مخصوص نماز پڑھی جاتی ہے، آخری دن میں یه نماز پڑھ کر دنیا و آخرت کا فائدہ حاصل کریں..
ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﯾﮧ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﮮ ﺣﻖ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺁﯾﻨﺪﮦ ﺳﺎﻝ ﺗﮏ ﺍﺳﮑﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺎﻝ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﮨﻞﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﯾﻦ ﻭ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﻭ ﻣﺎﻣﻮﻥ ﺭﮐﮭﮯ ﮔﺎ۔ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺍﺱ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻣﺮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﺛﻮﺍﺏ ﻋﻄﺎ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔
🌹 نمازِ مخصوص:
ﺟﻤﺎﺩﯼ ﺍﻟﺜﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺍﻋﻤﺎﻝﮐﮯ ﺿﻤﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﺪ ﺍﺑﻦ ﻃﺎﺅﺱؒ ﻧﮯ ﻧﻘﻞ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻣﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﻭﻗﺖ ﺑﮭﯽ ﭼﺎﮨﮯ ﭼﺎﺭ ﺭﮐﻌﺖ ﻧﻤﺎﺯ ﺩﻭ ﺩﻭ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺑﺠﺎ ﻻﺋﮯ.
ﭘﮩﻠﯽﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺭه ﺍﻟﺤﻤﺪ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺁﯾۃ ﺍﻟﮑﺮﺳﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﭽﯿﺲ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺳﻮﺭه ﻗﺪﺭ، ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺭه ﺍﻟﺤﻤﺪ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺳﻮﺭه ﺗﮑﺎﺛﺮ ﺍﻭﺭ ﭘﭽﯿﺲ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺳﻮﺭه ﺗﻮﺣﯿﺪ.
ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺁﺧﺮﯼ ﺩﻭ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺭه ﺍﻟﺤﻤﺪ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺳﻮﺭه ﮐﺎﻓﺮﻭﻥ ﺍﻭﺭ ﭘﭽﯿﺲ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺳﻮﺭه ﻓﻠﻖ،
ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺭه ﺍﻟﺤﻤﺪ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺳﻮﺭه ﻧﺼﺮ ﺍﻭﺭ ﭘﭽﯿﺲ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺳﻮﺭه ﻧﺎﺱ ﭘﮍﮬﮯ.
ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﺘﺮ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﮐﮩﮯ:
ﺳُﺒْﺤَﺎﻥَ ﷲِ ﻭَﺍﻟْﺤَﻤْﺪُ لِلّٰہِ ﻭَﻟَﺎ ﺍِﻟَﮧَ ﺍِﻟَّﺎ ﷲُ ﻭَﷲُ ﺍَﮐْﺒَﺮُ۔
ﺳﺘﺮ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﮐﮩﮯ:
ﺍَﻟﻠَّﮭُﻢَّ ﺻَﻞ ﻋَﻠﯽٰ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ ﻭَّﺁﻝِ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ۔
ﺗﯿﻦ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﮐﮩﮯ:
ﺍَﻟﻠَّﮭُﻢَّ ﺍﻏْﻔَﺮِ ﻟِﻠْﻤُﻮْٔﻣِﻨِﯿْﻦَ ﻭَﺍﻟْﻤُﻮْٔﻣِﻨَﺎﺕِ۔
ﭘﮭﺮ ﺳﺠﺪﮦ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﮐﺮ ﺗﯿﻦ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﯾﮧ ﮐﮩﮯ: ﯾَﺎ ﺣَﻲُّ ﯾَﺎ ﻗَﯿُّﻮﻡُ ﯾَﺎ ﺫَﺍﻟْﺠَﻠَﺎﻝِ ﻭَﺍﻟْﺎِﮐْﺮَﺍﻡِ ﯾَﺎ ﷲُ ﯾَﺎ ﺭَﺣْﻤَﺎﻥُ ﯾَﺎ ﺭَﺣَﯿْﻢُ ﯾَﺎ ﺍَﺭْﺣَﻢَ ﺍﻟﺮَّﺍﺣِﻤِﯿْﻦَ.
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﭘﻨﯽ ﺣﺎﺟﺎﺕ ﻃﻠﺐ ﮐﺮﮮ.
📚 مفاتیح الجنان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ اس نماز کے سوره دیکھ کر بھی پڑھے جا سکتے ہیں. جو درج ذیل ہیں..
●آیت الکرسی
ﺑِﺴْﻢِ ﺍﻟﻠﻪِ ﺍﻟﺮَﺣْﻤﻦِ ﺍﻟﺮَﺣﯿﻢْ
ﺍﻟﻠﻪُ ﻻَﺇِﻟٰﮧَ ﺇِﻻَّ ﮬُﻮَ ﺍﻟْﺤَﯽُّ ﺍﻟْﻘَﯿُّﻮﻡُ ﻻَﺗَﺄْﺧُﺬُہُ ﺳِﻨَﺔٌ ﻭَﻻَﻧَﻮْﻡٌ ﻟَﮧُ ﻣَﺎ ﻓِﯽ ﺍﻟﺴَّﻤَٰﻮٰﺕ ﻭَﻣَﺎ ﻓِﯽ ﺍﻟْﺄَﺭْﺽِ ﻣَﻦْ ﺫَﺍﺍﻟَّﺬِﯼ ﯾَﺸْﻔَﻊُ ﻋِﻨْﺪَﮦُ ﺇِﻻَّ ﺑِﺈِﺫْﻧِﮧِ ﯾَﻌْﻠَﻢُ ﻣَﺎ ﺑَﯿْﻦَ ﺃَﯾْﺪِﯾﮭِﻢْ ﻭَﻣَﺎ ﺧَﻠْﻔَﮭُﻢْ ﻭَﻻَﯾُﺤِﯿﻄُﻮﻥَ ﺑِﺸَﯽْﺀٍ ﻣِﻦْ ﻋِﻠْﻤِﮧ ﺇِﻻّ ﺑِﻤَﺎ ﺷَﺎﺀَ ﻭَﺳِﻊَ ﮐُﺮْﺳِﯿُّﮧُ ﺍﻟﺴَّﻤٰﻮٰﺕِ ﻭَﺍﻟْﺎَﺭْﺽَ ﻭَﻻَﯾَﺌُﻮﺩُﮦُ ﺣِﻔْﻈُﮭُﻤَﺎ ﻭَﮬُﻮَ ﺍﻟْﻌَﻠِﯽُّ ﺍﻟْﻌَﻈِﯿﻢُ
ﻻَﺇِﮐْﺮَﺍﮦَ ﻓِﯽ ﺍﻟﺪِّﯾﻦِ ﻗَﺪْ ﺗَﺒَﯿَّﻦَ ﺍﻟﺮُّﺷْﺪُ ﻣِﻦْ ﺍﻟﻐَﯽِّ ﻓَﻤَﻦْ ﯾَﮑْﻔُﺮْ ﺑِﺎﻟﻄَّﺎﻏُﻮﺕِ ﻭَﯾُﺆْﻣِﻦْ ﺑِﺎﻟﻠﻪِ ﻓَﻘَﺪْ ﺍﺳْﺘَﻤْﺴَﮏَ ﺑِﺎﻟْﻌُﺮْﻭَﺓِ ﺍﻟْﻮُﺛْﻘَﯽ ﻻَﺍﻧﻔِﺼَﺎﻡَ ﻟَﮭَﺎ ﻭَﺍﻟﻠﻪُ ﺳَﻤِﯿﻊٌ ﻋَﻠِﯿﻢٌ
ﺍﻟﻠﻪُ ﻭَﻟِﯽُّ ﺍﻟَّﺬِﯾﻦَ ﺁﻣَﻨُﻮﺍ ﯾُﺨْﺮِﺟُﮭُﻢْ ﻣِﻦْ ﺍﻟﻈُّﻠُﻤٰﺖِ ﺇِﻟَﯽ ﺍﻟﻨُّﻮﺭِ ﻭَﺍﻟَّﺬِﯾﻦَ ﮐَﻔَﺮُﻭﺍ ﺃَﻭْﻟِﯿٰﺌُﮭُﻢْ ﺍﻟﻄَّﺎﻏُﻮﺕُ ﯾُﺨْﺮِﺟُﻮﻧَﮭُﻢْ ﻣِﻦْ ﺍﻟﻨُّﻮﺭِ ﺇِﻟَﯽ ﺍﻟﻈُّﻠُﻤٰﺖِ ﺃُﻭْﻟٰٓﺌِﮏَ ﺃَﺻْﺤَﺎﺏُ ﺍﻟﻨَّﺎﺭِ ﮬُﻢْ ﻓِﯿﮭَﺎ ﺧٰﻠِﺪُﻭﻥَ.
●سوره قدر
ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺍﻟﺮﺣﻴﻢ
ﺇِﻧَّﺎ ﺃَﻧﺰَﻟْﻨَﺎﻩُ ﻓِﻲ ﻟَﻴْﻠَﺔِ ﺍﻟْﻘَﺪْﺭِ¤ ﻭَﻣَﺎ ﺃَﺩْﺭَﺍﻙَ ﻣَﺎ ﻟَﻴْﻠَﺔُ ﺍﻟْﻘَﺪْﺭِ¤ ﻟَﻴْﻠَﺔُ ﺍﻟْﻘَﺪْﺭِ ﺧَﻴْﺮٌ ﻣِّﻦْ ﺃَﻟْﻒِ ﺷَﻬْﺮٍ¤ ﺗَﻨَﺰَّﻝُ ﺍﻟْﻤَﻼﺋِﻜَﺔُ ﻭَﺍﻟﺮُّﻭﺡُ ﻓِﻴﻬَﺎ ﺑِﺈِﺫْﻥِ ﺭَﺑِّﻬِﻢ ﻣِّﻦ ﻛُﻞِّ ﺃَﻣْﺮٍ¤ ﺳَﻼﻡٌ ﻫِﻲَ ﺣَﺘَّﻰ ﻣَﻄْﻠَﻊِ ﺍﻟْﻔَﺠْﺮِ¤
●سوره التکاثر
ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺍﻟﺮﺣﻴﻢ
ﺃَﻟْﻬَﺎﻛُﻢُ ﺍﻟﺘَّﻜَﺎﺛُﺮُ¤ ﺣَﺘَّﻰ ﺯُﺭْﺗُﻢُ ﺍﻟْﻤَﻘَﺎﺑِﺮَ¤ ﻛَﻼَّ ﺳَﻮْﻑَ ﺗَﻌْﻠَﻤُﻮﻥَ¤ ﺛُﻢَّ ﻛَﻼَّ ﺳَﻮْﻑَ ﺗَﻌْﻠَﻤُﻮﻥَ¤ ﻛَﻼَّ ﻟَﻮْ ﺗَﻌْﻠَﻤُﻮﻥَ ﻋِﻠْﻢَ ﺍﻟْﻴَﻘِﻴﻦِ¤ ﻟَﺘَﺮَﻭُﻥَّ ﺍﻟْﺠَﺤِﻴﻢَ¤ ﺛُﻢَّ ﻟَﺘَﺮَﻭُﻧَّﻬَﺎ ﻋَﻴْﻦَ ﺍﻟْﻴَﻘِﻴﻦِ¤ ﺛُﻢَّ ﻟَﺘُﺴْﺄَﻟُﻦَّ ﻳَﻮْﻣَﺌِﺬٍ ﻋَﻦِ ﺍﻟﻨَّﻌِﻴﻢِ¤
●سوره توحید
ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺍﻟﺮﺣﻴﻢ
ﻗُﻞْ ﻫُﻮَ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﺃَﺣَﺪٌ¤ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﺍﻟﺼَّﻤَﺪُ¤ ﻟَﻢْ ﻳَﻠِﺪْ ﻭَﻟَﻢْ ﻳُﻮﻟَﺪْ¤ ﻭَﻟَﻢْ ﻳَﻜُﻦ ﻟَّﻪُ ﻛُﻔُﻮًﺍ ﺃَﺣَﺪٌ¤
●سوره کافرون
ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺍﻟﺮﺣﻴﻢ
ﻗُﻞْ ﻳَﺎ ﺃَﻳُّﻬَﺎ ﺍﻟْﻜَﺎﻓِﺮُﻭﻥَ¤ ﻻ ﺃَﻋْﺒُﺪُ ﻣَﺎ ﺗَﻌْﺒُﺪُﻭﻥَ¤ ﻭَﻻ ﺃَﻧﺘُﻢْ ﻋَﺎﺑِﺪُﻭﻥَ ﻣَﺎ ﺃَﻋْﺒُﺪُ¤ ﻭَﻻ ﺃَﻧَﺎ ﻋَﺎﺑِﺪٌ ﻣَّﺎ ﻋَﺒَﺪﺗُّﻢْ¤ ﻭَﻻ ﺃَﻧﺘُﻢْ ﻋَﺎﺑِﺪُﻭﻥَ ﻣَﺎ ﺃَﻋْﺒُﺪُ¤ ﻟَﻜُﻢْ ﺩِﻳﻨُﻜُﻢْ ﻭَﻟِﻲَ ﺩِﻳﻦِ¤
●سوره فلق
ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺍﻟﺮﺣﻴﻢ
ﻗُﻞْ ﺃَﻋُﻮﺫُ ﺑِﺮَﺏِّ ﺍﻟْﻔَﻠَﻖِ¤ ﻣِﻦ ﺷَﺮِّ ﻣَﺎ ﺧَﻠَﻖَ¤ ﻭَﻣِﻦ ﺷَﺮِّ ﻏَﺎﺳِﻖٍ ﺇِﺫَﺍ ﻭَﻗَﺐَ¤ ﻭَﻣِﻦ ﺷَﺮِّ ﺍﻟﻨَّﻔَّﺎﺛَﺎﺕِ ﻓِﻲ ﺍﻟْﻌُﻘَﺪِ¤ ﻭَﻣِﻦ ﺷَﺮِّ ﺣَﺎﺳِﺪٍ ﺇِﺫَﺍ ﺣَﺴَﺪَ¤
●سوره نصر
ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺍﻟﺮﺣﻴﻢ
ﺇِﺫَﺍ ﺟَﺎﺀَ ﻧَﺼْﺮُ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﻭَﺍﻟْﻔَﺘْﺢُ¤ ﻭَﺭَﺃَﻳْﺖَ ﺍﻟﻨَّﺎﺱَ ﻳَﺪْﺧُﻠُﻮﻥَ ﻓِﻲ ﺩِﻳﻦِ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﺃَﻓْﻮَﺍﺟًﺎ¤ ﻓَﺴَﺒِّﺢْ ﺑِﺤَﻤْﺪِ ﺭَﺑِّﻚَ ﻭَﺍﺳْﺘَﻐْﻔِﺮْﻩُ ﺇِﻧَّﻪُ ﻛَﺎﻥَ ﺗَﻮَّﺍﺑًﺎ¤
□سوره ناس
ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺍﻟﺮﺣﻴﻢ
ﻗُﻞْ ﺃَﻋُﻮﺫُ ﺑِﺮَﺏِّ ﺍﻟﻨَّﺎﺱِ¤ ﻣَﻠِﻚِ ﺍﻟﻨَّﺎﺱِ¤ ﺇِﻟَﻪِ ﺍﻟﻨَّﺎﺱِ¤ ﻣِﻦ ﺷَﺮِّ ﺍﻟْﻮَﺳْﻮَﺍﺱِ ﺍﻟْﺨَﻨَّﺎﺱِ¤ ﺍﻟَّﺬِﻱ ﻳُﻮَﺳْﻮِﺱُ ﻓِﻲ ﺻُﺪُﻭﺭِ ﺍﻟﻨَّﺎﺱِ¤ ﻣِﻦَ ﺍﻟْﺠِﻨَّﺔِ ﻭَﺍﻟﻨَّﺎﺱِ¤
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
ماه ﺟﻤﺎﺩﯼ ﺍﻟﺜﺎﻧﯽ میں ایک مخصوص نماز پڑھی جاتی ہے، آخری دن میں یه نماز پڑھ کر دنیا و آخرت کا فائدہ حاصل کریں..
ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﯾﮧ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﮮ ﺣﻖ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺁﯾﻨﺪﮦ ﺳﺎﻝ ﺗﮏ ﺍﺳﮑﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺎﻝ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﮨﻞﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﯾﻦ ﻭ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﻭ ﻣﺎﻣﻮﻥ ﺭﮐﮭﮯ ﮔﺎ۔ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺍﺱ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻣﺮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﺛﻮﺍﺏ ﻋﻄﺎ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔
🌹 نمازِ مخصوص:
ﺟﻤﺎﺩﯼ ﺍﻟﺜﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺍﻋﻤﺎﻝﮐﮯ ﺿﻤﻦ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﺪ ﺍﺑﻦ ﻃﺎﺅﺱؒ ﻧﮯ ﻧﻘﻞ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻣﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﻭﻗﺖ ﺑﮭﯽ ﭼﺎﮨﮯ ﭼﺎﺭ ﺭﮐﻌﺖ ﻧﻤﺎﺯ ﺩﻭ ﺩﻭ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺑﺠﺎ ﻻﺋﮯ.
ﭘﮩﻠﯽﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺭه ﺍﻟﺤﻤﺪ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺁﯾۃ ﺍﻟﮑﺮﺳﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﭽﯿﺲ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺳﻮﺭه ﻗﺪﺭ، ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺭه ﺍﻟﺤﻤﺪ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺳﻮﺭه ﺗﮑﺎﺛﺮ ﺍﻭﺭ ﭘﭽﯿﺲ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺳﻮﺭه ﺗﻮﺣﯿﺪ.
ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺁﺧﺮﯼ ﺩﻭ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺭه ﺍﻟﺤﻤﺪ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺳﻮﺭه ﮐﺎﻓﺮﻭﻥ ﺍﻭﺭ ﭘﭽﯿﺲ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺳﻮﺭه ﻓﻠﻖ،
ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺭه ﺍﻟﺤﻤﺪ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺳﻮﺭه ﻧﺼﺮ ﺍﻭﺭ ﭘﭽﯿﺲ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺳﻮﺭه ﻧﺎﺱ ﭘﮍﮬﮯ.
ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﺘﺮ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﮐﮩﮯ:
ﺳُﺒْﺤَﺎﻥَ ﷲِ ﻭَﺍﻟْﺤَﻤْﺪُ لِلّٰہِ ﻭَﻟَﺎ ﺍِﻟَﮧَ ﺍِﻟَّﺎ ﷲُ ﻭَﷲُ ﺍَﮐْﺒَﺮُ۔
ﺳﺘﺮ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﮐﮩﮯ:
ﺍَﻟﻠَّﮭُﻢَّ ﺻَﻞ ﻋَﻠﯽٰ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ ﻭَّﺁﻝِ ﻣُﺤَﻤَّﺪٍ۔
ﺗﯿﻦ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﮐﮩﮯ:
ﺍَﻟﻠَّﮭُﻢَّ ﺍﻏْﻔَﺮِ ﻟِﻠْﻤُﻮْٔﻣِﻨِﯿْﻦَ ﻭَﺍﻟْﻤُﻮْٔﻣِﻨَﺎﺕِ۔
ﭘﮭﺮ ﺳﺠﺪﮦ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﮐﺮ ﺗﯿﻦ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﯾﮧ ﮐﮩﮯ: ﯾَﺎ ﺣَﻲُّ ﯾَﺎ ﻗَﯿُّﻮﻡُ ﯾَﺎ ﺫَﺍﻟْﺠَﻠَﺎﻝِ ﻭَﺍﻟْﺎِﮐْﺮَﺍﻡِ ﯾَﺎ ﷲُ ﯾَﺎ ﺭَﺣْﻤَﺎﻥُ ﯾَﺎ ﺭَﺣَﯿْﻢُ ﯾَﺎ ﺍَﺭْﺣَﻢَ ﺍﻟﺮَّﺍﺣِﻤِﯿْﻦَ.
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﭘﻨﯽ ﺣﺎﺟﺎﺕ ﻃﻠﺐ ﮐﺮﮮ.
📚 مفاتیح الجنان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
■ اس نماز کے سوره دیکھ کر بھی پڑھے جا سکتے ہیں. جو درج ذیل ہیں..
●آیت الکرسی
ﺑِﺴْﻢِ ﺍﻟﻠﻪِ ﺍﻟﺮَﺣْﻤﻦِ ﺍﻟﺮَﺣﯿﻢْ
ﺍﻟﻠﻪُ ﻻَﺇِﻟٰﮧَ ﺇِﻻَّ ﮬُﻮَ ﺍﻟْﺤَﯽُّ ﺍﻟْﻘَﯿُّﻮﻡُ ﻻَﺗَﺄْﺧُﺬُہُ ﺳِﻨَﺔٌ ﻭَﻻَﻧَﻮْﻡٌ ﻟَﮧُ ﻣَﺎ ﻓِﯽ ﺍﻟﺴَّﻤَٰﻮٰﺕ ﻭَﻣَﺎ ﻓِﯽ ﺍﻟْﺄَﺭْﺽِ ﻣَﻦْ ﺫَﺍﺍﻟَّﺬِﯼ ﯾَﺸْﻔَﻊُ ﻋِﻨْﺪَﮦُ ﺇِﻻَّ ﺑِﺈِﺫْﻧِﮧِ ﯾَﻌْﻠَﻢُ ﻣَﺎ ﺑَﯿْﻦَ ﺃَﯾْﺪِﯾﮭِﻢْ ﻭَﻣَﺎ ﺧَﻠْﻔَﮭُﻢْ ﻭَﻻَﯾُﺤِﯿﻄُﻮﻥَ ﺑِﺸَﯽْﺀٍ ﻣِﻦْ ﻋِﻠْﻤِﮧ ﺇِﻻّ ﺑِﻤَﺎ ﺷَﺎﺀَ ﻭَﺳِﻊَ ﮐُﺮْﺳِﯿُّﮧُ ﺍﻟﺴَّﻤٰﻮٰﺕِ ﻭَﺍﻟْﺎَﺭْﺽَ ﻭَﻻَﯾَﺌُﻮﺩُﮦُ ﺣِﻔْﻈُﮭُﻤَﺎ ﻭَﮬُﻮَ ﺍﻟْﻌَﻠِﯽُّ ﺍﻟْﻌَﻈِﯿﻢُ
ﻻَﺇِﮐْﺮَﺍﮦَ ﻓِﯽ ﺍﻟﺪِّﯾﻦِ ﻗَﺪْ ﺗَﺒَﯿَّﻦَ ﺍﻟﺮُّﺷْﺪُ ﻣِﻦْ ﺍﻟﻐَﯽِّ ﻓَﻤَﻦْ ﯾَﮑْﻔُﺮْ ﺑِﺎﻟﻄَّﺎﻏُﻮﺕِ ﻭَﯾُﺆْﻣِﻦْ ﺑِﺎﻟﻠﻪِ ﻓَﻘَﺪْ ﺍﺳْﺘَﻤْﺴَﮏَ ﺑِﺎﻟْﻌُﺮْﻭَﺓِ ﺍﻟْﻮُﺛْﻘَﯽ ﻻَﺍﻧﻔِﺼَﺎﻡَ ﻟَﮭَﺎ ﻭَﺍﻟﻠﻪُ ﺳَﻤِﯿﻊٌ ﻋَﻠِﯿﻢٌ
ﺍﻟﻠﻪُ ﻭَﻟِﯽُّ ﺍﻟَّﺬِﯾﻦَ ﺁﻣَﻨُﻮﺍ ﯾُﺨْﺮِﺟُﮭُﻢْ ﻣِﻦْ ﺍﻟﻈُّﻠُﻤٰﺖِ ﺇِﻟَﯽ ﺍﻟﻨُّﻮﺭِ ﻭَﺍﻟَّﺬِﯾﻦَ ﮐَﻔَﺮُﻭﺍ ﺃَﻭْﻟِﯿٰﺌُﮭُﻢْ ﺍﻟﻄَّﺎﻏُﻮﺕُ ﯾُﺨْﺮِﺟُﻮﻧَﮭُﻢْ ﻣِﻦْ ﺍﻟﻨُّﻮﺭِ ﺇِﻟَﯽ ﺍﻟﻈُّﻠُﻤٰﺖِ ﺃُﻭْﻟٰٓﺌِﮏَ ﺃَﺻْﺤَﺎﺏُ ﺍﻟﻨَّﺎﺭِ ﮬُﻢْ ﻓِﯿﮭَﺎ ﺧٰﻠِﺪُﻭﻥَ.
●سوره قدر
ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺍﻟﺮﺣﻴﻢ
ﺇِﻧَّﺎ ﺃَﻧﺰَﻟْﻨَﺎﻩُ ﻓِﻲ ﻟَﻴْﻠَﺔِ ﺍﻟْﻘَﺪْﺭِ¤ ﻭَﻣَﺎ ﺃَﺩْﺭَﺍﻙَ ﻣَﺎ ﻟَﻴْﻠَﺔُ ﺍﻟْﻘَﺪْﺭِ¤ ﻟَﻴْﻠَﺔُ ﺍﻟْﻘَﺪْﺭِ ﺧَﻴْﺮٌ ﻣِّﻦْ ﺃَﻟْﻒِ ﺷَﻬْﺮٍ¤ ﺗَﻨَﺰَّﻝُ ﺍﻟْﻤَﻼﺋِﻜَﺔُ ﻭَﺍﻟﺮُّﻭﺡُ ﻓِﻴﻬَﺎ ﺑِﺈِﺫْﻥِ ﺭَﺑِّﻬِﻢ ﻣِّﻦ ﻛُﻞِّ ﺃَﻣْﺮٍ¤ ﺳَﻼﻡٌ ﻫِﻲَ ﺣَﺘَّﻰ ﻣَﻄْﻠَﻊِ ﺍﻟْﻔَﺠْﺮِ¤
●سوره التکاثر
ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺍﻟﺮﺣﻴﻢ
ﺃَﻟْﻬَﺎﻛُﻢُ ﺍﻟﺘَّﻜَﺎﺛُﺮُ¤ ﺣَﺘَّﻰ ﺯُﺭْﺗُﻢُ ﺍﻟْﻤَﻘَﺎﺑِﺮَ¤ ﻛَﻼَّ ﺳَﻮْﻑَ ﺗَﻌْﻠَﻤُﻮﻥَ¤ ﺛُﻢَّ ﻛَﻼَّ ﺳَﻮْﻑَ ﺗَﻌْﻠَﻤُﻮﻥَ¤ ﻛَﻼَّ ﻟَﻮْ ﺗَﻌْﻠَﻤُﻮﻥَ ﻋِﻠْﻢَ ﺍﻟْﻴَﻘِﻴﻦِ¤ ﻟَﺘَﺮَﻭُﻥَّ ﺍﻟْﺠَﺤِﻴﻢَ¤ ﺛُﻢَّ ﻟَﺘَﺮَﻭُﻧَّﻬَﺎ ﻋَﻴْﻦَ ﺍﻟْﻴَﻘِﻴﻦِ¤ ﺛُﻢَّ ﻟَﺘُﺴْﺄَﻟُﻦَّ ﻳَﻮْﻣَﺌِﺬٍ ﻋَﻦِ ﺍﻟﻨَّﻌِﻴﻢِ¤
●سوره توحید
ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺍﻟﺮﺣﻴﻢ
ﻗُﻞْ ﻫُﻮَ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﺃَﺣَﺪٌ¤ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﺍﻟﺼَّﻤَﺪُ¤ ﻟَﻢْ ﻳَﻠِﺪْ ﻭَﻟَﻢْ ﻳُﻮﻟَﺪْ¤ ﻭَﻟَﻢْ ﻳَﻜُﻦ ﻟَّﻪُ ﻛُﻔُﻮًﺍ ﺃَﺣَﺪٌ¤
●سوره کافرون
ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺍﻟﺮﺣﻴﻢ
ﻗُﻞْ ﻳَﺎ ﺃَﻳُّﻬَﺎ ﺍﻟْﻜَﺎﻓِﺮُﻭﻥَ¤ ﻻ ﺃَﻋْﺒُﺪُ ﻣَﺎ ﺗَﻌْﺒُﺪُﻭﻥَ¤ ﻭَﻻ ﺃَﻧﺘُﻢْ ﻋَﺎﺑِﺪُﻭﻥَ ﻣَﺎ ﺃَﻋْﺒُﺪُ¤ ﻭَﻻ ﺃَﻧَﺎ ﻋَﺎﺑِﺪٌ ﻣَّﺎ ﻋَﺒَﺪﺗُّﻢْ¤ ﻭَﻻ ﺃَﻧﺘُﻢْ ﻋَﺎﺑِﺪُﻭﻥَ ﻣَﺎ ﺃَﻋْﺒُﺪُ¤ ﻟَﻜُﻢْ ﺩِﻳﻨُﻜُﻢْ ﻭَﻟِﻲَ ﺩِﻳﻦِ¤
●سوره فلق
ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺍﻟﺮﺣﻴﻢ
ﻗُﻞْ ﺃَﻋُﻮﺫُ ﺑِﺮَﺏِّ ﺍﻟْﻔَﻠَﻖِ¤ ﻣِﻦ ﺷَﺮِّ ﻣَﺎ ﺧَﻠَﻖَ¤ ﻭَﻣِﻦ ﺷَﺮِّ ﻏَﺎﺳِﻖٍ ﺇِﺫَﺍ ﻭَﻗَﺐَ¤ ﻭَﻣِﻦ ﺷَﺮِّ ﺍﻟﻨَّﻔَّﺎﺛَﺎﺕِ ﻓِﻲ ﺍﻟْﻌُﻘَﺪِ¤ ﻭَﻣِﻦ ﺷَﺮِّ ﺣَﺎﺳِﺪٍ ﺇِﺫَﺍ ﺣَﺴَﺪَ¤
●سوره نصر
ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺍﻟﺮﺣﻴﻢ
ﺇِﺫَﺍ ﺟَﺎﺀَ ﻧَﺼْﺮُ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﻭَﺍﻟْﻔَﺘْﺢُ¤ ﻭَﺭَﺃَﻳْﺖَ ﺍﻟﻨَّﺎﺱَ ﻳَﺪْﺧُﻠُﻮﻥَ ﻓِﻲ ﺩِﻳﻦِ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﺃَﻓْﻮَﺍﺟًﺎ¤ ﻓَﺴَﺒِّﺢْ ﺑِﺤَﻤْﺪِ ﺭَﺑِّﻚَ ﻭَﺍﺳْﺘَﻐْﻔِﺮْﻩُ ﺇِﻧَّﻪُ ﻛَﺎﻥَ ﺗَﻮَّﺍﺑًﺎ¤
□سوره ناس
ﺑﺴﻢ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺍﻟﺮﺣﻴﻢ
ﻗُﻞْ ﺃَﻋُﻮﺫُ ﺑِﺮَﺏِّ ﺍﻟﻨَّﺎﺱِ¤ ﻣَﻠِﻚِ ﺍﻟﻨَّﺎﺱِ¤ ﺇِﻟَﻪِ ﺍﻟﻨَّﺎﺱِ¤ ﻣِﻦ ﺷَﺮِّ ﺍﻟْﻮَﺳْﻮَﺍﺱِ ﺍﻟْﺨَﻨَّﺎﺱِ¤ ﺍﻟَّﺬِﻱ ﻳُﻮَﺳْﻮِﺱُ ﻓِﻲ ﺻُﺪُﻭﺭِ ﺍﻟﻨَّﺎﺱِ¤ ﻣِﻦَ ﺍﻟْﺠِﻨَّﺔِ ﻭَﺍﻟﻨَّﺎﺱِ¤
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
📝 پتھر جيسى سختى
......سكاكى اپنے عہد كے نامور دانشمندوں ميں شمار كئے جاتے تھے ۔ شروع ميں وہ ماہر فنكار اور كاريگر آدمى تھے۔ بڑھاپے ميں ان كو پڑھائى كا جنون پيدا ہوا تو وہ ايک استاد كے پاس حاضر ہوۓتو استاد نے ان كو ايک مسئلہ سكھايا؛
’’استاد كا عقيدہ تھا كہ كتے كى كھال دباغت كے بعد پاک ہوجاتى ہے‘‘
سكاكى نے اس جملے كو كم از كم دس بار دہرايا تاكہ امتحان كے موقع وہ اچھے نمبروں سے كامياب ہوسكے۔ ليكن جب اس سے اس درس كے بارے ميں سوال كيا گيا تو اس نے جواب ديتے ہوۓ كہا؛
’’كتے كا عقيدہ يہ ہے كہ استاد كى كھال دباغت كے بعد پاک ہو جايا كرتى ہے.‘‘
اس كاجواب سن كر سب حاضرين ہنسنے لگے۔ اس بات پر اس كو مدرسہ سے نكال دياگيا۔
سكاكى شہر چھوڑ كر جنگل كى طرف نكل گیا جہاں انہوں نے ديكھا كہ ايک بلندى سے پتھر پر بوند بوند پانى ٹپک رہاہے اور بوند بوند پانى ٹپكنے كى وجہ سے اس سخت پتھر ميں بھى سوراخ پيدا ہوگيا۔ وہ كچھ دير تک اسى موضوع پر سوچتا رہا۔ اس بات نے اس كے دل ودماغ پر گہرا اثر ڈالا۔ اور كہنے لگا؛
’’ميرا دل پڑھنے لكھنے كى طرف چاہے بالكل ہى مائل نہ ہو ليكن اس ميں پتھر جيسى سختى تو نہيں لہذا يہ قطعى ناممكن ہے كہ ميں لگاتار علم كے لئے محنت كروں اور حاصل نہ كرسكوں.‘‘
🔘 دیکھا جائے تو ہم بھی کبھی کبھی کم فکر اور کم دقت ہونے کی وجہ سے تھوڑی تھوڑی سختیوں کی وجہ سے اپنے اھداف کو بھلا دیتے ہیں اور بجائے اسکے کہ ان مشکلات کا مقابلہ کریں ہم خود ہی کم ظرفی کا شکار ہوجاتے ہیں اور پستی کی پستیوں میں سوجاتے ہیں پھر پستیوں سے اتنی محبت ہو جاتی ہے کہ بلندی کا سوچتے تک نہیں،
ایسا انسان اپنی صلاحیتوں پہ ظلم کر رہا ہوتا ہے.....
📚 سچى كہانياں، شہيد مرتضى مطہرىؒ، ص:۲۲۸.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
......سكاكى اپنے عہد كے نامور دانشمندوں ميں شمار كئے جاتے تھے ۔ شروع ميں وہ ماہر فنكار اور كاريگر آدمى تھے۔ بڑھاپے ميں ان كو پڑھائى كا جنون پيدا ہوا تو وہ ايک استاد كے پاس حاضر ہوۓتو استاد نے ان كو ايک مسئلہ سكھايا؛
’’استاد كا عقيدہ تھا كہ كتے كى كھال دباغت كے بعد پاک ہوجاتى ہے‘‘
سكاكى نے اس جملے كو كم از كم دس بار دہرايا تاكہ امتحان كے موقع وہ اچھے نمبروں سے كامياب ہوسكے۔ ليكن جب اس سے اس درس كے بارے ميں سوال كيا گيا تو اس نے جواب ديتے ہوۓ كہا؛
’’كتے كا عقيدہ يہ ہے كہ استاد كى كھال دباغت كے بعد پاک ہو جايا كرتى ہے.‘‘
اس كاجواب سن كر سب حاضرين ہنسنے لگے۔ اس بات پر اس كو مدرسہ سے نكال دياگيا۔
سكاكى شہر چھوڑ كر جنگل كى طرف نكل گیا جہاں انہوں نے ديكھا كہ ايک بلندى سے پتھر پر بوند بوند پانى ٹپک رہاہے اور بوند بوند پانى ٹپكنے كى وجہ سے اس سخت پتھر ميں بھى سوراخ پيدا ہوگيا۔ وہ كچھ دير تک اسى موضوع پر سوچتا رہا۔ اس بات نے اس كے دل ودماغ پر گہرا اثر ڈالا۔ اور كہنے لگا؛
’’ميرا دل پڑھنے لكھنے كى طرف چاہے بالكل ہى مائل نہ ہو ليكن اس ميں پتھر جيسى سختى تو نہيں لہذا يہ قطعى ناممكن ہے كہ ميں لگاتار علم كے لئے محنت كروں اور حاصل نہ كرسكوں.‘‘
🔘 دیکھا جائے تو ہم بھی کبھی کبھی کم فکر اور کم دقت ہونے کی وجہ سے تھوڑی تھوڑی سختیوں کی وجہ سے اپنے اھداف کو بھلا دیتے ہیں اور بجائے اسکے کہ ان مشکلات کا مقابلہ کریں ہم خود ہی کم ظرفی کا شکار ہوجاتے ہیں اور پستی کی پستیوں میں سوجاتے ہیں پھر پستیوں سے اتنی محبت ہو جاتی ہے کہ بلندی کا سوچتے تک نہیں،
ایسا انسان اپنی صلاحیتوں پہ ظلم کر رہا ہوتا ہے.....
📚 سچى كہانياں، شہيد مرتضى مطہرىؒ، ص:۲۲۸.
🌹 پوسٹ پسند آئے تو شیئر ضرور کیجیے۔
https://t.me/islamwitheman
⭕ ISLAM WITH EMAN ⭕
Telegram
ISLAM WITH EMAN
اصلاحی کہانیاں اور سبق آموز احادیث و واقعات...
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani
ایڈمن سے رابطہ کیلئے:
@syedsajjadhamdani